بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
پیش لفظ
الحمدلله ! اعلحضرت امام احمدرضاخان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہکے خزائن علمیہ وذخائر فقہیہ کو جدید انداز میں منصہ شہود پرلانے کے لئے مخدوم اہلسنت حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی زیرسرپرستی “ رضافاؤنڈیشن “ کے نام سے جو ادارہ چند سال قبل قائم ہواتھا وہ انتہائی کامیابی سے مجوزہ منصوبہ کے ارتقائی مراحل کو تدریجا طے کرتے ہوئے سرعت رفتاری سے اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے۔ کتاب الطہارۃ مکمل چار خوبصورت مجلدات میں آپ تک پہنچ چکی۔ اب الله تعالی کے فضل وکرم اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نظرعنایت وفیضان سے پانچویں جلد پیش خدمت ہے۔ اس جلدمیں باب الاذان والاقامۃ تک عربی و فارسی عبارات کا اردو ترجمہ معروف قلمکار ادیب شہیر پیرطریقت حضرت علامہ صاحبزادہ قاضی عبدالدائم دائم مدیرماہنامہ جام عرفان و مہتمم دارالعلوم ربانیہ صدریہ ہری پور ہزارہ اور باقی تمام عبارات کا ترجمہ فاضل جلیل حضرت علامہ مفتی محمدخان قادری دامت برکاتہم العالیہ ڈائریکٹر جامعہ اسلامیہ سمن آباد لاہور نے کیا ہے۔ مفتی صاحب متعدد کتابوں کے مصنف ومترجم ہیں ۔
یہ جلد آغاز کتاب الصلوۃ سے لے کر فتاوی رضویہ جلد ثانی قدیم کے اخیر تک پر مشتمل ہے اور اس میں ۴۰ ۱ سوالوں کے علاوہ مندرجہ ذیل مستقل عنوانات کو مبحث بنایاگیا ہے :
(۱) کتاب الصلوۃ
(۲) باب الاوقات
(۳) اماکن الصلوۃ (نماز کن جگہوں میں جائز ہے)
(۴) باب الاذان والاقامۃ
پیش لفظ
الحمدلله ! اعلحضرت امام احمدرضاخان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہکے خزائن علمیہ وذخائر فقہیہ کو جدید انداز میں منصہ شہود پرلانے کے لئے مخدوم اہلسنت حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی زیرسرپرستی “ رضافاؤنڈیشن “ کے نام سے جو ادارہ چند سال قبل قائم ہواتھا وہ انتہائی کامیابی سے مجوزہ منصوبہ کے ارتقائی مراحل کو تدریجا طے کرتے ہوئے سرعت رفتاری سے اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے۔ کتاب الطہارۃ مکمل چار خوبصورت مجلدات میں آپ تک پہنچ چکی۔ اب الله تعالی کے فضل وکرم اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نظرعنایت وفیضان سے پانچویں جلد پیش خدمت ہے۔ اس جلدمیں باب الاذان والاقامۃ تک عربی و فارسی عبارات کا اردو ترجمہ معروف قلمکار ادیب شہیر پیرطریقت حضرت علامہ صاحبزادہ قاضی عبدالدائم دائم مدیرماہنامہ جام عرفان و مہتمم دارالعلوم ربانیہ صدریہ ہری پور ہزارہ اور باقی تمام عبارات کا ترجمہ فاضل جلیل حضرت علامہ مفتی محمدخان قادری دامت برکاتہم العالیہ ڈائریکٹر جامعہ اسلامیہ سمن آباد لاہور نے کیا ہے۔ مفتی صاحب متعدد کتابوں کے مصنف ومترجم ہیں ۔
یہ جلد آغاز کتاب الصلوۃ سے لے کر فتاوی رضویہ جلد ثانی قدیم کے اخیر تک پر مشتمل ہے اور اس میں ۴۰ ۱ سوالوں کے علاوہ مندرجہ ذیل مستقل عنوانات کو مبحث بنایاگیا ہے :
(۱) کتاب الصلوۃ
(۲) باب الاوقات
(۳) اماکن الصلوۃ (نماز کن جگہوں میں جائز ہے)
(۴) باب الاذان والاقامۃ
علاوہ ازیں پیش نظر جلد میں ابحاث نفیسہ ونکات لطیفہ پرمشتمل پانچ گرانقدر رسائل بھی شامل ہیں جن کو دیکھنے سے امام احمدرضا بریلوی کی محدثانہ شان پورے جوبن اور کامل عروج پردکھائی دیتی ہے۔ اس جلد میں شامل رسائل کے نام یہ ہیں :
(۱) جمان التاج فی بیان الصلوۃ قبل المعراج ۱۳۱۶ھ
معراج سے پہلے نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کے نماز پڑھنے کاطریقہ
(۲) حاجز البحرین الواقی عن جمع الصلوتین ۱۳۱۳ھ
دونمازیں اکٹھی پڑھنے کا شرعی حکم۔ الہاد الکاف اور نوٹ متعلق معیارالحق
(۳) منیر العین فی حکم تقبیل الابہامین ۱۳۰۱ھ
اذان میں سرکاردوعالمصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکانام نامی سن کو انگوٹھے چومنے کامدلل بیان
(۴) نھج السلامۃ فی حکم تقبیل الابھامین فی الاقامۃ ۱۳۳۳ھ
اقامت میں سرکاردوعالمصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکانام نامی سن کر انگوٹھے چومنے کامدلل بیان اور منکرین کارد
(۵) ایذان الاجر فی اذان القبر۱۳۰۷ھ
دفن کرنے کے بعدقبرپر اذان کے جواز پر نادر تحقیق
۱۸ ربیع الاول ۱۴۱۴ھ حافظ محمدعبدالستار سعیدی
۶ ستمبر ۱۹۹۳ ء ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ لاہور
نوٹ : اس جلد میں شامل رسالہ حاجزالبحرین میں متعدد مقامات پرمعیارالحق کی عبارات نقل کی گئی ہیں ۔ ان عبارات کی تلاش کیلئے معیارالحق مطبوعہ مکتبہ نذیریہ کانسخہ پیش رہاہے۔ مگرافسوس ہے کہ نسخہ مذکورہ میں اعلحضرت کی نقل کردہ عبارتوں میں تحریف کی گئی ہے۔ ان کی صرف ایک مقام کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ اسی جلد کے ص ۲۲۶ پر عبارت “ صلی الظھر والعصر ثم رکب “ میں والعصر کالفظ کاٹ لیاہے۔ معیارالحق نسخہ مذکورہ کا صفحہ ۳۷۹ ملاحظہ ہو۔
(۱) جمان التاج فی بیان الصلوۃ قبل المعراج ۱۳۱۶ھ
معراج سے پہلے نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کے نماز پڑھنے کاطریقہ
(۲) حاجز البحرین الواقی عن جمع الصلوتین ۱۳۱۳ھ
دونمازیں اکٹھی پڑھنے کا شرعی حکم۔ الہاد الکاف اور نوٹ متعلق معیارالحق
(۳) منیر العین فی حکم تقبیل الابہامین ۱۳۰۱ھ
اذان میں سرکاردوعالمصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکانام نامی سن کو انگوٹھے چومنے کامدلل بیان
(۴) نھج السلامۃ فی حکم تقبیل الابھامین فی الاقامۃ ۱۳۳۳ھ
اقامت میں سرکاردوعالمصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکانام نامی سن کر انگوٹھے چومنے کامدلل بیان اور منکرین کارد
(۵) ایذان الاجر فی اذان القبر۱۳۰۷ھ
دفن کرنے کے بعدقبرپر اذان کے جواز پر نادر تحقیق
۱۸ ربیع الاول ۱۴۱۴ھ حافظ محمدعبدالستار سعیدی
۶ ستمبر ۱۹۹۳ ء ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ لاہور
نوٹ : اس جلد میں شامل رسالہ حاجزالبحرین میں متعدد مقامات پرمعیارالحق کی عبارات نقل کی گئی ہیں ۔ ان عبارات کی تلاش کیلئے معیارالحق مطبوعہ مکتبہ نذیریہ کانسخہ پیش رہاہے۔ مگرافسوس ہے کہ نسخہ مذکورہ میں اعلحضرت کی نقل کردہ عبارتوں میں تحریف کی گئی ہے۔ ان کی صرف ایک مقام کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ اسی جلد کے ص ۲۲۶ پر عبارت “ صلی الظھر والعصر ثم رکب “ میں والعصر کالفظ کاٹ لیاہے۔ معیارالحق نسخہ مذکورہ کا صفحہ ۳۷۹ ملاحظہ ہو۔
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
کتاب الصلوۃ
مسئلہ(۲۴۹) : از اوجین مکان میرخادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ ملا یعقوب علی خان ۱۵جمادی الاولی ۱۳۱۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز پنجگانہ میں کون سی نماز سب سے پہلے کس نبی نے پڑھی ہے اور اگلے انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام اور ان کی امتوں پر بھی یہی نماز پنجگانہ فرض تھی یا یہ ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا اور ہمارا خاصہ ہے۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
الحمدلله وحدہ٭والصلوۃ والسلام علی من لانبی بعدہ٭وعلی الہ وصحبہ المکرمین عندہ۔
الله ہی کیلئے تعریف ہے جو اکیلا ہے اور صلاۃ وسلام اس ہستی پر جس کے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور اس کے آل واصحاب پر جو اس کے ہاں بہت مکرم ہیں ۔ (ت)
نماز پنجگانہ الله عزوجل کی وہ نعمت عظمی ہے کہ اس نے اپنے کرم عظیم سے خاص ہم کو عطا فرمائی ہم سے پہلے کسی امت کو
کتاب الصلوۃ
مسئلہ(۲۴۹) : از اوجین مکان میرخادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ ملا یعقوب علی خان ۱۵جمادی الاولی ۱۳۱۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز پنجگانہ میں کون سی نماز سب سے پہلے کس نبی نے پڑھی ہے اور اگلے انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام اور ان کی امتوں پر بھی یہی نماز پنجگانہ فرض تھی یا یہ ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا اور ہمارا خاصہ ہے۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
الحمدلله وحدہ٭والصلوۃ والسلام علی من لانبی بعدہ٭وعلی الہ وصحبہ المکرمین عندہ۔
الله ہی کیلئے تعریف ہے جو اکیلا ہے اور صلاۃ وسلام اس ہستی پر جس کے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور اس کے آل واصحاب پر جو اس کے ہاں بہت مکرم ہیں ۔ (ت)
نماز پنجگانہ الله عزوجل کی وہ نعمت عظمی ہے کہ اس نے اپنے کرم عظیم سے خاص ہم کو عطا فرمائی ہم سے پہلے کسی امت کو
نہ ملی بنی اسرائیل پر دو۲ ہی وقت کی فرض تھی وہ بھی صرف چار۴ رکعتیں دو۲ صبح دو۲ شام وہ بھی ان سے نہ نبھی سنن نسائی شریف میں انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمحدیث معراج مبارك میں ارشاد فرماتے ہیں ثم ردت الی خمس صلوات قال : فارجع الی ربك فاسألہ التخفیف فانہ فرض علی بنی اسرائیل صلاتین فماقاموا بھما یعنی پھر پچاس۵۰ نمازوں کی پانچ رہیں موسیعليه الصلوۃ والسلام نے عرض کی کہ حضور پھر جائیں اور اپنے رب سے تخفیف چاہیں کہ اس نے بنی اسرائیل پر دو۲ نمازیں فرض فرمائی تھیں وہ انہیں بھی بجانہ لائے۔ علامہ زرقانی شرح مواہب میں فرماتے ہیں :
ورد ان بنی اسرائیل کلفوا برکعتین بالغداۃ ورکعتین بالعشی۔ قیل ورکعتین عند الزوال فماقاموا بماکلفوا بہ ۔
روایت ہے کہ بنی اسرائیل کو دو۲ رکعتیں صبح اور دو رکعتیں رات کو پڑھنے کا مکلف بنایاگیا تھا۔ بعض نے کہا ہے کہ دو۲ رکعتیں زوال کی بھی تھیں مگر وہ اس پر کاربند نہ رہ سکے۔ (ت)
اور امتوں کا حال خدا جانے مگر اتنا ضرور ہے کہ یہ پانچوں ان میں کسی کو نہ ملیں علماء نے بے خلاف اس کی تصریح فرمائی مواہب شریف بیان خصائص امت مرحومہ میں لکھا :
ومنھا مجموع الصلوات الخمس ولم تجمع لاحد غیرھم ۔
اور ان خصوصیات میں سے پانچ نمازوں کا مجموعہ بھی ہے کیونکہ امت مسلمہ کے علاوہ کسی اور امت کیلئے پانچ نمازیں جمع نہیں کی گئیں ۔ (ت)
شرح زرقانی مقصد معراج مقدس میں زیر حدیث مذکور نسائی لکھا :
ھذا ھوالصواب وماوقع فی البیضاوی انہ فرض علیھم خمسون صلاۃ فی الیوم واللیلۃ فقال السیوطی : ھذا غلط ولم یفرض علی بنی اسرائیل خمسون صلاۃ قط بل ولاخمس صلاۃ ولم تجمع الخمس
یہی درست ہے اور جو بیضاوی میں ہے کہ بنی اسرائیل پر دن رات میں پچاس نمازیں فرض کی گئی تھیں تو سیوطی نے کہا کہ یہ غلط ہے ان پر پچاس نمازیں کبھی بھی فرض نہیں کی گئی تھیں بلکہ ان پر تو پانچ نمازیں بھی فرض نہیں تھیں پانچ صرف اس امت کیلئے
ورد ان بنی اسرائیل کلفوا برکعتین بالغداۃ ورکعتین بالعشی۔ قیل ورکعتین عند الزوال فماقاموا بماکلفوا بہ ۔
روایت ہے کہ بنی اسرائیل کو دو۲ رکعتیں صبح اور دو رکعتیں رات کو پڑھنے کا مکلف بنایاگیا تھا۔ بعض نے کہا ہے کہ دو۲ رکعتیں زوال کی بھی تھیں مگر وہ اس پر کاربند نہ رہ سکے۔ (ت)
اور امتوں کا حال خدا جانے مگر اتنا ضرور ہے کہ یہ پانچوں ان میں کسی کو نہ ملیں علماء نے بے خلاف اس کی تصریح فرمائی مواہب شریف بیان خصائص امت مرحومہ میں لکھا :
ومنھا مجموع الصلوات الخمس ولم تجمع لاحد غیرھم ۔
اور ان خصوصیات میں سے پانچ نمازوں کا مجموعہ بھی ہے کیونکہ امت مسلمہ کے علاوہ کسی اور امت کیلئے پانچ نمازیں جمع نہیں کی گئیں ۔ (ت)
شرح زرقانی مقصد معراج مقدس میں زیر حدیث مذکور نسائی لکھا :
ھذا ھوالصواب وماوقع فی البیضاوی انہ فرض علیھم خمسون صلاۃ فی الیوم واللیلۃ فقال السیوطی : ھذا غلط ولم یفرض علی بنی اسرائیل خمسون صلاۃ قط بل ولاخمس صلاۃ ولم تجمع الخمس
یہی درست ہے اور جو بیضاوی میں ہے کہ بنی اسرائیل پر دن رات میں پچاس نمازیں فرض کی گئی تھیں تو سیوطی نے کہا کہ یہ غلط ہے ان پر پچاس نمازیں کبھی بھی فرض نہیں کی گئی تھیں بلکہ ان پر تو پانچ نمازیں بھی فرض نہیں تھیں پانچ صرف اس امت کیلئے
حوالہ / References
∞ €&سنن النسائی کتاب الصلوٰۃ €∞مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱€& €∞/€& €∞۷۸€
∞ €شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الخامس فی المعراج والاسراء مطبوعہ المطبعۃ العامرہ مصر ∞۶€ ∞/€ ∞۱۴۲€
∞ €المواھب اللدنیۃ المقصد الرابع خصائص تعلق بالصلوٰۃ ∞،€ المکتب الاسلامی ∞،€ بیروت ∞۲€ ∞/€ ∞۷۱۱€
∞ €شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الخامس فی المعراج والاسراء مطبوعہ المطبعۃ العامرہ مصر ∞۶€ ∞/€ ∞۱۴۲€
∞ €المواھب اللدنیۃ المقصد الرابع خصائص تعلق بالصلوٰۃ ∞،€ المکتب الاسلامی ∞،€ بیروت ∞۲€ ∞/€ ∞۷۱۱€
الالھذہ الامۃ وانما فرض علی بنی اسرائیل صلاتان فقط کما فی الحدیث ۔
جمع کی گئی ہیں ۔ بنی اسرائیل پر تو صرف دو۲ نمازیں فرض تھیں جیسا کہ حدیث شریف میں ہے۔ (ت)
لمعات شیخ محقق دہلوی وشرح مشکوۃ امام ابن حجر مکی میں ہے : مجموع ھذہ الخمس من خصوصیاتنا (ان پر پانچ نمازوں کا مجموعہ ہماری خصوصیات میں سے ہے۔ ت)اشعۃ اللمعات میں ہے : مجموع خمس اوقات مخصوص ایں امت ست (پانچ اوقات کا مجموع اس امت کی خصوصیت ہے۔ ت)تیسیر وسراج المنیر شروح جامع صغیر میں زیر حدیث وصلوا خمسکم (اور پڑھو اپنی پانچ نمازیں ۔ ت) لکھا : اضافھا الیھم لانھا لم تجتمع لغیرھم (اپنی کہہ کر) پانچ نمازوں کو امت کی طرف اس لئے منسوب کیا ہے کہ کسی اور امت کیلئے یوں جمع نہیں کی گئیں ۔ ت) بلکہ یہ معنی عـــہ خود ارشاد حضور پرنور سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے ثابت۔ ابن ابی شیبہ مصنف اور ابوداؤد وبیہقی سنن میں بسند حسن معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہسے راوی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
عــــہ : فان قلت الم تذکر بقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم اتقو الله وصلوا خمسکم فانہ حدیث صحیح رواہ الترمذی وحسنہ وصححہ وابن حبان والحاکم عن ابی امامۃ الباھلی رضی الله تعالی عنہ ولقد احتجوا بہ علی الاختصاص قال العلامۃ الزرقانی حجۃ ذلك قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم اتقوا الله وصلوا خمسکم فاضافتھا الیھم یعطی ذلك اھ وقد نقلت کلام العزیزی والمناوی فمامعنی ھذا الترقی۔
فان قلت (اگر یہ اعتراض ہوکہ) کیا تم کو رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا یہ ارشاد عالی یاد نہیں رہا اتقوا الله وصلوا خمسکم (الله سے ڈرو اور اپنی پانچ نمازیں اداکرو) کیونکہ یہ حدیث صحیح ہے امام ترمذی نے اسے روایت کرکے حسن وصحیح قرار دیا۔ ابن حبان اور حاکم نے ابوامامہ باہلی سے روایت کیا اور علماء نے اس سے اختصاص پر استدلال کیا ہے علامہ زرقانی کہتے ہیں اس کی دلیل یہ فرمان نبوی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہے : الله سے ڈرو اور اپنی نمازیں اداکرو۔ نماز کی اضافت اس امت کی طرف کرنا اس خصوصیت کا فائدہ دیتی ہے۔ میں نے عزیزی اور مناوی کا کلام نقل کردیا ہے تو اس ترقی کا کیا معنی۔
جمع کی گئی ہیں ۔ بنی اسرائیل پر تو صرف دو۲ نمازیں فرض تھیں جیسا کہ حدیث شریف میں ہے۔ (ت)
لمعات شیخ محقق دہلوی وشرح مشکوۃ امام ابن حجر مکی میں ہے : مجموع ھذہ الخمس من خصوصیاتنا (ان پر پانچ نمازوں کا مجموعہ ہماری خصوصیات میں سے ہے۔ ت)اشعۃ اللمعات میں ہے : مجموع خمس اوقات مخصوص ایں امت ست (پانچ اوقات کا مجموع اس امت کی خصوصیت ہے۔ ت)تیسیر وسراج المنیر شروح جامع صغیر میں زیر حدیث وصلوا خمسکم (اور پڑھو اپنی پانچ نمازیں ۔ ت) لکھا : اضافھا الیھم لانھا لم تجتمع لغیرھم (اپنی کہہ کر) پانچ نمازوں کو امت کی طرف اس لئے منسوب کیا ہے کہ کسی اور امت کیلئے یوں جمع نہیں کی گئیں ۔ ت) بلکہ یہ معنی عـــہ خود ارشاد حضور پرنور سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے ثابت۔ ابن ابی شیبہ مصنف اور ابوداؤد وبیہقی سنن میں بسند حسن معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہسے راوی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
عــــہ : فان قلت الم تذکر بقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم اتقو الله وصلوا خمسکم فانہ حدیث صحیح رواہ الترمذی وحسنہ وصححہ وابن حبان والحاکم عن ابی امامۃ الباھلی رضی الله تعالی عنہ ولقد احتجوا بہ علی الاختصاص قال العلامۃ الزرقانی حجۃ ذلك قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم اتقوا الله وصلوا خمسکم فاضافتھا الیھم یعطی ذلك اھ وقد نقلت کلام العزیزی والمناوی فمامعنی ھذا الترقی۔
فان قلت (اگر یہ اعتراض ہوکہ) کیا تم کو رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا یہ ارشاد عالی یاد نہیں رہا اتقوا الله وصلوا خمسکم (الله سے ڈرو اور اپنی پانچ نمازیں اداکرو) کیونکہ یہ حدیث صحیح ہے امام ترمذی نے اسے روایت کرکے حسن وصحیح قرار دیا۔ ابن حبان اور حاکم نے ابوامامہ باہلی سے روایت کیا اور علماء نے اس سے اختصاص پر استدلال کیا ہے علامہ زرقانی کہتے ہیں اس کی دلیل یہ فرمان نبوی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہے : الله سے ڈرو اور اپنی نمازیں اداکرو۔ نماز کی اضافت اس امت کی طرف کرنا اس خصوصیت کا فائدہ دیتی ہے۔ میں نے عزیزی اور مناوی کا کلام نقل کردیا ہے تو اس ترقی کا کیا معنی۔
حوالہ / References
∞ €شرح الزرقانی علی المواہب فی المقصد الخامس تخصیصہ علیہ السلام بخصائص المعراج والاسراء مطبوعہ المطبعۃ العامرہ مصر ∞،€ ∞۶€ ∞/€ ∞۱۴۱€
∞ €لمعات التنقیح الفصل الثانی کتاب الصلوٰۃ باب المواقیت مکتبۃ المعارف العلمیۃ ∞لاہور€ ∞۲€ ∞/€ ∞۲۳۱€
∞ €اشعّۃ اللمعات الفصل الثانی کتاب الصلوٰۃ باب المواقیت ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱€ ∞/€ ∞۲۸۷€
∞ €السراج المنیر شرح جامع صغیر تحت حدیث ∞''€اتقوا اللّٰہ وصلوا خمسکم∞''€ مطبوعہ مطبعہ ازہریہ مصر ∞۱€ ∞/€ ∞۳۷€
∞ € ∞ €شرح الزرقانی ∞،€ مقصد رابع مطبعہ عامرہ مصر ∞۵€ ∞/€ ∞۴۲۴€ و ∞۴۲۵€
∞ € شرح الزرقانی ∞،€ مقصد رابع مطبعہ عامرہ مصر ∞۵€ ∞/€ ∞۴۲۴€ و ∞۴۲۵€
∞ €لمعات التنقیح الفصل الثانی کتاب الصلوٰۃ باب المواقیت مکتبۃ المعارف العلمیۃ ∞لاہور€ ∞۲€ ∞/€ ∞۲۳۱€
∞ €اشعّۃ اللمعات الفصل الثانی کتاب الصلوٰۃ باب المواقیت ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱€ ∞/€ ∞۲۸۷€
∞ €السراج المنیر شرح جامع صغیر تحت حدیث ∞''€اتقوا اللّٰہ وصلوا خمسکم∞''€ مطبوعہ مطبعہ ازہریہ مصر ∞۱€ ∞/€ ∞۳۷€
∞ € ∞ €شرح الزرقانی ∞،€ مقصد رابع مطبعہ عامرہ مصر ∞۵€ ∞/€ ∞۴۲۴€ و ∞۴۲۵€
∞ € شرح الزرقانی ∞،€ مقصد رابع مطبعہ عامرہ مصر ∞۵€ ∞/€ ∞۴۲۴€ و ∞۴۲۵€
نے نماز عشا کی نسبت فرمایا :
اعتموا بھذہ الصلوۃ فانکم فضلتم بھا علی سائر الامم ولم تصلھا امۃ قبلکم ۔
اس نماز کو دیر کرکے پڑھو کہ تم اس سے تمام امتوں پر فضیلت دئیے گئے ہو تم سے پہلے کسی امت نے یہ نماز نہ پڑھی۔ (ت)
پر ظاہر کہ جب نماز عشا ہمارے لئے خاص ہے تو پانچوں کا مجموعہ بھی ہمارے سوا کسی امت کو نہ ملا۔ رہا ہمارے نبی سید الانبیاء صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے سوا کسی نبی کو یہ پانچوں نہ ملنا علماء اس کی بھی تصریح فرماتے ہیں امام جلال الدین سیوطی نے خصائص کبری میں ایك باب وضع فرمایا :
باب اختصاصہ صلی الله تعالی علیہ وسلم بمجموع الصلوات الخمس ولم تجمع لاحد ۔
یعنی وہ باب جس میں بیان کیا گیا ہے کہ پانچ نمازوں کے مجموعے کے ساتھ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممختص ہیں اور آپ سے پہلے کسی نبی کیلئے پانچ نمازیں جمع نہیں کی گئیں ۔ (ت)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
اقول : ببلی ولکن لی فی کونہ حجۃ فی المقام مقال فان امر الاضافات اوسع من ھذا تقول ربکم ونبیکم بل فی آخر نفس الحدیث تدخلوا جنۃ ربکم و زاد فی روایۃ وعند الخلعی وحجوا بیت ربکم وایضا یجوز التخصیص باعتبار اھل الزمان وایضا قدثبت خصوصنا فیھا بوجوہ کمایاتی فلایدل علی خصوص نفس الخمس ولوبالجمع والله تعالی اعلم ۱۲ منہ (م)
اقول : (میں کہتا ہوں ) کیوں نہیں لیکن اس حدیث کو اختصاص پر دلیل بنانے میں مجھے اعتراض ہے کیونکہ اضافتوں کا معاملہ اس سے زیادہ وسیع ہے۔ تم کہتے ہو ربکم ونبیکم (تمہارا رب اور تمہارا نبی) بلکہ اس حدیث کے آخر میں ہے تدخلوا جنۃ ربکم (اپنے رب کی جنت میں داخل ہوجاؤ گے) اور خلعی کی روایت میں یہ اضافہ بھی ہے وحجوا بیت ربکم (اور اپنے رب کے گھر کا حج کرو۔ ان مثالوں میں اضافت موجود ہے مگر اختصاص نہیں کیونکہ رب صرف مخاطبین کا نہیں سارے جہان کا ہے) نیز خصوصیت باعتبار اہل زمانہ کے بھی ہوسکتی ہے علاوہ ازیں ہماری خصوصیت دیگر وجوہ کی بناء پر ثابت ہے جیسا کہ آرہا ہے پس اس حدیث سے ان پانچوں نمازوں کی خصوصیت اجتماعی طور پر بھی ثابت نہیں ہوتی والله تعالی اعلم ۱۲ منہ (ت)
اعتموا بھذہ الصلوۃ فانکم فضلتم بھا علی سائر الامم ولم تصلھا امۃ قبلکم ۔
اس نماز کو دیر کرکے پڑھو کہ تم اس سے تمام امتوں پر فضیلت دئیے گئے ہو تم سے پہلے کسی امت نے یہ نماز نہ پڑھی۔ (ت)
پر ظاہر کہ جب نماز عشا ہمارے لئے خاص ہے تو پانچوں کا مجموعہ بھی ہمارے سوا کسی امت کو نہ ملا۔ رہا ہمارے نبی سید الانبیاء صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے سوا کسی نبی کو یہ پانچوں نہ ملنا علماء اس کی بھی تصریح فرماتے ہیں امام جلال الدین سیوطی نے خصائص کبری میں ایك باب وضع فرمایا :
باب اختصاصہ صلی الله تعالی علیہ وسلم بمجموع الصلوات الخمس ولم تجمع لاحد ۔
یعنی وہ باب جس میں بیان کیا گیا ہے کہ پانچ نمازوں کے مجموعے کے ساتھ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممختص ہیں اور آپ سے پہلے کسی نبی کیلئے پانچ نمازیں جمع نہیں کی گئیں ۔ (ت)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
اقول : ببلی ولکن لی فی کونہ حجۃ فی المقام مقال فان امر الاضافات اوسع من ھذا تقول ربکم ونبیکم بل فی آخر نفس الحدیث تدخلوا جنۃ ربکم و زاد فی روایۃ وعند الخلعی وحجوا بیت ربکم وایضا یجوز التخصیص باعتبار اھل الزمان وایضا قدثبت خصوصنا فیھا بوجوہ کمایاتی فلایدل علی خصوص نفس الخمس ولوبالجمع والله تعالی اعلم ۱۲ منہ (م)
اقول : (میں کہتا ہوں ) کیوں نہیں لیکن اس حدیث کو اختصاص پر دلیل بنانے میں مجھے اعتراض ہے کیونکہ اضافتوں کا معاملہ اس سے زیادہ وسیع ہے۔ تم کہتے ہو ربکم ونبیکم (تمہارا رب اور تمہارا نبی) بلکہ اس حدیث کے آخر میں ہے تدخلوا جنۃ ربکم (اپنے رب کی جنت میں داخل ہوجاؤ گے) اور خلعی کی روایت میں یہ اضافہ بھی ہے وحجوا بیت ربکم (اور اپنے رب کے گھر کا حج کرو۔ ان مثالوں میں اضافت موجود ہے مگر اختصاص نہیں کیونکہ رب صرف مخاطبین کا نہیں سارے جہان کا ہے) نیز خصوصیت باعتبار اہل زمانہ کے بھی ہوسکتی ہے علاوہ ازیں ہماری خصوصیت دیگر وجوہ کی بناء پر ثابت ہے جیسا کہ آرہا ہے پس اس حدیث سے ان پانچوں نمازوں کی خصوصیت اجتماعی طور پر بھی ثابت نہیں ہوتی والله تعالی اعلم ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
∞ €سنن ابی داؤد باب وقت العشاء الاخرۃ ∞مطبوعہ مجتبائی لاہور€ ∞پاکستان آفتاب عالم پریس لاہور€ ∞۱€ ∞/€ ∞۱۶€
∞ € الخصائص الکبرٰی باب اختصاصہ صلی اللہ علیہ وسلم بمجموع الصلوات الخمس الخ ∞مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲€ ∞/€ ∞۲۰۴€
∞ € الخصائص الکبرٰی باب اختصاصہ صلی اللہ علیہ وسلم بمجموع الصلوات الخمس الخ ∞مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲€ ∞/€ ∞۲۰۴€
امام محمدمحمد محمدابن امیر الحاج حلبی حلیہ میں بعض علماء سے ناقل ھذہ الصلوات تفرقت فی الانبیاء وجمعت فی ھذہ الامۃ (یہ نمازیں باقی انبیاء کو متفرق طور پر عطا کی گئیں اس امت کے لئے جمع کردی گئیں ۔ ت) علامہ زرقانی شرح مواہب میں لکھتے ہیں : لم تجمع لاحد غیرھم من الانبیاء والامم (اس امت کے علاوہ باقی انبیاء اور امتوں میں سے کسی کیلئے یہ نمازیں جمع نہیں کی گئیں ۔ ت)اسی میں ہے :
ولایعارضہ قول عــہ جبریل فی حدیث المواقیت حین صلی الخمس بالنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم : ھذا وقتك ووقت الانبیاء من قبلک لان المراد کماقال الرافعی انہ وقتھم اجمالا وان اختص کل منھم بوقت ۔
اور اس کے معارض نہیں ہے جبریل کا یہ کہنا کہ یہ آپ کا وقت ہے اور آپ سے پہلے انبیاء کا بھی۔ حدیث مواقیت کے مطابق جبریل نے یہ بات اس وقت کہی تھی جب انہوں نے رسول الله کو پانچ نمازیں پڑھائی تھیں عدم تعارض کی وجہ یہ ہے کہ یہ اوقات دیگر انبیاء کو اجمالی طور پر ملے تھے انفرادی طور پر تو ہر نبی کو ان میں سے کچھ وقت دیے گئے تھے۔ (ت)
لمعات وشرح ابن حجر مکی میں ہے :
واللفظ للاول قولہ ھذا وقت الانبیاء من قبلك یدل بظاھرہ علی ان الصلوات الخمس کانت واجبۃ علی الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام والمراد التوزیع بالنسبۃ الی غیر العشاء اذمجموع ھذہ الخمس من خصوصیاتنا واما بالنسبۃ الیھم فکان
اور لفظ لمعات کے ہیں -- جبریل کا یہ کہنا کہ یہ آپ کا وقت ہے اور پہلے انبیاء کا بھی بظاہر اس پر دلالت کرتا ہے کہ پانچ نمازیں پہلے انبیاء پر واجب تھیں لیکن یہاں مراد یہ ہے کہ عشاء کے علاوہ باقی نمازیں دیگر انبیاء پر تقسیم کی گئی تھیں کیونکہ پانچ نمازوں کا مجموع ہماری خصوصیات میں سے ہے۔ باقی انبیاء کو تو عشاء
عـــہ : رواہ ابوداؤد والترمذی عن ابن عباس رضی الله تعالی عنھما وستأتی تخریجاتہ ۱۲ منہ (م)
اسے ابوداؤد اور ترمذی نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے اس کی تخریجات آگے آرہی ہے ۱۲ منہ (ت)
ولایعارضہ قول عــہ جبریل فی حدیث المواقیت حین صلی الخمس بالنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم : ھذا وقتك ووقت الانبیاء من قبلک لان المراد کماقال الرافعی انہ وقتھم اجمالا وان اختص کل منھم بوقت ۔
اور اس کے معارض نہیں ہے جبریل کا یہ کہنا کہ یہ آپ کا وقت ہے اور آپ سے پہلے انبیاء کا بھی۔ حدیث مواقیت کے مطابق جبریل نے یہ بات اس وقت کہی تھی جب انہوں نے رسول الله کو پانچ نمازیں پڑھائی تھیں عدم تعارض کی وجہ یہ ہے کہ یہ اوقات دیگر انبیاء کو اجمالی طور پر ملے تھے انفرادی طور پر تو ہر نبی کو ان میں سے کچھ وقت دیے گئے تھے۔ (ت)
لمعات وشرح ابن حجر مکی میں ہے :
واللفظ للاول قولہ ھذا وقت الانبیاء من قبلك یدل بظاھرہ علی ان الصلوات الخمس کانت واجبۃ علی الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام والمراد التوزیع بالنسبۃ الی غیر العشاء اذمجموع ھذہ الخمس من خصوصیاتنا واما بالنسبۃ الیھم فکان
اور لفظ لمعات کے ہیں -- جبریل کا یہ کہنا کہ یہ آپ کا وقت ہے اور پہلے انبیاء کا بھی بظاہر اس پر دلالت کرتا ہے کہ پانچ نمازیں پہلے انبیاء پر واجب تھیں لیکن یہاں مراد یہ ہے کہ عشاء کے علاوہ باقی نمازیں دیگر انبیاء پر تقسیم کی گئی تھیں کیونکہ پانچ نمازوں کا مجموع ہماری خصوصیات میں سے ہے۔ باقی انبیاء کو تو عشاء
عـــہ : رواہ ابوداؤد والترمذی عن ابن عباس رضی الله تعالی عنھما وستأتی تخریجاتہ ۱۲ منہ (م)
اسے ابوداؤد اور ترمذی نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے اس کی تخریجات آگے آرہی ہے ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
∞ €حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
∞ € شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الرابع خصائص امۃ صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ المطبعۃ العامرہ مصر ∞۵€ ∞/€ ∞۴۲۴€
∞ € شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الرابع خصائص امۃ صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ المطبعۃ العامرہ مصر ∞۵€ ∞/€ ∞۴۲۵€
∞ € شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الرابع خصائص امۃ صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ المطبعۃ العامرہ مصر ∞۵€ ∞/€ ∞۴۲۴€
∞ € شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الرابع خصائص امۃ صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ المطبعۃ العامرہ مصر ∞۵€ ∞/€ ∞۴۲۵€
ماعدا العشاء متفرقا فیھم کماجاء فی الاخبار ۔
کے علاوہ باقی نمازیں متفرق طور پر ملی تھیں جیسا کہ روایات میں آیا ہے۔ (ت)
علامہ شہاب الدین خفاجی نسیم الریاض شرح شفائے امام قاضی عیاض میں فرماتے ہیں :
الصلوات الخمس لم تجتمع لغیرہ ولغیر امتہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ولا لنبی قبلہ فانما الانبیاء قبلہ کانت لھم صلاۃ موافقۃ لبعض ھذہ دون مجموعھا ۔
پانچ نمازیں آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماور آپ کی امت کے علاوہ کسی امت کیلئے جمع نہیں کی گئیں نہ آپ سے پہلے کسی نبی کیلئے۔ پہلے انبیاء کو جو نمازیں ملی تھیں تو ان میں سے ہر نبی کی نماز ان اوقات میں سے کسی ایك وقت کے ساتھ مطابقت رکھتی تھی مجموع طور پر پانچ نمازیں ان میں سے کسی کو بھی نہیں دی گئی تھیں ۔ (ت)
اقول : مگر فقیر غفرلہ الله تعالی لہ نے کوئی دلیل صحیح صریح اس پر نہ پائی
وکل ماذکروہ فلایفید المدعی اومعارض بماھو اصح واقوی کمافصلنا ذلك فی تحریر مستقل لنافی ھذا المقال کتبناہ بتوفیق الله تعالی بعد ورود ھذا السؤال ملخصہ انھم احتجوا علی ذلك باحادیث واثار منھا۱ حدیث صحیح مسلم عن عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ فی خبر الاسراء فاعطی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ثلثا اعطی الصلوات الخمس واعطی خواتیم سورۃ البقرۃ وغفرلمن لم یشرك بالله من ا متہ شیئا المقحمات فانہ ظاھر فی اختصاصھا بہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ۔
یہ سب باتیں جو علماء نے ذکر کی ہیں اثبات مدعی کیلئے مفید نہیں ہیں یا زیادہ صحیح اور قوی روایات سے معارض ہیں یہ بات ہم نے اس موضوع پر اپنی ایك مستقل تحریر میں مفصل طور پر بیان کی ہے جو اس سوال کے آنے پر لکھی گئی تھی۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ علماء نے پانچ نمازوں کے مجموعے کا اس امت کے ساتھ مختص ہونے پر چند احادیث وآثار سے استدلال کیا ہے۔ ان میں سے ایك حدیث صحیح مسلم کی ہے جو واقعہ معراج کے بارے میں عبدالله ابن مسعود سے مروی ہے کہ رسول الله کو تین چیزیں عطا کی گئیں پانچ نمازیں سورہ بقر کی آخری آیتیں اور آپ کی امت کے ہر اس شخص کی مغفرت جو الله کے ساتھ کسی کو شریك نہ ٹھہرائے اس حدیث سے ظاہر ہے کہ پانچ نمازیں رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکیلئے خاص ہیں ۔ (ت)
کے علاوہ باقی نمازیں متفرق طور پر ملی تھیں جیسا کہ روایات میں آیا ہے۔ (ت)
علامہ شہاب الدین خفاجی نسیم الریاض شرح شفائے امام قاضی عیاض میں فرماتے ہیں :
الصلوات الخمس لم تجتمع لغیرہ ولغیر امتہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ولا لنبی قبلہ فانما الانبیاء قبلہ کانت لھم صلاۃ موافقۃ لبعض ھذہ دون مجموعھا ۔
پانچ نمازیں آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماور آپ کی امت کے علاوہ کسی امت کیلئے جمع نہیں کی گئیں نہ آپ سے پہلے کسی نبی کیلئے۔ پہلے انبیاء کو جو نمازیں ملی تھیں تو ان میں سے ہر نبی کی نماز ان اوقات میں سے کسی ایك وقت کے ساتھ مطابقت رکھتی تھی مجموع طور پر پانچ نمازیں ان میں سے کسی کو بھی نہیں دی گئی تھیں ۔ (ت)
اقول : مگر فقیر غفرلہ الله تعالی لہ نے کوئی دلیل صحیح صریح اس پر نہ پائی
وکل ماذکروہ فلایفید المدعی اومعارض بماھو اصح واقوی کمافصلنا ذلك فی تحریر مستقل لنافی ھذا المقال کتبناہ بتوفیق الله تعالی بعد ورود ھذا السؤال ملخصہ انھم احتجوا علی ذلك باحادیث واثار منھا۱ حدیث صحیح مسلم عن عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ فی خبر الاسراء فاعطی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ثلثا اعطی الصلوات الخمس واعطی خواتیم سورۃ البقرۃ وغفرلمن لم یشرك بالله من ا متہ شیئا المقحمات فانہ ظاھر فی اختصاصھا بہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ۔
یہ سب باتیں جو علماء نے ذکر کی ہیں اثبات مدعی کیلئے مفید نہیں ہیں یا زیادہ صحیح اور قوی روایات سے معارض ہیں یہ بات ہم نے اس موضوع پر اپنی ایك مستقل تحریر میں مفصل طور پر بیان کی ہے جو اس سوال کے آنے پر لکھی گئی تھی۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ علماء نے پانچ نمازوں کے مجموعے کا اس امت کے ساتھ مختص ہونے پر چند احادیث وآثار سے استدلال کیا ہے۔ ان میں سے ایك حدیث صحیح مسلم کی ہے جو واقعہ معراج کے بارے میں عبدالله ابن مسعود سے مروی ہے کہ رسول الله کو تین چیزیں عطا کی گئیں پانچ نمازیں سورہ بقر کی آخری آیتیں اور آپ کی امت کے ہر اس شخص کی مغفرت جو الله کے ساتھ کسی کو شریك نہ ٹھہرائے اس حدیث سے ظاہر ہے کہ پانچ نمازیں رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکیلئے خاص ہیں ۔ (ت)
حوالہ / References
∞ €لمعات التنقیح مواقیت الصلواۃ الفصل الثانی ∞مطبوعہ مکتبہ معارف علمیہ لاہور€ ∞۲€ ∞/€ ∞۲۳۱€
∞ € نسیم الریاض شرح الشفاء فصل فی تعظیمہٖ صلی اللہ علیہ وسلم بماتضمنہ کرامۃ الاسراء مطبوعہ دارالفکر بیروت لبنان ∞۲€ ∞/€ ∞۲۵۷€
∞ €الصحیح المسلم باب فی قول اللہ تعالٰی ولقد راٰہ نزلۃ اخرٰی ∞مطبوعہ قدیمی کتب خانہ لاہور€ ∞۱€ ∞/€ ∞۹۷€
∞ € نسیم الریاض شرح الشفاء فصل فی تعظیمہٖ صلی اللہ علیہ وسلم بماتضمنہ کرامۃ الاسراء مطبوعہ دارالفکر بیروت لبنان ∞۲€ ∞/€ ∞۲۵۷€
∞ €الصحیح المسلم باب فی قول اللہ تعالٰی ولقد راٰہ نزلۃ اخرٰی ∞مطبوعہ قدیمی کتب خانہ لاہور€ ∞۱€ ∞/€ ∞۹۷€
قلت : وذلك لانہ کان محل الاکرام الخاص فینبغی اختصاص الخمس ایضا بہ صلی الله تعالی علیہ وسلم کالباقیین۔ قال فی نسیم الریاض (فاعطی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ثلثا) من الفضائل المخصوصۃ بہ صلی الله تعالی علیہ وسلم اھ۔ اقول : لك ان تقول بعد تسلیم لزوم الخصوص فی کل عطاء یعطی فی مقام الاختصاص لایلزم الخصوص من کل وجہ فقدکانت الصلاۃ فریضۃ علی الانبیاء صلوات الله تعالی وسلامہ علیھم وفی کل دین الھی کماقال تعالی فی سیدنا اسمعیل علی ابنہ الکریم وعلیہ الصلاۃ والتسلیم
و كان یامر اهله بالصلوة و الزكوة۪-و كان عند ربه مرضیا(۵۵) ۔ وقال عزوجل عن عبدہ عیسی علیہ الصلاۃ والسلام
و اوصنی بالصلوة و الزكوة ما دمت حیاﳚ(۳۱) ۔
وفی الحدیث عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم لاخیر فی دین لاصلوۃ فیہ وقد کانت اوقات صلاتھم ھی ھذہ الاوقات لقول جبریل علیہ الصلاۃ والسلام ھذا وقتك ووقت الانبیاء من قبلك ۔
میں کہتا ہوں : ظاہر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ موقعہ اکرام خاص کا تھا اس لئے پانچ نمازیں بھی آپ کیلئے خاص ہونی چاہئیں جس طرح باقی دو۲ چیزیں آپ کیلئے خاص ہیں ۔ نسیم الریاض میں ہے (پس دی گئیں رسول الله کو تین۳ چیزیں) یعنی ان فضائل میں سے جو آپ کے ساتھ مخصوص ہیں اھ (ت)میں کہتا ہوں تم اس کے جواب میں کہہ سکتے ہوکہ اگر یہ بات مان بھی لی جائے کہ اختصاص کے موقعہ پر جو چیزیں دی جائیں ان میں ہر ایك کا خاص ہونا ضروری ہے۔ تاہم ہر لحاظ سے خاص ہونا تو کوئی ضروری نہیں ہے۔ کیونکہ نمازیں تمام انبیاء پر اور ہر دین الہی میں فرض تھیں جس طرح الله تعالی سیدنا اسمعیل ان کے کریم بیٹے پر اور ان پر صلوۃ وسلام ہو۔ کے بارے میں فرماتا ہے “ وہ حکم دیا کرتا تھا اپنے اہل خانہ کو نماز اور زکوۃ کا اور اپنے رب کے ہاں پسندیدہ تھا “ اور الله عزوجل نے اپنے بندے عیسی علیہ السلام کا یہ قول بیان کیا ہے “ اور حکم دیا ہے مجھے الله تعالی نے نماز اور زکوۃ کا جب تك میں زندہ رہوں “ اور حدیث میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے مروی ہے کہ اس دین میں کوئی خیر نہیں ہے جس میں نماز نہ ہو ور پہلے انبیاء کے اوقات نماز وہی تھے جو ہمارے ہیں کیونکہ جبریل نے کہا ہے کہ یہ وقت ہے
و كان یامر اهله بالصلوة و الزكوة۪-و كان عند ربه مرضیا(۵۵) ۔ وقال عزوجل عن عبدہ عیسی علیہ الصلاۃ والسلام
و اوصنی بالصلوة و الزكوة ما دمت حیاﳚ(۳۱) ۔
وفی الحدیث عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم لاخیر فی دین لاصلوۃ فیہ وقد کانت اوقات صلاتھم ھی ھذہ الاوقات لقول جبریل علیہ الصلاۃ والسلام ھذا وقتك ووقت الانبیاء من قبلك ۔
میں کہتا ہوں : ظاہر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ موقعہ اکرام خاص کا تھا اس لئے پانچ نمازیں بھی آپ کیلئے خاص ہونی چاہئیں جس طرح باقی دو۲ چیزیں آپ کیلئے خاص ہیں ۔ نسیم الریاض میں ہے (پس دی گئیں رسول الله کو تین۳ چیزیں) یعنی ان فضائل میں سے جو آپ کے ساتھ مخصوص ہیں اھ (ت)میں کہتا ہوں تم اس کے جواب میں کہہ سکتے ہوکہ اگر یہ بات مان بھی لی جائے کہ اختصاص کے موقعہ پر جو چیزیں دی جائیں ان میں ہر ایك کا خاص ہونا ضروری ہے۔ تاہم ہر لحاظ سے خاص ہونا تو کوئی ضروری نہیں ہے۔ کیونکہ نمازیں تمام انبیاء پر اور ہر دین الہی میں فرض تھیں جس طرح الله تعالی سیدنا اسمعیل ان کے کریم بیٹے پر اور ان پر صلوۃ وسلام ہو۔ کے بارے میں فرماتا ہے “ وہ حکم دیا کرتا تھا اپنے اہل خانہ کو نماز اور زکوۃ کا اور اپنے رب کے ہاں پسندیدہ تھا “ اور الله عزوجل نے اپنے بندے عیسی علیہ السلام کا یہ قول بیان کیا ہے “ اور حکم دیا ہے مجھے الله تعالی نے نماز اور زکوۃ کا جب تك میں زندہ رہوں “ اور حدیث میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے مروی ہے کہ اس دین میں کوئی خیر نہیں ہے جس میں نماز نہ ہو ور پہلے انبیاء کے اوقات نماز وہی تھے جو ہمارے ہیں کیونکہ جبریل نے کہا ہے کہ یہ وقت ہے
حوالہ / References
∞ € نسیم الریاض شرح الشفاء فصل فی تعظیمہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بماتضمنہ کرامۃ الاسراء مطبوعہ دارالفکر بیروت لبنان ∞۲€ ∞/€ ∞۲۵۶€
∞ € القرآن سورہ مریم ∞۱۹€ آیت ∞۵۵€
∞ €القرآن ∞،€ سورہ مریم ∞۱۹€ ∞،€ آیت ∞۳۱€
∞ €سنن ابی داؤد باب ماجاء فی خبر الطائف مطبوعہ آفتاب عالم پریس ∞لاہور€ ∞۲€ ∞/€ ∞۷۲€ نوٹ ∞:€ ∞جو حدیث مجھے ملی ہے اس میں لفظ€ لاصلٰوۃ فیہ∞ کی جگہ ''€لارکوع فیہ∞''ہے€ واللہ تعالٰی اعلم نذیر احمد سعیدی
∞ € مشکوٰۃ المصابیح باب المواقیت ∞مطبوعہ مجتبا ئی دہلی ،€ ص ∞۵۹€
∞ € القرآن سورہ مریم ∞۱۹€ آیت ∞۵۵€
∞ €القرآن ∞،€ سورہ مریم ∞۱۹€ ∞،€ آیت ∞۳۱€
∞ €سنن ابی داؤد باب ماجاء فی خبر الطائف مطبوعہ آفتاب عالم پریس ∞لاہور€ ∞۲€ ∞/€ ∞۷۲€ نوٹ ∞:€ ∞جو حدیث مجھے ملی ہے اس میں لفظ€ لاصلٰوۃ فیہ∞ کی جگہ ''€لارکوع فیہ∞''ہے€ واللہ تعالٰی اعلم نذیر احمد سعیدی
∞ € مشکوٰۃ المصابیح باب المواقیت ∞مطبوعہ مجتبا ئی دہلی ،€ ص ∞۵۹€
وصرف الفرض الی اجتماع الخمس قد یأباہ ظاھر اللفظ اذ لو ارید ھذا لقال اعطی الصلوات خمسا اواعطی خمس صلوات۔ ومع ذلك اذاصرف الی وصف فحینئذ نقول بموجبہ فالخمس علی ھذہ الصفۃ لم تکن لاحد قبلنا فان الله تعالی خصنا بالاذان والاقامۃ والبسملۃ والتأمین الذی ماحسدتنا عـــہ الیھود علی شیئ ما حسدتنا علیہ وعلی السلام وجعلنا نصف کماتصف الملئکۃ عند ربھا وجعل لنا الارض مسجد اوطھورا۔
ونقول : خصصنا بان امضی فریضتہ وخفف عن عبادہ فھی خمس وھی خمسون تفضلا من ربنا تبارك وتعالی ببرکۃ نبینا صلی الله تعالی علیہ وسلم۔ ومنھا۲ حدیث ابن جریر والبزار وابی یعلی عن ابی ھریرۃ والبیھقی عنہ وعن ابی سعید الخدری رضی الله تعالی عنھما فیہ قولہ
آپ کا اور آپ سے پہلے انبیاء کا۔ اور عبدالله ابن مسعود کے قول اعطی الصلوۃ الخمس کا یہ مطلب نکالنا کہ آپ کو اجتماعی طور پر پانچ نمازیں عطا کی گئیں حدیث کے ظاہری الفاظ کے خلاف ہے۔ کیونکہ اگر یہ مراد ہوتی تو عبدالله ابن مسعود یوں کہتے اعطی الصلوۃ خمسا یا یہ کہتے اعطی خمس صلوات (جبکہ انہوں نے اعطی الصلوات الخمس کہا ہے) بایں ہمہ اگر فرضیت کو کسی وصف کے ساتھ مقید کرنا ہی ہے تو اس کے مطابق ہم یہ کہیں گے کہ جس طرح کی پانچ نمازیں ہم پر فرض کی گئی ہیں اس طرح ہم سے پہلے کسی پر فرض نہیں کی گئیں کیونکہ الله تعالی نے ہمیں اذان اقامت بسم الله اور آمین کہنے کے ساتھ مختص کیا ہے۔ جبکہ آمین اور سلام میں جتنا یہودی ہمارے ساتھ حسد کرتے تھے اتنا کسی اور چیز میں نہیں کرتے تھے۔ اسی طرح ہم صفیں بناتے ہیں جس طرح ملائکہ اپنے رب کے روبرو صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں ۔ اور الله تعالی نے ہمارے لیے
عـــہ رواہ البخاری فی الادب المفرد وابن ماجۃ بسند صحیح عن ام المومنین رضی الله تعالی عنھا عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ۱۲ منہ غفرلہ
اسے امام بخاری نے الادب المفرد اور ابن ماجہ نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ام المومنین کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے یہ روایت کیا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
ونقول : خصصنا بان امضی فریضتہ وخفف عن عبادہ فھی خمس وھی خمسون تفضلا من ربنا تبارك وتعالی ببرکۃ نبینا صلی الله تعالی علیہ وسلم۔ ومنھا۲ حدیث ابن جریر والبزار وابی یعلی عن ابی ھریرۃ والبیھقی عنہ وعن ابی سعید الخدری رضی الله تعالی عنھما فیہ قولہ
آپ کا اور آپ سے پہلے انبیاء کا۔ اور عبدالله ابن مسعود کے قول اعطی الصلوۃ الخمس کا یہ مطلب نکالنا کہ آپ کو اجتماعی طور پر پانچ نمازیں عطا کی گئیں حدیث کے ظاہری الفاظ کے خلاف ہے۔ کیونکہ اگر یہ مراد ہوتی تو عبدالله ابن مسعود یوں کہتے اعطی الصلوۃ خمسا یا یہ کہتے اعطی خمس صلوات (جبکہ انہوں نے اعطی الصلوات الخمس کہا ہے) بایں ہمہ اگر فرضیت کو کسی وصف کے ساتھ مقید کرنا ہی ہے تو اس کے مطابق ہم یہ کہیں گے کہ جس طرح کی پانچ نمازیں ہم پر فرض کی گئی ہیں اس طرح ہم سے پہلے کسی پر فرض نہیں کی گئیں کیونکہ الله تعالی نے ہمیں اذان اقامت بسم الله اور آمین کہنے کے ساتھ مختص کیا ہے۔ جبکہ آمین اور سلام میں جتنا یہودی ہمارے ساتھ حسد کرتے تھے اتنا کسی اور چیز میں نہیں کرتے تھے۔ اسی طرح ہم صفیں بناتے ہیں جس طرح ملائکہ اپنے رب کے روبرو صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں ۔ اور الله تعالی نے ہمارے لیے
عـــہ رواہ البخاری فی الادب المفرد وابن ماجۃ بسند صحیح عن ام المومنین رضی الله تعالی عنھا عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ۱۲ منہ غفرلہ
اسے امام بخاری نے الادب المفرد اور ابن ماجہ نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ام المومنین کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے یہ روایت کیا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
حوالہ / References
∞ €الادب المفرد باب فضل السلام حدیث ∞۹۸۸€ ∞مطبوعہ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل€ ص∞۲۵۶€
∞ €اعطی الصلوت خمسا ∞،€ اعطی خمس صلوت ∞،€ اعطی الصلوت الخمس ∞،€ ∞ان جملوں کے مفہوم میں جو فرق ہے اس کو اُردو ترجمے میں واضح کرنا ممکن نہیں ہے ، مختصرًا آپ یہ سمجھ لیں کہ پہلی دو۲ عبارتیں پانچ کی تخصیص کا تقاضا کرتی ہیں یعنی پانچ نمازیں آپ کے ساتھ خاص ہیں جبکہ تیسری عبارت ، جوکہ حدیث میں بھی وارد ہے ، تخصیص کا تقاضا نہیں کرتی۔€ ∞(€دائم∞)€
∞ €اعطی الصلوت خمسا ∞،€ اعطی خمس صلوت ∞،€ اعطی الصلوت الخمس ∞،€ ∞ان جملوں کے مفہوم میں جو فرق ہے اس کو اُردو ترجمے میں واضح کرنا ممکن نہیں ہے ، مختصرًا آپ یہ سمجھ لیں کہ پہلی دو۲ عبارتیں پانچ کی تخصیص کا تقاضا کرتی ہیں یعنی پانچ نمازیں آپ کے ساتھ خاص ہیں جبکہ تیسری عبارت ، جوکہ حدیث میں بھی وارد ہے ، تخصیص کا تقاضا نہیں کرتی۔€ ∞(€دائم∞)€
عزوجل لنبیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم حین ذکر ما اعطی الانبیاء السابقین علیھم الصلاۃ والتسلیم من الفضائل : اعطیتك ثمانیۃ اسھم الاسلام(۱) والھجرۃ(۲) والجھاد(۳) والصلاۃ (۴) والصدقۃ(۵) وصوم رمضان(۶) والامر(۷) بالمعروف والنھی عن(۸) المنکر۔ قال الزرقانی (والصلاۃ) ای مجموع الصلوات الخمس (والصدقۃ) الزکاۃ (وصوم رمضان) وفیہ حجۃ لاحد القولین فی اختصاصہ بالامۃ المحمدیۃ الخ۔
تمام روئے زمین کو مسجد اور پاکی کا ذریعہ بنایا ہے یا یہ کہیں گے کہ الله تعالی نے ہمیں اس شرف کے ساتھ مختص کیا ہے کہ اپنے مقرر کردہ فرائض اپنی جگہ پر رکھے اور بندوں سے تخفیف بھی کردی اب پڑھی پانچ جاتی ہیں اور ثواب کے اعتبار سے پچاس۵۰ ہوجاتی ہیں ۔ یہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی برکت سے ہم پر الله تعالی کا انعام ہے۔ اور ان ہی میں سے وہ حدیث ہے جو ابن جریر بزار اور ابویعلی نے ابوھریرہ سے اور بیہقی نے ابوھریرہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہماسے روایت کی ہے۔ اس حدیث میں ہے کہ جب نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ان فضائل کا ذکر کیا جو الله تعالی نے انبیائے سابقین کو عطا فرمائے تھے تو الله عزوجل نے اپنے خاص نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے فرمایا کہ میں نے آپ کو آٹھ حصے عطا کئے ہیں : (۱) اسلام (۲) ہجرت (۳) جہاد (۴) نماز (۵) صدقہ (۶) رمضان کے روزے (۷) امر بالمعروف (۸) نہی عن المنکر۔ زرقانی نے (اس کی شرح کرتے ہوئے) کہا (اور نماز) یعنی پانچ نمازوں کا مجموعہ۔ (اور صدقہ) یعنی زکوۃ اور (رمضان کے روزے) اس میں دلیل ہے دو۲ میں سے ایك قول کے لئے یعنی اس قول کے لئے رمضان امت محمدیہ کے ساتھ خاص ہے الخ (ت)
قلت : ای وقدذکر صلی الله تعالی علیہ وسلم لکل نبی ماخص بہ من الکرامات فالمحل قاض بان یجاب بماخص بہ من جلائل الفضائل۔ اقول : نعم لابد للخصوص من وجہ اما مطلقا فلا فقد کان الجھاد فی الامم السابقۃ قال تعالی
و كاین من نبی قتل-معه ربیون كثیر- الاتری
میں نے کہا (دلیل اس بنا پر ہے کہ) نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ہر نبی کی وہ عظمت ذکر کی تھی جو اس کے ساتھ مختص تھی۔ تو موقعہ کا تقاضا یہی تھا کہ جوابا ایسے عظیم فضائل کا بیان کیا جاتا جو صرف نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکیلئے مخصوص تھے۔ اقول : (میں کہتا ہوں ) ہاں خصوصیت کیلئے کوئی وجہ ضرور ہونی چاہئے ورنہ (مذکورہ آٹھ چیزیں ) مطلقا اس امت کے ساتھ خاص نہیں ہیں
تمام روئے زمین کو مسجد اور پاکی کا ذریعہ بنایا ہے یا یہ کہیں گے کہ الله تعالی نے ہمیں اس شرف کے ساتھ مختص کیا ہے کہ اپنے مقرر کردہ فرائض اپنی جگہ پر رکھے اور بندوں سے تخفیف بھی کردی اب پڑھی پانچ جاتی ہیں اور ثواب کے اعتبار سے پچاس۵۰ ہوجاتی ہیں ۔ یہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی برکت سے ہم پر الله تعالی کا انعام ہے۔ اور ان ہی میں سے وہ حدیث ہے جو ابن جریر بزار اور ابویعلی نے ابوھریرہ سے اور بیہقی نے ابوھریرہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہماسے روایت کی ہے۔ اس حدیث میں ہے کہ جب نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ان فضائل کا ذکر کیا جو الله تعالی نے انبیائے سابقین کو عطا فرمائے تھے تو الله عزوجل نے اپنے خاص نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے فرمایا کہ میں نے آپ کو آٹھ حصے عطا کئے ہیں : (۱) اسلام (۲) ہجرت (۳) جہاد (۴) نماز (۵) صدقہ (۶) رمضان کے روزے (۷) امر بالمعروف (۸) نہی عن المنکر۔ زرقانی نے (اس کی شرح کرتے ہوئے) کہا (اور نماز) یعنی پانچ نمازوں کا مجموعہ۔ (اور صدقہ) یعنی زکوۃ اور (رمضان کے روزے) اس میں دلیل ہے دو۲ میں سے ایك قول کے لئے یعنی اس قول کے لئے رمضان امت محمدیہ کے ساتھ خاص ہے الخ (ت)
قلت : ای وقدذکر صلی الله تعالی علیہ وسلم لکل نبی ماخص بہ من الکرامات فالمحل قاض بان یجاب بماخص بہ من جلائل الفضائل۔ اقول : نعم لابد للخصوص من وجہ اما مطلقا فلا فقد کان الجھاد فی الامم السابقۃ قال تعالی
و كاین من نبی قتل-معه ربیون كثیر- الاتری
میں نے کہا (دلیل اس بنا پر ہے کہ) نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ہر نبی کی وہ عظمت ذکر کی تھی جو اس کے ساتھ مختص تھی۔ تو موقعہ کا تقاضا یہی تھا کہ جوابا ایسے عظیم فضائل کا بیان کیا جاتا جو صرف نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکیلئے مخصوص تھے۔ اقول : (میں کہتا ہوں ) ہاں خصوصیت کیلئے کوئی وجہ ضرور ہونی چاہئے ورنہ (مذکورہ آٹھ چیزیں ) مطلقا اس امت کے ساتھ خاص نہیں ہیں
حوالہ / References
∞ €شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الخامس فی المعراج والاسراء مطبوعہ المطبعۃ العامرہ مصر ∞۶€ ∞/€ ∞۱۲۰۔€ ∞۱۲۱€
∞ €القرآن ∞۳€ ∞/€ ∞۱۴۶€
∞ €القرآن ∞۳€ ∞/€ ∞۱۴۶€
الی قولہ والامر بالمعروف والنھی عن المنکر ویستحیل نفیھما عن الانبیاء السابقین علیھم الصلاۃ والسلام فماکانوا یبعثون الالھذا۔ وقدا نجی الله تعالی قوما کانوا ینھون اصحاب السبت معذرۃ الی ربھم ولعلھم یرجعون ولم تزل الصدقۃ فی الامم وتقدم قولہ تعالی
و كان یامر اهله بالصلوة و الزكوة۪- فانما المراد لم یعطوا علی صفۃ اعطی نبینا صلی الله تعالی علیہ وسلم احلت لہ الغنائم ولم تحل لاحد قبلہ والصدقۃ تؤخذ من اغنیائنا وترد علی فقرائنا وامرنا بالمعروف ونھینا عن المنکر باعلی وجوھہ وھوالجھاد وامر الجھاد فی شرعنا اقوی منہ فی سائر الشرائع۔ قالہ الرازی عن القفال۔ فکذلك خصصنا فی الصلاۃ باشیاء لم یعطھن احد قبلنا ولله الحمد۔
ومنھا۳ مانقل الامام الفقیہ ابواللیث السمرقندی رحمہ الله تعالی فی تنبیہ الغافلین عن کعب الاحبار رضی الله تعالی
کیونکہ جہاد پہلی امتوں میں بھی تھا الله تعالی فرماتا ہے “ کتنے ہی نبی تھے کہ ان کے ساتھ مل کر بہت سے الله والوں نے لڑائی کی “ ۔ کیا تم نہیں دیکھتے ہو حدیث میں مذکور اس قول کی طرف “ اور اچھائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا “ حالانکہ ان کاموں کا انبیاء سابقین میں نہ پایا جانا محال ہے کیونکہ وہ تو بھیجے ہی انہی کاموں کیلئے جاتے تھے اور (اسی نہی عن المنکر کی وجہ سے) الله تعالی نے ان لوگوں کو نجات دے دی تھی جو اصحاب سبت کو شکار کرنے سے منع کرتے تھے تاکہ اپنے رب کے روبرو اپنا عذر پیش کرسکیں اور اس لئے کہ اس طرح شائد اصحاب سبت غلط کام سے باز آجائیں ۔ صدقہ وزکوۃ کا حکم امتوں میں ہمیشہ رہا ہے۔ الله تعالی کا یہ قول گزرچکا ہے کہ حضرت اسمعیل علیہ السلام اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوۃ کا حکم دیتے تھے۔ تو درحقیقت مراد یہ ہے کہ (مذکورہ آٹھ چیزیں ) اس طرح باقی انبیاء کو نہیں دیں جس طرح ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو دی گئیں ۔ مثلا جہاد میں حاصل ہونے والی غنیمت رسول الله کیلئے حلال کردی گئی حالانکہ اس سے پہلے کسی کیلئے حلال نہیں کی گئی تھی۔ اسی طرح صدقہ ہمارے اغنیاء سے لیا جاتا ہے اور فقراء کو دیا جاتا ہے (حالانکہ اس سے پہلے اس کو آگ جلادیا کرتی تھی یونہی ہمارا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اعلی درجے کا ہے یعنی جہاد کے ذریعے سے۔ کیونکہ جہاد کا معاملہ ہماری شریعت میں بنسبت باقی شریعتوں کے زیادہ قوی ہے یہ بات رازی نے قفال سے نقل کی ہے۔ بعینہ اسی طرح ہمیں نماز میں بھی بعض اشیاء کے ساتھ خاص کیا گیا ہے جو ہم سے پہلے کسی کو عطا نہیں کی گئیں یعنی اذان اقامت وغیرہ (ولله الحمد ت)امام فقیہ ابواللیث سمرقندی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے حضرت کعب احبار رضی اللہ تعالی عنہسے نقل کیا کہ انہوں نے فرمایا میں نے توریت مقدس کے کسی مقام میں پڑھا
و كان یامر اهله بالصلوة و الزكوة۪- فانما المراد لم یعطوا علی صفۃ اعطی نبینا صلی الله تعالی علیہ وسلم احلت لہ الغنائم ولم تحل لاحد قبلہ والصدقۃ تؤخذ من اغنیائنا وترد علی فقرائنا وامرنا بالمعروف ونھینا عن المنکر باعلی وجوھہ وھوالجھاد وامر الجھاد فی شرعنا اقوی منہ فی سائر الشرائع۔ قالہ الرازی عن القفال۔ فکذلك خصصنا فی الصلاۃ باشیاء لم یعطھن احد قبلنا ولله الحمد۔
ومنھا۳ مانقل الامام الفقیہ ابواللیث السمرقندی رحمہ الله تعالی فی تنبیہ الغافلین عن کعب الاحبار رضی الله تعالی
کیونکہ جہاد پہلی امتوں میں بھی تھا الله تعالی فرماتا ہے “ کتنے ہی نبی تھے کہ ان کے ساتھ مل کر بہت سے الله والوں نے لڑائی کی “ ۔ کیا تم نہیں دیکھتے ہو حدیث میں مذکور اس قول کی طرف “ اور اچھائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا “ حالانکہ ان کاموں کا انبیاء سابقین میں نہ پایا جانا محال ہے کیونکہ وہ تو بھیجے ہی انہی کاموں کیلئے جاتے تھے اور (اسی نہی عن المنکر کی وجہ سے) الله تعالی نے ان لوگوں کو نجات دے دی تھی جو اصحاب سبت کو شکار کرنے سے منع کرتے تھے تاکہ اپنے رب کے روبرو اپنا عذر پیش کرسکیں اور اس لئے کہ اس طرح شائد اصحاب سبت غلط کام سے باز آجائیں ۔ صدقہ وزکوۃ کا حکم امتوں میں ہمیشہ رہا ہے۔ الله تعالی کا یہ قول گزرچکا ہے کہ حضرت اسمعیل علیہ السلام اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوۃ کا حکم دیتے تھے۔ تو درحقیقت مراد یہ ہے کہ (مذکورہ آٹھ چیزیں ) اس طرح باقی انبیاء کو نہیں دیں جس طرح ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو دی گئیں ۔ مثلا جہاد میں حاصل ہونے والی غنیمت رسول الله کیلئے حلال کردی گئی حالانکہ اس سے پہلے کسی کیلئے حلال نہیں کی گئی تھی۔ اسی طرح صدقہ ہمارے اغنیاء سے لیا جاتا ہے اور فقراء کو دیا جاتا ہے (حالانکہ اس سے پہلے اس کو آگ جلادیا کرتی تھی یونہی ہمارا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اعلی درجے کا ہے یعنی جہاد کے ذریعے سے۔ کیونکہ جہاد کا معاملہ ہماری شریعت میں بنسبت باقی شریعتوں کے زیادہ قوی ہے یہ بات رازی نے قفال سے نقل کی ہے۔ بعینہ اسی طرح ہمیں نماز میں بھی بعض اشیاء کے ساتھ خاص کیا گیا ہے جو ہم سے پہلے کسی کو عطا نہیں کی گئیں یعنی اذان اقامت وغیرہ (ولله الحمد ت)امام فقیہ ابواللیث سمرقندی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے حضرت کعب احبار رضی اللہ تعالی عنہسے نقل کیا کہ انہوں نے فرمایا میں نے توریت مقدس کے کسی مقام میں پڑھا
حوالہ / References
∞ € القرآن ∞۱۹€ ∞/€ ∞۵۵€
عنہ قال : قرأت فی بعض ماانزل الله تعالی علی موسی علیہ الصلوۃ والسلام یاموسی! رکعتان یصلیھما احمد وامتہ وھی صلاۃ الغداۃ من یصلیھما غفرت لہ مااصاب من الذنوب من لیلہ ویومہ ذلك ویکون فی ذمتی۔ یاموسی! اربع رکعات یصلیھا احمد وامتہ وھی صلاۃ الظھر اعطیھم باول رکعۃ منھا المغفرۃ وبالثانیۃ اثقل میزانھم وبالثالثۃ اوکل علیھم الملئکۃ یسبحون ویستغفرون لھم و بالرابعۃ افتح لھم ابواب السماء ویشرفن علیھم الحور العین۔ یاموسی! اربع رکعات یصلیھا احمد وامتہ وھی صلاۃ العصر فلا یبقی ملك فی السموات والارض الا استغفرلھم ومن استغفرلہ الملئکۃ لم اعذبہ۔ یاموسی! ثلاث رکعات یصلیھا احمد وامتہ حین تغرب الشمس افتح لھم ابواب السماء۔ لایسألون من حاجۃ الاقضیتھا لھم۔ یاموسی! اربع رکعات یصلیھا احمد وامتہ حین یغیب الشفق ھی خیرلھم من الدنیا ومافیھا یخرجون من ذنوبھم کیوم ولدتھم امھم۔ یاموسی! یتوضؤ احمد وامتہ کما امرتھم اعطیتھم بکل قطرۃ تقطر من الماء جنۃ عرضھا کعرض السماء والارض۔ یاموسی! یصوم احمد وامتہ شھرا فی کل سنۃ وھو شھر رمضان
اے موسی! فجر کی دو۲ رکعتیں احمد اور اس کی امت ادا کرے گی جو انہیں پڑھے گا اس دن رات کے سارے گناہ اس کے بخش دوں گا اور وہ میرے ذمہ میں ہوگا۔ اے موسی! ظہر کی چار۴ رکعتیں احمد اور اس کی امت پڑھے گی انہیں پہلی رکعت کے عوض بخش دوں گا اور دوسری کے بدلے ان کا پلہ بھاری کردوں گا اور تیسری کیلئے فرشتے موکل کروں گا کہ تسبیح کریں گے اور ان کے لئے دعائے مغفرت کرتے رہیں گے اور چوتھی کے بدلے ان کیلئے آسمان کے دروازے کشادہ کردوں گا بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں ان پر مشتاقانہ نظر ڈالیں گی۔ اے موسی! عصر کی چار۴ رکعتیں احمد اور ان کی امت ادا کرے گی تو ہفت آسمان وزمین میں کوئی فرشتہ باقی نہ بچے گا سب ہی ان کی مغفرت چاہیں گے اور ملائکہ جس کی مغفرت چاہیں میں اسے ہرگز عذاب نہ دوں گا۔ اے موسی! مغرب کی تین رکعت ہیں انہیں احمد اور اس کی امت پڑھے گی آسمان کے سارے دروازے ان کیلئے کھول دوں گا جس حاجت کا سوال کرینگے اسے پورا ہی کردوں گا۔ اے موسی! شفق ڈوب جانے کے وقت یعنی عشاء کی چار رکعتیں ہیں پڑھیں گے انہیں احمد اور ان کی امت وہ دنیا ومافیہا سے ان کیلئے بہتر ہیں وہ انہیں گناہوں سے ایسا نکال دیں گی جیسے اپنی ماؤں کے پیٹ سے پیدا ہوئے۔ اے موسی! وضو کرے گا احمد اور اسکی امت جیسا کہ میرا حکم ہے میں انہیں عطا فرماؤں گا ہرقطرے کے عوض کہ آسمان سے ٹپکے ایك جنت جس کا عرض آسمان
اے موسی! فجر کی دو۲ رکعتیں احمد اور اس کی امت ادا کرے گی جو انہیں پڑھے گا اس دن رات کے سارے گناہ اس کے بخش دوں گا اور وہ میرے ذمہ میں ہوگا۔ اے موسی! ظہر کی چار۴ رکعتیں احمد اور اس کی امت پڑھے گی انہیں پہلی رکعت کے عوض بخش دوں گا اور دوسری کے بدلے ان کا پلہ بھاری کردوں گا اور تیسری کیلئے فرشتے موکل کروں گا کہ تسبیح کریں گے اور ان کے لئے دعائے مغفرت کرتے رہیں گے اور چوتھی کے بدلے ان کیلئے آسمان کے دروازے کشادہ کردوں گا بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں ان پر مشتاقانہ نظر ڈالیں گی۔ اے موسی! عصر کی چار۴ رکعتیں احمد اور ان کی امت ادا کرے گی تو ہفت آسمان وزمین میں کوئی فرشتہ باقی نہ بچے گا سب ہی ان کی مغفرت چاہیں گے اور ملائکہ جس کی مغفرت چاہیں میں اسے ہرگز عذاب نہ دوں گا۔ اے موسی! مغرب کی تین رکعت ہیں انہیں احمد اور اس کی امت پڑھے گی آسمان کے سارے دروازے ان کیلئے کھول دوں گا جس حاجت کا سوال کرینگے اسے پورا ہی کردوں گا۔ اے موسی! شفق ڈوب جانے کے وقت یعنی عشاء کی چار رکعتیں ہیں پڑھیں گے انہیں احمد اور ان کی امت وہ دنیا ومافیہا سے ان کیلئے بہتر ہیں وہ انہیں گناہوں سے ایسا نکال دیں گی جیسے اپنی ماؤں کے پیٹ سے پیدا ہوئے۔ اے موسی! وضو کرے گا احمد اور اسکی امت جیسا کہ میرا حکم ہے میں انہیں عطا فرماؤں گا ہرقطرے کے عوض کہ آسمان سے ٹپکے ایك جنت جس کا عرض آسمان
اعطیھم بصیام کل یوم مدینۃ فی الجنۃ و اعطیھم بکل خیر یعملون فیہ من التطوع اجر فریضۃ واجعل فیہ لیلۃ القدر من استغفر منھم فیھا مرۃ واحدۃ نادما صادقا من قلبہ ان مات من لیلہ اوشھرہ اعطیتہ اجر ثلثین شھیدا۔ یاموسی! ان فی امۃ محمد رجالا یقومون علی کل شرف یشھدون بشھادۃ ان لاالہ الا اللہ فجزاؤھم بذلك جزاء الانبیاء علیھم الصلوۃ والسلام ورحمتی علیھم واجبۃ وغضبی بعید منھم ولااحجب باب التوبۃ عن واحد منھم ماداموا یشھدون ان لاالہ الا الله اھ۔
سردناھاتماما حبالما فیھا من النفائس رزقنا الله تعالی الحظ الاوفی منھا بمنہ وکرمہ٭وجاہ حبیبہ قاسم نعمہ٭صلی الله تعالی علیہ وسلم امین۔
اقول : ان تم الاحتجاج بہ علی الاختصاص دل علی خصوص کل من الخمس لاکل الخمس فانہ قال فی کل یصلیھا احمد وامتہ صلی الله تعالی
و زمین کی چوڑائی کے برابر ہوگا۔ اے موسی! ایك مہینے کے ہرسال روزے رکھے گا احمد اور اس کی امت اور وہ ماہ رمضان ہے عطا فرماؤں گا اسکے ہر دن کے روزے کے عوض جنت میں ایك شہر اور عطا کروں گا اس میں نفل کے بدلے فرض کا ثواب اور اس میں لیلۃ القدر کروں گا جو اس مہینے میں شرمساری وصدق سے ایك بار استغفار کریگا اگر اسی شب یا اس مہینے بھر میں مرگیا اسے تیس۳۰ شہیدوں کا ثواب عطا فرماؤں گا۔ اے موسی! امت محمدیہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیں کچھ ایسے مرد ہیں کہ ہر شرف پر قائم ہیں لاالہ الاالله کی شہادت دیتے ہیں تو ان کی جزا اس کے عوض انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کا ثواب ہے اور میری رحمت ان پر واجب اور میرا غضب ان سے دور اور ان میں سے کسی پر باب توبہ بند نہ کروں گا جب تك وہ لا الہ الاالله کی گواہی دیتے رہیں گے اھ (فقیر محمد حامد رضا غفرلہ) اس روایت میں ذکر کئے گئے نفیس انعامات سے محبت کی بنا پر ہم نے اس کو بتمامہ بیان کردیا ہے الله تعالی اپنے احسان وکرم سے اور نعمتیں تقسیم کرنے والے اپنے محبوب کی عزت کے صدقے ہمیں ان انعامات سے کامل حصہ نصیب فرمائے۔ آمین! (ت)میں کہتا ہوں : اگر اس روایت سے اختصاص پر استدلال مکمل مان لیا جائے تو یہ اس پر دلالت کرے گا کہ پانچ میں سے ہر ایك نماز نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے خاص ہے نہ کہ پانچ کا مجموعہ کیونکہ اس روایت میں
سردناھاتماما حبالما فیھا من النفائس رزقنا الله تعالی الحظ الاوفی منھا بمنہ وکرمہ٭وجاہ حبیبہ قاسم نعمہ٭صلی الله تعالی علیہ وسلم امین۔
اقول : ان تم الاحتجاج بہ علی الاختصاص دل علی خصوص کل من الخمس لاکل الخمس فانہ قال فی کل یصلیھا احمد وامتہ صلی الله تعالی
و زمین کی چوڑائی کے برابر ہوگا۔ اے موسی! ایك مہینے کے ہرسال روزے رکھے گا احمد اور اس کی امت اور وہ ماہ رمضان ہے عطا فرماؤں گا اسکے ہر دن کے روزے کے عوض جنت میں ایك شہر اور عطا کروں گا اس میں نفل کے بدلے فرض کا ثواب اور اس میں لیلۃ القدر کروں گا جو اس مہینے میں شرمساری وصدق سے ایك بار استغفار کریگا اگر اسی شب یا اس مہینے بھر میں مرگیا اسے تیس۳۰ شہیدوں کا ثواب عطا فرماؤں گا۔ اے موسی! امت محمدیہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیں کچھ ایسے مرد ہیں کہ ہر شرف پر قائم ہیں لاالہ الاالله کی شہادت دیتے ہیں تو ان کی جزا اس کے عوض انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کا ثواب ہے اور میری رحمت ان پر واجب اور میرا غضب ان سے دور اور ان میں سے کسی پر باب توبہ بند نہ کروں گا جب تك وہ لا الہ الاالله کی گواہی دیتے رہیں گے اھ (فقیر محمد حامد رضا غفرلہ) اس روایت میں ذکر کئے گئے نفیس انعامات سے محبت کی بنا پر ہم نے اس کو بتمامہ بیان کردیا ہے الله تعالی اپنے احسان وکرم سے اور نعمتیں تقسیم کرنے والے اپنے محبوب کی عزت کے صدقے ہمیں ان انعامات سے کامل حصہ نصیب فرمائے۔ آمین! (ت)میں کہتا ہوں : اگر اس روایت سے اختصاص پر استدلال مکمل مان لیا جائے تو یہ اس پر دلالت کرے گا کہ پانچ میں سے ہر ایك نماز نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے خاص ہے نہ کہ پانچ کا مجموعہ کیونکہ اس روایت میں
حوالہ / References
∞ € تنبیہ الغافلین باب فضل ا مۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان ص ∞۴۰۴€
علیہ وسلم وقد ذکر فیھا الوضوء وقال صلی الله تعالی علیہ وسلم ھذا وضوئی و وضوء الانبیاء من قبلی فلیکن المقصود بالذکر عطاؤھم مارتب علیھا من الفضائل۔
ومنھا۴ اثر الامام العیشی مروی الامام الطحاوی وسیأتی الکلام علیہ۔ ونحوہ ماذکر فی الحلیۃ عن بعضھم قال : ھذہ الصلوات تفرقت فی الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام وجمعت فی ھذہ الامۃ فذکر الفجر لادم والظھر لابرھیم والعصر لسلیمن والمغرب لعیسی علیھم الصلاۃ والسلام ثم قال : واما العشاء فخصصت بھا ھذہ الامۃ اھ۔
اقول : توجیہ الاستدلال انہ وان ذکر اختصاص ھذہ الامۃ : لکن لم یقل من بین سائر الامم ولم یذکران نبیا صلاھا کماذکر فی سائرھا
ہر نماز کے ساتھ یہ آیا ہوا ہے کہ اس کو احمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماور ان کی امت اداکرے گی نیز اس روایت میں وضو کا بھی ذکر ہے حالانکہ وضو کے بارے میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا ہے کہ یہ میرا وضو ہے اور مجھ سے پہلے انبیاء کا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ان چیزوں کے ذکر کرنے کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ ان کے مذکورہ فضائل صرف امت محمدیہ کو عطا کئے جائیں گے۔ (ت) اور ان میں سے امام عیشی کا وہ اثر ہے جسے امام طحاوی نے روایت کیا ہے اور اس پر کلام عنقریب آرہا ہے اسی اثر کے مطابق ہے وہ جو حلیہ میں بعض علماء سے مذکور ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ نمازیں باقی انبیاء علیہم السلام کو متفرق طور پر ملی تھیں اور اس امت کیلئے جمع کردی گئی ہیں ۔ انہوں نے مزید ذکر کیا ہے کہ فجر آدم علیہ السلام کیلئے تھی ظہر ابراہیم علیہ السلام کے لئے عصر سلیمان علیہ السلام کیلئے اور مغرب عیسی علیہ السلام کیلئے۔ پھر انہوں نے کہا کہ جہاں تك عشاء کا تعلق ہے تو اس کے ساتھ یہ امت مخصوص کی گئی ہے اھ (ت)میں کہتا ہوں : (بعض علماء کی اس عبارت سے) استدلال کی توجیہ یہ ہے کہ انہوں نے اگرچہ ذکر تو اتنا ہی کیا ہے کہ نماز عشاء اس امت کے ساتھ مخصوص کی گئی ہے لیکن چونکہ یہ نہیں کہاکہ “ باقی امتوں میں سے “
ومنھا۴ اثر الامام العیشی مروی الامام الطحاوی وسیأتی الکلام علیہ۔ ونحوہ ماذکر فی الحلیۃ عن بعضھم قال : ھذہ الصلوات تفرقت فی الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام وجمعت فی ھذہ الامۃ فذکر الفجر لادم والظھر لابرھیم والعصر لسلیمن والمغرب لعیسی علیھم الصلاۃ والسلام ثم قال : واما العشاء فخصصت بھا ھذہ الامۃ اھ۔
اقول : توجیہ الاستدلال انہ وان ذکر اختصاص ھذہ الامۃ : لکن لم یقل من بین سائر الامم ولم یذکران نبیا صلاھا کماذکر فی سائرھا
ہر نماز کے ساتھ یہ آیا ہوا ہے کہ اس کو احمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماور ان کی امت اداکرے گی نیز اس روایت میں وضو کا بھی ذکر ہے حالانکہ وضو کے بارے میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا ہے کہ یہ میرا وضو ہے اور مجھ سے پہلے انبیاء کا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ان چیزوں کے ذکر کرنے کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ ان کے مذکورہ فضائل صرف امت محمدیہ کو عطا کئے جائیں گے۔ (ت) اور ان میں سے امام عیشی کا وہ اثر ہے جسے امام طحاوی نے روایت کیا ہے اور اس پر کلام عنقریب آرہا ہے اسی اثر کے مطابق ہے وہ جو حلیہ میں بعض علماء سے مذکور ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ نمازیں باقی انبیاء علیہم السلام کو متفرق طور پر ملی تھیں اور اس امت کیلئے جمع کردی گئی ہیں ۔ انہوں نے مزید ذکر کیا ہے کہ فجر آدم علیہ السلام کیلئے تھی ظہر ابراہیم علیہ السلام کے لئے عصر سلیمان علیہ السلام کیلئے اور مغرب عیسی علیہ السلام کیلئے۔ پھر انہوں نے کہا کہ جہاں تك عشاء کا تعلق ہے تو اس کے ساتھ یہ امت مخصوص کی گئی ہے اھ (ت)میں کہتا ہوں : (بعض علماء کی اس عبارت سے) استدلال کی توجیہ یہ ہے کہ انہوں نے اگرچہ ذکر تو اتنا ہی کیا ہے کہ نماز عشاء اس امت کے ساتھ مخصوص کی گئی ہے لیکن چونکہ یہ نہیں کہاکہ “ باقی امتوں میں سے “
حوالہ / References
∞ €مشکوٰۃ المصابیح باب سنن الوضوء فصل ثالث ∞،€ ∞مطبوعہ مجتبائی €دہلی ∞،€ ص∞۴۷€
∞ € شرح معانی الآثار باب الصلوٰۃ الوسطٰی ای الصلوٰۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ∞۱€ ∞/€ ∞۱۲۰€ ∞،€ شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الرابع فیما فضل اللہ بہ مطبوعہ مطبعہ عامرہ مصر ∞۵€ ∞/€ ∞۴۲۴€
∞ € شرح معانی الآثار باب الصلوٰۃ الوسطٰی ای الصلوٰۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ∞۱€ ∞/€ ∞۱۲۰€ ∞،€ شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الرابع فیما فضل اللہ بہ مطبوعہ مطبعہ عامرہ مصر ∞۵€ ∞/€ ∞۴۲۴€
فالظاھر التخصیص بھذہ الامۃ مطلقا اعنی بالنظر الی الامم والانبیاء جمیعا وقد بدا الکلام ایضا بذکر الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام وھذہ الامۃ فھو المتبادر ھھنا ایضاء لاقصر المقابلۃ علی الامم دون الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام۔
اقول : ویغنی عن الکلام علیہ مایأتی فی کلام ابن عائشۃ رحمہ الله تعالی۔
ومنھا۵ حدیث سیدنا معاذ الصحیح المارفی العشاء انکم فضلتکم بھا علی سائر الامم احتج بہ الامام الجلیل الجلال السیوطی رحمہ الله تعالی فی الخصائص الکبری علی کون العشاء لم یصلھا احد قبلہ صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
اقول : سبحن من لایزل المقابلۃ ھھنا بیننا وبین سائر الامم فکیف دل علی انتفائھا عن سائر الانبیاء سوی نبینا صلی الله تعالی علیہ وعلیھم وسلم واعجب منہ ان ذکر العلامۃ الزرقانی
نہ ہی یہ ذکر کیا ہے کہ یہ نماز کسی اور نبی نے بھی پڑھی تھی جیسا کہ باقی نمازوں میں یہ بیان کیا ہے تو اس سے بظاہر یہی معلوم ہوتا کہ یہ امت مطلقا اس نماز کے ساتھ مخصوص ہے بنسبت باقی امتوں کے بھی اور انبیاء کے بھی (یعنی یہ نماز اس سے پہلے نہ کسی امت نے پڑھی نہ کسی نبی نے) نیز اس عبارت کی ابتداء میں اس امت کے ساتھ انبیاء علیہم السلام کا بھی ذکر ہے تو یہاں بھی ظاہر یہی ہے (کہ اس امت کا عشاء کے ساتھ اختصاص بنسبت باقی انبیاء کے بھی ہے) یہ نہیں کہ صرف امتوں کی بنسبت ہو اور انبیاء کی بنسبت نہ ہو۔ (ت)
میں کہتا ہوں : پاك ہے وہ ذات جس سے لغزش نہیں ہوتی۔ اس حدیث میں تقابل ہمارے اور باقی امتوں کے درمیان ہے۔ اس سے یہ کس طرح ثابت ہوا کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے علاوہ کسی اور نبی نے بھی نہیں پڑھی۔ اور اس سے بھی عجیب تر بات یہ ہے
میں کہتا ہوں اس پر جرح کیلئے وہ بحث کافی ہے جو عنقریب ابن عائشہ رحمۃ اللہ تعالی علیہکے کلام میں آرہی ہے۔ اور ان میں سے حضرت معاذ کی صحیح حدیث ہے جو گزرچکی ہے اس میں عشاء کے بارے میں ہے کہ تمہیں اس کے ذریعے تمام امتوں پر فضیلت دی گئی ہے۔ اس حدیث سے امام جلیل جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے اس پر استدلال کیا ہے کہ عشاء کی نماز نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے پہلے کسی نے نہیں پڑھی۔ (ت)
اقول : ویغنی عن الکلام علیہ مایأتی فی کلام ابن عائشۃ رحمہ الله تعالی۔
ومنھا۵ حدیث سیدنا معاذ الصحیح المارفی العشاء انکم فضلتکم بھا علی سائر الامم احتج بہ الامام الجلیل الجلال السیوطی رحمہ الله تعالی فی الخصائص الکبری علی کون العشاء لم یصلھا احد قبلہ صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
اقول : سبحن من لایزل المقابلۃ ھھنا بیننا وبین سائر الامم فکیف دل علی انتفائھا عن سائر الانبیاء سوی نبینا صلی الله تعالی علیہ وعلیھم وسلم واعجب منہ ان ذکر العلامۃ الزرقانی
نہ ہی یہ ذکر کیا ہے کہ یہ نماز کسی اور نبی نے بھی پڑھی تھی جیسا کہ باقی نمازوں میں یہ بیان کیا ہے تو اس سے بظاہر یہی معلوم ہوتا کہ یہ امت مطلقا اس نماز کے ساتھ مخصوص ہے بنسبت باقی امتوں کے بھی اور انبیاء کے بھی (یعنی یہ نماز اس سے پہلے نہ کسی امت نے پڑھی نہ کسی نبی نے) نیز اس عبارت کی ابتداء میں اس امت کے ساتھ انبیاء علیہم السلام کا بھی ذکر ہے تو یہاں بھی ظاہر یہی ہے (کہ اس امت کا عشاء کے ساتھ اختصاص بنسبت باقی انبیاء کے بھی ہے) یہ نہیں کہ صرف امتوں کی بنسبت ہو اور انبیاء کی بنسبت نہ ہو۔ (ت)
میں کہتا ہوں : پاك ہے وہ ذات جس سے لغزش نہیں ہوتی۔ اس حدیث میں تقابل ہمارے اور باقی امتوں کے درمیان ہے۔ اس سے یہ کس طرح ثابت ہوا کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے علاوہ کسی اور نبی نے بھی نہیں پڑھی۔ اور اس سے بھی عجیب تر بات یہ ہے
میں کہتا ہوں اس پر جرح کیلئے وہ بحث کافی ہے جو عنقریب ابن عائشہ رحمۃ اللہ تعالی علیہکے کلام میں آرہی ہے۔ اور ان میں سے حضرت معاذ کی صحیح حدیث ہے جو گزرچکی ہے اس میں عشاء کے بارے میں ہے کہ تمہیں اس کے ذریعے تمام امتوں پر فضیلت دی گئی ہے۔ اس حدیث سے امام جلیل جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے اس پر استدلال کیا ہے کہ عشاء کی نماز نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے پہلے کسی نے نہیں پڑھی۔ (ت)
حوالہ / References
∞ €الخصائص الکبرٰی باب اختصاصہ صلی اللہ علیہ وسلم بمجموع الصلوات الخمس ∞مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲€ ∞/€ ∞۲۰۴€
∞ €الخصائص الکبرٰی باب اختصاصہ صلی اللہ علیہ وسلم بمجموع الصلوات الخمس ∞مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲€ ∞/€ ∞۲۰۴€
∞ €الخصائص الکبرٰی باب اختصاصہ صلی اللہ علیہ وسلم بمجموع الصلوات الخمس ∞مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲€ ∞/€ ∞۲۰۴€
تحت قول العیشی الاتی اول من صلی العشاء الاخرۃ نبینا صلی الله تعالی علیہ وسلم مانصہ : وعورض بمافی شرح المسند (ای للامام الرافعی الشافعی) ان العشاء لیونس علیہ الصلاۃ والسلام اھ۔ ثم استدرك بقولہ لکن یؤید خبر الطحاوی (ای اثر العیشی) حدیث معاذ رضی الله تعالی عنہ اھ۔
اقول : لیت شعری من این جاء التأیید و لاتعرض فیہ بذکر الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام قال : فقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فضلتم بھا یعارض روایۃ ان العشاء لیونس علیہ الصلاۃ والسلام ۔
اقول : انما قال صلی الله تعالی علیہ وسلم فضلتم بھا علی سائر الامم وای تعارض بین النفی عنھم والثبوت لبعض الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام۔
ومنھا۶ قال الامام السیوطی فی
کہ عنقریب علامہ عیشی کا جو قول آرہا ہے کہ پچھلی عشاء سب سے پہلے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے پڑھی ہے اس کے ذیل میں علامہ زرقانی نے لکھا ہے کہ اس قول کا معارضہ کیا گیا ہے اس روایت سے جو مسند کی شرح میں ہے (یہ شرح امام رافعی شافعی کی ہے) کہ عشاء یونس علیہ السلام کے لئے تھی اھ۔ پھر علامہ زرقانی نے اس پر استدراك کرتے ہوئے کہا ہے : “ لیکن طحاوی کی خبر (یعنی عیشی کے اثر) کی تائید کرتی ہے حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہکی حدیث۔ (ت)
میں کہتا ہوں کاش میری سمجھ میں آسکے کہ تائید کس طرح کرتی ہے جبکہ حدیث معاذ میں انبیاء کا سرے سے کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔ زرقانی نے مزید کہا ہے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا یہ فرمانا کہ اس کے ذریعے سے تم کو فضیلت دی گئی ہے معارض ہے اس روایت سے کہ عشاء یونس علیہ الصلوۃ والسلام کیلئے تھی۔ (ت)
میں کہتا ہوں : نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے تو یہ فرمایا ہے کہ اس کے ذریعے تم کو باقی امتوں پر فضیلت دی گئی ہے اگر باقی امتوں کیلئے یہ نماز ثابت نہ ہو (جیسا کہ حدیث معاذ کا تقاضا ہے) اور بعض انبیاء کیلئے ثابت ہو (جیسا کہ شرح مسند میں ہے) تو اس میں کیا تعارض ہے (ت)اور ان میں سے ہے کہ امام سیوطی نے
اقول : لیت شعری من این جاء التأیید و لاتعرض فیہ بذکر الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام قال : فقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فضلتم بھا یعارض روایۃ ان العشاء لیونس علیہ الصلاۃ والسلام ۔
اقول : انما قال صلی الله تعالی علیہ وسلم فضلتم بھا علی سائر الامم وای تعارض بین النفی عنھم والثبوت لبعض الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام۔
ومنھا۶ قال الامام السیوطی فی
کہ عنقریب علامہ عیشی کا جو قول آرہا ہے کہ پچھلی عشاء سب سے پہلے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے پڑھی ہے اس کے ذیل میں علامہ زرقانی نے لکھا ہے کہ اس قول کا معارضہ کیا گیا ہے اس روایت سے جو مسند کی شرح میں ہے (یہ شرح امام رافعی شافعی کی ہے) کہ عشاء یونس علیہ السلام کے لئے تھی اھ۔ پھر علامہ زرقانی نے اس پر استدراك کرتے ہوئے کہا ہے : “ لیکن طحاوی کی خبر (یعنی عیشی کے اثر) کی تائید کرتی ہے حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہکی حدیث۔ (ت)
میں کہتا ہوں کاش میری سمجھ میں آسکے کہ تائید کس طرح کرتی ہے جبکہ حدیث معاذ میں انبیاء کا سرے سے کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔ زرقانی نے مزید کہا ہے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا یہ فرمانا کہ اس کے ذریعے سے تم کو فضیلت دی گئی ہے معارض ہے اس روایت سے کہ عشاء یونس علیہ الصلوۃ والسلام کیلئے تھی۔ (ت)
میں کہتا ہوں : نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے تو یہ فرمایا ہے کہ اس کے ذریعے تم کو باقی امتوں پر فضیلت دی گئی ہے اگر باقی امتوں کیلئے یہ نماز ثابت نہ ہو (جیسا کہ حدیث معاذ کا تقاضا ہے) اور بعض انبیاء کیلئے ثابت ہو (جیسا کہ شرح مسند میں ہے) تو اس میں کیا تعارض ہے (ت)اور ان میں سے ہے کہ امام سیوطی نے
حوالہ / References
∞ €شرح الزرقانی علی المواہب خصائص امتہ صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ مطبعہ عامرہ مصر ∞۵€ ∞/€ ∞۴۲۵€
∞ €شرح الزرقانی علی المواہب خصائص امتہ صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ مطبعہ عامرہ مصر∞۵€ ∞/€ ∞۴۲۶€
∞ €شرح الزرقانی علی المواہب خصائص امتہ صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ مطبعہ عامرہ مصر∞۵€ ∞/€ ∞۴۲۶€
الباب المزبور اخرج البخاری عن ابی موسی الاشعری رضی الله تعالی عنہ قال : اعتم النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم لیلۃ بالعشاء حتی ابھار اللیل ثم خرج فصلی فلما قضی صلاتہ قال لمن حضرہ ابشروا من نعمۃ الله علیکم انہ لیس احد من الناس یصلی ھذہ الساعۃ غیرکم۔ اوقال ماصلی ھذہ الساعۃ احد غیرکم ۔ اھ قلت : واخرجہ مسلم ایضا ۔
ومنھا۷ قال رحمہ الله تعالی واخرج احمد والنسائی عن ابن مسعود رضی الله تعالی عنہ قال : اخر رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم صلاۃ العشاء ثم خرج الی المسجد فاذا الناس ینتظرون الصلاۃ فقال : اما انہ لیس من اھل ھذہ الادیان احد یذکر الله تعالی ھذہ الساعۃ غیرکم اھ۔
اقول : وانت تعلم ان لیس فی شیئ منھا مایدل علی مدعاہ من ان العشاء لم یصلھا نبی قبل نبینا صلی الله
اسی باب مذکور میں کہا ہے کہ بخاری نے ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی ہے کہ ایك رات نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے عشاء کی نماز کیلئے اتنا اندھیرا کیا کہ رات اچھی طرح تاریك ہوگئی پھر آپ باہر تشریف لائے اور نماز پڑھی نماز سے فارغ ہوئے تو حاضرین سے مخاطب ہوکر فرمایا : “ تمہیں بشارت ہو کہ الله تعالی کی تم پر یہ نعمت ہے کہ تمہارے سوا اور کوئی نہیں ہے جو اس وقت نماز پڑھ رہا ہو “ ۔ یا آپ نے یوں فرمایا : “ تمہارے سوا اور کوئی نہیں ہے جس نے اس وقت نماز پڑھی ہو “ ۔ اھ میں نے کہا : یہ روایت مسلم نے بھی بیان کی ہے۔ (ت) اور ان میں سے ہے کہ امام سیوطی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے کہا ہے کہ احمد اور نسائی نے ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے نماز عشاء میں تاخیر کی پھر مسجد میں تشریف لائے تو لوگ نماز کا انتظار کررہے تھے۔ آپ نے فرمایا : “ سنو! موجودہ ادیان کے پیروکاروں میں سے تمہارے سوا کوئی بھی نہیں ہے جو اس وقت الله تعالی کو یاد کررہا ہو “ اھ (ت)
میں کہتا ہوں : تم جانتے ہی ہوکہ ان حدیثوں میں ایسی کوئی بات نہیں جو امام سیوطی کے اس مدعی کیلئے دلیل بن سکے کہ عشاء کی نماز نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
ومنھا۷ قال رحمہ الله تعالی واخرج احمد والنسائی عن ابن مسعود رضی الله تعالی عنہ قال : اخر رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم صلاۃ العشاء ثم خرج الی المسجد فاذا الناس ینتظرون الصلاۃ فقال : اما انہ لیس من اھل ھذہ الادیان احد یذکر الله تعالی ھذہ الساعۃ غیرکم اھ۔
اقول : وانت تعلم ان لیس فی شیئ منھا مایدل علی مدعاہ من ان العشاء لم یصلھا نبی قبل نبینا صلی الله
اسی باب مذکور میں کہا ہے کہ بخاری نے ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی ہے کہ ایك رات نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے عشاء کی نماز کیلئے اتنا اندھیرا کیا کہ رات اچھی طرح تاریك ہوگئی پھر آپ باہر تشریف لائے اور نماز پڑھی نماز سے فارغ ہوئے تو حاضرین سے مخاطب ہوکر فرمایا : “ تمہیں بشارت ہو کہ الله تعالی کی تم پر یہ نعمت ہے کہ تمہارے سوا اور کوئی نہیں ہے جو اس وقت نماز پڑھ رہا ہو “ ۔ یا آپ نے یوں فرمایا : “ تمہارے سوا اور کوئی نہیں ہے جس نے اس وقت نماز پڑھی ہو “ ۔ اھ میں نے کہا : یہ روایت مسلم نے بھی بیان کی ہے۔ (ت) اور ان میں سے ہے کہ امام سیوطی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے کہا ہے کہ احمد اور نسائی نے ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے نماز عشاء میں تاخیر کی پھر مسجد میں تشریف لائے تو لوگ نماز کا انتظار کررہے تھے۔ آپ نے فرمایا : “ سنو! موجودہ ادیان کے پیروکاروں میں سے تمہارے سوا کوئی بھی نہیں ہے جو اس وقت الله تعالی کو یاد کررہا ہو “ اھ (ت)
میں کہتا ہوں : تم جانتے ہی ہوکہ ان حدیثوں میں ایسی کوئی بات نہیں جو امام سیوطی کے اس مدعی کیلئے دلیل بن سکے کہ عشاء کی نماز نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
حوالہ / References
∞ €الخصائص الکبرٰی ∞،€ باب اختصاصہ صلی اللہ علیہ وسلم بمجموع الصلوات الخمس ∞،€ ∞مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲€ ∞/€ ∞۲۰۴€
∞ €صحیح لمسلم باب وقت العشاء وتاخیرہا ∞مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی€ ∞۱€ ∞/€ ∞۲۲۹€
∞ € الخصائص الکبرٰی باب اختصاصہ صلی اللہ علیہ وسلم بمجموع الصلوات الخمس ∞مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲€ ∞/€ ∞۲۰۴€
∞ €صحیح لمسلم باب وقت العشاء وتاخیرہا ∞مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی€ ∞۱€ ∞/€ ∞۲۲۹€
∞ € الخصائص الکبرٰی باب اختصاصہ صلی اللہ علیہ وسلم بمجموع الصلوات الخمس ∞مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲€ ∞/€ ∞۲۰۴€
تعالی علیہ وعلی الانبیاء وبارك وسلم بل لاتصریح فیہ بنفی ان صلاھا احد ممن قبلنا من سائر الامم بل ولانفی ان صلاھا اللیلۃ احد سوانا انما فیہ نفی صلاۃ غیرنا تلك الساعۃ فیجوز ان یکون الناس صلوا عاجلین فانما نفی الانتظار لانفس الصلاۃ ومثلہ ما للبخاری ومسلم عن ابن عمر رضی الله تعالی عنھما لیس احد من اھل الارض زاد مسلم اللیلۃ ینتظر الصلاۃ غیرکم ۔ ولھما عن ام المؤمنین رضی الله تعالی عنھا وفیہ ماینتظرھا احد من اھل الارض غیرکم ۔
بل اخرجہ احمد والبخاری ومسلم والنسائی وابن ماجۃ عن انس رضی الله تعالی عنہ وفیہ قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم قد صلی الناس وناموا وانکم فی صلاۃ ماانتظر تموھا ۔
ونحوہ لاحمد وابی داؤد والنسائی وابن ماجۃ من حدیث ابی سعید الخدری رضی الله تعالی عنہ۔ فھذا وجہ والثانی : ان یکون المراد نفی ان یصلیھا غیرنا من اھل الزمان مطلقا ویؤیدہ ماللبخاری
سے پہلے کسی نبی نے نہیں پڑھی بلکہ اس میں تو یہ بھی نہیں کہ ہمارے علاوہ سابقہ امتوں میں سے کسی نے نہیں پڑھی بلکہ اس میں یہ بھی نہیں کہ آج رات ہمارے سوا کسی نے نہیں پڑھی اس روایت میں تو صرف اتنا ہے کہ ہمارے سوا کسی نے اس وقت نہیں پڑھی۔ ہوسکتا ہے باقی لوگوں نے اس سے پہلے پڑھ لی ہو۔ اسی کے مطابق بخاری ومسلم کی وہ روایت ہے جو ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماسے مروی ہے کہ زمین پر بسنے والوں میں تمہارے سوا کوئی نہیں ہے جو مسلم نے “ آج رات “ کا اضافہ کیا ہے نماز کا انتظار کررہا ہو۔ ا ور بخاری ومسلم نے ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہماسے یوں روایت کی ہے کہ زمین پر بسنے والوں میں سے تمہارے سوا کوئی نہیں جو اس نماز کا انتظار کررہا ہو۔اور بخاری ومسلم نے ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہماسے یوں روایت کی ہے کہ زمین پر بسنے والوں میں سے تمہارے سوا کوئی نہیں جو اس نماز کا انتظار کررہا ہو بلکہ احمد بخاری مسلم نسائی اور ابن ماجہ نے جو روایت بیان کی ہے اس میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا یہ فرمان بھی ہے کہ لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے اور سو چکے ہیں اور تم جب تك نماز کا انتظار کرتے ہو نماز میں ہی ہوتے ہو۔ اسی طرح کی روایت احمد ابوداؤد نسائی اور ابن ماجہ نے ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہسے بھی کی ہے۔ یہ تو ایك توجیہ ہوئی (کہ تخصیص “ اس وقت “ کے اعتبار سے ہے)۔ دوسری توجیہ یہ ہے کہ تخصیص اس زمانے کے تمام لوگوں کے اعتبار سے ہے۔ اور حدیث کی
بل اخرجہ احمد والبخاری ومسلم والنسائی وابن ماجۃ عن انس رضی الله تعالی عنہ وفیہ قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم قد صلی الناس وناموا وانکم فی صلاۃ ماانتظر تموھا ۔
ونحوہ لاحمد وابی داؤد والنسائی وابن ماجۃ من حدیث ابی سعید الخدری رضی الله تعالی عنہ۔ فھذا وجہ والثانی : ان یکون المراد نفی ان یصلیھا غیرنا من اھل الزمان مطلقا ویؤیدہ ماللبخاری
سے پہلے کسی نبی نے نہیں پڑھی بلکہ اس میں تو یہ بھی نہیں کہ ہمارے علاوہ سابقہ امتوں میں سے کسی نے نہیں پڑھی بلکہ اس میں یہ بھی نہیں کہ آج رات ہمارے سوا کسی نے نہیں پڑھی اس روایت میں تو صرف اتنا ہے کہ ہمارے سوا کسی نے اس وقت نہیں پڑھی۔ ہوسکتا ہے باقی لوگوں نے اس سے پہلے پڑھ لی ہو۔ اسی کے مطابق بخاری ومسلم کی وہ روایت ہے جو ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماسے مروی ہے کہ زمین پر بسنے والوں میں تمہارے سوا کوئی نہیں ہے جو مسلم نے “ آج رات “ کا اضافہ کیا ہے نماز کا انتظار کررہا ہو۔ ا ور بخاری ومسلم نے ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہماسے یوں روایت کی ہے کہ زمین پر بسنے والوں میں سے تمہارے سوا کوئی نہیں جو اس نماز کا انتظار کررہا ہو۔اور بخاری ومسلم نے ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہماسے یوں روایت کی ہے کہ زمین پر بسنے والوں میں سے تمہارے سوا کوئی نہیں جو اس نماز کا انتظار کررہا ہو بلکہ احمد بخاری مسلم نسائی اور ابن ماجہ نے جو روایت بیان کی ہے اس میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا یہ فرمان بھی ہے کہ لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے اور سو چکے ہیں اور تم جب تك نماز کا انتظار کرتے ہو نماز میں ہی ہوتے ہو۔ اسی طرح کی روایت احمد ابوداؤد نسائی اور ابن ماجہ نے ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہسے بھی کی ہے۔ یہ تو ایك توجیہ ہوئی (کہ تخصیص “ اس وقت “ کے اعتبار سے ہے)۔ دوسری توجیہ یہ ہے کہ تخصیص اس زمانے کے تمام لوگوں کے اعتبار سے ہے۔ اور حدیث کی
حوالہ / References
∞ €صحیح مسلم باب وقت العشاء وتاخیرہا ∞مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی€ ∞۱€ ∞/€ ∞۲۲۹€
∞ €صحیح مسلم باب وقت العشاء وتاخیرہا ∞مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی€ ∞۱€ ∞/€ ∞۲۲۹€
∞ €صحیح مسلم باب وقت العشاء وتاخیرہا ∞مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی€ ∞۱€ ∞/€ ∞۲۲۹€
∞ €صحیح مسلم باب وقت العشاء وتاخیرہا ∞مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی€ ∞۱€ ∞/€ ∞۲۲۹€
∞ €صحیح مسلم باب وقت العشاء وتاخیرہا ∞مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی€ ∞۱€ ∞/€ ∞۲۲۹€
والنسائی عن المؤمنین رضی الله تعالی عنھا۔ ولاتصلی یومئذ الابالمدینۃ فان الیھود کانوا بخیبر والشام وغیرھما اکثر مماکانوا بالمدینۃ الکریمۃ فلوکانت عندھم لصلیت بغیرھا ایضا۔
اقول : ولاتخالف بین الوجھین فان الکافر لاصلاۃ لہ فانما اثبت صلی الله تعالی علیہ وسلم لھم الصورۃ اذ قال صلی الناس وناموا وام
المؤمنین نفت المعنی۔
والثالث : ان المراد لم تفرض علی غیرنا فلاینتظرھا ولایصلیھا احد غیرنا لامن اھل الزمان ولامن امم مضت وھو الذی صرح بہ فی حدیث معاذ رضی الله تعالی عنہ۔ فھذا قصوی مایستفاد منہ ولیس لہ ملحظ اصلا الی نفیھا عن سائر الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام۔
مراد یہ ہے کہ اس زمانے کے لوگوں میں سے تمہارے سوا ایسے لوگ کہیں نہیں پائے جاتے جو عشاء کی نماز پڑھتے ہوں ۔ اس روایت کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جو بخاری ونسائی نے ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہاسے بیان کی ہے کہ ان دنوں یہ نماز صرف مدینے میں پڑھی جاتی تھی۔ اگر یہودی یہ نماز پڑھتے ہوتے تو مدینہ کی بنسبت خیبر اور شام وغیرہ میں یہودیوں کی تعداد زیادہ تھی تو چاہئے تھا کہ ان مقامات میں بھی یہ نماز پڑھی جاتی (حالانکہ مدینہ کے سوا کہیں نہیں پڑھی جاتی تھی) (ت)
میں کہتا ہوں : دونوں توجیہوں میں کوئی تعارض نہیں ہے کیونکہ کافر (اگر صورۃ نماز پڑھے بھی تو حقیقۃ اس) کی نماز نہیں ہوتی۔ اور نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا یہ فرمان کہ لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے اور سوچکے ہیں صوری نماز کے لحاظ سے ہے جبکہ ام المومنین حقیقی نماز کی نفی کررہی ہیں ۔ (ت)تیسری توجیہ یہ ہے کہ (تخصیص باعتبار فرضیت کے ہے) چونکہ یہ نماز ہمارے علاوہ کسی پر فرض نہیں کی گئی نہ موجودہ زمانے کے لوگوں پر نہ سابقہ امتوں پر اس لئے ہمارے سوا اس کا کوئی انتظار بھی نہیں کرتا۔ حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہکی حدیث میں اسی کی تصریح کی گئی ہے اور زیادہ سے زیادہ یہی کچھ اس سے اخذ کیا جاسکتا ہے۔ رہا باقی انبیاء سے اس نماز کی نفی کرنا تو اس کی طرف اس حدیث میں کوئی اشارہ تك نہیں ہے۔ (ت)
بعض احادیث میں صاف تصریح آئی کہ حضرت ابراہیم واسمعیل علیہما الصلاۃ والتسلیم نے منی میں پانچوں نمازیں پڑھیں
اقول : ولاتخالف بین الوجھین فان الکافر لاصلاۃ لہ فانما اثبت صلی الله تعالی علیہ وسلم لھم الصورۃ اذ قال صلی الناس وناموا وام
المؤمنین نفت المعنی۔
والثالث : ان المراد لم تفرض علی غیرنا فلاینتظرھا ولایصلیھا احد غیرنا لامن اھل الزمان ولامن امم مضت وھو الذی صرح بہ فی حدیث معاذ رضی الله تعالی عنہ۔ فھذا قصوی مایستفاد منہ ولیس لہ ملحظ اصلا الی نفیھا عن سائر الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام۔
مراد یہ ہے کہ اس زمانے کے لوگوں میں سے تمہارے سوا ایسے لوگ کہیں نہیں پائے جاتے جو عشاء کی نماز پڑھتے ہوں ۔ اس روایت کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جو بخاری ونسائی نے ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہاسے بیان کی ہے کہ ان دنوں یہ نماز صرف مدینے میں پڑھی جاتی تھی۔ اگر یہودی یہ نماز پڑھتے ہوتے تو مدینہ کی بنسبت خیبر اور شام وغیرہ میں یہودیوں کی تعداد زیادہ تھی تو چاہئے تھا کہ ان مقامات میں بھی یہ نماز پڑھی جاتی (حالانکہ مدینہ کے سوا کہیں نہیں پڑھی جاتی تھی) (ت)
میں کہتا ہوں : دونوں توجیہوں میں کوئی تعارض نہیں ہے کیونکہ کافر (اگر صورۃ نماز پڑھے بھی تو حقیقۃ اس) کی نماز نہیں ہوتی۔ اور نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا یہ فرمان کہ لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے اور سوچکے ہیں صوری نماز کے لحاظ سے ہے جبکہ ام المومنین حقیقی نماز کی نفی کررہی ہیں ۔ (ت)تیسری توجیہ یہ ہے کہ (تخصیص باعتبار فرضیت کے ہے) چونکہ یہ نماز ہمارے علاوہ کسی پر فرض نہیں کی گئی نہ موجودہ زمانے کے لوگوں پر نہ سابقہ امتوں پر اس لئے ہمارے سوا اس کا کوئی انتظار بھی نہیں کرتا۔ حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہکی حدیث میں اسی کی تصریح کی گئی ہے اور زیادہ سے زیادہ یہی کچھ اس سے اخذ کیا جاسکتا ہے۔ رہا باقی انبیاء سے اس نماز کی نفی کرنا تو اس کی طرف اس حدیث میں کوئی اشارہ تك نہیں ہے۔ (ت)
بعض احادیث میں صاف تصریح آئی کہ حضرت ابراہیم واسمعیل علیہما الصلاۃ والتسلیم نے منی میں پانچوں نمازیں پڑھیں
حوالہ / References
∞ € سنن النسائی کتاب المواقیت ∞مطبوعہ مکتبہ سلفیہ€ ∞لاہور€ ∞۱€ ∞/€ ∞۶۳€
فقد اخرج ابن سعدان ابرھیم واسمعیل اتیا منی فصلیا بھا الظھر والعصر والمغرب والعشاء والصبح ۔
ابن سعد نے تخریج کی ہے کہ ابراہیم واسمعیل علیہما السلام منی کو آئے تو وہاں ظہر عصر مغرب عشاء اور صبح کی نمازیں پڑھیں ۔ (ت)
اگر اس حدیث کی سند صحیح یا حسن ہو جب تو قول تخصیص ضعیف ہوہی جائے گا ورنہ قیام دلیل کی حاجت ضرور
فان الخصائص لاتثبت الابنص صحیح کمانصوا علیہ قاطبۃ منھم خاتم الحفاظ فی فتح الباری والقسطلانی فی المواھب والزرقانی فی شرحہ وغیرھم فی غیرھا۔
کیونکہ خصوصیات نص صحیح کے بغیر ثابت نہیں ہوتیں جیسا کہ سب نے تصریح کی ہے۔ مثال کے طور پر خاتم الحفاظ نے فتح الباری میں قسطلانی نے مواہب میں زرقانی نے اس کی شرح میں اور دیگر علماء نے دوسری کتابوں میں ۔ (ت)
ہاں اگر یہ کسی صحیح حدیث صریح بے معارض سے ثابت ہوجائے کہ عشاء جس طرح ہمارے سوا کسی امت نے نہ پڑھی ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے سوا کسی نبی نے بھی نہ پڑھی تو بیشك اختصاص مجموعہ پنجگانہ بھی ثابت ہوجائیگا بعض علما نے اس کی بھی تصریح فرمائی امام جلال الدین سیوطی نے باب مذکور خصائص میں بعد عبارت مسطورہ فرمایا :
وبانہ صلی الله تعالی علیہ وسلم اول من صلی العشاء ولم یصلھا نبی قبلہ
اور اس وجہ سے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے عشاء کی نماز پڑھی اور آپ سے پہلے کسی نبی نے نہیں پڑھی۔ (ت)
امام ابن حجر مکی وشیخ محقق کے اقوال گزرے کہ انبیائے سابقین میں نمازیں منقسم ہونے سے عشاء کو استثناء کرلیا اقول : مگر فقیر غفرالله تعالی لہ نے اس پر بھی کوئی دلیل نہ پائی سوا اس اثر مقطوع کے کہ امام اجل ابوجعفر طحاوی نے شرح معانی الآثار میں امام عبیدالله بن محمد ابن عائشہ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا :
اول من صلی العشاء الاخرۃ نبینا صلی الله تعالی علیہ وسلم ۔ وکل ماتمسکوا بہ سوی ذلک اعنی الاحادیث الثلثۃ الاخیرۃ فلامساس لہ بماھنالك ۔
سب سے پہلے عشاء ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے پڑھی۔ اور آخری تین حدیثوں کے علاوہ علماء نے جن روایتوں سے استدلال کیا ہے تو ان کا زیر بحث مسئلے سے
ابن سعد نے تخریج کی ہے کہ ابراہیم واسمعیل علیہما السلام منی کو آئے تو وہاں ظہر عصر مغرب عشاء اور صبح کی نمازیں پڑھیں ۔ (ت)
اگر اس حدیث کی سند صحیح یا حسن ہو جب تو قول تخصیص ضعیف ہوہی جائے گا ورنہ قیام دلیل کی حاجت ضرور
فان الخصائص لاتثبت الابنص صحیح کمانصوا علیہ قاطبۃ منھم خاتم الحفاظ فی فتح الباری والقسطلانی فی المواھب والزرقانی فی شرحہ وغیرھم فی غیرھا۔
کیونکہ خصوصیات نص صحیح کے بغیر ثابت نہیں ہوتیں جیسا کہ سب نے تصریح کی ہے۔ مثال کے طور پر خاتم الحفاظ نے فتح الباری میں قسطلانی نے مواہب میں زرقانی نے اس کی شرح میں اور دیگر علماء نے دوسری کتابوں میں ۔ (ت)
ہاں اگر یہ کسی صحیح حدیث صریح بے معارض سے ثابت ہوجائے کہ عشاء جس طرح ہمارے سوا کسی امت نے نہ پڑھی ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے سوا کسی نبی نے بھی نہ پڑھی تو بیشك اختصاص مجموعہ پنجگانہ بھی ثابت ہوجائیگا بعض علما نے اس کی بھی تصریح فرمائی امام جلال الدین سیوطی نے باب مذکور خصائص میں بعد عبارت مسطورہ فرمایا :
وبانہ صلی الله تعالی علیہ وسلم اول من صلی العشاء ولم یصلھا نبی قبلہ
اور اس وجہ سے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے عشاء کی نماز پڑھی اور آپ سے پہلے کسی نبی نے نہیں پڑھی۔ (ت)
امام ابن حجر مکی وشیخ محقق کے اقوال گزرے کہ انبیائے سابقین میں نمازیں منقسم ہونے سے عشاء کو استثناء کرلیا اقول : مگر فقیر غفرالله تعالی لہ نے اس پر بھی کوئی دلیل نہ پائی سوا اس اثر مقطوع کے کہ امام اجل ابوجعفر طحاوی نے شرح معانی الآثار میں امام عبیدالله بن محمد ابن عائشہ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا :
اول من صلی العشاء الاخرۃ نبینا صلی الله تعالی علیہ وسلم ۔ وکل ماتمسکوا بہ سوی ذلک اعنی الاحادیث الثلثۃ الاخیرۃ فلامساس لہ بماھنالك ۔
سب سے پہلے عشاء ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے پڑھی۔ اور آخری تین حدیثوں کے علاوہ علماء نے جن روایتوں سے استدلال کیا ہے تو ان کا زیر بحث مسئلے سے
حوالہ / References
∞ €شرح الزرقانی المواہب بحوالہ ابن سعد المقصد الرابع خصائص امۃ صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ المطبعۃ العامرہ المصر∞۵€ ∞/€ ∞۴۲۶€
∞ €الخصائص الکبرٰی باب اختصاصہٖ صلی اللہ علیہ وسلم بمجموع الصلوات الخمس ∞مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲€ ∞/€ ∞۲۰۴€
∞ €شرح معانی الآثار باب الصلوٰۃ الوسطٰی ∞مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱€ ∞/€ ∞۱۲۰€
∞ €الخصائص الکبرٰی باب اختصاصہٖ صلی اللہ علیہ وسلم بمجموع الصلوات الخمس ∞مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲€ ∞/€ ∞۲۰۴€
∞ €شرح معانی الآثار باب الصلوٰۃ الوسطٰی ∞مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱€ ∞/€ ∞۱۲۰€
کماعلمت
کچھ تعلق نہیں ہے جیسا کہ تم جان چکے ہو۔ (ت)
یہ امام ابن عائشہ عیشی نہ صحابی ہیں نہ تابعی نہ تبع سے بلکہ طبقہ عاشرہ میں اتباع تبع تابعین سے ہیں ۱۲۲۸ھ میں انتقال فرمایا کمافی الحلیۃ والتقریب وغیرھما (جیسا کہ حلیہ اور تقریب وغیرہ میں ہے۔ ت) اور خود حضور اقدس سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی وہ حدیث صحیح کہ جبریل امین علیہ الصلوۃ والسلام نے دو۲ روز حضور کی امامت کی ایك دن پانچوں نمازیں اول وقت دوسرے دن آخر وقت پڑھیں پھر حضور پرنور صلوات الله تعالی وتسلیماتہ علیہ سے عرض کی :
ھذا وقت الانبیاء من قبلك ۔ رواہ ابوداؤد وسکت علیہ والترمذی وحسنہ واحمد وابن خزیمۃ والدارقطنی والحاکم وصححہ ابن عبدالبر وابوبکربن العربی۔
یہی وقت حضور سے پہلے انبیاء کے تھے۔ اس کو ابوداؤد نے بیان کرکے سکوت اختیار کیا ہے۔ ترمذی نے اس کو حسن قرار دیا ہے۔ احمد ابن خزیمہ دارقطنی اور حاکم نے بھی اس کو ذکر کیا ہے۔ ابن عبدالبر اور ابوبکر بن عربی نے اس کو صحیح کہا ہے۔ (ت)
اس کے صاف معارض ہے کہ اس سے روشن طور پر مستفاد کہ یہ پانچوں وقت اگلے انبیا کے تھے اگرچہ متفرق ہوں نہ مجموع۔ کسی وقت کے استثناء کی اس میں بو بھی نہیں نہ ایسا استثناء بے دلیل مساوی قابل احتمال۔
اقول : والعجب من ابن حجر کیف یقول بالتوزیع ثم یستثنی العشاء فانی یصح التوزیع للجمیع۔
اور ابن حجر پر حیرت ہے کہ وہ ایك طرف تو سب نمازوں کی تقسیم کے قائل ہیں ۔ پھر ان سے عشاء کی استثناء بھی کرتے ہیں تو سب کی تقسیم کیسے ہوئی (ت)
ظاہرا اسی لئے شیخ محقق قدس سرہ نے اشعۃ اللمعات میں اس سے رجوع فرماکر ترك کیا حیث قال (چنانچہ وہ کہتے ہیں ۔ ت) :
ایں وقت نماز پیغمبران ست کہ پیش از توبودہ اندکہ ہرکدام از ایشاں بعضے اوقات داشتند اگرچہ مجموع اوقات مخصوص ایں امت است فافھم انتھی۔ یہ وقت ان پیغمبروں کی نماز کے ہیں جو آپ سے پہلے گزرے ہیں کہ ان میں سے ہر ایك کو ان میں سے بعض اوقات ملے تھے اگرچہ پانچ کا مجموعہ اس امت کے ساتھ خاص ہے۔ اسکو سمجھو۔ (ت)
کچھ تعلق نہیں ہے جیسا کہ تم جان چکے ہو۔ (ت)
یہ امام ابن عائشہ عیشی نہ صحابی ہیں نہ تابعی نہ تبع سے بلکہ طبقہ عاشرہ میں اتباع تبع تابعین سے ہیں ۱۲۲۸ھ میں انتقال فرمایا کمافی الحلیۃ والتقریب وغیرھما (جیسا کہ حلیہ اور تقریب وغیرہ میں ہے۔ ت) اور خود حضور اقدس سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی وہ حدیث صحیح کہ جبریل امین علیہ الصلوۃ والسلام نے دو۲ روز حضور کی امامت کی ایك دن پانچوں نمازیں اول وقت دوسرے دن آخر وقت پڑھیں پھر حضور پرنور صلوات الله تعالی وتسلیماتہ علیہ سے عرض کی :
ھذا وقت الانبیاء من قبلك ۔ رواہ ابوداؤد وسکت علیہ والترمذی وحسنہ واحمد وابن خزیمۃ والدارقطنی والحاکم وصححہ ابن عبدالبر وابوبکربن العربی۔
یہی وقت حضور سے پہلے انبیاء کے تھے۔ اس کو ابوداؤد نے بیان کرکے سکوت اختیار کیا ہے۔ ترمذی نے اس کو حسن قرار دیا ہے۔ احمد ابن خزیمہ دارقطنی اور حاکم نے بھی اس کو ذکر کیا ہے۔ ابن عبدالبر اور ابوبکر بن عربی نے اس کو صحیح کہا ہے۔ (ت)
اس کے صاف معارض ہے کہ اس سے روشن طور پر مستفاد کہ یہ پانچوں وقت اگلے انبیا کے تھے اگرچہ متفرق ہوں نہ مجموع۔ کسی وقت کے استثناء کی اس میں بو بھی نہیں نہ ایسا استثناء بے دلیل مساوی قابل احتمال۔
اقول : والعجب من ابن حجر کیف یقول بالتوزیع ثم یستثنی العشاء فانی یصح التوزیع للجمیع۔
اور ابن حجر پر حیرت ہے کہ وہ ایك طرف تو سب نمازوں کی تقسیم کے قائل ہیں ۔ پھر ان سے عشاء کی استثناء بھی کرتے ہیں تو سب کی تقسیم کیسے ہوئی (ت)
ظاہرا اسی لئے شیخ محقق قدس سرہ نے اشعۃ اللمعات میں اس سے رجوع فرماکر ترك کیا حیث قال (چنانچہ وہ کہتے ہیں ۔ ت) :
ایں وقت نماز پیغمبران ست کہ پیش از توبودہ اندکہ ہرکدام از ایشاں بعضے اوقات داشتند اگرچہ مجموع اوقات مخصوص ایں امت است فافھم انتھی۔ یہ وقت ان پیغمبروں کی نماز کے ہیں جو آپ سے پہلے گزرے ہیں کہ ان میں سے ہر ایك کو ان میں سے بعض اوقات ملے تھے اگرچہ پانچ کا مجموعہ اس امت کے ساتھ خاص ہے۔ اسکو سمجھو۔ (ت)
حوالہ / References
∞ €تقریب التہذیب ∞مطبوعہ دار نشرکتب اسلامیہ گوجرانوالہ€ ∞ص۲۲۷€
∞ €سُنن ابی داؤد اول کتاب الصلواۃ ∞مطبوعہ آفتاب عالم پریس ،€ ∞لاہور€ ∞۱€ ∞/€ ∞۵۶€
∞ €اشعّۃ اللمعات کتاب الصلوٰۃ باب المواقیت الفصل الثانی ∞مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱€ ∞/€ ∞۲۸۷€
∞ €سُنن ابی داؤد اول کتاب الصلواۃ ∞مطبوعہ آفتاب عالم پریس ،€ ∞لاہور€ ∞۱€ ∞/€ ∞۵۶€
∞ €اشعّۃ اللمعات کتاب الصلوٰۃ باب المواقیت الفصل الثانی ∞مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱€ ∞/€ ∞۲۸۷€
بلکہ بعض روایات واحادیث میں حضرت یونس وحضرت موسی کلیم الله علی نبینا وعلیہما الصلاۃ والسلام کا نماز عشاء پڑھنا صراحۃ منقول کماسیأتی ذکرہ (جیسا کہ اس کا ذکر آرہا ہے۔ ت) اور حضرت ابراہیم واسمعیل علیہما الصلاۃ والسلام کا پڑھنا اوپر گزرا بلکہ امام ابواللیث سمرقندی تنبیہ الغافلین میں بروایت سیدنا علی کرم الله وجہہ ناقل کہ حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا :
واما صلاۃ العتمۃ فانھا الصلاۃ التی صلاھا عــہ المرسلون قبلی ۔ صلوات الله تعالی وتسلیماتہ علیہ وعلیھم اجمعین۔
نماز عشاء وہ نماز ہے کہ مجھ سے پہلے پیغمبروں نے پڑھی۔ (ت)
لاجرم امام قاضی ناصرالدین بیضاوی شرح مصابیح میں فرماتے ہیں :
ان العشاء کانت تصلیھا الرسل نافلۃ لھم ولم تکتب علی اممھم کالتہجد وجب علی نبینا دوننا ۔
پہلے رسول عشاء کی نماز اضافی طور پر پڑھتے تھے مگر ان کی امتوں پر فرض نہیں تھی جس طرح تہجد کی نماز ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر واجب تھی مگر ہم پر واجب نہیں ہے۔ (ت)
اسی طرح علامہ زرقانی امام ہروی وغیرہ سے ناقل :
اذقال بعد ماقدمنا عنہ من معارضۃ اثر العیشی بخبر الرافعی ثم الاستدراك بحدیث معاذ رضی الله تعالی عنہ مانصہ “ وجمع الھروی وغیرہ بان المصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم اول من صلاھا مؤخرالھا
زرقانی سے ہم پہلے نقل کرچکے ہیں کہ انہوں نے عیشی کے اثر کو رافعی کی خبر سے معارض قرار دیا ہے۔ پھر اس پر حدیث معاذ رضی اللہ تعالی عنہسے استدراك کیا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا ہے کہ ہروی وغیرہ نے اس طرح تطبیق کی ہے کہ مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے سب سے پہلے عشاء کو
عــہ : ھکذا ھو مثبت فی نسختی التنبیہ فالله تعالی اعلم ولتراجع النسخ ۱۲ منہ (م)
میرے پاس موجود تنبیہ الغافلین کے نسخہ میں عبارت اسی طرح ہے الله تعالی زیادہ جاننے والا ہے دوسرے نسخوں کو دیکھ لینا چاہئے ۱۲ منہ (ت)
واما صلاۃ العتمۃ فانھا الصلاۃ التی صلاھا عــہ المرسلون قبلی ۔ صلوات الله تعالی وتسلیماتہ علیہ وعلیھم اجمعین۔
نماز عشاء وہ نماز ہے کہ مجھ سے پہلے پیغمبروں نے پڑھی۔ (ت)
لاجرم امام قاضی ناصرالدین بیضاوی شرح مصابیح میں فرماتے ہیں :
ان العشاء کانت تصلیھا الرسل نافلۃ لھم ولم تکتب علی اممھم کالتہجد وجب علی نبینا دوننا ۔
پہلے رسول عشاء کی نماز اضافی طور پر پڑھتے تھے مگر ان کی امتوں پر فرض نہیں تھی جس طرح تہجد کی نماز ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر واجب تھی مگر ہم پر واجب نہیں ہے۔ (ت)
اسی طرح علامہ زرقانی امام ہروی وغیرہ سے ناقل :
اذقال بعد ماقدمنا عنہ من معارضۃ اثر العیشی بخبر الرافعی ثم الاستدراك بحدیث معاذ رضی الله تعالی عنہ مانصہ “ وجمع الھروی وغیرہ بان المصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم اول من صلاھا مؤخرالھا
زرقانی سے ہم پہلے نقل کرچکے ہیں کہ انہوں نے عیشی کے اثر کو رافعی کی خبر سے معارض قرار دیا ہے۔ پھر اس پر حدیث معاذ رضی اللہ تعالی عنہسے استدراك کیا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا ہے کہ ہروی وغیرہ نے اس طرح تطبیق کی ہے کہ مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے سب سے پہلے عشاء کو
عــہ : ھکذا ھو مثبت فی نسختی التنبیہ فالله تعالی اعلم ولتراجع النسخ ۱۲ منہ (م)
میرے پاس موجود تنبیہ الغافلین کے نسخہ میں عبارت اسی طرح ہے الله تعالی زیادہ جاننے والا ہے دوسرے نسخوں کو دیکھ لینا چاہئے ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
∞ €تنبیہ الغافلین باب فضل امۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ص∞۴۰۳€
∞ €شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الرابع خصائص امۃ صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ المطبعۃ العامرہ مصر∞۵€ ∞/€ ∞۴۲۶€
∞ €شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الرابع خصائص امۃ صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ المطبعۃ العامرہ مصر∞۵€ ∞/€ ∞۴۲۶€
الی ثلث اللیل أونحوہ اما الرسل فکانوا یصلونھا عنداول مغیب الشفق اھ “ وغرضنا فیما سلموا من ثبوت العشاء لغیر نبینا من الانبیاء علیہ وعلیم الصلاۃ والثناء اما ما حاول من الجمع فاقول اولا : ان کان المراد الجمع بین حدیث فضلتم بھا وروایۃ ان العشاء لیونس علیہ الصلوۃ والسلام کمایدل علیہ ذکرہ بعد ماقال ان قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فضلتم بھا یعارض روایۃ ان العشاء لیونس فقد علمت ان لاتعارض بینھما حتی یحتاج الی الجمع۔ اوبین الروایۃ واثر العیشی کمایدل علیہ زیادۃ لفظ “ نفسہ “ بعد لفظ اثر الطحاوی فیما یأتی فماابعدہ جمعا فان الاثر صریح فی نفی المطلق دون المقید بالتاخیر فانہ فی سیاق بیان من صلی الصلوات غیر معترض لاقسام الاوقات فذکر لکل من الاربع من صلاھا وقال فی العشاء : اول من صلاھا نبینا صلی الله تعالی علیہ وسلم فاین ھذا مما تریدون!
تہائی رات یا اس کے لگ بھگ تك مؤخر کرکے پڑھا ہے۔ جبکہ پہلے گزرجانے والے رسول شفق غائب ہونے کے ساتھ ہی عشاء پڑھ لیا کرتے تھے اور اس نقل سے ہماری غرض صرف یہ بتانا ہے کہ ہروی وغیرہ نے ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے علاوہ باقی انبیاء کے لئے بھی عشاء تسلیم کرلی ہے وہی ان کی تطبیق تو میں کہتا ہوں کہ اس پر پہلا اعتراض یہ ہے کہ یہ تطبیق اگر ان روایتوں کے درمیان ہے جن میں سے ایك یہ ہے کہ عشاء کے ذریعے تمہیں فضیلت دی گئی ہے۔ اور دوسری میں ہے کہ عشاء یونس علیہ السلام کیلئے تھی جیسا کہ سباق سے معلوم ہوتا ہے کیونکہ یہ تطبیق زرقانی نے مذکورہ دو۲ روایتوں کے بعد بیان کی ہے تو (یہ تطبیق فضول ہے کیونکہ) تمہیں معلوم ہوچکا ہے کہ ان دو۲ روایتوں میں تعارض ہی نہیں ہے کہ تطبیق کی ضرورت پڑے۔ اگر یہ تطبیق روایت اور عیشی کے اثر کے درمیان ہے جیسا کہ طحاوی کے عنقریب آنے والے اثر میں طحاوی کے ساتھ “ نفسہ “ کا لفظ بڑھانے سے ظاہر ہوتا ہے تو یہ فہم سے بہت بعید تطبیق ہے کیونکہ اثر میں صراحتا مطلق عشاء کی نفی ہے نہ کہ (تہائی رات تک) تاخیر سے مقید عشاء کی کیونکہ اثر کے سیاق کا مقصد یہ بتانا ہے کہ یہ نمازیں کس کس نبی نے پڑھی تھیں قطع نظر اس سے کہ پہلے وقت میں پڑھی تھیں یا مؤخر کرکے چنانچہ اثر میں چار نمازوں کے بارے میں بیان کیا ہے کہ انہیں ہمارے نبی کے علاوہ باقی انبیاء نے بھی پڑھا ہے۔ کہاں یہ بات اور کہاں وہ جو تم لوگ چاہتے ہو (کہ مراد تہائی رات تك مؤخر کرکے پڑھنا ہے)۔ (ت)
تہائی رات یا اس کے لگ بھگ تك مؤخر کرکے پڑھا ہے۔ جبکہ پہلے گزرجانے والے رسول شفق غائب ہونے کے ساتھ ہی عشاء پڑھ لیا کرتے تھے اور اس نقل سے ہماری غرض صرف یہ بتانا ہے کہ ہروی وغیرہ نے ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے علاوہ باقی انبیاء کے لئے بھی عشاء تسلیم کرلی ہے وہی ان کی تطبیق تو میں کہتا ہوں کہ اس پر پہلا اعتراض یہ ہے کہ یہ تطبیق اگر ان روایتوں کے درمیان ہے جن میں سے ایك یہ ہے کہ عشاء کے ذریعے تمہیں فضیلت دی گئی ہے۔ اور دوسری میں ہے کہ عشاء یونس علیہ السلام کیلئے تھی جیسا کہ سباق سے معلوم ہوتا ہے کیونکہ یہ تطبیق زرقانی نے مذکورہ دو۲ روایتوں کے بعد بیان کی ہے تو (یہ تطبیق فضول ہے کیونکہ) تمہیں معلوم ہوچکا ہے کہ ان دو۲ روایتوں میں تعارض ہی نہیں ہے کہ تطبیق کی ضرورت پڑے۔ اگر یہ تطبیق روایت اور عیشی کے اثر کے درمیان ہے جیسا کہ طحاوی کے عنقریب آنے والے اثر میں طحاوی کے ساتھ “ نفسہ “ کا لفظ بڑھانے سے ظاہر ہوتا ہے تو یہ فہم سے بہت بعید تطبیق ہے کیونکہ اثر میں صراحتا مطلق عشاء کی نفی ہے نہ کہ (تہائی رات تک) تاخیر سے مقید عشاء کی کیونکہ اثر کے سیاق کا مقصد یہ بتانا ہے کہ یہ نمازیں کس کس نبی نے پڑھی تھیں قطع نظر اس سے کہ پہلے وقت میں پڑھی تھیں یا مؤخر کرکے چنانچہ اثر میں چار نمازوں کے بارے میں بیان کیا ہے کہ انہیں ہمارے نبی کے علاوہ باقی انبیاء نے بھی پڑھا ہے۔ کہاں یہ بات اور کہاں وہ جو تم لوگ چاہتے ہو (کہ مراد تہائی رات تك مؤخر کرکے پڑھنا ہے)۔ (ت)
حوالہ / References
∞ €شرح المواہب اللدنیہ ومنہا مجموع الصلواۃ الخمس المطبعۃ العامرہ مصر ∞۵€ ∞/€ ∞۴۲۶€
وثانیا : کیفما کان ھذا حامل للوحی الامین علیہ الصلوۃ والسلام صلی الخمس یومین فعجل مرۃ واخر اخری ثم قال : ھذا وقت الانبیاء من قبلك فمن این ان اول من اخرھا نبینا صلی الله تعالی علیہ وسلم قال : ویدل لذلك (ای لما ادعی من الجمع) بل یصرح بہ قولہ اثر الطحاوی نفسہ العشاء الاخرۃ اھ۔
اقول : یاسبحن اللہ! بل لادلالۃ فیہ اصلا فضلا عن التصریح فان العشاء الاخرۃ ھی العشاء مطلقا دون التی اخرت۔ تسمی الاخرۃ نظرا الی العشاء الاولی وھی المغرب علیہ تظافر محاورات الحدیث۔ وفصل القول مالاحمد ومسلم والنسائی عن جابر جبن سمرۃ رضی الله تعالی عنہ قال کان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یؤخر العشاء الاخرۃ ۔ واعظم منہ ماللترمذی عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی
دوسرا اعتراض یہ ہے کہ جو صورت بھی ہو بہرحال حامل وحی جبریل امین نے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو دو۲ دن پانچ پانچ نمازیں پڑھائیں پہلے دن ہر وقت کے بالکل ابتدائی حصے میں اور دوسرے دن ہر وقت کے انتہائی حصے میں پھر کہا کہ یہ آپ سے پہلے انبیاء کا بھی وقت ہے (پھر یہ بات کیسے درست ہوسکتی ہے کہ رسول الله عشاء کو تہائی رات تك مؤخر کرنے سے مختص تھے) زرقانی نے کہا کہ اس پر یعنی اس تطبیق پر کہ تہائی رات تك مؤخر کرنا مراد ہے دلالت کرتی ہے بلکہ صراحت کرتی ہے یہ چیز کہ طحاوی نے خود اپنے اثر میں العشاء الآخرۃ (آخری عشاء) ترکیب استعمال کی ہے (اس سے معلوم ہواکہ عشاء کا آخری حصہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکیلئے مختص ہے)۔ (ت)
میں کہتا ہوں : اے سبحان اللہ! صراحت تو کیا یہ ترکیب اس پر دلالت بھی نہیں کرتی کیونکہ “ عشاء آخرۃ “ مطلق عشاء کو کہتے ہیں نہ کہ اس عشا کو جو مؤخر کی گئی ہو۔ اس کو آخرہ اس بناء پر کہتے ہیں کہ عشاء اولی مغرب کو کہتے ہیں ۔ اس پر حدیث کے بہت سے محاورات شاہد ہیں ۔ اور احمد مسلم نسائی کی یہ روایت تو اس میں قول فیصل کا درجہ رکھتی ہے کہ جابر بن سمرہ فرماتے ہیں : “ رسول الله آخری عشاء کو مؤخرکیا کرتے تھے “ ۔ اس سے بھی زیادہ اصح وہ روایت ہے جو ترمذی نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے
اقول : یاسبحن اللہ! بل لادلالۃ فیہ اصلا فضلا عن التصریح فان العشاء الاخرۃ ھی العشاء مطلقا دون التی اخرت۔ تسمی الاخرۃ نظرا الی العشاء الاولی وھی المغرب علیہ تظافر محاورات الحدیث۔ وفصل القول مالاحمد ومسلم والنسائی عن جابر جبن سمرۃ رضی الله تعالی عنہ قال کان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یؤخر العشاء الاخرۃ ۔ واعظم منہ ماللترمذی عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی
دوسرا اعتراض یہ ہے کہ جو صورت بھی ہو بہرحال حامل وحی جبریل امین نے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو دو۲ دن پانچ پانچ نمازیں پڑھائیں پہلے دن ہر وقت کے بالکل ابتدائی حصے میں اور دوسرے دن ہر وقت کے انتہائی حصے میں پھر کہا کہ یہ آپ سے پہلے انبیاء کا بھی وقت ہے (پھر یہ بات کیسے درست ہوسکتی ہے کہ رسول الله عشاء کو تہائی رات تك مؤخر کرنے سے مختص تھے) زرقانی نے کہا کہ اس پر یعنی اس تطبیق پر کہ تہائی رات تك مؤخر کرنا مراد ہے دلالت کرتی ہے بلکہ صراحت کرتی ہے یہ چیز کہ طحاوی نے خود اپنے اثر میں العشاء الآخرۃ (آخری عشاء) ترکیب استعمال کی ہے (اس سے معلوم ہواکہ عشاء کا آخری حصہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکیلئے مختص ہے)۔ (ت)
میں کہتا ہوں : اے سبحان اللہ! صراحت تو کیا یہ ترکیب اس پر دلالت بھی نہیں کرتی کیونکہ “ عشاء آخرۃ “ مطلق عشاء کو کہتے ہیں نہ کہ اس عشا کو جو مؤخر کی گئی ہو۔ اس کو آخرہ اس بناء پر کہتے ہیں کہ عشاء اولی مغرب کو کہتے ہیں ۔ اس پر حدیث کے بہت سے محاورات شاہد ہیں ۔ اور احمد مسلم نسائی کی یہ روایت تو اس میں قول فیصل کا درجہ رکھتی ہے کہ جابر بن سمرہ فرماتے ہیں : “ رسول الله آخری عشاء کو مؤخرکیا کرتے تھے “ ۔ اس سے بھی زیادہ اصح وہ روایت ہے جو ترمذی نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے
حوالہ / References
∞ €سنن ابی داؤد اول کتاب الصلوٰۃ ∞مطبوعہ مجتبائی لاہور پاکستان€ ∞۱€ ∞/€ ∞۵۶€
∞ €شرح الزرقانی علی المواہب ومنہا مجموع الصلوات الخمس مطبوعہ المطبعۃ العامرہ مصر ∞۵€ ∞/€ ∞۴۲۶€
∞ € سنن نسائی کتاب المواقیت مایستحب من تاخیر العشاء ∞مطبوعہ مکتبہ سلفیہ€ ∞لاہور€ ∞۱€ ∞/€ ∞۶۳€
∞ €شرح الزرقانی علی المواہب ومنہا مجموع الصلوات الخمس مطبوعہ المطبعۃ العامرہ مصر ∞۵€ ∞/€ ∞۴۲۶€
∞ € سنن نسائی کتاب المواقیت مایستحب من تاخیر العشاء ∞مطبوعہ مکتبہ سلفیہ€ ∞لاہور€ ∞۱€ ∞/€ ∞۶۳€
عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ان اول وقت العشاء الاخرۃ حین یغیب الافق ۔ فالمقطوع بہ ان لااثر لھذہ الدلالۃ فی الکلام ولوارادہ لقال “ اول من اخر العشاء “ و ھذا ظاھر جدا۔
نقل کی ہے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : “ آخری عشاء کا وقت شفق غائب ہونے سے شروع ہوتا ہے “ ۔ بہرحال اس کلام میں “ عشاء آخرہ “ کا تاخیر عشاء پر دلالت کرنا قطعی طور پر بے نشان ہے اگر یہ مراد ہوتی تو اثر کے الفاظ یہ ہوتے “ سب سے پہلے جس نے عشاء مؤخر کی “ اور یہ بہت ہی ظاہر ہے۔ (ت)
بالجملہ اس قدر بلاشبہہ ثابت کہ نماز عشاء ہم سے پہلے کسی امت نے نہ پڑھی نہ کسی کو پانچوں نمازیں ملیں اور انبیائے سابقین علیہم الصلوۃ والسلام کے بارے میں ظاہرا راجح یہی ہے کہ عشاء ان میں بھی بعض نے پڑھی تو اثر مذکور امام طحاوی سے اجتماع خمس کو تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام میں ہمارے حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے لئے خاص ثابت کرنا جس کا مدار اسی نفی عشاء عن سائر الانبیاء علیہم الصلوۃ والثناء پر تھا تام التقریب نہیں کہ جب ہر نماز کسی نہ کسی نبی سے ثابت تو ممکن کہ بعض انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام نے کبھی یا ہمیشہ پانچوں بھی پڑھی ہوں اگرچہ کسی امت نے نہ پڑھیں یہاں تك کہ مغرب کی اولیت سیدنا عیسیعليه الصلوۃ والسلام ہی کے لئے مانے جیسا کہ قول دوم وسوم میں آتا ہے جب بھی وہ احتمال مندفع نہیں ممکن کہ سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام ہی نے پانچوں پڑھی ہوں اور اس میں حکمت یہ ہوکہ وہ دنیا کی نظر ظاہر میں بھی صاحب صلوات خمس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے امتی ہوکر زمین پر تشریف لانے والے ہیں اگرچہ حقیقۃ تمام انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام ہمارے حضور نبی الانبیاء صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے امتی ہیں انہیں نبوت دی ہی اس وقت ہے جب انہیں محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا امتی بنالیا ہے جس پر قرآن عظیم ناطق اور ہمارے رسالہ تجلی الیقین بان نبینا سیدالمرسلین میں اس کی تفصیل فائق ولله الحمد۔ غرض یہاں دو۲ مطلب تھے ایك یہ کہ اجتماع خمس ہمارے سو ا کسی امت کو نہ ملا یہ حدیث معاذ رضی اللہ تعالی عنہمیں خود ارشاد اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے ثابت دوسرے یہ کہ پانچوں نمازوں کا اجتماع انبیاء میں بھی صرف ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ساتھ خاص ہے یہ باعتماد علمائے کرام مانا جائے گا اگرچہ ہم اس پر دلیل نہ پائیں کہ آخر کلمات علماء کا اطباق واتفاق بے چیزے نیست ہمارا دلیل نہ پانا دلیل نہ ہونے پر دلیل نہیں ۔
اقول : شاید نظر علما اس طرف ہوکہ جب حدیث صحیح سے ثابت کہ الله عزوجل نے اس نعمت جلیلہ وفضیلت جلیلہ سے اس امت مرحومہ کو تمام امم پر تفضیل دی اور قطعا ہمارے جس قدر فضل ہیں سب ہمارے آقا ومولی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے طفیل اور صدقہ میں ہیں تو مستبعد ہے کہ ہم تو اس خصوص نعمت سے سب امتوں پر فضیلت پائیں اور ہمارے
نقل کی ہے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : “ آخری عشاء کا وقت شفق غائب ہونے سے شروع ہوتا ہے “ ۔ بہرحال اس کلام میں “ عشاء آخرہ “ کا تاخیر عشاء پر دلالت کرنا قطعی طور پر بے نشان ہے اگر یہ مراد ہوتی تو اثر کے الفاظ یہ ہوتے “ سب سے پہلے جس نے عشاء مؤخر کی “ اور یہ بہت ہی ظاہر ہے۔ (ت)
بالجملہ اس قدر بلاشبہہ ثابت کہ نماز عشاء ہم سے پہلے کسی امت نے نہ پڑھی نہ کسی کو پانچوں نمازیں ملیں اور انبیائے سابقین علیہم الصلوۃ والسلام کے بارے میں ظاہرا راجح یہی ہے کہ عشاء ان میں بھی بعض نے پڑھی تو اثر مذکور امام طحاوی سے اجتماع خمس کو تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام میں ہمارے حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے لئے خاص ثابت کرنا جس کا مدار اسی نفی عشاء عن سائر الانبیاء علیہم الصلوۃ والثناء پر تھا تام التقریب نہیں کہ جب ہر نماز کسی نہ کسی نبی سے ثابت تو ممکن کہ بعض انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام نے کبھی یا ہمیشہ پانچوں بھی پڑھی ہوں اگرچہ کسی امت نے نہ پڑھیں یہاں تك کہ مغرب کی اولیت سیدنا عیسیعليه الصلوۃ والسلام ہی کے لئے مانے جیسا کہ قول دوم وسوم میں آتا ہے جب بھی وہ احتمال مندفع نہیں ممکن کہ سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام ہی نے پانچوں پڑھی ہوں اور اس میں حکمت یہ ہوکہ وہ دنیا کی نظر ظاہر میں بھی صاحب صلوات خمس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے امتی ہوکر زمین پر تشریف لانے والے ہیں اگرچہ حقیقۃ تمام انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام ہمارے حضور نبی الانبیاء صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے امتی ہیں انہیں نبوت دی ہی اس وقت ہے جب انہیں محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا امتی بنالیا ہے جس پر قرآن عظیم ناطق اور ہمارے رسالہ تجلی الیقین بان نبینا سیدالمرسلین میں اس کی تفصیل فائق ولله الحمد۔ غرض یہاں دو۲ مطلب تھے ایك یہ کہ اجتماع خمس ہمارے سو ا کسی امت کو نہ ملا یہ حدیث معاذ رضی اللہ تعالی عنہمیں خود ارشاد اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے ثابت دوسرے یہ کہ پانچوں نمازوں کا اجتماع انبیاء میں بھی صرف ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ساتھ خاص ہے یہ باعتماد علمائے کرام مانا جائے گا اگرچہ ہم اس پر دلیل نہ پائیں کہ آخر کلمات علماء کا اطباق واتفاق بے چیزے نیست ہمارا دلیل نہ پانا دلیل نہ ہونے پر دلیل نہیں ۔
اقول : شاید نظر علما اس طرف ہوکہ جب حدیث صحیح سے ثابت کہ الله عزوجل نے اس نعمت جلیلہ وفضیلت جلیلہ سے اس امت مرحومہ کو تمام امم پر تفضیل دی اور قطعا ہمارے جس قدر فضل ہیں سب ہمارے آقا ومولی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے طفیل اور صدقہ میں ہیں تو مستبعد ہے کہ ہم تو اس خصوص نعمت سے سب امتوں پر فضیلت پائیں اور ہمارے
حوالہ / References
∞ €جامع الترمذی ابواب الصلوات باب ماجاء فی مواقیت الصلوات ∞مطبوعہ کتب خانہ رشیدیہ امین کمپنی دہلی€ ∞۱€ ∞/€ ∞۲۲€
مولی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے لئے انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام پر یہ تخصیص واختصاص نہ ہو اس تقدیر پر یہی حدیث معاذ رضی اللہ تعالی عنہدلالۃ اس دعوے کی بھی مثبت ہوگی۔
اما حدیث السیدین ابرھیم واسمعیل علی ابنھما الکریم ثم علیھم الصلاۃ و التسلیم فلعلہ لم یثبت اذ لوثبت لمارأینا تظافر کلماتھم علی خلافہ علی انی اقول : الاختصاص بجھۃ الافتراض اماھما صلی الله تعالی علی ابنھما ثم علیھما وبارك وسلم فصلیا بمنی ماکتب الله تعالی علیھما وتنفلافی بقیۃ الاوقات فمن قبل وقوعھا فی ھذہ الاوقات عبر عنھا باسماء ھذہ الصلوات والله تعالی اعلم بالخفیات۔ ھذا غایۃ ما عندی فی توجیہ المرام۔
رہی دو سرداروں یعنی ابراہیم واسمعیل ان کے کریم بیٹے پر پھر ان دونوں پر صلوۃ وسلام ہو والی حدیث تو شاید وہ پایہ ثبوت تك نہیں پہنچی کیونکہ اگر ثابت ہوتی تو اتنی کثرت سے علماء کے اقوال اس کے خلاف نہ ہوتے علاوہ ازیں میں کہتا ہوں کہ خصوصیت فرضیت کے اعتبار سے ہے (یعنی پانچ نمازیں فرض صرف رسول الله پر ہوئیں ) ابراہیم واسمعیل علیہما السلام پر ان میں سے جو فرض ہوں گی وہ انہوں نے بطور فرض منی میں پڑھی ہوں گی اور باقی اوقات میں نفل ادا کیے ہوں گے لیکن وہ نفل چونکہ واقع انہی پانچ اوقات میں ہوئے تھے اس لئے ان کی تعبیر نمازوں کے ناموں سے کردی گئی۔ اور الله ہی پوشیدہ باتوں کو بہتر جاننے والا ہے اس مقصد کی زیادہ سے زیادہ توجیہ میرے خیال میں یہی ہوسکتی ہے۔ (ت)
اقول : مگر استبعاد مذکور کا جواب واضح ہے کہ کچھ عجب نہیں کہ مولی عزوجل بعض نعمتیں بعض انبیا علیہم الصلوۃ والسلام کو عطا فرمائے اگلی امتوں میں نبی کے سوا کسی کو نہ ملتی ہوں مگر اس امت مرحومہ کیلئے انہیں عام فرمادے جیسے کتاب الله کا حافظ ہونا کہ امم سابقہ میں خاصہ انبیاء علیہم الصلاۃ والثناء تھا اس امت کے لئے رب عزوجل نے قرآن کریم حفظ کیلئے آسان فرمادیا کہ دس دس۱۰ برس کے بچے حافظ ہوتے ہیں اور ہمارے مولی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا فضل ظاہر ہے کہ ان کی امت کو وہ ملا جو صرف انبیاء کو ملاکرتا تھا علیہ وعلیہم افضل الصلاۃ والثناء والله سبحنہ وتعالی اعلم۔ باقی رہا سوال کا دوسرا جز کہ کون سی نماز کس نبی نے پہلے پڑھی اس میں چار۴ قول ہیں :
اول : قول امام عبیدالله بن عائشہ ممدوح کہ جب آدمعليه الصلوۃ والسلام کی توبہ وقت فجر قبول ہوئی انہوں نے دو۲ رکعتیں پڑھیں وہ نماز صبح ہوئی۔ اور اسحقعليه الصلوۃ والسلام کا فدیہ وقت ظہر آیا ابرہیمعليه الصلوۃ والسلام نے چار پڑھیں وہ ظہر مقرر ہوئی۔ عزیر علیہ السلام سو۱۰۰ برس کے بعد عصر کے وقت زندہ کئے گئے انہوں نے چار پڑھیں وہ عصر ہوئی۔ داؤد علیہ الصلوۃ والسلام کی توبہ وقت مغرب قبول ہوئی چار رکعتیں پڑھنے کھڑے ہوئے تھك کر تیسری
اما حدیث السیدین ابرھیم واسمعیل علی ابنھما الکریم ثم علیھم الصلاۃ و التسلیم فلعلہ لم یثبت اذ لوثبت لمارأینا تظافر کلماتھم علی خلافہ علی انی اقول : الاختصاص بجھۃ الافتراض اماھما صلی الله تعالی علی ابنھما ثم علیھما وبارك وسلم فصلیا بمنی ماکتب الله تعالی علیھما وتنفلافی بقیۃ الاوقات فمن قبل وقوعھا فی ھذہ الاوقات عبر عنھا باسماء ھذہ الصلوات والله تعالی اعلم بالخفیات۔ ھذا غایۃ ما عندی فی توجیہ المرام۔
رہی دو سرداروں یعنی ابراہیم واسمعیل ان کے کریم بیٹے پر پھر ان دونوں پر صلوۃ وسلام ہو والی حدیث تو شاید وہ پایہ ثبوت تك نہیں پہنچی کیونکہ اگر ثابت ہوتی تو اتنی کثرت سے علماء کے اقوال اس کے خلاف نہ ہوتے علاوہ ازیں میں کہتا ہوں کہ خصوصیت فرضیت کے اعتبار سے ہے (یعنی پانچ نمازیں فرض صرف رسول الله پر ہوئیں ) ابراہیم واسمعیل علیہما السلام پر ان میں سے جو فرض ہوں گی وہ انہوں نے بطور فرض منی میں پڑھی ہوں گی اور باقی اوقات میں نفل ادا کیے ہوں گے لیکن وہ نفل چونکہ واقع انہی پانچ اوقات میں ہوئے تھے اس لئے ان کی تعبیر نمازوں کے ناموں سے کردی گئی۔ اور الله ہی پوشیدہ باتوں کو بہتر جاننے والا ہے اس مقصد کی زیادہ سے زیادہ توجیہ میرے خیال میں یہی ہوسکتی ہے۔ (ت)
اقول : مگر استبعاد مذکور کا جواب واضح ہے کہ کچھ عجب نہیں کہ مولی عزوجل بعض نعمتیں بعض انبیا علیہم الصلوۃ والسلام کو عطا فرمائے اگلی امتوں میں نبی کے سوا کسی کو نہ ملتی ہوں مگر اس امت مرحومہ کیلئے انہیں عام فرمادے جیسے کتاب الله کا حافظ ہونا کہ امم سابقہ میں خاصہ انبیاء علیہم الصلاۃ والثناء تھا اس امت کے لئے رب عزوجل نے قرآن کریم حفظ کیلئے آسان فرمادیا کہ دس دس۱۰ برس کے بچے حافظ ہوتے ہیں اور ہمارے مولی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا فضل ظاہر ہے کہ ان کی امت کو وہ ملا جو صرف انبیاء کو ملاکرتا تھا علیہ وعلیہم افضل الصلاۃ والثناء والله سبحنہ وتعالی اعلم۔ باقی رہا سوال کا دوسرا جز کہ کون سی نماز کس نبی نے پہلے پڑھی اس میں چار۴ قول ہیں :
اول : قول امام عبیدالله بن عائشہ ممدوح کہ جب آدمعليه الصلوۃ والسلام کی توبہ وقت فجر قبول ہوئی انہوں نے دو۲ رکعتیں پڑھیں وہ نماز صبح ہوئی۔ اور اسحقعليه الصلوۃ والسلام کا فدیہ وقت ظہر آیا ابرہیمعليه الصلوۃ والسلام نے چار پڑھیں وہ ظہر مقرر ہوئی۔ عزیر علیہ السلام سو۱۰۰ برس کے بعد عصر کے وقت زندہ کئے گئے انہوں نے چار پڑھیں وہ عصر ہوئی۔ داؤد علیہ الصلوۃ والسلام کی توبہ وقت مغرب قبول ہوئی چار رکعتیں پڑھنے کھڑے ہوئے تھك کر تیسری
پر بیٹھ گئے مغرب کی تین ہی رہیں ۔ اور عشاء سب سے پہلے ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے پڑھی۔
رواہ کماذکرنا الامام الطحاوی قال : حدثنا القاسم بن جعفر قال سمعت بحر بن الحکم الکیسانی قال سمعت ابا عبدالرحمن بن محمد ابن عائشۃ یقول فذکرہ ۔
جس طرح ہم نے ذکر کیا ہے اسی کے مطابق اس کو طحاوی نے روایت کیا ہے کہ قاسم ابن جعفر نے بحر ابن حکم کیسانی سے اس نے ابوعبدالرحمن عبدالله ابن محمد ابن عائشہ سے سنا اس کے بعد سابقہ روایت بیان کی ہے۔ (ت)
دوم قول امام ابوالفضل کہ سب سے پہلے فجر کو دو۲ رکعتیں حضرت آدم ظہر کو چار رکعتیں حضرت ابرہیم عصر حضرت یونس مغرب حضرت عیسی عشاء حضرت موسی علیہم الصلاۃ والسلام نے پڑھی۔ ذکرہ الامام الزندوستی فی روضتہ قال سألت ابا الفضل فذکرہ (اس کو امام زندوستی نے اپنی روضہ میں ابو الفضل کے حوالہ سے ذکر کیا ہے۔ کہا میں نے ابو الفضل سے پوچھا تو انہوں نے یہ ذکر کیا۔ ت) یہ حکایت ایك لطیف کلام پر مشتمل ہے لہذا اس کا خلاصہ لکھیں امام زندوستی فرماتے ہیں میں نے امام ابوالفضل سے پوچھا صبح کی دو۲ رکعتیں ظہر وعصر وعشاء کی چار مغرب کی تین کیوں ہوئیں ۔ فرمایا حکم۔ میں نے کہا مجھے اور ابھی افادہ کیجئے۔ کہا ہر نماز ایك نبی نے پڑھی ہے آدم علیہ الصلوۃ والسلام جب جنت سے زمین پر تشریف لائے دنیا آنکھوں میں تاریك تھی اور ادھر رات کی اندھیری آئی انہوں نے رات کہاں دیکھی تھی بہت خائف ہوئے جب صبح چمکی دو۲ رکعتیں شکر الہی کی پڑھیں ایك اس کا شکر کہ تاریکی شب سے نجات ملی دوسرا اس کا کہ دن کی روشنی پائی انہوں نے نفل پڑھی تھیں ہم پر فرض کی گئیں کہ ہم سے گناہوں کی تاریکی دور ہو اور طاعت کا نور حاصل۔ زوال کے بعد سب سے پہلے ابراہیمعليه الصلوۃ والسلام نے چار رکعت پڑھیں جبکہ اسمعیل علیہ الصلوۃ والسلام کا فدیہ اترا ہے پہلی اس کے شکر میں کہ بیٹے کا غم دور ہوا دوسری فدیہ آنے کے سبب تیسری رضائے مولی سبحنہ وتعالی کا شکر چوتھی اس کے شکر میں کہ الله عزوجل کے حکم پر اسمعیل علیہ الصلوۃ والتسلیم نے گردن رکھ دی یہ ان کے نفل تھے ہم پر فرض ہوئیں کہ مولی عـــہ تعالی ہمیں قتل نفس پر قدرت
عـــہ لفظ الکتاب فامرنا بذلك لانہ تعالی وفقنا علی اببلیس کماوفقہ لذبح الولد وانجانامن الغم کماانجاہ وفدانا من النار کمافداہ ورضی عنا
کتاب (یعنی روضہ) کی عبارت یوں ہے : “ تو ہمیں ظہر کی چار رکعتوں کا حکم دیا گیا کیونکہ ہمیں بھی الله تعالی نے شیطان کے مقابلے کی توفیق عطا فرمائی جس طرح(باقی برصفحہ ائندہ)
رواہ کماذکرنا الامام الطحاوی قال : حدثنا القاسم بن جعفر قال سمعت بحر بن الحکم الکیسانی قال سمعت ابا عبدالرحمن بن محمد ابن عائشۃ یقول فذکرہ ۔
جس طرح ہم نے ذکر کیا ہے اسی کے مطابق اس کو طحاوی نے روایت کیا ہے کہ قاسم ابن جعفر نے بحر ابن حکم کیسانی سے اس نے ابوعبدالرحمن عبدالله ابن محمد ابن عائشہ سے سنا اس کے بعد سابقہ روایت بیان کی ہے۔ (ت)
دوم قول امام ابوالفضل کہ سب سے پہلے فجر کو دو۲ رکعتیں حضرت آدم ظہر کو چار رکعتیں حضرت ابرہیم عصر حضرت یونس مغرب حضرت عیسی عشاء حضرت موسی علیہم الصلاۃ والسلام نے پڑھی۔ ذکرہ الامام الزندوستی فی روضتہ قال سألت ابا الفضل فذکرہ (اس کو امام زندوستی نے اپنی روضہ میں ابو الفضل کے حوالہ سے ذکر کیا ہے۔ کہا میں نے ابو الفضل سے پوچھا تو انہوں نے یہ ذکر کیا۔ ت) یہ حکایت ایك لطیف کلام پر مشتمل ہے لہذا اس کا خلاصہ لکھیں امام زندوستی فرماتے ہیں میں نے امام ابوالفضل سے پوچھا صبح کی دو۲ رکعتیں ظہر وعصر وعشاء کی چار مغرب کی تین کیوں ہوئیں ۔ فرمایا حکم۔ میں نے کہا مجھے اور ابھی افادہ کیجئے۔ کہا ہر نماز ایك نبی نے پڑھی ہے آدم علیہ الصلوۃ والسلام جب جنت سے زمین پر تشریف لائے دنیا آنکھوں میں تاریك تھی اور ادھر رات کی اندھیری آئی انہوں نے رات کہاں دیکھی تھی بہت خائف ہوئے جب صبح چمکی دو۲ رکعتیں شکر الہی کی پڑھیں ایك اس کا شکر کہ تاریکی شب سے نجات ملی دوسرا اس کا کہ دن کی روشنی پائی انہوں نے نفل پڑھی تھیں ہم پر فرض کی گئیں کہ ہم سے گناہوں کی تاریکی دور ہو اور طاعت کا نور حاصل۔ زوال کے بعد سب سے پہلے ابراہیمعليه الصلوۃ والسلام نے چار رکعت پڑھیں جبکہ اسمعیل علیہ الصلوۃ والسلام کا فدیہ اترا ہے پہلی اس کے شکر میں کہ بیٹے کا غم دور ہوا دوسری فدیہ آنے کے سبب تیسری رضائے مولی سبحنہ وتعالی کا شکر چوتھی اس کے شکر میں کہ الله عزوجل کے حکم پر اسمعیل علیہ الصلوۃ والتسلیم نے گردن رکھ دی یہ ان کے نفل تھے ہم پر فرض ہوئیں کہ مولی عـــہ تعالی ہمیں قتل نفس پر قدرت
عـــہ لفظ الکتاب فامرنا بذلك لانہ تعالی وفقنا علی اببلیس کماوفقہ لذبح الولد وانجانامن الغم کماانجاہ وفدانا من النار کمافداہ ورضی عنا
کتاب (یعنی روضہ) کی عبارت یوں ہے : “ تو ہمیں ظہر کی چار رکعتوں کا حکم دیا گیا کیونکہ ہمیں بھی الله تعالی نے شیطان کے مقابلے کی توفیق عطا فرمائی جس طرح(باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References
∞ €شرح معانی الآثار باب الصّلوٰۃ الوسطی ∞مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی€ ∞۱€ ∞/€ ∞۱۲۰€
دے جیسی انہیں ذبح ولد پر قدرت دی اور ہمیں بھی غم سے نجات دے اور یہود ونصاری کو ہمارا فدیہ کرکے نار سے ہمیں بچالے اور ہم سے بھی راضی ہو۔ نماز عصر سب سے پہلے یونس علیہ الصلوۃ والسلام نے پڑھی کہ اس وقت مولی تعالی نے انہیں چار۴ ظلمتوں سے نجات دی : ظلمت لغزش ظلمت غم عـــہ۱ ظلمت دریا ظلمت شکم ماہی۔ یہ ان کے نفل تھے ہم پر فرض ہوئی کہ ہمیں مولی تعالی ظلمت گناہ وظلمت قبر وظلمت قیامت وظلمت دوزخ سے پناہ دے۔ مغرب سب سے پہلے عیسی علیہ الصلوۃ والسلام نے پڑھی عـــہ۲ پہلی اپنے سے نفی الوہیت دوسری اپنی ماں سے نفی الوہیت تیسری الله عزوجل کے لئے اثبات الوہیت کیلئے۔ یہ ان کے نفل ہم پر فرض ہوئے کہ روز قیامت ہم پر حساب آسان ہو نار سے نجات ہو اس بڑی گھبراہٹ سے پناہ ہو۔ اقول : اور مقام سے مناسب تر
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
کمارضی عنہ اھ اقول : وماذکرت احسن من ستۃ وجوہ لاتخفی علی المتأمل ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عـــہ۱ : الذی فی الکتاب وظلمۃ اللیل اقول : ان کانت تذھب بالنھار فقدذھبت قبل العصر والافلا اثرلھا ولذا ابدلتھا منہ غفرلہ (م)
عــہ۲ : الذی فی الکتاب اول من صلی المغرب تطوعا شکرا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام حین خاطبہ الله تعالی بقولہ أانت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون الله وکان ذلك بعد غروب الشمس الخ اقول المعروف ان ھذا الخطاب یوم الحساب الاتری الی قولہ علیہ الصلوۃ والسلام فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم ۱۲ منہ غفرلہ (م)
ابراہیم علیہ السلام کو بیٹا ذبح کرنے کی توفیق بخشی اور ہمیں بھی غم سے نجات دی جیسے ان کو دی تھی اور (یہود ونصاری کو جہنم میں ) ہمارا فدیہ بنایا جس طرح ان کیلئے (جنتی دنبے کو اسمعیل علیہ السلام کا) فدیہ بنایا اور ہم سے بھی الله تعالی راضی ہوا جیسے کہ ان سے ہوا اھ اقول : (میں کہتا ہوں ) ان الفاظ کی بنسبت میری ذکر کردہ عبارت چھ۶ وجوہ سے زیادہ عمدہ ہے اور یہ وجوہ سوچنے والے پر مخفی نہیں ہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت) کتاب میں (ظلمت غم کی بجائے) “ ظلمت لیل “ مذکور ہے۔ میں کہتا ہوں اگر ظلمت لیل مراد ہوتو نہار کی وجہ سے ظلمت لیل ختم ہوجاتی ہے تو ثابت ہوتا ہے کہ رات کا اندھیرا وقت عصر سے پہلے ہی ختم ہوچکا ورنہ لازم آئیگا کہ نہار کا کوئی اثر ہی نہ ہو اسی لئے میں نے اس کو ظلمت غم سے بدلا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)کتاب میں یوں ہے کہ سب سے پہلے مغرب کی نماز بطور شکرانہ حضرت عیسی علیہ السلام نے پڑھی جب ان کو الله تعالی نے یوں مخاطب کیا تھا کہ کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو الله کے سوا معبود بنالو اور یہ خطاب غروب شمس کے بعد ہوا تھا میں کہتا ہوں مشہور تو یہ ہے کہ یہ خطاب بروز حساب ہوگا کیا تم نہیں دیکھتے کہ اس کے جواب میں عیسی علیہ السلام کا یہ قول مذکور ہے کہ جب تونے مجھے پورے طور پر اٹھالیا تو تو ہی ان کا نگہبان تھا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
کمارضی عنہ اھ اقول : وماذکرت احسن من ستۃ وجوہ لاتخفی علی المتأمل ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عـــہ۱ : الذی فی الکتاب وظلمۃ اللیل اقول : ان کانت تذھب بالنھار فقدذھبت قبل العصر والافلا اثرلھا ولذا ابدلتھا منہ غفرلہ (م)
عــہ۲ : الذی فی الکتاب اول من صلی المغرب تطوعا شکرا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام حین خاطبہ الله تعالی بقولہ أانت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون الله وکان ذلك بعد غروب الشمس الخ اقول المعروف ان ھذا الخطاب یوم الحساب الاتری الی قولہ علیہ الصلوۃ والسلام فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم ۱۲ منہ غفرلہ (م)
ابراہیم علیہ السلام کو بیٹا ذبح کرنے کی توفیق بخشی اور ہمیں بھی غم سے نجات دی جیسے ان کو دی تھی اور (یہود ونصاری کو جہنم میں ) ہمارا فدیہ بنایا جس طرح ان کیلئے (جنتی دنبے کو اسمعیل علیہ السلام کا) فدیہ بنایا اور ہم سے بھی الله تعالی راضی ہوا جیسے کہ ان سے ہوا اھ اقول : (میں کہتا ہوں ) ان الفاظ کی بنسبت میری ذکر کردہ عبارت چھ۶ وجوہ سے زیادہ عمدہ ہے اور یہ وجوہ سوچنے والے پر مخفی نہیں ہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت) کتاب میں (ظلمت غم کی بجائے) “ ظلمت لیل “ مذکور ہے۔ میں کہتا ہوں اگر ظلمت لیل مراد ہوتو نہار کی وجہ سے ظلمت لیل ختم ہوجاتی ہے تو ثابت ہوتا ہے کہ رات کا اندھیرا وقت عصر سے پہلے ہی ختم ہوچکا ورنہ لازم آئیگا کہ نہار کا کوئی اثر ہی نہ ہو اسی لئے میں نے اس کو ظلمت غم سے بدلا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)کتاب میں یوں ہے کہ سب سے پہلے مغرب کی نماز بطور شکرانہ حضرت عیسی علیہ السلام نے پڑھی جب ان کو الله تعالی نے یوں مخاطب کیا تھا کہ کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو الله کے سوا معبود بنالو اور یہ خطاب غروب شمس کے بعد ہوا تھا میں کہتا ہوں مشہور تو یہ ہے کہ یہ خطاب بروز حساب ہوگا کیا تم نہیں دیکھتے کہ اس کے جواب میں عیسی علیہ السلام کا یہ قول مذکور ہے کہ جب تونے مجھے پورے طور پر اٹھالیا تو تو ہی ان کا نگہبان تھا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
حوالہ / References
∞ €روضۃ العلماء للزندوستی
∞ €روضۃ العلماء للزندوستی
∞ €روضۃ العلماء للزندوستی
∞ €روضۃ العلماء للزندوستی
∞ €روضۃ العلماء للزندوستی
یہ تھا کہ یوں فرماتے کہ ہم اپنی خودی اور فخر آبأ سے باہر آکر الله عزوجل کے لئے خاص متواضع ہوں ۔
سب سے پہلے عشاء موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے پڑھی جب مدائن سے چل کر راستہ بھول گئے۔ بی بی کا غم اولاد کی فکر بھائی پر اندیشہ فرعون سے خوف جب وادی ایمن میں رات کے وقت مولی تعالی نے ان سب فکروں سے انہیں نجات بخشی چار نفل شکرانے کے پڑھے ہم پر فرض ہوئی کہ الله تعالی ہمیں بھی راہ دکھائے ہمارے بھی کام بنائے ہمیں اپنے محبوبوں سے ملائے دشمنوں پر فتح دے آمین!
سوم قول بعض علماء کہ فجر آدم ظہر ابراہیم عصر سلیمان مغرب عیسی علیہم الصلاۃ والسلام نے پڑھی اور عشا خاص اس امت کو ملی کماتقدم عن الحلیۃ (جیسا کہ حلیہ کے حوالے سے گزرا ہے۔ ت)
چہارم وہ حدیث کہ امام اجل رافعی نے شرح مسند میں ذکر فرمائی کہ صبح آدم ظہر داؤد عصر سلیمن مغرب یعقوب عشاء یونس علیہم الصلاۃ والسلام سے ہے ذکرہ عنہ الزرقانی فی شرح المواھب والحلبی تماما فی الحلیۃ قال واورد فی ذلك خبرا (اس کو زرقانی نے شرح مواہب میں رافعی کے حوالے سے بیان کیا ہے اور حلبی نے حلیہ میں تفصیل سے ذکر کیا ہے حلبی نے کہا کہ رافعی نے اس سلسلے میں ایك روایت پیش کی ہے۔ ت) غرض نماز صبح میں چاروں متفق ہیں باقی چار میں اختلاف۔
اقول : فقیر کی نظر میں ظاہرا قول اخیر کو سب پر ترجیح کہ اول تو وہ حدیث ہے لااقل اثر صحابی یا تابعی سہی اقوال علمائے مابعد پر ہرطرح مقدم رہے گی خصوصا ایسے امر میں جس میں رائے وقیاس کو دخل نہیں ۔
بل اقول : عسی ان یکون ماذکر الامام ابو الفضل بمعزل عما نحن فیہ فانہ انما ذکرالتطوعات والکلام فی المکتوبات لاایقاع نفل فی ھذہ الاوقات فانہ ثابت فی جمیع الساعات فی المعالم عن جعفر بن سلیمن قال سمعت ثابتا یقول : کان داؤد نبی الله علیہ الصلاۃ والسلام قدجزأ ساعات اللیل والنھار علی اھلہ فلم تکن تأتی ساعۃ من ساعات اللیل والنھار
لیکن میں کہتا ہوں : ایسے لگتا ہے کہ امام ابوالفضل نے جو کچھ کہا ہے وہ زیر بحث مسئلے سے غیر متعلق ہے کیونکہ انہوں نے نوافل کا ذکر کیا ہے جبکہ بحث فرائض سے ہورہی ہے۔ ان اوقات میں نوافل اداکرنا بحث سے خارج ہے کیونکہ نوافل تو ان اوقات کے علاوہ بھی ہروقت اداکیے جاسکتے ہیں ۔ معالم میں جعفر ابن سلیمن سے منقول ہے کہ میں نے ثابت کو کہتے سنا ہے کہ الله کے نبی داؤد علیہ السلام نے رات اور دن کی گھڑیوں کو اپنے اہل خانہ پر نماز کے لئے تقسیم کر رکھا تھا
سب سے پہلے عشاء موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے پڑھی جب مدائن سے چل کر راستہ بھول گئے۔ بی بی کا غم اولاد کی فکر بھائی پر اندیشہ فرعون سے خوف جب وادی ایمن میں رات کے وقت مولی تعالی نے ان سب فکروں سے انہیں نجات بخشی چار نفل شکرانے کے پڑھے ہم پر فرض ہوئی کہ الله تعالی ہمیں بھی راہ دکھائے ہمارے بھی کام بنائے ہمیں اپنے محبوبوں سے ملائے دشمنوں پر فتح دے آمین!
سوم قول بعض علماء کہ فجر آدم ظہر ابراہیم عصر سلیمان مغرب عیسی علیہم الصلاۃ والسلام نے پڑھی اور عشا خاص اس امت کو ملی کماتقدم عن الحلیۃ (جیسا کہ حلیہ کے حوالے سے گزرا ہے۔ ت)
چہارم وہ حدیث کہ امام اجل رافعی نے شرح مسند میں ذکر فرمائی کہ صبح آدم ظہر داؤد عصر سلیمن مغرب یعقوب عشاء یونس علیہم الصلاۃ والسلام سے ہے ذکرہ عنہ الزرقانی فی شرح المواھب والحلبی تماما فی الحلیۃ قال واورد فی ذلك خبرا (اس کو زرقانی نے شرح مواہب میں رافعی کے حوالے سے بیان کیا ہے اور حلبی نے حلیہ میں تفصیل سے ذکر کیا ہے حلبی نے کہا کہ رافعی نے اس سلسلے میں ایك روایت پیش کی ہے۔ ت) غرض نماز صبح میں چاروں متفق ہیں باقی چار میں اختلاف۔
اقول : فقیر کی نظر میں ظاہرا قول اخیر کو سب پر ترجیح کہ اول تو وہ حدیث ہے لااقل اثر صحابی یا تابعی سہی اقوال علمائے مابعد پر ہرطرح مقدم رہے گی خصوصا ایسے امر میں جس میں رائے وقیاس کو دخل نہیں ۔
بل اقول : عسی ان یکون ماذکر الامام ابو الفضل بمعزل عما نحن فیہ فانہ انما ذکرالتطوعات والکلام فی المکتوبات لاایقاع نفل فی ھذہ الاوقات فانہ ثابت فی جمیع الساعات فی المعالم عن جعفر بن سلیمن قال سمعت ثابتا یقول : کان داؤد نبی الله علیہ الصلاۃ والسلام قدجزأ ساعات اللیل والنھار علی اھلہ فلم تکن تأتی ساعۃ من ساعات اللیل والنھار
لیکن میں کہتا ہوں : ایسے لگتا ہے کہ امام ابوالفضل نے جو کچھ کہا ہے وہ زیر بحث مسئلے سے غیر متعلق ہے کیونکہ انہوں نے نوافل کا ذکر کیا ہے جبکہ بحث فرائض سے ہورہی ہے۔ ان اوقات میں نوافل اداکرنا بحث سے خارج ہے کیونکہ نوافل تو ان اوقات کے علاوہ بھی ہروقت اداکیے جاسکتے ہیں ۔ معالم میں جعفر ابن سلیمن سے منقول ہے کہ میں نے ثابت کو کہتے سنا ہے کہ الله کے نبی داؤد علیہ السلام نے رات اور دن کی گھڑیوں کو اپنے اہل خانہ پر نماز کے لئے تقسیم کر رکھا تھا
حوالہ / References
∞ € حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی €
الا وانسان من ال داؤد قائم یصلی اھ۔
تو رات اور دن کی گھڑیوں میں کوئی ایسی گھڑی نہیں ہوتی تھی جس میں آل داؤد کا کوئی فرد نماز نہ پڑھ رہا ہو۔ (ت)
معہذا ان سب اقوال میں کہیں کہیں گرفت ضرور ہے اول نے صاف تصریح کی کہ عشاء انبیائے سابقین علیہم الصلاۃ والتسلیم میں کسی نے نہ پڑھی اور سوم کا بھی یہی مفاد کہ صدر کلام میں انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کا ذکر کیا ہے اور امتوں سے موازنہ مقصود نہیں کماقدمنا (جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا ہے۔ ت) تو یہ اطلاق تخصیص اپنے عموم پر ہے جس طرح اشعہ وغیرہا کی عبارتوں میں تھا نہ بلحاظ امم۔ اور ہم اوپر بیان کرچکے کہ یہ ظاہر دلائل کے خلاف وقول مرجوح ہے۔ اول ودوم نے عصر کو عزیر ویونس علیہما الصلاۃ والسلام کی طرف نسبت کیا حالانکہ حضرت سلیمنعليه الصلوۃ والسلام کا عصر پڑھنا روشن ثبوت سے ثابت۔ قال تعالی :
و وهبنا لداود سلیمن-نعم العبد-انه اواب(۳۰)
اذ عرض علیه بالعشی الصفنت الجیاد(۳۱) ھ
فقال انی احببت حب الخیر عن ذكر ربی-حتى توارت بالحجاب(۳۲)
اور ہم نے داؤد کو سلیمان عطا کیا وہ بہت اچھا بندہ ہے الله کی طرف رجوع کرنے والا جب اس کے سامنے اصیل اور عمدہ گھوڑے پیش کیے گئے تو اس نے کہا کہ مجھے اچھی چیز کی محبت نے اپنے رب کی یاد سے غافل کردیا۔ (ت)
علماء فرماتے ہیں یہ نماز نماز عصر تھی جلالین میں ہے :
عن ذکرربی ای صلاۃ العصر ۔
(اپنے رب کی یاد سے مراد نماز عصر ہے۔ ت)
مدارك میں ہے :
غفل عن العصر وکانت فرضا فاغتم ۔
عصر سے غافل ہوگئے تھے اور وہ ان پر فرض تھی اس لئے غمزدہ ہوگئے۔ (ت)
اور سلیمنعليه الصلوۃ والسلام کا زمانہ یونس وعزیر علیہم الصلاۃ والسلام سے مقدم ہے تو اولیت صلاۃ عصران دونوں صاحبوں کیلئے کیونکر ہوسکتی ہے۔ نسیم الریاض میں زیر حدیث ماینبغی لاحد ان یقول اناخیر من یونس بن متی
تو رات اور دن کی گھڑیوں میں کوئی ایسی گھڑی نہیں ہوتی تھی جس میں آل داؤد کا کوئی فرد نماز نہ پڑھ رہا ہو۔ (ت)
معہذا ان سب اقوال میں کہیں کہیں گرفت ضرور ہے اول نے صاف تصریح کی کہ عشاء انبیائے سابقین علیہم الصلاۃ والتسلیم میں کسی نے نہ پڑھی اور سوم کا بھی یہی مفاد کہ صدر کلام میں انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کا ذکر کیا ہے اور امتوں سے موازنہ مقصود نہیں کماقدمنا (جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا ہے۔ ت) تو یہ اطلاق تخصیص اپنے عموم پر ہے جس طرح اشعہ وغیرہا کی عبارتوں میں تھا نہ بلحاظ امم۔ اور ہم اوپر بیان کرچکے کہ یہ ظاہر دلائل کے خلاف وقول مرجوح ہے۔ اول ودوم نے عصر کو عزیر ویونس علیہما الصلاۃ والسلام کی طرف نسبت کیا حالانکہ حضرت سلیمنعليه الصلوۃ والسلام کا عصر پڑھنا روشن ثبوت سے ثابت۔ قال تعالی :
و وهبنا لداود سلیمن-نعم العبد-انه اواب(۳۰)
اذ عرض علیه بالعشی الصفنت الجیاد(۳۱) ھ
فقال انی احببت حب الخیر عن ذكر ربی-حتى توارت بالحجاب(۳۲)
اور ہم نے داؤد کو سلیمان عطا کیا وہ بہت اچھا بندہ ہے الله کی طرف رجوع کرنے والا جب اس کے سامنے اصیل اور عمدہ گھوڑے پیش کیے گئے تو اس نے کہا کہ مجھے اچھی چیز کی محبت نے اپنے رب کی یاد سے غافل کردیا۔ (ت)
علماء فرماتے ہیں یہ نماز نماز عصر تھی جلالین میں ہے :
عن ذکرربی ای صلاۃ العصر ۔
(اپنے رب کی یاد سے مراد نماز عصر ہے۔ ت)
مدارك میں ہے :
غفل عن العصر وکانت فرضا فاغتم ۔
عصر سے غافل ہوگئے تھے اور وہ ان پر فرض تھی اس لئے غمزدہ ہوگئے۔ (ت)
اور سلیمنعليه الصلوۃ والسلام کا زمانہ یونس وعزیر علیہم الصلاۃ والسلام سے مقدم ہے تو اولیت صلاۃ عصران دونوں صاحبوں کیلئے کیونکر ہوسکتی ہے۔ نسیم الریاض میں زیر حدیث ماینبغی لاحد ان یقول اناخیر من یونس بن متی
حوالہ / References
∞ €معالم التنزیل مع الخازن زیر آیۃ ∞''€وقلیل من عبادی الشکور∞''€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ∞۵€ ∞/€ ∞۲۸۵€
∞ €القرآن ∞۳۸€ ∞/€ ∞۳۰€
∞ €القرآن ∞۳۸€ ∞/€ ∞۳۱€
∞ € القرآن ∞۳۸€ ∞/€ ∞۳۲€
∞ €تفسیر جلالین زیرایت مذکور ∞مطبع مجتبائی دہلی ص۳۸۰€
∞ €تفسیر النسفی المعروف تفسیر مدارك التنزیل زیر آیت مذکور مطبوعہ دارالکتاب العربی البیروت ∞۴€ ∞/€ ∞۴۱€
∞ €القرآن ∞۳۸€ ∞/€ ∞۳۰€
∞ €القرآن ∞۳۸€ ∞/€ ∞۳۱€
∞ € القرآن ∞۳۸€ ∞/€ ∞۳۲€
∞ €تفسیر جلالین زیرایت مذکور ∞مطبع مجتبائی دہلی ص۳۸۰€
∞ €تفسیر النسفی المعروف تفسیر مدارك التنزیل زیر آیت مذکور مطبوعہ دارالکتاب العربی البیروت ∞۴€ ∞/€ ∞۴۱€
کسی کیلئے یہ کہنا روا نہیں کہ میں یونس ابن متی سے افضل ہوں ۔ ت) ہے :
ھو من ولد بنیامین بن یعقوب علیھم الصلاۃ و السلام وکان بعد سلیمن علیہ الصلاۃ والسلام اھ وفیہ فی فصل حکم عقد قلب النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم یونس صلی الله تعالی علیہ وسلم کمافی مراۃ الزمان کان بعد سلیمن نبی اللہ علیہ الصلاۃ والسلام ۔
یونس بنیامین ابن یعقوب علیہم السلام کی اولاد میں سے تھے اور سلیمان علیہ السلام کے بعد تھے اھ نسیم الریاض ہی کی اس فصل میں جس کا عنوان ہے حکم عقد قلب النبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مرأۃ الزمان کے حوالے سے مذکور ہے کہ یونس علیہ السلام الله کے نبی سلیمانعليه الصلوۃ والسلام کے بعد تھے۔ (ت)
یہ تو یونس علیہ الصلوۃ والسلام کی نسبت تصریح تھی اور حضرت عزیر کا سیدنا سلیمان علیہما الصلاۃ والسلام کے بعد ہونا خود ظاہر کہ ان کا واقعہ موت وحیات کہ قرآن عظیم میں مذکور بعد اس کے ہوا کہ بخت نصربیت المقدس کو ویران کرگیا تھا اور احادیث سے ثابت کہ بیت المقدس کی بناء داؤدعليه الصلوۃ والسلام نے شروع اور سلیمان علیہ الصلاۃ نے ختم فرمائی تو سلیمان وعزیر علیہما الصلاۃ والسلام میں صدہاسال کا فاصلہ تھا معالم التنزیل میں ہے :
قال الذی قال ان المارکان عزیرا : ان بختنصر لماخرب بیت المقدس واقدم سبی بنی اسرائیل ببابل کان فیھم عزیر ودانیال وسبعۃ الاف من اھل بیت داؤد علیھم الصلاۃ والسلام فلما نجاعزیر من بابل ارتحل علی حمارلہ ۔ الخ
جس نے کہا ہے کہ گزرنے والے عزیر تھے اس نے بیان کیا ہے کہ بخت نصر نے جب بیت المقدس کو برباد کردیا اور بنی اسرائیل کو قید کرکے بابل لے آیا تو ان میں عزیر اور دانیال کے علاوہ داؤد علیہم السلام کے خاندان سے تعلق رکھنے والے سات ہزار افراد بھی تھے۔ پھر جب الله تعالی نے عزیر کو نجات دی اور وہ اپنے گدھے پر سوار ہوکر سفر کے لئے نکلے۔ الخ (ت)
ھو من ولد بنیامین بن یعقوب علیھم الصلاۃ و السلام وکان بعد سلیمن علیہ الصلاۃ والسلام اھ وفیہ فی فصل حکم عقد قلب النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم یونس صلی الله تعالی علیہ وسلم کمافی مراۃ الزمان کان بعد سلیمن نبی اللہ علیہ الصلاۃ والسلام ۔
یونس بنیامین ابن یعقوب علیہم السلام کی اولاد میں سے تھے اور سلیمان علیہ السلام کے بعد تھے اھ نسیم الریاض ہی کی اس فصل میں جس کا عنوان ہے حکم عقد قلب النبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مرأۃ الزمان کے حوالے سے مذکور ہے کہ یونس علیہ السلام الله کے نبی سلیمانعليه الصلوۃ والسلام کے بعد تھے۔ (ت)
یہ تو یونس علیہ الصلوۃ والسلام کی نسبت تصریح تھی اور حضرت عزیر کا سیدنا سلیمان علیہما الصلاۃ والسلام کے بعد ہونا خود ظاہر کہ ان کا واقعہ موت وحیات کہ قرآن عظیم میں مذکور بعد اس کے ہوا کہ بخت نصربیت المقدس کو ویران کرگیا تھا اور احادیث سے ثابت کہ بیت المقدس کی بناء داؤدعليه الصلوۃ والسلام نے شروع اور سلیمان علیہ الصلاۃ نے ختم فرمائی تو سلیمان وعزیر علیہما الصلاۃ والسلام میں صدہاسال کا فاصلہ تھا معالم التنزیل میں ہے :
قال الذی قال ان المارکان عزیرا : ان بختنصر لماخرب بیت المقدس واقدم سبی بنی اسرائیل ببابل کان فیھم عزیر ودانیال وسبعۃ الاف من اھل بیت داؤد علیھم الصلاۃ والسلام فلما نجاعزیر من بابل ارتحل علی حمارلہ ۔ الخ
جس نے کہا ہے کہ گزرنے والے عزیر تھے اس نے بیان کیا ہے کہ بخت نصر نے جب بیت المقدس کو برباد کردیا اور بنی اسرائیل کو قید کرکے بابل لے آیا تو ان میں عزیر اور دانیال کے علاوہ داؤد علیہم السلام کے خاندان سے تعلق رکھنے والے سات ہزار افراد بھی تھے۔ پھر جب الله تعالی نے عزیر کو نجات دی اور وہ اپنے گدھے پر سوار ہوکر سفر کے لئے نکلے۔ الخ (ت)
حوالہ / References
∞ €نسیم الریاض شرح الشفاء فصل فی حکم عقد قلب النبی صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ دارالفکر بیروت لبنان ∞۴€ ∞/€ ∞۲۳€
∞ €نسیم الریاض شرح الشفاء فصل فی حکم عقد قلب النبی صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ دارالفکر بیروت لبنان ∞۴€ ∞/€ ∞۲۳€
∞ €تفسیر معالم التنزیل زیر آیت اوکالذی مرعلی قریۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ∞۱€ ∞/€ ∞۲۷۷€
∞ €نسیم الریاض شرح الشفاء فصل فی حکم عقد قلب النبی صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ دارالفکر بیروت لبنان ∞۴€ ∞/€ ∞۲۳€
∞ €تفسیر معالم التنزیل زیر آیت اوکالذی مرعلی قریۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ∞۱€ ∞/€ ∞۲۷۷€
جمان التاج فی بیان الصلاۃ قبل المعراج ۱۳۱۶ھ
(تاج کے موتیمعراج سے پہلے نماز کے بیان میں)
بسم الله الرحمن الرحیم
مسئلہ : از ریاست رام پور بزریہ ملاظریف گھیر عبدالرحمن خان مرحوم مرسلہ عبدالرؤف خان محرم الحرام ھ
بگرامی خدمت فیض درجت جناب مولنا بحرالعلوم صاحب زاد کرمہحضرت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم بعد نبوت قبل شب معراج جو دو وقتوں میں نماز پڑھتے تھے وہ کس طور پر ادا فرماتے تھے۔بینوا توجروا۔
بسم الله الرحمن الرحیم
الحمدلله وکفی*وسلام علی عبادہ الذین اصطفی* لاسیما علی صاحب المعراج الله ہی کی حمد ہے اور وہ کافی ہے اور سلام ہو اس کے منتخب بندوں پرمصطفی پر اور ان کے آل واصحاب
(تاج کے موتیمعراج سے پہلے نماز کے بیان میں)
بسم الله الرحمن الرحیم
مسئلہ : از ریاست رام پور بزریہ ملاظریف گھیر عبدالرحمن خان مرحوم مرسلہ عبدالرؤف خان محرم الحرام ھ
بگرامی خدمت فیض درجت جناب مولنا بحرالعلوم صاحب زاد کرمہحضرت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم بعد نبوت قبل شب معراج جو دو وقتوں میں نماز پڑھتے تھے وہ کس طور پر ادا فرماتے تھے۔بینوا توجروا۔
بسم الله الرحمن الرحیم
الحمدلله وکفی*وسلام علی عبادہ الذین اصطفی* لاسیما علی صاحب المعراج الله ہی کی حمد ہے اور وہ کافی ہے اور سلام ہو اس کے منتخب بندوں پرمصطفی پر اور ان کے آل واصحاب
المصطفی والہ وصحبہ المقیمین الصلاۃ والعدل والوفاء* پر جنہوں نے نماز کو اور عدل و وفا کو قائم کیا۔(ت)
الجواب:
پیش ازاسراء دووقت یعنی قبل طلوع شمس وقبل غروب کے نمازیں مقرر ہونے میں علماء کو خلاف ہے اور اصح یہ ہے کہ اس سے پہلے صرف قیام لیل کی فرضیت باقی پر کوئی دلیل صریح قائم نہیں۔
فی الدرالمختار اول کتاب الصلوۃ الصلاۃ فرضت فی الاسراءوکانت قبلہ صلاتینقبل طلوع الشمس وقبل غروبھا۔شمنی اھ۔
وفی المواھبمن المقصد الاولقبیل ذکر اول من امنقال مقاتل: کانت الصلاۃ اول فرضھا رکعتین بالغداوۃ و رکعتین بالعشیلقولہ تعالی وسبح بحمد ربك بالعشی والابکار۔قال فی فتح الباری: کان صلی الله تعالی علیہ وسلم قبل الاسراء یصلی قطعاوکذلك اصحابہ ولکن اختلف ھل افترض قبل الخمس شیئ من الصلاۃ ام لا فقیل ان الفرض کان صلاۃ قبل طلوع الشمس وقبل غروبھا۔والحجۃ فیہ قولہ تعالی وسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل غروبھا انتھی ۔
وقال النووی: اول ماوجب الانذار والدعاء الی التوحیدثم فرض الله تعالی درمختار کی کتاب الصلو ۃ کے آغاز میں ہے کہ نماز (باقاعدہ طور پر) معراج میں فرض ہوئی تھیاس سے پہلے صرف دو نمازیں تھیںایك طلوع سے پہلے دوسری غروب سے پہلے۔ شمنی اھ (ت)اور مواہب کی فصل اول میں جہاں اولین ایمان لانے والوں کا ذکر ہےاس سے تھوڑا پہلے مذکور ہے کہ مقاتل نے کہا ہے کہ ابتداء میں نماز کی صرف دو رکعتیں صبح کو اور دو رکعتیں رات کو فرض تھیں کیونکہ الله تعالی فرماتا ہے اور تسبیح کہو اپنے رب کی حمد کے ساتھ رات کو اور سویرے۔فتح الباری میں کہا ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم معراج سے پہلے نماز تو یقینا پڑھتے تھے اور اسی طرح آپ کے صحابہ بھی پڑھتے تھےلیکن اس میں اختلاف ہے کہ پانچ نمازیں فرض ہونے سے پہلے کوئی نماز فرض بھی تھی یا نہیں! تو کہا گیا ہے کہ ایك نماز طلوع سے اور ایك غروب سے پہلے فرض تھی اور اس پر دلیل الله تعالی کا یہ فرمان ہے: اور تسبیح کہو اپنے رب کی حمد کے ساتھ طلوع شمس سے پہلے اور غروب شمس سے پہلے۔(ت)اور نووی نے کہا ہے کہ سب سے پہلے ڈر سنانا اور توحید کی طرف بلانا فرض کیا گیاپھر الله تعالی
الجواب:
پیش ازاسراء دووقت یعنی قبل طلوع شمس وقبل غروب کے نمازیں مقرر ہونے میں علماء کو خلاف ہے اور اصح یہ ہے کہ اس سے پہلے صرف قیام لیل کی فرضیت باقی پر کوئی دلیل صریح قائم نہیں۔
فی الدرالمختار اول کتاب الصلوۃ الصلاۃ فرضت فی الاسراءوکانت قبلہ صلاتینقبل طلوع الشمس وقبل غروبھا۔شمنی اھ۔
وفی المواھبمن المقصد الاولقبیل ذکر اول من امنقال مقاتل: کانت الصلاۃ اول فرضھا رکعتین بالغداوۃ و رکعتین بالعشیلقولہ تعالی وسبح بحمد ربك بالعشی والابکار۔قال فی فتح الباری: کان صلی الله تعالی علیہ وسلم قبل الاسراء یصلی قطعاوکذلك اصحابہ ولکن اختلف ھل افترض قبل الخمس شیئ من الصلاۃ ام لا فقیل ان الفرض کان صلاۃ قبل طلوع الشمس وقبل غروبھا۔والحجۃ فیہ قولہ تعالی وسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل غروبھا انتھی ۔
وقال النووی: اول ماوجب الانذار والدعاء الی التوحیدثم فرض الله تعالی درمختار کی کتاب الصلو ۃ کے آغاز میں ہے کہ نماز (باقاعدہ طور پر) معراج میں فرض ہوئی تھیاس سے پہلے صرف دو نمازیں تھیںایك طلوع سے پہلے دوسری غروب سے پہلے۔ شمنی اھ (ت)اور مواہب کی فصل اول میں جہاں اولین ایمان لانے والوں کا ذکر ہےاس سے تھوڑا پہلے مذکور ہے کہ مقاتل نے کہا ہے کہ ابتداء میں نماز کی صرف دو رکعتیں صبح کو اور دو رکعتیں رات کو فرض تھیں کیونکہ الله تعالی فرماتا ہے اور تسبیح کہو اپنے رب کی حمد کے ساتھ رات کو اور سویرے۔فتح الباری میں کہا ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم معراج سے پہلے نماز تو یقینا پڑھتے تھے اور اسی طرح آپ کے صحابہ بھی پڑھتے تھےلیکن اس میں اختلاف ہے کہ پانچ نمازیں فرض ہونے سے پہلے کوئی نماز فرض بھی تھی یا نہیں! تو کہا گیا ہے کہ ایك نماز طلوع سے اور ایك غروب سے پہلے فرض تھی اور اس پر دلیل الله تعالی کا یہ فرمان ہے: اور تسبیح کہو اپنے رب کی حمد کے ساتھ طلوع شمس سے پہلے اور غروب شمس سے پہلے۔(ت)اور نووی نے کہا ہے کہ سب سے پہلے ڈر سنانا اور توحید کی طرف بلانا فرض کیا گیاپھر الله تعالی
حوالہ / References
∞درمختار کتاب الصلٰوۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ١/٥٨€
∞شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الاول فی تشریف اللہ تعالٰی لہ علیہ وسلم مطبوعہ المطبعۃ العامرہ مصر ١/٢٧٤€
∞شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الاول فی تشریف اللہ تعالٰی لہ علیہ وسلم مطبوعہ المطبعۃ العامرہ مصر ١/٢٧٤€
من قیام اللیل ماذکرہ فی اول سورۃ المزمل ثم نسخہ بمافی آخرھا ثم نسخہ بایجاب الخ بایجاب الصلو ۃ والخمس لیلۃ الاسراء بمکہ ۔اھ مافی المواھب وفی شرحھا للعلامۃ الزرقانی من المقصد التاسعذھب جماعۃ الی انہ لم تکن قبل الاسراء صلاۃ مفروضۃ الاماوقع الامر بہ من صلاۃ اللیل بلا تحدید۔وذھب الحربی الی ان الصلاۃ کانت مفروضۃرکعتین بالغداۃ و رکعتین بالعشی۔و ردہ جماعۃ من اھل العلم ۔اھ
وفیھما من المقصد الخامس فی الاسراءعند ذکر صلاتہ صلی الله تعالی علیہ وسلم بالانبیاء بیت المقدس(قداختلف فی ھذہ الصلاۃ) ھل ھی الشرعیۃ المعروفۃ او اللغویۃ وصوب الاول لان النص یحمل علی حقیقۃ الشرعیۃمالم یتعذر۔وعلی ھذا اختلف (ھل ھی فرض) ویدل علیہ کماقال النعمانی حدیث انس عند ابی حاتم المتقدم قریبا للمصنف۔(اونفل واذا قلنا انھا فرضفای صلاۃ ھی قال بعضھم الاقرب انھا الصبح نے قیام لیل فرض کردیا جس کا سورہ مزمل کی ابتداء میں ذکر ہے پھر اس کو منسوخ کردیا اس حکم سے جو سورہ مزمل کے آخر میں ہےپھر اس کو بھی منسوخ کردیا اور اس کے بجائے مکہ مکرمہ میں معراج کی رات کو پانچ نمازیں فرض کردیں۔اھ مواہب کی عبارت ختم ہوئی۔(ت)اور مواہب کی شرح میں علامہ زرقانی نے نویں مقصد میں لکھا ہے کہ ایك جماعت کی رائے یہ ہے کہ معراج سے پہلے کوئی نماز فرض نہیں تھیصرف رات کو نماز پڑھنے کا حکم تھا مگر اس کی کوئی مقدار مقرر نہیں تھی۔اور حربی کی رائے یہ ہے کہ نماز معراج سے پہلے بھی فرض تھی۔دو رکعتیں صبح کو اور دو رکعتیں رات کو۔لیکن حربی کی رائے کو اہل علم کی ایك جماعت نے رد کیا ہے۔(ت) اور مواہب و زرقانی کے پانچویں مقصد میں جوکہ معراج کے بیان میں ہے جہاں نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کا باقی انبیاء کو نماز پڑھانا مذکور ہےوہاں لکھا ہے (اس نماز میں اختلاف پایا جاتا ہے) کہ آیا اس کی مشروعیت وہی معروف مشروعیت ہے یا لغوی مشروعیت مراد ہے پہلا قول درست قرار دیا گیا ہے کیونکہ جہاں تك ممکن ہو نص کو اپنی شرعی حقیقت پر حمل کیا جاتا ہے۔مشروعیت معروفہ مراد لینے کے بعد اس میں اختلاف ہے (کہ کیا یہ فرض ہے) اور جیسا کہ نعمانی نے کہا ہے اس پر انس کی وہ حدیث دلالت کرتی ہے جو ابن ابی حاتم کے ہاں پائی جاتی ہے اور
وفیھما من المقصد الخامس فی الاسراءعند ذکر صلاتہ صلی الله تعالی علیہ وسلم بالانبیاء بیت المقدس(قداختلف فی ھذہ الصلاۃ) ھل ھی الشرعیۃ المعروفۃ او اللغویۃ وصوب الاول لان النص یحمل علی حقیقۃ الشرعیۃمالم یتعذر۔وعلی ھذا اختلف (ھل ھی فرض) ویدل علیہ کماقال النعمانی حدیث انس عند ابی حاتم المتقدم قریبا للمصنف۔(اونفل واذا قلنا انھا فرضفای صلاۃ ھی قال بعضھم الاقرب انھا الصبح نے قیام لیل فرض کردیا جس کا سورہ مزمل کی ابتداء میں ذکر ہے پھر اس کو منسوخ کردیا اس حکم سے جو سورہ مزمل کے آخر میں ہےپھر اس کو بھی منسوخ کردیا اور اس کے بجائے مکہ مکرمہ میں معراج کی رات کو پانچ نمازیں فرض کردیں۔اھ مواہب کی عبارت ختم ہوئی۔(ت)اور مواہب کی شرح میں علامہ زرقانی نے نویں مقصد میں لکھا ہے کہ ایك جماعت کی رائے یہ ہے کہ معراج سے پہلے کوئی نماز فرض نہیں تھیصرف رات کو نماز پڑھنے کا حکم تھا مگر اس کی کوئی مقدار مقرر نہیں تھی۔اور حربی کی رائے یہ ہے کہ نماز معراج سے پہلے بھی فرض تھی۔دو رکعتیں صبح کو اور دو رکعتیں رات کو۔لیکن حربی کی رائے کو اہل علم کی ایك جماعت نے رد کیا ہے۔(ت) اور مواہب و زرقانی کے پانچویں مقصد میں جوکہ معراج کے بیان میں ہے جہاں نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کا باقی انبیاء کو نماز پڑھانا مذکور ہےوہاں لکھا ہے (اس نماز میں اختلاف پایا جاتا ہے) کہ آیا اس کی مشروعیت وہی معروف مشروعیت ہے یا لغوی مشروعیت مراد ہے پہلا قول درست قرار دیا گیا ہے کیونکہ جہاں تك ممکن ہو نص کو اپنی شرعی حقیقت پر حمل کیا جاتا ہے۔مشروعیت معروفہ مراد لینے کے بعد اس میں اختلاف ہے (کہ کیا یہ فرض ہے) اور جیسا کہ نعمانی نے کہا ہے اس پر انس کی وہ حدیث دلالت کرتی ہے جو ابن ابی حاتم کے ہاں پائی جاتی ہے اور
حوالہ / References
∞المواہب اللدنیہ مقصد اول اول امر الصلٰو ۃ المکتب الاسلامی بیروت ١/١١،٢١٢€
∞شرح الزرقانی علی المواہب المقصد التاسع فی عبادتہٖ صلی اللہ علیہ وسلم مطبعۃ عامرہ مصر ٧/٣٢٣€
∞شرح الزرقانی علی المواہب المقصد التاسع فی عبادتہٖ صلی اللہ علیہ وسلم مطبعۃ عامرہ مصر ٧/٣٢٣€
ویحتمل ان تکون العشاء) والاحتمالانکماقال الشامیلیسابشیئ سواء قلنا صلی بھم قبل العروج اوبعدہ لان اول صلاۃ صلاھا النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم من الخمس مطلقاالظھر بمکۃ باتفاق۔ومن حمل الاولیۃ علی مکۃ فعلیہ الدلیل۔قال: والذی یظھر انھا کانت من النفل المطلقاوکانت من الصلاۃ المفروضۃ علیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم قبل لیلۃ الاسراء۔وفی فتاوی النووی مایؤید الثانی اھ باختصار۔
اقول: وفی الاستدلال بقولہ عز اسمہ وسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل غروبھا نظر۔ فان تتمۃ الایۃ
و من انای الیل فسبح و اطراف النہار لعلک ترضی ﴿۱۳۰﴾ فان حمل التسبیح علی الصلاۃ لقول ابن عباس رضی الله تعالی عنھما کل تسبیح فی القران صلاۃ اخرجہ الفریابی عن تھوڑا سا پہلے مصنف نے بھی ذکر کی ہے (یا نفل ہے اگر ہم کہیں کہ فرض ہے تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سی نماز ہے بعض نے کہا ہے کہ اقرب یہ ہے کہ وہ صبح کی نماز ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ وہ عشاء کی نماز ہو) اور دونوں احتمال جیسا کہ شامی نے کہا ہے کوئی حیثیت نہیں رکھتےخواہ ہم یہ کہیں کہ یہ نماز آسمانوں پر جانے سے پہلے پڑھائی تھی یا بعد میںکیونکہ پانچ نمازوں میں مطلقا پہلی نماز جو نبی صلی الله علیہ وسلم نے پڑھی تھی وہ بالاتفاق ظہر کی نماز تھی جو آپ نے مکہ مکرمہ میں ادا فرمائی تھی۔اور جو شخص اس روایت کو مکہ کے ساتھ مختص کرے تو اس پر دلیل لازم ہے۔شامی نے کہا کہ ظاہر یہ ہے کہ یہ کوئی نفلی نماز تھی یا ان نمازوں میں سے تھی جو رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم پر شب معراج سے پہلے فرض تھیں اور فتاوی نووی سے دوسری شق کی تائید ہوتی ہے۔(ت)
میں کہتا ہوں: الله عزاسمہ کے اس فرمان سے استدلال کرنا کہ تسبیح کہو اپنے رب کی حمد کے ساتھ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلےمحل نظر ہے۔کیونکہ آیت مکمل اس طرح ہوتی ہے"اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح کہو اور دن کے اطراف میں بھی تاکہ تم راضی ہوجاؤ"۔اب اگر تسبیح سے مراد نماز لی جائے کیونکہ ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا ہے کہ قرآن
اقول: وفی الاستدلال بقولہ عز اسمہ وسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل غروبھا نظر۔ فان تتمۃ الایۃ
و من انای الیل فسبح و اطراف النہار لعلک ترضی ﴿۱۳۰﴾ فان حمل التسبیح علی الصلاۃ لقول ابن عباس رضی الله تعالی عنھما کل تسبیح فی القران صلاۃ اخرجہ الفریابی عن تھوڑا سا پہلے مصنف نے بھی ذکر کی ہے (یا نفل ہے اگر ہم کہیں کہ فرض ہے تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سی نماز ہے بعض نے کہا ہے کہ اقرب یہ ہے کہ وہ صبح کی نماز ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ وہ عشاء کی نماز ہو) اور دونوں احتمال جیسا کہ شامی نے کہا ہے کوئی حیثیت نہیں رکھتےخواہ ہم یہ کہیں کہ یہ نماز آسمانوں پر جانے سے پہلے پڑھائی تھی یا بعد میںکیونکہ پانچ نمازوں میں مطلقا پہلی نماز جو نبی صلی الله علیہ وسلم نے پڑھی تھی وہ بالاتفاق ظہر کی نماز تھی جو آپ نے مکہ مکرمہ میں ادا فرمائی تھی۔اور جو شخص اس روایت کو مکہ کے ساتھ مختص کرے تو اس پر دلیل لازم ہے۔شامی نے کہا کہ ظاہر یہ ہے کہ یہ کوئی نفلی نماز تھی یا ان نمازوں میں سے تھی جو رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم پر شب معراج سے پہلے فرض تھیں اور فتاوی نووی سے دوسری شق کی تائید ہوتی ہے۔(ت)
میں کہتا ہوں: الله عزاسمہ کے اس فرمان سے استدلال کرنا کہ تسبیح کہو اپنے رب کی حمد کے ساتھ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلےمحل نظر ہے۔کیونکہ آیت مکمل اس طرح ہوتی ہے"اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح کہو اور دن کے اطراف میں بھی تاکہ تم راضی ہوجاؤ"۔اب اگر تسبیح سے مراد نماز لی جائے کیونکہ ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا ہے کہ قرآن
حوالہ / References
∞شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الخامس فی المعراج والاسراء مطبوعہ المطبعۃ العامرہ مصر ٦/٦٣€
∞القرآن سورۃ طٰہ آیت ١٣٠€
∞القرآن سورۃ طٰہ آیت ١٣٠€
∞القرآن سورۃ طٰہ آیت ١٣٠€
∞القرآن سورۃ طٰہ آیت ١٣٠€
سعید بن جبیر وان کان ربما یفید الاستثناء من کلیتہ علی ما اقول: قولہ جل ذکرہ کل قد علم صلاتہ وتسبیحہ وقولہ تعالی
فلولا انہ کان من المسبحین ﴿۱۴۳﴾ للبث فی بطنہ الی یوم یبعثون ﴿۱۴۴﴾
فان الظاھر ان المراد بہ ماذکر عنہ ربہ عزوجل بقولہ فنادی فی الظلمت ان لا الہ الا انت سبحنک ٭ انی کنت من الظلمین ﴿۸۷﴾ بہ فسرہ سعید بن جبیرارشد تلامذہ ابن عباس الراوی عنہ تلك الکلیۃ وقد قال الحسن البصریکمافی المعالم: ماکانت لہ صلاۃ فی بطن الحوت ولکنہ قدم عملا صالحا ۔اھ بیدان ابن عباس ھھنا ایضا مشی علی اصلہ فقال رضی الله تعالی عنہمن المسبحینمن المصلین ۔ویکون المعنی حینئذ ماقال الضحاکانہ شکرالله تعالی لہ طاعتہ القدیمۃ کمافی المعالم ایضا۔فعلی ھذا الحمل واخذ الامر للوجوبتدل الایۃ باخرھا علی فرضیۃ اکثر من میں تسبیح سے ہر جگہ نماز مراد ہے۔ابن عباس کا یہ قول فریابی نے سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے۔اگرچہ ابن عباس کے اس کلیے سے استثناء کا فائدہ دیتی ہیں وہ آیات جو میں بیان کررہا ہوںالله جل ذکرہ فرماتا ہے:"ہر (پرندہ) اپنی نماز اور تسبیح کو جانتا ہے"۔اور الله تعالی فرماتا ہے:"اگر وہ (یونس) تسبیح کہنے والوں میں سے نہ ہوتا تو یوم بعث تك مچھلی کے پیٹ میں رہتا"کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ اس تسبیح سے مراد وہی تسبیح ہے جو الله تعالی نے یونس علیہ السلام سے یوں حکایت کی ہے:"پس پکارا اس نے اندھیروں میں کہ کوئی معبود نہیں ہے تیرے سواتو پاك ہے بیشك میں ظلم کرنیوالوں میں تھا"۔سعید ابن جبیر جوکہ ابن عباس کے بہترین شاگردوں میں سے ہیں اور ان سے مندرجہ بالا کلیہ کے راوی ہیں انہوں نے یہی تفسیر بیان کی ہے۔حسن بصری نے کہا ہے کہ انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں نماز نہیں پڑھی تھی بلکہ اس سے پہلے ایك صالح عمل تھا اھ البتہ ابن عباس یہاں بھی اپنے اصول پر رواں رہے ہیں اور تسبیح کہنے والوں میں سے ہونے کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ نماز پڑھنے والوں میں سے ہونا۔اس صورت میں جیسا کہ ضحاك نے کہا ہے اس آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ الله تعالی نے یونس علیہ السلام کو اسی اطاعت
فلولا انہ کان من المسبحین ﴿۱۴۳﴾ للبث فی بطنہ الی یوم یبعثون ﴿۱۴۴﴾
فان الظاھر ان المراد بہ ماذکر عنہ ربہ عزوجل بقولہ فنادی فی الظلمت ان لا الہ الا انت سبحنک ٭ انی کنت من الظلمین ﴿۸۷﴾ بہ فسرہ سعید بن جبیرارشد تلامذہ ابن عباس الراوی عنہ تلك الکلیۃ وقد قال الحسن البصریکمافی المعالم: ماکانت لہ صلاۃ فی بطن الحوت ولکنہ قدم عملا صالحا ۔اھ بیدان ابن عباس ھھنا ایضا مشی علی اصلہ فقال رضی الله تعالی عنہمن المسبحینمن المصلین ۔ویکون المعنی حینئذ ماقال الضحاکانہ شکرالله تعالی لہ طاعتہ القدیمۃ کمافی المعالم ایضا۔فعلی ھذا الحمل واخذ الامر للوجوبتدل الایۃ باخرھا علی فرضیۃ اکثر من میں تسبیح سے ہر جگہ نماز مراد ہے۔ابن عباس کا یہ قول فریابی نے سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے۔اگرچہ ابن عباس کے اس کلیے سے استثناء کا فائدہ دیتی ہیں وہ آیات جو میں بیان کررہا ہوںالله جل ذکرہ فرماتا ہے:"ہر (پرندہ) اپنی نماز اور تسبیح کو جانتا ہے"۔اور الله تعالی فرماتا ہے:"اگر وہ (یونس) تسبیح کہنے والوں میں سے نہ ہوتا تو یوم بعث تك مچھلی کے پیٹ میں رہتا"کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ اس تسبیح سے مراد وہی تسبیح ہے جو الله تعالی نے یونس علیہ السلام سے یوں حکایت کی ہے:"پس پکارا اس نے اندھیروں میں کہ کوئی معبود نہیں ہے تیرے سواتو پاك ہے بیشك میں ظلم کرنیوالوں میں تھا"۔سعید ابن جبیر جوکہ ابن عباس کے بہترین شاگردوں میں سے ہیں اور ان سے مندرجہ بالا کلیہ کے راوی ہیں انہوں نے یہی تفسیر بیان کی ہے۔حسن بصری نے کہا ہے کہ انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں نماز نہیں پڑھی تھی بلکہ اس سے پہلے ایك صالح عمل تھا اھ البتہ ابن عباس یہاں بھی اپنے اصول پر رواں رہے ہیں اور تسبیح کہنے والوں میں سے ہونے کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ نماز پڑھنے والوں میں سے ہونا۔اس صورت میں جیسا کہ ضحاك نے کہا ہے اس آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ الله تعالی نے یونس علیہ السلام کو اسی اطاعت
حوالہ / References
∞القرآن سورہ النور ٢٤ آیت ٤١€
∞القرآن سورہ الصّٰفّٰت ٣٧ آیت ١٤٣€
∞القرآن سورۃ الانبیاء ٢١ آیت ٨٧€
∞معالم التنزیل مع تفسیر الخازن زیر آیت فلولا انہ کان من المسبحّین (تفسیر سورہ صافات) مصطفی البابی مصر٦/٣٧€
∞معالم التنزیل مع تفسیر الخازن زیر آیت فلولا انہ کان من المسبحّین (تفسیر سورہ صافات) مصطفی البابی مصر٦/٣٧€
∞معالم التنزیل مع الخازن زیرِ آیت فلولا ان کان من المسبحین الخ مطبوعہ المطبعۃ العامرہ مصر٦/٣٧€
∞القرآن سورہ الصّٰفّٰت ٣٧ آیت ١٤٣€
∞القرآن سورۃ الانبیاء ٢١ آیت ٨٧€
∞معالم التنزیل مع تفسیر الخازن زیر آیت فلولا انہ کان من المسبحّین (تفسیر سورہ صافات) مصطفی البابی مصر٦/٣٧€
∞معالم التنزیل مع تفسیر الخازن زیر آیت فلولا انہ کان من المسبحّین (تفسیر سورہ صافات) مصطفی البابی مصر٦/٣٧€
∞معالم التنزیل مع الخازن زیرِ آیت فلولا ان کان من المسبحین الخ مطبوعہ المطبعۃ العامرہ مصر٦/٣٧€
صلاتین الا ان یقال: لم یقصد الحصربدلیل ان قیام اللیل کان فریضۃ من قبل قطعا ولکن یبقی قولہ تعالی واطراف النھار وحملہ علی المذکورتین یستلزم التکرار۔
اما استدلال مقاتل بقولہ تعالی
و سبح بحمد ربک بالعشی والابکر ﴿۵۵﴾ فاقول: اضعف واضعف بل لیس بشیئ اصلافان الایۃ من سورۃ حم المؤمنوقدتأخر نزولھا عن سورۃ بنی اسرائیل النازلۃ بخبر الاسراءبزمان طویل فقد روی ابن الضریس فی فضائل القران عن ابن عباس رضی الله تعالی عنھمافی حدیث ترتیب نزول السورقال : کان اول مانزل من القران اقرأ باسم ربکثم نفذکر الحدیث الی ان قال: ثم بنی اسرائیلثم یونسثم ھودثم یوسفثم الحجرثم الانعامثم الصفتثم لقمانثم سباثم الزمرثم حم المؤمن ۔الحدیث۔فکیف یستدل بھا علی ایجاب صلاۃ قبل الاسراء لاجرم ان (اور نماز وغیرہ) کے صلے میں نجات دی تھی جو وہ مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے کرتے رہے تھے۔معالم میں بھی اسی طرح ہے۔بہرحال اگر فسبح بحمدربک"میں تسبیح سے مراد نماز لی جائے اور امر کو وجوب کے لئے قرار دیا جائے تو آیت کا آخری حصہ دو سے زیادہ نمازوں کے فرض ہونے پر دلالت کرے گا۔اس کا یہ جواب تو دیا جاسکتا ہے کہ دو میں حصر مقصود نہیں ہے کیونکہ رات کی نماز بھی بالیقین پہلے سے فرض تھیلیکن اس صورت میں الله تعالی کا یہ فرمان"اور دن کے اطراف میں"بغیر کسی مفہوم کے رہ جاتا ہے کیونکہ اگر اس سے مراد طلوع سے پہلے اور غروب سے پہلے والی دو نمازیں لی جائیں تو تکرار لازم آئے گی (کیونکہ ان کا ذکر آیت کی ابتداء میں ہوچکا ہے)۔(ت)رہا مقاتل کا استدلال الله تعالی کے اس فرمان سے"اور تسبیح کہو اپنے رب کی حمد کے ساتھ رات کو اور صبح سویرے"۔تو میں کہتا ہوں کہ بہت ضعیف ہے اور بہت ہی ضعیف ہےبلکہ سرے سے بیکار ہےکیونکہ یہ آیت سورہ حم مومن کی ہے اور اس کا نزول سورہ بنی اسرائیل سےجس میں معراج کا ذکر ہےطویل زمانے کے بعد ہوا ہے۔چنانچہ ابن ضریس نے فضائل قرآن میں ابن عباس رضی الله عنہ سے سورتیں نازل ہونے کی ترتیب اس طرح بیان کی ہے کہ ابن عباس نے کہا ہے کہ"قرآن میں سب سے پہلے سورہ اقرأ باسم ربك نازل ہوئیپھر ن۔ابن ضریس نے یہ روایت پوری بیان کی ہے یہاں تك کہ کہا ہے"پھر بنی اسرائیلپھر یونسپھر ہودپھر یوسفپھر حجرپھر انعامپھر صفتپھر لقمانپھر سباپھر زمرپھر حم مومن آخر تک۔تو پھر حم مومن کی آیت سے۔
اما استدلال مقاتل بقولہ تعالی
و سبح بحمد ربک بالعشی والابکر ﴿۵۵﴾ فاقول: اضعف واضعف بل لیس بشیئ اصلافان الایۃ من سورۃ حم المؤمنوقدتأخر نزولھا عن سورۃ بنی اسرائیل النازلۃ بخبر الاسراءبزمان طویل فقد روی ابن الضریس فی فضائل القران عن ابن عباس رضی الله تعالی عنھمافی حدیث ترتیب نزول السورقال : کان اول مانزل من القران اقرأ باسم ربکثم نفذکر الحدیث الی ان قال: ثم بنی اسرائیلثم یونسثم ھودثم یوسفثم الحجرثم الانعامثم الصفتثم لقمانثم سباثم الزمرثم حم المؤمن ۔الحدیث۔فکیف یستدل بھا علی ایجاب صلاۃ قبل الاسراء لاجرم ان (اور نماز وغیرہ) کے صلے میں نجات دی تھی جو وہ مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے کرتے رہے تھے۔معالم میں بھی اسی طرح ہے۔بہرحال اگر فسبح بحمدربک"میں تسبیح سے مراد نماز لی جائے اور امر کو وجوب کے لئے قرار دیا جائے تو آیت کا آخری حصہ دو سے زیادہ نمازوں کے فرض ہونے پر دلالت کرے گا۔اس کا یہ جواب تو دیا جاسکتا ہے کہ دو میں حصر مقصود نہیں ہے کیونکہ رات کی نماز بھی بالیقین پہلے سے فرض تھیلیکن اس صورت میں الله تعالی کا یہ فرمان"اور دن کے اطراف میں"بغیر کسی مفہوم کے رہ جاتا ہے کیونکہ اگر اس سے مراد طلوع سے پہلے اور غروب سے پہلے والی دو نمازیں لی جائیں تو تکرار لازم آئے گی (کیونکہ ان کا ذکر آیت کی ابتداء میں ہوچکا ہے)۔(ت)رہا مقاتل کا استدلال الله تعالی کے اس فرمان سے"اور تسبیح کہو اپنے رب کی حمد کے ساتھ رات کو اور صبح سویرے"۔تو میں کہتا ہوں کہ بہت ضعیف ہے اور بہت ہی ضعیف ہےبلکہ سرے سے بیکار ہےکیونکہ یہ آیت سورہ حم مومن کی ہے اور اس کا نزول سورہ بنی اسرائیل سےجس میں معراج کا ذکر ہےطویل زمانے کے بعد ہوا ہے۔چنانچہ ابن ضریس نے فضائل قرآن میں ابن عباس رضی الله عنہ سے سورتیں نازل ہونے کی ترتیب اس طرح بیان کی ہے کہ ابن عباس نے کہا ہے کہ"قرآن میں سب سے پہلے سورہ اقرأ باسم ربك نازل ہوئیپھر ن۔ابن ضریس نے یہ روایت پوری بیان کی ہے یہاں تك کہ کہا ہے"پھر بنی اسرائیلپھر یونسپھر ہودپھر یوسفپھر حجرپھر انعامپھر صفتپھر لقمانپھر سباپھر زمرپھر حم مومن آخر تک۔تو پھر حم مومن کی آیت سے۔
حوالہ / References
∞القرآن سورہ مؤمن ٤٠ آیت ٥٥€
∞فضائل القرآن لابن الضریس€
∞فضائل القرآن لابن الضریس€
فسرھا ترجمان القران رضی الله تعالی عنہ بالصلوات الخمس کمافی المعالم۔وقد یستدل بماروی ابن ابی حاتم فی تفسیرہ عن انس رضی الله تعالی عنہ فی حدیث الاسراء واتیانہ صلی الله تعالی علیہ وسلم بیت المقدس"لم البث الا یسیرا حتی اجتمع ناس کثیرثم اذن مؤذن واقیمت الصلاۃ"قال: فقمنا صفوفا ننتظر من یؤمنا فاخذ جبریل علیہ الصلاۃ والسلام بیدی فقدمنی فصلیت بھمفلما انصرفتقال لی جبریل: اتدری من صلی خلفک قلت: لاقال: صلی خلفك کل نبی بعثہ الله ۔وھو الحدیث المشار الیہ فی کلام الزرقانی عن الامام النعمانی۔
اقول: ولعل مطمح نظر المستدل وقوع الاذان والاقامۃ فانھما من خصائص الفرائض اولا فلان الاذان والاقامۃ المعروفین ماشرعا الابالمدینۃوالاسراء قبل الھجرۃ ولذاقال الزرقانی فی تفسیر الحدیثاذن مؤذنای اعلم بطلب الصلاۃفاقیمت الصلو ۃای تھیئو لھا کس طرح استدلال کیا جاسکتا ہے کہ معراج سے پہلے بھی نماز فرض تھی (جبکہ اس وقت تك وہ سورۃ نازل ہی نہیں ہوئی تھی) اسی لئے ترجمان القرآن رضی الله عنہ نے اس آیت کی تفسیر پانچ نمازوں سے کی ہے۔جیسا کہ معالم میں ہے۔اور کبھی استدلال کیا جاتا ہے اس حدیث سے جو ابن ابی حاتم نے انس رضی الله عنہ سے واقعہ معراج اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے بیت المقدس میں آنے کے بارے میں روایت کی ہے (اس میں ہے کہ رسول الله نے فرمایا) ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ بہت سے لوگ جمع ہوگئے پھر ایك مؤذن نے اذان دی اور نماز کیلئے اقامت کہی گئی۔رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم سب صفیں باندھ کر اس انتظار میں کھڑے ہوگئے کہ ہمارا امام کون بنتا ہےتو جبریل علیہ السلام نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے آگے کردیاچنانچہ میں نے سب کو نماز پڑھائیجب میں نے سلام پھیرا تو جبریل نے مجھ سے کہا:"کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے پیچھے کن لوگوں نے نماز پڑھی ہے میں نے کہا نہیں جبریل نے کہا آپ کے پیچھے ہر اس نبی نے نماز پڑھی ہے جسے الله تعالی نے مبعوث فرمایا ہے۔یہی وہ حدیث ہے جس کی طرف زرقانی کے کلام میں نعمانی کے حوالے سے اشارہ کیا گیا ہے۔(ت)
میں کہتا ہوں کہ شاید دلیل پیش کرنے والے کا مطمح نظر یہ ہوکہ اس نماز میں اذان واقامت ہوئی تھی اور یہ فرائض کے ساتھ خاص ہیںلیکن اس پر اعتراض ظاہر ہے۔اولا اس لئے کہ معروف اذان واقامت تو مدینہ میں شروع ہوئی تھیجبکہ معراج ہجرت سے پہلے ہوا تھا۔اسی لئے زرقانی نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے"ایك مؤذن نے اذان کہی"کے یہ معنی
اقول: ولعل مطمح نظر المستدل وقوع الاذان والاقامۃ فانھما من خصائص الفرائض اولا فلان الاذان والاقامۃ المعروفین ماشرعا الابالمدینۃوالاسراء قبل الھجرۃ ولذاقال الزرقانی فی تفسیر الحدیثاذن مؤذنای اعلم بطلب الصلاۃفاقیمت الصلو ۃای تھیئو لھا کس طرح استدلال کیا جاسکتا ہے کہ معراج سے پہلے بھی نماز فرض تھی (جبکہ اس وقت تك وہ سورۃ نازل ہی نہیں ہوئی تھی) اسی لئے ترجمان القرآن رضی الله عنہ نے اس آیت کی تفسیر پانچ نمازوں سے کی ہے۔جیسا کہ معالم میں ہے۔اور کبھی استدلال کیا جاتا ہے اس حدیث سے جو ابن ابی حاتم نے انس رضی الله عنہ سے واقعہ معراج اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے بیت المقدس میں آنے کے بارے میں روایت کی ہے (اس میں ہے کہ رسول الله نے فرمایا) ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ بہت سے لوگ جمع ہوگئے پھر ایك مؤذن نے اذان دی اور نماز کیلئے اقامت کہی گئی۔رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم سب صفیں باندھ کر اس انتظار میں کھڑے ہوگئے کہ ہمارا امام کون بنتا ہےتو جبریل علیہ السلام نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے آگے کردیاچنانچہ میں نے سب کو نماز پڑھائیجب میں نے سلام پھیرا تو جبریل نے مجھ سے کہا:"کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے پیچھے کن لوگوں نے نماز پڑھی ہے میں نے کہا نہیں جبریل نے کہا آپ کے پیچھے ہر اس نبی نے نماز پڑھی ہے جسے الله تعالی نے مبعوث فرمایا ہے۔یہی وہ حدیث ہے جس کی طرف زرقانی کے کلام میں نعمانی کے حوالے سے اشارہ کیا گیا ہے۔(ت)
میں کہتا ہوں کہ شاید دلیل پیش کرنے والے کا مطمح نظر یہ ہوکہ اس نماز میں اذان واقامت ہوئی تھی اور یہ فرائض کے ساتھ خاص ہیںلیکن اس پر اعتراض ظاہر ہے۔اولا اس لئے کہ معروف اذان واقامت تو مدینہ میں شروع ہوئی تھیجبکہ معراج ہجرت سے پہلے ہوا تھا۔اسی لئے زرقانی نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے"ایك مؤذن نے اذان کہی"کے یہ معنی
حوالہ / References
∞معالم التنزیل مع تفسیر الخازن زیر آیت فلولا انہ کان من المسبحین مطبوعہ مصطفی البابی مصر٦/٩٨€
∞شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الخامس فی المعراج والاسراء مطبوعہ المطبعۃ العامرہ مصر٦/٦٢€
∞شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الخامس فی المعراج والاسراء مطبوعہ المطبعۃ العامرہ مصر٦/٦٢€
وشرعوا فیھافلایردان الاذان والاقامۃ انماشرعا بالمدینۃ والاسراء کان بمکۃ اھ ماثانیا فلان تخصیصھما بالفرائض انما عرف بعد ماشرعا للامۃاماقبل ذلك فای دلیل علیہ واما ثالثاوھو القاطعفلان الاسراء انما کان باللیلوقدعلمنا ان صلاۃ اللیل کانت فریضۃ قبل فرض الخمسفمایدریك لعلھا ھی۔وبہ یظھر الجواب عما عسی ان یتعلق بہ متعلق مماروی مسلم عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ فی حدیث الاسراء"وحانت الصلاۃ فاممتھم "۔
بیان کیے ہیں کہ اس نے نماز کے لئے طلب کیے جانے سے ان کو آگاہ کیا"اور نماز کیلئے اقامت کہی گئی"کا یہ مفہوم بیان کیا ہے کہ اس کیلئے تیار ہوگئے اور اس میں شروع ہوگئےاس لئے یہ اعتراض نہیں پیدا ہوگا کہ اذان واقامت تو مدینہ میں شروع ہوئی تھیں اور معراج مکہ میں ہوا تھا۔ثانیااس لئے کہ اذان واقامت کا فرائض کے ساتھ مخصوص ہونا تو امت کیلئے ان کے مشروع ہونے کے بعد معلوم ہوا ہے۔مشروعیت سے پہلے تخصیص پر کون سی دلیل ہے ثالثااس لئے اور یہ اعتراض استدلال کی جڑ کاٹنے والا ہے کہ معراج رات کو ہوئی تھی اور یہ ہم جان چکے ہیں کہ رات کی نمازپانچ نمازوں کے فرض ہونے سے پہلے بھی فرض تھیتو کیا پتاہوسکتا ہے یہ وہی رات کی نماز ہو! اسی سے اس کا جواب بھی ظاہر ہوجاتا ہے جس کو ہوسکتا ہے کوئی مستدل بطور دلیل پیش کرے یعنی مسلم کی وہ روایت جو ابوہریرہ سے حدیث معراج میں مروی ہے (کہ رسول الله نے فرمایا) اور نماز کا وقت ہوگیا تو میں نے انہیں نماز پڑھائی۔(ت)
تاہم اس قدر یقینا معلوم کہ معراج مبارك سے پہلے حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی الله تعالی عنہم نمازیں پڑھتے۔نماز شب کی فرضیت تو خود سورہ مزمل شریف سے ثابت اور اس کے سوا اور اوقات میں بھی نماز پڑھنا وارد عام ازینکہ فرض ہو یا نفلحدیث میں ہے:
کان المسلمون قبل ان تفرض الصلوات الخمس یصلون الضحی والعصرفکان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم واصحابہ اذا صلوا اخر النھارتفرقوا فی الشعاب فصلوھا فرادی ۔ فرضیت پنجگانہ سے پہلے مسلمان چاشت اور عصر پڑھا کرتے نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم وصحابہ کرام جب آخر روز کی نماز پڑھتے گھاٹیوں میں متفرق ہوکر تنہا پڑھتے۔
بیان کیے ہیں کہ اس نے نماز کے لئے طلب کیے جانے سے ان کو آگاہ کیا"اور نماز کیلئے اقامت کہی گئی"کا یہ مفہوم بیان کیا ہے کہ اس کیلئے تیار ہوگئے اور اس میں شروع ہوگئےاس لئے یہ اعتراض نہیں پیدا ہوگا کہ اذان واقامت تو مدینہ میں شروع ہوئی تھیں اور معراج مکہ میں ہوا تھا۔ثانیااس لئے کہ اذان واقامت کا فرائض کے ساتھ مخصوص ہونا تو امت کیلئے ان کے مشروع ہونے کے بعد معلوم ہوا ہے۔مشروعیت سے پہلے تخصیص پر کون سی دلیل ہے ثالثااس لئے اور یہ اعتراض استدلال کی جڑ کاٹنے والا ہے کہ معراج رات کو ہوئی تھی اور یہ ہم جان چکے ہیں کہ رات کی نمازپانچ نمازوں کے فرض ہونے سے پہلے بھی فرض تھیتو کیا پتاہوسکتا ہے یہ وہی رات کی نماز ہو! اسی سے اس کا جواب بھی ظاہر ہوجاتا ہے جس کو ہوسکتا ہے کوئی مستدل بطور دلیل پیش کرے یعنی مسلم کی وہ روایت جو ابوہریرہ سے حدیث معراج میں مروی ہے (کہ رسول الله نے فرمایا) اور نماز کا وقت ہوگیا تو میں نے انہیں نماز پڑھائی۔(ت)
تاہم اس قدر یقینا معلوم کہ معراج مبارك سے پہلے حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی الله تعالی عنہم نمازیں پڑھتے۔نماز شب کی فرضیت تو خود سورہ مزمل شریف سے ثابت اور اس کے سوا اور اوقات میں بھی نماز پڑھنا وارد عام ازینکہ فرض ہو یا نفلحدیث میں ہے:
کان المسلمون قبل ان تفرض الصلوات الخمس یصلون الضحی والعصرفکان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم واصحابہ اذا صلوا اخر النھارتفرقوا فی الشعاب فصلوھا فرادی ۔ فرضیت پنجگانہ سے پہلے مسلمان چاشت اور عصر پڑھا کرتے نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم وصحابہ کرام جب آخر روز کی نماز پڑھتے گھاٹیوں میں متفرق ہوکر تنہا پڑھتے۔
حوالہ / References
∞شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الخامس فی المعراج والاسراء مطبوعہ المطبعۃ العامرہ مصر ٦/٥٧€
∞الصحیح لمسلم باب الاسراء برسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١/٩٦€
∞الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حدیث ٧٢٣ ترجمہ عزیزہ بنت ابی تجراۃ مطبوعہ دار صادر بیروت لبنان٤/٣٦٤€
∞الصحیح لمسلم باب الاسراء برسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١/٩٦€
∞الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حدیث ٧٢٣ ترجمہ عزیزہ بنت ابی تجراۃ مطبوعہ دار صادر بیروت لبنان٤/٣٦٤€
رواہ ابن سعد وغیرہ عن عزیزۃ بنت ابی تجراۃ رضی الله تعالی عنھا ذکرہ فی ترجمتھا من الاصابۃ۔ اس کو ابن سعد وغیرہ نے عزیزہ بنت تجراۃ رضی الله عنہا سے روایت کیا ہے۔یہ بات اصابہ میں عزیزہ رضی الله عنہا کے حالات میں مذکور ہے۔(ت)
احادیث اس باب میں بکثرت ہیں اور ان کی جمع وتلفیق کی حاجت نہیں ب لکہ نماز شروع روز شریفہ سے مقرر ومشروع ہے حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم پر اول بار جس وقت وحی اتری اور نبوت کریمہ ظاہر ہوئی اسی وقت حضور نے بہ تعلیم جبریل امین علیہ الصلاۃ والتسلیم نماز پڑھی اور اسی دن بہ تعلیم اقدس حضرت ام المومنین خدیجۃ الکبری رضی الله تعالی عنہا نے پڑھیدوسرے دن امیر المومنین علی مرتضی کرم الله وجہہ الاسنی نے حضور کے ساتھ پڑھی کہ ابھی سورہ مزمل نازل بھی نہ ہوئی تھی تو ایمان کے بعد پہلی شریعت نماز ہے۔
فقد اخرج احمد وابن ماجۃ والحارث فی مسندہ وغیرہم عن اسامۃ بن زید عن ابیہ رضی الله تعالی عنہما ان جبریل اتی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلمفی اول مااوحی الیہفاراہ الوضوء والصلاۃفلما فرغ من الوضوء اخذ غرفۃ من ماء فنضح بھا فرجہ ۔وفی سیرۃ ابن اسحقوسیرۃ ابن ھشام و المواھب اللدنیۃ من المقصد الاولوکتاب الخمیسوافضل القری لقراء ام القریللامام ابن حجر المکیثم حاشیۃ الکنز للعلامۃ السید ابی السعود الازھریثم حاشیۃ الدر للعلامۃ السید احمد الطحطاویوھذا لفظ القسطلانیمزیدا من الزرقانی(قد روی) مرضہ لان لہ طرقا لا تخلو من مقال لکنھا متعددۃ یحصل باجتماعھا تخریج کی ہے احمد اور ابن ماجہ نے اور حارث نے اپنی مسند میں اور دیگر محدثین نے اسامہ ابن زید سےوہ اپنے والد سے راوی ہیں کہ وحی کے آغاز میں ایك مرتبہ جبریل علیہ السلام نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو وضو اور نماز کا طریقہ بتایاجب وضو سے فارغ ہوئے تو چلو بھر پانی لیا اور اپنے فرج پر چھڑکا۔سیرت ابن اسحق میںسیرت ابن ہشام میںمواہب لدنیہ کے کتاب الخمس میںابن حجر مکی کی افضل القری لقراء ام القری میںسید ابوالسعود ازہری کے حاشیہ کنز میںسید احمد طحطاوی کے حاشیہ درمختار میں مذکور ہے اور الفاظ قسطلانی کے ہیں جن میں اس کی شرح زرقانی سے اضافہ کیا گیا ہے (روایت کی گئی ہے) بصیغہ مجہول اس کے ضعف کی طرف اشارہ کیا ہے کیونکہ اس کے جتنے طریقے بھی ہیں وہ اعتراض سے خالی نہیں ہیںلیکن چونکہ متعدد ہیں اس لئے ان کے اجتماع سے قوت
احادیث اس باب میں بکثرت ہیں اور ان کی جمع وتلفیق کی حاجت نہیں ب لکہ نماز شروع روز شریفہ سے مقرر ومشروع ہے حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم پر اول بار جس وقت وحی اتری اور نبوت کریمہ ظاہر ہوئی اسی وقت حضور نے بہ تعلیم جبریل امین علیہ الصلاۃ والتسلیم نماز پڑھی اور اسی دن بہ تعلیم اقدس حضرت ام المومنین خدیجۃ الکبری رضی الله تعالی عنہا نے پڑھیدوسرے دن امیر المومنین علی مرتضی کرم الله وجہہ الاسنی نے حضور کے ساتھ پڑھی کہ ابھی سورہ مزمل نازل بھی نہ ہوئی تھی تو ایمان کے بعد پہلی شریعت نماز ہے۔
فقد اخرج احمد وابن ماجۃ والحارث فی مسندہ وغیرہم عن اسامۃ بن زید عن ابیہ رضی الله تعالی عنہما ان جبریل اتی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلمفی اول مااوحی الیہفاراہ الوضوء والصلاۃفلما فرغ من الوضوء اخذ غرفۃ من ماء فنضح بھا فرجہ ۔وفی سیرۃ ابن اسحقوسیرۃ ابن ھشام و المواھب اللدنیۃ من المقصد الاولوکتاب الخمیسوافضل القری لقراء ام القریللامام ابن حجر المکیثم حاشیۃ الکنز للعلامۃ السید ابی السعود الازھریثم حاشیۃ الدر للعلامۃ السید احمد الطحطاویوھذا لفظ القسطلانیمزیدا من الزرقانی(قد روی) مرضہ لان لہ طرقا لا تخلو من مقال لکنھا متعددۃ یحصل باجتماعھا تخریج کی ہے احمد اور ابن ماجہ نے اور حارث نے اپنی مسند میں اور دیگر محدثین نے اسامہ ابن زید سےوہ اپنے والد سے راوی ہیں کہ وحی کے آغاز میں ایك مرتبہ جبریل علیہ السلام نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو وضو اور نماز کا طریقہ بتایاجب وضو سے فارغ ہوئے تو چلو بھر پانی لیا اور اپنے فرج پر چھڑکا۔سیرت ابن اسحق میںسیرت ابن ہشام میںمواہب لدنیہ کے کتاب الخمس میںابن حجر مکی کی افضل القری لقراء ام القری میںسید ابوالسعود ازہری کے حاشیہ کنز میںسید احمد طحطاوی کے حاشیہ درمختار میں مذکور ہے اور الفاظ قسطلانی کے ہیں جن میں اس کی شرح زرقانی سے اضافہ کیا گیا ہے (روایت کی گئی ہے) بصیغہ مجہول اس کے ضعف کی طرف اشارہ کیا ہے کیونکہ اس کے جتنے طریقے بھی ہیں وہ اعتراض سے خالی نہیں ہیںلیکن چونکہ متعدد ہیں اس لئے ان کے اجتماع سے قوت
حوالہ / References
∞مُسند امام احمد بن حنبل حدیث زید بن حارثہ رضی اللہ تعالٰی عنہ مطبوعہ دارالفکر،بیروت ٤/١٦١€
القوۃ (ان جبریل بدا لہ صلی الله تعالی علیہ وسلم) وھو باعلی مکۃکماعند ابن اسحقای بجبل الحراءکمافی الخمیس (فی احسن صورۃ و اطیب رائحۃ فقال: یامحمد! ان الله یقرئك السلام ویقول لک: انت رسولی الی الجن والانس فادعھم الی قول لاالہ الااللہثم ضرب برجلہ الارض فنبعت عین ماء فتوضأ منھا جبریل) زاد ابن اسحقورسول الله ینظر الیہلیریہ کیف الطھور الی الصلاۃ (ثم امرہ ان یتوضأوقام جبریل یصلیوامرہ ان یصلی معہ) زاد فی روایۃ ابی نعیم عن عائشۃ رضی الله تعالی عنھافصلی رکعتین نحوا الکعبۃ (فعلمہ الوضوء والصلاۃثم عرج الی السماء ورجع رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلملایمر بحجر ولامدر ولاشجر الا وھو یقول: السلام علیك یارسول اللہ! حتی اتی خدیجۃفاخبرھا فغشی علیھا من الفرحثم امرھا فتوضأتوصلی بھا کماصلی بہ جبرئیل) زاد فی روایۃوکانت اول من صلی (فکان ذلك اول فرضھا) ای تقدیرھا (رکعتین) اھ ولہ تمام سیأتی۔واخرج الطبرانی عن ابی رافع رضی الله تعالی عنہقال: صلی النبی صلی الله تعالی علیہ حاصل ہوجاتی ہے (کہ جبریل رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے سامنے آئے) جبکہ آپ مکہ کے بالائی حصہ میں تھے جیسا کہ سیرت ابن اسحق میں ہےیعنی کوہ حرا پرتھے جیسا کہ خمیس میں ہے (اچھی صورۃ اور عمدہ خوشبو میں اور کہا:"اے محمد! الله تعالی آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ آپ انسانوں اور جنوں کی طرف میرے رسول ہیں اس لئے انہیں دعوت دیں کہ وہ لاالہ الاالله کہیں۔پھر جبریل نے اپنا پاؤں زمین پر مارا تو پانی کا چشمہ ابل پڑا اور جبریل نے اس سے وضو کیا) ابن اسحق نے اضافہ کیا ہے کہ"اور رسول الله اس کی طرف دیکھ رہے تھے تاکہ رسول الله کو نماز کیلئے طہارت کا طریقہ بتائے (پھر آپ سے کہا کہ آپ بھی وضو کریں۔پھر جبریل نماز پڑھنے لگے اور رسول الله کو کہا کہ آپ بھی میرے ساتھ پڑھیں) ابونعیم نے حضرت عائشہ سے جو روایت کی ہے اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ جبریل نے قبلہ رخ ہوکر دو رکعتیں پڑھیں (چنانچہ وضو اور نماز سکھانے کے بعد جبریل تو آسمان پر چلے گئے اور رسول الله گھرکی طرف واپس ہوئے تو راستے میں جس پتھرڈھیلے یا درخت کے پاس سے آپ گزرتے وہ کہتا"السلام علیك یارسول الله"۔یہاں تك کہ آپ خدیجہ کے پاس آئے اور ان سے سارا ماجرا بیان کیا تو انہیں فرط مسرت سے غشی آگئی پھر رسول الله نے انہیں بھی وضو کرنے کا حکم دیا اور رسول الله نے ان کو بھی اسی طرح نماز پڑھائی جس طرح جبریل نے
حوالہ / References
∞شرح الزرقانی المقصد الاوّل فی تشریف اللہ تعالٰی علیہ الصلٰو ۃ والسلام مطبوعہ المطبعۃ العامرہ مصر١/٢٧٣€
وسلماول یوم الاثنینوصلت خدیجۃ اخرہ وصلی علی یوم الثلثاء ۔ آپ کو پڑھائی تھی) ایك روایت میں یہ اضافہ ہے کہ خدیجہ سب سے پہلے نماز پڑھنے والی ہیں (تو یہ نماز کی پہلی فرضیت تھی) یعنی اس کا اندازہ تھا (دو رکعتیں) اھ اس روایت کا باقی حصہ عنقریب آئے گا۔اور طبرانی نے ابورافع رضی الله عنہ سے تخریج کی ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے سوموار کے ابتدائی حصے میں پہلی نماز پڑھیخدیجہ رضی الله عنہا نے سوموار کے آخری حصے میں اور علی رضی الله عنہ نے منگل کے دن۔(ت)
بالجملہ یہ سوال ضرور متوجہ ہے کہ معراج سے پہلے حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم نماز کس طرح پڑھتے تھےاقول ملاحظہ آیات واحادیث سے ظاہرکہ وہ نماز اسی انداز کی تھی اس میں طہارت ثوب بھی تھی قال تعالی فی سورۃ المدثرو ثیابک فطہر ﴿۴﴾۪ (الله تعالی نے سورہ مدثر میں فرمایا ہے"اور اپنے کپڑوں کو پاك کرو"۔ت) وضو بھی تھا کماتقدم انفا (جیسا کہ ابھی گزرا ہے۔ت) استقبال قبلہ بھی تھا
کمامر من حدیث ام المؤمنین رضی الله تعالی عنہا و روی ابن اسحق فی سیرتہ قال: حدثنی عبدالله ابن نجیح المکی عن اصحابہعطاء ومجاھد وعمن روی ذلکفساق حدیث اسلام عمر رضی الله تعالی عنہوفیہفجعلت امشی رویدا ورسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم قائم یصلی یقرؤ القرانحتی قمت فی قبلتہ مستقبلہمابینی وبینہ الاثیاب الکعبۃ۔قال: فلما سمعت القران رق لہ قلبی ۔الحدیث۔ جیسا کہ ام المؤمنین رضی الله عنہا کی حدیث گزری ہے۔اور ابن اسحق نے اپنی سیرت میں روایت کی ہے کہ حدیث بیان کی مجھ سے عبدالله ابن نجیح مکی نے اپنے ساتھیوں عطا اور مجاہد سے اور کچھ لوگوں سے جنہوں نے یہ روایت بیان کی ہے۔اس کے بعد ابن اسحق نے عمر رضی الله عنہ کے اسلام لانے کا واقعہ ذکر کیا ہے اس میں ہے کہ (عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں) میں آہستہ آہستہ چلتا جارہا تھا اور رسول الله کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے اور قرآن کی تلاوت کررہے تھے یہاں تك کہ میں آپ کے سامنے آپ کی طرف رخ کرکے کھڑا ہوگیامیرے اور آپ کے درمیان کعبے کے غلاف کے سوا کوئی حائل نہیں تھا۔عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب میں نے قرآن سنا تو میرا دل اس کے لئے نرم ہوگیا۔الحدیث (ت)
بالجملہ یہ سوال ضرور متوجہ ہے کہ معراج سے پہلے حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم نماز کس طرح پڑھتے تھےاقول ملاحظہ آیات واحادیث سے ظاہرکہ وہ نماز اسی انداز کی تھی اس میں طہارت ثوب بھی تھی قال تعالی فی سورۃ المدثرو ثیابک فطہر ﴿۴﴾۪ (الله تعالی نے سورہ مدثر میں فرمایا ہے"اور اپنے کپڑوں کو پاك کرو"۔ت) وضو بھی تھا کماتقدم انفا (جیسا کہ ابھی گزرا ہے۔ت) استقبال قبلہ بھی تھا
کمامر من حدیث ام المؤمنین رضی الله تعالی عنہا و روی ابن اسحق فی سیرتہ قال: حدثنی عبدالله ابن نجیح المکی عن اصحابہعطاء ومجاھد وعمن روی ذلکفساق حدیث اسلام عمر رضی الله تعالی عنہوفیہفجعلت امشی رویدا ورسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم قائم یصلی یقرؤ القرانحتی قمت فی قبلتہ مستقبلہمابینی وبینہ الاثیاب الکعبۃ۔قال: فلما سمعت القران رق لہ قلبی ۔الحدیث۔ جیسا کہ ام المؤمنین رضی الله عنہا کی حدیث گزری ہے۔اور ابن اسحق نے اپنی سیرت میں روایت کی ہے کہ حدیث بیان کی مجھ سے عبدالله ابن نجیح مکی نے اپنے ساتھیوں عطا اور مجاہد سے اور کچھ لوگوں سے جنہوں نے یہ روایت بیان کی ہے۔اس کے بعد ابن اسحق نے عمر رضی الله عنہ کے اسلام لانے کا واقعہ ذکر کیا ہے اس میں ہے کہ (عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں) میں آہستہ آہستہ چلتا جارہا تھا اور رسول الله کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے اور قرآن کی تلاوت کررہے تھے یہاں تك کہ میں آپ کے سامنے آپ کی طرف رخ کرکے کھڑا ہوگیامیرے اور آپ کے درمیان کعبے کے غلاف کے سوا کوئی حائل نہیں تھا۔عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب میں نے قرآن سنا تو میرا دل اس کے لئے نرم ہوگیا۔الحدیث (ت)
حوالہ / References
∞المعجم الکبیر للطبرانی عن عبیداللہ ابن ابی رافع حدیث ٩٥٢ مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ١/٣٢٠€
∞القرآن سورہ المدثر ٧٤ آیت ٤€
∞سیرت ابن اسحٰق€
∞القرآن سورہ المدثر ٧٤ آیت ٤€
∞سیرت ابن اسحٰق€
تکبیر تحریمہ بھی تھی قال تعالی: و ربک فکبر ﴿۳﴾۪ اور اپنے رب کی تکبیر کہہ۔ت) وقال عزاسمہ فی سورۃ الاعلی النازلۃ قدماو ذکر اسم ربہ فصلی ﴿۱۵﴾ (اور الله تعالی نے سورہ اعلی میںجو پہلے نازل ہونے والی سورتو ں میں سے ہےکہا ہے"اور یاد کیا اپنے رب کے نام کو پھر نماز پڑھی"۔ت) قیام بھی تھاقال تعالی:
یایہا المزمل ﴿۱﴾ قم الیل الا قلیلا ﴿۲﴾
الایات الی قولہ جل ذکرہ
ان ربک یعلم انک تقوم ادنی من ثلثی الیل و نصفہ و ثلثہ و طائفۃ من اے اوڑھنے والے! رات کو قیام کیا کرو"اور اس سے بعد کی آیتیںاس آیت تك"بے شك تیرا رب جانتا ہے کہ تو کبھی دو تہائی رات سے کم قیام کرتا ہے کبھی نصف رات اور کبھی ایك تہائی رات۔اور ان لوگوں کی ایك جماعت بھی جو تیرے ساتھ ہے۔(ت)
قرأت بھی تھی۔
قال تعالی فی سورۃ المزمل فاقرءوا ما تیسر من القران وقال الزرقانی تحت ماتقدم من قول مقاتل رکعتین بالغداۃ ورکعتین بالعشییحتمل انہ کان یقرؤ فیھما بما اتاہ من سورۃ اقرءحتی نزلت الفاتحۃ ۔ الله تعالی نے سورہ مزمل میں فرمایا ہے:"پس پڑھو جتنا قرآن میسر ہوسکے"۔اور مقاتل کا جو قول پہلے گزرا ہے کہ دو رکعتیں صبح کی اور دو رکعتیں رات کی فرض تھیںاس کے تحت زرقانی نے کہا ہے"ممکن ہے کہ نزول فاتحہ سے پہلے رسول الله ان رکعتوں میں سورۃ اقرأ کی وہ آیات پڑھتے ہوں جو نازل ہوچکی تھیں۔(ت)
رکوع بھی تھا :
علی خلف فیہکماسیأتیوقد تظافرت الاحادیث الحاکیۃ عماقبل الاسراء بصلاۃ لیکن اس میں اختلاف ہے جو عنقریب آرہا ہے۔اور جن احادیث میں معراج سے پہلے نماز پڑھنے کا
یایہا المزمل ﴿۱﴾ قم الیل الا قلیلا ﴿۲﴾
الایات الی قولہ جل ذکرہ
ان ربک یعلم انک تقوم ادنی من ثلثی الیل و نصفہ و ثلثہ و طائفۃ من اے اوڑھنے والے! رات کو قیام کیا کرو"اور اس سے بعد کی آیتیںاس آیت تك"بے شك تیرا رب جانتا ہے کہ تو کبھی دو تہائی رات سے کم قیام کرتا ہے کبھی نصف رات اور کبھی ایك تہائی رات۔اور ان لوگوں کی ایك جماعت بھی جو تیرے ساتھ ہے۔(ت)
قرأت بھی تھی۔
قال تعالی فی سورۃ المزمل فاقرءوا ما تیسر من القران وقال الزرقانی تحت ماتقدم من قول مقاتل رکعتین بالغداۃ ورکعتین بالعشییحتمل انہ کان یقرؤ فیھما بما اتاہ من سورۃ اقرءحتی نزلت الفاتحۃ ۔ الله تعالی نے سورہ مزمل میں فرمایا ہے:"پس پڑھو جتنا قرآن میسر ہوسکے"۔اور مقاتل کا جو قول پہلے گزرا ہے کہ دو رکعتیں صبح کی اور دو رکعتیں رات کی فرض تھیںاس کے تحت زرقانی نے کہا ہے"ممکن ہے کہ نزول فاتحہ سے پہلے رسول الله ان رکعتوں میں سورۃ اقرأ کی وہ آیات پڑھتے ہوں جو نازل ہوچکی تھیں۔(ت)
رکوع بھی تھا :
علی خلف فیہکماسیأتیوقد تظافرت الاحادیث الحاکیۃ عماقبل الاسراء بصلاۃ لیکن اس میں اختلاف ہے جو عنقریب آرہا ہے۔اور جن احادیث میں معراج سے پہلے نماز پڑھنے کا
حوالہ / References
∞القرآن سورہ مدثر ٧٤ آیت ٣€
∞القرآن سورۃالاعلٰی ٨٧آیت ١٥€
∞القرآن، سورہ مزمل ٧٣ €
∞القرآن ٧٣/٢٠€
∞شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الاول فی تشریف اللہ تعالٰی لہ علیہ الصلٰو ۃ والسلام المطبعۃ العامرۃ مصر ١/٢٧٤€
∞القرآن سورۃالاعلٰی ٨٧آیت ١٥€
∞القرآن، سورہ مزمل ٧٣ €
∞القرآن ٧٣/٢٠€
∞شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الاول فی تشریف اللہ تعالٰی لہ علیہ الصلٰو ۃ والسلام المطبعۃ العامرۃ مصر ١/٢٧٤€
رکعات او رکعتینمنہا ما تقدم انفا من حدیث ابی نعیم فصلی رکعتینومن حدیث غیرہ فکان ذلك اول فرضھا رکعتینوانما سمیت رکعۃ للرکوع۔ بیان ہےان میں بکثرت رکعات یا دو رکعتوں کا ذکر ہے ان میں سے ایك تو وہی ہے جو ابھی ابو نعیم کے حوالے سے گزری تھی کہ نماز پڑھی دو رکعتیں۔اور ابونعیم کے علاوہ ایك دوسرے محدث کی روایت کہ ابتدا میں صرف دو رکعتیں فرض تھیں۔اور رکعت کی وجہ تسمیہ ہی یہ ہے کہ اس میں رکوع پایا جاتا ہے۔ت)
سجود بھی تھا:
کما فی حدیث ایذاء ابی جھل وغیرہ من الکفرۃلعنھم الله تعالیحین صلی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم عند الکعبۃفرمقوا سجودہفالقوا علیہ ماالقوا بہ فی قلیب بدر ملعونین۔والحمدلله رب العلمین۔والحدیث معروف فی الصحیحین وغیرھما عن ابن مسعود رضی الله تعالی عنہوفیہ من قول الکفار"یجیئ بہ ثم یمھلہ حتی اذاسجد وضع بین کتفیہ قال: فانبعث اشقاھم فلما سجد صلی الله تعالی علیہ وسلم وضعہ بین کتفیہوثبت النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ساجدا ۔الحدیث۔ وقدقال تعالی فی سورۃ اقرأو اسجد و اقترب ﴿۱۹﴾ جیسا کہ اس حدیث میں ہے جس میں ابوجہل اور دیگر کفار لعنھم الله کی ایذا رسانی کا ذکر ہے کہ جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے تو کفار نے ان کے سجدے پر نگاہ رکھی اور آپ پر وہ کچھ ڈال دیا (یعنی اوجھڑیاں وغیرہ) جس کے بدلے میں بدر کے کنویں میں ملعون کرکے پھینك دئیے گئے۔اور یہ حدیث صحیحین وغیرہ میں عبدالله ابن مسعود رضی الله عنہ سے معروف ہے اور اس میں ہے کہ کوئی جاکر اوجھڑیاں لائے پھر محمد کو اتنی مہلت دے کہ وہ سجدے میں چلاجائےاس وقت اس کے شانوں کے درمیان اوجھڑیاں رکھ دے۔راوی کہتا ہے کہ ان میں سے جو بہت بدبخت تھا وہ اس کام کیلئے تیار ہوگیا اور جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم سجدے میں گئے تو اس نے اوجھڑیاں آپ کے شانوں کے درمیان رکھ دیں اور آپ سجدے میں پڑے رہے۔الحدیث۔اور الله تعالی نے سورۃ اقرأ میں فرمایا ہے: "اور سجدہ کرو اور قرب حاصل کرو"۔(ت)
سجود بھی تھا:
کما فی حدیث ایذاء ابی جھل وغیرہ من الکفرۃلعنھم الله تعالیحین صلی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم عند الکعبۃفرمقوا سجودہفالقوا علیہ ماالقوا بہ فی قلیب بدر ملعونین۔والحمدلله رب العلمین۔والحدیث معروف فی الصحیحین وغیرھما عن ابن مسعود رضی الله تعالی عنہوفیہ من قول الکفار"یجیئ بہ ثم یمھلہ حتی اذاسجد وضع بین کتفیہ قال: فانبعث اشقاھم فلما سجد صلی الله تعالی علیہ وسلم وضعہ بین کتفیہوثبت النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ساجدا ۔الحدیث۔ وقدقال تعالی فی سورۃ اقرأو اسجد و اقترب ﴿۱۹﴾ جیسا کہ اس حدیث میں ہے جس میں ابوجہل اور دیگر کفار لعنھم الله کی ایذا رسانی کا ذکر ہے کہ جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے تو کفار نے ان کے سجدے پر نگاہ رکھی اور آپ پر وہ کچھ ڈال دیا (یعنی اوجھڑیاں وغیرہ) جس کے بدلے میں بدر کے کنویں میں ملعون کرکے پھینك دئیے گئے۔اور یہ حدیث صحیحین وغیرہ میں عبدالله ابن مسعود رضی الله عنہ سے معروف ہے اور اس میں ہے کہ کوئی جاکر اوجھڑیاں لائے پھر محمد کو اتنی مہلت دے کہ وہ سجدے میں چلاجائےاس وقت اس کے شانوں کے درمیان اوجھڑیاں رکھ دے۔راوی کہتا ہے کہ ان میں سے جو بہت بدبخت تھا وہ اس کام کیلئے تیار ہوگیا اور جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم سجدے میں گئے تو اس نے اوجھڑیاں آپ کے شانوں کے درمیان رکھ دیں اور آپ سجدے میں پڑے رہے۔الحدیث۔اور الله تعالی نے سورۃ اقرأ میں فرمایا ہے: "اور سجدہ کرو اور قرب حاصل کرو"۔(ت)
حوالہ / References
∞صحیح البخاری باب المرأۃ تطرح علی المصلی شیئا من الاا ذٰی مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١/٧٤€
جماعت بھی تھی:
کماتقدم من حدیث المبعثولفظہ عن ابن اسحقثم قام بہ جبرئیل فصلی بہوصلی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم بصلاتہ(الی ان قال فی خدیجۃ) صلی بھا رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کماصلی بہ جبرئیلفصلت بصلاتہ ۔اھ وقد قال تعالیو طائفۃ من الذین معک واخرج الشیخان عن ابن عباس رضی الله تعالی عنھما فی حدیث مجیئ الجن الیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم اول البعثانھم اتوہ صلی الله تعالی علیہ وسلم وھو یصلی باصحابہ صلاۃ الفجر قال الزرقانی المراد بالفجر الرکعتان اللتان کان یصلیھا قبل طلوع الشمس الخ۔ جیسا کہ بعث والی حدیث گزری ہے اور اس کے الفاظ ابن اسحق کے ہاں اس طرح ہیں"پھر جبریل آپ کے ساتھ کھڑے ہوئے اور آپ کو نماز پڑھائی اور رسول الله نے جبریل کی نماز کے مطابق نماز پڑھی (یہاں تك کہ خدیجہ کے بارے میں کہا ہے) رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ان کو نماز پڑھائی جس طرح جبریل نے رسول الله کو پڑھائی تھی چنانچہ خدیجہ رضی الله عنہا نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی نماز کے مطابق نماز پڑھی۔اھ اور الله تعالی نے فرمایا:"اور ایك جماعت ان لوگوں کی جو تمہارے ساتھ ہے"بخاری ومسلم نے ابن عباس رضی الله عنہ سے اس حدیث کی روایت کی ہے جس میں ابتداء وحی کے دوران رسول الله کے پاس جنات کے آنے کا ذکر ہے۔اس میں ہے کہ جب جنات آپ کے پاس آئے اس وقت آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ صبح کی نماز پڑھ رہے تھے۔زرقانی نے کہا ہے کہ فجر کی نماز سے مراد وہ دو رکعتیں ہیں جو طلوع آفتاب سے پہلے پڑھا کرتے تھے الخ۔(ت)
جہر بھی تھا:
قال تعالی قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن فقالوا انا سمعنا قرانا عجبا ﴿۱﴾ یہدی الی الرشد فامنا بہ وقد کانوا سمعوہ صلی الله تعالی الله تعالی نے فرمایا ہے"کہو وحی کی گئی ہے میری جانب کہ جنوں کی ایك جماعت نے کان لگاکر سنا تو کہا ہم نے ایك عجیب قرآن سنا ہے جو ہدایت کی طرف
کماتقدم من حدیث المبعثولفظہ عن ابن اسحقثم قام بہ جبرئیل فصلی بہوصلی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم بصلاتہ(الی ان قال فی خدیجۃ) صلی بھا رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کماصلی بہ جبرئیلفصلت بصلاتہ ۔اھ وقد قال تعالیو طائفۃ من الذین معک واخرج الشیخان عن ابن عباس رضی الله تعالی عنھما فی حدیث مجیئ الجن الیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم اول البعثانھم اتوہ صلی الله تعالی علیہ وسلم وھو یصلی باصحابہ صلاۃ الفجر قال الزرقانی المراد بالفجر الرکعتان اللتان کان یصلیھا قبل طلوع الشمس الخ۔ جیسا کہ بعث والی حدیث گزری ہے اور اس کے الفاظ ابن اسحق کے ہاں اس طرح ہیں"پھر جبریل آپ کے ساتھ کھڑے ہوئے اور آپ کو نماز پڑھائی اور رسول الله نے جبریل کی نماز کے مطابق نماز پڑھی (یہاں تك کہ خدیجہ کے بارے میں کہا ہے) رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ان کو نماز پڑھائی جس طرح جبریل نے رسول الله کو پڑھائی تھی چنانچہ خدیجہ رضی الله عنہا نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی نماز کے مطابق نماز پڑھی۔اھ اور الله تعالی نے فرمایا:"اور ایك جماعت ان لوگوں کی جو تمہارے ساتھ ہے"بخاری ومسلم نے ابن عباس رضی الله عنہ سے اس حدیث کی روایت کی ہے جس میں ابتداء وحی کے دوران رسول الله کے پاس جنات کے آنے کا ذکر ہے۔اس میں ہے کہ جب جنات آپ کے پاس آئے اس وقت آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ صبح کی نماز پڑھ رہے تھے۔زرقانی نے کہا ہے کہ فجر کی نماز سے مراد وہ دو رکعتیں ہیں جو طلوع آفتاب سے پہلے پڑھا کرتے تھے الخ۔(ت)
جہر بھی تھا:
قال تعالی قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن فقالوا انا سمعنا قرانا عجبا ﴿۱﴾ یہدی الی الرشد فامنا بہ وقد کانوا سمعوہ صلی الله تعالی الله تعالی نے فرمایا ہے"کہو وحی کی گئی ہے میری جانب کہ جنوں کی ایك جماعت نے کان لگاکر سنا تو کہا ہم نے ایك عجیب قرآن سنا ہے جو ہدایت کی طرف
حوالہ / References
∞سیرت ابن اسحٰق€
∞القرآن ٧٣/٢٠€
∞صحیح البخاری زیر آیت قل ا وحی الی الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ٢/٧٣٢€
∞شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الاول ذکر الجن مطبوعہ المطبعۃ العامرۃ مصر ١/٣٤٩€
∞القرآن ٧٢/١۔€٢
∞القرآن ٧٣/٢٠€
∞صحیح البخاری زیر آیت قل ا وحی الی الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ٢/٧٣٢€
∞شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الاول ذکر الجن مطبوعہ المطبعۃ العامرۃ مصر ١/٣٤٩€
∞القرآن ٧٢/١۔€٢
علیہ وسلم فی صلاۃ الفجرکماتقدمومر حدیث ابن اسحق فی اسلام امیر المؤمنین عمر رضی الله تعالی عنہوروی ابن سنجر فی مسندہ عنہ رضی الله تعالی عنہ"خرجت اتعرض رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم قبل ان اسلمفوجدتہ قدسبقنی الی المسجدفقمت خلفہفاستفتح سورۃ الحاقۃ فجعلت اتعجب من تألیف القرانفقلت:
ھوشاعر کماقالت قریشفقرأ انہ لقول رسول کریم ﴿۴۰﴾ و ما ہو بقول شاعر قلیلا ما تؤمنون ﴿۴۱﴾ فقلت: کاھنعلم مافی نفسی فقرأ و لا بقول کاہن قلیلا ما تذکرون ﴿۴۲﴾ الی آخر السورۃفوقع الاسلام فی قلبی کل موقع ۔
اقول: لکن ذکر ابن عباس رضی الله تعالی عنھما فی حدیثہ المذکور نزول الحاقۃ بعد بنی اسرائیل بسبع وعشرین سورۃوجعلھا من اواخر ما نزل بمکۃولایظھر الجمع بان بعضھا نزل قدیما فسمعہ عمر قبل ان یسلم وتأخر نزول الباقیواعتبر ابن عباس بالاکثرفان امیر المؤمنین یقول فی ھذا الحدیثان صح: فاستفتح سورۃ الحاقۃویذکر الایات من اواخرھاثم یقول الی اخر السورۃفالله رہنمائی کرتا ہے"اور جنات نے رسول الله کی یہ قرأت نماز فجر میں سنی تھیجیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے۔اور ابن اسحق کی روایت بھی گزرچکی ہے جو امیرالمومنین عمر رضی الله عنہ کے اسلام لانے کے بارے میں ہے۔اور ابن اسحق نے اپنے مسند میں عمر رضی الله عنہ سے روایت کی کہ وہ فرماتے ہیں"اسلام لانے سے پہلے ایك دن میں رسول الله کا سامنا کرنے کے لئے گھر سے نکلا تو آپ اس وقت مسجد کو جاچکے تھے میں جاکر ان کے پیچھے کھڑا ہوگیاانہوں نے سورۃ الحاقہ شروع کی تو میں قرآن کی تالیف وترتیب پر حیران رہ گیا اور میں نے دل میں کہا کہ یہ شخص شاعر ہےاسی وقت آپ نے یہ آیت پڑھی"اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں ہے تم بہت کم ایمان لاتے ہو"۔میں نے سوچا کہ یہ کاہن ہے کہ اس کو میرے دل کی بات معلوم ہوگئیاسی وقت آپ نے یہ آیت پڑھی"نہ یہ کسی کاہن کا قول ہے تم بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو سورۃ کے آخر تك۔ چنانچہ اسلام میرے دل میں پوری طرح گھر گیا۔
اقول: (میں کہتا ہوں: لیکن ابن عباس نے اپنی مذکورہ روایت میں بیان کیا ہے کہ سورۃ الحاقہ کا نزول اس وقت ہوا جب سورہ بنی اسرائیل کے بعد ستائیس سورتیں نازل ہوچکی تھیں اور ابن عباس نے الحاقہ کو ان سورتوں میں شمار کیا ہے جو مکہ کے آخری دور میں نازل ہوئی تھیں (پھر حضرت عمر نے الحاقہ کی آیات اسلام لانے سے پہلے
ھوشاعر کماقالت قریشفقرأ انہ لقول رسول کریم ﴿۴۰﴾ و ما ہو بقول شاعر قلیلا ما تؤمنون ﴿۴۱﴾ فقلت: کاھنعلم مافی نفسی فقرأ و لا بقول کاہن قلیلا ما تذکرون ﴿۴۲﴾ الی آخر السورۃفوقع الاسلام فی قلبی کل موقع ۔
اقول: لکن ذکر ابن عباس رضی الله تعالی عنھما فی حدیثہ المذکور نزول الحاقۃ بعد بنی اسرائیل بسبع وعشرین سورۃوجعلھا من اواخر ما نزل بمکۃولایظھر الجمع بان بعضھا نزل قدیما فسمعہ عمر قبل ان یسلم وتأخر نزول الباقیواعتبر ابن عباس بالاکثرفان امیر المؤمنین یقول فی ھذا الحدیثان صح: فاستفتح سورۃ الحاقۃویذکر الایات من اواخرھاثم یقول الی اخر السورۃفالله رہنمائی کرتا ہے"اور جنات نے رسول الله کی یہ قرأت نماز فجر میں سنی تھیجیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے۔اور ابن اسحق کی روایت بھی گزرچکی ہے جو امیرالمومنین عمر رضی الله عنہ کے اسلام لانے کے بارے میں ہے۔اور ابن اسحق نے اپنے مسند میں عمر رضی الله عنہ سے روایت کی کہ وہ فرماتے ہیں"اسلام لانے سے پہلے ایك دن میں رسول الله کا سامنا کرنے کے لئے گھر سے نکلا تو آپ اس وقت مسجد کو جاچکے تھے میں جاکر ان کے پیچھے کھڑا ہوگیاانہوں نے سورۃ الحاقہ شروع کی تو میں قرآن کی تالیف وترتیب پر حیران رہ گیا اور میں نے دل میں کہا کہ یہ شخص شاعر ہےاسی وقت آپ نے یہ آیت پڑھی"اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں ہے تم بہت کم ایمان لاتے ہو"۔میں نے سوچا کہ یہ کاہن ہے کہ اس کو میرے دل کی بات معلوم ہوگئیاسی وقت آپ نے یہ آیت پڑھی"نہ یہ کسی کاہن کا قول ہے تم بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو سورۃ کے آخر تك۔ چنانچہ اسلام میرے دل میں پوری طرح گھر گیا۔
اقول: (میں کہتا ہوں: لیکن ابن عباس نے اپنی مذکورہ روایت میں بیان کیا ہے کہ سورۃ الحاقہ کا نزول اس وقت ہوا جب سورہ بنی اسرائیل کے بعد ستائیس سورتیں نازل ہوچکی تھیں اور ابن عباس نے الحاقہ کو ان سورتوں میں شمار کیا ہے جو مکہ کے آخری دور میں نازل ہوئی تھیں (پھر حضرت عمر نے الحاقہ کی آیات اسلام لانے سے پہلے
حوالہ / References
∞شرح الزرقانی علی المواہب مقصد اول اسلامِ عمرِ فاروق مطبوعہ المطبعۃ العامرہ مصر ١/٣٢٢€
تعالی اعلم
بل قال مجاھد فی قولہ تعالی فاصدع بماتؤمر ھو الجھر بالقران ۔حکاہ فی المواھب من المقصد الاولقال: قالوا وکان ذلك بعد ثلث سنین من النبوۃقال الزرقانی: تبرأ منہ لجزم الحافظ فی سیرتہ بان نزول الایۃ کان فی السنۃ الثالثۃ ۔
کس طرح سن لی تھیںجبکہ وہ نبوت کے چھٹے سال میں ایمان لائے تھے اور اس وقت یہ سورت نازل ہی نہیں ہوئی تھی) اور یہ تطبیق کرنا غیر ظاہر ہے کہ ہوسکتا ہے اس کا کچھ حصہ پہلے نازل ہوا ہو اور حضرت عمر نے اس کو سن لیا ہو اور باقیماندہ زیادہ تر حصہ بعد میں نازل ہوا ہو اور حضرت ابن عباس نے اکثر باقیماندہ حصے کے نزول کو ملحوظ رکھا ہو۔غیر ظاہر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اگر (اسلام عمر والی) یہ حدیث صحیح ہے تو اس میں عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں"پس شروع کی رسول الله نے سورۃ الحاقہپھر سورۃ کے آخری حصے کی چند آیات ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں"سورت کے آخر تک"(یعنی اس روایت کا تقاضا تو یہ ہے کہ یہ سورت شروع سے آخر تك اس وقت نازل ہوچکی تھی پھر مندرجہ بالا تطبیق کیسے ظاہر ہوسکتی ہے) پس الله ہی بہتر جانتا ہے۔بلکہ مجاہد نے کہا ہے کہ الله تعالی کا یہ فرمانا"(اے نبی!) جس چیز کا تمہیں حکم دیا جارہا ہے اس کا اعلان کرو:"اس سے مراد قرآن کو جہرا پڑھنا ہے۔یہ بات مواہب کے مقصد اول میں مذکور ہے۔صاحب مواہب نے کہا:"کہتے ہیں کہ یہ آیت نبوت کے تین سال گزرنے کے بعد نازل ہوئی"۔اس کی شرح میں زرقانی نے کہا ہے کہ ("کہتے ہیں"کہہ کر) ضعف کی طرف اشارہ کیا ہے کیونکہ حافظ نے اپنی سیرت میں یقین ظاہر کیا ہے کہ یہ آیت نبوت کے تیسرے سال کے دوران نازل ہوئی تھی۔(ت)
بالجملہ جہاں تك نظر کی جاتی ہے نماز سابق اصول وارکان میں اسی نماز مستقر کے موافق نظر آتی ہے بلکہ حدیث مذکور بلفظ مواہب میں بعد فکان ذلك اول فرضھا رکعتین (ابتدا میں نماز کی دو رکعتیں فرض ہوئی تھیں۔ت) کے فرمایا:
ثم ان الله تعالی اقرھا فی السفر کذلك واتمھا فی الحضر ۔ پھر الله تعالی نے سفر میں دو رکعتیں برقرار رکھیں اور حضر میں (چار) مکمل کردیں۔(ت)
شرح زرقانی میں ہے:
اقرھا ای شرعھا علی ھیأۃ ماکان "برقرار رکھیں"کا مطلب یہ ہے کہ ان دو رکعتوں کو
بل قال مجاھد فی قولہ تعالی فاصدع بماتؤمر ھو الجھر بالقران ۔حکاہ فی المواھب من المقصد الاولقال: قالوا وکان ذلك بعد ثلث سنین من النبوۃقال الزرقانی: تبرأ منہ لجزم الحافظ فی سیرتہ بان نزول الایۃ کان فی السنۃ الثالثۃ ۔
کس طرح سن لی تھیںجبکہ وہ نبوت کے چھٹے سال میں ایمان لائے تھے اور اس وقت یہ سورت نازل ہی نہیں ہوئی تھی) اور یہ تطبیق کرنا غیر ظاہر ہے کہ ہوسکتا ہے اس کا کچھ حصہ پہلے نازل ہوا ہو اور حضرت عمر نے اس کو سن لیا ہو اور باقیماندہ زیادہ تر حصہ بعد میں نازل ہوا ہو اور حضرت ابن عباس نے اکثر باقیماندہ حصے کے نزول کو ملحوظ رکھا ہو۔غیر ظاہر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اگر (اسلام عمر والی) یہ حدیث صحیح ہے تو اس میں عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں"پس شروع کی رسول الله نے سورۃ الحاقہپھر سورۃ کے آخری حصے کی چند آیات ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں"سورت کے آخر تک"(یعنی اس روایت کا تقاضا تو یہ ہے کہ یہ سورت شروع سے آخر تك اس وقت نازل ہوچکی تھی پھر مندرجہ بالا تطبیق کیسے ظاہر ہوسکتی ہے) پس الله ہی بہتر جانتا ہے۔بلکہ مجاہد نے کہا ہے کہ الله تعالی کا یہ فرمانا"(اے نبی!) جس چیز کا تمہیں حکم دیا جارہا ہے اس کا اعلان کرو:"اس سے مراد قرآن کو جہرا پڑھنا ہے۔یہ بات مواہب کے مقصد اول میں مذکور ہے۔صاحب مواہب نے کہا:"کہتے ہیں کہ یہ آیت نبوت کے تین سال گزرنے کے بعد نازل ہوئی"۔اس کی شرح میں زرقانی نے کہا ہے کہ ("کہتے ہیں"کہہ کر) ضعف کی طرف اشارہ کیا ہے کیونکہ حافظ نے اپنی سیرت میں یقین ظاہر کیا ہے کہ یہ آیت نبوت کے تیسرے سال کے دوران نازل ہوئی تھی۔(ت)
بالجملہ جہاں تك نظر کی جاتی ہے نماز سابق اصول وارکان میں اسی نماز مستقر کے موافق نظر آتی ہے بلکہ حدیث مذکور بلفظ مواہب میں بعد فکان ذلك اول فرضھا رکعتین (ابتدا میں نماز کی دو رکعتیں فرض ہوئی تھیں۔ت) کے فرمایا:
ثم ان الله تعالی اقرھا فی السفر کذلك واتمھا فی الحضر ۔ پھر الله تعالی نے سفر میں دو رکعتیں برقرار رکھیں اور حضر میں (چار) مکمل کردیں۔(ت)
شرح زرقانی میں ہے:
اقرھا ای شرعھا علی ھیأۃ ماکان "برقرار رکھیں"کا مطلب یہ ہے کہ ان دو رکعتوں کو
حوالہ / References
∞المواہب اللدنیہ الجہر بالدعوۃ المکتب الاسلامی بیروت ١/٢٢٢ و ٢٢٣€
∞شرح الزرقانی علی المواہب مراتب الوحی از مقصد اول مطبعہ العامرہ مصر ١/٢٨٧€
∞المواہب اللدنیہ اول امر الصلٰو ۃ المکتب الاسلامی بیروت ١/٢١١€
∞شرح الزرقانی علی المواہب مراتب الوحی از مقصد اول مطبعہ العامرہ مصر ١/٢٨٧€
∞المواہب اللدنیہ اول امر الصلٰو ۃ المکتب الاسلامی بیروت ١/٢١١€
یصلیھا قبل۔ اسی طرح مشروع قرار دے دیا جس طرح آپ پہلے سے پڑھتے تھے۔(ت)
قبل اس سے ظاہر یہ کہ پیش از معراج دو رکعتیں اسی طرح کی تھیں جیسی اب ہیں مگر بعض علماء فرماتے ہیں معراج سے پہلے رکوع اصلا نہ تھا نہ اس شریعت میں نہ اگلے شرائع میں ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم اور ان کی امت مرحومہ کے خصائص سے ہے کہ بعد اسرا عطا ہوا بلکہ معراج مبارك کی صبح کو جو پہلی نماز ظہر پڑھی گئی اس تك رکوع نہ تھا اس کے بعد عصر میں اس کا حکم آیا اور حضور وصحابہ نے ادا فرمایا صلی الله تعالی علیہ وسلم مسند بزار ومعجم اوسط طبرانی میں امیرالمومنین علی کرم الله وجہہ کی حدیث اس معنی کو مفید امام جلال الدین سیوطی خصائص کبری میں فرماتے ہیں:
باب اختصاصہ صلی الله تعالی علیہ وسلم بالرکوع فی الصلاۃ۔ذکر جماعۃ من المفسرین فی قولہ تعالی وارکعوا مع الراکعینان مشروعیۃ الرکوع فی الصلاۃ خاص بھذہ الملۃوانہ لارکوع فی صلاۃ بنی اسرائیلولذا امرھم بالرکوع مع امۃ محمد صلی الله تعالی علیہ وسلمقلت: وقد یستدل لہ بما اخرجہ البزار والطبرانی فی الاوسط عن علی رضی الله تعالی عنہقال: اول صلاۃ رکعنا فیھا صلوۃ العصرفقلت یارسول الله ماھذا قال: بھذا امرت۔ووجہ الاستدلال انہ صلی قبل ذلك صلاۃ الظھروصلی قبل فرض الصلوات الخمس قیام اللیل وغیر ذلکفکون الصلاۃ السابقۃ بلارکوع قرینۃ لخلو صلاۃ الامم السابقۃ منہ اھ۔ باباس بیان میں کہ رسول الله نماز میں رکوع کے ساتھ مختص ہیں۔مفسرین کی ایك جماعت نے الله تعالی کے فرمان"اور رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ"کی تفسیر میں لکھا ہے کہ نماز میں رکوع کا ہونا اس امت کے ساتھ خاص ہےاور بنی اسرائیل کی نماز میں رکوع نہیں تھااسی لئے ان کو حکم دیا گیا ہے کہ امت محمد صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ رکوع کریں۔اور اس پر دلیل پیش کی جاتی ہے کہ بزار نے اور طبرانی نے اوسط میں حضرت علی رضی الله عنہ سے تخریج کی ہے کہ پہلی نماز جس میں ہم نے رکوع کیا وہ عصر کی نماز تھیتو ہم نے کہا:"یارسول الله ! یہ کیا ہے"تو آپ نے فرمایا:"مجھے اسی طرح حکم دیا گیا ہے"۔استدلال کی بنیاد یہ ہے کہ رسول الله نے اس سے پہلے ظہر کی نماز پڑھی تھیاور پانچ نمازوں کی فرضیت سے پہلے قیام لیل بھی کرتے تھےکچھ اور نوافل بھی پڑھتے تھےتو ان تمام نمازوں میں رکوع کا نہ ہونا اس بات کا قرینہ ہے کہ پہلی امتوں کی نمازوں میں رکوع نہ تھا اھ (ت)
قبل اس سے ظاہر یہ کہ پیش از معراج دو رکعتیں اسی طرح کی تھیں جیسی اب ہیں مگر بعض علماء فرماتے ہیں معراج سے پہلے رکوع اصلا نہ تھا نہ اس شریعت میں نہ اگلے شرائع میں ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم اور ان کی امت مرحومہ کے خصائص سے ہے کہ بعد اسرا عطا ہوا بلکہ معراج مبارك کی صبح کو جو پہلی نماز ظہر پڑھی گئی اس تك رکوع نہ تھا اس کے بعد عصر میں اس کا حکم آیا اور حضور وصحابہ نے ادا فرمایا صلی الله تعالی علیہ وسلم مسند بزار ومعجم اوسط طبرانی میں امیرالمومنین علی کرم الله وجہہ کی حدیث اس معنی کو مفید امام جلال الدین سیوطی خصائص کبری میں فرماتے ہیں:
باب اختصاصہ صلی الله تعالی علیہ وسلم بالرکوع فی الصلاۃ۔ذکر جماعۃ من المفسرین فی قولہ تعالی وارکعوا مع الراکعینان مشروعیۃ الرکوع فی الصلاۃ خاص بھذہ الملۃوانہ لارکوع فی صلاۃ بنی اسرائیلولذا امرھم بالرکوع مع امۃ محمد صلی الله تعالی علیہ وسلمقلت: وقد یستدل لہ بما اخرجہ البزار والطبرانی فی الاوسط عن علی رضی الله تعالی عنہقال: اول صلاۃ رکعنا فیھا صلوۃ العصرفقلت یارسول الله ماھذا قال: بھذا امرت۔ووجہ الاستدلال انہ صلی قبل ذلك صلاۃ الظھروصلی قبل فرض الصلوات الخمس قیام اللیل وغیر ذلکفکون الصلاۃ السابقۃ بلارکوع قرینۃ لخلو صلاۃ الامم السابقۃ منہ اھ۔ باباس بیان میں کہ رسول الله نماز میں رکوع کے ساتھ مختص ہیں۔مفسرین کی ایك جماعت نے الله تعالی کے فرمان"اور رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ"کی تفسیر میں لکھا ہے کہ نماز میں رکوع کا ہونا اس امت کے ساتھ خاص ہےاور بنی اسرائیل کی نماز میں رکوع نہیں تھااسی لئے ان کو حکم دیا گیا ہے کہ امت محمد صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ رکوع کریں۔اور اس پر دلیل پیش کی جاتی ہے کہ بزار نے اور طبرانی نے اوسط میں حضرت علی رضی الله عنہ سے تخریج کی ہے کہ پہلی نماز جس میں ہم نے رکوع کیا وہ عصر کی نماز تھیتو ہم نے کہا:"یارسول الله ! یہ کیا ہے"تو آپ نے فرمایا:"مجھے اسی طرح حکم دیا گیا ہے"۔استدلال کی بنیاد یہ ہے کہ رسول الله نے اس سے پہلے ظہر کی نماز پڑھی تھیاور پانچ نمازوں کی فرضیت سے پہلے قیام لیل بھی کرتے تھےکچھ اور نوافل بھی پڑھتے تھےتو ان تمام نمازوں میں رکوع کا نہ ہونا اس بات کا قرینہ ہے کہ پہلی امتوں کی نمازوں میں رکوع نہ تھا اھ (ت)
حوالہ / References
∞شرح الزرقانی علی المواہب مراتب الوحی مطبوعہ المطبعۃ العامرہ مصر ١/٧٤۔٢٧٣€
∞الخصائص الکبرٰی باب اختصاصہ صلی اللہ علیہ وسلم بالرکوع مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٢/٢٠٥€
∞الخصائص الکبرٰی باب اختصاصہ صلی اللہ علیہ وسلم بالرکوع مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٢/٢٠٥€
شرح زرقانی مقصد خامس میں ہے:
الرکوع من خصائص الامۃوماصلاہ المصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم قبل الاسراء لارکوع فیہ وکذاظھر عقب الاسراءواول صلاۃ برکوعالعصر بعدھا ۔ رکوع اس امت کی خصوصیات میں سے ہے اور مصطفی صلی الله علیہ وسلم معراج سے پہلے جو نمازیں پڑھا کرتے تھے ان میں رکوع نہ تھااسی طرح معراج کے بعد جو ظہر پڑھی (اس میں بھی رکوع نہ تھا) اس ظہر کے بعد آپ نے جو عصر پڑھی تو وہ پہلی نماز تھی جس میں رکوع کیا گیا۔(ت)
اقول: یہ حدیث طبرانی اگر صحیح یا حسن ہے تو استناد صحیح وحسن ہے ورنہ اس کا صریح معارض حدیث عفیف کندی رضی الله تعالی عنہ سے موجود کہ وہ زمانہ جاہلیت میں مکہ معظمہ میں آئے کعبہ کے سامنے بیٹھے تھے دن خوب چڑھ گیا تھا کہ ایك جوان تشریف لائے اور آسمان کو دیکھ کر روبکعبہ کھڑے ہوگئے ذرا دیر میں ایك لڑکے تشریف لائے وہ ان کے دہنے ہاتھ پر قائم ہوئے تھوڑی دیر میں ایك بی بی تشریف لائیں وہ پیچھے کھڑی ہوئیں پھر جوان نے رکوع فرمایا تو یہ دونوں رکوع میں گئے پھر جوان نے سر مبارك اٹھایا تو ان دونوں نے اٹھایا جوان سجدے میں گئے تو یہ دونوں بھی گئے انہوں نے حضرت عباس رضی الله عنہ سے حال پوچھا کہا یہ جوان میرے بھتیجے محمد بن عبدالله صلی الله علیہ وسلم ہیں اور یہ لڑکے میرے بھتیجے علی اور یہ بی بی خدیجۃ الکبری ہیں رضی الله تعالی عنہمامیرے یہ بھتیجے کہتے ہیں کہ آسمان وزمین کے مالك نے انہیں اس دین کا حکم دیا ہے اور ان کے ساتھ ابھی یہی دو مسلمان ہوئے ہیں۔
اخرج ابن عدی فی الکامل وابن عساکر فی التاریخ عن عفیف الکندی رضی الله تعالی عنہقال: جئت فی الجاھلیۃ الی مکۃوانا ارید ان ابتاع لاھلی من ثیابھا وعطرھافاتیت العباسوکان رجلا تاجرافانی عندہ جالس انظر الی الکعبۃوقدکلفت الشمس وارتفعت فی السماء فذھبت اذ اقبل شاب فنظر الی السماء ثم قام مستقبل الکعبۃفلم البث الا یسیرا حتی ابن عدی نے کامل میں اور ابن عساکر نے تاریخ میں عفیف کندی رضی الله عنہ سے تخریج کی ہےوہ فرماتے ہیں کہ میں زمانہ جاہلیت میں مکہ مکرمہ آیامیں مکہ کے کپڑے اور عطر خریدنا چاہتا تھا اس لئے عباس کے پاس آیا کیونکہ وہ تجارت کیا کرتے تھے ابھی میں ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور سورج خوب روشن تھا اور آسمان پر بلند ہوچکا تھا کہ اچانك ایك نوجوان آئے اور آسمان کی طرف دیکھا پھر قبلہ رو ہوکر کھڑے ہوگئےتھوڑی دیر کے بعد ایك لڑکے آئے اور جوان کے دائیں طرف کھڑے ہوگئے
الرکوع من خصائص الامۃوماصلاہ المصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم قبل الاسراء لارکوع فیہ وکذاظھر عقب الاسراءواول صلاۃ برکوعالعصر بعدھا ۔ رکوع اس امت کی خصوصیات میں سے ہے اور مصطفی صلی الله علیہ وسلم معراج سے پہلے جو نمازیں پڑھا کرتے تھے ان میں رکوع نہ تھااسی طرح معراج کے بعد جو ظہر پڑھی (اس میں بھی رکوع نہ تھا) اس ظہر کے بعد آپ نے جو عصر پڑھی تو وہ پہلی نماز تھی جس میں رکوع کیا گیا۔(ت)
اقول: یہ حدیث طبرانی اگر صحیح یا حسن ہے تو استناد صحیح وحسن ہے ورنہ اس کا صریح معارض حدیث عفیف کندی رضی الله تعالی عنہ سے موجود کہ وہ زمانہ جاہلیت میں مکہ معظمہ میں آئے کعبہ کے سامنے بیٹھے تھے دن خوب چڑھ گیا تھا کہ ایك جوان تشریف لائے اور آسمان کو دیکھ کر روبکعبہ کھڑے ہوگئے ذرا دیر میں ایك لڑکے تشریف لائے وہ ان کے دہنے ہاتھ پر قائم ہوئے تھوڑی دیر میں ایك بی بی تشریف لائیں وہ پیچھے کھڑی ہوئیں پھر جوان نے رکوع فرمایا تو یہ دونوں رکوع میں گئے پھر جوان نے سر مبارك اٹھایا تو ان دونوں نے اٹھایا جوان سجدے میں گئے تو یہ دونوں بھی گئے انہوں نے حضرت عباس رضی الله عنہ سے حال پوچھا کہا یہ جوان میرے بھتیجے محمد بن عبدالله صلی الله علیہ وسلم ہیں اور یہ لڑکے میرے بھتیجے علی اور یہ بی بی خدیجۃ الکبری ہیں رضی الله تعالی عنہمامیرے یہ بھتیجے کہتے ہیں کہ آسمان وزمین کے مالك نے انہیں اس دین کا حکم دیا ہے اور ان کے ساتھ ابھی یہی دو مسلمان ہوئے ہیں۔
اخرج ابن عدی فی الکامل وابن عساکر فی التاریخ عن عفیف الکندی رضی الله تعالی عنہقال: جئت فی الجاھلیۃ الی مکۃوانا ارید ان ابتاع لاھلی من ثیابھا وعطرھافاتیت العباسوکان رجلا تاجرافانی عندہ جالس انظر الی الکعبۃوقدکلفت الشمس وارتفعت فی السماء فذھبت اذ اقبل شاب فنظر الی السماء ثم قام مستقبل الکعبۃفلم البث الا یسیرا حتی ابن عدی نے کامل میں اور ابن عساکر نے تاریخ میں عفیف کندی رضی الله عنہ سے تخریج کی ہےوہ فرماتے ہیں کہ میں زمانہ جاہلیت میں مکہ مکرمہ آیامیں مکہ کے کپڑے اور عطر خریدنا چاہتا تھا اس لئے عباس کے پاس آیا کیونکہ وہ تجارت کیا کرتے تھے ابھی میں ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور سورج خوب روشن تھا اور آسمان پر بلند ہوچکا تھا کہ اچانك ایك نوجوان آئے اور آسمان کی طرف دیکھا پھر قبلہ رو ہوکر کھڑے ہوگئےتھوڑی دیر کے بعد ایك لڑکے آئے اور جوان کے دائیں طرف کھڑے ہوگئے
حوالہ / References
∞شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الخامس فی المعراج والاسراء مطبوعہ المطبعۃ العامرہ مصر ٦/٥٧€
لایتابع علی حدیثہ۔ اس کی حدیث پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔(ت)
اور دعوی اختصاص امت پر آیہ کریمہ و ظن داود انما فتنہ فاستغفر ربہ و خر راکعا و اناب ﴿۲۴﴾ (اور داؤد نے گمان کیا کہ ہم نے اسے آزمایا ہے تو اس نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی اور رکوع میں گرگیا اور انابت اختیار کی۔ت) کے ورود میں اگر تامل بھی ہو فان کثیرا منھم فسروا ھھنا الرکوع بالسجود وان قال الحسین بن الفضل ان معناہ خربعد ماکان راکعا ای سجد (کیونکہ بہت سے علماء نے یہاں رکوع سے سجود مراد لیا ہےاگرچہ حسین ابن فضل نے کہا ہے کہ"گرگیا"کا معنی یہ ہے کہ رکوع کے بعد گرگیا یعنی سجدے میں چلاگیا۔ت) تو آیہ کریمہ یمریم اقنتی لربک واسجدی وارکعی مع الرکعین﴿۴۳﴾ (اے مریم! عاجزی اختیار کرو اپنے رب کے روبرو اور سجدہ کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔ت) ظاہرۃ الورود ہے۔معالم میں ہے:
انما قدم السجود علی الرکوع لانہ کذلك کان فی شریعتھموقیل: بل کان الرکوع قبل السجود فی الشرائع کلھاولیس الواو للترتیب کہا گیا ہے کہ یہاں سجدے کا ذکر رکوع سے پہلے اس لئے ہے کہ ان کی شریعت میں اسی طرح تھا اور بعض نے کہا ہے کہ رکوع تمام شریعتوں میں سجدے سے پہلے تھا
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
من الخامسۃ مات سنۃ مائۃ وعشرین روی عن ابیہ وعن یحیی بن عفیف وروی عنہ سعید بن خیثم وسلم بن قیتبۃ وسلیمان بن صالح سلمویہ وکان امیر اعلی خراسان جوادا ممدوحا قال البخاری یتابع فی حدیثہ کذافی التقریب وتھذیب التھذیب فقیر محمد حامد رضا قادری غفرلہ پر جزم ہے اس کی حدیث میں کمزوری ہے پانچویں طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں ایك سو بیس ہجری میں ان کا وصال ہوا انہوں نے اپنے والد اور یحیی بن عفیف الکندی سے روایت کی ہے اور ان سے سعید بن خیثم وسلم بن قتیبہ اور سلیمان بن صالح سلمویہ نے روایت کی ہے یہ خراسان کے امیر تھے بڑے سخی اور لائق تعریف تھے۔بخاری کہتے ہیں کہ ان کی حدیث میں متابعت کی گئی جیسا کہ التقریب والتہذیب میں ہے فقیر محمد حامد رضا قادری غفرلہ (ت)
اور دعوی اختصاص امت پر آیہ کریمہ و ظن داود انما فتنہ فاستغفر ربہ و خر راکعا و اناب ﴿۲۴﴾ (اور داؤد نے گمان کیا کہ ہم نے اسے آزمایا ہے تو اس نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی اور رکوع میں گرگیا اور انابت اختیار کی۔ت) کے ورود میں اگر تامل بھی ہو فان کثیرا منھم فسروا ھھنا الرکوع بالسجود وان قال الحسین بن الفضل ان معناہ خربعد ماکان راکعا ای سجد (کیونکہ بہت سے علماء نے یہاں رکوع سے سجود مراد لیا ہےاگرچہ حسین ابن فضل نے کہا ہے کہ"گرگیا"کا معنی یہ ہے کہ رکوع کے بعد گرگیا یعنی سجدے میں چلاگیا۔ت) تو آیہ کریمہ یمریم اقنتی لربک واسجدی وارکعی مع الرکعین﴿۴۳﴾ (اے مریم! عاجزی اختیار کرو اپنے رب کے روبرو اور سجدہ کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔ت) ظاہرۃ الورود ہے۔معالم میں ہے:
انما قدم السجود علی الرکوع لانہ کذلك کان فی شریعتھموقیل: بل کان الرکوع قبل السجود فی الشرائع کلھاولیس الواو للترتیب کہا گیا ہے کہ یہاں سجدے کا ذکر رکوع سے پہلے اس لئے ہے کہ ان کی شریعت میں اسی طرح تھا اور بعض نے کہا ہے کہ رکوع تمام شریعتوں میں سجدے سے پہلے تھا
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
من الخامسۃ مات سنۃ مائۃ وعشرین روی عن ابیہ وعن یحیی بن عفیف وروی عنہ سعید بن خیثم وسلم بن قیتبۃ وسلیمان بن صالح سلمویہ وکان امیر اعلی خراسان جوادا ممدوحا قال البخاری یتابع فی حدیثہ کذافی التقریب وتھذیب التھذیب فقیر محمد حامد رضا قادری غفرلہ پر جزم ہے اس کی حدیث میں کمزوری ہے پانچویں طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں ایك سو بیس ہجری میں ان کا وصال ہوا انہوں نے اپنے والد اور یحیی بن عفیف الکندی سے روایت کی ہے اور ان سے سعید بن خیثم وسلم بن قتیبہ اور سلیمان بن صالح سلمویہ نے روایت کی ہے یہ خراسان کے امیر تھے بڑے سخی اور لائق تعریف تھے۔بخاری کہتے ہیں کہ ان کی حدیث میں متابعت کی گئی جیسا کہ التقریب والتہذیب میں ہے فقیر محمد حامد رضا قادری غفرلہ (ت)
حوالہ / References
∞القرآن ٣٨/٢٤€
∞القرآن سورۃ آل عمران ٣ آیت ٤٣€
∞القرآن سورۃ آل عمران ٣ آیت ٤٣€
بل للجمع ۔ اور واؤ ترتیب کے لئے نہیں ہے بلکہ جمع کیلئے ہے۔(ت)
اقول یہاں اگرچہ تاویل رکوع بخشوع ممکن مگر حدیث شب معراج:
ثم دخلت المسجد فعرفت النبیین مابین قائم و راکع وساجد رواہ الحسن بن عرفۃ وابونعیم عن ابن مسعود رضی الله تعالی عنہ۔ پھر میں مسجد میں داخل ہوا تو میں نے نبیوں کو جاناکہ کچھ قیام میں ہیں کچھ رکوع میں اور کچھ سجود میں۔اس کو حسن ابن عرفہ اور ابونعیم نے ابن مسعود رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت)
جس میں تصریح ہے کہ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم جب مسجد اقصی میں تشریف فرما ہوئے انبیائے کرام علیہم الصلو ۃ والسلام کو ملاحظہ فرمایا کوئی قیام میں ہے کوئی رکوع میں کوئی سجود میں نص مفسر غیر قابل التاویل ہے۔
فانہ یفید التقسیمولایجوز ان یکون الخشوع قسیما للقیام والسجود۔فاندفع ماذکر العلامۃ الزرقانی ھھنا حیث قال تحت قولہ مابین قائم وراکعای خاشع کخشوع الراکعفلایرد ان الرکوع من خصائص الامۃ الی اخر ماقدمنا نقلہ ورأیتنیکتبت علی ھامشہماحاصلہ ان فیہ مثل ماقدمنا عن الزرقانی نفسہ ان النص یحمل علی حقیقتہ الشرعیۃ مھما امکنوقد امکن و اختصاص ھذہ الامۃ من بین الامملاینفی صدور الرکوع من الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلاملاسیما بعد الوفاۃ لاسیما بعد ماظھرت شریعۃ نبی الانبیاء صلی اللہ کیونکہ یہ تقسیم کا فائدہ دیتا ہے اور یہ نہیں ہوسکتا کہ خشوعقیام اور سجود کے بالمقابل ایك قسم ہو۔اس سے مسترد ہوگئی وہ بات جو علامہ زرقانی نے یہاں ذکر کی ہے۔انہوں نے"کچھ قیام میں""کچھ رکوع میں"کی شرح کرتے ہوئے کہا ہے"یعنی اس طرح خشوع کرنے والے جس طرح رکوع کرنے والا کرتا ہے"اب یہ اعتراض پیدا نہیں ہوگا کہ رکوع اس امت کی خصوصیات سے ہے...... آخر تکجیسا کہ ہم پہلے زرقانی سے نقل کرچکے ہیں۔اور مجھے یاد آرہا ہے کہ میں نے اس کے حاشیہ پر جو لکھا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ اس میں بھی وہی خامی ہے جو ہم زرقانی ہی سے نقل کرچکے ہیں کہ نص جہاں تك ہو سکے اپنی شرعی حقیقت پر حمل کی جائے گیاور (یہاں شرعی حقیقت
اقول یہاں اگرچہ تاویل رکوع بخشوع ممکن مگر حدیث شب معراج:
ثم دخلت المسجد فعرفت النبیین مابین قائم و راکع وساجد رواہ الحسن بن عرفۃ وابونعیم عن ابن مسعود رضی الله تعالی عنہ۔ پھر میں مسجد میں داخل ہوا تو میں نے نبیوں کو جاناکہ کچھ قیام میں ہیں کچھ رکوع میں اور کچھ سجود میں۔اس کو حسن ابن عرفہ اور ابونعیم نے ابن مسعود رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت)
جس میں تصریح ہے کہ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم جب مسجد اقصی میں تشریف فرما ہوئے انبیائے کرام علیہم الصلو ۃ والسلام کو ملاحظہ فرمایا کوئی قیام میں ہے کوئی رکوع میں کوئی سجود میں نص مفسر غیر قابل التاویل ہے۔
فانہ یفید التقسیمولایجوز ان یکون الخشوع قسیما للقیام والسجود۔فاندفع ماذکر العلامۃ الزرقانی ھھنا حیث قال تحت قولہ مابین قائم وراکعای خاشع کخشوع الراکعفلایرد ان الرکوع من خصائص الامۃ الی اخر ماقدمنا نقلہ ورأیتنیکتبت علی ھامشہماحاصلہ ان فیہ مثل ماقدمنا عن الزرقانی نفسہ ان النص یحمل علی حقیقتہ الشرعیۃ مھما امکنوقد امکن و اختصاص ھذہ الامۃ من بین الامملاینفی صدور الرکوع من الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلاملاسیما بعد الوفاۃ لاسیما بعد ماظھرت شریعۃ نبی الانبیاء صلی اللہ کیونکہ یہ تقسیم کا فائدہ دیتا ہے اور یہ نہیں ہوسکتا کہ خشوعقیام اور سجود کے بالمقابل ایك قسم ہو۔اس سے مسترد ہوگئی وہ بات جو علامہ زرقانی نے یہاں ذکر کی ہے۔انہوں نے"کچھ قیام میں""کچھ رکوع میں"کی شرح کرتے ہوئے کہا ہے"یعنی اس طرح خشوع کرنے والے جس طرح رکوع کرنے والا کرتا ہے"اب یہ اعتراض پیدا نہیں ہوگا کہ رکوع اس امت کی خصوصیات سے ہے...... آخر تکجیسا کہ ہم پہلے زرقانی سے نقل کرچکے ہیں۔اور مجھے یاد آرہا ہے کہ میں نے اس کے حاشیہ پر جو لکھا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ اس میں بھی وہی خامی ہے جو ہم زرقانی ہی سے نقل کرچکے ہیں کہ نص جہاں تك ہو سکے اپنی شرعی حقیقت پر حمل کی جائے گیاور (یہاں شرعی حقیقت
حوالہ / References
∞تفسیر معالم التنزیل تفسیر سورہ آل عمران مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١۔٢/٣٤٧€
∞شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الخامس فی المعراج والاسراء مطبوعہ مطبعۃ العامرۃ مصر٦/٥٦ €
∞شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الخامس فی المعراج والاسراء مطبوعہ مطبعۃ العامرۃ مصر ٦/٥٧€
∞شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الخامس فی المعراج والاسراء مطبوعہ مطبعۃ العامرۃ مصر٦/٥٦ €
∞شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الخامس فی المعراج والاسراء مطبوعہ مطبعۃ العامرۃ مصر ٦/٥٧€
تعالی علیہ وعلیھم وسلم ونسخت شرائعھم عن اخرھا۔وقرانہ بقیام وسجود ادل دلیل علی ان المراد الرکوع الشرعی۔وکیف یحمل علی اللغوی وھو الخشوعمع انہ قسم بینھم القیام والرکوع والسجودافتری قائمھم وساجدھم غیر خاشع اھ ماکتبت علیہ۔
ثم اقول: الحدیث ان دل علی خلوصلاۃ بنی اسرائیل عن الرکوعکان ادل علی خلوصلاۃ الامۃ الابرھیمیۃ عنہفان ملتنا ھذہ ھی الملۃ الابرھیمیۃمع ان الله تعالی یقول وعہدنا الی ابرہم و اسمعیل ان طہرا بیتی للطائفین والعکفین والرکع السجود﴿۱۲۵﴾
وقال تعالی و اذ بوانا لابرہیم مکان البیت ان لا تشرک بی شیـا و طہر بیتی للطائفین و القائمین والرکع السجود ﴿۲۶﴾
۔وادعاء ان المراد بالرکع الامۃ المحمدیۃ خاصۃ واضح البعد۔صلی الله تعالی علی الجیب والہ وامتہ و
مراد لینا) ممکن ہے۔اور باقی امتوں میں سے اس امت کا رکوع کے ساتھ خاص ہونااس بات کے منافی نہیں ہے کہ انبیاء سے رکوع کا صدور ہوتا رہا ہےخصوصا ان انبیاء کے وصال کے بعدخصوصا نبی الانبیاء صلی الله علیہ وسلم کی شریعت ظاہر ہونے اور باقی انبیاء کی شریعتیں یکسر منسوخ ہونے کے بعد۔اور حدیث میں رکوع کا قیام اور سجود کے ساتھ مذکور ہوناواضح دلیل ہے کہ یہاں شرعی رکوع مراد ہے۔لغوی رکوع یعنی خشوع مراد ہو بھی کیسے ہوسکتا ہے جبکہ انبیاء کیلئے تین قسم کی عبادات مذکور ہیں یعنی قیامرکوع اور سجود۔کیا تمہارے خیال میں جو انبیاء قائم یا ساجد تھے وہ خشوع کرنے والے نہیں تھے میں نے جو کچھ حاشیہ میں لکھا تھا وہ ختم ہوا۔(ت)
پھر میں کہتا ہوں کہ (حضرت علی والی) حدیث اگر اس پر دال ہے کہ بنی اسرائیل کی نمازیں رکوع سے خالی تھیں تو ملت ابراہیمیہ کی نمازوں کے رکوع سے خالی ہونے پر بطریق اولی دال ہوگی کیونکہ ہماری ملت تو ملت ابراہیمی ہی ہے باوجودیکہ الله تعالی فرماتا ہے:"اور عہد کیا ہم نے ابراہیم واسمعیل کی طرف کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں کے لئےاعتکاف کرنے والوں کے لئے اور رکوع وسجود کرنے والوں کیلئے پاك رکھو"۔اور الله تعالی فرماتا ہے"اور جب ٹھکانا بنادیا ہم نے ابراہیم کے لئے بیت الله کی جگہ کو کہ نہ شریك ٹھہراؤ میرے ساتھ کسی کو اور میرے گھر کو پاك رکھو طواف کرنے والوں کے لئے
ثم اقول: الحدیث ان دل علی خلوصلاۃ بنی اسرائیل عن الرکوعکان ادل علی خلوصلاۃ الامۃ الابرھیمیۃ عنہفان ملتنا ھذہ ھی الملۃ الابرھیمیۃمع ان الله تعالی یقول وعہدنا الی ابرہم و اسمعیل ان طہرا بیتی للطائفین والعکفین والرکع السجود﴿۱۲۵﴾
وقال تعالی و اذ بوانا لابرہیم مکان البیت ان لا تشرک بی شیـا و طہر بیتی للطائفین و القائمین والرکع السجود ﴿۲۶﴾
۔وادعاء ان المراد بالرکع الامۃ المحمدیۃ خاصۃ واضح البعد۔صلی الله تعالی علی الجیب والہ وامتہ و
مراد لینا) ممکن ہے۔اور باقی امتوں میں سے اس امت کا رکوع کے ساتھ خاص ہونااس بات کے منافی نہیں ہے کہ انبیاء سے رکوع کا صدور ہوتا رہا ہےخصوصا ان انبیاء کے وصال کے بعدخصوصا نبی الانبیاء صلی الله علیہ وسلم کی شریعت ظاہر ہونے اور باقی انبیاء کی شریعتیں یکسر منسوخ ہونے کے بعد۔اور حدیث میں رکوع کا قیام اور سجود کے ساتھ مذکور ہوناواضح دلیل ہے کہ یہاں شرعی رکوع مراد ہے۔لغوی رکوع یعنی خشوع مراد ہو بھی کیسے ہوسکتا ہے جبکہ انبیاء کیلئے تین قسم کی عبادات مذکور ہیں یعنی قیامرکوع اور سجود۔کیا تمہارے خیال میں جو انبیاء قائم یا ساجد تھے وہ خشوع کرنے والے نہیں تھے میں نے جو کچھ حاشیہ میں لکھا تھا وہ ختم ہوا۔(ت)
پھر میں کہتا ہوں کہ (حضرت علی والی) حدیث اگر اس پر دال ہے کہ بنی اسرائیل کی نمازیں رکوع سے خالی تھیں تو ملت ابراہیمیہ کی نمازوں کے رکوع سے خالی ہونے پر بطریق اولی دال ہوگی کیونکہ ہماری ملت تو ملت ابراہیمی ہی ہے باوجودیکہ الله تعالی فرماتا ہے:"اور عہد کیا ہم نے ابراہیم واسمعیل کی طرف کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں کے لئےاعتکاف کرنے والوں کے لئے اور رکوع وسجود کرنے والوں کیلئے پاك رکھو"۔اور الله تعالی فرماتا ہے"اور جب ٹھکانا بنادیا ہم نے ابراہیم کے لئے بیت الله کی جگہ کو کہ نہ شریك ٹھہراؤ میرے ساتھ کسی کو اور میرے گھر کو پاك رکھو طواف کرنے والوں کے لئے
حوالہ / References
∞القرآن سورہ البقرۃ ٢ آیت ١٢٥€
∞القرآن سورہ الحج ٢٢ آیت ٢٦€
∞القرآن سورہ الحج ٢٢ آیت ٢٦€
بارك وسلم۔ قیام کرنے والوں کیلئے اور رکوع وسجود کرنے والوں کیلئے۔اور یہ دعوی کرنا کہ رکوع کرنے والوں سے مراد صرف امت محمدیہ ہے واضح طور پر بعید ہے صلی الله علی الحبیب وآلہ وامتہ وبارك وسلم۔(ت)
بالجملہ مدار کار صحت حدیث مذکور طبرانی وبزار پر ہے اگر وہ صحیح ہے تو ثابت ہوگا کہ معراج شریف سے پہلے کی نمازیں بلکہ ایك نماز بعد کی بھی بے رکوع تھی ورنہ ظاہر احادیث یہی ہے کہ نماز سابق ولا حق باہم یکساں ومتوافق ہیں۔
ھذا کلہ ماظھرلیوالعلم بالحق عندربیوالله سبحنہ وتعالی اعلموعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ یہ سب کچھ میرے لیے ظاہر ہوا ہے اور حق کا علم میرے رب کو ہےالله سبحنہ وتعالی بہتر علم رکھنے والا ہے اور اسی کا علم زیادہ تام اور محکم ہے۔(ت)
مسئلہ() اس بنارس محلہ کتواپورہ۔مرسلہ مولوی حاجی محمد رضا علی صاحب ماہ رمضان ھ
سوال:
خلاصہ فتوائے مولوی صاحب موصوف کہ بطلب تصدیق نزد فقیر فرستادند
بسم الله الرحمن الرحیم
ایك اشتہار جو چھاپا گیا ہے اس میں لکھا ہے کہ شیخ عبدالله نامی بماہ ربیع الاول ھ شب جمعہ روضہ مبارك رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم پر بیٹھے تھے ان کو پیغمبر خدا صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اونگھ میں باتیں کیں جب آنکھ کھلی سب مضمون اشتہار کاغذ پر لکھا قبر شریف پر دھرا تھا اور بہت باتیں اس میں مکتوب میں درباب اس اشتہار کے کیا ارشاد ہے۔بینوا ایہا العلماء رحمکم الله۔
الجواب وھو العلیم:
کہتا ہے فقیر محمد رضا علی البنارسی الحنفی اس میں جو علامات قیامت لکھے ہیں بے شك علامات صغری سب اس زمانہ میں موجود ہیں اور اسلام میں ضعف خصوصا ہندوستان میں الله تعالی سب مسلمانوں کو اور فقیر کو تو بہ نصیب کرے مگر اشتہار میں جو لکھا ہے کہ شیخ عبدالله سے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے خواب یا اونگھ
بالجملہ مدار کار صحت حدیث مذکور طبرانی وبزار پر ہے اگر وہ صحیح ہے تو ثابت ہوگا کہ معراج شریف سے پہلے کی نمازیں بلکہ ایك نماز بعد کی بھی بے رکوع تھی ورنہ ظاہر احادیث یہی ہے کہ نماز سابق ولا حق باہم یکساں ومتوافق ہیں۔
ھذا کلہ ماظھرلیوالعلم بالحق عندربیوالله سبحنہ وتعالی اعلموعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ یہ سب کچھ میرے لیے ظاہر ہوا ہے اور حق کا علم میرے رب کو ہےالله سبحنہ وتعالی بہتر علم رکھنے والا ہے اور اسی کا علم زیادہ تام اور محکم ہے۔(ت)
مسئلہ() اس بنارس محلہ کتواپورہ۔مرسلہ مولوی حاجی محمد رضا علی صاحب ماہ رمضان ھ
سوال:
خلاصہ فتوائے مولوی صاحب موصوف کہ بطلب تصدیق نزد فقیر فرستادند
بسم الله الرحمن الرحیم
ایك اشتہار جو چھاپا گیا ہے اس میں لکھا ہے کہ شیخ عبدالله نامی بماہ ربیع الاول ھ شب جمعہ روضہ مبارك رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم پر بیٹھے تھے ان کو پیغمبر خدا صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اونگھ میں باتیں کیں جب آنکھ کھلی سب مضمون اشتہار کاغذ پر لکھا قبر شریف پر دھرا تھا اور بہت باتیں اس میں مکتوب میں درباب اس اشتہار کے کیا ارشاد ہے۔بینوا ایہا العلماء رحمکم الله۔
الجواب وھو العلیم:
کہتا ہے فقیر محمد رضا علی البنارسی الحنفی اس میں جو علامات قیامت لکھے ہیں بے شك علامات صغری سب اس زمانہ میں موجود ہیں اور اسلام میں ضعف خصوصا ہندوستان میں الله تعالی سب مسلمانوں کو اور فقیر کو تو بہ نصیب کرے مگر اشتہار میں جو لکھا ہے کہ شیخ عبدالله سے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے خواب یا اونگھ
میں فرمایا علماء کتب معتبرہ میں لکھتے ہیں اگر کوئی کہے ہم سے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے خواب میں ایسا فرمایا اگر قائل فاسق ہے تو بلاشك کاذب ہے اور متقی ہے تو دیکھیں گے کہ یہ حکم جو یہ شخص پیغمبر خدا صلی الله تعالی علیہ وسلم کی طرف نسبت کرتا ہے اگر برابر ہے قرآن وحدیث اور نصوص قطعیہ شرعیہ اور فقہ کے تو یہ قول بھی واجب الاذعان اور واجب الاتباع ہے اور اگر مخالف ہے ہرگز معتبر اور واجب الاتباع نہیں کیونکہ جو کلمہ پیغمبر خدا صلی الله تعالی علیہ وسلم نے بیداری میں صحابہ کرام سے فرمایا اور متواتر منقول ہے اسی کا اعتبار کریں گے مخالف کو اضغاث احلام شمار کریں گے ورنہ تعارض آپ کے کلام میں لازم آئے گا۔
کذا ذکرہ الملا علی قاری فی المقدمۃ السالمۃ فی خوف الخاتمۃ وفی الحرز الثمین والعارف بن ابی جمرۃ الاندلسی المالکی فی بھجۃ النفوس شرح مختصر صحیح البخاری والشھاب احمد الخفاجی الحنفی فی نسیم الریاض وغیرھم فی کتبھم۔ اسی طرح ذکر کیا ہے ملا علی قاری نے"المقدمۃ السالمۃ فی خوف الخاتمہ"اور"الحرز الثمین"میں۔اور عارف ابن ابی جمرہ اندلسی نے"بہجۃ النفوس"میں جوکہ مختصر صحیح بخاری کی شرح ہے اور شہاب احمد خفاجی حنفی نے"نسیم الریاض"میںاور دیگر علماء نے اپنی اپنی کتابوں میں۔(ت)
اور بھی فرمایا الله تعالی نے الیوم اکملت لکم دینکم ۔(آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا ہے)
کلام الہی اور کلام رسالت پناہی بعد اکمال کے اب منسوخ نہیں ہوسکتا الغرض کذب اس اشتہار کا کئی طور سے معلوم ہوتا ہے والله العلیم الخبیر (اور الله علم اور خبر والا ہے) اس میں لکھا ہے تارك الصلاۃ پر نماز جنازہ نہ پڑھیںغسل نہ دیںقبرستان اہل اسلام میں نہ دفن کریںاس کے ساتھ کھانا نہ کھائیںعیادت نہ کریں۔یہ سب مسائل خلاف قرآن اور حدیث اور فقہ کے ہیںخلاف اہل سنت کے ہیںخوارج سے ملتے ہوئے ہیںہمارے مذہب اہل سنت میں ترك نماز گناہ کبیرہ ہے اور ترك فرض اور ارتکاب کبیرہ سے آدمی کافر نہیں ہوسکتاہاں کبیرہ کو کبیرہ نہ جانے تو بلاشك کافر ہےمنکر نصوص قطعیہ کا بلاشك کافر ہےاور کلمہ گو کوغسل نہ دینانماز جنازہ نہ پڑھنامقابر اہل اسلام میں دفن نہ کرنا نہایت مذموم اور بڑے فساد اور بڑی اہانت کی بات ہے۔اور تارك الصلاۃ کے کفر واسلام کا بحث درمیان ائمہ اربعہ کے معلوم ہے ہمارے امام اعظم تارك الصلاۃ کو کافر نہیں کہتے فاسق کہتے ہیں اور اس کو ادلہ شرعیہ سے ثابت کرتے ہیں اور مراد کفر سے تعذیب مثل کفار کے ہے۔
کذا فی شرح الفقہ الاکبر لملا علی قاری ملا علی قاری کی شرح فقہ اکبر میں
کذا ذکرہ الملا علی قاری فی المقدمۃ السالمۃ فی خوف الخاتمۃ وفی الحرز الثمین والعارف بن ابی جمرۃ الاندلسی المالکی فی بھجۃ النفوس شرح مختصر صحیح البخاری والشھاب احمد الخفاجی الحنفی فی نسیم الریاض وغیرھم فی کتبھم۔ اسی طرح ذکر کیا ہے ملا علی قاری نے"المقدمۃ السالمۃ فی خوف الخاتمہ"اور"الحرز الثمین"میں۔اور عارف ابن ابی جمرہ اندلسی نے"بہجۃ النفوس"میں جوکہ مختصر صحیح بخاری کی شرح ہے اور شہاب احمد خفاجی حنفی نے"نسیم الریاض"میںاور دیگر علماء نے اپنی اپنی کتابوں میں۔(ت)
اور بھی فرمایا الله تعالی نے الیوم اکملت لکم دینکم ۔(آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا ہے)
کلام الہی اور کلام رسالت پناہی بعد اکمال کے اب منسوخ نہیں ہوسکتا الغرض کذب اس اشتہار کا کئی طور سے معلوم ہوتا ہے والله العلیم الخبیر (اور الله علم اور خبر والا ہے) اس میں لکھا ہے تارك الصلاۃ پر نماز جنازہ نہ پڑھیںغسل نہ دیںقبرستان اہل اسلام میں نہ دفن کریںاس کے ساتھ کھانا نہ کھائیںعیادت نہ کریں۔یہ سب مسائل خلاف قرآن اور حدیث اور فقہ کے ہیںخلاف اہل سنت کے ہیںخوارج سے ملتے ہوئے ہیںہمارے مذہب اہل سنت میں ترك نماز گناہ کبیرہ ہے اور ترك فرض اور ارتکاب کبیرہ سے آدمی کافر نہیں ہوسکتاہاں کبیرہ کو کبیرہ نہ جانے تو بلاشك کافر ہےمنکر نصوص قطعیہ کا بلاشك کافر ہےاور کلمہ گو کوغسل نہ دینانماز جنازہ نہ پڑھنامقابر اہل اسلام میں دفن نہ کرنا نہایت مذموم اور بڑے فساد اور بڑی اہانت کی بات ہے۔اور تارك الصلاۃ کے کفر واسلام کا بحث درمیان ائمہ اربعہ کے معلوم ہے ہمارے امام اعظم تارك الصلاۃ کو کافر نہیں کہتے فاسق کہتے ہیں اور اس کو ادلہ شرعیہ سے ثابت کرتے ہیں اور مراد کفر سے تعذیب مثل کفار کے ہے۔
کذا فی شرح الفقہ الاکبر لملا علی قاری ملا علی قاری کی شرح فقہ اکبر میں
حوالہ / References
∞القرآن سورۃ المائدۃ ٥ آیت ٣€
ومیزان الشعرانی ورحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ وشرح الشیخ عبدالحق للمشکوۃ وغیرھا من الکتب المعتبرات۔ امام شعرانی کی میزان میںرحمۃ الامہ فی اختلاف الائمہ میںشیخ عبدالحق کی شرح مشکوۃ میں اور دوسری معتبر کتابوں میں اسی طرح مذکور ہے۔(ت)
اور نماز جنازہ تارك الصلاۃ پر چاہیے۔قال الله تعالی: ولا تصل علی احد منہم مات ابدا (اور نہ نماز پڑھئے ان میں سے کسی ایك پر جو مرجائےکبھی بھی۔) اس آیت میں منع صلاۃ اوپر کافر کے ہے نہ مومن کے اور تارك الصلوہ کو قبرستان مسلمانوں میں دفن کرنا چاہئے کذافی شرح المشکوۃ لعبد الحق الدھلوی وتکمیل الایمان (عبدالحق دہلوی کی شرح مشکوۃ میں اور تکمیل الایمان میں اسی طرح ہے) اور تارك الصلاۃ نجس نہیں اس کے ساتھ بیٹھ کر دوسرے برتن میں کھانے میں کیا قباحت ہےاور عیادت تارك الصلاۃ کی کیسے ممنوع ہوگی جبکہ ہمارے پیغمبر خدا صلی الله تعالی علیہ وسلم نے عیادت یہود کی کی ہے خصوصا واسطے تالیف قلوب کے بلاشك جائز ہے کذافی الحدیث وتحقیق ھذہ المسئلۃ فی المشکوۃ والصحاح الستۃ وشروحھا (حدیث میں اسی طرح ہےاور اس مسئلے کی تحقیق صحاح ستہ اور ان کی شروح میں ہے) بالجملہ نزدیك فقیر کے کل وصیت نامہ پر لوگ عمل کریں اور الله سے ڈریں مگر جو مسائل مخالف فقہ اور نصوص قطیعہ کے ہیں اس پر ہرگز عمل نہ کریں ورنہ ثواب کے عوض میں عذاب ہاتھ آوے گا
ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین اھدنا الصراط المستقیم الی اخر السورۃ۔ شعبان ھ اے ہمارے رب! ہمارے درمیان اور ہماری قوم کے درمیان حق کا فیصلہ فرمادے۔تو بہترین فیصلہ فرمانے والا ہےہدایت دے ہمیں سیدھے راستے کی۔آخر سورۃ تک۔
الجواب
بسم الله الرحمن الرحیم
قال الفقیر عبد المصطفی احمد رضا المحمدی السنی الحنفی القادری البرکاتی البریلوی غفر الله تعالی لہ ولاسلافہ وبارك فیہ کہتا ہے فقیر عبدالمصطفی احمد رضا محمدیسنی حنفی قادری بریلویالله تعالی اس کو اور اس کے اسلاف کو بخشے اور اس کو اور اس کے
اور نماز جنازہ تارك الصلاۃ پر چاہیے۔قال الله تعالی: ولا تصل علی احد منہم مات ابدا (اور نہ نماز پڑھئے ان میں سے کسی ایك پر جو مرجائےکبھی بھی۔) اس آیت میں منع صلاۃ اوپر کافر کے ہے نہ مومن کے اور تارك الصلوہ کو قبرستان مسلمانوں میں دفن کرنا چاہئے کذافی شرح المشکوۃ لعبد الحق الدھلوی وتکمیل الایمان (عبدالحق دہلوی کی شرح مشکوۃ میں اور تکمیل الایمان میں اسی طرح ہے) اور تارك الصلاۃ نجس نہیں اس کے ساتھ بیٹھ کر دوسرے برتن میں کھانے میں کیا قباحت ہےاور عیادت تارك الصلاۃ کی کیسے ممنوع ہوگی جبکہ ہمارے پیغمبر خدا صلی الله تعالی علیہ وسلم نے عیادت یہود کی کی ہے خصوصا واسطے تالیف قلوب کے بلاشك جائز ہے کذافی الحدیث وتحقیق ھذہ المسئلۃ فی المشکوۃ والصحاح الستۃ وشروحھا (حدیث میں اسی طرح ہےاور اس مسئلے کی تحقیق صحاح ستہ اور ان کی شروح میں ہے) بالجملہ نزدیك فقیر کے کل وصیت نامہ پر لوگ عمل کریں اور الله سے ڈریں مگر جو مسائل مخالف فقہ اور نصوص قطیعہ کے ہیں اس پر ہرگز عمل نہ کریں ورنہ ثواب کے عوض میں عذاب ہاتھ آوے گا
ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین اھدنا الصراط المستقیم الی اخر السورۃ۔ شعبان ھ اے ہمارے رب! ہمارے درمیان اور ہماری قوم کے درمیان حق کا فیصلہ فرمادے۔تو بہترین فیصلہ فرمانے والا ہےہدایت دے ہمیں سیدھے راستے کی۔آخر سورۃ تک۔
الجواب
بسم الله الرحمن الرحیم
قال الفقیر عبد المصطفی احمد رضا المحمدی السنی الحنفی القادری البرکاتی البریلوی غفر الله تعالی لہ ولاسلافہ وبارك فیہ کہتا ہے فقیر عبدالمصطفی احمد رضا محمدیسنی حنفی قادری بریلویالله تعالی اس کو اور اس کے اسلاف کو بخشے اور اس کو اور اس کے
حوالہ / References
∞القرآن سورہ التوبہ ٩ آیت ٨٤€
∞مشکوٰۃ المصابیح باب عیادۃ المریض الفصل الاول مطبوعہ مجتبائی دہلی ص١٣٤€
∞مشکوٰۃ المصابیح باب عیادۃ المریض الفصل الاول مطبوعہ مجتبائی دہلی ص١٣٤€
وفی اخلافہ۔امین! اخلاف کو برکت عطا فرمائے۔آمین!
حضور پرنور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی زیارت سے خواب میں مشرف ہونا اگرچہ بلاشبہہ حق ہوتا ہے یہ خواب کبھی اضغاث احلام سے نہیں ہوتی۔حضور پرنور صلوات الله تعالی وسلامہ علیہ فرماتے ہیں:
من رانی فی المنام فقد رانی فان الشیطان لایتمثل بی ۔رواہ احمد والبخاری والترمذی عن انس بن مالك رضی الله تعالی عنہ۔ جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھی کو دیکھا کہ شیطان میری مثال بن کر نہیں آسکتا۔(م)اس کو احمدبخاری اور ترمذی نے انس ابن مالك سے روایت کیا ہے۔(ت)
اور فرماتے ہیں صلی الله علیہ وسلم:
من رانی فقدرای الحق فان الشیطان لایتریأبی ۔رواہ احمد والشیخان عن ابی قتادۃ رضی الله تعالی عنہ والاحادیث فی ھذا المعنی متواترۃ۔ جس نے مجھے دیکھا اس نے حق دیکھا کہ شیطان میری وضع نہ بنائے گا۔(م)اس کو احمد اور بخاری ومسلم نے ابوقتادہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا ہےاور اس مفہوم کی احادیث متواتر ہیں۔(ت)
مگر از انجا کہ حالت خواب میں ہوش وحواس عالم بیداری کی طرح ضبط وتیقظ پر نہیں ہوتےلہذا خواب میں جو ارشاد سنے مثل سماع بیداری مورث یقین نہیں ہوتا اس کا ضابطہ یہ ہے کہ حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کے جو ارشادات بیداری میں ثابت ہوچکے ان پر عرض کریں اگر ان سے مخالف نہیں فبھا سواء وجد مطابقۃ الصریح اولا (خواہ صراحۃ مطابقت ہو یا نہ۔ت) ایسی حالت میں اس کا ارشاد ماننا چاہئے اور مخالف ہے تو یقین کریں گے کہ صاحب خواب کے سننے میں فرق ہوا حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے حق فرمایا اور بوجہ تکدر حواس کہ اثر خواب ہے اس کے سننے میں غلط آیا جیسے ایك شخص نے خواب دیکھا کہ حضور پرنور صلی الله تعالی علیہ وسلم اسے میکشی کا حکم دیتے ہیں۔امام جعفر صادق رضی الله تعالی عنہ نے فرمایا حضور نے میکشی سے نہی فرمائی تیرے سننے میں الٹی آئیاس امر میں فاسق ومتقی برابر ہیںنہ متقی کا سماع واجب الصحۃ
حضور پرنور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی زیارت سے خواب میں مشرف ہونا اگرچہ بلاشبہہ حق ہوتا ہے یہ خواب کبھی اضغاث احلام سے نہیں ہوتی۔حضور پرنور صلوات الله تعالی وسلامہ علیہ فرماتے ہیں:
من رانی فی المنام فقد رانی فان الشیطان لایتمثل بی ۔رواہ احمد والبخاری والترمذی عن انس بن مالك رضی الله تعالی عنہ۔ جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھی کو دیکھا کہ شیطان میری مثال بن کر نہیں آسکتا۔(م)اس کو احمدبخاری اور ترمذی نے انس ابن مالك سے روایت کیا ہے۔(ت)
اور فرماتے ہیں صلی الله علیہ وسلم:
من رانی فقدرای الحق فان الشیطان لایتریأبی ۔رواہ احمد والشیخان عن ابی قتادۃ رضی الله تعالی عنہ والاحادیث فی ھذا المعنی متواترۃ۔ جس نے مجھے دیکھا اس نے حق دیکھا کہ شیطان میری وضع نہ بنائے گا۔(م)اس کو احمد اور بخاری ومسلم نے ابوقتادہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا ہےاور اس مفہوم کی احادیث متواتر ہیں۔(ت)
مگر از انجا کہ حالت خواب میں ہوش وحواس عالم بیداری کی طرح ضبط وتیقظ پر نہیں ہوتےلہذا خواب میں جو ارشاد سنے مثل سماع بیداری مورث یقین نہیں ہوتا اس کا ضابطہ یہ ہے کہ حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کے جو ارشادات بیداری میں ثابت ہوچکے ان پر عرض کریں اگر ان سے مخالف نہیں فبھا سواء وجد مطابقۃ الصریح اولا (خواہ صراحۃ مطابقت ہو یا نہ۔ت) ایسی حالت میں اس کا ارشاد ماننا چاہئے اور مخالف ہے تو یقین کریں گے کہ صاحب خواب کے سننے میں فرق ہوا حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے حق فرمایا اور بوجہ تکدر حواس کہ اثر خواب ہے اس کے سننے میں غلط آیا جیسے ایك شخص نے خواب دیکھا کہ حضور پرنور صلی الله تعالی علیہ وسلم اسے میکشی کا حکم دیتے ہیں۔امام جعفر صادق رضی الله تعالی عنہ نے فرمایا حضور نے میکشی سے نہی فرمائی تیرے سننے میں الٹی آئیاس امر میں فاسق ومتقی برابر ہیںنہ متقی کا سماع واجب الصحۃ
حوالہ / References
∞جامع الترمذی باب ماجاء فی قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم من راٰنی فی المنام الخ مطبوعہ مجتبائی لاہور٢/٥٢€
∞صحیح البخاری باب من رای النبی فی المنام،مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ٢/١٠٣٦€
∞صحیح البخاری باب من رای النبی فی المنام،مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ٢/١٠٣٦€
نہ فاسق کا بیان یقینی الکذب بلکہ ضابطہ مطلقا یہی ہے جو مذکور ہوا پھر کافہ اہلسنت وجماعت کا اجماع قطعی ہے کہ مرتکب کبیرہ کافر نہیں۔
قال الله عزوجل و ان طائفتان من المؤمنین اقتتلوا
۔وقال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم وان زنی وان سرق علی رغم انف ابی ذر ۔وقال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم شفاعتی لاھل الکبائر من امتی ۔ الله تعالی نے فرمایا ہے"اور اگر مؤمنوں کی دو جماعتیں لڑ پڑیں"۔(ت)اور رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ہے"اگرچہ زنا کرےاگرچہ چوری کرےخواہ ابوذر کی ناك خاك آلود ہوجائے"۔(ت)
اور رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:"میری شفاعت میری امت کے ان لوگوں کےلئے ہے جو کبیرہ گناہوں کے مرتکب ہوں"۔(ت)
بلکہ مذہب معتمد ومحقق میں استحلال بھی علی اطلاقہ کفر نہیں جب تك زنا یا شرب خمر یا ترك صلاۃ کی طرح اس کی حرمت ضروریات دین سے نہ ہو غرض ضروریات کے سوا کسی شے کا انکار کفر نہیں اگرچہ ثابت بالقواطع ہوکہ عندالتحقیق آدمی کو اسلام سے خارج نہیں کرتا مگر انکار اس کا جس کی تصدیق نے اسے دائرہ اسلام میں داخل کیا تھا اور وہ نہیں مگر ضروریات دین کماحققہ العلماء المحققون من الائمۃ المتکلمین (جیسا کہ ائمہ متکلمین کے محقق علماء نے تحقیق کی ہے۔ت) ولہذا خلافت خلفائے راشدین رضوان الله تعالی علیہم اجمعین کا منکر مذہب تحقیق میں کافر نہیں حالانکہ اس کی حقانیت بالیقین قطعیات سے ثابت وقد فصل القول فی ذلك سیدنا العلامۃ الوالد رضی الله تعالی عنہ فی بعض فتاوہ (اس موضوع پر سیدنا علامہ والد ماجد رضی الله عنہ نے اپنے بعض فتاوی میں مفصل گفتگو کی ہے۔ت) بالجملہ اس قدر پر تو اجماع اہل سنت ہے کہ ارتکاب کبیرہ کفر نہیں بااینہمہ تارك الصلاۃ کا کفر واسلام سے ہمارے ائمہ کرام میں مختلف فیہ اقول: وبالله التوفیق (میں الله تعالی کی توفیق سے کہتا ہوں۔ت) اگرچہ کفر تکذیب النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فی بعض ماجاء بہ من عندربہ جل وعلا کانام ہے اور تکذیب صفت قلب مگر جس طرح
قال الله عزوجل و ان طائفتان من المؤمنین اقتتلوا
۔وقال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم وان زنی وان سرق علی رغم انف ابی ذر ۔وقال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم شفاعتی لاھل الکبائر من امتی ۔ الله تعالی نے فرمایا ہے"اور اگر مؤمنوں کی دو جماعتیں لڑ پڑیں"۔(ت)اور رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ہے"اگرچہ زنا کرےاگرچہ چوری کرےخواہ ابوذر کی ناك خاك آلود ہوجائے"۔(ت)
اور رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:"میری شفاعت میری امت کے ان لوگوں کےلئے ہے جو کبیرہ گناہوں کے مرتکب ہوں"۔(ت)
بلکہ مذہب معتمد ومحقق میں استحلال بھی علی اطلاقہ کفر نہیں جب تك زنا یا شرب خمر یا ترك صلاۃ کی طرح اس کی حرمت ضروریات دین سے نہ ہو غرض ضروریات کے سوا کسی شے کا انکار کفر نہیں اگرچہ ثابت بالقواطع ہوکہ عندالتحقیق آدمی کو اسلام سے خارج نہیں کرتا مگر انکار اس کا جس کی تصدیق نے اسے دائرہ اسلام میں داخل کیا تھا اور وہ نہیں مگر ضروریات دین کماحققہ العلماء المحققون من الائمۃ المتکلمین (جیسا کہ ائمہ متکلمین کے محقق علماء نے تحقیق کی ہے۔ت) ولہذا خلافت خلفائے راشدین رضوان الله تعالی علیہم اجمعین کا منکر مذہب تحقیق میں کافر نہیں حالانکہ اس کی حقانیت بالیقین قطعیات سے ثابت وقد فصل القول فی ذلك سیدنا العلامۃ الوالد رضی الله تعالی عنہ فی بعض فتاوہ (اس موضوع پر سیدنا علامہ والد ماجد رضی الله عنہ نے اپنے بعض فتاوی میں مفصل گفتگو کی ہے۔ت) بالجملہ اس قدر پر تو اجماع اہل سنت ہے کہ ارتکاب کبیرہ کفر نہیں بااینہمہ تارك الصلاۃ کا کفر واسلام سے ہمارے ائمہ کرام میں مختلف فیہ اقول: وبالله التوفیق (میں الله تعالی کی توفیق سے کہتا ہوں۔ت) اگرچہ کفر تکذیب النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فی بعض ماجاء بہ من عندربہ جل وعلا کانام ہے اور تکذیب صفت قلب مگر جس طرح
حوالہ / References
∞القرآن سورۃ الحجرات ٤٩ آیت ٩€
∞مشکوٰ ۃ المصابیح کتاب الایمان الفصل الاول مطبوعہ مجطبائی دہلی ص١٤€
∞مسند احمد بن حنبل از مسند انس بن مالك رضی اللہ تعالٰی عنہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ٣/٢١٣€
∞مشکوٰ ۃ المصابیح کتاب الایمان الفصل الاول مطبوعہ مجطبائی دہلی ص١٤€
∞مسند احمد بن حنبل از مسند انس بن مالك رضی اللہ تعالٰی عنہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ٣/٢١٣€
اقوال مکفرہ اس تکذیب پر علامت ہوتے اور ان کی بنا پر حکم کفر دیا جاتا ہے یوں ہی بعض افعال بھی اس کی امارت اور حکم تکفیر کے باعث ہوتے ہیں۔
کالقاء المصحف فی القاذورات والسجود للصنم وقتل النبی والزنا بحضرتہ وکشف العورۃ عند الاذان وقراء ۃ القران علی جھۃ الاستخفاف وکل مادل علی الاستھزاء بالشرع اوالاز دراء بہ۔ جیسا کہ قرآن کریم کو گندگی میں پھینکنابت کے لئے سجدہ کرنانبی کو قتل کرنااس کے روبرو زنا کرنااذان سن کر شرمگاہ کو ننگا کرناقرآن کو تحقیر کے انداز میں پڑھنااس کے علاوہ ہر وہ عمل جو شریعت کے ساتھ استہزاء واہانت پر دلالت کرے۔(ت)
یہ حکم اس اجماع کا منافی نہیں ہوسکتا کہ نفس فعل من حیث ہو مبنائے تکفیر نہیں بلکہ من حیث کونہ علما علی الجحود الباطنی والتکذیب القلبیوالعیاذ بالله تعالی منہ (اس لحاظ سے کہ یہ باطنی انکار اور قلبی تکذیب کی علامت ہے والعیاذ بالله۔ت) صدر اول میں ترك نماز بمعنے کف بھی کہ حقیقۃ فعل من الافعال ہے اسی قبیل سے گنا جاتا۔ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
کان اصحاب رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم لایرون شیئامن الاعمال ترکہ کفرا غیر الصلاۃ ۔رواہ الترمذی والحاکم وقال صحیح علی شرطھما وروی الترمذی عن عبدالله بن شقیق العضلی مثلہ۔ اصحاب مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم نماز کے سوا کسی عمل کے ترك کو کفر نہ جانتے۔(م)اس کو ترمذی نے روایت کیا ہے اور حاکم نے بھیاور کہا ہے کہ یہ بخاری ومسلم کی شروط کے مطابق ہےاور ترمذی نے عبدالله ابن شقیق عضلی سے بھی ایسی ہی روایت کی ہے۔(ت)
ولہذا بہت صحابہ وتابعین رضوان الله تعالی علیہم اجمعین تارك الصلاۃ کو کافر کہتے سیدنا امیر المومنین علی مرتضی مشکل کشا کرم الله تعالی وجہہ الکریم فرماتے ہیں: من لم یصل فھو کافر (جو نماز نہ پڑھے وہ کافر ہے۔م) رواہ ابن ابی شیبۃ والبخاری فی التاریخ۔عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما فرماتے ہیں: من ترك الصلاۃ فقد کفر (جس نے نماز چھوڑی
کالقاء المصحف فی القاذورات والسجود للصنم وقتل النبی والزنا بحضرتہ وکشف العورۃ عند الاذان وقراء ۃ القران علی جھۃ الاستخفاف وکل مادل علی الاستھزاء بالشرع اوالاز دراء بہ۔ جیسا کہ قرآن کریم کو گندگی میں پھینکنابت کے لئے سجدہ کرنانبی کو قتل کرنااس کے روبرو زنا کرنااذان سن کر شرمگاہ کو ننگا کرناقرآن کو تحقیر کے انداز میں پڑھنااس کے علاوہ ہر وہ عمل جو شریعت کے ساتھ استہزاء واہانت پر دلالت کرے۔(ت)
یہ حکم اس اجماع کا منافی نہیں ہوسکتا کہ نفس فعل من حیث ہو مبنائے تکفیر نہیں بلکہ من حیث کونہ علما علی الجحود الباطنی والتکذیب القلبیوالعیاذ بالله تعالی منہ (اس لحاظ سے کہ یہ باطنی انکار اور قلبی تکذیب کی علامت ہے والعیاذ بالله۔ت) صدر اول میں ترك نماز بمعنے کف بھی کہ حقیقۃ فعل من الافعال ہے اسی قبیل سے گنا جاتا۔ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
کان اصحاب رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم لایرون شیئامن الاعمال ترکہ کفرا غیر الصلاۃ ۔رواہ الترمذی والحاکم وقال صحیح علی شرطھما وروی الترمذی عن عبدالله بن شقیق العضلی مثلہ۔ اصحاب مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم نماز کے سوا کسی عمل کے ترك کو کفر نہ جانتے۔(م)اس کو ترمذی نے روایت کیا ہے اور حاکم نے بھیاور کہا ہے کہ یہ بخاری ومسلم کی شروط کے مطابق ہےاور ترمذی نے عبدالله ابن شقیق عضلی سے بھی ایسی ہی روایت کی ہے۔(ت)
ولہذا بہت صحابہ وتابعین رضوان الله تعالی علیہم اجمعین تارك الصلاۃ کو کافر کہتے سیدنا امیر المومنین علی مرتضی مشکل کشا کرم الله تعالی وجہہ الکریم فرماتے ہیں: من لم یصل فھو کافر (جو نماز نہ پڑھے وہ کافر ہے۔م) رواہ ابن ابی شیبۃ والبخاری فی التاریخ۔عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما فرماتے ہیں: من ترك الصلاۃ فقد کفر (جس نے نماز چھوڑی
حوالہ / References
∞مشکوٰۃ المصابیح کتاب الصلاۃ الفصل الثالث مطبوعہ مجتبائی دہلی ص٥٩€
∞الترغیب والترہیب من ترك الصلاۃ لعمد مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١/٣٨٥€
∞الترغیب والترہیب من ترك الصلاۃ لعمد مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١/٣٨٦€
∞الترغیب والترہیب من ترك الصلاۃ لعمد مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١/٣٨٥€
∞الترغیب والترہیب من ترك الصلاۃ لعمد مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١/٣٨٦€
وہ بیشك کافر ہوگیا۔م)رواہ محمد بن نصر المروزی وابو عمر بن عبدالبر۔حضرت عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں: من ترك الصلاۃ فلادین لہ (جس نے نماز ترك کی وہ بے دین ہے۔م) رواہ المروزی۔جابر بن عبدالله رضی الله تعالی عنہما فرماتے ہیں: من لم یصل فھو کافر (بے نماز کافر ہے۔م) رواہ ابوعمر۔ابودردا ء رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں: لا ایمان لمن لاصلاۃ لہ (بے نماز کیلئے ایمان نہیں۔م) رواہ ابن عبدالبر۔ایضا امام اسحق فرماتے ہیں:
صح عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ان تارك الصلاۃ کافر وکذلك کان رأی اھل العلم من لدن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ان تارك الصلاۃ عمدا من غیر عذر حتی یذھب وقتھا کافر ۔ سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم سے بصحت ثابت ہوا کہ حضور نے تارك الصلاۃ کو کافر فرمایا اور زمانہ اقدس سے علما کی یہی رائے ہے کہ جو شخص قصدا بے عذر نماز ترك کرے یہاں تك کہ وقت نکل جائے وہ کافر ہے۔(م)
اسی طرح امام ابوایوب سختیانی سے مروی ہوا کہ ترك الصلاۃ کفر لایختلف فیہ (ترك نماز بے خلاف کفر ہے۔م)
ابن حزم کہتا ہے:
قدجاء عن عمرو عبدالرحمن بن عوف ومعاذ بن جبل وابی ھریرۃ وغیرھم من الصحابۃ رضی الله تعالی عنھم ان من ترك صلاۃ فرض امیر المومنین عمر فاروق اعظم وحضرت عبدالرحمن بن عوف احد العشرۃ المبشرہ وحضرت معاذ بن جبل امام العلماء وحضرت ابوہریرہ حافظ الصحابہ وغیرہم اصحاب سیدالمرسلین
صح عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ان تارك الصلاۃ کافر وکذلك کان رأی اھل العلم من لدن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ان تارك الصلاۃ عمدا من غیر عذر حتی یذھب وقتھا کافر ۔ سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم سے بصحت ثابت ہوا کہ حضور نے تارك الصلاۃ کو کافر فرمایا اور زمانہ اقدس سے علما کی یہی رائے ہے کہ جو شخص قصدا بے عذر نماز ترك کرے یہاں تك کہ وقت نکل جائے وہ کافر ہے۔(م)
اسی طرح امام ابوایوب سختیانی سے مروی ہوا کہ ترك الصلاۃ کفر لایختلف فیہ (ترك نماز بے خلاف کفر ہے۔م)
ابن حزم کہتا ہے:
قدجاء عن عمرو عبدالرحمن بن عوف ومعاذ بن جبل وابی ھریرۃ وغیرھم من الصحابۃ رضی الله تعالی عنھم ان من ترك صلاۃ فرض امیر المومنین عمر فاروق اعظم وحضرت عبدالرحمن بن عوف احد العشرۃ المبشرہ وحضرت معاذ بن جبل امام العلماء وحضرت ابوہریرہ حافظ الصحابہ وغیرہم اصحاب سیدالمرسلین
حوالہ / References
∞الترغیب والترہیب من ترك الصلٰو ۃ لعمد مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١/٣٨٥€
∞الترغیب والترہیب من ترك الصلٰو ۃ لعمد مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١/٣٨٥€
∞الترغیب والترہیب من ترك الصلٰو ۃ لعمد مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١/٣٨٦€
∞الترغیب والترہیب من ترك الصلٰو ۃ لعمد مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١/٣٨٦ €
∞الترغیب والترہیب من ترك الصلٰو ۃ لعمد مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١/٣٨٦€
∞الترغیب والترہیب من ترك الصلٰو ۃ لعمد مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١/٣٨٥€
∞الترغیب والترہیب من ترك الصلٰو ۃ لعمد مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١/٣٨٦€
∞الترغیب والترہیب من ترك الصلٰو ۃ لعمد مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١/٣٨٦ €
∞الترغیب والترہیب من ترك الصلٰو ۃ لعمد مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١/٣٨٦€
واحد متعمدا حتی یخرج وقتھا فھو کافر مرتدولایعلم لھؤلاء مخالف ۔ صلی الله تعالی علیہ وعلیہم اجمعین سے وارد ہوا کہ جو شخص ایك نماز فرض قصدا چھوڑ دے یہاں تك کہ اس کا وقت نکل جائے وہ کافر مرتد ہے۔ابن حزم کہتا ہے اس حکم میں ان صحابہ کا خلاف کسی صحابی سے معلوم نہیں۔م) انتہی۔
اور یہی مذہب حکم بن عتیبہ وابوداؤد طیالسی وابوبکر بن ابی شیبہ و زہیر بن حرب اور ائمہ اربعہ سے حضرت سیف السنۃ امام احمد بن حنبل اور ہمارے ائمہ حنفیہ سے امام عبدالله بن مبارك تلمیذ حضرت امام اعظم اور ہمارے امام کے استاذ الاستاذ امام ابراہیم نخعی وغیرہم ائمہ دین رضوان الله تعالی علیہم اجمعین کا ہے۔
ذکر کل ذلك الامام الحافظ زکی الدین عبد العظیم المنذری رحمۃ الله تعالی علیہ۔ یہ سب امام حافظ زکی الدین عبدالعظیم منذری رحمۃ الله تعالی علیہ نے ذکر کیا ہے۔(ت)
اور اسی کو جمہور ائمہ حنبلیہ نے مختار ومرجح رکھاامام ابن امیر الحاج حلیہ میں فرماتے ہیں:
عند احمد فی الروایۃ المکفرۃ انہ یقتل کفرا وھی المختارۃ عند جمھور اصحابہعلی ماذکرہ ابن ھبیرۃ ۔ امام احمد اپنی تکفیر والی روایت کے مطابق اس بات کے قائل ہیں کہ اس کو کفر کی وجہ سے قتل کیا جائے گا۔یہی روایت ان کے اکثر اصحاب کے نزدیك مختار ہےجیسا کہ ابن ہبیرہ نے بیان کیا ہے۔(ت)
اور بیشك بہت ظواہر نصوص شرعیہ آیات قرآنیہ واحادیث نبویہ علی صاحبہا افضل الصلو ۃ والتحیۃ اس مذہب کی مؤید
کمافصل جملۃ منھا خاتمۃ المحققین سیدنا الوالد قدس سرہ الماجد فی الکتاب المستطاب الکلام الاوضح فی تفسیرا لم نشرحوفی سرور القلوب فی ذکر المحبوبوفی جواھر البیان فی اسرار الارکان وغیرھا من تصانیفہ النقیۃ العلیۃ الرفیعۃ الشان اعلی الله تعالی درجاتہ فی غرفات الجنان امین! جیسا کہ ان میں سے کچھ کو تفصیل سے بیان کیا ہےخاتم المحققین سیدنا والد ماجد نے اپنی عمدہ کتاب الکلام الاوضح فی تفسیر الم نشرح میںاور اسرار القلوب فی ذکر المحبوب میں اور جواھر البیان فی اسرار الارکان میں اور اپنی دیگر ستھری بلند مرتبہ وعالی شان کتابوں میں۔الله تعالی جنت کے بالا خانوں میں ان کے درجے بلند فرمائےآمین!
اور یہی مذہب حکم بن عتیبہ وابوداؤد طیالسی وابوبکر بن ابی شیبہ و زہیر بن حرب اور ائمہ اربعہ سے حضرت سیف السنۃ امام احمد بن حنبل اور ہمارے ائمہ حنفیہ سے امام عبدالله بن مبارك تلمیذ حضرت امام اعظم اور ہمارے امام کے استاذ الاستاذ امام ابراہیم نخعی وغیرہم ائمہ دین رضوان الله تعالی علیہم اجمعین کا ہے۔
ذکر کل ذلك الامام الحافظ زکی الدین عبد العظیم المنذری رحمۃ الله تعالی علیہ۔ یہ سب امام حافظ زکی الدین عبدالعظیم منذری رحمۃ الله تعالی علیہ نے ذکر کیا ہے۔(ت)
اور اسی کو جمہور ائمہ حنبلیہ نے مختار ومرجح رکھاامام ابن امیر الحاج حلیہ میں فرماتے ہیں:
عند احمد فی الروایۃ المکفرۃ انہ یقتل کفرا وھی المختارۃ عند جمھور اصحابہعلی ماذکرہ ابن ھبیرۃ ۔ امام احمد اپنی تکفیر والی روایت کے مطابق اس بات کے قائل ہیں کہ اس کو کفر کی وجہ سے قتل کیا جائے گا۔یہی روایت ان کے اکثر اصحاب کے نزدیك مختار ہےجیسا کہ ابن ہبیرہ نے بیان کیا ہے۔(ت)
اور بیشك بہت ظواہر نصوص شرعیہ آیات قرآنیہ واحادیث نبویہ علی صاحبہا افضل الصلو ۃ والتحیۃ اس مذہب کی مؤید
کمافصل جملۃ منھا خاتمۃ المحققین سیدنا الوالد قدس سرہ الماجد فی الکتاب المستطاب الکلام الاوضح فی تفسیرا لم نشرحوفی سرور القلوب فی ذکر المحبوبوفی جواھر البیان فی اسرار الارکان وغیرھا من تصانیفہ النقیۃ العلیۃ الرفیعۃ الشان اعلی الله تعالی درجاتہ فی غرفات الجنان امین! جیسا کہ ان میں سے کچھ کو تفصیل سے بیان کیا ہےخاتم المحققین سیدنا والد ماجد نے اپنی عمدہ کتاب الکلام الاوضح فی تفسیر الم نشرح میںاور اسرار القلوب فی ذکر المحبوب میں اور جواھر البیان فی اسرار الارکان میں اور اپنی دیگر ستھری بلند مرتبہ وعالی شان کتابوں میں۔الله تعالی جنت کے بالا خانوں میں ان کے درجے بلند فرمائےآمین!
حوالہ / References
∞الترغیب والترہیب من ترك الصلٰو ۃ لعمد مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١/٣٩٣€
∞حلیۃ المحلی€
∞حلیۃ المحلی€
بالجملہ اس قول کو مذاہب اہلسنت سے کسی طرح خارج نہیں کہہ سکتے بلکہ وہ ایك جم غفیر قدمائے اہلسنت صحابہ وتابعین رضوان الله تعالی علیہم اجمعین کا مذہب ہے اور بلاشبہہ وہ اس وقت وحالت کے لحاظ سے ایك بڑا قوی مذہب تھا صدر اول کے بعد جب اسلام میں ضعف آیا اور بعض عوام کے قلب میں سستی وکسل نے جگہ پائینماز میں کامل چستی ومستعدی کہ صدر اول میں مطلقا ہر مسلمان کا شعار دائم تھی اب بعض لوگوں سے چھوٹ چلی وہ امارت مطلقہ وعلامت فارقہ ہونے کی حالت نہ رہی لہذا جمہور ائمہ نے اسی اصل اجماعی مؤید بدلائل قاہرہ آیات متکاثرہ واحادیث متواترہ پر عمل واجب جانا کہ مرتکب کبیرہ کافر نہیں یہی مذہب ہمارے ائمہ حنفیہ وائمہ شافعیہ وائمہ مالکیہ اور ایك جماعت ائمہ حنبلیہ وغیرہم جماہیر علمائے دین وائمہ معتمدین رحمۃ الله تعالی علیہم اجمعین کا ہے کہ اگرچہ تارك نماز کو سخت فاجر جانتے ہیں مگر دائرہ اسلام سے خارج نہیں کہتے اور یہی ایك روایت حضرت امام احمد رحمۃ الله تعالی علیہ سے ہے اس کی رو سے یہ مذہب مہذب حضرات ائمہ اربعہ رضی الله تعالی عنہم کا مجمع علیہ ہےحلیہ میں فرمایا:
ذھب الجمھورمنھم اصحابنا ومالك والشافعی واحمد فی روایۃالی انہ لایکفر۔ثم اختلفوا فی انہ ھل یقتل بھذا الترک فقال الائمۃ الثلاثۃ نعمثم ھل یکون حدا اوکفرا فالمشھور من مذھب مالکوبہ قال الشافعیانہ حد۔وکذا عند احمد فی ھذہ الروایۃ الموافقۃ للجمھور فی عدم الکفر ۔ جمہورجن میں ہمارے علماء بھی شامل ہیں اور مالك وشافعی اور ایك روایت کے مطابق احمد بھیکی رائے یہ ہے کہ اس کو کافر نہیں کہا جائیگا۔پھر ان میں اختلاف ہے کہ نماز چھوڑنے کی وجہ سے اس کو قتل کیا جائے گا یا نہیں تو تین اماموں نے کہا ہے کہ ہاں (قتل کیا جائے گا) پھر یہ قتل بطور حد ہوگا یا کفر کی وجہ سے تو مالك کا مشہور مذہب یہ ہے کہ بطور حد ہوگا۔شافعی بھی اسی کے قائل ہیں اور احمد بھیاپنی اس روایت کے مطابق جو جمہور کے موافق ہےیعنی عدم کفر والی روایت۔(ت)
اور اس طرف بحمدالله نصوص شرعیہ سے وہ دلائل ہیں جن میں اصلا تاویل کو گنجائش نہیں بخلاف دلائل مذہب اول کہ اپنے نظائر کثیرہ کی طرح استحلال واستخفاف وجحود وکفران وفعل مثل فعل کفار وغیرہا تاویلات کو اچھی طرح جگہ دے رہے ہیں یعنی فرضیت نماز کا انکار کرے یا اسے ہلکا اور بے قدر جانے یا اس کا ترک
ذھب الجمھورمنھم اصحابنا ومالك والشافعی واحمد فی روایۃالی انہ لایکفر۔ثم اختلفوا فی انہ ھل یقتل بھذا الترک فقال الائمۃ الثلاثۃ نعمثم ھل یکون حدا اوکفرا فالمشھور من مذھب مالکوبہ قال الشافعیانہ حد۔وکذا عند احمد فی ھذہ الروایۃ الموافقۃ للجمھور فی عدم الکفر ۔ جمہورجن میں ہمارے علماء بھی شامل ہیں اور مالك وشافعی اور ایك روایت کے مطابق احمد بھیکی رائے یہ ہے کہ اس کو کافر نہیں کہا جائیگا۔پھر ان میں اختلاف ہے کہ نماز چھوڑنے کی وجہ سے اس کو قتل کیا جائے گا یا نہیں تو تین اماموں نے کہا ہے کہ ہاں (قتل کیا جائے گا) پھر یہ قتل بطور حد ہوگا یا کفر کی وجہ سے تو مالك کا مشہور مذہب یہ ہے کہ بطور حد ہوگا۔شافعی بھی اسی کے قائل ہیں اور احمد بھیاپنی اس روایت کے مطابق جو جمہور کے موافق ہےیعنی عدم کفر والی روایت۔(ت)
اور اس طرف بحمدالله نصوص شرعیہ سے وہ دلائل ہیں جن میں اصلا تاویل کو گنجائش نہیں بخلاف دلائل مذہب اول کہ اپنے نظائر کثیرہ کی طرح استحلال واستخفاف وجحود وکفران وفعل مثل فعل کفار وغیرہا تاویلات کو اچھی طرح جگہ دے رہے ہیں یعنی فرضیت نماز کا انکار کرے یا اسے ہلکا اور بے قدر جانے یا اس کا ترک
حوالہ / References
∞حلیۃ المحلی€
حلال سمجھے تو کافر ہے یا یہ کہ ترك نماز سخت کفران نعمت وناشکری ہے۔
کماقال سیدنا سلیمن علیہ الصلاۃ والسلام لیبلونی ءاشکر ام اکفر ۔ جیسا کہ سیدنا سلیمن علیہ السلام نے فرمایا"تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر گزار بنتا ہوں یا ناشکرا"
یا یہ کہ اس نے کافروں کا سا کام کیا
الی غیر ذلك مماعرف فی موضعہ۔ومن الجادۃ المعروفۃ ردالمحتمل الی المحکم لاعکسہ کمالایخفیفیجب القول بالاسلام۔ اس کے علاوہ اور بھی توجیہات ہیں جن کی تفصیل ان کے مقام پر ملے گیاور معروف راستہ یہی ہے کہ محتمل کو محکم کی طرف لوٹایا جائےنہ کہ اس کا الٹجیسا کہ ظاہر ہےاس لئے اسلام کا ہی قول کرنا پڑے گا۔(ت)
ادھر کے بعض دلائل حلیہ وغیرہا میں ذکر فرمائے از انجملہ حدیث عبادہ بن صامت رضی الله تعالی عنہ کو حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:خمس صلوات کتبھن الله علی العباد (پانچ نمازیں خدا نے بندوں پر فرض کیں) الی قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم من لم یأت بھن فلیس لہ عندالله عھد ان شاء عذبہ وان شاء ادخلہ الجنۃ (جو انہیں نہ پڑھے اس کے لئے خدا کے پاس کوئی عہد نہیں اگر چاہے تو اسے عذاب فرمائے اور چاہے تو جنت میں داخل کرے) رواہ الامام مالك وابوداؤد والنسائی وابن حبان فی صحیحہ (اسے امام مالکابوداؤدنسائی اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں روایت کیا۔ت) یہ حدیث اس کے اسلام پر نص قاطع ہے کہ اگر معاذ الله کافر ہوتا تو اس کے کہنے کا کوئی موقع نہ تھا۔دوسری حدیث میں ہے حضور اکرم سرور عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الدواوین ثلثۃفدیوان لایغفرالله منہ شیأ ودیوان لایعبؤ الله بہ شیأودیوان لایترك الله منہ شیأفاما الدیوان الذی لایغفرالله منہ شیئا فالاشراك باللہواما الدیوان الذی لایعبؤ الله بہ دفتر تین ہیںایك دفتر میں سے الله تعالی کچھ نہ بخشے گا اور ایك دفتر کی الله عزوجل کو کچھ پرواہ نہیں اور ایك دفتر میں سے الله تبارك وتعالی کچھ نہ چھوڑے گاوہ دفتر جس میں سے الله عزوجل کچھ نہ بخشے گا دفتر کفر ہے اور وہ جس کی الله سبحنہ وتعالی کو کچھ پرواہ نہیں
کماقال سیدنا سلیمن علیہ الصلاۃ والسلام لیبلونی ءاشکر ام اکفر ۔ جیسا کہ سیدنا سلیمن علیہ السلام نے فرمایا"تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر گزار بنتا ہوں یا ناشکرا"
یا یہ کہ اس نے کافروں کا سا کام کیا
الی غیر ذلك مماعرف فی موضعہ۔ومن الجادۃ المعروفۃ ردالمحتمل الی المحکم لاعکسہ کمالایخفیفیجب القول بالاسلام۔ اس کے علاوہ اور بھی توجیہات ہیں جن کی تفصیل ان کے مقام پر ملے گیاور معروف راستہ یہی ہے کہ محتمل کو محکم کی طرف لوٹایا جائےنہ کہ اس کا الٹجیسا کہ ظاہر ہےاس لئے اسلام کا ہی قول کرنا پڑے گا۔(ت)
ادھر کے بعض دلائل حلیہ وغیرہا میں ذکر فرمائے از انجملہ حدیث عبادہ بن صامت رضی الله تعالی عنہ کو حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:خمس صلوات کتبھن الله علی العباد (پانچ نمازیں خدا نے بندوں پر فرض کیں) الی قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم من لم یأت بھن فلیس لہ عندالله عھد ان شاء عذبہ وان شاء ادخلہ الجنۃ (جو انہیں نہ پڑھے اس کے لئے خدا کے پاس کوئی عہد نہیں اگر چاہے تو اسے عذاب فرمائے اور چاہے تو جنت میں داخل کرے) رواہ الامام مالك وابوداؤد والنسائی وابن حبان فی صحیحہ (اسے امام مالکابوداؤدنسائی اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں روایت کیا۔ت) یہ حدیث اس کے اسلام پر نص قاطع ہے کہ اگر معاذ الله کافر ہوتا تو اس کے کہنے کا کوئی موقع نہ تھا۔دوسری حدیث میں ہے حضور اکرم سرور عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الدواوین ثلثۃفدیوان لایغفرالله منہ شیأ ودیوان لایعبؤ الله بہ شیأودیوان لایترك الله منہ شیأفاما الدیوان الذی لایغفرالله منہ شیئا فالاشراك باللہواما الدیوان الذی لایعبؤ الله بہ دفتر تین ہیںایك دفتر میں سے الله تعالی کچھ نہ بخشے گا اور ایك دفتر کی الله عزوجل کو کچھ پرواہ نہیں اور ایك دفتر میں سے الله تبارك وتعالی کچھ نہ چھوڑے گاوہ دفتر جس میں سے الله عزوجل کچھ نہ بخشے گا دفتر کفر ہے اور وہ جس کی الله سبحنہ وتعالی کو کچھ پرواہ نہیں
حوالہ / References
∞القرآن، سورہ النمل ٢٧، آیت ٤٠€
∞سنن النسائی باب المحافظۃ علی الصلوات الخمس نور محمد کارخانہ تجارت کراچی ١/٨٠€
∞سنن النسائی باب المحافظۃ علی الصلوات الخمس نور محمد کارخانہ تجارت کراچی ١/٨٠€
شیئافظلم العبد نفسہ فیما بینہ وبین ربہمن صوم یوم ترکہ اوصلاۃ ترکھافان الله تعالی یغفر ذلك ان شاء متجاوزواما الدیوان الذی لایترك الله منہ شیئافمظالم العبادبینھم القصاص لامحالۃ ۔رواہ الامام احمد والحاکم عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی الله تعالی عنہا۔ وہ بندے کا اپنی جان پر ظلم کرنا ہے اپنے اور اپنے رب کے معاملہ میں مثلا کسی دن کا روزہ ترك کیا یا کوئی نماز چھوڑ دی کہ الله تعالی چاہے تو اسے معاف کردے گا اور درگزر فرمائے گااور وہ دفتر جس میں سے کچھ نہ چھوڑے گا وہ حقوق العباد ہیں اس کا حکم یہ ہے ضرور بدلہ ہونا ہے۔(م)اسے امام احمد اور حاکم نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله تعالی عنہا سے روایت کیا (ت)
بالجملہ وہ فاسق ہے اور سخت فاسق مگر کافر نہیں وہ شرعا سخت سزاؤں کا مستحق ہے ائمہ ثلثہ مالك وشافعی واحمد رضی الله تعالی عنہم فرماتے ہیں اسے قتل کیا جائے۔ہمارے ائمہ رضوان الله تعالی علیہم کے نزدیك فاسق فاجر مرتکب کبیرہ ہے اسے دائم الحبس کریں یہاں تك کہ توبہ کرے یا قید میں مرجائے امام محبوبی وغیرہ مشایخ حنفیہ فرماتے ہیں کہ اتنا ماریں کہ خون بہادیں پھر قید کریں یہ تعزیرات یہاں جاری نہیں لہذا اس کے ساتھ کھانا پینا میل جول سلام کلام وغیرہ معاملات ہی ترك کریں کہ یونہی زجر ہو اسی طرح بنظر زجر ترك عیادت میں مضائقہ نہیں یہودی کی عیادت فرمانی بنظر تالیف وہدایت تھی یہاں اس کی عیادت نہ کرنی بنظر زجر ہےدونوں مقاصد شرعیہ ہیں۔رہی نماز جنازہ وہ اگرچہ ہر مسلمان غیر ساعی فی الارض بالفساد کے لئے فرض ہے۔
وھذا منہکقاتل نفسہبل اولی فان قتل نفسہ اشد من قتل مؤمن غیرہوقتل المؤمن اکبر عندالله من ترك الصلاۃ۔وقدقال فی الدر: من قتل نفسہولوعمدایغسل ویصلی علیہبہ یفتیوان کان اعظم وزرا من قاتل غیرہ قال فی اور یہ انہی میں سے ہے جس طرح خودکشی کرنے والا۔ب
لکہ بطریق اولیکیونکہ خودکشی کرنا دوسرے مومن کو قتل کرنے سے زیادہ شدید جرم ہے اور مومن کو قتل کرنا نماز چھوڑنے سے بڑا گناہ ہے۔اور درمختار میں کہا ہے کہ جو اپنے آپ کو قتل کردےخواہ جان بوجھ کر ہیاس کو غسل دیا جائے گا اور نماز پڑھی جائے گی
بالجملہ وہ فاسق ہے اور سخت فاسق مگر کافر نہیں وہ شرعا سخت سزاؤں کا مستحق ہے ائمہ ثلثہ مالك وشافعی واحمد رضی الله تعالی عنہم فرماتے ہیں اسے قتل کیا جائے۔ہمارے ائمہ رضوان الله تعالی علیہم کے نزدیك فاسق فاجر مرتکب کبیرہ ہے اسے دائم الحبس کریں یہاں تك کہ توبہ کرے یا قید میں مرجائے امام محبوبی وغیرہ مشایخ حنفیہ فرماتے ہیں کہ اتنا ماریں کہ خون بہادیں پھر قید کریں یہ تعزیرات یہاں جاری نہیں لہذا اس کے ساتھ کھانا پینا میل جول سلام کلام وغیرہ معاملات ہی ترك کریں کہ یونہی زجر ہو اسی طرح بنظر زجر ترك عیادت میں مضائقہ نہیں یہودی کی عیادت فرمانی بنظر تالیف وہدایت تھی یہاں اس کی عیادت نہ کرنی بنظر زجر ہےدونوں مقاصد شرعیہ ہیں۔رہی نماز جنازہ وہ اگرچہ ہر مسلمان غیر ساعی فی الارض بالفساد کے لئے فرض ہے۔
وھذا منہکقاتل نفسہبل اولی فان قتل نفسہ اشد من قتل مؤمن غیرہوقتل المؤمن اکبر عندالله من ترك الصلاۃ۔وقدقال فی الدر: من قتل نفسہولوعمدایغسل ویصلی علیہبہ یفتیوان کان اعظم وزرا من قاتل غیرہ قال فی اور یہ انہی میں سے ہے جس طرح خودکشی کرنے والا۔ب
لکہ بطریق اولیکیونکہ خودکشی کرنا دوسرے مومن کو قتل کرنے سے زیادہ شدید جرم ہے اور مومن کو قتل کرنا نماز چھوڑنے سے بڑا گناہ ہے۔اور درمختار میں کہا ہے کہ جو اپنے آپ کو قتل کردےخواہ جان بوجھ کر ہیاس کو غسل دیا جائے گا اور نماز پڑھی جائے گی
حوالہ / References
∞مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا مطبوعہ دارالفکر بیروت ٦/٢٤٠€
∞درمختار باب صلوٰۃ الجنازہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ١/١٢٢€
∞درمختار باب صلوٰۃ الجنازہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ١/١٢٢€
ردالمحتار: بہ یفتی: لانہ فاسق غیر ساع فی الارض بالفساد وان کان باغیا علی نفسہ کسائر فساق المسلمین۔زیلعی ۔ اسی پر فتوی ہےاگرچہ اس کا گناہ دوسرے کو قتل کرنے والے سے بڑا ہے۔شامی میں ہے کہ اسی پر فتوی ہے کیونکہ یہ فاسق تو ہے مگر زمین میں فساد پھیلانے والا نہیںاگرچہ اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہےجس طرح باقی فاسق مسلمان۔ زیلعی۔(ت)
مگر فرض عین نہیں فرض کفایہ ہے پس اگر علما وفضلا باقتدائے نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فی المدیون وفی قاتل فسہ بغرض زجر وتنبیہ نماز جنازہ بے نماز سے خود جدا رہیں کوئی حرج نہیںہاں یہ نہیں ہوسکتا کہ اصلا کوئی نہ پڑھے یوں سب آثم وگنہگار ر ہیں گےمسلمان اگرچہ فاسق ہو اس کے جنازہ کی نماز فرض ہے الامن استثنی ولیس ھذا منھم (مگر جو مستثنی ہیںاور یہ ان میں سے نہیں ہے۔ت) نماز پڑھنا اس پر فرض تھا اور جنازہ کی نماز ہم پر فرض ہے اگر اس نے اپنا فرض ترك کیا ہم اپنا فرض کیونکر چھوڑ سکتے ہیں
ھی فرض علی کل مسلم ماتخلا اربعۃ بغاۃ وقطاع طریق اذاقتلوا فی الحربومکابر فی مصرلیلاوخناق خنق غیر مرۃ ۔ نماز جنازہ ہر مسلمان کی فرض ہےجبکہ وہ مرجائے۔سوائے چار آدمیوں کےباغیڈاکو جبکہ لڑائی میں مارے جائیںرات کو شہر میں غنڈہ گردی کرنیوالا اور گلا گھونٹنے والا جس نے کئی مرتبہ یہ کارروائی کی ہو۔(ت)
اسی طرح غسل دینامقابر مسلمین میں دفن کرنا اماتنا الله تعالی علی الاسلام الصادقانہ رؤف رحیمامین۔وصلی الله تعالی علی سیدنا ومولنا محمد والہ وصحبہ اجمعین۔امین۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ() : ذی الحجہ ہجریہ مقدسہ۔
جناب مولوی صاحب دام اقبالکم۔بعد سلام علیك کے ملتمس ہوں کہ اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ جس نے نماز کو چھوڑا اس میں اور مشرك میں کچھ فرق نہیںتو عرض یہ ہے کہ اگر یہ بات سچ ہے تو اکثر لوگ بے نماز ہیں کیا وہ سب لوگ شرك میں داخل ہوسکتے ہیں یا نہیں جو کچھ آیت وحدیث کا اس بارہ میں حکم ہو تحریر فرمائیے تاکہ معلوم ہو۔بینوا تؤجروا۔
مگر فرض عین نہیں فرض کفایہ ہے پس اگر علما وفضلا باقتدائے نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فی المدیون وفی قاتل فسہ بغرض زجر وتنبیہ نماز جنازہ بے نماز سے خود جدا رہیں کوئی حرج نہیںہاں یہ نہیں ہوسکتا کہ اصلا کوئی نہ پڑھے یوں سب آثم وگنہگار ر ہیں گےمسلمان اگرچہ فاسق ہو اس کے جنازہ کی نماز فرض ہے الامن استثنی ولیس ھذا منھم (مگر جو مستثنی ہیںاور یہ ان میں سے نہیں ہے۔ت) نماز پڑھنا اس پر فرض تھا اور جنازہ کی نماز ہم پر فرض ہے اگر اس نے اپنا فرض ترك کیا ہم اپنا فرض کیونکر چھوڑ سکتے ہیں
ھی فرض علی کل مسلم ماتخلا اربعۃ بغاۃ وقطاع طریق اذاقتلوا فی الحربومکابر فی مصرلیلاوخناق خنق غیر مرۃ ۔ نماز جنازہ ہر مسلمان کی فرض ہےجبکہ وہ مرجائے۔سوائے چار آدمیوں کےباغیڈاکو جبکہ لڑائی میں مارے جائیںرات کو شہر میں غنڈہ گردی کرنیوالا اور گلا گھونٹنے والا جس نے کئی مرتبہ یہ کارروائی کی ہو۔(ت)
اسی طرح غسل دینامقابر مسلمین میں دفن کرنا اماتنا الله تعالی علی الاسلام الصادقانہ رؤف رحیمامین۔وصلی الله تعالی علی سیدنا ومولنا محمد والہ وصحبہ اجمعین۔امین۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ() : ذی الحجہ ہجریہ مقدسہ۔
جناب مولوی صاحب دام اقبالکم۔بعد سلام علیك کے ملتمس ہوں کہ اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ جس نے نماز کو چھوڑا اس میں اور مشرك میں کچھ فرق نہیںتو عرض یہ ہے کہ اگر یہ بات سچ ہے تو اکثر لوگ بے نماز ہیں کیا وہ سب لوگ شرك میں داخل ہوسکتے ہیں یا نہیں جو کچھ آیت وحدیث کا اس بارہ میں حکم ہو تحریر فرمائیے تاکہ معلوم ہو۔بینوا تؤجروا۔
حوالہ / References
∞درمختار باب صلوٰۃ الجنازۃ مطبوعہ مجتبائی مصر ١/٦٤٣€
∞درمختار باب صلوٰۃ الجنازۃ مطبوعہ مصطفی البابی دہلی ١/١٢٢€
∞درمختار باب صلوٰۃ الجنازۃ مطبوعہ مصطفی البابی دہلی ١/١٢٢€
الجواب:
بلاشبہہ حدیث میں آیا ہے کہ ہم میں اور مشرکوں میں فرق نماز کا ہے۔اس میں شك نہیں کہ جو نماز کا تارك ہے وہ مشرکوں کے فعل میں ان کا شریك ہے پھر اگر دل سے بھی نماز کو فرض نہ جانے یا ہلکا سمجھے جب تو سچا مشرك پورا کافر ہے ورنہ اس کا یہ کام کافروں مشرکوں کا سا ہے اگرچہ وہ حقیقۃ کافر مشرك نہ ٹھہرے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ(): از جوناگڑھ سرکل مدار المہام مرسلہ مولوی امیر الدین صاحب رجب ھ
ایك واعظ برسر مجلس بیان کرتا ہے کہ جس شخص نے ایك وقت کی نماز قصدا ترك کی اس نے ستر مرتبہ بیت الله میں اپنی ماں سے زنا کیامستفتی خوب جانتا ہے کہ بے نمازی سے برا الله کے نزدیك کوئی نہیں اور شرع شریف میں اس کیلئے وعید بھی سخت آئی ہے مگر دریافت طلب یہ امر ہے کہ الفاظ مذکورہ کتاب وسنت واختلاف ائمہ سے ثابت ہیں یا نہیںبرتقدیر ثبوت نہ ہونے کے قائل کی نسبت شریعت کا کیا حکم ہے
الجواب:
معاذ الله کسی وقت کی نماز قصدا ترك کرنا سخت کبیرہ شدیدہ وجریمہ عظیمہ ہے جس پر سخت ہولناك جانگزا وعیدیں قرآن عظیم واحادیث صحیحہ میں واردمگر بدمذہب اگرچہ کیسا ہی نمازی ہو الله عزوجل کے نزدیك سنی بے نماز سے بدر جہا برا ہے کہ فسق عقیدہ فسق عمل سے سخت تر ہے اور صرف گناہان جوارح میں کلام کیجئے تو مسلمان کو عمدا ناحق قتل کرنا ترك نماز سے سخت تر ہے اس پر اگر احادیث میں حکم کفر ہے اس پر خود قرآن عظیم میں حکم خلود فی النار ہے والعیاذ بالله تعالی۔واعظ نے جو مضمون بیان کیا اس کے قریب قریب دربارہ سور خوار احادیث مرفوعہ حضرت ابوہریرہ وحضرت اسود زہری خال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم وحضرت براء بن عازب وحضرت عبدالله بن سلام وحضرت عبدالله بن مسعود وحضرت عبدالله بن عباس وآثار موقوفہ حضرت امیرالمومنین عثمان غنی وحضرت عبدالله بن مسعود وحضرت عبدالله بن سلام رضی الله تعالی عنہم میں ابن ماجہ وابن ابی الدنیا وابن جریر وبیہقی وابن مندہ وابونعیم وطبرانی وحاکم وابن عساکر وبغوی وعبدالرزاق کے یہاں مروی وقدذکرناھا بتخاریجھا فی کتاب البیوع من فتاونا (اس کو ہم نے تمام تخریجوں کے ساتھ اپنے فتاوی کی کتاب البیوع میں بیان کیا ہے۔ت) مگر ان میں سے کسی میں بیت الله کا ذکر نہیںالبتہ ایك حدیث صحیح میں حطیم کعبہ کا ذکر ہے کہ ظنا زمین کعبہ ہے نہ یقینااس میں ماں کا لفظ نہیں۔امام احمد وطبرانی عبدالله بن حنظلہ رضی الله تعالی عنہما سے
بلاشبہہ حدیث میں آیا ہے کہ ہم میں اور مشرکوں میں فرق نماز کا ہے۔اس میں شك نہیں کہ جو نماز کا تارك ہے وہ مشرکوں کے فعل میں ان کا شریك ہے پھر اگر دل سے بھی نماز کو فرض نہ جانے یا ہلکا سمجھے جب تو سچا مشرك پورا کافر ہے ورنہ اس کا یہ کام کافروں مشرکوں کا سا ہے اگرچہ وہ حقیقۃ کافر مشرك نہ ٹھہرے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ(): از جوناگڑھ سرکل مدار المہام مرسلہ مولوی امیر الدین صاحب رجب ھ
ایك واعظ برسر مجلس بیان کرتا ہے کہ جس شخص نے ایك وقت کی نماز قصدا ترك کی اس نے ستر مرتبہ بیت الله میں اپنی ماں سے زنا کیامستفتی خوب جانتا ہے کہ بے نمازی سے برا الله کے نزدیك کوئی نہیں اور شرع شریف میں اس کیلئے وعید بھی سخت آئی ہے مگر دریافت طلب یہ امر ہے کہ الفاظ مذکورہ کتاب وسنت واختلاف ائمہ سے ثابت ہیں یا نہیںبرتقدیر ثبوت نہ ہونے کے قائل کی نسبت شریعت کا کیا حکم ہے
الجواب:
معاذ الله کسی وقت کی نماز قصدا ترك کرنا سخت کبیرہ شدیدہ وجریمہ عظیمہ ہے جس پر سخت ہولناك جانگزا وعیدیں قرآن عظیم واحادیث صحیحہ میں واردمگر بدمذہب اگرچہ کیسا ہی نمازی ہو الله عزوجل کے نزدیك سنی بے نماز سے بدر جہا برا ہے کہ فسق عقیدہ فسق عمل سے سخت تر ہے اور صرف گناہان جوارح میں کلام کیجئے تو مسلمان کو عمدا ناحق قتل کرنا ترك نماز سے سخت تر ہے اس پر اگر احادیث میں حکم کفر ہے اس پر خود قرآن عظیم میں حکم خلود فی النار ہے والعیاذ بالله تعالی۔واعظ نے جو مضمون بیان کیا اس کے قریب قریب دربارہ سور خوار احادیث مرفوعہ حضرت ابوہریرہ وحضرت اسود زہری خال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم وحضرت براء بن عازب وحضرت عبدالله بن سلام وحضرت عبدالله بن مسعود وحضرت عبدالله بن عباس وآثار موقوفہ حضرت امیرالمومنین عثمان غنی وحضرت عبدالله بن مسعود وحضرت عبدالله بن سلام رضی الله تعالی عنہم میں ابن ماجہ وابن ابی الدنیا وابن جریر وبیہقی وابن مندہ وابونعیم وطبرانی وحاکم وابن عساکر وبغوی وعبدالرزاق کے یہاں مروی وقدذکرناھا بتخاریجھا فی کتاب البیوع من فتاونا (اس کو ہم نے تمام تخریجوں کے ساتھ اپنے فتاوی کی کتاب البیوع میں بیان کیا ہے۔ت) مگر ان میں سے کسی میں بیت الله کا ذکر نہیںالبتہ ایك حدیث صحیح میں حطیم کعبہ کا ذکر ہے کہ ظنا زمین کعبہ ہے نہ یقینااس میں ماں کا لفظ نہیں۔امام احمد وطبرانی عبدالله بن حنظلہ رضی الله تعالی عنہما سے
حوالہ / References
∞القرآن ٤/٩٣€
بسند صحیح راوی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
درھم ربا یاکلہ الرجلوھو یعلماشد عندالله من ستۃ وثلثین زنیۃ فی الحطیم ۔ ایك درم سود کا کہ آدمی دانستہ کھالے الله تعالی کے نزدیك حطیم کعبہ میں چھتیس بار زنا کرنے سے سخت تر ہے۔(م)
اور دربارہ ترك نماز اگرچہ اس سے سخت تر مذمت ارشاد ہوئی یہاں تك کہ احادیث مرفوعہ حضرت جابر بن عبدالله وحضرت بریدہ اسلمی وحضرت عبادہ بن صامت وحضرت ثوبان وحضرت ابوہریرہ وحضرت عبدالله بن عمرو حضرت انس بن مالك وحضرت عبدالله بن عباس وآثار موقوفہ حضرت امیر المومنین علی مرتضی وحضرت عبدالله بن عباس وحضرت عبدالله بن مسعود وحضرت جابر بن عبدالله وحضرت ابودرداء وغیرہم رضی الله تعالی عنہم میں احمد ومسلم وابوداؤد ونسائی وابن ماجہ وابن حبان وحاکم وطبرانی ومحمد بن نصر مروزی وہروی وبزار وابویعلی وابوبکر بن ابی شیبہ وتاریخ بخاری وابن عبدالبر وغیرہم کے یہاں ترك نماز پر صراحۃ حکم کفر وبے دینی مروی کمافصلہ الامام المنذری فی الترغیب (جیسا کہ امام منذری نے ترغیب میں پوری تفصیل بیان کی ہے۔ت) مگر اس بارہ میں وہ الفاظ کہ واعظ نے ذکر کیے اصلا نظر سے نہ گزرےواعظ سے سند مانگی جائے اگر سند معتبر پیش نہ کرسکے تو بے ثبوت ایسے ادعاجہل فاضح ہیں اور گناہ واضح والعیاذ بالله رب العلمین والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ(): از غازی پور محلہ میاں پورہ مرسلہ منشی علی بخش صاحب محرر دفتر ججی غازی پور ذیقعدہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك وقت کی نماز قضا کرنے سے بھی آدمی فاسق کہا جاتا ہے یا نہیں
الجواب :
ہاں جو ایك وقت کی نماز بھی قصدا بلاعذر شرعی دیدہ ودانستہ قضا کرے فاسق ومرتکب کبیرہ ومستحق جہنم ہے والعیاذ بالله تعالی والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (): از پیلی بھیت مدرسۃ الحدیث محرم الحرام ھ
بکر نے ایك عالم کے فرمانے سے مسلمانوں کے روبرو یہ تجویز پیش کی کہ جو شخص نماز نہ پڑھے اس کو حقہ پانی نہ دیا جائے اور جتنے وقت کی نماز نہ پڑھے ایك پیسہ جرمانہ ہونا چاہئے۔زید نے اس کا یہ جواب دیا کہ اس طور کی
درھم ربا یاکلہ الرجلوھو یعلماشد عندالله من ستۃ وثلثین زنیۃ فی الحطیم ۔ ایك درم سود کا کہ آدمی دانستہ کھالے الله تعالی کے نزدیك حطیم کعبہ میں چھتیس بار زنا کرنے سے سخت تر ہے۔(م)
اور دربارہ ترك نماز اگرچہ اس سے سخت تر مذمت ارشاد ہوئی یہاں تك کہ احادیث مرفوعہ حضرت جابر بن عبدالله وحضرت بریدہ اسلمی وحضرت عبادہ بن صامت وحضرت ثوبان وحضرت ابوہریرہ وحضرت عبدالله بن عمرو حضرت انس بن مالك وحضرت عبدالله بن عباس وآثار موقوفہ حضرت امیر المومنین علی مرتضی وحضرت عبدالله بن عباس وحضرت عبدالله بن مسعود وحضرت جابر بن عبدالله وحضرت ابودرداء وغیرہم رضی الله تعالی عنہم میں احمد ومسلم وابوداؤد ونسائی وابن ماجہ وابن حبان وحاکم وطبرانی ومحمد بن نصر مروزی وہروی وبزار وابویعلی وابوبکر بن ابی شیبہ وتاریخ بخاری وابن عبدالبر وغیرہم کے یہاں ترك نماز پر صراحۃ حکم کفر وبے دینی مروی کمافصلہ الامام المنذری فی الترغیب (جیسا کہ امام منذری نے ترغیب میں پوری تفصیل بیان کی ہے۔ت) مگر اس بارہ میں وہ الفاظ کہ واعظ نے ذکر کیے اصلا نظر سے نہ گزرےواعظ سے سند مانگی جائے اگر سند معتبر پیش نہ کرسکے تو بے ثبوت ایسے ادعاجہل فاضح ہیں اور گناہ واضح والعیاذ بالله رب العلمین والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ(): از غازی پور محلہ میاں پورہ مرسلہ منشی علی بخش صاحب محرر دفتر ججی غازی پور ذیقعدہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك وقت کی نماز قضا کرنے سے بھی آدمی فاسق کہا جاتا ہے یا نہیں
الجواب :
ہاں جو ایك وقت کی نماز بھی قصدا بلاعذر شرعی دیدہ ودانستہ قضا کرے فاسق ومرتکب کبیرہ ومستحق جہنم ہے والعیاذ بالله تعالی والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (): از پیلی بھیت مدرسۃ الحدیث محرم الحرام ھ
بکر نے ایك عالم کے فرمانے سے مسلمانوں کے روبرو یہ تجویز پیش کی کہ جو شخص نماز نہ پڑھے اس کو حقہ پانی نہ دیا جائے اور جتنے وقت کی نماز نہ پڑھے ایك پیسہ جرمانہ ہونا چاہئے۔زید نے اس کا یہ جواب دیا کہ اس طور کی
حوالہ / References
∞مسند احمد بن حنبل حدیث عبداللہ بن حنظلہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ٥/٢٢٥€
نماز پڑھوانی زینہ دوزخ کا ہے اس بارہ میں حکم شریعت کیا ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
حقہ پانی نہ دینے کی تجویز ٹھیك ہے اور مالی جرمانہ جائز نہیں۔لانہ شیئ کان ونسخ کمابینہ الامام ابوجعفر الطحاوی رحمہ الله تعالی (کیونکہ یہ چیز پہلے تھی لیکن بعد میں منسوخ ہوگئی تھی جیسا کہ امام ابوجعفر الطحاوی رحمہ الله تعالی نے بیان کیا ہے۔ت) مگر زید کا وہ کلمہ بہت برا اور سخت بیجا ہے فان المصادرۃ المالیۃ تجوز عند الامام الشافعی رضی الله تعالی عنہ (کیونکہ مالی جرمانہ امام شافعی رضی الله تعالی عنہ کے نزدیك جائز ہے۔ت) نماز پڑھوانا زینہ دوزخ نہیں بلکہ نہ پڑھنا۔زید توبہ کرے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ : از علی گڑھ کالج کمرہ نمبر مرسلہ محمد عبدالمجید خان یوسف زئی سرسید کورٹ صفر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرح متین درمیان اس مسئلہ کے کہ ایك مسلمانوں کے مدرسہ میں جہاں انگریزی تعلیم ہوتی ہے پنجگانہ نماز کی سخت تاکید ہے مسجد میں بعد ہر نماز کے ہر طالب علم کی حاضری ایك رجسٹر میں درج ہوتی ہے اور جو غیر حاضر پائے جاتے ہیں ان پر جرمانہ ہوتا ہے اس تشریح کے ساتھ کہ فجرظہرعصر اور عشا کی غیر حاضری میں فی نماز دو پیسے فی کس جرمانہ اور مغرب کی غیر حاضری میں فی کس / جرمانہ ہوگاآیا یہ طریقہ نماز کی حاضری لینے اور جرمانہ کرنے کا کہاں تك ازروئے شرع جائز ہے اس لحاظ سے کہ طالب علم خصوصا انگریزی کے نماز کی طرف شاید بوجہ اثر نئی روشنی کے رجوع نہ ہوں لہذا ضرورۃ اس قسم کی کارروائی مناسب ہے اور ایسا کیا جاسکنے میں چنداں حرج نہیں ہے آیا یوں صحیح ہے۔فقط
الجواب:
تعزیر بالمال منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل جائز نہیں۔درمختار میں ہے:
لاباخذ مال فی المذھب بحر۔ مال لینے کا جرمانہ مذہب کی رو سے جائز نہیں ہے۔بحر (ت)
اسی میں ہے:
وفی المجتبی انہ کان فی ابتداء الاسلام ثم نسخ ۔ اور مجتبی میں ہے کہ ابتدائے اسلام میں تھاپھر منسوخ کردیا گیا۔(ت)
ردالمحتار میں بحر سے ہے:
الجواب :
حقہ پانی نہ دینے کی تجویز ٹھیك ہے اور مالی جرمانہ جائز نہیں۔لانہ شیئ کان ونسخ کمابینہ الامام ابوجعفر الطحاوی رحمہ الله تعالی (کیونکہ یہ چیز پہلے تھی لیکن بعد میں منسوخ ہوگئی تھی جیسا کہ امام ابوجعفر الطحاوی رحمہ الله تعالی نے بیان کیا ہے۔ت) مگر زید کا وہ کلمہ بہت برا اور سخت بیجا ہے فان المصادرۃ المالیۃ تجوز عند الامام الشافعی رضی الله تعالی عنہ (کیونکہ مالی جرمانہ امام شافعی رضی الله تعالی عنہ کے نزدیك جائز ہے۔ت) نماز پڑھوانا زینہ دوزخ نہیں بلکہ نہ پڑھنا۔زید توبہ کرے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ : از علی گڑھ کالج کمرہ نمبر مرسلہ محمد عبدالمجید خان یوسف زئی سرسید کورٹ صفر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرح متین درمیان اس مسئلہ کے کہ ایك مسلمانوں کے مدرسہ میں جہاں انگریزی تعلیم ہوتی ہے پنجگانہ نماز کی سخت تاکید ہے مسجد میں بعد ہر نماز کے ہر طالب علم کی حاضری ایك رجسٹر میں درج ہوتی ہے اور جو غیر حاضر پائے جاتے ہیں ان پر جرمانہ ہوتا ہے اس تشریح کے ساتھ کہ فجرظہرعصر اور عشا کی غیر حاضری میں فی نماز دو پیسے فی کس جرمانہ اور مغرب کی غیر حاضری میں فی کس / جرمانہ ہوگاآیا یہ طریقہ نماز کی حاضری لینے اور جرمانہ کرنے کا کہاں تك ازروئے شرع جائز ہے اس لحاظ سے کہ طالب علم خصوصا انگریزی کے نماز کی طرف شاید بوجہ اثر نئی روشنی کے رجوع نہ ہوں لہذا ضرورۃ اس قسم کی کارروائی مناسب ہے اور ایسا کیا جاسکنے میں چنداں حرج نہیں ہے آیا یوں صحیح ہے۔فقط
الجواب:
تعزیر بالمال منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل جائز نہیں۔درمختار میں ہے:
لاباخذ مال فی المذھب بحر۔ مال لینے کا جرمانہ مذہب کی رو سے جائز نہیں ہے۔بحر (ت)
اسی میں ہے:
وفی المجتبی انہ کان فی ابتداء الاسلام ثم نسخ ۔ اور مجتبی میں ہے کہ ابتدائے اسلام میں تھاپھر منسوخ کردیا گیا۔(ت)
ردالمحتار میں بحر سے ہے:
حوالہ / References
∞درمختار باب التعزیر مطبوعہ مجتبائی دہلی ١/٣٢٦€
∞درمختار باب التعزیر مطبوعہ مجتبائی دہلی ١/٣٢٦€
∞درمختار باب التعزیر مطبوعہ مجتبائی دہلی ١/٣٢٦€
وافاد فی البزازیۃان معنی التعزیر باخذ المالعلی القول بہامساك شیئ من مالہ عندہ مدۃ لینزجرثم یعیدہ الحاکم الیہلا ان یاخذہ الحاکم لنفسہ اولبیت المالکمایتوھمہ الظلمۃاذلایجوز لاحد من المسلمین اخذ مال احد بغیر سبب شرعی اور بزازیہ میں افادہ کیا ہے کہ مالی تعزیر کا قول اگر اختیار کیا بھی جائے تو اس کا صرف اتنا ہی مطلب ہے کہ اس کا مال کچھ مدت کے لئے روك لینا تاکہ وہ باز آجائےاس کے بعد حاکم اس کا مال لوٹادےنہ یہ کہ حاکم اپنے لیے لے لے یا بیت المال کیلئےجیسا کہ ظالم لوگ سمجھتے ہیںکیونکہ شرعی بسبب کے بغیر کسی کا مال لینا مسلمان کے لئے روا نہیں۔(ت)
ہاں وہ طلبہ جن کو وظیفہ دیا جاتا ہے ان کے وظیفہ سے وضع کرلینا جائز ہے فانہ لیس اخذ شیئ من ملکھم بل امتناع تملیك شیئ منھم (کیونکہ یہ ان کی ملکیت سے کوئی چیز لینا نہیں ہے بلکہ اس چیز کو ان کے ملك میں جانے سے روکنا ہے۔ت) یا جو طلبہ فیس نہیں دیتے جس روز جماعت میں حاضر نہ ہوں دوسرے روز ان سے کہا جائے کل تم نے جماعت قضا کی آج بغیر اتنی فیس دیے تم کو سبق نہ دیا جائیگا اور جو ماہوار فیس دیتے ہیں اس مہینے تو ان سے کچھ نہیں کہا جاسکتادوسرے مہینے کے شروع پر ان سے کہا جائے کہ گزشتہ مہینے میں تم نے اتنی جماعتیں قضا کیں آئندہ مہینے تمہیں تعلیم نہ دی جائے گی جب تك اس قدر زائد فیس نہ داخل کرو وذلك لان الاجارۃ تنعقد شیئا فشیئا (اور یہ اس لئے کہ اجارہ بتدریج منعقد ہوتا ہے۔ت) یا یہ صورت ممکن ہے کہ ہر مہینے کے شروع میں طلبہ کو کوئی خفیف قیمت کی چیز مثلا قلم یا تھوڑی سی روشنائی یا کاغذ تقسیم کیا جائے اور یہ تقسیم بطور بیع ہو اس قیمت کو جو انتہائی جرمانہ قضائے جماعت کا ان کے ذمے ہوسکے مثلا یہ قلم سات روپے کو ہم نے تمہارے ہاتھ بیع کیا اور ان سے کہہ دیا جائے کہ یہ بیع قطعی ہے اس میں کوئی شرط نہیں ہم اس سے جدا ایك وعدہ احسانی تم سے کرتے ہیں کہ اگر تم نے اس مہینے میں بلاعذر صحیح شرعی کوئی جماعت قضا نہ کی تو سرماہ پر یہ زرثمن تمام وکمال تمہیں معاف کردیں گے اس صورت میں بھی قضائے جماعت کی حالت میں وہ ثمن کل یا بعض ان سے وصول کرلینا جائز ہوگا۔
ولایلزم فساد البیع بالشرط المعھود القائم مقام الملفوظلتقدم التصریح بنفیہ و الصریح یفوق الدلالۃ کماافادہ الامام اور شرط معہود سےجوکہ ملفوظ کے قائم مقام ہوبیع کا فاسد ہونا لازم نہیں آتاکیونکہ پہلے اس کی صراحۃ نفی ہوچکی ہے اور صراحت کو دلالت پر ترجیح حاصل ہے
ہاں وہ طلبہ جن کو وظیفہ دیا جاتا ہے ان کے وظیفہ سے وضع کرلینا جائز ہے فانہ لیس اخذ شیئ من ملکھم بل امتناع تملیك شیئ منھم (کیونکہ یہ ان کی ملکیت سے کوئی چیز لینا نہیں ہے بلکہ اس چیز کو ان کے ملك میں جانے سے روکنا ہے۔ت) یا جو طلبہ فیس نہیں دیتے جس روز جماعت میں حاضر نہ ہوں دوسرے روز ان سے کہا جائے کل تم نے جماعت قضا کی آج بغیر اتنی فیس دیے تم کو سبق نہ دیا جائیگا اور جو ماہوار فیس دیتے ہیں اس مہینے تو ان سے کچھ نہیں کہا جاسکتادوسرے مہینے کے شروع پر ان سے کہا جائے کہ گزشتہ مہینے میں تم نے اتنی جماعتیں قضا کیں آئندہ مہینے تمہیں تعلیم نہ دی جائے گی جب تك اس قدر زائد فیس نہ داخل کرو وذلك لان الاجارۃ تنعقد شیئا فشیئا (اور یہ اس لئے کہ اجارہ بتدریج منعقد ہوتا ہے۔ت) یا یہ صورت ممکن ہے کہ ہر مہینے کے شروع میں طلبہ کو کوئی خفیف قیمت کی چیز مثلا قلم یا تھوڑی سی روشنائی یا کاغذ تقسیم کیا جائے اور یہ تقسیم بطور بیع ہو اس قیمت کو جو انتہائی جرمانہ قضائے جماعت کا ان کے ذمے ہوسکے مثلا یہ قلم سات روپے کو ہم نے تمہارے ہاتھ بیع کیا اور ان سے کہہ دیا جائے کہ یہ بیع قطعی ہے اس میں کوئی شرط نہیں ہم اس سے جدا ایك وعدہ احسانی تم سے کرتے ہیں کہ اگر تم نے اس مہینے میں بلاعذر صحیح شرعی کوئی جماعت قضا نہ کی تو سرماہ پر یہ زرثمن تمام وکمال تمہیں معاف کردیں گے اس صورت میں بھی قضائے جماعت کی حالت میں وہ ثمن کل یا بعض ان سے وصول کرلینا جائز ہوگا۔
ولایلزم فساد البیع بالشرط المعھود القائم مقام الملفوظلتقدم التصریح بنفیہ و الصریح یفوق الدلالۃ کماافادہ الامام اور شرط معہود سےجوکہ ملفوظ کے قائم مقام ہوبیع کا فاسد ہونا لازم نہیں آتاکیونکہ پہلے اس کی صراحۃ نفی ہوچکی ہے اور صراحت کو دلالت پر ترجیح حاصل ہے
حوالہ / References
∞ردالمحتار باب التعزیر مطبوعہ مصطفی البابی مصر ٣/١٩٥€
∞درمختار باب المہر مطبوعہ مجتبائی دہلی ١/٢٠٢€
∞درمختار باب المہر مطبوعہ مجتبائی دہلی ١/٢٠٢€
قاضیخان فی فتاواہ۔والله تعالی اعلم۔ جیسا کہ امام قاضیخان نے اپنے فتاوی میں افادہ کیا ہے۔(ت)
مسئلہ : از بشارت گنج مرسلہ فتح محمد صاحب ربیع الآخر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ آیا جہاز پر یا چلتی ریل گاڑی میں نماز کی بابت کیا حکم ہے اگر سنت وفرض ونفل ادا کیے جائیں تو ہوتے ہیں یا نہیں۔بینوا توجروا۔
الجواب
چلتے جہاز خواہ لنگر کیے ہوئے اور کنارے سے میلوں دور ہو اس پر نماز جائز ہے اور ناؤ اگر کنارے پر ٹھہری ہے اور جہاز کی طرح زمین پر نہیں بلکہ پانی پر ہے اور یہ اتر کر کنارے پر نماز پڑھ سکتا ہے تو ٹھہری ہوئی ناؤ میں بھی فرض اور وتر اور صبح کی سنتیں نہ ہوسکیں گے اور چلتی ہوئی میں بدرجہ اولی نہ ہوں گے جیسے سیر دریا کے بجرے کنارے کنارے جاتے ہیں اور انہیں روك کر زمین پر نماز پڑھ سکتے ہیں اور اگر اتر کر کنارے پر نماز نہ پڑھ سکنا اپنی ذاتی معذوری سے ہے تو ہر نماز ہوجائے گی اور اگر کسی کی ممانعت کے سبب ہے تو پڑھ لے اور پھر پھیرے یہی حکم ریل کا ہے ٹھہری ہوئی ریل میں سب نمازیں جائز ہیں اور چلتی ہوئی میں سنت صبح کے سوا سب سنت ونفل جائز ہیں مگر فرض ووتر یا صبح کی سنتیں نہیں ہوسکتیں اہتمام کرے کہ ٹھہری میں پڑھے اور دیکھے کہ وقت جاتا ہے پڑھ لے اور جب ٹھہرے پھر پھیرے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ تا : از گوری ڈاج نہ رائے پور ضلع مظفر پور مرسلہ عبدالجبار صاحب رجب ھ
زید پیکر اشیاء مسکرہ حالت حواس خمسہ وطہارت جسم وجامہ وعدم موجودگی بدبو کے مسجد میں نماز اداکرتا ہے پس ان صورتوں میں نماز مقبول ہوئی یا نہیں وحکم سکر کہاں تك مذہب امام ابوحنیفہ میں ہے۔
() ایك شخص نے چار پیالے تاڑی پی اسے نشہ نہیں ہوا اور بدبو بھی باقی نہیں نماز اداکی ہوئی یا نہیں۔
() نماز ظالم وربو خوار مقبول ہے یا نہیں معاصی ربو خوار وشراب خور میں کسی قدر فرق ہے ونماز جنازہ ربو خوارشراب خور وظالم مومنین کی جائز ہے یا نہیں
الجواب:
طبرانی نے بسند حسن سائب بن یزید رضی الله تعالی عنہ سے روایت کی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مسئلہ : از بشارت گنج مرسلہ فتح محمد صاحب ربیع الآخر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ آیا جہاز پر یا چلتی ریل گاڑی میں نماز کی بابت کیا حکم ہے اگر سنت وفرض ونفل ادا کیے جائیں تو ہوتے ہیں یا نہیں۔بینوا توجروا۔
الجواب
چلتے جہاز خواہ لنگر کیے ہوئے اور کنارے سے میلوں دور ہو اس پر نماز جائز ہے اور ناؤ اگر کنارے پر ٹھہری ہے اور جہاز کی طرح زمین پر نہیں بلکہ پانی پر ہے اور یہ اتر کر کنارے پر نماز پڑھ سکتا ہے تو ٹھہری ہوئی ناؤ میں بھی فرض اور وتر اور صبح کی سنتیں نہ ہوسکیں گے اور چلتی ہوئی میں بدرجہ اولی نہ ہوں گے جیسے سیر دریا کے بجرے کنارے کنارے جاتے ہیں اور انہیں روك کر زمین پر نماز پڑھ سکتے ہیں اور اگر اتر کر کنارے پر نماز نہ پڑھ سکنا اپنی ذاتی معذوری سے ہے تو ہر نماز ہوجائے گی اور اگر کسی کی ممانعت کے سبب ہے تو پڑھ لے اور پھر پھیرے یہی حکم ریل کا ہے ٹھہری ہوئی ریل میں سب نمازیں جائز ہیں اور چلتی ہوئی میں سنت صبح کے سوا سب سنت ونفل جائز ہیں مگر فرض ووتر یا صبح کی سنتیں نہیں ہوسکتیں اہتمام کرے کہ ٹھہری میں پڑھے اور دیکھے کہ وقت جاتا ہے پڑھ لے اور جب ٹھہرے پھر پھیرے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ تا : از گوری ڈاج نہ رائے پور ضلع مظفر پور مرسلہ عبدالجبار صاحب رجب ھ
زید پیکر اشیاء مسکرہ حالت حواس خمسہ وطہارت جسم وجامہ وعدم موجودگی بدبو کے مسجد میں نماز اداکرتا ہے پس ان صورتوں میں نماز مقبول ہوئی یا نہیں وحکم سکر کہاں تك مذہب امام ابوحنیفہ میں ہے۔
() ایك شخص نے چار پیالے تاڑی پی اسے نشہ نہیں ہوا اور بدبو بھی باقی نہیں نماز اداکی ہوئی یا نہیں۔
() نماز ظالم وربو خوار مقبول ہے یا نہیں معاصی ربو خوار وشراب خور میں کسی قدر فرق ہے ونماز جنازہ ربو خوارشراب خور وظالم مومنین کی جائز ہے یا نہیں
الجواب:
طبرانی نے بسند حسن سائب بن یزید رضی الله تعالی عنہ سے روایت کی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من شرب مسکرا ماکان لم تقبل لہ صلاۃ اربعین یوما ۔ جو کوئی نشہ کی چیز پئے چالیس دن اس کی نماز قبول نہ ہو۔(م)
مگر وعیدات سب مقید مشیت ہیں ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء (اس سے (یعنی شرك سے) کم تر گناہجس کے چاہے بخش دے۔ت)صورت مذکورہ میں صحت نماز وادائے فرض میں شبہہ نہیں رہا قبول محل عدل میں اس کی شرط عظیم ہے قال انما یتقبل اللہ من المتقین ﴿۲۷﴾ (الله تعالی متقین ہی سے قبول کرتا ہے۔ت)اور مقام فضل حدث عن البحر بماشئت ولاحرج (سمندر کے جود وسخا کے بارے میں جو چاہو بیان کرواس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ت) ہےیہاں رب العزۃ نے حدیہ مقرر فرمائی ہےحتی تعلموا ما تقولون (یہاں تك کہ تم جان لو جوکچھ کہہ رہے ہو۔ت) جب حالت یہ ہو اور شرائط مجتمعتو زید سے عدم قبول پر جزم جہل وجرأت علی الله ہے جیسے عمرو غیر شارب سے قبول پر اتقولون علی اللہ ما لاتعلمون ﴿۲۸﴾
(کیا تم الله پر افترا کرتے ہو جو تم نہیں جانتے۔ت)ہاں اجمالا یوں کہہ سکتے ہیں کہ شارب کی نماز چالیس دن قبول نہیںجیسا کہ حدیث میں ارشاد ہواخالص زید پر حکم باطل ہی ہے جیسے الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾ (گواہ رہو کہ ظالموں پر الله کی لعنت ہے۔ت) یوں کہنا جائز کہ ظالم ملعون ہیں اور یہ کہنا حرام کہ زید پر لعنت۔والله تعالی اعلم۔
جواب سوال دوم:
نماز بلاشبہہ ہوگئی استجماع شرائط وارتفاع موانع کے بعد جواز پر دلیل طلب کرنا جہالت ہےجو کہے نہ ہوئی وہ دلیل دے۔یہ جہل ومکابرہ وہابیہ کا شیوہ ہے کہ قائل جواز سے دلیل طلب کریں اور حرام کہنے کے لئے دلیل کی حاجت نہیںوالله تعالی اعلم۔
جواب سوال سوم: قبول نماز کا جواب جواب اول اور فرضیت عـــہ نماز جواب عـــہ سوم سے واضح ربا وشراب دونوں حرام وگناہ کبیرہ ہیں خمرا گرام الخبائث ہے کہ اسے پی کر جو بھی ہو تھوڑا ہے تو ربا میں حق العبد بھی ہے عـــہ: یعنی اس کے جنازہ کی نماز کی فرضیت (م) عـــہ۲: یہ سائل کے سوال کے اعتبار سے سوم ہے جو ذبائح میں منقول ہوا ہے۔(م)ط
مگر وعیدات سب مقید مشیت ہیں ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء (اس سے (یعنی شرك سے) کم تر گناہجس کے چاہے بخش دے۔ت)صورت مذکورہ میں صحت نماز وادائے فرض میں شبہہ نہیں رہا قبول محل عدل میں اس کی شرط عظیم ہے قال انما یتقبل اللہ من المتقین ﴿۲۷﴾ (الله تعالی متقین ہی سے قبول کرتا ہے۔ت)اور مقام فضل حدث عن البحر بماشئت ولاحرج (سمندر کے جود وسخا کے بارے میں جو چاہو بیان کرواس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ت) ہےیہاں رب العزۃ نے حدیہ مقرر فرمائی ہےحتی تعلموا ما تقولون (یہاں تك کہ تم جان لو جوکچھ کہہ رہے ہو۔ت) جب حالت یہ ہو اور شرائط مجتمعتو زید سے عدم قبول پر جزم جہل وجرأت علی الله ہے جیسے عمرو غیر شارب سے قبول پر اتقولون علی اللہ ما لاتعلمون ﴿۲۸﴾
(کیا تم الله پر افترا کرتے ہو جو تم نہیں جانتے۔ت)ہاں اجمالا یوں کہہ سکتے ہیں کہ شارب کی نماز چالیس دن قبول نہیںجیسا کہ حدیث میں ارشاد ہواخالص زید پر حکم باطل ہی ہے جیسے الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾ (گواہ رہو کہ ظالموں پر الله کی لعنت ہے۔ت) یوں کہنا جائز کہ ظالم ملعون ہیں اور یہ کہنا حرام کہ زید پر لعنت۔والله تعالی اعلم۔
جواب سوال دوم:
نماز بلاشبہہ ہوگئی استجماع شرائط وارتفاع موانع کے بعد جواز پر دلیل طلب کرنا جہالت ہےجو کہے نہ ہوئی وہ دلیل دے۔یہ جہل ومکابرہ وہابیہ کا شیوہ ہے کہ قائل جواز سے دلیل طلب کریں اور حرام کہنے کے لئے دلیل کی حاجت نہیںوالله تعالی اعلم۔
جواب سوال سوم: قبول نماز کا جواب جواب اول اور فرضیت عـــہ نماز جواب عـــہ سوم سے واضح ربا وشراب دونوں حرام وگناہ کبیرہ ہیں خمرا گرام الخبائث ہے کہ اسے پی کر جو بھی ہو تھوڑا ہے تو ربا میں حق العبد بھی ہے عـــہ: یعنی اس کے جنازہ کی نماز کی فرضیت (م) عـــہ۲: یہ سائل کے سوال کے اعتبار سے سوم ہے جو ذبائح میں منقول ہوا ہے۔(م)ط
حوالہ / References
∞المعجم الکبیر للطبرانی حدیث ٦٦٧٢ مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ٧/١٥٤€
∞القرآن،سورہ النساء ٤،آیت ٤٨€
∞القرآن،سورہ المائدہ ٥،آیت ٢٧€
∞القرآن،سورہ النساء ٤،آیت ٤٣€
∞القرآن،سورہ الاعراف ٧،آیت ٢٨€
∞القرآن،سورہ ہود ١١،آیت ١٨€
∞القرآن،سورہ النساء ٤،آیت ٤٨€
∞القرآن،سورہ المائدہ ٥،آیت ٢٧€
∞القرآن،سورہ النساء ٤،آیت ٤٣€
∞القرآن،سورہ الاعراف ٧،آیت ٢٨€
∞القرآن،سورہ ہود ١١،آیت ١٨€
ولا تاکلوا امولکم بینکم بالبطل (باطل طریقہ سے ایك دوسرے کا مال نہ کھاؤ۔ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ : مدرسہ اہل سنت منظر اسلام بریلی مسؤلہ مولوی محمد افضل صاحب کابلی صفرھ
شخص یك نماز راازوقت تاخیر کند یعنی سستی کند وادا نیز کند قضاے ہفتاد ہزارسال در د وزخ میماند ایں مسئلہ صحیح است یانہ۔ کوئی شخص اگر ایك نماز میں وقت سے تاخیر کرے یعنی سستی کرےاگرچہ بعد میں ادا کرلے تو اس کو دوزخ میں اتنا رہنا پڑے گا کہ ستر ہزار سالوں کی نماز اس دوران قضا کی جاسکے کیا یہ مسئلہ صحیح ہے یا نہیں۔(ت)
الجواب :
تاخیر آنچناں کہ بلاعذر شرعی از وقت برآرد وقضاکند بلاشبہہ حرام وفسق وکبیرہ است عذاب ومغفرتش مفوض بمشیت است وہیچ مسلمان بیش ازعمر دنیا کہ ہفت ہزار سال ست دردوزخ نماندوالله تعالی اعلم۔ عذر شرعی کے بغیر اتنی تاخیر کہ وقت چلاجائے اور قضا کرنی پڑےبے شك حرامفسق اور کبیرہ گناہ ہے۔اس کو عذاب دینا یا بخش دینا الله کی مشیت کے سپرد ہے اور کوئی مسلمان دوزخ میں دنیا کی عمر یعنی سات ہزار سال سے زیادہ نہیں رہے گا۔(ت)
مسئلہ حافظ نجم الدین صاح گندہ نالہ شہر بانس بریلی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ نماز کے واسطے سوتے آدمی کو جگادینا جائز ہے یا نہیں
الجواب ضرور ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ : از فتح گڈہ محلہ سنگت ضلع فرخ آباد مسؤلہ شہاب الدین صاحب محرم ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ یہاں چند پنچایتی قومیں بتعداد کثیر بلحاظ اپنے اپنے گروہ کے تعداد کے آباد ہیں اور ہر ایك جمعیت وہی مشہور نظام اپنی برادری کا رکھتی ہے جو قریب قریب ہر ایك مقام پر ایسی جمعیتوں میں رائج ہیں یعنی کسی سے کوئی امر خلاف پیش آنے پر جو متعلق برادری ہو اپنے چودھری کے نوٹس میں لاکر بصورت اجتماعی اس درجہ سزا کا استحقاق واقتدار رکھتی ہے کہ کلام وسلام اور طعام نیز ہر ایك تعلق دنیوی اس اختلاف کرنے والے شخص سے ترك کرکے اس کو ہی نہیں بلکہ جو اس کا ہم نوایا جو ہم خیال ہو تاوقتیکہ بعد ادائگی
مسئلہ : مدرسہ اہل سنت منظر اسلام بریلی مسؤلہ مولوی محمد افضل صاحب کابلی صفرھ
شخص یك نماز راازوقت تاخیر کند یعنی سستی کند وادا نیز کند قضاے ہفتاد ہزارسال در د وزخ میماند ایں مسئلہ صحیح است یانہ۔ کوئی شخص اگر ایك نماز میں وقت سے تاخیر کرے یعنی سستی کرےاگرچہ بعد میں ادا کرلے تو اس کو دوزخ میں اتنا رہنا پڑے گا کہ ستر ہزار سالوں کی نماز اس دوران قضا کی جاسکے کیا یہ مسئلہ صحیح ہے یا نہیں۔(ت)
الجواب :
تاخیر آنچناں کہ بلاعذر شرعی از وقت برآرد وقضاکند بلاشبہہ حرام وفسق وکبیرہ است عذاب ومغفرتش مفوض بمشیت است وہیچ مسلمان بیش ازعمر دنیا کہ ہفت ہزار سال ست دردوزخ نماندوالله تعالی اعلم۔ عذر شرعی کے بغیر اتنی تاخیر کہ وقت چلاجائے اور قضا کرنی پڑےبے شك حرامفسق اور کبیرہ گناہ ہے۔اس کو عذاب دینا یا بخش دینا الله کی مشیت کے سپرد ہے اور کوئی مسلمان دوزخ میں دنیا کی عمر یعنی سات ہزار سال سے زیادہ نہیں رہے گا۔(ت)
مسئلہ حافظ نجم الدین صاح گندہ نالہ شہر بانس بریلی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ نماز کے واسطے سوتے آدمی کو جگادینا جائز ہے یا نہیں
الجواب ضرور ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ : از فتح گڈہ محلہ سنگت ضلع فرخ آباد مسؤلہ شہاب الدین صاحب محرم ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ یہاں چند پنچایتی قومیں بتعداد کثیر بلحاظ اپنے اپنے گروہ کے تعداد کے آباد ہیں اور ہر ایك جمعیت وہی مشہور نظام اپنی برادری کا رکھتی ہے جو قریب قریب ہر ایك مقام پر ایسی جمعیتوں میں رائج ہیں یعنی کسی سے کوئی امر خلاف پیش آنے پر جو متعلق برادری ہو اپنے چودھری کے نوٹس میں لاکر بصورت اجتماعی اس درجہ سزا کا استحقاق واقتدار رکھتی ہے کہ کلام وسلام اور طعام نیز ہر ایك تعلق دنیوی اس اختلاف کرنے والے شخص سے ترك کرکے اس کو ہی نہیں بلکہ جو اس کا ہم نوایا جو ہم خیال ہو تاوقتیکہ بعد ادائگی
حوالہ / References
∞القرآن سورہ البقرہ ٢ آیت ١٨٨€
تاوان مقرر شدہ قومی آئندہ کے لئے قابل قبول ضمانت نہ پیش کردے یہی زندگی جو حیات کی بدترین نمونہ ہے گزارنے پر مجبور ہوگاپس جو پنچائتیں ایسا احسن نظام امورات دنیوی میں رکھتی ہوں کیا ازروئے شرع شریف متعلق احکامات دینی بالخصوص صوم وصلوۃ بعض افراد اپنے اپنے گروہ کو محض موجودہ حالت اسلام سے جو نکبت وادبار کا روح فرسا دور ہے متاثر ہوکر (یہ امر منجانب الله ہے کہ ایك وقت میں ہر جمعیت کی بعض خدا ترس ہستیوں کو ایسا خیال پیدا ہوا) اگر انہیں قدیمی قواعد وضوابط برادری سے کام لے کر اپنے وابستگان کو پابند صوم وصلوۃ ونیز اور کھلے ہوئے نازیبا طرز سے جو سراسر خلاف اسلام ہی نہیں بلکہ تضحیك کا باعث ہیں۔مثلا شرا بخواری وجواوتاش اور داڑھی منڈوانا حسب تعلیم فرقان حمید وفرمودہ نبی کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم درست کرنے کا مضطرب کن رجحان ہوتو ان کو یہ اختیارات مرقومہ بالاقدیمہ کا استعمال جبکہ امورات دنیوی میں ہمیشہ سے ہر طرح حاصل ہوگیا حسب تعلیم اسلام اپنے افراد کو حقیقی وسچا مسلمان بنانے میں جائز ہوگا ونیز بے نمازی کے جنازے کی نماز پڑھی جائے یا نہ اور حکم تہدیدی اس میں کیا ہے
الجواب:
جو تنبیہ وتہدید وتادیب وتشدید اپنے امور دنیویہ میں کرتے ہیں امور دینیہ میں بدرجہ اولی ضروری ہے اگر دنیا کے طالب اور دین سے غافل ہیں اس وجہ سے اس کے تارك اور اس کے عامل ہیں کیا اچھا ہوکہ الله تعالی ان میں بیداری پیدا کرے اور اپنی دنیا سے بڑھ کر دین کا انتظام کریںجو امور تادیبی اوپر مذکور ہوئے سب جائز ہیںمگر مالی جرمانہ لینا حرام۔مسلمان کے جنازہ کی نماز فرض ہے اگرچہ وہ نماز نہ پڑھتا ہواس میں حکم تہدیدی صرف اتنا ہے کہ علما وصلحا جن کے پڑھنے سے امید برکت ہوتی ہے بے نماز کا جنازہ خود نہ پڑھیں عوام سے پڑھوادیں۔لیکن یہ کہ کوئی نہ پڑھے اور اسے بے نماز دفن کردیں یہ جائز نہیںایسا کریں گے تو جتنوں کو اطلاع ہوگی سب گنہگار ہوں گے عالم ہوں خواہ جاہلاور اس کی قبر پر نماز پڑھنی واجب ہوگی جب تك اس کا بدن سلامت رہنا مظنون ہووالله تعالی اعلم
مسئلہ ( و ) محمد رضاخان محلہ ربڑی ٹولہ از انجمن خادم الساجدین مورخہ محرم ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وہادیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کچھ غریب مسلمان انجمن خادم الساجدین کے بغرض تبلیغ صلوۃ شہر سے باہر مواضعات میں ایسی جگہ پر پیدل اور دھوپ اور پیاس کی تکلیف اور بلا کسی نفع ذاتی کے فی سبیل الله آدھی رات سے اٹھ کر گئے اور دوسرے دن واپس آئےبعض لوگ ان میں بھوکے پیاسے بھی شامل تھے تقریبا ایك سو مسلمان مستعد نماز ہوگئےان کے واسطے کیا اجر ہے تاکہ آگے کو ہمت بڑھے۔
() ایك شخص انجمن سے باہر کا سوال کرتا ہے یکہ میں چلو اور ان سے کرایہ لوکل خرچہ کھانے پینے کا لواور اس میں رکھا ہی کیا ہے کوئی اپنے لئے نماز پڑھے گا تم کیوں کوشش کررہے ہووہ شخص کیسا ہے اور جو لوگوں کو ہمت شکستہ
الجواب:
جو تنبیہ وتہدید وتادیب وتشدید اپنے امور دنیویہ میں کرتے ہیں امور دینیہ میں بدرجہ اولی ضروری ہے اگر دنیا کے طالب اور دین سے غافل ہیں اس وجہ سے اس کے تارك اور اس کے عامل ہیں کیا اچھا ہوکہ الله تعالی ان میں بیداری پیدا کرے اور اپنی دنیا سے بڑھ کر دین کا انتظام کریںجو امور تادیبی اوپر مذکور ہوئے سب جائز ہیںمگر مالی جرمانہ لینا حرام۔مسلمان کے جنازہ کی نماز فرض ہے اگرچہ وہ نماز نہ پڑھتا ہواس میں حکم تہدیدی صرف اتنا ہے کہ علما وصلحا جن کے پڑھنے سے امید برکت ہوتی ہے بے نماز کا جنازہ خود نہ پڑھیں عوام سے پڑھوادیں۔لیکن یہ کہ کوئی نہ پڑھے اور اسے بے نماز دفن کردیں یہ جائز نہیںایسا کریں گے تو جتنوں کو اطلاع ہوگی سب گنہگار ہوں گے عالم ہوں خواہ جاہلاور اس کی قبر پر نماز پڑھنی واجب ہوگی جب تك اس کا بدن سلامت رہنا مظنون ہووالله تعالی اعلم
مسئلہ ( و ) محمد رضاخان محلہ ربڑی ٹولہ از انجمن خادم الساجدین مورخہ محرم ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وہادیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کچھ غریب مسلمان انجمن خادم الساجدین کے بغرض تبلیغ صلوۃ شہر سے باہر مواضعات میں ایسی جگہ پر پیدل اور دھوپ اور پیاس کی تکلیف اور بلا کسی نفع ذاتی کے فی سبیل الله آدھی رات سے اٹھ کر گئے اور دوسرے دن واپس آئےبعض لوگ ان میں بھوکے پیاسے بھی شامل تھے تقریبا ایك سو مسلمان مستعد نماز ہوگئےان کے واسطے کیا اجر ہے تاکہ آگے کو ہمت بڑھے۔
() ایك شخص انجمن سے باہر کا سوال کرتا ہے یکہ میں چلو اور ان سے کرایہ لوکل خرچہ کھانے پینے کا لواور اس میں رکھا ہی کیا ہے کوئی اپنے لئے نماز پڑھے گا تم کیوں کوشش کررہے ہووہ شخص کیسا ہے اور جو لوگوں کو ہمت شکستہ
کرے وہ کیسا ہے۔
الجواب:
پہلے لوگوں کیلئے ان کی نیت نیك پر اجر عظیم ہےنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لان یھدی الله بك رجلا خیرلك مماطلعت علیہ الشمس وغربت۔ الله تعالی ایك شخص کو تیرے ذریعہ سے ہدایت فرمادے تو یہ تیرے لیے تمام روئے زمین کی سلطنت ملنے سے بہتر ہے۔(م)
ہدایت کو جانے کیلئے آتے جاتے جتنے قدم ان کے پڑیں ہر قدم پر دس نیکیاں ہیں قال الله تعالی:
و نکتب ما قدموا و اثارہم ۔ہم لکھ رہے ہیں جو انہوں نے آگے بھیجا اور جو نشان پیچھے چھوڑ گئے (م) اور جو بغیر سواری نہ جاسکتا ہو اس کا سواری مانگنا کچھ جرم نہیںیوں ہی خرچ راہ بھی لے سکتا ہے مگر یہ کہنا کہ تم کیوں کوشش کرتے ہو شیطانی قول ہے امر بالمعروف نہی عن المنکر فرض ہےفرض سے روکنا شیطانی کام ہے۔بنی اسرائیل میں جنہوں نے مچھلی کا شکار کیا تھا وہ بھی بندر کردئے گئے اور جنہوں نے انہیں نصیحت کرنے کو منع کیا تھا کہ لم تعظون قومۨا اللہ مہلکہم او معذبہم عذابا شدیدا (کیوں ایسوں کو نصیحت کرتے ہو جنہیں الله ہلاك کرے گا یا سخت عذاب دے گا۔م)یہ بھی تباہ ہوئے اور نصیحت کرنے والوں نے نجات پائیاور یہ کہناکہ"اس میں رکھا ہی کیا ہے"سب سے سخت کلمہ ہےاس کہنے والے کو تجدید اسلام وتجدید نکاح چاہئے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ () از بریلی محلہ ملوك پور مسؤلہ شفیق احمد خان صاحب محرم الحرام ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ انجمن کا یہ پاس کردہ قانون کہ جو مسجد میں ایك وقت کی نماز کو نہ آوے اور نہ آنے کا کوئی قابل اطمینان عذر بھی نہ ہوتو اس کو مسجد میں ایك لوٹا رکھنا پڑے گا۔یہ حکم شرعی سے ناجائز تو نہیں ہے
الجواب: اگر وہ شخص اپنی خوشی سے ہر غیر حاضری کے جرمانہ میں سو لوٹے یا سو روپے دے تو بہت اچھا ہے اور ان روپوں کو مسجد میں صرف کیا جائے لیکن جبرا ایك لوٹا یہ ایك کوڑی نہیں لے سکتا۔فان المصادرۃ بالمال منسوخ
الجواب:
پہلے لوگوں کیلئے ان کی نیت نیك پر اجر عظیم ہےنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لان یھدی الله بك رجلا خیرلك مماطلعت علیہ الشمس وغربت۔ الله تعالی ایك شخص کو تیرے ذریعہ سے ہدایت فرمادے تو یہ تیرے لیے تمام روئے زمین کی سلطنت ملنے سے بہتر ہے۔(م)
ہدایت کو جانے کیلئے آتے جاتے جتنے قدم ان کے پڑیں ہر قدم پر دس نیکیاں ہیں قال الله تعالی:
و نکتب ما قدموا و اثارہم ۔ہم لکھ رہے ہیں جو انہوں نے آگے بھیجا اور جو نشان پیچھے چھوڑ گئے (م) اور جو بغیر سواری نہ جاسکتا ہو اس کا سواری مانگنا کچھ جرم نہیںیوں ہی خرچ راہ بھی لے سکتا ہے مگر یہ کہنا کہ تم کیوں کوشش کرتے ہو شیطانی قول ہے امر بالمعروف نہی عن المنکر فرض ہےفرض سے روکنا شیطانی کام ہے۔بنی اسرائیل میں جنہوں نے مچھلی کا شکار کیا تھا وہ بھی بندر کردئے گئے اور جنہوں نے انہیں نصیحت کرنے کو منع کیا تھا کہ لم تعظون قومۨا اللہ مہلکہم او معذبہم عذابا شدیدا (کیوں ایسوں کو نصیحت کرتے ہو جنہیں الله ہلاك کرے گا یا سخت عذاب دے گا۔م)یہ بھی تباہ ہوئے اور نصیحت کرنے والوں نے نجات پائیاور یہ کہناکہ"اس میں رکھا ہی کیا ہے"سب سے سخت کلمہ ہےاس کہنے والے کو تجدید اسلام وتجدید نکاح چاہئے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ () از بریلی محلہ ملوك پور مسؤلہ شفیق احمد خان صاحب محرم الحرام ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ انجمن کا یہ پاس کردہ قانون کہ جو مسجد میں ایك وقت کی نماز کو نہ آوے اور نہ آنے کا کوئی قابل اطمینان عذر بھی نہ ہوتو اس کو مسجد میں ایك لوٹا رکھنا پڑے گا۔یہ حکم شرعی سے ناجائز تو نہیں ہے
الجواب: اگر وہ شخص اپنی خوشی سے ہر غیر حاضری کے جرمانہ میں سو لوٹے یا سو روپے دے تو بہت اچھا ہے اور ان روپوں کو مسجد میں صرف کیا جائے لیکن جبرا ایك لوٹا یہ ایك کوڑی نہیں لے سکتا۔فان المصادرۃ بالمال منسوخ
حوالہ / References
∞جامع الصغیر مع فیض القدیر حدیث ٧٢١٩ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ٥/٢٥٩€
∞القرآن سورہ ٰیس ٣٦ آیت ١٢€
∞القرآن سورہ الاعراف ٧ آیت ١٦٤€
∞القرآن سورہ ٰیس ٣٦ آیت ١٢€
∞القرآن سورہ الاعراف ٧ آیت ١٦٤€
بالمنسوخ حرام (کیونکہ مالی جرمانہ منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل کرنا حرام ہے) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ () سید عرفان علی صاحب رکن انجمن خادم الساجدین ربڑی ٹولہ بریلی صفر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جبکہ عشرہ محرم میں نماز کا انتطام منجانب انجمن کیا گیا تھا تو اب اس موقع پر کہ محمد علی وشوکت علی بریلی میں آرہے ہیں اور بجے سے بجے تك شہر میں گشت کریں گے اور پھر جوبلی باغ میں تقریر کریں گے پبلك عام کثیر التعداد ان کے جلوس میں جوبلی باغ میں ہوگی اور اس اثنا میں نماز عصر ونماز مغرب ونماز عشا کاوقت ہوگا پس ایسی حالت میں منجانب انجمن مسلمانوں کو تنبیہ کرنا اور ان کو نماز کے واسطے آمادہ کرنا کوئی نقص شرعی تو نہیں پیدا کرتا ہےاور نماز کی ترغیب ایسے مواقع پر دلانا موجب ثواب دارین ہے یا نہیں
الجواب:
نماز کی ترغیب ہر وقت وہر حال میں ہونی چاہئے اگرچہ ناچ کی مجلس ہووالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ()از شہر (بریلی) محلہ سوداگران مسؤلہ مولوی محمد رضاخان صاحب عرف ننھے میاں صاحب ذی القعدہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے چند شخصوں کی طرح طرح خوشامدانہ انداز پیار محبت کے طریقے سے نماز باجماعت کی تاکید کی ان لوگوں کو جب اس پر کاربند نہ پایا بلکہ ان میں سے ایك شخص نے دو مرتبہ ترك نماز کا اقرار زید کے سامنے کیا عشاء کی جبکہ صلاۃ ہو چکی زید انہیں لوگوں کے پاس بیٹھا تھا سب سے نماز کے واسطے کہا ایك شخص نے جواب دیا ہم ابھی آتے ہیں کوئی بیماری یا مجبوری نہ تھی جس نے کہاتھا ہم ابھی آتے ہیں وہ نہ آیا بعد فجر اس سے پوچھا عشا کی نماز کہاں پڑھی جواب دیا کہ میں نماز کے معاملہ میں جھوٹ نہ بولوں گا میں نے نہیں پڑھی۔صبح کی نماز کیلئے اکثر زید ان سب صاحبوں کو جگایا کرتا بعض آتے اور بعض ہوشیار ہوکر اطمینان دلاکر پھر سوجاتے ان میں سے ایك شخص ایك یا دومرتبہ پاخانے گیا فارغ ہوکر پھر سورہا ایسا چند بار کا زید کا عینی مشاہدہ ہے ایك شہادت زید کو ملی کہ ہواخوری کو وقت مغرب ان صاحبوں کا پورا مجمع جنگل میں گیایہ شاہد بھی ساتھ تھاشاہد کے سوا سب نے ہنسی مذاق میں نماز کھودی ان کی متعدد مرتبہ ایسی حرکات دیکھ کر سمجھایا کہ تم لوگ اپنے وطن عزیر واقربأ کو چھوڑ کر ہادی بننے کو آئے ہو ہرگز وہ شخص ہادی نہیں ہوسکتا جس کے دل میں عشق رسالت نہ ہواور نماز سب سے زیادہ حضور کو محبوب۔نماز پڑھو یہ تمہارے ساتھ ہرجگہ بھلائی کرے گی۔جب اس پر بھی کاربند نہ ہوئے تو زید نے ان سے انہوں نے زید سے ترك کلام کردیا پھر ایك مرتبہ زید نے کہا کہ من ترك الصلاۃ متعمدا فقد کفر کے تم مرتکب ہو اور یہ تین سو صحابہ کرام رضوان الله تعالی علیہم اجمعین کا مذہب ہے تم نماز کی توہین کرتے ہو الله تماری نماز جنازہ نہ ہونے دے میرے عقیدہ میں بارادہ ترك کرنے والا کافر ہے اس پر زید
مسئلہ () سید عرفان علی صاحب رکن انجمن خادم الساجدین ربڑی ٹولہ بریلی صفر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جبکہ عشرہ محرم میں نماز کا انتطام منجانب انجمن کیا گیا تھا تو اب اس موقع پر کہ محمد علی وشوکت علی بریلی میں آرہے ہیں اور بجے سے بجے تك شہر میں گشت کریں گے اور پھر جوبلی باغ میں تقریر کریں گے پبلك عام کثیر التعداد ان کے جلوس میں جوبلی باغ میں ہوگی اور اس اثنا میں نماز عصر ونماز مغرب ونماز عشا کاوقت ہوگا پس ایسی حالت میں منجانب انجمن مسلمانوں کو تنبیہ کرنا اور ان کو نماز کے واسطے آمادہ کرنا کوئی نقص شرعی تو نہیں پیدا کرتا ہےاور نماز کی ترغیب ایسے مواقع پر دلانا موجب ثواب دارین ہے یا نہیں
الجواب:
نماز کی ترغیب ہر وقت وہر حال میں ہونی چاہئے اگرچہ ناچ کی مجلس ہووالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ()از شہر (بریلی) محلہ سوداگران مسؤلہ مولوی محمد رضاخان صاحب عرف ننھے میاں صاحب ذی القعدہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے چند شخصوں کی طرح طرح خوشامدانہ انداز پیار محبت کے طریقے سے نماز باجماعت کی تاکید کی ان لوگوں کو جب اس پر کاربند نہ پایا بلکہ ان میں سے ایك شخص نے دو مرتبہ ترك نماز کا اقرار زید کے سامنے کیا عشاء کی جبکہ صلاۃ ہو چکی زید انہیں لوگوں کے پاس بیٹھا تھا سب سے نماز کے واسطے کہا ایك شخص نے جواب دیا ہم ابھی آتے ہیں کوئی بیماری یا مجبوری نہ تھی جس نے کہاتھا ہم ابھی آتے ہیں وہ نہ آیا بعد فجر اس سے پوچھا عشا کی نماز کہاں پڑھی جواب دیا کہ میں نماز کے معاملہ میں جھوٹ نہ بولوں گا میں نے نہیں پڑھی۔صبح کی نماز کیلئے اکثر زید ان سب صاحبوں کو جگایا کرتا بعض آتے اور بعض ہوشیار ہوکر اطمینان دلاکر پھر سوجاتے ان میں سے ایك شخص ایك یا دومرتبہ پاخانے گیا فارغ ہوکر پھر سورہا ایسا چند بار کا زید کا عینی مشاہدہ ہے ایك شہادت زید کو ملی کہ ہواخوری کو وقت مغرب ان صاحبوں کا پورا مجمع جنگل میں گیایہ شاہد بھی ساتھ تھاشاہد کے سوا سب نے ہنسی مذاق میں نماز کھودی ان کی متعدد مرتبہ ایسی حرکات دیکھ کر سمجھایا کہ تم لوگ اپنے وطن عزیر واقربأ کو چھوڑ کر ہادی بننے کو آئے ہو ہرگز وہ شخص ہادی نہیں ہوسکتا جس کے دل میں عشق رسالت نہ ہواور نماز سب سے زیادہ حضور کو محبوب۔نماز پڑھو یہ تمہارے ساتھ ہرجگہ بھلائی کرے گی۔جب اس پر بھی کاربند نہ ہوئے تو زید نے ان سے انہوں نے زید سے ترك کلام کردیا پھر ایك مرتبہ زید نے کہا کہ من ترك الصلاۃ متعمدا فقد کفر کے تم مرتکب ہو اور یہ تین سو صحابہ کرام رضوان الله تعالی علیہم اجمعین کا مذہب ہے تم نماز کی توہین کرتے ہو الله تماری نماز جنازہ نہ ہونے دے میرے عقیدہ میں بارادہ ترك کرنے والا کافر ہے اس پر زید
حوالہ / References
∞الجامع الصغیر مع فیض القدیر حدیث ٨٠٨٧ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ٦/١٠٢€
کی نسبت کیا حکم ہے امام اعظم رضی الله تعالی عنہ کا مذہب کریم تارك صلاۃ کی تکفیر میں سکوت ہے یا تارك صلاۃ اپنے دامن رحمت میں لے کر کفر سے بچاتے ہیں۔جب زید پر اعتراض ہوکہ مذہب امام اعظم رضی الله تعالی عنہ میں تارك صلاۃ کافر نہیں تم امام برحق پر فتوی لگاؤ۔اس نے جواب دیا کہ میرے باپ کا یہ حکم نہیںنہ اس سے میری مراد امام اعظم رضی الله تعالی عنہ کی سرکار سے علیحدہ چلنا تھا بلکہ زجرا کہا تو اس کہنے والے پر کیا حکم ہوگا اور اگر کوئی حنفی جبکہ امام برحق کا حکم تارك صلاۃ پر تکفیر کا نہ ہو یہ عقیدہ رکھے کہ تارك صلاۃ عمدا کافر ہے اور اس عقیدہ کو ظنی جانے تو اس پر کیا حکم ہے۔جنہوں نے زید کے اس قول پر یوں تعریضا ایك دوسرے صاحب سے کہا لیجئے اب تو کفر کے فتوے لگائے جاتے ہیں مسلمانوں کو کافر کہا جاتا ہے ایسوں کا کیا حکم ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
بلاشبہہ صدہا صحابہ کرام وتابعین عظام ومجتہدین اعلام وائمہ اسلام علیہم الرضوان کا یہی مذہب ہے کہ قصدا تارك صلاۃ کافر ہے اور یہی متعدد صحیح حدیثوں میں منصوص اور خود قرآن کریم سے مستفاد: و اقیموا الصلوۃ ولا تکونوا من المشرکین ﴿۳۱﴾ نماز قائم کرو اور کافروں سے نہ ہو جاؤ۔(م)زمانہ سلف صالح خصوصا صدر اول کے مناسب یہی حکم تھا اس زمانہ میں ترك نماز علامت کفر تھا کہ واقع نہ ہوتا تھا مگر کافر سےجیسے اب زنار باندھنا یا قشقہ لگانا علامت کفر ہے۔جب وہ زمانہ خیر گزرگیا اور لوگوں میں تہاون آیا وہ علامت ہونا جاتا رہا اور اصل حکم نے عود کیا کہ ترك نماز فی نفسہ کفر نہیں جب تك اسے ہلکا یا حلال نہ جانے یا فرضیت نماز سے منکر نہ ہویہی مذہب سیدنا امام اعظم رضی الله تعالی عنہ کا ہے۔حنفی کہ ظنی طور پر اس کے خلاف کا معتقد ہو خاطی ضرور ہے کہ اب یہ حکم خلاف تحقیق ونامنصور ہے مگر وہ اس کے سبب نہ معاذالله گمراہ ٹھرے گا نہ حنفیت سے خارج کہ مسئلہ فقہی نہیں اور اکابر صحابہ وائمہ کے موافق ہے۔اور معترضین کا کہنا کہ تم امام برحق پر فتوی لگاؤمحض جہالت اور شان امام میں گستاخی ہے۔کیا صدہا صحابہ وائمہ کا وہ فتوی معاذالله حضرات امام پر لگتا ہے۔عمدا تارك صلاۃ پر لگتا ہے نہ کہ اسے کافر نہ جاننے پر۔معترضین اگر خوف خدا کرتے تو انہیں اس کی شکایت نہ ہوتی کہ کفر کے فتوے لگنے لگے بلکہ اس کا خوف ہوتا کہ صدہا صحابہ وائمہ ان کے کفر پر فتوے دے رہے ہیں۔کیا محال ہے کہ عندالله انہی کا فتوی حق ہومسائل اختلافیہ ائمہ میں حق دائر ہوتا ہے کسی کو یقینا خطا پر نہیں کہہ سکتے۔
الجواب :
بلاشبہہ صدہا صحابہ کرام وتابعین عظام ومجتہدین اعلام وائمہ اسلام علیہم الرضوان کا یہی مذہب ہے کہ قصدا تارك صلاۃ کافر ہے اور یہی متعدد صحیح حدیثوں میں منصوص اور خود قرآن کریم سے مستفاد: و اقیموا الصلوۃ ولا تکونوا من المشرکین ﴿۳۱﴾ نماز قائم کرو اور کافروں سے نہ ہو جاؤ۔(م)زمانہ سلف صالح خصوصا صدر اول کے مناسب یہی حکم تھا اس زمانہ میں ترك نماز علامت کفر تھا کہ واقع نہ ہوتا تھا مگر کافر سےجیسے اب زنار باندھنا یا قشقہ لگانا علامت کفر ہے۔جب وہ زمانہ خیر گزرگیا اور لوگوں میں تہاون آیا وہ علامت ہونا جاتا رہا اور اصل حکم نے عود کیا کہ ترك نماز فی نفسہ کفر نہیں جب تك اسے ہلکا یا حلال نہ جانے یا فرضیت نماز سے منکر نہ ہویہی مذہب سیدنا امام اعظم رضی الله تعالی عنہ کا ہے۔حنفی کہ ظنی طور پر اس کے خلاف کا معتقد ہو خاطی ضرور ہے کہ اب یہ حکم خلاف تحقیق ونامنصور ہے مگر وہ اس کے سبب نہ معاذالله گمراہ ٹھرے گا نہ حنفیت سے خارج کہ مسئلہ فقہی نہیں اور اکابر صحابہ وائمہ کے موافق ہے۔اور معترضین کا کہنا کہ تم امام برحق پر فتوی لگاؤمحض جہالت اور شان امام میں گستاخی ہے۔کیا صدہا صحابہ وائمہ کا وہ فتوی معاذالله حضرات امام پر لگتا ہے۔عمدا تارك صلاۃ پر لگتا ہے نہ کہ اسے کافر نہ جاننے پر۔معترضین اگر خوف خدا کرتے تو انہیں اس کی شکایت نہ ہوتی کہ کفر کے فتوے لگنے لگے بلکہ اس کا خوف ہوتا کہ صدہا صحابہ وائمہ ان کے کفر پر فتوے دے رہے ہیں۔کیا محال ہے کہ عندالله انہی کا فتوی حق ہومسائل اختلافیہ ائمہ میں حق دائر ہوتا ہے کسی کو یقینا خطا پر نہیں کہہ سکتے۔
حوالہ / References
∞القرآن سورہ الروم ٣٠ آیت ٣١€
غرض معترضین پر فرض ہے کہ توبہ کریں نماز کے پابند ہوں فتواے صدہا صحابہ وائمہ سے ڈریں اور آج اگر وہ نقد وقت نہ ہوتو سوء خاتمہ سے خوف کریں۔زید نے اگر یہ الفاظ زجرا کہے حرج نہیںمحل زجر میں ایسا استعمال ہر قرن وطبقہ کے ائمہ وعلماء بلکہ خود سرکار رسالت علیہ الصلاۃ والتحیۃ سے بکثرت ثابت ہے اور اگر اعتقاد تکفیر رکھتا ہے تو اس سے باز آئے قول صحیح امام اعظم اختیار کرے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ () از انجمن اسلامیہ قصبہ سانگو وریاست کوٹہ راجپوتانہ / ربیع الاول شریف ھ
یہاں ایك مولوی صاحب آئے اور یہ بیان کیا کہ بے نمازی کے ہمراہ کھانا کھانا اور اس کی نماز جنازہ پڑھنا نیز وہ بیمار ہوجائے تو اس کے گھر جانا بہت بڑا ثواب ہےبعضے علماء اس سے اجتناب اور اس پر کفر اور قید کا فتوی دیتے ہیں محض غلطی پر ہیں۔
الجواب:
بے نماز کو ہمارے امام نے کافر نہ کہا مگر بہت صحابہ کرام وتابعین عظام وائمہ اعلام نے اس کی تکفیر کیاور خود صحیح حدیث میں ارشاد: من ترك الصلاۃ متعمدا فقدکفر جہارا ۔جس نے قصدا نماز ترك کی وہ علانیہ کافر ہوگیا۔(م)
جو ائمہ اس کی تکفیر کرتے ہیں ان کے نزدیك اس کی عیادت کو جانا بھی ناجائز ہوگا اس کے جنازہ کی نماز بھی ناجائز ہوگی ہمارے امام کہ تکفیر نہیں فرماتے ان کے نزدیك بھی اسے ضرب شدید وقید مدید کا حکم ہے جس کا اختیار سلطان اسلام کو ہے اور کسی کی عیادت کو جانا واجب نہیںبہ نظر ر جز اگر بے نماز کی عیادت کو نہ جائیں تو کوئی الزام نہیں۔ہاں جبکہ ہمارے نزدیك وہ کافر نہیںفقط فاسق فاجر مرتکب کبائر ہے تو اس کے جنازہ کی نماز ضرور ہے پھر بھی علما وپیشوایان قوم اگر اوروں کی عبرت کیلئے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھیں اور بعض عوام سے پڑھوادیں تو یہ بھی مستحسن ہے۔والله تعالی اعلم۔
____________________
مسئلہ () از انجمن اسلامیہ قصبہ سانگو وریاست کوٹہ راجپوتانہ / ربیع الاول شریف ھ
یہاں ایك مولوی صاحب آئے اور یہ بیان کیا کہ بے نمازی کے ہمراہ کھانا کھانا اور اس کی نماز جنازہ پڑھنا نیز وہ بیمار ہوجائے تو اس کے گھر جانا بہت بڑا ثواب ہےبعضے علماء اس سے اجتناب اور اس پر کفر اور قید کا فتوی دیتے ہیں محض غلطی پر ہیں۔
الجواب:
بے نماز کو ہمارے امام نے کافر نہ کہا مگر بہت صحابہ کرام وتابعین عظام وائمہ اعلام نے اس کی تکفیر کیاور خود صحیح حدیث میں ارشاد: من ترك الصلاۃ متعمدا فقدکفر جہارا ۔جس نے قصدا نماز ترك کی وہ علانیہ کافر ہوگیا۔(م)
جو ائمہ اس کی تکفیر کرتے ہیں ان کے نزدیك اس کی عیادت کو جانا بھی ناجائز ہوگا اس کے جنازہ کی نماز بھی ناجائز ہوگی ہمارے امام کہ تکفیر نہیں فرماتے ان کے نزدیك بھی اسے ضرب شدید وقید مدید کا حکم ہے جس کا اختیار سلطان اسلام کو ہے اور کسی کی عیادت کو جانا واجب نہیںبہ نظر ر جز اگر بے نماز کی عیادت کو نہ جائیں تو کوئی الزام نہیں۔ہاں جبکہ ہمارے نزدیك وہ کافر نہیںفقط فاسق فاجر مرتکب کبائر ہے تو اس کے جنازہ کی نماز ضرور ہے پھر بھی علما وپیشوایان قوم اگر اوروں کی عبرت کیلئے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھیں اور بعض عوام سے پڑھوادیں تو یہ بھی مستحسن ہے۔والله تعالی اعلم۔
____________________
حوالہ / References
∞الجامع الصغیر مع فیض القدیر حدیث ٨٥٨٧ مطبوعہ دارالمعرفت،البیروت ٦/١٠٢،معجم اوسط، حدیث نمبر ٣٣٧٢ مکتبہ المعارف ریاض ٤/٢١١€
باب الاوقات
نماز کے وقتوں کا بیان
مسئلہ (۲۶۹) مرسلہ حاجی الہ یار خان صاحب ۱۱ رجب ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ روزہ نفل میں جو نیت کو قبل زوال کے کرنے کو لکھا ہے اور زوال کے وقت جو نماز مکروہ ہے تو اس وقت سے کیا مراد ہے اور بڑھ سے بڑھ یہ وقت کس قدر ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
یہ سوال مع جواب مولوی گنگوہی صاحب پیش ہوا اس میں تین۳ مسئلے ہیں دو۲ کا گنگوہی صاحب نے جواب ہی نہ دیا اور ایك کا کہ دیا محض غلط کہ نہ دینا اس سے ہزار جگہ بہتر تھا وہ مسائل یہ ہیں :
مسئلہ اولی : باب صیام میں وقت زوال جس تك نیت روزہ نفل ہوجانا چاہئے کیا ہے
اقول : فی الواقع روزہ ماہ مبارك ونذر معین وروزہ نفل جبکہ ادا ہو نہ قضا تو مذہب صحیح یہی ہے کہ ان کی نیت نصف النہار شرعی سے پہلے ہوجانی چاہئے جسے ضحوہ کبری کہتے ہیں اس کے بعد بلکہ خاص ضحوہ کبری کے وقت بھی نیت کافی نہیں درمختار میں ہے :
یصح اداء صوم رمضان والنذر المعین النفل بنیتہ من اللیل الی الضحوۃ الکبری لابعدھا ولاعندھا اعتبار الاکثر الیوم ۔
رمضان کے روزے نذرمعین کے روزے اور
نماز کے وقتوں کا بیان
مسئلہ (۲۶۹) مرسلہ حاجی الہ یار خان صاحب ۱۱ رجب ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ روزہ نفل میں جو نیت کو قبل زوال کے کرنے کو لکھا ہے اور زوال کے وقت جو نماز مکروہ ہے تو اس وقت سے کیا مراد ہے اور بڑھ سے بڑھ یہ وقت کس قدر ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
یہ سوال مع جواب مولوی گنگوہی صاحب پیش ہوا اس میں تین۳ مسئلے ہیں دو۲ کا گنگوہی صاحب نے جواب ہی نہ دیا اور ایك کا کہ دیا محض غلط کہ نہ دینا اس سے ہزار جگہ بہتر تھا وہ مسائل یہ ہیں :
مسئلہ اولی : باب صیام میں وقت زوال جس تك نیت روزہ نفل ہوجانا چاہئے کیا ہے
اقول : فی الواقع روزہ ماہ مبارك ونذر معین وروزہ نفل جبکہ ادا ہو نہ قضا تو مذہب صحیح یہی ہے کہ ان کی نیت نصف النہار شرعی سے پہلے ہوجانی چاہئے جسے ضحوہ کبری کہتے ہیں اس کے بعد بلکہ خاص ضحوہ کبری کے وقت بھی نیت کافی نہیں درمختار میں ہے :
یصح اداء صوم رمضان والنذر المعین النفل بنیتہ من اللیل الی الضحوۃ الکبری لابعدھا ولاعندھا اعتبار الاکثر الیوم ۔
رمضان کے روزے نذرمعین کے روزے اور
حوالہ / References
درمختار کتاب الصوم مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۴۶
نفلی روزے کی ادا صحیح ہے اگر رات سے ضحوہ کبری تك نیت کرلی جائے ضحوہ کبری کے بعد یا اس کے دوران نیت کرنے سے روزہ نہیں ہوگا کیونکہ دن کے بیشتر حصے کا اعتبار ہے۔ (ت)
اور نہار شرعی طلوع فجر صادق سے غروب مرئی کل قرص شمس تك ہے ردالمحتار میں ہے :
الیوم الشرعی من طلوع الفجر الی الغروب ۔
شرعی دن طلوع فجر سے غروب تك ہے۔ (ت)
یہ ہمیشہ نہار عرفی سے کہ طلوع مرئی کنارہ بالائی شمس سے غروب مرئی کل جرم شمس تك ہے بمقدار مدت فجر زیادہ ہوتا ہے یعنی جس جگہ جس فصل جس مہینے بلکہ جس دن میں طلوع فجر سے طلوع شمس بمعنی مذکور تك جتنی مدت ہوگی اس دن کا نہار شرعی اس کے نہار عرفی سے اسی قدر بڑا ہوگا اور ظاہر ہے کہ جب دو بڑی چھوٹی چیزوں میں صرف ابتدا مختلف اور انتہا متفق ہوتو اکبر کا نصف اصغر کے نصف سے بقدر نصف زیادت کے پہلے ہوگا لہذا ہمیشہ نصف النہار شرعی نصف النہار عرفی حقیقی یعنی نصف النہار دائرہ ہندیہ سے بقدر نصف مقدار فجر کے پیشتر ہوتا ہے ردالمحتار میں ہے :
اعلم ان کل قطر نصف نھارہ قبل زوالہ بنصف حصۃ فجرہ ۔
جان لوکہ ہر علاقے کا نصف النہار بقدر نصف حصہ فجر زوال سے پہلے ہوتا ہے۔ (ت)
پس یہی حساب ہمیشہ ملحوظ رکھنا چاہئے آج کی فجر دریافت کرلی کہ کس مقدار کی ہوئی اس کی تنصیف میں جتنے منٹ سکنڈ آئے ٹھیك دوپہر یعنی کیلی کا سایہ دھوپ گھڑی میں خط نصف النہار پر منطبق ہونے سے پیشتر اتنے ہی منٹ سکنڈ لے لئے وہی وقت حقیقی نصف النہار شرعی کا ہوا اس سے پہلے نیت روزے کی ہو جانی چاہئے اور پر ظاہر کہ نہ نہار عرفی دائما ایك حالت پر رہے نہ مقدار فجر دواما یکساں ہو بلکہ دونوں ہر روز گھٹتے بڑھتے رہتے ہیں یہاں تك کہ افق مستوی میں بھی کہ بوجہ میل عـــہ وتزاید وتناقض میل تفاوت طوالع ومطالع ضروری ہے نہ کہ
عـــہ نصف میل باعث اختلاف طوالع یا مطالع ہے اور اس کا تزاید وتناقص باعث اختلاف طوالع فی المطالع کمالایخفی علی ذی درایۃ ۱۲ (جیسا کہ ذی فہم پر مخفی نہیں ۔ ت) (م)
اور نہار شرعی طلوع فجر صادق سے غروب مرئی کل قرص شمس تك ہے ردالمحتار میں ہے :
الیوم الشرعی من طلوع الفجر الی الغروب ۔
شرعی دن طلوع فجر سے غروب تك ہے۔ (ت)
یہ ہمیشہ نہار عرفی سے کہ طلوع مرئی کنارہ بالائی شمس سے غروب مرئی کل جرم شمس تك ہے بمقدار مدت فجر زیادہ ہوتا ہے یعنی جس جگہ جس فصل جس مہینے بلکہ جس دن میں طلوع فجر سے طلوع شمس بمعنی مذکور تك جتنی مدت ہوگی اس دن کا نہار شرعی اس کے نہار عرفی سے اسی قدر بڑا ہوگا اور ظاہر ہے کہ جب دو بڑی چھوٹی چیزوں میں صرف ابتدا مختلف اور انتہا متفق ہوتو اکبر کا نصف اصغر کے نصف سے بقدر نصف زیادت کے پہلے ہوگا لہذا ہمیشہ نصف النہار شرعی نصف النہار عرفی حقیقی یعنی نصف النہار دائرہ ہندیہ سے بقدر نصف مقدار فجر کے پیشتر ہوتا ہے ردالمحتار میں ہے :
اعلم ان کل قطر نصف نھارہ قبل زوالہ بنصف حصۃ فجرہ ۔
جان لوکہ ہر علاقے کا نصف النہار بقدر نصف حصہ فجر زوال سے پہلے ہوتا ہے۔ (ت)
پس یہی حساب ہمیشہ ملحوظ رکھنا چاہئے آج کی فجر دریافت کرلی کہ کس مقدار کی ہوئی اس کی تنصیف میں جتنے منٹ سکنڈ آئے ٹھیك دوپہر یعنی کیلی کا سایہ دھوپ گھڑی میں خط نصف النہار پر منطبق ہونے سے پیشتر اتنے ہی منٹ سکنڈ لے لئے وہی وقت حقیقی نصف النہار شرعی کا ہوا اس سے پہلے نیت روزے کی ہو جانی چاہئے اور پر ظاہر کہ نہ نہار عرفی دائما ایك حالت پر رہے نہ مقدار فجر دواما یکساں ہو بلکہ دونوں ہر روز گھٹتے بڑھتے رہتے ہیں یہاں تك کہ افق مستوی میں بھی کہ بوجہ میل عـــہ وتزاید وتناقض میل تفاوت طوالع ومطالع ضروری ہے نہ کہ
عـــہ نصف میل باعث اختلاف طوالع یا مطالع ہے اور اس کا تزاید وتناقص باعث اختلاف طوالع فی المطالع کمالایخفی علی ذی درایۃ ۱۲ (جیسا کہ ذی فہم پر مخفی نہیں ۔ ت) (م)
حوالہ / References
درمختار ، کتاب الصوم ، مطبوعہ مجتبائی دہلی ، ۲ / ۸۰
درمختار کتاب الصوم مطبوعہ مجتبائی دہلی ۲ / ۸۵
درمختار کتاب الصوم مطبوعہ مجتبائی دہلی ۲ / ۸۵
آفاق مائلہ نہ کہ ہمارے بلادجن میں سائل ومجیب کا کلام ہے جن کے مدارات کا دائرہ معدل النہار سے میل میل کلی پر بھی کئی درجے افزوں ہے کہ کمابیش عرض الخ رکھتے ہیں بریلی جس کا عرض الح الح ہے یہاں نہارنجومی کہ افق حقیقی پر جانب انطباق مرکز شمس سے جانب غرب انطباق تك ہے روز انقلاب صیفی پونے چودہ گھنٹے سے زائد ۱۳ گھنٹے ۴۸ منٹ تك پہنچتا ہے اور روز انقلاب شتوی سوادس ساعت سے بھی کم ۱۰ گھنٹے ۱۲ منٹ کا ہوتا ہے اور مقدار فجر یعنی طلوع فجر سے طلوع نجومی شمس تك او اخر جوزا واوائل سرطان میں پونے دو گھنٹے کے قریب یعنی تقریبا ایك گھنٹہ ۳۹ منٹ اور نزدیکی اعتدالین میں سوا گھنٹے سے کچھ زائد یعنی تخمینا ایك گھنٹا ۲۲ منٹ تو نہار شرعی ہمیشہ ایك مقدار پر کیونکر رہ سکتا ہے نہ زنہار اس کا تفاوت ایسا قلیل ہے جسے بے مقدار وناقابل اعتبار سمجھ کر ہمیشہ کیلئے ایك اندازہ مقرر کردیجئے بلکہ اس کی کمی بیشی سوا پہر کامل تك پہنچتی ہے انقلاب اول میں تخمینا یہ ل یعنی ساڑھے پندرہ گھنٹے کا نہار شرعی ہوتا ہے کہ پانچ پہر سے بھی زائد ہوا کجا ساڑھے چار پہر اور انقلاب ثانی میں تقریبا مامہ یعنی پونے بارہ گھنٹے کا کہ چار پہر سے بھی کم ہوا کہاں ساڑھے چار پہر پونے بارہ اور ساڑھے پندرہ کا تفاوت وہی سوا پہر کامل ہوا یا نہیں پھر ایسی شدید التفاوت چیز میں ایك مقدار کا تخمینہ کردینا کس قدر غلط وباعث مغالطہ مسلمین ہوگا مثلا جب عوام نے یہ اندازہ جان لیا کہ ساڑھے چار پہر کا نہار شرعی ہوتا ہے اس کے اکثر حصے میں نیت ہوجانی چاہئے یعنی غروب آفتاب تك اس کے نصف سے زیادہ باقی ہو اور اس کا نصف سوا دوپہر یعنی پونے سات گھنٹے تو اس حکم کا حاصل یہ ہوا کہ اگر شام تك ۰۶ گھنٹے سے کچھ بھی زیادہ وقت باقی ہے جب تو روزے کی نیت صحیح ہوجائے گی اور ۰۶ یا اس سے کم ہیں تو ہرگز صحیح نہ ہوگی اب ملاحظہ کیجئے جب آفتاب تحویل سرطان پر آیا اور ۷ بجے ڈوبا یعنی وقت حقیقی سے تقریبا ڈیڑھ منٹ سات پر تو حقیقی بارہ بجے کے چند منٹ بعد بھی یہ بات صادق ہے کہ شام تك ۶ گھنٹے ۴۵ منٹ سے زیادہ وقت ہے تو لازم کہ اس دن دوپہر ڈھلے پر بھی نیت روزہ ہوجائے حالانکہ یہ بالاجماع باطل ہے بلکہ اس دن حقیقی سواگیارہ بجے سے چند منٹ پہلے بھی نیت جائز نہیں کہ ۱۱ بج کر ۱۱ منٹ پر نصف النہار شرعی ہوچکا اور جب آفتاب تحویل جدی پر آیا اور سوا پانچ سے کچھ کم یعنی وقت حقیقی سے تقریبا ۵ بج کر ۱۰ منٹ پر ڈوبا تو لازم کہ اس دن ساڑھے دس بجے بھی نیت جائز نہ ہوکہ اب شام تك ۰۶ گھنٹے باقی نہیں حالانکہ اس دن ۱۱ کے بعد یعنی حقیقی وقت سے ۱۱ بج کر ۱۹ منٹ تك بھی نیت جائز ہے کہ نصف النہار شرعی اب ہوگا پس ثابت ہوا کہ ۰۴ پہر کا تخمینہ محض غلط وباعث تغلیط اور بنائے کار اسی حساب پر واجب جو ہم بیان کر آئے والله تعالی اعلم۔
رہا لفظ زوال کہ عبارت امام اجل ابوالحسن قدوری رحمۃ اللہ تعالی علیہمیں واقع عندالتحقیق اس سے دوپہر ڈھلے ہی کا وقت مراد ہے اس روایت پر نصف النہار عرفی تك ان روزوں کی نیت جائز ہے مگر مختار ومعتمد وہی روایت سابقہ ہے کہ نصف النہار شرعی سے پہلے نیت ہوجانی ضرور ہے ہدایہ۱ وقایہ۲ وشرح وقایہ۳ وعتابیہ۴
رہا لفظ زوال کہ عبارت امام اجل ابوالحسن قدوری رحمۃ اللہ تعالی علیہمیں واقع عندالتحقیق اس سے دوپہر ڈھلے ہی کا وقت مراد ہے اس روایت پر نصف النہار عرفی تك ان روزوں کی نیت جائز ہے مگر مختار ومعتمد وہی روایت سابقہ ہے کہ نصف النہار شرعی سے پہلے نیت ہوجانی ضرور ہے ہدایہ۱ وقایہ۲ وشرح وقایہ۳ وعتابیہ۴
و جواہر۵ الاخلاطی وشرح۶ نقایہ برجندی وشرح۷ علامہ اسمعیل ومتن۸ نورالایضاح میں اسی کو اصح کہا اور شرح۹ جامع صغیر للامام السرخسی وکافی۱۰ شرح وافی وشرح۱۱ کنز للزیلعی ومتن۱۲ اصلاح میں اسی کو صحیح بتایا اور نقایہ۱۳ وکنز۱۴ وملتقی۱۵ وتنویر۱۶ ودر۱۷ واشباہ۱۸ وغیرہا مرسلہ معتمدات میں اسی پر جزم کیا اور یہی من حیث الدلیل اقوی تو اسی پر عمل وفتوی اس سوال کا جواب اسی قدر ہے باقی اس روایت کو غلط کہنا ائمہ کے ساتھ گنگوہی صاحب کا سوء ادب ہے کہ قدوری۱ ومجمع۲ وفتاوی۳ خانیہ وفتاوی۴ خلاصہ وشرح۵ طحاوی وخزانۃ۶ المفتین وغیرہا معتبرات میں کہ اجلہ متون وشروح وفتاوی مذہب سے ہیں اسی پر جزم واعتماد کیا۔
اما المجمع فنقل عنہ فی ردالمحتار واما شرح الطحاوی فرمزلہ فی خزانۃ المفتین واما الاربعۃ البواقی فرأیت فیھا بعینی۔
مجمع سے ردالمحتار نے نقل کیا ہے شرح طحاوی کی طرف خزانۃ المفتین میں اشارہ کیا گیا ہے اور باقی چاروں میں میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ (ت)
بلکہ خود محرر مذہب سیدنا امام محمد رضی اللہ تعالی عنہنے کتاب الصوم میں وہی قول زوال ارشاد کیا
کمانص علیہ الامام شمس الائمۃ السرخسی فی شرح الجامع الصغیر ورأیت النقل عنہ فی الایضاح شرح الاصلاح للعلامۃ ابن کمال الوزیر۔
جیسا کہ شمس الائمہ سرخسی نے جامع صغیر کی شرح میں کہا ہے اور علامہ ابن کمال وزیر کی ایضاح شرح اصلاح میں میں نے اس کی نقل دیکھی ہے۔ (ت)
تو ایسی جگہ ارسال زبان نازیبا وزیان اور زوال سے زوال نہار شرعی مراد لے کر قصد توفیق بھی خلاف تحقیق کی مرسلہ ائمہ یہاں ابقائے خلاف کرتے ہیں اور خود ایك جانب کو اصح وصحیح کہنے کا یہی مفاد عبارت ہدایہ یوں ہے :
قال فی المختصر (یعنی القدوری) مابینہ وبین الزوال وفی الجامع الصغیر قبل نصف النھار وھو الاصح الخ۔
کہا مختصر میں (یعنی قدوری میں ) “ اس کے اور زوال کے درمیان “ ۔ اور جامع صغیر میں ہے “ نصف النہار سے پہلے “ ۔ اور یہ اصح ہے الخ (ت)
شرح وقایہ میں ہے :
فی الجامع الصغیر بنیۃ قبل نصف النھار ای قبل نصف النھار الشرعی وفی مختصر القدوری الی الزوال والاول اصح ۔
جامع الصغیر میں ہے “ اگر نصف نہار سے پہلے نیت کرے “ یعنی نصف نہار شرعی سے پہلے اور
اما المجمع فنقل عنہ فی ردالمحتار واما شرح الطحاوی فرمزلہ فی خزانۃ المفتین واما الاربعۃ البواقی فرأیت فیھا بعینی۔
مجمع سے ردالمحتار نے نقل کیا ہے شرح طحاوی کی طرف خزانۃ المفتین میں اشارہ کیا گیا ہے اور باقی چاروں میں میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ (ت)
بلکہ خود محرر مذہب سیدنا امام محمد رضی اللہ تعالی عنہنے کتاب الصوم میں وہی قول زوال ارشاد کیا
کمانص علیہ الامام شمس الائمۃ السرخسی فی شرح الجامع الصغیر ورأیت النقل عنہ فی الایضاح شرح الاصلاح للعلامۃ ابن کمال الوزیر۔
جیسا کہ شمس الائمہ سرخسی نے جامع صغیر کی شرح میں کہا ہے اور علامہ ابن کمال وزیر کی ایضاح شرح اصلاح میں میں نے اس کی نقل دیکھی ہے۔ (ت)
تو ایسی جگہ ارسال زبان نازیبا وزیان اور زوال سے زوال نہار شرعی مراد لے کر قصد توفیق بھی خلاف تحقیق کی مرسلہ ائمہ یہاں ابقائے خلاف کرتے ہیں اور خود ایك جانب کو اصح وصحیح کہنے کا یہی مفاد عبارت ہدایہ یوں ہے :
قال فی المختصر (یعنی القدوری) مابینہ وبین الزوال وفی الجامع الصغیر قبل نصف النھار وھو الاصح الخ۔
کہا مختصر میں (یعنی قدوری میں ) “ اس کے اور زوال کے درمیان “ ۔ اور جامع صغیر میں ہے “ نصف النہار سے پہلے “ ۔ اور یہ اصح ہے الخ (ت)
شرح وقایہ میں ہے :
فی الجامع الصغیر بنیۃ قبل نصف النھار ای قبل نصف النھار الشرعی وفی مختصر القدوری الی الزوال والاول اصح ۔
جامع الصغیر میں ہے “ اگر نصف نہار سے پہلے نیت کرے “ یعنی نصف نہار شرعی سے پہلے اور
حوالہ / References
الہدایۃ کتاب الصوم مطبوعہ المکتبہ العربیۃ کراچی ۱ / ۱۹۲
شرح الوقایۃ کتاب الصوم مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۳۰۶
شرح الوقایۃ کتاب الصوم مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۳۰۶
مختصر قدوری میں ہے کہ زوال تك صحیح ہے لیکن پہلا قول صحیح ہے۔ (ت)
کافی للامام النسفی میں ہے :
ذکر فی المختصر وبینہ وبین الزوال وفی الجامع الصغیر قبل نصف النھار وھو الصحیح ۔
مختصر میں مذکور ہے “ اس کے اور زوال کے درمیان “ اور جامع صغیر میں ہے “ نصف نہار سے پہلے “ اور یہ صحیح ہے الخ (ت)
تبیین الحقائق میں ہے :
قال فی المختصر (یعنی الکنز) الی ماقبل نصف النھار وھو المذکور فی الجامع الصغیر وذکر القدوری مابینہ وبین الزوال والصحیح الاول ۔
کہا مختصر میں (یعنی کنز میں ) “ نصف نہار سے پہلے تک “ ۔ یہی جامع صغیر میں بھی مذکور ہے۔ اور قدوری نے کہا ہے “ اس کے اور زوال کے درمیان “ اور صحیح پہلا قول ہے۔ (ت)
برجندی میں ہے :
اشار القدوری انہ تجوز النیۃ فیما بین الصبح والزوال وفی الھدایۃ الاول ۔
قدوری نے اشارہ کیا ہے کہ نیت صبح اور زوال کے درمیان صحیح ہے۔ اور ہدایہ میں ہے کہ پہلا قول اصح ہے۔ (ت)
جواہر الاخلاطی میں ہے :
اجزائہ النیۃ مابینہ وبین الزوال اوقبل انتصاف النھار وھو الاصح ۔
اس کے لئے نیت کافی ہے اگر صبح اور زوال کے درمیان کرے یا نصف نہار سے پہلے اور یہ اصح ہے (ت)
اور نص قاطع وہ ہے کہ تاتارخانیہ میں محیط سے نقل فرمایا :
یظھر ثمرۃ الاختلاف فیما اذانوی عند قرب الزوال اھ۔
اختلاف کا نتیجہ تب ظاہر ہوگا جب زوال کے قریب
کافی للامام النسفی میں ہے :
ذکر فی المختصر وبینہ وبین الزوال وفی الجامع الصغیر قبل نصف النھار وھو الصحیح ۔
مختصر میں مذکور ہے “ اس کے اور زوال کے درمیان “ اور جامع صغیر میں ہے “ نصف نہار سے پہلے “ اور یہ صحیح ہے الخ (ت)
تبیین الحقائق میں ہے :
قال فی المختصر (یعنی الکنز) الی ماقبل نصف النھار وھو المذکور فی الجامع الصغیر وذکر القدوری مابینہ وبین الزوال والصحیح الاول ۔
کہا مختصر میں (یعنی کنز میں ) “ نصف نہار سے پہلے تک “ ۔ یہی جامع صغیر میں بھی مذکور ہے۔ اور قدوری نے کہا ہے “ اس کے اور زوال کے درمیان “ اور صحیح پہلا قول ہے۔ (ت)
برجندی میں ہے :
اشار القدوری انہ تجوز النیۃ فیما بین الصبح والزوال وفی الھدایۃ الاول ۔
قدوری نے اشارہ کیا ہے کہ نیت صبح اور زوال کے درمیان صحیح ہے۔ اور ہدایہ میں ہے کہ پہلا قول اصح ہے۔ (ت)
جواہر الاخلاطی میں ہے :
اجزائہ النیۃ مابینہ وبین الزوال اوقبل انتصاف النھار وھو الاصح ۔
اس کے لئے نیت کافی ہے اگر صبح اور زوال کے درمیان کرے یا نصف نہار سے پہلے اور یہ اصح ہے (ت)
اور نص قاطع وہ ہے کہ تاتارخانیہ میں محیط سے نقل فرمایا :
یظھر ثمرۃ الاختلاف فیما اذانوی عند قرب الزوال اھ۔
اختلاف کا نتیجہ تب ظاہر ہوگا جب زوال کے قریب
حوالہ / References
کافی شرح وافی
تبین الحقائق کتاب الصوم المطبعۃ الکبرٰی الامیریۃ مصر ۱ / ۳۱۵۹
شرح النقایہ للبرجندی کتاب الصو م نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۱۱
جواہر الاخلاطی ، کتاب الصو م قلمی نسخہ غیر مطبوعہ ۱ / ۴۸
الفتاوٰی التاتارخانیۃ الفصل الثالث فی النیۃ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ / ۳۵۷
تبین الحقائق کتاب الصوم المطبعۃ الکبرٰی الامیریۃ مصر ۱ / ۳۱۵۹
شرح النقایہ للبرجندی کتاب الصو م نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۱۱
جواہر الاخلاطی ، کتاب الصو م قلمی نسخہ غیر مطبوعہ ۱ / ۴۸
الفتاوٰی التاتارخانیۃ الفصل الثالث فی النیۃ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ / ۳۵۷
نیت کرے اھ (ت)
اقول : بلکہ بعد اس عنایت کے بھی توفیق عـــہ۱ نہ ہوئی (انتصاف پر بھی مابینہ وبین الزوال وقبل الزوال وقرب الزوال صادق حالانکہ مذہب صحیح پر خاص وقت ضحوہ کبری بھی نیت کافی نہیں کماقدمنا عن الدر وغیرہ (جس طرح ہم نے در وغیرہ سے پہلے نقل کیا ہے)(صـ۱۲۲) پھر اس تکلیف بے حاصل سے کیا حاصل۔ غرض نہ تغلیط مقبول نہ توفیق معقول بلکہ جواب وہی ہے جو فقیر نے ذکر کیا وبالله التوفیق وافاضۃ التحقیق والله سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۰ ثانیہ : وقت زوال جس میں نماز ممنوع کیا وقت ہے۔
اقول : گنگوہی صاحب نے اس سوال کا جواب نہ دیا پیشتر بھی فقیر سے یہ سوال ہوا تھا بقدر ضرورت جواب لکھا گیا یہاں اس کی نقل پر اقتصار ہوتا ہے۔
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زوال کا وقت جس میں نماز ناجائز ہے کیا ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
زوال تو سورج ڈھلنے کو کہتے ہیں یہ وقت وہ ہے کہ ممانعت کا وقت نکل گیا اور جواز کا آیا کماصرح بہ في البحر عن الحلیۃ۔ (جیسا کہ بحرالرائق میں حلیہ سے اسکی تصریح کی گئی ہے)تو وقت ممانعت کو زوال کہنا صریح مسامحت ہے اور غایت تاویل مجاز مجاورت بلکہ اسے وقت استوا کہنا چاہئے یعنی نصف النہار کا وقت اب علما کو اختلاف ہے کہ اس سے نہار عرفی کا نصف حقیقی عـــہ۲ مراد ہے یعنی دوپہر جس وقت مرکز آفتاب بالائے افق دائرہ نصف النہار پر
عـــہ۱ نعم لواول بالمنتصف کان توفیقا وان لم یکن تحقیقا ۱۲ منہ (م)
ہاں اگر (اس قول کی) تاویل نصف النہار کے ساتھ کردی جاتی تو ان میں تطبیق ہوجاتی اگرچہ اس میں بھی تسامح ہے۔ (ت)
عـــہ۲ احتراز ہے نصف النہار عرفی سے کہ ۱۲ بجے کے وقت کو کہتے ہیں یہ سال میں چار۴ دن یعنی ۱۵ / اپریل۱۴ جون ۳۱ / اگست ۲۴ دسمبر کے سوا ہمیشہ نصف النہار حقیقی سے آگے پیچھے ہوتا ہے جس کا تقدم تاخر تقریبا پاؤ گھنٹے تك پہنچتا ہے یعنی زیادت میں تقریبا ۱۴ منٹ اور کمی میں ۱۶ پھر یہ بھی اس وقت ہے کہ گھڑیاں (باقی اگلے صفحہ پر)
اقول : بلکہ بعد اس عنایت کے بھی توفیق عـــہ۱ نہ ہوئی (انتصاف پر بھی مابینہ وبین الزوال وقبل الزوال وقرب الزوال صادق حالانکہ مذہب صحیح پر خاص وقت ضحوہ کبری بھی نیت کافی نہیں کماقدمنا عن الدر وغیرہ (جس طرح ہم نے در وغیرہ سے پہلے نقل کیا ہے)(صـ۱۲۲) پھر اس تکلیف بے حاصل سے کیا حاصل۔ غرض نہ تغلیط مقبول نہ توفیق معقول بلکہ جواب وہی ہے جو فقیر نے ذکر کیا وبالله التوفیق وافاضۃ التحقیق والله سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۰ ثانیہ : وقت زوال جس میں نماز ممنوع کیا وقت ہے۔
اقول : گنگوہی صاحب نے اس سوال کا جواب نہ دیا پیشتر بھی فقیر سے یہ سوال ہوا تھا بقدر ضرورت جواب لکھا گیا یہاں اس کی نقل پر اقتصار ہوتا ہے۔
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زوال کا وقت جس میں نماز ناجائز ہے کیا ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
زوال تو سورج ڈھلنے کو کہتے ہیں یہ وقت وہ ہے کہ ممانعت کا وقت نکل گیا اور جواز کا آیا کماصرح بہ في البحر عن الحلیۃ۔ (جیسا کہ بحرالرائق میں حلیہ سے اسکی تصریح کی گئی ہے)تو وقت ممانعت کو زوال کہنا صریح مسامحت ہے اور غایت تاویل مجاز مجاورت بلکہ اسے وقت استوا کہنا چاہئے یعنی نصف النہار کا وقت اب علما کو اختلاف ہے کہ اس سے نہار عرفی کا نصف حقیقی عـــہ۲ مراد ہے یعنی دوپہر جس وقت مرکز آفتاب بالائے افق دائرہ نصف النہار پر
عـــہ۱ نعم لواول بالمنتصف کان توفیقا وان لم یکن تحقیقا ۱۲ منہ (م)
ہاں اگر (اس قول کی) تاویل نصف النہار کے ساتھ کردی جاتی تو ان میں تطبیق ہوجاتی اگرچہ اس میں بھی تسامح ہے۔ (ت)
عـــہ۲ احتراز ہے نصف النہار عرفی سے کہ ۱۲ بجے کے وقت کو کہتے ہیں یہ سال میں چار۴ دن یعنی ۱۵ / اپریل۱۴ جون ۳۱ / اگست ۲۴ دسمبر کے سوا ہمیشہ نصف النہار حقیقی سے آگے پیچھے ہوتا ہے جس کا تقدم تاخر تقریبا پاؤ گھنٹے تك پہنچتا ہے یعنی زیادت میں تقریبا ۱۴ منٹ اور کمی میں ۱۶ پھر یہ بھی اس وقت ہے کہ گھڑیاں (باقی اگلے صفحہ پر)
حوالہ / References
البحرالرائق کتاب الصوم مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی دہلی ۱ / ۲۵۱
پہنچتا اور سایہ اپنی مقدار اصلی پر آکر اس کے بعد جانب مشرق پلٹتا اور گھٹنے کی انتہا ہوکر پھر بڑھنا شروع ہوجاتا ہے یہ قول ائمہ ماوراء النہر کی طرف منسوب یا نہار شرعی کا نصف مراد ہے جسے ضحوہ کبری کہتے ہیں ۔ ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ نہار عرفی طلوع کنارہ شمس سے غروب کل قرص شمس تك ہے۔
والمراد بالطلوع المبتنی علیہ احکام الشرع تجاوز اول حاجب الشمس فی جھۃ الشرق عن دائرۃ الافق الحسی بالمعنی الاعم المسمی فی کلام البعض بالافق الترسی بحرکۃ الکل وبالغروب تجاوز کل قرصھا فی جھۃ الغرب عن الدائرۃ المذکورۃ بالحرکۃ المزبورۃ فوضح امتیاز النھار العرفی عن النھار النجومی فانہ من انطباق مرکز الشمس علی دائرۃ الافق الحقیقی من قبل المشرق الی انطباقہ علیھا فی جھۃ المغرب فان اتحد الافقان یکون العرفی اکبر من النجومی بقدر مایطلع نصف کرۃ الشمس ویغرب النصف وان انحط الترسی من التحقیق وھو الاکثر لاسیما من جھۃ دقائق الانکسار الافقی فزیادۃ العرفی ازید۔ نعم ان وقع فوقہ بقدر نصف قطر الشمس مع دقائق الانکسار یستوی النھاران اوازید من ذلك فیفضل النجومی کمالایخفی وھذہ فائدۃ سنحت للقلم حین التحریر فاحببنا ایرادھا۔
جس طلوع پر شرعی احکام مبنی ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ شرقی جانب جو دائرہ افق حسی ہے افق حسی کا عام معنی مراد ہے جس کو بعض نے افق ترسی کا نام دیا ہے۔ اس دائرے سے پورے سورج کی حرکت کے ساتھ سورج کا پہلا کنارہ گزرجائے۔ اور غروب سے مراد یہ ہے کہ سورج کی پوری ٹکیہ اسی دائرے سے اسی حرکت کے ساتھ غربی جانب سے گزر جائے۔ اس سے نہار عرفی اور نہار نجومی کا امتیاز بھی واضح ہوگیا کیونکہ نہار نجومی شروع اس وقت ہوتی ہے جب شرقی جانب سورج کا مرکز افق حقیقی کے دائرے پر منطبق ہوجائے اور ختم اس وقت ہوتی ہے جب غربی جانب سورج کا مرکز افق حقیقی کے دائرے پر منطبق ہوجائے۔ اب اگر دونوں افق (حقیقی
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
اصل تعدیل الایام بلدی پر جاری کی جائیں اور اگر دوسرے مقام کے وقت پر اجرا ہو جیسے ہندوستان میں وقت مدراس کو اختلاف طول سے یہ دن متبدل ہوجائیں گے مثلا بریلی جس کا وقت مدراس سے ۳ منٹ ۱۹ سیکنڈ زائد ہے یہاں تقریبی مساوات یعنی جیبی گھڑی کے ۱۲ بجے پر ٹھیك دوپہر ہونا ان چار تاریخوں پر ہوگا ۴ و ۲۵ مئی و ۱۱ ستمبر و ۱۸ دسمبر ۱۲ منہ- یہ بھی اس وقت تك تھا اب کہ جولائی ۱۹۰۵ء سے مدراس ٹائم منسوخ اور وسط ہند کے وقت پر گھڑیاں جاری کی گئی ہیں یعنی جہاں طول ۸۲ درجے ہے جس کے ۰۵ گھنٹے ہوئے اس اختلاف نے بریلی میں صرف دو۲ ہی دن مساوات کے رکھے ۸ اکتوبر اور ۲۸ نومبر اور کمی کی مقدار یعنی جیبی گھڑی کے ۱۲ بجے سے نصف النہار حقیقی کا پہلے ہونا صرف ۴ منٹ رہ گئی اور زیادت یعنی حبیبی کے ۱۲ بجے سے ٹھیك دوپہر بعد کو ہونا ۲۶ منٹ تك پہنچ گئی ۱۲ منہ (م)
والمراد بالطلوع المبتنی علیہ احکام الشرع تجاوز اول حاجب الشمس فی جھۃ الشرق عن دائرۃ الافق الحسی بالمعنی الاعم المسمی فی کلام البعض بالافق الترسی بحرکۃ الکل وبالغروب تجاوز کل قرصھا فی جھۃ الغرب عن الدائرۃ المذکورۃ بالحرکۃ المزبورۃ فوضح امتیاز النھار العرفی عن النھار النجومی فانہ من انطباق مرکز الشمس علی دائرۃ الافق الحقیقی من قبل المشرق الی انطباقہ علیھا فی جھۃ المغرب فان اتحد الافقان یکون العرفی اکبر من النجومی بقدر مایطلع نصف کرۃ الشمس ویغرب النصف وان انحط الترسی من التحقیق وھو الاکثر لاسیما من جھۃ دقائق الانکسار الافقی فزیادۃ العرفی ازید۔ نعم ان وقع فوقہ بقدر نصف قطر الشمس مع دقائق الانکسار یستوی النھاران اوازید من ذلك فیفضل النجومی کمالایخفی وھذہ فائدۃ سنحت للقلم حین التحریر فاحببنا ایرادھا۔
جس طلوع پر شرعی احکام مبنی ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ شرقی جانب جو دائرہ افق حسی ہے افق حسی کا عام معنی مراد ہے جس کو بعض نے افق ترسی کا نام دیا ہے۔ اس دائرے سے پورے سورج کی حرکت کے ساتھ سورج کا پہلا کنارہ گزرجائے۔ اور غروب سے مراد یہ ہے کہ سورج کی پوری ٹکیہ اسی دائرے سے اسی حرکت کے ساتھ غربی جانب سے گزر جائے۔ اس سے نہار عرفی اور نہار نجومی کا امتیاز بھی واضح ہوگیا کیونکہ نہار نجومی شروع اس وقت ہوتی ہے جب شرقی جانب سورج کا مرکز افق حقیقی کے دائرے پر منطبق ہوجائے اور ختم اس وقت ہوتی ہے جب غربی جانب سورج کا مرکز افق حقیقی کے دائرے پر منطبق ہوجائے۔ اب اگر دونوں افق (حقیقی
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
اصل تعدیل الایام بلدی پر جاری کی جائیں اور اگر دوسرے مقام کے وقت پر اجرا ہو جیسے ہندوستان میں وقت مدراس کو اختلاف طول سے یہ دن متبدل ہوجائیں گے مثلا بریلی جس کا وقت مدراس سے ۳ منٹ ۱۹ سیکنڈ زائد ہے یہاں تقریبی مساوات یعنی جیبی گھڑی کے ۱۲ بجے پر ٹھیك دوپہر ہونا ان چار تاریخوں پر ہوگا ۴ و ۲۵ مئی و ۱۱ ستمبر و ۱۸ دسمبر ۱۲ منہ- یہ بھی اس وقت تك تھا اب کہ جولائی ۱۹۰۵ء سے مدراس ٹائم منسوخ اور وسط ہند کے وقت پر گھڑیاں جاری کی گئی ہیں یعنی جہاں طول ۸۲ درجے ہے جس کے ۰۵ گھنٹے ہوئے اس اختلاف نے بریلی میں صرف دو۲ ہی دن مساوات کے رکھے ۸ اکتوبر اور ۲۸ نومبر اور کمی کی مقدار یعنی جیبی گھڑی کے ۱۲ بجے سے نصف النہار حقیقی کا پہلے ہونا صرف ۴ منٹ رہ گئی اور زیادت یعنی حبیبی کے ۱۲ بجے سے ٹھیك دوپہر بعد کو ہونا ۲۶ منٹ تك پہنچ گئی ۱۲ منہ (م)
اور ترسی) متحد ہوں تو نہار عرفی نہار نجومی سے اتنی بڑی ہوگی جتنی دیر میں سورج کا آدھا کرہ طلوع ہوتا ہے اور آدھا غروب ہوتا ہے۔ اور اگر ترسی حقیقی سے نیچے ہو جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے خصوصا جب افقی انکسار کے دقیقوں کو ملحوظ رکھا جائے تو نہار عرفی اور زیادہ بڑھ جائے گی۔ ہاں اگر ترسی حقیقی سے سورج کے نصف قطر جتنا اوپر ہو اور انکسار کے دقیقے بھی ملحوظ ہوں تو نہار عرفی اور نہار نجومی برابر ہوجائیں گی۔ اور اگر سورج کے نصف قطر کی مقدار سے زیادہ اوپر ہوتو نہار نجومی بڑھ جائے گی جیسا کہ مخفی نہیں ہے یہ فائدہ لکھتے وقت قلم کیلئے ظاہر ہواتو ہم نے اس کو ذکر کرنا مناسب سمجھا۔ (ت)
اور نہار شرعی طلوع فجر صادق سے غروب کل آفتاب تك ہے تو اس کا نصف ہمیشہ اس کے نصف سے پہلے ہوگا مثلا فرض کیجئے آج تحویل حمل کا دن ہے آفتاب بریلی اور اس کے قریب مواضع میں جیب گھڑی کے ۶ بج کر ۷ منٹ پر چمکا اور ۶ بج کر ۱۴ منٹ پر ڈوبا ۴ بج کر ۴۸ منٹ پر صبح ہوئی تو اس دن نہار شرعی ۱۳ گھنٹے ۲۶ منٹ کا ہے جس کا آدھا ۶ گھنٹے ۴۳ منٹ ہوا اسے ۴ گھنٹے ۴۸ منٹ پر بڑھایا تو ۱۱ گھنٹے ۳۱ منٹ کا وقت آیا اور نصف النہار شرعی وقت استوائے حقیقی سے ۴۰ منٹ پیشتر ہو الا تسع وعشرین کمایتوھم فافھم واعرف ان کنت تفھم (نہ کہ انیس منٹ جیسا کہ وعدہ کیا جاتا ہے۔ اس کو سمجھو اور جانو اگر سمجھ رکھتے ہو۔ ت) اسی کو ضحوہ کبری کہتے ہیں اسی وقت کے آنے تك کچھ کھایا پیا نہ ہوتو روزے کی نیت جائز ہے اس دوسرے قول پر اس وقت سے نصف النہار عرفی یعنی استوائے حقیقی تك کہ تحویل حمل کے دن ۱۲ بج کر ۱۱ منٹ پر ہوگا سارا وقت کراہت کا ہے جس میں نماز ناجائز وممنوع اور پرظاہر کہ یہ مقدار اختلاف موسم سے گھٹتی بڑھتی رہے گی یہ قول ائمہ خوارزم کی طرف نسبت کیا گیا اور امام رکن الدین صباغی نے اسی پر فتوی دیا ردالمحتار میں ہے :
عزافی القھستانی القول بان المراد انتصاف النھار العرفی ای ائمۃ ماوراء النھر وبان المراد انتصاف النھار الشرعی وھو الضحوۃ الکبری الی الزوال الی ائمۃ خوارزم ۔
قہستانی میں اس قول کو ائمہ ماوراء النہر کی طرف منسوب کیا ہے کہ مراد عرفی نہار کا نصف ہونا ہے اور اس قول کو ائمہ خوارزم کی طرف منسوب کیا ہے کہ مراد شرعی نہار کا نصف ہونا ہے یعنی ضحوہ کبری زوال تک۔ (ت)
اور نہار شرعی طلوع فجر صادق سے غروب کل آفتاب تك ہے تو اس کا نصف ہمیشہ اس کے نصف سے پہلے ہوگا مثلا فرض کیجئے آج تحویل حمل کا دن ہے آفتاب بریلی اور اس کے قریب مواضع میں جیب گھڑی کے ۶ بج کر ۷ منٹ پر چمکا اور ۶ بج کر ۱۴ منٹ پر ڈوبا ۴ بج کر ۴۸ منٹ پر صبح ہوئی تو اس دن نہار شرعی ۱۳ گھنٹے ۲۶ منٹ کا ہے جس کا آدھا ۶ گھنٹے ۴۳ منٹ ہوا اسے ۴ گھنٹے ۴۸ منٹ پر بڑھایا تو ۱۱ گھنٹے ۳۱ منٹ کا وقت آیا اور نصف النہار شرعی وقت استوائے حقیقی سے ۴۰ منٹ پیشتر ہو الا تسع وعشرین کمایتوھم فافھم واعرف ان کنت تفھم (نہ کہ انیس منٹ جیسا کہ وعدہ کیا جاتا ہے۔ اس کو سمجھو اور جانو اگر سمجھ رکھتے ہو۔ ت) اسی کو ضحوہ کبری کہتے ہیں اسی وقت کے آنے تك کچھ کھایا پیا نہ ہوتو روزے کی نیت جائز ہے اس دوسرے قول پر اس وقت سے نصف النہار عرفی یعنی استوائے حقیقی تك کہ تحویل حمل کے دن ۱۲ بج کر ۱۱ منٹ پر ہوگا سارا وقت کراہت کا ہے جس میں نماز ناجائز وممنوع اور پرظاہر کہ یہ مقدار اختلاف موسم سے گھٹتی بڑھتی رہے گی یہ قول ائمہ خوارزم کی طرف نسبت کیا گیا اور امام رکن الدین صباغی نے اسی پر فتوی دیا ردالمحتار میں ہے :
عزافی القھستانی القول بان المراد انتصاف النھار العرفی ای ائمۃ ماوراء النھر وبان المراد انتصاف النھار الشرعی وھو الضحوۃ الکبری الی الزوال الی ائمۃ خوارزم ۔
قہستانی میں اس قول کو ائمہ ماوراء النہر کی طرف منسوب کیا ہے کہ مراد عرفی نہار کا نصف ہونا ہے اور اس قول کو ائمہ خوارزم کی طرف منسوب کیا ہے کہ مراد شرعی نہار کا نصف ہونا ہے یعنی ضحوہ کبری زوال تک۔ (ت)
حوالہ / References
ردالمحتار مطلب یشترط العلم بدخول الوقت مطبوعہ المصطفی البابی مصر ۱ / ۲۷۳
اسی میں ہے :
وفی القنیۃ واختلف فی وقت الکراھۃ عند الزوال فقیل من نصف النھار الی الزوال لروایۃ ابی سعید رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم انہ نھی عن الصلاۃ نصف النھار حتی تزول الشمس قال رکن الدین الصباغی وما احسن ھذا لان النھی عن الصلاۃ فیہ یعتمد تصورھا فیہ اھ ما فی الشامی وھذا کماتری من الفاظ الافتاء۔
اقول : ویؤیدہ مافی الشامی عن الطحطاوی عن ابی السعود عن الحموی عن البرجندی عن الملتقط فی باب الکسوف انھا اذا انکسفت بعد العصر اونصف النھار دعواولم یصلوا ای لکراھۃ النفل فی الوقتین ووجہ التأیید ظاھر لیس بخاف۔
اور قنیہ میں ہے کہ زوال کے قریب مکروہ وقت کی مقدار میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا کہ نصف النہار سے زوال تك ہے کیونکہ ابوسعید رضی اللہ تعالی عنہنبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے راوی ہیں کہ آپ نے نصف النہار سے زوال تك نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے رکن الدین صباغی نے کہا ہے کہ یہ کتنا ہی اچھا استدلال ہے کیونکہ اس وقت میں نماز سے منع کرنے کی ضرورت تب ہی پڑسکتی ہے جب یہ وقت کم ازکم اتنا ضرور ہوکہ اس میں نماز پڑھی جاسکے شامی کی عبارت ختم ہوئی۔ اور جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو یہ افتاء کے الفاظ ہیں ۔ (ت)
اقول : (میں کہتا ہوں ) : اسی کا مؤید ہے وہ جو شامی میں ہے۔ شامی نے طحطاوی سے اس نے ابوالسعود سے اس نے حموی سے اس نے برجندی سے اس نے ملتقط سے باب الکسوف میں نقل کیا ہے کہ اگر سورج گرہن عصر کے بعد یا نصف النہار کے وقت لگے تو لوگ دعا کریں گے اور نماز نہیں پڑھیں گے یعنی اس وجہ سے کہ ان دو۲ وقتوں میں نفل پڑھنا مکروہ ہے تائید کی وجہ ظاہر ہے مخفی نہیں ۔ (ت)
غرض جب علماء میں اختلاف ہے اور ایك امام اجل نے اس قول کو ترجیح دی اور اس کے خلاف ترجیح منقول نہ ہوئی تو احتیاط اسی پر عمل کرنے میں ہے۔
وفی القنیۃ واختلف فی وقت الکراھۃ عند الزوال فقیل من نصف النھار الی الزوال لروایۃ ابی سعید رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم انہ نھی عن الصلاۃ نصف النھار حتی تزول الشمس قال رکن الدین الصباغی وما احسن ھذا لان النھی عن الصلاۃ فیہ یعتمد تصورھا فیہ اھ ما فی الشامی وھذا کماتری من الفاظ الافتاء۔
اقول : ویؤیدہ مافی الشامی عن الطحطاوی عن ابی السعود عن الحموی عن البرجندی عن الملتقط فی باب الکسوف انھا اذا انکسفت بعد العصر اونصف النھار دعواولم یصلوا ای لکراھۃ النفل فی الوقتین ووجہ التأیید ظاھر لیس بخاف۔
اور قنیہ میں ہے کہ زوال کے قریب مکروہ وقت کی مقدار میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا کہ نصف النہار سے زوال تك ہے کیونکہ ابوسعید رضی اللہ تعالی عنہنبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے راوی ہیں کہ آپ نے نصف النہار سے زوال تك نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے رکن الدین صباغی نے کہا ہے کہ یہ کتنا ہی اچھا استدلال ہے کیونکہ اس وقت میں نماز سے منع کرنے کی ضرورت تب ہی پڑسکتی ہے جب یہ وقت کم ازکم اتنا ضرور ہوکہ اس میں نماز پڑھی جاسکے شامی کی عبارت ختم ہوئی۔ اور جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو یہ افتاء کے الفاظ ہیں ۔ (ت)
اقول : (میں کہتا ہوں ) : اسی کا مؤید ہے وہ جو شامی میں ہے۔ شامی نے طحطاوی سے اس نے ابوالسعود سے اس نے حموی سے اس نے برجندی سے اس نے ملتقط سے باب الکسوف میں نقل کیا ہے کہ اگر سورج گرہن عصر کے بعد یا نصف النہار کے وقت لگے تو لوگ دعا کریں گے اور نماز نہیں پڑھیں گے یعنی اس وجہ سے کہ ان دو۲ وقتوں میں نفل پڑھنا مکروہ ہے تائید کی وجہ ظاہر ہے مخفی نہیں ۔ (ت)
غرض جب علماء میں اختلاف ہے اور ایك امام اجل نے اس قول کو ترجیح دی اور اس کے خلاف ترجیح منقول نہ ہوئی تو احتیاط اسی پر عمل کرنے میں ہے۔
حوالہ / References
ردالمحتار مطلب یشترط العلم بدخول الوقت مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۷۳
ردالمحتارباب الکسوف مصطفی البابی مصر ۱ / ۶۲۲
ردالمحتارباب الکسوف مصطفی البابی مصر ۱ / ۶۲۲
حتی یتبین خلافہ اقول والمسئلۃ بعد تحتاج الی زیادۃ تحقیق وتحریر وللعبد الضعیف ھھنا ابحاث سنوردھا ان شاء الله تعالی فی غیر ھذا التحریر والله تعالی اعلم۔ انتھی ماکتبت فی الجواب۔ والله سبحنہ اعلم بالصواب ۔
یہاں تك کہ اس کا خلاف ظاہر ہوجائے اقول (میں کہتا ہوں ) ابھی مسئلہ مزید تحقیق وتحریر کا محتاج ہے اور عبد ضعیف کی یہاں کچھ بحثیں ہیں جنہیں عنقریب ہم کسی اور تحریر میں پیش کریں گے والله تعالی اعلم جو کچھ میں نے جواب میں لکھا ہے وہ ختم ہوا۔ والله سبحنہ اعلم بالصواب۔ (ت)
مسئلہ (۲۷۱) ثالثہ : بڑھ سے بڑھ یہ وقت کس قدر ہے
اقول : گنگوہی صاحب نے اس سوال کا جواب بھی قلم انداز کردیا اس کا جواب اجمالی یہ ہے کہ ہمارے بلاد میں انتہا درجہ یہ وقت ۴۸ منٹ تك پہنچتا ہے جبکہ آفتاب انقلاب صیفی میں ہوتا ہے یعنی ۲۲ جون کو ٹھیك دوپہر سے اتنے منٹ بیشتر نصف النہار شرعی ہوجاتا ہے اور تحویل حمل ومیزان یعنی ۲۱ مارچ و ۲۴ ستمبر کو ۳۹ منٹ پہلے ہوتا ہے نہ اس سے گھٹے نہ اس سے بڑھے باقی ایام میں انہیں کے بیچ میں دورہ کرتا ہے وتفصیل ذلك یطول جدا (اور اس کی تفصیل بہت طویل ہے۔ ت) اور ٹھیك دوپہر سے یہ مراد کہ جب دائرہ ہندیہ میں ظل ثانی خط الزوال پر پورا منطبق ہو یہی نہار عرفی کا گویا عـــہ نصف حقیقی ہے اسی کو استوائے حقیقی کہئے اس وقت آفتاب بیچ آسمان میں ہونا سمجھئے احکام شرعیہ میں اسی وقت کا اعتبار ہے نصف النہار شرعی سے اسی وقت تك نماز مکروہ ہے اس کے بعد پھر وقت ممانعت نہیں رہتا اس وقت بارہ بجے فرض کیجئے اور اس سے گھنٹہ بھر پہلے گیارہ وعلی ہذا القیاس ان گھڑی گھنٹوں کے بارہ کا حکم زوال ونصف النہار وشروع وقت ظہر میں اصلا اعتبار نہیں اگرچہ نہایت صحیح ہوں کہ نظر عوام میں ان کا کمال صحت توپ سے مطابقت اور توپ قطع نظر اس سے کہ اکثر غلط چلتی ہے فقیر نے گیارہ منٹ تك کی غلطی اس میں مشاہدہ کی ہے اگر پوری صحیح بھی چلے تو خود اس حساب پر نہیں چلتی فقیر نے بارہا بچشم خود مشاہدہ کیا ہے کہ دوپہر کی توپ صحیح چلی ہے اور اس وقت آفتاب مرأی العین میں صاف پلٹ چکا ہے یا ابھی وسط آسمان پر بھی نہ آیا ولہذا تحویل حوت کا شمس کہ بحساب دائرہ ہندیہ مع حصہ انکسار افقی ہمارے شہر میں ۵ بج کر ۳۹ منٹ پر ڈوبنا چاہئے توپ کے اعتبار سے قریب ۶ بجے کے ۵ بج کر ۵۶ منٹ پر ڈوبتا ہے تحویل قوس کا مہرکہ بحساب مذکور دائرہ ۶ بج کر ۴۲ منٹ پر چمکنا چاہئے توپ کے گھنٹوں پر ۶ سے ۳۱ منٹ
عـــہ اس گویا اور کہیے اورسمجھی کی وجہ عالم ہیا ت پر مخفی نہیں اور یہ بھی وہ جان سکتا ہے کہ یہ وقت وقت استوائے حقیقی تحقیقی کس صورت میں ہوگا ۱۲ منہ (م)
یہاں تك کہ اس کا خلاف ظاہر ہوجائے اقول (میں کہتا ہوں ) ابھی مسئلہ مزید تحقیق وتحریر کا محتاج ہے اور عبد ضعیف کی یہاں کچھ بحثیں ہیں جنہیں عنقریب ہم کسی اور تحریر میں پیش کریں گے والله تعالی اعلم جو کچھ میں نے جواب میں لکھا ہے وہ ختم ہوا۔ والله سبحنہ اعلم بالصواب۔ (ت)
مسئلہ (۲۷۱) ثالثہ : بڑھ سے بڑھ یہ وقت کس قدر ہے
اقول : گنگوہی صاحب نے اس سوال کا جواب بھی قلم انداز کردیا اس کا جواب اجمالی یہ ہے کہ ہمارے بلاد میں انتہا درجہ یہ وقت ۴۸ منٹ تك پہنچتا ہے جبکہ آفتاب انقلاب صیفی میں ہوتا ہے یعنی ۲۲ جون کو ٹھیك دوپہر سے اتنے منٹ بیشتر نصف النہار شرعی ہوجاتا ہے اور تحویل حمل ومیزان یعنی ۲۱ مارچ و ۲۴ ستمبر کو ۳۹ منٹ پہلے ہوتا ہے نہ اس سے گھٹے نہ اس سے بڑھے باقی ایام میں انہیں کے بیچ میں دورہ کرتا ہے وتفصیل ذلك یطول جدا (اور اس کی تفصیل بہت طویل ہے۔ ت) اور ٹھیك دوپہر سے یہ مراد کہ جب دائرہ ہندیہ میں ظل ثانی خط الزوال پر پورا منطبق ہو یہی نہار عرفی کا گویا عـــہ نصف حقیقی ہے اسی کو استوائے حقیقی کہئے اس وقت آفتاب بیچ آسمان میں ہونا سمجھئے احکام شرعیہ میں اسی وقت کا اعتبار ہے نصف النہار شرعی سے اسی وقت تك نماز مکروہ ہے اس کے بعد پھر وقت ممانعت نہیں رہتا اس وقت بارہ بجے فرض کیجئے اور اس سے گھنٹہ بھر پہلے گیارہ وعلی ہذا القیاس ان گھڑی گھنٹوں کے بارہ کا حکم زوال ونصف النہار وشروع وقت ظہر میں اصلا اعتبار نہیں اگرچہ نہایت صحیح ہوں کہ نظر عوام میں ان کا کمال صحت توپ سے مطابقت اور توپ قطع نظر اس سے کہ اکثر غلط چلتی ہے فقیر نے گیارہ منٹ تك کی غلطی اس میں مشاہدہ کی ہے اگر پوری صحیح بھی چلے تو خود اس حساب پر نہیں چلتی فقیر نے بارہا بچشم خود مشاہدہ کیا ہے کہ دوپہر کی توپ صحیح چلی ہے اور اس وقت آفتاب مرأی العین میں صاف پلٹ چکا ہے یا ابھی وسط آسمان پر بھی نہ آیا ولہذا تحویل حوت کا شمس کہ بحساب دائرہ ہندیہ مع حصہ انکسار افقی ہمارے شہر میں ۵ بج کر ۳۹ منٹ پر ڈوبنا چاہئے توپ کے اعتبار سے قریب ۶ بجے کے ۵ بج کر ۵۶ منٹ پر ڈوبتا ہے تحویل قوس کا مہرکہ بحساب مذکور دائرہ ۶ بج کر ۴۲ منٹ پر چمکنا چاہئے توپ کے گھنٹوں پر ۶ سے ۳۱ منٹ
عـــہ اس گویا اور کہیے اورسمجھی کی وجہ عالم ہیا ت پر مخفی نہیں اور یہ بھی وہ جان سکتا ہے کہ یہ وقت وقت استوائے حقیقی تحقیقی کس صورت میں ہوگا ۱۲ منہ (م)
بعد طلوع کر آتا ہے اسی طرح ہرجگہ فرق پائیے گا یہ امر ضرور قابل لحاظ ہے یہیں سے وہ عقدہ کھل گیا کہ ہم نے مسئلہ ثانیہ کے جواب میں نصف النہار شرعی ۱۱ پر ۳۱ منٹ آکر لکھا اور پھر اس سے استوائے حقیقی تك ۴۰ منٹ کا فاصلہ رکھا حالانکہ ۱۱ پر ۳۱ کے بعد ۱۲بجنے تك صرف ۲۹ منٹ کا فصل ہے تو وجہ یہ کہ اس مسئلہ میں انہیں رواجی مدراسی گھنٹوں کا حساب لیا تھا ولہذا طلوع شمس حمل ۶ پر ۷ منٹ آکر مانا۔ یہ ہے ان مسائل کا اجمالی تخمینی جواب اور تفصیل وتحقیق مفضی تطویل واطناب۔
وفیما ذکرنا کفایۃ لاولی الباب وصلی الله تعالی علی المولی الاواب سیدنا محمد والال والاصحاب والله تعالی اعلم بالصواب۔
اور جو ہم نے ذکر کیا ہے وہ عقلمندوں کے لئے کافی ہے اور درود بھیجے الله تعالی بہت رجوع کرنے والے آقا سیدنا محمد پر اور ان کی آل واصحاب پر۔ والله تعالی اعلم بالصواب۔ (ت)
مسئلہ (۲۷۲) : از حیدرآباد دکن قریب دروازہ دبیرپورہ مدرسہ محمدیہ مرسلہ مولوی عبدالخالق صاحب اعظم گڈھی ۱۲ جمادی الاخری ۱۳۱۷ھ
حضرت مولنا العلام والحبر القمقام حامی السنۃ قامع البدعۃ بقیۃ السلف حجۃ الخلف مولانا الحاج المولوی احمد رضاخان صاحب مدظلہ العالی بعد السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ واضح رائے عالی متعالی ہوکہ ان دنوں یہاں کہ علما بلکہ چار پانچ علمائے ہند مثل حضرت مولانا مولوی لطف الله صاحب علی گڈھی وجناب مولوی محمد منصور علی خان صاحب مراد آبادی وجناب مولوی محمد یعقوب صاحب اعظم گڈھی وغیرہم نے مثلین سوی الزوال کا فتوی دیا بعدہ مولوی عبدالوہاب صاحب بہاری صدر مدرس مدرسہ نظامیہ نے سب علماء کے فتوے کو رد کردیا اور لکھا کہ امام اعظم رحمۃ الله تعالی قول مثلین سے رجوع کرکے قول صاحبین کی طرف آگئے ہیں اب التماس ہے کہ آپ اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں ۔ خادم الطلبہ محمد عبدالخالق
الجواب :
مولانا السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ قول سیدنا الامام الاعظم رضی اللہ تعالی عنہوہی مثلین بعد فیئ الزوال ہے اور وہی احوط وہی اصح وہی من حیث الدلیل ارجح اسی پر اجماع واطباق جملہ متون متین وہی مختار ومرضی جمہور محققین شارحین اسی پر افتاے اکثر کبراےائمہ مفتین امام کا اس سے رجوع فرمانا ثابت نہیں اجماع متون مذہب موضوعہ لنقل المذہب کے حضور بعض حکایات شاذہ خاملہ غیر محفوظہ قابل لحاظ کب ہوئیں بلکہ قول یك مثل ہے مرجوع عنہ ہے۔
لماصرح بہ فی البحر والخیریۃ وردالمحتار
کیونکہ بحر خیریہ اور ردالمحتار وغیرہ میں تصریح ہے کہ
وفیما ذکرنا کفایۃ لاولی الباب وصلی الله تعالی علی المولی الاواب سیدنا محمد والال والاصحاب والله تعالی اعلم بالصواب۔
اور جو ہم نے ذکر کیا ہے وہ عقلمندوں کے لئے کافی ہے اور درود بھیجے الله تعالی بہت رجوع کرنے والے آقا سیدنا محمد پر اور ان کی آل واصحاب پر۔ والله تعالی اعلم بالصواب۔ (ت)
مسئلہ (۲۷۲) : از حیدرآباد دکن قریب دروازہ دبیرپورہ مدرسہ محمدیہ مرسلہ مولوی عبدالخالق صاحب اعظم گڈھی ۱۲ جمادی الاخری ۱۳۱۷ھ
حضرت مولنا العلام والحبر القمقام حامی السنۃ قامع البدعۃ بقیۃ السلف حجۃ الخلف مولانا الحاج المولوی احمد رضاخان صاحب مدظلہ العالی بعد السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ واضح رائے عالی متعالی ہوکہ ان دنوں یہاں کہ علما بلکہ چار پانچ علمائے ہند مثل حضرت مولانا مولوی لطف الله صاحب علی گڈھی وجناب مولوی محمد منصور علی خان صاحب مراد آبادی وجناب مولوی محمد یعقوب صاحب اعظم گڈھی وغیرہم نے مثلین سوی الزوال کا فتوی دیا بعدہ مولوی عبدالوہاب صاحب بہاری صدر مدرس مدرسہ نظامیہ نے سب علماء کے فتوے کو رد کردیا اور لکھا کہ امام اعظم رحمۃ الله تعالی قول مثلین سے رجوع کرکے قول صاحبین کی طرف آگئے ہیں اب التماس ہے کہ آپ اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں ۔ خادم الطلبہ محمد عبدالخالق
الجواب :
مولانا السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ قول سیدنا الامام الاعظم رضی اللہ تعالی عنہوہی مثلین بعد فیئ الزوال ہے اور وہی احوط وہی اصح وہی من حیث الدلیل ارجح اسی پر اجماع واطباق جملہ متون متین وہی مختار ومرضی جمہور محققین شارحین اسی پر افتاے اکثر کبراےائمہ مفتین امام کا اس سے رجوع فرمانا ثابت نہیں اجماع متون مذہب موضوعہ لنقل المذہب کے حضور بعض حکایات شاذہ خاملہ غیر محفوظہ قابل لحاظ کب ہوئیں بلکہ قول یك مثل ہے مرجوع عنہ ہے۔
لماصرح بہ فی البحر والخیریۃ وردالمحتار
کیونکہ بحر خیریہ اور ردالمحتار وغیرہ میں تصریح ہے کہ
وغیرھا ان کل ماخرج عن ظاھر الروایۃ فھو مرجوع عنہ ۔ ھذا ولکل وجھۃ ھو مولیھا فاستبقوا الخیرتﳳ- ۔ وفقناالله تعالی لھا وتقبلھا منا بالکرم والله سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
جو قول ظاہر الروایۃ کے خلاف ہو اس سے رجوع کیا جاچکا ہوتا ہے۔ اور ہر ایك کی ایك سمت ہے جس کی جانب وہ منہ کرتا ہے تو نیکیوں میں سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔ الله تعالی ہمیں نیکیوں کی توفیق دے اور اپنے کرم سے انہیں قبول فرمائے۔ والله سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت)
مسئلہ (۲۷۳) از کلکتہ فوجداری بالاخانہ نمبر ۳۶ مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب ۱۸ جمادی الآخرہ ۱۳۰۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہاں کلکتہ میں آج کل آفتاب 61 / 2بجے طلوع ہوتا ہے اور پونے چھ بجے غروب اور نماز عصر پونے چار بجے ادا کی جاتی ہے کہ اس وقت سایہ سوائے سایہ اصلی کے دو مثل کسی طرح نہیں ہوتا اس صورت میں نماز مذہب مفتی بہ کے موافق ہوئی یا نہیں اور ایسی حالت میں جماعت میں شریك ہونا چاہیئے یا جماعت کا ترك اختیار کیا جائے صرف حکم چاہتا ہوں مجھے دلائل کی ضرورت نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
حضرت سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہکے نزدیك جب تك سایہ ظل اصلی کے علاوہ دو مثل نہ ہوجائے وقت عصر نہیں آتا اور صاحبین کے نزدیك ایك ہی مثل کے بعد آجاتا ہے اگرچہ بعض کتب فتاوی وغیرہ تصانیف بعض متاخرین مثل برہان طرابلسی وفیض کرکی ودرمختار میں قول صاحبین کو مرجح بتایا مگر قول امام ہی احوط واصح اور ازروئے دلیل ارجح ہے عموما متون مذہب قول امام پر جزم کیے ہیں اور عامہ اجلہ شارحین نے اسے مرضی ومختار رکھا اور اکابرائمہ ترجیح وافتا بلکہ جمہور پیشوایان مذہب نے اسی کی تصحیح کی امام۱ ملك العلما ابوبکر مسعود نے بدائع اور امام۲ سرخسی نے محیط میں فرمایا : ھو الصحیح (یہی صحیح ہے)۔ امام۳ اجل قاضیخان نے اسی کو تقدیم دی اور وہ اسی کو تقدیم دیتے ہیں جو اظہر من حیث الدرایۃ اور اشہر من حیث الروایۃ ہو ۔ کما
جو قول ظاہر الروایۃ کے خلاف ہو اس سے رجوع کیا جاچکا ہوتا ہے۔ اور ہر ایك کی ایك سمت ہے جس کی جانب وہ منہ کرتا ہے تو نیکیوں میں سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔ الله تعالی ہمیں نیکیوں کی توفیق دے اور اپنے کرم سے انہیں قبول فرمائے۔ والله سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت)
مسئلہ (۲۷۳) از کلکتہ فوجداری بالاخانہ نمبر ۳۶ مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب ۱۸ جمادی الآخرہ ۱۳۰۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہاں کلکتہ میں آج کل آفتاب 61 / 2بجے طلوع ہوتا ہے اور پونے چھ بجے غروب اور نماز عصر پونے چار بجے ادا کی جاتی ہے کہ اس وقت سایہ سوائے سایہ اصلی کے دو مثل کسی طرح نہیں ہوتا اس صورت میں نماز مذہب مفتی بہ کے موافق ہوئی یا نہیں اور ایسی حالت میں جماعت میں شریك ہونا چاہیئے یا جماعت کا ترك اختیار کیا جائے صرف حکم چاہتا ہوں مجھے دلائل کی ضرورت نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
حضرت سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہکے نزدیك جب تك سایہ ظل اصلی کے علاوہ دو مثل نہ ہوجائے وقت عصر نہیں آتا اور صاحبین کے نزدیك ایك ہی مثل کے بعد آجاتا ہے اگرچہ بعض کتب فتاوی وغیرہ تصانیف بعض متاخرین مثل برہان طرابلسی وفیض کرکی ودرمختار میں قول صاحبین کو مرجح بتایا مگر قول امام ہی احوط واصح اور ازروئے دلیل ارجح ہے عموما متون مذہب قول امام پر جزم کیے ہیں اور عامہ اجلہ شارحین نے اسے مرضی ومختار رکھا اور اکابرائمہ ترجیح وافتا بلکہ جمہور پیشوایان مذہب نے اسی کی تصحیح کی امام۱ ملك العلما ابوبکر مسعود نے بدائع اور امام۲ سرخسی نے محیط میں فرمایا : ھو الصحیح (یہی صحیح ہے)۔ امام۳ اجل قاضیخان نے اسی کو تقدیم دی اور وہ اسی کو تقدیم دیتے ہیں جو اظہر من حیث الدرایۃ اور اشہر من حیث الروایۃ ہو ۔ کما
حوالہ / References
ردالمحتار مطلب فی حدیث اختلاف امتی رحمۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۰
القرآن سورہ البقرۃ ۲ آیت ۱۴۸
البحرالرائق بحوالہ بدائع کتاب الصّلوٰۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی ۱ / ۲۴۵
فتاوٰی قاضی خان مقدمۃ الکتاب مطبوعہ نولکشور لکھنؤ انڈیا ۱ / ۲
القرآن سورہ البقرۃ ۲ آیت ۱۴۸
البحرالرائق بحوالہ بدائع کتاب الصّلوٰۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی ۱ / ۲۴۵
فتاوٰی قاضی خان مقدمۃ الکتاب مطبوعہ نولکشور لکھنؤ انڈیا ۱ / ۲
¬نص علیہ فی خطبۃ الخانیۃ (جیسا کہ خانیہ کے خطبہ میں یہ بات صراحۃ مذکور ہے۔ ت) اور وہی قول معتمد ہوتا ہے کمافی الطحطاوی والشامی (جیسا کہ شامی اور طحطاوی میں ہے۔ ت) یونہی۴ امام طاہر بخاری نے خلاصہ میں اسے تقدیم دی۔ امام اجل۵ برہان الدین صاحب ہدایۃ نے ہدایہ اور امام۶ اجل ابوالبرکات نسفی نے کافی اور امام۷ زیلعی نے تبیین الحقائق میں اسی کی دلیل مرجح رکھی امام۸ اجل محبوبی نے اسی کو اختیار فرمایا۔ امام۹ صدرالشریعۃ نے اسی پر اعتماد کیا وہ چند متأخرین اعنی مصنفین برہان وفیض ودرمختار ان اکابر میں ایك کی بھی جلالت شان کو نہیں پہنچتے۔ فتاوی۱۰ غیاثیہ وجواہر۱۱ اخلاطی میں فرمایا : ھو المختار یہی مختار ہے) علامہ۱۲ قاسم نے تصحیح قدوری میں اسی کی تحقیق کی امام۱۳ سمعانی نے خزانۃ المفتین میں اسی پر اقتصار فرمایا قول خلاف کا نام بھی نہ لیا امام۱۴ محمود عینی نے اسی کی تائید فرمائی ملتقی۱۵ الابحر میں اسی کو مقدم رکھا اور وہ اسی کو تقدیم دیتے ہیں جو ارجح ہو کماذکر فی خطبتہ جیسا کہ اس کے خطبے میں ذکر کیا گیا ہے۔ ت) اور وہی مختار للفتوی ہوتا ہے کمافی شرحہ مجمع الانھر (جیسا کہ اس کی شرح مجمع الانہر میں ہے ت) مراقی۱۶ الفلاح میں ہے ھو الصحیح وعلیہ جل المشایخ والمتون (یہی صحیح ہے اور اسی پر بزرگ مشایخ ومتون مذہب ہیں )طحطاوی۱۷ علی المراقی میں ہے صححہ جمھور اھل المذھب (جمہور ائمہ مذہب نے اسی کی تصحیح فرمائی) نقایہ۱۸ میں روایت خلاف کی تضعیف فرمائی شرح۱۹ المجمع للمصنف میں ہے انہ المذھب واختارہ اصحاب المتون وارتضاہ الشارحون (مذہب یہی ہے اور اسی کو اصحاب متون نے اختیار فرمایا اور اسی کو شارحین نے مرضی وپسندیدہ رکھا)ینابیع۲۰ وعلمگیری۲۱ میں ہے ھو الصحیح (یہی صحیح ہے) جامع۲۲ الرموز میں اسی کو مفتی بہ بتایا السراج۲۳ المنیر میں ہے علی قولہ الفتوی (امام ہی کے قول پر فتوی ہے)بحر۲۴الرائق پھر ردالمحتار۲۵ میں ہے قول امام سے عدول کی اجازت نہیں اس مذہب مہذب پر دلیل جلیل صحیح بخاری شریف کی حدیث باب الاذان للمسافر میں ہے کہ ابوذر رضی اللہ تعالی عنہنے فرمایا ہم ایك سفر میں نبی صلی اللہ
حوالہ / References
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر خطبہ کتاب مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۷
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی کتاب الصلوٰۃمطبوعہ نور محمد کارخانہ کتب کراچی ص۹۴
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی کتاب الصلوٰۃمطبوعہ نور محمد کارخانہ کتب کراچی ص۹۴
البحرالرائق بحوالہ شرح المجمع کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ / ۲۴۵
الفتاوٰی الہندیۃ الباب الاول فی المواقیت مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۵۱
السراج المنیر
صحیح البخاری باب الاذن للمسافر مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۸۷
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی کتاب الصلوٰۃمطبوعہ نور محمد کارخانہ کتب کراچی ص۹۴
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی کتاب الصلوٰۃمطبوعہ نور محمد کارخانہ کتب کراچی ص۹۴
البحرالرائق بحوالہ شرح المجمع کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ / ۲۴۵
الفتاوٰی الہندیۃ الباب الاول فی المواقیت مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۵۱
السراج المنیر
صحیح البخاری باب الاذن للمسافر مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۸۷
تعالی علیہ والہ وسلم کے ہمراہ رکاب اقدس تھے مؤذن نے اذان ظہر دینی چاہی فرمایا : ابرد (وقت ٹھنڈا کر) دیر کے بعد پھر مؤذن نے اذان دینی چاہی فرمایا : ابرد (وقت ٹھنڈا کر) دیر کے بعد مؤذن نے سہ بارہ اذان کا ارادہ کیا فرمایا : ابرد (وقت ٹھنڈا کر) اور یونہی تاخیر کا حکم فرماتے رہے حتی ساوی الظل التلول (یہاں تك کہ سایہ ٹیلوں کے برابر ہوگیا) اس وقت اذان کی اجازت فرمائی اور ارشاد فرمایا : “ گرمی کی شدت جہنم کی سانس سے ہے تو جب گرمی سخت ہو ظہر ٹھنڈے وقت پڑھو “ ۔ مشاہدہ شاہد اور قواعد علم ہیأت گواہ اور خودائمہ شافعیہ کی تصریحات ہیں کہ دوپہر کو ٹیلوں کا سایہ ہوتا ہی نہیں معدوم محض ہوتا ہے خصوصا اقلیم ثانی میں جس میں حرمین طیبین اور ان کے بلاد ہیں ۔ امام نووی شافعی وامام قسطلانی شافعی نے فرمایا : ٹیلے زمین پر نصب کی ہوئی اشیاء کی مانند نہیں بلکہ زمین پر پھیلے ہوتے ہیں تو زوال کے بہت زمانے کے بعد ان کا سایہ شروع ہوتا ہے جب ظہر کا اکثر وقت گزر جاتا ہے ظاہر ہے کہ جب آغاز اس وقت ہوگا تو ٹیلوں کے برابر ہرگز نہ پہنچے گا مگر مثل ثانی کے بھی اخیر حصہ میں اس وقت تك حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے اذان نہ دینے دی تو نماز تو یقینا اور بھی بعد ہوئی تو بلاشبہہ مثل ثانی بھی وقت ظہر ہوا اور اس حدیث کو ارادہ جمع بین الصلاتین پر حمل کرنا خود اسی حدیث کے الفاظ سے باطل ہے حضور یہاں ابراد کا اظہار فرمارہے ہیں کہ نماز اپنے وقت کے ٹھنڈے حصے میں پڑھی جائے نہ یہ کہ وقت نکال دینے کے بعد دوسری نماز کے وقت میں اداکی جائے حضور یہاں حکم عام ارشاد فرمارہے ہیں کہ جب گرمی سخت ہو یوں ہی وقت ٹھنڈا کرو یہ نہیں فرماتے کہ جب مسافر ہوتو ظہر کو عصر سے ملاکر پڑھو اور یہیں سے ظاہر ہوگیا کہ حدیث امامت جبریل جس کے بھروسے پر برہان ودرمختار نے مثل اول اختیار کیا اصل حجت نہیں ہوسکتی کہ وہ دنیا میں سب سے پہلی حدیث اوقات ہے نماز شب اسرا میں فرض ہوئی اور اسی کے دن میں وقت ظہر کو آکر جبریل امینعليه الصلوۃ والسلام نے بیان اوقات کے لئے امامت کی تو جو حدیث اس کے خلاف ہے اس کے بعد اور اس کی ناسخ ہے اور قول دو مثل سے امام کا رجوع فرمانا ہرگز صحیح نہیں بلکہ اس کا خلاف ثابت ہے کہ تمام متون مذہب وہی نقل فرمارہے ہیں اور متون ہی نقل مذہب کیلئے موضوع ہیں امام محمد نے کتاب الاصل یعنی مبسوط میں کہ کتب ظاہر الروایۃ سے ہے وہی قول امام لکھا۔ نہایہ میں ہے امام سے وہی ظاہر الروایہ ہے غایۃ البیان میں ہے یہی امام کا مذہب مشہور وماخوذ ہے۔ محیط میں ہے قول امام سے یہی صحیح ہے۔ ینابیع میں ہے امام سے یہی روایت صحیح ہے۔ شرح مجمع میں ہے مذہب امام یہی ہے کل ذلك فی البحر (یہ سب بحر میں ہے۔ ت)تو بعض نقول خاملہ مرجوحہ کی بنا پر زعم رجوع محض ناموجہ ہے بلکہ قول ایك مثل ہی ہے رجوع ثابت ہے کہ وہ خلاف ظاہر الروایۃ ہے اور جو کچھ خلاف ظاہر الروایۃ ہے مرجوع عنہ ہے کمافی البحر والخیریۃ
حوالہ / References
البحرالرائق کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ / ۲۴۵
وغیرھما (جیسا کہ بحر اور خیریہ وغیرہ میں ہے۔ ت) تو یہ مذہب مہذب بوجوہ کثیرہ مذہب صاحبین پر مرجح ہوا۔
اولا یہی مذہب امام ہے اور مذہب امام اعظم پر عمل واجب جب تك کوئی ضرورت اس کے خلاف پر باعث نہ ہو۔
ثانیا اسی پر متون مذہب ہیں اور متون کے حضور اور کتابیں مقبول نہیں ہوتیں ۔
ثالثا اسی پر مرسلہ شروح ہیں اور شروح فتاوی پر مقدم۔
رابعا اجلہ اکابرائمہ تصحیح وفتوی مثل امام قاضی خان وایام برہان الدین صاحب ہدایہ وامام ملك العلماء مسعود کاشانی صاحب بدائع وغیرہمرحمہم اللہ تعالینے اسی کی ترجیح وتصحیح فرمائی اور جلالت شان مصححین باعث ترجیح ہے۔
خامسا جمہور مشایخ مذہب نے اس کی تصحیح وترجیح کی اور عمل اسی پر چاہئے جس طرف اکثر مشایخ ہوں ۔
سادسا اسی میں احتیاط ہے کہ مثل ثانی میں عصر پڑھی تو ایك مذہب جلیل پر فرض ذمہ سے ساقط نہ ہوا پڑھی بے پڑھی برابر رہی اور بعد مثل ثانی پڑھی تو بالاتفاق صحیح وکامل ادا ہوئی۔
سابعا رہیں حدیثیں بعض صاحبوں نے گمان یہ کیا کہ احادیث مذہب صاحبین میں نص ہیں بخلاف مذہب امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہم حالانکہ حق یہ ہے کہ صحاح احادیث دونوں جانب موجود ہرگز کوئی ثابت نہیں کرسکتا کہ مذہب صاحبین پر کوئی حدیث صحیح صریح سالم عن المعارض ناطق ہے جسے دعوی ہو پیش کرے اور بامداد روح پرفتوح حضرت سیدنا الامام رضی اللہ تعالی عنہاس فقیر سے جواب لے ان شاء الله تعالی یا تو ثابت ہوجائے گا کہ وہ حدیث جس سے مخالف نے استناد کیا صحیح نہ تھی یا صحیح تھی تو مذہب صاحبین میں صریح نہ تھی یا یہ بھی سہی تو اس کا معارض صحیح موجود ہے اور فقیر ان شاء الله تعالی ثابت کردے گا کہ اس تعارض میں احادیث مذہب صاحبین کو منسوخ ماننا ہی مقتضائے اصول ہے اور اگر نہ مانیں تاہم تعارض قائم ہوکر تساقط ہوگا اور پھر وہی مذہب امام رنگ ثبوت پائے گا کہ جب بوجہ تعارض مثل ثانی میں شك واقع ہوا کہ یہ وقت ظہر ہے یا وقت عصر اور اس سے پہلے وقت ظہر بالیقین ثابت تھا تو شك کے سبب خارج نہ ہوگا اور وقت عصر بالیقین نہ تھا تو شك کے سبب داخل نہ ہوگا والحمدالله رب العلمین۔ بالجملہ عندالتحقیق مثل ثانی میں عصر ادا ہی نہ ہوگی بلکہ فرض ذمہ پر باقی رہے گا ورنہ علی التنزل اس وقت نماز مکروہ ہونے میں تو شك نہیں کہ جب بعض کتب فقہ میں اس وقت نماز ظہر میں کراہت گمان کی صرف اس خیال سے کہ صاحبین کے نزدیك وقت قضا ہوگیا حالانکہ فرض ظہر بالاجماع ساقط ہوجائیگا اگرچہ قضاہی سہی تو اس وقت نماز عصر لاجرم سخت کراہت رکھے گی کہ امام کے نزدیك ہنوز وقت ہی نہ آیا تو فرض ہی سرے سے ساقط نہ ہوگا ادھر خلاف صاحبین تھا یہاں خلاف امام وہاں قضاء ادا میں خلاف تھا اور صحت اجماعی ادھر
اولا یہی مذہب امام ہے اور مذہب امام اعظم پر عمل واجب جب تك کوئی ضرورت اس کے خلاف پر باعث نہ ہو۔
ثانیا اسی پر متون مذہب ہیں اور متون کے حضور اور کتابیں مقبول نہیں ہوتیں ۔
ثالثا اسی پر مرسلہ شروح ہیں اور شروح فتاوی پر مقدم۔
رابعا اجلہ اکابرائمہ تصحیح وفتوی مثل امام قاضی خان وایام برہان الدین صاحب ہدایہ وامام ملك العلماء مسعود کاشانی صاحب بدائع وغیرہمرحمہم اللہ تعالینے اسی کی ترجیح وتصحیح فرمائی اور جلالت شان مصححین باعث ترجیح ہے۔
خامسا جمہور مشایخ مذہب نے اس کی تصحیح وترجیح کی اور عمل اسی پر چاہئے جس طرف اکثر مشایخ ہوں ۔
سادسا اسی میں احتیاط ہے کہ مثل ثانی میں عصر پڑھی تو ایك مذہب جلیل پر فرض ذمہ سے ساقط نہ ہوا پڑھی بے پڑھی برابر رہی اور بعد مثل ثانی پڑھی تو بالاتفاق صحیح وکامل ادا ہوئی۔
سابعا رہیں حدیثیں بعض صاحبوں نے گمان یہ کیا کہ احادیث مذہب صاحبین میں نص ہیں بخلاف مذہب امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہم حالانکہ حق یہ ہے کہ صحاح احادیث دونوں جانب موجود ہرگز کوئی ثابت نہیں کرسکتا کہ مذہب صاحبین پر کوئی حدیث صحیح صریح سالم عن المعارض ناطق ہے جسے دعوی ہو پیش کرے اور بامداد روح پرفتوح حضرت سیدنا الامام رضی اللہ تعالی عنہاس فقیر سے جواب لے ان شاء الله تعالی یا تو ثابت ہوجائے گا کہ وہ حدیث جس سے مخالف نے استناد کیا صحیح نہ تھی یا صحیح تھی تو مذہب صاحبین میں صریح نہ تھی یا یہ بھی سہی تو اس کا معارض صحیح موجود ہے اور فقیر ان شاء الله تعالی ثابت کردے گا کہ اس تعارض میں احادیث مذہب صاحبین کو منسوخ ماننا ہی مقتضائے اصول ہے اور اگر نہ مانیں تاہم تعارض قائم ہوکر تساقط ہوگا اور پھر وہی مذہب امام رنگ ثبوت پائے گا کہ جب بوجہ تعارض مثل ثانی میں شك واقع ہوا کہ یہ وقت ظہر ہے یا وقت عصر اور اس سے پہلے وقت ظہر بالیقین ثابت تھا تو شك کے سبب خارج نہ ہوگا اور وقت عصر بالیقین نہ تھا تو شك کے سبب داخل نہ ہوگا والحمدالله رب العلمین۔ بالجملہ عندالتحقیق مثل ثانی میں عصر ادا ہی نہ ہوگی بلکہ فرض ذمہ پر باقی رہے گا ورنہ علی التنزل اس وقت نماز مکروہ ہونے میں تو شك نہیں کہ جب بعض کتب فقہ میں اس وقت نماز ظہر میں کراہت گمان کی صرف اس خیال سے کہ صاحبین کے نزدیك وقت قضا ہوگیا حالانکہ فرض ظہر بالاجماع ساقط ہوجائیگا اگرچہ قضاہی سہی تو اس وقت نماز عصر لاجرم سخت کراہت رکھے گی کہ امام کے نزدیك ہنوز وقت ہی نہ آیا تو فرض ہی سرے سے ساقط نہ ہوگا ادھر خلاف صاحبین تھا یہاں خلاف امام وہاں قضاء ادا میں خلاف تھا اور صحت اجماعی ادھر
نفس صحت وبطلان ہی میں نزاع ہے جب وہاں کراہت زعم کی گئی تو یہ کس درجہ شدید مکروہ ہونا چاہئے اور یہ تو بے شمار کتب ائمہ میں تصریح ہے کہ اس وقت عصر کا پڑھنا بے احتیاطی ہے پس محتاط فی الدین کو لازم کہ اگر جانے کہ مجھے مثل ثانی کے بعد جماعت مل سکتی ہے اگرچہ ایك ہی آدمی کے ساتھ تو اس جماعت باطلہ یا کم ازکم مکروہہ بکراہت شدیدہ میں شریك نہ ہو بلکہ وقت اجماعی پر اپنی جماعت صحیحہ نظیفہ اداکرے اور اگر جانے کہ پھر میرے ساتھ کو کوئی نہ ملے گا تو بتقلید صاحبین شریك جماعت ہوجائے اور تحصیل صحت متفق علیہا ورفع کراہت کیلئے مثل ثانی کے بعد پھر اپنی تنہا ادا کرے۔ والله تعالی اعلم بالصواب۔
مسئلہ (۲۷۴) شعبان ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عصر کا وقت مستحب و وقت مکروہ کیا ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
نماز عصر میں ابر کے دن تو جلدی چاہیئے نہ اتنی کہ وقت سے پیشتر ہوجائے۔ باقی ہمیشہ اس میں تاخیر مستحب ہے۔ اسی واسطے اس کا نام عصر رکھا گیا لانھا تعصر (یعنی وہ نچوڑ کے وقت پڑھی جاتی ہے) حاکم ودارقطنی نے زیاد بن عبدالله نخعی سے روایت کی “ ہم امیرالمومنین علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریمکے ساتھ مسجد جامع میں بیٹھے تھے مؤذن نے آکر عرض کی : یا امیرالمومنین نماز۔ امیر المومنین نے فرمایا بیٹھو۔ وہ بیٹھ گیا۔ دیر کے بعد پھر حاضر ہوا اور نماز کیلئے عرض کی۔ امیرالمومنین نے فرمایا ھذا الکلب یعلمنا السنۃ (یہ کتا ہمیں سنت سکھاتا ہے) پھر اٹھ کر ہمیں نماز عصر پڑھائی۔ جب ہم نماز پڑھ کر وہاں آئے جہاں مسجد میں پہلے بیٹھے تھے فجثونا للرکب لنزول الشمس للغروب نتراھا (ہم زانوؤں پر کھڑے ہوکر سورج کو دیکھنے لگے کہ وہ غروب کے لئے نیچے اتر گیا تھا) “ ۔ یعنی دیواریں اس زمانے میں نیچی نیچی ہوتیں آفتاب ڈھلك گیا تھا بیٹھے سے نظر نہ آیا دیوار کے نیچے اتر چکا تھا گھٹنوں پر کھڑے ہونے سے نظر آیا مگر ہرگز ہرگز اتنی تاخیر جائز نہیں کہ آفتاب کا قرص متغیر ہوجائے اس پر بے تکلف نگاہ ٹھہرنے لگے یعنی جبکہ غبار کثیر یا ابر رقیق وغیرہ حائل نہ ہو کہ ایسے حائل کے سبب تو ٹھیك دوپہر کے آفتاب پر نگاہ بے تکلف جمتی ہے اس کا اعتبار نہیں بلکہ صاف شفاف مطلع میں اس قدرتی دائمی حیلوات کرہئ بخار کے سبب کہ افق کے قرب میں نگاہ کو اس کا کثیر حصہ طے کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے طلوع وغروب کے قرب آفتاب پر نگاہ بے تکلف جمتی ہے جب اس سے اونچا ہوتا اور کرہئ بخار کا قلیل حصہ حائل رہ جاتا ہے شعاعیں زیادہ ظاہر ہوتیں اور نگاہ جمنے سے مانع آتی ہیں اور یہ حالت مشرق ومغرب دونوں میں یکساں ہے جس کا حال اس شکل سے عیاں ہے ۱ ب کرہئ زمین ہے ا موضع
مسئلہ (۲۷۴) شعبان ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عصر کا وقت مستحب و وقت مکروہ کیا ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
نماز عصر میں ابر کے دن تو جلدی چاہیئے نہ اتنی کہ وقت سے پیشتر ہوجائے۔ باقی ہمیشہ اس میں تاخیر مستحب ہے۔ اسی واسطے اس کا نام عصر رکھا گیا لانھا تعصر (یعنی وہ نچوڑ کے وقت پڑھی جاتی ہے) حاکم ودارقطنی نے زیاد بن عبدالله نخعی سے روایت کی “ ہم امیرالمومنین علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریمکے ساتھ مسجد جامع میں بیٹھے تھے مؤذن نے آکر عرض کی : یا امیرالمومنین نماز۔ امیر المومنین نے فرمایا بیٹھو۔ وہ بیٹھ گیا۔ دیر کے بعد پھر حاضر ہوا اور نماز کیلئے عرض کی۔ امیرالمومنین نے فرمایا ھذا الکلب یعلمنا السنۃ (یہ کتا ہمیں سنت سکھاتا ہے) پھر اٹھ کر ہمیں نماز عصر پڑھائی۔ جب ہم نماز پڑھ کر وہاں آئے جہاں مسجد میں پہلے بیٹھے تھے فجثونا للرکب لنزول الشمس للغروب نتراھا (ہم زانوؤں پر کھڑے ہوکر سورج کو دیکھنے لگے کہ وہ غروب کے لئے نیچے اتر گیا تھا) “ ۔ یعنی دیواریں اس زمانے میں نیچی نیچی ہوتیں آفتاب ڈھلك گیا تھا بیٹھے سے نظر نہ آیا دیوار کے نیچے اتر چکا تھا گھٹنوں پر کھڑے ہونے سے نظر آیا مگر ہرگز ہرگز اتنی تاخیر جائز نہیں کہ آفتاب کا قرص متغیر ہوجائے اس پر بے تکلف نگاہ ٹھہرنے لگے یعنی جبکہ غبار کثیر یا ابر رقیق وغیرہ حائل نہ ہو کہ ایسے حائل کے سبب تو ٹھیك دوپہر کے آفتاب پر نگاہ بے تکلف جمتی ہے اس کا اعتبار نہیں بلکہ صاف شفاف مطلع میں اس قدرتی دائمی حیلوات کرہئ بخار کے سبب کہ افق کے قرب میں نگاہ کو اس کا کثیر حصہ طے کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے طلوع وغروب کے قرب آفتاب پر نگاہ بے تکلف جمتی ہے جب اس سے اونچا ہوتا اور کرہئ بخار کا قلیل حصہ حائل رہ جاتا ہے شعاعیں زیادہ ظاہر ہوتیں اور نگاہ جمنے سے مانع آتی ہیں اور یہ حالت مشرق ومغرب دونوں میں یکساں ہے جس کا حال اس شکل سے عیاں ہے ۱ ب کرہئ زمین ہے ا موضع
حوالہ / References
سنن الدارقطنی باب ذکر بیان المواقیت الخ مطبوعہ نشر السنۃ ملتان ۱ / ۲۵۱
ناظر ہے یعنی سطح زمین کی وہ جگہ جہاں دیکھنے والا شخص کھڑا ہے ح ء زمین کے سب طرف کرہئ بخار ہے جسے عالم نسیم وعالم لیل ونہار بھی کہتے ہیں اور یہ ہر طرف سطح زمین سے ۴۵ میل یا قول اوائل پر ۵۲ میل اونچا ہے اس کی ہوا اوپر کی ہوا سے کثیف تر
image
ہے تو آفتاب اور نگاہ میں اس کا جتنا زائد حصہ حاصل ہوگا اتنا ہی نور کم نظر آئے گا اور نگاہ زیادہ ٹھہرے گی ہ مرکز شمس ہے ا ہ ہر طرف وہ خطہ ہے جو نگاہ ناظر سے شمس پر گزرتا ہے پہلے نمبر پر آفتاب افق شرقی سے طلوع میں ہے اور دوسرے تیسرے نمبر پر چڑھتا ہوا ساتویں نمبر پر افق غربی پر غروب کے پاس پہنچا ظاہر ہے کہ جب آفتاب پہلے نمبر پر ہے تو خطہ ا ہ کا حصہ ا ر کرہئ بخار میں گزرا اور دوسرے پر ا ح تیسرے پر ا ط چوتھے پر ا ح اور اقلیدس سے ثابت ہے کہ ان میں ا ر سب سے بڑا ہے اور آفتاب جتنا اونچا ہوتا جاتا ہے ا ح ا ط وغیرہ چھوٹے ہوتے جاتے ہیں کہ یہاں تك کہ نصف النہار پر خط ا ح سب سے چھوٹا رہ جاتا ہے ہم نے اپنے محاسبات ہندسیہ میں ثابت کیا ہے کہ خط ا ح یعنی دوپہر کے وقت کا خط پانسو اٹھانوے۵۹۸ میل سے بھی زائد ہے پھر جب آفتاب ڈھلکتا ہے وہ خطوط اسی نسبت پر بڑے ہوتے جاتے ہیں ا ی برابر ا ط کے پڑتا ہے اور ا ك برابر ا ح کے اور ا ل برابر ا ر کے ہے یہاں سے واضح ہوگیا کہ یہ قدرتی دائمی سبب ہے جس کے باعث آفتاب جب نصف النہار پر ہوتا ہے اپنی انتہائی تیزی پر ہوتا ہے اور اس سے پہلے اور بعد دونوں پہلوؤں پر جتنا افق سے قریب تر ہوتا ہے اس کی شعاع دھیمی ہوتی ہے یہاں تك کہ شرق وغرب میں ایك حد کے قرب پر اصلا نگاہ کو خیرہ نہیں کرتی مشرق میں جب تك اس حد سے آفتاب نکل کر اونچا نہ ہوجائے اس وقت تك نماز منع اور وقت کراہت کا ہے اور مغرب میں جب آفتاب اس حد کے اندر آجائے اس وقت سے غروب تك نماز منع اور وقت کراہت کا ہے تو اس بیان سے سبب بھی ظاہر ہوگیا اور
image
ہے تو آفتاب اور نگاہ میں اس کا جتنا زائد حصہ حاصل ہوگا اتنا ہی نور کم نظر آئے گا اور نگاہ زیادہ ٹھہرے گی ہ مرکز شمس ہے ا ہ ہر طرف وہ خطہ ہے جو نگاہ ناظر سے شمس پر گزرتا ہے پہلے نمبر پر آفتاب افق شرقی سے طلوع میں ہے اور دوسرے تیسرے نمبر پر چڑھتا ہوا ساتویں نمبر پر افق غربی پر غروب کے پاس پہنچا ظاہر ہے کہ جب آفتاب پہلے نمبر پر ہے تو خطہ ا ہ کا حصہ ا ر کرہئ بخار میں گزرا اور دوسرے پر ا ح تیسرے پر ا ط چوتھے پر ا ح اور اقلیدس سے ثابت ہے کہ ان میں ا ر سب سے بڑا ہے اور آفتاب جتنا اونچا ہوتا جاتا ہے ا ح ا ط وغیرہ چھوٹے ہوتے جاتے ہیں کہ یہاں تك کہ نصف النہار پر خط ا ح سب سے چھوٹا رہ جاتا ہے ہم نے اپنے محاسبات ہندسیہ میں ثابت کیا ہے کہ خط ا ح یعنی دوپہر کے وقت کا خط پانسو اٹھانوے۵۹۸ میل سے بھی زائد ہے پھر جب آفتاب ڈھلکتا ہے وہ خطوط اسی نسبت پر بڑے ہوتے جاتے ہیں ا ی برابر ا ط کے پڑتا ہے اور ا ك برابر ا ح کے اور ا ل برابر ا ر کے ہے یہاں سے واضح ہوگیا کہ یہ قدرتی دائمی سبب ہے جس کے باعث آفتاب جب نصف النہار پر ہوتا ہے اپنی انتہائی تیزی پر ہوتا ہے اور اس سے پہلے اور بعد دونوں پہلوؤں پر جتنا افق سے قریب تر ہوتا ہے اس کی شعاع دھیمی ہوتی ہے یہاں تك کہ شرق وغرب میں ایك حد کے قرب پر اصلا نگاہ کو خیرہ نہیں کرتی مشرق میں جب تك اس حد سے آفتاب نکل کر اونچا نہ ہوجائے اس وقت تك نماز منع اور وقت کراہت کا ہے اور مغرب میں جب آفتاب اس حد کے اندر آجائے اس وقت سے غروب تك نماز منع اور وقت کراہت کا ہے تو اس بیان سے سبب بھی ظاہر ہوگیا اور
یہ بھی کھل گیا کہ مشرق ومغرب دونوں جانب میں یہ وقت برابر ہے نہ یہ کہ مشرق کی طرف تو یہ وقت پندرہ بیس منٹ رہے جو تقریبا ایك نیزہ بلندی کی مقدار ہے اور مغرب میں ڈیڑھ دو گھنٹے ہوجائے جو اس سے کئی نیزے زائد ہے تجربہ سے یہ وقت تقریبا بیس منٹ ثابت ہوا ہے تو جب سے آفتاب کی کرن چمکے اس وقت سے بیس منٹ گزرنے تك نماز ناجائز اور وقت کراہت ہوا اور ادھر جب غروب کو بیس منٹ رہیں وقت کراہت آجائے گا اور آج کی عصر کے سوا ہر نماز منع ہوجائے گی۔ ہاں یہ جو بعض کا خیال ہے کہ آفتاب متغیر ہونے سے مراد دھوپ کا میلا ہونا ہے یہ ہرگز صحیح نہیں جاڑے کے موسم میں تو آفتاب ڈھلکنے کے تھوڑی ہی دیر بعد کہ ابھی سایہ ایك مثل بھی نہیں پہنچتا اور بالاجماع وقت ظہر باقی ہوتا ہے یقینا آفتاب بہت متغیر ہوجاتا ہے اور بین طور پر دھوپ میں زردی پیدا ہوجاتی ہے تو چاہئے کہ عصر کا وقت آنے سے پہلے ہی وقت کراہت آجائے اور نماز بے کراہت مل ہی نہ سکے اور یہ صریح باطل ومحال ہے ابو السعود علی الکنز اور طحطاوی علی الدر میں ہے :
المراد ان یذھب الضوء فلایحصل للبصر بہ حیرۃ ولاعبرۃ لتغیر الضوء لان تغیر الضوء یحصل بعد الزوال ۔
یعنی تغیر آفتاب سے مراد یہ ہے کہ اس کی روشنی جاتی رہے تو نگاہ کو اس سے خیرگی حاصل نہ ہو اور دھوپ کا تغیر کچھ معتبر نہیں کہ یہ تو زوال کے بعد ہوجاتا ہے (ت)
بالجملہ سخن تحقیق وہ ہے جو ائمہ نے کتاب الاسرار وبحرالرائق وغیرہما میں تصریح فرمائی کہ جس نماز میں تاخیر مستحب ہے جیسے فجر وعصر وغیرہما وہاں تاخیر کے یہ معنی ہیں کہ وقت کے دو۲ حصے کریں نصف اول چھوڑ کر نصف آخر میں پڑھیں اور ظاہر یہ ہے کہ یہاں وقت سے مراد وقت مستحب ہے کہ وقت مستحب کے نصف آخر میں پڑھیں جب یہ قاعدہ معلوم ہوگیا اب تعیین وقت کے لئے مثل ثانی کے وقت کا تخمینہ لکھیں جس سے ظہر وعصر کا اندازہ ہوسکے وہ یہ کہ ۲۱ مارچ تحویل حمل اور ۲۳۔ ۲۴ ستمبر تحویل میزان میں ختم مثل ثانی یعنی شروع وقت عصر حنفی سے آفتاب کے غروب شرعی تك ان بلاد میں ایك گھنٹا ۴۱ منٹ باقی ہوتے ہیں اور ۲۰۔ ۲۱۔ اپریل تحویل ثور اور ۲۳۔ ۲۴۔ اگست تحویل سنبلہ کو ایك گھنٹا ۵۰ منٹ ہوتے ہیں اور ۲۱۔ ۲۲ مئی تحویل جوزا اور ۲۳ جولائی تحویل اسد کو دو۲ گھنٹہ ایك منٹ اور ۲۳ جون تحویل سرطان کو دو۲ گھنٹے ۶ منٹ اور یہ سال میں سب سے بڑا وقت عصر ہے کہ اس سے زیادہ ان بلاد میں کبھی نہیں ہوتا اور ۲۴۔ اکتوبر تحویل عقرب اور ۱۹ فروری تحویل حوت کو ایك گھنٹا۳۶ منٹ اور ۲۲۔ ۲۳ نومبر تحویل قوس سے ۲۲ دسمبر تحویل جدی اور پھر ۲۰۔ ۲۱ جنوری تحویل دلو تك دو۲ مہینے برابر بلکہ اس سے
المراد ان یذھب الضوء فلایحصل للبصر بہ حیرۃ ولاعبرۃ لتغیر الضوء لان تغیر الضوء یحصل بعد الزوال ۔
یعنی تغیر آفتاب سے مراد یہ ہے کہ اس کی روشنی جاتی رہے تو نگاہ کو اس سے خیرگی حاصل نہ ہو اور دھوپ کا تغیر کچھ معتبر نہیں کہ یہ تو زوال کے بعد ہوجاتا ہے (ت)
بالجملہ سخن تحقیق وہ ہے جو ائمہ نے کتاب الاسرار وبحرالرائق وغیرہما میں تصریح فرمائی کہ جس نماز میں تاخیر مستحب ہے جیسے فجر وعصر وغیرہما وہاں تاخیر کے یہ معنی ہیں کہ وقت کے دو۲ حصے کریں نصف اول چھوڑ کر نصف آخر میں پڑھیں اور ظاہر یہ ہے کہ یہاں وقت سے مراد وقت مستحب ہے کہ وقت مستحب کے نصف آخر میں پڑھیں جب یہ قاعدہ معلوم ہوگیا اب تعیین وقت کے لئے مثل ثانی کے وقت کا تخمینہ لکھیں جس سے ظہر وعصر کا اندازہ ہوسکے وہ یہ کہ ۲۱ مارچ تحویل حمل اور ۲۳۔ ۲۴ ستمبر تحویل میزان میں ختم مثل ثانی یعنی شروع وقت عصر حنفی سے آفتاب کے غروب شرعی تك ان بلاد میں ایك گھنٹا ۴۱ منٹ باقی ہوتے ہیں اور ۲۰۔ ۲۱۔ اپریل تحویل ثور اور ۲۳۔ ۲۴۔ اگست تحویل سنبلہ کو ایك گھنٹا ۵۰ منٹ ہوتے ہیں اور ۲۱۔ ۲۲ مئی تحویل جوزا اور ۲۳ جولائی تحویل اسد کو دو۲ گھنٹہ ایك منٹ اور ۲۳ جون تحویل سرطان کو دو۲ گھنٹے ۶ منٹ اور یہ سال میں سب سے بڑا وقت عصر ہے کہ اس سے زیادہ ان بلاد میں کبھی نہیں ہوتا اور ۲۴۔ اکتوبر تحویل عقرب اور ۱۹ فروری تحویل حوت کو ایك گھنٹا۳۶ منٹ اور ۲۲۔ ۲۳ نومبر تحویل قوس سے ۲۲ دسمبر تحویل جدی اور پھر ۲۰۔ ۲۱ جنوری تحویل دلو تك دو۲ مہینے برابر بلکہ اس سے
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ دارالمعرفت بیروت ۱ / ۱۷۸
بھی کچھ زائد ایك گھنٹا۳۵ منٹ باقی ہوتا ہے اور یہ سال میں سب سے چھوٹا وقت عصر ہے کہ اس سے کم ان بلاد میں کبھی نہیں ہوتا اسی حساب سے جس دن جتنا وقت عصر ہو اس کے آخر سے ۲۰ منٹ وقت مکروہ کے نکال کر باقی کے دو۲ حصے کریں حصہ اول چھوڑ کر حصہئ دوم سے وقت مستحب ہے اور حصہ اول میں بھی اصلا کراہت نہیں ہاں اتنی تعجیل کہ دو۲ مثل پورے ہونے میں شك ہو ضرور سخت خلاف احتیاط ہے اس سے بچنا چاہئے کہ اگر وہم وخدشہ ہے تو کراہت ہے اور اگر واقعی شك ہے تو امام کے طور پر ہوگی ہی نہیں یونہی اتنی تاخیر نہ چاہئے کہ وقت کراہت آنے کا اندیشہ ہوجائے اور اس سے پہلے پہلے اصلا کسی قسم کی کراہت کا نام ونشان نہیں نہ وہ الله ورسول کے نزدیك کاہل ہے یہ محض غلط وباطل ہے جب شرع مطہر اس وقت کو مستحب فرمارہی ہے تو کیا وقت مستحب میں ادا کرنا مکروہ اور فاعل کاہلی کے ساتھ منسوب ہوسکتا ہے یہ نری نادانی ہے پھر اگر اس نے احتیاط کی اور نماز میں تطویل کی کہ وقت کراہت وسط نماز میں آگیا جب بھی اس پر اعتراض نہیں نہ کہ وقت کراہت آنے سے پہلے ختم کردے اور اعتراض ہو رمختار میں ہے :
لوشرع فیہ قبل التغیر فمدہ الیہ لایکرہ والله تعالی اعلم۔
سورج میں تغیر آنے سے پہلے نماز شروع کی پھر تغیر تك لمبی کردی تو مکروہ نہیں ہوگی والله تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۷۵ ۲۷۶ شوال ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
(۱) فرض وسنت ہر دو کا اولی وقت کیا ہے
(۲) امسال وقت صلاۃ عیدالفطر انتہا درجہ کب تك تھا جس نے بعد ساڑھے گیارہ بجے نماز پڑھی اس کی نماز ہوئی یا نہیں
الجواب :
(۱) سنت قبلیہ میں اولی اول وقت ہے بشرطیکہ فرض وسنت کے درمیان کلام یا کوئی فعل منافی نماز نہ کرے اور سنت بعدیہ میں مستحب فرضوں سے اتصال ہے مگر یہ کہ مکان پر آکر پڑھے تو فصل میں حرج نہیں لیکن اجنبی افعال سے فصل نہ چاہئے یہ فصل سنت قبیلہ وبعدیہ دونوں کے ثواب کو ساقط اور انہیں طریقہ مسنونہ سے خارج کرتا ہے اور فرض فجر وعصر وعشاء میں مطلقا اور ظہر میں بموسم گرما۔ تاخیر مستحب ہے اور مغرب میں تعجیل۔ تاخیر کے یہ معنی کہ وقت غیر مکروہ کے دو۲ حصے کرکے پہلا نصف چھوڑ دیں دوسرے نصف میں نماز پڑھیں کما نص
لوشرع فیہ قبل التغیر فمدہ الیہ لایکرہ والله تعالی اعلم۔
سورج میں تغیر آنے سے پہلے نماز شروع کی پھر تغیر تك لمبی کردی تو مکروہ نہیں ہوگی والله تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۷۵ ۲۷۶ شوال ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
(۱) فرض وسنت ہر دو کا اولی وقت کیا ہے
(۲) امسال وقت صلاۃ عیدالفطر انتہا درجہ کب تك تھا جس نے بعد ساڑھے گیارہ بجے نماز پڑھی اس کی نماز ہوئی یا نہیں
الجواب :
(۱) سنت قبلیہ میں اولی اول وقت ہے بشرطیکہ فرض وسنت کے درمیان کلام یا کوئی فعل منافی نماز نہ کرے اور سنت بعدیہ میں مستحب فرضوں سے اتصال ہے مگر یہ کہ مکان پر آکر پڑھے تو فصل میں حرج نہیں لیکن اجنبی افعال سے فصل نہ چاہئے یہ فصل سنت قبیلہ وبعدیہ دونوں کے ثواب کو ساقط اور انہیں طریقہ مسنونہ سے خارج کرتا ہے اور فرض فجر وعصر وعشاء میں مطلقا اور ظہر میں بموسم گرما۔ تاخیر مستحب ہے اور مغرب میں تعجیل۔ تاخیر کے یہ معنی کہ وقت غیر مکروہ کے دو۲ حصے کرکے پہلا نصف چھوڑ دیں دوسرے نصف میں نماز پڑھیں کما نص
حوالہ / References
درمختار کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۶۱
علیہ فی البحرائق وغیرہ والله تعالی اعلم۔
(۲) مذہب اصح پر اس کی نماز نہ ہوئی وقت اس کے قریب قریب ختم ہوچکا تھا مگر ایسی جگہ علما آسانی پر نظر فرماتے ہیں ہمارے علما کا دوسرا قول یہ ہے کہ وقت عید زوال تك ہے اس تقدیر پر جس نے بارہ بج کر چھ منٹ تك بھی سلام پھیر دیا اس کی نماز ہوگئی کہ اس دن بارہ بج کر ساڑھے چھ منٹ پر زوال ہوا تھا۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۲۷۷) از سندیلہ مرسلہئ بعض ع لما بتوسط مولنا مولوی محمد وصی احمد صاحب محدث سورتی۔ دوم ربیع الاول شریف ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز مغرب کا وقت افق شرقی کی جڑ سے سیاہی نمودار ہوتے ہی معا ہوجاتا ہے یا جب سیاہی بلند ہوجاتی ہے اس وقت آفتاب ڈوبتا ہے برتقدیر ثانی وہ بلندی کتنے گز ہوتی ہے اور آبادیوں میں سیاہی شرق سے نظر آنے پر نماز کا وقت سمجھا جائے گا یا نہیں ۔ بینوا توجروا۔
الجواب : اقول : وبالله التوفیق (الله تعالی کی مدد سے کہتا ہوں ۔ ت) افق شرقی سے سیاہی کا طلوع قرص شمس کے شرعی غروب سے بہت پہلے ہوتا ہے سیاہی کئی گز بلند ہوجاتی ہے اس وقت آفتاب ڈوبتا ہے جس طرح قرض شمسی کے شرعی طلوع سے سیاہی غربی کا غروب بہت بعد ہوتا ہے آفتاب مرتفع ہوجاتا ہے اس وقت تك سواد مرئی رہتا ہے اس پر عیان وبیان وبرہان سب شاہد عدل ہیں رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں : لیس الخبر کالمعاینۃ (خبر مشاہدہ کی طرح نہیں ۔ ت)جسے شك ہو طلوع وغروب کے وقت جنگل میں جاکر جہاں سے دونوں جانب افق صاف نظر آئیں مشاہدہ کرے جو کچھ مذکور ہوا آنکھوں سے مشاہدہ ہوجائے گا الحمدالله عجائب قرآن منتہی نہیں ۔
کما فی حدیث الترمذی عن امیرالمؤمنین علی عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم لاتنقضی عجائبہ ۔
جیسا کہ ترمذی کی حدیث میں امیرالمومنین علی نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے بیان کرتے ہیں کہ قرآن کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہوتے۔ (ت)
ایك ذرا غور سے نظر کیجئے تو آیہ کریمہ تولج الیل فی النهار و تولج النهار فی الیل- (تو رات کو دن
(۲) مذہب اصح پر اس کی نماز نہ ہوئی وقت اس کے قریب قریب ختم ہوچکا تھا مگر ایسی جگہ علما آسانی پر نظر فرماتے ہیں ہمارے علما کا دوسرا قول یہ ہے کہ وقت عید زوال تك ہے اس تقدیر پر جس نے بارہ بج کر چھ منٹ تك بھی سلام پھیر دیا اس کی نماز ہوگئی کہ اس دن بارہ بج کر ساڑھے چھ منٹ پر زوال ہوا تھا۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۲۷۷) از سندیلہ مرسلہئ بعض ع لما بتوسط مولنا مولوی محمد وصی احمد صاحب محدث سورتی۔ دوم ربیع الاول شریف ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز مغرب کا وقت افق شرقی کی جڑ سے سیاہی نمودار ہوتے ہی معا ہوجاتا ہے یا جب سیاہی بلند ہوجاتی ہے اس وقت آفتاب ڈوبتا ہے برتقدیر ثانی وہ بلندی کتنے گز ہوتی ہے اور آبادیوں میں سیاہی شرق سے نظر آنے پر نماز کا وقت سمجھا جائے گا یا نہیں ۔ بینوا توجروا۔
الجواب : اقول : وبالله التوفیق (الله تعالی کی مدد سے کہتا ہوں ۔ ت) افق شرقی سے سیاہی کا طلوع قرص شمس کے شرعی غروب سے بہت پہلے ہوتا ہے سیاہی کئی گز بلند ہوجاتی ہے اس وقت آفتاب ڈوبتا ہے جس طرح قرض شمسی کے شرعی طلوع سے سیاہی غربی کا غروب بہت بعد ہوتا ہے آفتاب مرتفع ہوجاتا ہے اس وقت تك سواد مرئی رہتا ہے اس پر عیان وبیان وبرہان سب شاہد عدل ہیں رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں : لیس الخبر کالمعاینۃ (خبر مشاہدہ کی طرح نہیں ۔ ت)جسے شك ہو طلوع وغروب کے وقت جنگل میں جاکر جہاں سے دونوں جانب افق صاف نظر آئیں مشاہدہ کرے جو کچھ مذکور ہوا آنکھوں سے مشاہدہ ہوجائے گا الحمدالله عجائب قرآن منتہی نہیں ۔
کما فی حدیث الترمذی عن امیرالمؤمنین علی عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم لاتنقضی عجائبہ ۔
جیسا کہ ترمذی کی حدیث میں امیرالمومنین علی نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے بیان کرتے ہیں کہ قرآن کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہوتے۔ (ت)
ایك ذرا غور سے نظر کیجئے تو آیہ کریمہ تولج الیل فی النهار و تولج النهار فی الیل- (تو رات کو دن
حوالہ / References
الجامع الصغیر مع فیض القدیر حدیث ۷۵۷۴ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۵ / ۳۵۷
جامع الترمذی ماجاء فی فضل القرآن مطبوعہ امین کمپنی دہلی ۲ / ۱۱۴
القرآن الحکیم ۳ / ۲۷
جامع الترمذی ماجاء فی فضل القرآن مطبوعہ امین کمپنی دہلی ۲ / ۱۱۴
القرآن الحکیم ۳ / ۲۷
میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ ت)کے مطالعہ رفیعہ سے اس مطلب کی شعاعیں صاف چمك رہی ہیں رات یعنی سایہ زمین کی سیاہی کو حکیم قدیر عزجلالہ دن میں داخل فرماتا ہے ہنوز دن باقی ہے کہ سیاہی اٹھائی اور دن کو سواد مذکور میں لاتا ہے ابھی ظلمت شبینہ موجود ہے کہ عروس خاور نے نقاب اٹھائی
فان ایلاج شیئ فی شیئ یقتضی وجودھما لاان یعدم احدھما فیعقبہ الاخر واللیل والنھار بمعنی الملوین متضادان لایجتمعان فلابد من التجوز۔ ومن اقرب وجوھہ ماذکر العبد من حمل اللیل علی السواد فیبقی النھار علی حقیقتہ ویظھر الایلاج من دون کلفۃ ولایتجاوز التجوز قدر الحاجۃ۔ ویمکن العکس ایضا بان یحمل النھار علی الاشعۃ الشمسیۃ واللیل علی حقیقتہ فیکون اشارۃ الی ظھور نور الشمس فی الافق الشرقی واللیل باق بعد کمافی الصبح الاول۔ وان ارید اللیل العرفی فاظھرو اکمل۔ والی حصول اللیل مع بقاء الضوء الشمسی فی الافق الغربی من الشفقین الاحمر والابیض وان کان الامام الفخر الرازی رحمہ الله تعالی لایرضی ان یجعل تلك الانوار من الشمس حتی الصبح الصادق ایضا کمااطال الکلام فیہ فی سورۃ الانعام تحت قولہ عزوجل فالق الاصباح- ولیس الامر کماظن واغتر بقولہ العلامۃ الزرقانی فظن ان
کیونکہ ایك چیز دوسری میں تبھی داخل کی جاسکتی ہے جب دونوں موجود ہوں نہ کہ ایك ختم ہوجائے اور اس کے بعد دوسری آئے۔ اور دلیل ونہار بمعنی رات دن آپس میں متضاد ہیں اکٹھے نہیں ہوسکتے تو مجازی معنی مراد لینا ضروری ہے۔ اور اس کا اقرب طریقہ وہی ہے جو بندے نے بیان کیا ہے کہ لیل سے مراد تاریکی لی جائے اور نہار اپنے حقیقی معنی میں ہو۔ اس طرح داخل کرنے کا مفہوم بغیر کسی تکلف کے ظاہر ہوجائے گا اور مجاز کی طرف ضرورت سے زیادہ نہیں جانا پڑے گا۔ اور اس کا عکس بھی ممکن ہے یعنی نہار سے مراد سورج کی شعاعیں لی جائیں اور لیل اپنی حقیقی معنی میں ہو۔ اس صورت میں آیت کے اندر اشارہ ہوگا کہ مشرقی افق میں سورج کی روشنی نمودار ہوجاتی ہے اور رات ابھی باقی ہوتی ہے جیسا کہ صبح کاذب کے وقت ہوتا ہے۔ اور اگر لیل سے مراد لیل عرفی لی جائے تو یہ مفہوم مزید واضح اور کامل ہوجاتا ہے۔ نیز اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ ہوگا کہ مغربی افق میں شفق احمر اور ابیض کے دوران سورج کی روشنی باقی ہوتی ہے اس کے باوجود رات ہوجاتی ہے اگرچہ امام فخرالرازی ان روشنیوں کو حتی کہ صبح صادق کی روشنی کو بھی
فان ایلاج شیئ فی شیئ یقتضی وجودھما لاان یعدم احدھما فیعقبہ الاخر واللیل والنھار بمعنی الملوین متضادان لایجتمعان فلابد من التجوز۔ ومن اقرب وجوھہ ماذکر العبد من حمل اللیل علی السواد فیبقی النھار علی حقیقتہ ویظھر الایلاج من دون کلفۃ ولایتجاوز التجوز قدر الحاجۃ۔ ویمکن العکس ایضا بان یحمل النھار علی الاشعۃ الشمسیۃ واللیل علی حقیقتہ فیکون اشارۃ الی ظھور نور الشمس فی الافق الشرقی واللیل باق بعد کمافی الصبح الاول۔ وان ارید اللیل العرفی فاظھرو اکمل۔ والی حصول اللیل مع بقاء الضوء الشمسی فی الافق الغربی من الشفقین الاحمر والابیض وان کان الامام الفخر الرازی رحمہ الله تعالی لایرضی ان یجعل تلك الانوار من الشمس حتی الصبح الصادق ایضا کمااطال الکلام فیہ فی سورۃ الانعام تحت قولہ عزوجل فالق الاصباح- ولیس الامر کماظن واغتر بقولہ العلامۃ الزرقانی فظن ان
کیونکہ ایك چیز دوسری میں تبھی داخل کی جاسکتی ہے جب دونوں موجود ہوں نہ کہ ایك ختم ہوجائے اور اس کے بعد دوسری آئے۔ اور دلیل ونہار بمعنی رات دن آپس میں متضاد ہیں اکٹھے نہیں ہوسکتے تو مجازی معنی مراد لینا ضروری ہے۔ اور اس کا اقرب طریقہ وہی ہے جو بندے نے بیان کیا ہے کہ لیل سے مراد تاریکی لی جائے اور نہار اپنے حقیقی معنی میں ہو۔ اس طرح داخل کرنے کا مفہوم بغیر کسی تکلف کے ظاہر ہوجائے گا اور مجاز کی طرف ضرورت سے زیادہ نہیں جانا پڑے گا۔ اور اس کا عکس بھی ممکن ہے یعنی نہار سے مراد سورج کی شعاعیں لی جائیں اور لیل اپنی حقیقی معنی میں ہو۔ اس صورت میں آیت کے اندر اشارہ ہوگا کہ مشرقی افق میں سورج کی روشنی نمودار ہوجاتی ہے اور رات ابھی باقی ہوتی ہے جیسا کہ صبح کاذب کے وقت ہوتا ہے۔ اور اگر لیل سے مراد لیل عرفی لی جائے تو یہ مفہوم مزید واضح اور کامل ہوجاتا ہے۔ نیز اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ ہوگا کہ مغربی افق میں شفق احمر اور ابیض کے دوران سورج کی روشنی باقی ہوتی ہے اس کے باوجود رات ہوجاتی ہے اگرچہ امام فخرالرازی ان روشنیوں کو حتی کہ صبح صادق کی روشنی کو بھی
حوالہ / References
التفسیر الکبیر زیر آیت فالق الاصباح مطبوعہ مطبعۃ بہیۃ مصریۃ ۱۳ / ۹۵
ھذا مذھب منقول فنسبہ لاھل السنۃ مع انہ لیس الامن توسعات الامام فی البحث والکلام ولم یستدل لہ الاببحث عقلی لاتام ولاجلی۔ ومن البدیھی عندکل احدان الشفق والصبح اختان وماامرھما الاواحدا۔ وقداخرج ابی شیبۃ عن العوام بن حوشب قال : قلت لمجاھد ماالشفق قال : ان الشفق من الشمس ۔ ذکرہ فی الدر المنثور تحت قولہ تعالی فلااقسم بالشفق بل فی التفسیر الکبیر تحت الکریمۃ اتفق العلماء علی انہ اسم للاثر الباقی من الشمس فی الافق بعد غروبھا ۔ اما دلیلہ العقلی فقدردہ العبد الضعیف بکلام لطیف ذکرتہ علی ھامشہ وبالله التوفیق۔
سو رج کی روشنی ماننے پر بھی راضی نہیں ہیں جیسا کہ سورہئ انعام کی تفسیر میں الله تعالی کے فرمان “ فالق الاصباح- “ کے تحت انہوں نے اس موضوع پر لمبی گفتگو کی ہے حالانکہ معاملہ اس طرح نہیں ہے جس طرح انہوں نے سمجھا ہے۔ ان کی گفتگو سے علامہ زرقانی کو دھوکہ ہوا اور انہوں نے رازی کی رائے کو مذہب منقول سمجھ کر اہل سنت کی طرف منسوب کردیا حالانکہ یہ ان توسعات میں سے ہے جو امام رازی بحث اور کلام میں اختیار کرتے رہتے ہیں ۔ امام رازی نے اس پر کوئی دلیل بھی پیش نہیں کی صرف ایك عقلی بحث کی ہے جو نہ تام ہے نہ واضح۔ اور یہ تو سب کے لئے بدیہی ہے کہ شفق اور صبح دونوں بہنیں ہیں اور ان کا معاملہ ایك جیسا ہے۔ اور ابن ابی شیبہ نے عوام ابن حوشب سے تخریج کی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے مجاہد سے پوچھا : “ شفق کیا ہے “ انہوں نے جواب دیا : “ شفق سورج سے ہے “ ۔ یہ روایت درمنثور میں الله تعالی کے فرمان “ فلااقسم بالشفق “ کے تحت مذکور ہے۔ بلکہ تفسیر کبیر میں اسی آیت کے تحت لکھا ہے کہ علما کا اتفاق ہے کہ شفق سورج کے اس اثر کو کہتے ہیں جو غروب آفتاب کے بعد افق پر باقی رہتا ہے۔ رہی امام رازی کی عقلی دلیل تو اس کو عبد ضعیف نے ایك لطیف کلام کے ساتھ رد کردیا ہے جو تفسیر کبیر کے حاشیے پر مرقوم ہے وبالله التوفیق۔ (ت)
قرآن عظیم کا نائب کریم کلام صاحب جوامع الکلم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمہے صحیح بخاری وصحیح مسلم وسنن ابی داؤد وجامع ترمذی ومسند امام احمد میں امیرالمومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہسے ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
اذااقبل اللیل من ھھنا وادبر النھار من ھھنا وغربت الشمس فقد افطر الصائم ۔
جب ادھر سے رات آئے اور ادھر سے دن پیٹھ دکھائے
سو رج کی روشنی ماننے پر بھی راضی نہیں ہیں جیسا کہ سورہئ انعام کی تفسیر میں الله تعالی کے فرمان “ فالق الاصباح- “ کے تحت انہوں نے اس موضوع پر لمبی گفتگو کی ہے حالانکہ معاملہ اس طرح نہیں ہے جس طرح انہوں نے سمجھا ہے۔ ان کی گفتگو سے علامہ زرقانی کو دھوکہ ہوا اور انہوں نے رازی کی رائے کو مذہب منقول سمجھ کر اہل سنت کی طرف منسوب کردیا حالانکہ یہ ان توسعات میں سے ہے جو امام رازی بحث اور کلام میں اختیار کرتے رہتے ہیں ۔ امام رازی نے اس پر کوئی دلیل بھی پیش نہیں کی صرف ایك عقلی بحث کی ہے جو نہ تام ہے نہ واضح۔ اور یہ تو سب کے لئے بدیہی ہے کہ شفق اور صبح دونوں بہنیں ہیں اور ان کا معاملہ ایك جیسا ہے۔ اور ابن ابی شیبہ نے عوام ابن حوشب سے تخریج کی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے مجاہد سے پوچھا : “ شفق کیا ہے “ انہوں نے جواب دیا : “ شفق سورج سے ہے “ ۔ یہ روایت درمنثور میں الله تعالی کے فرمان “ فلااقسم بالشفق “ کے تحت مذکور ہے۔ بلکہ تفسیر کبیر میں اسی آیت کے تحت لکھا ہے کہ علما کا اتفاق ہے کہ شفق سورج کے اس اثر کو کہتے ہیں جو غروب آفتاب کے بعد افق پر باقی رہتا ہے۔ رہی امام رازی کی عقلی دلیل تو اس کو عبد ضعیف نے ایك لطیف کلام کے ساتھ رد کردیا ہے جو تفسیر کبیر کے حاشیے پر مرقوم ہے وبالله التوفیق۔ (ت)
قرآن عظیم کا نائب کریم کلام صاحب جوامع الکلم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمہے صحیح بخاری وصحیح مسلم وسنن ابی داؤد وجامع ترمذی ومسند امام احمد میں امیرالمومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہسے ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
اذااقبل اللیل من ھھنا وادبر النھار من ھھنا وغربت الشمس فقد افطر الصائم ۔
جب ادھر سے رات آئے اور ادھر سے دن پیٹھ دکھائے
حوالہ / References
الدر المنثور زیر آیۃ فلااقسم بالشفق مطبوعہ مکتبۃ آیۃ الله العظمی قم ، ایران ۵ / ۳۳۰
التفسیر الکبیر ، زیر آیۃ فلااقسم بالشفق مطبوعہ مطبعۃ ہیۃ مصریہ مصر ، ۳۱ / ۱۰۹
جامع الترمذی باب ماجاء اذااقبل اللیل مطبوعہ امین کمپنی دہلی۱ / ۸۸
التفسیر الکبیر ، زیر آیۃ فلااقسم بالشفق مطبوعہ مطبعۃ ہیۃ مصریہ مصر ، ۳۱ / ۱۰۹
جامع الترمذی باب ماجاء اذااقبل اللیل مطبوعہ امین کمپنی دہلی۱ / ۸۸
اور سورج پورا ڈوب جائے تو روزہ دار کا روزہ پورا ہوچکا۔ (ت)
لیل سے مراد سیاہی ہے اور نھار سے مقصود ضوء فان الاقبال من ھھنا والادبار من ھھنا انما یکون لھما (کیونکہ تاریکی اور روشنی ہی ادھر سے آتی ہیں اور ادھر جاتی ہیں ۔ ت) تیسیر میں ہے : اذا اقبل اللیل یعنی ظلمتہ وادبر النھار ای ضوؤہ ۔ جب کہ رات آئے یعنی اس کی تاریکی اور دن واپس جائے یعنی اس کی روشنی۔ تعالم ماکان ومایکون صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے تینوں لفظ اسی ترتیب سے ارشاد فرمائے جس ترتیب سے واقع ہوتے ہیں پہلے سیاہی اٹھتی ہے اس وقت تك اگر افق صاف اور غبار وبخار سے پاك ہو آفتاب کی چمك باقی رہتی بلکہ قلل جبال واعالی اغصان شجر پر عکس ڈالتی ہے پھر جب قرص چھپنے پر آیا تکاثف ابخرہ افقیہ وکثرت بعد عن الابصار وطول مرور شعاع البصر فی ثخن کرۃ البخار کے باعث روشنی بالکل محتجب ہوجاتی ہے مگر ہنوز قدرے قرص بالائے افق مرئی شرعی باقی ہے اس کے بعد آفتاب ڈوبتا اور وقت افطار ونماز آتا ہے اس صاف ونفیس وبے تکلف معنی پر بحمدالله تعالی انتظام کلام اسی اعلی جلالت پر جلوہ فرماہے جو صاحب جوامع الکلم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی شان رفیع بلاغت بے مثل کو شایاں وبجا ہے کلمات علمائے کرام بھی ان نفیس معنی کے ایما سے خالی نہ رہے امام ابن حجر مکی شرح مشکوہ المصابیح میں اسی حدیث کے نیچے فرماتے ہیں :
ای وقدیقبل اللیل ولاتکون غربت حقیقۃ فلابدمن حقیقۃ الغروب ۔
یعنی کبھی رات آجاتی ہے اور ابھی حقیقۃ غروب نہیں ہوا ہوتا اس لئے حقیقی غروب ضروری ہے (ت)
حفنی علی الجامع الصغیر میں ہے :
قولہ وغربت الشمس لم یکتف بماقبلہ عن ذلک اشارۃ الی انہ قدیوجد اقبال الظلمۃ وادبار الضوء ولم یوجد غروب الشمس ۔
نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا فرمان “ اور سورج ڈوب جائے “ آپ نے سیاہی کے آنے اور روشنی کے جانے پر اکتفا نہیں کیا اور غروب کی تصریح فرمائی کیونکہ کبھی سیاہی آجاتی ہے اور روشنی چلی جاتی ہے مگر غروب آفتاب نہیں ہوتا۔ (ت)
لیل سے مراد سیاہی ہے اور نھار سے مقصود ضوء فان الاقبال من ھھنا والادبار من ھھنا انما یکون لھما (کیونکہ تاریکی اور روشنی ہی ادھر سے آتی ہیں اور ادھر جاتی ہیں ۔ ت) تیسیر میں ہے : اذا اقبل اللیل یعنی ظلمتہ وادبر النھار ای ضوؤہ ۔ جب کہ رات آئے یعنی اس کی تاریکی اور دن واپس جائے یعنی اس کی روشنی۔ تعالم ماکان ومایکون صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے تینوں لفظ اسی ترتیب سے ارشاد فرمائے جس ترتیب سے واقع ہوتے ہیں پہلے سیاہی اٹھتی ہے اس وقت تك اگر افق صاف اور غبار وبخار سے پاك ہو آفتاب کی چمك باقی رہتی بلکہ قلل جبال واعالی اغصان شجر پر عکس ڈالتی ہے پھر جب قرص چھپنے پر آیا تکاثف ابخرہ افقیہ وکثرت بعد عن الابصار وطول مرور شعاع البصر فی ثخن کرۃ البخار کے باعث روشنی بالکل محتجب ہوجاتی ہے مگر ہنوز قدرے قرص بالائے افق مرئی شرعی باقی ہے اس کے بعد آفتاب ڈوبتا اور وقت افطار ونماز آتا ہے اس صاف ونفیس وبے تکلف معنی پر بحمدالله تعالی انتظام کلام اسی اعلی جلالت پر جلوہ فرماہے جو صاحب جوامع الکلم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی شان رفیع بلاغت بے مثل کو شایاں وبجا ہے کلمات علمائے کرام بھی ان نفیس معنی کے ایما سے خالی نہ رہے امام ابن حجر مکی شرح مشکوہ المصابیح میں اسی حدیث کے نیچے فرماتے ہیں :
ای وقدیقبل اللیل ولاتکون غربت حقیقۃ فلابدمن حقیقۃ الغروب ۔
یعنی کبھی رات آجاتی ہے اور ابھی حقیقۃ غروب نہیں ہوا ہوتا اس لئے حقیقی غروب ضروری ہے (ت)
حفنی علی الجامع الصغیر میں ہے :
قولہ وغربت الشمس لم یکتف بماقبلہ عن ذلک اشارۃ الی انہ قدیوجد اقبال الظلمۃ وادبار الضوء ولم یوجد غروب الشمس ۔
نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا فرمان “ اور سورج ڈوب جائے “ آپ نے سیاہی کے آنے اور روشنی کے جانے پر اکتفا نہیں کیا اور غروب کی تصریح فرمائی کیونکہ کبھی سیاہی آجاتی ہے اور روشنی چلی جاتی ہے مگر غروب آفتاب نہیں ہوتا۔ (ت)
حوالہ / References
التیسر شرح الجامع الصغیر حدیث مذکور کے تحت مکتبہ امام شافعی ریاض سعودیہ۱ / ۷۶
مرقاۃ المفاتیح بحوالہئ ابن حجر باب من کتاب الصوم غسل اول مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۴ / ۲۵۲
الحنفی علی الجامع الصغیر مع السراج المنیر زیر حدیث اذا اقبل اللیل الخ مطبوعہ المطبعۃ الازہریۃ مصر۱ / ۹۷
مرقاۃ المفاتیح بحوالہئ ابن حجر باب من کتاب الصوم غسل اول مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۴ / ۲۵۲
الحنفی علی الجامع الصغیر مع السراج المنیر زیر حدیث اذا اقبل اللیل الخ مطبوعہ المطبعۃ الازہریۃ مصر۱ / ۹۷
اور اگر حدیث میں لیل ونہار معنی حقیقی پر رکھئے تو اگرچہ اتنا ضرور ہے کہ مجاز مرسل کی جگہ مجاز عقلی ہوگا۔
لماعلمت ان اسناد الاقبال والادبار من ھھنا وھھنا لیس الیھما علی الحقیقۃ۔
کیونکہ تم جان چکے ہوکہ ادھر سے ادھر آنے جانے کی نسبت لیل ونہار کی طرف حقیقۃ نہیں ہے۔ (ت)
مگر اب تین۳ الفاظ کریمہ کے جمع ہونے سے سوال متوجہ ہوگا شك نہیں کہ اس معنی پر امور ثلثہ متلازم ہیں اور ایك کا ذکر باقی سے۔ مغنی
وھذا ماقالہ الامام النووی فی المنھاج قال العلماء کل واحد من ھذہ الثلثۃ یتضمن الاخرین ویلازمھما ۔
یہ وہی بات ہے جو امام نووی نے منہاج میں کہی ہے۔ علماء نے کہا ہے کہ ان تین میں سے ہر ایک باقی دو۲ کو یا تو متضمن ہوتا ہے یا ان کے ساتھ لازم ہوتا ہے۔ (ت)
اس کی اطیب توجیہ وہ ہے کہ علامہ طیبی نے شرح مشکوۃ میں افادہ کی کہ :
انما قال وغربت الشمس مع الاستغناء عنہ لبیان کمال الغروب کیلا یظن انہ اذاغرب بعض الشمس جاز الافطار ۔
آپ نے فرمایا “ اور سورج ڈوب جائے “ حالانکہ بظاہر اس کی ضرورت نہیں تھی تاکہ مکمل غروب کا بیان ہوجائے اور کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہوکہ سورج کا کچھ حصہ غروب ہونے سے افطار جائز ہوجاتا ہے۔ (ت)
علامہ مناوی وغیرہ نے بھی ان کی تبعیت کی۔ تیسیر شرح جامع صغیر میں ہے :
وزاد (وغربت الشمس) مع ان ماقبلہ کاف اشارۃ الی اشتراط تحقق کمال الغروب ۔
آپ نے فرمایا “ اور سورج ڈوب جائے “ فرمایا حالانکہ پہلے الفاظ کافی تھے اس میں اشارہ ہے کہ کامل غروب کا پایا جانا شرط ہے۔ (ت)
اقول : یہ توجیہ وجیہ صراحۃ ہمارے مدعائے مذکور کی طرف ناظر ہے نظر غائر میں بروجہ جلی اور قلت تدبر میں من طرف خفی یعنی اگرچہ لیل ونہار حقیقی مراد ہونے پر ذکر غروب کی حاجت نہ تھی کہ رات جبھی آئے گی کہ سورج ڈوب چکے گا مگر سوا دو ضیا پر ان کا حمل بعید نہیں خصوصا جبکہ اقبال من ھھنا وادبار من ھھنا اس پر قرینہ ظاہرہ ہیں تو اگر اس قدر پر قناعت فرمائی جاتی احتمال تھا کہ مجرد اقبال سواد وادبار ضیا پر وقت افطار سمجھ لیا جاتا حالانکہ اقبال لیل درکنار ہنوز
لماعلمت ان اسناد الاقبال والادبار من ھھنا وھھنا لیس الیھما علی الحقیقۃ۔
کیونکہ تم جان چکے ہوکہ ادھر سے ادھر آنے جانے کی نسبت لیل ونہار کی طرف حقیقۃ نہیں ہے۔ (ت)
مگر اب تین۳ الفاظ کریمہ کے جمع ہونے سے سوال متوجہ ہوگا شك نہیں کہ اس معنی پر امور ثلثہ متلازم ہیں اور ایك کا ذکر باقی سے۔ مغنی
وھذا ماقالہ الامام النووی فی المنھاج قال العلماء کل واحد من ھذہ الثلثۃ یتضمن الاخرین ویلازمھما ۔
یہ وہی بات ہے جو امام نووی نے منہاج میں کہی ہے۔ علماء نے کہا ہے کہ ان تین میں سے ہر ایک باقی دو۲ کو یا تو متضمن ہوتا ہے یا ان کے ساتھ لازم ہوتا ہے۔ (ت)
اس کی اطیب توجیہ وہ ہے کہ علامہ طیبی نے شرح مشکوۃ میں افادہ کی کہ :
انما قال وغربت الشمس مع الاستغناء عنہ لبیان کمال الغروب کیلا یظن انہ اذاغرب بعض الشمس جاز الافطار ۔
آپ نے فرمایا “ اور سورج ڈوب جائے “ حالانکہ بظاہر اس کی ضرورت نہیں تھی تاکہ مکمل غروب کا بیان ہوجائے اور کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہوکہ سورج کا کچھ حصہ غروب ہونے سے افطار جائز ہوجاتا ہے۔ (ت)
علامہ مناوی وغیرہ نے بھی ان کی تبعیت کی۔ تیسیر شرح جامع صغیر میں ہے :
وزاد (وغربت الشمس) مع ان ماقبلہ کاف اشارۃ الی اشتراط تحقق کمال الغروب ۔
آپ نے فرمایا “ اور سورج ڈوب جائے “ فرمایا حالانکہ پہلے الفاظ کافی تھے اس میں اشارہ ہے کہ کامل غروب کا پایا جانا شرط ہے۔ (ت)
اقول : یہ توجیہ وجیہ صراحۃ ہمارے مدعائے مذکور کی طرف ناظر ہے نظر غائر میں بروجہ جلی اور قلت تدبر میں من طرف خفی یعنی اگرچہ لیل ونہار حقیقی مراد ہونے پر ذکر غروب کی حاجت نہ تھی کہ رات جبھی آئے گی کہ سورج ڈوب چکے گا مگر سوا دو ضیا پر ان کا حمل بعید نہیں خصوصا جبکہ اقبال من ھھنا وادبار من ھھنا اس پر قرینہ ظاہرہ ہیں تو اگر اس قدر پر قناعت فرمائی جاتی احتمال تھا کہ مجرد اقبال سواد وادبار ضیا پر وقت افطار سمجھ لیا جاتا حالانکہ اقبال لیل درکنار ہنوز
حوالہ / References
شرح مسلم للنووی مع صحیح مسلم زیرِ حدیث اذاقبل اللیل الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۵۱
شرح الطیبسی باب فی مسائل متفرقۃ الفصل اول ادارۃ القرآن کراچی۴ / ۱۵۱
التیسیر شرح جامع الصغیر حدیث مذکور کے تحت مکتبہ امام شافعی سعودیہ ۱ / ۷۶
شرح الطیبسی باب فی مسائل متفرقۃ الفصل اول ادارۃ القرآن کراچی۴ / ۱۵۱
التیسیر شرح جامع الصغیر حدیث مذکور کے تحت مکتبہ امام شافعی سعودیہ ۱ / ۷۶
بعض قرص غروب کو باقی ہوتا ہے کہ ضیا بھی معدوم ہوجاتی ہے لہذا وغربت الشمس (اور سورج ڈوب جائے۔ ت) زائد فرمایا کہ کوئی غروب بعض قرص کو کافی نہ سمجھ لے پر ظاہر کہ اگر یہ اقبال وادبار اسی وقت ہوتے جب پورا قرض ڈوب لیتا تو اس احتمال وظن کا کیا محل تھا ذکر غروب سے استغنا بدستور باقی رہتا اور جواب محض مہمل جاتا تو صاف ثابت ہوا کہ سیاہی اٹھنا اور شعاع چھپنا دونوں غروب شمس سے پہلے ہو لیتے علامہ علی قاری نے بھی اس کلام طیب طیبی کو تحقیق بتایا اور حسن قبول سے تلقی رمایا
حیث قال بعد نقلہ وقال بعض العلماء انما ذکر ھذین لیبین ان غروبھا عن العیون لایکفی لانھا قدتغیب ولاتکون غربت حقیقۃ فلابدمن اقبال اللیل ۔ اھ ثم ردہ بقولہ فیہ ان القید الثانی مستغن عنہ حینئذ وانما کان یتم کلامھم لوکان غربت مقدما اھ ای انما کان یحتاج اذذاك الی دفع ذلك الوھم بذکر اقبال اللیل اما اذاذکر اولا ما ھو القاطع للوھم فای حاجۃ بعدہ الی ذکر الغروب الموھم ثم قال : فیرجع الحکم الی ماحققہ الطیبی ۔ اھ فقدرجع الی مایفید تحقیق کلام الامام ابن حجر کماعلمت غیران المولی الفاضل رحمہ الله تعالی شدید الایلاع بالرد علیہ فی شرحیہ للمشکوۃ والشمائل حتی فی الواضحات الجلائل مع انہ من تلامذتہ رحمۃ الله تعالی علیہما وعلی سائر العلماء الکرام۔
چنانچہ علی قاری نے طیبی کا کلام نقل کرنے کے بعد کہا ہے “ بعض علماء نے کہا ہے کہ آپ نے اقبال لیل اور ادبار نہار کا اس لئے ذکر کیا ہے تاکہ واضح کردیں کہ سورج کا آنکھوں سے غروب ہوجانا کافی نہیں ہے کیونکہ کبھی آنکھوں سے تو غائب ہوجاتا ہے مگر حقیقۃ ڈوبا نہیں ہوتا “ ۔ پھر علی قاری نے اس کو یہ کہہ کر رد کیا ہے کہ اس پر یہ اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ اس صورت میں دوسری قید (یعنی وغربت الشمس) کی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔ علماء کی یہ بات تو تب تام ہوسکتی تھی جب “ غربت “ (اقبال وادبار سے) پہلے مذکور ہوتا۔ علی قاری کا مطلب یہ ہے کہ اس صورت میں تو یہ کہا جاسکتا تھا کہ چونکہ آنکھوں سے غائب ہونا کافی نہیں ہے اس لئے اس تو ہم کو دور کرنے کیلئے آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے بعد میں اقبال لیل کا ذکر کیا ہے مگر جب توہم کو قطع کرنے والی چیز (یعنی اقبال لیل) کا ذکر پہلے ہی ہوچکا تھا تو پھر اس کے بعد توہم پیدا کرنیوالی
حیث قال بعد نقلہ وقال بعض العلماء انما ذکر ھذین لیبین ان غروبھا عن العیون لایکفی لانھا قدتغیب ولاتکون غربت حقیقۃ فلابدمن اقبال اللیل ۔ اھ ثم ردہ بقولہ فیہ ان القید الثانی مستغن عنہ حینئذ وانما کان یتم کلامھم لوکان غربت مقدما اھ ای انما کان یحتاج اذذاك الی دفع ذلك الوھم بذکر اقبال اللیل اما اذاذکر اولا ما ھو القاطع للوھم فای حاجۃ بعدہ الی ذکر الغروب الموھم ثم قال : فیرجع الحکم الی ماحققہ الطیبی ۔ اھ فقدرجع الی مایفید تحقیق کلام الامام ابن حجر کماعلمت غیران المولی الفاضل رحمہ الله تعالی شدید الایلاع بالرد علیہ فی شرحیہ للمشکوۃ والشمائل حتی فی الواضحات الجلائل مع انہ من تلامذتہ رحمۃ الله تعالی علیہما وعلی سائر العلماء الکرام۔
چنانچہ علی قاری نے طیبی کا کلام نقل کرنے کے بعد کہا ہے “ بعض علماء نے کہا ہے کہ آپ نے اقبال لیل اور ادبار نہار کا اس لئے ذکر کیا ہے تاکہ واضح کردیں کہ سورج کا آنکھوں سے غروب ہوجانا کافی نہیں ہے کیونکہ کبھی آنکھوں سے تو غائب ہوجاتا ہے مگر حقیقۃ ڈوبا نہیں ہوتا “ ۔ پھر علی قاری نے اس کو یہ کہہ کر رد کیا ہے کہ اس پر یہ اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ اس صورت میں دوسری قید (یعنی وغربت الشمس) کی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔ علماء کی یہ بات تو تب تام ہوسکتی تھی جب “ غربت “ (اقبال وادبار سے) پہلے مذکور ہوتا۔ علی قاری کا مطلب یہ ہے کہ اس صورت میں تو یہ کہا جاسکتا تھا کہ چونکہ آنکھوں سے غائب ہونا کافی نہیں ہے اس لئے اس تو ہم کو دور کرنے کیلئے آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے بعد میں اقبال لیل کا ذکر کیا ہے مگر جب توہم کو قطع کرنے والی چیز (یعنی اقبال لیل) کا ذکر پہلے ہی ہوچکا تھا تو پھر اس کے بعد توہم پیدا کرنیوالی
حوالہ / References
مرقاۃ المفاتیح باب من کتاب الصوم الفصل الاول مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۴ / ۲۵۲
مرقاۃ المفاتیح باب من کتاب الصوم الفصل الاول مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۴ / ۲۵۲
مرقاۃ المفاتیح باب من کتاب الصوم الفصل الاول مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۴ / ۲۵۲
مرقاۃ المفاتیح باب من کتاب الصوم الفصل الاول مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۴ / ۲۵۲
مرقاۃ المفاتیح باب من کتاب الصوم الفصل الاول مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۴ / ۲۵۲
چیز(یعنی غروب) کو لانے کی کیا ضرورت تھی پھر علی قاری نے کہا ہے کہ آخر کار بات ادھر ہی لوٹ جاتی ہے جس کی تحقیق طیبی نے کی ہے۔ اس طرح علی قاری اسی فائدے کی طرف لوٹ آئے جو امام ابن حجر کے کلام کی تحقیق سے حاصل ہوتا ہے جیسا کہ تم جان چکے ہو۔ لیکن علی قاری مشکوۃ اور شمائل کی دونوں شرحوں میں ابن حجر کی ہر بات کی تردید کرنے سے خصوصی شغف رکھتے ہیں حتی کہ انتہائی واضح باتوں میں بھی (ابن حجر کی تردید کردیتے ہیں ) حالانکہ وہ ابن حجر کے شاگردوں میں سے ہیں ۔ الله تعالی ان دونوں پر اور تمام علماء کرام پر رحمت نازل فرمائے۔ (ت)
ہاں شہروں باغوں خصوصا نخلستان وکوہستان کی آبادیوں جنگلوں میں جہاں افق نظروں سے دور ہوتا ہے غالبا یہ شرق سے اٹھتی ہوئی تاریکی خوب بلند ہوکر نظر آتی ہے اور یہ وقت خاص غروب کا ہوتا ہے بلکہ بہت جگہ اس سے بھی پہلے غروب ہوچکتا ہے کلمات علماء مثل قول امام ابوزکریا
قال بعد مانقلنا سابقا وانما جمیع بینھما لانہ قد یکون فی واد ونحوہ بحیث لایشاھد غروب الشمس فیعتمد اقبال الظلام وادبار الضیاء ۔
ابوزکریا نے بعد اس کے جو ہم پہلے نقل کر آئے ہیں کہا ہے کہ (اقبال لیل اور غروب کو) جمع اس لئے کیا ہے کہ کبھی روزہ دار کسی وادی وغیرہ میں ہوتا ہے جہاں غروب کا مشاہدہ نہیں ہوسکتا تو تاریکیوں کے آنے اور روشنی کے جانے پر اعتماد کرنا پڑتا ہے(ت)
وقول امام قاضی عیاض فی شرح صحیح مسلم :
قد لایتفق مشاھدۃ عین الغروب ویشاھد ھجوم الظلمۃ حتی یتیقن الغروب بذلک فیحل الافطار ۔
کبھی غروب کا مشاہدہ کرنے کا اتفاق نہیں ہوتا لیکن تاریکی چھا جانے کا مشاہدہ ہوجاتا ہے جس سے غروب ہونے کا یقین ہوجاتا ہے تو اس وقت افطار جائز ہے۔ (ت)
وقول امام عینی فی عمدۃ :
ثم بین مایعتبرہ من لم یتمکن من رؤیۃ جرم الشمس وھو اقبال الظلمۃ من المشرق فانھا لاتقبل منہ الاقدسقط القرص ۔
پھر اس چیز کو بیان کیا جس کو وہ آدمی بھی جان لیتا ہے جس کیلئے سورج کی ٹکیہ کو دیکھنا ممکن نہ ہو یعنی مشرق کی جانب تاریکی کا آجانا کیونکہ وہ تب ہی آتی ہی
ہاں شہروں باغوں خصوصا نخلستان وکوہستان کی آبادیوں جنگلوں میں جہاں افق نظروں سے دور ہوتا ہے غالبا یہ شرق سے اٹھتی ہوئی تاریکی خوب بلند ہوکر نظر آتی ہے اور یہ وقت خاص غروب کا ہوتا ہے بلکہ بہت جگہ اس سے بھی پہلے غروب ہوچکتا ہے کلمات علماء مثل قول امام ابوزکریا
قال بعد مانقلنا سابقا وانما جمیع بینھما لانہ قد یکون فی واد ونحوہ بحیث لایشاھد غروب الشمس فیعتمد اقبال الظلام وادبار الضیاء ۔
ابوزکریا نے بعد اس کے جو ہم پہلے نقل کر آئے ہیں کہا ہے کہ (اقبال لیل اور غروب کو) جمع اس لئے کیا ہے کہ کبھی روزہ دار کسی وادی وغیرہ میں ہوتا ہے جہاں غروب کا مشاہدہ نہیں ہوسکتا تو تاریکیوں کے آنے اور روشنی کے جانے پر اعتماد کرنا پڑتا ہے(ت)
وقول امام قاضی عیاض فی شرح صحیح مسلم :
قد لایتفق مشاھدۃ عین الغروب ویشاھد ھجوم الظلمۃ حتی یتیقن الغروب بذلک فیحل الافطار ۔
کبھی غروب کا مشاہدہ کرنے کا اتفاق نہیں ہوتا لیکن تاریکی چھا جانے کا مشاہدہ ہوجاتا ہے جس سے غروب ہونے کا یقین ہوجاتا ہے تو اس وقت افطار جائز ہے۔ (ت)
وقول امام عینی فی عمدۃ :
ثم بین مایعتبرہ من لم یتمکن من رؤیۃ جرم الشمس وھو اقبال الظلمۃ من المشرق فانھا لاتقبل منہ الاقدسقط القرص ۔
پھر اس چیز کو بیان کیا جس کو وہ آدمی بھی جان لیتا ہے جس کیلئے سورج کی ٹکیہ کو دیکھنا ممکن نہ ہو یعنی مشرق کی جانب تاریکی کا آجانا کیونکہ وہ تب ہی آتی ہی
حوالہ / References
شرح مسلم للنووی مع صحیح مسلم حدیث اقبل اللیل مطبوعہ قدیمی کتب خانہ ۱ / ۳۵۱
شرح صحیح مسلم للامام قاضی عیاض
عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری باب الصّوم فی السفر والافطار مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت۱۱ / ۴۳
شرح صحیح مسلم للامام قاضی عیاض
عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری باب الصّوم فی السفر والافطار مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت۱۱ / ۴۳
جب سورج کی ٹکیہ غائب ہوچکی ہوتی ہے۔ (ت)
وقول جامع الرموز :
ای وقت غیبۃ جرم الشمس کلہ اذاظھر الغروب والا فالی وقت اقبال الظلمۃ من المشرق کمافی التحفۃ
یعنی افطار اس وقت کرے جب سورج کی پوری ٹکیہ غائب ہوجائے اگر غروب اس کیلئے ظاہر ہو ورنہ جب مشرق کی جانب تاریکی آجائے (تو افطاار کرلے) جیسا کہ تحفہ میں ہے۔ (ت)
وامثال ذلك کہ صراحۃ انہیں مواضع سے متعلق ہیں جہاں افق ظاہر اور رؤیت مقدمہ ورنہ ہو ایسے ہی عدم تمکن پر محمول ورنہ جب باجماع امت اور خود انہیں علماء اور ان کے امثال کی تصریحات قطعیہ سے مدار حکم غروب جمیع جرم شمس ہے اور اصل افق سے ارتفاع سواد بشہادت مشاہدہ قبل غروب حاصل تو مجرد اقبال پر ادارت حکم کیونکر معقول اور حدیث مؤطا :
مالك عن ابن شہاب عن حمید بن عبدالرحمن ان عمر بن الخطاب وعثمن بن عفان رضی الله تعالی عنھما کانا یصلیان المغرب حین ینظر الی اللیل الاسود قبل ان یفطرا ثم یفطران بعد الصلاۃ وذلك فی رمضان ۔
مالک ابن شہاب سے وہ حمیدا بن عبدالرحمن سے راوی ہیں کہ عمر ابن خطاب اور عثمان ابن عفان رضی اللہ تعالی عنہمارمضان میں اس وقت مغرب کی نماز پڑھا کرتے تھے جب افطار سے پہلے سیاہ رات کو دیکھ لیتے تھے پھر نماز کے بعد افطار کیا کرتے تھے۔ (ت)
تو ان عبارات سے بھی قریب تر ہے۔ شہر اور شہر کا بھی وسط اور وہ بھی نخلستان اور ملك کوہستان پھر امامین جلیلین رضی اللہ تعالی عنہماکا حسن احتیاط خود عبارت حدیث سے ظاہر کہ حین ینظر ان الی اللیل الاسود مجرد ذکر لیل یعنی سواد پر قناعت نہ کی بلکہ تاکیدا صفت اسود بڑھائی یعنی جب سیاہ سیاہی گہری ظلمت دیکھ لیتے اس وقت نماز پڑھتے حدیث صحیحین اذا رأیتم اللیل قداقبل من ھھنا فقد افطر الصائم میں اقبال لیل پر اقتصار بعض رواہ کا اقتصار ہے کہ بکثرت معہود خود اسی حدیث کی دوسری روایت میں صرف اذاغابت الشمس من ھھنا فقد افطر الصائم
وقول جامع الرموز :
ای وقت غیبۃ جرم الشمس کلہ اذاظھر الغروب والا فالی وقت اقبال الظلمۃ من المشرق کمافی التحفۃ
یعنی افطار اس وقت کرے جب سورج کی پوری ٹکیہ غائب ہوجائے اگر غروب اس کیلئے ظاہر ہو ورنہ جب مشرق کی جانب تاریکی آجائے (تو افطاار کرلے) جیسا کہ تحفہ میں ہے۔ (ت)
وامثال ذلك کہ صراحۃ انہیں مواضع سے متعلق ہیں جہاں افق ظاہر اور رؤیت مقدمہ ورنہ ہو ایسے ہی عدم تمکن پر محمول ورنہ جب باجماع امت اور خود انہیں علماء اور ان کے امثال کی تصریحات قطعیہ سے مدار حکم غروب جمیع جرم شمس ہے اور اصل افق سے ارتفاع سواد بشہادت مشاہدہ قبل غروب حاصل تو مجرد اقبال پر ادارت حکم کیونکر معقول اور حدیث مؤطا :
مالك عن ابن شہاب عن حمید بن عبدالرحمن ان عمر بن الخطاب وعثمن بن عفان رضی الله تعالی عنھما کانا یصلیان المغرب حین ینظر الی اللیل الاسود قبل ان یفطرا ثم یفطران بعد الصلاۃ وذلك فی رمضان ۔
مالک ابن شہاب سے وہ حمیدا بن عبدالرحمن سے راوی ہیں کہ عمر ابن خطاب اور عثمان ابن عفان رضی اللہ تعالی عنہمارمضان میں اس وقت مغرب کی نماز پڑھا کرتے تھے جب افطار سے پہلے سیاہ رات کو دیکھ لیتے تھے پھر نماز کے بعد افطار کیا کرتے تھے۔ (ت)
تو ان عبارات سے بھی قریب تر ہے۔ شہر اور شہر کا بھی وسط اور وہ بھی نخلستان اور ملك کوہستان پھر امامین جلیلین رضی اللہ تعالی عنہماکا حسن احتیاط خود عبارت حدیث سے ظاہر کہ حین ینظر ان الی اللیل الاسود مجرد ذکر لیل یعنی سواد پر قناعت نہ کی بلکہ تاکیدا صفت اسود بڑھائی یعنی جب سیاہ سیاہی گہری ظلمت دیکھ لیتے اس وقت نماز پڑھتے حدیث صحیحین اذا رأیتم اللیل قداقبل من ھھنا فقد افطر الصائم میں اقبال لیل پر اقتصار بعض رواہ کا اقتصار ہے کہ بکثرت معہود خود اسی حدیث کی دوسری روایت میں صرف اذاغابت الشمس من ھھنا فقد افطر الصائم
حوالہ / References
جامع الرموز للقہستانی کتاب الصّلوٰۃمکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران۱ / ۱۱۳
موطا الامام مالك ماجاء فی تعجیل الفطرمطبوعہ میر محمد کتب خانہ کراچی ص۲۲۸
الصحیح لمسلم باب بیان وقت انقضاء الصوم الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۵۱
الصحیح لمسلم باب بیان وقت انقضاء الصوم الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۵۱
موطا الامام مالك ماجاء فی تعجیل الفطرمطبوعہ میر محمد کتب خانہ کراچی ص۲۲۸
الصحیح لمسلم باب بیان وقت انقضاء الصوم الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۵۱
الصحیح لمسلم باب بیان وقت انقضاء الصوم الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۵۱
(جب تم رات کو دیکھو کہ ادھر سے آگئی ہے تو روزہ دار افطار کرلے۔ ت) (جب ادھر سے سورج غائب ہوجائے تو روزہ دار افطار کرلے۔ ت) ہے تیسری میں اذاغابت الشمس من ھھنا وجاء اللیل من ھھنا فقدافطر الصائم (جب ادھر سے سورج غائب ہوجائے اور ادھر سے رات آجائے تو روزہ دار افطاار کرلے۔ ت) ہےکلتاھما فی صحیح مسلم وغیرہ (دونوں صحیح مسلم اور دیگر کتابوں میں ہیں ۔ ت) اور اگر نہ بھی ہوتا تو بعد ارادہئ لیل حقیقی اصلا مفید متو ہم نہ رہتی اور علی التنزیل یہ بھی نہ سہی تو انہیں مواضع سے متعلق سمجھی جاتی بالجملہ خلاف پر اصلا کوئی لفظ ایسا بھی نہیں جسے صریح مفسر کہئے نہ کہ ایسا جس کے سبب مشاہدات وحسیات کو باطل کردیجئے کہ ان کے ابطال میں معاذالله ابطال شرائع ہے تلقی کتاب ورؤیت معجزات آخر بذریعہ حاسہ سمع وبصر ہی ہوں گے فقیر غفرالله لہ نے اس مطلب پر برہان ہندسی قائم کی ہے اگرچہ بعد بیان سابق کسی دلیل عقلی کی حاجت نہیں مگر اس سے زیادت تایید وتشیید کے علاوہ یہ مقدار معلوم ہوگی کہ غروب شمس سے کتنے پہلے سیاہی چمك آئیگی نیز اس سے مقدار بلندی سیاہی وقت غروب کے حساب میں بھی مدد ملے گی جسے اس پر اطلاع منظور ہو فقیہ کی کتاب “ زیج الاوقات للصوم والصلوات “ کی طرف رجوع کرے وبالله التوفیق والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ (۲۷۸) از شہرکنہ مسئولہ خیاط وہابی ۲۹ ربیع الآخر شریف
تنگ وقت نماز ادا کرنے والے کو الله تعالی ویل فرماتا ہے اور آپ خود تنگ وقت ادا فرماتے ہیں اس کی تفصیل بیان فرمادے گا۔
الجواب :
تنگ وقت نماز اداکرنے پر قرآن عظیم میں ویل کہیں نہ فرمایا ساھون کے لئے ویل آیا ہے جو وقت کھوکر نماز پڑھتے ہیں حدیث میں اس آیت کی یہی تفسیر فرمائی ہے بزار وابویعلی وابن جریر وابن المنذر وابن حاتم اور طبرانی اور ابن مردویہ تفسیر اور بہیقی سنن ومحی السنہ بغوی معالم میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
قال سألت النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم عن قول الله تعالی الذین هم عن صلاتهم ساهون(۵) قال ھم الذین یؤخرون الصلاۃ عن وقتھا ۔
میں نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے پوچھا وہ کون لوگ ہیں جنہیں الله عزوجل قرآن عظیم میں فرماتا ہے “ خرابی ہے ان نمازیوں کے لئے جو اپنی نماز سے بے خبر ہیں “ ۔ فرمایا وہ لوگ جو نماز وقت گزار کر پڑھیں ۔
مسئلہ (۲۷۸) از شہرکنہ مسئولہ خیاط وہابی ۲۹ ربیع الآخر شریف
تنگ وقت نماز ادا کرنے والے کو الله تعالی ویل فرماتا ہے اور آپ خود تنگ وقت ادا فرماتے ہیں اس کی تفصیل بیان فرمادے گا۔
الجواب :
تنگ وقت نماز اداکرنے پر قرآن عظیم میں ویل کہیں نہ فرمایا ساھون کے لئے ویل آیا ہے جو وقت کھوکر نماز پڑھتے ہیں حدیث میں اس آیت کی یہی تفسیر فرمائی ہے بزار وابویعلی وابن جریر وابن المنذر وابن حاتم اور طبرانی اور ابن مردویہ تفسیر اور بہیقی سنن ومحی السنہ بغوی معالم میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
قال سألت النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم عن قول الله تعالی الذین هم عن صلاتهم ساهون(۵) قال ھم الذین یؤخرون الصلاۃ عن وقتھا ۔
میں نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے پوچھا وہ کون لوگ ہیں جنہیں الله عزوجل قرآن عظیم میں فرماتا ہے “ خرابی ہے ان نمازیوں کے لئے جو اپنی نماز سے بے خبر ہیں “ ۔ فرمایا وہ لوگ جو نماز وقت گزار کر پڑھیں ۔
حوالہ / References
الصحیح لمسلم باب بیان وقت انقضاء الصوم الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۵۱
السنن الکبری للبہیقی باب الترغیب فی حفظ الصّلوٰۃ الخ مطبوعہ دارصادر بیروت ۲ / ۲۱۴
السنن الکبری للبہیقی باب الترغیب فی حفظ الصّلوٰۃ الخ مطبوعہ دارصادر بیروت ۲ / ۲۱۴
بغوی کی روایت یوں ہے :
عن مصعب بن سعد عن ابیہ رضی الله تعالی عنھما انہ قال سئل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم عن الذین ھم فی صلوتھم ساھون قال : اضاعۃ الوقت ۔
مصعب بن سعد سے انکے والد رضی اللہ تعالی عنہماسے مروی ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے اس آیت کے بارے میں سوال ہوا تو فرمایا : اس سے مراد وقت کھونا ہے۔ (ت)
کھونا ہے۔ بعینہ یہی معنی ابن جریر نے عبدالله بن عباس اور ابن ابی حاتم نے مسروق اور عبدالرزاق وابن المنذر نے بطریق مالك بن دینار امام حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہمسے روایت کیے روایت اخیرہ یوں ہے کہ ابو العالیہ نے کہا ساھون وہ لوگ ہیں جنہیں یاد نہ رہے کہ رکعتیں دو۲ پڑھیں یا تین۳۔ اس پر امام حسن نے فرمایا : ھو الذی یسھوعن میقاتھا حتی تفوت (ہائیں وہ وہ ہیں جو اس وقت سے غافل رہیں یہاں تك کہ وقت نکل جائے۔ م) فقیر کے یہاں بحمدالله نماز تنگ وقت نہیں ہوتی بلکہ مطابق مذہب حنفی ہوتی ہے عوام بیچارے اپنی ناواقفی سے غلط سمجھتے ہیں مذہب حنفی میں سوا مغرب اور جاڑوں کی ظہر کے سب نمازوں میں تاخیر افضل ہے اس حد تك کہ وقت کراہت نہ آنے پائے اور وہ عصر میں اس وقت آتا ہے جب قرص آفتاب پر بے تکلف نگاہ جمنے لگے اور تجربے سے ثابت کہ یہ بیس منٹ دن رہے ہوتا ہے اس سے پہلے پہلے جو نماز عصر اس کے وقت کا نصف اول گزار کر نصف آخر میں ہو وہ وقت مستحب ہے مثلا آج کل تقریبا سات۷ بجے غروب ہے اور قریب پانچ کے عصر کا وقت ہوجاتا ہے تو وقت مستحب یہ ہے کہ پانچ بج کر پچاس منٹ سے چھ بج کر چالیس منٹ تك نماز عصر پڑھیں اور عشا میں وقت کراہت آدھی رات کے بعد ہے یہ حالتیں بحمدالله تعالی میرے یہاں نہیں مجھے پابندی امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہکے احکام کی ہے نہ جاہلوں کے خیالات واوہام کی دارقطنی سنن اور حاکم صحیح مستدرك میں بطریق عباس بن ذریح زیاد بن عبدالله نخعی سے راوی :
قال کنا جلوسا مع علی رضی الله تعالی عنہ فی المسجد الاعظم فجاء المؤذن فقال : یاامیر المؤمنین! فقال : اجلس فجلس ثم عاد فقال لہ ذلک فقال رضی الله تعالی عنہ ھذا الکلب یعلمنا السنۃ فقام علی فصلی بنا العصر ثم انصرفنا فرجعنا الی المکان الذی کنافیہ جلوسا فجثونا للرکب لنزول الشمس للغروب نترااھا ۔
ہم کوفہ کی جامع مسجد میں مولی علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریمالکریم کے پاس بیٹھے تھے مؤذن آیا اور عرض کی : یاامیرالمومنین (یعنی نماز عصر کو تشریف لے چلیے) امیرالمومنین نے فرمایا : بیٹھ۔ وہ بیٹھ گیا۔ پھر دوبارہ حاضر ہوا اور
عن مصعب بن سعد عن ابیہ رضی الله تعالی عنھما انہ قال سئل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم عن الذین ھم فی صلوتھم ساھون قال : اضاعۃ الوقت ۔
مصعب بن سعد سے انکے والد رضی اللہ تعالی عنہماسے مروی ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے اس آیت کے بارے میں سوال ہوا تو فرمایا : اس سے مراد وقت کھونا ہے۔ (ت)
کھونا ہے۔ بعینہ یہی معنی ابن جریر نے عبدالله بن عباس اور ابن ابی حاتم نے مسروق اور عبدالرزاق وابن المنذر نے بطریق مالك بن دینار امام حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہمسے روایت کیے روایت اخیرہ یوں ہے کہ ابو العالیہ نے کہا ساھون وہ لوگ ہیں جنہیں یاد نہ رہے کہ رکعتیں دو۲ پڑھیں یا تین۳۔ اس پر امام حسن نے فرمایا : ھو الذی یسھوعن میقاتھا حتی تفوت (ہائیں وہ وہ ہیں جو اس وقت سے غافل رہیں یہاں تك کہ وقت نکل جائے۔ م) فقیر کے یہاں بحمدالله نماز تنگ وقت نہیں ہوتی بلکہ مطابق مذہب حنفی ہوتی ہے عوام بیچارے اپنی ناواقفی سے غلط سمجھتے ہیں مذہب حنفی میں سوا مغرب اور جاڑوں کی ظہر کے سب نمازوں میں تاخیر افضل ہے اس حد تك کہ وقت کراہت نہ آنے پائے اور وہ عصر میں اس وقت آتا ہے جب قرص آفتاب پر بے تکلف نگاہ جمنے لگے اور تجربے سے ثابت کہ یہ بیس منٹ دن رہے ہوتا ہے اس سے پہلے پہلے جو نماز عصر اس کے وقت کا نصف اول گزار کر نصف آخر میں ہو وہ وقت مستحب ہے مثلا آج کل تقریبا سات۷ بجے غروب ہے اور قریب پانچ کے عصر کا وقت ہوجاتا ہے تو وقت مستحب یہ ہے کہ پانچ بج کر پچاس منٹ سے چھ بج کر چالیس منٹ تك نماز عصر پڑھیں اور عشا میں وقت کراہت آدھی رات کے بعد ہے یہ حالتیں بحمدالله تعالی میرے یہاں نہیں مجھے پابندی امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہکے احکام کی ہے نہ جاہلوں کے خیالات واوہام کی دارقطنی سنن اور حاکم صحیح مستدرك میں بطریق عباس بن ذریح زیاد بن عبدالله نخعی سے راوی :
قال کنا جلوسا مع علی رضی الله تعالی عنہ فی المسجد الاعظم فجاء المؤذن فقال : یاامیر المؤمنین! فقال : اجلس فجلس ثم عاد فقال لہ ذلک فقال رضی الله تعالی عنہ ھذا الکلب یعلمنا السنۃ فقام علی فصلی بنا العصر ثم انصرفنا فرجعنا الی المکان الذی کنافیہ جلوسا فجثونا للرکب لنزول الشمس للغروب نترااھا ۔
ہم کوفہ کی جامع مسجد میں مولی علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریمالکریم کے پاس بیٹھے تھے مؤذن آیا اور عرض کی : یاامیرالمومنین (یعنی نماز عصر کو تشریف لے چلیے) امیرالمومنین نے فرمایا : بیٹھ۔ وہ بیٹھ گیا۔ پھر دوبارہ حاضر ہوا اور
حوالہ / References
تفسیر البغوی مع تفسیر الخازن ، زیر آیۃ الذین ھم عن صلٰوتھم ساھون ، مطبوعہ مکتبہ المصطفیٰ البابی مصر ۷ / ۲۹۹
سُنن الدارقطنی ، باب ذکر بیان المواقیت الخ ، مطبوعہ نشر السنۃ ملتان ، ۱ / ۲۵۱
سُنن الدارقطنی ، باب ذکر بیان المواقیت الخ ، مطبوعہ نشر السنۃ ملتان ، ۱ / ۲۵۱
وہی عرض کی۔ مولی علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم نے فرمایا : یہ کتا ہمیں سنت سکھاتا ہے۔ بعدہ مولا علی کھڑے ہوئے اور ہمیں عصر پڑھائی پھر ہم نماز کا سلام پھیر کر مسجد میں جہاں بیٹھے تھے وہیں آئے تو گھٹنوں کے بل کھڑے ہوکر سورج کو دیکھنے لگے اس لئے کہ وہ ڈوبنے کو اترگیا تھا۔
حاکم نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے
اما ان زیاد الم یرو عنہ غیر العباس
قالہ الدارقطنی فاقول : عباس ثقۃ وغایتہ جھالۃ عین فلا تضر عندنا لاسیما فی اکابر التابعین۔ قال فی المسلم لاجرح بان لہ راویا فقط وھومجھول العین باصطلاح ۔ قال فی الفواتح وقیل لایقبل عند المحدثین وھو تحکم ۔
رہی یہ بات کہ زیاد سے سوائے عباس کے کسی نے روایت نہیں کی جیسا کہ دارقطنی نے کہا ہے تو میں کہتا ہوں : عباس ثقہ ہے زیادہ سے زیادہ اس میں “ جہالت عین “ پائی جاتی ہے اور یہ ہمارے نزدیك مضر نہیں ہے خصوصا اکابر تابعین میں ۔ مسلم میں ہے کہ یہ کوئی جرح نہیں ہے کہ فلاں سے ایك ہی راوی ہے اور وہ اصطلاحی طور پر “ مجہول العین “ ہے فواتح میں ہے کہ بعض نے کہا کہ ایسا راوی قابل قبول نہیں ہے لیکن یہ بے دلیل بات ہے۔ (ت)
اگر یہ مولی علی کا صرف اپنا فعل ہوتا جب بھی حجت شرعی تھا نہ کہ وہ اسے صراحۃ سنت بتارہے اور مؤذن پر جو جلدی کا تقاضا کرتا تھا ایسا شدید غضب فرمارہے ہیں اسی کی مثل امیرالمومنین کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم سے نماز صبح میں مروی امام طحاوی بطریق داود بن یزید الاودی عن ابیہ روایت فرماتے ہیں :
قال کان علی ابن ابی طالب رضی الله تعالی عنہ یصلی بناالفجر ونحن نتراای الشمس مخافۃ ان تکون قدطلعت ۔
مولی علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریمہمیں نماز صبح پڑھایاکرتے اور ہم سورج کی طرف دیکھا کرتے تھے اس
حاکم نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے
اما ان زیاد الم یرو عنہ غیر العباس
قالہ الدارقطنی فاقول : عباس ثقۃ وغایتہ جھالۃ عین فلا تضر عندنا لاسیما فی اکابر التابعین۔ قال فی المسلم لاجرح بان لہ راویا فقط وھومجھول العین باصطلاح ۔ قال فی الفواتح وقیل لایقبل عند المحدثین وھو تحکم ۔
رہی یہ بات کہ زیاد سے سوائے عباس کے کسی نے روایت نہیں کی جیسا کہ دارقطنی نے کہا ہے تو میں کہتا ہوں : عباس ثقہ ہے زیادہ سے زیادہ اس میں “ جہالت عین “ پائی جاتی ہے اور یہ ہمارے نزدیك مضر نہیں ہے خصوصا اکابر تابعین میں ۔ مسلم میں ہے کہ یہ کوئی جرح نہیں ہے کہ فلاں سے ایك ہی راوی ہے اور وہ اصطلاحی طور پر “ مجہول العین “ ہے فواتح میں ہے کہ بعض نے کہا کہ ایسا راوی قابل قبول نہیں ہے لیکن یہ بے دلیل بات ہے۔ (ت)
اگر یہ مولی علی کا صرف اپنا فعل ہوتا جب بھی حجت شرعی تھا نہ کہ وہ اسے صراحۃ سنت بتارہے اور مؤذن پر جو جلدی کا تقاضا کرتا تھا ایسا شدید غضب فرمارہے ہیں اسی کی مثل امیرالمومنین کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم سے نماز صبح میں مروی امام طحاوی بطریق داود بن یزید الاودی عن ابیہ روایت فرماتے ہیں :
قال کان علی ابن ابی طالب رضی الله تعالی عنہ یصلی بناالفجر ونحن نتراای الشمس مخافۃ ان تکون قدطلعت ۔
مولی علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریمہمیں نماز صبح پڑھایاکرتے اور ہم سورج کی طرف دیکھا کرتے تھے اس
حوالہ / References
سُنن الدارقطنی باب ذکر بیان المواقیت الخ مطبوعہ نشر السنۃ ملتان ۱ / ۲۵۱
مسلّم الثبوت مع شرح فواتح الرحموت مسئلہ مجہول الحال الخ مطبوعہ منشورات الشریف الرضی قم ، ایران۲ / ۱۴۹
فواتح الرحموت شرح مسلّم الثبوت مسئلہ مجہول الحال الخ۲ / ۱۴۹
شرح معانی الآثار باب الوقت الذی یصلی فیہ الفجرای وقت ھو مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۲۳
مسلّم الثبوت مع شرح فواتح الرحموت مسئلہ مجہول الحال الخ مطبوعہ منشورات الشریف الرضی قم ، ایران۲ / ۱۴۹
فواتح الرحموت شرح مسلّم الثبوت مسئلہ مجہول الحال الخ۲ / ۱۴۹
شرح معانی الآثار باب الوقت الذی یصلی فیہ الفجرای وقت ھو مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۲۳
خوف سے کہ کہیں طلوع نہ کر آیاہو۔
مناقب سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہللامام حافظ الدین الکردری میں ہے :
ذکر الامام الدیلمی عن زھیر ابن کیسان قال صلیت مع الرصافی العصر ثم انطلقت مسجد الامام فاخر العصر حتی خفت فوات الوقت ثم انطلقت الی مسجد سفین فاذاھو لم یصل العصر فقلت رحم الله اباحنیفۃ مااخرھا مثل اخر سفین
یعنی امام دیلمی نے زہیربن کیسان سے روایت کی کہ میں رصافی کے ساتھ نماز عصر پڑھ کر مسجد امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہمیں گیا امام نے عصر میں اتنی تاخیر فرمائی کہ مجھے خوف ہوا کہ وقت جاتا رہے گا پھر میں مسجد امام سفین ثوری رضی اللہ تعالی عنہکی طرف گیا تو کیا دیکھوں کہ انہوں نے ابھی نماز پڑھی بھی نہیں میں نے کہا الله ابوحنیفہ پر رحمت فرمائے انہوں نے تو اتنی تاخیر کی بھی نہیں جتنی سفین نے۔
فقیر کے یہاں سوا گھنٹا دن رہے اذان عصر ہوتی ہے اور گھنٹا بھر دن رہے نماز ہوتی ہے اور پون گھنٹا دن رہے سے پہلے ہوچکی ہے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ (۲۷۹) از ریاست رام پور متصل تالاب کنڈا محلہ میاں نگاناں مکان جناب سیدغلام چشتی صاحب مرسلہئ جناب مولنا مولوی محمد یحیی صاحب ۱۲ صفر ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قطع نظر شفق سرخ وسپید کے باتفاق علمائے حنفیہ بعد غروب آفتاب کے ایك گھنٹے بیس منٹ کے بعد ہمیشہ وقت عشاء کا آجاتا ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
عشائے متفق علیہ کا وقت ہمیشہ ایك گھنٹہ بیس منٹ بعد ہوجانے کا جبروتی حکم کہ بعض بے علموں نے محض جزافا لکھ دیا اور گنگوہ ودیوبند کے جاہل وناواقف ملاؤں نے اس کی تصدیق وتوثیق کی۔ بریلی بدایوں رامپور شاہجہان پور مراد آباد بجنور بلند شہر پیلی بھیت دہلی میرٹھ سہارنپور دیوبند گنگوہ وغیرہا بلاد شمالیہ بلکہ عامہ مواضع واضلاع ممالك مغربی وشمالی واودھ وپنجاب وبنگال ووسط ہندو راجپوتانہ غرض معظم آبادی ہندوستان میں محض غلط وباطل اور حلیہ صدق وصواب سے عاری وعاطل ہے ہمارے بلاد اور ان کے قریب العرض شہروں میں عشا کا اجماعی وقت غروب شرعی شمس کے ایك گھنٹا انیس منٹ بعد سے ایك گھنٹا
مناقب سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہللامام حافظ الدین الکردری میں ہے :
ذکر الامام الدیلمی عن زھیر ابن کیسان قال صلیت مع الرصافی العصر ثم انطلقت مسجد الامام فاخر العصر حتی خفت فوات الوقت ثم انطلقت الی مسجد سفین فاذاھو لم یصل العصر فقلت رحم الله اباحنیفۃ مااخرھا مثل اخر سفین
یعنی امام دیلمی نے زہیربن کیسان سے روایت کی کہ میں رصافی کے ساتھ نماز عصر پڑھ کر مسجد امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہمیں گیا امام نے عصر میں اتنی تاخیر فرمائی کہ مجھے خوف ہوا کہ وقت جاتا رہے گا پھر میں مسجد امام سفین ثوری رضی اللہ تعالی عنہکی طرف گیا تو کیا دیکھوں کہ انہوں نے ابھی نماز پڑھی بھی نہیں میں نے کہا الله ابوحنیفہ پر رحمت فرمائے انہوں نے تو اتنی تاخیر کی بھی نہیں جتنی سفین نے۔
فقیر کے یہاں سوا گھنٹا دن رہے اذان عصر ہوتی ہے اور گھنٹا بھر دن رہے نماز ہوتی ہے اور پون گھنٹا دن رہے سے پہلے ہوچکی ہے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ (۲۷۹) از ریاست رام پور متصل تالاب کنڈا محلہ میاں نگاناں مکان جناب سیدغلام چشتی صاحب مرسلہئ جناب مولنا مولوی محمد یحیی صاحب ۱۲ صفر ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قطع نظر شفق سرخ وسپید کے باتفاق علمائے حنفیہ بعد غروب آفتاب کے ایك گھنٹے بیس منٹ کے بعد ہمیشہ وقت عشاء کا آجاتا ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
عشائے متفق علیہ کا وقت ہمیشہ ایك گھنٹہ بیس منٹ بعد ہوجانے کا جبروتی حکم کہ بعض بے علموں نے محض جزافا لکھ دیا اور گنگوہ ودیوبند کے جاہل وناواقف ملاؤں نے اس کی تصدیق وتوثیق کی۔ بریلی بدایوں رامپور شاہجہان پور مراد آباد بجنور بلند شہر پیلی بھیت دہلی میرٹھ سہارنپور دیوبند گنگوہ وغیرہا بلاد شمالیہ بلکہ عامہ مواضع واضلاع ممالك مغربی وشمالی واودھ وپنجاب وبنگال ووسط ہندو راجپوتانہ غرض معظم آبادی ہندوستان میں محض غلط وباطل اور حلیہ صدق وصواب سے عاری وعاطل ہے ہمارے بلاد اور ان کے قریب العرض شہروں میں عشا کا اجماعی وقت غروب شرعی شمس کے ایك گھنٹا انیس منٹ بعد سے ایك گھنٹا
حوالہ / References
مناقب امام اعظم ابوحنیفہ للکُردری الفصل الثانی فی اصول بنی علیہ مذہب مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ۱ / ۱۵۲
پنتیس۳۵ منٹ بعد تك ہوتا ہے پھر جس قدر شمال کو جائیے وقت بڑھتا جائے گا یہاں تك کہ اقصائے شمالی ہند میں تحویل سرطان کے آس پاس بعد غروب شمس پونے دو۲ گھنٹے سے بھی زائد ایك گھنٹا اڑتالیس۴۸ منٹ تك پہنچتا ہے دو۲ منٹ کم آدھے گھنٹے کی غلطی ہے کہ شفق احمر وابیض میں اختلاف ائمہ بھی اس کی جھونك نہیں اٹھاسکتا ہم اپنے بلاد میں سب سے جلد آنے والے عشا کہ حوالی اعتدالین یعنی ۲۱ مارچ و ۲۴ ستمبر کے اردگرد ہوتی ہے اور سب سے دیر میں ہونے والی عشا کہ تحویل سرطان ۲۲ جون پر ہوتی ہے حساب ہندسی سے پیش کریں جس سے واضح ہوجائے گا کہ ان بے علم مفتیوں نے شرع الہی پر جاہلانہ حکم لگادینے میں کس قدر جرأت کی تحویل حمل غروب نجومی وہات انکسار افقی تقریبا قہ تعدیل الایام زائد قہ ح فرق طول شرقی مدارح قہ ح مجموع وت یہ یعنی ۲۱ مارچ کو یہاں غروب شمس تقریبا سواچھ بجے ہے العشاء (جیب غایۃ الانخفاص ساحہ لرمثل تمام العرض لعدم المیل= نت حہ مرح نخ) = (جیب انخفاض الوقت لح حہ=لح حہ لب الرم )= لد حہ مد مویح -(جیب اوسط=جیب تام العرض لعدم المیل= نت قہ مر مد منحطا)= لح حہ نہ لب سہم قوسہ سط حہ الولح فضل الدائرx ء = ء ت لرمہ تمامہ الی رت نہ الب نہ+(تعدیل الایام وفرق طول زائدین=ماقہ) رت لح ہہ یعنی اس تاریخ سات بج کر سو ا تینتیس منٹ پر وقت عشا آیا اس میں سے سوا چھ گھنٹے تفریق کیے تو ایك گھنٹا سوا اٹھارہ منٹ رہے تحویل سرطان غروب نجومی وت مذح انکسار قہء تعدیل الایام وفرق طول زائدین قہ مجموع رت ح یعنی ۲۲ جون کو یہاں غروب شمس سات بج کر تین منٹ پر ہے وبروجہ ادق تمام العرض حہ سالر۔ میل اعظم الح حہ الر= لح ح ی غایۃ الانحطاط جیبہ لرء حہ لرالونصف قطرہ مو+ انکسار معدل لب قہ نا= مع قہ لرانحطاط الوقت حبیبہ قہ مذلۃ تفاضل الحبیبین لو صہ ح مب ناجیب تمام المیل سوحہ لح= نہ حہ م ء x جیب تمام العرض نب حہ مرح نح منحط= مح حہ الہ لح لح جیب اوسط پس تفاضل حبیبین÷ جیب اوسط منحط = مدحہ نح ط مہ سہم قوسہ عہ حہ الدلوہ فضل الدائر x قہء = ہ ت الح تمام وت نح الب + تعدیل الایام انہ لب + فصل شرقی ح قہ ما = رت ح ہ یوں بھی وہی سات پر تین منٹ آئے۔
العشاء لرحہء لرالو۔ ح حہ لب الرم = ح حہ لب ط مو÷مح قہ الہ لح لح= الب حہ نرسوسہم قوسہ ناحہ نح وفضل الدائر x ء قہ = ح ت الرلب تمامہ ح ت لب الح+ الب قہ+ قح ما= ح ت لر مایعنی اس تاریخ ۸ بج کر سواسینتیس منٹ پر عشا ہوئی تفریق وقت غروب کرنے پر ایك گھنٹے چونتیس منٹ سے قدرے زائد وقت ہوا بعینہ یہی مقداریں وقت صبح کی ہیں ہاں ہمارے بلاد میں صرف بقدر ثلث سال بھر یعنی تقریبا نصف دلو سے نصف حمل اور نصف سنبلہ سے نصف عقرب تك یہ اوقات ایك گھنٹا بیس منٹ کے قریب قریب رہتے ہیں باقی تمام سال میں اس سے زائد تو دہلی رامپور میرٹھ مظفرنگر دیوبند گنگوہ سہارن پور میں کہ سب بریلی سے شمال کوہیں اور باہم ہر پچھلا پہلے سے زیادہ شمالی ہے ہمیشہ ایك گھنٹا بیس منٹ کیونکر معقول ہے اگرچہ مفتیان جاہل ومخطیان غافل اپنی بیخردی سے تصدیقیں کریں شہادتیں دیں اس کو اپنے بے بصربے خبر عمائد کا معمول یہ بتائیں وہ بھی نہ فقط عشا بلکہ وقت صبح میں بھی جس کاحاصل
العشاء لرحہء لرالو۔ ح حہ لب الرم = ح حہ لب ط مو÷مح قہ الہ لح لح= الب حہ نرسوسہم قوسہ ناحہ نح وفضل الدائر x ء قہ = ح ت الرلب تمامہ ح ت لب الح+ الب قہ+ قح ما= ح ت لر مایعنی اس تاریخ ۸ بج کر سواسینتیس منٹ پر عشا ہوئی تفریق وقت غروب کرنے پر ایك گھنٹے چونتیس منٹ سے قدرے زائد وقت ہوا بعینہ یہی مقداریں وقت صبح کی ہیں ہاں ہمارے بلاد میں صرف بقدر ثلث سال بھر یعنی تقریبا نصف دلو سے نصف حمل اور نصف سنبلہ سے نصف عقرب تك یہ اوقات ایك گھنٹا بیس منٹ کے قریب قریب رہتے ہیں باقی تمام سال میں اس سے زائد تو دہلی رامپور میرٹھ مظفرنگر دیوبند گنگوہ سہارن پور میں کہ سب بریلی سے شمال کوہیں اور باہم ہر پچھلا پہلے سے زیادہ شمالی ہے ہمیشہ ایك گھنٹا بیس منٹ کیونکر معقول ہے اگرچہ مفتیان جاہل ومخطیان غافل اپنی بیخردی سے تصدیقیں کریں شہادتیں دیں اس کو اپنے بے بصربے خبر عمائد کا معمول یہ بتائیں وہ بھی نہ فقط عشا بلکہ وقت صبح میں بھی جس کاحاصل
یہ کہ سال کے دو۲ تہائی حصے میں ان کبر اواذباب سب کے روزے نذر جہل بے حساب اور ان کی سحری کے ختم بلکہ کبھی شروع سے بھی پہلے جلوہ صبح صادق بے حجاب نسأل الله العفو والعافیۃ ولاحول ولاقوۃ الا بالله العلی العظیم والله سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ (۲۸۰) از اترولی ضلع علی گڈھ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ حافظ عبدالکریم صاحب مدرس ۸ جمادی الآخرہ ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وقت ظہر کا عصر کا مغرب وعشا وفجر کا کب تك رہتا ہے خصوص مغرب کا وقت کب تك رہتا ہے
الجواب :
وقت ظہر کا اس وقت تك رہتا ہے کہ سایہ سوا سایہ اصلی کے جو اس روز ٹھیك دوپہر کو پڑا ہو دو مثل ہوجائے اور عصر کا وقت غروب آفتاب تك یعنی جب سورج کی کوئی کرن بالائے افق نہ رہے اور اس کا وقت مستحب جب تك ہے کہ آفتاب کے قرص پر نظر اچھی طرح نہ جمے جب بغیر کسی عارض بخار یا غبار وغیرہ کے نگاہ قرص آفتاب پر جمنے لگی وقت کراہت آگیا اور یہ وقت فقیر کے تجربہ سے اس وقت آتا ہے جب سورج ڈوبنے میں بیس۲۰ منٹ رہ جاتے ہیں مغرب کا وقت سپیدی ڈوبنے تك ہے یعنی چوڑی سپیدی کہ جنوبا شمالا پھیلی ہوتی اور بعد سرخی غائب ہونے کے تادیر باقی رہتی ہے جب وہ نہ رہی وقت مغرب گیا اور عشا آئی دراز سپیدی کہ صبح کاذب کی طرح شرقا غربا ہوتی ہے معتبر نہیں اور یہ وقت ان شہروں میں کم سے کم ایك گھنٹا اٹھارہ منٹ بعد غروب آفتاب ہوتا ہے آخر مارچ وآخر ستمبر میں اور زیادہ سے ایك گھنٹا ۳۵ منٹ ہوتا ہے آخر جون میں اور موسم سرما میں بڑھ سے بڑھ ایك گھنٹا چوبیس منٹ ہوتا ہے آخر دسمبر میں اور اس کا وقت مستحب جب تك ہے کہ ستارے خوب ظاہر نہ ہوجائیں اتنی دیر کرنی کہ چھوٹے چھوٹے ستارے بھی چمك آئیں مکروہ ہے۔ عشا کا وقت طلوع فجر صادق تك ہے اور وقت مستحب آدھی رات سے پہلے پہلے۔ یہ تمام اوقات درجات شمس ودرجات عرض البلاد کے اختلاف سے مختلف ہوتے رہتے ہیں ان کے لئے ایك وقت معین بتانا ممکن نہیں ۔ مغرب کو سائل نے بالخصوص دریافت کیا تھا اس کیلئے وہ قریب تخمینہ کو ان شہروں میں ہے گزارش ہوا یہی تخمینہ مقدار صبح صادق کا ہے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ (۲۸۱) از رانی کھیت :
ماہ جون وجولائی واگست میں نماز ظہر کا وقت مستحب کے بجے سے شروع ہوتا ہے اور کے بجے تك رہتا ہے
الجواب :
بحکم حدیث وفقہ ایام گرما میں تاخیر ظہر مستحب ومسنون ہے اور تاخیر کے یہ معنی کہ وقت کے دو۲ حصے
مسئلہ (۲۸۰) از اترولی ضلع علی گڈھ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ حافظ عبدالکریم صاحب مدرس ۸ جمادی الآخرہ ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وقت ظہر کا عصر کا مغرب وعشا وفجر کا کب تك رہتا ہے خصوص مغرب کا وقت کب تك رہتا ہے
الجواب :
وقت ظہر کا اس وقت تك رہتا ہے کہ سایہ سوا سایہ اصلی کے جو اس روز ٹھیك دوپہر کو پڑا ہو دو مثل ہوجائے اور عصر کا وقت غروب آفتاب تك یعنی جب سورج کی کوئی کرن بالائے افق نہ رہے اور اس کا وقت مستحب جب تك ہے کہ آفتاب کے قرص پر نظر اچھی طرح نہ جمے جب بغیر کسی عارض بخار یا غبار وغیرہ کے نگاہ قرص آفتاب پر جمنے لگی وقت کراہت آگیا اور یہ وقت فقیر کے تجربہ سے اس وقت آتا ہے جب سورج ڈوبنے میں بیس۲۰ منٹ رہ جاتے ہیں مغرب کا وقت سپیدی ڈوبنے تك ہے یعنی چوڑی سپیدی کہ جنوبا شمالا پھیلی ہوتی اور بعد سرخی غائب ہونے کے تادیر باقی رہتی ہے جب وہ نہ رہی وقت مغرب گیا اور عشا آئی دراز سپیدی کہ صبح کاذب کی طرح شرقا غربا ہوتی ہے معتبر نہیں اور یہ وقت ان شہروں میں کم سے کم ایك گھنٹا اٹھارہ منٹ بعد غروب آفتاب ہوتا ہے آخر مارچ وآخر ستمبر میں اور زیادہ سے ایك گھنٹا ۳۵ منٹ ہوتا ہے آخر جون میں اور موسم سرما میں بڑھ سے بڑھ ایك گھنٹا چوبیس منٹ ہوتا ہے آخر دسمبر میں اور اس کا وقت مستحب جب تك ہے کہ ستارے خوب ظاہر نہ ہوجائیں اتنی دیر کرنی کہ چھوٹے چھوٹے ستارے بھی چمك آئیں مکروہ ہے۔ عشا کا وقت طلوع فجر صادق تك ہے اور وقت مستحب آدھی رات سے پہلے پہلے۔ یہ تمام اوقات درجات شمس ودرجات عرض البلاد کے اختلاف سے مختلف ہوتے رہتے ہیں ان کے لئے ایك وقت معین بتانا ممکن نہیں ۔ مغرب کو سائل نے بالخصوص دریافت کیا تھا اس کیلئے وہ قریب تخمینہ کو ان شہروں میں ہے گزارش ہوا یہی تخمینہ مقدار صبح صادق کا ہے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ (۲۸۱) از رانی کھیت :
ماہ جون وجولائی واگست میں نماز ظہر کا وقت مستحب کے بجے سے شروع ہوتا ہے اور کے بجے تك رہتا ہے
الجواب :
بحکم حدیث وفقہ ایام گرما میں تاخیر ظہر مستحب ومسنون ہے اور تاخیر کے یہ معنی کہ وقت کے دو۲ حصے
کیے جائیں نصف اول چھوڑ کر نصف ثانی میں پڑھیں کماافادہ فی البحرالرائق عن الاسرار وغیرہ (جیسا کہ بحرالرائق میں اسرار وغیرہ سے اس کا افادہ کیا ہے)اور صیف یعنی ایام گرما سے مراد زمان اشتداد گرمی ہے۔ خلاصہ وبحر وغیرہما میں ہے :
الشتاء مااشتد فیہ البرد علی الدوام والصیف مایشتد فیہ الحر علی الدوام ۔
شتاء اس موسم کو کہتے ہیں جس میں مستقل طور پر شدید سردی رہے اور صیف اس موسم کو کہتے ہیں جس میں ہر وقت سخت گرمی رہے (ت)
اور یہ باختلاف بلاد مختلف ہوتا ہے فلکیوں کی تقسیم کہ تحویل حمل سے آخر جوزا تك ربیع آخر سنبلہ تك صیف آخر قوس تك خریف آخر حوت تك شتا ہے ان کے بلاد کے موافق ہوگی ہمارے بلاد میں ہر فصل ایك برج پہلے شروع ہوجاتی ہے مثلا جاڑا تحویل جدی یعنی ۲۲ دسمبر سے شروع نہیں ہوتا بلکہ دسمبر کا سارا مہینہ اور اواخر نومبر یقینا اشتداد سرما کا وقت ہے یونہی درختوں مشاہدہ شہادت دیتا ہے کہ اواخر فروری تحویل حوت سے بہار شروع ہوجاتی ہے اور بیشك جون کا پورا مہینہ اور اواخر مئی شدت گرما کا وقت ہے تو ہمارے یہاں تقسیم فصول یوں ہے حوت حمل ثور بہار جوزا سرطان اسد گرمی سنبلہ میزان عقرب خریف قوس جدی دلوجاڑا توزمانہ استحباب تاخیر ظہر ۲۲ مئی سے ۲۴ اگست تك ہے اوقات نماز کا آغاز وانجام ہر روز بدلتا ہے ایك وقت معین کی تعین ناممکن ہے لہذا ہم صرف ایام تحویلات ثور تا سنبلہ کا حساب بیان کریں کہ اس سے ایام مابین کا تقریبی قیاس کرسکیں اور زیادت افادت کیلئے ان ایام کا طلوع وغروب بھی لکھ دیں کہ اگرچہ مئی جون گزرگئے جولائی اگست باقی ہیں صحیح گھڑی سے مقاببلہ کرسکتے ہیں اگر دھوپ گھڑی موجود ہوتو جس وقت اس میں کیلی کا سایہ خط نصف النہار پر منطبق ہو جیبی گھڑی میں وہ وقت کردیں جو خانہ شروع وقت ظہر میں ہم نے لکھا ہے یہ گھڑی نہایت کافی وجہ پر صحیح ہوگی ورنہ شام کے چار۴ بجے جو مدراس سے تار آتا ہے جس وقت وہ سولہ۱۶ کا گھنٹا بتائے گھڑی میں فورا چار بجائیں ورنہ ریل تار کی گھڑیوں بلکہ توپ کا بھی کچھ اعتبار نہیں میں نے توپ میں گیارہ منٹ تك کی غلطی مشاہدہ کی ہے اور تین چار منٹ کی غلطی تو صدہا بارپائی ہے ہم اس نقشہ میں ریلوے کا وقت دیں گے اور از انجاکہ یہ تقریب سالہاسال تك کام دے سکنڈوں کی تدقیق نہ کریں گے رانی کھیت کے لئے جس کا عرض شمالی ۲۹ درجے ۳۸ دقیقے اور طول مشرقی ۷۹ درجے ۲۸ دقیقے ہے۔
الشتاء مااشتد فیہ البرد علی الدوام والصیف مایشتد فیہ الحر علی الدوام ۔
شتاء اس موسم کو کہتے ہیں جس میں مستقل طور پر شدید سردی رہے اور صیف اس موسم کو کہتے ہیں جس میں ہر وقت سخت گرمی رہے (ت)
اور یہ باختلاف بلاد مختلف ہوتا ہے فلکیوں کی تقسیم کہ تحویل حمل سے آخر جوزا تك ربیع آخر سنبلہ تك صیف آخر قوس تك خریف آخر حوت تك شتا ہے ان کے بلاد کے موافق ہوگی ہمارے بلاد میں ہر فصل ایك برج پہلے شروع ہوجاتی ہے مثلا جاڑا تحویل جدی یعنی ۲۲ دسمبر سے شروع نہیں ہوتا بلکہ دسمبر کا سارا مہینہ اور اواخر نومبر یقینا اشتداد سرما کا وقت ہے یونہی درختوں مشاہدہ شہادت دیتا ہے کہ اواخر فروری تحویل حوت سے بہار شروع ہوجاتی ہے اور بیشك جون کا پورا مہینہ اور اواخر مئی شدت گرما کا وقت ہے تو ہمارے یہاں تقسیم فصول یوں ہے حوت حمل ثور بہار جوزا سرطان اسد گرمی سنبلہ میزان عقرب خریف قوس جدی دلوجاڑا توزمانہ استحباب تاخیر ظہر ۲۲ مئی سے ۲۴ اگست تك ہے اوقات نماز کا آغاز وانجام ہر روز بدلتا ہے ایك وقت معین کی تعین ناممکن ہے لہذا ہم صرف ایام تحویلات ثور تا سنبلہ کا حساب بیان کریں کہ اس سے ایام مابین کا تقریبی قیاس کرسکیں اور زیادت افادت کیلئے ان ایام کا طلوع وغروب بھی لکھ دیں کہ اگرچہ مئی جون گزرگئے جولائی اگست باقی ہیں صحیح گھڑی سے مقاببلہ کرسکتے ہیں اگر دھوپ گھڑی موجود ہوتو جس وقت اس میں کیلی کا سایہ خط نصف النہار پر منطبق ہو جیبی گھڑی میں وہ وقت کردیں جو خانہ شروع وقت ظہر میں ہم نے لکھا ہے یہ گھڑی نہایت کافی وجہ پر صحیح ہوگی ورنہ شام کے چار۴ بجے جو مدراس سے تار آتا ہے جس وقت وہ سولہ۱۶ کا گھنٹا بتائے گھڑی میں فورا چار بجائیں ورنہ ریل تار کی گھڑیوں بلکہ توپ کا بھی کچھ اعتبار نہیں میں نے توپ میں گیارہ منٹ تك کی غلطی مشاہدہ کی ہے اور تین چار منٹ کی غلطی تو صدہا بارپائی ہے ہم اس نقشہ میں ریلوے کا وقت دیں گے اور از انجاکہ یہ تقریب سالہاسال تك کام دے سکنڈوں کی تدقیق نہ کریں گے رانی کھیت کے لئے جس کا عرض شمالی ۲۹ درجے ۳۸ دقیقے اور طول مشرقی ۷۹ درجے ۲۸ دقیقے ہے۔
حوالہ / References
البحرالرائق کتاب الصلوٰہ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۴۷
البحرالرائق کتاب الصلوٰہ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۴۷
البحرالرائق کتاب الصلوٰہ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۴۷
image
بعض عوام کو اپنی ناواقفی سے وقت ظہر پانچ بجے تك رہنے کا بھی تعجب ہوتا ہے نہ کہ پانچ سے بھی کچھ منٹ زائد تك لہذا ایام خمسہ میں سب سے بڑا وقت کہ ۲۴ جولائی کا آیا ہم اس کی برہان ہندسی ذکر کردیں کہ آج کل بہت مدعیان علم بھی فن توقیت سے محض ناواقف ہیں انہیں اطمینان ہوکہ یہ بیانات جزافی نہیں تحقیقی ہیں جو نہ جانتا ہو جاننے والوں کا اتباع کرے اور جو نہ خود جانے نہ جانے والوں کی مانے اس کا مرض لاعلاج ہے البرھان تحویل مفروض بوقت مطلوب راس الاسد بہت ساعۃ درجہ سابقہ ب قہ الح ب x وقت تخمینی ء ت مط لو= ماقہ لاما تقویم نصف النہار حقیقی ج ح الط مح الط میلك حہ ہا ا + تمام العرض سہ ح الب + نصف قطربہ قہ مو= ف حہ مط موتمامہ ط حہ ی مدبعد سمتی حقیقی حاجبی وقت ظہیرہ تحویلش بمرئی ط حہ ی ہ ظلش ط حہ ما اما ظل وقت عصر حنفی ع ط ما اما قوسہ حہ سہ + نصف قطر= حہ سہ الرنط الب بعد سمتی حقیقی مرکزی وقت مطلوب عرض البلد الط حہ لح میل راس الاسد ك حہ ط لح نر= ط حہ الح الوح+ بعد سمتی = عدحہ نوالہ الہ نصفہ لرحہ الح مح حبیبہ ۷۸۴۱۵۲۶ء ۹ وبعد سمتی۔ نصف مذکور = الرحہ نط مولط حبیبہ ۶۷۱۵۵۶۴ء ۹ قاطع عرض ۰۶۰۸۷۶۶ئ۰ قاطع میل ۰۲۷۴۵۶۰ء جمیع الاربعہ ۵۴۴۰۲۲ء ۹ تقویسش درجدول وقت ۶ء ۹ ۵۴ ت+ فصل طول وسط الہندی ۱۲+ تعدیل الایام ۱۶ ۶ = ۶ئ ۳۳ ۸ ۵ت یعنی پانچ بج کر آٹھ منٹ ۳۴ سکنڈ پر وقت ظہر ختم ہوا والله تعالی اعلم۔
بعض عوام کو اپنی ناواقفی سے وقت ظہر پانچ بجے تك رہنے کا بھی تعجب ہوتا ہے نہ کہ پانچ سے بھی کچھ منٹ زائد تك لہذا ایام خمسہ میں سب سے بڑا وقت کہ ۲۴ جولائی کا آیا ہم اس کی برہان ہندسی ذکر کردیں کہ آج کل بہت مدعیان علم بھی فن توقیت سے محض ناواقف ہیں انہیں اطمینان ہوکہ یہ بیانات جزافی نہیں تحقیقی ہیں جو نہ جانتا ہو جاننے والوں کا اتباع کرے اور جو نہ خود جانے نہ جانے والوں کی مانے اس کا مرض لاعلاج ہے البرھان تحویل مفروض بوقت مطلوب راس الاسد بہت ساعۃ درجہ سابقہ ب قہ الح ب x وقت تخمینی ء ت مط لو= ماقہ لاما تقویم نصف النہار حقیقی ج ح الط مح الط میلك حہ ہا ا + تمام العرض سہ ح الب + نصف قطربہ قہ مو= ف حہ مط موتمامہ ط حہ ی مدبعد سمتی حقیقی حاجبی وقت ظہیرہ تحویلش بمرئی ط حہ ی ہ ظلش ط حہ ما اما ظل وقت عصر حنفی ع ط ما اما قوسہ حہ سہ + نصف قطر= حہ سہ الرنط الب بعد سمتی حقیقی مرکزی وقت مطلوب عرض البلد الط حہ لح میل راس الاسد ك حہ ط لح نر= ط حہ الح الوح+ بعد سمتی = عدحہ نوالہ الہ نصفہ لرحہ الح مح حبیبہ ۷۸۴۱۵۲۶ء ۹ وبعد سمتی۔ نصف مذکور = الرحہ نط مولط حبیبہ ۶۷۱۵۵۶۴ء ۹ قاطع عرض ۰۶۰۸۷۶۶ئ۰ قاطع میل ۰۲۷۴۵۶۰ء جمیع الاربعہ ۵۴۴۰۲۲ء ۹ تقویسش درجدول وقت ۶ء ۹ ۵۴ ت+ فصل طول وسط الہندی ۱۲+ تعدیل الایام ۱۶ ۶ = ۶ئ ۳۳ ۸ ۵ت یعنی پانچ بج کر آٹھ منٹ ۳۴ سکنڈ پر وقت ظہر ختم ہوا والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۲۸۲ ۲۸۳) از شہر۔ سنہری مسجد مسئولہ مولوی عبدالرشید صاحب یکے از طلبائے مدرسہ اہل سنت وجماعت بریلی ۲ ذی الحجہ ۱۳۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسجد نالہ میں ظہر کی نماز وقت ۲ / ۱ ۲ پر باجماعت ہوتی ہے اور عصر کی نماز ۲ / ۱ ۴ پر باجماعت ہوتی ہے یہ وقت نماز کے ایام سرما میں تنگ سمجھے جائیں گے یا کچھ کمی بیشی ان اوقات میں کی جائے۔ بعض صاحب فرماتے ہیں کہ ظہر ۲ بجے اور عصر ۴ بجے ہونی چاہئے ان دو۲ وقتوں میں اول کی پابندی کی جائے یا ثانی کی دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ بازار کی مسجد میں ہر جماعت یعنی ایك ہی وقت کی کئی جماعت کے واسطے تکبیر اور اذان ہر مرتبہ پڑھی جائے یا صرف جماعت اول ہی میں اور محلہ کی مسجد میں جماعت ثانی میں تکبیر اور اذان ہونی چاہئے یا نہیں اور بازاری مسجد میں ہر جماعت اولی کا ثواب ہے یا نہیں ۔
الجواب :
اگر یہ صحیح وقت ہوں تو کسی موسم میں ظہر اور عصر کیلئے تنگ وقت نہیں سب میں جلد وقت مغرب نومبر کے آخر اور دسمبر کی ابتدائی تاریخوں میں ہوتا ہے جب ریلوے وقت سے آفتاب سواپانچ بجے ڈوبتا ہے اور کراہت کا وقت غروب سے صرف بیس منٹ پہلے ہے تو چار بج کر پچپن۵۵ منٹ پر وقت کراہت آجائے گا نماز اگر ٹھیك ساڑھے چار بجے شروع ہوئی تو غایت درجہ دس۱۰ بارہ۱۲ منٹ میں ختم ہوجائیگی جب بھی وقت کراہت سے تقریبا پاؤ گھنٹے پہلے ہوچکے گی ہاں ان دنوں میں پونے پانچ بجے شروع جماعت میں خطرہ ہے کہ اگر جماعت ۸ منٹ میں اداکی اور شروع میں پونے پانچ بجے سے دو۲ تین۳ منٹ بھی دیر ہوگئی تو سلام سے پہلے وقت کراہت آجائے گا اتنی تاخیر وہ کرے جس وقت صحیح معلوم ہوں اور تصحیح ساعات جانتا ہوکہ عصر میں جتنی تاخیر ہو افضل ہے جبکہ وقت کراہت سے پہلے پہلے ختم ہوجائے پھر جو وقت مقرر ہوتا ہے اکثر چند منٹ اس سے تاخیر بھی ہوجاتی ہے اور گھڑی کبھی چند منٹ سست ہوجاتی ہے ومن رتع حول الحمی اوشك ان یقع فیہ (اور جو چراگاہ کے اردگرد چرے تو ہوسکتا ہے کہ اس میں گھس پڑے۔ ت) لہذا ان ایام میں عام کو عصر سواچار بجے مناسب تر ہے اور گھڑی کی تحقیق صحیح ہوتو ایام سرما میں ساڑھے چار بجے شروع نماز میں اصلا حرج نہیں ۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ بازار کی مسجد میں کہ اہل بازار کے لئے بنی اسی طرح سرا اور اسٹیشن کی مسجد اور مسجد جامع ان سب میں افضل یہی ہے کہ جو گروہ آئے نئی اذان نئی اقامت سے جماعت کرے وہ سب جماعت اولی ہوں گی اور مسجد محلہ میں جماعت ثانیہ کے لئے اعادہ اذان منع ہے تکبیر میں حرج نہیں والله تعالی اعلم۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسجد نالہ میں ظہر کی نماز وقت ۲ / ۱ ۲ پر باجماعت ہوتی ہے اور عصر کی نماز ۲ / ۱ ۴ پر باجماعت ہوتی ہے یہ وقت نماز کے ایام سرما میں تنگ سمجھے جائیں گے یا کچھ کمی بیشی ان اوقات میں کی جائے۔ بعض صاحب فرماتے ہیں کہ ظہر ۲ بجے اور عصر ۴ بجے ہونی چاہئے ان دو۲ وقتوں میں اول کی پابندی کی جائے یا ثانی کی دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ بازار کی مسجد میں ہر جماعت یعنی ایك ہی وقت کی کئی جماعت کے واسطے تکبیر اور اذان ہر مرتبہ پڑھی جائے یا صرف جماعت اول ہی میں اور محلہ کی مسجد میں جماعت ثانی میں تکبیر اور اذان ہونی چاہئے یا نہیں اور بازاری مسجد میں ہر جماعت اولی کا ثواب ہے یا نہیں ۔
الجواب :
اگر یہ صحیح وقت ہوں تو کسی موسم میں ظہر اور عصر کیلئے تنگ وقت نہیں سب میں جلد وقت مغرب نومبر کے آخر اور دسمبر کی ابتدائی تاریخوں میں ہوتا ہے جب ریلوے وقت سے آفتاب سواپانچ بجے ڈوبتا ہے اور کراہت کا وقت غروب سے صرف بیس منٹ پہلے ہے تو چار بج کر پچپن۵۵ منٹ پر وقت کراہت آجائے گا نماز اگر ٹھیك ساڑھے چار بجے شروع ہوئی تو غایت درجہ دس۱۰ بارہ۱۲ منٹ میں ختم ہوجائیگی جب بھی وقت کراہت سے تقریبا پاؤ گھنٹے پہلے ہوچکے گی ہاں ان دنوں میں پونے پانچ بجے شروع جماعت میں خطرہ ہے کہ اگر جماعت ۸ منٹ میں اداکی اور شروع میں پونے پانچ بجے سے دو۲ تین۳ منٹ بھی دیر ہوگئی تو سلام سے پہلے وقت کراہت آجائے گا اتنی تاخیر وہ کرے جس وقت صحیح معلوم ہوں اور تصحیح ساعات جانتا ہوکہ عصر میں جتنی تاخیر ہو افضل ہے جبکہ وقت کراہت سے پہلے پہلے ختم ہوجائے پھر جو وقت مقرر ہوتا ہے اکثر چند منٹ اس سے تاخیر بھی ہوجاتی ہے اور گھڑی کبھی چند منٹ سست ہوجاتی ہے ومن رتع حول الحمی اوشك ان یقع فیہ (اور جو چراگاہ کے اردگرد چرے تو ہوسکتا ہے کہ اس میں گھس پڑے۔ ت) لہذا ان ایام میں عام کو عصر سواچار بجے مناسب تر ہے اور گھڑی کی تحقیق صحیح ہوتو ایام سرما میں ساڑھے چار بجے شروع نماز میں اصلا حرج نہیں ۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ بازار کی مسجد میں کہ اہل بازار کے لئے بنی اسی طرح سرا اور اسٹیشن کی مسجد اور مسجد جامع ان سب میں افضل یہی ہے کہ جو گروہ آئے نئی اذان نئی اقامت سے جماعت کرے وہ سب جماعت اولی ہوں گی اور مسجد محلہ میں جماعت ثانیہ کے لئے اعادہ اذان منع ہے تکبیر میں حرج نہیں والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۲۸۴ ۲۸۵) : از موضع سرنیاں ضلع بریلی مسئولہ امیر علی صاحب رضوی ۱۱ جمادی الاولی ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں بعض اشخاص ذی علم اور مولوی سوال کرتے ہیں کہ آپ کے اعلیحضرت مولنا مولوی حاجی مفتی قاری صاحب کیوں نماز جمعہ وقت کھوکر پڑھتے ہیں وقت قطعی نہیں رہتا ہے اور دیگر نمازیں بھی اخیر وقت پر پڑھتے ہیں سائل نے اس کے جواب میں یوں کہا کہ وقت کھونا نہیں ہے بلکہ درمیان وقت جمعہ ادا ہوتا ہے اور کل نمازیں بھی درمیان وقت میں پڑھتے ہیں کیونکہ امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہکا یہ طریق ہے اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمدرمیان وقت میں پڑھتے تھے کیونکہ جبریل علیہ السلام نے پہلے روز اول وقت اور دوسرے روز اخیر وقت پڑھا اور کہا کہ وقت ان دونوں نمازوں کے درمیان ہے اس پر وہ لوگ جواب دیتے ہیں کہ اکثر ہم لوگ دور دور تك سیر کو گئے ہیں بمبئی مکہ شریف مدینہ شریف اور ہندوستان کے کل شہروں میں مولوی اول وقت اداکرتے ہیں کیا وہ حنفی مذہب نہیں ہیں دیگر دیہات میں مولوی جمعہ کی نماز جائز کرتے ہیں اور اعلحضرت منع کرتے ہیں حنفی مذہب سے خلاف ہے ہر قسم کے سوال کرتے ہیں خیر ان کا لکھنا مناسب نہ جانا حضور جو کچھ تحریر فرماویں جواب دیا جائے گا۔
الجواب :
الله عزوجل فرماتا ہے :
و كذلك جعلنا لكل نبی عدوا شیطین الانس و الجن یوحی بعضهم الى بعض زخرف القول غرورا-
یونہی ہم نے ہر نبی کے دشمن کردیے آدمیوں اور جن میں کے شیطان کہ ان میں ایك دوسرے کے دل میں جھوٹی بات ڈالتا ہے دھوکے کی۔
جب انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کے ساتھ یہ برتاؤ رہا تو ان کے ادنی غلام کیوں اپنے آقایان کرام کے ترکہ سے محروم رہیں جائے ہزاروں ہزار شکر ہے کہ ہم سے نالائقوں کو ان کریموں کے ترکہ سے حصہ ملے الله عزوجل فرماتا ہے : و اعرض عن الجهلین(۱۹۹) (جاہلوں سے منہ پھیرلو) اور فرماتا ہے جاہلوں کے جواب میں یوں کہو : لا نبتغی الجهلین(۵۵) (جاہلوں کے منہ لگنا ہم نہیں چاہتے) نہ کہ وہ حضرات کہ جاہل بھی ہوں اور کذاب بھی اور مفتری بے حجاب بھی اور معاند تعصب مآب بھی ایسوں کیلئے یہ مناسب ہے کہ نذرهم فی طغیانهم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں بعض اشخاص ذی علم اور مولوی سوال کرتے ہیں کہ آپ کے اعلیحضرت مولنا مولوی حاجی مفتی قاری صاحب کیوں نماز جمعہ وقت کھوکر پڑھتے ہیں وقت قطعی نہیں رہتا ہے اور دیگر نمازیں بھی اخیر وقت پر پڑھتے ہیں سائل نے اس کے جواب میں یوں کہا کہ وقت کھونا نہیں ہے بلکہ درمیان وقت جمعہ ادا ہوتا ہے اور کل نمازیں بھی درمیان وقت میں پڑھتے ہیں کیونکہ امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہکا یہ طریق ہے اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمدرمیان وقت میں پڑھتے تھے کیونکہ جبریل علیہ السلام نے پہلے روز اول وقت اور دوسرے روز اخیر وقت پڑھا اور کہا کہ وقت ان دونوں نمازوں کے درمیان ہے اس پر وہ لوگ جواب دیتے ہیں کہ اکثر ہم لوگ دور دور تك سیر کو گئے ہیں بمبئی مکہ شریف مدینہ شریف اور ہندوستان کے کل شہروں میں مولوی اول وقت اداکرتے ہیں کیا وہ حنفی مذہب نہیں ہیں دیگر دیہات میں مولوی جمعہ کی نماز جائز کرتے ہیں اور اعلحضرت منع کرتے ہیں حنفی مذہب سے خلاف ہے ہر قسم کے سوال کرتے ہیں خیر ان کا لکھنا مناسب نہ جانا حضور جو کچھ تحریر فرماویں جواب دیا جائے گا۔
الجواب :
الله عزوجل فرماتا ہے :
و كذلك جعلنا لكل نبی عدوا شیطین الانس و الجن یوحی بعضهم الى بعض زخرف القول غرورا-
یونہی ہم نے ہر نبی کے دشمن کردیے آدمیوں اور جن میں کے شیطان کہ ان میں ایك دوسرے کے دل میں جھوٹی بات ڈالتا ہے دھوکے کی۔
جب انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کے ساتھ یہ برتاؤ رہا تو ان کے ادنی غلام کیوں اپنے آقایان کرام کے ترکہ سے محروم رہیں جائے ہزاروں ہزار شکر ہے کہ ہم سے نالائقوں کو ان کریموں کے ترکہ سے حصہ ملے الله عزوجل فرماتا ہے : و اعرض عن الجهلین(۱۹۹) (جاہلوں سے منہ پھیرلو) اور فرماتا ہے جاہلوں کے جواب میں یوں کہو : لا نبتغی الجهلین(۵۵) (جاہلوں کے منہ لگنا ہم نہیں چاہتے) نہ کہ وہ حضرات کہ جاہل بھی ہوں اور کذاب بھی اور مفتری بے حجاب بھی اور معاند تعصب مآب بھی ایسوں کیلئے یہ مناسب ہے کہ نذرهم فی طغیانهم
حوالہ / References
القرآن سورہ الانعام ۶ آیت ۱۱۲
القرآن سورہ الاعراف ۷ آیت ۱۹۹
القرآن سورہ القصص ۱ / ۲۸ آیت ۵۵
القرآن سورہ الاعراف ۷ آیت ۱۹۹
القرآن سورہ القصص ۱ / ۲۸ آیت ۵۵
یعمهون(۱۱۰) (ہم انہیں چھوڑتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں ( ان تمام مسائل کے روشن بیان ہمارے فتاوی میں موجود ہیں مگر متعصب معاند کو علم دینا بے سود اور کذب وافترا کا علاج مفقود سائل ان کو ذی علم مولوی کہتا ہے اور جو باتیں ان کی بیان کیں وہ تو ایسے جاہلوں کی ہیں جن کو کسی عالم کی صحبت بھی نصیب نہ ہوئی۔ سائل کو ہدایت کی جاتی ہے کہ کسی کی ایسی بیہودہ باتیں پیش نہ کیا کرے والله تعالی اعلم۔
__________________
__________________
حوالہ / References
القرآن ۶ / ۱۱۰
رسالہ
حاجز البحرین الواقی عن جمع الصلاتین ۱۳۱۳ھ
دو دریاؤں کو ملنے سے روکنے والادو۲ نمازوں کو جمع کرنے سے بچانے والا
مسئلہ (۲۸۶) از بریلی محلہ قراولان یکم رجب ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سفر کے عذر سے جس میں قصر لازم آتا ہے دو۲ نمازوں کا جمع کرنا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمدلله الذی جعل الصلاۃ علی المؤمنین کتابا موقوتا وامرھم ان یحافظوا علیھا فیحفظوھا ارکانا وشروطا ووقوتا مرج البحرین یلتقین(۱۹) بینهما برزخ لا یبغین(۲۰) وافضل الصلوات واکمل التحیات علی من عین الاوقات وبین العلامات وحرم علی امتہ اضاعۃ الصلوات وعلی الہ الکرام وصحبہ العظام ومجتھدی شرعہ الغر الفخام لاسیما
حاجز البحرین الواقی عن جمع الصلاتین ۱۳۱۳ھ
دو دریاؤں کو ملنے سے روکنے والادو۲ نمازوں کو جمع کرنے سے بچانے والا
مسئلہ (۲۸۶) از بریلی محلہ قراولان یکم رجب ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سفر کے عذر سے جس میں قصر لازم آتا ہے دو۲ نمازوں کا جمع کرنا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمدلله الذی جعل الصلاۃ علی المؤمنین کتابا موقوتا وامرھم ان یحافظوا علیھا فیحفظوھا ارکانا وشروطا ووقوتا مرج البحرین یلتقین(۱۹) بینهما برزخ لا یبغین(۲۰) وافضل الصلوات واکمل التحیات علی من عین الاوقات وبین العلامات وحرم علی امتہ اضاعۃ الصلوات وعلی الہ الکرام وصحبہ العظام ومجتھدی شرعہ الغر الفخام لاسیما
الامام الاقدم والھمام الاعظم امام الائمۃ مالك الازمۃ کاشف الغمۃ سراج الامۃ نائل علم الشرع الحنفی من اوج الثریا ناشر علم الدین الحنیفی نشرا جلیا نصرالله اتباعہ ورضی اتباعہ متبوعا تابعیا وعلینا معھم یاارحم الراحمین الی یوم الدین۔
الله عزوجل نے اپنے نبی کریم علیہ افضل الصلاۃ والتسلیم کے ارشادات سے نماز فرض کا ایك خاص وقت جداگانہ مقرر فرمایا ہے کہ نہ اس سے پہلے نماز کی صحت نہ اس کے بعد تاخیر کی اجازت ظہرین عرفہ وعشائین مزدلفہ کے سوادو۲ نمازوں کا قصدا ایك وقت میں جمع کرنا سفرا حضرا ہرگز کسی طرح جائز نہیں ۔ قرآن عظیم واحادیث صحاح سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماس کی ممانعت پر شاہد عدل ہیں ۔ یہی مذہب ہے حضرت ناطق بالحق والصواب موافق الرائے بالوحی والکتاب امیرالمومنین عمرفاروق اعظم وحضرت سیدنا سعد بن ابی وقاص احد العشرۃ المبشرۃ وحضرت سیدنا عبدالله بن مسعود من اجل فقہاء الصحابۃ البررۃ وحضرت سیدنا وابن سیدنا عبدالله بن عمر فاروق وحضرت سیدتنا ام المؤمنین صدیقہ بنت الصدیق اعاظم صحابہ کرام وخلیفہ راشد امیرالمومنین عمر بن عبدالعزیز وامام سالم بن عبدالله بن عمرو امام علقمہ بن قیس وامام اسود بن یزید نخعی وامام حسن بصری وامام ابن سیرین وامام ابراہیم نخعی وامام مکحول شامی وامام جابر بن زید وامام عمروبن دینار وامام حماد بن ابی سلیمان وامام اجل ابوحنیفہ اجلہ ائمہ تابعین وامام سفین ثوری وامام لیث بن سعد وامام قاضی الشرق والغرب ابویوسف وامام ابوعبدالله محمد الشیبانی وامام زفر بن الہذیل وامام حسن بن زیاد وامام دارالہجرۃ عالم المدینۃ مالك بن انس فی روایۃ ابن قاسم اکابر تبع تابعین وامام عبدالرحمن بن قاسم عتقی تلمیذ امام مالك وامام عیسی بن ابان وامام ابوجعفر احمد بن سلامہ مصری وغیرہم ائمہ دین کا رحمۃ اللہ تعالی علیہم اجمعین۔
تحقیق مقام یہ ہے کہ جمع بین الصلاتین یعنی دو۲ نمازیں ملاکر پڑھنا دو۲ قسم ہے : جمع فعلی جسے جمع صوری بھی کہتے ہیں کہ واقع میں ہر نماز اپنے وقت میں واقع مگرر ادا میں مل جائیں جیسے ظہر اپنے آخر وقت میں پڑھی کہ اس کے ختم پر وقت عصر آگیا اب فورا عصر اول وقت پڑھ لی ہوئیں تو دونوں اپنے اپنے وقت اور فعلا وصورۃ مل گئیں ۔ اسی طرح مغرب میں دیر کی یہاں تك کہ شفق ڈوبنے پر آئی اس وقت پڑھی ادھر فارغ ہوئے کہ شفق ڈوب گئی عشاء کا وقت ہوگیا وہ پڑھ لی ایسا ملانا بعذر مرض وضرورت سفر بلاشبہہ جائز ہے۔ ہمارے علمائے کرام رضی اللہ تعالی عنہمبھی اس کی رخصت دیتے ہیں ۔ ردالمحتار میں ہے :
للمسافر والمریض تاخیر المغرب للجمع بینھا وبین العشاء فعلا کمافی الحلیۃ وغیرھا ای ان تصلی فی اخر وقتھا والعشاء فی اول وقتھا ۔
مسافر اور مریض مغرب میں تاخیر کرسکتے ہیں تاکہ اس کو اور عشاء کو فعلا اکٹھا کرلیں جیسا کہ حلیہ وغیرہ میں ہے یعنی مغرب آخری وقت میں پڑھی جائے
الله عزوجل نے اپنے نبی کریم علیہ افضل الصلاۃ والتسلیم کے ارشادات سے نماز فرض کا ایك خاص وقت جداگانہ مقرر فرمایا ہے کہ نہ اس سے پہلے نماز کی صحت نہ اس کے بعد تاخیر کی اجازت ظہرین عرفہ وعشائین مزدلفہ کے سوادو۲ نمازوں کا قصدا ایك وقت میں جمع کرنا سفرا حضرا ہرگز کسی طرح جائز نہیں ۔ قرآن عظیم واحادیث صحاح سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماس کی ممانعت پر شاہد عدل ہیں ۔ یہی مذہب ہے حضرت ناطق بالحق والصواب موافق الرائے بالوحی والکتاب امیرالمومنین عمرفاروق اعظم وحضرت سیدنا سعد بن ابی وقاص احد العشرۃ المبشرۃ وحضرت سیدنا عبدالله بن مسعود من اجل فقہاء الصحابۃ البررۃ وحضرت سیدنا وابن سیدنا عبدالله بن عمر فاروق وحضرت سیدتنا ام المؤمنین صدیقہ بنت الصدیق اعاظم صحابہ کرام وخلیفہ راشد امیرالمومنین عمر بن عبدالعزیز وامام سالم بن عبدالله بن عمرو امام علقمہ بن قیس وامام اسود بن یزید نخعی وامام حسن بصری وامام ابن سیرین وامام ابراہیم نخعی وامام مکحول شامی وامام جابر بن زید وامام عمروبن دینار وامام حماد بن ابی سلیمان وامام اجل ابوحنیفہ اجلہ ائمہ تابعین وامام سفین ثوری وامام لیث بن سعد وامام قاضی الشرق والغرب ابویوسف وامام ابوعبدالله محمد الشیبانی وامام زفر بن الہذیل وامام حسن بن زیاد وامام دارالہجرۃ عالم المدینۃ مالك بن انس فی روایۃ ابن قاسم اکابر تبع تابعین وامام عبدالرحمن بن قاسم عتقی تلمیذ امام مالك وامام عیسی بن ابان وامام ابوجعفر احمد بن سلامہ مصری وغیرہم ائمہ دین کا رحمۃ اللہ تعالی علیہم اجمعین۔
تحقیق مقام یہ ہے کہ جمع بین الصلاتین یعنی دو۲ نمازیں ملاکر پڑھنا دو۲ قسم ہے : جمع فعلی جسے جمع صوری بھی کہتے ہیں کہ واقع میں ہر نماز اپنے وقت میں واقع مگرر ادا میں مل جائیں جیسے ظہر اپنے آخر وقت میں پڑھی کہ اس کے ختم پر وقت عصر آگیا اب فورا عصر اول وقت پڑھ لی ہوئیں تو دونوں اپنے اپنے وقت اور فعلا وصورۃ مل گئیں ۔ اسی طرح مغرب میں دیر کی یہاں تك کہ شفق ڈوبنے پر آئی اس وقت پڑھی ادھر فارغ ہوئے کہ شفق ڈوب گئی عشاء کا وقت ہوگیا وہ پڑھ لی ایسا ملانا بعذر مرض وضرورت سفر بلاشبہہ جائز ہے۔ ہمارے علمائے کرام رضی اللہ تعالی عنہمبھی اس کی رخصت دیتے ہیں ۔ ردالمحتار میں ہے :
للمسافر والمریض تاخیر المغرب للجمع بینھا وبین العشاء فعلا کمافی الحلیۃ وغیرھا ای ان تصلی فی اخر وقتھا والعشاء فی اول وقتھا ۔
مسافر اور مریض مغرب میں تاخیر کرسکتے ہیں تاکہ اس کو اور عشاء کو فعلا اکٹھا کرلیں جیسا کہ حلیہ وغیرہ میں ہے یعنی مغرب آخری وقت میں پڑھی جائے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ مطبوعہ المصطفٰی البابی مصر ۱ / ۲۷۱
اور عشاء اول وقت ہیں ۔ (ت)
اقول : تاخیر مغرب کا تو یہ خاص جزئیہ ہے اور اسی طرح تاخیر ظہر کہ عصر سے مل جائے بلکہ یہ بدرجہ اولی کہ ظہر میں تو کوئی وقت کراہت نہیں کماصرح بہ فی البحرالرائق وحققناہ فیما علقناہ علی ردالمحتار۔ (جیسا کہ بحرالرائق میں تصریح ہے اور ردالمحتار کے حاشیے پر ہم نے اس کی تحقیق کی ہے۔ ت) بخلاف مغرب کہ اس کی اتنی تاخیر بے عذر مکروہ شدید ہے کمافی البحر والدر وغیرھما ونطقت بکراھۃ ذلك احادیث۔ (جیسا کہ بحر اور در وغیرہ میں ہے اور اس کی کراہت پر کوئی احادیث ناطق ہیں ۔ ت) پھر جزئیہ ظہرین بھی کتاب الجج میں نظر فقیر سے گزرا اس کتاب جلی الصواب حلی الخطاب رفیع النصاب میں کلام کلام امام ہمام محرر المذہب سیدنا محمد بن الحسن تلمیذ سید الائمہ امام اعظم ابوحنیفہ اور تالیف رضی اللہ تعالی عنہماجمعین فرماتے ہیں :
قال ابوحنیفۃ رضی الله تعالی عنہ : الجمع بین الصلاتین فی السفر فی الظھر والعصر والمغرب والعشاء سواء یؤخر الظھر الی اخر وقتھا ثم یصلی ویعجل العصر فی اول وقتھا فیصلی فی اول وقتھا وکذلك المغرب والعشاء یؤخر المغرب الی اخر وقتھا فیصلی قبل ان یغیب الشفق وذلك اخر وقتھا ویصلی العشاء فی اول وقتھا حین یغیب الشفق فھذا الجمع بینھما ۔
امام فقیہ محدث عیسی بن ابان تلمیذ امام محمد ہے امام ابوحنیفہ نے فرمایا ہے کہ سفر میں دو۲ نمازوں کا جمع کرنا خواہ ظہر اور عصر ہوں یا مغرب اور عشاء ہوں یکساں ہے۔ یعنی ظہر کو آخر وقت مؤخر کرکے پڑھے اور عصر میں تعجیل کرکے اس کو اول وقت میں پڑھ لے۔ اسی طرح مغرب اور عشاء میں مغرب کو اتنا مؤخر کرے کہ اس کے آخری وقت میں یعنی شفق غائب ہونے سے تھوڑا پہلے پڑھے اور عشاء میں جلدی کرکے اس کو اول میں پڑھ لے یعنی شفق غائب ہونے کے ساتھ ہی یہ طریقہ ہے ان کو جمع کرنے کا۔ (ت)
اسی میں ہے :
قال ابوحنیفۃ رحمہ الله تعالی : من اراد ان یجمع بین الصلاتین بمطر اوسفر اوغیرہ فلیؤخر الاولی منھما حتی تکون فی اخر وقتھا ویعجل الثانیۃ حتی یصلیھا فی اول وقتھا فیجمع بینھما فتکون کل واحدۃ منھما فی وقتھا الخ۔
ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فرمایا ہے کہ جو شخص بارش
اقول : تاخیر مغرب کا تو یہ خاص جزئیہ ہے اور اسی طرح تاخیر ظہر کہ عصر سے مل جائے بلکہ یہ بدرجہ اولی کہ ظہر میں تو کوئی وقت کراہت نہیں کماصرح بہ فی البحرالرائق وحققناہ فیما علقناہ علی ردالمحتار۔ (جیسا کہ بحرالرائق میں تصریح ہے اور ردالمحتار کے حاشیے پر ہم نے اس کی تحقیق کی ہے۔ ت) بخلاف مغرب کہ اس کی اتنی تاخیر بے عذر مکروہ شدید ہے کمافی البحر والدر وغیرھما ونطقت بکراھۃ ذلك احادیث۔ (جیسا کہ بحر اور در وغیرہ میں ہے اور اس کی کراہت پر کوئی احادیث ناطق ہیں ۔ ت) پھر جزئیہ ظہرین بھی کتاب الجج میں نظر فقیر سے گزرا اس کتاب جلی الصواب حلی الخطاب رفیع النصاب میں کلام کلام امام ہمام محرر المذہب سیدنا محمد بن الحسن تلمیذ سید الائمہ امام اعظم ابوحنیفہ اور تالیف رضی اللہ تعالی عنہماجمعین فرماتے ہیں :
قال ابوحنیفۃ رضی الله تعالی عنہ : الجمع بین الصلاتین فی السفر فی الظھر والعصر والمغرب والعشاء سواء یؤخر الظھر الی اخر وقتھا ثم یصلی ویعجل العصر فی اول وقتھا فیصلی فی اول وقتھا وکذلك المغرب والعشاء یؤخر المغرب الی اخر وقتھا فیصلی قبل ان یغیب الشفق وذلك اخر وقتھا ویصلی العشاء فی اول وقتھا حین یغیب الشفق فھذا الجمع بینھما ۔
امام فقیہ محدث عیسی بن ابان تلمیذ امام محمد ہے امام ابوحنیفہ نے فرمایا ہے کہ سفر میں دو۲ نمازوں کا جمع کرنا خواہ ظہر اور عصر ہوں یا مغرب اور عشاء ہوں یکساں ہے۔ یعنی ظہر کو آخر وقت مؤخر کرکے پڑھے اور عصر میں تعجیل کرکے اس کو اول وقت میں پڑھ لے۔ اسی طرح مغرب اور عشاء میں مغرب کو اتنا مؤخر کرے کہ اس کے آخری وقت میں یعنی شفق غائب ہونے سے تھوڑا پہلے پڑھے اور عشاء میں جلدی کرکے اس کو اول میں پڑھ لے یعنی شفق غائب ہونے کے ساتھ ہی یہ طریقہ ہے ان کو جمع کرنے کا۔ (ت)
اسی میں ہے :
قال ابوحنیفۃ رحمہ الله تعالی : من اراد ان یجمع بین الصلاتین بمطر اوسفر اوغیرہ فلیؤخر الاولی منھما حتی تکون فی اخر وقتھا ویعجل الثانیۃ حتی یصلیھا فی اول وقتھا فیجمع بینھما فتکون کل واحدۃ منھما فی وقتھا الخ۔
ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فرمایا ہے کہ جو شخص بارش
حوالہ / References
البحرالرائق کتاب الصلٰوۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۴۹
الدرالمختار کتاب الصلٰوۃ مجتبائی دہلی ۱ / ۶۱
کتاب الحجۃ باب جمع الصلاۃ فی السفرمطبوعہ دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۱ / ۱۷۴
کتاب الحجۃ باب الجمع بین الصلاتین مطبوعہ دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۱ / ۱۵۹
الدرالمختار کتاب الصلٰوۃ مجتبائی دہلی ۱ / ۶۱
کتاب الحجۃ باب جمع الصلاۃ فی السفرمطبوعہ دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۱ / ۱۷۴
کتاب الحجۃ باب الجمع بین الصلاتین مطبوعہ دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۱ / ۱۵۹
سفر یا کسی اور وجہ سے دو۲ نمازوں کو جمع کرنا چاہے تو اس کو چاہئے کہ پہلی کو آخر وقت تك مؤخر کردے اور دوسری میں جلدی کرکے اول وقت میں اداکرے اس طرح دونوں کو جمع کرلے تاہم ہوگی ہر نماز اپنے وقت میں الخ (ت)
اس کلام برکت نظام امام کرام رضی اللہ تعالی عنہوعنہم سے ظاہر ہواکہ جواز جمع صوری صرف مرض وسفر پر متصور نہیں بضرورت شدت بارش بھی اجازت ہے مثلا ظہر کے وقت مینہ برستا ہوتو انتظار کرکے آخر وقت حاضر مسجد ہوں جماعت ظہر اداکریں اور وقت عصر پر تیقن ہوتے ہی جماعت عصر کرلیں کہ شاید شدت مطر بڑھ جائے اور حضور مسجد سے مانع آئے مطر شدید میں تنہا گھر پڑھ لینے کی بھی اجازت ہے تو اس صورت میں تو دونوں نمازوں کے لئے جماعت ومسجد کی محافظت ہے والله تعالی اعلم۔ دوسری قسم جمع وقتی ہے جسے جمع حقیقی بھی کہتے ہیں ۔ اقول : یعنی بمعنی مصطلح قائلان جمع کہ جو معنی جمع ان کا مذہب ہے وہ حقیقۃ اسی صورت میں ہے ورنہ جمع اپنے اصل معنی پر دونوں جگہ حقیقی ہے کمالایخفی اور اسی لحاظ سے جمع فعلی کو صوری کہتے ہیں ورنہ حقیقۃ فرائض میں یہ جمع بھی جمع صوری ہی ہے ان میں تداخل محال تو جب ملیں گے صورۃ ملیں گے اور معنی جدا فافھم فانہ نفیس جدا (اس کو سمجھو کیونکہ یہ بہت نفیس ہے۔ ت) اس جمع کے یہ معنی ہیں کہ ایك نماز دوسری کے وقت میں پڑھی جائے جس کی دو۲ صورتیں ہیں :
جمع تقدیم کہ وقت کی نماز مثلا ظہر یا مغرب پڑھ کر اس کے ساتھ ہی متصلا بلافصل پچھلے وقت کی نماز مثلا عصر یا عشاء پیشگی پڑھ لیں اور جمع تاخیر کہ پہلی نماز مثلا ظہر یا مغرب کو باوصف قدرت واختیار قصدا اٹھار رکھیں کہ جب اس کا وقت نکل جائے گا پچھلی نماز مثلا عصر یا عشاء کے وقت میں پڑھ کر اس کے بعد متصلا خواہ منفصلا اس وقت کی نماز اداکریں گے یہ دونوں صورتیں بحالت اختیار صرف حجاج کو صرف حج میں صرف عصرعرفہ ومغرب مزدلفہ میں جائز ہیں اول میں جمع تقدیم اور دوم میں جمع تاخیر عام ازیں کہ وہ مسافر ہوں یا خاص سا کنان مکہ ومنی وغیرہما مواضع قریبہ کی وہ بوجہ نسك ہے نہ بوجہ سفر اور بحالت اضطرار وعدم قدرت سفر حضر یا ظہر عصر وغیرہا کسی شے کی تخصیص نہیں جتنی نمازوں تك مشغولی جہاد یا شدت مرض یا غشی وغیرہا کے سبب قدرت نہ ملے ناچار سب موخر رہیں گی اور وقت قدرت بحالت عدم سقوط ادا کی جائیں گی جس طرح حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموصحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمنے غزوہ خندق میں ظہر وعصر ومغرب وعشا کے وقت پڑھیں ان کے سوا کبھی کسی شخص کو کسی حالت میں کسی صورت جمع وقتی کی اصلا اجازت نہیں اگر جمع تقدیم کرے گا نماز اخیر
اس کلام برکت نظام امام کرام رضی اللہ تعالی عنہوعنہم سے ظاہر ہواکہ جواز جمع صوری صرف مرض وسفر پر متصور نہیں بضرورت شدت بارش بھی اجازت ہے مثلا ظہر کے وقت مینہ برستا ہوتو انتظار کرکے آخر وقت حاضر مسجد ہوں جماعت ظہر اداکریں اور وقت عصر پر تیقن ہوتے ہی جماعت عصر کرلیں کہ شاید شدت مطر بڑھ جائے اور حضور مسجد سے مانع آئے مطر شدید میں تنہا گھر پڑھ لینے کی بھی اجازت ہے تو اس صورت میں تو دونوں نمازوں کے لئے جماعت ومسجد کی محافظت ہے والله تعالی اعلم۔ دوسری قسم جمع وقتی ہے جسے جمع حقیقی بھی کہتے ہیں ۔ اقول : یعنی بمعنی مصطلح قائلان جمع کہ جو معنی جمع ان کا مذہب ہے وہ حقیقۃ اسی صورت میں ہے ورنہ جمع اپنے اصل معنی پر دونوں جگہ حقیقی ہے کمالایخفی اور اسی لحاظ سے جمع فعلی کو صوری کہتے ہیں ورنہ حقیقۃ فرائض میں یہ جمع بھی جمع صوری ہی ہے ان میں تداخل محال تو جب ملیں گے صورۃ ملیں گے اور معنی جدا فافھم فانہ نفیس جدا (اس کو سمجھو کیونکہ یہ بہت نفیس ہے۔ ت) اس جمع کے یہ معنی ہیں کہ ایك نماز دوسری کے وقت میں پڑھی جائے جس کی دو۲ صورتیں ہیں :
جمع تقدیم کہ وقت کی نماز مثلا ظہر یا مغرب پڑھ کر اس کے ساتھ ہی متصلا بلافصل پچھلے وقت کی نماز مثلا عصر یا عشاء پیشگی پڑھ لیں اور جمع تاخیر کہ پہلی نماز مثلا ظہر یا مغرب کو باوصف قدرت واختیار قصدا اٹھار رکھیں کہ جب اس کا وقت نکل جائے گا پچھلی نماز مثلا عصر یا عشاء کے وقت میں پڑھ کر اس کے بعد متصلا خواہ منفصلا اس وقت کی نماز اداکریں گے یہ دونوں صورتیں بحالت اختیار صرف حجاج کو صرف حج میں صرف عصرعرفہ ومغرب مزدلفہ میں جائز ہیں اول میں جمع تقدیم اور دوم میں جمع تاخیر عام ازیں کہ وہ مسافر ہوں یا خاص سا کنان مکہ ومنی وغیرہما مواضع قریبہ کی وہ بوجہ نسك ہے نہ بوجہ سفر اور بحالت اضطرار وعدم قدرت سفر حضر یا ظہر عصر وغیرہا کسی شے کی تخصیص نہیں جتنی نمازوں تك مشغولی جہاد یا شدت مرض یا غشی وغیرہا کے سبب قدرت نہ ملے ناچار سب موخر رہیں گی اور وقت قدرت بحالت عدم سقوط ادا کی جائیں گی جس طرح حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموصحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمنے غزوہ خندق میں ظہر وعصر ومغرب وعشا کے وقت پڑھیں ان کے سوا کبھی کسی شخص کو کسی حالت میں کسی صورت جمع وقتی کی اصلا اجازت نہیں اگر جمع تقدیم کرے گا نماز اخیر
محض باطل وناکارہ جائے گی جب اس کا وقت آئیگا فرض ہوگی نہ پڑھے گی ذمے پر رہے گی اور جمع تاخیر کرے گا تو گنہ گار ہوگا عمدا نماز قضا کردینے والا ٹھہرے گا اگرچہ دوسرے وقت میں پڑھنے سے فرض سرسے اترجائے گا۔ یہ تفصیل مذہب مہذب ہے اور اسی پر دلائل قرآن وحدیث ناطق بلکہ توقیت صلاۃ کا مسئلہ متفق علیہا ہے ہر مسلمان جانتا ہے کہ نماز کو دانستہ قضا کردینا بلاشبہ حرام تو جس طرح صبح یا عشا قصدا نہ پڑھنی کہ ظہر یا فجر کے وقت پڑھ لیں گے حرام قطعی ہے یوں ہی ظہر یا مغرب عمدا نہ پڑھنی کہ عصر یا عشا کے وقت اداکرلیں گے حرام ہونا لازم اور وقت سے پہلے تو حرمت درکنار نماز ہی بیکار جیسے کوئی آدھی رات سے صبح کی نماز یا پہر دن چڑھے سے ظہر پڑھ رکھے قطعا نہ ہوگی یونہی جو ظہر کے وقت عصر یا مغرب کے وقت عشاء نبٹا لے اس کا بھی نہ ہونا واجب احادیث میں کہ حضور پرنور صلوات الله تعالی وسلامہ علیہ سے جمع منقول اس میں صراحۃ وہی جمع صوری مذکور یا مجمل ومحتمل اسی صریح مفصل پر محمول جمع حقیقی کے باب میں اصلا کوئی حدیث صحیح صریح مفسر وارد نہیں جمع تقدیم تو اس قابل بھی نہیں کہ اس پر کسی حدیث صحیح کا نام لیا جائے جمع تاخیر میں احادیث کثیرہ کے خلاف دو حدیثیں ایسی آئی ہیں جن سے بادی النظر میں دھوکا ہو مگر عندالتحقیق جب احادیث متنوعہ کو جمع کرکے نظر انصاف کی جائے فورا حق ظاہر ہوجاتا ہے کہ یہ بھی وجوبا یا امکانا اسی جمع صوری کی خبر دے رہی ہیں غرض جمع وقتی پر شرع مطہر سے کوئی دلیل واجب القبول اصلا قائم نہیں بلکہ بکثرت صحیح حدیثیں اور قرآن عظیم کی متعدد آیتیں اور اصول شرع کی واضح دلیلیں اس کی نفی پر حجت مبین یہ اجمال کلام ودلائل مذہب ہے۔ لہذا یہ مختصر کلم چار۴ فصل پر منقسم :
فصل ۱ میں جمع صوری کا اثبات جمیل
فصل ۲ میں شبہات جمع تقدیم کا ابطال جلیل
فصل ۳ میں جمع تاخیر کی تضعیف واضح البینات
فصل ۴ میں دلائل نفی جمع وہدایت التزام اوقات۔
اس مسئلے میں ہمارے زمانے کے امام لامذہباں مجتہد نامقلداں مخترع طرز نوی مبتدع آزادروی میاں نذیر حسین صاحب دہلوی ہداہ الله الی الصراط السوی نے کتاب عجب العجاب معیار الحق کے آخر میں اپنی چلتی حد بھر کا کلام مشبع کیا مباحث مسئلہ میں اگلے پچھلے مالکیوں شافعیوں وغیرہم کا الٹا پلٹا الجھا سلجھا جیسا کلام حنفیہ کے خلاف جہاں کہیں ملا سب جمع کرلیا اور کھلے خزانے احادیث صحاح کو رد فرمانے رواۃ صحیین کو مردود بتانے بخاری ومسلم کی صدہا حدیثوں کو واہیات بتانے محدثی کا بھرم عمل بالحدیث کا دھرم دن دہاڑے دھڑی دھڑی کرکے لٹانے میں رنگ رنگ سے اپنی نئی ابکار افکار کو جلوہ دیا تو بعون قدیر اس تحریر عدیم التحریر حائز ہر غث ویابس ونقیر وقطمیر کے رد میں تمام مساعی نووکہن کا جواب اور ملا جی کے ادعاے باطل عمل بالحدیث ولیاقت اجتہاد وعلم حدیث کے روئے نہانی سے کشف حجاب
فصل ۱ میں جمع صوری کا اثبات جمیل
فصل ۲ میں شبہات جمع تقدیم کا ابطال جلیل
فصل ۳ میں جمع تاخیر کی تضعیف واضح البینات
فصل ۴ میں دلائل نفی جمع وہدایت التزام اوقات۔
اس مسئلے میں ہمارے زمانے کے امام لامذہباں مجتہد نامقلداں مخترع طرز نوی مبتدع آزادروی میاں نذیر حسین صاحب دہلوی ہداہ الله الی الصراط السوی نے کتاب عجب العجاب معیار الحق کے آخر میں اپنی چلتی حد بھر کا کلام مشبع کیا مباحث مسئلہ میں اگلے پچھلے مالکیوں شافعیوں وغیرہم کا الٹا پلٹا الجھا سلجھا جیسا کلام حنفیہ کے خلاف جہاں کہیں ملا سب جمع کرلیا اور کھلے خزانے احادیث صحاح کو رد فرمانے رواۃ صحیین کو مردود بتانے بخاری ومسلم کی صدہا حدیثوں کو واہیات بتانے محدثی کا بھرم عمل بالحدیث کا دھرم دن دہاڑے دھڑی دھڑی کرکے لٹانے میں رنگ رنگ سے اپنی نئی ابکار افکار کو جلوہ دیا تو بعون قدیر اس تحریر عدیم التحریر حائز ہر غث ویابس ونقیر وقطمیر کے رد میں تمام مساعی نووکہن کا جواب اور ملا جی کے ادعاے باطل عمل بالحدیث ولیاقت اجتہاد وعلم حدیث کے روئے نہانی سے کشف حجاب
بعض علمائے عصر عــہ۱ وعظمائے وقت غفرالله تعالی لناولہ وشکر فی انتصارنا للحق سعینا وسعیہ نے ملاجی پر تعقبات کثیرہ بسیط کیے مگر ان شاء الله العزیز الکریم ولاحول ولاقوۃ الا بالله العلی العظیم یہ افاضات تازہ چیزے دیگر ہوں گے جنہیں دیکھ کر ہر منصف حق پسند بے ساختہ پکار اٹھے کہ : ع
کم ترك الاول للاخر
(بہت سی چیزیں پہلوں نے پچھلوں کیلئے چھوڑ دی ہیں ۔ ت)
فقیر حقیر غفرلہ المولی القدیر کو اپنی تمام تصانیف مناظرہ بلکہ اکثر ان کے ماورا میں بھی جن کا عدد بعونہ تعالی اس عـــہ۲ وقت تك ایك سوچالیس سے متجاوز ہے ہمیشہ التزام رہا ہے کہ محل خاص نقل واستناد کے سوا محض جمع وتلفیق کلمات سابقین سے کم کام لیا جائے حتی الوسع بحول وقوت ربانی اپنے ہی فائضات قلب کو جلوہ دیا جائے : ع
کہ حلوا چویکبار خورند وبس
اگر اقامت دلائل یا ازاحت اقوال مخالف میں وہ امور مذکور بھی ہوتے ہیں کہ اور متکلمین فی المسئلہ ذکر کرگئے تو غالبا وہ وہی واضحات متبادرہ الی الفہم ہیں کہ ذہن بے اعانت دیگرے ان کی طرف سبقت کرے۔ انصافا ان میں سابق ولاحق دونوں کا استحقاق یکساں مگر ازانجا کہ کلمات متقدمہ میں ان کا ذکر نظر سے گزرا اپنی طرف نسبت نہیں کیا جاتا پھر ان میں بھی بعونہ تعالی تلخیص وتہذیب وترصیب وتقریب وحذف زوائد وزیادت فوائد سے جدت جگہ پائے گی اور کچھ نہ ہو تو ان شاء الله تعالی طرز بیان ہی احلی ووقع فی القلب نظر آئے گی اس وقت تو یہ اپنا بیان ہے جس سے بحمدالله تعالی تحدیث بنعمۃ الله عزوجل مقصود والحمدالله الغفور الودود اہل حسد جس معنے پر چاہیں محمول کریں مگر ارباب انصاف اگر تصانیف فقیر کو مواز نہ فرمائیں گے بعونہ تعالی عیان موافق بیان پائیں گے باینہمہ اس اعتراف سے چارہ نہیں کہ الفضل للمتقدم (پہل کرنے والے کو فضیلت حاصل ہوتی ہے) خصوصا علمائے سلف رضی الله تعالی عنا باکرامہم وحشرنا فی زمرۃ خدامہم کہ جو کچھ ہے انہیں کی خدمت کلمات برکت آیات کا نتیجہ اور انہیں کی بارگاہ دولت کا حصہ رسد بٹتا ہوا صدقہ : ع
اے باد صبا! اینہمہ آوردہ تست
ہاں ہاں یہ کفش برادری خدام درگاہ فضائل پناہ اعلحضرت عظیم البرکت اعلم العلماء الربانین افضل
عــہ۱ : یعنی جناب مستطاب حامی السنن ماحی الفتن مولنا مولوی حافظ الحاج محمد ارشاد حسین صاحب رامپوری رحمۃ اللہ تعالی علیہ
عـــہ۲ : یہ اس وقت تھا اب کہ ۱۳۱۹ھ ہے بحمدالله تعالی عدد تصانیف ایك سونوے۱۹۰ سے متجاوز ہے ۱۲ اور اب تو بحمدہ تعالی اگر احصا کیا جائے تو پانسوسے متجاوز ہوگا ۱۲ (م)
کم ترك الاول للاخر
(بہت سی چیزیں پہلوں نے پچھلوں کیلئے چھوڑ دی ہیں ۔ ت)
فقیر حقیر غفرلہ المولی القدیر کو اپنی تمام تصانیف مناظرہ بلکہ اکثر ان کے ماورا میں بھی جن کا عدد بعونہ تعالی اس عـــہ۲ وقت تك ایك سوچالیس سے متجاوز ہے ہمیشہ التزام رہا ہے کہ محل خاص نقل واستناد کے سوا محض جمع وتلفیق کلمات سابقین سے کم کام لیا جائے حتی الوسع بحول وقوت ربانی اپنے ہی فائضات قلب کو جلوہ دیا جائے : ع
کہ حلوا چویکبار خورند وبس
اگر اقامت دلائل یا ازاحت اقوال مخالف میں وہ امور مذکور بھی ہوتے ہیں کہ اور متکلمین فی المسئلہ ذکر کرگئے تو غالبا وہ وہی واضحات متبادرہ الی الفہم ہیں کہ ذہن بے اعانت دیگرے ان کی طرف سبقت کرے۔ انصافا ان میں سابق ولاحق دونوں کا استحقاق یکساں مگر ازانجا کہ کلمات متقدمہ میں ان کا ذکر نظر سے گزرا اپنی طرف نسبت نہیں کیا جاتا پھر ان میں بھی بعونہ تعالی تلخیص وتہذیب وترصیب وتقریب وحذف زوائد وزیادت فوائد سے جدت جگہ پائے گی اور کچھ نہ ہو تو ان شاء الله تعالی طرز بیان ہی احلی ووقع فی القلب نظر آئے گی اس وقت تو یہ اپنا بیان ہے جس سے بحمدالله تعالی تحدیث بنعمۃ الله عزوجل مقصود والحمدالله الغفور الودود اہل حسد جس معنے پر چاہیں محمول کریں مگر ارباب انصاف اگر تصانیف فقیر کو مواز نہ فرمائیں گے بعونہ تعالی عیان موافق بیان پائیں گے باینہمہ اس اعتراف سے چارہ نہیں کہ الفضل للمتقدم (پہل کرنے والے کو فضیلت حاصل ہوتی ہے) خصوصا علمائے سلف رضی الله تعالی عنا باکرامہم وحشرنا فی زمرۃ خدامہم کہ جو کچھ ہے انہیں کی خدمت کلمات برکت آیات کا نتیجہ اور انہیں کی بارگاہ دولت کا حصہ رسد بٹتا ہوا صدقہ : ع
اے باد صبا! اینہمہ آوردہ تست
ہاں ہاں یہ کفش برادری خدام درگاہ فضائل پناہ اعلحضرت عظیم البرکت اعلم العلماء الربانین افضل
عــہ۱ : یعنی جناب مستطاب حامی السنن ماحی الفتن مولنا مولوی حافظ الحاج محمد ارشاد حسین صاحب رامپوری رحمۃ اللہ تعالی علیہ
عـــہ۲ : یہ اس وقت تھا اب کہ ۱۳۱۹ھ ہے بحمدالله تعالی عدد تصانیف ایك سونوے۱۹۰ سے متجاوز ہے ۱۲ اور اب تو بحمدہ تعالی اگر احصا کیا جائے تو پانسوسے متجاوز ہوگا ۱۲ (م)
الفضلاء الحقانیین حامی السنن السنیہ ماحی الفتن الدنیہ بقیہ السلف المصلحین حجۃ الخلف المفلحین آیۃ من آیات رب العلمین معجزۃ من معجزات سیدالمرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم وبارك وسلم اجمعین ذی التصنیفات الرائقہ والتحقیقات الفائقہ والتدقیقات الشائقہ تاج المحققین سراج المدققین اکمل الفقہاء المحدثین حضرت سیدنا الواجد امجد الاماجد اطیب الاطائب مولانا مولوی محمد نقی علی خان صاحب محمدی سنی حنفی قادری برکاتی بریلوی قدس الله سرہ وعم برہ وثم نورہ واعظم اجرہ واکرم نزلہ وانعم منزلہ ولاحرمنا سعدہ ولم یفتنا بعدہ والحمدالله دہرالداہرین ہاں ہاں یہ ادنی خاکبوسی آستان رفیع غلمان منیع بندگان بارگاہ عرفان پناہ اقدس حضرت آقائے نعمت دریائے رحمت اعرف العرفاء الکرام مرجع الاولیاء العظام السحاب الہا مربفیض القادر والعباب الزاخر بالفضل الباھر ذوالقرب الزاہر والعلو الظاہر والنسب الطاہر ملحق الاصاغر بالجلۃ الاکابر معدن البرکات مخزن الحسنات من آل محمد سید الکائنات علیہ وعلیہم افضل الصلوات وارث النجدات من حمزۃ الحمزات القمر المستبین بالنور المبین من شمس الدین ابی الفضل العظیم والشرف الکریم سیدنا ومولنا وملجانا وماوانا شیخی ومرشدی کنزی وذخری لیومی وغدمی اعلحضرت سیدنا السید الشاہ آل رسول الاحمدی فاطمی حسینی قادری برکاتی واسطی بلجرامی مارہری رضی اللہ تعالی عنہواجرل واعظم قربہ منہ واشرق علینا من نورہ التام وافاض علینا من بحرہ الطام وجعلنا من خدمہ فی دارالسلام بفضل رحمۃ علیہ وعلی آبائہ الکرام والحمدالله ابدالآبدین۔
عہد مابالب شیریں دہنان بست خداے
ماہمہ بندہ وایں قوم خداوند ا نند
(خدا نے شیریں دہنوں کے لبوں سے ہمارا عہد باندھ دیا ہے ہم سب بندے ہیں اور یہ لوگ ہمارے آقا ہیں ۔ ت)
خیر کہنا یہ تھا کہ یہاں بھی ان شاء الله تعالی یہی طریقہ رعایت عــہ پائے گا ولہذا ایك آدھ بحث کہ بقدر کافی طے کردی گئی اس سے تعرض اطناب سمجھا جائے گا کہ مقصود اظہار احقاق ہے نہ اکثار اوراق۔ ان چار فصل میں ملا جی کے ادعائی بول یکسر برعکس ہیں سایہ بخت سے سب قابل نکس ہیں جابجا ثابت کو ناثابت ناثابت کو ثابت ساکت کو ناطق ناطق کو ساکت ضعیف کو صحیح صحیح کو ضعیف تحریف کو توجیہ توجیہ کو تحریف مؤول کو مفسر مفسر کو مؤول محتمل کو صریح صریح کو محتمل کہا اول تا آخر کوئی دقیقہ تحکم ومکابرہ وتعصب مدابرہ کا نامرعی نہ رہا یہاں بعونہ تعالی عز مجدہ ہر فصل میں قول فصل وحق اصل بدلائل قاہرہ وبیانات باہرہ ظاہر کیجئے کہ اگر زبان انصاف سالم وصاف ہوتو مکالف منکر مدعی مصر کو بھی معترف ومقر لیجئے۔
عــہ : لاسیما اذاکان فيئی لاترتضیہ لوھن اوضعف نعلم فیہ ۱۲۔ (م) (حاشیہ کی اس عبارت سے غالبا اعلحضرت کی اپنی عبارت گزشتہ صفحہ ۱۶۴ کی طرف اشارہ ہے : فقیر حقیر غفرلہ المولی القدیر کو اپنی تصانیف مناظرہ بلکہ اکثر ان کے ماورا میں بھی حتی الوسع اپنے ہی فائضات قلب کو جلوہ دیا جائے ملخصا (نذیر احمد سعیدی)
عہد مابالب شیریں دہنان بست خداے
ماہمہ بندہ وایں قوم خداوند ا نند
(خدا نے شیریں دہنوں کے لبوں سے ہمارا عہد باندھ دیا ہے ہم سب بندے ہیں اور یہ لوگ ہمارے آقا ہیں ۔ ت)
خیر کہنا یہ تھا کہ یہاں بھی ان شاء الله تعالی یہی طریقہ رعایت عــہ پائے گا ولہذا ایك آدھ بحث کہ بقدر کافی طے کردی گئی اس سے تعرض اطناب سمجھا جائے گا کہ مقصود اظہار احقاق ہے نہ اکثار اوراق۔ ان چار فصل میں ملا جی کے ادعائی بول یکسر برعکس ہیں سایہ بخت سے سب قابل نکس ہیں جابجا ثابت کو ناثابت ناثابت کو ثابت ساکت کو ناطق ناطق کو ساکت ضعیف کو صحیح صحیح کو ضعیف تحریف کو توجیہ توجیہ کو تحریف مؤول کو مفسر مفسر کو مؤول محتمل کو صریح صریح کو محتمل کہا اول تا آخر کوئی دقیقہ تحکم ومکابرہ وتعصب مدابرہ کا نامرعی نہ رہا یہاں بعونہ تعالی عز مجدہ ہر فصل میں قول فصل وحق اصل بدلائل قاہرہ وبیانات باہرہ ظاہر کیجئے کہ اگر زبان انصاف سالم وصاف ہوتو مکالف منکر مدعی مصر کو بھی معترف ومقر لیجئے۔
عــہ : لاسیما اذاکان فيئی لاترتضیہ لوھن اوضعف نعلم فیہ ۱۲۔ (م) (حاشیہ کی اس عبارت سے غالبا اعلحضرت کی اپنی عبارت گزشتہ صفحہ ۱۶۴ کی طرف اشارہ ہے : فقیر حقیر غفرلہ المولی القدیر کو اپنی تصانیف مناظرہ بلکہ اکثر ان کے ماورا میں بھی حتی الوسع اپنے ہی فائضات قلب کو جلوہ دیا جائے ملخصا (نذیر احمد سعیدی)
وماذلك علی الله بعزیز ان ذلك علی الله یسیر ان الله علی کل شیئ قدیر۔
اور یہ الله کیلئے مشکل نہیں ہے یہ الله پر آسان ہے الله ہر شیئ پر قادر ہے۔ (ت)
یہ معارك جلیلہ تو دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں رسالہ آپ کے پیش نظر ہے ملاحظہ کیجئے داد انصاف دیجئے ع فی طلعۃ الشمس مایغنیك عن خبر (سورج طلوع ہوجائے تو اس کی اطلاع دینے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ت)
اس کے سوا نفس مسئلہ میں ملا جی نے اپنے موافق کہیں چودہ۱۴ کہیں پندرہ۱۵ صحابیوں سے روایات آنا بیان کیا اور خود ہی اسے بگاڑ کر کمی کی طرف پلٹے اور چار سے زیادہ ظاہر نہ کرسکے ان میں بھی عندالانصاف اگر کچھ لگتی ہوئی بات ہے تو صرف ایك سے۔ میں بعونہ تعالی اپنے موافق روایات تئیس۲۳ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمسے لاؤں گا ملا جی صرف چار حدیثیں پیش خویش اپنے مفید دکھاسکے جن میں حقیقۃ کوئی بھی ان کے مفید نہیں اور آیت کا تو ان کی طرف نام بھی نہیں میں بحول الله تعالی ان سے دونی آیتیں اور دس گنی حدیثیں اپنی طرف دکھاؤں گا میں یہ بھی روشن کردوں گا کہ حنفیہ کرام پر غیر مقلدوں کی طعنہ زنی ایسی پوچ ولچر بے بنیاد ہوتی ہے میں یہ بھی بتادوں گا کہ ان صاحبوں کے عمل بالحدیث کی حقیقت اتنی ہے میں یہ بھی دکھادوں گا کہ ملا جی صاحب جو آج کل مجتہد العصر اور تمام طائفہ کے استاد مانے گئے ہیں ان کی حدیث دانی ایك متوسط طالب علم سے بھی گرے درجہ کی ہے کل ذلك بعون الملك العزیز القریب المجیب وماتوفیقی الا بالله علیہ توکلت والیہ انیب وھذا اوان الشروع فی المقصود متوکلا علی واھب الفیض والجود والحمدلله العلی الودود والصلاۃ والسلام علی احمد محمود محمد والہ الکرام السعود امین۔
فصل اول طلوع فجر نوری بہ اثبات جمع صوری:
حضور پرنور سید یوم النشور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے جمع صوری کا ثبوت اصلا محل کلام نہیں اور وہی مذہب مہذب ائمہ حنفیہ ہے اس میں صاف صریح جلیل وصحیح احادیث مروی مگر ملا جی تو انکار آفتاب کے عادی بکمال شوخ چشمی بے نقط سنادی کہ کوئی حدیث صحیح ایسی نہیں جس سے ثابت ہوکہ آنحضرت عـــہ جمع صوری سفر میں کیا کرتے تھے بہت اچھا ذرانگاہ روبرو۔
عــہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموعلی آلہ وصحبہ وبارك وکرم ۱۲ منہ (م)
اور یہ الله کیلئے مشکل نہیں ہے یہ الله پر آسان ہے الله ہر شیئ پر قادر ہے۔ (ت)
یہ معارك جلیلہ تو دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں رسالہ آپ کے پیش نظر ہے ملاحظہ کیجئے داد انصاف دیجئے ع فی طلعۃ الشمس مایغنیك عن خبر (سورج طلوع ہوجائے تو اس کی اطلاع دینے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ت)
اس کے سوا نفس مسئلہ میں ملا جی نے اپنے موافق کہیں چودہ۱۴ کہیں پندرہ۱۵ صحابیوں سے روایات آنا بیان کیا اور خود ہی اسے بگاڑ کر کمی کی طرف پلٹے اور چار سے زیادہ ظاہر نہ کرسکے ان میں بھی عندالانصاف اگر کچھ لگتی ہوئی بات ہے تو صرف ایك سے۔ میں بعونہ تعالی اپنے موافق روایات تئیس۲۳ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمسے لاؤں گا ملا جی صرف چار حدیثیں پیش خویش اپنے مفید دکھاسکے جن میں حقیقۃ کوئی بھی ان کے مفید نہیں اور آیت کا تو ان کی طرف نام بھی نہیں میں بحول الله تعالی ان سے دونی آیتیں اور دس گنی حدیثیں اپنی طرف دکھاؤں گا میں یہ بھی روشن کردوں گا کہ حنفیہ کرام پر غیر مقلدوں کی طعنہ زنی ایسی پوچ ولچر بے بنیاد ہوتی ہے میں یہ بھی بتادوں گا کہ ان صاحبوں کے عمل بالحدیث کی حقیقت اتنی ہے میں یہ بھی دکھادوں گا کہ ملا جی صاحب جو آج کل مجتہد العصر اور تمام طائفہ کے استاد مانے گئے ہیں ان کی حدیث دانی ایك متوسط طالب علم سے بھی گرے درجہ کی ہے کل ذلك بعون الملك العزیز القریب المجیب وماتوفیقی الا بالله علیہ توکلت والیہ انیب وھذا اوان الشروع فی المقصود متوکلا علی واھب الفیض والجود والحمدلله العلی الودود والصلاۃ والسلام علی احمد محمود محمد والہ الکرام السعود امین۔
فصل اول طلوع فجر نوری بہ اثبات جمع صوری:
حضور پرنور سید یوم النشور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے جمع صوری کا ثبوت اصلا محل کلام نہیں اور وہی مذہب مہذب ائمہ حنفیہ ہے اس میں صاف صریح جلیل وصحیح احادیث مروی مگر ملا جی تو انکار آفتاب کے عادی بکمال شوخ چشمی بے نقط سنادی کہ کوئی حدیث صحیح ایسی نہیں جس سے ثابت ہوکہ آنحضرت عـــہ جمع صوری سفر میں کیا کرتے تھے بہت اچھا ذرانگاہ روبرو۔
عــہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموعلی آلہ وصحبہ وبارك وکرم ۱۲ منہ (م)
حوالہ / References
معیار الحق مسئلہ پنجم جمع بین الصلٰوۃ مکتبہ نذیریہ لاہور ص۴۰۱
حدیث ۱ : جلیل وعظیم حدیث سیدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہماکہ اس جناب سے مشہور ومستفیض ہے جسے امام بخاری وابوداؤد ونسائی نے اپنی صحاح اور امام عیسی بن ابان نے کتاب الجج علی اہل مدینہ اور امام طحاوی نے شرح معانی الآثار اور ذہلی نے زہریات اور اسمعیل نے مستخرج صحیح بخاری میں بطرق عدیدہ کثیرہ روایت کیا :
فالبخاری والاسمعیلی والذھلی من طریق اللیث بن سعد عن یونس عن الزھری والنسائی من طریقی یزید بن زریع والنضربن شمیل عن کثیر بن قاروندا کلاھما عن سالم۔ والنسائی عن قتیبۃ والطحاوی عن ابی عامر العقدی والفقیہ فی الحجج ثلثتھم عن العطاف وابوداؤد عن فضیل بن غزوان وعن عبدالله بن العلاء وایضا ھوعیسی والنسائی عن الولید والطحاوی عن بشر بن بکر ھؤلاء الثلثۃ عن ابن جابر والطحاوی عن اسامۃ بن زید خمستھم اعنی العطاف وفضیلا وابن العلاء وجابر واسامۃ عن نافع۔ وابوداؤد عن عبدالله بن واقد۔ والطحاوی عن اسمعیل بن عبدالرحمن اربعتھم عن عبدالله بن عمر رضی الله عنھما۔
بخاری اسمعیل اور ذہلی نے لیث ابن سعد کے طریقے سے یونس سے اس نے زہری سے روایت کی ہے۔ اور نسائی نے یزید ابن زریع اور نضر ابن شمیل کے دو۲ طریقوں سے کثیر ابن قاروندا سے روایت کی ہے۔ دونوں (زہری اور کثیر) سالم سے راوی ہیں ۔ نسائی نے قتیبہ سے طحاوی نے ابوعامر عقدی سے اور فقیہ نے حجج میں یہ تینوں عطاف سے روایت کرتے ہیں ۔ اور ابوداؤد نے فضیل ابن غزوان سے اور عبدالله ابن علاء سے روایت کی ہے۔ اور ابوداؤد نے ہی عیسی سے نسائی نے ولید سے طحاوی نے بشر ابن بکر سے یہ تینوں (عیسی ولید بشر) جابر سے روایت کرتے ہیں ۔ اور طحاوی نے اسامہ ابن زید سے روایت کی ہے۔ یہ پانچوں یعنی عطاف فضیل عبداللہ جابر اور اسامہ نافع سے راوی ہیں نیز ابوداؤد عبدالله ابن واقد سے راوی ہیں اور طحاوی اسمعیل ابن عبدالرحمن سے راوی ہیں ۔ چاروں (سالم نافع عبدالله ابن واقد اسمعیل) عبدالله ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماسے (ناقل ہیں ) (ت)
فقیر غفرالله تعالی نے جس طرح یہاں جمع وتلخیص طرق کی اکمال المحجہ وایضاح الحجہ کیلئے ان کے اکثر نصوص والفاظ بھی وارد کرے وبالله التوفیق سنن ابوداؤد میں بسند صحیح ہے :
حدثنا محمد بن عبید المحاربی نامحمد بن فضیل عن ابیہ عن نافع وعبدالله بن واقد ان مؤذن ابن عمر
یعنی نافع وعبدالله بن واقد دونوں تلامذہ عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہمافرماتے ہیں ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماکے مؤذن نے نماز کا تقاضا کیا فرمایا چلو
فالبخاری والاسمعیلی والذھلی من طریق اللیث بن سعد عن یونس عن الزھری والنسائی من طریقی یزید بن زریع والنضربن شمیل عن کثیر بن قاروندا کلاھما عن سالم۔ والنسائی عن قتیبۃ والطحاوی عن ابی عامر العقدی والفقیہ فی الحجج ثلثتھم عن العطاف وابوداؤد عن فضیل بن غزوان وعن عبدالله بن العلاء وایضا ھوعیسی والنسائی عن الولید والطحاوی عن بشر بن بکر ھؤلاء الثلثۃ عن ابن جابر والطحاوی عن اسامۃ بن زید خمستھم اعنی العطاف وفضیلا وابن العلاء وجابر واسامۃ عن نافع۔ وابوداؤد عن عبدالله بن واقد۔ والطحاوی عن اسمعیل بن عبدالرحمن اربعتھم عن عبدالله بن عمر رضی الله عنھما۔
بخاری اسمعیل اور ذہلی نے لیث ابن سعد کے طریقے سے یونس سے اس نے زہری سے روایت کی ہے۔ اور نسائی نے یزید ابن زریع اور نضر ابن شمیل کے دو۲ طریقوں سے کثیر ابن قاروندا سے روایت کی ہے۔ دونوں (زہری اور کثیر) سالم سے راوی ہیں ۔ نسائی نے قتیبہ سے طحاوی نے ابوعامر عقدی سے اور فقیہ نے حجج میں یہ تینوں عطاف سے روایت کرتے ہیں ۔ اور ابوداؤد نے فضیل ابن غزوان سے اور عبدالله ابن علاء سے روایت کی ہے۔ اور ابوداؤد نے ہی عیسی سے نسائی نے ولید سے طحاوی نے بشر ابن بکر سے یہ تینوں (عیسی ولید بشر) جابر سے روایت کرتے ہیں ۔ اور طحاوی نے اسامہ ابن زید سے روایت کی ہے۔ یہ پانچوں یعنی عطاف فضیل عبداللہ جابر اور اسامہ نافع سے راوی ہیں نیز ابوداؤد عبدالله ابن واقد سے راوی ہیں اور طحاوی اسمعیل ابن عبدالرحمن سے راوی ہیں ۔ چاروں (سالم نافع عبدالله ابن واقد اسمعیل) عبدالله ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماسے (ناقل ہیں ) (ت)
فقیر غفرالله تعالی نے جس طرح یہاں جمع وتلخیص طرق کی اکمال المحجہ وایضاح الحجہ کیلئے ان کے اکثر نصوص والفاظ بھی وارد کرے وبالله التوفیق سنن ابوداؤد میں بسند صحیح ہے :
حدثنا محمد بن عبید المحاربی نامحمد بن فضیل عن ابیہ عن نافع وعبدالله بن واقد ان مؤذن ابن عمر
یعنی نافع وعبدالله بن واقد دونوں تلامذہ عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہمافرماتے ہیں ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماکے مؤذن نے نماز کا تقاضا کیا فرمایا چلو
قال : الصلاۃ قال : سر حتی اذاکان قبل غیوب الشفق نزل۔ فصلی المغرب ثم انتظر حتی غاب الشفق فصلی العشاء ثم قال : ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کان اذا عجل بہ امرصنع مثل الذی صنعت فسار فی ذلك الیوم واللیلۃ مسیرۃ ثلث ۔
یہاں تك کہ شفق ڈوبنے سے پہلے اتر کر مغرب پڑھی پھر انتظار فرمایا یہاں تك کہ شفق ڈوب گئی اس وقت عشا پڑھی پھر فرمایا : حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو جب کوئی جلدی ہوتی تو ایسا ہی کرتے جیسا میں نے کیا۔ ابن عمر نے اس دن رات میں تین رات دن کی راہ قطع کی (م)
ابوداود نے فرمایا :
رواہ ابن جابر عن نافع نحو ھذا باسنادہ حدثنا ابراھیم بن موسی الرازی انا عیسی ابن جابر بھذا المعنی ورواہ عبدالله بن العلاء عن نافع قال : حتی اذاکان عندذھاب الشفق نزل فجمع بینھما ۔
اس کو ابن جابر نے نافع سے اسی طرح روایت کیا ہے مع اسناد کے حدیث بیان کی ہم سے ابراہیم ابن موسی رازی نے اس نے کہا کہ خبر دی ہمیں عیسی ابن جابر نے اس مفہوم کے ساتھ اور روایت کیا ہے اسکو عبدالله بن علاء نے نافع سے کہ انہوں نے کہا : جب شفق ڈوبنے کے نزدیك ہوئی اتر کر دونوں نمازیں جمع کیں ۔ (ت)
نسائی کی روایت بسند صحیح یوں ہے :
اخبرنا محمود بن خالدثنا الولید ثنا ابن جابرثنی نافع قال : خرجت مع عبدالله بن عمر فی سفر یرید ارضالہ فاتاہ آت فقال : ان صفیۃ بنت ابی عبید لمابھا فانظران تدرکھا۔ فخرج مسرعا ومعہ رجل من قریش یسایرہ وغابت الشمس فلم یصل الصلاۃ وکان عھدی بہ وھو یحافظ علی الصلاۃ فلما ابطاء قلت : الصلاۃ یرحمك الله فالتفت ای ومضی حتی اذاکان فی اخر الشفق نزل فصلی المغرب ثم اقام العشاء وقد تواری الشفق فصلی بنا ثم اقبل علینا فقال : ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کان اذاعجل بہ السیر صنع ھکذا ۔
یعنی نافع فرماتے ہیں عبدالله بن عمر اپنی ایك زمین کو تشریف لیے جاتے تھے کسی نے آکر کہا آپ کی زوجہ صفیہ عــہ بنت ابی عبید اپنے حال میں مشغول ہیں شاید ہی آپ انہیں زندہ پائیں ۔ یہ سن کر بہ سرعت چلے اور ان کے ساتھ ایك مرد قریشی تھا سورج ڈوب گیا اور نماز نہ پڑھی اور میں نے ہمیشہ ان کی عادت یہی پائی تھی کہ نماز کی محافظت فرماتے تھے جب دیر لگائی میں نے کہا نماز خدا آپ پررحم فرمائے میری طرف پھر کر دیکھا اور آگے روانہ ہوئے جب شفق کا اخیر حصہ رہا اتر کر مغرب پڑھی پھر عشا کی تکبیر اس حال میں کہی کہ شفق ڈوب چکی اس وقت عشا پڑھی پھر ہماری طرف منہ کرکے کہا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو جب سفر میں جلدی ہوتی ایسا ہی کرتے۔ (م)
عـــہ : ھی اخت مختار الکذاب المشہور وابوھا ابوعبید رضی الله تعالی عنہ من الصحابۃ استشھد فی خلافۃ امیرالمؤمنین اما
صفیہ مشہور مختار کذاب کی بہن تھیں ۔ ان کے والد ابوعبیدہ رضی اللہ تعالی عنہصحابہ میں سے تھے امیرالمومنین کی خلافت کے دوران شہید ہوگئے تھے۔ (باقی برصفحہ ائندہ)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
یہاں تك کہ شفق ڈوبنے سے پہلے اتر کر مغرب پڑھی پھر انتظار فرمایا یہاں تك کہ شفق ڈوب گئی اس وقت عشا پڑھی پھر فرمایا : حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو جب کوئی جلدی ہوتی تو ایسا ہی کرتے جیسا میں نے کیا۔ ابن عمر نے اس دن رات میں تین رات دن کی راہ قطع کی (م)
ابوداود نے فرمایا :
رواہ ابن جابر عن نافع نحو ھذا باسنادہ حدثنا ابراھیم بن موسی الرازی انا عیسی ابن جابر بھذا المعنی ورواہ عبدالله بن العلاء عن نافع قال : حتی اذاکان عندذھاب الشفق نزل فجمع بینھما ۔
اس کو ابن جابر نے نافع سے اسی طرح روایت کیا ہے مع اسناد کے حدیث بیان کی ہم سے ابراہیم ابن موسی رازی نے اس نے کہا کہ خبر دی ہمیں عیسی ابن جابر نے اس مفہوم کے ساتھ اور روایت کیا ہے اسکو عبدالله بن علاء نے نافع سے کہ انہوں نے کہا : جب شفق ڈوبنے کے نزدیك ہوئی اتر کر دونوں نمازیں جمع کیں ۔ (ت)
نسائی کی روایت بسند صحیح یوں ہے :
اخبرنا محمود بن خالدثنا الولید ثنا ابن جابرثنی نافع قال : خرجت مع عبدالله بن عمر فی سفر یرید ارضالہ فاتاہ آت فقال : ان صفیۃ بنت ابی عبید لمابھا فانظران تدرکھا۔ فخرج مسرعا ومعہ رجل من قریش یسایرہ وغابت الشمس فلم یصل الصلاۃ وکان عھدی بہ وھو یحافظ علی الصلاۃ فلما ابطاء قلت : الصلاۃ یرحمك الله فالتفت ای ومضی حتی اذاکان فی اخر الشفق نزل فصلی المغرب ثم اقام العشاء وقد تواری الشفق فصلی بنا ثم اقبل علینا فقال : ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کان اذاعجل بہ السیر صنع ھکذا ۔
یعنی نافع فرماتے ہیں عبدالله بن عمر اپنی ایك زمین کو تشریف لیے جاتے تھے کسی نے آکر کہا آپ کی زوجہ صفیہ عــہ بنت ابی عبید اپنے حال میں مشغول ہیں شاید ہی آپ انہیں زندہ پائیں ۔ یہ سن کر بہ سرعت چلے اور ان کے ساتھ ایك مرد قریشی تھا سورج ڈوب گیا اور نماز نہ پڑھی اور میں نے ہمیشہ ان کی عادت یہی پائی تھی کہ نماز کی محافظت فرماتے تھے جب دیر لگائی میں نے کہا نماز خدا آپ پررحم فرمائے میری طرف پھر کر دیکھا اور آگے روانہ ہوئے جب شفق کا اخیر حصہ رہا اتر کر مغرب پڑھی پھر عشا کی تکبیر اس حال میں کہی کہ شفق ڈوب چکی اس وقت عشا پڑھی پھر ہماری طرف منہ کرکے کہا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو جب سفر میں جلدی ہوتی ایسا ہی کرتے۔ (م)
عـــہ : ھی اخت مختار الکذاب المشہور وابوھا ابوعبید رضی الله تعالی عنہ من الصحابۃ استشھد فی خلافۃ امیرالمؤمنین اما
صفیہ مشہور مختار کذاب کی بہن تھیں ۔ ان کے والد ابوعبیدہ رضی اللہ تعالی عنہصحابہ میں سے تھے امیرالمومنین کی خلافت کے دوران شہید ہوگئے تھے۔ (باقی برصفحہ ائندہ)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
حوالہ / References
سنن ابی داؤد باب الجمع بین الصلاتین مطبوعہ اصح المطابع کراچی ۱ / ۱۷۱
سنن ابی داؤد باب الجمع بین الصلاتین مطبوعہ اصح المطابع کراچی ۱ / ۱۷۱
سنن نسائی الوقت الذی یجمع فیہ المسافر الخ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی۱ / ۹۹
سنن ابی داؤد باب الجمع بین الصلاتین مطبوعہ اصح المطابع کراچی ۱ / ۱۷۱
سنن نسائی الوقت الذی یجمع فیہ المسافر الخ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی۱ / ۹۹
ھی ففی عمدۃ القاری ادرکت النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم وسمعت منہ۔ اھ وفی ارشاد الساری الصحابیۃ الثقفیۃ اخت المختار وکانت من العابدات۔ اھ لکن قال الحافظ فی التقریب : قیل لھا ادراک وانکرہ الدارقطنی وقال العجلی : ثقہ فھی من الثانیۃ۔ اھ وحقق فی الاصابۃ نفی السماع واثبات الادراك ظنا فراجعہ۔ وقدحدث عن ازواج النبی صلی الله تعالی علیہ وعلیھن وسلم ۱۲ منہ (م)
صفیہ کے بارے میں عمدۃ القاری میں لکھا ہے کہ انہوں نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا زمانہ پایا تھا۔ اور ارشاد الساری میں ہے کہ یہ بنی ثقیف سے تعلق رکھنے والی صحابیہ تھیں اور مختار کی بہن تھیں عبادت گزار خواتین میں سے تھیں۔ لیکن حافظ نے تقریب میں لکھا ہے کہ بعض نے کہا ہے کہ صفیہ نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا زمانہ پایا تھا لیکن دارقطنی نے اس کا انکار کیا ہے اور عجلی نے کہا ہے کہ ثقہ تھیں ۔ اس لحاظ سے یہ طبقہ ثانیہ میں ہوں گی (یعنی تابعیات سے) اصابہ میں ثابت کیا ہے کہ صفیہ نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا کلام تو نہیں سنا البتہ ہوسکتا ہے کہ آپ کا زمانہ پایا ہو۔ اس سلسلے میں اصابہ کی طرف رجوع کرو۔ صفیہ نے ازواج مطہرات سے احادیث بیان کی ہیں ۔ (ت)
صفیہ کے بارے میں عمدۃ القاری میں لکھا ہے کہ انہوں نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا زمانہ پایا تھا۔ اور ارشاد الساری میں ہے کہ یہ بنی ثقیف سے تعلق رکھنے والی صحابیہ تھیں اور مختار کی بہن تھیں عبادت گزار خواتین میں سے تھیں۔ لیکن حافظ نے تقریب میں لکھا ہے کہ بعض نے کہا ہے کہ صفیہ نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا زمانہ پایا تھا لیکن دارقطنی نے اس کا انکار کیا ہے اور عجلی نے کہا ہے کہ ثقہ تھیں ۔ اس لحاظ سے یہ طبقہ ثانیہ میں ہوں گی (یعنی تابعیات سے) اصابہ میں ثابت کیا ہے کہ صفیہ نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا کلام تو نہیں سنا البتہ ہوسکتا ہے کہ آپ کا زمانہ پایا ہو۔ اس سلسلے میں اصابہ کی طرف رجوع کرو۔ صفیہ نے ازواج مطہرات سے احادیث بیان کی ہیں ۔ (ت)
اسی طرح امام طحاوی نے روایت کی فقال حدثنا ربیع المؤذن ثنا بشربن بکرثنی ابن جابر ثنی نافع فذکرہ۔ نیز نسائی نے بسند حسن بطریق اخبرنا قتیبۃ بن سعید حدثنا العطاف اور ابوجعفر نے بطریق حدثنا یزید بن سنان ثنا ابوعامر العقدی ثنا العطاف بن خالد المخزومی اور امام فقیہ نے حجج میں بلاواسطہ روایت کی کہ اخبرنا عطاف بن خالد المخزومی المدینی قال اخبرنا نافع قال اقبلنا مع ابن عمر من مکۃ حتی اذاکان ببعض الطریق استصرخ علی زوجتہ فقیل لہ انھا فی الموت فاسرع السیر وکان اذانودی بالمغرب نزل مکانہ فصلی فلما کان تلك اللیلۃ نودی بالمغرب فسار حتی امسینا فظننا انہ نسی فقلنا : الصلاۃ فسار حتی اذاکان الشفق قرب ان یغیب نزل فصلی المغرب وغاب الشفق فصلی العشاء ثم اقبل علینا فقال : ھکذا کنا نصنع مع رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اذاجدبنا السیر۔ (یعنی امام نافع فرماتے ہیں راہ مکہ میں ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہمانے جب شفق ڈوبنے کے قریب ہوئی اتر کر مغرب پڑھی اور شفق ڈوب گئی اب عشاء پڑھی پھر ہماری طرف منہ کرکے کہا ہم رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے تھے جب چلنے میں کوشش ہوتی تھی) امام عیسی بن ابان نے اسے روایت کرکے فرمایا : وھکذا قال ابوحنیفۃ فی الجمع بین الصلاتین ان یصلی الاول منھما فی اخر وقتھا والاخری فی اول وقتھا کما فعل عبدالله بن عمر رضی الله تعالی عنھا ورواہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم (یعنی دو۲ نمازیں جمع کرنے میں یہی طریقہ امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہکا مذہب ہے کہ پہلی کو اس کے آخر وقت اور پچھلی کو اس کے اول وقت میں پڑھے جیسا کہ عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہمانے خود کیا اور حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت فرمایا) نیز امام طحاوی نے اور طریق سے یوں روایت کی : حدثنا فحدثنا الحمانی ثنا عبدالله بن المبارك عن اسامہ بن زید اخبرنی نافع وفیہ حتی اذاکان عند غیبوبۃ الشفق فجمع بینھما وقال رأیت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یصنع ھکذا اذاجدبہ السیر (یعنی جب شفق ڈوبنے کے نزدیك ہوئی اتر کر دونوں نمازیں جمع کیں اور فرمایا میں نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو یوں ہی کرتے دیکھا جب حضور کو سفر میں
حوالہ / References
شرح معانی الآثار باب الجمع بین الصلٰوتین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۲
سنن النسائی الوقت الذی مجمع فیہ المسافر بین المغرب والعشائ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۷۰
شرح معانی الآثار باب الجمع بین الصلاتین الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۳
کتاب الحجۃ باب الجمع الصلٰوۃ فی السفردار المعارف نعمانیہ لاہور ۱ / ۱۷۴ ، ۱۷۵
شرح معانی الآثار باب الجمع بین الصلٰوتین الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۲
سنن النسائی الوقت الذی مجمع فیہ المسافر بین المغرب والعشائ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۷۰
شرح معانی الآثار باب الجمع بین الصلاتین الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۳
کتاب الحجۃ باب الجمع الصلٰوۃ فی السفردار المعارف نعمانیہ لاہور ۱ / ۱۷۴ ، ۱۷۵
شرح معانی الآثار باب الجمع بین الصلٰوتین الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۲
جلدی ہوتی)یہ طرق حدیث نافع عن عبدالله عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے تھے اور صحیح بخاری ابواب التقصیر باب ھل یؤذن اویقیم اذاجمع بین المغرب والعشاء میں یوں ہے : حدثنا ابو الیمان قال اخبرنا شعیب عن الزھری قال اخبرنی سالم عن عبدالله ابن عمر رضی الله تعالی عنھما قال : رأیت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اذاعجلہ السیر فی السفر یؤخر صلاۃ المغرب حتی یجمع بینھا وبین العشاء۔ قال سالم وکان عبدالله یفعلہ اذااعجلہ السیر ویقیم المغرب فیصلیھا ثلثا ثم یسلم ثم قلما یلبث حتی یقیم العشاء فیصلیھا رکعتین ۔ الحدیث۔ اسی کے باب یصلی المغرب ثلثا فی السفر میں بطریق مذکور وکان عبدالله یفعلہ اذاعجلہ السیر تك روایت کرکے فرمایا وزاد اللیث قال حدثنی یونس عن ابن شھاب قال سالم کان ابن عمر رضی الله تعالی عنھما یجمع بین المغرب والعشاء بالمزدلفۃ۔ قال سالم : واخر ابن عمرالمغرب وکان استصرخ علی امرأتہ صفیۃ بنت ابی عبید فقلت لہ : الصلاۃ فقال : سر فقلت لہ : الصلاۃ فقال : سر حتی سارمیلین اوثلثۃ ثم نزل فصلی ثم قال : ھکذا رأیت النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اذااعجلہ السیر یؤخر المغرب فیصلیھا ثلثا ثم یسلم ثم قلما یلبث حتی یقیم العشاء فیصلیھا رکعتین الحدیث۔ (ان دونوں روایتوں کا حاصل یہ کہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماایام حج میں ذی الحجہ کی دسویں رات مزدلفہ میں مغرب وعشاء جمع کرکے پڑھتے اور جب اپنی بی بی کی خبر گیری کو تشریف لے گئے تھے تو یوں کیا کہ مغرب کو آخر کیا میں نے کہا نماز فرمایا چلو میں نے پھر کہا نماز۔ فرمایا چلو دو۲ تین۳ میل چل کر اترے اور نماز پڑھی پھر فرمایا میں نے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو دیکھا کہ جب سفر میں جلدی ہوتی ایسا ہی کرتے مغرب اخیر کرکے تین۳ رکعت پڑھتے پھر سلام پھیر کر تھوڑی دیر انتظار فرماتے پھر عشا کی اقامت فرماکر دو۲ رکعت پڑھتے) نسائی کے یہاں یوں ہے : اخبرنی محمد بن عبدالله بن بزیع حدثنا یزید بن ذریع حدثنا کثیر بن قاروندا قال : سألت سالم بن عبدالله عن صلاۃ ابیہ فی السفر وسألناہ ھل کان یجمع بین شیئ من صلاتہ فی سفرہ فذکر ان صفیۃ بنت ابی عبید کانت تحتہ فکتبت الیہ وھو فی زراعۃ لہ انی فی اخر یوم من ایام الدنیا واول یوم من
حوالہ / References
جامع صحیح البخاری باب ھل یؤذّن اویقیم الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۹
جامع صحیح البخاری باب یصلی المغرب ثلثانی السفر ۱ / ۱۴۸
جامع صحیح البخاری باب یصلی المغرب ثلثانی السفر ۱ / ۱۴۸
جامع صحیح البخاری باب یصلی المغرب ثلثانی السفر ۱ / ۱۴۸
جامع صحیح البخاری باب یصلی المغرب ثلثانی السفر ۱ / ۱۴۸
الاخرۃ فرکب فاسرع السیر الیھا حتی اذاحانت صلاۃ الظھر قال لہ المؤذن : الصلاۃ یاابا عبدالرحمن! فلم یلتفت حتی اذاکان بین الصلاتین نزل فقال : اقم فاذا سلمت فاقم فصلی ثم رکب حتی اذاغابت الشمس قال لہ المؤذن : الصلاۃ فقال : کفعلك فی صلاۃ الظھر والعصر ثم سار حتی اذا اشتبکت النجوم نزل ثم قال المؤذن : اقم فاذاسلمت فاقم فصلی ثم انصرف فالتفت الینا فقال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اذاحضر احدکم الامر الذی یخاف فوتہ فلیصل ھذہ الصلاۃ ۔
(خلاصہ یہ کہ جب صفیہ کا خط پہنچا کہ اب میرا دم واپسیں ہے ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماشتاباں چلے نماز کیلئے ایسے وقت اترے کہ ظہر کا وقت جانے کو تھا اور عصر کا وقت آنے کو اس وقت ظہر پڑھ کر عصر پڑھی اور مغرب کے لئے اس وقت اترے جب تارے خوب کھل آئے تھے (جس وقت تك بلاعذر مغرب میں دیر لگانی مکروہ ہے اسے پڑھ کر عشاء پڑھی اور کہا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : جب تم میں کسی کو ایسی ضرورت پیش آئے جس کے فوت کا اندیشہ ہوتو اس طرح نماز پڑھے) نیز اسی حدیث میں دوسرے طریق سے یوں زائد کیا : اخبرنا عبدۃ بن عبدالرحیم ثنا ابن شمیل ثنا کثیر بن قاروندا قال سألنا سالم بن عبدالله عن الصلاۃ فی السفر فقلنا اکان عبدالله یجمع بین شیئ من الصلاۃ فی السفر فقال لا الا یجمع یعنی ہم نے سالم بن عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہمسے سوال کیا کہ حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہماسفر میں کسی نماز کو دوسری کے ساتھ جمع فرماتے تھے کہا نہ سوا مزدلفہ کے) (جہاں کا ملانا سب کے نزدیك بالاتفاق ہے) پھر وہی حدیث بیان کی کہ اس سفر میں اس طریق سے نمازیں پڑھی تھیں ۔ اس حدیث جلیل کے اتنے طرق کثیرہ ہیں جن سے آفتاب کی طرح روشن کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموصحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمنے سفر میں بحال شتاب وضرورت جمع صوری فرمائی ہے اور یہی ہمارے ائمہ کرام کا مذہب ہے۔
حدیث ۲ : امام اجل احمد بن حنبل مسند اور ابوبکر بن ابی شیبہ استاذ بخاری ومسلم مصنف میں بسند حسن بطریق اپنے شیخ وکیل بن الجراح کے اور امام طحاوی معانی الآثار میں بطریق حدثنا فھدثنا الحسن بن البشیر ثنا المعافی بن عمران کلاھما عن مغیرہ بن زیاد الموصلی عن عطاء بن
(خلاصہ یہ کہ جب صفیہ کا خط پہنچا کہ اب میرا دم واپسیں ہے ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماشتاباں چلے نماز کیلئے ایسے وقت اترے کہ ظہر کا وقت جانے کو تھا اور عصر کا وقت آنے کو اس وقت ظہر پڑھ کر عصر پڑھی اور مغرب کے لئے اس وقت اترے جب تارے خوب کھل آئے تھے (جس وقت تك بلاعذر مغرب میں دیر لگانی مکروہ ہے اسے پڑھ کر عشاء پڑھی اور کہا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : جب تم میں کسی کو ایسی ضرورت پیش آئے جس کے فوت کا اندیشہ ہوتو اس طرح نماز پڑھے) نیز اسی حدیث میں دوسرے طریق سے یوں زائد کیا : اخبرنا عبدۃ بن عبدالرحیم ثنا ابن شمیل ثنا کثیر بن قاروندا قال سألنا سالم بن عبدالله عن الصلاۃ فی السفر فقلنا اکان عبدالله یجمع بین شیئ من الصلاۃ فی السفر فقال لا الا یجمع یعنی ہم نے سالم بن عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہمسے سوال کیا کہ حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہماسفر میں کسی نماز کو دوسری کے ساتھ جمع فرماتے تھے کہا نہ سوا مزدلفہ کے) (جہاں کا ملانا سب کے نزدیك بالاتفاق ہے) پھر وہی حدیث بیان کی کہ اس سفر میں اس طریق سے نمازیں پڑھی تھیں ۔ اس حدیث جلیل کے اتنے طرق کثیرہ ہیں جن سے آفتاب کی طرح روشن کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموصحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمنے سفر میں بحال شتاب وضرورت جمع صوری فرمائی ہے اور یہی ہمارے ائمہ کرام کا مذہب ہے۔
حدیث ۲ : امام اجل احمد بن حنبل مسند اور ابوبکر بن ابی شیبہ استاذ بخاری ومسلم مصنف میں بسند حسن بطریق اپنے شیخ وکیل بن الجراح کے اور امام طحاوی معانی الآثار میں بطریق حدثنا فھدثنا الحسن بن البشیر ثنا المعافی بن عمران کلاھما عن مغیرہ بن زیاد الموصلی عن عطاء بن
حوالہ / References
سنن النسائی الوقت الذی یجمع فیہ المسافر الخ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۹۸
سنن النسائی الوقت الذی یجمع فیہ المسافر الخ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۹۹
سنن النسائی الوقت الذی یجمع فیہ المسافر الخ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۹۹
ابی رباح ام المومنین صدیقہ رضی الله تعالی عنہا سے راوی قالت کان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فی السفر یؤخر الظھر ویقدم العصر ویؤخر المغرب ویقدم العشاء (حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسفر میں ظہر کو دیر فرماتے عصر کو اول وقت پڑھتے مغرب کی تاخیر فرماتے عشاء کو اول وقت پڑھتے)
حدیث ۳ : ابوداؤد اپنی سنن باب متی یتم المسافر اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں بسند حسن جید متصل حضرت عبدالله بن محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب وہ اپنے والد ماجد محمد بن عمر بن علی وہ اپنے والد ماجد عمر بن علی مرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم سے روایت کرتے ہیں : ان علیا کان اذاسافر سار بعد ما تغرب الشمس حتی تکاد ان تظلم ثم ینزل فیصلی المغرب ثم یدعو بعشائہ فیتعشی ثم یصلی العشاء ثم یرتحل۔ ویقول : ھکذا کان رسول الله صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یصنع ۔ (یعنی امیرالمومنین مولی المسلمین علی مرتضی کرم الله تعالی وبہہ الاسنی جب سفر فرماتے سورج ڈوبے پر چلتے رہتے یہاں تك کہ قریب ہوتا کہ تاریکی ہوجائے پھر اتر کر مغرب پڑھتے پھر کھانا منگا کر تناول فرماتے پھر عشا پڑھ کر کوچ کرتے اور کہتے اسی طرح حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکیا کرتے تھے)۔ امام عینی نے عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں اس حدیث کی سند کو فرمایا : لاباس بہ (اس میں کوئی نقص نہیں )۔
حدیث ۴ : طحاوی بطریق ابی خثیمہ عن عاصم الاحول عن ابی عثمن راوی قال وفدت انا وسعد بن مالك ونحن بنادر للحج فکنا نجمع بین الظھر والعصر نقدم من ھذہ ونؤخر من ھذہ ونجمع بین المغرب والعشاء نقدم من ھذہ ونؤخر من ھذہ حتی قدمنا مکۃ (یعنی میں اور حضرت سعد بن مالك رضی اللہ تعالی عنہحج کی جلدی میں مکہ معظمہ تك ظہر وعصر اور مغرب وعشا کو یوں جمع کرتے گئے کہ ظہر ومغرب دیر کرکے پڑھتے اور عصر وعشا جلد)
حدیث ۵ : نیز امام ممدوح عبدالرحمن بن یزید سے راوی صحبت عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ فی حجہ فکان یؤخر الظھر ویعجل العصر ویؤخذ المغرب ویعجل العشاء ویسفر بصلاۃ الغداۃ ۔ (میں حج میں حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہکے ہمراہ رکاب تھا ظہر میں دیر فرماتے
حدیث ۳ : ابوداؤد اپنی سنن باب متی یتم المسافر اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں بسند حسن جید متصل حضرت عبدالله بن محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب وہ اپنے والد ماجد محمد بن عمر بن علی وہ اپنے والد ماجد عمر بن علی مرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم سے روایت کرتے ہیں : ان علیا کان اذاسافر سار بعد ما تغرب الشمس حتی تکاد ان تظلم ثم ینزل فیصلی المغرب ثم یدعو بعشائہ فیتعشی ثم یصلی العشاء ثم یرتحل۔ ویقول : ھکذا کان رسول الله صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یصنع ۔ (یعنی امیرالمومنین مولی المسلمین علی مرتضی کرم الله تعالی وبہہ الاسنی جب سفر فرماتے سورج ڈوبے پر چلتے رہتے یہاں تك کہ قریب ہوتا کہ تاریکی ہوجائے پھر اتر کر مغرب پڑھتے پھر کھانا منگا کر تناول فرماتے پھر عشا پڑھ کر کوچ کرتے اور کہتے اسی طرح حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکیا کرتے تھے)۔ امام عینی نے عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں اس حدیث کی سند کو فرمایا : لاباس بہ (اس میں کوئی نقص نہیں )۔
حدیث ۴ : طحاوی بطریق ابی خثیمہ عن عاصم الاحول عن ابی عثمن راوی قال وفدت انا وسعد بن مالك ونحن بنادر للحج فکنا نجمع بین الظھر والعصر نقدم من ھذہ ونؤخر من ھذہ ونجمع بین المغرب والعشاء نقدم من ھذہ ونؤخر من ھذہ حتی قدمنا مکۃ (یعنی میں اور حضرت سعد بن مالك رضی اللہ تعالی عنہحج کی جلدی میں مکہ معظمہ تك ظہر وعصر اور مغرب وعشا کو یوں جمع کرتے گئے کہ ظہر ومغرب دیر کرکے پڑھتے اور عصر وعشا جلد)
حدیث ۵ : نیز امام ممدوح عبدالرحمن بن یزید سے راوی صحبت عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ فی حجہ فکان یؤخر الظھر ویعجل العصر ویؤخذ المغرب ویعجل العشاء ویسفر بصلاۃ الغداۃ ۔ (میں حج میں حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہکے ہمراہ رکاب تھا ظہر میں دیر فرماتے
حوالہ / References
شرح معانی الآثار باب الجمع بین صلاتین الخ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۳
سنن ابی داؤد باب متی تیم المسافر مطبوعہ مجتبائی لاہور پاکستان ۱ / ۱۷۳
شرح معانی الآثار باب الجمع بین صلاتین الخ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۴
شرح معانی الآثار باب الجمع بین صلاتین الخ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۴)
سنن ابی داؤد باب متی تیم المسافر مطبوعہ مجتبائی لاہور پاکستان ۱ / ۱۷۳
شرح معانی الآثار باب الجمع بین صلاتین الخ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۴
شرح معانی الآثار باب الجمع بین صلاتین الخ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۴)
اور عصر میں تعجیل مغرب میں تاخیر کرتے عشاء میں جلدی اور صبح روشن کرکے پڑھتے) امام مدوح ان احادیث کو روایت کرکے فرماتے ہیں :
وجمیع ماذھبنا الیہ من کیفیۃ الجمع بین الصلاتین قول ابی حنیفۃ وابی یوسف ومحمد رحمھم الله تعالی ۔
نمازیں جمع کرنے کا یہ طریقہ جو ہم نے اس باب میں اختیار فرمایا یہ سب امام اعظم وامام ابویوسف وامام محمد کا مذہب ہے رضی اللہ تعالی عنہم(م)
الحمدلله جمع صوری کا طریقہ حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموحضرت مولی علی وعبدالله بن مسعود وسعد بن مالك وعبدالله بن عمرو غیرہم صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمسے روشن وجہ پر ثابت ہوا اور امام لامذہبان کا وہ جبروتی ادعاکہ اس میں کوئی حدیث صحیح نہیں اور اس سے بڑھ کر یہ بانگ بے معنی کہ یہ روایات جن سےجمع صوری کرنی ابن عمر کی واضح ہوتا ہے سب واہیات اور مردود اور شاذ اور مناکیر ہیں اور بشدت حیایہ خاص جحود وافترا کہ ابن عمر نے اس کیفیت سے ہرگز نمازیں جمع نہیں کیں جیسا کہ ان روایتوں سے معلوم ہوتا ہے اپنی سزائے کردار کو پہنچا اب ایضاح مرام وازاحت اوہام کو چند افادات کا استماع کیجئے۔
افادہ اولی : لامذہب ملا کو جب کہ انکار جمع صوری میں چاند پر خاك اڑانی تھی اور احادیث مذکورہ صحاح مشہورہ میں موجود و متداول تو بے رد صحاح چارہ کار کیا تھا لہذا بایں پیرانہ سالی حضرت کے رقص جملی ملاحظہ ہوں :
لطیفہ ۱ : ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماکی حدیث جلیل وعظیم کے پہلے طریق صحیح مروی سنن ابی داود کو محمد بن فضیل کے سبب ضعیف کیا۔
اقول اولا : یہ بھی شرم نہ آئی کہ یہ محمد بن فضیل صحیح بخاری وصحیح مسلم کے رجال سے ہے۔
ثانیا : امام ابن معین جیسے شخص نے ابن فضیل کو ثقہ امام احمد نے حسن الحدیث امام نسائی نے لاباس بہ (اس میں کوئی نقص نہیں ۔ ت) کہا امام احمد نے اس سے روایت کی اور وہ جسے ثقہ نہیں جانتے اس سے روایت نہیں فرماتے میزان میں اصلا کوئی جرح مفسر اس کے حق میں ذکر نہ کی۔ ثالثا : یہ بکف چراغی قابل تماشا کہ ابن فضیل کے منسوب برفض ہونے کا دعوی کیا اور ثبوت میں عبارت تقریب رمی بالتشیع ملاجی کو بایں سالخوردی ودعوی محدثی آج تك اتنی خبر نہیں کہ محاورات سلف و
وجمیع ماذھبنا الیہ من کیفیۃ الجمع بین الصلاتین قول ابی حنیفۃ وابی یوسف ومحمد رحمھم الله تعالی ۔
نمازیں جمع کرنے کا یہ طریقہ جو ہم نے اس باب میں اختیار فرمایا یہ سب امام اعظم وامام ابویوسف وامام محمد کا مذہب ہے رضی اللہ تعالی عنہم(م)
الحمدلله جمع صوری کا طریقہ حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموحضرت مولی علی وعبدالله بن مسعود وسعد بن مالك وعبدالله بن عمرو غیرہم صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمسے روشن وجہ پر ثابت ہوا اور امام لامذہبان کا وہ جبروتی ادعاکہ اس میں کوئی حدیث صحیح نہیں اور اس سے بڑھ کر یہ بانگ بے معنی کہ یہ روایات جن سےجمع صوری کرنی ابن عمر کی واضح ہوتا ہے سب واہیات اور مردود اور شاذ اور مناکیر ہیں اور بشدت حیایہ خاص جحود وافترا کہ ابن عمر نے اس کیفیت سے ہرگز نمازیں جمع نہیں کیں جیسا کہ ان روایتوں سے معلوم ہوتا ہے اپنی سزائے کردار کو پہنچا اب ایضاح مرام وازاحت اوہام کو چند افادات کا استماع کیجئے۔
افادہ اولی : لامذہب ملا کو جب کہ انکار جمع صوری میں چاند پر خاك اڑانی تھی اور احادیث مذکورہ صحاح مشہورہ میں موجود و متداول تو بے رد صحاح چارہ کار کیا تھا لہذا بایں پیرانہ سالی حضرت کے رقص جملی ملاحظہ ہوں :
لطیفہ ۱ : ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماکی حدیث جلیل وعظیم کے پہلے طریق صحیح مروی سنن ابی داود کو محمد بن فضیل کے سبب ضعیف کیا۔
اقول اولا : یہ بھی شرم نہ آئی کہ یہ محمد بن فضیل صحیح بخاری وصحیح مسلم کے رجال سے ہے۔
ثانیا : امام ابن معین جیسے شخص نے ابن فضیل کو ثقہ امام احمد نے حسن الحدیث امام نسائی نے لاباس بہ (اس میں کوئی نقص نہیں ۔ ت) کہا امام احمد نے اس سے روایت کی اور وہ جسے ثقہ نہیں جانتے اس سے روایت نہیں فرماتے میزان میں اصلا کوئی جرح مفسر اس کے حق میں ذکر نہ کی۔ ثالثا : یہ بکف چراغی قابل تماشا کہ ابن فضیل کے منسوب برفض ہونے کا دعوی کیا اور ثبوت میں عبارت تقریب رمی بالتشیع ملاجی کو بایں سالخوردی ودعوی محدثی آج تك اتنی خبر نہیں کہ محاورات سلف و
حوالہ / References
شرح معافی الآثارباب الجمع بین صلاتین الخ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۴
معیارالحق مسئلہ پنجم جمع بین الصلٰوتین مکتبہ نذیریہ لاہور ص۳۹۶
معیارالحق مسئلہ پنجم جمع بین الصلٰوتین مکتبہ نذیریہ لاہور ص۳۹۶
اصطلاح محدثین میں تشیع ورفض میں کتنا عـــہ فرق ہے۔
زبان متاخرین میں شیعہ روافض کو کہتے ہیں خذلہم الله تعالی جمیعا بلکہ آج کل کے بیہودہ مہذبین روافض کو رافضی کہنا خلاف تہذیب جانتے اور انہیں شیعہ ہی کے لقب سے یاد کرنا ضروری مانتے ہیں خود ملاجی کے خیال میں اپنی ملائی کے باعث یہی تازہ محاورہ تھا یا عوام کو دھوکا دینے کیلئے متشیع کو رافضی بنایا حالانکہ سلف میں جو تمام خلفائے کرام رضی اللہ تعالی عنہمکے ساتھ حسن عقیدت رکھتا اور حضرت امیرالمومنین مولی علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریمالکریم کو ان میں افضل جانتا شیعی کہا جاتا بلکہ جو صرف امیرالمومنین عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہپر تفضیل دیتا اسے بھی شیعی کہتے ہیں حالانکہ یہ مسلك بعض علمائے اہلسنت کا تھا اسی بناء پر متعدد ائمہ کوفہ کو شیعہ کہاگیا بلکہ کبھی محض غلبہ محبت اہل بیت کرام رضی اللہ تعالی عنہمکو شیعیت سے تعبیر کرتے حالانکہ یہ محض سنیت ہے امام ذہبی نے تذکرۃ الحفاظ میں خود انہیں محمد بن فضیل کی نسبت تصریح کی کہ ان کا تشیع صرف موالات تھا وبس۔
حیث قال : محمد بن فضیل بن غزوان المحدث الحافظ کان من علماء ھذا الشان و ثقہ یحيی بن معین وقال احمد : حسن الحدیث شیعی۔ قلت : کان متوالیا فقط ۔
چنانچہ ذہبی نے کہا ہے کہ محمد ابن غزوان جوکہ محدث اور حافظ ہے حدیث کے علماء میں سے تھا یحیی ابن معین نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے اور احمد نے کہا ہے کہ اچھی حدیثیں بیان کرتا ہے مگر شیعہ ہے۔ میں نے کہا “ صرف اہل بیت سے محبت رکھتا تھا “ ۔ (ت)
رابعا : ذرا رواۃ صحیحین دیکھ کر شیعی کو رافضی بناکر تضعیف کی ہوتی کیا بخاری ومسلم سے بھی ہاتھ دھونا ہے ان کے رواۃ عــہ میں تیس۳۰ سے زیادہ ایسے لوگ ہیں جنہیں اصطلاح قدماء پر بلفظ تشیع ذکر کیا جاتا یہاں تك کہ تدریب میں حاکم سے نقل کیا کتاب مسلم ملان من الشیعۃ (مسلم کی کتاب شیعوں سے بھری ہوئی ہے۔ ت) دور کیوں جائیے خود یہی ابن فضیل کہ واقع کے شیعی صرف بمعنی محب اہل بیت کرام اور آپ کے زعم میں معاذالله رافضی صحیحین کے راوی ہیں ۔
عـــہ : کماصرحوا بہ وتدل علیہ محاوراتھم منھا مافی المیزان فی ترجمۃ الحاکم بعد ماحکی القول برفضہ الله یحب الانصاف ماالرجل برافضی بل شیعی فقط اھ ۱۲ منہ (م)
جیسا کہ علماء نے تصریح کی ہے اور ان کے محاورات سے بھی واضح ہے۔ مثلا میزان میں حاکم کے حالات میں کسی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ وہ رافضی تھا۔ اس کے بعد کہا ہے “ الله انصاف کو پسند کرتا ہے یہ آدمی رافضی نہیں ہے صرف شیعہ ہے “ ۔ (ت)
زبان متاخرین میں شیعہ روافض کو کہتے ہیں خذلہم الله تعالی جمیعا بلکہ آج کل کے بیہودہ مہذبین روافض کو رافضی کہنا خلاف تہذیب جانتے اور انہیں شیعہ ہی کے لقب سے یاد کرنا ضروری مانتے ہیں خود ملاجی کے خیال میں اپنی ملائی کے باعث یہی تازہ محاورہ تھا یا عوام کو دھوکا دینے کیلئے متشیع کو رافضی بنایا حالانکہ سلف میں جو تمام خلفائے کرام رضی اللہ تعالی عنہمکے ساتھ حسن عقیدت رکھتا اور حضرت امیرالمومنین مولی علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریمالکریم کو ان میں افضل جانتا شیعی کہا جاتا بلکہ جو صرف امیرالمومنین عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہپر تفضیل دیتا اسے بھی شیعی کہتے ہیں حالانکہ یہ مسلك بعض علمائے اہلسنت کا تھا اسی بناء پر متعدد ائمہ کوفہ کو شیعہ کہاگیا بلکہ کبھی محض غلبہ محبت اہل بیت کرام رضی اللہ تعالی عنہمکو شیعیت سے تعبیر کرتے حالانکہ یہ محض سنیت ہے امام ذہبی نے تذکرۃ الحفاظ میں خود انہیں محمد بن فضیل کی نسبت تصریح کی کہ ان کا تشیع صرف موالات تھا وبس۔
حیث قال : محمد بن فضیل بن غزوان المحدث الحافظ کان من علماء ھذا الشان و ثقہ یحيی بن معین وقال احمد : حسن الحدیث شیعی۔ قلت : کان متوالیا فقط ۔
چنانچہ ذہبی نے کہا ہے کہ محمد ابن غزوان جوکہ محدث اور حافظ ہے حدیث کے علماء میں سے تھا یحیی ابن معین نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے اور احمد نے کہا ہے کہ اچھی حدیثیں بیان کرتا ہے مگر شیعہ ہے۔ میں نے کہا “ صرف اہل بیت سے محبت رکھتا تھا “ ۔ (ت)
رابعا : ذرا رواۃ صحیحین دیکھ کر شیعی کو رافضی بناکر تضعیف کی ہوتی کیا بخاری ومسلم سے بھی ہاتھ دھونا ہے ان کے رواۃ عــہ میں تیس۳۰ سے زیادہ ایسے لوگ ہیں جنہیں اصطلاح قدماء پر بلفظ تشیع ذکر کیا جاتا یہاں تك کہ تدریب میں حاکم سے نقل کیا کتاب مسلم ملان من الشیعۃ (مسلم کی کتاب شیعوں سے بھری ہوئی ہے۔ ت) دور کیوں جائیے خود یہی ابن فضیل کہ واقع کے شیعی صرف بمعنی محب اہل بیت کرام اور آپ کے زعم میں معاذالله رافضی صحیحین کے راوی ہیں ۔
عـــہ : کماصرحوا بہ وتدل علیہ محاوراتھم منھا مافی المیزان فی ترجمۃ الحاکم بعد ماحکی القول برفضہ الله یحب الانصاف ماالرجل برافضی بل شیعی فقط اھ ۱۲ منہ (م)
جیسا کہ علماء نے تصریح کی ہے اور ان کے محاورات سے بھی واضح ہے۔ مثلا میزان میں حاکم کے حالات میں کسی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ وہ رافضی تھا۔ اس کے بعد کہا ہے “ الله انصاف کو پسند کرتا ہے یہ آدمی رافضی نہیں ہے صرف شیعہ ہے “ ۔ (ت)
حوالہ / References
تذکرۃ الحفاظ فی ترجمۃ محمد بن فضیل مطبوعہ دائرۃ المعارف حیدرآباددکن ۱ / ۲۹۰
تدریب الرادی شرح تقریب النواوی روایۃ المبتدع مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱ / ۳۲۵
تدریب الرادی شرح تقریب النواوی روایۃ المبتدع مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱ / ۳۲۵
خامسا : اس کے ساتھ ہی حدیث کی متابعتین دو۲ ثقات عدول ابن جابر وعبدالله بن العلا سے ابوداود نے ذکر کردیں اور سنن نسائی وغیرہ میں بھی موجود تھیں پھر ابن فضیل پر مدار کب رہا ولکن الجھلۃ لایعلمون (لیکن جاہل جانتے نہیں ہیں ۔ ت) اور یہ تو ادنی نزاکت ہے کہ تقریب میں ابن فضیل کی نسبت صدوق عارف لکھا تھا ملاجی نے نقل میں عارف اڑادیا کہ جو کلمہ مدح کم ہو وہی سہی۔
لطیفہ ۲ : طرفہ تماشا کہ متابعت ابن جابر جو امام داؤد نے ذکر کی آپ اسے یوں کہہ کر ٹال گئے کہ وہ تعلیق ہے اور تعلیق حجت نہیں اب کون کہے کہ کسی سے آنکھیں قرض ہی لے کر دیکھیے کہ ابوداؤد نے رواہ ابن جابر عن نافع کہہ کر اسے یوں ہی معلق چھوڑدیا یا وہیں حدثنا ابرھیم بن موسی الرازی اناعیسی عن ابن جابر فرماکر موصول کردیا ہے ولکن النجدیۃ لایبصرون ایسی روایتیں لاتا ہے کہ سب کے خلاف قالہ الحافظ فی التقریب۔
لطیفہ ۳ : امام طحاوی کی حدیث بطریق ابن جابر عن نافع پر بشر بن بکر سے طعن کیا کہ وہ ف غریب الحدیث ہے
عـــہ : مثلا ابان بن تغلب اسمعیل بن ابان وراق اسمعیل بن زکریا اسمعیل بن عبدالرحمن سدی صدوق یھم بکیر بن عبداللہ جریر بن عبدالحمید جعفر بن سلیمن حسن بن صالح خالد بن مخلد قطوانی ربیئع بن انس صدوق لہ اوھام زاذان کندی سعید بن فیروز سعید بن عمرو ھمدانی عباد بن یعقوب رواجنی عبادبن عوام کلابی عبدالله بن عمر مشکدانہ عبدالله بن عیسی کوفی عبدالرزاق صاحب مصنف عبدالملك بن اعین عبیدالله بن موسی عدی بن ثابت علی بن الجعد علی بن ھاشم بن البرید فضل بن دکین ابونعیم فضیل بن مرزوق فطربن خلیفۃ مالك بن اسمعیل نھدی محمد بن اسحق صاحب مغازی محمد بن جحادہ اور یہی محمد بن فضیل ھشام بن سعد یحیی بن الجزار وغیرھم ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
لطیفہ ۲ : طرفہ تماشا کہ متابعت ابن جابر جو امام داؤد نے ذکر کی آپ اسے یوں کہہ کر ٹال گئے کہ وہ تعلیق ہے اور تعلیق حجت نہیں اب کون کہے کہ کسی سے آنکھیں قرض ہی لے کر دیکھیے کہ ابوداؤد نے رواہ ابن جابر عن نافع کہہ کر اسے یوں ہی معلق چھوڑدیا یا وہیں حدثنا ابرھیم بن موسی الرازی اناعیسی عن ابن جابر فرماکر موصول کردیا ہے ولکن النجدیۃ لایبصرون ایسی روایتیں لاتا ہے کہ سب کے خلاف قالہ الحافظ فی التقریب۔
لطیفہ ۳ : امام طحاوی کی حدیث بطریق ابن جابر عن نافع پر بشر بن بکر سے طعن کیا کہ وہ ف غریب الحدیث ہے
عـــہ : مثلا ابان بن تغلب اسمعیل بن ابان وراق اسمعیل بن زکریا اسمعیل بن عبدالرحمن سدی صدوق یھم بکیر بن عبداللہ جریر بن عبدالحمید جعفر بن سلیمن حسن بن صالح خالد بن مخلد قطوانی ربیئع بن انس صدوق لہ اوھام زاذان کندی سعید بن فیروز سعید بن عمرو ھمدانی عباد بن یعقوب رواجنی عبادبن عوام کلابی عبدالله بن عمر مشکدانہ عبدالله بن عیسی کوفی عبدالرزاق صاحب مصنف عبدالملك بن اعین عبیدالله بن موسی عدی بن ثابت علی بن الجعد علی بن ھاشم بن البرید فضل بن دکین ابونعیم فضیل بن مرزوق فطربن خلیفۃ مالك بن اسمعیل نھدی محمد بن اسحق صاحب مغازی محمد بن جحادہ اور یہی محمد بن فضیل ھشام بن سعد یحیی بن الجزار وغیرھم ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
حوالہ / References
سنن ابوداؤد باب المجمع بین الصلٰوتین مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۷۱
ف۔ معیارالحق ص۳۹۶
ف۔ معیارالحق ص۳۹۶
اقول اولا : ذرا شرم کی ہوتی کہ یہ بشر بن بکر رجال صحیح بخاری سے ہیں صحیح حدیثیں رد کرنے بیٹھے تو اب بخاری بھی بالائے طاق ہے۔
ثانیا : اس صریح خیانت کو دیکھئے کہ تقریب میں صاف صاف بشر کو ثقہ فرمایا تھا وہ ہضم کرگئے۔
ثالثا : محدث جی! تقریب میں ثقۃ یغرب ہے کسی ذی علم سے سیکھوکہ فلاں یغرب اور فلاں غریب الحدیث میں کتنا فرق ہے۔
رابعا : اغراب کی یہ تفسیر کہ ایسی روایتیں لاتا ہے کہ سب کے خلاف محدث جی! غریب ومنکر کا فرق کسی طالب علم سے پڑھو۔
خامسا : باوصف ثقہ ہونے کے مجرد اغراب باعث رد ہوتو صحیحین سے ہاتھ دھولیجئے یہ اپنی مبلغ علم تقریب ہی دیکھی کہ بخاری ومسلم کے رجال میں کتنوں عــہ کی نسبت یہی لفظ کہا ہے اور وہاں یہ بشر خود ہی جو رجال بخاری سے ہیں ۔
سادسا : ذرا میزان تو دیکھئے کہ اما بشربن بکر التنیسی فصدوق ثقۃ لاطعن فیہ (یعنی بشربن بکر تنیسی خوب راست گوثقہ ہیں جن میں اصلا کسی وجہ سے طعن نہیں ) کیوں شرمائے تو نہ ہوگے ایسی ہی اندھیری ڈال کر جاہلوں کو بہکادیا کرتے ہوکہ حنفیہ کی حدثیں ضعیف ہیں ع
شرم بادت ازخدا وازرسول
عـــہ : مثلا ابرھیم بن طھمان بشربن خالد ابرھیم بن سوید بن حبان بشیربن سلمان حسن بن احمد بن ابی شبیب محمد بن عبدالرحمن بن حکیم وغیرھم
کہ سب ثقہ یغرب ہیں ۔ احمد بن صباح حکام بن مسلم وغیرھما ثقۃ لہ غرائب خصوصا ازھر بن جمیل خالدبن قیس ابراھیم بن اسحق وغیرھم کہ صدوق یغرب یہ تینوں بشربن بکر سے بھی گئے درجے کے ہوئے کہ ثقہ سے اترکر طرف صدوق ہیں ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ(م)
ثانیا : اس صریح خیانت کو دیکھئے کہ تقریب میں صاف صاف بشر کو ثقہ فرمایا تھا وہ ہضم کرگئے۔
ثالثا : محدث جی! تقریب میں ثقۃ یغرب ہے کسی ذی علم سے سیکھوکہ فلاں یغرب اور فلاں غریب الحدیث میں کتنا فرق ہے۔
رابعا : اغراب کی یہ تفسیر کہ ایسی روایتیں لاتا ہے کہ سب کے خلاف محدث جی! غریب ومنکر کا فرق کسی طالب علم سے پڑھو۔
خامسا : باوصف ثقہ ہونے کے مجرد اغراب باعث رد ہوتو صحیحین سے ہاتھ دھولیجئے یہ اپنی مبلغ علم تقریب ہی دیکھی کہ بخاری ومسلم کے رجال میں کتنوں عــہ کی نسبت یہی لفظ کہا ہے اور وہاں یہ بشر خود ہی جو رجال بخاری سے ہیں ۔
سادسا : ذرا میزان تو دیکھئے کہ اما بشربن بکر التنیسی فصدوق ثقۃ لاطعن فیہ (یعنی بشربن بکر تنیسی خوب راست گوثقہ ہیں جن میں اصلا کسی وجہ سے طعن نہیں ) کیوں شرمائے تو نہ ہوگے ایسی ہی اندھیری ڈال کر جاہلوں کو بہکادیا کرتے ہوکہ حنفیہ کی حدثیں ضعیف ہیں ع
شرم بادت ازخدا وازرسول
عـــہ : مثلا ابرھیم بن طھمان بشربن خالد ابرھیم بن سوید بن حبان بشیربن سلمان حسن بن احمد بن ابی شبیب محمد بن عبدالرحمن بن حکیم وغیرھم
کہ سب ثقہ یغرب ہیں ۔ احمد بن صباح حکام بن مسلم وغیرھما ثقۃ لہ غرائب خصوصا ازھر بن جمیل خالدبن قیس ابراھیم بن اسحق وغیرھم کہ صدوق یغرب یہ تینوں بشربن بکر سے بھی گئے درجے کے ہوئے کہ ثقہ سے اترکر طرف صدوق ہیں ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ(م)
حوالہ / References
تقریب التہذیب ترجمہ بشربن بکر التنیسی مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ص۴۴
تقریب التہذیب ترجمہ بشربن بکر التنیسی مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ص۴۴
میزان الاعتدال فی ترجمۃ بشربن بکر ۱۱۸۶ مطبوعہ دارالمعرفت بیروت لبنان ۱ / ۳۱۴
تقریب التہذیب ترجمہ بشربن بکر التنیسی مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ص۴۴
میزان الاعتدال فی ترجمۃ بشربن بکر ۱۱۸۶ مطبوعہ دارالمعرفت بیروت لبنان ۱ / ۳۱۴
لطیفہ ۴ : طریق ابن جابر سے سنن نسائی کی حدیث کو ولید بن قاسم سے رد کیا کہ روایت میں اس سے خطا ہوتی تھی کہا تقریب میں صدوق یخطی۔
اقول اولا : مسلمانو! اس تحریف شدید کو دیکھنا اسناد نسائی میں یہاں نام ولید غیر منسوب واقع تھا کہ اخبرنا محمود بن خالد ثنا الولید ثنا ابن جابر ثنا نافع الحدیث ۔ ملا جی کو چالاکی کا موقع ملا کہ تقریب میں اسی طبقہ کا ایك شخص رواۃ نسائی سے کہ نام کا ولید اور قدرے متکلم فیہ ہے چھانٹ کر اپنے دل سے ولید بن قاسم تراش لیا حالانکہ یہ ولید بن قاسم نہیں ولید بن مسلم ہیں رجال صحیح مسلم وائمہ ثقات وحفاظ اعلام سے اسی تقریب میں ان کے ثقہ ہونے کی شہادت موجود ہاں تدلیس کرتے ہیں مگر بحمدالله اس کا احتمال یہاں مفقود کہ وہ صراحۃ حدثنا ابن جابر قال حدثنی نافع فرمارہے ہیں ۔ میزان میں ہے :
الولیدبن مسلم ابوالعباس الدمشقی احد الاعلام وعالم اھل الشام۔ لہ مصنفات حسنۃ قال احمد : مارأیت فی الشامیين اعقل منہ۔ وقال ابن المدینی : عندہ علم کثیر۔ قال ابو مسھر : الولید مدلس قلت : اذاقال الولید : عن ابن جریج اوعن الاوزاعی فلیس بمعتمد لانہ یدلس عن کذابین فاذاقال : حدثنا فھو حجۃ اھ ملخصا۔
ولید ابن مسلم ابوالعباس دمشقی۔ بلند مرتبہ لوگوں میں سے ایک شام کا عالم اس کی تصنیفات عمدہ ہیں احمد نے کہا ہے کہ میں نے شامیوں میں اس سے زیادہ عقل مند آدمی نہیں دیکھا۔ ابن مدینی نے کہا کہ اس کے پاس بہت علم ہے۔ ابومسہر نے کہا ہے کہ ولید مدلس ہے۔ میں نے کہا : جب ولید عن ابن جریج یا عن الاوزاعی کہے تو قابل اعتماد نہیں ہے لیکن جب حدثنا کہے تو مستند ہے اھ ملخصا۔ (ت)
ملاجی!
دربساط نکتہ داناں خود فروشی شرط نیست
یا سخن دانستہ گو اے مرد غافل یاخموش
(نکتہ دانوں کی مجلس میں اپنے آپ کو بیچ دینا ضروری نہیں ہے اے مرد غافل! یا تو سوچ سمجھ کر بات کریاخاموش رہ )
اقول اولا : مسلمانو! اس تحریف شدید کو دیکھنا اسناد نسائی میں یہاں نام ولید غیر منسوب واقع تھا کہ اخبرنا محمود بن خالد ثنا الولید ثنا ابن جابر ثنا نافع الحدیث ۔ ملا جی کو چالاکی کا موقع ملا کہ تقریب میں اسی طبقہ کا ایك شخص رواۃ نسائی سے کہ نام کا ولید اور قدرے متکلم فیہ ہے چھانٹ کر اپنے دل سے ولید بن قاسم تراش لیا حالانکہ یہ ولید بن قاسم نہیں ولید بن مسلم ہیں رجال صحیح مسلم وائمہ ثقات وحفاظ اعلام سے اسی تقریب میں ان کے ثقہ ہونے کی شہادت موجود ہاں تدلیس کرتے ہیں مگر بحمدالله اس کا احتمال یہاں مفقود کہ وہ صراحۃ حدثنا ابن جابر قال حدثنی نافع فرمارہے ہیں ۔ میزان میں ہے :
الولیدبن مسلم ابوالعباس الدمشقی احد الاعلام وعالم اھل الشام۔ لہ مصنفات حسنۃ قال احمد : مارأیت فی الشامیين اعقل منہ۔ وقال ابن المدینی : عندہ علم کثیر۔ قال ابو مسھر : الولید مدلس قلت : اذاقال الولید : عن ابن جریج اوعن الاوزاعی فلیس بمعتمد لانہ یدلس عن کذابین فاذاقال : حدثنا فھو حجۃ اھ ملخصا۔
ولید ابن مسلم ابوالعباس دمشقی۔ بلند مرتبہ لوگوں میں سے ایک شام کا عالم اس کی تصنیفات عمدہ ہیں احمد نے کہا ہے کہ میں نے شامیوں میں اس سے زیادہ عقل مند آدمی نہیں دیکھا۔ ابن مدینی نے کہا کہ اس کے پاس بہت علم ہے۔ ابومسہر نے کہا ہے کہ ولید مدلس ہے۔ میں نے کہا : جب ولید عن ابن جریج یا عن الاوزاعی کہے تو قابل اعتماد نہیں ہے لیکن جب حدثنا کہے تو مستند ہے اھ ملخصا۔ (ت)
ملاجی!
دربساط نکتہ داناں خود فروشی شرط نیست
یا سخن دانستہ گو اے مرد غافل یاخموش
(نکتہ دانوں کی مجلس میں اپنے آپ کو بیچ دینا ضروری نہیں ہے اے مرد غافل! یا تو سوچ سمجھ کر بات کریاخاموش رہ )
حوالہ / References
سنن النسائی الوقت الذی یجمع فیہ المسافر مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۹۹
میزان الاعتدال فی ترجمۃ ولیدبن مسلم ۹۴۰۵ دارالمعرفت بیروت ، ۴ / ۳۴۷۔ ۳۴۸
میزان الاعتدال فی ترجمۃ ولیدبن مسلم ۹۴۰۵ دارالمعرفت بیروت ، ۴ / ۳۴۷۔ ۳۴۸
تم نے جاناکہ آپ کے کید پر کوئی آگاہ نہ ہوگا ذرا بتائیے تاکہ آپ نے ولید کا ولید بن قاسم کس دلیل سے متعین کرلیا کیا اس طبقہ میں اس نام کا رواۃ نسائی میں کوئی اور نہ تھا اگر اب عاجز آکر ہم سے پوچھنا ہوکہ تم نے ولیدبن مسلم کیسے جانا اول تو بقانون مناظرہ جب آپ غاصب منصب ہیں ہم سے سوال کا محل نہیں اور استفادۃ پوچھو تو پہلے اپنی جزاف کا صاف صاف اعتراف کرو پھر شاگردی کیجئے تو ایك یہی کیا بعونہ تعالی بہت کچھ سکھادیں وہ قواعد بتادیں جس سے اسمائے مشترکہ میں اکثر جگہ تعین نکال سکو۔
ثانیا : بفرض غلط ابن قاسم ہی سہی پھر وہ بھی کب مستحق رد ہیں امام احمد نے ان کی توثیق فرمائی ان سے روایت کی محدثین کو حکم دیا کہ ان سے حدیث لکھو۔ ابن عدی نے کہا : اذاروی عن ثقۃ فلاباس بہ (وہ جب کسی ثقہ سے روایت کریں تو ان میں کوئی عیب نہیں ) اور ابن جابر کا ثقہ ہونا خود ظاہر۔
ثالثا : ذرا رواۃ صحیح بخاری ومسلم پر نظر ڈالے ہوئے کہ ان میں کتنوں عـــہ کی نسبت تقریب میں یہی صدوق یخطئ بلکہ اس سے زائد کہا ہے کیا قسم کھائے بیٹھے ہوکہ صحیحین کا رد ہی کردوگے!
عــہ : مثلا اسمعیل بن مجالد اشھل بن حاتم بشربن عبیس حارت بن عبید حبیب بن ابی حبیب حجاج بن ابی زینب حسان بن ابرھیم حسان بن حسان بصری حسان بن عبدالله کندی حسن بن بشربن سلم حسن بن ذکوان ورمی بالقدر خالد بن خداش خالد بن عبدالرحمن السلمی شریك بن عبدالله بن ابی بر عبدالرحمن بن عبدالله بن دینار عبدالمجیدبن عبدالعزیز مسکین بن بکیر معقل بن عبیدالله وغیرھم ان سب پر وہی حکم صدوق یخطئ لگایا ہے خلیفۃ بن خیاط عبدالله بن عمر نمیری عبدالرحمن بن حرملہ اسلمی عبدالرحمن بن عبدالله بن عبید یحيی بن ابی اسحق حضرمی وغیرھم صدوق ربما اخطأ ہیں اب زیادہ کی بعض مثالیں لیجئے حجاج بن ارطاۃ صدوق کثیر الخطاء والتدلیس شریك بن عبدالله نخعی صدوق یخطئ کثیرا تغیر حفظہ صالح بن رستم المزنی صدوق کثیرالخطاء عبدالله بن صالح صدوق کثیرالغلط ثبت فی کتابہ وکانت فیہ غفلۃ فلیح بن سلیمان صدوق کثیرالخطاء مطرالوراق صدوق کثیرالخطاء وحدیثہ عن عطاء ضعیف نعیم بن حماد صدوق یخطئ کثیرا ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
ثانیا : بفرض غلط ابن قاسم ہی سہی پھر وہ بھی کب مستحق رد ہیں امام احمد نے ان کی توثیق فرمائی ان سے روایت کی محدثین کو حکم دیا کہ ان سے حدیث لکھو۔ ابن عدی نے کہا : اذاروی عن ثقۃ فلاباس بہ (وہ جب کسی ثقہ سے روایت کریں تو ان میں کوئی عیب نہیں ) اور ابن جابر کا ثقہ ہونا خود ظاہر۔
ثالثا : ذرا رواۃ صحیح بخاری ومسلم پر نظر ڈالے ہوئے کہ ان میں کتنوں عـــہ کی نسبت تقریب میں یہی صدوق یخطئ بلکہ اس سے زائد کہا ہے کیا قسم کھائے بیٹھے ہوکہ صحیحین کا رد ہی کردوگے!
عــہ : مثلا اسمعیل بن مجالد اشھل بن حاتم بشربن عبیس حارت بن عبید حبیب بن ابی حبیب حجاج بن ابی زینب حسان بن ابرھیم حسان بن حسان بصری حسان بن عبدالله کندی حسن بن بشربن سلم حسن بن ذکوان ورمی بالقدر خالد بن خداش خالد بن عبدالرحمن السلمی شریك بن عبدالله بن ابی بر عبدالرحمن بن عبدالله بن دینار عبدالمجیدبن عبدالعزیز مسکین بن بکیر معقل بن عبیدالله وغیرھم ان سب پر وہی حکم صدوق یخطئ لگایا ہے خلیفۃ بن خیاط عبدالله بن عمر نمیری عبدالرحمن بن حرملہ اسلمی عبدالرحمن بن عبدالله بن عبید یحيی بن ابی اسحق حضرمی وغیرھم صدوق ربما اخطأ ہیں اب زیادہ کی بعض مثالیں لیجئے حجاج بن ارطاۃ صدوق کثیر الخطاء والتدلیس شریك بن عبدالله نخعی صدوق یخطئ کثیرا تغیر حفظہ صالح بن رستم المزنی صدوق کثیرالخطاء عبدالله بن صالح صدوق کثیرالغلط ثبت فی کتابہ وکانت فیہ غفلۃ فلیح بن سلیمان صدوق کثیرالخطاء مطرالوراق صدوق کثیرالخطاء وحدیثہ عن عطاء ضعیف نعیم بن حماد صدوق یخطئ کثیرا ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
حوالہ / References
الکامل لابن عدی فی ترجمۃ ولیدا بن قاسم مطبوعہ المکتبۃ الاثریۃ سانگلہ ہل ۷ / ۴۵ ، ۲۵
رابعا : صحیح بخاری میں حسان بن حسان بصری سے روایت کی تقریب میں انہیں صدوق یخطئ پھر حسان بن حسان واسطی کی نسبت لکھا خلطہ ابن مندۃ بالذی قبل فوھم وھذا ضعیف (ابن مندہ نے اسے پہلے کے ساتھ ملادیا ہے یہ اس کی غلطی ہے کیونکہ یہ ضعیف ہے۔ ت) دیکھو صاف بتادیا کہ جسے صدوق یخطی کہا وہ ضعیف نہیں ملاجی اپنی جہالت سے مردود واہیات گارہے ہیں ۔
لطیفہ ۵ : حدیث صحیح نسائی وطحاوی وعیسی بن ابان بطریق عطاف عن نافع کو عطاف سے معلول کیا ف کہ وہ وہمی ہے کہا تقریب میں صدوق یھم۔
اقول اولا : عطاف کو امام احمد وامام ابن معین نے ثقہ کہا وکفی بھما قدوۃ میزان میں ان کی نسبت کوئی جرح مفسر منقول نہیں ۔
ثانیا : کسی سے پڑھو کہ وہمی اور صدوق یھم میں کتنا فرق ہے۔
ثالثا : صحیحین سے عداوت کہاں تك بڑھے گی تقریب ملاحظہ ہوکہ آپ کے وہم کے ایسے وہمی عـــہ ان میں کس قدر ہیں ۔
رابعا : بالفرض یہ سب رواۃ مطعون ہی سہی مگر جب بالیقین ان میں کوئی بھی درجہ سقوط میں نہیں تو تعدد طرق سے پھر حدیث حجت تامہ ہے ولکن الوھابیۃ قوم یجھلون (لیکن وہابی جاہل لوگ ہیں ۔ ت)
عـــہ : مثل ابرھیم بن یوسف بن اسحاق اسامہ بن زید اللیثی اسمعیل بن عبدالرحمن السدی ایمن بن نابل جابربن عمرو جبربن نوف حاتم بن اسمعیل حرب بن ابی العالیہ حرمی بن عمارہ حزم بن ابی حزم حسن بن الصباح حسن بن فرات حمیدبن زیاد ربیعہ بن کلثوم عبدالله بن عبدالله بن اویس وغیرھم سب صدوق یھم ہیں احوص بن جواب حمزہ بن جیب زیات امام قراء ت معاذ بن ھشام عاصم بن علی بن عاصم وغیرھم سب صدوق ربما وھم بلکہ عطاء بن ابی مسلم صدوق یھم کثیرا۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
لطیفہ ۵ : حدیث صحیح نسائی وطحاوی وعیسی بن ابان بطریق عطاف عن نافع کو عطاف سے معلول کیا ف کہ وہ وہمی ہے کہا تقریب میں صدوق یھم۔
اقول اولا : عطاف کو امام احمد وامام ابن معین نے ثقہ کہا وکفی بھما قدوۃ میزان میں ان کی نسبت کوئی جرح مفسر منقول نہیں ۔
ثانیا : کسی سے پڑھو کہ وہمی اور صدوق یھم میں کتنا فرق ہے۔
ثالثا : صحیحین سے عداوت کہاں تك بڑھے گی تقریب ملاحظہ ہوکہ آپ کے وہم کے ایسے وہمی عـــہ ان میں کس قدر ہیں ۔
رابعا : بالفرض یہ سب رواۃ مطعون ہی سہی مگر جب بالیقین ان میں کوئی بھی درجہ سقوط میں نہیں تو تعدد طرق سے پھر حدیث حجت تامہ ہے ولکن الوھابیۃ قوم یجھلون (لیکن وہابی جاہل لوگ ہیں ۔ ت)
عـــہ : مثل ابرھیم بن یوسف بن اسحاق اسامہ بن زید اللیثی اسمعیل بن عبدالرحمن السدی ایمن بن نابل جابربن عمرو جبربن نوف حاتم بن اسمعیل حرب بن ابی العالیہ حرمی بن عمارہ حزم بن ابی حزم حسن بن الصباح حسن بن فرات حمیدبن زیاد ربیعہ بن کلثوم عبدالله بن عبدالله بن اویس وغیرھم سب صدوق یھم ہیں احوص بن جواب حمزہ بن جیب زیات امام قراء ت معاذ بن ھشام عاصم بن علی بن عاصم وغیرھم سب صدوق ربما وھم بلکہ عطاء بن ابی مسلم صدوق یھم کثیرا۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
حوالہ / References
تقریب التہذیب فی ترجمہ ابن حسان الواسطی مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ص۶۸
تقریب التہذیب فی ترجمہ ابن حسان الواسطی مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ص۶۸ ف ، معیار الحق ص ۳۹۶
تقریب التہذیب فی ترجمہ ابن حسان الواسطی مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ص۶۸ ف ، معیار الحق ص ۳۹۶
لطیفہ ۶ : آپ کے امتحان علم کو پوچھا جاتا ہے کہ روایت طحاوی حدثنا فھد ثنا الحمانی ثنا ابن المبارك عن اسامۃ بن زید اخبرنی نافع میں آپ نے کہاں سے معین کرلیا کہ یہ اسامہ بن زید عدوی مدنی ضعیف الحافظ ہے اسی طبقہ سے اسامہ بن زید لیثی مدنی بھی توہے کہ رجال صحیح مسلم وسنن اربعہ وتعلیقات بخاری سے ہے جسے یحیی بن معین نے کہا : ثقہ ہے۔ ثقہ صالح ہے ثقہ حجت ہے دونوں ایك طبقہ ایك شہر ایك نام کے ہیں اور دونوں نافع کے شاگرد پھر منشاء تعیين کیا ہے اور آپ کی تو شاید اس سوال میں بھی وقت پڑے کہ کہاں سے مان لیا کہ یہ حمانی حافظ کبیر یحیی بن عبدالحمید صاحب مسند ہے جس کی جرح آپ نے نقل کی اور امام یحیی بن معین وغیرہ کا ثقہ اور ابن عدی کا ارجو انہ لاباس بہ (مجھے امید ہے اس میں کوئی حرج نہیں ۔ ت)اور ابن نمیر کا ھواکبر من ھؤلاء کلھم فاکتب عنہ (وہ ان سب سے بڑا ہے اس لئے میں اس سے حدیث لکھتا ہوں ۔ ت) کہنا چھوڑ دیا اسی طبقہ تاسعہ سے اس کا والد عبدالحمید بن عبدالرحمن بھی توہے کہ رجال صحیحین سے ہے اور دونوں حمانی کہلائے جاتے ہیں کمافی التقریب۔
لطیفہ ۷ : روایات نسائی بطریق کثیر بن قار وندا عن سالم عن ابیہ میں جھوٹ کو بھی کچھ گنجائش نہ ملی تو اسے یوں کہہ کر ٹالاکہ وہ شاذ ہے ف اس لئے کہ مخالف ہے روایات شیخین وغیرہما کے وہ ارجح ہیں سب سے بالاتفاق اور مقدم ہوتی ہیں سب پر جب کہ موافقت اور نسخ نہ بن سکے۔
اقول اولا : شیخین کا نام کس منہ سے لیتے اور ان کی احادیث کو ارجح کہتے ہو یہ وہی شیخین تو ہیں جو محمد بن فضیل سے حدیثیں لاتے ہیں جسے تمہارے نزدیك رافضی کہاگیا اور حدیثوں کا پلٹ دینے والا اور موقوف کو مرفوع کردینے کا عادی تھا۔
ثانیا ثالثا رابعا : یہ وہی شیخین توہیں جن کے یہاں سب کے خلاف حدیثیں لانے والے حدیثوں میں خطا کرنے والے وہمی کئی درجن بھرے ہوئے ہیں ۔
خامسا : مخالف شیخین کا دعوی محض باطل ہے جیسا کہ بعونہ تعالی عنقریب ظاہر ہوتا ہے۔
لطیفہ ۸ : اس حدیث جلیل صحیح کے رد میں ملاجی نے جوجو چالاکیاں بیباکیاں برتیں ان کا پردہ تو فاش ہوچکا جابجا ثقات کو مجروح فرمایا رواۃ بخاری ومسلم کو مردود ٹھہرایا حدیث موصول کو معلق بنایا متابعات سے آنکھیں بند کرلیں نقل عبارت میں خیانتیں کیں معانی میں تحریف کی راہیں لیں راوی کو کچھ سے کچھ
لطیفہ ۷ : روایات نسائی بطریق کثیر بن قار وندا عن سالم عن ابیہ میں جھوٹ کو بھی کچھ گنجائش نہ ملی تو اسے یوں کہہ کر ٹالاکہ وہ شاذ ہے ف اس لئے کہ مخالف ہے روایات شیخین وغیرہما کے وہ ارجح ہیں سب سے بالاتفاق اور مقدم ہوتی ہیں سب پر جب کہ موافقت اور نسخ نہ بن سکے۔
اقول اولا : شیخین کا نام کس منہ سے لیتے اور ان کی احادیث کو ارجح کہتے ہو یہ وہی شیخین تو ہیں جو محمد بن فضیل سے حدیثیں لاتے ہیں جسے تمہارے نزدیك رافضی کہاگیا اور حدیثوں کا پلٹ دینے والا اور موقوف کو مرفوع کردینے کا عادی تھا۔
ثانیا ثالثا رابعا : یہ وہی شیخین توہیں جن کے یہاں سب کے خلاف حدیثیں لانے والے حدیثوں میں خطا کرنے والے وہمی کئی درجن بھرے ہوئے ہیں ۔
خامسا : مخالف شیخین کا دعوی محض باطل ہے جیسا کہ بعونہ تعالی عنقریب ظاہر ہوتا ہے۔
لطیفہ ۸ : اس حدیث جلیل صحیح کے رد میں ملاجی نے جوجو چالاکیاں بیباکیاں برتیں ان کا پردہ تو فاش ہوچکا جابجا ثقات کو مجروح فرمایا رواۃ بخاری ومسلم کو مردود ٹھہرایا حدیث موصول کو معلق بنایا متابعات سے آنکھیں بند کرلیں نقل عبارت میں خیانتیں کیں معانی میں تحریف کی راہیں لیں راوی کو کچھ سے کچھ
حوالہ / References
میزان الاعتدال ترجمہ اسامہ بن زید اللیثی ۷۰۵ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۱۷۴
میزان الاعتدال ترجمہ یحیٰی بن عبدالحمید الحمانی ۹۵۶۷ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۴ / ۳۹۲،ف معیار الحق ص۳۹۷
میزان الاعتدال ترجمہ یحیٰی بن عبدالحمید الحمانی ۹۵۶۷ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۴ / ۳۹۲،ف معیار الحق ص۳۹۷
بنالیا مشترك کو جزافا معین کردیا جہاں کچھ نہ بن پڑا مخالفت شیخین کا اعادہ کیا اب خود حدیث صحیح بخاری شریف کو کیا کریں رجال بخاری کو رد کردینا اور بات تھی کہ عوام کو ان کی کیا خبر مگر خود حدیث بخاری کا نام لیکر رد کرنے میں سخت مشکل پیش نظر لہذا یہ چال چلے کہ لاؤ اسے بزور زبان وزور بہتان اپنے موافق بنالیجئے اس لئے حدیث مذکور باب ھل یوذن او یقیم کا ایك ٹکڑا جس میں وہ تین میل چل کر مغرب پڑھنے کا ذکر تھا اپنے ثبوت کی احادیث میں نقل کرکے فرمایا فیہ بات ادنی عاقل بھی جانتا ہے کہ بعد دخول وقت مغرب کے دوتین کوس مسافت چلیں تو اتنے میں شفق غائب ہوجاتی ہے اور وقت عشا کا داخل ہوجاتا ہے۔
اولا : میل کا کوس بنایا کہ کچھ دیر بڑے دو۲ میل کا تو سواہی کوس ہوا اور تین ہی لیجئے جب بھی دو۲ کوس پورے نہیں پڑتے۔
ثانیا اقول : فریب عوام کو چالاکی یہ کی کہ حدیث کا ترجمہ نہ کیا دوتین کوس مسافت چلیں لکھ دیا کہ جاہل سمجھیں غروب کے بعد پیادہ تین کوس چلے ہوں ترجمہ کرتے تو کھلتا کہ سوار تھے اور کیسی سخت جلدی کی حالت میں تھے ہم نے حدیث ابوداؤد سے نقل کیا کہ انہوں نے اس دن سہ۳ منزلہ فرمایا تو صرف میل بھر یا اس سے بھی کم چلنے کی دیر رہ گئی اگر پیادہ ہی چلئے تو اتنی دیر میں ہرگز وقت عشاء نہیں آتا تو حدیث سے مغرب کا وقت مغرب ہی میں پڑھنا پیدا تھا جسے صاف کایا پلٹ کردیا مکہ معظمہ اور اس کے حوالی میں جن کا عرض مابین کا حہ اـلت حہ ہے غروب شمس سے انحطاط حہ (کچھ لکھنا ہے) تك ہر موسم میں ایك ساعت فلکیہ سے زیادہ وقت رہتا ہے اور پھر مدینہ طیبہ کی طرف جنتے بڑھیے وقت بڑھتا جائے گا کمالایخفی علی العارف بالھیأۃ (جیسا کہ علم ہیئت جاننے والے پر ظاہر ہے۔ ت) تو غروب سے گھنٹے بھر بعد بھی نماز مغرب وقت میں ممکن آپ کے نزدیك جبکہ دو۲ میل چلنے میں عشاء آجاتی ہے تو لازم کہ اتنی مسافت میں ایك گھنٹے سے زیادہ صرف ہونا واجب ہو اور امام مالك مؤطا میں روایت فرماتے ہیں کہ حضرت امیرالمؤمنین عثمن غنی رضی اللہ تعالی عنہمدینہ طیبہ میں نماز جمعہ سے فارغ ہوکر سوار ہوئے اور موضع ملل میں عصر کیلئے اترے۔
مالك عن عمروبن یحيی المازنی عن ابن ابی سلیط ان عثمن بن عفان صلی الجمعۃ بالمدینۃ وصلی العصر بملل ۔
مالک عمروبن یحیی المازنی سے وہ ابن سلیط سے راوی کہ عثمان ابن عفان نے جمعہ مدینہ میں پڑھا اور عصر ملل میں ۔ (ت)
ملل مدینہ طیبہ سے سترہ۱۷ میل ہے کمافی النھایۃ (جیسا کہ نہایۃ میں ہے۔ ت)بعض نے کہا اٹھارہ۱۸ میل
اولا : میل کا کوس بنایا کہ کچھ دیر بڑے دو۲ میل کا تو سواہی کوس ہوا اور تین ہی لیجئے جب بھی دو۲ کوس پورے نہیں پڑتے۔
ثانیا اقول : فریب عوام کو چالاکی یہ کی کہ حدیث کا ترجمہ نہ کیا دوتین کوس مسافت چلیں لکھ دیا کہ جاہل سمجھیں غروب کے بعد پیادہ تین کوس چلے ہوں ترجمہ کرتے تو کھلتا کہ سوار تھے اور کیسی سخت جلدی کی حالت میں تھے ہم نے حدیث ابوداؤد سے نقل کیا کہ انہوں نے اس دن سہ۳ منزلہ فرمایا تو صرف میل بھر یا اس سے بھی کم چلنے کی دیر رہ گئی اگر پیادہ ہی چلئے تو اتنی دیر میں ہرگز وقت عشاء نہیں آتا تو حدیث سے مغرب کا وقت مغرب ہی میں پڑھنا پیدا تھا جسے صاف کایا پلٹ کردیا مکہ معظمہ اور اس کے حوالی میں جن کا عرض مابین کا حہ اـلت حہ ہے غروب شمس سے انحطاط حہ (کچھ لکھنا ہے) تك ہر موسم میں ایك ساعت فلکیہ سے زیادہ وقت رہتا ہے اور پھر مدینہ طیبہ کی طرف جنتے بڑھیے وقت بڑھتا جائے گا کمالایخفی علی العارف بالھیأۃ (جیسا کہ علم ہیئت جاننے والے پر ظاہر ہے۔ ت) تو غروب سے گھنٹے بھر بعد بھی نماز مغرب وقت میں ممکن آپ کے نزدیك جبکہ دو۲ میل چلنے میں عشاء آجاتی ہے تو لازم کہ اتنی مسافت میں ایك گھنٹے سے زیادہ صرف ہونا واجب ہو اور امام مالك مؤطا میں روایت فرماتے ہیں کہ حضرت امیرالمؤمنین عثمن غنی رضی اللہ تعالی عنہمدینہ طیبہ میں نماز جمعہ سے فارغ ہوکر سوار ہوئے اور موضع ملل میں عصر کیلئے اترے۔
مالك عن عمروبن یحيی المازنی عن ابن ابی سلیط ان عثمن بن عفان صلی الجمعۃ بالمدینۃ وصلی العصر بملل ۔
مالک عمروبن یحیی المازنی سے وہ ابن سلیط سے راوی کہ عثمان ابن عفان نے جمعہ مدینہ میں پڑھا اور عصر ملل میں ۔ (ت)
ملل مدینہ طیبہ سے سترہ۱۷ میل ہے کمافی النھایۃ (جیسا کہ نہایۃ میں ہے۔ ت)بعض نے کہا اٹھارہ۱۸ میل
حوالہ / References
مؤطا امام مالك وقوت الصلواۃ ، وقت الجمعۃ مطبوعہ میر محمد کتب خانہ کراچی ص۶
النہایۃ لابن اثیر المیم مع اللام لفظ مَلَل مطبوعہ المکتبۃ الاسلامیہ ریاض ۴ / ۳۶۲ ، ف۔ معیار الحق ص ۳۷۵
النہایۃ لابن اثیر المیم مع اللام لفظ مَلَل مطبوعہ المکتبۃ الاسلامیہ ریاض ۴ / ۳۶۲ ، ف۔ معیار الحق ص ۳۷۵
کماحکاہ الزرقانی (جیسا کہ زرقانی نے بیان کیا ہے۔ ت) ابن وضاح نے کہا بائیس۲۲ میل کمانقلہ ابن رشیق عن ابن وضاح (جیسا کہ ابن رشیق نے ابن وضاح سے نقل کیا ہے۔ ت)
بلکہ بعض نسخ مؤطا میں خود امام مالك سے اسی کی تصریح ہے قال مالك وبینھما اثنان وعشرون میلا (مالك نے کہا ہے کہ دونوں کے درمیان بائیس۲۲ میل کا فاصلہ ہے۔ ت) وہ سترہ۱۷ ہی میل سہی آپ کے طور پر کوئی رات کے نودس بجے تك عصرکا وقت رہا ہوگا کہ جمعہ پڑھنے سے آٹھ نو گھنٹے بعد امیرالمومنین نے عصر اداکی کہ مدینہ طیبہ اور اس کے حوالی میں جن کا عرض الہ حہ سے زائد نہیں مقدار نہار روز تحویل سرطان بھی صرف ح ت لح و ہے کمالایخفی علی من یعلم استخراج طول النھار من عرض البلاد (جیسا کہ اس شخص پر مخفی نہیں ہے جو عرض بلاد سے دن کی لمبائی کا استخراج کرسکتا ہو۔ ت)
ثالثا اقول : اسی لئے خود آخر حدیث بخاری میں مذکور تھا کہ مغرب کے بعد کچھ دیر انتظار کرکے عشاء پڑھی اگر خود عشاءہی کے وقت میں مغرب پڑھتے تو ایسی جلدی واضطراب شدید کی حالت میں اب عشاء کیلئے انتظار کس بات کا تھا یہ ٹکڑا حدیث کا ہضم کرگیا کہ بھرم کھلتا۔
رابعا اقول : آپ تو اسی بحث میں فرماچکے کہ تعلیقات حجت نہیں صحیح بخاری میں یہ ٹکڑا جو آپ اپنی سند بناکر نقل کررہے ہیں تعلیقا ہی مذکور تھا اصل حدیث بطریق حدثنا ابوالیمان قال اخبرنا شعیب عن الزھری ذکر کی جس میں آپ کے اس مطلب کا کچھ پتانہ تھا اس کے بعد یہ ٹکڑا تعلیقا بڑھایا کہ وزاد اللیث قال حدثنی یونس عن ابن شہاب اب تعلیق کیوں حجت ہوگئی وہاں تو آخر حدیث کو ہضم کیا تھا یہاں اول کلام تناول فرمایا کہ اپنا عیب نہ ظاہر ہو۔
خامسا اقول : آپ تو رادی کو اس کے وہم وخطا بلکہ صرف اغراب پر رد فرماتے ہیں اگرچہ رجال بخاری ومسلم سے ہو اب یہ تعلیق کیونکر مقبول ہوگئی اس میں زہری سے راوی یونس بن یزید ہیں جنہیں اسی تقریب میں فرمایا :
ثقۃ الا ان فی روایتہ عن الزھری وھما قلیلا وفی غیرالزھری خطا ۔
ہیں تو ثقہ مگر زہری سے ان کی روایت میں کچھ وہم ہے اور غیر زہری سے روایت میں خطا۔
اثرم نے کہا : ضعف احمد امریونس (امام احمد نے یونس کا کام ضعیف بتایا) امام ابن سعد
بلکہ بعض نسخ مؤطا میں خود امام مالك سے اسی کی تصریح ہے قال مالك وبینھما اثنان وعشرون میلا (مالك نے کہا ہے کہ دونوں کے درمیان بائیس۲۲ میل کا فاصلہ ہے۔ ت) وہ سترہ۱۷ ہی میل سہی آپ کے طور پر کوئی رات کے نودس بجے تك عصرکا وقت رہا ہوگا کہ جمعہ پڑھنے سے آٹھ نو گھنٹے بعد امیرالمومنین نے عصر اداکی کہ مدینہ طیبہ اور اس کے حوالی میں جن کا عرض الہ حہ سے زائد نہیں مقدار نہار روز تحویل سرطان بھی صرف ح ت لح و ہے کمالایخفی علی من یعلم استخراج طول النھار من عرض البلاد (جیسا کہ اس شخص پر مخفی نہیں ہے جو عرض بلاد سے دن کی لمبائی کا استخراج کرسکتا ہو۔ ت)
ثالثا اقول : اسی لئے خود آخر حدیث بخاری میں مذکور تھا کہ مغرب کے بعد کچھ دیر انتظار کرکے عشاء پڑھی اگر خود عشاءہی کے وقت میں مغرب پڑھتے تو ایسی جلدی واضطراب شدید کی حالت میں اب عشاء کیلئے انتظار کس بات کا تھا یہ ٹکڑا حدیث کا ہضم کرگیا کہ بھرم کھلتا۔
رابعا اقول : آپ تو اسی بحث میں فرماچکے کہ تعلیقات حجت نہیں صحیح بخاری میں یہ ٹکڑا جو آپ اپنی سند بناکر نقل کررہے ہیں تعلیقا ہی مذکور تھا اصل حدیث بطریق حدثنا ابوالیمان قال اخبرنا شعیب عن الزھری ذکر کی جس میں آپ کے اس مطلب کا کچھ پتانہ تھا اس کے بعد یہ ٹکڑا تعلیقا بڑھایا کہ وزاد اللیث قال حدثنی یونس عن ابن شہاب اب تعلیق کیوں حجت ہوگئی وہاں تو آخر حدیث کو ہضم کیا تھا یہاں اول کلام تناول فرمایا کہ اپنا عیب نہ ظاہر ہو۔
خامسا اقول : آپ تو رادی کو اس کے وہم وخطا بلکہ صرف اغراب پر رد فرماتے ہیں اگرچہ رجال بخاری ومسلم سے ہو اب یہ تعلیق کیونکر مقبول ہوگئی اس میں زہری سے راوی یونس بن یزید ہیں جنہیں اسی تقریب میں فرمایا :
ثقۃ الا ان فی روایتہ عن الزھری وھما قلیلا وفی غیرالزھری خطا ۔
ہیں تو ثقہ مگر زہری سے ان کی روایت میں کچھ وہم ہے اور غیر زہری سے روایت میں خطا۔
اثرم نے کہا : ضعف احمد امریونس (امام احمد نے یونس کا کام ضعیف بتایا) امام ابن سعد
حوالہ / References
شرح الزرقانی علی المؤطا لامام مالك زیرِ حدیث مذکور مطبوعہ المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ۱ / ۲۶
تقریب التہذیب حرف الیاء مطبوعہ مطبع فاروقی دہلی ص۲۸۷
تقریب التہذیب حرف الیاء مطبوعہ مطبع فاروقی دہلی ص۲۸۷
نے کہا : لیس بحجۃ (یونس قابل احتجاج نہیں ) امام وکیع بن الجراح نے کہا : سیئ الحفظ (یونس کا حافظہ برا ہے) یوں ہی امام احمد نے ان کی کئی حدیثوں کو منکر بتایا کل ذلك فی المیزان (یہ سب میزان میں ہے۔ ت)
تنبیہ : یہ ہم نے آپ کا ظلم وتعصب ثابت کرنے کو آپ کی طرح کلام کیا ورنہ ہمارے نزدیك نہ تعلیق مطلقا مردود نہ یونس ساقط نہ وہم وخطا جب تك فاحش نہ ہوں موجب رد نہ یہ حدیث بخاری اصلا تمہارے موافق بلکہ صراحۃ ہمارے مؤید وبالله التوفیق چند اوہام یا کچھ خطائیں محدث سے صادر ہونا نہ اسے ضعیف کردیتا ہے نہ اس کی حدیث کو مردود نہ وہ کہتے ہیں جو بالکل پاك صاف گزر گئے ہیں یہ ہیں تمام محدثین کے امام الائمہ سفین بن عینیہ جنہوں نے زہری سے روایت میں بیس۲۰ سے زیادہ حدیثوں میں خطا کی امام احمد رضی اللہ تعالی عنہفرماتے ہیں مجھ میں اور علی بن مدینی میں مذاکرہ ہوا کہ زہری سے روایت میں ثابت ترکون ہے علی نے کہا سفین بن عینیہ میں نے کہا امام مالك کہ ان کی خطا سفین کی خطاؤں سے کم ہے قریب بیس۲۰ حدیثوں کے ہیں جن میں سفین نے خطا کی پھر میں نے اٹھارہ گنا دیں اور ان سے کہا آپ مالك کی خطائیں بتائیں وہ دوتین حدیثیں لائے پھر جو میں نے خیال کیا تو سفین نے بیس۲۰ سے زیادہ حدیثوں میں خطاکی ہے ذکرہ فی المیزان (اسے میزان میں ذکر کیاگیا ہے۔ ت) بااینہمہ امام سفین کے ثقہ ثبت حجت ہونے پر علمائے امت کا اجماع ہے۔
لطیفہ ۹ : ملاجی کی یہ ساری کارگزاریاں حیاداریاں حدیث صحیح عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہماکے متعلق تھیں حدیث ام المؤمنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہامروی امام طحاوی ونیز امام احمد وابن ابی شیبہ استاذان بخاری ومسلم کے رد کو پھر وہی معمولی شگوفہ چھوڑا ف کہ ایك راوی اس کا مغیرہ بن زیادہ موصلی ہے اور یہ مجروح ہے کہ وہمی تھا قالہ الحافظ التقریب۔
اقول اولا : تقریب میں صدوق کہاتھا وہ صندوق میں رہا۔
ثانیا : وہی اپنی وہمی نزاکت کہ لہ اوھام کو وہمی کہنا سمجھ لیا۔
ثالثا : وہی صحیحین سے پرانی عداوت تقریب دور نہیں دیکھئے تو کتنے رجال عـــہ بخاری ومسلم کو یہی صدوق لہ
عـــہ : صدوق یھم وصدوق ربماوھم کی بکثرت مثالیں اوپر گزرچکیں مگر باتباع لفظ خاص امثلہ سنیے احمد بن بشیر حسن بن خلف خالد بن یزید بن زیاد (باقی برصفحہ ائندہ)
تنبیہ : یہ ہم نے آپ کا ظلم وتعصب ثابت کرنے کو آپ کی طرح کلام کیا ورنہ ہمارے نزدیك نہ تعلیق مطلقا مردود نہ یونس ساقط نہ وہم وخطا جب تك فاحش نہ ہوں موجب رد نہ یہ حدیث بخاری اصلا تمہارے موافق بلکہ صراحۃ ہمارے مؤید وبالله التوفیق چند اوہام یا کچھ خطائیں محدث سے صادر ہونا نہ اسے ضعیف کردیتا ہے نہ اس کی حدیث کو مردود نہ وہ کہتے ہیں جو بالکل پاك صاف گزر گئے ہیں یہ ہیں تمام محدثین کے امام الائمہ سفین بن عینیہ جنہوں نے زہری سے روایت میں بیس۲۰ سے زیادہ حدیثوں میں خطا کی امام احمد رضی اللہ تعالی عنہفرماتے ہیں مجھ میں اور علی بن مدینی میں مذاکرہ ہوا کہ زہری سے روایت میں ثابت ترکون ہے علی نے کہا سفین بن عینیہ میں نے کہا امام مالك کہ ان کی خطا سفین کی خطاؤں سے کم ہے قریب بیس۲۰ حدیثوں کے ہیں جن میں سفین نے خطا کی پھر میں نے اٹھارہ گنا دیں اور ان سے کہا آپ مالك کی خطائیں بتائیں وہ دوتین حدیثیں لائے پھر جو میں نے خیال کیا تو سفین نے بیس۲۰ سے زیادہ حدیثوں میں خطاکی ہے ذکرہ فی المیزان (اسے میزان میں ذکر کیاگیا ہے۔ ت) بااینہمہ امام سفین کے ثقہ ثبت حجت ہونے پر علمائے امت کا اجماع ہے۔
لطیفہ ۹ : ملاجی کی یہ ساری کارگزاریاں حیاداریاں حدیث صحیح عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہماکے متعلق تھیں حدیث ام المؤمنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہامروی امام طحاوی ونیز امام احمد وابن ابی شیبہ استاذان بخاری ومسلم کے رد کو پھر وہی معمولی شگوفہ چھوڑا ف کہ ایك راوی اس کا مغیرہ بن زیادہ موصلی ہے اور یہ مجروح ہے کہ وہمی تھا قالہ الحافظ التقریب۔
اقول اولا : تقریب میں صدوق کہاتھا وہ صندوق میں رہا۔
ثانیا : وہی اپنی وہمی نزاکت کہ لہ اوھام کو وہمی کہنا سمجھ لیا۔
ثالثا : وہی صحیحین سے پرانی عداوت تقریب دور نہیں دیکھئے تو کتنے رجال عـــہ بخاری ومسلم کو یہی صدوق لہ
عـــہ : صدوق یھم وصدوق ربماوھم کی بکثرت مثالیں اوپر گزرچکیں مگر باتباع لفظ خاص امثلہ سنیے احمد بن بشیر حسن بن خلف خالد بن یزید بن زیاد (باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References
میزان الاعتدال حرف الیاء ۹۹۲۴ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۴ / ۴۸۴
میزان الاعتدال ترجمہ سفیان بن عینیہ ۳۳۲۷ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۱۷۰
ف معیار الحق ص ۴۰۱
میزان الاعتدال ترجمہ سفیان بن عینیہ ۳۳۲۷ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۱۷۰
ف معیار الحق ص ۴۰۱
اوھام (سچا ہے اس کے اوہام ہیں ت) کہا ہے۔
رابعا : مغیرہ رجال سنن اربعہ سے ہے امام ابن معین وامام نسائی دونوں صاحبوں نے بآں تشدد شدید فرمایا : لیس بہ باس (اس میں کوئی برائی نہیں ) زاد یحيی لہ حدیث واحد منکر (اس کی صرف ایك حدیث منکر ہے) لاجرم وکیع نے ثقہ ابوداؤد نے صالح ابن عدی نے عندی لاباس بہ (میرے نزدیك اس میں کوئی نقص نہیں ہے۔ ت) کہا تو اس کی حدیث حسن ہونے میں کلام نہیں اگرچہ درجہ صحاح پر بالغ نہ ہو جس کے سبب نسائی نے لیس بالقوی (اس درجے کا قوی نہیں ہے۔ ت) ابو احمد حاکم نے لیس بمتین عندھم (اس درجے کا متین نہیں ہے ان کے نزدیک۔ ت) کہا لا انہ لیس بقوی لیس بمتین وشتان مابین العبارتین (نہ یہ کہ سرے سے قوی اور متین نہیں ہے ان دو عبارتوں میں بہت فرق ہے۔ ت) حافظ نے ثقہ سے درجہ صدوق میں رکھا اس قسم کے رجال اسانید صحیحین میں صدہا ہیں ۔
لطیفہ ۱۰ : حدیث مولا علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریمالکریم مروی سنن ابی داؤد کے رد کو طرفہ تماشا کیا مسند ابی داؤد میں یوں تھا :
قال اخبرنی عبدالله بن محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب عن ابیہ عن جدہ ان علیا کان اذاسافر الحدیث ۔
جس کا صاف صریح حاصل یہ تھا کہ عبدالله بن محمد بن عمر بن علی اپنے والد محمد سے راوی ہیں اور وہ ان کے دادا یعنی اپنے والد عمر سے کہ ان کے والد ماجد مولی علی نے جمع صوری خود بھی کی اور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے بھی روایت فرمائی۔ ابیہ اور جدہ دونوں ضمیریں عبدالله کی طرف تھیں حضرت نے بزور زبان ایك ضمیر عبدالله دوسری محمد کی طرف قرار دے کر یہ معنی ٹھہرائے کہ عبدالله روایت کرتے ہیں اپنے باپ محمد سے اور وہ محمد اپنے دادا علی سے۔ اور اب اس پر اعتراض جڑ دیا کہ محمد کو اپنے دادا علی سے ملاقات نہیں تو مرسل ہوئی اور مرسل حجت نہیں ۔ قطع نظر اس سے کہ مرسل ہمارے اور جمہور ائمہ کے نزدیك حجت ہے ایمان سے کہنا کہ ان ڈھٹائیوں سے صحیح وثابت حدیثوں کو رد کرنا کون سی دیانت ہے میں کہتا ہوں آپ نے ناحق اتنی محنت بھی کی اور حدیث متصل کو صرف مرسل بنایا حدیثوں کو رد کرنا کون سی دیانت ہے میں کہتا ہوں آپ نے ناحق اتنی محنت بھی کی اور حدیث متصل کو صرف مرسل بنایا حیا ودیانت کی ایك ادنی جھلك میں بھی باطل وموضوع ہوئی جاتی تھی اور بات بھی مدلل ہوتی کہ ضمیر اقرب کی طرف پھرتی ہے اور ابیہ سے اقرب ابوطالب اور جدہ سے اقرب ابیہ تو معنی یوں کہے ہوتے کہ عبدالله نے روایت کی ابوطالب کے باپ حضرت عبدالمطلب سے اور عبدالمطلب نے اپنے دادا عبد مناف سے کہ مولا علی نے جمع صوری کی اب ارسال بھی دیکھئے کتنا بڑھ گیا کہ مولا علی کے پرپوتے مولا علی کے دادا سے روایت کریں اور حدیث صراحۃ موضوع بھی ہوگئی کہ کہاں عبدالمطلب وعبد مناف اور کہاں مولی علی سے روایت حدیث مفید احناف ولاحول ولاقوۃ الا بالله العلی العظیم۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
رباح بن ابی معروف ربیع بن انس ورمی بالتشیع ربیع بن یحيی ربیعہ بن عثمان زکریا بن یحيی بن عمر سعید بن زید بن درھم سعید بن عبدالرحمن جمحی شجاع بن الولید مسلمہ بن علقمہ مصعب بن المقدام معاویہ بن صالح معاویہ بن ھشام ھشام بن حجیر ھشام بن سعد ورمی بالتشیع اور ان کے سوا اور کہ سب صدوق لہ اوھام ہیں احمد بن ابی الطیب وغیرہ صدوق لہ اغلاط ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ(م)
رابعا : مغیرہ رجال سنن اربعہ سے ہے امام ابن معین وامام نسائی دونوں صاحبوں نے بآں تشدد شدید فرمایا : لیس بہ باس (اس میں کوئی برائی نہیں ) زاد یحيی لہ حدیث واحد منکر (اس کی صرف ایك حدیث منکر ہے) لاجرم وکیع نے ثقہ ابوداؤد نے صالح ابن عدی نے عندی لاباس بہ (میرے نزدیك اس میں کوئی نقص نہیں ہے۔ ت) کہا تو اس کی حدیث حسن ہونے میں کلام نہیں اگرچہ درجہ صحاح پر بالغ نہ ہو جس کے سبب نسائی نے لیس بالقوی (اس درجے کا قوی نہیں ہے۔ ت) ابو احمد حاکم نے لیس بمتین عندھم (اس درجے کا متین نہیں ہے ان کے نزدیک۔ ت) کہا لا انہ لیس بقوی لیس بمتین وشتان مابین العبارتین (نہ یہ کہ سرے سے قوی اور متین نہیں ہے ان دو عبارتوں میں بہت فرق ہے۔ ت) حافظ نے ثقہ سے درجہ صدوق میں رکھا اس قسم کے رجال اسانید صحیحین میں صدہا ہیں ۔
لطیفہ ۱۰ : حدیث مولا علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریمالکریم مروی سنن ابی داؤد کے رد کو طرفہ تماشا کیا مسند ابی داؤد میں یوں تھا :
قال اخبرنی عبدالله بن محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب عن ابیہ عن جدہ ان علیا کان اذاسافر الحدیث ۔
جس کا صاف صریح حاصل یہ تھا کہ عبدالله بن محمد بن عمر بن علی اپنے والد محمد سے راوی ہیں اور وہ ان کے دادا یعنی اپنے والد عمر سے کہ ان کے والد ماجد مولی علی نے جمع صوری خود بھی کی اور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے بھی روایت فرمائی۔ ابیہ اور جدہ دونوں ضمیریں عبدالله کی طرف تھیں حضرت نے بزور زبان ایك ضمیر عبدالله دوسری محمد کی طرف قرار دے کر یہ معنی ٹھہرائے کہ عبدالله روایت کرتے ہیں اپنے باپ محمد سے اور وہ محمد اپنے دادا علی سے۔ اور اب اس پر اعتراض جڑ دیا کہ محمد کو اپنے دادا علی سے ملاقات نہیں تو مرسل ہوئی اور مرسل حجت نہیں ۔ قطع نظر اس سے کہ مرسل ہمارے اور جمہور ائمہ کے نزدیك حجت ہے ایمان سے کہنا کہ ان ڈھٹائیوں سے صحیح وثابت حدیثوں کو رد کرنا کون سی دیانت ہے میں کہتا ہوں آپ نے ناحق اتنی محنت بھی کی اور حدیث متصل کو صرف مرسل بنایا حدیثوں کو رد کرنا کون سی دیانت ہے میں کہتا ہوں آپ نے ناحق اتنی محنت بھی کی اور حدیث متصل کو صرف مرسل بنایا حیا ودیانت کی ایك ادنی جھلك میں بھی باطل وموضوع ہوئی جاتی تھی اور بات بھی مدلل ہوتی کہ ضمیر اقرب کی طرف پھرتی ہے اور ابیہ سے اقرب ابوطالب اور جدہ سے اقرب ابیہ تو معنی یوں کہے ہوتے کہ عبدالله نے روایت کی ابوطالب کے باپ حضرت عبدالمطلب سے اور عبدالمطلب نے اپنے دادا عبد مناف سے کہ مولا علی نے جمع صوری کی اب ارسال بھی دیکھئے کتنا بڑھ گیا کہ مولا علی کے پرپوتے مولا علی کے دادا سے روایت کریں اور حدیث صراحۃ موضوع بھی ہوگئی کہ کہاں عبدالمطلب وعبد مناف اور کہاں مولی علی سے روایت حدیث مفید احناف ولاحول ولاقوۃ الا بالله العلی العظیم۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
رباح بن ابی معروف ربیع بن انس ورمی بالتشیع ربیع بن یحيی ربیعہ بن عثمان زکریا بن یحيی بن عمر سعید بن زید بن درھم سعید بن عبدالرحمن جمحی شجاع بن الولید مسلمہ بن علقمہ مصعب بن المقدام معاویہ بن صالح معاویہ بن ھشام ھشام بن حجیر ھشام بن سعد ورمی بالتشیع اور ان کے سوا اور کہ سب صدوق لہ اوھام ہیں احمد بن ابی الطیب وغیرہ صدوق لہ اغلاط ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ(م)
حوالہ / References
میزان الاعتدال ترجمہ مغیرہ بن زیاد موصلی ۸۷۰۹ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۴ / ۱۶۰
میزان الاعتدال ترجمہ مغیرہ بن زیاد موصلی ۸۷۰۹ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۴ / ۱۶۰
سنن ابی داؤدباب یتم المسافر مطبوعہ آفتاب عالم پریس۔ لاہور ۱ / ۱۷۳
ف۱ معیار الحق ص۴۰۰ ، ۴۰۱
میزان الاعتدال ترجمہ مغیرہ بن زیاد موصلی ۸۷۰۹ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۴ / ۱۶۰
سنن ابی داؤدباب یتم المسافر مطبوعہ آفتاب عالم پریس۔ لاہور ۱ / ۱۷۳
ف۱ معیار الحق ص۴۰۰ ، ۴۰۱
مسلمانو! دیکھا یہ عمل بالحدیث کا جھوٹا دعوی کرنے والے جب صحیح حدیثوں کے رد کرنے پر آتے ہیں تو ایسی ایسی بددیانتیوں بے غیرتیوں بیباکیوں چالاکیوں سے صحیح بخاری کو بھی پس پشت ڈال کر ایك ہانك بولتے ہیں کہ سب واہیات اور مردود ہیں انالله وانا الیہ راجعون۔
افادہ ثانیہ : احادیث وطرق پر نظر انصاف فرمائیے تو ارادہ جمع صوری پر متعدد قرائن پائیے مثلا :
(۱) یہ کہ احادیث جمع بین الصلاتین کے راویوں سے حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہہیں کما سیأتی فی الحدیث التاسع من الافادۃ الرابعۃ (جیسا کہ افادہ رابعہ کی نویں حدیث میں آرہا ہے۔ ت) حالانکہ یہی عبدالله رضی اللہ تعالی عنہفرماتے ہیں کہ انہوں نے عرفات ومزدلفہ کے سوا کبھی نہ دیکھا کہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے دو نمازیں جمع فرمائی ہوں کماسیأتی تحقیقہ فی الفصل الرابع ان شاء الله تعالی (اس کی تحقیق ان شاء الله تعالی چوتھی فصل میں آئے گی۔ ت) تو ضرور ہے کہ روایت جمع سے جمع صوری مراد ہو۔
(۲) اقول : خود حضرت عبدالله رضی اللہ تعالی عنہسے بھی جمع کرنا مروی ہوا حالانکہ ان کا مذہب معلوم کہ جمع حقیقی کو منسك حج کے سوا ناجائز جانتے۔
(۳) اقول : ملاجی نے ان پندرہ۱۵ صحابیوں میں جن کی نسبت دعوی کیا کہ انہوں نے جمع بین الصلاتین
افادہ ثانیہ : احادیث وطرق پر نظر انصاف فرمائیے تو ارادہ جمع صوری پر متعدد قرائن پائیے مثلا :
(۱) یہ کہ احادیث جمع بین الصلاتین کے راویوں سے حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہہیں کما سیأتی فی الحدیث التاسع من الافادۃ الرابعۃ (جیسا کہ افادہ رابعہ کی نویں حدیث میں آرہا ہے۔ ت) حالانکہ یہی عبدالله رضی اللہ تعالی عنہفرماتے ہیں کہ انہوں نے عرفات ومزدلفہ کے سوا کبھی نہ دیکھا کہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے دو نمازیں جمع فرمائی ہوں کماسیأتی تحقیقہ فی الفصل الرابع ان شاء الله تعالی (اس کی تحقیق ان شاء الله تعالی چوتھی فصل میں آئے گی۔ ت) تو ضرور ہے کہ روایت جمع سے جمع صوری مراد ہو۔
(۲) اقول : خود حضرت عبدالله رضی اللہ تعالی عنہسے بھی جمع کرنا مروی ہوا حالانکہ ان کا مذہب معلوم کہ جمع حقیقی کو منسك حج کے سوا ناجائز جانتے۔
(۳) اقول : ملاجی نے ان پندرہ۱۵ صحابیوں میں جن کی نسبت دعوی کیا کہ انہوں نے جمع بین الصلاتین
حوالہ / References
ف ۲ معیارالحق ص ۳۹۶
حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کی سعد بن ابی وقاس رضی اللہ تعالی عنہکو بھی گنا حالانکہ ان کا بھی مذہب وہی منع جمع ہے ان دونوں صحابی جلیل الشان کا یہ مذہب ہونا خود امام شافعی المذہب امام ابوالعزیز یوسف بن رافع اسدی حلبی شہیر بابن شداد متوفی ۶۳۱ھ نے کتاب دلائل الاحکام میں ذکر فرمایا :
کمافی عمدۃ القاری للامام البدر العینی عن التلویح شرح الجماع الصحیح للامام علاء الدین المغلطائی عن دلائل الاحکام لابن شداد۔
جیسے کہ امام بدرالدین عینی نے تلویح سے نقل کیا جوکہ امام علاء الدین المغلطائی کی کتاب الجامع الصحیح کی شرح ہے اور انہوں نے ابن شداد کی (کتاب) دلائل الاحکام سے نقل کیا ہے۔ (ت)
تو مراد وہی جمع صوری ہوگی جیسا کہ خود ان کے فعل سے مروی ہوا کماتقدم فی الحدیث الرابع (جیسا کہ حدیث ۴ میں گزرا۔ ت)
(۴) اقول : بہت زور شور سے جمع کے راوی حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہماگنے جاتے ہیں وسیأتی بعض روایاتہ فی الحدیث الاول والباقی فی الفصل الثالث ان شاء الله تعالی (عنقریب حدیث اول کے تحت ان سے بعض مرویات کا ذکر آئےگا اور بقیہ کا ذکر فصل ثالث میں آئے گا ان شاء الله تعالی۔ ت) حالانکہ وہ خود فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے مغرب وعشا کو سفر میں ایك بار کے سوا کبھی جمع نہ فرمایا کماسیأتی فی اخر الفصل الرابع ان شاء الله تعالی (جیسا کہ چوتھی فصل کے آخر میں آرہا ہے ان شاء الله تعالی۔ ت) ظاہر ہے کہ وہ بار حجۃ الوداع کی شب مزدلفہ تھی تو ضرور وہی جمع صوری منظور جیسا کہ ان کی روایات صحیحہ نے واضح کردیا جس کا بسط حدیث اول میں گزرا۔
(۵)اقول : لطف یہ کہ ان عبدالله بن عمر سے قصہ صفیہ بنت ابی عبید میں عشائین کا جمع جو مروی ہوا اس کے جمع حقیقی ہونے پر بہت زور دیاجاتا ہے حالانکہ خود ان کے صاحبزادے سالم کو اس شب بھی ان کے ہمراہ تھے صراحۃ فرماچکے کہ حضرت عبدالله نے مزدلفہ کے سوا کبھی جمع نہ کی جیسا کہ حدیث نسائی سے گزرا اور سالم کا اس رات ساتھ ہونا وہیں حدیث بخاری سے ظاہر ہوچکا قلت لہ : الصلاۃ قال : سر ۔ الحدیث (میں نے ان سے نماز کے متعلق عرض کیا تو انہوں نے فرمایا : سفر جاری رکھو۔ الحدیث۔ ت) تو قطعایقینا جمع صوری ہی مراد ہے لاجرم روایات مفسرہ نے تصریح فرمادی یہ نکتہ یاد رکھنے کا ہے کہ بعونہ تعالی بہت سے خیالات مخالفین کا علاج کافی ہوگا۔
کمافی عمدۃ القاری للامام البدر العینی عن التلویح شرح الجماع الصحیح للامام علاء الدین المغلطائی عن دلائل الاحکام لابن شداد۔
جیسے کہ امام بدرالدین عینی نے تلویح سے نقل کیا جوکہ امام علاء الدین المغلطائی کی کتاب الجامع الصحیح کی شرح ہے اور انہوں نے ابن شداد کی (کتاب) دلائل الاحکام سے نقل کیا ہے۔ (ت)
تو مراد وہی جمع صوری ہوگی جیسا کہ خود ان کے فعل سے مروی ہوا کماتقدم فی الحدیث الرابع (جیسا کہ حدیث ۴ میں گزرا۔ ت)
(۴) اقول : بہت زور شور سے جمع کے راوی حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہماگنے جاتے ہیں وسیأتی بعض روایاتہ فی الحدیث الاول والباقی فی الفصل الثالث ان شاء الله تعالی (عنقریب حدیث اول کے تحت ان سے بعض مرویات کا ذکر آئےگا اور بقیہ کا ذکر فصل ثالث میں آئے گا ان شاء الله تعالی۔ ت) حالانکہ وہ خود فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے مغرب وعشا کو سفر میں ایك بار کے سوا کبھی جمع نہ فرمایا کماسیأتی فی اخر الفصل الرابع ان شاء الله تعالی (جیسا کہ چوتھی فصل کے آخر میں آرہا ہے ان شاء الله تعالی۔ ت) ظاہر ہے کہ وہ بار حجۃ الوداع کی شب مزدلفہ تھی تو ضرور وہی جمع صوری منظور جیسا کہ ان کی روایات صحیحہ نے واضح کردیا جس کا بسط حدیث اول میں گزرا۔
(۵)اقول : لطف یہ کہ ان عبدالله بن عمر سے قصہ صفیہ بنت ابی عبید میں عشائین کا جمع جو مروی ہوا اس کے جمع حقیقی ہونے پر بہت زور دیاجاتا ہے حالانکہ خود ان کے صاحبزادے سالم کو اس شب بھی ان کے ہمراہ تھے صراحۃ فرماچکے کہ حضرت عبدالله نے مزدلفہ کے سوا کبھی جمع نہ کی جیسا کہ حدیث نسائی سے گزرا اور سالم کا اس رات ساتھ ہونا وہیں حدیث بخاری سے ظاہر ہوچکا قلت لہ : الصلاۃ قال : سر ۔ الحدیث (میں نے ان سے نماز کے متعلق عرض کیا تو انہوں نے فرمایا : سفر جاری رکھو۔ الحدیث۔ ت) تو قطعایقینا جمع صوری ہی مراد ہے لاجرم روایات مفسرہ نے تصریح فرمادی یہ نکتہ یاد رکھنے کا ہے کہ بعونہ تعالی بہت سے خیالات مخالفین کا علاج کافی ہوگا۔
حوالہ / References
صحیح البخاری باب یصلی المغرب ثلثافی السفر مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۸
(۶) رواۃ جمع میں حضرت عبدالله بن عباس رضی اللہ تعالی عنہمابھی ہیں کمایأتی فی الحدیث الثانی (جیسا کہ دوسری حدیث میں آرہا ہے۔ ت) اور ان کی حدیث ان شاء الله آخر رسالہ میں آئے گی کہ دوسری نماز کا وقت آنے سے پہلی فوت ہوجاتی ہے۔
(۷) یوں ہی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہراوی جمع ہیں کمایجیئ فی الحدیث الخامس (جیسا کہ پانچویں حدیث میں آئے گا۔ ت) اور ان کی حدیث بھی بمشیۃ الله تعالی آنے والی ہے کہ نماز میں تفریط یہ ہے کہ دوسری کا وقت آنے تك پہلی کی تاخیر کرے افاد ھذین الامام الطحاوی فی شرح معانی الاثار (یہ دونوں فائدے امام طحاوی نے شرح معانی الآثار میں بیان کئے۔ ت)
افادہ ثالثہ : اب کہ ملاجی نے پیٹ بھر کر رد احادیث سے فراغت پائی عقل پر عنایت کی باری آئی فرماتے ہیں : ف
جمع صوری سفر میں ازراہ عقل کے بھی واہی ہے کہ جمع رخصت ہے اور جمع صوری مصیبت کہ آخر جز اور اول جز نماز کا پہچاننا اکثر خواص کو نہیں ممکن چہ جائے عوام۔
اقول : ملاجی بیچارے جو شامت ایام سے مقاببلہ شیران حنفیہ میں آپھنسے وہ چوکڑی بھولے ہیں کہ اپنی اجتہادی آزادی بھی یاد نہیں یاتو وہ جوش تھے کہ ابوحنیفہ وشافعی کی تقلید حرام بدعت شرك یا اب جابجا ایك ایك مقلد مالکی شافعی کے ٹھیٹ مقلد بنے ہیں رطب یا بس جہاں جو کچھ کلام کسی مقلد کامل جاتا ہے اگرچہ کیسا ہی پوچ اور ضعیف ہو الله بسم الله کہہ کر اسے آنکھوں سے لگاتے سرپر رکھتے بے سمجھے بوجھے ایمان لے آتے ہیں یہ اعتراض بھی حضرت نے بعض مالکیہ وشافعیہ کی تقلید جامد کے صدقہ میں پایا ہے مگر شوخ چشمی یہ کہ علمائے حنفیہ جو طرح طرح اس کی دھجیاں اڑاچکے ان سے ایك کان گونگا ایك بہرا کرلیا اور پھر اسی رد شدہ بات باطل وبے ثبات کو پیش کردیا بہادری تو جب تھی کہ ان قاہر جوابوں کے جواب دیتے پھر واہی تباہی جو چاہتے فرمالیتے خیراب بعض جوابات مع تازہ افاضات لیجئے وبالله التوفیق۔
اولا : الله عزوجل نے نماز خواص وعوام سب پر یکساں فرض کی اور اس کے لئے اوقات مقرر فرمائے اور ان کے لئے اول وآخر بتائے اور ان پر واضح وعام فہم نشان بنائے کہ ان کا ادراك ہر خاص وعام کو آسان ہوجائے ہمارے دین میں کوئی تنگی نہ رکھی اور ہم پر کسی طرح دشواری نہ چاہی و ما جعل علیكم فی الدین من حرج ۔یرید الله بكم الیسر و لا یرید بكم العسر- (اس نے دین کے معاملہ میں تم پر تنگی نہیں فرمائی الله تعالی
(۷) یوں ہی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہراوی جمع ہیں کمایجیئ فی الحدیث الخامس (جیسا کہ پانچویں حدیث میں آئے گا۔ ت) اور ان کی حدیث بھی بمشیۃ الله تعالی آنے والی ہے کہ نماز میں تفریط یہ ہے کہ دوسری کا وقت آنے تك پہلی کی تاخیر کرے افاد ھذین الامام الطحاوی فی شرح معانی الاثار (یہ دونوں فائدے امام طحاوی نے شرح معانی الآثار میں بیان کئے۔ ت)
افادہ ثالثہ : اب کہ ملاجی نے پیٹ بھر کر رد احادیث سے فراغت پائی عقل پر عنایت کی باری آئی فرماتے ہیں : ف
جمع صوری سفر میں ازراہ عقل کے بھی واہی ہے کہ جمع رخصت ہے اور جمع صوری مصیبت کہ آخر جز اور اول جز نماز کا پہچاننا اکثر خواص کو نہیں ممکن چہ جائے عوام۔
اقول : ملاجی بیچارے جو شامت ایام سے مقاببلہ شیران حنفیہ میں آپھنسے وہ چوکڑی بھولے ہیں کہ اپنی اجتہادی آزادی بھی یاد نہیں یاتو وہ جوش تھے کہ ابوحنیفہ وشافعی کی تقلید حرام بدعت شرك یا اب جابجا ایك ایك مقلد مالکی شافعی کے ٹھیٹ مقلد بنے ہیں رطب یا بس جہاں جو کچھ کلام کسی مقلد کامل جاتا ہے اگرچہ کیسا ہی پوچ اور ضعیف ہو الله بسم الله کہہ کر اسے آنکھوں سے لگاتے سرپر رکھتے بے سمجھے بوجھے ایمان لے آتے ہیں یہ اعتراض بھی حضرت نے بعض مالکیہ وشافعیہ کی تقلید جامد کے صدقہ میں پایا ہے مگر شوخ چشمی یہ کہ علمائے حنفیہ جو طرح طرح اس کی دھجیاں اڑاچکے ان سے ایك کان گونگا ایك بہرا کرلیا اور پھر اسی رد شدہ بات باطل وبے ثبات کو پیش کردیا بہادری تو جب تھی کہ ان قاہر جوابوں کے جواب دیتے پھر واہی تباہی جو چاہتے فرمالیتے خیراب بعض جوابات مع تازہ افاضات لیجئے وبالله التوفیق۔
اولا : الله عزوجل نے نماز خواص وعوام سب پر یکساں فرض کی اور اس کے لئے اوقات مقرر فرمائے اور ان کے لئے اول وآخر بتائے اور ان پر واضح وعام فہم نشان بنائے کہ ان کا ادراك ہر خاص وعام کو آسان ہوجائے ہمارے دین میں کوئی تنگی نہ رکھی اور ہم پر کسی طرح دشواری نہ چاہی و ما جعل علیكم فی الدین من حرج ۔یرید الله بكم الیسر و لا یرید بكم العسر- (اس نے دین کے معاملہ میں تم پر تنگی نہیں فرمائی الله تعالی
حوالہ / References
القرآن۲ / ۱۸۵
ف معیار الحق ص۴۰۱،
ف معیار الحق ص۴۰۱،
تم پر آسانی چاہتا ہے تنگی نہیں چاہتا۔ ت)تو ہر وقت کے اول وآخر شرعی کا پہچاننا خواص وعوام سب کو آسان خصوصا سفر میں جہاں افق سامنے اور صاف میدان جو نہ سیکھے یا توجہ نہ کرے الزام اس پر ہے نہ شرع مطہر پر ہاں فصل مشترك حقیقی کہ آن واحد وجزء لایتجزی ہے اس کا علم بے طرق مخصوصہ انبیاء واولیاء عامہ بشر کی طاقت سے وراء ہے مگر نہ اس کے ادراك کی تکلیف نہ اس پر جمع صوری کی توقیف۔
ثانیا اقول : اول وآخر کا پہچاننا تو شاید تم بھی فرض جانتے ہوکہ تقدیم وتاخیر بے عذر بالاجماع مبطل وحرام ہے کیا الله عزوجل نے امر محال کی تکلیف دی لا یكلف الله نفسا الا وسعها- (الله تعالی کسی کو اس بات کا حکم نہیں دیتا جو اس کی طاقت میں نہ ہو۔ ت) فافھم۔
ثالثا اقول : تحقیق تام یہ ہے کہ اوقات متصلہ میں عامہ کے لئے پانچ حالتیں ہیں : وقت اول پر یقین اس پر ظن دونوں میں شک آخر کا ظن اس کا یقین فقہیات میں ظن ملتحق بیقین ہے اور یقین شك سے زائل نہیں ہوتا تو بین الوقتین حکما بھی اصلا فاصل نہیں مسئلہ تسحر ومسئلہ صلاۃ الفجر فی آخر الوقت وغیرہما میں تصریحات علما دیکھیے۔
رابعا اقول : کس نے کہا کہ جمع صوری میں وصل حقیقی بے فصل آنی لازم ہے حدیث مذکور ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہبروایت صحیح بخاری وحدیث امیرالمؤمنین مولی علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریمالکریم بروایت ابی داؤد دیکھیے مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی رحمت پر نثار حضور نے عوام ہی کے ارشاد کو یہ طرز ملحوظ رکھی کہ مغرب آخر شفق میں پڑھ کر قدرے انتظار فرمایا پھر عشا پڑھی یا بین الصلاتین کھانا ملاحظہ فرمایا اور لطف الہی یہ کہ تمام احادیث جمع میں اگر منقول ہے تو حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا فعل۔ اس کے ساتھ امت کو بھی ارشاد کہ جسے ضرورت ہو ایسا ہی کرلے اسی حدیث ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہمامیں ہے جس میں بروایت صحیح بخاری ثابت کہ دو۲ نمازوں کے بیچ میں قدر انتظار فرمایا تو آپ کے جہل کا خود رخصت عطا فرمانے والے رؤف رحیم خبیر علیم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے لحاظ کرلیا تھا مگر افسوس کہ اب بھی آپ شکایت اور رحمت کا نام معاذالله مصیبت ہے ہر عاقل جانتا ہے کہ مسافر کو باربار اترنے چڑھنے وضو نماز کا جداجدا سامان کرنے سے یہ بہت آسان ہے کہ ایك بار اترکر دفعۃ دونوں نمازوں سے فارغ ہولے اول قریب آخر پڑھے اور ایك لطیف انتظار کے بعد آکر اپنے اول میں اس کا انکار صریح مکابرہ ہے ہاں یہ کہئے کہ وقت گزار کر پڑھنے کی اجازت ملے تو اور آسانی ہے۔
ثانیا اقول : اول وآخر کا پہچاننا تو شاید تم بھی فرض جانتے ہوکہ تقدیم وتاخیر بے عذر بالاجماع مبطل وحرام ہے کیا الله عزوجل نے امر محال کی تکلیف دی لا یكلف الله نفسا الا وسعها- (الله تعالی کسی کو اس بات کا حکم نہیں دیتا جو اس کی طاقت میں نہ ہو۔ ت) فافھم۔
ثالثا اقول : تحقیق تام یہ ہے کہ اوقات متصلہ میں عامہ کے لئے پانچ حالتیں ہیں : وقت اول پر یقین اس پر ظن دونوں میں شک آخر کا ظن اس کا یقین فقہیات میں ظن ملتحق بیقین ہے اور یقین شك سے زائل نہیں ہوتا تو بین الوقتین حکما بھی اصلا فاصل نہیں مسئلہ تسحر ومسئلہ صلاۃ الفجر فی آخر الوقت وغیرہما میں تصریحات علما دیکھیے۔
رابعا اقول : کس نے کہا کہ جمع صوری میں وصل حقیقی بے فصل آنی لازم ہے حدیث مذکور ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہبروایت صحیح بخاری وحدیث امیرالمؤمنین مولی علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریمالکریم بروایت ابی داؤد دیکھیے مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی رحمت پر نثار حضور نے عوام ہی کے ارشاد کو یہ طرز ملحوظ رکھی کہ مغرب آخر شفق میں پڑھ کر قدرے انتظار فرمایا پھر عشا پڑھی یا بین الصلاتین کھانا ملاحظہ فرمایا اور لطف الہی یہ کہ تمام احادیث جمع میں اگر منقول ہے تو حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا فعل۔ اس کے ساتھ امت کو بھی ارشاد کہ جسے ضرورت ہو ایسا ہی کرلے اسی حدیث ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہمامیں ہے جس میں بروایت صحیح بخاری ثابت کہ دو۲ نمازوں کے بیچ میں قدر انتظار فرمایا تو آپ کے جہل کا خود رخصت عطا فرمانے والے رؤف رحیم خبیر علیم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے لحاظ کرلیا تھا مگر افسوس کہ اب بھی آپ شکایت اور رحمت کا نام معاذالله مصیبت ہے ہر عاقل جانتا ہے کہ مسافر کو باربار اترنے چڑھنے وضو نماز کا جداجدا سامان کرنے سے یہ بہت آسان ہے کہ ایك بار اترکر دفعۃ دونوں نمازوں سے فارغ ہولے اول قریب آخر پڑھے اور ایك لطیف انتظار کے بعد آکر اپنے اول میں اس کا انکار صریح مکابرہ ہے ہاں یہ کہئے کہ وقت گزار کر پڑھنے کی اجازت ملے تو اور آسانی ہے۔
حوالہ / References
القرآن ۲ / ۲۸۶
اقول : دن ٹال کر گھر پہنچ کر اکٹھی پڑھ لینے کی رخصت ہو تو اور آسانی ہے اور بالکل معاف ہوجائے تو پوری چھٹی رخصت میں آسانی درکار ہے پوری آسانی کس نے مانی!
خامسا : احمد بخاری مسلم ابوداؤد ونسائی طحاوی وغیرہم بطریق عمروبن دینار عن جابر بن زید حضرت عبدالله بن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے راوی :
وھذا لفظ مسلم قال : صلیت مع النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ثمانیا جمیعا وسبعا جمیعا قلت : یاابا الشعثاء! اظنہ اخر الظھر وعجل العصر واخر المغرب وعجبل العشاء قال : وانا اظن ذلك ۔
اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں کہا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہنے کہ میں نے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ساتھ اکٹھی آٹھ رکعتیں بھی پڑھی ہیں اور اکٹھی سات رکعتیں بھی۔ اس حدیث کا راوی کہتا ہے کہ میں نے کہا “ اے ابوالشعثاء ! میرا خیال ہے کہ انہوں نے ظہر وعصر کو اور مغرب وعشاء کو اکٹھا پڑھا ہوگا “ ۔ ابو الشعثاء نے کہا کہ میرا بھی یہی خیال ہے “ ۔ (ت)
مالك احمد مسلم ابوداؤد ترمذی نسائی طحاوی وغیرہم اسی جناب سے بطرق شتی والفاظ عدیدہ راوی :
وھذا حدیث مسلم بطریق زھیرنا ابوالزبیر عن سعید بن جبیر عن ابن عباس قال صلی الله تعالی علیہ وسلم الظھر والعصر جمیعا بالمدینۃ فی غیر خوف ولاسفر قال ابوالزبیر : فسألت سعیدا لم فعل ذلک فقال : سألت ابن عباس کماسألتنی فقال : اراد ان لایحرج احد من امتہ ۔
اور یہ حدیث مسلم کی بواسطہ ابو الزبیر ہے کہ ہم سے بیان کیا سعید ابن جبیر نے کہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہمانے فرمایا کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے بغیر کسی خوف اور سفر کے مدینہ میں ظہر اور عصر اکٹھی پڑھیں ابوالزبیر نے کہا کہ میں نے سعید سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے اس طرح کیوں کیا تو انہوں نے کہا کہ جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا ہے اسی طرح میں نے ابن عباس سے پوچھا تھا تو انہوں نے جواب دیا کہ رسول الله چاہتے تھے کہ آپ کی امت پر کوئی تنگی نہ ہو۔ (ت)
خامسا : احمد بخاری مسلم ابوداؤد ونسائی طحاوی وغیرہم بطریق عمروبن دینار عن جابر بن زید حضرت عبدالله بن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے راوی :
وھذا لفظ مسلم قال : صلیت مع النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ثمانیا جمیعا وسبعا جمیعا قلت : یاابا الشعثاء! اظنہ اخر الظھر وعجل العصر واخر المغرب وعجبل العشاء قال : وانا اظن ذلك ۔
اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں کہا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہنے کہ میں نے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ساتھ اکٹھی آٹھ رکعتیں بھی پڑھی ہیں اور اکٹھی سات رکعتیں بھی۔ اس حدیث کا راوی کہتا ہے کہ میں نے کہا “ اے ابوالشعثاء ! میرا خیال ہے کہ انہوں نے ظہر وعصر کو اور مغرب وعشاء کو اکٹھا پڑھا ہوگا “ ۔ ابو الشعثاء نے کہا کہ میرا بھی یہی خیال ہے “ ۔ (ت)
مالك احمد مسلم ابوداؤد ترمذی نسائی طحاوی وغیرہم اسی جناب سے بطرق شتی والفاظ عدیدہ راوی :
وھذا حدیث مسلم بطریق زھیرنا ابوالزبیر عن سعید بن جبیر عن ابن عباس قال صلی الله تعالی علیہ وسلم الظھر والعصر جمیعا بالمدینۃ فی غیر خوف ولاسفر قال ابوالزبیر : فسألت سعیدا لم فعل ذلک فقال : سألت ابن عباس کماسألتنی فقال : اراد ان لایحرج احد من امتہ ۔
اور یہ حدیث مسلم کی بواسطہ ابو الزبیر ہے کہ ہم سے بیان کیا سعید ابن جبیر نے کہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہمانے فرمایا کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے بغیر کسی خوف اور سفر کے مدینہ میں ظہر اور عصر اکٹھی پڑھیں ابوالزبیر نے کہا کہ میں نے سعید سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے اس طرح کیوں کیا تو انہوں نے کہا کہ جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا ہے اسی طرح میں نے ابن عباس سے پوچھا تھا تو انہوں نے جواب دیا کہ رسول الله چاہتے تھے کہ آپ کی امت پر کوئی تنگی نہ ہو۔ (ت)
حوالہ / References
الصحیح لمسلم جواز الجمع بین الصلٰوتین فی السفر مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی۱ / ۲۴۶
الصحیح لمسلم جواز الجمع بین الصلٰوتین فی السفر مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۴۶
الصحیح لمسلم جواز الجمع بین الصلٰوتین فی السفر مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۴۶
وفی اخری لہ وللترمذی بطریق جیب ابن ابی ثابت عن سعید بن جبیر عن ابن عباس قال : جمع رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم بین الظھر والعصر وبین المغرب والعشاء بالمدینۃ فی غیر خوف ولامطر ۔ وللطحاوی عن صالح مولی التوأمہ عن ابن عباس فی غیر سفر ولامطر ۔ وفی لفظ للنسائی اخبرنا قتیبۃ ثنا سفین عن عمر وعن جابر بن زید عن ابن عباس رضی الله تعالی عنھما قال : صلیت مع النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم بالمدینۃ ثمانیا جمیعا وسبعا جمیعا اخر الظھر وعجل العصر واخر المغرب وعجل العشاء ۔ وفی لفظ لہ عن عمروبن ھرم عن جابر بن زید عن ابن عباس انہ صلی بالبصرۃ الاولی والعصر لیس بینھما شیئ والمغرب والعشاء لیس بینھما شیئ فعل ذلك من شغل۔ و زعم ابن عباس انہ صلی مع رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم بالمدینۃ الاولی والعصر ثمان سجدات لیس بینھما شیئ ۔ ولمسلم بطریق الزبیر بن الخریت عن عبدالله بن شقیق ان التاخیر کان لاجل خطبۃ خطبھا ۔
ولہ بطریق عمران بن حدیر عن عبدالله المذکور عن ابن عباس فی القصۃ قال : کنا نجمع بین الصلاتین علی عھد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ۔ وللطحاوی من ھذا الوجہ قدکان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ربما جمع بینھما بالمدینۃ ۔
مسلم نے ایك اور روایت میں اور ترمذی نے بواسطہ جیب ابن ابی ثابت سعید ابن جبیر سے روایت کی ہے کہ ابن عباس نے فرمایا : رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے بغیر کسی خوف اور بارش کے مدینہ میں ظہر وعصر اور مغرب وعشاء کو جمع کیا۔ (ت) اور طحاوی نے صالح مولی التوأمہ کے واسطے سے ابن عباس کے یہ الفاط نقل کئے ہیں “ بغیر سفر اور بارش کے “ ۔ (ت) اور نسائی کے الفاظ یوں ہیں : خبر دی ہمیں قتیبہ نے کہ حدیث بیان کی ہم سے سفین نے عمرو سے اس نے جابر سے کہ ابن عباس نے فرمایا ہے کہ میں نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ساتھ مدینہ میں اکٹھی آٹھ رکعتیں بھی پڑھی ہیں اور سات رکعتیں بھی آپ نے ظہر کو مؤخر کیا تھا اور عصر میں جلدی کی تھی اسی طرح مغرب کو مؤخر کیا تھا اور عشاء میں جلدی کی تھی۔ (ت) نسائی کی اور روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ عمروابن ہرم جابر ابن زید سے راوی ہیں کہ ابن عباس نے بصرہ میں ظہر وعصر کو اکٹھا پڑھا ان کے درمیان کوئی شے حائل نہ تھی اور مغرب وعشاء کو اکٹھا پڑھا ان کے درمیان کوئی شیئ حائل نہ تھی۔ اس طرح
ولہ بطریق عمران بن حدیر عن عبدالله المذکور عن ابن عباس فی القصۃ قال : کنا نجمع بین الصلاتین علی عھد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ۔ وللطحاوی من ھذا الوجہ قدکان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ربما جمع بینھما بالمدینۃ ۔
مسلم نے ایك اور روایت میں اور ترمذی نے بواسطہ جیب ابن ابی ثابت سعید ابن جبیر سے روایت کی ہے کہ ابن عباس نے فرمایا : رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے بغیر کسی خوف اور بارش کے مدینہ میں ظہر وعصر اور مغرب وعشاء کو جمع کیا۔ (ت) اور طحاوی نے صالح مولی التوأمہ کے واسطے سے ابن عباس کے یہ الفاط نقل کئے ہیں “ بغیر سفر اور بارش کے “ ۔ (ت) اور نسائی کے الفاظ یوں ہیں : خبر دی ہمیں قتیبہ نے کہ حدیث بیان کی ہم سے سفین نے عمرو سے اس نے جابر سے کہ ابن عباس نے فرمایا ہے کہ میں نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ساتھ مدینہ میں اکٹھی آٹھ رکعتیں بھی پڑھی ہیں اور سات رکعتیں بھی آپ نے ظہر کو مؤخر کیا تھا اور عصر میں جلدی کی تھی اسی طرح مغرب کو مؤخر کیا تھا اور عشاء میں جلدی کی تھی۔ (ت) نسائی کی اور روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ عمروابن ہرم جابر ابن زید سے راوی ہیں کہ ابن عباس نے بصرہ میں ظہر وعصر کو اکٹھا پڑھا ان کے درمیان کوئی شے حائل نہ تھی اور مغرب وعشاء کو اکٹھا پڑھا ان کے درمیان کوئی شیئ حائل نہ تھی۔ اس طرح
حوالہ / References
جامع الترمذی ماجاء فی الجمع بین الصلٰوتین مطبوعہ امین کمپنی اردوبازار دہلی ۱ / ۲۶
شرح معانی الآثار باب الجمع بین الصلٰوتین کیف سو مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۱
سنن النسائی کتاب المواقیت مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۶۹
سنن النسائی کتاب المواقیت مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۶۹
صحیح لمسلم جواز الجمع بین الصلٰوتین فی السفر مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۴۶
صحیح لمسلم جواز الجمع بین الصلٰوتین فی السفر مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۴۶
شرح معانی الآثار باب الجمع بین الصلٰوتین الخ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۱
شرح معانی الآثار باب الجمع بین الصلٰوتین کیف سو مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۱
سنن النسائی کتاب المواقیت مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۶۹
سنن النسائی کتاب المواقیت مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۶۹
صحیح لمسلم جواز الجمع بین الصلٰوتین فی السفر مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۴۶
صحیح لمسلم جواز الجمع بین الصلٰوتین فی السفر مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۴۶
شرح معانی الآثار باب الجمع بین الصلٰوتین الخ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۱
انہوں نے ایك مصروفیت کی وجہ سے کیا تھا۔ ابن عباس نے کہا کہ میں نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ساتھ بھی ظہر وعصر اکٹھی پڑھی تھیں یہ آٹھ رکعتیں تھیں اور ان دو کے درمیان اور کوئی شے نہ تھی۔ مسلم نے زبیر ابن خریت کے واسطہ سے عبدالله ابن شقیق سے روایت کی کہ یہ تاخیر ایك خطبہ دینے کی وجہ سے ہوئی تھی۔ اور مسلم نے بطریقہ عمران ابن حدیر عبدالله ابن شقیق سے روایت کی ہے کہ ابن عباس نے مذکورہ واقعے میں کہا کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے زمانے میں ہم دو۲ نمازوں کو جمع کیا کرتے تھے۔ اور طحاوی اسی سند سے ناقل ہیں کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے بارہا دو نمازوں کو مدینہ میں اکٹھا پڑھا۔ (ت)
ان روایات صحاح سے واضح کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ایسی حالت میں کہ نہ خوف تھا نہ سفر نہ مرض نہ مطر محض بلاعذر خاص مدینہ طیبہ میں ظہر وعصر اور مغرب وعشا بجماعت جمع فرمائیں سفر وخطر ومطر کی نفی تو خود احادیث میں مذکور اور مرض بلکہ ہر عذر ملحی کی نفی سوق بیان سے صاف مستفاد معہذا جب نمازیں جماعت سے تھیں تو سب کا مریض ومعذور ہونا مستبعد پھر راوی حدیث عبدالله بن عباس رضی اللہ تعالی عنہماکا اسی بناء پر صرف طول خطبہ کے سبب تاخیر مغرب واستناد بجمع مذکور انتفائے اعذار پر صریح دلیل حالانکہ مقیم کیلئے
ان روایات صحاح سے واضح کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ایسی حالت میں کہ نہ خوف تھا نہ سفر نہ مرض نہ مطر محض بلاعذر خاص مدینہ طیبہ میں ظہر وعصر اور مغرب وعشا بجماعت جمع فرمائیں سفر وخطر ومطر کی نفی تو خود احادیث میں مذکور اور مرض بلکہ ہر عذر ملحی کی نفی سوق بیان سے صاف مستفاد معہذا جب نمازیں جماعت سے تھیں تو سب کا مریض ومعذور ہونا مستبعد پھر راوی حدیث عبدالله بن عباس رضی اللہ تعالی عنہماکا اسی بناء پر صرف طول خطبہ کے سبب تاخیر مغرب واستناد بجمع مذکور انتفائے اعذار پر صریح دلیل حالانکہ مقیم کیلئے
بے عذر جمع وقتی ملاجی بھی حرام جانتے ہیں حدیث مسلم انما التفریط علی من لم یصل الصلاۃ حتی یجیئ وقت الصلاۃ الاخری گناہ اس پر ہے جو نماز نہ پڑھے یہاں تك کہ دوسری نماز کا وقت ہوجائے۔ ت) کے جواب میں کیا ف فرمائیں گے ف۱یہ حدیث اسی شخص کے حق میں ہے کہ بلاعذر نماز میں تاخیر کرے۔ حدیث امیرالمؤمنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہان الجمع بین الصلاتین فی وقت واحد کبیرۃ من الکبائر (ایك وقت میں دو۲ نمازوں کو جمع کرنا کبائر میں سے ایك کبیرہ گناہ ہے۔ ت) کے جواب میں کہہ چکے ہیں ف۲ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہکا جمع بین الصلاتین سے منع کرناحالت اقامت میں بلاعذر تھا جیسا کہ شاہد ہے اس تاویل پر اتفاق جمہور صحابہ ومن بعدہم کا اوپر عدم جواز بلاعذر کے تو اس حدیث ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہمامیں جمع فعلی مراد لینے سے چارہ نہیں اور خود ملاجی نے امام ابن حجر شافعی اور ان کے توسط سے امام قرطبی وامام الحرمین وابن المامون وابن سید الناس وغیرہم سے یہاں ارادہ جمع فعلی کی تقویت وترجیح نقل کی معہذا قطع نظر اس سے کہ روایت صحیحین میں حضرت ابن عباس کے تلامذہ وراویان حدیث جابر بن زید وعمروبن دینار نے ظنا حدیث کا یہی محمل مانا قال ابن سیدالناس : وراوی الحدیث ادری بالمراد من غیرہ (ابن سیدالناس نے کہا ہے کہ حدیث کا راوی دوسرے شخص کی نسبت حدیث کی مراد سے زیادہ آگاہ ہوتا ہے۔ ت) روایت نسائی میں خود ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہمانے اس جمع کے جمع فعلی ہونے کی تصریح فرمادی کہ ظہر ومغرب میں دیر کی اور عصر وعشاء میں جلدی یہ خاص جمع صوری ہے اب کسی کو محل سخن نہ رہا تھا تمہارے امام شوکانی غیر مقلد نے نیل الاوطار میں کہا :
ممایدل علی تعین حمل حدیث الباب علی الجمع الصوری مااخرجہ النسائی عن ابن عباس (وذکر لفظہ قال) فھذا ابن عباس راوی حدیث الباب قدصرح بان مارواہ من الجمع المذکور ھو الجمع الصوری ۔
جو چیزیں اس پر دلالت کرتی ہیں کہ اس باب سے متعلق حدیث کا جمع صوری پر حمل کرنا متعین ہے ان میں سے ایك وہ روایت ہے جو نسائی نے ابن عباس سے نقل کی ہے (اس کے بعد شوکانی نے مذکورہ روایت بیان کی ہے اور کہا ہے) یہ ابن عباس جو اس موضوع سے متعلق حدیث کے (اولین) راوی ہیں خود تصریح کررہے ہیں کہ انہوں نے جمع بین الصلاتین کی جو روایت بیان کی ہے اس سے مراد جمع صوری ہے۔ ت)
ممایدل علی تعین حمل حدیث الباب علی الجمع الصوری مااخرجہ النسائی عن ابن عباس (وذکر لفظہ قال) فھذا ابن عباس راوی حدیث الباب قدصرح بان مارواہ من الجمع المذکور ھو الجمع الصوری ۔
جو چیزیں اس پر دلالت کرتی ہیں کہ اس باب سے متعلق حدیث کا جمع صوری پر حمل کرنا متعین ہے ان میں سے ایك وہ روایت ہے جو نسائی نے ابن عباس سے نقل کی ہے (اس کے بعد شوکانی نے مذکورہ روایت بیان کی ہے اور کہا ہے) یہ ابن عباس جو اس موضوع سے متعلق حدیث کے (اولین) راوی ہیں خود تصریح کررہے ہیں کہ انہوں نے جمع بین الصلاتین کی جو روایت بیان کی ہے اس سے مراد جمع صوری ہے۔ ت)
حوالہ / References
الصحیح لمسلم باب قضاء الصلٰوۃ الفائتۃ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۳۹
موطا امام محمد باب الجمع بین الصلٰوتین فی السفر والمطرمطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور۱ / ۱۷۹
نیل الاوطار شرح منتقی الاخبار باب جمع المقیم لمطر اوغیرہ مطبوعہ مصطفی البابی مصرص ۱۳۲
ف ۱ معیار الحق ص۴۱۷ ف۲معیار الحق ص۴۰۰
موطا امام محمد باب الجمع بین الصلٰوتین فی السفر والمطرمطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور۱ / ۱۷۹
نیل الاوطار شرح منتقی الاخبار باب جمع المقیم لمطر اوغیرہ مطبوعہ مصطفی البابی مصرص ۱۳۲
ف ۱ معیار الحق ص۴۱۷ ف۲معیار الحق ص۴۰۰
شوکانی نے اس ارادہ کے اور چند مؤیدات بھی بیان کیے اور انکار جمع صوری اور آپ کے زعم باطل مصیبت کی اپنی بساط بھر خوب خوب خبریں لی ہیں جی میں آئے تو ملاحظہ کرلیجئے بالجملہ شك نہیں کہ حدیث میں مراد صوری ہے اب اسی حدیث میں حضرت عبدالله بن عباس رضی اللہ تعالی عنہماکی تصریح موجود ہے کہ جمع حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے بنظر رحمت وآسانی امت کی تھی ملاجی! اب اپنی مصیبت کی خبریں کہئے۔ سادسا : عجب تر یہ کہ یہی صاحب جنہوں نے جمع صوری کو باعث مشقت ومنافی رخصت ماناخود اسی حدیث ابن عباس کو جمع صوری سے تاویل کرگئے کما افاد الامام الزیلعی وغیرہ (جیسا کہ امام زیلعی وغیرہ نے اس کا افادہ کیا ہے۔ ت) یہ صریح منافقت ہے۔ اقول : ملاجی تو تقلید جامد کا جامہ پہنے بیٹھے ہیں اس تناقض میں بھی تقلید کرگئے حدیث طبرانی مفید جمع صوری کہ عنقریب آتی ہے حضرت اس کے جواب میں ان کہی بولتے ف۱ ہیں کہ اس میں کیفیت اس جمع کی ہے جو حالت قیام میں بلاعذر آنحضرت عـــہ۱ نے جمع کی تھی جیسا کہ روایت میں ابن عباس کی ہے کہ آنحضرت عـــہ۲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے حالت قیام میں مدینہ میں جمع صوری کی تھی۔ ملاجی! ذرا آنکھ ملاکر بات کیجئے اب وہ مصیبت رحمت ورافت کیونکر ہوگئی۔ سابعا : حدیث حمنہ بنت حجش رضی اللہ تعالی عنہامروی احمد وابوداؤد وترمذی جس میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے زنان مستحاضہ کے لئے جمع صوری پسند فرمائی ہے ملاجی کو وہاں بھی یہی عذر معمولی پیش آیا ف۲ کہ وہ مقیم تھی پس مقیم پر مسافر کی نماز کو قیاس مع الفارق ہے۔ اقول : ملا جی جمع صوری تو عوام کیا اکثر خواص کو بھی نہ صرف دشوار بلکہ ناممکن تھی وہ بھی سفر کے کھلے میدانوں میں اب کیا دنیا پلٹی کہ پردہ نشین زنان عـــہ۳ ناقصات العقل کے لئے گھر کی چار دیواریوں میں ممکن ہوگئی۔ ثامنا : عبدالرزاق مصنف میں بطریق عمروبن شعیب راوی :
قال قال عبداللہ : جمع لنا رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم مقیما غیر مسافر بین الظھر والعصر والمغرب والعشاء فقال رجل لابن عمر : لم تری النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فعل ذلك قال لان لاتحرج امتہ ان جمع رجل ۔
اس نے کہا عبدالله نے بیان کیا ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ہمارے لئے دو۲ نمازوں کو جمع کیا جبکہ آپ مقیم تھے مسافر نہ تھے۔ یعنی ظہر وعصر کو اور مغرب وعشاء کو۔ ایك آدمی نے ابن عمر سے پوچھا کہ آپ کے خیال میں رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس طرح کيوں کيا تھا تو انہوں نے جواب ديا تاکہ امت پر تنگی نہ ہو اگر کوئی شخص جمع کرلے۔ (ت)
عـــہ۱ و عـــہ۲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۱۲(م)
عـــہ۳ یعنی یہ حکم اب بھی ہر مستحاضہ کیلئے ہے تو ثابت ہوا کہ پردہ نشین زنان ناقصات العقل کو جمع صوری میسر ہے ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ۔ (م)
ف۱ : معیار الحق ص۴۰۰ ف۲ : معیارالحق ص۴۱۸
قال قال عبداللہ : جمع لنا رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم مقیما غیر مسافر بین الظھر والعصر والمغرب والعشاء فقال رجل لابن عمر : لم تری النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فعل ذلك قال لان لاتحرج امتہ ان جمع رجل ۔
اس نے کہا عبدالله نے بیان کیا ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ہمارے لئے دو۲ نمازوں کو جمع کیا جبکہ آپ مقیم تھے مسافر نہ تھے۔ یعنی ظہر وعصر کو اور مغرب وعشاء کو۔ ایك آدمی نے ابن عمر سے پوچھا کہ آپ کے خیال میں رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس طرح کيوں کيا تھا تو انہوں نے جواب ديا تاکہ امت پر تنگی نہ ہو اگر کوئی شخص جمع کرلے۔ (ت)
عـــہ۱ و عـــہ۲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۱۲(م)
عـــہ۳ یعنی یہ حکم اب بھی ہر مستحاضہ کیلئے ہے تو ثابت ہوا کہ پردہ نشین زنان ناقصات العقل کو جمع صوری میسر ہے ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ۔ (م)
ف۱ : معیار الحق ص۴۰۰ ف۲ : معیارالحق ص۴۱۸
حوالہ / References
مصنّف ابی بکر عبدالرزاق حديث ۴۴۳۷ مطبوعہ المکتب الاسلامی بيروت ۲ / ۵۵۶
ابن جرير اس جناب سے بايں لفظ راوی :
خرج علينا رسول الله صلی الله تعالی عليہ وسلم فکان يؤخر الظھر ويعجل العصر فيجمع بينھما ويؤخر المغرب ويعجل العشاء فيجمع بينھما ۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمہم پر جلوہ فرما ہوئے تو آپ ظہر ميں تاخير کرکے اور عصر ميں تعجيل کرکے دونوں کو جمع کرليتے تھے اسی طرح مغرب ميں تاخير اور عشاء ميں تعجيل کرکے دونوں کو اکٹھا پڑھ ليتے تھے۔ (ت)
نيز ابن جرير کی دوسری روايت ميں اسی جناب سے يوں ہے :
اذابادر احدکم الحاجۃ فشاء ان يؤخر المغرب ويعجل العشاء ثم يصليھما جميعا فعل ۔
اگر تم ميں سے کسی کو کسی ضرورت کی بنا پر جلدی ہو اور وہ چاہے کہ مغرب کو مؤخر کرکے اور عشاء ميں جلدی کرکے دونوں کو يکجا پڑھ لے تو ايسا کرلے۔ (ت)
ان حديثوں سے بھی ظاہر کہ جمع صوری ميں بےشك آسانی ورحمت اور وقت حاجت عام لوگوں کو اس کی اجازت۔
تاسعا : عبدالرزاق صفوان بن سليم سے راوی قال جمع عمربن الخطاب بين الظھر والعصر في يوم مطیر ۔ يعنی امیرالمؤ منين فاروق اعظم نے مينہ کے سبب ظہر وعصر جمع کی۔
اقول : ظاہر ہے کہ اميرالمؤمنين کے نزديك جمع وقتی حرام وگناہ کبيرہ ہے جس کا بيان ان شاء الله المنان فصل چہارم ميں آتا ہے لاجرم جمع صوری فرمائی۔ عاشرا : طبرانی حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
ان النبی صلی الله تعالی علےہ وسلم کان يجمع بين المغرب والعشاء يؤخر ھذہ فی اخر وقتھا ويعجل ھذہ فی اول وقتھا
حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممغرب وعشاء کو جمع فرماتے مغرب کو اس کے آخر وقت ميں پڑھتے اور عشاء کو اس کے اول
خرج علينا رسول الله صلی الله تعالی عليہ وسلم فکان يؤخر الظھر ويعجل العصر فيجمع بينھما ويؤخر المغرب ويعجل العشاء فيجمع بينھما ۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمہم پر جلوہ فرما ہوئے تو آپ ظہر ميں تاخير کرکے اور عصر ميں تعجيل کرکے دونوں کو جمع کرليتے تھے اسی طرح مغرب ميں تاخير اور عشاء ميں تعجيل کرکے دونوں کو اکٹھا پڑھ ليتے تھے۔ (ت)
نيز ابن جرير کی دوسری روايت ميں اسی جناب سے يوں ہے :
اذابادر احدکم الحاجۃ فشاء ان يؤخر المغرب ويعجل العشاء ثم يصليھما جميعا فعل ۔
اگر تم ميں سے کسی کو کسی ضرورت کی بنا پر جلدی ہو اور وہ چاہے کہ مغرب کو مؤخر کرکے اور عشاء ميں جلدی کرکے دونوں کو يکجا پڑھ لے تو ايسا کرلے۔ (ت)
ان حديثوں سے بھی ظاہر کہ جمع صوری ميں بےشك آسانی ورحمت اور وقت حاجت عام لوگوں کو اس کی اجازت۔
تاسعا : عبدالرزاق صفوان بن سليم سے راوی قال جمع عمربن الخطاب بين الظھر والعصر في يوم مطیر ۔ يعنی امیرالمؤ منين فاروق اعظم نے مينہ کے سبب ظہر وعصر جمع کی۔
اقول : ظاہر ہے کہ اميرالمؤمنين کے نزديك جمع وقتی حرام وگناہ کبيرہ ہے جس کا بيان ان شاء الله المنان فصل چہارم ميں آتا ہے لاجرم جمع صوری فرمائی۔ عاشرا : طبرانی حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
ان النبی صلی الله تعالی علےہ وسلم کان يجمع بين المغرب والعشاء يؤخر ھذہ فی اخر وقتھا ويعجل ھذہ فی اول وقتھا
حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممغرب وعشاء کو جمع فرماتے مغرب کو اس کے آخر وقت ميں پڑھتے اور عشاء کو اس کے اول
حوالہ / References
کنزالعمال الاکمال من صلٰوۃ المسافر حديث ۲۲۷۸۶ مطبوعہ موسۃ الرسالہ بيروت ۸ / ۲۵۰
کنزالعمال الاکمال من صلٰوۃ المسافر ۲۰۱۹۰ مطبوعہ موسۃ الرسالہ بيروت ۷ / ۵۴۷
لمصنّف لعبدالرزاق ، باب جمع بين الصلٰوتين فی الحضر حديث ۴۴۴۰ ، مطبوعہ المکتب الاسلامی بيروت ، ۲ / ۵۵۶
المعجم الکبير للطبرانی عن عبداللہ ابن مسعود حديث ۹۸۸۰ مطبوعہ المکتبۃ الفيصليۃ بيروت ۱۰ / ۴۷
کنزالعمال الاکمال من صلٰوۃ المسافر ۲۰۱۹۰ مطبوعہ موسۃ الرسالہ بيروت ۷ / ۵۴۷
لمصنّف لعبدالرزاق ، باب جمع بين الصلٰوتين فی الحضر حديث ۴۴۴۰ ، مطبوعہ المکتب الاسلامی بيروت ، ۲ / ۵۵۶
المعجم الکبير للطبرانی عن عبداللہ ابن مسعود حديث ۹۸۸۰ مطبوعہ المکتبۃ الفيصليۃ بيروت ۱۰ / ۴۷
وقت میں (م)۔
يہ وہی حديث طبرانی ہے جس ميں جمع صوری ملاجی ابھی ابھی مان چکے ہيں اس کی نسبت باقی کلام کا رد ان شاء الله العزيز آئندہ آتا ہے غرض شاباش ہے تمہارے جگرے کو کہ صحيح حديثوں کے رد وابطال ميں کوئی دقيقہ مغالطہ جاہلين ومکابرہ عالمين وتقليد مقلدين کا اٹھا نہ رکھو اور پھر عمل بالحديث کی شيشی کو ٹھيس تك نہ لگے ع
چوں وضو ئےمحکم بی بی تميز
افادہ رابعہ : الحمدلله جب کہ احاديث جمع صوری کی صحت مہر نيمروزماہ نيم ماہ کی طرح روشن ہوگئی تو اب جس قدر حديثوں ميں مطلق جمع بين الصلاتين وارد ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ظہر وعصر يا مغرب وعشاء کو جمع فرمايا يا عصر وعشا سے ملانے کو ظہر ومغرب ميں تاخير فرمائی وامثال ذلك کسی ميں مخالف کےلئے اصلا حجت نہ رہی سب اسی جمع صوری پر محمول ہوں گی اور استدلال مخالف احتمال موافق سے مطرود ومخذول مثل
حديث۱ : بخاری ومسلم ودارمی ونسائی وطحاوی وبيہقی بطريق سالم بن عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہمومسلم ومالك ونسائی وطحاوی بطريق نافع۔
عن ابن عمر رضی الله تعالی عنھما کان النبی صلی الله تعالی عليہ وسلم يجمع بين المغرب والعشاء اذاجدبہ السيير ۔ وفی لفظ مسلم والنسائی من طريق سالم رأيت رسول الله صلی الله تعالی عليہ وسلم اذااعجلہ السير فی السفر يؤخر صلاۃ المغرب حتی يجمع بينھا وبين صلاۃ العشاء ۔
ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماروايت کرتے ہيں کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو جب چلنے ميں تيزی ہوتی تھی تو آپ مغرب وعشاء کو جمع کرتے تھے۔ اور مسلم کی ايك اور روايت اور نسائی کی بطريقہ سالم روايت کے الفاظ يوں ہں کہ ميں نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو ديکھا کہ جب آپ کو سفر کے دوران چلنے ميں جلدی ہوتی تو مغرب کی نماز کو اتنا مؤخر کرديتے تھے کہ عشا کے ساتھ ملاليتے تھے۔ (ت)
يہ معنی مجمل بروايات سالم ونافع مستفيض ہيں ۔
فرواہ البخاری عن ابی اليمان۱ والنسائی
چنانچہ بخاری ابواليمان سے نسائی بقيہ اور
يہ وہی حديث طبرانی ہے جس ميں جمع صوری ملاجی ابھی ابھی مان چکے ہيں اس کی نسبت باقی کلام کا رد ان شاء الله العزيز آئندہ آتا ہے غرض شاباش ہے تمہارے جگرے کو کہ صحيح حديثوں کے رد وابطال ميں کوئی دقيقہ مغالطہ جاہلين ومکابرہ عالمين وتقليد مقلدين کا اٹھا نہ رکھو اور پھر عمل بالحديث کی شيشی کو ٹھيس تك نہ لگے ع
چوں وضو ئےمحکم بی بی تميز
افادہ رابعہ : الحمدلله جب کہ احاديث جمع صوری کی صحت مہر نيمروزماہ نيم ماہ کی طرح روشن ہوگئی تو اب جس قدر حديثوں ميں مطلق جمع بين الصلاتين وارد ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ظہر وعصر يا مغرب وعشاء کو جمع فرمايا يا عصر وعشا سے ملانے کو ظہر ومغرب ميں تاخير فرمائی وامثال ذلك کسی ميں مخالف کےلئے اصلا حجت نہ رہی سب اسی جمع صوری پر محمول ہوں گی اور استدلال مخالف احتمال موافق سے مطرود ومخذول مثل
حديث۱ : بخاری ومسلم ودارمی ونسائی وطحاوی وبيہقی بطريق سالم بن عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہمومسلم ومالك ونسائی وطحاوی بطريق نافع۔
عن ابن عمر رضی الله تعالی عنھما کان النبی صلی الله تعالی عليہ وسلم يجمع بين المغرب والعشاء اذاجدبہ السيير ۔ وفی لفظ مسلم والنسائی من طريق سالم رأيت رسول الله صلی الله تعالی عليہ وسلم اذااعجلہ السير فی السفر يؤخر صلاۃ المغرب حتی يجمع بينھا وبين صلاۃ العشاء ۔
ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماروايت کرتے ہيں کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو جب چلنے ميں تيزی ہوتی تھی تو آپ مغرب وعشاء کو جمع کرتے تھے۔ اور مسلم کی ايك اور روايت اور نسائی کی بطريقہ سالم روايت کے الفاظ يوں ہں کہ ميں نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو ديکھا کہ جب آپ کو سفر کے دوران چلنے ميں جلدی ہوتی تو مغرب کی نماز کو اتنا مؤخر کرديتے تھے کہ عشا کے ساتھ ملاليتے تھے۔ (ت)
يہ معنی مجمل بروايات سالم ونافع مستفيض ہيں ۔
فرواہ البخاری عن ابی اليمان۱ والنسائی
چنانچہ بخاری ابواليمان سے نسائی بقيہ اور
حوالہ / References
شرح معانی الآثار باب الجمع بين الصلاتين الخ مطبوعہ ايچ ايم سعيد کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۱
الصحیح لمسلم باب جواز الجمع يين الصلاتين فی السفر مطبوعہ قديمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۴۵
الصحیح لمسلم باب جواز الجمع يين الصلاتين فی السفر مطبوعہ قديمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۴۵
عن بقيۃ۲ وعثمن۳ کلھم عن شعيب بن ابی حمزہ۔ ومسلم عن ابن وھب عن يونس۴۔ والبخاری عن۵ علی بن المدينی ومسلم عن يحيی۶ بن يحيی وقتيبۃ۷ بن سعيد وابی۸ بکر بن ابی شيبۃ وعمر۹ والناقد والدارمی عن محمد۱۰ بن يوسف والنسائی عن محمد بن منصور والطحاوی عن الحمانی۱۲ ثمانيتھم عن سفين بن عيینۃ ثلثتھم اعنی شعيبا ويونس وسفين عن الزھری عن سالم ومسلم عن۱۳ يحيی بن يحيی والنسائی عن قتيبۃ۱۴ والطحاوی عن ابن۱۵ وھب کلھم عن مالک والنسائی بطريق عبدالرزاق ثنا معمر عن موسی۱۶ بن عقبۃ والطحاوی۱۷ عن ليث ۱۱ والبھيقی فی الخلافيات من طريق يزيد بن ھارون عن يحيی۱۸ بن سعيد اربعتھم عن نافع کلاھما عن ابن عمر رضی الله تعالی عنھما۔
عثمان سے يہ سب (ابواليمان بقيہ عثمان) شعيب ابن ابی حمزہ سے روايت کرتے ہيں ۔ اور مسلم ابن وہب سے وہ يونس سے روايت کرتے ہيں ۔ اور بخاری علی ابن مدينی سے۔ اور مسلم يحيی ابن يحيی قتيبہ ابن سعيد ابوبکر ابن ابی شيبہ اور عمرو الناقد سے۔ اور دارمی محمد ابن يوسف سے۔ اور نسائی محمد ابن منصور سے۔ اور طحاوی حمانی سے۔ يہ آٹھويں (يعنی علی(۱) يحيی(۲) قتيبہ(۳) ابوبکر(۴) عمرو(۵) ابن يوسف(۶) ابن منصور(۷) حمانی(۸) سفيان ابن عيينہ سے روايت کرتے ہيں ۔ پھر تينوں (سلسلوں کے تين آخری راوی) يعنی شعيب يونس اور سفيان زہری کے واسطے سے سالم سے راوی ہيں ۔ اور مسلم يحيی ابن يحيی سے۔ اور نسائی قتيبہ سے۔ اور طحاوی ابن وہب سے۔ تينوں مالك سے روايت کرتے ہیں ۔ اور نسائی بطريقہ عبدالرزاق وہ معمر سے وہ موسی ابن عقبہ سے روايت کرتے ہیں اور طحاوی ليث سے روايت کرتے ہیں ۔ اور بيہقی خلافيت میں بطريقہ يزيد ابن ہارون يحیی ابن سعيد سے روايت کرتے ہیں ۔ چاروں (آخری راوی يعني مالک۱ موسی۲ ليث۳ يحيی۴ نافع سے راوی ہیں سالم اور نافع) دونوں عبدالله ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماسے حديث بيان کرتے ہیں ۔ (ت)
حديث۲ معلق بخاری :
ووصلہ البيھقی عن ابن عباس رضی الله تعالی عنھما کان رسول الله صلی الله تعالی علی وسلم يجمع بين صلاۃ الظھر والعصر اذاکان علی ظھر سير بيہقی نے اس کو ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے موصولا ذکر کيا ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجب چلنے والے ہوتے تھے تو ظہر اور عصر کی نماز یں جمع كر ليتے تھے۔
عثمان سے يہ سب (ابواليمان بقيہ عثمان) شعيب ابن ابی حمزہ سے روايت کرتے ہيں ۔ اور مسلم ابن وہب سے وہ يونس سے روايت کرتے ہيں ۔ اور بخاری علی ابن مدينی سے۔ اور مسلم يحيی ابن يحيی قتيبہ ابن سعيد ابوبکر ابن ابی شيبہ اور عمرو الناقد سے۔ اور دارمی محمد ابن يوسف سے۔ اور نسائی محمد ابن منصور سے۔ اور طحاوی حمانی سے۔ يہ آٹھويں (يعنی علی(۱) يحيی(۲) قتيبہ(۳) ابوبکر(۴) عمرو(۵) ابن يوسف(۶) ابن منصور(۷) حمانی(۸) سفيان ابن عيينہ سے روايت کرتے ہيں ۔ پھر تينوں (سلسلوں کے تين آخری راوی) يعنی شعيب يونس اور سفيان زہری کے واسطے سے سالم سے راوی ہيں ۔ اور مسلم يحيی ابن يحيی سے۔ اور نسائی قتيبہ سے۔ اور طحاوی ابن وہب سے۔ تينوں مالك سے روايت کرتے ہیں ۔ اور نسائی بطريقہ عبدالرزاق وہ معمر سے وہ موسی ابن عقبہ سے روايت کرتے ہیں اور طحاوی ليث سے روايت کرتے ہیں ۔ اور بيہقی خلافيت میں بطريقہ يزيد ابن ہارون يحیی ابن سعيد سے روايت کرتے ہیں ۔ چاروں (آخری راوی يعني مالک۱ موسی۲ ليث۳ يحيی۴ نافع سے راوی ہیں سالم اور نافع) دونوں عبدالله ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماسے حديث بيان کرتے ہیں ۔ (ت)
حديث۲ معلق بخاری :
ووصلہ البيھقی عن ابن عباس رضی الله تعالی عنھما کان رسول الله صلی الله تعالی علی وسلم يجمع بين صلاۃ الظھر والعصر اذاکان علی ظھر سير بيہقی نے اس کو ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے موصولا ذکر کيا ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجب چلنے والے ہوتے تھے تو ظہر اور عصر کی نماز یں جمع كر ليتے تھے۔
ويجمع بين المغرب والعشاء ۔ وھو عند مسلم واخرين بذکر غزوۃ تبوک ولابن ماجۃ من طريق ابرھيم بن اسمعيل عن عبدالکريم عن مجاھد وسعيد بن جبير وعطاء بن ابی رباح وطاؤس اخبروہ عن ابن عباس رضی الله تعالی عنھما انہ اخبرھم ان رسول الله صلی الله تعالی عليہ وسلم کان يجمع بين المغرب والعشاء فی السفر من غيران يعجلہ شیئ ولايطلبہ عدو ولايخاف شيئا ۔
قلت : ابرھيم ھذا ھو ابن اسمعيل ابن مجمع الانصاری ضعيف۔ وعبدالکريم ان لم يکن ابن مالك الجزری فابن ابی المخارق وھو اضعف واضعف۔ والمعروف حديثہ فی الجمع بالمدينۃ۔ رواہ الشيخان وجماعۃ کماقدمناہ بطرقھا والفاظھا عماقريب۔
اسی طرح مغرب وعشاء بھی جمع کرليتے تھے يہ روايت مسلم اور ديگر محدثين کے نزديك غزوہ تبوك کے تذکرے سے متعلق ہے۔ اور ابن ماجہ بطريقہ ابراہيم بن اسمعيل راوی ہیں ۔ کہ عبدالکريم کو مجاہد سعيد ابن جبير عطاء ابن ابی رباح اور طاؤس نے خبر دی ہے کہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہانے ان کو بتايا ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسفر ميں مغرب عشاء جمع کرليتے تھے حالانکہ نہ آپ کو جلدی ہوتی تھی نہ دشمن تعاقب ميں ہوتا تھا اور نہ کسی اور چيز کا خوف ہوتا تھا۔
قلت (ميں نے کہا) : يہ وہی ابن اسمعيل ابن مجمع انصاری ہے جو ضعيف ہے۔ اور عبدالکريم اگر ابن مالك جزری نہيں ہے تو ابن ابی المحارق ہوگا اور وہ بہت ضعيف اور بہت ہی ضعيف ہے۔ ابن عباس کی جو حديث معروف ہے وہ مدينہ ميں جمع کرنے کی ہے (نہ کہ سفر ميں ) اس کو بخاری مسلم اور محدثين کی ايك جماعت نے روايت کيا ہے۔ جيسا کہ تھوڑا ہی پہلے ہم اس کے تمام طريقے اور الفاظ بيان کرآئے ہيں ۔ (ت)
وحديث۳ بخاری تعليقا ووصلا وطحاوی وصلا :
عن انس رضی الله تعالی عنہ ان رسول الله صلی الله تعالی عليہ وسلم کان يجمع بين ھاتين الصلاتين فی السفر يعنی المغرب والعشاء ۔
انس رضی اللہ تعالی عنہسے روايت ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمان دو۲ نمازوں کو سفر ميں جمع کرتے تھے يعنی مغرب اور عشاء کو۔ (ت)
قلت : ابرھيم ھذا ھو ابن اسمعيل ابن مجمع الانصاری ضعيف۔ وعبدالکريم ان لم يکن ابن مالك الجزری فابن ابی المخارق وھو اضعف واضعف۔ والمعروف حديثہ فی الجمع بالمدينۃ۔ رواہ الشيخان وجماعۃ کماقدمناہ بطرقھا والفاظھا عماقريب۔
اسی طرح مغرب وعشاء بھی جمع کرليتے تھے يہ روايت مسلم اور ديگر محدثين کے نزديك غزوہ تبوك کے تذکرے سے متعلق ہے۔ اور ابن ماجہ بطريقہ ابراہيم بن اسمعيل راوی ہیں ۔ کہ عبدالکريم کو مجاہد سعيد ابن جبير عطاء ابن ابی رباح اور طاؤس نے خبر دی ہے کہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہانے ان کو بتايا ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسفر ميں مغرب عشاء جمع کرليتے تھے حالانکہ نہ آپ کو جلدی ہوتی تھی نہ دشمن تعاقب ميں ہوتا تھا اور نہ کسی اور چيز کا خوف ہوتا تھا۔
قلت (ميں نے کہا) : يہ وہی ابن اسمعيل ابن مجمع انصاری ہے جو ضعيف ہے۔ اور عبدالکريم اگر ابن مالك جزری نہيں ہے تو ابن ابی المحارق ہوگا اور وہ بہت ضعيف اور بہت ہی ضعيف ہے۔ ابن عباس کی جو حديث معروف ہے وہ مدينہ ميں جمع کرنے کی ہے (نہ کہ سفر ميں ) اس کو بخاری مسلم اور محدثين کی ايك جماعت نے روايت کيا ہے۔ جيسا کہ تھوڑا ہی پہلے ہم اس کے تمام طريقے اور الفاظ بيان کرآئے ہيں ۔ (ت)
وحديث۳ بخاری تعليقا ووصلا وطحاوی وصلا :
عن انس رضی الله تعالی عنہ ان رسول الله صلی الله تعالی عليہ وسلم کان يجمع بين ھاتين الصلاتين فی السفر يعنی المغرب والعشاء ۔
انس رضی اللہ تعالی عنہسے روايت ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمان دو۲ نمازوں کو سفر ميں جمع کرتے تھے يعنی مغرب اور عشاء کو۔ (ت)
حوالہ / References
صحيح البخاری باب الجمع فی السفر بين المغرب والعشاء مطبوعہ قديمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۹
سنن ابن ماجہ باب الجمع بين الصلٰوتين الخ مطبوعہ ايچ ايم سعيد کمپنی کراچی ۱ / ۷۶
شرح معانی الآثار باب الجمع بين الصلٰوتين الخ ، مطبوعہ ايچ ايم سعيد کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۱
سنن ابن ماجہ باب الجمع بين الصلٰوتين الخ مطبوعہ ايچ ايم سعيد کمپنی کراچی ۱ / ۷۶
شرح معانی الآثار باب الجمع بين الصلٰوتين الخ ، مطبوعہ ايچ ايم سعيد کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۱
وحديث۴ مالك وشافعی ودارمی ومسلم وابوداؤد وترمذی ونسائی وابن ماجہ وطحاوی مطولا ومختصرا عن عامر بن واثلۃ ابی الطفيل عن معاذ بن جبل رضی الله تعالی عنہم قال : جمع رسول الله صلی الله تعالی عليہ وسلم فی غزوۃ تبوك بين الظھر والعصر وبين المغرب والعشاء قال : فقلت ماحملہ علی ذلک قال فقال : ارادان لايحرج امتہ ۔
ھذا لفظ مسلم فی الصلاۃ ومثلہ للطحاوی وعند الترمذی صدرہ فقط وھو احد لفظی الطحاوی ولمالك ومن طريقہ عند مسلم فی الفضائل خرجنا مع رسول الله صلی الله تعالی عليہ وسلم عام غزوۃ تبوک فکان يجمع الصلاۃ فصلی الظھر والعصر جميعا والمغرب والعشاء جميعا حتی اذاکان يوما اخر الصلاۃ ثم خرج فصلی الظھر والعصر جميعا ثم دخل ثم خرج بعد ذلک فصلی المغرب والعشاء جميعا الحديث بطولہ وھو بھذا القدر من دون زيادۃ عبدالباقين۔
عامر ابن واثلہ ابوالطفيل معاذ ابن جبل رضی اللہ تعالی عنہسے روايت کرتے ہيں کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے غزوہ تبوك ميں ظہر وعصر اور مغرب وعشا کو جمع کيا تھا۔ واثلہ نے کہا کہ ميں نے پوچھا : “ اس کی وجہ کيا تھی “ تو معاذ رضی اللہ تعالی عنہنے جواب ديا کہ آپ يہ چاہتے تھے کہ آپ کی امت کو کوئی تنگی نہ ہو۔ (ت)
يہ مسلم کے الفاظ ہيں کتاب الصلوۃ ميں اور طحاوی نے بھی يونہی روايت کی ہے۔ ترمذی ميں صرف اس کا ابتدائی حصہ ہے اور طحاوی کی ايك روايت بھی صرف ابتدائی حصے پر مشتمل ہے۔ مالك کے ہاں اور انہی کے طريقے سے مسلم کے ہاں روايت ہے کہ غزوہ تبوك کے سال ہم رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ساتھ نکلے تو آپ نمازوں کو جمع کياکرتے تھے چنانچہ آپ نے ظہر وعصر کو ملاکر پڑھا اور مغرب وعشا کو ملاکر پڑھا حتی کہ ايك روز آپ نے نماز کو مؤخر کيا پھر تشريف لائے تو ظہر وعصر کو ملاکر پڑھا۔ پھر اندر تشريف لے گئے پھر باہر جلوہ افروز ہوئے اور مغرب وعشاء کو ملاکر پڑھا۔ مالك اور مسلم نے اس حديث کو آخر تك پوری طوالت سے ذکر کيا ہے۔ مگر ديگر محدثين کے ہاں اسی قدر ہے۔ اس سے زائد نہيں ہے۔ (ت)
وحديث۵ مالك مرسلا ومسندا :
من طريق داؤد بن الحصين عن الاعرج
بطريقہ داؤد ابن حصين اعرج سے وہ ابوھريرہ
ھذا لفظ مسلم فی الصلاۃ ومثلہ للطحاوی وعند الترمذی صدرہ فقط وھو احد لفظی الطحاوی ولمالك ومن طريقہ عند مسلم فی الفضائل خرجنا مع رسول الله صلی الله تعالی عليہ وسلم عام غزوۃ تبوک فکان يجمع الصلاۃ فصلی الظھر والعصر جميعا والمغرب والعشاء جميعا حتی اذاکان يوما اخر الصلاۃ ثم خرج فصلی الظھر والعصر جميعا ثم دخل ثم خرج بعد ذلک فصلی المغرب والعشاء جميعا الحديث بطولہ وھو بھذا القدر من دون زيادۃ عبدالباقين۔
عامر ابن واثلہ ابوالطفيل معاذ ابن جبل رضی اللہ تعالی عنہسے روايت کرتے ہيں کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے غزوہ تبوك ميں ظہر وعصر اور مغرب وعشا کو جمع کيا تھا۔ واثلہ نے کہا کہ ميں نے پوچھا : “ اس کی وجہ کيا تھی “ تو معاذ رضی اللہ تعالی عنہنے جواب ديا کہ آپ يہ چاہتے تھے کہ آپ کی امت کو کوئی تنگی نہ ہو۔ (ت)
يہ مسلم کے الفاظ ہيں کتاب الصلوۃ ميں اور طحاوی نے بھی يونہی روايت کی ہے۔ ترمذی ميں صرف اس کا ابتدائی حصہ ہے اور طحاوی کی ايك روايت بھی صرف ابتدائی حصے پر مشتمل ہے۔ مالك کے ہاں اور انہی کے طريقے سے مسلم کے ہاں روايت ہے کہ غزوہ تبوك کے سال ہم رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ساتھ نکلے تو آپ نمازوں کو جمع کياکرتے تھے چنانچہ آپ نے ظہر وعصر کو ملاکر پڑھا اور مغرب وعشا کو ملاکر پڑھا حتی کہ ايك روز آپ نے نماز کو مؤخر کيا پھر تشريف لائے تو ظہر وعصر کو ملاکر پڑھا۔ پھر اندر تشريف لے گئے پھر باہر جلوہ افروز ہوئے اور مغرب وعشاء کو ملاکر پڑھا۔ مالك اور مسلم نے اس حديث کو آخر تك پوری طوالت سے ذکر کيا ہے۔ مگر ديگر محدثين کے ہاں اسی قدر ہے۔ اس سے زائد نہيں ہے۔ (ت)
وحديث۵ مالك مرسلا ومسندا :
من طريق داؤد بن الحصين عن الاعرج
بطريقہ داؤد ابن حصين اعرج سے وہ ابوھريرہ
حوالہ / References
الصحيح لمسلم باب جواز الجمع بين الصلٰوتين فی السفر مطبوعہ قديمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۴۶
الصحيح لمسلم باب فی معجزات النبی صلی اللہ تعالٰی عليہ وسلم من کتاب الفضائل مطبوعہ قديمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۲۴۶
الصحيح لمسلم باب فی معجزات النبی صلی اللہ تعالٰی عليہ وسلم من کتاب الفضائل مطبوعہ قديمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۲۴۶
عن ابی ھريرۃ رضی الله تعالی عنہ ان رسول الله صلی الله تعالی عليہ وسلم کان يجمع بين الظھر والعصر فی سفرہ الی تبوك ۔ ھکذا روی عن يحيی مسندا وھو عند محمد وجمھور رواۃ المؤطا عن عبدالرحمن بن ھرمز مرسلا۔ وعبد الرحمن ھوالاعرج۔ و ھو عندا لبزار عن عطاء بن يسار عن ابی ھريرۃ عن النبی صلی الله تعالی عليہ وسلم کان يجمع بين الصلاتين فی السفر ۔
وحديث(۶) : احمد وابن شبۃ بطريق حجاج ابن ارطاۃ مختلف فيہ عن عمروبن شعيب عن ابيہ عن جدہ وھو عبدالله بن عمروبن العاص رضی الله تعالی عنھما قال : جمع رسول الله صلی الله تعالی عليہ وسلم بين الصلاتين فی غزوہ بنی المصطلق ۔ وحديث۷ ترمذی فی کتاب العلل :
حدثنا ابوالسائب عن الجريری عن ابی عثمن عن اسامۃ بن زيد رضی الله تعالی عنھما قال : کان رسول الله صلی الله تعالی عليہ وسلم اذاجدبہ السير جمع بين الظھر والعصر والمغرب والعشاء قال الترمذی : سألت محمدا يعنی البخاری عن ھذا الحديث فقال : الصحيح ھو موقوف عن اسامۃ بن زيد ۔
رضی اللہ تعالی عنہسے راوی ہيں کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسفر تبوك کے دوران ظہر وعصر کو جمع کيا کرتے تھے۔ (ت)يہ حديث يحيی سے بھی اسی طرح مسندا مروی ہے مگر محمد اور مؤطا کے اکثر راوی اس کو عبدالرحمن ابن ہرمز سے مرسلا روايت کرتے ہيں اور عبدالرحمن وہی اعرج ہے۔ اور بزار کے ہاں عطاء ابن يسار ابوہريرہ سے روايت کرتے ہيں کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسفر ميں دو۲ نمازوں کو جمع کرتے تھے۔ (ت)احمد اور ابن ابی شيبہ بطريقہ حجاج ابن ارطاۃ جو مختلف فيہ ہے عمرو ابن شعيب سے وہ اپنے باپ سے وہ اس کے دادا سے يعنی عبدالله ابن عمرو ابن عاص رضی اللہ تعالی عنہماسے روايت کرتے ہيں کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے غزوہ بنی مصطلق ميں دو۲ نمازوں کو جمع کيا۔ (ت)حديث بيان کی ہم سے ابوالسائب نے جريری سے اس نے ابوعثمان سے اس نے اسامہ ابن زيد رضی اللہ تعالی عنہماسے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ
وحديث(۶) : احمد وابن شبۃ بطريق حجاج ابن ارطاۃ مختلف فيہ عن عمروبن شعيب عن ابيہ عن جدہ وھو عبدالله بن عمروبن العاص رضی الله تعالی عنھما قال : جمع رسول الله صلی الله تعالی عليہ وسلم بين الصلاتين فی غزوہ بنی المصطلق ۔ وحديث۷ ترمذی فی کتاب العلل :
حدثنا ابوالسائب عن الجريری عن ابی عثمن عن اسامۃ بن زيد رضی الله تعالی عنھما قال : کان رسول الله صلی الله تعالی عليہ وسلم اذاجدبہ السير جمع بين الظھر والعصر والمغرب والعشاء قال الترمذی : سألت محمدا يعنی البخاری عن ھذا الحديث فقال : الصحيح ھو موقوف عن اسامۃ بن زيد ۔
رضی اللہ تعالی عنہسے راوی ہيں کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسفر تبوك کے دوران ظہر وعصر کو جمع کيا کرتے تھے۔ (ت)يہ حديث يحيی سے بھی اسی طرح مسندا مروی ہے مگر محمد اور مؤطا کے اکثر راوی اس کو عبدالرحمن ابن ہرمز سے مرسلا روايت کرتے ہيں اور عبدالرحمن وہی اعرج ہے۔ اور بزار کے ہاں عطاء ابن يسار ابوہريرہ سے روايت کرتے ہيں کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسفر ميں دو۲ نمازوں کو جمع کرتے تھے۔ (ت)احمد اور ابن ابی شيبہ بطريقہ حجاج ابن ارطاۃ جو مختلف فيہ ہے عمرو ابن شعيب سے وہ اپنے باپ سے وہ اس کے دادا سے يعنی عبدالله ابن عمرو ابن عاص رضی اللہ تعالی عنہماسے روايت کرتے ہيں کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے غزوہ بنی مصطلق ميں دو۲ نمازوں کو جمع کيا۔ (ت)حديث بيان کی ہم سے ابوالسائب نے جريری سے اس نے ابوعثمان سے اس نے اسامہ ابن زيد رضی اللہ تعالی عنہماسے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ
حوالہ / References
مؤطا امام مالك الجمع بين الصلٰوتين الخ مطبوعہ مير محمد کتب خانہ کراچی ص۲۵۔ ۱۲۴
کشف الاستار عن زوائد البزار باب الجمع بين الصلٰوتين مطبوعہ مؤسۃ الرسالۃ بيروت ۱ / ۳۳۰
المصنّف لابن ابی شيبہ باب الجمع بين الصلٰوتين مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلاميہ کراچی ۲ / ۴۵۸
عمدۃ القاری شرح بخاری باب الجمع فی السفر بين المغرب والعشاء مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنيريہ بيروت ۷ / ۱۴۹
نوٹ : يہ حوالہ مجھے ترمذی کی کتاب العلل ميں نہيں مل سکا اور بڑی کوشش سے عمدۃ القاری سے مِلا ہے۔ نذير احمد سعيدی
کشف الاستار عن زوائد البزار باب الجمع بين الصلٰوتين مطبوعہ مؤسۃ الرسالۃ بيروت ۱ / ۳۳۰
المصنّف لابن ابی شيبہ باب الجمع بين الصلٰوتين مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلاميہ کراچی ۲ / ۴۵۸
عمدۃ القاری شرح بخاری باب الجمع فی السفر بين المغرب والعشاء مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنيريہ بيروت ۷ / ۱۴۹
نوٹ : يہ حوالہ مجھے ترمذی کی کتاب العلل ميں نہيں مل سکا اور بڑی کوشش سے عمدۃ القاری سے مِلا ہے۔ نذير احمد سعيدی
والہ وسلم کو جب چلنے ميں جلدی ہوتی تھی تو ظہر وعصر اور مغرب وعشا کو جمع کرتے تھے۔ ترمذی نے کہا کہ ميں نے محمد يعنی بخاری سے اس حديث کے بارے ميں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ صحيح يہ ہے کہ اسامہ ابن زيد پر موقوف ہے۔ (ت)
وحديث۸ : احمد بطريق ابن لھيعۃ عن ابن الزبير قال : سألت جابرا رضی الله تعالی عنہ ھل جمع رسول الله صلی الله تعالی عليہ وسلم بين المغرب والعشاء قال : نعم عام غزونا بنی المصطلق ۔ وحديث۹ ابن ابی شيبہ وابوجعفر طحاوی :
اما الاول فبطريق ابن ابی ليلی عن ھذيل واما الاخر فعن ابی قيس الاودی عن ھذيل بن شرجيل عن عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ ان النبی صلی الله تعالی عليہ وسلم جمع ولفظ الاخر کان يجمع بين الصلاتين فی السفر ۔ وللطبرانی فی معجميہ الکبير والاوسط عنہ رضی الله تعالی عنہ قال : جمع رسول الله صلی الله تعالی عليہ وسلم بين الظھر والعصر والمغرب والعشاء فقيل لہ فی ذلک فقال : صنعت ذلك لئلا تحرج امتی ۔
احمد بطريقہ ابن لہيعہ ابوالزبیر سے راوی ہيں کہ ميں نے جابر رضی اللہ تعالی عنہسے پوچھا : “ کيا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے کبھی مغرب وعشاء کو جمع کيا تھا انہوں نے جواب ديا : ہاں جس سال ہم غزوہ بنی مصطلق کے لئے گئے تھے “ ۔ (ت) پہلے (يعنی ابن ابی شيبہ) بطريقہ ابن ابی ليلی ہذ یل سے اور دوسرے (يعنی طحاوی) ابوقيس اودی ہے وہ ہذيل ابن شرجيل سے وہ عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے روايت کرتے
ہيں کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے سفر کے دوران جمع کيا طحاوی کے الفاظ يوں ہيں : “ جمع کيا کرتے تھے دو نمازوں کو سفر کے دوران “ (ت)
اور طبرانی نے اپنی دونوں معجموں يعنی کبير اور اوسط ميں عبدالله ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی۔ کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ظہر وعصر
وحديث۸ : احمد بطريق ابن لھيعۃ عن ابن الزبير قال : سألت جابرا رضی الله تعالی عنہ ھل جمع رسول الله صلی الله تعالی عليہ وسلم بين المغرب والعشاء قال : نعم عام غزونا بنی المصطلق ۔ وحديث۹ ابن ابی شيبہ وابوجعفر طحاوی :
اما الاول فبطريق ابن ابی ليلی عن ھذيل واما الاخر فعن ابی قيس الاودی عن ھذيل بن شرجيل عن عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ ان النبی صلی الله تعالی عليہ وسلم جمع ولفظ الاخر کان يجمع بين الصلاتين فی السفر ۔ وللطبرانی فی معجميہ الکبير والاوسط عنہ رضی الله تعالی عنہ قال : جمع رسول الله صلی الله تعالی عليہ وسلم بين الظھر والعصر والمغرب والعشاء فقيل لہ فی ذلک فقال : صنعت ذلك لئلا تحرج امتی ۔
احمد بطريقہ ابن لہيعہ ابوالزبیر سے راوی ہيں کہ ميں نے جابر رضی اللہ تعالی عنہسے پوچھا : “ کيا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے کبھی مغرب وعشاء کو جمع کيا تھا انہوں نے جواب ديا : ہاں جس سال ہم غزوہ بنی مصطلق کے لئے گئے تھے “ ۔ (ت) پہلے (يعنی ابن ابی شيبہ) بطريقہ ابن ابی ليلی ہذ یل سے اور دوسرے (يعنی طحاوی) ابوقيس اودی ہے وہ ہذيل ابن شرجيل سے وہ عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے روايت کرتے
ہيں کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے سفر کے دوران جمع کيا طحاوی کے الفاظ يوں ہيں : “ جمع کيا کرتے تھے دو نمازوں کو سفر کے دوران “ (ت)
اور طبرانی نے اپنی دونوں معجموں يعنی کبير اور اوسط ميں عبدالله ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی۔ کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ظہر وعصر
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل از مسند جابر بن عبداللہ مطبوعہ دارالفکر بيروت لبنان ۳ / ۳۴۸
مصنّف ابن ابی شيبہ من قال يجمع المسافر بين الصلٰوتين مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۴۵۸
المعمجم الکبير للطبرانی حديث ۱۰۵۲۵ مطبوعہ المکتبۃ الفيصليہ بيروت ۱۰ / ۲۶۹
مصنّف ابن ابی شيبہ من قال يجمع المسافر بين الصلٰوتين مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۴۵۸
المعمجم الکبير للطبرانی حديث ۱۰۵۲۵ مطبوعہ المکتبۃ الفيصليہ بيروت ۱۰ / ۲۶۹
اور مغرب اور عشاء کو جمع کیا تو آپ سے اس بارے میں پوچھا گیا آپ نے جواب دیا کہ میں نے اس طرح اس لئے کیا ہے تاکہ میری امت پر کوئی تنگی نہ ہو۔ (ت)
وحديث۱۰
طبرانی فی المعجم الاوسط عن عطاعن ابن عباس رضی الله تعالی عنہ ان النبی صلی الله تعالی عليہ وسلم کان يجمع بين الصلاتين فی السفر ۔ وحديث۱۱ مرسل وبلاغ مالک :
انہ بلغہ عن علی بن حسين ھو ابن علی رضی الله تعالی عنھم انہ کان يقول : کان رسول الله صلی الله تعالی عليہ وسلم اذااراد ان يسير يومہ جمع بين الظھر والعصر واذا ارادان يسيرليلہ جمع بين المغرب والعشاء ۔
(قدیم میں یہ روایت ابی سعید الخدری رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہے اورترجمہ قدیم ہی کے مطابق کیا گیا ہے)
طبرانی معجم اوسط ميں ابونضرہ سے وہ ابو سعيد خدری رضی اللہ تعالی عنہسے روايت کرتے ہيں کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسفر ميں دو۲ نمازوں کو جمع کيا کرتے تھے۔ (ت)
مالك کو علی ابن حسين ابن علی رضی اللہ تعالی عنہمسے يہ بات پہنچی ہے کہ وہ کہا کرتے تھے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجب دن کو سفر کرنا چاہتے تھے تو ظہر وعصر کو جمع کرليتے تھے اور جب رات کو سفر کرنا چاہتے تھے تو مغرب وعشاء کو جمع کرليتے تھے۔ (ت)
ولہذا سيدنا امام محمد رضی اللہ تعالی عنہمؤطا شريف ميں حديث پنجم روايت کرکے فرماتے ہيں :
بھذا ناخذ والجمع بين الصلاتين ان تؤخر الاولی منھما فتصلی فی اخر وقتھا وتعجل الثانيۃ فتصلی فی اول وقتھا وتعجل الثانيۃ فتصلی فی اول وقتھا ۔
ہم اسی کو اختيار کرتے ہيں اور جمع بين الصلاتين کا طريقہ يہ ہے کہ پہلی کو مؤخر کرکے آخر وقت ميں پڑھا جائے اور دوسری کو جلدی کرکے اول وقت ميں ۔ (ت)
يعنی جو اس حديث ميں آياکہ سےيد عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسفر تبوك ميں ظہر وعصر جمع فرماتے ہم
وحديث۱۰
طبرانی فی المعجم الاوسط عن عطاعن ابن عباس رضی الله تعالی عنہ ان النبی صلی الله تعالی عليہ وسلم کان يجمع بين الصلاتين فی السفر ۔ وحديث۱۱ مرسل وبلاغ مالک :
انہ بلغہ عن علی بن حسين ھو ابن علی رضی الله تعالی عنھم انہ کان يقول : کان رسول الله صلی الله تعالی عليہ وسلم اذااراد ان يسير يومہ جمع بين الظھر والعصر واذا ارادان يسيرليلہ جمع بين المغرب والعشاء ۔
(قدیم میں یہ روایت ابی سعید الخدری رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہے اورترجمہ قدیم ہی کے مطابق کیا گیا ہے)
طبرانی معجم اوسط ميں ابونضرہ سے وہ ابو سعيد خدری رضی اللہ تعالی عنہسے روايت کرتے ہيں کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسفر ميں دو۲ نمازوں کو جمع کيا کرتے تھے۔ (ت)
مالك کو علی ابن حسين ابن علی رضی اللہ تعالی عنہمسے يہ بات پہنچی ہے کہ وہ کہا کرتے تھے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجب دن کو سفر کرنا چاہتے تھے تو ظہر وعصر کو جمع کرليتے تھے اور جب رات کو سفر کرنا چاہتے تھے تو مغرب وعشاء کو جمع کرليتے تھے۔ (ت)
ولہذا سيدنا امام محمد رضی اللہ تعالی عنہمؤطا شريف ميں حديث پنجم روايت کرکے فرماتے ہيں :
بھذا ناخذ والجمع بين الصلاتين ان تؤخر الاولی منھما فتصلی فی اخر وقتھا وتعجل الثانيۃ فتصلی فی اول وقتھا وتعجل الثانيۃ فتصلی فی اول وقتھا ۔
ہم اسی کو اختيار کرتے ہيں اور جمع بين الصلاتين کا طريقہ يہ ہے کہ پہلی کو مؤخر کرکے آخر وقت ميں پڑھا جائے اور دوسری کو جلدی کرکے اول وقت ميں ۔ (ت)
يعنی جو اس حديث ميں آياکہ سےيد عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسفر تبوك ميں ظہر وعصر جمع فرماتے ہم
حوالہ / References
معجم اوسط حديث نمبر ۵۵۵۸ مکتب المعارف رياض ۶ / ۲۶۲
مؤطا امام مالك جمع بين الصلاتين مير محمد کتب خانہ کراچی ص ۱۲۶
مؤطا امام محمد باب الجمع بين الصلاتين فی السفر والمطر مطبوعہ آفتاب عالم پريس لاہور ص۱۳۱
مؤطا امام مالك جمع بين الصلاتين مير محمد کتب خانہ کراچی ص ۱۲۶
مؤطا امام محمد باب الجمع بين الصلاتين فی السفر والمطر مطبوعہ آفتاب عالم پريس لاہور ص۱۳۱
اسی کو اختيار کرتے ہيں اور جمع کے معنی جمع صوری ہيں ۔ ملاجی تو ايك ہوشيار ان احاديث اور ان کے امثال کو محتمل وبے سود سمجھ کر خود بھی زبان پر نہ لائے اور اغوائے عوام کےلئے يوں گول اور پردہ کہہ گئے ف کہ جمع بين الصلاتين فی سفر صحح اور ثابت ہے رسول الله سے بروايت جماعت عظيمہ کے صحابہ کبار سے۔
پھر پندرہ ۱۵ صحابہ کرام کے اسمائے طيبہ گناکر خود ہی کہا لاکن مجموعہ روايات ميں بعض ايسی ہيں کہ ان ميں فقط جمع کرنا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا دو نمازوں کو بےان کيا ہے کيفيت جمع کی بيان نہيں کی پس حنفی لوگ ان حديثوں ميں يہ تاويل کرتے ہيں کہ مراد اس سے جمع صوری ہے اسی لئے وہ حديثيں جن ميں تاويل کو مخالف کی دخل نہيں ذکر کرتے ہيں تو مصنفين بافہم ان حديثوں مجمل الکيفيۃ کو بھی انہيں احاديث مبينۃ الکيفيۃ پر محمول سمجھیں اھ ملخصا۔
اقول : بالفرض اگر جمع صوری ثابت نہ ہوتی تاہم محتمل تھی اور احتمال قاطع استدلال نہ کہ جب آفتاب کی طرح روشن دلیلوں سے جمع صوری کا احاديث صحيحہ سے ثبوت ظاہر تو اب براہ تلبيس پندرہ۱۵ صحابہ کی روايت سے اپنے مطلب کا ثبوت صحيح بتانا اور جابجا عوام کو دہشت دلانے کےلئے کہيں چودہ کہيں پندرہ سنانا کيا مقتضائے ملائيت ہے اب تو ملاجی کی تحرير خود ان پر بازگشتی تير ہوئی کہ جب احاديث صحيحہ صريحہ سے جمع صوری ثابت تو منصفين بافہم ان حديثوں مجمل الکيفيۃ کو بھی انہيں احاديث مبينۃ الکيفيۃ پر محمول سمجھيں رہے وہ صحابہ جن کی روايات اپنے زعم ميں صريح سمجھ کر لائے اور نص مفسر ناقابل تاويل کہتے ناظرين نقاد کا خوف نہ لائے وہ صرف چار ہيں دو جمع تقديم دو جمع تاخير ميں ان روايات کا حال بھی عنقريب ان شاء الله القريب المجيب کھلاجاتا ہے اس وقت ظاہر ہوگا کہ دعوی کردينا آسان ہے مگر ثبوت ديتي تين ہاتھ پيراتا ہے ولله الحجۃ الساميہ۔
فصل دوم ابطال دلائل جمع تقدیم:
واضح ہوکہ جمع تقديم غايت درجہ ضعف وسقوط ميں ہے حتی کہ بہت علمائے شافعيہ ومالکيہ تك معترف ہيں کہ اس کے باب ميں کوئی حديث صحيح نہ ہوئی مگر ملاجی اپنی ملائیت کے بھروسے بيڑا اٹھا کر چلے ہيں کہ اسے احاديث صحيحہ صريحہ مفسرہ قاطعہ سے ثابت کر دکھائيں گے
چلاتو ہے وہ بت سيمتن شب وعدہ
اگر حجاب نہ روکے حيانہ ياد آئے
جمع تقديم وتاخير دونوں کی نسبت حضرت کے يہی دعوے ہيں ابھی سن چکے کہ وہ حديثيں جن ميں تاويل کو مخالف کی دخل نہيں
عـــہ صلی الله تعالی عليہ وعلی الہ واصحابہ وبارك وسلم ۱۲منہ ف معيارالحق ص ۳۶۶
پھر پندرہ ۱۵ صحابہ کرام کے اسمائے طيبہ گناکر خود ہی کہا لاکن مجموعہ روايات ميں بعض ايسی ہيں کہ ان ميں فقط جمع کرنا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا دو نمازوں کو بےان کيا ہے کيفيت جمع کی بيان نہيں کی پس حنفی لوگ ان حديثوں ميں يہ تاويل کرتے ہيں کہ مراد اس سے جمع صوری ہے اسی لئے وہ حديثيں جن ميں تاويل کو مخالف کی دخل نہيں ذکر کرتے ہيں تو مصنفين بافہم ان حديثوں مجمل الکيفيۃ کو بھی انہيں احاديث مبينۃ الکيفيۃ پر محمول سمجھیں اھ ملخصا۔
اقول : بالفرض اگر جمع صوری ثابت نہ ہوتی تاہم محتمل تھی اور احتمال قاطع استدلال نہ کہ جب آفتاب کی طرح روشن دلیلوں سے جمع صوری کا احاديث صحيحہ سے ثبوت ظاہر تو اب براہ تلبيس پندرہ۱۵ صحابہ کی روايت سے اپنے مطلب کا ثبوت صحيح بتانا اور جابجا عوام کو دہشت دلانے کےلئے کہيں چودہ کہيں پندرہ سنانا کيا مقتضائے ملائيت ہے اب تو ملاجی کی تحرير خود ان پر بازگشتی تير ہوئی کہ جب احاديث صحيحہ صريحہ سے جمع صوری ثابت تو منصفين بافہم ان حديثوں مجمل الکيفيۃ کو بھی انہيں احاديث مبينۃ الکيفيۃ پر محمول سمجھيں رہے وہ صحابہ جن کی روايات اپنے زعم ميں صريح سمجھ کر لائے اور نص مفسر ناقابل تاويل کہتے ناظرين نقاد کا خوف نہ لائے وہ صرف چار ہيں دو جمع تقديم دو جمع تاخير ميں ان روايات کا حال بھی عنقريب ان شاء الله القريب المجيب کھلاجاتا ہے اس وقت ظاہر ہوگا کہ دعوی کردينا آسان ہے مگر ثبوت ديتي تين ہاتھ پيراتا ہے ولله الحجۃ الساميہ۔
فصل دوم ابطال دلائل جمع تقدیم:
واضح ہوکہ جمع تقديم غايت درجہ ضعف وسقوط ميں ہے حتی کہ بہت علمائے شافعيہ ومالکيہ تك معترف ہيں کہ اس کے باب ميں کوئی حديث صحيح نہ ہوئی مگر ملاجی اپنی ملائیت کے بھروسے بيڑا اٹھا کر چلے ہيں کہ اسے احاديث صحيحہ صريحہ مفسرہ قاطعہ سے ثابت کر دکھائيں گے
چلاتو ہے وہ بت سيمتن شب وعدہ
اگر حجاب نہ روکے حيانہ ياد آئے
جمع تقديم وتاخير دونوں کی نسبت حضرت کے يہی دعوے ہيں ابھی سن چکے کہ وہ حديثيں جن ميں تاويل کو مخالف کی دخل نہيں
عـــہ صلی الله تعالی عليہ وعلی الہ واصحابہ وبارك وسلم ۱۲منہ ف معيارالحق ص ۳۶۶
پھر بعد ذکر احاديث ف۱ فرمايا يہ ہيں دلائل ہمارے جواز جمع پر جن ميں کسی طرح عذر اور تاويل اور جرح اور قدح کو دخل نہيں ۔ آخر کتاب ميں فرمايا ف۲ : نصوص قاطعہ تاويل۔ اس سے اوپر لکھا : احاديث ف۳ صحاح جو جمع بين الصلاتين پر قطعا اور يقينا دلالت کرتی ہيں ۔
بہت اچھا ہم بھی مشتاق ہيں مگر بے حاصل
بہت شور سنتے تھے پہلو ميں دل کا
جو چپراتو اك قطرہ خوں نہ نکلا
حضرت بکمال عرقريزی دو۲ حديثيں تلاش کرکے لائے وہ بھی ثمرہ نظر شريف نہيں بلکہ مقلدين شافعيہ کی تقليد جامد سے۔
حديث اول : بعض طرق حديث سيدنا معاذ ابن جبل رضی اللہ تعالی عنہاس جناب سے روايت صحيحہ معروفہ مشہورہ مرويہ کبار ائمہ تو وہ تھی جو ان احاديث مجملہ سے حديث چہارم ميں گزری جس ميں سوا جمع کے کوئی کيفيت مخصوصہ مذکور نہ تھی جماہےر ائمہ وحفاظ نے اسے يوں ہی روايت کيا۔
رواہ عن ابی الزبير عن ابی الطفيل عن معاذ جماعۃ من الحفاظ منھم سفين الثوری وقرۃ بن خالد ومالك بن انس واخرون اماسفين فعند ابن ماجۃ واماقرۃ فعنہ خالد بن الحارث عند مسلم وعبدالرحمن بن مھدی عندالطحاوی وامامالك فعنہ الشافعی فی مسندہ وابن وھب عندالطحاوی وابوالقاسم عندالنسائی وابوعلی الحنفی عندالدارمی وعن الدارمی مسلم فی صحيحہ۔
اس حديث کو ابوالزبير سے اس نے ابوالطفيل سے اس نے معاذ رضی اللہ تعالی عنہسے حفاظ کی ايك جماعت نے روايت کيا ہے جن ميں سفيان ثوری قرۃ ابن خالد مالك بن انس اور ديگر محدثين شامل ہيں ۔ سفيان ثوری کی روايت ابن ماجہ کے ہاں ہے۔ قرۃ ابن خالد سے خالد ابن حارث نے جو روايت لی ہے وہ مسلم ميں ہے اور جو عبدالرحمان ابن مہدی نے لی ہے وہ طحاوی ميں ہے۔ مالك سے جو روايت شافعی نے لی ہے وہ ان کے مسند ميں ہے۔ جو ابن وہب نے لی ہے وہ طحاوی کے ہاں ہے۔ جو ابوالقاسم نے لی ہے وہ نسائی کے پاس ہے۔ جو ابوعلی حنفی نے لی ہے وہ دارمی کے ہاں ہے اور دارمی سے مسلم نے اپنی صحيح ميں ذکر کی ہے۔ (ت)
يہی اہل علم کے نزديك معروف ہے مگر ايك روايت غريبہ شاذہ بطريق ليث بن سعد عن يزيد بن ابی جيب عن ابی الطفيل يوں آئی : ان النبی صلی الله تعالی عليہ وسلم کان فی غزوۃ تبوک اذا ارتحل قبل ان تزيغ الشمس اخر الظھر حتی يجمعھا الی العصر فيصليھما جميعا واذا ارتحل بعدزيغ الشمس صلی الظھر والعصر جميعا ثم صار وکان اذاارتحل بعد المغرب
ف۱ معيارالحق ص ۳۸۳ ف۲ معيارالحق ص ۴۱۸ ف۳ معيارالحق ص۴۰۳
بہت اچھا ہم بھی مشتاق ہيں مگر بے حاصل
بہت شور سنتے تھے پہلو ميں دل کا
جو چپراتو اك قطرہ خوں نہ نکلا
حضرت بکمال عرقريزی دو۲ حديثيں تلاش کرکے لائے وہ بھی ثمرہ نظر شريف نہيں بلکہ مقلدين شافعيہ کی تقليد جامد سے۔
حديث اول : بعض طرق حديث سيدنا معاذ ابن جبل رضی اللہ تعالی عنہاس جناب سے روايت صحيحہ معروفہ مشہورہ مرويہ کبار ائمہ تو وہ تھی جو ان احاديث مجملہ سے حديث چہارم ميں گزری جس ميں سوا جمع کے کوئی کيفيت مخصوصہ مذکور نہ تھی جماہےر ائمہ وحفاظ نے اسے يوں ہی روايت کيا۔
رواہ عن ابی الزبير عن ابی الطفيل عن معاذ جماعۃ من الحفاظ منھم سفين الثوری وقرۃ بن خالد ومالك بن انس واخرون اماسفين فعند ابن ماجۃ واماقرۃ فعنہ خالد بن الحارث عند مسلم وعبدالرحمن بن مھدی عندالطحاوی وامامالك فعنہ الشافعی فی مسندہ وابن وھب عندالطحاوی وابوالقاسم عندالنسائی وابوعلی الحنفی عندالدارمی وعن الدارمی مسلم فی صحيحہ۔
اس حديث کو ابوالزبير سے اس نے ابوالطفيل سے اس نے معاذ رضی اللہ تعالی عنہسے حفاظ کی ايك جماعت نے روايت کيا ہے جن ميں سفيان ثوری قرۃ ابن خالد مالك بن انس اور ديگر محدثين شامل ہيں ۔ سفيان ثوری کی روايت ابن ماجہ کے ہاں ہے۔ قرۃ ابن خالد سے خالد ابن حارث نے جو روايت لی ہے وہ مسلم ميں ہے اور جو عبدالرحمان ابن مہدی نے لی ہے وہ طحاوی ميں ہے۔ مالك سے جو روايت شافعی نے لی ہے وہ ان کے مسند ميں ہے۔ جو ابن وہب نے لی ہے وہ طحاوی کے ہاں ہے۔ جو ابوالقاسم نے لی ہے وہ نسائی کے پاس ہے۔ جو ابوعلی حنفی نے لی ہے وہ دارمی کے ہاں ہے اور دارمی سے مسلم نے اپنی صحيح ميں ذکر کی ہے۔ (ت)
يہی اہل علم کے نزديك معروف ہے مگر ايك روايت غريبہ شاذہ بطريق ليث بن سعد عن يزيد بن ابی جيب عن ابی الطفيل يوں آئی : ان النبی صلی الله تعالی عليہ وسلم کان فی غزوۃ تبوک اذا ارتحل قبل ان تزيغ الشمس اخر الظھر حتی يجمعھا الی العصر فيصليھما جميعا واذا ارتحل بعدزيغ الشمس صلی الظھر والعصر جميعا ثم صار وکان اذاارتحل بعد المغرب
ف۱ معيارالحق ص ۳۸۳ ف۲ معيارالحق ص ۴۱۸ ف۳ معيارالحق ص۴۰۳
عجل العشاء فصلاھا مع المغرب ۔ رواہ احمد وابو داؤد والترمذی وابن حبان والحاکم والدارقطنی والبیھقی۔ زاد الترمذی بعد قولہ : اذا ارتحل بعدزيغ الشمس عجل العصر الی الظھر وصلی الظھر والعصر جميعا۔ الحديث
يعنی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمغزوہ تبوك ميں جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ فرماتے تو ظہر ميں دير کرتے يہاں تك کہ اسے عصر سے ملاتے تو دونوں کو ساتھ پڑھتے اور جب دوپہر کے بعد کوچ فرماتے تو عصر ميں تعجيل کرتے اور ظہر وعصر ساتھ پڑھتے پھر چلتے اور جب مغرب سے پہلے کوچ کرتے مغرب ميں تاخير فرماتے يہاں تك کہ عشا کے ساتھ پڑھتے اور مغرب کے بعد کوچ فرماتے تو عشا ميں تعجيل کرتے اسے مغرب کے ساتھ پڑھتے۔ امام ترمذی فرماتے ہيں يہ غريب ہے معروف روايت ابی ھريرہ ہے :
حيث قال : حديث الليث عن يزيد بن ابی حبيب عن ابی الطفيل عن معاذ حدیث حديث غریب والمعروف عند اھل العلم حدیث معاذ من حديث ابی الزبير عن ابی الطفيل عن معاذ ان النبی صلی الله تعالی عليہ وسلم جمع فی غزوۃ تبوك بين الظھر والعصر وبين المغرب والعشاء۔ رواۃ قرۃ بن خالد وسفين الثوری ومالك وغير واحد عن ابی الزبير المکی ۔
چنانچہ ترمذی نے کہا کہ وہ حديث جو ليث نے يزيد ابن ابی حبيب سے اس نے ابوالطفيل سے اس نے معاذ سے روايت کی ہے وہ غريب ہے اور اہل علم کے نزديك معروف معاذ کی وہ حديث ہے جو ابوالزبير نے بواسطہ ابوالطفيل معاذ سے روايت کی ہے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے غزوہ تبوك ميں ظہر وعصر اور مغرب وعشاء کو جمع کيا۔ اس کو قرۃ ابن خالد سفيان ثوری مالك اور دوسروں نے ابوالزبير مکی سے روايت کيا ہے۔ (ت)
پھر ائمہ شان مثل ابوداؤد وترمذی وابوسعيد بن يونس فرماتے ہيں اسے سوا قتيبہ بن سعيد کے کسی نے روايت نہ کيا يہاں تك کہ بعض ائمہ نے اس پر غلط ہونے کا حکم فرمايا کمانقلہ الامام البدر في العمدۃ والشوکانی الظاھری فی شرح المنتقی عن الحافظ ابن سعيد بن يونس (جيسا کہ امام بدر نے عمدۃ ميں اور شوکانی الظاہری نے شرح منتقی ميں حافظ ابن سعيد بن يونس سے نقل کيا۔ ت) امام ابوداؤد نے
يعنی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمغزوہ تبوك ميں جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ فرماتے تو ظہر ميں دير کرتے يہاں تك کہ اسے عصر سے ملاتے تو دونوں کو ساتھ پڑھتے اور جب دوپہر کے بعد کوچ فرماتے تو عصر ميں تعجيل کرتے اور ظہر وعصر ساتھ پڑھتے پھر چلتے اور جب مغرب سے پہلے کوچ کرتے مغرب ميں تاخير فرماتے يہاں تك کہ عشا کے ساتھ پڑھتے اور مغرب کے بعد کوچ فرماتے تو عشا ميں تعجيل کرتے اسے مغرب کے ساتھ پڑھتے۔ امام ترمذی فرماتے ہيں يہ غريب ہے معروف روايت ابی ھريرہ ہے :
حيث قال : حديث الليث عن يزيد بن ابی حبيب عن ابی الطفيل عن معاذ حدیث حديث غریب والمعروف عند اھل العلم حدیث معاذ من حديث ابی الزبير عن ابی الطفيل عن معاذ ان النبی صلی الله تعالی عليہ وسلم جمع فی غزوۃ تبوك بين الظھر والعصر وبين المغرب والعشاء۔ رواۃ قرۃ بن خالد وسفين الثوری ومالك وغير واحد عن ابی الزبير المکی ۔
چنانچہ ترمذی نے کہا کہ وہ حديث جو ليث نے يزيد ابن ابی حبيب سے اس نے ابوالطفيل سے اس نے معاذ سے روايت کی ہے وہ غريب ہے اور اہل علم کے نزديك معروف معاذ کی وہ حديث ہے جو ابوالزبير نے بواسطہ ابوالطفيل معاذ سے روايت کی ہے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے غزوہ تبوك ميں ظہر وعصر اور مغرب وعشاء کو جمع کيا۔ اس کو قرۃ ابن خالد سفيان ثوری مالك اور دوسروں نے ابوالزبير مکی سے روايت کيا ہے۔ (ت)
پھر ائمہ شان مثل ابوداؤد وترمذی وابوسعيد بن يونس فرماتے ہيں اسے سوا قتيبہ بن سعيد کے کسی نے روايت نہ کيا يہاں تك کہ بعض ائمہ نے اس پر غلط ہونے کا حکم فرمايا کمانقلہ الامام البدر في العمدۃ والشوکانی الظاھری فی شرح المنتقی عن الحافظ ابن سعيد بن يونس (جيسا کہ امام بدر نے عمدۃ ميں اور شوکانی الظاہری نے شرح منتقی ميں حافظ ابن سعيد بن يونس سے نقل کيا۔ ت) امام ابوداؤد نے
حوالہ / References
سنن ابی داؤد باب الجمع بين الصلٰوتين مطبوعہ مجتبائی لاہور ۱ / ۱۷۲
جامع الترمذی باب ماجاء فی الجمع بين الصلٰوتين مطبوعہ مجتبائی لاہور ۱ / ۷۲
جامع الترمذی باب ماجاء فی الجمع بين الصلٰوتين مطبوعہ مجتبائی لاہور ۱ / ۷۲
نيل الاوطار شرح منتقی الاخبار ابواب الجمع بين الصلٰوتين مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۳ / ۲۴۳
جامع الترمذی باب ماجاء فی الجمع بين الصلٰوتين مطبوعہ مجتبائی لاہور ۱ / ۷۲
جامع الترمذی باب ماجاء فی الجمع بين الصلٰوتين مطبوعہ مجتبائی لاہور ۱ / ۷۲
نيل الاوطار شرح منتقی الاخبار ابواب الجمع بين الصلٰوتين مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۳ / ۲۴۳
منکر کہا کمافی البدر المنير وعنہ فی النيل (جيسا کہ بدر منير ميں ہے اور اس سے نيل الاوطار نے نقل کيا ہے)
بلکہ رئيس الناقدين امام بخاری نے اشارہ فرمايا کہ يہ حديث نہ ليث نے روايت کی نہ قتيبہ نے ليث سے سنی بلکہ خالد بن قاسم مدائنی متروك بالاجماع مطعون بالکذب نے قتيبہ کو دھوکا دے کر ان سے روايت کرادی اس کی عادت تھی کہ براہ مکر وحيلہ شيوخ پر ان کی ناشنيدہ روايتيں داخل کرديتا لاجرم حاکم نے علوم الحديث ميں اس کے موضوع ہونے کی تصريح کی يہ سب باتيں علمائے حنفيہ مثل امام زيلعی شارح کنز وامام بدر عينی شارح صحيح بخاری وعلامہ ابراہيم حلبی شارح منيہ کے سوا شافعيہ ومالکيہ وظاہريہ قائلان جمع بين الصلاتين مثلي امام قسطلانی شافعی شارح بخاری وعلامہ زرقانی مالکی شارح مؤطا ومواہب وشوکانی ظاہری شارح منتقی وغيرہم نے امام ابن يونس وامام ابوداؤد وابوعبدالله حاکم وامام المحدثين بخاری سے نقل کيں بلکہ انہيں نے اور ان کے غير مثل صاحب بدرمنير وغيرہ نے امام ابوداؤد سے حکم مطلق نقل کيا کہ جو مضمون اس روايت کا ہے اس باب ميں اصلا کوئی حديث قابل استناد نہيں کماسيأتی ان شاء الله تعالی ( جيسا کہ ان شاء الله تعالی آگے آئےگا۔ ت) تو باوصف تصريحات ائمہ شان خصوصا بخاری کے پھر ملاجی کا اس روايت کی تصحيح ميں عرق ريزی بے حاصل اور توثيق ليث وقتيبہ وغيرہما رواۃ وقبول تفرد ثقہ کے اثبات ميں تطويل لاطائل کرنا کيسی جہالت فاحشہ ہے کس نے کہا تھا کہ قتيبہ يا ليث يا يزيدبن ابی حبيب يا معاذالله حضرت ابوالطفيل رضی اللہ تعالی عنہضعيف ہيں ملاجی بايں پيرانہ سالی ودعوے محدثی ابھی حديث معلول ہی کو نہيں جانتے کہ اس کےلئے کچھ ضعف راوی ضرور نہيں بلکہ باوصف وثاقت وعدالت رواۃ حديث ميں علت قارحہ ہوتی ہے کہ اس کا رد واجب کرتی ہے جسے بخاری وابوداؤد وغيرہما سے ناقدين پہچانتے ہيں بخاری وابوسعيد وحاکم نے بھی تو قتيبہ پر جرح نہ کی تھی بلکہ يہ کہا تھا کہ انہيں دھوکا دياگيا غلط ميں پڑگئے پھر اس سے عدالت قتيبہ کو کيا نقصان پہنچا وثاقت قتيبہ سے حديث کو کيا نفع ملا ہاں يہ دفتر توثيق اپنے پےشوا ابن حزم غير مقلد لامذہب کو سنائيے جس خبيث اللسان نے آپ کو اس روايت کے رد ميں سيدنا ابوالطفيل صحابی رضی اللہ تعالی عنہکو عياذا بالله مقدوح و مجروح بتايا جسے دوسرے غير مقلد شوکانی نے نقل کيا غير مقلدوں کی عادت ہے کہ جب حديث کے رد پر آتے ہيں خوف خدا وشرم دنيا سب بالائے طاق رکھ جاتے ہيں ۔ اسی ابن حزم نے باجے حلال کرنے کےلئے صحيح بخاری شريف کی صحيح ومتصل حديث کو بزعم تعليق رد کيا جس کا بيان امام نووی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے شرح صحيح مسلم شريف ميں فرمايا وہی ڈھنگ موصول کو معلق مسند کو مرسل بناکر احاديث صحيحہ جيدہ کو رد کرنے کےلئے آپ نے سيکھے ہيں
بلکہ رئيس الناقدين امام بخاری نے اشارہ فرمايا کہ يہ حديث نہ ليث نے روايت کی نہ قتيبہ نے ليث سے سنی بلکہ خالد بن قاسم مدائنی متروك بالاجماع مطعون بالکذب نے قتيبہ کو دھوکا دے کر ان سے روايت کرادی اس کی عادت تھی کہ براہ مکر وحيلہ شيوخ پر ان کی ناشنيدہ روايتيں داخل کرديتا لاجرم حاکم نے علوم الحديث ميں اس کے موضوع ہونے کی تصريح کی يہ سب باتيں علمائے حنفيہ مثل امام زيلعی شارح کنز وامام بدر عينی شارح صحيح بخاری وعلامہ ابراہيم حلبی شارح منيہ کے سوا شافعيہ ومالکيہ وظاہريہ قائلان جمع بين الصلاتين مثلي امام قسطلانی شافعی شارح بخاری وعلامہ زرقانی مالکی شارح مؤطا ومواہب وشوکانی ظاہری شارح منتقی وغيرہم نے امام ابن يونس وامام ابوداؤد وابوعبدالله حاکم وامام المحدثين بخاری سے نقل کيں بلکہ انہيں نے اور ان کے غير مثل صاحب بدرمنير وغيرہ نے امام ابوداؤد سے حکم مطلق نقل کيا کہ جو مضمون اس روايت کا ہے اس باب ميں اصلا کوئی حديث قابل استناد نہيں کماسيأتی ان شاء الله تعالی ( جيسا کہ ان شاء الله تعالی آگے آئےگا۔ ت) تو باوصف تصريحات ائمہ شان خصوصا بخاری کے پھر ملاجی کا اس روايت کی تصحيح ميں عرق ريزی بے حاصل اور توثيق ليث وقتيبہ وغيرہما رواۃ وقبول تفرد ثقہ کے اثبات ميں تطويل لاطائل کرنا کيسی جہالت فاحشہ ہے کس نے کہا تھا کہ قتيبہ يا ليث يا يزيدبن ابی حبيب يا معاذالله حضرت ابوالطفيل رضی اللہ تعالی عنہضعيف ہيں ملاجی بايں پيرانہ سالی ودعوے محدثی ابھی حديث معلول ہی کو نہيں جانتے کہ اس کےلئے کچھ ضعف راوی ضرور نہيں بلکہ باوصف وثاقت وعدالت رواۃ حديث ميں علت قارحہ ہوتی ہے کہ اس کا رد واجب کرتی ہے جسے بخاری وابوداؤد وغيرہما سے ناقدين پہچانتے ہيں بخاری وابوسعيد وحاکم نے بھی تو قتيبہ پر جرح نہ کی تھی بلکہ يہ کہا تھا کہ انہيں دھوکا دياگيا غلط ميں پڑگئے پھر اس سے عدالت قتيبہ کو کيا نقصان پہنچا وثاقت قتيبہ سے حديث کو کيا نفع ملا ہاں يہ دفتر توثيق اپنے پےشوا ابن حزم غير مقلد لامذہب کو سنائيے جس خبيث اللسان نے آپ کو اس روايت کے رد ميں سيدنا ابوالطفيل صحابی رضی اللہ تعالی عنہکو عياذا بالله مقدوح و مجروح بتايا جسے دوسرے غير مقلد شوکانی نے نقل کيا غير مقلدوں کی عادت ہے کہ جب حديث کے رد پر آتے ہيں خوف خدا وشرم دنيا سب بالائے طاق رکھ جاتے ہيں ۔ اسی ابن حزم نے باجے حلال کرنے کےلئے صحيح بخاری شريف کی صحيح ومتصل حديث کو بزعم تعليق رد کيا جس کا بيان امام نووی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے شرح صحيح مسلم شريف ميں فرمايا وہی ڈھنگ موصول کو معلق مسند کو مرسل بناکر احاديث صحيحہ جيدہ کو رد کرنے کےلئے آپ نے سيکھے ہيں
حوالہ / References
نيل الاوطار شرح منتقی الاخبار ابواب الجمع بين الصلٰوتين مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۳ / ۲۴۳
کماتقدم ومن يشبہ اباء ہ فماظلم ثم اقول : وتحسين الترمذی يرجع الی حديث معاذ لقولہ : حديث معاذ حديث حسن غريب۔ واذا اتی علی ھذہ الروايۃ لم يحسنہ انما قال : و حديث الليث عن يزيد غريب۔ وافاد انہ خلاف المعروف فقال : والمعروف عند اھل العلم حديث معاذ ۔ الخ واما ابن حبان فلانعلم لہ فضلا علی ابی سعيد بن يونس فانہ ايضا ثقۃ ثبت حافظ امام من ائمۃ الشان کلاھما من الاقران من تلامذۃ الامام النسائی ابی عبد الرحمن۔ وابن يونس لنزاھتہ من نفس فلسفی احب الی الناس من ابن حبان۔ وقد قال الامام ابوعمرو بن الصلاح فی طبقات الشافعيۃ : ربما غلط الغلط الفاحش فی تصرفاتہ کمانقلہ الذھبی فی تذکرۃ الحفاظ۔ فانی يدانی اباداؤد فضلا ان يواذيہ فضلا ان يباريہ فضلا عن ذاك الجبل الجليل محمد بن اسمعيل يوقد عرف بالتساھل فی باب التصحيح بل والتحسين ھو والترمذی : کمانص عليہ الائمۃ وحققناہ فی رسالتنا مدارج طبقات ۱۳۱۳ھ الحديث علی ان الجرح مقدم فی مثل المقام فان من اثبت فانما نظر الی ثقۃ الرواۃ ولم يطلع علی مااطلع عليہ غيرہ من العلۃ ومن يعلم قاض علی من لايعلم۔ والله اعلم من کل اعلم۔
جيسا کہ گزرا اور جو شخص اپنے آباؤ سے مشابہت رکھے اس کا کوئی قصور نہيں ۔ ثم اقول پھر ميں کہتا ہوں ) کہ ترمذی کا حسن قرار دينا حديث معاذ سے متعلق ہے کيونکہ ترمذی نے کہا ہے کہ معاذ کی حديث حسن غريب ہے اور جب اس روايت کا ذکر کيا اسے حسن نہيں کہا صرف يہ کہا کہ ليث کی يزيد سے مروی حديث غريب ہے۔ ترمذی نے يہ افادہ بھی کيا کہ يہ معروف حديث کے خلاف ہے۔ چنانچہ ترمذی نے کہا ہے کہ اہل علم کے نزديك معروف معاذ کی وہ حديث ہے الخ۔ رہا ابن حبان تو اسکی سعيد ابن يونس پر کوئی برتری ہمارے علم ميں نہيں ہے کيونکہ سعيد بھی ثقہ ہے ثبت ہے حافظ ہے اور حديث کے اماموں ميں سے ايك امام ہے دونوں ہم زمان ہيں اور امام ابوعبدالرحمن نسائی کے شاگردوں ميں سے ہيں ۔ تاہم ابن يونس فلسفی روح سے پاك ہونے کی وجہ سے لوگوں کے ہاں ابن حبان سے زيادہ پسنديدہ ہے۔ امام ابوعمر ابن صلاح نے طبقات الشافعيہ ميں کہا ہے کہ ابن حبان کو تصرفات حديث کے دوران بسا اوقات شديد غلطی لگ جاتی تھی جيسا کہ ذہبی نے تذکرۃ الحفاظ ميں بےان کيا ہے۔ تو پھر ابن حبان ابوداؤد کے قريب بھی کہاں پہنچ سکتا ہے چہ جائےکہ اس کا ہمسر ہو چہ جائےکہ اس کے مقابل ہو۔ اور علم کے عظيم پہاڑ محمد بن اسمعيل (بخاری) کا مقام تو پھر بہت ہی اونچا ہے جبکہ ابن حبان احاديث کو صحيح قرار دينے ميں متساہل ہے۔ بلکہ حسن قرار دينے ميں بھی يہ اور ترمذی
جيسا کہ گزرا اور جو شخص اپنے آباؤ سے مشابہت رکھے اس کا کوئی قصور نہيں ۔ ثم اقول پھر ميں کہتا ہوں ) کہ ترمذی کا حسن قرار دينا حديث معاذ سے متعلق ہے کيونکہ ترمذی نے کہا ہے کہ معاذ کی حديث حسن غريب ہے اور جب اس روايت کا ذکر کيا اسے حسن نہيں کہا صرف يہ کہا کہ ليث کی يزيد سے مروی حديث غريب ہے۔ ترمذی نے يہ افادہ بھی کيا کہ يہ معروف حديث کے خلاف ہے۔ چنانچہ ترمذی نے کہا ہے کہ اہل علم کے نزديك معروف معاذ کی وہ حديث ہے الخ۔ رہا ابن حبان تو اسکی سعيد ابن يونس پر کوئی برتری ہمارے علم ميں نہيں ہے کيونکہ سعيد بھی ثقہ ہے ثبت ہے حافظ ہے اور حديث کے اماموں ميں سے ايك امام ہے دونوں ہم زمان ہيں اور امام ابوعبدالرحمن نسائی کے شاگردوں ميں سے ہيں ۔ تاہم ابن يونس فلسفی روح سے پاك ہونے کی وجہ سے لوگوں کے ہاں ابن حبان سے زيادہ پسنديدہ ہے۔ امام ابوعمر ابن صلاح نے طبقات الشافعيہ ميں کہا ہے کہ ابن حبان کو تصرفات حديث کے دوران بسا اوقات شديد غلطی لگ جاتی تھی جيسا کہ ذہبی نے تذکرۃ الحفاظ ميں بےان کيا ہے۔ تو پھر ابن حبان ابوداؤد کے قريب بھی کہاں پہنچ سکتا ہے چہ جائےکہ اس کا ہمسر ہو چہ جائےکہ اس کے مقابل ہو۔ اور علم کے عظيم پہاڑ محمد بن اسمعيل (بخاری) کا مقام تو پھر بہت ہی اونچا ہے جبکہ ابن حبان احاديث کو صحيح قرار دينے ميں متساہل ہے۔ بلکہ حسن قرار دينے ميں بھی يہ اور ترمذی
حوالہ / References
جامع الترمذی باب ماجاء فی الجمع بين الصلاتين مطبوعہ مجتبائی لاہور ۱ / ۷۲
تذکرۃ الحفاظ فی ترجمۃ ابن حبان مطبوعہ حيدرآباد دکن ۳ / ۱۲۶
تذکرۃ الحفاظ فی ترجمۃ ابن حبان مطبوعہ حيدرآباد دکن ۳ / ۱۲۶
متساہل ہيں جيسا کہ ائمہ نے تصريح کی ہے اور ہم نے اپنے رسالے “ مدارج طبقات الحديث “ ميں تحقيق کی ہے۔ علاوہ ازيں ايسے مقام پر جرح تعديل سے مقدم ہوتی ہے کيونکہ جو علماء حديث کو ثابت قرار ديتے ہيں وہ صرف راويوں کا ثقہ ہونا مدنظر رکھتے ہيں اور اس خامی سے آگاہ نہيں ہوتے ہيں جس سے دوسرے واقف ہوتے ہيں اور آگاہی رکھنے والے آگاہی نہ رکھنے والوں کی بنسبت فيصلہ کن ہوتے ہيں ۔ والله تعالی اعلم من کل اعلم۔ (ت)
ثم اقول : اس روايت ميں اسی طرح مقال واقع ہوئی اور ہنوز کلام طويل ہے مگر فقير غفرالله تعالی لہ کہتا ہے نظر تحقيق کو رخصت تدقيق ديجئے تو اس روايت کا کون سا حرف جمع حقيقی ميں نص ہے اس کا حاصل تو صرف اس قدر کہ حضور والا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسفر تبوك ميں ظہر وعصر کو جمع فرماتے اگر دوپہر سے پہلے کوچ ہوتا تو راہ ميں اتر کر ورنہ منزل ہی پر پہلی صورت ميں جمع بعد سير ہوتی ہے اور دوسری ميں سير بعد جمع پھر اس ميں جمع صوری کا خلاف کيا ہوا حديث کا کون سا لفظ حقيقی کا تعيین کررہا ہے اذا ارتحل بعدزيغ الشمس ميں خواہی نخواہی بعديت متصلہ پر کيا دليل ہے بلکہ اس کے عدم پر دليل قائم کہ جزا صلی ثم سار ہے بلکہ الفاظ اخر الظھر وعجل العصر سے جمع صوری ظاہر ہے ظہر دير کرکے پڑھی عصر جلد پڑھی اس سے يہی معنی مفہوم ومتبادر ہوتے ہيں کہ ظہر اپنے آخر وقت ميں عصر اپنے شروع وقت ميں نہ يہ کہ ظہر عصر ميں پڑھی جائے يا عصر ظہر ميں ولہذا علمائے کرام مثل امام اجل طحاوی وابوالفتح ابن سيد الناس وغيرہما بلکہ ان کے علاوہ آپ کے امام شوکانی نے بھی ان الفاظ تاخير وتعجيل کو جمع صوری کی صريح دليل مانا شرح منتقی ميں کہا :
ممايدل علی تعين حمل حديث الباب علی الجمع الصوری مااخرجہ النسائی عن ابن عباس بلفظ : صليت مع النبی صلی الله تعالی عليہ وسلم الظھر والعصر جميعا والمغرب والعشاء جميعا اخر الظھر وعجل العصر واخر المغرب وعجل العشاء۔ فھذا ابن عباس راوی حديث الباب قدصرح بان ماوراہ من الجمع المذکور ھو الجمع الصوری ۔
جن وجوہات کی بنا پر اس باب کی حديث کو جمع صوری پر حمل کرنا متعين ہوجاتا ہے ان ميں سے ايك وجہ وہ روايت ہے جس کی نسائی نے ابن عباس سے ان الفاظ ميں تخريج کی ہے کہ ميں نے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ساتھ ظہر وعصر کو اکٹھا پڑھا اور مغرب وعشا کو بھی اکٹھا پڑھا۔ آپ نے ظہر ميں تاخير اور عصر ميں تعجيل فرمائی اسی طرح مغرب ميں تاخير اور عشا ميں تعجيل فرمائی تو يہ ابن عباس
ثم اقول : اس روايت ميں اسی طرح مقال واقع ہوئی اور ہنوز کلام طويل ہے مگر فقير غفرالله تعالی لہ کہتا ہے نظر تحقيق کو رخصت تدقيق ديجئے تو اس روايت کا کون سا حرف جمع حقيقی ميں نص ہے اس کا حاصل تو صرف اس قدر کہ حضور والا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسفر تبوك ميں ظہر وعصر کو جمع فرماتے اگر دوپہر سے پہلے کوچ ہوتا تو راہ ميں اتر کر ورنہ منزل ہی پر پہلی صورت ميں جمع بعد سير ہوتی ہے اور دوسری ميں سير بعد جمع پھر اس ميں جمع صوری کا خلاف کيا ہوا حديث کا کون سا لفظ حقيقی کا تعيین کررہا ہے اذا ارتحل بعدزيغ الشمس ميں خواہی نخواہی بعديت متصلہ پر کيا دليل ہے بلکہ اس کے عدم پر دليل قائم کہ جزا صلی ثم سار ہے بلکہ الفاظ اخر الظھر وعجل العصر سے جمع صوری ظاہر ہے ظہر دير کرکے پڑھی عصر جلد پڑھی اس سے يہی معنی مفہوم ومتبادر ہوتے ہيں کہ ظہر اپنے آخر وقت ميں عصر اپنے شروع وقت ميں نہ يہ کہ ظہر عصر ميں پڑھی جائے يا عصر ظہر ميں ولہذا علمائے کرام مثل امام اجل طحاوی وابوالفتح ابن سيد الناس وغيرہما بلکہ ان کے علاوہ آپ کے امام شوکانی نے بھی ان الفاظ تاخير وتعجيل کو جمع صوری کی صريح دليل مانا شرح منتقی ميں کہا :
ممايدل علی تعين حمل حديث الباب علی الجمع الصوری مااخرجہ النسائی عن ابن عباس بلفظ : صليت مع النبی صلی الله تعالی عليہ وسلم الظھر والعصر جميعا والمغرب والعشاء جميعا اخر الظھر وعجل العصر واخر المغرب وعجل العشاء۔ فھذا ابن عباس راوی حديث الباب قدصرح بان ماوراہ من الجمع المذکور ھو الجمع الصوری ۔
جن وجوہات کی بنا پر اس باب کی حديث کو جمع صوری پر حمل کرنا متعين ہوجاتا ہے ان ميں سے ايك وجہ وہ روايت ہے جس کی نسائی نے ابن عباس سے ان الفاظ ميں تخريج کی ہے کہ ميں نے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ساتھ ظہر وعصر کو اکٹھا پڑھا اور مغرب وعشا کو بھی اکٹھا پڑھا۔ آپ نے ظہر ميں تاخير اور عصر ميں تعجيل فرمائی اسی طرح مغرب ميں تاخير اور عشا ميں تعجيل فرمائی تو يہ ابن عباس
حوالہ / References
نيل الاوطار شرح منتفی الاخبار باب الجمع المقيم لمطرا وغيرہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۳ / ۲۴۶
جو حديث کے راوی ہيں خود ہی واضح کررہے ہيں کہ انہوں نے جمع کی جو روايت بےان کی ہے اس سے مراد جمع صوری ہے۔ (ت)
اسی ميں ہے :
ومن المؤيدات للحمل علی الجمع الصوری ايضا مااخرجہ ابن جرير عن ابن عمر قال : خرج علينا رسول الله صلی الله تعالی عليہ وسلم فکان يؤخر الظھر ويعجل العصر فيجمع بينھما ويؤخر المغرب ويعجل العشاء فيجمع بينھما۔ وھذا ھو الجمع الصوری ۔
جمع صوری پر حمل کرنے کی مؤيدات ميں سے وہ روايت بھی ہے جو ابن جرير نے عبدالله ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہسے بےان کی ہے وہ فرماتے ہيں کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمہمارے پاس باہر تشريف لائے تو ظہر کو مؤخر کرتے تھے اور عصر کو جلدی اس طرح دونوں کو يکجا پڑھ ليتے تھے۔ اسی کو جمع صوری کہتے ہيں ۔ (ت)
معہذا ظہر ومغرب کا جب وقت کھودنا ٹہرا تو عصر وعشاء ميں جلدی کا ہے کی اطمينان سے منزل پر پہنچ کر دونوں پڑھ لی جاتيں ہاں جمع صوری ان کی تعجيل ہی سے ممکن تو حديث اسی طرف ناظر بالجملہ شك نہيں کہ يہ روايت بھی انہيں احاديث مجملۃ الکيفيۃ سے ہے جسے ملاجی نے خواہی نخواہی جمع حقيقی ميں نص مفسر ناقابل تاويل مان ليا الحمدلله اس تحرير کے بعد مرقاۃ شرح مشکوۃ کے مطالعہ نے ظاہر کيا کہ مولانا علی قاری عليہ رحمۃ الباری نے حديث کی يہی تفسير کی جو فقير نے تقرير کی فرماتے ہيں :
(جمع بين الظھر والعصر) ای فی المنزل بان اخر الظھر الی اخر وقتہ وعجل العصر فی اول وقتہ۔
(ظہر وعصر کو جمع کيا) يعنی قيام گاہ ميں ظہر کو آخر وقت تك مؤخر کيا اور عصر کو تعجيل کرکے اول وقت ميں پڑھا۔ (ت)
پھر فرمايا :
(جمع بين المغرب والعشاء) ای فی المنزل کماسبق ۔
(مغرب وعشاء کو جمع کيا)يعنی جائے قيام ميں جيسا کہ پہلے گزرا۔ (ت)
اسی ميں ہے :
ومن المؤيدات للحمل علی الجمع الصوری ايضا مااخرجہ ابن جرير عن ابن عمر قال : خرج علينا رسول الله صلی الله تعالی عليہ وسلم فکان يؤخر الظھر ويعجل العصر فيجمع بينھما ويؤخر المغرب ويعجل العشاء فيجمع بينھما۔ وھذا ھو الجمع الصوری ۔
جمع صوری پر حمل کرنے کی مؤيدات ميں سے وہ روايت بھی ہے جو ابن جرير نے عبدالله ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہسے بےان کی ہے وہ فرماتے ہيں کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمہمارے پاس باہر تشريف لائے تو ظہر کو مؤخر کرتے تھے اور عصر کو جلدی اس طرح دونوں کو يکجا پڑھ ليتے تھے۔ اسی کو جمع صوری کہتے ہيں ۔ (ت)
معہذا ظہر ومغرب کا جب وقت کھودنا ٹہرا تو عصر وعشاء ميں جلدی کا ہے کی اطمينان سے منزل پر پہنچ کر دونوں پڑھ لی جاتيں ہاں جمع صوری ان کی تعجيل ہی سے ممکن تو حديث اسی طرف ناظر بالجملہ شك نہيں کہ يہ روايت بھی انہيں احاديث مجملۃ الکيفيۃ سے ہے جسے ملاجی نے خواہی نخواہی جمع حقيقی ميں نص مفسر ناقابل تاويل مان ليا الحمدلله اس تحرير کے بعد مرقاۃ شرح مشکوۃ کے مطالعہ نے ظاہر کيا کہ مولانا علی قاری عليہ رحمۃ الباری نے حديث کی يہی تفسير کی جو فقير نے تقرير کی فرماتے ہيں :
(جمع بين الظھر والعصر) ای فی المنزل بان اخر الظھر الی اخر وقتہ وعجل العصر فی اول وقتہ۔
(ظہر وعصر کو جمع کيا) يعنی قيام گاہ ميں ظہر کو آخر وقت تك مؤخر کيا اور عصر کو تعجيل کرکے اول وقت ميں پڑھا۔ (ت)
پھر فرمايا :
(جمع بين المغرب والعشاء) ای فی المنزل کماسبق ۔
(مغرب وعشاء کو جمع کيا)يعنی جائے قيام ميں جيسا کہ پہلے گزرا۔ (ت)
حوالہ / References
نيل الاوطار شرح منتفی الاخبار باب الجمع المقيم لمطرا وغيرہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۳ / ۲۴۶
مرقاۃ شرح مشکٰوۃ باب صلٰوۃ السفر مطبوعہ مکتبہ امداديہ ملتان ۳ / ۲۲۵
مرقاۃ شرح مشکٰوۃ باب صلٰوۃ السفر مطبوعہ مکتبہ امداديہ ملتان ۳ / ۲۲۵
حديث دوم : اور تم نے کيا جانا کيا حديث دوم وہ حديث جسے جمع صلاتين سے اصلا علاقہ نہيں جس ميں اثبات جمع کا نام نہيں نشان نہيں بو نہيں گمان نہيں ۔ خود قائلين جمع نے بھی اسے مناظرہ ميں پيش نہ کيا ہاں بعض علمائے شافعيہ نے شرح حديث ميں استطرادا جس طرح شراح بعض فوائد زوائد حديث سے استنباط کرجاتے ہيں لکھ ديا کہ اس ميں جمع سفر پر دليل ہے ملاجی چار طرف ٹٹول ميں تھے ہی تقليد جامد شافعيہ کی لاٹھی پکڑے انہيں بند کيے پہنچے فيہ دليل پر ہاتھ پڑا بحکم لکل ساقطۃ لاقطۃ (ہرگری ہوئی چيز کو کوئی اٹھانے والا ہوتا ہے۔ ت)جھٹ خوش خوش اٹھالائے اور معرکہ مناظرہ ميں جمادی وہ کيا يعنی حديث صحيحينسچ تو ہے ملاجی کی داد نہ فرياد اب کون کہہ سکتا ہے کہ حضرت اسے جمع حقيقی کی دليل نہ صرف دليل بلکہ صاف صريح نہ صالح تاويل بتانا کن کھلی آنکھوں کا کام ہے سبحان اللہ! حديث کا مفاد صرف اتنا کہ حضور والا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے دوپہر کو يا ظہر کے اول وقت يا عصر سے پہلے خيمہ اقدس سے برآمد ہوکر وضو کيا اور ظہر وعصر دونوں اسی موضع بطحاء ميں ادا فرمائيں اس ميں تو مطلق جمع بھی نہ نکلی نہ کہ جمع حقيقی ميں نص ہو ملاجی تو آپ جانيں ايك ہوشيار ہيں خود سمجھے کہ حديث مطلب سے محض بے علاقہ ہے لہذا يہ نامندمل زخم بھرنے کو بشرم عوام کچھ عربی بولے اور يوں اپنی نحودانی کے پردے کھولے کہ ف۱ ہاجرہ خروج ووضو وصلاۃ سب کی ظرف ہے اور فاترتيب بے مہلت کےلئے تو بمقتضائے فامعنی يہ ہوئے کہ يہ سب کام ہاجرہ ميں ہوليے ظاہر يہی ہے تو اس سے عدول بے مانع قطعی ناروا علاوہ بريں عصر ظہر پر معطوف اور صلی توضأ سے بے مہلت مربوط تو معطوف معمول کو جدا کرلينا کيونکر جائز اھ ملخصا مھذبامترجما اس پر بہت وجوہ سے رد ہيں مثلا
عن ابی جحيفۃ رضی الله تعالی عنہ خرج علينا النبی صلی الله تعالی عليہ وسلم بالھاجرۃ الی البطحاء فتوضأ فصلی لنا الظھر والعصر ۔
ولفظ البخاری خرج علينا رسول الله صلی الله تعالی عليہ وسلم بالھاجرۃ فصلی بالبطحاء الظھر رکعتين والعصر رکعتين ۔
ابوجحيفہ رضی اللہ تعالی عنہسے روايت ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمدوپہر کے وقت مقام بطحاء ميں ہمارے پاس باہر تشريف لائے تو وضو کيا اور ہميں ظہر وعصر کی نماز پڑھائی۔ اور بخاری کے الفاظ يوں ہيں کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمدوپہر کے وقت ہمارے پاس باہر تشريف لائے اور مقام بطحاء ميں ظہر کی دو۲ رکعتيں اور عصر کی بھی دو۲ رکعتيں اور فرمائيں ۔ (ت)
اول : فاکوترتيب ذکری کافی مسلم الثبوت ميں ہے :
الفاء للترتيب علی سبيل التعقيب ولوفی الذکر ۔
فاء ترتيب کے لئے بطور تعقيب ہے خواہ يہ ترتيب ذکر ميں ہو۔ (ت)
ثانی : عدم مہلت ہر جگہ اس کے لائق ہوتی ہے کمافی فواتح الرحموت (جيسا کہ فواتح الرحموت ميں ہے۔ ت) تزوج فولدلہ ميں کون کہے گا کہ نکاح کرتے ہی اسی آن ميں بچہ پيدا ہوتو جيسے وہاں تقريبا ايك سال کا فاصلہ منافی مقتضائے فانہیں ظہر وعصر ميں دو۲ ساعت کا فاصلہ کيوں منافی ہوگا۔
ثالث : ہاجرہ ظرف خروج ہے ممکن کہ خروج آخر ہاجرہ ميں ہوکہ وضو ونماز ظہر تك تمام ہوجائے اور نماز عصر بلامہلت اس کے بعد ہو ہاجرہ کچھ دوپہر ہی کو نہيں کہتے زوال سے عصر تك سارے وقت ظہر کو بھی شامل ہے کمافی القاموس۔ تو مخالفت ظاہر کا ادعا بھی محض باطل۔
رابع : حديث مروی بالمعنی ہے اور شاہ ولی الله صاحب نے تصريح کی کہ ايسی حديث کے فا و واو وغيرہما سے استدلال صحيح نہيں کما فی الحجۃ البالغۃ۔ يہ تلخيص وتہذيب اجوبہ ہے وقد ترکنا مثلھا فی العدد (اور ہم نے اتنے ہی جوابات ترك کردئے ہيں ۔ ت) وانا اقول : وبحول الله اصول۔
خامس : ہاجرہ کو ظرف افعال ثلثہ کہنا محض ادعائے بے دليل ہے “ و “ تعقيب چاہنی ہے۔ اتحاد زمانہ نہيں چاہتی بلکہ تعدد واجب کرتی ہے کہ تعقيب بے تعدد معقول نہيں ۔
سادس : ظرفيت ثلثہ فاسے ثابت يا خارج سے اول بداہۃ باطل کماعلمت برتقدير ثانی حديث فالغومحض ہے کہ عصر فی الہاجرہ اسی قدر سے ثابت پھر باوصف لغويت اسی کی طرف اسناد کہ بمقتضائے فا يہ معنی ہوئے اور عجيب تر۔
سابع : ذرا صفت حجۃ الوداع ميں حديث طويل سيدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ تعالی عنہماصحيح مسلم وغيرہ ميں ملاحظہ ہو فرماتے ہيں :
فلما کان يوم الترويۃ توجھوا الی منی فاھلوا بالحج ورکب رسول الله صلی الله تعالی عليہ وسلم فصلی بھا الظھر والعصر والمغرب والعشاء والفجر ۔
جب آٹھويں ذی الحجہ کی ہوئی صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمحج کا احرام باندھ کر منی کو چلے اور حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسوار ہوئے تو منی ميں ظہر وعصر ومغرب وعشا وفجر پانچوں نمازيں پڑھيں ۔ (م)
ولفظ البخاری خرج علينا رسول الله صلی الله تعالی عليہ وسلم بالھاجرۃ فصلی بالبطحاء الظھر رکعتين والعصر رکعتين ۔
ابوجحيفہ رضی اللہ تعالی عنہسے روايت ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمدوپہر کے وقت مقام بطحاء ميں ہمارے پاس باہر تشريف لائے تو وضو کيا اور ہميں ظہر وعصر کی نماز پڑھائی۔ اور بخاری کے الفاظ يوں ہيں کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمدوپہر کے وقت ہمارے پاس باہر تشريف لائے اور مقام بطحاء ميں ظہر کی دو۲ رکعتيں اور عصر کی بھی دو۲ رکعتيں اور فرمائيں ۔ (ت)
اول : فاکوترتيب ذکری کافی مسلم الثبوت ميں ہے :
الفاء للترتيب علی سبيل التعقيب ولوفی الذکر ۔
فاء ترتيب کے لئے بطور تعقيب ہے خواہ يہ ترتيب ذکر ميں ہو۔ (ت)
ثانی : عدم مہلت ہر جگہ اس کے لائق ہوتی ہے کمافی فواتح الرحموت (جيسا کہ فواتح الرحموت ميں ہے۔ ت) تزوج فولدلہ ميں کون کہے گا کہ نکاح کرتے ہی اسی آن ميں بچہ پيدا ہوتو جيسے وہاں تقريبا ايك سال کا فاصلہ منافی مقتضائے فانہیں ظہر وعصر ميں دو۲ ساعت کا فاصلہ کيوں منافی ہوگا۔
ثالث : ہاجرہ ظرف خروج ہے ممکن کہ خروج آخر ہاجرہ ميں ہوکہ وضو ونماز ظہر تك تمام ہوجائے اور نماز عصر بلامہلت اس کے بعد ہو ہاجرہ کچھ دوپہر ہی کو نہيں کہتے زوال سے عصر تك سارے وقت ظہر کو بھی شامل ہے کمافی القاموس۔ تو مخالفت ظاہر کا ادعا بھی محض باطل۔
رابع : حديث مروی بالمعنی ہے اور شاہ ولی الله صاحب نے تصريح کی کہ ايسی حديث کے فا و واو وغيرہما سے استدلال صحيح نہيں کما فی الحجۃ البالغۃ۔ يہ تلخيص وتہذيب اجوبہ ہے وقد ترکنا مثلھا فی العدد (اور ہم نے اتنے ہی جوابات ترك کردئے ہيں ۔ ت) وانا اقول : وبحول الله اصول۔
خامس : ہاجرہ کو ظرف افعال ثلثہ کہنا محض ادعائے بے دليل ہے “ و “ تعقيب چاہنی ہے۔ اتحاد زمانہ نہيں چاہتی بلکہ تعدد واجب کرتی ہے کہ تعقيب بے تعدد معقول نہيں ۔
سادس : ظرفيت ثلثہ فاسے ثابت يا خارج سے اول بداہۃ باطل کماعلمت برتقدير ثانی حديث فالغومحض ہے کہ عصر فی الہاجرہ اسی قدر سے ثابت پھر باوصف لغويت اسی کی طرف اسناد کہ بمقتضائے فا يہ معنی ہوئے اور عجيب تر۔
سابع : ذرا صفت حجۃ الوداع ميں حديث طويل سيدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ تعالی عنہماصحيح مسلم وغيرہ ميں ملاحظہ ہو فرماتے ہيں :
فلما کان يوم الترويۃ توجھوا الی منی فاھلوا بالحج ورکب رسول الله صلی الله تعالی عليہ وسلم فصلی بھا الظھر والعصر والمغرب والعشاء والفجر ۔
جب آٹھويں ذی الحجہ کی ہوئی صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمحج کا احرام باندھ کر منی کو چلے اور حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسوار ہوئے تو منی ميں ظہر وعصر ومغرب وعشا وفجر پانچوں نمازيں پڑھيں ۔ (م)
حوالہ / References
صحيح مسلم : باب سترۃ المصلّی مطبوعہ قديمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۹۶
صحيح بخاری کتاب المناقب ، باب صفت النبی صلی اللہ عليہ وسلم ، مطبوعہ قديمی کتب خانہ کراچی ، ۱ / ۵۰۲
ف۱ معيارالحق ص ۳۶۷۔ ۳۶۹
مسلم الثبوت مسئلہ الفاء للترتيب مطبوعہ مطبع انصاری دہلی ص۶۱
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت مع المستصفی ، بحث الفاء للتعقيب ، مطبوعہ منشورات الشريف الرضی قم ايران۱ / ۲۳۴
الصحيح لمسلم باب حجۃ النبی صلی اللہ تعالٰی عليہ وسلم مطبوعہ قديمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۹۶
صحيح بخاری کتاب المناقب ، باب صفت النبی صلی اللہ عليہ وسلم ، مطبوعہ قديمی کتب خانہ کراچی ، ۱ / ۵۰۲
ف۱ معيارالحق ص ۳۶۷۔ ۳۶۹
مسلم الثبوت مسئلہ الفاء للترتيب مطبوعہ مطبع انصاری دہلی ص۶۱
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت مع المستصفی ، بحث الفاء للتعقيب ، مطبوعہ منشورات الشريف الرضی قم ايران۱ / ۲۳۴
الصحيح لمسلم باب حجۃ النبی صلی اللہ تعالٰی عليہ وسلم مطبوعہ قديمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۹۶
ملاجی وہی فا ہے وہی ترتيب وہی عطف وہی ترکيب۔ اب يہاں کہہ دينا کہ سوار ہوتے ہی معا بے مہلت پانچوں نمازيں ايك وقت ميں پڑھ ليں جو معنی صلی الظھر والعصر الخ کے يہاں ہيں وہی وہاں اور يہ قطعا محاورہ عامہ شائعہ سائغہ ہے کہ اصلا مفيد وصل صلوات نہيں ہوتا ومن ادعی فعليہ البيان (جو شخص دعوی کرتا ہے اس کے ذمے دليل ہے۔ ت)
ثامن : کلام متناقض ہے کہ اول کلام ميں حکم وصل سے عصر کا فعل خلاف ظاہر مانا يہ دليل صحت ہے آخر ميں کيونکر جائز کہا يہ دليل فساد۔
تاسع : تاويل کے لئے قطعيت مانع ضروری جاننا عجب جہل ہے کيا اگر کسی حديث کے ظاہر سے ايك معنی متبادر ہوں اور دوسری حديث صحيح اس کے خلاف ميں صريح تو حديث اول کو اس کے خلاف ہی پر حمل واجب ہے کہ بے مانع قطعی ظاہر سے عدول کيونکر ہو نقل کر لانا سہل ہے محل ومقام ومقصد کلام کا سمجھنا نصيب اعدا۔
عاشر : آپ جو اپنی نصرت خيالات کو احاديث صحيحہ ميں جابجا تاويلات رکيکہ باردہ کرتے ہيں ان کے جواز کا فتوی کہاں سے پايا مجتہدات ميں قاطع کہاں مثلا وقت ظہر يك مثل بنانے کو جو حديث صحيح صريح بخاری حتی ساوی الظل التلول کے معنی بگاڑے جن کا ذکر ان شاء الله تعالی عنقريب آتا ہے اس کا عذر کيا معقول ارشاد ہوتا ہے : منشاء تاويلات کا يہی ہے کہ احاديث صحيحہ جن سے يہ معلوم ہوتا ہے کہ بعد ايك مثل کے وقت ظہرکا نہيں رہتا ثابت ہيں پس جمعا بين الاولہ يہ تاويليں حقہ کی گئيں اب خدا جانے بے قطعيت مانع يہ تاويليں حقہ کيونکر ہوئيں مخالفت ظاہر کے باعث سلفہ کيوں نہ ہوگئيں ۔
حادی عشر : طرفہ نزاکت صدر کلام ميں يہ بيڑا ا ٹھا کر چلے کہ وہ حديثيں جن ميں تاويل مخالف کو دخل نہيں ذکر کرتے ہيں اور يہاں ايسے گرے کہ صرف ظاہر سے سند لائے تاويل خود ہی مان گئے۔
ثانی عشر : آپ کی فضوليات کی گنتی کہاں تك اصل مقصود کی دھجياں ليجئے صحيحين ميں حديث مذکور کے يہ لفظ تو ديکھيے جن ميں فاء سے يہ فی نکالی مگر يہی حديث انہيں صحيحين ميں متعدد طرق سے بلفظ ثم آئی جو آپ کی تعقيب بے مہلت کو تعاقب سے دم لينے کی مہلت نہيں ديتی۔ صحيح بخاری شريف باب صفۃ النبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔
بطريق شعبۃ عن الحکم قال : سمعت اباجحيفۃ قال : خرج رسول الله صلی الله تعالی عليہ وسلم بالھاجرۃ الی البطحاء فتوضأ ثم صلی الظھر رکعتين والعصر رکعتين ۔
بطريقہ شعبہ وہ حکم سے راوی ہے کہ ميں نے ابوجحيفہ کو کہتے سنا ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمدوپہر کے وقت بطحاء کی طرف نکلے تو وضو کيا پھر ظہر کی دو۲ رکعتيں پڑھيں اور
ثامن : کلام متناقض ہے کہ اول کلام ميں حکم وصل سے عصر کا فعل خلاف ظاہر مانا يہ دليل صحت ہے آخر ميں کيونکر جائز کہا يہ دليل فساد۔
تاسع : تاويل کے لئے قطعيت مانع ضروری جاننا عجب جہل ہے کيا اگر کسی حديث کے ظاہر سے ايك معنی متبادر ہوں اور دوسری حديث صحيح اس کے خلاف ميں صريح تو حديث اول کو اس کے خلاف ہی پر حمل واجب ہے کہ بے مانع قطعی ظاہر سے عدول کيونکر ہو نقل کر لانا سہل ہے محل ومقام ومقصد کلام کا سمجھنا نصيب اعدا۔
عاشر : آپ جو اپنی نصرت خيالات کو احاديث صحيحہ ميں جابجا تاويلات رکيکہ باردہ کرتے ہيں ان کے جواز کا فتوی کہاں سے پايا مجتہدات ميں قاطع کہاں مثلا وقت ظہر يك مثل بنانے کو جو حديث صحيح صريح بخاری حتی ساوی الظل التلول کے معنی بگاڑے جن کا ذکر ان شاء الله تعالی عنقريب آتا ہے اس کا عذر کيا معقول ارشاد ہوتا ہے : منشاء تاويلات کا يہی ہے کہ احاديث صحيحہ جن سے يہ معلوم ہوتا ہے کہ بعد ايك مثل کے وقت ظہرکا نہيں رہتا ثابت ہيں پس جمعا بين الاولہ يہ تاويليں حقہ کی گئيں اب خدا جانے بے قطعيت مانع يہ تاويليں حقہ کيونکر ہوئيں مخالفت ظاہر کے باعث سلفہ کيوں نہ ہوگئيں ۔
حادی عشر : طرفہ نزاکت صدر کلام ميں يہ بيڑا ا ٹھا کر چلے کہ وہ حديثيں جن ميں تاويل مخالف کو دخل نہيں ذکر کرتے ہيں اور يہاں ايسے گرے کہ صرف ظاہر سے سند لائے تاويل خود ہی مان گئے۔
ثانی عشر : آپ کی فضوليات کی گنتی کہاں تك اصل مقصود کی دھجياں ليجئے صحيحين ميں حديث مذکور کے يہ لفظ تو ديکھيے جن ميں فاء سے يہ فی نکالی مگر يہی حديث انہيں صحيحين ميں متعدد طرق سے بلفظ ثم آئی جو آپ کی تعقيب بے مہلت کو تعاقب سے دم لينے کی مہلت نہيں ديتی۔ صحيح بخاری شريف باب صفۃ النبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔
بطريق شعبۃ عن الحکم قال : سمعت اباجحيفۃ قال : خرج رسول الله صلی الله تعالی عليہ وسلم بالھاجرۃ الی البطحاء فتوضأ ثم صلی الظھر رکعتين والعصر رکعتين ۔
بطريقہ شعبہ وہ حکم سے راوی ہے کہ ميں نے ابوجحيفہ کو کہتے سنا ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمدوپہر کے وقت بطحاء کی طرف نکلے تو وضو کيا پھر ظہر کی دو۲ رکعتيں پڑھيں اور
حوالہ / References
معيارالحق ، مسئلہ چہارم ، بحث آخر وقت ظہر الخ مکتبہ نذيريہ لاہور ص ۳۵۴
صحيح بخاری کتاب المناقب ، باب صفۃ النبی صلی اللہ تعالٰی عليہ وسلم مطبوعہ قديمی کتب خانہ کراچی ، ۱ / ۵۰۲
صحيح بخاری کتاب المناقب ، باب صفۃ النبی صلی اللہ تعالٰی عليہ وسلم مطبوعہ قديمی کتب خانہ کراچی ، ۱ / ۵۰۲
عصر کی دو۲ رکعتيں ۔ (ت)
نيز باب مذکور
بطريق مالك بن مغول عن عون عن ابیہ وفيہ خرج بلال فنادی بالصلاۃ ثم دخل فاخرج فضل وضوء رسول الله صلی الله تعالی عليہ وسلم فوقع الناس عليہ ياخذون منہ ثم دخل فاخرج العنزۃ وخرج رسول الله صلی الله تعالی عليہ وسلم کانی انظر الی وبيض ساقيہ فرکز العنزۃ ثم صلی الظھر رکعتين والعصر رکعتين ۔
بطريقہ مالك ابن مغول وہ عون سے وہ اپنے والد سے۔ اس روايت ميں ہے کہ بلال (خيمے سے) نکلے اور نماز کے لئے پکارا پھر اندر گئے اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے وضو کا بچا ہوا پانی لے آئے تو اس کو حاصل کرنے کےلئے لوگ اس پر ٹوٹ پڑے بلال پھر اندر گئے اور عصا نکال لائے اسی وقت رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمبھی باہر تشريف لے آئے گويا کہ ميں اب بھی آپ کی ساقين کی چمك ديکھ رہا ہوں بلال نے عصا (بطور سترہ) زمين پر گاڑ ديا۔ پھر رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ظہر اور عصر کی دو۲ دو۲ رکعتيں پڑھيں ۔ (ت)
چلے کہاں کو ان دو۲ نے تو آپ کی تعقيب ہی بگاڑی ہے تيسرا اور نہ لیے جاؤ جو خود ظہر وعصر مويں فاصلہ کر دکھائے صحيح مسلم شريف
بطريق سفين ناعون بن ابی جحيفۃ عن ابيہ وفيہ فخرج النبی صلی الله تعالی عليہ وسلم فتوضأ واذن بلال ثم رکزت العنزۃ فتقدم فصلی الظھر رکعتين ثم صلی العصر رکعتين ثم لم يزل يصلی رکعتين حتی رجع الی المدينۃ ۔
بطريقہ سفيان وہ عون سے وہ اپنے والد ابوجحيفہ رضی اللہ تعالی عنہسے۔ اس روايت ميں ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمباہر تشريف لائے تو وضو کيا اور بلال نے اذان دی پھر عصاگاڑا گيا اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکھڑے ہوگئے تو ظہر کی دو۲ رکعتيں پڑھيں پھر عصر کی دو۲ رکعتيں پڑھيں اس کے بعد مدينہ کو واپسی تك دوہی رکعتيں پڑھتے رہے۔ (ت)
نيز باب مذکور
بطريق مالك بن مغول عن عون عن ابیہ وفيہ خرج بلال فنادی بالصلاۃ ثم دخل فاخرج فضل وضوء رسول الله صلی الله تعالی عليہ وسلم فوقع الناس عليہ ياخذون منہ ثم دخل فاخرج العنزۃ وخرج رسول الله صلی الله تعالی عليہ وسلم کانی انظر الی وبيض ساقيہ فرکز العنزۃ ثم صلی الظھر رکعتين والعصر رکعتين ۔
بطريقہ مالك ابن مغول وہ عون سے وہ اپنے والد سے۔ اس روايت ميں ہے کہ بلال (خيمے سے) نکلے اور نماز کے لئے پکارا پھر اندر گئے اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے وضو کا بچا ہوا پانی لے آئے تو اس کو حاصل کرنے کےلئے لوگ اس پر ٹوٹ پڑے بلال پھر اندر گئے اور عصا نکال لائے اسی وقت رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمبھی باہر تشريف لے آئے گويا کہ ميں اب بھی آپ کی ساقين کی چمك ديکھ رہا ہوں بلال نے عصا (بطور سترہ) زمين پر گاڑ ديا۔ پھر رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ظہر اور عصر کی دو۲ دو۲ رکعتيں پڑھيں ۔ (ت)
چلے کہاں کو ان دو۲ نے تو آپ کی تعقيب ہی بگاڑی ہے تيسرا اور نہ لیے جاؤ جو خود ظہر وعصر مويں فاصلہ کر دکھائے صحيح مسلم شريف
بطريق سفين ناعون بن ابی جحيفۃ عن ابيہ وفيہ فخرج النبی صلی الله تعالی عليہ وسلم فتوضأ واذن بلال ثم رکزت العنزۃ فتقدم فصلی الظھر رکعتين ثم صلی العصر رکعتين ثم لم يزل يصلی رکعتين حتی رجع الی المدينۃ ۔
بطريقہ سفيان وہ عون سے وہ اپنے والد ابوجحيفہ رضی اللہ تعالی عنہسے۔ اس روايت ميں ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمباہر تشريف لائے تو وضو کيا اور بلال نے اذان دی پھر عصاگاڑا گيا اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکھڑے ہوگئے تو ظہر کی دو۲ رکعتيں پڑھيں پھر عصر کی دو۲ رکعتيں پڑھيں اس کے بعد مدينہ کو واپسی تك دوہی رکعتيں پڑھتے رہے۔ (ت)
حوالہ / References
صحيح بخاری ، کتاب المناقب ، باب صفۃ النبی صلی اللہ تعالٰی عليہ وسلم ، مطبوعہ قديمی کتب خانہ کراچی ، ۱ / ۵۰۳
صحيح مسلم کتاب الصلوۃ باب سترۃ المصلی الخ مطبوعہ قديمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۹۶
صحيح مسلم کتاب الصلوۃ باب سترۃ المصلی الخ مطبوعہ قديمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۹۶
ملاجی! اب مزاج کا حال بتائیے ع
حفظت شیئا وغابت عنك اشياء
(تونے ايك چيز ياد رکھی اور بہت سی چيزيں تجھ سے اوجھل رہ گئيں ۔ ت)
الحمدالله اس فصل کے بھی اصل کلام نے وصل ختام بروجہ احسن پايا۔ اب حسب فصل اول چند افاضات ليجئے :
افاضہ اولی : ہمارے اجلہ ائمہ حنفيہ مالکيہ شافعيہ اور ملاجی کے امام ظاہر يہ سب بالاتفاق اپنی کتب ميں نقل کررہے ہيں کہ امام اجل ابوداؤد صاحب سنن نے فرمايا :
ليس فی تقديم الوقت حديث قائم ۔
جمع تقديم ميں کوئی حديث ثابت نہيں ۔ (ت)
امام زيلعی فرماتے ہيں :
قال ابوداؤد : وليس فی تقديم الوقت حديث قائم ۔
ابوداؤد نے فرمايا : تقديم وقت ميں کوئی حديث ثابت نہيں ہے۔ (ت)
امام بدرمحمود عينی حنفی عمدۃ القاری شرح صحيح بخار ی میں فرماتے ہيں :
قلت : حکی عن ابی داؤد انہ انکر ھذا الحديث وحکی عنہ ايضا انہ قال : ليس فی تقديم الوقت حديث قائم ۔
ميں نے کہا : ابوداؤد سے منقول ہے کہ انہوں نے اس حديث کو منکر کہا ہے۔ ان سے يہ بھی منقول ہے کہ تقديم وقت ميں کوئی حديث ثابت نہيں ہے۔ (ت)
اسی طرح علامہ سيد ميرك شاہ حنفی نے نفل فرمايا مولانا علی قاری مکی مرقاۃ شرح مشکوۃ میں فرماتے ہيں :
حکی عن ابی داؤد انہ قال : ليس فی تقديم الوقت حديث قائم۔ نقلہ ميرك ۔ فھذا شھادۃ بضعف الحديث وعدم قيام الحجۃ للشافعيۃ ۔ ابوداؤد سے منقول ہے کہ تقديم وقت ميں کوئی حديث ثابت نہيں ہے يہ بات ميرك نے نقل کی ہے۔ يہ حديث کے ضعيف ہونے اور شافعيوں کی دليل قائم نہ ہونے پر شہادت ہے۔ (ت)
امام احمد قسطلانی ارشاد الساری شرع صحيح البخاری ميں فرماتے ہيں : قدقال ابوداؤد :
حفظت شیئا وغابت عنك اشياء
(تونے ايك چيز ياد رکھی اور بہت سی چيزيں تجھ سے اوجھل رہ گئيں ۔ ت)
الحمدالله اس فصل کے بھی اصل کلام نے وصل ختام بروجہ احسن پايا۔ اب حسب فصل اول چند افاضات ليجئے :
افاضہ اولی : ہمارے اجلہ ائمہ حنفيہ مالکيہ شافعيہ اور ملاجی کے امام ظاہر يہ سب بالاتفاق اپنی کتب ميں نقل کررہے ہيں کہ امام اجل ابوداؤد صاحب سنن نے فرمايا :
ليس فی تقديم الوقت حديث قائم ۔
جمع تقديم ميں کوئی حديث ثابت نہيں ۔ (ت)
امام زيلعی فرماتے ہيں :
قال ابوداؤد : وليس فی تقديم الوقت حديث قائم ۔
ابوداؤد نے فرمايا : تقديم وقت ميں کوئی حديث ثابت نہيں ہے۔ (ت)
امام بدرمحمود عينی حنفی عمدۃ القاری شرح صحيح بخار ی میں فرماتے ہيں :
قلت : حکی عن ابی داؤد انہ انکر ھذا الحديث وحکی عنہ ايضا انہ قال : ليس فی تقديم الوقت حديث قائم ۔
ميں نے کہا : ابوداؤد سے منقول ہے کہ انہوں نے اس حديث کو منکر کہا ہے۔ ان سے يہ بھی منقول ہے کہ تقديم وقت ميں کوئی حديث ثابت نہيں ہے۔ (ت)
اسی طرح علامہ سيد ميرك شاہ حنفی نے نفل فرمايا مولانا علی قاری مکی مرقاۃ شرح مشکوۃ میں فرماتے ہيں :
حکی عن ابی داؤد انہ قال : ليس فی تقديم الوقت حديث قائم۔ نقلہ ميرك ۔ فھذا شھادۃ بضعف الحديث وعدم قيام الحجۃ للشافعيۃ ۔ ابوداؤد سے منقول ہے کہ تقديم وقت ميں کوئی حديث ثابت نہيں ہے يہ بات ميرك نے نقل کی ہے۔ يہ حديث کے ضعيف ہونے اور شافعيوں کی دليل قائم نہ ہونے پر شہادت ہے۔ (ت)
امام احمد قسطلانی ارشاد الساری شرع صحيح البخاری ميں فرماتے ہيں : قدقال ابوداؤد :
حوالہ / References
شرح الزرقانی علی المؤطا الجمع بين الصلاتين مطبوعہ مطبعۃ الاستقامۃ قاہرہ مصر ۱ / ۲۹۲
تبيين الحقائق اوقات الصلٰوۃ مطبوعہ المطبعۃ الکبرٰی الاميريہ بولاق مصر ۱ / ۸۹
عمدۃ القاری شرح بخاری باب الجمع فی السفر الخ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنيريہ دمشق ۷ / ۱۵۱
مرقاۃ شرح مشکٰوۃ باب صلٰوۃ السفر مطبوعہ مکتبہ امداديہ ملتان ۳ / ۲۲۵
تبيين الحقائق اوقات الصلٰوۃ مطبوعہ المطبعۃ الکبرٰی الاميريہ بولاق مصر ۱ / ۸۹
عمدۃ القاری شرح بخاری باب الجمع فی السفر الخ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنيريہ دمشق ۷ / ۱۵۱
مرقاۃ شرح مشکٰوۃ باب صلٰوۃ السفر مطبوعہ مکتبہ امداديہ ملتان ۳ / ۲۲۵
وليس فی تقديم الوقت حديث قائم ۔ (ابو داؤد نے فرمايا : تقديم وقت ميں کوئی حديث ثابت نہيں ہے۔ ت)
بعينہ اسی طرح علامہ زرقانی مالکی نے شرح مؤطائے امام مالك و نيز شرح مواہب لدنيہ ومنح محمديہ ميں فرمايا شوکانی غير مقلد کی نيل الاوطار ميں ہے : قال ابوداؤد : ھذا حديث منکر وليس فی جمع التقديم حديث قائم ۔
بھلا ابوداؤد سا امام جليل الشان يہ تصريح فرماگيا جسے علمائے مابعد حتی کہ قائلان جمع بھی بلانکير وانکار نقل فرماتے آئے نہ آج تك کوئی اس کا پتادے سکا اب ملاجی چاہيں کہ ميں حديث صحيحين سے ثابت کردوں يہ کيونکر بنی مگر قيامت لطيفہ دلربا کھسيانی ادا يہ ہے کہ جھنجھلائی نظروں سے جل کر فرمايا ف : کچھ غيرت آوے تو نشان دہی کريں کہ ابوداؤد نے کون سی کتاب ميں يہ قول کہا ہے يعنی نقول ثقات عدول محض مردود ونامقبول جب تك قائل خود اپنی کتاب ميں تصريح نہ کرے اس سے کوئی نقل معتبر نہ ہوگی۔
اقول : ملاجی! ان جھنجھلا ہٹوں ميں حق بجانب تمہارے ہے تم دلی کی ٹھنڈی سڑك پر ہوا کھلانے کے قابل نہ تھے يہ حنفی لوگ عبث تمہيں چھوڑ کر بوکھلائے ديتے ہيں بھلا اولا اتنا تو ارشاد ہوکہ بہت ائمہ جرح وتعديل وتصحيح وتضعيف وغيرہم ايسے گزرے جن کی کوئی کتاب تصنيف نہيں بيان سے نقل معتبر ہونے کا کيا ذريعہ ہوگا۔
ثانيا : آپ جو اپنی مبلغ علم تقريب کے بھروسے رواۃ ميں کسی کو ثقہ کسی کو ضعيف کسی کو چنيں کسی کو چناں کہہ رہے ہيں ظاہر ہے کہ مصنف تقريب نے ان ميں کسی کا زمانہ تك نہ پايا صدہا سال بعد پيدا ہوئے انہيں ديکھنا اور اپنی نگاہ سے پرکھنا تو قطعا نہيں اسی طرح ہر غير ناظر ميں يہی کلام ہوگا اب رہی ديکھنے والوں سے نقل سوا مواضع عديدہ کے ثبوت تو ديجئے کہ ناظرين مبصرين نے اپنی کس کتاب ميں ان کی نسبت يہ تصريحيں کی ہيں ۔
ثالثا : آپ کی اسی کتاب ميں اور بيسيوں نقول سلف سے ايسی نکليں گی کہ آپ حکايات متاخرين کے اعتقاد پر نقل کر لائے اور ان سے احتجاج کيا کچھ غيرت رکھاتے ہو تو نشان دہی کروکہ وہ باتيں منقول عنہم نے کس کتاب ميں لکھی ہيں مگر يہ کہيے کہ يجوز للوھابی مالايجوز لغيرہ (وہابی کےلئے وہ کچھ جائز ہے جو دوسروں کےلئے جائز نہيں ۔ ت)
افاضہ ثانيہ : رہی اس باب ميں حديث ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہمامروی احمد وشافعی وعبدالرزاق وبيہقی :
وھذا حديث احمد اذيقول حدثنا عبدالرزاق اخبرنا ابن جريج اخبرنی حسين بن عبدالله بن عبيدالله بن عباس عن عکرمۃ و کريب عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہما قال : الا اخبرکم عن صلاۃ رسول الله صلی الله تعالی عليہ وسلم فی السفر قلنا : بلی۔ قال : کان اذا زاغت الشمس فی منزلہ جمع بين الظھر والعصر قبل ان يرکب واذا لم تزغ لہ فی منزلۃ سار حتی اذاکانت العصر نزل فجمع بين الظھر والعصر۔ واشار اليہ ابوداؤد تعليقا فقال : رواہ ھشام بن عروۃ عن حسين بن عبدالله عن کريب عن ابن عباس عن النبی صلی الله تعالی عليہ وسلم ولم يذکر لفظہ ۔
اور يہ احمد کی حديث ہے حديث بےان کی ہم سے عبدالرزاق نے اس کو خبر دی ابن جريج نے اس کو خبر دی حسين بن عبدالله بن عبيدالله بن عباس نے کہ عکرمہ اور
بعينہ اسی طرح علامہ زرقانی مالکی نے شرح مؤطائے امام مالك و نيز شرح مواہب لدنيہ ومنح محمديہ ميں فرمايا شوکانی غير مقلد کی نيل الاوطار ميں ہے : قال ابوداؤد : ھذا حديث منکر وليس فی جمع التقديم حديث قائم ۔
بھلا ابوداؤد سا امام جليل الشان يہ تصريح فرماگيا جسے علمائے مابعد حتی کہ قائلان جمع بھی بلانکير وانکار نقل فرماتے آئے نہ آج تك کوئی اس کا پتادے سکا اب ملاجی چاہيں کہ ميں حديث صحيحين سے ثابت کردوں يہ کيونکر بنی مگر قيامت لطيفہ دلربا کھسيانی ادا يہ ہے کہ جھنجھلائی نظروں سے جل کر فرمايا ف : کچھ غيرت آوے تو نشان دہی کريں کہ ابوداؤد نے کون سی کتاب ميں يہ قول کہا ہے يعنی نقول ثقات عدول محض مردود ونامقبول جب تك قائل خود اپنی کتاب ميں تصريح نہ کرے اس سے کوئی نقل معتبر نہ ہوگی۔
اقول : ملاجی! ان جھنجھلا ہٹوں ميں حق بجانب تمہارے ہے تم دلی کی ٹھنڈی سڑك پر ہوا کھلانے کے قابل نہ تھے يہ حنفی لوگ عبث تمہيں چھوڑ کر بوکھلائے ديتے ہيں بھلا اولا اتنا تو ارشاد ہوکہ بہت ائمہ جرح وتعديل وتصحيح وتضعيف وغيرہم ايسے گزرے جن کی کوئی کتاب تصنيف نہيں بيان سے نقل معتبر ہونے کا کيا ذريعہ ہوگا۔
ثانيا : آپ جو اپنی مبلغ علم تقريب کے بھروسے رواۃ ميں کسی کو ثقہ کسی کو ضعيف کسی کو چنيں کسی کو چناں کہہ رہے ہيں ظاہر ہے کہ مصنف تقريب نے ان ميں کسی کا زمانہ تك نہ پايا صدہا سال بعد پيدا ہوئے انہيں ديکھنا اور اپنی نگاہ سے پرکھنا تو قطعا نہيں اسی طرح ہر غير ناظر ميں يہی کلام ہوگا اب رہی ديکھنے والوں سے نقل سوا مواضع عديدہ کے ثبوت تو ديجئے کہ ناظرين مبصرين نے اپنی کس کتاب ميں ان کی نسبت يہ تصريحيں کی ہيں ۔
ثالثا : آپ کی اسی کتاب ميں اور بيسيوں نقول سلف سے ايسی نکليں گی کہ آپ حکايات متاخرين کے اعتقاد پر نقل کر لائے اور ان سے احتجاج کيا کچھ غيرت رکھاتے ہو تو نشان دہی کروکہ وہ باتيں منقول عنہم نے کس کتاب ميں لکھی ہيں مگر يہ کہيے کہ يجوز للوھابی مالايجوز لغيرہ (وہابی کےلئے وہ کچھ جائز ہے جو دوسروں کےلئے جائز نہيں ۔ ت)
افاضہ ثانيہ : رہی اس باب ميں حديث ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہمامروی احمد وشافعی وعبدالرزاق وبيہقی :
وھذا حديث احمد اذيقول حدثنا عبدالرزاق اخبرنا ابن جريج اخبرنی حسين بن عبدالله بن عبيدالله بن عباس عن عکرمۃ و کريب عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہما قال : الا اخبرکم عن صلاۃ رسول الله صلی الله تعالی عليہ وسلم فی السفر قلنا : بلی۔ قال : کان اذا زاغت الشمس فی منزلہ جمع بين الظھر والعصر قبل ان يرکب واذا لم تزغ لہ فی منزلۃ سار حتی اذاکانت العصر نزل فجمع بين الظھر والعصر۔ واشار اليہ ابوداؤد تعليقا فقال : رواہ ھشام بن عروۃ عن حسين بن عبدالله عن کريب عن ابن عباس عن النبی صلی الله تعالی عليہ وسلم ولم يذکر لفظہ ۔
اور يہ احمد کی حديث ہے حديث بےان کی ہم سے عبدالرزاق نے اس کو خبر دی ابن جريج نے اس کو خبر دی حسين بن عبدالله بن عبيدالله بن عباس نے کہ عکرمہ اور
حوالہ / References
ارشاد الساری شرح صحيح بخاری باب يؤخر الظہر الی العصر الخ مطبوعہ دارالکتاب العربيہ بيروت ۲ / ۳۰۲
نيل الاوطار شرح منتقی الاخبار ابواب الجمع بين الصلويتين مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۳ / ۲۴۳
ف معيارالحق ص ۳۷۴
مسند امام احمد بن حنبل از مسند عبداللہ بن عباس مطبوعہ دارالفکر بيروت ۱ / ۳۲۷
سنن ابی داؤد باب الجمع بين الصلاتين مطبوعہ مطبع مجتبائی لاہور ۱ / ۱۷۱ ، مصنف ، ابی بکر عبدالرزاق بن ہمام جمع بين الصلاتين مطبوعہ المکتب الاسلامی بيروت ۲ / ۵۴۸
نيل الاوطار شرح منتقی الاخبار ابواب الجمع بين الصلويتين مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۳ / ۲۴۳
ف معيارالحق ص ۳۷۴
مسند امام احمد بن حنبل از مسند عبداللہ بن عباس مطبوعہ دارالفکر بيروت ۱ / ۳۲۷
سنن ابی داؤد باب الجمع بين الصلاتين مطبوعہ مطبع مجتبائی لاہور ۱ / ۱۷۱ ، مصنف ، ابی بکر عبدالرزاق بن ہمام جمع بين الصلاتين مطبوعہ المکتب الاسلامی بيروت ۲ / ۵۴۸
کريب ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہسے روايت کرتے ہيں کہ ابن عباس نے ہم سے پوچھا : “ کيا ميں تمہيں سفر کے دوران رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی نماز کے بارے ميں نہ بتاؤں ہم نے کہا : “ کيوں نہيں (ضرور بتائيں ) انہوں نے کہا کہ اگر جائے قيام پر زوال ہوجاتا تھا تو سوار ہونے سے پہلے ظہر اور عصر کو اکٹھا پڑھ ليتے تھے اور اگر جائے قيام پر زوال نہيں ہوتا تھا تو چل پڑتے تھے اور جب عصر ہوتی تھی تو اتر کر ظہر وعصر کو اکٹھا پڑھ ليتے تھے۔ اس روايت کی طرف ابوداؤد نے تعليقا اشارہ کيا ہے اور کہا ہے کہ اس کو ہشام ابن عروہ نے حسين ابن عبدالله سے اس نے کريب سے اس نے ابن عباس سے انہوں نے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے۔ مگر ابوداؤد نے اس کے الفاظ ذکر نہیں کئے ہيں ۔ (ت)
خود قائلان جمع اس کا ضعف تسليم کرگئے شايد اسی لئے کچھ سوچ سمجھ کر ملاجی بھی اس کا ذکر زبان پر نہ لائے لہذا اس ميں زيادہ کلام کی ہميں حاجت نہيں تاہم اتنا معلوم رہے کہ اس کے راوی حسين مذکور ائمہ شان کے نزديك ضعيف ہيں ۔ يحيی نے فرمايا : ضعيف۔ ابوحاتم رازی نے فرمايا : ضعيف يکتب حديثہ ولايحتج بہ (ضعيف ہے اس کی حديث لکھی جائے مگر اس سے استدلال نہ کيا جائے۔ ت) ابوزرعہ وغيرہ نے کہا : ليس بقوی (قوی نہيں ہے۔ ت)جوزجانی نے کہا : لايشتغل بہ (اس کے ساتھ مشغول نہيں ہونا چاہئے۔ ت) ابن حبان نے کہا : يقلب الاسانيد ويرفع المراسيل (اسنادوں کو پلٹ ديتا تھا اور مراسيل کو مرفوع
خود قائلان جمع اس کا ضعف تسليم کرگئے شايد اسی لئے کچھ سوچ سمجھ کر ملاجی بھی اس کا ذکر زبان پر نہ لائے لہذا اس ميں زيادہ کلام کی ہميں حاجت نہيں تاہم اتنا معلوم رہے کہ اس کے راوی حسين مذکور ائمہ شان کے نزديك ضعيف ہيں ۔ يحيی نے فرمايا : ضعيف۔ ابوحاتم رازی نے فرمايا : ضعيف يکتب حديثہ ولايحتج بہ (ضعيف ہے اس کی حديث لکھی جائے مگر اس سے استدلال نہ کيا جائے۔ ت) ابوزرعہ وغيرہ نے کہا : ليس بقوی (قوی نہيں ہے۔ ت)جوزجانی نے کہا : لايشتغل بہ (اس کے ساتھ مشغول نہيں ہونا چاہئے۔ ت) ابن حبان نے کہا : يقلب الاسانيد ويرفع المراسيل (اسنادوں کو پلٹ ديتا تھا اور مراسيل کو مرفوع
حوالہ / References
ارشاد الساری باب يؤخر الظہر الی العصر الخ مطبوعہ دارالکتاب العربيہ بيروت ۲ / ۵۴۸
ميزان الاعتدال ترجمہ حسين بن عبداللہ ۲۰۱۲ مطبوعہ دارالمعرفۃ بيروت ۱ / ۵۳۷
نيل الاوطار شرح منتقی الاخبار ابواب الجمع بين الصلاتين مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۳ / ۲۴۴
ميزان الاعتدال ترجمہ حسين بن عبداللہ ۲۰۱۲ مطبوعہ دارالمعرفۃ بيروت ۱ / ۵۳۷
نيل الاوطار شرح منتقی الاخبار ابواب الجمع بين الصلاتين مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۳ / ۲۴۴
بناديتاتھا۔ ت)محمد بن سعد نے کہا : کان کثير الحديث ولم ارھم يحتجون بحديثہ (حديثيں بہت بيان کرتاتھا علماء اس کی احاديث سے استدلال نہيں کرتے تھے۔ ت) يہاں تك کہ نسائی نے فرمايا : متروك الحديث امام بخاری نے فرمايا علی بن مدينی نے کہا : ترکت حديثہ (ميں نے اسکی حديث کو ترك کرديا ہے۔ ت) لاجرم حافظ نے تقريب ميں کہا : ضعيف۔ اس حديث کی تضعيف شرح بخاری قسطلانی شافعی وشرح مؤطا زرقانی مالکی وشرح منتقی شوکانی ظاہری ميں ديکھيے ارشاد ميں فتح الباری سے ہے :
لکن لہ شاھد من طريق جماد عن ايوب عن ابی قلابۃ عن ابن عباس لااعلمہ الا مرفوعا انہ کان اذا انزل منزلا فی السفر فاعجبہ اقام فيہ حتی يجمع بين الظھر والعصر ثم يرتحل فاذا لم يتھيألہ المنزل مدفی السير فسار حتی ينزل فيجمع بين الظھر والعصر۔ خرجہ البيھقی ورجالہ ثقات الا انہ مشکوك فی رفعہ والمحفوظ انہ موقوف۔ وقداخرجہ من وجہ اخر مجزوما بوقفہ علی ابن عباس ولفظہ : اذاکنتم سائرين فذکر نحوہ ۔
ليکن اس کا ايك شاہد ہے جو بطريقہ حماد مروی ہے حماد ايوب سے وہ ابوقلابہ سے وہ ابن عباس سے روايت کرتے ہيں (اور کہتے ہيں کہ) ميرے خيال ميں يہ روايت مرفوع ہی ہے کہ جب سفر کے دوران کسی منزل پر اترتے تھے اور وہ جگہ پسند آجاتی تھی تو وہاں ٹہر جاتے تھے يہاں تك ظہر وعصر کو يکجا پڑھتے تھے پھر سفر شروع کرتے تھے اور اگر کوئی ايسی منزل مہيا نہيں ہوتی تھی تو چلتے رہتے تھے يہاں تك کہ کسی جگہ اتر کر ظہر وعصر کو جمع کرليتے تھے۔ اس کو بيہقی نے روايت کيا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہيں ليکن اس کا مرفوع ہونا مشکوك ہے محفوظ بات يہ ہے کہ يہ روايت موقوف ہے۔ بيہقی نے ايك اور سند سے بھی اس کو روايت کيا ہے جس کے مطابق اس کا ابن عباس پر موقوف ہونا يقينی ہے اس کے الفاظ اس طرح ہيں جب تم چلنے والے ہو (تو يوں کيا کروکہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ) اس کے بعد درج بالا طريقہ مذکور ہے۔ (ت)
شرح مؤطا ميں اسے ذکر کرکے فرمايا : وقدقال ابوداؤد ليس فی تقديم الوقت حديث قائم (ابوداؤد نے فرمايا تقديم وقت پر کوئی حديث ثابت نہيں ۔ ت)
اقول : وہ ضعيف اور اس کا يہ شاہد موقوف اگر بالفرض ومرفوع بھی ہوتے تو کيا کام ديتے کہ ان کا
لکن لہ شاھد من طريق جماد عن ايوب عن ابی قلابۃ عن ابن عباس لااعلمہ الا مرفوعا انہ کان اذا انزل منزلا فی السفر فاعجبہ اقام فيہ حتی يجمع بين الظھر والعصر ثم يرتحل فاذا لم يتھيألہ المنزل مدفی السير فسار حتی ينزل فيجمع بين الظھر والعصر۔ خرجہ البيھقی ورجالہ ثقات الا انہ مشکوك فی رفعہ والمحفوظ انہ موقوف۔ وقداخرجہ من وجہ اخر مجزوما بوقفہ علی ابن عباس ولفظہ : اذاکنتم سائرين فذکر نحوہ ۔
ليکن اس کا ايك شاہد ہے جو بطريقہ حماد مروی ہے حماد ايوب سے وہ ابوقلابہ سے وہ ابن عباس سے روايت کرتے ہيں (اور کہتے ہيں کہ) ميرے خيال ميں يہ روايت مرفوع ہی ہے کہ جب سفر کے دوران کسی منزل پر اترتے تھے اور وہ جگہ پسند آجاتی تھی تو وہاں ٹہر جاتے تھے يہاں تك ظہر وعصر کو يکجا پڑھتے تھے پھر سفر شروع کرتے تھے اور اگر کوئی ايسی منزل مہيا نہيں ہوتی تھی تو چلتے رہتے تھے يہاں تك کہ کسی جگہ اتر کر ظہر وعصر کو جمع کرليتے تھے۔ اس کو بيہقی نے روايت کيا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہيں ليکن اس کا مرفوع ہونا مشکوك ہے محفوظ بات يہ ہے کہ يہ روايت موقوف ہے۔ بيہقی نے ايك اور سند سے بھی اس کو روايت کيا ہے جس کے مطابق اس کا ابن عباس پر موقوف ہونا يقينی ہے اس کے الفاظ اس طرح ہيں جب تم چلنے والے ہو (تو يوں کيا کروکہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ) اس کے بعد درج بالا طريقہ مذکور ہے۔ (ت)
شرح مؤطا ميں اسے ذکر کرکے فرمايا : وقدقال ابوداؤد ليس فی تقديم الوقت حديث قائم (ابوداؤد نے فرمايا تقديم وقت پر کوئی حديث ثابت نہيں ۔ ت)
اقول : وہ ضعيف اور اس کا يہ شاہد موقوف اگر بالفرض ومرفوع بھی ہوتے تو کيا کام ديتے کہ ان کا
حوالہ / References
نيل الاوطار شرح منتقی الاخبار ابواب الجمع بين الصلاتين مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۳ / ۲۴۴
ارشاد الساری شرح بخاری باب يوخر الظہر الی العصر اذاارتحل الخ مطبوعہ دارالکتاب العربی بيروت ۲ / ۲۰۳)
شرح الزرقانی علی المؤطا امام مالك ، الجمع بين الصلاتين والحضروالسفر ، مطبوعہ المکتبۃ التجاريۃ الکبرٰی مصر ۱ / ۲۹۲
ارشاد الساری شرح بخاری باب يوخر الظہر الی العصر اذاارتحل الخ مطبوعہ دارالکتاب العربی بيروت ۲ / ۲۰۳)
شرح الزرقانی علی المؤطا امام مالك ، الجمع بين الصلاتين والحضروالسفر ، مطبوعہ المکتبۃ التجاريۃ الکبرٰی مصر ۱ / ۲۹۲
حاصل تو يہ کہ جو منزل حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو پسند آتی اور دوپہر وہيں ہوجاتا تو ظہر وعصر دونوں سے فارغ ہوکر سوار ہوتے اس ميں عصر کا پيش از وقت پڑھ لينا کہاں نکلا بعينہ اسی بيان سے شاہد کا سار حتی ينزل فيجمع جمع حقيقی پر اصلا شاہد نہيں اور کانت العصر کا جواب بعونہ تعالی بيانات آئندہ سے ليجئے وبالله التوفيق اگر کہيے روايت شافعی يوں ہے :
اخبرنی ابن ابی يحيی عن حسين بن عبدالله بن عبيدالله بن عباس بن کريب عن ابن عباس رضی الله تعالی عنھما فذکر الحديث وفيہ جمع بين الظھر والعصر فی الزوال ۔
خبر دی مجھے ابن ابی يحيی نے حسين ابن عبدالله سے کہ کريب نے ابن عباس سے روايت کی ہے اس کے بعد مندرجہ بالا روايت مذکور ہے اور اس ميں ہے کہ زوال کے وقت ظہر وعصر کو جمع کرتے تھے۔ (ت)
اقول : اس کی سند ميں ابن ابی يحيیرافضی قدوری معتزلی جہمی بھی متروك واقع ہے امام اجل يحيی بن سعيد بن قطعان وامام اجل يحيی بن معين وامام اجل علی بن مدينی وامام يزيد بن ہارون وامام ابوداؤد وغيرہم اکابر نے فرمايا : کذاب تھا۔ امام احمد نے فرمايا : ساری بلائيں اس ميں تھيں ۔ امام مالك نے فرمايا : نہ وہ حديث ميں ثقہ ہے نہ دين ميں ۔ امام بخاری نے فرمايا : ائمہ محدثين کے نزديك متروك ہے۔ ميزان الاعتدال ميں ہے :
ابرھيم بن ابی يحيی احدالعلماء الضعفاء قال يحيی بن سعيد : سألت مالکاعنہ اکان ثقۃ فی الحديث قال : لا ولافی دينہ۔ وقال يحيی بن معين : سمعت القطان يقول : ابرھيم بن ابی يحيی کذاب۔ وروی ابوطالب عن احمد بن حنبل قال : ترکوا حديثہ قدری معتزلی يروی احاديث ليس لھا اصل وقال البخاری : ترکہ ابن المبارك والناس۔ وروی عبدالله بن احمد عن ابيہ قال : قدری جھمی کل بلاء فيہ ترك الناس حديثہ وروی عباس عن ابن معين کذاب رافضی۔ وقال محمد بن عثمان بن ابی شييۃ : سمعت عليا يقول : ابرھيم بن ابی يحيی کذاب۔ وقال النسائی والدارقطنی وغيرھما متروك ۔
ابراہيم بن ابی يحيی ضعيف علماء ميں سے ايك ہے۔ يحيی ابن سعيد نے کہا کہ ميں نے اس کے بارے ميں مالك سے پوچھا کہ کيا وہ حديث ميں قابل اعتماد تھا انہوں نے جواب ديا : نہ وہ حديث ميں قابل اعتماد تھا نہ دين ميں ۔ اور يحيی ابن معين نے کہا : ميں نے قطان کو کہتے سنا ہے کہ ابرہيم ابن يحيی کذاب ہے۔ ابوطالب نے احمد ابن حنبل سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا : علماء نے اس کی حديث کو ترك کرديا ہے قدری ہے معتزلی ہے بے اصل حديثيں روايت کرتا ہے۔ بخاری نے کہا : ابن مبارك نے اور لوگوں نے
اخبرنی ابن ابی يحيی عن حسين بن عبدالله بن عبيدالله بن عباس بن کريب عن ابن عباس رضی الله تعالی عنھما فذکر الحديث وفيہ جمع بين الظھر والعصر فی الزوال ۔
خبر دی مجھے ابن ابی يحيی نے حسين ابن عبدالله سے کہ کريب نے ابن عباس سے روايت کی ہے اس کے بعد مندرجہ بالا روايت مذکور ہے اور اس ميں ہے کہ زوال کے وقت ظہر وعصر کو جمع کرتے تھے۔ (ت)
اقول : اس کی سند ميں ابن ابی يحيیرافضی قدوری معتزلی جہمی بھی متروك واقع ہے امام اجل يحيی بن سعيد بن قطعان وامام اجل يحيی بن معين وامام اجل علی بن مدينی وامام يزيد بن ہارون وامام ابوداؤد وغيرہم اکابر نے فرمايا : کذاب تھا۔ امام احمد نے فرمايا : ساری بلائيں اس ميں تھيں ۔ امام مالك نے فرمايا : نہ وہ حديث ميں ثقہ ہے نہ دين ميں ۔ امام بخاری نے فرمايا : ائمہ محدثين کے نزديك متروك ہے۔ ميزان الاعتدال ميں ہے :
ابرھيم بن ابی يحيی احدالعلماء الضعفاء قال يحيی بن سعيد : سألت مالکاعنہ اکان ثقۃ فی الحديث قال : لا ولافی دينہ۔ وقال يحيی بن معين : سمعت القطان يقول : ابرھيم بن ابی يحيی کذاب۔ وروی ابوطالب عن احمد بن حنبل قال : ترکوا حديثہ قدری معتزلی يروی احاديث ليس لھا اصل وقال البخاری : ترکہ ابن المبارك والناس۔ وروی عبدالله بن احمد عن ابيہ قال : قدری جھمی کل بلاء فيہ ترك الناس حديثہ وروی عباس عن ابن معين کذاب رافضی۔ وقال محمد بن عثمان بن ابی شييۃ : سمعت عليا يقول : ابرھيم بن ابی يحيی کذاب۔ وقال النسائی والدارقطنی وغيرھما متروك ۔
ابراہيم بن ابی يحيی ضعيف علماء ميں سے ايك ہے۔ يحيی ابن سعيد نے کہا کہ ميں نے اس کے بارے ميں مالك سے پوچھا کہ کيا وہ حديث ميں قابل اعتماد تھا انہوں نے جواب ديا : نہ وہ حديث ميں قابل اعتماد تھا نہ دين ميں ۔ اور يحيی ابن معين نے کہا : ميں نے قطان کو کہتے سنا ہے کہ ابرہيم ابن يحيی کذاب ہے۔ ابوطالب نے احمد ابن حنبل سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا : علماء نے اس کی حديث کو ترك کرديا ہے قدری ہے معتزلی ہے بے اصل حديثيں روايت کرتا ہے۔ بخاری نے کہا : ابن مبارك نے اور لوگوں نے
حوالہ / References
مسند الشافعی
ميزان الاعتدال ترجمہ ابراہيم ابن ابی يحيٰی۱۸۹ مطبوعہ دارالمعرفت بيروت ۱ / ۵۷۔ ۵۸
ميزان الاعتدال ترجمہ ابراہيم ابن ابی يحيٰی۱۸۹ مطبوعہ دارالمعرفت بيروت ۱ / ۵۷۔ ۵۸
اس کی حديث کو ترك کرديا ہے۔ عبدالله ابن احمد اپنے والد سے نقل کرتے ہيں کہ انہوں نے کہا : قدری ہے جہمی ہے ہر بلا اس ميں پائی جاتی ہے لوگوں نے اس کی حديث چھوڑدی ہے۔ عباس ابن معين سے ناقل ہے کہ وہ کذاب ہے رافضی ہے۔ محمد ابن عثمان ابن ابی شيبہ نے کہا ہے : ميں نے علی کو کہتے سنا ہے کہ ابراہيم ابن ابی يحيی کذاب ہے۔ نسائی دارقطنی اور دوسروں نے کہا کہ متروك ہے۔ (ت)
اسی ميں ہے :
قال ابن حبان : کان يکذب فی الحديث ۔
ابن حبان نے کہا کہ حديث ميں جھوٹ بولتا تھا۔ (ت)
اسی ميں ہے :
قال ابومحمد الدارمی : سمعت يزيد بن ھارون يکذب ابرھيم بن ابی يحيی ۔
ابومحمد دارمی نے کہا کہ ميں نے يزيد ابن ہارون سے سنا کہ وہ ابراہيم ابن ابی يحيی کو جھوٹا قرار ديتے تھے۔ (ت)
تذہيب التہذيب ميں ہے :
عن الزھری وصالح مولی التوأمۃ وعنہ الشافعی و اخرون قال عبدالله بن احمد عن ابيہ : کان قدريا معتزليا جھميا کل بلاء فيہ۔ قال ابوطالب عن احمد بن حنبل : ترك الناس حديثہ وکان يأخذ احاديث الناس فيضعفھا فی کتبہ۔ وقال يحيی القطان : کذاب۔ وقال احمد بن سعيد بن ابی مريم : قلت ليحيی بن معين فابن ابی يحيی قال : کذاب ۔
زہری اور صالح مولی التوأمہ سے اور اس سے شافعی اور ديگر علماء نقل کرتے ہيں کہ عبدالله بن احمد اپنے والد سے بيان کرتے ہيں کہ (ابراہيم مذکور) قدری تھا معتزلی تھا جہمی تھا ہر بلا اس ميں موجود تھی۔ ابوطالب نے احمد بن حنبل سے نقل کيا کہ لوگوں نے اس کیج حديث چھوڑدی تھی وہ لوگوں کی حديثيں لے کر اپنی کتابوں ميں لکھ ليتا تھا۔ يحيی قطان نے کہا : جھوٹا ہے۔ احمد ابن سعيد ابن ابی مريم نے کہا : ميں نے
اسی ميں ہے :
قال ابن حبان : کان يکذب فی الحديث ۔
ابن حبان نے کہا کہ حديث ميں جھوٹ بولتا تھا۔ (ت)
اسی ميں ہے :
قال ابومحمد الدارمی : سمعت يزيد بن ھارون يکذب ابرھيم بن ابی يحيی ۔
ابومحمد دارمی نے کہا کہ ميں نے يزيد ابن ہارون سے سنا کہ وہ ابراہيم ابن ابی يحيی کو جھوٹا قرار ديتے تھے۔ (ت)
تذہيب التہذيب ميں ہے :
عن الزھری وصالح مولی التوأمۃ وعنہ الشافعی و اخرون قال عبدالله بن احمد عن ابيہ : کان قدريا معتزليا جھميا کل بلاء فيہ۔ قال ابوطالب عن احمد بن حنبل : ترك الناس حديثہ وکان يأخذ احاديث الناس فيضعفھا فی کتبہ۔ وقال يحيی القطان : کذاب۔ وقال احمد بن سعيد بن ابی مريم : قلت ليحيی بن معين فابن ابی يحيی قال : کذاب ۔
زہری اور صالح مولی التوأمہ سے اور اس سے شافعی اور ديگر علماء نقل کرتے ہيں کہ عبدالله بن احمد اپنے والد سے بيان کرتے ہيں کہ (ابراہيم مذکور) قدری تھا معتزلی تھا جہمی تھا ہر بلا اس ميں موجود تھی۔ ابوطالب نے احمد بن حنبل سے نقل کيا کہ لوگوں نے اس کیج حديث چھوڑدی تھی وہ لوگوں کی حديثيں لے کر اپنی کتابوں ميں لکھ ليتا تھا۔ يحيی قطان نے کہا : جھوٹا ہے۔ احمد ابن سعيد ابن ابی مريم نے کہا : ميں نے
حوالہ / References
ميزان الاعتدال ترجمہ ابراہيم ابن ابی يحيٰی۱۸۹ مطبوعہ دارالمعرفت بيروت ۱ / ۶۰
ميزان الاعتدال ترجمہ ابراہيم ابن ابی يحيٰی۱۸۹ مطبوعہ دارالمعرفت بيروت ۱ / ۶۰
خلاصہ تذھيب تہذيب الکمال الخ ، ترجمہ ابراہيم ابن ابی يحيٰی۲۷۴ ، مطبوعہ مکتبہ اثريہ سانگلہ ہل (شیخوپورہ) ۱ / ۵۵
ميزان الاعتدال ترجمہ ابراہيم ابن ابی يحيٰی۱۸۹ مطبوعہ دارالمعرفت بيروت ۱ / ۶۰
خلاصہ تذھيب تہذيب الکمال الخ ، ترجمہ ابراہيم ابن ابی يحيٰی۲۷۴ ، مطبوعہ مکتبہ اثريہ سانگلہ ہل (شیخوپورہ) ۱ / ۵۵
يحيی ابن معين سے ابن ابی يحيی کے بارے ميں پوچھا تو انہوں نے کہا : کذاب ہے۔ (ت)
تذکرۃ الحفاظ ميں ہے : قال ابن معين وابوداؤد : رافضی کذاب (ابن معين اور ابوداؤد نے کہا : رافضی ہے کذاب ہے۔ ت)لاجرم تقريب ميں ہے : متروك اھ الکل باختصار۔ يہاں تك کہ ابوعمر بن عبدالبر نے کہا اس کے ضعف پر اجماع ہے کمانقلہ فی الميزان فی ترجمۃ عبدالکريم بن ابی المخارق والله تعالی اعلم۔
افاضہ ثالثہ : يوں ہی حديث دارقطنی :
حدثنا احمد بن محمد بن سعيد ثنا المنذر بن محمدثنا ابی ثنا ابی ثنا محمد بن الحسين بن علی بن الحسين ثنی ابن عن ابيہ عن جدہ عن علی رضی الله تعالی قال كان صلی الله عليہ وسلم اذا ارتحل حين تزول الشمس جمع بين الظھر وعجل العصر ثم جمع بينھما ۔
حديث بيان کی ہم سے احمد ابن محمد ابن سعيد نے منذر ابن محمد سے اس نے اپنے باپ سے اس نے اپنے باپ سے اس نے محمد سے اس نے اپنے والد حسين سے اس نے اپنے والد علی ابن امام حسين رضی اللہ تعالی عنہسے انہوں نے اپنے دادا علی رضی اللہ تعالی عنہسے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماگر زوال کے وقت روانگی اختيار فرماتے تھے تو ظہر وعصر کو اکٹھا پڑھ ليتے تھے اور اگر روانگی ميں جلدی ہوتی تھی تو ظہر کو مؤخر کرکے اور عصر کو مقدم کرکے دونوں کو يکجا پڑھ ليتے تھے۔ (ت)
اس ميں سو اعترت طاہرہ کے کوئی راوی ثقہ معروف نہيں ۔ عمدۃ القاری ميں فرمايا :
لايصح اسنادہ شيخ الدارقطنی ھو ابوالعباس بن عقدۃ احدالحفاظ لکنہ شيعی قلت : بل نص فی موضع اخر من الميزان فيہ وفی ابن خراش ان فيھما رفضا وبدعۃ۔ اھ ) وقد تکلم فيہ الدارقطنی وحمزۃ السھمی وغيرھما۔ وشيخہ المنذر بن محمد بن المنذر ليس بالقوی ايضا قالہ الدارقطنی ايضا۔ وابوہ وجدہ يحتاج الی معرفتھما ۔
اس کا اسناد صحيح نہيں ہے کيونکہ دارقطنی کا استاد (احمد) ابوالعباس ابن عقدہ ہے جو اگرچہ حفاظ حديث
تذکرۃ الحفاظ ميں ہے : قال ابن معين وابوداؤد : رافضی کذاب (ابن معين اور ابوداؤد نے کہا : رافضی ہے کذاب ہے۔ ت)لاجرم تقريب ميں ہے : متروك اھ الکل باختصار۔ يہاں تك کہ ابوعمر بن عبدالبر نے کہا اس کے ضعف پر اجماع ہے کمانقلہ فی الميزان فی ترجمۃ عبدالکريم بن ابی المخارق والله تعالی اعلم۔
افاضہ ثالثہ : يوں ہی حديث دارقطنی :
حدثنا احمد بن محمد بن سعيد ثنا المنذر بن محمدثنا ابی ثنا ابی ثنا محمد بن الحسين بن علی بن الحسين ثنی ابن عن ابيہ عن جدہ عن علی رضی الله تعالی قال كان صلی الله عليہ وسلم اذا ارتحل حين تزول الشمس جمع بين الظھر وعجل العصر ثم جمع بينھما ۔
حديث بيان کی ہم سے احمد ابن محمد ابن سعيد نے منذر ابن محمد سے اس نے اپنے باپ سے اس نے اپنے باپ سے اس نے محمد سے اس نے اپنے والد حسين سے اس نے اپنے والد علی ابن امام حسين رضی اللہ تعالی عنہسے انہوں نے اپنے دادا علی رضی اللہ تعالی عنہسے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماگر زوال کے وقت روانگی اختيار فرماتے تھے تو ظہر وعصر کو اکٹھا پڑھ ليتے تھے اور اگر روانگی ميں جلدی ہوتی تھی تو ظہر کو مؤخر کرکے اور عصر کو مقدم کرکے دونوں کو يکجا پڑھ ليتے تھے۔ (ت)
اس ميں سو اعترت طاہرہ کے کوئی راوی ثقہ معروف نہيں ۔ عمدۃ القاری ميں فرمايا :
لايصح اسنادہ شيخ الدارقطنی ھو ابوالعباس بن عقدۃ احدالحفاظ لکنہ شيعی قلت : بل نص فی موضع اخر من الميزان فيہ وفی ابن خراش ان فيھما رفضا وبدعۃ۔ اھ ) وقد تکلم فيہ الدارقطنی وحمزۃ السھمی وغيرھما۔ وشيخہ المنذر بن محمد بن المنذر ليس بالقوی ايضا قالہ الدارقطنی ايضا۔ وابوہ وجدہ يحتاج الی معرفتھما ۔
اس کا اسناد صحيح نہيں ہے کيونکہ دارقطنی کا استاد (احمد) ابوالعباس ابن عقدہ ہے جو اگرچہ حفاظ حديث
حوالہ / References
تذکرۃ الحفاظ ترجمۃ ابراہيم بن محمد المدنی مطبوعہ دائرۃ المعارف حيدرآباد دکن ۱ / ۲۲۷
تقريب التہذيب ، ترجمۃ ابراہيم بن محمد المدنی مطبوعہ الکتب الاسلاميہ گوجرانوالہ ، پاکستان ص۲۳
ميزان الاعتدال ترجمہ عبدالکريم ابن ابی المخارق ۱۵۷۲ مطبوعہ دارالمعرفت بيروت لبنان ۲ / ۶۴۶
سنن الدارقطنی ، باب الجمع بين الصلٰوتين فی السفر مطبوعہ نشہ السنّۃ ملتان ۱ / ۲۹۱
عمدۃ القاری باب الجمع فی السفر بين المغرب والعشاء مطبوعہ الطباعۃ الخيريۃ دمشق ۷ / ۱۴۹
تقريب التہذيب ، ترجمۃ ابراہيم بن محمد المدنی مطبوعہ الکتب الاسلاميہ گوجرانوالہ ، پاکستان ص۲۳
ميزان الاعتدال ترجمہ عبدالکريم ابن ابی المخارق ۱۵۷۲ مطبوعہ دارالمعرفت بيروت لبنان ۲ / ۶۴۶
سنن الدارقطنی ، باب الجمع بين الصلٰوتين فی السفر مطبوعہ نشہ السنّۃ ملتان ۱ / ۲۹۱
عمدۃ القاری باب الجمع فی السفر بين المغرب والعشاء مطبوعہ الطباعۃ الخيريۃ دمشق ۷ / ۱۴۹
ميں سے ہے ليکن شيعہ ہے۔ ميں نے کہا : بلکہ ميزان کے ايك اور مقام ميں اس کے اور ابن خراش کے متعلق لکھا ہے کہ ان ميں رفض اور بدعت پائی جاتی ہے۔ خود دارقطنی اور حمزہ سہمی وغيرہ نے بھی اس پر جرح کی ہے اور اس کا استاد منذر ابن محمد بن منذر بھی زيادہ قوی نہيں ہے۔ يہ بات بھی دارقطنی نے کہی ہے۔ اور منذر کا باپ اور دادا دونوں غير معروف ہيں ۔ (ت)
اقول : وہ صحيح ہی سہی تو انصافا صاف صاف ہمارے مفيد وموافق ہے اس کا صريح مفاد يہ کہ سورج ڈھلتے ہی کوچ ہوتا توظہرين جمع فرماتے پرظاہر کہ زوال ہوتے ہی کوچ اور جمع تقديم کا جمع محال۔ کيا پيش از زوال ظہر وعصر پڑھ ليتے لاجرم وہی جمع مرادجس کاصاف بيان خود آگےموجود کہ ظہر بدير اور عصرجلد پڑھتے يہی جمع صوری ہے کما لایخفی۔
افاضہ رابعہ : حديث انس رضی اللہ تعالی عنہکہ ان شاء الله العزيز جمع تاخير ميں آتی ہے اس ميں معروف ومحفوظ ومروی جماہير ائمہ ثقات وعدول مذکور صحيح بخاری وصحيح مسلم وسنن ابی داؤد وسنن نسائی ومصنف طحاوی وغيرہا عامہ دوا دين اسلام صرف اس قدر ہے کہ حضور پرنور صلوات الله تعالیوسلامہ عليہ اگر دوپہر ڈھلنے سے پہلے کوچ فرماتے ظہر ميں عصر تك تاخير کرکے ساتھ ساتھ پڑھتے اور اگر منزل ہی پر وقت ظہر آجاتا صلی الظھر ثم رکب ظہر پڑھ کر سوار ہوجاتے جس سے بحکم مقاببلہ وسکوت فی معرض البيان صاف ظاہر کہ تنہا ظہر پڑھتے عصر اس کے ساتھ نہ ملاتے۔ ولہذا نافيان جمع تقديم نے اس سے تمسك کيا کمافی عمدۃ القاری وارشاد الساری وغيرھما مگر بعض روايات غريبہ ميں آيا کہ ظہر وعصر دونوں پڑھ کر سوار ہوتے۔ حاکم نے اربعين ميں بطريق
ابی العباس محمد بن يعقوب عن محمد بن اسحق الصاغانی عن حسان بن عبدالله عن المفضل بن فضالۃ عن عقيل عن ابن شھاب عن انس رضی الله تعالی عنہ روايت کیفان زاغت الشمس قبل ان يرتحل صلی الظھر والعصر ثم رکب ۔
ابوالعباس محمد ابن يعقوب نے محمد بن اسحق صاغانی سے اس نے حسان ابن عبدالله سے اس نے مفضل ابن فضالہ سے اس نے
اقول : وہ صحيح ہی سہی تو انصافا صاف صاف ہمارے مفيد وموافق ہے اس کا صريح مفاد يہ کہ سورج ڈھلتے ہی کوچ ہوتا توظہرين جمع فرماتے پرظاہر کہ زوال ہوتے ہی کوچ اور جمع تقديم کا جمع محال۔ کيا پيش از زوال ظہر وعصر پڑھ ليتے لاجرم وہی جمع مرادجس کاصاف بيان خود آگےموجود کہ ظہر بدير اور عصرجلد پڑھتے يہی جمع صوری ہے کما لایخفی۔
افاضہ رابعہ : حديث انس رضی اللہ تعالی عنہکہ ان شاء الله العزيز جمع تاخير ميں آتی ہے اس ميں معروف ومحفوظ ومروی جماہير ائمہ ثقات وعدول مذکور صحيح بخاری وصحيح مسلم وسنن ابی داؤد وسنن نسائی ومصنف طحاوی وغيرہا عامہ دوا دين اسلام صرف اس قدر ہے کہ حضور پرنور صلوات الله تعالیوسلامہ عليہ اگر دوپہر ڈھلنے سے پہلے کوچ فرماتے ظہر ميں عصر تك تاخير کرکے ساتھ ساتھ پڑھتے اور اگر منزل ہی پر وقت ظہر آجاتا صلی الظھر ثم رکب ظہر پڑھ کر سوار ہوجاتے جس سے بحکم مقاببلہ وسکوت فی معرض البيان صاف ظاہر کہ تنہا ظہر پڑھتے عصر اس کے ساتھ نہ ملاتے۔ ولہذا نافيان جمع تقديم نے اس سے تمسك کيا کمافی عمدۃ القاری وارشاد الساری وغيرھما مگر بعض روايات غريبہ ميں آيا کہ ظہر وعصر دونوں پڑھ کر سوار ہوتے۔ حاکم نے اربعين ميں بطريق
ابی العباس محمد بن يعقوب عن محمد بن اسحق الصاغانی عن حسان بن عبدالله عن المفضل بن فضالۃ عن عقيل عن ابن شھاب عن انس رضی الله تعالی عنہ روايت کیفان زاغت الشمس قبل ان يرتحل صلی الظھر والعصر ثم رکب ۔
ابوالعباس محمد ابن يعقوب نے محمد بن اسحق صاغانی سے اس نے حسان ابن عبدالله سے اس نے مفضل ابن فضالہ سے اس نے
حوالہ / References
صحيح بخاری باب اذا ارتحل بعد مازاغت الشمس قديمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۵۰
اربعين للحاکم
اربعين للحاکم
عقيل سے اس نے ابن شہاب سے اس نے انس رضی اللہ تعالی عنہسے روايت کی کہ اگر روانگی سے پہلے زوال ہوجاتا تو ظہر وعصر پڑھ کر سوار ہواکرتے تھے۔ (ت)
جعفر فريابی نے بتفرد خود اسحق بن راہويہ سے روايت کی :
عن شبابۃ بن سوار عن الليث عن عقيل عن الزھری عن انس رضی الله تعالی عنہ قال : کان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اذاکان فی سفر فزالت الشمس صلی الظھر والعصر جميعا ثم ارتحل ۔
شبابہ ابن سواد سے اس نے ليث سے اس نے عقيل سے اس نے زہری سے اس نے انس رضی اللہ تعالی عنہسے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجب سفر ميں ہوتے تھے اور زوال ہوجاتا تھا تو ظہر وعصر کو اکٹھا پڑھ ليتے تھے پھر روانہ ہوتے تھے۔ (ت)
اوسط طبرانی ميں ہے :
حدثنا محمد بن ابرھيم بن نصر بن شبيب الاصبھانی قال ثناھارون بن عبدالله الحمال ثنا يعقوب بن محمد الزھری ثنا محمد بن سعد ان ثنا ابن عجلان عن عبدالله بن الفضل عن انس بن مالك رضی الله تعالی عنہ ان النبی صلی الله تعالی عليہ وسلم کان اذاکان فی سفر فزاغت الشمس قبل ان يرتحل صلی الظھر والعصر جميعا ۔
حديث بيان کی ہم سے محمد ابن ابراہيم ابن نصر بن سندر اصبہانی نے ہارون ابن عبدالله حمال سے اس نے يعقوب ابن محمد زہری سے اس نے محمد ابن سوان سے اس نے ابن عجلان سے اس نے عبدالله بن فضل سے اس نے انس رضی اللہ تعالی عنہسے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجب سفر ميں ہوتے تھے تو اگر روانگی سے پہلے سورج ڈھل جاتا تھا تو ظہر وعصر کو اکٹھا پڑھ ليتے تھے۔ (ت)
روايت اسحق پر امام ابوداؤد نے انکار کيا اسمعيل نے اسے معلول بتايا کمافی العمدۃ وغيرھا۔
اقول : الامام اسحق رضی الله تعالی عنہ لاکلام فی جلالۃ قدرہ وعظمۃ فخرہ لکن نص الامام ابوداؤد انہ کان تغير قبل موتہ باشھر قال : وسمعت منہ فی تلك الايام فرميت بہ ۔ کمافی التذھيب۔ وذکر الحافظ المزی حديثہ الذی زاد فيہ علی اصحاب سفين فقال : اسحق اختلط فی اخر عمرہ ۔ کمافی الميزان۔ ولاشك انہ رحمہ الله تعالی کان کثير التحديث عن ظھر قلبہ املی المسند کلہ من حفظہ ۔ کمافی التذھيب قال : قال احمد بن اسحق الضبعی : سمعت ابرھيم بن ابی طالب يقول : فذکرہ۔ فلاغروان يعتريہ خطؤ فی حديث او حديثين ومن المعصوم عن مثل ذلك فی سعۃ ماروی وکثرتہ
ميں کہتا ہوں : امام اسحق رضی اللہ تعالی عنہکی قدر اور عظمت افتخار ميں کوئی شك نہيں ہے ليکن امام ابوداؤد نے تصريح کی ہے کہ وفات سے
جعفر فريابی نے بتفرد خود اسحق بن راہويہ سے روايت کی :
عن شبابۃ بن سوار عن الليث عن عقيل عن الزھری عن انس رضی الله تعالی عنہ قال : کان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اذاکان فی سفر فزالت الشمس صلی الظھر والعصر جميعا ثم ارتحل ۔
شبابہ ابن سواد سے اس نے ليث سے اس نے عقيل سے اس نے زہری سے اس نے انس رضی اللہ تعالی عنہسے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجب سفر ميں ہوتے تھے اور زوال ہوجاتا تھا تو ظہر وعصر کو اکٹھا پڑھ ليتے تھے پھر روانہ ہوتے تھے۔ (ت)
اوسط طبرانی ميں ہے :
حدثنا محمد بن ابرھيم بن نصر بن شبيب الاصبھانی قال ثناھارون بن عبدالله الحمال ثنا يعقوب بن محمد الزھری ثنا محمد بن سعد ان ثنا ابن عجلان عن عبدالله بن الفضل عن انس بن مالك رضی الله تعالی عنہ ان النبی صلی الله تعالی عليہ وسلم کان اذاکان فی سفر فزاغت الشمس قبل ان يرتحل صلی الظھر والعصر جميعا ۔
حديث بيان کی ہم سے محمد ابن ابراہيم ابن نصر بن سندر اصبہانی نے ہارون ابن عبدالله حمال سے اس نے يعقوب ابن محمد زہری سے اس نے محمد ابن سوان سے اس نے ابن عجلان سے اس نے عبدالله بن فضل سے اس نے انس رضی اللہ تعالی عنہسے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجب سفر ميں ہوتے تھے تو اگر روانگی سے پہلے سورج ڈھل جاتا تھا تو ظہر وعصر کو اکٹھا پڑھ ليتے تھے۔ (ت)
روايت اسحق پر امام ابوداؤد نے انکار کيا اسمعيل نے اسے معلول بتايا کمافی العمدۃ وغيرھا۔
اقول : الامام اسحق رضی الله تعالی عنہ لاکلام فی جلالۃ قدرہ وعظمۃ فخرہ لکن نص الامام ابوداؤد انہ کان تغير قبل موتہ باشھر قال : وسمعت منہ فی تلك الايام فرميت بہ ۔ کمافی التذھيب۔ وذکر الحافظ المزی حديثہ الذی زاد فيہ علی اصحاب سفين فقال : اسحق اختلط فی اخر عمرہ ۔ کمافی الميزان۔ ولاشك انہ رحمہ الله تعالی کان کثير التحديث عن ظھر قلبہ املی المسند کلہ من حفظہ ۔ کمافی التذھيب قال : قال احمد بن اسحق الضبعی : سمعت ابرھيم بن ابی طالب يقول : فذکرہ۔ فلاغروان يعتريہ خطؤ فی حديث او حديثين ومن المعصوم عن مثل ذلك فی سعۃ ماروی وکثرتہ
ميں کہتا ہوں : امام اسحق رضی اللہ تعالی عنہکی قدر اور عظمت افتخار ميں کوئی شك نہيں ہے ليکن امام ابوداؤد نے تصريح کی ہے کہ وفات سے
حوالہ / References
ميزان الاعتدال بحوالہ جعفر فريابی ترجمہ (۷۳۳ دارالمعرفۃ بيروت ۱ / ۸۳
معجم الاوسط حديث ۷۵۴۸ مکتب المعارف رياض ۸ / ۲۷۱۔ ۲۷۲
ميزان الاعتدال بحوالہ ابوداؤد (ترجمہ اسحق بن راہويہ مطبوعہ دارالمعرفۃ بيروت ۱ / ۱۸۳
ميزان الاعتدال بحوالہ ابوداؤد (ترجمہ اسحق بن راہويہ مطبوعہ دارالمعرفۃ بيروت ۱ / ۱۸۳
خلاصہ تذہیب تذہیب المکمال ترجمہ اسحٰق بن راہویہ مطبوعہ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل ۱ / ۶۹
معجم الاوسط حديث ۷۵۴۸ مکتب المعارف رياض ۸ / ۲۷۱۔ ۲۷۲
ميزان الاعتدال بحوالہ ابوداؤد (ترجمہ اسحق بن راہويہ مطبوعہ دارالمعرفۃ بيروت ۱ / ۱۸۳
ميزان الاعتدال بحوالہ ابوداؤد (ترجمہ اسحق بن راہويہ مطبوعہ دارالمعرفۃ بيروت ۱ / ۱۸۳
خلاصہ تذہیب تذہیب المکمال ترجمہ اسحٰق بن راہویہ مطبوعہ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل ۱ / ۶۹
چند ماہ پہلے اس کے حافظے ميں تغيير آگيا تھا۔ ابوداؤد نے کہا کہ انہی دنوں ميں ميں نے اس سے کچھ سنا تھا اور اس کی وجہ سے مجھے مطعون کياگيا۔ جيسا کہ تذہيب ميں ہے۔ اور حافط مزی نے اس کی وہ حديث ذکر کرنے کے بعد جس ميں اس نے اصحاب سفين کے الفاظ پر اضافہ کيا ہے کہا ہے کہ اسحق کے بارے ميں کہا گيا ہے کہ آخر عمر ميں اس کو اختلاط ہوگيا تھا جيسا کہ ميزان ميں ہے۔ اس ميں تو کوئی شك نہيں کہ اسحق (رحمۃ اللہ تعالی علیہ) بےشتر حديثيں محض ياد کے سہارے بيان کيا کرتے تھے۔ ايك مرتبہ انہوں نے پورا مسند اپنی ياد سے املا کراديا تھا جيسا کہ تذہيب ميں ہے کہ احمد بن اسحق ضبعی نے کہا ہے کہ ميں نے ابراہيم بن ابی طالب کو يہ بات کہتے سنا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے وہی (مسند کے املاء والی بات) ذکر کی ہے۔ تو اس صورت ميں اگر اسحق سے ايك يا دو حديثوں ميں خطا واقع ہوجائے تو کوئی تعجب کی بات نہيں ہے۔ اس قدر وسےع اور کثير روايات ميں اتنی تھوڑی سی خطا سے اور کون معصوم ہے (ت)
لاجرم امام ذہبی شافعی نے اس حدیث کو منکر کہا اور امام اسحق کی لغزش حفظ واشتباہ سے گنا۔
حيث قال : وکذا حديث رواہ جعفر الفريابی ثنا اسحق بن راھويہ ثنا شبابۃ عن الليث عن عقيل عن ابی شھاب عن انس رضی الله تعالی عنہ کان رسول الله صلی الله تعالی عليہ وسلم اذاکان فی سفر فزالت الشمس صلی الظھر والعصر ثم ارتحل۔ فھذا علی نبل رواتہ منکر فقد رواہ مسلم عن الناقد عن شبابۃ (وذکر لفظہ) تابعہ الزعفرانی عن شبابۃ واخرجہ خ م من حديث عقيل عن ابن شھاب عن انس (وذکر لفظہ ای وليس فی شیئ منھا : والعصر۔ قال : ) ولاريب ان اسحق کان يحدث الناس من حفظہ فلعلہ اشتبہ عليہ ۔
چنانچہ اس نے کہا ہے کہ اسی طرح وہ حديث جسے روايت کيا ہے فريابی نے اسحق ابن راہويہ سے اس نے شبابہ سے اس نے ليث سے اس نے عقيل سے اس نے ابن شہاب سے اس نے انس رضی اللہ تعالی عنہسے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجب سفر ميں
لاجرم امام ذہبی شافعی نے اس حدیث کو منکر کہا اور امام اسحق کی لغزش حفظ واشتباہ سے گنا۔
حيث قال : وکذا حديث رواہ جعفر الفريابی ثنا اسحق بن راھويہ ثنا شبابۃ عن الليث عن عقيل عن ابی شھاب عن انس رضی الله تعالی عنہ کان رسول الله صلی الله تعالی عليہ وسلم اذاکان فی سفر فزالت الشمس صلی الظھر والعصر ثم ارتحل۔ فھذا علی نبل رواتہ منکر فقد رواہ مسلم عن الناقد عن شبابۃ (وذکر لفظہ) تابعہ الزعفرانی عن شبابۃ واخرجہ خ م من حديث عقيل عن ابن شھاب عن انس (وذکر لفظہ ای وليس فی شیئ منھا : والعصر۔ قال : ) ولاريب ان اسحق کان يحدث الناس من حفظہ فلعلہ اشتبہ عليہ ۔
چنانچہ اس نے کہا ہے کہ اسی طرح وہ حديث جسے روايت کيا ہے فريابی نے اسحق ابن راہويہ سے اس نے شبابہ سے اس نے ليث سے اس نے عقيل سے اس نے ابن شہاب سے اس نے انس رضی اللہ تعالی عنہسے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجب سفر ميں
حوالہ / References
ميزان الاعتدال ترجمہ اسحٰق بن راہويہ ۷۳۳ مطبوعہ دارالمعرفت بيروت ۱ / ۱۸۳
ہوتے تھے اور سورج ڈھل جاتا تھا تو ظہر وعصر پڑھتے تھے پھر روانہ ہوتے تھے۔ تو يہ حديث راويوں کی عمدگی کے باوجود منکر ہے کيونکہ اس کو مسلم نے ناقد سے اس نے شبابہ سے روايت کيا ہے (يہاں ذہبی نے اس کے الفاظ ذکر کيے ہيں ) اسی طرح زعفرانی نے بھی اس کو شبابہ سے روايت کيا ہے اور مسلم نے بھی اس کو عقيل سے اس نے ابن شہاب سے اس نے انس رضی اللہ تعالی عنہسے روايت کيا ہے (يہاں ذہبی نے مسلم کے الفاظ ذکر کيے ہيں مقصد يہ ہے کہ بخاری ومسلم کی کسی روايت ميں عصر کا ذکر نہيں ہے (صرف ظہر کا ذکر ہے۔ ذہبی نے کہا) اس ميں کوئی شك نہيں کہ اسحق لوگوں کے سامنے اپنی ياد سے حديثيں بيان کيا کرتا تھا ہوسکتا ہے کہ اس کو اشتباہ واقع ہوا ہو۔ (ت)
اس کے بعد ہميں شبابہ بن سوار ميں کلام کی حاجت نہيں کہ وہ اگرچہ رجال جماعہ وموثقين ابنائے معين وسعد وابی شيبہ سے ہے مگر مبتدع مکلب تھا امام احمد نے اسے ترك کيا امام ابوحاتم رازی نے درجہ حجيت سے ساقط بتايا۔ تہذيب التہذيب امام ابن حجر عسقلانی ميں ہے :
شبابۃ بن سوار الفزاری قال احمد بن حنبل : ترکتہ لم اکتب عنہ للارجا۔ قيل لہ : يا ابا عبد اللہ!وابومعويۃ قال : شبابۃ کان داعيۃ۔ وقال زکريا الساجی : صدوق يدعو الی الارجا کان احمد يحمل عليہ ۔
شبابہ ابن سوار فزاری احمد بن حنبل نے کہا کہ ميں نے اس کو چھوڑديا اور اس سے حديثيں نہيں لکھيں کيونکہ وہ ارجاء کا عقيدہ رکھتا تھا۔ کسی نے کہا کہ (ارجاء کا عقيدہ تو) ابومعاويہ بھی رکھتا ہے۔ احمد نے کہا (ہاں مگر) شبابہ ارجاء کا داعی تھا۔ زکريا ساجی نے کہا کہ سچا ہے ارجاء کا داعی ہے۔ احمد اس پر تنقيد کيا کرتے تھے۔ ت)
اسی ميں ہے : قال ابوحاتم : صدوق يکتب حديث ولايحتج بہ (ابوحاتم نے کہا ہے
اس کے بعد ہميں شبابہ بن سوار ميں کلام کی حاجت نہيں کہ وہ اگرچہ رجال جماعہ وموثقين ابنائے معين وسعد وابی شيبہ سے ہے مگر مبتدع مکلب تھا امام احمد نے اسے ترك کيا امام ابوحاتم رازی نے درجہ حجيت سے ساقط بتايا۔ تہذيب التہذيب امام ابن حجر عسقلانی ميں ہے :
شبابۃ بن سوار الفزاری قال احمد بن حنبل : ترکتہ لم اکتب عنہ للارجا۔ قيل لہ : يا ابا عبد اللہ!وابومعويۃ قال : شبابۃ کان داعيۃ۔ وقال زکريا الساجی : صدوق يدعو الی الارجا کان احمد يحمل عليہ ۔
شبابہ ابن سوار فزاری احمد بن حنبل نے کہا کہ ميں نے اس کو چھوڑديا اور اس سے حديثيں نہيں لکھيں کيونکہ وہ ارجاء کا عقيدہ رکھتا تھا۔ کسی نے کہا کہ (ارجاء کا عقيدہ تو) ابومعاويہ بھی رکھتا ہے۔ احمد نے کہا (ہاں مگر) شبابہ ارجاء کا داعی تھا۔ زکريا ساجی نے کہا کہ سچا ہے ارجاء کا داعی ہے۔ احمد اس پر تنقيد کيا کرتے تھے۔ ت)
اسی ميں ہے : قال ابوحاتم : صدوق يکتب حديث ولايحتج بہ (ابوحاتم نے کہا ہے
حوالہ / References
تہذيب التہذيب عسقلانی ترجمہ شبابہ بن سوار الفزاری مطبوعہ دائرۃ المعارف حيدرآباد دکن ۴ / ۳۰۱
تہذيب التہذيب عسقلانی ترجمہ شبابہ بن سوار الفزاری مطبوعہ دائرۃ المعارف حيدرآباد دکن ۴ / ۳۰۱
تہذيب التہذيب عسقلانی ترجمہ شبابہ بن سوار الفزاری مطبوعہ دائرۃ المعارف حيدرآباد دکن ۴ / ۳۰۱
کہ سچا ہے اس کی حديث لکھی جائے مگر اس کو حجت نہ بنايا جائے۔ ت) اسی ميں ہے :
قال ابوبکر الاثرم عن احمد بن حنبل : کان يدعو الی الارجاء وحکی عنہ قول اخبث من ھذہ الاقاويل قال : اذا قال فقد عمل بجارحتہ۔ وھذا قول خبيث ماسمعت احدا يقولہ ۔
ابوبکر اثرم نے احمد بن حنبل سے نقل کيا ہے کہ اسحق عقيدہ ارجاء کی دعوت ديتا تھا اور اس سے ايك ايسا قول بھی منقول ہے جو ان تمام باتوں سے زيادہ خبيث ہے۔ اس نے کہا کہ جب (الله تعالی) کوئی بات کہتا ہے تو يقينا اپنے ايك عضو (زبان) کو کام ميں لاتا ہے۔ يہ ايك خبيث قول ہے ميں نے کسی کو يہ بات کہتے نہيں سنا۔ (ت)
اسی ميں ہے :
قال ابوبکر محمد بن ابی الثلج حدثنی ابوعلی بن سختی المدائنی حدثنی رجل معروف من اھل المدائن قال : رأيت فی المنام رجلا نظيف الثوب حسن الھيأۃ فقال لی : من اين انت قلت : من اھل المدائن قال : من اھل الجانب الذی فيہ شبابۃ قلت : نعم! قال فانی ادعو اللہ فامن علی دعائی : اللھم! ان کان شبابۃ يبغض اھل نبيك فاضربہ الساعۃ بفالج قال : فانتبھت وجئت الی المدائن وقت الظھر واذا الناس فی ھرج فقلت ماللناس قالوا : فلج شبابۃ فی السحر ومات الساعۃ ۔
ابوبکر محمد بن ابی الثلج نے کہا کہ مجھے ابوعلی ابن سختی مدائنی نے بتایا کہ مجھ سے مدائن کے ايك مشہور آدمی نے بيان کيا کہ ميں نے خواب ميں ايك خوش لباس اور خوش شکل شخص کو ديکھا اس نے مجھ سے پوچھا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو ميں نے کہا ميں ا ہل مدائن ميں سے ہوں ۔ اس نے پوچھا مدائن کے اس حصے ميں رہتے ہو جس ميں ابوشبابہ رہتا ہے ميں نے کہا ہاں اس نے کہا کہ پھر ميں ايك دعا کرتا ہوں اور تم آمين کہو۔ (اس نے يوں دعاکی : ) اے اللہ! اگر شبابہ تيرے نبی کے اہل سے بغض رکھتا ہے تو اس کو اسی وقت فالج ميں مبتلا کردے۔ اس آدمی نے کہا کہ يہ ديکھ کر ميں جاگ گيا اور ظہر کے وقت مدائن (کے اس حصے ميں جہاں شبابہ رہتا تھا) گيا تو ديکھا کہ لوگوں ميں اضطراب پايا جاتا ہے ميں نے پوچھا کہ لوگ کيوں پريشان ہيں انہوں نے جواب ديا کہ آج سحر کے وقت شبابہ پر فالج گرا اور ابھی ابھی مرگيا ہے۔ (ت)
قال ابوبکر الاثرم عن احمد بن حنبل : کان يدعو الی الارجاء وحکی عنہ قول اخبث من ھذہ الاقاويل قال : اذا قال فقد عمل بجارحتہ۔ وھذا قول خبيث ماسمعت احدا يقولہ ۔
ابوبکر اثرم نے احمد بن حنبل سے نقل کيا ہے کہ اسحق عقيدہ ارجاء کی دعوت ديتا تھا اور اس سے ايك ايسا قول بھی منقول ہے جو ان تمام باتوں سے زيادہ خبيث ہے۔ اس نے کہا کہ جب (الله تعالی) کوئی بات کہتا ہے تو يقينا اپنے ايك عضو (زبان) کو کام ميں لاتا ہے۔ يہ ايك خبيث قول ہے ميں نے کسی کو يہ بات کہتے نہيں سنا۔ (ت)
اسی ميں ہے :
قال ابوبکر محمد بن ابی الثلج حدثنی ابوعلی بن سختی المدائنی حدثنی رجل معروف من اھل المدائن قال : رأيت فی المنام رجلا نظيف الثوب حسن الھيأۃ فقال لی : من اين انت قلت : من اھل المدائن قال : من اھل الجانب الذی فيہ شبابۃ قلت : نعم! قال فانی ادعو اللہ فامن علی دعائی : اللھم! ان کان شبابۃ يبغض اھل نبيك فاضربہ الساعۃ بفالج قال : فانتبھت وجئت الی المدائن وقت الظھر واذا الناس فی ھرج فقلت ماللناس قالوا : فلج شبابۃ فی السحر ومات الساعۃ ۔
ابوبکر محمد بن ابی الثلج نے کہا کہ مجھے ابوعلی ابن سختی مدائنی نے بتایا کہ مجھ سے مدائن کے ايك مشہور آدمی نے بيان کيا کہ ميں نے خواب ميں ايك خوش لباس اور خوش شکل شخص کو ديکھا اس نے مجھ سے پوچھا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو ميں نے کہا ميں ا ہل مدائن ميں سے ہوں ۔ اس نے پوچھا مدائن کے اس حصے ميں رہتے ہو جس ميں ابوشبابہ رہتا ہے ميں نے کہا ہاں اس نے کہا کہ پھر ميں ايك دعا کرتا ہوں اور تم آمين کہو۔ (اس نے يوں دعاکی : ) اے اللہ! اگر شبابہ تيرے نبی کے اہل سے بغض رکھتا ہے تو اس کو اسی وقت فالج ميں مبتلا کردے۔ اس آدمی نے کہا کہ يہ ديکھ کر ميں جاگ گيا اور ظہر کے وقت مدائن (کے اس حصے ميں جہاں شبابہ رہتا تھا) گيا تو ديکھا کہ لوگوں ميں اضطراب پايا جاتا ہے ميں نے پوچھا کہ لوگ کيوں پريشان ہيں انہوں نے جواب ديا کہ آج سحر کے وقت شبابہ پر فالج گرا اور ابھی ابھی مرگيا ہے۔ (ت)
حوالہ / References
تہذيب التہذيب عسقلانی ترجمہ شبابہ سوار الفزاری مطبوعہ دائرۃ المعارف حيدرآباد دکن ۴ / ۳۰۲
تہذيب التہذيب عسقلانی ترجمہ شبابہ سوار الفزاری مطبوعہ دائرۃ المعارف حيدرآباد دکن ۴ / ۳۰۲
تہذيب التہذيب عسقلانی ترجمہ شبابہ سوار الفزاری مطبوعہ دائرۃ المعارف حيدرآباد دکن ۴ / ۳۰۲
روايت حاکم وطبرانی کو خود ملاجی بھی ضعيف مان چکے فرماتے ہيں ف ۱ : مؤلف نے دلائل ميں وہ حديثيں بيان کی ہيں جن کی طرف ہم کو کچھ التفات نہيں يعنی ايك روايت ابوداؤد جس کے راوی ميں ضعف تھا ايك روايت معجم اوسط طبرانی ايك روايت اربعين حاکم نقل کرکے ان پر طعن کرديا اور جو روايتيں صحيحہ متداول تھيں نقل کرکے ان کا جواب نہيں ديا يہ کيا دينداری ہے اور کيا مردانگی کہ بخاری ومسلم کو چھوڑ کر اربعين حاکم اور اوسط طبرانی کو جاپکڑا اور ان سے دو۲ روايتيں ضعيف نقل کرکے ان کا جواب ديا۔ لہذا ہميں ان کے باب ميں تفصيل کلام کی حاجت نہ رہی ع :
مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تيری
خير يہ تو ملاجی سے خدا جانے کس مجبوری نے کہلوا چھوڑ مگر ستم۔
لطيفہ : اس مافات کی تلافی يہ ہے کہ جب يہ روايتيں ناقابل احتجاج نکل گئيں خود روايت صحيحين ميں لفظ والعصر بڑھاديا فرماتے ف۲ ہيں روايت کی بخاری اور مسلم نے انس سے (الی قولہ) فان زاغت الشمس قبل ان يرتحل صلی الظھر والعصر ثم رکب۔
اقول : ملاجی حنفیہ کی مروی تو بحمدالله آپ نے دیکھ لی اب بعونہ تعالی اور دیکھئے گا یہاں تك کہ آپ کی سب ہوسوں کی تسکین ہوجائے مگر دینداری و مردانگی اس کا نام ہوگا کہ مشہور و متداول کتب میں تحریف کےلئے مردانہ پن کا دعوی ہے تو صحیحین میں اس عبارت کا نشان دیجئے ایك زمانہ میں آپ کو خبط کفری جاگا تھا کہ زمین کے طبقات زیریں میں حضور پرنور منزہ عن المثل والنظیر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے معاذالله چھ مثل موجود ہیں یہ بخاری مسلم شاید انہیں طبقات کی ہوں گی۔
ثم اقول : وبالله التوفیق یہ سب کلام بالائی تھی فرض کرلیجئے کہ یہ روایت صحیحہ بلکہ خود صحیحین موجود سہی پھر تمھیں کیا نفع اور ہمیں کیا ضرر اس کا تو اتنا حاصل کہ سورج منزل ہی میں ڈھل جاتا تو ظہر وعصر دونوں سے فارغ ہوکر سوار ہوتے اس سے عصر کا پیش از وقت پڑھ لینا کہاں سے نکلا۔
اولا : واو مطلق جمع کےلئے ہے نہ معیت وتعقیب کے واسطے جمیعا بھی اسی مطلق جمع کی تاکید کرتا ہے جو مفاد واو ہے اس کا منطوق صریح اجتماع فی الحکم ہے عــہ نہ خواہی نخواہی اجتماع فی الوقت آیہ کریمہ و توبوا الى الله
عــہ : بیضاوی شریف میں زیر آیہ کریمہ قلنا اهبطوا منها جمیعا- ہے
حال فی اللفظ تاکید فی المعنی کانہ قیل : اھبطوا انتم اجمعون ولذلك لایستدعی اجتماعھم علی الھبوط فی زمان واحد کقولك جاؤا جمیعا۔ اھ ۱۲ منہ رضی جالله تعالی عنہ (م)۔
“ جمیعا “ لفظا حال ہے معنی تاکید ہے گویا کہ کہا گیا تم سب اترو۔ اسی لئے اس کا یہ تقاضا نہیں ہے کہ سب ایك ہی وقت میں اتریں جیسا کہ تم کہتے ہو کہ سب آئے اھ ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ(ت)
ف۱ معيار الحق ص ۳۶۵ ۳۶۶۔ ف۲ معيارالحق ص ۳۷۹
مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تيری
خير يہ تو ملاجی سے خدا جانے کس مجبوری نے کہلوا چھوڑ مگر ستم۔
لطيفہ : اس مافات کی تلافی يہ ہے کہ جب يہ روايتيں ناقابل احتجاج نکل گئيں خود روايت صحيحين ميں لفظ والعصر بڑھاديا فرماتے ف۲ ہيں روايت کی بخاری اور مسلم نے انس سے (الی قولہ) فان زاغت الشمس قبل ان يرتحل صلی الظھر والعصر ثم رکب۔
اقول : ملاجی حنفیہ کی مروی تو بحمدالله آپ نے دیکھ لی اب بعونہ تعالی اور دیکھئے گا یہاں تك کہ آپ کی سب ہوسوں کی تسکین ہوجائے مگر دینداری و مردانگی اس کا نام ہوگا کہ مشہور و متداول کتب میں تحریف کےلئے مردانہ پن کا دعوی ہے تو صحیحین میں اس عبارت کا نشان دیجئے ایك زمانہ میں آپ کو خبط کفری جاگا تھا کہ زمین کے طبقات زیریں میں حضور پرنور منزہ عن المثل والنظیر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے معاذالله چھ مثل موجود ہیں یہ بخاری مسلم شاید انہیں طبقات کی ہوں گی۔
ثم اقول : وبالله التوفیق یہ سب کلام بالائی تھی فرض کرلیجئے کہ یہ روایت صحیحہ بلکہ خود صحیحین موجود سہی پھر تمھیں کیا نفع اور ہمیں کیا ضرر اس کا تو اتنا حاصل کہ سورج منزل ہی میں ڈھل جاتا تو ظہر وعصر دونوں سے فارغ ہوکر سوار ہوتے اس سے عصر کا پیش از وقت پڑھ لینا کہاں سے نکلا۔
اولا : واو مطلق جمع کےلئے ہے نہ معیت وتعقیب کے واسطے جمیعا بھی اسی مطلق جمع کی تاکید کرتا ہے جو مفاد واو ہے اس کا منطوق صریح اجتماع فی الحکم ہے عــہ نہ خواہی نخواہی اجتماع فی الوقت آیہ کریمہ و توبوا الى الله
عــہ : بیضاوی شریف میں زیر آیہ کریمہ قلنا اهبطوا منها جمیعا- ہے
حال فی اللفظ تاکید فی المعنی کانہ قیل : اھبطوا انتم اجمعون ولذلك لایستدعی اجتماعھم علی الھبوط فی زمان واحد کقولك جاؤا جمیعا۔ اھ ۱۲ منہ رضی جالله تعالی عنہ (م)۔
“ جمیعا “ لفظا حال ہے معنی تاکید ہے گویا کہ کہا گیا تم سب اترو۔ اسی لئے اس کا یہ تقاضا نہیں ہے کہ سب ایك ہی وقت میں اتریں جیسا کہ تم کہتے ہو کہ سب آئے اھ ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ(ت)
ف۱ معيار الحق ص ۳۶۵ ۳۶۶۔ ف۲ معيارالحق ص ۳۷۹
جمیعا ایه المؤمنون لعلكم تفلحون(۳۱) (اور توبہ کرو الله تعالی کی طرف تم سب اے اہل ایمان! تاکہ تم فلاح پاؤ۔ ت)
نے یہ ارشاد فرمایا کہ سب مسلمان توبہ کریں حکم توبہ سب کو شامل ہو یا یہ فرض کیا کہ تمام دنیا کے مسلمان ایك وقت ایك ساتھ مل کر معا توبہ کریں ۔
ثانیا : اجتماع فی الوقت کہ بذریعہ فردیت اجتماع فی الحکم مفاد ہویا خود اس کے لئے بھی وضع مانو اس وقت سے وقت نماز مراد نہیں ہوسکتا کہ وضع الفاظ تعیین اوقات نماز سے مقدم ہے لفظ جمیعا اپنے معنی لغوی پر اہل جاہلیت بھی بولتے تھے جنہیں نماز سے خبر تھی نہ اس کے وقت سے تو لاجرم اس تقدیر پر اس کا مفاد اتحاد زمانہ وقوع ومقارنت فی الصدور ہوگا وہ دو۲ نماز فرض میں ناممکن اور اتصال بروجہ تعقیب اس معنی جمیعا کا فرد نہیں بلکہ صریح مباین لاجرم پھر اسی معنی واضح وروشن واقل متیقن یعنی اجتماع فی الحکم کی طرف رجوع لازم کہ تاصحت حقیقت مجاز کی طرف مصیر نامجاز خصوصا مستدل کو۔
ثالثا : تعقیب ہی سہی پھر جمع صوری کی نفی کہاں سے ہوئی صلی جمیعا یوں بھی صادق اور ادعائے تقدیم باطل وزاہق ھکذا ینبغی التحقیق والله ولی التوفیق بحمدالله آفتاب کی طرح روشن ہوا کہ جمع تقدیم پر اصلا کوئی دلیل نہیں کسی حدیث صحیح میں اس کی بو بھی نہیں ملاجی کا قطعی ومفسر کہہ دینا خدا جانے کس نشہ کی ترنگ تھی سبحن اللہ! کیا ایسی ہی ہوسوں پر توقیت منصوص قرآن ونصوص اور پیش ازوقت نماز کے بطلان پر اجماع امت ترك کردئی جائیں گے اور خدا ورسول جل جلالہ وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے باندھے ہوئے اوقات الٹ پلٹ ہوسکیں گے یہ اچھا عمل بالحدیث ہے کہ اپنی خیال بندیوں پر رگ دعوی بلند اور قرآن عظیم وحدیث واجماع سب سے آنکھیں بند ولاحول ولاقوۃ الابالله العلی العظیم وصلی الله تعالی علی سید المرسلین سیدنا ومولانا محمد والہ وصحبہ اجمعین۔
فصل سوم تضعیف دلائل جمع تاخیر
الحمدلله جمع تقدیم کے جواب سے فراغ تام ملا اب جمع تاخیر کی طرف چلیے۔ ملاجی بہزار کاوش وکاہش یہاں بھی دو۲ ہی حدیثیں چھانٹ پائے جن کے الفاظ متعددہ کے ذکر سے شاید عوام کو یہ وہم دلانا ہوکہ اتنی حدیثیں ہیں یہ دو۲ حدیثیں وہی احادیث ابن عمرو انس رضی اللہ تعالی عنہممذکورہ صدر فصل اول وافاضہ ثالثہ ہیں جن کے بعض طرق والفاظ حدیث اول جمع صوری وحدیث اول ودوم حدیث مجملہ میں گزرے ان کے بعض الفاظ بعض طرق کو
نے یہ ارشاد فرمایا کہ سب مسلمان توبہ کریں حکم توبہ سب کو شامل ہو یا یہ فرض کیا کہ تمام دنیا کے مسلمان ایك وقت ایك ساتھ مل کر معا توبہ کریں ۔
ثانیا : اجتماع فی الوقت کہ بذریعہ فردیت اجتماع فی الحکم مفاد ہویا خود اس کے لئے بھی وضع مانو اس وقت سے وقت نماز مراد نہیں ہوسکتا کہ وضع الفاظ تعیین اوقات نماز سے مقدم ہے لفظ جمیعا اپنے معنی لغوی پر اہل جاہلیت بھی بولتے تھے جنہیں نماز سے خبر تھی نہ اس کے وقت سے تو لاجرم اس تقدیر پر اس کا مفاد اتحاد زمانہ وقوع ومقارنت فی الصدور ہوگا وہ دو۲ نماز فرض میں ناممکن اور اتصال بروجہ تعقیب اس معنی جمیعا کا فرد نہیں بلکہ صریح مباین لاجرم پھر اسی معنی واضح وروشن واقل متیقن یعنی اجتماع فی الحکم کی طرف رجوع لازم کہ تاصحت حقیقت مجاز کی طرف مصیر نامجاز خصوصا مستدل کو۔
ثالثا : تعقیب ہی سہی پھر جمع صوری کی نفی کہاں سے ہوئی صلی جمیعا یوں بھی صادق اور ادعائے تقدیم باطل وزاہق ھکذا ینبغی التحقیق والله ولی التوفیق بحمدالله آفتاب کی طرح روشن ہوا کہ جمع تقدیم پر اصلا کوئی دلیل نہیں کسی حدیث صحیح میں اس کی بو بھی نہیں ملاجی کا قطعی ومفسر کہہ دینا خدا جانے کس نشہ کی ترنگ تھی سبحن اللہ! کیا ایسی ہی ہوسوں پر توقیت منصوص قرآن ونصوص اور پیش ازوقت نماز کے بطلان پر اجماع امت ترك کردئی جائیں گے اور خدا ورسول جل جلالہ وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے باندھے ہوئے اوقات الٹ پلٹ ہوسکیں گے یہ اچھا عمل بالحدیث ہے کہ اپنی خیال بندیوں پر رگ دعوی بلند اور قرآن عظیم وحدیث واجماع سب سے آنکھیں بند ولاحول ولاقوۃ الابالله العلی العظیم وصلی الله تعالی علی سید المرسلین سیدنا ومولانا محمد والہ وصحبہ اجمعین۔
فصل سوم تضعیف دلائل جمع تاخیر
الحمدلله جمع تقدیم کے جواب سے فراغ تام ملا اب جمع تاخیر کی طرف چلیے۔ ملاجی بہزار کاوش وکاہش یہاں بھی دو۲ ہی حدیثیں چھانٹ پائے جن کے الفاظ متعددہ کے ذکر سے شاید عوام کو یہ وہم دلانا ہوکہ اتنی حدیثیں ہیں یہ دو۲ حدیثیں وہی احادیث ابن عمرو انس رضی اللہ تعالی عنہممذکورہ صدر فصل اول وافاضہ ثالثہ ہیں جن کے بعض طرق والفاظ حدیث اول جمع صوری وحدیث اول ودوم حدیث مجملہ میں گزرے ان کے بعض الفاظ بعض طرق کو
حوالہ / References
القرآن ۴ ۲ / ۳۱
انوار التنزیل علی ہامش القرآن الکریم مصطفی البابی مصر ص ۱۸
انوار التنزیل علی ہامش القرآن الکریم مصطفی البابی مصر ص ۱۸
ملاجی جمع حقیقی میں نص صریح سمجھ کر لائے اور بزعم خود بہت چمك چمك کر دعوے فرمائے ادھر کے متکلمین نے اکثر افادات علمائے سابقین اور بعض اپنے سوانح جدیدہ سے ان کے جوابوں میں کلام طویل کیے فقیر غفرلہ المولی القدیر کا یہ مختصر جواب نقل اقاویل وجمع ماقال وقیل کےلئے نہیں لہذا بعونہ تعالی وہ افادات تازہ سنیے کہ فیض مولائے اجل سے قلب عبد اذل پر فائض ہوئے اہل نظر اگر مقاببلہ کریں جلیل وعظیم فرق پر خود ہی مطلع ہوں گے والله یختص برحمتہ من یشاء والله ذوالفضل العظیم (الله تعالی اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہے مخصوص فرمادے اور الله تعالی علم وفضل والا ہے۔ ت)
اقول : وبحول الله اصول حدیث ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماکے چالیس سے زیادہ طرق اس وقت پیش نظر فقیر ہیں ان میں نصف سے زائد تو محض مجمل جن میں اٹھارہ کی طرف ہم نے احادیث مجملہ میں اشارہ کیا ر ہے نصف سے کم ان میں اکثر صاف صاف جمع صوری کی تصریح کررہے ہیں جن میں سے چودہ۱۴ روایات بخاری وابوداؤد ونسائی وغیرہم سے اوپر مذکور ہوئے ہاں بعض میں ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماکا بعد غروب شفق جمع کرنا مذکور ان میں بھی بعض محض موقوف مثل روایت۱ موطائے امام محمد :
اخبرنا مالك عن نافع ان ابن عمر رضی الله تعالی عنھما حین جمع بین المغرب والعشاء سارحتی غاب الشفق ۔
مالک نافع سے روایت کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہمانے جب مغرب وعشاء کو جمع کیا تھا تو چلتے رہے تھے یہاں تك شفق غائب ہوگئی تھی۔ (ت)
اور بعض میں رفع ہے تو بالفاظ اجمال یعنی حضور والا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے تصریحا اسی قدر منقول کہ جمع فرمائی قدر مرفوع میں غیبت شفق پر تنصیص نہیں مثل روایت۲ بخاری :
حدثنا سعید بن ابی مریم اخبرنا محمد بن جعفر قال اخبرنی زید ھو ابن اسلم عن ابیہ قال : کنت مع عبدالله بن عمر رضی الله تعالی عنھما بطریق مکۃ فبلغہ عن صفیۃ بنت ابی عبید شدۃ وجع فاسرع السیر حتی اذاکان بعد غروب الشفق ثم نزل فصلی المغرب والعتمۃ یجمع بینھما فقال : انی رأیت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اذاجدبہ السیر اخر المغرب وجمع بینھما ۔
حدیث بیان کی ہم سے سعید ابن ابی مریم نے اس کو خبر دی محمد ابن جعفر نے اس کو زید بن اسلم نے اپنے والدی سے کہ میں مکہ کے راستے میں عبدالله ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماکے ساتھ تھا تو ان کو صفیہ بنت ابی عبید کے بارے میں اطلاع ملی کہ وہ سخت درد میں ہیں ۔ چنانچہ انہوں نے اپنی رفتار تیز کردی یہاں تك کہ شفق غروب ہوگئی۔ اس کے بعد وہ اترے اور
اقول : وبحول الله اصول حدیث ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماکے چالیس سے زیادہ طرق اس وقت پیش نظر فقیر ہیں ان میں نصف سے زائد تو محض مجمل جن میں اٹھارہ کی طرف ہم نے احادیث مجملہ میں اشارہ کیا ر ہے نصف سے کم ان میں اکثر صاف صاف جمع صوری کی تصریح کررہے ہیں جن میں سے چودہ۱۴ روایات بخاری وابوداؤد ونسائی وغیرہم سے اوپر مذکور ہوئے ہاں بعض میں ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماکا بعد غروب شفق جمع کرنا مذکور ان میں بھی بعض محض موقوف مثل روایت۱ موطائے امام محمد :
اخبرنا مالك عن نافع ان ابن عمر رضی الله تعالی عنھما حین جمع بین المغرب والعشاء سارحتی غاب الشفق ۔
مالک نافع سے روایت کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہمانے جب مغرب وعشاء کو جمع کیا تھا تو چلتے رہے تھے یہاں تك شفق غائب ہوگئی تھی۔ (ت)
اور بعض میں رفع ہے تو بالفاظ اجمال یعنی حضور والا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے تصریحا اسی قدر منقول کہ جمع فرمائی قدر مرفوع میں غیبت شفق پر تنصیص نہیں مثل روایت۲ بخاری :
حدثنا سعید بن ابی مریم اخبرنا محمد بن جعفر قال اخبرنی زید ھو ابن اسلم عن ابیہ قال : کنت مع عبدالله بن عمر رضی الله تعالی عنھما بطریق مکۃ فبلغہ عن صفیۃ بنت ابی عبید شدۃ وجع فاسرع السیر حتی اذاکان بعد غروب الشفق ثم نزل فصلی المغرب والعتمۃ یجمع بینھما فقال : انی رأیت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اذاجدبہ السیر اخر المغرب وجمع بینھما ۔
حدیث بیان کی ہم سے سعید ابن ابی مریم نے اس کو خبر دی محمد ابن جعفر نے اس کو زید بن اسلم نے اپنے والدی سے کہ میں مکہ کے راستے میں عبدالله ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماکے ساتھ تھا تو ان کو صفیہ بنت ابی عبید کے بارے میں اطلاع ملی کہ وہ سخت درد میں ہیں ۔ چنانچہ انہوں نے اپنی رفتار تیز کردی یہاں تك کہ شفق غروب ہوگئی۔ اس کے بعد وہ اترے اور
حوالہ / References
مؤطا امام محمد باب الجمع بین الصلاتین فی السفر والمطر مطبوعہ مجتبائی لاہور ص۱۳۱
صحیح للبخاری باب المسافر اذاجدبہ السیر وتعجل الٰی اہلہ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۴۳
صحیح للبخاری باب المسافر اذاجدبہ السیر وتعجل الٰی اہلہ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۴۳
مغرب وعشاء کی نماز پڑھی دونوں کو جمع کیا پھر کہا کہ میں نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو دیکھا ہے کہ جب انہیں سفر میں جلدی ہوتی تھی تو مغرب کو مؤخر کرکے دونوں کو جمع کرلیتے تھے۔ (ت)
وروایت۳ مسلم :
حدثنا محمد بن مثنی نایحیی عن عبیدالله عن نافع ان ابن عمر کان اذاجدبہ السیر جمع بین المغرب والعشاء بعد ان یغیب الشمس ویقول : ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کان اذاجدبہ السیر جمع بین المغرب والعشاء ۔ ورواہ الطحاوی فقال : حدثنا ابن ابی داؤد ثنا مسدد ثنا یحییی بہ سندا ومتنا۔
حدیث بیان کی ہم سے محمد ابن مثنی نے یحیی سے اس نے عبیدالله سے اس نے نافع سے کہ ابن عمر کو جب سفر میں جلدی ہوتی تھی تو شفق غائب ہونے کے بعد مغرب وعشا کو جمع کرلیتے تھے اور کہتے تھے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو بھی جب سفر میں جلدی ہوتی تھی تو مغرب وعشاء کو جمع کرلیتے تھے۔ طحاوی نے بھی ابن ابی داؤد سے اس نے مسدد سے اس نے یحیی سے یہی روایت کی ہے ایك ہی سند اور متن کے ساتھ۔ (ت)
وروایت۴ ابی داؤد :
حدثنا سلیمن بن داود العتکی نا عماد نا ایوب عن نافع ان ابن عمر استصرخ علی صفیۃ وھو بمکۃ فسار حتی غربت الشمس وبدت النجوم فقال : ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کان اذا عجل بہ امر فی سفربین ھاتین الصلاتین فسار حتی غاب الشفق فنزل فجمع بینھما ۔
حدیث بیان کی ہم سے سلیمان ابن داؤد عتکی نے عماد سے اس نے ایوب سے اس نے نافع سے کہ ابن عمر جب مکہ میں تھے تو ان کو صفیہ کی شدید بیماری کی اطلاع ملی اور وہ چل پڑے یہاں تك کہ سورج غروب ہوگیا اور ستارے ظاہر ہوگئے تو کہا کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو جب سفر میں
وروایت۳ مسلم :
حدثنا محمد بن مثنی نایحیی عن عبیدالله عن نافع ان ابن عمر کان اذاجدبہ السیر جمع بین المغرب والعشاء بعد ان یغیب الشمس ویقول : ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کان اذاجدبہ السیر جمع بین المغرب والعشاء ۔ ورواہ الطحاوی فقال : حدثنا ابن ابی داؤد ثنا مسدد ثنا یحییی بہ سندا ومتنا۔
حدیث بیان کی ہم سے محمد ابن مثنی نے یحیی سے اس نے عبیدالله سے اس نے نافع سے کہ ابن عمر کو جب سفر میں جلدی ہوتی تھی تو شفق غائب ہونے کے بعد مغرب وعشا کو جمع کرلیتے تھے اور کہتے تھے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو بھی جب سفر میں جلدی ہوتی تھی تو مغرب وعشاء کو جمع کرلیتے تھے۔ طحاوی نے بھی ابن ابی داؤد سے اس نے مسدد سے اس نے یحیی سے یہی روایت کی ہے ایك ہی سند اور متن کے ساتھ۔ (ت)
وروایت۴ ابی داؤد :
حدثنا سلیمن بن داود العتکی نا عماد نا ایوب عن نافع ان ابن عمر استصرخ علی صفیۃ وھو بمکۃ فسار حتی غربت الشمس وبدت النجوم فقال : ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کان اذا عجل بہ امر فی سفربین ھاتین الصلاتین فسار حتی غاب الشفق فنزل فجمع بینھما ۔
حدیث بیان کی ہم سے سلیمان ابن داؤد عتکی نے عماد سے اس نے ایوب سے اس نے نافع سے کہ ابن عمر جب مکہ میں تھے تو ان کو صفیہ کی شدید بیماری کی اطلاع ملی اور وہ چل پڑے یہاں تك کہ سورج غروب ہوگیا اور ستارے ظاہر ہوگئے تو کہا کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو جب سفر میں
حوالہ / References
صحیح لمسلم باب جواز الجمع بین الصلاتین فی السفر مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۴۵
شرح معانی الآثار باب الجمع بین الصلاتین کیف ھو مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۲
سُنن ابی داؤد باب الجمع بین الصلاتین مطبوعہ مجتبائی لاہور ۱ / ۱۷۰
شرح معانی الآثار باب الجمع بین الصلاتین کیف ھو مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۲
سُنن ابی داؤد باب الجمع بین الصلاتین مطبوعہ مجتبائی لاہور ۱ / ۱۷۰
کسی کام کی جلدی ہوتی تھی تو ان دو۲ نمازوں کو جمع کرلیتے تھے۔ پھر چلتے رہے یہاں تك کہ شفق غائب ہوگئی تو اترے اور دونوں کو اکٹھا پڑھا۔ (ت)
ضمیر سار ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماکی طرف ہے بدلیل روایت طحاوی :
حدثنا ابن مرزوق ثنا عازم بن الفضل ثنا حماد بن زید عن ایوب عن نافع ان ابن عمر رضی الله تعالی عنہما استصرخ علی صفیۃ بنت عبید وھو بمکۃ فاقبل الی المدینۃ فسار حتی غربت الشمس وبدت النجوم وکان رجل ءیصحبہ یقول : الصلاۃ 'الصلاۃ وقال لہ سالم : الصلاۃ فقال : ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کان اذاعجل بہ السیر فی سفر جمع بین ھاتین الصلاتین وانی ارید ان اجمع بینھما فسار حتی غاب الشفق ثم نزل فجمع بینھما ۔
حدیث بیان کی ہم سے ابن مرزوق نے عازم ابن فضل سے اس نے حماد ابن زید سے اس نے ایوب سے اس نے نافع سے کہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماجب مکہ میں تھے تو آپ کو صفیہ بنت ابی عبید کی شدید علالت کی خبر ملی۔ چنانچہ آپ مدینہ کی جانب روانہ ہوگئے اور مسلسل چلتے رہے یہاں تك کہ سورج غروب ہوگیا اور ستارے چمکنے لگے۔ ابن عمر کے ساتھ ایك شخص تھا جو کہہ رہا تھا “ نماز نماز “ ۔ سالم نے بھی کہا “ نماز “ (یعنی نماز کا وقت جارہا ہے) تو ابن عمر نے کہا کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو جب سفر میں جلدی ہوتی تھی تو ان دو۲ نمازوں کو اکٹھا پڑھ لیتے تھے اور میں بھی چاہتا ہوں کہ اکٹھا پڑھ لوں ۔ پھر چلتے رہے یہاں تك کہ شفق غائب ہوگئی اس وقت اتر کر دونوں کو اکٹھا پڑھا۔ (ت)
ولہذا امام اجل ابوجعفر اس حدیث کو روایت کرکے فرماتے ہیں :
انما اخبر بذلك من فعل ابن عمر رضی الله تعالی عنھما وذکر عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم الجمع ولم یذکر کیف جمع ۔
اس میں تو صرف ابن عمر کا عمل مذکور ہے اور انہوں نے اگرچہ یہ تو بتایا ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجمع کیا کرتے تھے مگر یہ ذکر نہیں کیا کہ کیسے جمع کیا کرتے تھے۔ (ت)
ضمیر سار ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماکی طرف ہے بدلیل روایت طحاوی :
حدثنا ابن مرزوق ثنا عازم بن الفضل ثنا حماد بن زید عن ایوب عن نافع ان ابن عمر رضی الله تعالی عنہما استصرخ علی صفیۃ بنت عبید وھو بمکۃ فاقبل الی المدینۃ فسار حتی غربت الشمس وبدت النجوم وکان رجل ءیصحبہ یقول : الصلاۃ 'الصلاۃ وقال لہ سالم : الصلاۃ فقال : ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کان اذاعجل بہ السیر فی سفر جمع بین ھاتین الصلاتین وانی ارید ان اجمع بینھما فسار حتی غاب الشفق ثم نزل فجمع بینھما ۔
حدیث بیان کی ہم سے ابن مرزوق نے عازم ابن فضل سے اس نے حماد ابن زید سے اس نے ایوب سے اس نے نافع سے کہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماجب مکہ میں تھے تو آپ کو صفیہ بنت ابی عبید کی شدید علالت کی خبر ملی۔ چنانچہ آپ مدینہ کی جانب روانہ ہوگئے اور مسلسل چلتے رہے یہاں تك کہ سورج غروب ہوگیا اور ستارے چمکنے لگے۔ ابن عمر کے ساتھ ایك شخص تھا جو کہہ رہا تھا “ نماز نماز “ ۔ سالم نے بھی کہا “ نماز “ (یعنی نماز کا وقت جارہا ہے) تو ابن عمر نے کہا کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو جب سفر میں جلدی ہوتی تھی تو ان دو۲ نمازوں کو اکٹھا پڑھ لیتے تھے اور میں بھی چاہتا ہوں کہ اکٹھا پڑھ لوں ۔ پھر چلتے رہے یہاں تك کہ شفق غائب ہوگئی اس وقت اتر کر دونوں کو اکٹھا پڑھا۔ (ت)
ولہذا امام اجل ابوجعفر اس حدیث کو روایت کرکے فرماتے ہیں :
انما اخبر بذلك من فعل ابن عمر رضی الله تعالی عنھما وذکر عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم الجمع ولم یذکر کیف جمع ۔
اس میں تو صرف ابن عمر کا عمل مذکور ہے اور انہوں نے اگرچہ یہ تو بتایا ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجمع کیا کرتے تھے مگر یہ ذکر نہیں کیا کہ کیسے جمع کیا کرتے تھے۔ (ت)
حوالہ / References
شرح معانی الآثار باب الجمع بین الصلاتین مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۲
شرح معانی الآثار باب الجمع بین الصلاتین مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۲
شرح معانی الآثار باب الجمع بین الصلاتین مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۲
البتہ غیر صحیحین کی بعض روایات میں فعل یکتف کی طرف اشارہ کرکے رفع ہے وہ یہ ہیں روایت۵ ابی داؤد :
حدثنا عبدالملك ابن شعیب ناابن وھب عن اللیث قال : قال ربیعۃ یعنی کتب الیہ حدثنی عبدالله بن دینار قال : غابت الشمس وانا عند عبدالله بن عمر فسرنا فلما رأیناہ قدامسی قلنا : الصلاۃ فسار حتی غاب الشفق وتصوبت النجوم ثم انہ نزل فصلی صلاتین جمیعا ثم قال : رأیت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اذاجدبہ السیر صلی صلاتی ھذہ یقول یجمع بینھما بعد لیل ۔
حدیث بیان کی ہم سے عبدالملك ابن شعیب نے اس نے ابن وہب سے اس نے لیث سے اس نے کہا کہ ربیعہ نے میری طرف لکھا کہ عبدالله ابن دینار نے مجھے بتایا ہے کہ میں عبدالله ابن عمر کے ساتھ تھا کہ سورج ڈوب گیا تو ہم چلتے رہے یہاں تك کہ جب شام ہوگئی تو ہم نے کہا “ نماز “۔ مگر وہ چلتے رہے یہاں تك کہ شفق غائب ہوئی اور تارے نمایاں ہوگئے اس وقت آپ اترے اور دونوں نمازیں اکٹھی پڑھیں پھر کہا کہ میں نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو دیکھا کہ جب آپ کو سفر میں جلدی ہوتی تھی تو جس طرح میں نے نماز پڑھی ہے اسی طرح آپ بھی پڑھا کرتے تھے یعنی رات ہونے کے بعد اکٹھا پڑھتے تھے۔ (ت)
روایت۶ ترمذی :
حدثنا ھناد نا عبدۃ عبیدالله بن عمر عن نافع عن ابن عمر رضی الله تعالی عنھما انہ استغیث علی بعض اھلہ فجدبہ السیر واخر المغرب حتی غاب الشفق ثم نزل فجمع بینھما ثم اخبرھم : ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کان یفعل ذلك اذاجدبہ السیر۔ قال ابوعیسی : ھذا حدیث حسن صحیح ۔
حدیث بیان کی ہم سے ہناد نے عبدۃ سے اس نے عبیدالله بن عمر سے اس نے نافع سے کہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماکو اپنے اہل خانہ میں سے کسی کی سخت بیماری کی اطلاع ملی تو تیزی سے روانہ ہوئے اور مغرب کو اتنا مؤخر کیا کہ شفق ڈوب گئی پھر دونوں کو ملاکر پڑھا بعد میں ساتھیوں کو بتایا کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو جب سفر میں جلدی ہوتی تھی تو اسی طرح کرتے تھے۔ ابوعیسی نے کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ت)
حدثنا عبدالملك ابن شعیب ناابن وھب عن اللیث قال : قال ربیعۃ یعنی کتب الیہ حدثنی عبدالله بن دینار قال : غابت الشمس وانا عند عبدالله بن عمر فسرنا فلما رأیناہ قدامسی قلنا : الصلاۃ فسار حتی غاب الشفق وتصوبت النجوم ثم انہ نزل فصلی صلاتین جمیعا ثم قال : رأیت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اذاجدبہ السیر صلی صلاتی ھذہ یقول یجمع بینھما بعد لیل ۔
حدیث بیان کی ہم سے عبدالملك ابن شعیب نے اس نے ابن وہب سے اس نے لیث سے اس نے کہا کہ ربیعہ نے میری طرف لکھا کہ عبدالله ابن دینار نے مجھے بتایا ہے کہ میں عبدالله ابن عمر کے ساتھ تھا کہ سورج ڈوب گیا تو ہم چلتے رہے یہاں تك کہ جب شام ہوگئی تو ہم نے کہا “ نماز “۔ مگر وہ چلتے رہے یہاں تك کہ شفق غائب ہوئی اور تارے نمایاں ہوگئے اس وقت آپ اترے اور دونوں نمازیں اکٹھی پڑھیں پھر کہا کہ میں نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو دیکھا کہ جب آپ کو سفر میں جلدی ہوتی تھی تو جس طرح میں نے نماز پڑھی ہے اسی طرح آپ بھی پڑھا کرتے تھے یعنی رات ہونے کے بعد اکٹھا پڑھتے تھے۔ (ت)
روایت۶ ترمذی :
حدثنا ھناد نا عبدۃ عبیدالله بن عمر عن نافع عن ابن عمر رضی الله تعالی عنھما انہ استغیث علی بعض اھلہ فجدبہ السیر واخر المغرب حتی غاب الشفق ثم نزل فجمع بینھما ثم اخبرھم : ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کان یفعل ذلك اذاجدبہ السیر۔ قال ابوعیسی : ھذا حدیث حسن صحیح ۔
حدیث بیان کی ہم سے ہناد نے عبدۃ سے اس نے عبیدالله بن عمر سے اس نے نافع سے کہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماکو اپنے اہل خانہ میں سے کسی کی سخت بیماری کی اطلاع ملی تو تیزی سے روانہ ہوئے اور مغرب کو اتنا مؤخر کیا کہ شفق ڈوب گئی پھر دونوں کو ملاکر پڑھا بعد میں ساتھیوں کو بتایا کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو جب سفر میں جلدی ہوتی تھی تو اسی طرح کرتے تھے۔ ابوعیسی نے کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (ت)
حوالہ / References
سُنن ابی داؤد باب الجمع بین الصلاتین مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۷۲
جامع الترمذی باب ماجاء فی الجمع بین الصلاتین مطبوعہ امین کمپنی دہلی ۱ / ۷۲
جامع الترمذی باب ماجاء فی الجمع بین الصلاتین مطبوعہ امین کمپنی دہلی ۱ / ۷۲
روایت (۷) نسائی :
اخبرنا اسحق بن ابرھیم ثنا سفین عن ابن ابی نجیح عن اسمعیل بن عبدالرحمن عن شیخ من قریش قال : صحبت ابن عمر الی الحمی فلما غربت الشمس ھبت ان اقول لہ : الصلاۃ فسار حتی ذھب بیاض الافق وفحمۃ العشاء ثم نزل فصلی المغرب ثلث رکعات ثم صلی رکعتین علی اثرھما قال : ھکذا ارأیت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یفعل ۔
خبر دی ہمیں اسحق ابن ابراہیم نے سفیان سے اس نے ابونجیح سے اس نے اسمعیل ابن عبدالرحمان سے جو کہ ایك قریشی شیخ ہے کہ میں ابن عمر کے ساتھ تھا جب وہ چراگاہ کو گئے اور سورج ڈوب گیا تو ان کی ہیبت کی وجہ سے میں ان کو نماز کے بارے میں نہ کہہ سکا چنانچہ وہ چلتے رہے یہاں تك کہ افق کی سفیدی ختم ہوگئی اور عشاء کی سیاہی ماند پڑگئی اس وقت اترے اور مغرب کی تین رکعتیں پڑھیں پھر متصلا (عشاء کی) دو رکعتیں پڑھیں کہ کہا کہ میں نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو اسی طرح پڑھتے دیکھا ہے۔ (ت)
بظاہر زیادہ مستحق جواب یہی تین روایتیں تھیں مگر فقیر بعون الملك القدیر عزوجل وہ جوابات شافیہ وکافیہ وتقریرات صافیہ ووافیہ بیان کرے کہ یہ ساتوں طرق اور ان کے سوا اور بھی کچھ ہو تو سب کو بحول الله تعالی کفایت کریں ۔
فاقول : وبالله التوفیق وبہ العروج علی اوج التحقیق۔
جواب اول : اسی حدیث ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماکے طرق کثیرہ جلیلہ صحیحہ کہ سابقا ہم نے ذکر کیے صاف دواشگاف بآواز بلند تصریحات قاہرہ فرمارہے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہمانے نماز مغرب غروب شفق سے پہلے پڑھی اور عشاء غروب شفق کے بعد اور اسی کو حضور اقدس سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کیا ان روایات صحاح وحسان وجلیلۃ الشان پر پھر نگاہ تازہ کیجئے۔ امام سالم صاحبزادہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماپنی روایات مرویہ صحیح بخاری وسنن نسائی وصحیح اسمعیلی وغیرہا میں فرمارہے ہیں کہ دو تین میل چل کر جب تارے کھل آئے اتر کر مغرب پڑھی پھر ٹہر کر عشاء۔ عبدالله واقد شاگرد حضرت ابن عمر اپنی روایات مرویہ سنن ابی داؤد میں روشن تر فرماتے ہیں کہ غروب شفق سے پہلے اتر کر مغرب پڑھی پھر منتظر رہے یہاں تك کہ شفق ڈوب گئی اس وقت عشاء پڑھی طرفہ یہ کہ وہی امام نافع تلمیذ خاص ورفیق سفر وحضر ابن عمر کہ ان غروب شفق
اخبرنا اسحق بن ابرھیم ثنا سفین عن ابن ابی نجیح عن اسمعیل بن عبدالرحمن عن شیخ من قریش قال : صحبت ابن عمر الی الحمی فلما غربت الشمس ھبت ان اقول لہ : الصلاۃ فسار حتی ذھب بیاض الافق وفحمۃ العشاء ثم نزل فصلی المغرب ثلث رکعات ثم صلی رکعتین علی اثرھما قال : ھکذا ارأیت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یفعل ۔
خبر دی ہمیں اسحق ابن ابراہیم نے سفیان سے اس نے ابونجیح سے اس نے اسمعیل ابن عبدالرحمان سے جو کہ ایك قریشی شیخ ہے کہ میں ابن عمر کے ساتھ تھا جب وہ چراگاہ کو گئے اور سورج ڈوب گیا تو ان کی ہیبت کی وجہ سے میں ان کو نماز کے بارے میں نہ کہہ سکا چنانچہ وہ چلتے رہے یہاں تك کہ افق کی سفیدی ختم ہوگئی اور عشاء کی سیاہی ماند پڑگئی اس وقت اترے اور مغرب کی تین رکعتیں پڑھیں پھر متصلا (عشاء کی) دو رکعتیں پڑھیں کہ کہا کہ میں نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو اسی طرح پڑھتے دیکھا ہے۔ (ت)
بظاہر زیادہ مستحق جواب یہی تین روایتیں تھیں مگر فقیر بعون الملك القدیر عزوجل وہ جوابات شافیہ وکافیہ وتقریرات صافیہ ووافیہ بیان کرے کہ یہ ساتوں طرق اور ان کے سوا اور بھی کچھ ہو تو سب کو بحول الله تعالی کفایت کریں ۔
فاقول : وبالله التوفیق وبہ العروج علی اوج التحقیق۔
جواب اول : اسی حدیث ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماکے طرق کثیرہ جلیلہ صحیحہ کہ سابقا ہم نے ذکر کیے صاف دواشگاف بآواز بلند تصریحات قاہرہ فرمارہے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہمانے نماز مغرب غروب شفق سے پہلے پڑھی اور عشاء غروب شفق کے بعد اور اسی کو حضور اقدس سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کیا ان روایات صحاح وحسان وجلیلۃ الشان پر پھر نگاہ تازہ کیجئے۔ امام سالم صاحبزادہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماپنی روایات مرویہ صحیح بخاری وسنن نسائی وصحیح اسمعیلی وغیرہا میں فرمارہے ہیں کہ دو تین میل چل کر جب تارے کھل آئے اتر کر مغرب پڑھی پھر ٹہر کر عشاء۔ عبدالله واقد شاگرد حضرت ابن عمر اپنی روایات مرویہ سنن ابی داؤد میں روشن تر فرماتے ہیں کہ غروب شفق سے پہلے اتر کر مغرب پڑھی پھر منتظر رہے یہاں تك کہ شفق ڈوب گئی اس وقت عشاء پڑھی طرفہ یہ کہ وہی امام نافع تلمیذ خاص ورفیق سفر وحضر ابن عمر کہ ان غروب شفق
حوالہ / References
سنن النسائی کتاب المواقیت ، الوقت الذی یجمع فیہ المسافر بین المغرب والعشاء مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۶۹
والی سات روایتوں میں چار انہیں سے ہیں وہی وہاں اپنی روایات کثیرہ مرویہ سنن ابی داؤد وسنن نسائی وغیرہا میں یوں ہی واضح وجلی تر فرمارہے ہیں کہ جب تك مغرب پڑھی ہے شفق ہرگز نہ ڈوبی تھی بلکہ بعد کو بھی انتظار فرمانا پڑا جب ڈوب گئی اس وقت عشا کی تکبیر کہی اور اول تا آخر ان سب روایات میں تصریح صریح ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمبھی ایسا ہی کرتے بلکہ حدیث امام سالم میں یوں ہے کہ حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے حکم دیا کہ جسے جلدی ہو وہ اس طرح پڑھا کرے لله انصاف! ان صاف الفاظ مفسر نصوص میں کہیں بھی گنجائش تاویل وتبدیل ہے اور شك نہیں کہ قصہ صفیہ زوجہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہمجو وہاں اور یہاں دونوں طرف کی روایات میں مذکور ایك ہی بار تھا بلکہ انہیں امام نافع سے مروی کہ ابن عمر سے عمر بھر میں صرف اسی بار جمع معلوم ہے اس کے سوا کسی سفر میں انہیں جمع کرتے نہیں دیکھا سنن ابی داؤد میں بطریق امام ایوب سختیانی مذکور :
انہ لم یرابن عمر جمع بینھما قط الاتلك اللیلہ یعنی لیلۃ استصرخ علی صفیۃ اھ اماما قال : وروی من حدیث مکحول عن نافع : انہ رأی ابن عمر فعل ذلك مرۃ اومرتین ۔ اھ فاقول : فیہ شك والشك لایعارض الجزم۔
کہ اس نے ابن عمر کو کبھی دو۲ نمازیں جمع کرتے نہیں دیکھا مگر اس رات۔ یعنی صفیہ کی بیماری کی اطلاع والی رات۔ اور وہ جو اس نے کہا ہے کہ مکحول کی حدیث میں نافع سے مروی ہے کہ اس نے ابن عمر کو ایك بار جمع کرتے دیکھا تھا یا دوبار تو میں کہتا ہوں کہ اس میں شك ہے اور شك سے یقین کا معارضہ نہیں کیا جاسکتا۔ (ت)
حدیث نسائی وطحاوی میں انہیں امام نافع سے گزرا کہ میں نے ان کی عادت یہی پائی تھی کہ نماز کی محافظت فرماتے۔
حدیث کتاب الحجج میں انہیں نافع سے تھا کہ ابن عمر اذان ہوتے ہی مغرب کے لئے اترے اس بار دیر لگائی روایت نسائی وطحاوی وحجج میں تھا ہمیں گمان ہوا کہ اس وقت نماز انہیں یاد نہ رہی یہ سب اسی قول نافع کے مؤید ہیں معہذا شك نہیں کہ اصل عدم تعدد ہے تو جب تك صراحۃ تعدد ثابت نہ ہوتا اس کے ادعا کی طرف راہ نہ تھی خصوصا مستدل کو جسے احتمال کافی نہیں دفع تعارض کےلئے اس کا اختیار اس وقت کام دیتا کہ خود قصہ صفیہ میں دونوں روایات صحیحہ قبل غروب وبعد غروب موجود نہ ہوتیں ۔
فسقط ماالتجأ الیہ بعض المتأخرین من العلماء المخالفین فی المسألۃ ظنا منہ انہ یدرؤ بہ التعارض وماکان لیندرئ بہ۔
وہ توجیہ ساقط ہوگئی جس کو اس مسئلے کے مخالف علماء متاخرین نے اس خیال سے اختیار کیا ہے کہ اس طرح تعارض رفع ہوجائیگا حالانکہ اس
انہ لم یرابن عمر جمع بینھما قط الاتلك اللیلہ یعنی لیلۃ استصرخ علی صفیۃ اھ اماما قال : وروی من حدیث مکحول عن نافع : انہ رأی ابن عمر فعل ذلك مرۃ اومرتین ۔ اھ فاقول : فیہ شك والشك لایعارض الجزم۔
کہ اس نے ابن عمر کو کبھی دو۲ نمازیں جمع کرتے نہیں دیکھا مگر اس رات۔ یعنی صفیہ کی بیماری کی اطلاع والی رات۔ اور وہ جو اس نے کہا ہے کہ مکحول کی حدیث میں نافع سے مروی ہے کہ اس نے ابن عمر کو ایك بار جمع کرتے دیکھا تھا یا دوبار تو میں کہتا ہوں کہ اس میں شك ہے اور شك سے یقین کا معارضہ نہیں کیا جاسکتا۔ (ت)
حدیث نسائی وطحاوی میں انہیں امام نافع سے گزرا کہ میں نے ان کی عادت یہی پائی تھی کہ نماز کی محافظت فرماتے۔
حدیث کتاب الحجج میں انہیں نافع سے تھا کہ ابن عمر اذان ہوتے ہی مغرب کے لئے اترے اس بار دیر لگائی روایت نسائی وطحاوی وحجج میں تھا ہمیں گمان ہوا کہ اس وقت نماز انہیں یاد نہ رہی یہ سب اسی قول نافع کے مؤید ہیں معہذا شك نہیں کہ اصل عدم تعدد ہے تو جب تك صراحۃ تعدد ثابت نہ ہوتا اس کے ادعا کی طرف راہ نہ تھی خصوصا مستدل کو جسے احتمال کافی نہیں دفع تعارض کےلئے اس کا اختیار اس وقت کام دیتا کہ خود قصہ صفیہ میں دونوں روایات صحیحہ قبل غروب وبعد غروب موجود نہ ہوتیں ۔
فسقط ماالتجأ الیہ بعض المتأخرین من العلماء المخالفین فی المسألۃ ظنا منہ انہ یدرؤ بہ التعارض وماکان لیندرئ بہ۔
وہ توجیہ ساقط ہوگئی جس کو اس مسئلے کے مخالف علماء متاخرین نے اس خیال سے اختیار کیا ہے کہ اس طرح تعارض رفع ہوجائیگا حالانکہ اس
حوالہ / References
سنن ابی داؤد باب الجمع بین الصلاتین مطبوعہ مجتبائی لاہور ۱ / ۱۷۱
سنن ابی داؤد باب الجمع بین الصلاتین مطبوعہ مجتبائی لاہور ۱ / ۱۷۱
سنن ابی داؤد باب الجمع بین الصلاتین مطبوعہ مجتبائی لاہور ۱ / ۱۷۱
توجیہ سے تعارض رفع نہیں ہوتا۔ (ت)
ناچار خود ملاجی کو بھی ماننا پڑا کہ یہ سب طرق وروایات ایك ہی واقعے کی حکایات ہیں ۔ قصہ صفیہ میں حدیث سالم بن عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہمبطریق کثیر بن قارؤندا مروی سنن نسائی پر براہ عیاری بھی جب کوئی طعن نہ گھڑ سکے تو اسے مخالف حدیث شیخین ٹہرا کر رد کردیا کہ اس میں مغرب کا بین الوقتین پڑھنا ہے اور ان میں بعد غروب شفق لہذا یہ شاذو مردود ہے جس کی نقل لطیفہ ہفتم افادہ یکم میں گزری حالانکہ حدیث مسلم کے لفظ ابھی سن چکے اس میں قصہ صفیہ کا ذکر نہیں تو جب تك روایت مطلقہ بھی اسی قصہ صفیہ پر محمول نہ ہو حدیث قصہ صفیہ کو مخالف روایت شیخین کہنا چہ معنی بالجملہ اس حدیث کی اتنی روایات کثیرہ میں یہ تصریح صریح ہے کہ مغرب غروب شفق سے پہلے پڑھی اور اسی کی ان روایات میں یہ کہ شفق ڈوبے پر پڑھی اور دونوں جانب طرق صحاح وحسان ہیں جن کے رد کی طرف کوئی سبیل نہیں تو اب یہ دیکھنا واجب ہوا کہ ان میں کون سا نص مفسر ناقابل تاویل ہے جسے چارو ناچار معتمد رکھیں اور کون سا محتمل کہ اسے مفسر کی طرف پھیر کر رفع تعارض کریں ہر عاقل جانتا ہے کہ ہماری طرف کے نصوص اصلا احتمال معنی خلاف نہیں رکھتے شفق ڈوبنے سے پہلے پڑھی اتنے ہی لفظ کے یہ معنی کسی طرح نہ ہوسکتے کہ جب شفق ڈوب گئی اس وقت پڑھی نہ یہ کہ جب اس کے ساتھ یہ تصریحات جلیہ ہوں کہ پھر مغرب پڑھ کر انتظار کیا یہاں تك کہ شفق ڈوب گئی اس کے بعد عشا پڑھی ان لفظوں کو کوئی نیم مجنون بھی مغرب بعد شفق پڑھنے پر عمل نہ کرسکے گا ہاں پورے پاگل میں کلام نہیں مگر ادھر کے نصوص کہ چلے یہاں تك کہ شفق ڈوب گئی پھر مغرب پڑھی یا جمع کی یا بعد غروب شفق اتر کر جمع کی یہ اچھے خاصے محتمل وصالح تاویل ہیں جن کا ان نصوص صریح مفسرہ سے موافق ومطابق ہوجانا بہت آسان۔ عربی فارسی اردو سب کا محاورہ عامہ شائعہ مشہورہ واضحہ ہے کہ قرب وقت کو اس وقت سے تعبیر کرتے ہیں ۔ عصر کے اخیر وقت کہتے ہیں شام ہوگئی حالانکہ ہنوز سورج باقی ہے۔ کسی سے اول وقت آنے کا وعدہ تھا وہ اس وقت آئے تو کہتے ہیں اب سورج چھپے آئے۔ قریب طلوع تك کوئی سوتا ہوتو اسے اٹھانے میں کہیں گے سورج نکل آیا۔ شروع چاشت کے وقت کسی کام کو کہا تھا مامور نے قریب نصف النہار آغاز کیا تو کہیے گا اب دوپہر ڈھلے لے کر بیٹھے۔ ان کی صدہا مثالیں ہیں کہ خود ملاجی اور ان کے موافقین بھی اپنے کلاموں میں رات دن ان کا استعمال کرتے ہوں گے۔ بعینہ اسی طرح یہ محاورے زبان مبارك عرب خود قرآن عظیم واحادیث میں شائع وذائع ہیں قال الله تعالی :
و اذا طلقتم النسآء فبلغن اجلهن فامسكوهن بمعروف
جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی میعاد کو پہنچ جائیں تو اب انہیں اچھی طرح اپنے نکاح میں روك لو یعنی رجعت کر لو یا اچھی طرح چھوڑدو۔
ناچار خود ملاجی کو بھی ماننا پڑا کہ یہ سب طرق وروایات ایك ہی واقعے کی حکایات ہیں ۔ قصہ صفیہ میں حدیث سالم بن عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہمبطریق کثیر بن قارؤندا مروی سنن نسائی پر براہ عیاری بھی جب کوئی طعن نہ گھڑ سکے تو اسے مخالف حدیث شیخین ٹہرا کر رد کردیا کہ اس میں مغرب کا بین الوقتین پڑھنا ہے اور ان میں بعد غروب شفق لہذا یہ شاذو مردود ہے جس کی نقل لطیفہ ہفتم افادہ یکم میں گزری حالانکہ حدیث مسلم کے لفظ ابھی سن چکے اس میں قصہ صفیہ کا ذکر نہیں تو جب تك روایت مطلقہ بھی اسی قصہ صفیہ پر محمول نہ ہو حدیث قصہ صفیہ کو مخالف روایت شیخین کہنا چہ معنی بالجملہ اس حدیث کی اتنی روایات کثیرہ میں یہ تصریح صریح ہے کہ مغرب غروب شفق سے پہلے پڑھی اور اسی کی ان روایات میں یہ کہ شفق ڈوبے پر پڑھی اور دونوں جانب طرق صحاح وحسان ہیں جن کے رد کی طرف کوئی سبیل نہیں تو اب یہ دیکھنا واجب ہوا کہ ان میں کون سا نص مفسر ناقابل تاویل ہے جسے چارو ناچار معتمد رکھیں اور کون سا محتمل کہ اسے مفسر کی طرف پھیر کر رفع تعارض کریں ہر عاقل جانتا ہے کہ ہماری طرف کے نصوص اصلا احتمال معنی خلاف نہیں رکھتے شفق ڈوبنے سے پہلے پڑھی اتنے ہی لفظ کے یہ معنی کسی طرح نہ ہوسکتے کہ جب شفق ڈوب گئی اس وقت پڑھی نہ یہ کہ جب اس کے ساتھ یہ تصریحات جلیہ ہوں کہ پھر مغرب پڑھ کر انتظار کیا یہاں تك کہ شفق ڈوب گئی اس کے بعد عشا پڑھی ان لفظوں کو کوئی نیم مجنون بھی مغرب بعد شفق پڑھنے پر عمل نہ کرسکے گا ہاں پورے پاگل میں کلام نہیں مگر ادھر کے نصوص کہ چلے یہاں تك کہ شفق ڈوب گئی پھر مغرب پڑھی یا جمع کی یا بعد غروب شفق اتر کر جمع کی یہ اچھے خاصے محتمل وصالح تاویل ہیں جن کا ان نصوص صریح مفسرہ سے موافق ومطابق ہوجانا بہت آسان۔ عربی فارسی اردو سب کا محاورہ عامہ شائعہ مشہورہ واضحہ ہے کہ قرب وقت کو اس وقت سے تعبیر کرتے ہیں ۔ عصر کے اخیر وقت کہتے ہیں شام ہوگئی حالانکہ ہنوز سورج باقی ہے۔ کسی سے اول وقت آنے کا وعدہ تھا وہ اس وقت آئے تو کہتے ہیں اب سورج چھپے آئے۔ قریب طلوع تك کوئی سوتا ہوتو اسے اٹھانے میں کہیں گے سورج نکل آیا۔ شروع چاشت کے وقت کسی کام کو کہا تھا مامور نے قریب نصف النہار آغاز کیا تو کہیے گا اب دوپہر ڈھلے لے کر بیٹھے۔ ان کی صدہا مثالیں ہیں کہ خود ملاجی اور ان کے موافقین بھی اپنے کلاموں میں رات دن ان کا استعمال کرتے ہوں گے۔ بعینہ اسی طرح یہ محاورے زبان مبارك عرب خود قرآن عظیم واحادیث میں شائع وذائع ہیں قال الله تعالی :
و اذا طلقتم النسآء فبلغن اجلهن فامسكوهن بمعروف
جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی میعاد کو پہنچ جائیں تو اب انہیں اچھی طرح اپنے نکاح میں روك لو یعنی رجعت کر لو یا اچھی طرح چھوڑدو۔
حوالہ / References
القرآن ۲ / ۲۳۱
کہ بے قصد مراجعت عدت بڑھانے کے لئے رجعت نہ کرو وقال تعالی :
فاذا بلغن اجلهن فامسكوهن بمعروف
جب طلاق والیاں اپنی عدت کو پہنچیں تو انہیں بھلائی کے ساتھ روك لو یا بھلائی کے ساتھ جدا کردو۔ (ت)
ظاہر ہے کہ عورت جب عدت کو پہنچ گئی نکاح سے نکل گئی اب رجعت کا کیا محل اور اسے روکنے چھوڑنے کا کیا اختیار تو بالیقین قرب وقت کو وقت سے تعبیر فرمایا ہے یعنی جب عدت کے قریب پہنچے اس وقت تك تمہیں رجعت وترك دونوں کا اختیار ہے یہ مثالیں تو آیات قرآنیہ سے ہوئیں جنہیں امام طحاوی وغیرہ علماء مسئلہ وقت ظہر اور نیز اس مسئلہ میں افادہ فرماچکے۔ فقیر غفرلہ المولی القدیر احادیث سے بھی مثالیں اور علمائے قائلین بالجمع سے بھی اس معنی ومحاورہ کی تصریحیں ذکر کرے۔ فاقول وبالله التوفیق :
حدیث ۱ : جبریل امین علیہ الصلوۃ والتسلیم نے صبح اسرا بعد فرضیت نماز اوقات نماز معین کرنے اور ان کا اول آخر بتانے کےلئے دو۲ روز حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی امامت کی پہلے دن ظہر سے فجر تك پانچوں نمازیں اول وقت پڑھیں اور دوسری دن ہر نماز آخر وقت اس کے بعد گزارش کی :
الوقت مابین ھذین الوقتین ۔
وقت ان دونوں وقتوں کے بیچ میں ہے۔ (ت)
اس حدیث میں ابوداؤد وترمذی وشافعی وطحاوی وابن حبان وحاکم کے یہاں حضرت عبدالله بن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
صلی بی العصر حین کان ظلہ مثلہ فلما کان الغد صلی بی الظھر حین کان ظلہ مثلہ ۔
میرے ساتھ عصر کی نماز پڑھی جبکہ ہر چیز کا سایہ اس کے برابر تھا جب دوسرا دن ہوا تو ظہر کی نماز اس وقت پڑھی جبکہ سایہ ہر چیز کا اس کے برابر تھا۔ (ت)
ترمذی کے الفاظ یوں ہیں :
صلی المرۃ الثانیۃ الظھر حین کان ظل کل شیئ مثلہ لوقت العصر بالامس ۔
دوسری مرتبہ ظہر کی نماز تب پڑھی جبکہ ہر چیز کا سایہ اس کے برابر تھا یعنی گزشتہ کل جس وقت عصر پڑھی تھی۔ (ت)
فاذا بلغن اجلهن فامسكوهن بمعروف
جب طلاق والیاں اپنی عدت کو پہنچیں تو انہیں بھلائی کے ساتھ روك لو یا بھلائی کے ساتھ جدا کردو۔ (ت)
ظاہر ہے کہ عورت جب عدت کو پہنچ گئی نکاح سے نکل گئی اب رجعت کا کیا محل اور اسے روکنے چھوڑنے کا کیا اختیار تو بالیقین قرب وقت کو وقت سے تعبیر فرمایا ہے یعنی جب عدت کے قریب پہنچے اس وقت تك تمہیں رجعت وترك دونوں کا اختیار ہے یہ مثالیں تو آیات قرآنیہ سے ہوئیں جنہیں امام طحاوی وغیرہ علماء مسئلہ وقت ظہر اور نیز اس مسئلہ میں افادہ فرماچکے۔ فقیر غفرلہ المولی القدیر احادیث سے بھی مثالیں اور علمائے قائلین بالجمع سے بھی اس معنی ومحاورہ کی تصریحیں ذکر کرے۔ فاقول وبالله التوفیق :
حدیث ۱ : جبریل امین علیہ الصلوۃ والتسلیم نے صبح اسرا بعد فرضیت نماز اوقات نماز معین کرنے اور ان کا اول آخر بتانے کےلئے دو۲ روز حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی امامت کی پہلے دن ظہر سے فجر تك پانچوں نمازیں اول وقت پڑھیں اور دوسری دن ہر نماز آخر وقت اس کے بعد گزارش کی :
الوقت مابین ھذین الوقتین ۔
وقت ان دونوں وقتوں کے بیچ میں ہے۔ (ت)
اس حدیث میں ابوداؤد وترمذی وشافعی وطحاوی وابن حبان وحاکم کے یہاں حضرت عبدالله بن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
صلی بی العصر حین کان ظلہ مثلہ فلما کان الغد صلی بی الظھر حین کان ظلہ مثلہ ۔
میرے ساتھ عصر کی نماز پڑھی جبکہ ہر چیز کا سایہ اس کے برابر تھا جب دوسرا دن ہوا تو ظہر کی نماز اس وقت پڑھی جبکہ سایہ ہر چیز کا اس کے برابر تھا۔ (ت)
ترمذی کے الفاظ یوں ہیں :
صلی المرۃ الثانیۃ الظھر حین کان ظل کل شیئ مثلہ لوقت العصر بالامس ۔
دوسری مرتبہ ظہر کی نماز تب پڑھی جبکہ ہر چیز کا سایہ اس کے برابر تھا یعنی گزشتہ کل جس وقت عصر پڑھی تھی۔ (ت)
حوالہ / References
القرآن ۶۵ / ۲
سُنن ابی داؤد کتاب الصّلٰوۃ مطبوعہ مجتبائی لاہور ۱ / ۵۶
سُنن ابی داؤد کتاب الصّلٰوۃ مطبوعہ مجتبائی لاہور ۱ / ۵۶
جامع الترمذی باب ماجاء فی مواقیت الصلٰوۃ امین کمپنی دہلی ۱ / ۲۱
سُنن ابی داؤد کتاب الصّلٰوۃ مطبوعہ مجتبائی لاہور ۱ / ۵۶
سُنن ابی داؤد کتاب الصّلٰوۃ مطبوعہ مجتبائی لاہور ۱ / ۵۶
جامع الترمذی باب ماجاء فی مواقیت الصلٰوۃ امین کمپنی دہلی ۱ / ۲۱
شافعی کے لفظ یہ ہیں :
ثم صلی المرۃ الاخری الظھر حین کان کل شیئ قدرظلہ قدر العصر بالامس ۔ ج
پھر دوسری مرتبہ نماز پڑھی ظہر کی جب ہر چیز اپنے سائے کے ساتھ برابر تھی یعنی گزشتہ کل جس وقت عصر پڑھی تھی۔ (ت)
حدیث ۲ : نسائی وطحاوی وحاکم وبزار نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا :
ھذا جبریل جاء کم یعلمکم دینکم۔ وفیہ ثم صلی العصر حین رأی الظل مثلہ ثم جاء ہ الغد ثم صلی بہ الظھر حین کان الظل مثلہ ۔
یہ جبریل ہیں تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے ہیں ۔ اس روایت میں ہے کہ پھر عصر کی نماز پڑھی جب دیکھا کہ سایہ ان کے برابر ہے۔ پھر دوسرے دن رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے پاس آئے اور ظہر کی نماز پڑھی جبکہ سایہ ان کے برابر تھا۔ (ت)
بزار کے لفظ یوں ہیں :
جاء نی فصلی بی العصر حین کان فیئی مثلی ثم جاء نی من الغد فصلی بی الظھر حین کان فیئی مثلی ۔
جبریل میرے پاس آئے اور مجھے عصر کی نماز پڑھائی جبکہ میرا سایہ میرے برابر تھا پھر دوسرے دن آئے اور ظہر کی نماز پڑھائی جبکہ میرا سایہ میرے برابر تھا۔ (ت)
حدیث ۳ : نیز نسائی وامام احمد واسحق بن راہویہ وابن حبان وحاکم جابر بن عبدالله رضی اللہ تعالی عنہماسے راوی :
ان جبریل اتی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم حین کان ظل الرجل مثل شخصہ فصلی العصر ثم اتاہ فی الیوم الثانی حین کان ظل الرجل مثل شخصہ فصلی الظھر ۔
جبریل نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے پاس آئے جبکہ ہر شخص کا سایہ
ثم صلی المرۃ الاخری الظھر حین کان کل شیئ قدرظلہ قدر العصر بالامس ۔ ج
پھر دوسری مرتبہ نماز پڑھی ظہر کی جب ہر چیز اپنے سائے کے ساتھ برابر تھی یعنی گزشتہ کل جس وقت عصر پڑھی تھی۔ (ت)
حدیث ۲ : نسائی وطحاوی وحاکم وبزار نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا :
ھذا جبریل جاء کم یعلمکم دینکم۔ وفیہ ثم صلی العصر حین رأی الظل مثلہ ثم جاء ہ الغد ثم صلی بہ الظھر حین کان الظل مثلہ ۔
یہ جبریل ہیں تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے ہیں ۔ اس روایت میں ہے کہ پھر عصر کی نماز پڑھی جب دیکھا کہ سایہ ان کے برابر ہے۔ پھر دوسرے دن رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے پاس آئے اور ظہر کی نماز پڑھی جبکہ سایہ ان کے برابر تھا۔ (ت)
بزار کے لفظ یوں ہیں :
جاء نی فصلی بی العصر حین کان فیئی مثلی ثم جاء نی من الغد فصلی بی الظھر حین کان فیئی مثلی ۔
جبریل میرے پاس آئے اور مجھے عصر کی نماز پڑھائی جبکہ میرا سایہ میرے برابر تھا پھر دوسرے دن آئے اور ظہر کی نماز پڑھائی جبکہ میرا سایہ میرے برابر تھا۔ (ت)
حدیث ۳ : نیز نسائی وامام احمد واسحق بن راہویہ وابن حبان وحاکم جابر بن عبدالله رضی اللہ تعالی عنہماسے راوی :
ان جبریل اتی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم حین کان ظل الرجل مثل شخصہ فصلی العصر ثم اتاہ فی الیوم الثانی حین کان ظل الرجل مثل شخصہ فصلی الظھر ۔
جبریل نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے پاس آئے جبکہ ہر شخص کا سایہ
حوالہ / References
الاُمّ للشافعی جماع مواقیت الصلٰوۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۷۱
سنن النسائی آخر وقت الظہر مطبوعہ المکتبۃ السلفیۃ ، لاہور ۱ / ۵۹
کشف الاستار عن زوائد البزّار باب ای حین یصلی مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ بیروت لبنان ۱ / ۱۸۷
سنن النسائی آخر وقت العصر مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۶۰
سنن النسائی آخر وقت الظہر مطبوعہ المکتبۃ السلفیۃ ، لاہور ۱ / ۵۹
کشف الاستار عن زوائد البزّار باب ای حین یصلی مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ بیروت لبنان ۱ / ۱۸۷
سنن النسائی آخر وقت العصر مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۶۰
اس کے قد جتنا ہوتا ہے اور عصر کی نماز نہ پڑھی پھر دوسرے دن آئے جبکہ ہر شخص کا سایہ اس کے قد جتنا ہوتا ہے اور ظہرکی نماز پڑھی۔ (ت)
حدیث ۴ : امام اسحق بن راہویہ اپنی مسند میں حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ تعالی عنہسے بطریق حدثنا بشر بن عمرو النھرانی ثنی مسلمۃ بن بلال ثنا یحیی بن سعید ثنی ابوبکر بن عمرو بن حزم عن ابی مسعود الانصاری او ر بیہقی کتاب المعرفۃ میں بطریق ایوب بن عتبۃ ثنا ابوبکر بن عمروبن حزم عن عروہ بن الزبیر عن ابن ابی مسعود عن ابیہ راوی اور یہ لفظ حدیث اسحق ہیں :
قال : جاء جبریل الی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فقال : قم فصل! وذلك لدلوك الشمس حین مالت فقام رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فصلی الظھر اربعا ثم اتاہ حین کان ظلہ مثلہ فقال : قم فصل! فقام فصلی العصر اربعا ثم اتاہ من الغد حین کان ظلہ مثلہ فقال ببلہ : قم فصل! فقام فصلی الظھر اربعا ۔
کہا : جبریل نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے پاس آئے اور کہا کہ اٹھئے اور نماز پڑھئے! اور یہ سورج ڈھلنے کا وقت تھا جب وہ ایك طرف جھك گیا تھا تو رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے اٹھ کر ظہر کی چار رکعتیں پڑھیں ۔ پھر دوبارہ آئے جب ان کا سایہ ان کے برابر تھا اور کہا کہ اٹھئے اور نماز پڑھئے! تو آپ نے اٹھ کر عصر کی چار رکعتیں پڑھیں ۔ پھر دوسرے دن آئے جب ان کا سایہ ان کے برابر تھا اور کہا کہ اٹھئے اور نماز پڑھئے تو آپ نے اٹھ کر ظہر کی چار رکعتیں پڑھیں ۔ (ت)
حدیث ۵ : ابن راہویہ مسند میں عبدالرزاق سے اور عبدالرزاق مصنف میں بطریق اخبرنا معمر عن عبدالله بن ابی بکر بن محمد بن عمروبن حزم عن ابیہ عن جدہ عمروبن حزم رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
قال : جاء جبریل فصلی بالنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم وصلی النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بالناس حین زالت الشمس الظھر ثم صلی العصر حین کان ظلہ مثلہ قال : ثم جاء جبریل من الغد فصلی الظھر بالنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم وصلی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم بالناس الظھر حین کان ظلہ مثلہ ۔
کہا : جبریل آئے اور نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو ظہر کی نماز پڑھائی اور نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے لوگوں کو نماز
حدیث ۴ : امام اسحق بن راہویہ اپنی مسند میں حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ تعالی عنہسے بطریق حدثنا بشر بن عمرو النھرانی ثنی مسلمۃ بن بلال ثنا یحیی بن سعید ثنی ابوبکر بن عمرو بن حزم عن ابی مسعود الانصاری او ر بیہقی کتاب المعرفۃ میں بطریق ایوب بن عتبۃ ثنا ابوبکر بن عمروبن حزم عن عروہ بن الزبیر عن ابن ابی مسعود عن ابیہ راوی اور یہ لفظ حدیث اسحق ہیں :
قال : جاء جبریل الی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فقال : قم فصل! وذلك لدلوك الشمس حین مالت فقام رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فصلی الظھر اربعا ثم اتاہ حین کان ظلہ مثلہ فقال : قم فصل! فقام فصلی العصر اربعا ثم اتاہ من الغد حین کان ظلہ مثلہ فقال ببلہ : قم فصل! فقام فصلی الظھر اربعا ۔
کہا : جبریل نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے پاس آئے اور کہا کہ اٹھئے اور نماز پڑھئے! اور یہ سورج ڈھلنے کا وقت تھا جب وہ ایك طرف جھك گیا تھا تو رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے اٹھ کر ظہر کی چار رکعتیں پڑھیں ۔ پھر دوبارہ آئے جب ان کا سایہ ان کے برابر تھا اور کہا کہ اٹھئے اور نماز پڑھئے! تو آپ نے اٹھ کر عصر کی چار رکعتیں پڑھیں ۔ پھر دوسرے دن آئے جب ان کا سایہ ان کے برابر تھا اور کہا کہ اٹھئے اور نماز پڑھئے تو آپ نے اٹھ کر ظہر کی چار رکعتیں پڑھیں ۔ (ت)
حدیث ۵ : ابن راہویہ مسند میں عبدالرزاق سے اور عبدالرزاق مصنف میں بطریق اخبرنا معمر عن عبدالله بن ابی بکر بن محمد بن عمروبن حزم عن ابیہ عن جدہ عمروبن حزم رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
قال : جاء جبریل فصلی بالنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم وصلی النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بالناس حین زالت الشمس الظھر ثم صلی العصر حین کان ظلہ مثلہ قال : ثم جاء جبریل من الغد فصلی الظھر بالنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم وصلی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم بالناس الظھر حین کان ظلہ مثلہ ۔
کہا : جبریل آئے اور نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو ظہر کی نماز پڑھائی اور نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے لوگوں کو نماز
حوالہ / References
مسند ابن اسحاق
کتاب المعرفۃ
مسند ابن اسحاق
المصنف لعبد الرزاق باب المواقیت مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ۱ / ۵۳۴
المصنف لعبدالرزاق باب المویقیت مطبوعہ المکتب اسلامی بیروت ۱ / ۴۳۵
کتاب المعرفۃ
مسند ابن اسحاق
المصنف لعبد الرزاق باب المواقیت مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ۱ / ۵۳۴
المصنف لعبدالرزاق باب المویقیت مطبوعہ المکتب اسلامی بیروت ۱ / ۴۳۵
پڑھائی جب سورج کا زوال ہوگیا تھا پھر عصر پڑھی جب ان کا سایہ ان کے برابر تھا۔ راوی نے کہا : پھر دوسرے دن جبریل آئے اور انہوں نے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو اور نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھائی جب ان کا سایہ ان کے برابر ہوگیا تھا۔ (ت)
حدیث ۶ : دارقطنی سنن اور طبرانی معجم کبیر اور ابن عبدالبر تمہید میں بطریق ایوب بن عتبۃ عن ابی بکر بن حزن عن عروۃ بن الزبیر حضرت ابو مسعود انصاری وبشیر بن ابی مسعود دونوں صحابی رضی اللہ تعالی عنہماسے راوی :
ان جبریل جاء الی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم حین دلکت الشمس فقال : یامحمد! صل الظھر فصلی ثم جاء حین کان ظل کل شیئ مثلہ فقال : یامحمد! صل العصر فصلی ثم جاء ہ الغد حین کان ظل کل شیئ مثلہ فقال : صلی الظھر۔ الحدیث ۔
جبریل نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے پاس آئے جب سورج ڈھل چکا تھا اور کہا : یامحمد! ظہر کی نماز پڑھئے! تو آپ نے ظہر پڑھی۔ پھر دوبارہ آئے جبکہ ہر چیز کا سایہ اس کے برابر تھا اور کہا : یا محمد! عصر کی نماز پڑھئے! تو آپ نے عصر پڑھی۔ پھر دوسرے دن آئے جبکہ ہر چیز کا سایہ اس کے برابر تھا اور کہا : ظہر پڑھئے! الحدیث۔ (ت)
والکل مختصر ان سب حدیثوں میں کل کی عصر کی نسبت یہ ہے کہ جب سایہ ایك مثل ہوا نماز پڑھائی اور بعینہ یہی لفظ آج کی ظہر میں ہیں کہ جب سایہ ایك مثل ہوا پڑھائی اور روایت ترمذی تو صاف صاف ہے کہ آج کی ظہر اس وقت پڑھی جس وقت کل عصر پڑھی تھی حالانکہ مقصود اوقات کی تمیز اور ہر نماز کا اول وآخر وقت میں جداجدا بنانا ہے لاجرم امام ابوجعفر وغیرہ نے ظہر امروزہ میں ان لفظوں کے یہی معنی لیے کہ جب سایہ ایك مثل کے قریب آیا پڑھائی معانی الآثار میں فرمایا :
احتمل ان یکون ذلك علی قرب ان یصیر ظل کل شیئ مثلہ وھذا جائز فی اللغۃ قال عزوجل فذکر الایۃ وشرح المراد وافاد واجاد ۔
احتمال ہے کہ ظہر کی نماز اس وقت پڑھی ہو جب ہر چیز
حدیث ۶ : دارقطنی سنن اور طبرانی معجم کبیر اور ابن عبدالبر تمہید میں بطریق ایوب بن عتبۃ عن ابی بکر بن حزن عن عروۃ بن الزبیر حضرت ابو مسعود انصاری وبشیر بن ابی مسعود دونوں صحابی رضی اللہ تعالی عنہماسے راوی :
ان جبریل جاء الی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم حین دلکت الشمس فقال : یامحمد! صل الظھر فصلی ثم جاء حین کان ظل کل شیئ مثلہ فقال : یامحمد! صل العصر فصلی ثم جاء ہ الغد حین کان ظل کل شیئ مثلہ فقال : صلی الظھر۔ الحدیث ۔
جبریل نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے پاس آئے جب سورج ڈھل چکا تھا اور کہا : یامحمد! ظہر کی نماز پڑھئے! تو آپ نے ظہر پڑھی۔ پھر دوبارہ آئے جبکہ ہر چیز کا سایہ اس کے برابر تھا اور کہا : یا محمد! عصر کی نماز پڑھئے! تو آپ نے عصر پڑھی۔ پھر دوسرے دن آئے جبکہ ہر چیز کا سایہ اس کے برابر تھا اور کہا : ظہر پڑھئے! الحدیث۔ (ت)
والکل مختصر ان سب حدیثوں میں کل کی عصر کی نسبت یہ ہے کہ جب سایہ ایك مثل ہوا نماز پڑھائی اور بعینہ یہی لفظ آج کی ظہر میں ہیں کہ جب سایہ ایك مثل ہوا پڑھائی اور روایت ترمذی تو صاف صاف ہے کہ آج کی ظہر اس وقت پڑھی جس وقت کل عصر پڑھی تھی حالانکہ مقصود اوقات کی تمیز اور ہر نماز کا اول وآخر وقت میں جداجدا بنانا ہے لاجرم امام ابوجعفر وغیرہ نے ظہر امروزہ میں ان لفظوں کے یہی معنی لیے کہ جب سایہ ایك مثل کے قریب آیا پڑھائی معانی الآثار میں فرمایا :
احتمل ان یکون ذلك علی قرب ان یصیر ظل کل شیئ مثلہ وھذا جائز فی اللغۃ قال عزوجل فذکر الایۃ وشرح المراد وافاد واجاد ۔
احتمال ہے کہ ظہر کی نماز اس وقت پڑھی ہو جب ہر چیز
حوالہ / References
المعجم الکبیر للطبرانی مسند ابومسعود انصاری حدیث ۷۱۸ مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۸ / ۲۶۰
شرح معانی الاثار باب مواقیت الصلٰوۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی ادب منزل کراچی ۱ / ۱۰۳
شرح معانی الاثار باب مواقیت الصلٰوۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی ادب منزل کراچی ۱ / ۱۰۳
کا سایہ اس کے برابر ہونے کے قریب ہو۔ اور یہ لغت کے اعتبار سے جائز ہے۔ الله تعالی فرماتا ہے۔ یہاں طحاوی نے آیت ذکر کی (یعنی فاذا بلغن اجلھن) اور مراد کی تشریح کی اور مفید وعمدہ گفتگو کی۔ (ت)
حدیث ۷ : سائل نے جو خدمت اقدس حضور سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیں حاضر ہوکر اوقات نماز پوچھے اور حضور والا نے ارشاد فرمایا ہے کہ دو۲ دن حاضر رہ کر ہمارے پیچھے نماز پڑھ۔ پہلے دن ہر نماز اپنے اول وقت میں اور دوسرے دن ہر نماز آخر وقت پڑھا کر ارشاد ہوا ہے : الوقت بین ھذین (وقت ان دونوں وقتوں کے درمیان ہے)اس حدیث میں نسائی وطحاوی نے جابر رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی :
سأل رجل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم عن مواقیت الصلاۃ فقال : صل معی فصلی الظھر حین زاغت الشمس والعصر حین کان فی کل شیئ مثلہ قال : ثم صلی الظھر حین کان فیئ الانسان مثلہ ۔
ایك آدمی نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے نماز کے اوقات کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ میرے ساتھ نماز پڑھ! تو آپ نے ظہر کی نماز اس وقت پڑھی جب سورج ڈھل گیا اور عصر کی اس وقت جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہوگیا۔ راوی نے کہا کہ پھر (اگلے دن) ظہر اس وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہوگیا۔ (ت)
اس حدیث میں بھی عصر دیروز وظہر امروز کا وہی حال اور علماء کے وہی مقال۔
حدیث ۸ : سنن ابی داؤد میں بسند صحیح عــہ ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہسے حدیث سائل
عـــہ حیث قال : (حدثنا مسدد) ثقۃ حافظ من رجال البخاری۔ (ناعبدالله بن داؤد) ھو ابن عامر الھمدانی ثقۃ عابد من رجال البخاری والاربعۃ۔ دون الواسطی
چنانچہ (ابوداؤد نے) کہا (حدثنا مسدد) ثقہ ہے حافظ ہے بخاری کے راویوں میں سے ہے (ناعبدالله ابن داؤد) اس سے مراد ابن عامر ہمدانی ہے جو ثقہ ہے عابد ہے اور بخاری کے علاوہ صحاح
(باقی برصفحہ ائندہ)
حدیث ۷ : سائل نے جو خدمت اقدس حضور سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیں حاضر ہوکر اوقات نماز پوچھے اور حضور والا نے ارشاد فرمایا ہے کہ دو۲ دن حاضر رہ کر ہمارے پیچھے نماز پڑھ۔ پہلے دن ہر نماز اپنے اول وقت میں اور دوسرے دن ہر نماز آخر وقت پڑھا کر ارشاد ہوا ہے : الوقت بین ھذین (وقت ان دونوں وقتوں کے درمیان ہے)اس حدیث میں نسائی وطحاوی نے جابر رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی :
سأل رجل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم عن مواقیت الصلاۃ فقال : صل معی فصلی الظھر حین زاغت الشمس والعصر حین کان فی کل شیئ مثلہ قال : ثم صلی الظھر حین کان فیئ الانسان مثلہ ۔
ایك آدمی نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے نماز کے اوقات کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ میرے ساتھ نماز پڑھ! تو آپ نے ظہر کی نماز اس وقت پڑھی جب سورج ڈھل گیا اور عصر کی اس وقت جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہوگیا۔ راوی نے کہا کہ پھر (اگلے دن) ظہر اس وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہوگیا۔ (ت)
اس حدیث میں بھی عصر دیروز وظہر امروز کا وہی حال اور علماء کے وہی مقال۔
حدیث ۸ : سنن ابی داؤد میں بسند صحیح عــہ ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہسے حدیث سائل
عـــہ حیث قال : (حدثنا مسدد) ثقۃ حافظ من رجال البخاری۔ (ناعبدالله بن داؤد) ھو ابن عامر الھمدانی ثقۃ عابد من رجال البخاری والاربعۃ۔ دون الواسطی
چنانچہ (ابوداؤد نے) کہا (حدثنا مسدد) ثقہ ہے حافظ ہے بخاری کے راویوں میں سے ہے (ناعبدالله ابن داؤد) اس سے مراد ابن عامر ہمدانی ہے جو ثقہ ہے عابد ہے اور بخاری کے علاوہ صحاح
(باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References
شرح معانی الاثار باب مواقیت الصلٰوۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی ادب منزل کراچی ۱ / ۱۰۲
یوں ہے :
ایك پوچھنے والے نے رسول الله سے (اوقات نماز) پوچھے تو آپ نے کوئی جواب نہ دیا یہاں تك کہ آپ نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے فجر کی اقامت اس وقت کہی جب ابھی پو پھٹی ہی تھی۔ اس روایت (کے آخر) میں ہے کہ اگلے دن ظہر کی اقامت کہی جس وقت پچھلے دن عصر کی کہی تھی اور عصر کی نماز اس وقت پڑھی جبکہ سورج زرد ہوچکا تھا یا یوں کہا کہ شام ہوچکی تھی۔ (ت)
اس حدیث سے دو۲ فائدہ زائدہ حاصل ہوئے :
اولا اس میں صاف تصریح ہے کہ آج کی ظہر کل کی عصر کے وقت پڑھی حالانکہ یہی حدیث ابی موسی اسی طریق بدر بن عثمن ناابوبکر بن ابی موسی بن ابیہ سے مسلم ونسائی وابن ابان وطحاوی کے یہاں ان لفظوں سے ہے :
ثم اخر الظھر حتی کان قریبا من وقت العصر بالامس ولفظ النسائی الی قریب۔
پھر ظہر کی تاخیر فرمائی یہاں تك کہ وقت عصر دیروزہ سے قریب ہوگئی۔
ثابت ہوا کہ وہاں بھی قرب ہی مراد ہے اور قرب وقت کو نام وقت سے تعبیر درکنار صراحۃ ان لفظوں سے
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الذی لیس الامن رجال الترمذی (نابدربن عثمن) ثقۃ من رجال مسلم۔ (ناابوکر بن ابی موسی ف۱) ثقۃ من رجال الستۃ۔ (عن ابی موسی) الاشعری رضی الله تعالی عنہ ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
کی چار کتابوں کے راویوں میں سے ہے۔ واسطی مراد نہیں ہے جوکہ صرف ترمذی کے راویوں میں سے ہے (نا بدر ابن عثمن) ثقہ ہے مسلم کے راویوں میں سے ہے۔ (نا ابوبکر ابن موسی) ثقہ ہے صحاح ستہ کا راوی ہے (عن ابی موسی) شعری رضی اللہ تعالی عنہ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ(ت)
ایك پوچھنے والے نے رسول الله سے (اوقات نماز) پوچھے تو آپ نے کوئی جواب نہ دیا یہاں تك کہ آپ نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے فجر کی اقامت اس وقت کہی جب ابھی پو پھٹی ہی تھی۔ اس روایت (کے آخر) میں ہے کہ اگلے دن ظہر کی اقامت کہی جس وقت پچھلے دن عصر کی کہی تھی اور عصر کی نماز اس وقت پڑھی جبکہ سورج زرد ہوچکا تھا یا یوں کہا کہ شام ہوچکی تھی۔ (ت)
اس حدیث سے دو۲ فائدہ زائدہ حاصل ہوئے :
اولا اس میں صاف تصریح ہے کہ آج کی ظہر کل کی عصر کے وقت پڑھی حالانکہ یہی حدیث ابی موسی اسی طریق بدر بن عثمن ناابوبکر بن ابی موسی بن ابیہ سے مسلم ونسائی وابن ابان وطحاوی کے یہاں ان لفظوں سے ہے :
ثم اخر الظھر حتی کان قریبا من وقت العصر بالامس ولفظ النسائی الی قریب۔
پھر ظہر کی تاخیر فرمائی یہاں تك کہ وقت عصر دیروزہ سے قریب ہوگئی۔
ثابت ہوا کہ وہاں بھی قرب ہی مراد ہے اور قرب وقت کو نام وقت سے تعبیر درکنار صراحۃ ان لفظوں سے
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الذی لیس الامن رجال الترمذی (نابدربن عثمن) ثقۃ من رجال مسلم۔ (ناابوکر بن ابی موسی ف۱) ثقۃ من رجال الستۃ۔ (عن ابی موسی) الاشعری رضی الله تعالی عنہ ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
کی چار کتابوں کے راویوں میں سے ہے۔ واسطی مراد نہیں ہے جوکہ صرف ترمذی کے راویوں میں سے ہے (نا بدر ابن عثمن) ثقہ ہے مسلم کے راویوں میں سے ہے۔ (نا ابوبکر ابن موسی) ثقہ ہے صحاح ستہ کا راوی ہے (عن ابی موسی) شعری رضی اللہ تعالی عنہ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ(ت)
حوالہ / References
شرح معانی الآثار باب مواقیت الصلٰوۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۳
ف۱ سنن ابی داؤد ۱ / ۵۷
ف۱ سنن ابی داؤد ۱ / ۵۷
بھی تعبیر کرلیتے ہیں کہ دوسری نماز کے وقت میں نماز پڑھی یہ فائدہ یاد رکھنے کا ہے۔
ثانیا اس میں یہ بھی تصریح ہے کہ عصر اس حال میں پڑھی کہ سورج زرد ہوگیا تھا یا کہا شام ہوگئی یہ بھی قطعا قرب شام پر محمول۔
حدیث ۹ : صحیح مسلم شریف میں حضرت عبدالله بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہماسے ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا :
وقت الظھر اذازالت الشمس وکان ظل الرجل کطولہ مالم یحضر العصر ۔
ظہر کا وقت اس وقت ہے جب سورج ڈھلے اور سایہ آدمی کا اس کے قد کے برابر ہوجائے جب تك عصر کا وقت نہ آئے۔
حدیث ۱۰ : امام طحاوی حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہسے حدیث امامت جبریل میں راوی حضور والا صلوات الله تعالی علیہ وسلامہ نے فرمایا :
صلی الظھر وفیئ کل شیئ مثلہ ۔
اس وقت (نماز) پڑھی کہ سایہ ہر چیز کا اس کے برابر ہوگیا۔
جن کے نزدیك ایك مثل کے بعد وقت ظہر نہیں رہتا ان حدیثوں میں ایك مثل ہونے کو ایك مثل کے قریب پہنچنے پر عمل کرتے ہیں ۔
حدیث ۱۱ : امیرالمؤمنین عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہکا ایك روز نماز عصر کو بہت اخیر کرنا اور عروہ بن زبیر کا آکر حدیث امامت جبریل سنانا کہ صحیحین وغیرہما میں مروی اس میں طبرانی کی روایت یوں ہے :
دعا المؤذن لصلاۃ العصر فامسی عمر بن عبدالعزیز قبل ان یصلیھا ۔
مؤذن نے نماز عصر کےلئے بلایا تو حضرت عمر بن عبدالعزیز نے شام کردی اور ابھی نماز عصر نہ پڑھی۔ (ت)
یعنی عمر نے شام کردی اور ہنوز نماز عصر نہ پڑھی۔ امام قسطلانی شافعی ارشاد الساری شرح صحیح بخاری اور علامہ عبدالباقی زرقانی مالکی شرح مؤطا میں فرماتے ہیں :
محمول علی انہ قارب المساء لاانہ دخل فیہ ۔
حدیث کی مراد یہ ہے کہ شام قریب آئی
ثانیا اس میں یہ بھی تصریح ہے کہ عصر اس حال میں پڑھی کہ سورج زرد ہوگیا تھا یا کہا شام ہوگئی یہ بھی قطعا قرب شام پر محمول۔
حدیث ۹ : صحیح مسلم شریف میں حضرت عبدالله بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہماسے ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا :
وقت الظھر اذازالت الشمس وکان ظل الرجل کطولہ مالم یحضر العصر ۔
ظہر کا وقت اس وقت ہے جب سورج ڈھلے اور سایہ آدمی کا اس کے قد کے برابر ہوجائے جب تك عصر کا وقت نہ آئے۔
حدیث ۱۰ : امام طحاوی حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہسے حدیث امامت جبریل میں راوی حضور والا صلوات الله تعالی علیہ وسلامہ نے فرمایا :
صلی الظھر وفیئ کل شیئ مثلہ ۔
اس وقت (نماز) پڑھی کہ سایہ ہر چیز کا اس کے برابر ہوگیا۔
جن کے نزدیك ایك مثل کے بعد وقت ظہر نہیں رہتا ان حدیثوں میں ایك مثل ہونے کو ایك مثل کے قریب پہنچنے پر عمل کرتے ہیں ۔
حدیث ۱۱ : امیرالمؤمنین عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہکا ایك روز نماز عصر کو بہت اخیر کرنا اور عروہ بن زبیر کا آکر حدیث امامت جبریل سنانا کہ صحیحین وغیرہما میں مروی اس میں طبرانی کی روایت یوں ہے :
دعا المؤذن لصلاۃ العصر فامسی عمر بن عبدالعزیز قبل ان یصلیھا ۔
مؤذن نے نماز عصر کےلئے بلایا تو حضرت عمر بن عبدالعزیز نے شام کردی اور ابھی نماز عصر نہ پڑھی۔ (ت)
یعنی عمر نے شام کردی اور ہنوز نماز عصر نہ پڑھی۔ امام قسطلانی شافعی ارشاد الساری شرح صحیح بخاری اور علامہ عبدالباقی زرقانی مالکی شرح مؤطا میں فرماتے ہیں :
محمول علی انہ قارب المساء لاانہ دخل فیہ ۔
حدیث کی مراد یہ ہے کہ شام قریب آئی
حوالہ / References
صحیح لمسلم باب الصلوات الخمس مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۲۱
شرح معانی الآثار باب مواقیت الصّلٰوۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۲
المعجم الکبیر للطبرانی مسند ابومسعود انصاری حدیث ۷۱۶ مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۸ / ۹ ۲۵
ارشاد الساری شرح البخاری مواقیت الصّلٰوۃ مطبوعہ دارالکتاب العربیۃ بیروت ۱ / ۴۷۷
شرح معانی الآثار باب مواقیت الصّلٰوۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۲
المعجم الکبیر للطبرانی مسند ابومسعود انصاری حدیث ۷۱۶ مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۸ / ۹ ۲۵
ارشاد الساری شرح البخاری مواقیت الصّلٰوۃ مطبوعہ دارالکتاب العربیۃ بیروت ۱ / ۴۷۷
نہ یہ کہ شام ہوہی گئی۔
خود صحیح بخاری کتاب بدءالخلق میں ہے : اخر العصر شیا (عصر میں کچھ تاخیر کی) افادہ الحافظ فی فتح الباری۔
حدیث ۱۲ : حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے جو ارشاد فرمایا کہ “ سحری کھاؤ پیو یہاں تك کہ ابن ام مکتوم اذان دے “ ۔ زاس پر صحیح بخاری شریف میں عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہماسے ہے :
قال کان رجلا لاینادی حتی یقال لہ اصبحت اصبحت ۔
وہ اذان نہ دیا کرتے تھے یہاں تك کہ ان سے کہاجاتا تمہیں صبح ہوگئی صبح گئی۔
اگر ان کی اذان سے پہلے صبح ہوچکتی تھی تو اس ارشاد کے کیا معنی کہ “ جب تك وہ اذان نہ دیں کھاتے پیتے رہو “ ۔ لہذا قسطلانی شافعی ارشاد اور امام عینی عمدہ میں فرماتی :
واللفظ للارشاد المعنی قاربت الصبح علی حد قولہ تعالی فاذا بلغن اجلهن یعنی لوگوں کے اس قول کے کہ “ صبح ہوگئی صبح ہوگئی “ یہ معنی ہیں کہ صبح قریب آئی قریب آئی جیسے آیت میں فرمایا کہ عورتیں میعاد کو پہنچیں یعنی قریب میعاد۔
نیز اسی حدیث میں ارشاد اقدس سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمہے :
فانہ لایؤذن حتی یطلع الفجر ۔
ابن ام أ مکتوم اذان نہیں دیتے یہاں تك کہ فجر طلوع کرے۔
ارشاد شافعی کتاب الصیام میں ہے : ای حتی یقارب طلوع الفجر (یعنی یہاں تك کہ طلوع فجر قریب آئے)۔
بالجملہ اس محاورہ کے شیوع تمام سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا اگر بالفرض وہ روایات صحیحہ جلیلہ صریحہ صلاۃ مغرب پیش از غروب شفق میں نہ بھی آتیں تاہم جبکہ ہر نماز کے لئے جدا وقت کی تعیین اور پیش ازوقت یا وقت فوت کرکے نماز پڑھنے کی تحریم یقینی قطعی اجماعی تھی ان روایات میں یہ مطلب بنظر محاورہ عمدہ محتمل اور استدلال مستدل بتطرق احتمال باطل ومختل اور آیات واحادیث تعیین اوقات کا ان سے معارضہ غلط ومہمل ہوتا نہ کہ خود اسی حدیث
خود صحیح بخاری کتاب بدءالخلق میں ہے : اخر العصر شیا (عصر میں کچھ تاخیر کی) افادہ الحافظ فی فتح الباری۔
حدیث ۱۲ : حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے جو ارشاد فرمایا کہ “ سحری کھاؤ پیو یہاں تك کہ ابن ام مکتوم اذان دے “ ۔ زاس پر صحیح بخاری شریف میں عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہماسے ہے :
قال کان رجلا لاینادی حتی یقال لہ اصبحت اصبحت ۔
وہ اذان نہ دیا کرتے تھے یہاں تك کہ ان سے کہاجاتا تمہیں صبح ہوگئی صبح گئی۔
اگر ان کی اذان سے پہلے صبح ہوچکتی تھی تو اس ارشاد کے کیا معنی کہ “ جب تك وہ اذان نہ دیں کھاتے پیتے رہو “ ۔ لہذا قسطلانی شافعی ارشاد اور امام عینی عمدہ میں فرماتی :
واللفظ للارشاد المعنی قاربت الصبح علی حد قولہ تعالی فاذا بلغن اجلهن یعنی لوگوں کے اس قول کے کہ “ صبح ہوگئی صبح ہوگئی “ یہ معنی ہیں کہ صبح قریب آئی قریب آئی جیسے آیت میں فرمایا کہ عورتیں میعاد کو پہنچیں یعنی قریب میعاد۔
نیز اسی حدیث میں ارشاد اقدس سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمہے :
فانہ لایؤذن حتی یطلع الفجر ۔
ابن ام أ مکتوم اذان نہیں دیتے یہاں تك کہ فجر طلوع کرے۔
ارشاد شافعی کتاب الصیام میں ہے : ای حتی یقارب طلوع الفجر (یعنی یہاں تك کہ طلوع فجر قریب آئے)۔
بالجملہ اس محاورہ کے شیوع تمام سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا اگر بالفرض وہ روایات صحیحہ جلیلہ صریحہ صلاۃ مغرب پیش از غروب شفق میں نہ بھی آتیں تاہم جبکہ ہر نماز کے لئے جدا وقت کی تعیین اور پیش ازوقت یا وقت فوت کرکے نماز پڑھنے کی تحریم یقینی قطعی اجماعی تھی ان روایات میں یہ مطلب بنظر محاورہ عمدہ محتمل اور استدلال مستدل بتطرق احتمال باطل ومختل اور آیات واحادیث تعیین اوقات کا ان سے معارضہ غلط ومہمل ہوتا نہ کہ خود اسی حدیث
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب بدئ الخلق باب ذکر الملائکۃ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۵۷
صحیح البخاری باب اذان الاعمٰی الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۸۶
ارشاد الساری شرح بخاری باب اذان الاعمٰی الخ مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ۲ / ۱۱
صحیح البخاری باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم لایمنعکم من سحورکم اذان بلال مطبوعہ قدیمی کتب خانہ
کراچی ۱ / ۲۵۷
ارشاد الساری باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم لایمنعکم من سحورکم اذان بلال مطبوعہ دارالکتاب العربیۃ بیروت ۳ / ۳۶۳
صحیح البخاری باب اذان الاعمٰی الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۸۶
ارشاد الساری شرح بخاری باب اذان الاعمٰی الخ مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ۲ / ۱۱
صحیح البخاری باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم لایمنعکم من سحورکم اذان بلال مطبوعہ قدیمی کتب خانہ
کراچی ۱ / ۲۵۷
ارشاد الساری باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم لایمنعکم من سحورکم اذان بلال مطبوعہ دارالکتاب العربیۃ بیروت ۳ / ۳۶۳
میں بالخصوص وہ صاف صریح مفسر نصوص اور انہیں بزور زبان بخاری ومسلم سب بالائے طاق رکھ کر مردود واہیات بتائے یا الٹا ان محتملات کے معارض بتاکر شاذو مردود ٹہرائیے یہ کیا مقتضائے انصاف ودیانت ہے یہ کیا محدثی کی شان نزاکت ہے۔ اب تو بحمدالله سب جعل کھل گیا حق وباطل میزان نظر میں تل گیا اور واضح ہوا کہ یہ ساتوں روایتیں بھی انہیں محاورات سے ہیں جن میں دو۲ ایتیں اور بارہ۱۲ حدیثیں ہم نے نقل کیں ان سات سے مل کر اکیس۲۱ مثالیں ہوئیں وبالله التوفیق۔
جواب دوم : جانے دو ان میں قبل ان میں بعد یونہی سمجھو پھر ہمیں کیا مضر اور تمہیں کیا مفید۔ شفقین دو۲ ہیں : احمر و ابیض۔ ان روایات قبل میں سپید مراد ہے ان روایات بعد میں سرخ۔ یوں بھی تعارض مندفع اور سب طرق مجتمع ہو گئے۔ حاصل یہ نکلا کہ شفق احمر ڈوبنے کے بعد شفق ابیض میں نماز مغرب پڑھی اور انتظار فرمایا جب سپیدی ڈوبی عشا پڑھی۔ یہ بعینہ ہمارا مذہب مہذب اور ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہکے طور پر جمع صوری ہے حقیقی تو جب ہوتی کہ مغرب بعد غروب سپیدی پڑھی جاتی اس کا ثبوت تم ہرگز نہ دے سکے۔ یہ جواب بنگاہ اولین ذہن فقیر میں آیا تھا پھر دیکھا کہ امام ابن الہمام قدس سرہ نے یہی افادہ فرمایا۔ رہی روایت ہفتم سار حتی ذھب بیاض الافق وفحمۃ العشاء (چلتے رہے یہاں تك کہ افق کی سفیدی اور عشا کی سیاہی ختم ہوگئی۔ ت) جس میں افق کی سپیدی جانے کے بعد نزول ہے۔
اقول وبالله استعین اولا یہ بھی کب رہی اس میں بھی وہی تقریر جاری جیسے غاب الشفق بمعنی کادان یغیب یوں ہی ذھب البیاض بمعنی کادان یذھب۔
ثانیا حدیث میں بیاض افق ہے نہ بیاض شفق کنارہ شرقی بھی افق ہے بعد غروب شمس مشرق سے سیاہی اٹھتی اور اس کے اوپر سپیدی ہوتی ہے جس طرح طلوع فجر میں اس کا عکس جسے قرآن عظیم میں
حتى یتبین لكم الخیط الابیض من الخیط الاسود من الفجر۪- (یہاں تك کہ فجر کے سیاہ دھاگے سے سفید دھاگا تمہارے لیے واضح ہوجائے۔ ت) فرمایا جب فجر بلند ہوتی ہے وہ خیط اسود جاتا رہتا ہے یونہی جب مشرق سے سیاہی بلند ہوتی ہے سپیدی شرقی جاتی رہتی ہے اور ہنوز وقت مغرب میں وسعت ہوتی ہے اور اس پر عمدہ قرینہ یہ کہ بیاض کے بعد فحمہ عشاء سر شام کا دھند لگا ہے کہ موسم گرما میں تیزی نور شمس کے سبب بعد غروب نظر کو ظاہر ہوتا ہے جب تارے کھل کر روشنی دیتے ہیں زائل ہوجاتا ہے جیسے چراغ کے سامنے سے تاریکی میں آکر کچھ دیر سخت ظلمت معلوم ہوتی ہے پھر نگاہ ٹہر جاتی ہے زہرالربی میں ہے : فحمۃ
جواب دوم : جانے دو ان میں قبل ان میں بعد یونہی سمجھو پھر ہمیں کیا مضر اور تمہیں کیا مفید۔ شفقین دو۲ ہیں : احمر و ابیض۔ ان روایات قبل میں سپید مراد ہے ان روایات بعد میں سرخ۔ یوں بھی تعارض مندفع اور سب طرق مجتمع ہو گئے۔ حاصل یہ نکلا کہ شفق احمر ڈوبنے کے بعد شفق ابیض میں نماز مغرب پڑھی اور انتظار فرمایا جب سپیدی ڈوبی عشا پڑھی۔ یہ بعینہ ہمارا مذہب مہذب اور ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہکے طور پر جمع صوری ہے حقیقی تو جب ہوتی کہ مغرب بعد غروب سپیدی پڑھی جاتی اس کا ثبوت تم ہرگز نہ دے سکے۔ یہ جواب بنگاہ اولین ذہن فقیر میں آیا تھا پھر دیکھا کہ امام ابن الہمام قدس سرہ نے یہی افادہ فرمایا۔ رہی روایت ہفتم سار حتی ذھب بیاض الافق وفحمۃ العشاء (چلتے رہے یہاں تك کہ افق کی سفیدی اور عشا کی سیاہی ختم ہوگئی۔ ت) جس میں افق کی سپیدی جانے کے بعد نزول ہے۔
اقول وبالله استعین اولا یہ بھی کب رہی اس میں بھی وہی تقریر جاری جیسے غاب الشفق بمعنی کادان یغیب یوں ہی ذھب البیاض بمعنی کادان یذھب۔
ثانیا حدیث میں بیاض افق ہے نہ بیاض شفق کنارہ شرقی بھی افق ہے بعد غروب شمس مشرق سے سیاہی اٹھتی اور اس کے اوپر سپیدی ہوتی ہے جس طرح طلوع فجر میں اس کا عکس جسے قرآن عظیم میں
حتى یتبین لكم الخیط الابیض من الخیط الاسود من الفجر۪- (یہاں تك کہ فجر کے سیاہ دھاگے سے سفید دھاگا تمہارے لیے واضح ہوجائے۔ ت) فرمایا جب فجر بلند ہوتی ہے وہ خیط اسود جاتا رہتا ہے یونہی جب مشرق سے سیاہی بلند ہوتی ہے سپیدی شرقی جاتی رہتی ہے اور ہنوز وقت مغرب میں وسعت ہوتی ہے اور اس پر عمدہ قرینہ یہ کہ بیاض کے بعد فحمہ عشاء سر شام کا دھند لگا ہے کہ موسم گرما میں تیزی نور شمس کے سبب بعد غروب نظر کو ظاہر ہوتا ہے جب تارے کھل کر روشنی دیتے ہیں زائل ہوجاتا ہے جیسے چراغ کے سامنے سے تاریکی میں آکر کچھ دیر سخت ظلمت معلوم ہوتی ہے پھر نگاہ ٹہر جاتی ہے زہرالربی میں ہے : فحمۃ
حوالہ / References
سنن النسائی الوقت الذی یجمع فیہ المسافر بین المغرب والعشاء مطبوعہ کارخانہ تجارت کتب نور محمد کراچی ۱ / ۹۹
القرآن ۲ / ۱۸۷
القرآن ۲ / ۱۸۷
العشاء ھی اقبال اللیل واول سوادہ (فحمۃ العشاء رات کے آنے کو اور اس کی ابتدائی سیاہی کو کہتے ہیں ۔ ت) شرح جامع الاصول للمصنف میں ہے :
ھی شدۃ سواد اللیل فی اولہ حتی اذاسکن فورہ قلت بظھور النجوم وبسط نورھا۔ ولان العین اذانظرت الی الظلمۃ ابتداء لاتکاد تری شیا ۔
وہ رات کا ابتدائی حصے میں بہت سیاہ ہونا ہے۔ پھر جب اس کا جوش ٹھر جاتا ہے تو تاروں کے نکلنے اور ان کی روشنیاں پھیلنے سے سیاہی کم ہوجاتی ہے اور اس لئے بھی کہ آنکھ جب ابتداء میں تاریکی کی طرف نظر کرتی ہے تو کچھ نہیں دیکھ پاتی۔ (ت)
ظاہر ہے کہ اس کا جانا بیاض شفق کے جانے سے بہت پہلے ہوتا ہے تو بیاض شفق جانا بیان کرکے پھر اس کے ذکر کی کیا حاجت ہوتی ہاں بیاض شرقی اس سے پہلے جاتی ہے تو اس معنی صحیح پر فحمہ عشاء کا ذکر عبث ولغو نہ ہوگا۔
ثالثا یہی حدیث اسی طریق مذکور سفیان سے امام طحاوی نے یوں روایت فرمائی :
حدثنا فھد ثنا الحمانی ثنا ابن عیینۃ عن ابن ابی نجیح عن اسمعیل بن ابی ذویب قال : کنت مع ابن عمر رضی الله تعالی عنھما فلما غربت الشمس ھبنا ان نقول : الصلاۃ فسار حتی ذھب فحمۃ العشاء ورأینا بیاض الافق فنزل فصلی ثلثا المغرب واثنتین العشاء وقال : ھکذا رأیت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یفعل
حدیث بیان کی ہم سے فہد نے حمانی سے اس نے ابن عینیہ سے اس نے ابن ابی نجیح سے اس نے اسمعیل بن ابی ذویب سے کہ میں ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہکے ساتھ تھا جب سورج ڈوب گیا تو ان کی ہیبت کی وجہ سے ہم انہیں نماز کا نہ کہہ سکے وہ چلتے رہے یہاں تك کہ عشاء کی سیاہی ختم ہوگئی اور ہم نے افق کی سفیدی دیکھ لی۔ اس وقت اتر کر مغرب کی تین رکعتیں اور عشا کی دو۲ رکعتیں پڑھیں اور کہا کہ میں نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ (ت)
یہ بقائے شفق ابیض میں نص صریح ہے کہ سرشام کا دھند لکاجاتا رہا اور ہمیں افق کی سپیدی نظر آئی
ھی شدۃ سواد اللیل فی اولہ حتی اذاسکن فورہ قلت بظھور النجوم وبسط نورھا۔ ولان العین اذانظرت الی الظلمۃ ابتداء لاتکاد تری شیا ۔
وہ رات کا ابتدائی حصے میں بہت سیاہ ہونا ہے۔ پھر جب اس کا جوش ٹھر جاتا ہے تو تاروں کے نکلنے اور ان کی روشنیاں پھیلنے سے سیاہی کم ہوجاتی ہے اور اس لئے بھی کہ آنکھ جب ابتداء میں تاریکی کی طرف نظر کرتی ہے تو کچھ نہیں دیکھ پاتی۔ (ت)
ظاہر ہے کہ اس کا جانا بیاض شفق کے جانے سے بہت پہلے ہوتا ہے تو بیاض شفق جانا بیان کرکے پھر اس کے ذکر کی کیا حاجت ہوتی ہاں بیاض شرقی اس سے پہلے جاتی ہے تو اس معنی صحیح پر فحمہ عشاء کا ذکر عبث ولغو نہ ہوگا۔
ثالثا یہی حدیث اسی طریق مذکور سفیان سے امام طحاوی نے یوں روایت فرمائی :
حدثنا فھد ثنا الحمانی ثنا ابن عیینۃ عن ابن ابی نجیح عن اسمعیل بن ابی ذویب قال : کنت مع ابن عمر رضی الله تعالی عنھما فلما غربت الشمس ھبنا ان نقول : الصلاۃ فسار حتی ذھب فحمۃ العشاء ورأینا بیاض الافق فنزل فصلی ثلثا المغرب واثنتین العشاء وقال : ھکذا رأیت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یفعل
حدیث بیان کی ہم سے فہد نے حمانی سے اس نے ابن عینیہ سے اس نے ابن ابی نجیح سے اس نے اسمعیل بن ابی ذویب سے کہ میں ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہکے ساتھ تھا جب سورج ڈوب گیا تو ان کی ہیبت کی وجہ سے ہم انہیں نماز کا نہ کہہ سکے وہ چلتے رہے یہاں تك کہ عشاء کی سیاہی ختم ہوگئی اور ہم نے افق کی سفیدی دیکھ لی۔ اس وقت اتر کر مغرب کی تین رکعتیں اور عشا کی دو۲ رکعتیں پڑھیں اور کہا کہ میں نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ (ت)
یہ بقائے شفق ابیض میں نص صریح ہے کہ سرشام کا دھند لکاجاتا رہا اور ہمیں افق کی سپیدی نظر آئی
حوالہ / References
زہرالربٰی مع سنن النسائی بین السطور زیر حدیث مذکور مطبوعہ کارخانہ تجارت کتب نور محمد کراچی ۱ / ۹۹
جامع الاصول للمصنف
شرح معانی الآثار باب الجمع بین الصلاتین الخ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۱
جامع الاصول للمصنف
شرح معانی الآثار باب الجمع بین الصلاتین الخ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۱
اس وقت نماز پڑھی اور کہا اسی طرح حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے کیا۔
رابعا : ملاجی! آپ تو بہت محدثی میں دم بھرتے ہیں صحیح حدیثیں بے وجہ محض تو رد کرتے آئے بخاری ومسلم کے رجال ناحق مردود الروایہ بنائے اب اپنے لیے یہ روایت حجت بنالی جو آپ کے مقبولہ اصول محدثین پر ہرگز کسی طرح حجت نہیں ہوسکتی اس کا مدار ابن ابی نجیح پر ہے وہ مدلس تھا اور یہاں روایت میں عنعنہ کیا اور عنعنہ مدلس جمہور محدثین کے مذہب مختار ومعتمد میں مردود ونامستند ہے اسی آپ کی مبلغ علم تقریب میں ہے :
عبدالله بن ابن نجیح یسار المکی ابویسار الثقفی مولاھم ثقۃ رمی بالقدر وربما دلس ۔
عبدالله ابن ابی نجیح یسار مکی ابویسار ثقفی بنی ثقیف کا آزاد کردہ ثقہ ہے قدری ہونے سے مہتم ہے بسا اوقات تدلیس کرتا ہے۔ (ت)
وہ قسم مرسل سے ہے تقریب وتدریب میں ہے :
الصحیح التفصیل فمارواہ بلفظ محتمل لم یبین فیہ السماع فمرسل لایقبل ومابین فیہ کسمعت وحدثنا واخبرنا وشبھھا فمقبول یحتج بہ ۔
صحیح یہ ہے کہ اس میں تفصیل ہے یعنی مدلس کی وہ روایت جو ایسے لفظ سے ہو جو سماع کا احتمال تو رکھتا ہو مگر سماع کی تصریح نہ ہو تو وہ مرسل ہے اور غیر مقبول ہے اور جس میں سماع کی صراحت ہو جیسے سمعت حدثنا اخبرنا اور ان جیسے الفاظ تو وہ مقبول ہے اور قابل استدلال ہے۔ (ت)
اور مرسل کی نسبت آپ خود فرماچکے ف۱ روایت مرسل حجت نہیں ہوتی نزدیك جماعت فقہا وجمہور محدثین کے۔ یہ آپ نے اس حدیث صحیح متصل کو مردود و مرسل بناکر فرما یا تھا جس کا ذکر لطیفہ دہم میں گزرا جھوٹے ادعائے ارسال پر تو یہ جوش وخروش اور سچے ارسال میں یوں گنگ وخاموش یہ کیا مقتضائے حیا ودیانت ہے۔
جواب سوم : حدیث مذکور کے اصلا کسی طریق میں نہیں کہ حضور پرنور سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے بعد غروب شفق ابیض نماز مغرب پڑھی نہ ہرگز ہرگز کسی روایت میں آیا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے بعدازسفر وقت حقیقۃ قضا کرکے دوسری نماز کے وقت میں پڑھنے کو فرمایا۔ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماکا مذہب یہ ہے کہ وقت مغرب شفق احمر تك ہے
الدارقطنی عن ابن عمر رفعہ والصحیح وقفہ افادہ البیھقی والنووی انہ قال : الشفق الحمرۃ۔
دارقطنی نے ابن عمر سے مرفوعا روایت کی ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے جیسا کہ بہیقی اور نووی نے
رابعا : ملاجی! آپ تو بہت محدثی میں دم بھرتے ہیں صحیح حدیثیں بے وجہ محض تو رد کرتے آئے بخاری ومسلم کے رجال ناحق مردود الروایہ بنائے اب اپنے لیے یہ روایت حجت بنالی جو آپ کے مقبولہ اصول محدثین پر ہرگز کسی طرح حجت نہیں ہوسکتی اس کا مدار ابن ابی نجیح پر ہے وہ مدلس تھا اور یہاں روایت میں عنعنہ کیا اور عنعنہ مدلس جمہور محدثین کے مذہب مختار ومعتمد میں مردود ونامستند ہے اسی آپ کی مبلغ علم تقریب میں ہے :
عبدالله بن ابن نجیح یسار المکی ابویسار الثقفی مولاھم ثقۃ رمی بالقدر وربما دلس ۔
عبدالله ابن ابی نجیح یسار مکی ابویسار ثقفی بنی ثقیف کا آزاد کردہ ثقہ ہے قدری ہونے سے مہتم ہے بسا اوقات تدلیس کرتا ہے۔ (ت)
وہ قسم مرسل سے ہے تقریب وتدریب میں ہے :
الصحیح التفصیل فمارواہ بلفظ محتمل لم یبین فیہ السماع فمرسل لایقبل ومابین فیہ کسمعت وحدثنا واخبرنا وشبھھا فمقبول یحتج بہ ۔
صحیح یہ ہے کہ اس میں تفصیل ہے یعنی مدلس کی وہ روایت جو ایسے لفظ سے ہو جو سماع کا احتمال تو رکھتا ہو مگر سماع کی تصریح نہ ہو تو وہ مرسل ہے اور غیر مقبول ہے اور جس میں سماع کی صراحت ہو جیسے سمعت حدثنا اخبرنا اور ان جیسے الفاظ تو وہ مقبول ہے اور قابل استدلال ہے۔ (ت)
اور مرسل کی نسبت آپ خود فرماچکے ف۱ روایت مرسل حجت نہیں ہوتی نزدیك جماعت فقہا وجمہور محدثین کے۔ یہ آپ نے اس حدیث صحیح متصل کو مردود و مرسل بناکر فرما یا تھا جس کا ذکر لطیفہ دہم میں گزرا جھوٹے ادعائے ارسال پر تو یہ جوش وخروش اور سچے ارسال میں یوں گنگ وخاموش یہ کیا مقتضائے حیا ودیانت ہے۔
جواب سوم : حدیث مذکور کے اصلا کسی طریق میں نہیں کہ حضور پرنور سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے بعد غروب شفق ابیض نماز مغرب پڑھی نہ ہرگز ہرگز کسی روایت میں آیا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے بعدازسفر وقت حقیقۃ قضا کرکے دوسری نماز کے وقت میں پڑھنے کو فرمایا۔ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماکا مذہب یہ ہے کہ وقت مغرب شفق احمر تك ہے
الدارقطنی عن ابن عمر رفعہ والصحیح وقفہ افادہ البیھقی والنووی انہ قال : الشفق الحمرۃ۔
دارقطنی نے ابن عمر سے مرفوعا روایت کی ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے جیسا کہ بہیقی اور نووی نے
حوالہ / References
تقریب التہذیب ترجمہ عبداللہ ابن نجیح مطبوعہ مطبع فاروقی دہلی ص ۱۴۴
تدریب الراوی شرح تقریب النوا و ی القسم الثانی من النوع الثانی عشر دار نشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱ / ۲۲۹
ف۱ : معیارالحق ص ۴۰۱
تدریب الراوی شرح تقریب النوا و ی القسم الثانی من النوع الثانی عشر دار نشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱ / ۲۲۹
ف۱ : معیارالحق ص ۴۰۱
افادہ کیا ہے کہ ابن عمر نے کہا ہے کہ شفق سرخی کو کہتے ہیں ۔ (ت)
اور ہمارے نزدیك شفق ابیض تك ہے ھو الصحیح روایۃ والرجیح درایۃ وقضیۃ الدلیل فعلیہ التعویل (یہی روایۃ صحیح ہے اسی کو درایۃ ترجیح ہے اور دلیل کا تقاضا بھی یہی ہے اس لئے اسی پر اعتماد ہے۔ ت) ہمارا مذہب اجلائے صحابہ مثل افضل الخلق بعدالرسل صدیق اکبر وام المومنین صدیقہ وامام العلماء معاذبن جبل وسید القرأ ابی بن کعب وسید الحفاظ ابوہریرہ وعبدالله بن زبیر وغیرہم رضی اللہ تعالی عنہمواکابر تابعین مثل امام اجل محمد باقر وامیرالمومنین عمر بن عبدالعزیز واجلائے تبع تابعین مثل امام الشام اوزاعی وامام الفقہاء والمحدثین والصالحین عبدالله بن مبارك وزفر بن الہذیل وائمہ لغت مثل مبرد وثعلب وفرأ وبعض کبرائے شافعیہ مثل ابوسلیمان خطابی وامام مزنی تلمیذ خاص امام شافعی وغیرہم رحمۃ اللہ تعالی علیہم سے منقول کمافی عمدۃ القاری وغنیۃ المستملی وغیرھما۔ اب اگر ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماسے صراحۃ ثابت بھی ہوکہ انہوں نے بعد غروب ابیض مغرب پڑھی تو صاف محتمل کہ انہوں نے کسی سفر میں سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو بعد شفق احمر شفق ابیض میں مغرب اور اس کے بعد عشاء پڑھتے دیکھا اور اپنے اجتہاد کی بنا پر یہی سمجھا ہوکہ حضور والا صلوات الله تعالی وسلامہ علیہ نے وقت قضا کرکے جمع فرمائی اب چاہے ابن عمر سے ثابت ہوجائے کہ انہوں نے پہر رات گئے بلکہ آدھی رات ڈھلے مغرب پڑھی یہ ان کے اپنے مذہب پر مبنی ہوگا کہ جب وقت قضا ہوگیا تو گھڑی اور پہر سب یکساں مگر ہم پر حجت نہ ہوسکے گا کہ ہمارے مذہب پر وہ جمع صوری ہی تھی جسے جمع حقیقی سے اصلا علاقہ نہ تھا یہ تقریر بحمدالله تعالی وافی وکافی اور مخالف کے تمام دلائل وشبہات کی دافع ونافی ہے اگر ہمت ہے تو کوئی حدیث صحیح صریح ایسی لاؤ جس سے صاف صاف ثابت ہوکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے حقیقۃ شفق ابیض گزار کر وقت اجتماعی عشاء میں مغرب پڑھی یا اس طور پڑھنے کا حکم فرمایا مگر بحول الله تعالی قیامت تك کوئی حدیث ایسی نہ دکھاسکوگے بلکہ احادیث صحیحہ صریحہ جن میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا جمع فرمانا اور اس کا حکم دینا آیا وہ صراحۃ ہمارے موافق اور جمع صوری میں ناطق ہیں جن کا بیان واضح ہوچکا پھر ہم پر کیا جبر ہے کہ ایسی احتمالی باتوں مذبذب خیالوں پر عمل کریں اور ان کے سبب نمازوں کی تعیین وتخصیص اوقات کہ نصوص قاطعہ قرآن وحدیث واجماع امت سے ثابت ہے چھوڑ دیں ۔ ھکذا ینبغی التحقیق والله تعالی اعلم۔
حدیث انس رضی اللہ تعالی عنہمروی بطریق عقیل بن خالد عن ابن شھاب عن انس جس کے ایك لفظ میں ہے کہ ظہر کو وقت عصر تك تاخیر فرماتے
الشیخان وابوداود والنسائی حدثنا قتیبۃ زاد ابوداؤد وابن موھب المعنی قالانا المفضل ح والبخاری وحدہ حدثنا حسان الواسطی وھذا لفظہ ثنا المفضل بن فضالۃ عن عقیل عن ابن شھاب عن انس بن مالک قال : کان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اذا ارتحل قبل ان تزیغ الشمس اخر الظھر الی وقت العصر ثم یجمع بینھما واذا زاغت الشمس قبل ان یرتحل صلی الظھر ثم رکب ۔
بخاری مسلم ابوداؤد اور نسائی کہتے ہیں کہ حدیث
اور ہمارے نزدیك شفق ابیض تك ہے ھو الصحیح روایۃ والرجیح درایۃ وقضیۃ الدلیل فعلیہ التعویل (یہی روایۃ صحیح ہے اسی کو درایۃ ترجیح ہے اور دلیل کا تقاضا بھی یہی ہے اس لئے اسی پر اعتماد ہے۔ ت) ہمارا مذہب اجلائے صحابہ مثل افضل الخلق بعدالرسل صدیق اکبر وام المومنین صدیقہ وامام العلماء معاذبن جبل وسید القرأ ابی بن کعب وسید الحفاظ ابوہریرہ وعبدالله بن زبیر وغیرہم رضی اللہ تعالی عنہمواکابر تابعین مثل امام اجل محمد باقر وامیرالمومنین عمر بن عبدالعزیز واجلائے تبع تابعین مثل امام الشام اوزاعی وامام الفقہاء والمحدثین والصالحین عبدالله بن مبارك وزفر بن الہذیل وائمہ لغت مثل مبرد وثعلب وفرأ وبعض کبرائے شافعیہ مثل ابوسلیمان خطابی وامام مزنی تلمیذ خاص امام شافعی وغیرہم رحمۃ اللہ تعالی علیہم سے منقول کمافی عمدۃ القاری وغنیۃ المستملی وغیرھما۔ اب اگر ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماسے صراحۃ ثابت بھی ہوکہ انہوں نے بعد غروب ابیض مغرب پڑھی تو صاف محتمل کہ انہوں نے کسی سفر میں سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو بعد شفق احمر شفق ابیض میں مغرب اور اس کے بعد عشاء پڑھتے دیکھا اور اپنے اجتہاد کی بنا پر یہی سمجھا ہوکہ حضور والا صلوات الله تعالی وسلامہ علیہ نے وقت قضا کرکے جمع فرمائی اب چاہے ابن عمر سے ثابت ہوجائے کہ انہوں نے پہر رات گئے بلکہ آدھی رات ڈھلے مغرب پڑھی یہ ان کے اپنے مذہب پر مبنی ہوگا کہ جب وقت قضا ہوگیا تو گھڑی اور پہر سب یکساں مگر ہم پر حجت نہ ہوسکے گا کہ ہمارے مذہب پر وہ جمع صوری ہی تھی جسے جمع حقیقی سے اصلا علاقہ نہ تھا یہ تقریر بحمدالله تعالی وافی وکافی اور مخالف کے تمام دلائل وشبہات کی دافع ونافی ہے اگر ہمت ہے تو کوئی حدیث صحیح صریح ایسی لاؤ جس سے صاف صاف ثابت ہوکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے حقیقۃ شفق ابیض گزار کر وقت اجتماعی عشاء میں مغرب پڑھی یا اس طور پڑھنے کا حکم فرمایا مگر بحول الله تعالی قیامت تك کوئی حدیث ایسی نہ دکھاسکوگے بلکہ احادیث صحیحہ صریحہ جن میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا جمع فرمانا اور اس کا حکم دینا آیا وہ صراحۃ ہمارے موافق اور جمع صوری میں ناطق ہیں جن کا بیان واضح ہوچکا پھر ہم پر کیا جبر ہے کہ ایسی احتمالی باتوں مذبذب خیالوں پر عمل کریں اور ان کے سبب نمازوں کی تعیین وتخصیص اوقات کہ نصوص قاطعہ قرآن وحدیث واجماع امت سے ثابت ہے چھوڑ دیں ۔ ھکذا ینبغی التحقیق والله تعالی اعلم۔
حدیث انس رضی اللہ تعالی عنہمروی بطریق عقیل بن خالد عن ابن شھاب عن انس جس کے ایك لفظ میں ہے کہ ظہر کو وقت عصر تك تاخیر فرماتے
الشیخان وابوداود والنسائی حدثنا قتیبۃ زاد ابوداؤد وابن موھب المعنی قالانا المفضل ح والبخاری وحدہ حدثنا حسان الواسطی وھذا لفظہ ثنا المفضل بن فضالۃ عن عقیل عن ابن شھاب عن انس بن مالک قال : کان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اذا ارتحل قبل ان تزیغ الشمس اخر الظھر الی وقت العصر ثم یجمع بینھما واذا زاغت الشمس قبل ان یرتحل صلی الظھر ثم رکب ۔
بخاری مسلم ابوداؤد اور نسائی کہتے ہیں کہ حدیث
حوالہ / References
صحیح البخاری باب یؤخر الظہر الی العصر مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۵۰
بیان کی ہم سے قتیبہ نے ابوداؤد نے اضافہ کیا ہے “ اور ابن موہب المعنی نے “ دونوں مفضل سے روایت کرتے ہیں ۔ یہی روایت بخاری نے بواسطہ حسان واسطی تنہا بھی کی ہے اور آئندہ الفاظ اسی کے ہیں ۔ حدیث بیان کی ہم سے مفضل نے عقیل سے اس نے ابن شہاب سے اس نے انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہسے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماگر زوال سے پہلے روانہ ہوجاتے تھے تو ظہر کو عصر تك مؤخر کردیتے تھے پھر دونوں کو اکٹھا پڑھ لیتے تھے قتیبہ کے الفاظ یوں ہیں : “ پھر اترتے تھے اور دونوں کو اکٹھا پڑھتے تھے “ او ر اگر زوال ہوجاتا تھا قتیبہ کے الفاظ یوں ہیں : “ اور اگر روانگی سے پہلے زوال ہوجاتا تھا “ تو ظہر پڑھ کے سوار ہوتے تھے۔ (ت)
دوسرے لفظ میں ہے ظہر کو مؤخر فرماتے یہاں تك کہ عصر کا اول وقت داخل ہوتا پھر جمع کرتے۔ صحیح مسلم میں ہے
حدثنی عمروالناقد نا شبابۃ بن سوار المدائنی نالیث بن سعد عن عقیل فذکرہ وفیہ : اخر الظھر حتی یدخل اول وقت العصر ثم یجمع بینھما ۔
حدیث بیان کی ہم سے عمرو الناقد نے شبابہ سے اس نے لیث سے اس نے سعد سے اس نے عقیل سے اس کے بعد روایت ذکر کی اس میں ہے کہ ظہر کو مؤخر کرتے یہاں تك کہ عصر کا ابتدائی وقت داخل ہوجاتا پھر دونوں کو جمع کرلیتے۔ (ت)
تیسرے لفظ میں یہ لفظ زائد ہے کہ مغرب کو تاخیر کرتے یہاں تك کہ شفق ڈوبنے کے وقت اسے اور عشا کو ملاتے یا انہیں جمع فرماتے کہ شفق ڈوب جاتی۔ صحیح مسلم میں ہے
حدثنی ابوالطاھر وعمروبن السواد قالانا ابن وھب ثنی جابر بن اسماعیل عن عقیل وفیہ : یؤخر المغرب حتی یجمع بینھا وبین العشاء حین یغیب الشفق ۔ ورواہ النسائی قال : اخبرنی عمروبن سواد بن الاسود بن عمرو وابوداود مختصرا قال : حدثنا سلیمن بن داود المھری کلاھما عن ابن وھب بہ ورواہ الطحاوی حدثنا یونس قال : انا ابن وھب وفیہ حتی یغیب الشفق ۔
حدیث بیان کی مجھ سے ابوالطاہر اور عمروبن سواد نے ابن وہب سے اس نے جابر سے اس نے عقیل سے۔ اس میں ہے کہ مغرب کو مؤخر کرتے تھے یہاں تک
دوسرے لفظ میں ہے ظہر کو مؤخر فرماتے یہاں تك کہ عصر کا اول وقت داخل ہوتا پھر جمع کرتے۔ صحیح مسلم میں ہے
حدثنی عمروالناقد نا شبابۃ بن سوار المدائنی نالیث بن سعد عن عقیل فذکرہ وفیہ : اخر الظھر حتی یدخل اول وقت العصر ثم یجمع بینھما ۔
حدیث بیان کی ہم سے عمرو الناقد نے شبابہ سے اس نے لیث سے اس نے سعد سے اس نے عقیل سے اس کے بعد روایت ذکر کی اس میں ہے کہ ظہر کو مؤخر کرتے یہاں تك کہ عصر کا ابتدائی وقت داخل ہوجاتا پھر دونوں کو جمع کرلیتے۔ (ت)
تیسرے لفظ میں یہ لفظ زائد ہے کہ مغرب کو تاخیر کرتے یہاں تك کہ شفق ڈوبنے کے وقت اسے اور عشا کو ملاتے یا انہیں جمع فرماتے کہ شفق ڈوب جاتی۔ صحیح مسلم میں ہے
حدثنی ابوالطاھر وعمروبن السواد قالانا ابن وھب ثنی جابر بن اسماعیل عن عقیل وفیہ : یؤخر المغرب حتی یجمع بینھا وبین العشاء حین یغیب الشفق ۔ ورواہ النسائی قال : اخبرنی عمروبن سواد بن الاسود بن عمرو وابوداود مختصرا قال : حدثنا سلیمن بن داود المھری کلاھما عن ابن وھب بہ ورواہ الطحاوی حدثنا یونس قال : انا ابن وھب وفیہ حتی یغیب الشفق ۔
حدیث بیان کی مجھ سے ابوالطاہر اور عمروبن سواد نے ابن وہب سے اس نے جابر سے اس نے عقیل سے۔ اس میں ہے کہ مغرب کو مؤخر کرتے تھے یہاں تک
حوالہ / References
صحیح لمسلم باب جواز الجمع بین الصلاتین مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۴۵
الصحیح لمسلم باب جواز الجمع بین الصلاتین مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۴۵ ، سنن ابی داؤد ۱ / ۱۷۲ شرح معانی الآثار ۱ / ۱۱۳
سنن النسائی الوقت الذی یجمع فیہ المسافر بین المغرب والعشاء مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۹۹
الصحیح لمسلم باب جواز الجمع بین الصلاتین مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۴۵ ، سنن ابی داؤد ۱ / ۱۷۲ شرح معانی الآثار ۱ / ۱۱۳
سنن النسائی الوقت الذی یجمع فیہ المسافر بین المغرب والعشاء مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۹۹
کہ اس کو اور عشاء کو جمع کرلیتے جب شفق غائب ہوتی تھی۔ اس روایت کو نسائی نے بھی بواسطہ عمرو ابن سواد ابن اسود ابن عمر اور ابوداود نے بھی مختصرا بواسطہ سلیمان ابن داود المہری بیان کیا ہے (عمرو اور سلیمان) دونوں نے یہ روایت ابن وہب سے لی ہے۔ اور طحاوی نے اس کو بواسطہ یونس ابن وہب سے لیا ہے۔ اس میں ہے “ یہاں تك کہ شفق غائب ہوجاتی تھی “ ۔ (ت)
غیبت شفق کے جوابات شافعیہ تو بحمدالله اوپر گزرے ملاجی کو بڑا ناز یہاں ان لفظوں پر ہے کہ ظہر کو وقت عصر تك مؤخر فرماکر جمع کرتے اس پر حتی کے معنی میں لاطائل س نحو یت بگھار کر فرما تے ہیں ف۱ پس مطلب یہ ہواکہ تاخیر ظہر کی اس حد تك کرتے کہ منتہ تاخیر کا اول وقت عصر کا ہوتا یعنی ابھی تك ظہر نہ پڑھتے کہ عصر کا وقت آجاتا ان معنی سے کسی کو انکار نہیں مگر محرفین للنصوص کو اول وقت عصر کا منتہی تاخیر کا ہے نہ نماز ظہر کا اگر ظہر کا ہوتو ثم یجمع بینہما کے کچھ معنی نہیں بنتے کہ بعد ہوچکنے ظہر کے اول وقت عصر تك پھر جمع کرنا ساتھ عصر کے کس طرح ہو اھ ملخصا مہذبا۔
ان لن ترانیوں کا جواب تو بہت واضح ہے عصر یا وقت عصر یا اول وقت عصر یا دخول وقت عصر تك ظہر کو مؤخر کرنے کے جس طرح یہ معنے ممکن کہ ظہر نہ پڑھی یہاں تك کہ وقت عصر داخل ہوا یونہی یہ بھی متصور کہ ظہر میں اس قدر تاخیر فرمائی کہ اس کے ختم ہوتے ہی وقت عصر آگیا خود علمائے شافعیہ ان معنی کو تسلیم کرتے ہیں صحیح بخاری شریف میں فرمایا : باب تاخیر الظھر الی العصر امام عسقلانی شافعی نے فتح الباری پھر قسطلانی شافعی نے ارشاد الساری میں اس کی شرح فرمائی :
باب تاخیر الظھر الی اول وقت العصر بحیث انہ اذافرغ منھا یدخل وقت تالیھا لاانہ یجمع بینھما فی وقت واحد ۔
باب ظہر کی تاخیر عصر کے ابتدائی وقت تك کہ جب ظہر سے فارغ ہو عصر کا وقت داخل ہوجائے نہ یہ کہ ایك ہی وقت میں دونوں کو جمع کرے۔ (ت)
غیبت شفق کے جوابات شافعیہ تو بحمدالله اوپر گزرے ملاجی کو بڑا ناز یہاں ان لفظوں پر ہے کہ ظہر کو وقت عصر تك مؤخر فرماکر جمع کرتے اس پر حتی کے معنی میں لاطائل س نحو یت بگھار کر فرما تے ہیں ف۱ پس مطلب یہ ہواکہ تاخیر ظہر کی اس حد تك کرتے کہ منتہ تاخیر کا اول وقت عصر کا ہوتا یعنی ابھی تك ظہر نہ پڑھتے کہ عصر کا وقت آجاتا ان معنی سے کسی کو انکار نہیں مگر محرفین للنصوص کو اول وقت عصر کا منتہی تاخیر کا ہے نہ نماز ظہر کا اگر ظہر کا ہوتو ثم یجمع بینہما کے کچھ معنی نہیں بنتے کہ بعد ہوچکنے ظہر کے اول وقت عصر تك پھر جمع کرنا ساتھ عصر کے کس طرح ہو اھ ملخصا مہذبا۔
ان لن ترانیوں کا جواب تو بہت واضح ہے عصر یا وقت عصر یا اول وقت عصر یا دخول وقت عصر تك ظہر کو مؤخر کرنے کے جس طرح یہ معنے ممکن کہ ظہر نہ پڑھی یہاں تك کہ وقت عصر داخل ہوا یونہی یہ بھی متصور کہ ظہر میں اس قدر تاخیر فرمائی کہ اس کے ختم ہوتے ہی وقت عصر آگیا خود علمائے شافعیہ ان معنی کو تسلیم کرتے ہیں صحیح بخاری شریف میں فرمایا : باب تاخیر الظھر الی العصر امام عسقلانی شافعی نے فتح الباری پھر قسطلانی شافعی نے ارشاد الساری میں اس کی شرح فرمائی :
باب تاخیر الظھر الی اول وقت العصر بحیث انہ اذافرغ منھا یدخل وقت تالیھا لاانہ یجمع بینھما فی وقت واحد ۔
باب ظہر کی تاخیر عصر کے ابتدائی وقت تك کہ جب ظہر سے فارغ ہو عصر کا وقت داخل ہوجائے نہ یہ کہ ایك ہی وقت میں دونوں کو جمع کرے۔ (ت)
حوالہ / References
صحیح البخاری باب تاخیر الظھر الی العصر مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۷۷
ارشاد الساری باب تاخیر الظھر الی العصر دارالکتاب العربیۃ بیروت ۱ / ۴۹۱
ف۱ معیارالحق ص۳۷۷ ، ۳۷۸
ارشاد الساری باب تاخیر الظھر الی العصر دارالکتاب العربیۃ بیروت ۱ / ۴۹۱
ف۱ معیارالحق ص۳۷۷ ، ۳۷۸
حافظ الشان کے لفظ یہ ہیں :
المراد انہ عند فراغہ منھا دخل وقت العصر کماسیاتی عن ابی الشعثاء الخ۔
مراد یہ ہے کہ ظہر سے فارغ ہوتے ہی عصر کا وقت داخل ہوگیا جیسا کہ عنقریب ابوالشعثاء سے آرہا ہے۔ (ت)
اور اس سے فارغ ہوتے ہی جو عصر اپنے شروع وقت میں پڑھی جائے بداہۃ دونوں نمازیں مجتمع ہوجائیں گی تو اس معنے کو تحریف یا جمع بینہما کے مخالف کہنا صریح جہالت ہے۔
اقول : وبالله التوفیق تحقیق مقام یہ ہے کہ یؤخر الظھر میں ظہر سے صلاۃ ظہر مراد ہونا تو بدیہی نماز ہی قابل تاخیر وتعجیل ہے نہ وقت جس کی تاخیر وتعجیل مقدورات عباد میں نہیں اور صلاۃ ظہر حقیقۃ تکبیر تحریمہ سے سلام تك مجموع افعا ل کا نام ہے نہ ہر فعل یا آغاز نماز کا کہ جزء نماز ہے اور ایسے حقائق میں جز شے شے نہیں جو اسم کسی مرکب مجموع اجزائے متعاقبہ فی الوجود کے مقابل موضوع ہو بنظر حقیقت اس کا صدق جزء آخر کے ساتھ ہوگا نہ اس سے پہلے مثلا مکان اس مجموع جدران وسقف وغیرہا کا نام ہے تو جب نیو بھری گئی یا پہلی اینٹ چنائی کی رکھی گئی مکان نہ کہیں گے پس قبل فراغ حقیقت صلاۃ جسی شرع مطہر نماز گنے اور معتبر رکھے متحقق نہیں تو بحکم حقیقت انتہائے تاخیر نماز عین وقت فراغ پر ہے نہ وقت تکبیر کہ ہنوز زمانہ عدم صدق اسم باقی ہے اب حدیث کے الفاظ دیکھیے تاخیر نماز کی انتہا ابتدائے وقت عصر پر بتائی گئی ہے اور اس کی انتہا فراغ پر تھی تو ثابت ہوا کہ ظہر سے فراغ وقت ظہر کے جزء اخیر میں ہوا یہی بعینہ ہمارا مقصود ہے اگر معنے وہ لیے جائیں جو ملاجی بتاتے ہیں کہ اول وقت عصر میں نماز ظہر شروع کی تو تاخیر ظہر اول وقت عصر پر منتہی نہ ہوئی بلکہ اوسط وقت عصر تك رہی یہ خلاف ارشاد حدیث ہے تو بلحاظ حقیقت شرعیہ معنی حدیث وہی ہیں جنہیں ملاجی تحریہ نصوص بتارہے ہیں ہاں مجازا آغاز نماز پر بھی اسم نماز اطلاق کرتے ہیں تو ہمارے اورر ملاجی کے معنی میں وہی فرق ہے جو حقیقت ومجاز میں ۔ بحمدالله اس بیان جلی البرہان سے واضح ہوگیا کہ ملاجی کا منتہائے تاخیر ومنتہائے نماز ظہر میں تفرقہ پر حکم کرنا جہالت تھا ملاجی نے اتنا سچ کہا کہ منتہے تاخیر کا اول وقت عصر کا ہوتا آگے جو یہ حاشیہ چڑھایا کہ یعنی ابھی تك ظہر نہ پڑھتے کہ وقت عصر آجاتا نرا ادعائے بے دلیل ہے طرفہ یہ کہ خود بھی حضرت نے انہیں لفظوں سے تعبیر کی جن میں دونوں معنی محتمل مگر عقل ووہابیت تو باہم اقصی طرفین نقیض پر ہیں ولله الحمد۔
ثم اقول : وبحول الله اصول (پھر میں کہتا ہوں اور الله تعالی ہی کی طاقت سے جرح کرتا ہوں ) ظہر کی وقت عصر تك تاخیر درکنار اگر صاف یہ لفظ آتے کہ ظہر اول وقت عصر میں پڑھی مدعائے مخالف میں نص نہ تھی ظہرین وعشائین میں
المراد انہ عند فراغہ منھا دخل وقت العصر کماسیاتی عن ابی الشعثاء الخ۔
مراد یہ ہے کہ ظہر سے فارغ ہوتے ہی عصر کا وقت داخل ہوگیا جیسا کہ عنقریب ابوالشعثاء سے آرہا ہے۔ (ت)
اور اس سے فارغ ہوتے ہی جو عصر اپنے شروع وقت میں پڑھی جائے بداہۃ دونوں نمازیں مجتمع ہوجائیں گی تو اس معنے کو تحریف یا جمع بینہما کے مخالف کہنا صریح جہالت ہے۔
اقول : وبالله التوفیق تحقیق مقام یہ ہے کہ یؤخر الظھر میں ظہر سے صلاۃ ظہر مراد ہونا تو بدیہی نماز ہی قابل تاخیر وتعجیل ہے نہ وقت جس کی تاخیر وتعجیل مقدورات عباد میں نہیں اور صلاۃ ظہر حقیقۃ تکبیر تحریمہ سے سلام تك مجموع افعا ل کا نام ہے نہ ہر فعل یا آغاز نماز کا کہ جزء نماز ہے اور ایسے حقائق میں جز شے شے نہیں جو اسم کسی مرکب مجموع اجزائے متعاقبہ فی الوجود کے مقابل موضوع ہو بنظر حقیقت اس کا صدق جزء آخر کے ساتھ ہوگا نہ اس سے پہلے مثلا مکان اس مجموع جدران وسقف وغیرہا کا نام ہے تو جب نیو بھری گئی یا پہلی اینٹ چنائی کی رکھی گئی مکان نہ کہیں گے پس قبل فراغ حقیقت صلاۃ جسی شرع مطہر نماز گنے اور معتبر رکھے متحقق نہیں تو بحکم حقیقت انتہائے تاخیر نماز عین وقت فراغ پر ہے نہ وقت تکبیر کہ ہنوز زمانہ عدم صدق اسم باقی ہے اب حدیث کے الفاظ دیکھیے تاخیر نماز کی انتہا ابتدائے وقت عصر پر بتائی گئی ہے اور اس کی انتہا فراغ پر تھی تو ثابت ہوا کہ ظہر سے فراغ وقت ظہر کے جزء اخیر میں ہوا یہی بعینہ ہمارا مقصود ہے اگر معنے وہ لیے جائیں جو ملاجی بتاتے ہیں کہ اول وقت عصر میں نماز ظہر شروع کی تو تاخیر ظہر اول وقت عصر پر منتہی نہ ہوئی بلکہ اوسط وقت عصر تك رہی یہ خلاف ارشاد حدیث ہے تو بلحاظ حقیقت شرعیہ معنی حدیث وہی ہیں جنہیں ملاجی تحریہ نصوص بتارہے ہیں ہاں مجازا آغاز نماز پر بھی اسم نماز اطلاق کرتے ہیں تو ہمارے اورر ملاجی کے معنی میں وہی فرق ہے جو حقیقت ومجاز میں ۔ بحمدالله اس بیان جلی البرہان سے واضح ہوگیا کہ ملاجی کا منتہائے تاخیر ومنتہائے نماز ظہر میں تفرقہ پر حکم کرنا جہالت تھا ملاجی نے اتنا سچ کہا کہ منتہے تاخیر کا اول وقت عصر کا ہوتا آگے جو یہ حاشیہ چڑھایا کہ یعنی ابھی تك ظہر نہ پڑھتے کہ وقت عصر آجاتا نرا ادعائے بے دلیل ہے طرفہ یہ کہ خود بھی حضرت نے انہیں لفظوں سے تعبیر کی جن میں دونوں معنی محتمل مگر عقل ووہابیت تو باہم اقصی طرفین نقیض پر ہیں ولله الحمد۔
ثم اقول : وبحول الله اصول (پھر میں کہتا ہوں اور الله تعالی ہی کی طاقت سے جرح کرتا ہوں ) ظہر کی وقت عصر تك تاخیر درکنار اگر صاف یہ لفظ آتے کہ ظہر اول وقت عصر میں پڑھی مدعائے مخالف میں نص نہ تھی ظہرین وعشائین میں
حوالہ / References
فتح الباری شرح البخاری باب تاخیر الظہر الی العصر مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۱۹
آخر وقت اول واول وقت آخر آن واحد فصل مشترك بین الزمانین ہے اور صلاۃ بمعنے ابتدائے صلاۃ اور فراغ عن الصلوۃ دونوں مستعمل تو بحکم مقدمہ اولی جس نماز کے فراغ پر اس کا وقت ختم ہوجائے اسے جس طرح یوں کہہ سکتے ہیں کہ اپنے وقت کے جز اءخیر میں تمام ہوئی یونہی یہ بھی کہ وقت آئندہ کے جز ء اول میں اس سے فراغ ہوا اور بحکم مقدمہ ثانیہ تعبیر ثانی کو ان لفظوں سے بھی ادا کرسکتے ہیں کہ نماز وقت آئندہ میں پڑھی کہ نماز پڑھنا فراغ عن الصلاۃ تھا اور فراغ عن الصلاۃ آخر وقت میں ہوا اور آخر وقت ماضی اول وقت آتی ہے ولہذا ساتوں احادیث مذکورہ امامت جبریل وسوال سائل میں جب کہ بظاہر عصر ماضی وظہر حال دونوں ایك وقت پڑھنا نکلتا تھا بلکہ حدیث امامت عندالترمذی وحدیث سائل عندابی داؤد میں صاف تصریح تھی کہ آج کی ظہر کل کی عصر کے وقت پڑھی خود امام شافعی وجمہور علمائے کرامرحمہم اللہ تعالینے ان میں صلاۃ عصر دیروزہ کو ابتدائے نماز اور صلاۃ ظہر امروزہ کو فراغ نماز پر حمل کیا یعنی ایك مثل سایہ پر کل کی عصر شروع فرمائی تھی اور آج کی ظہر ختم اسی کو یوں تعبیر فرمایاگیا کہ ظہر امروزہ عصر دیروزہ کے وقت میں پڑھی امام اجل ابوزکریا نووی شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہشرح صحیح مسلم شریف میں زیرحدیث اذاصلیتم الظھر فانہ وقت الی ان یحضر العصر (جب تم ظہر کی نماز پڑھنا ہوتو عصر تك سارا وقت ظہر ہی کا ہے۔ ت) فرماتے ہیں :
احتج الشافعی والاکثرون بظاھر الحدیث الذی نحن فیہ واجابوا عن حدیث جبریل علیہ السلام بان معناہ فرغ من الظھر حین صارظل کل شیئ مثلہ وشرع فی العصر فی الیوم الاول حین صار ظل کل شیئ مثلہ فلا اشتراك بینھما ۔
امام شافعی اور اکثر علمانے اسی حدیث کے ظاہر سے استدلال کیا ہے جس میں ہم گفتگو کررہے ہیں اور جبریل علیہ السلام کی حدیث سے یہ جواب دیا ہے کہ پہلے دن جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہوگیا تھا تو اس وقت ظہر کی نماز سے فارغ ہوگئے تھے اور دوسرے دن جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہوا تھا تو اس وقت عصر کی نماز شروع کی تھی۔ اس طرح دونوں کا (ایك ہی وقت میں ) اشتراك نہیں پایا جاتا۔ (ت)
مرقات شرح مشکوۃ میں ہے :
فی روایۃ حین کان ظل کل شیئ مثلہ کوقت العصر بالامس۔ ای فرغ من الظھر ح کماشرع فی العصر فی الیوم الاول ح حینئذ قال الشافعی : وبہ نندفع اشتراکھا فی وقت واحد ۔
ایك روایت میں ہے کہ جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہوگیا تھا جیسا کہ گزشتہ کل اسی وقت عصر کے وقت تھا۔ یعنی آج اسی وقت ظہر سے فارغ ہوئے تھے جیسا کہ گزشتہ کل اسی وقت عصر میں شروع ہوئے تھے
احتج الشافعی والاکثرون بظاھر الحدیث الذی نحن فیہ واجابوا عن حدیث جبریل علیہ السلام بان معناہ فرغ من الظھر حین صارظل کل شیئ مثلہ وشرع فی العصر فی الیوم الاول حین صار ظل کل شیئ مثلہ فلا اشتراك بینھما ۔
امام شافعی اور اکثر علمانے اسی حدیث کے ظاہر سے استدلال کیا ہے جس میں ہم گفتگو کررہے ہیں اور جبریل علیہ السلام کی حدیث سے یہ جواب دیا ہے کہ پہلے دن جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہوگیا تھا تو اس وقت ظہر کی نماز سے فارغ ہوگئے تھے اور دوسرے دن جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہوا تھا تو اس وقت عصر کی نماز شروع کی تھی۔ اس طرح دونوں کا (ایك ہی وقت میں ) اشتراك نہیں پایا جاتا۔ (ت)
مرقات شرح مشکوۃ میں ہے :
فی روایۃ حین کان ظل کل شیئ مثلہ کوقت العصر بالامس۔ ای فرغ من الظھر ح کماشرع فی العصر فی الیوم الاول ح حینئذ قال الشافعی : وبہ نندفع اشتراکھا فی وقت واحد ۔
ایك روایت میں ہے کہ جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہوگیا تھا جیسا کہ گزشتہ کل اسی وقت عصر کے وقت تھا۔ یعنی آج اسی وقت ظہر سے فارغ ہوئے تھے جیسا کہ گزشتہ کل اسی وقت عصر میں شروع ہوئے تھے
حوالہ / References
شرح الصحیح لمسلم مع مسلم باب اوقات صلوات الخمس مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۲۲
مرقات المفاتیح الفصل الثانی من باب المواقیت مکتبہ امدادیہ ملتان ۲ / ۱۲۴
مرقات المفاتیح الفصل الثانی من باب المواقیت مکتبہ امدادیہ ملتان ۲ / ۱۲۴
امام شافعی نے کہا کہ اسی سے ایك وقت میں ان کے اشتراك کا احتمال ختم ہوجاتا ہے۔ (ت)۔
ثم اقول : ہاں میں علما سے کیوں نقل کروں خود ملاجی اپنے ہی لکھے کو نہ روئیں اقرا كتبك-كفى بنفسك الیوم علیك حسیبا(۱۴) عــہ۔ (پڑھو اپنی کتاب کو آج تم خود ہی اپنے آپ پر شہید کافی ہو۔ ت مسئلہ وقت ظہر میں جو ایك مثل کا اثبات پیش نظر تھا پاؤں تلے کی سوجھی آگا پیچھا بے سوچے سمجھے صاف صاف انہیں معنی کا اقرار کرگئے یہ کیا خبر تھی کہ دو۲ قدم چل کر یہ اقرار جان کا آزار ہوجائے گا حدیث سائل بروایت نسائی عن جابر رضی اللہ تعالی عنہنقل کرکے فرماتے ہیں ف۱ : معنی اس کے یہ ہیں کہ پہلے دن عصر جب پڑھی کہ سایہ ایك مثل آگیا اور دوسرے دن ظہر سے ایك مثل پر فارغ ہوئے یہ معنی نہیں کہ ظہر پڑھنی شروع کی دوسرے دن اسی وقت میں جس میں پہلے دن عصر پڑھی تھی اھ ملخصا۔ کیوں ملاجی ! جب صلاۃ بمعنی فراغ عن الصلاۃ آپ خود لے رہے ہیں تو آخر الظہر کے معنی آخر الفراغ عن الظہر لینا کیوں تحریف نصوص ہوگیا ہاں اس کا علاج نہیں کہ شریعت تمہارے گھر کی ہے اپنے لئے تحریف تبدیل انکار تکذیب جو چاہو حلال کرلو۔ مزہ یہ ہے کہ فقط اسی پر قناعت نہ کی لاج کا بھلا ہو حدیث امامت جبریل عن ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہمابھی نقل کی اور ابو داؤد کے لفظ چھوڑ کر خاص ترمذی ہی کی روایت لی جس میں صاف نقل کیا کہ ظہر امروزہ عصر دیروزہ کے وقت میں پڑھی اور بکمال خوش طالعی اسے بھی لکھ ف۲ دیا کہ معنے اس کے بھی وہی ہیں جو حدیث نسائی کے بیان کیے گئے یعنی پہلے دن عصر شروع کی ایك مثل پر اور دوسرے دن فارغ ہوئے ظہر سے ایك مثل پر۔
ملاجی! جب ایك نماز دوسری کے وقت میں پڑھنا ان صریح لفظوں کے بھی خود یہ معنی لے رہے ہو کہ نماز پڑھی تو اپنے وقت میں مگر اس سے فراغ دوسری کے ابتدائے وقت پر ہوا تو اب کس منہ سے یہ حدیثیں اثبات جمع میں پیش کرتے اور انہیں نص صریح ناقابل تاویل بتاتے ہو ان میں تصریح دکھا بھی نہ سکے جو صاف صاف اس حدیث ترمذی میں تھی جب اس کے یہ معنی بنارہے ہو ان کے بدرجہ اولی بنیں گے اور اول تا آخر تمہارے سب دعوے
عـــہ اقتباس ومناسب المقام ھھنا الشھادۃ لا الحساب ۱۲ منہ (م)
قرآن کریم سے اقتباس ہے اور مقام کے مناسب یہاں پر شہادت ہے نہ کہ حساب (اس لئے حسیبا کی جگہ شھیدا لایاگیا ہے) (ت)
ثم اقول : ہاں میں علما سے کیوں نقل کروں خود ملاجی اپنے ہی لکھے کو نہ روئیں اقرا كتبك-كفى بنفسك الیوم علیك حسیبا(۱۴) عــہ۔ (پڑھو اپنی کتاب کو آج تم خود ہی اپنے آپ پر شہید کافی ہو۔ ت مسئلہ وقت ظہر میں جو ایك مثل کا اثبات پیش نظر تھا پاؤں تلے کی سوجھی آگا پیچھا بے سوچے سمجھے صاف صاف انہیں معنی کا اقرار کرگئے یہ کیا خبر تھی کہ دو۲ قدم چل کر یہ اقرار جان کا آزار ہوجائے گا حدیث سائل بروایت نسائی عن جابر رضی اللہ تعالی عنہنقل کرکے فرماتے ہیں ف۱ : معنی اس کے یہ ہیں کہ پہلے دن عصر جب پڑھی کہ سایہ ایك مثل آگیا اور دوسرے دن ظہر سے ایك مثل پر فارغ ہوئے یہ معنی نہیں کہ ظہر پڑھنی شروع کی دوسرے دن اسی وقت میں جس میں پہلے دن عصر پڑھی تھی اھ ملخصا۔ کیوں ملاجی ! جب صلاۃ بمعنی فراغ عن الصلاۃ آپ خود لے رہے ہیں تو آخر الظہر کے معنی آخر الفراغ عن الظہر لینا کیوں تحریف نصوص ہوگیا ہاں اس کا علاج نہیں کہ شریعت تمہارے گھر کی ہے اپنے لئے تحریف تبدیل انکار تکذیب جو چاہو حلال کرلو۔ مزہ یہ ہے کہ فقط اسی پر قناعت نہ کی لاج کا بھلا ہو حدیث امامت جبریل عن ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہمابھی نقل کی اور ابو داؤد کے لفظ چھوڑ کر خاص ترمذی ہی کی روایت لی جس میں صاف نقل کیا کہ ظہر امروزہ عصر دیروزہ کے وقت میں پڑھی اور بکمال خوش طالعی اسے بھی لکھ ف۲ دیا کہ معنے اس کے بھی وہی ہیں جو حدیث نسائی کے بیان کیے گئے یعنی پہلے دن عصر شروع کی ایك مثل پر اور دوسرے دن فارغ ہوئے ظہر سے ایك مثل پر۔
ملاجی! جب ایك نماز دوسری کے وقت میں پڑھنا ان صریح لفظوں کے بھی خود یہ معنی لے رہے ہو کہ نماز پڑھی تو اپنے وقت میں مگر اس سے فراغ دوسری کے ابتدائے وقت پر ہوا تو اب کس منہ سے یہ حدیثیں اثبات جمع میں پیش کرتے اور انہیں نص صریح ناقابل تاویل بتاتے ہو ان میں تصریح دکھا بھی نہ سکے جو صاف صاف اس حدیث ترمذی میں تھی جب اس کے یہ معنی بنارہے ہو ان کے بدرجہ اولی بنیں گے اور اول تا آخر تمہارے سب دعوے
عـــہ اقتباس ومناسب المقام ھھنا الشھادۃ لا الحساب ۱۲ منہ (م)
قرآن کریم سے اقتباس ہے اور مقام کے مناسب یہاں پر شہادت ہے نہ کہ حساب (اس لئے حسیبا کی جگہ شھیدا لایاگیا ہے) (ت)
حوالہ / References
القرآن ۱۷ / ۱۴
ف۱ معیارالحق مسئلہ چہارم بحث آخر وقت ظہر الخ مکتبہ نذیریہ لاہور ص۳۱۶ ، ف۲ معیارالحق ص ۳۲۱)
ف۱ معیارالحق مسئلہ چہارم بحث آخر وقت ظہر الخ مکتبہ نذیریہ لاہور ص۳۱۶ ، ف۲ معیارالحق ص ۳۲۱)
قل موتوا بغیظکم سنیں گے ا نصاف ہو تو ایك یہی حرف تمہاری ساری محنت کو پہلی منزل پہنچانے کے لئے بس ہے ولله الحمد یہ کلام تو ملاجی کی جہالتوں سے متعلق تھا اب مثل حدیث ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہمااس حدیث کے بھی جواب بعون الوہاب اسی طرز صواب پر لیجئے وبالله التوفیق۔
جواب اول : دخول عصر سے قرب عصر مراد ہے جس کی اکیس مثالیں آیات واحادیث سے گزریں خصوصا حدیث ہشتم میں ہم نے روایت صحیحہ صحیح مسلم وسنن ابی داؤد وسنن نسائی سے روشن ثبوت دیا کہ دوسرے وقت تك تاخیر درکنار ایك نماز اپنے آخر وقت میں دوسرے وقت کے قریب پڑھنے کو کہا یہاں تك کہا جاتا ہے کہ دوسری نماز کے وقت میں پڑھی
الی ھذا الجواب اشار الامام الطحاوی رحمہ الله تعالی حیث قال : قدیحتمل ان یکون قولہ : الی اول وقت العصر الی قرب اول وقت العصر ۔
اسی جواب کی طرف امام طحاوی نے اشارہ کیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ اول وقت عصر سے مراد اول وقت عصر کا قریب ہونا ہے۔ (ت)
جواب ثانی اقول : وقت ظہر دو مثل سمجھو خواہ ایك اس کی حقیقت واقعیہ کا ادراك طاقت بشری سے خارج ہے آسمان بھی صاف ہو زمین بھی ہموار تاہم پیمائش اقدام یا کوئی چیز زمین میں کھڑی کرکے ناپنا تو ہرگز غایت تخمین مقدور تك بھی بالغ نہیں نہایت تصحیح عمل امثال دائرہ ہندیہ ہے وہ بھی حقیقت امر ہرگز نہیں بتاسکتا۔
اولا دائرے کی صحت سطح کا اسطوا سطح دائرۃ الافق سے اس کی پوری موازات مقیاس کا سطح دائرہ نصف النہار سے ذرہ بھر مائل نہ ہونا مدخل ومخرج کے نقاط نامتجزیہ کی صحیح تعیین قوس محصورہ کی ٹھیك تنصیف پھر ظل کا خط نامتجزی پر واقعی انطباق پھر اس کی حقیقی مقدار پھر اس پر مثل یا مثلین کی بے کمی بیشی زیادت ان میں سے کسی پر جزم متیسر نہیں ۔
ثانیا بفرض محال عادی یہ سب حق حقیقت پر صحیح بھی ہوجائیں تاہم خط نصف النہار کا سطح عظیمہ نصف النہار میں ہونا معلوم نہیں بلکہ نہ ہونا ثابت ومعلوم ہے کہ شمس بوجہ تقاطع معدل ومنطقہ اپنی سیر خاص سے لمحہ بھر بھی ایك مدار پر نہیں رہتا تو منتصف مابین المدخل والمخرج ہمیشہ خط نصف النہار سے شرقی یا غربی ہے مگر جبکہ دائرۃ الزوال پر مرکز نیر کا انطباق اور احد الانقلابین میں حلول آن واحد میں ہو اور وہ نہایت نادر ہے۔
ثالثا اس نادر کو بھی فرض کرلیجئے تاہم علم کی طرف اصلا سبیل نہیں کہ حلول انقلاب یا وصول دائرہ جاننے
جواب اول : دخول عصر سے قرب عصر مراد ہے جس کی اکیس مثالیں آیات واحادیث سے گزریں خصوصا حدیث ہشتم میں ہم نے روایت صحیحہ صحیح مسلم وسنن ابی داؤد وسنن نسائی سے روشن ثبوت دیا کہ دوسرے وقت تك تاخیر درکنار ایك نماز اپنے آخر وقت میں دوسرے وقت کے قریب پڑھنے کو کہا یہاں تك کہا جاتا ہے کہ دوسری نماز کے وقت میں پڑھی
الی ھذا الجواب اشار الامام الطحاوی رحمہ الله تعالی حیث قال : قدیحتمل ان یکون قولہ : الی اول وقت العصر الی قرب اول وقت العصر ۔
اسی جواب کی طرف امام طحاوی نے اشارہ کیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ اول وقت عصر سے مراد اول وقت عصر کا قریب ہونا ہے۔ (ت)
جواب ثانی اقول : وقت ظہر دو مثل سمجھو خواہ ایك اس کی حقیقت واقعیہ کا ادراك طاقت بشری سے خارج ہے آسمان بھی صاف ہو زمین بھی ہموار تاہم پیمائش اقدام یا کوئی چیز زمین میں کھڑی کرکے ناپنا تو ہرگز غایت تخمین مقدور تك بھی بالغ نہیں نہایت تصحیح عمل امثال دائرہ ہندیہ ہے وہ بھی حقیقت امر ہرگز نہیں بتاسکتا۔
اولا دائرے کی صحت سطح کا اسطوا سطح دائرۃ الافق سے اس کی پوری موازات مقیاس کا سطح دائرہ نصف النہار سے ذرہ بھر مائل نہ ہونا مدخل ومخرج کے نقاط نامتجزیہ کی صحیح تعیین قوس محصورہ کی ٹھیك تنصیف پھر ظل کا خط نامتجزی پر واقعی انطباق پھر اس کی حقیقی مقدار پھر اس پر مثل یا مثلین کی بے کمی بیشی زیادت ان میں سے کسی پر جزم متیسر نہیں ۔
ثانیا بفرض محال عادی یہ سب حق حقیقت پر صحیح بھی ہوجائیں تاہم خط نصف النہار کا سطح عظیمہ نصف النہار میں ہونا معلوم نہیں بلکہ نہ ہونا ثابت ومعلوم ہے کہ شمس بوجہ تقاطع معدل ومنطقہ اپنی سیر خاص سے لمحہ بھر بھی ایك مدار پر نہیں رہتا تو منتصف مابین المدخل والمخرج ہمیشہ خط نصف النہار سے شرقی یا غربی ہے مگر جبکہ دائرۃ الزوال پر مرکز نیر کا انطباق اور احد الانقلابین میں حلول آن واحد میں ہو اور وہ نہایت نادر ہے۔
ثالثا اس نادر کو بھی فرض کرلیجئے تاہم علم کی طرف اصلا سبیل نہیں کہ حلول انقلاب یا وصول دائرہ جاننے
حوالہ / References
شرح معانی الآثار باب الجمع بین الصلاتین الخ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۳
کے طرق جوزیجات میں موضوع ہیں سب ظنی وتخمینی ہیں کسی کو کب کی تقویم حقیقی معلوم کرنا نہ حساب کا کام ہے نہ ارصاد کا جداول جیوب وظلال ومیول واوساط وتعاویل مراکز ومواضع اوجات وتفاوت ایام حقیقیہ ووسطیہ وفصل مابین المرکزین وعروض واطوال بلاد درج واجزائے استوائیہ وطوالع ومطالع بلدیہ وغیرہا امور کہ اس ادراك کے ذرائع ہیں سب فی انفسہا محض تخمین ہیں اور اس پر اثبات زیجات برفع واسقاط حصص کسرات تخمین بالائے تخمین پاکی ہے اسے جس نے بہر نقیر وقطمیر میں عجز وجہل بشرکو طاہر کیا اور ذرہ ذرہ عالم سے اپنے کمال علم وقدرت کو جلوہ دیا
سبحنك لا علم لنا الا ما علمتنا-انك انت العلیم الحكیم(۳۲)
تو پاك ہے ہمیں علم نہیں مگر جتنے کی تونے تعلیم دی ہے تو ہی علیم حکیم ہے۔ (ت)
ولہذا ملتقی وقتین سے کچھ پہلے اور کچھ بعد تك عامہ خلق کے نزدیك وقت مشکوك ہے اسی کو وقت بین الوقتین کہتے ہیں اس میں نظر ناظر کبھی حالت شك میں رہتی ہے کبھی بقائے وقت اول کبھی دخول وقت آخر گمان کرتی ہے اور واقع وہ ہے جو رب العزۃ جل وعلا کے علم میں ہے صاحب وحی خصوصا عالم علوم الاولین والآخرین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجب بحکم نبأنی العلیم الخبیر (آگاہ کیا ہے مجھے علم والے اور خبر والے نے۔ ت) عین وقت حقیقی پر مطلع ہوکر نماز ظہر ایسے اخیر وقت میں ادا فرمائے اور سلام پھیرتے ہی معا وقت عصر کی ابتدائے حقیقی جو خاص علم الہی میں تھی شروع ہوجائے اور دیگر ناظرین کو وحی سے بہرہ نہیں رکھتے براہ اشتباہ اسے وقت آخر میں گمان کریں اصلا محل تعجب نہیں نہ معاذالله اس میں بعض صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمکی کسر شان کہ علوم خاصہ محمد رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیں حضور کا شریك نہ ہونا کچھ منافی صحابیت نہیں بلکہ واجب ولازم ہے فقیر غفرلہ المولی القدیر احادیث کثیرہ سے خاص اس جزئیہ کی نظیریں پیش کرسکتا ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ایسے وقت نمازیں پڑھیں یا سحری تناول فرمائی کہ ناظرین کو بقائے وقت میں شك یا خروج وقت کا گمان گزرتا بلکہ اجلہ حذاق صحابہ کی تمیز ومعرفت میں دیگر ناظرین شریك نہ ہوئے علم محمدی تو علم محمدی ہے صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مثلا :
حدیث ۱ : حدیث سائل کہ صحیح مسلم وسنن ابی داؤد وسنن نسائی ومسند امام احمد وحجج امام ابن ابان ومصنف طحاوی میں سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہسے مروی اس میں ظہر روز اول کی نسبت مسلم ونسائی کی روایت یوں ہے :
اقام بالظھر حین زالت الشمس والقائل یقول : قدانتصف النھار وھو کان اعلم منہم ۔
سورج ڈھلتے ہی ظہر کی اقامت کہی اس حال میں کہ کہنے والا کہے ٹھیك دوپہر ہے اور حضور صلی اللہ
سبحنك لا علم لنا الا ما علمتنا-انك انت العلیم الحكیم(۳۲)
تو پاك ہے ہمیں علم نہیں مگر جتنے کی تونے تعلیم دی ہے تو ہی علیم حکیم ہے۔ (ت)
ولہذا ملتقی وقتین سے کچھ پہلے اور کچھ بعد تك عامہ خلق کے نزدیك وقت مشکوك ہے اسی کو وقت بین الوقتین کہتے ہیں اس میں نظر ناظر کبھی حالت شك میں رہتی ہے کبھی بقائے وقت اول کبھی دخول وقت آخر گمان کرتی ہے اور واقع وہ ہے جو رب العزۃ جل وعلا کے علم میں ہے صاحب وحی خصوصا عالم علوم الاولین والآخرین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجب بحکم نبأنی العلیم الخبیر (آگاہ کیا ہے مجھے علم والے اور خبر والے نے۔ ت) عین وقت حقیقی پر مطلع ہوکر نماز ظہر ایسے اخیر وقت میں ادا فرمائے اور سلام پھیرتے ہی معا وقت عصر کی ابتدائے حقیقی جو خاص علم الہی میں تھی شروع ہوجائے اور دیگر ناظرین کو وحی سے بہرہ نہیں رکھتے براہ اشتباہ اسے وقت آخر میں گمان کریں اصلا محل تعجب نہیں نہ معاذالله اس میں بعض صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمکی کسر شان کہ علوم خاصہ محمد رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیں حضور کا شریك نہ ہونا کچھ منافی صحابیت نہیں بلکہ واجب ولازم ہے فقیر غفرلہ المولی القدیر احادیث کثیرہ سے خاص اس جزئیہ کی نظیریں پیش کرسکتا ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ایسے وقت نمازیں پڑھیں یا سحری تناول فرمائی کہ ناظرین کو بقائے وقت میں شك یا خروج وقت کا گمان گزرتا بلکہ اجلہ حذاق صحابہ کی تمیز ومعرفت میں دیگر ناظرین شریك نہ ہوئے علم محمدی تو علم محمدی ہے صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مثلا :
حدیث ۱ : حدیث سائل کہ صحیح مسلم وسنن ابی داؤد وسنن نسائی ومسند امام احمد وحجج امام ابن ابان ومصنف طحاوی میں سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہسے مروی اس میں ظہر روز اول کی نسبت مسلم ونسائی کی روایت یوں ہے :
اقام بالظھر حین زالت الشمس والقائل یقول : قدانتصف النھار وھو کان اعلم منہم ۔
سورج ڈھلتے ہی ظہر کی اقامت کہی اس حال میں کہ کہنے والا کہے ٹھیك دوپہر ہے اور حضور صلی اللہ
حوالہ / References
القرآن ۲ / ۳۲
الصحیح لمسلم باب اوقات صلوات الخمس مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۲۳
الصحیح لمسلم باب اوقات صلوات الخمس مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۲۳
تعالی علیہ والہ وسلم ان سے زیادہ جانتے تھے۔
ابوداؤد کے یہ لفظ ہیں :
حتی قال القائل : انتصف النھار وھو اعلم ۔
یہاں تك کہ کہنے والے نے کہا دوپہر ہوا اور حضور کو حقیقت امر کی خوب خبر تھی۔
احمد وعےسی وطحاوی کے لفظ یوں ہیں :
والقائل یقول : انتصف النھار اولم وکان اعلم منھم ۔
کہنے والا کہتا دوپہر ہے یا ابھی دوپہر بھی نہ ہوا اور حضور کے علم سے ان کے علموں کو کیا نسبت تھی۔
حدیث ۲ صحیح بخاری وصحیح مسلم وسنن ابی داؤد وسنن نسائی وکتاب طحاوی میں پارہئ حدیث سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہدربارہئ انکار جمع بین الصلاتین کہ عنقریب ان شاء الله القریب المجیب مذکور ہوگی یہ ہے :
صلی الفجر یومئذ قبل میقاتھا ۔
صبح کی نماز اس کے وقت سے پہلے پڑھی (ت)
ابوداؤد کے لفظ یوں ہیں :
صلی صلاۃ الصبح من الغد قبل وقتھا ۔
دسویں ذوالحجہ کو مزدلفہ میں فجر کی نماز آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے وقت سے پہلے پڑھی۔ (ت)
طحاوی کی روایت یوں ہے :
صلی الفجر یومئذ لغیر میقاتھا
یعنی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ذی الحجہ کی دسویں تارےخ مزدلفہ میں صبح کی نماز اس کے وقت سے پہلے پڑھی بے وقت پڑھی۔
امام بدر عینی عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں :
قولہ قبل میقاتھا بان قدم علی وقت ظھور طلوع الصبح للعامۃ وقد ظھر لہ صلی الله تعالی علیہ وسلم طلوعہ اما بالوحی اوبغیرہ ۔
یعنی قبل وقت پڑھنے کے یہ معنی ہیں کہ اور لوگوں پر صبح کا
ابوداؤد کے یہ لفظ ہیں :
حتی قال القائل : انتصف النھار وھو اعلم ۔
یہاں تك کہ کہنے والے نے کہا دوپہر ہوا اور حضور کو حقیقت امر کی خوب خبر تھی۔
احمد وعےسی وطحاوی کے لفظ یوں ہیں :
والقائل یقول : انتصف النھار اولم وکان اعلم منھم ۔
کہنے والا کہتا دوپہر ہے یا ابھی دوپہر بھی نہ ہوا اور حضور کے علم سے ان کے علموں کو کیا نسبت تھی۔
حدیث ۲ صحیح بخاری وصحیح مسلم وسنن ابی داؤد وسنن نسائی وکتاب طحاوی میں پارہئ حدیث سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہدربارہئ انکار جمع بین الصلاتین کہ عنقریب ان شاء الله القریب المجیب مذکور ہوگی یہ ہے :
صلی الفجر یومئذ قبل میقاتھا ۔
صبح کی نماز اس کے وقت سے پہلے پڑھی (ت)
ابوداؤد کے لفظ یوں ہیں :
صلی صلاۃ الصبح من الغد قبل وقتھا ۔
دسویں ذوالحجہ کو مزدلفہ میں فجر کی نماز آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے وقت سے پہلے پڑھی۔ (ت)
طحاوی کی روایت یوں ہے :
صلی الفجر یومئذ لغیر میقاتھا
یعنی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ذی الحجہ کی دسویں تارےخ مزدلفہ میں صبح کی نماز اس کے وقت سے پہلے پڑھی بے وقت پڑھی۔
امام بدر عینی عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں :
قولہ قبل میقاتھا بان قدم علی وقت ظھور طلوع الصبح للعامۃ وقد ظھر لہ صلی الله تعالی علیہ وسلم طلوعہ اما بالوحی اوبغیرہ ۔
یعنی قبل وقت پڑھنے کے یہ معنی ہیں کہ اور لوگوں پر صبح کا
حوالہ / References
سنن ابی داؤد باب المواقیت مطبوعہ مجتبائی لاہور ، پاکستان ۱ / ۵۷
شرح معانی الآثار باب مواقیت الصلوات مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۳
صحیح البخاری باب متی یصلی الفجر بجمع مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۲۸
سنن ابی داؤد باب الصلٰوۃ بجمع مطبوعہ مجتبائی لاہور ۱ / ۲۶۷
شرح معانی الآثار باب الجمع بین الصلاتین مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۳
عمدۃ القاری شرح بخاری باب صلاۃ الفجر بالمزدلفۃ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۱۰ / ۲۰
شرح معانی الآثار باب مواقیت الصلوات مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۳
صحیح البخاری باب متی یصلی الفجر بجمع مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۲۸
سنن ابی داؤد باب الصلٰوۃ بجمع مطبوعہ مجتبائی لاہور ۱ / ۲۶۷
شرح معانی الآثار باب الجمع بین الصلاتین مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۳
عمدۃ القاری شرح بخاری باب صلاۃ الفجر بالمزدلفۃ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۱۰ / ۲۰
طلوع کرنا ظاہر نہ ہوا تھا حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو وحی وغیرہ سے معلوم ہوگیا۔
حدیث ۳صحیح بخاری شریف میں عبدالرحمن بن زید نخعی سے خود حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہکی نسبت ہے :
ثم صلی الفجر حین طلع الفجر قائل یقول : طلع الفجر وقائل یقول : لم یطلع الفجر واولہ قال : خرجنا مع عبدالله الی مکۃ ثم قدمنا جمعا الحدیث ۔
یعنی ہم حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہکے ساتھ حج کو چلے مزدلفہ پہنچے وہاں حضرت عبدالله نے نماز فجرطلوع فجر ہوتے ہی پڑھی کوئی کہتا فجر ہوگئی ہے کوئی کہتا ابھی نہیں ۔
حدیث۴ امام ابوجعفر طحاوی انہیں عبدالرحمن نخعی سے راوی :
قال صلی عبدالله باصحابہ صلاۃ المغرب فقام اصحابہ یتراء ون الشمس فقال : ماتنظرون قالوا : ننظر اغابت الشمس! فقال عبداللہ : ھذا والله الذی لاالہ الا ھو وقت ھذہ الصلاۃ الحدیث ۔
یعنی عبدالله رضی اللہ تعالی عنہنے اپنے اصحاب کو نماز مغرب پڑھائی ان کے اصحاب اٹھ کر سورج دیکھنے لگے فرمایا : کیا دیکھتے ہو عرض کی : یہ دیکھتے ہیں کہ سورج ڈوبا یا نہیں ! فرمایا : قسم الله کی جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں کہ یہ عین وقت اس نماز کا ہے۔ نماز سے فارغ ہوکر بھی ان کے اصحاب کو شبہہ تھا کہ سورج اب بھی غروب ہوا یا نہیں فان صلی حقیقۃ فی الفعل دون الارادۃ والفاء للتعقیب (کیونکہ صلی کا حقیقی معنی نماز پڑھنا ہے نہ کہ ارادہ کرنا اور فاء تعقیب کےلئے ہے۔ ت)
حدیث ۵ : بخاری مسلم ترمذی نسائی ابن ماجہ طحاوی بطریق انس رضی اللہ تعالی عنہحضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
قال : تسحرنا مع رسول لله صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ثم قمنا الی الصلاۃ قلت : کم کان قدرما بینھما قال : خمسین ایۃ ۔
ہم نے حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ساتھ
حدیث ۳صحیح بخاری شریف میں عبدالرحمن بن زید نخعی سے خود حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہکی نسبت ہے :
ثم صلی الفجر حین طلع الفجر قائل یقول : طلع الفجر وقائل یقول : لم یطلع الفجر واولہ قال : خرجنا مع عبدالله الی مکۃ ثم قدمنا جمعا الحدیث ۔
یعنی ہم حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہکے ساتھ حج کو چلے مزدلفہ پہنچے وہاں حضرت عبدالله نے نماز فجرطلوع فجر ہوتے ہی پڑھی کوئی کہتا فجر ہوگئی ہے کوئی کہتا ابھی نہیں ۔
حدیث۴ امام ابوجعفر طحاوی انہیں عبدالرحمن نخعی سے راوی :
قال صلی عبدالله باصحابہ صلاۃ المغرب فقام اصحابہ یتراء ون الشمس فقال : ماتنظرون قالوا : ننظر اغابت الشمس! فقال عبداللہ : ھذا والله الذی لاالہ الا ھو وقت ھذہ الصلاۃ الحدیث ۔
یعنی عبدالله رضی اللہ تعالی عنہنے اپنے اصحاب کو نماز مغرب پڑھائی ان کے اصحاب اٹھ کر سورج دیکھنے لگے فرمایا : کیا دیکھتے ہو عرض کی : یہ دیکھتے ہیں کہ سورج ڈوبا یا نہیں ! فرمایا : قسم الله کی جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں کہ یہ عین وقت اس نماز کا ہے۔ نماز سے فارغ ہوکر بھی ان کے اصحاب کو شبہہ تھا کہ سورج اب بھی غروب ہوا یا نہیں فان صلی حقیقۃ فی الفعل دون الارادۃ والفاء للتعقیب (کیونکہ صلی کا حقیقی معنی نماز پڑھنا ہے نہ کہ ارادہ کرنا اور فاء تعقیب کےلئے ہے۔ ت)
حدیث ۵ : بخاری مسلم ترمذی نسائی ابن ماجہ طحاوی بطریق انس رضی اللہ تعالی عنہحضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
قال : تسحرنا مع رسول لله صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ثم قمنا الی الصلاۃ قلت : کم کان قدرما بینھما قال : خمسین ایۃ ۔
ہم نے حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ساتھ
حوالہ / References
صحیح البخاری باب متی یصلی الفجر بجمع مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۲۸
شرح معانی الآثار باب مواقیت الصلٰوۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۷
صحیح البخاری باب وقت الفجر مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۸۱
شرح معانی الآثار باب مواقیت الصلٰوۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۷
صحیح البخاری باب وقت الفجر مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۸۱
سحری کھائی پھر نماز فجر کے لئے کھڑے ہوگئے میں نے پوچھا بیچ میں کتنا فاصلہ دیا کہا پچاس آیتیں پڑھنے کا۔
حدیث ۶ : بخاری ونسائی بطریق قتادہ حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
ان نبی الله صلی الله تعالی علیہ وسلم وزید بن ثابت تسحرا فلما فرغا من سحورھما قام نبی الله صلی الله تعالی علیہ وسلم الی الصلاۃ فصلی قلت لانس : کم کان بین فراغھما من سحورھما ودخولھما فی الصلاۃ قال : قدر مایقرء الرجل خمسین ایۃ ۔
یعنی نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموزید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہنے سحری تناول فرمائی جب کھانے سے فارغ ہوئے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنماز صبح کے لئے کھڑے ہوگئے نماز پڑھ لی میں نے انس رضی اللہ تعالی عنہسے پوچھا سحری سے فارغ اور نماز میں داخل ہونے میں کتنا فصل ہوا کہا اس قدر کہ آدمی پچاس آیتیں پڑھ لے۔
امام طور پشتی حنفی پھر علامہ طیبی شافعی پھر علامہ علی قاری شرح مشکوۃ میں اس حدیث کے نیچے فرماتے ہیں :
ھذا تقدیر لایجوز لعموم المؤمنین الاخذ بہ وانما اخذہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم لاطلاع الله تعالی ایاہ وکان صلی الله تعالی علیہ وسلم معصوما عن الخطأ فی الدین ۔
یہ اندازہ ہے کہ عام امت کو اسے اختیار کرنا جائز نہیں سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے اسے اس لئے اختیار فرمایا کہ رب العزۃ جل وعلا نے حضور کو وقت حقیقی پر اطلاع فرمائی تھی اور حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمدین میں خطا سے معصوم تھے۔
حدیث ۷ : نسائی وطحاوی زر بن حبیش سے راوی :
قال : قلنا لحذیفۃ ای ساعۃ تسحرت مع رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم قال : ھو النھار الا ان الشمس لم تطلع ۔
ہم نے حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہسے پوچھا آپ نے
حدیث ۶ : بخاری ونسائی بطریق قتادہ حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
ان نبی الله صلی الله تعالی علیہ وسلم وزید بن ثابت تسحرا فلما فرغا من سحورھما قام نبی الله صلی الله تعالی علیہ وسلم الی الصلاۃ فصلی قلت لانس : کم کان بین فراغھما من سحورھما ودخولھما فی الصلاۃ قال : قدر مایقرء الرجل خمسین ایۃ ۔
یعنی نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموزید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہنے سحری تناول فرمائی جب کھانے سے فارغ ہوئے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنماز صبح کے لئے کھڑے ہوگئے نماز پڑھ لی میں نے انس رضی اللہ تعالی عنہسے پوچھا سحری سے فارغ اور نماز میں داخل ہونے میں کتنا فصل ہوا کہا اس قدر کہ آدمی پچاس آیتیں پڑھ لے۔
امام طور پشتی حنفی پھر علامہ طیبی شافعی پھر علامہ علی قاری شرح مشکوۃ میں اس حدیث کے نیچے فرماتے ہیں :
ھذا تقدیر لایجوز لعموم المؤمنین الاخذ بہ وانما اخذہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم لاطلاع الله تعالی ایاہ وکان صلی الله تعالی علیہ وسلم معصوما عن الخطأ فی الدین ۔
یہ اندازہ ہے کہ عام امت کو اسے اختیار کرنا جائز نہیں سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے اسے اس لئے اختیار فرمایا کہ رب العزۃ جل وعلا نے حضور کو وقت حقیقی پر اطلاع فرمائی تھی اور حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمدین میں خطا سے معصوم تھے۔
حدیث ۷ : نسائی وطحاوی زر بن حبیش سے راوی :
قال : قلنا لحذیفۃ ای ساعۃ تسحرت مع رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم قال : ھو النھار الا ان الشمس لم تطلع ۔
ہم نے حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہسے پوچھا آپ نے
حوالہ / References
صحیح البخاری باب وقت الفجر مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۸۲
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح الفصل الاول من باب تعجیل الصلوات مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان۲ / ۱۳۳
سنن النسائی الحدث علی السحو رذکر الاختلاف الخ مطبوعہ نور محمد کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۰۳
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح الفصل الاول من باب تعجیل الصلوات مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان۲ / ۱۳۳
سنن النسائی الحدث علی السحو رذکر الاختلاف الخ مطبوعہ نور محمد کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۰۳
حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ساتھ کس وقت سحری کھائی تھی کہا دن ہی تھا مگر یہ کہ سورج نہ چمکا تھا۔
امام طحاوی کی روایت میں یوں صاف تر ہے :
قلت : بعد الصبح قال : بعد الصبح غیران الشمس لم تطلع ۔
میں نے کہا بعد صبح کے کہا ہاں بعد صبح کے مگر آفتاب نہ نکلا تھا۔
رائے فقیر میں ان روایات کا عمدہ محل یہی ہے کہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے اپنے علم نبوت کے مطابق حقیقی منتہائے لیل پر سحری تناول فرمائی کہ فراغ کے ساتھ ہی صبح چمك آئی حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہکو گمان ہوا کہ سحری دن میں کھائی بعد صبح اور واقعی جو شخص سحری کا پچھلا نوالہ کھاکر آسمان پر نظر اٹھائے تو صبح طالع پائے وہ سوا اس کے کیا گمان کرسکتا ہے۔
حدیث ۸ : ابوداؤد نے اپنی سنن میں باب وضع کیا : باب المسافر وھو یشك فی الوقت ۔ اور اس میں انہیں انس رضی اللہ تعالی عنہسے جن کی حدیث میں ہم یہاں کلام کررہے ہیں روایت کی :
قال : کنا اذاکنا مع رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فی السفر فقلنا : زالت الشمس اولم تزل صلی الظھر ثم ارتحل ۔
جب ہم حضور اقدس سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ہمراہ رکاب سفر میں ہوتے تھے ہم کہتے سورج ڈھلا یا ابھی ڈھلا بھی نہیں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماس وقت نماز ظہر پڑھ کر کوچ فرمادیتے۔
حدیث ۹ : ابوداؤد اسی باب میں اور نیز نسائی وطحاوی انہیں انس رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
کان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اذانزل منزلا لم یرتحل حتی یصلی الظھر فقال لہ رجل : وان کان نصف النھار قال : وان کان نصف النھار ۔
یعنی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجب کسی منزل میں اترتے بے ظہر پڑھے کوچ نہ فرماتے۔ کسی نے کہا اگرچہ دوپہر کو فرمایا : اگرچہ دوپہر کو۔
امام طحاوی کی روایت میں یوں صاف تر ہے :
قلت : بعد الصبح قال : بعد الصبح غیران الشمس لم تطلع ۔
میں نے کہا بعد صبح کے کہا ہاں بعد صبح کے مگر آفتاب نہ نکلا تھا۔
رائے فقیر میں ان روایات کا عمدہ محل یہی ہے کہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے اپنے علم نبوت کے مطابق حقیقی منتہائے لیل پر سحری تناول فرمائی کہ فراغ کے ساتھ ہی صبح چمك آئی حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہکو گمان ہوا کہ سحری دن میں کھائی بعد صبح اور واقعی جو شخص سحری کا پچھلا نوالہ کھاکر آسمان پر نظر اٹھائے تو صبح طالع پائے وہ سوا اس کے کیا گمان کرسکتا ہے۔
حدیث ۸ : ابوداؤد نے اپنی سنن میں باب وضع کیا : باب المسافر وھو یشك فی الوقت ۔ اور اس میں انہیں انس رضی اللہ تعالی عنہسے جن کی حدیث میں ہم یہاں کلام کررہے ہیں روایت کی :
قال : کنا اذاکنا مع رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فی السفر فقلنا : زالت الشمس اولم تزل صلی الظھر ثم ارتحل ۔
جب ہم حضور اقدس سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ہمراہ رکاب سفر میں ہوتے تھے ہم کہتے سورج ڈھلا یا ابھی ڈھلا بھی نہیں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماس وقت نماز ظہر پڑھ کر کوچ فرمادیتے۔
حدیث ۹ : ابوداؤد اسی باب میں اور نیز نسائی وطحاوی انہیں انس رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
کان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اذانزل منزلا لم یرتحل حتی یصلی الظھر فقال لہ رجل : وان کان نصف النھار قال : وان کان نصف النھار ۔
یعنی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجب کسی منزل میں اترتے بے ظہر پڑھے کوچ نہ فرماتے۔ کسی نے کہا اگرچہ دوپہر کو فرمایا : اگرچہ دوپہر کو۔
حوالہ / References
شرح معانی الآثار کتاب الصیام مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۷۸
سنن ابی داؤد باب المسافر یصلی الخ مطبوعہ مجتبائی لاہور ۱ / ۱۷۰
سنن ابی داؤد باب المسافر یصلی الخ مطبوعہ مجتبائی لاہور ۱ / ۱۷۰
سنن ابی داؤد باب المسافر یصلی الخ مطبوعہ مجتبائی لاہور ۱ / ۱۷۰
سنن ابی داؤد باب المسافر یصلی الخ مطبوعہ مجتبائی لاہور ۱ / ۱۷۰
سنن ابی داؤد باب المسافر یصلی الخ مطبوعہ مجتبائی لاہور ۱ / ۱۷۰
سنن ابی داؤد باب المسافر یصلی الخ مطبوعہ مجتبائی لاہور ۱ / ۱۷۰
نسائی کے لفظ یوں ہیں :
فقال رجل وان کانت بنصف النھار قال وان کانت بنصف النھار ۔
یعنی کسی نے پوچھا اگرچہ وہ نماز دوپہر میں ہوتی فرمایا اگرچہ دوپہر میں ہوتی۔
لطیفہ۱ : اقول ملاجی کو تو یہ منظور ہے کہ جہاں جےسے بنے اپنا مطلب بنائیں یہاں تو قول انس رضی اللہ تعالی عنہکو کہ وقت عصر کا آغاز ہوجاتا ایسی تحقیق یقینی پر عمل کیا جس میں اصلا گنجائش تاویل نہیں اور مسئلہ وقت ظہر میں جب علمائے حنفیہ نے حدیث صحیح جلیل صحیح بخاری شریف سے استدلال کیا کہ ابوذر رضی اللہ تعالی عنہنے فرمایا : ایك سفر میں ہم حاضر رکاب سعادت سلطان رسالت علیہ افضل الصلاۃ والتحیۃ تھے مؤذن نے ظہر کی اذان دینی چاہی فرمایا وقت ٹھنڈا کر دیر کے بعد انہوں نے پھر اذان کا قصد کیا پھر فرمایا وقت ٹھنڈا کر ایك دیر کے بعد انہوں نے پھر ارادہ کیا فرمایا ٹھنڈا کر حتی ساوی الظل التلول (یہاں تك کہ ٹےلوں کا سایہ ان کے برابر آگیا) سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : ان شدۃ الحرمن فیح جھنم (گرمی کی شدت جہنم کے جوش سے ہے) تو اس میں نماز ظہر ٹھنڈے وقت میں پڑھو ظاہر ہے کہ ٹھیك دوپہر خصوصا موسم گرما میں کہ وہی زمانہ ابراد ہے ٹےلوں کا سایہ اصلا نہیں ہوتا بہت دیر کے بعد ظاہر ہوتا ہے امام اجل ابوزکریا نووی شافعی شرح مسلم شریف میں فرماتے ہیں :
التلول منبطحۃ غیر منتصبۃ ولایصیرلھا فیئ فی العادۃ الابعد زوال الشمس بکثیر ۔
ٹیلے زمین پر پھیلے ہوتے ہیں نہ ب لند عادۃ ان کا سایہ نہیں پڑتا مگر سورج ڈھلنے سے بہت دیر کے بعد
امام ابن اثیر جزری شافعی نہایہ میں فرماتے ہیں :
ھی منبطحۃ لایظھر لھا ظل الا اذا ذھب اکثر وقت الظھر ۔
ٹیلے پست ہوتے ہیں ان کے لئے سایہ ظاہر ہی نہیں ہوتا مگر جب ظہر کا اکثر وقت جاتا رہے۔
جب خود ائمہ شافعیہ کی شہادت سے ثابت اور نیز مشاہدہ وعقل وقواعد علم ظل شاہد کہ ٹیلوں کے سائے کی ابتدا زوال سے بہت دیر کے بعد ہوتی ہے تو ظاہر ہے کہ سایہ ٹیلوں کے برابر اس وقت پہنچے گا جب بلند چیزوں کا سایہ ایك مثل سے بہت گزر جائے گا اس وقت تك حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے گرمیوں میں ظہر ٹھنڈی کرنے
فقال رجل وان کانت بنصف النھار قال وان کانت بنصف النھار ۔
یعنی کسی نے پوچھا اگرچہ وہ نماز دوپہر میں ہوتی فرمایا اگرچہ دوپہر میں ہوتی۔
لطیفہ۱ : اقول ملاجی کو تو یہ منظور ہے کہ جہاں جےسے بنے اپنا مطلب بنائیں یہاں تو قول انس رضی اللہ تعالی عنہکو کہ وقت عصر کا آغاز ہوجاتا ایسی تحقیق یقینی پر عمل کیا جس میں اصلا گنجائش تاویل نہیں اور مسئلہ وقت ظہر میں جب علمائے حنفیہ نے حدیث صحیح جلیل صحیح بخاری شریف سے استدلال کیا کہ ابوذر رضی اللہ تعالی عنہنے فرمایا : ایك سفر میں ہم حاضر رکاب سعادت سلطان رسالت علیہ افضل الصلاۃ والتحیۃ تھے مؤذن نے ظہر کی اذان دینی چاہی فرمایا وقت ٹھنڈا کر دیر کے بعد انہوں نے پھر اذان کا قصد کیا پھر فرمایا وقت ٹھنڈا کر ایك دیر کے بعد انہوں نے پھر ارادہ کیا فرمایا ٹھنڈا کر حتی ساوی الظل التلول (یہاں تك کہ ٹےلوں کا سایہ ان کے برابر آگیا) سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : ان شدۃ الحرمن فیح جھنم (گرمی کی شدت جہنم کے جوش سے ہے) تو اس میں نماز ظہر ٹھنڈے وقت میں پڑھو ظاہر ہے کہ ٹھیك دوپہر خصوصا موسم گرما میں کہ وہی زمانہ ابراد ہے ٹےلوں کا سایہ اصلا نہیں ہوتا بہت دیر کے بعد ظاہر ہوتا ہے امام اجل ابوزکریا نووی شافعی شرح مسلم شریف میں فرماتے ہیں :
التلول منبطحۃ غیر منتصبۃ ولایصیرلھا فیئ فی العادۃ الابعد زوال الشمس بکثیر ۔
ٹیلے زمین پر پھیلے ہوتے ہیں نہ ب لند عادۃ ان کا سایہ نہیں پڑتا مگر سورج ڈھلنے سے بہت دیر کے بعد
امام ابن اثیر جزری شافعی نہایہ میں فرماتے ہیں :
ھی منبطحۃ لایظھر لھا ظل الا اذا ذھب اکثر وقت الظھر ۔
ٹیلے پست ہوتے ہیں ان کے لئے سایہ ظاہر ہی نہیں ہوتا مگر جب ظہر کا اکثر وقت جاتا رہے۔
جب خود ائمہ شافعیہ کی شہادت سے ثابت اور نیز مشاہدہ وعقل وقواعد علم ظل شاہد کہ ٹیلوں کے سائے کی ابتدا زوال سے بہت دیر کے بعد ہوتی ہے تو ظاہر ہے کہ سایہ ٹیلوں کے برابر اس وقت پہنچے گا جب بلند چیزوں کا سایہ ایك مثل سے بہت گزر جائے گا اس وقت تك حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے گرمیوں میں ظہر ٹھنڈی کرنے
حوالہ / References
سنن النسائی اول وقت ظہر حدیث ۴۹۹ مطبوعہ المکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۵۸
صحیح البخاری باب الابراد بالظہر فی السفر دارالمعرفۃ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۷۷
شرح الصحیح لمسلم مع مسلم باب استحباب الابراد بالظہر الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۲۴
فتح الباری شرح البخاری باب الابراد بالظہر فی السفر بیروت ۲ / ۱۷
نوٹ : یہ حوالہ سعیِ بسیار کے باوجود نہایہ سے نہیں مل سکا اس لئے فتح الباری سے نقل کیا ہے۔ نذیر احمد سعیدی
صحیح البخاری باب الابراد بالظہر فی السفر دارالمعرفۃ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۷۷
شرح الصحیح لمسلم مع مسلم باب استحباب الابراد بالظہر الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۲۴
فتح الباری شرح البخاری باب الابراد بالظہر فی السفر بیروت ۲ / ۱۷
نوٹ : یہ حوالہ سعیِ بسیار کے باوجود نہایہ سے نہیں مل سکا اس لئے فتح الباری سے نقل کیا ہے۔ نذیر احمد سعیدی
کا حکم فرمایا اور اس کے بعد مؤذن کو اجازت اذان عطا ہوئی تو بلاشبہہ دوسرے مثل میں وقت ظہر باقی رہنا ثابت ہوا جیسا کہ ہمارے امام رضی اللہ تعالی عنہکا مذہب ہے یہ دلیل ساطع بحمدالله لاجواب تھی یہاں ملاجی حالت اضطراب میں فرماگئے کہ مساوی کہنا راوی یعنی سیدنا ابوذر رضی اللہ تعالی عنہکا سایہ ٹیلوں کو ظاہر ہے کہ تخمینا اور تقریبا ہے نہ باینطور کہ گزرکھ کر ناپ لیا تھا۔ کیوں حضرت سیدنا ابوذر رضی اللہ تعالی عنہنے تو گزرکھ کر نہ ناپا تھا یونہی تخمینا مساوات بتادی مگر انس رضی اللہ تعالی عنہکا گز رکھ کر ناپ لینا آپ کو معلوم ہوگیا ہوگا آخر دخول وقت عصر یونہی تو معلوم ہوگا کہ سایہ اس مقدار کو پہنچ جائے اس کا علم بے ناپے کیوں کر ہوا بلکہ یہاں تو غالبا دو ناپوں کی ضرورت ہے ایك وقت نصف النہار کہ سایہ اصلی کی مقدار ناپیں دوسری اس وقت کہ سایہ بعد ظل اصلی مقدار مطلوب کو پہنچایا نہیں جب انہوں نے ایك ناپ نہ کی یونہی تخمینا فرمادیا انہوں نے دو۲ ناپیں کا ہے کوکی ہوں گی یونہی تخمینا فرمادیا ہوگا کہ عصر اول وقت داخل ہوگیا جیسے آپ وہاں احتمال نکالا چاہتے ہیں کہ واقع میں مساوی نہ ہوا ہوگا اور ظہر ایك مثل کے اندر ہوئی یہاں بھی وہی احتمال پیدا رہے گا کہ واقع میں وقت عصر نہ آیا تھا ظہر اپنے ہی وقت پر ہوئی یہ کیا حیا داری ومکابرہ ہے کہ جابجا جو باتیں خود اختیار کرتے جاؤ دوسرا کرے تو آنکھیں دکھاؤ تحریف نصوص بتاؤ اس تحکم کی کوئی حد ہے۔
لطیفہ ۲ : اقول : خدا انصاف دے تو یہاں تخمینہ بھی اتنی ہی غلطی ہوگی جتنی دیر میں ظہر کی دو۲ رکعتیں پڑھی جائیں اور حدیث ابوذر رضی اللہ تعالی عنہمیں سخت فاحش غلطی ماننی پڑے گی جسے ان کی طرف بے دلیل نسبت کردینا صراحۃ سوء ادب ہے خود امام شافعی کی تصریح سے واضح ہوا کہ سایہ تلول کی ابتداء اس وقت ہوتی ہے جب بلند چیزوں کا سایہ سایہ اصلی کے سوا نصف مثل سے اکثر گزرجاتا ہے تو ظاہر ہے کہ ٹیلوں کا سایہ ابھی نصف مثل تك بھی نہ پہنچے گا کہ اور چیزوں کا سایہ سایہ اصلی کے سوا ایك مثل سے گزرجائے گا کہ اول تو جس طرح ظہور ظل میں تفاوت شدید ہے کہ اتنی دیر کے بعد ان کا سایہ پیدا ہوتا ہے یونہی زیادت ظل میں فرق رہے گا بلند چیزوں کا سایہ اپنی نسبت پر جتنی دیر میں جتنا بڑھے گا ٹیلوں کا سایہ اپنی نسبت میں اس سے کم بڑھے گا کمالایخفی علی العارف بقواعد الفن(جیسا کہ قواعد فن کے جاننے والے پر مخفی نہیں ۔ ت) تو لاجرم جس وقت ٹیلوں کاسایہ پیدا ہوا اور بلندیوں کا سایہ سایہ اصلی کے سوا نصف مثل سے زائد تھا اب کچھ دیر کے بعد بلندیوں کا سایہ سایہ اصلی کے سوا نصف مثل سے زائد تھا اب کچھ دیر کے بعد بلندیوں کا سایہ نصف مثل سے کم بڑھ کر ایك مثل ظل اصلی سے گزرگیا اس وقت ٹیلوں کا سایہ اس کم ازنصف سے بھی کم ہوگا اور اس تحفظ نسبت تفاوت کو نہ بھی مانئے تو خیر کم ازنصف ہی جانئے پھر بہرحال اس سے اتنی دیر اور مجرا کیجئے جس میں اذان کا حکم ہوا اور اس کے بعد جماعت فرمائی گئی تو حساب سے آپ کے طور پر اس وقت ٹیلوں کا سایہ کوئی چہارم ہی کی قدر رہتا ہے اسے ابوذر رضی اللہ تعالی عنہکا فرمادینا کہ سایہ برابر ہوگیا تھا کس قدر بعید وناقابل قبول ہے کیا اچھا انصاف ہے کہ یا تو تخمین میں اتنی غلطی نامسموع کہ جس میں دو۲ رکعتیں پڑھ لیجائیں
ف معیارالحق مسئلہ چہارم بحث آخر وقت ظہر الخ مکتبہ نذیریہ لاہور ص ۳۵۳
لطیفہ ۲ : اقول : خدا انصاف دے تو یہاں تخمینہ بھی اتنی ہی غلطی ہوگی جتنی دیر میں ظہر کی دو۲ رکعتیں پڑھی جائیں اور حدیث ابوذر رضی اللہ تعالی عنہمیں سخت فاحش غلطی ماننی پڑے گی جسے ان کی طرف بے دلیل نسبت کردینا صراحۃ سوء ادب ہے خود امام شافعی کی تصریح سے واضح ہوا کہ سایہ تلول کی ابتداء اس وقت ہوتی ہے جب بلند چیزوں کا سایہ سایہ اصلی کے سوا نصف مثل سے اکثر گزرجاتا ہے تو ظاہر ہے کہ ٹیلوں کا سایہ ابھی نصف مثل تك بھی نہ پہنچے گا کہ اور چیزوں کا سایہ سایہ اصلی کے سوا ایك مثل سے گزرجائے گا کہ اول تو جس طرح ظہور ظل میں تفاوت شدید ہے کہ اتنی دیر کے بعد ان کا سایہ پیدا ہوتا ہے یونہی زیادت ظل میں فرق رہے گا بلند چیزوں کا سایہ اپنی نسبت پر جتنی دیر میں جتنا بڑھے گا ٹیلوں کا سایہ اپنی نسبت میں اس سے کم بڑھے گا کمالایخفی علی العارف بقواعد الفن(جیسا کہ قواعد فن کے جاننے والے پر مخفی نہیں ۔ ت) تو لاجرم جس وقت ٹیلوں کاسایہ پیدا ہوا اور بلندیوں کا سایہ سایہ اصلی کے سوا نصف مثل سے زائد تھا اب کچھ دیر کے بعد بلندیوں کا سایہ سایہ اصلی کے سوا نصف مثل سے زائد تھا اب کچھ دیر کے بعد بلندیوں کا سایہ نصف مثل سے کم بڑھ کر ایك مثل ظل اصلی سے گزرگیا اس وقت ٹیلوں کا سایہ اس کم ازنصف سے بھی کم ہوگا اور اس تحفظ نسبت تفاوت کو نہ بھی مانئے تو خیر کم ازنصف ہی جانئے پھر بہرحال اس سے اتنی دیر اور مجرا کیجئے جس میں اذان کا حکم ہوا اور اس کے بعد جماعت فرمائی گئی تو حساب سے آپ کے طور پر اس وقت ٹیلوں کا سایہ کوئی چہارم ہی کی قدر رہتا ہے اسے ابوذر رضی اللہ تعالی عنہکا فرمادینا کہ سایہ برابر ہوگیا تھا کس قدر بعید وناقابل قبول ہے کیا اچھا انصاف ہے کہ یا تو تخمین میں اتنی غلطی نامسموع کہ جس میں دو۲ رکعتیں پڑھ لیجائیں
ف معیارالحق مسئلہ چہارم بحث آخر وقت ظہر الخ مکتبہ نذیریہ لاہور ص ۳۵۳
یا اپنے داؤں کو یہ بھاری غلطی مقبول کہ سیر میں پسیری کا دھوکا۔ بحمدالله تعالی اس تقریر سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ وہاں تخمین سے جواب دینا محض مہمل وباطل تھا۔
لطیفہ ۳ : اقول وہاں ایك ستم خوش ادائی یہ کی ہے ف۱ کہ وہ تخمینا برابر ہونا بھی مع سایہ اصلی کے ہے نہ سایہ اصلی الگ کرکے وھذا لایخفی من لہ ادنی عقل (اور یہ ادنی سی عقل رکھنے والے پر بھی مخفی نہیں ۔ ت) تو دراصل سایہ ٹیلوں کا بعد نکالنے سایہ اصلی کے تخمینا آدھی مثل ہوگا یا کچھ زیادہ اور مثل کے ختم ہونے میں اتنی دیر ہوگی کہ بخوبی فارغ ہوئے ہوں گے۔
ملاجی! ذرا کچھ دنوں جنگل کی ہوا کھاؤ ٹیلوں کی ہری ہری ڈوب ٹھنڈے وقت کی سنہری دھوپ دیکھو کہ آنکھوں کے تیور ٹھکانے آئیں علماء تو فرمارہے ہیں کہ ٹیلوں کا سایہ پڑتا ہی نہیں جب تك آدھے سے زیادہ وقت ظہر نہ نکل جائے ملاجی ان کے لئے ٹھیك دوپہر کا سایہ بتارہے ہیں اور وہ بھی تھوڑا نہ بہت آدھی مثل جبھی تو کہتے ہیں کہ وہابی ہوکر آدمی کی عقل ٹیلوں کا سایہ زوال ہوجاتی ہے۔
لطیفہ ۴ : اقول : اور بڑھ کر نزاکت فرمائی ہے ف۲ کہ مساوات سایہ کے ٹیلوں سے مقدار میں مراد نہ ہو بلکہ ظہور میں یعنی پہلے سایہ جانب شرقی معدوم تھا اور مساوات نہ تھی ٹیلوں سے کیونکہ وہ موجود نہیں اور وقت اذان کے سایہ جانب شرقی بھی ظاہر ہوگیا پس برابر ہوگیا ٹیلوں کے ظاہر ہونے میں اور موجود ہونے میں نہ مقدار میں اس جواب کی قدر۔ ملاجی اپنے ہی ایمان سے بتادیں وقت ٹھنڈا فرمایا یہاں تك کہ ٹیلوں کا سایہ ان کے برابر آیا اس کے یہ معنی کہ ٹیلے بھی موجود تھے سایہ بھی موجود ہوگیا اگرچہ وہ دس۱۰ گز ہوں یہ جو برابر اے سبحن الله اسے کیوں تحریف نصوص کہے گا کہ یہ تو مطلب کی گھڑت ہے۔ ایسا لقب تو خاص بےچارے حنفیہ کا خلعت ہے۔ ملاجی! اگر کوئی کہے میں ملاجی کے پاس رہا یہاں تك کہ ان کی داڑھی بانس برابر ہوگئی تو اس کے معنی یہی ہوں گے نہ کہ ملاجی کا سبزہ آغاز ہوا کہ پہلے بانس موجود تھا اور ملاجی کی داڑھی معدوم جب رواں کچھ کچھ چمکا چمکتے ہی بانس برابر ہوگیا کہ اب بانس بھی موجود بال بھی موجود ع
مرغك ازبےضہ بروں آید ودانہ طلبد
(مرغ جب انڈے سے باہر آتا ہے تو دانہ طلب کرتا ہے)
لطیفہ ۵ : اقول : یہ بکف چراغی وتحریف صریح قابل ملاحظہ کہ خود ہی حنفیہ وشافعیہ کے مسئلہ مختلف فیہا میں شافعیہ سے حجت لانے کو فتح الباری امام قسطلانی سے یہ عبارت نقل کی کہ :
یحتمل ان یراد بھذہ المساواۃ ظھور الظل بجنب التل بعد ان لم یکن ظاھرا ۔
ہوسکتا ہے اس مساوات سے مراد یہ ہوکہ ٹیلے کے پہلو میں سایہ ظاہر ہوگیا جبکہ پہلے ظاہر نہیں تھا۔ (ت)
لطیفہ ۳ : اقول وہاں ایك ستم خوش ادائی یہ کی ہے ف۱ کہ وہ تخمینا برابر ہونا بھی مع سایہ اصلی کے ہے نہ سایہ اصلی الگ کرکے وھذا لایخفی من لہ ادنی عقل (اور یہ ادنی سی عقل رکھنے والے پر بھی مخفی نہیں ۔ ت) تو دراصل سایہ ٹیلوں کا بعد نکالنے سایہ اصلی کے تخمینا آدھی مثل ہوگا یا کچھ زیادہ اور مثل کے ختم ہونے میں اتنی دیر ہوگی کہ بخوبی فارغ ہوئے ہوں گے۔
ملاجی! ذرا کچھ دنوں جنگل کی ہوا کھاؤ ٹیلوں کی ہری ہری ڈوب ٹھنڈے وقت کی سنہری دھوپ دیکھو کہ آنکھوں کے تیور ٹھکانے آئیں علماء تو فرمارہے ہیں کہ ٹیلوں کا سایہ پڑتا ہی نہیں جب تك آدھے سے زیادہ وقت ظہر نہ نکل جائے ملاجی ان کے لئے ٹھیك دوپہر کا سایہ بتارہے ہیں اور وہ بھی تھوڑا نہ بہت آدھی مثل جبھی تو کہتے ہیں کہ وہابی ہوکر آدمی کی عقل ٹیلوں کا سایہ زوال ہوجاتی ہے۔
لطیفہ ۴ : اقول : اور بڑھ کر نزاکت فرمائی ہے ف۲ کہ مساوات سایہ کے ٹیلوں سے مقدار میں مراد نہ ہو بلکہ ظہور میں یعنی پہلے سایہ جانب شرقی معدوم تھا اور مساوات نہ تھی ٹیلوں سے کیونکہ وہ موجود نہیں اور وقت اذان کے سایہ جانب شرقی بھی ظاہر ہوگیا پس برابر ہوگیا ٹیلوں کے ظاہر ہونے میں اور موجود ہونے میں نہ مقدار میں اس جواب کی قدر۔ ملاجی اپنے ہی ایمان سے بتادیں وقت ٹھنڈا فرمایا یہاں تك کہ ٹیلوں کا سایہ ان کے برابر آیا اس کے یہ معنی کہ ٹیلے بھی موجود تھے سایہ بھی موجود ہوگیا اگرچہ وہ دس۱۰ گز ہوں یہ جو برابر اے سبحن الله اسے کیوں تحریف نصوص کہے گا کہ یہ تو مطلب کی گھڑت ہے۔ ایسا لقب تو خاص بےچارے حنفیہ کا خلعت ہے۔ ملاجی! اگر کوئی کہے میں ملاجی کے پاس رہا یہاں تك کہ ان کی داڑھی بانس برابر ہوگئی تو اس کے معنی یہی ہوں گے نہ کہ ملاجی کا سبزہ آغاز ہوا کہ پہلے بانس موجود تھا اور ملاجی کی داڑھی معدوم جب رواں کچھ کچھ چمکا چمکتے ہی بانس برابر ہوگیا کہ اب بانس بھی موجود بال بھی موجود ع
مرغك ازبےضہ بروں آید ودانہ طلبد
(مرغ جب انڈے سے باہر آتا ہے تو دانہ طلب کرتا ہے)
لطیفہ ۵ : اقول : یہ بکف چراغی وتحریف صریح قابل ملاحظہ کہ خود ہی حنفیہ وشافعیہ کے مسئلہ مختلف فیہا میں شافعیہ سے حجت لانے کو فتح الباری امام قسطلانی سے یہ عبارت نقل کی کہ :
یحتمل ان یراد بھذہ المساواۃ ظھور الظل بجنب التل بعد ان لم یکن ظاھرا ۔
ہوسکتا ہے اس مساوات سے مراد یہ ہوکہ ٹیلے کے پہلو میں سایہ ظاہر ہوگیا جبکہ پہلے ظاہر نہیں تھا۔ (ت)
حوالہ / References
فتح الباری شرح البخاری باب الابراد بالظہر فی السفر مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۱۷
ف۱ معیارالحق مسئلہ چہارم ص ۳۵۴ ، ف۲معیارالحق مسئلہ چہارم ص ۳۵۴ )
ف۱ معیارالحق مسئلہ چہارم ص ۳۵۴ ، ف۲معیارالحق مسئلہ چہارم ص ۳۵۴ )
جس میں ٹیلوں کے لئے سایہ اصلی ہونے کے صاف نفی تھی حضرت تو وہ د عوی کرچکے تھے کہ ان کا سایہ اصلی آدھے مثل کے قریب ہوتا ہے لاجرم معدوم ہونے میں جانب شرق کی قید بڑھائی کہ مشرق کی طرف معدوم تھا اور اسے فتح الباری کی طرف نسبت کردیا کہ جیسا کہ فتح الباری میں ویحتمل ان یراد الخ ملاجی! دھرم سے کہنا یہ تحریف تو نہیں ۔
لطیفہ ۶ : اقول فتح الباری کے طور پر تو مشارکت فی الوجود غایت بن سکتی ہے کہ دوپہر کو ٹیلوں کا سایہ اصلا نہ تھا دیر فرمائی یہاں تك کہ موجود ہوا اگرچہ ٹیلوں سے سایہ متساوی ہونے کے ہرگز یہ معنی نہیں مگر آپ اپنی خبر لیجئے آپ کے نزدیك تو ٹھیك دوپہر کو ٹیلوں کا سایہ آدھا مثل تھا تو ظہور ووجود میں برابری صبح سے شام تك دن بھر رہی اس غایت مقرر کرنے کے کیا معنی کہ وقت ٹھنڈا فرمایا یہاں تك کہ سایہ وجود میں ٹیلوں کے برابر ہوگیا اور جانب شرقی کی قید حدیث میں کہاں یہ آپ کی نری من گھڑت ہے تاویل گھڑی مساوات فی الظہور تفریع کی مساوات فی الوجود اور مفرع علیہ وجود شرقی کیا جب تك وجود غربی شمالی تھا مساوات فی الوجود نہ تھی اب کہ وجود شرقی ملا مساوات ہوئی کچھ بھی ٹھکانے کی کہتے ہو۔
لطیفہ ۷ : اقول ملاجی! جب آپ کے دھرم میں سایہ وقت نصف النہار بھی موجود تھا تو زوال ہوتے ہی قطعا معا شرقی ہوا تو یہ مساوات خاص آغاز وقت ظہر پر پیدا ہوئی اور حدیث میں یہ ارشاد ہے کہ مؤذن نے تین بار ارادہ اذان کیا ہر بار حکم ابراد وتاخیر ملا یہاں تك کہ سایہ مساوی ہواکیا یہ ارادہ ہائے اذان وحکم ہائے ابراد سب پیش اززوال ہولیے تھے شاید پہردن چڑھے ظہر کا وقت ہوجانا ہوگا ملاجی! تحریف نصوص اسے کہتے ہیں ع
چھائی جاتی ہے یہ دیکھو تو سراپا کس پر
لطیفہ ۸ : اقول جب کچھ نہ بنی تو ہارے درجے یہ تیسری نزاکت اس حدیث کے جواب میں ف فرمائی کہ یہ تاخیر آنحضرت عــہ۱ سے سفر میں ہوئی شاید آنحضرت عــہ۲ نے اس ارادہ سے کی ہوکہ ظہر کو عصر سے جمع کریں گے پس سفر پر حضر کو قیاس مع الفارق ہے۔ ملاجی! ایمان سے کہنا یہ حدیث ابراد ظہر کی ہے یعنی وقت ٹھنڈا کرکے پڑھنا یا تفویت ظہر کی کہ وقت کھوکر پڑھنا حدیث میں علت حکم یہ ارشاد ہوئی ہے کہ شدت گرمی جوش جہنم سے ہے تو گرمی میں ظہر ٹھنڈا کردیا یہ کہ ابھی اذان نہ کہو ہم عصر سے ملاکر پڑھیں گے۔
ملاجی! اس حدیث کی شرح میں خود علمائے شافعیہ کا کلام سنو کہ معنی ابراد میں آپ کی یہ گھڑت بھی ٹوٹے اور سفر وحضر سے فرق کی بھی قسمت پھوٹے ارشاد الساری امام قسطلانی شافعی شرح صحیح بخاری باب الابراد بالظہر فی السفر میں اسی حدیث ابوذر
عــہ۱ و عــہ ۲ صلی الله تعالی علیہ وعلی آلہ وبارك وسلم ۱۲ منہ
ف معیارالحق ص ۳۵۴
لطیفہ ۶ : اقول فتح الباری کے طور پر تو مشارکت فی الوجود غایت بن سکتی ہے کہ دوپہر کو ٹیلوں کا سایہ اصلا نہ تھا دیر فرمائی یہاں تك کہ موجود ہوا اگرچہ ٹیلوں سے سایہ متساوی ہونے کے ہرگز یہ معنی نہیں مگر آپ اپنی خبر لیجئے آپ کے نزدیك تو ٹھیك دوپہر کو ٹیلوں کا سایہ آدھا مثل تھا تو ظہور ووجود میں برابری صبح سے شام تك دن بھر رہی اس غایت مقرر کرنے کے کیا معنی کہ وقت ٹھنڈا فرمایا یہاں تك کہ سایہ وجود میں ٹیلوں کے برابر ہوگیا اور جانب شرقی کی قید حدیث میں کہاں یہ آپ کی نری من گھڑت ہے تاویل گھڑی مساوات فی الظہور تفریع کی مساوات فی الوجود اور مفرع علیہ وجود شرقی کیا جب تك وجود غربی شمالی تھا مساوات فی الوجود نہ تھی اب کہ وجود شرقی ملا مساوات ہوئی کچھ بھی ٹھکانے کی کہتے ہو۔
لطیفہ ۷ : اقول ملاجی! جب آپ کے دھرم میں سایہ وقت نصف النہار بھی موجود تھا تو زوال ہوتے ہی قطعا معا شرقی ہوا تو یہ مساوات خاص آغاز وقت ظہر پر پیدا ہوئی اور حدیث میں یہ ارشاد ہے کہ مؤذن نے تین بار ارادہ اذان کیا ہر بار حکم ابراد وتاخیر ملا یہاں تك کہ سایہ مساوی ہواکیا یہ ارادہ ہائے اذان وحکم ہائے ابراد سب پیش اززوال ہولیے تھے شاید پہردن چڑھے ظہر کا وقت ہوجانا ہوگا ملاجی! تحریف نصوص اسے کہتے ہیں ع
چھائی جاتی ہے یہ دیکھو تو سراپا کس پر
لطیفہ ۸ : اقول جب کچھ نہ بنی تو ہارے درجے یہ تیسری نزاکت اس حدیث کے جواب میں ف فرمائی کہ یہ تاخیر آنحضرت عــہ۱ سے سفر میں ہوئی شاید آنحضرت عــہ۲ نے اس ارادہ سے کی ہوکہ ظہر کو عصر سے جمع کریں گے پس سفر پر حضر کو قیاس مع الفارق ہے۔ ملاجی! ایمان سے کہنا یہ حدیث ابراد ظہر کی ہے یعنی وقت ٹھنڈا کرکے پڑھنا یا تفویت ظہر کی کہ وقت کھوکر پڑھنا حدیث میں علت حکم یہ ارشاد ہوئی ہے کہ شدت گرمی جوش جہنم سے ہے تو گرمی میں ظہر ٹھنڈا کردیا یہ کہ ابھی اذان نہ کہو ہم عصر سے ملاکر پڑھیں گے۔
ملاجی! اس حدیث کی شرح میں خود علمائے شافعیہ کا کلام سنو کہ معنی ابراد میں آپ کی یہ گھڑت بھی ٹوٹے اور سفر وحضر سے فرق کی بھی قسمت پھوٹے ارشاد الساری امام قسطلانی شافعی شرح صحیح بخاری باب الابراد بالظہر فی السفر میں اسی حدیث ابوذر
عــہ۱ و عــہ ۲ صلی الله تعالی علیہ وعلی آلہ وبارك وسلم ۱۲ منہ
ف معیارالحق ص ۳۵۴
رضی اللہ تعالی عنہکے نیچے ہے :
(قال : کنا مع النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فی سفر) قیدہ ھنا بالسفر واطلقہ فی السابقۃ مشیرا بذلك الی ان تلك الروایۃ المطلقۃ محمولۃ علی ھذہ المقیدۃ لان المراد من الابراد التسھیل ودفع المشقۃ فلاتفاوت بین السفر والحضر ۔
(کہا : ہم نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ساتھ تھے سفر میں ) یہاں سفر کے ساتھ مقید کیا ہے اور سابقہ روایت میں مطلق رکھا ہے یہ بتانے کے لئے کہ سابقہ مطلق روایت اسی مقید پر محمول ہے کیونکہ ٹھنڈا کرنے کا مقصد آسانی پیدا کرنا اور مشقت دور کرنا ہے اور اس میں سفر حضر کا کوئی فرق نہیں ۔ (ت)
اسی میں ہے :
(فقال لہ : ابرد حتی رأینا فیئ التلول) وغایۃ الابراد حتی یصیر الظل ذراعا بعد ظل الزوال اوربع قامۃ اوثلثھا اونصفھا وقیل غیر ذلک۔ ویختلف باختلاف الاوقات : لکن یشترط ان لایمتد الی اخر الوقت ۔
(اس کو کہا ٹھنڈا کر یہاں تك کہ ہم نے ٹیلوں کا سایہ دیکھ لیا) ابراد کی انتہا یہ ہے کہ سایہ ایك گز ہوجائے زوال کے سائے کے بغیر یا قد کا چوتھائی یا تہائی یا نصف ہوجائے اس کے علاوہ بھی اقوال ہیں ۔ اور اختلاف اوقات کے ساتھ ابراد میں بھی اختلاف واقع ہوتا رہتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ ابراد اتنا زیادہ نہ ہوکہ وقت آکر ہوجائے۔ (ت)
ہاں خوب یاد آیا علمائے شافعیہ کی کیوں سنئے آپ اپنے ہی لکھے کو نہ دیکھئے مسئلہ وقت مستحب ظہر میں ف فرمائے گئے اگر ابراد اختیار کرے تو لازم ہے کہ ایسا ابراد نہ کرے کہ وقت ظہر کا خارج ہوجائے یا قریب آجائے حد میں ابراد کی علماء میں اختلاف ہے لیکن یہ سب کے نزدیك شرط ہے کہ ابراد اس مرتبہ کا نہ کرے کہ ظہر کے آخر وقت کو پہنچ جاوے کہا فتح الباری میں اختلف العلماء فی غایۃ الابراد لکن یشترط ان لایمتدالی اخر الوقت ملخصا (ابراد کی انتہاء میں علماء کا اختلاف ہے لیکن یہ شرط ہے کہ آخر وقت تك نہ پہنچے۔ ت) جب آخر وقت کے قریب تك نہ آنا لازم وشرط ابراد ہے تو حکم ابراد کو خارج وقت پر حمل کرنا کیسا
(قال : کنا مع النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فی سفر) قیدہ ھنا بالسفر واطلقہ فی السابقۃ مشیرا بذلك الی ان تلك الروایۃ المطلقۃ محمولۃ علی ھذہ المقیدۃ لان المراد من الابراد التسھیل ودفع المشقۃ فلاتفاوت بین السفر والحضر ۔
(کہا : ہم نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ساتھ تھے سفر میں ) یہاں سفر کے ساتھ مقید کیا ہے اور سابقہ روایت میں مطلق رکھا ہے یہ بتانے کے لئے کہ سابقہ مطلق روایت اسی مقید پر محمول ہے کیونکہ ٹھنڈا کرنے کا مقصد آسانی پیدا کرنا اور مشقت دور کرنا ہے اور اس میں سفر حضر کا کوئی فرق نہیں ۔ (ت)
اسی میں ہے :
(فقال لہ : ابرد حتی رأینا فیئ التلول) وغایۃ الابراد حتی یصیر الظل ذراعا بعد ظل الزوال اوربع قامۃ اوثلثھا اونصفھا وقیل غیر ذلک۔ ویختلف باختلاف الاوقات : لکن یشترط ان لایمتد الی اخر الوقت ۔
(اس کو کہا ٹھنڈا کر یہاں تك کہ ہم نے ٹیلوں کا سایہ دیکھ لیا) ابراد کی انتہا یہ ہے کہ سایہ ایك گز ہوجائے زوال کے سائے کے بغیر یا قد کا چوتھائی یا تہائی یا نصف ہوجائے اس کے علاوہ بھی اقوال ہیں ۔ اور اختلاف اوقات کے ساتھ ابراد میں بھی اختلاف واقع ہوتا رہتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ ابراد اتنا زیادہ نہ ہوکہ وقت آکر ہوجائے۔ (ت)
ہاں خوب یاد آیا علمائے شافعیہ کی کیوں سنئے آپ اپنے ہی لکھے کو نہ دیکھئے مسئلہ وقت مستحب ظہر میں ف فرمائے گئے اگر ابراد اختیار کرے تو لازم ہے کہ ایسا ابراد نہ کرے کہ وقت ظہر کا خارج ہوجائے یا قریب آجائے حد میں ابراد کی علماء میں اختلاف ہے لیکن یہ سب کے نزدیك شرط ہے کہ ابراد اس مرتبہ کا نہ کرے کہ ظہر کے آخر وقت کو پہنچ جاوے کہا فتح الباری میں اختلف العلماء فی غایۃ الابراد لکن یشترط ان لایمتدالی اخر الوقت ملخصا (ابراد کی انتہاء میں علماء کا اختلاف ہے لیکن یہ شرط ہے کہ آخر وقت تك نہ پہنچے۔ ت) جب آخر وقت کے قریب تك نہ آنا لازم وشرط ابراد ہے تو حکم ابراد کو خارج وقت پر حمل کرنا کیسا
حوالہ / References
ارشاد الساری شرح البخاری باب الابراد بالظہر فی السفر مطبوعہ دارالکتب العربیہ بیروت ۱ / ۴۸۸
ارشاد الساری شرح البخاری باب الابراد بالظہر فی السفر مطبوعہ دارالکتب العربیہ بیروت ۱ / ۴۸۸
ف معیارالحق مسئلہ سوم وقت مستحب ظہر ص ۳۱۱ ، ۳۱۲
ارشاد الساری شرح البخاری باب الابراد بالظہر فی السفر مطبوعہ دارالکتب العربیہ بیروت ۱ / ۴۸۸
ف معیارالحق مسئلہ سوم وقت مستحب ظہر ص ۳۱۱ ، ۳۱۲
عذر بارد ہے ملاجی! ایمان سے کہنا یہ حدیث سے جواب ہے یا اپنی سخن پروری کے لئے صراحۃ نص شرع کی تحریف حدیث صحیح کارد۔ شافعیہ حنفیہ کے مکالمات محض تفنن طبع کے لئے ہیں ورنہ مذاہب متقرر ہوچکے۔ علامہ زرقانی مالکی شرح مواہب آخر جلد ہفتم میں فرماتے ہیں :
قداجاب الحافظ ابن حجر عن ذلك وعن غیرہ من ادلۃ المانعین وھی عشرۃ بمایطول ذکرہ مع انہ لاکبیر فائدۃ فیہ اذالمذاھب تقررت انما ھو تشحیذ اذھان ۔
ابن حجر نے اس دلیل کا بھی اور مانعین کی دیگر دس۱۰ دلیلوں کا بھی جواب دیا ہے مگر ان کے ذکر سے طوالت ہوتی ہے اور کوئی نمایاں فائدہ بھی نہیں ہے کیونکہ مذاہب تو مقرر ہوچکے ہیں (اور ایسے سوال جواب) محض ذہن کو تیز کرنے کا کام دیتے ہیں ۔ (ت)
آپ اپنی خبر لیجئے آپ تو محقق مجتہد ہیں سب ارباب مذاہب کی ضد ہیں آپ کیوں صحیح بخاری کی حدیث جلیل میں یوں کھلی تحریفیں کررہے ہیں دعوے باطلہ عمل بالحدیث کے چھلکے اتررہے ہیں ۔ ع
شرم بادت ازخدا وازرسول
(تم خدا اور رسول سے شرم کھاؤ)
لطیفہ ۹ : اقول ملاجی خود جانتے تھے یہ تاویلیں نہیں محض مہمل پوچ تقریروں سے جیسے بنے حدیث کو رد کرنا ہے لہذا عذر بدتر ازگناہ کیلئے ارشاد ہوتا ہے ف منشا تاویلات کا یہی ہے کہ احادیث صحیحہ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد ایك مثل کے وقت ظہر نہیں رہتا ثابت ہیں پس جمیعا بین الادلہ یہ تاویلیں حقہ کی گئیں ۔ ان تاویلوں کو حقہ کہنا تو دل میں خوب جانتے ہوگے کہ جھوٹ کہہ رہے ہو خاك حقہ تھیں کہ ایك دم میں سلفہ ہوگئیں مگر اس ڈھٹائی کا کہاں ٹھکانا کہ صحیح حدیث بخاری شریف کو بحیلہ جمع بین الادلہ یوں دانستہ بگاڑلے حالانکہ نہ قصد واحد نہ لفظ مساعد اور حدیث ابن عمر دربارہ غیبت شفق میں باوصف اتحاد قصہ جمع بین الا دلہ حرام اور رد احادیث صحاح واجب الالتزام۔
لطیفہ ۱۰ : اقول جمع تقدیم کی نامندمل جراحت بھرنے کو حدیث ابوجحیفہ رضی اللہ تعالی عنہمیں وہ لن ترانیاں تھیں کہ ظاہر پر حمل واجب ہے جب تك مانع قطعی نہ ہو اب اپنے داؤں کو ظاہر نص صریح کے یوں ہاتھ دھوکر پیچھے پڑے خیر بحمدالله آپ ہی کی گواہی سے ثابت ہولیا کہ جمع بین الادلہ کے لئے ایسی رکیك وپوچ ولچر تاویلات تك روا ہیں تو یہ صاف ونظیف وشائع ولطیف معانی ومحامل کہ ہم نے جمعا بین الادلہ
قداجاب الحافظ ابن حجر عن ذلك وعن غیرہ من ادلۃ المانعین وھی عشرۃ بمایطول ذکرہ مع انہ لاکبیر فائدۃ فیہ اذالمذاھب تقررت انما ھو تشحیذ اذھان ۔
ابن حجر نے اس دلیل کا بھی اور مانعین کی دیگر دس۱۰ دلیلوں کا بھی جواب دیا ہے مگر ان کے ذکر سے طوالت ہوتی ہے اور کوئی نمایاں فائدہ بھی نہیں ہے کیونکہ مذاہب تو مقرر ہوچکے ہیں (اور ایسے سوال جواب) محض ذہن کو تیز کرنے کا کام دیتے ہیں ۔ (ت)
آپ اپنی خبر لیجئے آپ تو محقق مجتہد ہیں سب ارباب مذاہب کی ضد ہیں آپ کیوں صحیح بخاری کی حدیث جلیل میں یوں کھلی تحریفیں کررہے ہیں دعوے باطلہ عمل بالحدیث کے چھلکے اتررہے ہیں ۔ ع
شرم بادت ازخدا وازرسول
(تم خدا اور رسول سے شرم کھاؤ)
لطیفہ ۹ : اقول ملاجی خود جانتے تھے یہ تاویلیں نہیں محض مہمل پوچ تقریروں سے جیسے بنے حدیث کو رد کرنا ہے لہذا عذر بدتر ازگناہ کیلئے ارشاد ہوتا ہے ف منشا تاویلات کا یہی ہے کہ احادیث صحیحہ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد ایك مثل کے وقت ظہر نہیں رہتا ثابت ہیں پس جمیعا بین الادلہ یہ تاویلیں حقہ کی گئیں ۔ ان تاویلوں کو حقہ کہنا تو دل میں خوب جانتے ہوگے کہ جھوٹ کہہ رہے ہو خاك حقہ تھیں کہ ایك دم میں سلفہ ہوگئیں مگر اس ڈھٹائی کا کہاں ٹھکانا کہ صحیح حدیث بخاری شریف کو بحیلہ جمع بین الادلہ یوں دانستہ بگاڑلے حالانکہ نہ قصد واحد نہ لفظ مساعد اور حدیث ابن عمر دربارہ غیبت شفق میں باوصف اتحاد قصہ جمع بین الا دلہ حرام اور رد احادیث صحاح واجب الالتزام۔
لطیفہ ۱۰ : اقول جمع تقدیم کی نامندمل جراحت بھرنے کو حدیث ابوجحیفہ رضی اللہ تعالی عنہمیں وہ لن ترانیاں تھیں کہ ظاہر پر حمل واجب ہے جب تك مانع قطعی نہ ہو اب اپنے داؤں کو ظاہر نص صریح کے یوں ہاتھ دھوکر پیچھے پڑے خیر بحمدالله آپ ہی کی گواہی سے ثابت ہولیا کہ جمع بین الادلہ کے لئے ایسی رکیك وپوچ ولچر تاویلات تك روا ہیں تو یہ صاف ونظیف وشائع ولطیف معانی ومحامل کہ ہم نے جمعا بین الادلہ
حوالہ / References
شرح الزرقانی علی المواہب ذکر تہجد النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مطبوعہ مطبعۃ عامرہ مصر ۷ / ۴۵۰
ف معیارالحق مسئلہ چہارم ص ۳۵۴
ف معیارالحق مسئلہ چہارم ص ۳۵۴
احادیث ابن عمرو انس رضی اللہ تعالی عنہممیں اختیار کیے ان میں اپنی چون وچرا کی گلی آپ نے خود بند کرلی ولله الحمد ع :
عدد شود سبب خیر گر خدا خواہد
طرفہ یہ کہ آپ مستدل ہیں اور ہم خصم جب آپ کو ایسے لچریات نفع دیں گے ہمیں یہ واضحات بدرجہ اولی نافع اور آپ کے تمام ہوا حس و وساوس کے قاطع ہوں گے۔
فائدہ عائدہ : سنن میں ایك حدیث اور ہے جس سے ناواقف کو جمع تاخیر کا وہم ہوسکے فقیر نے کلام فرےقین میں اس سے استنادا جوابا اصلا تعرض نہ دیکھا ملاجی بہت دور دور کے چکر لگاآئے جہاں کچھ بھی لگتی پائی بلکہ نری بے لگاؤ بھی جمع کرلائے سنن کچھ دور نہ تھیں اس کے آس پاس گھوما کئے مگر اس سے دہنے بائیں کترائے اسی سے اس کا نہایت نامفیدی میں ہونا ظاہر مگر شاید اب کسی نئے متوہم یا خود حضرت ہی کو تازہ وہم جاگے لہذا اس سے تعرض کردینا مناسب
ففی سنن ابی داود حدثنا احمد بن صالح نایحیی بن محمد الجاری وفی سنن النسائی اخبرنا المؤمل بن اھاب قال : حدثنی یحیی بن محمدن الجاری وفی مصنف الطحاوی حدثنا علی بن عبدالرحمن ثنا نعیم بن حماد قالا عــہ نا عبدالعزیز بن محمد (زاد نعیم) الدراوردی عن مالك عن ابن الزبیر عن جابر ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم
سنن ابی داؤد میں ہے کہ حدیث بیان کی ہم سے احمد ابن صالح نے اس نے کہا کہ خبر دی ہمیں یحیی ابن محمد جاری نے۔ اور سنن نسائی میں ہے کہ خبر دی ہمیں مؤمل ابن الوہاب نے اس نے کہا حدیث بیان کی مجھ سے یحیی ابن محمد جاری نے۔ اور مصنف طحاوی میں ہے کہ حدیث بیان کی ہم سے علی ابن عبدالرحمن نے اس نے کہا حدیث بیان کی ہم سے نعیم ابن حماد نے۔ دونوں نے کہا کہ خبر دی ہم کو عبدالعزیز ابن محمد نے (نعیم نے “ دراوردی “ کا اضافہ کیا ہے) مالك بن ابی الزبیر سے اس نے جابر رضی اللہ تعالی عنہسے
عــہ ای یحیی عندالاولین ونعیم عندالطحاوی ۱۲ منہ (م)
یعنی یحیی سے پہلے دو۲ (ابوداؤد اور نسائی) کے ہاں اور نعیم طحاوی کے ہاں ۱۲ منہ (ت)
عدد شود سبب خیر گر خدا خواہد
طرفہ یہ کہ آپ مستدل ہیں اور ہم خصم جب آپ کو ایسے لچریات نفع دیں گے ہمیں یہ واضحات بدرجہ اولی نافع اور آپ کے تمام ہوا حس و وساوس کے قاطع ہوں گے۔
فائدہ عائدہ : سنن میں ایك حدیث اور ہے جس سے ناواقف کو جمع تاخیر کا وہم ہوسکے فقیر نے کلام فرےقین میں اس سے استنادا جوابا اصلا تعرض نہ دیکھا ملاجی بہت دور دور کے چکر لگاآئے جہاں کچھ بھی لگتی پائی بلکہ نری بے لگاؤ بھی جمع کرلائے سنن کچھ دور نہ تھیں اس کے آس پاس گھوما کئے مگر اس سے دہنے بائیں کترائے اسی سے اس کا نہایت نامفیدی میں ہونا ظاہر مگر شاید اب کسی نئے متوہم یا خود حضرت ہی کو تازہ وہم جاگے لہذا اس سے تعرض کردینا مناسب
ففی سنن ابی داود حدثنا احمد بن صالح نایحیی بن محمد الجاری وفی سنن النسائی اخبرنا المؤمل بن اھاب قال : حدثنی یحیی بن محمدن الجاری وفی مصنف الطحاوی حدثنا علی بن عبدالرحمن ثنا نعیم بن حماد قالا عــہ نا عبدالعزیز بن محمد (زاد نعیم) الدراوردی عن مالك عن ابن الزبیر عن جابر ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم
سنن ابی داؤد میں ہے کہ حدیث بیان کی ہم سے احمد ابن صالح نے اس نے کہا کہ خبر دی ہمیں یحیی ابن محمد جاری نے۔ اور سنن نسائی میں ہے کہ خبر دی ہمیں مؤمل ابن الوہاب نے اس نے کہا حدیث بیان کی مجھ سے یحیی ابن محمد جاری نے۔ اور مصنف طحاوی میں ہے کہ حدیث بیان کی ہم سے علی ابن عبدالرحمن نے اس نے کہا حدیث بیان کی ہم سے نعیم ابن حماد نے۔ دونوں نے کہا کہ خبر دی ہم کو عبدالعزیز ابن محمد نے (نعیم نے “ دراوردی “ کا اضافہ کیا ہے) مالك بن ابی الزبیر سے اس نے جابر رضی اللہ تعالی عنہسے
عــہ ای یحیی عندالاولین ونعیم عندالطحاوی ۱۲ منہ (م)
یعنی یحیی سے پہلے دو۲ (ابوداؤد اور نسائی) کے ہاں اور نعیم طحاوی کے ہاں ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
سنن ابی داؤد باب الجمع بین الصلاتین مطبوعہ مجتبائی لاہور ۱ / ۱۷۱
سنن النسائی الوقت الذی یجمع فیہ المسافر الخ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۶۹
شرح معانی الآثار باب الجمع بین الصلاتین الخ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۱
سنن النسائی الوقت الذی یجمع فیہ المسافر الخ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۶۹
شرح معانی الآثار باب الجمع بین الصلاتین الخ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۱
غربت لہ الشمس بمکۃ فجمع بینھما بسرف (زاد نعیم) یعنی الصلاۃ۔ ولفظ المؤمل : غابت الشمس ورسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم بمکۃ فجمع بین الصلاتین بسرف ۔ قال ابوداود : حدثنا محمد بن ھشام جار احمد بن حنبل ناجعفر بن عون عن ھشام بن سعد قال : بینھما عشرۃ امیال یعنی بین مکۃ وسرف ۔
کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممکہ میں تھے تو سورج غائب ہوگیا چنانچہ جمع کیا آپ نے دونوں کو سرف میں (نعیم نے اضافہ کیا) یعنی نماز کو۔ اور مؤمل کے الفاظ یوں ہیں سورج غائب ہوگیا اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممکہ میں تھے تو آپ نے دونوں نمازوں کو سرف میں جمع کیا۔ ابوداؤد نے کہا کہ مجھ کو احمد ابن حنبل کے ہمسائے محمد بن ہشام نے بتایا کہ جعفر ابن عون نے ہشام ابن سعد سے روایت کی ہے کہ دونوں کے درمیان دس۱۰ میل کا فاصلہ ہے یعنی مکہ اور سرف کے درمیان۔ (ت)
یعنی حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو مکہ معظمہ میں آفتاب ڈوباپس مغرب وعشا موضع سرف میں جمع فرمائیں ابوداؤد نے ہشام بن سعد سے (کہ ملاجی کے حسابوں رافضی مجروح مردود الروایہ متروك الحدیث ہے تقریب میں کہا صدوق لہ اوھام ورمی بالتشیع) نقل کی کہ مکہ وسرف میں دس۱۰ میل کا فاصلہ ہے۔
اقول وبالله التوفیق اصول حدیث ونیز اصول محدثہ ملاجی پر یہ حدیث ہرگز قابل حجت نہیں اصول حدیث پر اس کی سند ضعیف اور اصول ملائیہ پر ضعف درضعف درضعف کیا جانیے کتنے ضعفوں کی طومار اور نری مردود متروك ہے۔
اولا دو طریق پیشین میں یحیی بن محمد جاری ہے تقریب میں کہا : صدوق ویخطیئ (سچا ہے مگر خطا کرتا ہے۔ ت) امام بخاری نے فرمایا : یتکلمون فیہ (ائمہ محدثین اس پر طعن کرتے ہیں ۔ ت) میزان میں یہی حدیث اس کے ترجمہ میں داخل کی اور کتب ضعفا میں زیر ترجمہ ضعفا ان کی منکر حدیثیں ذکر کرتے ہیں اور اس کے ساتھ طریق دوم میں مؤمل بن اہاب ہے تقریب میں کہا : صدوق لہ اوھام (سچا ہے اس کو اوہام ہیں ۔ ت) طریق ثالث میں نعیم بن حماد ہے یہ اگرچہ فقیہ وفرائض وان تھا مگر حدیثی حالت میں یحیی سے بھی بدتر ہے تقریب میں کہا صدوق یخطئ کثیرا (سچا ہے مگر خطا بہت کرتا ہے۔ ت) یہاں تك کہ ابوالفتح ازدی نے کہا : حدیثیں اپنے جی سے گھڑتا اور امام ابوحنیفہ کے مطاعن میں جھوٹی حکایتیں وضع کرتا تھا یہ اگرچہ مجازفات ازدی سے ہو مگر ذہبی نے طبقات الحفاظ ومیزان الاعتدال دونوں میں اس کے حق میں قول اخیریہ قرار دیا کہ وہ باوصف امامت
کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممکہ میں تھے تو سورج غائب ہوگیا چنانچہ جمع کیا آپ نے دونوں کو سرف میں (نعیم نے اضافہ کیا) یعنی نماز کو۔ اور مؤمل کے الفاظ یوں ہیں سورج غائب ہوگیا اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممکہ میں تھے تو آپ نے دونوں نمازوں کو سرف میں جمع کیا۔ ابوداؤد نے کہا کہ مجھ کو احمد ابن حنبل کے ہمسائے محمد بن ہشام نے بتایا کہ جعفر ابن عون نے ہشام ابن سعد سے روایت کی ہے کہ دونوں کے درمیان دس۱۰ میل کا فاصلہ ہے یعنی مکہ اور سرف کے درمیان۔ (ت)
یعنی حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو مکہ معظمہ میں آفتاب ڈوباپس مغرب وعشا موضع سرف میں جمع فرمائیں ابوداؤد نے ہشام بن سعد سے (کہ ملاجی کے حسابوں رافضی مجروح مردود الروایہ متروك الحدیث ہے تقریب میں کہا صدوق لہ اوھام ورمی بالتشیع) نقل کی کہ مکہ وسرف میں دس۱۰ میل کا فاصلہ ہے۔
اقول وبالله التوفیق اصول حدیث ونیز اصول محدثہ ملاجی پر یہ حدیث ہرگز قابل حجت نہیں اصول حدیث پر اس کی سند ضعیف اور اصول ملائیہ پر ضعف درضعف درضعف کیا جانیے کتنے ضعفوں کی طومار اور نری مردود متروك ہے۔
اولا دو طریق پیشین میں یحیی بن محمد جاری ہے تقریب میں کہا : صدوق ویخطیئ (سچا ہے مگر خطا کرتا ہے۔ ت) امام بخاری نے فرمایا : یتکلمون فیہ (ائمہ محدثین اس پر طعن کرتے ہیں ۔ ت) میزان میں یہی حدیث اس کے ترجمہ میں داخل کی اور کتب ضعفا میں زیر ترجمہ ضعفا ان کی منکر حدیثیں ذکر کرتے ہیں اور اس کے ساتھ طریق دوم میں مؤمل بن اہاب ہے تقریب میں کہا : صدوق لہ اوھام (سچا ہے اس کو اوہام ہیں ۔ ت) طریق ثالث میں نعیم بن حماد ہے یہ اگرچہ فقیہ وفرائض وان تھا مگر حدیثی حالت میں یحیی سے بھی بدتر ہے تقریب میں کہا صدوق یخطئ کثیرا (سچا ہے مگر خطا بہت کرتا ہے۔ ت) یہاں تك کہ ابوالفتح ازدی نے کہا : حدیثیں اپنے جی سے گھڑتا اور امام ابوحنیفہ کے مطاعن میں جھوٹی حکایتیں وضع کرتا تھا یہ اگرچہ مجازفات ازدی سے ہو مگر ذہبی نے طبقات الحفاظ ومیزان الاعتدال دونوں میں اس کے حق میں قول اخیریہ قرار دیا کہ وہ باوصف امامت
حوالہ / References
شرح معانی الاثار باب الجمع بین الصلاتین الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۱
سنن النسائی الوقت الذی یجمع المقیم الخ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۶۹
سنن ابی داؤد باب الجمع بین الصلاتین الخ مطبوعہ مجتبائی لاہور ۱ / ۱۷۱
سنن النسائی الوقت الذی یجمع المقیم الخ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۶۹
سنن ابی داؤد باب الجمع بین الصلاتین الخ مطبوعہ مجتبائی لاہور ۱ / ۱۷۱
منکر الحدیث ہے قابل احتجاج نہیں جامع صحیح میں اس کی روایت مقرونہ ہے نہ بطور حجیت امام جلال الدین سیوطی ذیل اللالی میں اس کی حدیث اذا ارادالله ان ینزل الی السماء الدنیا نزل عن عرشہ بذاتہ (جبب الله تعالی آسمان دنیا پر اترنا چاہتا ہے تو بذاتہ عرش سے اترآتا ہے۔ ت) ذکر کرکے فرماتے ہیں : اتعبنا نعیم بن حماد من کثرۃ مایاتی بھذہ الطامات وکم ندرؤ عنہ وعن الطرطوسی الراوی عنہ فلاادری البلاء فی الحدیث منہ اومن شیخہ نعیم ! اھ ملخصا یعنی نعیم بن حماد اس کی کثرت سے یہ طامات روایتیں لاتا ہے کہ ہم تھك گئے کہاں تك اس کا اور اس کے شاگرد طرطوسی کا بچاؤ کریں مجھے نہیں معلوم کہ اس حدیث میں بلا اس کی طرف سے اٹھی یا اس کے استاد نعیم سے۔
ثانیا پھر ان سب طرق میں عبدالعزیز بن محمد دراوردی ہے تقریب میں کہاـ صدوق کان یحدث من کتب غیرہ فیخطیئ (سچا ہے مگر دوسروں کی کتابوں سے حدیثیں بیان کرتا ہے اس لئے خطا کرتا ہے۔ ت) تو ہر طریق میں دو۲ راوی صدوق یخطیئ (سچا ہے مگر خطا کرتا ہے۔ ت) ہوئے خصوصا ثالث میں تو ایك کثیر الخطاء اور ثانی میں تیسرا صدوق لہ اوھام (سچا ہے اس کو اوہام ہیں ۔ ت) اور ملاجی کے اصول پر ایسے رواۃ کی حدیثیں مردود ومتروك وواہیات ہیں۔
ثالثا مدار حدیث ابوالزبیر عن جابر پر ہے ابوالزبیر کی نسبت خود ملاجی کہہ گئے کہ وہ فقط صدوق ہے اور اس کے ساتھ مدلس قال فی التقریب صدوق الا انہ یدلس (تقریب میں کہا کہ سچا ہے مگر مدلس ہے۔ ت)
اور یہاں ان عــہ سے راوی لیث بن سعد نہیں اور روایت میں عنعنہ کیا اور عنعنہ مدلس اصول محدثین پر نامقبول۔
عــہ قید بھذا لان الرادی عنہ اذاکان اللیث زال مایخشی من تدلیسہ کماافادہ فی فتح المغیث وغیرہ فلیحفظ فانھا فائدۃ نفیسۃ۔ وقد بین السبب فی ذلك فی المیزان فراجعہ ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
یہ قید اس لئے لگائی ہے کہ اگر اس سے روایت کرنے والا لیث ہوتو پھر اس کی تدلیس کا خطرہ باقی نہیں رہتا جیسا کہ فتح المغیث اور دوسری کتابوں میں افادہ کیا گیا ہے۔ اس کو یاد رکھو کیونکہ یہ ایك نفیس فائدہ ہے۔ تدلیس کا خطرہ نہ ہونے کا سبب میزان میں مذکور ہے اس کا مطالعہ کرو۔ (ت)
ثانیا پھر ان سب طرق میں عبدالعزیز بن محمد دراوردی ہے تقریب میں کہاـ صدوق کان یحدث من کتب غیرہ فیخطیئ (سچا ہے مگر دوسروں کی کتابوں سے حدیثیں بیان کرتا ہے اس لئے خطا کرتا ہے۔ ت) تو ہر طریق میں دو۲ راوی صدوق یخطیئ (سچا ہے مگر خطا کرتا ہے۔ ت) ہوئے خصوصا ثالث میں تو ایك کثیر الخطاء اور ثانی میں تیسرا صدوق لہ اوھام (سچا ہے اس کو اوہام ہیں ۔ ت) اور ملاجی کے اصول پر ایسے رواۃ کی حدیثیں مردود ومتروك وواہیات ہیں۔
ثالثا مدار حدیث ابوالزبیر عن جابر پر ہے ابوالزبیر کی نسبت خود ملاجی کہہ گئے کہ وہ فقط صدوق ہے اور اس کے ساتھ مدلس قال فی التقریب صدوق الا انہ یدلس (تقریب میں کہا کہ سچا ہے مگر مدلس ہے۔ ت)
اور یہاں ان عــہ سے راوی لیث بن سعد نہیں اور روایت میں عنعنہ کیا اور عنعنہ مدلس اصول محدثین پر نامقبول۔
عــہ قید بھذا لان الرادی عنہ اذاکان اللیث زال مایخشی من تدلیسہ کماافادہ فی فتح المغیث وغیرہ فلیحفظ فانھا فائدۃ نفیسۃ۔ وقد بین السبب فی ذلك فی المیزان فراجعہ ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
یہ قید اس لئے لگائی ہے کہ اگر اس سے روایت کرنے والا لیث ہوتو پھر اس کی تدلیس کا خطرہ باقی نہیں رہتا جیسا کہ فتح المغیث اور دوسری کتابوں میں افادہ کیا گیا ہے۔ اس کو یاد رکھو کیونکہ یہ ایك نفیس فائدہ ہے۔ تدلیس کا خطرہ نہ ہونے کا سبب میزان میں مذکور ہے اس کا مطالعہ کرو۔ (ت)
حوالہ / References
ذیل اللالی کتاب التوحید مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل ص ۲ و ۳
تقریب التہذیب ترجمہ عبدالعزیز بن محمد مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ص ۲۱۶
تقریب التہذیب محمد بن مسلم مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ص ۳۱۸
تقریب التہذیب ترجمہ عبدالعزیز بن محمد مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ص ۲۱۶
تقریب التہذیب محمد بن مسلم مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ص ۳۱۸
رابعا میلوں کی گنتی حدیث میں نہیں نہ زید وعمرو کی ایسی حکایات پر وہ اعتماد ضرور جس کے سبب توقیت صلاۃ کا حکم معروف ومشہور ثابت بالقرآن العظیم والاحادیث الصحاح چھوڑ دیا جائے خصوصا ملاجی کے نزدیك تو یہ دس میل بتانے والا رافی متروك ہے زمینوں کا ناپنا میلوں کا گننا ان حملہ ورواۃ کا کام نہ تھا بلکہ سرے سے ان اعصار وامصار میں اس طریقہ کا اصلا نام نہ تھا یونہی ہر شخص اپنے تخمینہ سے یا کسی اور کی سنی سنائی بتادیتا ولہذا شمار میں اس قدر شدت سے اختلاف پڑتا ہے کہ ان گنتیوں سے امان اٹھائے دیتا ہے۔ ذوالحلیفہ کہ مکہ معظمہ کے راستے پر مدینہ طیبہ کے قریب ایك مشہور ومعروف مقام ہے اس کے اختلاف دیکھئے امام اجل رافعی احد شیخین مذہب شافعی اور ان سے پہلے امام ابوالمحاسن عبدالواحد بن اسمعیل بن احمد شافعی معاصر امام غزالی اور ان سے بھی پہلے امام ابونصر عبدالسید بن محمد شافعی نے فرمایا : مدینہ سے ایك میل ہے۔ امام قسطلانی شافعی نے فرمایا : یہ وہم ہے بشہادت مشاہدہ مردود۔ بعض نے کہا دو۲ ایك میل۔ امام عینی نے فرمایا : چار۴ میل۔ امام حجۃ الاسلام شافعی نے فرمایا : چھ۶ میل ہے۔ اسی طرح امام مجد شافعی نے قاموس میں کہا۔ امام اجل ابوزکریا نووی شافعی نے فرمایا : یہی صحیح ہے۔ بعض علما نے کہا : سات میل۔ امام جمال اسنوی شافعی نے فرمایا : حق یہ کہ تین میل ہے یا کچھ قدرے قلیل زیادہ ہو مشاہد اس پر گواہ ہے۔ ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں ہے : بعدہ من المدینۃ میل کماعندالرافعی لکن فی البسیط انھا علی ستۃ امیال وصححہ فی المجموع وھو الذی قالہ فی القاموس۔ وقیل : سبعۃ۔ وفی المھمات : الصواب المعروف بالمشاھدۃ انھا علی ثلثۃ امیال اوتزید قلیلا ۔ اسی میں ہے : وقول من قال کابن الصباغ فی الشامل والرویانی فی البحر انہ علی میل من المدینۃ وھم یردہ الحس ۔ عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں ہے : من المدینۃ علی اربعۃ امیال ومن مکۃ علی مائتی میل غیر میلین وقیل : بینھما وبین المدینۃ میل اومیلان دیکھئے ایسے معروف مقام میں کہ شارع نے اسے اہل مدینہ کے لئے میقات احرام مقرر فرمایا ایسے اجلہ ائمہ میں ایسے شدید اختلاف ہیں جنہیں ترازوئے تخمینہ کی جھونك کسی طرح نہیں سہار سکتی ایک۱ دو۲ تین۳ چار۴ چھ۶ سات۷ میل تك اقوال مختلف پھر تصحیحوں میں بھی دونا دون کا تفاوت ایك فرمائے چھ۶ میل صحیح ہے دوسری فرمائے تین میل حق ہے۔ موطائے امام مالك میں بسند صحیح علی شرط الشیخین ہے : عن یحیی بن سعید انہ قال لسالم بن عبدالله مااشد مارأیت اباك اخر المغرب فی السفر فقال سالم
حوالہ / References
ارشاد الساری شرح البخاری کتاب المواقیت باب فرض مواقیت الحج والعمرۃ مطبوعہ دارالکتاب العربیۃ بیروت۳ / ۹۸
ارشاد الساری شرح البخاری باب مہل اہل مکہ للحج والعمرۃ مطبوعہ دارالکتاب العربیۃ بیروت ۳ / ۹۹
عمدۃ القاری شرح البخاری باب قول اللہ تعالٰی یاتوك رجالا الخ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت ۹ / ۱۳۰
ارشاد الساری شرح البخاری باب مہل اہل مکہ للحج والعمرۃ مطبوعہ دارالکتاب العربیۃ بیروت ۳ / ۹۹
عمدۃ القاری شرح البخاری باب قول اللہ تعالٰی یاتوك رجالا الخ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت ۹ / ۱۳۰
غربت الشمس ونحن بذات الجیش فصلی المغرب المغرب بالعقیق (یعنی یحیی بن سعید انصاری نے امام سالم بن عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہمسے پوچھا آپ نے اپنے والد ماجد کو سفر میں مغرب کی تاخیر زیادہ سے زیادہ کس قدر کرتے دیکھا فرمایا ذات الجیش میں ہمیں سورج ڈوبا اور مغرب عقیق میں پڑھی)اب رواۃ مؤطا تلامذہ امام مالك میں ان دونوں مقاموں کے فاصلہ میں اختلاف پڑا۔ یحیی کی روایت میں ہے دو میل یا کچھ زائد عبدالله بن وہب نے کہا چھ۶ میل محمد بن وضاح اندلسی تلمیذ التلمیذ امام مالك نے کہا سات میل عبدالرحمن بن قاسم نے کہا دس۱۰ میل علامہ زرقانی نے جزم کیا کہ بارہ۱۲ میل شرح مؤطا میں فرمایا : بینھما اثنا عشرمیلا وقال ابن وضاح : سبعۃ امیال وقال ابن وھب : ستۃ وقال القعنبی : ذات الجیش علی بریدین من المدینۃ وقال البونی فی روایۃ یحیی : وبینھما میلان اواکثر قلیلا وفی روایۃ ابن القاسم : عشرۃ امیال ۔ ان اختلافات کو خیال کیجئے کہاں دو۲ میل کہاں بارہ۱۲ میل۔
خامسایہ واقعہ عین ہے اور وقائع عین مساغ ہرگونہ احتمالات سرعت سیر کے لئے کوئی حد محدود نہیں کہ اس سے زائد نامتصور ہو ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماکا سہ منزلہ کرنا اوپر گزرا ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہاکی حدیث میں ہے :
اصبح النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم بملل ثم راح وتعشی بسرف۔
سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو ملل میں صبح ہوئی پھر تشریف لے چلے اور شام کا کھانا سرف میں تناول فرمایا۔
فصل اول میں گزرچکا کہ ملل مدینہ طیبہ سے سترہ۱۷ میل ہے اور یہیں کلام امام بدر محمود عینی سے منقول ہوا کہ مدینہ طیبہ مکہ معظمہ سے دو کم دو سومیل ہے اب سترہ وہ اور دس میل سرف کے نکال لیجئے تو ایك دن میں ایك سو اکہتر میل راہ طے ہوئی پھر غروب شمس سے اتنے قرب عشا تك کہ ہنوز بقدر تین رکعت پڑھ لینے کے مغرب کا وقت باقی ہو دس میل قطع ہوجانا کیا جائے عجب ہے خصوصا اواخر جوزا و ا و ا ئل سرطان میں کہ ان دنوں حوالی مکہ معظمہ میں وقت مغرب عــہ کم وبیش ڈےڑھ گھنٹا ہوتا ہے اعتبار نہ آئے تو آزما دیکھئے کہ عمدہ گھوڑے تیز ناقے ڈےڑھ چھوڑ ایك ہی
عــہ اقول : لتکن الشمس عنددخول العشاء فی اول السرطان میلہ الح الرتمام (بقیہ بصفحہ ائندہ)
خامسایہ واقعہ عین ہے اور وقائع عین مساغ ہرگونہ احتمالات سرعت سیر کے لئے کوئی حد محدود نہیں کہ اس سے زائد نامتصور ہو ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماکا سہ منزلہ کرنا اوپر گزرا ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہاکی حدیث میں ہے :
اصبح النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم بملل ثم راح وتعشی بسرف۔
سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو ملل میں صبح ہوئی پھر تشریف لے چلے اور شام کا کھانا سرف میں تناول فرمایا۔
فصل اول میں گزرچکا کہ ملل مدینہ طیبہ سے سترہ۱۷ میل ہے اور یہیں کلام امام بدر محمود عینی سے منقول ہوا کہ مدینہ طیبہ مکہ معظمہ سے دو کم دو سومیل ہے اب سترہ وہ اور دس میل سرف کے نکال لیجئے تو ایك دن میں ایك سو اکہتر میل راہ طے ہوئی پھر غروب شمس سے اتنے قرب عشا تك کہ ہنوز بقدر تین رکعت پڑھ لینے کے مغرب کا وقت باقی ہو دس میل قطع ہوجانا کیا جائے عجب ہے خصوصا اواخر جوزا و ا و ا ئل سرطان میں کہ ان دنوں حوالی مکہ معظمہ میں وقت مغرب عــہ کم وبیش ڈےڑھ گھنٹا ہوتا ہے اعتبار نہ آئے تو آزما دیکھئے کہ عمدہ گھوڑے تیز ناقے ڈےڑھ چھوڑ ایك ہی
عــہ اقول : لتکن الشمس عنددخول العشاء فی اول السرطان میلہ الح الرتمام (بقیہ بصفحہ ائندہ)
حوالہ / References
مؤطا امام مالك قصر الصلٰوۃ فی السفر مطبوعہ میر محمد کتب خانہ کراچی ص ۱۲۹
شرح الزرقانی علی المؤطا قصر الصلٰوۃ فی السفر مطبوعہ المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ۱ / ۲۹۷
شرح الزرقانی علی المؤطا قصر الصلٰوۃ فی السفر مطبوعہ المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ۱ / ۲۹۷
گھنٹے میں دس۱۰ میل بلکہ زائد قطع کرلیں گے حدیث مؤطا میں کہ ابھی مذکور ہوئی جزم علامہ زرقانی اور نیز روایت ابن القاسم تلمیذ امام مالك پر اس کی نظیر یہیں پیش نظر اوپر ثابت ہوچکا کہ سالم قائل جمع نہیں وہ تصریحا فرماچکے کہ ان کے والد ماجد رضی اللہ تعالی عنہنے مزدلفہ کے سوا کبھی جمع نہ فرمائی تو لاجرم غروب آفتاب کے بعد دس بارہ میل چلے اور مغرب وقت میں پڑھی ولہذا ابوالولید باجی مالکی نے اس حدیث کی شرح میں کہا : ارادان یعرف اخر وقتھا المختار یحیی بن سعید انصاری کا اس سوال سے یہ ارادہ تھا کہ مغرب کا آخر وقت مختار معلوم کریں ۔ نتقی میں کہا : وحمل ذلك علی المعروف من سیر من جد خروج وقت پر پڑھنا ہوتا تو کوشش سیر پر حمل کی کیا حاجت تھی بالجملہ حدیث برتقدیر صحت بھی اصلا جمع حقیقی کی مفید نہ جمع صوری سے جدا وبعید والحمدالله العلی المجید۔
الحمد لله کلام اپنے ذروہ اقصے کو پہنچا اور جمع تقدیم وتاخیر دونوں میں ملاجی کا ہاتھ بالکل خالی رہ گیا ایك حدیث سے بھی جمع حقیقی اصلا ثابت نہ ہوسکی ولله الحجۃ السامیہ امید کرتا ہوں کہ اس فصل بلکہ تمام رسالہ میں ایسا کلام شافی ومتین وکافی ومبین برکات قدسیہ روح زکیہ طیبہ علیہ امام الائمہ مالك الازمہ کاشف الغمہ سراج الامہ سیدنا امام اعظم واقدم رضی اللہ تعالی عنہسے حصہ خاصہ فقیر مہین ہو والحمدلله رب العلمین۔
فصل چہارم۴ نصوص نفی جمع و ہدایت التزام اوقات میں
یہ نصوص دو۲ قسم ہیں اول عامہ جن میں تعیین اوقات کا بیان یا ان کی محافظت کی ترغیب یا ان کی محافظت سے ترہیب ہے جس سے ثابت ہوکہ ہر نماز کے لئے شرع مطہر نے جدا وقت مقرر فرمایا ہے کہ اس سے پہلے ہوسکے نہ اسے کھوکر دوسرے وقت پر اٹھارکھی جائے بلکہ ہر نماز اپنے ہی وقت پر ہونی چاہے۔ دوم خاصہ جن میں
(بقیہ صفحہ گزشتہ)
عرض المکۃ المکرمۃ سح ك غایۃ الانحطاط بالتفریق مدفح جیبہ ك الدظل عرض مکۃ الح ماح لح ٭ ظل المیل الوالہ الہ لامنحطا= ی حہ ك الح جیب تعدیل النھار قوسہ ط حہ نہ الح - صہ حہ = ف حہ ء لر نصف قوس اللیل سہمہ مط حہ لط لر٭ جیب انحطاط الوقت ح حہ الح= ع ك مہ الدح سو÷ ك الد= کا حہ مدمح- مط لطالر= الرحہ ندمط سھم فضل الدائر قوسہ نرحہ م ف حہ ء لر= حہ الدك دائر٭ ع قہ= ا ت الط لرھذا تقریب ووجوہ التدقیق تعلم ان شاء الله تعالی من کتابنا زیج الاوقات للصوم والصلوۃ وفقنا الله تعالی لاکمالہ ونفعنا والمسلمین باعمالہ امین ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ۔ (م)
الحمد لله کلام اپنے ذروہ اقصے کو پہنچا اور جمع تقدیم وتاخیر دونوں میں ملاجی کا ہاتھ بالکل خالی رہ گیا ایك حدیث سے بھی جمع حقیقی اصلا ثابت نہ ہوسکی ولله الحجۃ السامیہ امید کرتا ہوں کہ اس فصل بلکہ تمام رسالہ میں ایسا کلام شافی ومتین وکافی ومبین برکات قدسیہ روح زکیہ طیبہ علیہ امام الائمہ مالك الازمہ کاشف الغمہ سراج الامہ سیدنا امام اعظم واقدم رضی اللہ تعالی عنہسے حصہ خاصہ فقیر مہین ہو والحمدلله رب العلمین۔
فصل چہارم۴ نصوص نفی جمع و ہدایت التزام اوقات میں
یہ نصوص دو۲ قسم ہیں اول عامہ جن میں تعیین اوقات کا بیان یا ان کی محافظت کی ترغیب یا ان کی محافظت سے ترہیب ہے جس سے ثابت ہوکہ ہر نماز کے لئے شرع مطہر نے جدا وقت مقرر فرمایا ہے کہ اس سے پہلے ہوسکے نہ اسے کھوکر دوسرے وقت پر اٹھارکھی جائے بلکہ ہر نماز اپنے ہی وقت پر ہونی چاہے۔ دوم خاصہ جن میں
(بقیہ صفحہ گزشتہ)
عرض المکۃ المکرمۃ سح ك غایۃ الانحطاط بالتفریق مدفح جیبہ ك الدظل عرض مکۃ الح ماح لح ٭ ظل المیل الوالہ الہ لامنحطا= ی حہ ك الح جیب تعدیل النھار قوسہ ط حہ نہ الح - صہ حہ = ف حہ ء لر نصف قوس اللیل سہمہ مط حہ لط لر٭ جیب انحطاط الوقت ح حہ الح= ع ك مہ الدح سو÷ ك الد= کا حہ مدمح- مط لطالر= الرحہ ندمط سھم فضل الدائر قوسہ نرحہ م ف حہ ء لر= حہ الدك دائر٭ ع قہ= ا ت الط لرھذا تقریب ووجوہ التدقیق تعلم ان شاء الله تعالی من کتابنا زیج الاوقات للصوم والصلوۃ وفقنا الله تعالی لاکمالہ ونفعنا والمسلمین باعمالہ امین ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ۔ (م)
حوالہ / References
بحوالہ المنتقی شرح الزرقانی علی المؤطا قصر الصلٰوۃ فی السفر مطبوعہ المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ۱ / ۲۹۷
بحوالہ المنتقی شرح الزرقانی علی المؤطا قصر الصلٰوۃ فی السفر مطبوعہ المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ۱ / ۲۹۷
بحوالہ المنتقی شرح الزرقانی علی المؤطا قصر الصلٰوۃ فی السفر مطبوعہ المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ۱ / ۲۹۷
بالخصوص جمع بین الصلاتین کی نفی ہے۔
قسم اول نصوص عامہ
(الایات) رب العزۃ تبارك وتعالی نے محافظت والتزام اوقات کا حکم سات۷ سورتوں میں نازل فرمایا :
(۱) بقرہ (۲) نساء (۳) انعام (۴) مریم (۵) مومنون (۶) معارج (۷) ماعون
آیت ۱ قال بنا عزمن قائل : ان الصلوة كانت على المؤمنین كتبا موقوتا(۱۰۳) بیشك نماز مسلمانوں پر فرض ہے وقت باندھا ہوا۔ کہ نہ وقت سے پہلے عــہ صحیح نہ وقت کے بعد تاخیر روا بلکہ فرض ہے کہ نماز اپنے وقت پر ادا ہو۔ میں یہاں معنی آیت میں کلام علمائے کرام لاؤں اس سے بہتر یہی ہے کہ خود ملاجی کی شہادت دلاؤں مسئلہ وقت ظہر میں ایك مثل تك تمامی وقت بتانے کیلئے فرماتے ہیں کہا الله تعالی نے ان الصلوۃ کانت علی المؤمنین کتبا موقوتا یعنی ہر نماز کا وقت علیحدہ علیحدہ ہے تفسیر مظہری میں ہے قولہ تعالی : كتبا موقوتا(۱۰۳) یقتضی کون الوقت لکل صلوۃ وقتا علیحدہ تو مقتضا آیت کا یہی ہے کہ ایك نماز کے وقت میں دوسری نماز ادا نہیں ہوسکتی ۔ ع
مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تیری
عــہ : ھذا لاخلاف فیہ بین العلمائ الاشیئ روی عن ابی موسی الاشعری وعن بعض التابعین اجمع العلماء علی خلافہ ولاوجہ لذکرہ ھھنا لانہ لایصح عنھم وصح عن ابی موسی خلافہ مماوافق الجماعۃ فصار اتفاقا صحیحا اھ عمدۃ القاری ۱۲ منہ (م)
اس میں علماء کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ابوموسی اشعری اور بعض تابعین سے جو کچھ مروی ہے اس کے خلاف علماء کا اجماع ہے اور اس کو یہاں ذکر کرنے کی کوئی ضرورت بھی نہیں کیونکہ وہ ابوموسی سے بصحت منقول نہیں نہیں ہے بلکہ ابوموسی سے اس کے خلاف اور جمہور کے موافق قول صحیح طور پر ثابت ہے اس لئے سب کا متفق ہونا ہی درست قرار پایا اھ عمدۃ القاری ۱۲ منہ (ت)
قسم اول نصوص عامہ
(الایات) رب العزۃ تبارك وتعالی نے محافظت والتزام اوقات کا حکم سات۷ سورتوں میں نازل فرمایا :
(۱) بقرہ (۲) نساء (۳) انعام (۴) مریم (۵) مومنون (۶) معارج (۷) ماعون
آیت ۱ قال بنا عزمن قائل : ان الصلوة كانت على المؤمنین كتبا موقوتا(۱۰۳) بیشك نماز مسلمانوں پر فرض ہے وقت باندھا ہوا۔ کہ نہ وقت سے پہلے عــہ صحیح نہ وقت کے بعد تاخیر روا بلکہ فرض ہے کہ نماز اپنے وقت پر ادا ہو۔ میں یہاں معنی آیت میں کلام علمائے کرام لاؤں اس سے بہتر یہی ہے کہ خود ملاجی کی شہادت دلاؤں مسئلہ وقت ظہر میں ایك مثل تك تمامی وقت بتانے کیلئے فرماتے ہیں کہا الله تعالی نے ان الصلوۃ کانت علی المؤمنین کتبا موقوتا یعنی ہر نماز کا وقت علیحدہ علیحدہ ہے تفسیر مظہری میں ہے قولہ تعالی : كتبا موقوتا(۱۰۳) یقتضی کون الوقت لکل صلوۃ وقتا علیحدہ تو مقتضا آیت کا یہی ہے کہ ایك نماز کے وقت میں دوسری نماز ادا نہیں ہوسکتی ۔ ع
مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تیری
عــہ : ھذا لاخلاف فیہ بین العلمائ الاشیئ روی عن ابی موسی الاشعری وعن بعض التابعین اجمع العلماء علی خلافہ ولاوجہ لذکرہ ھھنا لانہ لایصح عنھم وصح عن ابی موسی خلافہ مماوافق الجماعۃ فصار اتفاقا صحیحا اھ عمدۃ القاری ۱۲ منہ (م)
اس میں علماء کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ابوموسی اشعری اور بعض تابعین سے جو کچھ مروی ہے اس کے خلاف علماء کا اجماع ہے اور اس کو یہاں ذکر کرنے کی کوئی ضرورت بھی نہیں کیونکہ وہ ابوموسی سے بصحت منقول نہیں نہیں ہے بلکہ ابوموسی سے اس کے خلاف اور جمہور کے موافق قول صحیح طور پر ثابت ہے اس لئے سب کا متفق ہونا ہی درست قرار پایا اھ عمدۃ القاری ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
القرآن ۴ / ۱۰۳
معیارالحق مسئلہ چہارم بحث آخر وقت ظہر مکتبہ نذیریہ لاہور ص ۳۱۷
معیارالحق مسئلہ چہارم بحث آخر وقت ظہر مکتبہ نذیریہ لاہور ص ۳۱۷
آیت ۲ قال مولنا جل وعلا :
حفظوا على الصلوت و الصلوة الوسطى-و قوموا لله قنتین(۲۳۸)
محافظت کرو سب نمازوں اور خاص بیچ والی نماز کی اور کھڑے ہو الله کے حضور ادب سے۔
محافطت کرو کہ کوئی نماز اپنے وقت سے ادھر ادھر نہ ہونے پائے بیچ والی نماز نماز عصر ہے اس وقت لوگ بازار وغیرہ کے کاموں میں زیادہ مصروف ہوتے ہیں اور وقت بھی تھوڑا ہے اس لئے اس کی خاص تاکید فرمائی۔ بیضاوی شریف علامہ ناصرالدین شافعی میں ہے :
حافظوا علی الصلوات بالاداء لوقتھا والمداومۃ علیھا ۔
نمازوں کی محافظت کرو یعنی وقت پر اداکرو اور ہمیشہ کرو۔ (ت)
مدارك شریف میں ہے :
حافظوا علی الصلوات داوموا علیھا لمواقیتھا ۔
نمازوں پر محافظت کرو یعنی ہمیشہ بروقت پڑھو۔ (ت)
ارشاد العقل السلیم میں ہے :
حافظوا علی الصلوات ای داوموا علی ادائھا لاوقاتھا من غیر اخلال بشیئ منھا ۔
نمازوں پر محافظت کرو یعنی ہمیشہ بروقت پڑھو اور ان میں کسی قسم کا خلل نہ واقع ہونے دو۔ (ت)
آیت ۳ قال العلی الاعلی تبارك وتعالی :
و الذین هم على صلوتهم یحافظون(۹) اولىك هم الورثون(۱۰) الذین یرثون الفردوس-هم فیها خلدون(۱۱)
اور وہ لوگ جو اپنی نماز کی نگہداشت کرتے ہیں کہ اسے وقت سے بے وقت نہیں ہونے دیتے وہی سچے وارث ہیں کہ جنت کی وراثت پائیں گے وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ۔
معالم شریف امام بغوی شافعی میں ہے :
یحافظون ای یداومون علی حفظھا ویراعون اوقاتھا کررذکر الصلاۃ لیتبین المحافظۃ علیھا واجبۃ ۔
محافظت کرتے ہیں یعنی ہمیشہ نگہبانی کرتے ہیں اور ان کے
حفظوا على الصلوت و الصلوة الوسطى-و قوموا لله قنتین(۲۳۸)
محافظت کرو سب نمازوں اور خاص بیچ والی نماز کی اور کھڑے ہو الله کے حضور ادب سے۔
محافطت کرو کہ کوئی نماز اپنے وقت سے ادھر ادھر نہ ہونے پائے بیچ والی نماز نماز عصر ہے اس وقت لوگ بازار وغیرہ کے کاموں میں زیادہ مصروف ہوتے ہیں اور وقت بھی تھوڑا ہے اس لئے اس کی خاص تاکید فرمائی۔ بیضاوی شریف علامہ ناصرالدین شافعی میں ہے :
حافظوا علی الصلوات بالاداء لوقتھا والمداومۃ علیھا ۔
نمازوں کی محافظت کرو یعنی وقت پر اداکرو اور ہمیشہ کرو۔ (ت)
مدارك شریف میں ہے :
حافظوا علی الصلوات داوموا علیھا لمواقیتھا ۔
نمازوں پر محافظت کرو یعنی ہمیشہ بروقت پڑھو۔ (ت)
ارشاد العقل السلیم میں ہے :
حافظوا علی الصلوات ای داوموا علی ادائھا لاوقاتھا من غیر اخلال بشیئ منھا ۔
نمازوں پر محافظت کرو یعنی ہمیشہ بروقت پڑھو اور ان میں کسی قسم کا خلل نہ واقع ہونے دو۔ (ت)
آیت ۳ قال العلی الاعلی تبارك وتعالی :
و الذین هم على صلوتهم یحافظون(۹) اولىك هم الورثون(۱۰) الذین یرثون الفردوس-هم فیها خلدون(۱۱)
اور وہ لوگ جو اپنی نماز کی نگہداشت کرتے ہیں کہ اسے وقت سے بے وقت نہیں ہونے دیتے وہی سچے وارث ہیں کہ جنت کی وراثت پائیں گے وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ۔
معالم شریف امام بغوی شافعی میں ہے :
یحافظون ای یداومون علی حفظھا ویراعون اوقاتھا کررذکر الصلاۃ لیتبین المحافظۃ علیھا واجبۃ ۔
محافظت کرتے ہیں یعنی ہمیشہ نگہبانی کرتے ہیں اور ان کے
حوالہ / References
القرآن الحکیم ۲ / ۲۳۸
انوار التنزیل المعروف تفسیر البیضاوی تحت آیۃ حافظوا علی الصلوات الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱
تفسیر النسفی المعروف تفسیر مدارك ، تحت آیۃ حافظوا علی الصلوات الخ مطبوعہ دارالکتاب العربی بیروت ۱ / ۱۲۱
ارشاد العقل السلیم تحت آیۃ حافظوا علی الصلوات الخ مطبوعہ احیاء التراث العربی ۱ / ۲۳۵
القرآن ۲۳ / ۹ و ۲۳ / ۱۰ و ۲۳ / ۱۱
تفسیر البغوی المعروف معالم التنزیل مع الخازن تحت آیۃ مذکورہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵ / ۳۳
انوار التنزیل المعروف تفسیر البیضاوی تحت آیۃ حافظوا علی الصلوات الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱
تفسیر النسفی المعروف تفسیر مدارك ، تحت آیۃ حافظوا علی الصلوات الخ مطبوعہ دارالکتاب العربی بیروت ۱ / ۱۲۱
ارشاد العقل السلیم تحت آیۃ حافظوا علی الصلوات الخ مطبوعہ احیاء التراث العربی ۱ / ۲۳۵
القرآن ۲۳ / ۹ و ۲۳ / ۱۰ و ۲۳ / ۱۱
تفسیر البغوی المعروف معالم التنزیل مع الخازن تحت آیۃ مذکورہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵ / ۳۳
اوقات کا خیال رکھتے ہیں ۔ نماز کا ذکر مکرر کیا ہے تاکہ واضح ہوجائے کہ اس کی محافظت واجب ہے۔ (ت)
آیت ۴ قال المولی الاجل عزوجل :
و الذین هم على صلاتهم یحافظون(۳۴) اولىك فی جنت مكرمون(۳۵) ۔
اور وہ لوگ کہ اپنی نماز کی محافظت کرتے ہیں ہر نماز اس کے وقت میں ادا کرتے ہیں وہ جنتوں میں عزت کئے جائیں گے۔
جلالین شریف امام جلال الملۃ والدین شافعی میں ہے : یحافظون بادائھا فی اوقاتھا (محافظت کرتے ہیں یعنی وقت پر ادا کرتے ہیں ۔ ت) نسفی شریف میں ہے :
المحافظۃ علیھا ان لاتضیع عن مواقیتھا ۔
نماز کی محافظت یہ ہے کہ اپنے اوقات سے ضائع نہ ہو۔ (ت)
آیت ۵ قال المولی تقدس وتعالی :
و الذین یؤمنون بالاخرة یؤمنون به و هم على صلاتهم یحافظون(۹۲)
اور جنہیں آخرت پر یقین ہے وہ قرآن پر ایمان لاتے ہیں اور وہ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔
کہ وقت سے باہر نہ ہوجائیں ۔ تفسیر کبیر عــہ میں ہے :
المراد بالمحافظۃ التعھد لشروطھا من وقت وطھارۃ وغیرھما والقیام علی ارکانھا واتمامھا حتی یکون ذلك دابہ فی کل وقت ۔
محافظت سے مراد یہ ہے کہ وقت اور طہارت وغیرہ تمام شروط کو ملحوظ رکھا جائے اس کے ارکان کو قائم کیا جائے اور اسے مکمل کیا جائے یہاں تك کہ جب نماز کا وقت آئے تو آدمی ان کاموں کو بطور عادت کرنے لگے۔ (ت)
عــہ : ذکرہ تحت ایۃ المؤمنون ۱۲ منہ (م)
یہ انہوں نے سورۃ مومنون ۲۳ کی آیۃ ۹ کے تحت ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
آیت ۴ قال المولی الاجل عزوجل :
و الذین هم على صلاتهم یحافظون(۳۴) اولىك فی جنت مكرمون(۳۵) ۔
اور وہ لوگ کہ اپنی نماز کی محافظت کرتے ہیں ہر نماز اس کے وقت میں ادا کرتے ہیں وہ جنتوں میں عزت کئے جائیں گے۔
جلالین شریف امام جلال الملۃ والدین شافعی میں ہے : یحافظون بادائھا فی اوقاتھا (محافظت کرتے ہیں یعنی وقت پر ادا کرتے ہیں ۔ ت) نسفی شریف میں ہے :
المحافظۃ علیھا ان لاتضیع عن مواقیتھا ۔
نماز کی محافظت یہ ہے کہ اپنے اوقات سے ضائع نہ ہو۔ (ت)
آیت ۵ قال المولی تقدس وتعالی :
و الذین یؤمنون بالاخرة یؤمنون به و هم على صلاتهم یحافظون(۹۲)
اور جنہیں آخرت پر یقین ہے وہ قرآن پر ایمان لاتے ہیں اور وہ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔
کہ وقت سے باہر نہ ہوجائیں ۔ تفسیر کبیر عــہ میں ہے :
المراد بالمحافظۃ التعھد لشروطھا من وقت وطھارۃ وغیرھما والقیام علی ارکانھا واتمامھا حتی یکون ذلك دابہ فی کل وقت ۔
محافظت سے مراد یہ ہے کہ وقت اور طہارت وغیرہ تمام شروط کو ملحوظ رکھا جائے اس کے ارکان کو قائم کیا جائے اور اسے مکمل کیا جائے یہاں تك کہ جب نماز کا وقت آئے تو آدمی ان کاموں کو بطور عادت کرنے لگے۔ (ت)
عــہ : ذکرہ تحت ایۃ المؤمنون ۱۲ منہ (م)
یہ انہوں نے سورۃ مومنون ۲۳ کی آیۃ ۹ کے تحت ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
القرآن ۷۰ / ۳۴ و ۷۰ / ۳۵
تفسیر جلالین آیہ مذکورہ کے تحت مطبوعہ مجتبائی دہلی ۲ / ۴۷۲
تفسیر النسفی آیہ مذکورہ کے تحت مطبوعہ دارالکتاب العربی بیروت ۴ / ۲۹۲
القرآن ۶ / ۹۲
التفسیر الکبیر والذین ہم علٰی صلوٰتہم یحافظون کے تحت مطبوعہ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۲۳ / ۸۱
تفسیر جلالین آیہ مذکورہ کے تحت مطبوعہ مجتبائی دہلی ۲ / ۴۷۲
تفسیر النسفی آیہ مذکورہ کے تحت مطبوعہ دارالکتاب العربی بیروت ۴ / ۲۹۲
القرآن ۶ / ۹۲
التفسیر الکبیر والذین ہم علٰی صلوٰتہم یحافظون کے تحت مطبوعہ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۲۳ / ۸۱
محافظت وقت کے یہ معنی جو ہم نے علمائے حنفیہ کے سوا ہر آیت میں علمائے شافعیہ سے نقل کئے کہ ہر نماز اپنے ہی وقت پر ہو خود احادیث میں ارشاد ہوئے جن کا ذکر عنقریب آتا ہے ان شاء الله تعالی۔
آیت ۶ قال رب العلی عزوعلا :
فخلف من بعدهم خلف اضاعوا الصلوة ۔
پھر آئے ان کے بعد وہ برے پسماندہ جنہوں نے نمازیں ضائع کیں ۔
سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہاس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : اخروھا عن مواقیتھا وصلوھا لغیر وقتھا ۔ (یہ لوگ جن کی مذمت اس آیہ کریمہ میں فرمائی گئی وہ ہیں جو نمازوں کو ان کے وقت سے ہٹاتے اور غیر وقت پر پڑھتے ہیں ) ذکرہ الامام البدر فی عمدۃ القاری باب تضییع الصلوات عن وقتھا والامام البغوی فی المعالم۔ افضل التابعین سیدنا سعید بن المسیب رضی اللہ تعالی عنہمافرماتے ہیں : ھو ان لایصلی الظھر حتی اتی العصر (نماز کا ضائع کرنا یہ ہے کہ ظہر نہ پڑھی یہاں تك کہ عصر کا وقت آگیا) اثرہ محی السنۃ۔ تفسیر انوار التنزیل میں ہے : اضاعوا الصلوۃ ترکوھا اواخروھا عن وقتھا ۔
آیت ۷ قال سبحنہ امام اعظم شانہ :
فویل للمصلین(۴) الذین هم عن صلاتهم ساهون(۵)
خرابی ہے ان نمازیوں کے لئے جو اپنی نمازوں سے غافل ہیں (کہ وقت نکال کر پڑھتے ہیں )
تفسیر جلالین میں ہے : ساھون غافلون یؤخرونھا عن وقتھا ۔ تفسیر مفاتیح الغیب میں ہے : ساھون یفید امرین اخراجھا عن الوقت وکون الانسان غافلا فیھا اس آیہ کریمہ کی یہ تفسیر خود
آیت ۶ قال رب العلی عزوعلا :
فخلف من بعدهم خلف اضاعوا الصلوة ۔
پھر آئے ان کے بعد وہ برے پسماندہ جنہوں نے نمازیں ضائع کیں ۔
سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہاس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : اخروھا عن مواقیتھا وصلوھا لغیر وقتھا ۔ (یہ لوگ جن کی مذمت اس آیہ کریمہ میں فرمائی گئی وہ ہیں جو نمازوں کو ان کے وقت سے ہٹاتے اور غیر وقت پر پڑھتے ہیں ) ذکرہ الامام البدر فی عمدۃ القاری باب تضییع الصلوات عن وقتھا والامام البغوی فی المعالم۔ افضل التابعین سیدنا سعید بن المسیب رضی اللہ تعالی عنہمافرماتے ہیں : ھو ان لایصلی الظھر حتی اتی العصر (نماز کا ضائع کرنا یہ ہے کہ ظہر نہ پڑھی یہاں تك کہ عصر کا وقت آگیا) اثرہ محی السنۃ۔ تفسیر انوار التنزیل میں ہے : اضاعوا الصلوۃ ترکوھا اواخروھا عن وقتھا ۔
آیت ۷ قال سبحنہ امام اعظم شانہ :
فویل للمصلین(۴) الذین هم عن صلاتهم ساهون(۵)
خرابی ہے ان نمازیوں کے لئے جو اپنی نمازوں سے غافل ہیں (کہ وقت نکال کر پڑھتے ہیں )
تفسیر جلالین میں ہے : ساھون غافلون یؤخرونھا عن وقتھا ۔ تفسیر مفاتیح الغیب میں ہے : ساھون یفید امرین اخراجھا عن الوقت وکون الانسان غافلا فیھا اس آیہ کریمہ کی یہ تفسیر خود
حوالہ / References
القرآن ۱۹ / ۵۹
عمدۃ القاری شرح البخاری باب تضییع الصلواۃ حدیث ۸ مطبوعۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۵ / ۱۷
تفسیر البغوی المعروف بمالم التنزیل مع الخازن تحت آیۃ مذکورہ مطبوعۃ مصطفی البابی مصر ۴ / ۲۵۲
انوار التنزیل المعروف بالبیضاوی تحت آیۃ مذکورہ مطبوعۃ مجتبائی دہلی نصف ثانی ص۹
القرآن ۱۰۷ / ۴
تفسیر جلالین تحت آیت مذکورہ مطبوعہ مجتبائی دہلی نصف ثانی ص ۵۰۵
مفاتیح الغیب تفسیر کبیر ، میدان جامع ازہر۔ مصر ۳۲ / ۱۱۵
عمدۃ القاری شرح البخاری باب تضییع الصلواۃ حدیث ۸ مطبوعۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۵ / ۱۷
تفسیر البغوی المعروف بمالم التنزیل مع الخازن تحت آیۃ مذکورہ مطبوعۃ مصطفی البابی مصر ۴ / ۲۵۲
انوار التنزیل المعروف بالبیضاوی تحت آیۃ مذکورہ مطبوعۃ مجتبائی دہلی نصف ثانی ص۹
القرآن ۱۰۷ / ۴
تفسیر جلالین تحت آیت مذکورہ مطبوعہ مجتبائی دہلی نصف ثانی ص ۵۰۵
مفاتیح الغیب تفسیر کبیر ، میدان جامع ازہر۔ مصر ۳۲ / ۱۱۵
حدیث میں وارد ہوئی کماسیاتی ان شاء الله تعالی۔
(الاحادیث) اقول وبالله التوفیق ملاجی نے تو جھوٹ ہی کہہ دیا تھا کہ احادیث جمع چودہ۱۴ صحابیوں سے مروی ہیں جنہیں خود بھی نہ گنا سکے بلکہ صراحۃ تسلیم کرگئے کہ ان میں اکثر کی روایات ان کیلئے مفید نہیں صرف چار مفید سمجھیں جن کا حال بتوفیقہ تعالی واضح ہوگیا کہ اصلا انہیں مفید نہ تھیں اب فقیر الله تعالی کہتا ہے کہ اس مبحث میں ہمارے مفید حدیثیں جو اس وقت نظر میں جلوہ فرماہیں چالیس۴۰ سے زائد ہیں کہ تئیس۲۳ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمسے مروی ہوئیں (۱) عمر فاروق (۲) علی مرتضی (۳) سعد ابن وقاص (۴) عبدالله بن مسعود (۵) عبدالله بن عباس (۶) عبدالله بن عمر (۷) عبدالله بن عمرو (۸) جابر بن عبدالله (۹) ابوذرغفاری (۱۰) ابوقتادہ انصاری (۱۱) ابودردأ (۱۲) ابوسعید خدری (۱۳) ابومسعود بدری (۱۴) بشیر بن عقبہ بن عمرو مدنی (۱۵) ابوموسی اشعری (۱۶) بریدہ اسلمی (۱۷) عبادہ بن صامت (۱۸) کعب بن عجرہ (۱۹) فضالہ زہرانی (۲۰) حنظلہ بن الربیع (۲۱) انس بن مالك (۲۲) ابوہریرہ (۲۳) ام المومنین صدیقہ بنت الصدیق صلی الله تعالی علی بعلہا وابیہا وعلیہا وعلیہم اجمعین وبارك وسلم۔ ان میں سات۷ حدیثیں اور مولی المسلمین ومحبوبہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی روایتیں تو جمع صوری میں گزریں باقی اکیس۲۱ صحابہ سے چھتیس۳۶ حدیثیں بتوفیقہ تعالی یہاں سنےے ملاجی کی طرح اگر مجملات کو بھی شامل کرلیجئے اور واقعی ہمیں اس کا استحقاق بروجہ حق وصحیح حاصل تو معاذ(۲۴) بن جبل واسامہ(۲۵) بن زید رضی اللہ تعالی عنہمکو ملاکر عدد صحابہ پچیس۲۵ اور احادیث مجملہ شامل کرکے شمار احادیث پچاس۵۰ سے زائد ہوگا خیر یہاں جو حدیثیں ہمیں لکھنی ہیں وہ چند نوع ہیں :
نوع اول : احادیث محافظت وقت اور اس کی ترغیب اور اس کے ترك سے ترہیب۔
حدیث ۱ : امام احمد بسند صحیح حضرت حنظلہ کاتب رضی اللہ تعالی عنہسے راوی : قال : سمعت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یقول : من حافظ علی الصلوات الخمس رکوعھن وسجودھن ومواقیتھن وعلم انھن حق من عند اللہ دخل الجنۃ اوقال : وجبت لہ الجنۃ اوقال : حرم علی النار ۔ (یعنی میں نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو فرماتے سنا کہ جو شخص ان پانچوں نمازوں کی ان کے رکوع وسجود واوقات پر محافظت کرے اور یقین جانے کہ وہ الله جل وعلا کی طرف سے ہیں جنت میں جائے یا فرمایا جنت اس کے لئے واجب ہوجائے یا فرمایا دوزخ پر حرام ہوجائے)
حدیث ۲ : ابوداؤد وسنن اور طبرانی معجم میں بسند جید ابودردأ رضی اللہ تعالی عنہسے راوی حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
خمس من جاء بھن مع ایمان دخل الجنۃ من حافظ علی الصلوات الخمس علی وضوئھن ورکوعھن وسجودھن ومواقیتھن ۔ عـــہ۱ الحدیث۔
پانچ چیزیں ہیں کہ جو انہیں ایمان کے ساتھ لائےگا جنت میں جائے گا جو پنجگانہ نمازوں کی ان کے وضو ان کے
(الاحادیث) اقول وبالله التوفیق ملاجی نے تو جھوٹ ہی کہہ دیا تھا کہ احادیث جمع چودہ۱۴ صحابیوں سے مروی ہیں جنہیں خود بھی نہ گنا سکے بلکہ صراحۃ تسلیم کرگئے کہ ان میں اکثر کی روایات ان کیلئے مفید نہیں صرف چار مفید سمجھیں جن کا حال بتوفیقہ تعالی واضح ہوگیا کہ اصلا انہیں مفید نہ تھیں اب فقیر الله تعالی کہتا ہے کہ اس مبحث میں ہمارے مفید حدیثیں جو اس وقت نظر میں جلوہ فرماہیں چالیس۴۰ سے زائد ہیں کہ تئیس۲۳ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمسے مروی ہوئیں (۱) عمر فاروق (۲) علی مرتضی (۳) سعد ابن وقاص (۴) عبدالله بن مسعود (۵) عبدالله بن عباس (۶) عبدالله بن عمر (۷) عبدالله بن عمرو (۸) جابر بن عبدالله (۹) ابوذرغفاری (۱۰) ابوقتادہ انصاری (۱۱) ابودردأ (۱۲) ابوسعید خدری (۱۳) ابومسعود بدری (۱۴) بشیر بن عقبہ بن عمرو مدنی (۱۵) ابوموسی اشعری (۱۶) بریدہ اسلمی (۱۷) عبادہ بن صامت (۱۸) کعب بن عجرہ (۱۹) فضالہ زہرانی (۲۰) حنظلہ بن الربیع (۲۱) انس بن مالك (۲۲) ابوہریرہ (۲۳) ام المومنین صدیقہ بنت الصدیق صلی الله تعالی علی بعلہا وابیہا وعلیہا وعلیہم اجمعین وبارك وسلم۔ ان میں سات۷ حدیثیں اور مولی المسلمین ومحبوبہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی روایتیں تو جمع صوری میں گزریں باقی اکیس۲۱ صحابہ سے چھتیس۳۶ حدیثیں بتوفیقہ تعالی یہاں سنےے ملاجی کی طرح اگر مجملات کو بھی شامل کرلیجئے اور واقعی ہمیں اس کا استحقاق بروجہ حق وصحیح حاصل تو معاذ(۲۴) بن جبل واسامہ(۲۵) بن زید رضی اللہ تعالی عنہمکو ملاکر عدد صحابہ پچیس۲۵ اور احادیث مجملہ شامل کرکے شمار احادیث پچاس۵۰ سے زائد ہوگا خیر یہاں جو حدیثیں ہمیں لکھنی ہیں وہ چند نوع ہیں :
نوع اول : احادیث محافظت وقت اور اس کی ترغیب اور اس کے ترك سے ترہیب۔
حدیث ۱ : امام احمد بسند صحیح حضرت حنظلہ کاتب رضی اللہ تعالی عنہسے راوی : قال : سمعت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یقول : من حافظ علی الصلوات الخمس رکوعھن وسجودھن ومواقیتھن وعلم انھن حق من عند اللہ دخل الجنۃ اوقال : وجبت لہ الجنۃ اوقال : حرم علی النار ۔ (یعنی میں نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو فرماتے سنا کہ جو شخص ان پانچوں نمازوں کی ان کے رکوع وسجود واوقات پر محافظت کرے اور یقین جانے کہ وہ الله جل وعلا کی طرف سے ہیں جنت میں جائے یا فرمایا جنت اس کے لئے واجب ہوجائے یا فرمایا دوزخ پر حرام ہوجائے)
حدیث ۲ : ابوداؤد وسنن اور طبرانی معجم میں بسند جید ابودردأ رضی اللہ تعالی عنہسے راوی حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
خمس من جاء بھن مع ایمان دخل الجنۃ من حافظ علی الصلوات الخمس علی وضوئھن ورکوعھن وسجودھن ومواقیتھن ۔ عـــہ۱ الحدیث۔
پانچ چیزیں ہیں کہ جو انہیں ایمان کے ساتھ لائےگا جنت میں جائے گا جو پنجگانہ نمازوں کی ان کے وضو ان کے
حوالہ / References
مسند امام احمد بن حنبل حدیث حنظلہ کاتب الاسدی مطبوعہ دارالفکر بیروت ۴ / ۲۶۷
سنن ابی داؤد حدیث نمبر ۴۲۹ دار احیاء السنۃ مصر ۱ / ۱۱۶ و ۱۱۷
سنن ابی داؤد حدیث نمبر ۴۲۹ دار احیاء السنۃ مصر ۱ / ۱۱۶ و ۱۱۷
رکوع ان کے سجود ان کے اوقات پر محافظت کرے (اور روزہ وحج وزکوۃ وغسل جنابت بجالائے)
حدیث ۳ : امام مالك وابوداؤد ونسائی وابن حبان اپنی صحاح میں عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہسے راوی حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
خمس صلوات افترضھن الله تعالی من احسن وضوء ھن وصلاھن لوقتھن واتم رکوعھن وخشوعھن کان لہ علی الله عھدان غفرلہ ومن لم یفعل فلیس لہ علی الله عھد ان شاء غفرلہ وان شاء عذبہ ۔ ھذا لفظ ابی داود عـــہ ۲
پانچ نمازیں الله تعالی نے فرض کی ہیں جو ان کا وضو اچھی طرح کرے اور انہیں ان کے وقت پر پڑھے اور ان کا رکوع وخشوع پورا کرے اس کے لئے الله عزوجل پر عہد ہے کہ اسے بخش دے اور جو ایسا نہ کرے تو اس کے لئے الله تعالی پر کچھ عہد نہیں چاہے بخشے چاہے عذاب کرے۔ یہ الفاظ ابوداؤد کے ہیں ۔ (ت)
حدیث ۴ : ابوداود طریق ابن الاعرابی میں حضرت قتادہ بن ربعی انصاری رضی اللہ تعالی عنہسے راوی حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں الله عزوجل فرماتا ہے :
انی فرضت علی امتك خمس صلوات وعھدت عندی عہد انہ من جاء یحافظ علیھن لوقتھن ادخلتہ الجنۃ ومن لم یحافظ علیھن فلاعھد لہ عندی ۔
میں نے تیری امت پر پانچ نمازیں فرض کیں اور اپنے پاس عہد مقرر کرلیا جو ان کے وقتوں پر ان کی محافظت کرتا آئے گا اسے جنت میں داخل کروں گا اور جو محافظت نہ کرے گا اس کے لئے میرے پاس کچھ عہد نہیں ۔
عــــہ۱ تمامہ وصام رمضان وحج البیت ان استطاع الیہ سبیلا واعطی الزکوۃ طیبۃ بھانفسہ وادی الامانۃ قالوا : یا اباالدرداء مااداء الامانۃ قال : الغسل من الجنابۃ ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م) (اس کا ترجمہ متن میں موجود ہے)
عـــہ۲ واوردہ المنذری عن فزاد : وسجودھن بعد قولہ : رکوعھن ولیس فی شیئ من نسخ السنن التی عندی وقدقال العلامۃ ابرھیم الحلبی فی غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مانصہ : اما لفظ “ وسجودھن “ بعد “ رکوعھن “ فغیر ثابت الخ ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
منذری نے بھی ابوداؤد سے اس روایت کو لیا ہے مگر اس نے رکوعھن کے بعد سجودھن کے لفظ بڑھادئے ہیں حالانکہ ابوداود کے میرے پاس موجود نسخوں میں سجودھن نہیں ہے اور ابراہیم حلبی نے غنیۃ المستملی میں تصریح کی ہے کہ رکوعھن کے بعد سجودھن کا لفظ ثابت نہیں ہے۔ (ت)
حدیث ۳ : امام مالك وابوداؤد ونسائی وابن حبان اپنی صحاح میں عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہسے راوی حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
خمس صلوات افترضھن الله تعالی من احسن وضوء ھن وصلاھن لوقتھن واتم رکوعھن وخشوعھن کان لہ علی الله عھدان غفرلہ ومن لم یفعل فلیس لہ علی الله عھد ان شاء غفرلہ وان شاء عذبہ ۔ ھذا لفظ ابی داود عـــہ ۲
پانچ نمازیں الله تعالی نے فرض کی ہیں جو ان کا وضو اچھی طرح کرے اور انہیں ان کے وقت پر پڑھے اور ان کا رکوع وخشوع پورا کرے اس کے لئے الله عزوجل پر عہد ہے کہ اسے بخش دے اور جو ایسا نہ کرے تو اس کے لئے الله تعالی پر کچھ عہد نہیں چاہے بخشے چاہے عذاب کرے۔ یہ الفاظ ابوداؤد کے ہیں ۔ (ت)
حدیث ۴ : ابوداود طریق ابن الاعرابی میں حضرت قتادہ بن ربعی انصاری رضی اللہ تعالی عنہسے راوی حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں الله عزوجل فرماتا ہے :
انی فرضت علی امتك خمس صلوات وعھدت عندی عہد انہ من جاء یحافظ علیھن لوقتھن ادخلتہ الجنۃ ومن لم یحافظ علیھن فلاعھد لہ عندی ۔
میں نے تیری امت پر پانچ نمازیں فرض کیں اور اپنے پاس عہد مقرر کرلیا جو ان کے وقتوں پر ان کی محافظت کرتا آئے گا اسے جنت میں داخل کروں گا اور جو محافظت نہ کرے گا اس کے لئے میرے پاس کچھ عہد نہیں ۔
عــــہ۱ تمامہ وصام رمضان وحج البیت ان استطاع الیہ سبیلا واعطی الزکوۃ طیبۃ بھانفسہ وادی الامانۃ قالوا : یا اباالدرداء مااداء الامانۃ قال : الغسل من الجنابۃ ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م) (اس کا ترجمہ متن میں موجود ہے)
عـــہ۲ واوردہ المنذری عن فزاد : وسجودھن بعد قولہ : رکوعھن ولیس فی شیئ من نسخ السنن التی عندی وقدقال العلامۃ ابرھیم الحلبی فی غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مانصہ : اما لفظ “ وسجودھن “ بعد “ رکوعھن “ فغیر ثابت الخ ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
منذری نے بھی ابوداؤد سے اس روایت کو لیا ہے مگر اس نے رکوعھن کے بعد سجودھن کے لفظ بڑھادئے ہیں حالانکہ ابوداود کے میرے پاس موجود نسخوں میں سجودھن نہیں ہے اور ابراہیم حلبی نے غنیۃ المستملی میں تصریح کی ہے کہ رکوعھن کے بعد سجودھن کا لفظ ثابت نہیں ہے۔ (ت)
حوالہ / References
سنن ابی داؤد حدیث نمبر ۴۲۵ داراحیاء السنۃ مصر ۱ / ۱۱۵
سنن ابی داؤد حدیث نمبر ۴۳۰ داراحیاء السنۃ النبویۃ مصر ۱ / ۱۱۷
الترغیب والترہیب فی الصلوٰت الخمس الخ حدیث نمبر ۲۶ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۲
غنیۃ المستملی مقدمہ کتاب سہیل اکیڈمی لاہور ص ۱۲
سنن ابی داؤد حدیث نمبر ۴۳۰ داراحیاء السنۃ النبویۃ مصر ۱ / ۱۱۷
الترغیب والترہیب فی الصلوٰت الخمس الخ حدیث نمبر ۲۶ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۲
غنیۃ المستملی مقدمہ کتاب سہیل اکیڈمی لاہور ص ۱۲
حدیث ۵ : دارمی حضرت کعب ابن عجرہ رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماپنے رب جل وعلا سے روایت فرماتے ہیں وہ ارشاد کرتا ہے :
من صلی الصلاۃ لوقتھا فاقام حدھا کان لہ علی عھد ا دخلہ الجنۃ ومن لم یصل الصلاۃ لوقتھا ولم یقم حدھا لم یکن لہ عندی عھدان شئت ادخلتہ النار وان شئت ادخلتہ الجنۃ ۔
جو نماز اس کے وقت میں ٹھیك ٹھیك ادا کرے اس کے لئے مجھ پر عہد ہے کہ اسے جنت میں داخل فرماؤں اور جو وقت میں نہ پڑھے اور ٹھیك ادا نہ کرے اس کے لئے میرے پاس کوئی عہد نہیں چاہوں اسے دوزخ میں لے جاؤں اور چاہوں تو جنت میں ۔
حدیث ۶ : طبرانی بسند صالح عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے راوی ایك دن حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمسے فرمایا : جانتے ہو تمہارا رب کیا فرماتا ہے عرض کی : خدا ورسول خوب دانا ہیں ۔ فرمایا : جانتے ہو تمہارا رب کیا فرماتا ہے عرض کی : خدا ورسول خوب دانا ہیں ۔ فرمایا : جانتے ہو تمہارا رب کیا فرماتا ہے عرض کی : خدا ورسول خوب دانا ہیں ۔ فرمایا : تمہارا رب جل وعلا فرماتا ہے :
وعزتی وجلالی لایصلیھا عبد لوقتھا الاادخلتہ الجنۃ ومن صلاھا لغیر وقتھا ان شئت رحمتہ وان شئت عذبتہ ۔
مجھے اپنے عزت وجلال کی قسم جو شخص نماز وقت پر پڑھے گا اسے جنت میں داخل فرماؤں گا اور جو اس کے غیر وقت میں پڑھے گا چاہوں اس پر رحم کروں چاہوں عذاب۔
حدیث ۷ : نیز طبرانی اوسط میں انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
من صلی الصلواۃ لوقتھا واسبغ لھا وضؤھا واتم لھا قیامھا وخشوعھا ورکوعھا و سجودھا خرجت وھی بیضا مسفرۃ تقول حفظك الله کماحفظتنی ومن صلا الصلوۃ لغیر وقتھا فلم یسبغ لھا وضؤھا ولم یتم لھا خشوعھا ولارکوعھا ولاسجودھا خرجت وھی سوداء مظلمۃ تقول ضیعك الله کما ضیعتنی حتی اذاکانت حیث شاء الله لفت کمایلف الثوب الخلق ثم ضرب بھا وجھہ
جو پانچوں نمازیں اپنے اپنے وقتوں پر پڑھے ان کا وضو وقیام وخشوع ورکوع وسجود پورا کرے وہ نماز
من صلی الصلاۃ لوقتھا فاقام حدھا کان لہ علی عھد ا دخلہ الجنۃ ومن لم یصل الصلاۃ لوقتھا ولم یقم حدھا لم یکن لہ عندی عھدان شئت ادخلتہ النار وان شئت ادخلتہ الجنۃ ۔
جو نماز اس کے وقت میں ٹھیك ٹھیك ادا کرے اس کے لئے مجھ پر عہد ہے کہ اسے جنت میں داخل فرماؤں اور جو وقت میں نہ پڑھے اور ٹھیك ادا نہ کرے اس کے لئے میرے پاس کوئی عہد نہیں چاہوں اسے دوزخ میں لے جاؤں اور چاہوں تو جنت میں ۔
حدیث ۶ : طبرانی بسند صالح عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے راوی ایك دن حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمسے فرمایا : جانتے ہو تمہارا رب کیا فرماتا ہے عرض کی : خدا ورسول خوب دانا ہیں ۔ فرمایا : جانتے ہو تمہارا رب کیا فرماتا ہے عرض کی : خدا ورسول خوب دانا ہیں ۔ فرمایا : جانتے ہو تمہارا رب کیا فرماتا ہے عرض کی : خدا ورسول خوب دانا ہیں ۔ فرمایا : تمہارا رب جل وعلا فرماتا ہے :
وعزتی وجلالی لایصلیھا عبد لوقتھا الاادخلتہ الجنۃ ومن صلاھا لغیر وقتھا ان شئت رحمتہ وان شئت عذبتہ ۔
مجھے اپنے عزت وجلال کی قسم جو شخص نماز وقت پر پڑھے گا اسے جنت میں داخل فرماؤں گا اور جو اس کے غیر وقت میں پڑھے گا چاہوں اس پر رحم کروں چاہوں عذاب۔
حدیث ۷ : نیز طبرانی اوسط میں انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
من صلی الصلواۃ لوقتھا واسبغ لھا وضؤھا واتم لھا قیامھا وخشوعھا ورکوعھا و سجودھا خرجت وھی بیضا مسفرۃ تقول حفظك الله کماحفظتنی ومن صلا الصلوۃ لغیر وقتھا فلم یسبغ لھا وضؤھا ولم یتم لھا خشوعھا ولارکوعھا ولاسجودھا خرجت وھی سوداء مظلمۃ تقول ضیعك الله کما ضیعتنی حتی اذاکانت حیث شاء الله لفت کمایلف الثوب الخلق ثم ضرب بھا وجھہ
جو پانچوں نمازیں اپنے اپنے وقتوں پر پڑھے ان کا وضو وقیام وخشوع ورکوع وسجود پورا کرے وہ نماز
حوالہ / References
سنن الدارمی ، باب استحبا ب الصلٰوۃ فی اول الوقت حدیث ۱۲۲۸ مطبوعہ نشر السنۃ ملتان ۱ / ۲۲۳
المعجم الکبیر للطبرانی حدیث ۱۰۵۵۵ مطبوعۃ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۰ / ۲۸۱
معجم اوسط حدیث نمبر ۳۱۱۹ مکتبہ المعارف ریاض ۴ / ۸۶
المعجم الکبیر للطبرانی حدیث ۱۰۵۵۵ مطبوعۃ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۰ / ۲۸۱
معجم اوسط حدیث نمبر ۳۱۱۹ مکتبہ المعارف ریاض ۴ / ۸۶
سفید روشن ہوکر یہ کہتی نکلے کہ الله تیری نگہبانی فرمائے جس طرح تونے میری حفاظت کی اور جو غیر وقت پر پڑھے اور وضو وخشوع ورکوع وسجود پورا نہ کرے وہ نماز سیاہ تاریك ہوکر یہ کہتی نکلے کہ الله تجھے ضائع کرے جس طرح تونے مجھے ضائع کیا یہاں تك کہ جب اس مقام پر پہنچے جہاں تك الله عزوجل چاہے پرانے چیتھڑے کی طرح لپیٹ کر اس کے منہ پر ماری جائے (والعیاذ بالله رب العالمین)
حدیث ۸ : ابو داؤد حضرت فضالہ زہرانی رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
قال علمنی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فکان فیما علمنی وحافظ علی الصلوات الخمس ۔
مجھے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے مسائل دین تعلیم فرمائے ان میں یہ بھی تعلیم فرمایا کہ نماز پنجگانہ کی محافظت کر۔
حدیث ۹ : بخاری مسلم ترمذی نسائی دارمی عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
قال سألت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ای العمل احب الی الله قال الصلاۃ علی وقتھا ۔
میں نے سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے پوچھا سب میں زیادہ کیا عمل الله عزوجل کو پیارا ہے فرمایا نماز اس کے وقت پر ادا کرنا۔
حدیث ۱۰ : بیہقی شعب الایمان میں بطریق عکرمہ امیر المؤمنین عمرفاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
قال جاء رجل فقال یارسول الله ای شیئ احب الی الله فی الاسلام قال الصلاۃ لوقتھا ومن ترك الصلاۃ فلادین لہ والصلاۃ عماد الدین ۔
ایك شخص نے خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیں حاضر ہوکر عرض کی یارسول اللہ! اسلام میں سب سے زیادہ کیا چیز الله تعالی کو پیاری ہے فرمایا : نماز وقت پر پڑھنی جس نے نماز چھوڑی اس کیلئے دین نہ رہا نماز دین کا ستون ہے۔
حدیث ۸ : ابو داؤد حضرت فضالہ زہرانی رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
قال علمنی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فکان فیما علمنی وحافظ علی الصلوات الخمس ۔
مجھے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے مسائل دین تعلیم فرمائے ان میں یہ بھی تعلیم فرمایا کہ نماز پنجگانہ کی محافظت کر۔
حدیث ۹ : بخاری مسلم ترمذی نسائی دارمی عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
قال سألت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ای العمل احب الی الله قال الصلاۃ علی وقتھا ۔
میں نے سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے پوچھا سب میں زیادہ کیا عمل الله عزوجل کو پیارا ہے فرمایا نماز اس کے وقت پر ادا کرنا۔
حدیث ۱۰ : بیہقی شعب الایمان میں بطریق عکرمہ امیر المؤمنین عمرفاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
قال جاء رجل فقال یارسول الله ای شیئ احب الی الله فی الاسلام قال الصلاۃ لوقتھا ومن ترك الصلاۃ فلادین لہ والصلاۃ عماد الدین ۔
ایك شخص نے خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیں حاضر ہوکر عرض کی یارسول اللہ! اسلام میں سب سے زیادہ کیا چیز الله تعالی کو پیاری ہے فرمایا : نماز وقت پر پڑھنی جس نے نماز چھوڑی اس کیلئے دین نہ رہا نماز دین کا ستون ہے۔
حوالہ / References
سن ابی داؤد باب المحافظہ علے الصلوات مطبوعہ مجتبائی پاکستان ۱ / ۶۱
بخاری شریف باب فضل الصلٰوۃ لوقتہا مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۷۶
شعب الایمان باب فی الصلوات حدیث ۲۸۰۷ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان ۳ / ۳۹
بخاری شریف باب فضل الصلٰوۃ لوقتہا مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۷۶
شعب الایمان باب فی الصلوات حدیث ۲۸۰۷ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان ۳ / ۳۹
حدیث ۱۱ : طبرانی معجم اوسط میں انس رضی اللہ تعالی عنہسے راوی حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
ثلث من حفظھن فھو ولی حقا ومن ضیعھن فھو عدوی حقا الصلاۃ والصیام والجنابۃ ۔
تین۳ چیزیں ہیں کہ جو ان کی حفاظت کرے وہ سچا ولی ہے اور جو انہیں ضائع کرے وہ پکا دشمن نماز اور روزے اور غسل جنابت۔
حدیث ۱۲ : امام مالك مؤطا میں نافع سے راوی :
ان عمر بن الخطاب رضی الله تعالی عنہ کتب الی عمالہ ان اھم امرکم عندی الصلاۃ فمن حفظھا وحافظ علیھا حفظ دینہ ومن ضیعھا فھو لماسواھا اضیع الحدیث ۔
امیرالمومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہنے اپنے عاملوں کو فرمان بھیجے کہ تمہارے کاموں میں مجھے زیادہ فکر نماز کی ہے جو اسے حفظ اور اس پر محافظت کرے اس نے اپنے دین کی حفاظت کرلی اور جس نے اسے ضائع کیا وہ اور کاموں کو زیادہ تر ضائع کرے گا۔
(نوع آخر) حدیث امامت جبریل علیہ الصلوۃ والسلام جس میں انہوں نے ہر نماز کے لئے جدا وقت معین کیا۔
حدیث ۱۳ : بخاری ومسلم صحاح اور امام مالك وامام ابن ابی ذئب مؤطا اور ابومحمد عبدالله دارمی مسند میں حضرت ابومسعود نصاری رضی اللہ تعالی عنہسے راوی جبریل نے بعد تعیین اوقات عرض کی : بھذا امرت (اسی کا حضور کو حکم دیا گیا ہے)۔
ابن ابی ذئب کے لفظ یوں ہیں : عن ابن شھاب انہ سمع عروۃ بن الزبیر یحدث عمر بن عبدالعزیز عن ابی مسعود الانصاری ان المغیرۃ بن شعبۃ اخر الصلاۃ فدخل علیہ ابومسعود فقال ان جبریل نزل علی محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم فصلی وصلی وصلی وصلی وصلی ثم صلی ثم صلی ثم صلی ثم صلی ثم صلی ثم قال ھکذا امرت
(یعنی جبریل امین نے دونوں روز امامت سے تعیین اوقات کرکے عرض کی : ایسا ہی حضور کو حکم ہے)۔ مسند امام ابن راہویہ میں مطول ومفصل ہے فی اخرہ ثم قال جبریل مابین ھذین وقت صلاۃ (پھر جبریل نے عرض کی ان دونوں کے درمیان وقت نماز ہے)۔
حدیث ۱۴ : دارقطنی وطبرانی وابوعمر بن عبدالبر ابومسعود وبشیر بن ابی مسعود دونوں صحابیوں رضی اللہ تعالی عنہماسے
ثلث من حفظھن فھو ولی حقا ومن ضیعھن فھو عدوی حقا الصلاۃ والصیام والجنابۃ ۔
تین۳ چیزیں ہیں کہ جو ان کی حفاظت کرے وہ سچا ولی ہے اور جو انہیں ضائع کرے وہ پکا دشمن نماز اور روزے اور غسل جنابت۔
حدیث ۱۲ : امام مالك مؤطا میں نافع سے راوی :
ان عمر بن الخطاب رضی الله تعالی عنہ کتب الی عمالہ ان اھم امرکم عندی الصلاۃ فمن حفظھا وحافظ علیھا حفظ دینہ ومن ضیعھا فھو لماسواھا اضیع الحدیث ۔
امیرالمومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہنے اپنے عاملوں کو فرمان بھیجے کہ تمہارے کاموں میں مجھے زیادہ فکر نماز کی ہے جو اسے حفظ اور اس پر محافظت کرے اس نے اپنے دین کی حفاظت کرلی اور جس نے اسے ضائع کیا وہ اور کاموں کو زیادہ تر ضائع کرے گا۔
(نوع آخر) حدیث امامت جبریل علیہ الصلوۃ والسلام جس میں انہوں نے ہر نماز کے لئے جدا وقت معین کیا۔
حدیث ۱۳ : بخاری ومسلم صحاح اور امام مالك وامام ابن ابی ذئب مؤطا اور ابومحمد عبدالله دارمی مسند میں حضرت ابومسعود نصاری رضی اللہ تعالی عنہسے راوی جبریل نے بعد تعیین اوقات عرض کی : بھذا امرت (اسی کا حضور کو حکم دیا گیا ہے)۔
ابن ابی ذئب کے لفظ یوں ہیں : عن ابن شھاب انہ سمع عروۃ بن الزبیر یحدث عمر بن عبدالعزیز عن ابی مسعود الانصاری ان المغیرۃ بن شعبۃ اخر الصلاۃ فدخل علیہ ابومسعود فقال ان جبریل نزل علی محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم فصلی وصلی وصلی وصلی وصلی ثم صلی ثم صلی ثم صلی ثم صلی ثم صلی ثم قال ھکذا امرت
(یعنی جبریل امین نے دونوں روز امامت سے تعیین اوقات کرکے عرض کی : ایسا ہی حضور کو حکم ہے)۔ مسند امام ابن راہویہ میں مطول ومفصل ہے فی اخرہ ثم قال جبریل مابین ھذین وقت صلاۃ (پھر جبریل نے عرض کی ان دونوں کے درمیان وقت نماز ہے)۔
حدیث ۱۴ : دارقطنی وطبرانی وابوعمر بن عبدالبر ابومسعود وبشیر بن ابی مسعود دونوں صحابیوں رضی اللہ تعالی عنہماسے
حوالہ / References
معجم اوسط حدیث ۸۹۵۶ مکتب المعارف ریاض ۹ / ۴۴۵
مؤطا امام مالك وقوت الصلواۃ مطبوعہ میر محمد کتب خانہ کراچی ص ۵
بخاری شریف کتاب مواقیت الصلوات مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۷۵
شرح الزرقانی علی المؤطا باب وقوت الصلٰوۃ مطبوعہ المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ۱ / ۱۵
نصب الرایۃ بحوالہ سند ابن راہویۃ باب المواقیت مکتبہ اسلامیہ ریاض الشیخ ۱ / ۲۲۳
مؤطا امام مالك وقوت الصلواۃ مطبوعہ میر محمد کتب خانہ کراچی ص ۵
بخاری شریف کتاب مواقیت الصلوات مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۷۵
شرح الزرقانی علی المؤطا باب وقوت الصلٰوۃ مطبوعہ المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ۱ / ۱۵
نصب الرایۃ بحوالہ سند ابن راہویۃ باب المواقیت مکتبہ اسلامیہ ریاض الشیخ ۱ / ۲۲۳
راوی جبریل نے عرض کی : مابین ھذین وقت یعنی امس والیوم۔ (کل اور آج کے وقتوں کے درمیان ہر نماز کا وقت ہے )۔
حدیث ۱۵ : ابوداؤد ترمذی شافعی طحاوی ابن حبان حاکم حضرت عبدالله بن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے راوی جبریل نے گزارش کی : الوقت مابین ھذین الوقتین (وقت وہ ہے جو ان دو وقتوں کے درمیان ہے)۔
حدیث ۱۶ : نسائی وطحاوی وحاکم وبزار ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے راوی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا جبریل نے عرض کی : الصلاۃ مابین صلاتك امس وصلاتك الیوم (نماز دیر وزہ و امروزہ کے بیچ میں نماز ہے)
بزار کے یہاں ہے : ثم قال مابین ھذین وقت (ان دو کے اندر وقت ہے)
حدیث ۱۷ : نسائی واحمد واسحق وابن حبان وحاکم جابر بن عبدالله رضی اللہ تعالی عنہماسے راوی جبریل نے گزارش کی : مابین ھاتین الصلاتین وقت (ان دو نمازوں کے اندر وقت ہے)
حدیث ۱۸ : طحاوی ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہسے راوی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا جبریل نے گزارش کی : الصلاۃ فیما بین ھذین الوقتین (نماز ان دو۲ وقتوں کے درمیان ہے)۔
(نوع آخر) حدیث سائل جسے حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے امامتیں فرماکر ہر نماز کا اول وآخر وقت بتایا۔
حدیث ۱۹ : مسلم ترمذی نسائی ابن ماجہ طحاوی حضرت بریدہ رضی اللہ تعالی عنہسے راوی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : وقت صلاتکم بین مارأیتم (تمہاری نماز کا وقت اس کے درمیان ہے جو تم نے دیکھا)۔
مسلم کے دوسرے طریق میں ہے : مابین مارأیت وقت (اے سائل جو تونے دیکھا اس کے اندر وقت ہے)
حدیث ۱۵ : ابوداؤد ترمذی شافعی طحاوی ابن حبان حاکم حضرت عبدالله بن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے راوی جبریل نے گزارش کی : الوقت مابین ھذین الوقتین (وقت وہ ہے جو ان دو وقتوں کے درمیان ہے)۔
حدیث ۱۶ : نسائی وطحاوی وحاکم وبزار ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے راوی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا جبریل نے عرض کی : الصلاۃ مابین صلاتك امس وصلاتك الیوم (نماز دیر وزہ و امروزہ کے بیچ میں نماز ہے)
بزار کے یہاں ہے : ثم قال مابین ھذین وقت (ان دو کے اندر وقت ہے)
حدیث ۱۷ : نسائی واحمد واسحق وابن حبان وحاکم جابر بن عبدالله رضی اللہ تعالی عنہماسے راوی جبریل نے گزارش کی : مابین ھاتین الصلاتین وقت (ان دو نمازوں کے اندر وقت ہے)
حدیث ۱۸ : طحاوی ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہسے راوی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا جبریل نے گزارش کی : الصلاۃ فیما بین ھذین الوقتین (نماز ان دو۲ وقتوں کے درمیان ہے)۔
(نوع آخر) حدیث سائل جسے حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے امامتیں فرماکر ہر نماز کا اول وآخر وقت بتایا۔
حدیث ۱۹ : مسلم ترمذی نسائی ابن ماجہ طحاوی حضرت بریدہ رضی اللہ تعالی عنہسے راوی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : وقت صلاتکم بین مارأیتم (تمہاری نماز کا وقت اس کے درمیان ہے جو تم نے دیکھا)۔
مسلم کے دوسرے طریق میں ہے : مابین مارأیت وقت (اے سائل جو تونے دیکھا اس کے اندر وقت ہے)
حوالہ / References
مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی الکبیر باب بیان الوقت دارالکتاب بیروت ۱ / ۳۰۵
جامع الترمذی باب ماجاء فی مواقیت الصلوات مطبوعہ رشیدیہ امین کمپنی دہلی ۱ / ۲۱
سُنن النسائی کتاب المواقیت آخر وقت الظہر مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۵۹
کشف الاستار عن زوائد البزار باب ای حین یصلی مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ / ۱۸۷
سُنن النسائی کتاب المواقیت ا خر وقت العصر مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۶۱
شرح معانی الاثار باب مواقیت الصلوات مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۲
صحیح مسلم باب اوقات الصلوات الخمس مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۲۳
صحیح مسلم باب اوقات الصلوات الخمس مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۲۳
جامع الترمذی باب ماجاء فی مواقیت الصلوات مطبوعہ رشیدیہ امین کمپنی دہلی ۱ / ۲۱
سُنن النسائی کتاب المواقیت آخر وقت الظہر مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۵۹
کشف الاستار عن زوائد البزار باب ای حین یصلی مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ / ۱۸۷
سُنن النسائی کتاب المواقیت ا خر وقت العصر مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۶۱
شرح معانی الاثار باب مواقیت الصلوات مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۲
صحیح مسلم باب اوقات الصلوات الخمس مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۲۳
صحیح مسلم باب اوقات الصلوات الخمس مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۲۳
ترمذی کے یہاں یوں ہے : مواقیت الصلاۃ کمابین ھذین (نمازوں کے وقت ایسے ہیں جیسے ان دو۲ کے درمیان)۔
حدیث ۲۰ : مسلم ابی داود نسائی ابن ابان طحاوی حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہسے راوی حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : الوقت بین ھذین (وقت ان دو۲ کے درمیان ہے)
حدیث ۲۱ : طحاوی بطریق عطاء بن ابی رباح بعض صحابہ یعنی جابر بن عبدالله رضی اللہ تعالی عنہماسے اور امام عیسی بن ابان بلفظ عن عطاء بن ابی رباح قال بلغنی ان رجلا اتی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم راوی حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : بین صلاتی فی ھذین الوقتین کلہ (جن دو۲ وقتوں پر میں نے نمازیں پڑھیں ان کے اندر اندر سب وقت ہے) ولفظ الحجج ثم قال مابینھما وقت (اور کتاب الحجج کے الفاظ یہ ہیں : پھر فرمایا ان دونوں کے درمیان وقت ہے)۔
حدیث ۲۲ : مالك ونسائی وبزار حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہسے راوی حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : مابین ھذین وقت (ان دو۲ کے درمیان وقت ہے)۔ وفیہ الاقتصار علی ذکر الفجر فکانہ مختصر قلت فقد رواہ الدار قطنی فی سننہ من حدیث قتادۃ عن انس مطولا والله تعالی اعلم (اس روایت میں صرف فجر کا ذکر ہے شاید اس میں اختصار ہے میں نے کہا دارقطنی نے اپنے سنن میں سے انس سے بروایت قتادہ مفصل ذکر کیا ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
(نوع آخر) حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی پیشگوئی کہ کچھ لوگ وقت گزار کر نماز پڑھیں گے تم ان کا اتباع نہ کرنا اسے مطلق فرمایا کچھ سفر وحضر کی تخصیص ارشاد نہ ہوئی۔
حدیث ۲۳ : مسلم ابوداؤد ترمذی نسائی احمد دارمی حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
قال قال رسول الله تعالی علیہ وسلم وضرب فخذی کیف انت اذابقیت فی قوم یؤخرون الصلاۃ عن وقتھا قال قلت ماتامرنی قال صل الصلاۃ لوقتھا الحدیث ۔
حضور سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے میری ران پر ہاتھ مار کر فرمایا تیرا کیا حال ہوگا جب تو ایسے لوگوں میں رہ جائے گا جو نماز کو اس کے وقت سے تاخیر
حدیث ۲۰ : مسلم ابی داود نسائی ابن ابان طحاوی حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہسے راوی حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : الوقت بین ھذین (وقت ان دو۲ کے درمیان ہے)
حدیث ۲۱ : طحاوی بطریق عطاء بن ابی رباح بعض صحابہ یعنی جابر بن عبدالله رضی اللہ تعالی عنہماسے اور امام عیسی بن ابان بلفظ عن عطاء بن ابی رباح قال بلغنی ان رجلا اتی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم راوی حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : بین صلاتی فی ھذین الوقتین کلہ (جن دو۲ وقتوں پر میں نے نمازیں پڑھیں ان کے اندر اندر سب وقت ہے) ولفظ الحجج ثم قال مابینھما وقت (اور کتاب الحجج کے الفاظ یہ ہیں : پھر فرمایا ان دونوں کے درمیان وقت ہے)۔
حدیث ۲۲ : مالك ونسائی وبزار حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہسے راوی حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : مابین ھذین وقت (ان دو۲ کے درمیان وقت ہے)۔ وفیہ الاقتصار علی ذکر الفجر فکانہ مختصر قلت فقد رواہ الدار قطنی فی سننہ من حدیث قتادۃ عن انس مطولا والله تعالی اعلم (اس روایت میں صرف فجر کا ذکر ہے شاید اس میں اختصار ہے میں نے کہا دارقطنی نے اپنے سنن میں سے انس سے بروایت قتادہ مفصل ذکر کیا ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
(نوع آخر) حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی پیشگوئی کہ کچھ لوگ وقت گزار کر نماز پڑھیں گے تم ان کا اتباع نہ کرنا اسے مطلق فرمایا کچھ سفر وحضر کی تخصیص ارشاد نہ ہوئی۔
حدیث ۲۳ : مسلم ابوداؤد ترمذی نسائی احمد دارمی حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
قال قال رسول الله تعالی علیہ وسلم وضرب فخذی کیف انت اذابقیت فی قوم یؤخرون الصلاۃ عن وقتھا قال قلت ماتامرنی قال صل الصلاۃ لوقتھا الحدیث ۔
حضور سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے میری ران پر ہاتھ مار کر فرمایا تیرا کیا حال ہوگا جب تو ایسے لوگوں میں رہ جائے گا جو نماز کو اس کے وقت سے تاخیر
حوالہ / References
جامع ترمذی باب ماجاء فی مواقیت الصلوات مطبوعہ رشیدیہ امین کمپنی دہلی ۱ / ۲۲
صحیح مسلم باب اوقات الصلوات الخمس مطبوعہ قدیمی کتب خانہ اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۲۳
شرح معانی الاثار باب مواقیت الصلوات مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۲
کتاب الحجۃ اختلاف اہل الکوفتہ والمدینۃ فی الصلواۃ دارالمعارف نعمانیہ لاہور ص ۱۲
النسائی ، کتاب المواقیت ، مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۶۲
صحیح مسلم باب کراھۃ تاخیر الصلوات مطبوعہ قدیمی کتب خانہ اصح المطالع کراچی ۱ / ۲۳۱
صحیح مسلم باب اوقات الصلوات الخمس مطبوعہ قدیمی کتب خانہ اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۲۳
شرح معانی الاثار باب مواقیت الصلوات مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۲
کتاب الحجۃ اختلاف اہل الکوفتہ والمدینۃ فی الصلواۃ دارالمعارف نعمانیہ لاہور ص ۱۲
النسائی ، کتاب المواقیت ، مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۶۲
صحیح مسلم باب کراھۃ تاخیر الصلوات مطبوعہ قدیمی کتب خانہ اصح المطالع کراچی ۱ / ۲۳۱
کریں گے میں نے عرض کی حضور مجھے کیا حکم دیتے ہیں فرمایا تو وقت پر پڑھ لینا۔
حدیث ۲۴ : احمد ابوداود ابن ماجہ بسند صحیح عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہسے راوی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا :
ستکون علیکم بعدی امراء تشغلھم اشیاء عن الصلاۃ لوقتھا حتی یذھب وقتھا فصلوا الصلاۃ لوقتھا الحدیث۔
میرے بعد تم پر کچھ حاکم ہوں گے کہ ان کے کام وقت پر انہیں نماز سے روکیں گے یہاں تك کہ وقت نکل جائے گا تم وقت پر نماز پڑھنا۔
حدیث ۲۵ : ابوداؤد حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
قال قال لی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کیف بکم اذااتت علیکم امراء یصلون الصلاۃ لغیر میقاتھا قلت فماتامرنی اذاادرکنی ذلك یارسول الله قال صلی الصلاۃ لمیقاتھا واجعل صلاتك معھم سبحۃ ۔
فرمایا مجھ سے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا تم لوگوں کا کیا حال ہوگا جب تم پر وہ حکام آئینگے کہ غیر وقت پر نماز پڑھیں گے۔ میں نے عرض کی یارسول اللہ! جب میں ایسا وقت پاؤں تو حضور مجھے کیا حکم دیتے ہیں ۔ فرمایا نماز وقت پر پڑھ اور ان کے ساتھ نفل کی نیت سے شریك ہوجا۔
(نوع آخر) ارشاد صریح کہ جب ایك نماز کا وقت آیا دوسری کا وقت جاتا رہا قضا ہوگئی اور اس کی ممانعت ومذمت۔
حدیث ۲۶ : مسلم وابوداؤد ونسائی وعیسی بن ابان حضرت عبدالله بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہماسے راوی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا :
وقت الظھر مالم یحضر العصر ووقت المغرب مالم یسقط ثور الشفق ۔ ھذا مختصر
ظہر کا وقت جب تك ہے کہ عصر کا وقت نہ آئے اور مغرب کا وقت جب تك ہے کہ شفق نہ ڈوبے۔
حدیث ۲۴ : احمد ابوداود ابن ماجہ بسند صحیح عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہسے راوی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا :
ستکون علیکم بعدی امراء تشغلھم اشیاء عن الصلاۃ لوقتھا حتی یذھب وقتھا فصلوا الصلاۃ لوقتھا الحدیث۔
میرے بعد تم پر کچھ حاکم ہوں گے کہ ان کے کام وقت پر انہیں نماز سے روکیں گے یہاں تك کہ وقت نکل جائے گا تم وقت پر نماز پڑھنا۔
حدیث ۲۵ : ابوداؤد حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
قال قال لی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کیف بکم اذااتت علیکم امراء یصلون الصلاۃ لغیر میقاتھا قلت فماتامرنی اذاادرکنی ذلك یارسول الله قال صلی الصلاۃ لمیقاتھا واجعل صلاتك معھم سبحۃ ۔
فرمایا مجھ سے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا تم لوگوں کا کیا حال ہوگا جب تم پر وہ حکام آئینگے کہ غیر وقت پر نماز پڑھیں گے۔ میں نے عرض کی یارسول اللہ! جب میں ایسا وقت پاؤں تو حضور مجھے کیا حکم دیتے ہیں ۔ فرمایا نماز وقت پر پڑھ اور ان کے ساتھ نفل کی نیت سے شریك ہوجا۔
(نوع آخر) ارشاد صریح کہ جب ایك نماز کا وقت آیا دوسری کا وقت جاتا رہا قضا ہوگئی اور اس کی ممانعت ومذمت۔
حدیث ۲۶ : مسلم وابوداؤد ونسائی وعیسی بن ابان حضرت عبدالله بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہماسے راوی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا :
وقت الظھر مالم یحضر العصر ووقت المغرب مالم یسقط ثور الشفق ۔ ھذا مختصر
ظہر کا وقت جب تك ہے کہ عصر کا وقت نہ آئے اور مغرب کا وقت جب تك ہے کہ شفق نہ ڈوبے۔
حوالہ / References
سنن ابنِ ماجہ باب ماجاء فی اذااخر والصلواۃ عن وقتہا مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۰
سنن ابی داؤد ، اذا اخر الامام الصلواۃ عن الوقت ، مطبوعہ مجتبائی دہلی ، ۱ / ۶۲
صحیح المسلم باب اوقات الصلوات الخمس قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۲۳
سنن ابی داؤد ، اذا اخر الامام الصلواۃ عن الوقت ، مطبوعہ مجتبائی دہلی ، ۱ / ۶۲
صحیح المسلم باب اوقات الصلوات الخمس قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۲۳
حدیث ۲۷ : ترمذی وطحاوی بسند صحیح بطریق محمد بن فضیل عن الاعمش عن ابی صالح ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے راوی حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
ان للصلاۃ اولا واخرا وان اول وقت صلاۃ الظھر حین تزول الشمس واخر وقتھا حین یدخل وقت العصر وفیہ ان اول وقت المغرب حین تغرب الشمس وان اخر وقتھا حین ےغیب الشفق ۔
بیشك نماز کے لئے اول وآخر ہے اور بیشك آغاز وقت ظہر کا سورج ڈھلے سے اور ختم وقت ظہر کا وقت عصر آنے پر ہے اور بیشك ابتدا وقت مغرب کی سورج چھپے ہے اور بیشك انتہا اس کے وقت کی شفق ڈوبے۔
حدیث ۲۸ : مسلم واحمد وابوداود وابن ماجہ وطحاوی وابن حبان حضرت ابوقتادہ انصاری رضی اللہ تعالی عنہسے راوی حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
لیس فی النوم تفریط انما التفریط فی الیقظۃ ان تؤخر صلاۃ حتی یدخل وقت صلاۃ اخری ۔
سوتے میں کچھ تقصیر نہیں تقصیر تو جاگتے میں ہے کہ تو ایك نماز کو اتنا پیچھے ہٹائے کہ دوسری نماز کا وقت آجائے۔
یہ حدیث خود حالت سفر میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ارشاد فرمائی تھی حین فاتتھم صلاۃ الصبح لیلۃ التعریس وھو عند ابی داود و ابن ماجۃ من دون قولہ ان توخر (جب “ لیلۃ التعریس “ کی صبح کو ان سے فجر کی نماز قضا ہوگئی تھی۔ یہ روایت ابوداؤد اور ابن ماجہ میں بھی ہے مگر اس میں “ ان تؤخر “ کا لفظ نہیں ۔ ت)یہ حدیث نص صریح ہے کہ ایك نماز کی یہاں تك تاخیر کرنی کہ دوسری کا وقت آ جائے تقصیرہ گناہ ہے۔
حدیث ۲۹ : بزار ومحی السنۃ بغوی حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
قال سألت النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم عن قول الله عزوجل
الذین هم عن صلاتهم ساهون(۵)قال ھم الذین یؤخرون الصلاۃ عن وقتھا ۔
فرمایا میں نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے پوچھا وہ کون لوگ ہیں جنہیں الله عزوجل قرآن مجید میں فرماتا ہے خرابی ہے ان نمازیوں کے لئے جو اپنی نماز سے بے خبر ہیں ارشاد فرمایا وہ لوگ جو نماز کو اس کے وقت سے ہٹا کر پڑھیں ۔
ان للصلاۃ اولا واخرا وان اول وقت صلاۃ الظھر حین تزول الشمس واخر وقتھا حین یدخل وقت العصر وفیہ ان اول وقت المغرب حین تغرب الشمس وان اخر وقتھا حین ےغیب الشفق ۔
بیشك نماز کے لئے اول وآخر ہے اور بیشك آغاز وقت ظہر کا سورج ڈھلے سے اور ختم وقت ظہر کا وقت عصر آنے پر ہے اور بیشك ابتدا وقت مغرب کی سورج چھپے ہے اور بیشك انتہا اس کے وقت کی شفق ڈوبے۔
حدیث ۲۸ : مسلم واحمد وابوداود وابن ماجہ وطحاوی وابن حبان حضرت ابوقتادہ انصاری رضی اللہ تعالی عنہسے راوی حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
لیس فی النوم تفریط انما التفریط فی الیقظۃ ان تؤخر صلاۃ حتی یدخل وقت صلاۃ اخری ۔
سوتے میں کچھ تقصیر نہیں تقصیر تو جاگتے میں ہے کہ تو ایك نماز کو اتنا پیچھے ہٹائے کہ دوسری نماز کا وقت آجائے۔
یہ حدیث خود حالت سفر میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ارشاد فرمائی تھی حین فاتتھم صلاۃ الصبح لیلۃ التعریس وھو عند ابی داود و ابن ماجۃ من دون قولہ ان توخر (جب “ لیلۃ التعریس “ کی صبح کو ان سے فجر کی نماز قضا ہوگئی تھی۔ یہ روایت ابوداؤد اور ابن ماجہ میں بھی ہے مگر اس میں “ ان تؤخر “ کا لفظ نہیں ۔ ت)یہ حدیث نص صریح ہے کہ ایك نماز کی یہاں تك تاخیر کرنی کہ دوسری کا وقت آ جائے تقصیرہ گناہ ہے۔
حدیث ۲۹ : بزار ومحی السنۃ بغوی حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
قال سألت النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم عن قول الله عزوجل
الذین هم عن صلاتهم ساهون(۵)قال ھم الذین یؤخرون الصلاۃ عن وقتھا ۔
فرمایا میں نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے پوچھا وہ کون لوگ ہیں جنہیں الله عزوجل قرآن مجید میں فرماتا ہے خرابی ہے ان نمازیوں کے لئے جو اپنی نماز سے بے خبر ہیں ارشاد فرمایا وہ لوگ جو نماز کو اس کے وقت سے ہٹا کر پڑھیں ۔
حوالہ / References
جامع ترمذی باب ماجاء فی مواقیت الصلواۃ مطبوعہ مطبع رشیدیہ امین کمپنی دہلی ۱ / ۲۲
سنن ابی داؤد باب فی من نام الخ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۶۴
کشف الاستار عن زوائد البزار ، باب فی الذین یؤخرون الصلٰوۃ عن وقتہا ، مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ / ۱۹۸
سنن ابی داؤد باب فی من نام الخ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۶۴
کشف الاستار عن زوائد البزار ، باب فی الذین یؤخرون الصلٰوۃ عن وقتہا ، مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ / ۱۹۸
بغوی کی روایت یوں ہے :
اخبرنا احمد بن عبدالله الصالحی (فساق بسندہ) عن مصعب بن سعد عن ابیہ رضی الله تعالی عنھما انہ قال سئل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم عن الذین ھم فی صلوتھم ساھون قال اضاعۃ الوقت ۔
ہمیں احمد بن عبدالله الصالحی نے خبر دی (پوری سند کو ذکر کیا) مصعب بن سعد سے وہ اپنے باپ رضی اللہ تعالی عنہماسے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے اس آیت کے بارے میں سوال ہوا فرمایا اس سے مراد وقت کھونا ہے۔
حدیث ۳۰ : امام ابن ابان حضرت عبدالله بن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے راوی :
قال وقت الظھر الی وقت العصر ووقت العصر الی المغرب وقت المغرب الی العشاء و العشاء الی الفجر ۔
فرمایا ظہر کا وقت عصر تك ہے اور عصر کا وقت مغرب تك اور مغرب کا عشاء اور عشاء کا فجر تک۔
حدیث ۳۱ : امام طحاوی شرح معانی الاثار میں راوی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے سوال ہوا : ما التفریط فی الصلاۃ (نماز میں تفریط کیا ہے) فرمایا : ان تؤخر حتی یجیئ وقت الاخری (یہ کہ تو ایك نماز کی تاخیر کرے یہاں تك کہ دوسری کا وقت آجائے)
حدیث ۳۲ : نیز اسی میں حضرت عبدالله بن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے راوی : قال تفوت صلاۃ حتی یجیئ وقت الاخری (فرمایا نماز فوت نہیں ہوتی جب تك دوسری کا وقت نہ آجائے) یعنی جب دوسری کا وقت آیا پہلے قضا ہوگئی۔
تنبیہ : ان آیات واحادیث سے جواب میں قائلین جمع کی غایت سعی ادعائے تخصیص ہے جسے ملاجی نے کئی ورق کی طولانی تقریر میں بہت ہی چمك کر بیان کیا جس کا مآل یہ کہ اگرچہ متکاثرہ واحادیث متواترہ ہر نماز کے لے جدا وقت بتارہی ہیں محافظت وقت کی نہایت تاکید شدید فرمارہی ہیں وقت ضائع کرنے کو گناہ عظیم وموجب عذاب الیم ٹھہرا رہی ہیں مگر ہمیں سفر وغیرہ حالات میں ظہر وعصر ومغرب وعشاء چا ر نمازوں کی پابندی وقت
اخبرنا احمد بن عبدالله الصالحی (فساق بسندہ) عن مصعب بن سعد عن ابیہ رضی الله تعالی عنھما انہ قال سئل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم عن الذین ھم فی صلوتھم ساھون قال اضاعۃ الوقت ۔
ہمیں احمد بن عبدالله الصالحی نے خبر دی (پوری سند کو ذکر کیا) مصعب بن سعد سے وہ اپنے باپ رضی اللہ تعالی عنہماسے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے اس آیت کے بارے میں سوال ہوا فرمایا اس سے مراد وقت کھونا ہے۔
حدیث ۳۰ : امام ابن ابان حضرت عبدالله بن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے راوی :
قال وقت الظھر الی وقت العصر ووقت العصر الی المغرب وقت المغرب الی العشاء و العشاء الی الفجر ۔
فرمایا ظہر کا وقت عصر تك ہے اور عصر کا وقت مغرب تك اور مغرب کا عشاء اور عشاء کا فجر تک۔
حدیث ۳۱ : امام طحاوی شرح معانی الاثار میں راوی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے سوال ہوا : ما التفریط فی الصلاۃ (نماز میں تفریط کیا ہے) فرمایا : ان تؤخر حتی یجیئ وقت الاخری (یہ کہ تو ایك نماز کی تاخیر کرے یہاں تك کہ دوسری کا وقت آجائے)
حدیث ۳۲ : نیز اسی میں حضرت عبدالله بن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے راوی : قال تفوت صلاۃ حتی یجیئ وقت الاخری (فرمایا نماز فوت نہیں ہوتی جب تك دوسری کا وقت نہ آجائے) یعنی جب دوسری کا وقت آیا پہلے قضا ہوگئی۔
تنبیہ : ان آیات واحادیث سے جواب میں قائلین جمع کی غایت سعی ادعائے تخصیص ہے جسے ملاجی نے کئی ورق کی طولانی تقریر میں بہت ہی چمك کر بیان کیا جس کا مآل یہ کہ اگرچہ متکاثرہ واحادیث متواترہ ہر نماز کے لے جدا وقت بتارہی ہیں محافظت وقت کی نہایت تاکید شدید فرمارہی ہیں وقت ضائع کرنے کو گناہ عظیم وموجب عذاب الیم ٹھہرا رہی ہیں مگر ہمیں سفر وغیرہ حالات میں ظہر وعصر ومغرب وعشاء چا ر نمازوں کی پابندی وقت
حوالہ / References
شرح السنۃ للامام البغوی باب مراعاۃ الوقت مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ۱ / ۲۳۶
کتاب الحجۃ اختلاف اہل الکوفۃ والمدینۃ فی الصلوات الخ دارالمعارف النعمانیۃ لاہور ۱ / ۱۰ ، ۱۱
شرح معانی الاثار باب جمع بین الصلاتین مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۴
شرح معانی الاثار باب جمع بین الصلاتین مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۴
کتاب الحجۃ اختلاف اہل الکوفۃ والمدینۃ فی الصلوات الخ دارالمعارف النعمانیۃ لاہور ۱ / ۱۰ ، ۱۱
شرح معانی الاثار باب جمع بین الصلاتین مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۴
شرح معانی الاثار باب جمع بین الصلاتین مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۴
کچھ ضرور نہیں چاہے وقت سے پہلے پڑھ لیں چاہیں وقت کھوکر پڑھیں اصلا محذور نہیں کہ دو چار روایتیں ہمارے خیال کے مطابق قرآن عظیم واحادیث متواترہ کے مخالف آگئیں وہ ہمیں بے قیدی بناگئی ہیں یہاں ملاجی نے بہت کچھ ابحاث اصول کو خرچ کیا ہے جس کا جواب ایسا ہی عریض وطویل دیا گیا ہے وانا اقول (اور میں کہتا ہوں ۔ ت) ثبت العرش ثم انقش ارشادات صریحہ قرآن عظیم واحادیث متواترہ کے مقابل ایسا ہی سامان جمع کرلیا ہوتا تو ان کے مقاببلہ کا نام لینا تھا سبحـن الله چند محتمل روایات جن میں روایۃ درایۃ سو۱۰۰ احتمالات نہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے ان کے ثبوت ہی پر یقین نہ بعد تسلیم ثبوت خواہی نخواہی معنی جمع حقیقی کی تعیین احتمالی باتوں پر خدا ورسول کے صریح احکام کیونکر اٹھادےے جائیں ایسے حکموں کے مقاببلہ کو انہیں کے پایہ کاجلی واضح ثبوت درکار تھا نہ یہ کہ بزور زبان ابتداء میں کہہ دیجئے وہ حدیثیں جن میں تاویل کو مخالف کی دخل نہیں انتہا میں لکھ دیجئے احادیث صحاح جو جمع پر قطعا ویقینا دلالت کرتی ہیں اور بس آپ کے فرمائے سے وہ نصوص قاطعہ یقینیہ مفسرہ ہوگئیں ملاجی بس اسی ایك نکتہ پر بحث کا فیصلہ ہے ان روایات کا اثبات جمع حقیقی تقدیم وتاخیر میں نص قطعی یقینی مفسر ناقابل تاویل ہونا ثابت کردیجئے یا قرآن عظیم واحادیث متواترہ کے مقابل نری زباں زوریوں سے کام نکالنے کا اقرار کیجئے میں صرف نصوص قرآن وحدیث کا نام لیتا ہوں اے حضرت نمازوں کی توقیت ان کے لئے اوقات کی تعیین تو ضروریات دین سے ہے اور ہمارا آپ کا تمام امت مرحومہ کا اجماع قائم کہ وقت سے پہلے نماز باطل اور عمدا قضا کردینا وقت کھودینا حرام تو اب ظنیت وقطعیت عمومات کی بحث سے کچھ علاقہ نہ رہا۔ اس فعل جمع کا جو حاصل ہے یعنی نماز پیش ازوقت یا تفویت وقت اس کی حرمت پر تو ہم اور آپ سب متفق ہولئے اب آپ مدعی ہیں کہ اس حرام قطعی کی یہ صورت خاص حلال ہے جیسا وہ حرام قطعی ہے ویسا ہی قطعی ثبوت اس کی حلت کا دیجئے ورنہ یقینی کے حضور ظنی محتمل کا نام نہ لیجئے خدا کی شان اور تو اور جمع تقدیم میں بھی یہی جرأت کے ادعاکہ تاویل کو دخل نہیں احادیث صحاح قطعا دلالت کرتی ہیں حالانکہ مفسر ویقینی ہونا درکنار ابوداؤد سا امام جلیل الشان تصریح فرماگیا کہ اس کے بارے میں اصلا کوئی حدیث صحیح بھی نہ ہوئی مگر ہاں یہ کہے کہ اپنی زبان اپنا دعوی ہے ثبوت مانگنے والے کا کچھ دینا دہرایا ہے ولاحول ولاقوۃ الا بالله العلی العظیم۔
لطیفہ : ملاجی نے ایك مثل پر انتہائے ظہر کے اثبات میں حدیث سائل بروایت نسائی عن جابر رضی اللہ تعالی عنہوحدیث امامت جبریل علیہ الصلوۃ والسلام سے استدلال کیا جن میں تھا کہ پہلے دن کی ظہر حضور اعلی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے سورج ڈھلتے ہی پڑھی اور دوسرے دن کی اس وقت کہ سایہ ایك مثل کو پہنچ گیا اس تمسك پر اعتراض ہوتا تھا کہ ان حدیثوں میں کل کی عصر بھی تو اسی وقت پڑھنی آئی ہے تو ایك مثل پر وقت ظہر ختم ہوجانا نہ نکلا بلکہ بعد مثل ظہر وعصر دونوں نمازوں میں وقت مشترك ہونا مستفاد ہوا ملاجی اس کے دفع میں فرماتے ہیں روایت نسائی کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرت عـــہ نے پہلے دن عصر جب پڑھی کہ ایك مثل سایہ آگیا اور دوسرے دن ظہر سے
عــہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۱۲ منہ
ف۱ معیارالحق ص ۴۰۳
لطیفہ : ملاجی نے ایك مثل پر انتہائے ظہر کے اثبات میں حدیث سائل بروایت نسائی عن جابر رضی اللہ تعالی عنہوحدیث امامت جبریل علیہ الصلوۃ والسلام سے استدلال کیا جن میں تھا کہ پہلے دن کی ظہر حضور اعلی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے سورج ڈھلتے ہی پڑھی اور دوسرے دن کی اس وقت کہ سایہ ایك مثل کو پہنچ گیا اس تمسك پر اعتراض ہوتا تھا کہ ان حدیثوں میں کل کی عصر بھی تو اسی وقت پڑھنی آئی ہے تو ایك مثل پر وقت ظہر ختم ہوجانا نہ نکلا بلکہ بعد مثل ظہر وعصر دونوں نمازوں میں وقت مشترك ہونا مستفاد ہوا ملاجی اس کے دفع میں فرماتے ہیں روایت نسائی کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرت عـــہ نے پہلے دن عصر جب پڑھی کہ ایك مثل سایہ آگیا اور دوسرے دن ظہر سے
عــہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۱۲ منہ
ف۱ معیارالحق ص ۴۰۳
ایك مثل پر فارغ ہو لئے یہ معنے نہیں کہ کچھ وقت بطور چار رکعت دونوں نمازوں میں مشترك ہے دلیل مرجح باعث اختیار کرنے معنی اول کی یہ ہے کہ روایت کی ہے مسلم نے عبدالله بن عمرو سے ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم قال وقت الظھر الی ان یحضر العصر اور کہا الله تعالی نے ان الصلوة كانت على المؤمنین كتبا موقوتا(۱۰۳) یعنی ہر نماز کا وقت علیحدہ علیحدہ ہے اسی واسطے فرمایا آنحضرت عــہ نے انما التفریط علی من لم یصل حتی یجیئ وقت الصلاۃ الاخری رواہ مسلم وغیرہ تو مقتضا احادیث اور اس آیت کا یہی ہے کہ ایك نماز کے وقت میں دوسری نماز ادا نہیں ہوسکتی پھر اگر حدیث جابر میں معنی وہ نہ کریں جو ہم نے کئے ہیں کہ پڑھ چکے ایك مثل میں بلکہ یہ کریں کہ پڑھنی شروع کی جب کہ ایك مثل ہوئی تو تعارض ہوگا درمیان ان احادیث کے جن سے امتیاز اوقات ہر نماز کی معلوم ہوتی ہے اور اس حدیث جابر میں جس سے اشتراك نکالتے ہیں اور وقت تعارض موافقت کرنی چاہے اور صورت موافقت کی یہ ہے جو ہم نے بیان کی اور شاہد اس کی حدیث جبریل ہے معنی اس کے بھی وہی ہیں بعینہ اسی دلیل سے جو گزری حدیث نسائی میں اھ ملخصا۔
الحمدلله یہ تو آیہ کریمہ اور ہماری حدیثوں سے حدیث ۲۶ و ۲۸ کی نسبت ملاجی کی شہادت ہے کہ مقتضی احادیث وآیات کا یہی ہے کہ ایك نماز کے وقت میں دوسری ادا نہیں ہوسکتی مگر مجھے یہاں ملاجی کا ظلم ظاہر کرنا ہے فاقول وبالله التوفیق
اولا حدیث جبریل وحدیث سائل میں یہ معنے کہ ملاجی نے شافعیہ کی تقلید جامد سے سیکھ کر جمائے ہرگز نہیں جمتے حدیث جبریل بروایت جابر رضی اللہ تعالی عنہمیں نسائی کے یہاں یوں ہے : ان جبریل اتی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم حین کان الظل مثل شخصہ فصلی العصر ثم اتاہ فی الیوم الثانی حین کان ظل الرجل مثل شخصہ فصلی الظھر ۔
دوسری روایت میں ہے : ثم مکث حتی اذاکان فیئ الرجل مثلہ جاء ہ للعصر فقال قم یامحمد فصلی العصر ثم جاء ہ من الغدحین کان فیئ الرجل مثلہ فقال قم یامحمد فصل فصلی الظھر ۔
عــہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۱۲ منہ
الحمدلله یہ تو آیہ کریمہ اور ہماری حدیثوں سے حدیث ۲۶ و ۲۸ کی نسبت ملاجی کی شہادت ہے کہ مقتضی احادیث وآیات کا یہی ہے کہ ایك نماز کے وقت میں دوسری ادا نہیں ہوسکتی مگر مجھے یہاں ملاجی کا ظلم ظاہر کرنا ہے فاقول وبالله التوفیق
اولا حدیث جبریل وحدیث سائل میں یہ معنے کہ ملاجی نے شافعیہ کی تقلید جامد سے سیکھ کر جمائے ہرگز نہیں جمتے حدیث جبریل بروایت جابر رضی اللہ تعالی عنہمیں نسائی کے یہاں یوں ہے : ان جبریل اتی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم حین کان الظل مثل شخصہ فصلی العصر ثم اتاہ فی الیوم الثانی حین کان ظل الرجل مثل شخصہ فصلی الظھر ۔
دوسری روایت میں ہے : ثم مکث حتی اذاکان فیئ الرجل مثلہ جاء ہ للعصر فقال قم یامحمد فصلی العصر ثم جاء ہ من الغدحین کان فیئ الرجل مثلہ فقال قم یامحمد فصل فصلی الظھر ۔
عــہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۱۲ منہ
حوالہ / References
معیارالحق مسئلہ چہارم بحث آخر وقت ظہر مکتبہ نذیریہ لاہور ص ۳۱۶ تا ۳۲۱
واضح رہے کہ '' اوّلًا '' کے ذیل میں مذکور تمام روایات کا ترجمہ پہلے گزرچکا ہے۔ اگر ضرورت ہوتو صفحہ ۲۷۸ کی طرف رجوع کریں۔ دائم
النسائی کتاب المواقیت آخر وقت العصر مطبوعہ سلفیہ لاہور ۱ / ۶۰
النسائی کتاب المواقیت اوّل وقت العشاء ، مطبوعہ سلفیہ لاہور ۱ / ۶۲
واضح رہے کہ '' اوّلًا '' کے ذیل میں مذکور تمام روایات کا ترجمہ پہلے گزرچکا ہے۔ اگر ضرورت ہوتو صفحہ ۲۷۸ کی طرف رجوع کریں۔ دائم
النسائی کتاب المواقیت آخر وقت العصر مطبوعہ سلفیہ لاہور ۱ / ۶۰
النسائی کتاب المواقیت اوّل وقت العشاء ، مطبوعہ سلفیہ لاہور ۱ / ۶۲
مسند اسحق میں ابی مسعود بدری رضی اللہ تعالی عنہیوں ہے : اتاہ حین کان ظلہ مثلہ فقال قم فصل فقام فصلی العصر اربعا ثم اتاہ من الغدحین کان ظلہ مثلہ فقال لہ قم فصل فقام فصلی الظھر اربعا ۔ دارقطنی وطبرانی وابوعمر کے یہاں بروایت عقبہ بن عمرو وبشیر بن عقبہ رضی اللہ تعالی عنہمایوں ہے : جاء ہ حین کان ظل کل شیئ مثلہ فقال یامحمد صلی العصر فصلی ثم جاء ہ الغدحین کان ظل کل شیئ مثلہ فقال صلی الظھر فصلی یہ سب حدیثیں تصریح صریح ہیں کہ روح امیں علیہ الصلاۃ والتسلیم ظہر کے لئے حاضر اس وقت ہوئے جب سایہ ایك مثل کو پہنچ چکا تھا اس وقت نماز پڑھنے کے لئے عرض کی اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے پڑھی اس کے یہ معنی کیونکر ممکن کہ ختم مثل تك نماز سے فارغ ہولےے تھے۔ حدیث سائل بروایت عبدالله بن قیس رضی اللہ تعالی عنہمیں ابوداؤد کے یہاں یوں ہے : امربلالافاقام الفجر حین انشق (الی قولہ) فاقام الظھر فی وقت العصر الذی کان قبلہ ۔
اس میں تصریح ہے کہ ایك مثل ہونے پر بلال رضی اللہ تعالی عنہنے ظہر کی تکبیر کہی تو مثل تك فراغ کیسا۔
ثانیا آیہ کریمہ تو آپ کے نزدیك عام ہے اور احادیث جبریل وسائل خاص اور آپ کے اصول میں عام وخاص متعارض نہیں بلکہ عام اس خاص سے مخصص ہوجائے گا ولہذا خود بھی یہاں معارضہ صرف احادیث میں مانا نہ آیت وحدیث میں پھر ان حدیثوں کے مقابل آیت کا پیش کرنا کیا معنی کیا آپ کے داؤں کو آیت عام نہیں رہتی تخصیص حرام ہوجاتی ہے۔
ثالثا احادیث میں دفع معارضہ یوں بھی ممکن کہ حدیث تفریط میں وقت الصلاۃ الاخری سے اس کا وقت خاص مراد لیجئے یعنی نماز قضا جب ہوتی ہے کہ دوسری نماز کا وقت خاص آجائے جب تك وقت مشترك باقی ہے قضا نہ ہوئی اور حدیث عبدالله بن عمرو میں ظہر خواہ عصر دونوں سے جس میں چاہے وقت خاص لے لیجئے اور دوسری میں وقت مطلق یعنی ظہر کا وقت خاص وقت عصر آنے تك ہے جب عصر کا وقت آیا ظہر کا خاص وقت نہ رہا اگرچہ مشترك باقی ہو یا ظہر کا وقت عصر کے وقت خاص آنے تك ہے کہ اس کے بعد ظہر کا وقت خاص خواہ
اس میں تصریح ہے کہ ایك مثل ہونے پر بلال رضی اللہ تعالی عنہنے ظہر کی تکبیر کہی تو مثل تك فراغ کیسا۔
ثانیا آیہ کریمہ تو آپ کے نزدیك عام ہے اور احادیث جبریل وسائل خاص اور آپ کے اصول میں عام وخاص متعارض نہیں بلکہ عام اس خاص سے مخصص ہوجائے گا ولہذا خود بھی یہاں معارضہ صرف احادیث میں مانا نہ آیت وحدیث میں پھر ان حدیثوں کے مقابل آیت کا پیش کرنا کیا معنی کیا آپ کے داؤں کو آیت عام نہیں رہتی تخصیص حرام ہوجاتی ہے۔
ثالثا احادیث میں دفع معارضہ یوں بھی ممکن کہ حدیث تفریط میں وقت الصلاۃ الاخری سے اس کا وقت خاص مراد لیجئے یعنی نماز قضا جب ہوتی ہے کہ دوسری نماز کا وقت خاص آجائے جب تك وقت مشترك باقی ہے قضا نہ ہوئی اور حدیث عبدالله بن عمرو میں ظہر خواہ عصر دونوں سے جس میں چاہے وقت خاص لے لیجئے اور دوسری میں وقت مطلق یعنی ظہر کا وقت خاص وقت عصر آنے تك ہے جب عصر کا وقت آیا ظہر کا خاص وقت نہ رہا اگرچہ مشترك باقی ہو یا ظہر کا وقت عصر کے وقت خاص آنے تك ہے کہ اس کے بعد ظہر کا وقت خاص خواہ
حوالہ / References
نصب الرایۃ بحوالہ سند اسحٰق بن راہویہ باب المواقیت مکتبہ اسلامیہ ریاض الشیخ ۱ / ۲۲۳
دارقطنی بحوالہ سند اسحٰق بن راہویہ باب المواقیت مکتبہ اسلامیہ ریاض الشیخ ۱ / ۲۵۶
ترمذی باب المواقیت مطبوعہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۲۵
ترمذی باب المواقیت مطبوعہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۲۵
دارقطنی بحوالہ سند اسحٰق بن راہویہ باب المواقیت مکتبہ اسلامیہ ریاض الشیخ ۱ / ۲۵۶
ترمذی باب المواقیت مطبوعہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۲۵
ترمذی باب المواقیت مطبوعہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۲۵
مشترك اصلا نہیں رہتا تو صورت موافقت اسی میں منحصر نہ تھی جس سے آپ احتمال اشتراك عـــہ کو دفع کرسکیں ملاجی مدعی بننا آسان ہے مگر اقامت دلیل کے گر انبار عہدوں سے سلامت نکل جانا مشکل۔
اب اس صریح ظلم وناانصافی کو دیکھےے کہ مسئلہ وقت ظہر میں آیت واحادیث توقیت کے عموم وظواہر پر وہ ایمان کہ نہ آیت صالح تخصیص نہ یہ حدیثیں لائق تاویل نہ ان کے مقابل صحاح حدیث قابل قبول بلکہ واجب کہ وہ حدیثیں تاویلوں کی گھڑت سے موافق کرلی جائیں اگرچہ وہ اس تاویل سے صاف ابا کرتی ہوں اور ان میں ہرگز تاویل نہ کی جائے اگرچہ بے دقت اسے جگہ دیتی ہوں ۔ اور جب مسئلہ جمع کی باری آئے فورا نگاہ پلٹ جائے اب آیت واحادیث واجب التخصیص اور ان کے مقابل نری احتمالی چند روایات واجب الاعتماد وقطعی التنصیص اور ان کے لئے آیات واحادیث کے مطابق صاف ونظیف محامل مردود وباطل غرض شریعت اپنے گھر کی ہے اجتہاد کی کوٹھری دوہرے درکی ہے۔ دیانت کا ٹٹو دونوں باگوں کستا ہے پورب کی سڑك میں پچھم کا رستہ ہے ع :
گر میں گیا ادھر سے ادھر سے نکل گیا
لطیفہ : حدیث بست وہشتم مروی صحیح مسلم شریف کے جواب میں ملاجی کی نزاکتیں قابل تماشا۔
اولا : ف۱ یہ حدیث اسی شخص کے حق میں ہے کہ بلاعذر تاخیر کرے نہ اس کے حق میں جو مسافر ہو یہ وہی دعوی باطلہ تخصیص بے مخصص ہے۔
ثانیا : سبب حدیث خود نماز سفر کا سوتے میں قضا ہوجانا ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماس وقت سفر ہی میں تھے تو نماز سفر کو اس حکم سے خارج ماننا طرفہ جہالت ہے۔
ثالثا : عذر بدتر ازگناہ سنئے فرماتے ف۲ ہیں اگر کہو کہ یہ حدیث سفر میں فرمائی تھی پس مسافر کو حکم اس کا شامل ہوگا تو کہا جائے گا کہ ظرف قول کی باعث اور قرینہ اس کی تعمیم یا تخصیص پر نہیں ہوتی۔
اقول : ملاجی! کسی پڑھے لکھے سے ظرف وسبب کا فرق سیکھو یہ نہیں کہا جاتا کہ حدیث سفر میں فرمائی تھی بلکہ مطلب یہ ہے کہ نماز سفر کا قضا ہونا سبب ارشاد ہوا تو خود سبب نص حکم نص سے کیونکر جدا رہے گا کیا ظلم ہے کہ نص کا خاص جس مورد میں ورود وہی خارج ونامقصود اور نص اس کے مباین پر مقصور ومحدود۔
عـــہ اقول : ظاہر ہے کہ احتمال اشتراك مسئلہ مجمع میں قائل جمع کو اصلا نافع نہیں جمع تقدیم سے تو اسے مس ہی نہیں اور جمع تاخیر بھی اس کے قائل کے نزدیك صرف آغاز وابتدائے وقت آخر بقدر چار رکعت سے مخصوص نہیں معہذا جب وقت مشترك ٹھہرا پہلی نماز بھی اپنے وقت پر ہوئی اور اس کے بعد دوسری بھی اپنے وقت میں یہ جمع صوری ہے نہ حقیقی کہ ایك نماز اپنے وقت سے خارج ہوکر دوسری کے وقت میں پڑھی جائے کما لایخفی ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ(م)
ف۱ معیارالحق مسئلہ پنجم جمع بین الصلاتین ص ۴۱۷ ف۲ معیارالحق ص ۴۱۷ ف۲ معیارالحق ص ۴۱۷
اب اس صریح ظلم وناانصافی کو دیکھےے کہ مسئلہ وقت ظہر میں آیت واحادیث توقیت کے عموم وظواہر پر وہ ایمان کہ نہ آیت صالح تخصیص نہ یہ حدیثیں لائق تاویل نہ ان کے مقابل صحاح حدیث قابل قبول بلکہ واجب کہ وہ حدیثیں تاویلوں کی گھڑت سے موافق کرلی جائیں اگرچہ وہ اس تاویل سے صاف ابا کرتی ہوں اور ان میں ہرگز تاویل نہ کی جائے اگرچہ بے دقت اسے جگہ دیتی ہوں ۔ اور جب مسئلہ جمع کی باری آئے فورا نگاہ پلٹ جائے اب آیت واحادیث واجب التخصیص اور ان کے مقابل نری احتمالی چند روایات واجب الاعتماد وقطعی التنصیص اور ان کے لئے آیات واحادیث کے مطابق صاف ونظیف محامل مردود وباطل غرض شریعت اپنے گھر کی ہے اجتہاد کی کوٹھری دوہرے درکی ہے۔ دیانت کا ٹٹو دونوں باگوں کستا ہے پورب کی سڑك میں پچھم کا رستہ ہے ع :
گر میں گیا ادھر سے ادھر سے نکل گیا
لطیفہ : حدیث بست وہشتم مروی صحیح مسلم شریف کے جواب میں ملاجی کی نزاکتیں قابل تماشا۔
اولا : ف۱ یہ حدیث اسی شخص کے حق میں ہے کہ بلاعذر تاخیر کرے نہ اس کے حق میں جو مسافر ہو یہ وہی دعوی باطلہ تخصیص بے مخصص ہے۔
ثانیا : سبب حدیث خود نماز سفر کا سوتے میں قضا ہوجانا ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماس وقت سفر ہی میں تھے تو نماز سفر کو اس حکم سے خارج ماننا طرفہ جہالت ہے۔
ثالثا : عذر بدتر ازگناہ سنئے فرماتے ف۲ ہیں اگر کہو کہ یہ حدیث سفر میں فرمائی تھی پس مسافر کو حکم اس کا شامل ہوگا تو کہا جائے گا کہ ظرف قول کی باعث اور قرینہ اس کی تعمیم یا تخصیص پر نہیں ہوتی۔
اقول : ملاجی! کسی پڑھے لکھے سے ظرف وسبب کا فرق سیکھو یہ نہیں کہا جاتا کہ حدیث سفر میں فرمائی تھی بلکہ مطلب یہ ہے کہ نماز سفر کا قضا ہونا سبب ارشاد ہوا تو خود سبب نص حکم نص سے کیونکر جدا رہے گا کیا ظلم ہے کہ نص کا خاص جس مورد میں ورود وہی خارج ونامقصود اور نص اس کے مباین پر مقصور ومحدود۔
عـــہ اقول : ظاہر ہے کہ احتمال اشتراك مسئلہ مجمع میں قائل جمع کو اصلا نافع نہیں جمع تقدیم سے تو اسے مس ہی نہیں اور جمع تاخیر بھی اس کے قائل کے نزدیك صرف آغاز وابتدائے وقت آخر بقدر چار رکعت سے مخصوص نہیں معہذا جب وقت مشترك ٹھہرا پہلی نماز بھی اپنے وقت پر ہوئی اور اس کے بعد دوسری بھی اپنے وقت میں یہ جمع صوری ہے نہ حقیقی کہ ایك نماز اپنے وقت سے خارج ہوکر دوسری کے وقت میں پڑھی جائے کما لایخفی ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ(م)
ف۱ معیارالحق مسئلہ پنجم جمع بین الصلاتین ص ۴۱۷ ف۲ معیارالحق ص ۴۱۷ ف۲ معیارالحق ص ۴۱۷
رابعا : قیامت دلربا نزاکت تو یہ کی کہ فرماتے ف۱ ہیں اگر ظرف کو دخل ہوتو کہا جائے گا کہ یہ قول آنحضرت عــہ نے وقت نماز فجر کے اور فوت ہوجانے نماز فجر کے نیند میں فرمایا تھا پس حکم سفر فجر ہی کا بیان کیا جس کا جمع کرنا کسی نماز سے ممکن نہ تھا نہ ظہر وعصر مغرب عشا سفر کی کا۔
اقول : بھئی یہ تو خوب ہی کیکا ہاں ملاجی! حدیث میں کا ہے کا ارشاد ہورہا ہے فجر سفر کی کا نہ اور نمازوں سفر کی کایعنی صبح کی نماز میں تقصیر اس وقت ہوگی کہ تو اسے نہ پڑھے یہاں تك کہ ظہر کا وقت آجائے بہت معقول سورج نکلے پہر دن چڑھے ٹھیك دوپہر ہو جب تك نماز فجر اٹھا رکھئے کچھ تقصیر نہیں جب ظہر کا وقت آئے اس وقت تقصیر ہوگی انا الله وانا الیہ راجعونo ملاجی! دلی میں تو اچھے اچھے حکیم سنے گئے ہیں لکھنے چلے تھے تو پہلے دماغ کی نبض دکھالی ہوتی نمازیں پانچ ہیں ان میں چار متوالی الاوقات اور فجر جدا سب کا حکم بیان کیجئے تو بطور تغلیب یہ کلمہ صحیح جیسا کہ حدیث ۳۱ و ۳۲ میں اقوال حضرت ابوہریرہ وابن عباس رضی اللہ تعالی عنہمسے گزرا کہ خاص فجر کا حکم ان لفظوں سے ارشاد ہوکہ جب تك ظہر نہ آئے فجر نہ پڑھنے میں تقصیر نہیں ۔
خامسا : اقول ملاجی! اعتبار عموم لفظ کا ہے نہ خصوص سبب کا تو اخراج ظہر وعصر ومغرب وعشا کے کیا معنے یہ کیا ستم جہالت ہے کہ آپ کا خصم اطلاق نص وشمول مورد سے تمسك کرے آپ جواب میں اقتصار علی المورد پیش کردیں یا وہ بے نمکی کہ دخول موردے سے راسا انکار یا یہ شورا شوری کہ اسی پر انقطاع اسی میں انحصار غرض سیدھا چلنا ہر طرح ناگوار۔
سادسا : اب اور آنکھیں کھلیں تو علاوہ کی پوٹ باندھی ف۲ کہ مسافر جمع کرنے والے کو ضرور ہے کہ ارادہ جمع کا پہلی نماز کے وقت کے اندراندر کررکھے جس نے ارادہ نہ کیا اس کی جمع درست نہ ہوگی پس اگر مسافر کو بھی شامل کرو تو ایسا مسافر مورد ومحمل حدیث کا ہوگا۔
اقول : یہ ایسا ویسا تم کہہ رہے ہو یا حدیث ارشاد فرمارہی ہے حدیث میں تو ایسے ویسے کی کہیں بو بھی نہیں کہا اپنی ہوائے نفس پر احادیث کا ڈھال لانا ہی عمل بالحدیث ہے۔
سابعا اقول : خود مسافر کو شامل کہہ رہے ہو نہ مسافر سے خاص تو لاجرم حدیث وہ حکم فرمارہی ہے جو مسافر ومقیم سب کو شامل کیا بھلا چنگا مقیم بھی اگر وقت کے اندر اندر نیت رکھے کہ یہ نماز وقت گزر جانے کے بعد پڑھ لوں گا تو تقصیر نہیں کھلا کھلا رافضیوں کا مذہب کیوں نہیں لکھ دیتے اور بعد خرابی بصرہ نہیں بلکہ تباہی کوفہ اگر حاصل ٹھہرے گا تو وہی کہ حدیث احادیث جمع سے مخصوص یہ شامت امام سے وہی آپ کا عذر معمولی جابجا ہے پھر اسے
عــہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۱۲ منہ (م)
ف۱ معیارالحق ص ۴۱۷ ف۲ معیار الحق صــ ۴۱۷
اقول : بھئی یہ تو خوب ہی کیکا ہاں ملاجی! حدیث میں کا ہے کا ارشاد ہورہا ہے فجر سفر کی کا نہ اور نمازوں سفر کی کایعنی صبح کی نماز میں تقصیر اس وقت ہوگی کہ تو اسے نہ پڑھے یہاں تك کہ ظہر کا وقت آجائے بہت معقول سورج نکلے پہر دن چڑھے ٹھیك دوپہر ہو جب تك نماز فجر اٹھا رکھئے کچھ تقصیر نہیں جب ظہر کا وقت آئے اس وقت تقصیر ہوگی انا الله وانا الیہ راجعونo ملاجی! دلی میں تو اچھے اچھے حکیم سنے گئے ہیں لکھنے چلے تھے تو پہلے دماغ کی نبض دکھالی ہوتی نمازیں پانچ ہیں ان میں چار متوالی الاوقات اور فجر جدا سب کا حکم بیان کیجئے تو بطور تغلیب یہ کلمہ صحیح جیسا کہ حدیث ۳۱ و ۳۲ میں اقوال حضرت ابوہریرہ وابن عباس رضی اللہ تعالی عنہمسے گزرا کہ خاص فجر کا حکم ان لفظوں سے ارشاد ہوکہ جب تك ظہر نہ آئے فجر نہ پڑھنے میں تقصیر نہیں ۔
خامسا : اقول ملاجی! اعتبار عموم لفظ کا ہے نہ خصوص سبب کا تو اخراج ظہر وعصر ومغرب وعشا کے کیا معنے یہ کیا ستم جہالت ہے کہ آپ کا خصم اطلاق نص وشمول مورد سے تمسك کرے آپ جواب میں اقتصار علی المورد پیش کردیں یا وہ بے نمکی کہ دخول موردے سے راسا انکار یا یہ شورا شوری کہ اسی پر انقطاع اسی میں انحصار غرض سیدھا چلنا ہر طرح ناگوار۔
سادسا : اب اور آنکھیں کھلیں تو علاوہ کی پوٹ باندھی ف۲ کہ مسافر جمع کرنے والے کو ضرور ہے کہ ارادہ جمع کا پہلی نماز کے وقت کے اندراندر کررکھے جس نے ارادہ نہ کیا اس کی جمع درست نہ ہوگی پس اگر مسافر کو بھی شامل کرو تو ایسا مسافر مورد ومحمل حدیث کا ہوگا۔
اقول : یہ ایسا ویسا تم کہہ رہے ہو یا حدیث ارشاد فرمارہی ہے حدیث میں تو ایسے ویسے کی کہیں بو بھی نہیں کہا اپنی ہوائے نفس پر احادیث کا ڈھال لانا ہی عمل بالحدیث ہے۔
سابعا اقول : خود مسافر کو شامل کہہ رہے ہو نہ مسافر سے خاص تو لاجرم حدیث وہ حکم فرمارہی ہے جو مسافر ومقیم سب کو شامل کیا بھلا چنگا مقیم بھی اگر وقت کے اندر اندر نیت رکھے کہ یہ نماز وقت گزر جانے کے بعد پڑھ لوں گا تو تقصیر نہیں کھلا کھلا رافضیوں کا مذہب کیوں نہیں لکھ دیتے اور بعد خرابی بصرہ نہیں بلکہ تباہی کوفہ اگر حاصل ٹھہرے گا تو وہی کہ حدیث احادیث جمع سے مخصوص یہ شامت امام سے وہی آپ کا عذر معمولی جابجا ہے پھر اسے
عــہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۱۲ منہ (م)
ف۱ معیارالحق ص ۴۱۷ ف۲ معیار الحق صــ ۴۱۷
علاوہ کس منہ سے کہہ رہے ہو ملاجی! کبھی کسی کرے سے پالا نہ پڑا ہوگا کہ عمل بالحدیث کا دعوی بھلا دیتا سبحن الله تحریف احادیث اور اس کا نام عمل بالحدیث اسم طیب وعمل خبیث ولاحول ولاقوۃ الا بالله العلی العظیم۔
قسم دوم نصوص عامہ
حدیث ۳۳ : صحیح بخاری وصحیح مسلم وسنن ابی داؤد وسنن نسائی ومصنف طحاوی میں بطرق عدیدہ والفاظ مجملہ ومفصلہ مختصرہ ومطولہ مروی وھذا لفظ البخاری حدثنا عمر بن حفص بن غیاث ثنا ابی ثنا الاعمش ثنی عمارۃ عن عبدالرحمن عن عبدالله رضی الله تعالی عنہ قال مارأیت النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم صلی صلاۃ لغیر میقاتھا الاصلاتین جمع بین المغرب والعشاء وصلی الفجر قبل میقاتھا ولمسلم حدثنا یحیی بن یحیی وابوبکر بن ابی شیبۃ وابوکریب جمیعا عن ابی معویۃ قال یحیی اخبرنا ابومعویۃ عن الاعمش عن عمارۃ عن عبدالرحمن بن یزید عن عبدالله رضی الله تعالی عنہ قال مارأیت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم صلی صلاۃ الالمیقاتھا الاصلاتین صلاۃ المغرب والعشاء بجمع وصلی الفجر یومئذ قبل میقاتھا وحدثناہ عثمن بن ابی شیبۃ واسحق بن ابرھیم جمیعا عن جریر عن الاعمش بھذا الاسناد قال قبل وقتھا بغلس (یعنی حضرت حاضر سفر وحضر ومصاحب وملازم جلوت وخلوت سید البشر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہکہ سابقین اولین فی الاسلام وملازمین خاص حضور سید الانام علیہ افضل الصلاۃ والسلام سے تھے بوجہ کمال قرب بارگاہ اہلبیت عـــہ رسالت
عــہ بخاری مسلم ترمذی نسائی ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہسے :
قال قدمت اناواخی من الیمن فمکثنا حینا مانری الا ان عبدالله بن مسعود رجل من اھلبیت النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم لما نری من دخولہ ودخول امہ علی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ۔ (م)
فرمایا : میں اور میرے بھائی یمن سے آئے تو مدت تك ہم سمجھا کئے کہ عبدالله بن مسعود حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے اہلبیت سے ہیں انہیں اور ان کی ماں کو جو بکثرت کا شانہ رسالت میں آتے جاتے دیکھتے تھے۔ ۱۲ منہ
قسم دوم نصوص عامہ
حدیث ۳۳ : صحیح بخاری وصحیح مسلم وسنن ابی داؤد وسنن نسائی ومصنف طحاوی میں بطرق عدیدہ والفاظ مجملہ ومفصلہ مختصرہ ومطولہ مروی وھذا لفظ البخاری حدثنا عمر بن حفص بن غیاث ثنا ابی ثنا الاعمش ثنی عمارۃ عن عبدالرحمن عن عبدالله رضی الله تعالی عنہ قال مارأیت النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم صلی صلاۃ لغیر میقاتھا الاصلاتین جمع بین المغرب والعشاء وصلی الفجر قبل میقاتھا ولمسلم حدثنا یحیی بن یحیی وابوبکر بن ابی شیبۃ وابوکریب جمیعا عن ابی معویۃ قال یحیی اخبرنا ابومعویۃ عن الاعمش عن عمارۃ عن عبدالرحمن بن یزید عن عبدالله رضی الله تعالی عنہ قال مارأیت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم صلی صلاۃ الالمیقاتھا الاصلاتین صلاۃ المغرب والعشاء بجمع وصلی الفجر یومئذ قبل میقاتھا وحدثناہ عثمن بن ابی شیبۃ واسحق بن ابرھیم جمیعا عن جریر عن الاعمش بھذا الاسناد قال قبل وقتھا بغلس (یعنی حضرت حاضر سفر وحضر ومصاحب وملازم جلوت وخلوت سید البشر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہکہ سابقین اولین فی الاسلام وملازمین خاص حضور سید الانام علیہ افضل الصلاۃ والسلام سے تھے بوجہ کمال قرب بارگاہ اہلبیت عـــہ رسالت
عــہ بخاری مسلم ترمذی نسائی ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہسے :
قال قدمت اناواخی من الیمن فمکثنا حینا مانری الا ان عبدالله بن مسعود رجل من اھلبیت النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم لما نری من دخولہ ودخول امہ علی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ۔ (م)
فرمایا : میں اور میرے بھائی یمن سے آئے تو مدت تك ہم سمجھا کئے کہ عبدالله بن مسعود حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے اہلبیت سے ہیں انہیں اور ان کی ماں کو جو بکثرت کا شانہ رسالت میں آتے جاتے دیکھتے تھے۔ ۱۲ منہ
حوالہ / References
صحیح بخاری باب متی یصلی الفجر بجمع مطبوعہ مطبع ہاشمی میرٹھ ۱ / ۲۲۸
صحیح مسلم باب استحباب زیادۃ التغلیس بصلٰوۃ الصبح مطبوعہ اصح المطابع کراچی ۱ / ۴۱۷
صحیح مسلم باب استحباب زیادۃ التغلیس بصلٰوۃ الصبح مطبوعہ اصح المطابع کراچی ۱ / ۴۱۷
صحیح بخاری مناقب عبداللہ بن مسعود قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۳۱
صحیح مسلم باب استحباب زیادۃ التغلیس بصلٰوۃ الصبح مطبوعہ اصح المطابع کراچی ۱ / ۴۱۷
صحیح مسلم باب استحباب زیادۃ التغلیس بصلٰوۃ الصبح مطبوعہ اصح المطابع کراچی ۱ / ۴۱۷
صحیح بخاری مناقب عبداللہ بن مسعود قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۳۱
سے سمجھے جاتے اور سفر وحضرمیں خدمت عـــہ والا منزلت منزلت بسترگستری ومسواك ومطہرہ داری وکفش برداری محبوب باری صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے معزز وممتاز رہتے ارشاد فرماتے ہیں میں نے کبھی نہ دیکھا کہ حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے کبھی کوئی نماز اس کے غیر وقت میں پڑھی ہو مگر دو۲ نمازیں کہ ایك ان میں سے نماز مغرب ہے جسے مزدلفہ میں عشاء کے وقت پڑھا تھا اور وہاں فجر بھی روز کے معمولی وقت سے پیشتر تاریکی میں پڑھی)
حدیث ۳۴ : سنن ابی داؤد میں ہے : حدثنا قتیبۃ ناعبدالله بن نافع عن ابی مودود عن سلیمن بن ابی یحییعن ابن عمر رضی الله تعالی عنھا قال ما جمع رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم بین المغرب والعشاء قط فی السفر الا مرۃ (یعنی حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہمافرماتے ہیں رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے کبھی کسی سفر میں مغرب وعشاء ملاکر نہ پڑھی سوا ایك بار کے) ظاہر ہے کہ وہ بار وہی سفر حجۃ الوداع ہے کہ شب نہم ذی الحجہ مزدلفہ میں جمع فرمائی جس پر سب کا اتفاق ہے۔
اقول : اس حدیث کی سند حسن جید ہے قتیبہ توقتیبہ ہیں ثقہ ثبت رجال ستہ سے اور عبدالله بن نافع ثقہ صحیح الکتاب رجال صحیح مسلم سے اور سلیمن بن ابی یحیی لاباس بہ (اس میں کوئی نقصان نہیں ہے۔ ت) ابن حبان نے انہیں ثقات تابعین میں ذکر کیا رہے ابومودود وہ عبدالعزیز بن ابی سلیمن مدنی ہذلی مقبول ہیں کما فی
عـــہ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت علقمہ سے مروی میں ملك شام میں گیا دو۲ رکعت پڑھ کر دعا مانگی : الہی! مجھے کوئی نیك ہم نشین میسر فرما۔ پھر ایك قوم کی طرف گیا ان کے پاس بیٹھا تو ایك شیخ تشریف لائے میرے برابر آکر بیٹھ گئے میں نے پوچھا یہ کون ہیں لوگوں نے کہا ابودردأ رضی اللہ تعالی عنہ۔ میں نے کہا میں نے الله عزوجل سے دعا کی تھی کہ کوئی نیك ہم نشین مجھے میسر کرے الله تعالی نے آپ ملادئیے۔ فرمایا : تم کون ہو میں نے کہا اہل کوفہ سے۔ فرمایا :
اولیس عندکم ابن ام عبد صاحب النعلین والوسادۃ والمطھرۃ ۔
کیا تمہارے پاس عبدالله بن مسعود نہیں وہ نعلین ومسند خواب وظروف وضو وطہارت والے۔
یعنی جن کے متعلق یہ خدمتیں تھیں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجس مجلس میں تشریف فرما ہوں نعلین اٹھا کر رکھیں اٹھتے وقت سامنے حاضر کریں سوتے وقت بچھونا بچھائیں اوقات نماز پر پانی حاضر لائیں ظاہر ہے کہ انہیں خلوت وجلوت ہر حالت میں کیسی ملازمت دائمی کی دولت عطا فرمائی پھر ان کے علم کے بعد کسی کی کیا حاجت ہے قالہ القاضی کمانقلہ فی المرقاۃ ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ(م)
حدیث ۳۴ : سنن ابی داؤد میں ہے : حدثنا قتیبۃ ناعبدالله بن نافع عن ابی مودود عن سلیمن بن ابی یحییعن ابن عمر رضی الله تعالی عنھا قال ما جمع رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم بین المغرب والعشاء قط فی السفر الا مرۃ (یعنی حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہمافرماتے ہیں رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے کبھی کسی سفر میں مغرب وعشاء ملاکر نہ پڑھی سوا ایك بار کے) ظاہر ہے کہ وہ بار وہی سفر حجۃ الوداع ہے کہ شب نہم ذی الحجہ مزدلفہ میں جمع فرمائی جس پر سب کا اتفاق ہے۔
اقول : اس حدیث کی سند حسن جید ہے قتیبہ توقتیبہ ہیں ثقہ ثبت رجال ستہ سے اور عبدالله بن نافع ثقہ صحیح الکتاب رجال صحیح مسلم سے اور سلیمن بن ابی یحیی لاباس بہ (اس میں کوئی نقصان نہیں ہے۔ ت) ابن حبان نے انہیں ثقات تابعین میں ذکر کیا رہے ابومودود وہ عبدالعزیز بن ابی سلیمن مدنی ہذلی مقبول ہیں کما فی
عـــہ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت علقمہ سے مروی میں ملك شام میں گیا دو۲ رکعت پڑھ کر دعا مانگی : الہی! مجھے کوئی نیك ہم نشین میسر فرما۔ پھر ایك قوم کی طرف گیا ان کے پاس بیٹھا تو ایك شیخ تشریف لائے میرے برابر آکر بیٹھ گئے میں نے پوچھا یہ کون ہیں لوگوں نے کہا ابودردأ رضی اللہ تعالی عنہ۔ میں نے کہا میں نے الله عزوجل سے دعا کی تھی کہ کوئی نیك ہم نشین مجھے میسر کرے الله تعالی نے آپ ملادئیے۔ فرمایا : تم کون ہو میں نے کہا اہل کوفہ سے۔ فرمایا :
اولیس عندکم ابن ام عبد صاحب النعلین والوسادۃ والمطھرۃ ۔
کیا تمہارے پاس عبدالله بن مسعود نہیں وہ نعلین ومسند خواب وظروف وضو وطہارت والے۔
یعنی جن کے متعلق یہ خدمتیں تھیں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجس مجلس میں تشریف فرما ہوں نعلین اٹھا کر رکھیں اٹھتے وقت سامنے حاضر کریں سوتے وقت بچھونا بچھائیں اوقات نماز پر پانی حاضر لائیں ظاہر ہے کہ انہیں خلوت وجلوت ہر حالت میں کیسی ملازمت دائمی کی دولت عطا فرمائی پھر ان کے علم کے بعد کسی کی کیا حاجت ہے قالہ القاضی کمانقلہ فی المرقاۃ ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ(م)
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الصلٰوۃ باب الجمع بین الصلاتین آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۷۱
صحیح بخاری مناقب عبداللہ بن مسعود قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۳۱
صحیح بخاری مناقب عبداللہ بن مسعود قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۳۱
التقریب۔ حافظ الشان نے تہذیب التہذیب میں فرمایا : سلیمن بن ابی یحیی حجازی روی عن ابی ھریرۃ وابن عمر وعنہ ابن عجلان وداؤد بن قیس وابومودود عبدالعزیز بن ابی سلیمن قال ابوحاتم مابحدیثہ باس وذکرہ ابن حبان فی الثقات روی لہ ابوداود حدیثا واحدا فی الجمع بین المغرب والعشاء ۔
ثم اقول : بعد نظافت سند مثل حدیث کا بروایت ایوب عن نافع عن ابن عمر بلفظ لم یرابن عمر جمع بینھما قط الاتلك اللیلۃ (ابن عمر کو نہیں دیکھا کہ دو۲ نمازوں کو جمع کیا ہو سوائے اس رات کے۔ ت) مروی ہونا کچھ مضر نہیں اگر یہاں نافع فعل ابن عمر اور وہاں ابن عمر فعل سیدالبشر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمروایت کریں کیا منافات ہے خصوصا یروی عن ایوب معضل ہے اور معضل ملاجی کے نزدیك محض مردود ومہل اور وہ بھی بصیغہ مجہول کو غالبا مشیر ضعف ہے تو ایسی تعلیق حدیث سند متصل کے کب معارض ہوسکتی ہے۔
حدیث ۳۵ : مؤطائے امام محمد میں ہے : قال محمد بلغنا عن عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہانہ کتب فی الافاق یناھھم ان یجمعوا بین الصلاۃ واخبرھم ان الجمع بین الصلاتین فی وقت واحد کبیرۃ من الکبائر اخبرنا بذلك الثقات عن العلاء بن الحارث عن مکحول ۔ (یعنی امیرالمؤمنین امام العادلین ناطق بالحق والصواب عمرفاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہنے تمام آفاق میں فرمان واجب الاذعان نافذ فرمائے کہ کوئی شخص دو۲ نمازیں جمع نہ کرنے پائے اور ان میں ارشاد فرمادیا کہ ایك وقت میں دو۲ نمازیں ملانا گناہ کبیرہ ہے)
الحمد لله امام عادل فاروق الحق والباطل نے حق واضح فرمادیا اور ان کے فرمانوں پر کہیں سے انکار نہ آنے نے گویا مسئلے کو درجہ اجماع تك مترقی کیا۔
اقول : یہ حدیث بھی ہمارے اصول پر حسن جید حجت ہے علاء بن الحارث تابعی صدوق حقیہ رجال صحیح مسلم وسنن اربعہ سے ہیں ۔
واختلاطہ لایضر عندنا مالم یثبت الاخذ بعدہ فقد ذکر المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر کتاب الصلاۃ باب الشھید حدیث احمد ثنا عفان بن مسلم ثنا حماد بن سلمۃ ثنا عطاء بن السائب ومعلوم ان عطاء بن السائب ممن اختلط فقال ارجوان حماد بن سلمۃ ممن اخذ منہ قبل التغیر ثم ذکر الدلیل علیہ ثم قال وعلی الابھام لاینزل علی الحسن ۔ (ملخصا)
علاء کا مختلط ہونا ہمارے نزدیك مضر نہیں ہے جب تك یہ ثابت نہ ہوکہ یہ روایت اس سے اختلاط سے بعد لی گئی ہے۔ کیونکہ شیخ ابن ہمام نے فتح القدیر کی
ثم اقول : بعد نظافت سند مثل حدیث کا بروایت ایوب عن نافع عن ابن عمر بلفظ لم یرابن عمر جمع بینھما قط الاتلك اللیلۃ (ابن عمر کو نہیں دیکھا کہ دو۲ نمازوں کو جمع کیا ہو سوائے اس رات کے۔ ت) مروی ہونا کچھ مضر نہیں اگر یہاں نافع فعل ابن عمر اور وہاں ابن عمر فعل سیدالبشر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمروایت کریں کیا منافات ہے خصوصا یروی عن ایوب معضل ہے اور معضل ملاجی کے نزدیك محض مردود ومہل اور وہ بھی بصیغہ مجہول کو غالبا مشیر ضعف ہے تو ایسی تعلیق حدیث سند متصل کے کب معارض ہوسکتی ہے۔
حدیث ۳۵ : مؤطائے امام محمد میں ہے : قال محمد بلغنا عن عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہانہ کتب فی الافاق یناھھم ان یجمعوا بین الصلاۃ واخبرھم ان الجمع بین الصلاتین فی وقت واحد کبیرۃ من الکبائر اخبرنا بذلك الثقات عن العلاء بن الحارث عن مکحول ۔ (یعنی امیرالمؤمنین امام العادلین ناطق بالحق والصواب عمرفاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہنے تمام آفاق میں فرمان واجب الاذعان نافذ فرمائے کہ کوئی شخص دو۲ نمازیں جمع نہ کرنے پائے اور ان میں ارشاد فرمادیا کہ ایك وقت میں دو۲ نمازیں ملانا گناہ کبیرہ ہے)
الحمد لله امام عادل فاروق الحق والباطل نے حق واضح فرمادیا اور ان کے فرمانوں پر کہیں سے انکار نہ آنے نے گویا مسئلے کو درجہ اجماع تك مترقی کیا۔
اقول : یہ حدیث بھی ہمارے اصول پر حسن جید حجت ہے علاء بن الحارث تابعی صدوق حقیہ رجال صحیح مسلم وسنن اربعہ سے ہیں ۔
واختلاطہ لایضر عندنا مالم یثبت الاخذ بعدہ فقد ذکر المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر کتاب الصلاۃ باب الشھید حدیث احمد ثنا عفان بن مسلم ثنا حماد بن سلمۃ ثنا عطاء بن السائب ومعلوم ان عطاء بن السائب ممن اختلط فقال ارجوان حماد بن سلمۃ ممن اخذ منہ قبل التغیر ثم ذکر الدلیل علیہ ثم قال وعلی الابھام لاینزل علی الحسن ۔ (ملخصا)
علاء کا مختلط ہونا ہمارے نزدیك مضر نہیں ہے جب تك یہ ثابت نہ ہوکہ یہ روایت اس سے اختلاط سے بعد لی گئی ہے۔ کیونکہ شیخ ابن ہمام نے فتح القدیر کی
حوالہ / References
تہذیب التہذیب را وی ۳۷۹ مطبوعہ دائرۃ المعارف حیدرآباد ۴ / ۲۲۸)
مؤطا امام احمد باب الجمع بین اصلاتین فی السفر والمطر مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ص ۱۳۲
فتح القدیر کتاب الصلٰوۃ باب الشہید مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۱۰۴
مؤطا امام احمد باب الجمع بین اصلاتین فی السفر والمطر مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ص ۱۳۲
فتح القدیر کتاب الصلٰوۃ باب الشہید مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۱۰۴
کتاب الصلوۃ باب الشہید میں احمد کی روایت ذکر کی ہے جس کا ایك راوی عطاء ابن سائب ہے۔ اور عطاء ابن سائب کا مختلط ہونا سب کو معلوم ہے مگر ابن ہمام نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ حماد بن سلمہ نے یہ روایت عطاء کے اختلاط میں مبتلا ہونے سے پہلے اس سے اخذ کی ہوگی۔ پھر اس کی دلیل بیان کی اور کہا کہ اگر ابہام پایا بھی جائے تو حسن کے درجے سے کم نہیں ہے۔ (ت)
اور امام مکحول ثقہ فقیہ حافظ جلیل القدر بھی رجال مسلم واربعہ سے ہیں ۔
والمرسل حجۃ عندنا وعند الجمھور اما ابھام شیوخ محمد فتوثیق المبھم مقبول عندنا کمافی المسلم وغیرہ لاسیما من مثل الامام محمد ومع قطع النظر عنہ فلقائل ان یقول قدانجبر بالتعدد فی فتح المغیث فی ذکر الملقوب رونیاھا فی مشایخ البخاری لابی احمد بن عدی قال سمعت عدۃ مشایخ یحکون وذکرھا ومن طریق ابن عدی رواھا الخطیب فی تاریخہ وغیرہ ولایضر جھالۃ شیوخ ابن عدی فیھا فانھم عدد ینجبر بہ جھالتھم ۔
مرسل ہمارے اور جمہور کے نزدیك حجت ہے۔ رہا محمد کے اساتذہ کا مبہم ہونا تو مبہم کی توثیق ہمارے نزدیك نزدیك مقبول ہے جیسا کہ مسلم وغیرہ میں ہے خصوصا جب توثیق کرنے والی امام محمد جیسی ہستی ہو اور اس سے قطع نظر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ متعدد اسنادوں سے مروی ہونے کی وجہ سے اس کی یہ خامی دور ہوگئی ہے۔ فتح المغیث میں مقلوب کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ “ مشائخ البخاری “ میں احمد ابن عدی سے مروی ہے کہ میں نے متعدد مشائخ کو یہ حدیث بیان کرتے سنا ہے۔ ابن عدی ہی کے واسطے سے یہ بات خطیب نے بھی اپنی تاریخ میں ذکر کی ہے اور دےگر علماء نے بھی۔ اور ابن عدی کے اساتذہ کا مبہم ہونا مضر نہیں ہے کیونکہ ان کی تعداد اتنی ہے کہ اس کی وجہ سے وہ مجہول نہیں رہتے۔ (ت)
حدیث ۳۶ : امام محمد رضی اللہ تعالی عنہآثار ماثورہ کتاب الحجج عیسی بن ابان میں روایت فرماتے ہیں : اخبرنا اسمعیل بن ابرھیم البصری عن خالد الحذاء عن حمید بن ھلال عن ابی قتادۃ
اور امام مکحول ثقہ فقیہ حافظ جلیل القدر بھی رجال مسلم واربعہ سے ہیں ۔
والمرسل حجۃ عندنا وعند الجمھور اما ابھام شیوخ محمد فتوثیق المبھم مقبول عندنا کمافی المسلم وغیرہ لاسیما من مثل الامام محمد ومع قطع النظر عنہ فلقائل ان یقول قدانجبر بالتعدد فی فتح المغیث فی ذکر الملقوب رونیاھا فی مشایخ البخاری لابی احمد بن عدی قال سمعت عدۃ مشایخ یحکون وذکرھا ومن طریق ابن عدی رواھا الخطیب فی تاریخہ وغیرہ ولایضر جھالۃ شیوخ ابن عدی فیھا فانھم عدد ینجبر بہ جھالتھم ۔
مرسل ہمارے اور جمہور کے نزدیك حجت ہے۔ رہا محمد کے اساتذہ کا مبہم ہونا تو مبہم کی توثیق ہمارے نزدیك نزدیك مقبول ہے جیسا کہ مسلم وغیرہ میں ہے خصوصا جب توثیق کرنے والی امام محمد جیسی ہستی ہو اور اس سے قطع نظر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ متعدد اسنادوں سے مروی ہونے کی وجہ سے اس کی یہ خامی دور ہوگئی ہے۔ فتح المغیث میں مقلوب کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ “ مشائخ البخاری “ میں احمد ابن عدی سے مروی ہے کہ میں نے متعدد مشائخ کو یہ حدیث بیان کرتے سنا ہے۔ ابن عدی ہی کے واسطے سے یہ بات خطیب نے بھی اپنی تاریخ میں ذکر کی ہے اور دےگر علماء نے بھی۔ اور ابن عدی کے اساتذہ کا مبہم ہونا مضر نہیں ہے کیونکہ ان کی تعداد اتنی ہے کہ اس کی وجہ سے وہ مجہول نہیں رہتے۔ (ت)
حدیث ۳۶ : امام محمد رضی اللہ تعالی عنہآثار ماثورہ کتاب الحجج عیسی بن ابان میں روایت فرماتے ہیں : اخبرنا اسمعیل بن ابرھیم البصری عن خالد الحذاء عن حمید بن ھلال عن ابی قتادۃ
حوالہ / References
فتح المغیث المقلوب دارالامام الطبری مطبوعہ بیروت ۱ / ۳۲۱
العدوی قال سمعت قراء ۃ کتاب عمر بن الخطاب رضی الله تعالی عنہ ثلث من الکبائر الجمع بین الصلاتین والفرار من الزجف والنھبۃ
(یعنی حضرت ابوقتادہ عدوی کہ اجلہ اکابر وثقات تابعین سے ہیں بلکہ بعض نے انہیں صحابہ میں گنا فرماتے ہیں میں نے امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہکا شقہ وفرمان سنا کہ تین۳ باتیں کبیرہ گناہوں سے ہیں : دو۲ نمازیں جمع کرنا اور جہاد میں کفار کے مقابلے سے بھاگنا اور کسی کا مال لوٹ لینا)
اقول : یہ حدیث اعلی درجہ کی صحیح ہے اس کے سب رجال اسمعیل بن ابراہیم ابن علیہ سے آخر تك ائمہ ثقات عدول رجال صحیح مسلم سے ہیں ولله الحمد۔
لطیفہ : حدیث مؤطا کے جواب میں تو ملاجی کو وہی ان کا عذر معمولی عارض ہواکہ منع کرنا عمر کا حالت اقامت میں بلاعذر تھا۔
اقول : اگر ہرجگہ ایسی ہی تخصیص تراش لینے کا دروازہ کھلے تو تمام احکام شرعیہ سے بے قیدوں کو سہل چھٹی ملے جہاں چاہیں کہہ دیں یہ حکم خاص فلاں لوگوں کے لئے ہے حدیث صحیحین کو تین طرح رد کرنا چاہا :
اول : انکار جمع اس سے بطور مفہوم نکلتا ہے اور حنفیہ قائل مفہوم نہیں اس جواب کی حکایت خود اس کے رد میں کفایت ہے اس سے اگر بطور مفہوم نکلتی ہے تو مزدلفہ کی جمع کہ مابعد الا ہمارے نزدیك مسکوت عنہ ہے انکار جمع تو اس کا صریح منطوق ومدلول مطابقی ومنصوص عبارۃ النص ہے۔
اقول : اولا اس کی نسبت اگر بعض اجلہ شافعیہ کے قلم سے براہ بشریت لفظ مفہوم نکل گیا ملاجی مدعی اجتہاد وحرمت تقلید ابوحنیفہ وشافعی کو کیا لائق تھا کہ حدیث صحیح بخاری وصحیح مسلم رد کرنے کیلئے ایسی بدیہی غلطی میں ایك متأخر مقلد کی تقلید جامد کرتے شاید رد احادیث صحیحہ میں یہ شرك صریح جائز وصحیح ہوگا اب نہ اس میں شائبہ نصرانیت ہے نہ اتخذوا احبارهم و رهبانهم اربابا من دون الله (انہوں نے اپنے عالموں اور راہبوں کو الله کے علاوہ اپنا رب بنالیا۔ ت) کی آفت كبر مقتا عند الله ان تقولوا ما لا تفعلون(۳) (الله کے نزدیك بڑا جرم ہے کہ تم اس کام کا کہو جو خود نہیں کرتے۔ ت)
ثانیا : بفرض غلط مفہوم ہی سہی اب یہ نامسلم کہ حنفیہ اس کے قائل نہیں صرف عبارات شارع غیر متعلقہ
(یعنی حضرت ابوقتادہ عدوی کہ اجلہ اکابر وثقات تابعین سے ہیں بلکہ بعض نے انہیں صحابہ میں گنا فرماتے ہیں میں نے امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہکا شقہ وفرمان سنا کہ تین۳ باتیں کبیرہ گناہوں سے ہیں : دو۲ نمازیں جمع کرنا اور جہاد میں کفار کے مقابلے سے بھاگنا اور کسی کا مال لوٹ لینا)
اقول : یہ حدیث اعلی درجہ کی صحیح ہے اس کے سب رجال اسمعیل بن ابراہیم ابن علیہ سے آخر تك ائمہ ثقات عدول رجال صحیح مسلم سے ہیں ولله الحمد۔
لطیفہ : حدیث مؤطا کے جواب میں تو ملاجی کو وہی ان کا عذر معمولی عارض ہواکہ منع کرنا عمر کا حالت اقامت میں بلاعذر تھا۔
اقول : اگر ہرجگہ ایسی ہی تخصیص تراش لینے کا دروازہ کھلے تو تمام احکام شرعیہ سے بے قیدوں کو سہل چھٹی ملے جہاں چاہیں کہہ دیں یہ حکم خاص فلاں لوگوں کے لئے ہے حدیث صحیحین کو تین طرح رد کرنا چاہا :
اول : انکار جمع اس سے بطور مفہوم نکلتا ہے اور حنفیہ قائل مفہوم نہیں اس جواب کی حکایت خود اس کے رد میں کفایت ہے اس سے اگر بطور مفہوم نکلتی ہے تو مزدلفہ کی جمع کہ مابعد الا ہمارے نزدیك مسکوت عنہ ہے انکار جمع تو اس کا صریح منطوق ومدلول مطابقی ومنصوص عبارۃ النص ہے۔
اقول : اولا اس کی نسبت اگر بعض اجلہ شافعیہ کے قلم سے براہ بشریت لفظ مفہوم نکل گیا ملاجی مدعی اجتہاد وحرمت تقلید ابوحنیفہ وشافعی کو کیا لائق تھا کہ حدیث صحیح بخاری وصحیح مسلم رد کرنے کیلئے ایسی بدیہی غلطی میں ایك متأخر مقلد کی تقلید جامد کرتے شاید رد احادیث صحیحہ میں یہ شرك صریح جائز وصحیح ہوگا اب نہ اس میں شائبہ نصرانیت ہے نہ اتخذوا احبارهم و رهبانهم اربابا من دون الله (انہوں نے اپنے عالموں اور راہبوں کو الله کے علاوہ اپنا رب بنالیا۔ ت) کی آفت كبر مقتا عند الله ان تقولوا ما لا تفعلون(۳) (الله کے نزدیك بڑا جرم ہے کہ تم اس کام کا کہو جو خود نہیں کرتے۔ ت)
ثانیا : بفرض غلط مفہوم ہی سہی اب یہ نامسلم کہ حنفیہ اس کے قائل نہیں صرف عبارات شارع غیر متعلقہ
حوالہ / References
کتاب الحجۃ باب الجمع بین الصلاتین دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۱ / ۱۶۵
القرآن ۹ / ۳۱
القرآن ۶۱ / ۳
القرآن ۹ / ۳۱
القرآن ۶۱ / ۳
بعقوبات میں اس کی نفی کرتے ہیں کلام صحابہ ومن بعدہم من العلماء میں مفہوم مخالف بے خلاف مرعی ومعتبر کمانص علیہ فی تحریر الاصول والنھر الفائق والدرالمختار وغیرھا من الاسفار قد ذکرنا نصوصھا فی رسالتنا القطوف الدانیۃ لمن احسن الجماعۃ الثانیۃ ۱۳۔
دوم : ایك رام پوری ملا سے نقل کیا کہ ابن مسعود سے مسند ابی یعلی میں یہ روایت بھی ہے کہ کان رسول الله صلی الله علیہ وسلم یجمع بین الصلاتین فی السفر (رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسفر میں دو نمازیں جمع کرتے تھے۔ ت)تو موجہ ہے کہ حدیث صحیحین کو حالت نزول منزل اور روایت ابی یعلی کو حالت سیر پر حمل کریں یہ مذہب امام مالك کی طرف عود کرجائے گا۔
اولا ملاجی خود ہی اسی بحث میں کہہ چکے ف۱ ہوکہ شاہ صاحب نے مسند ابی یعلی کو طبقہ ثالثہ میں جس میں سب اقسام کی حدیثیں صحیح حسن غریب معروف شاذ منکر مقلوب موجود ہیں ٹھہرایا ہے پھر خود ہی اس طبقے کی کتاب کو کہا ف۲ اس کتاب کی حدیث بدون تصحیح کسی محدث کے یا پیش کرنے سند کے کیونکر تسلیم کی جاوے یہ کتاب اس طبقے کی ہے جس میں سب اقسام کی حدیثیں صحیح اور سقیم مختلط ہیں یہ کیا دھرم ہے کہ اوروں پر منہ آؤ اور اپنے لیے ایك رام پوری ملا کی تقلید سے حلال بتاؤ اتخذوا احبارهم و رهبانهم ۔
ثانیا اقول : ملاجی! کسی ذی علم سے التجا کرو تو وہ تمہیں صریح ومجمل ومتعین ومحتمل کا فرق سکھائے حدیث صحیحین انکار جمع حقیقی میں نص صریح ہے اور روایت ابویعلی حقیقی جمع کا اصلا پتا نہیں دیتی بلکہ احادیث جمع صوری میں عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہکی حدیثیں صاف صاف جمع صوری بتارہی ہیں تمہاری ذی ہوشی کہ نص ومحتمل کو لڑاکر اختلاف محامل سے راہ توفیق ڈھونڈتے ہو۔
لطیفہ : اقول ملاجی کا اضطراب قابل تماشا ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہکو کہیں راوی جمع ٹھہرا کر عدد رواۃ پندرہ بتاتے ہیں کہیں نافی سمجھ کر چودہ صدر کلام میں جہاں راویان جمع گنائے صاف صاف کہا ابن مسعود فی احدی الروایتین اب رامپوری ملا کی تقلید سے وہ احدی الروایتین بھی گئی ابن
مسعود خاصے مبثتان جمع میں ٹھہرگئے۔
سوم : جسے ملاجی بہت ہی علق نفیس سمجھے ہوئے ہیں ان دو کو عربی میں بولے تھے یہاں چمك چمك کر اردو میں چہك رہے ف۳ ہیں کہ اگر کہو جس جمع کو ابن مسعود نے نہیں دیکھا وہ درست نہیں تو تم پر یہ پہاڑ مصیبت کا ٹوٹے گا
دوم : ایك رام پوری ملا سے نقل کیا کہ ابن مسعود سے مسند ابی یعلی میں یہ روایت بھی ہے کہ کان رسول الله صلی الله علیہ وسلم یجمع بین الصلاتین فی السفر (رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسفر میں دو نمازیں جمع کرتے تھے۔ ت)تو موجہ ہے کہ حدیث صحیحین کو حالت نزول منزل اور روایت ابی یعلی کو حالت سیر پر حمل کریں یہ مذہب امام مالك کی طرف عود کرجائے گا۔
اولا ملاجی خود ہی اسی بحث میں کہہ چکے ف۱ ہوکہ شاہ صاحب نے مسند ابی یعلی کو طبقہ ثالثہ میں جس میں سب اقسام کی حدیثیں صحیح حسن غریب معروف شاذ منکر مقلوب موجود ہیں ٹھہرایا ہے پھر خود ہی اس طبقے کی کتاب کو کہا ف۲ اس کتاب کی حدیث بدون تصحیح کسی محدث کے یا پیش کرنے سند کے کیونکر تسلیم کی جاوے یہ کتاب اس طبقے کی ہے جس میں سب اقسام کی حدیثیں صحیح اور سقیم مختلط ہیں یہ کیا دھرم ہے کہ اوروں پر منہ آؤ اور اپنے لیے ایك رام پوری ملا کی تقلید سے حلال بتاؤ اتخذوا احبارهم و رهبانهم ۔
ثانیا اقول : ملاجی! کسی ذی علم سے التجا کرو تو وہ تمہیں صریح ومجمل ومتعین ومحتمل کا فرق سکھائے حدیث صحیحین انکار جمع حقیقی میں نص صریح ہے اور روایت ابویعلی حقیقی جمع کا اصلا پتا نہیں دیتی بلکہ احادیث جمع صوری میں عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہکی حدیثیں صاف صاف جمع صوری بتارہی ہیں تمہاری ذی ہوشی کہ نص ومحتمل کو لڑاکر اختلاف محامل سے راہ توفیق ڈھونڈتے ہو۔
لطیفہ : اقول ملاجی کا اضطراب قابل تماشا ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہکو کہیں راوی جمع ٹھہرا کر عدد رواۃ پندرہ بتاتے ہیں کہیں نافی سمجھ کر چودہ صدر کلام میں جہاں راویان جمع گنائے صاف صاف کہا ابن مسعود فی احدی الروایتین اب رامپوری ملا کی تقلید سے وہ احدی الروایتین بھی گئی ابن
مسعود خاصے مبثتان جمع میں ٹھہرگئے۔
سوم : جسے ملاجی بہت ہی علق نفیس سمجھے ہوئے ہیں ان دو کو عربی میں بولے تھے یہاں چمك چمك کر اردو میں چہك رہے ف۳ ہیں کہ اگر کہو جس جمع کو ابن مسعود نے نہیں دیکھا وہ درست نہیں تو تم پر یہ پہاڑ مصیبت کا ٹوٹے گا
حوالہ / References
مسند ابویعلی مسند ابن مسعود حدیث ۵۳۹۱ مطبوعہ علوم القرآن بیروت ۵ / ۱۸۱
القرآن ۹ / ۳۱
ف۱ معیارالحق ص ۳۹۷ ف۲ معیارالحق ص ۴۰۰ ف۳ معیارالحق ص
القرآن ۹ / ۳۱
ف۱ معیارالحق ص ۳۹۷ ف۲ معیارالحق ص ۴۰۰ ف۳ معیارالحق ص
کہ جمع بین الظہر اور عصر کو عرفات میں کیوں درست کہتے ہو باوجودیکہ اس قول ابن مسعود کے سے تو نفی جمع فی العرفات کی بھی مفہوم ہوتی ہے پس جو تم جواب رکھتے ہو اسی کو ہماری طرف سے سمجھو یعنی اگر کہو نہ ذکر کرنا ابن مسعود کا جمع فی العرفات کو بنا بر شہرت عرفات کے تھا تو ہم کہیں گے کہ جمع فی السفر بھی قرن صحابہ میں مشہور تھی کیونکہ چودہ صحابی سوا ابن مسعود کے اس کے ناقل ہیں تو اسی واسطے ابن مسعود نے اس کا استشنا نہ کیا اور اب محمل نفی کا جمع بلاعذر ہوگی اور اگر کہو کہ جمع فی العرفات بالمقائسہ معلوم ہوتی ہے تو ہم کو کون مانع ہے مقائسہ سے وعلی ہذا القیاس جو جواب تمہارا ہے وہی ہمارا ہے۔ اس جواب کو ملاجی نے گل سرسبد بناکر سب سے اول ذکر کیا ان دو کی تو امام نووی وسلام الله رامپوری کی طرف نسبت کی مگر اسے بہت پسند کرکے بلانقل ونسبت اپنے نامہ اعمال میں ثبت رکھا حالانکہ یہ بھی کلام امام نووی میں مذکور اور فتح الباری وغیرہ میں ماثور تھا شہرت جمع عرفات سے جو جواب امام محقق علی الاطلاق محمد بن الہمام وغیرہ علمائے اعلام حنفیہ کرام نے افادہ فرمایا اس کا نفیس وجلیل مطلب ملاجی کی فہم تنگ میں اصلا نہ دھنسا اجتہاد کے نشہ میں ادعائے باطل شہرت جمع سفر کا آوازہ کسا اب فقیر غفرلہ المولی القدیر سے تحقیق حق سنےے فاقو ل وبحو ل ربی اصول اولا ملاجی جواب علماء کا یہ مطلب سمجھے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہنے دیکھیں تو تین نمازیں غیر وقت میں مگر دو۲ ذکر کیں مغرب وصبح مزدلفہ ا ور تیسری یعنی عصر عرفہ کو بوجہ شہرت ذکر نہ فرمایا جس پر آپ نے یہ کہنے کی گنجائش سمجھی کہ یونہی جمع سفر بھی بوجہ شہرت ترك کی اس ادعائے باطل کا لفافہ تو بحمدالله تعالی اوپر کھل چکا کہ شہرت درکنار نفس ثبوت کے لالے پڑے ہیں حضرت نے چودہ۱۴ صحابہ کرام کا نام لیا پھر آپ ہی دس۱۰ سے دست بردار ہوئے چار۴ باقی ماندہ میں دو۲ کی روایتیں نری بے علاقہ اتر گئیں رہے دو۲ وہاں بعونہ تعالی وہ قاہر باہر جواب پائے کہ جی ہی جانتا ہوگا اگر بالفرض دو۲ سے ثبوت ہوبھی جاتا تو کیا صرف دوکی روایت قرن صحابہ میں شہرت ہے مگر یہاں تو کلام علماء کا وہ مطلب ہی نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے صرف انہیں دو۲ نمازوں عصر عرفہ ومغرب مزدلفہ کا غیر وقت میں پڑھنا ثابت انہیں دو۲ کو ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہنے دیکھا انہیں دونوں کو صلاتین کہہ کر یہاں شمار فرمایا اگرچہ تفصیل میں بوجہ شہرت عامہ تامہ ایك کا نام لیا صرف ذکر مغرب پر اقتصار فرمایا ایسا اکتفا کلام صحیح میں شائع قال عزوجل : و جعل لكم سرابیل تقیكم الحر (اور تمہارے لےے لباس بنائے جو تمہیں گرمی سے بچاتے ہیں ۔ ت) خود انہیں نمازوں کے بارے میں امام سالم بن عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہمکا ارشاد دیکھئے کہ پوچھا گیا کیا عبدالله رضی اللہ تعالی عنہسفر میں کوئی نماز جمع کرتے تھے فرمایا : لا الابجمع (نہ مگر مزدلفہ میں ) کماقدمنا
حوالہ / References
القرآن ۱۶ / ۸۱
عن سنن النسائی۔ ملاجی! یہاں بھی کہہ دیجیو کہ جمع سفر کو شہرۃ چھوڑ دیا ہے اور سنےے امام ترمذی اپنی صحیح میں فرماتے ہیں :
العمل علی ھذا عند اھل العلم ان لایجمع بین الصلاتین الا فی السفر اوبعرفۃ ۔
اہل علم کے ہاں عمل اسی پر ہے کہ بغیر سفر کے اور یوم عرفہ کے دو۲ نمازیں جمع نہ کرے۔ (ت)
ترمذی نے صرف نماز عرفہ کا استشناء کیا نماز مزدلفہ کو چھوڑ دیا تو ہے یہ کہ دونوں جمعیں متلازم ہیں اور ایك کا ذکر دوسری کا یقینا مذکر خصوصا نماز عرفہ کہ اظہر واشہر تو مزدلفہ کا ذکر دونوں کا ذکر ہے غرض ان صلاتین کی دوسری نماز ظہر عرفہ ہے نہ فجر نحر وہ مسئلہ جداگانہ کا افادہ ہے کہ دو۲ نمازیں تو غیر وقت میں پڑھیں اور فجر وقت معمول سے پیشتر تاریکی میں اور بلاشبہہ اجماع امت ہے کہ فجر حقیقۃ وقت سے پہلے نہ تھی نہ ہرگز کہیں کبھی اس کا جواز اور خود اسی حدیث ابومسعود کے لفظ مسلم کے یہاں بروایت جریر عن الاعمش قال قبل وقتھا بغلس اس پر شاہد اگر رات میں پڑھی جاتی ذکر غلس کے کیا معنی تھے صحیح بخاری میں تو تصریح صریح ہے کہ فجر بعد طلوع فجر پڑھی۔
اذقال حدثنا عبدالله بن رجاء ثنا اسرائیل عن ابی اسحق عن عبدالرحمن بن یزید قال خرجنا مع عبدالله الی مکۃ ثم قدمنا جمعا (وفیہ) ثم صلی الفجر حین طلع الفجر الحدیث وقال حدثنا عمروبن خالد ثنا زھیر ثنا ابواسحق سمعت عبدالرحمن بن یزید یقول حج عبدالله رضی الله تعالی عنہ فاتینا المزدلفۃ (وفیہ) فلما طلع الفجر قال ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کان لایصلی ھذہ الساعۃ الاھذہ الصلاۃ فی ھذا المکان من ھذا الیوم الحدیث ۔
کہا حدیث بیان کی ہم سے عبدالله ابن رجاء نے اسرائیل سے اس نے ابواسحق سے اس نے عبدالرحمن سے کہ ہم عبدالله کے ساتھ مکہ آئے پھر مزدلفہ آئے۔ اس روایت میں ہے کہ پھر فجر پڑھی جب فجر طلوع ہوئی الحدیث۔ اور کہا حدیث بیان کی عمر بن خالد نے زہیر سے اس نے ابواسحاق سے کہ میں نے عبدالرحمن ابن یزید سے سنا ہے کہ عبدالله رضی اللہ تعالی عنہنے حج کیا تو ہم مزدلفہ کو آئے۔ اس میں ہے جب فجر طلوع ہوئی تو کہا کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماس وقت میں کوئی نماز نہیں پڑھتے تھے مگر یہ نماز اسی جگہ اسی دن الحدیث۔ (ت)
العمل علی ھذا عند اھل العلم ان لایجمع بین الصلاتین الا فی السفر اوبعرفۃ ۔
اہل علم کے ہاں عمل اسی پر ہے کہ بغیر سفر کے اور یوم عرفہ کے دو۲ نمازیں جمع نہ کرے۔ (ت)
ترمذی نے صرف نماز عرفہ کا استشناء کیا نماز مزدلفہ کو چھوڑ دیا تو ہے یہ کہ دونوں جمعیں متلازم ہیں اور ایك کا ذکر دوسری کا یقینا مذکر خصوصا نماز عرفہ کہ اظہر واشہر تو مزدلفہ کا ذکر دونوں کا ذکر ہے غرض ان صلاتین کی دوسری نماز ظہر عرفہ ہے نہ فجر نحر وہ مسئلہ جداگانہ کا افادہ ہے کہ دو۲ نمازیں تو غیر وقت میں پڑھیں اور فجر وقت معمول سے پیشتر تاریکی میں اور بلاشبہہ اجماع امت ہے کہ فجر حقیقۃ وقت سے پہلے نہ تھی نہ ہرگز کہیں کبھی اس کا جواز اور خود اسی حدیث ابومسعود کے لفظ مسلم کے یہاں بروایت جریر عن الاعمش قال قبل وقتھا بغلس اس پر شاہد اگر رات میں پڑھی جاتی ذکر غلس کے کیا معنی تھے صحیح بخاری میں تو تصریح صریح ہے کہ فجر بعد طلوع فجر پڑھی۔
اذقال حدثنا عبدالله بن رجاء ثنا اسرائیل عن ابی اسحق عن عبدالرحمن بن یزید قال خرجنا مع عبدالله الی مکۃ ثم قدمنا جمعا (وفیہ) ثم صلی الفجر حین طلع الفجر الحدیث وقال حدثنا عمروبن خالد ثنا زھیر ثنا ابواسحق سمعت عبدالرحمن بن یزید یقول حج عبدالله رضی الله تعالی عنہ فاتینا المزدلفۃ (وفیہ) فلما طلع الفجر قال ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کان لایصلی ھذہ الساعۃ الاھذہ الصلاۃ فی ھذا المکان من ھذا الیوم الحدیث ۔
کہا حدیث بیان کی ہم سے عبدالله ابن رجاء نے اسرائیل سے اس نے ابواسحق سے اس نے عبدالرحمن سے کہ ہم عبدالله کے ساتھ مکہ آئے پھر مزدلفہ آئے۔ اس روایت میں ہے کہ پھر فجر پڑھی جب فجر طلوع ہوئی الحدیث۔ اور کہا حدیث بیان کی عمر بن خالد نے زہیر سے اس نے ابواسحاق سے کہ میں نے عبدالرحمن ابن یزید سے سنا ہے کہ عبدالله رضی اللہ تعالی عنہنے حج کیا تو ہم مزدلفہ کو آئے۔ اس میں ہے جب فجر طلوع ہوئی تو کہا کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماس وقت میں کوئی نماز نہیں پڑھتے تھے مگر یہ نماز اسی جگہ اسی دن الحدیث۔ (ت)
حوالہ / References
جامع ترمذی ابواب الصلوٰہ باب ماجاء فی الجمع بین اصلاتین مطبوعہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۲۶
صحیح مسلم استحباب زیادۃ التغلیس الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۱۷
بخاری شریف کتاب المناسك باب متی یصلی الفجر بجمع مطبوعہ قدیمی اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۲۸
بخاری شریف باب من اذن واقام لکل واحدۃ منہما مطبوعہ قدیمی اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۲۷
صحیح مسلم استحباب زیادۃ التغلیس الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۱۷
بخاری شریف کتاب المناسك باب متی یصلی الفجر بجمع مطبوعہ قدیمی اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۲۸
بخاری شریف باب من اذن واقام لکل واحدۃ منہما مطبوعہ قدیمی اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۲۷
اور یہ بھی اجماع موافق ومخالف ہے کہ عصر عرفہ ومغرب مزدلفہ حقیقۃ غیر وقت میں پڑھیں تو فجر نحر ومغرب مزدلفہ کا حکم یقینا مختلف ہے ہاں عصر عرفہ ومغرب مزدلفہ متحد الحکم اور غیر وقت میں پڑھنے کے حقیقی معنی انہیں کے ساتھ خاص اور جب تك حقیقت بنتی ہو مجاز کی طرف عدول جائز نہیں نہ جمع بین الحقیقۃ والمجاز ممکن خصوصا ملاجی کے نزدیك تو جب تك مانع قطعی موجود نہ ہو ظاہر پر حمل واجب اور شك نہیں کہ بے وقت پڑھنے سے ظاہر ومتبادر وہی معنی ہیں جو ان عصر ومغرب میں حاصل نہ وہ کہ فجر میں واقع تو واجب ہوا کہ جملہ صلی الفجر ان صلاتین کا بیان نہ ہو بلکہ یہ جملہ مستقلہ ہے اور صلاتین سے وہی عصر ومغرب مراد تو ان میں اصلا کسی کا ذکر ہرگز متروك نہیں ہاں تفصیل میں پتے کیلئے ایك ہی کا نام لیا بوجہ کمال اشتہار دوسری کا ذکر مطوی کیا بحمدالله یہ معنی ہیں جواب علماء کے جس سے ملاجی کی فہم بمیس اور ناحق آنچہ انسان میکند کی ہوس ملاجی! اب اس برابری کے بڑے بول کی خبریں کہے کہ جو جواب تمہارا ہے وہی ہمارا سمجھئے خدا کی شان
اوگمان بردہ کہ من کردم چواو
فرق راکے بیند آں استیزہ جو
فائدہ : یہ معنی نفیس فیض فتاح علیم جل مجدہ سے قلب فقیر پر القاء ہوئے پھر ارکان اربعہ ملك العلماء بحرالعلوم قدس سرہ مطالعہ میں آئی دیکھا تو بعینہ یہی معنی افادہ فرمائے ہیں والحمدلله علی حسن التفھیم ارشاد فرماتے ہیں رحمۃ اللہ تعالی علیہ:
وایضا خبرالجمع انما نقلوا فی غزوۃ تبوک وکان فی تلك الغزوۃ الاف من الرجال و کان کل صلوا خلف رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ولم یخبر منھم الاواحد اواثنان ولم یشتھر ولم یروغیرہ بل بعض الحاضرین انکروا ذلک حتی قال ابن مسعود : مارأیت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم صلی صلاۃ لغیر میقاتھا الاصلی صلوتین جمع بین المغرب والعشاء بجمع وصلی الفجر یومئذ قبل میقاتھا رواہ الشیخان وابوداود والنسائی فنفی ابن مسعود الذی قال فیہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم : تمسکوا بعھد ابن ام عبد تقدیم صلاۃ عن الوقت وتاخیرھا واخبر بانہ لم یقع الافی صلاتین بین احدھما وھو المغرب بجمع اخرھا الی وقت العشاء ولم یبین الاخر وھو العصر یوم عرفۃ بتقدیمہ فی وقت الظھر لشھرتہ و لیعلم بالمقایسۃ واخبر خبرا اخر وھو تقدیم الفجر عن الوقت المسنون المعتاد عندہ صلی الله تعالی علیہ وسلم۔ واذا کان حال خبر الجمع ماذکرنا وجب ردہ اوتاویلہ ۔
نیز دو نمازوں کو جمع کرنے کی خبر صرف غزوہ تبوك میں منقول ہے اور اس غزوے میں ہزاروں لوگ شامل تھے اور سب نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے پیچھے نمازیں پڑھیں تھیں مگر ایك یا دو کے علاوہ کسی نے جمع کرنے کا ذکر نہیں کیا نہ یہ بات مشہور ہوئی اس روایت کے علاوہ جمع کی کوئی روایت نہیں آئی ہے بلکہ بعض حاضرین تبوك نے اس جمع سے صاف انکار کیا ہے حتی کہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہجن کے بارے میں رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا کہ ابن ام عبد (یعنی ابن مسعود) کی باتوں سے تمسك کیا کرو
اوگمان بردہ کہ من کردم چواو
فرق راکے بیند آں استیزہ جو
فائدہ : یہ معنی نفیس فیض فتاح علیم جل مجدہ سے قلب فقیر پر القاء ہوئے پھر ارکان اربعہ ملك العلماء بحرالعلوم قدس سرہ مطالعہ میں آئی دیکھا تو بعینہ یہی معنی افادہ فرمائے ہیں والحمدلله علی حسن التفھیم ارشاد فرماتے ہیں رحمۃ اللہ تعالی علیہ:
وایضا خبرالجمع انما نقلوا فی غزوۃ تبوک وکان فی تلك الغزوۃ الاف من الرجال و کان کل صلوا خلف رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ولم یخبر منھم الاواحد اواثنان ولم یشتھر ولم یروغیرہ بل بعض الحاضرین انکروا ذلک حتی قال ابن مسعود : مارأیت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم صلی صلاۃ لغیر میقاتھا الاصلی صلوتین جمع بین المغرب والعشاء بجمع وصلی الفجر یومئذ قبل میقاتھا رواہ الشیخان وابوداود والنسائی فنفی ابن مسعود الذی قال فیہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم : تمسکوا بعھد ابن ام عبد تقدیم صلاۃ عن الوقت وتاخیرھا واخبر بانہ لم یقع الافی صلاتین بین احدھما وھو المغرب بجمع اخرھا الی وقت العشاء ولم یبین الاخر وھو العصر یوم عرفۃ بتقدیمہ فی وقت الظھر لشھرتہ و لیعلم بالمقایسۃ واخبر خبرا اخر وھو تقدیم الفجر عن الوقت المسنون المعتاد عندہ صلی الله تعالی علیہ وسلم۔ واذا کان حال خبر الجمع ماذکرنا وجب ردہ اوتاویلہ ۔
نیز دو نمازوں کو جمع کرنے کی خبر صرف غزوہ تبوك میں منقول ہے اور اس غزوے میں ہزاروں لوگ شامل تھے اور سب نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے پیچھے نمازیں پڑھیں تھیں مگر ایك یا دو کے علاوہ کسی نے جمع کرنے کا ذکر نہیں کیا نہ یہ بات مشہور ہوئی اس روایت کے علاوہ جمع کی کوئی روایت نہیں آئی ہے بلکہ بعض حاضرین تبوك نے اس جمع سے صاف انکار کیا ہے حتی کہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہجن کے بارے میں رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا کہ ابن ام عبد (یعنی ابن مسعود) کی باتوں سے تمسك کیا کرو
حوالہ / References
ارکان اربعہ لبحر العلوم تتمہ فی الجمع بین اصلاتین مطبوعہ مطبع علوی انڈیا ص ۱۴۶
نے فرمایا ہے کہ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے کوئی نماز بغیر وقت کے پڑھی ہو مگر دو۲ نمازیں مزدلفہ میں مغرب وعشاء کو جمع کیا اور اس دن فجر کی نماز اپنے وقت سے پہلے پڑھی۔ بحوالہ بخاری مسلم ابوداؤد نسائی اس طرح ابن مسعود نے نماز کی اپنے وقت سے تقدیم وتاخیر کی نفی کردی ہے اور بتادیا ہے کہ ایسا صرف دو۲ نمازوں میں ہوا تھا جن میں سے ایك نماز کا تو انہوں نے ذکر کردیا یعنی مزدلفہ کی مغرب کہ اس کو عشاء تك مؤخر کیا تھا مگر دوسری نماز کا ذکر نہیں کیا یعنی عرفہ کی عصر کا کہ اس کے ظہر کے وقت میں مقدم کرکے پڑھاتھا عدم ذکر کی وجہ اس کا مشہور ہونا ہے نیز یہ بات قیاس سے بھی معلوم ہوسکتی ہے۔ چنانچہ اس کی بجائے انہوں نے دوسرا واقعہ بیان کردیا کہ فجر کو رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے مسنون اور اپنے معتاد وقت سے پہلے پڑھا تو جب جمع کی روایت کا حال یہ ہے جو ہم نے ذکر کیا توضروری ہے کہ یاتو اس کو رد کردیا جائے یا کوئی تاویل کی جائے۔ (ت)
اور اس کے مطالعہ سے بحمدالله تعالی ایك اور توارد حسن معلوم ہوا فقیر غفرلہ نے حدیث ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماسے پہلے جواب میں غروب شفق کو قرب غروب پر حمل اور اس محتمل کو ان نصوص صریحہ مفسرہ کی طرف رد کیا اور قصہ مرویہ ابن عمر کو واحد بتایا تھا بعینہ یہی مسلك ملك العلماء نے اختیار فرمایا فرماتے ہیں :
بل المراد بغروب الشفق قرب غروبہ لان القصۃ واحدۃ وماذکرنا من قبل مفسرلا یقبل التاویل فیاول بقرب غروب الشفق اویقال : ھذا من وھم بعض الرواۃ واماما ذکرنا اولا فھو مطابق للامر المتقرر فی الشرع من تعیین الاوقات ۔
غروب شفق سے مراد غروب کے قریب ہونا ہے کیونکہ قصہ ایك ہی ہے اور ہم نے پہلے جو روایت بیان کی ہے وہ مفسر ہے تاویل کا احتمال نہیں رکھتی اس لئے یا تو غروب شفق کی قرب غروب سے تاویل کرنی پڑے گی یا یہ کہا جائے گا کہ یہ کسی راوی کا وہم ہے اور پہلے
اور اس کے مطالعہ سے بحمدالله تعالی ایك اور توارد حسن معلوم ہوا فقیر غفرلہ نے حدیث ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماسے پہلے جواب میں غروب شفق کو قرب غروب پر حمل اور اس محتمل کو ان نصوص صریحہ مفسرہ کی طرف رد کیا اور قصہ مرویہ ابن عمر کو واحد بتایا تھا بعینہ یہی مسلك ملك العلماء نے اختیار فرمایا فرماتے ہیں :
بل المراد بغروب الشفق قرب غروبہ لان القصۃ واحدۃ وماذکرنا من قبل مفسرلا یقبل التاویل فیاول بقرب غروب الشفق اویقال : ھذا من وھم بعض الرواۃ واماما ذکرنا اولا فھو مطابق للامر المتقرر فی الشرع من تعیین الاوقات ۔
غروب شفق سے مراد غروب کے قریب ہونا ہے کیونکہ قصہ ایك ہی ہے اور ہم نے پہلے جو روایت بیان کی ہے وہ مفسر ہے تاویل کا احتمال نہیں رکھتی اس لئے یا تو غروب شفق کی قرب غروب سے تاویل کرنی پڑے گی یا یہ کہا جائے گا کہ یہ کسی راوی کا وہم ہے اور پہلے
حوالہ / References
رسائل الارکان تتمہ فی الجمع بین اصلاتین مطبوعہ مطبع علوی ص ۱۴۷ و ۱۴۸
جو ہم نے روایت ذکر کی ہے وہ شرع میں جو کچھ مقرر ہوچکا ہے یعنی تعیین اوقات اس کے مطابق ہے۔ (ت)
بحمدالله تعالی تیسرا توارد اور واضح ہوا حدیث معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہمیں کلام فقیر یاد کیجئے کہ اس روایت میں اسی طرح مقال واقع ہوئی مگر فقیر کہتا ہے اس کا کون سا حرف جمع حقیقی میں نص ہے الخ بعینہ یہی طریقہ مع شی زائد مولانا بحر قدس سرہ چلے بعد عبارت مذکور فرماتے ہیں :
اما جمع التقدیم فلم یرو الافی الروایات الشاذۃ لا اعتداد بھا عند سطوع شمس القاطع ثم لیس فی روایۃ ابی داود عن معاذ مایدل علی تقدیم العصر عن وقتھا وانما فیہ اذازاغت الشمس قبل ان یرتحل جمع بین الظھر والعصر ویجوز انیکون الجمع بان یؤخر الظھر الی اخر وقتھا ویعجل العصر اول وقتھا۔ او ان المراد بالجمع الجمع فی نزول واحد وانکانتا ادیتا فی وقتیھا فافھم۔ ھکذا ینبغی ان یفھم المقام ۔
رہی جمع تقدیم تو اس کا ذکر صرف شاذ روایات میں ہے اور قطعی دلیل کا سورج طلوع ہونے کے بعد ان کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ پھر ابوداود کی روایت میں ایسا لفظ ہے بھی نہیں جو عصر کی اپنے وقت سے تقدیم پر دلالت کرتا ہو۔ اس میں تو صرف اتنا ہے کہ اگر روانگی سے پہلے سورج ڈھل جاتا تھا تو ظہر وعصر کو جمع کرلیتے تھے۔ ہوسکتا ہے کہ جمع اسی طرح کرتے ہوں کہ ظہر کو آخر وقت تك مؤخر کردیتے ہوں اور عصر اول وقت میں پڑھ لیتے ہوں ۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ جمع سے مراد یہ ہے کہ دونوں کو پڑھنے کیلئے ایك ہی مرتبہ اترتے تھے اگرچہ ادا اپنے اپنے وقت میں کرتے تھے۔ اس کو سمجھو۔ اسی طرح اس مقام کو سمجھنا چاہے۔ (ت)
اور واقعی بحمدالله تعالی یہ تینوں مطالب عالیہ وہ جواہر غالیہ ہیں جن کی قدر اہل انصاف ہی جانیں گے علامہ بحر قدس سرہ سا فاضل جامع اجل واغر دقیق النظر اگر ایك بیان مسلسل مجمل مختصر میں انہیں افادہ فرماجائے ان کی شان تدقیق سے کیا مستبعد پھر بھی ایك رنگ افتخار ان کے کلام سے مترشح کہ فرماتے ہیں ھکذا ینبغی ان یفھم المقام مگر فقیر حقیر قاصر فاتر پر ان جلائل قدسیہ زاہرہ اور ان کے ساتھ اور دقائق وحقائق باہرہ مذکورہ کثیرہ وافرہ کا افادہ محض عطیہ علیہ حضرت وہاب جواد بے سبقت استحقاق وتقدم استعداد ہے ذلك فضل الله علینا وعلی الناس ولکن اکثر الناس لایشکرونo ربی لك الحمد کماینبغی لجلال وجھک
بحمدالله تعالی تیسرا توارد اور واضح ہوا حدیث معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہمیں کلام فقیر یاد کیجئے کہ اس روایت میں اسی طرح مقال واقع ہوئی مگر فقیر کہتا ہے اس کا کون سا حرف جمع حقیقی میں نص ہے الخ بعینہ یہی طریقہ مع شی زائد مولانا بحر قدس سرہ چلے بعد عبارت مذکور فرماتے ہیں :
اما جمع التقدیم فلم یرو الافی الروایات الشاذۃ لا اعتداد بھا عند سطوع شمس القاطع ثم لیس فی روایۃ ابی داود عن معاذ مایدل علی تقدیم العصر عن وقتھا وانما فیہ اذازاغت الشمس قبل ان یرتحل جمع بین الظھر والعصر ویجوز انیکون الجمع بان یؤخر الظھر الی اخر وقتھا ویعجل العصر اول وقتھا۔ او ان المراد بالجمع الجمع فی نزول واحد وانکانتا ادیتا فی وقتیھا فافھم۔ ھکذا ینبغی ان یفھم المقام ۔
رہی جمع تقدیم تو اس کا ذکر صرف شاذ روایات میں ہے اور قطعی دلیل کا سورج طلوع ہونے کے بعد ان کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ پھر ابوداود کی روایت میں ایسا لفظ ہے بھی نہیں جو عصر کی اپنے وقت سے تقدیم پر دلالت کرتا ہو۔ اس میں تو صرف اتنا ہے کہ اگر روانگی سے پہلے سورج ڈھل جاتا تھا تو ظہر وعصر کو جمع کرلیتے تھے۔ ہوسکتا ہے کہ جمع اسی طرح کرتے ہوں کہ ظہر کو آخر وقت تك مؤخر کردیتے ہوں اور عصر اول وقت میں پڑھ لیتے ہوں ۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ جمع سے مراد یہ ہے کہ دونوں کو پڑھنے کیلئے ایك ہی مرتبہ اترتے تھے اگرچہ ادا اپنے اپنے وقت میں کرتے تھے۔ اس کو سمجھو۔ اسی طرح اس مقام کو سمجھنا چاہے۔ (ت)
اور واقعی بحمدالله تعالی یہ تینوں مطالب عالیہ وہ جواہر غالیہ ہیں جن کی قدر اہل انصاف ہی جانیں گے علامہ بحر قدس سرہ سا فاضل جامع اجل واغر دقیق النظر اگر ایك بیان مسلسل مجمل مختصر میں انہیں افادہ فرماجائے ان کی شان تدقیق سے کیا مستبعد پھر بھی ایك رنگ افتخار ان کے کلام سے مترشح کہ فرماتے ہیں ھکذا ینبغی ان یفھم المقام مگر فقیر حقیر قاصر فاتر پر ان جلائل قدسیہ زاہرہ اور ان کے ساتھ اور دقائق وحقائق باہرہ مذکورہ کثیرہ وافرہ کا افادہ محض عطیہ علیہ حضرت وہاب جواد بے سبقت استحقاق وتقدم استعداد ہے ذلك فضل الله علینا وعلی الناس ولکن اکثر الناس لایشکرونo ربی لك الحمد کماینبغی لجلال وجھک
حوالہ / References
رسائل الارکان تتمہ فی الجمع بین اصلاتین مطبوعہ مطبع علوی ص ۱۴۸
وکمال الائك ودفور نعمائك صل وسلم وبارك علی اکرم انبیائك محمد والہ وسائراصفیائك امین۔ مولانا قدس سرہ ان نفائس عزیزہ کو بیان کرکے فرماتے ہیں :
انظر ماادق نظر ائمتنا حیث لاتفوت عنھم دقیقۃ ۔
دیکھ تو ہمارے ائمہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمکی نظر کیسی دقیق ہے کہ کوئی دقیقہ ان سے فروگزاشت نہیں ہوتا۔ (ت)
فقیر کہتا ہے ہاں والله آپ کے ائمہ اور کیا جانا کیسے ائمہ مالکان ازمہ وکاشفان غمہ ایسے ہی دقیق النظر وعالی مدارك وشاہان بزم وشیران معارك ہیں کہ منازل دقیق اجتہاد میں اوروں کے مساعی جمیلہ ان کے توسن برق رفتار کی گرد کونہ پہنچے اور کیوں نہ ہو کہ آخر وہ وہی ہیں کہ اگر ایمان وعلم ثریا پر معلق ہوتا لے آتے آج کل کے کو ران بے بصر ان کے معارج علیہ سے بے خبر اگر آئینہ عالمتاب میں اپنا منہ دیکھ کر طعن وتشنیع سے پیش آئیں کیا کیجئے
مہ فشاند نوروسگ عوعو کند
کر کسے برخلقت خودمے تند
(چاند روشنی پھیلاتا ہے اور کتا بھونکتا ہے ہر کوئی اپنی فطرت کے مطابق چلتا ہے)
ان حضرات کی طویل وعریض بدزبانیوں کا نمونہ یہیں دیکھ لیجئے مسئلہ جمع میں ملاجی کے دعوے تھے کہ وہ دلائل قطعیہ سے ثابت ہے اور اس کا خلاف کسی حدیث سے ثابت نہیں نہ جمع صوری پر اصلا کوئی دلیل حنفیہ کے پاس ہے اب بحول وقوت رب قدیر سب اہل انصاف نے دیکھ لیا کہ کس ہستی پر یہ لن ترانی کس برتے پر تتا پانی ولاحول ولاقوۃ الا بالله العلی العظیم۔
ثانیا اقول : وبالله التوفیق اگر نظر تتبع کو رخصت جولاں دیجئے تو بعونہ تعالی واضح ہوکہ یہ جواب علما محض تنزلی تھا ورنہ اسی حدیث میں حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہجمع عرفات بھی ذکر فرماچکے یہی حدیث سنن نسائی کتاب المناسك باب الجمع بین الظہر والعصر بعرفہ میں یوں ہے :
اخبرنا اسمعیل بن مسعود عن خالد عن شعبۃ عن سلیمن عن عمارۃ بن عمیر عن عبدالرحمن بن یزید عن عبدالله رضی الله تعالی عنہ قال : کان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یصلی الصلاۃ لوقتھا الا بجمع فی مزدلفۃ وعرفات ۔
ہمیں خبر دی اسمعیل بن مسعود نے خالد سے شعبہ سے عمارہ بن عمیر سے عبدالرحمن بن یزید سے کہ عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہنے فرمایا : نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمہر نماز اس کے وقت ہی میں پڑھتے تھے مگر مزدلفہ وعرفات میں ۔
انظر ماادق نظر ائمتنا حیث لاتفوت عنھم دقیقۃ ۔
دیکھ تو ہمارے ائمہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمکی نظر کیسی دقیق ہے کہ کوئی دقیقہ ان سے فروگزاشت نہیں ہوتا۔ (ت)
فقیر کہتا ہے ہاں والله آپ کے ائمہ اور کیا جانا کیسے ائمہ مالکان ازمہ وکاشفان غمہ ایسے ہی دقیق النظر وعالی مدارك وشاہان بزم وشیران معارك ہیں کہ منازل دقیق اجتہاد میں اوروں کے مساعی جمیلہ ان کے توسن برق رفتار کی گرد کونہ پہنچے اور کیوں نہ ہو کہ آخر وہ وہی ہیں کہ اگر ایمان وعلم ثریا پر معلق ہوتا لے آتے آج کل کے کو ران بے بصر ان کے معارج علیہ سے بے خبر اگر آئینہ عالمتاب میں اپنا منہ دیکھ کر طعن وتشنیع سے پیش آئیں کیا کیجئے
مہ فشاند نوروسگ عوعو کند
کر کسے برخلقت خودمے تند
(چاند روشنی پھیلاتا ہے اور کتا بھونکتا ہے ہر کوئی اپنی فطرت کے مطابق چلتا ہے)
ان حضرات کی طویل وعریض بدزبانیوں کا نمونہ یہیں دیکھ لیجئے مسئلہ جمع میں ملاجی کے دعوے تھے کہ وہ دلائل قطعیہ سے ثابت ہے اور اس کا خلاف کسی حدیث سے ثابت نہیں نہ جمع صوری پر اصلا کوئی دلیل حنفیہ کے پاس ہے اب بحول وقوت رب قدیر سب اہل انصاف نے دیکھ لیا کہ کس ہستی پر یہ لن ترانی کس برتے پر تتا پانی ولاحول ولاقوۃ الا بالله العلی العظیم۔
ثانیا اقول : وبالله التوفیق اگر نظر تتبع کو رخصت جولاں دیجئے تو بعونہ تعالی واضح ہوکہ یہ جواب علما محض تنزلی تھا ورنہ اسی حدیث میں حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہجمع عرفات بھی ذکر فرماچکے یہی حدیث سنن نسائی کتاب المناسك باب الجمع بین الظہر والعصر بعرفہ میں یوں ہے :
اخبرنا اسمعیل بن مسعود عن خالد عن شعبۃ عن سلیمن عن عمارۃ بن عمیر عن عبدالرحمن بن یزید عن عبدالله رضی الله تعالی عنہ قال : کان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یصلی الصلاۃ لوقتھا الا بجمع فی مزدلفۃ وعرفات ۔
ہمیں خبر دی اسمعیل بن مسعود نے خالد سے شعبہ سے عمارہ بن عمیر سے عبدالرحمن بن یزید سے کہ عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہنے فرمایا : نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمہر نماز اس کے وقت ہی میں پڑھتے تھے مگر مزدلفہ وعرفات میں ۔
حوالہ / References
ارکان اربعہ لبحر العلوم تتمہ فی الجمع بین اصلاتین مطبوعہ مطبع علوی انڈیا ص ۱۴۸
النسائی کتاب الجمع بین الظہر والعصر بعرفۃ مکتبہ سلفیہ لاہور ۲ / ۳۹
النسائی کتاب الجمع بین الظہر والعصر بعرفۃ مکتبہ سلفیہ لاہور ۲ / ۳۹
ملاجی! اب کہے مصیبت کا پہاڑ کس پر ٹوٹا! ملاجی! ابھی آپ کی نازك چھاتی پر دلی کی پہاڑی آئی ہے سخت جانی کے آسرے پر سانس باقی ہوتو سر بچائےے کہ عنقریب مکہ کا پہاڑ ابوقبیس آتا ہے۔ ملاجی! دعوی اجتہاد پر ادھار کھائے پھرتے ہو اور علم حدیث کی ہوا نہ لگی احادیث مرویہ بالمعنی صحیحین وغیرہما صحاح وسنن مسانید ومعاجیم وجوامع واجزا وغیرہما میں دیکھےے صدہا مثالیں اس کے پائےے گا کہ ایك ہی حدیث کو رواۃ بالمعنی کس کس متنوع طور سے روایت کرتے ہیں کوئی پوری کوئی ایك ٹکڑا کوئی دوسرا کوئی کسی طرح کوئی کسی طرح جمع طرق سے پوری بات کا پتا چلتا ہے ولہذا امام الشان ابوحاتم رازی معاصر امام بخاری فرماتے ہیں ہم جب تك حدیث کو ساٹھ۶۰ وجہ سے نہ لکھتے اس کی حقیقت نہ پہچانتے۔ یہاں بھی مخرج حدیث اعمش بن عمارۃ عن عبدالرحمن عن عبدالله ہے اعمش کے بعد حدیث منتشر ہوئی ان سے حفص بن غیاث وابومعویہ وابوعوانہ وعبدالواحد بن زیاد وجریر وسفیان وداؤد وشعبہ وغیرہم اجلہ نے روایت کی یہ روایتیں الفاظ واطوار وبسط واختصار وذکر واقتصار میں طرق شتی پر آئیں کسی میں مغرب وفجر کا ذکر ہے ظہر عرفہ مذکور نہیں کروایۃ الصححین کسی میں ظہر عرفہ ومغرب کا بیان ہے فجر مزدلفہ ماثور نہیں کروایۃ النسائی کسی میں صرف مغرب کا تذکرہ ہے ظہر وفجر وصےغہ مارأیت وغیرہ کچھ مسطور نہیں
کحدیث النسائی ایضا فی المناسک باب جمع الصلاتین بالمزدلفۃ اخبرنا القاسم بن زکریا ثنا مصعب بن المقدام عن داود عن الاعمش عن عمارۃ عن عبدالرحمن بن یزید عن ابن مسعود ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم جمع بین المغرب والعشاء بجمع ۔
جیسا کہ نسائی کی حدیث جو کتاب المناسک باب جمع الصلاتین بمزدلفہ میں ہے حدیث بیان کی ہم سے قاسم ابن زکریا نے مصعب ابن مقدام سے اس نے داؤد سے اس نے اعمش سے اس نے عمارہ سے اس نے عبدالرحمن ابن یزید سے اس نے ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے مغرب وعشاء کو مزدلفہ میں جمع کیا۔ (ت)
اکثر میں نماز فجر پیش ازوقت مذکور ہے وھو بطریق کل ماذکرنا من رواۃ الاعمش ماخلا جریرا (سوائے جریر کے اعمش کے جتنے راوی ہم نے ذکر کےے ہیں وہ اسی طریقے سے بیان کرتے ہیں ۔ ت) کسی میں لفظ بغلس مفید واقع ومصرح مرام کی تصریح ہے کمامر لمسلم من حدیث الضبی (جیسا کہ مسلم کے حوالے سے ضبی کی حدیث گزری ہے۔ ت) ان تنوعات سے نہ وہ حدیثیں متعدد ہوجائیں گی نہ ایك طریق دوسرے کا نافی ومنافی ہوگا بلکہ ان کے اجتماع سے جو حاصل ہو وہ حدیث تام قرار پائے گا۔ اب خواہ یہ اختلاف رواۃ اعمش کی روایت بالمعنی سے ناشے ہوا خواہ خود اعمش نے
کحدیث النسائی ایضا فی المناسک باب جمع الصلاتین بالمزدلفۃ اخبرنا القاسم بن زکریا ثنا مصعب بن المقدام عن داود عن الاعمش عن عمارۃ عن عبدالرحمن بن یزید عن ابن مسعود ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم جمع بین المغرب والعشاء بجمع ۔
جیسا کہ نسائی کی حدیث جو کتاب المناسک باب جمع الصلاتین بمزدلفہ میں ہے حدیث بیان کی ہم سے قاسم ابن زکریا نے مصعب ابن مقدام سے اس نے داؤد سے اس نے اعمش سے اس نے عمارہ سے اس نے عبدالرحمن ابن یزید سے اس نے ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے مغرب وعشاء کو مزدلفہ میں جمع کیا۔ (ت)
اکثر میں نماز فجر پیش ازوقت مذکور ہے وھو بطریق کل ماذکرنا من رواۃ الاعمش ماخلا جریرا (سوائے جریر کے اعمش کے جتنے راوی ہم نے ذکر کےے ہیں وہ اسی طریقے سے بیان کرتے ہیں ۔ ت) کسی میں لفظ بغلس مفید واقع ومصرح مرام کی تصریح ہے کمامر لمسلم من حدیث الضبی (جیسا کہ مسلم کے حوالے سے ضبی کی حدیث گزری ہے۔ ت) ان تنوعات سے نہ وہ حدیثیں متعدد ہوجائیں گی نہ ایك طریق دوسرے کا نافی ومنافی ہوگا بلکہ ان کے اجتماع سے جو حاصل ہو وہ حدیث تام قرار پائے گا۔ اب خواہ یہ اختلاف رواۃ اعمش کی روایت بالمعنی سے ناشے ہوا خواہ خود اعمش نے
حوالہ / References
سنن النسائی الجمع بین الصلواۃ بالمزدلفۃ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۲ / ۴۰
مختلف اوقات میں مختلف طور پر روایت بالمعنی کی اور ہر راوی نے اپنی مسموع پہنچائی چاہے یہ تنویع اعمش نے خود کی چاہے عمارہ یا عبدالرحمن سے ہوئی اور وہ سب اعمش نے سنی یا اعمش کو پہنچی خواہ اصل منتہائے سند سیدنا عبدالله رضی اللہ تعالی عنہنے اوقات عدیدہ میں حسب حاجت مختلف طوروں پر ارشاد فرمائی مثلا شب مزدلفہ راہ مزدلفہ میں یا وہاں پہنچ کر آج کی مغرب وفجر کا مسئلہ ارشاد کرنے کیلئے صرف انہیں دو۲ کا ذکر فرمایا عصر تو سب کے سامنے ابھی جمع کرچکے تھے اس کے بیان کی حاجت کیا تھی دوسرے وقت جمع بین الصلاتین کا مسئلہ پیش ہو وہاں ذکر فجر کی حاجت نہ تھی عصر عرفہ ومغرب مزدلفہ کے ذکر پر قناعت کی کہ سوا ان دو۲ نمازوں کے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے کبھی جمع نہ فرمائی اور کسی وقت مغرب وعشائے مزدلفہ کا ذکر ہوکہ ان میں سنت کیا ہے اس وقت یہ پچھلی حدیث مختصر افادہ کی۔
ثم اقول : لطف یہ کہ یہی حدیث ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہدوسرے مخرج مروی صحیح بخاری وسنن نسائی سے سیدنا امام محمد نے آثار مرویہ کتاب الحجج میں بسند جلیل وصحیح جس کے سب رواۃ اجلہ ثقات وائمہ اثبات ورجال صحیحین بلکہ صحاح ستہ سے ہیں یوں روایت فرمائی :
اخبرنا سلام بن سلیم الحنفی عن ابی اسحق السبیعی عن عبدالرحمن بن الاسود عن علقمۃ بن قیس والاسود بن یزید قالا کان عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ یقول لاجمع بین الصلاتین الابعرفۃ الظھر والعصر ۔
سلام بن سلیمن الحنفی ابواسحاق سبیعی سے وہ عبدالرحمن بن اسود سے وہ علقمہ بن قیس اور اسود بن یزید سے راوی ہیں کہ عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہفرماتے تھے جمع بین الصلاتین جائز نہیں مگر عرفہ میں ظہر وعصر۔
کیوں ملاجی! اب یہاں کہہ دینا کہ ابن مسعود نے فقط جمع عرفات دیکھی جمع مزدلفہ خارج رہی حالانکہ ہرگز نہ اس سے اعراض نہ اس پر اعتراض بلکہ ہر محل وموقع کلام میں وہاں کی قدر حاجت پر اقتصار ہے یہاں مسافر کے جمع بین الظہر والعصر کا ذکر ہوگا اس پر فرمایا کہ ان میں جمع صرف روز عرفہ عرفات میں ہے اس کے سوا ناجائز ولہذا الصلاتین معرف بلام فرمایا جس میں اصل عہد ہے۔ ملاجی! کتب حدیث آنکھ کھول کر دیکھو روایات بالمعنی کے یہی انداز آتے ہیں خصوصا امام بخاری تو بذات خود اپنی جامع صحیح میں اس کے عادی ہیں حدیث کو ابواب مختلفہ میں بقدر حاجت پارہ پارہ کرکے لاتے ہیں اس سے ایك پارہ دوسرے کو رد نہیں کرتا بلکہ وہ مجموع حدیث کامل ٹھہرتی ہے۔
ثم اقول : لطف یہ کہ یہی حدیث ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہدوسرے مخرج مروی صحیح بخاری وسنن نسائی سے سیدنا امام محمد نے آثار مرویہ کتاب الحجج میں بسند جلیل وصحیح جس کے سب رواۃ اجلہ ثقات وائمہ اثبات ورجال صحیحین بلکہ صحاح ستہ سے ہیں یوں روایت فرمائی :
اخبرنا سلام بن سلیم الحنفی عن ابی اسحق السبیعی عن عبدالرحمن بن الاسود عن علقمۃ بن قیس والاسود بن یزید قالا کان عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ یقول لاجمع بین الصلاتین الابعرفۃ الظھر والعصر ۔
سلام بن سلیمن الحنفی ابواسحاق سبیعی سے وہ عبدالرحمن بن اسود سے وہ علقمہ بن قیس اور اسود بن یزید سے راوی ہیں کہ عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہفرماتے تھے جمع بین الصلاتین جائز نہیں مگر عرفہ میں ظہر وعصر۔
کیوں ملاجی! اب یہاں کہہ دینا کہ ابن مسعود نے فقط جمع عرفات دیکھی جمع مزدلفہ خارج رہی حالانکہ ہرگز نہ اس سے اعراض نہ اس پر اعتراض بلکہ ہر محل وموقع کلام میں وہاں کی قدر حاجت پر اقتصار ہے یہاں مسافر کے جمع بین الظہر والعصر کا ذکر ہوگا اس پر فرمایا کہ ان میں جمع صرف روز عرفہ عرفات میں ہے اس کے سوا ناجائز ولہذا الصلاتین معرف بلام فرمایا جس میں اصل عہد ہے۔ ملاجی! کتب حدیث آنکھ کھول کر دیکھو روایات بالمعنی کے یہی انداز آتے ہیں خصوصا امام بخاری تو بذات خود اپنی جامع صحیح میں اس کے عادی ہیں حدیث کو ابواب مختلفہ میں بقدر حاجت پارہ پارہ کرکے لاتے ہیں اس سے ایك پارہ دوسرے کو رد نہیں کرتا بلکہ وہ مجموع حدیث کامل ٹھہرتی ہے۔
حوالہ / References
کتاب الحجۃ باب الجمع بین الصلاتین دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۱ / ۱۶۵
اس سے بحمدالله تعالی واضح وآشکار ہوا کہ یہ حدیث بھی تمام وکمال یوں ہے کہ میں نے کبھی نہ دیکھا کہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے دو۲ نمازیں جمع فرمائی ہوں کبھی کوئی نماز اپنے وقت سے پہلے یا وقت کے بعد پڑھی ہو مگر صرف دو۲ عصر عرفہ وقت ظہر اور مغرب مزدلفہ وقت عشائ اور اس دن فجر کو بھی وقت مسنون ومعمول سے پہلے طلوع فجر کے بعد ہی تاریکی میں پڑھ لیا تھا اس دن کے سوا کبھی ایسا بھی نہ کیا۔ الحمدلله کہ آفتاب حق وصواب بے پردہ وحجاب رابعۃ النہار پر پہنچا اب اس حدیث نسائی جامع ذکر عرفہ ومزدلفہ پر ملاجی نے بکمال مکابرہ جو چوٹیں کی ہیں ان کی خدمت گزاری کیجئے اور ماہ ضیا پناہ رسالہ کو باذنہ تعالی شب تمام کامثر د ہ دیجئے والله المعین وبہ نستعین۔
لطیفہ : یارب جہل جاہلین سے تیری پناہ ملاجی تورد احادیث وجرح ثقات وقدح صحاح کے دھنی ہیں ۔ عمل بالحدیث کے ادعائی راج میں انہیں مکابروں کی دیواریں چنی ہیں ۔ حدیث صحیح نسائی شریف کو دیکھا کہ انہیں مصیبت کا پہاڑ توڑے گی۔ حضرت نے گل سرسبد کو گل تہ گلخن بنا چھوڑے گی لہذا نیام حیا سے تےغ ادا نکالی اور احادیث صحاح میں تکمیل مضمون فریقا تکذبون وفریقا تقتلون کی یوں بناڈالی ف۱ حدیث نسائی کی نامقبول اور مجروح اور متروك ہے دو۲ راوی اس کے مجروح ہیں ایك سلیمن بن ارقم کہ اس کی توثیق کسی نے نہیں کی بلکہ ضعیف کہا اس کو تقریب میں سلیمن بن ارقم ضعیف اور ایك خالد بن مخلد کہ یہ شخص رافضی تھا اور صاحب احادیث افراد کا کہا تقریب میں خالد بن مخلد صدوق متشیع ولہ افراد۔
اقول : اولا وہی ملاجی کی قدیمی سفاہت تشیع ورفض کے فرق سے جہالت۔
ثانیا : صحیحین سے وہی پرانی عداوت خالد بن مخلد نہ صرف نسائی بلکہ بخاری ومسلم وغیرہما جملہ صحاح ستہ کے رجال سے ہے امام بخاری کا خاص استاذ اور مسلم وغیرہ کا استاذ الاستاذ۔
ثالثا : ملاجی! تم نے تو علم حدیث کی الف بے بھی نہ پڑھی اور ادعائے اجتہاد کی یوں بے وقت چڑھی ذرا کسی پڑھے لکھے سے ضعیف ومتشیع وصاحب افراد اور متروك الحدیث میں فرق سیکھو متشیع وصاحب افراد ہونا تو اصلا موجب ضعف نہیں صحیحین دیکھئے ان کے رواۃ میں کتنے متشیع عــہ۱ موجود ہیں اور لہ عــہ۲ افراد والوں کی کیا گنتی جبکہ ہم حواشی فصل اول میں بکثرت لہ اوھام یھم ربما وھم یخطیئ یخطیئ کثیرا کثیرالخطائ کثیرالغلط وغیرہا والے ذکرکر آئے رہا ضعیف اس میں اور متروك میں بھی زمین وآسمان کابل ہے ضعیف کی حدیث معتبر ومکتوب اور متابعات وشواہد میں مقبول ومطلوب ہے بخلاف متروك اس معنی اور اس کے متعلقات کی
عــہ۱ مثل ابان خ بن یزید العطار یزیدع بن ابی انیسۃ عبدالرحمن خ بن غزوان وغیرہم ۱۲ منہ (م)
عــہ۲ جن میں تیس۳۰ سے زیادہ حواشی فصل اول پر مذکور ہوئے ۱۲ منہ (م)
ف ۱ معیارالحق ص ۳۸۴
لطیفہ : یارب جہل جاہلین سے تیری پناہ ملاجی تورد احادیث وجرح ثقات وقدح صحاح کے دھنی ہیں ۔ عمل بالحدیث کے ادعائی راج میں انہیں مکابروں کی دیواریں چنی ہیں ۔ حدیث صحیح نسائی شریف کو دیکھا کہ انہیں مصیبت کا پہاڑ توڑے گی۔ حضرت نے گل سرسبد کو گل تہ گلخن بنا چھوڑے گی لہذا نیام حیا سے تےغ ادا نکالی اور احادیث صحاح میں تکمیل مضمون فریقا تکذبون وفریقا تقتلون کی یوں بناڈالی ف۱ حدیث نسائی کی نامقبول اور مجروح اور متروك ہے دو۲ راوی اس کے مجروح ہیں ایك سلیمن بن ارقم کہ اس کی توثیق کسی نے نہیں کی بلکہ ضعیف کہا اس کو تقریب میں سلیمن بن ارقم ضعیف اور ایك خالد بن مخلد کہ یہ شخص رافضی تھا اور صاحب احادیث افراد کا کہا تقریب میں خالد بن مخلد صدوق متشیع ولہ افراد۔
اقول : اولا وہی ملاجی کی قدیمی سفاہت تشیع ورفض کے فرق سے جہالت۔
ثانیا : صحیحین سے وہی پرانی عداوت خالد بن مخلد نہ صرف نسائی بلکہ بخاری ومسلم وغیرہما جملہ صحاح ستہ کے رجال سے ہے امام بخاری کا خاص استاذ اور مسلم وغیرہ کا استاذ الاستاذ۔
ثالثا : ملاجی! تم نے تو علم حدیث کی الف بے بھی نہ پڑھی اور ادعائے اجتہاد کی یوں بے وقت چڑھی ذرا کسی پڑھے لکھے سے ضعیف ومتشیع وصاحب افراد اور متروك الحدیث میں فرق سیکھو متشیع وصاحب افراد ہونا تو اصلا موجب ضعف نہیں صحیحین دیکھئے ان کے رواۃ میں کتنے متشیع عــہ۱ موجود ہیں اور لہ عــہ۲ افراد والوں کی کیا گنتی جبکہ ہم حواشی فصل اول میں بکثرت لہ اوھام یھم ربما وھم یخطیئ یخطیئ کثیرا کثیرالخطائ کثیرالغلط وغیرہا والے ذکرکر آئے رہا ضعیف اس میں اور متروك میں بھی زمین وآسمان کابل ہے ضعیف کی حدیث معتبر ومکتوب اور متابعات وشواہد میں مقبول ومطلوب ہے بخلاف متروك اس معنی اور اس کے متعلقات کی
عــہ۱ مثل ابان خ بن یزید العطار یزیدع بن ابی انیسۃ عبدالرحمن خ بن غزوان وغیرہم ۱۲ منہ (م)
عــہ۲ جن میں تیس۳۰ سے زیادہ حواشی فصل اول پر مذکور ہوئے ۱۲ منہ (م)
ف ۱ معیارالحق ص ۳۸۴
تحقیقات جلیلہ فقیر غفرلہ القدیر کے رسالہ الھاد الکاف فی حکم الضعاف۱۳۱۳ھ میں مطالعہ کیجئے اور سردست اپنی مبلغ علم تقریب ہی دیکھے کہ ضعیف درجہ ثامنہ اور متروك اس کے دو۲ پایہ نیچے درجہ عاشرہ میں ہے خود عـــہ بعض ضعفا رجال شیخین میں اگرچہ متابعۃ یا یوں بھی واقع جس سے ان کا نامتروك ہونا واضح۔
عـــہ مثل اسید بن زید اسباط ابوالیسع عبدالکریم بن ابی المخار والاشعث بن سوار زمعۃ بن صالح محمد بن یزید الرفاعی محمد بن عبدالرحمن مولی بنی زھرۃ احمد بن یزید الحرانی ابی بن عباس وغیرھم قال فی التقریب فی الخمسۃ الاول : ضعیف والسادس لیس بالقوی والسابع مجھول والثامن ضعفہ ابو حاتم والتاسع فیہ ضعف۔ وعبدالکریم علم لہ المزی فی التھذیب خت وتبعہ فی المیزان فقال : اخرج لہ خ تعلیقا وم متابعۃ۔ وکذا تابعہ الحافظ فی رموز التقریب ثم نبہ ان الصواب خ حیث ذکر مالہ فی الجامع الصحیح ثم قال : ھذا موصول ولیس معلقا۔ وقال فی الرفاعی : ذکرہ ابن عدی فی شیوخ البخاری وجزم الخطیب بان البخاری روی عنہ لکن قدقال البخاری : رأیتھم مجمعین علی ضعفہ ۔ اھ قلت : المثبت اثبت فلذا علمنا علیہ خ واخرناھا عن لمکان تردد الحافظ۔ والانصاف ان فلیحا وعبادا وامثالھا ایضا ضعفائ والعذر ماافادہ الامام ابن الصلاح وتبعہ النووی وغیرہ فارجع واعرف۔ والله تعالی اعلم (م)
مثلا (ا) اسید (۲) اسباط (۳) عبدالکریم (۴) اشعت (۵) زمعہ (۶) محمد ابن یزید رفاعی (۷) محمد بن عبدالرحمن (۸) احمد (۹) ابی اور دوسرے۔ تقریب میں کہا کہ پہلے پانچ ضعیف ہیں چھٹا بھی خاص قوی نہیں ہے ساتواں مجہول ہے آٹھویں کو ابوحاتم نے ضعیف کہا ہے نویں میں بھی ضعف ہے۔ عبدالکریم کے لئے مزی نے تہذیب میں “ خت “ کی علامت لگائی ہے (واضح رہے کہ “ خ “ سے مراد بخاری ہے اور “ ت “ سے تعلیق یعنی بخاری نے بھی اس کی روایت تعلیقا لی ہے) میزان میں بھی تہذیب کی پیروی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے بخاری نے تعلیقا اور مسلم نے متابعۃ روایت کی ہے۔ اسی طرح حافظ نے بھی تقریب کی علامات میں اس کی پیروی کی ہے لیکن پھر متنبہ کیا ہے کہ صحیح “ خ “ ہے ( “ خت “ نہیں ) چنانچہ حافظ نے پہلے تو عبدالکریم کی وہ روایت ذکر کی ہے جو بخاری میں ہے پھر کہا ہے کہ یہ روایت وصل کے ساتھ ہے نہ کہ تعلیق کے طور پر۔ (اس لئے “ خ “ کے ساتھ “ ت “ نہیں ہونی چاہے کیونکہ “ ت “ تعلیق کی علامت ہے)(محمد ابن یزید) رفاعی کے بارے میں کہا ہے
عـــہ مثل اسید بن زید اسباط ابوالیسع عبدالکریم بن ابی المخار والاشعث بن سوار زمعۃ بن صالح محمد بن یزید الرفاعی محمد بن عبدالرحمن مولی بنی زھرۃ احمد بن یزید الحرانی ابی بن عباس وغیرھم قال فی التقریب فی الخمسۃ الاول : ضعیف والسادس لیس بالقوی والسابع مجھول والثامن ضعفہ ابو حاتم والتاسع فیہ ضعف۔ وعبدالکریم علم لہ المزی فی التھذیب خت وتبعہ فی المیزان فقال : اخرج لہ خ تعلیقا وم متابعۃ۔ وکذا تابعہ الحافظ فی رموز التقریب ثم نبہ ان الصواب خ حیث ذکر مالہ فی الجامع الصحیح ثم قال : ھذا موصول ولیس معلقا۔ وقال فی الرفاعی : ذکرہ ابن عدی فی شیوخ البخاری وجزم الخطیب بان البخاری روی عنہ لکن قدقال البخاری : رأیتھم مجمعین علی ضعفہ ۔ اھ قلت : المثبت اثبت فلذا علمنا علیہ خ واخرناھا عن لمکان تردد الحافظ۔ والانصاف ان فلیحا وعبادا وامثالھا ایضا ضعفائ والعذر ماافادہ الامام ابن الصلاح وتبعہ النووی وغیرہ فارجع واعرف۔ والله تعالی اعلم (م)
مثلا (ا) اسید (۲) اسباط (۳) عبدالکریم (۴) اشعت (۵) زمعہ (۶) محمد ابن یزید رفاعی (۷) محمد بن عبدالرحمن (۸) احمد (۹) ابی اور دوسرے۔ تقریب میں کہا کہ پہلے پانچ ضعیف ہیں چھٹا بھی خاص قوی نہیں ہے ساتواں مجہول ہے آٹھویں کو ابوحاتم نے ضعیف کہا ہے نویں میں بھی ضعف ہے۔ عبدالکریم کے لئے مزی نے تہذیب میں “ خت “ کی علامت لگائی ہے (واضح رہے کہ “ خ “ سے مراد بخاری ہے اور “ ت “ سے تعلیق یعنی بخاری نے بھی اس کی روایت تعلیقا لی ہے) میزان میں بھی تہذیب کی پیروی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے بخاری نے تعلیقا اور مسلم نے متابعۃ روایت کی ہے۔ اسی طرح حافظ نے بھی تقریب کی علامات میں اس کی پیروی کی ہے لیکن پھر متنبہ کیا ہے کہ صحیح “ خ “ ہے ( “ خت “ نہیں ) چنانچہ حافظ نے پہلے تو عبدالکریم کی وہ روایت ذکر کی ہے جو بخاری میں ہے پھر کہا ہے کہ یہ روایت وصل کے ساتھ ہے نہ کہ تعلیق کے طور پر۔ (اس لئے “ خ “ کے ساتھ “ ت “ نہیں ہونی چاہے کیونکہ “ ت “ تعلیق کی علامت ہے)(محمد ابن یزید) رفاعی کے بارے میں کہا ہے
حوالہ / References
تقریب التہذیب ترجمہ نمبر ۶۴۲۱ محمد بن یزید دارالکتب العمیۃ بیروت ۲ / ۱۴۸ / ۱۴۷
کہ اس کو ابن عدی نے بخاری کے اساتذہ میں ذکر کیا ہے اور خطیب نے یقین ظاہر کیا ہے کہ بخاری نے اس سے روایت کی ہے لیکن بخاری ہی نے کہا ہے کہ میں نے محدثین کو اس کے ضعف پر متفق پایا ہے اھ میں نے کہا ثابت کرنے والے کی بات زیادہ پختہ ہوتی ہے (اور ابن عدی نے اس کا شیخ بخاری ہونا ثابت کیا ہے) اس لئے ہم نے بھی اس کے نام پر “ خ “ کی علامت لگائی ہے۔ لیکن حافظ کو چونکہ اس کے شیخ بخاری ہونے میں تردد ہے اس لئے “ خ “ کو ہم نے “ م “ کے بعد لگایا ہے ( “ م “ سے مراد مسلم ہے) اور انصاف کی بات یہ ہے کہ فلیح عباد اور ان جیسے اور کوئی راوی بھی ضعیف ہیں (اس کے باوجود ان کی روایات صحاح میں پائی جاتی ہیں ) امام ابن الصلاح نے اس کی معذرت خواہانہ وجہ بیان کی ہے اور نووی وغیرہ نے بھی ان کا اتباع کیا ہے اس لئے ان کی طرف مراجعت کرو اور سمجھو! والله تعالی اعلم۔ (ت)
رابعا : یہ سب کلام ملاجی کی غیبی بول عیبی احکام مان کرتھا حضرت کی اندرونی حالت دیکھےے تو پھر حسب عادت جو رواۃ حدیث بے نسب ونسبت پائے ان میں جہاں تحریف وتصرف کا موقع ملا وہی تبدیل کا رنگ لائے سند میں تھا عن شعبۃ عن سلیمن۔ اب ملاجی اپنی مبلغ علم تقریب کھول کر بیٹھے رواۃ نسائی میں شعبہ نام کا کوئی نہ ملا جس پر تقریب میں کچھ بھی جرح کی ہو لہذا وہاں بس نہ چلا سلیمن کو دیکھیں تو پہلی بسم الله یہی سلیمن بن ارقم ضعیف نظر پڑا حکم جڑ دیا کہ سند میں وہی مراد اور حدیث مردود ملاجی! اپنے دھرم کی قسم سچ بتانا یہ جبروتی حکم آپ نے کس دلیل سے جمایا کیا اسی کا نام محدثی ہے سچے ہوتو برہان لاؤ ورنہ اپنے کذب وعیب رحم بالغیب پر ایمان قل هاتوا برهانكم ان كنتم صدقین(۱۱۱) حق طلبان وحق نیوش کو اوپر معلوم ہوچکا ہے کہ مخرج حدیث اعمش عن عمارۃ عن عبدالرحمن عن عبدالله بخاری مسلم ابوداؤد نسائی وغیرہم سب کے یہاں حدیث عمارہ بطریق امام اعمش ہی مذکور صحیحین کی تین سندیں بطرق حفص بن غیاث وابی معویۃ وجریر کلھم عن الاعمش عن عمارۃ صدر کلام میں اور ایك سند نسائی بطریق داود عن الاعمش عن عمارۃ اس کے بعد سن چکے۔ پنجم نسائی کتاب الصلاۃ میں ہے : اخبرنا قتیبۃ ثنا سفیان نا الاعمش عن عمارۃ الخ۔ ششم : نسائی مناسك باب الوقت الذی یصلی فیہ الصبح بالمزدلفۃ اخبرنا محمد بن العلاء ثنا ابومعویۃ عن الاعمش عن عمارۃ الخ ہفتم : سنن ابی داؤد حدثنا مسدد وان عبدالواحد بن زیاد وابا عوانۃ وابا معویۃ حدثوھم عن الاعمش عن عمارۃ ۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ہشتم : امام طحاوی حدثنا حسین بن نصرثنا قبیصۃ بن عقبۃ والفریابی قالا ثنا سفین عن الاعمش عن عمارۃ بن عمیر الخ۔ یہ امام اعمش اجل ثقہ ثبت حجت حافظ ضابط کبیر القدر جلیل الفخر اجلہ ائمہ تابعین ورجال صحاح ستہ سے ہیں جن کی وثاقت عدالت جلالت آفتاب نیمروز سے روشن تر ان کا اہم مبارك سلیمن ہے وہی یہاں مراد کاش تضعیف ابن ارقم دیکھ پانے کی خوشی ملاجی کی آنکھیں بند نہ کردیتی تو آگے سوجھتا کہ دنیا میں ایك یہی سلیمن نہیں دو۲ ورق لوٹتے تو اسی تقریب میں تھا : سلیمن بن مھران الاعمش ثقۃ حافظ عارف بالقراء ات ورع (سلیمن ابن مہران اعمش ثقہ ہے حافظ ہے قرأۃ کو جاننے والا ہے متقی ہے۔ ت)جن حضرات کا جوش تمیز اس حد تك پہنچا ہو ان سے کیا کہا جائے کہ ان سلیمن سے راوی بھی آپ نے دیکھے کون ہیں امیرالمومنین فی الحدیث امام شعبہ بن الحجاج جنہیں التزام تھا کہ ضعیف لوگوں سے حدیث روایت نہ کریں گے جس کی تفصیل فقیر کے رسالہ منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین میں مذکور وہ اور ابن ارقم سے روایت مگر ناواقفوں سے ان باتوں کی کیا شکایت!
خامسا : حضرت کو اپنی پرانی مشق صاف کرنے کو اسی طرح کا ایك اور نام ہاتھ لگایعنی خالد امام نسائی نے فرمایا تھا : اخبرنا اسمعیل بن مسعود عن خالد عن شعبۃ بیدھڑك حکم لگادیا کہ اس سے مراد خالد بن مخلد رافضی ہے ملاجی! پانچ پیسے کی شیرینی تو ہم بھی چڑھائیں گے اگر ثبوت دوکہ یہاں خالد سے یہ شخص مراد ہے ملاجی! تم کیا جانو کہ ائمہ محدثین کس حالت میں اپنے شیخ کے مجرد نام بے ذکر ممیز پر اکتفا کرتے ہیں ملاجی صحابہ کرام میں عبدالله کتنے بکثرت ہیں خصوصا عبادلہ خمسہ رضی اللہ تعالی عنہم پھر کیا وجہ ہے کہ جب بصری عن عبدالله کہے تو عبدالله بن عمرو بن عاص مفہوم ہوں گے اور کوئی کہے تو عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہم پھر رواۃ مابعد میں تو عبدالله صدہا ہیں مگر جب سوید کہیں حدثنا عبدالله تو خواہ مخواہ ابن المبارك ہیں محمدین کا شمار کون کرسکتا ہے مگر جب بندار کہیں عن محمد عن شعبۃ تو غندر کے سوا کسی طرف ذہن نہ جائے گا وعلی ہذا القیاس صدہا مثالیں ہیں جنہیں ادنی ادنی خدام حدیث جانتے سمجھتے پہچانتے ہیں ۔ ملاجی!یہ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ہشتم : امام طحاوی حدثنا حسین بن نصرثنا قبیصۃ بن عقبۃ والفریابی قالا ثنا سفین عن الاعمش عن عمارۃ بن عمیر الخ۔ یہ امام اعمش اجل ثقہ ثبت حجت حافظ ضابط کبیر القدر جلیل الفخر اجلہ ائمہ تابعین ورجال صحاح ستہ سے ہیں جن کی وثاقت عدالت جلالت آفتاب نیمروز سے روشن تر ان کا اہم مبارك سلیمن ہے وہی یہاں مراد کاش تضعیف ابن ارقم دیکھ پانے کی خوشی ملاجی کی آنکھیں بند نہ کردیتی تو آگے سوجھتا کہ دنیا میں ایك یہی سلیمن نہیں دو۲ ورق لوٹتے تو اسی تقریب میں تھا : سلیمن بن مھران الاعمش ثقۃ حافظ عارف بالقراء ات ورع (سلیمن ابن مہران اعمش ثقہ ہے حافظ ہے قرأۃ کو جاننے والا ہے متقی ہے۔ ت)جن حضرات کا جوش تمیز اس حد تك پہنچا ہو ان سے کیا کہا جائے کہ ان سلیمن سے راوی بھی آپ نے دیکھے کون ہیں امیرالمومنین فی الحدیث امام شعبہ بن الحجاج جنہیں التزام تھا کہ ضعیف لوگوں سے حدیث روایت نہ کریں گے جس کی تفصیل فقیر کے رسالہ منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین میں مذکور وہ اور ابن ارقم سے روایت مگر ناواقفوں سے ان باتوں کی کیا شکایت!
خامسا : حضرت کو اپنی پرانی مشق صاف کرنے کو اسی طرح کا ایك اور نام ہاتھ لگایعنی خالد امام نسائی نے فرمایا تھا : اخبرنا اسمعیل بن مسعود عن خالد عن شعبۃ بیدھڑك حکم لگادیا کہ اس سے مراد خالد بن مخلد رافضی ہے ملاجی! پانچ پیسے کی شیرینی تو ہم بھی چڑھائیں گے اگر ثبوت دوکہ یہاں خالد سے یہ شخص مراد ہے ملاجی! تم کیا جانو کہ ائمہ محدثین کس حالت میں اپنے شیخ کے مجرد نام بے ذکر ممیز پر اکتفا کرتے ہیں ملاجی صحابہ کرام میں عبدالله کتنے بکثرت ہیں خصوصا عبادلہ خمسہ رضی اللہ تعالی عنہم پھر کیا وجہ ہے کہ جب بصری عن عبدالله کہے تو عبدالله بن عمرو بن عاص مفہوم ہوں گے اور کوئی کہے تو عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہم پھر رواۃ مابعد میں تو عبدالله صدہا ہیں مگر جب سوید کہیں حدثنا عبدالله تو خواہ مخواہ ابن المبارك ہیں محمدین کا شمار کون کرسکتا ہے مگر جب بندار کہیں عن محمد عن شعبۃ تو غندر کے سوا کسی طرف ذہن نہ جائے گا وعلی ہذا القیاس صدہا مثالیں ہیں جنہیں ادنی ادنی خدام حدیث جانتے سمجھتے پہچانتے ہیں ۔ ملاجی!یہ
حوالہ / References
نسائی النسائی الجمع بین المغرب والعشاء الخ مطبوعہ نور محمد کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۰۰
سُنن النسائی الوقت الذی یصلی فیہ الصبح بالمزدلفہ مطبوعہ نور محمد کتب خانہ کراچی ۲ / ۴۶
سنن ابی داؤد باب الصلٰوۃ بجمع آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۲۶۷
شرح معانی الاثار الجمع بین اصلاتین مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۳
تقریب التہذیب ترجمہ نمبر ۲۶۲۳ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۳۹۲
سُنن النسائی الوقت الذی یصلی فیہ الصبح بالمزدلفہ مطبوعہ نور محمد کتب خانہ کراچی ۲ / ۴۶
سنن ابی داؤد باب الصلٰوۃ بجمع آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۲۶۷
شرح معانی الاثار الجمع بین اصلاتین مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۳
تقریب التہذیب ترجمہ نمبر ۲۶۲۳ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۳۹۲
خالد امام اجل ثقہ ثبت حافظ جلیل الشان خالد بن حارث بصری ہیں کہ امام شعبہ بن الحجاج بصری کے خلص تلامذۃ اور امام اسمعیل بن مسعود بصری کے اجل اساتذہ اور رجال صحاح ستہ سے ہیں اسمعیل بن مسعود کو ان سے اور انہیں شعبہ سے اکثار روایت بدرجہ غایت ہے اسی سنن نسائی میں اسمعیل کی بیسیوں روایات ان سے موجود ان میں بہت خاص اسی طریق سے ہیں کہ اسمعیل خالد بن حارث سے اور خالد شعبہ بن الحجاج سے ان میں بہت جگہ خود اسمعیل نے نسب خالد مصرحا بیان کیا ہے۔ بہت جگہ انہوں نے حسب عادت مطلق چھوڑا۔ امام نسائی نے واضح فرمادیا ہے بہت جگہ سابق ولاحق بیانوں کے اعتماد پر یوں ہی مطلق باقی رکھا ہے میں آپ کا حجاب ناواقفی توڑنے کو ہر قسم کی مصرح
روایات سے بہ نشان کتاب وباب کچھ حاضر کروں ۔
طریق شعبۃ : (۱) کتاب الافتتاح باب التطبیق اخبرنا اسمعیل بن مسعود حدثنا خالد بن الحارث عن شعبۃ عن سلیمن الخ۔
(۲) کتاب الطہارۃ باب النضح اخبرنا اسمعیل بن مسعود حدثنا خالد بن الحارث عن شعبۃ الخ۔
(۳) کتاب المواقیت الرخصہ فی الصلاۃ بعد العصر اخبرنا اسمعیل بن مسعود عن خالد بن الحارث عن شعبۃ الخ۔
(۴) کتاب الامامۃ الجماعۃ اذاکانوا اثنین اخبرنا اسمعیل بن مسعود ثنا خالد بن الحارث عن شعبۃ الخ۔
(۵) کتاب السہو باب التحری اخبرنا اسمعیل بن مسعود حدثنا خالد بن الحارث عن شعبۃ الخ۔
(تصریح اسمعیل سوی مامر)
(۶) کتاب الامامۃ الرخصۃ للامام فی التطویل اخبرنا اسمعیل بن مسعودثنا خالد بن الحارث الخ۔
روایات سے بہ نشان کتاب وباب کچھ حاضر کروں ۔
طریق شعبۃ : (۱) کتاب الافتتاح باب التطبیق اخبرنا اسمعیل بن مسعود حدثنا خالد بن الحارث عن شعبۃ عن سلیمن الخ۔
(۲) کتاب الطہارۃ باب النضح اخبرنا اسمعیل بن مسعود حدثنا خالد بن الحارث عن شعبۃ الخ۔
(۳) کتاب المواقیت الرخصہ فی الصلاۃ بعد العصر اخبرنا اسمعیل بن مسعود عن خالد بن الحارث عن شعبۃ الخ۔
(۴) کتاب الامامۃ الجماعۃ اذاکانوا اثنین اخبرنا اسمعیل بن مسعود ثنا خالد بن الحارث عن شعبۃ الخ۔
(۵) کتاب السہو باب التحری اخبرنا اسمعیل بن مسعود حدثنا خالد بن الحارث عن شعبۃ الخ۔
(تصریح اسمعیل سوی مامر)
(۶) کتاب الامامۃ الرخصۃ للامام فی التطویل اخبرنا اسمعیل بن مسعودثنا خالد بن الحارث الخ۔
حوالہ / References
النسائی باب التطبیق مطبوعہ مطبع سلفیہ لاہور ۱ / ۱۲۳
النسائی باب النضح مطبوعہ مطبع سلفیہ لاہور ۱ / ۱۹
النسائی الرخصۃ فی الصلٰوۃ بعد العصر مطبوعہ مطبع سلفیہ لاہور ۱ / ۶۷
النسائی الجماعۃ اذاکانوا اثنین مطبوعہ مطبع سلفیہ لاہور ۱ / ۹۷
النسائی باب التحری مطبوعہ مطبع سلفیہ لاہور ۱ / ۱۴۶
النسائی الرخصۃ للامام فی التطویل مطبوعہ مطبع سلفیہ لاہور ۱ / ۹۴
النسائی باب النضح مطبوعہ مطبع سلفیہ لاہور ۱ / ۱۹
النسائی الرخصۃ فی الصلٰوۃ بعد العصر مطبوعہ مطبع سلفیہ لاہور ۱ / ۶۷
النسائی الجماعۃ اذاکانوا اثنین مطبوعہ مطبع سلفیہ لاہور ۱ / ۹۷
النسائی باب التحری مطبوعہ مطبع سلفیہ لاہور ۱ / ۱۴۶
النسائی الرخصۃ للامام فی التطویل مطبوعہ مطبع سلفیہ لاہور ۱ / ۹۴
(۷) کتاب قیام اللیل باب وقت رکعتی الفجر اخبرنا اسمعیل بن مسعود قال ثنا خالد بن الحارث الخ۔ (۸) کتاب الزکوۃ عطیۃ المرأۃ بغیر اذن زوجھا اخبرنا اسمعیل بن مسعودثنا خالد بن حارث الخ۔ (۹)المزارعۃ احادیث النہی عن کری الارض بالثلث والربع اخبرنا اسمعیل بن مسعود قال ثنا خالد بن الحارث الخ۔ (۱۰)القسامۃ والقود باب عقل الاصابع اخبرنا اسمعیل بن مسعود حدثنا خالد بن الحارث الخ۔
(التصریح النسائی)
(۱۱) کتاب الحیض مضاجعۃ الحیض فی ثیاب حیضتہا اخبرنا اسمعیل بن مسعود حدثنا خالد ھو ابن الحارث الخ۔ (۱۲) قبیل کتاب الجمعۃ با ب اذاقیل للرجل ھل صلیت اخبرنا اسمعیل بن مسعود ومحمد بن عبدالاعلی قالا حدثنا خالد ھو ابن الحارث الخ۔ (۱۳) کتاب الصیام التقدم قبل شھر رمضان اخبرنا اسمعیل بن مسعودثنا خالد وھو ابن الحارث ۔ (۱۴) المزارعۃ من الاحادیث المذکورۃ اخبرنا اسمعیل بن مسعودثنا خالد وھو ابن الحارث ۔ (۱۵) کتاب الاشربۃ الترخیص فی انتباذ البسر اخبرنا اسمعیل بن مسعودثنا خالد یعنی ابن الحارث الخ۔
کیوں ملاجی! یہ کیا دین ودیانت ہے کہ حدیثیں رد کرنے کو ایسے جھوٹے فقرے بناؤ اور بے تکان جزم کرتے ہوئے پلك تك نہ جھپکاؤ وہ تو خدا نے خیر کرلی کہ امام نسائی نے اسمعیل بن مسعود کہہ دیا تھا کہیں نرا اسمعیل ہوتا تو ملاجی کو کہتے کیا لگتا کہ یہ حدیث تم اہل سنت کے نزدیك سخت مردود کہ اس کی سند میں اسمعیل دہلوی موجود
(التصریح النسائی)
(۱۱) کتاب الحیض مضاجعۃ الحیض فی ثیاب حیضتہا اخبرنا اسمعیل بن مسعود حدثنا خالد ھو ابن الحارث الخ۔ (۱۲) قبیل کتاب الجمعۃ با ب اذاقیل للرجل ھل صلیت اخبرنا اسمعیل بن مسعود ومحمد بن عبدالاعلی قالا حدثنا خالد ھو ابن الحارث الخ۔ (۱۳) کتاب الصیام التقدم قبل شھر رمضان اخبرنا اسمعیل بن مسعودثنا خالد وھو ابن الحارث ۔ (۱۴) المزارعۃ من الاحادیث المذکورۃ اخبرنا اسمعیل بن مسعودثنا خالد وھو ابن الحارث ۔ (۱۵) کتاب الاشربۃ الترخیص فی انتباذ البسر اخبرنا اسمعیل بن مسعودثنا خالد یعنی ابن الحارث الخ۔
کیوں ملاجی! یہ کیا دین ودیانت ہے کہ حدیثیں رد کرنے کو ایسے جھوٹے فقرے بناؤ اور بے تکان جزم کرتے ہوئے پلك تك نہ جھپکاؤ وہ تو خدا نے خیر کرلی کہ امام نسائی نے اسمعیل بن مسعود کہہ دیا تھا کہیں نرا اسمعیل ہوتا تو ملاجی کو کہتے کیا لگتا کہ یہ حدیث تم اہل سنت کے نزدیك سخت مردود کہ اس کی سند میں اسمعیل دہلوی موجود
حوالہ / References
سنن النسائی باب وقت رکعتی الفجر مطبوعہ مطبع سلفیہ لاہور ۱ / ۲۰۶
سنن النسائی عطیۃ المرأۃ الخ مطبوعہ مطبع سلفیہ لاہور ۱ / ۲۸۹
سنن النسائی الثالث من الشروط فیہ المزارعۃ والوثائق مطبوعہ مطبع سلفیہ لاہور ۲ / ۱۴۴
سنن النسائی باب عقل الاصابع مطبوعہ مطبع سلفیہ لاہور ۲ / ۲۴۷
سنن النسائی مضاجعۃ الحیض الخ مطبوعہ مطبع سلفیہ لاہور ۱ / ۴۳
سنن النسائی باب اذاقیل للرجل الخ مطبوعہ مطبع سلفیہ لاہور ۱ / ۱۶۰
سنن النسائی التقدم قبل شھر رمضان مطبوعہ مطبع سلفیہ لاہور ۱ / ۲۴۹
سنن النسائی المزارعۃ من الاحادیث مذکورۃ مطبوعہ مطبع سلفیہ لاہور ۲ / ۱۴۶
سنن النسائی الترخیص فی انتباذ البسر الخ مطبوعہ مطبع سلفیہ لاہور ۲ / ۳۲۱
سنن النسائی عطیۃ المرأۃ الخ مطبوعہ مطبع سلفیہ لاہور ۱ / ۲۸۹
سنن النسائی الثالث من الشروط فیہ المزارعۃ والوثائق مطبوعہ مطبع سلفیہ لاہور ۲ / ۱۴۴
سنن النسائی باب عقل الاصابع مطبوعہ مطبع سلفیہ لاہور ۲ / ۲۴۷
سنن النسائی مضاجعۃ الحیض الخ مطبوعہ مطبع سلفیہ لاہور ۱ / ۴۳
سنن النسائی باب اذاقیل للرجل الخ مطبوعہ مطبع سلفیہ لاہور ۱ / ۱۶۰
سنن النسائی التقدم قبل شھر رمضان مطبوعہ مطبع سلفیہ لاہور ۱ / ۲۴۹
سنن النسائی المزارعۃ من الاحادیث مذکورۃ مطبوعہ مطبع سلفیہ لاہور ۲ / ۱۴۶
سنن النسائی الترخیص فی انتباذ البسر الخ مطبوعہ مطبع سلفیہ لاہور ۲ / ۳۲۱
ملاجی! صرف ایك مسئلے میں اول تا آخر اتنی خرافات علم حدیث کی کھلی کھلی باتوں سے یہ جاہلانہ مخالفات اگر دیدہ ودانستہ ہیں تو شکایت کیا ہے کہ اخفائے حق وتلمیح باطل وتلبیس عامی واغوائے جاہل طوائف ضالہ کا ہمیشہ داب رہا ہے اور اگر خود حضرت کی حدیث دانی اتنی ہے تو خدارا خدا ورسول سے حیا کیجئے اپنے دین دھرم پر دیا کیجئے یہ منہ اور اجتہاد کی لپک یہ لیاقت اور مجتہدین پر ہمک عمر وفا کرے تو آٹھ دس۱۰ برس کسی ذی علم مقلد کی کفش برداری کیجئے حدیث کے متون وشروح واصول ورجال کی کتابیں سمجھ کر پڑھ لیجئے اور یہ نہ شرمائیے کہ بوڑھے طوطوں کے پڑھنے پر لوگ ہنستے ہیں ہنسنے دو ہنستے ہی گھر بستے ہیں اگر علم مل گیا تو عین سعادت یا طلب میں مرگئے جب بھی شہادت بشرط صحت ایمان وحسن نیت والله الھادی لقلب اخبت۔
الحمدلله مہر حق متجلی ہوا اور آفتاب صواب متجلی جن جن احادیث سے جمع بین الصلاتین کا ثبوت نہ سہل ثبوت بلکہ قطعی ثبوت زعم کیا گیا تھا واضح ہوا کہ ان میں ایك حرف مثبت مقال نہیں مذہب حنفی اثبات صوری ونفی حقیقی دونوں میں بے دلیل بتادیا تھا روشن ہوا کہ قرآن وحدیث اسی کے موافق دلائل ساطعہ اسی پر ناطق جن میں رد وانکار کی اصلا مجال نہیں اور بعونہ تعالی بطفیل مسئلہ وہ تازہ مجہلہ کہنہ مشغلہ ادعائے عمل بالحدیث کا اشغلا اس کا بھرم بھی من مانتا کھلاکہ ہواسے غرض ہوس سے کام اور اتباع حدیث کا نام بدنام پرانے پرانے حد کے سیانے جب اپنی سخن پروری پر آئیں صحیح حدیثوں کو مردود بتائیں ثقہ ائمہ کو مطعون بتائیں بخاری ومسلم پس پشت ڈالیں ان کے رواۃ واسانید میں شاخسانے نکالیں ہزار چھل کریں سو ہزار پیچ جیسے بنے صحیح حدیثیں ہیچ امام مالك وامام شافعی کی تقلید حرام نہ فقط حرام کہ شرك کا پےغام مگر جب حنفیہ کے مقابل دم پر بنے مجتہد چھوڑ مقلدوں کی تقلید سے گاڑھی چھنے اب ایك ایك شافعی مالکی کو جھك جھك کر سلام اس کے پاؤں پکڑ اس کا دامن تھام یہ بڑا پیشوا وہ بھاری امام ان میں جس کا کلام کہیں ہاتھ لگ گیا اگرچہ کیسا ہی ضعیف کتنا ہی خطا بس خضر مل گئے غنچے کھل گئے اندر کے جی کے کواڑ کھل گئے سب کوفت سوخت کے غبار دھل گئے وحی مل گئی ایمان لے آئے اسی سے حنفیہ پر حجت لائے اب خبردار کوئی پیچھے نہ پڑو احبار ورہبان کی آیت نہ پڑھو چھٹکارے کی گھڑی بچاؤ کا وقت ہے شرك بلا سے ہو اب تو مکت ہے۔ مسلمانو! حضرات کے یہ انداز دیکھے بھالے اپنا ایمان بچائے سنبھالے فریب میں نہ آنا یہ زہر درجام ہیں دھوکا نہ کھانا سبزہ بردام ہیں بے سہاروں کی چال ہر حال بری ہے تقلید سے بری ائمہ سے بری ہے بے راہ روی کا دھیان نہ لانا چادر سے زیادہ پاؤں نہ پھیلانا اتباع ائمہ راہ ہدی ہے راہ ہدی کا والی خدا ہے لله الحمد ولی الھدایۃ منہ البدایۃ والیہ النھایۃ۔
خلاصۃ الکلام و حسن الختام
الحمدلله سخن اپنے ذروہ اقصی کو پہنچا اب ملخص کلام وحاصل مرام چند باتیں یاد رکھئے :
الحمدلله مہر حق متجلی ہوا اور آفتاب صواب متجلی جن جن احادیث سے جمع بین الصلاتین کا ثبوت نہ سہل ثبوت بلکہ قطعی ثبوت زعم کیا گیا تھا واضح ہوا کہ ان میں ایك حرف مثبت مقال نہیں مذہب حنفی اثبات صوری ونفی حقیقی دونوں میں بے دلیل بتادیا تھا روشن ہوا کہ قرآن وحدیث اسی کے موافق دلائل ساطعہ اسی پر ناطق جن میں رد وانکار کی اصلا مجال نہیں اور بعونہ تعالی بطفیل مسئلہ وہ تازہ مجہلہ کہنہ مشغلہ ادعائے عمل بالحدیث کا اشغلا اس کا بھرم بھی من مانتا کھلاکہ ہواسے غرض ہوس سے کام اور اتباع حدیث کا نام بدنام پرانے پرانے حد کے سیانے جب اپنی سخن پروری پر آئیں صحیح حدیثوں کو مردود بتائیں ثقہ ائمہ کو مطعون بتائیں بخاری ومسلم پس پشت ڈالیں ان کے رواۃ واسانید میں شاخسانے نکالیں ہزار چھل کریں سو ہزار پیچ جیسے بنے صحیح حدیثیں ہیچ امام مالك وامام شافعی کی تقلید حرام نہ فقط حرام کہ شرك کا پےغام مگر جب حنفیہ کے مقابل دم پر بنے مجتہد چھوڑ مقلدوں کی تقلید سے گاڑھی چھنے اب ایك ایك شافعی مالکی کو جھك جھك کر سلام اس کے پاؤں پکڑ اس کا دامن تھام یہ بڑا پیشوا وہ بھاری امام ان میں جس کا کلام کہیں ہاتھ لگ گیا اگرچہ کیسا ہی ضعیف کتنا ہی خطا بس خضر مل گئے غنچے کھل گئے اندر کے جی کے کواڑ کھل گئے سب کوفت سوخت کے غبار دھل گئے وحی مل گئی ایمان لے آئے اسی سے حنفیہ پر حجت لائے اب خبردار کوئی پیچھے نہ پڑو احبار ورہبان کی آیت نہ پڑھو چھٹکارے کی گھڑی بچاؤ کا وقت ہے شرك بلا سے ہو اب تو مکت ہے۔ مسلمانو! حضرات کے یہ انداز دیکھے بھالے اپنا ایمان بچائے سنبھالے فریب میں نہ آنا یہ زہر درجام ہیں دھوکا نہ کھانا سبزہ بردام ہیں بے سہاروں کی چال ہر حال بری ہے تقلید سے بری ائمہ سے بری ہے بے راہ روی کا دھیان نہ لانا چادر سے زیادہ پاؤں نہ پھیلانا اتباع ائمہ راہ ہدی ہے راہ ہدی کا والی خدا ہے لله الحمد ولی الھدایۃ منہ البدایۃ والیہ النھایۃ۔
خلاصۃ الکلام و حسن الختام
الحمدلله سخن اپنے ذروہ اقصی کو پہنچا اب ملخص کلام وحاصل مرام چند باتیں یاد رکھئے :
اولا جمع صوری بدلائل صحیحہ روشن ثبوت سے بے پردہ وحجاب اور اس کا انکار انکار آفتاب۔
ثانیا کسی حدیث صحیح میں جمع تقدیم کا نام کو بھی اصلا پتا نہیں اس کی نسبت ادعا ی قطعی ثبوت محض نسج العنکبوت۔
ثالثا جمع تاخیر میں بھی کوئی حدیث صحیح صریح جیسا کہ ادعا کیا جاتا ہے ہرگز موجود نہیں یا ضعاف ومناکیر ہیں یا محض بے علاقہ یا صاف محتمل اور محتملات سے ہوس اثبات مہمل ومختل۔
رابعا جب جمع صوری پر ثبوت مفسر متعین ناقابل تاویل قائم تو محتملات خصوصا حدیث ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماکا اسی کی طرف رجوع لازم کہ قاعدہ ارجاع محتمل بہ متعین ہے نہ عکس کہ سراسر نکس۔
خامسا نماز بعد شہادتین اہم فرائض واعظم ارکان اسلام ہے اور اس میں رعایت وقت کی فرضیت اور اظہر ضروریات دین سے جسے مسلمانوں کا ایك ایك بچہ جانتا ہے یونہیں اوقات خمسہ غایت شہرت واستفاضہ پر بالغ حد تو اتر ہیں اگر حضور پرنور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے حالت سفر میں جس کی ضرورت ہمیشہ ہر زمانہ میں ہر شخص کو رہی اور رہتی ہے چار نمازوں کے لئے اوقات مشہورہ معلومہ معروفہ کے سوا قولا یا فعلا کوئی اور حکم عطا فرمایا ہوتا تو واجب تھا کہ جس شہرت جلیلہ کے ساتھ اوقات خمسہ منقول ہوئے اسی طرح یہ نیا وقت بھی نقل کیا جاتا آخر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے یہ فعل کسی خلوت میں نہ کیا غزوہ تبوك میں ہزارہا صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمہمراہ رکاب سعادت مآب تھے اگر حضور جمع فرماتے بلاشبہہ وہ سب کے سب دیکھتے اور کثرت رواۃ سے اسے بھی مشہور کر چھوڑتے یہ کیا کہ ایسی عظیم بات ایسے جلیل فرض کے ایسے ضروری لازم میں ایسی صریح تبدیل ایسے مجمع کثیر کے سامنے واقع ہو اور اسے یہی دو ایك راوی روایت فرمائیں تو بلاشبہہ یہی جمع صوری فرمائی جس میں نہ وقت بدلا نہ کسی حکم میں تغیر نے راہ پائی کہ اس کے اشتہار پر دواعی متوفر ہوتے نظر انصاف صاف ہو تو صرف ایك یہی کلام تمام دلائل خلاف کے جواب کو بس ہے کہ جب باوصف توفر دواعی نقل آحاد ہے تو لاجرم جمع صوری پر محمول کہ توفر مہجور اور بالفرض کوئی روایت مفسرہ ناقابل تاویل ملے تو متروك العمل کہ ایسی جگہ آحاد رہنا عقل سے دور۔
سادسا نمازوں کے لئے تعیین وتخصیص اوقات وآیات قرآن عظیم واحادیث حضور سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے قطعی الثبوت ہے اگر کہیں اس کا خلاف مانیے تو وہ بھی ویسا ہی قطعی چاہے جیسے عصر عرفہ ومغرب مزدلفہ کا اجماعی مسئلہ ورنہ یقینی کے مقابل ظنی مضمحل۔
سابعا بالفرغ اگر مثل منع دلائل جمع بھی قابل سمع تسلیم کیجئے تاہم ترجیح منع کوہے کہ جب حاظر ومبیح مجتمع ہوں تو حاظر مقدم ہے۔
ثانیا کسی حدیث صحیح میں جمع تقدیم کا نام کو بھی اصلا پتا نہیں اس کی نسبت ادعا ی قطعی ثبوت محض نسج العنکبوت۔
ثالثا جمع تاخیر میں بھی کوئی حدیث صحیح صریح جیسا کہ ادعا کیا جاتا ہے ہرگز موجود نہیں یا ضعاف ومناکیر ہیں یا محض بے علاقہ یا صاف محتمل اور محتملات سے ہوس اثبات مہمل ومختل۔
رابعا جب جمع صوری پر ثبوت مفسر متعین ناقابل تاویل قائم تو محتملات خصوصا حدیث ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماکا اسی کی طرف رجوع لازم کہ قاعدہ ارجاع محتمل بہ متعین ہے نہ عکس کہ سراسر نکس۔
خامسا نماز بعد شہادتین اہم فرائض واعظم ارکان اسلام ہے اور اس میں رعایت وقت کی فرضیت اور اظہر ضروریات دین سے جسے مسلمانوں کا ایك ایك بچہ جانتا ہے یونہیں اوقات خمسہ غایت شہرت واستفاضہ پر بالغ حد تو اتر ہیں اگر حضور پرنور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے حالت سفر میں جس کی ضرورت ہمیشہ ہر زمانہ میں ہر شخص کو رہی اور رہتی ہے چار نمازوں کے لئے اوقات مشہورہ معلومہ معروفہ کے سوا قولا یا فعلا کوئی اور حکم عطا فرمایا ہوتا تو واجب تھا کہ جس شہرت جلیلہ کے ساتھ اوقات خمسہ منقول ہوئے اسی طرح یہ نیا وقت بھی نقل کیا جاتا آخر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے یہ فعل کسی خلوت میں نہ کیا غزوہ تبوك میں ہزارہا صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمہمراہ رکاب سعادت مآب تھے اگر حضور جمع فرماتے بلاشبہہ وہ سب کے سب دیکھتے اور کثرت رواۃ سے اسے بھی مشہور کر چھوڑتے یہ کیا کہ ایسی عظیم بات ایسے جلیل فرض کے ایسے ضروری لازم میں ایسی صریح تبدیل ایسے مجمع کثیر کے سامنے واقع ہو اور اسے یہی دو ایك راوی روایت فرمائیں تو بلاشبہہ یہی جمع صوری فرمائی جس میں نہ وقت بدلا نہ کسی حکم میں تغیر نے راہ پائی کہ اس کے اشتہار پر دواعی متوفر ہوتے نظر انصاف صاف ہو تو صرف ایك یہی کلام تمام دلائل خلاف کے جواب کو بس ہے کہ جب باوصف توفر دواعی نقل آحاد ہے تو لاجرم جمع صوری پر محمول کہ توفر مہجور اور بالفرض کوئی روایت مفسرہ ناقابل تاویل ملے تو متروك العمل کہ ایسی جگہ آحاد رہنا عقل سے دور۔
سادسا نمازوں کے لئے تعیین وتخصیص اوقات وآیات قرآن عظیم واحادیث حضور سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے قطعی الثبوت ہے اگر کہیں اس کا خلاف مانیے تو وہ بھی ویسا ہی قطعی چاہے جیسے عصر عرفہ ومغرب مزدلفہ کا اجماعی مسئلہ ورنہ یقینی کے مقابل ظنی مضمحل۔
سابعا بالفرغ اگر مثل منع دلائل جمع بھی قابل سمع تسلیم کیجئے تاہم ترجیح منع کوہے کہ جب حاظر ومبیح مجتمع ہوں تو حاظر مقدم ہے۔
ثامنا جانب جمع صرف نقل فعل ہے قول اگر ہے تو جمع صوری میں اور جانب منع دلائل قولیہ وفعلیہ دونوں موجود اور قول فعل پر مرجح تو مجموع قول وفعل محض نقل فعل پر بدرجہ اولی۔
تاسعا افقہیت راوی اور مرجح منع ہے کہ ابن عمر وانس میں کسی کو فقاہت جلیلہ عبدالله بن مسعود تك رسائی نہیں رضی اللہ تعالی عنہماجمعین یہ وہی ابن مسعود ہیں جن کی نسبت حدیث میں ہے حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : تمسکوا بعھد ابن ام عبد ۔ (ابن ام عبد کی باتوں سے تمسك کیا کرو) رواہ الترمذی عنہ رضی اللہ تعالی عنہ۔
(نوٹ : اصل متن ترمذی میں الفاظ یوں ہیں تمسکوا بعھد ابن مسعود رضی الله عنہ۔ نذیر احمد)
مرقاۃ میں ہے اسی لئے ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہان کی روایت وقول کو خلفائے اربعہ کے بعد سب صحابہ کے قول پر ترجیح دیتے ہیں ۔ یہ وہی ابن مسعود ہیں جنہیں حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہصاحب سر رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے :
ان اشبہ الناس دلاوسمتا وھدیا برسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم لابن ام عبد ۔ رواہ البخاری ف والترمذی والنسائی۔
بیشك چال ڈھال روش میں سب سے زیادہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے مشابہ عبدالله بن مسعود ہیں رضی اللہ تعالی عنہ۔
یہ وہی ابن مسعود ہیں جنہیں امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہفرماتے : کیف ملئ علما (ایك گٹھری ہیں علم سے بھری ہوئی)نہایت یہ کہ حضور اقدس سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : رضیت لامتی مارضی لھا
تاسعا افقہیت راوی اور مرجح منع ہے کہ ابن عمر وانس میں کسی کو فقاہت جلیلہ عبدالله بن مسعود تك رسائی نہیں رضی اللہ تعالی عنہماجمعین یہ وہی ابن مسعود ہیں جن کی نسبت حدیث میں ہے حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : تمسکوا بعھد ابن ام عبد ۔ (ابن ام عبد کی باتوں سے تمسك کیا کرو) رواہ الترمذی عنہ رضی اللہ تعالی عنہ۔
(نوٹ : اصل متن ترمذی میں الفاظ یوں ہیں تمسکوا بعھد ابن مسعود رضی الله عنہ۔ نذیر احمد)
مرقاۃ میں ہے اسی لئے ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہان کی روایت وقول کو خلفائے اربعہ کے بعد سب صحابہ کے قول پر ترجیح دیتے ہیں ۔ یہ وہی ابن مسعود ہیں جنہیں حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہصاحب سر رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے :
ان اشبہ الناس دلاوسمتا وھدیا برسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم لابن ام عبد ۔ رواہ البخاری ف والترمذی والنسائی۔
بیشك چال ڈھال روش میں سب سے زیادہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے مشابہ عبدالله بن مسعود ہیں رضی اللہ تعالی عنہ۔
یہ وہی ابن مسعود ہیں جنہیں امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہفرماتے : کیف ملئ علما (ایك گٹھری ہیں علم سے بھری ہوئی)نہایت یہ کہ حضور اقدس سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : رضیت لامتی مارضی لھا
حوالہ / References
جامع الترمذی مناقب عبداللہ بن مسعود مطبوعہ کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۲۲۱
مرقات المفاتیح جامع المناقب ، الفصل الاول مطبوعہ مکتبہ امدایہ ملتان ۱۱ / ۴۰۹
مشکوٰۃ المصابیح بحوالہ بخاری باب جامع المناقب مطبع مجتبائی دہلی ص ۵۷۴)
(جامع الترمذی ، مناقب عبداللہ بن مسعود امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۲۲۲)
ف۔ مشکوٰۃ میں بعینہٖ یہی الفاظ ہیں جبکہ ترمذی میں الفاظ یوں ہیں۔ کان اقرب الناس ھدیا ودلا وسمتا برسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم ابن مسعود اور بخاری میں الفاظ یوں ہیں مااعلم احدًا اقرب سمتا وھدیا ودلا بالنبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم عن ابن ام عبد۔
اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ ترجمہ عبداللّٰہ بن مسعودا مکتبہ اسلامیہ ریاض الشیخ ۳ / ۲۵۹
مرقات المفاتیح جامع المناقب ، الفصل الاول مطبوعہ مکتبہ امدایہ ملتان ۱۱ / ۴۰۹
مشکوٰۃ المصابیح بحوالہ بخاری باب جامع المناقب مطبع مجتبائی دہلی ص ۵۷۴)
(جامع الترمذی ، مناقب عبداللہ بن مسعود امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۲۲۲)
ف۔ مشکوٰۃ میں بعینہٖ یہی الفاظ ہیں جبکہ ترمذی میں الفاظ یوں ہیں۔ کان اقرب الناس ھدیا ودلا وسمتا برسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم ابن مسعود اور بخاری میں الفاظ یوں ہیں مااعلم احدًا اقرب سمتا وھدیا ودلا بالنبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم عن ابن ام عبد۔
اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ ترجمہ عبداللّٰہ بن مسعودا مکتبہ اسلامیہ ریاض الشیخ ۳ / ۲۵۹
ابن ام عبد۔ (میں نے اپنی امت کے لئے پسند فرمالیا جو کچھ عبدالله بن مسعود اس کے لئے پسند کرے رواہ الحاکم بسند صحیح۔
لاجرم ہمارے ائمہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمکے نزدیك خلفائے اربعہ رضوان الله تعالی علیہم کے بعد وہ جناب تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان سے علم وفقاہت میں زائد ہیں مرقاۃ شرح مشکوۃ میں ہے :
ھو عند ائمتنا افقہ الصحابۃ بعد الخلفاء الاربعۃ ۔
ہمارے ائمہ کے نزدیك ابن مسعود خلفاء اربعہ کے بعد سب سے زیادہ فقیہ ہیں ۔ (ت)
عاشرا عـــہ اگر بالفرض براہین منع وا د لہ جمع کانٹے کی تول برابر ہی سہی تاہم منع ہی کو ترجیح رہے گی کہ اس میں احتیاط زائد ہے اگر عندالله جمع درست بھی ہوئی تو ایك جائز بات ہے جس کے ترك میں بالاجماع گناہ نہیں بلکہ اتفاق اس کا ترك ہی افضل ہے اور اگر عندالله نادرست ہے تو جمع تاخیر میں نماز دانستہ قضا کرنی ہوگی اور جمع تقدیم میں سرے سے ادا ہی نہ ہوگی فرض گردن پر رہے گا تو ایسی بات جس کا ایك پہلو خلاف اولی اور دوسری جانب حرام وگناہ کبیرہ ہو عاقل کا کام یہی ہے کہ اس سے احتراز کرے یہاں جو ملاجی ایمان کی آنکھ پر ٹھیکری رکھ کر لکھ گئے ہیں کہ ف۱ تشکیك مذکور اس صورت میں جاری ہوتی ہے جس میں طرفین کا مذہب مدلل بدلائل ہو اور صورت اختلاف کی ہو حالانکہ مسئلہ جمع میں مانعین کا دعوی بے دلیل ہے اور ناجائز کہنا ان کا خلاف ہے اختلاف نہیں پس اگر صحت میں عمل مدلل بدلائل کے قول بے دلیل شك ڈال دیا کرے تو سیکڑوں اعمال باطل ہوجائیں اور حق وباطل میں کچھ تمیز نہ رہے ان جھوٹی بالا خوانیوں سینہ زوری کی لن ترانیوں کا کچا چٹھا بعونہ تعالی سب کھل چکا مگر حیا کا بھلا ہو جس کے آسرے جیتے ہیں یونہیں تو آفتاب پر خاك اڑاکر اندھوں کو سجھادیا کرتے ہیں کہ حنفیہ کا مذہب بے دلیل وخلاف حدیث ہے خدا کی شان قرآن عظیم واحادیث رسول کریم علیہ وعلی آلہ افضل الصلاۃ والتسلیم کی ان قاہر دلیلوں کو جنہیں سن کر جگر تك دھمك پہنچی ہوگی بے دلیل ٹھہراؤ اور اپنے ضعیف وبے ثبوت قول کو قطعی یقینی مدلل بتاؤ اور عمل بالحدیث ودین ودیانت کا نام لیتے نہ شرماؤ انا لله وانا الیہ راجعون۔ ع
آدمیاں کم شدند ملك گرفت اجتہاد
فقیر غفرلہ المولی القدیر نے یہ چند اوراق کہ بنظر احقاق حق لکھے۔ مولی تعالی عزوجل اپنے کرم سے قبول فرمائے
عـــہ یعنی نصوص منقول وقواعد اصول سے قطع نظر کرکے بہ مقتضائے عقول ہے۔ (م)
لاجرم ہمارے ائمہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمکے نزدیك خلفائے اربعہ رضوان الله تعالی علیہم کے بعد وہ جناب تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان سے علم وفقاہت میں زائد ہیں مرقاۃ شرح مشکوۃ میں ہے :
ھو عند ائمتنا افقہ الصحابۃ بعد الخلفاء الاربعۃ ۔
ہمارے ائمہ کے نزدیك ابن مسعود خلفاء اربعہ کے بعد سب سے زیادہ فقیہ ہیں ۔ (ت)
عاشرا عـــہ اگر بالفرض براہین منع وا د لہ جمع کانٹے کی تول برابر ہی سہی تاہم منع ہی کو ترجیح رہے گی کہ اس میں احتیاط زائد ہے اگر عندالله جمع درست بھی ہوئی تو ایك جائز بات ہے جس کے ترك میں بالاجماع گناہ نہیں بلکہ اتفاق اس کا ترك ہی افضل ہے اور اگر عندالله نادرست ہے تو جمع تاخیر میں نماز دانستہ قضا کرنی ہوگی اور جمع تقدیم میں سرے سے ادا ہی نہ ہوگی فرض گردن پر رہے گا تو ایسی بات جس کا ایك پہلو خلاف اولی اور دوسری جانب حرام وگناہ کبیرہ ہو عاقل کا کام یہی ہے کہ اس سے احتراز کرے یہاں جو ملاجی ایمان کی آنکھ پر ٹھیکری رکھ کر لکھ گئے ہیں کہ ف۱ تشکیك مذکور اس صورت میں جاری ہوتی ہے جس میں طرفین کا مذہب مدلل بدلائل ہو اور صورت اختلاف کی ہو حالانکہ مسئلہ جمع میں مانعین کا دعوی بے دلیل ہے اور ناجائز کہنا ان کا خلاف ہے اختلاف نہیں پس اگر صحت میں عمل مدلل بدلائل کے قول بے دلیل شك ڈال دیا کرے تو سیکڑوں اعمال باطل ہوجائیں اور حق وباطل میں کچھ تمیز نہ رہے ان جھوٹی بالا خوانیوں سینہ زوری کی لن ترانیوں کا کچا چٹھا بعونہ تعالی سب کھل چکا مگر حیا کا بھلا ہو جس کے آسرے جیتے ہیں یونہیں تو آفتاب پر خاك اڑاکر اندھوں کو سجھادیا کرتے ہیں کہ حنفیہ کا مذہب بے دلیل وخلاف حدیث ہے خدا کی شان قرآن عظیم واحادیث رسول کریم علیہ وعلی آلہ افضل الصلاۃ والتسلیم کی ان قاہر دلیلوں کو جنہیں سن کر جگر تك دھمك پہنچی ہوگی بے دلیل ٹھہراؤ اور اپنے ضعیف وبے ثبوت قول کو قطعی یقینی مدلل بتاؤ اور عمل بالحدیث ودین ودیانت کا نام لیتے نہ شرماؤ انا لله وانا الیہ راجعون۔ ع
آدمیاں کم شدند ملك گرفت اجتہاد
فقیر غفرلہ المولی القدیر نے یہ چند اوراق کہ بنظر احقاق حق لکھے۔ مولی تعالی عزوجل اپنے کرم سے قبول فرمائے
عـــہ یعنی نصوص منقول وقواعد اصول سے قطع نظر کرکے بہ مقتضائے عقول ہے۔ (م)
حوالہ / References
المستدرك کتاب معرفۃ الصحابۃ دارالفکر بیروت ۳ / ۳۱۷
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ المصابیح باب جامع المناقب الفصل الاول عن عبداللہ بن عمر ، مطبوعہ امدادیہ ملتان۱۱ / ۴۰۹
ف۱ معیارالحق ص ۴۱۵
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ المصابیح باب جامع المناقب الفصل الاول عن عبداللہ بن عمر ، مطبوعہ امدادیہ ملتان۱۱ / ۴۰۹
ف۱ معیارالحق ص ۴۱۵
شر حساد وشامت ذنوب سے محفوظ رکھے۔ وجہ ثبات واستقامت مقلدین کرام بنائے یہ امید تو ان شاء الله تعالی القریب المجیب نقد وقت ہے مگر دشمنان حنفیت کو ہدایت ملنے عناد حنفیہ کی راہ نہ چلنے کی طرف سے یاس سخت ہے کہ کھلے مکابروں میں جن صاحبوں کی یہ ہمتیں بڑھی ہیں یہ مشقیں چڑھی ہیں انہیں آئندہ ایسی اور ان سے بڑھ کر اور ہزار ہٹ دھرمیاں کرتے کیا لگتا ہے تحریف تعصب مکابری تحکم کا کیا علاج ہے سوا اس کے کہ شر شریران سے اپنے رب عزوجل کی پناہ لوں اور بتوسل روح اکرم امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہاس سے عرض کروں رب انی اعوذبك من ھمزات الشیطین واعوذبك رب ان یحضرونo وصلی الله تعالی علی الھادی الامین الامان المامون محمد والہ وصحبہ الکرام والذین ھم بھدیھم یھتدون الحمد لله کہ یہ مبارك رسالہ نفیس عجالہ پانزدہم ماہ رجب مرجب ۱۳۱۳ ہجریہ علی صاحبہا افضل الصلاۃ والتحیۃ کو تمام اور بلحاظ تاریخ حاجز البحرین الواقی عن جمع الصلاتین۱۳۱۳ھ نام ہوا ربنا تقبل منا انك انت السمیع العلیم وصلی الله تعالی علی سید المرسلین محمد والہ وصحبہ اجمعین امین سبحانك اللھم وبحمدك اشھد ان لاالہ الا انت استغفرك واتوب الیك والله سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ (۲۸۷) ۱۷ جمادی الاولی ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام نابینا نے صبح کی نماز پڑھاتے وقت ایسی بڑی سورت پڑھی کہ جب نماز شروع کی تھی اس وقت سورج نہیں نکلا تھا اور جب سلام پھیرا تو سورج نکل آیا یہ نماز ہوئی نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
نماز فجر میں اگر قعدہ سے پہلے آفتاب نکل آیا یعنی ہنوز اتنی دیر جس میں التحیات پڑھ لی جائے نہ بیٹھنے پایا کہ سورج کی کرن چمکی تو بالاتفاق جاتی رہی اور اگر تحریمہ نماز سے باہر آنے کے بعد نکلا تو بالاتفاق ہوگئی مثلا جب تك پہلی بار لفظ السلام کہا تھا سورج نہ نکلا تھا السلام کہتے ہی فورا چمك آیا کہ علیکم ورحمۃ الله سورج نکلنے میں کہا تو نماز صحیح ہوگئی کہ فقط السلام کہنا تحریمہ نماز سے باہر کردیتا ہے الا من علیہ سھو بشرط ان یاتی بالسجود (مگر جس پر سجدہ سہو ہو بشرطیکہ سجدہ کرے۔ ت) اور اگر طلوع شمس دونوں امر کے بیچ میں ہوا یعنی قعدہ بقدر تشہد کرچکا اور ہنوز تحریمہ نماز میں تھا کہ آفتاب طالع ہوا تو ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہکے نزدیك جاتی رہی یعنی یہ فرض نفل ہوکر رہ گئے فرضوں کی قضا ذمہ پر رہی۔
فی الدرالمختار : ولووجد المنافی بلاصنعہ
درمختار میں ہے : ایسا منافی نماز کہ جس میں نمازی کےعمل
مسئلہ (۲۸۷) ۱۷ جمادی الاولی ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام نابینا نے صبح کی نماز پڑھاتے وقت ایسی بڑی سورت پڑھی کہ جب نماز شروع کی تھی اس وقت سورج نہیں نکلا تھا اور جب سلام پھیرا تو سورج نکل آیا یہ نماز ہوئی نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
نماز فجر میں اگر قعدہ سے پہلے آفتاب نکل آیا یعنی ہنوز اتنی دیر جس میں التحیات پڑھ لی جائے نہ بیٹھنے پایا کہ سورج کی کرن چمکی تو بالاتفاق جاتی رہی اور اگر تحریمہ نماز سے باہر آنے کے بعد نکلا تو بالاتفاق ہوگئی مثلا جب تك پہلی بار لفظ السلام کہا تھا سورج نہ نکلا تھا السلام کہتے ہی فورا چمك آیا کہ علیکم ورحمۃ الله سورج نکلنے میں کہا تو نماز صحیح ہوگئی کہ فقط السلام کہنا تحریمہ نماز سے باہر کردیتا ہے الا من علیہ سھو بشرط ان یاتی بالسجود (مگر جس پر سجدہ سہو ہو بشرطیکہ سجدہ کرے۔ ت) اور اگر طلوع شمس دونوں امر کے بیچ میں ہوا یعنی قعدہ بقدر تشہد کرچکا اور ہنوز تحریمہ نماز میں تھا کہ آفتاب طالع ہوا تو ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہکے نزدیك جاتی رہی یعنی یہ فرض نفل ہوکر رہ گئے فرضوں کی قضا ذمہ پر رہی۔
فی الدرالمختار : ولووجد المنافی بلاصنعہ
درمختار میں ہے : ایسا منافی نماز کہ جس میں نمازی کےعمل
قبل القعود بطلت اتفاقا ولوبعدہ بطلت عندہ کطلوع الشمس فی الفجر۔ ولاتنقلب الصلاۃ نفلا الافہما اذاطلعت اوالخ اھ ملتقطا وفی ش عن الرحمتی عن التجنیس : الامام اذافرغ من صلاتہ فلما قال : السلام جاء رجل واقتدی بہ قبل ان یقول : علیکم لایصیر داخلا فی صلاتہ لان ھذا سلام الاتری انہ لواراد ان یسلم علی احد فی صلاتہ ساھیا فقال : السلام ثم علم فسکت تفسد صلاتہ ۔
کو دخل نہ ہو اگر قعدے سے پہلے پایا جائے تو نماز بالاتفاق باطل ہوجائے گی اور اگر قعدے سے بعد پایا جائے تو امام ابوحنیفہ کے نزدیك باطل ہوجائے گی مثلا فجر کی نماز کے دوران سورج کا طلوع ہوجانا اور یہ نماز نفل نہیں بنتی ہاں اگر طلوع ہو... الخ اور شامی میں رحمتی سے اس نے تجنیس سے نقل کیا ہے کہ امام جب نماز سے فارغ ہوا اور کہا “ السلام “ تو ایك شخص آیا اور “ علیکم “ کہنے سے پہلے اقتداء کرلی تو وہ اس نماز میں داخل شمار نہیں کیا جائے گا کیونکہ صرف “ السلام “ کہنا بھی سلام ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ اگر کوئی بھول کر نماز میں کسی کو سلام دینا چاہے اور کہے “ السلام “ پھر اسے یاد آجائے (کہ میں نماز میں ہوں ) اور چپ ہوجائے تو اس کی نماز فاسد ہوجاتی ہے۔ (ت)
مقتدیوں کو چاہئے کہ اپنے اس نابینا امام کو پیش از شروع متنبہ کردیا کریں کہ آج وقت اس قدر ہے پھر بھی اگر تطوہل سے باز نہ آئے اور یونہی نماز کھوئے تو آپ ہی امامت سے معزولی کا مستحق ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۲۸۸) از جبل پور عقب کوتوالی مرسلہ مولوی محمد برہان الحق صاحب سلمہ سلخ شعبان ۱۳۳۵ھ
حضور پرنور بعد سلام نیاز گزارش ضحوہ کبری نکالنے کا کیا قاعدہ ہے ایك بار پہلے ارشاد ہوا تھا مگر غلام بھول گیا۔
الجواب :
نور دیدہ سعادت مولنا المکرم جعلہ المولی تعالی کا سمہ برہان الحق السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ خیریت مزاج جناب مولنا المکرم اکرمہم السلام وسلمہ سے اطلاع دیجئے اور میرے لئے بھی طلب دعا کیجئے ابھی ایك ہفتہ میں تین دورے بخار کے ہوچکے ہیں ضعف قوی ہے اور قوی ضعیف وحسبنا المولی الکریم اللطیف جس دن کا ضحوہ کبری نکالنا منظور ہو اس دن کے وقت صبح ووقت غروب کو جمع کرکے تنصیف کریں اور اس پر چھ۶ گھنٹے بڑھالیں یہ وقت ضحوہ کبری ہوگا اس سے لے کر نصف النہار حقیقی تك نماز مکروہ ہے یہ وقت ہمارے بلاد میں کم سے کم
کو دخل نہ ہو اگر قعدے سے پہلے پایا جائے تو نماز بالاتفاق باطل ہوجائے گی اور اگر قعدے سے بعد پایا جائے تو امام ابوحنیفہ کے نزدیك باطل ہوجائے گی مثلا فجر کی نماز کے دوران سورج کا طلوع ہوجانا اور یہ نماز نفل نہیں بنتی ہاں اگر طلوع ہو... الخ اور شامی میں رحمتی سے اس نے تجنیس سے نقل کیا ہے کہ امام جب نماز سے فارغ ہوا اور کہا “ السلام “ تو ایك شخص آیا اور “ علیکم “ کہنے سے پہلے اقتداء کرلی تو وہ اس نماز میں داخل شمار نہیں کیا جائے گا کیونکہ صرف “ السلام “ کہنا بھی سلام ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ اگر کوئی بھول کر نماز میں کسی کو سلام دینا چاہے اور کہے “ السلام “ پھر اسے یاد آجائے (کہ میں نماز میں ہوں ) اور چپ ہوجائے تو اس کی نماز فاسد ہوجاتی ہے۔ (ت)
مقتدیوں کو چاہئے کہ اپنے اس نابینا امام کو پیش از شروع متنبہ کردیا کریں کہ آج وقت اس قدر ہے پھر بھی اگر تطوہل سے باز نہ آئے اور یونہی نماز کھوئے تو آپ ہی امامت سے معزولی کا مستحق ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۲۸۸) از جبل پور عقب کوتوالی مرسلہ مولوی محمد برہان الحق صاحب سلمہ سلخ شعبان ۱۳۳۵ھ
حضور پرنور بعد سلام نیاز گزارش ضحوہ کبری نکالنے کا کیا قاعدہ ہے ایك بار پہلے ارشاد ہوا تھا مگر غلام بھول گیا۔
الجواب :
نور دیدہ سعادت مولنا المکرم جعلہ المولی تعالی کا سمہ برہان الحق السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ خیریت مزاج جناب مولنا المکرم اکرمہم السلام وسلمہ سے اطلاع دیجئے اور میرے لئے بھی طلب دعا کیجئے ابھی ایك ہفتہ میں تین دورے بخار کے ہوچکے ہیں ضعف قوی ہے اور قوی ضعیف وحسبنا المولی الکریم اللطیف جس دن کا ضحوہ کبری نکالنا منظور ہو اس دن کے وقت صبح ووقت غروب کو جمع کرکے تنصیف کریں اور اس پر چھ۶ گھنٹے بڑھالیں یہ وقت ضحوہ کبری ہوگا اس سے لے کر نصف النہار حقیقی تك نماز مکروہ ہے یہ وقت ہمارے بلاد میں کم سے کم
حوالہ / References
دُرمختار باب الاستخلاف مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۸۷۔ ۸۸
ردالمحتار باب صفۃ الصلوٰۃ داراحیاء الثراث العربی بیروت ۱ / ۳۱۴
ردالمحتار باب صفۃ الصلوٰۃ داراحیاء الثراث العربی بیروت ۱ / ۳۱۴
۳۹ منٹ اور زیادہ سے زیادہ ۴۷ منٹ ہوتا ہے مثلا کل روز پنجشنبہ بحساب قواعد بشرط رویت یکم ماہ مبارك ہے اوقات یہ ہیں : نقشے میں تمام اوقات ثانیوں سے اعشاریہ تك تھے جن کے رفع اسقاط کے سبب ۲ء یعنی تفاوت آیا
مثال دوم۳۰ ماہ مبارك کو انس علیہ السلام والله تعالی اعلم
image
مسئلہ (۲۸۹) از شہسرام مدرسہ عربیہ مرسلہ مولوی ظفرالدین صاحب مدرس اول مدرسہ مذکور ۹ رمضان ۱۳۳۵ھ بحضور اعلیحضرت عظیم البرکت قبلہ وکعبہ دام ظلہم الاقدس۔ السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ ۔ خاکسار حضور والا کے قواعد فرمودہ کے مطابق برابر وقت نکالا کرتا تھا مگر اس دفعہ جب میں مدراس گیا وہاں مولوی عبدالله صاحب کی احقر سے ملاقات ہوئی وہ برابر وقت مدراس شائع کیا کرتے ہیں چنانچہ ایك تختہ جس پر سال تمام شمسی کے اوقات انہوں نے استخراج کرکے شائع کیا ہے مجھے دیا اور یہ کہا کہ : پرچہ میں نے برہلی بھی روانہ کیا ہے تاکہ وہ حضرات میری غلطی پر مجھے متنبہ فرمائیں اس کی طرف توجہ فرمائیی جناب کو میں بھی اسی غرض سے دیتا ہوں چنانچہ وہ پرچہ لیتا ہوا میں یہاں آیا ۲۲ جون ۱۹۱۷ء سے میں نے جانچ شروع کیا وقت غروب میرے قاعدہ کے مطابق ۶ بج کر ۳۷ منٹ ۲۵ سیکنڈ اور طلوع ۵ بج کر ۴۴ منٹ ۱۹ سکنڈ ہوا اور اس نقشہ میں غروب ۶ بج کر ۳۴ اور طلوع ۵ بج کر ۴۸ منٹ لکھا ہے غرض ۳ ۴ منٹ کا فرق ہے عشاء کا وقت نقشہ میں ۷ بج کر ۵۶ منٹ لکھا ہے میں پریشان ہوا کہ آخر فن کا جاننے والا اس قدر غلطی کیا کرے گا لاجرم میں نے اپنے ہی مستخرج وقت کو غلط سمجھ کر اس غلطی کی جستجو میں ہوا تو سوا اس کے اور کچھ سمجھ میں نہ آیا میں نے بوجہ موافق الجہۃ ہونے کے عرض بلد اور مہل سے تفریق کرکے حاصل فرق کو جمع کرکے عمل کیا ہے اور جگہ کہلئے میل کو عرض بلد سے کم
مثال دوم۳۰ ماہ مبارك کو انس علیہ السلام والله تعالی اعلم
image
مسئلہ (۲۸۹) از شہسرام مدرسہ عربیہ مرسلہ مولوی ظفرالدین صاحب مدرس اول مدرسہ مذکور ۹ رمضان ۱۳۳۵ھ بحضور اعلیحضرت عظیم البرکت قبلہ وکعبہ دام ظلہم الاقدس۔ السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ ۔ خاکسار حضور والا کے قواعد فرمودہ کے مطابق برابر وقت نکالا کرتا تھا مگر اس دفعہ جب میں مدراس گیا وہاں مولوی عبدالله صاحب کی احقر سے ملاقات ہوئی وہ برابر وقت مدراس شائع کیا کرتے ہیں چنانچہ ایك تختہ جس پر سال تمام شمسی کے اوقات انہوں نے استخراج کرکے شائع کیا ہے مجھے دیا اور یہ کہا کہ : پرچہ میں نے برہلی بھی روانہ کیا ہے تاکہ وہ حضرات میری غلطی پر مجھے متنبہ فرمائیں اس کی طرف توجہ فرمائیی جناب کو میں بھی اسی غرض سے دیتا ہوں چنانچہ وہ پرچہ لیتا ہوا میں یہاں آیا ۲۲ جون ۱۹۱۷ء سے میں نے جانچ شروع کیا وقت غروب میرے قاعدہ کے مطابق ۶ بج کر ۳۷ منٹ ۲۵ سیکنڈ اور طلوع ۵ بج کر ۴۴ منٹ ۱۹ سکنڈ ہوا اور اس نقشہ میں غروب ۶ بج کر ۳۴ اور طلوع ۵ بج کر ۴۸ منٹ لکھا ہے غرض ۳ ۴ منٹ کا فرق ہے عشاء کا وقت نقشہ میں ۷ بج کر ۵۶ منٹ لکھا ہے میں پریشان ہوا کہ آخر فن کا جاننے والا اس قدر غلطی کیا کرے گا لاجرم میں نے اپنے ہی مستخرج وقت کو غلط سمجھ کر اس غلطی کی جستجو میں ہوا تو سوا اس کے اور کچھ سمجھ میں نہ آیا میں نے بوجہ موافق الجہۃ ہونے کے عرض بلد اور مہل سے تفریق کرکے حاصل فرق کو جمع کرکے عمل کیا ہے اور جگہ کہلئے میل کو عرض بلد سے کم
حوالہ / References
نوٹ : انس علیہ السلام ، واللہ تعالٰی اعلم۔ یہ غیر مربوط عبارت اصل مطبوعہ نسخوں میں اسی طرح ہے۔
کرکے حاصل فرق الح الونح میل سے عمل کرنا ہوتا ہے اور یہاں عرض بلد بہت کم ہونے کی وجہ سے میل کو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عرض بلد سے کم کیا گیا ہے اس کے بعد یہ خیال ہوا کہ یہ وقت تو اخیر پنجاب قریب کشمیر کا ہونا چاہئے جہاں کا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عرض لح مط مح ہوکہ الح الونح کو اس کو تفریق کرکے ی الـــجبچتا ہے اب پریشانی ہے کہ یہاں کا عمل کس طرح ہوگا اگرچہ قاعدہ کے یہ لفظ (اگر موافق الجہۃ ہو تفاضل
لیں ) اس کو بھی عام ہے اس لئے اس کا قاعدہ ارشاد ہو کہ جب عرض میل سے کم ہوگا تو کیاکیا جائے گا۔
بسم الله الرحمن الرحیم ط نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
الجواب :
ولدی الاعز جلہ الله تعالی کاسمہ ظفرالدین المتین آمین السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ۔ مولوی عبدالله صاحب کا کوئی تختہ اوقات مدراس یہاں نہ آیا صرف ایك چھوٹے رسالہ تحفۃ المصلی کے کہ سمت قبلہ میں ہے دو۲ نسخے ایك پلندے میں آئے تھے وقت کا قاعدہ یقینا وہی ہے کہ جب عرض ومیل متفق الجہۃ ہوں تفاضل لیا جائیگایعنی ان میں جو اصغر ہو اکبر سے تفریق کیا جائیگا عرض ہو خواہ میل تو مدراس جس کا عرض حہ ء ہے اس میں راس السرطان کا بعد اقل جس کا میل میل کلی الح الر ہے ی حہ الح ہوا نیز وہ شہر جس کا عرض شمالی لح حہ ہو اس میں بھی راس السرطان کا بعد اقل وہی ی حہ الح ہوگا غایت یہ کہ مدراس میں یہ بعد سمت الراس سے شمالی ہوگا اور اس شہر میں جنوبی دونوں نصف اور ان کی جیبیں اور قاطع میل سب بدستور رہیں گے اور فرق وقت بوجہ قاطع عرض ہوگا مثلا صبح وعشا ہے راس السرطان بہ مدراس کا حساب بھیجتا ہوں یہاں مجموعہ اربعہ ۸۵۹۲۷۸۶ء۹ ہوا اور وقت عشا ۴ ۷۴۶ ت آیا اور اس شہر میں مجموعہ ۹۲۸۴۶۱۹ء۹ ہوا اور وقت عشا ۸۵۶۳۱ ت ایك گھنٹہ دس۱۰ منٹ سے زیادہ فرق ہوگیا طلوع وغروب کہ آپ نے نکالے یہی صحیح ہیں جن کی صحت اس پرچہ مؤامرہ سے ظاہر یہ حقیقی وقت ہیں اور اس السرطان کی تعدیل الایام مزید ۳۴ء۳۴ ۱اور وسط ہندسے فصل غربی مدراس ۹ تو مجموعہ ۳۴ء۱۰۳۴ بڑھانے سے مدراس کا وقت ریلوے حاصل ہوگا یہ وقت غروب وہی ہے غروب ۳۱ء۶۲۶۵۴ طلوع ۷۹ء۵۳۳۰۵ + ۳۴ء۱۰۳۴ + ۳۴ء۱۰۳۴ = ۵۵ء۶۳۷۲۸ = ۱۳ء۵۴۳۴۰ جو آپ نے نکالا تین سکنڈ کا تفاوت ان فرقوں سے ہوا کہ آپ نے میل لیا جو ۲۲ جون سنہ حال کو گرینچ کے نصف النہار کا تھا اور میں نے الح حہ الر جو باسقاط خفیف ثوانی میل کلی ہے پھر آپ نے بعد سمتی افق مطلق حسب دستور سابق کہ میرے یہاں معمول تھا صہ حہ نالیاہوگا اور اب میں صہ حہ لدمہ رکھتا ہوں البتہ طلوع میں ۳۹ سکنڈ کا تفاوت آنا اس پر دال ہے کہ آپ نے تعدیل الایام ۵۲ ا لی جو ۲۳ جون کی تعدیل مرصدی ہے اور ۹ منٹ فصل طول مل کر ۱۰۵۲دونوں وقت حقیقی غروب وطلوع پر زائد کیی۔ دلیل یہ کہ آپ کے یہاں
لیں ) اس کو بھی عام ہے اس لئے اس کا قاعدہ ارشاد ہو کہ جب عرض میل سے کم ہوگا تو کیاکیا جائے گا۔
بسم الله الرحمن الرحیم ط نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
الجواب :
ولدی الاعز جلہ الله تعالی کاسمہ ظفرالدین المتین آمین السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ۔ مولوی عبدالله صاحب کا کوئی تختہ اوقات مدراس یہاں نہ آیا صرف ایك چھوٹے رسالہ تحفۃ المصلی کے کہ سمت قبلہ میں ہے دو۲ نسخے ایك پلندے میں آئے تھے وقت کا قاعدہ یقینا وہی ہے کہ جب عرض ومیل متفق الجہۃ ہوں تفاضل لیا جائیگایعنی ان میں جو اصغر ہو اکبر سے تفریق کیا جائیگا عرض ہو خواہ میل تو مدراس جس کا عرض حہ ء ہے اس میں راس السرطان کا بعد اقل جس کا میل میل کلی الح الر ہے ی حہ الح ہوا نیز وہ شہر جس کا عرض شمالی لح حہ ہو اس میں بھی راس السرطان کا بعد اقل وہی ی حہ الح ہوگا غایت یہ کہ مدراس میں یہ بعد سمت الراس سے شمالی ہوگا اور اس شہر میں جنوبی دونوں نصف اور ان کی جیبیں اور قاطع میل سب بدستور رہیں گے اور فرق وقت بوجہ قاطع عرض ہوگا مثلا صبح وعشا ہے راس السرطان بہ مدراس کا حساب بھیجتا ہوں یہاں مجموعہ اربعہ ۸۵۹۲۷۸۶ء۹ ہوا اور وقت عشا ۴ ۷۴۶ ت آیا اور اس شہر میں مجموعہ ۹۲۸۴۶۱۹ء۹ ہوا اور وقت عشا ۸۵۶۳۱ ت ایك گھنٹہ دس۱۰ منٹ سے زیادہ فرق ہوگیا طلوع وغروب کہ آپ نے نکالے یہی صحیح ہیں جن کی صحت اس پرچہ مؤامرہ سے ظاہر یہ حقیقی وقت ہیں اور اس السرطان کی تعدیل الایام مزید ۳۴ء۳۴ ۱اور وسط ہندسے فصل غربی مدراس ۹ تو مجموعہ ۳۴ء۱۰۳۴ بڑھانے سے مدراس کا وقت ریلوے حاصل ہوگا یہ وقت غروب وہی ہے غروب ۳۱ء۶۲۶۵۴ طلوع ۷۹ء۵۳۳۰۵ + ۳۴ء۱۰۳۴ + ۳۴ء۱۰۳۴ = ۵۵ء۶۳۷۲۸ = ۱۳ء۵۴۳۴۰ جو آپ نے نکالا تین سکنڈ کا تفاوت ان فرقوں سے ہوا کہ آپ نے میل لیا جو ۲۲ جون سنہ حال کو گرینچ کے نصف النہار کا تھا اور میں نے الح حہ الر جو باسقاط خفیف ثوانی میل کلی ہے پھر آپ نے بعد سمتی افق مطلق حسب دستور سابق کہ میرے یہاں معمول تھا صہ حہ نالیاہوگا اور اب میں صہ حہ لدمہ رکھتا ہوں البتہ طلوع میں ۳۹ سکنڈ کا تفاوت آنا اس پر دال ہے کہ آپ نے تعدیل الایام ۵۲ ا لی جو ۲۳ جون کی تعدیل مرصدی ہے اور ۹ منٹ فصل طول مل کر ۱۰۵۲دونوں وقت حقیقی غروب وطلوع پر زائد کیی۔ دلیل یہ کہ آپ کے یہاں
image
image
image
مسئلہ (۲۹۰ ۲۹۱) از شہر جامع مسجد مسئولہ مولوی محمد افضل صاحب بخاری طالب علم منظر اسلام
شخصے در نماز فجر بودکہ ناگاہ بشنید کہ گوئندہ میگفت کہ آفتاب برآمد الحال ایں کس در نماز است نماز را بگذار د بازواپس اعادہ کند یا سلام بدہد بعد ازطلوع ا فتاب بخواند بینوا توجروا۔
کوئی آدمی فجر کی نماز پڑھ رہا تھا اچانك اس نے سنا کہ کوئی کہہ رہا ہے “ سورج نکل آیا ہے “ اب یہ آدمی جو فی الحال نماز میں ہے اپنی نماز پوری کرکے اس کا اعادہ کرے یا
مسئلہ (۲۹۰ ۲۹۱) از شہر جامع مسجد مسئولہ مولوی محمد افضل صاحب بخاری طالب علم منظر اسلام
شخصے در نماز فجر بودکہ ناگاہ بشنید کہ گوئندہ میگفت کہ آفتاب برآمد الحال ایں کس در نماز است نماز را بگذار د بازواپس اعادہ کند یا سلام بدہد بعد ازطلوع ا فتاب بخواند بینوا توجروا۔
کوئی آدمی فجر کی نماز پڑھ رہا تھا اچانك اس نے سنا کہ کوئی کہہ رہا ہے “ سورج نکل آیا ہے “ اب یہ آدمی جو فی الحال نماز میں ہے اپنی نماز پوری کرکے اس کا اعادہ کرے یا
سلام پھیردے اور طلوع کے بعد دوبارہ پڑھے بینوا توجروا۔ (ت)
الجواب :
نماز تمام کندوباز اگر صدق قائل دریا بد اعادہ نمایدایں زمان بسیارے ازمردم وقت نمی شناسند وبقرب طلوع بانگ برآرند کہ آفتاب برآمد والله تعالی اعلم۔
سوال دوم : چہ میفرمایند علمائے دین کہ امام نماز صبح را ایں قدر تاخیر میکند کہ ازبرآمدن آفتاب پنج دقیقہ یا دہ دقیقہ مہماند کہ سلام میدہدایں طور نماز بغیر کراہت ادامیشود یانہ بینوا توجروا۔
نماز پوری کرے بعد میں اگر ثابت ہوجائے کہ سورج نکلنے والی بات درست تھی تو اعادہ کرے۔ آج کل اکثر لوگ وقت کا صحیح علم نہیں رکھتے اور طلوع قریب ہونے پر شور مچادیتے ہیں کہ سورج نکل آیا ہے۔ والله تعالی اعلم (ت)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ایك امام صبح کی نماز اتنی تاخیر سے پڑھاتا ہے کہ سلام پھیرنے کے بعد سورج طلوع ہونے میں صرف پانچ منٹ یا دس منٹ باقی رہتے ہیں کیا یہ نماز بغیر کراہت کے ادا ہوجاتی ہے یا نہیں بینوا توجروا۔ (ت)
الجواب :
دربحرالرائق وغیرہ تصریح فرمودہ اندکہ وقت فجر وقت ظہر اول تاآخر ہیچ کراہت ندارد یعنی بخلاف باقی اوقات کہ آخر آنہا مکروہ است پس ہرکہ دروقت شناسی دستگاہ کافی دارد بایں طور نماز اوبلاشبہ بے کراہت است کہ بوئے از کراہت ندارد والله تعالی اعلم۔
البحرالرائق وغیرہ میں تصریح کی گئی ہے کہ فجر اور ظہر کے اوقات میں اول سے آکر تك کوئی کراہت نہیں ہے بخلاف باقی اوقات کے کہ وہ آخر میں مکروہ ہوجاتے ہیں اس لئے جو شخص وقت شناسی میں مہارت رکھتا ہو اگر اس طرح نماز پڑھے (جیسا کہ سوال میں مذکور ہے) تو اس کی نماز بغیر کراہت کے صحیح ہے۔ اس میں کراہت کا کوئی شائبہ تك نہیں ہے۔ (ت)
مسئلہ (۲۹۲ تا ۲۹۶) از جڑودہ ضلع میرٹھ مسئلہ سید سراج احمد صاحب ۱۲ شعبان ۱۳۳۷ھ
(۱) فجر کی نماز کا مستحب وقت کون سا ہے اور جس جگہ افق صاف نظر آتا ہو وہاں طلوع کی کیا پہچان ہے
(۲)ظہر کا اول وقت کے بجے ہوتا ہے اور ضلع میرٹھ میں کے بجے سے کے بجے تك رہتا ہے اور جماعت کے بجے ہونا چاہئے موسم گرما اور موسم سرما کب سے کب تك مانے جاتے ہیں اور ان میں ظہر کے مستحب اوقات
الجواب :
نماز تمام کندوباز اگر صدق قائل دریا بد اعادہ نمایدایں زمان بسیارے ازمردم وقت نمی شناسند وبقرب طلوع بانگ برآرند کہ آفتاب برآمد والله تعالی اعلم۔
سوال دوم : چہ میفرمایند علمائے دین کہ امام نماز صبح را ایں قدر تاخیر میکند کہ ازبرآمدن آفتاب پنج دقیقہ یا دہ دقیقہ مہماند کہ سلام میدہدایں طور نماز بغیر کراہت ادامیشود یانہ بینوا توجروا۔
نماز پوری کرے بعد میں اگر ثابت ہوجائے کہ سورج نکلنے والی بات درست تھی تو اعادہ کرے۔ آج کل اکثر لوگ وقت کا صحیح علم نہیں رکھتے اور طلوع قریب ہونے پر شور مچادیتے ہیں کہ سورج نکل آیا ہے۔ والله تعالی اعلم (ت)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ایك امام صبح کی نماز اتنی تاخیر سے پڑھاتا ہے کہ سلام پھیرنے کے بعد سورج طلوع ہونے میں صرف پانچ منٹ یا دس منٹ باقی رہتے ہیں کیا یہ نماز بغیر کراہت کے ادا ہوجاتی ہے یا نہیں بینوا توجروا۔ (ت)
الجواب :
دربحرالرائق وغیرہ تصریح فرمودہ اندکہ وقت فجر وقت ظہر اول تاآخر ہیچ کراہت ندارد یعنی بخلاف باقی اوقات کہ آخر آنہا مکروہ است پس ہرکہ دروقت شناسی دستگاہ کافی دارد بایں طور نماز اوبلاشبہ بے کراہت است کہ بوئے از کراہت ندارد والله تعالی اعلم۔
البحرالرائق وغیرہ میں تصریح کی گئی ہے کہ فجر اور ظہر کے اوقات میں اول سے آکر تك کوئی کراہت نہیں ہے بخلاف باقی اوقات کے کہ وہ آخر میں مکروہ ہوجاتے ہیں اس لئے جو شخص وقت شناسی میں مہارت رکھتا ہو اگر اس طرح نماز پڑھے (جیسا کہ سوال میں مذکور ہے) تو اس کی نماز بغیر کراہت کے صحیح ہے۔ اس میں کراہت کا کوئی شائبہ تك نہیں ہے۔ (ت)
مسئلہ (۲۹۲ تا ۲۹۶) از جڑودہ ضلع میرٹھ مسئلہ سید سراج احمد صاحب ۱۲ شعبان ۱۳۳۷ھ
(۱) فجر کی نماز کا مستحب وقت کون سا ہے اور جس جگہ افق صاف نظر آتا ہو وہاں طلوع کی کیا پہچان ہے
(۲)ظہر کا اول وقت کے بجے ہوتا ہے اور ضلع میرٹھ میں کے بجے سے کے بجے تك رہتا ہے اور جماعت کے بجے ہونا چاہئے موسم گرما اور موسم سرما کب سے کب تك مانے جاتے ہیں اور ان میں ظہر کے مستحب اوقات
کیا ہیں
(۳) عصر کا مستحب وقت کون سا ہے جماعت کے بجے ہونا چاہئے
(۴) جس جگہ افق نظر آتا ہو وہاں غروب کی کیا پہچان ہے اور غروب سے کتنی دیر بعد مغرب کی اذان اور جماعت ہونا چاہئے اور مغرب کا وقت کتنی دیر تك رہتا ہے
(۵) عشا کا وقت مغرب سے کتنی دیر بعد ہوتا ہے
الجواب الملفوظ
(۱ و ۵) فجر کا مستحب وقت اس کے وقت کا نصف اخیر ہے مثلا اگر آج ایك گھنٹہ بیس منٹ کی صبح ہوتو اس وقت کے طلوع شمس میں چالیس۴۰ منٹ باقی رہیں اور افضل یہ ہے کہ ایسے وقت ۴۰ یا ۶۰ آیتوں سے پڑھی جائے کہ اگر فساد نماز ثابت ہوتو پھر طلوع سے پہلے یونہی اعادہ ہوسکے اس کا لحاظ رکھ کر جتنی بھی تاخیر کی جائے افضل ہے جب افق صاف نظر آتا ہے اور بیچ میں درخت وغیرہ کچھ حائل نہیں تو طلوع یہ ہے کہ آفتاب کی پہلی کرن چمکے اور غروب یہ کہ پچھلی کرن نگاہ سے غائب ہوجائے والله تعالی اعلم۔
(۲) ظہر کا اول وقت آفتاب نصف النہار سے ڈھلتے ہی شروع ہوتا ہے اور گھنٹوں کے اعتبار سے باختلاف بلاد مختلف ہوگا یہاں تك کہ بعض بلاد ہندوستان میں بعض ایام میں ریلوے گھڑی سے ۱۲ بجے بھی وقت شروع ہوگا اور بعض یعنی بعض ایام میں ۱۱ بجے سے پہلے ظہر کا وقت ہوجائے گا یہ تعدیل ایام واختلافات طول معلوم ہونے پر موقوف ہے جماعت گرمی میں وقت ظہر کے نصف آخر میں ہو اور جاڑوں میں نصف اول میں میرٹھ میں کبھی ۵ بجے سے بعد تك وقت ظہر باقی رہتا ہے اور کبھی پونے چار بجے سے پہلے ختم ہوجاتا ہے اس میں بیانات کا اختلاف ہے اصل تقسیم اہل ہئیت نے یہ کی ہے کہ راس الحمل سے ختم جوزا تك بہار اور راس السرطان سے ختم سنبلہ تك گرما اورر اس المیزان سے ختم قوس تك خریف اور راس الجدی سے ختم حوت تك سرما مگر یہ یہاں کہ فصلوں سے مطابق نہیں آتی صاحب بحر نے ربیع کو گرما سے ملحق کیا ہے اور یہ بھی قرین قیاس کہ آخر ستمبر سے دو ثلث مارچ تك سرما سمجھنا چاہئے اور باقی گرما والله تعالی اعلم۔
(۳) عصر کا وقت مستحب ہمیشہ اس کے وقت کا نصف اخیر ہے مگر روز ابر تعجیل چاہئے والله تعالی اعلم
(۴) غروب کا جس وقت یقین ہوجائے اصلا دیر اذان وافطار میں نہ کی جائے اس کی اذان وجماعت میں فاصلہ نہیں مغرب کا وقت میرٹھ میں کم ازکم ایك گھنٹا ۱۹ منٹ اور زیادہ سے زیادہ ایك گھنٹا ۳۶ منٹ ہے والله تعالی اعلم۔
(۳) عصر کا مستحب وقت کون سا ہے جماعت کے بجے ہونا چاہئے
(۴) جس جگہ افق نظر آتا ہو وہاں غروب کی کیا پہچان ہے اور غروب سے کتنی دیر بعد مغرب کی اذان اور جماعت ہونا چاہئے اور مغرب کا وقت کتنی دیر تك رہتا ہے
(۵) عشا کا وقت مغرب سے کتنی دیر بعد ہوتا ہے
الجواب الملفوظ
(۱ و ۵) فجر کا مستحب وقت اس کے وقت کا نصف اخیر ہے مثلا اگر آج ایك گھنٹہ بیس منٹ کی صبح ہوتو اس وقت کے طلوع شمس میں چالیس۴۰ منٹ باقی رہیں اور افضل یہ ہے کہ ایسے وقت ۴۰ یا ۶۰ آیتوں سے پڑھی جائے کہ اگر فساد نماز ثابت ہوتو پھر طلوع سے پہلے یونہی اعادہ ہوسکے اس کا لحاظ رکھ کر جتنی بھی تاخیر کی جائے افضل ہے جب افق صاف نظر آتا ہے اور بیچ میں درخت وغیرہ کچھ حائل نہیں تو طلوع یہ ہے کہ آفتاب کی پہلی کرن چمکے اور غروب یہ کہ پچھلی کرن نگاہ سے غائب ہوجائے والله تعالی اعلم۔
(۲) ظہر کا اول وقت آفتاب نصف النہار سے ڈھلتے ہی شروع ہوتا ہے اور گھنٹوں کے اعتبار سے باختلاف بلاد مختلف ہوگا یہاں تك کہ بعض بلاد ہندوستان میں بعض ایام میں ریلوے گھڑی سے ۱۲ بجے بھی وقت شروع ہوگا اور بعض یعنی بعض ایام میں ۱۱ بجے سے پہلے ظہر کا وقت ہوجائے گا یہ تعدیل ایام واختلافات طول معلوم ہونے پر موقوف ہے جماعت گرمی میں وقت ظہر کے نصف آخر میں ہو اور جاڑوں میں نصف اول میں میرٹھ میں کبھی ۵ بجے سے بعد تك وقت ظہر باقی رہتا ہے اور کبھی پونے چار بجے سے پہلے ختم ہوجاتا ہے اس میں بیانات کا اختلاف ہے اصل تقسیم اہل ہئیت نے یہ کی ہے کہ راس الحمل سے ختم جوزا تك بہار اور راس السرطان سے ختم سنبلہ تك گرما اورر اس المیزان سے ختم قوس تك خریف اور راس الجدی سے ختم حوت تك سرما مگر یہ یہاں کہ فصلوں سے مطابق نہیں آتی صاحب بحر نے ربیع کو گرما سے ملحق کیا ہے اور یہ بھی قرین قیاس کہ آخر ستمبر سے دو ثلث مارچ تك سرما سمجھنا چاہئے اور باقی گرما والله تعالی اعلم۔
(۳) عصر کا وقت مستحب ہمیشہ اس کے وقت کا نصف اخیر ہے مگر روز ابر تعجیل چاہئے والله تعالی اعلم
(۴) غروب کا جس وقت یقین ہوجائے اصلا دیر اذان وافطار میں نہ کی جائے اس کی اذان وجماعت میں فاصلہ نہیں مغرب کا وقت میرٹھ میں کم ازکم ایك گھنٹا ۱۹ منٹ اور زیادہ سے زیادہ ایك گھنٹا ۳۶ منٹ ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۲۹۷) از موضع سراں ڈاك خانہ بشندورتحصیل ضلع جہلم مرسلہ حافظ سجاد شاہ ۱۷ شعبان ۱۳۳۷ھ
بخدمت جناب فیض مآب سرتاج حنفیان حضرت احمد رضا خان صاحب ادام الله فیوضکم السلام علیکم ورحمۃ الله تعالی کے بعد بہزار آداب التماس کہ یم حنفیان کو بڑا فخر ہے کہ آپ جیسے مجتہد فقیہ خلیفہ امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہوامام اعظم اس زمانے کے آپ موجود ہیں ان مسئلوں مفصلہ ذیل کی سخت ضرورت ہے مہربانی فرماکر بتحقیق عمیق وتدقیق مایطیق ارشاد فرمادیں عندالله ماجور ہوں گے اما مسئلہ اولی فی الزوال کی اور شناخت وقت ظہر کی سخت ضرورت ہے میں اس سے بہت حیران ہوں بعض اوقات مجمع عام میں نماز ظہر جو بدخول وقت اول ہی پڑھی جاتی ہے مگر مجھے یقین دخول وقت کا بھی نہیں ہوتا آپ تحریر فرمائیں کہ بارہ۱۲ بجے کے بعد ایك دو منٹ پر وقت ظہر داخل ہوتا ہے یا نہیں اور جن دیہات میں حساب گھڑی کا نہ ہو تو مسجد کے دروازہ سے اگر سایہ باہر ایك دو انگشت نکلے تو ظہر داخل ہے یا نہ پھر جب سایہ بڑھنے میں ہوتو وقت ظہر داخل ہے یا نہ قبل قیام ظہیرہ نصف نہار کے سایہ گھٹتا رہتا ہے نصف نہار کو کھڑا ہوتا ہے پھر بڑھنے لگتا ہے جب سایہ بڑھانے میں ہوتو ظہر داخل ہے یا نہ اور سایہ اصلی ظہر کے واسطے نکالا جاتا ہے یا نہ شناخت ظہر سفر حضر میں کس طرح ہوتی ہے اور سایہ اصل قبل زوال یا وقت زوال یا بعد زوال کیا ہوتا ہے اور سایہ اصلی بوقت دوپہر بطرف شمال ہوتا ہے پس عصر کے واسطے مقیاس کی بیخ سے سایہ اصلی خارج بطرف مشرق کیا جاتا ہے یا کہ بطرف شمال خارج کرکے پھر دو چند کیا جائے فرائد سنیہ کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ بطرف شمال سایہ اصلی کو چھوڑ کر دو چند کیا جائے۔ عبارت فرائد سنیہ کی یہ ہے۔
معرفۃ فیئ الزوال یغرز خشبۃ مستویۃ فی ارض مستویۃ قبل الزوال فالظل ینقص فاذاوقف لم ینقص ولم یزد فھو قیام الظھیرۃ فاذا اخذ فی الزیادۃ فقد زالت الشمس فخط علی راس الزیادۃ خطا فیکون من راس الخط الی العود فیئ الزوال فاذا صار ظل العود مثلہ اومثلیہ من راس الخط لامن موضع غرز العود خرج وقت الظھر ودخل وقت العصر وفیئ الزوال یکون الی الشمال ۔
فیئ الزوال کی پہچان۔ زوال سے پہلے ایك سیدھی لکڑی ہموار زمین میں نصب کی جائے تو اس کا سایہ کم ہوتا جائیگا جب سایہ ٹھہر جائے اور گھٹے بڑھے نہ تو یہ قیام ظہیرہ کا وقت ہے۔ جب بڑھنے لگے تو سورج کا زوال شروع ہوجاتا ہے اب جہاں سے بڑھنے کا آغاز ہوا ہے وہاں ایك لکیر بطور نشانی لگا دو اس لکیر سے لکڑی تك جو سایہ ہے یہ فیئ الزوال ہے جب لکڑی کا سایہ اس کی ایك مثل یا دو مثل ہوجائے یعنی لکیر سے نہ کہ لکڑی کی جڑ سے تو ظہر کا وقت ختم ہوجائے گا اور عصر کا وقت داخل ہوجائے گا اور زوال کا سایہ شمالی کی جانب ہوتا ہے۔ (ت)
بخدمت جناب فیض مآب سرتاج حنفیان حضرت احمد رضا خان صاحب ادام الله فیوضکم السلام علیکم ورحمۃ الله تعالی کے بعد بہزار آداب التماس کہ یم حنفیان کو بڑا فخر ہے کہ آپ جیسے مجتہد فقیہ خلیفہ امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہوامام اعظم اس زمانے کے آپ موجود ہیں ان مسئلوں مفصلہ ذیل کی سخت ضرورت ہے مہربانی فرماکر بتحقیق عمیق وتدقیق مایطیق ارشاد فرمادیں عندالله ماجور ہوں گے اما مسئلہ اولی فی الزوال کی اور شناخت وقت ظہر کی سخت ضرورت ہے میں اس سے بہت حیران ہوں بعض اوقات مجمع عام میں نماز ظہر جو بدخول وقت اول ہی پڑھی جاتی ہے مگر مجھے یقین دخول وقت کا بھی نہیں ہوتا آپ تحریر فرمائیں کہ بارہ۱۲ بجے کے بعد ایك دو منٹ پر وقت ظہر داخل ہوتا ہے یا نہیں اور جن دیہات میں حساب گھڑی کا نہ ہو تو مسجد کے دروازہ سے اگر سایہ باہر ایك دو انگشت نکلے تو ظہر داخل ہے یا نہ پھر جب سایہ بڑھنے میں ہوتو وقت ظہر داخل ہے یا نہ قبل قیام ظہیرہ نصف نہار کے سایہ گھٹتا رہتا ہے نصف نہار کو کھڑا ہوتا ہے پھر بڑھنے لگتا ہے جب سایہ بڑھانے میں ہوتو ظہر داخل ہے یا نہ اور سایہ اصلی ظہر کے واسطے نکالا جاتا ہے یا نہ شناخت ظہر سفر حضر میں کس طرح ہوتی ہے اور سایہ اصل قبل زوال یا وقت زوال یا بعد زوال کیا ہوتا ہے اور سایہ اصلی بوقت دوپہر بطرف شمال ہوتا ہے پس عصر کے واسطے مقیاس کی بیخ سے سایہ اصلی خارج بطرف مشرق کیا جاتا ہے یا کہ بطرف شمال خارج کرکے پھر دو چند کیا جائے فرائد سنیہ کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ بطرف شمال سایہ اصلی کو چھوڑ کر دو چند کیا جائے۔ عبارت فرائد سنیہ کی یہ ہے۔
معرفۃ فیئ الزوال یغرز خشبۃ مستویۃ فی ارض مستویۃ قبل الزوال فالظل ینقص فاذاوقف لم ینقص ولم یزد فھو قیام الظھیرۃ فاذا اخذ فی الزیادۃ فقد زالت الشمس فخط علی راس الزیادۃ خطا فیکون من راس الخط الی العود فیئ الزوال فاذا صار ظل العود مثلہ اومثلیہ من راس الخط لامن موضع غرز العود خرج وقت الظھر ودخل وقت العصر وفیئ الزوال یکون الی الشمال ۔
فیئ الزوال کی پہچان۔ زوال سے پہلے ایك سیدھی لکڑی ہموار زمین میں نصب کی جائے تو اس کا سایہ کم ہوتا جائیگا جب سایہ ٹھہر جائے اور گھٹے بڑھے نہ تو یہ قیام ظہیرہ کا وقت ہے۔ جب بڑھنے لگے تو سورج کا زوال شروع ہوجاتا ہے اب جہاں سے بڑھنے کا آغاز ہوا ہے وہاں ایك لکیر بطور نشانی لگا دو اس لکیر سے لکڑی تك جو سایہ ہے یہ فیئ الزوال ہے جب لکڑی کا سایہ اس کی ایك مثل یا دو مثل ہوجائے یعنی لکیر سے نہ کہ لکڑی کی جڑ سے تو ظہر کا وقت ختم ہوجائے گا اور عصر کا وقت داخل ہوجائے گا اور زوال کا سایہ شمالی کی جانب ہوتا ہے۔ (ت)
حوالہ / References
فرائد سنیہ
اس مسئلہ کی مجھے سخت ضرورت ہے مہربانی فرماکر اس میں اچھی غور فرماکر پھر ان میں جو جو میرے سوالات ہیں جن کے سبب میں غلطی میں پڑا ہوں ان کو بنور سواد منور فرماؤ۔
الجواب :
نصف النہار وفیئ الزوال کی یہ کافی پہچان ہے جو آپ نے فرائد سنیہ سے نقل کی ہموار زمین میں سیدھی لکڑی عمودی حالت پر قائم کی جائے اور وقتا فوقتا سایہ کو دیکھتے رہیں جب تك سایہ گھٹنے میں ہے دوپہر نہیں ہوا اور جب ٹھہر گیا نصف النہار ہوگیا اس وقت کا سایہ ٹھیك نقطہ شمال کی جانب ہوگا اسے ناپ رکھا جائے کہ یہی فیئ الزوال ہے اس سے پہلے سایہ مغرب کی طرف تھا جب سایہ بڑھنے لگا دوپہر ڈھل گیا اب سایہ مشرق کی طرف ہوجائے گا جب لکڑی کا سایہ مشرق وشمال کے گوشہ میں اسے فے ءالزوال کی مقدار اور لکڑی کے دو مثل کو پہنچ گیا مثلا آج ٹھیك دوپہر کو لکڑی کا سایہ اس کا نصف مثل تھا اور اس وقت خاص نقطہ شمال کو تھا اب وقتا فوقتا بڑھے گا اور مشرق کی طرف جھکے گا جب سایہ لکڑی کا ڈھائی مثل ہوجائے عصر ہوگیا اور اس سے زیادہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ صحیح کمپاس سے نہایت ہموار زمین میں سیدھا خط جانب قطب کھینچ لیجئے اور اس خط کے جنوبی کنارے پر وہ لکڑی عمودا قائم کیجئے لکڑی کا سایہ جب تك اس خط سے مغرب کو ہے دوپہر نہ ہوا جب سایہ اس خط پر منطبق ہوجائے ٹھیك دو پہر ہے اور اسی وقت کا سایہ فیئ الزوال ہے جب سایہ اس خط سے مشرق کو ہٹے دوپہر ڈھل گیا مسجد کی مشرقی دیوار اگر سیدھی ہموار اور ٹھیك نقطتین جنوب وشمال کو ہے اور اس کے دونوں پہلو پر زمین ہموار ہے تو اس سے بھی شناخت ہوسکتی ہے دیوار کا سایہ جب تك اس سے مغرب کو ہے دوپہر نہ ہوا اور جب مشرق کو پڑے دوپہر ڈھل گیا اور جب دونوں پہلوؤں پر سایہ نہ ہو تو ٹھیك دوپہر ہے گھڑیوں کے بارہ۱۲ سے اس کی شناخت تعدیل الایام وفصل طول جاننے پر منحصر ہے اصل بلدی وقت سے دوپہر کبھی سوابارہ۱۲ بجے بھی نہیں ہوتا اور کبھی پونے گیارہ بجے ظہر ہوجاتا ہے اور جبکہ گھڑیاں مقامی وقت پر نہ چلیں بلکہ دوسری جگہ کے وقت پر جیسے ہندوستان میں شرق سے غرب تك ساری گھڑیاں وسط ہند کے وقت پر جاری ہیں جس کا طول ۸۲ درجے ۳۰ دقیقے ہے جب تو بہت کثیر تفاوت ہوجائے گا مثلا جہلم میں ۱۱ فروری کو ۱۲ بج کر انچاس۴۹ منٹ تك بھی دوپہر نہ ہوگا اور کلکتہ میں نومبر کی چوتھی کو ۱۱ بج کر ۲۰ منٹ پر وقت ظہر ہوجائے گا والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۲۹۸) از مزنگ لاہور مرسلہ ابوالرشید محمد عبدالعزیز خطیب وامام جامع مسجد ملك سردار خان مرحوم ۱۲ ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ اوقات نماز جو شارع علیہ السلام نے معین فرمائے ہیں ان کے بیچ میں کسی نماز کا فاصل وقت مقرر کرنا جائز ہے یا حرام
الجواب :
نصف النہار وفیئ الزوال کی یہ کافی پہچان ہے جو آپ نے فرائد سنیہ سے نقل کی ہموار زمین میں سیدھی لکڑی عمودی حالت پر قائم کی جائے اور وقتا فوقتا سایہ کو دیکھتے رہیں جب تك سایہ گھٹنے میں ہے دوپہر نہیں ہوا اور جب ٹھہر گیا نصف النہار ہوگیا اس وقت کا سایہ ٹھیك نقطہ شمال کی جانب ہوگا اسے ناپ رکھا جائے کہ یہی فیئ الزوال ہے اس سے پہلے سایہ مغرب کی طرف تھا جب سایہ بڑھنے لگا دوپہر ڈھل گیا اب سایہ مشرق کی طرف ہوجائے گا جب لکڑی کا سایہ مشرق وشمال کے گوشہ میں اسے فے ءالزوال کی مقدار اور لکڑی کے دو مثل کو پہنچ گیا مثلا آج ٹھیك دوپہر کو لکڑی کا سایہ اس کا نصف مثل تھا اور اس وقت خاص نقطہ شمال کو تھا اب وقتا فوقتا بڑھے گا اور مشرق کی طرف جھکے گا جب سایہ لکڑی کا ڈھائی مثل ہوجائے عصر ہوگیا اور اس سے زیادہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ صحیح کمپاس سے نہایت ہموار زمین میں سیدھا خط جانب قطب کھینچ لیجئے اور اس خط کے جنوبی کنارے پر وہ لکڑی عمودا قائم کیجئے لکڑی کا سایہ جب تك اس خط سے مغرب کو ہے دوپہر نہ ہوا جب سایہ اس خط پر منطبق ہوجائے ٹھیك دو پہر ہے اور اسی وقت کا سایہ فیئ الزوال ہے جب سایہ اس خط سے مشرق کو ہٹے دوپہر ڈھل گیا مسجد کی مشرقی دیوار اگر سیدھی ہموار اور ٹھیك نقطتین جنوب وشمال کو ہے اور اس کے دونوں پہلو پر زمین ہموار ہے تو اس سے بھی شناخت ہوسکتی ہے دیوار کا سایہ جب تك اس سے مغرب کو ہے دوپہر نہ ہوا اور جب مشرق کو پڑے دوپہر ڈھل گیا اور جب دونوں پہلوؤں پر سایہ نہ ہو تو ٹھیك دوپہر ہے گھڑیوں کے بارہ۱۲ سے اس کی شناخت تعدیل الایام وفصل طول جاننے پر منحصر ہے اصل بلدی وقت سے دوپہر کبھی سوابارہ۱۲ بجے بھی نہیں ہوتا اور کبھی پونے گیارہ بجے ظہر ہوجاتا ہے اور جبکہ گھڑیاں مقامی وقت پر نہ چلیں بلکہ دوسری جگہ کے وقت پر جیسے ہندوستان میں شرق سے غرب تك ساری گھڑیاں وسط ہند کے وقت پر جاری ہیں جس کا طول ۸۲ درجے ۳۰ دقیقے ہے جب تو بہت کثیر تفاوت ہوجائے گا مثلا جہلم میں ۱۱ فروری کو ۱۲ بج کر انچاس۴۹ منٹ تك بھی دوپہر نہ ہوگا اور کلکتہ میں نومبر کی چوتھی کو ۱۱ بج کر ۲۰ منٹ پر وقت ظہر ہوجائے گا والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۲۹۸) از مزنگ لاہور مرسلہ ابوالرشید محمد عبدالعزیز خطیب وامام جامع مسجد ملك سردار خان مرحوم ۱۲ ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ اوقات نماز جو شارع علیہ السلام نے معین فرمائے ہیں ان کے بیچ میں کسی نماز کا فاصل وقت مقرر کرنا جائز ہے یا حرام
الجواب :
حدیث میں سنت اقدس یوں مروی ہے کہ جب لوگ جلد حاضر ہوجاتے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنماز جلد پڑھ لیتے اور حاضری میں دیر ملاحظہ فرماتے تو تاخیر فرماتے اور کبھی سب لوگ حاضر ہوجاتے اور تاخیر فرماتے یہاں تك کہ ایك بار نماز عشا میں تشریف آوری کا بہت انتظار طویل صحابہ کرام نے کیا بہت دیر کے بعد مجبور ہوکر امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہنے در اقدس پر عرض کی کہ عورتیں اور بچے سوگئے اس کے بعد حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمبرآمد ہوئے اور فرمایا : “ روئے زمین پر تمہارے سوا کوئی نہیں جو اس نماز کا انتظار کرتا ہو اور تم نماز ہی میں ہو جب تك نماز کے انتظار میں رہو “ ۔ نمازوں کے لئے اگر گھنٹے گھڑی کے حساب سے اگر کوئی وقت معین کرلیا جائے جس سے لوگوں کو زیادہ انتظار نہ کرنا پڑے اور وقت معین پر جلد جمع ہوجائیں جیسا حرمین طیبین میں اب معمول ہے تو اس میں بھی حرج نہیں جبکہ ضعیفوں اور مریضوں پر تکلیف اور جماعت کی تفریق نہ ہو والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۲۹۹) از مرادآباد مرسلہ مولوی محمد عبدالباری صاحب ۷ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی امام عادتا مغرب کی اذان اس وقت دلاوے کہ اس شہر کی سب مساجد میں یقینا نماز ہوچکی ہو مثلا ۲۰ منٹ کے بعد اور اپنے پیر کے دکھانے کو یعنی اس کی موجودگی میں بیس۲۰ منٹ قبل قصدا ایسا کرے اور ساتھ ہی اس کے جو سجود وقعود کہ وہ عادتا کرتا تھا اپنے پیر کی موجودگی اس سے سہ گنے وقت میں ادا کرے تو یہ اذان ونماز کہاں تك ریا ومکاری پر دال ہے۔
الجواب :
اذان مغرب میں بلاوجہ شرعی تاخیر خلاف سنت ہے پیر کے سامنے جلد دلوانا ریا پر کیوں محمول کیا جائے بلکہ پیر کے خوف یا لحاظ سے اس خلاف سنت کا ترك پیر کے سامنے رکوع وسجود میں دیر بھی خواہ نخواہ ریا اور مکاری پر دلیل نہیں بلکہ اس کے موجود ہونے سے تأثر بھی ممکن اور مسلمانوں کا فعل حتی الامکان محمل حسن پر محمول کرنا واجب اور بدگمانی ریا سے کچھ کم حرام نہیں ہاں اگر رکوع وسجود میں اتنی دیر لگاتا ہوکہ سنت سے زائد اور مقتدیوں پر گراں ہو تو ضرور گنہگار ہے والله تعالی اعلم۔
سوال دوم(۳۰۰) کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ طلوع آفتاب ہونے کے کتنی دیر کے بعد نماز قضا پڑھنے کا حکم ہے اور وہ شخص جس نے کہ سنتیں فجر کی نہ پڑھی ہوں اور دس بارہ منٹ طلوع میں باقی ہوں نماز پڑھا سکتا ہے یا نہیں اسی طرح پر ظہر کی سنت بے پڑھے امامت کرسکتا ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
حدیث میں سنت اقدس یوں مروی ہے کہ جب لوگ جلد حاضر ہوجاتے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنماز جلد پڑھ لیتے اور حاضری میں دیر ملاحظہ فرماتے تو تاخیر فرماتے اور کبھی سب لوگ حاضر ہوجاتے اور تاخیر فرماتے یہاں تك کہ ایك بار نماز عشا میں تشریف آوری کا بہت انتظار طویل صحابہ کرام نے کیا بہت دیر کے بعد مجبور ہوکر امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہنے در اقدس پر عرض کی کہ عورتیں اور بچے سوگئے اس کے بعد حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمبرآمد ہوئے اور فرمایا : “ روئے زمین پر تمہارے سوا کوئی نہیں جو اس نماز کا انتظار کرتا ہو اور تم نماز ہی میں ہو جب تك نماز کے انتظار میں رہو “ ۔ نمازوں کے لئے اگر گھنٹے گھڑی کے حساب سے اگر کوئی وقت معین کرلیا جائے جس سے لوگوں کو زیادہ انتظار نہ کرنا پڑے اور وقت معین پر جلد جمع ہوجائیں جیسا حرمین طیبین میں اب معمول ہے تو اس میں بھی حرج نہیں جبکہ ضعیفوں اور مریضوں پر تکلیف اور جماعت کی تفریق نہ ہو والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۲۹۹) از مرادآباد مرسلہ مولوی محمد عبدالباری صاحب ۷ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی امام عادتا مغرب کی اذان اس وقت دلاوے کہ اس شہر کی سب مساجد میں یقینا نماز ہوچکی ہو مثلا ۲۰ منٹ کے بعد اور اپنے پیر کے دکھانے کو یعنی اس کی موجودگی میں بیس۲۰ منٹ قبل قصدا ایسا کرے اور ساتھ ہی اس کے جو سجود وقعود کہ وہ عادتا کرتا تھا اپنے پیر کی موجودگی اس سے سہ گنے وقت میں ادا کرے تو یہ اذان ونماز کہاں تك ریا ومکاری پر دال ہے۔
الجواب :
اذان مغرب میں بلاوجہ شرعی تاخیر خلاف سنت ہے پیر کے سامنے جلد دلوانا ریا پر کیوں محمول کیا جائے بلکہ پیر کے خوف یا لحاظ سے اس خلاف سنت کا ترك پیر کے سامنے رکوع وسجود میں دیر بھی خواہ نخواہ ریا اور مکاری پر دلیل نہیں بلکہ اس کے موجود ہونے سے تأثر بھی ممکن اور مسلمانوں کا فعل حتی الامکان محمل حسن پر محمول کرنا واجب اور بدگمانی ریا سے کچھ کم حرام نہیں ہاں اگر رکوع وسجود میں اتنی دیر لگاتا ہوکہ سنت سے زائد اور مقتدیوں پر گراں ہو تو ضرور گنہگار ہے والله تعالی اعلم۔
سوال دوم(۳۰۰) کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ طلوع آفتاب ہونے کے کتنی دیر کے بعد نماز قضا پڑھنے کا حکم ہے اور وہ شخص جس نے کہ سنتیں فجر کی نہ پڑھی ہوں اور دس بارہ منٹ طلوع میں باقی ہوں نماز پڑھا سکتا ہے یا نہیں اسی طرح پر ظہر کی سنت بے پڑھے امامت کرسکتا ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
طلوع کے بعد کم ازکم بیس۲۰ منٹ کا انتظار واجب ہے۔ دس بارہ منٹ میں سنتیں اور فرض دونوں ہوسکتے ہیں سنتیں پڑھ کر نماز پڑھائے اگر وقت بقدر فرض ہی کے باقی ہے تو آپ ہی سنتیں چھوڑے گا پھر اگر جماعت میں کسی نے ابھی سنتیں نہ پڑھیں یا جس نے پڑھیں وہ قابل امامت نہیں تو جس نے نہ پڑھیں وہی امامت کرے گا اور اگر وقت میں وسعت ہے تو سنت قبیلہ کا ترك گناہ ہے اور اس کی امامت مکروہ ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۰۱) از موضع باکڑی ضلع گورگانوہ ڈاك خانہ ڈھنیہ مسئولہ محمد یسین خان۱۰ مضان ۱۳۳۱ھ
علمائے دین کیا فرماتے ہیں ایك مولوی صاحب مولود شریف عشا سے لے کر ایك بجے رات تك پڑھتے اور نماز عشا بعد مولود شریف کے ایك بجے کے بعد پڑھتے ہیں بغیر عذر کے فقط۔
الجواب الملفوظ :
نماز عشا کی نصف شب سے زائد تاخیر مکروہ ہے ان کو چاہئے عشا پڑھ کر مجلس شریف پڑھا کریں وھو تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۰۲) از جے پور بیرون اجمیری دروازہ کوٹھی حاجی عبدالواجد علی خان مسئولہ حامد حسن قادری ۱۷ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ نماز مغرب اور افطاار کا حکم ایسے وقت دینا کہ چند حضار مسلمانوں کو غروب میں کلام ہوگیا ہے اور ان دونوں کا صحیح وقت کیا اور اس کی شناخت کیا ہے
(۲) نماز مغرب اور اذان عشا میں کس قدر فاصلہ درکار ہے کیا جس جگہ پر بحساب دھوپ گھڑی قریب سواسات بجے شام کو اذان مغرب ہوتی ہو وہاں آٹھ بجے فرض عشا پڑھ سکتے ہیں اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ کم ازکم ایك گھنٹا پچیس منٹ کا فاصلہ اذان مغرب واذان عشا میں ہونا چاہئے اس کا کیا حکم ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
جب مشرق سے سیاہی بلند ہو اور مغرب میں دن چھپے اور آفتاب ڈوبنے پر یقین یعنی پورا ظن غالب ہوجائے اس وقت افطار کیا جائے اس کے بعد دیر لگانا نہ چاہئے یہی علامات حدیث میں ارشاد ہوئیں اور جو عالم مقتدا ہو اور علم توقیت جانتا ہو اور اسے قرائن صحیحہ سے غروب کا یقین ہوگیاہو وہ افطار کا فتوی دے سکتا ہے اگرچہ بعض ناواقفوں کو غروب میں ابھی تردد ہو کما دل علیہ حدیث انزل فاجدح لنا والله تعالی اعلم۔
طلوع کے بعد کم ازکم بیس۲۰ منٹ کا انتظار واجب ہے۔ دس بارہ منٹ میں سنتیں اور فرض دونوں ہوسکتے ہیں سنتیں پڑھ کر نماز پڑھائے اگر وقت بقدر فرض ہی کے باقی ہے تو آپ ہی سنتیں چھوڑے گا پھر اگر جماعت میں کسی نے ابھی سنتیں نہ پڑھیں یا جس نے پڑھیں وہ قابل امامت نہیں تو جس نے نہ پڑھیں وہی امامت کرے گا اور اگر وقت میں وسعت ہے تو سنت قبیلہ کا ترك گناہ ہے اور اس کی امامت مکروہ ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۰۱) از موضع باکڑی ضلع گورگانوہ ڈاك خانہ ڈھنیہ مسئولہ محمد یسین خان۱۰ مضان ۱۳۳۱ھ
علمائے دین کیا فرماتے ہیں ایك مولوی صاحب مولود شریف عشا سے لے کر ایك بجے رات تك پڑھتے اور نماز عشا بعد مولود شریف کے ایك بجے کے بعد پڑھتے ہیں بغیر عذر کے فقط۔
الجواب الملفوظ :
نماز عشا کی نصف شب سے زائد تاخیر مکروہ ہے ان کو چاہئے عشا پڑھ کر مجلس شریف پڑھا کریں وھو تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۰۲) از جے پور بیرون اجمیری دروازہ کوٹھی حاجی عبدالواجد علی خان مسئولہ حامد حسن قادری ۱۷ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ نماز مغرب اور افطاار کا حکم ایسے وقت دینا کہ چند حضار مسلمانوں کو غروب میں کلام ہوگیا ہے اور ان دونوں کا صحیح وقت کیا اور اس کی شناخت کیا ہے
(۲) نماز مغرب اور اذان عشا میں کس قدر فاصلہ درکار ہے کیا جس جگہ پر بحساب دھوپ گھڑی قریب سواسات بجے شام کو اذان مغرب ہوتی ہو وہاں آٹھ بجے فرض عشا پڑھ سکتے ہیں اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ کم ازکم ایك گھنٹا پچیس منٹ کا فاصلہ اذان مغرب واذان عشا میں ہونا چاہئے اس کا کیا حکم ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
جب مشرق سے سیاہی بلند ہو اور مغرب میں دن چھپے اور آفتاب ڈوبنے پر یقین یعنی پورا ظن غالب ہوجائے اس وقت افطار کیا جائے اس کے بعد دیر لگانا نہ چاہئے یہی علامات حدیث میں ارشاد ہوئیں اور جو عالم مقتدا ہو اور علم توقیت جانتا ہو اور اسے قرائن صحیحہ سے غروب کا یقین ہوگیاہو وہ افطار کا فتوی دے سکتا ہے اگرچہ بعض ناواقفوں کو غروب میں ابھی تردد ہو کما دل علیہ حدیث انزل فاجدح لنا والله تعالی اعلم۔
(۲) یہ فاصلے باختلاف عرض بلد مختلف ہوتے ہیں ان میں کم ازکم ایك گھنٹا ۱۸ منٹ کا فاصلہ ہے سواسات پر آفتاب ڈوبے اور پون گھنٹے بعد عشا ہوجائے ایسا تمام جہان میں کہیں نہیں جس زمانے میں سوا سات کے قریب غروب ہوتا ہے اذان مغرب وعشا کا فاصلہ اور بھی بہت زائد ہوجاتا ہے مثلا ان بلاد میں ایك گھنٹا چھتیس منٹ اور پون گھنٹے کا فاصلہ تو ان بلاد میں کسی طرح مذہب صاحبین پر بھی صحیح نہیں تو وہ نماز عشا ازروئے مذہب حنفی بالکل باطل ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۰۳) چہ میفر مایند علمائے دین اندرین مسئلہ کہ فرائض داخل نماز درہر صلاۃ فرضیت اویکسان ست یاصرف درنماز فرض بینوا توجروا۔
کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ جو فرائض نماز میں داخل ہیں ان کی فرضیت ہر نماز میں یکساں ہے یا صرف فرضی نمازوں کے ساتھ مختص ہے بینوا توجروا۔ (ت)
الجواب :
تکبیر تحریمہ در ہر نماز مطلقا حتی صلاۃ الجنازۃ ورکوع وسجود وقرأت وقعود درہر نماز مطلق اگرچہ نافلہ باشد
و قیام درہرنماز فرض وواجب ونیز درسنت فجر علی الاصح وخروج بصنع خود علی تخریج البروعی بخلاف الکرخی اینہمہ فرض است وتعدیل ارکان واجب وقدرت ہمہ جاشرط است اخرس رابتکبیر وقرأت ومریض مؤمی رابررکوع وسجود تکلیف ندہند وفی مراقی الفلاح شرح نورالایضاح للعلامۃ الشرنبلالی الاحدب اذابلغت حدبتہ الرکوع یشیر براسہ للرکوع لانہ عاجز مماھو اعلی اھ والله تعالی اعلم۔
تکبیر تحریمہ ہر نماز میں حتی کہ نماز جنازہ میں بھی۔ رکوع سجود قرأت اور قعود (نماز جنازہ کے علاوہ) ہر نماز میں خواہ نفلی نماز ہو۔ قیام ہر اس نماز میں جو فرض اور واجب ہو اور اصح قول کے مطابق فجر کی سنتوں میں بھی۔ اپنے کسی عمل سے نماز سے فجر کی سنتوں میں بھی۔ اپنے کسی عمل سے نماز سے خارج ہونا بروعی کی تخریج کے مطابق کرخی کا اس میں اختلاف ہے۔ یہ سب فرائض ہیں اور تعدیل ارکان واجب ہے۔ لیکن استطاعت سب میں شرط ہے۔ گونگا تکبیر وقرأت کا اور اشارہ کرنے والا مریض رکوع وسجود کا مکلف نہیں ہے۔ علامہ شرنبلالی کی مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں ہے کہ اگر کبڑے کا کبڑا پن رکوع کی حد تك پہنچا ہوا ہے تو وہ رکوع کے لئے سر سے اشارہ کرے گا کیوں کہ اس سے زیادہ اس کے بس میں نہیں ہے اھ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ (۳۰۳) چہ میفر مایند علمائے دین اندرین مسئلہ کہ فرائض داخل نماز درہر صلاۃ فرضیت اویکسان ست یاصرف درنماز فرض بینوا توجروا۔
کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ جو فرائض نماز میں داخل ہیں ان کی فرضیت ہر نماز میں یکساں ہے یا صرف فرضی نمازوں کے ساتھ مختص ہے بینوا توجروا۔ (ت)
الجواب :
تکبیر تحریمہ در ہر نماز مطلقا حتی صلاۃ الجنازۃ ورکوع وسجود وقرأت وقعود درہر نماز مطلق اگرچہ نافلہ باشد
و قیام درہرنماز فرض وواجب ونیز درسنت فجر علی الاصح وخروج بصنع خود علی تخریج البروعی بخلاف الکرخی اینہمہ فرض است وتعدیل ارکان واجب وقدرت ہمہ جاشرط است اخرس رابتکبیر وقرأت ومریض مؤمی رابررکوع وسجود تکلیف ندہند وفی مراقی الفلاح شرح نورالایضاح للعلامۃ الشرنبلالی الاحدب اذابلغت حدبتہ الرکوع یشیر براسہ للرکوع لانہ عاجز مماھو اعلی اھ والله تعالی اعلم۔
تکبیر تحریمہ ہر نماز میں حتی کہ نماز جنازہ میں بھی۔ رکوع سجود قرأت اور قعود (نماز جنازہ کے علاوہ) ہر نماز میں خواہ نفلی نماز ہو۔ قیام ہر اس نماز میں جو فرض اور واجب ہو اور اصح قول کے مطابق فجر کی سنتوں میں بھی۔ اپنے کسی عمل سے نماز سے فجر کی سنتوں میں بھی۔ اپنے کسی عمل سے نماز سے خارج ہونا بروعی کی تخریج کے مطابق کرخی کا اس میں اختلاف ہے۔ یہ سب فرائض ہیں اور تعدیل ارکان واجب ہے۔ لیکن استطاعت سب میں شرط ہے۔ گونگا تکبیر وقرأت کا اور اشارہ کرنے والا مریض رکوع وسجود کا مکلف نہیں ہے۔ علامہ شرنبلالی کی مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں ہے کہ اگر کبڑے کا کبڑا پن رکوع کی حد تك پہنچا ہوا ہے تو وہ رکوع کے لئے سر سے اشارہ کرے گا کیوں کہ اس سے زیادہ اس کے بس میں نہیں ہے اھ والله تعالی اعلم۔ (ت)
حوالہ / References
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی ، باب شروط الصلوٰۃ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۲۵
مسئلہ (۳۰۴) نہار عرفی وشرعی میں کیا فرق ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ نہار عرفی طلوع مرئی کنارہ شمس سے غروب مرئی کل قرص شمس تك ہے
واحترزت بذلك عن النھار النجومی فانہ من انطباق مرکز الشمس علی دائرۃ الافق من قبل المشرق الی انطباقہ علیھا فی جھۃ المغرب فیکون العرفی اکبر من النجومی ابدا بقدر مایطلع نصف کرۃ الشمس ویغرب النصف کمالایخفی ویقدر مایقتضیہ الانکسار الافقی فی الجانبین وھو قدر اربع وثلثین دقیقہ من دقائق فلك البروج فی کل جانب۔
اس سے میں نے احتراز کیا ہے نہار نجومی سے کیونکہ وہ مشرقی جانب کے افقی دائرہ پر سورج کے مرکز کے منطبق ہونے سے شروع ہوتی ہے اور مغربی جانب کے افقی دائرہ پر سورج کے مرکز کے منطبق ہونے پر ختم ہوتی ہے تو نہار عرفی نہار نجومی سے ہمیشہ اتنی بڑی ہوتی ہے جتنی دیر میں سورج کا آدھا کرہ طلوع ہوتا ہے اور آدھا غروب ہوتا ہے جیسا کہ مخفی نہیں ہے اور دونوں طرف جو افقی انکسار واقع ہوتا ہے اس کے تقاضے کے اندازہ کیا جائے گا اور وہ ہر جانب فلك بروج کے دقیقوں میں سے چونتیس۳۴ دقیقوں کے برابر ہوتا ہے۔ (ت)
اور نہار شرعی طلوع فجر صادق سے غروب مرئی کل آفتاب تك ہے تو اس کا نصف ہمیشہ اس کے نسف سے پہلے ہوگا مثلا فرض کیجئے کہ جو تحویل حمل کا دن ہے کہ آفتاب بریلی اور اس کے قریب کے مواضع میں چھ۶ بجے نکلا اور چھ۶ بج کر چودہ۱۴ منٹ پر ڈوبا اور تقریبا پونے پانچ بجے صادق چمکی تو اس دن نہار شرعی ساڑھے تیرہ (۲ / ۱ ۱۳) گھنٹے کا ہے جس کا آدھا چھ۶ گھنٹے پینتالیس۴۵ منٹ اسی مقدار کو پونے پانچ (۴ / ۳ ۴) پر بڑھایا تو ساڑھے گیارہ بجے کا وقت آیا اسی کو ضحوہ کبری کہتے ہیں اس وقت تك کچھ کھایا پیا نہ ہوتو روزہ کی نیت جائز ہے اس دوسرے قول پر اس وقت سے نصف النہار حقیقی تك کہ روز تحویل حمل یعنی بیس۲۰ اکیس۲۱ مارچ کو تقریبا بارہ بجے سات منٹ پر ہوتا ہے سارا وقت سینتیس۳۷ منٹ کا وقت استوا ہے جس میں نماز ناجائز وممنوع اور یہ ظاہر کہ یہ مقداریں اختلاف موسم سے گھٹتی بڑھتی رہیں گی یہ قول ائمہ خوارزم کی طرف نسبت کیاگیا اور امام رکن الدین صباغی نے اسی پر فتوی دیا دالمحتار میں ہے :
عزافی القھستانی القول بان المراد انتصاف النھار العرفی الی ائمۃ ماوراء النھر وبان المراد انتصاف النھار الشرعی وھو الضحوۃ الکبری الی الزوال الی ائمۃ خوارزم وھھنا ابحاث سنوردھا ان شاء الله تعالی فی غیرھذا التحریر عــہ۔ والله تعالی اعلم
قہستانی میں اس قول کو کہ مراد نہار عرفی کا انتصاف ہے ائمہ ماورأ النہر کی طرف منسوب کیا ہے اور
الجواب :
ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ نہار عرفی طلوع مرئی کنارہ شمس سے غروب مرئی کل قرص شمس تك ہے
واحترزت بذلك عن النھار النجومی فانہ من انطباق مرکز الشمس علی دائرۃ الافق من قبل المشرق الی انطباقہ علیھا فی جھۃ المغرب فیکون العرفی اکبر من النجومی ابدا بقدر مایطلع نصف کرۃ الشمس ویغرب النصف کمالایخفی ویقدر مایقتضیہ الانکسار الافقی فی الجانبین وھو قدر اربع وثلثین دقیقہ من دقائق فلك البروج فی کل جانب۔
اس سے میں نے احتراز کیا ہے نہار نجومی سے کیونکہ وہ مشرقی جانب کے افقی دائرہ پر سورج کے مرکز کے منطبق ہونے سے شروع ہوتی ہے اور مغربی جانب کے افقی دائرہ پر سورج کے مرکز کے منطبق ہونے پر ختم ہوتی ہے تو نہار عرفی نہار نجومی سے ہمیشہ اتنی بڑی ہوتی ہے جتنی دیر میں سورج کا آدھا کرہ طلوع ہوتا ہے اور آدھا غروب ہوتا ہے جیسا کہ مخفی نہیں ہے اور دونوں طرف جو افقی انکسار واقع ہوتا ہے اس کے تقاضے کے اندازہ کیا جائے گا اور وہ ہر جانب فلك بروج کے دقیقوں میں سے چونتیس۳۴ دقیقوں کے برابر ہوتا ہے۔ (ت)
اور نہار شرعی طلوع فجر صادق سے غروب مرئی کل آفتاب تك ہے تو اس کا نصف ہمیشہ اس کے نسف سے پہلے ہوگا مثلا فرض کیجئے کہ جو تحویل حمل کا دن ہے کہ آفتاب بریلی اور اس کے قریب کے مواضع میں چھ۶ بجے نکلا اور چھ۶ بج کر چودہ۱۴ منٹ پر ڈوبا اور تقریبا پونے پانچ بجے صادق چمکی تو اس دن نہار شرعی ساڑھے تیرہ (۲ / ۱ ۱۳) گھنٹے کا ہے جس کا آدھا چھ۶ گھنٹے پینتالیس۴۵ منٹ اسی مقدار کو پونے پانچ (۴ / ۳ ۴) پر بڑھایا تو ساڑھے گیارہ بجے کا وقت آیا اسی کو ضحوہ کبری کہتے ہیں اس وقت تك کچھ کھایا پیا نہ ہوتو روزہ کی نیت جائز ہے اس دوسرے قول پر اس وقت سے نصف النہار حقیقی تك کہ روز تحویل حمل یعنی بیس۲۰ اکیس۲۱ مارچ کو تقریبا بارہ بجے سات منٹ پر ہوتا ہے سارا وقت سینتیس۳۷ منٹ کا وقت استوا ہے جس میں نماز ناجائز وممنوع اور یہ ظاہر کہ یہ مقداریں اختلاف موسم سے گھٹتی بڑھتی رہیں گی یہ قول ائمہ خوارزم کی طرف نسبت کیاگیا اور امام رکن الدین صباغی نے اسی پر فتوی دیا دالمحتار میں ہے :
عزافی القھستانی القول بان المراد انتصاف النھار العرفی الی ائمۃ ماوراء النھر وبان المراد انتصاف النھار الشرعی وھو الضحوۃ الکبری الی الزوال الی ائمۃ خوارزم وھھنا ابحاث سنوردھا ان شاء الله تعالی فی غیرھذا التحریر عــہ۔ والله تعالی اعلم
قہستانی میں اس قول کو کہ مراد نہار عرفی کا انتصاف ہے ائمہ ماورأ النہر کی طرف منسوب کیا ہے اور
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۷۳
اس قول کو کہ نہار شرعی کا انتصاف مراد ہے یعنی ضحوہ کبری زوال تک ائمہ خوارزم کی طرف منسوب کیا ہے اور یہاں کچھ اور بحثیں ہیں جنہیں ہم کسی اور تحریر میں بیان کریں گے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۰۵) مسئولہ حافظ علی نجش ساکن قصبہآنولہ ضلع بریلی محلہ گنج مسجد خلیفاں ۲۵ شوال المکرم ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں :
(۱) ۱۴ / اگست کو دھوپ گھڑی سے ۱۱ بج کر ۱۷ منٹ پر اور مدراس ٹائم سے ۱۱ بج کر ۳۳ منٹ سے ضحوہ کبری شروع ہوا اور دھوپ گھڑی سے ۱۲ بجے اور ریلوے ٹائم سے ۱۲ بج کر ۱۶ منٹ پر تمام ہوا تو ضحوہ کبری سے لے کر حقیقی نصف النہار تك کوئی نماز مثل عیدیں وجنازہ درست ہے یا نہیں
(۲) مدراسی ٹائم شرعی وقت سے جنوری فروری میں ۲۰ منٹ آگے ہوتا ہے جبکہ شرعی وقت میں ۱۲ بجتے ہیں تو مدراسی ٹائم میں ۱۲ بج کر ۲۰ منٹ آتے ہیں اگر کسی مسجد میں مدراسی ٹائم سے گھڑی ہو اسی حساب سے ۱۲ بج کر ۱۰ منٹ باقی ہیں اور زوال دھوپ گھڑی سے مانا جائے گا یا مدراسی ٹائم سے اور یوم جمعہ کو زوال ہوتا ہے یا نہیں
الجواب :
(۱) اصح واحسن یہی ہے کہ ضحوہ کبری سے نصف النہار حقیقی تك سارا وقت وہ ہے جس میں نماز نہیں ہاں جنازہ اسی وقت میں آیا تو پڑھ سکتے ہیں لتادیھا کما وجبت۔
(۲) ہمارے مذہب میں بروز جمعہ بھی وقت استوا پر وہی احکام ہیں جسے لوگ وقت زوال بولتے ہیں زوال میں صحیح دھوپ گھڑی کا اعتبار ہے مدراس وغیرہ کے اوقات کا کچھ لحاظ نہیں جو اذان زوال سے پہلے ہوئی ناجائز ہوئی زوال آنے پر پھر کہی جائے کماھو حکم کل اذان اذن قبل الوقت اب ریلوے گھڑیوں میں جولائی ۱۹۰۵ء سے مدراسی وقت بھی نہیں بلکہ وسط ہند کا وقت ہے جہاں فصل طول ساڑھے بیاسی درجے یعنی ساڑھے پانچ گھنٹے کا ہے لہذا ہندوستان بھر کی گھڑیاں جب سے نو منٹ زائد کردی گئی ہیں اس زیادت پر بھی جنوری کی ابتدائی تاریخوں میں ۱۲ بج کر ۲۰ منٹ سے پہلے زوال ہے ہاں بعد کی تاریخوں اور فروری میں اتنا اور اتنے سے زائد آنولہ میں ۱۲ بج کر ۲۶ منٹ تك ہے والله تعالی اعلم۔
عـــہ بیاض فی الاصل بخط الناسخ ختمہ علی لفظۃ التی فبدلناہ بالتحریر ۱۲ مصححہ الفقیر حامد رضا خان غفرلہ
مسئلہ (۳۰۵) مسئولہ حافظ علی نجش ساکن قصبہآنولہ ضلع بریلی محلہ گنج مسجد خلیفاں ۲۵ شوال المکرم ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں :
(۱) ۱۴ / اگست کو دھوپ گھڑی سے ۱۱ بج کر ۱۷ منٹ پر اور مدراس ٹائم سے ۱۱ بج کر ۳۳ منٹ سے ضحوہ کبری شروع ہوا اور دھوپ گھڑی سے ۱۲ بجے اور ریلوے ٹائم سے ۱۲ بج کر ۱۶ منٹ پر تمام ہوا تو ضحوہ کبری سے لے کر حقیقی نصف النہار تك کوئی نماز مثل عیدیں وجنازہ درست ہے یا نہیں
(۲) مدراسی ٹائم شرعی وقت سے جنوری فروری میں ۲۰ منٹ آگے ہوتا ہے جبکہ شرعی وقت میں ۱۲ بجتے ہیں تو مدراسی ٹائم میں ۱۲ بج کر ۲۰ منٹ آتے ہیں اگر کسی مسجد میں مدراسی ٹائم سے گھڑی ہو اسی حساب سے ۱۲ بج کر ۱۰ منٹ باقی ہیں اور زوال دھوپ گھڑی سے مانا جائے گا یا مدراسی ٹائم سے اور یوم جمعہ کو زوال ہوتا ہے یا نہیں
الجواب :
(۱) اصح واحسن یہی ہے کہ ضحوہ کبری سے نصف النہار حقیقی تك سارا وقت وہ ہے جس میں نماز نہیں ہاں جنازہ اسی وقت میں آیا تو پڑھ سکتے ہیں لتادیھا کما وجبت۔
(۲) ہمارے مذہب میں بروز جمعہ بھی وقت استوا پر وہی احکام ہیں جسے لوگ وقت زوال بولتے ہیں زوال میں صحیح دھوپ گھڑی کا اعتبار ہے مدراس وغیرہ کے اوقات کا کچھ لحاظ نہیں جو اذان زوال سے پہلے ہوئی ناجائز ہوئی زوال آنے پر پھر کہی جائے کماھو حکم کل اذان اذن قبل الوقت اب ریلوے گھڑیوں میں جولائی ۱۹۰۵ء سے مدراسی وقت بھی نہیں بلکہ وسط ہند کا وقت ہے جہاں فصل طول ساڑھے بیاسی درجے یعنی ساڑھے پانچ گھنٹے کا ہے لہذا ہندوستان بھر کی گھڑیاں جب سے نو منٹ زائد کردی گئی ہیں اس زیادت پر بھی جنوری کی ابتدائی تاریخوں میں ۱۲ بج کر ۲۰ منٹ سے پہلے زوال ہے ہاں بعد کی تاریخوں اور فروری میں اتنا اور اتنے سے زائد آنولہ میں ۱۲ بج کر ۲۶ منٹ تك ہے والله تعالی اعلم۔
عـــہ بیاض فی الاصل بخط الناسخ ختمہ علی لفظۃ التی فبدلناہ بالتحریر ۱۲ مصححہ الفقیر حامد رضا خان غفرلہ
مسئلہ (۳۰۶) مسئولہ عبدالله دکاندار مقام درو ضلع نینی تال روزسہ شنبہ ۱۶ ذی الحجہ ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس میں کہ :
(۱) صبح کاذب اور صبح صادق کی مجھے قطعی پہچان نہیں ہے کہ صبح صادق کتنی دیر کی ہوتی ہے کل میعاد لگادی جائے کہ گھنٹہ بھر کا یا کم وبیش مجھے لفظوں میں شك رہتا ہے اور بارہ۱۲ مہینے ایك ہی برابر ہوتا ہے یا کچھ فرق ہے ہر مہینہ کی علیحدہ علیحدہ میعاد لگادیجئے تاکہ تسکین ہو۔
(۲) تہجد کے وقت بیس۲۰ رکعت قضا پڑھے تو ہر نیت کے ساتھ اقامت کرے یا کہ پہلی نیت کے۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
(۱) ان شہروں میں کم سے کم ایك گھنٹہ انیس منٹ کی ہوتی ہے یعنی صبح صادق ہونے سے طلوع آفتاب تك اتنا وقت رہتا ہے یہ مارچ کے مہینہ میں ہے پھر وقت بڑھتا جاتا ہے اخیر جون میں ایك گھنٹہ پینتیس منٹ ہوجاتا ہے اس سے زیادہ صبح کی مقدار ان شہروں میں نہیں ہوتی پھر گھٹتا جاتا ہے اخیر ستمبر میں وہی ایك گھنٹہ انیس منٹ رہ جاتا ہیے چوبیس اکتوبر تك یہی رہتا ہے پھر بڑھتا ہے ۲۲ دسمبر کو ایك گھنٹہ ۲۸ منٹ ہوجاتا ہے۔ جاڑے کے موسم میں اس سے زیادہ نہیں بڑھتا پھر گھٹنا شروع ہوتا ہے مارچ میں وہی ایك گھنٹہ ۱۹ منٹ رہ جاتا ہے انہیں ۱۶ منٹ کے اندر دورہ کرتا ہے یعنی کم سے کم ایك گھنٹہ ۱۹ منٹ اور زیادہ سے زیادہ ایك گھنٹا ۳۵ منٹ۔
(۲) قضا کہ تنہا پڑھے اس میں ایك دفعہ بھی اقامت نہ چاہئے کہ قضا کرنا گناہ تھا اور گناہ کے چھپانے کا حکم تھا نہ کہ اعلان کا والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۰۷) مسئولہ محمد یوسف از فتح پور ڈاکخانہ سیور ضلع بھاگل پور بتاریخ ۱۶ ذی الحجہ ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اوقات نماز کو مقرر کرنا چاہئے یا جس وقت خاص لوگ آلیں اس وقت نماز شروع کرنا چاہئے بینوا توجروا۔
الجواب : عادت کریمہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی یہ تھی جب لوگ جلد جمع ہوجاتے نماز پڑھ لیتے ورنہ دیر فرماتے مگر آج کل لوگوں کو شوق جماعت کم ہے وقت مستحب کی تعیین مناسب ہے پھر بھی اگر تاخیر دیکھیں تو اتنا انتظار کریں کہ حاضرین پر بار نہ ہو اور کسی خاص شخص کے انتظار کے لئے تاخیر نہ چاہئے مگر چند صورتوں میں اول کہ وہ امام معین ہو دوم عالم دین سوم حاکم اسلام چہارم پابند جماعت کہ بعض اوقات مرض وغیرہ عذر
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس میں کہ :
(۱) صبح کاذب اور صبح صادق کی مجھے قطعی پہچان نہیں ہے کہ صبح صادق کتنی دیر کی ہوتی ہے کل میعاد لگادی جائے کہ گھنٹہ بھر کا یا کم وبیش مجھے لفظوں میں شك رہتا ہے اور بارہ۱۲ مہینے ایك ہی برابر ہوتا ہے یا کچھ فرق ہے ہر مہینہ کی علیحدہ علیحدہ میعاد لگادیجئے تاکہ تسکین ہو۔
(۲) تہجد کے وقت بیس۲۰ رکعت قضا پڑھے تو ہر نیت کے ساتھ اقامت کرے یا کہ پہلی نیت کے۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
(۱) ان شہروں میں کم سے کم ایك گھنٹہ انیس منٹ کی ہوتی ہے یعنی صبح صادق ہونے سے طلوع آفتاب تك اتنا وقت رہتا ہے یہ مارچ کے مہینہ میں ہے پھر وقت بڑھتا جاتا ہے اخیر جون میں ایك گھنٹہ پینتیس منٹ ہوجاتا ہے اس سے زیادہ صبح کی مقدار ان شہروں میں نہیں ہوتی پھر گھٹتا جاتا ہے اخیر ستمبر میں وہی ایك گھنٹہ انیس منٹ رہ جاتا ہیے چوبیس اکتوبر تك یہی رہتا ہے پھر بڑھتا ہے ۲۲ دسمبر کو ایك گھنٹہ ۲۸ منٹ ہوجاتا ہے۔ جاڑے کے موسم میں اس سے زیادہ نہیں بڑھتا پھر گھٹنا شروع ہوتا ہے مارچ میں وہی ایك گھنٹہ ۱۹ منٹ رہ جاتا ہے انہیں ۱۶ منٹ کے اندر دورہ کرتا ہے یعنی کم سے کم ایك گھنٹہ ۱۹ منٹ اور زیادہ سے زیادہ ایك گھنٹا ۳۵ منٹ۔
(۲) قضا کہ تنہا پڑھے اس میں ایك دفعہ بھی اقامت نہ چاہئے کہ قضا کرنا گناہ تھا اور گناہ کے چھپانے کا حکم تھا نہ کہ اعلان کا والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۰۷) مسئولہ محمد یوسف از فتح پور ڈاکخانہ سیور ضلع بھاگل پور بتاریخ ۱۶ ذی الحجہ ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اوقات نماز کو مقرر کرنا چاہئے یا جس وقت خاص لوگ آلیں اس وقت نماز شروع کرنا چاہئے بینوا توجروا۔
الجواب : عادت کریمہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی یہ تھی جب لوگ جلد جمع ہوجاتے نماز پڑھ لیتے ورنہ دیر فرماتے مگر آج کل لوگوں کو شوق جماعت کم ہے وقت مستحب کی تعیین مناسب ہے پھر بھی اگر تاخیر دیکھیں تو اتنا انتظار کریں کہ حاضرین پر بار نہ ہو اور کسی خاص شخص کے انتظار کے لئے تاخیر نہ چاہئے مگر چند صورتوں میں اول کہ وہ امام معین ہو دوم عالم دین سوم حاکم اسلام چہارم پابند جماعت کہ بعض اوقات مرض وغیرہ عذر
کی وجہ سے اسے دیر ہوجائے پنجم سربرآوردہ شریر جس کا انتظار نہ کرنے سے اےذا کا خوف ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۰۸) از مقام آہور ملك مارواڑ متصل آیر پتورا پیر محمد امیرالدین بروزیك شنبہ بتاریخ ۱۳ محرم الحرام ۱۳۳۴ھ
نماز عصر کے بعد قرآن شریف پڑھنا دیکھ کر یا زبانی امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
بعد نماز عصر تلاوت قرآن عظیم جائز ہے دیکھ کر ہو خواہ یا دپر مگر جب آفتاب قریب غروب پہنچے اور وقت کراہت آئے اس وقت تلاوت التوی کی جائے اور اذکار الہیہ کیی جائیں کہ آفتاب نکلتے اور ڈوبتے اور ٹھیك دوپہر کے وقت نماز ناجائز ہے اور تلاوت مکروہ۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۰۹) بعد نماز عصر کے اور فجر کے سجدہ کرنا یا فقہ پڑھنا امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
جائز ہے مگر جب عصر میں وقت کراہت آجائے تو قضا بھی جائز نہیں اور سجدہ مکروہ اگرچہ سہو یا تلاوت کا ہو اور سجدہ شکر تو بعد نماز فجر وعصر مطلقا مکروہ درمختار میں ہے :
وکرہ تحریما وکل مالایجوز مکروہ صلاۃ مطلقا ولوقضاء اوواجبۃ اونفلا اوعلی جنازۃ وسجدۃ تلاوۃ وسھو مع شروق واستواء وغروب ۔ مکروہ تحریمی ہے اور جو کام جائز نہ ہو وہ مکروہ ہی ہوتا ہے نماز مطلقا خواہ قضا ہو واجب ہو نفل ہو یا نماز جنازہ ہو۔ اور سجدہ تلاوت اور سجدہ سہو۔ بوقت طلوع استواء اور غروب۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
یکرہ ان یسجد شکرا بعد الصلاۃ فی الوقت الذی یکرہ فیہ النفل ولایکرہ فی غیرہ اھ والله تعالی اعلم
نماز کے بعد سجدہ شکر کرنا ان اوقات میں مکروہ ہے جن میں نماز مکروہ ہے اس کے علاوہ مکروہ نہیں (ت)
مسئلہ (۳۰۸) از مقام آہور ملك مارواڑ متصل آیر پتورا پیر محمد امیرالدین بروزیك شنبہ بتاریخ ۱۳ محرم الحرام ۱۳۳۴ھ
نماز عصر کے بعد قرآن شریف پڑھنا دیکھ کر یا زبانی امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
بعد نماز عصر تلاوت قرآن عظیم جائز ہے دیکھ کر ہو خواہ یا دپر مگر جب آفتاب قریب غروب پہنچے اور وقت کراہت آئے اس وقت تلاوت التوی کی جائے اور اذکار الہیہ کیی جائیں کہ آفتاب نکلتے اور ڈوبتے اور ٹھیك دوپہر کے وقت نماز ناجائز ہے اور تلاوت مکروہ۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۰۹) بعد نماز عصر کے اور فجر کے سجدہ کرنا یا فقہ پڑھنا امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
جائز ہے مگر جب عصر میں وقت کراہت آجائے تو قضا بھی جائز نہیں اور سجدہ مکروہ اگرچہ سہو یا تلاوت کا ہو اور سجدہ شکر تو بعد نماز فجر وعصر مطلقا مکروہ درمختار میں ہے :
وکرہ تحریما وکل مالایجوز مکروہ صلاۃ مطلقا ولوقضاء اوواجبۃ اونفلا اوعلی جنازۃ وسجدۃ تلاوۃ وسھو مع شروق واستواء وغروب ۔ مکروہ تحریمی ہے اور جو کام جائز نہ ہو وہ مکروہ ہی ہوتا ہے نماز مطلقا خواہ قضا ہو واجب ہو نفل ہو یا نماز جنازہ ہو۔ اور سجدہ تلاوت اور سجدہ سہو۔ بوقت طلوع استواء اور غروب۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
یکرہ ان یسجد شکرا بعد الصلاۃ فی الوقت الذی یکرہ فیہ النفل ولایکرہ فی غیرہ اھ والله تعالی اعلم
نماز کے بعد سجدہ شکر کرنا ان اوقات میں مکروہ ہے جن میں نماز مکروہ ہے اس کے علاوہ مکروہ نہیں (ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الصلوٰۃ یستحب تاخیر العصر مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۶۱
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ مطلب طلوع الشمس من مغربہا مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۷۳
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ مطلب طلوع الشمس من مغربہا مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۷۳
مسئلہ (۳۱۰) ازسہادر ضلع ایٹہ مسئولہ اولاد علی صاحب بروز شنبہ بتاریخ ۵ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
(۱) زید نے نماز فجر طلوع آفتاب سے پہلے شروع کی اور اس کے نماز پڑھنے میں آفتاب نکل آیا تو وہ نماز ہوئی یا نہیں
(۲) نماز مغرب غروب آفتاب سے پہلے شروع کی اور نماز پڑھتے ہی میں آفتاب غروب ہوگیا تو نماز ہوئی یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
(۱) نماز فجر میں سلام سے پہلے اگر ایك ذرا سا کنارہ طلوع ہوا نماز نہ ہوگی۔
(۲) اگر ایك نقط بھر کنارہ شمس غروب کو باقی ہے اور اس نے مغرب کی تکبیر تحریمہ کہی نماز نہ ہوگی۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۱۱) مسئولہ منشی عبدالرحمن صاحب اعظمی از ریاست جے پور گھاٹ دروازہ۲۴ محرم ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ فجر کی نماز جو اصحاب حنفیہ کے یہاں اسفار میں ہے کہ وہ کس وقت سے شروع ہوتا ہے اور طلوع آفتاب سے کتنے پر نماز ختم ہونی چاہئے اس کی کیا مقدار ہے اور بعد اختتام نماز فجر کتنے منٹ طلوع آفتاب کو باقی رہنا چاہئیں : مفصل طور پر بیان فرمایا جائے بینوا توجروا۔
الجواب :
آج صبح کا جتنا وقت ہے اس کا نصف اول چھوڑ کر نصف ثانی سے وقت مستحب شروع ہوتا ہے کمافی البحرالرائق وغیرہ اور اس میں بھی جس قدر تاخیر ہو افضل ہے اسفروا بالفجر فانہ اعظم للاجر (فجر کو خوب روشن کرو کیونکہ اس میں زیادہ اجر ہے۔ ت) مگر نہ اس قدر کہ طلوع میں شبہہ پڑ جائے اتنا وقت رہنا اولی کہ اگر نماز میں کوئی فساد ہوتو وقت میں مسنون طور پر اعادہ ہوسکے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ (۳۱۲) مرسلہ ولی احمد قلعی گر رانی کھیت صدر بازار ۱۸ ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ
جناب پیر صاحب قبلہ السلام علیکم بعد سلام علیك کے واضح ہوکہ جمعہ کا وقت جاڑے کے دنوں میں کتنے بجے تك رہتا ہے اور گرمیوں میں کتنے بجے تك رہتا ہے خلاصہ حال سے براہ مہربانی اطلاع دیجئے اور عصر کا وقت کتنے بجے تك رہتا ہے یہ بھی اطلاع دیجئے ایك شخص اعتراض کرتے ہیں جمعہ کے وقت کا اس وجہ سے آپ کو تکلیف دی فقط والسلام۔
ان الصلوة كانت على المؤمنین كتبا موقوتا(۱۰۳)
(۱) زید نے نماز فجر طلوع آفتاب سے پہلے شروع کی اور اس کے نماز پڑھنے میں آفتاب نکل آیا تو وہ نماز ہوئی یا نہیں
(۲) نماز مغرب غروب آفتاب سے پہلے شروع کی اور نماز پڑھتے ہی میں آفتاب غروب ہوگیا تو نماز ہوئی یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
(۱) نماز فجر میں سلام سے پہلے اگر ایك ذرا سا کنارہ طلوع ہوا نماز نہ ہوگی۔
(۲) اگر ایك نقط بھر کنارہ شمس غروب کو باقی ہے اور اس نے مغرب کی تکبیر تحریمہ کہی نماز نہ ہوگی۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۱۱) مسئولہ منشی عبدالرحمن صاحب اعظمی از ریاست جے پور گھاٹ دروازہ۲۴ محرم ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ فجر کی نماز جو اصحاب حنفیہ کے یہاں اسفار میں ہے کہ وہ کس وقت سے شروع ہوتا ہے اور طلوع آفتاب سے کتنے پر نماز ختم ہونی چاہئے اس کی کیا مقدار ہے اور بعد اختتام نماز فجر کتنے منٹ طلوع آفتاب کو باقی رہنا چاہئیں : مفصل طور پر بیان فرمایا جائے بینوا توجروا۔
الجواب :
آج صبح کا جتنا وقت ہے اس کا نصف اول چھوڑ کر نصف ثانی سے وقت مستحب شروع ہوتا ہے کمافی البحرالرائق وغیرہ اور اس میں بھی جس قدر تاخیر ہو افضل ہے اسفروا بالفجر فانہ اعظم للاجر (فجر کو خوب روشن کرو کیونکہ اس میں زیادہ اجر ہے۔ ت) مگر نہ اس قدر کہ طلوع میں شبہہ پڑ جائے اتنا وقت رہنا اولی کہ اگر نماز میں کوئی فساد ہوتو وقت میں مسنون طور پر اعادہ ہوسکے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ (۳۱۲) مرسلہ ولی احمد قلعی گر رانی کھیت صدر بازار ۱۸ ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ
جناب پیر صاحب قبلہ السلام علیکم بعد سلام علیك کے واضح ہوکہ جمعہ کا وقت جاڑے کے دنوں میں کتنے بجے تك رہتا ہے اور گرمیوں میں کتنے بجے تك رہتا ہے خلاصہ حال سے براہ مہربانی اطلاع دیجئے اور عصر کا وقت کتنے بجے تك رہتا ہے یہ بھی اطلاع دیجئے ایك شخص اعتراض کرتے ہیں جمعہ کے وقت کا اس وجہ سے آپ کو تکلیف دی فقط والسلام۔
ان الصلوة كانت على المؤمنین كتبا موقوتا(۱۰۳)
حوالہ / References
مشکوٰۃ المصابیح باب تعجیل الصلوٰۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ص ۶۱
الجواب :
جمعہ اور ظہر کا ایك ہی وقت ہے سایہ جب تك سایہ اصل کے سوا دو مثل کو پہنچے جمعہ وظہر دونوں کا وقت باقی رہتا ہے بریلی میں ریلوے وقت سے جاڑوں میں کم ازکم ۳ بج کر چالیس۴۰ منٹ تك وقت رہتا ہے اور گرمیوں میں زیادہ سے زیادہ ۵ بج کے ۷ منٹ تک عصر کا وقت غروب تك ہے اور اس سے تقریبا بیس۲۰ منٹ پہلے وقت کراہت شروع ہوجاتا ہے غروب جاڑوں میں ۵ بج کر ساڑھے ۱۵ منٹ پر ہوتا ہے اور گرمیوں میں زیادہ سے زیادہ سات۷ بج کے چودہ۱۴ منٹ پر وھو تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۱۳) ۱۶ جمادی الاولی ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ سفر کے عذر سے جس میں قصر لازم آتا ہے دو۲ نمازوں کا جمع کرنا جائز ہے یا نہیں ۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
ناجائز ہے قال الله تعالی : ان الصلوة كانت على المؤمنین كتبا موقوتا(۱۰۳) (بیشك نماز مسلمانوں پر فرض ہے وقت باندھا ہوا) کہ نہ وقت سے پہلے صحیح نہ وقت کھوکر پڑھنا روا بلکہ فرض ہے کہ نماز اپنے وقت پر ادا ہوحضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
لیس فی النوم تفریط انما التفریط فی الیقظۃ ان تؤخر صلاۃ حتی یدخل وقت صلاۃ اخری ۔
سونے میں کچھ تقصیر نہیں تقصیر تو جاگنے میں ہے کہ تو ایك نماز کو اتنا مؤخر کرے کہ دوسرے نماز کا وقت آجائے۔
یہ حدیث خود حالت سفر میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ارشاد فرمائی تھی رواہ مسلم واحمد وابوداود والطحاوی وابن حبان عن ابی قتادۃ رضی اللہ تعالی عنہسیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہکہ سفر وحضر میں حاضر بارگاہ رسالت پناہ ہمرکاب نبوت مآب رہا کرتے صاف صریح انکار فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو کبھی دو۲ نمازیں جمع فرماتے نہ دیکھا مگر مزدلفہ عرفات میں جہاں کی جمع ہنگام حج حجاب کے لئے سب کے نزدیك متفق علیہ ہے نویں تاریخ عرفات میں ظہر وعصر پھر نویں شب مزدلفہ میں مغرب وعشا ملاکر پڑھتے ہیں صحیح بخاری صحیح مسلم وسنن ابی داؤد وسنن نسائی وشرح معانی الاثار امام طحاوی میں اس جناب
جمعہ اور ظہر کا ایك ہی وقت ہے سایہ جب تك سایہ اصل کے سوا دو مثل کو پہنچے جمعہ وظہر دونوں کا وقت باقی رہتا ہے بریلی میں ریلوے وقت سے جاڑوں میں کم ازکم ۳ بج کر چالیس۴۰ منٹ تك وقت رہتا ہے اور گرمیوں میں زیادہ سے زیادہ ۵ بج کے ۷ منٹ تک عصر کا وقت غروب تك ہے اور اس سے تقریبا بیس۲۰ منٹ پہلے وقت کراہت شروع ہوجاتا ہے غروب جاڑوں میں ۵ بج کر ساڑھے ۱۵ منٹ پر ہوتا ہے اور گرمیوں میں زیادہ سے زیادہ سات۷ بج کے چودہ۱۴ منٹ پر وھو تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۱۳) ۱۶ جمادی الاولی ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ سفر کے عذر سے جس میں قصر لازم آتا ہے دو۲ نمازوں کا جمع کرنا جائز ہے یا نہیں ۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
ناجائز ہے قال الله تعالی : ان الصلوة كانت على المؤمنین كتبا موقوتا(۱۰۳) (بیشك نماز مسلمانوں پر فرض ہے وقت باندھا ہوا) کہ نہ وقت سے پہلے صحیح نہ وقت کھوکر پڑھنا روا بلکہ فرض ہے کہ نماز اپنے وقت پر ادا ہوحضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
لیس فی النوم تفریط انما التفریط فی الیقظۃ ان تؤخر صلاۃ حتی یدخل وقت صلاۃ اخری ۔
سونے میں کچھ تقصیر نہیں تقصیر تو جاگنے میں ہے کہ تو ایك نماز کو اتنا مؤخر کرے کہ دوسرے نماز کا وقت آجائے۔
یہ حدیث خود حالت سفر میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ارشاد فرمائی تھی رواہ مسلم واحمد وابوداود والطحاوی وابن حبان عن ابی قتادۃ رضی اللہ تعالی عنہسیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہکہ سفر وحضر میں حاضر بارگاہ رسالت پناہ ہمرکاب نبوت مآب رہا کرتے صاف صریح انکار فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو کبھی دو۲ نمازیں جمع فرماتے نہ دیکھا مگر مزدلفہ عرفات میں جہاں کی جمع ہنگام حج حجاب کے لئے سب کے نزدیك متفق علیہ ہے نویں تاریخ عرفات میں ظہر وعصر پھر نویں شب مزدلفہ میں مغرب وعشا ملاکر پڑھتے ہیں صحیح بخاری صحیح مسلم وسنن ابی داؤد وسنن نسائی وشرح معانی الاثار امام طحاوی میں اس جناب
حوالہ / References
القرآن ۴ / ۱۰۳
مسند احمد بن حنبل مسانید ابن ابی قتادۃ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۵ / ۳۰۵
مسند احمد بن حنبل مسانید ابن ابی قتادۃ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۵ / ۳۰۵
سے ہے : قال مارأیت النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم صلی صلاۃ لغیر میقاتھا الاصلاتین جمع بین المغرب والعشاء وصلی الفجر قبل میقاتھا ۔ وفی لفظ للنسائی کان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یصلی الصلاۃ لوقتھا الابجمع وعرفات ۔ سیدنا امام محمد مؤطا شریف میں بسند صحیح امیرالمومنین عمرفاروق رضی اللہ تعالی عنہسے راوی : انہ کتب فی الافاق ینھاھم ان یجمعوا بین الصلاتین ویخبرھم ان الجمع بین الصلاتین فی وقت واحد کبیرۃ من الکبائر (یعنی اس جناب خلافت مآب ناطق بالحق والصواب رضی اللہ تعالی عنہنے تمام آفاق میں فرمان تحریر فرما بھیجے کہ کوئی شخص دو۲ نمازیں جمع نہ کرے اور ان میں ارشاد فرمایا کہ ایك وقت میں دو۲ نمازیں ملانا کبیرہ گناہوں سے ایك گناہ کبیرہ ہے)مخالفین کے پاس جمع حقیقی پر قرآن وحدیث سے اصلا کوئی دلیل نہیں جو کچھ پیش کرتے ہیں یا تو جمع صوری صریح ہے یعنی ظہر یا مغرب کو اس کے ایسے آخر وقت میں پڑھنا کہ فارغ ہوتے ہی فورا یا ایك وقفہ قلیل کے بعد عصر یا عشا کا وقت آجائے پھر وقت ہوتے ہی معا عصر یا عشا کا پڑھ لینا کہ حقیقت میں تو ہر نماز اپنے وقت پر ہوئی مگر دیکھنے میں مل گئیں ایسی جمع مریض ومسافر کے لئے ہم بھی جائز مانتے ہیں اور حدیثوں سے یہی ثابت ہے یا محض مجمل ہے جس میں جمع حقیقی کی اصلا بو نہیں یا صاف محتمل کہ احادیث جمع صوری سے بہت اچھے طور پر متفق ہوسکتی ہے غرض کوئی حدیث صحیح وصریح مفسر ان کے ہاتھ میں اصلا نہیں بعونہ تعالی اس کا نہایت شافی ووافی بیان فقیر نے رسالہ حاجز البحرین الواقی عن جمع الصلاتین ۳۱۳اھ میں لکھا کہ اس سوال کے آنے پر تحریر کیا جسے تحقیق حق منظور ہو اس کی طرف رجوع کرے وبالله سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۱۴) مرسلہ جناب مولانا مولوی شاہ عبدالغفار صاحب قادری قدوسی مدرس اول مدرسہ جامع العلوم معکسر بنگلور
مولنا المولوی جناب مولوی احمد رضا خان صاحب قادری الحنفی البرکاتی البریلوی ادام برکاتکم والطافکم السلام علیکم وعلی من لدیکم حضرت قاضی مفتی ارتضا علی خاں صاحب جو وقت اخراج کے اس طور سے کہ پہلے ایك تختہ اصطر لاب اپنے سامنے رکھے تھے اور دودائرہ ہندیہ پتھر پر تیار کرکے اصطر لاب پر شاقول پھرائے اور دائرہ ہندیہ پر نظر کرکے ایسا ایك ہی کامل محنت کرکے یہ رسالہ لکھے ہیں آپ اس سے عرض کرتا ہوں کہ مدراس تیرہ۱۳
مسئلہ (۳۱۴) مرسلہ جناب مولانا مولوی شاہ عبدالغفار صاحب قادری قدوسی مدرس اول مدرسہ جامع العلوم معکسر بنگلور
مولنا المولوی جناب مولوی احمد رضا خان صاحب قادری الحنفی البرکاتی البریلوی ادام برکاتکم والطافکم السلام علیکم وعلی من لدیکم حضرت قاضی مفتی ارتضا علی خاں صاحب جو وقت اخراج کے اس طور سے کہ پہلے ایك تختہ اصطر لاب اپنے سامنے رکھے تھے اور دودائرہ ہندیہ پتھر پر تیار کرکے اصطر لاب پر شاقول پھرائے اور دائرہ ہندیہ پر نظر کرکے ایسا ایك ہی کامل محنت کرکے یہ رسالہ لکھے ہیں آپ اس سے عرض کرتا ہوں کہ مدراس تیرہ۱۳
حوالہ / References
صحیح مسلم باب استحباب زیادۃ التغلیس لصلوٰۃ الصبح مطبوعہ اصح المطابع قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۱۷
سنن النسائی الجمع بین الظہر والعصر بعرفۃ ، مطبوعہ ، سلفیہ لاہور ، ۲ / ۳۹
مؤطا امام محمد ، باب الجمع بین الصلاتین فی السفر والمطر مطبوعہ آفتاب عالم پریس مجتبائی لاہور ص ۱۳۲
سنن النسائی الجمع بین الظہر والعصر بعرفۃ ، مطبوعہ ، سلفیہ لاہور ، ۲ / ۳۹
مؤطا امام محمد ، باب الجمع بین الصلاتین فی السفر والمطر مطبوعہ آفتاب عالم پریس مجتبائی لاہور ص ۱۳۲
درجہ پر واقع ہے اور یہ معکسر بنگلور دوسوسترہ میل پر ساڑھے سترہ درجہ پر ہے ہم اس حساب سے ۵ لحظہ بڑھ کر لیتے ہیں اس رسالہ میں جو ۱۵ لحظہ دیری کرنا لکھے ہیں حاجت نہیں ریلوے حساب سے مدراس اور یہاں دو۲ لحظہ ہی کا فرق ہے اگر ۵ لحظہ تاخیر کریں تو کافی رہا آپ کا بریلی شہر اس حساب کے موافق ہرگز نہ ہوگا کیونکہ اغلبا شاید چودہ۱۴ درجہ پر ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ اختلاف اوقات بہ تقدم وتاخر تو ضرور تبدیل طول بلد سے ہوجاتا ہے مگر وہ وجہ تغیر حساب نہیں مثلا جس بلد میں طلوع شمس کسی جز میں سات بجے پر ہوتو اس عرض کے جتنے بلاد وآفاق ہیں سب میں طلوع شمس جز مذکور میں سات۷ ہی بجے ہوگا بلاتفاوت اگرچہ بلد شرقی میں سات پہلے بجیں گے اور غربی میں بعد ہاں اختلاف عرض موجب تزاید وتناقض وتغیر حساب ہوتا ہے کہ اس کے باعث تعدیل النہار ومطالع البروج وقوس النہار وقوس اللیل وغایت ارتفاع وغایت انحفاض وغیرہا امور جن پر ابتنائے حساب اوقات ہے متبدل ہوجاتے ہیں مدراس بنگلور کے عرض میں ایسا تفاوت نہیں کہ تغیر معتدبہ دے مدراس تیرہ۱۳ درجے ۵ دقیقہ ہے اور بنگلور جہاں تك مجھے مراجعت اطالس سے معلوم ہوا ہے علی قول بارہ۱۲ درجے انسٹھ۵۹ دقیقہ اور علی قول آخر ۱۲ درجے ۵۵ دقیقے پر ہے۔ یہ چھ۶ یا دس۱۰ دقیقے کا تفاوت چنداں مغیر اوقات نہ ہوگا پانچ دقیقہ ساعت جو آپ نے مقرر فرمائے کثیر ہیں بریلی کا عرض ۲۸ درجے ۲۱ دقیقے ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۱۵) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وقت فجر کا کس وقت سے شروع ہوتا ہے اور کب تك رہتا ہے اور جو شخص نہایت اندھیرے میں اول وقت نماز فجر پڑھے اور لوگوں کو اسی وقت پڑھنے کی تاکید کرے اور کہے بعد روشنی کے نماز مکروہ ہوتی ہے وہ شخص سچا ہے یا نہیں اور وہ نماز اس کی مستحب وقت پر ہوئی یا نہیں اور مستحب وقت اس نماز کا کیا ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
وقت نماز فجر کا طلوع یا انتشار صبح صادق سے ہے علی اختلاف المشائخ اور انتہا اس کی طلوع اول کنارہ شمس ہے اور ہمارے علماء کے نزدیك مردوں کو دواما ہر زمان وہر مکان میں اسفار فجر یعنی جب صبح خوب روشن ہوجائے نماز پڑھنا سنت ہے سوا یوم الخر کے کہ حجاج کو اس روز مزدلفہ میں تغلیس چاہئے صرح بہ فی عامۃ کتبھم (فقہا کی عامہ کتب میں اس بات کی تصریح ہے) اس میں احادیث صریحہ معتبرہ دارد ترمذی ابوداود ونسائی دارمی ابن حبان طبرانی حضرت رافع بن خدیج سے راوی کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
الجواب :
السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ اختلاف اوقات بہ تقدم وتاخر تو ضرور تبدیل طول بلد سے ہوجاتا ہے مگر وہ وجہ تغیر حساب نہیں مثلا جس بلد میں طلوع شمس کسی جز میں سات بجے پر ہوتو اس عرض کے جتنے بلاد وآفاق ہیں سب میں طلوع شمس جز مذکور میں سات۷ ہی بجے ہوگا بلاتفاوت اگرچہ بلد شرقی میں سات پہلے بجیں گے اور غربی میں بعد ہاں اختلاف عرض موجب تزاید وتناقض وتغیر حساب ہوتا ہے کہ اس کے باعث تعدیل النہار ومطالع البروج وقوس النہار وقوس اللیل وغایت ارتفاع وغایت انحفاض وغیرہا امور جن پر ابتنائے حساب اوقات ہے متبدل ہوجاتے ہیں مدراس بنگلور کے عرض میں ایسا تفاوت نہیں کہ تغیر معتدبہ دے مدراس تیرہ۱۳ درجے ۵ دقیقہ ہے اور بنگلور جہاں تك مجھے مراجعت اطالس سے معلوم ہوا ہے علی قول بارہ۱۲ درجے انسٹھ۵۹ دقیقہ اور علی قول آخر ۱۲ درجے ۵۵ دقیقے پر ہے۔ یہ چھ۶ یا دس۱۰ دقیقے کا تفاوت چنداں مغیر اوقات نہ ہوگا پانچ دقیقہ ساعت جو آپ نے مقرر فرمائے کثیر ہیں بریلی کا عرض ۲۸ درجے ۲۱ دقیقے ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۱۵) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وقت فجر کا کس وقت سے شروع ہوتا ہے اور کب تك رہتا ہے اور جو شخص نہایت اندھیرے میں اول وقت نماز فجر پڑھے اور لوگوں کو اسی وقت پڑھنے کی تاکید کرے اور کہے بعد روشنی کے نماز مکروہ ہوتی ہے وہ شخص سچا ہے یا نہیں اور وہ نماز اس کی مستحب وقت پر ہوئی یا نہیں اور مستحب وقت اس نماز کا کیا ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
وقت نماز فجر کا طلوع یا انتشار صبح صادق سے ہے علی اختلاف المشائخ اور انتہا اس کی طلوع اول کنارہ شمس ہے اور ہمارے علماء کے نزدیك مردوں کو دواما ہر زمان وہر مکان میں اسفار فجر یعنی جب صبح خوب روشن ہوجائے نماز پڑھنا سنت ہے سوا یوم الخر کے کہ حجاج کو اس روز مزدلفہ میں تغلیس چاہئے صرح بہ فی عامۃ کتبھم (فقہا کی عامہ کتب میں اس بات کی تصریح ہے) اس میں احادیث صریحہ معتبرہ دارد ترمذی ابوداود ونسائی دارمی ابن حبان طبرانی حضرت رافع بن خدیج سے راوی کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
اسفروا بالفجر فانہ اعظم للاجر (یعنی صبح کو خوب روشن کرو کہ اسفار میں اجر زیادہ ہے)
ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے ولفظ الطبرانی : فکلما اسفرتم بالفجر فانہ اعظم للاجر ۔ ولفظ ابن حبان : کلما اصبحتم بالصبح فانہ اعظم لاجورکم ان الفاظ کا حاصل یہ ہے کہ جس قدر اسفار میں مبالغہ کروگے ثواب زیادہ پاؤگےاور طبرانی وابن عدی نے انہی صحابی سے روایت کیا :
قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم لبلال : یابلال! اناد بصلاۃ الصبح حتی یبصر القوم مواقع نبلھم من الاسفار ۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے بلال سے ارشاد فرمایا : اے بلال! فجر کی اذان اس وقت دیا کرو جب لوگ اپنے تیر گرنے کی جگہیں دیکھ لیں بسبب روشنی کے۔
اور پر ظاہر کہ یہ بات اس وقت حاصل ہوگی جب صبح خوب روشن ہوجائے گی اور جب اذان ایسے وقت ہوگی تو نماز اس سے بھی زیادہ روشنی میں ہوگی ابن خزیمہ اپنی صحیح اور امام طحاوی شرح معانی الاثار میں بسند صحیح حضرت ابرہیم نخعی رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کرتے ہیں :
مااجتمع اصحاب رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم علی شیئ کما اجتمعوا علی التنویر ۔
اصحاب رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ایسا کسی بات پر اتفاق نہ کیا جیسا تنویر واسفار پر۔
حدیث صحیحین سے ثابت کہ نماز فجر اول وقت پڑھنا سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی عادت شریفہ کے خلاف تھا حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہنے مزدلفہ میں حضور کے مغرب کو بوقت عشا اور فجر کو اول وقت پڑھنے کی نسبت فرمایا : ان ھاتین الصلاتین حولتا عن وقتیھا فی ھذا المکان (یعنی یہ دونوں
ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے ولفظ الطبرانی : فکلما اسفرتم بالفجر فانہ اعظم للاجر ۔ ولفظ ابن حبان : کلما اصبحتم بالصبح فانہ اعظم لاجورکم ان الفاظ کا حاصل یہ ہے کہ جس قدر اسفار میں مبالغہ کروگے ثواب زیادہ پاؤگےاور طبرانی وابن عدی نے انہی صحابی سے روایت کیا :
قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم لبلال : یابلال! اناد بصلاۃ الصبح حتی یبصر القوم مواقع نبلھم من الاسفار ۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے بلال سے ارشاد فرمایا : اے بلال! فجر کی اذان اس وقت دیا کرو جب لوگ اپنے تیر گرنے کی جگہیں دیکھ لیں بسبب روشنی کے۔
اور پر ظاہر کہ یہ بات اس وقت حاصل ہوگی جب صبح خوب روشن ہوجائے گی اور جب اذان ایسے وقت ہوگی تو نماز اس سے بھی زیادہ روشنی میں ہوگی ابن خزیمہ اپنی صحیح اور امام طحاوی شرح معانی الاثار میں بسند صحیح حضرت ابرہیم نخعی رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کرتے ہیں :
مااجتمع اصحاب رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم علی شیئ کما اجتمعوا علی التنویر ۔
اصحاب رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ایسا کسی بات پر اتفاق نہ کیا جیسا تنویر واسفار پر۔
حدیث صحیحین سے ثابت کہ نماز فجر اول وقت پڑھنا سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی عادت شریفہ کے خلاف تھا حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہنے مزدلفہ میں حضور کے مغرب کو بوقت عشا اور فجر کو اول وقت پڑھنے کی نسبت فرمایا : ان ھاتین الصلاتین حولتا عن وقتیھا فی ھذا المکان (یعنی یہ دونوں
حوالہ / References
مشکوٰۃ المصابیح باب تعجیل الصلوٰۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۶۱ ، جامع الترمذی ماجاء بالاسفار بالفجر مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۲۲
المعجم الکبیر للطبرانی حدیث رافع بن خدیج مطبوعہ المکتبہ الفیصلیہ بیروت ۴ / ۲۵۱
الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ، کتاب الصلوٰۃحدیث ۱۴۸۷ ، مطبوعہ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۴ / ۲۳
مجمع الزوائد باب وقت صلاۃ الصبح مطبوعہ دارالکتاب بیروت ۱ / ۳۱۶
شرح معانی الاثار باب الوقت الذی یصلی ای وقت ھو مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۲۶
صحیح بخاری کتاب الصلوٰۃ متی یصلی الفجر بجمع مطبوعہ اصح المطابع قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۲۸
المعجم الکبیر للطبرانی حدیث رافع بن خدیج مطبوعہ المکتبہ الفیصلیہ بیروت ۴ / ۲۵۱
الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ، کتاب الصلوٰۃحدیث ۱۴۸۷ ، مطبوعہ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۴ / ۲۳
مجمع الزوائد باب وقت صلاۃ الصبح مطبوعہ دارالکتاب بیروت ۱ / ۳۱۶
شرح معانی الاثار باب الوقت الذی یصلی ای وقت ھو مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۲۶
صحیح بخاری کتاب الصلوٰۃ متی یصلی الفجر بجمع مطبوعہ اصح المطابع قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۲۸
ففی غنیۃ المستملی للعلامۃ الحلبی اثرا عن البدائع وحدہ (یعنی التغلیس) مادام فی النصف الاول من الوقت۔ وفیھا عن الفتاوی الخانیۃ وحد التنویر ماقال شمس الائمۃ الحلوائی والقاضی الامام ابوعلی النسفی : انہ یبدأ الصلوۃ بعد انتشار البیاض فی وقت لوصلی الفجر بقرأۃ مسنونۃ مابین اربعین ایۃ الی ستین ایۃ ویرتل القرأۃ فاذا فرغ من الصلاۃ ثم ظھرلہ سھو فی طھارتہ ہمکنہ ان یتوضأ ویعید الصلاۃ قبل طلوع الشمس۔ کما فعل ابوبکر وعمر رضی الله تعالی عنہما۔ وعلی ھذا مافی محیط رضی الدین والخلاصۃ والکافی وغیرھا انتھی
قلت : ومثلہ فی فتاوی قاضی خان ونحوہ فی الفتاوی العالمگیریۃ عن التبیین۔ وقیل : یؤخرھا جدا لان الفساد موھوم فلم یترك المستحب لاجلہ۔ وقیل : حدہ ان یری مواضع النبل۔ ثم کمافی محیط رضی الدین وغیرہ لایؤخرھا تاخیرا یقع الشك فی طلوع الشمس ۔ انتھی ملخصا۔ وفی البحرالرائق قالوا : یسفربھا بحیث لوظھر فساد صلاتہ ہمکنہ ان یعیدھا فی الوقت بقرأۃ مستحبۃ۔ وقیل : یؤخرھا جدا لان الفساد موھوم فلایترك المستحب لاجلہ۔ وھوظاھر اطلاق الکتاب (یعنی الکنز حیث قال : وندب تاخیر الفجر ولم یقید بشیئ) لکن لایؤخرھا بحیث یقع الشك فی طلوع الشمس۔ وفی السراج الوھاج : حدالاسفار ان یصلی فی النصف الثانی ولایخفی ان الحاج بمزدلفۃ لایؤخرھا۔ وفی المبتغی بالغین المعجمۃ الافضل للمرأۃ فی الفجر الغلس وفی غیرھا الانتظار الی فراغ الرجال عن الجماعۃ ۔ انتھی مافی البحر۔ وفی الدرالمختار : والمستحب للرجل الابتداء فی الفجر باسفار والختم بہ ھوالمختار بحیث یرتل اربعین ایۃ ثم یعیدہ بطھارۃ لوفسد۔ وقیل : یؤخرجدا لان الفساد موھوم الالحاج بمزدلفۃ فالتغلیس افضل کمرأۃ مطلقا ۔
غنیۃ المستملی میں علامہ حلبی نے بدائع سے یہ اثر نقل کیا ہے کہ اس کی مقدار (یعنی تغلیس کی) یہ ہے کہ وقت فجر کے پہلے نصف تک۔ اسی میں فتاوی خانیہ سے منقول ہے کہ شمس الائمہ حلوائی اور قاضی امام ابوعلی نسفی کے بقول تنویر کی مقدار یہ ہے کہ نماز سفیدی پھیلنے کے بعد اس وقت شروع کرے کہ اگر فجر کی نماز قرأۃ مسنونہ سے پڑھے اور جب نماز سے فارغ ہو تو یاد آئے کہ طہارت میں سہو ہوگیا تھا تو (اتنا وقت باقی ہوکہ) وضو کرکے طلوع سے پہلے دوبارہ نماز پڑھ سکے جیسا کہ ابوبکر وعمر رضی اللہ تعالی عنہمانے کیا تھا۔ محیط رضی الدین خلاصہ اور کافی وغیرہ میں بھی اسی کے مطابق ہے۔ انتہی۔
میں نے کہا اسی کے مطابق فتاوی قاضی خان میں بھی ہے اور عالمگیری میں بھی تبیین سے منقول ہے۔ اور بعض نے کہا ہے کہ (نماز فجر میں ) بہت زیادہ تاخیر کرے کیونکہ (نماز کے بعد طہارت میں غلطی رہ جانے کا خیال آنا اور اس طرح) نماز کا فاسد ہونا محض فرضی صورت ہے
قلت : ومثلہ فی فتاوی قاضی خان ونحوہ فی الفتاوی العالمگیریۃ عن التبیین۔ وقیل : یؤخرھا جدا لان الفساد موھوم فلم یترك المستحب لاجلہ۔ وقیل : حدہ ان یری مواضع النبل۔ ثم کمافی محیط رضی الدین وغیرہ لایؤخرھا تاخیرا یقع الشك فی طلوع الشمس ۔ انتھی ملخصا۔ وفی البحرالرائق قالوا : یسفربھا بحیث لوظھر فساد صلاتہ ہمکنہ ان یعیدھا فی الوقت بقرأۃ مستحبۃ۔ وقیل : یؤخرھا جدا لان الفساد موھوم فلایترك المستحب لاجلہ۔ وھوظاھر اطلاق الکتاب (یعنی الکنز حیث قال : وندب تاخیر الفجر ولم یقید بشیئ) لکن لایؤخرھا بحیث یقع الشك فی طلوع الشمس۔ وفی السراج الوھاج : حدالاسفار ان یصلی فی النصف الثانی ولایخفی ان الحاج بمزدلفۃ لایؤخرھا۔ وفی المبتغی بالغین المعجمۃ الافضل للمرأۃ فی الفجر الغلس وفی غیرھا الانتظار الی فراغ الرجال عن الجماعۃ ۔ انتھی مافی البحر۔ وفی الدرالمختار : والمستحب للرجل الابتداء فی الفجر باسفار والختم بہ ھوالمختار بحیث یرتل اربعین ایۃ ثم یعیدہ بطھارۃ لوفسد۔ وقیل : یؤخرجدا لان الفساد موھوم الالحاج بمزدلفۃ فالتغلیس افضل کمرأۃ مطلقا ۔
غنیۃ المستملی میں علامہ حلبی نے بدائع سے یہ اثر نقل کیا ہے کہ اس کی مقدار (یعنی تغلیس کی) یہ ہے کہ وقت فجر کے پہلے نصف تک۔ اسی میں فتاوی خانیہ سے منقول ہے کہ شمس الائمہ حلوائی اور قاضی امام ابوعلی نسفی کے بقول تنویر کی مقدار یہ ہے کہ نماز سفیدی پھیلنے کے بعد اس وقت شروع کرے کہ اگر فجر کی نماز قرأۃ مسنونہ سے پڑھے اور جب نماز سے فارغ ہو تو یاد آئے کہ طہارت میں سہو ہوگیا تھا تو (اتنا وقت باقی ہوکہ) وضو کرکے طلوع سے پہلے دوبارہ نماز پڑھ سکے جیسا کہ ابوبکر وعمر رضی اللہ تعالی عنہمانے کیا تھا۔ محیط رضی الدین خلاصہ اور کافی وغیرہ میں بھی اسی کے مطابق ہے۔ انتہی۔
میں نے کہا اسی کے مطابق فتاوی قاضی خان میں بھی ہے اور عالمگیری میں بھی تبیین سے منقول ہے۔ اور بعض نے کہا ہے کہ (نماز فجر میں ) بہت زیادہ تاخیر کرے کیونکہ (نماز کے بعد طہارت میں غلطی رہ جانے کا خیال آنا اور اس طرح) نماز کا فاسد ہونا محض فرضی صورت ہے
حوالہ / References
التعلیق المجلیج لمافی منیۃ المصلی مع منیۃ المصلی ، شرط خامس الوقت ، مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص ۶۰۶
نوٹ : اعلحٰضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ففی غنیۃ المستملی فرماکر منیۃ المصلی کی شرح حلبی کبیر کی طرف اشارہ کیا ہے ، فقیر نے حلبی کبیر کو کافی کوشش کے ساتھ دیکھا ہے۔ اس میں یہ عبارت نہیں مل سکی ، ہوسکتا ہے کاتب کی غلطی سے غنیۃ المستملی لکھا گیا ہو اصل لفظ حلیۃ المجلی ہو ، کیونکہ التعلیق المجلی جو منیۃ المصلی کی شرح پر ایك حاشیہ ہے۔ اس میں یہ عبارت حلیۃ المحلی کے حوالہ سے ملی ہے اور چونکہ حلیۃ المجلی بھی اس وقت دستیاب نہیں ۔ اسی لئے التعلیق المحلی سے حوالہ نقل کیا ہے۔ (نذیر احمد سعیدی)
التعلیق المجلی لمافی منیۃ المصلی مع منیۃ المصلی ، شرط خامس الوقت ، مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص ۲۰۶
البحرالرائق کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۴۷
درمختار کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۶۰
نوٹ : اعلحٰضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ففی غنیۃ المستملی فرماکر منیۃ المصلی کی شرح حلبی کبیر کی طرف اشارہ کیا ہے ، فقیر نے حلبی کبیر کو کافی کوشش کے ساتھ دیکھا ہے۔ اس میں یہ عبارت نہیں مل سکی ، ہوسکتا ہے کاتب کی غلطی سے غنیۃ المستملی لکھا گیا ہو اصل لفظ حلیۃ المجلی ہو ، کیونکہ التعلیق المجلی جو منیۃ المصلی کی شرح پر ایك حاشیہ ہے۔ اس میں یہ عبارت حلیۃ المحلی کے حوالہ سے ملی ہے اور چونکہ حلیۃ المجلی بھی اس وقت دستیاب نہیں ۔ اسی لئے التعلیق المحلی سے حوالہ نقل کیا ہے۔ (نذیر احمد سعیدی)
التعلیق المجلی لمافی منیۃ المصلی مع منیۃ المصلی ، شرط خامس الوقت ، مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص ۲۰۶
البحرالرائق کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۴۷
درمختار کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۶۰
اس لئے اس کی وجہ سے مستحب (تنویر) کو نہیں چھوڑا جاسکتا۔ اور بعض نے کہا ہے کہ اتنی تنویر ہونی چاہئے کہ تیر گرنے کی جگہ نظر آسکے۔ پھر جیسا کہ محیط وغیرہ میں ہے۔ یہ خیال رکھے اتنی تاخیر نہ ہونے پائے کہ سورج طلوع ہونے کا شك ہونے لگے۔ انتہی ملخصا۔ اور بحرالرائق میں ہے علماء نے کہا ہے کہ اتنی تنویر کرے کہ اگر (نماز کے بعد) نماز کے فاسد ہونے کا پتہ چلے تو قرأت مستحبہ کے ساتھ اسی وقت میں لوٹا سکے۔ اور بعض نے کہا کہ بہت تاخیر کرے کیونکہ (اس طرح نماز کا) فاسد ہونا ایك مفروضہ ہے اس کی وجہ سے مستحب کو نہیں چھوڑنا چاہئے۔ کتاب کے اطلاق سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے (کتاب سے مراد کنز ہے کیونکہ اس نے کہا ہے کہ فجر کی تاخیر مستحب ہے اور کوئی قید نہیں لگائی) لیکن اتنی تاخیر بہرحال نہ کرے کہ سورج چڑھ جانے کا شك ہونے لگے۔ اور السراج الوہاج میں ہے کہ تنویر کی مقدار یہ ہے کہ وقت کے نصف ثانی میں پڑھے لیکن واضح رہے کہ مزدلفہ میں حاجی تاخیر نہ کرے۔ اور مبتغی میں ہے کہ عورت کے لئے صبح میں تغلیس بہتر ہے اور دیگر نمازوں میں لوگوں کے جماعت سے فارغ ہونے تك انتظار بہتر ہے۔ انتہی مافی البحر۔
اور درمختار میں ہے کہ مرد کے لئے مستحب یہ ہے کہ صبح
اور درمختار میں ہے کہ مرد کے لئے مستحب یہ ہے کہ صبح
کی نماز شروع بھی تنویر میں کرے اور ختم بھی تنویر میں کرے۔ یہی مختار ہے اس طرح کہ اس میں چالیس۴۰ آیتیں ترتیل سے پڑھے اور بعد میں اگر فاسد ہونے کا پتہ چلے تو وضو کرکے لوٹا سکے اور بعض نے کہا ہے کہ بہت مؤخر کرے کیونکہ ایسا فاسد ہونا موہوم ہے البتہ مزدلفہ میں حاجی کہلئے تغلیس بہتر ہے جیسا کہ عورت کے لئے ہر جگہ تغلیس بہتر ہے۔ (ت)
اس شخص کا اول وقت اندھیرے میں نماز پڑھنا سنت کی مخالفت کرنا ہے اور ان کو اس کی تاکید کرنی مخالف سنت کی طرف بلانا ہے اور یہ کہنا کہ روشنی میں نماز مکروہ ہوتی ہے سنت کو مکروہ کہنا اور شریعت مطہرہ پر بہتان اٹھانا ہے الله تعالی ہدایت دے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ (۳۱۶) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وقت مستحب ظہر کا گرما میں کیا ہے اور جو شخص موسم مذکور میں بعد زوال اول وقت نماز ظہر پڑھے اور لوگوں کو بھی تاکید کرے کہ وقت اولی یہی ہے آیا وہ شخص حق پر ہے یا ناحق پر بینوا توجروا۔
الجواب :
موسم گرما میں ظہر کا ابراد کرکے پڑھنا مستحب ہے تمام کتب حنفیہ میں یہ معنی مصرح ہے اور اول وقت میں پڑھنا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے حکم اقدس سے عدول۔ حضور فرماتے ہیں :
اذا اشتد الحر فابردوا بالظھر فان شدۃ الحر من فیح جھنم ۔ متفق علیہ۔
جب گرمی سخت ہوتو ظہر کو ٹھنڈا کروکہ شدت گرمی وسعت دم دوزخ سے ہے۔
اور بخاری ونسائی انس رضی اللہ تعالی عنہسے راوی واللفظ للنسائی قال :
کان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اذاکان الحرابرد الصلاۃ واذاکان البرد عجل ۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجب گرمی ہو تی تو نماز ٹھنڈی کرتے اور جب سردی ہوتی تعجیل فرماتے۔
اور بخاری مسلم ابوداود ابن ماجہ نے سیدنا ابی ذر رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی قال :
اذن مؤذن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم الظہر فقال : ابرد ابرد اوقال : انتظر انتظر وقال : شدۃالحرمن فیح جہنم فاذااشتدالحر فا بردواعن الصلاۃ۔ حتی رأینا فیئ التلول ۔
یعنی مؤذن نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے اذان ظہر
اس شخص کا اول وقت اندھیرے میں نماز پڑھنا سنت کی مخالفت کرنا ہے اور ان کو اس کی تاکید کرنی مخالف سنت کی طرف بلانا ہے اور یہ کہنا کہ روشنی میں نماز مکروہ ہوتی ہے سنت کو مکروہ کہنا اور شریعت مطہرہ پر بہتان اٹھانا ہے الله تعالی ہدایت دے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ (۳۱۶) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وقت مستحب ظہر کا گرما میں کیا ہے اور جو شخص موسم مذکور میں بعد زوال اول وقت نماز ظہر پڑھے اور لوگوں کو بھی تاکید کرے کہ وقت اولی یہی ہے آیا وہ شخص حق پر ہے یا ناحق پر بینوا توجروا۔
الجواب :
موسم گرما میں ظہر کا ابراد کرکے پڑھنا مستحب ہے تمام کتب حنفیہ میں یہ معنی مصرح ہے اور اول وقت میں پڑھنا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے حکم اقدس سے عدول۔ حضور فرماتے ہیں :
اذا اشتد الحر فابردوا بالظھر فان شدۃ الحر من فیح جھنم ۔ متفق علیہ۔
جب گرمی سخت ہوتو ظہر کو ٹھنڈا کروکہ شدت گرمی وسعت دم دوزخ سے ہے۔
اور بخاری ونسائی انس رضی اللہ تعالی عنہسے راوی واللفظ للنسائی قال :
کان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اذاکان الحرابرد الصلاۃ واذاکان البرد عجل ۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجب گرمی ہو تی تو نماز ٹھنڈی کرتے اور جب سردی ہوتی تعجیل فرماتے۔
اور بخاری مسلم ابوداود ابن ماجہ نے سیدنا ابی ذر رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی قال :
اذن مؤذن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم الظہر فقال : ابرد ابرد اوقال : انتظر انتظر وقال : شدۃالحرمن فیح جہنم فاذااشتدالحر فا بردواعن الصلاۃ۔ حتی رأینا فیئ التلول ۔
یعنی مؤذن نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے اذان ظہر
حوالہ / References
صحیح لمسلم استحباب الابراد بالظہر فی شدۃ الحر الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۲۴
سنن النسائی تعجیل الظہر فے البرد مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۵۸
سنن ابی داود وقت صلوٰۃ الظہر آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۵۸
سنن النسائی تعجیل الظہر فے البرد مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۵۸
سنن ابی داود وقت صلوٰۃ الظہر آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۵۸
دی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ارشاد فرمایا : ٹھنڈا کر ٹھنڈا کر یا فرمایا : انتظار کر انتظار کر اور فرمایا سختی گرما جہنم کی وسعت نفس سے ہے تو جب گرمی زائد ہو نماز ٹھنڈی کرو یہاں تك کہ ہم نے دیکھا ٹیلوں کا سایہ۔
دوسرے طریق میں ہے :
کنامع النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فی السفرفارادالمؤذن ان یؤذن الظھر فقال النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ابرد ثم اراد ان یؤذن فقال لہ ابرد حتی رأینا فیئ التلول الحدیث۔
ہم نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ساتھ سفر میں تھے مؤذن نے اذان کا ارادہ کیا کہ ظہر کی اذان دے حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ارشاد فرمایا : ٹھنڈاکر پھر چاہا کہ اذان دے پھر فرمایا : ٹھنڈا کر یہاں تك کہ ہم نے ٹیلوں کے سائے دیکھے۔
اور مسلم میں ابراہیم کے طریق میں شعبہ سے مؤذن کا تین بار ارادہ اور حضور کا یہی حکم فرمانا وارد ہوا قلت ومسلم ثقۃ فزیادتہ مقبولۃ (میں نے کہا مسلم ثقہ ہے اس لئے اس کا اضافہ مقبول ہے۔ ت)
اقول : اب یہاں سے مبالغہ تاخیر کا اندازہ کرنا چاہئے کہ مؤذن نے تین بار اذان کا ارادہ کیا اور ہر دفعہ ابراد کا حکم ہوا اور یقینا معلوم ہے کہ ہر دوا ارادوں میں اس قدر فاصلہ ضرور تھا جس کو ابراد کہہ سکییں اور وہ وقت بہ نسبت پہلے وقت کے ٹھنڈا ہو ورنہ لازم آئے کہ سیدنا بلال رضی اللہ تعالی عنہنے تعمیل حکم نہ کی اور جب اذان میں یہ تاخیر ہوئی تو نماز تو اور بھی دیر میں ہوئی ہوگی۔ علما فرماتے ہیں ٹیلے غالبا بسیط اور پھیلے ہوئے ہوتے ہیں کہ ان کا سایہ دوپہر کے بہت دیر بعد ظاہر ہوتابخلاف اشیائے مستطیلہ مانند منار ودیوار وغیرہما امام ہمام احمد بن محمد خطیب قسطلانی ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں : ٹیلوں کا سایہ ظاہر نہیں ہوتا مگر جب اکثر وقت ظہر کا جاتا رہے ابوداؤد ونسائی حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کرتے ہیں
قال : کان قدر صلاۃ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم الظھر فی الصیف ثلثۃ اقدام الی خمسۃ اقدام ۔
گرمی میں نماز حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی مقدار تین قدم سے پانچ قدم
دوسرے طریق میں ہے :
کنامع النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فی السفرفارادالمؤذن ان یؤذن الظھر فقال النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ابرد ثم اراد ان یؤذن فقال لہ ابرد حتی رأینا فیئ التلول الحدیث۔
ہم نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ساتھ سفر میں تھے مؤذن نے اذان کا ارادہ کیا کہ ظہر کی اذان دے حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ارشاد فرمایا : ٹھنڈاکر پھر چاہا کہ اذان دے پھر فرمایا : ٹھنڈا کر یہاں تك کہ ہم نے ٹیلوں کے سائے دیکھے۔
اور مسلم میں ابراہیم کے طریق میں شعبہ سے مؤذن کا تین بار ارادہ اور حضور کا یہی حکم فرمانا وارد ہوا قلت ومسلم ثقۃ فزیادتہ مقبولۃ (میں نے کہا مسلم ثقہ ہے اس لئے اس کا اضافہ مقبول ہے۔ ت)
اقول : اب یہاں سے مبالغہ تاخیر کا اندازہ کرنا چاہئے کہ مؤذن نے تین بار اذان کا ارادہ کیا اور ہر دفعہ ابراد کا حکم ہوا اور یقینا معلوم ہے کہ ہر دوا ارادوں میں اس قدر فاصلہ ضرور تھا جس کو ابراد کہہ سکییں اور وہ وقت بہ نسبت پہلے وقت کے ٹھنڈا ہو ورنہ لازم آئے کہ سیدنا بلال رضی اللہ تعالی عنہنے تعمیل حکم نہ کی اور جب اذان میں یہ تاخیر ہوئی تو نماز تو اور بھی دیر میں ہوئی ہوگی۔ علما فرماتے ہیں ٹیلے غالبا بسیط اور پھیلے ہوئے ہوتے ہیں کہ ان کا سایہ دوپہر کے بہت دیر بعد ظاہر ہوتابخلاف اشیائے مستطیلہ مانند منار ودیوار وغیرہما امام ہمام احمد بن محمد خطیب قسطلانی ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں : ٹیلوں کا سایہ ظاہر نہیں ہوتا مگر جب اکثر وقت ظہر کا جاتا رہے ابوداؤد ونسائی حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کرتے ہیں
قال : کان قدر صلاۃ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم الظھر فی الصیف ثلثۃ اقدام الی خمسۃ اقدام ۔
گرمی میں نماز حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی مقدار تین قدم سے پانچ قدم
حوالہ / References
سنن ابی داود وقت صلوٰۃ الظہر آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۵۸
سنن النسائی باب الابراد بالظہر مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۵۹
سنن النسائی باب الابراد بالظہر مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۵۹
تك تھے۔
یعنی جب سایہ ہر چیز کا اس کے ساتویں حصہ کے تین یا پانچ مثل ہوجاتا تو حضور پرنور نماز ادا فرماتے اور معلوم ہے کہ حرمین شریفین زادہما الله تعالی شرفا میں گرمی کے موسم میں اس قدر سایہ نہایت دیر میں واقع ہوگا کہ وہاں سایہ اصلی اس موسم میں نہایت قلت پر ہوتا ہے بعض اوقات میں دو۲ انگل سے زائد نہیں پڑتا اور مکہ معظمہ میں تو بعض اوقات یعنی آفتاب سمت الراس پر گزرے مطلقا نہیں ہوتا یہ بات وہاں اس وقت ہوتی ہے جب آفتاب ہشتم جوزا یابست ودوم سرطان پر ہو یعنی ۳۰ مئی اور ۲۴ جولائی
اخرج ابوداود والترمذی عن ابن عباس رضی الله تعالی عنھما قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم : امنی جبریل عندالبیت مرتین فصلی بی الظھر حین زالت الشمس وکانت قدر الشراك الحدیث۔ وفی البحرالرائق عن المبسوط واعلم ان لکل شیئ ظلا وقت الزوال الابمکۃ والمدینۃ فی اطول ایام السنۃ لان الشمس فیھا تاخذ الحیطان الاربعۃ اھ
اقول : وکانہ رحمہ اللہ اطلق العدم واراد القلۃ والا فالمدینۃ الطیبۃ عرضھا “ الہ حہ “ زائد ا علی المیل کلی بدرجۃ وثلث وثلثین دقیقۃ فکیف ینعدم فیھاالظلومکۃ عرضھا “ کام حہ “ اقل من المیل الاعظم بدرجۃ وسبع واربعین دقیقۃ فلاینعدم فیھا الظل فی اطول الایام بل یکون جنوبیا وانما ینعدم حیث ذکرنا۔ والله تعالی اعلم۔
ابوداود وترمذی نے ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا کہ جبریل بیت الله کے پاس دو۲ مرتبہ میرے امام بنے تو ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب سورج ڈھل گیا اور سایہ تسمے جتنا ہوگیا الحدیث۔ اور بحرالرائق میں مبسوط سے منقول ہے کہ جن لو زوال کے وقت ہر چیز کا سایہ ہوتا ہے مگر سال کے سب سے طویل دن میں مکہ اور مدینہ میں سایہ نہیں ہوتا کیونکہ ان دنوں سورج چاروں دیواروں پر پڑرہا ہوتا ہے اھ۔
میں کہتا ہوں : یوں لگتا ہے کہ صاحب مبسوط رحمۃ اللہ تعالی علیہنے سایہ نہ ہونے سے مراد سایہ تھوڑا ہونا لیا ہے ورنہ مدینہ طیبہ کا عرض “ الہ “ ہے جو میل کلی سے ایك درجہ اور تینتیس دقیقہ زائد ہے تو وہاں سایہ کیسے معدوم ہوسکتا ہےاور مکہ کا عرض “ کام حہ “ ہے جو میل اعظم سے ایك درجہ اور سینتالیس دقیقہ کم ہے اس لئے سب سے طویل دن میں
یعنی جب سایہ ہر چیز کا اس کے ساتویں حصہ کے تین یا پانچ مثل ہوجاتا تو حضور پرنور نماز ادا فرماتے اور معلوم ہے کہ حرمین شریفین زادہما الله تعالی شرفا میں گرمی کے موسم میں اس قدر سایہ نہایت دیر میں واقع ہوگا کہ وہاں سایہ اصلی اس موسم میں نہایت قلت پر ہوتا ہے بعض اوقات میں دو۲ انگل سے زائد نہیں پڑتا اور مکہ معظمہ میں تو بعض اوقات یعنی آفتاب سمت الراس پر گزرے مطلقا نہیں ہوتا یہ بات وہاں اس وقت ہوتی ہے جب آفتاب ہشتم جوزا یابست ودوم سرطان پر ہو یعنی ۳۰ مئی اور ۲۴ جولائی
اخرج ابوداود والترمذی عن ابن عباس رضی الله تعالی عنھما قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم : امنی جبریل عندالبیت مرتین فصلی بی الظھر حین زالت الشمس وکانت قدر الشراك الحدیث۔ وفی البحرالرائق عن المبسوط واعلم ان لکل شیئ ظلا وقت الزوال الابمکۃ والمدینۃ فی اطول ایام السنۃ لان الشمس فیھا تاخذ الحیطان الاربعۃ اھ
اقول : وکانہ رحمہ اللہ اطلق العدم واراد القلۃ والا فالمدینۃ الطیبۃ عرضھا “ الہ حہ “ زائد ا علی المیل کلی بدرجۃ وثلث وثلثین دقیقۃ فکیف ینعدم فیھاالظلومکۃ عرضھا “ کام حہ “ اقل من المیل الاعظم بدرجۃ وسبع واربعین دقیقۃ فلاینعدم فیھا الظل فی اطول الایام بل یکون جنوبیا وانما ینعدم حیث ذکرنا۔ والله تعالی اعلم۔
ابوداود وترمذی نے ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا کہ جبریل بیت الله کے پاس دو۲ مرتبہ میرے امام بنے تو ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب سورج ڈھل گیا اور سایہ تسمے جتنا ہوگیا الحدیث۔ اور بحرالرائق میں مبسوط سے منقول ہے کہ جن لو زوال کے وقت ہر چیز کا سایہ ہوتا ہے مگر سال کے سب سے طویل دن میں مکہ اور مدینہ میں سایہ نہیں ہوتا کیونکہ ان دنوں سورج چاروں دیواروں پر پڑرہا ہوتا ہے اھ۔
میں کہتا ہوں : یوں لگتا ہے کہ صاحب مبسوط رحمۃ اللہ تعالی علیہنے سایہ نہ ہونے سے مراد سایہ تھوڑا ہونا لیا ہے ورنہ مدینہ طیبہ کا عرض “ الہ “ ہے جو میل کلی سے ایك درجہ اور تینتیس دقیقہ زائد ہے تو وہاں سایہ کیسے معدوم ہوسکتا ہےاور مکہ کا عرض “ کام حہ “ ہے جو میل اعظم سے ایك درجہ اور سینتالیس دقیقہ کم ہے اس لئے سب سے طویل دن میں
حوالہ / References
سنن ابی داؤد باب المواقیت آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۵۶
البحرالرائق کتاب الصلوٰہ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۴۵
البحرالرائق کتاب الصلوٰہ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۴۵
وہاں سایہ معدوم نہیں ہوتا بلکہ جنوبی طرف ہوتا ہے۔ معدوم ہونے کا وقت وہ ہے جو ہم ذکر کر آئے ہیں (یعنی جب آفتاب سمت الرأس پر گزرے)۔ (ت)
اور حدابراد فصل شریف رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے باحادیث سیدنا ابی ذر وسیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہمامعلوم ہوچکی مگر سایہ کا حال اختلاف بلاد سے مختلف ہوتا ہے اور فقہ میں اس کی یہ حد ذکر کی گئی کہ سائے سائے میں مسجد تك چلاآئے فی الدرالمختار وتاخیر الصیف بحیث یمشی فی الظل اور اسی طرح ایك حدیث میں وارد ہوا اور بحرالرائق میں ہے کہ قبل اس کے کہ سایہ ایك مثل کو پہنچے ادا کرے حیث قال وحدہ ان یصلی قبل المثل شاید یہ اس پر مبنی ہے کہ انتہائے وقت ظہر میں علما مختلف ہیں امام کے نزدیك دو۲ مثل اور صاحبین کے نزدیك ایك مثل معتبر ہے تو بہتر یہ ہے کہ ایك مثل تك ادا ہوجائے ورنہ ہدایہ میں تصریح کرتے ہیں کہ ظہر میں ابراد کا حکم ہے اور حرمین شریفین میں جب سایہ ایك مثل کو پہنچتا ہے عین اشتداد گرمی کا وقت ہوتا ہے۔ والله تعالی اعلم۔
____________________
اور حدابراد فصل شریف رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے باحادیث سیدنا ابی ذر وسیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہمامعلوم ہوچکی مگر سایہ کا حال اختلاف بلاد سے مختلف ہوتا ہے اور فقہ میں اس کی یہ حد ذکر کی گئی کہ سائے سائے میں مسجد تك چلاآئے فی الدرالمختار وتاخیر الصیف بحیث یمشی فی الظل اور اسی طرح ایك حدیث میں وارد ہوا اور بحرالرائق میں ہے کہ قبل اس کے کہ سایہ ایك مثل کو پہنچے ادا کرے حیث قال وحدہ ان یصلی قبل المثل شاید یہ اس پر مبنی ہے کہ انتہائے وقت ظہر میں علما مختلف ہیں امام کے نزدیك دو۲ مثل اور صاحبین کے نزدیك ایك مثل معتبر ہے تو بہتر یہ ہے کہ ایك مثل تك ادا ہوجائے ورنہ ہدایہ میں تصریح کرتے ہیں کہ ظہر میں ابراد کا حکم ہے اور حرمین شریفین میں جب سایہ ایك مثل کو پہنچتا ہے عین اشتداد گرمی کا وقت ہوتا ہے۔ والله تعالی اعلم۔
____________________
حوالہ / References
دُرمختار کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۶۰
البحرالرائق کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۴۷
البحرالرائق کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۴۷
فصل فی اماکن الصلوۃ
مسئلہ (۳۱۷) از مقام چتورگڑھ علاقہ ادیپور مسئولہ مولوی عبدالکریم صاحب بتاریخ ۱۶ ربیع الاول شریف بروز سہ شنبہ ۱۳۲۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کو ایسی جگہ نماز کا وقت آیا کہ دور دور تك زمین تر اور ناپاك ہے اگر سجدہ کرتا ہے تو کپڑے تر ہوکر ناپاك ہوتے ہیں اور کوئی ایسی چیز نہیں کہ نیچے بچھا کر اس پر کپڑا پاك ڈال کر نماز پڑھے تو ایسی صورت میں کس طرح نماز ادا کرے اشارہ سے یا سجدہ ورکوع سے۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
شرع مطہر کسی وقت کسی سوال کے جواب سے عاجز نہیں مگر ایسی صورت میں قبل ازوقوع بے اندیشہ صحیحہ وقوع فرض کرکے سوال کرنا وبال لانا ہے اور کبھی اسے مشکل میں مبتلا کردینا ہے حدیث میں ہے :
نھی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم عن نفل المسائل ۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے بے ضرورت مسائل پوچھنے سے منع کیا ہے۔ (ت)
رہا سوال کا جواب وہ قرآن مجید میں موجود ہے کہ :
لا یكلف الله نفسا الا وسعها-
(الله تعالی کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں بناتا۔ ت)
مسئلہ (۳۱۷) از مقام چتورگڑھ علاقہ ادیپور مسئولہ مولوی عبدالکریم صاحب بتاریخ ۱۶ ربیع الاول شریف بروز سہ شنبہ ۱۳۲۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کو ایسی جگہ نماز کا وقت آیا کہ دور دور تك زمین تر اور ناپاك ہے اگر سجدہ کرتا ہے تو کپڑے تر ہوکر ناپاك ہوتے ہیں اور کوئی ایسی چیز نہیں کہ نیچے بچھا کر اس پر کپڑا پاك ڈال کر نماز پڑھے تو ایسی صورت میں کس طرح نماز ادا کرے اشارہ سے یا سجدہ ورکوع سے۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
شرع مطہر کسی وقت کسی سوال کے جواب سے عاجز نہیں مگر ایسی صورت میں قبل ازوقوع بے اندیشہ صحیحہ وقوع فرض کرکے سوال کرنا وبال لانا ہے اور کبھی اسے مشکل میں مبتلا کردینا ہے حدیث میں ہے :
نھی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم عن نفل المسائل ۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے بے ضرورت مسائل پوچھنے سے منع کیا ہے۔ (ت)
رہا سوال کا جواب وہ قرآن مجید میں موجود ہے کہ :
لا یكلف الله نفسا الا وسعها-
(الله تعالی کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں بناتا۔ ت)
حوالہ / References
القرآن ۲ / ۲۸۶
فاتقوا الله ما استطعتم (جہاں تك ہوسکے الله سے ڈرو۔ ت) و ما جعل علیكم فی الدین من حرج- (اس نے تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں کی۔ ت) نماز کھڑے کھڑے اشارے سے پڑھے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۱۸) مسئولہ محمد خان نمبردار بڑودہ ڈاك خانہ پنڈراول ضلع بلند شہر یك شنبہ ۱۶ شعبان المعظم ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ موضع بڑودہ ضلع بلند شہر میں کوئی عید گاہ نہیں ہے عرصہ تخمینا ۸ سال کا ہوا جب میں نے آبادی دیہہ جانب اتر جنگل اوسر بملکیت خود میں نے ایك چونترہ خام واسطے عیدگاہ کے بنوایا تھاجس کی بنیاد جناب مولنا بہاء الدین شاہ صاحب ساکن مرشد آباد نے رکھی تھی اس جنگل اوسر میں جگہ عیدگاہ ومتصل چونترہ عیدگاہ اہل ہنود کے مردے جلاکرتے تھے جب چونترہ عیدگاہ قائم ہوگیا تو اہل ہنود نے دوسری جگہ مردے جلانے شروع کردیے اب بعض اشخاص اس بات پر اعتراض کرتے ہیں کہ مرگھٹ قبر کی تعریف میں نہیں آتاہے کیونکہ ہوا وبارش سے ہڈیاں وخاك بہہ جاتی ہے اور قبر کے اندر مردہ دفن ہوتا ہے امید کہ جواب سے معزز فرمایا جائے۔
الجواب :
اگر چوترہ ایسی مٹی سے بنایا گیا جس میں مردہ ہندووں کی نجاست نہ تھی یا اس زمین کی مٹی جہاں تك ان کی نجاستیں تھیں کھود کر پھنکوادی پھر اس زمین ہی کو نماز کے لئے کردیا تو اس میں کوئی حرج نہیں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے جب مسجد مدینہ طیبہ بنا فرمائی وہ ایك نخلستان تھا جس میں مشرکین دفن ہوتے تھے فامر بقبور المشرکین حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے حکم دیا مشرکوں کی قبریں کھود کر وہ نجس مٹی پھینك دی گئی پھر وہاں مسجد کریم تعمیر فرمائی کما فی صحیح البخاری وغیرہ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۱۹)مسئولہ شمشیر خاں درگارہ جیلانی موضع بڑودہ ضلع بلند شہر معرفت مولوی اسمعیل صاحب محمود آبادی سہ شنبہ ۲۳ رمضان شریف ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں حضرات علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ ایك چبوترہ کو جس میں ہڈیاں تك مشرکین کی نظر آتی ہیں اسے چھوڑ کر جدید عیدگاہ میں نماز ادا کرنے سے خاطی وگنہ گار تو نہ ہوں گے اختلاف اس
مسئلہ (۳۱۸) مسئولہ محمد خان نمبردار بڑودہ ڈاك خانہ پنڈراول ضلع بلند شہر یك شنبہ ۱۶ شعبان المعظم ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ موضع بڑودہ ضلع بلند شہر میں کوئی عید گاہ نہیں ہے عرصہ تخمینا ۸ سال کا ہوا جب میں نے آبادی دیہہ جانب اتر جنگل اوسر بملکیت خود میں نے ایك چونترہ خام واسطے عیدگاہ کے بنوایا تھاجس کی بنیاد جناب مولنا بہاء الدین شاہ صاحب ساکن مرشد آباد نے رکھی تھی اس جنگل اوسر میں جگہ عیدگاہ ومتصل چونترہ عیدگاہ اہل ہنود کے مردے جلاکرتے تھے جب چونترہ عیدگاہ قائم ہوگیا تو اہل ہنود نے دوسری جگہ مردے جلانے شروع کردیے اب بعض اشخاص اس بات پر اعتراض کرتے ہیں کہ مرگھٹ قبر کی تعریف میں نہیں آتاہے کیونکہ ہوا وبارش سے ہڈیاں وخاك بہہ جاتی ہے اور قبر کے اندر مردہ دفن ہوتا ہے امید کہ جواب سے معزز فرمایا جائے۔
الجواب :
اگر چوترہ ایسی مٹی سے بنایا گیا جس میں مردہ ہندووں کی نجاست نہ تھی یا اس زمین کی مٹی جہاں تك ان کی نجاستیں تھیں کھود کر پھنکوادی پھر اس زمین ہی کو نماز کے لئے کردیا تو اس میں کوئی حرج نہیں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے جب مسجد مدینہ طیبہ بنا فرمائی وہ ایك نخلستان تھا جس میں مشرکین دفن ہوتے تھے فامر بقبور المشرکین حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے حکم دیا مشرکوں کی قبریں کھود کر وہ نجس مٹی پھینك دی گئی پھر وہاں مسجد کریم تعمیر فرمائی کما فی صحیح البخاری وغیرہ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۱۹)مسئولہ شمشیر خاں درگارہ جیلانی موضع بڑودہ ضلع بلند شہر معرفت مولوی اسمعیل صاحب محمود آبادی سہ شنبہ ۲۳ رمضان شریف ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں حضرات علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ ایك چبوترہ کو جس میں ہڈیاں تك مشرکین کی نظر آتی ہیں اسے چھوڑ کر جدید عیدگاہ میں نماز ادا کرنے سے خاطی وگنہ گار تو نہ ہوں گے اختلاف اس
حوالہ / References
القرآن ۶۴ / ۱۶
القرآن ۲۲ / ۷۸
صحیح البخاری باب ہل ینبش قبور مشرکین الجاہلیۃ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۶۱
القرآن ۲۲ / ۷۸
صحیح البخاری باب ہل ینبش قبور مشرکین الجاہلیۃ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۶۱
چبوترہ پر نماز ادا کرنے سے اکثر لوگوں کو ہے بلکہ کئی سال ہوئے جب سے چبوترہ بنایا گیا اکثر مسلمان دوسری جگہ نماز پڑھنے جاتے تھے اس سال سبھوں نے مل کر عیدگاہ پختہ بنوانا شروع کردی جیسا ارشاد ہو عمل کیا جائے بینوا توجروا۔
الجواب :
۱۶ شعبان کو یہ سوال آیا تھا جواب دیا گیا کہ اگر چبوترہ کی مٹی میں نجاست کی آمیزش نہیں یا زمین ہی کھود کر ان نجاستوں سے پاك کردی گئی تو کوئی مضائقہ نہیں اب سوال میں اظہار ہے کہ اس میں مشرکوں کی ہڈیاں تك نظر آتی ہیں ایسی حالت میں اس پر نماز پڑھنا ہی حرام ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۲۰) از ندی پار بتی علاقہ ریاست گوالیار گونا باور ریلوے ڈاك خانہ ندی مذکور مرسلہ سید کرامت علی صاحب محرر منشی محمد امین صاحب ٹھیکیدار ریلوے مذکور۴ رمضان المبارك ۱۳۲۵ھ
بخدمت فیض درجت جناب مولانا ومرشد نامولوی احمد رضا خان صاحب دام اقبالہ بعد السلام علیك واضح رائے شریف ہوکہ بوجہ چند ضروریات کے آپ کو تکلیف دیتا ہوں کہ بنظرتوجہ بزرگانہ جواب سے معزز فرمایا جاؤں اول۱ یہ کہ جس مکان میں کوئی شخص شراب پئے اس میں نماز پڑھنا چاہئے یا نہیں ۔ دوسرے۲ یہ کہ جائے نماز برابر کسی شخص کی چارپائی کے بچھا کر نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں اس صورت میں کہ اس چارپائی پر وہ شخص سوتا ہو یا بیٹھا۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
مکرمی السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ اگر وہ شخص وہاں اس وقت شراب پینے میں مشغول نہیں نہ وہاں شراب کی نجاست ہے تو ایسے وقت وہاں نماز پڑھ لینے میں حرج نہیں اور اگر بالفعل وہ شخص شراب پی رہا ہے تو بلاضرورت وہاں نماز نہ پڑھے کہ شراب خور پر بحکم احادیث صحیحہ لعنت الہی اترتی ہے اور محل نزول لعنت میں نماز نہ پڑھنی چاہئے اس لئے سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے قوم ثمود کی جائے ہلاك میں نماز نہ پڑھی کہ وہاں عذاب نازل ہوا تھا نیز شراب پیتے وقت شیطان حاضر اور اس کا غلبہ واستیلا ظاہر ہے اور محل غلبہ شیطان میں نماز نہ پڑھنی چاہئے اسی لئے حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے شب تعریس جب نماز فجر سوتے میں قضا ہوئی صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمکو حکم فرمایا کہ نماز آگے چل کر پڑھو کہ یہاں تمہارے پاس شیطان حاضر ہوا تھا حالانکہ وہ فوت قصدی نہ تھاسوتے سے آنکھ بحکمت الہی نہ کھلی تھی اور اگر وہ مکان ہی شراب خوری کا ہوکہ فساق فجار اپنایہ مجمع ناجائز وہاں کیا کرتے ہوں جب تو بدرجہ اولی وہاں نماز مکروہ ہے کہ اب وہ مکان حمام سے زیادہ مرجع وماوائے شیاطین ہے اور علماء نے حمام میں کراہت نماز کی یہ وجہ ارشاد فرمائی کہ وہ شیطان کا ماوی ہے
الجواب :
۱۶ شعبان کو یہ سوال آیا تھا جواب دیا گیا کہ اگر چبوترہ کی مٹی میں نجاست کی آمیزش نہیں یا زمین ہی کھود کر ان نجاستوں سے پاك کردی گئی تو کوئی مضائقہ نہیں اب سوال میں اظہار ہے کہ اس میں مشرکوں کی ہڈیاں تك نظر آتی ہیں ایسی حالت میں اس پر نماز پڑھنا ہی حرام ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۲۰) از ندی پار بتی علاقہ ریاست گوالیار گونا باور ریلوے ڈاك خانہ ندی مذکور مرسلہ سید کرامت علی صاحب محرر منشی محمد امین صاحب ٹھیکیدار ریلوے مذکور۴ رمضان المبارك ۱۳۲۵ھ
بخدمت فیض درجت جناب مولانا ومرشد نامولوی احمد رضا خان صاحب دام اقبالہ بعد السلام علیك واضح رائے شریف ہوکہ بوجہ چند ضروریات کے آپ کو تکلیف دیتا ہوں کہ بنظرتوجہ بزرگانہ جواب سے معزز فرمایا جاؤں اول۱ یہ کہ جس مکان میں کوئی شخص شراب پئے اس میں نماز پڑھنا چاہئے یا نہیں ۔ دوسرے۲ یہ کہ جائے نماز برابر کسی شخص کی چارپائی کے بچھا کر نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں اس صورت میں کہ اس چارپائی پر وہ شخص سوتا ہو یا بیٹھا۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
مکرمی السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ اگر وہ شخص وہاں اس وقت شراب پینے میں مشغول نہیں نہ وہاں شراب کی نجاست ہے تو ایسے وقت وہاں نماز پڑھ لینے میں حرج نہیں اور اگر بالفعل وہ شخص شراب پی رہا ہے تو بلاضرورت وہاں نماز نہ پڑھے کہ شراب خور پر بحکم احادیث صحیحہ لعنت الہی اترتی ہے اور محل نزول لعنت میں نماز نہ پڑھنی چاہئے اس لئے سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے قوم ثمود کی جائے ہلاك میں نماز نہ پڑھی کہ وہاں عذاب نازل ہوا تھا نیز شراب پیتے وقت شیطان حاضر اور اس کا غلبہ واستیلا ظاہر ہے اور محل غلبہ شیطان میں نماز نہ پڑھنی چاہئے اسی لئے حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے شب تعریس جب نماز فجر سوتے میں قضا ہوئی صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمکو حکم فرمایا کہ نماز آگے چل کر پڑھو کہ یہاں تمہارے پاس شیطان حاضر ہوا تھا حالانکہ وہ فوت قصدی نہ تھاسوتے سے آنکھ بحکمت الہی نہ کھلی تھی اور اگر وہ مکان ہی شراب خوری کا ہوکہ فساق فجار اپنایہ مجمع ناجائز وہاں کیا کرتے ہوں جب تو بدرجہ اولی وہاں نماز مکروہ ہے کہ اب وہ مکان حمام سے زیادہ مرجع وماوائے شیاطین ہے اور علماء نے حمام میں کراہت نماز کی یہ وجہ ارشاد فرمائی کہ وہ شیطان کا ماوی ہے
کمافی ردالمحتار وغیرہ۔ والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
(۲) اگر کوئی شخص چارپائی پر بیٹھا خواہ لیٹا ہے اور اس طرف اس کی پیٹھ ہے تو اس کے پیچھے جانماز بچھا کر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں اسی طرح اگر اس طرف پیٹھ کیے سورہا ہے جب بھی مضائقہ نہیں مگر سوتے کے پیچھے پڑھنے سے احتراز مناسب ہے دو۲ وجہ سے ایك یہ کہ کیا معلوم اس کے نماز پڑھنے میں وہ اس طرف کروٹ لے اور ادھر اس کا منہ ہوجائے دوسرے محتمل ہے کہ سوتے میں اس سے کوئی ایسی شے صادر ہو جس سے نماز میں اسے ہنسی آجانے کا اندیشہ ہو المسألۃ فی ردالمحتار عن الغنیۃ والوجہ الاول مما زدتہ (یہ مسئلہ درمختار میں غنیہ سے منقول ہے اور پہلی وجہ کا میں نے اضافہ کیا ہے) (ت) والله سبحنہ تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۲۱) از موضع منڈنپور تھانہ ڈاکخانہ میر گنج ضلع بریلی مرسلہ غلام ربانی صاحب زمیندار یکم ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص جنگل میں ہے اور نماز کا وقت ہوگیا تو کھیت یا بنجر ملکیت غیر میں نماز پڑھ لے تو نماز ہوگی یا نہیں اور ٹانڈ پر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں فقط۔
الجواب :
دوسرے کی کھیتی میں نماز پڑھنا ممنوع ہے بے اس کی اجازت صریح کے گنہگار ہوگا مگر نماز ادا ہوجائیگی اور بنجر میں پڑھنے میں کچھ مضائقہ نہیں یونہی وہ کھیت جس میں کھیتی نہ ہو۔ ٹانڈ پر نماز نہیں ہوسکتی مگر اس حالت میں کہ وہ مثل تخت کے ہو مثلا لکڑیاں باندھ کر ان پر تخت رکھ لیے ہوں یاخود تخت ہی باندھ لیا ہو یا ایسا سخت بنا ہوا ہوکہ سجدہ میں سر ٹھہر جائے زور کرنے سے زیادہ نیچا نہ جھکے وھو تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۲۲)از مین پوری مکان مولوی محمد حسن صاحب وکیل مرسلہ شیخ انوارالحسن صاحب ابن مولوی صاحب مذکور۱۱ ذیقعدہ ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چارپائی پر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں اوریہ جو مشہورہے کہ اگلی امتوں میں کچھ لوگ چارپائی پرنمازپڑھنے کے سبب بندرہوگئے یہ بات ثابت ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
اصل ان مسائل میں یہ ہے کہ جو چیز ایسی ہوکہ سجدہ میں سر اس پر مستقر ہوجائے یعنی اس کادبنا ایك حد پر ٹھہر جائے کہ پھر کسی قدر مبالغہ کریں اس سے زائد نہ دبے ایسی چیز پر نماز جائز ہے خواہ وہ چارپائی ہو یا زمین پر رکھا ہوا گاڑی کا کھٹولا یا کوئی شے اور یہ جو جاہلوں میں بلکہ عورتوں میں مشہور ہے کہ اگلی امتوں میں کچھ لوگ چارپائی پر نماز پڑھنے سے مسخ ہوگئے محض غلط وباطل ہے۔ علامہ ابراہیم حلبی غنیہ میں فرماتے ہیں :
(۲) اگر کوئی شخص چارپائی پر بیٹھا خواہ لیٹا ہے اور اس طرف اس کی پیٹھ ہے تو اس کے پیچھے جانماز بچھا کر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں اسی طرح اگر اس طرف پیٹھ کیے سورہا ہے جب بھی مضائقہ نہیں مگر سوتے کے پیچھے پڑھنے سے احتراز مناسب ہے دو۲ وجہ سے ایك یہ کہ کیا معلوم اس کے نماز پڑھنے میں وہ اس طرف کروٹ لے اور ادھر اس کا منہ ہوجائے دوسرے محتمل ہے کہ سوتے میں اس سے کوئی ایسی شے صادر ہو جس سے نماز میں اسے ہنسی آجانے کا اندیشہ ہو المسألۃ فی ردالمحتار عن الغنیۃ والوجہ الاول مما زدتہ (یہ مسئلہ درمختار میں غنیہ سے منقول ہے اور پہلی وجہ کا میں نے اضافہ کیا ہے) (ت) والله سبحنہ تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۲۱) از موضع منڈنپور تھانہ ڈاکخانہ میر گنج ضلع بریلی مرسلہ غلام ربانی صاحب زمیندار یکم ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص جنگل میں ہے اور نماز کا وقت ہوگیا تو کھیت یا بنجر ملکیت غیر میں نماز پڑھ لے تو نماز ہوگی یا نہیں اور ٹانڈ پر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں فقط۔
الجواب :
دوسرے کی کھیتی میں نماز پڑھنا ممنوع ہے بے اس کی اجازت صریح کے گنہگار ہوگا مگر نماز ادا ہوجائیگی اور بنجر میں پڑھنے میں کچھ مضائقہ نہیں یونہی وہ کھیت جس میں کھیتی نہ ہو۔ ٹانڈ پر نماز نہیں ہوسکتی مگر اس حالت میں کہ وہ مثل تخت کے ہو مثلا لکڑیاں باندھ کر ان پر تخت رکھ لیے ہوں یاخود تخت ہی باندھ لیا ہو یا ایسا سخت بنا ہوا ہوکہ سجدہ میں سر ٹھہر جائے زور کرنے سے زیادہ نیچا نہ جھکے وھو تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۲۲)از مین پوری مکان مولوی محمد حسن صاحب وکیل مرسلہ شیخ انوارالحسن صاحب ابن مولوی صاحب مذکور۱۱ ذیقعدہ ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چارپائی پر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں اوریہ جو مشہورہے کہ اگلی امتوں میں کچھ لوگ چارپائی پرنمازپڑھنے کے سبب بندرہوگئے یہ بات ثابت ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
اصل ان مسائل میں یہ ہے کہ جو چیز ایسی ہوکہ سجدہ میں سر اس پر مستقر ہوجائے یعنی اس کادبنا ایك حد پر ٹھہر جائے کہ پھر کسی قدر مبالغہ کریں اس سے زائد نہ دبے ایسی چیز پر نماز جائز ہے خواہ وہ چارپائی ہو یا زمین پر رکھا ہوا گاڑی کا کھٹولا یا کوئی شے اور یہ جو جاہلوں میں بلکہ عورتوں میں مشہور ہے کہ اگلی امتوں میں کچھ لوگ چارپائی پر نماز پڑھنے سے مسخ ہوگئے محض غلط وباطل ہے۔ علامہ ابراہیم حلبی غنیہ میں فرماتے ہیں :
ضابطہ ان لایتسفل بالتسفیل فحینئذ جاز سجودہ علیہ ۔
اس کا ضابطہ یہ ہے کہ اگر دبانے سے نیچے نہ دبے تو اس پر سجدہ جائز ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
تفسیرہ ان المساجد لوبالغ لایتسفل رأسہ ابلغ من ذلک فصح علی طنفسۃ وحصیر وحنطۃ وشعیر وسریر وعجلۃ انکانت علی الارض ۔
اس کی تشریح یہ ہے کہ سجدہ کرنے والا اگر سر کو مزید نیچے کرنا چاہے تو نہ کرسکے اس لئے دبیز کپڑے پر پھوڑی پر گندم پر جوپر تخت پر اور گاڑی پر اگر وہ زمین پر کھڑی ہوتو سجدہ صحیح ہے۔ (ت)
نظر کیجئے تو یہ خاص مسئلہ کا جزیہ ہے زبان عرب میں سریر تخت وچارپائی دونوں کو شامل ہے کمالایخفی علی من طالع الاحادیث الخ۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۲۳) از خیر آباد ضلع سیتاپور محلہ میاں سرائے مدرسہ عربی قدیم مرسلہ جناب سید فخرالحسن صاحب نبیرہ مولوی نبی بخش صاحب مرحوم مفتی خیرآباد۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اندرین مسائل :
(۱) حضرت شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ نے تحت حدیث شریف الارض کلھا مسجد الا المقبرۃ اھ تحریر فرمایا ہے :
اما مقبرہ ازجہت آنکہ غالب دروے قذرات واختلاط تربت اوست بانچہ جدامیگرددازمردہاازنجاست واگر مکان طاہر ونظیف باشد پس ہیچ باکے نیست وکراہتے نہ وبعض برانندکہ نمازدرمقبرہ مکروہ است مطلقا ازجہت ظاہر ایں حدیث ۔
قبرستان میں نماز اس وجہ سے مکروہ ہے کہ عام طور پر وہاں گندگی ہوتی ہے اور اس کی مٹی مردوں سے برآمد ہونے والی نجاستوں سے مخلوط ہوتی ہے اور اگر جگہ پاك اور ستھری ہوتو وہاں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے نہ اس میں کوئی کراہت ہے۔ اور بعض کی رائے یہ ہے کہ قبرستان میں بہر صورت نماز پڑھنی منع ہے اس حدیث کی بنا پر۔ (ت)
اور کتاب حصہ دوم سرور عزیزی ترجمہ فتاوی عزیزی کی حسب ذیل عبارت ہے : “ حدیث میں وارد ہے کہ قبرستان میں نماز نہ پڑھنا چاہئے اور اس کی شرح میں علماء نے جو کچھ لکھا ہے اس
اس کا ضابطہ یہ ہے کہ اگر دبانے سے نیچے نہ دبے تو اس پر سجدہ جائز ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
تفسیرہ ان المساجد لوبالغ لایتسفل رأسہ ابلغ من ذلک فصح علی طنفسۃ وحصیر وحنطۃ وشعیر وسریر وعجلۃ انکانت علی الارض ۔
اس کی تشریح یہ ہے کہ سجدہ کرنے والا اگر سر کو مزید نیچے کرنا چاہے تو نہ کرسکے اس لئے دبیز کپڑے پر پھوڑی پر گندم پر جوپر تخت پر اور گاڑی پر اگر وہ زمین پر کھڑی ہوتو سجدہ صحیح ہے۔ (ت)
نظر کیجئے تو یہ خاص مسئلہ کا جزیہ ہے زبان عرب میں سریر تخت وچارپائی دونوں کو شامل ہے کمالایخفی علی من طالع الاحادیث الخ۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۲۳) از خیر آباد ضلع سیتاپور محلہ میاں سرائے مدرسہ عربی قدیم مرسلہ جناب سید فخرالحسن صاحب نبیرہ مولوی نبی بخش صاحب مرحوم مفتی خیرآباد۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اندرین مسائل :
(۱) حضرت شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ نے تحت حدیث شریف الارض کلھا مسجد الا المقبرۃ اھ تحریر فرمایا ہے :
اما مقبرہ ازجہت آنکہ غالب دروے قذرات واختلاط تربت اوست بانچہ جدامیگرددازمردہاازنجاست واگر مکان طاہر ونظیف باشد پس ہیچ باکے نیست وکراہتے نہ وبعض برانندکہ نمازدرمقبرہ مکروہ است مطلقا ازجہت ظاہر ایں حدیث ۔
قبرستان میں نماز اس وجہ سے مکروہ ہے کہ عام طور پر وہاں گندگی ہوتی ہے اور اس کی مٹی مردوں سے برآمد ہونے والی نجاستوں سے مخلوط ہوتی ہے اور اگر جگہ پاك اور ستھری ہوتو وہاں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے نہ اس میں کوئی کراہت ہے۔ اور بعض کی رائے یہ ہے کہ قبرستان میں بہر صورت نماز پڑھنی منع ہے اس حدیث کی بنا پر۔ (ت)
اور کتاب حصہ دوم سرور عزیزی ترجمہ فتاوی عزیزی کی حسب ذیل عبارت ہے : “ حدیث میں وارد ہے کہ قبرستان میں نماز نہ پڑھنا چاہئے اور اس کی شرح میں علماء نے جو کچھ لکھا ہے اس
حوالہ / References
غنیۃ المستملی الخامس من فرائض الصلوٰۃ السجدۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۲۸۹
ردالمحتار فصل فی تالیف الصلوٰۃ الٰی انتہائہا مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۷۰
اشعۃ اللمعات باب المساجد الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۳۷
ردالمحتار فصل فی تالیف الصلوٰۃ الٰی انتہائہا مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۷۰
اشعۃ اللمعات باب المساجد الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۳۷
میں بہتر قول یہ ہے کہ اس وجہ سے منع ہے کہ اس میں ایك قسم کی مشابہت کفار کے ساتھ پائی جاتی ہے اور یہ مشابہت جمادات کو سجدہ کرنے میں ہوتی ہے اور اس سبب سے یہ حکم ضروری ہے کہ قبرستان میں نماز پڑھنا مکروہ ہے اور حنفیہ کے کتب فقہ میں لکھا ہے کہ اگر قبر نمازی کے سامنے ہوتو یہ زیادہ مکروہ ہے اور اگر قبر داہنے یا بائیں جانب ہوتو اس سے کم مکروہ ہے اور اگر قبر نمازی کے پیچھے ہوتو یہ اس سے بھی کم مکروہ ہے اور یہی قول اصح ہے اور علما کا عمل اسی پر ہے اور شافعیہ کے فقہا نے لکھا ہے کہ قبرستان میں نماز پڑھنا اس وجہ سے مکروہ ہے کہ وہ نجاست کی جگہ ہے تو یہ صحیح نہیں ہے “ ۔
حضرت شیخ عبدالحق علیہ الرحمۃ نے اپنے قول کی تائید میں کسی کتاب یا قول کسی مجتہد وامام کا حوالہ نہیں دیا ہے بلکہ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف اپنا مذہب تحریر فرمارہے ہیں ۔ شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ تعالی علیہوسلم نے لفظ عمل علمائے حنفیہ اور کتب فقہ سے اپنے قول کو مضبوط تو کیا ہے مگر کوئی صاف پتا کسی کتاب یا قول کا نہیں تحریر کیا ہے جس سے اطمینان حاصل کیا جائے مگر شاہ صاحب موصوف کے فتوے کے زور دار عبارت سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ حضرت شیخ علیہ الرحمۃ نے اس مذہب کو اختیار کیا ہے جو مذہب اصح اور مختار حضرات علمائے حنفیہ کے خلاف اور ملت شافعیہ کے مطابق ہے جو علمائے حنفیہ کے نزدیك غیر صحیح ہے اور اپنے اس غیر صحیح مذہب کو اس قدر قوی کیا ہے کہ اس کی تائید میں فرماتے ہیں :
اگر مکان طاہر ونظیف باشدپس ہیچ باکے نیست وکراہتے نہ۔
اگر جگہ پاك وستھری ہوتو وہاں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں نہ اس میں کوئی کراہت ہے۔ (ت)
اس سوال کا جواب ایسی تفصیل کے ساتھ بحوالہ کتب فقہ حنفیہ تحریر فرمایا جائے کہ جس سے تناقض اقوال حضرات شیخ علیہ الرحمۃ وشاہ صاحب رحمۃ اللہ تعالی علیہکا بخوبی فیصلہ ہوکر آئندہ کے واسطے کوئی جھگڑا باقی نہ رہے اور کسی مخالف کو ازروئے دلیل نفی انکار کا موقع نہ ہوسکے۔
(۲)لفظ مقبرہ جس میں نماز پڑھنا مکروہ ہے سے کونسا مقام مراد ہے آیا محض وہی مقامات ہیں جہاں معمولا مردگان دفن کیے جاتے ہیں مگر وہاں متعدد قبور سابقہ موجود ہیں یا وہ مقام بھی مراد ہے کہ بوجہ وصیت وغیرہ کے اندر کسی مکان کے یا متصل کسی مسجد کے یا نیچے کسی درخت کے کوئی میت مدفون کی گئی اور اب وہاں قبر موجود ہے یا کسی میدان میں اتفاقیہ کسی وجہ سے ایك یا دو مردے دفن کردئے گئے اور قبر موجود ہے یا کسی جگہ کوئی قبر اتفاقیہ ہے اور اصطلاح عام میں وہ مقام لفظ قبرستان سے تعبیر نہیں کیا جاتا ہے ہر چہار مقامات متذکرہ بالاکی نسبت کیا کیا حکم ہے اور کون کون مقامات حکم مقبرہ میں جہاں نماز پڑھنا مکروہ ہے داخل نہیں ہیں ۔
(۳) بموجب فتوی جناب شاہ عبدالعزیز صاحب اگر یمینا وشمالا وخلفا قبر کے نماز پڑھنا مکروہ ہے تو ضرور ہوا
حضرت شیخ عبدالحق علیہ الرحمۃ نے اپنے قول کی تائید میں کسی کتاب یا قول کسی مجتہد وامام کا حوالہ نہیں دیا ہے بلکہ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف اپنا مذہب تحریر فرمارہے ہیں ۔ شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ تعالی علیہوسلم نے لفظ عمل علمائے حنفیہ اور کتب فقہ سے اپنے قول کو مضبوط تو کیا ہے مگر کوئی صاف پتا کسی کتاب یا قول کا نہیں تحریر کیا ہے جس سے اطمینان حاصل کیا جائے مگر شاہ صاحب موصوف کے فتوے کے زور دار عبارت سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ حضرت شیخ علیہ الرحمۃ نے اس مذہب کو اختیار کیا ہے جو مذہب اصح اور مختار حضرات علمائے حنفیہ کے خلاف اور ملت شافعیہ کے مطابق ہے جو علمائے حنفیہ کے نزدیك غیر صحیح ہے اور اپنے اس غیر صحیح مذہب کو اس قدر قوی کیا ہے کہ اس کی تائید میں فرماتے ہیں :
اگر مکان طاہر ونظیف باشدپس ہیچ باکے نیست وکراہتے نہ۔
اگر جگہ پاك وستھری ہوتو وہاں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں نہ اس میں کوئی کراہت ہے۔ (ت)
اس سوال کا جواب ایسی تفصیل کے ساتھ بحوالہ کتب فقہ حنفیہ تحریر فرمایا جائے کہ جس سے تناقض اقوال حضرات شیخ علیہ الرحمۃ وشاہ صاحب رحمۃ اللہ تعالی علیہکا بخوبی فیصلہ ہوکر آئندہ کے واسطے کوئی جھگڑا باقی نہ رہے اور کسی مخالف کو ازروئے دلیل نفی انکار کا موقع نہ ہوسکے۔
(۲)لفظ مقبرہ جس میں نماز پڑھنا مکروہ ہے سے کونسا مقام مراد ہے آیا محض وہی مقامات ہیں جہاں معمولا مردگان دفن کیے جاتے ہیں مگر وہاں متعدد قبور سابقہ موجود ہیں یا وہ مقام بھی مراد ہے کہ بوجہ وصیت وغیرہ کے اندر کسی مکان کے یا متصل کسی مسجد کے یا نیچے کسی درخت کے کوئی میت مدفون کی گئی اور اب وہاں قبر موجود ہے یا کسی میدان میں اتفاقیہ کسی وجہ سے ایك یا دو مردے دفن کردئے گئے اور قبر موجود ہے یا کسی جگہ کوئی قبر اتفاقیہ ہے اور اصطلاح عام میں وہ مقام لفظ قبرستان سے تعبیر نہیں کیا جاتا ہے ہر چہار مقامات متذکرہ بالاکی نسبت کیا کیا حکم ہے اور کون کون مقامات حکم مقبرہ میں جہاں نماز پڑھنا مکروہ ہے داخل نہیں ہیں ۔
(۳) بموجب فتوی جناب شاہ عبدالعزیز صاحب اگر یمینا وشمالا وخلفا قبر کے نماز پڑھنا مکروہ ہے تو ضرور ہوا
حوالہ / References
فتاوٰی عزیزی الصلوٰۃ فی المقابر کتب خانہ رحیمیہ یوپی (بھارت) ۲ / ۱۰
کہ متصل قبراندر مقبرہ جو جگہ نماز کے واسطے حاصل کی گئی یا متصل قبر اتفاقیہ کے یا بیرون مقبرہ غیر محاط متصل اس کے واسطے دفع کراہت نماز کے سترہ کی یا مقدار فاصلے کے معلوم ہونے کی ضرورت ہے کہ بصورت سامنے قبر ہونے کے سترہ یا فاصلہ کی ضرورت کتب فقہ سے معلوم ہوتی ہے اس کی نسبت جو حکم موافق قول اصح اور موافق عمل حضرات علمائے حنفیہ ہو تحریر فرمایا جائے۔
الجواب :
اس مسئلہ میں تحقیق یہ ہے کہ نماز قبر پر مطلقا مکروہ وممنوع ہے بلکہ قبر پر پاؤں رکھنا ہی جائز نہیں علمگیری میں ہے :
یاثم بوطء القبورلان سقف القبر حق المیت اھ وقد حققنا فی اھلاك الوھابین ۔
قبروں پر پاؤں رکھنے سے گناہ گار ہوتا ہے کیونکہ قبر کی چھت میت کا حق ہے اھ اور اس کی تحقیق ہم نے اہلاك الوہابیین میں کی ہے۔ (ت)
اور قبر کی طرف بھی نماز مکروہ وممنوع ہے جبکہ سترہ نہ ہو اور صحرا یا مسجد کبیر میں قبر موضع سجود میں ہو یعنی اتنے فاصلے پر جبکہ یہ خاشعین کی سی نماز پرھے اور اپنی نگاہ خاص موضع سجود پر جمی رکھے تو اس پر نظر پڑے کہ نگاہ کا قاعدہ ہے جس محل خاص پر اسے جمایا جائے اس سے کچھ دور آگے بڑھتی ہے مذہب اصح میں بحالت مذکورہ جہاں تك نگاہ پہنچے سب موضع سجود ہے کمانص علیہ فی الحلیۃ وغیرھا۔ مجتبی۔ پھر بحر پھر فتح الله المعین میں ہے :
یکرہ ان یطائر القبر اویجلس اوینام علیہ اویصلی علیہ اوالیہ ۔
مکروہ ہے کہ قبر پر پاؤں رکھے یا سوئے یا اس پر نماز پڑھے یا اس کی طرف (منہ کرکے) نماز پڑھے۔ (ت)
جنائز حلیہ پھر جنائز ردالمحتار میں ہے :
تکرہ الصلاۃ علیہ والیہ لورود النھی عن ذلك ۔
قبر کے اوپر یا اس کی طرف نماز مکروہ ہے کیونکہ اس سے منع کیا گیا ہے۔ (ت)
الجواب :
اس مسئلہ میں تحقیق یہ ہے کہ نماز قبر پر مطلقا مکروہ وممنوع ہے بلکہ قبر پر پاؤں رکھنا ہی جائز نہیں علمگیری میں ہے :
یاثم بوطء القبورلان سقف القبر حق المیت اھ وقد حققنا فی اھلاك الوھابین ۔
قبروں پر پاؤں رکھنے سے گناہ گار ہوتا ہے کیونکہ قبر کی چھت میت کا حق ہے اھ اور اس کی تحقیق ہم نے اہلاك الوہابیین میں کی ہے۔ (ت)
اور قبر کی طرف بھی نماز مکروہ وممنوع ہے جبکہ سترہ نہ ہو اور صحرا یا مسجد کبیر میں قبر موضع سجود میں ہو یعنی اتنے فاصلے پر جبکہ یہ خاشعین کی سی نماز پرھے اور اپنی نگاہ خاص موضع سجود پر جمی رکھے تو اس پر نظر پڑے کہ نگاہ کا قاعدہ ہے جس محل خاص پر اسے جمایا جائے اس سے کچھ دور آگے بڑھتی ہے مذہب اصح میں بحالت مذکورہ جہاں تك نگاہ پہنچے سب موضع سجود ہے کمانص علیہ فی الحلیۃ وغیرھا۔ مجتبی۔ پھر بحر پھر فتح الله المعین میں ہے :
یکرہ ان یطائر القبر اویجلس اوینام علیہ اویصلی علیہ اوالیہ ۔
مکروہ ہے کہ قبر پر پاؤں رکھے یا سوئے یا اس پر نماز پڑھے یا اس کی طرف (منہ کرکے) نماز پڑھے۔ (ت)
جنائز حلیہ پھر جنائز ردالمحتار میں ہے :
تکرہ الصلاۃ علیہ والیہ لورود النھی عن ذلك ۔
قبر کے اوپر یا اس کی طرف نماز مکروہ ہے کیونکہ اس سے منع کیا گیا ہے۔ (ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الباب السادس عشر فی زیارۃ القبور الخ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۵۱
واضح رہے کہ '' اہلاك الوہابین علٰی توہین قبور المسلمین '' فتاوٰی رضویہ کے اِس مقام کے مترجم قاضی عبدالدائم دائم کے نانا جان قاضی محمد عمرالدین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی تصنیف ہے ، جس پر اعلحٰضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے افادات کا اضافہ فرمایا ہے۔ (دائم)
فتح المعین علٰی شرح الکنز فصل فے الصلوٰۃ علی المیت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ / ۳۶۲
ردالمحتار مطلب فی القرأۃ للمیت واہداء ثوابہالہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۶۶۷
واضح رہے کہ '' اہلاك الوہابین علٰی توہین قبور المسلمین '' فتاوٰی رضویہ کے اِس مقام کے مترجم قاضی عبدالدائم دائم کے نانا جان قاضی محمد عمرالدین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی تصنیف ہے ، جس پر اعلحٰضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے افادات کا اضافہ فرمایا ہے۔ (دائم)
فتح المعین علٰی شرح الکنز فصل فے الصلوٰۃ علی المیت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ / ۳۶۲
ردالمحتار مطلب فی القرأۃ للمیت واہداء ثوابہالہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۶۶۷
فتاوی ہندیہ میں ہے :
انکان بینہ وبین القبر مقدار مالوکان فی الصلاۃ ویمر انسان لایکرہ فھنا ایضا لایکرہ۔ کذا فی التتارخانیۃ ۔
اگر اس کے درمیان اور قبر کے درمیان اتنا فاصلہ ہوکہ اگر یہ شخص نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے سامنے سے کوئی گزرے تو اس کا گزرنا مکروہ نہ ہو تو یہاں بھی مکروہ نہیں ہے۔ اسی طرح تتارخانیہ میں ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
ولایفسدھامرورمار فی الصحراء او بمسجد کبیر بموضع سجودہ فی الاصح او مرورہ بین یدیہ الی حائط القبلۃ فی بیت ومسجد صغیر فانہ کبقعۃ واحدۃوان اثم المار اھ۔
اصح یہ ہے کہ صحرا یا بڑی مسجد میں نمازی کی جائے سجدہ سے کسی کا گزرنا نماز کو فاسد نہیں کرتا۔ اسی طرح گھر میں یا چھوٹی مسجد میں کہ چھوٹی مسجد ایك ہی قطعے کے حکم میں ہے کسی کا قبلے والی جانب سے نمازی کے آگے سے گزرنا نماز کو فاسد نہیں گزرتا اگرچہ گزرنے والا گناہگار ہوتا ہے۔ (ت)
اور اگر قبر دہنے بائیں یا پیچھے ہے تو اصلا موجب کراہت نہیں جامع المضمرات پھر جامع الرموز پھر طحطاوی علی مراقی الفلاح وردالمحتار علی الدرالمختار میں ہے :
لاتکرہ الصلاۃ الی جھۃ قبر الا اذاکان بین یدیہ بحیث لوصلی صلاۃ الخاشعین وقع بصرہ علیہ ۔
قبر کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا مکروہ نہیں ہے ہاں اگر قبر بالکل اس کے سامنے ہوکہ اگر وہ خاشعین والی نماز پڑھے تو قبر پر اس کی نظر پڑے اس صورت میں مکروہ ہے۔ (ت)
علی قاری حنفی مرقاۃ شرح مشکوہ میں زیر حدیث لعن رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم زائرات القبور والمتخذین علیھاالمساجد(رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے قبروں کی زیارت کرنے والیوں پر اور قبروں پر مسجدیں بنانے والوں پر لعنت کی ہے۔ ت)تحریر فرماتے ہیں :
قال ابن الملک : انما حرم اتخاذ المساجد علیھا لان فی الصلاۃ فیھا استنانا بسنۃ الیھود۔ اھ وقید “ علیھا “ یفید ان اتخاذ المساجد بجنبھا لاباس بہ۔ ویدل علیہ قولہ علیہ السلام : لعن الله الیھود والنصاری الذین اتخذوا قبور انبیاء ھم وصالحیھم مساجد ۔ اھ
ابن الملك نے کہا ہے کہ قبروں پر مسجدیں بنانا اس لئے حرام قرار دیاہے کیونکہ ان میں نماز پڑھنا یہودیوں کے
انکان بینہ وبین القبر مقدار مالوکان فی الصلاۃ ویمر انسان لایکرہ فھنا ایضا لایکرہ۔ کذا فی التتارخانیۃ ۔
اگر اس کے درمیان اور قبر کے درمیان اتنا فاصلہ ہوکہ اگر یہ شخص نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے سامنے سے کوئی گزرے تو اس کا گزرنا مکروہ نہ ہو تو یہاں بھی مکروہ نہیں ہے۔ اسی طرح تتارخانیہ میں ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
ولایفسدھامرورمار فی الصحراء او بمسجد کبیر بموضع سجودہ فی الاصح او مرورہ بین یدیہ الی حائط القبلۃ فی بیت ومسجد صغیر فانہ کبقعۃ واحدۃوان اثم المار اھ۔
اصح یہ ہے کہ صحرا یا بڑی مسجد میں نمازی کی جائے سجدہ سے کسی کا گزرنا نماز کو فاسد نہیں کرتا۔ اسی طرح گھر میں یا چھوٹی مسجد میں کہ چھوٹی مسجد ایك ہی قطعے کے حکم میں ہے کسی کا قبلے والی جانب سے نمازی کے آگے سے گزرنا نماز کو فاسد نہیں گزرتا اگرچہ گزرنے والا گناہگار ہوتا ہے۔ (ت)
اور اگر قبر دہنے بائیں یا پیچھے ہے تو اصلا موجب کراہت نہیں جامع المضمرات پھر جامع الرموز پھر طحطاوی علی مراقی الفلاح وردالمحتار علی الدرالمختار میں ہے :
لاتکرہ الصلاۃ الی جھۃ قبر الا اذاکان بین یدیہ بحیث لوصلی صلاۃ الخاشعین وقع بصرہ علیہ ۔
قبر کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا مکروہ نہیں ہے ہاں اگر قبر بالکل اس کے سامنے ہوکہ اگر وہ خاشعین والی نماز پڑھے تو قبر پر اس کی نظر پڑے اس صورت میں مکروہ ہے۔ (ت)
علی قاری حنفی مرقاۃ شرح مشکوہ میں زیر حدیث لعن رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم زائرات القبور والمتخذین علیھاالمساجد(رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے قبروں کی زیارت کرنے والیوں پر اور قبروں پر مسجدیں بنانے والوں پر لعنت کی ہے۔ ت)تحریر فرماتے ہیں :
قال ابن الملک : انما حرم اتخاذ المساجد علیھا لان فی الصلاۃ فیھا استنانا بسنۃ الیھود۔ اھ وقید “ علیھا “ یفید ان اتخاذ المساجد بجنبھا لاباس بہ۔ ویدل علیہ قولہ علیہ السلام : لعن الله الیھود والنصاری الذین اتخذوا قبور انبیاء ھم وصالحیھم مساجد ۔ اھ
ابن الملك نے کہا ہے کہ قبروں پر مسجدیں بنانا اس لئے حرام قرار دیاہے کیونکہ ان میں نماز پڑھنا یہودیوں کے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الفصل الثانی فیما یکرہ فے الصلوٰۃ ومالایکرہ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۰۷
الدرالمختار مایفسدہ الصلٰوۃ ومایکرہ فیھا مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۱
ردالمحتار مایفسدہ الصلٰوۃ ومایکرہ فیھا مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۸۴
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ المصابیح باب المساجد ومواضع الصلوٰۃ ، الفصل الاول مطبع امدادیہ ملتان ۲ / ۲۱۹
الدرالمختار مایفسدہ الصلٰوۃ ومایکرہ فیھا مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۱
ردالمحتار مایفسدہ الصلٰوۃ ومایکرہ فیھا مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۸۴
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ المصابیح باب المساجد ومواضع الصلوٰۃ ، الفصل الاول مطبع امدادیہ ملتان ۲ / ۲۱۹
طریقے کی پیروی ہے۔ اھ اور “ قبروں پر “ کی قید سے یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ اگر “ قبروں کے پاس “ مسجد بنائی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا یہ فرمانا کہ الله یہود ونصاری پر لعنت کرے جنہوں نے اپنے انبیاء اور صالحین کی قبروں کو مسجدیں بنالیا اسی پر دلالت کرتا ہے۔ (ت)
بلکہ اگر مزارات ادلیائے کرام ہوں اور ان کی ارواح طیبہ سے استمداد کے لئے ان کی قبور کریمہ کے پاس دہنے یا بائیں نماز پڑھے تو اور زیادہ موجب برکت ہے امام علامہ قاضی عیاض مالکی شرح صحیح مسلم شریف پھر علامہ طیبی شافعی شرح مشکوۃ شریف پھر علامہ علی قاری حنفی مرقاۃ المفاتیح میں فرماتے ہیں :
کانت الیھود والنصاری یسجدون بقبور انبیائھم ویجعلونھاقبلۃ ویتوجھون فی الصلاۃ نحوھا فقداتخذوھااوثانا فلذلك لعنھم ومنع المسلمین عن مثل ذلک امامن اتخذ مسجدا فی جوارصالح اوصلی فی مقبرۃ وقصد الاستظھا ربروحہ اووصول اثرمامن اثر عبادتہ الیہ لاللتعظیم لہ والتوجہ نحوہ فلاحرج علیہالاتری ان مرقد اسمعیل علیہ الصلاۃ والسلام فی المسجد الحرام عند الحطیم ثم ان ذلك المسجد افضل مکان یتحری المصلی لصلاتہ ۔
یہود ونصاری اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ کرتے تھے انہیں اپنا قبلہ بنالیتے تھے اور نماز میں انہی کی طرف منہ کرتے تھے اس طرح انہوں نے قبروں کو بت بنالیا تھا اس لئے آپ نے ان پر لعنت بھیجی اور مسلمانوں کو ایسے کاموں سے منع کیا رہا وہ آدمی جو کسی صالح کی قبر کے پاس مسجد بنائے یا مقبرے میں نماز پڑھے اور اس کا مقصد یہ ہوکہ اس صالح انسان کی روح سے تقویت حاصل کرے یا اس کی عبادت کے اثرات میں سے کچھ اثر اس تك بھی پہنچ جائے اور قبر کی تعظیم اور اس کی طرف منہ کرنا مقصود نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اسمعیل علیہ السلام کی قبر مسجد حرام میں حطیم کے پاس ہے اس کے باوجود یہ مسجد ان تمام مقامات سے افضل ہے جنہیں کوئی نمازی نماز پڑھنے کیلئے تلاش کرتا ہے۔ (ت)
بلکہ اگر مزارات ادلیائے کرام ہوں اور ان کی ارواح طیبہ سے استمداد کے لئے ان کی قبور کریمہ کے پاس دہنے یا بائیں نماز پڑھے تو اور زیادہ موجب برکت ہے امام علامہ قاضی عیاض مالکی شرح صحیح مسلم شریف پھر علامہ طیبی شافعی شرح مشکوۃ شریف پھر علامہ علی قاری حنفی مرقاۃ المفاتیح میں فرماتے ہیں :
کانت الیھود والنصاری یسجدون بقبور انبیائھم ویجعلونھاقبلۃ ویتوجھون فی الصلاۃ نحوھا فقداتخذوھااوثانا فلذلك لعنھم ومنع المسلمین عن مثل ذلک امامن اتخذ مسجدا فی جوارصالح اوصلی فی مقبرۃ وقصد الاستظھا ربروحہ اووصول اثرمامن اثر عبادتہ الیہ لاللتعظیم لہ والتوجہ نحوہ فلاحرج علیہالاتری ان مرقد اسمعیل علیہ الصلاۃ والسلام فی المسجد الحرام عند الحطیم ثم ان ذلك المسجد افضل مکان یتحری المصلی لصلاتہ ۔
یہود ونصاری اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ کرتے تھے انہیں اپنا قبلہ بنالیتے تھے اور نماز میں انہی کی طرف منہ کرتے تھے اس طرح انہوں نے قبروں کو بت بنالیا تھا اس لئے آپ نے ان پر لعنت بھیجی اور مسلمانوں کو ایسے کاموں سے منع کیا رہا وہ آدمی جو کسی صالح کی قبر کے پاس مسجد بنائے یا مقبرے میں نماز پڑھے اور اس کا مقصد یہ ہوکہ اس صالح انسان کی روح سے تقویت حاصل کرے یا اس کی عبادت کے اثرات میں سے کچھ اثر اس تك بھی پہنچ جائے اور قبر کی تعظیم اور اس کی طرف منہ کرنا مقصود نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اسمعیل علیہ السلام کی قبر مسجد حرام میں حطیم کے پاس ہے اس کے باوجود یہ مسجد ان تمام مقامات سے افضل ہے جنہیں کوئی نمازی نماز پڑھنے کیلئے تلاش کرتا ہے۔ (ت)
حوالہ / References
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ المصابیح باب المساجد ومواضع الصلوٰۃ ، الفصل الاول مطبع امدادیہ ملتان ۲ / ۲۰۲
علامہ طاہر حنفی مجمع بحار الانوار میں فرماتے ہیں :
لعن الله الیھود والنصاری اتخذوا قبور انبیائھم مساجد۔ کانوا یجعلونھا قبلۃ یسجدون الیھا فی الصلاۃ کالوثن واما من اتخذ مسجدا فی جوارصالح اوصلی فی مقبرۃ قاصدابہ الاستظہار بروحہ اووصول اثر مامن اثار عبادتہ الیہ لاالتوجہ نحوہ والتعظیم لہ فلا حرج فیہالایری ان مرقد اسمعیل فی الحجر فی المسجد الحرام والصلوۃ فیہ افضل ۔
لعنت بھیجے الله تعالی یہود ونصاری پر کہ انہوں نے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنالیا یعنی ان کو قبلہ بنالیا اور نماز میں انہی کی طرف سجدہ کرتے تھے جیسا کہ بت کے روبرو۔ ہاں اگر کسی نیك انسان کے پڑوس میں کوئی شخص مسجد بنائے یا ایسے ہی مقبرے میں نماز پڑھے اور مقصد یہ ہوکہ اس نیك انسان کی روح سے تقویت حاصل کرے یا اس کی عبادت کے اثرات سے کچھ اثر اس شخص تك پہنچ جائے یہ مقصد نہ ہوکہ اس کی طرف منہ کرے اور اس کی تعظیم کرے تو اس میں کچھ حرج نہیں ہے۔ کیا معلوم نہیں ہے کہ اسمعیل علیہ السلام کی قبر مسجد حرام میں ہے اس کے باوجود اس میں نماز افضل ہے۔ (ت)
قاضی ناصرالدین بیضاوی شافعی پھر امام علامہ بدرالدین محمود عینی حنفی عمدۃ القاری پھر علامہ احمد محمد خطیب قسطلانی شافعی ارشاد الساری شروح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں :
من اتخذ مسجدا فی جوار صالح وقصد التبرك بقرب منہ لاالتعظیم ولاالتوجہ الیہ فلا یدخل فی الوعید المذکور اھ
جو شخص کسی نیك انسان کے پڑوس میں قبر بنائے اور مقصد یہ ہوکہ اس کے قرب سے برکت حاصل کرے اس کی تعظیم اور اس کی طرف منہ کرنا مقصود نہ ہوتو ایسا شخص حدیث میں مذکور وعید (یعنی لعنت) میں داخل نہیں ہوگا اھ (ت)
امام علامہ تورپشتی حنفی شرح مصابیح میں زیر حدیث اتخذواقبورانبیائھم مساجد فرماتے ہیں :
ھو مخرج علی وجھین احدھما انھم کانوا یسجدون بقبور الانبیاء تعظیمالھم وقصدا للعبادۃ فی ذلک۔ وثانیھما انھم کانوا یتحرون الصلوۃ فی مدافن الانبیاء والتوجہالی قبورھم فی حالۃ الصلوۃ وکلا الطریقین غیرمرضیۃ فامااذاوجدبقربھا موضع بنی للصلوۃ اومکانایسلم المصلی فیہ عن التوجہ الی القبور فانہ فی فسخہ من الامر۔ وکذلك اذاصلی فی موضع قداشتھربان فیہ مدفن نبی ولم یرفیہ للقبر علما ولم یکن قصدہ ماذکرناہ من الشرك الخفیاذ قدتواطأت اخبارالامم علی ان مدفن اسمعیل علیہ الصلوۃ والسلام فی المسجد الحرام عندالحطیم وھذاالمسجد افضل مکان یتحری الصلاۃ فیہ اھ مختصرا
اس کی دو۲ وجہیں ہیں : ایك تو یہ کہ یہود ونصاری قبور انبیاء کو بطور تعظیم اور بقصد عبادت سجدہ کیا کرتے تھے دوسری یہ کہ وہ انبیاء کے مقبروں میں نماز پڑھنے کی خصوصی طور پر کوشش کرتے تھے اور نماز میں ان کی طرف
لعن الله الیھود والنصاری اتخذوا قبور انبیائھم مساجد۔ کانوا یجعلونھا قبلۃ یسجدون الیھا فی الصلاۃ کالوثن واما من اتخذ مسجدا فی جوارصالح اوصلی فی مقبرۃ قاصدابہ الاستظہار بروحہ اووصول اثر مامن اثار عبادتہ الیہ لاالتوجہ نحوہ والتعظیم لہ فلا حرج فیہالایری ان مرقد اسمعیل فی الحجر فی المسجد الحرام والصلوۃ فیہ افضل ۔
لعنت بھیجے الله تعالی یہود ونصاری پر کہ انہوں نے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنالیا یعنی ان کو قبلہ بنالیا اور نماز میں انہی کی طرف سجدہ کرتے تھے جیسا کہ بت کے روبرو۔ ہاں اگر کسی نیك انسان کے پڑوس میں کوئی شخص مسجد بنائے یا ایسے ہی مقبرے میں نماز پڑھے اور مقصد یہ ہوکہ اس نیك انسان کی روح سے تقویت حاصل کرے یا اس کی عبادت کے اثرات سے کچھ اثر اس شخص تك پہنچ جائے یہ مقصد نہ ہوکہ اس کی طرف منہ کرے اور اس کی تعظیم کرے تو اس میں کچھ حرج نہیں ہے۔ کیا معلوم نہیں ہے کہ اسمعیل علیہ السلام کی قبر مسجد حرام میں ہے اس کے باوجود اس میں نماز افضل ہے۔ (ت)
قاضی ناصرالدین بیضاوی شافعی پھر امام علامہ بدرالدین محمود عینی حنفی عمدۃ القاری پھر علامہ احمد محمد خطیب قسطلانی شافعی ارشاد الساری شروح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں :
من اتخذ مسجدا فی جوار صالح وقصد التبرك بقرب منہ لاالتعظیم ولاالتوجہ الیہ فلا یدخل فی الوعید المذکور اھ
جو شخص کسی نیك انسان کے پڑوس میں قبر بنائے اور مقصد یہ ہوکہ اس کے قرب سے برکت حاصل کرے اس کی تعظیم اور اس کی طرف منہ کرنا مقصود نہ ہوتو ایسا شخص حدیث میں مذکور وعید (یعنی لعنت) میں داخل نہیں ہوگا اھ (ت)
امام علامہ تورپشتی حنفی شرح مصابیح میں زیر حدیث اتخذواقبورانبیائھم مساجد فرماتے ہیں :
ھو مخرج علی وجھین احدھما انھم کانوا یسجدون بقبور الانبیاء تعظیمالھم وقصدا للعبادۃ فی ذلک۔ وثانیھما انھم کانوا یتحرون الصلوۃ فی مدافن الانبیاء والتوجہالی قبورھم فی حالۃ الصلوۃ وکلا الطریقین غیرمرضیۃ فامااذاوجدبقربھا موضع بنی للصلوۃ اومکانایسلم المصلی فیہ عن التوجہ الی القبور فانہ فی فسخہ من الامر۔ وکذلك اذاصلی فی موضع قداشتھربان فیہ مدفن نبی ولم یرفیہ للقبر علما ولم یکن قصدہ ماذکرناہ من الشرك الخفیاذ قدتواطأت اخبارالامم علی ان مدفن اسمعیل علیہ الصلوۃ والسلام فی المسجد الحرام عندالحطیم وھذاالمسجد افضل مکان یتحری الصلاۃ فیہ اھ مختصرا
اس کی دو۲ وجہیں ہیں : ایك تو یہ کہ یہود ونصاری قبور انبیاء کو بطور تعظیم اور بقصد عبادت سجدہ کیا کرتے تھے دوسری یہ کہ وہ انبیاء کے مقبروں میں نماز پڑھنے کی خصوصی طور پر کوشش کرتے تھے اور نماز میں ان کی طرف
حوالہ / References
مجمع بحارالانوار تحت لفظ قبر مطبع نولکشور لکھنؤ ۳ / ۱۰۴
ارشاد الساری باب جواز الدفن بالدلیل مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ۲ / ۴۳۸
لمعات التنقیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، باب المساجد ومواضع الصلوٰۃ حدیث ۷۱۲مطبوعہ المعارف العلمیہ لاہور۳ / ۵۲
ارشاد الساری باب جواز الدفن بالدلیل مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ۲ / ۴۳۸
لمعات التنقیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، باب المساجد ومواضع الصلوٰۃ حدیث ۷۱۲مطبوعہ المعارف العلمیہ لاہور۳ / ۵۲
منہ کرتے تھے اور یہ دونوں طریقے ناپسندیدہ ہیں ۔ ہاں اگر قبرستان کے قریب کوئی ایسی جگہ ہو جو بنائی ہی نماز کے لئے گئی ہو یا ایسی جگہ ہوکہ وہاں نماز پڑھنے والے کا منہ قبروں کی طرف نہ ہوتا ہو تو ایسی جگہوں پر نماز پڑھی جاسکتی ہے اسی طرح اگر کسی ایسی جگہ میں نماز پڑھے جہاں کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاں کس نبی کا مدفن ہے لیکن قبر کی کوئی علامت نظر نہ آتی ہو اور نمازی کا مقصد بھی شرك خفی نہ ہو (تو نماز پڑھنی جائز ہے)کیونکہ روایات اس پر متفق ہیں کہ اسمعیل علیہ السلام کی قبر مسجد حرام میں حطیم کے پاس ہے اس کے باوجود یہ مسجد ان تمام جگہوں سے افضل ہے جہاں نماز پڑھنے کی جستجو کی جاتی ہے اھ مختصرا (ت)
شیخ محقق حنفی لمعات شرح مشکوۃ شریف میں اسے نقل کرکے فرماتے ہیں :
وفی شرح الشیخ ایضا مثلہ حیث قال : وخرج بذلك اتخاذ مسجد بجواز نبی اوصالح وللصلاۃ عند قبرہ لالتعظیمہ والتوجہ نحوہ بل لحصول مددمنہ حتی تکمل عبادتہ ببرکۃ مجاورتہ لتلك الروح الطاھرۃ فلاحرج فی ذلک لماوردان قبر اسمعیل علیہ الصلاۃ والسلام فی الحجر تحت المیزاب وان فی الحطیم بین الحجر الاسود وزمزم قبر سبعین نبیا ولم ینہ احد عن الصلاۃ فیہ اھ وکلام الشارحین متطابق فے ذلك ۔
اور شیخ کی شرح میں بھی اسی طرح ہے۔ چنانچہ شیخ نے کہا ہے کہ اس سے وہ صورت خارج ہوگئی جس میں کسی نبی یا صالح کے پاس اس لئے مسجد بنائی جائے کہ اس کی قبر کے پاس نماز پڑھی جائے لیکن مقصود قبر کی تعظیم اور اس کی طرف منہ کرنا نہ ہو بلکہ غرض یہ ہوکہ صاحب قبر سے مدد حاصل کی جائے تاکہ اس پاك روح کے قرب کی وجہ سے عبادت مکمل ہوجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ روایات میں آیا ہے کہ اسمعیل علیہ السلام کی قبر حطیم میں میزاب رحمت کے نیچے ہے اور حطیم کے پاس حجر اسود اور زمزم کے درمیان ستر انبیاء کی قبریں ہیں اس کے باوجود وہاں نماز پڑھنے سے کسی نے منع نہیں کیا اھ اس مسئلہ میں تمام شارحین نے ایسی ہی گفتگو کی ہے۔ (ت)
شیخ محقق حنفی لمعات شرح مشکوۃ شریف میں اسے نقل کرکے فرماتے ہیں :
وفی شرح الشیخ ایضا مثلہ حیث قال : وخرج بذلك اتخاذ مسجد بجواز نبی اوصالح وللصلاۃ عند قبرہ لالتعظیمہ والتوجہ نحوہ بل لحصول مددمنہ حتی تکمل عبادتہ ببرکۃ مجاورتہ لتلك الروح الطاھرۃ فلاحرج فی ذلک لماوردان قبر اسمعیل علیہ الصلاۃ والسلام فی الحجر تحت المیزاب وان فی الحطیم بین الحجر الاسود وزمزم قبر سبعین نبیا ولم ینہ احد عن الصلاۃ فیہ اھ وکلام الشارحین متطابق فے ذلك ۔
اور شیخ کی شرح میں بھی اسی طرح ہے۔ چنانچہ شیخ نے کہا ہے کہ اس سے وہ صورت خارج ہوگئی جس میں کسی نبی یا صالح کے پاس اس لئے مسجد بنائی جائے کہ اس کی قبر کے پاس نماز پڑھی جائے لیکن مقصود قبر کی تعظیم اور اس کی طرف منہ کرنا نہ ہو بلکہ غرض یہ ہوکہ صاحب قبر سے مدد حاصل کی جائے تاکہ اس پاك روح کے قرب کی وجہ سے عبادت مکمل ہوجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ روایات میں آیا ہے کہ اسمعیل علیہ السلام کی قبر حطیم میں میزاب رحمت کے نیچے ہے اور حطیم کے پاس حجر اسود اور زمزم کے درمیان ستر انبیاء کی قبریں ہیں اس کے باوجود وہاں نماز پڑھنے سے کسی نے منع نہیں کیا اھ اس مسئلہ میں تمام شارحین نے ایسی ہی گفتگو کی ہے۔ (ت)
حوالہ / References
لمعات التنقیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، باب المساجد ومواضع الصلوٰۃ حدیث ۷۱۲مطبوعہ المعارف العلمیہ لاہور۳ / ۵۲
امام اجل برہان الدین فرغانی حنفی صاحب ہدایہ کتاب التجنیس والمزید میں فرماتے ہیں :
قال ابویوسف : ان کان موازیا للکعبۃ تکرہ صلاتہ وانکان عن یمینہ ویسارہ لاتکرہ ۔
ابویوسف نے کہا ہے کہ اگر قبر قبلے والی جانب ہوتو نماز مکروہ ہے اور اگر دائیں بائیں ہوتو مکروہ نہیں ہے۔ حاوی۔ (ت)
پھر تاتارخانیہ پھر عالمگیریہ میں ہے :
ان کانت القبور ماوراء المصلی لایکرہ فانہ ان کان بینہ وبین القبر مقدار مالوکان فی الصلاۃ ویمر انسان لایکرہ فھھنا ایضا لایکرہ ۔
قبریں نمازی کے پیچھے ہوں تو نماز مکروہ نہیں ہے کیونکہ اگر سامنے بھی ہوں لیکن اتنے فاصلے پر ہوں کہ اگر یہ شخص نماز میں ہو اور کوئی سامنے سے گزرے تو اس کا گزرنا مکروہ نہ ہو تو یہاں بھی مکروہ نہیں ہے۔ (ت)
اور یہ امر کہ سامنے ہونا زیادہ مکروہ ہے اور دہنے بائیں اس سے کم اور پیچھے ہونا اس سے بھی کم کتب حنفیہ میں تصویر جاندار کی نسبت ہے نہ کہ قبر کی ردالمحتار میں زیر قول درمختار واختلف فیما اذاکان التمثال خلفہ والاظھر الکراھۃ (اگر تصویر اس کے پیچھے ہوتو اس میں اختلاف ہے اظہر یہی ہے کہ مکروہ ہے۔ ت)تحریر فرماتے ہیں :
وفی البحر قالوا : واشدھاکراھۃ مایکون علی القبلۃ امام المصلی ثم مایکون فوق راسہ ثم مایکون عن یمینہ ویسارہ علی الحائط ثم مایکون خلفہ علی الحائط اوالستر اھ
اور بحر میں ہے کہ علماء نے کہا ہے کہ سب سے زیادہ کراہت اس صورت میں ہے جب تصویر قبلے والی طرف ہو اور نمازی کے سامنے ہو پھر جو اس کے سر کے اوپر ہو پھر جو اس کے دائیں بائیں دیوار پر ہو پھر جو اس کے پیچھے دیوار پر یا پردے پر ہو۔ (ت)
جامع الرموز میں ہے :
انماخص الصورۃ لانہ یکرہ فی جھۃ القبر الا اذاکان بین یدیہ۔ کما فی جنائز المضمرات ۔
تصویر کی تخصیص اس لئے کی ہے کہ قبر کی طرف منہ کرنا مکروہ نہیں ہے جب تك قبر بالکل روبرو نہ ہو
قال ابویوسف : ان کان موازیا للکعبۃ تکرہ صلاتہ وانکان عن یمینہ ویسارہ لاتکرہ ۔
ابویوسف نے کہا ہے کہ اگر قبر قبلے والی جانب ہوتو نماز مکروہ ہے اور اگر دائیں بائیں ہوتو مکروہ نہیں ہے۔ حاوی۔ (ت)
پھر تاتارخانیہ پھر عالمگیریہ میں ہے :
ان کانت القبور ماوراء المصلی لایکرہ فانہ ان کان بینہ وبین القبر مقدار مالوکان فی الصلاۃ ویمر انسان لایکرہ فھھنا ایضا لایکرہ ۔
قبریں نمازی کے پیچھے ہوں تو نماز مکروہ نہیں ہے کیونکہ اگر سامنے بھی ہوں لیکن اتنے فاصلے پر ہوں کہ اگر یہ شخص نماز میں ہو اور کوئی سامنے سے گزرے تو اس کا گزرنا مکروہ نہ ہو تو یہاں بھی مکروہ نہیں ہے۔ (ت)
اور یہ امر کہ سامنے ہونا زیادہ مکروہ ہے اور دہنے بائیں اس سے کم اور پیچھے ہونا اس سے بھی کم کتب حنفیہ میں تصویر جاندار کی نسبت ہے نہ کہ قبر کی ردالمحتار میں زیر قول درمختار واختلف فیما اذاکان التمثال خلفہ والاظھر الکراھۃ (اگر تصویر اس کے پیچھے ہوتو اس میں اختلاف ہے اظہر یہی ہے کہ مکروہ ہے۔ ت)تحریر فرماتے ہیں :
وفی البحر قالوا : واشدھاکراھۃ مایکون علی القبلۃ امام المصلی ثم مایکون فوق راسہ ثم مایکون عن یمینہ ویسارہ علی الحائط ثم مایکون خلفہ علی الحائط اوالستر اھ
اور بحر میں ہے کہ علماء نے کہا ہے کہ سب سے زیادہ کراہت اس صورت میں ہے جب تصویر قبلے والی طرف ہو اور نمازی کے سامنے ہو پھر جو اس کے سر کے اوپر ہو پھر جو اس کے دائیں بائیں دیوار پر ہو پھر جو اس کے پیچھے دیوار پر یا پردے پر ہو۔ (ت)
جامع الرموز میں ہے :
انماخص الصورۃ لانہ یکرہ فی جھۃ القبر الا اذاکان بین یدیہ۔ کما فی جنائز المضمرات ۔
تصویر کی تخصیص اس لئے کی ہے کہ قبر کی طرف منہ کرنا مکروہ نہیں ہے جب تك قبر بالکل روبرو نہ ہو
حوالہ / References
کتاب التجنیس والمزید
فتاوٰی ہندیہ الفصل الثانی فیما یکرہ فی الصلوٰۃ ومالایکرہ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور۱ / ۱۰۷
الدرالمختار باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۲
ردالمحتار مطلب فی الغرس فی المسجد مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۷۹
جامع الرموز فصل مایفسد الصلوٰۃ ، المکتبۃ الاسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۱۹۶
فتاوٰی ہندیہ الفصل الثانی فیما یکرہ فی الصلوٰۃ ومالایکرہ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور۱ / ۱۰۷
الدرالمختار باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۲
ردالمحتار مطلب فی الغرس فی المسجد مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۷۹
جامع الرموز فصل مایفسد الصلوٰۃ ، المکتبۃ الاسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۱۹۶
جیساکہ مضمرات کی کتاب الجنائز میں ہے۔ (ت)
امیرالمومنین عمرفاروق رضی اللہ تعالی عنہنے انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہکو قبر کی طرف نماز پڑھتے دیکھا فرمایا قبرقبر وہ نماز ہی میں آگے بڑھ گئے اس حدیث سے بھی ظاہر ہوا کہ قبر کی طرف ہی نماز پڑھنا مکروہ ہے نہ کہ اور سمت۔ صحیح بخاری شریف میں ہے :
ورأی عمر رضی الله تعالی عنہ انس بن مالك رضی الله تعالی عنہ یصلی عند قبر فقال : القبر القبر ولم یامرہ بالاعادۃ ۔
اور عمر رضی اللہ تعالی عنہنے انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہکو دیکھا کہ وہ ایك قبر کے پاس نماز پڑھ رہے ہیں تو فرمایا : قبر قبر (یعنی قبر سے بچو) مگر انہیں نماز لوٹانے کا حکم نہیں دیا۔ (ت)
امام علامہ عینی اس کی شرح عمدۃ القاری میں فرماتے ہیں :
ھذا التعلیق رواہ وکیع بن الجراح فی مصنفہ فیما حکاہ ابن حزم عن سفین بن سعید عن حمید عن انس قال : رانی عمر رضی الله تعالی عنہ اصلی الی قبر فنہانی فقال : القبر امامک۔ قال : وعن معمرعن ثابت عن انس قال : رانی عمر اصلی عندقبر فقال لی : القبر لاتصل الیہ۔ قال ثابت : فکان انس یاخذ بیدی اذااراد ان یصلی فیتنحی عن القبور۔ ورواہ ابو نعیم شیخ البخاری عن حریث بن السائب قال : سمعت الحسن یقول بینا انس رضی الله تعالی عنہ یصلی الی قبر فناداہ عمر القبر القبر وظن انہ یعنی :
القمر فلما رأی انہ یعنی : القبر تقدم وصلی وجاز القبر اھ اقول : وبہ ظھر ان معنی “ عند قبر “ فی تعلیق البخاری “ الی قبر “ وبمثلہ صنع العینی اذقال بعدمانقلنا عنہ قولہ : القبر القبر ای اتصلی عند القبر اھ۔ بل فی نفس حدیث انس بروایۃ ثابت رانی عمر اصل عند قبر فقال لاتصل الیہ ۔ کماسمعت۔ وبہ اتضح مافی الملتقی یکرہ وطء القبر والجلوس والنوم علیہ والصلوۃ عندہ اھ فافھم واستقم۔
اس تعلیق کو وکیع ابن جراح نے اپنے مصنف میں ذکر کیا ہے جیسا کہ اس کو ابن حزم نے سفیان ابن سعید سے اس نے حمید سے اس نے انس رضی اللہ تعالی عنہسے نقل کیا ہے انس رضی اللہ تعالی عنہنے کہا کہ مجھے عمر رضی اللہ تعالی عنہنے ایك قبر کی طرف نماز پڑھتے دیکھا تو مجھے منع کیا اور کہا : “ تمہارے سامنے قبر ہے “ ۔ ابن حزم نے کہا کہ معمر نے ثابت سے اس نے انس رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی ہے کہ عمر نے مجھے ایك قبر کے پاس نماز پڑھتے دیکھا تو کہا : “ قبر اس کی طرف نماز مت پڑھو “ ۔ ثابت نے کہا کہ اس کے بعد انس جب نماز پڑھنا چاہتے تھے تو میرا ہاتھ تھام لیتے تھے اور قبروں سے ایك طرف ہٹ جاتے تھے۔ اور بخاری کے استاد ابونعیم نے حریث ابن السائب
امیرالمومنین عمرفاروق رضی اللہ تعالی عنہنے انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہکو قبر کی طرف نماز پڑھتے دیکھا فرمایا قبرقبر وہ نماز ہی میں آگے بڑھ گئے اس حدیث سے بھی ظاہر ہوا کہ قبر کی طرف ہی نماز پڑھنا مکروہ ہے نہ کہ اور سمت۔ صحیح بخاری شریف میں ہے :
ورأی عمر رضی الله تعالی عنہ انس بن مالك رضی الله تعالی عنہ یصلی عند قبر فقال : القبر القبر ولم یامرہ بالاعادۃ ۔
اور عمر رضی اللہ تعالی عنہنے انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہکو دیکھا کہ وہ ایك قبر کے پاس نماز پڑھ رہے ہیں تو فرمایا : قبر قبر (یعنی قبر سے بچو) مگر انہیں نماز لوٹانے کا حکم نہیں دیا۔ (ت)
امام علامہ عینی اس کی شرح عمدۃ القاری میں فرماتے ہیں :
ھذا التعلیق رواہ وکیع بن الجراح فی مصنفہ فیما حکاہ ابن حزم عن سفین بن سعید عن حمید عن انس قال : رانی عمر رضی الله تعالی عنہ اصلی الی قبر فنہانی فقال : القبر امامک۔ قال : وعن معمرعن ثابت عن انس قال : رانی عمر اصلی عندقبر فقال لی : القبر لاتصل الیہ۔ قال ثابت : فکان انس یاخذ بیدی اذااراد ان یصلی فیتنحی عن القبور۔ ورواہ ابو نعیم شیخ البخاری عن حریث بن السائب قال : سمعت الحسن یقول بینا انس رضی الله تعالی عنہ یصلی الی قبر فناداہ عمر القبر القبر وظن انہ یعنی :
القمر فلما رأی انہ یعنی : القبر تقدم وصلی وجاز القبر اھ اقول : وبہ ظھر ان معنی “ عند قبر “ فی تعلیق البخاری “ الی قبر “ وبمثلہ صنع العینی اذقال بعدمانقلنا عنہ قولہ : القبر القبر ای اتصلی عند القبر اھ۔ بل فی نفس حدیث انس بروایۃ ثابت رانی عمر اصل عند قبر فقال لاتصل الیہ ۔ کماسمعت۔ وبہ اتضح مافی الملتقی یکرہ وطء القبر والجلوس والنوم علیہ والصلوۃ عندہ اھ فافھم واستقم۔
اس تعلیق کو وکیع ابن جراح نے اپنے مصنف میں ذکر کیا ہے جیسا کہ اس کو ابن حزم نے سفیان ابن سعید سے اس نے حمید سے اس نے انس رضی اللہ تعالی عنہسے نقل کیا ہے انس رضی اللہ تعالی عنہنے کہا کہ مجھے عمر رضی اللہ تعالی عنہنے ایك قبر کی طرف نماز پڑھتے دیکھا تو مجھے منع کیا اور کہا : “ تمہارے سامنے قبر ہے “ ۔ ابن حزم نے کہا کہ معمر نے ثابت سے اس نے انس رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی ہے کہ عمر نے مجھے ایك قبر کے پاس نماز پڑھتے دیکھا تو کہا : “ قبر اس کی طرف نماز مت پڑھو “ ۔ ثابت نے کہا کہ اس کے بعد انس جب نماز پڑھنا چاہتے تھے تو میرا ہاتھ تھام لیتے تھے اور قبروں سے ایك طرف ہٹ جاتے تھے۔ اور بخاری کے استاد ابونعیم نے حریث ابن السائب
حوالہ / References
صحیح بخاری ھل تنبش قبور مشرکی الجاہلیۃ ویتخذ مکانہا مساجد مطبع قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۶۱
عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری ھل تنبش قبور مشر کی الجاہلیۃ الخ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت۴ / ۱۷۲
عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری ھل تنبش قبور مشر کی الجاہلیۃ الخ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت۴ / ۱۷۲
عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری ھل تنبش قبور مشر کی الجاہلیۃ الخ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت۴ / ۱۷۲
ملتقی الابحر مع مجمع الانہر فصل فی الصلوٰۃ علی المیت مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت۱ / ۱۸۷
عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری ھل تنبش قبور مشر کی الجاہلیۃ الخ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت۴ / ۱۷۲
عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری ھل تنبش قبور مشر کی الجاہلیۃ الخ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت۴ / ۱۷۲
عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری ھل تنبش قبور مشر کی الجاہلیۃ الخ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت۴ / ۱۷۲
ملتقی الابحر مع مجمع الانہر فصل فی الصلوٰۃ علی المیت مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت۱ / ۱۸۷
سے اس طرح روایت کی ہے کہ میں نے حسن کو کہتے سنا ہے کہ ایك دن انس رضی اللہ تعالی عنہقبر کی طرف نماز پڑھ رہے تھے کہ اچانك ان کو عمر رضی اللہ تعالی عنہنے آواز دی : “ قبر قبر “ ۔ انہوں نے سمجھا کہ عمر رضی اللہ تعالی عنہ“ قمر “ کہہ رہے ہیں جب انہیں یقین ہوگیا کہ عمر رضی اللہ تعالی عنہنے “ قبر “ کہا ہے تو آگے بڑھ کر نماز پڑھنے لگے اور قبر سے گزرگئے۔ میں کہتا ہوں اس سے واضح ہوگیا کہ بخاری کی تعلیق میں “ قبر کے پاس “ سے مراد “ قبر کی طرف “ ہے۔ عینی نے بھی یہی مطلب بیان کیا ہے چنانچہ انہوں نے عمر رضی اللہ تعالی عنہکے اس قول “ قبر قبر “ کی تشریح کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیا تم “ قبر کی طرف “ نماز پڑھ رہے ہو! بلکہ انس رضی اللہ تعالی عنہسے بواسطہ ثابت جو روایت آتی ہے اس کے اپنے الفاظ یہ ہیں کہ مجھے عمر رضی اللہ تعالی عنہنے قبر کے پاس نماز پڑھتے دیکھا تو کہا کہ “ قبر کی طرف “ نماز مت پڑھو جیسا کہ یہ روایت تم پہلے سن چکے ہو اسی سے واضح ہوگیا جو ملتقی میں ہے کہ قبر پر پاؤں رکھنا اس پر بیٹھنا اس پر سونا اور اس کے پاس نماز پڑھنا مکروہ ہے اھ (یعنی یہاں بھی “ اس کے پاس “ سے مراد “ اس کی طرف “ ہے۔ اس کو سمجھو اور استقامت اختیار کرو۔ (ت)
مسئلہ تو قبر کا تھا رہا مقبرہ اس میں بھی اصل منشائے کراہت قبر ہے اور اس کی تعلیلیں ہمارے علمائے حنفیہ ہی نے تین طور پر کی ہیں ایك تشبہ اہل کتاب دوسرے یہ کہ عبادت اصنام اسی طرح پیدا ہوئی تیسرے محل نجاسات ہوناجیسے شیخ محقق نے اختیار فرمایا حلیہ پھر ردالمحتار میں ہے :
واختلف فی علتہ فقیل : لان فیھا عظام الموتی وصدیدھم وھو نجس۔ وفیہ نظر وقیل : لان اصل عبادۃ الاصنام اتخاذ قبورالصالحین مساجد۔ و قیل لانہ تشبہ بالیھود۔ وعلیہ مشی فی الخانیۃ ۔
اس میں اختلاف ہے کہ کراہت کی علت کیا ہے بعض نے یہ وجہ بیان کی ہے کہ اس میں مردوں کی ہڈیاں اور پیپ ہوتی ہے جو کہ نجس ہے لیکن اس پر اعتراض ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ بتوں کی عبادت کا آغاز اسی طرح ہوا تھا کہ لوگوں نے
مسئلہ تو قبر کا تھا رہا مقبرہ اس میں بھی اصل منشائے کراہت قبر ہے اور اس کی تعلیلیں ہمارے علمائے حنفیہ ہی نے تین طور پر کی ہیں ایك تشبہ اہل کتاب دوسرے یہ کہ عبادت اصنام اسی طرح پیدا ہوئی تیسرے محل نجاسات ہوناجیسے شیخ محقق نے اختیار فرمایا حلیہ پھر ردالمحتار میں ہے :
واختلف فی علتہ فقیل : لان فیھا عظام الموتی وصدیدھم وھو نجس۔ وفیہ نظر وقیل : لان اصل عبادۃ الاصنام اتخاذ قبورالصالحین مساجد۔ و قیل لانہ تشبہ بالیھود۔ وعلیہ مشی فی الخانیۃ ۔
اس میں اختلاف ہے کہ کراہت کی علت کیا ہے بعض نے یہ وجہ بیان کی ہے کہ اس میں مردوں کی ہڈیاں اور پیپ ہوتی ہے جو کہ نجس ہے لیکن اس پر اعتراض ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ بتوں کی عبادت کا آغاز اسی طرح ہوا تھا کہ لوگوں نے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۷۹
نیك ہستیوں کی قبروں کو مساجد بنالیا تھا۔ بعض نے کہا ہے کہ اس میں یہودیوں کے ساتھ مشابہت پیدا ہوتی ہے۔ خانیہ میں اسی کو اختیار کیا ہے۔ (ت)
ظاہر ہے کہ پہلی دو۲ تعلیلیں صرف اس صورت کی کراہت بتاتی ہیں کہ نماز قبر کی طرف ہوکہ دہنے بائیں یا قبر کو پیچھے لے کر نہ شبہہ عبادت ہے نہ تشبہ یہود خود شاہ صاحب سے سائل نے نقل کیا کہ یہ مشابہت جمادات کو سجدہ کرنے میں ہوتی ہے انتہی ولہذا شیخ محقق رحمۃ اللہ تعالی علیہنے لمعات التنقیح میں زیر حدیث اجعلوا فی بیوتکم من صلاتکم ولاتتخذوھا قبورا (گھروں میں بھی کچھ نمازیں پڑھا کرو اور گھروں کو قبریں نہ بناؤ۔ ت) فرمایا :
ای ولاتکونوا فی البیوت کالمیت الذی لایعمل اوتکونوا نائمین فتکونوا مشابھین للاموات لان النوم اخرالموت غیرمشتغلین بالعبادۃ ثم اعلم انھم اختلفوا فی الصلاۃ فی المقبرۃ فکرھھاجماعۃ وان کان المکان طاھرا فتارۃ احتجوا بھذا الحدیث لانہ یدل علی ان الصلوۃ لاتکون فی المقبرۃ لانہ جعل کونھا قبوراکنایۃ عن عدم الصلاۃ فیھا فیفھم ان لاصلوۃ فیھا۔ وھذاضعیف لماذکرنامن معناہ علی انہ ان دل فانما یدل علی عدم الصلاۃ فی القبر لافی المقبرۃ فافھم۔ وتارۃ بالحدیث السابق (ای قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم لعن الله الیھود والنصاری اتخذوا قبورا نبیائھم مساجد) وھو ایضا لایتم لماعلم من المراد بہ (ای ماقدمناہ عنہ عن التورپشتی وغیرہ من الشراح فانہ انما یدل علی منع التوجہ الی القبر لا الصلاۃ فی المقبرۃ مطلقا) ومنھم من ذھب الی ان الصلاۃ فیھا جائزۃ انکانت التربۃ طاھرۃ والمکان طیبا ولم یکن من صدید الموتی وماینفصل عنھم من النجاسات اھ
یعنی تم گھروں میں اس طرح نہ رہا کرو جس طرح مردہ ہوتا ہے کہ کوئی عمل نہیں کرتا یایہ مرادہے کہ تم سوئے نہ رہاکرو جس طرح مردے سوئے پڑے ہیں کیونکہ نیند موت کی بہن ہے۔ یعنی یہ نہ ہوکہ مردوں کی طرح تم بھی کوئی عبادت نہ کرو۔ پھر یہ بات جانو کہ مقبرے میں نماز کے بارے میں فقہاء کا اختلاف ہے ایك جماعت اس کو مکروہ قرار دیتی ہے اگرچہ جگہ پاك ہو اور اس پر کبھی تو اسی حدیث کو دلیل پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ “ گھروں کو قبریں نہ بناؤ “ سے معلوم ہوتا ہے کہ قبروں میں نماز نہیں پڑھی جاتی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مقبرے میں نماز نہیں ہوتی۔ لیکن یہ دلیل ضعیف ہے کیونکہ اس حدیث کا صحیح مفہوم ہم بیان کر آئے ہیں ۔ علاوہ ازیں اگر یہ حدیث نماز کے نہ ہونے پر دلالت کرے گی تو قبر میں نماز نہ ہونے پر دلالت کرے گی نہ کہ مقبرے میں نہ ہونے پر۔ (جبکہ گفتگو مقبرے کے بارے میں میں ہورہی ہے) اس کو سمجھو اور کبھی اس کی دلیل کو وہ حدیث پیش
ظاہر ہے کہ پہلی دو۲ تعلیلیں صرف اس صورت کی کراہت بتاتی ہیں کہ نماز قبر کی طرف ہوکہ دہنے بائیں یا قبر کو پیچھے لے کر نہ شبہہ عبادت ہے نہ تشبہ یہود خود شاہ صاحب سے سائل نے نقل کیا کہ یہ مشابہت جمادات کو سجدہ کرنے میں ہوتی ہے انتہی ولہذا شیخ محقق رحمۃ اللہ تعالی علیہنے لمعات التنقیح میں زیر حدیث اجعلوا فی بیوتکم من صلاتکم ولاتتخذوھا قبورا (گھروں میں بھی کچھ نمازیں پڑھا کرو اور گھروں کو قبریں نہ بناؤ۔ ت) فرمایا :
ای ولاتکونوا فی البیوت کالمیت الذی لایعمل اوتکونوا نائمین فتکونوا مشابھین للاموات لان النوم اخرالموت غیرمشتغلین بالعبادۃ ثم اعلم انھم اختلفوا فی الصلاۃ فی المقبرۃ فکرھھاجماعۃ وان کان المکان طاھرا فتارۃ احتجوا بھذا الحدیث لانہ یدل علی ان الصلوۃ لاتکون فی المقبرۃ لانہ جعل کونھا قبوراکنایۃ عن عدم الصلاۃ فیھا فیفھم ان لاصلوۃ فیھا۔ وھذاضعیف لماذکرنامن معناہ علی انہ ان دل فانما یدل علی عدم الصلاۃ فی القبر لافی المقبرۃ فافھم۔ وتارۃ بالحدیث السابق (ای قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم لعن الله الیھود والنصاری اتخذوا قبورا نبیائھم مساجد) وھو ایضا لایتم لماعلم من المراد بہ (ای ماقدمناہ عنہ عن التورپشتی وغیرہ من الشراح فانہ انما یدل علی منع التوجہ الی القبر لا الصلاۃ فی المقبرۃ مطلقا) ومنھم من ذھب الی ان الصلاۃ فیھا جائزۃ انکانت التربۃ طاھرۃ والمکان طیبا ولم یکن من صدید الموتی وماینفصل عنھم من النجاسات اھ
یعنی تم گھروں میں اس طرح نہ رہا کرو جس طرح مردہ ہوتا ہے کہ کوئی عمل نہیں کرتا یایہ مرادہے کہ تم سوئے نہ رہاکرو جس طرح مردے سوئے پڑے ہیں کیونکہ نیند موت کی بہن ہے۔ یعنی یہ نہ ہوکہ مردوں کی طرح تم بھی کوئی عبادت نہ کرو۔ پھر یہ بات جانو کہ مقبرے میں نماز کے بارے میں فقہاء کا اختلاف ہے ایك جماعت اس کو مکروہ قرار دیتی ہے اگرچہ جگہ پاك ہو اور اس پر کبھی تو اسی حدیث کو دلیل پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ “ گھروں کو قبریں نہ بناؤ “ سے معلوم ہوتا ہے کہ قبروں میں نماز نہیں پڑھی جاتی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مقبرے میں نماز نہیں ہوتی۔ لیکن یہ دلیل ضعیف ہے کیونکہ اس حدیث کا صحیح مفہوم ہم بیان کر آئے ہیں ۔ علاوہ ازیں اگر یہ حدیث نماز کے نہ ہونے پر دلالت کرے گی تو قبر میں نماز نہ ہونے پر دلالت کرے گی نہ کہ مقبرے میں نہ ہونے پر۔ (جبکہ گفتگو مقبرے کے بارے میں میں ہورہی ہے) اس کو سمجھو اور کبھی اس کی دلیل کو وہ حدیث پیش
حوالہ / References
لمعات التنقیح باب المساجد ومواضع الصلوۃ حدیث ۷۱۴مکتبہ المعارف العلمیہ لاہور ۳ / ۵۳
کرتے ہیں جو گزر چکی ہے (یعنی سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا فرمان کہ الله تعالی نے ان یہود ونصاری پر لعنت کی جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنالیا تھا) یہ دلیل بھی نامکمل ہے جیسا کہ اس حدیث کی مراد سے معلوم ہوچکا (یعنی ہم نے تور پشتی وغیرہ شراح سے جو نقل کیا ہے کہ اس حدیث سے قبر کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے نہ کہ مقبرے میں مطلقا نماز کی ممانعت۔ اور بعض فقہا کی رائے یہ ہے کہ مقبرے میں نماز جائز ہے بشرطیکہ وہاں کی مٹی پاك ہو جگہ عمدہ ہو اور مردوں سے پیپ اور دیگر جو نجاستیں خارج ہوتی ہیں وہاں نہ ہوں اھ (ت)
وانا اقول وبالله التوفیق (اور میں الله تعالی کی توفیق کے ساتھ کہتا ہوں ۔ ت) تحقیق یہ ہے کہ عامہ مقابر میں ہر جگہ مظنہ قبر ہے مگر یہ کہ کوئی محل ابتدا سے دفن ہونے سے محفوظ رہاہو اور معلوم ہوکہ یہاں دفن واقع نہ ہوا ولہذا ہمارے علما نے تصریح فرمائی کہ مقبرہ میں جو نیا راستہ نکالا گیا ہو اس میں چلنا حرام ہے کہ قبور مسلمین کی بے ادبی ہوگی طحاوی وردالمحتار فصل استنجا میں زیرقول ماتن یکرہ بول فی مقابر (مقبروں میں پیشاب کرنا مکروہ ہے۔ ت) فرماتے ہیں :
لان المیت یتاذی بما یتاذی بہ الحی والظاھر انھا تحریمیۃ لانھم نصواعلی ان المرورفی سکۃ حادثۃ فیھاحرام فھذا اولی
کیونکہ جس کام سے زندہ انسان کو ایذاء پہنچتی ہے اس سے مردے کو بھی ایذا پہنچتی ہے۔ اور ظاہر یہی ہے کہ کراہت تحریمی مراد ہے کیونکہ فقہأ نے تصریح کی ہے کہ مقبرے میں جو نیاراستہ نکالا گیاہو اس پر چلنا حرام ہے تو پیشاب کرنا تو بطریق اولی حرام ہوگا۔ (ت)
پھر قبریں کھودنے میں بطن زمین کی مٹی اوپر آتی ہے اور وہ اکثر وہی ہوتی ہے جو پہلے گلے ہوئے اجسام کی نجاسات سے متنجس ہوچکی اور بند کرنے میں سب مٹی صرف نہیں ہوجاتی تو جابجا متنجس مٹی کا پھیلا ہونا مظنون ہوتا ہے اور مظنہ قبر ومظنہ نجاست دونوں کراہت تنزیہہ کیلئے کافی ہیں کہ ظن اگر غالب ہوتا جو فقہیات میں ملتحق بیقین ہے تو بوجہ علت اول حکم کراہت تحریم ہوتا اور بوجہ علت ثانی بغیر کچھ بچھائے بطلان نماز کا حکم دیا جاتا از انجا کہ ظن اس حد کا نہیں صرف کراہت تنزیہہ رہی اور اب یہ حکم حکم صلاۃ علی القبر اور الی القبر سے جدا پیدا ہوا کہ اس میں پیچھے یا آگے کسی قبر کا معلوم ہونا ضرور نہیں قبور معلومہ اگرچہ دہنے بائیں یا پیچھے ہوں جبکہ یہ زمین ایسی ہے جس میں قبر ونجاست کا مظنہ ہے حکم کراہت دیا جائے گا یہی محمل ہے اس کلام کا جو علامہ طحطاوی نے حاشیہ مراقی الفلاح میں زیر قول شرنبلالی تکرہ الصلاۃ فی المقبرۃ نقل فرمایا سواء کانت فوقہ اوخلفہ اوتحت ماھوواقف علیہ الخ (برابر ہے کہ مقبرہ
وانا اقول وبالله التوفیق (اور میں الله تعالی کی توفیق کے ساتھ کہتا ہوں ۔ ت) تحقیق یہ ہے کہ عامہ مقابر میں ہر جگہ مظنہ قبر ہے مگر یہ کہ کوئی محل ابتدا سے دفن ہونے سے محفوظ رہاہو اور معلوم ہوکہ یہاں دفن واقع نہ ہوا ولہذا ہمارے علما نے تصریح فرمائی کہ مقبرہ میں جو نیا راستہ نکالا گیا ہو اس میں چلنا حرام ہے کہ قبور مسلمین کی بے ادبی ہوگی طحاوی وردالمحتار فصل استنجا میں زیرقول ماتن یکرہ بول فی مقابر (مقبروں میں پیشاب کرنا مکروہ ہے۔ ت) فرماتے ہیں :
لان المیت یتاذی بما یتاذی بہ الحی والظاھر انھا تحریمیۃ لانھم نصواعلی ان المرورفی سکۃ حادثۃ فیھاحرام فھذا اولی
کیونکہ جس کام سے زندہ انسان کو ایذاء پہنچتی ہے اس سے مردے کو بھی ایذا پہنچتی ہے۔ اور ظاہر یہی ہے کہ کراہت تحریمی مراد ہے کیونکہ فقہأ نے تصریح کی ہے کہ مقبرے میں جو نیاراستہ نکالا گیاہو اس پر چلنا حرام ہے تو پیشاب کرنا تو بطریق اولی حرام ہوگا۔ (ت)
پھر قبریں کھودنے میں بطن زمین کی مٹی اوپر آتی ہے اور وہ اکثر وہی ہوتی ہے جو پہلے گلے ہوئے اجسام کی نجاسات سے متنجس ہوچکی اور بند کرنے میں سب مٹی صرف نہیں ہوجاتی تو جابجا متنجس مٹی کا پھیلا ہونا مظنون ہوتا ہے اور مظنہ قبر ومظنہ نجاست دونوں کراہت تنزیہہ کیلئے کافی ہیں کہ ظن اگر غالب ہوتا جو فقہیات میں ملتحق بیقین ہے تو بوجہ علت اول حکم کراہت تحریم ہوتا اور بوجہ علت ثانی بغیر کچھ بچھائے بطلان نماز کا حکم دیا جاتا از انجا کہ ظن اس حد کا نہیں صرف کراہت تنزیہہ رہی اور اب یہ حکم حکم صلاۃ علی القبر اور الی القبر سے جدا پیدا ہوا کہ اس میں پیچھے یا آگے کسی قبر کا معلوم ہونا ضرور نہیں قبور معلومہ اگرچہ دہنے بائیں یا پیچھے ہوں جبکہ یہ زمین ایسی ہے جس میں قبر ونجاست کا مظنہ ہے حکم کراہت دیا جائے گا یہی محمل ہے اس کلام کا جو علامہ طحطاوی نے حاشیہ مراقی الفلاح میں زیر قول شرنبلالی تکرہ الصلاۃ فی المقبرۃ نقل فرمایا سواء کانت فوقہ اوخلفہ اوتحت ماھوواقف علیہ الخ (برابر ہے کہ مقبرہ
حوالہ / References
ردالمحتار فصل فی الاستنجاء مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۵۲
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح فصل فی المکروہات مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۱۹۶
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح فصل فی المکروہات مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۱۹۶
اس کے اوپر ہو یا پیچھے ہو یا جس چیز پر یہ کھڑا ہے اس کے نیچے ہو۔ ت) اور یہی منشا ہے اطلاق متون کا ورنہ اگر مقبرہ میں کوئی جگہ صاف وپاك ہوکہ نہ اس میں قبر ہونہ مصلی کا قبر سے سامناہوتووہاں نماز ہرگز مکروہ نہیں خانیہ۱ ومنیہ۲ وزاد۳ الفقیرامام ابن الہمام وحلیہ۴ وغنیہ۵ وبحرالرائق۶ وشرنبلالی۷ علی الدرر وحلبی۸ وطحطاوی۹ وردالمحتار۱۰وغیرہا کتب کثیرہ میں ہے :
لاباس بالصلاۃ فیھا اذاکان فیھا موضع اعد للصلاۃ ولیس فیہ قبر ولانجاسۃ ۔
مقبرے میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے اگر وہاں کوئی جگہ نماز کے لئے تیار کی گئی ہو اور اس میں قبر اور نجاست نہ ہو۔ (ت)
زادالفقیر کی عبارت یہ ہے :
تکرہ الصلاۃ فی المقبرۃ الا ان یکون فیھا موضع اعد للصلاۃ لانجاسۃ فیہ ولاقذر فیہ اھ۔
مقبرے میں نماز مکروہ ہے لیکن اگر وہاں نماز کے لئے کوئی جگہ تیار کی گئی ہو جس میں نجاست اور گندگی نہ ہوتو پھر مکروہ نہیں ہے۔ (ت)
اس تحقیق سے پہلے تین سوالوں کا جواب ظاہر ہوگیا کہ قبر پر نماز مطلقا مکروہ ہے اور قبر کی طرف بھی جبکہ قبر موضع سجود میں مطلقا یا گھر یامسجد صغیرمیں جانب قبلہ بلاحائل ہو اور اس کے لئے کچھ بہت سے قبور ہونادرکار نہیں تنہا ایك ہی قبر ہو جب بھی یہی حکم ہے اور قبر دہنے یابائیں یا پیچھے ہواور زمین جہاں نماز پڑھتاہے پاك وصاف ہو تواصلا کراہت نہیں یہ حکم حضرت شیخ محقق نے نہ اپنی طرف سے لکھا نہ علمائے حنفیہ کے قول کے خلاف بلکہ عامہ کتب حنفیہ میں اس کی صاف تصریح ہے جیسا کہ گزرااورجب اس میں کراہت ہی نہیں تو سترہ کی کیا حاجت اور مقابر میں جہاں مردے دفن ہوتے چلے آئے ہیں اور ان میں قبر یا نجاست کا مظنہ ہے نماز مطلقا مکروہ ہے اگرچہ قبور معلومہ پیچھے ہی ہوں مگر اس صورت میں کہ کوئی زمین پاك صاف معلوم ہو اور اس کے قبلہ میں قبر بلاحائل بمعنی مذکور نہ ہو۔ والله تعالی اعلم۔
_____________________
لاباس بالصلاۃ فیھا اذاکان فیھا موضع اعد للصلاۃ ولیس فیہ قبر ولانجاسۃ ۔
مقبرے میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے اگر وہاں کوئی جگہ نماز کے لئے تیار کی گئی ہو اور اس میں قبر اور نجاست نہ ہو۔ (ت)
زادالفقیر کی عبارت یہ ہے :
تکرہ الصلاۃ فی المقبرۃ الا ان یکون فیھا موضع اعد للصلاۃ لانجاسۃ فیہ ولاقذر فیہ اھ۔
مقبرے میں نماز مکروہ ہے لیکن اگر وہاں نماز کے لئے کوئی جگہ تیار کی گئی ہو جس میں نجاست اور گندگی نہ ہوتو پھر مکروہ نہیں ہے۔ (ت)
اس تحقیق سے پہلے تین سوالوں کا جواب ظاہر ہوگیا کہ قبر پر نماز مطلقا مکروہ ہے اور قبر کی طرف بھی جبکہ قبر موضع سجود میں مطلقا یا گھر یامسجد صغیرمیں جانب قبلہ بلاحائل ہو اور اس کے لئے کچھ بہت سے قبور ہونادرکار نہیں تنہا ایك ہی قبر ہو جب بھی یہی حکم ہے اور قبر دہنے یابائیں یا پیچھے ہواور زمین جہاں نماز پڑھتاہے پاك وصاف ہو تواصلا کراہت نہیں یہ حکم حضرت شیخ محقق نے نہ اپنی طرف سے لکھا نہ علمائے حنفیہ کے قول کے خلاف بلکہ عامہ کتب حنفیہ میں اس کی صاف تصریح ہے جیسا کہ گزرااورجب اس میں کراہت ہی نہیں تو سترہ کی کیا حاجت اور مقابر میں جہاں مردے دفن ہوتے چلے آئے ہیں اور ان میں قبر یا نجاست کا مظنہ ہے نماز مطلقا مکروہ ہے اگرچہ قبور معلومہ پیچھے ہی ہوں مگر اس صورت میں کہ کوئی زمین پاك صاف معلوم ہو اور اس کے قبلہ میں قبر بلاحائل بمعنی مذکور نہ ہو۔ والله تعالی اعلم۔
_____________________
حوالہ / References
ردالمحتار مطلب فی احکام المسجد مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۸۴
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح فصل فی المکروہات مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کراچی ص ۱۹۶
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح فصل فی المکروہات مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کراچی ص ۱۹۶
باب الاذان والاقامۃ
مسئلہ (۳۲۴) : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اذان کے بعد صلاۃ کہنا جس طرح یہاں رمضان مبارك میں معمول ہے جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
اسے فقہ میں تثویب کہتے ہیں یعنی مسلمانوں کو نماز کی اطلاع اذان سے دے کر پھر دوبارہ اطلاع دینا اور وہ شہروں کے عرف پر ہے جہاں جس طرح اطلاع مکرر رائج ہو وہی تثویب ہے خواہ عام طور پر ہو جیسے “ صلاۃ “ کہی جاتی ہے یا خاص طریقہ پر مثلا کسی سے کہنا اذان ہوگئی یا جماعت کھڑی ہوتی ہے یا امام آگئے یا کوئی قول یا فعل ایسا جس میں دوبارہ اطلاع دینا ہو وہ سب تثویب ہے اور اس کا اور صلاۃ کا ایك حکم ہے یعنی جائز جس کی اجازت سے عامہ کتب مذہب متون مثل تنویر۱ الابصار وقایہ۲ ونقایہ۳وغررالاحکام۴وکنز۵وغررالاذکار۶ووافی۷وملتقی۸واصلاح۹نورالایضاح۱۰وشروح ماننددرمختار۱۱وردالمحتار۱۲واصلاح۹و وطحطاوی۱۳وعنایہ۱۴ونہایہ۱۵ وغنیہ۱۶ شرح منیہ وصغیری۱۷ وبحرالرائق۱۸ ونہرالفائق۱۹ وتبیین الحقائق ۲۰وبرجندی۲۱ وقہستانی۲۲ ودرر۲۳ وابن ملک۲۴ وکافی۲۵ ومجتبی۲۶ وایضاح۲۷ وامدادالفتاح ۲۸ومراقی الفلاح۲۹ وحاشیہ مراقی للعلامۃ الطحطاوی۳۰وفتاوی مثل ظہیریہ۳۱ وخانیہ۳۲ وخلاصہ۳۳ وخزانۃ المفتین۳۴ وجواہراخلاطی۳۵ وعلمگیری۳۶ وغیرہا مالامال ہیں وھو الذی علیہ عامۃ الائمۃ المتاخرین والخلاف خلاف زمان لابرھان (عام ائمہ متاخرین اسی پر ہیں اور یہ اختلاف زمانی اختلاف ہے برہانی نہیں ۔ ت)
مسئلہ (۳۲۴) : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اذان کے بعد صلاۃ کہنا جس طرح یہاں رمضان مبارك میں معمول ہے جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
اسے فقہ میں تثویب کہتے ہیں یعنی مسلمانوں کو نماز کی اطلاع اذان سے دے کر پھر دوبارہ اطلاع دینا اور وہ شہروں کے عرف پر ہے جہاں جس طرح اطلاع مکرر رائج ہو وہی تثویب ہے خواہ عام طور پر ہو جیسے “ صلاۃ “ کہی جاتی ہے یا خاص طریقہ پر مثلا کسی سے کہنا اذان ہوگئی یا جماعت کھڑی ہوتی ہے یا امام آگئے یا کوئی قول یا فعل ایسا جس میں دوبارہ اطلاع دینا ہو وہ سب تثویب ہے اور اس کا اور صلاۃ کا ایك حکم ہے یعنی جائز جس کی اجازت سے عامہ کتب مذہب متون مثل تنویر۱ الابصار وقایہ۲ ونقایہ۳وغررالاحکام۴وکنز۵وغررالاذکار۶ووافی۷وملتقی۸واصلاح۹نورالایضاح۱۰وشروح ماننددرمختار۱۱وردالمحتار۱۲واصلاح۹و وطحطاوی۱۳وعنایہ۱۴ونہایہ۱۵ وغنیہ۱۶ شرح منیہ وصغیری۱۷ وبحرالرائق۱۸ ونہرالفائق۱۹ وتبیین الحقائق ۲۰وبرجندی۲۱ وقہستانی۲۲ ودرر۲۳ وابن ملک۲۴ وکافی۲۵ ومجتبی۲۶ وایضاح۲۷ وامدادالفتاح ۲۸ومراقی الفلاح۲۹ وحاشیہ مراقی للعلامۃ الطحطاوی۳۰وفتاوی مثل ظہیریہ۳۱ وخانیہ۳۲ وخلاصہ۳۳ وخزانۃ المفتین۳۴ وجواہراخلاطی۳۵ وعلمگیری۳۶ وغیرہا مالامال ہیں وھو الذی علیہ عامۃ الائمۃ المتاخرین والخلاف خلاف زمان لابرھان (عام ائمہ متاخرین اسی پر ہیں اور یہ اختلاف زمانی اختلاف ہے برہانی نہیں ۔ ت)
مختصر الوقایہ میں ہے : التثویب حسن فی کل صلاۃ (تثویب ہر نماز کے لئے بہتر ہے۔ ت)متن علامہ غزی تمرتاشی میں ہے : یثوب الافی المغرب (مغرب کے علاوہ ہر نماز کے لئے تثویب کہی جائے۔ ت)شرح محقق علائی میں ہے : یثوب بین الاذان والاقامۃ فی الکل للکل بماتعارفوہ الخ(اذان اور اقامت کے درمیان متعارف ومروجہ طریقہ پر تمام نمازوں میں ہر ایك کے لئے تثویب کہی جائے۔ الخ ت)حاشیہ آفندی محمد بن عابدین میں ہے :
قولہ یثوب التثویب العودالی الاعلام بعدالاعلام دررقولہ فی الکل ای کل الصلوات لظھور التوانی فی الامور الدینیۃ قولہ بماتعارفوہ کتنحنح اوقام قام اوالصلاۃ الصلاۃ ولواحدثوا اعلاما مخالفا لذلك جازنھرعن المجتبی اھ ملتقطا۔
قولہ یثوب تثویب اطلاع کے بعد اطلاع کو کہا جاتا ہے۔ درر قولہ فی الکل یعنی تمام نمازوں میں کہنی چاہئے کیونکہ امور دینیہ کے بجا لانے میں بہت سستی وکاہلی آچکی ہے قولہ بماتعارفوا مثلا کھانسنا یا نماز کھڑی ہوگئی نماز کھڑی ہوگئی یا نماز نماز اگر کوئی اور طریقہ اس کے علاوہ اپنالیں تب بھی جائز ہے۔ نہر نے مجتبی سے نقل کیا ہے اختصارا۔ (ت)
شرح الوافی للامام المصنف العلام حافظ الدین ابی البرکات النسفی میں ہے :
تثویب کل بلدۃ علی ماتعارفوہ لانہ للمبالغۃ فی الاعلام وانمایحصل ذلك بماتعارفوہ اھ ملخصا ۔
ہر شہر کی تثویب اسی طریقہ پر ہوگی جو وہاں متعارف ہے کیونکہ یہ اعلان میں مبالغہ کے لئے ہے اور وہ متعارف ومشہور طریقہ سے حاصل ہوگا۔ (ت)
اور ماہ مبارك رمضان سے اس کی تخصیص بے جا نہیں کہ لوگ افطار کے بعد کھانے پینے میں مشغول اور نفس آرام کی طرف مائل ہوتے ہیں لہذا تنبیہ بعد تنبیہ مناسب ہوئی جس طرح نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے اذان فجر میں الصلاۃ خیر من النوم مقرر کرنے کی اجازت عطا فرمائی اخرجہ الطبرانی فی المعجم الکبیر
قولہ یثوب التثویب العودالی الاعلام بعدالاعلام دررقولہ فی الکل ای کل الصلوات لظھور التوانی فی الامور الدینیۃ قولہ بماتعارفوہ کتنحنح اوقام قام اوالصلاۃ الصلاۃ ولواحدثوا اعلاما مخالفا لذلك جازنھرعن المجتبی اھ ملتقطا۔
قولہ یثوب تثویب اطلاع کے بعد اطلاع کو کہا جاتا ہے۔ درر قولہ فی الکل یعنی تمام نمازوں میں کہنی چاہئے کیونکہ امور دینیہ کے بجا لانے میں بہت سستی وکاہلی آچکی ہے قولہ بماتعارفوا مثلا کھانسنا یا نماز کھڑی ہوگئی نماز کھڑی ہوگئی یا نماز نماز اگر کوئی اور طریقہ اس کے علاوہ اپنالیں تب بھی جائز ہے۔ نہر نے مجتبی سے نقل کیا ہے اختصارا۔ (ت)
شرح الوافی للامام المصنف العلام حافظ الدین ابی البرکات النسفی میں ہے :
تثویب کل بلدۃ علی ماتعارفوہ لانہ للمبالغۃ فی الاعلام وانمایحصل ذلك بماتعارفوہ اھ ملخصا ۔
ہر شہر کی تثویب اسی طریقہ پر ہوگی جو وہاں متعارف ہے کیونکہ یہ اعلان میں مبالغہ کے لئے ہے اور وہ متعارف ومشہور طریقہ سے حاصل ہوگا۔ (ت)
اور ماہ مبارك رمضان سے اس کی تخصیص بے جا نہیں کہ لوگ افطار کے بعد کھانے پینے میں مشغول اور نفس آرام کی طرف مائل ہوتے ہیں لہذا تنبیہ بعد تنبیہ مناسب ہوئی جس طرح نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے اذان فجر میں الصلاۃ خیر من النوم مقرر کرنے کی اجازت عطا فرمائی اخرجہ الطبرانی فی المعجم الکبیر
حوالہ / References
مختصر الوقایہ فی مسائل الہدایہ فصل الاذان نور محمد کارخانہ تجارت کراچی ص ۱۲
درمختار فصل الاذان مجتبائی دہلی ۱ / ۶۳
درمختار فصل الاذان مجتبائی دہلی ۱ / ۶۳
ردالمحتار ، فصل الاذان ، مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۲۸۶
شرح الوافی للنسفی
المعجم الکبیر للطبرانی مسند بلال بن رباح مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱ / ۳۵۵
درمختار فصل الاذان مجتبائی دہلی ۱ / ۶۳
درمختار فصل الاذان مجتبائی دہلی ۱ / ۶۳
ردالمحتار ، فصل الاذان ، مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۲۸۶
شرح الوافی للنسفی
المعجم الکبیر للطبرانی مسند بلال بن رباح مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱ / ۳۵۵
عن سیدنا بلال رضی الله تعالی عنہ (طبرانی نے معجم کبیر میں سیدنا بلال رضی اللہ تعالی عنہسے یہ نقل کیا ہے۔ ت)
ہدایہ میں ہے : خص الفجر بہ لانہ وقت نوم وغفلۃ (وقت فجر کو مخصوص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ وقت نیند اور غفلت کا وقت ہوتا ہے۔ ت)
بالجملہ یہ کوئی ایسی چیز نہیں جس پر مسلمانوں میں نزاع ڈالی جائے اور فتنہ انگیزی کرکے تفریق جماعت کی راہ نکالی جائے جو ایسا کرتا ہے سخت جاہل اور مقاصد شرع سے بالکل غافل ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۲۵) از ببلگرام ضلع ہردوئی محلہ میدان پورہ مرسلہ حضرت سید ابراہیم صاحب مارہروی ۲۰ صفر ۱۳۱۱ھاذان دینا اندرمسجد کے آپ نے فرمایا تھا مکروہ ہے میں نے یہاں کے لوگوں سے ذکر کیا ان لوگوں نے کتاب کا ثبوت چاہا امید کہ نام کتاب مع بیان مقام کہ فلاں مقام پر لکھاہے تکلیف فرماکر لکھا جائے اور یہ بھی لکھا جائے کہ کون سا مکروہ ہے
الجواب :
فتاوائے امام اجل قاضی خان وفتاوائے خلاصہ وبحرالرائق شرح کنز الدقائق وشرح نقایہ للعلامۃ عبدالعلی البرجندی وفتاوی علمگیریہ وحاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح وفتح القدیر شرح ہدایہ وغیرہا میں اس کی منع وکراہت کی تصریح فرمائی امام فخرالملۃ والدین اوزجندی فرماتے ہیں : ینبغی ان یؤذن علی المئذنۃ اوخارج السجد ولایؤذن فی المسجد ۔ اذان مینار پر یا مسجد کے باہر دی جائے مسجد کے اندر اذان نہ دی جائے۔ (ت)امام طاہر بن احمد بخاری فرماتے ہیں : لایؤذن فی المسجد (مسجد میں اذان نہ دی جائے۔ ت)علامہ زین بن نجیم وعلامہ عبدالعلی برجندی نے ان سے اور فتاوائے ہندیہ میں امام قاضی خان سے عبارات مذکورہ نقل فرماکر مقرر رکھیں علامہ سید احمد مصری نے فرمایا : یکرہ ان یؤذن فی المسجد کمافی القھستانی عن النظم (مسجد میں اذان دینا مکروہ ہے جیسا کہ قہستانی نے نظم سے نقل کیا ہے۔ ت) امام اجل کمال الدین
ہدایہ میں ہے : خص الفجر بہ لانہ وقت نوم وغفلۃ (وقت فجر کو مخصوص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ وقت نیند اور غفلت کا وقت ہوتا ہے۔ ت)
بالجملہ یہ کوئی ایسی چیز نہیں جس پر مسلمانوں میں نزاع ڈالی جائے اور فتنہ انگیزی کرکے تفریق جماعت کی راہ نکالی جائے جو ایسا کرتا ہے سخت جاہل اور مقاصد شرع سے بالکل غافل ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۲۵) از ببلگرام ضلع ہردوئی محلہ میدان پورہ مرسلہ حضرت سید ابراہیم صاحب مارہروی ۲۰ صفر ۱۳۱۱ھاذان دینا اندرمسجد کے آپ نے فرمایا تھا مکروہ ہے میں نے یہاں کے لوگوں سے ذکر کیا ان لوگوں نے کتاب کا ثبوت چاہا امید کہ نام کتاب مع بیان مقام کہ فلاں مقام پر لکھاہے تکلیف فرماکر لکھا جائے اور یہ بھی لکھا جائے کہ کون سا مکروہ ہے
الجواب :
فتاوائے امام اجل قاضی خان وفتاوائے خلاصہ وبحرالرائق شرح کنز الدقائق وشرح نقایہ للعلامۃ عبدالعلی البرجندی وفتاوی علمگیریہ وحاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح وفتح القدیر شرح ہدایہ وغیرہا میں اس کی منع وکراہت کی تصریح فرمائی امام فخرالملۃ والدین اوزجندی فرماتے ہیں : ینبغی ان یؤذن علی المئذنۃ اوخارج السجد ولایؤذن فی المسجد ۔ اذان مینار پر یا مسجد کے باہر دی جائے مسجد کے اندر اذان نہ دی جائے۔ (ت)امام طاہر بن احمد بخاری فرماتے ہیں : لایؤذن فی المسجد (مسجد میں اذان نہ دی جائے۔ ت)علامہ زین بن نجیم وعلامہ عبدالعلی برجندی نے ان سے اور فتاوائے ہندیہ میں امام قاضی خان سے عبارات مذکورہ نقل فرماکر مقرر رکھیں علامہ سید احمد مصری نے فرمایا : یکرہ ان یؤذن فی المسجد کمافی القھستانی عن النظم (مسجد میں اذان دینا مکروہ ہے جیسا کہ قہستانی نے نظم سے نقل کیا ہے۔ ت) امام اجل کمال الدین
حوالہ / References
ہدایہ باب الاذان ، مطبوعہ المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ / ۷۰
فتاوٰی قاضی خان ، مسائل الاذان مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۷
خلاصۃ الفتاوی الفصل الاول فی الاذان مطبع نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴۹
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب الاذان مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۱۰۷
فتاوٰی قاضی خان ، مسائل الاذان مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۷
خلاصۃ الفتاوی الفصل الاول فی الاذان مطبع نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴۹
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب الاذان مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۱۰۷
محمد بن الہمام فرماتے ہیں :
الاقامۃ فی المسجدولابدمنہ واماالاذان فعلی المئذنۃ فان لم تکن ففی فناء المسجد وقالوا لایؤذن فی المسجد ۔
تکبیر مسجد کے اندر کہی جائے اور اس کے بغیر کوئی اور صورت نہیں البتہ اذان منارہ پر دی جائے اگر وہ نہ ہوتو فنائے مسجد میں دینی چاہئے اور فقہا نے بیان کیا ہے کہ مسجد میں اذان نہ دی جائے۔ ت)
اور اس مسئلہ میں نوع کراہت کی تصریح کلمات علما سے اس وقت نظر فقیرمیں نہیں ہاں صیغہ “ لایفعل “ سے متبادر کراہت تحریم ہے کہ فقہائے کرام کی یہ عبارت ظاہرا مشیر ممانعت وعدم اباحت ہوتی ہے علامہ محمد محمد محمد ابن امیرالحاج نے حلیہ میں فرمایا : قول المص لایزید یشیر الی عدم اباحۃ الزیادۃ (مصنف کا قول “ لا یزید “ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ زیادتی جائز نہیں ۔ ت) نظیر اس کی “ یفعل ویقول “ ہے کہ ظاہرا مفید وجوب ہے کمانص علیہ ایضا فیھا(جیسا کہ اس پر بھی اس میں تصریح ہے۔ ت)یونہی عبارت نظم میں لفظ “ یکرہ “ کہ غالباکراہت مطلقہ سے کراہت تحریم مراد ہوتی ہے :
کمافی الدرالمختاروردالمھتار وغیرھما من الاسفار ویؤیدہ منع رفع الصوت فی المساجد کمافی حدیث ابن ماجۃ جنبوا مساجدکم صبیانکم ومجانینکم وسل سیوفکم ورفع اصواتکم وقدنھوا عن رفع الصوت بحضرۃ النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم وحذروا علی ذلك من حبط الاعمال والحضرۃالالھیۃ احق بالادب کماتری یوم القیمۃ “ وخشعت الاصوات للرحمن فلاتسمع الاھمسا “ وبھذا یضعف مایظن ان لیس فیہ الاخلاف السنۃ فلایکرہ الاتنزیھا علی ان التحقیق ان خلاف السنۃ المتوسطۃ متوسط بین کراھتی التنزیہ والتحریم وھو المعبر بالاساء ۃ کماسیظھر لمن لہ المام بخدمۃ العلمین الشرفین الفقہ والحدیث فلیراجع ولیحرر والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
جیسا کہ درمختار ردالمحتار اور دیگر معتبر کتب میں ہے اور مساجدمیں بلندآواز سے منع کرنا بھی اس کی تائید کرتا ہے جیسا کہ حدیث ابن ماجہ میں ہے اپنی مساجد کو اپنے ناسمجھ بچوں سے دیوانوں سے تلواروں کو سونتنے سے اور آوازوں کو بلند کرنے والوں سے محفوظ رکھو اور بارگاہ نبوی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیں آواز بلند کرنے سے منع کیا گیا ہے اور اس پر تمام اعمال کے ضائع ہونے کی دھمکی دی گئی ہے اور بارگاہ خداوندی اس ادب واحترام کے زیادہ لائق ہے جیسا کہ تم قیامت کے روز دیکھو گے رحمن
الاقامۃ فی المسجدولابدمنہ واماالاذان فعلی المئذنۃ فان لم تکن ففی فناء المسجد وقالوا لایؤذن فی المسجد ۔
تکبیر مسجد کے اندر کہی جائے اور اس کے بغیر کوئی اور صورت نہیں البتہ اذان منارہ پر دی جائے اگر وہ نہ ہوتو فنائے مسجد میں دینی چاہئے اور فقہا نے بیان کیا ہے کہ مسجد میں اذان نہ دی جائے۔ ت)
اور اس مسئلہ میں نوع کراہت کی تصریح کلمات علما سے اس وقت نظر فقیرمیں نہیں ہاں صیغہ “ لایفعل “ سے متبادر کراہت تحریم ہے کہ فقہائے کرام کی یہ عبارت ظاہرا مشیر ممانعت وعدم اباحت ہوتی ہے علامہ محمد محمد محمد ابن امیرالحاج نے حلیہ میں فرمایا : قول المص لایزید یشیر الی عدم اباحۃ الزیادۃ (مصنف کا قول “ لا یزید “ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ زیادتی جائز نہیں ۔ ت) نظیر اس کی “ یفعل ویقول “ ہے کہ ظاہرا مفید وجوب ہے کمانص علیہ ایضا فیھا(جیسا کہ اس پر بھی اس میں تصریح ہے۔ ت)یونہی عبارت نظم میں لفظ “ یکرہ “ کہ غالباکراہت مطلقہ سے کراہت تحریم مراد ہوتی ہے :
کمافی الدرالمختاروردالمھتار وغیرھما من الاسفار ویؤیدہ منع رفع الصوت فی المساجد کمافی حدیث ابن ماجۃ جنبوا مساجدکم صبیانکم ومجانینکم وسل سیوفکم ورفع اصواتکم وقدنھوا عن رفع الصوت بحضرۃ النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم وحذروا علی ذلك من حبط الاعمال والحضرۃالالھیۃ احق بالادب کماتری یوم القیمۃ “ وخشعت الاصوات للرحمن فلاتسمع الاھمسا “ وبھذا یضعف مایظن ان لیس فیہ الاخلاف السنۃ فلایکرہ الاتنزیھا علی ان التحقیق ان خلاف السنۃ المتوسطۃ متوسط بین کراھتی التنزیہ والتحریم وھو المعبر بالاساء ۃ کماسیظھر لمن لہ المام بخدمۃ العلمین الشرفین الفقہ والحدیث فلیراجع ولیحرر والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
جیسا کہ درمختار ردالمحتار اور دیگر معتبر کتب میں ہے اور مساجدمیں بلندآواز سے منع کرنا بھی اس کی تائید کرتا ہے جیسا کہ حدیث ابن ماجہ میں ہے اپنی مساجد کو اپنے ناسمجھ بچوں سے دیوانوں سے تلواروں کو سونتنے سے اور آوازوں کو بلند کرنے والوں سے محفوظ رکھو اور بارگاہ نبوی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیں آواز بلند کرنے سے منع کیا گیا ہے اور اس پر تمام اعمال کے ضائع ہونے کی دھمکی دی گئی ہے اور بارگاہ خداوندی اس ادب واحترام کے زیادہ لائق ہے جیسا کہ تم قیامت کے روز دیکھو گے رحمن
حوالہ / References
فتح القدیر باب الاذان مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۱۵
حلیہ
سُنن ابن ماجہ باب مایکرہ فی المساجد مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۵
حلیہ
سُنن ابن ماجہ باب مایکرہ فی المساجد مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۵
کے لئے تمام آوازیں پست ہوجائیں گی تو تو نہیں سنے گا مگر بہت آہستہ آواز۔ اس گفتگو سے یہ گمان وقول ضعیف ہوجاتا ہے کہ یہ عمل صرف خلاف سنت ہے تو اس میں صرف کراہت تنزیہی ہے۔ علاوہ ازیں تحقیق یہ ہے سنت متوسطہ کا خلاف کراہت تنزیہی اور تحریمی کے درمیان ہوتا ہے اور اس کو “ اساءۃ “ سے تعبیر کیا گیا ہے جیسا کہ یہ اس شخص پر ظاہر ہوجائیگا جس نے دو۲ مقدس علوم حدیث وفقہ کی خدمت کی ہے اس کی طرف رجوع کیا جائے اور اسے ذہن نشین کرنا چاہئے۔ والله سبحنہ وتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ (۳۲۶) ۲۹ صفر ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جمیع وقت پنجگانہ نماز میں بعد اذان کے لازم پکڑنا مؤذن کا ہر نمازی کوبآواز بلانا اور نمازیوں کااسی لحاظ سے اذان پر خیال نہ رکھنا بلکہ بعد اذان کے بلانے سے آنا اس صورت میں بلانا مؤذن کا بعد اذان کے چاہئے یا نہیں دوسرے یہ کہ امام کے انتظار میں وقت میں تاخیر کرنامقتدیوں کو درست ہے یا نہیں اور فجر کی سنتیں بعد جماعت فرض مسبوق ادا کرے درست ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
جب نمازی اذان سے آجاتے ہوں توبلاوجہ بعداذان ہر شخص کو جداجدابلانے کا التزام کرناجس سے انہیں اذان پرآنے کی عادت جاتی رہے نہ چاہئے فان فیہ علی ھذا التقدیراخلاء للاذان عمایقصد بہ(کیونکہ ایسی صورت میں اذان کا مقصد فوت ہوجاتا ہے۔ ت)اور وقت کراہت تك انتظار امام میں ہرگز تاخیر نہ کریں ہاں وقت مستحب تك انتطار باعث زیادت اجر وتحصیل فضیلت ہے پھر اگر وقت طویل ہے اورآخر وقت مستحب تك تاخیر حاضرین پرشاق نہ ہوگی کہ سب اس پر راضی ہیں تو جہاں تك تاخیر ہو اتنا ہی ثواب ہے کہ یہ ساراوقت ان کا نماز ہی میں لکھا جائیگا
وقدصح عن الصحابۃ رضی الله تعالی عنھم انتظار النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم حتی مضی نحومن شطر اللیل وقداقرھم علیہ النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم وقال انکم لن تزالوا فی صلاۃ ما انتظرتم الصلاۃ ۔
یہ بات صحت کے ساتھ ثابت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمرات گئے تك نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا انتظار کرتے حتی کہ رات کا ایك حصہ گزرجاتااور آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے انکے اس عمل کی تصویب فرمائی اور ارشاد فرمایا : جتنا وقت تم نماز کا انتظار کرتے ہو
مسئلہ (۳۲۶) ۲۹ صفر ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جمیع وقت پنجگانہ نماز میں بعد اذان کے لازم پکڑنا مؤذن کا ہر نمازی کوبآواز بلانا اور نمازیوں کااسی لحاظ سے اذان پر خیال نہ رکھنا بلکہ بعد اذان کے بلانے سے آنا اس صورت میں بلانا مؤذن کا بعد اذان کے چاہئے یا نہیں دوسرے یہ کہ امام کے انتظار میں وقت میں تاخیر کرنامقتدیوں کو درست ہے یا نہیں اور فجر کی سنتیں بعد جماعت فرض مسبوق ادا کرے درست ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
جب نمازی اذان سے آجاتے ہوں توبلاوجہ بعداذان ہر شخص کو جداجدابلانے کا التزام کرناجس سے انہیں اذان پرآنے کی عادت جاتی رہے نہ چاہئے فان فیہ علی ھذا التقدیراخلاء للاذان عمایقصد بہ(کیونکہ ایسی صورت میں اذان کا مقصد فوت ہوجاتا ہے۔ ت)اور وقت کراہت تك انتظار امام میں ہرگز تاخیر نہ کریں ہاں وقت مستحب تك انتطار باعث زیادت اجر وتحصیل فضیلت ہے پھر اگر وقت طویل ہے اورآخر وقت مستحب تك تاخیر حاضرین پرشاق نہ ہوگی کہ سب اس پر راضی ہیں تو جہاں تك تاخیر ہو اتنا ہی ثواب ہے کہ یہ ساراوقت ان کا نماز ہی میں لکھا جائیگا
وقدصح عن الصحابۃ رضی الله تعالی عنھم انتظار النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم حتی مضی نحومن شطر اللیل وقداقرھم علیہ النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم وقال انکم لن تزالوا فی صلاۃ ما انتظرتم الصلاۃ ۔
یہ بات صحت کے ساتھ ثابت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمرات گئے تك نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا انتظار کرتے حتی کہ رات کا ایك حصہ گزرجاتااور آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے انکے اس عمل کی تصویب فرمائی اور ارشاد فرمایا : جتنا وقت تم نماز کا انتظار کرتے ہو
حوالہ / References
الصحیح لمسلم باب فضل الصلواۃ المکتوبۃ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۳۴
یہ سارا وقت تم نماز میں ہی ہوتے ہو۔ (ت)
ورنہ اوسط درجہ تاخیر میں حرج نہیں جہاں تك کہ حاضرین پر شاق نہ ہو۔
فی الانقرویۃ عن التاتارخانیۃعن المنتقی للامام الحاکم الشھیدان تاخیرالمؤذن وتطویل القرأۃ لادراك بعض الناس حرام ھذا اذاکان لاھل الدنیا تطویلا وتاخیرا یشق علی الناس والحاصل ان التاخیر القلیل لاعانۃاھل الخیرغیرمکروہ ولاباس بان ینتظر الامام انتظارا وسطا ۔
انقرویہ میں تاتارخانیہ سے اور اس میں امام حاکم الشہید کی منتقی سے ہے کہ مؤذن کااقامت کو مؤخر کرنا اور امام کا قرأت کو لمبا کرنا تاکہ بعض خاص لوگ جماعت کو پالیں حرام ہے یہ حرمت اس وقت ہے جب یہ طوالت وتاخیر کسی دنیا دار کے لئے ہو اور لوگوں پر یہ شاق گزرے حاصل یہ ہے کہ تھوڑی تاخیر تاکہ اہل خیر شریك ہوجائیں مکروہ نہیں امام کو اوسط درجہ کا انتظار کرنا جائز ہے۔ (ت)
اورسنت فجرکہ تنہافوت ہوئیں یعنی فرض پڑھ لیے سنتیں رہ گئیں ان کی قضا کرے تو بعد بلندیئ آفتاب پیش ازنصف النہارشرعی کرے طلوع شمس سے پہلے ان کی قضا ہمارے ائمہ کرام کے نزدیك ممنوع وناجائز ہے
لقول رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم لاصلاۃ بعد الصبح حتی ترتفع الشمس ۔
کیونکہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا ہے : صبح کے بعد کوئی نماز جائز نہیں یہاں تك کہ سورج بلند ہوجائے۔ (ت)
والله سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ (۳۲۷) از کلکتہ دھرم تلا ۶ مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب ۵رجب ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مؤذن کی بغیر اجازت دوسرا شخص اقامت کہہ سکتا ہے یا نہیں درصورت عدم جواز بدون اجازت مؤذن سائل حدیث شریف سے سند چاہتاہے اور کہتاہے کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہاذان کہتے اور اقامت دوسرے صاحب کہاکرتے۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
ناجائز نہیں ہاں خلاف اولی ہے اگر مؤذن حاضر ہو اور اسے گراں گزرے ورنہ اتنا بھی نہیں ۔ مسند امام احمد وسنن اربعہ وشرح معانی الآثار میں زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ تعالی عنہسے مروی میں نے اذان
ورنہ اوسط درجہ تاخیر میں حرج نہیں جہاں تك کہ حاضرین پر شاق نہ ہو۔
فی الانقرویۃ عن التاتارخانیۃعن المنتقی للامام الحاکم الشھیدان تاخیرالمؤذن وتطویل القرأۃ لادراك بعض الناس حرام ھذا اذاکان لاھل الدنیا تطویلا وتاخیرا یشق علی الناس والحاصل ان التاخیر القلیل لاعانۃاھل الخیرغیرمکروہ ولاباس بان ینتظر الامام انتظارا وسطا ۔
انقرویہ میں تاتارخانیہ سے اور اس میں امام حاکم الشہید کی منتقی سے ہے کہ مؤذن کااقامت کو مؤخر کرنا اور امام کا قرأت کو لمبا کرنا تاکہ بعض خاص لوگ جماعت کو پالیں حرام ہے یہ حرمت اس وقت ہے جب یہ طوالت وتاخیر کسی دنیا دار کے لئے ہو اور لوگوں پر یہ شاق گزرے حاصل یہ ہے کہ تھوڑی تاخیر تاکہ اہل خیر شریك ہوجائیں مکروہ نہیں امام کو اوسط درجہ کا انتظار کرنا جائز ہے۔ (ت)
اورسنت فجرکہ تنہافوت ہوئیں یعنی فرض پڑھ لیے سنتیں رہ گئیں ان کی قضا کرے تو بعد بلندیئ آفتاب پیش ازنصف النہارشرعی کرے طلوع شمس سے پہلے ان کی قضا ہمارے ائمہ کرام کے نزدیك ممنوع وناجائز ہے
لقول رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم لاصلاۃ بعد الصبح حتی ترتفع الشمس ۔
کیونکہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا ہے : صبح کے بعد کوئی نماز جائز نہیں یہاں تك کہ سورج بلند ہوجائے۔ (ت)
والله سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ (۳۲۷) از کلکتہ دھرم تلا ۶ مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب ۵رجب ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مؤذن کی بغیر اجازت دوسرا شخص اقامت کہہ سکتا ہے یا نہیں درصورت عدم جواز بدون اجازت مؤذن سائل حدیث شریف سے سند چاہتاہے اور کہتاہے کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہاذان کہتے اور اقامت دوسرے صاحب کہاکرتے۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
ناجائز نہیں ہاں خلاف اولی ہے اگر مؤذن حاضر ہو اور اسے گراں گزرے ورنہ اتنا بھی نہیں ۔ مسند امام احمد وسنن اربعہ وشرح معانی الآثار میں زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ تعالی عنہسے مروی میں نے اذان
حوالہ / References
فتاوٰی انقرویہ کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ الاشاعۃ العربیہ قندھار افغانستان ۱ / ۵
صحیح بخاری کتاب الصلوٰۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۸۳
صحیح بخاری کتاب الصلوٰۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۸۳
کہی تھی بلال رضی اللہ تعالی عنہنے تکبیر کہنی چاہی فرمایا : یقیم اخو صداء فان من اذن فھو یقیم قبیلہ صداء کا بھائی اقامت کہے گا کہ جواذ ان دے وہی تکبیر کہے۔ فی الدرالمختار (درمختار میں ہے) :
اقام غیر من اذن بغیبتہ ای المؤذن لایکرہ مطلقا وان بحضورہ کرہ ان لحقہ وحشۃ ۔
مؤذن کی غیر موجودگی میں غیر کا تکبیر کہنا مطلقا مکروہ نہیں البتہ جب مؤذن موجود ہو اور اس پر گراں گزرے تو مکروہ ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
ھذااختیارخواہر زادہ ومشی علیہ فی الدرر والخانیۃ لکن فی الخلاصۃ وان لم یرض بہ یکرہ وجواب الروایۃ انہ لاباس بہ مطلقا اھ قلت وبہ صرح الامام الطحاوی فی معانی الآثار معزیاالی ائمتناالثلثۃوقال فی البحر ویدل علیہ اطلاق قول الممجمع ولانکرھھامن غیرہ فمافی شرحہ لابن ملك من انہ لوحضرولم یرض یکرہ اتفاقا فیہ نظر اھ وکذایدل علیہ اطلاق الکافی معللا بان کل واحد ذکر فلاباس بان یأتی بکل واحد رجل اخر ولکن الافضل ان یکون المؤذن ھو المقیم اھ الخ
یہ خواہر زادہ کامختارہے اوریہی درراورخانیہ میں ہے لیکن خلاصہ میں ہے اور اگر وہ راضی نہ ہو تو کراہت ہے اور روایت کا جواب یہ ہے کہ اس میں مطلقا کوئی حرج نہیں اھ میں کہتا ہوں امام طحاوی سے معانی الآثارمیں ہمارے تینوں ائمہ کی طرف نسبت کرتے ہوئے یہی تصریح کی ہے اور بحر میں فرمایا قول مجمع کا اطلاق کہ ہم اسے غیر سے مکروہ نہیں سمجھتے اسی پر دال ہے اس کی شرح لابن ملك میں جو ہے کہ اگر مؤذن موجود ہواور وہ راضی نہ ہو تو اتفاقا مکروہ ہے اس میں نظر ہے اور کافی کا اطلاق بھی اسی پر دال ہے اور استدلال یہ ہے کہ ہر ایك ذکر ہے اگر ہر ایك ذکر کو دوسرا بجالائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہاں افضل یہ ہے کہ مؤذن ہی تکبیر کہے۔ (ت)
اقام غیر من اذن بغیبتہ ای المؤذن لایکرہ مطلقا وان بحضورہ کرہ ان لحقہ وحشۃ ۔
مؤذن کی غیر موجودگی میں غیر کا تکبیر کہنا مطلقا مکروہ نہیں البتہ جب مؤذن موجود ہو اور اس پر گراں گزرے تو مکروہ ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
ھذااختیارخواہر زادہ ومشی علیہ فی الدرر والخانیۃ لکن فی الخلاصۃ وان لم یرض بہ یکرہ وجواب الروایۃ انہ لاباس بہ مطلقا اھ قلت وبہ صرح الامام الطحاوی فی معانی الآثار معزیاالی ائمتناالثلثۃوقال فی البحر ویدل علیہ اطلاق قول الممجمع ولانکرھھامن غیرہ فمافی شرحہ لابن ملك من انہ لوحضرولم یرض یکرہ اتفاقا فیہ نظر اھ وکذایدل علیہ اطلاق الکافی معللا بان کل واحد ذکر فلاباس بان یأتی بکل واحد رجل اخر ولکن الافضل ان یکون المؤذن ھو المقیم اھ الخ
یہ خواہر زادہ کامختارہے اوریہی درراورخانیہ میں ہے لیکن خلاصہ میں ہے اور اگر وہ راضی نہ ہو تو کراہت ہے اور روایت کا جواب یہ ہے کہ اس میں مطلقا کوئی حرج نہیں اھ میں کہتا ہوں امام طحاوی سے معانی الآثارمیں ہمارے تینوں ائمہ کی طرف نسبت کرتے ہوئے یہی تصریح کی ہے اور بحر میں فرمایا قول مجمع کا اطلاق کہ ہم اسے غیر سے مکروہ نہیں سمجھتے اسی پر دال ہے اس کی شرح لابن ملك میں جو ہے کہ اگر مؤذن موجود ہواور وہ راضی نہ ہو تو اتفاقا مکروہ ہے اس میں نظر ہے اور کافی کا اطلاق بھی اسی پر دال ہے اور استدلال یہ ہے کہ ہر ایك ذکر ہے اگر ہر ایك ذکر کو دوسرا بجالائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہاں افضل یہ ہے کہ مؤذن ہی تکبیر کہے۔ (ت)
حوالہ / References
شرح معانی الآثار باب الرجلین یؤذن احدہما ویقیم الآخر مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۸
الدرالمختار باب الاذان مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۶۴
ردالمحتار مطلب فے المؤذن اذاکان غیر مستحب فی اذانہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۹۱
الدرالمختار باب الاذان مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۶۴
ردالمحتار مطلب فے المؤذن اذاکان غیر مستحب فی اذانہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۹۱
اقول : اذاحملناالکراھۃعلی کراھۃالتنزیہ ونفیھا علی التحریم حصل الوفاق الاتری الی قول الکافی النافی کیف یقول لاباس ولکن الافضل وکذلك عبرالامام الطحاوی وغیرہ بلاباس وقدصرحوا ان مرجعہ الی کراھۃ التنزیہ۔
اقول : جب ہم کراہت کو کراہت تنزیہی اور اسکی نفی کو کراہت تحریم پر محمول کریں تومسئلہ میں اتفاق ہوجائے گا۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ کافی نے نفی کراہت کا قول کرتے ہوئے “ لاباس “ اور “ لکن الافضل “ کہا اور اسی طرح امام طحاوی وغیرہ نے بھی “ لابأس “ سے تعبیر کیا حالانکہ فقہأ نے تصریح کی ہے کہ اس سے کراہت تنزیہی ثابت ہوتی ہے۔ (ت)
پھر یہ استمرار کا دعوی کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہاذان کہتے اور اقامت دوسرے صاحب کہا کرتے تھے کسی حدیث سے ثابت نہیں ہاں حدیث میں ایك بار کا یہ ذکر آیا ہے کہ جب عبدالله بن زید رضی اللہ تعالی عنہنے خواب میں اذان دیکھی اورحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے عرض کی ارشاد ہوا : بلال کو سکھا دو کہ ان کی آواز بلند تر ہے۔ بلال رضی اللہ تعالی عنہنے اذان کہی جب تکبیر کہنی چاہی عبدالله بن زید رضی اللہ تعالی عنہنادم ہوئے اور عرض کی : خواب تو میں نے دیکھا تھا میں تکبیر کہنا چاہتا ہوں ۔ فرمایا : تو تمہیں کہو۔ انہوں نے تکبیر کہی رواہ الامام احمد وابوداود والطحاوی عنہ رضی اللہ تعالی عنہ(اسے امام احمد ابوداؤد اور طحاوی نے انہیں صحابی رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے۔ ت)یہ حدیث کچھ ہمارے مخالف نہیں کہ کلام اس صورت میں ہے جب مؤذن کو ناگوار گزرے اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے اذن کے بعد بلال رضی اللہ تعالی عنہکی ناگواری کاکیا احتمال مع ہذا یہ حدیث ابتدائے امر کی ہے کہ وہ پہلی اذان تھی کہ اسلام میں کہی گئی اور حدیث متقدم اس سے متأخر ہے تاہم ثبوت صرف افضلیت کا ہے نہ کہ اقامت غیر کی ممانعت کمالایخفی والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۲۸) ۶ رمضان المعظم ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خطیب کے سامنے جو اذان ہوتی ہے مقتدیوں کو اس کا جواب دینا اور جب وہ خطبوں کے درمیان جلسہ کرے مقتدیوں کو دعا کرناچاہئے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
ہرگز نہ چاہئے یہی احوط ہے ردالمحتار میں ہے : اجابۃ الاذان ح مکروھۃ (اذان کا جواب
اقول : جب ہم کراہت کو کراہت تنزیہی اور اسکی نفی کو کراہت تحریم پر محمول کریں تومسئلہ میں اتفاق ہوجائے گا۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ کافی نے نفی کراہت کا قول کرتے ہوئے “ لاباس “ اور “ لکن الافضل “ کہا اور اسی طرح امام طحاوی وغیرہ نے بھی “ لابأس “ سے تعبیر کیا حالانکہ فقہأ نے تصریح کی ہے کہ اس سے کراہت تنزیہی ثابت ہوتی ہے۔ (ت)
پھر یہ استمرار کا دعوی کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہاذان کہتے اور اقامت دوسرے صاحب کہا کرتے تھے کسی حدیث سے ثابت نہیں ہاں حدیث میں ایك بار کا یہ ذکر آیا ہے کہ جب عبدالله بن زید رضی اللہ تعالی عنہنے خواب میں اذان دیکھی اورحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے عرض کی ارشاد ہوا : بلال کو سکھا دو کہ ان کی آواز بلند تر ہے۔ بلال رضی اللہ تعالی عنہنے اذان کہی جب تکبیر کہنی چاہی عبدالله بن زید رضی اللہ تعالی عنہنادم ہوئے اور عرض کی : خواب تو میں نے دیکھا تھا میں تکبیر کہنا چاہتا ہوں ۔ فرمایا : تو تمہیں کہو۔ انہوں نے تکبیر کہی رواہ الامام احمد وابوداود والطحاوی عنہ رضی اللہ تعالی عنہ(اسے امام احمد ابوداؤد اور طحاوی نے انہیں صحابی رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے۔ ت)یہ حدیث کچھ ہمارے مخالف نہیں کہ کلام اس صورت میں ہے جب مؤذن کو ناگوار گزرے اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے اذن کے بعد بلال رضی اللہ تعالی عنہکی ناگواری کاکیا احتمال مع ہذا یہ حدیث ابتدائے امر کی ہے کہ وہ پہلی اذان تھی کہ اسلام میں کہی گئی اور حدیث متقدم اس سے متأخر ہے تاہم ثبوت صرف افضلیت کا ہے نہ کہ اقامت غیر کی ممانعت کمالایخفی والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۲۸) ۶ رمضان المعظم ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خطیب کے سامنے جو اذان ہوتی ہے مقتدیوں کو اس کا جواب دینا اور جب وہ خطبوں کے درمیان جلسہ کرے مقتدیوں کو دعا کرناچاہئے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
ہرگز نہ چاہئے یہی احوط ہے ردالمحتار میں ہے : اجابۃ الاذان ح مکروھۃ (اذان کا جواب
حوالہ / References
سنن ابی داؤد الرجل یؤذن ویقیم آخر مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۷۶
ردالمحتار باب الجمعہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۶۰۷
ردالمحتار باب الجمعہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۶۰۷
اس وقت مکروہ ہے۔ ت)نہرالفائق پھر درمختار میں ہے :
ینبغی ان لایجیب بلسانہ اتفاقا فی الاذان بین یدی الخطیب ۔
اس بات پر اتفاق ہے کہ خطیب کے سامنے کی اذان کا جواب زبانی نہیں دینا چاہئے۔ (ت)
اسی میں ہے :
اذا خرج الامام من الحجرۃ ان کان والا فقیامہ للصعود فلاصلاۃ ولاکلام الی تمامھا وقالا لاباس بالکلام قبل الخطبۃ وبعدما اذاجلس عندالثانی والخلاف فی کلام یتعلق بالاخرۃ اماغیرہ فیکرہ اجماعا وعلی ھذا فالترقیۃ المتعارفۃ فی زماننا تکرہ عندہ والعجب ان المرقی ینھی عن الامر بالمعروف بمقتضی حدیثہ ثم یقول انصتوا رحمکم الله اھ ملخصا
اور جب امام حجرہ سے نکلے اگر حجرہ ہو ورنہ امام کا منبر پر چڑھنے کے لئے کھڑا ہونا معتبر ہے۔ تو اس وقت سے تمام خطبہ تك نہ کوئی نماز جائز ہے نہ کوئی کلام۔ اور صاحبین نے کہا : خطبہ سے پہلے اور بعد کلام میں کوئی حرج نہیں ۔ اور امام ابویوسف کے نزدیك جب امام بیٹھے اس وقت بھی کلام میں حرج نہیں ۔ اور اختلاف امام صاحب اور صاحبین کا اس کلام میں ہے جو آخرت سے متعلق ہو کلام آخرت کے علاوہ دنیاوی کلام بالاتفاق مکروہ ہے۔ اسی بنا پر(خطیب کے سامنے) آیہ کریمہ ان الله وملئکۃ الخ کا پڑھنا جیسا کہ ہمارے زمانے میں معروف ہے امام اعظم کے نزدیك مکروہ ہے تعجب اس بات کا ہے کہ آیت مذکورہ کو پڑھنے والا حدیث شریف کے تقاضے کے مطابق دوسروں کو نیکی کا حکم دینے سے منع کرتا ہے پھر خود کہتا ہے چپ رہو۔ الله تعالی تم پر رحم فرمائے اھ ملخصا (ت)
ہاں یہ جواب اذان یا دعا اگر صرف دل سے کریں زبان سے تلفظ اصلا نہ ہوتو کوئی حرج نہیں کماافادہ کلام علی القاری وفروع فی کتب المذہب(جیسا کہ ملا علی قاری کے بیان سے مستفاد ہے اور دیگر فروع کتب مذہب میں ہیں ۔ ت)اور امام یعنی خطیب تو اگر زبان سے بھی جواب اذان دے یا دعا کرے بلاشبہہ جائز ہے وقدصح کلا الامرین عن سیدالکونین صلی الله تعالی علیہ وسلم فی صحیح البخاری وغیرہ (صحیح بخاری وغیرہ میں ہے یہ دونوں امورسید کونین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے ثابت ہیں ۔ ت) یہ قول مجمل ہے وتفصیل المقام مع نھایۃ العنایۃ وازالۃ الاوھام فی فتاونا بتافیق الملك العلام(اس مقام کی خوب تفصیل اور ازالہ اوہام الله تعالی کی توفیق سے ہم نے اپنے فتاوی میں ذکر کئے ہیں ۔ ت) والله سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
ینبغی ان لایجیب بلسانہ اتفاقا فی الاذان بین یدی الخطیب ۔
اس بات پر اتفاق ہے کہ خطیب کے سامنے کی اذان کا جواب زبانی نہیں دینا چاہئے۔ (ت)
اسی میں ہے :
اذا خرج الامام من الحجرۃ ان کان والا فقیامہ للصعود فلاصلاۃ ولاکلام الی تمامھا وقالا لاباس بالکلام قبل الخطبۃ وبعدما اذاجلس عندالثانی والخلاف فی کلام یتعلق بالاخرۃ اماغیرہ فیکرہ اجماعا وعلی ھذا فالترقیۃ المتعارفۃ فی زماننا تکرہ عندہ والعجب ان المرقی ینھی عن الامر بالمعروف بمقتضی حدیثہ ثم یقول انصتوا رحمکم الله اھ ملخصا
اور جب امام حجرہ سے نکلے اگر حجرہ ہو ورنہ امام کا منبر پر چڑھنے کے لئے کھڑا ہونا معتبر ہے۔ تو اس وقت سے تمام خطبہ تك نہ کوئی نماز جائز ہے نہ کوئی کلام۔ اور صاحبین نے کہا : خطبہ سے پہلے اور بعد کلام میں کوئی حرج نہیں ۔ اور امام ابویوسف کے نزدیك جب امام بیٹھے اس وقت بھی کلام میں حرج نہیں ۔ اور اختلاف امام صاحب اور صاحبین کا اس کلام میں ہے جو آخرت سے متعلق ہو کلام آخرت کے علاوہ دنیاوی کلام بالاتفاق مکروہ ہے۔ اسی بنا پر(خطیب کے سامنے) آیہ کریمہ ان الله وملئکۃ الخ کا پڑھنا جیسا کہ ہمارے زمانے میں معروف ہے امام اعظم کے نزدیك مکروہ ہے تعجب اس بات کا ہے کہ آیت مذکورہ کو پڑھنے والا حدیث شریف کے تقاضے کے مطابق دوسروں کو نیکی کا حکم دینے سے منع کرتا ہے پھر خود کہتا ہے چپ رہو۔ الله تعالی تم پر رحم فرمائے اھ ملخصا (ت)
ہاں یہ جواب اذان یا دعا اگر صرف دل سے کریں زبان سے تلفظ اصلا نہ ہوتو کوئی حرج نہیں کماافادہ کلام علی القاری وفروع فی کتب المذہب(جیسا کہ ملا علی قاری کے بیان سے مستفاد ہے اور دیگر فروع کتب مذہب میں ہیں ۔ ت)اور امام یعنی خطیب تو اگر زبان سے بھی جواب اذان دے یا دعا کرے بلاشبہہ جائز ہے وقدصح کلا الامرین عن سیدالکونین صلی الله تعالی علیہ وسلم فی صحیح البخاری وغیرہ (صحیح بخاری وغیرہ میں ہے یہ دونوں امورسید کونین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے ثابت ہیں ۔ ت) یہ قول مجمل ہے وتفصیل المقام مع نھایۃ العنایۃ وازالۃ الاوھام فی فتاونا بتافیق الملك العلام(اس مقام کی خوب تفصیل اور ازالہ اوہام الله تعالی کی توفیق سے ہم نے اپنے فتاوی میں ذکر کئے ہیں ۔ ت) والله سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
حوالہ / References
الدرالمختار ، باب الاذان ، مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۶۵
الدرالمختار کتاب الصلوٰۃ باب الجمعۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۱۳
الدرالمختار کتاب الصلوٰۃ باب الجمعۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۱۳
مسئلہ (۳۲۹) از موضع بکہ جبنی والہ علاقہ جاگل تھانہ ہری پور ڈاك خانہ نجیب الله خان مرسلہ مولوی شیر محمد صاحب ۲۳ رمضان المبارك ۱۳۱۱ھ
۱ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسائل میں اذان دینی واسطے بارش کے درست ہے یا نہیں
الجواب :
درست ہے اذلا حظرمن الشرع (اس میں شرعا کوئی ممانعت نہیں ۔ ت) اذان ذکر الہی ہے اور بارش رحمت الہی اور ذکر الہی باعث نزول رحمت الہی۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۳۰) ۲دفع وبا کے لئے اذان درست ہے یا نہیں
الجواب :
درست ہے فقیر نے خاص اس مسئلہ میں رسالہ نسیم الصبافی ان الاذان یحول الوبا لکھا والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۳۱) ۳بعد دفن میت قبر پر اذان جائز ہے یا نہیں
الجواب :
جائز ہے فقیرنے خاص اس مسئلہ میں رسالہ ایذان الاجر فی اذان القبر لکھا والله سبحنہ تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۳۲) ۲۹ ذی قعدہ ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعض لوگ کہتے ہیں اذان دہنے ہاتھ کو ہونا چاہئے کہ دہنے ہاتھ کو فضیلت ہے اور بعض کہتے ہیں بلکہ بائیں ہاتھ کو اس میں شرعا کیاحکم ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
اذان منارہ پر کہی جائے جس طرف واقع ہو یا بیرون مسجد جدھر زیادہ نافع ہو مثلا ایك جانب کوئی موضع رفیع زائد ہے یا اس طرف مسلمانوں کی آبادی دور تك ہے تو اسی سمت ہونی چاہئے کہ اصل مقصود اذان تبلیغ واعلام ہے جس طرف یہ مقصود زیادہ پایا جاوے وہی افضل ہے باقی دہنے بائیں کی کوئی تخصیص شرع مطہر سے ثابت نہیں ہندیہ میں ہے :
ینبغی ان یؤذن علی المئذنۃ اوخارج المسجد ولایؤذن فی المسجد کذافی فتاوی قاضی خان السنۃ ان یؤذن فی موضع عال یکون اسمع لجیرانہ ویرفع صوتہ کذافی البحر الرائق اھ۔
اذان منارہ پر یامسجد سے باہر دی جائے مسجد کے اندر اذان نہ دی جائے کذافی فتاوی قاضی خان سنت یہ ہے کہ اذان ایسے بلند مقام پر دی جائے کہ گردونواح کے
۱ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسائل میں اذان دینی واسطے بارش کے درست ہے یا نہیں
الجواب :
درست ہے اذلا حظرمن الشرع (اس میں شرعا کوئی ممانعت نہیں ۔ ت) اذان ذکر الہی ہے اور بارش رحمت الہی اور ذکر الہی باعث نزول رحمت الہی۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۳۰) ۲دفع وبا کے لئے اذان درست ہے یا نہیں
الجواب :
درست ہے فقیر نے خاص اس مسئلہ میں رسالہ نسیم الصبافی ان الاذان یحول الوبا لکھا والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۳۱) ۳بعد دفن میت قبر پر اذان جائز ہے یا نہیں
الجواب :
جائز ہے فقیرنے خاص اس مسئلہ میں رسالہ ایذان الاجر فی اذان القبر لکھا والله سبحنہ تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۳۲) ۲۹ ذی قعدہ ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعض لوگ کہتے ہیں اذان دہنے ہاتھ کو ہونا چاہئے کہ دہنے ہاتھ کو فضیلت ہے اور بعض کہتے ہیں بلکہ بائیں ہاتھ کو اس میں شرعا کیاحکم ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
اذان منارہ پر کہی جائے جس طرف واقع ہو یا بیرون مسجد جدھر زیادہ نافع ہو مثلا ایك جانب کوئی موضع رفیع زائد ہے یا اس طرف مسلمانوں کی آبادی دور تك ہے تو اسی سمت ہونی چاہئے کہ اصل مقصود اذان تبلیغ واعلام ہے جس طرف یہ مقصود زیادہ پایا جاوے وہی افضل ہے باقی دہنے بائیں کی کوئی تخصیص شرع مطہر سے ثابت نہیں ہندیہ میں ہے :
ینبغی ان یؤذن علی المئذنۃ اوخارج المسجد ولایؤذن فی المسجد کذافی فتاوی قاضی خان السنۃ ان یؤذن فی موضع عال یکون اسمع لجیرانہ ویرفع صوتہ کذافی البحر الرائق اھ۔
اذان منارہ پر یامسجد سے باہر دی جائے مسجد کے اندر اذان نہ دی جائے کذافی فتاوی قاضی خان سنت یہ ہے کہ اذان ایسے بلند مقام پر دی جائے کہ گردونواح کے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الفصل الثانی فی کلمات الاذان والاقامۃ وکیفیتہا مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۵۵
لوگوں کوآواز خوب سنائی دے اور اذان میں آواز بلند رکھے کذا فی البحرالرائق۔ (ت)
مع ہذاکہہ سکتے ہیں کہ دونوں جانبیں دہنی اور دونوں بائیں ہیں کہ جو قبلہ رو کھڑا ہواس کی دہنی طرف کعبہ معظمہ ومسجد کی بائیں ہے اور اس کی بائیں کعبہ ومسجد کی دہنی تو جب دونوں طرف نفع برابر ہو دونوں یکساں ہیں والله سبحنہ تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۳۳) اذان واقامت کس جانب کو چاہئے۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
جس مسجد میں اذان کے لئے منارہ بناہو جب تو اس کی جہت خود معین ہے اس منارہ پر اذان دینا چاہئے خواہ وہ کسی جانب ہو ۔
فی البحرالرائق تحت قولہ ویجلس بینھما السنۃ ان یکون الاذان فی المنارۃ الخ۔
البحرالرائق میں ماتن کے قول “ و یجلس بینھما “ کے تحت ہے کہ سنت یہ ہے کہ اذان منارہ پر دی جائے الخ (ت)
اور جہاں نہ ہوتو نظر فقہی میں انسب یہ کہ جس طرف حاجت زائد ہو اسی جانب کو اختیار کرے مثلا ایك جانب مسلمان زیادہ رہتے ہیں یااس طرف مکان ان کے دور ہیں تو وہی جانب اذان کے لئے انسب ہے۔
فانہ انما شرع للاعلام فماکان ادخل فی المقصودکان احسن بل رایت ائمتناربمامالوا الی ھذا المعنی والیہ اشاروا من دون تعیین لجھۃ ففی البحرالرائق وردالمحتارعن السراج ینبغی للمؤذن ان یؤذن فی موضع یکون اسمع للجیران ۔
اذان کی مشروعیت نماز کی اطلاع کے لئے ہے تو یہ مقصود جس احسن طریقہ سے حاصل ہوگااسے اپنایا جائے بلکہ میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے ائمہ عموما اسی معنی کی طرف مائل ہوئے ہیں اور اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کسی جہت کا تعین نہیں کیا۔ البحرالرائق اور ردالمحتار میں سراج کے حوالے سے ہے مؤذن ایسی جگہ اذان دے کہ وہاں سے گردونواح کے لوگوں کو زیادہ آواز پہنچے۔ (ت)
مع ہذاکہہ سکتے ہیں کہ دونوں جانبیں دہنی اور دونوں بائیں ہیں کہ جو قبلہ رو کھڑا ہواس کی دہنی طرف کعبہ معظمہ ومسجد کی بائیں ہے اور اس کی بائیں کعبہ ومسجد کی دہنی تو جب دونوں طرف نفع برابر ہو دونوں یکساں ہیں والله سبحنہ تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۳۳) اذان واقامت کس جانب کو چاہئے۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
جس مسجد میں اذان کے لئے منارہ بناہو جب تو اس کی جہت خود معین ہے اس منارہ پر اذان دینا چاہئے خواہ وہ کسی جانب ہو ۔
فی البحرالرائق تحت قولہ ویجلس بینھما السنۃ ان یکون الاذان فی المنارۃ الخ۔
البحرالرائق میں ماتن کے قول “ و یجلس بینھما “ کے تحت ہے کہ سنت یہ ہے کہ اذان منارہ پر دی جائے الخ (ت)
اور جہاں نہ ہوتو نظر فقہی میں انسب یہ کہ جس طرف حاجت زائد ہو اسی جانب کو اختیار کرے مثلا ایك جانب مسلمان زیادہ رہتے ہیں یااس طرف مکان ان کے دور ہیں تو وہی جانب اذان کے لئے انسب ہے۔
فانہ انما شرع للاعلام فماکان ادخل فی المقصودکان احسن بل رایت ائمتناربمامالوا الی ھذا المعنی والیہ اشاروا من دون تعیین لجھۃ ففی البحرالرائق وردالمحتارعن السراج ینبغی للمؤذن ان یؤذن فی موضع یکون اسمع للجیران ۔
اذان کی مشروعیت نماز کی اطلاع کے لئے ہے تو یہ مقصود جس احسن طریقہ سے حاصل ہوگااسے اپنایا جائے بلکہ میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے ائمہ عموما اسی معنی کی طرف مائل ہوئے ہیں اور اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کسی جہت کا تعین نہیں کیا۔ البحرالرائق اور ردالمحتار میں سراج کے حوالے سے ہے مؤذن ایسی جگہ اذان دے کہ وہاں سے گردونواح کے لوگوں کو زیادہ آواز پہنچے۔ (ت)
حوالہ / References
البحرالرائق باب الاذن مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۶۱
ردالمحتار باب الاذن مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۸۳
ردالمحتار باب الاذن مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۸۳
اوراقامت کی نسبت بھی تعیین جہت کہ دہنی جانب ہویابائیں فقیرکی نظر سے نہ گزری بلکہ ہمارے ائمہ تصریح فرماتے ہیں کہ افضل یہ ہے کہ امام خوداذان واقامت کہے
فی الدرالمختارالافضل کون الامام ھو المؤذن انتھی وفی فتح القدیر الافضل کون الامام ھو المؤذن وھذامذھبنا وعلیہ کان ابوحنیفۃ انتھی وفی ردالمحتار السنۃ ان یقیم المؤذن انتھی وفیہ عن السراج ان اباحنیفۃ کان یباشرالاذان والاقامۃ بنفسہ ۔
درمختار میں ہے کہ افضل یہی ہے کہ امام خود مؤذن ہو انتہی۔ اور فتح القدیر میں ہے کہ امام کا ہی مؤذن ہونا افضل ہے یہی ہمارا مذہب ہے اور یہی امام اعظم کی رائے ہے انتہی۔ اور ردالمحتار میں ہے سنت یہ ہے کہ مؤذن تکبیر کہے انتہی۔ اور اسی میں سراج سے ہے کہ امام اعظم ابوحنیفہ اذان واقامت خود کہتے تھے۔ (ت)
اور علماء جائز رکھتے ہیں کہ جہاں اذان ہوئی وہیں اقامت بھی کہی جائے اور ظاہر ہے کہ اذان مسجد کے اندر نہیں ہوتی بلکہ مکروہ ہے پھر جب بیان افضلیت پر آتے ہیں تو اسی قدر فرماتے ہیں کہ اقامت کا مسجدمیں ہونا بہتر ہے اور یہاں لفظ کو مطلق چھوڑتے ہیں تخصیص جہت کچھ نہیں کرتے
فی البحرالرائق یستحب التحول للاقامۃ الی غیر موضع الاذان انتھی وفیہ یسن الاذان فی موضع عال والاقامۃ علی الارض ۔
البحرالرائق میں ہے تکبیر کے لئے اذان کی جگہ بدل لینامستحب ہے انتہی۔ اور اسی میں ہے اذان کا بلند جگہ اور تکبیر کا نیچے زمین پر ہونا مسنون ہے۔ (ت)
ہاں اس قدر کہہ سکتے ہیں کہ محاذات امام پھر جانب راست مناسب ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۳۴) ۳ربیع الآخر شریف ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اذانیں واسطے طلب باراں کے مسجدوں میں کہنا درست ہے
فی الدرالمختارالافضل کون الامام ھو المؤذن انتھی وفی فتح القدیر الافضل کون الامام ھو المؤذن وھذامذھبنا وعلیہ کان ابوحنیفۃ انتھی وفی ردالمحتار السنۃ ان یقیم المؤذن انتھی وفیہ عن السراج ان اباحنیفۃ کان یباشرالاذان والاقامۃ بنفسہ ۔
درمختار میں ہے کہ افضل یہی ہے کہ امام خود مؤذن ہو انتہی۔ اور فتح القدیر میں ہے کہ امام کا ہی مؤذن ہونا افضل ہے یہی ہمارا مذہب ہے اور یہی امام اعظم کی رائے ہے انتہی۔ اور ردالمحتار میں ہے سنت یہ ہے کہ مؤذن تکبیر کہے انتہی۔ اور اسی میں سراج سے ہے کہ امام اعظم ابوحنیفہ اذان واقامت خود کہتے تھے۔ (ت)
اور علماء جائز رکھتے ہیں کہ جہاں اذان ہوئی وہیں اقامت بھی کہی جائے اور ظاہر ہے کہ اذان مسجد کے اندر نہیں ہوتی بلکہ مکروہ ہے پھر جب بیان افضلیت پر آتے ہیں تو اسی قدر فرماتے ہیں کہ اقامت کا مسجدمیں ہونا بہتر ہے اور یہاں لفظ کو مطلق چھوڑتے ہیں تخصیص جہت کچھ نہیں کرتے
فی البحرالرائق یستحب التحول للاقامۃ الی غیر موضع الاذان انتھی وفیہ یسن الاذان فی موضع عال والاقامۃ علی الارض ۔
البحرالرائق میں ہے تکبیر کے لئے اذان کی جگہ بدل لینامستحب ہے انتہی۔ اور اسی میں ہے اذان کا بلند جگہ اور تکبیر کا نیچے زمین پر ہونا مسنون ہے۔ (ت)
ہاں اس قدر کہہ سکتے ہیں کہ محاذات امام پھر جانب راست مناسب ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۳۴) ۳ربیع الآخر شریف ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اذانیں واسطے طلب باراں کے مسجدوں میں کہنا درست ہے
حوالہ / References
الدرالمختار باب الاذان مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۶۵
فتح القدیر باب الاذن مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۲۳
ردالمحتار باب الاذن مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۸۶
ردالمحتار باب الاذن مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۹۵
البحرالرائق باب الاذن مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۶۱
البحرالرائق باب الاذن مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۵۵
فتح القدیر باب الاذن مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۲۳
ردالمحتار باب الاذن مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۸۶
ردالمحتار باب الاذن مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۹۵
البحرالرائق باب الاذن مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۶۱
البحرالرائق باب الاذن مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۵۵
یا نہیں اور اس طرح سے بھی واسطے طلب باراں کے اذانیں کہنے کا ثبوت ہے کہ امام سورہ پڑھے اور ہرمبین پر اذان کہے اور سب مقتدی بھی اس کے ساتھ اذانیں کہیں مطلق اذان میں کانوں میں انگلیاں رکھ کر ان کو ہلانا اور گھمانا کیسا ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
مسجد کے اندر وقتی اذان کہنا مکروہ ہے کمافی فتح القدیر وغیرہ (جیسا کہ فتح القدیر وغیرہ میں ہے۔ ت) مگر اذان بغرض طلب باراں یا دفع وبا بہ نیت اذان واعلان وطلب مردمان نہیں ہوتی بلکہ بہ نیت ذکر اور ذکر مسجد میں جائزہے پھراولی یہ ہے کہ بیرون مسجد فیصل وغیرہ رہواوراس میں اصلا کوئی حرج نہیں کہ اذان ذکرالہی ہے اور بارش رحمت الہی اور ذکر الہی باعث نزول رحمت ہے یونہی طریقہ مذکورہ یس واذان بھی ازقبیل اعمال ہے جس کے لئے اس سے زیادہ کسی ثبوت کی حاجت نہیں کہ شرع سے اس کی ممانعت نہیں آئی یس شریف کیلئے حدیث میں آیا : یس لماقرء لہ سورہ یس اس کام کے لئے ہے جس لئے پڑھی جائے یعنی جس نیت سے پڑھی جائے الله تعالی عطا فرمائے۔ اذان میں انگلیاں کان میں رکھنا مسنون ومستحب ہے مگر ہلانا اور گھمانا حرکت فضول ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۳۵) ۴ جمادی الاخری ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین بے وضو اذان کہناجائز ہے یا ناجائز
الجواب :
جائز ہے با یں معنے کہ اذان ہوجائے گی مگر چاہئے نہیں حدیث میں اس سے ممانعت آئی ہے ولہذا علامہ شرنبلالی نے نظر بحدیث کراہت اختیار فرمائی والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۳۶) از ریاست رام پور بزریہ ملا ظریف بنگلہ متصل مسجد مرسلہ مولوی علیم الدین صاحب اسلام آبادی
۱۵ جمادی الاخری ۱۳۱۴ھ
الاستفتاء ماقولکم رحمکم الله ربکم فی اذان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ھل ھواذن بنفسہ علیہ الصلاۃ والسلام ام لاولوکان مرۃ فی عمرہ علیہ الصلاۃ والسلام وفی ابتداء وجوب صلاۃ الجنازۃ علی المیت ای زمان کان وعلی من صلی اولا فی المدینۃ المنورۃ وجبت ام فی المکۃ المعظمۃ واول الصلاۃ صلیھا رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم علی ای صحابی کانت وما کان اسمہ رضی الله تعالی عنہ بینوا توجروا۔
سوال : اے علماء(الله تعالی تم پر رحم فرمائے)اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے کیا نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے خود اذان دی ہے یا نہیں اگرچہ تمام عمر میں ایك دفعہ ہو۔ اور میت پر نماز جنازہ کے وجوب کی ابتداء کب ہوئیسب سے پہلے کس کی نماز جنازہ پڑھائی گئیکیا یہ مدینہ منورہ
الجواب :
مسجد کے اندر وقتی اذان کہنا مکروہ ہے کمافی فتح القدیر وغیرہ (جیسا کہ فتح القدیر وغیرہ میں ہے۔ ت) مگر اذان بغرض طلب باراں یا دفع وبا بہ نیت اذان واعلان وطلب مردمان نہیں ہوتی بلکہ بہ نیت ذکر اور ذکر مسجد میں جائزہے پھراولی یہ ہے کہ بیرون مسجد فیصل وغیرہ رہواوراس میں اصلا کوئی حرج نہیں کہ اذان ذکرالہی ہے اور بارش رحمت الہی اور ذکر الہی باعث نزول رحمت ہے یونہی طریقہ مذکورہ یس واذان بھی ازقبیل اعمال ہے جس کے لئے اس سے زیادہ کسی ثبوت کی حاجت نہیں کہ شرع سے اس کی ممانعت نہیں آئی یس شریف کیلئے حدیث میں آیا : یس لماقرء لہ سورہ یس اس کام کے لئے ہے جس لئے پڑھی جائے یعنی جس نیت سے پڑھی جائے الله تعالی عطا فرمائے۔ اذان میں انگلیاں کان میں رکھنا مسنون ومستحب ہے مگر ہلانا اور گھمانا حرکت فضول ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۳۵) ۴ جمادی الاخری ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین بے وضو اذان کہناجائز ہے یا ناجائز
الجواب :
جائز ہے با یں معنے کہ اذان ہوجائے گی مگر چاہئے نہیں حدیث میں اس سے ممانعت آئی ہے ولہذا علامہ شرنبلالی نے نظر بحدیث کراہت اختیار فرمائی والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۳۶) از ریاست رام پور بزریہ ملا ظریف بنگلہ متصل مسجد مرسلہ مولوی علیم الدین صاحب اسلام آبادی
۱۵ جمادی الاخری ۱۳۱۴ھ
الاستفتاء ماقولکم رحمکم الله ربکم فی اذان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ھل ھواذن بنفسہ علیہ الصلاۃ والسلام ام لاولوکان مرۃ فی عمرہ علیہ الصلاۃ والسلام وفی ابتداء وجوب صلاۃ الجنازۃ علی المیت ای زمان کان وعلی من صلی اولا فی المدینۃ المنورۃ وجبت ام فی المکۃ المعظمۃ واول الصلاۃ صلیھا رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم علی ای صحابی کانت وما کان اسمہ رضی الله تعالی عنہ بینوا توجروا۔
سوال : اے علماء(الله تعالی تم پر رحم فرمائے)اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے کیا نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے خود اذان دی ہے یا نہیں اگرچہ تمام عمر میں ایك دفعہ ہو۔ اور میت پر نماز جنازہ کے وجوب کی ابتداء کب ہوئیسب سے پہلے کس کی نماز جنازہ پڑھائی گئیکیا یہ مدینہ منورہ
میں لازم ہوئی یا مکہ مکرمہ میں سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے کس صحابی کی نماز جنازہ ادا فرمائیاس صحابی رضی اللہ تعالی عنہکا نام کیا ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
قال فی الدرمختار وفی الضیاء انہ علیہ الصلاۃ والسلام اذن فی سفربنفسہ واقام وصلی الظھر وقد حققناہ فی الخزائن اھ قال فی ردالمحتار حیث قال بعد ماھنا ھذا وفی شرح البخاری لابن حجر ومما یکثر السؤال عنہ ھل باشر النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم الاذان بنفسہ وقداخرج الترمذی انہ صلی الله تعالی علیئہ وسلم اذن فی سفر وصلی باصحابہ وجزم بہ النووی وقواہ ولکن وجد فی مسند احمد من ھذا الوجہ فامر بلالا فاذن فعلم ان فی روایۃ الترمذی اختصارا وان معنی قولہ اذن امر بلالا کمایقال اعطی الخلیفۃ العالم الفلانی کذاوانما باشر العطاء غیرہ اھ ورأیتنی کتبت فیماعلقت علی ردالمحتار مانصہ اقول لکن سیأتی صفۃ الصلاۃ عند
ذکر التشھدعن تحفۃالامام ابن حجرالمکی انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم اذن مرۃ فی سفر فقال فی تشھدہ “ اشھد انی رسول اللہ “ وقد اشارابن حجرالی صحتہ وھذانص مفسر لایقبل التأویل وبہ یتقوی تقویۃ الامام النووی رحمہ الله تعالی اھ ماکتبت وبہ ظھر الجواب عن المسألۃ الاولی واما بدء صلاۃ الجنازۃ فکان من لدن سیدنا ادم علیہ الصلاۃ والسلام اخرج الحاکم فی المستدرك والطبرانی والبیھقی فی سننہ عن ابن عباس رضی الله تعالی عنھماقال اخرماکبرالنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم علی الجنازۃاربع تکبیرات وکبر عمر علی ابی بکرا ربعا وکبر ابن عمر علی عمر اربعا وکبر الحسن بن علی علی اربعا وکبر الحسین بن علی علی الحسن بن علی اربعا وکبرت الملئکۃ علی ادم اربعا ولم تشرع فی الاسلام فی المدینۃ المنورۃاخرج الادم الواقدی من حدیث حکیم بن حزام رضی الله تعالی عنہ فی ام المؤمنین خدیجۃرضی الله تعالی عنھا انھاتوفیت سنۃ عشر من البعثۃبعدخروج بنی ھاشم من الشعب ودفنت بالحجون ونزل النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فی حفرتھا و لم تکن شرعۃ الصلاۃ علی الجنائز اھ وقال الامام ابن حجر العسقلانی فی الاصابۃ فی ترجمۃ اسعد بن زرارہ رضی الله تعالی عنہ ذکر الواقدی انہ مات علی راس تسعۃ اشھر من الھجرۃ رواہ الحاکم فی المستدرك وقال الواقدی کان ذلك فی شوال قال البغوی بلغنی انہ اول من مات من الصحابۃ بعد الھجرۃ وانہ اول میت صلی علیہ النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اھ وبہ اتضح الجواب۔ والله تعالی اعلم۔
درمختار میں فرمایا اور الضیاء میں ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے سفرمیں بنفس نفیس اذان دی تکبیر کہی اور ظہر کی نماز پڑھائی اور ہم نے خزائن میں اس بارے میں تحقیق کی ہے اھ ردالمحتار میں کہا وہاں اس گفتگو کے بعد یہ فرمایا کہ ابن حجرکی فتح الباری شرح البخاری میں ہے کہ اکثر طور پر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے خود اذان دی ہےاور ترمذی نے روایت کیا ہے کہ آپ نے دوران سفر خود اذان دی اور صحابہ کو نماز پڑھائی امام نووی نے اس پر جزم کرتے ہوئے اسے قوی قرار دیا لیکن اسی طریق سے مسند احمد میں ہے کہ آپ نے بلال کو حکم دیاتو انہوں نے اذان کہی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روایت ترمذی میں اختصار ہے اور ان کے قول اذن کا معنی یہ ہے کہ آپ نے بلال کو اذان کا حکم دیا جیسا کہ محاورۃ کہا جاتا ہے کہ بادشاہ نے فلاں عالم کو یہ عطیہ دیاحالانکہ وہ خود عطا نہیں کرتا بلکہ عطا کرنے والا کوئی غیر ہوتا ہے اھ
الجواب :
قال فی الدرمختار وفی الضیاء انہ علیہ الصلاۃ والسلام اذن فی سفربنفسہ واقام وصلی الظھر وقد حققناہ فی الخزائن اھ قال فی ردالمحتار حیث قال بعد ماھنا ھذا وفی شرح البخاری لابن حجر ومما یکثر السؤال عنہ ھل باشر النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم الاذان بنفسہ وقداخرج الترمذی انہ صلی الله تعالی علیئہ وسلم اذن فی سفر وصلی باصحابہ وجزم بہ النووی وقواہ ولکن وجد فی مسند احمد من ھذا الوجہ فامر بلالا فاذن فعلم ان فی روایۃ الترمذی اختصارا وان معنی قولہ اذن امر بلالا کمایقال اعطی الخلیفۃ العالم الفلانی کذاوانما باشر العطاء غیرہ اھ ورأیتنی کتبت فیماعلقت علی ردالمحتار مانصہ اقول لکن سیأتی صفۃ الصلاۃ عند
ذکر التشھدعن تحفۃالامام ابن حجرالمکی انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم اذن مرۃ فی سفر فقال فی تشھدہ “ اشھد انی رسول اللہ “ وقد اشارابن حجرالی صحتہ وھذانص مفسر لایقبل التأویل وبہ یتقوی تقویۃ الامام النووی رحمہ الله تعالی اھ ماکتبت وبہ ظھر الجواب عن المسألۃ الاولی واما بدء صلاۃ الجنازۃ فکان من لدن سیدنا ادم علیہ الصلاۃ والسلام اخرج الحاکم فی المستدرك والطبرانی والبیھقی فی سننہ عن ابن عباس رضی الله تعالی عنھماقال اخرماکبرالنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم علی الجنازۃاربع تکبیرات وکبر عمر علی ابی بکرا ربعا وکبر ابن عمر علی عمر اربعا وکبر الحسن بن علی علی اربعا وکبر الحسین بن علی علی الحسن بن علی اربعا وکبرت الملئکۃ علی ادم اربعا ولم تشرع فی الاسلام فی المدینۃ المنورۃاخرج الادم الواقدی من حدیث حکیم بن حزام رضی الله تعالی عنہ فی ام المؤمنین خدیجۃرضی الله تعالی عنھا انھاتوفیت سنۃ عشر من البعثۃبعدخروج بنی ھاشم من الشعب ودفنت بالحجون ونزل النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فی حفرتھا و لم تکن شرعۃ الصلاۃ علی الجنائز اھ وقال الامام ابن حجر العسقلانی فی الاصابۃ فی ترجمۃ اسعد بن زرارہ رضی الله تعالی عنہ ذکر الواقدی انہ مات علی راس تسعۃ اشھر من الھجرۃ رواہ الحاکم فی المستدرك وقال الواقدی کان ذلك فی شوال قال البغوی بلغنی انہ اول من مات من الصحابۃ بعد الھجرۃ وانہ اول میت صلی علیہ النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اھ وبہ اتضح الجواب۔ والله تعالی اعلم۔
درمختار میں فرمایا اور الضیاء میں ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے سفرمیں بنفس نفیس اذان دی تکبیر کہی اور ظہر کی نماز پڑھائی اور ہم نے خزائن میں اس بارے میں تحقیق کی ہے اھ ردالمحتار میں کہا وہاں اس گفتگو کے بعد یہ فرمایا کہ ابن حجرکی فتح الباری شرح البخاری میں ہے کہ اکثر طور پر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے خود اذان دی ہےاور ترمذی نے روایت کیا ہے کہ آپ نے دوران سفر خود اذان دی اور صحابہ کو نماز پڑھائی امام نووی نے اس پر جزم کرتے ہوئے اسے قوی قرار دیا لیکن اسی طریق سے مسند احمد میں ہے کہ آپ نے بلال کو حکم دیاتو انہوں نے اذان کہی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روایت ترمذی میں اختصار ہے اور ان کے قول اذن کا معنی یہ ہے کہ آپ نے بلال کو اذان کا حکم دیا جیسا کہ محاورۃ کہا جاتا ہے کہ بادشاہ نے فلاں عالم کو یہ عطیہ دیاحالانکہ وہ خود عطا نہیں کرتا بلکہ عطا کرنے والا کوئی غیر ہوتا ہے اھ
حوالہ / References
الدرالمختار باب الاذان مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۶۵
ردالمحتار باب الاذان مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۹۵
المستدرك للحاکم التکبیر علی الجنائز اربع مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۳۸۶
الاصابہ فی تمیز الصحابہ ترجمہ خدیجہ بنت خویلد نمبر ۳۳۵ مطبوعہ دارصادر بیروت ۴ / ۲۸۳
الاصابہ فی تمیز الصحابہ ترجمہ اسعد بن زرارہ نمبر ۱۱۱ مطبوعہ دارصادر بیروت ۱ / ۳۴۹
ردالمحتار باب الاذان مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۹۵
المستدرك للحاکم التکبیر علی الجنائز اربع مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۳۸۶
الاصابہ فی تمیز الصحابہ ترجمہ خدیجہ بنت خویلد نمبر ۳۳۵ مطبوعہ دارصادر بیروت ۴ / ۲۸۳
الاصابہ فی تمیز الصحابہ ترجمہ اسعد بن زرارہ نمبر ۱۱۱ مطبوعہ دارصادر بیروت ۱ / ۳۴۹
مجھے اس بارے میں مزید جو سمجھ آئی اسے میں نے اپنے حاشیہ ردالمحتار میں تحریر کیاہے اور اسکے الفاظ یہ ہیں اقول : عنقریب صفات نماز کے تحت ذکر تشہدمیں تحفہ امام ابن حجر مکی سے آرہا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے سفر میں ایك دفعہ اذان دی تھی اور کلمات شہادت یوں کہے اشہد انی رسول اﷲ(میں گواہی دیتا ہوں کہ میں الله کا رسول ہوں )اور ابن حجر نے اس کی صحت کی طرف اشارہ کیا ہے اور یہ نص مفسر ہے جس میں تاویل کی کوئی گنجائش نہیں اور اس سے امام نووی رحمۃ اللہ تعالی علیہکے قول کی اور تقویت ملتی ہے اھ(میری تحریر ختم ہوئی)اس سے پہلے سوال کا جواب آگیا۔ باقی رہی جنازہ کی ابتداء تو یہ سیدنا آدم علیہ السلام کے دور سے ہے۔ حاکم نے مستدرک طبرانی اوربیھقی نے اپنی سنن میں حضرت عبدالله بن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے جنازہ پر جو آخری عمرمیں تکبیرات کہیں وہ چار تھیں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہنے جنازہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہپر چار تکبیرات کہیں اور ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہنے جنازہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہپر امام حسن رضی اللہ تعالی عنہنے جنازہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہپر اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہنے جنازہ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہپر چار تکبیرات کہیں ملائکہ نے سیدنا آدم علیہ السلام پر چار تکبیریں کہیں اور اسلام میں وجوب نماز جنازہ کا حکم
مدینہ منورہ میں نازل ہوا امام واقدی نے حضرت ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہاکے بارے میں حکیم بن حزام رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے کہ آپ کا وصال بعثت کے دسویں سال شعب ابی طالب سے خروج کے بعد ہوا اور آپ کو حجون کے قبرستان میں دفن کیاگیا اور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمخود ان کی لحد میں اترے اور اس وقت میت پر جنازہ کا حکم نہیں تھا اھ اور امام ابن حجر عسقلانی نے اصابہ میں حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ تعالی عنہکے احوال میں واقدی کے حوالے سے لکھا ہے کہ ان کا وصال ہجرت کے بعد نویں مہینے کے آخر میں ہوا اسے حاکم نے مستدرك میں روایت کیا اور بقول واقدی یہ شوال کا مہینہ تھا بغوی نے کہا کہ ہجرت کے بعدسب سے پہلے اسی صحابی کا وصال ہوا اور یہ پہلے صحابی کی میت تھی جس پر نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے نماز جنازہ پڑھی اور اس سے جواب واضح ہوگیا۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ (۳۳۷) از شہر کہنہ ۲۳ شوال مکرم ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ سے مسجد کے اندر زناکیا نعوذبالله من ذلك اب زید مسجد میں مؤذن رہ سکتا ہے یا نہیں اور جو لوگ زید کو مسجد میں رکھنے کے واسطے کوشش اور حجت کرتے ہیں ان کے بارے میں کیا حکم ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
نسأل الله العافیۃ (الله تعالی سے عافیت کا سوال ہے۔ ت) اگر یہ امر ثابت ہے تو پر ظاہر کہ زید اخبث فساق وفجار ہے اور فاسق کی اذان اگرچہ اقامت شعار کاکام دے مگر اعلام کہ اس کا بڑا کام ہے اس سے حاصل نہیں ہوتا نہ فاسق کی اذان پر وقت روزہ ونماز میں اعتماد جائز۔ لہذا مندوب ہے کہ اگر فاسق نے اذان دی ہوتو اس پر قناعت نہ کریں بلکہ دوبارہ مسلمان متقی پھر اذان دے تو جب تك یہ شخص صدق دل سے تائب نہ ہو
مسئلہ (۳۳۷) از شہر کہنہ ۲۳ شوال مکرم ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ سے مسجد کے اندر زناکیا نعوذبالله من ذلك اب زید مسجد میں مؤذن رہ سکتا ہے یا نہیں اور جو لوگ زید کو مسجد میں رکھنے کے واسطے کوشش اور حجت کرتے ہیں ان کے بارے میں کیا حکم ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
نسأل الله العافیۃ (الله تعالی سے عافیت کا سوال ہے۔ ت) اگر یہ امر ثابت ہے تو پر ظاہر کہ زید اخبث فساق وفجار ہے اور فاسق کی اذان اگرچہ اقامت شعار کاکام دے مگر اعلام کہ اس کا بڑا کام ہے اس سے حاصل نہیں ہوتا نہ فاسق کی اذان پر وقت روزہ ونماز میں اعتماد جائز۔ لہذا مندوب ہے کہ اگر فاسق نے اذان دی ہوتو اس پر قناعت نہ کریں بلکہ دوبارہ مسلمان متقی پھر اذان دے تو جب تك یہ شخص صدق دل سے تائب نہ ہو
اسے ہرگز مؤذن نہ رکھا جائے مسجدسے جداکردینا ضرور ہے۔ درمختار میں ہے :
جزم المصنف بعدم صحۃ اذان مجنون ومعتوہ وصبی لایعقل قلت وکافر وفاسق لعدم قبول قولہ فی الدیانات ۔
مصنف نے دیوانے ناقص العقل اور ناسمجھ بچے کی اذان کے بارے میں عدم صحت کا قول کیا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ کافر وفاسق کا بھی یہی حکم ہے کیونکہ امور دینیہ میں ان کا قول قابل قبول نہیں ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
المقصود الاصلی من الاذان فی الشرع الاعلام بدخول اوقات الصلاۃ ثم صار من شعار الاسلام فی کل بلدۃ اوناحیۃ من البلاد الواسعۃ فمن حیث الاعلام بدخول الوقت وقبول قولہ لابد من الاسلام والعقل والبلوغ والعدالۃ فاذااتصف المؤذن بھذہ الصفات یصح اذانہ والا فلایصح من حیث الاعتماد علیہ وامامن حیث اقامۃ الشعارالنافیۃ للاثم عن اھل البلدۃ فیصح اذان الکل سوی الصبی الذی لایعقل فیعاد اذان الکل ندبا علی الصح کماقدمناہ عن القھستانی اھ ملخصا۔
اذان کا مقصود اصلی شرع میں اوقات نماز کے دخول کی اطلاع ہے پھر یہ تمام ممالك اور بڑے شہروں کے اطراف میں شعائر اسلام کا درجہ پاچکی ہے تو دخول وقت کی اطلاع اور اس کے قول کی مقبولیت کے لئے ضروری ہے کہ اس کا قائل مسلمان عاقل بالغ اور عادل ہو اگر مؤذن ان صفات کے ساتھ متصف ہوا تو اس کی اذان درست ہوگی اور اگر اس میں یہ صفات نہیں تو اس پر اعتماد ہونے کی حیثیت درست نہ ہوگی البتہ اس حیثیت سے کہ یہ ان شعائر میں سے ہے جو تمام شہر والوں کو گناہ سے بچاتی ہے تو یہ بچے ناسمجھ کے علاوہ ہر کسی کی صحیح ہوگی لہذا اصح یہ ہے کہ ان تمام کی اذان کا لوٹانامستحب ہے جیسا کہ ہم نے قہستانی کے حوالے سے ذکر کیا ہے اھ ملخصا ۔ (ت)
اور جو اس کی حمایت میں فضول حجت کرتے ہیں امر ناحق کے مددگار بنتے ہیں انہیں باز آنا چاہئے۔ الله عزوجل فرماتا ہے : و لا تكن للخآىنین خصیما(۱۰۵)خیانت کرنے والوں کا وکیل نہ بن۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۳۸) از نقشبندی محلہ بریلی مسئولہ منشی احمد حسین صاحب ۱۰ رجب ۱۳۱۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین صلاۃ کے بارہ میں کہ بروز جمعہ بعض مسجدوں میں لوگوں نے بعد اذان کے صلاۃ کا
جزم المصنف بعدم صحۃ اذان مجنون ومعتوہ وصبی لایعقل قلت وکافر وفاسق لعدم قبول قولہ فی الدیانات ۔
مصنف نے دیوانے ناقص العقل اور ناسمجھ بچے کی اذان کے بارے میں عدم صحت کا قول کیا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ کافر وفاسق کا بھی یہی حکم ہے کیونکہ امور دینیہ میں ان کا قول قابل قبول نہیں ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
المقصود الاصلی من الاذان فی الشرع الاعلام بدخول اوقات الصلاۃ ثم صار من شعار الاسلام فی کل بلدۃ اوناحیۃ من البلاد الواسعۃ فمن حیث الاعلام بدخول الوقت وقبول قولہ لابد من الاسلام والعقل والبلوغ والعدالۃ فاذااتصف المؤذن بھذہ الصفات یصح اذانہ والا فلایصح من حیث الاعتماد علیہ وامامن حیث اقامۃ الشعارالنافیۃ للاثم عن اھل البلدۃ فیصح اذان الکل سوی الصبی الذی لایعقل فیعاد اذان الکل ندبا علی الصح کماقدمناہ عن القھستانی اھ ملخصا۔
اذان کا مقصود اصلی شرع میں اوقات نماز کے دخول کی اطلاع ہے پھر یہ تمام ممالك اور بڑے شہروں کے اطراف میں شعائر اسلام کا درجہ پاچکی ہے تو دخول وقت کی اطلاع اور اس کے قول کی مقبولیت کے لئے ضروری ہے کہ اس کا قائل مسلمان عاقل بالغ اور عادل ہو اگر مؤذن ان صفات کے ساتھ متصف ہوا تو اس کی اذان درست ہوگی اور اگر اس میں یہ صفات نہیں تو اس پر اعتماد ہونے کی حیثیت درست نہ ہوگی البتہ اس حیثیت سے کہ یہ ان شعائر میں سے ہے جو تمام شہر والوں کو گناہ سے بچاتی ہے تو یہ بچے ناسمجھ کے علاوہ ہر کسی کی صحیح ہوگی لہذا اصح یہ ہے کہ ان تمام کی اذان کا لوٹانامستحب ہے جیسا کہ ہم نے قہستانی کے حوالے سے ذکر کیا ہے اھ ملخصا ۔ (ت)
اور جو اس کی حمایت میں فضول حجت کرتے ہیں امر ناحق کے مددگار بنتے ہیں انہیں باز آنا چاہئے۔ الله عزوجل فرماتا ہے : و لا تكن للخآىنین خصیما(۱۰۵)خیانت کرنے والوں کا وکیل نہ بن۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۳۸) از نقشبندی محلہ بریلی مسئولہ منشی احمد حسین صاحب ۱۰ رجب ۱۳۱۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین صلاۃ کے بارہ میں کہ بروز جمعہ بعض مسجدوں میں لوگوں نے بعد اذان کے صلاۃ کا
حوالہ / References
الدرالمختار باب الاذان مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۶۴
ردالمحتار باب الاذان مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۹۰
ردالمحتار باب الاذان مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۹۰
معمول رکھا ہے اکثر آدمی اذان سن کر مسجدمیں فورا حاضر نہیں ہوتے صلاۃ کے منتظر رہتے ہیں جب اذان سے کچھ دیر کے بعد صلاۃ ہوتی ہے تو مسجد میں حاضر ہوتے ہیں یہ فعل جائز ہے یا ناجائز اور بعد اذان کے مسجد کے اندر سے کسی باہر کے شخص کو نماز کے واسطے پکارنا درست ہے یا نادرست
الجواب :
صلاۃ جائز ہے مگرجمعہ کے دن اذان اول سن کر نہ آنا حرام ہے ھو الصحیح المعتمد کمافی الدرالمختار وغیرہ(صحیح اور معتمد یہی ہے جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے۔ ت)اگر صلاۃ کی وجہ سے یہ سستی ہو جمعہ کے دن صلاۃ کا ترك کرنا ضرور ہے بعد اذان باہر والے کو آواز دینے ہیں حرج نہیں جب کوئی محذور شرعی نہ ہو مثلا بعد شروع خطبہ آواز دینا حرام ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۳۹) از بنگالہ ضلع پابنہ ڈاکخانہ سراج گنج موضع بھنگاباڑی مرسلہ منشی عنایت الله صاحب۶ شوال ۱۳۱۶ھ
ماقولکم رحمکم الله تعالی اس مسئلہ میں کہ جمعہ کے دن دونوں اذان بآواز بلند چاہئے یا اول بآواز بلند اور ثانی پست کرکے بینوا توجروا۔
الجواب : دونوں اذانیں پوری آواز سے خوب بلند کہی جائیں جس طرح اذان میں سنت ہے آج کل جو عوام دوسری اذان کو کہ خطبہ کے وقت ہوتی ہے پست آواز سے مثل تکبیرکے کہہ لیتے ہیں محض جہالت ہے اس سے سنت ادا نہیں ہوتی اصل اذان زمانہ اقدس حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموزمانہ صدیق اکبر وفاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہمامیں یہی تھی پہلی اذان امیرالمومنین عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہنے زائد فرمائی ہے کماثبت فی الصحیحین وغیرھما(جیسا کہ بخاری ومسلم وغیرہ میں ثابت ہے۔ ت) والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۴۰) اگر نمازیوں کو نماز کے وقت سے گھنٹہ آدھ گھنٹہ پہلے ان کی اجازت سے یا بغیر اجازت ان کے مکانوں پر جاکر فجرکی نماز کے واسطے بتاکید جگادیا جائے تو جائز ہے یا نہیں
الجواب :
نماز کے لئے جگاناموجب ثواب ہے مگر وقت سے اتنا پہلے جگانے کی کیا حاجت ہے البتہ ایسے وقت جگائے کہ استنجاء ووضو وغیرہ سے فارغ ہوکر سنتیں پڑھے اور تکبیر اولی میں شامل ہوجائے والله تعالی اعلم۔
الجواب :
صلاۃ جائز ہے مگرجمعہ کے دن اذان اول سن کر نہ آنا حرام ہے ھو الصحیح المعتمد کمافی الدرالمختار وغیرہ(صحیح اور معتمد یہی ہے جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے۔ ت)اگر صلاۃ کی وجہ سے یہ سستی ہو جمعہ کے دن صلاۃ کا ترك کرنا ضرور ہے بعد اذان باہر والے کو آواز دینے ہیں حرج نہیں جب کوئی محذور شرعی نہ ہو مثلا بعد شروع خطبہ آواز دینا حرام ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۳۹) از بنگالہ ضلع پابنہ ڈاکخانہ سراج گنج موضع بھنگاباڑی مرسلہ منشی عنایت الله صاحب۶ شوال ۱۳۱۶ھ
ماقولکم رحمکم الله تعالی اس مسئلہ میں کہ جمعہ کے دن دونوں اذان بآواز بلند چاہئے یا اول بآواز بلند اور ثانی پست کرکے بینوا توجروا۔
الجواب : دونوں اذانیں پوری آواز سے خوب بلند کہی جائیں جس طرح اذان میں سنت ہے آج کل جو عوام دوسری اذان کو کہ خطبہ کے وقت ہوتی ہے پست آواز سے مثل تکبیرکے کہہ لیتے ہیں محض جہالت ہے اس سے سنت ادا نہیں ہوتی اصل اذان زمانہ اقدس حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموزمانہ صدیق اکبر وفاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہمامیں یہی تھی پہلی اذان امیرالمومنین عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہنے زائد فرمائی ہے کماثبت فی الصحیحین وغیرھما(جیسا کہ بخاری ومسلم وغیرہ میں ثابت ہے۔ ت) والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۴۰) اگر نمازیوں کو نماز کے وقت سے گھنٹہ آدھ گھنٹہ پہلے ان کی اجازت سے یا بغیر اجازت ان کے مکانوں پر جاکر فجرکی نماز کے واسطے بتاکید جگادیا جائے تو جائز ہے یا نہیں
الجواب :
نماز کے لئے جگاناموجب ثواب ہے مگر وقت سے اتنا پہلے جگانے کی کیا حاجت ہے البتہ ایسے وقت جگائے کہ استنجاء ووضو وغیرہ سے فارغ ہوکر سنتیں پڑھے اور تکبیر اولی میں شامل ہوجائے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۴۱) اذان مسجد میں صبح کاذب میں کہنا چاہئے یا صبح صادق میں
الجواب :
ہمارے مذہب میں اذان قبل وقت جائز نہیں اگرچہ فجر کی ہو والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۴۲) ۲۶ ذیقعدہ ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں صلاۃ پکارنا عیدین وجمعہ میں کیسا ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
عیدین۱ میں “ الصلوۃ جامعۃ “ کہا جائے اور جمعہ میں تثویب حسب استحسان متاخرین جائز ہے اور تحقیق یہ ہے کہ وہاں کے نمازیوں کی حالت ومصلحت پر نظر کی جائے اگر وہ لوگ اذان سن کر خود جمع ہوجاتے ہیں تو تثویب ہرگز نہ کہی جائے کہ ان سے یہ عادت حسنہ چھڑاکر انتظار تثویب کا خوگر کردینا ہوگااور جہاں ایسانہیں بلکہ اس کی حاجت اور اس کے فعل میں مصلحت ہے وہاں کہی جائے ھذا ھو التحقیق وبہ یحصل التوفیق(تحقیق یہی ہے اور اس سے مطابقت حاصل ہوجاتی ہے۔ ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ (۳۴۳) ۲سوائے اذان کے آواز دینا کہ چلو جماعت تیار ہے یاکسی نمازی پنج وقتہ یا امام کو آواز دینا یا روز کے نمازی آنے والوں کا وقت آخرتك انتظار کرناکیساہے بینوا توجروا۔
الجواب۲ :
آخر وقت تك انتظار کرنابایں معنے کہ وقت کراہت آجائے مطلقا مکروہ ہے اور وقت استحباب تك اگر قوم حاضر ہے اور شخص منتظر مرد شریر نہیں جس سے خوف ایذا ہو اور انتظار حاضرین پر ثقیل ہوگا تو قدر سنت سے زیادہ انتظار مکروہ ہے اور اگر ابھی لوگ حاضر ہی نہیں یا منتظرسے ترك انتظار میں خوف ایذا ہے یا سب حاضرین انتظارپر بدل راضی ہیں تو حرج نہیں اور بقدر سنت تو انتظار ہمیشہ ہی چاہئے جب تك وقت کراہت نہ آئے انتظار مسنون جو عوام میں بقدر چار رکعت کے مشہور ہے بے اصل ہے بلکہ اس کی حدغیر مغرب میں یہ ہے کہ اذان سن کر جسے وضو نہ ہو وضو کرے کھاتا ہوتو اس سے فارغ ہوجائے حاجت کی ضرورت ہوتو اس سے انفراغ وطہارت کے بعد حاضر مسجد ہوجائے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۴۴) از مدرسہ اشاعۃ العلوم دوم جمادی الاولے ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید دعوی کرتا ہے کہ جب تك سب مقتدی کھڑے نہ ہولیں اور صف سیدھی نہ ہو اورامام اپنی جانماز پر کھڑا نہ ہو تب تك اقامت نہ کہی جائے اور عمرو دعوی کرتا ہے کہ مقتدی اور امام کو پہلے ہی سے کھڑا ہونا ضروری نہیں بلکہ اقامت شروع کی اور مؤذن “ حی علی الفلاح
الجواب :
ہمارے مذہب میں اذان قبل وقت جائز نہیں اگرچہ فجر کی ہو والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۴۲) ۲۶ ذیقعدہ ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں صلاۃ پکارنا عیدین وجمعہ میں کیسا ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
عیدین۱ میں “ الصلوۃ جامعۃ “ کہا جائے اور جمعہ میں تثویب حسب استحسان متاخرین جائز ہے اور تحقیق یہ ہے کہ وہاں کے نمازیوں کی حالت ومصلحت پر نظر کی جائے اگر وہ لوگ اذان سن کر خود جمع ہوجاتے ہیں تو تثویب ہرگز نہ کہی جائے کہ ان سے یہ عادت حسنہ چھڑاکر انتظار تثویب کا خوگر کردینا ہوگااور جہاں ایسانہیں بلکہ اس کی حاجت اور اس کے فعل میں مصلحت ہے وہاں کہی جائے ھذا ھو التحقیق وبہ یحصل التوفیق(تحقیق یہی ہے اور اس سے مطابقت حاصل ہوجاتی ہے۔ ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ (۳۴۳) ۲سوائے اذان کے آواز دینا کہ چلو جماعت تیار ہے یاکسی نمازی پنج وقتہ یا امام کو آواز دینا یا روز کے نمازی آنے والوں کا وقت آخرتك انتظار کرناکیساہے بینوا توجروا۔
الجواب۲ :
آخر وقت تك انتظار کرنابایں معنے کہ وقت کراہت آجائے مطلقا مکروہ ہے اور وقت استحباب تك اگر قوم حاضر ہے اور شخص منتظر مرد شریر نہیں جس سے خوف ایذا ہو اور انتظار حاضرین پر ثقیل ہوگا تو قدر سنت سے زیادہ انتظار مکروہ ہے اور اگر ابھی لوگ حاضر ہی نہیں یا منتظرسے ترك انتظار میں خوف ایذا ہے یا سب حاضرین انتظارپر بدل راضی ہیں تو حرج نہیں اور بقدر سنت تو انتظار ہمیشہ ہی چاہئے جب تك وقت کراہت نہ آئے انتظار مسنون جو عوام میں بقدر چار رکعت کے مشہور ہے بے اصل ہے بلکہ اس کی حدغیر مغرب میں یہ ہے کہ اذان سن کر جسے وضو نہ ہو وضو کرے کھاتا ہوتو اس سے فارغ ہوجائے حاجت کی ضرورت ہوتو اس سے انفراغ وطہارت کے بعد حاضر مسجد ہوجائے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۴۴) از مدرسہ اشاعۃ العلوم دوم جمادی الاولے ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید دعوی کرتا ہے کہ جب تك سب مقتدی کھڑے نہ ہولیں اور صف سیدھی نہ ہو اورامام اپنی جانماز پر کھڑا نہ ہو تب تك اقامت نہ کہی جائے اور عمرو دعوی کرتا ہے کہ مقتدی اور امام کو پہلے ہی سے کھڑا ہونا ضروری نہیں بلکہ اقامت شروع کی اور مؤذن “ حی علی الفلاح
“ تك پہنچ جائے اس وقت امام ومقتدی کھڑے ہوجائیں اور جس وقت “ قدقامت الصلاۃ “ کہے تب امام تکبیر کہے اب ان دونوں میں کون حق پر ہے دیگر صورت مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نماز جمعہ میں امام کو تشہد میں پائے یا سجدہ سہو میں اب جمعہ اس کا ادا ہوگیا یا نہیں
الجواب :
عمرو حق پر ہے کھڑے ہوکر تکبیر سننا مکروہ ہے یہاں تك کہ علماء حکم فرماتے ہیں کہ جو شخص مسجد میں آیا اور تکبیر ہورہی ہے وہ اس کے تمام تك کھڑا نہ رہے بلکہ بیٹھ جائے یہاں تك کہ مکبر “ حی علی الفلاح “ تك پہنچے اس وقت کھڑا ہو وقایہ میں ہے :
یقوم الامام والقوم عند “ حی علی الصلاۃ “ ویشرع عند “ قدقامت الصلاۃ “ ۔
امام اور نمازی “ حی علی الصلاۃ “ پر کھڑے ہوں اور “ قد قامت الصلاۃ “ کے الفاظ پر امام نماز شروع کردے۔ (ت)
محیط وہندیہ میں ہے :
یقوم الامام والقوم اذاقال المؤذن حی علی الفلاح عند علمائنا الثلثۃ ھو الصحیح ۔
ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیك جب اقامت کہنے والا “ حی علی الفلاح “ کہے تو اس وقت امام اور تمام نمازی کھڑے ہوں اور یہی صحیح ہے۔ (ت)
جامع المضمرات وعالمگیریہ وردالمحتار میں ہے :
اذادخل الرجل عندالاقامۃ یکرہ لہ الانتظارقائما ولکن یقعد ثم یقوم اذابلغ المؤذن قولہ “ حی علی الفلاح “ ۔
جب کوئی نمازی تکبیر کے وقت آئے تو وہ بیٹھ جائے کیونکہ کھڑے ہوکر انتظار کرنا مکروہ ہے پھر جب مؤذن “ حی علی الفلاح “ کہے تو اس وقت کھڑا ہو۔ (ت)
اسی طرح بہت کتب میں ہے۔
اقول : ولاتعارض عندی بین قول الوقایۃ واتباعھا یقومون عند “ حی الصلاۃ “ والمحیط والمضمرات ومن معھما عند “ حی علی الفلاح “ فانا اذا حملنا الاول علی الانتھاء والاخر علی الابتداء اتحد القولان ای یقومون حین یتم المؤذن حی علی الصلاۃ ویأتی علی الفلاح وھذا مایعطیہ قول المضمرات یقوم اذابلغ المؤذن حی علی الفلاح ولعل ھذا اولی ممافی مجمع الانھر من قولہ وفی الوقایۃ ویقوم الامام والقوم عند حی علی الصلاۃ ای قبیلہ اھ
اقول : صاحب وقایہ اور ان کے متبعین “ حی علی الصلاۃ “ کے موقعہ پر کھڑا ہونے کا قول کرتے ہیں اور صاحب محیط مضمرات اور ان کی جماعت “ حی علی الفلاح “ کے وقت کھڑا ہونے کا قول
الجواب :
عمرو حق پر ہے کھڑے ہوکر تکبیر سننا مکروہ ہے یہاں تك کہ علماء حکم فرماتے ہیں کہ جو شخص مسجد میں آیا اور تکبیر ہورہی ہے وہ اس کے تمام تك کھڑا نہ رہے بلکہ بیٹھ جائے یہاں تك کہ مکبر “ حی علی الفلاح “ تك پہنچے اس وقت کھڑا ہو وقایہ میں ہے :
یقوم الامام والقوم عند “ حی علی الصلاۃ “ ویشرع عند “ قدقامت الصلاۃ “ ۔
امام اور نمازی “ حی علی الصلاۃ “ پر کھڑے ہوں اور “ قد قامت الصلاۃ “ کے الفاظ پر امام نماز شروع کردے۔ (ت)
محیط وہندیہ میں ہے :
یقوم الامام والقوم اذاقال المؤذن حی علی الفلاح عند علمائنا الثلثۃ ھو الصحیح ۔
ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیك جب اقامت کہنے والا “ حی علی الفلاح “ کہے تو اس وقت امام اور تمام نمازی کھڑے ہوں اور یہی صحیح ہے۔ (ت)
جامع المضمرات وعالمگیریہ وردالمحتار میں ہے :
اذادخل الرجل عندالاقامۃ یکرہ لہ الانتظارقائما ولکن یقعد ثم یقوم اذابلغ المؤذن قولہ “ حی علی الفلاح “ ۔
جب کوئی نمازی تکبیر کے وقت آئے تو وہ بیٹھ جائے کیونکہ کھڑے ہوکر انتظار کرنا مکروہ ہے پھر جب مؤذن “ حی علی الفلاح “ کہے تو اس وقت کھڑا ہو۔ (ت)
اسی طرح بہت کتب میں ہے۔
اقول : ولاتعارض عندی بین قول الوقایۃ واتباعھا یقومون عند “ حی الصلاۃ “ والمحیط والمضمرات ومن معھما عند “ حی علی الفلاح “ فانا اذا حملنا الاول علی الانتھاء والاخر علی الابتداء اتحد القولان ای یقومون حین یتم المؤذن حی علی الصلاۃ ویأتی علی الفلاح وھذا مایعطیہ قول المضمرات یقوم اذابلغ المؤذن حی علی الفلاح ولعل ھذا اولی ممافی مجمع الانھر من قولہ وفی الوقایۃ ویقوم الامام والقوم عند حی علی الصلاۃ ای قبیلہ اھ
اقول : صاحب وقایہ اور ان کے متبعین “ حی علی الصلاۃ “ کے موقعہ پر کھڑا ہونے کا قول کرتے ہیں اور صاحب محیط مضمرات اور ان کی جماعت “ حی علی الفلاح “ کے وقت کھڑا ہونے کا قول
حوالہ / References
مختصر الوقایہ فصل الاذان نور محمد کارخانہ تجارت کراچی ص ۱۲
فتاوٰی ہندیہ الفصل الثانی فی کلمات الاذان والاقامۃ الخ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۵۷
فتاوٰی ہندیہ الفصل الثانی فی کلمات الاذان والاقامۃ الخ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۵۷
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب الاذان مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۷۸
فتاوٰی ہندیہ الفصل الثانی فی کلمات الاذان والاقامۃ الخ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۵۷
فتاوٰی ہندیہ الفصل الثانی فی کلمات الاذان والاقامۃ الخ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۵۷
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب الاذان مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۷۸
کرتے ہیں میرے نزدیك ان میں کوئی تعارض نہیں اس لئے کہ جب ہم پہلے قول کو انتہا اور دوسرے کو ابتدا پر محمول کریں تو دونوں قولوں میں اتحاد حاصل ہوجاتا ہے یعنی جب مؤذن حی علی الصلاۃ “ پورا کرکے حی علی الفلاح کہے تو کھڑے ہوں اور اس کی تائید مضمرات کے ان الفاظ سے ہوتی ہے “ اس وقت کھڑا ہو جب مؤذن “ حی علی الفلاح “ پر پہنچے اور یہ اس سے بہتر ہے جو مجمع الانہر میں اس کا قول ہے : وقایہ میں ہے کہ امام اور نمازی “ حی علی الصلاۃ “ کے وقت یعنی اس سے تھوڑا سا پہلے کھڑے ہوں اھ۔ (ت)
یہ اس صورت میں ہے کہ امام بھی وقت تکبیر مسجد میں ہو اور اگروہ حاضر نہیں تو مؤذن جب تك اسے آتا نہ دیکھتے تکبیر نہ کہے نہ اس وقت تك کوئی کھڑا ہولقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم لاتقوموا حتی ترونی(کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد گرامی ہے : تم نہ کھڑے ہواکرو یہاں تك کہ مجھے دیکھ لو۔ ت) پھر جب امام آئے اور تکبیر شروع ہو اس وقت دو۲ صورتیں ہیں اگر امام صفوں کی طرف سے داخل مسجد ہوتو جس صفت سے گزرتا جائے وہی صف کھڑی ہوتی جائے اور اگر سامنے سے آئے تو اسے دیکھتے ہی سب کھڑے ہوجائیں اور اگر خود امام ہی تکبیر کہے تو جب تك پوری تکبیر سے فارغ نہ ہولے مقتدی اصلا کھڑے نہ ہوں بلکہ اگر اس نے تکبیر مسجد سے باہر کہی تو فراغ پر بھی کھڑے نہ ہوں جب وہ مسجد میں قدم رکھے اس وقت قیام کریں ہندیہ میں بعد عبارت مذکور ہے :
فامااذاکان الامام خارج المسجد فان دخل المسجد من قبل الصفون فکلماجاوز صفا قام ذلك الصف والیہ مال شمس الائمۃ الحلوانی والسرخسی وشیخ الاسلام خواھرزادہ وان کان الامام دخل المسجد من قدامھم یقومون کماراؤا الامام وان کان المؤذن والامام واحدا فان اقام فی المسجد فالقوم لایقومون مالم یفرغ عن الاقامۃ وان اقام خارج المسجد فمشایخنا اتفقوا علی انھم لایقومون مالم یدخل الامام المسجد ویکبر الامام قبیل قولہ قدقامت الصلاۃ قال الشیخ الامام شمس الائمۃ الحلوانی وھو الصحیح ھکذا فی المحیط ۔
اگر امام مسجد سے باہر ہو اگر وہ صفوں کی جانب سے مسجد میں داخل ہوتوجس صف سے وہ گزرے وہ صف کھڑی ہوجائے شمس الائمہ حلوانی سرخسی شیخ الاسلام خواہر زادہ اسی طرف گئے ہیں اور اگر امام ان کے سامنے سے مسجد میں داخل ہوتواسے دیکھتے ہی تمام مقتدی کھڑے ہوجائیں اگر مؤذن اور امام ایك ہی ہے پس اگر اس نے مسجدکے اندر
یہ اس صورت میں ہے کہ امام بھی وقت تکبیر مسجد میں ہو اور اگروہ حاضر نہیں تو مؤذن جب تك اسے آتا نہ دیکھتے تکبیر نہ کہے نہ اس وقت تك کوئی کھڑا ہولقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم لاتقوموا حتی ترونی(کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد گرامی ہے : تم نہ کھڑے ہواکرو یہاں تك کہ مجھے دیکھ لو۔ ت) پھر جب امام آئے اور تکبیر شروع ہو اس وقت دو۲ صورتیں ہیں اگر امام صفوں کی طرف سے داخل مسجد ہوتو جس صفت سے گزرتا جائے وہی صف کھڑی ہوتی جائے اور اگر سامنے سے آئے تو اسے دیکھتے ہی سب کھڑے ہوجائیں اور اگر خود امام ہی تکبیر کہے تو جب تك پوری تکبیر سے فارغ نہ ہولے مقتدی اصلا کھڑے نہ ہوں بلکہ اگر اس نے تکبیر مسجد سے باہر کہی تو فراغ پر بھی کھڑے نہ ہوں جب وہ مسجد میں قدم رکھے اس وقت قیام کریں ہندیہ میں بعد عبارت مذکور ہے :
فامااذاکان الامام خارج المسجد فان دخل المسجد من قبل الصفون فکلماجاوز صفا قام ذلك الصف والیہ مال شمس الائمۃ الحلوانی والسرخسی وشیخ الاسلام خواھرزادہ وان کان الامام دخل المسجد من قدامھم یقومون کماراؤا الامام وان کان المؤذن والامام واحدا فان اقام فی المسجد فالقوم لایقومون مالم یفرغ عن الاقامۃ وان اقام خارج المسجد فمشایخنا اتفقوا علی انھم لایقومون مالم یدخل الامام المسجد ویکبر الامام قبیل قولہ قدقامت الصلاۃ قال الشیخ الامام شمس الائمۃ الحلوانی وھو الصحیح ھکذا فی المحیط ۔
اگر امام مسجد سے باہر ہو اگر وہ صفوں کی جانب سے مسجد میں داخل ہوتوجس صف سے وہ گزرے وہ صف کھڑی ہوجائے شمس الائمہ حلوانی سرخسی شیخ الاسلام خواہر زادہ اسی طرف گئے ہیں اور اگر امام ان کے سامنے سے مسجد میں داخل ہوتواسے دیکھتے ہی تمام مقتدی کھڑے ہوجائیں اگر مؤذن اور امام ایك ہی ہے پس اگر اس نے مسجدکے اندر
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ الفصل الثانی فی کلمات الاذن والاقامۃ الخ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۵۷
ہی تکبیر کہی تو قوم اس وقت تك کھڑی نہ ہو جب تك وہ تکبیر سے فارغ نہ ہوجائے اور اگر اس نے خارج ازمسجد تکبیر کہی تو ہمارے تمام مشائخ اس پر متفق ہیں کہ لوگ اس وقت تك کھڑے نہ ہوں جب تك امام مسجد میں داخل نہ ہواور امام “ قدقامت الصلاۃ “ کے تھوڑا پہلے تکبیر تحریمہ کہے امام شمس الائمہ حلوانی کہتے ہیں کہ یہی صحیح ہے محیط میں اسی طرح ہے۔ (ت)
جمعہ بھی ہمارے امام کے نزدیك اس بارے میں مثل اور نمازوں کے ہے سلام سے پہلے جو شریك ہو لیا اس نے جمعہ پالیا دو۲ ہی رکعت پڑھے درمختار میں ہے :
من ادرکہافی تشہداوسجود سھوعلی القول بہ فیھایتمھا جمعۃ خلافا لمحمد ۔ والله تعالی اعلم۔
جس شخص نے جمعہ کی نمازمیں تشہد یا سجدہ سہو میں اس قول پر جو جمعہ میں سجدہ سہو کا قول کرتے ہیں امام کو پایاتو وہ نماز کو جمعہ کے طورپر پورا کرے اس میں امام محمد کا اختلاف ہے۔ (ت)
مسئلہ(۳۴۵) ایك طالب علم اذان میں حی علی الصلاۃ ایك بار دہنی طرف منہ پھیر کر کہتے ہیں اور پھر بائیں طرف منہ پھیر کر ایك بار حی علی الفلاح کہتے ہیں اور پھر دہنی طرف منہ پھیر کر ایك بار حی علی الصلاۃ اور پھر بائیں طرف منہ پھیر کر حی علی الفلاح کہتے ہیں اور اس طرح اذان دینے کو افضل کہتے ہیں اور حاشیہ ہدایہ کا حوالہ دیتے ہیں کہ اس میں اس طرح آیا ہے یہ قول ان کا درست ہے یا نہیں اور اس طرح اذان دیا کریں یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
یہ محض غلط وخلاف سنت ہے علمگیریہ ومحیط سرخسی میں ہے : یرتب بین کلمات الاذان والاقامۃ کماشرع کلمات اذان وتکبیر میں اسی ترتیب کا قائم رہنا ضروری ہے جس پر مشروع ہوئے ہیں ۔ ت)مسند احمد وسنن ابی داؤد وغیرہما میں عبدالله بن زید عبد ربہ رضی اللہ تعالی عنہسے حدیث تعلیم اذان میں ہے
جمعہ بھی ہمارے امام کے نزدیك اس بارے میں مثل اور نمازوں کے ہے سلام سے پہلے جو شریك ہو لیا اس نے جمعہ پالیا دو۲ ہی رکعت پڑھے درمختار میں ہے :
من ادرکہافی تشہداوسجود سھوعلی القول بہ فیھایتمھا جمعۃ خلافا لمحمد ۔ والله تعالی اعلم۔
جس شخص نے جمعہ کی نمازمیں تشہد یا سجدہ سہو میں اس قول پر جو جمعہ میں سجدہ سہو کا قول کرتے ہیں امام کو پایاتو وہ نماز کو جمعہ کے طورپر پورا کرے اس میں امام محمد کا اختلاف ہے۔ (ت)
مسئلہ(۳۴۵) ایك طالب علم اذان میں حی علی الصلاۃ ایك بار دہنی طرف منہ پھیر کر کہتے ہیں اور پھر بائیں طرف منہ پھیر کر ایك بار حی علی الفلاح کہتے ہیں اور پھر دہنی طرف منہ پھیر کر ایك بار حی علی الصلاۃ اور پھر بائیں طرف منہ پھیر کر حی علی الفلاح کہتے ہیں اور اس طرح اذان دینے کو افضل کہتے ہیں اور حاشیہ ہدایہ کا حوالہ دیتے ہیں کہ اس میں اس طرح آیا ہے یہ قول ان کا درست ہے یا نہیں اور اس طرح اذان دیا کریں یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
یہ محض غلط وخلاف سنت ہے علمگیریہ ومحیط سرخسی میں ہے : یرتب بین کلمات الاذان والاقامۃ کماشرع کلمات اذان وتکبیر میں اسی ترتیب کا قائم رہنا ضروری ہے جس پر مشروع ہوئے ہیں ۔ ت)مسند احمد وسنن ابی داؤد وغیرہما میں عبدالله بن زید عبد ربہ رضی اللہ تعالی عنہسے حدیث تعلیم اذان میں ہے
حوالہ / References
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب الجمعۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۱۳
فتاوٰی ہندیۃ الفصل الثانی فی کلمات الاذان الخ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۵۶
فتاوٰی ہندیۃ الفصل الثانی فی کلمات الاذان الخ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۵۶
فرشتے نے کہا یوں کہا کرو (کلمات اذان یہ ہیں ) :
الله اکبر الله اکبر الله اکبر الله اکبر اشھد ان لا الہ الا اللہ اشھد ان لا الہ الااللہ اشھد ان محمدا رسول اللہ اشھد ان محمدا رسول اللہ حی علی الصلوۃ حی علی الصلوۃ حی علی الفلاح حی علی الفلاح الله اکبر الله اکبر لاالہ الا الله ۔
عبدالله بن زیدنے فرمایا حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے میں نے عرض کی حضور نے فرمایا :
ان ھذہ لرؤیا حق ان شاء الله تعالی ثم امر بالتاذین فکان بلال مولی ابی بکر یؤذن بذلك ۔
ان شاء الله تعالی یہ خواب بیشك حق ہے پھررسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے بلال مولی ابی بکر رضی اللہ تعالی عنہماکو اذان کا حکم دیاوہ اس طورپر مذکور پر اذان دیا کرتے تھے۔
صحیح مسلم وسنن نسائی وغیرہما میں ابومحذورہ رضی اللہ تعالی عنہسے جو حدیث ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے انہیں اذان تعلیم فرمائی اس میں بھی شہادتیں کے بعد یوں ہی ہے : حی علی الصلاۃ حی علی الصلاۃ حی علی الفلاح حی علی الفلاح الله اکبر الله اکبر لاالہ الا الله ۔ غرض دونوں حی علی الصلاۃ ایك ساتھ پھر دونوں حی علی الفلاح ایك ساتھ پڑھنے میں کوئی شك نہیں ہاں بعض علما نے منہ پھیرنے میں یہ طریقہ رکھاہے کہ ایك بار دہنی طرف کہے حی علی الصلاۃ پھر اسی کو بائیں طرف کہے پھر ایك بار دہنی طرف کہے حی علی الفلاح پھر اسی کو بائیں طرف کہے فتح القدیر حاشیہ ہدایہ میں اسی کو ترجیح دی مگر صحیح وہی ہے کہ دونوں بار حی علی الصلاۃ دہنی طرف کہہ کر دونوں بار حی علی الفلاح بائیں طرف کہے۔ ردالمحتار میں ہے : یلتفت فیھمایمینا بالصلوۃ ویسارا بالفلاح وھو الاصح(اصح یہ ہے دونوں میں حی علی الصلاۃ کے وقت دائیں طرف حی علی الفلاح کے وقت بائیں طرف منہ پھیرے۔ ت) “ قہستانی عن المنیۃ “ وھو الصحیح کمافی البحر والتبیین (اور صحیح یہی ہے جیسا کہ بحر وتبیین میں ہے۔ ت) وقال مشایخ مرویمنۃ ویسرۃ فی کل قال فی الفتح
الله اکبر الله اکبر الله اکبر الله اکبر اشھد ان لا الہ الا اللہ اشھد ان لا الہ الااللہ اشھد ان محمدا رسول اللہ اشھد ان محمدا رسول اللہ حی علی الصلوۃ حی علی الصلوۃ حی علی الفلاح حی علی الفلاح الله اکبر الله اکبر لاالہ الا الله ۔
عبدالله بن زیدنے فرمایا حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے میں نے عرض کی حضور نے فرمایا :
ان ھذہ لرؤیا حق ان شاء الله تعالی ثم امر بالتاذین فکان بلال مولی ابی بکر یؤذن بذلك ۔
ان شاء الله تعالی یہ خواب بیشك حق ہے پھررسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے بلال مولی ابی بکر رضی اللہ تعالی عنہماکو اذان کا حکم دیاوہ اس طورپر مذکور پر اذان دیا کرتے تھے۔
صحیح مسلم وسنن نسائی وغیرہما میں ابومحذورہ رضی اللہ تعالی عنہسے جو حدیث ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے انہیں اذان تعلیم فرمائی اس میں بھی شہادتیں کے بعد یوں ہی ہے : حی علی الصلاۃ حی علی الصلاۃ حی علی الفلاح حی علی الفلاح الله اکبر الله اکبر لاالہ الا الله ۔ غرض دونوں حی علی الصلاۃ ایك ساتھ پھر دونوں حی علی الفلاح ایك ساتھ پڑھنے میں کوئی شك نہیں ہاں بعض علما نے منہ پھیرنے میں یہ طریقہ رکھاہے کہ ایك بار دہنی طرف کہے حی علی الصلاۃ پھر اسی کو بائیں طرف کہے پھر ایك بار دہنی طرف کہے حی علی الفلاح پھر اسی کو بائیں طرف کہے فتح القدیر حاشیہ ہدایہ میں اسی کو ترجیح دی مگر صحیح وہی ہے کہ دونوں بار حی علی الصلاۃ دہنی طرف کہہ کر دونوں بار حی علی الفلاح بائیں طرف کہے۔ ردالمحتار میں ہے : یلتفت فیھمایمینا بالصلوۃ ویسارا بالفلاح وھو الاصح(اصح یہ ہے دونوں میں حی علی الصلاۃ کے وقت دائیں طرف حی علی الفلاح کے وقت بائیں طرف منہ پھیرے۔ ت) “ قہستانی عن المنیۃ “ وھو الصحیح کمافی البحر والتبیین (اور صحیح یہی ہے جیسا کہ بحر وتبیین میں ہے۔ ت) وقال مشایخ مرویمنۃ ویسرۃ فی کل قال فی الفتح
حوالہ / References
سنن ابی داؤد باب کیف الاذان مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۷۲
سنن ابی داؤد باب کیف الاذان مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۷۲
صحیح مسلم کتاب الصلوٰۃ باب بدء الاذان مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۶۵
سنن ابی داؤد باب کیف الاذان مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۷۲
صحیح مسلم کتاب الصلوٰۃ باب بدء الاذان مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۶۵
الثانی اوجہ وردہ الرملی بانہ خلاف الصحیح المنقول عن السلف اھ باختصار مشایخ مرو نے کہا ہے کہ ہر ایك میں دائیں اور بائیں منہ پھیرے (جیسے کہ قہستانی میں ہے) فتح میں ہے کہ دوسرا قول اوجہ ہے اور رملی نے اس کا رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اسلاف سے منقول صحیح قول کے منافی ہے اھ اختصار۔ ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۴۶) ۲۱ ذی قعدہ ۱۳۲۲ھ
بعد اذان کے پھر کسی خاص شخص کو پکارنا بالخصوص خودی والے کو درست ہے یا نہیں
الجواب :
بعد اذان کے سلطان اسلام وقاضی شرع وعالم دین کی خدمتوں میں مؤذن دوبارہ اطلاع کے واسطے مؤدبانہ حاضر ہو یہی سنت ہے باقی لوگوں میں اگر سامنے سے گزریں توکہہ دینا کہ نماز کو آؤ جماعت تیار ہے یا مسجد کو جاتے راہ میں جو ملیں انہیں تاکید کرتے آنا مضائقہ نہیں رکھتا مگر گھر پر آدمی بھیج کر بلانے کی حاجت نہیں خصوصا خودی والے متکبرکوکہ متکبر شرعا مستحق توہین ہے نہ لائق رعایت جبکہ مظنہ فتنہ نہ ہو والله تعالی اعلم
مسئلہ (۳۴۷) منشی عبدالقادر صاحب میسوری
یہاں یہ دستور ہے کہ نماز پنجگانہ وعیدین ونماز جنازہ میں شہروں اور قریہ وغیرہ سب جاصلاۃ صلاۃ پکار کر کہتے ہیں یہ صلاۃ پکارنا کیسا ہے کس زمانہ وکن بزرگوں سے ابتدا جاری ہے اس کے پکارنے سے نماز میں خلل ہے یا نہیں یہاں چند صاحبان صلاۃپکارنا بدعت یعنی ناجائزسمجھتے ہیں ازراہ مہربانی جواب تحریر کریں ۔
الجواب :
عیدین میں الصلاۃ جامعۃ
(نماز کی جماعت تیار ہے۔ ت)
بآواز بلند دو بار پکارنا مستحب ہےمرقاۃ شرح مشکوۃ شریف میں ہے :
یستحب ان ینادی لھا الصلوۃ جامعۃ بالاتفاق ۔
یہ آواز دینا کہ جماعت تیار ہے بالاتفاق مستحب ہے۔ (ت)
سوائے مغرب ہر نماز میں صلاۃ پکارنا یعنی دوبارہ اعلان کرنا ائمہ متاخرین نے مستحب رکھا ہے بلکہ
مسئلہ (۳۴۶) ۲۱ ذی قعدہ ۱۳۲۲ھ
بعد اذان کے پھر کسی خاص شخص کو پکارنا بالخصوص خودی والے کو درست ہے یا نہیں
الجواب :
بعد اذان کے سلطان اسلام وقاضی شرع وعالم دین کی خدمتوں میں مؤذن دوبارہ اطلاع کے واسطے مؤدبانہ حاضر ہو یہی سنت ہے باقی لوگوں میں اگر سامنے سے گزریں توکہہ دینا کہ نماز کو آؤ جماعت تیار ہے یا مسجد کو جاتے راہ میں جو ملیں انہیں تاکید کرتے آنا مضائقہ نہیں رکھتا مگر گھر پر آدمی بھیج کر بلانے کی حاجت نہیں خصوصا خودی والے متکبرکوکہ متکبر شرعا مستحق توہین ہے نہ لائق رعایت جبکہ مظنہ فتنہ نہ ہو والله تعالی اعلم
مسئلہ (۳۴۷) منشی عبدالقادر صاحب میسوری
یہاں یہ دستور ہے کہ نماز پنجگانہ وعیدین ونماز جنازہ میں شہروں اور قریہ وغیرہ سب جاصلاۃ صلاۃ پکار کر کہتے ہیں یہ صلاۃ پکارنا کیسا ہے کس زمانہ وکن بزرگوں سے ابتدا جاری ہے اس کے پکارنے سے نماز میں خلل ہے یا نہیں یہاں چند صاحبان صلاۃپکارنا بدعت یعنی ناجائزسمجھتے ہیں ازراہ مہربانی جواب تحریر کریں ۔
الجواب :
عیدین میں الصلاۃ جامعۃ
(نماز کی جماعت تیار ہے۔ ت)
بآواز بلند دو بار پکارنا مستحب ہےمرقاۃ شرح مشکوۃ شریف میں ہے :
یستحب ان ینادی لھا الصلوۃ جامعۃ بالاتفاق ۔
یہ آواز دینا کہ جماعت تیار ہے بالاتفاق مستحب ہے۔ (ت)
سوائے مغرب ہر نماز میں صلاۃ پکارنا یعنی دوبارہ اعلان کرنا ائمہ متاخرین نے مستحب رکھا ہے بلکہ
حوالہ / References
ردالمحتار باب الاذان مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۸۵
فتح القدیر باب الاذان مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۱۰
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ الفصل الثالث من باب صلوٰۃ العیدین مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۳ / ۳۰۰
فتح القدیر باب الاذان مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۱۰
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ الفصل الثالث من باب صلوٰۃ العیدین مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۳ / ۳۰۰
درمختار میں سب نمازوں کی نسبت لکھا :
یثوب بین الاذان والاقامۃ فی الکل للکل بماتعارفوہ ۔
متعارف طریقہ پر تمام نمازوں میں ہر ایك کے لئے اذان واقامت کے درمیان تثویب کہنی چاہئے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ فی الکل ای کل الصلوات لظھورالتوانی فی الامور الدینیۃ قال فی العنایۃ احدث المتاخرون التثویب بین الاذان والاقامۃ علی حسب ماتعارفوہ فی جمیع الصلوات سوی المغرب مع ابقاء الاول یعنی الاصل وھو تثویب الفجر وماراہ المسلمون حسنا فھو عندالله حسن ۔ اھ
“ فی الکل “ سے مراد یہ ہے کہ تمام نمازوں میں تثویب کہے کیونکہ دینی امور میں سستی غالب آچکی ہے۔ عنایہ میں ہے کہ متاخرین نے اصل یعنی تثویب فجر کو باقی رکھتے ہوئے مغرب کی نماز کے علاوہ ہر نماز کی اذان واقامت کے درمیان متعارف طریقہ پر تثویب کو جاری کیا ہے اور جسے مسلمان بہتر جانیں وہ الله تعالی کے ہاں بھی بہتر ہوتا ہے اھ (ت)
نماز جنازہ میں حرمین شریفین میں دستور ہے کہ مؤذن بآواز بلند کہتے ہیں : الصلاۃ علی المیت یرحمکم اللہ(میت پر نماز جنازہ ادا کرو الله تم پر رحم فرمائے۔ ت)اور یہ سب اس آیہ کریمہ کے تحت میں داخل ہے کہ و من احسن قولا ممن دعا الى الله (اس سے کس کی بات بہتر جو الله کی طرف بلائے) رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
من دعا الی الھدی فلہ اجرہ واجر من تبعہ ۔
جو کسی نیك بات کی طرف بلائے اس کے لئے اس کا خود اپنا اجر ہے اور جتنے اس نیك فعل میں شریك ہوں ان سب کا ثواب ہے اور انکے ثوابوں میں کچھ کمی نہ ہو۔
اور زعم بدعت کا رد ہزار بار ہوچکا ہر نو پیدا بات ناجائز نہیں ورنہ خود مدرسے بنانا کتابیں تصنیف کرنا صرف ونحو وغیرہما علوم کہ زمانہ رسالت میں نہ پڑھے تھے پڑھنا پڑھانا سب حرام ہوجائے اور اسے کوئی عاقل نہیں کہہ سکتا خود یہ اہل بدعت ہزارہاجدید باتیں کرتے ہیں کہ زمانہ رسالت میں اس ہئیت کذائی سے موجود نہ تھیں بعد کو حادث ہوئیں مگر اپنے لئے جو چاہیں حلال کرلیتے ہیں والله سبحنہ وتعالی
یثوب بین الاذان والاقامۃ فی الکل للکل بماتعارفوہ ۔
متعارف طریقہ پر تمام نمازوں میں ہر ایك کے لئے اذان واقامت کے درمیان تثویب کہنی چاہئے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ فی الکل ای کل الصلوات لظھورالتوانی فی الامور الدینیۃ قال فی العنایۃ احدث المتاخرون التثویب بین الاذان والاقامۃ علی حسب ماتعارفوہ فی جمیع الصلوات سوی المغرب مع ابقاء الاول یعنی الاصل وھو تثویب الفجر وماراہ المسلمون حسنا فھو عندالله حسن ۔ اھ
“ فی الکل “ سے مراد یہ ہے کہ تمام نمازوں میں تثویب کہے کیونکہ دینی امور میں سستی غالب آچکی ہے۔ عنایہ میں ہے کہ متاخرین نے اصل یعنی تثویب فجر کو باقی رکھتے ہوئے مغرب کی نماز کے علاوہ ہر نماز کی اذان واقامت کے درمیان متعارف طریقہ پر تثویب کو جاری کیا ہے اور جسے مسلمان بہتر جانیں وہ الله تعالی کے ہاں بھی بہتر ہوتا ہے اھ (ت)
نماز جنازہ میں حرمین شریفین میں دستور ہے کہ مؤذن بآواز بلند کہتے ہیں : الصلاۃ علی المیت یرحمکم اللہ(میت پر نماز جنازہ ادا کرو الله تم پر رحم فرمائے۔ ت)اور یہ سب اس آیہ کریمہ کے تحت میں داخل ہے کہ و من احسن قولا ممن دعا الى الله (اس سے کس کی بات بہتر جو الله کی طرف بلائے) رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
من دعا الی الھدی فلہ اجرہ واجر من تبعہ ۔
جو کسی نیك بات کی طرف بلائے اس کے لئے اس کا خود اپنا اجر ہے اور جتنے اس نیك فعل میں شریك ہوں ان سب کا ثواب ہے اور انکے ثوابوں میں کچھ کمی نہ ہو۔
اور زعم بدعت کا رد ہزار بار ہوچکا ہر نو پیدا بات ناجائز نہیں ورنہ خود مدرسے بنانا کتابیں تصنیف کرنا صرف ونحو وغیرہما علوم کہ زمانہ رسالت میں نہ پڑھے تھے پڑھنا پڑھانا سب حرام ہوجائے اور اسے کوئی عاقل نہیں کہہ سکتا خود یہ اہل بدعت ہزارہاجدید باتیں کرتے ہیں کہ زمانہ رسالت میں اس ہئیت کذائی سے موجود نہ تھیں بعد کو حادث ہوئیں مگر اپنے لئے جو چاہیں حلال کرلیتے ہیں والله سبحنہ وتعالی
حوالہ / References
الدرالمختار باب الاذان مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۶۳۷
ردالمحتار باب الاذان مطبوعہ مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۸۶
القرآن ۴۱ / ۳۳
مسلم شریف باب من سن سنۃ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۳۴۱
نوٹ : مسلم شریف کے الفاظ یوں ہیں من دعا الی ھدی کان لہ من الاجر مثل اجور من تبعہ لاینقص ذلك من اجورھم شیئا الخ۔ نذیر احمد سعیدی
ردالمحتار باب الاذان مطبوعہ مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۸۶
القرآن ۴۱ / ۳۳
مسلم شریف باب من سن سنۃ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۳۴۱
نوٹ : مسلم شریف کے الفاظ یوں ہیں من دعا الی ھدی کان لہ من الاجر مثل اجور من تبعہ لاینقص ذلك من اجورھم شیئا الخ۔ نذیر احمد سعیدی
اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ (۳۴۸) از دمن خر وعملداری پرتگال مسئولہ مولوی ضیاء الدین صاحب ۱۵ ذیقعدہ ۱۳۱۸ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیداقامت کے قبل درود شریف بآوازبلندپڑھتاہے اوراس کے ساتھ ہی اقامت یعنی تکبیر شروع کردیتا ہے کہ جس سے عوام کو معلوم ہوتا ہے کہ درود شریف اقامت کا جزئ ہے اور عمرو درود شریف نہیں پڑھتا صرف اقامت کہتا ہے تو زید کو یہ فعل اس کا ناپسند آتا ہے اور اصرار سے اس کو پڑھنے کو کہتا ہے اس صورت میں درود شریف جہر سے پڑھنا اور زید کا اصرار کرنا کیسا ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
درود شریف قبل اقامت پڑھنے میں حرج نہیں مگر اقامت سے فصل چاہئے یا درود شریف کی آوازآواز اقامت سے ایسی جدا ہوکہ امتیاز رہے اور عوام کو درود شریف جزء اقامت نہ معلوم ہو رہا زید کا عمرو پر اصرار کرنا وہ اصلا کوئی وجہ شرعی نہیں رکھتا یہ زید کی زیادتی ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۴۹) از کیمپ میرٹھ کوٹھی خان بہادر کمرہ شیخ علاء الدین صاحب مرسلہ سید حسن صاحب۱۲ رمضان المبارك ۱۳۲۶ھ
باعث استفساریہ ہے کہ اگرصبح کی اذان لوگوں کوسحری کے وقت کے اختتام سے آگاہی کے واسطے صبح صادق نکلنے سے آٹھ یا دس منٹ پہلے دے دی جایاکرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
اذان وقت سے پہلے دینی مطلقا ناجائز وممنوع ہے تبیین الحقائق میں ہے :
لایؤذن قبل الوقت ویعادفیہ وانکار السلف علی من یؤذن بلیل دلیل علی انہ لم یجز قبل الوقت ۔
قبل از وقت اذان نہ دی جائے اور اگر دے دی جائے تو وقت کے اندر پھر لوٹائی جائے اوراسلاف کا رات کو اذان دینے والے پر انکار اس بات کی دلیل ہے کہ قبل ازوقت اذان جائز نہیں ۔ (ت)
البحرالرائق میں ہے : لایجوز قبلہ (قبل ازوقت اذان جائز نہیں ۔ ت)
ختم سحری کے لئے صلاۃ وغیرہ کوئی اور اصطلاح مقرر کرسکتے ہیں اور وہ بھی چار پانچ منٹ سے زیادہ وقت صحیح سے مقدم نہ ہوکہ تاخیر سحورسنت اور اس میں برکت ہے اور زیادہ اول سے منع کردینا فتوائے باطل وبدعت وخلاف شریعت ہے پھر یہ بھی اس کے لئے ہے
مسئلہ (۳۴۸) از دمن خر وعملداری پرتگال مسئولہ مولوی ضیاء الدین صاحب ۱۵ ذیقعدہ ۱۳۱۸ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیداقامت کے قبل درود شریف بآوازبلندپڑھتاہے اوراس کے ساتھ ہی اقامت یعنی تکبیر شروع کردیتا ہے کہ جس سے عوام کو معلوم ہوتا ہے کہ درود شریف اقامت کا جزئ ہے اور عمرو درود شریف نہیں پڑھتا صرف اقامت کہتا ہے تو زید کو یہ فعل اس کا ناپسند آتا ہے اور اصرار سے اس کو پڑھنے کو کہتا ہے اس صورت میں درود شریف جہر سے پڑھنا اور زید کا اصرار کرنا کیسا ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
درود شریف قبل اقامت پڑھنے میں حرج نہیں مگر اقامت سے فصل چاہئے یا درود شریف کی آوازآواز اقامت سے ایسی جدا ہوکہ امتیاز رہے اور عوام کو درود شریف جزء اقامت نہ معلوم ہو رہا زید کا عمرو پر اصرار کرنا وہ اصلا کوئی وجہ شرعی نہیں رکھتا یہ زید کی زیادتی ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۴۹) از کیمپ میرٹھ کوٹھی خان بہادر کمرہ شیخ علاء الدین صاحب مرسلہ سید حسن صاحب۱۲ رمضان المبارك ۱۳۲۶ھ
باعث استفساریہ ہے کہ اگرصبح کی اذان لوگوں کوسحری کے وقت کے اختتام سے آگاہی کے واسطے صبح صادق نکلنے سے آٹھ یا دس منٹ پہلے دے دی جایاکرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
اذان وقت سے پہلے دینی مطلقا ناجائز وممنوع ہے تبیین الحقائق میں ہے :
لایؤذن قبل الوقت ویعادفیہ وانکار السلف علی من یؤذن بلیل دلیل علی انہ لم یجز قبل الوقت ۔
قبل از وقت اذان نہ دی جائے اور اگر دے دی جائے تو وقت کے اندر پھر لوٹائی جائے اوراسلاف کا رات کو اذان دینے والے پر انکار اس بات کی دلیل ہے کہ قبل ازوقت اذان جائز نہیں ۔ (ت)
البحرالرائق میں ہے : لایجوز قبلہ (قبل ازوقت اذان جائز نہیں ۔ ت)
ختم سحری کے لئے صلاۃ وغیرہ کوئی اور اصطلاح مقرر کرسکتے ہیں اور وہ بھی چار پانچ منٹ سے زیادہ وقت صحیح سے مقدم نہ ہوکہ تاخیر سحورسنت اور اس میں برکت ہے اور زیادہ اول سے منع کردینا فتوائے باطل وبدعت وخلاف شریعت ہے پھر یہ بھی اس کے لئے ہے
حوالہ / References
تبیین الحقائق باب الاذن مطبوعہ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ مصر ۱ / ۹۳
البحرالرائق باب الاذن مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۶۲
البحرالرائق باب الاذن مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۶۲
جو وقت صحیح جانتا ہو نہ وہ آج کل کی عام جنتریوں میں چھپا یاچھپتا ہے کہ اکثر باطل وضلالت ہے انہیں میں سے میرٹھ کی “ دوامی جنتری “ بھی سراپا غلط وبطالت ہے یوہیں ہمیشہ رات کا فلاں معین حصہ چھوڑنا محض نادانی وجہالت ہے ان مجمل الفاظ کی تشریح اول طبع ہوچکی اور بعض فتوائے دیگر مفصلہ سے معلوم ہوگی بعونہ تعالی والله تعالی اعلم۔
مسئلہ(۳۵۰) از ملك گجرات بھڑوچ محلہ گھونسواڑہ آملہ مسجد مرسلہ محمد الدین مجددی ۱۷جمادی الاخری ۱۳۲۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ سنت جمعہ پڑھنے کے لئے ملك گجرات کے بعض مقام میں جو ایك صلاۃ سنت قبل جمعہ پڑھنے کے واسطے مؤذن بلند آوازسے روز جمعہ کے پکارتا ہے اور بغیر صلاۃ سنت قبل الجمعہ پکارنے کے سنت قبل الجمعہ کی لوگ نہیں پڑھتے اوراس صلاۃ سنت قبل جمعہ کا مسجد میں جمع ہوکرانتظار کرتے ہیں تاکہ مؤذن یہ صلاۃ سنت کی پکارے توسنت قبل جمعہ پڑھیں الفاظ یہ ہیں : الصلاۃ سنۃ قبل الجمعۃ الصلاۃ رحمکم اللہ(جمعہ سے پہلی سنتیں ادا کرو الله تم پر رحم فرمائے۔ ت)کیا ان الفاظ سے صلاۃ کہنافرض ہے یا واجب ہے یا سنت ہے یا مستحب ہے اور کس مجتہد نے اسلام میں اس کو جاری کیاہے اور یہ صلاۃ سنت قبل الجمعہ اگر کوئی شخص نہ پکارے اور سنتیں جمعہ کی پڑھ لے تو سنتیں ہوجاتی ہیں یا نہیں اور نہ پکارنے سے مرتکب گناہ کا ہوگایا نہیں نماز جمعہ اور سنت جمعہ میں بھی نہ پکارنے سے قصور لازم آتاہے یا نہیں اور نہ کہنے والا مذہب امام اعظم کامقلد رہتا ہے یا وہابی نجدی ہوکر اسلام سے خارج ہوجاتا ہے کیا وہ بے ایمان ہوجاتا ہے کیا تثویب جس کو فقہائے حنفیہ نے مستحسن فرمایا ہے وہ یہی صلاۃ سنت قبل الجمعہ ہے یااس کی کوئی اور صورت ہے مستند کتب حنفیہ سے ثبوت مع دلائل تحریر فرماکر اجر عظیم پائیں مہر مع دستخط علمائے کرام ثبت ہو۔
الجواب :
تثویب جسے ہمارے علمائے متاخرین نے نظر بحال زمانہ جائز رکھااور مستحب ومستحسن سمجھا وہ اعلام بعد اعلام ہے اور اس کے لئے کوئی صیغہ معین نہیں بلکہ جو اصطلاح مقرر کرلیں اگرچہ انہیں لفظوں سے کہ الصلاۃ السنۃ قبل الجمعۃ الصلاۃ رحمکم الله تعالی(نماز جمعہ سے پہلے سنت نماز ادا کرلو الله تم پر رحم فرمائے۔ ت) تو اس وجہ پر کہنا زیر مستحب داخل ہوسکتا ہے۔ درمختار میں ہے :
یثوب بین الاذان والاقامۃ فی الکل للکل بماتعارفوہ الافی المغرب ۔
مغرب کے علاوہ ہر نماز کے وقت میں تمام لوگوں کے لئے اذان واقامت کے درمیان معروف طریقہ پر تثویب کہی جائے۔ (ت)
مسئلہ(۳۵۰) از ملك گجرات بھڑوچ محلہ گھونسواڑہ آملہ مسجد مرسلہ محمد الدین مجددی ۱۷جمادی الاخری ۱۳۲۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ سنت جمعہ پڑھنے کے لئے ملك گجرات کے بعض مقام میں جو ایك صلاۃ سنت قبل جمعہ پڑھنے کے واسطے مؤذن بلند آوازسے روز جمعہ کے پکارتا ہے اور بغیر صلاۃ سنت قبل الجمعہ پکارنے کے سنت قبل الجمعہ کی لوگ نہیں پڑھتے اوراس صلاۃ سنت قبل جمعہ کا مسجد میں جمع ہوکرانتظار کرتے ہیں تاکہ مؤذن یہ صلاۃ سنت کی پکارے توسنت قبل جمعہ پڑھیں الفاظ یہ ہیں : الصلاۃ سنۃ قبل الجمعۃ الصلاۃ رحمکم اللہ(جمعہ سے پہلی سنتیں ادا کرو الله تم پر رحم فرمائے۔ ت)کیا ان الفاظ سے صلاۃ کہنافرض ہے یا واجب ہے یا سنت ہے یا مستحب ہے اور کس مجتہد نے اسلام میں اس کو جاری کیاہے اور یہ صلاۃ سنت قبل الجمعہ اگر کوئی شخص نہ پکارے اور سنتیں جمعہ کی پڑھ لے تو سنتیں ہوجاتی ہیں یا نہیں اور نہ پکارنے سے مرتکب گناہ کا ہوگایا نہیں نماز جمعہ اور سنت جمعہ میں بھی نہ پکارنے سے قصور لازم آتاہے یا نہیں اور نہ کہنے والا مذہب امام اعظم کامقلد رہتا ہے یا وہابی نجدی ہوکر اسلام سے خارج ہوجاتا ہے کیا وہ بے ایمان ہوجاتا ہے کیا تثویب جس کو فقہائے حنفیہ نے مستحسن فرمایا ہے وہ یہی صلاۃ سنت قبل الجمعہ ہے یااس کی کوئی اور صورت ہے مستند کتب حنفیہ سے ثبوت مع دلائل تحریر فرماکر اجر عظیم پائیں مہر مع دستخط علمائے کرام ثبت ہو۔
الجواب :
تثویب جسے ہمارے علمائے متاخرین نے نظر بحال زمانہ جائز رکھااور مستحب ومستحسن سمجھا وہ اعلام بعد اعلام ہے اور اس کے لئے کوئی صیغہ معین نہیں بلکہ جو اصطلاح مقرر کرلیں اگرچہ انہیں لفظوں سے کہ الصلاۃ السنۃ قبل الجمعۃ الصلاۃ رحمکم الله تعالی(نماز جمعہ سے پہلے سنت نماز ادا کرلو الله تم پر رحم فرمائے۔ ت) تو اس وجہ پر کہنا زیر مستحب داخل ہوسکتا ہے۔ درمختار میں ہے :
یثوب بین الاذان والاقامۃ فی الکل للکل بماتعارفوہ الافی المغرب ۔
مغرب کے علاوہ ہر نماز کے وقت میں تمام لوگوں کے لئے اذان واقامت کے درمیان معروف طریقہ پر تثویب کہی جائے۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار باب الاذان مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۶۳
ردالمحتار میں ہے :
بما تعارفوہ کتنحنح اوقامت قامت اوالصلوۃ الصلوۃ ولواحد ثوا اعلامامخالفا لذلك جاز نھر عن المجتبی ۔
بماتعارفوہ سے مراد مثلا کھانسنا نماز کھڑی ہوگئی نماز کھڑی ہوگئی نماز نماز اور اگر اس کے علاوہ کوئی الفاظ اطلاع کے لئے مخصوص کرلیے جائیں تو جائز ہیں ۔ نہر نے مجتبی سے نقل کیا ہے۔ (ت)
اسی میں عنایہ سے ہے :
احدث المتاخرون التثویب بین الاذان والاقامۃ علی حسب ماتعارفوہ فی جمع الصلوات سوی المغرب مع ابقاء الاول یعنی الاصل وھو تثویب الفجر وماراہ المسلمون حسنا فھو عندالله حسن ۔
کہ متاخرین نے اصل یعنی تثویب فجر کو باقی رکھتے ہوئے معروف طریقہ پر مغرب کے علاوہ ہر نماز کی اذان واقامت کے درمیان متعارف طریقہ پر تثویب کو جاری کیا ہے اور جسے مسلمان بہتر جانیں وہ الله تعالی کے ہاں بھی بہتر ہوتا ہے۔ (ت)
مگر اس پر اور باتیں جو اضافہ کیں بے اصل وباطل ہیں : (مثلا)
(۱) جب تك یہ صلاۃ نہ پکاری جائے سنت جمعہ نہ پڑھنا۔
(۲) مسجد میں جمع ہوکر اس پکارنے کا منتظر رہناگویا سنت قبل الجمعہ کو اذان مؤذن کا محتاج کررکھا ہے کہ وہ صلاۃ پکار کر اجازت دے تو پڑھیں یہ بدعت ہے۔
(۳) بغیر اس کے یہ سمجھا کہ سنتیں نہ ہوں گی۔
(۴) نہ پکارنے کو گناہ جاننا۔
(۵) نہ پکارنے سے نماز جمعہ میں قصور سمجھنا۔
(۶) نہ پکارنے والے کو تقلید سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہسے باہر خیال کرنا۔
(۷) معاذالله اسے وہابی وبے ایمان گمان کرنایہ پانچوں اعتقاد باطل وضلال ہیں ان کے معتقدین پر توبہ فرض قطعی ہے اور ان ساتوں رسوم وخیالات باطلہ کا ہدم واعدام لازم ہے۔
بما تعارفوہ کتنحنح اوقامت قامت اوالصلوۃ الصلوۃ ولواحد ثوا اعلامامخالفا لذلك جاز نھر عن المجتبی ۔
بماتعارفوہ سے مراد مثلا کھانسنا نماز کھڑی ہوگئی نماز کھڑی ہوگئی نماز نماز اور اگر اس کے علاوہ کوئی الفاظ اطلاع کے لئے مخصوص کرلیے جائیں تو جائز ہیں ۔ نہر نے مجتبی سے نقل کیا ہے۔ (ت)
اسی میں عنایہ سے ہے :
احدث المتاخرون التثویب بین الاذان والاقامۃ علی حسب ماتعارفوہ فی جمع الصلوات سوی المغرب مع ابقاء الاول یعنی الاصل وھو تثویب الفجر وماراہ المسلمون حسنا فھو عندالله حسن ۔
کہ متاخرین نے اصل یعنی تثویب فجر کو باقی رکھتے ہوئے معروف طریقہ پر مغرب کے علاوہ ہر نماز کی اذان واقامت کے درمیان متعارف طریقہ پر تثویب کو جاری کیا ہے اور جسے مسلمان بہتر جانیں وہ الله تعالی کے ہاں بھی بہتر ہوتا ہے۔ (ت)
مگر اس پر اور باتیں جو اضافہ کیں بے اصل وباطل ہیں : (مثلا)
(۱) جب تك یہ صلاۃ نہ پکاری جائے سنت جمعہ نہ پڑھنا۔
(۲) مسجد میں جمع ہوکر اس پکارنے کا منتظر رہناگویا سنت قبل الجمعہ کو اذان مؤذن کا محتاج کررکھا ہے کہ وہ صلاۃ پکار کر اجازت دے تو پڑھیں یہ بدعت ہے۔
(۳) بغیر اس کے یہ سمجھا کہ سنتیں نہ ہوں گی۔
(۴) نہ پکارنے کو گناہ جاننا۔
(۵) نہ پکارنے سے نماز جمعہ میں قصور سمجھنا۔
(۶) نہ پکارنے والے کو تقلید سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہسے باہر خیال کرنا۔
(۷) معاذالله اسے وہابی وبے ایمان گمان کرنایہ پانچوں اعتقاد باطل وضلال ہیں ان کے معتقدین پر توبہ فرض قطعی ہے اور ان ساتوں رسوم وخیالات باطلہ کا ہدم واعدام لازم ہے۔
حوالہ / References
ردالمحتار باب الاذان مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۸۷
ردالمحتار باب الاذان مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۸۷
ردالمحتار باب الاذان مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۸۷
قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم من احدث فی امرناھذا مالیس منہ فھو رد ۔ والله تعالی اعلم
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : جس نے ہمارے دین میں ایسی چیز ایجاد کی جو دین میں سے نہیں پس وہ مردود ہوگی۔ (ت)
مسئلہ (۳۵۱) جمادی الاخری ۱۳۲۹ھ
نماز جمعہ میں اذان کے بعد پھر صلاۃ کہنا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
اذان کے بعد صلاۃ تثویب ہے اور تثویب کو علماء نے ہر نماز میں مستحب رکھا ہے۔ درمختار میں ہے۔
یثوب فی الکل للمکل بماتعارفوہ الافی المغرب ۔
مغرب کے علاوہ ہر نماز کے وقت تمام لوگوں کے لئے متعارف طریقے پر تثویب کہنی چاہئے۔ (ت)
عنایہ میں ہے : فی جمیع الصلوات سوی المغرب (مغرب کے علاوہ تمام نمازوں میں تثویب جائز ہے۔ ت)درمختار میں ہے :
التسلیم بعد الاذان حدث فی عشاء لیلۃ الاثنین ثم یوم الجمعۃ ثم بعدعشر سنین فی الکل الاالمغرب ثم فیھا مرتین وھو بدعۃ حسنۃ ۔
اذان کے بعد صلاۃ وسلام ہر سوموارکو عشاء کی نماز کے موقعہ پرپڑھا جاتا تھا پھرجمعہ کے دن شروع ہوا اس کے دس سال بعد مغرب کے علاوہ ہر نماز کی اذان کے بعد شروع کردیاگیا پھر مغرب میں بھی دو دفعہ پڑھاجانا شروع ہوگیا اور بدعت حسنہ ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
یؤذن ثانیا بین یدی الخطیب افاد بوحدۃ الفعل ان المؤذن اذاکان اکثر من واحد اذنوا واحدا بعد واحد ولایجتمعون کمافی الجلابی والتمرتاشی ذکرہ القھستانی ۔ والله تعالی اعلم
اور مؤذن دوسری بار خطیب کے سامنے اذان دے (جب خطبہ پڑھنے کے لئے وہ منبر پر بیٹھے)ماتن نے فعل مؤذن کو بصیغہ واحد لاکر افادہ کیا کہ جب مؤذن ایك سے زیادہ ہوں تو اذان یکے بعد دیگرے کہیں
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : جس نے ہمارے دین میں ایسی چیز ایجاد کی جو دین میں سے نہیں پس وہ مردود ہوگی۔ (ت)
مسئلہ (۳۵۱) جمادی الاخری ۱۳۲۹ھ
نماز جمعہ میں اذان کے بعد پھر صلاۃ کہنا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
اذان کے بعد صلاۃ تثویب ہے اور تثویب کو علماء نے ہر نماز میں مستحب رکھا ہے۔ درمختار میں ہے۔
یثوب فی الکل للمکل بماتعارفوہ الافی المغرب ۔
مغرب کے علاوہ ہر نماز کے وقت تمام لوگوں کے لئے متعارف طریقے پر تثویب کہنی چاہئے۔ (ت)
عنایہ میں ہے : فی جمیع الصلوات سوی المغرب (مغرب کے علاوہ تمام نمازوں میں تثویب جائز ہے۔ ت)درمختار میں ہے :
التسلیم بعد الاذان حدث فی عشاء لیلۃ الاثنین ثم یوم الجمعۃ ثم بعدعشر سنین فی الکل الاالمغرب ثم فیھا مرتین وھو بدعۃ حسنۃ ۔
اذان کے بعد صلاۃ وسلام ہر سوموارکو عشاء کی نماز کے موقعہ پرپڑھا جاتا تھا پھرجمعہ کے دن شروع ہوا اس کے دس سال بعد مغرب کے علاوہ ہر نماز کی اذان کے بعد شروع کردیاگیا پھر مغرب میں بھی دو دفعہ پڑھاجانا شروع ہوگیا اور بدعت حسنہ ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
یؤذن ثانیا بین یدی الخطیب افاد بوحدۃ الفعل ان المؤذن اذاکان اکثر من واحد اذنوا واحدا بعد واحد ولایجتمعون کمافی الجلابی والتمرتاشی ذکرہ القھستانی ۔ والله تعالی اعلم
اور مؤذن دوسری بار خطیب کے سامنے اذان دے (جب خطبہ پڑھنے کے لئے وہ منبر پر بیٹھے)ماتن نے فعل مؤذن کو بصیغہ واحد لاکر افادہ کیا کہ جب مؤذن ایك سے زیادہ ہوں تو اذان یکے بعد دیگرے کہیں
حوالہ / References
سنن ابن ماجہ باب اتباع سنۃ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳
در مختار باب الاذان مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۳
عنایۃ مع فتح القدیر باب الاذان مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۱۴
درمختار باب الاذان مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۶۴
درمختار باب الجمعہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۱۳
در مختار باب الاذان مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۳
عنایۃ مع فتح القدیر باب الاذان مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۱۴
درمختار باب الاذان مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۶۴
درمختار باب الجمعہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۱۳
سب مل کر نہ کہیں ۔ جیسا کہ جلابی اور تمرتاشی میں ہے۔ اس کو قہستانی نے ذکر کیا ہے۔ (ت)
مسئلہ (۳۵۲) اولا از شہر بہڑوچ لال بازار چنار واڑ مرسلہ عباس میاں صاحب ومولوی علی میاں صاحب ابن مولوی محمد نصرالله صاحب صدیقی۔
ثانیا از احمد آباد محلہ خان پور متصل درگاہ حضرت شاہ وجیہ الدین صاحب علوی مرسلہ جناب شاہ سید احمد صاحب ابن سید غلام وجیہ الدین صاحب علوی ۱۹ جمادی الاولی ۱۳۳۰ھ
مرشدناجناب مولناحاجی مولوی احمد رضاخان صاحب بعد سلام علیك کے بندہ غلام خاکسار عباس میاں کی طرف سے عرض خدمت بابرکات میں یہ ہے کہ ایك سال سے یہ فتنہ ہمارے شہر میں پڑاہے کہ جو شخص صلاۃ جمعہ کہے وہ گناہ کرتاہے اوربدعتی اس کو کہتے ہیں اور گمراہ جانتے ہیں اور دلیلیں مولوی خرم علی اور ترجمہ غایۃ الاوطار سے اور مأتہ مسائل کی پیش کرتے ہیں اورمولوی اشرف علی اور گنگوہی کی کتابوں کی سند لاتے ہیں اور آپ کا فتوی جو اس خط کے ہمراہ رکھا ہے جس کی مہر میں ۱۳۰۱ھ ہے وہ ہر ایك کو دکھاتے ہیں حضور جو آپ نے سات۷اعتقاد باطل وضلال لکھے ہیں وہ ہماراکہنا نہیں فقط اتنا ہے کہ روز جمعہ کوندا جو معمول مدت مدید سے چلاآتا ہے اور اس کے لئے اول ایك رسالہ نور الشمعہ چھپ گیا ہے اس میں لکھا ہے یہ ندا جائز بلکہ مستحسن ہے اور جناب مولوی نذیر احمد خان صاحب احمد آبادی نے ایك فتوی اس ندا کے جواز میں دیا ہے اور تمام کہتے ہیں مدت مدیدسے اس کو اب یہ شخص منع کرتااوربدعتی کہناگناہ بتانا ہے اور جھوٹے سوال لکھتا اور جواب منگواتا ہے غلام گنہگار ہے خدا آپ بزرگوار کی دعا اور طفیل غوث الوری کے میرے گناہ بخشے آمین! عباس میاں ولد علی میاں ۔
خط ثانی السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ مجمع البرکات حامی شرع مبین مولاناواولنا جناب مولوی احمد رضا خان صاحب ازجانب فقیر حقیر سید احمد علوی الوجیہی بعد تبلیغ مراسم نیازعرض خدمت فیض درجت میں یہ ہے کہ جناب عالی بندہ نے مستشار العلماء لاہور آپ کی خدمت میں روانہ کیاہے کہ اس اشتہار کو ملاحظہ فرمائیں اس کا بانی کار محمددین ایك پنجابی ہے پہلے ہندو تھا پھر مسلمان ہوا اور دیوبند وگنگوہ میں جاکرکچھ پڑھا فی الحال بہڑوچ میں رہتاہے اور سلسلہ پیری مریدی کا ضلع بہڑوچ کے گاؤں میں جاری کیا ہے قبلہ عالم نفس تثویب کا یہ شخص منکر ہے کہ تثویب کا ثبوت کسی کتاب حنفیہ سے نہیں یہ بدعت مذمومہ ہے آپ نے تثویب کواسی مستشار العلما میں بہت اچھی طرح سے ثابت کردیاہے بندہ جب یہ پیش کرتا ہے کہ دیکھو اسی اشتہار میں مولوی صاحب نے
مسئلہ (۳۵۲) اولا از شہر بہڑوچ لال بازار چنار واڑ مرسلہ عباس میاں صاحب ومولوی علی میاں صاحب ابن مولوی محمد نصرالله صاحب صدیقی۔
ثانیا از احمد آباد محلہ خان پور متصل درگاہ حضرت شاہ وجیہ الدین صاحب علوی مرسلہ جناب شاہ سید احمد صاحب ابن سید غلام وجیہ الدین صاحب علوی ۱۹ جمادی الاولی ۱۳۳۰ھ
مرشدناجناب مولناحاجی مولوی احمد رضاخان صاحب بعد سلام علیك کے بندہ غلام خاکسار عباس میاں کی طرف سے عرض خدمت بابرکات میں یہ ہے کہ ایك سال سے یہ فتنہ ہمارے شہر میں پڑاہے کہ جو شخص صلاۃ جمعہ کہے وہ گناہ کرتاہے اوربدعتی اس کو کہتے ہیں اور گمراہ جانتے ہیں اور دلیلیں مولوی خرم علی اور ترجمہ غایۃ الاوطار سے اور مأتہ مسائل کی پیش کرتے ہیں اورمولوی اشرف علی اور گنگوہی کی کتابوں کی سند لاتے ہیں اور آپ کا فتوی جو اس خط کے ہمراہ رکھا ہے جس کی مہر میں ۱۳۰۱ھ ہے وہ ہر ایك کو دکھاتے ہیں حضور جو آپ نے سات۷اعتقاد باطل وضلال لکھے ہیں وہ ہماراکہنا نہیں فقط اتنا ہے کہ روز جمعہ کوندا جو معمول مدت مدید سے چلاآتا ہے اور اس کے لئے اول ایك رسالہ نور الشمعہ چھپ گیا ہے اس میں لکھا ہے یہ ندا جائز بلکہ مستحسن ہے اور جناب مولوی نذیر احمد خان صاحب احمد آبادی نے ایك فتوی اس ندا کے جواز میں دیا ہے اور تمام کہتے ہیں مدت مدیدسے اس کو اب یہ شخص منع کرتااوربدعتی کہناگناہ بتانا ہے اور جھوٹے سوال لکھتا اور جواب منگواتا ہے غلام گنہگار ہے خدا آپ بزرگوار کی دعا اور طفیل غوث الوری کے میرے گناہ بخشے آمین! عباس میاں ولد علی میاں ۔
خط ثانی السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ مجمع البرکات حامی شرع مبین مولاناواولنا جناب مولوی احمد رضا خان صاحب ازجانب فقیر حقیر سید احمد علوی الوجیہی بعد تبلیغ مراسم نیازعرض خدمت فیض درجت میں یہ ہے کہ جناب عالی بندہ نے مستشار العلماء لاہور آپ کی خدمت میں روانہ کیاہے کہ اس اشتہار کو ملاحظہ فرمائیں اس کا بانی کار محمددین ایك پنجابی ہے پہلے ہندو تھا پھر مسلمان ہوا اور دیوبند وگنگوہ میں جاکرکچھ پڑھا فی الحال بہڑوچ میں رہتاہے اور سلسلہ پیری مریدی کا ضلع بہڑوچ کے گاؤں میں جاری کیا ہے قبلہ عالم نفس تثویب کا یہ شخص منکر ہے کہ تثویب کا ثبوت کسی کتاب حنفیہ سے نہیں یہ بدعت مذمومہ ہے آپ نے تثویب کواسی مستشار العلما میں بہت اچھی طرح سے ثابت کردیاہے بندہ جب یہ پیش کرتا ہے کہ دیکھو اسی اشتہار میں مولوی صاحب نے
تثویب کوبحمدالله کتاب حنفیہ سے ثابت کیاہے اور تم لوگ نفس تثویب کے منکرہو اورجو شخص پکارتاہے اس کو بدعتی کہتے ہو تو وہ اور اس کے لواحق جواب دیتے ہیں کہ ایك شخص کے فتوے پر عمل چاہئے یا دس کے ایسے جواب دیتے ہیں یہ مستشار العلما اس نے چھپواکر تمام گاؤں میں بانٹ دیے ہیں تحریرات سے بہت جلد مشرف فرمانا کہ جو کدورتیں ان کے دلوں میں جم گئی ہیں آپ کی تحریر کی برکت سے الله پاك دور فرمائے آمین۔ رقیمہ نیاز سید احمد علوی الوجیہی
الجواب
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
اللھم لك الحمد صل علی المصطفی والہ وصحبہ وبارك وسلم
وعلیکم السلام ورحمۃ الله وبرکاتہ ہم خادمان دارالافتاء جواب سے پہلے کچھ دیوبندی خیانتیں گزارش کریں جن سے واضح ہوکہ ان حضرات کی حیاودیانت کس درجہ تك پہنچتی ہے اور ایسوں سے مخاطبہ کاکیاموقع رہا ہے اس کے بعد اصل سوال تثویب کاجواب جو بعون الوہاب اعلحضرت مولانامولوی احمد رضا خان صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے ارشاد فرمایامجموعہ مبارکہ فتاوائے رضویہ سے نقل کریں وبالله التوفیق یہاں خیانت ہائے دیوبندیہ پریہ امریہاں داعی ہواکہ دارالافتاء کافتوی تثویب جمعہ جوجناب کے مرسلہ رسالہ میں محمد دین صاحب یا ان کے طرفداروں نے شائع کیا جس کاسوال دارالافتا میں ملك گجرات شہر بہڑوچ محلہ گھونسواڑہ مسجد آملہ سے محمد دین مجددی نے بھیجا اور ۱۷ جمادی الاخری ۱۳۲۹ھ کو اس کا جواب دارالافتا سے امضاہواجس کی نقل فتاوائے اعلحضرت کی جلددوم کتاب الصلاۃ میں ہے۔ اس میں شائع کنندہ نے سخت تحریفیں کیں جو کسی حیادار مسلمان کو زیبا نہیں اور آپ فرماتے ہیں کہ یہ بزرگ نو مسلم دیوبند وگنگوہ کے تعلیم یافتہ ہیں تو اس کا تعجب جاتا رہا کہ حضرات دیوبند کا یہ قدیم شیوہ ہے لہذااطلاع مسلمین کے لئے ان کی خیانتوں کا تذکرہ ضرور ہواکہ مسلمان ان صاحبوں کی عادت پہچان لیں اور ان کے ضرر سے محفوظ رہیں کسی مسئلہ میں ان کے شورغل پر کبھی کان نہ رکھیں کہ کوئی عقل مند ایسی خصلت والوں کی بات پر کان نہیں دھرتا۔
دیوبندی خیانتوں کے نمونے
جو شخص کلمہ پڑھتا اور الله تعالی کو ایك رسول کوبرحق جانتا ہو وہ ایك ساعت انصاف وایمان کی نگاہ سے ملاحظہ کرے آیاایسی خیانتیں اہل حق کرتے ہیں یاوہ کھلے باطل والے جوہرطرح اپنی باطل پروری سے عاجز آگئے اور ناچار ایسی شرمناك حرکات پر اترے کیاکوئی ذی عقل ایسوں کی کسی بات پر کان دھرناگواراکرے گا یا انہیں کسی انسان کا قابل خطاب جانے گا جو ایمان سے کچھ بھی علاقہ رکھتا ہے وہ ایمان کی نگاہ سے دیکھے اور انصاف کرے
الجواب
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
اللھم لك الحمد صل علی المصطفی والہ وصحبہ وبارك وسلم
وعلیکم السلام ورحمۃ الله وبرکاتہ ہم خادمان دارالافتاء جواب سے پہلے کچھ دیوبندی خیانتیں گزارش کریں جن سے واضح ہوکہ ان حضرات کی حیاودیانت کس درجہ تك پہنچتی ہے اور ایسوں سے مخاطبہ کاکیاموقع رہا ہے اس کے بعد اصل سوال تثویب کاجواب جو بعون الوہاب اعلحضرت مولانامولوی احمد رضا خان صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے ارشاد فرمایامجموعہ مبارکہ فتاوائے رضویہ سے نقل کریں وبالله التوفیق یہاں خیانت ہائے دیوبندیہ پریہ امریہاں داعی ہواکہ دارالافتاء کافتوی تثویب جمعہ جوجناب کے مرسلہ رسالہ میں محمد دین صاحب یا ان کے طرفداروں نے شائع کیا جس کاسوال دارالافتا میں ملك گجرات شہر بہڑوچ محلہ گھونسواڑہ مسجد آملہ سے محمد دین مجددی نے بھیجا اور ۱۷ جمادی الاخری ۱۳۲۹ھ کو اس کا جواب دارالافتا سے امضاہواجس کی نقل فتاوائے اعلحضرت کی جلددوم کتاب الصلاۃ میں ہے۔ اس میں شائع کنندہ نے سخت تحریفیں کیں جو کسی حیادار مسلمان کو زیبا نہیں اور آپ فرماتے ہیں کہ یہ بزرگ نو مسلم دیوبند وگنگوہ کے تعلیم یافتہ ہیں تو اس کا تعجب جاتا رہا کہ حضرات دیوبند کا یہ قدیم شیوہ ہے لہذااطلاع مسلمین کے لئے ان کی خیانتوں کا تذکرہ ضرور ہواکہ مسلمان ان صاحبوں کی عادت پہچان لیں اور ان کے ضرر سے محفوظ رہیں کسی مسئلہ میں ان کے شورغل پر کبھی کان نہ رکھیں کہ کوئی عقل مند ایسی خصلت والوں کی بات پر کان نہیں دھرتا۔
دیوبندی خیانتوں کے نمونے
جو شخص کلمہ پڑھتا اور الله تعالی کو ایك رسول کوبرحق جانتا ہو وہ ایك ساعت انصاف وایمان کی نگاہ سے ملاحظہ کرے آیاایسی خیانتیں اہل حق کرتے ہیں یاوہ کھلے باطل والے جوہرطرح اپنی باطل پروری سے عاجز آگئے اور ناچار ایسی شرمناك حرکات پر اترے کیاکوئی ذی عقل ایسوں کی کسی بات پر کان دھرناگواراکرے گا یا انہیں کسی انسان کا قابل خطاب جانے گا جو ایمان سے کچھ بھی علاقہ رکھتا ہے وہ ایمان کی نگاہ سے دیکھے اور انصاف کرے
اور ہٹ دھرم بے حیا کا کہیں علاج نہیں ہم پہلے فتوائے تثویب میں ان کی خیانتوں کوذکر کریں گے کہ یہ سوال اسی سے متعلق ہے پھران کے بڑوں کی بھاری خیانتیں زیر ذکر لائیں گے کہ معلوم ہوکہ یہ خوبیاں چھوٹوں نے بڑوں ہی سے سیکھیں ع
ایں خانہ تمام آفتاب است
پہلی خیانت فتوائے مبارکہ میں اس عبارت کے بعد کہ اس کیلئے کوئی صیغہ معین نہیں یہ عبارت تھی بلکہ جو اصطلاح مقرر کرلیں اگرچہ انہیں لفظوں سے کہ الصلاۃ السنۃ قبل الجمعۃ الصلاۃ رحمکم الله تو اس وجہ پر یہ کہنا زیر مستحب داخل ہوسکتا ہے بھلا اس کا زیر مستحب داخل ہونا انہیں کب گوارا ہوتا لہذا اسے ایك دم ہضم فرمالیا۔
دوسری خیانت عبارت ردالمحتار اوقامت تك نقل کرکے “ الخ “ بنادیاحالانکہ فتوائے مبارکہ میں وہ یوں تھی :
اوقامت قامت اوالصلاۃ الصلاۃ ولواحدثوا اعلاما مخالفا لذلك جاز نھر عن المجتبی ۔
نماز کھڑی ہوگئی نماز کھڑی ہوگئی نماز نماز اگر کوئی اور اصطلاح بھی اطلاع کے لئے بنائی جائے تو جائز ہے یہ نہر میں مجتبی سے نقل ہے۔ (ت)
یہ عبارت اعلحضرت مجدد مأتہ حاضرہ کے اس ارشاد کی صریح دلیل تھی کہ اس وجہ پر الصلاۃ السنۃ قبل الجمعۃ کہنا بھی مستحب ہوگا لہذا اسے بھی کترلیا۔
تیسری خیانت اس کے بعد فتوائے مبارکہ میں یہ عبارت تھی : اسی میں عنایہ سے ہے :
احدث المتاخرون التثویب بین الاذان والاقامۃ علی حسب ماتعارفوہ فی جمیع الصلوات سوی المغرب مع ابقاء الاول یعنی الاصل وھوتثویب الفجروماراہ المسلمون حسنا فھو عندالله حسن ۔
متاخرین نے اصل یعنی تثویب فجر کو باقی رکھتے ہوئے معروف طریقہ پر مغرب کے علاوہ ہر نماز کی اذان واقامت کے درمیان متعارف طریقہ پر تثویب کو جاری کیا ہے اور جسے مسلمان بہتر جانیں وہ الله تعالی کے ہاں بھی بہتر ہوتا ہے۔ (ت)
یہ بھی اسی جرم پر اڑالی گئی کہ اس میں بھی اس کی دلیل کو علی حسب ماتعارفوہ موجود تھا۔
ایں خانہ تمام آفتاب است
پہلی خیانت فتوائے مبارکہ میں اس عبارت کے بعد کہ اس کیلئے کوئی صیغہ معین نہیں یہ عبارت تھی بلکہ جو اصطلاح مقرر کرلیں اگرچہ انہیں لفظوں سے کہ الصلاۃ السنۃ قبل الجمعۃ الصلاۃ رحمکم الله تو اس وجہ پر یہ کہنا زیر مستحب داخل ہوسکتا ہے بھلا اس کا زیر مستحب داخل ہونا انہیں کب گوارا ہوتا لہذا اسے ایك دم ہضم فرمالیا۔
دوسری خیانت عبارت ردالمحتار اوقامت تك نقل کرکے “ الخ “ بنادیاحالانکہ فتوائے مبارکہ میں وہ یوں تھی :
اوقامت قامت اوالصلاۃ الصلاۃ ولواحدثوا اعلاما مخالفا لذلك جاز نھر عن المجتبی ۔
نماز کھڑی ہوگئی نماز کھڑی ہوگئی نماز نماز اگر کوئی اور اصطلاح بھی اطلاع کے لئے بنائی جائے تو جائز ہے یہ نہر میں مجتبی سے نقل ہے۔ (ت)
یہ عبارت اعلحضرت مجدد مأتہ حاضرہ کے اس ارشاد کی صریح دلیل تھی کہ اس وجہ پر الصلاۃ السنۃ قبل الجمعۃ کہنا بھی مستحب ہوگا لہذا اسے بھی کترلیا۔
تیسری خیانت اس کے بعد فتوائے مبارکہ میں یہ عبارت تھی : اسی میں عنایہ سے ہے :
احدث المتاخرون التثویب بین الاذان والاقامۃ علی حسب ماتعارفوہ فی جمیع الصلوات سوی المغرب مع ابقاء الاول یعنی الاصل وھوتثویب الفجروماراہ المسلمون حسنا فھو عندالله حسن ۔
متاخرین نے اصل یعنی تثویب فجر کو باقی رکھتے ہوئے معروف طریقہ پر مغرب کے علاوہ ہر نماز کی اذان واقامت کے درمیان متعارف طریقہ پر تثویب کو جاری کیا ہے اور جسے مسلمان بہتر جانیں وہ الله تعالی کے ہاں بھی بہتر ہوتا ہے۔ (ت)
یہ بھی اسی جرم پر اڑالی گئی کہ اس میں بھی اس کی دلیل کو علی حسب ماتعارفوہ موجود تھا۔
حوالہ / References
ردالمحتار باب الاذان مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۸۷
ردالمحتار باب الاذان مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۸۶
ردالمحتار باب الاذان مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۸۶
چوتھی خیانت فتوائے مبارکہ میں تھایہ پانچوں اعتقاد باطل وضلال ہیں اس میں ساتوں اعتقاد بنالیے کہ اگر پانچ اعتقاد اخیر جو مسلمانوں کی طرف نسبت کیے ثابت نہ ہوسکیں تو اگلی دو۲ باتوں کو بھی بزور خیانت اعتقاد میں داخل کرکے مسلمانان بہڑوچ اہل سنت کا فاسد العقیدہ ہونا بتاسکیں ۔
پانچویں خیانت اس کے اخیر میں اعلحضرت کی مہر یہ چھاپی محمدی سنی حنفی قادری عبدالمصطفی احمد رضا خان ۱۳۰۱ یہ مہر بھی اپنی طرف سے بنالی یہ مہر ۱۳۲۷ھ میں گم ہوگئی تھی تو ۱۳۲۹ھ کے فتوے میں کہاں سے آئی بلکہ اس پر ۱۳۲۸ھ کی مہر تھی جواصل مسئلہ کے جواب پر اخیرمیں آپ ملاحظہ کریں گے اس میں شعرکندہ ہے :
یامصطفی یارحمۃ الرحمن
یامرتضی یاغوثنا الجیلانی
غالبا انہیں کلمات طیبہ کی ناگواری اشاعت کنندہ کو تبدیل مہر پر باعث ہوئی۔
چھٹی خیانت ایك ان کی خیانتوں پر کیا تعجب عام دیوبندیوں خصوصا ان کے بڑوں کا قدیم سے یہی مسلك ہے ایك صاحب مذہبا دیوبندی سکنا رام پوری سنی بن کر یہاں آئے بعض مسائل لکھوائے نقل کے لئے فتاوائے مبارکہ کی کتاب الحظر عطا ہوئی ایك مسئلہ میں جس کا سوال محمد گنج سے عبدالقادر خان رام پوری نے بھیجا تھا اور اس میں پانچ سوال تھے سوال چہارم یہ تھا تین برس کے بچے کی فاتحہ دوجے کی ہونا چاہئے یا سوم کی اس کا جواب اعلحضرت نے یہ ارشاد فرمایا تھا شریعت میں ثواب پہنچانا ہے دوسرے دن ہو یا تیسرے دن باقی یہ تعینیں عرفی ہیں جب چاہیں کریں انہیں دنوں کی گنتی ضروری جاننا جہالت ہے والله تعالی اعلم۔ ان بزرگ نے بین السطور میں موٹے قلم سے کہ وہی اس وقت ایك بچے سے انہیں مل سکا جہالت ہے کہ بعد لفظ وبدعت اور بڑھادیا وہ اب تك فتاوائے مبارکہ میں غیر قلم کا سطر سے اوپر لکھا ہوا موجود ہے فتاوائے مبارکہ کی جلد ہشتم کتاب الحظر ص ۳۱۰ ملاحظہ ہو لطف یہ کہ عیب بھی کرنے کو ہنر چاہئے جہالت سے یہ لفظ جہالت ہے کے بعد بڑھایا اور وبدعت عطف واو سے رکھا کہ جملہ اردو پر جملہ فارسی کا عطف ہوگیا جو ہرگز اعلحضرت بلکہ کسی زبان دان کا بھی محاورہ نہیں افترأ کرنا تھا تو لفظ جہالت کے بعد وبدعت بڑھایا ہوتا کہ لفظ مفرد عربی پر اس کے مثل کا عطف واؤ سے ہوتا طرہ یہ کہ مجموعہ فتاوی گنگوہی صاحب حصہ اول میں ان کے حواریوں نے مجدد المائۃ الحاضرہ کا یہ فتوی مع زیادت مفتری چھاپ دیا اور اس میں ص۱۵۰ پر یوں بنادیا جہالت وبدعت ہے ان کو سوجھی کہ عبارت یوں ہونی چاہئے تھی۔
ساتویں خیانت ظلم پر ظلم یہ کہ فہرست میں یوں لکھا فتوائے مولوی احمد رضا خاں صاحب بریلوی تعین سوم کی جہالت اور بدعت ہونے میں حالانکہ فتوائے اقدس میں تصریح تھی جب چاہیں کریں ہاں دوجے یا تیجے کی گنتی ضروری جاننے کو ضرور جہالت فرمایا تھا کہاں یہ
پانچویں خیانت اس کے اخیر میں اعلحضرت کی مہر یہ چھاپی محمدی سنی حنفی قادری عبدالمصطفی احمد رضا خان ۱۳۰۱ یہ مہر بھی اپنی طرف سے بنالی یہ مہر ۱۳۲۷ھ میں گم ہوگئی تھی تو ۱۳۲۹ھ کے فتوے میں کہاں سے آئی بلکہ اس پر ۱۳۲۸ھ کی مہر تھی جواصل مسئلہ کے جواب پر اخیرمیں آپ ملاحظہ کریں گے اس میں شعرکندہ ہے :
یامصطفی یارحمۃ الرحمن
یامرتضی یاغوثنا الجیلانی
غالبا انہیں کلمات طیبہ کی ناگواری اشاعت کنندہ کو تبدیل مہر پر باعث ہوئی۔
چھٹی خیانت ایك ان کی خیانتوں پر کیا تعجب عام دیوبندیوں خصوصا ان کے بڑوں کا قدیم سے یہی مسلك ہے ایك صاحب مذہبا دیوبندی سکنا رام پوری سنی بن کر یہاں آئے بعض مسائل لکھوائے نقل کے لئے فتاوائے مبارکہ کی کتاب الحظر عطا ہوئی ایك مسئلہ میں جس کا سوال محمد گنج سے عبدالقادر خان رام پوری نے بھیجا تھا اور اس میں پانچ سوال تھے سوال چہارم یہ تھا تین برس کے بچے کی فاتحہ دوجے کی ہونا چاہئے یا سوم کی اس کا جواب اعلحضرت نے یہ ارشاد فرمایا تھا شریعت میں ثواب پہنچانا ہے دوسرے دن ہو یا تیسرے دن باقی یہ تعینیں عرفی ہیں جب چاہیں کریں انہیں دنوں کی گنتی ضروری جاننا جہالت ہے والله تعالی اعلم۔ ان بزرگ نے بین السطور میں موٹے قلم سے کہ وہی اس وقت ایك بچے سے انہیں مل سکا جہالت ہے کہ بعد لفظ وبدعت اور بڑھادیا وہ اب تك فتاوائے مبارکہ میں غیر قلم کا سطر سے اوپر لکھا ہوا موجود ہے فتاوائے مبارکہ کی جلد ہشتم کتاب الحظر ص ۳۱۰ ملاحظہ ہو لطف یہ کہ عیب بھی کرنے کو ہنر چاہئے جہالت سے یہ لفظ جہالت ہے کے بعد بڑھایا اور وبدعت عطف واو سے رکھا کہ جملہ اردو پر جملہ فارسی کا عطف ہوگیا جو ہرگز اعلحضرت بلکہ کسی زبان دان کا بھی محاورہ نہیں افترأ کرنا تھا تو لفظ جہالت کے بعد وبدعت بڑھایا ہوتا کہ لفظ مفرد عربی پر اس کے مثل کا عطف واؤ سے ہوتا طرہ یہ کہ مجموعہ فتاوی گنگوہی صاحب حصہ اول میں ان کے حواریوں نے مجدد المائۃ الحاضرہ کا یہ فتوی مع زیادت مفتری چھاپ دیا اور اس میں ص۱۵۰ پر یوں بنادیا جہالت وبدعت ہے ان کو سوجھی کہ عبارت یوں ہونی چاہئے تھی۔
ساتویں خیانت ظلم پر ظلم یہ کہ فہرست میں یوں لکھا فتوائے مولوی احمد رضا خاں صاحب بریلوی تعین سوم کی جہالت اور بدعت ہونے میں حالانکہ فتوائے اقدس میں تصریح تھی جب چاہیں کریں ہاں دوجے یا تیجے کی گنتی ضروری جاننے کو ضرور جہالت فرمایا تھا کہاں یہ
کہ خاص اس تعین کو ضروری جانناجہالت ہےاورکہاں یہ کہ سرے سےتعین ہی جہالت وبدعت ہے ان رام پوری دیوبندی نے خیانت لفظی کی تھی ان دیوبندی دیوبندیوں نے دیکھا کہ کام اب بھی نہ چلا اصل سوم تو جائز ہی رہا لہذا یوں اس کے ساتھ خیانت معنوی کا گنٹھ جوڑا ملایا غرض
بیباك ہو عیار ہو جو آج ہو تم ہو
بندے ہو مگر خوف خدا کا نہیں رکھتے
آٹھویں خیانت یونہی مجموعہ گنگوہی صاحب حصہ دوم صفحہ ۹۷ پر مجدد المائۃ الحاضرہ کا ایك فتوی چھاپا جس میں حاصل سوال یہ تھا کہ جو شخص بے نماز شراب خور داڑھی منڈا گستاخی سے جھوٹی روایتیں پڑھنے والا شریعت پر ہنسنے والا ہو ایسے شخص سے مولود شریف پڑھانا یا منبر پر تعظیما بٹھانا جائز ہے یا نہیں اور حاصل ارشاد جواب یہ تھا کہ افعال مذکورہ سخت کبائر اور مرتکب اشد فاسق اور مستحق نار وغضب الرحمن ہے اسے منبر پر بٹھانا اس سے مجلس مبارك پڑھوانا حرام ہے اور ذکر شریف حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمباوضو ہونا مستحب اور بے وضو بھی جائز اگر نیت استخفاف کی نہ ہو اور تحقیر کی نیت ہوتو صریح کفر ہے یونہی مسائل شرعیہ کے ساتھ استہزا کفر ہے یونہی داڑھی رکھانے کی توہین کلمہ کفر ہے والله تعالی اعلم۔ مسلمان دیکھیں کہ اس فتوائے مبارکہ میں ایسے فاسق فاجر بے نمازی شراب خور توہین کنندہ شریعت کو منبر پر بٹھانے کی ممانعت ہے یا معاذالله مطلقا مجالس میلاد مبارك مروجہ عرب وعجم کا عدم جواز۔ مگر حیاداروں نے عوام کی آنکھوں پر اندھیری ڈالنے کے لئے اس کا سرنامہ یہ لکھ دیا فتوی درباب عدم جواز مجلس مولود مروجہ از مجموعہ فتاوی قلمی مولوی احمد رضا خان صاحب سچ ہے “ بے حیا باش وآنچہ خواہی کن “ (بے حیا ہوجا پھر جو چاہے کرتارہ۔ ت) انالله وانا الیہ راجعون۔
نویں خیانت حیاداروں کو اور تیز وتند چڑھی اسی صفحہ کے حاشیہ پر یوں لے بڑھی متبعین مولوی احمد رضا خاں صاحب کو خوف کرنے کا مقام ہے کہ وہ مجالس مروجہ ممنوعہ مبتدعہ ولادت کہ جن کو خود ان کے مقتدا نے حرام کیا بلکہ کفر ومستحق نار وغضب رحمن تعالی شانہ لکھتے ہیں ۔ مسلمانو! خدارا انصاف حرام کا لفظ تو آپ دیکھ چکے کہ فاسق شرابی کو منبر پر تعظیما بٹھانے کی نسبت تھا ظلم یہ کہ مستحق ناروغضب رحمن کو اس تارك الصلاۃ شرابخور توہین کنندہ شرع کو کہا تھا بے حیاؤں نے اسے بھی مجالس میلاد مبارك پر ڈھال دیا مسلمانو! کیا اسی کو دین ودیانت کہتے ہیں ع
آدمیان گم شدند ملك خیانت گرفت
دسویں خیانت مجلس مبارك کو حرام ومستحق ناروغضب جبار ٹھہرانے پر بھی دشمنان مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے جلتے کلیجے ٹھنڈے نہ ہوئے بلکہ اپنی گھٹیوں میں پڑے ہوئے کفر کی چاشنی یاد آئی اور بکمال بے ایمانی اپنی اس بکر فکر کی نسبت اعلحضرت مجدد دین وملت سے کردی کہ وہ مجالس مروجہ کو کفر لکھتے ہیں سچ ہے جب “ لعنۃ الله علی الکاذبین “ سے حصہ لیں تو پورا ہی نہ لیں بن پڑے تو ابلیس کیلئے
بیباك ہو عیار ہو جو آج ہو تم ہو
بندے ہو مگر خوف خدا کا نہیں رکھتے
آٹھویں خیانت یونہی مجموعہ گنگوہی صاحب حصہ دوم صفحہ ۹۷ پر مجدد المائۃ الحاضرہ کا ایك فتوی چھاپا جس میں حاصل سوال یہ تھا کہ جو شخص بے نماز شراب خور داڑھی منڈا گستاخی سے جھوٹی روایتیں پڑھنے والا شریعت پر ہنسنے والا ہو ایسے شخص سے مولود شریف پڑھانا یا منبر پر تعظیما بٹھانا جائز ہے یا نہیں اور حاصل ارشاد جواب یہ تھا کہ افعال مذکورہ سخت کبائر اور مرتکب اشد فاسق اور مستحق نار وغضب الرحمن ہے اسے منبر پر بٹھانا اس سے مجلس مبارك پڑھوانا حرام ہے اور ذکر شریف حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمباوضو ہونا مستحب اور بے وضو بھی جائز اگر نیت استخفاف کی نہ ہو اور تحقیر کی نیت ہوتو صریح کفر ہے یونہی مسائل شرعیہ کے ساتھ استہزا کفر ہے یونہی داڑھی رکھانے کی توہین کلمہ کفر ہے والله تعالی اعلم۔ مسلمان دیکھیں کہ اس فتوائے مبارکہ میں ایسے فاسق فاجر بے نمازی شراب خور توہین کنندہ شریعت کو منبر پر بٹھانے کی ممانعت ہے یا معاذالله مطلقا مجالس میلاد مبارك مروجہ عرب وعجم کا عدم جواز۔ مگر حیاداروں نے عوام کی آنکھوں پر اندھیری ڈالنے کے لئے اس کا سرنامہ یہ لکھ دیا فتوی درباب عدم جواز مجلس مولود مروجہ از مجموعہ فتاوی قلمی مولوی احمد رضا خان صاحب سچ ہے “ بے حیا باش وآنچہ خواہی کن “ (بے حیا ہوجا پھر جو چاہے کرتارہ۔ ت) انالله وانا الیہ راجعون۔
نویں خیانت حیاداروں کو اور تیز وتند چڑھی اسی صفحہ کے حاشیہ پر یوں لے بڑھی متبعین مولوی احمد رضا خاں صاحب کو خوف کرنے کا مقام ہے کہ وہ مجالس مروجہ ممنوعہ مبتدعہ ولادت کہ جن کو خود ان کے مقتدا نے حرام کیا بلکہ کفر ومستحق نار وغضب رحمن تعالی شانہ لکھتے ہیں ۔ مسلمانو! خدارا انصاف حرام کا لفظ تو آپ دیکھ چکے کہ فاسق شرابی کو منبر پر تعظیما بٹھانے کی نسبت تھا ظلم یہ کہ مستحق ناروغضب رحمن کو اس تارك الصلاۃ شرابخور توہین کنندہ شرع کو کہا تھا بے حیاؤں نے اسے بھی مجالس میلاد مبارك پر ڈھال دیا مسلمانو! کیا اسی کو دین ودیانت کہتے ہیں ع
آدمیان گم شدند ملك خیانت گرفت
دسویں خیانت مجلس مبارك کو حرام ومستحق ناروغضب جبار ٹھہرانے پر بھی دشمنان مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے جلتے کلیجے ٹھنڈے نہ ہوئے بلکہ اپنی گھٹیوں میں پڑے ہوئے کفر کی چاشنی یاد آئی اور بکمال بے ایمانی اپنی اس بکر فکر کی نسبت اعلحضرت مجدد دین وملت سے کردی کہ وہ مجالس مروجہ کو کفر لکھتے ہیں سچ ہے جب “ لعنۃ الله علی الکاذبین “ سے حصہ لیں تو پورا ہی نہ لیں بن پڑے تو ابلیس کیلئے
بھی باقی نہ چھوڑیں ۔ مسلمانو! الله انصاف کفر کا لفظ ذکر نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی توہین اور شریعت وسنت پر ہنسنے کی نسبت تھا یا مجالس مبارکہ کی نسبت مسلمانو! الله انصاف شیطان اس سے زیادہ اور کیا مکرر کرتاہوگا “ ولاحول ولاقوۃ الا بالله “ خود اعلحضرت کے یہاں ان کے پردادا صاحب حضرت مولنا حافظ محمد کاظم علی خاں صاحب بہادر رئیس اعظم قادری رزاقی قدس سرہ الشریف خلیفہ حضرت مولانا شاہ انوارالحق لکھنوی رحمۃ اللہ تعالی علیہکے وقت سے بفضلہ تعالی آج تك کہ سو۱۰۰ برس کامل سے زائد ہوئے مجالس میلاد شریف کا انعقاد کمال اہتمام واعلان عام کے ساتھ ہوتا ہے بحمدہ تعالی ہزاروں مسلمان حاضر آئے اور ذکر اقدس حضور پورنور سید یوم النشور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے فیض وشرف پائے ہیں شہر بھر میں معلوم ہے کہ ربیع الاول شریف کی بارھویں خاص اعلحضرت کے دولت خانہ فیض کاشانہ کے لئے اسی زمانہ سے مخصوص ہے اعلحضرت کے یہاں اور بھی مجالس میلاد مبارك ہواکرتی ہیں مگر بارھویں شریف کا پڑھنا خصوصا خاص ذکر ولادت اقدس روز اول سے خود حضرت بانی مجلس صاحب خانہ کا حصہ ہے جو بعونہ تعالی سو۱۰۰ برس سے آج تك ناغہ نہ ہوا سوائے ربیع الاول شریف ۱۳۲۴ھ کے کہ اس کی بارھویں مبارك کو اعلحضرت بحمدالله تعالی سرکار اعظم مدینہ طیبہ صلی الله تعالی علی مطیبہا وبارك وسلم میں شرف آستانہ بوسی سے مشرف تھے اس سال اعلحضرت کے برادر اوسط مولوی حاجی محمد حسن رضا خان صاحب حسن قادری برکاتی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے نیابت کی پھر اعلحضرت اور ان کے والد ماجد قدس سرہ کے فتاوی ومستقل تصانیف اس مجلس مبارك کے استحباب واستحسان میں موجود ہیں معتقدین اعلحضرت اس تمام آفتاب عالمتاب سے معاذالله آنکھیں بند کرکے کووں کی شہادت پر دیوبندیوں کی مان لیں گے کہ اعلحضرت کے نزدیك معاذالله مجلس مبارك حرام بلکہ کفر ہے تف تف ہزارتف مسلمانو! دیوبندی صاحبوں کی دیوبندگی دیکھی پھر دعوائے دین ودیانت باقی ہے سبحن الله یہ منہ اور یہ دعوی خیر اتنی اچھی کہی کہ معتقدین اعلحضرت کے لئے خوف کا مقام ہے الحمدلله خوف کا مقام اولیاء وصلحاء کو ملتا ہے مگر دیوبندیوں کو نہ خوف خدا نہ شرم رسول دن دہاڑے مسلمانوں کی آنکھوں میں خاك جھونکتے پھرتے ہیں کہ ان کو دھوکے دیں ان کے عقائد کو ضرور پہنچائیں ان کے اکابر کی نیك نامی کو دھبا لگائیں مگر بحمدالله ان کی خاك الٹ کر انہیں کے منہ اور ان کے پیشوا حضرت گنگوہی صاحب کی آنکھوں میں پڑی اور پڑتی ہے حق بحقدار رسید۔
گیارھویں خیانت خیر یہ “ تلك عشرة كاملة- “ جیسی تھیں اب ان کی وہ لیجئے جس کے آگے یہ اور ان جیسی سو خیانتیں اور ہوں تو کان ٹیك دیں وہ کیا وہ رسا لہ خبیثہ سیف النقی کے کوتك کہ اعلحضرت مجدد المائۃ الحاضرہ دام ظلہم العالی کے حضرات عالیہ والد ماجد وجد امجد وپیر ومرشد وحضور پرنور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہمکے نام سے کتابیں تراش لیں ان کے مطبع گھڑلئے صفحے دل سے بنالیئے عبارتیں خود ساختہ لکھ کر ان کی طرف بے دھڑك نسبت کرکے چھاپ دیں اور سربازار اپنی حیا کی اوڑھنی اتار آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بك دیا کہ
گیارھویں خیانت خیر یہ “ تلك عشرة كاملة- “ جیسی تھیں اب ان کی وہ لیجئے جس کے آگے یہ اور ان جیسی سو خیانتیں اور ہوں تو کان ٹیك دیں وہ کیا وہ رسا لہ خبیثہ سیف النقی کے کوتك کہ اعلحضرت مجدد المائۃ الحاضرہ دام ظلہم العالی کے حضرات عالیہ والد ماجد وجد امجد وپیر ومرشد وحضور پرنور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہمکے نام سے کتابیں تراش لیں ان کے مطبع گھڑلئے صفحے دل سے بنالیئے عبارتیں خود ساختہ لکھ کر ان کی طرف بے دھڑك نسبت کرکے چھاپ دیں اور سربازار اپنی حیا کی اوڑھنی اتار آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بك دیا کہ
آپ تو یوں کہتے ہیں اور آپ کے والد ماجد وجدامجد وپیر ومرشد وغوث اعظم فلاں فلاں کتابوں مطبوعات فلاں فلاں مطابع کے فلاں فلاں صفحہ پر یہ فرماتے ہیں حالانکہ دنیا میں نہ ان کتابوں کا پتا نہ نشان سب بالکل افترا اور من گھڑت جرأت ہوتو اتنی تو ہو اس کا حال العذاب البئیس وابحاث اخیرہ ورماح القہار وغیرہا میں بارہا چھاپ دیا اب پھر سن لیجئے اسی رسالہ خبیثہ کے صفحہ تین پر ایك کتاب بنام تحفۃ المقلدین اعلحضرت کے والد ماجد اقدس حضرت مولنا مولوی محمد نقی علی خان صاحب قدس سرہ العزیز کے نام سے گھڑلی حالانکہ حضرت ممدوح کی کوئی تصنیف اس نام کی نہیں عــہ۔
مسئلہ (۳۵۳) از نجیب آباد ضلع بجنور محل مجید گنج مرسلہ کریم بخش صاحب ٹھیکیدار ۱۷ جمادی الاولی ۱۳۳۱ھ
ایك بار اذان ہوچکی ہے کہ کسی دوسرے شخص نے لاعلمی میں پھر اذان پڑھنا شروع کردی درمیان میں کسی ہمسایہ نے اطلاع دی کہ پڑھی جاچکی ہے اب یہ شخص معا رك جائے یا اذان کو پورا پڑھے۔
الجواب :
اگر مسجد مسجد محلہ ہے جہاں کے لئے امام وجماعت متعین ہے اور جماعت اولی ہوچکی اور اب کچھ لوگ جماعت کو آئے اور ان کو اذان کی خبر نہ تھی اور شروع کی اور اطلاع ہوئی تو معا رك جائے اور اگر مسجد عام ہے مثلا مسجد بازار وسراواسٹیشن وجامع تو ہرگز نہ رکے اذان پوری کرے ممانعت جہالت ہے اور اگر مسجد محلہ یا عام ہے اور جماعت اولی ابھی نہ ہوئی تو اختیار ہے چاہے رك جائے یا پوری کرے اور اتمام اولی ہے۔
وذلك لان فی الاولی اعادۃ اذان لجماعۃ ثانیۃ فی مسجد محلۃ 'وھو لایجوز' وفی الثانیۃ اعادۃ اذان لجماعۃ اخری فی مسجد شارع 'وھو مسنون' فلایترک' وفی الثالثۃ لانھی ولاطلب فخیر واتمام ذکر شرع فیہ افضل لاسیما وقد استحسنواالتثویب۔
والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
اور یہ اس لئے ہے کہ پہلی صورت میں محلے کی مسجد میں دوسری جماعت کے لئے دوبارہ اذان دی جارہی ہے جو کہ ممنوع ہے اور دوسری صورت میں شارع عام کی مسجد میں دوسری جماعت کے لئے اذان کا اعادہ ہے اور یہ مسنون ہے تیسری صورت میں نہ منع ہے اور نہ حکم پس اب اختیار ہے اور جب شروع کرلی گئی تو اب اس سے مکمل کرنا افضل ہے خصوصا اس حال میں جبکہ فقہأ نے “ تثویب “ کے عمل کو مستحسن قرار دیا ہے۔ (ت)
عــہ یہ یہیں تك ناتمام تھا لیکن مفید تھا اس لئے چھاپ دیا ۱۲
مسئلہ (۳۵۳) از نجیب آباد ضلع بجنور محل مجید گنج مرسلہ کریم بخش صاحب ٹھیکیدار ۱۷ جمادی الاولی ۱۳۳۱ھ
ایك بار اذان ہوچکی ہے کہ کسی دوسرے شخص نے لاعلمی میں پھر اذان پڑھنا شروع کردی درمیان میں کسی ہمسایہ نے اطلاع دی کہ پڑھی جاچکی ہے اب یہ شخص معا رك جائے یا اذان کو پورا پڑھے۔
الجواب :
اگر مسجد مسجد محلہ ہے جہاں کے لئے امام وجماعت متعین ہے اور جماعت اولی ہوچکی اور اب کچھ لوگ جماعت کو آئے اور ان کو اذان کی خبر نہ تھی اور شروع کی اور اطلاع ہوئی تو معا رك جائے اور اگر مسجد عام ہے مثلا مسجد بازار وسراواسٹیشن وجامع تو ہرگز نہ رکے اذان پوری کرے ممانعت جہالت ہے اور اگر مسجد محلہ یا عام ہے اور جماعت اولی ابھی نہ ہوئی تو اختیار ہے چاہے رك جائے یا پوری کرے اور اتمام اولی ہے۔
وذلك لان فی الاولی اعادۃ اذان لجماعۃ ثانیۃ فی مسجد محلۃ 'وھو لایجوز' وفی الثانیۃ اعادۃ اذان لجماعۃ اخری فی مسجد شارع 'وھو مسنون' فلایترک' وفی الثالثۃ لانھی ولاطلب فخیر واتمام ذکر شرع فیہ افضل لاسیما وقد استحسنواالتثویب۔
والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
اور یہ اس لئے ہے کہ پہلی صورت میں محلے کی مسجد میں دوسری جماعت کے لئے دوبارہ اذان دی جارہی ہے جو کہ ممنوع ہے اور دوسری صورت میں شارع عام کی مسجد میں دوسری جماعت کے لئے اذان کا اعادہ ہے اور یہ مسنون ہے تیسری صورت میں نہ منع ہے اور نہ حکم پس اب اختیار ہے اور جب شروع کرلی گئی تو اب اس سے مکمل کرنا افضل ہے خصوصا اس حال میں جبکہ فقہأ نے “ تثویب “ کے عمل کو مستحسن قرار دیا ہے۔ (ت)
عــہ یہ یہیں تك ناتمام تھا لیکن مفید تھا اس لئے چھاپ دیا ۱۲
مسئلہ (۳۵۴) از مقام کبیر کلاں ڈاك خانہ خاص علاقہ ڈہائی ضلع بلند شہر مرسلہ عطاء الله ٹھیکیدار۲۹ صفر المظفر ۱۳۳۲ھ
اقامت صف کے دہنی جانب کہی جائے یا بائیں اس میں کوئی فضیلت دہنے بائیں کی ہے یا نہیں فقط۔
الجواب
اقامت امام کی محاذات میں کہی جائے یہی سنت ہے وہاں جگہ نہ ملے تو دہنی طرف لفضل الیمین عن الشمال (کیونکہ دائیں جانب کو بائیں پر فضیلت ہے۔ ت) ورنہ بائیں طرف لحصول المقصود بکل حال (کیونکہ مقصود ہر حال میں حاصل ہوتا ہے۔ ت) والله تعالی اعلم
مسئلہ (۴۵۵) کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
(۱)جمعہ کی اذان ثانی جو منبر کے سامنے ہوتی ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے زمانہ میں مسجد کے اندر ہوتی تھی یا باہر
(۲)خلفائے راشدین رضی اللہ تعالی عنہمکے زمانہ میں کہاں ہوتی تھی
(۳)فقہ حنفی کی معتمد کتابوں میں مسجد کے اندر دینے کو منع فرمایا اور مکروہ لکھا ہے یا نہیں
(۴)اگر رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماور خلفائے راشدین رضی اللہ تعالی عنہمکے زمانہ میں اذان مسجد کے باہر ہوتی تھی اور ہمارے اماموں نے مسجد کے اندر اذان کو مکروہ فرمایا ہے تو ہمیں اسی پر عمل لازم ہے یا رسم ورواج پر اور جو رسم ورواج حدیث شریف واحکام فقہ سب کے خلاف پڑجائے تو وہاں مسلمانوں کو پیروی حدیث وفقہ کا حکم ہے یا رسم ورواج پر اڑارہنا
(۵)نئی بات وہ ہے جو رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموخلفائے راشدین واحکام ائمہ کے مطابق ہو یا وہ بات نئی ہے جو ان سب کے خلاف لوگوں میں رائج ہوگئی ہو
(۶)مکہ معظمہ ومدینہ منورہ میں یہ اذان مطابق حدیث وفقہ ہوتی ہے یا اس کے خلاف اگر خلاف ہوتی ہے تو وہاں کے علمائے کرام کے ارشادات دربارہ عقائد حجت ہیں یا وہاں کے تنخواہ دار مؤذنوں کے فعل اگرچہ خلاف شریعت وحدیث وفقہ ہوں
(۷)سنت کے زندہ کرنے کا حدیثوں میں حکم ہے اور اس پر سو شہیدوں کے ثواب کا وعدہ ہے یا نہیں اگر ہے تو سنت زندہ کی جائے گی یا سنت مردہ۔ سنت اس وقت مردہ کہلائے گی جب اس کے خلاف لوگوں میں رواج پڑ جائے یا جو سنت خود رائج ہو وہ مردہ قرار پائے گی
(۸)علماء پر لازم ہے یا نہیں کہ سنت مردہ زندہ کریں اگر ہے تو کیا اس وقت ان پر یہ اعتراض ہوسکے گاکہ کیا تم سے پہلے عالم تھے اگر یہ اعتراض ہوسکے گا
اقامت صف کے دہنی جانب کہی جائے یا بائیں اس میں کوئی فضیلت دہنے بائیں کی ہے یا نہیں فقط۔
الجواب
اقامت امام کی محاذات میں کہی جائے یہی سنت ہے وہاں جگہ نہ ملے تو دہنی طرف لفضل الیمین عن الشمال (کیونکہ دائیں جانب کو بائیں پر فضیلت ہے۔ ت) ورنہ بائیں طرف لحصول المقصود بکل حال (کیونکہ مقصود ہر حال میں حاصل ہوتا ہے۔ ت) والله تعالی اعلم
مسئلہ (۴۵۵) کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
(۱)جمعہ کی اذان ثانی جو منبر کے سامنے ہوتی ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے زمانہ میں مسجد کے اندر ہوتی تھی یا باہر
(۲)خلفائے راشدین رضی اللہ تعالی عنہمکے زمانہ میں کہاں ہوتی تھی
(۳)فقہ حنفی کی معتمد کتابوں میں مسجد کے اندر دینے کو منع فرمایا اور مکروہ لکھا ہے یا نہیں
(۴)اگر رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماور خلفائے راشدین رضی اللہ تعالی عنہمکے زمانہ میں اذان مسجد کے باہر ہوتی تھی اور ہمارے اماموں نے مسجد کے اندر اذان کو مکروہ فرمایا ہے تو ہمیں اسی پر عمل لازم ہے یا رسم ورواج پر اور جو رسم ورواج حدیث شریف واحکام فقہ سب کے خلاف پڑجائے تو وہاں مسلمانوں کو پیروی حدیث وفقہ کا حکم ہے یا رسم ورواج پر اڑارہنا
(۵)نئی بات وہ ہے جو رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموخلفائے راشدین واحکام ائمہ کے مطابق ہو یا وہ بات نئی ہے جو ان سب کے خلاف لوگوں میں رائج ہوگئی ہو
(۶)مکہ معظمہ ومدینہ منورہ میں یہ اذان مطابق حدیث وفقہ ہوتی ہے یا اس کے خلاف اگر خلاف ہوتی ہے تو وہاں کے علمائے کرام کے ارشادات دربارہ عقائد حجت ہیں یا وہاں کے تنخواہ دار مؤذنوں کے فعل اگرچہ خلاف شریعت وحدیث وفقہ ہوں
(۷)سنت کے زندہ کرنے کا حدیثوں میں حکم ہے اور اس پر سو شہیدوں کے ثواب کا وعدہ ہے یا نہیں اگر ہے تو سنت زندہ کی جائے گی یا سنت مردہ۔ سنت اس وقت مردہ کہلائے گی جب اس کے خلاف لوگوں میں رواج پڑ جائے یا جو سنت خود رائج ہو وہ مردہ قرار پائے گی
(۸)علماء پر لازم ہے یا نہیں کہ سنت مردہ زندہ کریں اگر ہے تو کیا اس وقت ان پر یہ اعتراض ہوسکے گاکہ کیا تم سے پہلے عالم تھے اگر یہ اعتراض ہوسکے گا
تو سنت زندہ کرنے کی صورت کیا ہوگی
(۹)جن مسجدوں کے بیچ میں حوض ہے اس کی فصیل پر کھڑے ہوکر منبر کے سامنے اذان ہوتو بیرون مسجد کا حکم اداہوجائیگا یا نہیں
(۱۰)جن مسجدوں میں منبر ایسے بنے ہیں کہ ان کے سامنے دیوار ہے اگر مؤذن باہر اذان دے تو خطیب کا سامنا نہ رہے گا وہاں کیا کرنا چاہئے امید کہ دسوں مسئلوں کا جداجدا جواب مفصل مدلل ارشاد ہو بینوا توجروا۔
الجواب :
اللھم ھدایۃ الحق والصواب
(۱) رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے زمانہ اقدس میں یہ اذان مسجد سے باہر دروازے پر ہوتی تھی۔ سنن ابی داؤد شریف جلد اول صفحہ ۱۵۵ میں ہے :
عن السائب بن یزید رضی الله تعالی عنہ قال کان یؤذن بین یدی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اذاجلس علی المنبر یوم الجمعۃ علی باب المسجد وابی بکر وعمر ۔
سائب بن یزید رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہے فرمایا جب رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجمعہ کے دن منبر پر تشریف رکھتے تو حضور کے سامنے مسجد کے دروازے پر اذان ہوتی اور ایسا ہی ابوبکر وعمر رضی اللہ تعالی عنہماکے زمانے میں ۔
اور کبھی منقول نہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمیا خلفائے راشدین نے مسجد کے اندر اذان دلوائی ہو اگر اس کی اجازت ہوتی تو بیان جواز کے لئے کبھی ایسا ضرور فرماتے۔
(۲)جواب اول سے واضح ہوگیا کہ خلفائے راشدین رضی اللہ تعالی عنہمسے بھی (اذان کا) مسجد کے باہر ہی ہونا مروی ہے۔ اور یہیں سے ظاہر ہوگیا کہ بعض صاحب جو “ بین یدیہ “ سے مسجد کے اندر ہونا سمجھتے ہیں غلط ہے۔ دیکھو حدیث میں “ بین یدی “ ہے اور ساتھ ہی “ علی باب المسجد “ ہے۔ یعنی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموخلفائے راشدین رضی اللہ تعالی عنہمکے چہرہ انور کے مقابل مسجد کے دروازے پر ہوتی تھی بس اسی قدر “ بین یدیہ “ کے لئے درکار ہے۔
(۳)بیشك فقہ حنفی کی معتمد کتابوں میں مسجد کے اندر اذان کو منع فرمایا اور مکروہ لکھا ہے۔ فتاوی قاضی خان طبع مصر جلد اول صفحہ۷۸ لایؤذن فی المسجد (مسجد کے اندر اذان نہ دی جائے)فتاوی خلاصہ قلمی صفحہ ۶۲ لایؤذن
(۹)جن مسجدوں کے بیچ میں حوض ہے اس کی فصیل پر کھڑے ہوکر منبر کے سامنے اذان ہوتو بیرون مسجد کا حکم اداہوجائیگا یا نہیں
(۱۰)جن مسجدوں میں منبر ایسے بنے ہیں کہ ان کے سامنے دیوار ہے اگر مؤذن باہر اذان دے تو خطیب کا سامنا نہ رہے گا وہاں کیا کرنا چاہئے امید کہ دسوں مسئلوں کا جداجدا جواب مفصل مدلل ارشاد ہو بینوا توجروا۔
الجواب :
اللھم ھدایۃ الحق والصواب
(۱) رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے زمانہ اقدس میں یہ اذان مسجد سے باہر دروازے پر ہوتی تھی۔ سنن ابی داؤد شریف جلد اول صفحہ ۱۵۵ میں ہے :
عن السائب بن یزید رضی الله تعالی عنہ قال کان یؤذن بین یدی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اذاجلس علی المنبر یوم الجمعۃ علی باب المسجد وابی بکر وعمر ۔
سائب بن یزید رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہے فرمایا جب رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجمعہ کے دن منبر پر تشریف رکھتے تو حضور کے سامنے مسجد کے دروازے پر اذان ہوتی اور ایسا ہی ابوبکر وعمر رضی اللہ تعالی عنہماکے زمانے میں ۔
اور کبھی منقول نہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمیا خلفائے راشدین نے مسجد کے اندر اذان دلوائی ہو اگر اس کی اجازت ہوتی تو بیان جواز کے لئے کبھی ایسا ضرور فرماتے۔
(۲)جواب اول سے واضح ہوگیا کہ خلفائے راشدین رضی اللہ تعالی عنہمسے بھی (اذان کا) مسجد کے باہر ہی ہونا مروی ہے۔ اور یہیں سے ظاہر ہوگیا کہ بعض صاحب جو “ بین یدیہ “ سے مسجد کے اندر ہونا سمجھتے ہیں غلط ہے۔ دیکھو حدیث میں “ بین یدی “ ہے اور ساتھ ہی “ علی باب المسجد “ ہے۔ یعنی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموخلفائے راشدین رضی اللہ تعالی عنہمکے چہرہ انور کے مقابل مسجد کے دروازے پر ہوتی تھی بس اسی قدر “ بین یدیہ “ کے لئے درکار ہے۔
(۳)بیشك فقہ حنفی کی معتمد کتابوں میں مسجد کے اندر اذان کو منع فرمایا اور مکروہ لکھا ہے۔ فتاوی قاضی خان طبع مصر جلد اول صفحہ۷۸ لایؤذن فی المسجد (مسجد کے اندر اذان نہ دی جائے)فتاوی خلاصہ قلمی صفحہ ۶۲ لایؤذن
حوالہ / References
سنن ابی داؤد باب وقت الجمعہ مطبوعہ مجتبائی لاہور پاکستان ۱ / ۱۵۵
فتاوٰی قاضی خان باب کتاب الصلوٰۃ مسائل الاذان مطبوعہ نولکشور لکھنو / ۳۷۱
فتاوٰی قاضی خان باب کتاب الصلوٰۃ مسائل الاذان مطبوعہ نولکشور لکھنو / ۳۷۱
فی المسجد (مسجد میں اذان نہ ہو) خزانۃ المفتین قلمی فصل فی الاذان لایؤذن فی المسجد (مسجد کے اندر اذان نہ کہیں )خزانۃ المفتین فصل فی الاذان (قلمی نسخہ)ص ۱۹ فتاوی عالمگیری طبع مصر جلد اول صفحہ ۵۵ لایؤذن فی المسجد (مسجد کے اندر اذان منع ہے)بحرالرائق طبع مصر جلد اول صفحہ ۲۶۸ لایؤذن فی المسجد (مسجد کے اندر اذان کی ممانعت ہے)شرح نقایہ علامہ برجندی صفحہ ۸۴ (فیہ اشعار بانہ لایؤذن فی المسجد (اس میں اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ مسجد میں اذان نہ دی جائے۔ ت)امام صدرالشریعۃ کے کلام میں اس پر تنبیہ ہے کہ اذان مسجد میں نہ ہو) غنیہ شرح منیہ صفحہ ۳۵۷ الاذان انما یکون فی المئذنۃ اوخارج المسجد والاقامۃ فی داخلہ (اذان نہیں ہوتی مگر منارہ یا مسجد سے باہر اور تکبیر مسجد کے اندر)فتح القدیر طبع مصر جلد اول صفحہ ۱۷۱ قالوا لایؤذن فی المسجد (علماء نے مسجد میں اذان دینے کو منع فرمایا ہے) ایضا باب الجمعۃ صفحہ ۴۱۴ ھو ذکر الله فی المسجد ای فی حدودہ لکراھۃ الاذان فی داخلہ (جمعہ کا خطبہ مثل اذان ذکر الہی ہے مسجد میں یعنی حدود مسجد میں اس لئے کہ مسجد کے اندر اذان مکروہ ہے)طحطاوی علی مراقی الفلاح طبع مصر صفحہ ۱۲۸ یکرہ ان یؤذن فی المسجد کمافی القھستانی عن النظم (یعنی نظم امام زندویسی پھر قہستانی میں ہے کہ مسجد میں اذان مکروہ ہے۔ )یہاں تك کہ اب زمانہ حال کے ایك عالم مولوی عبدالحی صاحب لکھنوی عمدۃ الرعایۃ حاشیہ شرح وقایہ جلد اول صفحہ ۲۴۵ میں لکھتے ہیں : “ قولہ بین یدیہ “ ای مستقبل الامام فی المسجد کان اوخارجہ والمسنون ھو الثانی (یعنی بین یدیہ کے معنی صرف اس قدر ہیں کہ امام کے روبرو ہو مسجد میں خواہ باہر اور سنت یہی ہے کہ مسجد کے باہر ہو )جب وہ تصریح کرچکے کہ باہر ہی ہونا سنت ہے تو اندر ہونا خلاف سنت ہوا تو اس کے یہ معنی نہیں ہوسکتے کہ چاہے سنت کے مطابق کرو چاہے سنت
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوی کتاب الصلوٰۃ الفصل الاول فی الاذان مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴۹
خزانۃ المفتین فصل فی الاذان (قلمی نسخہ)ص۱۹
فتاوٰی ہندیہ الباب الثانی فی الاذان مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۵۵
البحرالرائق کتاب الصلوٰۃ باب الاذان مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۵۵
شرح النقایۃ للبرجندی باب الاذن نولکشور لکھنؤ ۱ / ۸۴
غنیۃ المستملی فی شرح منیۃ المصلی سنن الصلوٰۃ اول السنن الاذان مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہو ر ص ۳۷۷
فتح القدیرکتاب الصلوٰۃ باب الاذان مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۱۵
فتح القدیر باب الجمعۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۲۹
طحطاوی علی مراقی الفلاح کتاب الصلاۃ باب الاذان مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۱۰۷
عمدۃ الرعایۃ حاشیہ شرح وقایہ باب الصلوۃ مکتبۃ الرشیدیہ دہلی ۱ / ۲۴۵
خزانۃ المفتین فصل فی الاذان (قلمی نسخہ)ص۱۹
فتاوٰی ہندیہ الباب الثانی فی الاذان مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۵۵
البحرالرائق کتاب الصلوٰۃ باب الاذان مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۵۵
شرح النقایۃ للبرجندی باب الاذن نولکشور لکھنؤ ۱ / ۸۴
غنیۃ المستملی فی شرح منیۃ المصلی سنن الصلوٰۃ اول السنن الاذان مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہو ر ص ۳۷۷
فتح القدیرکتاب الصلوٰۃ باب الاذان مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۱۵
فتح القدیر باب الجمعۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۲۹
طحطاوی علی مراقی الفلاح کتاب الصلاۃ باب الاذان مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۱۰۷
عمدۃ الرعایۃ حاشیہ شرح وقایہ باب الصلوۃ مکتبۃ الرشیدیہ دہلی ۱ / ۲۴۵
کے خلاف دونوں باتوں کا اختیار ہے ایسا کون عاقل کہے گا بلکہ معنی وہی ہیں کہ “ بین یدیہ “ (امام کے سامنے۔ ت) سے یہ سمجھ لینا کہ خواہی نخواہی مسجد کے اندر ہو غلط ہے اس کے معنے صرف اتنے ہیں کہ امام کے روبرو اندر باہر کی تخصیص اس لفظ سے مفہوم نہیں ہوتی لفظ دونوں صورتوں پر صادق ہے اور سنت یہی ہے کہ اذان مسجد کے باہر ہو تو ضرور ہے کہ وہی معنے لیے جائیں جو سنت کے مطابق بہرکیف اتنا ان کے کلام میں صاف مصرح ہے کہ اذان ثانی جمعہ بھی مسجد کے باہرہی ہونا مطابق سنت ہے تو بلاشبہہ مسجد کے اندر ہونا خلاف سنت ہے ولله الحمد۔
(۴) ظاہر ہے کہ حکم حدیث وفقہ کے خلاف رواج پر اڑا رہنا مسلمانوں کو ہرگز نہ چاہئے۔
(۵) ظاہر ہے جو بات رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموخلفائے راشدین واحکام فقہ کے خلاف نکلی ہو وہی نئی بات ہے اسی سے بچنا چاہئے نہ کہ سنت وحکم حدیث وفقہ سے۔
(۶) مکہ معظمہ میں یہ اذان کنارہ مطاف پر ہوتی ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے زمانہ اقدس میں مسجد حرام شریف مطاف ہی تك تھی مسلك متقسط علی قاری طبع مصر صفحہ ۲۸۰ :
المطاف ھو ماکان فی زمنہ صلی الله تعالی علیہ وسلم مسجدا
(رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی ظاہر ی حیات میں مسجد حرام مطاف تك ہی تھی)۔ (ت)
تو حاشیہ مطاف بیرون مسجد ومحل اذان تھا اور مسجد جب بڑھالی جائے تو پہلے جو جگہ اذان یا وضو کے لئے مقرر تھی بدستور مستثنی رہے گی ولہذا مسجد اگر بڑھاکر کنواں اندر کرلیا وہ بند نہ کیا جائے گا جیسے زمزم شریف حالانکہ مسجد کے اندر کنواں بنانا ہرگز جائز نہیں فتاوی قاضیخان وفتاوی خلاصہ وفتاوی علمگیریہ صفحہ۴۰ :
تکرہ المضمضۃ والوضوء فی المسجد الاان یکون ثمہ موضع اعد لذلك ولایصلی فیہ
مسجد میں وضو اور کلی کرنا مکروہ ہے مگر اس صورت میں جب وہاں ان کے لئے جگہ بنائی گئی ہو اور وہاں نماز ادا نہ کی جاتی ہو۔ (ت)
وہیں ہے : لایحفر فی المسجد بئر ماء ولوقدیمۃ تترك کبئر زمزم (اور مسجد میں کنواں نہیں کھودا جائے گا اگر وہاں قدیم اورپراناکنواں ہوتو چھوڑدیا جائے جیسے زمزم کا کنواں ۔ ت)
تومکہ معظمہ میں اذان ٹھیك محل پر ہوتی ہے مدینہ طیبہ میں خطیب سے بیس بلکہ زائد ذراع کے فاصلہ پر ایك
(۴) ظاہر ہے کہ حکم حدیث وفقہ کے خلاف رواج پر اڑا رہنا مسلمانوں کو ہرگز نہ چاہئے۔
(۵) ظاہر ہے جو بات رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموخلفائے راشدین واحکام فقہ کے خلاف نکلی ہو وہی نئی بات ہے اسی سے بچنا چاہئے نہ کہ سنت وحکم حدیث وفقہ سے۔
(۶) مکہ معظمہ میں یہ اذان کنارہ مطاف پر ہوتی ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے زمانہ اقدس میں مسجد حرام شریف مطاف ہی تك تھی مسلك متقسط علی قاری طبع مصر صفحہ ۲۸۰ :
المطاف ھو ماکان فی زمنہ صلی الله تعالی علیہ وسلم مسجدا
(رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی ظاہر ی حیات میں مسجد حرام مطاف تك ہی تھی)۔ (ت)
تو حاشیہ مطاف بیرون مسجد ومحل اذان تھا اور مسجد جب بڑھالی جائے تو پہلے جو جگہ اذان یا وضو کے لئے مقرر تھی بدستور مستثنی رہے گی ولہذا مسجد اگر بڑھاکر کنواں اندر کرلیا وہ بند نہ کیا جائے گا جیسے زمزم شریف حالانکہ مسجد کے اندر کنواں بنانا ہرگز جائز نہیں فتاوی قاضیخان وفتاوی خلاصہ وفتاوی علمگیریہ صفحہ۴۰ :
تکرہ المضمضۃ والوضوء فی المسجد الاان یکون ثمہ موضع اعد لذلك ولایصلی فیہ
مسجد میں وضو اور کلی کرنا مکروہ ہے مگر اس صورت میں جب وہاں ان کے لئے جگہ بنائی گئی ہو اور وہاں نماز ادا نہ کی جاتی ہو۔ (ت)
وہیں ہے : لایحفر فی المسجد بئر ماء ولوقدیمۃ تترك کبئر زمزم (اور مسجد میں کنواں نہیں کھودا جائے گا اگر وہاں قدیم اورپراناکنواں ہوتو چھوڑدیا جائے جیسے زمزم کا کنواں ۔ ت)
تومکہ معظمہ میں اذان ٹھیك محل پر ہوتی ہے مدینہ طیبہ میں خطیب سے بیس بلکہ زائد ذراع کے فاصلہ پر ایك
حوالہ / References
المسلك المتقسط فی المنسك المتوسط مع ارشاد الساری فصل فی اماکن الاجابۃ مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ص ۳۳۲
فتاوٰی ہندیۃ باب السابع فصل ثانی مطبوعہ نورانی کتب خانہ قصہ خوانی پشاور ۱ / ۱۱۰
فتاوٰی ہندیۃ باب السابع فصل ثانی مطبوعہ نورانی کتب خانہ قصہ خوانی پشاور ۱ / ۱۱۰
فتاوٰی ہندیۃ باب السابع فصل ثانی مطبوعہ نورانی کتب خانہ قصہ خوانی پشاور ۱ / ۱۱۰
فتاوٰی ہندیۃ باب السابع فصل ثانی مطبوعہ نورانی کتب خانہ قصہ خوانی پشاور ۱ / ۱۱۰
بلند مکبرہ پر کہتے ہیں طریق ہند کے تو یہ بھی خلاف ہوااور وہ جو “ بین یدیہ “ وغیرہ سے منبر کے متصل ہونا سمجھتے تھے اس سے بھی رد ہوگیا تو ہندی فہم وطریقہ خود ہی دونوں حرم محترم سے جدا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ مکبرہ قدیم سے ہے یا بعدکو حادث ہوا اگر قدیم ہے تو مثل منارہ ہواکہ وہ اذان کے لئے مستثنی ہے جیسا کہ غنیہ سے گزرا اور اسی طرح خلاصہ وفتح القدیر وبرجندی کے صفحات مذکورہ میں ہے کہ اذان منارہ پر ہو یا مسجد سے باہر مسجد کے اندر نہ ہو۔ اس کی نظیر موضع وضو وچاہ ہیں کہ قدیم سے جدا کردئے ہوں نہ اس میں حرج نہ اس میں کلام اور اگر حادث ہے تو اس پر اذان کہنا بالائے طاق پہلے یہی ثبوت دیجئے کہ وسط مسجد میں ایك جدید مکان ایساکھڑا کردینا جس سے صفیں قطع ہوں کس شریعت میں جائز ہے قطع صف بلاشبہہ حرام ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں : من قطع صفا قطعہ الله ۔ (جو صف کو قطع کرے الله اسے قطع کردے) رواہ النسائی والحاکم بسند صحیح عن ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما۔ نیز علماء نے تصریح فرمائی کہ مسجد میں پیڑ بونا منع ہے کہ نمازکی جگہ گھیرے گا نہ یہ کہ مکبرہ کہ چار جگہ سے جگہ گھیرتا ہے اور کتنی صفیں قطع کرتا ہے بالجملہ اگر وہ جائز طور پر بنا تو مثل منارہ ہے جس سے مسجدمیں اذان ہونا نہ ہو اور ناجائز طور پر ہے تو اسے ثبوت میں پیش کرنا کیا انصاف ہے۔ اب ہمیں افعال موذنین سے بحث کی حاجت نہیں مگر جواب سوال کو گزارش کہ ان کا فعل کیاحجت ہو حالانکہ خطیب خطبہ پڑھتا ہے اور یہ بولتے جاتے ہیں جب وہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمکا نام لیتاہے یہ بآواز ہر نام پر رضی اللہ تعالی عنہکہتے جاتے ہیں جب وہ سلطان کا نام لیتا ہے یہ بآواز دعا کرتے ہیں اور یہ سب بالاتفاق ناجائز ہے صحیح حدیثیں اور تمام کتابیں ناطق ہیں کہ خطبہ کے وقت بولناحرام ہے۔ درمختار وردالمحتار جلد اول صفحہ ۸۵۹ :
اماما یفعلہ المؤذنون حال الخطبۃ من الترضی ونحوہ فمکروہ اتفاقا ۔
یعنی وہ جو یہ مؤذن خطبے کے وقت رضی اللہ تعالی عنہوغیرہ کہتے جاتے ہیں یہ بالاتفاق مکروہ ہے۔
یہی مؤذن نماز میں امام کی تکبیر پہنچانے کو جس وضع سے تکبیر کہتے ہیں اسے کون عالم جائزکہہ سکتا ہے مگر سلطنت کے وظیفہ داروں پر علما کا کیا اختیار۔ علمائے کرام نے تو اس پر یہ حکم فرمایا کہ تکبیر درکنار اس طرح تو ان کی نمازوں کی بھی خیر نہیں دیکھو فتح القدیر جلد اول صفحہ ۲۶۲ و ۲۶۳ ودرمختار وردالمحتار صفحہ ۲۱۵ خود مفتی مدینہ منورہ
اب سوال یہ ہے کہ یہ مکبرہ قدیم سے ہے یا بعدکو حادث ہوا اگر قدیم ہے تو مثل منارہ ہواکہ وہ اذان کے لئے مستثنی ہے جیسا کہ غنیہ سے گزرا اور اسی طرح خلاصہ وفتح القدیر وبرجندی کے صفحات مذکورہ میں ہے کہ اذان منارہ پر ہو یا مسجد سے باہر مسجد کے اندر نہ ہو۔ اس کی نظیر موضع وضو وچاہ ہیں کہ قدیم سے جدا کردئے ہوں نہ اس میں حرج نہ اس میں کلام اور اگر حادث ہے تو اس پر اذان کہنا بالائے طاق پہلے یہی ثبوت دیجئے کہ وسط مسجد میں ایك جدید مکان ایساکھڑا کردینا جس سے صفیں قطع ہوں کس شریعت میں جائز ہے قطع صف بلاشبہہ حرام ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں : من قطع صفا قطعہ الله ۔ (جو صف کو قطع کرے الله اسے قطع کردے) رواہ النسائی والحاکم بسند صحیح عن ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما۔ نیز علماء نے تصریح فرمائی کہ مسجد میں پیڑ بونا منع ہے کہ نمازکی جگہ گھیرے گا نہ یہ کہ مکبرہ کہ چار جگہ سے جگہ گھیرتا ہے اور کتنی صفیں قطع کرتا ہے بالجملہ اگر وہ جائز طور پر بنا تو مثل منارہ ہے جس سے مسجدمیں اذان ہونا نہ ہو اور ناجائز طور پر ہے تو اسے ثبوت میں پیش کرنا کیا انصاف ہے۔ اب ہمیں افعال موذنین سے بحث کی حاجت نہیں مگر جواب سوال کو گزارش کہ ان کا فعل کیاحجت ہو حالانکہ خطیب خطبہ پڑھتا ہے اور یہ بولتے جاتے ہیں جب وہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمکا نام لیتاہے یہ بآواز ہر نام پر رضی اللہ تعالی عنہکہتے جاتے ہیں جب وہ سلطان کا نام لیتا ہے یہ بآواز دعا کرتے ہیں اور یہ سب بالاتفاق ناجائز ہے صحیح حدیثیں اور تمام کتابیں ناطق ہیں کہ خطبہ کے وقت بولناحرام ہے۔ درمختار وردالمحتار جلد اول صفحہ ۸۵۹ :
اماما یفعلہ المؤذنون حال الخطبۃ من الترضی ونحوہ فمکروہ اتفاقا ۔
یعنی وہ جو یہ مؤذن خطبے کے وقت رضی اللہ تعالی عنہوغیرہ کہتے جاتے ہیں یہ بالاتفاق مکروہ ہے۔
یہی مؤذن نماز میں امام کی تکبیر پہنچانے کو جس وضع سے تکبیر کہتے ہیں اسے کون عالم جائزکہہ سکتا ہے مگر سلطنت کے وظیفہ داروں پر علما کا کیا اختیار۔ علمائے کرام نے تو اس پر یہ حکم فرمایا کہ تکبیر درکنار اس طرح تو ان کی نمازوں کی بھی خیر نہیں دیکھو فتح القدیر جلد اول صفحہ ۲۶۲ و ۲۶۳ ودرمختار وردالمحتار صفحہ ۲۱۵ خود مفتی مدینہ منورہ
حوالہ / References
سنن النسائی کتاب الامامۃ فضل الصف مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۹۴
درمختار باب الجمعۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۱۳
درمختار باب الجمعۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۱۳
علامہ سید اسعد حسینی مدنی تلمیذ علامہ صاحب مجمع الانہر رحمہم اللہ تعالی نے تکبیر میں اپنے یہاں کے مکبروں کی سخت بے اعتدالیاں تحریر فرمائی ہیں دیکھو فتاوی اسعدیہ جلد اول صفحہ۸ آخر میں فرمایا ہے :
اماحرکات المکبرین وصنعھم فانا ابرأالی الله تعالی منہ ۔
یعنی ان مکبروں کی جو حرکتیں جو کام ہیں میں ان سے الله تعالی کی طرف برأت کا اظہار کرتا ہوں ۔
اور اوپر اس سے بڑھ کر لفظ لکھا پھر کسی عاقل کے نزدیك ان کا فعل کیاحجت ہوسکتا ہے نہ وہ علماء ہیں نہ علماء کے زیرحکم۔
(۷) بیشك احادیث میں سنت زندہ کرنے کا حکم اور اس پر بڑے ثوابوں کے وعدے ہیں انس رضی اللہ تعالی عنہکی حدیث میں ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
من احیاسنتی فقدا حبنی ومن احبنی کان معی فی الجنۃ ۔ اللھم ارزقنا۔
جس نے میری سنت زندہ کی بیشك اسے مجھ سے محبت ہے اور جسے مجھ سے محبت ہے وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ اے الله ! ہمیں یہ رفاقت عطا فرما رواہ السجزی فی الابانۃ والترمذی بلفظ من احب (اسے سجزی نے ابانۃ میں روایت کیا اور ترمذی نے “ من احب “ کے الفاظ سے روایت کیا ہے۔ ت)
بلال رضی اللہ تعالی عنہکی حدیث ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
من احیاسنۃ من سنتی قدامیتت بعدی فان لہ من الاجرمثل اجور من عمل بھامن غیران ینقص من اجورھم شیئا ۔ رواہ الترمذی ورواہ ابن ماجۃ عن عمروبن عوف رضی الله تعالی عنہ۔
جو میری کوئی سنت زندہ کرے کہ لوگوں نے میرے بعد چھوڑدی ہو جتنے اس پر عمل کریں سب کے برابر اسے ثواب ملے اور ان کے ثوابوں میں کچھ کمی نہ ہو۔ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور اس کو ابن ماجہ نے حضرت عمروبن عوف رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے۔
ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماکی حدیث ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
من تمسك بسنتی عن فسادا متی فلہ اجر مائۃ شھید ۔ رواہ البیھقی فی الزھد۔
جو فساد امت کے وقت میری سنت مضبوط تھامے
اماحرکات المکبرین وصنعھم فانا ابرأالی الله تعالی منہ ۔
یعنی ان مکبروں کی جو حرکتیں جو کام ہیں میں ان سے الله تعالی کی طرف برأت کا اظہار کرتا ہوں ۔
اور اوپر اس سے بڑھ کر لفظ لکھا پھر کسی عاقل کے نزدیك ان کا فعل کیاحجت ہوسکتا ہے نہ وہ علماء ہیں نہ علماء کے زیرحکم۔
(۷) بیشك احادیث میں سنت زندہ کرنے کا حکم اور اس پر بڑے ثوابوں کے وعدے ہیں انس رضی اللہ تعالی عنہکی حدیث میں ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
من احیاسنتی فقدا حبنی ومن احبنی کان معی فی الجنۃ ۔ اللھم ارزقنا۔
جس نے میری سنت زندہ کی بیشك اسے مجھ سے محبت ہے اور جسے مجھ سے محبت ہے وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ اے الله ! ہمیں یہ رفاقت عطا فرما رواہ السجزی فی الابانۃ والترمذی بلفظ من احب (اسے سجزی نے ابانۃ میں روایت کیا اور ترمذی نے “ من احب “ کے الفاظ سے روایت کیا ہے۔ ت)
بلال رضی اللہ تعالی عنہکی حدیث ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
من احیاسنۃ من سنتی قدامیتت بعدی فان لہ من الاجرمثل اجور من عمل بھامن غیران ینقص من اجورھم شیئا ۔ رواہ الترمذی ورواہ ابن ماجۃ عن عمروبن عوف رضی الله تعالی عنہ۔
جو میری کوئی سنت زندہ کرے کہ لوگوں نے میرے بعد چھوڑدی ہو جتنے اس پر عمل کریں سب کے برابر اسے ثواب ملے اور ان کے ثوابوں میں کچھ کمی نہ ہو۔ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور اس کو ابن ماجہ نے حضرت عمروبن عوف رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے۔
ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماکی حدیث ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
من تمسك بسنتی عن فسادا متی فلہ اجر مائۃ شھید ۔ رواہ البیھقی فی الزھد۔
جو فساد امت کے وقت میری سنت مضبوط تھامے
حوالہ / References
فتاوٰی اسعدیہ کتاب الصلاۃ مطبوعہ المطبعۃ الخیریۃ مصر ۱ / ۸
جامع الترمذی باب اخذ بالسنۃ واجتناب البدعۃ مطبوعہ امین کمپنی دہلی ۲ / ۹۲
جامع الترمذی ابواب العلم باب الاخذ بالسنۃ واجتناب البدعۃ مطبوعہ امین کمپنی دہلی ۲ / ۹۲ ، سنن ابن ماجہ باب سن سنۃ الخ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۹
کتاب الزہد الکبیر للبیہقی عن ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ مطبوعہ دارالقلم الکویت ص ۱۵۱
جامع الترمذی باب اخذ بالسنۃ واجتناب البدعۃ مطبوعہ امین کمپنی دہلی ۲ / ۹۲
جامع الترمذی ابواب العلم باب الاخذ بالسنۃ واجتناب البدعۃ مطبوعہ امین کمپنی دہلی ۲ / ۹۲ ، سنن ابن ماجہ باب سن سنۃ الخ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۹
کتاب الزہد الکبیر للبیہقی عن ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ مطبوعہ دارالقلم الکویت ص ۱۵۱
اسے سو شہیدوں کا ثواب ملے۔ اسےبیھقی نے زہد میں روایت کیا۔
اور ظاہر ہے کہ زندہ وہی سنت کی جائے گی جو مردہ ہوگئی اور سنت مردہ جبھی ہوگی کہ اس کے خلاف رواج پڑ جائے۔
(۸) احیاء سنت علما کا تو خاص فرض منصبی ہے اور جس مسلمان سے ممکن ہو اس کے لئے حکم عام ہے ہر شہر کے مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنے شہر یا کم ازکم اپنی اپنی مساجد میں اس سنت کو زندہ کریں اور سوسو شہیدوں کا ثواب لیں اور اس پر یہ اعتراض نہیں ہوسکتاکہ کیاتم سے پہلے عالم نہ تھے یوں ہوتو کوئی سنت زندہ ہی نہ کرسکے امیرالمومنین عمر بن عبدالعزیزرضی اللہ تعالی عنہنے کتنی سنتیں زندہ فرمائیں اس پر ان کی مدح ہوئی نہ کہ الٹا اعتراض کہ تم سے پہلے تو صحابہ وتابعین تھے رضی اللہ تعالی عنہم۔
(۹) حوض کہ بانی مسجد نے قبل مسجدیت بنایااگرچہ وسط مسجد میں ہو وہ اوراس کی فصیل ان احکام میں خارج از مسجد ہے لانہ موضع اعد للوضوء کماتقدم(کیونکہ یہ جگہ وضو کیلئے بنائی گئی ہے جیسا کہ گزر چکا ہے۔ ت)
(۱۰) لکڑی کا منبر بنائیں کہ یہی سنت مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمہے اسے گوشہ محراب میں رکھ کر محاذات ہوجائے گی اوراگر صحن کے بعد مسجد کی بلند دیوار ہے تواسے قیام مؤذن کے لائق تراش کر باہر کی جانب جالی یا کواڑ لگالیں ۔
مسلمان بھائیو! یہ دین ہے کوئی دنیوی جھگڑا نہیں دیکھ لوکہ تمہارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی سنت کیا ہے تمہاری مذہبی کتابوں میں کیالکھا ہے۔
حضرات علمائے اہلسنت سے معروض:حضرات!احیائے سنت آپ کا کام ہے اس کا خیال نہ فرمائیے کہ آپ کے ایك چھوٹے نے اسے شروع کیاوہ بھی آپ ہی کا کرنا ہے آپ کے رب کا حکم ہے :
و تعاونوا على البر و التقوى ۪- ۔
نیکی اور تقوی پر ایك دوسرے کی مدد کرو۔ (ت)
اور اگر آپ کی نظر میں یہ مسئلہ صحیح نہیں تو غصہ کی حاجت نہیں بے تکلف بیان حق فرمائیے اور اس وقت
اور ظاہر ہے کہ زندہ وہی سنت کی جائے گی جو مردہ ہوگئی اور سنت مردہ جبھی ہوگی کہ اس کے خلاف رواج پڑ جائے۔
(۸) احیاء سنت علما کا تو خاص فرض منصبی ہے اور جس مسلمان سے ممکن ہو اس کے لئے حکم عام ہے ہر شہر کے مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنے شہر یا کم ازکم اپنی اپنی مساجد میں اس سنت کو زندہ کریں اور سوسو شہیدوں کا ثواب لیں اور اس پر یہ اعتراض نہیں ہوسکتاکہ کیاتم سے پہلے عالم نہ تھے یوں ہوتو کوئی سنت زندہ ہی نہ کرسکے امیرالمومنین عمر بن عبدالعزیزرضی اللہ تعالی عنہنے کتنی سنتیں زندہ فرمائیں اس پر ان کی مدح ہوئی نہ کہ الٹا اعتراض کہ تم سے پہلے تو صحابہ وتابعین تھے رضی اللہ تعالی عنہم۔
(۹) حوض کہ بانی مسجد نے قبل مسجدیت بنایااگرچہ وسط مسجد میں ہو وہ اوراس کی فصیل ان احکام میں خارج از مسجد ہے لانہ موضع اعد للوضوء کماتقدم(کیونکہ یہ جگہ وضو کیلئے بنائی گئی ہے جیسا کہ گزر چکا ہے۔ ت)
(۱۰) لکڑی کا منبر بنائیں کہ یہی سنت مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمہے اسے گوشہ محراب میں رکھ کر محاذات ہوجائے گی اوراگر صحن کے بعد مسجد کی بلند دیوار ہے تواسے قیام مؤذن کے لائق تراش کر باہر کی جانب جالی یا کواڑ لگالیں ۔
مسلمان بھائیو! یہ دین ہے کوئی دنیوی جھگڑا نہیں دیکھ لوکہ تمہارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی سنت کیا ہے تمہاری مذہبی کتابوں میں کیالکھا ہے۔
حضرات علمائے اہلسنت سے معروض:حضرات!احیائے سنت آپ کا کام ہے اس کا خیال نہ فرمائیے کہ آپ کے ایك چھوٹے نے اسے شروع کیاوہ بھی آپ ہی کا کرنا ہے آپ کے رب کا حکم ہے :
و تعاونوا على البر و التقوى ۪- ۔
نیکی اور تقوی پر ایك دوسرے کی مدد کرو۔ (ت)
اور اگر آپ کی نظر میں یہ مسئلہ صحیح نہیں تو غصہ کی حاجت نہیں بے تکلف بیان حق فرمائیے اور اس وقت
حوالہ / References
القرآن ۵ / ۲
لازم ہے کہ ان دسوں ۱۰ سوالوں کے جداجدا جواب ارشاد ہوں اور ان کے ساتھ ان پانچ سوالوں کے بھی :
(۱۱) اشارت مرجوح ہے یا عبارت اور ان میں فرق کیا ہے
(۱۲) کیا محتمل صریح کا مقابل ہوسکتا ہے
(۱۳) تصریحات کتب فقہ کے سامنے کسی غیر کتاب فقہ سے ایك استنباط پیش کرنا کیسا ہے خصوصا استنباط بعید یا جس کا منشا بھی غلط
(۱۴) حنفی کو تصریحات فقہ حنفی کے مقابل کسی غیر کتاب حنفی کا پیش کرنا کیسا ہے
(۱۵) قرآن مجید کی تجوید فرض عین ہے یا نہیں اگر ہے تو کیا سب ہندی علما اسے بجالاتے ہیں یا سو۱۰۰ میں کتنے بینوا توجروا۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ (۳۵۶) از بدایوں مرسلہ مولوی عبدالمقتدر صاحب ۱۰ ربیع لاول ۱۳۳۲ھ
حضرت جناب مخدوم ومحترم ومکرم ومعظم ادام الله تعالی برکاتکم السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ یہ بات کہ اس اذان کا کب سے داخل مسجد ہونامعمول ومروج ہوا یقینی طور سے محقق نہیں ہوا علی الباب اذان کا مسنون ہونا اگر کسی کتاب فقہ میں نظر پڑا ہوتو لکھئے اکثر لوگ اس کے طالب ہیں فقط۔
الجواب :
علی الباب اذان مسنون ہونے کی سند فقہی کے اکثر لوگ کیوں طالب ہیں یہ دعوی کس کاہے یہاں سے تو دو۲ باتیں کہی گئی ہیں ایك یہ کہ “ بین یدیہ “ (خطیب کے سامنے۔ ت) دوسرے یہ کہ داخل مسجد مکروہ ہے دونوں کی روشن سندیں کتب فقہ سے دے دی گئیں مسجد کریم میں زمانہ اقدس میں دروازہ شمالی خاص محاذات منبر اطہرمیں تھا کمافی الصحیح البخاری (جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے۔ ت) لہذا درمسجد پر یہ اذان ہوتی نہ یہ کہ خصوصیت باب ملحوظ تھی یہاں کے فتوے میں جواب سوال دہم ملاحظہ ہو سنیت خصوص علی الباب کاکون قائل ہے اذان اول کی سنیت پر زاد عثمان علی الزوراء “ (حضرت عثمان نے مقام زورأ پر اذان کا اضافہ کیا۔ ت)سے استناد کرنے والے علما کیااس کے قائل ہیں کہ پہلی اذا بالخصوص بازارمیں ہوناسنت ہے یا ان سے یہ مطالبہ ہوسکتا ہے کہ فقہا نے اس خصوصیت بازار کو کہاں مسنون لکھا ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۵۷) مسئولہ قاضی محمد عمران صاحب ازبریلی شہر کہنہ محلہ قاضی ٹولہ ۱۲ ربیع الاول شریف ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں بروز جمعہ بزمانہ حضرت تاج مدینہ ختم المرسلین کے اذانیں ہواکرتی تھیں اور ان کے کون کون موقع تھے۔ آیا پہلی اذان جو ہوتی ہے وہ کہاں
(۱۱) اشارت مرجوح ہے یا عبارت اور ان میں فرق کیا ہے
(۱۲) کیا محتمل صریح کا مقابل ہوسکتا ہے
(۱۳) تصریحات کتب فقہ کے سامنے کسی غیر کتاب فقہ سے ایك استنباط پیش کرنا کیسا ہے خصوصا استنباط بعید یا جس کا منشا بھی غلط
(۱۴) حنفی کو تصریحات فقہ حنفی کے مقابل کسی غیر کتاب حنفی کا پیش کرنا کیسا ہے
(۱۵) قرآن مجید کی تجوید فرض عین ہے یا نہیں اگر ہے تو کیا سب ہندی علما اسے بجالاتے ہیں یا سو۱۰۰ میں کتنے بینوا توجروا۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ (۳۵۶) از بدایوں مرسلہ مولوی عبدالمقتدر صاحب ۱۰ ربیع لاول ۱۳۳۲ھ
حضرت جناب مخدوم ومحترم ومکرم ومعظم ادام الله تعالی برکاتکم السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ یہ بات کہ اس اذان کا کب سے داخل مسجد ہونامعمول ومروج ہوا یقینی طور سے محقق نہیں ہوا علی الباب اذان کا مسنون ہونا اگر کسی کتاب فقہ میں نظر پڑا ہوتو لکھئے اکثر لوگ اس کے طالب ہیں فقط۔
الجواب :
علی الباب اذان مسنون ہونے کی سند فقہی کے اکثر لوگ کیوں طالب ہیں یہ دعوی کس کاہے یہاں سے تو دو۲ باتیں کہی گئی ہیں ایك یہ کہ “ بین یدیہ “ (خطیب کے سامنے۔ ت) دوسرے یہ کہ داخل مسجد مکروہ ہے دونوں کی روشن سندیں کتب فقہ سے دے دی گئیں مسجد کریم میں زمانہ اقدس میں دروازہ شمالی خاص محاذات منبر اطہرمیں تھا کمافی الصحیح البخاری (جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے۔ ت) لہذا درمسجد پر یہ اذان ہوتی نہ یہ کہ خصوصیت باب ملحوظ تھی یہاں کے فتوے میں جواب سوال دہم ملاحظہ ہو سنیت خصوص علی الباب کاکون قائل ہے اذان اول کی سنیت پر زاد عثمان علی الزوراء “ (حضرت عثمان نے مقام زورأ پر اذان کا اضافہ کیا۔ ت)سے استناد کرنے والے علما کیااس کے قائل ہیں کہ پہلی اذا بالخصوص بازارمیں ہوناسنت ہے یا ان سے یہ مطالبہ ہوسکتا ہے کہ فقہا نے اس خصوصیت بازار کو کہاں مسنون لکھا ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۵۷) مسئولہ قاضی محمد عمران صاحب ازبریلی شہر کہنہ محلہ قاضی ٹولہ ۱۲ ربیع الاول شریف ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں بروز جمعہ بزمانہ حضرت تاج مدینہ ختم المرسلین کے اذانیں ہواکرتی تھیں اور ان کے کون کون موقع تھے۔ آیا پہلی اذان جو ہوتی ہے وہ کہاں
ہوتی تھی اور دوسری جو اس زمانہ میں وقت خطبہ خطیب کے سامنے قریب منبر ہوتی ہے وہ کہاں ہوتی تھی اوراگر حضرت کے زمانہ میں ایك ہی “ اذان علی باب المسجد “ ہوتی تھی تو دوسری جو خطیب کے سامنے قریب منبرہوتی ہے وہ کس کے حکم سے شروع ہوئی اور ائمہ کرام کے نزدیك اس کے جواز کی بابت کیا حکم ہے فقط۔
الجواب :
زمانہ اقدس حضورسید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیں صرف ایك اذان ہوتی تھی جب حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممنبرپرتشریف فرماہوتے حضور کے سامنے مواجہہ اقدس میں مسجد کریم کے دروازے پر۔ زمانہ اقدس میں مسجد شریف کے صرف تین دروازے تھے ایك مشرق کو جو حجرہ شریفہ کے متصل تھاجس میں سے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممسجدمیں تشریف لاتے اس کی سمت پر اب باب جبریل ہے دوسرا مغرب میں جس کی سمت پر اب باب الرحمۃ ہے تیسرا شمال میں جو خاص محاذی منبر اطہر تھاصحیح بخاری شریف میں انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہسے ہے :
دخل رجل یوم الجمعۃ من باب کان وجاہ المنبر ورسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم قائم یخطب فاستقبل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم قائما فقال یارسول الله الحدیث ۔
ایك شخص جمعہ کے دن اس دروازے سے داخل ہوا جو منبرکے سامنے ہے اوررسالتمآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرمارہے تھے تو وہ شخص آپ کی طرف منہ کرکے کھڑا ہوکر عرض کرنے لگا یا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔ الحدیث (ت)
اس دروازے پر اذان جمعہ ہوتی تھی کہ منبر کے سامنے بھی ہوئی اور مسجد سے باہر بھی۔ زمانہ صدیق اکبر وعمر فاروق وابتدائے خلافت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہممیں یہی ایك اذان ہوتی رہی جب لوگوں کی کثرت ہوئی اور شتابی حاضری میں قدرے کسل واقع ہوا امیرالمومنین عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہنے ایك اذان شروع خطبہ سے پہلے بازارمیں دلوانی شروع کی مسجدکے اندراذان کاہونا ائمہ نے منع فرمایا اور مکروہ لکھا ہے اور خلاف سنت ہے یہ نہ زمانہ اقدس میں تھا نہ زمانہ خلفائے راشدین نہ کسی صحابی کی خلافت میں نہ تحقیق معلوم کہ یہ بدعت کب سے ایجاد ہوئی نہ ہمارے ذمہ اس کا جاننا ضرور بعض کہتے ہیں کہ ہشام بن عبدالملك مروانی بادشاہ ظالم کی ایجادہے والله تعالی اعلم بہرحال جبکہ زمانہ رسالت وخلافت ہائے راشدہ میں نہ تھی اور ہمارے ائمہ کی تصریح ہے کہ مسجدمیں اذان نہ ہو مسجد میں اذان مکروہ ہے تو ہمیں سنت اختیار کرنا چاہئے بدعت سے بچنا چاہئے اس تحقیقات سے پہلے کہ سنت
الجواب :
زمانہ اقدس حضورسید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیں صرف ایك اذان ہوتی تھی جب حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممنبرپرتشریف فرماہوتے حضور کے سامنے مواجہہ اقدس میں مسجد کریم کے دروازے پر۔ زمانہ اقدس میں مسجد شریف کے صرف تین دروازے تھے ایك مشرق کو جو حجرہ شریفہ کے متصل تھاجس میں سے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممسجدمیں تشریف لاتے اس کی سمت پر اب باب جبریل ہے دوسرا مغرب میں جس کی سمت پر اب باب الرحمۃ ہے تیسرا شمال میں جو خاص محاذی منبر اطہر تھاصحیح بخاری شریف میں انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہسے ہے :
دخل رجل یوم الجمعۃ من باب کان وجاہ المنبر ورسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم قائم یخطب فاستقبل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم قائما فقال یارسول الله الحدیث ۔
ایك شخص جمعہ کے دن اس دروازے سے داخل ہوا جو منبرکے سامنے ہے اوررسالتمآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرمارہے تھے تو وہ شخص آپ کی طرف منہ کرکے کھڑا ہوکر عرض کرنے لگا یا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔ الحدیث (ت)
اس دروازے پر اذان جمعہ ہوتی تھی کہ منبر کے سامنے بھی ہوئی اور مسجد سے باہر بھی۔ زمانہ صدیق اکبر وعمر فاروق وابتدائے خلافت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہممیں یہی ایك اذان ہوتی رہی جب لوگوں کی کثرت ہوئی اور شتابی حاضری میں قدرے کسل واقع ہوا امیرالمومنین عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہنے ایك اذان شروع خطبہ سے پہلے بازارمیں دلوانی شروع کی مسجدکے اندراذان کاہونا ائمہ نے منع فرمایا اور مکروہ لکھا ہے اور خلاف سنت ہے یہ نہ زمانہ اقدس میں تھا نہ زمانہ خلفائے راشدین نہ کسی صحابی کی خلافت میں نہ تحقیق معلوم کہ یہ بدعت کب سے ایجاد ہوئی نہ ہمارے ذمہ اس کا جاننا ضرور بعض کہتے ہیں کہ ہشام بن عبدالملك مروانی بادشاہ ظالم کی ایجادہے والله تعالی اعلم بہرحال جبکہ زمانہ رسالت وخلافت ہائے راشدہ میں نہ تھی اور ہمارے ائمہ کی تصریح ہے کہ مسجدمیں اذان نہ ہو مسجد میں اذان مکروہ ہے تو ہمیں سنت اختیار کرنا چاہئے بدعت سے بچنا چاہئے اس تحقیقات سے پہلے کہ سنت
حوالہ / References
صحیح بخاری باب الاستسقاء فی المسجد الجامع مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۳۷
پہلے کس نے بدلی الله تعالی ہمارے بھائیوں کو توفیق دے کہ اپنے نبی کریم علیہ افضل الصلاۃ والتسلیم کی سنت اور اپنے فقہائے کرام کے احکام پر عامل ہوں اور ان کے سامنے رواج کی آڑ نہ لیں وبالله التوفیق والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۵۸) از پیلی بھیت محلہ غفار خاں مرسلہ حافظ محمد صدیق امام مسجد چھیپیاں ۱۰ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
اذان جو خارج مسجد کہنمسنون ثابت ہوا ہے اب بنظر رفع فساد پھر بدستور قدیم اذان منبرکے پاس دینا جائز ہے یا نہیں کیونکہ درصورت عدم جواز فساداورفتنے کا احتمال قوی ہے بینوا بالصواب وتوجروا یوم الحساب۔
الجواب :
یہاں دو۲چیزیں ہیں ایك اتیان معروف واجتناب منکر دوسرے امر بالمعروف ونہی عن المنکر مسجد میں اذان دینا ممنوع ہے اور اس میں دربار الہی کی بے ادبی ہے تو جو مسجد اپنی ہے اس میں خود مخالفت سنت نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموارتکاب بے ادبی دربار عزت کامؤاخذہ اس کی ذات پرہے اور جو مسجد پرائی ہے اوروں کااس میں اختیار ہے اس کا مواخذہ ان پر ہے اس کے ذمے صرف اتنارکھاگیا ہے کہ ازالہ منکر پر قدرت نہ ہوتو زبان سے منع کردے اور اس میں بھی فتنہ وفساد ہوتو دل سے براجانے پھر ان کے فعل کا اس سے مطالبہ نہیں وقال الله تعالی : و لا تزر وازرة وزر اخرى- (کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ت)
یایها الذین امنوا علیكم انفسكم-لا یضركم من ضل اذا اهتدیتم-
اے اہل ایمان!تم پر اپنی جان لازم ہے تمہیں کوئی گمراہ نقصان نہیں پہنچا سکتا جبکہ تم ہدایت یافتہ ہو۔ (ت)
وقال صلی الله تعالی علیہ وسلم :
من رای منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ وذلك اضعف الایمان ۔
تم میں سے جب کوئی برائی دیکھے تو ہاتھ سے اسے روکنے کی کوشش کرے اور اگر اس کی طاقت نہیں رکھتا تو زبان سے منع کرے اور اگر اس پر بھی قادر نہ ہوتو دل سے برا جانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے (ت)
اور جس طرح یہ دوسروں کو حکم شرع ماننے پر مجبور نہیں کرسکتا یوں ہی دوسرے حکم شرع کی مخالفت پر اسے مجبور نہیں کرسکتے یہ اپنے نزدیك جو طریقہ اپنے رب کی عبادت اوراپنے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے اتباع سنت
مسئلہ (۳۵۸) از پیلی بھیت محلہ غفار خاں مرسلہ حافظ محمد صدیق امام مسجد چھیپیاں ۱۰ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
اذان جو خارج مسجد کہنمسنون ثابت ہوا ہے اب بنظر رفع فساد پھر بدستور قدیم اذان منبرکے پاس دینا جائز ہے یا نہیں کیونکہ درصورت عدم جواز فساداورفتنے کا احتمال قوی ہے بینوا بالصواب وتوجروا یوم الحساب۔
الجواب :
یہاں دو۲چیزیں ہیں ایك اتیان معروف واجتناب منکر دوسرے امر بالمعروف ونہی عن المنکر مسجد میں اذان دینا ممنوع ہے اور اس میں دربار الہی کی بے ادبی ہے تو جو مسجد اپنی ہے اس میں خود مخالفت سنت نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموارتکاب بے ادبی دربار عزت کامؤاخذہ اس کی ذات پرہے اور جو مسجد پرائی ہے اوروں کااس میں اختیار ہے اس کا مواخذہ ان پر ہے اس کے ذمے صرف اتنارکھاگیا ہے کہ ازالہ منکر پر قدرت نہ ہوتو زبان سے منع کردے اور اس میں بھی فتنہ وفساد ہوتو دل سے براجانے پھر ان کے فعل کا اس سے مطالبہ نہیں وقال الله تعالی : و لا تزر وازرة وزر اخرى- (کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ت)
یایها الذین امنوا علیكم انفسكم-لا یضركم من ضل اذا اهتدیتم-
اے اہل ایمان!تم پر اپنی جان لازم ہے تمہیں کوئی گمراہ نقصان نہیں پہنچا سکتا جبکہ تم ہدایت یافتہ ہو۔ (ت)
وقال صلی الله تعالی علیہ وسلم :
من رای منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ وذلك اضعف الایمان ۔
تم میں سے جب کوئی برائی دیکھے تو ہاتھ سے اسے روکنے کی کوشش کرے اور اگر اس کی طاقت نہیں رکھتا تو زبان سے منع کرے اور اگر اس پر بھی قادر نہ ہوتو دل سے برا جانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے (ت)
اور جس طرح یہ دوسروں کو حکم شرع ماننے پر مجبور نہیں کرسکتا یوں ہی دوسرے حکم شرع کی مخالفت پر اسے مجبور نہیں کرسکتے یہ اپنے نزدیك جو طریقہ اپنے رب کی عبادت اوراپنے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے اتباع سنت
حوالہ / References
القرآن ۶ / ۱۶۴
القرآن ۵ / ۱۰۵
سنن النسائی تفاضل اہل الایمان حدیث ۵۰۱۱ مطبوعہ المکتبۃ السلفیۃ لاہور ۲ / ۲۶۵
القرآن ۵ / ۱۰۵
سنن النسائی تفاضل اہل الایمان حدیث ۵۰۱۱ مطبوعہ المکتبۃ السلفیۃ لاہور ۲ / ۲۶۵
کا اپنی کتب دینیہ سے جانتا ہے دوسرا اگر اس میں مزاحمت کرے گا اور فتنہ وفساد اٹھائے گاتو اس کا ذمہ دار وہ دوسرا ہوگا حکومت ہر مفسد کا ہاتھ پکڑنے کو موجود ہے اس کے ذریعہ سے بندوبست کراسکتا ہے ہاں اگر یہ صورت بھی ناممکن ہوتی اور مفسدوں کا خوف حد مجبوری تك پہنچاتاتو حالت اکراہ تھی اس وقت اس پر مؤاخذہ نہ ہوتا قال تعالی :
الا من اكره و قلبه مطمىن بالایمان
مگر وہ شخص جس کو مجبور کردیاگیااور اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہے۔ (ت)
بالجملہ دوسروں کوحکم کرناان کی سرکشی وفتنہ پردازی کے وقت مطلقاساقط ہوجاتاہے کمانص علیہ فی الھندیۃ وغیرھاور خود عمل کرنااس وقت ساقط ہوگا جب یہ بذریعہ حکومت بھی بندوبست نہ کرسکے اور حقیقی مجبوری ہوکر استطاعت اصلا نہ رہے قال تعالی :
فاتقوا الله ما استطعتم و اسمعوا و اطیعوا
تو الله تعالی سے ڈرو جہاں تك ہوسکے اور اس کا فرمان سنو اور حکم مانو۔ (ت)
باوصف قدرت بندوبست واستعانت بحکومت مجرد خوف یاکاہلی یا خودداری یا رورعایت یانئی تہذیب یا صلح کل کی پالیسی سے اتباع شرع چھوڑ بیٹھنا جائز نہیں ہوسکتا اسے یوں خیال کریں کہ مفسدین آج اس امر کے لئے کہتے ہیں کل کو اگر انہوں نے خود نمازپرفتنہ اٹھایاتوکیانمازبھی چھوڑدیگا نہیں نہیں بلکہ اس پر خیال کرے کہ مفسدوں نے کہا کہ اپنا مکان خالی کردو ورنہ ہم فساد کرتے ہیں یا اپنی جائداد کاہبہ نامہ لکھ دو ورنہ ہم فتنہ اٹھاتے ہیں (تو)اس وقت ان کا کچھ بندوبست کرے گا استغاثہ کرے گایاچپکے سے جائداد ومکان چھوڑ بیٹھے گا جو جب کرے گا وہ اب کرے اور اتباع احکام شرع کو مکان وجائداد سے ہلکا نہ جانے ہاں دوسروں کے سرچڑھنے اور فتنہ فساد کے اٹھانے کی اجازت نہیں ہوسکتی قال تعالی :
و الفتنة اشد من القتل-
(فتنہ قتل سے بدتر ہے۔ ت)
وقال تعالی :
و لا تفسدوا فی الارض بعد اصلاحها
زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلاؤ (ت)
الا من اكره و قلبه مطمىن بالایمان
مگر وہ شخص جس کو مجبور کردیاگیااور اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہے۔ (ت)
بالجملہ دوسروں کوحکم کرناان کی سرکشی وفتنہ پردازی کے وقت مطلقاساقط ہوجاتاہے کمانص علیہ فی الھندیۃ وغیرھاور خود عمل کرنااس وقت ساقط ہوگا جب یہ بذریعہ حکومت بھی بندوبست نہ کرسکے اور حقیقی مجبوری ہوکر استطاعت اصلا نہ رہے قال تعالی :
فاتقوا الله ما استطعتم و اسمعوا و اطیعوا
تو الله تعالی سے ڈرو جہاں تك ہوسکے اور اس کا فرمان سنو اور حکم مانو۔ (ت)
باوصف قدرت بندوبست واستعانت بحکومت مجرد خوف یاکاہلی یا خودداری یا رورعایت یانئی تہذیب یا صلح کل کی پالیسی سے اتباع شرع چھوڑ بیٹھنا جائز نہیں ہوسکتا اسے یوں خیال کریں کہ مفسدین آج اس امر کے لئے کہتے ہیں کل کو اگر انہوں نے خود نمازپرفتنہ اٹھایاتوکیانمازبھی چھوڑدیگا نہیں نہیں بلکہ اس پر خیال کرے کہ مفسدوں نے کہا کہ اپنا مکان خالی کردو ورنہ ہم فساد کرتے ہیں یا اپنی جائداد کاہبہ نامہ لکھ دو ورنہ ہم فتنہ اٹھاتے ہیں (تو)اس وقت ان کا کچھ بندوبست کرے گا استغاثہ کرے گایاچپکے سے جائداد ومکان چھوڑ بیٹھے گا جو جب کرے گا وہ اب کرے اور اتباع احکام شرع کو مکان وجائداد سے ہلکا نہ جانے ہاں دوسروں کے سرچڑھنے اور فتنہ فساد کے اٹھانے کی اجازت نہیں ہوسکتی قال تعالی :
و الفتنة اشد من القتل-
(فتنہ قتل سے بدتر ہے۔ ت)
وقال تعالی :
و لا تفسدوا فی الارض بعد اصلاحها
زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلاؤ (ت)
حوالہ / References
القرآن ۱۶ / ۱۰۶
القرآن ۶۴ / ۱۶
القرآن ۲ / ۱۹۱
القرآن ۷ / ۵۶
القرآن ۶۴ / ۱۶
القرآن ۲ / ۱۹۱
القرآن ۷ / ۵۶
وقال تعالی :
لها ما كسبت و لكم ما كسبتم-و لا تســٴـلون عما كانوا یعملون(۱۴۱)
اس امت کے لئے وہ ہے جو اس نے کیا اور تمہارے لئے وہ ہے جو تم نے کیا تم سے ان کے اعمال کے بارے میں سوال
ہیں کیا جائیگا۔ (ت)
نسأل الله العفو والعافیۃ وصلی الله تعالی علی سیدناومولنا محمد والہ وصحبہ وبارك وسلم والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۵۹) از سہاور ضلع ایٹہ مرسلہ چودھری عبدالحمید خاں صاحب رئیس ۲۰ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
اذان ثانی جمعہ خارج مسجدصحن کے نیچے جوتے اتارنے کی جگہ اگر کہی جائے تو اس میں کچھ حرج ہے یا باب مسجد پر ہی ہونا ضروری ہے ان دونوں میں کسی بات میں اولویت ہوگی یامساوی حالت دوم یہ کہ محراب مسجد بھی اس بارے میں باب مسجد کے قائم مقام ہوسکتی ہے یانہیں دیوبندی صاحب کامقولہ ہے کہ محراب مسجد خارج مسجد کاحکم رکھتی ہے اور اسی لئے اس میں امام کاکھڑا ہونا جائز نہیں (حالانکہ اپنے نزدیك یہ بات نہیں آئندہ جو مفتی صاحب فرمائیں )سوم یہ کہ اگر باب مسجد دالان وصحن مسجد کے بالمقابل نہ ہو بلکہ شمالا وجنوبا واقع ہواورصحن مسجد مشرقی جانب حد دیوار سے ملا ہوا ہو اور اس کے بعد کوئی جگہ خارج مسجد نہ ہوتووہاں کیا کیا جائے اوراذان ثانی کہاں ہواور خطیب کہاں بیٹھے تاکہ مؤذن کا مقاببلہ فوت نہ ہو۔ چہارم یہ کہ اذان مذکور باب مسجدپرجودی جائے تو وہ باب مسجد کے وسط میں کھڑے ہوکر یا اس سے پرے نیچے اترکر یہاں تو آج وسط باب پر کہی گئی ہے آئندہ جیسا ارشاد ہو والسلام فقط۔
الجواب :
صحن مسجد کے نیچے جو جگہ خلع نعال کی ہے خارج مسجدہے اس میں اذان بے تکلف مطابق سنت ہے علی الباب ہونا کچھ ضرور نہیں مسجد کریم میں باب شمالی محاذی منبراطہر تھا کمافی صحیح البخاری (جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے۔ ت) لہذا علی الباب ہوتی تھی ورنہ خصوصیت باب ملحوظ نہ تھی بلکہ صرف دو۲ باتیں محاذات خطیب واذان خارج مسجد۔ محراب مسجد وہ طاق ہے کہ دیوار قبلہ کے وسط میں بنتا ہے اس میں اذان ہونے کے کوئی معنی نہیں نہ اس میں محاذات خطیب ہو اور منتہائے درجہ جانب شرق پر جو در بنتے ہیں یہ محراب نہیں ان کو “ بین الساریتین “ کہتے ہیں ان میں امام کاکھڑا ہوناناجائز نہیں ہاں خلاف سنت ہے نہ اس وجہ سے کہ یہ زمین مسجد نہیں بلکہ اس لئے کہ امام اور جملہ مقتدیوں کا درجہ بدلا ہوا ہونا خلاف سنت ہے کمافی شرح النقایۃ (جیسا کہ شرح نقایہ میں ہے۔ ت) شرقی
لها ما كسبت و لكم ما كسبتم-و لا تســٴـلون عما كانوا یعملون(۱۴۱)
اس امت کے لئے وہ ہے جو اس نے کیا اور تمہارے لئے وہ ہے جو تم نے کیا تم سے ان کے اعمال کے بارے میں سوال
ہیں کیا جائیگا۔ (ت)
نسأل الله العفو والعافیۃ وصلی الله تعالی علی سیدناومولنا محمد والہ وصحبہ وبارك وسلم والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۵۹) از سہاور ضلع ایٹہ مرسلہ چودھری عبدالحمید خاں صاحب رئیس ۲۰ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
اذان ثانی جمعہ خارج مسجدصحن کے نیچے جوتے اتارنے کی جگہ اگر کہی جائے تو اس میں کچھ حرج ہے یا باب مسجد پر ہی ہونا ضروری ہے ان دونوں میں کسی بات میں اولویت ہوگی یامساوی حالت دوم یہ کہ محراب مسجد بھی اس بارے میں باب مسجد کے قائم مقام ہوسکتی ہے یانہیں دیوبندی صاحب کامقولہ ہے کہ محراب مسجد خارج مسجد کاحکم رکھتی ہے اور اسی لئے اس میں امام کاکھڑا ہونا جائز نہیں (حالانکہ اپنے نزدیك یہ بات نہیں آئندہ جو مفتی صاحب فرمائیں )سوم یہ کہ اگر باب مسجد دالان وصحن مسجد کے بالمقابل نہ ہو بلکہ شمالا وجنوبا واقع ہواورصحن مسجد مشرقی جانب حد دیوار سے ملا ہوا ہو اور اس کے بعد کوئی جگہ خارج مسجد نہ ہوتووہاں کیا کیا جائے اوراذان ثانی کہاں ہواور خطیب کہاں بیٹھے تاکہ مؤذن کا مقاببلہ فوت نہ ہو۔ چہارم یہ کہ اذان مذکور باب مسجدپرجودی جائے تو وہ باب مسجد کے وسط میں کھڑے ہوکر یا اس سے پرے نیچے اترکر یہاں تو آج وسط باب پر کہی گئی ہے آئندہ جیسا ارشاد ہو والسلام فقط۔
الجواب :
صحن مسجد کے نیچے جو جگہ خلع نعال کی ہے خارج مسجدہے اس میں اذان بے تکلف مطابق سنت ہے علی الباب ہونا کچھ ضرور نہیں مسجد کریم میں باب شمالی محاذی منبراطہر تھا کمافی صحیح البخاری (جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے۔ ت) لہذا علی الباب ہوتی تھی ورنہ خصوصیت باب ملحوظ نہ تھی بلکہ صرف دو۲ باتیں محاذات خطیب واذان خارج مسجد۔ محراب مسجد وہ طاق ہے کہ دیوار قبلہ کے وسط میں بنتا ہے اس میں اذان ہونے کے کوئی معنی نہیں نہ اس میں محاذات خطیب ہو اور منتہائے درجہ جانب شرق پر جو در بنتے ہیں یہ محراب نہیں ان کو “ بین الساریتین “ کہتے ہیں ان میں امام کاکھڑا ہوناناجائز نہیں ہاں خلاف سنت ہے نہ اس وجہ سے کہ یہ زمین مسجد نہیں بلکہ اس لئے کہ امام اور جملہ مقتدیوں کا درجہ بدلا ہوا ہونا خلاف سنت ہے کمافی شرح النقایۃ (جیسا کہ شرح نقایہ میں ہے۔ ت) شرقی
حوالہ / References
القرآن ۲ / ۱۴۱
جانب اگر دیوار مسجد ہے تو اس کی نسبت فتوے میں معروض ہے کہ اس میں طاق محراب نما محاذات منبر میں بنالیں اور اگر دیوار کسی غیر کی ہے اور وہ اجازت نہ دے تو اس کا سوال مراد آباد سے آیا تھااس کے جواب کی نقل حاضر کرتا ہے باب مسجد ہی میں موذن کھڑاہو دروازہ سے باہر ہونے کی حاجت نہیں کہ اس حکم میں مسجد کی دیواریں فصیلیں دروازہ کی زمین خارج مسجد ہیں ۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ (۳۶۰) مسئولہ جناب مشتاق احمد صاحب از شہر بریلی محلہ بہاری پور ۲۸ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد متصل دفترچھوٹی ریل کی میں ہم لوگ نماز جمعہ پڑھا کرتے ہیں وہاں جو شخص نماز پڑھاتے ہیں وہ خطبہ کے وقت اذان مسجدکے اندر دلوایاکرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دوسری اذان جمعہ کی خطبہ کے وقت خلیفہ ہشام نے مسجد کے اندر لوگوں سے دلوانا شروع کی ہے وہ بدعت حسن ہے یعنی وہ بدعت سیہ نہیں ہے اور بدعت حسن کے کرنے کو کسی نے بھی عالموں میں سے منع نہیں کیاہے اوررسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے ہمیشہ اذان کامسجد کے دروازہ پر ہونا ثابت نہیں ہے اس وجہ سے جو لوگ مسجد کے اندر اذان دلواتے ہیں ان کو منع نہیں کرناچاہئے کیونکہ وہ بدعت حسن کرتے ہیں اور سنت مواظبہ کو نہیں چھوڑتے لہذا عرض یہ ہے کہ مسجد کے دروازے کے اوپرہمیشہ ہونااذان کاثابت ہے یا نہیں اورسنت مواظبہ ہے یانہیں اور اذان مسجد کے اندر دینے سے سنت چھوٹ جائے گی یانہیں اور بدعت ہوگی تو کون سی ہوگی بدعت حسن ہوگی یا بدعت سیئہ ہوگی اگر بدعت حسن ہوگی تو اس کو منع کرناچاہئے یانہیں اوراگر بدعت سیئہ ہوگی تو منع کرنا چاہئے یا نہیں اور منع کرنے والا کون ہوگا اور اس کے پیچھے نماز جائز ہوگی یا نہیں اور اذان خطبہ والی کو اندر دلاناکس نے شروع کیا ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماورخلفائے راشدین رضی اللہ تعالی عنہمسے مسجد کے اندر اذان دلوانا کبھی ایك بار کا بھی ثابت نہیں جو لوگ اس کا دعوی کرتے ہیں رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماور خلفائے راشدین رضی اللہ تعالی عنہمپر افترا کرتے ہیں ہشام سے بھی اس اذان کامسجد کے اندر دلوانا ہرگز ثابت نہیں البتہ پہلی اذان کے نسبت بعض نے لکھا ہے کہ اسے ہشام مسجد کی طرف منتقل کرلایا اور اس کے بھی یہ معنی نہیں کہ مسجد کے اندر دلوائی بلکہ امیرالمومنین عثمن غنی رضی اللہ تعالی عنہبازار میں پہلی اذان دلواتے تھے ہشام نے مسجد کے منارہ پر دلوائی رہی یہ دوسری اذان خطبہ اس کی نسبت تصریح ہے کہ ہشام نے اس میں کچھ تغیر نہ کیا اسی حالت میں باقی رکھی جیسی زمانہ رسالت وزمانہ خلافت میں تھی۔ امام محمد بن عبدالباقی زرقانی رحمۃ اللہ تعالی علیہشرح مواہب شریف جلد ہفتم طبع مصر ص۴۳۵ میں فرماتے ہیں :
فلما کان عثمن امر بالاذان قبلہ علی الزورائ ثم نقلہ ھشام الی المسجد ای امر بفعلہ فیہ وجعل الاخر الذی بعد جلوس الخطیب علی المنبر بین یدیہ بمعنی انہ ابقاہ بالمکان الذی یفعل فیہ فلم یغیرہ بخلاف ماکان بالزوراء فحولہ الی المسجد علی المنار انتھی ۔
یعنی جب عثمان رضی اللہ تعالی عنہخلیفہ ہوئے اذان خطبہ
مسئلہ (۳۶۰) مسئولہ جناب مشتاق احمد صاحب از شہر بریلی محلہ بہاری پور ۲۸ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد متصل دفترچھوٹی ریل کی میں ہم لوگ نماز جمعہ پڑھا کرتے ہیں وہاں جو شخص نماز پڑھاتے ہیں وہ خطبہ کے وقت اذان مسجدکے اندر دلوایاکرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دوسری اذان جمعہ کی خطبہ کے وقت خلیفہ ہشام نے مسجد کے اندر لوگوں سے دلوانا شروع کی ہے وہ بدعت حسن ہے یعنی وہ بدعت سیہ نہیں ہے اور بدعت حسن کے کرنے کو کسی نے بھی عالموں میں سے منع نہیں کیاہے اوررسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے ہمیشہ اذان کامسجد کے دروازہ پر ہونا ثابت نہیں ہے اس وجہ سے جو لوگ مسجد کے اندر اذان دلواتے ہیں ان کو منع نہیں کرناچاہئے کیونکہ وہ بدعت حسن کرتے ہیں اور سنت مواظبہ کو نہیں چھوڑتے لہذا عرض یہ ہے کہ مسجد کے دروازے کے اوپرہمیشہ ہونااذان کاثابت ہے یا نہیں اورسنت مواظبہ ہے یانہیں اور اذان مسجد کے اندر دینے سے سنت چھوٹ جائے گی یانہیں اور بدعت ہوگی تو کون سی ہوگی بدعت حسن ہوگی یا بدعت سیئہ ہوگی اگر بدعت حسن ہوگی تو اس کو منع کرناچاہئے یانہیں اوراگر بدعت سیئہ ہوگی تو منع کرنا چاہئے یا نہیں اور منع کرنے والا کون ہوگا اور اس کے پیچھے نماز جائز ہوگی یا نہیں اور اذان خطبہ والی کو اندر دلاناکس نے شروع کیا ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماورخلفائے راشدین رضی اللہ تعالی عنہمسے مسجد کے اندر اذان دلوانا کبھی ایك بار کا بھی ثابت نہیں جو لوگ اس کا دعوی کرتے ہیں رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماور خلفائے راشدین رضی اللہ تعالی عنہمپر افترا کرتے ہیں ہشام سے بھی اس اذان کامسجد کے اندر دلوانا ہرگز ثابت نہیں البتہ پہلی اذان کے نسبت بعض نے لکھا ہے کہ اسے ہشام مسجد کی طرف منتقل کرلایا اور اس کے بھی یہ معنی نہیں کہ مسجد کے اندر دلوائی بلکہ امیرالمومنین عثمن غنی رضی اللہ تعالی عنہبازار میں پہلی اذان دلواتے تھے ہشام نے مسجد کے منارہ پر دلوائی رہی یہ دوسری اذان خطبہ اس کی نسبت تصریح ہے کہ ہشام نے اس میں کچھ تغیر نہ کیا اسی حالت میں باقی رکھی جیسی زمانہ رسالت وزمانہ خلافت میں تھی۔ امام محمد بن عبدالباقی زرقانی رحمۃ اللہ تعالی علیہشرح مواہب شریف جلد ہفتم طبع مصر ص۴۳۵ میں فرماتے ہیں :
فلما کان عثمن امر بالاذان قبلہ علی الزورائ ثم نقلہ ھشام الی المسجد ای امر بفعلہ فیہ وجعل الاخر الذی بعد جلوس الخطیب علی المنبر بین یدیہ بمعنی انہ ابقاہ بالمکان الذی یفعل فیہ فلم یغیرہ بخلاف ماکان بالزوراء فحولہ الی المسجد علی المنار انتھی ۔
یعنی جب عثمان رضی اللہ تعالی عنہخلیفہ ہوئے اذان خطبہ
حوالہ / References
شرح الزرقانی علی المواہب المقصد التاسع فی عبادتہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مطبوعہ عامرہ مصر ۷ / ۴۳۵
سے پہلے ایك اذان بازار میں ایك مکان کی چھت پر دلوائی پھر اس پہلی اذان کو ہشام مسجد کی طرف منتقل کرلایا یعنی اس کے مسجد میں ہونے کا حکم دیا اور دوسری کہ خطیب کے منبر پر بیٹھنے کے وقت ہوتی ہے وہ خطیب کے مواجہ میں کی یعنی جہاں ہوا کرتی تھی وہیں باقی رکھی اس اذان ثانی میں ہشام نے کوئی تبدیل نہ کی بخلاف بازار والی اذان اول کے کہ اسے مسجد کی طرف منارہ پر لے آیا انتہی۔
ہاں وہ جمہورمالکیہ کہ اذان ثانی کو امام کی محاذات میں ہونا بدعت کہتے ہیں اور اس کا بھی منارہ پر ہی ہونا سنت بتاتے ہیں ان میں بعض کے کلام میں واقع ہواکہ سب میں سے پہلے اذان ثانی امام کے روبرو ہشام نے کہلوائی نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموخلفائے راشدین رضی اللہ تعالی عنہمکے زمانہ میں یہ اذان بھی محاذات امام نہ ہوتی تھی منارہ ہی پر تھی پھر اس سے کیا ہوا غرض ہشام بیچارے سے بھی ہرگز اس کا ثبوت نہیں کہ اس نے اذان خطبہ مسجد کے اندر منبر کے برابر کہلوائی ہوجیسی اب کہی جانے لگی اس کا کچھ پتا نہیں کہ کس نے یہ ایجاد نکالی اور اگر ہشام سے ثبوت ہوتا بھی تو اس کا قول وفعل کیا حجت تھا وہ ایك مروانی ظالم بادشاہ ہے جس نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے بیٹے امام حسین رضی اللہ تعالی عنہکے پوتے امام زین العابدینکے صاحبزادے امام باقرکے بھائی سیدنا امام زید بن علی بن حسین بن علی رضی اللہ تعالی عنہمکو شہید کرایا سولی دلوائی اور اس پر یہ شدید ظلم کہ نعش مبارك کو دفن نہ ہونے دیا برسوں سولی پر رہی جب ہشام مرگیا تو نعش مبارك دفن ہوئی ان برسوں میں بدن مبارك کے کپڑے گل گئے تھے قریب تھا کہ بے ستری ہو الله عزوجل نے مکڑی کو حکم فرمایا کہ اس نے جسم مبارك پر ایسا جالا تان دیا کہ بجائے تہبند ہوگیا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو بعض صالحین نے دیکھا کہ امام مظلوم زید شہید رضی اللہ تعالی عنہکی سولی سے پشت اقدس لگائے کھڑے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کچھ کیا جاتا ہے میرے بیٹوں کے ساتھ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموخلفائے راشدین رضی اللہ تعالی عنہمکی سنت کے خلاف ایسے ظالم کی سنت پیش کرنا اور پھر امام اعظم وغیرہ ائمہ پر اس کی تہمت دھرناکہ ان اماموں نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموخلفائے راشدین کی سنت چھوڑ کر ظالم بادشاہ کی سنت قبول کرلی کیسا صریح ظلم اور ائمہ کرام کی شان میں کیسی بڑی گستاخی ہے الله عزوجل پناہ دے اس کے بدعت حسنہ
ہونے کا دعوی محض باطل و
ہاں وہ جمہورمالکیہ کہ اذان ثانی کو امام کی محاذات میں ہونا بدعت کہتے ہیں اور اس کا بھی منارہ پر ہی ہونا سنت بتاتے ہیں ان میں بعض کے کلام میں واقع ہواکہ سب میں سے پہلے اذان ثانی امام کے روبرو ہشام نے کہلوائی نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموخلفائے راشدین رضی اللہ تعالی عنہمکے زمانہ میں یہ اذان بھی محاذات امام نہ ہوتی تھی منارہ ہی پر تھی پھر اس سے کیا ہوا غرض ہشام بیچارے سے بھی ہرگز اس کا ثبوت نہیں کہ اس نے اذان خطبہ مسجد کے اندر منبر کے برابر کہلوائی ہوجیسی اب کہی جانے لگی اس کا کچھ پتا نہیں کہ کس نے یہ ایجاد نکالی اور اگر ہشام سے ثبوت ہوتا بھی تو اس کا قول وفعل کیا حجت تھا وہ ایك مروانی ظالم بادشاہ ہے جس نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے بیٹے امام حسین رضی اللہ تعالی عنہکے پوتے امام زین العابدینکے صاحبزادے امام باقرکے بھائی سیدنا امام زید بن علی بن حسین بن علی رضی اللہ تعالی عنہمکو شہید کرایا سولی دلوائی اور اس پر یہ شدید ظلم کہ نعش مبارك کو دفن نہ ہونے دیا برسوں سولی پر رہی جب ہشام مرگیا تو نعش مبارك دفن ہوئی ان برسوں میں بدن مبارك کے کپڑے گل گئے تھے قریب تھا کہ بے ستری ہو الله عزوجل نے مکڑی کو حکم فرمایا کہ اس نے جسم مبارك پر ایسا جالا تان دیا کہ بجائے تہبند ہوگیا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو بعض صالحین نے دیکھا کہ امام مظلوم زید شہید رضی اللہ تعالی عنہکی سولی سے پشت اقدس لگائے کھڑے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کچھ کیا جاتا ہے میرے بیٹوں کے ساتھ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموخلفائے راشدین رضی اللہ تعالی عنہمکی سنت کے خلاف ایسے ظالم کی سنت پیش کرنا اور پھر امام اعظم وغیرہ ائمہ پر اس کی تہمت دھرناکہ ان اماموں نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموخلفائے راشدین کی سنت چھوڑ کر ظالم بادشاہ کی سنت قبول کرلی کیسا صریح ظلم اور ائمہ کرام کی شان میں کیسی بڑی گستاخی ہے الله عزوجل پناہ دے اس کے بدعت حسنہ
ہونے کا دعوی محض باطل و
بے اصل ہے۔
(۱) بدعت حسنہ سنت کو بدلا نہیں کرتی اور اس نے سنت کو بدل دیا۔
(۲) مسجد میں اذان دینی مسجد ودربار الہی کی گستاخی وبے ادبی ہے۔ علمائے کرام فرماتے ہیں ادب میں طریقہ معہددہ فی الشاہد کا اعتبار ہوتا ہے۔ فتح القدیر میں فرمایا :
یحال علی المعھود من وضعھا حال قصد التعظیم فی القیام والمعھود فی الشاھد منہ تحت السرۃ ۔
یعنی قیام تعظیمی میں بادشاہوں وغیرہم کے سامنے ہاتھ زیرناف باندھ کر کھڑے ہونے کادستور ہے اسی دستور کا نمازمیں لحاظ رکھ کر زیرناف باندھیں گے۔
اب دیکھ لیجئے کہ درباروں میں درباریوں کی حاضری پکارنے کا کیا دستور ہے کیا عین دربار میں کھڑے ہوکر چوبدار چلاتا ہے کہ درباریو چلو ہرگز نہیں ۔ بے شك ایسا کرے تو بے ادب گستاخ ہے جس نے شاہی دربار نہ دیکھے ہوں وہ یہی کچہریاں دیکھ لے کیا ان میں مدعی مدعاعلیہ گواہوں کی حاضریاں کمرہ کے اندر پکاری جاتی ہیں یاکمرہ سے باہر جاکر کیااگر چپراسی خاص کمرہ کچہری میں کھڑا ہوا حاضریاں پکارے چلائے تو بے ادب گستاخ بناکر نہ نکالا جائیگا افسوس جو بات ایك منصف یاجنٹ کی کچہری میں نہیں کرسکتے احکم الحاکمین جل جلالہ کے دربار میں روارکھو۔
(۳) مسجد میں چلانے سے خود حدیث میں ممانعت ہے اور فقہانے یہ ممانعت ذکر الہی کو بھی عام رکھی جب تك شارع صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے ثبوت نہ ہو درمختار میں ہے :
یحرم فیہ(ای المسجد) السوال ویکرہ الاعطاء ورفع صوت بذکر الا للمتفقھۃ ۔
مسجد میں سوال کرنا حرام اور سائل کو دینا مکروہ ہے۔ مسائل فقہیہ سیکھنے سکھانے کے علاوہ وہاں ذکر سے آواز کا بلند کرنا بھی مکروہ ہے۔ (ت)
نہ کہ اذان کہ یہ تو خالص ذکر بھی نہیں کمافی البنایۃ شرح الھدایۃ للامام العینی(جیسا کہ امام عینی نے بنایہ شرح ہدایہ میں تصریح کی ہے۔ ت)
(۴) بلکہ شرع مطہر نے مسجد کو ہر ایسی آواز سے بچانے کا حکم فرمایا جس کے لئے مساجد کی بنانہ ہو صحیح مسلم شریف میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
(۱) بدعت حسنہ سنت کو بدلا نہیں کرتی اور اس نے سنت کو بدل دیا۔
(۲) مسجد میں اذان دینی مسجد ودربار الہی کی گستاخی وبے ادبی ہے۔ علمائے کرام فرماتے ہیں ادب میں طریقہ معہددہ فی الشاہد کا اعتبار ہوتا ہے۔ فتح القدیر میں فرمایا :
یحال علی المعھود من وضعھا حال قصد التعظیم فی القیام والمعھود فی الشاھد منہ تحت السرۃ ۔
یعنی قیام تعظیمی میں بادشاہوں وغیرہم کے سامنے ہاتھ زیرناف باندھ کر کھڑے ہونے کادستور ہے اسی دستور کا نمازمیں لحاظ رکھ کر زیرناف باندھیں گے۔
اب دیکھ لیجئے کہ درباروں میں درباریوں کی حاضری پکارنے کا کیا دستور ہے کیا عین دربار میں کھڑے ہوکر چوبدار چلاتا ہے کہ درباریو چلو ہرگز نہیں ۔ بے شك ایسا کرے تو بے ادب گستاخ ہے جس نے شاہی دربار نہ دیکھے ہوں وہ یہی کچہریاں دیکھ لے کیا ان میں مدعی مدعاعلیہ گواہوں کی حاضریاں کمرہ کے اندر پکاری جاتی ہیں یاکمرہ سے باہر جاکر کیااگر چپراسی خاص کمرہ کچہری میں کھڑا ہوا حاضریاں پکارے چلائے تو بے ادب گستاخ بناکر نہ نکالا جائیگا افسوس جو بات ایك منصف یاجنٹ کی کچہری میں نہیں کرسکتے احکم الحاکمین جل جلالہ کے دربار میں روارکھو۔
(۳) مسجد میں چلانے سے خود حدیث میں ممانعت ہے اور فقہانے یہ ممانعت ذکر الہی کو بھی عام رکھی جب تك شارع صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے ثبوت نہ ہو درمختار میں ہے :
یحرم فیہ(ای المسجد) السوال ویکرہ الاعطاء ورفع صوت بذکر الا للمتفقھۃ ۔
مسجد میں سوال کرنا حرام اور سائل کو دینا مکروہ ہے۔ مسائل فقہیہ سیکھنے سکھانے کے علاوہ وہاں ذکر سے آواز کا بلند کرنا بھی مکروہ ہے۔ (ت)
نہ کہ اذان کہ یہ تو خالص ذکر بھی نہیں کمافی البنایۃ شرح الھدایۃ للامام العینی(جیسا کہ امام عینی نے بنایہ شرح ہدایہ میں تصریح کی ہے۔ ت)
(۴) بلکہ شرع مطہر نے مسجد کو ہر ایسی آواز سے بچانے کا حکم فرمایا جس کے لئے مساجد کی بنانہ ہو صحیح مسلم شریف میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
حوالہ / References
فتح القدیر باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۴۹
الدرالمختار آخر باب مایفسد الصلوٰۃ الخ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۹۳
الدرالمختار آخر باب مایفسد الصلوٰۃ الخ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۹۳
من سمع رجلا ینشد ضالۃ فی المسجد فلیقل لاردھا الله علیک فان المساجد لم تبن لھذا ۔
جوگمی ہوئی چیز کو مسجد میں دریافت کرے اس سے کہو الله تیری گمی چیز تجھے نہ ملائے مسجدیں اس لئے نہیں بنیں ۔ (ت)
حدیث میں حکم عام ہے اور فقہ نے بھی عام رکھا درمختار میں ہے : کرہ انشاد ضالۃ (مسجد میں گم شدہ چیز کی تلاش مکروہ ہے۔ ت)تو اگر کسی کا مصحف شریف گم ہوگیا اور وہ تلاوت کے لئے ڈھونڈتااور مسجد میں پوچھتا ہے اسے بھی یہی جواب ہوگاکہ مسجدیں اس لئے نہیں بنیں اگر اذان دینے کے لئے مسجد کی بنا ہوتی تو ضرور حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممسجدکے اندر ہی اذان دلواتے یا کبھی کبھی تو اس کا حکم فرماتے مسجد جس کے لئے بنی زمانہ اقدس میں اسی کا مسجد میں ہوناکبھی ثابت نہ ہو یہ کیونکر معقول تو وجہ وہی ہے کہ اذان حاضری دربار پکارنے کوہے اور خود دربار حاضری پکارنے کو نہیں بنتا۔
(۵) رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی عادت کریمہ تھی کہ کبھی کبھی سنت کو ترك فرماتے کہ اس کا وجوب نہ ثابت ہوترك کاجواز معلوم ہوجائے ولہذاعلما نے سنت کی تعریف میں “ مع التراك احیانا “ ماخوذ کیا کہ ہمیشہ کیا مگر کبھی کبھی ترك بھی فرمایا اور یہاں اصلا ایك بار بھی ثابت نہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے مسجد کے اندر اذان دلوائی ہو جو مدعی ہو ثبوت دے۔
(۶) فقہائے کرام نے مسجد میں اذان دینے کو مکروہ فرمایا عبارتیں اصل فتوے میں گزریں اور حنفیہ کے یہاں مطلق کراہت سے غالبا مراد کراہت تحریم ہوتی ہے جب تك اس کے خلاف پر دلیل قائم نہ ہو اور بیان خلاف پر دلیل درکنار اس کے موافق دلیل موجود ہے کہ یہ گستاخی دربار معبود ہے۔
(۷) فقہائے کرام نے مسجدمیں اذان دینے سے بصیغہ نفی منع فرمایا کہ صیغہ نہی سے زیادہ مؤکد ہے عبارات کثیرہ اصل فتوے میں گزریں اور فقہا کا یہ صیغہ غالبا اس کے ناجائز ہونے پر دلالت کرتا ہے امام ابن امیرالحاج حلیہ میں فرماتے ہیں :
ظاھر قول المصنف ولایزید علیھا شیا یشیر الی عدم اباحۃ الزیادۃ علیھا ۔
قول مصنف “ لایزیدعلیھا شیئا “ کا ظاہر اشارۃ واضح کررہا ہے کہ اس پر اضافہ جائز نہیں ۔ (ت)
جوگمی ہوئی چیز کو مسجد میں دریافت کرے اس سے کہو الله تیری گمی چیز تجھے نہ ملائے مسجدیں اس لئے نہیں بنیں ۔ (ت)
حدیث میں حکم عام ہے اور فقہ نے بھی عام رکھا درمختار میں ہے : کرہ انشاد ضالۃ (مسجد میں گم شدہ چیز کی تلاش مکروہ ہے۔ ت)تو اگر کسی کا مصحف شریف گم ہوگیا اور وہ تلاوت کے لئے ڈھونڈتااور مسجد میں پوچھتا ہے اسے بھی یہی جواب ہوگاکہ مسجدیں اس لئے نہیں بنیں اگر اذان دینے کے لئے مسجد کی بنا ہوتی تو ضرور حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممسجدکے اندر ہی اذان دلواتے یا کبھی کبھی تو اس کا حکم فرماتے مسجد جس کے لئے بنی زمانہ اقدس میں اسی کا مسجد میں ہوناکبھی ثابت نہ ہو یہ کیونکر معقول تو وجہ وہی ہے کہ اذان حاضری دربار پکارنے کوہے اور خود دربار حاضری پکارنے کو نہیں بنتا۔
(۵) رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی عادت کریمہ تھی کہ کبھی کبھی سنت کو ترك فرماتے کہ اس کا وجوب نہ ثابت ہوترك کاجواز معلوم ہوجائے ولہذاعلما نے سنت کی تعریف میں “ مع التراك احیانا “ ماخوذ کیا کہ ہمیشہ کیا مگر کبھی کبھی ترك بھی فرمایا اور یہاں اصلا ایك بار بھی ثابت نہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے مسجد کے اندر اذان دلوائی ہو جو مدعی ہو ثبوت دے۔
(۶) فقہائے کرام نے مسجد میں اذان دینے کو مکروہ فرمایا عبارتیں اصل فتوے میں گزریں اور حنفیہ کے یہاں مطلق کراہت سے غالبا مراد کراہت تحریم ہوتی ہے جب تك اس کے خلاف پر دلیل قائم نہ ہو اور بیان خلاف پر دلیل درکنار اس کے موافق دلیل موجود ہے کہ یہ گستاخی دربار معبود ہے۔
(۷) فقہائے کرام نے مسجدمیں اذان دینے سے بصیغہ نفی منع فرمایا کہ صیغہ نہی سے زیادہ مؤکد ہے عبارات کثیرہ اصل فتوے میں گزریں اور فقہا کا یہ صیغہ غالبا اس کے ناجائز ہونے پر دلالت کرتا ہے امام ابن امیرالحاج حلیہ میں فرماتے ہیں :
ظاھر قول المصنف ولایزید علیھا شیا یشیر الی عدم اباحۃ الزیادۃ علیھا ۔
قول مصنف “ لایزیدعلیھا شیئا “ کا ظاہر اشارۃ واضح کررہا ہے کہ اس پر اضافہ جائز نہیں ۔ (ت)
حوالہ / References
الصحیح لمسلم کتاب المساجد باب النہی عن نشد الضالۃ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۱۰
الدرالمختار آخر باب مایفسد الصلوٰۃ الخ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۹۳
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
الدرالمختار آخر باب مایفسد الصلوٰۃ الخ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۹۳
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
ہدایہ میں قول امام محمد قرأ وجھر(وہ پڑھے اور جہر کرے۔ ت) پر فرمایا : یدل علی الوجوب (یہ وجوب پر دال ہے۔ ت)عنایہ میں فرمایا : لانہ بمنزلۃ الامر بل اکد (یہ بمنزلہ امر بلکہ اس میں اس سے بھی زیادہ تاکید ہے۔ ت)فتح القدیر میں فرمایا : مایدل علی الوجوب وھو لفظ الخبر (جو وجوب پر دال ہے وہ لفظ خبر (قرأ) ہے۔ ت)ان وجوہ پر نظر انصاف کے بعد مجموع سے کم ازکم اتنا ضرور ثابت کہ مسجد کے اندر اذان بدعت سیئہ ہے ہرگز حسنہ نہیں والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۶۱) مرسلہ جناب منشی فقیر محمد صاحب تاجر چرم کانپوری از مقام شہر ہمیر پور صوتی گنج صدر بازار ۲۰ جمادی الاولی ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اذان میں جس وقت مؤذن حی علی الصلاۃ حی الفلاح کہے تو سامع کو اس کے جواب میں کیاکہنا چاہئے۔ بینوا توجروا۔
الجواب
حی علی الصلاۃ وحی علی الفلاح دونوں کے جواب میں لاحول ولاقوۃالا بالله کہناچاہئے اور بعض اول کے جواب میں یہی لاحول اور دوم کے جواب میں ماشاء الله کان ومالم یشأ لم یکن (الله تعالی جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہ چاہے وہ نہیں ہوتا۔ ت)کہتے ہیں اور افضل یہ ہے کہ حی علی الصلاۃ کے جواب میں کہے حی علی الصلاۃ لاحول ولاقوۃ الا بالله اور حی علی الفلاح کے جواب میں کہے حی علی الفلاح لاحول ولاقوۃ الابالله ماشاء الله کان ومالم یشألم یکن۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ (۲۶۳) از بمبئی بھنڈی بازار مرسلہ محمد فضل الرحمن سادہ کار ۵ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اذان میں حی علی الصلاۃ حی علی الفلاح کے وقت مؤذن دائیں بائیں رخ کرتا ہے آیااقامت میں بھی دائیں بائیں رخ کرناسنت ہے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
علماء نے اقامت میں بھی دہنے بائیں منہ پھیرنے کا حکم دیا ہے اور بعض نے اسے اس صورت کے ساتھ خاص کیا ہے کہ کچھ لوگ ادھر ادھر منتظر اقامت ہوں درمختار میں ہے : ویلفت فیہ وکذا فیھا
مسئلہ (۳۶۱) مرسلہ جناب منشی فقیر محمد صاحب تاجر چرم کانپوری از مقام شہر ہمیر پور صوتی گنج صدر بازار ۲۰ جمادی الاولی ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اذان میں جس وقت مؤذن حی علی الصلاۃ حی الفلاح کہے تو سامع کو اس کے جواب میں کیاکہنا چاہئے۔ بینوا توجروا۔
الجواب
حی علی الصلاۃ وحی علی الفلاح دونوں کے جواب میں لاحول ولاقوۃالا بالله کہناچاہئے اور بعض اول کے جواب میں یہی لاحول اور دوم کے جواب میں ماشاء الله کان ومالم یشأ لم یکن (الله تعالی جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہ چاہے وہ نہیں ہوتا۔ ت)کہتے ہیں اور افضل یہ ہے کہ حی علی الصلاۃ کے جواب میں کہے حی علی الصلاۃ لاحول ولاقوۃ الا بالله اور حی علی الفلاح کے جواب میں کہے حی علی الفلاح لاحول ولاقوۃ الابالله ماشاء الله کان ومالم یشألم یکن۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ (۲۶۳) از بمبئی بھنڈی بازار مرسلہ محمد فضل الرحمن سادہ کار ۵ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اذان میں حی علی الصلاۃ حی علی الفلاح کے وقت مؤذن دائیں بائیں رخ کرتا ہے آیااقامت میں بھی دائیں بائیں رخ کرناسنت ہے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
علماء نے اقامت میں بھی دہنے بائیں منہ پھیرنے کا حکم دیا ہے اور بعض نے اسے اس صورت کے ساتھ خاص کیا ہے کہ کچھ لوگ ادھر ادھر منتظر اقامت ہوں درمختار میں ہے : ویلفت فیہ وکذا فیھا
حوالہ / References
ہدایۃ کتاب الصلاۃ فصل فی القرأۃ مطبوعہ المکتبۃ العربیۃ دستگیر کالونی کراچی ۱ / ۹۸
عنایۃ حاشیہ علی فتح القدیر کتاب الصلاۃ فصل فی القرأۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۸۷
عنایۃ حاشیہ علی فتح القدیر کتاب الصلاۃ فصل فی القرأۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۸۷
عنایۃ حاشیہ علی فتح القدیر کتاب الصلاۃ فصل فی القرأۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۸۷
عنایۃ حاشیہ علی فتح القدیر کتاب الصلاۃ فصل فی القرأۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۸۷
مطلقا (اذان میں منہ پھیرے اور اسی طرح تکبیر میں بھی ہر حال میں ۔ ت)قنیہ میں ہے :
الاصح ان الصلاۃ عن یمینہ والفلاح عن شمالہ مت شم قع ضح والاقامۃ کذلك اھ ای مجدالائمۃ الترجمانی وشرف الائمۃ المکی والقاضی عبدالجبار والایضاح اوضیاء الائمۃ الحججی ۔
اصح یہ ہے کہ حی علی الصلاۃ کے وقت دائیں اور حی علی الفلاح کے وقت بائیں جانب منہ پھیرے مت شم قع ضح۔ اور اسی طرح اقامت میں بھی اھ یعنی “ مت “ سے مجدالائمہ ترجمانی “ شم “ سے شرف الائمہ المکی “ قع “ سے قاضی عبدالجبار اور “ ضح “ سے ایضاح یا ضیاء الائمہ الحججی مراد ہیں ۔ (ت)
اسی میں ملتقط سے ہے :
لایحول راسہ فی الاقامۃ عند الصلاۃ والفلاح الالاناس ینتظرون الاقامۃ ۔
تکبیر کے اندر حی علی الصلوۃ اور حی الفلاح پر دائیں بائیں سر نہ پھیرے مگر اس صورت میں کہ جب لوگ تکبیر کا انتظار کررہے ہوں ۔ (ت)
مسئلہ (۳۶۴) از دمن خرد عملداری پرتگال مسئولہ مولوی ضیاء الدین صاحب ۱۵ذیقعدہ ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اشھد ان محمدارسول الله جو اذان واقامت میں واقع ہے اس میں انگوٹھوں کا چومنا جو مستحب ہے اگر کوئی شخص باوجود قائل ہونے استحباب کے احیاناعمدا ترك کرے تو وہ شخص قابل ملامت ہے یا نہیں ۔
الجواب :
جبکہ مستحب جانتا ہے اور فاعلون پر اصلا ملامت روا نہیں جانتا فاعلون پر ملامت کرنے والوں کو برا جاننا ہے تو خود اگر احیانا کرے احیانا نہ کرے ہرگز قابل ملامت نہیں فان المستحب ھذا شانہ(کہ مستحب کادرجہ ومقام یہی ہے۔ ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۶۶) از مراد آباد مدرسہ اہلسنت بازار دیوان مرسلہ مولوی عبدالودود قاری برکاتی رضوی طالبعلم مدرسہ مذکور ۲ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ :
حضور پرنور کے نام مبارك سن کر ہاتھ چوم کر آنکھوں پر لگانا کیسا ہے
الاصح ان الصلاۃ عن یمینہ والفلاح عن شمالہ مت شم قع ضح والاقامۃ کذلك اھ ای مجدالائمۃ الترجمانی وشرف الائمۃ المکی والقاضی عبدالجبار والایضاح اوضیاء الائمۃ الحججی ۔
اصح یہ ہے کہ حی علی الصلاۃ کے وقت دائیں اور حی علی الفلاح کے وقت بائیں جانب منہ پھیرے مت شم قع ضح۔ اور اسی طرح اقامت میں بھی اھ یعنی “ مت “ سے مجدالائمہ ترجمانی “ شم “ سے شرف الائمہ المکی “ قع “ سے قاضی عبدالجبار اور “ ضح “ سے ایضاح یا ضیاء الائمہ الحججی مراد ہیں ۔ (ت)
اسی میں ملتقط سے ہے :
لایحول راسہ فی الاقامۃ عند الصلاۃ والفلاح الالاناس ینتظرون الاقامۃ ۔
تکبیر کے اندر حی علی الصلوۃ اور حی الفلاح پر دائیں بائیں سر نہ پھیرے مگر اس صورت میں کہ جب لوگ تکبیر کا انتظار کررہے ہوں ۔ (ت)
مسئلہ (۳۶۴) از دمن خرد عملداری پرتگال مسئولہ مولوی ضیاء الدین صاحب ۱۵ذیقعدہ ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اشھد ان محمدارسول الله جو اذان واقامت میں واقع ہے اس میں انگوٹھوں کا چومنا جو مستحب ہے اگر کوئی شخص باوجود قائل ہونے استحباب کے احیاناعمدا ترك کرے تو وہ شخص قابل ملامت ہے یا نہیں ۔
الجواب :
جبکہ مستحب جانتا ہے اور فاعلون پر اصلا ملامت روا نہیں جانتا فاعلون پر ملامت کرنے والوں کو برا جاننا ہے تو خود اگر احیانا کرے احیانا نہ کرے ہرگز قابل ملامت نہیں فان المستحب ھذا شانہ(کہ مستحب کادرجہ ومقام یہی ہے۔ ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۶۶) از مراد آباد مدرسہ اہلسنت بازار دیوان مرسلہ مولوی عبدالودود قاری برکاتی رضوی طالبعلم مدرسہ مذکور ۲ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ :
حضور پرنور کے نام مبارك سن کر ہاتھ چوم کر آنکھوں پر لگانا کیسا ہے
حوالہ / References
درمختار باب الاذن مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۶۳
قنیہ باب الاذان مطبعۃ مشتہرۃ بالمہانینۃ انڈیا ص ۹۱ و ۲۰
قنیہ باب الاذان
قنیہ باب الاذان مطبعۃ مشتہرۃ بالمہانینۃ انڈیا ص ۹۱ و ۲۰
قنیہ باب الاذان
الجواب :
جائزبلکہ مستحب ہے جبکہ کوئی ممانعت شرعی نہ ہو مثلا حالت خطبہ میں یا جس وقت قرآن مجید سن رہاہے یا نماز پڑھ رہا ہے ایسی حالتوں میں اجازت نہیں باقی سب اوقات میں جائز بلکہ مستحب ہے جبکہ بہ نیت محبت وتعظیم ہو اور تفصیل ہمارے رسالہ منیر العین میں ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۶۷) ازاوریا ضلع اٹاوہ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ عبدالحی صاحب مدرس ۹ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اذان کے وقت انگوٹھے چومنااس کا جو طریقہ ہو اوردعا وغیرہ اور جس جس موقع پر کیا جائے مفصل اطلاع بخشیے۔
الجواب :
جب مؤذن پہلی بار اشھد ان محمدا رسول الله کہے یہ کہے صلی الله علیك یارسول الله جب دوبارہ کہے یہ کہے قرۃ عینی بك یارسول الله اور ہر بار انگوٹھوں کے ناخن آنکھوں سے لگالے آخر میں کہے اللھم متعنی بالسمع والبصر (اے الله ! میری آنکھوں اور سمع کو نفع عطا فرما۔ ت)ردالمحتار عن جامع الرموز عن کنز العباد (ردالمحتار میں جامع الرموز سے اور اس میں کنز العباد سے منقول ہے۔ ت)یہ اذان میں ہے اور تکبیر کے وقت بھی ایسا ہی کرے تو کچھ حرج نہیں کمابیناہ فی رسالتنا(جیسے ہم نے اسے اپنے رسالہ میں بیان کیا۔ ت) والله تعالی اعلم
مسئلہ (۳۶۸) از حبیب والہ ضلع بجنور تحصیل وہامپور مرسلہ منظور صاحب ۱۱ شوال ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہمارے یہاں دستور ہے کہ قبل صلاۃ عیدین دو۲ شخص کھڑے ہوکر کانوں میں انگلیاں دے کر الصلوۃ یرحمکم الله الصلوۃ کئی مرتبہ پڑھتے ہیں آیا یہ فعل جائز ہے یا بدعت رسول مقبول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے یہ فعل منقول ہے یا نہیں
الجواب :
جائز ہے کہ منع نہیں اگرچہ منقول نہ ہو جیسے تثویب۔ نہیں نہیں بلکہ خود صاحب شریعت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے منقول کہ عیدین میں مؤذن کو حکم فرماتے کہ الصلاۃ جامعۃ پکارے
روی الامام الشافعی عن الزھری قال کان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یامر المؤذن فی العیدین فیقول الصلاۃ جامعۃ ۔
امام شافعی نے زہری سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمعیدین کے لئے مؤذن کو
جائزبلکہ مستحب ہے جبکہ کوئی ممانعت شرعی نہ ہو مثلا حالت خطبہ میں یا جس وقت قرآن مجید سن رہاہے یا نماز پڑھ رہا ہے ایسی حالتوں میں اجازت نہیں باقی سب اوقات میں جائز بلکہ مستحب ہے جبکہ بہ نیت محبت وتعظیم ہو اور تفصیل ہمارے رسالہ منیر العین میں ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۶۷) ازاوریا ضلع اٹاوہ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ عبدالحی صاحب مدرس ۹ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اذان کے وقت انگوٹھے چومنااس کا جو طریقہ ہو اوردعا وغیرہ اور جس جس موقع پر کیا جائے مفصل اطلاع بخشیے۔
الجواب :
جب مؤذن پہلی بار اشھد ان محمدا رسول الله کہے یہ کہے صلی الله علیك یارسول الله جب دوبارہ کہے یہ کہے قرۃ عینی بك یارسول الله اور ہر بار انگوٹھوں کے ناخن آنکھوں سے لگالے آخر میں کہے اللھم متعنی بالسمع والبصر (اے الله ! میری آنکھوں اور سمع کو نفع عطا فرما۔ ت)ردالمحتار عن جامع الرموز عن کنز العباد (ردالمحتار میں جامع الرموز سے اور اس میں کنز العباد سے منقول ہے۔ ت)یہ اذان میں ہے اور تکبیر کے وقت بھی ایسا ہی کرے تو کچھ حرج نہیں کمابیناہ فی رسالتنا(جیسے ہم نے اسے اپنے رسالہ میں بیان کیا۔ ت) والله تعالی اعلم
مسئلہ (۳۶۸) از حبیب والہ ضلع بجنور تحصیل وہامپور مرسلہ منظور صاحب ۱۱ شوال ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہمارے یہاں دستور ہے کہ قبل صلاۃ عیدین دو۲ شخص کھڑے ہوکر کانوں میں انگلیاں دے کر الصلوۃ یرحمکم الله الصلوۃ کئی مرتبہ پڑھتے ہیں آیا یہ فعل جائز ہے یا بدعت رسول مقبول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے یہ فعل منقول ہے یا نہیں
الجواب :
جائز ہے کہ منع نہیں اگرچہ منقول نہ ہو جیسے تثویب۔ نہیں نہیں بلکہ خود صاحب شریعت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے منقول کہ عیدین میں مؤذن کو حکم فرماتے کہ الصلاۃ جامعۃ پکارے
روی الامام الشافعی عن الزھری قال کان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یامر المؤذن فی العیدین فیقول الصلاۃ جامعۃ ۔
امام شافعی نے زہری سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمعیدین کے لئے مؤذن کو
حوالہ / References
ردالمحتار باب الاذان مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۹۳
الامّ لامام الشافعی من قال لااذان للعیدین مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۲۳۵
الامّ لامام الشافعی من قال لااذان للعیدین مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۲۳۵
حکم دیا کرتے تھے (کہ یہ بلند آواز سے کہے) تو وہ کہتے تھے الصلوۃ جامعۃ (جماعت نماز تیار ہے)۔ (ت)
لاجرم علمائے کرام نے بالاتفاق عیدین میں صلاۃ پکارنا مستحب فرمایا شرح صحیح مسلم امام نووی میں ہے :
یقول اصحابنا وغیرھم انہ یستحب ان یقال الصلاۃ جامعۃ ۔
ہمارے علماء شوافع اور دیگر علماء کہتے ہیں کہ “ الصلاۃ جامعۃ “ کہنا مستحب ہے۔ (ت)
مرقاۃ علی قاری میں ہے :
یستحب ان ینادی لھا الصلاۃ جامعۃ ۔
نماز کے لئے “ الصلوۃ جامعۃ “ کہنا مستحب ہے۔ (ت)
وہ الفاظ کہ سائل نے ذکر کئے الصلاۃ یرحمکم اللہ(نماز پڑھو الله تم پر رحم کرے۔ ت) انہیں کے معنی میں ہیں پس بدعت نہیں مستحب ہیں ۔
اقول : وماروی مسلم عن جابر رضی الله تعالی عنہ : ان لااذان للصلاۃ یوم الفطر ولا اقامۃ ولانداء ولاشیئ فھی فتوی منہ رضی الله تعالی عنہ انما روایتہ ماذکر اولا قال لم یکن یؤذن یوم الفطر ولایوم الاضحی ولیس فیہ الانفی الاذان وزاد جابر بن سمرۃ وغیرہ نفی الاقامۃ وقد انعقد علی نفیھماالاجماع ولانظر لخلاف شاذ فلاحاجۃ الی ماذکر الامام النووی فی قول جابر رضی الله تعالی عنہ یتاول علی ان المراد الاذان ولااقامۃ ولانداء فی معناہما ولاشیئ من ذلك اھ ومن العجب ماوقع فی الاشعۃ تحت حدیث جابربن سمرۃ رضی الله تعالی عنہ صلیت مع رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم العیدین غیرمرۃ ولامرتین بغیر اذان ولااقامۃ انہ زاد فی روایۃ ولاالصلوۃ جامعۃ اھ فلااثرلہ فی صحیح مسلم ولوکان لم یدل الاعلی عدم المواظبۃ ولم یعارض ماثبت فی مرسل الزھری ومرسل الثقۃ حجۃ عندنا۔ والله تعالی اعلم۔
اقول : وہ جو مسلم میں حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہے کہ نماز عید الفطر کے لئے نہ اذان نہ اقامت اور نہ ہی اس کے علاوہ کوئی آوازدی جاتی تھی تو اس کی کوئی حقیقت نہیں یہ آپ رضی اللہ تعالی عنہکا فتوی ہے ان سے مروی روایت کاذکر جو پہلے ہوا اس میں صرف اتناہے کہ عیدالفطر اور عیدالاضحی کے لئے اذان نہیں ہوتی تھی یعنی اس میں صرف نفی اذان ہے حضرت جابر بن سمرۃوغیرہ نے اقامت کی نفی کا بھی اضافہ کیاحالانکہ ان دونوں کی نفی پر اجماع منعقد ہوگیا ہے اور خلاف شاذ قابل توجہ نہ ہوگا تو اب حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہکے قول میں امام نووی کی اس تاویل
لاجرم علمائے کرام نے بالاتفاق عیدین میں صلاۃ پکارنا مستحب فرمایا شرح صحیح مسلم امام نووی میں ہے :
یقول اصحابنا وغیرھم انہ یستحب ان یقال الصلاۃ جامعۃ ۔
ہمارے علماء شوافع اور دیگر علماء کہتے ہیں کہ “ الصلاۃ جامعۃ “ کہنا مستحب ہے۔ (ت)
مرقاۃ علی قاری میں ہے :
یستحب ان ینادی لھا الصلاۃ جامعۃ ۔
نماز کے لئے “ الصلوۃ جامعۃ “ کہنا مستحب ہے۔ (ت)
وہ الفاظ کہ سائل نے ذکر کئے الصلاۃ یرحمکم اللہ(نماز پڑھو الله تم پر رحم کرے۔ ت) انہیں کے معنی میں ہیں پس بدعت نہیں مستحب ہیں ۔
اقول : وماروی مسلم عن جابر رضی الله تعالی عنہ : ان لااذان للصلاۃ یوم الفطر ولا اقامۃ ولانداء ولاشیئ فھی فتوی منہ رضی الله تعالی عنہ انما روایتہ ماذکر اولا قال لم یکن یؤذن یوم الفطر ولایوم الاضحی ولیس فیہ الانفی الاذان وزاد جابر بن سمرۃ وغیرہ نفی الاقامۃ وقد انعقد علی نفیھماالاجماع ولانظر لخلاف شاذ فلاحاجۃ الی ماذکر الامام النووی فی قول جابر رضی الله تعالی عنہ یتاول علی ان المراد الاذان ولااقامۃ ولانداء فی معناہما ولاشیئ من ذلك اھ ومن العجب ماوقع فی الاشعۃ تحت حدیث جابربن سمرۃ رضی الله تعالی عنہ صلیت مع رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم العیدین غیرمرۃ ولامرتین بغیر اذان ولااقامۃ انہ زاد فی روایۃ ولاالصلوۃ جامعۃ اھ فلااثرلہ فی صحیح مسلم ولوکان لم یدل الاعلی عدم المواظبۃ ولم یعارض ماثبت فی مرسل الزھری ومرسل الثقۃ حجۃ عندنا۔ والله تعالی اعلم۔
اقول : وہ جو مسلم میں حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہے کہ نماز عید الفطر کے لئے نہ اذان نہ اقامت اور نہ ہی اس کے علاوہ کوئی آوازدی جاتی تھی تو اس کی کوئی حقیقت نہیں یہ آپ رضی اللہ تعالی عنہکا فتوی ہے ان سے مروی روایت کاذکر جو پہلے ہوا اس میں صرف اتناہے کہ عیدالفطر اور عیدالاضحی کے لئے اذان نہیں ہوتی تھی یعنی اس میں صرف نفی اذان ہے حضرت جابر بن سمرۃوغیرہ نے اقامت کی نفی کا بھی اضافہ کیاحالانکہ ان دونوں کی نفی پر اجماع منعقد ہوگیا ہے اور خلاف شاذ قابل توجہ نہ ہوگا تو اب حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہکے قول میں امام نووی کی اس تاویل
حوالہ / References
شرح صحیح مسلم لامام النووی مع مسلم کتاب صلاۃ العیدین مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۹۰
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ الفصل الثانی من باب صلاۃ العیدین مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۳ / ۳۰۰
صحیح لمسلم کتاب صلاۃ العیدین مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۹۰
شرح صیح مسلم للامام النووی مع مسلم مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۹۰
اشعۃ اللمعات الفصل الاول من باب صلوٰۃ العیدین مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۵۹۷
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ الفصل الثانی من باب صلاۃ العیدین مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۳ / ۳۰۰
صحیح لمسلم کتاب صلاۃ العیدین مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۹۰
شرح صیح مسلم للامام النووی مع مسلم مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۹۰
اشعۃ اللمعات الفصل الاول من باب صلوٰۃ العیدین مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۵۹۷
کی ضرورت نہیں کہ مراد یہ ہے کہ نہ اذان ہوتی نہ تکبیر اور نہ ہی ان دونوں کی مانند کوئی ندا ہوتی تھی اور اشعۃ اللمعات کے اس مضمون پر تعجب ہے جو حضرت جابر بن سمرۃکی اس حدیث کے تحت ذکر کیاگیا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی معیت میں ایك یا دو دفعہ سے زائد مرتبہ بغیر اذان واقامت کے عیدین کی نماز پڑھی کہا ایك روایت میں یہ اضافہ ہے کہ “ الصلاۃ جامعۃ “ کے الفاظ بھی نہیں کہے جاتے تھے اھ یہ کلمہ صحیح مسلم میں نہیں اگر ہوتو صرف عدم مواظبت پر دلیل ہے یعنی ہمیشگی نہیں فرمائی لہذا یہ مرسل زہری کے معارض نہیں اور مرسل ثقہ ہمارے ہاں حجت ہے۔ (ت)
مسئلہ (۳۶۹) از بیکانیر مارواڑ مہادنان مرسلہ قاضی قمرالدین صاحب ۹ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رسول خدا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا نام مبارك سن کر درود شریف ہم پڑھتے ہیں لیکن ہاتھوں کو چومتے نہیں میں ایك شخص کہتا ہے کہ جو ہاتھ نہ چومے وہ مردود وملعون ہے اب گزارش ہے کہ ہاتھ چومناکیساہے اور چوما جائے تو کیا ذمے گناہ ہوگا اگر چومنا منع ہے تو وہ شخص کو جو نہ چومنے والوں کو کلمات مندرجہ بالا کہتا ہے اس کے لئے کیا حکم ہے آیا وہ کافر ہوا یا اسلام میں رہا
الجواب :
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا نام اقدس اذان میں سن کر انگوٹھے چومنامستحب ہے اچھا ہے ثواب ہے کمافی کنزالعباد وجامع الرموز وردالمحتار وغیرھا(جیسا کہ کنزالعباد جامع الرموز اور ردالمحتار وغیرہ میں ہے۔ ت) مگر فرض واجب نہیں کہ نہ کرنے سے گناہ ہواور صرف اس قدر پر مردود وملعون کہنا سخت باطل ومردود ہے ہاں جوبربنائے وہابیت اسے برا جان کر نہ چومے تو وہابی ضرور مردود وملعون ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۷۰) از بریلی مسئولہ مولوی محمد افضل صاحب کاببلی ۲۱ ربیع الاول ۱۳۳۸ھ
(۱) الاقامۃ حق للمؤذن ولایقیم بغیر اذنہ سمعت من اساتذہ مرویۃ وان قال الامام بغیرہ اقم فھو ایضا جائز بغیر الکراھۃ صحیح ام لا۔
(۱) تکبیر مؤذن کا حق ہے اس کی اجازت کے بغیر دوسرا نہ کہے بعض اساتذہ کے حوالے سے میں نے
مسئلہ (۳۶۹) از بیکانیر مارواڑ مہادنان مرسلہ قاضی قمرالدین صاحب ۹ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رسول خدا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا نام مبارك سن کر درود شریف ہم پڑھتے ہیں لیکن ہاتھوں کو چومتے نہیں میں ایك شخص کہتا ہے کہ جو ہاتھ نہ چومے وہ مردود وملعون ہے اب گزارش ہے کہ ہاتھ چومناکیساہے اور چوما جائے تو کیا ذمے گناہ ہوگا اگر چومنا منع ہے تو وہ شخص کو جو نہ چومنے والوں کو کلمات مندرجہ بالا کہتا ہے اس کے لئے کیا حکم ہے آیا وہ کافر ہوا یا اسلام میں رہا
الجواب :
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا نام اقدس اذان میں سن کر انگوٹھے چومنامستحب ہے اچھا ہے ثواب ہے کمافی کنزالعباد وجامع الرموز وردالمحتار وغیرھا(جیسا کہ کنزالعباد جامع الرموز اور ردالمحتار وغیرہ میں ہے۔ ت) مگر فرض واجب نہیں کہ نہ کرنے سے گناہ ہواور صرف اس قدر پر مردود وملعون کہنا سخت باطل ومردود ہے ہاں جوبربنائے وہابیت اسے برا جان کر نہ چومے تو وہابی ضرور مردود وملعون ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۷۰) از بریلی مسئولہ مولوی محمد افضل صاحب کاببلی ۲۱ ربیع الاول ۱۳۳۸ھ
(۱) الاقامۃ حق للمؤذن ولایقیم بغیر اذنہ سمعت من اساتذہ مرویۃ وان قال الامام بغیرہ اقم فھو ایضا جائز بغیر الکراھۃ صحیح ام لا۔
(۱) تکبیر مؤذن کا حق ہے اس کی اجازت کے بغیر دوسرا نہ کہے بعض اساتذہ کے حوالے سے میں نے
یہ سنا ہے کہ اگرامام غیر مؤذن کوکہدے “ تکبیرپڑھ “ توبھی بلاکراہت یہ جائز ہے کیا یہ صحیح ہے یا غلط
(۲) والمکبر فی یوم العید والجمعۃ ان کبر بغیر اذن الامام لایجوزالاخذ بقولہ ولابطلت صلوۃ من رکع اوسجد بتکبیرہ صح ام لا۔
(۲) عید اور جمعہ کے موقع پر اگر مکبر اجازت امام کے بغیر تکبیر کہہ دے اس کے قول پر عمل جائز نہیں اور اس کی تکبیر پر رکوع وسجدہ کرنے والے کی نماز باطل نہ ہوئی کیا صحیح ہے یا نہیں
الجواب :
(۱) ان کان المؤذن حاضرا لایقیم غیرہ الاباذنہ ولاینبغی للامام ان یامر غیرہ بالاقامۃ الابوجہ شرعی مثل ان تکون اقامتہ مشتملۃ عن لحن وذلك لانہ یوحش المؤذن بہ۔
(۲) ھذا باطل لااصل لہ ویجوز التبلیغ عن الحاجۃ وان لم یاذن الامام بل وان نھی۔ وھو تعالی اعلم۔
(۱) اگر مؤذن موجودہے تو اس کی اجازت کے بغیر کوئی دوسرا تکبیر نہ کہے اور امام کے لئے بھی مناسب نہیں کہ شرعی عذر کے بغیر کسی دوسرے کو تکبیر کے لئے کہے شرعی عذر مثلا اس کی اقامت لحن پر مشتمل ہو اجازت مؤذن کے بغیراقامت کہنا مناسب نہیں کہ شاید وہ اسے ناپسند کرتا ہو۔ (ت)
(۲) یہ باطل ہے اس کی کوئی اصل نہیں ضرورت کے موقع پر تبلیغ جائز ہے اگرچہ امام اجازت نہ دے بلکہ وہ منع بھی کردے تب بھی جائز ہے۔ (ت)
مسئلہ (۳۷۱) ۲۴ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام مقتدیوں کو جب تکبیر نماز کہی جائے تو تکبیر شروع ہوتے ہی کھڑاہونا چاہئے یا جب حی علی الفلاح مکبر کہے تب کھڑے ہوں اور مقتدی وامام اس میں یعنی قیام وقعودمیں مساوی ہیں یا ہر ایك کے واسطے جداگانہ حکم ہے مثلا جو کہے کہ مقتدی بیٹھے رہیں اور حی علی الفلاح پر کھڑے ہوں لیکن امام فورا جب تکبیر شروع ہو کھڑاہوجائے اس کا فعل صحیح ہے یا غلط
الجواب :
حی علی الفلاح پر کھڑے ہوں جس نے کہا امام فورا کھڑا ہوجائے غلط کہا حوالہ وہ دے والله تعالی اعلم۔
(۲) والمکبر فی یوم العید والجمعۃ ان کبر بغیر اذن الامام لایجوزالاخذ بقولہ ولابطلت صلوۃ من رکع اوسجد بتکبیرہ صح ام لا۔
(۲) عید اور جمعہ کے موقع پر اگر مکبر اجازت امام کے بغیر تکبیر کہہ دے اس کے قول پر عمل جائز نہیں اور اس کی تکبیر پر رکوع وسجدہ کرنے والے کی نماز باطل نہ ہوئی کیا صحیح ہے یا نہیں
الجواب :
(۱) ان کان المؤذن حاضرا لایقیم غیرہ الاباذنہ ولاینبغی للامام ان یامر غیرہ بالاقامۃ الابوجہ شرعی مثل ان تکون اقامتہ مشتملۃ عن لحن وذلك لانہ یوحش المؤذن بہ۔
(۲) ھذا باطل لااصل لہ ویجوز التبلیغ عن الحاجۃ وان لم یاذن الامام بل وان نھی۔ وھو تعالی اعلم۔
(۱) اگر مؤذن موجودہے تو اس کی اجازت کے بغیر کوئی دوسرا تکبیر نہ کہے اور امام کے لئے بھی مناسب نہیں کہ شرعی عذر کے بغیر کسی دوسرے کو تکبیر کے لئے کہے شرعی عذر مثلا اس کی اقامت لحن پر مشتمل ہو اجازت مؤذن کے بغیراقامت کہنا مناسب نہیں کہ شاید وہ اسے ناپسند کرتا ہو۔ (ت)
(۲) یہ باطل ہے اس کی کوئی اصل نہیں ضرورت کے موقع پر تبلیغ جائز ہے اگرچہ امام اجازت نہ دے بلکہ وہ منع بھی کردے تب بھی جائز ہے۔ (ت)
مسئلہ (۳۷۱) ۲۴ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام مقتدیوں کو جب تکبیر نماز کہی جائے تو تکبیر شروع ہوتے ہی کھڑاہونا چاہئے یا جب حی علی الفلاح مکبر کہے تب کھڑے ہوں اور مقتدی وامام اس میں یعنی قیام وقعودمیں مساوی ہیں یا ہر ایك کے واسطے جداگانہ حکم ہے مثلا جو کہے کہ مقتدی بیٹھے رہیں اور حی علی الفلاح پر کھڑے ہوں لیکن امام فورا جب تکبیر شروع ہو کھڑاہوجائے اس کا فعل صحیح ہے یا غلط
الجواب :
حی علی الفلاح پر کھڑے ہوں جس نے کہا امام فورا کھڑا ہوجائے غلط کہا حوالہ وہ دے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۷۲) از چتوڑ گڈھ میواڑ مرسلہ فتح محمد صاحب ۲۶ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد کے حجرہ میں امام ہو اور تکبیر مکبر شروع کردے اب امام حجرہ سے روانہ ہو ختم تکبیر سے پہلے حی علی الفلاح کے وقت یا بعد ختم تکبیر مصلے پر پہنچ جاوے اس میں کوئی قباحت تو نہیں ہے بصورت احیانا یا بصورت دواما ہر دوصورت کا کیا حکم ہے
الجواب :
اس صورت میں کوئی حرج نہیں نہ امام مکبر کا پابند ہوسکتا ہے بلکہ مکبر کو امام کی پابندی چاہئے حدیث میں ہے المؤذن املك بالاذان والامام املك بالاقامۃ (اذان کا اختیار مؤذن کو ہے اور اقامت کا اختیار امام کو۔ ت)
اور اگر وہ تکبیر ہوتے میں چلا تو اسے بیٹھنے کی بھی حاجت نہیں مصلے پر جائے اور حی علی الفلاح یا ختم تکبیر پر تکبیر تحریمہ کہے یوں ہی بعد خطبہ اسے اختیار ہے کہیں منقول نہیں کہ خطبہ فرماکر تکبیر ہونے تك جلوس فرماتے یہ حکم قوم کے لئے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۷۳) از جرودہ ضلع میرٹھ مسئولہ سید سراج احمد صاحب ۱۲ شعبان ۱۳۳۷ھ
تکبیر سے پہلے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے ہوں اور کچھ لوگ کھڑے ہوں تو کیا تکبیر شروع ہوتے ہی سب کو کھڑا ہوجانا چاہئے یا بیٹھ جانا چاہئے اگر بیٹھے رہیں تو کس لفظ پر کھڑا ہونا چاہئے اگر تکبیر شروع ہوتے ہی فورا کھڑے ہوجائیں تو کچھ حرج نہیں ہے۔
الجواب :
تکبیر کھڑے ہوکر سننا مکروہ ہے یہاں تك کہ علما نے فرمایا ہے کہ اگر تکبیر ہورہی ہے اور مسجد میں آیا تو بیٹھ جائے اور جب مکبر حی علی الفلاح پر پہنچے اس وقت سب کھڑے ہوجائیں والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۷۴) محمد عبدالرشید ازحصار مدرسہ انجمن محاسن اسلام احاطہ عبدالغفور صاحب۱۴ محرم۶ ۱۳۳ھ
مسجد میں بلااذان نماز جماعت درست ہے یا نہیں اور تنگ وقت کی وجہ سے صرف تکبیر جماعت کے لئے کافی ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
بلااذان جماعت اولی مکروہ وخلاف سنت ہے ہاں وقت ایسا تنگ ہوگیا ہو کہ اذان کی گنجائش
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد کے حجرہ میں امام ہو اور تکبیر مکبر شروع کردے اب امام حجرہ سے روانہ ہو ختم تکبیر سے پہلے حی علی الفلاح کے وقت یا بعد ختم تکبیر مصلے پر پہنچ جاوے اس میں کوئی قباحت تو نہیں ہے بصورت احیانا یا بصورت دواما ہر دوصورت کا کیا حکم ہے
الجواب :
اس صورت میں کوئی حرج نہیں نہ امام مکبر کا پابند ہوسکتا ہے بلکہ مکبر کو امام کی پابندی چاہئے حدیث میں ہے المؤذن املك بالاذان والامام املك بالاقامۃ (اذان کا اختیار مؤذن کو ہے اور اقامت کا اختیار امام کو۔ ت)
اور اگر وہ تکبیر ہوتے میں چلا تو اسے بیٹھنے کی بھی حاجت نہیں مصلے پر جائے اور حی علی الفلاح یا ختم تکبیر پر تکبیر تحریمہ کہے یوں ہی بعد خطبہ اسے اختیار ہے کہیں منقول نہیں کہ خطبہ فرماکر تکبیر ہونے تك جلوس فرماتے یہ حکم قوم کے لئے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۷۳) از جرودہ ضلع میرٹھ مسئولہ سید سراج احمد صاحب ۱۲ شعبان ۱۳۳۷ھ
تکبیر سے پہلے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے ہوں اور کچھ لوگ کھڑے ہوں تو کیا تکبیر شروع ہوتے ہی سب کو کھڑا ہوجانا چاہئے یا بیٹھ جانا چاہئے اگر بیٹھے رہیں تو کس لفظ پر کھڑا ہونا چاہئے اگر تکبیر شروع ہوتے ہی فورا کھڑے ہوجائیں تو کچھ حرج نہیں ہے۔
الجواب :
تکبیر کھڑے ہوکر سننا مکروہ ہے یہاں تك کہ علما نے فرمایا ہے کہ اگر تکبیر ہورہی ہے اور مسجد میں آیا تو بیٹھ جائے اور جب مکبر حی علی الفلاح پر پہنچے اس وقت سب کھڑے ہوجائیں والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۷۴) محمد عبدالرشید ازحصار مدرسہ انجمن محاسن اسلام احاطہ عبدالغفور صاحب۱۴ محرم۶ ۱۳۳ھ
مسجد میں بلااذان نماز جماعت درست ہے یا نہیں اور تنگ وقت کی وجہ سے صرف تکبیر جماعت کے لئے کافی ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
بلااذان جماعت اولی مکروہ وخلاف سنت ہے ہاں وقت ایسا تنگ ہوگیا ہو کہ اذان کی گنجائش
حوالہ / References
کنزالعمال فی سنن الاقوال والافعال حدیث ۲۰۹۶۳ مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۷ / ۶۹۴
نہ ہوتو مجبورانہ خود ہی چھوڑی جائے گی والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۷۵) مسائل از شہر کہنہ محلہ کانکرٹولہ مسئولہ نتھے خاں ۱۵ محرم ۱۳۳۹ھ
(۱) اذان سنت ہے یا واجب
(۲) اذان نابالغ دے تو جائز ہے یا ناجائز
(۳) تکبیر واجب ہے یا سنت
(۴) مصلی پر امام نہ ہوتو تکبیر جائز ہے یا ناجائز
الجواب
(۱) جمعہ وجماعت پنجگانہ کے لئے اذان سنت مؤکدہ وشعار اسلام وقریب بواجب ہے والله تعالی اعلم۔
(۲) نابالغ اگر عاقل ہے اور اس کی اذان اذان سمجھی جائے تو جائز ہے والله تعالی اعلم۔
(۳) یوں ہی تکبیر بھی والله تعالی اعلم۔
(۴) جب امام مسجد میں بہ تہیہ نماز آئے تو تکبیر کہہ سکتے ہیں اگرچہ مصلے تك نہ پہنچے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۷۶) از شہر مسئولہ وکیل الدین طالب علم مدرسہ منظرالاسلام ۶ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید بہت ہی پکا سنی ہے اہلسنت کے طریقہ پر قدم بقدم چلتا ہے ایك ذرہ بھی وہابیت کا نقص نہیں پایا جاتا وہابیوں سے منتفر رہتا ہے الغرض عقائد میں کسی قسم کی خرابی نہیں ایسے شخص کو بکر وہابی وکافر کہتا ہے چونکہ بکر نے زید کو بوقت اذان کے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے نام مبارك پر انگشت کو بوسہ لیتے ہوئے اور درود شریف بآواز بلند پڑھتے ہوئے نہ دیکھا زید کہتا ہے کہ اذان کا جواب دینا اور درود شریف حضور کے نام مبارك پر اس وقت پڑھنا دل میں چاہئے لہذا میں دل میں پڑھتا ہوں اور جواب اذان دیتا ہوں اور زید انگشت چومنے سے انکار بھی نہیں کرتا ہے اس وجہ سے بکر نے زید کو اسلام سے خارج کرکے کفر میں داخل کردیا ہے اور زید کے عقائد کی حالت بھی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس صورت میں بکر کا یہ کلام زبان سے نکالنا صحیح ہے یا نہیں اگر صحیح نہیں تو بکر پر شارع علیہ السلام کا کیا حکم جاری ہوگا بینوا توجروا۔
الجواب :
اگر یہ بیان واقعی ہے تو زید کو وہابی کہنا جائز نہیں اور اسے خارج از اسلام ٹھہرانا سخت اشد کبیرہ ہے بکر پر تو بہ فرض ہے اور اس وقت درود شریف دل میں پڑھنے سے اگر زید کی مراد یہ ہے کہ زبان سے نہ پڑھا جائے تو غلط ہے زبان سے پڑھنا لازم ہے اور بآواز ہونا مستحب ہے کہ اوروں کو بھی ترغیب وتذکیر ہو اور اس پر درود شریف نہ پڑھنے کی بدگمانی نہ ہو والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۷۵) مسائل از شہر کہنہ محلہ کانکرٹولہ مسئولہ نتھے خاں ۱۵ محرم ۱۳۳۹ھ
(۱) اذان سنت ہے یا واجب
(۲) اذان نابالغ دے تو جائز ہے یا ناجائز
(۳) تکبیر واجب ہے یا سنت
(۴) مصلی پر امام نہ ہوتو تکبیر جائز ہے یا ناجائز
الجواب
(۱) جمعہ وجماعت پنجگانہ کے لئے اذان سنت مؤکدہ وشعار اسلام وقریب بواجب ہے والله تعالی اعلم۔
(۲) نابالغ اگر عاقل ہے اور اس کی اذان اذان سمجھی جائے تو جائز ہے والله تعالی اعلم۔
(۳) یوں ہی تکبیر بھی والله تعالی اعلم۔
(۴) جب امام مسجد میں بہ تہیہ نماز آئے تو تکبیر کہہ سکتے ہیں اگرچہ مصلے تك نہ پہنچے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۷۶) از شہر مسئولہ وکیل الدین طالب علم مدرسہ منظرالاسلام ۶ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید بہت ہی پکا سنی ہے اہلسنت کے طریقہ پر قدم بقدم چلتا ہے ایك ذرہ بھی وہابیت کا نقص نہیں پایا جاتا وہابیوں سے منتفر رہتا ہے الغرض عقائد میں کسی قسم کی خرابی نہیں ایسے شخص کو بکر وہابی وکافر کہتا ہے چونکہ بکر نے زید کو بوقت اذان کے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے نام مبارك پر انگشت کو بوسہ لیتے ہوئے اور درود شریف بآواز بلند پڑھتے ہوئے نہ دیکھا زید کہتا ہے کہ اذان کا جواب دینا اور درود شریف حضور کے نام مبارك پر اس وقت پڑھنا دل میں چاہئے لہذا میں دل میں پڑھتا ہوں اور جواب اذان دیتا ہوں اور زید انگشت چومنے سے انکار بھی نہیں کرتا ہے اس وجہ سے بکر نے زید کو اسلام سے خارج کرکے کفر میں داخل کردیا ہے اور زید کے عقائد کی حالت بھی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس صورت میں بکر کا یہ کلام زبان سے نکالنا صحیح ہے یا نہیں اگر صحیح نہیں تو بکر پر شارع علیہ السلام کا کیا حکم جاری ہوگا بینوا توجروا۔
الجواب :
اگر یہ بیان واقعی ہے تو زید کو وہابی کہنا جائز نہیں اور اسے خارج از اسلام ٹھہرانا سخت اشد کبیرہ ہے بکر پر تو بہ فرض ہے اور اس وقت درود شریف دل میں پڑھنے سے اگر زید کی مراد یہ ہے کہ زبان سے نہ پڑھا جائے تو غلط ہے زبان سے پڑھنا لازم ہے اور بآواز ہونا مستحب ہے کہ اوروں کو بھی ترغیب وتذکیر ہو اور اس پر درود شریف نہ پڑھنے کی بدگمانی نہ ہو والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۷۷) از شہر محلہ ملوك پور مسئولہ شفیق احمد خاں صاحب ۲۶ محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تکبیر کے شروع ہونے کے وقت امام ومقتدی کو کھڑا رہنا چاہئے یا بیٹھ جانا چاہئے اور بیٹھ جانے میں کیا فضیلت ہے اور کھڑا رہنے میں کیا نقصان ہے
الجواب :
امام کے لئے اس میں کوئی خاص حکم نہیں مقتدیوں کو حکم ہے کہ تکبیر بیٹھ کر سنیں حی علی الفلاح پر کھڑے ہوں کھڑے کھڑے تکبیر سننا مکروہ ہے یہاں تك کہ علمگیری میں فرمایا کہ اگر کوئی شخص ایسے وقت میں مسجد میں آئے کہ تکبیر ہورہی ہو فورا بیٹھ جائے اور حی علی الفلاح پر کھڑا ہو اور اس میں راز مکبر کے اس قول کی مطابقت ہے کہ قدقامت الصلاۃ ادھر اس نے حی علی الفلاح کہا کہ آؤ مراد پانے کو جماعت کھڑی ہوئی اس نے کہا قدقامت الصلاۃ جماعت قائم ہوگئی۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ (۳۷۸) از شہر بازار شہامت گنج مسئولہ مشیت خاں ۹ صفر المظفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعد اذان کے اور جماعت سے ذرا قبل الصلوۃ والسلام علیك یارسول الله الصلوۃ والسلام علیك یاحبیب الله پڑھنا بآواز بلند چاہئے یا نہیں ایك شخص کہتا ہے کہ صلاۃ وسلام پڑھنے سے اذان کی حیثیت گھٹتی ہے کوئی ضرورت نہیں ہے جواب سے مشرف فرمایا جائے۔
الجواب :
پڑھنا چاہئے اور صلاۃ وسلام سے اذان کی حیثیت بڑھتی ہے کہ وہ اعلام کے لئے تھی اور یہ اسی کی ترقی ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۷۹) از شہر محلہ صالح نگر مسئولہ کفایت دری ساز ۱۱ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص وہابی ہے یا ان کا ہمخیال ہے اگر وہ اذان دے سنی کی مسجد میں تو اس کا جواب سنی دے یا نہیں اور جب سنی اس مسجد میں نماز کے کیلئے جائے تو اپنی اذان کہے یا اس کی اذان پر اکتفا کرے اور دوسری اذان نہ کہے بینوا توجروا۔
الجواب :
اسم جلالت پر کلمہ تعظیم اور نام رسالت پر درود شریف پڑھیں گے اگرچہ یہ اسمائے طیبہ کسی کی زبان سے اداہوں مگر وہابی کی اذان اذان میں شمار نہیں جواب کی حاجت نہیں اور اہلسنت کو اس پر اکتفا کی اجازت نہیں بلکہ ضرور دوبارہ اذان کہیں درمختار میں ہے : ویعاداذان کافر وفاسق (کافر اور فاسق کی اذان لوٹائی جائے۔ ت) والله تعالی اعلم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تکبیر کے شروع ہونے کے وقت امام ومقتدی کو کھڑا رہنا چاہئے یا بیٹھ جانا چاہئے اور بیٹھ جانے میں کیا فضیلت ہے اور کھڑا رہنے میں کیا نقصان ہے
الجواب :
امام کے لئے اس میں کوئی خاص حکم نہیں مقتدیوں کو حکم ہے کہ تکبیر بیٹھ کر سنیں حی علی الفلاح پر کھڑے ہوں کھڑے کھڑے تکبیر سننا مکروہ ہے یہاں تك کہ علمگیری میں فرمایا کہ اگر کوئی شخص ایسے وقت میں مسجد میں آئے کہ تکبیر ہورہی ہو فورا بیٹھ جائے اور حی علی الفلاح پر کھڑا ہو اور اس میں راز مکبر کے اس قول کی مطابقت ہے کہ قدقامت الصلاۃ ادھر اس نے حی علی الفلاح کہا کہ آؤ مراد پانے کو جماعت کھڑی ہوئی اس نے کہا قدقامت الصلاۃ جماعت قائم ہوگئی۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ (۳۷۸) از شہر بازار شہامت گنج مسئولہ مشیت خاں ۹ صفر المظفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعد اذان کے اور جماعت سے ذرا قبل الصلوۃ والسلام علیك یارسول الله الصلوۃ والسلام علیك یاحبیب الله پڑھنا بآواز بلند چاہئے یا نہیں ایك شخص کہتا ہے کہ صلاۃ وسلام پڑھنے سے اذان کی حیثیت گھٹتی ہے کوئی ضرورت نہیں ہے جواب سے مشرف فرمایا جائے۔
الجواب :
پڑھنا چاہئے اور صلاۃ وسلام سے اذان کی حیثیت بڑھتی ہے کہ وہ اعلام کے لئے تھی اور یہ اسی کی ترقی ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ (۳۷۹) از شہر محلہ صالح نگر مسئولہ کفایت دری ساز ۱۱ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص وہابی ہے یا ان کا ہمخیال ہے اگر وہ اذان دے سنی کی مسجد میں تو اس کا جواب سنی دے یا نہیں اور جب سنی اس مسجد میں نماز کے کیلئے جائے تو اپنی اذان کہے یا اس کی اذان پر اکتفا کرے اور دوسری اذان نہ کہے بینوا توجروا۔
الجواب :
اسم جلالت پر کلمہ تعظیم اور نام رسالت پر درود شریف پڑھیں گے اگرچہ یہ اسمائے طیبہ کسی کی زبان سے اداہوں مگر وہابی کی اذان اذان میں شمار نہیں جواب کی حاجت نہیں اور اہلسنت کو اس پر اکتفا کی اجازت نہیں بلکہ ضرور دوبارہ اذان کہیں درمختار میں ہے : ویعاداذان کافر وفاسق (کافر اور فاسق کی اذان لوٹائی جائے۔ ت) والله تعالی اعلم
حوالہ / References
دُرمختار باب الاذان مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۶۴
مسئلہ (۳۸۰) موضع بشارت گنج ضلع بریلی مسئولہ حاجی غنی رضاخان صاحب رضوی ۲۷صفر۹ ۱۳۳ھ
(۱) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ صلاۃ جو بعد اذان بلفظ الصلاۃ والسلام علیك یارسول الله پڑھی جاتی ہے مخالف کہتا ہے کہ یہ فعل قرآن شریف اور حدیث شریف کے باہر ہے اور شارع اسلام کے خلاف ہے یا کوئی مجھے بتائے کہ فرض ہے یا واجب یا سنت ہے یا مستحب اور یہ فعل نیم مولوی کا ہے ایسے شخص کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں اس کو امام بنانا چاہئے یا نہیں
(۲) بروقت جماعت کے قبل جو تکبیر پڑھی جاتی ہے اس کو زید کہتا ہے کہ امام ومقتدی بیٹھ کر سنیں عمرو کہتا ہے کہ کھڑے ہوکر سننا چاہئے اور یہ رواج قدیم ہے اور یہ نئے مولویوں کی فتنہ انگیزی کی بات ہے۔
الجواب :
مخالف جھوٹا ہے اور شریعت مطہرہ پر افترا کرتا ہے ثبوت دے شرع مطہر نے اسے کہاں منع فرمایا ہے کہ خلاف شرع کہتا ہے ہاں وہ فردا مستحب ہے اور اصلا فرد فرض ہے قال الله تعالی :
ان الله و ملىكته یصلون على النبی-یایها الذین امنوا صلوا علیه و سلموا تسلیما(۵۶)
بیشك الله اور اس کے سب فرشتے درود بھیجتے ہیں اس نبی پر اے ایمان والو! درود بھیجو ان پر اور خوب سلام عرض کرو ( صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم)۔
رب عزوجل کا حکم مطلق ہے اس میں کوئی استثناء فرمادیا ہے کہ مگر اذان کے بعد نہ بھیجو جب پڑھا جائیگا اسی حکم الہی کاامتثال ہوگا فلہذا ہربار درود پڑھنے میں ادائے فرض کا ثواب ملتاہے کہ سب اسی مطلق فرض کے تحت میں داخل ہے تو جتنا بھی پڑھیں گے فرض ہی میں شامل ہوگا نظیر اس کی تلاوت قرآن کریم ہے کہ ویسے تو فرض ایك ہی آیت ہے اوراگر ایك رکعت میں ساراقرآن عظیم تلاوت کرے تو سب فرض ہی میں داخل ہوگا اور فرض ہی کا ثواب ملے گاسب فاقرءوا ما تیسر من القران- (پس پڑھ قرآن سے جو تمہیں آسان ہے۔ ت)کے اطلاق میں ہے آج کل ایساانکار کرنے والے کوئی نہیں مگر وہابیہ اور وہابیہ کے پیچھے نماز باطل محض ہے والله تعالی اعلم۔
(۲) مسئلہ شرعیہ کونئے مولویوں کی فتنہ انگریزی کہنا اگر براہ جہالت نہ ہو کلمہ کفر ہے کہ توہین شریعت ہے مقتدیوں کو حکم یہ ہے کہ تکبیر بیٹھ کر سنیں جب مکبر حی علی الفلاح پر پہنچے اس وقت کھڑے ہوں کہ اس کے اس قول کی مطابقت ہو جو وہ اس کے بعد کہے گا کہ قدقامت الصلاۃ جماعت کھڑی ہوئی یہاں تك کہ اگر تکبیر ہورہی ہے اور اس وقت کوئی شخص باہر سے آیا تو یہ خیا نہ کرے کہ چند کلمات رہ گئے ہیں پھر کھڑا ہونا ہوگا بلکہ فورا بیٹھ جائے اور حی علی الفلاح پر
مسئلہ (۳۸۰) موضع بشارت گنج ضلع بریلی مسئولہ حاجی غنی رضاخان صاحب رضوی ۲۷صفر۹ ۱۳۳ھ
(۱) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ صلاۃ جو بعد اذان بلفظ الصلاۃ والسلام علیك یارسول الله پڑھی جاتی ہے مخالف کہتا ہے کہ یہ فعل قرآن شریف اور حدیث شریف کے باہر ہے اور شارع اسلام کے خلاف ہے یا کوئی مجھے بتائے کہ فرض ہے یا واجب یا سنت ہے یا مستحب اور یہ فعل نیم مولوی کا ہے ایسے شخص کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں اس کو امام بنانا چاہئے یا نہیں
(۲) بروقت جماعت کے قبل جو تکبیر پڑھی جاتی ہے اس کو زید کہتا ہے کہ امام ومقتدی بیٹھ کر سنیں عمرو کہتا ہے کہ کھڑے ہوکر سننا چاہئے اور یہ رواج قدیم ہے اور یہ نئے مولویوں کی فتنہ انگیزی کی بات ہے۔
الجواب :
مخالف جھوٹا ہے اور شریعت مطہرہ پر افترا کرتا ہے ثبوت دے شرع مطہر نے اسے کہاں منع فرمایا ہے کہ خلاف شرع کہتا ہے ہاں وہ فردا مستحب ہے اور اصلا فرد فرض ہے قال الله تعالی :
ان الله و ملىكته یصلون على النبی-یایها الذین امنوا صلوا علیه و سلموا تسلیما(۵۶)
بیشك الله اور اس کے سب فرشتے درود بھیجتے ہیں اس نبی پر اے ایمان والو! درود بھیجو ان پر اور خوب سلام عرض کرو ( صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم)۔
رب عزوجل کا حکم مطلق ہے اس میں کوئی استثناء فرمادیا ہے کہ مگر اذان کے بعد نہ بھیجو جب پڑھا جائیگا اسی حکم الہی کاامتثال ہوگا فلہذا ہربار درود پڑھنے میں ادائے فرض کا ثواب ملتاہے کہ سب اسی مطلق فرض کے تحت میں داخل ہے تو جتنا بھی پڑھیں گے فرض ہی میں شامل ہوگا نظیر اس کی تلاوت قرآن کریم ہے کہ ویسے تو فرض ایك ہی آیت ہے اوراگر ایك رکعت میں ساراقرآن عظیم تلاوت کرے تو سب فرض ہی میں داخل ہوگا اور فرض ہی کا ثواب ملے گاسب فاقرءوا ما تیسر من القران- (پس پڑھ قرآن سے جو تمہیں آسان ہے۔ ت)کے اطلاق میں ہے آج کل ایساانکار کرنے والے کوئی نہیں مگر وہابیہ اور وہابیہ کے پیچھے نماز باطل محض ہے والله تعالی اعلم۔
(۲) مسئلہ شرعیہ کونئے مولویوں کی فتنہ انگریزی کہنا اگر براہ جہالت نہ ہو کلمہ کفر ہے کہ توہین شریعت ہے مقتدیوں کو حکم یہ ہے کہ تکبیر بیٹھ کر سنیں جب مکبر حی علی الفلاح پر پہنچے اس وقت کھڑے ہوں کہ اس کے اس قول کی مطابقت ہو جو وہ اس کے بعد کہے گا کہ قدقامت الصلاۃ جماعت کھڑی ہوئی یہاں تك کہ اگر تکبیر ہورہی ہے اور اس وقت کوئی شخص باہر سے آیا تو یہ خیا نہ کرے کہ چند کلمات رہ گئے ہیں پھر کھڑا ہونا ہوگا بلکہ فورا بیٹھ جائے اور حی علی الفلاح پر
(۱) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ صلاۃ جو بعد اذان بلفظ الصلاۃ والسلام علیك یارسول الله پڑھی جاتی ہے مخالف کہتا ہے کہ یہ فعل قرآن شریف اور حدیث شریف کے باہر ہے اور شارع اسلام کے خلاف ہے یا کوئی مجھے بتائے کہ فرض ہے یا واجب یا سنت ہے یا مستحب اور یہ فعل نیم مولوی کا ہے ایسے شخص کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں اس کو امام بنانا چاہئے یا نہیں
(۲) بروقت جماعت کے قبل جو تکبیر پڑھی جاتی ہے اس کو زید کہتا ہے کہ امام ومقتدی بیٹھ کر سنیں عمرو کہتا ہے کہ کھڑے ہوکر سننا چاہئے اور یہ رواج قدیم ہے اور یہ نئے مولویوں کی فتنہ انگیزی کی بات ہے۔
الجواب :
مخالف جھوٹا ہے اور شریعت مطہرہ پر افترا کرتا ہے ثبوت دے شرع مطہر نے اسے کہاں منع فرمایا ہے کہ خلاف شرع کہتا ہے ہاں وہ فردا مستحب ہے اور اصلا فرد فرض ہے قال الله تعالی :
ان الله و ملىكته یصلون على النبی-یایها الذین امنوا صلوا علیه و سلموا تسلیما(۵۶)
بیشك الله اور اس کے سب فرشتے درود بھیجتے ہیں اس نبی پر اے ایمان والو! درود بھیجو ان پر اور خوب سلام عرض کرو ( صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم)۔
رب عزوجل کا حکم مطلق ہے اس میں کوئی استثناء فرمادیا ہے کہ مگر اذان کے بعد نہ بھیجو جب پڑھا جائیگا اسی حکم الہی کاامتثال ہوگا فلہذا ہربار درود پڑھنے میں ادائے فرض کا ثواب ملتاہے کہ سب اسی مطلق فرض کے تحت میں داخل ہے تو جتنا بھی پڑھیں گے فرض ہی میں شامل ہوگا نظیر اس کی تلاوت قرآن کریم ہے کہ ویسے تو فرض ایك ہی آیت ہے اوراگر ایك رکعت میں ساراقرآن عظیم تلاوت کرے تو سب فرض ہی میں داخل ہوگا اور فرض ہی کا ثواب ملے گاسب فاقرءوا ما تیسر من القران- (پس پڑھ قرآن سے جو تمہیں آسان ہے۔ ت)کے اطلاق میں ہے آج کل ایساانکار کرنے والے کوئی نہیں مگر وہابیہ اور وہابیہ کے پیچھے نماز باطل محض ہے والله تعالی اعلم۔
(۲) مسئلہ شرعیہ کونئے مولویوں کی فتنہ انگریزی کہنا اگر براہ جہالت نہ ہو کلمہ کفر ہے کہ توہین شریعت ہے مقتدیوں کو حکم یہ ہے کہ تکبیر بیٹھ کر سنیں جب مکبر حی علی الفلاح پر پہنچے اس وقت کھڑے ہوں کہ اس کے اس قول کی مطابقت ہو جو وہ اس کے بعد کہے گا کہ قدقامت الصلاۃ جماعت کھڑی ہوئی یہاں تك کہ اگر تکبیر ہورہی ہے اور اس وقت کوئی شخص باہر سے آیا تو یہ خیا نہ کرے کہ چند کلمات رہ گئے ہیں پھر کھڑا ہونا ہوگا بلکہ فورا بیٹھ جائے اور حی علی الفلاح پر
مسئلہ (۳۸۰) موضع بشارت گنج ضلع بریلی مسئولہ حاجی غنی رضاخان صاحب رضوی ۲۷صفر۹ ۱۳۳ھ
(۱) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ صلاۃ جو بعد اذان بلفظ الصلاۃ والسلام علیك یارسول الله پڑھی جاتی ہے مخالف کہتا ہے کہ یہ فعل قرآن شریف اور حدیث شریف کے باہر ہے اور شارع اسلام کے خلاف ہے یا کوئی مجھے بتائے کہ فرض ہے یا واجب یا سنت ہے یا مستحب اور یہ فعل نیم مولوی کا ہے ایسے شخص کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں اس کو امام بنانا چاہئے یا نہیں
(۲) بروقت جماعت کے قبل جو تکبیر پڑھی جاتی ہے اس کو زید کہتا ہے کہ امام ومقتدی بیٹھ کر سنیں عمرو کہتا ہے کہ کھڑے ہوکر سننا چاہئے اور یہ رواج قدیم ہے اور یہ نئے مولویوں کی فتنہ انگیزی کی بات ہے۔
الجواب :
مخالف جھوٹا ہے اور شریعت مطہرہ پر افترا کرتا ہے ثبوت دے شرع مطہر نے اسے کہاں منع فرمایا ہے کہ خلاف شرع کہتا ہے ہاں وہ فردا مستحب ہے اور اصلا فرد فرض ہے قال الله تعالی :
ان الله و ملىكته یصلون على النبی-یایها الذین امنوا صلوا علیه و سلموا تسلیما(۵۶)
بیشك الله اور اس کے سب فرشتے درود بھیجتے ہیں اس نبی پر اے ایمان والو! درود بھیجو ان پر اور خوب سلام عرض کرو ( صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم)۔
رب عزوجل کا حکم مطلق ہے اس میں کوئی استثناء فرمادیا ہے کہ مگر اذان کے بعد نہ بھیجو جب پڑھا جائیگا اسی حکم الہی کاامتثال ہوگا فلہذا ہربار درود پڑھنے میں ادائے فرض کا ثواب ملتاہے کہ سب اسی مطلق فرض کے تحت میں داخل ہے تو جتنا بھی پڑھیں گے فرض ہی میں شامل ہوگا نظیر اس کی تلاوت قرآن کریم ہے کہ ویسے تو فرض ایك ہی آیت ہے اوراگر ایك رکعت میں ساراقرآن عظیم تلاوت کرے تو سب فرض ہی میں داخل ہوگا اور فرض ہی کا ثواب ملے گاسب فاقرءوا ما تیسر من القران- (پس پڑھ قرآن سے جو تمہیں آسان ہے۔ ت)کے اطلاق میں ہے آج کل ایساانکار کرنے والے کوئی نہیں مگر وہابیہ اور وہابیہ کے پیچھے نماز باطل محض ہے والله تعالی اعلم۔
(۲) مسئلہ شرعیہ کونئے مولویوں کی فتنہ انگریزی کہنا اگر براہ جہالت نہ ہو کلمہ کفر ہے کہ توہین شریعت ہے مقتدیوں کو حکم یہ ہے کہ تکبیر بیٹھ کر سنیں جب مکبر حی علی الفلاح پر پہنچے اس وقت کھڑے ہوں کہ اس کے اس قول کی مطابقت ہو جو وہ اس کے بعد کہے گا کہ قدقامت الصلاۃ جماعت کھڑی ہوئی یہاں تك کہ اگر تکبیر ہورہی ہے اور اس وقت کوئی شخص باہر سے آیا تو یہ خیا نہ کرے کہ چند کلمات رہ گئے ہیں پھر کھڑا ہونا ہوگا بلکہ فورا بیٹھ جائے اور حی علی الفلاح پر
حوالہ / References
القرآن ۳۳ / ۵۶
القرآن ۷۳ / ۲۰
القرآن ۷۳ / ۲۰
کھڑا ہو۔ علمگیریہ میں ہے :
اذادخل الرجل عندالاقامۃ یکرہ لہ الانتظار قائما ولکن یقعد ثم یقوم اذابلغ المؤذن قولہ حی علی الفلاح کذافی المضمرات ۔ والله تعالی اعلم۔
اگر کوئی تکبیر کے وقت آیا تو وہ بیٹھ جائے کیونکہ کھڑے ہوکر تکبیر سننا مکروہ ہے پھر جب مؤذن “ حی علی الفلاح “ کہے تو اٹھے مضمرات میں ایسے ہی ہے۔ (ت)
مسئلہ (۳۸۱) از ریاست رام پور محلہ مردان خان گلی موچیاں مسئولہ محمد نور ۱۰ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد میں پنجگانہ اذان واسطے نماز کے کہاں کہی جائے اور بانی مسجد نے کوئی جگہ اذان کی مقرر نہیں کی اکثر لوگ صحن مسجد میں اذان کہہ دیتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ مسجد کی داہنی طرف یعنی جنوب کو اذان ہو اور مسجد کی بائیں طرف یعنی شمال کو تکبیر کہی جائے اور جس مسجد کا کوٹھانہ ہو صاف میدان حد بستہ ہو اس مسجد کی کون سی داہنی اور بائیں پر عمل کیا جائے اور یہ بھی سنا ہے کہ جماعت پر حق سبحانہ کی رحمت اول امام پر اور بعد اس کے صف اول کی داہنی جانب سے تمام پر شروع ہوتی ہے پھر دوسری تیسری صفوں پر آخر تک جن لوگوں کا یہ قول ہے کہ مسجد کی داہنی جانب جنوب ہے اسی جانب سے مصلیان پر رحمت حق نازل ہوتی ہے یا اس کے بالعکس اور منبر مسجد کو بائیں جانب کہتے ہیں اور پرانی مسجدوں میں داہنی جانب اور بائیں جانب برج بنے ہوتے ہیں اس پر اذان ہوا کرتی ہے اس وقت کے مؤذنان نے اس کو چھوڑدیا صحن مسجد میں جہاں چاہتے ہیں اذان کہہ دیتے ہیں آیا اذان پنجگانہ نماز سنت خارج مسجد مثل منڈھیر وغیرہ ہے یا صحن مسجد۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
مسجد میں اذان کہنا مطلق منع ہے خلاصہ وہندیہ وبحرالرائق وغیرہا میں ہے : لایؤذن فی المسجد (مسجد میں اذان نہ دی جائے۔ ت)نظم زندویسی وجامع الرموز میں ہے : یکرہ الاذان فی المسجد (مسجد میں
اذادخل الرجل عندالاقامۃ یکرہ لہ الانتظار قائما ولکن یقعد ثم یقوم اذابلغ المؤذن قولہ حی علی الفلاح کذافی المضمرات ۔ والله تعالی اعلم۔
اگر کوئی تکبیر کے وقت آیا تو وہ بیٹھ جائے کیونکہ کھڑے ہوکر تکبیر سننا مکروہ ہے پھر جب مؤذن “ حی علی الفلاح “ کہے تو اٹھے مضمرات میں ایسے ہی ہے۔ (ت)
مسئلہ (۳۸۱) از ریاست رام پور محلہ مردان خان گلی موچیاں مسئولہ محمد نور ۱۰ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد میں پنجگانہ اذان واسطے نماز کے کہاں کہی جائے اور بانی مسجد نے کوئی جگہ اذان کی مقرر نہیں کی اکثر لوگ صحن مسجد میں اذان کہہ دیتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ مسجد کی داہنی طرف یعنی جنوب کو اذان ہو اور مسجد کی بائیں طرف یعنی شمال کو تکبیر کہی جائے اور جس مسجد کا کوٹھانہ ہو صاف میدان حد بستہ ہو اس مسجد کی کون سی داہنی اور بائیں پر عمل کیا جائے اور یہ بھی سنا ہے کہ جماعت پر حق سبحانہ کی رحمت اول امام پر اور بعد اس کے صف اول کی داہنی جانب سے تمام پر شروع ہوتی ہے پھر دوسری تیسری صفوں پر آخر تک جن لوگوں کا یہ قول ہے کہ مسجد کی داہنی جانب جنوب ہے اسی جانب سے مصلیان پر رحمت حق نازل ہوتی ہے یا اس کے بالعکس اور منبر مسجد کو بائیں جانب کہتے ہیں اور پرانی مسجدوں میں داہنی جانب اور بائیں جانب برج بنے ہوتے ہیں اس پر اذان ہوا کرتی ہے اس وقت کے مؤذنان نے اس کو چھوڑدیا صحن مسجد میں جہاں چاہتے ہیں اذان کہہ دیتے ہیں آیا اذان پنجگانہ نماز سنت خارج مسجد مثل منڈھیر وغیرہ ہے یا صحن مسجد۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
مسجد میں اذان کہنا مطلق منع ہے خلاصہ وہندیہ وبحرالرائق وغیرہا میں ہے : لایؤذن فی المسجد (مسجد میں اذان نہ دی جائے۔ ت)نظم زندویسی وجامع الرموز میں ہے : یکرہ الاذان فی المسجد (مسجد میں
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الصلاۃ باب فی الاذان فصل ثانی مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۵۷
خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الاول فی الاذان مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۴۹ ، فتاوٰی ہندیہ الفصل الثانی فی کلمات الاذان الخ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۵۵ ، البحرالرائق باب الاذان مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۵۵
جامع الرموز کتاب الصلاۃ فصل الاذان مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۱۲۳
نوٹ : جامع الرموز میں یہ عبارت بالمعنی ہے بالالفاظ نہیں۔ جامع الرموز کے الفاظ یوں ہیں : بانہ لایؤذن فی المسجد فانہ مکروہ کمافی النطم '' ۔ نذیر احمد سعیدی
خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الاول فی الاذان مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۴۹ ، فتاوٰی ہندیہ الفصل الثانی فی کلمات الاذان الخ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۵۵ ، البحرالرائق باب الاذان مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۵۵
جامع الرموز کتاب الصلاۃ فصل الاذان مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۱۲۳
نوٹ : جامع الرموز میں یہ عبارت بالمعنی ہے بالالفاظ نہیں۔ جامع الرموز کے الفاظ یوں ہیں : بانہ لایؤذن فی المسجد فانہ مکروہ کمافی النطم '' ۔ نذیر احمد سعیدی
اذان مکروہ ہے۔ ت)اذان کے لئے کوئی دہنی بائیں جانب مقرر نہیں منارہ پر ہو جس طرف ہو اور جہاں منارہ یا کوئی بلندی نہیں وہاں فصیل مسجد پر اس طرف ہو جدھر مسلمانوں کی آبادی زائد ہے اور دونوں طرف آبادی برابر ہوتو اختیار ہے جدھر چاہیں دیں ۔ تکبیر میں مناسب یہ ہے کہ امام کے محاذی ہو ورنہ امام کی دہنی جانب کہ مسجد کی بائیں جانب ہوگی ورنہ جہاں بھی جگہ ملے۔ رحمت الہی پہلے امام پر اترتی ہے پھر صف اول میں جو امام کے محاذی ہو پھر صف اول کے دہنے پرپھر بائیں صف پر پھر دوم میں امام کے محاذی پھر دوم کے دہنے پھر بائیں پر اسی طرح آخر صفوں تک۔ امام کا دہنا مسجد کا بایاں ہوتا ہے مسجد میں عمارت ہو یانہ ہو کہ مسجد تابع کعبہ معظمہ ہے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ (۳۸۲) از ورنگر دایہ مہ سانہ۔ گجرات گاڑیکے دروازہ متصل مکان چاندا رسول مسئولہ عبدالرحیم احمد آبادی
۲۲ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ مسجدوں کے دروازوں پر گھنٹا لگاکر پنجوقتہ نمازوں کے وقت پر بجانا مشابہت کفار ہے یا نہیں ۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
یہ سخت حرام اور ناپاك وملعون فعل کفار ملعونین سے پورا پورا تشبہ ہے والله تعالی اعلم
مسئلہ (۳۸۳) ازاکلتراضلع بلاسپور۔ سی پی مسئولہ عبدالغنی امام مسجد جامع ۲۴ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ایك مؤذن روزہ نہیں رکھتا کتنی ہی بار امام سے لڑنے پر آمادہ ہوا امام سے کہا زیادہ بات کرے گا تو پٹك کر نالی میں موڑ رگڑ دوں گا ایك ہی نمبر کالالچی گانے والا بھانڈ بھی مسخرا چور بھی مسجد کے چار قفل چوری کیے پتا لگنے پر کہا تم نے دودیے تھے ابھی تك وہ مسروق قفل اس کے پاس ہیں امام پر بہتان لگاتا ہے کہ تم مسجد کی لالٹین کا تیل چوری کرتے ہو حالانکہ کبھی نہیں دیکھا امام کہتا ہے اگر ثبوت مل جائے تو میرا ہاتھ کاٹ لو بلکہ محمد رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے نام پر بھی تو کبھی درود شریف پڑھتے نہیں سنا اور ۱۵ رمضان کو عین جماعت فجر کے وقت جھاڑو دیتا تھا میں نے کہا ابھی جھاڑو نہ دو تو جماعت کے سامنے کہنے لگا کہ موت موتو آگ نہ موتو بے حیا لڑاکا فسادی ہے ایك روزہ دار مسافر کو بھی بہکاتا تھا لہذا اس مؤذن کے متعلق فتوے سے مطلع فرمائیں۔
الجواب :
اگر یہ باتیں واقعی ہیں تو وہ مؤذن سخت فاسق فاجر ہے اسے مؤذن بنانے کی ہرگز اجازت نہیں اسے معزول کرنا لازم نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں : الامام ضامن والمؤذن مؤتمن (امام ذمہ دار ہے اور مؤذن امین ہے) رواہ ابوداود والترمذی
مسئلہ (۳۸۲) از ورنگر دایہ مہ سانہ۔ گجرات گاڑیکے دروازہ متصل مکان چاندا رسول مسئولہ عبدالرحیم احمد آبادی
۲۲ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ مسجدوں کے دروازوں پر گھنٹا لگاکر پنجوقتہ نمازوں کے وقت پر بجانا مشابہت کفار ہے یا نہیں ۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
یہ سخت حرام اور ناپاك وملعون فعل کفار ملعونین سے پورا پورا تشبہ ہے والله تعالی اعلم
مسئلہ (۳۸۳) ازاکلتراضلع بلاسپور۔ سی پی مسئولہ عبدالغنی امام مسجد جامع ۲۴ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ایك مؤذن روزہ نہیں رکھتا کتنی ہی بار امام سے لڑنے پر آمادہ ہوا امام سے کہا زیادہ بات کرے گا تو پٹك کر نالی میں موڑ رگڑ دوں گا ایك ہی نمبر کالالچی گانے والا بھانڈ بھی مسخرا چور بھی مسجد کے چار قفل چوری کیے پتا لگنے پر کہا تم نے دودیے تھے ابھی تك وہ مسروق قفل اس کے پاس ہیں امام پر بہتان لگاتا ہے کہ تم مسجد کی لالٹین کا تیل چوری کرتے ہو حالانکہ کبھی نہیں دیکھا امام کہتا ہے اگر ثبوت مل جائے تو میرا ہاتھ کاٹ لو بلکہ محمد رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے نام پر بھی تو کبھی درود شریف پڑھتے نہیں سنا اور ۱۵ رمضان کو عین جماعت فجر کے وقت جھاڑو دیتا تھا میں نے کہا ابھی جھاڑو نہ دو تو جماعت کے سامنے کہنے لگا کہ موت موتو آگ نہ موتو بے حیا لڑاکا فسادی ہے ایك روزہ دار مسافر کو بھی بہکاتا تھا لہذا اس مؤذن کے متعلق فتوے سے مطلع فرمائیں۔
الجواب :
اگر یہ باتیں واقعی ہیں تو وہ مؤذن سخت فاسق فاجر ہے اسے مؤذن بنانے کی ہرگز اجازت نہیں اسے معزول کرنا لازم نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں : الامام ضامن والمؤذن مؤتمن (امام ذمہ دار ہے اور مؤذن امین ہے) رواہ ابوداود والترمذی
حوالہ / References
جامع الترمذی باب ماجاء ان الامام ضامن الخ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۲۹ ، سنن ابی داؤد باب مایجب علی المؤذن مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۷۷
وابن حبان والبھیقی عن ابی ھریرۃ واحمد عن ابی امامۃ رضی اللہ تعالی عنہما بسند صحیح (اسے ترمذی ابن حبان اور بہیقی نے سیدنا ابوہریرۃ رضی اللہ تعالی عنہاور امام احمد نے حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالی عنہماسے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ت)
اور ظاہر ہے کہ فاسق امین نہیں ہوسکتا ولہذا مقصود اذان کہ اعلام باوقات نماز وسحری وافطار ہے فاسق کی اذان سے حاصل نہیں ہوسکتا تنویر میں ہے :
یجوز اذان صبی مراھق وعبد واعمی ۔
قریب البلوغ بچے غلام اور نابینا کی اذان جائز ہے۔ (ت)
تبیین الحقائق میں ہے :
لان قولھم مقبول فی الامور الدینیۃ فیکون ملزما فیحصل بہ الاعلام بخلاف الفاسق ۔
کیونکہ ان کا قول امور دینیہ میں معتبر ہے لہذا ان کا قول ملزم ہوگا اور اس کے ساتھ اعلام حاصل ہوجائیگا بخلاف فاسق کے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
یؤخذ مماقدمناہ من انہ لایحصل الاعلام من غیرالعدل ولایقبل قولہ انہ لایجوز الاعتماد علی المبلغ الفاسق خلف الامام ۔
ہمارے سابقہ بیان سے واضح ہوچکا ہے کہ اعلام بغیر عدل کے حاصل نہیں ہوسکتا اور اس کا قول قبول نہیں کیا جائیگا یعنی امام کے پیچھے فاسق مکبر پر اعتماد جائز نہیں ۔ (ت)
درمختار میں ہے :
وجزم المصنف بعدم صحۃ اذان مجنون ومعتوہ وصبی لایعقل قلت وکافر وفاسق لعدم قبول قولہ فی الدیانات ۔
مصنف نے دیوانے ناقص العقل ناسمجھ بچے کی اذان پر عدم صحت کے ساتھ جزم کیا ہے۔ میں کہتا ہوں اور کافر وفاسق بھی اس مثال میں شامل ہیں کیونکہ ان کا قول امور دینیہ میں معتبر نہیں ۔ (ت)
اور ظاہر ہے کہ فاسق امین نہیں ہوسکتا ولہذا مقصود اذان کہ اعلام باوقات نماز وسحری وافطار ہے فاسق کی اذان سے حاصل نہیں ہوسکتا تنویر میں ہے :
یجوز اذان صبی مراھق وعبد واعمی ۔
قریب البلوغ بچے غلام اور نابینا کی اذان جائز ہے۔ (ت)
تبیین الحقائق میں ہے :
لان قولھم مقبول فی الامور الدینیۃ فیکون ملزما فیحصل بہ الاعلام بخلاف الفاسق ۔
کیونکہ ان کا قول امور دینیہ میں معتبر ہے لہذا ان کا قول ملزم ہوگا اور اس کے ساتھ اعلام حاصل ہوجائیگا بخلاف فاسق کے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
یؤخذ مماقدمناہ من انہ لایحصل الاعلام من غیرالعدل ولایقبل قولہ انہ لایجوز الاعتماد علی المبلغ الفاسق خلف الامام ۔
ہمارے سابقہ بیان سے واضح ہوچکا ہے کہ اعلام بغیر عدل کے حاصل نہیں ہوسکتا اور اس کا قول قبول نہیں کیا جائیگا یعنی امام کے پیچھے فاسق مکبر پر اعتماد جائز نہیں ۔ (ت)
درمختار میں ہے :
وجزم المصنف بعدم صحۃ اذان مجنون ومعتوہ وصبی لایعقل قلت وکافر وفاسق لعدم قبول قولہ فی الدیانات ۔
مصنف نے دیوانے ناقص العقل ناسمجھ بچے کی اذان پر عدم صحت کے ساتھ جزم کیا ہے۔ میں کہتا ہوں اور کافر وفاسق بھی اس مثال میں شامل ہیں کیونکہ ان کا قول امور دینیہ میں معتبر نہیں ۔ (ت)
حوالہ / References
دُرمختار شرح تنویر الابصار باب الاذان مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۶۴
تبیین الحقائق باب الاذان مطبعۃ کبرٰی امیریہ بولاق مصر ۱ / ۹۴
ردالمحتار مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۹۰
درمختار مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۶۴
تبیین الحقائق باب الاذان مطبعۃ کبرٰی امیریہ بولاق مصر ۱ / ۹۴
ردالمحتار مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۹۰
درمختار مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۶۴
غنیہ میں ہے :
یجب اعادۃ اذان السکران والمجنون والصبی غیر العاقل لعدم حصول المقصود لعدم الاعتماد علی قولھم اھ وقد نقلہ فی ردالمحتار واقرہ بل ایدبہ بحث البحر فلاوجہ لبحثہ فی الفاسق وقدسلم عدم حصول المقصود باذانہ کماتقدم۔
نشہ کرنے والے دیوانے نابالغ بچہ کی اذان لوٹائی جائیگی کیونکہ ان کے قول پر عدم اعتماد کی وجہ سے مقصود حاصل نہیں ہوپاتا اھ ردالمحتار میں اسے نقل کرکے ثابت رکھا بلکہ بحر کی عبارت سے اس کی تائید کی پس فاسق کے بارے میں بحث کی حاجت ہی نہیں کیونکہ پیچھے گزرچکا ہے کہ اس کی اذان سے اعلام کا حصول مسلمہ طور پر نہیں ہوتا۔ (ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ (۳۰۴) از سینٹوریم ضلع نینی تال مسئولہ سراج علی خاں صاحب قادری رضوی بریلوی۱۶ شعبان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد میں نماز جماعت کے لئے اذان پنجوقتہ کیا اہمیت رکھتی ہے مسجد کے علاوہ کسی اور جگہ دوچار شخص جماعت سے نماز پڑھیں تو اذان ضروری ہے یا نہیں ۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
مسجد میں پانچوں وقت جماعت سے پہلے اذان سنت مؤکدہ قریب بواجب ہے اور اس کا ترك بہت شنیع یہاں تك کہ حضرت امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فرمایا اگر کسی شہر کے لوگ اذان دینا چھوڑدیں تو میں ان پر جہاد کروں گا شہر میں اگر کچھ لوگ مکان یا دکان یا میدان میں اذان نہ کہیں تو حرج نہیں عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہنے فرمایا : اذان الحی یکفینا محلہ کی اذان ہمیں کفایت کرتی ہے
یوں ہی مسافر کو ترك اذان کی اجازت ہے لیکن اگر اقامت بھی ترك کرے گا تو مکروہ ہوگا۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ (۳۸۵) از بریلی بازار مسئولہ عزیز الدین خاں دکاندار ۲۰ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کہتا ہے کہ نماز سے قبل صلاۃ پکارنا اور اذان ثانی باہر مسجد کے کہنا وہابیہ کا کام ہے اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
نماز سے پہلے صلاۃ پکارنا مستحسن ہے حرمین شریفین وتمام بلاد دارالاسلام میں رائج ہے اسے وہابیہ کا کام
یجب اعادۃ اذان السکران والمجنون والصبی غیر العاقل لعدم حصول المقصود لعدم الاعتماد علی قولھم اھ وقد نقلہ فی ردالمحتار واقرہ بل ایدبہ بحث البحر فلاوجہ لبحثہ فی الفاسق وقدسلم عدم حصول المقصود باذانہ کماتقدم۔
نشہ کرنے والے دیوانے نابالغ بچہ کی اذان لوٹائی جائیگی کیونکہ ان کے قول پر عدم اعتماد کی وجہ سے مقصود حاصل نہیں ہوپاتا اھ ردالمحتار میں اسے نقل کرکے ثابت رکھا بلکہ بحر کی عبارت سے اس کی تائید کی پس فاسق کے بارے میں بحث کی حاجت ہی نہیں کیونکہ پیچھے گزرچکا ہے کہ اس کی اذان سے اعلام کا حصول مسلمہ طور پر نہیں ہوتا۔ (ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ (۳۰۴) از سینٹوریم ضلع نینی تال مسئولہ سراج علی خاں صاحب قادری رضوی بریلوی۱۶ شعبان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد میں نماز جماعت کے لئے اذان پنجوقتہ کیا اہمیت رکھتی ہے مسجد کے علاوہ کسی اور جگہ دوچار شخص جماعت سے نماز پڑھیں تو اذان ضروری ہے یا نہیں ۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
مسجد میں پانچوں وقت جماعت سے پہلے اذان سنت مؤکدہ قریب بواجب ہے اور اس کا ترك بہت شنیع یہاں تك کہ حضرت امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فرمایا اگر کسی شہر کے لوگ اذان دینا چھوڑدیں تو میں ان پر جہاد کروں گا شہر میں اگر کچھ لوگ مکان یا دکان یا میدان میں اذان نہ کہیں تو حرج نہیں عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہنے فرمایا : اذان الحی یکفینا محلہ کی اذان ہمیں کفایت کرتی ہے
یوں ہی مسافر کو ترك اذان کی اجازت ہے لیکن اگر اقامت بھی ترك کرے گا تو مکروہ ہوگا۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ (۳۸۵) از بریلی بازار مسئولہ عزیز الدین خاں دکاندار ۲۰ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کہتا ہے کہ نماز سے قبل صلاۃ پکارنا اور اذان ثانی باہر مسجد کے کہنا وہابیہ کا کام ہے اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
نماز سے پہلے صلاۃ پکارنا مستحسن ہے حرمین شریفین وتمام بلاد دارالاسلام میں رائج ہے اسے وہابیہ کا کام
حوالہ / References
ردالمحتار باب الاذان مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۸۹
ردالمحتار باب الاذان مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۹۱
ردالمحتار باب الاذان مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۹۱
کہنا عجیب ہے وہابیہ ہی اسے برا کہتے ہیں اذان ثانی امام کے سامنے منبر کے محاذی مسجد کے باہر ہونا ہی نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی سنت ہے صدیق اکبر کی سنت ہے فاروق اعظم کی سنت ہے اسے وہابیہ کا کام کہنا محض جہالت وحماقت ہے اگر یہ شخص جاہل ہے کسی احمق سے سنی سنائی ایسی کہتا ہے اس کے مذہب میں کوئی فتور نہیں اور فاسق معلن بھی نہیں اور اس کی طہارت وقرأت صحیح ہے تو ان شرائط کے ساتھ اس کے پیچھے نماز میں حرج نہیں والله تعالی اعلم۔
____________________
____________________
رسالہ
منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین ۱۳۰۱ھ
(انگوٹھے چومنے کے سبب آنکھوں کا روشن ہونا) ۱۳۰۱ھ
مسئلہ (۳۸۶) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اذان میں کلمہ اشھد ان محمدا رسول الله سن کر انگوٹھے چومنا آنکھوں سے لگانا کیسا ہے بینوا توجروا۔
فتوی
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمدلله الذی نورعیون المسلمین بنورعین اعیان المرسلین والصلاۃ والسلام علی نور العیون سرورالقلب المحزون محمدنالرفیع ذکرہ فی الصلاۃ والاذان والجیب اسمہ عند اھل الایمان وعلی الہ وصحبہ والمشروحۃ صدورھم لجلال اسرارہ والمفتوحۃ عیونھم بجمال انوارہ واشھد ان لاالہ الا الله وحدہ لاشریك لہ وان محمداعبدہ ورسولہ بالھدی ودین الحق ارسلہ صلی الله تعالی علیہ وعلی الہ وصحبہ اجمعین وعلینا معھم وبھم ولھم یاارحم الراحمین امین قال العبدالذلیل للمولی الجلیل عبدالمصطفی احمدرضاالمحمدی السنی الحنفی القادری البرکاتی البریلوی نورالله عیونہ واصلح شیونہ مستعیذا برب الفلق من شرما خلق وحامدالله علی ماالھم ووفق۔
تمام خوبیان الله کے لئے جس نے گروہ انبیاء ومرسلین کے سربراہ کے نور سے تمام مسلمانوں کی آنکھوں کو روشنی بخشی صلاۃ وسلام ہو اس پر جو آنکھوں کا نور پریشان دلوں کا سرور یعنی محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجن کاذکر اذان ونماز میں بلند ہے۔ جس کا اسم گرامی اہل ایمان کے ہاں نہایت ہی محبوب ہے اور آپ کی آل واصحاب پر
منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین ۱۳۰۱ھ
(انگوٹھے چومنے کے سبب آنکھوں کا روشن ہونا) ۱۳۰۱ھ
مسئلہ (۳۸۶) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اذان میں کلمہ اشھد ان محمدا رسول الله سن کر انگوٹھے چومنا آنکھوں سے لگانا کیسا ہے بینوا توجروا۔
فتوی
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمدلله الذی نورعیون المسلمین بنورعین اعیان المرسلین والصلاۃ والسلام علی نور العیون سرورالقلب المحزون محمدنالرفیع ذکرہ فی الصلاۃ والاذان والجیب اسمہ عند اھل الایمان وعلی الہ وصحبہ والمشروحۃ صدورھم لجلال اسرارہ والمفتوحۃ عیونھم بجمال انوارہ واشھد ان لاالہ الا الله وحدہ لاشریك لہ وان محمداعبدہ ورسولہ بالھدی ودین الحق ارسلہ صلی الله تعالی علیہ وعلی الہ وصحبہ اجمعین وعلینا معھم وبھم ولھم یاارحم الراحمین امین قال العبدالذلیل للمولی الجلیل عبدالمصطفی احمدرضاالمحمدی السنی الحنفی القادری البرکاتی البریلوی نورالله عیونہ واصلح شیونہ مستعیذا برب الفلق من شرما خلق وحامدالله علی ماالھم ووفق۔
تمام خوبیان الله کے لئے جس نے گروہ انبیاء ومرسلین کے سربراہ کے نور سے تمام مسلمانوں کی آنکھوں کو روشنی بخشی صلاۃ وسلام ہو اس پر جو آنکھوں کا نور پریشان دلوں کا سرور یعنی محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجن کاذکر اذان ونماز میں بلند ہے۔ جس کا اسم گرامی اہل ایمان کے ہاں نہایت ہی محبوب ہے اور آپ کی آل واصحاب پر
جن کے مبارك سینے آپ کے اسرار ورموز کے جلال کیلئے کھول دئے اور ان کی آنکھوں کو آپ کے انوار جمال سے منور فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ الله تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں وہ وحدہ لاشریك ہے اور حضرت محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماس کے برگزیدہ بندے اور رسول ہیں جن کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث کیا اور ہم پر بھی رحمت ہو ان کے ساتھ ان کے سبب اور ان کے صدقہ میں یاارحم الراحمین مولی جلیل کا عبد ذلیل عبدالمصطفی احمد رضا محمدی سنی حنفی قادری برکاتی بریلوی کہتا ہے الله تعالی اس کی آنکھوں کو منور فرمائے اور اس کے تمام احوال کی اصلاح کرے درانحالیکہ وہ رب الفلق کی پناہ میں آتا ہے تمام مخلوق کے شر سے اور حمد کرتا ہے الله کی اس پر جو اس نے عطا کی اور اس کی توفیق دے۔ (ت)
الجواب :
حضور پرنور شفیع یوم النشور صاحب لولاك صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا نام پاك اذان میں سنتے وقت انگوٹھے یا انگشتان شہادت چوم کر آنکھوں سے لگانا قطعا جائز جس کے جواز پر مقام تبرع میں دلائل کثیرہ قائم اور خود اگر کوئی دلیل خاص نہ ہوتی تو منع پر شرع سے دلیل نہ ہونا ہی جواز کے لئے دلیل کافی تھا جو ناجائز بتائے ثبوت دینا اس کے ذمہ ہے کہ قائل جواز متمسك باصل ہے اورمتمسك باصل محتاج دلیل نہیں پھر یہاں تو حدیث وفقہ وار شاد علما وعمل قدیم سلف صلحا سب کچھ موجود۔ علمائے محدثین نے اس باب میں حضرت خلیفہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسیدنا صدیق اکبر وحضرت ریحانہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسیدنا امام حسن وحسین وحضرت نقیب اولیائے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسیدنا ابوالعباس خضر علی الحبیب الکریم وعلیہم جمیعا الصلاۃ والتسلیم وغیرہم اکابر دین سے حدیثیں روایت فرمائیں جس کی قدرے تفصیل امام علامہ شمس الدین سخاوی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے کتاب مستطاب مقاصد حسنہ میں ذکر فرمائی اور جامع الرموز شرح نقایتہ مختصر الوقایۃ وفتاوی صوفیہ وکنز العباد وردالمحتار حاشیہ درمختار وغیرہا کتب فقہ میں اس فعل کے استحباب واستحسان کے صاف تصریح آئی ان میں اکثر کتابیں خود مانعین اور ان کے اکابر وعمائد مثل متکلم قنوجی
الجواب :
حضور پرنور شفیع یوم النشور صاحب لولاك صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا نام پاك اذان میں سنتے وقت انگوٹھے یا انگشتان شہادت چوم کر آنکھوں سے لگانا قطعا جائز جس کے جواز پر مقام تبرع میں دلائل کثیرہ قائم اور خود اگر کوئی دلیل خاص نہ ہوتی تو منع پر شرع سے دلیل نہ ہونا ہی جواز کے لئے دلیل کافی تھا جو ناجائز بتائے ثبوت دینا اس کے ذمہ ہے کہ قائل جواز متمسك باصل ہے اورمتمسك باصل محتاج دلیل نہیں پھر یہاں تو حدیث وفقہ وار شاد علما وعمل قدیم سلف صلحا سب کچھ موجود۔ علمائے محدثین نے اس باب میں حضرت خلیفہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسیدنا صدیق اکبر وحضرت ریحانہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسیدنا امام حسن وحسین وحضرت نقیب اولیائے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسیدنا ابوالعباس خضر علی الحبیب الکریم وعلیہم جمیعا الصلاۃ والتسلیم وغیرہم اکابر دین سے حدیثیں روایت فرمائیں جس کی قدرے تفصیل امام علامہ شمس الدین سخاوی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے کتاب مستطاب مقاصد حسنہ میں ذکر فرمائی اور جامع الرموز شرح نقایتہ مختصر الوقایۃ وفتاوی صوفیہ وکنز العباد وردالمحتار حاشیہ درمختار وغیرہا کتب فقہ میں اس فعل کے استحباب واستحسان کے صاف تصریح آئی ان میں اکثر کتابیں خود مانعین اور ان کے اکابر وعمائد مثل متکلم قنوجی
وغیرہ کے مستندات سے ہیں اور ان حدیثوں کے بارے میں ان محدثین کرام ومحققین اعلام نے جو تصحیح وتضعیف وتجریح وتوثیق میں دائرہ اعتدال سے نہیں نکلتے اور راہ تساہل وتشدد نہیں چلتے حکم اخیر وخلاصہ بحث وتنقیریہ قرار دیا کہ خود حضور اقدس سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے جو حدیثیں یہاں روایت کی گئیں باصطلاح محدثین درجہ صحت کو فائز نہ ہوئیں مقاصد میں فرمایا :
لایصح فی المرفوع من کل ھذا شیئ ۔
بیان کردہ مرفوع احادیث میں کوئی بھی درجہ صحت پر فائز نہیں ۔ (ت)
مولانا علی قاری علیہ رحمۃ الباری موضوعات کبیر میں فرماتے ہیں :
کل مایروی فیئ ھذا فلایصح رفعہ البتۃ ۔
اس بارے میں جو بھی روایات بیان کی گئی ہیں ان کا مرفوع ہونا حتمی صحیح نہیں ۔ (ت)
علامہ ابن عابدین شامی قدس سرہ السامی ردالمحتار میں علامہ اسمعیل جراحی رحمۃ اللہ تعالی علیہسے نقل فرماتے ہیں :
لم یصح فی المرفوع من کل ھذا شیئ ۔
بیان کردہ مرفوع احادیث میں کوئی بھی درجہ صحت پر فائر نہیں ۔ (ت)
پھر خادم حدیث پر روشن کہ اصطلاح محدثین میں نفی صحت نفی حسن کو بھی مستلزم نہیں نہ کہ نفی صلاح وتماسك وصلوح تمسک نہ کہ دعوی وضع کذب تو عندالتحقیق ان احادیث پر جیسے باصطلاح محدثین حکم صحت صحیح نہیں یونہی حکم وضع وکذب بھی ہرگز مقبول نہیں بلکہ بتصریح ائمہ فن کثرت طرق سے جبر نقصان متصور اور عمل علمأ وقبول قدما حدیث کے لئے قوی دیگر اور نہ سہی تو فضائل اعمال میں حدیث ضعیف بالاجماع مقبول اور اس سے بھی گزرے تو بلاشبہہ یہ فعل اکابر دین سے مروی ومنقول اور سلف صالح میں حفظ صحت بصر وروشنائی چشم کے لئے مجرب اور معمول ایسے محل پر بالفرض اگر کچھ نہ ہوتو اسی قدر سند کافی بلکہ اصلا نقل بھی نہ ہوتو صرف تجربہ وافی کہ آخر اس میں کسی حکم شرعی کا ازالہ نہیں نہ کسی سنت ثابتہ کا خلاف اور نفع حاصل تو منع باطل بلکہ انصاف کیجئے تو محدثین کا نفی صحت کو احادیث مرفوعہ سے خاص کرناصاف کہہ رہا ہے کہ وہ احادیث موقوفہ کو غیر صحیح نہیں کہتے پھر یہاں حدیث موقوف کیا کم ہے ولہذا مولنا علی قاری نے عبارت مذکورہ کے بعد فرمایا :
قلت واذاثبت رفعہ الی الصدیق رضی الله تعالی عنہ فیکفی للعمل بہ لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین ۔
یعنی صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہسے ہی اس فعل کا ثبوت
لایصح فی المرفوع من کل ھذا شیئ ۔
بیان کردہ مرفوع احادیث میں کوئی بھی درجہ صحت پر فائز نہیں ۔ (ت)
مولانا علی قاری علیہ رحمۃ الباری موضوعات کبیر میں فرماتے ہیں :
کل مایروی فیئ ھذا فلایصح رفعہ البتۃ ۔
اس بارے میں جو بھی روایات بیان کی گئی ہیں ان کا مرفوع ہونا حتمی صحیح نہیں ۔ (ت)
علامہ ابن عابدین شامی قدس سرہ السامی ردالمحتار میں علامہ اسمعیل جراحی رحمۃ اللہ تعالی علیہسے نقل فرماتے ہیں :
لم یصح فی المرفوع من کل ھذا شیئ ۔
بیان کردہ مرفوع احادیث میں کوئی بھی درجہ صحت پر فائر نہیں ۔ (ت)
پھر خادم حدیث پر روشن کہ اصطلاح محدثین میں نفی صحت نفی حسن کو بھی مستلزم نہیں نہ کہ نفی صلاح وتماسك وصلوح تمسک نہ کہ دعوی وضع کذب تو عندالتحقیق ان احادیث پر جیسے باصطلاح محدثین حکم صحت صحیح نہیں یونہی حکم وضع وکذب بھی ہرگز مقبول نہیں بلکہ بتصریح ائمہ فن کثرت طرق سے جبر نقصان متصور اور عمل علمأ وقبول قدما حدیث کے لئے قوی دیگر اور نہ سہی تو فضائل اعمال میں حدیث ضعیف بالاجماع مقبول اور اس سے بھی گزرے تو بلاشبہہ یہ فعل اکابر دین سے مروی ومنقول اور سلف صالح میں حفظ صحت بصر وروشنائی چشم کے لئے مجرب اور معمول ایسے محل پر بالفرض اگر کچھ نہ ہوتو اسی قدر سند کافی بلکہ اصلا نقل بھی نہ ہوتو صرف تجربہ وافی کہ آخر اس میں کسی حکم شرعی کا ازالہ نہیں نہ کسی سنت ثابتہ کا خلاف اور نفع حاصل تو منع باطل بلکہ انصاف کیجئے تو محدثین کا نفی صحت کو احادیث مرفوعہ سے خاص کرناصاف کہہ رہا ہے کہ وہ احادیث موقوفہ کو غیر صحیح نہیں کہتے پھر یہاں حدیث موقوف کیا کم ہے ولہذا مولنا علی قاری نے عبارت مذکورہ کے بعد فرمایا :
قلت واذاثبت رفعہ الی الصدیق رضی الله تعالی عنہ فیکفی للعمل بہ لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین ۔
یعنی صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہسے ہی اس فعل کا ثبوت
حوالہ / References
المقاصد الحسنہ حرف المیم حدیث ۱۰۲۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ص ۳۸۵
الاسرار المرفوعہ فی الاخبار الموضوعہ (موضوعات کبرٰی) حدیث ۸۲۹ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ص ۲۱۰
ردالمحتار باب الاذان مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۹۳
الاسرار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ (موضوعات کبرٰی) حدیث ۸۲۹ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ص ۲۱۰
الاسرار المرفوعہ فی الاخبار الموضوعہ (موضوعات کبرٰی) حدیث ۸۲۹ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ص ۲۱۰
ردالمحتار باب الاذان مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۹۳
الاسرار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ (موضوعات کبرٰی) حدیث ۸۲۹ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ص ۲۱۰
عمل کو بس ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں میں تم پر لازم کرتا ہوں اپنی سنت اور اپنے خلفائے راشدین کی سنت۔ رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین۔
تو صدیق سے کسی شے کا ثبوت بعینہ حضور سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے ثبوت ہے اگرچہ بالخصوص حدیث مرفوع درجہ صحت تك مرفوع نہ ہو امام سخاوی المقاصد الحسنۃ فی الاحادیث الدائرۃ علی الالسنۃ میں فرماتے ہیں :
حدیث : مسح العینین بباطن انملتی السبابتین بعد تقبیلھما عندسماع قول المؤذن اشھد ان محمدا رسول الله مع قولہ اشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ رضیت بالله ربا وبالاسلام دینا وبمحمد صلی الله تعالی علیہ وسلم نبیا ذکرہ الدیلمی فی الفردوس من حدیث ابی بکر الصدیق رضی الله تعالی عنہ انہ لماسمع قول المؤذن اشھد ان محمدا رسول الله قال ھذا وقیل باطن الانملتین السبابتین ومسح عینیہ فقال صلی الله تعالی علیہ وسلم من فعل مثل ما فعل خلیلی فقد حلت علیہ شفاعتی ولایصح ۔
یعنی مؤذن سے اشھد ان محمدا رسول الله سن کر انگشتان شہادت کے پورے جانب باطن سے چوم کر آنکھوں پر ملنا اور یہ دعا پڑھنا اشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ رضیت بالله ربا وبالاسلام دینا وبمحمد صلی الله تعالی علیہ وسلم نبیا ط اس حدیث کو دیلمی نے مسند الفردوس میں حدیث سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا کہ جب اس جناب نے مؤذن کو اشھد ان محمدا رسول الله کہتے سنا یہ دعا پڑھی اور دونوں کلمے کی انگلیوں کے پورے جانب زیریں سے چوم کر آنکھوں سے لگائے اس پر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا جو ایسا کرے جیسا میرے پیارے نے کیا اس کے لئے میری شفاعت حلال ہوجائے اور یہ حدیث اس درجہ کو نہ پہنچی جسے محدثین اپنی اصطلاح میں درجہ صحت نام رکھتے ہیں ۔
پھر فرمایا :
وکذامااوردہ ابوالعباس احمد بن ابی بکرن الرداد الیمانی المتصوف فی کتابہ “ موجبات الرحمۃ وعزائم المغفرۃ “ بسند فیہ مجاھیل مع انقطاعہ عن الخضر علیہ السلام انہ قال من قال حین یسمع المؤذن یقول اشھد ان محمدا رسول الله مرحبا بجیبی وقرۃ عینی محمد بن عبدالله صلی الله تعالی علیہ وسلم ثم یقبل ابھا میہ ویجعلھما علی عینیہ لم یرمد ابدا
یعنی ایسے ہی وہ حدیث کہ حضرت ابوالعباس احمد بن ابی بکر
تو صدیق سے کسی شے کا ثبوت بعینہ حضور سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے ثبوت ہے اگرچہ بالخصوص حدیث مرفوع درجہ صحت تك مرفوع نہ ہو امام سخاوی المقاصد الحسنۃ فی الاحادیث الدائرۃ علی الالسنۃ میں فرماتے ہیں :
حدیث : مسح العینین بباطن انملتی السبابتین بعد تقبیلھما عندسماع قول المؤذن اشھد ان محمدا رسول الله مع قولہ اشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ رضیت بالله ربا وبالاسلام دینا وبمحمد صلی الله تعالی علیہ وسلم نبیا ذکرہ الدیلمی فی الفردوس من حدیث ابی بکر الصدیق رضی الله تعالی عنہ انہ لماسمع قول المؤذن اشھد ان محمدا رسول الله قال ھذا وقیل باطن الانملتین السبابتین ومسح عینیہ فقال صلی الله تعالی علیہ وسلم من فعل مثل ما فعل خلیلی فقد حلت علیہ شفاعتی ولایصح ۔
یعنی مؤذن سے اشھد ان محمدا رسول الله سن کر انگشتان شہادت کے پورے جانب باطن سے چوم کر آنکھوں پر ملنا اور یہ دعا پڑھنا اشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ رضیت بالله ربا وبالاسلام دینا وبمحمد صلی الله تعالی علیہ وسلم نبیا ط اس حدیث کو دیلمی نے مسند الفردوس میں حدیث سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا کہ جب اس جناب نے مؤذن کو اشھد ان محمدا رسول الله کہتے سنا یہ دعا پڑھی اور دونوں کلمے کی انگلیوں کے پورے جانب زیریں سے چوم کر آنکھوں سے لگائے اس پر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا جو ایسا کرے جیسا میرے پیارے نے کیا اس کے لئے میری شفاعت حلال ہوجائے اور یہ حدیث اس درجہ کو نہ پہنچی جسے محدثین اپنی اصطلاح میں درجہ صحت نام رکھتے ہیں ۔
پھر فرمایا :
وکذامااوردہ ابوالعباس احمد بن ابی بکرن الرداد الیمانی المتصوف فی کتابہ “ موجبات الرحمۃ وعزائم المغفرۃ “ بسند فیہ مجاھیل مع انقطاعہ عن الخضر علیہ السلام انہ قال من قال حین یسمع المؤذن یقول اشھد ان محمدا رسول الله مرحبا بجیبی وقرۃ عینی محمد بن عبدالله صلی الله تعالی علیہ وسلم ثم یقبل ابھا میہ ویجعلھما علی عینیہ لم یرمد ابدا
یعنی ایسے ہی وہ حدیث کہ حضرت ابوالعباس احمد بن ابی بکر
حوالہ / References
المقاصد الحسنۃ حروف المی حدیث ۱۰۲۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ص ۳۸۴
المقاصد الحسنہ حروف المیم حدیث ۱۰۲۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان ص ۳۸۴
المقاصد الحسنہ حروف المیم حدیث ۱۰۲۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان ص ۳۸۴
رداد یمنی صوفی نے اپنی کتاب “ موجبات الرحمۃ وعزائم المغفرہ “ میں ایسی سند سے جس میں مجاہیل ہیں اور منقطع بھی ہے حضرت سیدنا خضرعليه الصلوۃ والسلام سے روایت کی کہ وہ ارشاد فرماتے ہیں جو شخص مؤذن سے اشھد ان محمدا رسول الله سن کر مرحبا بجبیبی وقرۃ عینی محمد بن عبدالله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکہے پھر دونوں انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر رکھے اس کی آنکھیں کبھی نہ دکھیں ۔
پھر فرمایا :
ثم روی بسند فیہ من لم اعرفہ عن اخی الفقیہ محمد بن البابا فیما حکی عن نفسہ انہ ھبت ریح فوقعت منہ حصاۃ فی عینہ فاعیاہ خروجھا والمتہ اشد الالم وانہ لماسمع المؤذن یقول اشھد ان محمدا رسول الله قال ذلك فخرجت الحصاۃ من فورہ قال الرداد رحمہ الله تعالی وھذا یسیر فی جنب فضائل الرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ۔
یعنی پھر ایسی سند کے ساتھ جس کے بعض رواۃ کو میں نہیں پہچانتا فقیہ بن البابا کے بھائی سے روایت کی کہ وہ اپنا حال بیان کرتے تھے ایك بار ہوا چلی ایك کنکری ان کی آنکھ میں پڑگئی نکالتے تھك گئے ہرگز نہ نکلی اور نہایت سخت درد پہنچایاانہوں نے مؤذن کواشھد ان محمدارسول الله کہتے ہوئے یہی کہا فورا نکل گئی رواد رحمۃ اللہ تعالی علیہفرماتے ہیں مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے فضائل کے حضور اتنی بات کیا چیز ہے۔
پھر فرمایا :
وحکی الشمس محمد بن صالح نالمدنی امامھا وخطیبھا فی تاریخہ عن المجد احد القدماء من المصریین انہ سمعہ یقول من صلی علی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اذاسمع ذکرہ فی الاذان وجمع اصبعیہ المسبحۃ والابھام وقبلھا ومسح بھما عینیہ لم یرمد ابدا ۔
یعنی شمس الدین محمد بن صالح مدنی مسجد مدینہ طیبہ کے امام وخطیب نے اپنی تاریخ میں مجد مصری سے کہ سلف صالح میں تھے نقل کیا کہ میں نے انہیں فرماتے سنا
پھر فرمایا :
ثم روی بسند فیہ من لم اعرفہ عن اخی الفقیہ محمد بن البابا فیما حکی عن نفسہ انہ ھبت ریح فوقعت منہ حصاۃ فی عینہ فاعیاہ خروجھا والمتہ اشد الالم وانہ لماسمع المؤذن یقول اشھد ان محمدا رسول الله قال ذلك فخرجت الحصاۃ من فورہ قال الرداد رحمہ الله تعالی وھذا یسیر فی جنب فضائل الرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ۔
یعنی پھر ایسی سند کے ساتھ جس کے بعض رواۃ کو میں نہیں پہچانتا فقیہ بن البابا کے بھائی سے روایت کی کہ وہ اپنا حال بیان کرتے تھے ایك بار ہوا چلی ایك کنکری ان کی آنکھ میں پڑگئی نکالتے تھك گئے ہرگز نہ نکلی اور نہایت سخت درد پہنچایاانہوں نے مؤذن کواشھد ان محمدارسول الله کہتے ہوئے یہی کہا فورا نکل گئی رواد رحمۃ اللہ تعالی علیہفرماتے ہیں مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے فضائل کے حضور اتنی بات کیا چیز ہے۔
پھر فرمایا :
وحکی الشمس محمد بن صالح نالمدنی امامھا وخطیبھا فی تاریخہ عن المجد احد القدماء من المصریین انہ سمعہ یقول من صلی علی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اذاسمع ذکرہ فی الاذان وجمع اصبعیہ المسبحۃ والابھام وقبلھا ومسح بھما عینیہ لم یرمد ابدا ۔
یعنی شمس الدین محمد بن صالح مدنی مسجد مدینہ طیبہ کے امام وخطیب نے اپنی تاریخ میں مجد مصری سے کہ سلف صالح میں تھے نقل کیا کہ میں نے انہیں فرماتے سنا
حوالہ / References
المقاصد الحسنہ حروف المیم حدیث ۱۰۲۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان ص ۳۸۴
المقاصد الحسنہ حدیث ۱۰۲۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان ص ۳۸۴
المقاصد الحسنہ حدیث ۱۰۲۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان ص ۳۸۴
جو شخص نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ذکر پاك اذان میں سن کرکلمہ کی انگلی اور انگوٹھا ملائے اور انہیں بوسہ دے کر آنکھوں سے لگائے اس کی آنکھیں کبھی نہ دکھیں ۔
پھر فرمایا :
قال ابن صالح وسمعت ذلك ایضا من الفقیہ محمد بن الزرندی عن بعض شیوخ العراق اوالعجم انہ یقول عندمایمسح عینیہ صلی الله علیك یاسیدی یارسول الله یاحبیب قلبی ویانور بصری ویاقرۃ عینی وقال لی کل منھما منذفعلہ لم ترمد عینی ۔
یعنی ابن صالح فرماتے ہیں میں نے یہ امر فقیہ محمد بن زرندی سے بھی سناکہ بعض مشایخ عراق یا عجم سے راوی تھے اور ان کی روایت میں یوں ہے کہ آنکھوں پر مس کرتے وقت یہ درود عرض کرے صلی الله علیك یاسیدی یا رسول الله یاحبیب قلبی ویانور بصری ویا قرۃ عینی اور دونوں صاحبوں یعنی شیخ مجد وفقیہ محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ جب سے ہم یہ عمل کرتے ہیں ہماری آنکھیں نہ دکھیں ۔
پھر فرمایا :
قال ابن صالح واناولله الحمد والشکر منذسمعۃ منھما استعملتہ فلم ترمد عینی وارجو ان عافیتھما تدوم وانی اسلم من العمی ان شاء الله تعالی ۔
یعنی امام ابن صالح ممدوح نے فرمایا الله کے لئے حمد وشکر ہے جب سے میں نے یہ عمل ان دونوں صاحبوں سے سنا اپنے عمل میں رکھا آج تك میری آنکھیں نہ دکھیں اور امید کرتا ہوں کہ ہمیشہ اچھی رہیں گی اور میں کبھی اندھا نہ ہوں گا ان شاء الله تعالی۔
پھر فرمایا :
قال وروی عن الفقیہ محمد بن سعید الخولانی قال اخبرنی الفقیہ العالم ابوالحسن علی بن محمد بن حدید الحسینی اخبرنی الفقیہ الزاھد ابلالی عن الحسن علیہ السلام انہ قال من قال حین یسمع المؤذن یقول اشھد ان محمدا رسول الله مرحبا بجیبی وقرۃ عینی محمد بن عبدالله صلی الله تعالی علیہ وسلم ویقبل ابھامیہ ویجعلھما علی عینیہ لم یعم ولم یرمد ۔
یعنی یہی امام مدنی فرماتے ہیں فقیہ محمد سعید خولانی سے مروی ہواکہ انہوں نے فرمایا مجھے فقیہ عالم ابوالحسن علی بن محمد بن حدید حسینی نے خبر دی کہ مجھے فقیہ زاہد بلالی نے
پھر فرمایا :
قال ابن صالح وسمعت ذلك ایضا من الفقیہ محمد بن الزرندی عن بعض شیوخ العراق اوالعجم انہ یقول عندمایمسح عینیہ صلی الله علیك یاسیدی یارسول الله یاحبیب قلبی ویانور بصری ویاقرۃ عینی وقال لی کل منھما منذفعلہ لم ترمد عینی ۔
یعنی ابن صالح فرماتے ہیں میں نے یہ امر فقیہ محمد بن زرندی سے بھی سناکہ بعض مشایخ عراق یا عجم سے راوی تھے اور ان کی روایت میں یوں ہے کہ آنکھوں پر مس کرتے وقت یہ درود عرض کرے صلی الله علیك یاسیدی یا رسول الله یاحبیب قلبی ویانور بصری ویا قرۃ عینی اور دونوں صاحبوں یعنی شیخ مجد وفقیہ محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ جب سے ہم یہ عمل کرتے ہیں ہماری آنکھیں نہ دکھیں ۔
پھر فرمایا :
قال ابن صالح واناولله الحمد والشکر منذسمعۃ منھما استعملتہ فلم ترمد عینی وارجو ان عافیتھما تدوم وانی اسلم من العمی ان شاء الله تعالی ۔
یعنی امام ابن صالح ممدوح نے فرمایا الله کے لئے حمد وشکر ہے جب سے میں نے یہ عمل ان دونوں صاحبوں سے سنا اپنے عمل میں رکھا آج تك میری آنکھیں نہ دکھیں اور امید کرتا ہوں کہ ہمیشہ اچھی رہیں گی اور میں کبھی اندھا نہ ہوں گا ان شاء الله تعالی۔
پھر فرمایا :
قال وروی عن الفقیہ محمد بن سعید الخولانی قال اخبرنی الفقیہ العالم ابوالحسن علی بن محمد بن حدید الحسینی اخبرنی الفقیہ الزاھد ابلالی عن الحسن علیہ السلام انہ قال من قال حین یسمع المؤذن یقول اشھد ان محمدا رسول الله مرحبا بجیبی وقرۃ عینی محمد بن عبدالله صلی الله تعالی علیہ وسلم ویقبل ابھامیہ ویجعلھما علی عینیہ لم یعم ولم یرمد ۔
یعنی یہی امام مدنی فرماتے ہیں فقیہ محمد سعید خولانی سے مروی ہواکہ انہوں نے فرمایا مجھے فقیہ عالم ابوالحسن علی بن محمد بن حدید حسینی نے خبر دی کہ مجھے فقیہ زاہد بلالی نے
حوالہ / References
المقاصد الحسنہ حدیث ۱۰۲۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان ص ۳۸۴
المقاصد الحسنہ حدیث ۱۰۲۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان ص ۳۸۴
المقاصد الحسنۃ باب المیم حدیث ۱۰۲۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان ص ۳۸۴
المقاصد الحسنہ حدیث ۱۰۲۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان ص ۳۸۴
المقاصد الحسنۃ باب المیم حدیث ۱۰۲۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان ص ۳۸۴
حضرت امام حسن علی جدہ الکریم وعلیہ الصلوۃ والسلام سے خبر دی کہ حضرت امام نے فرمایا کہ جو شخص مؤذن کو اشھد ان محمدا رسول الله کہتے سن کر یہ دعا پڑھے مرحبا بحبیبی وقرۃ عینی محمد ابن عبد الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ط اور اپنے انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر رکھے نہ کبھی اندھا ہو نہ آنکھیں دکھیں ۔
پھر فرمایا :
وقال الطاؤسی انہ سمع من الشمس محمد بن ابی نصر البخاری خواجہ حدیث من قبل عند سماعہ من المؤذن کلمۃ الشھادۃ ظفری ابھامیہ ومسھما علی عینیہ وقال عندالمس “ اللھم احفظ حدقتی ونورھما ببرکۃ حدقتی محمد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ونورھما لم یعم ۔
یعنی طاؤسی فرماتے ہیں انہوں نے خواجہ شمس الدین محمد بن ابی نصر بخاری سے یہ حدیث سنی کہ جو شخص مؤذن سے کلمات شہادت سن کر انگوٹھوں کے ناخن چومے اور آنکھوں سے ملے اور یہ دعا پڑھے اللھم احفظ حدقتی ونورھما ببرکہ حدقتی محمد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ونورھما اندھا نہ ہو۔
شرح نقایہ میں ہے :
واعلم انہ یستحب ان یقال عند سماع الاولی من الشھادۃ الثانیۃ “ صلی الله تعالی علیك یارسول الله “ وعند الثانیۃ منھا “ قرۃ عینی بك یارسول الله “ ثم یقال “ اللھم متعنی بالسمع والبصربعدوضع ظفری الابھامین علی العینین “ فانہ صلی الله تعالی علیہ وسلم یکون قاعدا لہ الی الجنۃ کذافی کنزالعباد ۔
یعنی خبر دار ہو بیشك مستحب ہے کہ جب اذان میں پہلی بار اشھد ان محمدا رسول الله سنے صلی الله علیك یارسول الله ط کہے اور دوسری بار قرۃ عینی بك یارسول الله ط پھر انگوٹھوں کے ناخن آنکھوں پر رکھ کر کہے اللھم متعنی بالسمع والبصر ط کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماپنے پیچھے پیچھے اسے جنت میں لے جائیں گے ایسا ہی کنزالعباد
پھر فرمایا :
وقال الطاؤسی انہ سمع من الشمس محمد بن ابی نصر البخاری خواجہ حدیث من قبل عند سماعہ من المؤذن کلمۃ الشھادۃ ظفری ابھامیہ ومسھما علی عینیہ وقال عندالمس “ اللھم احفظ حدقتی ونورھما ببرکۃ حدقتی محمد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ونورھما لم یعم ۔
یعنی طاؤسی فرماتے ہیں انہوں نے خواجہ شمس الدین محمد بن ابی نصر بخاری سے یہ حدیث سنی کہ جو شخص مؤذن سے کلمات شہادت سن کر انگوٹھوں کے ناخن چومے اور آنکھوں سے ملے اور یہ دعا پڑھے اللھم احفظ حدقتی ونورھما ببرکہ حدقتی محمد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ونورھما اندھا نہ ہو۔
شرح نقایہ میں ہے :
واعلم انہ یستحب ان یقال عند سماع الاولی من الشھادۃ الثانیۃ “ صلی الله تعالی علیك یارسول الله “ وعند الثانیۃ منھا “ قرۃ عینی بك یارسول الله “ ثم یقال “ اللھم متعنی بالسمع والبصربعدوضع ظفری الابھامین علی العینین “ فانہ صلی الله تعالی علیہ وسلم یکون قاعدا لہ الی الجنۃ کذافی کنزالعباد ۔
یعنی خبر دار ہو بیشك مستحب ہے کہ جب اذان میں پہلی بار اشھد ان محمدا رسول الله سنے صلی الله علیك یارسول الله ط کہے اور دوسری بار قرۃ عینی بك یارسول الله ط پھر انگوٹھوں کے ناخن آنکھوں پر رکھ کر کہے اللھم متعنی بالسمع والبصر ط کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماپنے پیچھے پیچھے اسے جنت میں لے جائیں گے ایسا ہی کنزالعباد
حوالہ / References
المقاصد الحسنۃ باب المیم حدیث ۱۰۲۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان ص ۳۸۵
جامع الرموز فصل الاذان مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۱۲۵
جامع الرموز فصل الاذان مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۱۲۵
میں ہے۔
علامہ شامی قدس سرہ السامی اسے نقل کرکے فرماتے ہیں : ونحوہ فی الفتاوی الصوفیۃ یعنی اسی طرح امام فقیہ عارف بالله سیدی فضل الله بن محمد بن ایوب سہر وردی تلمیذ امام علامہ یوسف بن عمر صاحب جامع المضمرات شرح قدوری قدس سرہمانے فتاوی صوفیہ میں فرمایا) شیخ مشایخنا خاتم المحققین سیدالعلماء الحنفیہ بمکہ المحمیہ مولنا جمال بن عبدالله عمر مکی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اپنے فتاوی میں فرماتے ہیں :
سئلت عن تقبیل الابھامین ووضعھماعلی العینین عندذکراسمہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فی الاذان ھل ھو جائز ام لا اجبت بمانصہ نعم تقبیل الابھامین ووضعھما علی العینین عند ذکر اسمہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فی الاذان جائز بل ھو مستحب صرح بہ مشایخنا فی غیر ماکتاب ۔
یعنی مجھ سے سوال ہواکہ اذان میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ذکر شریف سن کر انگوٹھے چومنا اور آنکھوں پر رکھنا جائز ہے یا نہیں میں نے ان لفظوں سے جواب دیا کہ ہاں اذان میں حضور والا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا نام پاك سن کر انگوٹھے چومنا آنکھوں پر رکھا جائز بلکہ مستحب ہے ہمارے مشایخ نے متعدد کتابوں میں اس کے مستحب ہونے کی تصریح فرمائی۔
علامہ محدث محمد طاہر فتنی رحمۃ اللہ تعالی علیہ“ تکملہ مجمع بحار الانوار “ میں حدیث کو صرف لایصح فرماکر لکھتے ہیں : وروی تجربۃ ذلك عن کثیرین یعنی اس کے تجربہ کی روایات بکثرت آئیں ۔
فقیر مجیب غفرالله تعالی لہ کہتا ہے اب طالب تحقیق وصاحب تدقیق افادات چند نافع وسودمندپر لحاظ کرے تاکہ بحول الله تعالی چہرہ حق سے نقاب اٹھے اور صدر کلام میں جن لطیف مباحث پر ہم نے نہایت اجمالی اشارے کیے ان کی قدرے تفصیل زیور گوش سا معین بنے کہ یہاں بسط کامل وشرح کا فل کے لئے تو دفتر وسیط بلکہ مجلد بسیط درکار والله الموفق ونعم المعین فاقول وبالله التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق۔
افادہ اول : (حدیث صحیح نہ ہونے کے یہ معنی نہیں کہ غلط ہے) محدثین کرام کا کسی حدیث کو فرمانا کہ صحیح نہیں اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ غلط وباطل ہے بلکہ صحیح ان کی اصطلاح میں ایك اعلی درجہ کی حدیث ہے
علامہ شامی قدس سرہ السامی اسے نقل کرکے فرماتے ہیں : ونحوہ فی الفتاوی الصوفیۃ یعنی اسی طرح امام فقیہ عارف بالله سیدی فضل الله بن محمد بن ایوب سہر وردی تلمیذ امام علامہ یوسف بن عمر صاحب جامع المضمرات شرح قدوری قدس سرہمانے فتاوی صوفیہ میں فرمایا) شیخ مشایخنا خاتم المحققین سیدالعلماء الحنفیہ بمکہ المحمیہ مولنا جمال بن عبدالله عمر مکی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اپنے فتاوی میں فرماتے ہیں :
سئلت عن تقبیل الابھامین ووضعھماعلی العینین عندذکراسمہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فی الاذان ھل ھو جائز ام لا اجبت بمانصہ نعم تقبیل الابھامین ووضعھما علی العینین عند ذکر اسمہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فی الاذان جائز بل ھو مستحب صرح بہ مشایخنا فی غیر ماکتاب ۔
یعنی مجھ سے سوال ہواکہ اذان میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ذکر شریف سن کر انگوٹھے چومنا اور آنکھوں پر رکھنا جائز ہے یا نہیں میں نے ان لفظوں سے جواب دیا کہ ہاں اذان میں حضور والا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا نام پاك سن کر انگوٹھے چومنا آنکھوں پر رکھا جائز بلکہ مستحب ہے ہمارے مشایخ نے متعدد کتابوں میں اس کے مستحب ہونے کی تصریح فرمائی۔
علامہ محدث محمد طاہر فتنی رحمۃ اللہ تعالی علیہ“ تکملہ مجمع بحار الانوار “ میں حدیث کو صرف لایصح فرماکر لکھتے ہیں : وروی تجربۃ ذلك عن کثیرین یعنی اس کے تجربہ کی روایات بکثرت آئیں ۔
فقیر مجیب غفرالله تعالی لہ کہتا ہے اب طالب تحقیق وصاحب تدقیق افادات چند نافع وسودمندپر لحاظ کرے تاکہ بحول الله تعالی چہرہ حق سے نقاب اٹھے اور صدر کلام میں جن لطیف مباحث پر ہم نے نہایت اجمالی اشارے کیے ان کی قدرے تفصیل زیور گوش سا معین بنے کہ یہاں بسط کامل وشرح کا فل کے لئے تو دفتر وسیط بلکہ مجلد بسیط درکار والله الموفق ونعم المعین فاقول وبالله التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق۔
افادہ اول : (حدیث صحیح نہ ہونے کے یہ معنی نہیں کہ غلط ہے) محدثین کرام کا کسی حدیث کو فرمانا کہ صحیح نہیں اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ غلط وباطل ہے بلکہ صحیح ان کی اصطلاح میں ایك اعلی درجہ کی حدیث ہے
حوالہ / References
فتاوٰی جمال بن عبداللہ عمرمکی
خاتمہ مجمع بحار الانوار فصل فی تعینی بعض الاجابت المشتہرۃ الخ نولکشور لکھنؤ ۳ / ۵۱۱
خاتمہ مجمع بحار الانوار فصل فی تعینی بعض الاجابت المشتہرۃ الخ نولکشور لکھنؤ ۳ / ۵۱۱
جس کے شرائط سخت ودشوار اور موانع وعلائق کثیر وبسیار حدیث میں ان سب کا اجتماع اور ان سب کا ارتفاع کم ہوتا ہے پھر اس کمی کے ساتھ اس کے اثبات میں سخت دقتیں اگر اس مبحث کی تفصیل کی جائے کلام طویل تحریر میں آئے ان کے نزدیك جہاں ان باتوں میں کہیں بھی کمی ہوئی فرمادیتے ہیں “ یہ حدیث صحیح نہیں “ یعنی اس درجہ علیا کو نہ پہنچی اس سے دوسرے درجہ کی حدیث کو حسن کہتے ہیں یہ باآنکہ صحیح نہیں پھر بھی اس میں کوئی قباحت نہیں ہوتی ورنہ حسن ہی کیوں کہلاتی فقط اتنا ہوتا ہے کہ اس کا پایہ بعض اوصاف میں اس بلند مرتبے سے جھکا ہوتا ہے اس قسم کی بھی سیکڑوں حدیثیں صحیح مسلم وغیرہ کتب صحاح بلکہ عندالتحقیق بعض صحیح بخاری میں بھی ہیں یہ قسم بھی استناد واحتجاج کی پوری لیاقت رکھتی ہے۔ وہی علماء جو اسے صحیح نہیں کہتے برابر اس پر اعتماد فرماتے اور احکام حلال وحرام میں حجت بناتے ہیں امام محقق محمد محمد محمد ابن امیرالحاج حلبی رحمۃ اللہ تعالی علیہحلیہ شرح منیہ عـــہ۱ میں فرماتے ہیں :
قول الترمذی “ لایصح عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فی ھذا الباب شیئ انتھی لاینفی وجود الحسن ونحوہ والمطلوب لایتوقف ثبوتہ علی الصحیح بل کمایثبت بہ یثبت بالحسن ایضا ۔
ترمذی کا یہ فرمانا کہ اس باب میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے کوئی صحیح حدیث نہیں ملی انتہی حسن اور اس کے مثل کی نفی نہیں کرتا اور ثبوت مقصود کچھ صحیح ہی پر موقوف نہیں بلکہ جس طرح اس سے ثابت ہوتا ہے یونہی حسن سے بھی ثابت ہوتا ہے۔
اسی عـــہ۲ میں ہے :
علی المشی علی مقتضی الاصطلاح الحدیثی لایلزم من نفی الصحۃ نفی الثبوت علی وجہ الحسن ۔
یعنی اصطلاح علم حدیث کی رو سے صحت کی نفی حسن ہوکر ثبوت کی نافی نہیں ۔
امام ابن حجر مکی صواعق محرقہ عـــہ۳ میں فرماتے ہیں :
قول احمد “ انہ حدیث لایصح ای
یعنی امام احمد کا فرمانا کہ یہ حدیث صحیح نہیں اس کے
عـــہ۱ : ذکرہ فی مسئلۃ المسح بالمندیل بعد الوضوء ۱۲ منہ : عـــہ۲ : آخر صفۃ الصلاۃ قبیل فصل فیما کرہ فعلہ فی الصلوۃ ۱۲ منہ : عـــہ۳ : ذکرہ فی حدیث التوسعۃ علی العیال یوم العاشوراء فی اخر الفصل الاول من الباب الحادی عشر قبیل الفصل الثانی ۱۲ منہ
وضو کے بعدتولیہ استعمال کرنے کے مسئلہ میں اس کو ذکر کیا ہے۔ ۱۲ منہ (ت)
صفۃ الصلوۃ کے آخر میں فیما کرہ فعلہ فی الصلوۃ سے تھوڑا پہلے اسے ذکر کیاہے ۱۲ منہ (ت)
گیارھویں باب کی فصل اول کے آخر اور فصل ثانی سے تھوڑا پہلے عاشورا کے دن اہل وعیال پر وسعت والی حدیث میں اس کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
قول الترمذی “ لایصح عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فی ھذا الباب شیئ انتھی لاینفی وجود الحسن ونحوہ والمطلوب لایتوقف ثبوتہ علی الصحیح بل کمایثبت بہ یثبت بالحسن ایضا ۔
ترمذی کا یہ فرمانا کہ اس باب میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے کوئی صحیح حدیث نہیں ملی انتہی حسن اور اس کے مثل کی نفی نہیں کرتا اور ثبوت مقصود کچھ صحیح ہی پر موقوف نہیں بلکہ جس طرح اس سے ثابت ہوتا ہے یونہی حسن سے بھی ثابت ہوتا ہے۔
اسی عـــہ۲ میں ہے :
علی المشی علی مقتضی الاصطلاح الحدیثی لایلزم من نفی الصحۃ نفی الثبوت علی وجہ الحسن ۔
یعنی اصطلاح علم حدیث کی رو سے صحت کی نفی حسن ہوکر ثبوت کی نافی نہیں ۔
امام ابن حجر مکی صواعق محرقہ عـــہ۳ میں فرماتے ہیں :
قول احمد “ انہ حدیث لایصح ای
یعنی امام احمد کا فرمانا کہ یہ حدیث صحیح نہیں اس کے
عـــہ۱ : ذکرہ فی مسئلۃ المسح بالمندیل بعد الوضوء ۱۲ منہ : عـــہ۲ : آخر صفۃ الصلاۃ قبیل فصل فیما کرہ فعلہ فی الصلوۃ ۱۲ منہ : عـــہ۳ : ذکرہ فی حدیث التوسعۃ علی العیال یوم العاشوراء فی اخر الفصل الاول من الباب الحادی عشر قبیل الفصل الثانی ۱۲ منہ
وضو کے بعدتولیہ استعمال کرنے کے مسئلہ میں اس کو ذکر کیا ہے۔ ۱۲ منہ (ت)
صفۃ الصلوۃ کے آخر میں فیما کرہ فعلہ فی الصلوۃ سے تھوڑا پہلے اسے ذکر کیاہے ۱۲ منہ (ت)
گیارھویں باب کی فصل اول کے آخر اور فصل ثانی سے تھوڑا پہلے عاشورا کے دن اہل وعیال پر وسعت والی حدیث میں اس کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
حلیۃ المحلی
حلیۃ المحلی
حلیۃ المحلی
لذاتہ فلاینفی کونہ حسنا لغیرہ والحسن لغیرہ یحتج بہ کمابین فی علم الحدیث ۔
یہ معنے ہیں کہ صحیح لذاتہ نہیں تو یہ حسن لغیرہ ہونے کی نفی نہ کریگا اور حسن اگرچہ لغیرہ ہو حجت ہے جیسا کہ علم حدیث میں بیان ہوچکا۔
سندالحفاظ امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالی علیہعلیہ اذکار امام نووی کی تخریج احادیث میں فرماتے ہیں :
من نفی الصحۃ لاینتفی الحسن اھ لایصح ملخصا
ملخصا یعنی صحت کی نفی سے حدیث کا حسن ہونا منتفی نہیں ہوتا۔ اھ ملخصا
یہی امام نزہۃ النظر فی توضیح نخبۃ الفکر میں فرماتے ہیں :
ھذا القسم من الحسن مشارك للصحیح فی الاحتجاج بہ وان کان دونہ ۔
یعنی حدیث حسن لذاتہ اگرچہ صحیح سے کم درجہ میں ہے مگر حجت ہونے میں صحیح کی شریك ہے۔
مولنا علی قاری موضوعات کبیر میں فرماتے ہیں :
لایصح لاینافی الحسن اھ ملخصا
یعنی محدثین کا قول کہ یہ حدیث صحیح نہیں اس کے حسن ہونے کی نفی نہیں کرتا۔ اھ ملخصا
سیدی نورالدین علی سمہودی جواہر العقدین فی فضل الشرفین میں فرماتے ہیں :
قدیکون غیر صحیح وھوصالح للاحتجاج بہ اذالحسن رتبۃ بین الصحیح والضعیف ۔
یعنی کبھی حدیث صحیح نہیں ہوتی اور باوجود اس کے وہ قابل حجت ہے اس لئے کہ حسن کا رتبہ صحیح وضعیف کے درمیان ہے۔
حدیث کان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ینھی ان ینتعل الرجل قائما (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ایك آدمی کو کھڑے ہوکر جوتا پہننے سے منع فرمایا۔ ت)کو امام ترمذی نے جابر وانسرضی اللہ تعالی عنہماسے روایت کرکے فرمایا :
یہ معنے ہیں کہ صحیح لذاتہ نہیں تو یہ حسن لغیرہ ہونے کی نفی نہ کریگا اور حسن اگرچہ لغیرہ ہو حجت ہے جیسا کہ علم حدیث میں بیان ہوچکا۔
سندالحفاظ امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالی علیہعلیہ اذکار امام نووی کی تخریج احادیث میں فرماتے ہیں :
من نفی الصحۃ لاینتفی الحسن اھ لایصح ملخصا
ملخصا یعنی صحت کی نفی سے حدیث کا حسن ہونا منتفی نہیں ہوتا۔ اھ ملخصا
یہی امام نزہۃ النظر فی توضیح نخبۃ الفکر میں فرماتے ہیں :
ھذا القسم من الحسن مشارك للصحیح فی الاحتجاج بہ وان کان دونہ ۔
یعنی حدیث حسن لذاتہ اگرچہ صحیح سے کم درجہ میں ہے مگر حجت ہونے میں صحیح کی شریك ہے۔
مولنا علی قاری موضوعات کبیر میں فرماتے ہیں :
لایصح لاینافی الحسن اھ ملخصا
یعنی محدثین کا قول کہ یہ حدیث صحیح نہیں اس کے حسن ہونے کی نفی نہیں کرتا۔ اھ ملخصا
سیدی نورالدین علی سمہودی جواہر العقدین فی فضل الشرفین میں فرماتے ہیں :
قدیکون غیر صحیح وھوصالح للاحتجاج بہ اذالحسن رتبۃ بین الصحیح والضعیف ۔
یعنی کبھی حدیث صحیح نہیں ہوتی اور باوجود اس کے وہ قابل حجت ہے اس لئے کہ حسن کا رتبہ صحیح وضعیف کے درمیان ہے۔
حدیث کان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ینھی ان ینتعل الرجل قائما (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ایك آدمی کو کھڑے ہوکر جوتا پہننے سے منع فرمایا۔ ت)کو امام ترمذی نے جابر وانسرضی اللہ تعالی عنہماسے روایت کرکے فرمایا :
حوالہ / References
الصواعق المحرقہ الفصل الاول فی الآیات الواردۃ فیہم مطبوعہ مکتبہ مجیدیہ ملتان ص ۱۸۵
نتائج الافکار فی تخریج احادیث الاذکار
نزہۃ النظر فی توضیح نخبۃ الفکر بحث حدیث حسن لذاتہ مطبوعہ مطبع علیمی لاہور ص۳۳
الاسرار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ حدیث ۹۲۹ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ص ۲۳۶
جواہر العقدین فی فضل الشرفین
جامع الترمذی باب ماجاء فی کراہیۃ المشی فی النعل الواحدۃ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۲۰۹
نتائج الافکار فی تخریج احادیث الاذکار
نزہۃ النظر فی توضیح نخبۃ الفکر بحث حدیث حسن لذاتہ مطبوعہ مطبع علیمی لاہور ص۳۳
الاسرار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ حدیث ۹۲۹ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ص ۲۳۶
جواہر العقدین فی فضل الشرفین
جامع الترمذی باب ماجاء فی کراہیۃ المشی فی النعل الواحدۃ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۲۰۹
کلا الحدیثین لایصح عند اھل الحدیث ۔
دونوں حدیثیں محدثین کے نزدیك صحیح نہیں ۔
علامہ عبدالباقی زرقانی شرح مواہب میں اسے نقل کرکے فرماتے ہیں عـــہ :
نفیہ الصحۃ لاینافی انہ حسن کماعلم ۔
صحت کی نفی حسن ہونے کے منافی نہیں جیسا کہ معلوم ہوچکا ہے۔
شیخ محقق مولنا عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہشرح صراط المستقیم میں فرماتے ہیں :
حکم بعدم صحت کردن بحسب اصطلاح محدثین غرابت ندارد چہ صحت درحدیث چنانچہ درمقدمہ معلوم شددرجہ اعلی ست دائرہ آں تنگ ترجمیع احادیث کہ درکتب مذکور ست حتی دریں شش کتاب کہ آنرا صحاح ستہ گویند ہم بہ اصطلاح ایشاں صحیح نیست بلکہ تسمیہ آنہا صحاح باعتبار تغلیب ست ۔
اصطلاح محدثین میں عدم صحت کا ذکر غرابت کا حکم نہیں رکھتا کیونکہ حدیث کا صحیح ہونا اس کا اعلی ترین درجہ ہے جیسا کہ مقدمہ میں معلوم ہوچکا ہے اور اس کا دائرہ نہایت ہی تنگ ہے تمام احادیث جو کتابوں میں مذکور ہیں حتی کہ ان چھ۶ کتب میں بھی جن کو صحاح ستہ کہا جاتا ہے۔ محدثین کی اصطلاح کے مطابق صحیح نہیں ہیں بلکہ ان کو تغلیبا صحیح کہا جاتا ہے۔ (ت)
مرقاۃ شرح مشکوۃمیں امام محقق علی الاطلاق سیدی کمال الحق والدین محمد بن الہمام رحمۃ اللہ تعالی علیہسے منقول :
وقول من یقول فی حدیث انہ لم یصح ان سلم لم یقدح لانہ الحجیۃ لاتتوقف علی الصحۃ بل الحسن کاف ۔
یعنی کسی حدیث کی نسبت کہنے والے کا یہ کہنا کہ وہ صحیح نہیں اگر مان لیا جائے تو کچھ حرج نہیں ڈالتاکہ حجیت کچھ صحیح ہونے پر موقوف نہیں بلکہ حسن کافی ہے۔
عـــہ : المقصد الثالث النوع الثانی ذکر نعلہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ۱۲ منہ (م)
تیسرے مقصد دوسری نوع نعل مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ذکر میں اس کا بیان ہے۔ (ت)
دونوں حدیثیں محدثین کے نزدیك صحیح نہیں ۔
علامہ عبدالباقی زرقانی شرح مواہب میں اسے نقل کرکے فرماتے ہیں عـــہ :
نفیہ الصحۃ لاینافی انہ حسن کماعلم ۔
صحت کی نفی حسن ہونے کے منافی نہیں جیسا کہ معلوم ہوچکا ہے۔
شیخ محقق مولنا عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہشرح صراط المستقیم میں فرماتے ہیں :
حکم بعدم صحت کردن بحسب اصطلاح محدثین غرابت ندارد چہ صحت درحدیث چنانچہ درمقدمہ معلوم شددرجہ اعلی ست دائرہ آں تنگ ترجمیع احادیث کہ درکتب مذکور ست حتی دریں شش کتاب کہ آنرا صحاح ستہ گویند ہم بہ اصطلاح ایشاں صحیح نیست بلکہ تسمیہ آنہا صحاح باعتبار تغلیب ست ۔
اصطلاح محدثین میں عدم صحت کا ذکر غرابت کا حکم نہیں رکھتا کیونکہ حدیث کا صحیح ہونا اس کا اعلی ترین درجہ ہے جیسا کہ مقدمہ میں معلوم ہوچکا ہے اور اس کا دائرہ نہایت ہی تنگ ہے تمام احادیث جو کتابوں میں مذکور ہیں حتی کہ ان چھ۶ کتب میں بھی جن کو صحاح ستہ کہا جاتا ہے۔ محدثین کی اصطلاح کے مطابق صحیح نہیں ہیں بلکہ ان کو تغلیبا صحیح کہا جاتا ہے۔ (ت)
مرقاۃ شرح مشکوۃمیں امام محقق علی الاطلاق سیدی کمال الحق والدین محمد بن الہمام رحمۃ اللہ تعالی علیہسے منقول :
وقول من یقول فی حدیث انہ لم یصح ان سلم لم یقدح لانہ الحجیۃ لاتتوقف علی الصحۃ بل الحسن کاف ۔
یعنی کسی حدیث کی نسبت کہنے والے کا یہ کہنا کہ وہ صحیح نہیں اگر مان لیا جائے تو کچھ حرج نہیں ڈالتاکہ حجیت کچھ صحیح ہونے پر موقوف نہیں بلکہ حسن کافی ہے۔
عـــہ : المقصد الثالث النوع الثانی ذکر نعلہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ۱۲ منہ (م)
تیسرے مقصد دوسری نوع نعل مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ذکر میں اس کا بیان ہے۔ (ت)
حوالہ / References
جامع الترمذی باب ماجاء فی کراہیۃ المشی فی النعل الواحدۃ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۲۰۹
شرح الزرقانی علی المواہب ذکر نعلہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مطبعۃ عامرہ مصر ۵ / ۵۵
شرح صراط المستقیم لعبدالحق المحدث الدہلوی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ص ۵۰۲
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ الفصل الثانی من باب مالایجوز من العمل فی الصلاۃ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۳ / ۱۸
شرح الزرقانی علی المواہب ذکر نعلہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مطبعۃ عامرہ مصر ۵ / ۵۵
شرح صراط المستقیم لعبدالحق المحدث الدہلوی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ص ۵۰۲
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ الفصل الثانی من باب مالایجوز من العمل فی الصلاۃ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۳ / ۱۸
تو یہ بات خوب یاد رکھنے کی ہے کہ صحت حدیث سے انکار نفی حسن میں بھی نص نہیں جس سے قاببلیت احتجاج منتفی ہو نہ کہ صالح ولائق اعتبار نہ ہونانہ کہ محض باطل وموضوع ٹھہرناجس کی طرف کسی جاہل کا بھی ذہن نہ جائیگاکہ صحیح وموضوع دونوں ابتداء وانتہاء کے کناروں پر واقع ہیں سب سے اعلی صحیح اور سب سے بدتر موضوع اور وسط میں بہت اقسام حدیث ہیں درجہ بدرجہ (حدیث کے مراتب اور ان کے احکام) مرتبہ صحیح کے بعد حسن لذاتہ بلکہ صحیح لغیرہ پھر حسن لذاتہ پھر حسن لغیرہ پھر ضعیف بضعف قریب اس حد تك کہ صلاحیت اعتبار باقی رکھے جیسے اختلاط راوی یا سوء حفظ یا تدلیس وغیرہا اول کے تین بلکہ چاروں قسم کو ایك مذہب پر اسم ثبوت متناول ہے اور وہ سب محتج بہاہیں اور آخر کی قسم صالح یہ متابعات وشواہد میں کام آتی ہے اور جابر سے قوت پاکر حسن لغیرہ بلکہ صحیح لغیرہ ہوجاتی ہے اس وقت وہ صلاحیت احتجاج وقبول فی الاحکام کا زیور گرانبہاپہنتی ہے ورنہ دربارہ فضائل تو آپ ہی مقبول وتنہا کافی ہے پھر درجہ ششم میں ضعف قوی ووہن شدید ہے جیسے راوی کے فسق وغیرہ قوادح قویہ کے سبب متروك ہونا بشرطیکہ ہنوز سرحد کذب سے جدائی ہو یہ حدیث احکام میں احتجاج درکنار اعتبار کے بھی لائق نہیں ہاں فضائل میں مذہب راجح پر مطلقا اور بعض کے طور پر بعد انجبار بتعدد مخارج وتنوع طرق منصب قبول وعمل پاتی ہے کماسنبینہ ان شاء الله تعالی (ان شاء الله تعالی عنقریب ان کی تفصیلات آرہی ہیں ۔ ت) پھر درجہ ہفتم میں مرتبہ مطروح ہے جس کا مدار وضاع کذاب یا متہم بالکذب پر ہو یہ بدترین اقسام ہے بلکہ بعض محاورات کے رو سے مطلقا اور ایك اصطلاح پر اس کی نوع اشد یعنی جس کا مدار کذب پر ہو عین موضوع یا نظر تدقیق میں یوں کہے کہ ان اطلاقات پر داخل موضوع حکمی ہے۔ ان سب کے بعد درجہ موضوع کاہے یہ بالاجماع نہ قابل انجبار نہ فضائل وغیرہا کسی باب میں لائق اعتبار بلکہ اسے حدیث کہنا ہی توسع وتجوز ہے حقیقۃ حدیث نہیں محض مجعول وافترا ہے والعیاذ بالله تبارك وتعالی۔ وسیرد علیك تفاصیل جل ذلك ان شاء الله العلی الاعلی(اس کی روشن تفاصیل ان شاء الله تعالی آپ کے لئے بیان کی جائیں گی۔ ت)طالب تحقیق ان چند حرفوں کو یاد رکھے کہ باوصف وجازت محصل وملخص علم کثیر ہیں اور شاید اس تحریر نفیس کے ساتھ ان سطور کے غیر میں کم ملیں ولله الحمد والمنۃ(سب خوبیاں اور احسان الله تعالی کیلئے ہے۔ ت)خیر بات دور پڑتی ہے کہنا اس قدر ہے کہ جب صحیح اور موضوع کے درمیان اتنی منزلیں ہیں تو انکار صحت سے اثبات وضع ماننا زمین وآسمان کے قلابے ملانا ہے بلکہ نفی صحت اگر بمعنی نفی ثبوت ہی لیجئے یعنی اس فرقہ محدثین کی اصطلاح پر جس کے نزدیك ثبوت صحت وحسن دونوں کو شامل تاہم اس کا حاصل اس قدر ہوگا کہ صحیح وحسن نہیں نہ کہ باطل وموضوع ہے کہ حسن موضوع کے بیچ میں بھی دور دراز میدان پڑے ہیں ۔
میں اس واضح بات پر سندیں کیا پیش کرتامگر کیاکیجئے کہ کام ان صاحبوں سے پڑاہے جو اغوائے عوام کے لئے دیدہ ودانستہ محض امی عامی بن جاتے اور مہر منیر کو زیردامن مکرو تزویر چھپانا چاہتے ہیں ۔ لہذا کلمات علماء سے اس روشن
میں اس واضح بات پر سندیں کیا پیش کرتامگر کیاکیجئے کہ کام ان صاحبوں سے پڑاہے جو اغوائے عوام کے لئے دیدہ ودانستہ محض امی عامی بن جاتے اور مہر منیر کو زیردامن مکرو تزویر چھپانا چاہتے ہیں ۔ لہذا کلمات علماء سے اس روشن
مقدمہ کی تصریحیں لیجئے :
۱امام سندالحفاظ و۲امام محقق علی الاطلاق و۳امام حلبی و۴امام مکی و۵علامہ زرقانی و۶علامہ سمہودی و۷علامہ ہروی کی عبارات کہ ابھی مذکور ہوئیں بحکم دلالۃ النص وفحوی الخطاب اس دعوی بینہ پر دلیل مبین کہ جب نفی صحت سے نفی حسن تك لازم نہیں تو اثبات وضع تو خیال محال سے ہمدوش وقرین۔
(حدیث کے صحیح نہ ہونے اور موضوع ہونے میں زمین آسمان کا فرق ہے)تاہم عبارات النص سنئے :
امام بدرالدین زرکشی کتاب النکت علی ابن الصلاح پھر امام جلال الدین سیوطی لآلی مصنوعہ پھر علامہ علی بن محمد بن عراق کنانی تنزیہ الشریعۃ المرفوعہ عن الاخبار الشنیعہ الموضوعہ پھر علامہ محمد طاہر فتنی خاتمہ مجمع بحار الانوار میں فرماتے ہیں :
بین قولنا لم یصح وقولنا موضوع بون کبیر فان الوضع اثبات الکذب والاختلاق وقولنا لم یصح لا یلزم منہ اثبات العدم وانما ھو اخبار عن عدم الثبوت وفرق بین الامرین ۔
یعنی ہم محدثین کا کسی حدیث کو کہنا کہ یہ صحیح نہیں اور موضوع کہنا ان دونوں میں بڑا بل ہے کہ موضوع کہنا تو اسے کذب وافتراء ٹھہرانا ہے اور غیر صحیح کہنے سے نفی حدیث لازم نہیں بلکہ اس کا حاصل تو سلب ثبوت ہے اور ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔
یہ لفظ لآلی کے ہیں اور اسی سے مجمع میں مختصرا نقل کیا تنزیہ میں اس کے بعد اتنا اور زیادہ فرمایا :
وھذا یجیئ فی کل حدیث قال فیہ ابن الجوزی “ لایصح “ او “ نحوہ “ ۔
یعنی امام ابن جوزی نے کتاب موضوعات میں جس جس حدیث کو غیر صحیح یا اس کے مانند کوئی لفظ کہا ہے ان سب میں یہی تقریر جاری ہے کہ ان اوصاف کے عدم سے ثبوت وضع سمجھنا حلیہ صحت سے عاطل وعاری ہے۔
امام ابن حجر عسقلانی القول المسددفی الذب عن مسند احمد میں فرماتے ہیں :
لایلزم من کون الحدیث لم یصح ان یکون موضوعا ۔
یعنی حدیث کے صحیح نہ ہونے سے موضوع ہونا لازم نہیں آتا۔
امام سیوطی کتاب التعقبات علی الموضوعات میں فرماتے ہیں :
اکثر ماحکم الذھبی علی ھذا الحدیث انہ قال متن لیس بصحیح وھذا صادق بضعفہ ۔
یعنی بڑھ سے بڑھ اس حدیث پر امام ذہبی نے اتنا
۱امام سندالحفاظ و۲امام محقق علی الاطلاق و۳امام حلبی و۴امام مکی و۵علامہ زرقانی و۶علامہ سمہودی و۷علامہ ہروی کی عبارات کہ ابھی مذکور ہوئیں بحکم دلالۃ النص وفحوی الخطاب اس دعوی بینہ پر دلیل مبین کہ جب نفی صحت سے نفی حسن تك لازم نہیں تو اثبات وضع تو خیال محال سے ہمدوش وقرین۔
(حدیث کے صحیح نہ ہونے اور موضوع ہونے میں زمین آسمان کا فرق ہے)تاہم عبارات النص سنئے :
امام بدرالدین زرکشی کتاب النکت علی ابن الصلاح پھر امام جلال الدین سیوطی لآلی مصنوعہ پھر علامہ علی بن محمد بن عراق کنانی تنزیہ الشریعۃ المرفوعہ عن الاخبار الشنیعہ الموضوعہ پھر علامہ محمد طاہر فتنی خاتمہ مجمع بحار الانوار میں فرماتے ہیں :
بین قولنا لم یصح وقولنا موضوع بون کبیر فان الوضع اثبات الکذب والاختلاق وقولنا لم یصح لا یلزم منہ اثبات العدم وانما ھو اخبار عن عدم الثبوت وفرق بین الامرین ۔
یعنی ہم محدثین کا کسی حدیث کو کہنا کہ یہ صحیح نہیں اور موضوع کہنا ان دونوں میں بڑا بل ہے کہ موضوع کہنا تو اسے کذب وافتراء ٹھہرانا ہے اور غیر صحیح کہنے سے نفی حدیث لازم نہیں بلکہ اس کا حاصل تو سلب ثبوت ہے اور ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔
یہ لفظ لآلی کے ہیں اور اسی سے مجمع میں مختصرا نقل کیا تنزیہ میں اس کے بعد اتنا اور زیادہ فرمایا :
وھذا یجیئ فی کل حدیث قال فیہ ابن الجوزی “ لایصح “ او “ نحوہ “ ۔
یعنی امام ابن جوزی نے کتاب موضوعات میں جس جس حدیث کو غیر صحیح یا اس کے مانند کوئی لفظ کہا ہے ان سب میں یہی تقریر جاری ہے کہ ان اوصاف کے عدم سے ثبوت وضع سمجھنا حلیہ صحت سے عاطل وعاری ہے۔
امام ابن حجر عسقلانی القول المسددفی الذب عن مسند احمد میں فرماتے ہیں :
لایلزم من کون الحدیث لم یصح ان یکون موضوعا ۔
یعنی حدیث کے صحیح نہ ہونے سے موضوع ہونا لازم نہیں آتا۔
امام سیوطی کتاب التعقبات علی الموضوعات میں فرماتے ہیں :
اکثر ماحکم الذھبی علی ھذا الحدیث انہ قال متن لیس بصحیح وھذا صادق بضعفہ ۔
یعنی بڑھ سے بڑھ اس حدیث پر امام ذہبی نے اتنا
حوالہ / References
مجمع بحارالانوار فصل وعلومہ واصطلاحتہ نولکشور لکھنؤ ۳ / ۵۰۶
تنزیہ الشریعۃ کتاب التوحید فصل ثانی دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ / ۱۴۰
القول المسدد الحدیث السابع مطبوعہ دائرۃ المعارف النعمانیہ حیدرآباد دکن ہند ص ۴۵
التعقبات علی الموضوعات باب بدء الخلق والانبیاء مکتبہ اشرعیہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ص ۴۹
تنزیہ الشریعۃ کتاب التوحید فصل ثانی دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ / ۱۴۰
القول المسدد الحدیث السابع مطبوعہ دائرۃ المعارف النعمانیہ حیدرآباد دکن ہند ص ۴۵
التعقبات علی الموضوعات باب بدء الخلق والانبیاء مکتبہ اشرعیہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ص ۴۹
حکم کیا یہ متن صحیح نہیں یہ بات ضعیف ہونے سے بھی صادق ہے۔
علی قاری موضوعات میں زیر بیان احادیث نقل فرماتے ہیں :
لایلزم عن عدم الصحۃ وجود الوضع کما لا یخفی ۔
یعنی کھلی ہوئی بات ہے کہ حدیث کے صحیح نہ ہونے سے موضوع ہونا لازم نہیں آتا
اسی میں روز عاشورا سرمہ لگانے کی حدیث پر امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالی علیہکا حکم “ لایصح ھذا الحدیث “ (یہ حدیث صحیح نہیں ۔ ت) نقل کرکے فرماتے ہیں :
قلت لایلزم من عدم صحتہ ثبوت وضعہ وغایتہ انہ ضعیف ۔
یعنی میں کہتا ہوں اس کے صحیح نہ ہونے سے موضوع ہونا لازم نہیں غایت یہ کہ ضعیف ہو۔
علامہ طاہر صاحب مجمع تذکرۃ الموضوعات میں امام سند الحفاظ عسقلانی سے ناقل :
ان لفظ “ لایثبت “ لایثبت الوضع فان الثابت یشمل الصحیح فقط والضعیف دونہ ۔
یعنی کسی حدیث کو بے ثبوت کہنے سے اس کی موضوعیت ثابت نہیں ہوتی کہ ثابت تو وہی حدیث ہے جو صحیح ہو اور ضعیف کا درجہ اس سے کم ہے۔
بلکہ مولنا علی قاری آخر موضوعات کبیر میں حدیث البطیخ قبل الطعام یغسل البطن غسلا ویذھب بالداء اصلا(کھانے سے پہلے تربوز کھانا پیٹ کو خوب دھودیتا ہے اور بیماری کو جڑ سے ختم کردیتا ہے۔ ت)کی نسبت قول امام ابن عساکر “ شاذلایصح “ (یہ شاذ ہے صحیح نہیں ۔ ت)نقل کرکے فرماتے ہیں :
ھو یفیدانہ غیر موضوع کمالایخفی ۔
یعنی ان کا یہ کہنا ہی بتارہا ہے کہ حدیث موضوع نہیں جیسا کہ خود ظاہر ہے۔
یعنی موضوع جانتے تو باطل یا کذب یا موضوع یا مفتری یا مختلق کہتے نفی صحت پر کیوں اقتصار کرتے فافھم
علی قاری موضوعات میں زیر بیان احادیث نقل فرماتے ہیں :
لایلزم عن عدم الصحۃ وجود الوضع کما لا یخفی ۔
یعنی کھلی ہوئی بات ہے کہ حدیث کے صحیح نہ ہونے سے موضوع ہونا لازم نہیں آتا
اسی میں روز عاشورا سرمہ لگانے کی حدیث پر امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالی علیہکا حکم “ لایصح ھذا الحدیث “ (یہ حدیث صحیح نہیں ۔ ت) نقل کرکے فرماتے ہیں :
قلت لایلزم من عدم صحتہ ثبوت وضعہ وغایتہ انہ ضعیف ۔
یعنی میں کہتا ہوں اس کے صحیح نہ ہونے سے موضوع ہونا لازم نہیں غایت یہ کہ ضعیف ہو۔
علامہ طاہر صاحب مجمع تذکرۃ الموضوعات میں امام سند الحفاظ عسقلانی سے ناقل :
ان لفظ “ لایثبت “ لایثبت الوضع فان الثابت یشمل الصحیح فقط والضعیف دونہ ۔
یعنی کسی حدیث کو بے ثبوت کہنے سے اس کی موضوعیت ثابت نہیں ہوتی کہ ثابت تو وہی حدیث ہے جو صحیح ہو اور ضعیف کا درجہ اس سے کم ہے۔
بلکہ مولنا علی قاری آخر موضوعات کبیر میں حدیث البطیخ قبل الطعام یغسل البطن غسلا ویذھب بالداء اصلا(کھانے سے پہلے تربوز کھانا پیٹ کو خوب دھودیتا ہے اور بیماری کو جڑ سے ختم کردیتا ہے۔ ت)کی نسبت قول امام ابن عساکر “ شاذلایصح “ (یہ شاذ ہے صحیح نہیں ۔ ت)نقل کرکے فرماتے ہیں :
ھو یفیدانہ غیر موضوع کمالایخفی ۔
یعنی ان کا یہ کہنا ہی بتارہا ہے کہ حدیث موضوع نہیں جیسا کہ خود ظاہر ہے۔
یعنی موضوع جانتے تو باطل یا کذب یا موضوع یا مفتری یا مختلق کہتے نفی صحت پر کیوں اقتصار کرتے فافھم
حوالہ / References
موضوعات ملا علی قاری بیان احادیث العقل حدیث ۱۲۲۳ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ص ۳۱۸
موضوعات ملاعلی قاری بیان احادیث الاکتحال یوم عاشورا الخ حدیث ۱۲۹۸ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ص ۳۴۱
مجمع تذکرۃ الموضوعات الباب الثانی فی اقسام الواضعین کتب خانہ مجیدیہ ملتان ص ۷
موضوعات ملاعلی قاری حدیث البطیخ قبل الطعام حدیث ۱۳۳۳ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ص ۳۵۰
موضوعات ملاعلی قاری بیان احادیث الاکتحال یوم عاشورا الخ حدیث ۱۲۹۸ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ص ۳۴۱
مجمع تذکرۃ الموضوعات الباب الثانی فی اقسام الواضعین کتب خانہ مجیدیہ ملتان ص ۷
موضوعات ملاعلی قاری حدیث البطیخ قبل الطعام حدیث ۱۳۳۳ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ص ۳۵۰
والله تعالی اعلم۔
تنبیہ : بحمدالله تعالی یہاں سے ان متکلمین طائفۃ منکرین کا جہل شنیع وزور فظیع بوضوع تام طشت ازبام ہوگیا جو کلمات علمامثل مقاصد حسنہ ومجمع البحار وتذکرۃ الموضوعات ومختصر المقاصد وغیرہا سے احادیث تقبیل ابہامین کی نفی صحت نقل کرکے بے دھڑك دعوی کردیتے ہیں کہ ان کے کلام سے بخوبی ثابت ہواکہ جو احادیث انگوٹھے چومنے میں لائی جاتی ہیں سب موضوع ہیں اور یہ فعل ممنوع وغیر مشروع ہے سبحان الله کہاں نفی صحت کہاں حکم وضع کیا مزہ کی بات ہے کہ جہاں درجات متعددہ ہوں وہاں سب میں اعلی کی نفی سے سب میں ادنی کا ثبوت ہوجائیگا مثلا زیدکوکہیے کہ بادشاہ نہیں تو اس کے معنی یہ ٹھہریں کہ نان شبینہ کو محتاج ہے یا متکلمین طائفہ کو کہئے کہ اولیا نہیں تو اس کا مطلب یہ قرار پائے کہ سب کافر ہیں ولکن الوھابیۃ قوم یجھلون۔
افادہ دوم : (جہالت راوی سے حدیث پر کیا اثر پڑتا ہے)کسی حدیث کی سند میں راوی کا مجہول ہونا اگر اثر کرتا ہے تو صرف اس قدر کہ اسے ضعیف کہاجائے نہ کہ باطل وموضوع بلکہ علما کو اس میں اختلاف ہے کہ جہالت قادح صحت ومانع حجیت بھی ہے یا نہیں تفصیل مقام یہ کہ (مجہول کی اقسام اور ان کے احکام)مجہول کی تین قسمیں ہیں :
۱اول مستور جس کی عدالت ظاہری معلوم اور باطنی کی تحقیق نہیں اس قسم کے راوی صحیح مسلم شریف میں بکثرت ہیں ۔
۲دوم مجہول العین جس سے صرف ایك ہی شخص نے روایت کی ہو۔
وھذا علی نزاع فیہ فان من العلماء من نفی الجھالۃ بروایۃ واحد معتمد مطلقا اواذاکان لایروی الاعن عدل عندہ کیحیی بن سعید القطان وعبدالرحمن بن مھدی والامام احمد فی مسندہ وھناك اقوال اخر۔
اس قسم میں نزاع ہے بعض محدثین نے مطلقا صرف ایك ثقہ راوی کی وجہ سے جہالت کی نفی کی ہے یا اس شرط کے ساتھ نفی کی ہے کہ وہ اس سے روایت کرتا ہے جو اس کے ہاں عادل ہے مثلا یحیی بن سعید بن القطان عبدالرحمن بن مہدی اور امام احمداپنی مسند میں اور یہاں دیگر اقوال بھی ہیں ۔ (ت)
۳سوم مجہول الحال جس کی عدالت ظاہری وباطنی کچھ ثابت نہیں وقدیطلق علی مایشمل المستور (کبھی اس کا اطلاق ایسے معنی پر ہوتا ہے جو مستور کو شامل ہوجائے۔ ت)
قسم اول یعنی مستور تو جمہور محققین کے نزدیك مقبول ہے یہی مذہب امام الائمہ سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہکاہے فتح المغیث میں ہے : قبلہ ابوحنیفۃ خلافا للشافعی (امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہاسے قبول
تنبیہ : بحمدالله تعالی یہاں سے ان متکلمین طائفۃ منکرین کا جہل شنیع وزور فظیع بوضوع تام طشت ازبام ہوگیا جو کلمات علمامثل مقاصد حسنہ ومجمع البحار وتذکرۃ الموضوعات ومختصر المقاصد وغیرہا سے احادیث تقبیل ابہامین کی نفی صحت نقل کرکے بے دھڑك دعوی کردیتے ہیں کہ ان کے کلام سے بخوبی ثابت ہواکہ جو احادیث انگوٹھے چومنے میں لائی جاتی ہیں سب موضوع ہیں اور یہ فعل ممنوع وغیر مشروع ہے سبحان الله کہاں نفی صحت کہاں حکم وضع کیا مزہ کی بات ہے کہ جہاں درجات متعددہ ہوں وہاں سب میں اعلی کی نفی سے سب میں ادنی کا ثبوت ہوجائیگا مثلا زیدکوکہیے کہ بادشاہ نہیں تو اس کے معنی یہ ٹھہریں کہ نان شبینہ کو محتاج ہے یا متکلمین طائفہ کو کہئے کہ اولیا نہیں تو اس کا مطلب یہ قرار پائے کہ سب کافر ہیں ولکن الوھابیۃ قوم یجھلون۔
افادہ دوم : (جہالت راوی سے حدیث پر کیا اثر پڑتا ہے)کسی حدیث کی سند میں راوی کا مجہول ہونا اگر اثر کرتا ہے تو صرف اس قدر کہ اسے ضعیف کہاجائے نہ کہ باطل وموضوع بلکہ علما کو اس میں اختلاف ہے کہ جہالت قادح صحت ومانع حجیت بھی ہے یا نہیں تفصیل مقام یہ کہ (مجہول کی اقسام اور ان کے احکام)مجہول کی تین قسمیں ہیں :
۱اول مستور جس کی عدالت ظاہری معلوم اور باطنی کی تحقیق نہیں اس قسم کے راوی صحیح مسلم شریف میں بکثرت ہیں ۔
۲دوم مجہول العین جس سے صرف ایك ہی شخص نے روایت کی ہو۔
وھذا علی نزاع فیہ فان من العلماء من نفی الجھالۃ بروایۃ واحد معتمد مطلقا اواذاکان لایروی الاعن عدل عندہ کیحیی بن سعید القطان وعبدالرحمن بن مھدی والامام احمد فی مسندہ وھناك اقوال اخر۔
اس قسم میں نزاع ہے بعض محدثین نے مطلقا صرف ایك ثقہ راوی کی وجہ سے جہالت کی نفی کی ہے یا اس شرط کے ساتھ نفی کی ہے کہ وہ اس سے روایت کرتا ہے جو اس کے ہاں عادل ہے مثلا یحیی بن سعید بن القطان عبدالرحمن بن مہدی اور امام احمداپنی مسند میں اور یہاں دیگر اقوال بھی ہیں ۔ (ت)
۳سوم مجہول الحال جس کی عدالت ظاہری وباطنی کچھ ثابت نہیں وقدیطلق علی مایشمل المستور (کبھی اس کا اطلاق ایسے معنی پر ہوتا ہے جو مستور کو شامل ہوجائے۔ ت)
قسم اول یعنی مستور تو جمہور محققین کے نزدیك مقبول ہے یہی مذہب امام الائمہ سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہکاہے فتح المغیث میں ہے : قبلہ ابوحنیفۃ خلافا للشافعی (امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہاسے قبول
حوالہ / References
فتح المغیث شرح الفیۃ الحدیث معرفۃ من تقبل روایتہ ومن ترد دارالامام الطبری بیروت ۲ / ۵۲
کرتے ہیں امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہاس میں اختلاف رکھتے ہیں ۔ ت)امام نووی فرماتے ہیں یہی صحیح ہے۔
قالہ فی شرح المھذب ذکرہ فی التدریب وکذلك مال الی اختیارہ الامام ابوعمروبن الصلاح فی مقدمتہ حیث قال فی المسئلۃ الثامنۃ من النوع الثالث والعشرین ویشبہ ان یکون العمل علی ھذا الرأی فی کثیر من کتب الحدیث المشھورۃ فی غیر واحد من الرواۃ الذین تقادم العھد بھم وتعذرت الخبرۃ الباطنۃ بھم ۔
یہ شرح المہذب میں ہے تدریب میں بھی اسے ذکر کیا امام ابوعمروبن الصلاح نے اپنے مقدمہ میں اسے ہی اختیار فرمایا انہوں نے تیسویں ۳۰ نوع کے آٹھویں مسئلہ میں کہاہے اس رائے پر متعدد ومشہور کتب میں عمل ہے جن میں بہت سے ایسے راویوں سے روایات لی گئی ہیں جن کا عہد بہت پرانا ہے اور ان کی باطن کے معاملات سے آگاہی دشوار ہے۔ (ت)
اور دو۲ قسم باقی کو بعض اکابر حجت جانتے جمہور مورث ضعف مانتے ہیں ۔ امام زین الدین عراقی الفیہ میں فرماتے ہیں :
واختلفوا ھل یقبل المجھول وھو علی ثلثۃ مجعول
مجھول عین من لہ راو فقط وردہ الاکثر والقسم الوسط
مجھول حال باطن وظاھر وحکمہ الردلدی الجماھر
الثالث المجھول للعدالۃ فی باطن فقط فقدرأی لہ
حجیۃ بعض من منع ماقبلہ منھم سلیم عـــہ فقطع
(مجہول کے بارے میں علماء حدیث کا اختلاف ہے کہ آیا اسے قبول کیا جائیگا یا نہیں اس کی تین۳ اقسام ہیں مجہول العین جس کو صرف ایك شخص نے روایت کیا ہو اسے اکثر نے رد کردیا ہے۔ اور دوسری قسم وہ مجہول ہے جس کے راوی کی ظاہری اور باطنی عدالت دونوں ثابت نہ ہوں اسے جمہور نے رد کردیا ہے تیسری قسم وہ مجہول ہے جس میں راوی کی صرف باطنی عدالت ثابت نہ ہو اسے بعض نے رد کیاہے اور بعض نے قبول کیاہے اور قبول کرنے والوں میں امام سلیم ہیں تو انہوں نے قطعی قبول کیا ہے۔ ت)
عـــہ : ای للامام سلیم بالتصغیر ابن ایوب الرازی الشافعی فانہ قطع بقبولہ ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ۔ (م)
اس سے مراد امام سلیم (تصغیر) ابن ایوب رازی شافعی ہیں ان کے نزدیك ایسی روایت کو قطعا قبول کیا جائیگا ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ(ت)
قالہ فی شرح المھذب ذکرہ فی التدریب وکذلك مال الی اختیارہ الامام ابوعمروبن الصلاح فی مقدمتہ حیث قال فی المسئلۃ الثامنۃ من النوع الثالث والعشرین ویشبہ ان یکون العمل علی ھذا الرأی فی کثیر من کتب الحدیث المشھورۃ فی غیر واحد من الرواۃ الذین تقادم العھد بھم وتعذرت الخبرۃ الباطنۃ بھم ۔
یہ شرح المہذب میں ہے تدریب میں بھی اسے ذکر کیا امام ابوعمروبن الصلاح نے اپنے مقدمہ میں اسے ہی اختیار فرمایا انہوں نے تیسویں ۳۰ نوع کے آٹھویں مسئلہ میں کہاہے اس رائے پر متعدد ومشہور کتب میں عمل ہے جن میں بہت سے ایسے راویوں سے روایات لی گئی ہیں جن کا عہد بہت پرانا ہے اور ان کی باطن کے معاملات سے آگاہی دشوار ہے۔ (ت)
اور دو۲ قسم باقی کو بعض اکابر حجت جانتے جمہور مورث ضعف مانتے ہیں ۔ امام زین الدین عراقی الفیہ میں فرماتے ہیں :
واختلفوا ھل یقبل المجھول وھو علی ثلثۃ مجعول
مجھول عین من لہ راو فقط وردہ الاکثر والقسم الوسط
مجھول حال باطن وظاھر وحکمہ الردلدی الجماھر
الثالث المجھول للعدالۃ فی باطن فقط فقدرأی لہ
حجیۃ بعض من منع ماقبلہ منھم سلیم عـــہ فقطع
(مجہول کے بارے میں علماء حدیث کا اختلاف ہے کہ آیا اسے قبول کیا جائیگا یا نہیں اس کی تین۳ اقسام ہیں مجہول العین جس کو صرف ایك شخص نے روایت کیا ہو اسے اکثر نے رد کردیا ہے۔ اور دوسری قسم وہ مجہول ہے جس کے راوی کی ظاہری اور باطنی عدالت دونوں ثابت نہ ہوں اسے جمہور نے رد کردیا ہے تیسری قسم وہ مجہول ہے جس میں راوی کی صرف باطنی عدالت ثابت نہ ہو اسے بعض نے رد کیاہے اور بعض نے قبول کیاہے اور قبول کرنے والوں میں امام سلیم ہیں تو انہوں نے قطعی قبول کیا ہے۔ ت)
عـــہ : ای للامام سلیم بالتصغیر ابن ایوب الرازی الشافعی فانہ قطع بقبولہ ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ۔ (م)
اس سے مراد امام سلیم (تصغیر) ابن ایوب رازی شافعی ہیں ان کے نزدیك ایسی روایت کو قطعا قبول کیا جائیگا ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ(ت)
حوالہ / References
مقدمہ ابن الصلاح النوع الثالث والعشرون مطبوعہ فاروقی کتب خانہ ملتان ص ۱۵۳
الفیہ فی اصول الحدیث مع فتح المغیث معرفۃ من تقبل روایتہ ومن ترد دارالامام الطبری بیروت ۲ / ۴۳
الفیہ فی اصول الحدیث مع فتح المغیث معرفۃ من تقبل روایتہ ومن ترد دارالامام الطبری بیروت ۲ / ۴۳
اسی طرح تقریب النواوی وتدریب الراوی وغیرہما میں ہے بلکہ امام نووی نے مجہول العین کا قبول بھی بہت محققین کی طرف نسبت فرمایامقدمہ منہاج میں فرماتے ہیں :
المجھول اقسام مجھول العدالۃ ظاھرا وباطنا ومجھولھاباطنامع وجودھاظاھراوھو المستور و مجھول العین فاما الاول فالجمھور علی انہ لا یحتج بہ واما الاخران فاحتج بھما کثیرون من المحققین ۔
مجہول کی کئی اقسام ہیں ایك یہ کہ راوی کی عدالت ظاہر وباطن میں غیر ثابت ہو دوسری قسم عدالت باطنا مجہول مگر ظاہرا معلوم ہو اور یہ مستور ہے اور تیسری قسم مجہول العین ہے پہلی قسم کے بارے میں جمہور کا اتفاق ہے کہ یہ قابل قبول نہیں اور دوسری دونوں اقسام سے اکثر محققین استدلال کرتے ہیں ۔ (ت)
بلکہ امام اجل عارف بالله سیدی ابوطالب مکی قدس سرہ الملکی اسی کو فقہائے کرام واولیائے عظام قدست اسرارہم کا مذہب قرار دیتے ہیں کتاب مستطاب جلیل القدر عظیم الفخر قوت القلوب فی معاملۃ المحبوب کی فصل ۳۱ میں فرماتے ہیں :
بعض مایضعف بہ رواۃ الحدیث وتعلل بہ احادیثھم لایکون تعلیلا ولاجرحا عند الفقہاء ولا عند العلماء بالله تعالی مثل ان یکون الراوی مجھولا لایثارہ الخمول وقدندب الیہ اولقلۃ الاتباع لہ اذلم یقم لھم الاثرۃ عنہ ۔
یعنی بعض وہ باتیں جن کے سبب راویوں کو ضعیف اور ان کی حدیثوں کو غیر صحیح کہہ دیا جاتاہے فقہاء وعلماء کے نزدیك باعث ضعف وجرح نہیں ہوتیں جیسے راوی کا مجہول ہونااس لئے کہ اس نے گمنامی پسندکی کہ خود شرع مطہر نے اس کی ترغیب فرمائی یا اس کے شاگرد کم ہوئے کہ لوگوں کو اس سے روایت کا اتفاق نہ ہوا۔
بہرحال نزاع اس میں ہے کہ جہالت سرے سے وجوہ طعن سے بھی ہے یا نہیں یہ کوئی نہیں کہتاکہ جس حدیث کا راوی مجہول ہو خواہی نخواہی باطل ومجعول ہو بعض متشددین نے اگر دعوے سے قاصر دلیل ذکر بھی کی علماء نے فورا ردوابطال فرمادیاکہ جہالت کو وضع سے کیا علاقہ مولانا علی قاری رسالہ فضائل نصف شعبان فرماتے ہیں :
المجھول اقسام مجھول العدالۃ ظاھرا وباطنا ومجھولھاباطنامع وجودھاظاھراوھو المستور و مجھول العین فاما الاول فالجمھور علی انہ لا یحتج بہ واما الاخران فاحتج بھما کثیرون من المحققین ۔
مجہول کی کئی اقسام ہیں ایك یہ کہ راوی کی عدالت ظاہر وباطن میں غیر ثابت ہو دوسری قسم عدالت باطنا مجہول مگر ظاہرا معلوم ہو اور یہ مستور ہے اور تیسری قسم مجہول العین ہے پہلی قسم کے بارے میں جمہور کا اتفاق ہے کہ یہ قابل قبول نہیں اور دوسری دونوں اقسام سے اکثر محققین استدلال کرتے ہیں ۔ (ت)
بلکہ امام اجل عارف بالله سیدی ابوطالب مکی قدس سرہ الملکی اسی کو فقہائے کرام واولیائے عظام قدست اسرارہم کا مذہب قرار دیتے ہیں کتاب مستطاب جلیل القدر عظیم الفخر قوت القلوب فی معاملۃ المحبوب کی فصل ۳۱ میں فرماتے ہیں :
بعض مایضعف بہ رواۃ الحدیث وتعلل بہ احادیثھم لایکون تعلیلا ولاجرحا عند الفقہاء ولا عند العلماء بالله تعالی مثل ان یکون الراوی مجھولا لایثارہ الخمول وقدندب الیہ اولقلۃ الاتباع لہ اذلم یقم لھم الاثرۃ عنہ ۔
یعنی بعض وہ باتیں جن کے سبب راویوں کو ضعیف اور ان کی حدیثوں کو غیر صحیح کہہ دیا جاتاہے فقہاء وعلماء کے نزدیك باعث ضعف وجرح نہیں ہوتیں جیسے راوی کا مجہول ہونااس لئے کہ اس نے گمنامی پسندکی کہ خود شرع مطہر نے اس کی ترغیب فرمائی یا اس کے شاگرد کم ہوئے کہ لوگوں کو اس سے روایت کا اتفاق نہ ہوا۔
بہرحال نزاع اس میں ہے کہ جہالت سرے سے وجوہ طعن سے بھی ہے یا نہیں یہ کوئی نہیں کہتاکہ جس حدیث کا راوی مجہول ہو خواہی نخواہی باطل ومجعول ہو بعض متشددین نے اگر دعوے سے قاصر دلیل ذکر بھی کی علماء نے فورا ردوابطال فرمادیاکہ جہالت کو وضع سے کیا علاقہ مولانا علی قاری رسالہ فضائل نصف شعبان فرماتے ہیں :
حوالہ / References
مقدمہ للامام النووی من شرح صحیح مسلم مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ص۱۷
قوت القلوب فصل الحادی والثلاثون باب تفضیل الاخبار مطبوعہ دارصادر بیروت ۱ / ۱۷۷
قوت القلوب فصل الحادی والثلاثون باب تفضیل الاخبار مطبوعہ دارصادر بیروت ۱ / ۱۷۷
جھالۃ بعض الرواۃ لاتقتضی کون الحدیث موضوعا وکذا نکارہ الالفاظ فینبغی ان یحکم علیہ بانہ ضعیف ثم یعمل بالضعیف فی فضائل الاعمال ۔
یعنی بعض راویوں کا مجہول یا الفاظ کا بے قاعدہ ہونا یہ نہیں چاہتا کہ حدیث موضوع ہو ہاں ضعیف کہو پھر فضائل اعمال میں ضعیف پر عمل کیاجاتا ہے۔
مرقاۃ شرح عـــہ۱ مشکوۃ میں امام ابن حجر مکی سے نقل فرمایا : فیہ راومجھول ولایضر لانہ من احادیث الفضائل (اس میں ایك راوی مجہول ہے اور کچھ نقصان نہیں کہ یہ حدیث تو فضائل کی ہے) موضوعات کبیر میں استاذ المحدثین امام زین الدین عراقی سے نقل فرمایا : انہ عـــہ۲ لیس بموضوع وفی سندہ مجھول (یہ موضوع نہیں اس کی سند میں ایك راوی مجہول ہے)امام بدر الدین زرکشی پھر امام محقق جلال الدین سیوطی لآلی مصنوعہ میں فرماتے ہیں :
لوثبتت عـــہ۳ جھالتہ لم یلزم ان یکون الحدیث موضوعا ما لم یکن فی اسنادہ من یتھم بالوضع ۔
یعنی روی کی جہالت ثابت بھی ہوتو حدیث کا موضوع ہونا لازم نہیں جب تك اس کی سند میں کوئی راوی وضع حدیث سے متہم نہ ہو۔
عـــہ۱ : ذکرہ فی باب فضل الاذان واجابۃ المؤذن آخر الفصل الثانی ۱۲ منہ (م)
عـــہ۲ : یرید حدیث عالم قریش یملؤ الارض علما ۱۲ منہ (م)
عـــہ۳ : قالہ فی حدیث ابن عباس رضی الله تعالی عنہما فی صلاۃ التسبیح لکن اھملہ ابوالفرج بجھالۃ موسی بن عبدالعزیز ۱۲ منہ۔ (م)
فضیلت اذان اور جواب اذان کے باب کی فصل ثانی کے آخر میں اس کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
حدیث “ قریش کا ایك عالم زمین کو علم کی دولت سے بھر دیگا “ کے تحت اس کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
صلوۃ التسبیح کے بارے میں حضرت عبدالله ابن عباس کی حدیث میں اس کو ذکر کیاہے لیکن ابوالفرج نے موسی بن عبدالعزیز کی جہالت کی بنا پر اس کو چھوڑدیا ہے۔ (ت)
یعنی بعض راویوں کا مجہول یا الفاظ کا بے قاعدہ ہونا یہ نہیں چاہتا کہ حدیث موضوع ہو ہاں ضعیف کہو پھر فضائل اعمال میں ضعیف پر عمل کیاجاتا ہے۔
مرقاۃ شرح عـــہ۱ مشکوۃ میں امام ابن حجر مکی سے نقل فرمایا : فیہ راومجھول ولایضر لانہ من احادیث الفضائل (اس میں ایك راوی مجہول ہے اور کچھ نقصان نہیں کہ یہ حدیث تو فضائل کی ہے) موضوعات کبیر میں استاذ المحدثین امام زین الدین عراقی سے نقل فرمایا : انہ عـــہ۲ لیس بموضوع وفی سندہ مجھول (یہ موضوع نہیں اس کی سند میں ایك راوی مجہول ہے)امام بدر الدین زرکشی پھر امام محقق جلال الدین سیوطی لآلی مصنوعہ میں فرماتے ہیں :
لوثبتت عـــہ۳ جھالتہ لم یلزم ان یکون الحدیث موضوعا ما لم یکن فی اسنادہ من یتھم بالوضع ۔
یعنی روی کی جہالت ثابت بھی ہوتو حدیث کا موضوع ہونا لازم نہیں جب تك اس کی سند میں کوئی راوی وضع حدیث سے متہم نہ ہو۔
عـــہ۱ : ذکرہ فی باب فضل الاذان واجابۃ المؤذن آخر الفصل الثانی ۱۲ منہ (م)
عـــہ۲ : یرید حدیث عالم قریش یملؤ الارض علما ۱۲ منہ (م)
عـــہ۳ : قالہ فی حدیث ابن عباس رضی الله تعالی عنہما فی صلاۃ التسبیح لکن اھملہ ابوالفرج بجھالۃ موسی بن عبدالعزیز ۱۲ منہ۔ (م)
فضیلت اذان اور جواب اذان کے باب کی فصل ثانی کے آخر میں اس کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
حدیث “ قریش کا ایك عالم زمین کو علم کی دولت سے بھر دیگا “ کے تحت اس کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
صلوۃ التسبیح کے بارے میں حضرت عبدالله ابن عباس کی حدیث میں اس کو ذکر کیاہے لیکن ابوالفرج نے موسی بن عبدالعزیز کی جہالت کی بنا پر اس کو چھوڑدیا ہے۔ (ت)
حوالہ / References
رسالہ فضائل نصف شعبان
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ باب الاذان فصل ثانی مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۲ / ۱۷۱
الاسرار المرفوعۃ فی اخبار الموضوعۃ حدیث ۶۰۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان ص ۱۵۷
لآلی مصنوعہ صلوٰۃ التسبیح مطبوعہ التجاریۃ الکبرٰی مصر ۲ / ۴۴
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ باب الاذان فصل ثانی مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۲ / ۱۷۱
الاسرار المرفوعۃ فی اخبار الموضوعۃ حدیث ۶۰۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان ص ۱۵۷
لآلی مصنوعہ صلوٰۃ التسبیح مطبوعہ التجاریۃ الکبرٰی مصر ۲ / ۴۴
یہی دونوں امام تخریج احادیث رافعی ولآلی میں فرماتے ہیں :
لایلزم عـــہ۱ من الجھل بحال الراوی ان یکون الحدیث موضوعا ۔
راوی کے مجہول الحال ہونے سے حدیث کا موضوع ہونا لازم نہیں آتا۔
امام ابوالفرج ابن الجوزی نے اپنی کتاب موضوعات میں حدیث من قرض بیت شعر بعد العشاء الاخرۃ لم تقبل لہ صلاۃ تلك اللیلۃ (جس نے آخری عشاء کے بعد کوئی (لغو) شعر کہا اس کی اس رات کی نماز قبول نہ ہوگی۔ ت) کی یہ علت بیان کی کہ اس میں ایك راوی مجہول اور دوسرا مضطرب کثیر الخطا ہے اس پر شیخ الحفاظ امام ابن حجر عسقلانی نے القول المسددفی الذب عن مسند احمد پھر امام سیوطی نے لآلی وتعقبات میں فرمایا :
لیس فی شیئ مماذکرہ ابوالفرج مایقتضی الوضع ۔
یہ علتیں جو ابوالفرج نے ذکر کیں ان میں ایك بھی موضوعیت کی مقتضی نہیں ۔
امام ابن حجر مکی صواعق محرقہ میں حدیث انس رضی اللہ تعالی عنہفی تزویج فاطمۃ من علی رضی الله تعالی عنھما کی نسبت فرماتے ہیں :
کونہ کذبا فیہ نظر وانما ھو غریب فی سندہ مجھول ۔
اس کا کذب ہونا مسلم نہیں ہاں غریب ہے اور راوی مجہول۔
علامہ زرقانی شرح مواہب میں فرماتے ہیں عـــہ۲ :
عـــہ۱ : قالاہ فی حدیث وعبدتارك الحج فلیمت ان شاء یھودیا اونصرانیا منہ رضی الله تعالی عنہ
عـــہ۲ : باب وفاۃ امہ ومایتعلق بابویہ صلی الله تعالی علیہ وسلم منہ
ایسا بندہ جو حج کو ترك کرنے والا ہو اگر وہ چاہے تو یہودی یا نصرانی مرجائے ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ(ت)
باب وفاۃ امہ ومایتعلق بابویہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیں اس کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
لایلزم عـــہ۱ من الجھل بحال الراوی ان یکون الحدیث موضوعا ۔
راوی کے مجہول الحال ہونے سے حدیث کا موضوع ہونا لازم نہیں آتا۔
امام ابوالفرج ابن الجوزی نے اپنی کتاب موضوعات میں حدیث من قرض بیت شعر بعد العشاء الاخرۃ لم تقبل لہ صلاۃ تلك اللیلۃ (جس نے آخری عشاء کے بعد کوئی (لغو) شعر کہا اس کی اس رات کی نماز قبول نہ ہوگی۔ ت) کی یہ علت بیان کی کہ اس میں ایك راوی مجہول اور دوسرا مضطرب کثیر الخطا ہے اس پر شیخ الحفاظ امام ابن حجر عسقلانی نے القول المسددفی الذب عن مسند احمد پھر امام سیوطی نے لآلی وتعقبات میں فرمایا :
لیس فی شیئ مماذکرہ ابوالفرج مایقتضی الوضع ۔
یہ علتیں جو ابوالفرج نے ذکر کیں ان میں ایك بھی موضوعیت کی مقتضی نہیں ۔
امام ابن حجر مکی صواعق محرقہ میں حدیث انس رضی اللہ تعالی عنہفی تزویج فاطمۃ من علی رضی الله تعالی عنھما کی نسبت فرماتے ہیں :
کونہ کذبا فیہ نظر وانما ھو غریب فی سندہ مجھول ۔
اس کا کذب ہونا مسلم نہیں ہاں غریب ہے اور راوی مجہول۔
علامہ زرقانی شرح مواہب میں فرماتے ہیں عـــہ۲ :
عـــہ۱ : قالاہ فی حدیث وعبدتارك الحج فلیمت ان شاء یھودیا اونصرانیا منہ رضی الله تعالی عنہ
عـــہ۲ : باب وفاۃ امہ ومایتعلق بابویہ صلی الله تعالی علیہ وسلم منہ
ایسا بندہ جو حج کو ترك کرنے والا ہو اگر وہ چاہے تو یہودی یا نصرانی مرجائے ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ(ت)
باب وفاۃ امہ ومایتعلق بابویہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیں اس کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
لآلی مصنوعہ صلوٰۃ التسبیح مطبوعۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ۲ / ۱۱۸
کتاب الموضوعات فی حدیث انشاء الشعر بعد العشاء مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۲۶۱
القول المسدد الحدیث الثانی مطبوعہ دائرۃ المعارف العثمانیہ حیدرآباد دکن ہند ص ۳۶
الصواعق المحرقہ الباب الحادی عشر مطبوعہ مکتبہ مجیدیہ ملتان ص ۱۴۳
کتاب الموضوعات فی حدیث انشاء الشعر بعد العشاء مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۲۶۱
القول المسدد الحدیث الثانی مطبوعہ دائرۃ المعارف العثمانیہ حیدرآباد دکن ہند ص ۳۶
الصواعق المحرقہ الباب الحادی عشر مطبوعہ مکتبہ مجیدیہ ملتان ص ۱۴۳
قال السھیلی فی اسنادہ عـــہ۱ مجاھیل وھو یفید ضعفہ فقط وقال ابن کثیر منکرجدا وسندہ مجھول وھو ایضا صریح فی انہ ضعیف فقط فالمنکر من قسم الضعیف ولذا قال السیوطی بعدمااورد قول ابن عساکر “ منکر “ ھذا حجۃ لماقلتہ من انہ ضعیف لا موضوع لان المنکر من قسم الضعیف وبینہ وبین الموضوع فرق معروف فی الفن فالمنکر ما انفرد بہ الراوی الضعیف مخالفالرواتہ الثقات فان انتفت کان ضعیفا وھی مرتبۃ فوق المنکر اصلح حالامنہ اھ ملخصا
امام سہیلی کہتے ہیں کہ اس کی سند میں مجہول راوی ہیں جو اس کے فقط ضعف پر دال ہیں ۔ ابن کثیر نے کہا کہ بہت زیادہ منکر ہے اور اس کی سند مجہول ہے اور یہ بھی اس بات کی تصریح ہے کہ یہ فقط ضعیف ہے کیونکہ منکر ضعف کی اقسام میں سے ہے اسی لئے امام سیوطی نے ابن عساکر کے قول “ یہ منکر ہے “ وارد کرنے کے بعد فرمایا یہ میرے اس قول “ یہ ضعیف ہے “ کی دلیل ہے موضوع ہونے کی نہیں کیونکہ منکر ضعیف کی قسم ہے اس کے بعد اور حدیث موضوع کے درمیان فن اصول حدیث میں فرق واضح اور مشہور ہے منکر اس روایت کو کہتے ہیں جس کا راوی ضعیف ہو اور روایت کرنے میں منفرد اور ثقہ راویوں کے خلاف ہویہ کمزوری اگر منتفی ہوجائے تو صرف ضعیف ہوگی اور اس کا مرتبہ منکر سے اعلی ہے اور اس سے حال کے لحاظ سے بہتر ہے اھ ملخصا (ت)
خلاصہ یہ کہ سند میں متعدد مجہولوں کا ہونا حدیث میں صرف ضعف کا مورث ہے اور صرف ضعیف کا مرتبہ حدیث منکر سے احسن واعلی ہے جسے ضعیف راوی نے ثقہ راویوں کے خلاف روایت کیاہو پھر وہ بھی موضوع نہیں تو فقط ضعیف کو موضوعیت سے کیا علاقہ امام جلیل جلال الدین سیوطی نے ان مطالب کی تصریح فرمائی والله تعالی اعلم۔
افادہ سوم : (حدیث منقطع کا حکم) اسی طرح سند کا منقطع ہونا مستلزم وضع نہیں ہمارے ائمہ کرام اور جمہور علماء کے نزدیك تو انقطاع سے صحت وحجیت ہی میں کچھ خلل نہیں آتا۔ امام محقق کمال الدین محمد بن الہمام فتح القدیر میں فرماتے ہیں :
ضعف بالانقطاع وھو عندنا کالارسال عـــہ۲ بعد عدالۃ الرواۃ وثقتھم لایضر ۔
اسے انقطاع کی بنا پر ضعیف قرار دیا ہے جو کہ نقصان دہ نہیں کیونکہ راویوں کے عادل وثقہ ہونے کے بعد منقطع ہمارے نزدیك مرسل کی طرح ہی ہے۔ (ت)
عـــہ۱ : یعنی حدیث احیاء الابوین الکریمین حتی امنا بہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ۱۲ منہ (م)
عـــہ۲ : قولہ کالا رسال ای علی تفسیر وھو منہ علی اخر وھو علی اطلاق ۱۲ منہ (م)
یعنی وہ حدیث جس میں ہے کہ حضور کے والدین کریمین زندہ ہوکر آپ کی ذات پر ایمان لائے یہ اس حدیث کے تحت مذکور ہے ۱۲ منہ (ت)
قولہ کالارسال یعنی ایك تفسیر پر اور وہ یہ ہے کہ سند کے آخر سے راوی ساقط ہو اور وہ ارسال انقطاع علی الاطلاق ہے ۱۲ منہ (ت)
امام سہیلی کہتے ہیں کہ اس کی سند میں مجہول راوی ہیں جو اس کے فقط ضعف پر دال ہیں ۔ ابن کثیر نے کہا کہ بہت زیادہ منکر ہے اور اس کی سند مجہول ہے اور یہ بھی اس بات کی تصریح ہے کہ یہ فقط ضعیف ہے کیونکہ منکر ضعف کی اقسام میں سے ہے اسی لئے امام سیوطی نے ابن عساکر کے قول “ یہ منکر ہے “ وارد کرنے کے بعد فرمایا یہ میرے اس قول “ یہ ضعیف ہے “ کی دلیل ہے موضوع ہونے کی نہیں کیونکہ منکر ضعیف کی قسم ہے اس کے بعد اور حدیث موضوع کے درمیان فن اصول حدیث میں فرق واضح اور مشہور ہے منکر اس روایت کو کہتے ہیں جس کا راوی ضعیف ہو اور روایت کرنے میں منفرد اور ثقہ راویوں کے خلاف ہویہ کمزوری اگر منتفی ہوجائے تو صرف ضعیف ہوگی اور اس کا مرتبہ منکر سے اعلی ہے اور اس سے حال کے لحاظ سے بہتر ہے اھ ملخصا (ت)
خلاصہ یہ کہ سند میں متعدد مجہولوں کا ہونا حدیث میں صرف ضعف کا مورث ہے اور صرف ضعیف کا مرتبہ حدیث منکر سے احسن واعلی ہے جسے ضعیف راوی نے ثقہ راویوں کے خلاف روایت کیاہو پھر وہ بھی موضوع نہیں تو فقط ضعیف کو موضوعیت سے کیا علاقہ امام جلیل جلال الدین سیوطی نے ان مطالب کی تصریح فرمائی والله تعالی اعلم۔
افادہ سوم : (حدیث منقطع کا حکم) اسی طرح سند کا منقطع ہونا مستلزم وضع نہیں ہمارے ائمہ کرام اور جمہور علماء کے نزدیك تو انقطاع سے صحت وحجیت ہی میں کچھ خلل نہیں آتا۔ امام محقق کمال الدین محمد بن الہمام فتح القدیر میں فرماتے ہیں :
ضعف بالانقطاع وھو عندنا کالارسال عـــہ۲ بعد عدالۃ الرواۃ وثقتھم لایضر ۔
اسے انقطاع کی بنا پر ضعیف قرار دیا ہے جو کہ نقصان دہ نہیں کیونکہ راویوں کے عادل وثقہ ہونے کے بعد منقطع ہمارے نزدیك مرسل کی طرح ہی ہے۔ (ت)
عـــہ۱ : یعنی حدیث احیاء الابوین الکریمین حتی امنا بہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ۱۲ منہ (م)
عـــہ۲ : قولہ کالا رسال ای علی تفسیر وھو منہ علی اخر وھو علی اطلاق ۱۲ منہ (م)
یعنی وہ حدیث جس میں ہے کہ حضور کے والدین کریمین زندہ ہوکر آپ کی ذات پر ایمان لائے یہ اس حدیث کے تحت مذکور ہے ۱۲ منہ (ت)
قولہ کالارسال یعنی ایك تفسیر پر اور وہ یہ ہے کہ سند کے آخر سے راوی ساقط ہو اور وہ ارسال انقطاع علی الاطلاق ہے ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
شرح الزرقانی علی المواہب باب وفات امّہ ومایتعلق بابویہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مطبوعہ مطبعۃ عامرہ مصر ۱ / ۱۹۶
فتح القدیر کتاب الطہارۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھّر ۱ / ۱۹
فتح القدیر کتاب الطہارۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھّر ۱ / ۱۹
امام ابن امیرالحاج حلیہ عـــہ۱ میں فرماتے ہیں :
لایضر ذلك فان المنقطع کالمرسل فی قبولہ من الثقات ۔
یہ بات نقصان نہیں دیتی کیونکہ منقطع قبولیت میں مرسل کی طرح ہے جبکہ ثقہ سے مروی ہو۔ (ت)
مولانا علی قاری مرقاۃ عـــہ۲ میں فرماتے ہیں :
قال ابوداود ھذا مرسل ای نوع مرسل وھو المنقطع لکن المرسل حجۃ عندنا وعند الجمھور ۔
ابوداؤد فرماتے ہیں کہ یہ مرسل یعنی مرسل کی قسم منقطع ہے لیکن مرسل ہمارے اور جمہور کے نزدیك حجت ہے۔ (ت)
اور جو اسے قادح جانتے ہیں وہ بھی صرف مورث ضعف مانتے ہیں نہ کہ مستلزم موضوعیت مرقاۃ شریف میں امام ابن حجر مکی سے منقول :
لایضرعـــہ۳ذلك فی الاستدلال بہ ھھنا لان المنقطع یعمل بہ فی الفضائل اجماعا ۔
یعنی یہ امر یہاں کچھ استدلال کو مضر نہیں کہ منقطع پر فضائل میں تو بالاجماع عمل کیا جاتا ہے۔
عـــہ۱ : اول صفۃ الصلاۃ فی الکلام علی زیادۃ وجل ثناؤك فی الثناء ۱۲ منہ (م)
عـــہ۲ : تحت حدیث ام المؤمنین رضی الله تعالی عنہا کان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم یقبل بعض ازواجہ ثم یصلی ولایتوضأ ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ۔ (م) عـــہ۳ : تحت حدیث اذارکع احدکم فقال فی رکوعہ سبحان ربی العظیم ثلث مرات فقدتم رکوعہ قال الترمذی لیس اسنادہ بمتصل فقال ابن حجر ھو لایضر ذلك ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
صفۃ الصلوۃ کی ابتدا میں جہاں ثناء میں “ وجل ثناء ک “ کے الفاظ کے اضافہ میں کلام ہے وہاں اس کا ذکر ہے ۱۲ منہ
(ت)اس کا ذکر المومنین کی اس حدیث کے تحت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماپنی بعض ازواج مطہرات سے تقبیل فرماتے تو وضو کے بغیر یونہی نماز پڑھ لیتے تھے۔ ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ(ت)
اس حدیث کے تحت اس کا ذکر ہے کہ جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو وہ رکوع میں تین دفعہ “ سبحان ربی العظیم پڑھے اس طرح اس کا رکوع مکمل ہوجائیگا۔ ترمذی نے کہا اس کی سند متصل نہیں تو حافظ ابن حجر نےکہایہ نقصان دہ نہیں ۱۲منہ (ت)
لایضر ذلك فان المنقطع کالمرسل فی قبولہ من الثقات ۔
یہ بات نقصان نہیں دیتی کیونکہ منقطع قبولیت میں مرسل کی طرح ہے جبکہ ثقہ سے مروی ہو۔ (ت)
مولانا علی قاری مرقاۃ عـــہ۲ میں فرماتے ہیں :
قال ابوداود ھذا مرسل ای نوع مرسل وھو المنقطع لکن المرسل حجۃ عندنا وعند الجمھور ۔
ابوداؤد فرماتے ہیں کہ یہ مرسل یعنی مرسل کی قسم منقطع ہے لیکن مرسل ہمارے اور جمہور کے نزدیك حجت ہے۔ (ت)
اور جو اسے قادح جانتے ہیں وہ بھی صرف مورث ضعف مانتے ہیں نہ کہ مستلزم موضوعیت مرقاۃ شریف میں امام ابن حجر مکی سے منقول :
لایضرعـــہ۳ذلك فی الاستدلال بہ ھھنا لان المنقطع یعمل بہ فی الفضائل اجماعا ۔
یعنی یہ امر یہاں کچھ استدلال کو مضر نہیں کہ منقطع پر فضائل میں تو بالاجماع عمل کیا جاتا ہے۔
عـــہ۱ : اول صفۃ الصلاۃ فی الکلام علی زیادۃ وجل ثناؤك فی الثناء ۱۲ منہ (م)
عـــہ۲ : تحت حدیث ام المؤمنین رضی الله تعالی عنہا کان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم یقبل بعض ازواجہ ثم یصلی ولایتوضأ ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ۔ (م) عـــہ۳ : تحت حدیث اذارکع احدکم فقال فی رکوعہ سبحان ربی العظیم ثلث مرات فقدتم رکوعہ قال الترمذی لیس اسنادہ بمتصل فقال ابن حجر ھو لایضر ذلك ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
صفۃ الصلوۃ کی ابتدا میں جہاں ثناء میں “ وجل ثناء ک “ کے الفاظ کے اضافہ میں کلام ہے وہاں اس کا ذکر ہے ۱۲ منہ
(ت)اس کا ذکر المومنین کی اس حدیث کے تحت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماپنی بعض ازواج مطہرات سے تقبیل فرماتے تو وضو کے بغیر یونہی نماز پڑھ لیتے تھے۔ ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ(ت)
اس حدیث کے تحت اس کا ذکر ہے کہ جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو وہ رکوع میں تین دفعہ “ سبحان ربی العظیم پڑھے اس طرح اس کا رکوع مکمل ہوجائیگا۔ ترمذی نے کہا اس کی سند متصل نہیں تو حافظ ابن حجر نےکہایہ نقصان دہ نہیں ۱۲منہ (ت)
حوالہ / References
حلیۃ المحلی
مرقات شرح مشکوٰۃ الفصل الثانی من باب یوجب الوضؤ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۳۴۳
مرقات شرح مشکوٰۃ الفصل الثانی من باب الرکوع مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۲ / ۳۱۵
مرقات شرح مشکوٰۃ الفصل الثانی من باب یوجب الوضؤ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۳۴۳
مرقات شرح مشکوٰۃ الفصل الثانی من باب الرکوع مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۲ / ۳۱۵
افادہ چہارم : (حدیث مضطرب بلکہ منکر بلکہ مدرج بھی موضوع نہیں )انقطاع تو ایك امر سہل ہے جسے صرف بعض نے طعن جانا علماء فرماتے ہیں : حدیث کا مضطرب بلکہ منکر ہونا بھی موضوعیت سے کچھ علاقہ نہیں رکھتا یہاں تك کہ دربارہ فضائل مقبول رہے گی۔ بلکہ فرمایاکہ مدرج بھی موضوع سے جدا قسم ہے حالانکہ اس میں تو کلام غیر کا خلط ہوتا ہے۔ تعقبات عـــہ۱ میں ہے :
المضطرب من قسم الضعیف لاالموضوع ۔
مضطرب حدیث ضعیف کی قسم ہے موضوع نہیں ۔ (ت)
اسی عـــہ۲ میں ہے :
المنکر نوع اخر غیر الموضوع وھو من قسم الضعیف ۔
منکر موضوع کے علاوہ ایك دوسری نوع ہے جو کہ ضعیف کی ایك قسم ہے۔ (ت)
اسی عـــہ۳ میں ہے :
صرح ابن عدی بان الحدیث منکر فلیس بموضوع ۔
ابن عدی نے تصریح کی ہے کہ حدیث منکر موضوع نہیں ہوتی۔ (ت)
اسی عـــہ۴ میں ہے :
المنکر من قسم الضعیف وھو محتمل فی الفضائل ۔
منکر ضعیف کی قسم ہے اور یہ فضائل میں قابل استدلال ہے۔ (ت)
عـــہ۱ : ذکرہ فی اخر باب الجنائز ۱۲ منہ (م)
عـــہ۲ : اول باب الاطمعۃ ۱۲ منہ (م)
عـــہ ۳ : اول باب البعث ۱۲ منہ (م)
عـــہ۴ : قالہ فی اواخر الکتاب تحت حدیث فضل قزوین ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
باب الجنائز کے آخر میں اس کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
باب الاطمعہ کے شروع میں اس کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
باب البعث کے شروع میں اس کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
المضطرب من قسم الضعیف لاالموضوع ۔
مضطرب حدیث ضعیف کی قسم ہے موضوع نہیں ۔ (ت)
اسی عـــہ۲ میں ہے :
المنکر نوع اخر غیر الموضوع وھو من قسم الضعیف ۔
منکر موضوع کے علاوہ ایك دوسری نوع ہے جو کہ ضعیف کی ایك قسم ہے۔ (ت)
اسی عـــہ۳ میں ہے :
صرح ابن عدی بان الحدیث منکر فلیس بموضوع ۔
ابن عدی نے تصریح کی ہے کہ حدیث منکر موضوع نہیں ہوتی۔ (ت)
اسی عـــہ۴ میں ہے :
المنکر من قسم الضعیف وھو محتمل فی الفضائل ۔
منکر ضعیف کی قسم ہے اور یہ فضائل میں قابل استدلال ہے۔ (ت)
عـــہ۱ : ذکرہ فی اخر باب الجنائز ۱۲ منہ (م)
عـــہ۲ : اول باب الاطمعۃ ۱۲ منہ (م)
عـــہ ۳ : اول باب البعث ۱۲ منہ (م)
عـــہ۴ : قالہ فی اواخر الکتاب تحت حدیث فضل قزوین ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
باب الجنائز کے آخر میں اس کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
باب الاطمعہ کے شروع میں اس کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
باب البعث کے شروع میں اس کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
التعقبات علی الموضوعات باب الجنائز مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ص ۶۲
التعقبات علی الموضوعات باب الاطعمہ مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ص ۳۰
التعقبات علی الموضوعات باب البعث مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ص ۵۱
التعقبات علی الموضوعات باب المناقب مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ص ۶۰
التعقبات علی الموضوعات باب الاطعمہ مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ص ۳۰
التعقبات علی الموضوعات باب البعث مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ص ۵۱
التعقبات علی الموضوعات باب المناقب مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ص ۶۰
اسی عـــہ۱ میں ہے :
رأیت الذھبی قال فی تاریخہ “ ھذا حدیث منکر لایعرف الاببشر وھو ضعیف انتھی “ فعلم انہ ضعیف لاموضوع ۔
میں نے پڑھا ہے امام ذہبی نے اپنی تاریخ میں کہاکہ یہ حدیث منکر ہے یہ بشر ضعیف کے علاوہ معروف نہیں انتہی پس معلوم ہوا کہ یہ ضعیف ہے موضوع نہیں ۔ (ت)
اسی عـــہ۲ میں ہے :
حدیث ابی امامۃ رضی الله تعالی عنہ “ علیکم بلباس الصوف تجدواحلاوۃ الایمان فی قلوبکم “ علیکم الحدیث بطولہ فیہ الکدیمی وضاع قلت قالت البھیقی فی الشعب “ ھذہ الجملۃ من الحدیث معروفۃ من غیر ھذا الطریق وزاد الکدیمی فیہ زیادۃ منکرۃ ویشبہ ان یکون من کلام بعض الرواۃ فالحق بالحدیث انتھی والجملۃ معروفۃ اخرجھا الحکم فی المستدرك والحدیث المطول من قسم المدرج لاالموضوع ۔ حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالی عنہکی روایت میں ہے کہ تم صوف کا لباس پہنو اس سے تمہارے دلوں کو حلاوت ایمان نصیب ہوگی(طویل حدیث)اس میں کدیمی راوی حدیث گھڑنے والا ہے میں کہتا ہوں کہ امام بیہقی نے شعب الایمان میں کہا ہے حدیث کا یہ حصہ اس سند کے علاوہ سے معروف ہے اور کدیمی نے اس میں ایسی زیادتی کی ہے جو منکر ہے اور ممکن ہے کہ یہ کسی راوی کاکلام ہو اور انہوں نے اسے حدیث کاحصہ بنادیاہو انتہی اور اس جملہ معروفہ کی امام حاکم نے مستدرك میں تخریج کی ہے اور یہ طویل حدیث مدرج ہے موضوع نہیں ۔ (ت)
افادہ پنجم : (جس حدیث میں راوی بالکل مبہم ہو وہ بھی موضوع نہیں )خیر جہالت راوی کا تو یہ حاصل تھا کہ شاگرد ایك یا عدالت مشکوك شخص تو معین تھا کہ فلاں ہے مبہم میں تو اتنا بھی نہیں جیسے حدثنی رجل(مجھ سے ایك شخص نے حدیث بیان کی) یا بعض اصحابنا (ایك رفیق نے خبر دی) پھر یہ بھی
عـــہ۱ : ذکرہ فی آخر باب التوحید ۱۲ منہ (م)
عـــہ۲ : اول باب اللباس ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
باب التوحید کے آخر میں اس کو ذکر کیا ہے۔
باب اللباس کے شروع میں اس کا ذکر ہے ۱۲ منہ (ت)
رأیت الذھبی قال فی تاریخہ “ ھذا حدیث منکر لایعرف الاببشر وھو ضعیف انتھی “ فعلم انہ ضعیف لاموضوع ۔
میں نے پڑھا ہے امام ذہبی نے اپنی تاریخ میں کہاکہ یہ حدیث منکر ہے یہ بشر ضعیف کے علاوہ معروف نہیں انتہی پس معلوم ہوا کہ یہ ضعیف ہے موضوع نہیں ۔ (ت)
اسی عـــہ۲ میں ہے :
حدیث ابی امامۃ رضی الله تعالی عنہ “ علیکم بلباس الصوف تجدواحلاوۃ الایمان فی قلوبکم “ علیکم الحدیث بطولہ فیہ الکدیمی وضاع قلت قالت البھیقی فی الشعب “ ھذہ الجملۃ من الحدیث معروفۃ من غیر ھذا الطریق وزاد الکدیمی فیہ زیادۃ منکرۃ ویشبہ ان یکون من کلام بعض الرواۃ فالحق بالحدیث انتھی والجملۃ معروفۃ اخرجھا الحکم فی المستدرك والحدیث المطول من قسم المدرج لاالموضوع ۔ حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالی عنہکی روایت میں ہے کہ تم صوف کا لباس پہنو اس سے تمہارے دلوں کو حلاوت ایمان نصیب ہوگی(طویل حدیث)اس میں کدیمی راوی حدیث گھڑنے والا ہے میں کہتا ہوں کہ امام بیہقی نے شعب الایمان میں کہا ہے حدیث کا یہ حصہ اس سند کے علاوہ سے معروف ہے اور کدیمی نے اس میں ایسی زیادتی کی ہے جو منکر ہے اور ممکن ہے کہ یہ کسی راوی کاکلام ہو اور انہوں نے اسے حدیث کاحصہ بنادیاہو انتہی اور اس جملہ معروفہ کی امام حاکم نے مستدرك میں تخریج کی ہے اور یہ طویل حدیث مدرج ہے موضوع نہیں ۔ (ت)
افادہ پنجم : (جس حدیث میں راوی بالکل مبہم ہو وہ بھی موضوع نہیں )خیر جہالت راوی کا تو یہ حاصل تھا کہ شاگرد ایك یا عدالت مشکوك شخص تو معین تھا کہ فلاں ہے مبہم میں تو اتنا بھی نہیں جیسے حدثنی رجل(مجھ سے ایك شخص نے حدیث بیان کی) یا بعض اصحابنا (ایك رفیق نے خبر دی) پھر یہ بھی
عـــہ۱ : ذکرہ فی آخر باب التوحید ۱۲ منہ (م)
عـــہ۲ : اول باب اللباس ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
باب التوحید کے آخر میں اس کو ذکر کیا ہے۔
باب اللباس کے شروع میں اس کا ذکر ہے ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
التعقبات علی الموضوعات باب التوحید مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ص ۴
التعقبات علی الموضوعات باب اللباس مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ص ۳۳
التعقبات علی الموضوعات باب اللباس مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ص ۳۳
صرف مورث ضعف ہے نہ کہ موجب وضع۔ امام الشان علامہ ابن حجر عسقلانی رسالہ قوۃ الحجاج فی عموم المغفرۃ للحجاج پھر خاتم الحفاظ لآلی میں فرماتے ہیں :
لایستحق الحدیث ان یوصف بالوضع بمجرد ان روایہ لم یسم ۔
صرف راوی کا نام معلوم نہ ہونے کی وجہ سے حدیث موضوع کہنے کی مستحق نہیں ہوجاتی۔ (ت)
(تعدد طرق سے مبہم کا جبر نقصان ہوتا ہے) ولہذا تصریح فرمائی کہ حدیث مبہم کا طرق دیگر سے جبر نقصان ہوجاتا ہے تعقبات میں زیر حدیث اطلبوا الخیر عندحسان الوجوہ (حسین چہرے والوں سے بھلائی طلب کرو۔ ت)کہ عقیلی نے بطریق یزید بن ھارون قال انبأنا شیخ من قریش عن الزھری عن عائشۃ رضی الله عنہا روایت کی فرمایا :
اوردہ (یعنی اباالفرج) من حدیث عائشۃ من طرق فی الاول رجل لم یسم وفی الثانی عبدالرحمن بن ابی بکر الملیکی متروک وفی الثالث الحکم بن عبدالله الایلی احادیثہ موضوعۃ قلت عبدالرحمن لم یتھم بکذب ثم انہ ینفردبہ بل تابعہ اسمعیل بن عیاش وکلاھما یجبران ابھام الذی فی الطریق الاول اھ مختصرا۔
اسے اس(یعنی ابوالفرج)نے حدیث عائشہ سے مختلف سندوں سے روایت کیاہے پہلی سند میں مجہول شخص ہے (نامعلوم)اور دوسری میں عبدالرحمن بن ابی بکر الملیکی متروك راوی ہے تیسری میں حکم بن عبدالله الایلی ہے جس کی احادیث موضوع ہیں میں کہتا ہوں کہ عبدالرحمن متہم بالکذب نہیں پھر وہ اس میں منفرد بھی نہیں بلکہ اسمعیل بن عیاش نے اس کی متابعت کی ہے اور ان دونوں نے اس ابہام کی کمی کا ازالہ کردیا جو سند اول میں تھا اھ مختصرا۔ (ت)
(حدیث مبہم دوسری حدیث کی مقوی ہوسکتی ہے) بلکہ وہ خود حدیث دیگر کو قوت دینے کی لیاقت رکھتی ہے استاذ الحفاظ قوۃ الحجاج پھر خاتم الحفاظ تعقبات عـــہ میں فرماتے ہیں :
رجالہ ثقات الا ان فیہ مبھما لم یسم فان کان ثقۃ فھو علی شرط الصحیح وان کان ضعیفا فھو عاضد للمسند المذکور ۔
اس کے رجال ثقہ ہیں مگر اس میں ایك راوی مبہم ہے جس کا نام معلوم نہیں ہے پس اگر وہ ثقہ ہے تو یہ صحیح کے شرائط پر ہے اور اگر وہ ثقہ نہیں تو ضعیف ہے مگر سند مذکور کو تقویت دینے والی ہے۔ (ت)
عـــہ۱ : باب الحج حدیث دعالامتہ عشیۃ عرفۃ بالمغفرۃ ۱۲ منہ (م)
یہ باب الحج کی اس حدیث کے تحت ہے جس میں ہے کہ نبی اکرم نے عرفہ کی شام امت کے لئے بخشش کی دعا مانگی ہے۔ (ت)
لایستحق الحدیث ان یوصف بالوضع بمجرد ان روایہ لم یسم ۔
صرف راوی کا نام معلوم نہ ہونے کی وجہ سے حدیث موضوع کہنے کی مستحق نہیں ہوجاتی۔ (ت)
(تعدد طرق سے مبہم کا جبر نقصان ہوتا ہے) ولہذا تصریح فرمائی کہ حدیث مبہم کا طرق دیگر سے جبر نقصان ہوجاتا ہے تعقبات میں زیر حدیث اطلبوا الخیر عندحسان الوجوہ (حسین چہرے والوں سے بھلائی طلب کرو۔ ت)کہ عقیلی نے بطریق یزید بن ھارون قال انبأنا شیخ من قریش عن الزھری عن عائشۃ رضی الله عنہا روایت کی فرمایا :
اوردہ (یعنی اباالفرج) من حدیث عائشۃ من طرق فی الاول رجل لم یسم وفی الثانی عبدالرحمن بن ابی بکر الملیکی متروک وفی الثالث الحکم بن عبدالله الایلی احادیثہ موضوعۃ قلت عبدالرحمن لم یتھم بکذب ثم انہ ینفردبہ بل تابعہ اسمعیل بن عیاش وکلاھما یجبران ابھام الذی فی الطریق الاول اھ مختصرا۔
اسے اس(یعنی ابوالفرج)نے حدیث عائشہ سے مختلف سندوں سے روایت کیاہے پہلی سند میں مجہول شخص ہے (نامعلوم)اور دوسری میں عبدالرحمن بن ابی بکر الملیکی متروك راوی ہے تیسری میں حکم بن عبدالله الایلی ہے جس کی احادیث موضوع ہیں میں کہتا ہوں کہ عبدالرحمن متہم بالکذب نہیں پھر وہ اس میں منفرد بھی نہیں بلکہ اسمعیل بن عیاش نے اس کی متابعت کی ہے اور ان دونوں نے اس ابہام کی کمی کا ازالہ کردیا جو سند اول میں تھا اھ مختصرا۔ (ت)
(حدیث مبہم دوسری حدیث کی مقوی ہوسکتی ہے) بلکہ وہ خود حدیث دیگر کو قوت دینے کی لیاقت رکھتی ہے استاذ الحفاظ قوۃ الحجاج پھر خاتم الحفاظ تعقبات عـــہ میں فرماتے ہیں :
رجالہ ثقات الا ان فیہ مبھما لم یسم فان کان ثقۃ فھو علی شرط الصحیح وان کان ضعیفا فھو عاضد للمسند المذکور ۔
اس کے رجال ثقہ ہیں مگر اس میں ایك راوی مبہم ہے جس کا نام معلوم نہیں ہے پس اگر وہ ثقہ ہے تو یہ صحیح کے شرائط پر ہے اور اگر وہ ثقہ نہیں تو ضعیف ہے مگر سند مذکور کو تقویت دینے والی ہے۔ (ت)
عـــہ۱ : باب الحج حدیث دعالامتہ عشیۃ عرفۃ بالمغفرۃ ۱۲ منہ (م)
یہ باب الحج کی اس حدیث کے تحت ہے جس میں ہے کہ نبی اکرم نے عرفہ کی شام امت کے لئے بخشش کی دعا مانگی ہے۔ (ت)
حوالہ / References
اللآلی المصنوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ کتاب اللباس مطبعۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ۲ / ۲۶۴
التعقبات علی الموضوعات باب الادب والرقایق مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ص ۳۵
التعقبات علی الموضوعات باب الحج مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ص ۲۴
التعقبات علی الموضوعات باب الادب والرقایق مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ص ۳۵
التعقبات علی الموضوعات باب الحج مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ص ۲۴
افادہ ششم : (ضعف راویان کے باعث حدیث کو موضوع کہہ دینا ظلم وجزاف ہے) بھلا جہالت وابہام تو عدم علم عدالت ہے اور بداہت عقل شاہد کہ علم عدم عدم علم سے زائد مجہول ومبہم کا کیا معلوم شاید فی نفسہ ثقہ ہو کمامر انفا عن الامامین الحافظین (جیسا کہ ابھی دوحافظ ائمہ کے حوالے سے گزرا ہے۔ ت) اور جس پر جرح ثابت احتمال ساقط۔ ولہذا محدثین دربارہ مجہول رد وقبول میں مختلف اور ثابت الجرح کے رد پر متفق ہوئے۔ امام نووی مقدمہ منہاج میں ابوعلی غسانی جیانی سے ناقل :
الناقلون سبع طبقات ثلث مقبولۃ وثلث متروکۃ والسابعۃ مختلف فیہا(الی قولہ) السابعۃ قوم مجھولون انفردوا بروایات لم یتابعوا علیھا فقبلھم قوم ووقفھم اخرون ۔
ناقلین کے سات۷ درجات ہیں تین۳ مقبول تین۳ متروک اور ساتواں مختلف فیہ ہے (اس قول تک) ساتواں طبقہ وہ لوگ ہیں جو مجہول ہیں اور روایات کرلینے میں منفرد ہیں ان کی متابعت کسی نے نہیں کی بعض نے انہیں قبول کیا ہے اور بعض نے ان کے بارے میں توقف سے کام لیا ہے۔ (ت)
پھر علماء کی تصریح ہے کہ مجرد ضعف رواۃ کے سبب حدیث کو موضوع کہہ دینا ظلم وجزاف ہے حافظ سیف الدین احمد بن ابی المجد پھر قدوۃ الفن شمس ذہبی اپنی تاریخ پھر خاتم الحفاظ تعقبات عـــہ ولآلی وتدریب میں فرماتے ہیں :
صنف ابن الجوزی کتاب الموضوعات فاصاب فی ذکر(ہ) احادیث(شنیعۃ) مخالفۃ للنقل والعقل (وما)ومما لم یصب فیہ اطلاقہ الوضع علی احادیث بکلام بعض الناس فی رواتھا کقولہ فلان ضعیف اولیس بالقوی اولین ولیس ذلك الحدیث ممایشھد القلب ببطلانہ ولافیہ مخالفۃ ولامعارضۃ لکتاب ولاسنۃ ولااجماع ولاحجۃ بانہ موضوع سوی کلام ذلك الرجل فی رواتہ(راویہ) وھذا عدوان ومجازفۃ (انتھی)
ابن جوزی نے کتاب الموضوعات لکھی تو اس میں انہوں نے ایسی روایات کی نشان دہی کرکے بہت ہی اچھا کیا جو عقل ونقل کے خلاف ہیں لیکن بعض روایات پر وضع کا اطلاق اس لئے کردیا کہ ان کے بعض راویوں میں کلام تھا یہ درست نہیں کیا مثلا راوی کے بارے میں یہ قول کہ فلاں ضعیف ہے یا وہ قوی نہیں یا وہ کمزور ہے یہ حدیث ایسی نہیں کہ اس کے بطلان پر دل گواہی دے نہ اس میں مخالف ہے نہ یہ کتاب وسنت اور اجماع کے معارض ہے اور نہ ہی یہ اس بات پر حجت ہے کہ یہ روایت موضوع ہے ماسوائے راویوں میں اس آدمی کے کلام کے اور یہ زیادتی وتخمین ہے۔ (ت)
عـــہ : قالہ تحت حدیث من قرایۃ الکرسی دبرکل صلاۃ مکتوبۃ لم یمنعہ من دخول الجنۃ الا ان یموت ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
یہ انہوں نے اس حدیث کے تحت کہا ہے جس شخص نے ہر فرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھی اس کے جنت میں داخل ہونے کو موت کے علاوہ کوئی رکاوٹ نہیں ۱۲ منہ (ت)
الناقلون سبع طبقات ثلث مقبولۃ وثلث متروکۃ والسابعۃ مختلف فیہا(الی قولہ) السابعۃ قوم مجھولون انفردوا بروایات لم یتابعوا علیھا فقبلھم قوم ووقفھم اخرون ۔
ناقلین کے سات۷ درجات ہیں تین۳ مقبول تین۳ متروک اور ساتواں مختلف فیہ ہے (اس قول تک) ساتواں طبقہ وہ لوگ ہیں جو مجہول ہیں اور روایات کرلینے میں منفرد ہیں ان کی متابعت کسی نے نہیں کی بعض نے انہیں قبول کیا ہے اور بعض نے ان کے بارے میں توقف سے کام لیا ہے۔ (ت)
پھر علماء کی تصریح ہے کہ مجرد ضعف رواۃ کے سبب حدیث کو موضوع کہہ دینا ظلم وجزاف ہے حافظ سیف الدین احمد بن ابی المجد پھر قدوۃ الفن شمس ذہبی اپنی تاریخ پھر خاتم الحفاظ تعقبات عـــہ ولآلی وتدریب میں فرماتے ہیں :
صنف ابن الجوزی کتاب الموضوعات فاصاب فی ذکر(ہ) احادیث(شنیعۃ) مخالفۃ للنقل والعقل (وما)ومما لم یصب فیہ اطلاقہ الوضع علی احادیث بکلام بعض الناس فی رواتھا کقولہ فلان ضعیف اولیس بالقوی اولین ولیس ذلك الحدیث ممایشھد القلب ببطلانہ ولافیہ مخالفۃ ولامعارضۃ لکتاب ولاسنۃ ولااجماع ولاحجۃ بانہ موضوع سوی کلام ذلك الرجل فی رواتہ(راویہ) وھذا عدوان ومجازفۃ (انتھی)
ابن جوزی نے کتاب الموضوعات لکھی تو اس میں انہوں نے ایسی روایات کی نشان دہی کرکے بہت ہی اچھا کیا جو عقل ونقل کے خلاف ہیں لیکن بعض روایات پر وضع کا اطلاق اس لئے کردیا کہ ان کے بعض راویوں میں کلام تھا یہ درست نہیں کیا مثلا راوی کے بارے میں یہ قول کہ فلاں ضعیف ہے یا وہ قوی نہیں یا وہ کمزور ہے یہ حدیث ایسی نہیں کہ اس کے بطلان پر دل گواہی دے نہ اس میں مخالف ہے نہ یہ کتاب وسنت اور اجماع کے معارض ہے اور نہ ہی یہ اس بات پر حجت ہے کہ یہ روایت موضوع ہے ماسوائے راویوں میں اس آدمی کے کلام کے اور یہ زیادتی وتخمین ہے۔ (ت)
عـــہ : قالہ تحت حدیث من قرایۃ الکرسی دبرکل صلاۃ مکتوبۃ لم یمنعہ من دخول الجنۃ الا ان یموت ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
یہ انہوں نے اس حدیث کے تحت کہا ہے جس شخص نے ہر فرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھی اس کے جنت میں داخل ہونے کو موت کے علاوہ کوئی رکاوٹ نہیں ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
مقدمہ منہاج للنووی من شرح صحیح مسلم مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ص ۱۷
تدریب الراوی النوع الحادی والعشرون مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱ / ۲۷۸ ، التعقبات علی الموضوعات باب فضائل القرآن مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ص ۸
تدریب الراوی النوع الحادی والعشرون مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱ / ۲۷۸ ، التعقبات علی الموضوعات باب فضائل القرآن مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ص ۸
افادہ ہفتم : (ایسا غافل کہ حدیث میں دوسرے کی تلقین قبول کرلے اس کی حدیث بھی موضوع نہیں ) پھر کسی ہلکے سے ضعف کی خصوصیت نہیں بلکہ سخت سخت اقسام جرح میں جن کا ہر ایك جہالت راوی سے بدرجہا بدتر ہے یہی تصریح ہے کہ ان سے بھی موضوعیت لازم نہیں مثلا راوی کی اپنی مرویات میں ایسی غفلت کہ دوسرے کی تلقین قبول کرلے یعنی دوسرا جو بتادے کہ تونے یہ سنا تھا وہی مان لے پر ظاہر کہ یہ شدت غفلت سے ناشی اور غفلت کا طعن فسق سے بھی بدتر اور جہالت سے تو چار درجہ زیادہ سخت ہے امام الشان نے نخبۃ الفکر میں اسباب طعن کی دس۱۰ قسمیں فرمائیں :
(۱) کذب : کہ معاذالله قصدا حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر افتراء کرے۔
(۲) تہمت : کذب کہ جو حدیث اس کے سوا دوسرے نے روایت نہ کی مخالف قواعد دینیہ ہویا اپنے کلام میں جھوٹ کا عادی ہو۔ (۳) کثرت غلط (۴) غفلت (۵) فسق (۶) وہم
(۷) مخالفت ثقات (۸) جہالت (۹) بدعت (۱۰) سوء حفظ
اور تصریح فرمائی کہ ہر پہلا دوسرے سے سخت تر ہے
(۱) کذب : کہ معاذالله قصدا حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر افتراء کرے۔
(۲) تہمت : کذب کہ جو حدیث اس کے سوا دوسرے نے روایت نہ کی مخالف قواعد دینیہ ہویا اپنے کلام میں جھوٹ کا عادی ہو۔ (۳) کثرت غلط (۴) غفلت (۵) فسق (۶) وہم
(۷) مخالفت ثقات (۸) جہالت (۹) بدعت (۱۰) سوء حفظ
اور تصریح فرمائی کہ ہر پہلا دوسرے سے سخت تر ہے
حیث قال الطعن یکون بعشرۃ اشیاء بعضھا اشد فی القدح من بعض وترتیبھا علی الاشد فلاشد فی موجب الرد اھ ملخصا۔
الفاظ یہ ہیں کہ اسباب طعن دس۱۰ اشیاء ہیں بعض بعض سے جرح میں اشد ہیں اور ان میں موجب رد کے اعتبار سے “ فالاشد “ کی ترتیب ہے اھ ملخصا (ت)
پھر علماء فرماتے ہیں ایسے غافل شدید الطعن کی حدیث بھی موضوع نہیں اواخر تعقبات میں ہے :
فیہ یزید بن ابی زیاد وکان یلقن فیتلقن قلت ھذا لایقتضی الحکم بوضع حدیثہ ۔
اس میں یزید ابن ابوزیاد ہے اسے تلقین کی جاتی تو وہ تلقین کو قبول کرلیتا تھا میں کہتا ہوں کہ یہ قول اس کی وضع حدیث کا تقاضا نہیں کرتا۔ (ت)
افادہ ہشتم : (منکر الحدیث کی حدیث بھی موضوع نہیں ) یوں ہی منکر الحدیث اگرچہ یہ جرح امام اجل محمد بن اسمعیل بخاری علیہ رحمۃ الباری نے فرمائی ہو حالانکہ وہ ارشاد فرماچکے کہ میں جسے منکر الحدیث عــہ۱ کہوں اس سے روایت حلال نہیں میزان الاعتدال امام ذہبی میں ہے :
نقل ابن عــہ۲ القطان ان البخاری قال کل من قلت فیہ منکر الحدیث فلا تحل الروایۃ عنہ ۔
ابن القطان نے نقل کیا ہے کہ امام بخاری نے فرمایا ہر وہ شخص جس کے بارے میں منکر الحدیث کہوں اس سے روایت کرنا جائز نہیں ۔ (ت)
عــــہ۱ : کانہ رضی الله تعالی عنہ کان یتورع عن اطلاق الفاظ شدیدۃ مخافۃ ان یکون بعضہ من باب شتم الاعراض وقدوجب الذب عن الاحادیث فاصطلح علی ھذا جمعا بین الامرین ۱۲ منہ (م)
عـــہ۲ : ذکرہ فی ابان بن جبلۃ الکوفی ۱۲ منہ (م)
گویا امام بخاری رضی اللہ تعالی عنہسخت الفاظ کے استعمال سے پرہیز کرتے تھے تاکہ کسی کی عزت دری لازم نہ آئے حالانکہ احادیث کی حفاظت ودفاع لازم ہے لہذا دونوں امور کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ اصطلاح استعمال کی ہے ۱۲ منہ (ت)
ابان بن جبلہ الکوفی کے ترجمہ کے تحت اس کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
الفاظ یہ ہیں کہ اسباب طعن دس۱۰ اشیاء ہیں بعض بعض سے جرح میں اشد ہیں اور ان میں موجب رد کے اعتبار سے “ فالاشد “ کی ترتیب ہے اھ ملخصا (ت)
پھر علماء فرماتے ہیں ایسے غافل شدید الطعن کی حدیث بھی موضوع نہیں اواخر تعقبات میں ہے :
فیہ یزید بن ابی زیاد وکان یلقن فیتلقن قلت ھذا لایقتضی الحکم بوضع حدیثہ ۔
اس میں یزید ابن ابوزیاد ہے اسے تلقین کی جاتی تو وہ تلقین کو قبول کرلیتا تھا میں کہتا ہوں کہ یہ قول اس کی وضع حدیث کا تقاضا نہیں کرتا۔ (ت)
افادہ ہشتم : (منکر الحدیث کی حدیث بھی موضوع نہیں ) یوں ہی منکر الحدیث اگرچہ یہ جرح امام اجل محمد بن اسمعیل بخاری علیہ رحمۃ الباری نے فرمائی ہو حالانکہ وہ ارشاد فرماچکے کہ میں جسے منکر الحدیث عــہ۱ کہوں اس سے روایت حلال نہیں میزان الاعتدال امام ذہبی میں ہے :
نقل ابن عــہ۲ القطان ان البخاری قال کل من قلت فیہ منکر الحدیث فلا تحل الروایۃ عنہ ۔
ابن القطان نے نقل کیا ہے کہ امام بخاری نے فرمایا ہر وہ شخص جس کے بارے میں منکر الحدیث کہوں اس سے روایت کرنا جائز نہیں ۔ (ت)
عــــہ۱ : کانہ رضی الله تعالی عنہ کان یتورع عن اطلاق الفاظ شدیدۃ مخافۃ ان یکون بعضہ من باب شتم الاعراض وقدوجب الذب عن الاحادیث فاصطلح علی ھذا جمعا بین الامرین ۱۲ منہ (م)
عـــہ۲ : ذکرہ فی ابان بن جبلۃ الکوفی ۱۲ منہ (م)
گویا امام بخاری رضی اللہ تعالی عنہسخت الفاظ کے استعمال سے پرہیز کرتے تھے تاکہ کسی کی عزت دری لازم نہ آئے حالانکہ احادیث کی حفاظت ودفاع لازم ہے لہذا دونوں امور کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ اصطلاح استعمال کی ہے ۱۲ منہ (ت)
ابان بن جبلہ الکوفی کے ترجمہ کے تحت اس کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
شرح نخبۃ الفکر بحث المرسل الخفی مطبوعہ مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۵۴
تعقبات باب المناقب مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ص۵۸
میزان الاعتدال فی ترجمہ ابان بن جبلۃ الکوفی مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۶
تعقبات باب المناقب مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ص۵۸
میزان الاعتدال فی ترجمہ ابان بن جبلۃ الکوفی مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۶
اسی عــہ۱ میں ہے :
قدمر لنا ان البخاری قال من قلت فیہ منکر الحدیث فلایحل روایۃ حدیثہ ۔
پیچھے امام بخاری کا یہ قول گزرچکا ہے کہ جس کے بارے میں میں منکر الحدیث کہہ دوں اس کی حدیث روایت کرنا جائز نہیں ۔ (ت)
بااینہمہ علما نے فرمایا ایسے کی حدیث بھی موضوع نہیں تعقبات عـــہ۲ میں ہے :
قال البخاری منکر الحدیث ففایۃ امر حدیثہ انیکون ضعیفا ۔
بخاری نے کہا یہ منکر الحدیث ہے تو زیادہ سے زیادہ اس کی حدیث ضعیف ہوگی۔ (ت)
افادہ نہم : (متروك کی حدیث بھی موضوع نہیں ) ضعیفوں میں سب سے بدتر درجہ متروك کا ہے جس کے بعد صرف عــہ۳ مہتم بالوضع یا کذاب دجال کا مرتبہ ہے میزان میں ہے :
عـــہ۱ : قالہ فی سلیمن بن داود الیمانی ۱۲ منہ (م)
سلیمان بن داؤد یمانی کے ترجمہ میں یہ تحریر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
عـــہ۲ : باب فضائل القرآن ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ۔
باب فضائل القران میں یہ مذکور ہے۔ ۱۲ منہ (ت)
عـــہ۳ : بلکہ مولانا علی قاری نے حاشیہ نزہۃ النظر میں متروك ومہتم بالوضع کا ایك مرتبہ میں ہونا نقل کیا :
حیث قال فالمرتبۃ الثالثۃ فلان متھم بالکذب اوالوضع اوساقط اوھالك اوذاھب الحدیث وفلان متروك اومتروك الحدیث اوترکوہ ملخصا اقول : وکان ھذا القائل ایضا لایقول باستواء جمیع ماذکر فی المرتبۃ بل فیھا ایضا تشکیك عندہ وکانہ الی ذلك اشار باعادۃ فلان قبل قولہ متروك الا ان فیہ ان ساقطا ومابعدہ لایفوق متروکا ومابعدہ فافھم ۱۲ منہ (م)
ان کے الفاظ یہ ہیں تیسرا مرتبہ یہ ہے فلان مہتم بالکذب یا بالوضع یا ساقط یا ہالك یا ذاہب الحدیث اور فلان متروك یا متروك الحدیث یا لوگوں نے اسے ترك کردیا ہے اقول : گویا اس قائل نے بھی تمام مذکور کو ایك مرتبہ میں برابر قرار نہیں دیا بلکہ اس میں بھی اس کے نزدیك تشکیك ہے۔ گویا انہوں نے اپنے قول “ متروک “ سے پہلے “ فلان “ کا اعادہ کرکے اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے مگر اس میں کلام ہے کہ ساقط اور اس کا مابعد متروك اس کے مابعد سے فوق وبلند مرتبہ نہیں ہوسکتے ۱۲ منہ (ت)
قدمر لنا ان البخاری قال من قلت فیہ منکر الحدیث فلایحل روایۃ حدیثہ ۔
پیچھے امام بخاری کا یہ قول گزرچکا ہے کہ جس کے بارے میں میں منکر الحدیث کہہ دوں اس کی حدیث روایت کرنا جائز نہیں ۔ (ت)
بااینہمہ علما نے فرمایا ایسے کی حدیث بھی موضوع نہیں تعقبات عـــہ۲ میں ہے :
قال البخاری منکر الحدیث ففایۃ امر حدیثہ انیکون ضعیفا ۔
بخاری نے کہا یہ منکر الحدیث ہے تو زیادہ سے زیادہ اس کی حدیث ضعیف ہوگی۔ (ت)
افادہ نہم : (متروك کی حدیث بھی موضوع نہیں ) ضعیفوں میں سب سے بدتر درجہ متروك کا ہے جس کے بعد صرف عــہ۳ مہتم بالوضع یا کذاب دجال کا مرتبہ ہے میزان میں ہے :
عـــہ۱ : قالہ فی سلیمن بن داود الیمانی ۱۲ منہ (م)
سلیمان بن داؤد یمانی کے ترجمہ میں یہ تحریر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
عـــہ۲ : باب فضائل القرآن ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ۔
باب فضائل القران میں یہ مذکور ہے۔ ۱۲ منہ (ت)
عـــہ۳ : بلکہ مولانا علی قاری نے حاشیہ نزہۃ النظر میں متروك ومہتم بالوضع کا ایك مرتبہ میں ہونا نقل کیا :
حیث قال فالمرتبۃ الثالثۃ فلان متھم بالکذب اوالوضع اوساقط اوھالك اوذاھب الحدیث وفلان متروك اومتروك الحدیث اوترکوہ ملخصا اقول : وکان ھذا القائل ایضا لایقول باستواء جمیع ماذکر فی المرتبۃ بل فیھا ایضا تشکیك عندہ وکانہ الی ذلك اشار باعادۃ فلان قبل قولہ متروك الا ان فیہ ان ساقطا ومابعدہ لایفوق متروکا ومابعدہ فافھم ۱۲ منہ (م)
ان کے الفاظ یہ ہیں تیسرا مرتبہ یہ ہے فلان مہتم بالکذب یا بالوضع یا ساقط یا ہالك یا ذاہب الحدیث اور فلان متروك یا متروك الحدیث یا لوگوں نے اسے ترك کردیا ہے اقول : گویا اس قائل نے بھی تمام مذکور کو ایك مرتبہ میں برابر قرار نہیں دیا بلکہ اس میں بھی اس کے نزدیك تشکیك ہے۔ گویا انہوں نے اپنے قول “ متروک “ سے پہلے “ فلان “ کا اعادہ کرکے اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے مگر اس میں کلام ہے کہ ساقط اور اس کا مابعد متروك اس کے مابعد سے فوق وبلند مرتبہ نہیں ہوسکتے ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
میزان الاعتدال فی ترجمہ سلیمان بن داود الیمانی مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۲۰۲
التعقبات علی الموضوعات باب فضائل القرآن مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل ص ۹
حاشیۃ نزہۃ النظر مع نخبۃ الفکر مراتب الجرح مطبع علیمی ص ۱۱۱
التعقبات علی الموضوعات باب فضائل القرآن مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل ص ۹
حاشیۃ نزہۃ النظر مع نخبۃ الفکر مراتب الجرح مطبع علیمی ص ۱۱۱
اردی عبارات الجرح دجال کذاب اووضاع یضع الحدیث ثم متھم بالکذب ومتفق علی ترکہ ثم متروك الخ
جرح کے سب سے گھٹیا الفاظ یہ ہیں دجال کذاب وضاع جو حدیثیں گھڑتا ہے اس کے بعد متہم بالکذب ومتفق علی ترکہ ہے پھر متروك کا لفظ ہے الخ (ت)
امام الشان تقریب التہذیب میں ذکر مراتب دو روایتیں فرماتے ہیں :
العشرۃ من لم یوثق البتۃ وضعف مع ذلك بقادح والیہ الاشارۃ بمتروك اومتروك الحدیث اوواھی الحدیث اوساقط الحادیۃ عشر من اتھم بالکذب “ الثانیۃ عشر “ من اطلق علیہ اسم الکذب والوضع ۔
دسواں مرتبہ یہ ہے کہ اس راوی کی کسی نے توثیق نہ کی ہو اور اسے جرح کے ساتھ ضعیف کہاگیا ہو اس کی طرف اشارہ متروك یا متروك الحدیث یا واہی الحدیث اور ساقط کے ساتھ کیا جاتا ہے “ گیارھواں درجہ یہ ہے “ جو متہم بالکذب ہو اور بارھواں درجہ یہ ہے کہ جس پر کذب ووضع کے اسم کا اطلاق ہو۔ (ت)
اس پر بھی علماء نے تصریح فرمائی کہ متروك کی حدیث بھی صرف ضعیف ہی ہے موضوع نہیں امام حجر اطراف العشرۃ پھر خاتم الحفاظ لآلی عـــہ۱ میں فرماتے ہیں :
زعم ابن ھبان وتبعہ ابن الجوزی ان ھذا المتن موضوع ولیس کماقال فان الراوی وان کان متروکا عندالاکثر ضعیفا عندالبعض فلم ینسب للوضع اھ مختصرا۔
ابن حبان نے یہ زعم کیا اور ابن جوزی نے ان کی اتباع میں کہا کہ یہ متن موضوع ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ اگرچہ راوی اکثر کے نزدیك متروك اور بعض کے نزدیك ضعیف ہے لیکن یہ وضع کی طرف منسوب نہیں ہے اھ مختصر (ت)
عــــہ : فی التوحید تحت حدیث ابن عدی ان الله عزوجل قرأ طہ ویسین قبل ان یخلق آدم الحدیث ۱۲ منہ (م)
اس کا ذکر کتاب التوحید میں ابن عدی کی اس حدیث کے تحت ہے جس میں ہے کہ الله عزوجل نے طہ اور یس تخلیق آدم علیہ السلام سے پہلے پڑھا الحدیث ۱۲ منہ (ت)
جرح کے سب سے گھٹیا الفاظ یہ ہیں دجال کذاب وضاع جو حدیثیں گھڑتا ہے اس کے بعد متہم بالکذب ومتفق علی ترکہ ہے پھر متروك کا لفظ ہے الخ (ت)
امام الشان تقریب التہذیب میں ذکر مراتب دو روایتیں فرماتے ہیں :
العشرۃ من لم یوثق البتۃ وضعف مع ذلك بقادح والیہ الاشارۃ بمتروك اومتروك الحدیث اوواھی الحدیث اوساقط الحادیۃ عشر من اتھم بالکذب “ الثانیۃ عشر “ من اطلق علیہ اسم الکذب والوضع ۔
دسواں مرتبہ یہ ہے کہ اس راوی کی کسی نے توثیق نہ کی ہو اور اسے جرح کے ساتھ ضعیف کہاگیا ہو اس کی طرف اشارہ متروك یا متروك الحدیث یا واہی الحدیث اور ساقط کے ساتھ کیا جاتا ہے “ گیارھواں درجہ یہ ہے “ جو متہم بالکذب ہو اور بارھواں درجہ یہ ہے کہ جس پر کذب ووضع کے اسم کا اطلاق ہو۔ (ت)
اس پر بھی علماء نے تصریح فرمائی کہ متروك کی حدیث بھی صرف ضعیف ہی ہے موضوع نہیں امام حجر اطراف العشرۃ پھر خاتم الحفاظ لآلی عـــہ۱ میں فرماتے ہیں :
زعم ابن ھبان وتبعہ ابن الجوزی ان ھذا المتن موضوع ولیس کماقال فان الراوی وان کان متروکا عندالاکثر ضعیفا عندالبعض فلم ینسب للوضع اھ مختصرا۔
ابن حبان نے یہ زعم کیا اور ابن جوزی نے ان کی اتباع میں کہا کہ یہ متن موضوع ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ اگرچہ راوی اکثر کے نزدیك متروك اور بعض کے نزدیك ضعیف ہے لیکن یہ وضع کی طرف منسوب نہیں ہے اھ مختصر (ت)
عــــہ : فی التوحید تحت حدیث ابن عدی ان الله عزوجل قرأ طہ ویسین قبل ان یخلق آدم الحدیث ۱۲ منہ (م)
اس کا ذکر کتاب التوحید میں ابن عدی کی اس حدیث کے تحت ہے جس میں ہے کہ الله عزوجل نے طہ اور یس تخلیق آدم علیہ السلام سے پہلے پڑھا الحدیث ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
میزان الاعتدال مقدمۃ الکتاب مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۴
تقریب التہذیب مقدمۃ الکتاب مطبع فاروقی دہلی ص ۳
اللآلی المصنوعۃ کتاب التوحید مطبوعہ التجاریۃ الکبرٰی مصر ۱ / ۱۰
تقریب التہذیب مقدمۃ الکتاب مطبع فاروقی دہلی ص ۳
اللآلی المصنوعۃ کتاب التوحید مطبوعہ التجاریۃ الکبرٰی مصر ۱ / ۱۰
امام بدر زرکشی کتاب النکت علی ابن الصلاح پھر خاتم الحفاظ لآلی عــہ۱ میں فرماتے ہیں :
بین قولنا لم یصح وقولنا موضوع بون کبیر وسلیمن بن ارقم وان کان متروکا فلم یتھم بکذب ولاوضع اھ ملخصا۔
محدثین کے قول “ لم یصح “ اور “ موضوع “ کے درمیان بڑا فرق ہے سلیمان بن ارقم اگرچہ متروك ہے لیکن وہ متہم بالکذب اور متہم بالوضع نہیں اھ ملخصا (ت)
ابوالفرج نے ایك حدیث میں طعن کیا کہ “ الفضل متروک “ (فضل متروك ہے۔ ت) لآلی عـــہ۲ میں فرمایا :
فی الحکم بوضعہ نظر فان الفضل لم یتھم بکذب ۔
اس کو موضوع قرار دینا محل نظر ہے کیونکہ فضل مہتم بالکذب نہیں ۔ (ت)
تعقبات عـــہ۳ میں ہے :
اصبغ شیعی متروك عندالنسائی فحاصل عــہ کلامہ “ انہ ضعیف لاموضوع “ وبذلك صرح البیھقی ۔
اصبغ شیعہ ہے امام نسائی کے ہاں متروك ہے ان کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ ضعیف ہے موضوع نہیں اور اسی بات کی تصریح بیہقی نے کی ہے۔ (ت)
عـــہ۱ : فیہ تحت حدیثہ ایضا والذی نفسی بیدہ ماانزل الله من وحی قط علی نبی بینہ وبینہ الابالعربیۃ الحدیث ۱۲ منہ (م)
عـــہ۲ : فیہ ایضا تحت حدیث ابن شاھین لماکلم الله تعالی موسی یوم الطور کلمہ بغیر الکلام الذی کلمہ یوم ناداہ الحدیث ۱۲ منہ (م)
عـــہ۳ : ذکرہ فی اول باب صلاۃ۔
عـــہ۴ : الکنایۃ للذھبی ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
اس میں اسی حدیث کے تحت یہ بھی ہے کہ قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے الله تعالی نے کسی نبی پر وحی نہیں فرمائی مگر اس کے اور اس کے نبی کے درمیان عربیت تھی الحدیث (ت)
اس میں حدیث ابن شاہین کے تحت یہ بھی ہی کہ جب الله تعالی نے موسی علیہ السلام سے طور کے دن گفتگو فرمائی تو یہ کلام اس کلام کی طرح نہ تھا جو انکے ساتھ ندا کے وقت کیا تھا الحدیث ۱۲ منہ (ت)
باب الصلوۃ کے شروع میں اسے ذکر کیا ہے(ت)اس سے امام ذہبی کی طرف کنایہ ہے ۱۲ منہ (ت)
بین قولنا لم یصح وقولنا موضوع بون کبیر وسلیمن بن ارقم وان کان متروکا فلم یتھم بکذب ولاوضع اھ ملخصا۔
محدثین کے قول “ لم یصح “ اور “ موضوع “ کے درمیان بڑا فرق ہے سلیمان بن ارقم اگرچہ متروك ہے لیکن وہ متہم بالکذب اور متہم بالوضع نہیں اھ ملخصا (ت)
ابوالفرج نے ایك حدیث میں طعن کیا کہ “ الفضل متروک “ (فضل متروك ہے۔ ت) لآلی عـــہ۲ میں فرمایا :
فی الحکم بوضعہ نظر فان الفضل لم یتھم بکذب ۔
اس کو موضوع قرار دینا محل نظر ہے کیونکہ فضل مہتم بالکذب نہیں ۔ (ت)
تعقبات عـــہ۳ میں ہے :
اصبغ شیعی متروك عندالنسائی فحاصل عــہ کلامہ “ انہ ضعیف لاموضوع “ وبذلك صرح البیھقی ۔
اصبغ شیعہ ہے امام نسائی کے ہاں متروك ہے ان کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ ضعیف ہے موضوع نہیں اور اسی بات کی تصریح بیہقی نے کی ہے۔ (ت)
عـــہ۱ : فیہ تحت حدیثہ ایضا والذی نفسی بیدہ ماانزل الله من وحی قط علی نبی بینہ وبینہ الابالعربیۃ الحدیث ۱۲ منہ (م)
عـــہ۲ : فیہ ایضا تحت حدیث ابن شاھین لماکلم الله تعالی موسی یوم الطور کلمہ بغیر الکلام الذی کلمہ یوم ناداہ الحدیث ۱۲ منہ (م)
عـــہ۳ : ذکرہ فی اول باب صلاۃ۔
عـــہ۴ : الکنایۃ للذھبی ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
اس میں اسی حدیث کے تحت یہ بھی ہے کہ قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے الله تعالی نے کسی نبی پر وحی نہیں فرمائی مگر اس کے اور اس کے نبی کے درمیان عربیت تھی الحدیث (ت)
اس میں حدیث ابن شاہین کے تحت یہ بھی ہی کہ جب الله تعالی نے موسی علیہ السلام سے طور کے دن گفتگو فرمائی تو یہ کلام اس کلام کی طرح نہ تھا جو انکے ساتھ ندا کے وقت کیا تھا الحدیث ۱۲ منہ (ت)
باب الصلوۃ کے شروع میں اسے ذکر کیا ہے(ت)اس سے امام ذہبی کی طرف کنایہ ہے ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
اللآلی المصنوعۃ کتاب التوحید مطبوعہ التجاریۃ الکبرٰی مصر ۱ / ۱۱
اللآلی المصنوعۃ کتاب التوحید مطبوعہ التجاریۃ الکبرٰی مصر ۱ / ۱۲
التعقبات علی الموضوعات باب الصلوٰۃ مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل ص ۱۱
اللآلی المصنوعۃ کتاب التوحید مطبوعہ التجاریۃ الکبرٰی مصر ۱ / ۱۲
التعقبات علی الموضوعات باب الصلوٰۃ مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل ص ۱۱
حدیث چلہ صوفیہ کرام قدست اسرارہم کہ :
من اخلص لله تعالی اربعین یوما ظھرت ینابیع الحکمۃ من قلبہ علی لسانہ ۔
جس شخص نے چالیس۴۰ دن الله تعالی کیلئے اخلاص کیا اس کے دل سے حکمت کے چشمے اس کی زبان پر جاری ہوجائیں گے۔ (ت)
ابن جوزی نے بطریق عدیدہ روایت کرکے اس کے رواۃ میں کسی کے مجہول کسی کے کثیر الخطا کسی کے مجروح کسی کے متروك ہونے سے طعن کیا تعقبات میں سب کا جواب یہی فرمایا کہ “ مافیھم متھم بکذب “ یہ سب کچھ سہی پھر ان میں کوئی مہتم بکذب تو نہیں کہ حدیث کو موضوع کہہ سکیں ۔ یوں ہی ایك حدیث عــہکی علت بیان کی : بشربن نمیرعن القاسم متروکان (بشربن نمیر نے قاسم سے روایت کی اور یہ دونوں متروك ہیں ۔ ت) تعقبات میں فرمایا : بشرلم یتھم بکذب (بشر مہتم بالکذب نہیں ۔ ت) حدیث ابی ہریرہ “ اتخذالله ابراھیم خلیلا “ الحدیث (الله تعالی نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا خلیل بنایا پوری حدیث۔ ت) میں کہا تفرد بہ مسلمۃ بن علی الخشنی وھو متروك (اس میں مسلمہ بن علی الخشنی منفرد ہے اور وہ متروك ہے۔ ت) تعقبات میں فرمایا : مسلمۃ وان ضعف فلم یجرح بکذب (مسلمہ اگرچہ ضعیف ہے مگر اس پر جرح بالکذب نہیں ۔ ت) حدیث ابی ہریرہ “ ثلثۃ لایعادون “ (تین چیزیں نہیں لوٹائی جائیں گی۔ ت) پر بھی مسلمہ مذکور سے طعن کیا تعقبات میں فرمایا : لم یتھم بکذب والحدیث ضعیف لاموضوع (یہ مہتم بالکذب نہیں اور یہ حدیث ضعیف ہے موضوع نہیں ۔ ت)سبحان الله ! جب انتہا درجہ کی شدید جرحوں سے موضوعیت ثابت نہیں ہوتی تو صرف جہالت راوی یا انقطاع سند کے سبب موضوع کہہ دینا کیسی جہالت اور عدل وعقل سے انقطاع کی حالت ہے ولکن الوھابیۃ قوم یجھلون۔
عـــہ : یعنی حدیث ابی امامۃ من قال حین یمسی صلی الله تعالی علی نوح وعلیہ السلام لم تلدغہ عقرب تلك اللیلۃ ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م
اس سے مراد حدیث ابی امامہ ہے جس میں ہے کہ جس شخص نے شام کے وقت یہ کہا : “ صلی الله تعالی علی نوح وعلیہ السلام “ تو اسے اس رات بچھو نہیں ڈسے گا ۱۲ منہ (ت)
من اخلص لله تعالی اربعین یوما ظھرت ینابیع الحکمۃ من قلبہ علی لسانہ ۔
جس شخص نے چالیس۴۰ دن الله تعالی کیلئے اخلاص کیا اس کے دل سے حکمت کے چشمے اس کی زبان پر جاری ہوجائیں گے۔ (ت)
ابن جوزی نے بطریق عدیدہ روایت کرکے اس کے رواۃ میں کسی کے مجہول کسی کے کثیر الخطا کسی کے مجروح کسی کے متروك ہونے سے طعن کیا تعقبات میں سب کا جواب یہی فرمایا کہ “ مافیھم متھم بکذب “ یہ سب کچھ سہی پھر ان میں کوئی مہتم بکذب تو نہیں کہ حدیث کو موضوع کہہ سکیں ۔ یوں ہی ایك حدیث عــہکی علت بیان کی : بشربن نمیرعن القاسم متروکان (بشربن نمیر نے قاسم سے روایت کی اور یہ دونوں متروك ہیں ۔ ت) تعقبات میں فرمایا : بشرلم یتھم بکذب (بشر مہتم بالکذب نہیں ۔ ت) حدیث ابی ہریرہ “ اتخذالله ابراھیم خلیلا “ الحدیث (الله تعالی نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا خلیل بنایا پوری حدیث۔ ت) میں کہا تفرد بہ مسلمۃ بن علی الخشنی وھو متروك (اس میں مسلمہ بن علی الخشنی منفرد ہے اور وہ متروك ہے۔ ت) تعقبات میں فرمایا : مسلمۃ وان ضعف فلم یجرح بکذب (مسلمہ اگرچہ ضعیف ہے مگر اس پر جرح بالکذب نہیں ۔ ت) حدیث ابی ہریرہ “ ثلثۃ لایعادون “ (تین چیزیں نہیں لوٹائی جائیں گی۔ ت) پر بھی مسلمہ مذکور سے طعن کیا تعقبات میں فرمایا : لم یتھم بکذب والحدیث ضعیف لاموضوع (یہ مہتم بالکذب نہیں اور یہ حدیث ضعیف ہے موضوع نہیں ۔ ت)سبحان الله ! جب انتہا درجہ کی شدید جرحوں سے موضوعیت ثابت نہیں ہوتی تو صرف جہالت راوی یا انقطاع سند کے سبب موضوع کہہ دینا کیسی جہالت اور عدل وعقل سے انقطاع کی حالت ہے ولکن الوھابیۃ قوم یجھلون۔
عـــہ : یعنی حدیث ابی امامۃ من قال حین یمسی صلی الله تعالی علی نوح وعلیہ السلام لم تلدغہ عقرب تلك اللیلۃ ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م
اس سے مراد حدیث ابی امامہ ہے جس میں ہے کہ جس شخص نے شام کے وقت یہ کہا : “ صلی الله تعالی علی نوح وعلیہ السلام “ تو اسے اس رات بچھو نہیں ڈسے گا ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
التعقبات علی الموضوعات باب الادب والد قائق مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ص ۳۷
التعقبات علی الموضوعات باب الادب والد قائق مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ص ۳۷
التعقبات علی الموضوعات باب الادب والد قائق مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ص ۴۶
التعقبات علی الموضوعات باب الادب والد قائق مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ص ۴۶
التعقبات علی الموضوعات باب المناقب مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ص ۵۳
التعقبات علی الموضوعات باب المناقب مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ص ۵۳
التعقبات علی الموضوعات باب الجنائز مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ص ۱۷
التعقبات علی الموضوعات باب الادب والد قائق مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ص ۳۷
التعقبات علی الموضوعات باب الادب والد قائق مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ص ۴۶
التعقبات علی الموضوعات باب الادب والد قائق مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ص ۴۶
التعقبات علی الموضوعات باب المناقب مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ص ۵۳
التعقبات علی الموضوعات باب المناقب مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ص ۵۳
التعقبات علی الموضوعات باب الجنائز مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ص ۱۷
تذییل : یہ ارشادات تو ہمارے ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالی کے تھے ایك قول وہابیہ کے امام شوکانی کا بھی لیجئے موضوعات ابوالفرج میں یہ حدیث کہ جب مسلمان کی عمر چالیس۴۰ برس کی ہوتی ہے الله تعالی جنون وجذام وبرص کو اس سے پھیر دیتا ہے اور پچاس۵۰ سال والے پر حساب میں نرمی اور ساٹھ۶۰ برس والے کو توبہ وعبادت نصیب ہوتی ہے ہفتاد۷۰ سالہ کو الله عزوجل اور اس کے فرشتے دوست رکھتے ہیں اسی۸۰ برس والے کی نیکیاں قبول اور برائیاں معاف نوے۹۰ برس والے کے سب اگلے پچھلے گناہ مغفور ہوتے ہیں وہ زمین میں الله عزوجل کا قیدی کہلاتا ہے اور اپنے گھر والوں کا شفیع کیا جاتا ہے بطریق عدیدہ روایت کرکے اس کے راویوں پر طعن کئے کہ یوسف بن ابی ذرہ راوی مناکیر لیس بشیئ ہے اور فرج ضعیف منکر الحدیث کہ واہی حدیثوں کو صحیح سندوں سے ملادیتا ہے اور محمد بن عامر حدیثوں کو پلٹ دیتا ہے ثقات سے وہ روایتیں کرتا ہے جو ان کی حدیث سے نہیں اور عرزمی متروك اور عباد بن عباس مستحق ترك اور عزرہ کو یحیی بن معین نے ضعیف بتایا اور ابوالحسن کو فی مجہول اور عائز ضعیف ہے۔ شوکانی نے ان سب مطاعن کو نقل کرکے کہا :
ھذا غایۃ ماابدی ابن الجوزی دلیلا علی ماحکم بہ من الوضع وقد افرط وجازف فلیس مثل ھذہ المقالات توجب الحکم بالوضع بل اقل احوال الحدیث ان یکون حسنا لغیرہ ۔ انتہی والله الھادی الی سبیل الھدی۔
یعنی ابن جوزی نے جو اس حدیث پر حکم وضع کیا اس کی دلیل میں انتہا درجہ یہ طعن پیدا کیے اور بے شك وہ حد سے بڑھے اور بیباکی کو کام میں لائے کہ ایسے طعن حکم وضع کے موجب نہیں بلکہ کم درجہ حال اس حدیث کا یہ ہے کہ حسن لغیرہ ہو۔
افادہ دہم : (موضوعیت حدیث کیونکر ثابت ہوتی ہے) غرض ایسے وجوہ سے حکم وضع کی طرف راہ چاہنا محض ہوس ہے ہاں موضوعیت یوں ثابت ہوتی ہے کہ اس روایت کا مضمون (۱) قرآن عظیم (۲) سنت متواترہ (۳) یا اجماعی قطعی قطعیات الدلالۃ (۴) یا عقل صریح (۵) یا حسن صحیح (۶) یا تاریخ یقینی کے ایسا مخالف ہوکہ احتمال تاویل وتطبیق نہ رہے۔ (۷) یا معنی شنیع وقبیح ہوں جن کا صدور حضور پرنور صلوات الله علیہ سے منقول نہ ہو جیسے معاذالله کسی فساد یا ظلم یا عبث یا سفہ یا مدح باطل یا ذم حق پر مشتمل ہونا۔ (۸) یا ایك جماعت جس کا عدد حد تواتر کو پہنچے اور ان میں احتمال کذب یا ایك دوسرے کی تقلید کا نہ رہے اس کے
ھذا غایۃ ماابدی ابن الجوزی دلیلا علی ماحکم بہ من الوضع وقد افرط وجازف فلیس مثل ھذہ المقالات توجب الحکم بالوضع بل اقل احوال الحدیث ان یکون حسنا لغیرہ ۔ انتہی والله الھادی الی سبیل الھدی۔
یعنی ابن جوزی نے جو اس حدیث پر حکم وضع کیا اس کی دلیل میں انتہا درجہ یہ طعن پیدا کیے اور بے شك وہ حد سے بڑھے اور بیباکی کو کام میں لائے کہ ایسے طعن حکم وضع کے موجب نہیں بلکہ کم درجہ حال اس حدیث کا یہ ہے کہ حسن لغیرہ ہو۔
افادہ دہم : (موضوعیت حدیث کیونکر ثابت ہوتی ہے) غرض ایسے وجوہ سے حکم وضع کی طرف راہ چاہنا محض ہوس ہے ہاں موضوعیت یوں ثابت ہوتی ہے کہ اس روایت کا مضمون (۱) قرآن عظیم (۲) سنت متواترہ (۳) یا اجماعی قطعی قطعیات الدلالۃ (۴) یا عقل صریح (۵) یا حسن صحیح (۶) یا تاریخ یقینی کے ایسا مخالف ہوکہ احتمال تاویل وتطبیق نہ رہے۔ (۷) یا معنی شنیع وقبیح ہوں جن کا صدور حضور پرنور صلوات الله علیہ سے منقول نہ ہو جیسے معاذالله کسی فساد یا ظلم یا عبث یا سفہ یا مدح باطل یا ذم حق پر مشتمل ہونا۔ (۸) یا ایك جماعت جس کا عدد حد تواتر کو پہنچے اور ان میں احتمال کذب یا ایك دوسرے کی تقلید کا نہ رہے اس کے
حوالہ / References
زہر النسرین فی حدیث المعمرین للشوکانی
کذب وبطلان پر گواہی عـــہ مستندا الی الحس دے۔
(۹) یا خبر کسی ایسے امر کی ہوکہ اگر واقع ہوتا تو اس کی نقل وخبر مشہور ومستفیض ہوجاتی مگر اس روایت کے سوا اس کا کہیں پتا نہیں ۔
(۱۰) یا کسی حقیر فعل کی مدحت اور اس پر وعدہ وبشارت یا صغیر امر کی مذمت اور اس پر وعید وتہدید میں ایسے لمبے چوڑے مبالغے ہوں جنہیں کلام معجز نظام نبوت سے مشابہت نہ رہے۔ یہ دس۱۰ صورتیں تو صریح ظہور ووضوح وضع کی ہیں ۔
(۱۱) یا یوں حکم وضع کیا جاتا ہے کہ لفظ رکیك وسخیف ہوں جنہیں سمع دفع اور طبع منع کرے اور ناقل مدعی ہوکہ یہ بعینہا الفاظ کریمہ حضور افصح العرب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمہیں یا وہ محل ہی نقل بالمعنی کا نہ ہو۔
(۱۲) یا ناقل رافضی حضرات اہلبیت کرام علی سیدہم وعلیہم الصلاۃ والسلام کے فضائل میں وہ باتیں روایت کرے جو اس کے غیر سے ثابت نہ ہوں جیسے حدیث : لحمك لحمی ودمك دمی (تیرا گوشت میرا گوشت تیرا خون میرا خون۔ ت)
اقول : انصافا یوں ہی وہ مناقب امیر معاویہ وعمروبن العاصرضی اللہ تعالی عنہماکہ صرف نواصب کی روایت سے آئیں کہ جس طرح روافض نے فضائل امیرالمومنین واہل بیت طاہرین رضی اللہ تعالی عنہممیں قریب تین لاکھ حدیثوں کے وضع کیں “ کمانص علیہ الحافظ ابویعلی والحافظ الخلیلی فی الارشاد “ (جیسا کہ اس پر حافظ ابویعلی اور حافظ خلیلی نے ارشاد میں تصریح کی ہے۔ ت) یونہی نواصب نے مناقب امیر معویہ رضی اللہ تعالی عنہمیں حدیثیں گھڑیں کماارشد الیہ الامام الذاب عن السنۃ احمد بن حنبل رحمہ الله تعالی (جیسا کہ اس کی طرف امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالی علیہنے رہنمائی فرمائی جو سنت کا دفاع کرنے والے ہیں ۔ ت)
(۱۳) یا قرائن حالیہ گواہی دے رہے ہوں کہ یہ روایت اس شخص نے کسی طمع سے یاغضب وغیرہما کے باعث ابھی گھڑکر پیش کردی ہے جیسے حدیث سبق میں زیادت جناح اورحدیث ذم معلمین اطفال۔
(۱۴) یا تمام کتب وتصانیف اسلامیہ میں استقرائے تام کیاجائے اور اس کاکہیں پتانہ چلے یہ صرف اجلہ حفاظ ائمہ شان کاکام تھاجس کی لیاقت صدہاسال سے معدوم۔
(۱۵) یاراوی خود اقرار وضع کردے خواہ صراحۃ خواہ ایسی بات کہے جو بمنزلہ اقرار ہو مثلا ایك شیخ سے بلاواسطہ
عـــہ : زدتہ لان التواتر لایعتبر الافی الحسیات کمانصوا علیہ فی الاصلین ۱۲ منہ (م)
میں نے اس کا اضافہ کیا کیونکہ تواتر کا اعتبار حسیات کے علاوہ میں نہیں ہوتا جیسے کہ انہوں نے اصول میں اس کی تصریح کی ہے ۱۲ منہ (ت)
(۹) یا خبر کسی ایسے امر کی ہوکہ اگر واقع ہوتا تو اس کی نقل وخبر مشہور ومستفیض ہوجاتی مگر اس روایت کے سوا اس کا کہیں پتا نہیں ۔
(۱۰) یا کسی حقیر فعل کی مدحت اور اس پر وعدہ وبشارت یا صغیر امر کی مذمت اور اس پر وعید وتہدید میں ایسے لمبے چوڑے مبالغے ہوں جنہیں کلام معجز نظام نبوت سے مشابہت نہ رہے۔ یہ دس۱۰ صورتیں تو صریح ظہور ووضوح وضع کی ہیں ۔
(۱۱) یا یوں حکم وضع کیا جاتا ہے کہ لفظ رکیك وسخیف ہوں جنہیں سمع دفع اور طبع منع کرے اور ناقل مدعی ہوکہ یہ بعینہا الفاظ کریمہ حضور افصح العرب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمہیں یا وہ محل ہی نقل بالمعنی کا نہ ہو۔
(۱۲) یا ناقل رافضی حضرات اہلبیت کرام علی سیدہم وعلیہم الصلاۃ والسلام کے فضائل میں وہ باتیں روایت کرے جو اس کے غیر سے ثابت نہ ہوں جیسے حدیث : لحمك لحمی ودمك دمی (تیرا گوشت میرا گوشت تیرا خون میرا خون۔ ت)
اقول : انصافا یوں ہی وہ مناقب امیر معاویہ وعمروبن العاصرضی اللہ تعالی عنہماکہ صرف نواصب کی روایت سے آئیں کہ جس طرح روافض نے فضائل امیرالمومنین واہل بیت طاہرین رضی اللہ تعالی عنہممیں قریب تین لاکھ حدیثوں کے وضع کیں “ کمانص علیہ الحافظ ابویعلی والحافظ الخلیلی فی الارشاد “ (جیسا کہ اس پر حافظ ابویعلی اور حافظ خلیلی نے ارشاد میں تصریح کی ہے۔ ت) یونہی نواصب نے مناقب امیر معویہ رضی اللہ تعالی عنہمیں حدیثیں گھڑیں کماارشد الیہ الامام الذاب عن السنۃ احمد بن حنبل رحمہ الله تعالی (جیسا کہ اس کی طرف امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالی علیہنے رہنمائی فرمائی جو سنت کا دفاع کرنے والے ہیں ۔ ت)
(۱۳) یا قرائن حالیہ گواہی دے رہے ہوں کہ یہ روایت اس شخص نے کسی طمع سے یاغضب وغیرہما کے باعث ابھی گھڑکر پیش کردی ہے جیسے حدیث سبق میں زیادت جناح اورحدیث ذم معلمین اطفال۔
(۱۴) یا تمام کتب وتصانیف اسلامیہ میں استقرائے تام کیاجائے اور اس کاکہیں پتانہ چلے یہ صرف اجلہ حفاظ ائمہ شان کاکام تھاجس کی لیاقت صدہاسال سے معدوم۔
(۱۵) یاراوی خود اقرار وضع کردے خواہ صراحۃ خواہ ایسی بات کہے جو بمنزلہ اقرار ہو مثلا ایك شیخ سے بلاواسطہ
عـــہ : زدتہ لان التواتر لایعتبر الافی الحسیات کمانصوا علیہ فی الاصلین ۱۲ منہ (م)
میں نے اس کا اضافہ کیا کیونکہ تواتر کا اعتبار حسیات کے علاوہ میں نہیں ہوتا جیسے کہ انہوں نے اصول میں اس کی تصریح کی ہے ۱۲ منہ (ت)
بدعوی سماع روایت کرے پھراس کی تاریخ وفات وہ بتائے کہ اس کااس سے سننامعقول نہ ہو۔
یہ پندرہ۱۵ باتیں ہیں کہ شاید اس جمع وتلخیص کے ساتھ ان سطور کے سوانہ ملیں ولوبسطنا المقال علی کل صورۃ لطال الکلام وتقاصی المرام ولسناھنالك بصددذلک(اگر ہم ہر ایك صورت پر تفصیلی گفتگو کریں تو کلام طویل اور مقصد دورہوجائے گالہذا ہم یہاں اس کے درپے نہیں ہوتے۔ (ت)
ثم اقول(پھر میں کہتا ہوں ۔ ت)رہا یہ کہ جو حدیث ان سب سے خالی ہو اس پر حکم وضع کی رخصت کس حال میں ہے اس باب میں کلمات علمائے کرام تین طرز پر ہیں :
(۱) انکار محقق یعنی بے امور مذکورہ کے اصلا حکم وضع کی راہ نہیں اگرچہ راوی وضاع کذاب ہی پر اس کا مدار ہو امام سخاوی نے فتح المغیث شرح الفیۃ الحدیث میں اسی پر جزم فرمایا فرماتے ہیں :
مجرد تفرد الکذاب بل الوضاع ولوکان بعد الاستقصاء فی التفتیش من حافظ متبحرتام الاستقراء غیر مستلزم لذلك بل لابد معہ من انضمام شیئ مماسیاتی ۔
یعنی اگر کوئی حافظ جلیل القدرکہ علم حدیث میں دریااور اس کی تلاش کا مل ومحیط ہو تفتیش حدیث میں استقصائے تام کرے اور بااینہمہ حدیث کا پتا ایك راوی کذاب بلکہ وضاع کی روایت سے جدا کہیں نہ ملے تاہم اس سے حدیث کی موضوعیت لازم نہیں آتی جب تك امور مذکورہ سے کوئی امر اس میں موجود نہ ہو۔ (ت)
مولانا علی قاری نے موضوعات کبیر میں حدیث ابن ماجہ دربارہ اتخاذ وجاج کی نسبت نقل کیا کہ اس کی سند میں علی بن عروہ دمشقی ہے ابن حبان نے کہا : وہ حدیثیں وضع کرتا تھا۔ پھر فرمایا : والظاھر ان الحدیث ضعیف لاموضوع (ظاہر یہ ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے موضوع نہیں )حدیث فضیلت عسقلان کا راوی ابوعقال ہلال بن زیدہے ابن حبان نے کہا وہ انس رضی اللہ تعالی عنہسے موضوعات روایت کرتاولہذا ابن الجوزی نے اس پر حکم وضع کیا۔ امام الشان حافظ ابن حجر نے قول مسدد پھر خاتم الحفاظ نے لآلی میں فرمایا :
ھذا الحدیث فی فضائل الاعمال والتحریض علی الرباط ولیس فیہ مایحیلہ الشرع ولاالعقل فالحکم علیہ بالبطلان بمجردکونہ من روایۃ ابی عقال لایتجہ وطریقۃ الامام احمد معروفۃ فی التسامح فی احادیث الفضائل دون احادیث الاحکام ۔
یہ حدیث فضائل اعمال کی ہے اس میں سرحد دارالحرب پر گھوڑے باندھنے کی ترغیب ہے اور ایسا کوئی امر نہیں جسے شرع یا عقل محال مانے تو صرف اس بنا پر کہ اس کا راوی ابوعقال ہے باطل کہہ دینا نہیں بنتا امام احمد کی روش معلوم ہے کہ احادیث فضائل
یہ پندرہ۱۵ باتیں ہیں کہ شاید اس جمع وتلخیص کے ساتھ ان سطور کے سوانہ ملیں ولوبسطنا المقال علی کل صورۃ لطال الکلام وتقاصی المرام ولسناھنالك بصددذلک(اگر ہم ہر ایك صورت پر تفصیلی گفتگو کریں تو کلام طویل اور مقصد دورہوجائے گالہذا ہم یہاں اس کے درپے نہیں ہوتے۔ (ت)
ثم اقول(پھر میں کہتا ہوں ۔ ت)رہا یہ کہ جو حدیث ان سب سے خالی ہو اس پر حکم وضع کی رخصت کس حال میں ہے اس باب میں کلمات علمائے کرام تین طرز پر ہیں :
(۱) انکار محقق یعنی بے امور مذکورہ کے اصلا حکم وضع کی راہ نہیں اگرچہ راوی وضاع کذاب ہی پر اس کا مدار ہو امام سخاوی نے فتح المغیث شرح الفیۃ الحدیث میں اسی پر جزم فرمایا فرماتے ہیں :
مجرد تفرد الکذاب بل الوضاع ولوکان بعد الاستقصاء فی التفتیش من حافظ متبحرتام الاستقراء غیر مستلزم لذلك بل لابد معہ من انضمام شیئ مماسیاتی ۔
یعنی اگر کوئی حافظ جلیل القدرکہ علم حدیث میں دریااور اس کی تلاش کا مل ومحیط ہو تفتیش حدیث میں استقصائے تام کرے اور بااینہمہ حدیث کا پتا ایك راوی کذاب بلکہ وضاع کی روایت سے جدا کہیں نہ ملے تاہم اس سے حدیث کی موضوعیت لازم نہیں آتی جب تك امور مذکورہ سے کوئی امر اس میں موجود نہ ہو۔ (ت)
مولانا علی قاری نے موضوعات کبیر میں حدیث ابن ماجہ دربارہ اتخاذ وجاج کی نسبت نقل کیا کہ اس کی سند میں علی بن عروہ دمشقی ہے ابن حبان نے کہا : وہ حدیثیں وضع کرتا تھا۔ پھر فرمایا : والظاھر ان الحدیث ضعیف لاموضوع (ظاہر یہ ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے موضوع نہیں )حدیث فضیلت عسقلان کا راوی ابوعقال ہلال بن زیدہے ابن حبان نے کہا وہ انس رضی اللہ تعالی عنہسے موضوعات روایت کرتاولہذا ابن الجوزی نے اس پر حکم وضع کیا۔ امام الشان حافظ ابن حجر نے قول مسدد پھر خاتم الحفاظ نے لآلی میں فرمایا :
ھذا الحدیث فی فضائل الاعمال والتحریض علی الرباط ولیس فیہ مایحیلہ الشرع ولاالعقل فالحکم علیہ بالبطلان بمجردکونہ من روایۃ ابی عقال لایتجہ وطریقۃ الامام احمد معروفۃ فی التسامح فی احادیث الفضائل دون احادیث الاحکام ۔
یہ حدیث فضائل اعمال کی ہے اس میں سرحد دارالحرب پر گھوڑے باندھنے کی ترغیب ہے اور ایسا کوئی امر نہیں جسے شرع یا عقل محال مانے تو صرف اس بنا پر کہ اس کا راوی ابوعقال ہے باطل کہہ دینا نہیں بنتا امام احمد کی روش معلوم ہے کہ احادیث فضائل
حوالہ / References
فتح المغیث شرح الفیۃ الحدیث الموضوع دارالامام الطبری بیروت ۱ / ۲۹۷
الاسرار المرفوعہ فی اخبار الموضوعہ حدیث ۱۲۸۲ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۳۳۸
القول المسدد الحدیث الثامن مطبوعہ مطبعۃ مجلس دائرۃ المعارف العثمانیہ حیدرآباد دکن ہند ص ۳۲
الاسرار المرفوعہ فی اخبار الموضوعہ حدیث ۱۲۸۲ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۳۳۸
القول المسدد الحدیث الثامن مطبوعہ مطبعۃ مجلس دائرۃ المعارف العثمانیہ حیدرآباد دکن ہند ص ۳۲
میں نرمی فرماتے ہیں نہ احادیث احکام میں ۔ (ت)
یعنی تو اسے درج مسند فرمانا کچھ معیوب نہ ہوا۔
(۲) کذاب وضاع جس سے عمدا نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر معاذ الله بہتان وافتراء کرناثابت ہو صرف ایسے کی حدیث کو موضوع کہیں گے وہ بھی بطریق ظن نہ بروجہ یقین کہ بڑا جھوٹابھی کبھی سچ بولتا ہے اور اگر قصدا افترا اس سے ثابت نہیں تو اس کی حدیث موضوع نہیں اگرچہ مہتم بکذب و وضع ہو یہ مسلك امام الشان۱ وغیرہ علماء کا ہے نخبہ ونزھہ میں فرماتے ہیں :
الطعن اماان یکون لکذب الراوی بان یروی عنہ مالم یقلہ صلی الله تعالی علیہ وسلم متعمد الذلك اوتھمتہ بذلک الاول ھوالموضوع والحکم علیہ بالوضع انما ھو بطریق الظن الغالب لابالقطع اذقد یصدق الکذوب والثانی ھو المتروك اھ ملتقطا
طعن یا تو کذب راوی کی وجہ سے ہوگا مثلا اس نے عمدا اپنی بات روایت کی جو نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے نہیں فرمائی تھی یا اس پر ایسی تہمت ہو پہلی صورت میں روایت کو موضوع کہیں گے اور اس پر وضع کا حکم یقینی نہیں بلکہ بطور ظن غالب ہے کیونکہ بعض اوقات بڑا جھوٹابھی سچ بولتا ہے اور دوسری صورت میں روایت کو متروك کہتے ہیں اھ ملتقطا۔ (ت)
یہی ۲امام کتاب الاصابہ عـــہ فی تمیز الصحابہ میں حدیث ان الشیطان یحب الحمرۃ فایاکم والحمرۃ وکل ثوب فیہ شھرۃ (شیطان سرخ رنگ پسند کرتا ہے تم سرخ رنگت سے بچو اور ہر اس کپڑے سے جس میں شہرت ہو۔ ت) کی نسبت فرماتے ہیں :
قال الجوزقانی فی کتاب الاباطیل ھذا حدیث باطل واسنادہ منقطع کذاقال وقولہ باطل مردود فان ابابکر الھذلی لم یوصف بالوضع وقد وافقہ سعید بن بشیر وان زادفی السند رجلا فغایتہ ان المتن ضعیف اماحکمہ بالوضع فمردود ۔
جو زقانی نے کتاب الاباطیل میں کہا کہ یہ روایت باطل ہے اور اس کی سند میں انقطاع ہے۔ اسی طرح انہوں نے کہا اور ان کا باطل کہنا مردود ہے کیونکہ ابوبکر ہذلی وضاع نہیں اور اس کی سعید بن بشیر نے موافقت کی اگرچہ سند میں انہوں نے ایك آدمی کا اضافہ کیا ہے زیاد سے زیادہ یہ ہے کہ متن ضعیف ہے لیکن اس پر وضع کا حکم جاری کرنا مردود ہے۔ (ت)
عـــہ : ذکرہ فی ترجمۃ رافع بن یزید الثقفی ۱۲ منہ (م)
رافع بن یزید ثقفی کے ترجمہ میں اس کا ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
یعنی تو اسے درج مسند فرمانا کچھ معیوب نہ ہوا۔
(۲) کذاب وضاع جس سے عمدا نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر معاذ الله بہتان وافتراء کرناثابت ہو صرف ایسے کی حدیث کو موضوع کہیں گے وہ بھی بطریق ظن نہ بروجہ یقین کہ بڑا جھوٹابھی کبھی سچ بولتا ہے اور اگر قصدا افترا اس سے ثابت نہیں تو اس کی حدیث موضوع نہیں اگرچہ مہتم بکذب و وضع ہو یہ مسلك امام الشان۱ وغیرہ علماء کا ہے نخبہ ونزھہ میں فرماتے ہیں :
الطعن اماان یکون لکذب الراوی بان یروی عنہ مالم یقلہ صلی الله تعالی علیہ وسلم متعمد الذلك اوتھمتہ بذلک الاول ھوالموضوع والحکم علیہ بالوضع انما ھو بطریق الظن الغالب لابالقطع اذقد یصدق الکذوب والثانی ھو المتروك اھ ملتقطا
طعن یا تو کذب راوی کی وجہ سے ہوگا مثلا اس نے عمدا اپنی بات روایت کی جو نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے نہیں فرمائی تھی یا اس پر ایسی تہمت ہو پہلی صورت میں روایت کو موضوع کہیں گے اور اس پر وضع کا حکم یقینی نہیں بلکہ بطور ظن غالب ہے کیونکہ بعض اوقات بڑا جھوٹابھی سچ بولتا ہے اور دوسری صورت میں روایت کو متروك کہتے ہیں اھ ملتقطا۔ (ت)
یہی ۲امام کتاب الاصابہ عـــہ فی تمیز الصحابہ میں حدیث ان الشیطان یحب الحمرۃ فایاکم والحمرۃ وکل ثوب فیہ شھرۃ (شیطان سرخ رنگ پسند کرتا ہے تم سرخ رنگت سے بچو اور ہر اس کپڑے سے جس میں شہرت ہو۔ ت) کی نسبت فرماتے ہیں :
قال الجوزقانی فی کتاب الاباطیل ھذا حدیث باطل واسنادہ منقطع کذاقال وقولہ باطل مردود فان ابابکر الھذلی لم یوصف بالوضع وقد وافقہ سعید بن بشیر وان زادفی السند رجلا فغایتہ ان المتن ضعیف اماحکمہ بالوضع فمردود ۔
جو زقانی نے کتاب الاباطیل میں کہا کہ یہ روایت باطل ہے اور اس کی سند میں انقطاع ہے۔ اسی طرح انہوں نے کہا اور ان کا باطل کہنا مردود ہے کیونکہ ابوبکر ہذلی وضاع نہیں اور اس کی سعید بن بشیر نے موافقت کی اگرچہ سند میں انہوں نے ایك آدمی کا اضافہ کیا ہے زیاد سے زیادہ یہ ہے کہ متن ضعیف ہے لیکن اس پر وضع کا حکم جاری کرنا مردود ہے۔ (ت)
عـــہ : ذکرہ فی ترجمۃ رافع بن یزید الثقفی ۱۲ منہ (م)
رافع بن یزید ثقفی کے ترجمہ میں اس کا ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
شرح نخبۃ الفکر معہ نزھۃ النظر بحث الطعن مطبوعہ مطبع علیمی لاہور ص ۵۴ تا ۵۹
الاصابہ فی تمییز الصحابہ القسم الاول '' حرف الراء '' مطبوعہ دارصادر بیروت ۱ / ۵۰۰
الاصابہ فی تمییز الصحابہ القسم الاول '' حرف الراء '' مطبوعہ دارصادر بیروت ۱ / ۵۰۰
۳علی قاری حاشیہ نزھہ میں فرماتے ہیں :
الموضوع ھو الحدیث الذی فیہ الطعن بکذب الراوی ۔
موضوع اس روایت کو کہا جاتا ہے جس کے راوی پر کذب کا طعن ہو۔ (ت)
علامہ۴ عبدالباقی زرقانی شرح مواہب عـــہ۱ لدنیہ میں فرماتے ہیں :
احادیث الدیك حکم ابن الجوزی بوضعھاورد علیہ الحافظ بماحاصلہ انہ لم یتبین لہ الحکم بوضعھااذلیس فیھا وضاع ولاکذاب نعم ھوضعیف من جمیع طرقہ ۔
روایات دیك (مرغ) کو ابن جوزی نے موضوع قرار دیا ہے اور حافظ نے ان کا رد کیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس کا مرفوع قرار دینا بیان نہیں کیاکیونکہ اس میں نہ کوئی وضاع ہے اور نہ کذاب ہاں وہ جمع طرق کے لحاظ سے ضعیف ہے۔ (ت)
۵اسی میں حدیث عـــہ۲ کان لایعود الابعد ثلث (سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمتین دن کے بعد عیادت مریض فرماتے تھے۔ ت) پر اس طعن کے جواب میں کہ اس میں مسلمہ بن علی متروك واقع ہے فرمایا :
اوردہ ابن الجوزی فی الموضوعات وتعقبوا “ بانہ ضعیف فقط لاموضوع فان مسلمۃ لم یجرح بکذب کماقالہ الحافظ ولاالتفات لمن غر بزخرف القول فقال ھو موضوع کماقال الذھبی وغیرہ ۔
ابن جوزی نے اسے موضوعات میں شامل کیا ہے محدثین نے ان کا تعاقب کرتے ہوئے کہاکہ یہ صرف ضعیف ہے موضوع نہیں کیونکہ مسلمہ پر جرح بالکذب نہیں جیساکہ حافظ نے کہا اور نہ توجہ کی جائے اس شخص کی طرف جس نے ملمع کاری سے دھوکاکھایا اور کہاکہ یہ موضوع ہے جیسا کہ ذہبی وغیرہ نے کہا۔ (ت)
عـــہ۱ : المقصد الثانی آخر الفصل التاسع ۱۲ منہ (م)
عـــہ۲ : المقصد الثامن من الفصل الاول فی طبہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ۱۲ منہ رضی الله تعالی
دوسرے مقصد کی ساتویں فصل کے آخر میں اس کا ذکر ہے ۱۲ منہ (ت)
آٹھویں مقصدکی پہلی فصل سے طب نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیں اس کاذکرہے ۱۲منہ (ت)
الموضوع ھو الحدیث الذی فیہ الطعن بکذب الراوی ۔
موضوع اس روایت کو کہا جاتا ہے جس کے راوی پر کذب کا طعن ہو۔ (ت)
علامہ۴ عبدالباقی زرقانی شرح مواہب عـــہ۱ لدنیہ میں فرماتے ہیں :
احادیث الدیك حکم ابن الجوزی بوضعھاورد علیہ الحافظ بماحاصلہ انہ لم یتبین لہ الحکم بوضعھااذلیس فیھا وضاع ولاکذاب نعم ھوضعیف من جمیع طرقہ ۔
روایات دیك (مرغ) کو ابن جوزی نے موضوع قرار دیا ہے اور حافظ نے ان کا رد کیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس کا مرفوع قرار دینا بیان نہیں کیاکیونکہ اس میں نہ کوئی وضاع ہے اور نہ کذاب ہاں وہ جمع طرق کے لحاظ سے ضعیف ہے۔ (ت)
۵اسی میں حدیث عـــہ۲ کان لایعود الابعد ثلث (سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمتین دن کے بعد عیادت مریض فرماتے تھے۔ ت) پر اس طعن کے جواب میں کہ اس میں مسلمہ بن علی متروك واقع ہے فرمایا :
اوردہ ابن الجوزی فی الموضوعات وتعقبوا “ بانہ ضعیف فقط لاموضوع فان مسلمۃ لم یجرح بکذب کماقالہ الحافظ ولاالتفات لمن غر بزخرف القول فقال ھو موضوع کماقال الذھبی وغیرہ ۔
ابن جوزی نے اسے موضوعات میں شامل کیا ہے محدثین نے ان کا تعاقب کرتے ہوئے کہاکہ یہ صرف ضعیف ہے موضوع نہیں کیونکہ مسلمہ پر جرح بالکذب نہیں جیساکہ حافظ نے کہا اور نہ توجہ کی جائے اس شخص کی طرف جس نے ملمع کاری سے دھوکاکھایا اور کہاکہ یہ موضوع ہے جیسا کہ ذہبی وغیرہ نے کہا۔ (ت)
عـــہ۱ : المقصد الثانی آخر الفصل التاسع ۱۲ منہ (م)
عـــہ۲ : المقصد الثامن من الفصل الاول فی طبہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ۱۲ منہ رضی الله تعالی
دوسرے مقصد کی ساتویں فصل کے آخر میں اس کا ذکر ہے ۱۲ منہ (ت)
آٹھویں مقصدکی پہلی فصل سے طب نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیں اس کاذکرہے ۱۲منہ (ت)
حوالہ / References
حاشیہ نزھۃ النظر مع نخبۃ الفکر بحث الموضوع مطبع علیمی لاہور ص ۵۶
شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الثانی آخر الفصل التاسع مطبوعہ مطبعۃ عامرہ مصر ۳ / ۴۵۰
شرح الزرقانی علی المواہب الفصل الاول من المقصد الثامن فی طبہ صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ مطبعۃ عامرہ مصر ۷ / ۵۸
شرح الزرقانی علی المواہب الفصل الاول من المقصد الثامن فی طبہ صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ مطبعۃ عامرہ مصر ۷ / ۵۹
شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الثانی آخر الفصل التاسع مطبوعہ مطبعۃ عامرہ مصر ۳ / ۴۵۰
شرح الزرقانی علی المواہب الفصل الاول من المقصد الثامن فی طبہ صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ مطبعۃ عامرہ مصر ۷ / ۵۸
شرح الزرقانی علی المواہب الفصل الاول من المقصد الثامن فی طبہ صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ مطبعۃ عامرہ مصر ۷ / ۵۹
اسی میں بعد کلام مذکور ہے :
المدارعلی الاسناد فان تفردبہ کذاب اووضاع فحدیثہ موضوع وان کان ضعیفا فالحدیث ضعیف فقط ۔
مدار سند حدیث پر ہے اگر اسے روایت کرنے والا کذاب یا وضاع متفردہے تو وہ روایت موضوع ہوگی اور اگر ضعیف ہے تو روایت صرف ضعیف ہوگی۔ (ت)
۶انہیں ابن علی خشنی نے حدیث لیس عیادۃ الرمد والدمل والضرس (تین اشخاص کی عیادت لازم نہیں جس کی آنکھ میں تکلیف ہو جس کو پھوڑا نکل آئے اور داڑھ درد والے کی۔ ت)کو مرفوعا روایت کیا اور ہقل نے یحیی بن ابی کثیر پر موقوف رکھا تو شدت طعن کے ساتھ مخالفت اوثق نے حدیث کو منکر بھی کردیا ولہذا بیہقی نے موقوف کو “ ھو الصحیح “ (وہ صحیح ہے۔ ت) بتایا امام حافظ نے فرمایا :
تصحیحہ وقفہ لایوجب الحکم بوضعہ اذمسلمۃوان کان ضعیفالم یجرح بکذب فجزم ابن الجوزی بوضعہ وھم اھ نقلہ الزرقانی قبیل مامر۔
اس کی تصحیح کاموقوف ہونا ہے جوکہ اس کے موضوع ہونے کو ثابت نہیں کرتی کیونکہ مسلمہ اگرچہ ضعیف ہے لیکن اس پر کذب کاطعن نہیں لہذا ثابت ہواکہ ابن جوزی کا ان کو موضوع قراردیناوہم ہے اھ اسے امام زرقانی نے پہلی حدیث سے کچھ پہلے نقل کیا ہے۔ (ت)
۷امام مالك رضی اللہ تعالی عنہکا خلیفہ منصور عباسی سے ارشاد کہ اپنا منہ حضور پرنور شافع یوم النشور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے کیوں پھیرتا ہے وہ تیرا اور تیرے باپ آدمعليه الصلوۃ والسلام کا الله عزوجل کی بارگاہ میں وسیلہ ہیں ان کی طرف منہ کر اور ان سے شفاعت مانگ کر الله تعالی ان کی شفاعت قبول فرمائے گا جسے اکابر ائمہ نے باسانید جیدہ مقبولہ روایت فرمایا ابن تیمیہ متہورنے جزافا بك دیا کہ ان ھذہ الحکایۃ کذب علی مالک “ ۔
المدارعلی الاسناد فان تفردبہ کذاب اووضاع فحدیثہ موضوع وان کان ضعیفا فالحدیث ضعیف فقط ۔
مدار سند حدیث پر ہے اگر اسے روایت کرنے والا کذاب یا وضاع متفردہے تو وہ روایت موضوع ہوگی اور اگر ضعیف ہے تو روایت صرف ضعیف ہوگی۔ (ت)
۶انہیں ابن علی خشنی نے حدیث لیس عیادۃ الرمد والدمل والضرس (تین اشخاص کی عیادت لازم نہیں جس کی آنکھ میں تکلیف ہو جس کو پھوڑا نکل آئے اور داڑھ درد والے کی۔ ت)کو مرفوعا روایت کیا اور ہقل نے یحیی بن ابی کثیر پر موقوف رکھا تو شدت طعن کے ساتھ مخالفت اوثق نے حدیث کو منکر بھی کردیا ولہذا بیہقی نے موقوف کو “ ھو الصحیح “ (وہ صحیح ہے۔ ت) بتایا امام حافظ نے فرمایا :
تصحیحہ وقفہ لایوجب الحکم بوضعہ اذمسلمۃوان کان ضعیفالم یجرح بکذب فجزم ابن الجوزی بوضعہ وھم اھ نقلہ الزرقانی قبیل مامر۔
اس کی تصحیح کاموقوف ہونا ہے جوکہ اس کے موضوع ہونے کو ثابت نہیں کرتی کیونکہ مسلمہ اگرچہ ضعیف ہے لیکن اس پر کذب کاطعن نہیں لہذا ثابت ہواکہ ابن جوزی کا ان کو موضوع قراردیناوہم ہے اھ اسے امام زرقانی نے پہلی حدیث سے کچھ پہلے نقل کیا ہے۔ (ت)
۷امام مالك رضی اللہ تعالی عنہکا خلیفہ منصور عباسی سے ارشاد کہ اپنا منہ حضور پرنور شافع یوم النشور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے کیوں پھیرتا ہے وہ تیرا اور تیرے باپ آدمعليه الصلوۃ والسلام کا الله عزوجل کی بارگاہ میں وسیلہ ہیں ان کی طرف منہ کر اور ان سے شفاعت مانگ کر الله تعالی ان کی شفاعت قبول فرمائے گا جسے اکابر ائمہ نے باسانید جیدہ مقبولہ روایت فرمایا ابن تیمیہ متہورنے جزافا بك دیا کہ ان ھذہ الحکایۃ کذب علی مالک “ ۔
حوالہ / References
شرح الزرقانی علی المواہب الفصل الاول من المقصد الثامن فی طبہ صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ مطبعۃعامرہ مصر۷ / ۵۹
شرح الزرقانی علی المواہب الفصل الاول من المقصد الثامن فی طبہ صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ مطبعۃ عامرہ مصر ۷ / ۵۸
شرح الزرقانی علی المواہب الفصل الاول من المقصد الثامن فی طبہ صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ مطبعۃ عامرہ مصر ۷ / ۵۸
(اس واقعہ کا امام مالك سے نقل کرنا جھوٹ ہے۔ ت) علامہ عـــہ۱ زرقانی نے اس کے رد میں فرمایا :
ھذا تھور عجیب فان الحکایۃ رواھا ابوالحسن علی بن فھر فی کتابہ فضائل مالك باسناد لاباس بہ واخرجھا القاضی عیاض فی الشفاء من طریقہ عن شیوخ عدۃمن ثقات مشایخہ فمن این انھاکذب ولیس فی اسنادھا وضاع ولاکذاب ۔
یہ بہت بڑی زیادتی ہے کیونکہ اس واقعہ کو شیخ ابوالحسن بن فہرنے اپنی کتاب “ فضائل مالک “ میں ایسی سند کے ساتھ نقل کیا ہے جس میں کمزوری نہیں اور اسے قاضی عیاض نے شفاء میں متعدد ثقہ مشائخ کے حوالے سے اسی سند سے بیان کیاہے لہذااسے جھوٹا کیسے قرار دیا جاسکتا ہےحالانکہ اسکی سند میں نہ کوئی رواوی وضاع ہے اور نہ ہی کذاب۔ (ت)
افادہ نہم میں ۸امام الشان وامام خاتم الحفاظ کا ارشاد گزرا کہ راوی متروك سہی کسی نے اسے وضاع تو نہ کہا امام۹ آخر کا قول گزرا کہ مسلمہ ضعیف سہی اس پر طعن کذب تو نہیں نیز تعقبات عـــہ۲ میں فرمایا :
لم یجرح بکذب فلایلزم انیکون حدیثہ موضوعا ۔
اس پر کذب کا طعن نہیں لہذا اس کی روایت کا موضوع ہونا لازم نہیں آتا۔ (ت)
(۳) بہت علماء جہاں حدیث پر سے حکم وضع اٹھاتے ہیں وجہ رد میں کذب کے ساتھ تہمت کذب بھی شامل فرماتے ہیں کہ یہ کیونکر موضوع ہوسکتی ہے حالانکہ اس کا کوئی راوی نہ کذاب ہے نہ متہم بالکذب۔ کبھی فرماتے ہیں موضوع تو جب ہوتی کہ اس کا راوی متہم بالکذب ہوتا یہاں ایسا نہیں تو موضوع نہیں ۔ ۱افادہ دوم میں امام زرکشی وامام سیوطی کا ارشاد گزرا کہ حدیث موضوع نہیں ہوتی جب تك راوی متہم بالوضع نہ ہو۔ ۲افادہ پنجم میں گزرا کہ ابوالفرج نے کہا ملیکی متروك ہے تعقبات میں فرمایامتہم بکذب تونہیں ۔ ۳افادہ نہم میں انہی دونوں ائمہ کا قول گزرا کہ راوی متروك سہی متہم بالکذب تو نہیں ۔ وہیں امام خاتم الحفاظ کے چار۴ قول گزرے کہ راویوں کے ۴مجہول ۵مجروح ۶ کثیرالخطا ۷متروك ہونے سب کے یہی جواب دیے۔ نیز تعقبات عـــہ۳ میں ہے :
عـــہ۱ المقصد العاشر الفصل الثانی فی زیارۃ قبر النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم منہ
عـــہ۲ باب فضائل القران منہ
عـــہ۳ آخر البعث منہ
دسویں مقصد کی فصل ثانی فی زیادۃ قبرالنبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیں اس کا ذکر ہے ۱۲ منہ (ت)
باب فضائل القرآن میں اس کا ذکر ہے ۱۲ منہ (ت)
باب البعث کے آخر میں اس کا ذکر ہے ۱۲ منہ(ت)
ھذا تھور عجیب فان الحکایۃ رواھا ابوالحسن علی بن فھر فی کتابہ فضائل مالك باسناد لاباس بہ واخرجھا القاضی عیاض فی الشفاء من طریقہ عن شیوخ عدۃمن ثقات مشایخہ فمن این انھاکذب ولیس فی اسنادھا وضاع ولاکذاب ۔
یہ بہت بڑی زیادتی ہے کیونکہ اس واقعہ کو شیخ ابوالحسن بن فہرنے اپنی کتاب “ فضائل مالک “ میں ایسی سند کے ساتھ نقل کیا ہے جس میں کمزوری نہیں اور اسے قاضی عیاض نے شفاء میں متعدد ثقہ مشائخ کے حوالے سے اسی سند سے بیان کیاہے لہذااسے جھوٹا کیسے قرار دیا جاسکتا ہےحالانکہ اسکی سند میں نہ کوئی رواوی وضاع ہے اور نہ ہی کذاب۔ (ت)
افادہ نہم میں ۸امام الشان وامام خاتم الحفاظ کا ارشاد گزرا کہ راوی متروك سہی کسی نے اسے وضاع تو نہ کہا امام۹ آخر کا قول گزرا کہ مسلمہ ضعیف سہی اس پر طعن کذب تو نہیں نیز تعقبات عـــہ۲ میں فرمایا :
لم یجرح بکذب فلایلزم انیکون حدیثہ موضوعا ۔
اس پر کذب کا طعن نہیں لہذا اس کی روایت کا موضوع ہونا لازم نہیں آتا۔ (ت)
(۳) بہت علماء جہاں حدیث پر سے حکم وضع اٹھاتے ہیں وجہ رد میں کذب کے ساتھ تہمت کذب بھی شامل فرماتے ہیں کہ یہ کیونکر موضوع ہوسکتی ہے حالانکہ اس کا کوئی راوی نہ کذاب ہے نہ متہم بالکذب۔ کبھی فرماتے ہیں موضوع تو جب ہوتی کہ اس کا راوی متہم بالکذب ہوتا یہاں ایسا نہیں تو موضوع نہیں ۔ ۱افادہ دوم میں امام زرکشی وامام سیوطی کا ارشاد گزرا کہ حدیث موضوع نہیں ہوتی جب تك راوی متہم بالوضع نہ ہو۔ ۲افادہ پنجم میں گزرا کہ ابوالفرج نے کہا ملیکی متروك ہے تعقبات میں فرمایامتہم بکذب تونہیں ۔ ۳افادہ نہم میں انہی دونوں ائمہ کا قول گزرا کہ راوی متروك سہی متہم بالکذب تو نہیں ۔ وہیں امام خاتم الحفاظ کے چار۴ قول گزرے کہ راویوں کے ۴مجہول ۵مجروح ۶ کثیرالخطا ۷متروك ہونے سب کے یہی جواب دیے۔ نیز تعقبات عـــہ۳ میں ہے :
عـــہ۱ المقصد العاشر الفصل الثانی فی زیارۃ قبر النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم منہ
عـــہ۲ باب فضائل القران منہ
عـــہ۳ آخر البعث منہ
دسویں مقصد کی فصل ثانی فی زیادۃ قبرالنبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیں اس کا ذکر ہے ۱۲ منہ (ت)
باب فضائل القرآن میں اس کا ذکر ہے ۱۲ منہ (ت)
باب البعث کے آخر میں اس کا ذکر ہے ۱۲ منہ(ت)
حوالہ / References
شرح الزرقانی علی المواہب الفصل الثانی المقصد العاشر مطبوعہ مطبعہ عامرہ مصر ۸ / ۳۴۸
التعقبات علی ا لموضوعات باب فضائل القرآن مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل ص۸
التعقبات علی ا لموضوعات باب فضائل القرآن مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل ص۸
حدیث فیہ حسن بن فرقدلیس بشیئ قلت لم یتھم بکذب واکثر مافیہ ان الحدیث ضعیف ۔
اس حدیث کی سند میں حسن بن فرقد کوئی شیئ نہیں میں کہتا ہوں کہ یہ متہم بالکذب نہیں زیادہ سے زیادہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ (ت)
اسی میں عـــہ۱ ہے :
حدیث فیہ عطیۃ العوفی وبشربن عمارۃ ضعیفان “ قلت “ فی الحکم بوضعہ نظرفلم یتھم واحد منھما بکذب ۔
اس حدیث کی سندمیں عطیہ اور بشر دونوں ضعیف ہیں میرے نزدیك اس حدیث پر وضع کا حکم نافذکرنا محل نظر ہے کیونکہ ان دونوں میں سے کسی پر بھی کذب کی تہمت نہیں ۔ (ت)
۱۰اسی میں عـــہ۲ ہے :
حدیث اطلبواالعلم ولوبالصین فیہ ابوعاتکۃ منکر الحدیث “ قلت “ لم یجرح بکذب و لاتھمۃ ۔
حدیث “ علم حاصل کرو اگرچہ چین جانا پڑے “ اس کی سند میں ابوعاتکہ منکر الحدیث ہے میں کہتا ہوں اس پر کذب اور تہمت کا طعن نہیں ہے۔ (ت)
۱۱ اسی میں عـــہ۳ ہے :
حدیث فیہ عمار لایحتج بہ قال الحافظ ابن حجر تابعہ اغلب واغلب شبیہ بعمارۃ فی الضعف لکن لم ارمن اتھمہ بالکذب ۔
اس حدیث کی سند میں عمارہ ہے لہذا یہ قابل استدلال نہیں حافظ ابن حجر کہتے ہیں کہ اس کی اغلب نے متابعت کی ہے اور اغلب ضعف میں عمارہ کے مثل ہے لیکن میرے علم میں کوئی ایسا نہیں جس نے اس پر کذب کی تہمت لگائی ہو۔ (ت)
۱۲علامہ زرقانی نے شرح مواہب میں حدیث عالم قریش یملؤ الارض علما(عالم قریشی زمین کو علم سے بھردے گا۔ ت)کی نسبت فرمایا : یتصور وضعہ ولاکذاب فیہ ولامتھم اس کا موضوع ہونا کیونکر متصور ہو حالانکہ نہ اس میں کوئی کذاب نہ کوئی متہم۔
عــــہ۱ آخر التوحید ۱۲ منہ ۔ عـــہ۲ اول العلم ۱۲ منہ ۔ عــــہ۳ اول باب البعث ب
اب التوحید کے آخر میں اس کا ذکر ہے ۱۲ منہ (ت)
باب العلم کی ابتداء میں اس کا ذکر ہے ۱۲ منہ (ت)
اس حدیث کی سند میں حسن بن فرقد کوئی شیئ نہیں میں کہتا ہوں کہ یہ متہم بالکذب نہیں زیادہ سے زیادہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ (ت)
اسی میں عـــہ۱ ہے :
حدیث فیہ عطیۃ العوفی وبشربن عمارۃ ضعیفان “ قلت “ فی الحکم بوضعہ نظرفلم یتھم واحد منھما بکذب ۔
اس حدیث کی سندمیں عطیہ اور بشر دونوں ضعیف ہیں میرے نزدیك اس حدیث پر وضع کا حکم نافذکرنا محل نظر ہے کیونکہ ان دونوں میں سے کسی پر بھی کذب کی تہمت نہیں ۔ (ت)
۱۰اسی میں عـــہ۲ ہے :
حدیث اطلبواالعلم ولوبالصین فیہ ابوعاتکۃ منکر الحدیث “ قلت “ لم یجرح بکذب و لاتھمۃ ۔
حدیث “ علم حاصل کرو اگرچہ چین جانا پڑے “ اس کی سند میں ابوعاتکہ منکر الحدیث ہے میں کہتا ہوں اس پر کذب اور تہمت کا طعن نہیں ہے۔ (ت)
۱۱ اسی میں عـــہ۳ ہے :
حدیث فیہ عمار لایحتج بہ قال الحافظ ابن حجر تابعہ اغلب واغلب شبیہ بعمارۃ فی الضعف لکن لم ارمن اتھمہ بالکذب ۔
اس حدیث کی سند میں عمارہ ہے لہذا یہ قابل استدلال نہیں حافظ ابن حجر کہتے ہیں کہ اس کی اغلب نے متابعت کی ہے اور اغلب ضعف میں عمارہ کے مثل ہے لیکن میرے علم میں کوئی ایسا نہیں جس نے اس پر کذب کی تہمت لگائی ہو۔ (ت)
۱۲علامہ زرقانی نے شرح مواہب میں حدیث عالم قریش یملؤ الارض علما(عالم قریشی زمین کو علم سے بھردے گا۔ ت)کی نسبت فرمایا : یتصور وضعہ ولاکذاب فیہ ولامتھم اس کا موضوع ہونا کیونکر متصور ہو حالانکہ نہ اس میں کوئی کذاب نہ کوئی متہم۔
عــــہ۱ آخر التوحید ۱۲ منہ ۔ عـــہ۲ اول العلم ۱۲ منہ ۔ عــــہ۳ اول باب البعث ب
اب التوحید کے آخر میں اس کا ذکر ہے ۱۲ منہ (ت)
باب العلم کی ابتداء میں اس کا ذکر ہے ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
التعقبات علی الموضوعات باب البعث مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل ص ۵۳
التعقبات علی الموضوعات باب التوحید مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل ص ۴
التعقبات علی الموضوعات باب العلم مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل ص ۴
التعقبات علی الموضوعات باب البعث مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل ص ۵۱
شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الثامن فی انبائہ بالاشیاء المغیبات مطبوعۃ المطبعۃ العامرہ مصر ۷ / ۲۵۹
التعقبات علی الموضوعات باب التوحید مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل ص ۴
التعقبات علی الموضوعات باب العلم مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل ص ۴
التعقبات علی الموضوعات باب البعث مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل ص ۵۱
شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الثامن فی انبائہ بالاشیاء المغیبات مطبوعۃ المطبعۃ العامرہ مصر ۷ / ۲۵۹
بالجملہ اس قدر پر اجماع محققین ہے کہ حدیث جب ان دلائل وقرائن قطعیہ وغالبہ سے خالی ہو اور اس کا مدار کسی متہم بالکذب پرنہ ہوتو ہرگز کسی طرح اسے موضوع کہنا ممکن نہیں جو بغیر اس کے حکم بالوضع کردے یا مشدد مفرط ہے یا مخطی غالط یا متعصب مغالط والله الھادی وعلیہ اعتمادی۔
افادہ یازدہم : (بارہا موضوع یا ضعیف کہنا صرف ایك سند خاص کے اعتبار سے ہوتا ہے نہ کہ اصل حدیث کے) جو حدیث فی نفسہ ان پندرہ۱۵ دلائل سے منزہ ہو محدث اگر اس پر حکم وضع کرے تو اس سے نفس حدیث پر حکم لازم نہیں بلکہ صرف اس سند پر جو اس وقت اس کے پیش نظر ہے بلکہ بارہا اسانید عدیدہ حاضرہ سے فقط ایك سند پر حکم مراد ہوتا ہے یعنی حدیث اگرچہ فی نفسہ ثابت ہے مگر اس سند سے موضوع وباطل اور نہ صرف موضوع بلکہ انصافاضعیف کہنے میں بھی یہ حاصل حاصل ائمہ حدیث نے ان مطالب کی تصریحیں فرمائیں تو کسی عالم کو حکم وضع یا ضعف دیکھ کر خواہی نخواہی یہ سمجھ لینا کہ اصل حدیث باطل یا ضعیف ہے ناواقفوں کی فہم سخیف ہے میزان الاعتدال امام ذہبی میں ہے :
ابراھیم بن موسی المروزی عن مالك عن نافع عن ابن عمر رضی الله تعالی عنہماحدیث “ طلب العلم فریضۃ “ قال احمد بن حنبل “ ھذا کذب “ یعنی بھذا الاسناد والا فالمتن لہ طرق ضعیفۃ ۔
ابراہیم بن موسی المروزی مالك سے نافع سے ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماسے راوی ہیں کہ امام احمد رضی اللہ تعالی عنہنے جو حدیث طلب العلم فریضۃ کو کذب فرمایااس سے مراد یہ ہے کہ خاص اس سند سے کذب ہے ورنہ اصل حدیث تو کئی سندوں ضعاف سے وارد ہے۔ (ت)
امام شمس الدین ابوالخیر محمدمحمد محمد ابن الجزری استادامام الشان امام ابن حجر عسقلانی رحمہم اللہ تعالینے حصن حصین شریف میں جس کی نسبت فرمایا : فلیعلم انی ارجو ان یکون جمیع مافیہ صحیحا (معلوم رہے کہ میں امیدکرتاہوں کہ اس کتاب میں جتنی حدیثیں ہیں سب صحیح ہیں )حدیث حاکم وابن مردودیہ کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہکو یہ تعزیت نامہ ارسال فرمایاذکر کی مولانا علی قاری علیہ رحمۃ الباری
افادہ یازدہم : (بارہا موضوع یا ضعیف کہنا صرف ایك سند خاص کے اعتبار سے ہوتا ہے نہ کہ اصل حدیث کے) جو حدیث فی نفسہ ان پندرہ۱۵ دلائل سے منزہ ہو محدث اگر اس پر حکم وضع کرے تو اس سے نفس حدیث پر حکم لازم نہیں بلکہ صرف اس سند پر جو اس وقت اس کے پیش نظر ہے بلکہ بارہا اسانید عدیدہ حاضرہ سے فقط ایك سند پر حکم مراد ہوتا ہے یعنی حدیث اگرچہ فی نفسہ ثابت ہے مگر اس سند سے موضوع وباطل اور نہ صرف موضوع بلکہ انصافاضعیف کہنے میں بھی یہ حاصل حاصل ائمہ حدیث نے ان مطالب کی تصریحیں فرمائیں تو کسی عالم کو حکم وضع یا ضعف دیکھ کر خواہی نخواہی یہ سمجھ لینا کہ اصل حدیث باطل یا ضعیف ہے ناواقفوں کی فہم سخیف ہے میزان الاعتدال امام ذہبی میں ہے :
ابراھیم بن موسی المروزی عن مالك عن نافع عن ابن عمر رضی الله تعالی عنہماحدیث “ طلب العلم فریضۃ “ قال احمد بن حنبل “ ھذا کذب “ یعنی بھذا الاسناد والا فالمتن لہ طرق ضعیفۃ ۔
ابراہیم بن موسی المروزی مالك سے نافع سے ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماسے راوی ہیں کہ امام احمد رضی اللہ تعالی عنہنے جو حدیث طلب العلم فریضۃ کو کذب فرمایااس سے مراد یہ ہے کہ خاص اس سند سے کذب ہے ورنہ اصل حدیث تو کئی سندوں ضعاف سے وارد ہے۔ (ت)
امام شمس الدین ابوالخیر محمدمحمد محمد ابن الجزری استادامام الشان امام ابن حجر عسقلانی رحمہم اللہ تعالینے حصن حصین شریف میں جس کی نسبت فرمایا : فلیعلم انی ارجو ان یکون جمیع مافیہ صحیحا (معلوم رہے کہ میں امیدکرتاہوں کہ اس کتاب میں جتنی حدیثیں ہیں سب صحیح ہیں )حدیث حاکم وابن مردودیہ کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہکو یہ تعزیت نامہ ارسال فرمایاذکر کی مولانا علی قاری علیہ رحمۃ الباری
حوالہ / References
میزان الاعتدال ترجمہ ابراہیم بن موسٰی المروزی مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۶۹
حصن حصین مقدمہ کتاب نولکشور لکھنؤ ص ۵
حصن حصین مقدمہ کتاب نولکشور لکھنؤ ص ۵
اس کی شرح حرزثمین میں لکھتے ہیں :
صرح ابن الجوزی بان ھذا الحدیث موضوع “ قلت “ یمکن ان یکون بالنسبۃ الی اسنادہ المذکور عندہ موضوعا ۔
ابن جوزی نے تصریح کی ہے کہ یہ روایت موضوع ہے “ میں کہتا ہوں “ ممکن ہے اس مذکورہ سند کے اعتبار سے ان کے نزدیك موضوع ہو۔ (ت)
اسی طرح حرزوصین میں ہے نیز موضوعات کبیر میں فرماتے ہیں :
مااختلفوا فی انہ موضوع ترکت ذکرہ للحذر من الخطر لاحتمال ان یکون موضوعا من طریق وصحیحا من وجہ اخر الخ
جس کے موضوع ہونے میں محدثین کا اختلاف ہے تو میں نے اس حدیث کا ذکر اس خطرہ کے پیش نظر ترك کیا کہ ممکن ہے یہ ایك سند کے اعتبارسے موضوع ہو اور دوسری سندکے اعتبار سے صحیح ہو الخ (ت)
علامہ زرقانی حدیث احیائے ابوین کریمین کی نسبت فرماتے ہیں :
قال السھیلی ان فی اسنادہ مجاھیل وھو یفیدضعفہ فقط وبہ صرح فی موضع اخر من الروض وایدہ بحدیث ولاینافی ھذا توجیہ صحتہ لان مرادہ من غیر ھذا الطریق ان وجد اوفی نفس الامر لان الحکم بالضعف وغیرہ انما ھو فی الظاھر ۔
سہیلی نے کہا ہے کہ اس کی سند میں راوی مجہول ہیں جو اس کے فقط ضعف پر دال ہیں اور اسی بات کی تصریح الروض میں دوسرے مقام پر کی ہے اور اس کوحدیث کے ساتھ تقویت دی اور یہ صحت حدیث کی توجیہ کے منافی نہیں کیونکہ اس کی مراد اس سند کے علاوہ ہے اگر وہ موجود ہو ورنہ نفس الامر کے اعتبار سے کیونکہ ضعف وغیرہ کا حکم ظاہر میں ہوتا ہے۔ (ت)
اور سنئے حدیث “ صلاۃ بسواك خیرمن سبعین صلاۃ بغیر سواك “ (مسواك کے ساتھ نماز بے مسواك کی ستر۷۰ نمازوں سے بہتر ہے) ابونعیم نے کتاب السواك میں دو۲ جید وصحیح سندوں سے روایت کی امام ضیاء نے اسے صحیح مختارہ اور حاکم نے صحیح مستدرك میں داخل کیا اور کہا شرط مسلم پر صحیح ہے۔ امام احمد وابن خزیمہ وحارث بن ابی اسامہ وابویعلی وابن عدی وبزار وحاکم وبیہقی وابونعیم وغیرہم اجلہ محدثین نے بطریق عدیدہ واسانید متنوعہ
صرح ابن الجوزی بان ھذا الحدیث موضوع “ قلت “ یمکن ان یکون بالنسبۃ الی اسنادہ المذکور عندہ موضوعا ۔
ابن جوزی نے تصریح کی ہے کہ یہ روایت موضوع ہے “ میں کہتا ہوں “ ممکن ہے اس مذکورہ سند کے اعتبار سے ان کے نزدیك موضوع ہو۔ (ت)
اسی طرح حرزوصین میں ہے نیز موضوعات کبیر میں فرماتے ہیں :
مااختلفوا فی انہ موضوع ترکت ذکرہ للحذر من الخطر لاحتمال ان یکون موضوعا من طریق وصحیحا من وجہ اخر الخ
جس کے موضوع ہونے میں محدثین کا اختلاف ہے تو میں نے اس حدیث کا ذکر اس خطرہ کے پیش نظر ترك کیا کہ ممکن ہے یہ ایك سند کے اعتبارسے موضوع ہو اور دوسری سندکے اعتبار سے صحیح ہو الخ (ت)
علامہ زرقانی حدیث احیائے ابوین کریمین کی نسبت فرماتے ہیں :
قال السھیلی ان فی اسنادہ مجاھیل وھو یفیدضعفہ فقط وبہ صرح فی موضع اخر من الروض وایدہ بحدیث ولاینافی ھذا توجیہ صحتہ لان مرادہ من غیر ھذا الطریق ان وجد اوفی نفس الامر لان الحکم بالضعف وغیرہ انما ھو فی الظاھر ۔
سہیلی نے کہا ہے کہ اس کی سند میں راوی مجہول ہیں جو اس کے فقط ضعف پر دال ہیں اور اسی بات کی تصریح الروض میں دوسرے مقام پر کی ہے اور اس کوحدیث کے ساتھ تقویت دی اور یہ صحت حدیث کی توجیہ کے منافی نہیں کیونکہ اس کی مراد اس سند کے علاوہ ہے اگر وہ موجود ہو ورنہ نفس الامر کے اعتبار سے کیونکہ ضعف وغیرہ کا حکم ظاہر میں ہوتا ہے۔ (ت)
اور سنئے حدیث “ صلاۃ بسواك خیرمن سبعین صلاۃ بغیر سواك “ (مسواك کے ساتھ نماز بے مسواك کی ستر۷۰ نمازوں سے بہتر ہے) ابونعیم نے کتاب السواك میں دو۲ جید وصحیح سندوں سے روایت کی امام ضیاء نے اسے صحیح مختارہ اور حاکم نے صحیح مستدرك میں داخل کیا اور کہا شرط مسلم پر صحیح ہے۔ امام احمد وابن خزیمہ وحارث بن ابی اسامہ وابویعلی وابن عدی وبزار وحاکم وبیہقی وابونعیم وغیرہم اجلہ محدثین نے بطریق عدیدہ واسانید متنوعہ
حوالہ / References
حرزثمین مع حصن حصین تعزیۃ اہل رسول اللہ عند وفاۃ نولکشور لکھنؤ ص ۴۱۰
الاسرار المرفوعہ فی الاخبار الموضوعہ الدافع للمؤلف لتالیف ہٰذا المختصر مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان ص ۴۵۔ ۴۶
شرح زرقانی علی المواہب باب وفاۃ امّہ ومایتعلق بابویہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مطبوعہ المطبعۃ العامرہ مصر۱ / ۱۹۶
مسند احمد بن حنبل از مسند عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا مطبوعہ دارالفکر بیروت ۶ / ۲۷۲
الاسرار المرفوعہ فی الاخبار الموضوعہ الدافع للمؤلف لتالیف ہٰذا المختصر مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان ص ۴۵۔ ۴۶
شرح زرقانی علی المواہب باب وفاۃ امّہ ومایتعلق بابویہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مطبوعہ المطبعۃ العامرہ مصر۱ / ۱۹۶
مسند احمد بن حنبل از مسند عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا مطبوعہ دارالفکر بیروت ۶ / ۲۷۲
احادیث ام المومنین صدیقہ وعبدالله بن عباس وعبدالله بن عمرو جابربن عبدالله وانس بن مالك وام الدرداء وغیرہم رضی اللہ تعالی عنہم سے تخریج کی جس کے بعد حدیث پر حکم بطلان قطعا محال بااینہمہ ابوعمر ابن عبدالبرنے تمہید میں امام ابن معین سے اس کا بطلان نقل کیا علامہ شمس الدین سخاوی مقاصد حسنہ میں اسے ذکر کرکے فرماتے ہیں :
قول ابن عبدالبر فی التمھید عن ابن معین انہ حدیث باطل ھو بالنسبۃ لماوقع لہ من طرقہ ۔
یعنی امام ابن معین کا یہ فرمانا(کہ یہ حدیث باطل ہے اس سند کی نسبت ہے جو انہیں پہنچی۔ )
ورنہ حدیث تو باطل کیا معنے ضعیف بھی نہیں اقل درجہ حسن ثابت ہے۔
اور سنیے حدیث حسن صحیح مروی سنن ابی داؤد ونسائی وصحیح مختارہ وغیرہا صحاح وسنن :
ان رجلا اتی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فقال ان امرأتی لاتدفع عـــہ یدلامس قال طلقھا قال انی احبھا قال استمتع بھا۔
ایك شخص نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا : میری بیوی کسی بھی چھونے والے کے ہاتھ کو منع نہیں کرتی۔ فرمایا : اسے طلاق دے دے۔ عرض کیا : میں اس سے محبت رکھتا ہوں ۔ تو آپ نے فرمایا : اس سے نفع حاصل کر۔ (ت)
کہ باسانید ثقات وموثقین احادیث جابر بن عبدالله وعبدالله بن عباس رضی اللہ تعالی عنہم سے آئی امام ذہبی نے مختصر سنن میں کہا : “ اسنادہ صالح “ (اس کی سند صالح ہے۔ ت) امام عبدالعظیم منذری نے مختصر سنن میں فرمایا : “ رجال اسنادہ محتج بھم فی الصحیحین علی الاتفاق والانفراد (اس روایت کے تمام راوی ایسے ہیں جن سے بخاری ومسلم میں اتفاقا اور انفرادا استدلال کیا ہے۔ (ت)
عـــہ ای کل من سألھا شیئا من طعام اومال اعطتہ ولم ترد ھذا ھوالراجح عندنا فی معنی الحدیث۔ والله تعالی اعلم۔ (م)
یعنی جو شخص بھی اس سے طعام یا مال مانگتا ہے وہ اسے دے دیتی ہے رد نہیں کرتی حدیث کے معنی میں ہمارے نزدیك یہی راجح ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
قول ابن عبدالبر فی التمھید عن ابن معین انہ حدیث باطل ھو بالنسبۃ لماوقع لہ من طرقہ ۔
یعنی امام ابن معین کا یہ فرمانا(کہ یہ حدیث باطل ہے اس سند کی نسبت ہے جو انہیں پہنچی۔ )
ورنہ حدیث تو باطل کیا معنے ضعیف بھی نہیں اقل درجہ حسن ثابت ہے۔
اور سنیے حدیث حسن صحیح مروی سنن ابی داؤد ونسائی وصحیح مختارہ وغیرہا صحاح وسنن :
ان رجلا اتی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فقال ان امرأتی لاتدفع عـــہ یدلامس قال طلقھا قال انی احبھا قال استمتع بھا۔
ایك شخص نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا : میری بیوی کسی بھی چھونے والے کے ہاتھ کو منع نہیں کرتی۔ فرمایا : اسے طلاق دے دے۔ عرض کیا : میں اس سے محبت رکھتا ہوں ۔ تو آپ نے فرمایا : اس سے نفع حاصل کر۔ (ت)
کہ باسانید ثقات وموثقین احادیث جابر بن عبدالله وعبدالله بن عباس رضی اللہ تعالی عنہم سے آئی امام ذہبی نے مختصر سنن میں کہا : “ اسنادہ صالح “ (اس کی سند صالح ہے۔ ت) امام عبدالعظیم منذری نے مختصر سنن میں فرمایا : “ رجال اسنادہ محتج بھم فی الصحیحین علی الاتفاق والانفراد (اس روایت کے تمام راوی ایسے ہیں جن سے بخاری ومسلم میں اتفاقا اور انفرادا استدلال کیا ہے۔ (ت)
عـــہ ای کل من سألھا شیئا من طعام اومال اعطتہ ولم ترد ھذا ھوالراجح عندنا فی معنی الحدیث۔ والله تعالی اعلم۔ (م)
یعنی جو شخص بھی اس سے طعام یا مال مانگتا ہے وہ اسے دے دیتی ہے رد نہیں کرتی حدیث کے معنی میں ہمارے نزدیك یہی راجح ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
حوالہ / References
المقاصد الحسنۃ للسخاوی حدیث ۶۲۵ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان ص ۲۶۳
سنن النسائی باب ماجاء فی الخلع مطبوعہ المکتبۃ السلفیہ لاہور ۲ / ۹۸
مختصر سنن ابی داؤد للحافظ المنذری باب النہی عن ترویج من لم یلد من النساء الخ مطبوعہ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل۳ / ۶
سنن النسائی باب ماجاء فی الخلع مطبوعہ المکتبۃ السلفیہ لاہور ۲ / ۹۸
مختصر سنن ابی داؤد للحافظ المنذری باب النہی عن ترویج من لم یلد من النساء الخ مطبوعہ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل۳ / ۶
امام ابن حجر عسقلانی نے فرمایا : حسن صحیح (حسن صحیح ہے۔ ت) اس حدیث کو جو حافظ ابوالفرج نے امام احمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکے ارشاد “ ولیس لہ اصل ولایثبت عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم “ (اس کی کوئی اصل نہیں اور نہ ہی یہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے ثابت ہے۔ ت)( کی تبعیت سے لا اصل لہ (اس کی کوئی اصل نہیں ۔ ت) کہا امام الشان حدیث کا صحیح ہونا ثابت کرکے فرماتے ہیں :
لایلتفت الی ماوقع من ابی الفرج ابن الجوزی حیث ذکر ھذا الحدیث فی الموضوعات ولم یذکر من طرقہ الاالطریق التی اخرجھا الخلال من طریق ابی الزبیر عن جابر واعتمد فی بطلانہ علی مانقلہ الخلال عن احمد فابان ذلك عن قلۃ اطلاع ابن الجوزی وغلبۃ التقلید علیہ حتی حکم بوضع الحدیث بمجرد ماجاء عن امامہ ولوعرضت ھذہ الطرق علی امامہ لاعترف علی ان للحدیث اصلا ولکنہ لم تقع لہ فلذلك لم ارلہ فی مسندہ ولافیمایروی عنہ ذکرااصلا لامن طریق ابن عباس ولامن طریق جابرسوی ماسألہ عند الخلال وھو معذور فی جوابہ بالنسبۃ لتلك الطریق بخصوصھا اھ ذکرہ فی اللالی عـــہ۔
ابوالفرج ابن جوزی کی اس بات کی طرف توجہ نہیں دی جائے گی کہ انہوں نے اس حدیث کو موضوعات میں شامل کیا ہے اور اس کی دیگر اسناد ذکر نہیں کیں ماسوائے اس سند کے جس کے حوالے سے خلال نے ابوالزبیر عن جابر روایت کیا اور اس کے بطلان میں اسی پر اعتماد کرلیا جو خلال نے احمد سے نقل کیا ہے تو یہ بات ابن جوزی کے قلت مطالعہ اور غلبہ تقلید کو واضح کررہی ہے حتی کہ انہوں نے اپنے امام سے منقول محض رائے کی بنیاد پر حدیث کو موضوع کہہ دیا حالانکہ یہ سندیں اگر ان کے امام کے سامنے پیش کی جاتیں تو وہ فی الفور اعتراف کرلیتے کہ حدیث کی اصل ہے لیکن ایسا نہ ہوسکا اس وجہ سے یہ حدیث اصلا ان کی مسند میں نہیں آئی اور نہ ہی ان روایات میں جو ان سے مروی ہیں نہ سند ابن عباس سے اور نہ ہی سند جابر سے ماسوائے اس سند کے جس کے بارے میں خلال نے سوال کیا تھا اور امام احمد اس کے جواب میں معذور ٹھہرے کیونکہ ان کا جواب اسی سند کے اعتبار سے ہے اور اسے لآلی میں ذکر کیا ہے۔ (ت)
عـــہ فی اوخر النکاح
باب النکاح کے آخر میں اس کا ذکر کیا ہے (ت)
لایلتفت الی ماوقع من ابی الفرج ابن الجوزی حیث ذکر ھذا الحدیث فی الموضوعات ولم یذکر من طرقہ الاالطریق التی اخرجھا الخلال من طریق ابی الزبیر عن جابر واعتمد فی بطلانہ علی مانقلہ الخلال عن احمد فابان ذلك عن قلۃ اطلاع ابن الجوزی وغلبۃ التقلید علیہ حتی حکم بوضع الحدیث بمجرد ماجاء عن امامہ ولوعرضت ھذہ الطرق علی امامہ لاعترف علی ان للحدیث اصلا ولکنہ لم تقع لہ فلذلك لم ارلہ فی مسندہ ولافیمایروی عنہ ذکرااصلا لامن طریق ابن عباس ولامن طریق جابرسوی ماسألہ عند الخلال وھو معذور فی جوابہ بالنسبۃ لتلك الطریق بخصوصھا اھ ذکرہ فی اللالی عـــہ۔
ابوالفرج ابن جوزی کی اس بات کی طرف توجہ نہیں دی جائے گی کہ انہوں نے اس حدیث کو موضوعات میں شامل کیا ہے اور اس کی دیگر اسناد ذکر نہیں کیں ماسوائے اس سند کے جس کے حوالے سے خلال نے ابوالزبیر عن جابر روایت کیا اور اس کے بطلان میں اسی پر اعتماد کرلیا جو خلال نے احمد سے نقل کیا ہے تو یہ بات ابن جوزی کے قلت مطالعہ اور غلبہ تقلید کو واضح کررہی ہے حتی کہ انہوں نے اپنے امام سے منقول محض رائے کی بنیاد پر حدیث کو موضوع کہہ دیا حالانکہ یہ سندیں اگر ان کے امام کے سامنے پیش کی جاتیں تو وہ فی الفور اعتراف کرلیتے کہ حدیث کی اصل ہے لیکن ایسا نہ ہوسکا اس وجہ سے یہ حدیث اصلا ان کی مسند میں نہیں آئی اور نہ ہی ان روایات میں جو ان سے مروی ہیں نہ سند ابن عباس سے اور نہ ہی سند جابر سے ماسوائے اس سند کے جس کے بارے میں خلال نے سوال کیا تھا اور امام احمد اس کے جواب میں معذور ٹھہرے کیونکہ ان کا جواب اسی سند کے اعتبار سے ہے اور اسے لآلی میں ذکر کیا ہے۔ (ت)
عـــہ فی اوخر النکاح
باب النکاح کے آخر میں اس کا ذکر کیا ہے (ت)
حوالہ / References
اللآلی المصنوعہ کتاب النکاح مطبوعہ التجاریۃ الکبرٰی مصر ۲ / ۱۷۳
(نتیجۃ الافادات) بحمدالله تعالی فقیر آستان قادری غفرالله تعالی لہ کے ان گیارہ۱۱ افادات نے مہرنیمروز وماہ نیم ماہ کی طرح روشن کردیا کہ احادیث تقبیل ابہامین کو وضع وبطلان سے اصلا کچھ علاقہ نہیں ان پندرہ۱۵ عیبوں سے اس کا پاك ہونا تو بدیہی اور یہ بھی صاف ظاہر کہ اس کا مدار کسی وضاع کذاب یا متہم بالکذب پر نہیں ۔ پھر حکم وضع محض بے اصل وواجب الدفع ولہذا علمائے کرام نے صرف “ لا یصح “ فرمایا یہاں تك کہ وہابیہ کے امام شوکانی نے بھی بآنکہ ایسے مواقع میں سخت تشدد اور بہت مسائل میں بے معنی تفرد کی عادت ہے فوائد مجموعہ میں اسی قدر پر اقتصار کیا اور موضوع کہنے کا راستہ نہ ملا اگر بالفرض کسی امام معتمد کے کلام میں حکم وضع واقع ہوا ہوتو وہ صرف کسی سند خاص کی نسبت ہوگا نہ اصل حدیث پر جس کے لئے کافی سندیں موجود ہیں جنہیں وضع واضعین سے کچھ تعلق نہیں کہ جہالت وانقطاع اگر ہیں تو مورث ضعف نہ کہ مثبت وضع۔ بعونہ تعالی یہاں تك کی تقریر سے موضوعیت حدیث کی نسبت منکرین کی بالاخوانیاں بالابالا گئیں آگے چلیے وبالله التوفیق۔
افادہ دوازدہم۱۲ : (تعدد طرق سے ضعیف حدیث قوت پاتی بلکہ حسن ہوجاتی ہے)حدیث اگر متعدد طریقوں سے روایت کی جائے اور وہ سب ضعف رکھتے ہوں تو ضعیف ضعیف مل کر بھی قوت حاصل کرلیتے ہیں بلکہ اگر ضعف غایت شدت وقوت پر نہ ہوتو جبر نقصان ہوکر حدیث درجہ حسن تك پہنچتی اور مثل صحیح خود احکام حلال وحرام میں حجت ہوجاتی ہے۔ مرقاۃ میں ہے :
تعدد عـــہ۱ الطرق یبلغ الحدیث الضعیف الی حد الحسن ۔
متعدد روایتوں سے آنا حدیث ضعیف کو درجہ حسن تك پہنچادیتا ہے۔
آخر موضوعات کبیر میں فرمایا :
تعدد الطرق ولوضعفت یرقی الحدیث الی الحسن ۔
طرق متعددہ اگرچہ ضعیف ہوں حدیث کو درجہ حسن تك ترقی دیتے ہیں ۔
محقق علی الاطلاق فتح القدیر عـــہ۲ میں فرماتے ہیں :
لوتم تضعیف کلھاکانت حسنۃ لتعدد الطرق وکثرتھا ۔
اگر سب کا ضعف ثابت ہو بھی جائے تاہم حدیث حسن ہوگی کہ طرق متعدد وکثیر ہیں ۔
عـــہ۱ اخر الفصل الثانی باب مالایجوز من العمل فی الصلاۃ ۔
منہ (باب مالایجوز من العمل فی الصلوۃ کی فصل ثانی کے آخر میں اسے ذکر کیا ہے۔ ت)
عـــہ۲ ذکر فی مسئلۃ السجود علی کور العمامۃ منہ
(عمامہ پر سجدہ کرنے کے مسئلہ میں اس کو ذکر کیا ہے۔ ت)
افادہ دوازدہم۱۲ : (تعدد طرق سے ضعیف حدیث قوت پاتی بلکہ حسن ہوجاتی ہے)حدیث اگر متعدد طریقوں سے روایت کی جائے اور وہ سب ضعف رکھتے ہوں تو ضعیف ضعیف مل کر بھی قوت حاصل کرلیتے ہیں بلکہ اگر ضعف غایت شدت وقوت پر نہ ہوتو جبر نقصان ہوکر حدیث درجہ حسن تك پہنچتی اور مثل صحیح خود احکام حلال وحرام میں حجت ہوجاتی ہے۔ مرقاۃ میں ہے :
تعدد عـــہ۱ الطرق یبلغ الحدیث الضعیف الی حد الحسن ۔
متعدد روایتوں سے آنا حدیث ضعیف کو درجہ حسن تك پہنچادیتا ہے۔
آخر موضوعات کبیر میں فرمایا :
تعدد الطرق ولوضعفت یرقی الحدیث الی الحسن ۔
طرق متعددہ اگرچہ ضعیف ہوں حدیث کو درجہ حسن تك ترقی دیتے ہیں ۔
محقق علی الاطلاق فتح القدیر عـــہ۲ میں فرماتے ہیں :
لوتم تضعیف کلھاکانت حسنۃ لتعدد الطرق وکثرتھا ۔
اگر سب کا ضعف ثابت ہو بھی جائے تاہم حدیث حسن ہوگی کہ طرق متعدد وکثیر ہیں ۔
عـــہ۱ اخر الفصل الثانی باب مالایجوز من العمل فی الصلاۃ ۔
منہ (باب مالایجوز من العمل فی الصلوۃ کی فصل ثانی کے آخر میں اسے ذکر کیا ہے۔ ت)
عـــہ۲ ذکر فی مسئلۃ السجود علی کور العمامۃ منہ
(عمامہ پر سجدہ کرنے کے مسئلہ میں اس کو ذکر کیا ہے۔ ت)
حوالہ / References
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ فصل الثانی من باب مالایجوز من العمل فی صلاۃ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۳ / ۱
الاسرار المرفوعہ فی اخبار الموضوعہ احادیث الحیض مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان ص ۳۴۶
فتح القدیر صفۃ الصلوٰۃ بحث سجود علی العمامۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۶۶
الاسرار المرفوعہ فی اخبار الموضوعہ احادیث الحیض مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان ص ۳۴۶
فتح القدیر صفۃ الصلوٰۃ بحث سجود علی العمامۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۶۶
اسی عـــہ۱ میں فرمایا :
جاز فی الحسن ان یرتفع الی الصحت اذاکثرت طرقہ والضعیف یصیر حجۃ بذلك لان تعددہ قرینۃ علی ثبوتہ فی نفس الامر ۔
جائز ہے کہ حسن کثرت طرق سے صحت تك ترقی پائے اور حدیث ضعیف اس کے سبب حجت ہوجاتی ہے کہ تعدد اسانید ثبوت واقعی پر قرینہ ہے۔
امام عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ النورانی میزان الشریعۃ الکبری عــــہ۲ میں فرماتے ہیں ـ :
قداحتج جمھور المحدثین بالحدیث الضعیف اذاکثرت طرقہ والحقوہ بالصحیح تارۃ وبالحسن اخری وھذا النوع من الضعیف یوجد کثیرا فی کتاب السنن الکبری للبیھقی التی الفھا بقصد الاحتجاج لاقوال الائمۃ واقوال صحابھم ۔
بیشك جمہور محدثین نے حدیث ضعیف کو کثرت طرق سے حجت مانا اور اسے کبھی حسن سے ملحق کیا اس قسم کی ضعیف حدیثیں امام بیہقی کے سنن کبری میں بکثرت پائی جاتی ہیں جسے انہوں نے ائمہ مجتہدین واصحاب ائمہ کے مذاہب پر دلائل بیان کرنے کی غرض سے تالیف فرمایا۔
امام ابن حجر مکی صواعق محرقہ میں دربارہ حدیث توسعہ علی العیال یوم عاشوراء امام ابوبکر بیہقی سے ناقل :
ھذہ الاسانید وان کانت ضعیفۃ لکنھا اذاضم بعضھا الی بعض احدثت قوۃ ۔
یہ سندیں اگرچہ سب ضعیف ہیں مگر آپس میں مل کر قوت پیدا کریں گی۔
بلکہ امام جلیل جلال سیوطی تعقبات عــــہ۳ میں فرماتے ہیں :
المتروك اوالمنکر اذاتعددت طرقہ ارتقی الی درجۃ الضعیف الغریب بل ربما ارتقی الی الحسن ۔
یعنی متروك یا منکر کہ سخت قوی الضعف ہیں یہ بھی تعدد طرق سے ضعیف غریب بلکہ کبھی حسن کے درجہ تك ترقی کرتی ہیں ۔
عـــہ۱ قالہ فی مسئلۃ النفل قبل المغرب ۱۲ منہ
عـــہ۲ الفصل الثالث من فصول فی الاجوبۃ عن الامام ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ۔ عـــہ۳ باب المناقب حدیث النظر علی عبادۃ ۱۲ منہ
جاز فی الحسن ان یرتفع الی الصحت اذاکثرت طرقہ والضعیف یصیر حجۃ بذلك لان تعددہ قرینۃ علی ثبوتہ فی نفس الامر ۔
جائز ہے کہ حسن کثرت طرق سے صحت تك ترقی پائے اور حدیث ضعیف اس کے سبب حجت ہوجاتی ہے کہ تعدد اسانید ثبوت واقعی پر قرینہ ہے۔
امام عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ النورانی میزان الشریعۃ الکبری عــــہ۲ میں فرماتے ہیں ـ :
قداحتج جمھور المحدثین بالحدیث الضعیف اذاکثرت طرقہ والحقوہ بالصحیح تارۃ وبالحسن اخری وھذا النوع من الضعیف یوجد کثیرا فی کتاب السنن الکبری للبیھقی التی الفھا بقصد الاحتجاج لاقوال الائمۃ واقوال صحابھم ۔
بیشك جمہور محدثین نے حدیث ضعیف کو کثرت طرق سے حجت مانا اور اسے کبھی حسن سے ملحق کیا اس قسم کی ضعیف حدیثیں امام بیہقی کے سنن کبری میں بکثرت پائی جاتی ہیں جسے انہوں نے ائمہ مجتہدین واصحاب ائمہ کے مذاہب پر دلائل بیان کرنے کی غرض سے تالیف فرمایا۔
امام ابن حجر مکی صواعق محرقہ میں دربارہ حدیث توسعہ علی العیال یوم عاشوراء امام ابوبکر بیہقی سے ناقل :
ھذہ الاسانید وان کانت ضعیفۃ لکنھا اذاضم بعضھا الی بعض احدثت قوۃ ۔
یہ سندیں اگرچہ سب ضعیف ہیں مگر آپس میں مل کر قوت پیدا کریں گی۔
بلکہ امام جلیل جلال سیوطی تعقبات عــــہ۳ میں فرماتے ہیں :
المتروك اوالمنکر اذاتعددت طرقہ ارتقی الی درجۃ الضعیف الغریب بل ربما ارتقی الی الحسن ۔
یعنی متروك یا منکر کہ سخت قوی الضعف ہیں یہ بھی تعدد طرق سے ضعیف غریب بلکہ کبھی حسن کے درجہ تك ترقی کرتی ہیں ۔
عـــہ۱ قالہ فی مسئلۃ النفل قبل المغرب ۱۲ منہ
عـــہ۲ الفصل الثالث من فصول فی الاجوبۃ عن الامام ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ۔ عـــہ۳ باب المناقب حدیث النظر علی عبادۃ ۱۲ منہ
حوالہ / References
فتح القدیر باب النوافل مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۸۹
المیزان الکبرٰی للشعرانی فصل ثالث من فصول فی الاجوبۃ عن الامام مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۶۸
الصواعق المحرقہ الباب الحادی عشر فصل اول مطبوعہ مکتبہ مجیدیہ ملتان ص ۱۸۴
التعقبات علی الموضوعات باب المناقب مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل ص ۷۵
المیزان الکبرٰی للشعرانی فصل ثالث من فصول فی الاجوبۃ عن الامام مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۶۸
الصواعق المحرقہ الباب الحادی عشر فصل اول مطبوعہ مکتبہ مجیدیہ ملتان ص ۱۸۴
التعقبات علی الموضوعات باب المناقب مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل ص ۷۵
افادہ سیزدہم۱۳ : (حدیث مجہول وحدیث مبہم تعدد طرق سے حسن ہوجاتی ہے اور وہ جابر ومنجبر ہونے کے صالح ہیں ) جہالت راوی بلکہ ابہام بھی انہیں کم درجہ کے ضعفوں سے ہے جو تعدد طرق سے منجبر ہوجاتے ہیں اور حدیث کو رتبہ حسن تك ترقی سے مانع نہیں آتے یہ حدیثیں جابر ومنجبردونوں ہونے کے صالح ہیں افادہ پنجم میں امام خاتم الحفاظ کا ارشاد گزرا کہ حدیث مبہم حدیث ضعیف سے منجبر ہوگئی امام الشان کا فرمانا گزرا کہ حدیث مبہم حدیث ضعیف کا جبر نقصان کرے گی۔ ابوالفرج نے حدیث :
لیث عن مجاھد عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہما قال قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم من ولدلہ ثلثۃ اولاد فلم یسم احدھم محمدا فقدجھل ۔
حضرت مجاہد حضرت ابن عباسرضی اللہ تعالی عنہماسے روایت کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا کہ جس کے تین۳ بیٹے ہوں اور ان میں سے کسی کا نام محمد نہ رکھے اس نے جہالت سے کام لیا۔ (ت)
پر طعن کیا کہ لیث کو امام احمد وغیرہ نے متروك کیا اور ابن حبان نے مختلط بتایا امام سیوطی عـــہ۱ نے اس کا شاہد بروایت نضر بن شنقی مرسلا مسند حارث سے ذکر کرکے ابن القطان سے نضر کا مجہول ہونا نقل کیا پھر فرمایا :
ھذا المرسل یعضد حدیث ابن عباس ویدخلہ فی قسم المقبول ۔
یہ مرسل اس حدیث ابن عباس کی مؤید ہوکر اسے قسم مقبول میں داخل کرے گی۔
علامہ مناوی تیسیر شرح جامع صغیر میں عـــہ۲ فرماتے ہیں :
فی اسنادہ جھالۃ لکنہ اعتضد فصار حسنا ۔
اس کی اسناد میں جہالت مگر تائید پاکر حسن ہوگئی۔
عــــہ۱ لآلی کتاب المبتداء
عـــہ۲ تحت حدیث ابنوا المساجد واخرجوا القمامۃ منھا منہ رضی الله تعالی عنہ
لیث عن مجاھد عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہما قال قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم من ولدلہ ثلثۃ اولاد فلم یسم احدھم محمدا فقدجھل ۔
حضرت مجاہد حضرت ابن عباسرضی اللہ تعالی عنہماسے روایت کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا کہ جس کے تین۳ بیٹے ہوں اور ان میں سے کسی کا نام محمد نہ رکھے اس نے جہالت سے کام لیا۔ (ت)
پر طعن کیا کہ لیث کو امام احمد وغیرہ نے متروك کیا اور ابن حبان نے مختلط بتایا امام سیوطی عـــہ۱ نے اس کا شاہد بروایت نضر بن شنقی مرسلا مسند حارث سے ذکر کرکے ابن القطان سے نضر کا مجہول ہونا نقل کیا پھر فرمایا :
ھذا المرسل یعضد حدیث ابن عباس ویدخلہ فی قسم المقبول ۔
یہ مرسل اس حدیث ابن عباس کی مؤید ہوکر اسے قسم مقبول میں داخل کرے گی۔
علامہ مناوی تیسیر شرح جامع صغیر میں عـــہ۲ فرماتے ہیں :
فی اسنادہ جھالۃ لکنہ اعتضد فصار حسنا ۔
اس کی اسناد میں جہالت مگر تائید پاکر حسن ہوگئی۔
عــــہ۱ لآلی کتاب المبتداء
عـــہ۲ تحت حدیث ابنوا المساجد واخرجوا القمامۃ منھا منہ رضی الله تعالی عنہ
حوالہ / References
کتاب الموضوعات باب التسمیۃ بمحمد مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۱۵۴
اللآئی المصنوعۃ کتاب المبتداء دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۱۰۲
تیسیر شرح الجامع الصغیر للمناوی حدیث ابنو المساجد کے تحت مکتبہ الامام الشافعی ریاض سعودیہ ۱ / ۱۷۰
اللآئی المصنوعۃ کتاب المبتداء دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۱۰۲
تیسیر شرح الجامع الصغیر للمناوی حدیث ابنو المساجد کے تحت مکتبہ الامام الشافعی ریاض سعودیہ ۱ / ۱۷۰
افادہ چہاردہم۱۴ : (حصول قوت کو صرف دو سندوں سے آنا کافی ہے)حصول قوت کیلئے کچھ بہت سے ہی طرق کی حاجت نہیں صرف دو۲ بھی مل کر قوت پاجاتے ہیں اس کی ایك مثال ابھی گزری نیز تیسیر میں فرمایا : ضعیف لضعف عمروبن واقد لکنہ یقوی بورودہ من طریقین ۔ یعنی حدیث تو اپنے راوی عمروبن واقد متروك کے باعث ضعیف ہے مگر دو۲ سندوں سے آکر قوت پاگئی۔ اسی میں حدیث “ اکرموا المعزی وامسحوا برغامھا فانھا من دواب الجنۃ “ اسنادہ ضعیف لکن یجبرہ ماقبلہ فیتعاضدان ۔ (بکری کی عزت کرو اور اس سے مٹی جھاڑوکیونکہ وہ جنتی جانور ہے۔ ت)بروایت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہکو یزید بن نوفلی کے سبب تضعیف کی پھر اس کے شاہد بروایت ابی سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہکو فرمایا : سند اس کی بھی ضعیف ہے لیکن پھر پہلی سند اس کی تلافی کرتی ہے تو دو۲ مل کر قوی ہوجائیں گے۔ جامع صغیر میں حدیث “ اکرموا العلماء فانہ ورثۃ الانبیاء “ (علماء کا احترام کرو کیونکہ وہ انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں ۔ ت) دو۲ طریقوں سے ایراد کی اول : ابن عساکر عن ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما۔ دوم : خط یعنی الخطیب فی التاریخ عن جابر بن عبدالله رضی الله تعالی عنہما۔ علامہ مناوی وعلامہ عزیزی نے تیسیر وسراج المنیر میں زیر طریق اول لکھا : ضعیف لکن یقویہ مابعدہ (ضعیف ہے مگر پچھلی حدیث اسے قوت دیتی ہے) زیر طریق دوم فرمایا : ضعیف لضعف الضحاك بن حجرۃ لکن یعضدہ ماقبلہ (ضحاك بن حجرۃ کے ضعف سے یہ بھی ضعیف ہے مگر پہلی اسے طاقت بخشتی ہے۔ ت) متتبع کلمات علماء اس کی بہت مثالیں پائے گا۔
افادہ پانزدہم۱۵ : (اہل علم کے عمل کرنے سے بھی حدیث ضعیف قوی ہوجاتی ہے) اہل علم کے عمل کرلینے سے بھی حدیث قوت پاتی ہے اگرچہ سند ضعیف ہو۔ مرقاۃ عـــہ میں ہے :
عـــہ : باب ماعلی الموموم من المتابعۃ اول الفصل الثانی ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ
افادہ پانزدہم۱۵ : (اہل علم کے عمل کرنے سے بھی حدیث ضعیف قوی ہوجاتی ہے) اہل علم کے عمل کرلینے سے بھی حدیث قوت پاتی ہے اگرچہ سند ضعیف ہو۔ مرقاۃ عـــہ میں ہے :
عـــہ : باب ماعلی الموموم من المتابعۃ اول الفصل الثانی ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ
حوالہ / References
تیسیر شرح الجامع الصغیر للمناوی حدیث اکرموا المعزٰی کے تحت مکتبہ الامام الشافعی ریاض سعودیہ ۱ / ۲۰۴
الجامع الصغیر مع فیض القدیر حدیث ۱۴۲۱ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۹۱
تیسیر شرح الجامع الصغیر حدیث اکرمو المعزٰی کے تحت مکتبہ الامام الشافعی ریاض سعودیہ ۱ / ۲۰۴
الجامع الصغیر مع فیض القدیر حدیث ۱۴۲۸ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۹۳
السراج المنیر شرح جامع الصغیر زیرِ حدیث اکرموا العلماء مطبوعہ ازہریہ مصر ۱ / ۲۷۰
السراج المنیر شرح جامع الصغیر زیرِ حدیث اکرموا العلماء مطبوعہ ازہریہ مصر ۱ / ۲۷۰
الجامع الصغیر مع فیض القدیر حدیث ۱۴۲۱ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۹۱
تیسیر شرح الجامع الصغیر حدیث اکرمو المعزٰی کے تحت مکتبہ الامام الشافعی ریاض سعودیہ ۱ / ۲۰۴
الجامع الصغیر مع فیض القدیر حدیث ۱۴۲۸ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۹۳
السراج المنیر شرح جامع الصغیر زیرِ حدیث اکرموا العلماء مطبوعہ ازہریہ مصر ۱ / ۲۷۰
السراج المنیر شرح جامع الصغیر زیرِ حدیث اکرموا العلماء مطبوعہ ازہریہ مصر ۱ / ۲۷۰
رواہ الترمذی وقال ھذا حدیث غریب والعمل علی ھذا عند اھل العلم قال النووی واسنادہ ضعیف نقلہ میرک فکأن الترمذی یرید تقویۃ الحدیث بعمل اھل العلم والعلم عندالله تعالی کماقال الشیخ محی الدین ابن العربی انہ بلغنی عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم انہ من قال لاالہ الالله سبعین الفا غفرالله تعالی لہ ومن قیل لہ غفرلہ ایضا فکنت ذکرت التھلیلۃ بالعدد المروی من غیران انوی لاحد بالخصوص فحضرت طعاما مع بعض الاصحاب وفیھم شاب مشھور بالکشف فاذاھو فی اثناء الاکل اظھر البکأ فسألتہ عن السبب فقال اری امی فی العذاب فوھبت فی باطنی ثواب التھلیلۃ المذکورۃ لھا فضحك وقال انی اراھاالان فی حسن المآب فقال الشیخ فعرفت صحۃ الحدیث بصحۃ کشفہ وصحۃ کشفہ بصحۃ الحدیث ۔
یعنی امام ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور اہل علم کا اس پر عمل ہے سید میرك نے امام نووی سے نقل کیا کہ اس کی سند ضعیف ہے توگویا امام ترمذی عمل اہل علم سے حدیث کو قوت دینا چاہتے ہیں والله تعالی اعلم اس کی نظیر وہ ہے کہ سیدی شیخ اکبر امام محی الدین ابن عربی رضی اللہ تعالی عنہنے فرمایا مجھے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے حدیث پہنچی ہے کہ جو شخص ستر ہزار بار لاالہ الا الله کہے اس کی مغفرت ہو اور جس کے لئے پڑھا جائے اس کی مغفرت ہو میں نے لاالہ الا الله اتنے بار پڑھا تھااس میں کسی کے لئے خاص نیت نہ کی تھی اپنے بعض رفیقوں کے ساتھ ایك دعوت میں گیا ان میں ایك جوان کے کشف کا شہرہ تھاکھاناکھاتے کھاتے رونے لگا میں نے سبب پوچھا کہااپنی ماں کو عذاب میں دیکھتا ہوں میں نے اپنے دل میں کلمہ کا ثواب اس کی ماں کو بخش دیا فورا وہ جوان ہنسنے لگا اور کہا اب میں اسے اچھی جگہ دیکھتا ہوں امام محی الدین قدس سرہ فرماتے ہیں تو میں نے حدیث کی صحت اس جوان کے کشف کی صحت سے پہچانی اور اس کے کشف کی صحت حدیث کی صحت سے جانی۔
امام سیوطی تعقبات عـــہ میں امام بیہقی سے ناقل تداولھا الصالحون بعضھم عن بعض وفی ذلك تقویۃ للحدیث المرفوع (اسے صالحین نے ایك دوسرے سے اخذ کیا اور ان کے اخذ میں حدیث مرفوع کی تقویت ہے)اسی عـــہ میں فرمایا :
عـــہ باب الصلاۃ حدیث صلاۃ التسبیح ۱۲ منہ
یعنی امام ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور اہل علم کا اس پر عمل ہے سید میرك نے امام نووی سے نقل کیا کہ اس کی سند ضعیف ہے توگویا امام ترمذی عمل اہل علم سے حدیث کو قوت دینا چاہتے ہیں والله تعالی اعلم اس کی نظیر وہ ہے کہ سیدی شیخ اکبر امام محی الدین ابن عربی رضی اللہ تعالی عنہنے فرمایا مجھے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے حدیث پہنچی ہے کہ جو شخص ستر ہزار بار لاالہ الا الله کہے اس کی مغفرت ہو اور جس کے لئے پڑھا جائے اس کی مغفرت ہو میں نے لاالہ الا الله اتنے بار پڑھا تھااس میں کسی کے لئے خاص نیت نہ کی تھی اپنے بعض رفیقوں کے ساتھ ایك دعوت میں گیا ان میں ایك جوان کے کشف کا شہرہ تھاکھاناکھاتے کھاتے رونے لگا میں نے سبب پوچھا کہااپنی ماں کو عذاب میں دیکھتا ہوں میں نے اپنے دل میں کلمہ کا ثواب اس کی ماں کو بخش دیا فورا وہ جوان ہنسنے لگا اور کہا اب میں اسے اچھی جگہ دیکھتا ہوں امام محی الدین قدس سرہ فرماتے ہیں تو میں نے حدیث کی صحت اس جوان کے کشف کی صحت سے پہچانی اور اس کے کشف کی صحت حدیث کی صحت سے جانی۔
امام سیوطی تعقبات عـــہ میں امام بیہقی سے ناقل تداولھا الصالحون بعضھم عن بعض وفی ذلك تقویۃ للحدیث المرفوع (اسے صالحین نے ایك دوسرے سے اخذ کیا اور ان کے اخذ میں حدیث مرفوع کی تقویت ہے)اسی عـــہ میں فرمایا :
عـــہ باب الصلاۃ حدیث صلاۃ التسبیح ۱۲ منہ
حوالہ / References
مرقات شرح مشکوٰۃ الفصل الثانی باب ماعلی الماموم من المتابعۃ مطبوعہ امدادیہ ملتان ۳ / ۹۸
التعقبات علی الموضوعات باب الصلوٰۃ مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل ص ۱۳
التعقبات علی الموضوعات باب الصلوٰۃ مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل ص ۱۳
قدصرح غیرواحد بان من دلیل صحۃ الحدیث قول اھل العلم بہ وان لم یکن لہ اسناد یعتمد علی مثلہ ۔
معتمد علما نے تصریح فرمائی ہے کہ اہل علم کی موافقت صحت حدیث کی دلیل ہوتی ہے اگرچہ اس کے لئے کوئی سند قابل اعتماد نہ ہو۔
یہ ارشاد علما احادیث احکام کے بارے میں ہے پھر احادیث فضائل تو احادیث فضائل ہیں ۔
افادہ شانزدہم۱۶ : (حدیث سے ثبوت ہونے میں مطالب تین قسم ہیں )جن باتوں کا ثبوت حدیث سے پایا جائے وہ سب ایك پلہ کی نہیں ہوتیں بعض تو اس اعلی درجہ قوت پر ہوتی ہیں کہ جب تك حدیث مشہور متواتر نہ ہو اس کا ثبوت نہیں دے سکتے احاد اگرچہ کیسے ہی قوت سند ونہایت صحت پر ہوں ان کے معاملہ میں کام نہیں دیتیں ۔ (عقائد میں حدیث احاد اگرچہ صحیح ہو کافی نہیں )یہ اصول عقائد اسلامیہ ہیں جن میں خاص یقین درکار علامہ تفتازانی رحمۃ اللہ تعالی علیہشرح عقائد نسفی میں فرماتے ہیں :
خبر الواحد علی تقدیر اشتمالہ علی جمیع الشرائط المذکورۃ فی اصول الفقہ لایفید الا الظن ولاعبرۃ بالظن فی باب الاعتقادات ۔
حدیث احاد اگرچہ تمام شرائط صحت کی جامع ہو ظن ہی کا فائدہ دیتی ہے اور معاملہ اعتقادمیں ظنیات کاکچھ اعتبار نہیں ۔
عـــہ باب الصلاۃ حدیث من جمع بین الصلاتین من غیر عذر فقداتی بابا من ابواب الکبائر اخرجہ الترمذی وقال حسین ضعفہ احمد وغیرہ والعمل علی ھذا الحدیث عنداھل العلم فاشار بذلك الی ان الحدیث اعتضد بقول اھل العلم وقدصرح غیر واحد الخ ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
باب الصلوۃ کی اس حدیث کے تحت ذکر ہے جس میں ہے کہ جس نے دو۲ نمازیں بغیر عذر کے جمع کیں اس نے کبائر میں سے ایك کبیرہ کا ارتکاب کیا اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور حسین نے کہا احمد وغیرہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور اہل علم کا اس حدیث پر عمل ہے اس سے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اس حدیث نے اہل علم کے قول کے ذریعے قوت حاصل کی ہے اور اس کی تصریح متعدد محدثین نے کی ہے ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ(ت)
معتمد علما نے تصریح فرمائی ہے کہ اہل علم کی موافقت صحت حدیث کی دلیل ہوتی ہے اگرچہ اس کے لئے کوئی سند قابل اعتماد نہ ہو۔
یہ ارشاد علما احادیث احکام کے بارے میں ہے پھر احادیث فضائل تو احادیث فضائل ہیں ۔
افادہ شانزدہم۱۶ : (حدیث سے ثبوت ہونے میں مطالب تین قسم ہیں )جن باتوں کا ثبوت حدیث سے پایا جائے وہ سب ایك پلہ کی نہیں ہوتیں بعض تو اس اعلی درجہ قوت پر ہوتی ہیں کہ جب تك حدیث مشہور متواتر نہ ہو اس کا ثبوت نہیں دے سکتے احاد اگرچہ کیسے ہی قوت سند ونہایت صحت پر ہوں ان کے معاملہ میں کام نہیں دیتیں ۔ (عقائد میں حدیث احاد اگرچہ صحیح ہو کافی نہیں )یہ اصول عقائد اسلامیہ ہیں جن میں خاص یقین درکار علامہ تفتازانی رحمۃ اللہ تعالی علیہشرح عقائد نسفی میں فرماتے ہیں :
خبر الواحد علی تقدیر اشتمالہ علی جمیع الشرائط المذکورۃ فی اصول الفقہ لایفید الا الظن ولاعبرۃ بالظن فی باب الاعتقادات ۔
حدیث احاد اگرچہ تمام شرائط صحت کی جامع ہو ظن ہی کا فائدہ دیتی ہے اور معاملہ اعتقادمیں ظنیات کاکچھ اعتبار نہیں ۔
عـــہ باب الصلاۃ حدیث من جمع بین الصلاتین من غیر عذر فقداتی بابا من ابواب الکبائر اخرجہ الترمذی وقال حسین ضعفہ احمد وغیرہ والعمل علی ھذا الحدیث عنداھل العلم فاشار بذلك الی ان الحدیث اعتضد بقول اھل العلم وقدصرح غیر واحد الخ ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
باب الصلوۃ کی اس حدیث کے تحت ذکر ہے جس میں ہے کہ جس نے دو۲ نمازیں بغیر عذر کے جمع کیں اس نے کبائر میں سے ایك کبیرہ کا ارتکاب کیا اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور حسین نے کہا احمد وغیرہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور اہل علم کا اس حدیث پر عمل ہے اس سے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اس حدیث نے اہل علم کے قول کے ذریعے قوت حاصل کی ہے اور اس کی تصریح متعدد محدثین نے کی ہے ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ(ت)
حوالہ / References
التعقبات علی الموضوعات باب الصلوٰۃ مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل ص ۱۲
التعقبات علی الموضوعات باب الصلوٰۃ مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل ص ۱۲
شرح عقائد نسفی بحث تعداد الانبیاء مطبوعہ دارالاشاعت العربیۃ قندھار ص۱۰۱
التعقبات علی الموضوعات باب الصلوٰۃ مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل ص ۱۲
شرح عقائد نسفی بحث تعداد الانبیاء مطبوعہ دارالاشاعت العربیۃ قندھار ص۱۰۱
مولاناعلی قاری منح الروض الازہر میں فرماتے ہیں : الاحاد لاتفید الاعتماد فی الاعتقاد (احادیث احاد دربارہ اعتقاد ناقابل اعتماد)۔ (دربارہ احکام ضعیف کافی نہیں ) دوسرا درجہ احکام کا ہے کہ ان کے لئے اگرچہ اتنی قوت درکار نہیں پھر بھی حدیث کا صحیح لذاتہ خواہ لغیرہ یا حسن لذاتہ یا کم سے کم لغیرہ ہونا چاہئے جمہور علماء یہاں ضعیف حدیث نہیں سنتے۔
(فضائل ومناقب میں باتفاق علماء حدیث ضعیف مقبول وکافی ہے) تیسرا مرتبہ فضائل ومناقب کا ہے یہاں باتفاق عـــہ۱ علماء ضعیف عـــہ۲حدیث بھی کافی ہے مثلا کسی حدیث میں ایك عمل کی ترغیب آئی کہ جو ایسا کرے گااتنا ثواب پائے گایاکسی نبی یاصحابی کی خوبی بیان ہوئی کہ انہیں الله عزوجل نے یہ مرتبہ بخشا یہ فضل عطا کیا تو ان کے مان لینے کوضعیف حدیث بھی بہت ہے ایسی جگہ صحت حدیث میں کام کرکے اسے پایہ قبول سے ساقط کرنا فرق مراتب نہ جاننے سے ناشیئ جیسے بعض جاہل بول اٹھے ہیں کہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہکی فضیلت میں کوئی حدیث صحیح نہیں یہ ان کی نادانی ہے علمائے محدثین اپنی اصطلاح پر کلام فرماتے ہیں یہ بے سمجھے خدا جانے کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں عزیز ومسلم کہ صحت نہیں پھر حسن کیا کم ہے حسن بھی نہ سہی یہاں ضعیف بھی مستحکم ہے عـــہ۳ رسالہ۱ قاری و۲مرقاۃ و۳شرح ابن حجر مکی و۴تعقبات و۵لآلی امام سیوطی وقول مسدد امام عسقلانی کی پانچ عبارتیں افادہ دوم وسوم وچہارم ودہم میں گزریں عبارت تعقبات میں تصریح تھی کہ نہ صرف ضعیف محض بلکہ منکر بھی فضائل اعمال میں مقبول ہے بآنکہ اس میں ضعف راوی کے ساتھ اپنے سے اوثق کی مخالفت بھی ہوتی ہے کہ تنہا ضعف سے کہیں بدتر ہے ۶امام اجل شیخ العلماء والعرفاء سیدی ابوطالب محمد بن علی مکی قدس الله سرہ الملکی کتاب جلیل القدر عظیم الفخر قوت القلوب عـــہ۴ فی معاملۃ المحبوب
عـــہ۱ : ای ولاعبرۃ بمن شذ ۱۲منہ (یعنی کسی شاذ شخص کااعتبار نہیں ۔ ت)
عـــہ۲ : الاجماع المذکور فی الضعیف المطلق کمانحن فیہ منہ
عـــہ۳ : مسئلہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی تحقیق وتنقیح فقیر کے رسالہ البشری العاجلہ من تحف اجلہ ورسالہ الاحادیث الراویہ لمدح الامیر المعاویہ ورسالہ عرش الاعزاز والاکرام لاول ملوك الاسلام ورسالہ ذب الاھواء الواہیہ فی باب الامیرمعاویہ وغیرھامیں ہے وفقناالله تعالی بمنہ وکرمہ لترصیفھاوتبیینھاونفع بھاوبسائر تصانیفی امۃ الاسلام بفھمھا و بتفہیمھا امین باعظم القدرۃ واسع الرحمۃ امین صلی الله تعالی وبارك وسلم علی سیدنامحمدوالہ وصحبہ وسلم منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
عـــہ۴ فی فصل الحادی و الثلثین ۱۲ منہ
(فضائل ومناقب میں باتفاق علماء حدیث ضعیف مقبول وکافی ہے) تیسرا مرتبہ فضائل ومناقب کا ہے یہاں باتفاق عـــہ۱ علماء ضعیف عـــہ۲حدیث بھی کافی ہے مثلا کسی حدیث میں ایك عمل کی ترغیب آئی کہ جو ایسا کرے گااتنا ثواب پائے گایاکسی نبی یاصحابی کی خوبی بیان ہوئی کہ انہیں الله عزوجل نے یہ مرتبہ بخشا یہ فضل عطا کیا تو ان کے مان لینے کوضعیف حدیث بھی بہت ہے ایسی جگہ صحت حدیث میں کام کرکے اسے پایہ قبول سے ساقط کرنا فرق مراتب نہ جاننے سے ناشیئ جیسے بعض جاہل بول اٹھے ہیں کہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہکی فضیلت میں کوئی حدیث صحیح نہیں یہ ان کی نادانی ہے علمائے محدثین اپنی اصطلاح پر کلام فرماتے ہیں یہ بے سمجھے خدا جانے کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں عزیز ومسلم کہ صحت نہیں پھر حسن کیا کم ہے حسن بھی نہ سہی یہاں ضعیف بھی مستحکم ہے عـــہ۳ رسالہ۱ قاری و۲مرقاۃ و۳شرح ابن حجر مکی و۴تعقبات و۵لآلی امام سیوطی وقول مسدد امام عسقلانی کی پانچ عبارتیں افادہ دوم وسوم وچہارم ودہم میں گزریں عبارت تعقبات میں تصریح تھی کہ نہ صرف ضعیف محض بلکہ منکر بھی فضائل اعمال میں مقبول ہے بآنکہ اس میں ضعف راوی کے ساتھ اپنے سے اوثق کی مخالفت بھی ہوتی ہے کہ تنہا ضعف سے کہیں بدتر ہے ۶امام اجل شیخ العلماء والعرفاء سیدی ابوطالب محمد بن علی مکی قدس الله سرہ الملکی کتاب جلیل القدر عظیم الفخر قوت القلوب عـــہ۴ فی معاملۃ المحبوب
عـــہ۱ : ای ولاعبرۃ بمن شذ ۱۲منہ (یعنی کسی شاذ شخص کااعتبار نہیں ۔ ت)
عـــہ۲ : الاجماع المذکور فی الضعیف المطلق کمانحن فیہ منہ
عـــہ۳ : مسئلہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی تحقیق وتنقیح فقیر کے رسالہ البشری العاجلہ من تحف اجلہ ورسالہ الاحادیث الراویہ لمدح الامیر المعاویہ ورسالہ عرش الاعزاز والاکرام لاول ملوك الاسلام ورسالہ ذب الاھواء الواہیہ فی باب الامیرمعاویہ وغیرھامیں ہے وفقناالله تعالی بمنہ وکرمہ لترصیفھاوتبیینھاونفع بھاوبسائر تصانیفی امۃ الاسلام بفھمھا و بتفہیمھا امین باعظم القدرۃ واسع الرحمۃ امین صلی الله تعالی وبارك وسلم علی سیدنامحمدوالہ وصحبہ وسلم منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
عـــہ۴ فی فصل الحادی و الثلثین ۱۲ منہ
حوالہ / References
منح الروض الازہرشرح فقہ اکبر الانبیاء منزھون عن الکباروالصغائر مصطفی البابی مصر ص۵۷
میں فرماتے ہیں :
الاحادیث فی فضائل الاعمال وتفضیل الاصحاب متقبلۃ محتملۃ علی کل حال مقاطیعھا ومراسیلھا لاتعارض ولاترد کذلك کان السلف یفعلون ۔
فضائل اعمال وتفضیل صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی حدیثیں کیسی ہی ہوں ہر حال میں مقبول وماخوذ ہیں مقطوع ہوں خواہ مرسل نہ ان کی مخالفت کی جائے نہ انہیں رد کریں ائمہ سلف کا یہی طریقہ تھا۔
۷امام ابوزکریا نووی اربعین پھر امام ابن حجر مکی شرح مشکوۃ پھر مولانا علی قاری مرقاۃ عـــہ۱ وحرز عـــہ۲ ثمین ۸شرح حصن حصین میں فرماتے ہیں :
قداتفق الحفاظ ولفظ الاربعین قداتفق العلماء علی جواز العمل بالحدیث الضعیف فی فضائل الاعمال ولفظ الحرز لجواز العمل بہ فی فضائل الاعمال بالاتفاق ۔
یعنی بیشك حفاظ حدیث وعلمائے دین کا اتفاق ہے کہ فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل جائز ہے۔ (ملخصا)
۹فتح المبین بشرح عـــہ۳ الاربعین میں ہے :
لانہ ان کان صحیحا فی نفس الامرفقد اعطی حقہ من العمل بہ والالم یترتب علی العمل بہ مفسدۃ تحلیل ولاتحریم ولاضیاع حق للغیر وفی حدیث ضعیف من بلغہ عنی ثواب عمل فعملہ حصل لہ اجرہ وان لم اکن قلتہ اوکما قال واشار المصنف رحمہ الله تعالی بحکایۃ الاجماع علی ماذکرہ الی الرد علی من نازع فیہ الخ
یعنی حدیث ضعیف پر فضائل اعمال میں اس لئے ٹھیك ہے کہ اگر واقع میں صحیح ہوئی جب تو جو اس کا حق تھا کہ اس پر عمل کیا جائے حق ادا ہوگیا اور اگر صحیح نہ بھی ہوتو اس پر عمل کرنے میں کسی تحلیل یا تحریم یا کسی کی حق تلفی کا مفسدہ تو نہیں اور ایك حدیث ضعیف میں آیا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : جسے مجھ سے کسی عمل پر ثواب کی خبر پہنچی وہ اس پر عمل کرلے اس کا اجر اسے حاصل ہو اگرچہ وہ بات واقع میں میں نے نہ فرمائی ہو۔ لفظ حدیث کے یونہی ہیں یاجس طرح حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمائے امام نووی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے اس پر نقل اجماع علماسے اشارہ فرمایا جو اس میں نزاع کرے اس کا قول مردود ہے۔ الخ
عـــہ۱ تحت حدیث من حفظ علی امتی اربعین حدیثا قال النووی طرقہ کلھا ضعیفہ ۱۲ منہ (م)
عـــہ۲ فی شرح الخطبۃ تحت قول المصنف رحمہ الله تعالی اتی ارجوان یکون جمیع مافیہ صحیحا ۱۲ منہ (م)
عـــہ۳ فی شرح الخطبۃ ۱۲منہ ر ضی الله تعالی عنہ (م)
الاحادیث فی فضائل الاعمال وتفضیل الاصحاب متقبلۃ محتملۃ علی کل حال مقاطیعھا ومراسیلھا لاتعارض ولاترد کذلك کان السلف یفعلون ۔
فضائل اعمال وتفضیل صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی حدیثیں کیسی ہی ہوں ہر حال میں مقبول وماخوذ ہیں مقطوع ہوں خواہ مرسل نہ ان کی مخالفت کی جائے نہ انہیں رد کریں ائمہ سلف کا یہی طریقہ تھا۔
۷امام ابوزکریا نووی اربعین پھر امام ابن حجر مکی شرح مشکوۃ پھر مولانا علی قاری مرقاۃ عـــہ۱ وحرز عـــہ۲ ثمین ۸شرح حصن حصین میں فرماتے ہیں :
قداتفق الحفاظ ولفظ الاربعین قداتفق العلماء علی جواز العمل بالحدیث الضعیف فی فضائل الاعمال ولفظ الحرز لجواز العمل بہ فی فضائل الاعمال بالاتفاق ۔
یعنی بیشك حفاظ حدیث وعلمائے دین کا اتفاق ہے کہ فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل جائز ہے۔ (ملخصا)
۹فتح المبین بشرح عـــہ۳ الاربعین میں ہے :
لانہ ان کان صحیحا فی نفس الامرفقد اعطی حقہ من العمل بہ والالم یترتب علی العمل بہ مفسدۃ تحلیل ولاتحریم ولاضیاع حق للغیر وفی حدیث ضعیف من بلغہ عنی ثواب عمل فعملہ حصل لہ اجرہ وان لم اکن قلتہ اوکما قال واشار المصنف رحمہ الله تعالی بحکایۃ الاجماع علی ماذکرہ الی الرد علی من نازع فیہ الخ
یعنی حدیث ضعیف پر فضائل اعمال میں اس لئے ٹھیك ہے کہ اگر واقع میں صحیح ہوئی جب تو جو اس کا حق تھا کہ اس پر عمل کیا جائے حق ادا ہوگیا اور اگر صحیح نہ بھی ہوتو اس پر عمل کرنے میں کسی تحلیل یا تحریم یا کسی کی حق تلفی کا مفسدہ تو نہیں اور ایك حدیث ضعیف میں آیا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : جسے مجھ سے کسی عمل پر ثواب کی خبر پہنچی وہ اس پر عمل کرلے اس کا اجر اسے حاصل ہو اگرچہ وہ بات واقع میں میں نے نہ فرمائی ہو۔ لفظ حدیث کے یونہی ہیں یاجس طرح حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمائے امام نووی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے اس پر نقل اجماع علماسے اشارہ فرمایا جو اس میں نزاع کرے اس کا قول مردود ہے۔ الخ
عـــہ۱ تحت حدیث من حفظ علی امتی اربعین حدیثا قال النووی طرقہ کلھا ضعیفہ ۱۲ منہ (م)
عـــہ۲ فی شرح الخطبۃ تحت قول المصنف رحمہ الله تعالی اتی ارجوان یکون جمیع مافیہ صحیحا ۱۲ منہ (م)
عـــہ۳ فی شرح الخطبۃ ۱۲منہ ر ضی الله تعالی عنہ (م)
حوالہ / References
قوت القلوب فی معاملۃ المحبوب فصل الحادی والعشرون مطبوعہ دارصادر مصر ۱ / ۱۷۸
شرح اربعین للنووی خطبۃ الکتاب مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص ۴
حرز ثمین شرح مع حصن حصین شرح خطبہ کتاب نولکشور لکھنؤ ص۲۳
فتح المبین شرح الاربعین
شرح اربعین للنووی خطبۃ الکتاب مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص ۴
حرز ثمین شرح مع حصن حصین شرح خطبہ کتاب نولکشور لکھنؤ ص۲۳
فتح المبین شرح الاربعین
۱۰مقاصد حسنہ عـــہ۱ میں ہے :
قدقال ابن عبدالبر البرانھم یتساھلون فی الحدیث اذاکان من فضائل الاعمال ۔
بے شك ابو عمر ابن عبدالبر نے کہا کہ علماء حدیث میں تساہل فرماتے ہیں جب فضائل اعمال کے بارہ میں ہو۔
۱۱امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں :
الضعیف غیر الموضوع یعمل بہ فی فضائل الاعمال ۔
یعنی فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل کیا جائے گا بس اتنا چاہئے کہ موضوع نہ ہو۔
مقدمہ ۱۲امام ابوعمرو ابن الصلاح و۱۳مقدمہ جرجانیہ و۱۴شرح الالفیۃ للمصنف و۱۵تقریب النواوی اور اس کی شرح۱۶ تدریب الراوی میں ہے :
واللفظ لھما یجوز عنداھل الحدیث وغیرھم التساھل فی الاسانید الضعیفۃوروایۃ ماسوی الموضوع من الضعیف والعمل بہ من غیربیان ضعفہ فی فضائل الاعمال غیرھما ممالاتعلق لہ بالعقائد والاحکام وممن نقل عنہ ذلك ابن حنبل وابن مھدی وابن المبارك قالوا اذاروینا
محدثین وغیرہم علما کے نزدیك ضعیف سندوں میں تساہل اور بے اظہار ضعف موضوع کے سوا ہر قسم حدیث کی روایت اور اس پر عمل فضائل اعمال وغیرہا امور میں جائز ہے جنہیں عقائد واحکام سے تعلق نہیں امام احمد بن حنبل وامام عبدالرحمن بن مہدی وامام عبدالله بن مبارك وغیرہم ائمہ سے اس کی تصریح منقول ہے وہ فرماتے جب
عـــہ : ذکرہ فی مسألۃ تقدیم الاورع ۱۲ منہ (م)
صاحب ورع وتقوی کی تقدیم میں اس کا بیان ہے ۱۲ منہ (ت)
قدقال ابن عبدالبر البرانھم یتساھلون فی الحدیث اذاکان من فضائل الاعمال ۔
بے شك ابو عمر ابن عبدالبر نے کہا کہ علماء حدیث میں تساہل فرماتے ہیں جب فضائل اعمال کے بارہ میں ہو۔
۱۱امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں :
الضعیف غیر الموضوع یعمل بہ فی فضائل الاعمال ۔
یعنی فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل کیا جائے گا بس اتنا چاہئے کہ موضوع نہ ہو۔
مقدمہ ۱۲امام ابوعمرو ابن الصلاح و۱۳مقدمہ جرجانیہ و۱۴شرح الالفیۃ للمصنف و۱۵تقریب النواوی اور اس کی شرح۱۶ تدریب الراوی میں ہے :
واللفظ لھما یجوز عنداھل الحدیث وغیرھم التساھل فی الاسانید الضعیفۃوروایۃ ماسوی الموضوع من الضعیف والعمل بہ من غیربیان ضعفہ فی فضائل الاعمال غیرھما ممالاتعلق لہ بالعقائد والاحکام وممن نقل عنہ ذلك ابن حنبل وابن مھدی وابن المبارك قالوا اذاروینا
محدثین وغیرہم علما کے نزدیك ضعیف سندوں میں تساہل اور بے اظہار ضعف موضوع کے سوا ہر قسم حدیث کی روایت اور اس پر عمل فضائل اعمال وغیرہا امور میں جائز ہے جنہیں عقائد واحکام سے تعلق نہیں امام احمد بن حنبل وامام عبدالرحمن بن مہدی وامام عبدالله بن مبارك وغیرہم ائمہ سے اس کی تصریح منقول ہے وہ فرماتے جب
عـــہ : ذکرہ فی مسألۃ تقدیم الاورع ۱۲ منہ (م)
صاحب ورع وتقوی کی تقدیم میں اس کا بیان ہے ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
المقاصد الحسنۃ زیر حدیث من بلغہ عن اللّٰہ الخ مطبوعہ درالکتب العلمیۃ بیروت ص ۴۰۵
فتح القدیر باب الامامۃ نوریہ رضویہ سکھّر ۱ / ۳۰۳
فتح القدیر باب الامامۃ نوریہ رضویہ سکھّر ۱ / ۳۰۳
فی الحلال والحرام شددنا واذاروینا فی الفضائل ونحوھا تساھلنا اھ ملخصا۔
ہم حلال وحرام میں حدیث روایت کریں سختی کرتے ہیں اور جب فضائل میں روایت کریں تو نرمی اھ ملخصا۔
امام زین الدین عراقی نے الفیۃ الحدیث میں جہاں اس مسئلہ کی نسبت فرمایا عن ابن مھدی وغیر واحد (یعنی امام ابن مہدی وغیرہ ائمہ سے ایسا ہی منقول ہے) وہاں ۱۷شارح نے فتح المغیث میں امام ۱۸احمد وامام ۱۹ابن معین وامام ۲۰ابن المبارك و۲۱امام سفین ثوری و۲۲امام ابن عیینہ و۲۳امام ابوزکریاعنبری و۲۴حاکم و۲۵ابن عبدالبر کے اسماء واقوال نقل کیے اور فرمایاکہ ۲۶ابن عدی نے کامل اور ۲۷خطیب نے کفایہ میں اس کے لئے ایك مستقل باب وضع کیا۔ غرض مسئلہ مشہورہے اور نصوص نامحصور اور بعض دیگر عبارات جلیلہ وافادات آئندہ میں مسطور ان شاء الله العزیز الغفور۔
تذییل : کبرائے وہابیہ بھی اس مسئلہ میں اہل حق سے موافق ہیں مولوی ۲۸خرم علی رسالہ عــــہ۱ دعائیہ میں لکھتے ہیں :
ضعاف درفضائل اعمال وفیما نحن فیہ باتفاق علما معمول بہااست الخ
فضائل اعمال میں اور جس میں ہم گفتگو کررہے ہیں اس میں باتفاق علماء ضعیف حدیثوں پر عمل درست ہے الخ (ت)
۲۹مظاہر حق میں راوی حدیث صلاۃ اوابین کا منکر الحدیث ہونا امام بخاری سے نقل کرکے لکھا : “ اس حدیث کو اگرچہ ترمذی وغیرہ نے ضعیف کہا ہے لیکن فضائل میں عمل کرنا حدیث ضعیف پر جائزہے “ الخ
۳۰اسی میں حدیث فضیلت شب برات کی تضعیف امام بخاری سے نقل کرکے کہا : “ یہ حدیث اگرچہ ضعیف ہے لیکن عمل کرنا حدیث ضعیف پر فضائل اعمال میں باتفاق جائز ہے الخ “
افادہ ہفدہم۱۷ : فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل نہ صرف جائز بلکہ مستحب ہے حدیث ضعیف ثبوت استحباب کے لئے بس ہے۔ ۳۱امام شیخ الاسلام ابوزکریا نفعنا الله تعالی ببرکاتہ کتاب عـــہ۲ الاذکار المنتخب من کلام سید الابرار صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
عـــہ۱ : نقل ھذہ العبارات الثلثۃ محقق اعصارنا وزینۃ امصارنا تاج الفحول محب الرسول مولانا المولوی عبدالقادر البدایونی ادام الله تعالی فیوضہ فی کتابہ سیف الاسلام المسلول علی المناع بعمل المولد والقیام ۱۲ منہ (م)
عــــہ۲ : اول الکتاب ثالث فصول المقدمۃ ۲۱ منہ (م)
یہ تینوں عبارات ہمارے دور کے عظیم محقق اور ہمارے ملك کی زینت تاج الفحول محب الرسول مولانا مولوی عبدالقادر بدیوانی ادام الله فیوضہ نے اپنی کتاب “ سیف الاسلام المسلول علی المناع بعمل المولد والقیام “ میں ذکر کی ہیں ۱۲ منہ (ت)
یہ کتاب کے شروع میں مقدمہ کی تیسری فصل میں ہے ۱۲ منہ (ت)
ہم حلال وحرام میں حدیث روایت کریں سختی کرتے ہیں اور جب فضائل میں روایت کریں تو نرمی اھ ملخصا۔
امام زین الدین عراقی نے الفیۃ الحدیث میں جہاں اس مسئلہ کی نسبت فرمایا عن ابن مھدی وغیر واحد (یعنی امام ابن مہدی وغیرہ ائمہ سے ایسا ہی منقول ہے) وہاں ۱۷شارح نے فتح المغیث میں امام ۱۸احمد وامام ۱۹ابن معین وامام ۲۰ابن المبارك و۲۱امام سفین ثوری و۲۲امام ابن عیینہ و۲۳امام ابوزکریاعنبری و۲۴حاکم و۲۵ابن عبدالبر کے اسماء واقوال نقل کیے اور فرمایاکہ ۲۶ابن عدی نے کامل اور ۲۷خطیب نے کفایہ میں اس کے لئے ایك مستقل باب وضع کیا۔ غرض مسئلہ مشہورہے اور نصوص نامحصور اور بعض دیگر عبارات جلیلہ وافادات آئندہ میں مسطور ان شاء الله العزیز الغفور۔
تذییل : کبرائے وہابیہ بھی اس مسئلہ میں اہل حق سے موافق ہیں مولوی ۲۸خرم علی رسالہ عــــہ۱ دعائیہ میں لکھتے ہیں :
ضعاف درفضائل اعمال وفیما نحن فیہ باتفاق علما معمول بہااست الخ
فضائل اعمال میں اور جس میں ہم گفتگو کررہے ہیں اس میں باتفاق علماء ضعیف حدیثوں پر عمل درست ہے الخ (ت)
۲۹مظاہر حق میں راوی حدیث صلاۃ اوابین کا منکر الحدیث ہونا امام بخاری سے نقل کرکے لکھا : “ اس حدیث کو اگرچہ ترمذی وغیرہ نے ضعیف کہا ہے لیکن فضائل میں عمل کرنا حدیث ضعیف پر جائزہے “ الخ
۳۰اسی میں حدیث فضیلت شب برات کی تضعیف امام بخاری سے نقل کرکے کہا : “ یہ حدیث اگرچہ ضعیف ہے لیکن عمل کرنا حدیث ضعیف پر فضائل اعمال میں باتفاق جائز ہے الخ “
افادہ ہفدہم۱۷ : فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل نہ صرف جائز بلکہ مستحب ہے حدیث ضعیف ثبوت استحباب کے لئے بس ہے۔ ۳۱امام شیخ الاسلام ابوزکریا نفعنا الله تعالی ببرکاتہ کتاب عـــہ۲ الاذکار المنتخب من کلام سید الابرار صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
عـــہ۱ : نقل ھذہ العبارات الثلثۃ محقق اعصارنا وزینۃ امصارنا تاج الفحول محب الرسول مولانا المولوی عبدالقادر البدایونی ادام الله تعالی فیوضہ فی کتابہ سیف الاسلام المسلول علی المناع بعمل المولد والقیام ۱۲ منہ (م)
عــــہ۲ : اول الکتاب ثالث فصول المقدمۃ ۲۱ منہ (م)
یہ تینوں عبارات ہمارے دور کے عظیم محقق اور ہمارے ملك کی زینت تاج الفحول محب الرسول مولانا مولوی عبدالقادر بدیوانی ادام الله فیوضہ نے اپنی کتاب “ سیف الاسلام المسلول علی المناع بعمل المولد والقیام “ میں ذکر کی ہیں ۱۲ منہ (ت)
یہ کتاب کے شروع میں مقدمہ کی تیسری فصل میں ہے ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
تدریب الراوی قبیل نوع الثالث والعشرون مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ لاہور ۱ / ۲۹۸
رسالہ دعائیہ مولوی خرم علی
مظاہر حق باب السنن وفضائلھا مطبوعہ دارالاشاعت کراچی ۱ / ۷۶۶
مظاہر حق اردو ترجمہ مشکوٰۃ شریف باب قیام شہر رمضان مطبوعہ دارالاشاعت کراچی ۱ / ۸۴۳
رسالہ دعائیہ مولوی خرم علی
مظاہر حق باب السنن وفضائلھا مطبوعہ دارالاشاعت کراچی ۱ / ۷۶۶
مظاہر حق اردو ترجمہ مشکوٰۃ شریف باب قیام شہر رمضان مطبوعہ دارالاشاعت کراچی ۱ / ۸۴۳
قال العلماء من المحدثین والفقھاء وغیرھم یجوز ویستحب العمل فی الفضائل والترغیب والترھیب بالحدیث الضعیف مالم یکن موضوعا ۔
محدثین وفقہا وغیرہم علما نے فرمایا کہ فضائل اور نیك بات کی ترغیب اور بری بات سے خوف دلانے میں حدیث ضعیف پر عمل جائز ومستحب ہے جبکہ موضوع نہ ہو۔
بعینہا یہی الفاظ امام ابن الہائم نے العقد النضید فی تحقیق کلمۃ التوحید پھر عارف بالله سیدی ۳۲عبدالغنی نابلسی نے حدیقہ ندیہ عـــہ۱ ۳۳شرح طریقہ محمدیہ میں نقل فرمائے ۳۴امام فقیہ النفس محقق علی الاطلاق فتح القدیر عــــہ۲میں فرماتے ہیں : الاستحباب یثبت بالضعیف غیر الموضوع (حدیث ضعیف سے کہ موضوع نہ ہو فعل کا مستحب ہونا ثابت ہوجاتا ہے) علامہ۳۵ ابراہیم حلبی غنیۃالمستملی عــــہ۳ فی شرح منیۃ المصلی میں فرماتے ہیں :
(یستحب ان یمسح بدنہ بمندیل بعدالغسل) لماروت عائشۃ رضی الله تعالی عنھا قالت کان للنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم خرقۃ یتنشف بھا بعدالوضوء رواہ الترمذی وھو ضعیف ولکن یجوز العمل بالضعیف فی الفضائل ۔
(نہاکر رومال سے بدن پونچھنا مستحب ہے جیسا کہ ترمذی نے ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی کہ حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموضو کے بعد رومال سے اعضاء مبارك صاف فرماتے۔ ترمذی نے روایت کیا یہ حدیث ضعیف ہے مگر فضائل میں ضعیف پر عمل روا۔
مولانا۳۶ علی قاری موضوعات کبیر میں حدیث مسح گردن کا ضعف بیان کرکے فرماتے ہیں :
الضعیف یعمل بہ فی الفضائل الاعمال اتفاقا ولذا قال ائمتنا ان مسح الرقبۃ مستحب اوسنۃ ۔
فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر بالاتفاق عمل کیا جاتا ہے اسی لئے ہمارے ائمہ کرام نے فرمایا کہ وضو میں گردن کا مسح مستحب یا سنت ہے۔
عـــہ۱ : اواخر الفصل الثانی من باب الاول ۱۲ منہ (م)
عــــہ۲ : قبیل فصل فی حمل الجنازۃ ۱۲ منہ (م)
عـــہ۳ : فی سنن الغسل ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
باب اول کی فصل ثانی کے آخر میں اس کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
فصل فی حمل الجنازہ سے تھوڑا پہلے اس کو بیان کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
سنن غسل میں اس کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
محدثین وفقہا وغیرہم علما نے فرمایا کہ فضائل اور نیك بات کی ترغیب اور بری بات سے خوف دلانے میں حدیث ضعیف پر عمل جائز ومستحب ہے جبکہ موضوع نہ ہو۔
بعینہا یہی الفاظ امام ابن الہائم نے العقد النضید فی تحقیق کلمۃ التوحید پھر عارف بالله سیدی ۳۲عبدالغنی نابلسی نے حدیقہ ندیہ عـــہ۱ ۳۳شرح طریقہ محمدیہ میں نقل فرمائے ۳۴امام فقیہ النفس محقق علی الاطلاق فتح القدیر عــــہ۲میں فرماتے ہیں : الاستحباب یثبت بالضعیف غیر الموضوع (حدیث ضعیف سے کہ موضوع نہ ہو فعل کا مستحب ہونا ثابت ہوجاتا ہے) علامہ۳۵ ابراہیم حلبی غنیۃالمستملی عــــہ۳ فی شرح منیۃ المصلی میں فرماتے ہیں :
(یستحب ان یمسح بدنہ بمندیل بعدالغسل) لماروت عائشۃ رضی الله تعالی عنھا قالت کان للنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم خرقۃ یتنشف بھا بعدالوضوء رواہ الترمذی وھو ضعیف ولکن یجوز العمل بالضعیف فی الفضائل ۔
(نہاکر رومال سے بدن پونچھنا مستحب ہے جیسا کہ ترمذی نے ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی کہ حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموضو کے بعد رومال سے اعضاء مبارك صاف فرماتے۔ ترمذی نے روایت کیا یہ حدیث ضعیف ہے مگر فضائل میں ضعیف پر عمل روا۔
مولانا۳۶ علی قاری موضوعات کبیر میں حدیث مسح گردن کا ضعف بیان کرکے فرماتے ہیں :
الضعیف یعمل بہ فی الفضائل الاعمال اتفاقا ولذا قال ائمتنا ان مسح الرقبۃ مستحب اوسنۃ ۔
فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر بالاتفاق عمل کیا جاتا ہے اسی لئے ہمارے ائمہ کرام نے فرمایا کہ وضو میں گردن کا مسح مستحب یا سنت ہے۔
عـــہ۱ : اواخر الفصل الثانی من باب الاول ۱۲ منہ (م)
عــــہ۲ : قبیل فصل فی حمل الجنازۃ ۱۲ منہ (م)
عـــہ۳ : فی سنن الغسل ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
باب اول کی فصل ثانی کے آخر میں اس کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
فصل فی حمل الجنازہ سے تھوڑا پہلے اس کو بیان کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
سنن غسل میں اس کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
کتاب الاذکار المنتخب من کلام سید الابرار صلی اللہ تعالٰی علیہ سلم فصل قال العلماء من المحدثین مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ص ۷
فتح القدیر فصل فی الصلاۃ علی المیت مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۹۵
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی سنن الغسل سہیل اکیدمی لاہور ص۵۲
موضوعات کبیر حدیث مسح الرقبۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ص ۶۳
فتح القدیر فصل فی الصلاۃ علی المیت مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۹۵
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی سنن الغسل سہیل اکیدمی لاہور ص۵۲
موضوعات کبیر حدیث مسح الرقبۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ص ۶۳
امام جلیل۳۷ سیوطی طلوع عــــہ۱ الثریا باظہار ماکان خفیا میں فرماتے ہیں :
استحبہ ابن الصلاح وتبعہ النووی نظر الی ان الحدیث الضعیف یتسامح بہ فی فضائل الاعمال ۔
تلقین کو امام ابن الصلاح پھر امام نووی نے اس نظر سے مستحب مانا کہ فضائل اعمال میں حدیث ضعیف کے ساتھ نرمی کی جاتی ہے۔
علامہ۳۸ محقق جلال دوانی رحمۃ اللہ تعالی علیہانموذج العلوم عــــہ۲ میں فرماتے ہیں :
الذی یصلح للتعویل علیہ ان یقال اذاوجد حدیث فی فضیلۃ عمل من الاعمال لایحتمل الحرمۃ والکراھیۃ یجوز العمل بہ ویستحب لانہ مامون الخطر ومرجو النفع ۔
اعتماد کے قابل یہ بات ہے کہ جب کسی عمل کی فضیلت میں کوئی حدیث پائی جائے اور وہ حرمت وکراہت کے قابل نہ ہوتو اس حدیث پر عمل جائز ومستحب ہے کہ اندیشہ سے امان ہے اور نفع کی امید۔
اندیشہ سے امان یوں کہ حرمت وکراہت کا محل نہیں اور نفع کی امید یوں کہ فضیلت میں حدیث مروی ہے اگرچہ ضعیف ہی سہی۔
اقول : وبالله التوفیق بلکہ فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل کے معنی ہی یہ ہیں کہ استحباب مانا جائے
عــــہ ۱ : نقلہ بعض العصریین وھو فیما نری ثقۃ فی النقل ۱۲ منہ (م)
عــــہ ۲ : نقلہ العلامۃ شھاب الخفاجی فی نسیم الریاض شرح شفاء القاضی عیاض فی شرح الدیباجۃ حیث روی المصنف رحمۃ الله تعالی بسندہ الی ابی داؤد حدیث من سئل عن علم فکتمہ الحدیث وللمحقق ھھنا کلام طویل نقلہ الشارح ملخصا ونازعہ بماھو منازع فیہ والوجہ مع المحقق فی عامۃ ماذکروا لولا خشیۃ الاطالۃ لاتینا بکلاھما مع مالہ وعلیہ ولکن سنشیر ان شاء الله تعالی الی احرم یسیر یظھر بھا الصواب بعون الملك الوھاب ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
استحبہ ابن الصلاح وتبعہ النووی نظر الی ان الحدیث الضعیف یتسامح بہ فی فضائل الاعمال ۔
تلقین کو امام ابن الصلاح پھر امام نووی نے اس نظر سے مستحب مانا کہ فضائل اعمال میں حدیث ضعیف کے ساتھ نرمی کی جاتی ہے۔
علامہ۳۸ محقق جلال دوانی رحمۃ اللہ تعالی علیہانموذج العلوم عــــہ۲ میں فرماتے ہیں :
الذی یصلح للتعویل علیہ ان یقال اذاوجد حدیث فی فضیلۃ عمل من الاعمال لایحتمل الحرمۃ والکراھیۃ یجوز العمل بہ ویستحب لانہ مامون الخطر ومرجو النفع ۔
اعتماد کے قابل یہ بات ہے کہ جب کسی عمل کی فضیلت میں کوئی حدیث پائی جائے اور وہ حرمت وکراہت کے قابل نہ ہوتو اس حدیث پر عمل جائز ومستحب ہے کہ اندیشہ سے امان ہے اور نفع کی امید۔
اندیشہ سے امان یوں کہ حرمت وکراہت کا محل نہیں اور نفع کی امید یوں کہ فضیلت میں حدیث مروی ہے اگرچہ ضعیف ہی سہی۔
اقول : وبالله التوفیق بلکہ فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل کے معنی ہی یہ ہیں کہ استحباب مانا جائے
عــــہ ۱ : نقلہ بعض العصریین وھو فیما نری ثقۃ فی النقل ۱۲ منہ (م)
عــــہ ۲ : نقلہ العلامۃ شھاب الخفاجی فی نسیم الریاض شرح شفاء القاضی عیاض فی شرح الدیباجۃ حیث روی المصنف رحمۃ الله تعالی بسندہ الی ابی داؤد حدیث من سئل عن علم فکتمہ الحدیث وللمحقق ھھنا کلام طویل نقلہ الشارح ملخصا ونازعہ بماھو منازع فیہ والوجہ مع المحقق فی عامۃ ماذکروا لولا خشیۃ الاطالۃ لاتینا بکلاھما مع مالہ وعلیہ ولکن سنشیر ان شاء الله تعالی الی احرم یسیر یظھر بھا الصواب بعون الملك الوھاب ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
حوالہ / References
الحاوی للفتاوٰی خفیا دارالفکر بیروت ۲ / ۱۹۱
نسیم الریاض شرح شفا دیباجہ مطبوعہ دارالفکر بیروت لبنان ۱ / ۴۳
نسیم الریاض شرح شفا دیباجہ مطبوعہ دارالفکر بیروت لبنان ۱ / ۴۳
ورنہ نفس جواز تو اصالت اباحت وانعدام نہی شرعی سے آپ ہی ثابت اس میں حدیث ضعیف کا کیا دخل ہوا تو لاجرم ورود حدث کے سبب جانب فعل کو مترجح مانےے کہ حدیث کی طرف اسناد محقق اور اس پر عمل ہونا صادق ہو اور یہی معنی استحباب ہے آخر نہ دیکھا کہ علامہ حلبی وعلامہ قاری نے اسے عمل وجواز عمل کو دلیل ومثبت استحباب قرار دیا اور امام محمدمحمدمحمد ابن امیرالحاج نے مقام اباحت میں اس سے تمسك کو درجہ ترقی واولویت میں رکھا کہ جب اس پر عمل ہونا ہے تو ثبوت اباحت تو بدرجہ اولی اس کے کھل گیا کہ اس پر عمل کے معنی نفس اباحت سے ایك زائد وبااتر چیز ہے اور وہ نہیں مگر استحباب وھذا ظاھر لیس دونہ حجاب (اور یہ ظاہر ہے اس میں کوئی خفا نہیں ۔ ت) حلیہ۳۹ شرح عــــہ۱ منیہ میں فرماتے ہیں :
الجمھور علی العمل بالحدیث الضعیف الذی لیس بموضوع فی فضائل الاعمال فھو فی ابقاء الاباحۃ التی لم یتم دلیل علی انتقائھا کمافیما نحن فیہ اجدر ۔
جمہور علماء کا مسلك فضائل اعمال میں حدیث ضعیف غیر موضوع پر عمل کرنا ہے تو ایسی حدیث اس اباحت فعل کے باقی رکھنے کی تو زیادہ سزا وار ہے جس کی نفی پر دلیل تمام نہ ہوئی جیسا کہ ہمارے اس مسئلہ میں ہے۔
امام۴۰ ابوطالب مکی قوت القلوب عــــہ۲ میں فرماتے ہیں :
الحدیث اذالم ینافہ کتاب اوسنۃ وان لم یشھد الہ ان لم یخرج تاویلہ عن اجماع الامۃ فانہ یوجب القبول والعمل لقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم کیف وقد قیل ۔
حدیث جبکہ قرآن عظیم یا کسی حدیث ثابت کے منافی نہ ہو اگرچہ کتاب وسنت میں اس کی کوئی شہادت بھی نہ نکلے تو بشرطیکہ اس کے معنی مخالف اجماع نہ پڑتے ہوں اپنے قبول اور اپنے اوپر عمل کو واجب کرتی ہے کہ حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا کیونکر نہ مانے گا حالانکہ کہا توگیا۔
یعنی جب ایك راوی جس کا کذب یقینی نہیں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے ایك بات کی خبر دیتا ہے اور اس امر میں کتاب وسنت واجماع امت کی کچھ مخالف نہیں تو نہ ماننے کی وجہ کیا ہے
عـــہ ۱ : سنن الغسل مسئلۃ المندیل ۱۲ نہ (م)
عـــہ ۲ : فی الفصل الحادی والثلثین ۱۲ منہ (م)
سنن غسل میں رومال کے مسئلہ میں اسی کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
اکتیسویں فصل میں اس کو بیان کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
الجمھور علی العمل بالحدیث الضعیف الذی لیس بموضوع فی فضائل الاعمال فھو فی ابقاء الاباحۃ التی لم یتم دلیل علی انتقائھا کمافیما نحن فیہ اجدر ۔
جمہور علماء کا مسلك فضائل اعمال میں حدیث ضعیف غیر موضوع پر عمل کرنا ہے تو ایسی حدیث اس اباحت فعل کے باقی رکھنے کی تو زیادہ سزا وار ہے جس کی نفی پر دلیل تمام نہ ہوئی جیسا کہ ہمارے اس مسئلہ میں ہے۔
امام۴۰ ابوطالب مکی قوت القلوب عــــہ۲ میں فرماتے ہیں :
الحدیث اذالم ینافہ کتاب اوسنۃ وان لم یشھد الہ ان لم یخرج تاویلہ عن اجماع الامۃ فانہ یوجب القبول والعمل لقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم کیف وقد قیل ۔
حدیث جبکہ قرآن عظیم یا کسی حدیث ثابت کے منافی نہ ہو اگرچہ کتاب وسنت میں اس کی کوئی شہادت بھی نہ نکلے تو بشرطیکہ اس کے معنی مخالف اجماع نہ پڑتے ہوں اپنے قبول اور اپنے اوپر عمل کو واجب کرتی ہے کہ حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا کیونکر نہ مانے گا حالانکہ کہا توگیا۔
یعنی جب ایك راوی جس کا کذب یقینی نہیں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے ایك بات کی خبر دیتا ہے اور اس امر میں کتاب وسنت واجماع امت کی کچھ مخالف نہیں تو نہ ماننے کی وجہ کیا ہے
عـــہ ۱ : سنن الغسل مسئلۃ المندیل ۱۲ نہ (م)
عـــہ ۲ : فی الفصل الحادی والثلثین ۱۲ منہ (م)
سنن غسل میں رومال کے مسئلہ میں اسی کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
اکتیسویں فصل میں اس کو بیان کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
قوت القلوب الفصل الحادی والثلاثون باب تفصیل الاخبار مطبوعہ المطبعۃ المبنیۃ مصر ۱ / ۱۷۷
قوت القلوب الفصل الحادی والثلاثون باب تفصیل الاخبار مطبوعہ المطبعۃ المبنیۃ مصر ۱ / ۱۷۷
اقول : اماقولہ قدس سرہ “ یوجب “ فکانہ یرید التاکد کماتقول لبعض اصحابك حقك واجب علی فقال فی الدرالمختار عـــہ۱ لان المسلمین توارثوہ فوجب اتباعھم اوان ملمحہ الی ماعلیہ السادات المجاھدون من الائمۃ و الصوفیۃ قدسنا الله تعالی باسرارھم الصفیۃ من شدۃ تعاھدھم للمستحبات کانھا من الواجبات وتوقیھم عن المکروھات بل وکثیر من المباحات کانھن من المحرمات اوان ھذا ھو الذھب عندہ فانہ قدس سرہما فیما نری من المجتھدین وحق لہ ان یکون منھم کماھو شان جمیع الواصلین الی عین الشریعۃ الکبری وان انتسوا ظاھرا الی احد من ائمۃ الفتوی کمابینہ عـــہ۲ العارف بالله سیدی عبدالوھاب شعرانی فی المیزان والله تعالی اعلم بمراد اھل العرفان۔
اقول : امام ابوطالب مکی قدس سرہ کے قول “ یوجب القبول “ سے تاکید مراد ہے جیسا کہ تو اپنے قرض خواہ سے کہے کہ تیرا حق مجھ پر واجب ہے۔ درمختار میں ہے کہ یہ مسلمانوں کا تعامل ہے پس ان کی اتباع واجب ہے (وجوب بمعنی ثبوت ہے) یا اس میں اس مسلك کی طرف اشارہ ہے جو مجاہدہ کرنے والے سادات ائمہ وصوفیہ (الله تعالی ان کے پاکیزہ اسرار کو ہمارے لےے مبارك کرے) کا ہے کہ وہ مستحبات کی بھی اس طرح پابندی کرتے ہیں جیسا کہ واجبات کی اور مکروہات سے بلکہ بہت سے مباحات سے اس طرح بچتے ہیں کہ گویا وہ محرمات ہیں یا یہ ان (ابوطالب مکی) کا مذہب ہے کیونکہ ہم آپ قدس سرہ کو مجتہدین میں شمار کرتے ہیں ان میں ہونا آپ کا حق ہے جیسا کہ ان تمام بزرگوں کا مقام اور شان ہے جو شریعت عظیمہ کی حقیقت کو پانے والے ہیں اگرچہ وہ ظاہرا اپنا انتساب کسی امام فتوی کی طرف کرتے ہیں ۔ اس مسئلہ میں عارف بالله سیدی عبدالوہاب شعرانی نے میزان میں تفصیلی گفتگو کی ہے اور الله تعالی اہل معرفت کی مراد کو زیادہ بہتر بہتر جانتا ہے۔ (ت)
عـــہ۱ : آخر باب العیدین ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
عـــہ ۲ : فی فصل فان قال قائل فھل یجب عندکم علی المقلد الخ وفی فصل ان قال قائل کیف الوصول الی الاطلاع علی عین الشریعۃ المطھرۃ الخ وفی غیرھما ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
باب العیدین کے آخر میں اس کا ذکر ہے (ت)
اقول : امام ابوطالب مکی قدس سرہ کے قول “ یوجب القبول “ سے تاکید مراد ہے جیسا کہ تو اپنے قرض خواہ سے کہے کہ تیرا حق مجھ پر واجب ہے۔ درمختار میں ہے کہ یہ مسلمانوں کا تعامل ہے پس ان کی اتباع واجب ہے (وجوب بمعنی ثبوت ہے) یا اس میں اس مسلك کی طرف اشارہ ہے جو مجاہدہ کرنے والے سادات ائمہ وصوفیہ (الله تعالی ان کے پاکیزہ اسرار کو ہمارے لےے مبارك کرے) کا ہے کہ وہ مستحبات کی بھی اس طرح پابندی کرتے ہیں جیسا کہ واجبات کی اور مکروہات سے بلکہ بہت سے مباحات سے اس طرح بچتے ہیں کہ گویا وہ محرمات ہیں یا یہ ان (ابوطالب مکی) کا مذہب ہے کیونکہ ہم آپ قدس سرہ کو مجتہدین میں شمار کرتے ہیں ان میں ہونا آپ کا حق ہے جیسا کہ ان تمام بزرگوں کا مقام اور شان ہے جو شریعت عظیمہ کی حقیقت کو پانے والے ہیں اگرچہ وہ ظاہرا اپنا انتساب کسی امام فتوی کی طرف کرتے ہیں ۔ اس مسئلہ میں عارف بالله سیدی عبدالوہاب شعرانی نے میزان میں تفصیلی گفتگو کی ہے اور الله تعالی اہل معرفت کی مراد کو زیادہ بہتر بہتر جانتا ہے۔ (ت)
عـــہ۱ : آخر باب العیدین ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
عـــہ ۲ : فی فصل فان قال قائل فھل یجب عندکم علی المقلد الخ وفی فصل ان قال قائل کیف الوصول الی الاطلاع علی عین الشریعۃ المطھرۃ الخ وفی غیرھما ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
باب العیدین کے آخر میں اس کا ذکر ہے (ت)
حوالہ / References
درمختار باب العیدین مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۱۷
المیزان الکبرٰی فصل ان قال قائل کیف الوصول الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۲
المیزان الکبرٰی فصل ان قال قائل کیف الوصول الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۲
افادہ ہیجدہم۱۸ : (خود احادیث حکم فرماتی ہیں کہ ایسی جگہ حدیث ضعیف پر عمل کیا جائے) جان برادر اگر چشم بینا اور گوش شنوا ہے تو تصریحات علما درکنار خود حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے احادیث کثیرہ ارشاد فرماتی آئیں کہ ایسی جگہ حدیث ضعیف پر عمل کیا جائے اور تحقیق صحت وجودت سند میں تعمق وتدقق راہ نہ پائے ولکن الوھابیۃ قوم یعتدون۔ بگوش ہوش سنیے اور الفاظ احادیث پر غور کرتے جائیے حسن بن عرفہ اپنے جزوحدیثی اور ابو الشیخ مکارم الاخلاقی میں سیدنا جابر بن عبدالله انصاریرضی اللہ تعالی عنہمااور دارقطنی اور موہبی کتاب فضل العلم میں سیدنا عبدالله بن عمررضی اللہ تعالی عنہمااور کامل جحدری اپنے نسخہ میں اور عبدالله بن محمد بغوی ان کے طریق سے اور ابن حبان اور ابوعمر بن عبدالبرکات کتاب العلم اور ابواحمد ابن عدی کامل میں سیدنا انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کرتے ہیں حضور سیدالمرسلین صلی الله تعالی علیہ وعلیہم اجمعین فرماتے ہیں :
من بلغہ عن الله عزوجل شیئ فیہ فضیلۃ فاخذ بہ ایمانابہ ورجاء ثوابہ اعطاہ الله تعالی ذلك وان لم یکن کذلك ۔
جسے الله تبارك وتعالی سے کسی بات میں کچھ فضیلت کی خبر پہنچے وہ اپنے یقین اور اس کے ثواب کی امید سے اس بات پر عمل کرے الله تعالی اسے وہ فضیلت عطا فرمائے اگرچہ خبر ٹھیك نہ ہو۔
یہ لفظ حسن کے ہیں اور دارقطنی کی حدیث میں یوں ہے :
اعطاہ الله ذلك الثواب وان لم یکن مابلغہ حقا ۔
الله تعالی اسے وہ ثواب عطا کرے گا اگرچہ جو حدیث اسے پہنچی حق نہ ہو۔
ابن حبان کی حدیث میں یہ لفظ ہیں : کان منی اولم یکن (چاہے وہ حدیث مجھ سے ہو یا نہ ہو)ابن عبدالله کے لفظ یوں ہیں : وان کان الذی حدثہ کاذبا (اگرچہ اس حدیث کا راوی جھوٹا ہو)امام احمد وابن ماجہ وعقیلی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے راوی حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
من بلغہ عن الله عزوجل شیئ فیہ فضیلۃ فاخذ بہ ایمانابہ ورجاء ثوابہ اعطاہ الله تعالی ذلك وان لم یکن کذلك ۔
جسے الله تبارك وتعالی سے کسی بات میں کچھ فضیلت کی خبر پہنچے وہ اپنے یقین اور اس کے ثواب کی امید سے اس بات پر عمل کرے الله تعالی اسے وہ فضیلت عطا فرمائے اگرچہ خبر ٹھیك نہ ہو۔
یہ لفظ حسن کے ہیں اور دارقطنی کی حدیث میں یوں ہے :
اعطاہ الله ذلك الثواب وان لم یکن مابلغہ حقا ۔
الله تعالی اسے وہ ثواب عطا کرے گا اگرچہ جو حدیث اسے پہنچی حق نہ ہو۔
ابن حبان کی حدیث میں یہ لفظ ہیں : کان منی اولم یکن (چاہے وہ حدیث مجھ سے ہو یا نہ ہو)ابن عبدالله کے لفظ یوں ہیں : وان کان الذی حدثہ کاذبا (اگرچہ اس حدیث کا راوی جھوٹا ہو)امام احمد وابن ماجہ وعقیلی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے راوی حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
حوالہ / References
کنزالعمال بحوالہ حسن بن عرفہ فی جزء حدیثی حدیث ۴۳۱۳۲ مطبوعہ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۵ / ۷۹۱
کتاب الموضوعات باب من بلغہ ثواب عمل فعمل بہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ / ۱۵۳
کتاب الموضوعات باب من بلغہ ثواب عمل فعمل بہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ / ۱۵۳
مکارم الاخلاق لابی الشیخ
کتاب الموضوعات باب من بلغہ ثواب عمل فعمل بہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ / ۱۵۳
کتاب الموضوعات باب من بلغہ ثواب عمل فعمل بہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ / ۱۵۳
مکارم الاخلاق لابی الشیخ
فرماتے ہیں :
ماجاء کم عنی من خیر قلتہ اولم اقلہ فانی اقولہ وماجاء کم عنی من شرفانی لا اقول الشر ۔
تمہیں جس بھلائی کی مجھ سے خبر پہنچے خواہ وہ میں نے فرمائی ہو یا نہ فرمائی ہو میں اسے فرماتا ہوں اور جس بری بات کی خبر پہنچے تو میں بری بات نہیں فرماتا۔
ابن ماجہ کے لفظ یہ ہیں :
ماقیل من قول حسن فانا قلتہ ۔
جو نیك بات میری طرف سے پہنچائی جائے وہ میں نے فرمائی ہے۔
عقیلی کی روایت یوں ہے :
خذوابہ حدثت بہ اولم احدث بہ ۔
اس پر عمل کرو چاہے وہ میں نے فرمائی ہو یا نہیں ۔
وفی الباب عن ثوبان مولی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموعن ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہم۔ (اس بارے میں حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہمسے بھی روایت ہے۔ ت)خلعی اپنے فوائد میں حمزہ بن عبدالمجید رحمۃ اللہ تعالی علیہسے راوی :
رأیت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فی النوم فی البحر فقلت بابی انت وامی یارسول الله انہ قدبلغنا عنك انك قلت من سمع حدیثا فیہ ثواب فعمل بذلك الحدیث رجاء ذلك الثواب اعطاہ الله ذلك الثواب وان کان الحدیث باطلا فقال ای ورب ھذہ البلدۃ انہ لمنی و اناقلتہ ۔
میں نے حضور رحمت عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو خواب میں حطیم کعبہ معظمہ میں دیکھا عرض کی یارسول الله میرے ماں باپ حضور پر قربان ہمیں حضور سے حدیث پہنچی ہے کہ حضور نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص کوئی حدیث ایسی سنے جس میں کسی ثواب کا ذکر ہو وہ اس حدیث پر بامید ثواب عمل کرے الله عزوجل اسے وہ ثواب عطا فرمائے گا اگرچہ حدیث باطل ہو۔ حضور اقدس
ماجاء کم عنی من خیر قلتہ اولم اقلہ فانی اقولہ وماجاء کم عنی من شرفانی لا اقول الشر ۔
تمہیں جس بھلائی کی مجھ سے خبر پہنچے خواہ وہ میں نے فرمائی ہو یا نہ فرمائی ہو میں اسے فرماتا ہوں اور جس بری بات کی خبر پہنچے تو میں بری بات نہیں فرماتا۔
ابن ماجہ کے لفظ یہ ہیں :
ماقیل من قول حسن فانا قلتہ ۔
جو نیك بات میری طرف سے پہنچائی جائے وہ میں نے فرمائی ہے۔
عقیلی کی روایت یوں ہے :
خذوابہ حدثت بہ اولم احدث بہ ۔
اس پر عمل کرو چاہے وہ میں نے فرمائی ہو یا نہیں ۔
وفی الباب عن ثوبان مولی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموعن ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہم۔ (اس بارے میں حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہمسے بھی روایت ہے۔ ت)خلعی اپنے فوائد میں حمزہ بن عبدالمجید رحمۃ اللہ تعالی علیہسے راوی :
رأیت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فی النوم فی البحر فقلت بابی انت وامی یارسول الله انہ قدبلغنا عنك انك قلت من سمع حدیثا فیہ ثواب فعمل بذلك الحدیث رجاء ذلك الثواب اعطاہ الله ذلك الثواب وان کان الحدیث باطلا فقال ای ورب ھذہ البلدۃ انہ لمنی و اناقلتہ ۔
میں نے حضور رحمت عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو خواب میں حطیم کعبہ معظمہ میں دیکھا عرض کی یارسول الله میرے ماں باپ حضور پر قربان ہمیں حضور سے حدیث پہنچی ہے کہ حضور نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص کوئی حدیث ایسی سنے جس میں کسی ثواب کا ذکر ہو وہ اس حدیث پر بامید ثواب عمل کرے الله عزوجل اسے وہ ثواب عطا فرمائے گا اگرچہ حدیث باطل ہو۔ حضور اقدس
حوالہ / References
مسند امام احمد بن حنبل مرویاتِ ابی ہریرہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۲ / ۳۶۷
سنن ابن ماجہ باب تعظیم حدیثِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الخ مطبوعہ مجتبائی لاہورص۴
کنزالعمال بحوالہ عق الاکمال من روایۃ الحدیث ، حدیث ۲۹۲۱۰ مطبوعہ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰ / ۲۲۹
فوائد للخلعی
سنن ابن ماجہ باب تعظیم حدیثِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الخ مطبوعہ مجتبائی لاہورص۴
کنزالعمال بحوالہ عق الاکمال من روایۃ الحدیث ، حدیث ۲۹۲۱۰ مطبوعہ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰ / ۲۲۹
فوائد للخلعی
صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا ہاں قسم اس شہر کے سب کی بے شك یہ حدیث مجھ سے ہے اور میں نے فرمائی ہے صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔
ابویعلی اور طبرانی معجم اوسط میں سیدنا ابی حمزہ انس رضی اللہ تعالی عنہسے راوی حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
من بلغہ عن الله تعالی فضیلۃ فلم یصدق بھالم یتلھا ۔
جسے الله تعالی سے کسی فضیلت کی خبر پہنچے وہ اسے نہ مانے اس فضل سے محروم رہے۔
ابوعمر ابن عبدالبر نے حدیث مذکور روایت کرکے فرمایا :
اھل الحدیث بجماعتھم یتساھلون فی الفضائل فیردونھا عن کل وانما یتشددون فی احادیث الاحکام ۔
تمام علمائے محدثین احادیث فضائل میں نرمی فرماتے ہیں انہیں ہر شخص سے روایت کرلیتے ہیں ہاں احادیث احکام میں سختی کرتے ہیں ۔
ان احادیث سے صاف ظاہر ہوا کہ جسے اس قسم کی خبر پہنچی کہ جو ایسا کرے گا یہ فائدہ پائے گا اسے چاہتے نیك نیتی سے اس پر عمل کرلے اور تحقیق صحت حدیث ونظافت سند کے پیچھے نہ پڑے وہ ان شاء الله اپنے حسن نیت سے اس نفع کو پہنچ ہی جائیگا اقول یعنی جب تك اس حدیث کا بطلان ظاہر نہ ہوکہ بعد ثبوت بطلان رجاء وامید کے کوئی معنے نہیں ۔
فقول الحدیث وان لم یکن مابلغہ حقا ونحوہ انما یعنی بہ فی نفس الامر لابعد العلم بہ وھذا واضح جدا فتثبت ولاتزل۔
تو حدیث کے یہ الفاظ “ اگرچہ جو حدیث اسے پہنچی وہ حق نہ ہو “ یا اس کی مثل دوسرے الفاظ “ اس سے مراد نفس الامر ہے نہ کہ بعد ازحصول علم “ ۔ اور یہ بہت ہی واضح ہے اسے یاد رکھو۔ (ت)
اور وجہ اس عطائے فضل کی نہایت ظاہر کہ حضرت حق عزوجل اپنے بندہ کے ساتھ اس کے گمان پر معاملہ فرماتا ہے حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماپنے رب عزوجل وعلا سے روایت فرماتے ہیں کہ مولی سبحانہ وتعالی فرماتا ہے کہ اناعند ظن عبدی بی (میں اپنے بندہ کے ساتھ وہ کرتا ہوں جو بندہ مجھ سے گمان رکھتا ہے) (رواہ البخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ والحاکم بمعناہ عن انس بن مالك (اسے بخاری مسلم ترمذی
ابویعلی اور طبرانی معجم اوسط میں سیدنا ابی حمزہ انس رضی اللہ تعالی عنہسے راوی حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
من بلغہ عن الله تعالی فضیلۃ فلم یصدق بھالم یتلھا ۔
جسے الله تعالی سے کسی فضیلت کی خبر پہنچے وہ اسے نہ مانے اس فضل سے محروم رہے۔
ابوعمر ابن عبدالبر نے حدیث مذکور روایت کرکے فرمایا :
اھل الحدیث بجماعتھم یتساھلون فی الفضائل فیردونھا عن کل وانما یتشددون فی احادیث الاحکام ۔
تمام علمائے محدثین احادیث فضائل میں نرمی فرماتے ہیں انہیں ہر شخص سے روایت کرلیتے ہیں ہاں احادیث احکام میں سختی کرتے ہیں ۔
ان احادیث سے صاف ظاہر ہوا کہ جسے اس قسم کی خبر پہنچی کہ جو ایسا کرے گا یہ فائدہ پائے گا اسے چاہتے نیك نیتی سے اس پر عمل کرلے اور تحقیق صحت حدیث ونظافت سند کے پیچھے نہ پڑے وہ ان شاء الله اپنے حسن نیت سے اس نفع کو پہنچ ہی جائیگا اقول یعنی جب تك اس حدیث کا بطلان ظاہر نہ ہوکہ بعد ثبوت بطلان رجاء وامید کے کوئی معنے نہیں ۔
فقول الحدیث وان لم یکن مابلغہ حقا ونحوہ انما یعنی بہ فی نفس الامر لابعد العلم بہ وھذا واضح جدا فتثبت ولاتزل۔
تو حدیث کے یہ الفاظ “ اگرچہ جو حدیث اسے پہنچی وہ حق نہ ہو “ یا اس کی مثل دوسرے الفاظ “ اس سے مراد نفس الامر ہے نہ کہ بعد ازحصول علم “ ۔ اور یہ بہت ہی واضح ہے اسے یاد رکھو۔ (ت)
اور وجہ اس عطائے فضل کی نہایت ظاہر کہ حضرت حق عزوجل اپنے بندہ کے ساتھ اس کے گمان پر معاملہ فرماتا ہے حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماپنے رب عزوجل وعلا سے روایت فرماتے ہیں کہ مولی سبحانہ وتعالی فرماتا ہے کہ اناعند ظن عبدی بی (میں اپنے بندہ کے ساتھ وہ کرتا ہوں جو بندہ مجھ سے گمان رکھتا ہے) (رواہ البخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ والحاکم بمعناہ عن انس بن مالك (اسے بخاری مسلم ترمذی
حوالہ / References
مسند ابویعلی انس بن مالك حدیث ۳۴۳۰ مطبوعہ دارالقبلہ للثقافۃ الاسلامیہ جدہ سعودی عرب ۳ / ۳۸۷
کتاب العلم لابن عبدالبر
الصحیح لمسلم کتاب التوبہ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۳۵۴
کتاب العلم لابن عبدالبر
الصحیح لمسلم کتاب التوبہ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۳۵۴
نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے اور حاکم نے حضرت انس بن مالك سے معنا اسے روایت کیا۔ ت)دوسری حدیث میں یہ ارشاد زائد ہے : “ فلیظن بی ماشاء “ (اب جیسا چاہے مجھ پر گمان کرے) اخرجہ الطبرانی فی الکبیر والحاکم عن واثلۃ بن الاسقع رضی الله تعالی عنہ بسند صحیح (اسے طبرانی نے معجم کبیر میں اور حاکم نے حضرت واثلہ بن اسقع سے بسند صحیح روایت کیا ہے۔ ت)
تیسری حدیث میں یوں زیادت ہے : “ ان ظن خیر افلہ وان ظن شرافلہ “ (اگر بھلا گمان کرے گا تو اس کے لئے بھلائی ہے اور برا گمان کرے گا تو اس کے لئے برائی) رواہ الامام احمد عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ بسند حسن علی الصحیح ونحوہ الطبرانی فی الاوسط وانونعیم فی الحلیۃ عن واثلۃ رضی الله تعالی عنہ (اسے امام احمد نے سند حسن سے صحیح قول پر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے اور اس کی مثل طبرانی نے اوسط اور ابونعیم نے حلیہ میں حضرت واثلہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے۔ ت)جب اس نے اپنی صدق نیت سے اس پر عمل کیا اور رب عزجلالہ سے اس نفع کی امید رکھی تو مولی تبارك وتعالی اکرم الاکرمین ہے اس کی امید ضائع نہ کرے گا اگرچہ حدیث واقع میں کیسی ہی ہو۔ ولله الحمد فی الاولی والاخرۃ۔
افادہ نوزدہم ۱۹ : (عقل بھی گواہ ہے کہ ایسی جگہ حدیث ضعیف مقبول ہے) وبالله التوفیق عقل اگر سلیم ہوتو ان نصوص ونقول کے علاوہ وہ خود بھی گواہ کافی ہے کہ ایسی جگہ ضعیفف حدیث معتبر اور اس کا ضعف مغتفر کہ سند میں کتنے ہی نقصان ہوں آخر بطلان پر یقین تو نہیں فان الکذوب قدیصدق (بڑا جھوٹا بھی کبھی سچ بولتا ہے) تو کیا معلوم کہ اس نے یہ حدیث ٹھیك ہی روایت کی ہو۔ مقدمہ امام ابوعمر تقی الدین شہرزوری میں ہے :
اذاقالوا فی حدیث انہ غیر صحیح فلیس ذلك قطعا بانہ کذب فی نفس الامراذ قد یکون صدقا فی نفس الامر وانما المراد بہ انہ لم یصح اسنادہ علی الشرط المذکور ۔
محدثین جب کسی حدیث کو غیر صحیح بتاتے ہیں تو یہ اس کے فی الواقع کذب پر یقین نہیں ہوتا اس لئے کہ حدیث غیر صحیح کبھی واقع میں سچی ہوتی ہے اس سے تو اتنی مراد ہوتی ہے کہ اس کی سند اس شرط پر نہیں جو محدثین نے صحت کے لئے مقرر کی۔
تقریب وتدریب میں ہے :
اذاقیل حدیث ضعیف فمعناہ لم یصح اسنادہ علی الشرط المذکور لاانہ کذب فی نفس الامر لجواز صدق الکاذب اھ ملخصا۔
کسی حدیث کو ضعیف کہاجائے تو معنی یہ ہیں کہ اس کی
تیسری حدیث میں یوں زیادت ہے : “ ان ظن خیر افلہ وان ظن شرافلہ “ (اگر بھلا گمان کرے گا تو اس کے لئے بھلائی ہے اور برا گمان کرے گا تو اس کے لئے برائی) رواہ الامام احمد عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ بسند حسن علی الصحیح ونحوہ الطبرانی فی الاوسط وانونعیم فی الحلیۃ عن واثلۃ رضی الله تعالی عنہ (اسے امام احمد نے سند حسن سے صحیح قول پر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے اور اس کی مثل طبرانی نے اوسط اور ابونعیم نے حلیہ میں حضرت واثلہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے۔ ت)جب اس نے اپنی صدق نیت سے اس پر عمل کیا اور رب عزجلالہ سے اس نفع کی امید رکھی تو مولی تبارك وتعالی اکرم الاکرمین ہے اس کی امید ضائع نہ کرے گا اگرچہ حدیث واقع میں کیسی ہی ہو۔ ولله الحمد فی الاولی والاخرۃ۔
افادہ نوزدہم ۱۹ : (عقل بھی گواہ ہے کہ ایسی جگہ حدیث ضعیف مقبول ہے) وبالله التوفیق عقل اگر سلیم ہوتو ان نصوص ونقول کے علاوہ وہ خود بھی گواہ کافی ہے کہ ایسی جگہ ضعیفف حدیث معتبر اور اس کا ضعف مغتفر کہ سند میں کتنے ہی نقصان ہوں آخر بطلان پر یقین تو نہیں فان الکذوب قدیصدق (بڑا جھوٹا بھی کبھی سچ بولتا ہے) تو کیا معلوم کہ اس نے یہ حدیث ٹھیك ہی روایت کی ہو۔ مقدمہ امام ابوعمر تقی الدین شہرزوری میں ہے :
اذاقالوا فی حدیث انہ غیر صحیح فلیس ذلك قطعا بانہ کذب فی نفس الامراذ قد یکون صدقا فی نفس الامر وانما المراد بہ انہ لم یصح اسنادہ علی الشرط المذکور ۔
محدثین جب کسی حدیث کو غیر صحیح بتاتے ہیں تو یہ اس کے فی الواقع کذب پر یقین نہیں ہوتا اس لئے کہ حدیث غیر صحیح کبھی واقع میں سچی ہوتی ہے اس سے تو اتنی مراد ہوتی ہے کہ اس کی سند اس شرط پر نہیں جو محدثین نے صحت کے لئے مقرر کی۔
تقریب وتدریب میں ہے :
اذاقیل حدیث ضعیف فمعناہ لم یصح اسنادہ علی الشرط المذکور لاانہ کذب فی نفس الامر لجواز صدق الکاذب اھ ملخصا۔
کسی حدیث کو ضعیف کہاجائے تو معنی یہ ہیں کہ اس کی
حوالہ / References
المستدرك علی الصحیحین للحاکم کتاب التوبۃ والانابۃ مطبوعہ دارالفکر بیروت لبنان ۴ / ۲۴۰
مسند الامام احمد بن حنبل مسند ابی ہریرۃ مطبوعہ بیروت ۲ / ۳۹۱
مقدمہ ابن الصلاح النوع الاول فی معرفۃ اتصحیح مطبوعہ فاروقی کتب خانہ ملتان ص ۸
تدریب الرادی شرح تقریب النوادی النوع الاول الصحیح مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ لاہور ۱ / ۷۵ تا ۷۶
مسند الامام احمد بن حنبل مسند ابی ہریرۃ مطبوعہ بیروت ۲ / ۳۹۱
مقدمہ ابن الصلاح النوع الاول فی معرفۃ اتصحیح مطبوعہ فاروقی کتب خانہ ملتان ص ۸
تدریب الرادی شرح تقریب النوادی النوع الاول الصحیح مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ لاہور ۱ / ۷۵ تا ۷۶
اسناد شرط مذکور پر نہیں نہ یہ کہ واقع میں جھوٹ ہے ممکن ہے کہ جھوٹے نے سچ بولا ہو اھ ملخصا
(تصحیح وتضعیف صرف بنظر ظاہر ہیں واقع میں ممکن کہ ضعیف صحیح ہو وبالعکس) محقق حیث اطلق عـــہ۱ فتح میں فرماتے ہیں :
ان وصف الحسن والصحیح والضعیف انما ھو باعتبار السند ظنا امافی الواقع فیجوز غلط الصحیح وصحۃ الضعیف ۔
حدیث کو حسن یا صحیح یا ضعیف کہنا صرف سند کے لحاظ سے ظنی طور پر ہے واقع میں جائز ہے کہ صحیح غلط اور ضعیف صحیح ہو۔
اسی عـــہ۲ میں ہے :
لیس معنی الضعیف الباطل فی نفس الامر بل لالم یثبت بالشروط المعتبرۃ عند اھل الحدیث مع تجویز کونہ صحیحا فی نفس الامر فیجوز ان یقترن قرینۃ تحقق ذلک وان الراوی الضعیف اجاد فی ھذا المتن المعین فیحکم بہ ۔
ضعیف کے یہ معنی نہیں کہ وہ واقع میں باطل ہے ب لکہ یہ کہ جو شرطیں اہل حدیث نے اعتبار کیں ان پر نہ آئی اس کے ساتھ جائز ہے کہ واقع میں صحیح ہو تو ممکن کہ کوئی ایسا قرینہ ملے جو ثابت کردے کہ وہ صحیح ہے اور راوی ضعیف نے یہ حدیث خاص اچھے طور پر ادا کی ہے اس وقت باوصف ضعف راوی اس کی صحت کا حکم کردیا جائے گا۔
موضوعات کبیر میں ہے :
المحققون علی ان الصحۃ والحسن والضعف انما ھی من حیث الظاھر فقط مع احتمال کون الصحیح موضوعا وعکسہ کذا افادہ الشیخ ابن حجر المکی۔
محققین فرماتے ہیں صحت وحسن وضعف سب بنظر ظاہر ہیں واقع میں ممکن ہے کہ صحیح موضوع ہو اور اور موضوع صحیح جیسا کہ شیخ ابن حجر مکی نے افادہ فرمایا ہے۔
عـــہ۱ : مسألۃ التنفل قبل المغرب ۱۲ منہ (م)
عـــہ۱ : مسألۃ السجود علی کور العمامۃ ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
(تصحیح وتضعیف صرف بنظر ظاہر ہیں واقع میں ممکن کہ ضعیف صحیح ہو وبالعکس) محقق حیث اطلق عـــہ۱ فتح میں فرماتے ہیں :
ان وصف الحسن والصحیح والضعیف انما ھو باعتبار السند ظنا امافی الواقع فیجوز غلط الصحیح وصحۃ الضعیف ۔
حدیث کو حسن یا صحیح یا ضعیف کہنا صرف سند کے لحاظ سے ظنی طور پر ہے واقع میں جائز ہے کہ صحیح غلط اور ضعیف صحیح ہو۔
اسی عـــہ۲ میں ہے :
لیس معنی الضعیف الباطل فی نفس الامر بل لالم یثبت بالشروط المعتبرۃ عند اھل الحدیث مع تجویز کونہ صحیحا فی نفس الامر فیجوز ان یقترن قرینۃ تحقق ذلک وان الراوی الضعیف اجاد فی ھذا المتن المعین فیحکم بہ ۔
ضعیف کے یہ معنی نہیں کہ وہ واقع میں باطل ہے ب لکہ یہ کہ جو شرطیں اہل حدیث نے اعتبار کیں ان پر نہ آئی اس کے ساتھ جائز ہے کہ واقع میں صحیح ہو تو ممکن کہ کوئی ایسا قرینہ ملے جو ثابت کردے کہ وہ صحیح ہے اور راوی ضعیف نے یہ حدیث خاص اچھے طور پر ادا کی ہے اس وقت باوصف ضعف راوی اس کی صحت کا حکم کردیا جائے گا۔
موضوعات کبیر میں ہے :
المحققون علی ان الصحۃ والحسن والضعف انما ھی من حیث الظاھر فقط مع احتمال کون الصحیح موضوعا وعکسہ کذا افادہ الشیخ ابن حجر المکی۔
محققین فرماتے ہیں صحت وحسن وضعف سب بنظر ظاہر ہیں واقع میں ممکن ہے کہ صحیح موضوع ہو اور اور موضوع صحیح جیسا کہ شیخ ابن حجر مکی نے افادہ فرمایا ہے۔
عـــہ۱ : مسألۃ التنفل قبل المغرب ۱۲ منہ (م)
عـــہ۱ : مسألۃ السجود علی کور العمامۃ ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
حوالہ / References
فتح القدیر باب النوافل مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۸۹
فتح القدیر باب صفۃ الصلاۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۶۶
موضوعات کبیر لملّا علی قاری زیر حدیث من بلغہ عن اللّٰہ شیئ الخ مطبوعہ مجتبائی دہلی ص ۶۸
فتح القدیر باب صفۃ الصلاۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۶۶
موضوعات کبیر لملّا علی قاری زیر حدیث من بلغہ عن اللّٰہ شیئ الخ مطبوعہ مجتبائی دہلی ص ۶۸
اقول : (احادیث اولیائے کرام کے متعلق نفیس فائدہ) یہی وجہ ہے کہ بہت احادیث جنہیں محدثین کرام اپنے طور پر ضعیف ونامعتبر ٹھہرا چکے علمائے قلب عرفائے رب ائمہ عارفین سادات مکاشفین قدسنا الله تعالی باسرارہم الجلیلہ ونور قلوبنا بانوارہم الجمیلہ انہیں مقبول ومعتمد بناتے اور بصیغ جزم وقطع حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی طرف نسبت فرماتے اور ان کے علاوہ بہت وہ احادیث تازہ لاتے جنہیں علما اپنے زبر ودفاتر میں کہیں نہ پاتے ان کے یہ علوم الہیہ بہت ظاہر بینوں کو نفع دینا درکنار الٹے باعث طعن ووقعیت وجرح واہانت ہوجاتے حالانکہ العظمۃلله وعبادالله ان طاعنین سے بدرجہا اتقی الله واعلم بالله واشد توقیافی القول عن رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم(حالانکہ وہ ان طعن کرنے والوں سے زیادہ الله تعالی سے خوف رکھنے والے الله تعالی کے بارے میں زیادہ علم رکھنے والے سرور دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی طرف کسی قول کی نسبت کرنے میں بہت احتیاط کرنے والے تھے۔ ت) تھے۔
كل حزبۭ بما لدیهم فرحون(۵۳)
و هو اعلم بالمهتدین(۱۱۷)
اور ہر ایك گروہ اپنے موجود پر خوش ہے اور تیرا رب ہدایت یافتہ کے بارے میں بہتر جانتا ہے۔ (ت)
میزان عــــہ مبارك میں حدیث :
اصحابی کالنجوم بایھم اقتدیتم اھتدیتم ۔
میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ان میں سے جس کی اقتدا کروگے ہدایت پاؤگے۔ (ت)
کی نسبت فرماتے ہیں :
ھذا الحدیث وان کان فیہ مقال عندالمحدثین فھو صحیح عند اھل الکشف ۔
اس حدیث میں اگرچہ محدثین کو گفتگو ہے مگر وہ اہل کشف کے نزدیك صحیح ہے۔
عــــہ فی فصل فان ادعی احد من العلماء فوق ھذہ المیزان ۱۲ منہ (م)
كل حزبۭ بما لدیهم فرحون(۵۳)
و هو اعلم بالمهتدین(۱۱۷)
اور ہر ایك گروہ اپنے موجود پر خوش ہے اور تیرا رب ہدایت یافتہ کے بارے میں بہتر جانتا ہے۔ (ت)
میزان عــــہ مبارك میں حدیث :
اصحابی کالنجوم بایھم اقتدیتم اھتدیتم ۔
میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ان میں سے جس کی اقتدا کروگے ہدایت پاؤگے۔ (ت)
کی نسبت فرماتے ہیں :
ھذا الحدیث وان کان فیہ مقال عندالمحدثین فھو صحیح عند اھل الکشف ۔
اس حدیث میں اگرچہ محدثین کو گفتگو ہے مگر وہ اہل کشف کے نزدیك صحیح ہے۔
عــــہ فی فصل فان ادعی احد من العلماء فوق ھذہ المیزان ۱۲ منہ (م)
حوالہ / References
القرآن ۲۳ / ۵۳ و ۳۰ / ۳۲
القرآن ۲۸ / ۷ و ۱۶ / ۱۲۵ و ۶ / ۱۱۷
المیزان الکبرٰی فصل فان ادعٰی احد من العلماء الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۰
المیزان الکبرٰی فصل فان ادعٰی احد من العلماء الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۰
القرآن ۲۸ / ۷ و ۱۶ / ۱۲۵ و ۶ / ۱۱۷
المیزان الکبرٰی فصل فان ادعٰی احد من العلماء الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۰
المیزان الکبرٰی فصل فان ادعٰی احد من العلماء الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۰
کشف عــــہ۱ الغمہ عن جمیع الامہ میں ارشاد فرمایا :
کان صلی الله تعالی علیہ وسلم یقول من صلی علی طھر قلبہ من النفاق کمایطھر الثوب بالماء وکان صلی الله تعالی یقول من قال صلی الله علی محمد فقد فتح علی نفسہ سبعین بابا من الرحمۃ والقی الله مجلتہ فی قلوب الناس فلایبغضہ الامن فی قلبہ نفاق قال شیخنا رضی الله تعالی عنہ ھذا الحدیث والذی قبلہ رویناھما عن بعض العارفین عن الخضر علیہ الصلاۃ والسلام عن رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم وھما عندنا صحیحان فی اعلی درجات الصحۃ وان لم یثبتھما المحدثون علی مقتضی اصطلاحھم ۔
حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے جو مجھ پر درود بھیجے اس کا دل نفاق سے ایسا پاك ہوجائے جیسے کپڑا پانی سے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے جو کہے “ صلی الله علی محمد “ اس نے ستر 70 دروازے رحمت کے اپنے اوپر کھول لیے الله عزوجل اس کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈالے گا کہ اس نے بغض نہ رکھے گا مگر وہ جس کے دل میں نفاق ہوگا۔ ہمارے شیخ رضی اللہ تعالی عنہنے فرمایا : یہ حدیث اور اس سے پہلی ہم نے بعض اولیاء سے روایت کی ہیں انہوں نے سیدنا خضرعليه الصلوۃ والسلام انہوں نے حضور پرنور سید الانام علیہ افضل الصلاۃ واکمل السلام سے یہ دونوں حدیثیں ہمارے نزدیك اعلی درجہ کی صحیح ہیں اگرچہ محدثین اپنی اصطلاح کی بنا پر انہیں ثابت نہ کہیں ۔
نیز میزان عــــہ۲ شریف میں اپنے شیخ سیدی علی خواص قدس سرہ العزیز سے نقل فرماتے ہیں :
کمایقال عن جمیع مارواہ المحدثون بالسند الصحیح المتصل ینتھی سندہ الی حضرت الحق جل وعلا فکذلك یقال فیما نقلہ اھل الکشف الصحیح من علم الحقیقۃ ۔
جس طرح یہ کہا جاتا ہے کہ جو کچھ محدثین نے سند صحیح متصل سے روایت کیا اس کی سند حضرت الہی عزوجل تك پہنچتی ہے یونہی جو کچھ علم حقیقت سے صحیح کشف والوں نے نقل فرمایا اس کے حق میں یہی کہا جائےگا۔
عــــہ ۱ : آخر الجلد الاول باب جامع فضائل الذکر اخر فصل الامر بالصلاۃ علی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ۔
عــــہ ۲ : فصل فی بیان استحالۃ خروج شیئ من اقوال المجتھدین عن الشریعۃ ۱۲ منہ
کان صلی الله تعالی علیہ وسلم یقول من صلی علی طھر قلبہ من النفاق کمایطھر الثوب بالماء وکان صلی الله تعالی یقول من قال صلی الله علی محمد فقد فتح علی نفسہ سبعین بابا من الرحمۃ والقی الله مجلتہ فی قلوب الناس فلایبغضہ الامن فی قلبہ نفاق قال شیخنا رضی الله تعالی عنہ ھذا الحدیث والذی قبلہ رویناھما عن بعض العارفین عن الخضر علیہ الصلاۃ والسلام عن رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم وھما عندنا صحیحان فی اعلی درجات الصحۃ وان لم یثبتھما المحدثون علی مقتضی اصطلاحھم ۔
حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے جو مجھ پر درود بھیجے اس کا دل نفاق سے ایسا پاك ہوجائے جیسے کپڑا پانی سے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے جو کہے “ صلی الله علی محمد “ اس نے ستر 70 دروازے رحمت کے اپنے اوپر کھول لیے الله عزوجل اس کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈالے گا کہ اس نے بغض نہ رکھے گا مگر وہ جس کے دل میں نفاق ہوگا۔ ہمارے شیخ رضی اللہ تعالی عنہنے فرمایا : یہ حدیث اور اس سے پہلی ہم نے بعض اولیاء سے روایت کی ہیں انہوں نے سیدنا خضرعليه الصلوۃ والسلام انہوں نے حضور پرنور سید الانام علیہ افضل الصلاۃ واکمل السلام سے یہ دونوں حدیثیں ہمارے نزدیك اعلی درجہ کی صحیح ہیں اگرچہ محدثین اپنی اصطلاح کی بنا پر انہیں ثابت نہ کہیں ۔
نیز میزان عــــہ۲ شریف میں اپنے شیخ سیدی علی خواص قدس سرہ العزیز سے نقل فرماتے ہیں :
کمایقال عن جمیع مارواہ المحدثون بالسند الصحیح المتصل ینتھی سندہ الی حضرت الحق جل وعلا فکذلك یقال فیما نقلہ اھل الکشف الصحیح من علم الحقیقۃ ۔
جس طرح یہ کہا جاتا ہے کہ جو کچھ محدثین نے سند صحیح متصل سے روایت کیا اس کی سند حضرت الہی عزوجل تك پہنچتی ہے یونہی جو کچھ علم حقیقت سے صحیح کشف والوں نے نقل فرمایا اس کے حق میں یہی کہا جائےگا۔
عــــہ ۱ : آخر الجلد الاول باب جامع فضائل الذکر اخر فصل الامر بالصلاۃ علی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ۔
عــــہ ۲ : فصل فی بیان استحالۃ خروج شیئ من اقوال المجتھدین عن الشریعۃ ۱۲ منہ
حوالہ / References
کشف الغمۃ عن جمیع الاُمۃ فصل فی الامر بالصلاۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ درالفکر بیروت ۱ / ۳۴۵
المیزان الکبرٰی فصل فی استحالہ خروج شیئ من اقوال المجتہدین الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۵
المیزان الکبرٰی فصل فی استحالہ خروج شیئ من اقوال المجتہدین الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۵
بالجملہ اولیا کے لئے سوا اس سند ظاہری کے دوسرا طریقہ ارفع وعلی ہے ولہذا حضرت سیدی ابویزید بسطامی رضی اللہ تعالی عنہوقدس سرہ السامی اپنے زمانہ کے منکرین سے فرماتے :
قداخذتم علمکم میتا عن میت واخذنا علمنا عن الحی الذی لایموت ۔ نقلہ سیدی الامام الشعرانی فی کتابہ المبارك الفاخر الیواقیت والجواھر اخر المبحث السابع والاربعین۔
تم نے اپنا علم سلسلہ اموات سے حاصل کیا ہے اور ہم نے اپنا علم حی لایموت سے لیا ہے۔ اسے سیدی امام شعرانی نے اپنی مبارك اور عظیم کتاب الیواقیت والجواہر کی سینتالیس بحث کے آخر میں ذکر کیا ہے۔ (ت)
حضرت سیدی امام المکاشفین محی الملۃ والدین شیخ اکبر ابن عربی رضی اللہ تعالی عنہنے کچھ احادیث کی تصحیح فرمائی کہ طور علم پر ضعیف مانی گئی تھیں
کماذکرہ فی باب الثالث والسبعین من الفتوحات المکیۃ الشریفۃ الالھیۃ الملکیۃ ونقلہ فی الیواقیت ھنا ۔
جیسا کہ انہوں نے فتوحات المکیۃ الشریفۃ الالہیۃ الملکیۃ کے تیرھویں باب میں ذکر کیا اور الیواقیت میں اس مقام پر اسے نقل کیا ہے۔ (ت)
اسی طرح خاتم حفاظ الحدیث امام جلیل جلال الملۃ والدین سیوطی قدس سرہ العزیز پچھتر۷۵ بار بیداری میں جمال جہاں آرائے حضور پرنور سید الانبیا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے بہرہ ورہوئے بالمشافہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے تحقیقات حدیث کی دولت پائی بہت احادیث کی کہ طریقہ محدثین پر ضعیف ٹھہر چکی تھیں تصحیح فرمائی جس کا بیان عارف ربانی امام العلامہ عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ النورانی کی میزان عــــہ الشریعۃ الکبری میں ہے من شاء فلیتشرف بمطالعۃ (جو اس کی تفصیل چاہتا ہے میزان کا مطالعہ کرے۔ ت)یہ نفیس وجلیل فائدہ کہ
عــــہ : فی الفصل المذکور قبل مامر بنحوہ صفحۃ ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
قداخذتم علمکم میتا عن میت واخذنا علمنا عن الحی الذی لایموت ۔ نقلہ سیدی الامام الشعرانی فی کتابہ المبارك الفاخر الیواقیت والجواھر اخر المبحث السابع والاربعین۔
تم نے اپنا علم سلسلہ اموات سے حاصل کیا ہے اور ہم نے اپنا علم حی لایموت سے لیا ہے۔ اسے سیدی امام شعرانی نے اپنی مبارك اور عظیم کتاب الیواقیت والجواہر کی سینتالیس بحث کے آخر میں ذکر کیا ہے۔ (ت)
حضرت سیدی امام المکاشفین محی الملۃ والدین شیخ اکبر ابن عربی رضی اللہ تعالی عنہنے کچھ احادیث کی تصحیح فرمائی کہ طور علم پر ضعیف مانی گئی تھیں
کماذکرہ فی باب الثالث والسبعین من الفتوحات المکیۃ الشریفۃ الالھیۃ الملکیۃ ونقلہ فی الیواقیت ھنا ۔
جیسا کہ انہوں نے فتوحات المکیۃ الشریفۃ الالہیۃ الملکیۃ کے تیرھویں باب میں ذکر کیا اور الیواقیت میں اس مقام پر اسے نقل کیا ہے۔ (ت)
اسی طرح خاتم حفاظ الحدیث امام جلیل جلال الملۃ والدین سیوطی قدس سرہ العزیز پچھتر۷۵ بار بیداری میں جمال جہاں آرائے حضور پرنور سید الانبیا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے بہرہ ورہوئے بالمشافہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے تحقیقات حدیث کی دولت پائی بہت احادیث کی کہ طریقہ محدثین پر ضعیف ٹھہر چکی تھیں تصحیح فرمائی جس کا بیان عارف ربانی امام العلامہ عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ النورانی کی میزان عــــہ الشریعۃ الکبری میں ہے من شاء فلیتشرف بمطالعۃ (جو اس کی تفصیل چاہتا ہے میزان کا مطالعہ کرے۔ ت)یہ نفیس وجلیل فائدہ کہ
عــــہ : فی الفصل المذکور قبل مامر بنحوہ صفحۃ ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
حوالہ / References
الیواقیت والجواہر باب الثالث والسابع والاربعین مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۲ / ۹۱
الیواقیت والجواہر باب الثالث والسابع والاربعین مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۲ / ۸۸
المیزان الکبرٰی فصل فی استحالۃ خروج شیئ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۴
الیواقیت والجواہر باب الثالث والسابع والاربعین مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۲ / ۸۸
المیزان الکبرٰی فصل فی استحالۃ خروج شیئ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۴
بمناسبت مقام بحمدالله تعالی نفع رسانی برادران دین کے لئے حوالہ قلم ہوا لوح دل پر نقش کرلینا چاہے کہ اس کے جاننے والے کم ہیں اور اس لغزش گاہ میں پھسلنے والے بہت قدم
خلیلی قطاع الفیانی الی الحمی
کثیر و ارباب الوصول قلائل
(اے میرے دوست! چراگاہوں میں ڈاکہ ڈالنے والے کثیر اور منزل کو پانے والے کم ہیں ۔ ت)
بات دور پہنچی کہنا یہ تھا کہ سند پر کیسے ہی طعن وجرح ہوں ان کے سبب بطلان حدیث پر جزم نہیں ہوسکتا ممکن کہ واقع میں حق ہو اور جب صدق کا احتمال باقی تو عاقل جہان نفع بے ضرر کی امید پاتا ہے اس فعل کو بجالاتا ہے دین ودنیا کے کام امید پر چلتے ہیں پھر سند میں نقصان دیکھ کر ایکدست اس سے دست کش ہونا کس عقل کا مقتضی ہے کیا معلوم اگر وہ بات سچی تھی تو خود فضیلت سے محروم رہے اور جھوٹی ہوتو فعل میں اپنا کیا نقصان فافھم وتثبت ولاتکن من المتعصبین (اسے اچھی طرح سمجھ لے اس پر قائم راہ اور تعصب کرنے والوں سے نہ ہو۔ ت) انصاف کیجئے مثلا کسی کو نقصان حرارت عزیزی وضعف ارواح کی شکایت شدید ہو زید اس سے بیان کرے کہ فلاں حکیم حاذق نے اس مرض کے لئے سونے کے ورق سونے کے کھرل میں سونے کی موصلی سے عرق بید مشك یا ہتھیلی پر انگلی سے شہد میں سحق ببلیغ کرکے پینا تجویز فرمایا ہے تو عقلی سلیم کا اقتضا نہیں کہ جب تك اس حکیم تك سند صحیح متصل کی خوب تحقیقات نہ کرلے اس کا استعمال طبا حرام جانے بس اتنا دیکھنا کافی ہے کہ اصول طبیہ میں میرے لئے اس میں کچھ مضرت تو نہیں ورنہ وہ مریض کہ نسخہ ہائے قرابادین کی سندیں ڈھوڈتا اور حال رواۃ تحقیق کرتا پھرے گا قریب ہے کہ بے عقلی کے سبب ان ادویہ کے فوائد ومنافع سے محروم رہے گا نہ عراق تنقیح سے تریاق تصحیح ہاتھ آئے گا نہ یہ مارگزیدہ دوا پائیگا بعینہ یہی حال ان فضائل اعمال کا ہے جب ہمارے کان تك یہ بات پہنچی کہ ان میں ایسا نفع ذکر کیا گیا اور شرع مطہر نے ان افعال سے منع نہ کیا تو اب ہمیں تحقیق محدثانہ کیا ضرور ہے اگر حدیث فی نفسہ صحیح ہے فبہا ورنہ ہم نے اپنی نیك نیت کا اچھا پھل پایا هل تربصون بنا الا احدى الحسنیین- (تم ہم پر کس چیز کا انتظار کرتے ہو مگر دو۲ خوبیوں میں سے ایك کا۔ ت)
افادہ بستم۲۰ : (حدیث ضعیف احکام میں بھی مقبول ہے جبکہ محل احتیاط ہو) مقاصد شرع کا عارف اور کلمات علما کا واقف جب قبول ضعیف فی الفضائل کے دلائل مزکورہ عبارات سابقہ فتح المبین امام ابن حجر مکی وانموذج العلوم محقق دوانی وقوت القلوب امام مکی رحمہم اللہ تعالی ونیز تقریر فقیر مذکور افادہ سابقہ پر نظر صحیح کرے گا
خلیلی قطاع الفیانی الی الحمی
کثیر و ارباب الوصول قلائل
(اے میرے دوست! چراگاہوں میں ڈاکہ ڈالنے والے کثیر اور منزل کو پانے والے کم ہیں ۔ ت)
بات دور پہنچی کہنا یہ تھا کہ سند پر کیسے ہی طعن وجرح ہوں ان کے سبب بطلان حدیث پر جزم نہیں ہوسکتا ممکن کہ واقع میں حق ہو اور جب صدق کا احتمال باقی تو عاقل جہان نفع بے ضرر کی امید پاتا ہے اس فعل کو بجالاتا ہے دین ودنیا کے کام امید پر چلتے ہیں پھر سند میں نقصان دیکھ کر ایکدست اس سے دست کش ہونا کس عقل کا مقتضی ہے کیا معلوم اگر وہ بات سچی تھی تو خود فضیلت سے محروم رہے اور جھوٹی ہوتو فعل میں اپنا کیا نقصان فافھم وتثبت ولاتکن من المتعصبین (اسے اچھی طرح سمجھ لے اس پر قائم راہ اور تعصب کرنے والوں سے نہ ہو۔ ت) انصاف کیجئے مثلا کسی کو نقصان حرارت عزیزی وضعف ارواح کی شکایت شدید ہو زید اس سے بیان کرے کہ فلاں حکیم حاذق نے اس مرض کے لئے سونے کے ورق سونے کے کھرل میں سونے کی موصلی سے عرق بید مشك یا ہتھیلی پر انگلی سے شہد میں سحق ببلیغ کرکے پینا تجویز فرمایا ہے تو عقلی سلیم کا اقتضا نہیں کہ جب تك اس حکیم تك سند صحیح متصل کی خوب تحقیقات نہ کرلے اس کا استعمال طبا حرام جانے بس اتنا دیکھنا کافی ہے کہ اصول طبیہ میں میرے لئے اس میں کچھ مضرت تو نہیں ورنہ وہ مریض کہ نسخہ ہائے قرابادین کی سندیں ڈھوڈتا اور حال رواۃ تحقیق کرتا پھرے گا قریب ہے کہ بے عقلی کے سبب ان ادویہ کے فوائد ومنافع سے محروم رہے گا نہ عراق تنقیح سے تریاق تصحیح ہاتھ آئے گا نہ یہ مارگزیدہ دوا پائیگا بعینہ یہی حال ان فضائل اعمال کا ہے جب ہمارے کان تك یہ بات پہنچی کہ ان میں ایسا نفع ذکر کیا گیا اور شرع مطہر نے ان افعال سے منع نہ کیا تو اب ہمیں تحقیق محدثانہ کیا ضرور ہے اگر حدیث فی نفسہ صحیح ہے فبہا ورنہ ہم نے اپنی نیك نیت کا اچھا پھل پایا هل تربصون بنا الا احدى الحسنیین- (تم ہم پر کس چیز کا انتظار کرتے ہو مگر دو۲ خوبیوں میں سے ایك کا۔ ت)
افادہ بستم۲۰ : (حدیث ضعیف احکام میں بھی مقبول ہے جبکہ محل احتیاط ہو) مقاصد شرع کا عارف اور کلمات علما کا واقف جب قبول ضعیف فی الفضائل کے دلائل مزکورہ عبارات سابقہ فتح المبین امام ابن حجر مکی وانموذج العلوم محقق دوانی وقوت القلوب امام مکی رحمہم اللہ تعالی ونیز تقریر فقیر مذکور افادہ سابقہ پر نظر صحیح کرے گا
حوالہ / References
القرآن ۹ / ۵۲
ان انوار متجلیہ کے پر توسے بطور حدس بے تکلف اس کے آئینہ دل میں مرتسم ہوگا کہ کچھ فضائل اعمال ہی میں انحصار نہیں بلکہ عموما جہاں اس پر عمل میں رنگ احتیاط ونفع بے ضرر کی ضرورت نظر آئے گی بلاشبہہ قبول کی جائے گی جانب فعل میں اگر اس کا ورود استحباب کی راہ بتائے گا جانب ترك میں تنزع وتورع کی طرف بلائے گا کہ آخر مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے صحیح حدیث میں ارشاد فرمایا : کیف وقدقیل ۔ (کیونکہ نہ مانے گا حالانکہ کہا تو گیا) رواہ البخاری عن عقبۃ بن الحارث النوفلی رضی الله تعالی عنہ (اسے امام بخاری نے عقبہ بن حارث نوفلی رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ ت)
اقول : وقال صلی الله صلی الله تعالی علیہ وسلم دع مایربك الی مایریبك ۔ رواہ الامام احمد وابوداود الطیالسی والدارمی والترمذی وقال “ حسن صحیح “ والنسائی وابن حبان والحاکم “ وصححاہ “ وابن قانع فی معجمہ عن الامام ابن الامام سیدنا الحسن بن علی رضی الله تعالی عنہما بسند قوی وابو نعیم فی الحلیۃ والخطیب فی التاریخ بطریق مالك عن نافع عن ابن عمر رضی الله تعالی عنہما۔
اقول : رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : “ جس میں شبہہ پڑتا ہو وہ کام چھوڑدے اور ایسے کی طرف آ جس میں کوئی دغدغہ نہیں “ ۔ اسے امام احمد ابوداود طیالسی دارمی ترمذی نے روایت کیا اور اسے حسن صحیح کہا۔ نسائی ابن حبان اور حاکم ان دونوں نے اسے صحیح کہا۔ ابن قانع نے اپنی معجم میں امام ابن امام سیدنا حسن بن علیرضی اللہ تعالی عنہمانے سند قوی کے ساتھ روایت کیا۔ ابونعیم نے حلیہ اور خطیب نے تاریخ میں بطریق مالك عن نافع عن ابن عمررضی اللہ تعالی عنہماروایت کیا۔ (ت)
ظاہر ہے کہ حدیث ضعیف اگر مورث ظن نہ ہو مورث شبہہ سے تو کم نہیں تو محل احتیاط میں اس کا قبول عین مراد شارع صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے مطابق ہے احادیث اس باب میں بکثرت ہیں از انجملہ حدیث اجل واعظم کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم:
من اتقی الشبھات فقد استبرأ لدینہ وعرضہ ومن وقع فی الشھبات وقع فی الحرام کالراعی حول الحمی یوشك ان ترتع فیہ الاوان لکل ملك حمی الاوان حمی الله محاورمہ ۔
جو شبہات سے بچے اس نے اپنے دین وآبرو کی حفاظت کرلی اور جو شبہات میں پڑے حرام میں پڑ جائے گا جیسے
اقول : وقال صلی الله صلی الله تعالی علیہ وسلم دع مایربك الی مایریبك ۔ رواہ الامام احمد وابوداود الطیالسی والدارمی والترمذی وقال “ حسن صحیح “ والنسائی وابن حبان والحاکم “ وصححاہ “ وابن قانع فی معجمہ عن الامام ابن الامام سیدنا الحسن بن علی رضی الله تعالی عنہما بسند قوی وابو نعیم فی الحلیۃ والخطیب فی التاریخ بطریق مالك عن نافع عن ابن عمر رضی الله تعالی عنہما۔
اقول : رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : “ جس میں شبہہ پڑتا ہو وہ کام چھوڑدے اور ایسے کی طرف آ جس میں کوئی دغدغہ نہیں “ ۔ اسے امام احمد ابوداود طیالسی دارمی ترمذی نے روایت کیا اور اسے حسن صحیح کہا۔ نسائی ابن حبان اور حاکم ان دونوں نے اسے صحیح کہا۔ ابن قانع نے اپنی معجم میں امام ابن امام سیدنا حسن بن علیرضی اللہ تعالی عنہمانے سند قوی کے ساتھ روایت کیا۔ ابونعیم نے حلیہ اور خطیب نے تاریخ میں بطریق مالك عن نافع عن ابن عمررضی اللہ تعالی عنہماروایت کیا۔ (ت)
ظاہر ہے کہ حدیث ضعیف اگر مورث ظن نہ ہو مورث شبہہ سے تو کم نہیں تو محل احتیاط میں اس کا قبول عین مراد شارع صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے مطابق ہے احادیث اس باب میں بکثرت ہیں از انجملہ حدیث اجل واعظم کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم:
من اتقی الشبھات فقد استبرأ لدینہ وعرضہ ومن وقع فی الشھبات وقع فی الحرام کالراعی حول الحمی یوشك ان ترتع فیہ الاوان لکل ملك حمی الاوان حمی الله محاورمہ ۔
جو شبہات سے بچے اس نے اپنے دین وآبرو کی حفاظت کرلی اور جو شبہات میں پڑے حرام میں پڑ جائے گا جیسے
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب العلم باب الرحلۃ فی المسألۃ النازلۃ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۹
مسند احمد بن حنبل مسند اہلبیت رضوان اللہ علیہم اجمعین مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۲۰۰
صحیح البخاری باب فصل من استبرأ لدینہ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ص۱۳ ، مسلم شریف باب اخذ الحلال وترك الشبہات مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۲۸
مسند احمد بن حنبل مسند اہلبیت رضوان اللہ علیہم اجمعین مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۲۰۰
صحیح البخاری باب فصل من استبرأ لدینہ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ص۱۳ ، مسلم شریف باب اخذ الحلال وترك الشبہات مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۲۸
رمنے کے گرد چرانے والا نزدیك ہے کہ رمنے کے اندر چرائے سن لو ہر پادشاہ کا ایك رمنا ہوتا ہے سن لو الله عزوجل کا رمنا وہ چیزیں ہیں جو اس نے حرام فرمائیں ۔
رواہ الشیخان عن النعمان بن بشر رضی الله تعالی عنہما۔
اسے بخاری ومسلم دونوں نے حضرت نعمان بن بشیررضی اللہ تعالی عنہماسے روایت کیا۔ (ت)
امام ابن حجر مکی نے فتح المبین میں ان دونوں حدیثوں کی نسبت فرمایا :
رجوعھما الی شیئ واحد وھو النھی التنزیھی عن الوقوع فی الشھبات ۔
یعنی حاصل مطلب ان دونوں حدیثوں کا یہ ہےکہ شبہہ کی بات میں پڑنا خلاف اولی ہےجس کا مرجع کراہت تنزیہ۔
الله عزوجل فرماتا ہے :
و ان یك صادقا یصبكم بعض الذی یعدكم-
اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا وبال اس پر ہے اور اگر سچا ہوا تو تمہیں پہنچ جائے گی کچھ نہ کچھ وہ مصیبت جس کا وہ تمہیں وعدہك دیتا ہے۔
بحمدالله تعالی یہ معنی ہیں ارشاد امام ابوطالب مکی قدس سرہ کے قوت القلوب عــــہ شریف میں فرمایا :
ان الاخبار الضعاف غیر مخالفۃ الکتاب والسنۃ لایلزمنا ردھا بل فیھا مایدل علیھا ۔
ضعیف حدیثیں جو مخالف کتاب وسنت نہ ہوں ان کا رد کرنا ہمیں لازم نہیں بلکہ قرآن وحدیث ان کے قبول پر دلالت فرماتے ہیں ۔
لاجرم علمائے کرام نے تصریحیں فرمائیں کہ دربارہ احکام بھی ضعیف حدیث مقبول ہوگی جبکہ جانب احتیاط
عــــہ : فی فصل الحادی والثلثین ۱۲ منہ (م)
اکتیسویں فصل میں اس کا بیان ہے۔ (ت)
رواہ الشیخان عن النعمان بن بشر رضی الله تعالی عنہما۔
اسے بخاری ومسلم دونوں نے حضرت نعمان بن بشیررضی اللہ تعالی عنہماسے روایت کیا۔ (ت)
امام ابن حجر مکی نے فتح المبین میں ان دونوں حدیثوں کی نسبت فرمایا :
رجوعھما الی شیئ واحد وھو النھی التنزیھی عن الوقوع فی الشھبات ۔
یعنی حاصل مطلب ان دونوں حدیثوں کا یہ ہےکہ شبہہ کی بات میں پڑنا خلاف اولی ہےجس کا مرجع کراہت تنزیہ۔
الله عزوجل فرماتا ہے :
و ان یك صادقا یصبكم بعض الذی یعدكم-
اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا وبال اس پر ہے اور اگر سچا ہوا تو تمہیں پہنچ جائے گی کچھ نہ کچھ وہ مصیبت جس کا وہ تمہیں وعدہك دیتا ہے۔
بحمدالله تعالی یہ معنی ہیں ارشاد امام ابوطالب مکی قدس سرہ کے قوت القلوب عــــہ شریف میں فرمایا :
ان الاخبار الضعاف غیر مخالفۃ الکتاب والسنۃ لایلزمنا ردھا بل فیھا مایدل علیھا ۔
ضعیف حدیثیں جو مخالف کتاب وسنت نہ ہوں ان کا رد کرنا ہمیں لازم نہیں بلکہ قرآن وحدیث ان کے قبول پر دلالت فرماتے ہیں ۔
لاجرم علمائے کرام نے تصریحیں فرمائیں کہ دربارہ احکام بھی ضعیف حدیث مقبول ہوگی جبکہ جانب احتیاط
عــــہ : فی فصل الحادی والثلثین ۱۲ منہ (م)
اکتیسویں فصل میں اس کا بیان ہے۔ (ت)
حوالہ / References
فتح المبین شرح اربعین
القرآن ۴۰ / ۲۸
قوت القلوب باب تفضیل الاخبار الخ مطبوعہ دارصادر بیروت ۱ / ۱۷۷
القرآن ۴۰ / ۲۸
قوت القلوب باب تفضیل الاخبار الخ مطبوعہ دارصادر بیروت ۱ / ۱۷۷
میں ہو امام نووی نے اذکار میں بعد عبادت مذکور پھر شمس سخاوی نے فتح المغیث پھر شہاب خفاجی نے نسیم الریاض عــــہ۱ میں فرمایا :
اما الاحکام کالحلال والحرام والبیع والنکاح والاطلاق وغیر ذلك فلایعمل فیھا الا بالحدیث الصحیح اوالحسن الاان یکون فی احتیاط فی شیئ من ذلك کما اذا ورد حدیث ضعیف بکراھۃ بعض البیوع او الا نکحۃ فان المستحب ان یتنزہ عنہ ولکن لایجب ۔
یعنی محدثین وفقہا وغیرہم علما فرماتے ہیں کہ حلال وحرام بیع نکاح طلاق وغیرہ احکام کے بارہ میں صرف حدیث صحیح یا حسن ہی پر عمل کیا جائیگا مگر یہ کہ ان مواقع میں کسی احتیاطی بات میں ہو جیسے کسی بیع یا نکاح کی کراہت میں حدیث ضعیف آئے تو مستحب ہے کہ اس سے بچیں ہاں واجب نہیں ۔
امام جلیل جلال سیوطی تدریب میں فرماتے ہیں :
ویعمل بالضعیف ایضا فی الاحکام اذاکان فیہ احتیاط ۔
حدیث ضعیف پر احکام میں بھی عمل کیا جائیگا جبکہ اس میں احتیاط ہو۔
علامہ حلبی غنیہ عــــہ۲ میں فرماتے ہیں :
الاصل ان الوصل بین الاذان والاقامۃ یکرہ فی کل الصلوۃ لماروی الترمذی عن جابر رضی الله تعالی عنہ ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم قال لبلال اذا انت فترسل واذا اقمت فاحد رواجعل بین اذانك واقامتك قدر مایفرغ الاکل من اکلہ فی غیر عــــہ ۳ المغرب والشارب من شربہ والمعتصر اذادخل لقضاء حاجتہ وھو وان کان ضعیفا لکن یجوز العمل بہ فی مثل ھذا الحکم ۔
یعنی اصل یہ ہے کہ اذان کہتے ہی فورا اقامت کہہ دینا مطلقا سب نمازوں میں مکروہ ہے اس لئے کہ ترمذی نے جابر رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے بلال رضی اللہ تعالی عنہسے فرمایا اذان ٹھہر ٹھہر کر کہا کر اور تکبیر جلد جلد اور دونوں میں اتنا فاصلہ رکھ کر کھانیوالا کھانے سے (مغرب کے علاوہ میں ) اور پینے والا پینے اور ضرورت والا قضائے حاجت سے فارغ ہوجائے یہ حدیث اگرچہ ضعیف عــــہ۱ہے مگر ایسے حکم میں اس پر عمل روا ہے۔
عــــہ ۱ : فی شرح اخطبۃ حیث اسند الامام المصنف حدیث من سئل عن علم فکتمہ الحدیث ۱۲ منہ
عــــہ ۲ : فی فصل سنن الصلاۃ ۱۲ منہ
عــــہ ۳ : قولہ فی غیر المغرب ھکذا ھو فی نسختی الغنیۃ ولیس عند الترمذی بل ھو مدرج فیہ نعم ھو تاویل من العلماء کماقال فی الغنیۃ بعد مانقلنا قالوا قولہ قدر مایفرغ الاکل من اکلہ فی غیر المغرب ومن شربہ فی المغرب ۱۲ منہ
اما الاحکام کالحلال والحرام والبیع والنکاح والاطلاق وغیر ذلك فلایعمل فیھا الا بالحدیث الصحیح اوالحسن الاان یکون فی احتیاط فی شیئ من ذلك کما اذا ورد حدیث ضعیف بکراھۃ بعض البیوع او الا نکحۃ فان المستحب ان یتنزہ عنہ ولکن لایجب ۔
یعنی محدثین وفقہا وغیرہم علما فرماتے ہیں کہ حلال وحرام بیع نکاح طلاق وغیرہ احکام کے بارہ میں صرف حدیث صحیح یا حسن ہی پر عمل کیا جائیگا مگر یہ کہ ان مواقع میں کسی احتیاطی بات میں ہو جیسے کسی بیع یا نکاح کی کراہت میں حدیث ضعیف آئے تو مستحب ہے کہ اس سے بچیں ہاں واجب نہیں ۔
امام جلیل جلال سیوطی تدریب میں فرماتے ہیں :
ویعمل بالضعیف ایضا فی الاحکام اذاکان فیہ احتیاط ۔
حدیث ضعیف پر احکام میں بھی عمل کیا جائیگا جبکہ اس میں احتیاط ہو۔
علامہ حلبی غنیہ عــــہ۲ میں فرماتے ہیں :
الاصل ان الوصل بین الاذان والاقامۃ یکرہ فی کل الصلوۃ لماروی الترمذی عن جابر رضی الله تعالی عنہ ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم قال لبلال اذا انت فترسل واذا اقمت فاحد رواجعل بین اذانك واقامتك قدر مایفرغ الاکل من اکلہ فی غیر عــــہ ۳ المغرب والشارب من شربہ والمعتصر اذادخل لقضاء حاجتہ وھو وان کان ضعیفا لکن یجوز العمل بہ فی مثل ھذا الحکم ۔
یعنی اصل یہ ہے کہ اذان کہتے ہی فورا اقامت کہہ دینا مطلقا سب نمازوں میں مکروہ ہے اس لئے کہ ترمذی نے جابر رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے بلال رضی اللہ تعالی عنہسے فرمایا اذان ٹھہر ٹھہر کر کہا کر اور تکبیر جلد جلد اور دونوں میں اتنا فاصلہ رکھ کر کھانیوالا کھانے سے (مغرب کے علاوہ میں ) اور پینے والا پینے اور ضرورت والا قضائے حاجت سے فارغ ہوجائے یہ حدیث اگرچہ ضعیف عــــہ۱ہے مگر ایسے حکم میں اس پر عمل روا ہے۔
عــــہ ۱ : فی شرح اخطبۃ حیث اسند الامام المصنف حدیث من سئل عن علم فکتمہ الحدیث ۱۲ منہ
عــــہ ۲ : فی فصل سنن الصلاۃ ۱۲ منہ
عــــہ ۳ : قولہ فی غیر المغرب ھکذا ھو فی نسختی الغنیۃ ولیس عند الترمذی بل ھو مدرج فیہ نعم ھو تاویل من العلماء کماقال فی الغنیۃ بعد مانقلنا قالوا قولہ قدر مایفرغ الاکل من اکلہ فی غیر المغرب ومن شربہ فی المغرب ۱۲ منہ
حوالہ / References
نسیم الریاض شرح الشفاء تتمہ وفائدۃ مہمہ فی شرح الخطبۃ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۴۲
تدریب الراوی شرح تقریب النواوی النوع الثانی والعشرون المقلوب مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ بیروت ۱ / ۲۹۹
غنیۃ المستملی فصل سنن الصلاۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۷۷۔ ۳۷۶
تدریب الراوی شرح تقریب النواوی النوع الثانی والعشرون المقلوب مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ بیروت ۱ / ۲۹۹
غنیۃ المستملی فصل سنن الصلاۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۷۷۔ ۳۷۶
نفیسہ (بدھ کے دن بدن سے خون لینے کے باب میں ) ایك حدیث ضعیف میں بدھ کے دن پچھنے لگانے سے ممانعت آئی ہے کہ :
من احتجم یوم الاربعاء ویوم السبت فاصابہ برص فلایلومن الانفسہ ۔
جو بدھ یا ہفتہ کے روز پچھنے لگائے پھر اس کے بدن پر سپید داغ ہوجائے تو اپنے ہی آپ کو ملامت کرے۔
امام سیوطی لآلی عــــہ۲ وتعقبات عــــہ۳ میں مسند الفردوس دیلمی سے نقل فرماتے ہیں :
سمعت ابی یقول سمعت ابا عمرو محمد بن جعفر بن مطر النیسابوری قال قلت یوما ان ھذا الحدیث لیس بصحیح فافتصدت یوم الاربعاء فاصابنی البرص فرأیت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فی النوم فشکوت الیہ حالی فقال ایاك والاستھانۃ بحدیثی فقلت تبت یارسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فانتھبت وقدعا فانی الله تعالی وذھب ذلك عنی ۔
ایك صاحب محمد بن جعفر بن مطر نیشاپوری کو فصد کی ضرورت تھی بدھ کا دن تھا خیال کیا کہ حدیث مذکور تو صحیح نہیں فصد لے لی فورا برص ہوگئی خواب میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی زیارت سے مشرف ہوئے حضور سے فریاد کی حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : ایاك والاستھانۃ بحدیثی (خبردار میری حدیث کو ہلکانہ سمجھنا) انہوں نے توبہ کی آنکھ کھلی تو اچھے تھے۔
عــــہ۱ : امام ترمذی نے فرمایا : ھو اسناد مجھول (یہ سند مجہول ہے) ۱۲ منہ (م)
عــــہ۲ : اواخر کتاب المرض والطب ۱۲ منہ (م) کتاب المرض والطب کے آخر میں اس کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
عــــہ۳ : باب الجنائز ۱۲ منہ (م) باب الجنائز میں اس کو بیان کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
من احتجم یوم الاربعاء ویوم السبت فاصابہ برص فلایلومن الانفسہ ۔
جو بدھ یا ہفتہ کے روز پچھنے لگائے پھر اس کے بدن پر سپید داغ ہوجائے تو اپنے ہی آپ کو ملامت کرے۔
امام سیوطی لآلی عــــہ۲ وتعقبات عــــہ۳ میں مسند الفردوس دیلمی سے نقل فرماتے ہیں :
سمعت ابی یقول سمعت ابا عمرو محمد بن جعفر بن مطر النیسابوری قال قلت یوما ان ھذا الحدیث لیس بصحیح فافتصدت یوم الاربعاء فاصابنی البرص فرأیت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فی النوم فشکوت الیہ حالی فقال ایاك والاستھانۃ بحدیثی فقلت تبت یارسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فانتھبت وقدعا فانی الله تعالی وذھب ذلك عنی ۔
ایك صاحب محمد بن جعفر بن مطر نیشاپوری کو فصد کی ضرورت تھی بدھ کا دن تھا خیال کیا کہ حدیث مذکور تو صحیح نہیں فصد لے لی فورا برص ہوگئی خواب میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی زیارت سے مشرف ہوئے حضور سے فریاد کی حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : ایاك والاستھانۃ بحدیثی (خبردار میری حدیث کو ہلکانہ سمجھنا) انہوں نے توبہ کی آنکھ کھلی تو اچھے تھے۔
عــــہ۱ : امام ترمذی نے فرمایا : ھو اسناد مجھول (یہ سند مجہول ہے) ۱۲ منہ (م)
عــــہ۲ : اواخر کتاب المرض والطب ۱۲ منہ (م) کتاب المرض والطب کے آخر میں اس کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
عــــہ۳ : باب الجنائز ۱۲ منہ (م) باب الجنائز میں اس کو بیان کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
الکامل لابن عدی من ابتدئ اسمہ عین عبداللہ ابن زیاد مطبوعہ المکتبۃ الاثریہ شیخوپورہ ۴ / ۱۴۴۶
اللآلی المصنوعہ فی الاحادیث الموضوعہ کتاب المرض والطب مطبوعہ ادبیہ مصر ۳ / ۲۱۹
اللآلی المصنوعہ فی الاحادیث الموضوعہ کتاب المرض والطب مطبوعہ ادبیہ مصر ۳ / ۲۱۸
اللآلی المصنوعہ فی الاحادیث الموضوعہ کتاب المرض والطب مطبوعہ ادبیہ مصر ۳ / ۲۱۹
اللآلی المصنوعہ فی الاحادیث الموضوعہ کتاب المرض والطب مطبوعہ ادبیہ مصر ۳ / ۲۱۸
جلیلہ (ہفتہ کے دن خون لینے کے بارے میں ) امام ابن عساکر روایت فرماتے ہیں ابو معین حسین بن حسن طبری نے پچھنے لگانے چاہے ہفتہ کا دن تھا غلام سے کہا حجام کو بلالا جب وہ چلا حدیث یاد آئی پھر کچھ سوچ کر کہا حدیث میں تو ضعف ہے غرض لگائے برص ہوگئی خواب میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے فریاد کی فرمایا : ایاك والاستھانۃ بحدیثی (دیکھ میری حدیث کا معاملہ آسان نہ جاننا)انہوں نے منت مانی الله تعالی اس مرض سے نجات دے تو اب کبھی حدیث کے معاملہ میں سہل انگاری نہ کروں گا صحیح ہو یا ضعیف الله عزوجل نے شفا بخشی ۔ لآلی عــــہ میں ہے : اخرج ابن عساکر فی تاریخہ من طریق ابی علی مھران بن ھارون الحافظ الھازی قال سمعت ابامعین الحسین بن الحسن الطبری یقول اردت الحجامۃ یوم السبت فقلت للغلام ادع لی الحجام فلما ولی الغلام ذکرت خبر النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم من احتجم یوم السبت ویوم الاربعاء فاصابہ وضح فلایلو من الا نفسہ قال فدعوت الغلام ثم تفکرت فقلت ھذا حدیث فی اسنادہ بعض الضعف فقلت للغلام ادع الحجام لی فدعاہ فاحتجمت فاصا بنی البرص فرأیت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فی النوم فشکوت الیہ حالی فقال ایاك والاستھانۃ بحدیثی فنذرت لله نذرا لئن اذھب الله مابی من البرص لم اتھاون فی خبر النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم صحیحا کان اوسقیمافأذھب الله عنی ذلك البرص ۔ (نوٹ : اس عربی عبارت کا ترجمہ لفظ 'جلیلہ' سے شروع ہوکر عربی عبارت سے پہلے ختم ہوجاتا ہے)
مفیدہ (بدھ کے دن ناخن تراشنے کے امر میں ) یوں ہی ایك حدیث ضعیف میں بدھ کے دن ناخن کتروانے کو آیا کہ مورث برص ہوتا ہے بعض علما نے کتروائے کسی نے بربنائے حدیث منع کیا فرمایا حدیث صحیح نہیں فورا مبتلا ہوگئے خواب میں زیارت جمال بے مثال حضور پرنور محبوب ذی الجلال صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے مشرف ہوئے شافی کافی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے حضور اپنے حال کی شکایت عرض کی حضور والا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا تم نے نہ سنا تھا کہ ہم نے اس سے نفی فرمائی ہے عرض کی حدیث میرے نزدیك صحت کو نہ پہنچی تھی۔ ارشاد ہوا : تمہیں اتنا کافی تھا کہ حدیث ہمارے نام پاك سے تمہارے کان تك پہنچی۔ یہ فرماکر حضور مبرئ الاکمہ والا برص محی الموتی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے اپنا دست اقدس کو پناہ دوجہان ودستگیر بیکساں ہے ان کے بدن پر لگادیا فورا اچھے ہوگئے اور اسی وقت توبہ کی کہ اب کبھی حدیث سن کر مخالفت نہ کرونگا۔ (اھ)
عــــہ : تلومامر ۱۲ منہ (م)
لآلی میں اس عبارت کے قریب جو پہلے گزرچکی ہے۔ (ت)
مفیدہ (بدھ کے دن ناخن تراشنے کے امر میں ) یوں ہی ایك حدیث ضعیف میں بدھ کے دن ناخن کتروانے کو آیا کہ مورث برص ہوتا ہے بعض علما نے کتروائے کسی نے بربنائے حدیث منع کیا فرمایا حدیث صحیح نہیں فورا مبتلا ہوگئے خواب میں زیارت جمال بے مثال حضور پرنور محبوب ذی الجلال صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے مشرف ہوئے شافی کافی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے حضور اپنے حال کی شکایت عرض کی حضور والا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا تم نے نہ سنا تھا کہ ہم نے اس سے نفی فرمائی ہے عرض کی حدیث میرے نزدیك صحت کو نہ پہنچی تھی۔ ارشاد ہوا : تمہیں اتنا کافی تھا کہ حدیث ہمارے نام پاك سے تمہارے کان تك پہنچی۔ یہ فرماکر حضور مبرئ الاکمہ والا برص محی الموتی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے اپنا دست اقدس کو پناہ دوجہان ودستگیر بیکساں ہے ان کے بدن پر لگادیا فورا اچھے ہوگئے اور اسی وقت توبہ کی کہ اب کبھی حدیث سن کر مخالفت نہ کرونگا۔ (اھ)
عــــہ : تلومامر ۱۲ منہ (م)
لآلی میں اس عبارت کے قریب جو پہلے گزرچکی ہے۔ (ت)
حوالہ / References
اللآلی المصنوعہ فی الاحادیث الموضوعہ کتاب المرض والطب مطبوعہ ادبیہ مصر ۳ / ۲۱۹
اللآلی المصنوعہ فی الاحادیث الموضوعہ کتاب المرض والطب مطبوعہ ادبیہ مصر ۳ / ۲۱۹
اللآلی المصنوعہ فی الاحادیث الموضوعہ کتاب المرض والطب مطبوعہ ادبیہ مصر ۳ / ۲۱۹
علامہ شہاب الدین خفاجی مصری حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہنسیم الریاض شرح شفا امام قاضی عیاض میں فرماتے ہیں : “ قص الاظفار وتقلیمھا سنۃ رورد النھی عنہ فی یوم الاربعا ع وانہ یورث البرص وحکی عن بعض العلماء انہ فعلہ فنھی عنہ فقال لم یثبت ھذا فلحقہ البرص من ساعتہ فرای النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فی منامہ فشکی الیہ فقال لہ الم تسمع نھیی عنہ فقال لم یصح عندی فقال صلی الله تعالی علیہ وسلم یکفیك انہ سمع ثم مسح بدنہ بیدہ الشریفۃ فذھب مابہ فتاب عن مخالفۃ ماسمع اھ “ ۔ (نوٹ : اس عربی عبارت کا ترجمہ 'مفیدہ' ص ۴۹۹ سے شروع ہوکر عربی عبارت سے ختم ہوجاتا ہے) یہ بعض علماء امام علامہ ابن الحاج مکی مالکی قدس الله سرہ العزیز تھے علامہ طحطاوی حاشیہ درمختار میں فرماتے ہیں :
وردفی بعض الاثار النھی عن قص الاظفار یوم الاربعاء فانہ یورث وعن ابن الحاج صاحب المدخل انہ ھم بقص اظفارہ یوم الاربعاء فتذکر ذلک فترک ثم رای ان قص الاظفار سنۃ حاضرۃ و لم یصح عندہ النھی فقصھا فلحقہ ای اصابہ البرص فرأی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فی النوم فقال الم تسمع نھیی عن ذلک فقال “ یارسول الله لم یصح عندی ذلک “ فقال یکفیك ان تسمع ثم مسح صلی الله تعالی علیہ وسلم علی بدنہ فزال البرص جمیعا قال ابن الحاج رحمہ الله تعالی فجددت مع الله توبۃ انی لااخالف ماسمعت عن رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ابدا ۔
بعض آثار میں آیا ہے کہ بدھ کے دن ناخن کتروانے والے کو برص کی بیماری عارض ہوجاتی ہے اور صاحب مدخل ابن الحاج کے بارے میں ہے کہ انہوں نے بدھ کے روز ناخن کاٹنے کا ارادہ کیا انہیں یہ نہیں والی بات یاد دلائی گئی تو انہوں نے اسے ترك کردیا پھر خیال میں آیا کہ ناخن کتروانا سنت ثابتہ ہے اور اس سے نہی کی روایت میرے نزدیك صحیح نہیں ۔ لہذا انہوں نے ناخن کاٹ لیے تو انہیں برص عارض ہو گیا تو خواب میں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی زیارت ہوئی
وردفی بعض الاثار النھی عن قص الاظفار یوم الاربعاء فانہ یورث وعن ابن الحاج صاحب المدخل انہ ھم بقص اظفارہ یوم الاربعاء فتذکر ذلک فترک ثم رای ان قص الاظفار سنۃ حاضرۃ و لم یصح عندہ النھی فقصھا فلحقہ ای اصابہ البرص فرأی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فی النوم فقال الم تسمع نھیی عن ذلک فقال “ یارسول الله لم یصح عندی ذلک “ فقال یکفیك ان تسمع ثم مسح صلی الله تعالی علیہ وسلم علی بدنہ فزال البرص جمیعا قال ابن الحاج رحمہ الله تعالی فجددت مع الله توبۃ انی لااخالف ماسمعت عن رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ابدا ۔
بعض آثار میں آیا ہے کہ بدھ کے دن ناخن کتروانے والے کو برص کی بیماری عارض ہوجاتی ہے اور صاحب مدخل ابن الحاج کے بارے میں ہے کہ انہوں نے بدھ کے روز ناخن کاٹنے کا ارادہ کیا انہیں یہ نہیں والی بات یاد دلائی گئی تو انہوں نے اسے ترك کردیا پھر خیال میں آیا کہ ناخن کتروانا سنت ثابتہ ہے اور اس سے نہی کی روایت میرے نزدیك صحیح نہیں ۔ لہذا انہوں نے ناخن کاٹ لیے تو انہیں برص عارض ہو گیا تو خواب میں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی زیارت ہوئی
حوالہ / References
نسیم الریاض شرح الشفا فصل واما نظافۃ جسمہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۳۴۴
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار فصل فی البیع مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت لبنان ۴ / ۲۰۲
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار فصل فی البیع مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت لبنان ۴ / ۲۰۲
سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : کیا تونے نہیں سنا کہ میں نے اس سے منع فرمایا ہے عرض کیا یارسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم! وہ حدیث میرے نزدیك صحیح نہ تھی تو آپ نے فرمایا کہ تیرا سن لینا ہی کافی ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ان کے جسم پر اپنا دست اقدس پھیرا تو تمام برص زائل ہوگیا۔ ابن الحاج کہتے ہیں کہ میں نے الله تعالی کے حضور اس بات سے توبہ کی کہ آئندہ جو حدیث بھی نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے سنوں گا اس کی مخالفت نہیں کروں گا۔ (ت)
سبحان الله ! جب محل احتیاط میں احادیث ضعیفہ خود احکام میں مقبول ومعمول تو فضائل تو فضائل ہیں اور ان فوائد نفیسہ جلیلہ مفیدہ سے بحمدالله تعالی عقل سلیم کے نزدیك وہ مطلب بھی روشن ہوگیا کہ ضعیف حدیث اس کی غلطی واقعی کو مستلزم نہیں ۔ دیکھو یہ حدیثیں بلحاظ سند کیسی ضعاف تھیں اور واقع میں ان کی وہ شان کہ مخالفت کرتے ہیں فورا تصدیقیں ظاہر ہوئیں کاش منکر ان فضائل کو بھی الله عزوجل تعظیم حدیث مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی توفیق بخشے اور اسے ہلکا سمجھنے سے نجات دے آمین!
افادہ بست۲۱ ویکم : (حدیث ضعیف پر عمل کے لئے خاص اس باب میں کسی صحیح حدیث کا آنا ہر گز ضرور نہیں ) بذریعہ حدیث ضعیف کسی فعل کے لئے محل فضائل میں استحباب یا موضع احتیاط میں حکم تنزہ ثابت کرنے کے لئے زنہار زنہار اصلا اس کی حاجت نہیں کہ بالخصوص اس فعل معین کے باب میں کوئی حدیث صحیح بھی وارد ہوئی ہو بلکہ یقینا قطعا صرف ضعیف ہی کا درود ان احکام استحباب وتنزہ کے لئے ذریعہ کافیہ ہے افادات سابقہ کو جس نے ذرا بھی بگوش ہوش استماع کیا ہے اس پر یہ امر شمس وامس کی طرح واضح وروشن۔ مگر ازانجا کہ مقام مقام افادہ ہے ایضاح حق کے لئے چند تنبیہات کا ذکر مستحسن۔
اولا کلمات علمائے کرام میں باآنکہ طبقہ فطبقۃ اس جوش وکثرت سے آئے اس تقیید بعید کا کہیں نشان نہیں تو خواہی نخواہی مطلق کو ازپیش خویش مقید کرلینا کیونکر قابل قبول۔
ثانیا بلکہ ارشادات علما صراحۃ اس کے خلاف مثلا عبارت اذکار وغیرہا خصوصا عبارت امام ابن الہمام جو نص تصریح ہے کہ ثبوت استحباب کو ضعیف حدیث کافی۔
اقول : بلکہ خصوصا اذکار کا وہ فقرہ کہ اگر کسی مبیع یا نکاح کی کراہت میں کوئی حدیث ضعیف آئے تو اس سے بچنا مستحب ہے واجب نہیں ۔ اس استحباب وانکار وجوب کا منشا وہی ہے کہ اس سے نہی میں حدیث صحیح نہ آئی کہ وجوب ہوتا تنہا ضعیف نے صرف استحباب ثابت کیا اور سب اعلی واجل کلام امام ابوطالب مکی ہے اس
سبحان الله ! جب محل احتیاط میں احادیث ضعیفہ خود احکام میں مقبول ومعمول تو فضائل تو فضائل ہیں اور ان فوائد نفیسہ جلیلہ مفیدہ سے بحمدالله تعالی عقل سلیم کے نزدیك وہ مطلب بھی روشن ہوگیا کہ ضعیف حدیث اس کی غلطی واقعی کو مستلزم نہیں ۔ دیکھو یہ حدیثیں بلحاظ سند کیسی ضعاف تھیں اور واقع میں ان کی وہ شان کہ مخالفت کرتے ہیں فورا تصدیقیں ظاہر ہوئیں کاش منکر ان فضائل کو بھی الله عزوجل تعظیم حدیث مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی توفیق بخشے اور اسے ہلکا سمجھنے سے نجات دے آمین!
افادہ بست۲۱ ویکم : (حدیث ضعیف پر عمل کے لئے خاص اس باب میں کسی صحیح حدیث کا آنا ہر گز ضرور نہیں ) بذریعہ حدیث ضعیف کسی فعل کے لئے محل فضائل میں استحباب یا موضع احتیاط میں حکم تنزہ ثابت کرنے کے لئے زنہار زنہار اصلا اس کی حاجت نہیں کہ بالخصوص اس فعل معین کے باب میں کوئی حدیث صحیح بھی وارد ہوئی ہو بلکہ یقینا قطعا صرف ضعیف ہی کا درود ان احکام استحباب وتنزہ کے لئے ذریعہ کافیہ ہے افادات سابقہ کو جس نے ذرا بھی بگوش ہوش استماع کیا ہے اس پر یہ امر شمس وامس کی طرح واضح وروشن۔ مگر ازانجا کہ مقام مقام افادہ ہے ایضاح حق کے لئے چند تنبیہات کا ذکر مستحسن۔
اولا کلمات علمائے کرام میں باآنکہ طبقہ فطبقۃ اس جوش وکثرت سے آئے اس تقیید بعید کا کہیں نشان نہیں تو خواہی نخواہی مطلق کو ازپیش خویش مقید کرلینا کیونکر قابل قبول۔
ثانیا بلکہ ارشادات علما صراحۃ اس کے خلاف مثلا عبارت اذکار وغیرہا خصوصا عبارت امام ابن الہمام جو نص تصریح ہے کہ ثبوت استحباب کو ضعیف حدیث کافی۔
اقول : بلکہ خصوصا اذکار کا وہ فقرہ کہ اگر کسی مبیع یا نکاح کی کراہت میں کوئی حدیث ضعیف آئے تو اس سے بچنا مستحب ہے واجب نہیں ۔ اس استحباب وانکار وجوب کا منشا وہی ہے کہ اس سے نہی میں حدیث صحیح نہ آئی کہ وجوب ہوتا تنہا ضعیف نے صرف استحباب ثابت کیا اور سب اعلی واجل کلام امام ابوطالب مکی ہے اس
میں تو بالقصد اس تقیید جدید کا رد صریح فرمایا ہے کہ “ وان لم یشھد الہ “ (اگرچہ کتاب وسنت اس خاص امر کے شاہد نہ ہوں )
ثالثا علمائے فقہ وحدیث کا عملدرآمد قدیم وحدیث اس قید کے بطلان پر شاہد عدل جابجا انہوں نے احادیث ضعیفہ سے ایسے امور میں استدلال فرمایا ہے جن میں حدیث صحیح اصلا مروی نہیں ۔
اقول مثلا : (۱) نماز نصف شعبان کی نسبت علی قاری۔
(۲) صلاۃ التسبیح کی نسبت برتقدیر تسلیم ضعف وجہالت امام زرکشی وامام سیوطی کے اقوال افادہ دوم میں گزرے۔
(۳) نماز میں امامت اتقی کی نسبت امام محقق علی الاطلاق کا ارشاد افادہ شانزدہم میں گزرا وہاں اس تقیید کے برعکس حدیث ضعیف پر عمل کو فقدان صحت سے مشروط فرمایا ہے :
قال روی ا لحاکم عنہ علیہ الصلاۃ والسلام ان سرکم ان تقبل صلاتکم فلیؤمکم خیار کم فان صح والا فالضعیف غیر الموضوع یعمل بہ فی فضائل الاعمال ۔
حاکم نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا یہ ارشاد گرامی ذکر کیا ہے کہ اگر تم یہ پسند کرتے کہ تمہاری نمازیں قبول ہوجائیں تو تم اپنے میں سے بہتر شخص کو امام بناؤ۔ اگر یہ روایت صحیح ہے ورنہ یہ ضعیف ہے موضوع نہیں اور فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل کیا جاتا ہے۔ (ت)
(۴) نیز امام ممدوح نے تجہیز وتکفین قریبی کافر کے بارہ میں احادیث ذکر کیں کہ جب ابوطالب مرے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے سیدنا مولی علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریمالکریم کو حکم فرمایا کہ انہیں نہلاکر دفن کرائیں پھر خود غسل کرلیں بعدہ غسل میت سے غسل کی حدیثیں نقل کیں پھر فرمایا :
لیس فی ھذا ولافی شیئ من طرق علی حدیث صحیح لکن طرق حدیث علی کثیرۃ و الاستحباب یثبت بالضعیف غیر الموضوع ۔
ان دونوں باب میں کوئی حدیث صحیح نہیں مگر حدیث علی کے طرق کثیر میں اور استحباب حدیث ضعیف غیر موضوع سے ثابت ہوجاتا ہے۔
غسل کے بعد استحباب مندیل کی نسبت علامہ ابراہیم حلبی۔
(۶) تائید اباحت کی نسبت امام ابن امیرالحاج۔
ثالثا علمائے فقہ وحدیث کا عملدرآمد قدیم وحدیث اس قید کے بطلان پر شاہد عدل جابجا انہوں نے احادیث ضعیفہ سے ایسے امور میں استدلال فرمایا ہے جن میں حدیث صحیح اصلا مروی نہیں ۔
اقول مثلا : (۱) نماز نصف شعبان کی نسبت علی قاری۔
(۲) صلاۃ التسبیح کی نسبت برتقدیر تسلیم ضعف وجہالت امام زرکشی وامام سیوطی کے اقوال افادہ دوم میں گزرے۔
(۳) نماز میں امامت اتقی کی نسبت امام محقق علی الاطلاق کا ارشاد افادہ شانزدہم میں گزرا وہاں اس تقیید کے برعکس حدیث ضعیف پر عمل کو فقدان صحت سے مشروط فرمایا ہے :
قال روی ا لحاکم عنہ علیہ الصلاۃ والسلام ان سرکم ان تقبل صلاتکم فلیؤمکم خیار کم فان صح والا فالضعیف غیر الموضوع یعمل بہ فی فضائل الاعمال ۔
حاکم نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا یہ ارشاد گرامی ذکر کیا ہے کہ اگر تم یہ پسند کرتے کہ تمہاری نمازیں قبول ہوجائیں تو تم اپنے میں سے بہتر شخص کو امام بناؤ۔ اگر یہ روایت صحیح ہے ورنہ یہ ضعیف ہے موضوع نہیں اور فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل کیا جاتا ہے۔ (ت)
(۴) نیز امام ممدوح نے تجہیز وتکفین قریبی کافر کے بارہ میں احادیث ذکر کیں کہ جب ابوطالب مرے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے سیدنا مولی علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریمالکریم کو حکم فرمایا کہ انہیں نہلاکر دفن کرائیں پھر خود غسل کرلیں بعدہ غسل میت سے غسل کی حدیثیں نقل کیں پھر فرمایا :
لیس فی ھذا ولافی شیئ من طرق علی حدیث صحیح لکن طرق حدیث علی کثیرۃ و الاستحباب یثبت بالضعیف غیر الموضوع ۔
ان دونوں باب میں کوئی حدیث صحیح نہیں مگر حدیث علی کے طرق کثیر میں اور استحباب حدیث ضعیف غیر موضوع سے ثابت ہوجاتا ہے۔
غسل کے بعد استحباب مندیل کی نسبت علامہ ابراہیم حلبی۔
(۶) تائید اباحت کی نسبت امام ابن امیرالحاج۔
حوالہ / References
فتح القدیر باب الامامۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۰۳
فتح القدیر فصل فی الصلاۃ علی المیت مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۹۵
فتح القدیر فصل فی الصلاۃ علی المیت مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۹۵
(۷) استحباب مسح گردن کی نسبت مولانا علی مکی۔
(۸) استحباب تلقین کی نسبت امام ابن الصلاح وامام نووی وامام سیوطی کے ارشادات افادہ ہفدہم۔
(۹) کراہت وصل بین الاذان والاقامت کی نسبت علامہ حلبی کلام۔
(۱۰) بدھ کو ناخن تراشنے کی نسبت خود نسیم الریاض وطحاوی کے اقوال افادہ بستم میں زیور گوش سا معین ہوئے۔
یہ دس۱۰ تو یہیں موجود ہیں اور خوف اطالت نہ ہوتو سو۱۰۰ دوسو۲۰۰ ایك ادنی نظر میں جمع ہوسکتے ہیں مگر ایضاح واضح میں اطناب تاکے۔
رابعا اقول نصوص واحادیث مذکورہ افادات ہفدہم وبستم کو دیکھئے کہیں بھی اس قید بے معنی کی مساعدت فرماتے ہیں حاشا بلکہ باعلی ندا اس کی لغویات بتاتے ہیں کمالایخفی علی اولی النھی (جیسا کہ صاحب عقل لوگوں پر مخفی نہیں۔ت)
خامسا اقول : وبالله التوفیق اس شرط زائد کا اضافہ اسل مسألہ اجماعیہ کو محض لغو ومہمل کردے گا کہ اب حاصل یہ ٹھہرے گا کہ احکام میں تو مقتضائے حدیث ضعیف پر کاربندی اصلا جائز نہیں اگرچہ وہاں حدیث صحیح موجود ہو اور ان کے غیر میں بحالت موجود صحیح صحیح ورنہ قبیح۔
اولا اس تقدیر پر عمل بمقتضی الضعیف من حیث ہو مقتضی الضعیف ہوگا یا من حیث ہو مقتضی الصحیح ثانی قطعا احکام میں بھی حاصل اور تفرقہ زائل کیا احکام میں درود ضعیف صحاح ثابتہ کو بھی رد کردیتا ہے ھذا لایقول بہ جاھل (اس کا قول کوئی جاہل بھی نہیں کرسکتا۔ ت) اور اول خود شرط سے رجوع یا قول بالمتنافیین ہوکر مدفوع کہ جب مصحح عمل درود صحیح ہے تو اس سے قطع نظر ہوکر صحت کیونکر!
ثانیا اگر صحیح نہ آتی ضعیف بیکار تھی آتی تو وہی کفایت کرتی بہرحال اس کا وجود عدم یکساں پھر معلوم بہ ہونا کہاں !
ثالثا بعبارۃ اخری اظھر واجلی (ایك دوسری عبارت کے ساتھ زیادہ ظاہر وواضح ہے۔ ت) حدیث پر عمل کے یہ معنی کہ یہ حکم اس سے ماخوذ اور اس کی طرف مضاف ہوکہ اگر نہ اس سے لیجئے نہ اس کی طرف اسناد کیجئے تو اس پر عمل کیا ہوا اور شك نہیں کہ خود صحیح کے ہوتے ضعیف سے اخذ اور اس کی طرف اضافت چہ معنی مثلا کوئی کہے چراغ کی روشنی میں کام کی اجازت تو ہے مگر اس شرط پر کہ نور آفتاب بھی موجود ہو۔ سبحان الله جب مہر نیمروز خود جلوہ افروز تو چراغ کی کیا حاجت اور اس کی طرف کب اضافت! اسے چراغ کی روشنی میں کام کرتا کہیں گے یا نور شمس میں ! ع
آفتاب اندر جہاں آنگہ کہ میجوید سہا
(جب جہاں میں آفتاب ہوتو سہا (ستارہ) ڈھونڈنے سے کیا فائدہ!)
(۸) استحباب تلقین کی نسبت امام ابن الصلاح وامام نووی وامام سیوطی کے ارشادات افادہ ہفدہم۔
(۹) کراہت وصل بین الاذان والاقامت کی نسبت علامہ حلبی کلام۔
(۱۰) بدھ کو ناخن تراشنے کی نسبت خود نسیم الریاض وطحاوی کے اقوال افادہ بستم میں زیور گوش سا معین ہوئے۔
یہ دس۱۰ تو یہیں موجود ہیں اور خوف اطالت نہ ہوتو سو۱۰۰ دوسو۲۰۰ ایك ادنی نظر میں جمع ہوسکتے ہیں مگر ایضاح واضح میں اطناب تاکے۔
رابعا اقول نصوص واحادیث مذکورہ افادات ہفدہم وبستم کو دیکھئے کہیں بھی اس قید بے معنی کی مساعدت فرماتے ہیں حاشا بلکہ باعلی ندا اس کی لغویات بتاتے ہیں کمالایخفی علی اولی النھی (جیسا کہ صاحب عقل لوگوں پر مخفی نہیں۔ت)
خامسا اقول : وبالله التوفیق اس شرط زائد کا اضافہ اسل مسألہ اجماعیہ کو محض لغو ومہمل کردے گا کہ اب حاصل یہ ٹھہرے گا کہ احکام میں تو مقتضائے حدیث ضعیف پر کاربندی اصلا جائز نہیں اگرچہ وہاں حدیث صحیح موجود ہو اور ان کے غیر میں بحالت موجود صحیح صحیح ورنہ قبیح۔
اولا اس تقدیر پر عمل بمقتضی الضعیف من حیث ہو مقتضی الضعیف ہوگا یا من حیث ہو مقتضی الصحیح ثانی قطعا احکام میں بھی حاصل اور تفرقہ زائل کیا احکام میں درود ضعیف صحاح ثابتہ کو بھی رد کردیتا ہے ھذا لایقول بہ جاھل (اس کا قول کوئی جاہل بھی نہیں کرسکتا۔ ت) اور اول خود شرط سے رجوع یا قول بالمتنافیین ہوکر مدفوع کہ جب مصحح عمل درود صحیح ہے تو اس سے قطع نظر ہوکر صحت کیونکر!
ثانیا اگر صحیح نہ آتی ضعیف بیکار تھی آتی تو وہی کفایت کرتی بہرحال اس کا وجود عدم یکساں پھر معلوم بہ ہونا کہاں !
ثالثا بعبارۃ اخری اظھر واجلی (ایك دوسری عبارت کے ساتھ زیادہ ظاہر وواضح ہے۔ ت) حدیث پر عمل کے یہ معنی کہ یہ حکم اس سے ماخوذ اور اس کی طرف مضاف ہوکہ اگر نہ اس سے لیجئے نہ اس کی طرف اسناد کیجئے تو اس پر عمل کیا ہوا اور شك نہیں کہ خود صحیح کے ہوتے ضعیف سے اخذ اور اس کی طرف اضافت چہ معنی مثلا کوئی کہے چراغ کی روشنی میں کام کی اجازت تو ہے مگر اس شرط پر کہ نور آفتاب بھی موجود ہو۔ سبحان الله جب مہر نیمروز خود جلوہ افروز تو چراغ کی کیا حاجت اور اس کی طرف کب اضافت! اسے چراغ کی روشنی میں کام کرتا کہیں گے یا نور شمس میں ! ع
آفتاب اندر جہاں آنگہ کہ میجوید سہا
(جب جہاں میں آفتاب ہوتو سہا (ستارہ) ڈھونڈنے سے کیا فائدہ!)
لاجرم معنی مسئلہ یہی ہیں کہ حدیث ضعیف احکام میں کام نہیں دیتی اور دوبارہ فضائل کافی ووافی۔
(تحقیق المقام و ازاحۃ الاوھم)
ثم اقول : تحقیق المقام وتنقیح المرام بحیث یکشف الغمام ویصرف الاوھام ان المسألۃ تدوربین العلماء بعبارتین العمل والقبول اما العمل بحدیث فلایعنی بہ الا امتثال مافیہ تعویلا علیہ والجری علی مقتضاہ نظر الیہ ولابد من ھذا القید الاتری ان لوتوافق حدیثان صحیح وموضوع علی فعل ففعل للامر بہ فی الصحیح لایکون ھذا عملا علی الموضوع واما القبول فھووان احتمل معنی الروایۃ من دون بیان الضعف فیکون الحاصل ان الضعیف یجوز روایتہ فی الفضائل مع السکوت عمافیہ دون الاحکام لکن ھذا المعنی علی تقدیر صحۃ انما یرجع الی معنی العمل کیف ولامنشاء لایجاب اظھارالضعف فی الاحکام الا التحذیر عن العمل بہ حیث لایسوغ فلولم یسغ فی غیرھا ایضا لکان ساوھا فی الایجاب فدار الامر فی کلتا العبارتین الی تجویز المشی علی مقتضی الضعاف فی مادون الاحکام فاتضح ماستدللنا بہ خامسا وانکشف الظلام ھذا ھو التحقیق بیدان ھھنا رجلین من اھل العلم زلت اقدام اقلامھما فحملا العمل والقبول علی مالیس بمراد ولاحقیقا بقبول۔
(تحقیق مقام و ازالہ اوھم)
ثم اقول : اب ہم تحقیق مقام اور وضاحت مقصد کیلئے ایسی گفتگو کرتے ہیں جس سے پردے ہٹ جائیں اور شکوك وشبہات ختم ہوجائیں گے اور وہ یہ ہے کہ اس مسئلہ میں علماء دو۲ طرح کے الفاظ استعمال کرتے ہیں عمل اور قبول عمل بالحدیث سے مراد یہ ہے کہ اس حدیث پر اعتماد کرتے ہوئے اور اس کے مقتضی کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس میں مذکور حکم کو بجالایا جائے اس قید کا اضافہ ضروری ہے اس لئے کہ آپ ملاحظہ کرتے ہیں کہ کسی فعل کے متعلق حدیث صحیح اور حدیث موضوع دونوں اگر موافق ہوں اور فعل کو بجالانے والا حدیث صحیح کو پیش نظر رکھتے ہوئے عمل کرے تو اب موضوع ہر عمل نہ ہوگا قبول بالحدیث پر ہے کہ اگرچہ ضعف بیان کئے بغیر روایت کے معنی کا احتمال ہوتو اس کا حاصل یہ ہوگا کمہ ضعیف میں جو کمزوری ہے اس پر سکوت کرتے ہوئے فضائل میں اس کی روایت کرنا جائز ہے لیکن احکام میں نہیں اگر قبول بالحدیث کا یہی معنی صحیح ہوتو یہ معنی عمل بالحدیث ہی کی طرف لوٹ جاتا ہے کیسے وہ ایسے کہ احکام کے بارے میں مروی روایات کے ضعف کو بیان کرنا اس لئے واجب وضروری ہے کہ اس پر عمل سے روکا جائے کہ احکام میں ہر چیز جائز نہیں پھر اگر غیر احکام میں بھی یہ چیز جائز نہ ہوتو ایجاب میں فضائل واحکام دونوں برابر ہوجائیں گے۔ خلاصہ یہ کہ دونوں عبارتوں میں اس امر پر دلیل کے غیر احکام میں ضعیف حدیثوں پر عمل کرنا جائز ہے
(تحقیق المقام و ازاحۃ الاوھم)
ثم اقول : تحقیق المقام وتنقیح المرام بحیث یکشف الغمام ویصرف الاوھام ان المسألۃ تدوربین العلماء بعبارتین العمل والقبول اما العمل بحدیث فلایعنی بہ الا امتثال مافیہ تعویلا علیہ والجری علی مقتضاہ نظر الیہ ولابد من ھذا القید الاتری ان لوتوافق حدیثان صحیح وموضوع علی فعل ففعل للامر بہ فی الصحیح لایکون ھذا عملا علی الموضوع واما القبول فھووان احتمل معنی الروایۃ من دون بیان الضعف فیکون الحاصل ان الضعیف یجوز روایتہ فی الفضائل مع السکوت عمافیہ دون الاحکام لکن ھذا المعنی علی تقدیر صحۃ انما یرجع الی معنی العمل کیف ولامنشاء لایجاب اظھارالضعف فی الاحکام الا التحذیر عن العمل بہ حیث لایسوغ فلولم یسغ فی غیرھا ایضا لکان ساوھا فی الایجاب فدار الامر فی کلتا العبارتین الی تجویز المشی علی مقتضی الضعاف فی مادون الاحکام فاتضح ماستدللنا بہ خامسا وانکشف الظلام ھذا ھو التحقیق بیدان ھھنا رجلین من اھل العلم زلت اقدام اقلامھما فحملا العمل والقبول علی مالیس بمراد ولاحقیقا بقبول۔
(تحقیق مقام و ازالہ اوھم)
ثم اقول : اب ہم تحقیق مقام اور وضاحت مقصد کیلئے ایسی گفتگو کرتے ہیں جس سے پردے ہٹ جائیں اور شکوك وشبہات ختم ہوجائیں گے اور وہ یہ ہے کہ اس مسئلہ میں علماء دو۲ طرح کے الفاظ استعمال کرتے ہیں عمل اور قبول عمل بالحدیث سے مراد یہ ہے کہ اس حدیث پر اعتماد کرتے ہوئے اور اس کے مقتضی کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس میں مذکور حکم کو بجالایا جائے اس قید کا اضافہ ضروری ہے اس لئے کہ آپ ملاحظہ کرتے ہیں کہ کسی فعل کے متعلق حدیث صحیح اور حدیث موضوع دونوں اگر موافق ہوں اور فعل کو بجالانے والا حدیث صحیح کو پیش نظر رکھتے ہوئے عمل کرے تو اب موضوع ہر عمل نہ ہوگا قبول بالحدیث پر ہے کہ اگرچہ ضعف بیان کئے بغیر روایت کے معنی کا احتمال ہوتو اس کا حاصل یہ ہوگا کمہ ضعیف میں جو کمزوری ہے اس پر سکوت کرتے ہوئے فضائل میں اس کی روایت کرنا جائز ہے لیکن احکام میں نہیں اگر قبول بالحدیث کا یہی معنی صحیح ہوتو یہ معنی عمل بالحدیث ہی کی طرف لوٹ جاتا ہے کیسے وہ ایسے کہ احکام کے بارے میں مروی روایات کے ضعف کو بیان کرنا اس لئے واجب وضروری ہے کہ اس پر عمل سے روکا جائے کہ احکام میں ہر چیز جائز نہیں پھر اگر غیر احکام میں بھی یہ چیز جائز نہ ہوتو ایجاب میں فضائل واحکام دونوں برابر ہوجائیں گے۔ خلاصہ یہ کہ دونوں عبارتوں میں اس امر پر دلیل کے غیر احکام میں ضعیف حدیثوں پر عمل کرنا جائز ہے
احدھما العلامۃ الفاضل الخفاجی رحمہ الله تعالی حیث حاول الرد علی المحقق الدوانی واوھم بظاھر کلامہ ان محلہ مااذاروی حدیث ضعیف فی ثواب بعض الامور الثابت استجابھا والترغیب فیہ اوفی فضائل بعض الصحابۃ اوالاذکار الماثورۃ قال ولاحاجۃ الی لتخصیص الاحکام والاعمال کماتوھم للفرق الظاھر بین الاعمال وفضائل الاعمال اھ
اقول : لولا ان الفاضل المدقق خالف المحقق لکان لکلامہ معنی صحیح فان الثبوت اعم من الثبوت عینا اوباندراج تحت اصل عام ولواصالۃ الاباحۃ فان المباح یصیر بالنیۃ مستحبا ونحن لاننکران قبول الضعاف مشروط بذلك کیف ولولاہ لکان فیہ ترجیح الضعیف علی الصحیح وھوباطل وفاقا فلواراد الفاضل ھذا المعنی لاصاب ولسلم من التکرار فی قولہ اوالاذکار الماثورۃ لکنہ رحمہ الله تعالی بصدد مخالفۃ المحقق المرحوم وقدکان المحقق انما عول علی ھذا المعنی الصحیح حیث قال المباحات تصیر بالنیۃ عبادۃ فکیف مافیہ شبھۃ الاستحباب لاجل الحدیث الضعیف والحاصل ان الجواز معلوم من خارج والاستحباب ایضا معلوم من القواعد الشرعیۃ الدالۃ علی استحباب الاحتیاط فی امرالدین فلم یثبت شیئ من الاحکام بالحدیث الضعیف بل اوقع الحدیث شبھۃ الاستحباب فصار الاحتیاط ان یعمل بہ فاستحباب الاحتیاط معلوم من قواعد الشرع اھ ملخصا فالظاھر من عدم ارتضائہ انہ یرید الثبوت عینا بخصوصہ و یؤیدہ تشبثہ بالفرق بین الاعمال وفضائلھا فان ارادہ فھذہ جنود براھین لاقبل لاحدبھا وقد اتاك بعضھا۔
اب ہمارا پانچواں استدلال واضح ہوگیا اور تاریکی کھل گئی اور تحقیق یہی ہے۔ علاوہ ازیں یہاں دو۲ اہل علم ایسے ہیں جن کے قلم کے قدم پھسل گئے انہوں نے عمل بالحدیث اور قبول بالحدیث کو ایسے معنی پر محمول کیا ہے جو مراد اور قابل قبول نہیں ۔ (ت)ان میں سے ایك علامہ خفاجی رحمۃ اللہ تعالی علیہہیں انہوں نے محقق دوانی کے ردکا ارادہ کیا اور انہیں ان کے کلام کے ظاہر سے وہم ہوگیا کہ اس کا محل وہ ہے جب حدیث ضعیف ان امور کے ثواب کے بارے میں وارد ہو جن کا استحباب ثابت ہو اور اس میں ثواب کی رغبت ہویا بعض صحابہ کے فضائل یا اذکار منقولہ کے بارے میں ہوکہا : حکام واعمال کی تخصیص کی ضرورت ہی نہیں جیسا کہ وہم کیاگیا کیونکہ اعمال اور فضائل اعمال میں فرق ظاہر ہے اھ
اقول : کاش فاضل مدقق محقق دوانی کی مخالفت نہ کرتے تو ان کے کلام کا معنی درست ہوتا کیونکہ ثبوت بعض اوقات عینی ہوتا ہے اور بعض اوقات کسی عمومی اصل کے تحت ہوتا ہے اگرچہ اباحت کی اصل پر ہو کیونکہ مباح نیت سے مستحب ہوجاتا ہے اور ہم قبول ضعاف کو اس کے ساتھ مشروط ہونے کا انکار نہیں کرتے یہ کیسے ممکن ہے اگر یہ بات نہ ہوتو اس میں ضعیف کو صحیح پر ترجیح لازم آتی اور وہ بالاتفاق باطل ہے اگر فاضل مدقق بھی یہی مراد لیتے تو درست تھا اور اپنے قول “ اوالاذکار الماثورۃ “ کے تکرار سے محفوظ ہوجاتے لیکن فاضل رحمۃ اللہ تعالی علیہمحقق کی مخالفت کے درپے تھے
اقول : لولا ان الفاضل المدقق خالف المحقق لکان لکلامہ معنی صحیح فان الثبوت اعم من الثبوت عینا اوباندراج تحت اصل عام ولواصالۃ الاباحۃ فان المباح یصیر بالنیۃ مستحبا ونحن لاننکران قبول الضعاف مشروط بذلك کیف ولولاہ لکان فیہ ترجیح الضعیف علی الصحیح وھوباطل وفاقا فلواراد الفاضل ھذا المعنی لاصاب ولسلم من التکرار فی قولہ اوالاذکار الماثورۃ لکنہ رحمہ الله تعالی بصدد مخالفۃ المحقق المرحوم وقدکان المحقق انما عول علی ھذا المعنی الصحیح حیث قال المباحات تصیر بالنیۃ عبادۃ فکیف مافیہ شبھۃ الاستحباب لاجل الحدیث الضعیف والحاصل ان الجواز معلوم من خارج والاستحباب ایضا معلوم من القواعد الشرعیۃ الدالۃ علی استحباب الاحتیاط فی امرالدین فلم یثبت شیئ من الاحکام بالحدیث الضعیف بل اوقع الحدیث شبھۃ الاستحباب فصار الاحتیاط ان یعمل بہ فاستحباب الاحتیاط معلوم من قواعد الشرع اھ ملخصا فالظاھر من عدم ارتضائہ انہ یرید الثبوت عینا بخصوصہ و یؤیدہ تشبثہ بالفرق بین الاعمال وفضائلھا فان ارادہ فھذہ جنود براھین لاقبل لاحدبھا وقد اتاك بعضھا۔
اب ہمارا پانچواں استدلال واضح ہوگیا اور تاریکی کھل گئی اور تحقیق یہی ہے۔ علاوہ ازیں یہاں دو۲ اہل علم ایسے ہیں جن کے قلم کے قدم پھسل گئے انہوں نے عمل بالحدیث اور قبول بالحدیث کو ایسے معنی پر محمول کیا ہے جو مراد اور قابل قبول نہیں ۔ (ت)ان میں سے ایك علامہ خفاجی رحمۃ اللہ تعالی علیہہیں انہوں نے محقق دوانی کے ردکا ارادہ کیا اور انہیں ان کے کلام کے ظاہر سے وہم ہوگیا کہ اس کا محل وہ ہے جب حدیث ضعیف ان امور کے ثواب کے بارے میں وارد ہو جن کا استحباب ثابت ہو اور اس میں ثواب کی رغبت ہویا بعض صحابہ کے فضائل یا اذکار منقولہ کے بارے میں ہوکہا : حکام واعمال کی تخصیص کی ضرورت ہی نہیں جیسا کہ وہم کیاگیا کیونکہ اعمال اور فضائل اعمال میں فرق ظاہر ہے اھ
اقول : کاش فاضل مدقق محقق دوانی کی مخالفت نہ کرتے تو ان کے کلام کا معنی درست ہوتا کیونکہ ثبوت بعض اوقات عینی ہوتا ہے اور بعض اوقات کسی عمومی اصل کے تحت ہوتا ہے اگرچہ اباحت کی اصل پر ہو کیونکہ مباح نیت سے مستحب ہوجاتا ہے اور ہم قبول ضعاف کو اس کے ساتھ مشروط ہونے کا انکار نہیں کرتے یہ کیسے ممکن ہے اگر یہ بات نہ ہوتو اس میں ضعیف کو صحیح پر ترجیح لازم آتی اور وہ بالاتفاق باطل ہے اگر فاضل مدقق بھی یہی مراد لیتے تو درست تھا اور اپنے قول “ اوالاذکار الماثورۃ “ کے تکرار سے محفوظ ہوجاتے لیکن فاضل رحمۃ اللہ تعالی علیہمحقق کی مخالفت کے درپے تھے
حوالہ / References
نسیم الریاض تتمۃ وفاعدۃ مہمۃ فی الخطبۃ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۴۳
انموذج العلوم للدوانی
انموذج العلوم للدوانی
اور محقق نے اسی معنی صحیح پر اعتماد کیا تھا چنانچہ کہا کہ مباحات نیت سے عبادت قرار پاتے ہیں تو اس کا کیا حال ہوگا جس کے استحباب میں حدیث ضعیف کی وجہ سے شبہہ ہو حاصل یہ ہے کہ جواز خارج سے معلوم ہوتا ہے اور استحباب بھی ایسے قواعد شرعیہ سے معلوم ہوتا ہے جو امر دین میں احتیاطا استحباب پر دال ہیں پس احکام میں سے کوئی بھی حکم حدیث ضعیف سے ثابت نہ ہوگا بلکہ حدیث استحباب کا شبہہ پیدا کردے گی لہذا احتیاطا اسی پر عمل کرنا ہوگااور احتیاطا استحباب پر عمل قواعد شرع سے معلوم ہوا ہے اھ ملخصا ان کی عدم پسندیدگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے ثبوت سے مراد صرف عینی لیا ہے اور اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ انہوں نے اس پر استدلال اعمال اور فضائل اعمال کے فرق سے کیا ہے اگر انہوں نے یہی مراد لیا ہے تو یہ دلائل کا انبار ہے جس کے سامنے کوئی نہیں ٹھہر سکتا اور بعض کا ذکر آپ تك پہنچ گیا۔ (ت)
عــــہ : ویکدرہ ایضا علی ماقیل مغایرۃ العلماء بین فضائل الاعمال والترغیب علی ماھو الظاھر من کلامھم فلفظ ابن الصلاح فضائل الاعمال وسائر فنون الترغیب والترھیب وسائر مالاتعلق لہ بالاحکام والعقائد ھذا توضیح ماقیل اقول بل المراد بفضائل الاعمال الاعمال التی ھی فضائل تشھد بذلك کلمات العلماء المارۃ فی الافادۃ السابعۃ عشر کقول الغنیۃ والقاری والسیوطی وغیرھم کمالاینھی علی من لہ اولی مسکۃ ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
اسے یہ بات بھی رد کرتی ہے کہ علماء کی عبارات سے واضح ہوتا ہے کہ فضائل اعمال اور ترغیب ایك شے نہیں ابن صلاح کے الفاظ یہ ہیں کہ فضائل اعمال اور ترغیب وترہیب کے معاملات اور وہ چیزیں جن کا تعلق احکام وعقائد سے نہیں ہے یہ ماقیل کی وضاحت ہے اقول : (میں کہتا ہوں ) بلکہ اس سے مراد وہ فضائل اعمال میں جن کی شہادت علماء کا کلام دیتا ہے جو کہ سترھویں ۱۷ افادہ میں گزرا مثلا غنیہ قاری اور سیوطی وغیرہ کے اقوال اور یہ بات ہر اس شخص پر مخفی نہیں جس میں ادنی سا شعور ہو ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ(ت)
عــــہ : ویکدرہ ایضا علی ماقیل مغایرۃ العلماء بین فضائل الاعمال والترغیب علی ماھو الظاھر من کلامھم فلفظ ابن الصلاح فضائل الاعمال وسائر فنون الترغیب والترھیب وسائر مالاتعلق لہ بالاحکام والعقائد ھذا توضیح ماقیل اقول بل المراد بفضائل الاعمال الاعمال التی ھی فضائل تشھد بذلك کلمات العلماء المارۃ فی الافادۃ السابعۃ عشر کقول الغنیۃ والقاری والسیوطی وغیرھم کمالاینھی علی من لہ اولی مسکۃ ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
اسے یہ بات بھی رد کرتی ہے کہ علماء کی عبارات سے واضح ہوتا ہے کہ فضائل اعمال اور ترغیب ایك شے نہیں ابن صلاح کے الفاظ یہ ہیں کہ فضائل اعمال اور ترغیب وترہیب کے معاملات اور وہ چیزیں جن کا تعلق احکام وعقائد سے نہیں ہے یہ ماقیل کی وضاحت ہے اقول : (میں کہتا ہوں ) بلکہ اس سے مراد وہ فضائل اعمال میں جن کی شہادت علماء کا کلام دیتا ہے جو کہ سترھویں ۱۷ افادہ میں گزرا مثلا غنیہ قاری اور سیوطی وغیرہ کے اقوال اور یہ بات ہر اس شخص پر مخفی نہیں جس میں ادنی سا شعور ہو ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ(ت)
علی انی اقول اذن یرجع معنی العمل بعد الاستقصاء التام الی ترجی اجر مخصوص علی عمل منصوص ای یجوز العمل بشیئ مستحب معلوم الاستحباب مترجیا فیہ بعض خصوص الثواب لورود حدیث ضعیف فی الباب فالآن نسألکم عن ھذا الرجاء اھو کمثلہ بحدیث صحیح ان وردام دونہ الاول باطل فان صحۃ الحدیث بفعل لایجبر ضعف ماوردفی الثواب المخصوص علیہ وعلی الثانی ھذا القدر من الرجاء یکفی فیہ الحدیث الضعیف فای حاجۃ الی ورود صحیح بخصوص الفعل نعم لابد ان یکون ممایجیز الشرع رجاء الثواب علیہ وھذا حاصل بالاندراج تحت اصل مطلوب اومباح مع قصد مندوب فقد استبان ان الوجہ مع المحقق الدوانی والله تعالی اعلم۔ ثانیھما : بعض من تقدم الدوانی زعم ان مراد النووی ای بمامر من کلامہ فی الاربعین والاذکار انہ اذاثبت حدیث صحیح اوحسن فی فضیلۃ عمل من الاعمال تجوز روایۃ الحدیث الضعیف فی ھذا الباب قال المحقق بعد نقلہ فی الانموذج لایخفی ان ھذا لایرتبط بکلام النووی فضلا عن انیکون مرادہ ذلک فکم بین جواز العمل واستحبابہ وبین مجرد نقل الحدیث فرق علی انہ لولم یثبت الحدیث الصحیح و الحسن فی فضیلۃ عمل من الاعمال یجوز نقل الحدیث الضعیف فیھا لاسیما مع التنبیہ علی ضعفہ ومثل ذلك فی کتب الحدیث وغیرہ شائع یشھدبہ من تتبع ادنی تتبع اھ
علاوہ ازیں میں کہتا ہوں انتہائے گفتگو کے بعد اب عمل کا معنی عمل منصوص پر اجر مخصوص کی امید دلانا ہے یعنی شیئ مستحب جس کا استحباب واضح ہے پر عمل کرنا اور اس میں خصوص ثواب کی امید کرنا جائز ہوگا اس لئے کہ اس بارے میں حدیث ضعیف موجود ہے اب ہم اس امید کے بارے میں تم سے پوچھتے ہیں کیا یہ اسی رجاء کی مثل ہے جو حدیث صحیح کی وجہ سے ہوتی ہے اگر وہ وارد ہو یا اس سے کم درجہ کی ہے پہلی صورت باطل ہے کیونکہ صحت حدیث کسی ایسی روایت پر جابر نہیں ہوسکتی جو کسی مخصوص ثواب کے بیان کے لئے وارد ہو اور دوسری صورت میں اس قدر رجاء کے لئے حدیث ضعیف ہی کافی ہے تو اب کسی مخصوص فعل کے لئے حدیث صحیح کے وارد ہونے کی ضرورت نہ رہی ہاں یہ بات ضروری ہے کہ وہ فعل ایسے اعمال میں سے ہوکہ شریعت نے اس پر ثواب کی امید دلائی ہو اور یہ حاصل ہے اصل مطلوب کے تحت اندراج کا یا مباح بقصد مندوب کا تو اب واضح ہوگیا کہ دلیل محقق دوانی کے ساتھ ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
ان میں سے دوسرے دوانی سے پہلے کے کچھ لوگ ہیں جنہوں نے یہ گمان کیا کہ امام نووی نے اربعین اور اذکار میں جو گفتگو کی ہے اس سے مراد یہ ہے کہ جب کسی عمل کی فضیلت کے بارے میں حدیث صحیح یا حسن ثابت ہوتو اس کے بارے میں حدیث ضعیف کا روایت کرنا جائز ہے محقق دوانی نے انموذج العلوم میں اسے نقل کرنے کے بعد لکھا مخفی نہ رہے کہ اس زعم کا امام نووی کے کلام کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں چہ جائیکہ یہ انکی مراد ہو کیونکہ اکثر طور پر جواز عمل واستحباب عمل اور محض نقل حدیث
علاوہ ازیں میں کہتا ہوں انتہائے گفتگو کے بعد اب عمل کا معنی عمل منصوص پر اجر مخصوص کی امید دلانا ہے یعنی شیئ مستحب جس کا استحباب واضح ہے پر عمل کرنا اور اس میں خصوص ثواب کی امید کرنا جائز ہوگا اس لئے کہ اس بارے میں حدیث ضعیف موجود ہے اب ہم اس امید کے بارے میں تم سے پوچھتے ہیں کیا یہ اسی رجاء کی مثل ہے جو حدیث صحیح کی وجہ سے ہوتی ہے اگر وہ وارد ہو یا اس سے کم درجہ کی ہے پہلی صورت باطل ہے کیونکہ صحت حدیث کسی ایسی روایت پر جابر نہیں ہوسکتی جو کسی مخصوص ثواب کے بیان کے لئے وارد ہو اور دوسری صورت میں اس قدر رجاء کے لئے حدیث ضعیف ہی کافی ہے تو اب کسی مخصوص فعل کے لئے حدیث صحیح کے وارد ہونے کی ضرورت نہ رہی ہاں یہ بات ضروری ہے کہ وہ فعل ایسے اعمال میں سے ہوکہ شریعت نے اس پر ثواب کی امید دلائی ہو اور یہ حاصل ہے اصل مطلوب کے تحت اندراج کا یا مباح بقصد مندوب کا تو اب واضح ہوگیا کہ دلیل محقق دوانی کے ساتھ ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
ان میں سے دوسرے دوانی سے پہلے کے کچھ لوگ ہیں جنہوں نے یہ گمان کیا کہ امام نووی نے اربعین اور اذکار میں جو گفتگو کی ہے اس سے مراد یہ ہے کہ جب کسی عمل کی فضیلت کے بارے میں حدیث صحیح یا حسن ثابت ہوتو اس کے بارے میں حدیث ضعیف کا روایت کرنا جائز ہے محقق دوانی نے انموذج العلوم میں اسے نقل کرنے کے بعد لکھا مخفی نہ رہے کہ اس زعم کا امام نووی کے کلام کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں چہ جائیکہ یہ انکی مراد ہو کیونکہ اکثر طور پر جواز عمل واستحباب عمل اور محض نقل حدیث
حوالہ / References
انموذج العلوم للدوانی
کے درمیان بڑا فرق ہوتا ہے علاوہ ازیں اگر کسی عمل کی فضیلت میں حدیث صحیح یا حسن ثابت نہ بھی ہو تب بھی اس میں حدیث ضعیف کا روایت کرنا جائز ہے خصوصا اس تنبیہ کے ساتھ نقل کرنا کہ یہ ضعیف ہے اور اس کی مثالیں کتب حدیث اور دیگر کتب میں کثیر ہیں اور اس بات پر ہر وہ شخص گواہ ہے جس نے اس کا تھوڑا سا مطالعہ بھی کیا ہے اھ (ت)
اقول : لااری احدا ممن ینتمی الی العلم ینتھی فی الغباوۃ الی حدیحیل روایۃ الضعاف مطلقا حتی مع بیان الضعف فان فیہ خرقا لاجماع المسلمین وتاثیما بین لجمیع المحدثین وانما المراد الروایۃ مع السکوت عن بیان الوھن فقول المحقق لاسیما مع التنبیہ علی ضعفہ لیس فی محلہ والآن نعود الی تزییف مقالتہ فنقول اولا ھذا الذی ابدیج ان سلم وسلم لم یتمش الافی لفظ القبول کمااشرنا الیہ سابقا فمجرد روایۃ حدیث لوکان عملا بہ لزم ان یکون من روی حدیثا فی الصلاۃ فقد صلی اوفی الصوم فقدصام وھکذا مع ان الواقع فی کلام الامام فی کلاالکتابین انما ھو لفظ العمل وھذا مااشار الیہ الدوانی بقولہ ان ھذا لایرتبط الخ
اقول : میں ایسے کسی اہل علم کو نہیں جانتا جو غباوت کے اس درجہ پر پہنچ چکا ہوکہ حدیث ضعیف کا ضعف بیان کررنے کے باوجود اس کی روایت کو مطلقا محال تصور کرتا ہو کیونکہ اس میں اجماع مسلمین کی مخالفت ہے اور واضح طور پر تمام محدثین کو گناہ کا مرتکب قرار دینا ہے لہذا مراد یہ ہے کہ ضعف بیان کےے بغیر روایت حدیث ہوتو درست ہے لہذا محقق دوانی کا قول “ لاسیما مع التنبیہ علی ضعفہ “ بجا نہیں ۔ اب ہم اس کے قول کی کمزوری کے بیان کی طرف لوٹتے ہیں : اولا اگر یہ بیان کردہ قول اگر صحیح ہو اور اسے درست تسلیم کرلیا جائے تو پھر قبول حدیث ہی اس سے مراد ہوگا جیسا کہ ہم پیچھے اشارہ کر آئے ہیں کیونکہ اگر محض روایت کا نام ہی عمل ہوتو لازم آئے گا کہ وہ شخص جس نے نماز کے بارے میں حدیث روایت کی اس نے نماز بھی ادا کی یا اس طرح روزے کے بارے میں روایت کرنیوالے روزہ بھی رکھاہو باوجود اس کے امام نووی کی دونوں کتب میں لفظ عمل ہے اور اسی کی طرف محقق دوانی نے اشارہ کرتے ہوئے کہا ان ھذا لایرتبط الخ۔
اقول : لااری احدا ممن ینتمی الی العلم ینتھی فی الغباوۃ الی حدیحیل روایۃ الضعاف مطلقا حتی مع بیان الضعف فان فیہ خرقا لاجماع المسلمین وتاثیما بین لجمیع المحدثین وانما المراد الروایۃ مع السکوت عن بیان الوھن فقول المحقق لاسیما مع التنبیہ علی ضعفہ لیس فی محلہ والآن نعود الی تزییف مقالتہ فنقول اولا ھذا الذی ابدیج ان سلم وسلم لم یتمش الافی لفظ القبول کمااشرنا الیہ سابقا فمجرد روایۃ حدیث لوکان عملا بہ لزم ان یکون من روی حدیثا فی الصلاۃ فقد صلی اوفی الصوم فقدصام وھکذا مع ان الواقع فی کلام الامام فی کلاالکتابین انما ھو لفظ العمل وھذا مااشار الیہ الدوانی بقولہ ان ھذا لایرتبط الخ
اقول : میں ایسے کسی اہل علم کو نہیں جانتا جو غباوت کے اس درجہ پر پہنچ چکا ہوکہ حدیث ضعیف کا ضعف بیان کررنے کے باوجود اس کی روایت کو مطلقا محال تصور کرتا ہو کیونکہ اس میں اجماع مسلمین کی مخالفت ہے اور واضح طور پر تمام محدثین کو گناہ کا مرتکب قرار دینا ہے لہذا مراد یہ ہے کہ ضعف بیان کےے بغیر روایت حدیث ہوتو درست ہے لہذا محقق دوانی کا قول “ لاسیما مع التنبیہ علی ضعفہ “ بجا نہیں ۔ اب ہم اس کے قول کی کمزوری کے بیان کی طرف لوٹتے ہیں : اولا اگر یہ بیان کردہ قول اگر صحیح ہو اور اسے درست تسلیم کرلیا جائے تو پھر قبول حدیث ہی اس سے مراد ہوگا جیسا کہ ہم پیچھے اشارہ کر آئے ہیں کیونکہ اگر محض روایت کا نام ہی عمل ہوتو لازم آئے گا کہ وہ شخص جس نے نماز کے بارے میں حدیث روایت کی اس نے نماز بھی ادا کی یا اس طرح روزے کے بارے میں روایت کرنیوالے روزہ بھی رکھاہو باوجود اس کے امام نووی کی دونوں کتب میں لفظ عمل ہے اور اسی کی طرف محقق دوانی نے اشارہ کرتے ہوئے کہا ان ھذا لایرتبط الخ۔
وثانیا : اقول قدبینا ان القبول انما مرجعہ الی جواز العمل وحینئذ یکفی فی ابطالہ دلیلنا المذکور خامسا مع ماتقدم۔
وثالثا : اذن یکون حاصل التفرقۃ ان الاحکام لایجوز فیھا روایۃ الضعاف اصلا ولووجد فی خصوص الباب حدیث صحیح اللھم الامقرونۃ ببیان الضعف اماما دونھا کالفضائل فتجوز اذاصح حدیث فیہ بخصوصہ والا لا الا ببیان وح ماذا یصنع بالوف مؤلفۃ من احادیث مضعفۃ رویت فی السیر والقصص والمواعظ والترغیب والفضائل والترھیب وسائر مالاتعلق لہ بالعقد والحکم مع فقدان الصحیح فی خصوص الباب وعدم الاقتران ببیان الوھن وھذا مااشار الیہ الدوانی بالعلاوۃ۔ اقول : دع عنك توسع المسانید التی تسند کل ماجاء عن صحابی والمعاجیم التی توعی کل ماوعی عن شیخ بل والجوامع التی تجمع امثل مافی الباب وردہ ان لم یکن صحیح السند ھذا الجبل الشامخ البخاری یقول فی صحیحہ حدثنا علی بن عبدالله بن جعفر ثنا معن بن عیسی ثنا ابی بن عباس بن سھل عن ابیہ عن جدہ ثانیا میں کہتا ہوں کہ ہم پیچھے بیان کر آئے ہیں کہ قبول کا مرجع جواز عمل ہے تو اب اس کے اطبال کے لئے “ خامسا “ سے ہماری مذکورہ دلیل مع مذکور گفتگو کے کافی ہے۔
ثالثا اب حاصل فرق یہ ہوگا کہ احکام کے بارے میں حدیث ضعیف کی روایت جائز نہیں اگرچہ اس خصوصی مسئلہ کے بارے میں حدیث صحیح موجود ہو مگر صرف اس صورت میں جائز ہے جب اس کا ضعف بیان کردیا جائے مگر احکام کے علاوہ فضائل میں اگر اس خصوصی مسئلہ میں کوئی حدیث صحیح پائی جائے تو ضعیف کی روایت جائز ہے اگر حدیث صحیح نہ ہوتو جائز نہیں مگر بیان ضعف کے ساتھ جائز ہے اب ان ہزارہا کتب کا کیا بنے گاجن میں ایسی احادیث ضعیفہ مروی ہیں جو سیر واقعات وعظ ترغیب وترہیب فضائل اور باقی حدیثیں جن کا تعلق عقیدہ اور احکام سے نہیں اس کے ساتھ ساتھ خاص اس مسئلہ میں کوئی حدیث صحیح بھی موجود نہ ہو اور ضعیف حدیث کا ضعف بھی بیان نہ کیاگیا ہو یہ وہ ہے جس کی طرف دوانی نے “ علاوۃ “ کے سااتھ اشارہ کیا ہے۔ اقول : ان مسانید کی وسعت کو چھوڑئےے جو صحابی سے روایات بیان کرتی ہیں اور معاجیم جو شیخ سے محفوظ شدہ احادیث کی حفاظت کرتی ہیں بلکہ جوامع جو اس باب میں وارد شدہ احادیث میں اعلی قسم کی روایات جمع کرتی ہیں اگرچہ سند صحیح نہ ہو مثلا حدیث کے عظیم پہاڑ امام بخار اپنی صحیح میں کہتے ہیں ہمیں علی بن عبدالله بن جعفر نے حدیث بیان کی ہمیں معن بن عیسی نے حدیچ بیان کی ہمیں ابن عباس بن سہل نے اپنے باپ سے اپنے دادا سے حدیث بیان کی فرمایا
وثالثا : اذن یکون حاصل التفرقۃ ان الاحکام لایجوز فیھا روایۃ الضعاف اصلا ولووجد فی خصوص الباب حدیث صحیح اللھم الامقرونۃ ببیان الضعف اماما دونھا کالفضائل فتجوز اذاصح حدیث فیہ بخصوصہ والا لا الا ببیان وح ماذا یصنع بالوف مؤلفۃ من احادیث مضعفۃ رویت فی السیر والقصص والمواعظ والترغیب والفضائل والترھیب وسائر مالاتعلق لہ بالعقد والحکم مع فقدان الصحیح فی خصوص الباب وعدم الاقتران ببیان الوھن وھذا مااشار الیہ الدوانی بالعلاوۃ۔ اقول : دع عنك توسع المسانید التی تسند کل ماجاء عن صحابی والمعاجیم التی توعی کل ماوعی عن شیخ بل والجوامع التی تجمع امثل مافی الباب وردہ ان لم یکن صحیح السند ھذا الجبل الشامخ البخاری یقول فی صحیحہ حدثنا علی بن عبدالله بن جعفر ثنا معن بن عیسی ثنا ابی بن عباس بن سھل عن ابیہ عن جدہ ثانیا میں کہتا ہوں کہ ہم پیچھے بیان کر آئے ہیں کہ قبول کا مرجع جواز عمل ہے تو اب اس کے اطبال کے لئے “ خامسا “ سے ہماری مذکورہ دلیل مع مذکور گفتگو کے کافی ہے۔
ثالثا اب حاصل فرق یہ ہوگا کہ احکام کے بارے میں حدیث ضعیف کی روایت جائز نہیں اگرچہ اس خصوصی مسئلہ کے بارے میں حدیث صحیح موجود ہو مگر صرف اس صورت میں جائز ہے جب اس کا ضعف بیان کردیا جائے مگر احکام کے علاوہ فضائل میں اگر اس خصوصی مسئلہ میں کوئی حدیث صحیح پائی جائے تو ضعیف کی روایت جائز ہے اگر حدیث صحیح نہ ہوتو جائز نہیں مگر بیان ضعف کے ساتھ جائز ہے اب ان ہزارہا کتب کا کیا بنے گاجن میں ایسی احادیث ضعیفہ مروی ہیں جو سیر واقعات وعظ ترغیب وترہیب فضائل اور باقی حدیثیں جن کا تعلق عقیدہ اور احکام سے نہیں اس کے ساتھ ساتھ خاص اس مسئلہ میں کوئی حدیث صحیح بھی موجود نہ ہو اور ضعیف حدیث کا ضعف بھی بیان نہ کیاگیا ہو یہ وہ ہے جس کی طرف دوانی نے “ علاوۃ “ کے سااتھ اشارہ کیا ہے۔ اقول : ان مسانید کی وسعت کو چھوڑئےے جو صحابی سے روایات بیان کرتی ہیں اور معاجیم جو شیخ سے محفوظ شدہ احادیث کی حفاظت کرتی ہیں بلکہ جوامع جو اس باب میں وارد شدہ احادیث میں اعلی قسم کی روایات جمع کرتی ہیں اگرچہ سند صحیح نہ ہو مثلا حدیث کے عظیم پہاڑ امام بخار اپنی صحیح میں کہتے ہیں ہمیں علی بن عبدالله بن جعفر نے حدیث بیان کی ہمیں معن بن عیسی نے حدیچ بیان کی ہمیں ابن عباس بن سہل نے اپنے باپ سے اپنے دادا سے حدیث بیان کی فرمایا
قال کان للنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فی حائطنا فرس یقال لہ اللحیف اھ فی تذھیب التھذیب للذھبی “ خ ت ق “ ابی بن عباس بن سھل بن سعد الساعدی المدنی عن ابیہ وابی بکر بن حزم وعنہ معن القزاز وابن ابی فدیك وزید بن الحباب وجماعۃ ۔ قال الدولا بی لیس بالقوی قلت وضعفہ ابن معین وقال احمد منکر الحدیث اھ وکقول الدولابی قال النسائی کمافی المیزان ولم ینقل فی الکتابین توثیقہ عن احدوبہ ضعف الدارقطنی ھذا الحدیث لاجرم ان قال الحافظ فیہ ضعف عہ قال مالہ فی البخاری غیر حدیث واحد اھ قلت فانما الظن بابی عبدالله انہ انما تساھل لان الحدیث
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ہمارے ہمارے باغ میں ایك گھوڑا تھا جس کا نام لحیف تھا اھ۔ امام ذہبی نے تذہیب التہذیب میں لکھا کہ ابی بن عباس بن سہلی بن سعد الساعدی مدنی نے اپنے والد گرامی اور ابربکر بن حزم سے روایت کیا اور ان سے معن القزار ابن ابی فدیک زید بن الحباب اور ایك جماعت نے روایت کیا دولابی کہتے ہیں کہ یہ قوی نہیں ۔ میں کہتا ہوں اسے ابن معین نے ضعیف کہا اور امام احمد کے نزدیك یہ منکر الحدیث ہے اور میزان میں ہے نسائی کا قول دولابی کی طرح ہی ہے اور دونوں کتب میں اس کے بارے میں کسی کی توثیق منقول نہیں دارقطنی نے اسی وجہ سے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا۔ لاجرم حافظ نے کہا ہے کہ اس میں ضعف ہے اور کہا کہ
عــــہ قلت واما اخوہ المھیمن فاضعف واضعف ضعفہ النسائی والدارقطنی وقال البخاری منکر الحدیث ای فلاتحل الروایۃ عنہ کمامر لاجرم ان قال الذھبی فی اخیہ ابی انہ واہ ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ۔ (م)
میں کہتا ہوں اس کا بھائی عبدالمہیمن ہے اور وہ اضعف الضعاف ہے اسے نسائی اور دارقطنی نے ضعیف کہا بخاری نے اسے منکر الحدیث کہا یعنی اس سے روایت کرنا جائز نہیں جیسا کہ گزرا لاجرم ذہبی نے اسے اس کے بھائی ابی کے بارے میں کہا کہ وہ نہایت ہی کمزور ہے ۱۲ منہ (ت)
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ہمارے ہمارے باغ میں ایك گھوڑا تھا جس کا نام لحیف تھا اھ۔ امام ذہبی نے تذہیب التہذیب میں لکھا کہ ابی بن عباس بن سہلی بن سعد الساعدی مدنی نے اپنے والد گرامی اور ابربکر بن حزم سے روایت کیا اور ان سے معن القزار ابن ابی فدیک زید بن الحباب اور ایك جماعت نے روایت کیا دولابی کہتے ہیں کہ یہ قوی نہیں ۔ میں کہتا ہوں اسے ابن معین نے ضعیف کہا اور امام احمد کے نزدیك یہ منکر الحدیث ہے اور میزان میں ہے نسائی کا قول دولابی کی طرح ہی ہے اور دونوں کتب میں اس کے بارے میں کسی کی توثیق منقول نہیں دارقطنی نے اسی وجہ سے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا۔ لاجرم حافظ نے کہا ہے کہ اس میں ضعف ہے اور کہا کہ
عــــہ قلت واما اخوہ المھیمن فاضعف واضعف ضعفہ النسائی والدارقطنی وقال البخاری منکر الحدیث ای فلاتحل الروایۃ عنہ کمامر لاجرم ان قال الذھبی فی اخیہ ابی انہ واہ ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ۔ (م)
میں کہتا ہوں اس کا بھائی عبدالمہیمن ہے اور وہ اضعف الضعاف ہے اسے نسائی اور دارقطنی نے ضعیف کہا بخاری نے اسے منکر الحدیث کہا یعنی اس سے روایت کرنا جائز نہیں جیسا کہ گزرا لاجرم ذہبی نے اسے اس کے بھائی ابی کے بارے میں کہا کہ وہ نہایت ہی کمزور ہے ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
صحیح البخاری باب اسم الفرس والحمار مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۰۰
'' خ '' سے بخاری ، '' ت '' سے ترمذی اور '' ق '' سے قزوینی مراد ہے۔
خلاصہ تذہیب التہذیب ترجمہ نمبر ۳۲۷ من اسمہ ابی مطبوعہ مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل ۱ / ۶۲
میزان الاعتدال فی نقدالرجال ترجمہ نمبر ۲۷۳ من اسمہ ابی مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۷۸
نوٹ : تذہیب التہذیب نہ ملنے کی وجہ سے اس کے خلاصے اور میزان الاعتدال دو۲ کتابوں سے یہ نقل گیا ہے۔
تقریب التہذیب ذکر من اسمہ ابی مطبوعہ مطبع فاروقی دہلی ص ۱۷
'' خ '' سے بخاری ، '' ت '' سے ترمذی اور '' ق '' سے قزوینی مراد ہے۔
خلاصہ تذہیب التہذیب ترجمہ نمبر ۳۲۷ من اسمہ ابی مطبوعہ مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل ۱ / ۶۲
میزان الاعتدال فی نقدالرجال ترجمہ نمبر ۲۷۳ من اسمہ ابی مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۷۸
نوٹ : تذہیب التہذیب نہ ملنے کی وجہ سے اس کے خلاصے اور میزان الاعتدال دو۲ کتابوں سے یہ نقل گیا ہے۔
تقریب التہذیب ذکر من اسمہ ابی مطبوعہ مطبع فاروقی دہلی ص ۱۷
لیس من باب الاحکام والله تعالی اعلم۔
ورابعا اقول : قدشاع وذاع ایراد الضعاف فی المتابعات والشواھد فالقول بمنعہ فی الاحکام مطلقا وان وجد الصحیح باطل صریح وح یرتفع الفرق وینھدم اساس المسئلۃ المجمع علیھا بین علماء المغرب والشرق لااقول عن ھذا وذاك بل عن ھذین الجبلین الشامخین صحیحی الشیخین فقد تنزلا کثیرا عن شرطھما فی غیرالاصول قال الامام النووی فی مقدمۃ شرحہ لصحیح مسلم عاب عائبون مسلما رحمہ الله تعالی بروایتہ فی صحیحہ عن جماعۃ من الضعفاء والمتوسطین الواقعین فی الطبقۃ الثانیۃ الذین لیسوا من شرط الصحیح ولاعیب علیہ فی ذلك بل جوابہ من اوجہ ذکرھا الشیخ الامام ابوعمر وبن الصلاح (الی ان قال) الثانی انیکون ذلك واقعا فی المتابعات والشواھد لافی الاصول وذلك بان یذکر الحدیث اولا باسناد نظیف رجالہ ثقات ویجعلہ اصلا ثم اتبعہ باسناد اخرا واسانید فیھا بعض الضعفاء علی وجہ التاکید بالمتابعۃ اولزیادۃ فیہ تنبہ علی فائدۃ فیما قدمہ و قداعتذر الحاکم ابوعبدالله بالمتابعۃ و الاستشھاد فی اخراجہ من جماعۃ لیسومن شرط
بخاری میں اس ایك حدیث کے علاوہ اس کی کوئی حدیث نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ابوعبدالله کے بارے میں گمان ہے کہ انہوں نے تساہل سے کام لیا کیونکہ اس حدیث کا تعلق احکام سے نہیں والله تعالی اعلم۔ (ت)
رابعا میں کہتا ہوں کہ متابع اور شواہد میں احادیث ضعیفہ کا ایراد شائع اور مشہور ہے لہذا حدیث صحیح کی موجودگی میں احکام کے بارے میں حدیث ضعیف کے مطلقا روایت کرنے کو منع کرنا صریحا باطل ہے او راس صورت میں فرق مرتفع ہوجاتا ہے اور اس مسئلہ کی اساس جس پر علماء مشرق ومغرب کا اتفاق ہے گر کر ختم ہوجاتی ہے یہ میں اس یا اس (یعنی عام آدمی) کی بات نہیں کرتا بلکہ علم حدیث کے دوبلند اور مضبوط پہاڑ بخاری ومسلم کی صحیحین کہ وہ اصول کے علاوہ میں اپنے شرائط سے بہت زیادہ تنزل میں آگئیں امام نووی نے مقدمہ شرح صحیح مسلم میں فرمایا کہ عیب لگانے والوں نے مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہعلیہ پر یہ طعن کیا کہ انہوں نے اپنی کتاب میں بہت سے ضعیف اور متوسط راویوں سے روایت لی ہے جو دوسرے طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور صحیح کی شرط پر نہیں حالانکہ اس معاملہ میں ان پر کوئی طعن نہیں ہوسکتا بلکہ اس کا کئی طریقوں سے جواب دیا گیا ہے جنہیں امام ابوعمرو بن صلاح نے ذکر کیا (یہاں تك کہ کہا) دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ بات ان روایات میں ہے جنہیں بطور متابع اور شاہد ذکر کیا گیا ہے اصول میں ایسا نہیں کیا ہے اس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے ایك ایسی حدیث ذکر کی جس کی سند درست ہو اور تمام راوی ثقہ ہوں اور اس حدیث کو اصل قرار دے کر اسکے
ورابعا اقول : قدشاع وذاع ایراد الضعاف فی المتابعات والشواھد فالقول بمنعہ فی الاحکام مطلقا وان وجد الصحیح باطل صریح وح یرتفع الفرق وینھدم اساس المسئلۃ المجمع علیھا بین علماء المغرب والشرق لااقول عن ھذا وذاك بل عن ھذین الجبلین الشامخین صحیحی الشیخین فقد تنزلا کثیرا عن شرطھما فی غیرالاصول قال الامام النووی فی مقدمۃ شرحہ لصحیح مسلم عاب عائبون مسلما رحمہ الله تعالی بروایتہ فی صحیحہ عن جماعۃ من الضعفاء والمتوسطین الواقعین فی الطبقۃ الثانیۃ الذین لیسوا من شرط الصحیح ولاعیب علیہ فی ذلك بل جوابہ من اوجہ ذکرھا الشیخ الامام ابوعمر وبن الصلاح (الی ان قال) الثانی انیکون ذلك واقعا فی المتابعات والشواھد لافی الاصول وذلك بان یذکر الحدیث اولا باسناد نظیف رجالہ ثقات ویجعلہ اصلا ثم اتبعہ باسناد اخرا واسانید فیھا بعض الضعفاء علی وجہ التاکید بالمتابعۃ اولزیادۃ فیہ تنبہ علی فائدۃ فیما قدمہ و قداعتذر الحاکم ابوعبدالله بالمتابعۃ و الاستشھاد فی اخراجہ من جماعۃ لیسومن شرط
بخاری میں اس ایك حدیث کے علاوہ اس کی کوئی حدیث نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ابوعبدالله کے بارے میں گمان ہے کہ انہوں نے تساہل سے کام لیا کیونکہ اس حدیث کا تعلق احکام سے نہیں والله تعالی اعلم۔ (ت)
رابعا میں کہتا ہوں کہ متابع اور شواہد میں احادیث ضعیفہ کا ایراد شائع اور مشہور ہے لہذا حدیث صحیح کی موجودگی میں احکام کے بارے میں حدیث ضعیف کے مطلقا روایت کرنے کو منع کرنا صریحا باطل ہے او راس صورت میں فرق مرتفع ہوجاتا ہے اور اس مسئلہ کی اساس جس پر علماء مشرق ومغرب کا اتفاق ہے گر کر ختم ہوجاتی ہے یہ میں اس یا اس (یعنی عام آدمی) کی بات نہیں کرتا بلکہ علم حدیث کے دوبلند اور مضبوط پہاڑ بخاری ومسلم کی صحیحین کہ وہ اصول کے علاوہ میں اپنے شرائط سے بہت زیادہ تنزل میں آگئیں امام نووی نے مقدمہ شرح صحیح مسلم میں فرمایا کہ عیب لگانے والوں نے مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہعلیہ پر یہ طعن کیا کہ انہوں نے اپنی کتاب میں بہت سے ضعیف اور متوسط راویوں سے روایت لی ہے جو دوسرے طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور صحیح کی شرط پر نہیں حالانکہ اس معاملہ میں ان پر کوئی طعن نہیں ہوسکتا بلکہ اس کا کئی طریقوں سے جواب دیا گیا ہے جنہیں امام ابوعمرو بن صلاح نے ذکر کیا (یہاں تك کہ کہا) دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ بات ان روایات میں ہے جنہیں بطور متابع اور شاہد ذکر کیا گیا ہے اصول میں ایسا نہیں کیا ہے اس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے ایك ایسی حدیث ذکر کی جس کی سند درست ہو اور تمام راوی ثقہ ہوں اور اس حدیث کو اصل قرار دے کر اسکے
الصحیح منھم مطر الوراق وبقیۃ بن الولید ومحمد بن اسحاق بن یساور وعبدالله بن عمر العمری والنعمان بن راشد اخرج مسلم عنھم فی الشواھد فی اشباہ لھم کثیرین انتھی ۔ وقال الامام البدر محمود العینی فی مقدمۃ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری یدخل فی المتابعۃ والاستشھاد روایۃ بعض العضعاء وفی الصحیح جماعۃ منھم ذکروا فی المتابعات والشواھد اھ
وخامسا اقول : مالی اخص الکلام بغیر الاصول ھذہ قناطیر مقنطرۃ من السقام مرویۃ فی الاصول والاحکام ان لم تروھا العلماء فمن جاء بھا وکم منھم التزموا بیان ماھنا اما الرواۃ فلم یعھد منھم الروایۃ المقرونۃ بالبیان اللھم الانادر الداع خاص وقد اکثروا قدیما وحدیثا من الروایۃ عن الضعفاء والمجاھیل ولم یعد ذلك قدحا فیھم ولا ارتکاب مأثم وھذا سلیمن بن عبدالرحمن الدمشقی الحافظ شیخ البخاری ومن رجال صحیحہ قال فیہ الامام ابوحاتم صدوق الا انہ من
بعد بطور تابع ایك اور سند یا متعدد اسناد ایسی ذکر کی جائیں جن میں بعض راوی ضعیف ہوں تاکہ متابعت کے ساتھ تاکید ہو یا کسی اور مذکور فائدے پر تنبیہ کا اضافہ مقصود ہو امام حاکم ابوعبدالله نے عذر پیش کرتے ہوئے یہی کہا ہے کہ جن میں صحیح کی شرط نہیں ان کو بطور تابع اور شاہد روایت کیاگیا ہے اور ان روایت کرنے والوں میں یہ محدثین ہیں مطرالوراق بقیۃ بن الولید محمد بن اسحق بن یسار عبدالله بن عمر العمری اور نعمان بن راشد امام مسلم نے ان سے شواہد کے طور پر متعدد روایات تخریج کی ہیں انتہی۔ امام بدرالدین عینی نے مقدمہ عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں تحریر کیا ہے کہ توابع اور شواہد میں بعض ضعفاء کی روایات بھی آئی ہیں اور صحیح میں ایك جماعت محدثین نے توابع اور شواہد کے طور پر ایسی روایات ذکر کی ہیں اھ (ت)
خامسا : ضعیف اور متوسط راوی کی روایت کی بات صرف غیر اصول وشواہد متابعات سے مختص کرنے کی مجھے کیا ضرورت جبکہ کمزور اغیر صحیح روایات کا یہ ایك ذخیرہ ہے جو اصول واحکام میں مروی ہے اگر علماء ہی ان کو ذکر نہ کریں تو کون ذکر کریگا اور بہت کم ہیں جنہوں نے یہاں اس بات کا التزام کیا۔ رہا معاملہ راویوں کا تو ان کے ہاں روایت کے ساتھ بیان کا طریقہ معروف نہیں البتہ کسی خاص ضرورت کے تقاضے کے پیش نظر بیان بھی کردیا جاتا ہے اور ان میں سلفا وخلفا یہ معمول ہے کہ ضعیف اور مجہول راویوں سے روایت بیان کرتے ہیں اور اس بات کو ان میں طعن وگناہ شمار نہیں کیا جاتا دیکھنے سلیمان بن عبدالرحمن ومشقی جو کہ حافظ ہیں اور امام بخاری کے استاذ ہیں اور صحیح بخاری کے راویوں میں سے ہیں ان کے بارے میں
وخامسا اقول : مالی اخص الکلام بغیر الاصول ھذہ قناطیر مقنطرۃ من السقام مرویۃ فی الاصول والاحکام ان لم تروھا العلماء فمن جاء بھا وکم منھم التزموا بیان ماھنا اما الرواۃ فلم یعھد منھم الروایۃ المقرونۃ بالبیان اللھم الانادر الداع خاص وقد اکثروا قدیما وحدیثا من الروایۃ عن الضعفاء والمجاھیل ولم یعد ذلك قدحا فیھم ولا ارتکاب مأثم وھذا سلیمن بن عبدالرحمن الدمشقی الحافظ شیخ البخاری ومن رجال صحیحہ قال فیہ الامام ابوحاتم صدوق الا انہ من
بعد بطور تابع ایك اور سند یا متعدد اسناد ایسی ذکر کی جائیں جن میں بعض راوی ضعیف ہوں تاکہ متابعت کے ساتھ تاکید ہو یا کسی اور مذکور فائدے پر تنبیہ کا اضافہ مقصود ہو امام حاکم ابوعبدالله نے عذر پیش کرتے ہوئے یہی کہا ہے کہ جن میں صحیح کی شرط نہیں ان کو بطور تابع اور شاہد روایت کیاگیا ہے اور ان روایت کرنے والوں میں یہ محدثین ہیں مطرالوراق بقیۃ بن الولید محمد بن اسحق بن یسار عبدالله بن عمر العمری اور نعمان بن راشد امام مسلم نے ان سے شواہد کے طور پر متعدد روایات تخریج کی ہیں انتہی۔ امام بدرالدین عینی نے مقدمہ عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں تحریر کیا ہے کہ توابع اور شواہد میں بعض ضعفاء کی روایات بھی آئی ہیں اور صحیح میں ایك جماعت محدثین نے توابع اور شواہد کے طور پر ایسی روایات ذکر کی ہیں اھ (ت)
خامسا : ضعیف اور متوسط راوی کی روایت کی بات صرف غیر اصول وشواہد متابعات سے مختص کرنے کی مجھے کیا ضرورت جبکہ کمزور اغیر صحیح روایات کا یہ ایك ذخیرہ ہے جو اصول واحکام میں مروی ہے اگر علماء ہی ان کو ذکر نہ کریں تو کون ذکر کریگا اور بہت کم ہیں جنہوں نے یہاں اس بات کا التزام کیا۔ رہا معاملہ راویوں کا تو ان کے ہاں روایت کے ساتھ بیان کا طریقہ معروف نہیں البتہ کسی خاص ضرورت کے تقاضے کے پیش نظر بیان بھی کردیا جاتا ہے اور ان میں سلفا وخلفا یہ معمول ہے کہ ضعیف اور مجہول راویوں سے روایت بیان کرتے ہیں اور اس بات کو ان میں طعن وگناہ شمار نہیں کیا جاتا دیکھنے سلیمان بن عبدالرحمن ومشقی جو کہ حافظ ہیں اور امام بخاری کے استاذ ہیں اور صحیح بخاری کے راویوں میں سے ہیں ان کے بارے میں
حوالہ / References
المقدمۃ للامام النووی من شرح صحیح مسلم فصل عاب عائبون مسلماً رحمہ اللہ تعالٰی مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۶
المقدمۃ للعینی صحیح بخاری الثامنہ فی الفرق بین الاعتبار والمتابعۃ الخ مطبوعہ بیروت ۱ / ۸
المقدمۃ للعینی صحیح بخاری الثامنہ فی الفرق بین الاعتبار والمتابعۃ الخ مطبوعہ بیروت ۱ / ۸
اروی الناس عن الضعفاء والمجھولین اھ ولوسردت اسماء الثقات الرواۃ عن المجروحین لکثر وطال فلیس منھم من التزم ان لایحدث الا عن ثقۃ عندہ الانزر قلیل کشعبۃ ومالك واحمد فی المسند ومن شاء الله تعالی واحدا بعد واحد ثم ھذا ان کان ففی شیوخھم خاصۃ لامن فوقھم والا لما اتی من طریقھم ضعیف اصلا ولکان مجرد وقوعھم فی السند دلیل الصحۃ عندھم اذاصح السند الیھم ولم یثبت ھذا لاحد وھذا الامام الھمام یقول لابنہ عبدالله لواردت ان اقتصرہ علی ماصح عندی لم ار ومن ھذا المسند الا الشیئ بعد الشیئ ولکنك یابنی تعرف طریقتی فی الحدیث انی لااخالف مایضعف الا اذاکان فی الباب شیئ یدفعہ ذکرہ فی فتح المغیث عــــہ واما المصنفون
امام ابوحاتم کہتے ہیں کہ یہ صدوق ہے اگرچہ ان لوگوں میں سے ہے جو ضعیف اور مجہول راویوں سے بہت زیادہ روایت کرنے والے ہیں اھ۔ اگر میں ان ثقہ محدثین کے نام شمار کروں جنہوں نے مجروح راویوں سے روایت کی ہے تو یہ داستان طویل ہو اور ان میں کوئی ایسا شخص نہیں ملتا جس نے یہ التزام کیا ہوکہ وہ اسی سے روایت کرے گا جو اس کے نزدیك ثقہ ہو مگر بہت کم محدثین مثلا شعبہ امام مالك اور احمد نے مسند میں اور کوئی اکا دکا جس کو الله تعالی نے توفیق دی پھر ان کے ہاں بھی یہ معاملہ ان کے اپنے شیوخ تك ہی ہے اس سے اوپر نہیں ورنہ ان کی سند سے کوئی ضعیف حدیث مروی نہ ہوتی اور محدثین کے ہاں ان میں سے کسی کا سند میں آجانا صحت حدیث کے لئے کافی ہوتا ہے جبکہ صحت کے ساتھ سندان تك پہنچی ہو حالانکہ یہ بات کسی ایك کے لئے بھی ثابت نہیں یہ امام احمد اپنے بیٹے عبدالله کو فرماتے ہیں : اگر میں اس بات کا ارادہ کرتا کہ میں ان ہی احادیث کی روایت پر اکتفا کروں گا جو میرے ہاں صحیح ہیں تو پھر اس مسند میں بہت کم احادیث روایت کرتا مگر اے میرے بیٹے! تو روایت حدیث میں میرے طریقے سے آگاہ ہے کہ میں حدیث ضعیف کی مخالفت نہیں کرتا مگر جب اس باب میں مجھے کوئی ایسی شیئ مل جائے جو اسے
امام ابوحاتم کہتے ہیں کہ یہ صدوق ہے اگرچہ ان لوگوں میں سے ہے جو ضعیف اور مجہول راویوں سے بہت زیادہ روایت کرنے والے ہیں اھ۔ اگر میں ان ثقہ محدثین کے نام شمار کروں جنہوں نے مجروح راویوں سے روایت کی ہے تو یہ داستان طویل ہو اور ان میں کوئی ایسا شخص نہیں ملتا جس نے یہ التزام کیا ہوکہ وہ اسی سے روایت کرے گا جو اس کے نزدیك ثقہ ہو مگر بہت کم محدثین مثلا شعبہ امام مالك اور احمد نے مسند میں اور کوئی اکا دکا جس کو الله تعالی نے توفیق دی پھر ان کے ہاں بھی یہ معاملہ ان کے اپنے شیوخ تك ہی ہے اس سے اوپر نہیں ورنہ ان کی سند سے کوئی ضعیف حدیث مروی نہ ہوتی اور محدثین کے ہاں ان میں سے کسی کا سند میں آجانا صحت حدیث کے لئے کافی ہوتا ہے جبکہ صحت کے ساتھ سندان تك پہنچی ہو حالانکہ یہ بات کسی ایك کے لئے بھی ثابت نہیں یہ امام احمد اپنے بیٹے عبدالله کو فرماتے ہیں : اگر میں اس بات کا ارادہ کرتا کہ میں ان ہی احادیث کی روایت پر اکتفا کروں گا جو میرے ہاں صحیح ہیں تو پھر اس مسند میں بہت کم احادیث روایت کرتا مگر اے میرے بیٹے! تو روایت حدیث میں میرے طریقے سے آگاہ ہے کہ میں حدیث ضعیف کی مخالفت نہیں کرتا مگر جب اس باب میں مجھے کوئی ایسی شیئ مل جائے جو اسے
حوالہ / References
میزان الاعتدال ترجمہ سلیمان بن عبدالرحمان الدمشقی نمبر ۳۴۸۷ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۲۱۳
فتح المغیث شرح الفیۃ الحدیث القسم الثانی الحسن دارالامام الطبری بیروت ۱ / ۹۶
فتح المغیث شرح الفیۃ الحدیث القسم الثانی الحسن دارالامام الطبری بیروت ۱ / ۹۶
فاذا عدوت امثال الثلثۃ للبخاری ومسلم والترمذی ممن التزم الصحۃ والبیان الفیت عامۃ المسانید والمعاجیم والسنن والجوامع والاجزاء تنطوری فی کل باب علی کل نوع من انواع الحدیث من دون بیان وھذا مما لاینکرہ الاجاھل اومتجاھل فان ادعی مدع انھم لایستحلون ذلك فقد نسبہم الی افتخام مالایبیحون وان زعم زاعم انھم لایفعلون ذلك فھم بصنیعھم علی خلفہ شاھدون وھذا ابوداؤد الذی الین لہ الحدیث کماالین لداود علیہ الصلاۃ والسلام الحدید قال فی رسالتہ الی اھل مکۃ شرفھا الله تعالی ان ماکان فی کتابی من حدیث فیہ وھن شدید فقدبینتہ ومنہ مالایصح سندہ ومالم اذکر فیہ شیئا فھو صالح وبعضھا اصح من بعض اھ۔
والصحیح ماافادہ الامام الحافظ ان لفظ صالح فی کلامہ اعم من ان یکون للاحتجاج اوللاعتبار فما ارتقی الی الصحۃ ثم الی الحسن فھو بالمعنی الاول وماعداھما فھو بالمعنی الثانی وماقصر عن ذلك فھو الذی فیہ ومن شدید اھ وھذا الذی یشھدبہ
رد کردے یہ فتح المغیث میں مذکور ہے باقی رہیں محدثین کی تصنیفات تو اگر آپ امثال الکتب بخاری ومسلم اور ترمذی تینوں کتابوں کو سے تجاوز کریں جنہوں نے صحت وبیان کا التزام کرر رکھا ہے تو آپ اکثر مسانید معاجیم سنن جوامع اور اجزا کے ہر باب میں ہر قسم کی احادیث بغیر بیان کے پائیں گے اس بات کا انکار جاہل یا متجاہل ہی کرسکتا ہے اور اگر کوئی دعوی کرے کہ محدثین کے ہاں یہ جائز نہیں تو یہ ان کی طرف ایسی بات کی نسبت کرنا ہے جس سے لازم آتا ہے کہ ایسا عمل کرتے ہیں جسے وہ جائز نہ سمجھتے تھے اور اگر کوئی یہ زعم رکھتا ہوکہ وہ ایسا نہیں کرتے تو ان کا عمل اس کے برخلاف خود شاہد ہے امام ابوداؤد کو ہی لیجئے ان کے لئے حدیث اسی طرح آسان کردی گئی جس طرح حضرت داؤد علیہ السلام کے لئے لوہا نرم ہوجاتا تھا اہل مکہ “ شرفہا الله تعالی “ کی طرف خط میں لکھا : میری کتاب (سنن ابی داؤد) میں جن بعض احادیث کے اندر نہایت سخت قسم کا ضعف ہے اس کو میں نے بیان کردیا ہے اور بعض ایسی ہیں کہ ان کی سند صحیح نہیں اور جس کے بارے میں میں کچھ ذکر نہ کروں وہ استدلال کے لئے صالح ہیں اور بعض احادیث دوسری بعض کے اعتبار سے اصح ہیں اھ۔ اور صحیح وہ ہے جس کا امام حافظ نے افادہ فرمایا ہے کہ ابوداؤد کے کلام میں لفظ صالح استدلال اور اعتبار دونوں کو شامل ہے پس جو حدیث صحت پھر حسن کے درجہ پر پہنچے وہ معنی اول کے لحاظ سے صالح ہے
والصحیح ماافادہ الامام الحافظ ان لفظ صالح فی کلامہ اعم من ان یکون للاحتجاج اوللاعتبار فما ارتقی الی الصحۃ ثم الی الحسن فھو بالمعنی الاول وماعداھما فھو بالمعنی الثانی وماقصر عن ذلك فھو الذی فیہ ومن شدید اھ وھذا الذی یشھدبہ
رد کردے یہ فتح المغیث میں مذکور ہے باقی رہیں محدثین کی تصنیفات تو اگر آپ امثال الکتب بخاری ومسلم اور ترمذی تینوں کتابوں کو سے تجاوز کریں جنہوں نے صحت وبیان کا التزام کرر رکھا ہے تو آپ اکثر مسانید معاجیم سنن جوامع اور اجزا کے ہر باب میں ہر قسم کی احادیث بغیر بیان کے پائیں گے اس بات کا انکار جاہل یا متجاہل ہی کرسکتا ہے اور اگر کوئی دعوی کرے کہ محدثین کے ہاں یہ جائز نہیں تو یہ ان کی طرف ایسی بات کی نسبت کرنا ہے جس سے لازم آتا ہے کہ ایسا عمل کرتے ہیں جسے وہ جائز نہ سمجھتے تھے اور اگر کوئی یہ زعم رکھتا ہوکہ وہ ایسا نہیں کرتے تو ان کا عمل اس کے برخلاف خود شاہد ہے امام ابوداؤد کو ہی لیجئے ان کے لئے حدیث اسی طرح آسان کردی گئی جس طرح حضرت داؤد علیہ السلام کے لئے لوہا نرم ہوجاتا تھا اہل مکہ “ شرفہا الله تعالی “ کی طرف خط میں لکھا : میری کتاب (سنن ابی داؤد) میں جن بعض احادیث کے اندر نہایت سخت قسم کا ضعف ہے اس کو میں نے بیان کردیا ہے اور بعض ایسی ہیں کہ ان کی سند صحیح نہیں اور جس کے بارے میں میں کچھ ذکر نہ کروں وہ استدلال کے لئے صالح ہیں اور بعض احادیث دوسری بعض کے اعتبار سے اصح ہیں اھ۔ اور صحیح وہ ہے جس کا امام حافظ نے افادہ فرمایا ہے کہ ابوداؤد کے کلام میں لفظ صالح استدلال اور اعتبار دونوں کو شامل ہے پس جو حدیث صحت پھر حسن کے درجہ پر پہنچے وہ معنی اول کے لحاظ سے صالح ہے
حوالہ / References
مقدمہ سنن ابی داؤد ، فصل ثانی آفتاب عالم پریس لاہور ص۴
ارشاد الساری بحوالہ حافظ ابن حضر مقدمہ کتاب دارالکتاب العربی بیروت ۱ / ۸
ارشاد الساری بحوالہ حافظ ابن حضر مقدمہ کتاب دارالکتاب العربی بیروت ۱ / ۸
الواقع فعلیك بہ وان قیل وقیل عــــہ۔ وقدنقل عن اعلام سیرا النبلاء للذھبی ان ماضعف اسنادہ لنقص
اور جو ان دونوں کے علاوہ ہے وہ معنی ثانی کے لحاظ سے صالح ہے اور جو اس سے بھی کم درجہ پر ہے وہ ایسی ہوگی جس میں ضعف شدید ہے اھ نفس الامر اس پر شاہد ہے اور تجھ پر یہی لازم ہے اگرچہ قبل کے طور پر کیا گیا ہے۔
عــــہ : اواخر القسم الثانی الحسن ۱۲ منہ (م)
عــــہ : ای قیل حسن عندہ واختارہ الامام المنذری وبہ جزم ابن الصلاح فی مقدمتہ وتبعہ الامام النووی فی التقریب ای وقد لایکون حسنا عندغیرہ کمافی ابن الصلاح وقیل صحیح عندہ ومشی علیہ الامام الزیلعی فی نصب الرایۃ عنہ ذکر حدیث القلتین وتبعہ العلامہ حلبی فی الغنیۃ فی فصل فے التوافل وکذلك یقال ھھنا انہ قدلایصح عند غیرہ بل ولایحسن واما الامام ابن الھمام فی الفتح اھل الکتاب وتلمیذہ فی الحلیۃ قبیل صفۃ الصلاۃ فاقتصرا علی الحجیۃ وھی تشملھما فیقرب من قول من قال حسن وھذا الذی ذکرہ الحافظ وتبعہ فیہ العلامۃ القسطلانی فی مقدمۃ الارشاد وختم الحفاظ فی التدریب فی فروع فی الحسن قال لکن ذکر ابن کثیر انہ روی عنہ ماسکت عنہ فھو حسن فان صح ذلك فلااشکال اھ اقول : لقائل ان یقول ان للحسن اطلاقات وان القدماء قل ماذکروہ وانما الترمذی ھو الذی شھرہ وامرہ فاید ربنا انہ ان صح عنہ ذلك لم یرد بہ الاھذا لا الذی استقر علیہ الاصطلاح فافھم والله تعالی اعلم ۱۲ منہ (م)
یعنی بعض نے کہا کہ اس کے نزدیك وہ حسن ہے اسے امام منذری نے اختیار کیا اسی پر ابن صلاح نے مقدمہ میں جزم کیا اور امام نووی نے تقریب میں اسی کی اتباع کی یعنی کبھی اس کے غیر کے ہاں وہ حسن نہیں ہوتی جیسے کہ مقدمہ ابن صلاح میں ہے اور بعض نے کہا کہ اس کے نزدیك وہ صحیح ہے امام زیلعی نصب الرایہ میں قلتین والی حدیث کے ذکر میں اسی پر چلے ہیں ۔ اور علامہ حلبی نے غنیۃ المستملی کی فصل فی النوافل میں اسی کی اتباع کی ہے اور اسی طرح یہاں کہا جائے گا یعنی کبھی اس کے غیر کے ہاں وہ صحیح نہیں بلکہ حسن بھی نہیں ہوتی۔ امام ابن ہمام نے فتح القدیر ابتدائے کتاب میں اور ان کے شاگرد نے حلیۃ المحلی میں صفۃ الصلوۃ سے تھوڑا پہلے اس کے صحیح ہونے پر اقتصار کیا ہے اور یہ بات ان دونوں اقوال کو شامل ہے پس یہ اس کے قول کے قریب ہے جس نے کہا وہ حسن ہے یہ وہ ہے جس کا ذکر حافظ نے کیا ہے اور مقدمہ ارشاد الساری میں علامہ قسطلانی نے اسی کی اتباع کی ہے اور تدریب میں خاتم الحفاظ نے بیان فروع فی الحسن لیکن ابن کثیر نے کہا کہ ان سے ہے کہ جس پر انہوں نے سکوت کیا وہ حسن ہے۔ پس اگر یہ صحیح ہوتو کوئی اشکال باقی نہیں رہتا اھ اقول : (میں کہتا ہوں ) کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ حسن کے تو مختلف اطلاقات ہیں بہت کم قدماء نے اس کا ذکر کیا ہے صرف امام ترمذی نے اس کو شہرت دی اور اس کا اجراء کیا پس الله رب العزت نے ہماری تائید فرمائی کہ اگر ان سے یہ بات صحت کے ساتھ ثابت ہوجائے تو انہوں نے اس سے یہی مراد لی ہے نہ وہ جس پر اصطلاح قائم ہوچکی ہے والله تعالی اعلم ۱۲ منہ (ت)
اور جو ان دونوں کے علاوہ ہے وہ معنی ثانی کے لحاظ سے صالح ہے اور جو اس سے بھی کم درجہ پر ہے وہ ایسی ہوگی جس میں ضعف شدید ہے اھ نفس الامر اس پر شاہد ہے اور تجھ پر یہی لازم ہے اگرچہ قبل کے طور پر کیا گیا ہے۔
عــــہ : اواخر القسم الثانی الحسن ۱۲ منہ (م)
عــــہ : ای قیل حسن عندہ واختارہ الامام المنذری وبہ جزم ابن الصلاح فی مقدمتہ وتبعہ الامام النووی فی التقریب ای وقد لایکون حسنا عندغیرہ کمافی ابن الصلاح وقیل صحیح عندہ ومشی علیہ الامام الزیلعی فی نصب الرایۃ عنہ ذکر حدیث القلتین وتبعہ العلامہ حلبی فی الغنیۃ فی فصل فے التوافل وکذلك یقال ھھنا انہ قدلایصح عند غیرہ بل ولایحسن واما الامام ابن الھمام فی الفتح اھل الکتاب وتلمیذہ فی الحلیۃ قبیل صفۃ الصلاۃ فاقتصرا علی الحجیۃ وھی تشملھما فیقرب من قول من قال حسن وھذا الذی ذکرہ الحافظ وتبعہ فیہ العلامۃ القسطلانی فی مقدمۃ الارشاد وختم الحفاظ فی التدریب فی فروع فی الحسن قال لکن ذکر ابن کثیر انہ روی عنہ ماسکت عنہ فھو حسن فان صح ذلك فلااشکال اھ اقول : لقائل ان یقول ان للحسن اطلاقات وان القدماء قل ماذکروہ وانما الترمذی ھو الذی شھرہ وامرہ فاید ربنا انہ ان صح عنہ ذلك لم یرد بہ الاھذا لا الذی استقر علیہ الاصطلاح فافھم والله تعالی اعلم ۱۲ منہ (م)
یعنی بعض نے کہا کہ اس کے نزدیك وہ حسن ہے اسے امام منذری نے اختیار کیا اسی پر ابن صلاح نے مقدمہ میں جزم کیا اور امام نووی نے تقریب میں اسی کی اتباع کی یعنی کبھی اس کے غیر کے ہاں وہ حسن نہیں ہوتی جیسے کہ مقدمہ ابن صلاح میں ہے اور بعض نے کہا کہ اس کے نزدیك وہ صحیح ہے امام زیلعی نصب الرایہ میں قلتین والی حدیث کے ذکر میں اسی پر چلے ہیں ۔ اور علامہ حلبی نے غنیۃ المستملی کی فصل فی النوافل میں اسی کی اتباع کی ہے اور اسی طرح یہاں کہا جائے گا یعنی کبھی اس کے غیر کے ہاں وہ صحیح نہیں بلکہ حسن بھی نہیں ہوتی۔ امام ابن ہمام نے فتح القدیر ابتدائے کتاب میں اور ان کے شاگرد نے حلیۃ المحلی میں صفۃ الصلوۃ سے تھوڑا پہلے اس کے صحیح ہونے پر اقتصار کیا ہے اور یہ بات ان دونوں اقوال کو شامل ہے پس یہ اس کے قول کے قریب ہے جس نے کہا وہ حسن ہے یہ وہ ہے جس کا ذکر حافظ نے کیا ہے اور مقدمہ ارشاد الساری میں علامہ قسطلانی نے اسی کی اتباع کی ہے اور تدریب میں خاتم الحفاظ نے بیان فروع فی الحسن لیکن ابن کثیر نے کہا کہ ان سے ہے کہ جس پر انہوں نے سکوت کیا وہ حسن ہے۔ پس اگر یہ صحیح ہوتو کوئی اشکال باقی نہیں رہتا اھ اقول : (میں کہتا ہوں ) کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ حسن کے تو مختلف اطلاقات ہیں بہت کم قدماء نے اس کا ذکر کیا ہے صرف امام ترمذی نے اس کو شہرت دی اور اس کا اجراء کیا پس الله رب العزت نے ہماری تائید فرمائی کہ اگر ان سے یہ بات صحت کے ساتھ ثابت ہوجائے تو انہوں نے اس سے یہی مراد لی ہے نہ وہ جس پر اصطلاح قائم ہوچکی ہے والله تعالی اعلم ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
تدریب الراوی شرح تقریب النووی فروع فی الحسن دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱ / ۱۶۸
حفظ اوید فمثل ھذا یسکت عنہ ابوداود غالبا الخ۔ ومعلوم ان کتاب ابی داؤد انما موضوعہ الاحکام وقدقال فی رسالتہ انمالم اصنف فی کتاب السنن الا الاحکام ولم اصنف فی الزھد وفضائل الاعمال وغیرھا الخ۔ وقال الشمس محمدن السخاوی فی فتح المغیث اما حمل ابن سید الناس فی شرحہ الترمذی قول السلفی علی مالم یقع التصریح فیہ من مخرجھا وغیرہ بالضعف فیقتضی کما قال الشارح فی الکبیر ان ماکان فی الکتب الخمسۃ مسکونا عنہ ولم یصرح بضعفہ ان یکون صحیحا ولیس ھذا الاطلاق صحیحا بل فی کتب السنن احادیث لم یتکلم فیھا الترمذی او ابوداود ولم ینجد لغیرھم فیھا کلاما ومع ذلك فھی ضعیفۃ اھ۔ وقال فی المرقاۃ الحق ان فیہ “ ای فی مسند الامام لمحمد رضی الله تعالی عنہ “ احادیث کثیرۃ ضعیفۃ وبعضھا اشد فی الضعف من بعض الخ۔ ونقل بعیدہ عن شیخ الاسلام الحافط انہ قال لیست الاحادیث الزائدۃ فیہ علی مافی الصحیحین باکثر ضعفا من الاحادیث الزائدۃ فی سنن ابی داؤد والترمذی علیھا وبالجملۃ فالسبیل واحد فمن اراد الاحتجاج بحدیث من السنن لاسیما سنن ابن ماجۃ ومصنف ابن ابی شیبۃ وعبدالرزاق مما الامر فیہ اشد او بحدیث من المسانید لان ھذہ کلھا لم یشترط جامعوھا الصحۃ والحسن وتلك السبیل ان المحتج انکان اھلا للنقل والتصحیح فلیس ببلہ ان یحتج بشیئ من القسمین حتی یحیط بہ وان لم یکن اھلا لذلك فان وجد اھلا لتصحیح اوتحسین قلدہ والا فلایقدم علی الاحتجاج فیکون کحاطب لیل فلعہ یحتج بالباطل وھو لایشعر اھ۔
اور امام ذہبی کی اعلام سیر النبلا سے منقول ہے کہ جس حدیث کی سند ضعیف اس کے راوی کا حفظ ناقص ہونے کی وجہ سے ہوتو ایسی حدیث کے بارے میں ابوداؤد سکوت اختیار کرتے ہیں الخ۔ اور یہ بات معلوم ہے کہ ابوداؤد شریف کا موضوع احکام ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے رسالہ میں یہ بات کہی ہے میں نے یہ کتاب احکام ہی کے لئے لکھی ہے زہد اور فضائل اعمال وغیرہ کے لئے نہیں الخ۔ اور شمس محمد سخاوی نے فتح المغیث میں بیان کیا ہے کہ ابن سید الناس نے اپنی شرح ترمذی نے قول سلفی کو ایسی حدیث پر محمول کیا ہے جس کے بارے میں اس کے مخرج وغیرہ کی ضعف کے ساتھ تصریح واقع نہیں ہوئی۔ پس اس کا تقاضا ہے جیسا کہ شارح نے کبیر میں کہا کہ کتب خمسہ میں جس حدیث پر سکوت اختیار کیا گیا ہو اور اس کے ضعف کی تصریح نہ کی گئی ہو وہ صحیح ہوگی حالانکہ یہ اطلاق صحیح نہیں کیونکہ کتب سنن میں ایسی احادیث موجود ہیں جن پر ترمذی یا ابوداؤد نے کلام نہیں کیا اور نہ ہی کسی غیر نے ہمارے علم کے مطابق ان میں گفتگو کی ہے اسکے باوجود وہ احادیث ضعیف ہیں اھ۔ اور مرقات میں فرمایا : حق یہ ہے کہ اس یعنی مسند احمد رضی اللہ تعالی عنہمیں بہت سی احادیث ایسی ہیں جو ضعیف ہیں اور بعض دوسری بعض کے اعتبار سے زیادہ ضعیف ہیں الخ۔ اور تھوڑا سا اس کے بعد شیخ الاسلام حافظ سے نقل کیا کہا کہ اس میں (یعنی مسند احمد بن حنبل میں صحیحین پر جو زائد احادیث
اور امام ذہبی کی اعلام سیر النبلا سے منقول ہے کہ جس حدیث کی سند ضعیف اس کے راوی کا حفظ ناقص ہونے کی وجہ سے ہوتو ایسی حدیث کے بارے میں ابوداؤد سکوت اختیار کرتے ہیں الخ۔ اور یہ بات معلوم ہے کہ ابوداؤد شریف کا موضوع احکام ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے رسالہ میں یہ بات کہی ہے میں نے یہ کتاب احکام ہی کے لئے لکھی ہے زہد اور فضائل اعمال وغیرہ کے لئے نہیں الخ۔ اور شمس محمد سخاوی نے فتح المغیث میں بیان کیا ہے کہ ابن سید الناس نے اپنی شرح ترمذی نے قول سلفی کو ایسی حدیث پر محمول کیا ہے جس کے بارے میں اس کے مخرج وغیرہ کی ضعف کے ساتھ تصریح واقع نہیں ہوئی۔ پس اس کا تقاضا ہے جیسا کہ شارح نے کبیر میں کہا کہ کتب خمسہ میں جس حدیث پر سکوت اختیار کیا گیا ہو اور اس کے ضعف کی تصریح نہ کی گئی ہو وہ صحیح ہوگی حالانکہ یہ اطلاق صحیح نہیں کیونکہ کتب سنن میں ایسی احادیث موجود ہیں جن پر ترمذی یا ابوداؤد نے کلام نہیں کیا اور نہ ہی کسی غیر نے ہمارے علم کے مطابق ان میں گفتگو کی ہے اسکے باوجود وہ احادیث ضعیف ہیں اھ۔ اور مرقات میں فرمایا : حق یہ ہے کہ اس یعنی مسند احمد رضی اللہ تعالی عنہمیں بہت سی احادیث ایسی ہیں جو ضعیف ہیں اور بعض دوسری بعض کے اعتبار سے زیادہ ضعیف ہیں الخ۔ اور تھوڑا سا اس کے بعد شیخ الاسلام حافظ سے نقل کیا کہا کہ اس میں (یعنی مسند احمد بن حنبل میں صحیحین پر جو زائد احادیث
حوالہ / References
سیر اعلام النبلاء ترجمہ نمبر ۱۱۷ ابوداؤد بن اشعت مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۳ / ۲۱۴
رسالہ مع سنن ابی داؤد الفصل الثانی فی الامور التی تعلق بالکتاب مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۵
فتح المغیث شرح الفیۃ الحدیث للسخاوی القسم الثانی الحسن دارالامام الطبری بیروت ۱ / ۱۰۰ و ۱۰۱
مرقات شرح مشکوٰۃ المصابیح شرط البخاری ومسلم الذی التزماہ الخ مطبوہع مکتبہ امداد ملتان ۱ / ۲۳
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ المصابیح شرط البخاری ومسلم الذی التزماہ الخ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۲۳
رسالہ مع سنن ابی داؤد الفصل الثانی فی الامور التی تعلق بالکتاب مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۵
فتح المغیث شرح الفیۃ الحدیث للسخاوی القسم الثانی الحسن دارالامام الطبری بیروت ۱ / ۱۰۰ و ۱۰۱
مرقات شرح مشکوٰۃ المصابیح شرط البخاری ومسلم الذی التزماہ الخ مطبوہع مکتبہ امداد ملتان ۱ / ۲۳
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ المصابیح شرط البخاری ومسلم الذی التزماہ الخ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۲۳
وقال الامام عثمن الشھرزوری فی علوم الحدیث حکی ابوعبدالله بن مندۃ الحافظ انہ سمع محمد بن سعد الباوردی بمصر یقول کان من مذہب ابی عبدالرحمن النسائی ان یخرج عن کل من لم یجمع علی ترکہ وقال ابن مندۃ وکذلك ابوداؤد السجستانی یاخذ ماخذہ ویخرج الاسناد الضعیف اذالم یجد فی الباب وغیرہ لانہ اقوی عندہ من رای الرجال اھ وفیھا بعیدہ ثم
ہیں وہ سنن ابی داؤد اور ترمذی میں صحیحین پر زائد احادیث سے زیادہ ضعیف نہیں ہیں ۔ الغرض راستہ ایك ہی ہے اس شخص کے لئے جو احادیث سنن سے استدلال کرنا چاہتا ہے خصوصا سنن ابن ماجہ مصنف ابن ابی شیبہ اور مصنف عبدالرزاق۔ کیونکہ ان میں بعض کا معاملہ سخت ہے یا استدلال ان احادیث سے جو مسانید میں ہیں کیونکہ ان کے جامعین نے صحت وحسن کی کوئی شرط نہیں رکھی اور وہ راستہ یہ ہے کہ استدلال کرنے والا اگر نقل وتصحیح کا اہل ہے تو اس کے لئے ان سے استدلال کرنا اس وقت درست ہوگا جب ہر لحاظ سے دیکھ پرکھ لے اور اگر وہ اس بات کا اہل نہیں تو اگر ایسا شخص پائے جو تصحیح وتحسین کا اہل ہے تو اس کی تقلید کرے اور اگر ایسا شخص نہ پائے تو وہ استدلال کے لئے قدم نہ اٹھائے ورنہ وہ رات کو لکڑیاں اکٹھی کرنے والے کی طرح ہوگا ہوسکتا ہے وہ باطل کے ساتھ استدلال کرلے اور اسے اس کا شعور نہ ہو اھ۔
اور امام عثمان شہرزوری نے علوم الحدیث میں فرمایا : ابوعبدالله بن مندہ حافظ نے بیان کیا کہ انہوں نے مصر میں محمد بن سعد باروردی سے یہ کہتے ہوئے سنا “ ابوعبدالرحمن نسائی کا مذہب یہ ہے کہ ہر اس شخص سے حدیث کی تخریج کرتے ہیں جس کے ترك پر اجماع نہ ہو اور ابن مندہ نے کہا اسی طرح ابوداؤد سجستانی اس کے ماخذ کو لیتے اور سند ضعیف کی تخریج کرتے ہیں جبکہ اس باب میں اس کے علاوہ کوئی دوسری حدیث موجود نہ ہو کیونکہ ان کے نزدیك وہ لوگوں کی
ہیں وہ سنن ابی داؤد اور ترمذی میں صحیحین پر زائد احادیث سے زیادہ ضعیف نہیں ہیں ۔ الغرض راستہ ایك ہی ہے اس شخص کے لئے جو احادیث سنن سے استدلال کرنا چاہتا ہے خصوصا سنن ابن ماجہ مصنف ابن ابی شیبہ اور مصنف عبدالرزاق۔ کیونکہ ان میں بعض کا معاملہ سخت ہے یا استدلال ان احادیث سے جو مسانید میں ہیں کیونکہ ان کے جامعین نے صحت وحسن کی کوئی شرط نہیں رکھی اور وہ راستہ یہ ہے کہ استدلال کرنے والا اگر نقل وتصحیح کا اہل ہے تو اس کے لئے ان سے استدلال کرنا اس وقت درست ہوگا جب ہر لحاظ سے دیکھ پرکھ لے اور اگر وہ اس بات کا اہل نہیں تو اگر ایسا شخص پائے جو تصحیح وتحسین کا اہل ہے تو اس کی تقلید کرے اور اگر ایسا شخص نہ پائے تو وہ استدلال کے لئے قدم نہ اٹھائے ورنہ وہ رات کو لکڑیاں اکٹھی کرنے والے کی طرح ہوگا ہوسکتا ہے وہ باطل کے ساتھ استدلال کرلے اور اسے اس کا شعور نہ ہو اھ۔
اور امام عثمان شہرزوری نے علوم الحدیث میں فرمایا : ابوعبدالله بن مندہ حافظ نے بیان کیا کہ انہوں نے مصر میں محمد بن سعد باروردی سے یہ کہتے ہوئے سنا “ ابوعبدالرحمن نسائی کا مذہب یہ ہے کہ ہر اس شخص سے حدیث کی تخریج کرتے ہیں جس کے ترك پر اجماع نہ ہو اور ابن مندہ نے کہا اسی طرح ابوداؤد سجستانی اس کے ماخذ کو لیتے اور سند ضعیف کی تخریج کرتے ہیں جبکہ اس باب میں اس کے علاوہ کوئی دوسری حدیث موجود نہ ہو کیونکہ ان کے نزدیك وہ لوگوں کی
حوالہ / References
مقدمۃ ابن الصلاح النوع الثانی فی معرفۃ الحسن مطبوعہ فاروقی کتب خانہ ملتان ص۱۸
فی التقریب والتدریب وھذا لفظھا ملخصا۔ اما مسند الامام احمد بن حنبل وابی داؤد الطیالسی وغیرھما من المسانید کمسند عبیدالله بن موسی واسحق بن راھویہ والدارمی وعبدبن حمید وابویعلی الموصلی والحسن بن سفین وابی بکر ن البزار فھؤلاء عادتھم ان یخرجوا فی مسند کل صحابی ماورد من حدیثہ غیر مقیدین بان یکون محتجا بہ اولا الخ وفیہ اعنی التدریب قیل ومسند البزار یبین فیہ الصحیح من غیرہ قال العراقی ولم یفعل ذلك الا قلیلا وفی البنایۃ عــــہ۱ شرح الھدایۃ للعلامۃ الامام البدر العینی الدارقطنی کتابہ مملومن الاحادیث الضعیفۃ والشاذۃ والمعللۃ وکم فیہ من حدیث لایوجد فی غیرہ اھ وذکر اشد منہ للخطیب ونحوہ للبیہقی۔ وفی فتح المغیث عــــہ۲ یقع ایضا فی صحیح ابی عوانۃ الذی عملہ مستخرجا علی مسلم احادیث
رائے وقیاس سے قوی ہے اھ اور اس میں تھوڑا سا بعد میں ہے پھر تدریب وتقریب میں ہے اور یہ الفاظ ملخصا ان دونوں کے ہیں مسند امام احمد بن حنبل ابوداؤد طیالسی اور ان کے علاوہ دیگر مسانید مثلا مسند عبیدالله بن موسی مسند اسحق بن راہویہ مسند دارمی مسند عبد بن حمید مسند ابویعلی موصلی مسند حسن بن سفیان مسند ابوبکر بزار ان تمام کا طریقہ یہی ہے کہ مسند میں ہر صحابی سے مروی حدیث بیان کردیتے ہیں اس قید سے بالاتر ہوکر کہ یہ قابل استدلال ہے یا نہیں الخ اور اس یعنی تدریب میں ہے کہ بیان کیا گیا ہے کہ مسند بزاار وہ ہے جس میں احادیث صحیحہ کو غیر صحیحہ سے جدا بیان کیا جاتا ہے۔ عراقی کہتے ہیں کہ ایسا انہوں نے بہت کم کیا ہے۔ امام بدرالدین عینی نے بنایہ شرح ہدایہ میں تصریح کی ہے کہ دارقطنی کتاب احادیث ضعیفہ شاذہ اور معلله سے پر ہے اور بہت سی احادیث اس میں ایسی ہیں جو اس کے غیر میں نہیں پائی جاتیں اھ اور خطیب کے لئے اس سے بڑھ کر شدت کا ذکر ہے اور اسی کی مثل بہیقی کے لئے ہے۔ اور فتح المغیث میں ہے کہ صحیح ابو عوانہ جو مسلم پر احادیث کا
عــــہ ۱ : فی مسئلۃ الجھر فی البسملۃ ۱۲ منہ (م)
عــــہ ۲ : فی الصحیح الزائد علی الصحیحین۔ (م)
بسم الله کو جہرا پڑھنے کے مسئلہ میں اس کو ذکر کیا ہے (ت)
صحیحین پر زائد صحیح کے بیان میں اسے ذکر کیا ہے (ت)
رائے وقیاس سے قوی ہے اھ اور اس میں تھوڑا سا بعد میں ہے پھر تدریب وتقریب میں ہے اور یہ الفاظ ملخصا ان دونوں کے ہیں مسند امام احمد بن حنبل ابوداؤد طیالسی اور ان کے علاوہ دیگر مسانید مثلا مسند عبیدالله بن موسی مسند اسحق بن راہویہ مسند دارمی مسند عبد بن حمید مسند ابویعلی موصلی مسند حسن بن سفیان مسند ابوبکر بزار ان تمام کا طریقہ یہی ہے کہ مسند میں ہر صحابی سے مروی حدیث بیان کردیتے ہیں اس قید سے بالاتر ہوکر کہ یہ قابل استدلال ہے یا نہیں الخ اور اس یعنی تدریب میں ہے کہ بیان کیا گیا ہے کہ مسند بزاار وہ ہے جس میں احادیث صحیحہ کو غیر صحیحہ سے جدا بیان کیا جاتا ہے۔ عراقی کہتے ہیں کہ ایسا انہوں نے بہت کم کیا ہے۔ امام بدرالدین عینی نے بنایہ شرح ہدایہ میں تصریح کی ہے کہ دارقطنی کتاب احادیث ضعیفہ شاذہ اور معلله سے پر ہے اور بہت سی احادیث اس میں ایسی ہیں جو اس کے غیر میں نہیں پائی جاتیں اھ اور خطیب کے لئے اس سے بڑھ کر شدت کا ذکر ہے اور اسی کی مثل بہیقی کے لئے ہے۔ اور فتح المغیث میں ہے کہ صحیح ابو عوانہ جو مسلم پر احادیث کا
عــــہ ۱ : فی مسئلۃ الجھر فی البسملۃ ۱۲ منہ (م)
عــــہ ۲ : فی الصحیح الزائد علی الصحیحین۔ (م)
بسم الله کو جہرا پڑھنے کے مسئلہ میں اس کو ذکر کیا ہے (ت)
صحیحین پر زائد صحیح کے بیان میں اسے ذکر کیا ہے (ت)
حوالہ / References
تدریب الراوی شرح التقریب النواوی مرتبۃ المسانید من الصحۃ مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱ / ۱۷۱
تدریب الراوی شرح التقریب النواوی اول من صنف مسندا مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱ / ۱۷۴
البنایۃ شرح الہدایۃ باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ ملك سنز کارخانہ بازار فیصل آباد ۱ / ۶۲۸
تدریب الراوی شرح التقریب النواوی اول من صنف مسندا مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱ / ۱۷۴
البنایۃ شرح الہدایۃ باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ ملك سنز کارخانہ بازار فیصل آباد ۱ / ۶۲۸
کثیرۃ زائدۃ علی اصلہ وفیھا الصحیح والحسن بل والضعیف ایضا فینبغی التحرز فی الحکم علیھا ایضا اھ نصوص العلماء فی ھذا الباب کثیرۃ جدا وما اوردنا کاف فی ابانۃ ماقصدنا وبالجملۃ فروایتھم الضعاف من دون بیان فی کل باب وان لم یوجد الصحیح معلوم مقرر لا یرد ولاینکر وانما اطنبنا ھھنا لماشممنا خلافہ من کلمات بعض الجلۃ والحمد لله علی کشف الغمۃ وتبثیت القدم فی الزلۃ فاستبان ان لوکان المراد مازعم ھذا الذی نقلنا قولہ لکانت التفرقۃ بین الاحکام والضعاف قدانعدمت والمسألۃ الاجماعیۃ من اساسھا قدانھدمت ھذا وجہ ولك ان تسلك مسلك ارخاء العنان وتقول علی وجہ التشقق ان الحکم الذی رویت فیہ الضعاف مطلقۃ ھل یوجد فیہ صحیح ام لافان وجد فقد رووا الضعیف ساکتین فی الاحکام ایضا عند وجود الصحیح فاین الفرق وان لم یوجد فالامرا شد فان التجأ ملتج الی انھم یعدون سوق الاسانید من البیان ای فلم یوجد منھم روایۃ الضعاف فے الاحکام الامقرونۃ :
قلت اولا : ھذا شیئ قد یبدیہ بعض العلمآء عذرا ممن روی الموضوعات ساکتا علیھا ثم ھم لایقبلون قال الذھبی عــــہ۱ فی المیزان کلام ابن مندۃ فی ابی نعیم فظیع لا احب حکایتہ ولا اقبل قول کل منھما فی الآخر بل ھما عندی مقبولان لااعلم لھما ذنبا اکبر من روایتھما الموضوعات ساکتین عنھا اھ۔ وقدقال العراقی عــــہ۲ فی شرح الفیتہ ان من ابرز اسنادہ منھم فھو ابسط لعذرہ اذ أحال ناظرہ علی الکشف عن سندہ وان کان لایجوزلہ السکوت علیہ اھ۔
ثانیا : لایعھد منھم ایراد الاحادیث من ای باب کانت الامسندۃ فھذا البیان لم تنفك عنہ احادیث الفضائل ایضا فبماذا تساھلوا فی ھذا دون ذلک۔
استخراج کرتے ہوئے اصل پر بہت کچھ زائدہ احادیث نقل کی ہیں ان میں صحیح حسن بلکہ ضعیف بھی ہیں لہذا ان پر حکم لگانے سے خوب احتراز واحتیاط چاہے اھ علماء کی تصریحات اس معاملہ میں بہت زیادہ ہیں اور جو ہم نے نقل کردی ہیں ہمارے مقصود کو واضح کرنے کے لئے کافی ہیں الغرض محدثین نے ضعیف احادیث بغیر نشاندہی کے ہر مسئلہ میں ذکر کی ہیں اگرچہ اس مسئلہ میں کوئی صحیح حدیث نہ پائی گئی ہو اور یہ بات معلوم ومسلم ہے نہ اسے رد کیا جاسکتا ہے اور نہ اس کا انکار ممکن ہے۔ ہم نے یہ طویل گفتگو اس لئے کردی ہے کہ بعض بزرگوں کے کلام سے ہم نے اس کے خلاف محسوس کیا تھا۔ الله تعالی کے لئے ہی حمد ہے جس نے تاریکی دور کردی اور پھسلنے کے مقام پر ثابت قدم رکھا پس اب یہ بات واضح ہوگئی کہ اگر ان کی مراد وہی ہے جو ہم نے ان کا قول نقل کیا تو پھر احکام اور ضعاف کے درمیان تفریق ختم ہوگی اور اجماعی مسئلہ کی بنیاد منہدم ہوگئی ایك تو یہ توجیہ ہے اور ایك دوسری آسان راہ اختیار کرتے ہوئے علی وجہ التشقق یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ حکم جس کے بارے میں مطلقا ضعیف حدیثیں مروی ہوں دیکھا جائیگا اس میں کوئی صحیح حدیث پائی جاتی ہے انہیں اگر حدیث صحیح پائی جائے تو لازم آیا کہ انہوں نے حدیث ضعیف احکام میں بھی صحیح کے ہوتے ہوئے سکوتا روایت کی ہے تو اب فرق کہاں ہے اور اگر موجود نہ ہوتو معاملہ اس سے بھی زیادہ شدید ہے اگر معترض یہ کہہ دے کہ محدثین سوق سند کو ہی بیان
قلت اولا : ھذا شیئ قد یبدیہ بعض العلمآء عذرا ممن روی الموضوعات ساکتا علیھا ثم ھم لایقبلون قال الذھبی عــــہ۱ فی المیزان کلام ابن مندۃ فی ابی نعیم فظیع لا احب حکایتہ ولا اقبل قول کل منھما فی الآخر بل ھما عندی مقبولان لااعلم لھما ذنبا اکبر من روایتھما الموضوعات ساکتین عنھا اھ۔ وقدقال العراقی عــــہ۲ فی شرح الفیتہ ان من ابرز اسنادہ منھم فھو ابسط لعذرہ اذ أحال ناظرہ علی الکشف عن سندہ وان کان لایجوزلہ السکوت علیہ اھ۔
ثانیا : لایعھد منھم ایراد الاحادیث من ای باب کانت الامسندۃ فھذا البیان لم تنفك عنہ احادیث الفضائل ایضا فبماذا تساھلوا فی ھذا دون ذلک۔
استخراج کرتے ہوئے اصل پر بہت کچھ زائدہ احادیث نقل کی ہیں ان میں صحیح حسن بلکہ ضعیف بھی ہیں لہذا ان پر حکم لگانے سے خوب احتراز واحتیاط چاہے اھ علماء کی تصریحات اس معاملہ میں بہت زیادہ ہیں اور جو ہم نے نقل کردی ہیں ہمارے مقصود کو واضح کرنے کے لئے کافی ہیں الغرض محدثین نے ضعیف احادیث بغیر نشاندہی کے ہر مسئلہ میں ذکر کی ہیں اگرچہ اس مسئلہ میں کوئی صحیح حدیث نہ پائی گئی ہو اور یہ بات معلوم ومسلم ہے نہ اسے رد کیا جاسکتا ہے اور نہ اس کا انکار ممکن ہے۔ ہم نے یہ طویل گفتگو اس لئے کردی ہے کہ بعض بزرگوں کے کلام سے ہم نے اس کے خلاف محسوس کیا تھا۔ الله تعالی کے لئے ہی حمد ہے جس نے تاریکی دور کردی اور پھسلنے کے مقام پر ثابت قدم رکھا پس اب یہ بات واضح ہوگئی کہ اگر ان کی مراد وہی ہے جو ہم نے ان کا قول نقل کیا تو پھر احکام اور ضعاف کے درمیان تفریق ختم ہوگی اور اجماعی مسئلہ کی بنیاد منہدم ہوگئی ایك تو یہ توجیہ ہے اور ایك دوسری آسان راہ اختیار کرتے ہوئے علی وجہ التشقق یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ حکم جس کے بارے میں مطلقا ضعیف حدیثیں مروی ہوں دیکھا جائیگا اس میں کوئی صحیح حدیث پائی جاتی ہے انہیں اگر حدیث صحیح پائی جائے تو لازم آیا کہ انہوں نے حدیث ضعیف احکام میں بھی صحیح کے ہوتے ہوئے سکوتا روایت کی ہے تو اب فرق کہاں ہے اور اگر موجود نہ ہوتو معاملہ اس سے بھی زیادہ شدید ہے اگر معترض یہ کہہ دے کہ محدثین سوق سند کو ہی بیان
حوالہ / References
فتح المغیث الصحیح الزائد علی الصحیحین دارالامام الطبری بیروت ۱ / ۴۳
میزان الاعتدال للذہبی ترجمہ نمبر ۴۳۸ احمد بن عبداللہ ابونعیم الخ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۱۱۱
تدریب الراوی شرح التقریب المعروفون بوضع الحدیث مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱ / ۲۸۹
میزان الاعتدال للذہبی ترجمہ نمبر ۴۳۸ احمد بن عبداللہ ابونعیم الخ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۱۱۱
تدریب الراوی شرح التقریب المعروفون بوضع الحدیث مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱ / ۲۸۹
قرار دیتے ہیں پس اس صورت میں احکام میں ضعیف حدیثوں کی روایت سکوتا نہ ہوگی بلکہ بیان کے ساتھ ہوگی تو اس کے جواب میں ـ :
میں کہتا ہوں اولا : یہ وہ چیز ہے جس کو بعض علماء نے ان لوگوں کی طرف سے عذر کے طور پر پیش کیا جو موضوعات کو سکوتا روایت کرتے ہیں پھر انہیں قبول نہیں کرتے۔ ذہبی نے میزان میں کہا کہ ابونعیم کے بارے میں ابن مندہ کا کلام نہایت ہی رکیك ہے میں اسے بیان کرنا بھی پسند نہیں کرتا اور میں ان دونوں کا کوئی قول ایك دوسرے کے بارے میں نہیں سنتا بلکہ یہ دونوں میرے نزدیك مقبول ہیں اور میں ان کا سب سے بڑا گناہ یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے روایات موضوعہ کو سکوتا روایت کیا ہے اور انکی نشان دہی نہیں کی اھ۔
عراقی نے شرح الفیہ میں کہا ہے کہ ان میں سے جس نے اپنی سند کو واضح کیا تو اس نے اپنا عذر طویل کیا کیونکہ اس طرح اس نے ناظر کو سند کے حال سے آگاہ کیا ہے اگرچہ اس کے لئے اس پر سکوت جائز نہ تھا اھ۔ ثانیا : ان کے ہاں ہر باب میں یہ معروف ہے کہ اس میں مسند احادیث لائی جائیں گی تو اس بیان سے احادیث فضائل بھی الگ نہیں پھر ان میں تساہل کیوں اور دوسری روایات میں نہ ہو۔
عــــہ ۱ : فی احمد بن عبدالله ۱۲ منہ (م)
عــــہ۲ : نقلہ فی التدریب نوع الموضوع قبیل التنبیھات ۱۲ منہ رضی الله عنہ (م)
احمد بن عبدالله کے ترجمہ میں ہے۔ (ت)
اس کو نقل کیا ہے تدریب میں نوع موضوع کے تحت تنبیہات سے کچھ پہلے۔ (ت)
میں کہتا ہوں اولا : یہ وہ چیز ہے جس کو بعض علماء نے ان لوگوں کی طرف سے عذر کے طور پر پیش کیا جو موضوعات کو سکوتا روایت کرتے ہیں پھر انہیں قبول نہیں کرتے۔ ذہبی نے میزان میں کہا کہ ابونعیم کے بارے میں ابن مندہ کا کلام نہایت ہی رکیك ہے میں اسے بیان کرنا بھی پسند نہیں کرتا اور میں ان دونوں کا کوئی قول ایك دوسرے کے بارے میں نہیں سنتا بلکہ یہ دونوں میرے نزدیك مقبول ہیں اور میں ان کا سب سے بڑا گناہ یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے روایات موضوعہ کو سکوتا روایت کیا ہے اور انکی نشان دہی نہیں کی اھ۔
عراقی نے شرح الفیہ میں کہا ہے کہ ان میں سے جس نے اپنی سند کو واضح کیا تو اس نے اپنا عذر طویل کیا کیونکہ اس طرح اس نے ناظر کو سند کے حال سے آگاہ کیا ہے اگرچہ اس کے لئے اس پر سکوت جائز نہ تھا اھ۔ ثانیا : ان کے ہاں ہر باب میں یہ معروف ہے کہ اس میں مسند احادیث لائی جائیں گی تو اس بیان سے احادیث فضائل بھی الگ نہیں پھر ان میں تساہل کیوں اور دوسری روایات میں نہ ہو۔
عــــہ ۱ : فی احمد بن عبدالله ۱۲ منہ (م)
عــــہ۲ : نقلہ فی التدریب نوع الموضوع قبیل التنبیھات ۱۲ منہ رضی الله عنہ (م)
احمد بن عبدالله کے ترجمہ میں ہے۔ (ت)
اس کو نقل کیا ہے تدریب میں نوع موضوع کے تحت تنبیہات سے کچھ پہلے۔ (ت)
ثالثا : لوکان الاسناد وھو البیان المراد لاستحال روایۃ شیئ من الاحادیث منفکا عن البیان فان الروایۃ لاتکون الا بالاسناد قال فی التدریب حقیقۃ الروایۃ نقل السنۃ ونحوھا واسناد ذلك الی من عزی الیہ بتحدیث واخبار وغیر ذلك اھ وقال عــــہ۱ الزرقانی تحت قول المواھب روی عبدالرزاق بسندہ الخ بسندہ ایضاح والافھو مدلول روی اھ وقال ایضا عــــہ۲ تحت قولہ روی الخطیب بسندہ ایضاح فھو عندھم مدلول روی اھ واذا انتھی الکلام بنا الی ھنا واستقر عرش التحقیق بتوفیق الله تعالی علی ماھو مرادنا فلنعد الی ماکنا فیہ حامدین لله تعالی علی مننہ الجزیلۃ الی کل نبیہ ومصلین علی نبیہ الکریم والہ وصحبہ وسائر مجیہ۔
ثالثا : اگر سند بیان مراد ہی ہو تو بیان کے بغیر کوئی حدیث مروی ہی نہ ہوگی کیونکہ روایت میں سند تو ضروری ہے تدریب میں ہے کہ حقیقت روایت سنت وغیرہ کا نقل کرنا اور اس بات کی سند کا ذکر کرنا ہے کہ یہ فلاں نے بیان کی یا فلاں نے اس کی اطلاع دی ہے وغیرہ ذلك اھ زرقانی نے مواہب کی عبارت “ روی عبدالرزاق بسندہ الخ “ کے تحت کہا کہ بسند کا لفظ صرف وضاحت کے لئے ہے ورنہ وہ “ روی “ کا مدلول ہے اھ اور مواہب کی عبارت “ روی الخطیب بسندہ “ کے تحت یہی بات زرقانی نے کہی کہ “ بسندہ “ وضاحت ہے تو ان کے ہاں لفظ “ روی “ کا مدلول بھی یہی ہے اھ جب ہماری یہ گفتگو مکمل ہوچکی تو الله تعالی کی توفیق سے تحقیق کا اعلی درجہ پختہ ہوگیا اس طور پر جو ہماری مراد تھی اب ہم واپس اس مسئلہ کی طرف لوٹتے ہیں جو ہمارا موضوع تھا الله تعالی کی بے بہا نعمتوں پر حمد کرتے ہوئے جو اس نے اپنے ہر نبی کو عطا کی ہیں اور صلاۃ وسلام پڑھتے ہوئے نبی کریم اور آپ کی آل واصحاب اور باقی محبین پر۔ (ت)
افادہ بست ودوم۲۲ : (ایسے اعمال کے جواز یا استحباب پر ضعیف سے سند لانا دربارہ احکام اسے
عــــہ۱ : اوائل الکتاب عند ذکر خلق نورہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ۱۲ منہ (م) عــــہ۲ : فی ذکر ولادتہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ۱۲ منہ (م)
ثالثا : اگر سند بیان مراد ہی ہو تو بیان کے بغیر کوئی حدیث مروی ہی نہ ہوگی کیونکہ روایت میں سند تو ضروری ہے تدریب میں ہے کہ حقیقت روایت سنت وغیرہ کا نقل کرنا اور اس بات کی سند کا ذکر کرنا ہے کہ یہ فلاں نے بیان کی یا فلاں نے اس کی اطلاع دی ہے وغیرہ ذلك اھ زرقانی نے مواہب کی عبارت “ روی عبدالرزاق بسندہ الخ “ کے تحت کہا کہ بسند کا لفظ صرف وضاحت کے لئے ہے ورنہ وہ “ روی “ کا مدلول ہے اھ اور مواہب کی عبارت “ روی الخطیب بسندہ “ کے تحت یہی بات زرقانی نے کہی کہ “ بسندہ “ وضاحت ہے تو ان کے ہاں لفظ “ روی “ کا مدلول بھی یہی ہے اھ جب ہماری یہ گفتگو مکمل ہوچکی تو الله تعالی کی توفیق سے تحقیق کا اعلی درجہ پختہ ہوگیا اس طور پر جو ہماری مراد تھی اب ہم واپس اس مسئلہ کی طرف لوٹتے ہیں جو ہمارا موضوع تھا الله تعالی کی بے بہا نعمتوں پر حمد کرتے ہوئے جو اس نے اپنے ہر نبی کو عطا کی ہیں اور صلاۃ وسلام پڑھتے ہوئے نبی کریم اور آپ کی آل واصحاب اور باقی محبین پر۔ (ت)
افادہ بست ودوم۲۲ : (ایسے اعمال کے جواز یا استحباب پر ضعیف سے سند لانا دربارہ احکام اسے
عــــہ۱ : اوائل الکتاب عند ذکر خلق نورہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ۱۲ منہ (م) عــــہ۲ : فی ذکر ولادتہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ۱۲ منہ (م)
حوالہ / References
تدریب الراوی شرح التقریب خطبۃ المؤلف / وفیہا فوائد / حد علم حدیث مطبوعہ نشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱ / ۴۰
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصد الاول فی تشریف اللہ تعالٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام مطبوعہ مطبعۃ العامرہ مصر ۱ / ۵۵
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصد الاول ذکر تزوج عبداللہ آمنہ مطبوعہ مطبعۃ العامرہ مصر ۱ / ۱۳۳
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصد الاول فی تشریف اللہ تعالٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام مطبوعہ مطبعۃ العامرہ مصر ۱ / ۵۵
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصد الاول ذکر تزوج عبداللہ آمنہ مطبوعہ مطبعۃ العامرہ مصر ۱ / ۱۳۳
حجت بنانا نہیں ) جس نے افادات سابقہ کو نظر غائر وقلب حاضر سے دیکھا سمجھا اس پر بے حاجت بیان ظاہر وعیاں ہے کہ حدیث ضعیف سے فضائل اعمال میں استحباب یا محل احتیاط میں کراہت تنزیہ یا امر مباح کی تائید اباحت پر استناد کرنا اسے احکام میں حجت بنانا اور حلال وحرام کا مثبت ٹھہرانا نہیں کہ اباحت تو خود بحکم اصالت ثابت اور استحباب تنزہ قواعد قطعیہ شرعیہ وارشاد اقدس “ کیف وقدقیل “ وغیرہ احادیث صحیحہ سے ثابت جس کی تقریر سابقا زیور گوش سامعان ہوئی حدیث ضعیف اس نظر سے کہ ضعف سند مستلزم غلطی نہیں ممکن کہ واقع میں صحیح ہو صرف امید واحتیاط پر باعث ہوئی آگے حکم استحباب وکراہت ان قواعد وصحاح نے افادہ فرمایا اگر شرع مطہر نے جلب مصالح وسلب مفاسد میں احتیاط کو مستحب نہ مانا ہوتا ہرگز ان مواقع میں احکام مذکورہ کا پتا نہ ہوتا تو ہم نے اباحت کراہت مندوبیت جو کچھ ثابت کی دلائل صحیحہ شرعیہ ہی سے ثابت کی نہ حدیث ضعیف سے اقول : تاہم از انجاکہ درود ضعیف وہ بھی نہ لذاتہ بلکہ بملاحظہ امکان صحت ترجی واحتیاط کا ذریعہ ہوا ہے اگر اس کی طرف تجوزا نسبت اثبات کردیں بجا ہے اور ثبوت بالضعیف میں بائے استعانت تو ادنی مداخلت سے صادق ہاں اگر دلائل شرعیہ سے ایك امر کلی کی حرمت ثابت ہو اور کوئی حدیث ضعیف اس کے کسی فرد کی طرف بلائے مثلا کسی حدیث مجروح میں خاص طلوع وغروب یا استوا کے وقت بعض نماز نفل کی ترغیب آئی تو ہرگز قبول نہ کی جائے گی کہ اب اگر ہم اس کا استحباب یا جواز ثابت کریں تو اسی حدیث ضعیف سے ثابت کریں گے اور وہ صالح اثبات نہیں یونہی اگر دلائل شرعیہ مثبت ندب یا اباحت ہوں اور ضعاف میں نہی آئی اسی وجہ سے مفید حرمت نہ ہوگی مثلا مقرر اوقات کے سوا کسی وقت میں ادائے سنن یا معین رشتوں کے علاوہ کسی رشتہ کی عورت سے نکاح کو کوئی حدیث ضعیف منع کرے حرمت نہ مانی جائے گی ورنہ ضعاف کی صحاح پر ترجیح لازم آئے بحمدالله یہ معنی ہیں کلام علماء کے کہ حدیث ضعیف دربارہ احکام حلال وحرام معمول بہ نہیں ۔
ثم اقول : اصل یہ ہے کہ مثبت وہ جو خلاف اصل کسی شے کو ثابت کرے کہ جو بات مطابق اصل ہے خود اسی اصل سے ثابت ثابت کیا محتاج اثبات ہوگا ولہذا شرع مطہر میں گواہ اس کے مانے جاتے ہیں جو خلاف اصل کا مدعی ہو اور ماورائے دماء وفروج ومضار وخبائث تمام اشیاء میں اصل اباحت ہے تو ان میں کسی فعل کے جواز پر حدیث ضعیف سے استناد کرنا حلت غیر ثابتہ کا اثبات نہیں بلکہ ثابتہ کی تائید ہے
ھذا تحقیق مااسلفنا فی الافادۃ السابقۃ عن المحقق الدوانی وھذا ھو معنی مانص علیہ الامام ابن دقیق العید وسلطن العلماء عزالدین بن عبدالسلام وتبعھما شیخ الاسلام الحافظ ونقلہ تلمیذہ السخاوی فی فتح المغیث وفی قول البدیع والسیوطی فی التدریب والشمس محمد الرملی فی شرح المنھاج النووی ستھم من الشافعیۃ ثم اثرہ عن الرملی العلامۃ الشرنبلالی فی غنیۃ ذوی الاحکام والمحقق المدقق العلائی فی الدرالمختار واقراہ ھما ومحشو الدر الحلبی والطحطاوی والشامی فیھا وفی منحۃ الخالق خمستھم من الحنفیۃ من اشتراط العمل بالضعیف باندراجہ تحت اصل عام وھو اذا حققت لیس بتقیید زائد بل تصریح بمضمون مانصوا علیہ ان العمل بہ فیما وراء العقائد والاحکام کمااوضحناہ لك وبہ ازداد انزھاقا بعد انزھاق ماظن الظانان من ان الکلام فی الاعمال الثابتۃ بالصحاح کیف ولوکان کذل لما احیتج الی ھذا الاشتراط کمالایخفی والله الھادی الی سوی الصراط۔
یہ وہ تحقیق ہے جو ہم نے افادہ سابقہ میں محقق ووافی کے حوالے سے بیان کی اور یہ وہ حقیقت ومعنی ہے جس کی تصریح امام ابن دقیق العید اور سلطان العلماء عزالدین بن عبدالسلام نے کی اور شیخ الاسلام حافظ نے ان دونوں کی اتباع کی اور ان کے شاگرد سخاوی نے
ثم اقول : اصل یہ ہے کہ مثبت وہ جو خلاف اصل کسی شے کو ثابت کرے کہ جو بات مطابق اصل ہے خود اسی اصل سے ثابت ثابت کیا محتاج اثبات ہوگا ولہذا شرع مطہر میں گواہ اس کے مانے جاتے ہیں جو خلاف اصل کا مدعی ہو اور ماورائے دماء وفروج ومضار وخبائث تمام اشیاء میں اصل اباحت ہے تو ان میں کسی فعل کے جواز پر حدیث ضعیف سے استناد کرنا حلت غیر ثابتہ کا اثبات نہیں بلکہ ثابتہ کی تائید ہے
ھذا تحقیق مااسلفنا فی الافادۃ السابقۃ عن المحقق الدوانی وھذا ھو معنی مانص علیہ الامام ابن دقیق العید وسلطن العلماء عزالدین بن عبدالسلام وتبعھما شیخ الاسلام الحافظ ونقلہ تلمیذہ السخاوی فی فتح المغیث وفی قول البدیع والسیوطی فی التدریب والشمس محمد الرملی فی شرح المنھاج النووی ستھم من الشافعیۃ ثم اثرہ عن الرملی العلامۃ الشرنبلالی فی غنیۃ ذوی الاحکام والمحقق المدقق العلائی فی الدرالمختار واقراہ ھما ومحشو الدر الحلبی والطحطاوی والشامی فیھا وفی منحۃ الخالق خمستھم من الحنفیۃ من اشتراط العمل بالضعیف باندراجہ تحت اصل عام وھو اذا حققت لیس بتقیید زائد بل تصریح بمضمون مانصوا علیہ ان العمل بہ فیما وراء العقائد والاحکام کمااوضحناہ لك وبہ ازداد انزھاقا بعد انزھاق ماظن الظانان من ان الکلام فی الاعمال الثابتۃ بالصحاح کیف ولوکان کذل لما احیتج الی ھذا الاشتراط کمالایخفی والله الھادی الی سوی الصراط۔
یہ وہ تحقیق ہے جو ہم نے افادہ سابقہ میں محقق ووافی کے حوالے سے بیان کی اور یہ وہ حقیقت ومعنی ہے جس کی تصریح امام ابن دقیق العید اور سلطان العلماء عزالدین بن عبدالسلام نے کی اور شیخ الاسلام حافظ نے ان دونوں کی اتباع کی اور ان کے شاگرد سخاوی نے
فتح المغیث اور القول البدیع میں سیوطی نے تدریب میں شمس الدین محمد رملی نے شرح المنہاج النووی میں اسے نقل کیا ہے یہ چھ۶ شوافع میں سے ہیں پھر رملی سے علامہ شرنبلالی نے غنیہ ذوی الاحکام میں اور محقق ومدقق العلائی نے درمختار میں اسے نقل کیا اور اسے ان دونوں نے اور درمختار کے محشین حلبی طحطاوی اور شامی نے اپنے اپنے حواشی اور منحہ الخالق میں ثابت رکھا یہ پانچ حنفی ہیں (اور وہ یہ ہے) کہ حدیث ضعیف پر عمل کے لئے شرط یہ ہے کہ کسی عمومی ضابطہ کے تحت داخل ہو اور جب تو اس کی تحقیق کرے تو یہ کوئی زائد قید نہیں بلکہ اسی مضمون کی وضاحت ہے جس کی انہوں نے تصریح کی ہے کہ اس پر عمل عقائد واحکام کے علاوہ میں کیا جائیگا جیسا کہ ہم نے پہلے اسے واضح کردیا ہے اور اس سے ان دو علماء کا خوب رد ہوگیا جو یہ گمان رکھتے تھے کہ یہ ان اعمال کے بارے میں کلام ہے جو احادیث صحیحہ سے ثابت ہوں اور یہ مطلب اس لئے نہیں ہوسکتا کہ اگر معاملہ یہ ہوتا تو یہ شرط لگانے کی محتاجی نہ تھی جیسا کہ واضح ہے اور الله تعالی سیدھے راہ کی ہدایت دینے والا ہے۔ (ت)
بحمد لله اس تقریر سے واضح ہوگیا کہ بعض متکلمین طائفہ جدیدہ کا زعم باطل کہ ان احادیث سے جواز تقلیل ابہامین پر دلیل لانا احکام حلال وحرام میں انہیں حجت بنانا ہے اور وہ بتصریح علماء ناجائز محض مغالطہ وفریب وہی عوام ہے ذی ہوش نے اتنا بھی نہ دیکھا کہ وہی علماء جو حدیث ضعیف کو حلال وحرام میں حجت نہیں مانتے صدہا جگہ احادیث ضعیفہ سے افعال کے جواز واستحباب پر دلیل لاتے ہیں جس کی چند مثالیں افادہ سابقہ میں گزریں کیا معاذالله علمائے کرام اپنا لکھا خود نہیں سمجھتے یا اپنے مقررہ قاعدہ کا آپ خلاف کرتے ہیں کیا افادہ ہفدہم میں امام ابن امیرالحاج کا ارشاد نہ سنا کہ جمہور علماء کے نزدیك فضائل اعمال میں حدیث ضعیف قابل عمل ہے تو کسی فعل کی اباحت قائم رکھنا بدرجہ اولی ولکن الوھابیۃ لایسمعون واذا سمعوا لایعقلون رب انی اسألك العفو و
بحمد لله اس تقریر سے واضح ہوگیا کہ بعض متکلمین طائفہ جدیدہ کا زعم باطل کہ ان احادیث سے جواز تقلیل ابہامین پر دلیل لانا احکام حلال وحرام میں انہیں حجت بنانا ہے اور وہ بتصریح علماء ناجائز محض مغالطہ وفریب وہی عوام ہے ذی ہوش نے اتنا بھی نہ دیکھا کہ وہی علماء جو حدیث ضعیف کو حلال وحرام میں حجت نہیں مانتے صدہا جگہ احادیث ضعیفہ سے افعال کے جواز واستحباب پر دلیل لاتے ہیں جس کی چند مثالیں افادہ سابقہ میں گزریں کیا معاذالله علمائے کرام اپنا لکھا خود نہیں سمجھتے یا اپنے مقررہ قاعدہ کا آپ خلاف کرتے ہیں کیا افادہ ہفدہم میں امام ابن امیرالحاج کا ارشاد نہ سنا کہ جمہور علماء کے نزدیك فضائل اعمال میں حدیث ضعیف قابل عمل ہے تو کسی فعل کی اباحت قائم رکھنا بدرجہ اولی ولکن الوھابیۃ لایسمعون واذا سمعوا لایعقلون رب انی اسألك العفو و
العافیۃ امین (وہابی تو سنتے ہی نہیں سنتے ہیں تو سمجھتے نہیں اے میرے رب! میں تجھ سے عفو ومعافی کا سوال کرتا ہوں آمین۔ ت)
افادہ بست۲۳ وسوم (ایسے مواقع میں ہر حدیث ضعیف غیر موضوع کام دے سکتی ہے)اقول اولا : جمہور علماء کے عامہ کلمات مطالعہ کیجئے تو وہ مواقع مذکورہ میں قاببلیت عمل کیلئے کسی قسم ضعف کی تخصیص نہیں کرتے صرف اتنا فرماتے ہیں کہ موضوع نہ ہو فتح۱ القدیر والفیہ۲ عراقی وشرح۳ الفیۃ للمصنف میں تھا غیر الموضوع (موضوع کے علاوہ ہو۔ ت) مقدمہ۴ ابن الصلاح وتقریب۵ میں ماسوی الموضوع (موضوع کے سوا ہو۔ ت) مقدمہ۶ سید شریف میں دون الموضوع (موضوع نہ ہو۔ ت) حلیہ۷ میں الذی لیس بموضوع (ایسی روایت جو موضوع نہ ہو۔ ت) اذکار ۸ میں ان الفاظ سے اجماع ائمہ نقل فرمایا کہ مالم یکن موضوعا (وہ جو کہ موضوع نہ ہو۔ ت) یونہی۹ امام ابن عبدالبر نے اجماع محدثین ذکر کیا کہ یرونھا عن کل (محدثین ان کو تمام سے روایت کرتے ہیں ۔ ت) یہ سب عبارات باللفظ یا بالمعنی افادات سابقہ میں گزریں زرقانی۱۰ شرح عــــہ۱مواہب میں ہے عادۃ المحدثین التساھل فی غیر الاحکام والعقائد مالم یکن موضوعا (محدثین کی عادت ہے کہ غیر احکام وعقائد میں تساہل کرتے ہیں اس میں جو موضوع نہ ہو) یونہی۱۱ علامہ حلبی سیرۃ عــــہ۲ الانسان العیون میں فرماتے ہیں :
عــــہ۱ : ذکر رضاعہ صلی الله تعالی علیہ وسلم تحت حدیث مناغاۃ القمرلہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ۱۲ منہ (م)
عــــہ۲ : نقل ھذا وماسیاتی عن عیون الاثر بعض الاثرین ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ذکر رضاعت میں اس حدیث کے تحت جس میں نبی اکرمصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے انگلی کے اشارے سے چاند کے ساتھ کھیلنے (جھك جانے) کا بیان ہے وہاں اس کا ذکر ہے دیکھو۔ (ت)
عیون الاثر کی یہ عبارت اور وہ جو عنقریب ذکر کی جائیگی ان کو بعض معاصرین نے نقل کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
افادہ بست۲۳ وسوم (ایسے مواقع میں ہر حدیث ضعیف غیر موضوع کام دے سکتی ہے)اقول اولا : جمہور علماء کے عامہ کلمات مطالعہ کیجئے تو وہ مواقع مذکورہ میں قاببلیت عمل کیلئے کسی قسم ضعف کی تخصیص نہیں کرتے صرف اتنا فرماتے ہیں کہ موضوع نہ ہو فتح۱ القدیر والفیہ۲ عراقی وشرح۳ الفیۃ للمصنف میں تھا غیر الموضوع (موضوع کے علاوہ ہو۔ ت) مقدمہ۴ ابن الصلاح وتقریب۵ میں ماسوی الموضوع (موضوع کے سوا ہو۔ ت) مقدمہ۶ سید شریف میں دون الموضوع (موضوع نہ ہو۔ ت) حلیہ۷ میں الذی لیس بموضوع (ایسی روایت جو موضوع نہ ہو۔ ت) اذکار ۸ میں ان الفاظ سے اجماع ائمہ نقل فرمایا کہ مالم یکن موضوعا (وہ جو کہ موضوع نہ ہو۔ ت) یونہی۹ امام ابن عبدالبر نے اجماع محدثین ذکر کیا کہ یرونھا عن کل (محدثین ان کو تمام سے روایت کرتے ہیں ۔ ت) یہ سب عبارات باللفظ یا بالمعنی افادات سابقہ میں گزریں زرقانی۱۰ شرح عــــہ۱مواہب میں ہے عادۃ المحدثین التساھل فی غیر الاحکام والعقائد مالم یکن موضوعا (محدثین کی عادت ہے کہ غیر احکام وعقائد میں تساہل کرتے ہیں اس میں جو موضوع نہ ہو) یونہی۱۱ علامہ حلبی سیرۃ عــــہ۲ الانسان العیون میں فرماتے ہیں :
عــــہ۱ : ذکر رضاعہ صلی الله تعالی علیہ وسلم تحت حدیث مناغاۃ القمرلہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ۱۲ منہ (م)
عــــہ۲ : نقل ھذا وماسیاتی عن عیون الاثر بعض الاثرین ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ذکر رضاعت میں اس حدیث کے تحت جس میں نبی اکرمصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے انگلی کے اشارے سے چاند کے ساتھ کھیلنے (جھك جانے) کا بیان ہے وہاں اس کا ذکر ہے دیکھو۔ (ت)
عیون الاثر کی یہ عبارت اور وہ جو عنقریب ذکر کی جائیگی ان کو بعض معاصرین نے نقل کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
فتح القدیر باب الامامۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۰۳
مقدمہ ابن الصلاح النوع الثانی والعشرون معرفۃ المقلوب مطبوعہ فاروقی کتب خانہ ملتان ص ۴۹
مقدمہ سیہ شریف
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
الاذکار المنتخبہ من کلام سید الابرار فصل قال العلماء الخ مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ص ۷
کتاب العلم لابن عبدالبر
شرح الزرقانی المواہب اللدنیۃ المقصد الاول ذکر رضاعہ صلی اللہ علیہ وسلم مطبعۃ عامرہ مصر ۱ / ۱۷۲
مقدمہ ابن الصلاح النوع الثانی والعشرون معرفۃ المقلوب مطبوعہ فاروقی کتب خانہ ملتان ص ۴۹
مقدمہ سیہ شریف
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
الاذکار المنتخبہ من کلام سید الابرار فصل قال العلماء الخ مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ص ۷
کتاب العلم لابن عبدالبر
شرح الزرقانی المواہب اللدنیۃ المقصد الاول ذکر رضاعہ صلی اللہ علیہ وسلم مطبعۃ عامرہ مصر ۱ / ۱۷۲
لایخفی ان السیر تجمع الصحیح والسقیم والضعیف والبلاغ والمرسل والمنقطع والمعضل دون الموضوع وقدقال الامام احمد وغیرہ من الائمۃ اذاروینا فی الحلال والحرام شددنا واذا روینا فی الفضائل ونحوھا تساھلنا ۔
واضح رہے کہ اصحاب سیر ہر قسم کی روایات جمع کرتے ہیں صحیح غیر صحیح ضعیف بلاغات مرسل منقطع اور معضل وغیرہ لیکن موضوع روایت ذکر نہیں کرتے۔ امام احمد اور دیگر محدثین کا قول ہے کہ جب ہم حلال وحرام کے بارے میں احادیث روایت کرتے ہیں تو شدت کرتے ہیں اور جب ہم فضائل وغیرہ کے بارے میں روایات لاتے ہیں تو ان میں نرمی برتتے ہیں ۔ (ت)
شیخ محقق۱۲ مولانا عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ القوی شرح صراط المستقیم میں فرماتے ہیں :
گفتہ اندکہ اگر ضعف حدیث بجہت سوئے حفظ بعض رواۃ یا اختلاط یا تدلیس بود باوجود صدق ودیانت منجبر میگرود بتعدد طرق واگر ازجہت اتہام کذب راوی باشدیا شزوذ بمخالفت احفظ واضبط یابقوت ضعف مثل فحش خطا اگرچہ تعدد طرق داشتہ باشد منجبر نگرود وحدیث محکوم بضعف باشد ودرفضائل اعمال معمول الخ
محدثین نے بیان فرمایا ہے کہ اگر کسی حدیث میں ضعف بعض راویوں کے سوئے حفظ یا تدلیس کی وجہ سے ہو جبکہ صدق ودیانت موجود ہوتو یہ کمی تعدد طرق سے پوری ہوجاتی ہے اور اگر ضعف راوی پر اتہام کذب کی وجہ سے ہو یا احفظ واضبط راوی کی مخالفت کسی جگہ ہو یا ضعف نہایت قوی ہو مثلا فحش غلطی ہو تو اب تعدد طرق سے بھی کمی کا ازالہ نہیں ہوگا اور حدیث ضعیف پر ضعیف کا ہی حکم ہوگا اور فضائل اعمال میں ہے الخ (ت)
ثانیا : کلبی کا نہایت شدید الضعف ہونا کسے نہیں معلوم اس کے بعد صریح کذاب وضاع ہی کا درجہ ہے ائمہ شان نے اسے متروك بلکہ منسوب الی الکذب تك کیا کذبہ ابن حبان والجوزجانی وقال البخاری ترکہ یحیی وابن مھدی وقال الدارقطنی وجماعۃ متروك (ابن حبان اور جوزجانی نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے بخاری کہتے ہیں کہ اسے یحیی اور ابن مہدی نے ترك کردیا دارقطنی اور ایك جماعت نے کہا کہ یہ متروك ہے۔ ت) لاجرم حافظ نے تقریب میں فرمایا متھم بالکذب ورمی بالرفض (اس پر کذب کا اتہام ہے اور اسے روافض کی
واضح رہے کہ اصحاب سیر ہر قسم کی روایات جمع کرتے ہیں صحیح غیر صحیح ضعیف بلاغات مرسل منقطع اور معضل وغیرہ لیکن موضوع روایت ذکر نہیں کرتے۔ امام احمد اور دیگر محدثین کا قول ہے کہ جب ہم حلال وحرام کے بارے میں احادیث روایت کرتے ہیں تو شدت کرتے ہیں اور جب ہم فضائل وغیرہ کے بارے میں روایات لاتے ہیں تو ان میں نرمی برتتے ہیں ۔ (ت)
شیخ محقق۱۲ مولانا عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ القوی شرح صراط المستقیم میں فرماتے ہیں :
گفتہ اندکہ اگر ضعف حدیث بجہت سوئے حفظ بعض رواۃ یا اختلاط یا تدلیس بود باوجود صدق ودیانت منجبر میگرود بتعدد طرق واگر ازجہت اتہام کذب راوی باشدیا شزوذ بمخالفت احفظ واضبط یابقوت ضعف مثل فحش خطا اگرچہ تعدد طرق داشتہ باشد منجبر نگرود وحدیث محکوم بضعف باشد ودرفضائل اعمال معمول الخ
محدثین نے بیان فرمایا ہے کہ اگر کسی حدیث میں ضعف بعض راویوں کے سوئے حفظ یا تدلیس کی وجہ سے ہو جبکہ صدق ودیانت موجود ہوتو یہ کمی تعدد طرق سے پوری ہوجاتی ہے اور اگر ضعف راوی پر اتہام کذب کی وجہ سے ہو یا احفظ واضبط راوی کی مخالفت کسی جگہ ہو یا ضعف نہایت قوی ہو مثلا فحش غلطی ہو تو اب تعدد طرق سے بھی کمی کا ازالہ نہیں ہوگا اور حدیث ضعیف پر ضعیف کا ہی حکم ہوگا اور فضائل اعمال میں ہے الخ (ت)
ثانیا : کلبی کا نہایت شدید الضعف ہونا کسے نہیں معلوم اس کے بعد صریح کذاب وضاع ہی کا درجہ ہے ائمہ شان نے اسے متروك بلکہ منسوب الی الکذب تك کیا کذبہ ابن حبان والجوزجانی وقال البخاری ترکہ یحیی وابن مھدی وقال الدارقطنی وجماعۃ متروك (ابن حبان اور جوزجانی نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے بخاری کہتے ہیں کہ اسے یحیی اور ابن مہدی نے ترك کردیا دارقطنی اور ایك جماعت نے کہا کہ یہ متروك ہے۔ ت) لاجرم حافظ نے تقریب میں فرمایا متھم بالکذب ورمی بالرفض (اس پر کذب کا اتہام ہے اور اسے روافض کی
حوالہ / References
انسان العیون خطبۃ الکتاب مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳
شرح صراط مستقیم دیباچہ شرح سفر السعادت مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ص ۱۳
تقریب التہذیب ترجمہ محمد بن السائب بن بشر الکلبی مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ص ۲۹۸
شرح صراط مستقیم دیباچہ شرح سفر السعادت مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ص ۱۳
تقریب التہذیب ترجمہ محمد بن السائب بن بشر الکلبی مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ص ۲۹۸
طرف منسوب کیا گیا ہے۔ ت)بااینہمہ عامہ کتب سیر وتفاسیر اس کی اور اس کی امثال کی روایات سے مالامال ہیں علمائے دین ان امور میں انہیں بلانکیر نقل کرتے رہے ہیں میزان میں ہے :
قال ابن عدی وقدحدث عن الکلبی سفین وشعبۃ وجماعۃ ورضوہ فی التفسیر واما فی الحدیث فعندہ مناکیر ۔
ابن عدی نے کہا کہ کلبی سے سفیان شعبہ اور ایك جماعت نے حدیث بیان کی ہے اور ان روایات کو پسند کیا ہے جس کا تعلق تفسیر کے ساتھ ہے اور حدیث سے متعلقہ روایات انکے نزدیك مناکیر ہیں ۔ (ت)
امام ابن سید الناس سیرۃ عیون الاثر میں فرماتے ہیں :
غالب مایروی عن الکلبی انساب واخبار من احوال الناس وایام العرب وسیرھم ومایجری مجری ذلك مماسمح کثیر من الناس فی حملہ عمن لایحمل عنہ الاحکام وممن حکی عنہ الترخیص فی ذلك الامام احمد ۔
کلبی سے اکثر طور پر لوگوں کے انساب واحوال عربوں کے شب وروز اور ان کی سیرت یا اسی طرح کے دیگر معاملات مروی ہیں جو کثرت کے ساتھ ایسے لوگوں سے لے لیے جاتے ہیں جن سے احکام نہیں لیے جاتے اور جن لوگوں سے اس معاملہ میں اجازت منقول ہے وہ امام احمد ہیں ۔ (ت)
ثالثا : (امام واقدی ہمارے علماء کے نزدیك ثقہ ہیں ) امام واقدی کو جمہور اہل اثر نے حپنین وچناں کہا جس کی تفصیل میزان وغیرہ کتب فن میں مسطور لاجرم تقریب میں کہا : متروك مع سعۃ علمہ (علمی وسعت کے باوجود متروك ہے۔ ت) اگرچہ ہمارے علماء کے نزدیك ان کی توثیق ہی راجح ہے۔ کماافادہ الامام المحقق فی فتح القدیر عــــہ (جیسا کہ امام محقق نے فتح القدیر میں اس کو بیان کیا ہے۔ ت)بااینہمہ یہ جرح شدید ماننے والے
عــــہ : حیث قال فی باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء عن الواقدی قال کانت بئر بضاعۃ
جہاں انہوں نے “ باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء “ میں واقدی سے نقل کیا کہ بضاعۃ(باقی برصفحہ ائندہ)
قال ابن عدی وقدحدث عن الکلبی سفین وشعبۃ وجماعۃ ورضوہ فی التفسیر واما فی الحدیث فعندہ مناکیر ۔
ابن عدی نے کہا کہ کلبی سے سفیان شعبہ اور ایك جماعت نے حدیث بیان کی ہے اور ان روایات کو پسند کیا ہے جس کا تعلق تفسیر کے ساتھ ہے اور حدیث سے متعلقہ روایات انکے نزدیك مناکیر ہیں ۔ (ت)
امام ابن سید الناس سیرۃ عیون الاثر میں فرماتے ہیں :
غالب مایروی عن الکلبی انساب واخبار من احوال الناس وایام العرب وسیرھم ومایجری مجری ذلك مماسمح کثیر من الناس فی حملہ عمن لایحمل عنہ الاحکام وممن حکی عنہ الترخیص فی ذلك الامام احمد ۔
کلبی سے اکثر طور پر لوگوں کے انساب واحوال عربوں کے شب وروز اور ان کی سیرت یا اسی طرح کے دیگر معاملات مروی ہیں جو کثرت کے ساتھ ایسے لوگوں سے لے لیے جاتے ہیں جن سے احکام نہیں لیے جاتے اور جن لوگوں سے اس معاملہ میں اجازت منقول ہے وہ امام احمد ہیں ۔ (ت)
ثالثا : (امام واقدی ہمارے علماء کے نزدیك ثقہ ہیں ) امام واقدی کو جمہور اہل اثر نے حپنین وچناں کہا جس کی تفصیل میزان وغیرہ کتب فن میں مسطور لاجرم تقریب میں کہا : متروك مع سعۃ علمہ (علمی وسعت کے باوجود متروك ہے۔ ت) اگرچہ ہمارے علماء کے نزدیك ان کی توثیق ہی راجح ہے۔ کماافادہ الامام المحقق فی فتح القدیر عــــہ (جیسا کہ امام محقق نے فتح القدیر میں اس کو بیان کیا ہے۔ ت)بااینہمہ یہ جرح شدید ماننے والے
عــــہ : حیث قال فی باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء عن الواقدی قال کانت بئر بضاعۃ
جہاں انہوں نے “ باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء “ میں واقدی سے نقل کیا کہ بضاعۃ(باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References
میزان الاعتدال نمبر ۷۵۷۴ ترجمہ محمد بن السائب الکلبی مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۳ / ۵۵۸
عیون الاثر ذکر الاجوبہ عمارمی بہ مطبوعہ دارالحضارۃ بیروت ۱ / ۲۴
تقریب التہذیب ترجمہ محمد بن عمر بن واقد الاسلمی مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالا ص۱۳۔ ۳۱۲
فتح القدیر باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۶۹
عیون الاثر ذکر الاجوبہ عمارمی بہ مطبوعہ دارالحضارۃ بیروت ۱ / ۲۴
تقریب التہذیب ترجمہ محمد بن عمر بن واقد الاسلمی مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالا ص۱۳۔ ۳۱۲
فتح القدیر باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۶۹
بھی انہیں سیر ومفازی واخبار کا امام مانتے اور سلفا وخلفا ان کی روایات سیر میں ذکر کرتے ہیں کمالایخفی علی من طالع کتب القوم (جیسا کہ اس شخص پر مخفی نہیں جس نے قوم کی کتب کا مطالعہ کیا ہے۔ ت) میزان میں ہے :
کان الی حفظہ المنتھی فی الاخبار والسیر والمغازی الحوادث وایام الناس والفقہ وغیر ذلك ۔
یہ اخبار واحوال علم سیر ومفازی حواد ثات زمانہ اور اس کی تاریخ اور علم فقہ وغیرہ کے انتہائی ماہر اور حافظ ہیں ۔ (ت)
رابعا ہلال بن زید بن یسار بصری عسقلانی کو ابن حبان نے کہا روی عن انس رضی اللہ تعالی عنہاشیاء موضوعۃ (انہوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہکے حوالے سے موضوع روایات نقل کی ہیں ۔ ت) حافظ الشان نے تقریب میں کہا متروك باوصف اس کے جب انہیں ہلال نے انس رضی اللہ تعالی عنہسے حدیث فضیلت عسقلان روایت کی جسے حافظ ابوالفرج نے بعلت مذکورہ درج موضوعات کیا اس پر حافظ الشان ہی نے وہ جواب مذکور افادہ دہم دیا کہ حدیث فضائل اعمال کی ہے سو اسے طعن ہلال کے باعث موضوع کہنا ٹھیك نہیں امام احمد کا طریق معلوم ہے کہ احادیث فضائل میں تساہل فرماتے ہیں اور یہ بھی افادہ نہم میں حافظ الشان ہی کی تصریح سے گزرچکا کہ متروك ایسا شدید الضعیف
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
طریقا للماء الی البساتین وھذا تقوم بہ الحجۃ عندنا اذا وثقنا الواقدی اما عندالمخالف فلالتضعیفہ ایاہ اھ وقال فی فصل فی الآسار قال فی الامام جمع شیخنا ابوالفتح الحافظ فی اول کتابہ المغازی والسیر من ضعفہ ومن وثقہ ورجح توثیقہ وذکر الاجوبۃ عماقیل فیہ اھ ۱۲ منہ (م)
کے کنویں سے باغوں کو پانی دیا جاتا تھا ہمارے نزدیك حجت کے لئے یہی کافی ہے کیونکہ ہم نے واقدی کی توثیق کردی ہے باقی مخالف کے نزدیك حجت نہیں کیونکہ وہ اس کی تضعیف کا قائل ہے اھ اور “ فصل فی الآسار “ میں کہا کہ امام کے بارے میں ہمارے شیخ ابوالفتح حافظ نے اپنی پہلے کتاب المغازی والسیر میں ان روایات کو جمع کیا ہے جن کی توثیق کی گئی یا ان کو ضعیف کہا گیا اور ان کی توثیق کو ترجیح دیتے ہوئے ان پر وارد شدہ اعتراضات کے جوابات بھی ذکر کیے اھ ۱۲ منہ۔ (ت)
کان الی حفظہ المنتھی فی الاخبار والسیر والمغازی الحوادث وایام الناس والفقہ وغیر ذلك ۔
یہ اخبار واحوال علم سیر ومفازی حواد ثات زمانہ اور اس کی تاریخ اور علم فقہ وغیرہ کے انتہائی ماہر اور حافظ ہیں ۔ (ت)
رابعا ہلال بن زید بن یسار بصری عسقلانی کو ابن حبان نے کہا روی عن انس رضی اللہ تعالی عنہاشیاء موضوعۃ (انہوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہکے حوالے سے موضوع روایات نقل کی ہیں ۔ ت) حافظ الشان نے تقریب میں کہا متروك باوصف اس کے جب انہیں ہلال نے انس رضی اللہ تعالی عنہسے حدیث فضیلت عسقلان روایت کی جسے حافظ ابوالفرج نے بعلت مذکورہ درج موضوعات کیا اس پر حافظ الشان ہی نے وہ جواب مذکور افادہ دہم دیا کہ حدیث فضائل اعمال کی ہے سو اسے طعن ہلال کے باعث موضوع کہنا ٹھیك نہیں امام احمد کا طریق معلوم ہے کہ احادیث فضائل میں تساہل فرماتے ہیں اور یہ بھی افادہ نہم میں حافظ الشان ہی کی تصریح سے گزرچکا کہ متروك ایسا شدید الضعیف
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
طریقا للماء الی البساتین وھذا تقوم بہ الحجۃ عندنا اذا وثقنا الواقدی اما عندالمخالف فلالتضعیفہ ایاہ اھ وقال فی فصل فی الآسار قال فی الامام جمع شیخنا ابوالفتح الحافظ فی اول کتابہ المغازی والسیر من ضعفہ ومن وثقہ ورجح توثیقہ وذکر الاجوبۃ عماقیل فیہ اھ ۱۲ منہ (م)
کے کنویں سے باغوں کو پانی دیا جاتا تھا ہمارے نزدیك حجت کے لئے یہی کافی ہے کیونکہ ہم نے واقدی کی توثیق کردی ہے باقی مخالف کے نزدیك حجت نہیں کیونکہ وہ اس کی تضعیف کا قائل ہے اھ اور “ فصل فی الآسار “ میں کہا کہ امام کے بارے میں ہمارے شیخ ابوالفتح حافظ نے اپنی پہلے کتاب المغازی والسیر میں ان روایات کو جمع کیا ہے جن کی توثیق کی گئی یا ان کو ضعیف کہا گیا اور ان کی توثیق کو ترجیح دیتے ہوئے ان پر وارد شدہ اعتراضات کے جوابات بھی ذکر کیے اھ ۱۲ منہ۔ (ت)
حوالہ / References
میزان الاعتدال نمبر ۷۹۹۳ ترجمہ محمد بن عمربن واقد الاسلمی مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت لبنان ۳ / ۶۶۳
فتح القدیر مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۶۹ و ص ۹۷
فتح القدیر مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۶۹ و ص ۹۷
فتح القدیر مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۶۹ و ص ۹۷
فتح القدیر مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۶۹ و ص ۹۷
ہے جس کے بعد بس متہم بالوضع ووضاع ہی کا درج ہے اب یہ بات خوب محفوظ رہے کہ خود امام الشان ہی نے ہلال کو متروك کہا خود ہی متروك کو اتنا شدید الضعف بتایا خود ہی ایسے شدید الضعف کی روایت کو دربارہ فضائل مستحق تساہل رکھا اس سے زیادہ اور کیا دلیل ہوگی کہ ضعف کیسا ہی شدید ہو جب تك سرحد کذب ووضع تك نہ پہنچے حافظ الشان کے نزدیك بھی فضائل میں قابل نرمی وگوارائی ہے ولله الحجۃ السامیہ۔
خامسا : اور سنیے وضو کے بعد انا انزلنا پڑھنے کی حدیثوں کا ضعف نہایت قوت پر ہے سخاوی نے مقاصد حسنہ میں اسے بے اصل محض کہا امام جلیل ابواللیث سمرقندی نے اپنے مقاصد میں ان حدیثوں کو ذکر فرمایا امام الشان سے اس بارہ میں سوال ہوا وہی جواب فرمایا کہ فضائل اعمال میں ضعاف پر عمل روا ہے۔ امام ابن امیرالحاج حلیہ میں فرماتے ہیں :
قد سئل شیخنا حافظ عصرہ قاضی القضاۃ شھاب الدین الشھیر بابن حجر رحمہ الله تعالی من ھذہ الجملۃ فاجاب بمانصہ الاحادیث التی ذکرھا الشیخ ابواللیث نفع الله تعالی ببرکتہ ضعیفۃ والعلماء یتساھلون فی ذکر الحدیث الضعیف والعمل بہ فی فضائل الاعمال ولم یثبت منھا شیئ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم لامن قولہ ولامن فعلہ اھ
ہمارے شیخ حافظ العصر قاضی القضاۃ شہاب الدین المعروف ابن حجر رحمۃ اللہ تعالی علیہسے ان روایات کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے یہ جواب ارشاد فرمایا کہ وہ احادیث جن کو امام ابواللیث “ الله تعالی ان کی برکت سے نفع عطا فرمائے “ نے ذکر کیا ہے وہ ضعیف ہیں اور علماء حدیث ضعیف کے ذکر کرنے اور فضائل اعمال میں اس پر عمل کرنے میں نرمی برتتے ہیں اگرچہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ان کے متعلق کوئی قول وعمل ثابت نہ ہو اھ (ت)
سادسا : یہ حدیث کہ چاند گہوارہ میں عرب کے چاند عجم کے سورج صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے باتیں کرتا حضور کو بہلاتا انگشت مبارك سے جدھر اشارہ فرماتے اسی طرف جھك جاتا کہ بیہقی نے دلائل النبوۃ امام ابوعثمن اسمعیل بن عبدالرحمن صابونی نے کتاب المائتین خطیب نے تاریخ بغداد ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں سیدنا عباس بن عبدالمطلبرضی اللہ تعالی عنہماسے روایت کی اس کا مدار احمد بن ابراہیم حلبی شدید الضعف پر ہے میزان میں ہے امام ابوحاتم نے کہا : احادیثہ باطلۃ تدلہ علی کذبہ (اس کی احادیث باطلہ اس کے کذب پر دال ہیں ۔ ت)باوجود اس کے امام صابونی نے فرمایا : ھذا حدیث غریب الاسناد
خامسا : اور سنیے وضو کے بعد انا انزلنا پڑھنے کی حدیثوں کا ضعف نہایت قوت پر ہے سخاوی نے مقاصد حسنہ میں اسے بے اصل محض کہا امام جلیل ابواللیث سمرقندی نے اپنے مقاصد میں ان حدیثوں کو ذکر فرمایا امام الشان سے اس بارہ میں سوال ہوا وہی جواب فرمایا کہ فضائل اعمال میں ضعاف پر عمل روا ہے۔ امام ابن امیرالحاج حلیہ میں فرماتے ہیں :
قد سئل شیخنا حافظ عصرہ قاضی القضاۃ شھاب الدین الشھیر بابن حجر رحمہ الله تعالی من ھذہ الجملۃ فاجاب بمانصہ الاحادیث التی ذکرھا الشیخ ابواللیث نفع الله تعالی ببرکتہ ضعیفۃ والعلماء یتساھلون فی ذکر الحدیث الضعیف والعمل بہ فی فضائل الاعمال ولم یثبت منھا شیئ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم لامن قولہ ولامن فعلہ اھ
ہمارے شیخ حافظ العصر قاضی القضاۃ شہاب الدین المعروف ابن حجر رحمۃ اللہ تعالی علیہسے ان روایات کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے یہ جواب ارشاد فرمایا کہ وہ احادیث جن کو امام ابواللیث “ الله تعالی ان کی برکت سے نفع عطا فرمائے “ نے ذکر کیا ہے وہ ضعیف ہیں اور علماء حدیث ضعیف کے ذکر کرنے اور فضائل اعمال میں اس پر عمل کرنے میں نرمی برتتے ہیں اگرچہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ان کے متعلق کوئی قول وعمل ثابت نہ ہو اھ (ت)
سادسا : یہ حدیث کہ چاند گہوارہ میں عرب کے چاند عجم کے سورج صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے باتیں کرتا حضور کو بہلاتا انگشت مبارك سے جدھر اشارہ فرماتے اسی طرف جھك جاتا کہ بیہقی نے دلائل النبوۃ امام ابوعثمن اسمعیل بن عبدالرحمن صابونی نے کتاب المائتین خطیب نے تاریخ بغداد ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں سیدنا عباس بن عبدالمطلبرضی اللہ تعالی عنہماسے روایت کی اس کا مدار احمد بن ابراہیم حلبی شدید الضعف پر ہے میزان میں ہے امام ابوحاتم نے کہا : احادیثہ باطلۃ تدلہ علی کذبہ (اس کی احادیث باطلہ اس کے کذب پر دال ہیں ۔ ت)باوجود اس کے امام صابونی نے فرمایا : ھذا حدیث غریب الاسناد
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
میزان الاعتدال ترجمہ نمبر ۲۸۷ احمد بن ابراہیم حلبی مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت لبنان ۱ / ۸۱
میزان الاعتدال ترجمہ نمبر ۲۸۷ احمد بن ابراہیم حلبی مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت لبنان ۱ / ۸۱
والمتن وھو فی المعجزات حسن (اس حدیث کی سند بھی غریب اور متن بھی غریب بااینہمہ معجزات میں حسن ہے) ان کے اس کلام کو امام جلال الدین سیوطی نے خصائص کبری امام احمد قسطلانی نے مواہب لدنیہ میں نقل کیا اور مقرر رکھا۔
سابعا : حدیث الدیك الابیض صدیقی وصدیق صدیقی وعد وعدوالله وکان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یبتیہ معہ فی البیت (مرغ سپید میرا خیر خواہ اور میرے دوست کا خیر خواہ الله تعالی کے دشمن کا دشمن ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماسے شب کو مکان خوابگاہ اقدس میں اپنے ساتھ رکھتے تھے) کہ ابوبکر برقی نے ابوزید انصاری رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی علامہ مناوی نے تیسیر میں فرمایا : باسناد فیہ کذاب (اس کی سند میں کذاب ہے) باوصف اس کے فرمایا : فیندب لنا فعل ذلك تأسیا بہ جبکہ حدیث میں ایسا وارد ہوا تو ہمیں باقتدائے حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممرغ سپید کو اپنی خوابگاہ میں ساتھ رکھنا مستحب ہے۔ مثالیں اس کی اگر تتبع کیجئے بکثرت لیجئے وھذا الاخیر قدبلغ الغایۃ وفیما ذکرنا کفایۃ لاھل الدرایۃ (یہ آخری انتہاء پر ہے اور جو کچھ ہم نے ذخر کردیا وہ اہل فہم کے لئے کافی ہے۔ ت)
ثامنا : احادیث ودلائل مذکورہ افادات سابقہ بھی اسی اطلاق کے شاہد عدل ہیں خصوصا حدیث وان کان الذی حدثہ بہ کاذبا (اگرچہ جس نے اسے بیان کیا کاذب ہو۔ ت) ظاہر ہے کہ احتمال صدق ونفع بے ضرر ہر ضعیف میں حاصل تو فرق زائل بالجملہ یہی قضیہ دلیل ہے اور یہی کلام وعمل قوم سے مستفاد مگر حافظ الشان سے منقول ہوا کہ شرط عمل عدم شدت ضعف ہے نقلہ تلمیذہ السخاوی وقال سمعتہ مرارا یقول ذلك (اسے ان کے شاگرد امام سخاوی نے نقل کیا اور کہا کہ میں نے ان سے یہ کئی مرتبہ کہتے سنا ہے۔ ت)
اقول : (بحث قبول شدید الضعف) یہاں شدت ضعف سے مراد میں حافظ سے نقل مختلف آئی شامی عــــہ نے فرمایا طحطاوی نے فرمایا امام ابن حجر نے فرمایا :
عــــہ : فی مستحبات الوضوء ۱۲ منہ (م)
(شامی نے مستحبات الوضوء میں فرمایا ۱۲ منہ۔ ت)
سابعا : حدیث الدیك الابیض صدیقی وصدیق صدیقی وعد وعدوالله وکان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یبتیہ معہ فی البیت (مرغ سپید میرا خیر خواہ اور میرے دوست کا خیر خواہ الله تعالی کے دشمن کا دشمن ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماسے شب کو مکان خوابگاہ اقدس میں اپنے ساتھ رکھتے تھے) کہ ابوبکر برقی نے ابوزید انصاری رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی علامہ مناوی نے تیسیر میں فرمایا : باسناد فیہ کذاب (اس کی سند میں کذاب ہے) باوصف اس کے فرمایا : فیندب لنا فعل ذلك تأسیا بہ جبکہ حدیث میں ایسا وارد ہوا تو ہمیں باقتدائے حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممرغ سپید کو اپنی خوابگاہ میں ساتھ رکھنا مستحب ہے۔ مثالیں اس کی اگر تتبع کیجئے بکثرت لیجئے وھذا الاخیر قدبلغ الغایۃ وفیما ذکرنا کفایۃ لاھل الدرایۃ (یہ آخری انتہاء پر ہے اور جو کچھ ہم نے ذخر کردیا وہ اہل فہم کے لئے کافی ہے۔ ت)
ثامنا : احادیث ودلائل مذکورہ افادات سابقہ بھی اسی اطلاق کے شاہد عدل ہیں خصوصا حدیث وان کان الذی حدثہ بہ کاذبا (اگرچہ جس نے اسے بیان کیا کاذب ہو۔ ت) ظاہر ہے کہ احتمال صدق ونفع بے ضرر ہر ضعیف میں حاصل تو فرق زائل بالجملہ یہی قضیہ دلیل ہے اور یہی کلام وعمل قوم سے مستفاد مگر حافظ الشان سے منقول ہوا کہ شرط عمل عدم شدت ضعف ہے نقلہ تلمیذہ السخاوی وقال سمعتہ مرارا یقول ذلك (اسے ان کے شاگرد امام سخاوی نے نقل کیا اور کہا کہ میں نے ان سے یہ کئی مرتبہ کہتے سنا ہے۔ ت)
اقول : (بحث قبول شدید الضعف) یہاں شدت ضعف سے مراد میں حافظ سے نقل مختلف آئی شامی عــــہ نے فرمایا طحطاوی نے فرمایا امام ابن حجر نے فرمایا :
عــــہ : فی مستحبات الوضوء ۱۲ منہ (م)
(شامی نے مستحبات الوضوء میں فرمایا ۱۲ منہ۔ ت)
حوالہ / References
المواہب اللدنیۃ بحوالہ کتاب المائتین حدیث غریب الاسناد المتن المکتب الاسلامی بیروت ۱ / ۱۵۴
کتاب الموضوعات لابن الجوزی باب فی الدیك الابیض مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ / ۴
تیسیر شرح جامع صغیر للمناوی حدیث مذکور کے تحت مکتبہ الامام الشافعی ریاض سعودیہ ۲ / ۱۵
التیسر شرح الجامع الصغیر حدیث مذکور کے تحت مکتبہ الامام الشافعی ریاض سعودیہ ۲ / ۱۵
کتاب الموضوعات لابن الجوزی باب فی الدیك الابیض مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ / ۴
تیسیر شرح جامع صغیر للمناوی حدیث مذکور کے تحت مکتبہ الامام الشافعی ریاض سعودیہ ۲ / ۱۵
التیسر شرح الجامع الصغیر حدیث مذکور کے تحت مکتبہ الامام الشافعی ریاض سعودیہ ۲ / ۱۵
شدید الضعف ھو الذی لایخلو طریق من طرقہ عن کذاب اومتھم بالکذب ۔
شدید الضعف وہ حدیث ہے جس کی اسنادوں سے کوئی اسناد کذاب یا متہم بالکذب سے خالی نہ ہو۔
یہاں صرف انہیں دو۲ کو شدت ضعف عــــہ میں رکھا امام سیوطی نے تدریب میں فرمایا حافظ نے فرمایا :
ان یکون الضعف غیر شدید فیخرج من انفرد من الکذابین والتھمین بالکذب ومن فحش غلطہ ۔
وہ ضعف شدید نہ ہو پس اس سے وہ نکل گیا جو کذاب اور متہم بالکذب میں منفرد ہو یا جو فحش الغلط ہو۔ (ت)
یہاں ان دو۲ کے ساتھ فحش غلط کو بھی بڑھایا نسیم الریاض میں قول البدیع سے کلام حافظ بایں لفظ نقل کیا :
ان یکون الضعف غیر شدید کحدیث من انفرد من الکذابین والمتھمین ومن فحش غلطہ ۔
حدیث میں ضعف شدید نہ ہو مثلا اس شخص کی حدیث جو کذابین اور متہمین سے ہو یا وہ فحش الغلط ہو۔ (ت)
عــــہ : وھکذا عزابعض العصریین وھو المولوی عبدالحی اللکنوی فی ظفر الامانی الی التدریب والقول البدیع حیث قال الشرط للعمل بالحدیث الضعیف ثلث شروط علی ماذکرہ السیوطی فی شرع تقریب النووی والسخاوی فی القول البدیع فی الصلاۃ علی الحبیب الشفیع وغیرھما الاول عدم شدۃ ضعفہ بحیث لایخلوطریق من طرقہ من کذاب اومتھم بالکذب الخ اقول لکن سنسمعك نص التدریب والقول البدیع فیظھرلك ان وقع ھھنا فی النقل عنھما تقصر شنیع فلیتنبہ ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
معاصرین میں سے مولوی عبدالحی لکھنوی نے “ ظفرالامانی “ “ التدریب “ اور “ القول البدیع “ کی طرف ایسے ہی منسوب کیا جہاں انہوں نے کہا کہ ضعیف حدیث پر عمل کی تین شرطیں ہیں جیسا کہ نووی نے “ شرع تقریب النووی “ اور سخاوی نے “ القول البدیع فی الصلاۃ علی الحبیب الشفیع “ میں اور ان کے علاوہ دوسروں نے بھی ذکر کیا پہلی شرط یہ ہے کہ اس کا ضعف شدید نہ ہو بایں طور کہ اس کے تمام طرق کذاب اور متہم بالکذب سے خالی نہ ہوں الخ اقول ابھی بعد میں ہم آپ کو ان دونوں کتابوں کی عبارت سنائیں گے جس سے آپ کو معلوم ہوجائیگا کہ اس نقل میں ان دونوں سے انتہائی کوتاہی سرزو ہوئی ہے غور کرنا چاہئے ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ(ت)
شدید الضعف وہ حدیث ہے جس کی اسنادوں سے کوئی اسناد کذاب یا متہم بالکذب سے خالی نہ ہو۔
یہاں صرف انہیں دو۲ کو شدت ضعف عــــہ میں رکھا امام سیوطی نے تدریب میں فرمایا حافظ نے فرمایا :
ان یکون الضعف غیر شدید فیخرج من انفرد من الکذابین والتھمین بالکذب ومن فحش غلطہ ۔
وہ ضعف شدید نہ ہو پس اس سے وہ نکل گیا جو کذاب اور متہم بالکذب میں منفرد ہو یا جو فحش الغلط ہو۔ (ت)
یہاں ان دو۲ کے ساتھ فحش غلط کو بھی بڑھایا نسیم الریاض میں قول البدیع سے کلام حافظ بایں لفظ نقل کیا :
ان یکون الضعف غیر شدید کحدیث من انفرد من الکذابین والمتھمین ومن فحش غلطہ ۔
حدیث میں ضعف شدید نہ ہو مثلا اس شخص کی حدیث جو کذابین اور متہمین سے ہو یا وہ فحش الغلط ہو۔ (ت)
عــــہ : وھکذا عزابعض العصریین وھو المولوی عبدالحی اللکنوی فی ظفر الامانی الی التدریب والقول البدیع حیث قال الشرط للعمل بالحدیث الضعیف ثلث شروط علی ماذکرہ السیوطی فی شرع تقریب النووی والسخاوی فی القول البدیع فی الصلاۃ علی الحبیب الشفیع وغیرھما الاول عدم شدۃ ضعفہ بحیث لایخلوطریق من طرقہ من کذاب اومتھم بالکذب الخ اقول لکن سنسمعك نص التدریب والقول البدیع فیظھرلك ان وقع ھھنا فی النقل عنھما تقصر شنیع فلیتنبہ ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
معاصرین میں سے مولوی عبدالحی لکھنوی نے “ ظفرالامانی “ “ التدریب “ اور “ القول البدیع “ کی طرف ایسے ہی منسوب کیا جہاں انہوں نے کہا کہ ضعیف حدیث پر عمل کی تین شرطیں ہیں جیسا کہ نووی نے “ شرع تقریب النووی “ اور سخاوی نے “ القول البدیع فی الصلاۃ علی الحبیب الشفیع “ میں اور ان کے علاوہ دوسروں نے بھی ذکر کیا پہلی شرط یہ ہے کہ اس کا ضعف شدید نہ ہو بایں طور کہ اس کے تمام طرق کذاب اور متہم بالکذب سے خالی نہ ہوں الخ اقول ابھی بعد میں ہم آپ کو ان دونوں کتابوں کی عبارت سنائیں گے جس سے آپ کو معلوم ہوجائیگا کہ اس نقل میں ان دونوں سے انتہائی کوتاہی سرزو ہوئی ہے غور کرنا چاہئے ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار مستحبات الوضوء مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۹۵
تدریب الراوی شرح تقریب النووی مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱ / ۲۹۸
نسیم الریاض شرح الشفاء مقدمۃ الکتاب مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۴
تدریب الراوی شرح تقریب النووی مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱ / ۲۹۸
نسیم الریاض شرح الشفاء مقدمۃ الکتاب مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۴
یہاں کاف نے زیادت توسیع کا پتا دیا تحدید اول پر امر سہل وقریب ہے کہ ایك جماعت علما حدیث کذابین ومتہمین پر اطلاقی وضع کرتے ہیں تو غیر موضوع سے انہیں خارج کرسکتے ہیں مگر ثانی تصریحات ومعاملات جمہور وعلما وخود امام الشان سے بعید اور ثالث بظاہرہ ابعد ہے ہم ابھی روشن بیان سے واضح کرچکے ہیں کہ خود حافظ نے متروك شدید الضعف راوی موضوعات کی حدیث کو بھی فضائل میں محتمل رکھا مگر بحمدالله تعالی ہمارا مطلب ہر قول پر حاصل ہم افادات سابقہ میں مبرہن کرآئے ہیں کہ تقبیل ابہامین کی حدیثیں ہرگونہ ضعف شدید سے پاك ومنزہ ہیں ان پر صرف انقطاع یا جہالت راوی سے طعن کیاگیا یہ ہیں بھی تو ضعف قریب نہ ضعف شدید والحمدلله العلی المجمید “ ھذا “ (اسے یاد رکھو۔ ت)
ورأیتنی کتبت ھھنا علی ھامش فتح المغیث کلاما یتعلق بالمقام احببت ایرادہ اتماما للمرام فذکرت اولاماعن الشامی عن الطحطاوی عن ابن حجر ثم ایدتہ باطلاق العلماء ثم اوردت ماعن النسیم عن السخاوی عن الحافظ ثم قلت مانصہ۔
اقول : وھذا کماتری مخالف لاطلاق مامر عن النووی عن العلماء قاطبعۃ ولتحدید مامر عن الطحطاوی عن شیخ الاسلام نفسہ لکن یظھرلی دفع التخالف عن کلامی شیخ الاسلام بانہ ھھنا ذکر المتفرد وفیما سبق قال “ لایخلوطریق من طرقہ فیکون الحاصل ان شدید الضعف بغیر الکذب والتھمۃ لایقبل عندہ فی الفضائل حین التفرد اما اذاکثرت طرقہ فح یبلغ درجۃ یسیر الضعف فی خصوص قبولہ فی الفضائل بخلاف شدید الضعف بالکذب والتھمۃ فانہ وان کثرطرقہ التی لاتفوقہ بان لایخلو شیئ منھا عن کذاب اومتھم لایبلغ تلك الدرجہ ولایعمل بہ فی الفصائل وھذا ھو الذی یعطیہ کلام السخاوی فیما مرحیث جعل قبول مافیہ ضعف شدید مطلقا ولوبغیر کذب فی باب الفضائل موقوفا علی کثرۃ الطرق لکنہ یخالفہ فی خصلۃ واحدۃ وھو حکمہ بالقبول بکثرۃ الطرق فی الضعف بالکذب ایضا کماتقدم وھو کماتری مخالف لصریح مانقل عن شیخ الاسلام وعلی کل فلم یرتفع مخالفۃ نقل شیخ الاسلام عن العلماء جمیعا لنقل الامام النووی عنھم کافۃ فانھم لم یشرطوا للقبول فی الفضائل فی شدید الضعف کثرۃ الطرق ولاغیرھا سوی ان ان لایکون موضوعا فصریح مایعطیہ کلامھم قبول مااشتد ضعفہ لفسق اوفحش غلط مثلا وان تفرد ولم یکثر طرقہ فافھم وتأمل فان المقام مقام خفاء وزلل والله المسؤل لکشف الحجاب وابانۃ الصواب الیہ المرجع والیہ المآب اھ مااردت نقلہ مما علقتہ علی الھامش۔
اور مجھے یاد آرہا ہے کہ میں نے اس مقام پر فتح المغیث کے حاشیہ میں ایسی گفتگو کی ہے جو اس مقام پر مناسب ہے میں اتمام مقصد کی خاطر اس کا یہاں ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں پہلے میں وہ ذکر کروں گا جو امام شامی نے طحطاوی سے اور انہوں نے ابن حجر سے نقل کیا ہے پھر اسے مزید قوی کروں گا علماء کے اطلاق سے پھر وہ نقل کروں گا جو نسیم نے سخاوی سے انہوں نے حافظ سے نقل کیا۔ پھر میرا قول یہ ہے :
اقول : جیسا کہ تمہیں معلوم ہے یہ بات علامہ نووی کے نقل کردہ تمام علماء کے اطلاق اور خود شیخ الاسلام سے امام طحطاوی کی گزشتہ نقل کردہ تعریف کے خلاف ہے۔ لیکن شیخ الاسلام کی دونوں کلاموں میں مخالف کو ختم کرنے کی وجہ مجھ پر ظاہر ہورہی ہے وہ یہ کہ یہاں انہوں نے راوی کی تفرد کی بات کی ہے اور پہلے انہوں نے کہا ہے کہ طرق میں سے کوئی طریق بھی (کذاب ومہتم سے) خالی نہ ہو پس حاصل یہ ہوا کہ کذب وتہمت کے بغیر شدید ضعف ہوتو ان کے ہاں تفرد کی صورت میں فضائل میں قابل قبول نہیں لیکن جب وہ کثرت طرق سے مروی ہوتو اس صورت میں وہ شدید ضعف سے خفیف ضعف کے درجہ میں
ورأیتنی کتبت ھھنا علی ھامش فتح المغیث کلاما یتعلق بالمقام احببت ایرادہ اتماما للمرام فذکرت اولاماعن الشامی عن الطحطاوی عن ابن حجر ثم ایدتہ باطلاق العلماء ثم اوردت ماعن النسیم عن السخاوی عن الحافظ ثم قلت مانصہ۔
اقول : وھذا کماتری مخالف لاطلاق مامر عن النووی عن العلماء قاطبعۃ ولتحدید مامر عن الطحطاوی عن شیخ الاسلام نفسہ لکن یظھرلی دفع التخالف عن کلامی شیخ الاسلام بانہ ھھنا ذکر المتفرد وفیما سبق قال “ لایخلوطریق من طرقہ فیکون الحاصل ان شدید الضعف بغیر الکذب والتھمۃ لایقبل عندہ فی الفضائل حین التفرد اما اذاکثرت طرقہ فح یبلغ درجۃ یسیر الضعف فی خصوص قبولہ فی الفضائل بخلاف شدید الضعف بالکذب والتھمۃ فانہ وان کثرطرقہ التی لاتفوقہ بان لایخلو شیئ منھا عن کذاب اومتھم لایبلغ تلك الدرجہ ولایعمل بہ فی الفصائل وھذا ھو الذی یعطیہ کلام السخاوی فیما مرحیث جعل قبول مافیہ ضعف شدید مطلقا ولوبغیر کذب فی باب الفضائل موقوفا علی کثرۃ الطرق لکنہ یخالفہ فی خصلۃ واحدۃ وھو حکمہ بالقبول بکثرۃ الطرق فی الضعف بالکذب ایضا کماتقدم وھو کماتری مخالف لصریح مانقل عن شیخ الاسلام وعلی کل فلم یرتفع مخالفۃ نقل شیخ الاسلام عن العلماء جمیعا لنقل الامام النووی عنھم کافۃ فانھم لم یشرطوا للقبول فی الفضائل فی شدید الضعف کثرۃ الطرق ولاغیرھا سوی ان ان لایکون موضوعا فصریح مایعطیہ کلامھم قبول مااشتد ضعفہ لفسق اوفحش غلط مثلا وان تفرد ولم یکثر طرقہ فافھم وتأمل فان المقام مقام خفاء وزلل والله المسؤل لکشف الحجاب وابانۃ الصواب الیہ المرجع والیہ المآب اھ مااردت نقلہ مما علقتہ علی الھامش۔
اور مجھے یاد آرہا ہے کہ میں نے اس مقام پر فتح المغیث کے حاشیہ میں ایسی گفتگو کی ہے جو اس مقام پر مناسب ہے میں اتمام مقصد کی خاطر اس کا یہاں ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں پہلے میں وہ ذکر کروں گا جو امام شامی نے طحطاوی سے اور انہوں نے ابن حجر سے نقل کیا ہے پھر اسے مزید قوی کروں گا علماء کے اطلاق سے پھر وہ نقل کروں گا جو نسیم نے سخاوی سے انہوں نے حافظ سے نقل کیا۔ پھر میرا قول یہ ہے :
اقول : جیسا کہ تمہیں معلوم ہے یہ بات علامہ نووی کے نقل کردہ تمام علماء کے اطلاق اور خود شیخ الاسلام سے امام طحطاوی کی گزشتہ نقل کردہ تعریف کے خلاف ہے۔ لیکن شیخ الاسلام کی دونوں کلاموں میں مخالف کو ختم کرنے کی وجہ مجھ پر ظاہر ہورہی ہے وہ یہ کہ یہاں انہوں نے راوی کی تفرد کی بات کی ہے اور پہلے انہوں نے کہا ہے کہ طرق میں سے کوئی طریق بھی (کذاب ومہتم سے) خالی نہ ہو پس حاصل یہ ہوا کہ کذب وتہمت کے بغیر شدید ضعف ہوتو ان کے ہاں تفرد کی صورت میں فضائل میں قابل قبول نہیں لیکن جب وہ کثرت طرق سے مروی ہوتو اس صورت میں وہ شدید ضعف سے خفیف ضعف کے درجہ میں
آجائےگی پس اب وہ صرف فضائل میں مقبول ہوجائیگی اس کے برخلاف جو کذب اور تہمت کی وجہ سے شدید ضعف والی ہوتو بیشمار کثرت کے باوجود وہ مقبولیت کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتی اور نہ ہی فضائل میں قابل عمل ہوسکتی ہے کیونکہ اس کے ہر طریق میں کوئی نہ کوئی کذاب اور مہتم ضرور ہوتا ہے۔ یہی بات علمامہ سخاوی کے گزشتہ کلام سے حاصل ہوتی ہے جہاں انہوں نے شدید ضعف والی حدیث کے فضائل میں مقبول ہونے کو کثرت طرق پر موقوف کیا وہاں شدت ضعف مطلق مراد ہے خواہ وہ کذب کے علاوہ ہی ہو لیکن یہ بات ان کو ایك جگہ آڑے آئے گی۔ جہاں انہوں نے ضعف بالکذب پر بھی کثرت طرق کی بنا پر مقبول ہونے کا حکم کیا ہے جیسا کہ گزرا ہے حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ یہ بات شیخ الاسلام سے نقل کردہ کے صراحۃ خلاف ہے بہرصورت شیخ الاسلام کا تمام علماء سے نقل کردہ مؤقف اور امام نووی کا نقل کردہ انہی تمام علماء کا مؤلف مختلف ہے یہ اختلاف مرتفع نہیں ہوسکتا کیونکہ علماء نے فضائل میں شدید ضعف والی حدیث کو قبول کرنے کے لئے کثرت طرق وغیرہا کی شرط نہیں لگائی صرف یہ کہا ہے کہ وہ موضوع نہ ہو ان کے کلام کا صریح ماحصل یہ ہے کہ مثلا فسق یا فحش غلطی کی بنا پر جس حدیث کا ضعف شدید ہو خواہ اس کا راوی متفرد ہی کیوں نہ ہو اور اس حدیث کے طرق کثیر بھی نہ ہوں تب بھی یہ حدیث (فضائل میں ) مقبول ہے غور وتأمل کرو کیونکہ یہ مقام خفی ہے اور غلط فہمی پیدا کرسکتا ہے پردوں کو کھولنے اور درستی کو ظاہر کررنے کا سوال صرف الله تعالی سے ہے اسی کی طرف لوٹنا ہے اور وہی جائے پناہ ہے۔ فتح المغیث کے حاشیہ میں سے جو میں نقل کرنا چاہتا تھا وہ ختم ہوا۔ (ت)
فان قلت ھذا قید زائد افادہ امام فلیحمل اطلاقاتھم علیہ دفعا للتخالف بین النقلین قلت نعم لولا ان ماذکروا من الدلیل علیہ لایلائم سریان التخصیص الیہ وکیف نصنع بما نشاھدھم یفعلون یرون شدۃ الضعف ثم یقبلون وبالجملۃ فالاطلاق ھو الاوفق بالدلیل والالصق بقواعد الشرع الجمیل فنودان یکون علیہ التعویل والعلم بالحق عند الملك الجلیل۔
فائدۃ جلیلۃ (فائدۃ جلیلۃ فی احکام انواع الضعیف والجبار ضعفھا) ھذا الذی اشرت الیہ من کلام السخاوی المار المتقدم ھو قولہ مع متنہ فی بیان الحسن ان یکن ضعف الحدیث لکذب اوشذوذ بان خالف من ھو احفظ اواکثر اوقوۃ الضعف بغیرھما فلم یجبر ولوکثرت طرقہ لکن بکثرۃ طرقہ یرتقی عن مرتبۃ المردود المنکر الی مرتبۃ الضعیف الذی یجوز العمل بہ فی الفضائل وربما تکون تلك الطرق الواھیۃ بمنزلۃ الطریق التی فیھا ضعف یسیر بحیث لوفرض مجیئ ذلك الحدیث باسناد فیہ ضعف یسیر کان مرتقیا بھا الی مرتبۃ الحسن لغیرہ اھ ملخصا۔
اگر اعتراض کے طور پر تو یہ کہے کہ امام شیخ الاسلام
فان قلت ھذا قید زائد افادہ امام فلیحمل اطلاقاتھم علیہ دفعا للتخالف بین النقلین قلت نعم لولا ان ماذکروا من الدلیل علیہ لایلائم سریان التخصیص الیہ وکیف نصنع بما نشاھدھم یفعلون یرون شدۃ الضعف ثم یقبلون وبالجملۃ فالاطلاق ھو الاوفق بالدلیل والالصق بقواعد الشرع الجمیل فنودان یکون علیہ التعویل والعلم بالحق عند الملك الجلیل۔
فائدۃ جلیلۃ (فائدۃ جلیلۃ فی احکام انواع الضعیف والجبار ضعفھا) ھذا الذی اشرت الیہ من کلام السخاوی المار المتقدم ھو قولہ مع متنہ فی بیان الحسن ان یکن ضعف الحدیث لکذب اوشذوذ بان خالف من ھو احفظ اواکثر اوقوۃ الضعف بغیرھما فلم یجبر ولوکثرت طرقہ لکن بکثرۃ طرقہ یرتقی عن مرتبۃ المردود المنکر الی مرتبۃ الضعیف الذی یجوز العمل بہ فی الفضائل وربما تکون تلك الطرق الواھیۃ بمنزلۃ الطریق التی فیھا ضعف یسیر بحیث لوفرض مجیئ ذلك الحدیث باسناد فیہ ضعف یسیر کان مرتقیا بھا الی مرتبۃ الحسن لغیرہ اھ ملخصا۔
اگر اعتراض کے طور پر تو یہ کہے کہ امام شیخ الاسلام
حوالہ / References
فتح المغیث شرح الفیۃ الحدیث الحسن دارالامام الطبری بیروت ۱ / ۸۳
کے بیان میں ایك زاید قید ہے جس پر علماء کے اطلاقات کو محمول کیا جاسکتا ہے اس سے دو نقل کردہ کلاموں میں اختلاف ختم ہوسکتا ہے قلت (تو میں جوابا کہتا ہوں ) ہاں اگر علماء کے ذکر کردہ پر کوئی دلیل نہ ہو تب بھی ان کے کلام کو اس قید سے خاص کرنا ممکن نہیں کیونکہ یہ ان کا کلام ہی نہیں ہے بلکہ وہ شدید ضعف پاکر بھی قبول کرنے پر عمل پیرا ہیں جس کا ہم مشاہدہ کررہے ہیں ۔ خلاصہ یہ کہ (شدید ضعیف حدیث کو قبول کرنے کے لئے کثرت طرق) کی قید نہ لگانا دلیل کے زیادہ موافق اور قواعد شرح جمیل کے زیادہ مناسب ہے ہماری خواہش ہے کہ یہی قابل اعتماد ہو اور حق کا علم الله جل جلالہ کے ہاں ہے۔ (ت)
فائدہ جلیلہ : (ضعیف حدیثوں کے احکام اقسام اور انکی کمی کو پورا کرنے کے بیان میں ) امام سخاوی کے جس گزشتہ کلام کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے وہ بمع متن حدیث حسن کے بارے میں ہے کہ حدیث کا ضعف کذب یا شذوذ یعنی وہ حدیث احفظ راوی یا کثیر رواۃ کی روایت کے خلاف ہو یا یہ ضعیف قوی ہو جوان دو مذکورہ (کذب اور شذوذ) کے علاوہ کسی اور وجہ سے پیدا ہوا ہو یہ ضعف کثرت طرق سے بھی ختم نہیں ہوسکتا لیکن کثرت طرق کی بنا پر یہ حدیث مردود منکر کے مرتبہ سے ترقی کرکے ایسے ضعف کے مرتبہ پر پہنچ جاتی ہے جس سے فضائل میں عمل کے لئے مقبول ہوجاتی ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ حدیث کے متعدد کمزور طرق ایک
فائدہ جلیلہ : (ضعیف حدیثوں کے احکام اقسام اور انکی کمی کو پورا کرنے کے بیان میں ) امام سخاوی کے جس گزشتہ کلام کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے وہ بمع متن حدیث حسن کے بارے میں ہے کہ حدیث کا ضعف کذب یا شذوذ یعنی وہ حدیث احفظ راوی یا کثیر رواۃ کی روایت کے خلاف ہو یا یہ ضعیف قوی ہو جوان دو مذکورہ (کذب اور شذوذ) کے علاوہ کسی اور وجہ سے پیدا ہوا ہو یہ ضعف کثرت طرق سے بھی ختم نہیں ہوسکتا لیکن کثرت طرق کی بنا پر یہ حدیث مردود منکر کے مرتبہ سے ترقی کرکے ایسے ضعف کے مرتبہ پر پہنچ جاتی ہے جس سے فضائل میں عمل کے لئے مقبول ہوجاتی ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ حدیث کے متعدد کمزور طرق ایک
معمولی کمزور طریقہ جیسے ہوتے ہیں کہ اگر وہ حدیث کسی معمولی ضعف والی سند کے ساتھ مروی فرض کرلی جائے تو یہ درجہ حسن لغیرہ پر فائز ہوجاتی ہے ملخصا۔ (ت)
ورائتنی علقت علیہ ھھنا مانصہ اقول : حاصل ماتقرر وتحررھھنا مع زیادات نفیسۃ منا ان الموضوع لایصلح لشیئ اصلا ولایلتئم جرحہ ابدا ولوکثرت طرقہ ماکثرت فان زیادۃ الشرلایزید الشیئ الا شرا وایضا الموضوع کالموضوع کالمعدوم والمعدوم لایقوی و لایتقوی ومنہ عند جمع منھم شیخ الاسلام ماجاء بروایۃ الکذابین وعند آخرین منھم خاتم الحفاظ مااتی من طریق المتھمین وسوھما السخاوی بشدید الضعف الآتی لذھابہ الی ان الوضع لایثبت الابالقرائن المقررۃ ان تفرد بہ کذاب اووضاع کمانص علیہ فی ھذا الکتاب وھو عندی مذھب قوی اقرب الی الصواب اما الضعف بغیر الکذب والتھمۃ من ضعف شدید مخرج لہ عن حیز الاعتبار کفحش غلط الراوی فھذا یعمل بہ فی الفضائل علی مایعطیہ کلام عامۃ العلماء وھو الاقعد بقضیۃ الدلیل والقواعد لاعند شیخ الاسلام علی احدی الروایات عنہ ومن تبعہ کالسخاوی الا اذاکثرت طرقہ الساقطۃ عن درجۃ الاعتبار فح یکون مجموعھا کطریق واحد صالح لہ فیعمل بھا فی الفضائل ولکن لایحتج بھا فی الاحکام ولاتبلغ بذلك درجۃ الحسن لغیرہ الا اذاانجبرت مع ذلك بطریق اخری صالحۃ للاعتبار فان مجموع ذلك یکون کحدیثین ضعیفین صالحین متعاضدین فح ترتقی الی الحسن لغیر فتصیر حجۃ فی الاحکام اما مطلقا علی ماھو ظاھر کلام المصنف اعنی العراقی اوبشرط تعدد الجابرات الصالحات البالغۃ مع ھذہ الطرق القاصرۃ المتکثرۃ القائمۃ مقام صالح واحد حد الکثرۃ فی الصوالح علی مافھمہ السخاوی من کلام النووی وغیرہ الواقع فیہ لفظ الکثرۃ مع نزاع لنا فیہ مؤید بکلام شیخ الاسلام فی النزھۃ والنخبۃ المکتفیتین عــــہ بوحدۃ الجابر مع جواز ان تکون الکثرۃ فی کلام النووی بمعنی مطلق التعدد وھو الاوفق بما رأینا من صنیعھم فی غیر مقام والضعیف بالضعف الیسیر اعنی مالم ینزلہ عن محل الاعتبار یعمل بہ فی الفضائل وحدہ وان لم ینجبر فان انجبر ولوبواحد صار حسنا لغیرہ واحتج بہ فی الاحکام علی تفصیل وصفنالك فی الجابر فھذہ ھی انواع الضعیف اما الذی لانقص فیہ عن درجۃ الصحیح الا القصور فی ضبط الراوی غیر بالغ الی درجۃ الغفلۃ فھو الحسن لذاتہ المحتج بہ وحدہ حتی فی الاحکام وھذا اذاکان معہ مثلہ ولوواحدا صار صحیحا لغیرہ اودونہ ممایلید فلاالا بکثرۃ انتھی ماکتبت بتخلیص۔
اور مجھے یاد ہے کہ میں نے اس کے اس مقام پر حاشیہ لکھا ہے جو یہ ہے اقول : ہماری زائد ابحاث کے ساتھ جو یہاں ثابت اور واضح ہوچکا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ موضوع حدیث کسی طرح کارآمد نہیں ہے اور کثرت طرق کے باوجود اس کا عیب ختم نہیں ہوسکتا کیونکہ شرکی زیادتی سے شر مزید بڑھتا ہے نیز موضوع معدوم چیز کی طرح ہے اور معدوم چیز نہ قوی ہوسکتی ہے اور نہ قوی بنائی جاسکتی ہے موضوع کی ایك قسم وہ ہے جس کو ایك جماعت نے جس میں شیخ الاسلام بھی ہیں نے بیان کیا ہے وہ یہ کہ جس کو کذاب لوگ روایت کریں اور ایك دوسری جماعت جس میں سے “ خاتم الحفاظ “ بھی ہیں نے بیان کیا ہے کہ “ موضوع “ وہ ہے جس کو متہم بالکذب روایت کریں ۔ امام سخاوی نے ان دونوں بیان کردہ قسموں کو “ شدید الضعف “ کے مساوی قرار دیا ہے جس کو عنقریب بیان کرینگے امام سخاوی کا خیال ہے کہ موضوع کی پہچان مقررہ قرائن ہی سے ہوتی ہے جیسا کہ روایت کرنے والا کذاب یا وضاع اس روایت میں متفرد ہو جیسا کہ امام سخاوی نے اس کتاب میں بیان کیا ہے میرے نزدیك یہی مؤقف قوی اور اقرب الی الصواب ہے مگر کذب اور تہمت کذب کے بغیر کوئی بھی شدید ضعف جس کی بنا پر حدیث درجہ اعتبار سے خارج ہوجاتی ہے مثلا راوی کی انتہائی فحش غلطی ہو ضعیف کی یہ قسم فضائل میں
ورائتنی علقت علیہ ھھنا مانصہ اقول : حاصل ماتقرر وتحررھھنا مع زیادات نفیسۃ منا ان الموضوع لایصلح لشیئ اصلا ولایلتئم جرحہ ابدا ولوکثرت طرقہ ماکثرت فان زیادۃ الشرلایزید الشیئ الا شرا وایضا الموضوع کالموضوع کالمعدوم والمعدوم لایقوی و لایتقوی ومنہ عند جمع منھم شیخ الاسلام ماجاء بروایۃ الکذابین وعند آخرین منھم خاتم الحفاظ مااتی من طریق المتھمین وسوھما السخاوی بشدید الضعف الآتی لذھابہ الی ان الوضع لایثبت الابالقرائن المقررۃ ان تفرد بہ کذاب اووضاع کمانص علیہ فی ھذا الکتاب وھو عندی مذھب قوی اقرب الی الصواب اما الضعف بغیر الکذب والتھمۃ من ضعف شدید مخرج لہ عن حیز الاعتبار کفحش غلط الراوی فھذا یعمل بہ فی الفضائل علی مایعطیہ کلام عامۃ العلماء وھو الاقعد بقضیۃ الدلیل والقواعد لاعند شیخ الاسلام علی احدی الروایات عنہ ومن تبعہ کالسخاوی الا اذاکثرت طرقہ الساقطۃ عن درجۃ الاعتبار فح یکون مجموعھا کطریق واحد صالح لہ فیعمل بھا فی الفضائل ولکن لایحتج بھا فی الاحکام ولاتبلغ بذلك درجۃ الحسن لغیرہ الا اذاانجبرت مع ذلك بطریق اخری صالحۃ للاعتبار فان مجموع ذلك یکون کحدیثین ضعیفین صالحین متعاضدین فح ترتقی الی الحسن لغیر فتصیر حجۃ فی الاحکام اما مطلقا علی ماھو ظاھر کلام المصنف اعنی العراقی اوبشرط تعدد الجابرات الصالحات البالغۃ مع ھذہ الطرق القاصرۃ المتکثرۃ القائمۃ مقام صالح واحد حد الکثرۃ فی الصوالح علی مافھمہ السخاوی من کلام النووی وغیرہ الواقع فیہ لفظ الکثرۃ مع نزاع لنا فیہ مؤید بکلام شیخ الاسلام فی النزھۃ والنخبۃ المکتفیتین عــــہ بوحدۃ الجابر مع جواز ان تکون الکثرۃ فی کلام النووی بمعنی مطلق التعدد وھو الاوفق بما رأینا من صنیعھم فی غیر مقام والضعیف بالضعف الیسیر اعنی مالم ینزلہ عن محل الاعتبار یعمل بہ فی الفضائل وحدہ وان لم ینجبر فان انجبر ولوبواحد صار حسنا لغیرہ واحتج بہ فی الاحکام علی تفصیل وصفنالك فی الجابر فھذہ ھی انواع الضعیف اما الذی لانقص فیہ عن درجۃ الصحیح الا القصور فی ضبط الراوی غیر بالغ الی درجۃ الغفلۃ فھو الحسن لذاتہ المحتج بہ وحدہ حتی فی الاحکام وھذا اذاکان معہ مثلہ ولوواحدا صار صحیحا لغیرہ اودونہ ممایلید فلاالا بکثرۃ انتھی ماکتبت بتخلیص۔
اور مجھے یاد ہے کہ میں نے اس کے اس مقام پر حاشیہ لکھا ہے جو یہ ہے اقول : ہماری زائد ابحاث کے ساتھ جو یہاں ثابت اور واضح ہوچکا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ موضوع حدیث کسی طرح کارآمد نہیں ہے اور کثرت طرق کے باوجود اس کا عیب ختم نہیں ہوسکتا کیونکہ شرکی زیادتی سے شر مزید بڑھتا ہے نیز موضوع معدوم چیز کی طرح ہے اور معدوم چیز نہ قوی ہوسکتی ہے اور نہ قوی بنائی جاسکتی ہے موضوع کی ایك قسم وہ ہے جس کو ایك جماعت نے جس میں شیخ الاسلام بھی ہیں نے بیان کیا ہے وہ یہ کہ جس کو کذاب لوگ روایت کریں اور ایك دوسری جماعت جس میں سے “ خاتم الحفاظ “ بھی ہیں نے بیان کیا ہے کہ “ موضوع “ وہ ہے جس کو متہم بالکذب روایت کریں ۔ امام سخاوی نے ان دونوں بیان کردہ قسموں کو “ شدید الضعف “ کے مساوی قرار دیا ہے جس کو عنقریب بیان کرینگے امام سخاوی کا خیال ہے کہ موضوع کی پہچان مقررہ قرائن ہی سے ہوتی ہے جیسا کہ روایت کرنے والا کذاب یا وضاع اس روایت میں متفرد ہو جیسا کہ امام سخاوی نے اس کتاب میں بیان کیا ہے میرے نزدیك یہی مؤقف قوی اور اقرب الی الصواب ہے مگر کذب اور تہمت کذب کے بغیر کوئی بھی شدید ضعف جس کی بنا پر حدیث درجہ اعتبار سے خارج ہوجاتی ہے مثلا راوی کی انتہائی فحش غلطی ہو ضعیف کی یہ قسم فضائل میں
کارآمد ہوسکتی ہے جیسا کہ عام علماء کے کلام سے حاصل ہے اور یہی موقف دلیل وقواعد سے مطابقت رکھتا ہے مگر شیخ الاسلام سے ایك روایت میں اور امام سخاوی کی طرح ان کے پیروکار حضرات کے ہاں یہ قسم فضائل میں معتبر نہیں ہے تاوقتیکہ اس کے کمزور طرق کثیر نہ ہوں اور یہ طرق کثیر ہوں تو ان سب کے مجموعہ کو وہ ایك طریقہ صالحہ کے مساوی قرار دے کر فضائل میں قابل عمل قرار دیتے ہیں تاہم اس قسم کی ضعیف حدیث کو احکام کے لئے حجت قرار نہیں دیا جاسکتا اور نہ ہی یہ درجہ “ حسن لغیرہ “ کو پاسکتی ہے۔ ہاں اگر ان متعدد طرق کے ساتھ ساتھ کسی دوسرے صالح طریق سے اس کی کمزوری زائل ہوجائے تو اور بات ہے کیونکہ کمزور متعدد طرق اور ایك صالح طریق کی بنا پر وہ حدیث دو ایسی ضعیف
عــــہ : حیث قال متی توبع السیئ الحفظ بمعتبر کان یکون فوقہ اومثلہ لادونہ وکذا المختلط الذی لایتمیز والمستور والاسناد المرسل وکذا المدلس اذا لم یعرف المحذوف مند صار حدیثہم حسنا لالذاتہ بل وصفہ بذلك باعتبار المجموع لان کل واحد منہم (اے ممن ذکر من السیئ الحفظ والمختلط الخ) باحتمال کون روایتہ صوابا اوغیر صواب علی حد سواء فاذا جاء ت من المعتبرین روایۃ موافقۃ لاحدھم رجح احد الجانبین من الاحتمالین المذکورین دول ذلك علی ان الحدیث محفوظ
ان کے الفاظ یہ ہیں : جب راوی سوء حفظ کا متابع معتبر راوی بن جائے جو اس سے اوپر ہو یا اس کی مثل اس سے کم نہ ہو اور اسی طرح وہ مختلط جو امتیاز نہیں کرتا مستور اسناد مرسل اور اسی طرح مدلس جبکہ محذوف منہ کو نہ پہچانتا ہو تو ان کی حدیث حسن ہوجائے گی ہاں لذاتہ نہیں بلکہ باعتبار المجموع ہوگی کیونکہ ہر ایك ان میں سے (یعنی سوء حفظ اور مختلط جن کا ذکر ہوا الخ) برابر احتمال رکھتا ہے کہ اس کی حدیث صحیح ہو یا غیر صحیح پس جب معتبر راویوں میں سے کسی ایك کے موافق روایت آجائے تو مذکورہ دونوں احتمالوں میں سے ایك کو ترجیح حاصل ہوجائے گی اور
عــــہ : حیث قال متی توبع السیئ الحفظ بمعتبر کان یکون فوقہ اومثلہ لادونہ وکذا المختلط الذی لایتمیز والمستور والاسناد المرسل وکذا المدلس اذا لم یعرف المحذوف مند صار حدیثہم حسنا لالذاتہ بل وصفہ بذلك باعتبار المجموع لان کل واحد منہم (اے ممن ذکر من السیئ الحفظ والمختلط الخ) باحتمال کون روایتہ صوابا اوغیر صواب علی حد سواء فاذا جاء ت من المعتبرین روایۃ موافقۃ لاحدھم رجح احد الجانبین من الاحتمالین المذکورین دول ذلك علی ان الحدیث محفوظ
ان کے الفاظ یہ ہیں : جب راوی سوء حفظ کا متابع معتبر راوی بن جائے جو اس سے اوپر ہو یا اس کی مثل اس سے کم نہ ہو اور اسی طرح وہ مختلط جو امتیاز نہیں کرتا مستور اسناد مرسل اور اسی طرح مدلس جبکہ محذوف منہ کو نہ پہچانتا ہو تو ان کی حدیث حسن ہوجائے گی ہاں لذاتہ نہیں بلکہ باعتبار المجموع ہوگی کیونکہ ہر ایك ان میں سے (یعنی سوء حفظ اور مختلط جن کا ذکر ہوا الخ) برابر احتمال رکھتا ہے کہ اس کی حدیث صحیح ہو یا غیر صحیح پس جب معتبر راویوں میں سے کسی ایك کے موافق روایت آجائے تو مذکورہ دونوں احتمالوں میں سے ایك کو ترجیح حاصل ہوجائے گی اور
حدیثوں کی طرح بن جاتی جو آپس میں مل کر تقویت کا باعث بن جاتی ہیں اور وہ ضعیف حدیث “ حسن لغیرہ “ کے مرتبہ کو پہنچ کر احکام میں حجت بن جاتی ہے اب یہ اختلاف اپنی جگہ پر ہے کہ صرف اسی قدر سے مقبول ہے جیسا کہ مصنف یعنی علامہ عراقی کے کلام سے عیاں ہے یا بشرطیکہ بمع متعدد صالح طرق جن کی بنا پر کمزوری زائل ہوسکے ان متعدد صالح وجوہ اور کمزور طرق جو ایك صالح طریق کے مساوی ہیں مل کر کثرت طرق صالحہ بن جاتے ہیں جیسا کہ امام سخاوی نے امام نووی وغیرہ کے کلام سے سمجھا جن میں لفظ کثرت استعمال ہوا ہے باوجودیکہ ہمارا اس میں اختلاف ہے جوکہ شیخ الاسلام کے اس کلام سے مؤید ہے جو انہوں نے “ النزبۃ “ اور “ الننجۃ “ میں کیا دونوں کتابوں میں ایك جابر (کمزوری کو زائل کرنے والا امر) کا بیان ہے (نیز اپنی تائید میں ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں ) کہ امام نووی کے کلام میں لفظ کثرت سے مطلق تعدد ہے اور یہی احتمال ان کی عادت کے زیادہ قریب ہے جیسا کہ ہم نے متعدد جگہ یہ استعمال پایا ہے اور ضعیف کی ایسی قسم جس میں معمولی ضعف ہو یعنی جس سے حد اعتبار ساقط نہ ہو یہ فضائل میں تنہا معتبر ہے خواہ کوئی مؤید بھی نہ ہو اور اگر کوئی ایك ایسا مؤید پایا جائے جو اس کے ضعف کو زائل کردے تو یہ “ حسن لغیرہ “ بن جاتی ہے اور اس کو احکام میں حجت قرار دیا جائیگا جس کی تفصیل ہم نے کمزوری کو زائل کرنے والے امور میں بیان کردی ہے۔ یہ تمام ضعیف کی انواع ہیں ۔ اگر صحیح حدیث کے شرائط میں ماسوائے ضبط راوی کی کمزوری کے اور کوئی کمزوری نہ ہوتو یہ حدیث “ حسن لذاتہ “ ہوگی بشرطیکہ ضبط راوی کی یہ کمزوری غفلت کے درجہ تك نہ پہنچتی ہو تو یہ “ حسن لذاتہ “ واحد حدیث بھی احکام کے لئے حجت ہوسکتی ہے اگر حسن لذاتہ کے ساتھ اس کی ہم مثل ایك اور بھی مل جائے تو یہ حدیث “ صحیح لغیرہ “ بن جاتی ہے اور اگر اس سے کم درجہ کی کوئی مؤید اس سے مل جائے تو “ صحیح لغیرہ “ نہ بنے گی تاوقتیکہ اس سے کم درجہ کی متعدد روایات جمع نہ ہوجائیں میری لکھی ہوئی تعلیق ختم ہوئی ملخصا۔ (ت)
فارتقی من درجۃ التوقف الی درجۃ القبول والله اعلم اھ وانظر کیف اجتزئ فی المتن بتوحید معتبر وفی الشرح بافراد روایۃ وحکم بالارتقاء الی درجۃ القبول وما المرادبہ ھھنا الاالقبول فی الاحکام فانہ جعل الضعیف صالحا للاعتبار من الرد ومع انہ مقبول فی الفضائل بالاجماع ویظھرلی ان الوجہ معھما اعنی العراقی وشیخ الاسلام لمابین فی النزھۃ من الدلیل لھما منقولا مما علقتہ علی فتح المغیث ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
یہ بات دلالت کرتی ہے کہ یہ حدیث محفوظ ہے اور درجہ توقف سے درجہ قبول پر فائز ہوگئی ہے اھ والله اعلم ذرا غور کرو متن میں محض ایك معتبر کے ساتھ اور شرح میں کئی افراد کے ساتھ موافقت روایت پر اکتفا کیسے کیا اور اسے قبول کا درجہ دیا ہے اور یہاں قبول سے مراد احکام میں قبولیت مراد ہے کیونکہ انہوں نے حدیث ضعیف کو صالح للاعتبار والرد کہا ہے کیونکہ حدیث ضعیف فضائل میں تو بالاجماع مقبول ہے خواہ اس کے ساتھ کوئی دوسری روایت نہ ہو اور میرے لئے یہ ظاہر ہوا کہ وجہ ان دونوں عراقی اور شیخ الاسلام کے ساتھ ہے اس بنا پر جو نزہۃ میں ان دونوں کی دلیل بیان کی گئی ہے یہ فتح المغیث پر میری تعلیق سے منقول ہے ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ(ت)
فارتقی من درجۃ التوقف الی درجۃ القبول والله اعلم اھ وانظر کیف اجتزئ فی المتن بتوحید معتبر وفی الشرح بافراد روایۃ وحکم بالارتقاء الی درجۃ القبول وما المرادبہ ھھنا الاالقبول فی الاحکام فانہ جعل الضعیف صالحا للاعتبار من الرد ومع انہ مقبول فی الفضائل بالاجماع ویظھرلی ان الوجہ معھما اعنی العراقی وشیخ الاسلام لمابین فی النزھۃ من الدلیل لھما منقولا مما علقتہ علی فتح المغیث ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
یہ بات دلالت کرتی ہے کہ یہ حدیث محفوظ ہے اور درجہ توقف سے درجہ قبول پر فائز ہوگئی ہے اھ والله اعلم ذرا غور کرو متن میں محض ایك معتبر کے ساتھ اور شرح میں کئی افراد کے ساتھ موافقت روایت پر اکتفا کیسے کیا اور اسے قبول کا درجہ دیا ہے اور یہاں قبول سے مراد احکام میں قبولیت مراد ہے کیونکہ انہوں نے حدیث ضعیف کو صالح للاعتبار والرد کہا ہے کیونکہ حدیث ضعیف فضائل میں تو بالاجماع مقبول ہے خواہ اس کے ساتھ کوئی دوسری روایت نہ ہو اور میرے لئے یہ ظاہر ہوا کہ وجہ ان دونوں عراقی اور شیخ الاسلام کے ساتھ ہے اس بنا پر جو نزہۃ میں ان دونوں کی دلیل بیان کی گئی ہے یہ فتح المغیث پر میری تعلیق سے منقول ہے ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ(ت)
حوالہ / References
شرح ننجۃ الفکر بحث سوء الحفظ مطبوعہ مطبع علیمی اندرون لوہاریگیٹ لاہور ص ۷۴
یہ چند جملے لوح دل پر نقش کرلینے کے ہیں کہ بعونہ تعالی اس تحریر نفیس کے ساتھ شاید اور جگہ نہ ملیں وبالله التوفیق ولہ الحمد الحمدالله القادر القوی علم ماعلم وصلی الله تعالی علی ناصر الضعیف والہ وسلم قبول ضعیف فی فضائل الاعمال کا مسئلہ جلیلہ ابتدائ مسووہ فقیر میں صرف دو۲ افادہ مختصر میں تین صفحہ کے مقدار تھا اب کو ماہ مبارك ربیع الاول ۱۳۱۳ھ میں رسالہ بعونہ تعالی بمبئی میں چھپنا شروع ہوگیا اثنائے تبییض میں بارگاہ مفیض علوم ونعم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے بحمدہ الله تعالی نفائس جلیلہ کا اضافہ ہوا افادہ شانزدہم سے یہاں تك آٹھ افادات نافعہ اسی مسئلہ کی تحقیق میں القا ہوئے قلم روکتے روکتے اتنے اوراق املا ہوئے امید کی جاتی ہے کہ اس مسئلہ کی ایسی تسجیل جلیل وتفصیل جزیل اس تحریر کے سوا کہیں نہ ملے مناسب ہے کہ یہ افادے اس مسئلہ خاص میں جدا رسالہ قرار دئے جائیں اور بلحاظ تاریخ عــــہ الھاد الکاف فی حکم الضعاف(۱۳۱۳ھ) (ضعیف حدیثوں کے حکم میں کافی ہدایت۔ ت) لقب پائیں وبالله التوفیق ولہ المنۃ علی مازرق من نعم تحقیق ماکنا لعشر معشاار عشرھا نلیق والصلاۃ والسلام علی الحبیب الکریم والہ وصحبہ ھداۃ
عــــہ : منقوص محلی باللام سے بھی حذف یا فصے کلام میں شایع وذایع ہے یوم التلاق یوم التناد الکبیر المتعال الی غیر ذلك امام ابن حجر عسقلانی کی کتاب ہے الکاف الشاف فی تخریج احادیث الکشاف ۱۲ منہ (م)
عــــہ : منقوص محلی باللام سے بھی حذف یا فصے کلام میں شایع وذایع ہے یوم التلاق یوم التناد الکبیر المتعال الی غیر ذلك امام ابن حجر عسقلانی کی کتاب ہے الکاف الشاف فی تخریج احادیث الکشاف ۱۲ منہ (م)
الطریق امین۔
افادہ بست ۲۴ وچہارم : (حدیث کا کتب طبقہ رابعہ سے ہونا خواہی نخواہی مستلزم مطلق ضعف ہی نہیں چہ جائے ضعف شدید) وبالله استعین کسی حدیث کا کتب طبقہ رابعہ سے ہونا موضوعیت بالائے طاق ضعف شدید درکنار مطلق ضعف کو بھی مستلزم نہیں ان میں حسن صحیح صالح ضعیف باطل ہر قسم کی حدیثیں ہیں ہاں بوجہ اختلاط وعدم بیان کہ عادت جمہور محدثین ہے ہر حدیث میں احتمال ضعف قدیم لہذا غیر ناقد کو بے مطالعہ کلمات ناقدین ان سے عقائد واحکام میں احتجاج نہیں پہنچتا قول شاہ عبدالعزیز صاحب ایں احادیث قابل اعتماد نیستند کہ دراثبات عقیدہ یا عملے بآنہا تمسك کردہ شود (یہ احادیث قابل اعتماد نہیں ہیں کہ ان سے عقیدہ وعمل میں استدلال کیا جاسکے۔ ت) کے یہی معنی ہیں نہ یہ کہ ان کتابوں میں جتنی حدیثیں ہیں سب واہی ساقط ہیں یا موضوع وباطل اور اصلا دربارہ فضائل بھی ایراد واستناد کے ناقابل کوئی ادنی ذی فہم وتمیز بھی ایسا ادعا نہ کرے گا نہ کہ شاہ صاحب سا فاضل ہاں متکلمان طائفہ وہابیہ اپنی جہالتیں جس کے سر چاہیں دھریں ۔
اولا خود شاہ صاحب اثبات عقیدہ وعمل کا انکار فرمارہے ہیں اور وہ فضائل اعمال میں تمسك کے منافی نہیں ہم افادہ ۲۲ میں روشن کر آئے کہ دربارہ فضائل کسی حدیث ضعیف سے استناد کسی عقیدہ یا عمل کا اثبات نہیں تو اس بات کو ہمارے مسئلہ سے کیا تعلق!
ثانیا تصانیف خطیب وابونعیم بھی طبقہ رابعہ میں ہیں اور شاہ صاحب بستان المحدثین میں امام ابونعیم کی نسبت فرماتے ہیں :
ازنوادر کتب اوکتاب حلیۃ الاولیاست کہ نظیر آں دراسلام تصنیف نشدہ ۔
ان کی تصانیف میں سے حلیۃ الاولیا ایسے نوادرات میں سے ہے جس کی مثل اسلام میں آج تك کوئی کتاب تصنیف نہ ہوئی (ت)
اسی میں ہے :
کتاب اقتضاء العلم والعمل ازتصانیف خطیب است بسیار خوب کتابے است دربار خود ۔
خطیب بغدادی کی کتب میں اقتضاء العلم والعمل اپنے فن میں بہت سی خوبیوں کی حامل ہے۔ (ت)
افادہ بست ۲۴ وچہارم : (حدیث کا کتب طبقہ رابعہ سے ہونا خواہی نخواہی مستلزم مطلق ضعف ہی نہیں چہ جائے ضعف شدید) وبالله استعین کسی حدیث کا کتب طبقہ رابعہ سے ہونا موضوعیت بالائے طاق ضعف شدید درکنار مطلق ضعف کو بھی مستلزم نہیں ان میں حسن صحیح صالح ضعیف باطل ہر قسم کی حدیثیں ہیں ہاں بوجہ اختلاط وعدم بیان کہ عادت جمہور محدثین ہے ہر حدیث میں احتمال ضعف قدیم لہذا غیر ناقد کو بے مطالعہ کلمات ناقدین ان سے عقائد واحکام میں احتجاج نہیں پہنچتا قول شاہ عبدالعزیز صاحب ایں احادیث قابل اعتماد نیستند کہ دراثبات عقیدہ یا عملے بآنہا تمسك کردہ شود (یہ احادیث قابل اعتماد نہیں ہیں کہ ان سے عقیدہ وعمل میں استدلال کیا جاسکے۔ ت) کے یہی معنی ہیں نہ یہ کہ ان کتابوں میں جتنی حدیثیں ہیں سب واہی ساقط ہیں یا موضوع وباطل اور اصلا دربارہ فضائل بھی ایراد واستناد کے ناقابل کوئی ادنی ذی فہم وتمیز بھی ایسا ادعا نہ کرے گا نہ کہ شاہ صاحب سا فاضل ہاں متکلمان طائفہ وہابیہ اپنی جہالتیں جس کے سر چاہیں دھریں ۔
اولا خود شاہ صاحب اثبات عقیدہ وعمل کا انکار فرمارہے ہیں اور وہ فضائل اعمال میں تمسك کے منافی نہیں ہم افادہ ۲۲ میں روشن کر آئے کہ دربارہ فضائل کسی حدیث ضعیف سے استناد کسی عقیدہ یا عمل کا اثبات نہیں تو اس بات کو ہمارے مسئلہ سے کیا تعلق!
ثانیا تصانیف خطیب وابونعیم بھی طبقہ رابعہ میں ہیں اور شاہ صاحب بستان المحدثین میں امام ابونعیم کی نسبت فرماتے ہیں :
ازنوادر کتب اوکتاب حلیۃ الاولیاست کہ نظیر آں دراسلام تصنیف نشدہ ۔
ان کی تصانیف میں سے حلیۃ الاولیا ایسے نوادرات میں سے ہے جس کی مثل اسلام میں آج تك کوئی کتاب تصنیف نہ ہوئی (ت)
اسی میں ہے :
کتاب اقتضاء العلم والعمل ازتصانیف خطیب است بسیار خوب کتابے است دربار خود ۔
خطیب بغدادی کی کتب میں اقتضاء العلم والعمل اپنے فن میں بہت سی خوبیوں کی حامل ہے۔ (ت)
حوالہ / References
عجالہ نافعہ فصل اول بحث طبقہ رابعہ مطبع نور محمد کارخانہ تجارت کراچی ص ۵
بُستان المحدثین مع اردو ترجمہ مستخرج علی صحیح مسلم لابی نعیم مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۱۵
بُستان المحدثین مع اردو ترجمہ کتاب اقتضاء العلم والعمل للخطیب مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱۶۹
بُستان المحدثین مع اردو ترجمہ مستخرج علی صحیح مسلم لابی نعیم مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۱۵
بُستان المحدثین مع اردو ترجمہ کتاب اقتضاء العلم والعمل للخطیب مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱۶۹
اسی میں تصانیف امام خطیب کو لکھا :
التصانیف المفیدۃ التی ھی بضاعۃ المحدثین وعروتھم فی فھم ۔
فائدہ بخش تصنیفیں کہ فن حدیث میں محدثین کے بضاعت ومحل تمسك ہیں ۔
پھر امام حافظ ابوطاہر سلفی سے ان تصانیف کی مدح جلیل نقل کی سبحان الله کہاں شاہ صاحب کا یہ حسن اعتقاد اور کہاں ان کے کلام کی وہ بیہودہ مراد کہ وہ کتب سراسر مہمل وناقابل استناد۔
ثالثا جناب شاہ صاحب مرحوم کے والد شاہ ولی الله صاحب کہ حجۃ الله البالغہ میں اس تقریر طبقات کے موجود اسی حجۃ بالغہ میں اسی طبقہ رابعہ کی نسبت لکھتے ہیں :
اصلح ھذہ الطبعۃ ماکان ضعیفا محتملا ۔
یعنی اس طبقہ کی احادیث میں صالح تر وہ حدیثیں ہیں جن میں ضعیف قلیل قابل تحمل ہو۔
ظاہر ہے کہ ضعیف محتمل ادنی انجبار سے خود احکام میں حجت ہوجاتی ہے اور فضائل میں تو بالاجماع تنہا ہی مقبول وکافی ہے پھر یہ حکم بھی بلحاظ انفراد ہوگا ورنہ ان میں بہت احادیث منجبرہ حسان ملیں گی اور عندالتحقیق یہ بھی باعتبار غالب ہے ورنہ فی الواقع ان میں صحاح حسان سب کچھ ہیں کماستسمع بعونہ تعالی (جیسے کہ تو عنقریب سنے گا۔ ت)
رابعا یہی شاہ صاحب قرۃ العینین عــــہ فی تفضیل الشیخین میں لکھتے ہیں :
چوں نوبت علم حدیث بطبقہ دیلمی وخطیب وابن عساکر رسید ایں عزیزاں دیدندکہ احادیث صحاح وحسان رامتقدمین مضبوط کردہ اندپس مائل شدند بجمع احادیث ضعیفہ ومقلوبہ کہ سلف آنرادیدہ ودانستہ گزاشتہ بودند وغرض ایشاں ازیں جمع آں بود کہ بعد جمع حفاظ محدثین دراں احادیث تامل کنند وموضوعات را ازحسان لغیرہا ممتاز نمایند چنانکہ اصحاب مسانید طرق احادیث جمع کروند کہ حفاظ صحاح وحسان وضعیف از یکد گرممتاز سازند ظن ہردوفریق راخدا تعالی محقق ساخت بخاری ومسلم وترمذی وحاکم تمییز احادیث وحکم بصحت وحسن ومتاخران در احادیث خطیب وطبقہ اوتصرف نمودند ابن جوزی موضوعات رامجرد ساخت وسخاوی ورمقاصد حسنہ حسان لغیرہا ازضعاف ومناکیر ممیز نمود خطیب وطبقہ اودر مقدمات کتب خودبایں مقاصد تصریح نمودہ اند جزاھم الله تعالی عن امۃ النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم خیرا اھ ملتقطا۔
جب علم حدیث دیلمی خطیب اور ابن عساکر کے طبقہ تك پہنچا تو انہوں نے دیکھا کہ مقتدمین علماء نے ایسی احادیث جو صحیح اور حسن تھیں کو محفوظ کردیا ہے لہذا انہوں نے ایسی احادیث جمع کیں جو ضعیفہ ومقلوبہ تھیں جنہیں اسلاف نے عمدا ترك کیا تھا ان کے جمع کرنے سے غرض یہ تھی کہ حفاظ محدثین ان میں غور تأمل کرکے موضوعات کو حسن لغیرہ سے ممتاز کردیں گے جیسا کہ اصحاب مسانید نے تمام طرق حدیث کو جمع کیا تاکہ حفاظ حدیث صحیح حسن اور ضعیف کو ایك دوسرے سے ممتاز کردیں دونوں فریقوں کو الله تعالی نے توفیق اور کامیابی عطا فرمائی بخاری مسلم ترمذی اور حاکم احادیث میں امتیاز کرتے ہوئے ان پر صحیح حسن ہونے کا حکم لگایا اور متاخرین نے خطیب اور ان کے طبقہ کے لوگوں کی احادیث میں تصرف کیا وحکم لگایا ابن جوزی نے موضوعات کو الگ کیا امام سخاوی نے مقاصد حسنہ میں حسن لغیرہ کو ضعیف اور منکر سے ممتاز کیا۔ خطیب اور ان کے طبقہ کے لوگوں نے اپنی کتب کے مقدمات میں ان مقاصد کی تصریح کی ہے الله تعالی ان تمام کو نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی امت کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے اھ ملتقطا۔ (ت)
عــــہ : قسم دوم ازفصل دوم درشبہات وارقان ۱۲ منہ
دوسری فصل کی قسم دوم کا تبین کے شبہات سے متعلق ہے اس کے تحت اس کا بیان ہے (ت)
التصانیف المفیدۃ التی ھی بضاعۃ المحدثین وعروتھم فی فھم ۔
فائدہ بخش تصنیفیں کہ فن حدیث میں محدثین کے بضاعت ومحل تمسك ہیں ۔
پھر امام حافظ ابوطاہر سلفی سے ان تصانیف کی مدح جلیل نقل کی سبحان الله کہاں شاہ صاحب کا یہ حسن اعتقاد اور کہاں ان کے کلام کی وہ بیہودہ مراد کہ وہ کتب سراسر مہمل وناقابل استناد۔
ثالثا جناب شاہ صاحب مرحوم کے والد شاہ ولی الله صاحب کہ حجۃ الله البالغہ میں اس تقریر طبقات کے موجود اسی حجۃ بالغہ میں اسی طبقہ رابعہ کی نسبت لکھتے ہیں :
اصلح ھذہ الطبعۃ ماکان ضعیفا محتملا ۔
یعنی اس طبقہ کی احادیث میں صالح تر وہ حدیثیں ہیں جن میں ضعیف قلیل قابل تحمل ہو۔
ظاہر ہے کہ ضعیف محتمل ادنی انجبار سے خود احکام میں حجت ہوجاتی ہے اور فضائل میں تو بالاجماع تنہا ہی مقبول وکافی ہے پھر یہ حکم بھی بلحاظ انفراد ہوگا ورنہ ان میں بہت احادیث منجبرہ حسان ملیں گی اور عندالتحقیق یہ بھی باعتبار غالب ہے ورنہ فی الواقع ان میں صحاح حسان سب کچھ ہیں کماستسمع بعونہ تعالی (جیسے کہ تو عنقریب سنے گا۔ ت)
رابعا یہی شاہ صاحب قرۃ العینین عــــہ فی تفضیل الشیخین میں لکھتے ہیں :
چوں نوبت علم حدیث بطبقہ دیلمی وخطیب وابن عساکر رسید ایں عزیزاں دیدندکہ احادیث صحاح وحسان رامتقدمین مضبوط کردہ اندپس مائل شدند بجمع احادیث ضعیفہ ومقلوبہ کہ سلف آنرادیدہ ودانستہ گزاشتہ بودند وغرض ایشاں ازیں جمع آں بود کہ بعد جمع حفاظ محدثین دراں احادیث تامل کنند وموضوعات را ازحسان لغیرہا ممتاز نمایند چنانکہ اصحاب مسانید طرق احادیث جمع کروند کہ حفاظ صحاح وحسان وضعیف از یکد گرممتاز سازند ظن ہردوفریق راخدا تعالی محقق ساخت بخاری ومسلم وترمذی وحاکم تمییز احادیث وحکم بصحت وحسن ومتاخران در احادیث خطیب وطبقہ اوتصرف نمودند ابن جوزی موضوعات رامجرد ساخت وسخاوی ورمقاصد حسنہ حسان لغیرہا ازضعاف ومناکیر ممیز نمود خطیب وطبقہ اودر مقدمات کتب خودبایں مقاصد تصریح نمودہ اند جزاھم الله تعالی عن امۃ النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم خیرا اھ ملتقطا۔
جب علم حدیث دیلمی خطیب اور ابن عساکر کے طبقہ تك پہنچا تو انہوں نے دیکھا کہ مقتدمین علماء نے ایسی احادیث جو صحیح اور حسن تھیں کو محفوظ کردیا ہے لہذا انہوں نے ایسی احادیث جمع کیں جو ضعیفہ ومقلوبہ تھیں جنہیں اسلاف نے عمدا ترك کیا تھا ان کے جمع کرنے سے غرض یہ تھی کہ حفاظ محدثین ان میں غور تأمل کرکے موضوعات کو حسن لغیرہ سے ممتاز کردیں گے جیسا کہ اصحاب مسانید نے تمام طرق حدیث کو جمع کیا تاکہ حفاظ حدیث صحیح حسن اور ضعیف کو ایك دوسرے سے ممتاز کردیں دونوں فریقوں کو الله تعالی نے توفیق اور کامیابی عطا فرمائی بخاری مسلم ترمذی اور حاکم احادیث میں امتیاز کرتے ہوئے ان پر صحیح حسن ہونے کا حکم لگایا اور متاخرین نے خطیب اور ان کے طبقہ کے لوگوں کی احادیث میں تصرف کیا وحکم لگایا ابن جوزی نے موضوعات کو الگ کیا امام سخاوی نے مقاصد حسنہ میں حسن لغیرہ کو ضعیف اور منکر سے ممتاز کیا۔ خطیب اور ان کے طبقہ کے لوگوں نے اپنی کتب کے مقدمات میں ان مقاصد کی تصریح کی ہے الله تعالی ان تمام کو نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی امت کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے اھ ملتقطا۔ (ت)
عــــہ : قسم دوم ازفصل دوم درشبہات وارقان ۱۲ منہ
دوسری فصل کی قسم دوم کا تبین کے شبہات سے متعلق ہے اس کے تحت اس کا بیان ہے (ت)
حوالہ / References
بستان المحدثین مع اُردو ترجمہ تاریخ بغداد للخطیب مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۸۸
حجۃ اللہ البانعۃ باب طبقہ کتب حدیث ، الطبعۃ الرابعہ مطبوعہ المکتبۃ السلفیہ لاہور ۱ / ۱۳۵
قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین قسم دوم ازشبہات الخ مطبوعہ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص ۲۸۲
حجۃ اللہ البانعۃ باب طبقہ کتب حدیث ، الطبعۃ الرابعہ مطبوعہ المکتبۃ السلفیہ لاہور ۱ / ۱۳۵
قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین قسم دوم ازشبہات الخ مطبوعہ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص ۲۸۲
دیکھو کیسی صریح تصریح ہے کہ کتب طبقہ رابعہ میں نہ صرف ضعیف محتمل بلکہ حسان بھی موجود ہیں اگرچہ لغیرہا کہ وہ بھی بلاشبہہ خود احکام میں حجت نہ کہ فضائل۔
خامسا انہیں شاہ صاحب نے اسی حجۃ میں سنن ابی داؤد وترمذی ونسائی کو طبقہ ثانیہ اور مصنف عبدالرزاق وابوبکر بن ابی شیبہ وتصانیف ابی داؤد طیالسی وبیہقی وطبرانی کو طبقہ ثالثہ اور کتب ابونعیم کو طبقہ رابعہ میں گنا امام جلیل جلال سیوطی خطبہ جمع الجوامع میں فرماتے ہیں :
رمزت للبخاری خ ولمسلم م ولابن حبان حب و للحاکم فی المستدرك ك وللضیاء فی المختارۃ ض وجمیع مافی ھذہ الکتب الخمسۃ صحیح سوی مافی المستدرك من المتعقب فائبہ علیہ ورمزت لابی داؤد د فماسکت عــــہ علیہ فھو صالح ومابین ضعفہ لقلتہ عنہ وللترمذی ت وانقل کلامہ علی الحدیث وللنسائی ن ولابن ماجۃ ہ ولابی داؤد الطیالسی ط ولاحمد حم ولعبدالرزاق عب ولابن ابی شیبۃ ش ولابی یعلی ع وللطبرانی فی الکبیر طب والاوسط طس وفی الصغیر طص ولابی نعیم فی الحلیۃ حل وللبھیقی ق ولہ فی شعب الایمان ھب وھذہ فیھا الصحیح والحسن والضعیف فابینہ غالبا اھ مختصرا۔
میں نے حوالہ جات کے لئے یہ رموز وضع کیے ہیں خ سے بخاری م سے مسلم حب سے ابن حبان ك سے مستدرك حاکم ض سے مختارہ للضیاء ان پانچوں کتب میں صحیح احادیث ہیں ماسوائے حاکم کے جن پر اعتراض کیاگیا ہے اس پر توجہ رکھ د سے ابوداؤد جس پر وہ خاموش رہیں وہ صالح ہے اور جس کا ضعف(باقی برصفحہ ائندہ)
خامسا انہیں شاہ صاحب نے اسی حجۃ میں سنن ابی داؤد وترمذی ونسائی کو طبقہ ثانیہ اور مصنف عبدالرزاق وابوبکر بن ابی شیبہ وتصانیف ابی داؤد طیالسی وبیہقی وطبرانی کو طبقہ ثالثہ اور کتب ابونعیم کو طبقہ رابعہ میں گنا امام جلیل جلال سیوطی خطبہ جمع الجوامع میں فرماتے ہیں :
رمزت للبخاری خ ولمسلم م ولابن حبان حب و للحاکم فی المستدرك ك وللضیاء فی المختارۃ ض وجمیع مافی ھذہ الکتب الخمسۃ صحیح سوی مافی المستدرك من المتعقب فائبہ علیہ ورمزت لابی داؤد د فماسکت عــــہ علیہ فھو صالح ومابین ضعفہ لقلتہ عنہ وللترمذی ت وانقل کلامہ علی الحدیث وللنسائی ن ولابن ماجۃ ہ ولابی داؤد الطیالسی ط ولاحمد حم ولعبدالرزاق عب ولابن ابی شیبۃ ش ولابی یعلی ع وللطبرانی فی الکبیر طب والاوسط طس وفی الصغیر طص ولابی نعیم فی الحلیۃ حل وللبھیقی ق ولہ فی شعب الایمان ھب وھذہ فیھا الصحیح والحسن والضعیف فابینہ غالبا اھ مختصرا۔
میں نے حوالہ جات کے لئے یہ رموز وضع کیے ہیں خ سے بخاری م سے مسلم حب سے ابن حبان ك سے مستدرك حاکم ض سے مختارہ للضیاء ان پانچوں کتب میں صحیح احادیث ہیں ماسوائے حاکم کے جن پر اعتراض کیاگیا ہے اس پر توجہ رکھ د سے ابوداؤد جس پر وہ خاموش رہیں وہ صالح ہے اور جس کا ضعف(باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References
جامع الاحادیث بحوالہ جمع الجوامع خطبہ کتاب ، دارالفکر بیروت ۱ / ۱۸ ، ۱۹
انہوں نے بیان کیا ہے میں نے اسے نقل کردیا ہے ت سے ترمذی میں ان کا حدیث پر تبصرہ بھی نقل کروں گا ن سے نسائی ہ سے ابن ماجہ ط سے ابوداؤد طیالسی حم سے احمد عب سے عبدالرزاق ش سے ابن ابی شیبہ ع سے ابویعلی طب سے طبرانی کی معجم کبیر طس سے معجم اوسط طص سے معجم صغیر حل سے حلیہ ابونعیم ق سے سنن بیہقی ھب سے شعب الایمان للبیہقی مراد ہوگا ان تمام کتب میں احادیث صحیح بھی ہیں حسن اور ضعیف بھی اور میں اکثر طور پر ان کے بارے میں نشان دہی بھی کروں گا اھ مختصرا۔ (ت)
عــــہ : فی الاصل الذی وقفت علیہ بین
وہ اصل کتاب جس پر میں نے واقفیت(باقی برصفحہ ائندہ)
دیکھو امام خاتم الحفاظ نے ان طبقات ثانیہ وثالثہ ورابعہ سب کو ایك ہی مشق میں گنا اور سب پر یہی حکم فرمایا کہ ان میں صحیح حسن ضعیف سب کچھ ہے۔
سادسا خود جناب شاہ صاحب کی تصانیف تفسیر عزیزی وتحفہ اثنا عشریہ وغیرہما میں جابجا احادیث طبقہ رابعہ سے بلکہ ان سے بھی اتر کر استناد موجود اب یا تو شاہ صاحب معاذالله خود کلام اپنا نہ سمجھتے یا یہ سفہا ناحق تحریف معنوی کرکے احادیث طبقہ رابعہ کو مہمل ومعطل ٹھہرانا ان کے سر کیے دیتے ہیں تمثیلا چند نقول حاضر عزیزی آخر تفسیر فاتحہ میں ہے :
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
لفظی فماوعلیہ کلمۃ لم تبین فی الکتابۃ فکتبت مکانھا لفظۃ سکت اذھو المراد واذ کان لابدمن التنبیہ نبھت علیہ ۱۲ منہ (م)
حاصل کی ہے اس میں لفظ فما اور علیہ کے درمیان ایك کلمہ ہے جو کتابت میں واضح نہیں تو میں نے اس کی جگہ لفظ سکت لکھ دیا ہے اور چونکہ اس سے آغاہ کرنا ضروری تھا تو میں نے آگاہ کردیا ۱۲ منہ (ت)
عــــہ : فی الاصل الذی وقفت علیہ بین
وہ اصل کتاب جس پر میں نے واقفیت(باقی برصفحہ ائندہ)
دیکھو امام خاتم الحفاظ نے ان طبقات ثانیہ وثالثہ ورابعہ سب کو ایك ہی مشق میں گنا اور سب پر یہی حکم فرمایا کہ ان میں صحیح حسن ضعیف سب کچھ ہے۔
سادسا خود جناب شاہ صاحب کی تصانیف تفسیر عزیزی وتحفہ اثنا عشریہ وغیرہما میں جابجا احادیث طبقہ رابعہ سے بلکہ ان سے بھی اتر کر استناد موجود اب یا تو شاہ صاحب معاذالله خود کلام اپنا نہ سمجھتے یا یہ سفہا ناحق تحریف معنوی کرکے احادیث طبقہ رابعہ کو مہمل ومعطل ٹھہرانا ان کے سر کیے دیتے ہیں تمثیلا چند نقول حاضر عزیزی آخر تفسیر فاتحہ میں ہے :
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
لفظی فماوعلیہ کلمۃ لم تبین فی الکتابۃ فکتبت مکانھا لفظۃ سکت اذھو المراد واذ کان لابدمن التنبیہ نبھت علیہ ۱۲ منہ (م)
حاصل کی ہے اس میں لفظ فما اور علیہ کے درمیان ایك کلمہ ہے جو کتابت میں واضح نہیں تو میں نے اس کی جگہ لفظ سکت لکھ دیا ہے اور چونکہ اس سے آغاہ کرنا ضروری تھا تو میں نے آگاہ کردیا ۱۲ منہ (ت)
ابونعیم ودیلمی ازابو الدرداء روایت کردہ اندکہ آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرمودہ کہ فاتحہ الکتاب کفایت مے کندازانچہ ہیچ چیزاز قرآن کفایت نمی کنند الحدیث۔
ابونعیم اور دیلمی نے حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا جہاں قرآن کی دوسری سورۃ کافی نہ ہو وہاں فاتحہ کافی ہے الحدیث (ت)
یہیں اور روایات بھی ابن عساکر وابو شیخ وابن مردودیہ ودیلمی وغیرہم سے مذکور ہیں یہیں عــــہ ہے :
ثعلبی ازشعبی روایت کردہ است کہ شخصے نزد او آمد وشکایت درد گردہ کردہ شعبی باوگفت کہ ترالازم است کہ اساس القرآن بخوانی وبرجائے درد دم کنی اوگفت کہ اساس القرآن چیست شعبی گفت فاتحۃ الکتاب ۔
ثعلبی نے شعبی سے روایت کیا کہ ایك آدمی نے شعبی کے پاس آکر شکایت کی کہ مجھے دردگردہ ہے انہوں نے فرمایا تو اساس القرآن پڑھ کر جائے درد پر دم کر اس نے عرض کیا کہ اساس القرآن کہا ہے فرمایا سورۃ الفاتحہ۔ (ت)
عزیزی سورہ بقرہ ذکر بعض خواص سور وآیات میں ہے :
ابن النجار درتاریخ خود ازمحمد بن سیرین روایت کردہ کہ حدیثی ازعبدالله بن عمررضی اللہ تعالی عنہماشنیدہ بودم کہ آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرمودہ اند ہرکہ درشب سی وسہ آیت بخواند او را در آں شب درندہ و دزدے ایذا نر ساند الحدیث اھ مختصرا ۔
ابن نجار نے اپنی تاریخ میں محمد بن سیرین سے روایت کرتے ہیں کہ ایك حدیث میں نے حضرت عبدالله بن عمررضی اللہ تعالی عنہماسے سنی جس میں آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا کہ جو شخص رات کو تینتیس۳۳ آیات پڑھے گا اسے کوئی درندہ اور ڈاکو نقصان نہیں دے گا الحدیث اھ مختصرا۔ (ت)
عــــہ : ودریں بعض روایات اقتران دارقطنی یا طبرانی یا وکیع مخالف راسود ندہد زیراکہ ازیں چنانکہ احتمال ایں معنی رونمایند کہ اسناد باینہا مقرون بطبقہ ثالثہ است ہمچناں ایں امر برمنصہ ثبوت نشیند کہ ہمہ احادیث طبقہ رابعہ ساقط ازدرجہ اعتبار نیست باز احتمال مذکور بملاحظہ روایات دیگر کہ تنہا ازطبقہ رابعہ ست ازل باشد زعم مخالف راہیچ کن باشد فافہم ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ(م)
اور اس میں بعض روایات کے دارقطنی یا طبرانی یا وکیع کے ساتھ اقتران سے مخالف کو سودمند نہیں کیونکہ اس طرح سے یہ معنی پیدا ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ اسناد سے طبقہ ثالثہ سے مقرون ہیں اور اسی طرح یہ ثابت ہے کہ طبقہ رابعہ کی تمام احادیث درجہ اعتبار سے ساقط نہیں پھر احتمال مذکور دیگر روایات کے ملاحظہ سے کہ جو صرف طبقہ رابعہ سے ہیں یہ بھی زعم مخالف کو زیادہ زائل کرنے والا ہے مخالف کا جو بھی زعم ہو اسے اچھی طرح سمجھو ۱۲ منہ (ت)
ابونعیم اور دیلمی نے حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا جہاں قرآن کی دوسری سورۃ کافی نہ ہو وہاں فاتحہ کافی ہے الحدیث (ت)
یہیں اور روایات بھی ابن عساکر وابو شیخ وابن مردودیہ ودیلمی وغیرہم سے مذکور ہیں یہیں عــــہ ہے :
ثعلبی ازشعبی روایت کردہ است کہ شخصے نزد او آمد وشکایت درد گردہ کردہ شعبی باوگفت کہ ترالازم است کہ اساس القرآن بخوانی وبرجائے درد دم کنی اوگفت کہ اساس القرآن چیست شعبی گفت فاتحۃ الکتاب ۔
ثعلبی نے شعبی سے روایت کیا کہ ایك آدمی نے شعبی کے پاس آکر شکایت کی کہ مجھے دردگردہ ہے انہوں نے فرمایا تو اساس القرآن پڑھ کر جائے درد پر دم کر اس نے عرض کیا کہ اساس القرآن کہا ہے فرمایا سورۃ الفاتحہ۔ (ت)
عزیزی سورہ بقرہ ذکر بعض خواص سور وآیات میں ہے :
ابن النجار درتاریخ خود ازمحمد بن سیرین روایت کردہ کہ حدیثی ازعبدالله بن عمررضی اللہ تعالی عنہماشنیدہ بودم کہ آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرمودہ اند ہرکہ درشب سی وسہ آیت بخواند او را در آں شب درندہ و دزدے ایذا نر ساند الحدیث اھ مختصرا ۔
ابن نجار نے اپنی تاریخ میں محمد بن سیرین سے روایت کرتے ہیں کہ ایك حدیث میں نے حضرت عبدالله بن عمررضی اللہ تعالی عنہماسے سنی جس میں آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا کہ جو شخص رات کو تینتیس۳۳ آیات پڑھے گا اسے کوئی درندہ اور ڈاکو نقصان نہیں دے گا الحدیث اھ مختصرا۔ (ت)
عــــہ : ودریں بعض روایات اقتران دارقطنی یا طبرانی یا وکیع مخالف راسود ندہد زیراکہ ازیں چنانکہ احتمال ایں معنی رونمایند کہ اسناد باینہا مقرون بطبقہ ثالثہ است ہمچناں ایں امر برمنصہ ثبوت نشیند کہ ہمہ احادیث طبقہ رابعہ ساقط ازدرجہ اعتبار نیست باز احتمال مذکور بملاحظہ روایات دیگر کہ تنہا ازطبقہ رابعہ ست ازل باشد زعم مخالف راہیچ کن باشد فافہم ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ(م)
اور اس میں بعض روایات کے دارقطنی یا طبرانی یا وکیع کے ساتھ اقتران سے مخالف کو سودمند نہیں کیونکہ اس طرح سے یہ معنی پیدا ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ اسناد سے طبقہ ثالثہ سے مقرون ہیں اور اسی طرح یہ ثابت ہے کہ طبقہ رابعہ کی تمام احادیث درجہ اعتبار سے ساقط نہیں پھر احتمال مذکور دیگر روایات کے ملاحظہ سے کہ جو صرف طبقہ رابعہ سے ہیں یہ بھی زعم مخالف کو زیادہ زائل کرنے والا ہے مخالف کا جو بھی زعم ہو اسے اچھی طرح سمجھو ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
تفسیر عزیزی سورۃ الفاتحۃ فضائل ایں سورۃ الخ مطبوعہ لال کنواں دہلی ص ۵۹
تفسیر عزیزی آخر سورہ فاتحہ شیطان راچہار باردر عمر خود نوحہ الخ مطبوعہ لال کنواں دہلی ص ۵۹
تفسیر عزیزی سورۃ البقرۃ خواص وفضائل سورۃ فاتحہ وسی وسہ آیت الخ مطبوعہ لال کنواں دہلی ص ۹۴
تفسیر عزیزی آخر سورہ فاتحہ شیطان راچہار باردر عمر خود نوحہ الخ مطبوعہ لال کنواں دہلی ص ۵۹
تفسیر عزیزی سورۃ البقرۃ خواص وفضائل سورۃ فاتحہ وسی وسہ آیت الخ مطبوعہ لال کنواں دہلی ص ۹۴
اسی عــــہ۱ میں ہے :
روی عــــہ۲ ابن جریر عن مجاھد قال سأل سلیمان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم عن اولئك النصاری الحدیث ۔
ابن جریر نے مجاہد سے روایت کیا کہ حضرت سلمان رضی اللہ تعالی عنہنے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے ان نصاری کے بارے میں سوال کیا الحدیث (ت)
عزیزی آخر والیل میں ہے :
حافظ خطیب بغدادی ازجابر رضی اللہ تعالی عنہروایت می کند کہ روزے بخدمت آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمحاضر بودیم ارشاد فرمودند کہ حالا شخصے می آید کہ حق تعالی بعد ازمن کسے رابہتر ازوپیدا نکردہ است وشفاعت او روز قیامت مثل شفاعت پیغمبران باشد جابر گوید کہ مہلے نہ گزشتہ بود کہ حضرت ابوبکر تشریف آوردند ۔
حافظ خطیب بغدادی حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کرتے ہیں کہ ایك دن میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا آپ نے فرمایا ابھی ایك شخص آئے گا کہ میرے بعد اس سے بہتر شخص الله تعالی نے پیدا نہیں فرمایا اس کی شفاعت روز قیامت الله تعالی کے پیغمبروں کی شفاعت کی طرح ہوگی۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہکہتے ہیں کہ ابھی تھوڑی دیر گزری تھی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہتشریف لائے۔ (ت)
عــــہ۱ : زیر آیہ ان الذین امنوا و الذین هادوا و النصرى ۱۲ منہ (م)
عــــہ۲ : شاہ صاحب درعجالہ نافعہ جائیکہ ذکر طبقات اربعہ کردہ است تفسیر ابن جریر را از ہمیں طبقہ رابعہ شمردہ است کماذکرہ فی السیف المسلول علی من انکر اثر قدم الرسول صلی الله تعالی علیہ وسلم ۱۲ منہ (م)
اس آیت کے تحت ہے
ان الذین امنوا و الذین هادوا و النصرى ۱۲ منہ (ت)
شاہ صاحب نے عجالہ نافعہ میں جہاں چار طبقات کا ذکر کیا ہے وہاں تفسیر ابن جریر کو بھی چوتھے طبقے میں شمار کیا ہے جیسا کہ السیف الملول علی من انکر اثر قدم الرسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیں اس کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
روی عــــہ۲ ابن جریر عن مجاھد قال سأل سلیمان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم عن اولئك النصاری الحدیث ۔
ابن جریر نے مجاہد سے روایت کیا کہ حضرت سلمان رضی اللہ تعالی عنہنے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے ان نصاری کے بارے میں سوال کیا الحدیث (ت)
عزیزی آخر والیل میں ہے :
حافظ خطیب بغدادی ازجابر رضی اللہ تعالی عنہروایت می کند کہ روزے بخدمت آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمحاضر بودیم ارشاد فرمودند کہ حالا شخصے می آید کہ حق تعالی بعد ازمن کسے رابہتر ازوپیدا نکردہ است وشفاعت او روز قیامت مثل شفاعت پیغمبران باشد جابر گوید کہ مہلے نہ گزشتہ بود کہ حضرت ابوبکر تشریف آوردند ۔
حافظ خطیب بغدادی حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کرتے ہیں کہ ایك دن میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا آپ نے فرمایا ابھی ایك شخص آئے گا کہ میرے بعد اس سے بہتر شخص الله تعالی نے پیدا نہیں فرمایا اس کی شفاعت روز قیامت الله تعالی کے پیغمبروں کی شفاعت کی طرح ہوگی۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہکہتے ہیں کہ ابھی تھوڑی دیر گزری تھی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہتشریف لائے۔ (ت)
عــــہ۱ : زیر آیہ ان الذین امنوا و الذین هادوا و النصرى ۱۲ منہ (م)
عــــہ۲ : شاہ صاحب درعجالہ نافعہ جائیکہ ذکر طبقات اربعہ کردہ است تفسیر ابن جریر را از ہمیں طبقہ رابعہ شمردہ است کماذکرہ فی السیف المسلول علی من انکر اثر قدم الرسول صلی الله تعالی علیہ وسلم ۱۲ منہ (م)
اس آیت کے تحت ہے
ان الذین امنوا و الذین هادوا و النصرى ۱۲ منہ (ت)
شاہ صاحب نے عجالہ نافعہ میں جہاں چار طبقات کا ذکر کیا ہے وہاں تفسیر ابن جریر کو بھی چوتھے طبقے میں شمار کیا ہے جیسا کہ السیف الملول علی من انکر اثر قدم الرسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیں اس کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
تفسیر عزیزی سورۃ البقرۃ زیر آیت ان الذین اٰمنوا والذین ھادوا والنصارٰی مطبوعہ لال کنواں دہلی ص ۲۷۱
تفسیر عزیزی آخر سورۃ الیل پارہ عم مطبوعہ لال کنواں دہلی ص ۳۰۶
تفسیر عزیزی آخر سورۃ الیل پارہ عم مطبوعہ لال کنواں دہلی ص ۳۰۶
تحفہ (اثنا عشریہ) میں عــــہ ہے :
در روایات شیعہ وسنی صحیح وثابت است کہ ایں امر خیلے بر ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہشاق آمد وخودر ابردرسرائے زہرارضی اللہ تعالی عنہماحاضر آور د و امیرالمومنین علی رضی اللہ تعالی عنہراشفیع خود ساخت تا آنکہ حضرت زہرا رضی اللہ تعالی عنہاازو خوشنود شد اما روایات اہلسنت پس درمدارج النبوۃ وکتاب الوفا وبیہقی وشروح مشکوہ موجود است بلکہ درشرح مشکوۃ شیخ عبدالحق نوشۃ است کہ ابوبکر صدیق بعد ازیں قصہ بخانہ فاطمہ رفت ودرگرمی آفتاب بفدربا باستاد عذرخواہی کرد وحضرت زہرا ازو راضی شدو در ریاض النضرۃ نیزایں قصہ بہ تفصیل مذکورست ودرصل الخطاب بروایت بیہقی ازشعبی نیز ہمیں قصہ مروی ست وابن السمان درکتاب المواقۃ از اوزاعی روایت کردہ کہ گفت بیرون آمد ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہبردر فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہادر روز گرم الخ
شیعہ اور سنی دونوں کے ہاں روایات صحیحہ میں ثابت ہے کہ یہ معاملہ حضرت ابوبکر پر نہایت شاق گزرا لہذا آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہاکے گھر کے دروازے پر حاضر ہوئے اور امیرالمومنین حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہکو سفارشی بنایا تاکہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہاان سے راضی ہوجائے روایات اہلسنت مدارج النبوۃ الوفاء بیہقی اور شروح مشکوۃ میں موجود ہیں بلکہ شرح مشکوۃ میں شیخ عبدالحق رحمہ الله نے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر اس واقعہ کے بعد سیدہ فاطمۃ الزہرا کے گھر کے باہر دھوپ میں کھڑے ہوگئے اور معذرت کی اور سیدہ فاطمہرضی اللہ تعالی عنہماان سے راضی ہوگئیں ۔ ریاض النضرۃ میں بھی یہ واقعہ تفصیلا درج ہے اور فصل الخطاب میں بروایت بیہقی شعبی بھی یہ ہی واقعہ منقول ہے اور ابن السمان نے الموافقۃ میں اوزاعی سے روایت کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہگرمی کے وقت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہاکے گھر آئے الخ۔ (ت)
عــــہ : درطعن سیزدم ازمطاعن ملاعنہ بر حضرت افضل الصدیقین رضی الله تعالی عنہ ۱۲ منہ (م)
ملعون لوگوں کے ان اعتراضات میں سے تیرھویں طعن میں ہے جو انہوں نے افضل الصدیقین حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہپر کیے ہیں ۱۲ منہ (ت)
در روایات شیعہ وسنی صحیح وثابت است کہ ایں امر خیلے بر ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہشاق آمد وخودر ابردرسرائے زہرارضی اللہ تعالی عنہماحاضر آور د و امیرالمومنین علی رضی اللہ تعالی عنہراشفیع خود ساخت تا آنکہ حضرت زہرا رضی اللہ تعالی عنہاازو خوشنود شد اما روایات اہلسنت پس درمدارج النبوۃ وکتاب الوفا وبیہقی وشروح مشکوہ موجود است بلکہ درشرح مشکوۃ شیخ عبدالحق نوشۃ است کہ ابوبکر صدیق بعد ازیں قصہ بخانہ فاطمہ رفت ودرگرمی آفتاب بفدربا باستاد عذرخواہی کرد وحضرت زہرا ازو راضی شدو در ریاض النضرۃ نیزایں قصہ بہ تفصیل مذکورست ودرصل الخطاب بروایت بیہقی ازشعبی نیز ہمیں قصہ مروی ست وابن السمان درکتاب المواقۃ از اوزاعی روایت کردہ کہ گفت بیرون آمد ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہبردر فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہادر روز گرم الخ
شیعہ اور سنی دونوں کے ہاں روایات صحیحہ میں ثابت ہے کہ یہ معاملہ حضرت ابوبکر پر نہایت شاق گزرا لہذا آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہاکے گھر کے دروازے پر حاضر ہوئے اور امیرالمومنین حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہکو سفارشی بنایا تاکہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہاان سے راضی ہوجائے روایات اہلسنت مدارج النبوۃ الوفاء بیہقی اور شروح مشکوۃ میں موجود ہیں بلکہ شرح مشکوۃ میں شیخ عبدالحق رحمہ الله نے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر اس واقعہ کے بعد سیدہ فاطمۃ الزہرا کے گھر کے باہر دھوپ میں کھڑے ہوگئے اور معذرت کی اور سیدہ فاطمہرضی اللہ تعالی عنہماان سے راضی ہوگئیں ۔ ریاض النضرۃ میں بھی یہ واقعہ تفصیلا درج ہے اور فصل الخطاب میں بروایت بیہقی شعبی بھی یہ ہی واقعہ منقول ہے اور ابن السمان نے الموافقۃ میں اوزاعی سے روایت کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہگرمی کے وقت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہاکے گھر آئے الخ۔ (ت)
عــــہ : درطعن سیزدم ازمطاعن ملاعنہ بر حضرت افضل الصدیقین رضی الله تعالی عنہ ۱۲ منہ (م)
ملعون لوگوں کے ان اعتراضات میں سے تیرھویں طعن میں ہے جو انہوں نے افضل الصدیقین حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہپر کیے ہیں ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
تحفہ اثنا عشریۃ طعن سیزدہم از مطاعن ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۲۷۸
سابعا طرفہ تر یہ کہ شاہ صاحب نے تصانیف حاکم کو بھی طبقہ رابعہ میں گنا حالانکہ بلاشبہ مستدرك حاکم کی اکثر احادیث اعلی درجہ کی صحاح وحسان ہیں بلکہ اس میں صدہا حدیثیں برشرط بخاری ومسلم صحیح ہیں قطع نظر اس کہ تصانیف شاہ صاحب میں کتب حاکم سے کتنے اسناد ہیں اور بڑے شاہ صاحب کی ازالۃ الخفاء وقرۃ العینین تو مستدرك سے تو وہ تودہ احادیث نہ صرف فضائل بلکہ خود احکام میں مذکور کمالایخفی علی من طالعھما (جیسے کہ اس پر مخفی نہیں جس نے ان دونوں کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔ ت) لطیف ترید ہے کہ خود ہی بستان المحدثین میں امام الشان ابوعبدالله ذہبی سے نقل فرماتے ہیں :
انصاف آنست کہ درمستدرك قدرے بسیار شرط ایں ہردو بزرگ یافتہ میشودیا بشرط یکے از زینہا بلکہ ظن غالب آنست کہ بقدر نصف کتاب ازیں قبیل باشد وبقدر ربع کتاب از آں جنس است کہ بظاہر عــــہ اسناد او صحیح ست لیکن بشرط ایں ہردونیست وبقدر ربع باقی واہیات ومناکیر بلکہ بعضے موضوعات نیزہست چنانچہ من دراختصار آں کتاب کہ مشہور بتلخیص ذہبی است خبردار کردہ ام انتہی۔
انصاف یہ ہے کہ مستدرك میں اکثر احادیث ان دونوں بزرگوں (بخاری ومسلم) یا ان میں سے کسی ایك کے شرائط پر ہیں بلکہ ظن غالب یہ ہے کہ تقریبا نصف کتاب اس قبیل سے ہے اور تقریبا اس کا چوتھائی ایسا ہے کہ بظاہر ان کی اسناد صحیح ہیں لیکن ان دو (بخاری ومسلم) کی شرائط پر نہیں اور باقی چوتھائی واہیات اور مناکیر بلکہ بعض موضوعات بھی ہیں اس لئے میں نے اس کے خلاصہ جوکہ تلخیص ذہبی سے مشہور ہے میں اس بارے میں خبردار کیا ہے انتہی (ت)
عــــہ : لفظ بظاہر درآنچہ امام خاتم الحفاظ درتدریب ازذہبی آور دنیست لفظش ہمین است کہ فیہ جملۃ وافرۃ علی شرطھما وجملۃ کثیرۃ علی شرط احدھما لعل مجموع ذلك نحونصف الکتاب وفیہ نحو الربع مماصح سندہ وفیہ بعض الشیئ اولہ علۃ ومابقی وھونحو الربع فھو مناکیر اوواھیات لایصح وفی بعض ذلك موضوعات ۱۲ منہ (م)
لفظ “ بظاھر “ وہ جو امام خاتم الحفاظ نے تدریب میں امام ذہبی سے نقل کیا ہے اس میں نہیں ہے اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اس میں بہت سی احادیث شیخین کی شرائط پر ہیں اور بہت سی ان دونوں میں سے کسی ایك کی شرط پر ہیں شاید اس کا مجموعہ تقریبا آدھی کتاب ہو اور اس میں چوتھائی ایسی احادیث ہیں جن کی سند صحیح ہے بعض ایسی ہیں جن میں کوئی شیئ یا علت ہے اور جو بقیہ چوتھائی ہے وہ مناکیر یا واہیات ہیں جو صحیح نہیں اور بعض اس میں موضوع بھی ہیں ۱۲ منہ (ت)
انصاف آنست کہ درمستدرك قدرے بسیار شرط ایں ہردو بزرگ یافتہ میشودیا بشرط یکے از زینہا بلکہ ظن غالب آنست کہ بقدر نصف کتاب ازیں قبیل باشد وبقدر ربع کتاب از آں جنس است کہ بظاہر عــــہ اسناد او صحیح ست لیکن بشرط ایں ہردونیست وبقدر ربع باقی واہیات ومناکیر بلکہ بعضے موضوعات نیزہست چنانچہ من دراختصار آں کتاب کہ مشہور بتلخیص ذہبی است خبردار کردہ ام انتہی۔
انصاف یہ ہے کہ مستدرك میں اکثر احادیث ان دونوں بزرگوں (بخاری ومسلم) یا ان میں سے کسی ایك کے شرائط پر ہیں بلکہ ظن غالب یہ ہے کہ تقریبا نصف کتاب اس قبیل سے ہے اور تقریبا اس کا چوتھائی ایسا ہے کہ بظاہر ان کی اسناد صحیح ہیں لیکن ان دو (بخاری ومسلم) کی شرائط پر نہیں اور باقی چوتھائی واہیات اور مناکیر بلکہ بعض موضوعات بھی ہیں اس لئے میں نے اس کے خلاصہ جوکہ تلخیص ذہبی سے مشہور ہے میں اس بارے میں خبردار کیا ہے انتہی (ت)
عــــہ : لفظ بظاہر درآنچہ امام خاتم الحفاظ درتدریب ازذہبی آور دنیست لفظش ہمین است کہ فیہ جملۃ وافرۃ علی شرطھما وجملۃ کثیرۃ علی شرط احدھما لعل مجموع ذلك نحونصف الکتاب وفیہ نحو الربع مماصح سندہ وفیہ بعض الشیئ اولہ علۃ ومابقی وھونحو الربع فھو مناکیر اوواھیات لایصح وفی بعض ذلك موضوعات ۱۲ منہ (م)
لفظ “ بظاھر “ وہ جو امام خاتم الحفاظ نے تدریب میں امام ذہبی سے نقل کیا ہے اس میں نہیں ہے اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اس میں بہت سی احادیث شیخین کی شرائط پر ہیں اور بہت سی ان دونوں میں سے کسی ایك کی شرط پر ہیں شاید اس کا مجموعہ تقریبا آدھی کتاب ہو اور اس میں چوتھائی ایسی احادیث ہیں جن کی سند صحیح ہے بعض ایسی ہیں جن میں کوئی شیئ یا علت ہے اور جو بقیہ چوتھائی ہے وہ مناکیر یا واہیات ہیں جو صحیح نہیں اور بعض اس میں موضوع بھی ہیں ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
بستان المحدثین مع اردو ترجمہ مستدرك میں احادیث موضوع کا اندراج مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۱۳
تدریب الرادی عدد احادیث مسلم وتساہل الحاکم فی المستدرك دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱ / ۱۰۶
تدریب الرادی عدد احادیث مسلم وتساہل الحاکم فی المستدرك دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱ / ۱۰۶
تنبیہ : بحمدالله ان بیانات سے واضح ہوگیا کہ اس طبقہ والوں کی احادیث متروکہ سلف کو جمع کرنے کے معنی اسی قدر ہیں کہ جن احادیث کے ایراد سے انہوں نے احتراز کیا انہوں نے درج کیں نہ یہ کہ انہوں نے جو کچھ لکھا سب متروك سلف ہے مجرد عدم ذکر کو اس معنے پر محمول کرنا کہ ناقص سمجھ کر بالقصد ترك کیا ہے محض جہالت ورنہ افراد بخاری متروکات مسلم ہوں اور افراد مسلم متروکات بخاری اور ہر کتاب متاخر کی وہ حدیث کو تصانیف سابقہ میں نہ پائی گئی تمام سلف کی متروك مانی جائے مصنفین میں کسی کو دعوائے استیعاب نہ تھا۔ امام بخاری کو ایك لاکھ احادیث صحیحہ حفظ تھیں صحیح بخاری میں کل چار ہزار بلکہ اس سے بھی کم ہیں کمابینہ شیخ الاسلام فی فتح الباری شرح صحیح البخاری (جیسا کہ شیخ الاسلام نے فتح الباری شرح صحیح البخاری میں بیان کیا ہے۔ ت)
ثامنا شاہ صاحب اس کلام امام ذہب کو نقل کرکے فرماتے ہیں :
ولہذا علمائے حدیث قراردادہ اندکہ برمستدرك حاکم اعتماد نباید کردمگر از دیدن تلخیص ذہبی ۔
اسی لئے محدثین نے یہ ضابطہ مقرر کردیا ہے کہ مستدرك حاکم پر ذہبی کی تلخیص دیکھنے کے بعد اعتماد کیا جائے گا۔ (ت)
اور اس سے پہلے لکھا :
ذہبی گفتہ است کہ حلال نیست کسے راکہ برتصحیح حاکم غرہ شودتا وقتیکہ تعقبات وتلخیصات مرانہ بیند ونیز گفتہ است احادیث بسیار درمستدرك کہ برشرط صحت نیست بلکہ بعضے از احادیچ موضوعہ نیز ست کہ تمام مستدرك بآنہا معیوب گشتہ ۔
امام ذہبی نے کہا ہے کہ امام حاکم کی تصحیح پر کوئی کفایت نہ کرے تاوقتیکہ اس پر میری تعقبات وتلخیصات کا مطالعہ نہ کرلے اور یہ بھی کہا ہے کہ بہت سی احادیث مستدرك میں شرط صحت پر موجود نہیں بلکہ بعض اس میں موضوعات بھی ہیں جس کی وجہ سے تمام مستدرك معیوب ہوگئی ہے۔ (ت)
ان عبارات سے ظاہر ہوا کہ وجہ بے اعتماد یہی اختلاط صحیح وضعیف ہے اگرچہ اکثر عــــہ صحیح ہی ہوں جیسے
عــــہ : اسی طرح عدم اعتبار کثرت وقلت کی دلیل واضح امام الشان کا یہ ارشاد منقول تدریب ہے :
قال الشیخ الاسلام غالب مافی کتاب ابن الجوزی موضوع والذی ینقد علیہ بالنسبۃ الی
شیخ الاسلام نے کہا کہ ابن جوزی کی کتاب میں اکثر روایات موضوع ہیں جن روایات(باقی برصفحۃ ائندہ)
ثامنا شاہ صاحب اس کلام امام ذہب کو نقل کرکے فرماتے ہیں :
ولہذا علمائے حدیث قراردادہ اندکہ برمستدرك حاکم اعتماد نباید کردمگر از دیدن تلخیص ذہبی ۔
اسی لئے محدثین نے یہ ضابطہ مقرر کردیا ہے کہ مستدرك حاکم پر ذہبی کی تلخیص دیکھنے کے بعد اعتماد کیا جائے گا۔ (ت)
اور اس سے پہلے لکھا :
ذہبی گفتہ است کہ حلال نیست کسے راکہ برتصحیح حاکم غرہ شودتا وقتیکہ تعقبات وتلخیصات مرانہ بیند ونیز گفتہ است احادیث بسیار درمستدرك کہ برشرط صحت نیست بلکہ بعضے از احادیچ موضوعہ نیز ست کہ تمام مستدرك بآنہا معیوب گشتہ ۔
امام ذہبی نے کہا ہے کہ امام حاکم کی تصحیح پر کوئی کفایت نہ کرے تاوقتیکہ اس پر میری تعقبات وتلخیصات کا مطالعہ نہ کرلے اور یہ بھی کہا ہے کہ بہت سی احادیث مستدرك میں شرط صحت پر موجود نہیں بلکہ بعض اس میں موضوعات بھی ہیں جس کی وجہ سے تمام مستدرك معیوب ہوگئی ہے۔ (ت)
ان عبارات سے ظاہر ہوا کہ وجہ بے اعتماد یہی اختلاط صحیح وضعیف ہے اگرچہ اکثر عــــہ صحیح ہی ہوں جیسے
عــــہ : اسی طرح عدم اعتبار کثرت وقلت کی دلیل واضح امام الشان کا یہ ارشاد منقول تدریب ہے :
قال الشیخ الاسلام غالب مافی کتاب ابن الجوزی موضوع والذی ینقد علیہ بالنسبۃ الی
شیخ الاسلام نے کہا کہ ابن جوزی کی کتاب میں اکثر روایات موضوع ہیں جن روایات(باقی برصفحۃ ائندہ)
حوالہ / References
بستان المحدثین مع اردوترجمہ مستدرك میں احادیث موضوعہ کا اندراج مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۱۳
بستان المحدثین مع اردوترجمہ مستدرك میں احادیث موضوعہ کا اندراج مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۰۹
بستان المحدثین مع اردوترجمہ مستدرك میں احادیث موضوعہ کا اندراج مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۰۹
مستدرك میں تین ربع کتاب کی قدر احادیث صحیحہ ہیں نہ کہ سب کا ضعیف ہونا چہ جائے ضعف شدید یا بطلان محض کہ کوئی جاہل بھی اس کا اعاد نہ کرے گا اور اس بے اعتمادی کے یہی معنی اگر خود لیاقت نقد رکھتا ہو آپ پرکھے ورنہ کلام ناقدین کی طرف رجوع کرے بے اس کے حجت نہ سمجھ لے۔ اب انصافا یہ حکم نہ صرف کتب طبقہ رابعہ بلکہ ثانیا ثالثہ سب پر ہے کہ جب منشا اختلاط صحیح وضعیف ہے اور وہ سب میں قائم تو یہی حکم سب پر لازم آخر نہ دیکھا کہ ائمہ دین نے صاف صاف یہی تصریح سنن ابی داؤد وجامع ترمذی ومسند امام احمد وسنن ابن ماجہ ومصنف ابوبکر ابن ابی شیبہ ومصنف عبدالرزاق وغیرہا سنن ومسانید کتب طبقہ ثانیہ وثالثہ کی نسبت بھی فرمائے جس کی نقل امام الشان وعلامہ قاری سے افادہ ۲۱ میں گزری یونہی امام شیخ الاسلام عارف بالله زکریا انصاری وامام سخاوی نے تنصیص عــــہ کی امام خاتم الحفاظ کا قول ابھی سن چکے کہ انہوں نے ان سب کتب کو ایك سلك میں منسلك فرمایا اب شاید منکر کج فہم ان نصوص ائمہ کو دیکھ کر سنن ابی داؤد وترمذی ونسائی وابن ماجہ کی نسبت بھی یہی اعتقاد کرے گا کہ وہ بھی معاذالله مہل وبیکار واصلا ناقابل استناد واعتبار ہیں ولاحول ولاقوۃ الا بالله العلی العظیم۔ بالجملہ حق یہ کہ مدار اسناد ونظر وانتقاد یا تحقیق نقاد پر ہے نہ فلاں کتاب میں ہونے فلاں میں نہ ہونے پر قلم ضراعت رقم جب اس محل پر آیا فیض کرم وکرم قدم نے خوش فرمایا اس مقام ومرام طبقات حدیث کی تحقیق جزیل وتدقیق جمیل فقیر ذلیل غفرلہ المولی الجلیل پر فائض ہوگی کہ اگر یہاں ایراد کرتا اطناب کلام
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
مالاینتقد قلیل جداقال وفیہ من الضرران یظن مالیس بموضوع موضوعا عکس الضرر بمستدرك الحاکم فانہ یظن مالیس بصحیح صحیحا قال ویتعین الاعتناء بانتقاد الکتابین فان الکلام فی تساھلھما اعدم الانتفاع بھما الا لعالم بالفن لانہ مامن حدیث الا ویمکن ان یکون قد وقع فیہ تساھل اھ ۱۲ منہ (م)
پر انہوں نے تنقید کی وہ ان سے بہت کم ہیں جن پر تنقید نہیں کی اور کہا کہ اس میں تکلیف وہ امر یہ ہے کہ وہ غیر موضوع کو موضوع گمان کرتے ہیں یہ اس کا عکس ہے جو مستدرك حاکم کا ضرر ہے کیونکہ وہ غیر صحیح کو بھی صحیح گمان کرتے ہیں کہا کہ ان دونوں کتابوں کی کاٹ چھانٹ ضروری ہے کیونکہ کلام ان دونوں میں تساہل کی وجہ سے ان سے نفع حاصل کرنے کو معدوم کردیتا ہے مگر اس شخص کے لئے جو اس فن کا ماہر ہو کیونکہ ان کی کوئی ایسی روایت نہیں ہوئی جس میں تساہل نہ ہو ۱۲ منہ (ت)
عــــہ۱ : ذکرنا نصھما فی رسالتنا مدارج طبقات الحدیث ۱۲ منہ (م)
ہم نے ان دونوں کی عبارتوں کو اپنے رسالہ مدارج طبقات الحدیث میں ثکر کیا ہے ۱۲ منہ (م)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
مالاینتقد قلیل جداقال وفیہ من الضرران یظن مالیس بموضوع موضوعا عکس الضرر بمستدرك الحاکم فانہ یظن مالیس بصحیح صحیحا قال ویتعین الاعتناء بانتقاد الکتابین فان الکلام فی تساھلھما اعدم الانتفاع بھما الا لعالم بالفن لانہ مامن حدیث الا ویمکن ان یکون قد وقع فیہ تساھل اھ ۱۲ منہ (م)
پر انہوں نے تنقید کی وہ ان سے بہت کم ہیں جن پر تنقید نہیں کی اور کہا کہ اس میں تکلیف وہ امر یہ ہے کہ وہ غیر موضوع کو موضوع گمان کرتے ہیں یہ اس کا عکس ہے جو مستدرك حاکم کا ضرر ہے کیونکہ وہ غیر صحیح کو بھی صحیح گمان کرتے ہیں کہا کہ ان دونوں کتابوں کی کاٹ چھانٹ ضروری ہے کیونکہ کلام ان دونوں میں تساہل کی وجہ سے ان سے نفع حاصل کرنے کو معدوم کردیتا ہے مگر اس شخص کے لئے جو اس فن کا ماہر ہو کیونکہ ان کی کوئی ایسی روایت نہیں ہوئی جس میں تساہل نہ ہو ۱۲ منہ (ت)
عــــہ۱ : ذکرنا نصھما فی رسالتنا مدارج طبقات الحدیث ۱۲ منہ (م)
ہم نے ان دونوں کی عبارتوں کو اپنے رسالہ مدارج طبقات الحدیث میں ثکر کیا ہے ۱۲ منہ (م)
حوالہ / References
تدریب الراوی نقد کتاب موضوعات ابن الجوزی دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱ / ۲۷۹
و ابعاد مرام سامنے لہذا اسے بتوفیقہ تعالی رسالہ منفردہ عــــہ اور بلحاظ تاریخ مدارج طبقات الحدیث۱۳۱۳ھ لقب دیا ولله المنۃ فیما الھم ولہ الحمد علی ماعلم وصلی الله تعالی علی سیدنا ومولانا محمد والہ وصحبہ وسلم۔
افادہ بست ۲۵ وپنجم : (کتب موضوعات میں کسی حدیث کا ذکر مطلقا ضعف کو ہی مستلزم نہیں ) اقول کتابیں کہ بیان احادیث موضوعہ میں تالیف ہوئیں دو۲ قسم ہیں ایك وہ جن کے مصنفین نے خاص ایراد موضوعات ہی کا التزام کیا جیسے موضوعات ابن الجوزی واباطیل جوزقانی وموضوعات صغانی ان کتابوں میں کسی حدیث کا ذکر بلاشبہہ یہی بتائے گا کہ اس مصنف کے نزدیك موضوع ہے جب تك صراحۃ نفی موضوعیت نہ کردی ہو ایسی ہی کتابوں کی نسبت یہ خیال بجا ہے کہ موضوع نہ سمجھتے تو کتاب موضوعات میں کیوں ذکر کرتے پھر اس سے بھی صرف اتنا ہی ثابت ہوگا کہ زعم مصنف میں موضوع ہے بہ نظر واقع عدم صحت بھی ثابت نہ ہوگا نہ کہ ضعف نہ کہ سقوط نہ کہ بطلان ان سب کتب میں احادیث ضعیفہ درکنار بہت احادیث حسان وصحاح بھردی ہیں اور محض بے دلیل ان پر حکم وضع لگادیا ہے جسے ائمہ محققین ونقاد منقحین نے بدلائل قاہرہ باطل کردیا جس کا بیان مقدمہ ابن الصلاح وتقریب امام نووی والفیہ امام عراقی وفتح المغیث امام سخاوی وغیرہا تصانیف علما سے اجمالا اور تدریب امام خاتم الحفاظ سے قدرے مفصلا اور انہی کی تعقبات ولآتی مصنوعہ والقول الحسن فی الذب عن السنن وامام الشان کے القول المسدد فی الذب عن مسند احمد وغیرہا سے بنہایت تفصیل واضح دروشن مطالعہ تدریب سے ظاہر کہ ابن الجوزی نے اور تصانیف درکنار خود صحاح ستہ ومسند امام احمد کی چوراسی۸۴ حدیثوں کو موضوع کہہ دیا جن کی تفصیل یہ ہے : مسند امام۱ احمد صحیح بخاری۲ شریف بروایت حماد بن شاکر صحیح مسلم۳ شریف سنن۴ ابی داؤد جامع۵ ترمذی سنن۶ نسائی سنن ابن۷ ماجہ دوم وہ جن کا قصد صرف ایراد موضوعات۲۳ واقعیہ نہیں بلکہ دوسروں کے حکم وضع کی تحقیق وتنقیح جیسے لآلی امام سیوطی یا نظر وتنقید کے لئے ان احادیث کا جمع کردینا جن پر کسی نے حکم وضع کیا جیسے انہیں کا ذیل اللآلی امام ممدوح خطبہ مضوعہ میں فرماتے ہیں :
عــــہ : الحمدلله یہ عربی رسالہ مختصر عجالہ باوصف وجازت فوائد نفسیہ پر مشتمل اس میں :
اولا طبقات اربعہ حدیث میں حجۃ الله البالغہ کا کلام نقل کیا۔
ثانیا ایك مسلسل بیان میں اس کی وہ تقریر ادا کی جس سے کلام منتظم ہوکر بہت شبہات کا ازالہ ہوگیا۔
ثالثا پھر بہت ابحاث رائقہ مؤلفہ ذائقہ ایراد کیں جن سے روشن ہوگیا کہ طبقات اربعہ کی تحدید نہ جامع نہ مانع نہ ناقد کے کام کی نہ مقلد کو نافع۔
رابعا اپنی طرف سے ایك عام وشامل تام وکامل ضابطہ وضع کیا جس سے ہرگونہ ناقد وغیرناقد متوسط وعامی ہر قسم کے آدمی کو حد استناد وطریق احتجاج واضح ہوگیا آخر میں اسے کلمات علماء سے مؤید کیا اس کے ضمن میں صحاح ستہ وغیرہا کتب حدیث کا مرتبہ اور باہمی تفاوت اور بعض دیگر کتب صحاح کا شمار اور نیز یہ کہ ائمہ وعلما میں کن کن کو دربارہ تصحیح احادیث تساہلی اور کہیں درباب حکم وضع تشدد یا معاملہ جرح رجال میں نعت تھا بیان کیا جو کچھ دعوی کیا ہے اس کا روشن ثبوت دیا ہے ولله الحمد ۱۲ منہ (م)
افادہ بست ۲۵ وپنجم : (کتب موضوعات میں کسی حدیث کا ذکر مطلقا ضعف کو ہی مستلزم نہیں ) اقول کتابیں کہ بیان احادیث موضوعہ میں تالیف ہوئیں دو۲ قسم ہیں ایك وہ جن کے مصنفین نے خاص ایراد موضوعات ہی کا التزام کیا جیسے موضوعات ابن الجوزی واباطیل جوزقانی وموضوعات صغانی ان کتابوں میں کسی حدیث کا ذکر بلاشبہہ یہی بتائے گا کہ اس مصنف کے نزدیك موضوع ہے جب تك صراحۃ نفی موضوعیت نہ کردی ہو ایسی ہی کتابوں کی نسبت یہ خیال بجا ہے کہ موضوع نہ سمجھتے تو کتاب موضوعات میں کیوں ذکر کرتے پھر اس سے بھی صرف اتنا ہی ثابت ہوگا کہ زعم مصنف میں موضوع ہے بہ نظر واقع عدم صحت بھی ثابت نہ ہوگا نہ کہ ضعف نہ کہ سقوط نہ کہ بطلان ان سب کتب میں احادیث ضعیفہ درکنار بہت احادیث حسان وصحاح بھردی ہیں اور محض بے دلیل ان پر حکم وضع لگادیا ہے جسے ائمہ محققین ونقاد منقحین نے بدلائل قاہرہ باطل کردیا جس کا بیان مقدمہ ابن الصلاح وتقریب امام نووی والفیہ امام عراقی وفتح المغیث امام سخاوی وغیرہا تصانیف علما سے اجمالا اور تدریب امام خاتم الحفاظ سے قدرے مفصلا اور انہی کی تعقبات ولآتی مصنوعہ والقول الحسن فی الذب عن السنن وامام الشان کے القول المسدد فی الذب عن مسند احمد وغیرہا سے بنہایت تفصیل واضح دروشن مطالعہ تدریب سے ظاہر کہ ابن الجوزی نے اور تصانیف درکنار خود صحاح ستہ ومسند امام احمد کی چوراسی۸۴ حدیثوں کو موضوع کہہ دیا جن کی تفصیل یہ ہے : مسند امام۱ احمد صحیح بخاری۲ شریف بروایت حماد بن شاکر صحیح مسلم۳ شریف سنن۴ ابی داؤد جامع۵ ترمذی سنن۶ نسائی سنن ابن۷ ماجہ دوم وہ جن کا قصد صرف ایراد موضوعات۲۳ واقعیہ نہیں بلکہ دوسروں کے حکم وضع کی تحقیق وتنقیح جیسے لآلی امام سیوطی یا نظر وتنقید کے لئے ان احادیث کا جمع کردینا جن پر کسی نے حکم وضع کیا جیسے انہیں کا ذیل اللآلی امام ممدوح خطبہ مضوعہ میں فرماتے ہیں :
عــــہ : الحمدلله یہ عربی رسالہ مختصر عجالہ باوصف وجازت فوائد نفسیہ پر مشتمل اس میں :
اولا طبقات اربعہ حدیث میں حجۃ الله البالغہ کا کلام نقل کیا۔
ثانیا ایك مسلسل بیان میں اس کی وہ تقریر ادا کی جس سے کلام منتظم ہوکر بہت شبہات کا ازالہ ہوگیا۔
ثالثا پھر بہت ابحاث رائقہ مؤلفہ ذائقہ ایراد کیں جن سے روشن ہوگیا کہ طبقات اربعہ کی تحدید نہ جامع نہ مانع نہ ناقد کے کام کی نہ مقلد کو نافع۔
رابعا اپنی طرف سے ایك عام وشامل تام وکامل ضابطہ وضع کیا جس سے ہرگونہ ناقد وغیرناقد متوسط وعامی ہر قسم کے آدمی کو حد استناد وطریق احتجاج واضح ہوگیا آخر میں اسے کلمات علماء سے مؤید کیا اس کے ضمن میں صحاح ستہ وغیرہا کتب حدیث کا مرتبہ اور باہمی تفاوت اور بعض دیگر کتب صحاح کا شمار اور نیز یہ کہ ائمہ وعلما میں کن کن کو دربارہ تصحیح احادیث تساہلی اور کہیں درباب حکم وضع تشدد یا معاملہ جرح رجال میں نعت تھا بیان کیا جو کچھ دعوی کیا ہے اس کا روشن ثبوت دیا ہے ولله الحمد ۱۲ منہ (م)
ابن الجوزی اکثر من اخراج الضعیف بل والحسن بل والصحیح کمانیہ علی ذلك الائمۃ الحفاظ وطال مااختلج فی ضمیری انتقاؤہ وانتقادہ فاورد الحدیث ثم اعقب بکلامہ ثم انکان متعقبا بنھت علیہ اھ ملخصا۔
ابن جوزی نے کتاب موضوعات میں بہت ضعیف بلکہ حسن بلکہ صحیح حدیثیں روایت کردی ہیں کہ ائمہ حفاظ نے اس پر تنبیہ فرمائی مدت سے میرے دل میں تھا کہ اس کا خلاصہ کروں اور اس کا حکم پرکھوں تو اب میں حدیث ذکر کرکے ابن جوزی کا کلام نقل کروں گا پھر اس پر جو اعتراض ہوگا بتاؤں گا۔
اسی کے خاتمہ میں فرماتے ہیں :
واذ قد اتینا علی جمیع مافی کتابہ فنشرع الآن فی الزیادات علیہ فمنھا مایقطع بوضعہ ومنھا مانص حافظ علی وضعہ ولی فیہ نظر فاذکرہ لینظر فیہ ۔
اب کہ ہم تمام موضوعات ابن الجوزی بیان کرچکے تو اب اس پر زیادتیں شروع کریں ان میں کچھ وہ ہیں جن کا موضوع ہونا یقینی ہے اور کچھ وہ جنہیں کسی حافظ نے موضوع کہا اور میرے نزدیك اس میں کلام ہے تو میں اسے نظر غور کے لئے ذکر کروں گا۔
پر ظاہر کہ ایسی تصانیف میں حدیث کا ہونا مصنف کے نزدیك بھی اس کی موضعیت نہ بتائے گا کہ اصل کتاب کا موضوع ہی تنہا ایراد موضوع نہیں بلکہ اگر کچھ حکم دیا یا سند متن پر کلام کیا ہے تو اسے دیکھا جائے گا کہ صحت یا حسن یا ثبوت یا صلوح یا ضعف یا سقط یا بطلان کیا نکلتا ہے مثلا “ لایصح “ (یہ صحیح نہیں ۔ ت) یا “ لم یثبت “ (یہ ثابت نہیں ۔ ت) یا سند پر جہالت یا انقطاع سے طعن کیا تو غایت درجہ ضعف معلوم ہوا اور اگر “ رفعہ “ کی قید زائد کردی تو صرف مرفوع کا ضعف اور بنظر مفہوم موقوف کا ثبوت مفہوم ہوا وعلی ہذا القیاس اور کچھ کلام نہ کیا تو امر محتاج نظر وتنقیح رہے گا کمالایخفی شوکانی کی کتاب موضوعات مسمی بہ فوائد مجموعہ بھی اسی قسم ثانی کے ہے خود اس نے خطبہ کتاب میں اس معنی کی تصریح کی کہ میں اس کتاب میں وہ حدیثیں بھی ذکر کروں گا جنہیں موضوع کہنا ہرگز صحیح نہیں بلکہ ضعیف ہیں بلکہ ضعف بھی خفیف ہے بلکہ اصلا ضعف نہیں حسن یا صحیح ہیں کہ اہل تشدد کے کلام پر تنبیہ اور اس کے رد کی طرف اشارہ ہوجائے عبارت اس کی یہ ہے :
ابن جوزی نے کتاب موضوعات میں بہت ضعیف بلکہ حسن بلکہ صحیح حدیثیں روایت کردی ہیں کہ ائمہ حفاظ نے اس پر تنبیہ فرمائی مدت سے میرے دل میں تھا کہ اس کا خلاصہ کروں اور اس کا حکم پرکھوں تو اب میں حدیث ذکر کرکے ابن جوزی کا کلام نقل کروں گا پھر اس پر جو اعتراض ہوگا بتاؤں گا۔
اسی کے خاتمہ میں فرماتے ہیں :
واذ قد اتینا علی جمیع مافی کتابہ فنشرع الآن فی الزیادات علیہ فمنھا مایقطع بوضعہ ومنھا مانص حافظ علی وضعہ ولی فیہ نظر فاذکرہ لینظر فیہ ۔
اب کہ ہم تمام موضوعات ابن الجوزی بیان کرچکے تو اب اس پر زیادتیں شروع کریں ان میں کچھ وہ ہیں جن کا موضوع ہونا یقینی ہے اور کچھ وہ جنہیں کسی حافظ نے موضوع کہا اور میرے نزدیك اس میں کلام ہے تو میں اسے نظر غور کے لئے ذکر کروں گا۔
پر ظاہر کہ ایسی تصانیف میں حدیث کا ہونا مصنف کے نزدیك بھی اس کی موضعیت نہ بتائے گا کہ اصل کتاب کا موضوع ہی تنہا ایراد موضوع نہیں بلکہ اگر کچھ حکم دیا یا سند متن پر کلام کیا ہے تو اسے دیکھا جائے گا کہ صحت یا حسن یا ثبوت یا صلوح یا ضعف یا سقط یا بطلان کیا نکلتا ہے مثلا “ لایصح “ (یہ صحیح نہیں ۔ ت) یا “ لم یثبت “ (یہ ثابت نہیں ۔ ت) یا سند پر جہالت یا انقطاع سے طعن کیا تو غایت درجہ ضعف معلوم ہوا اور اگر “ رفعہ “ کی قید زائد کردی تو صرف مرفوع کا ضعف اور بنظر مفہوم موقوف کا ثبوت مفہوم ہوا وعلی ہذا القیاس اور کچھ کلام نہ کیا تو امر محتاج نظر وتنقیح رہے گا کمالایخفی شوکانی کی کتاب موضوعات مسمی بہ فوائد مجموعہ بھی اسی قسم ثانی کے ہے خود اس نے خطبہ کتاب میں اس معنی کی تصریح کی کہ میں اس کتاب میں وہ حدیثیں بھی ذکر کروں گا جنہیں موضوع کہنا ہرگز صحیح نہیں بلکہ ضعیف ہیں بلکہ ضعف بھی خفیف ہے بلکہ اصلا ضعف نہیں حسن یا صحیح ہیں کہ اہل تشدد کے کلام پر تنبیہ اور اس کے رد کی طرف اشارہ ہوجائے عبارت اس کی یہ ہے :
حوالہ / References
اللآلی المضوعہ فی الاحادیث الموضوعہ خطبہ کتاب مطبع ادبیہ مصر ۱ / ۲
اللآلی المضوعہ فی الاحادیث الموضوعہ خاتمہ کتاب مطبع ادبیہ مصر ۲ / ۲۵۱
اللآلی المضوعہ فی الاحادیث الموضوعہ خاتمہ کتاب مطبع ادبیہ مصر ۲ / ۲۵۱
وقد اذکر مالایصح اطلاق اسم الموضوع علیہ بل غایۃ مافیہ انہ ضعیف بمرۃ وقدیکون ضعیفا ضعفا خفیفا وقدیکون اعلی من ذلك والحاصل علی ذکر ماکان ھکذا التنبیہ علی انہ قدعد ذلك بعض المصنفین موضوعات کابن الجوزی فانہ تساھل فی موضوعاتہ حتی ذکر فیھا ماھو صحیح فضلا عن الحسن فضلا عن الضعیف وقدتعقبہ السیوطی بمافیہ کفایۃ وقد اشرت الی تعقبات الخ
ب کبھی میں اس کتاب میں وہ احادیث ذکر کروں گا جن پر موضوع کا اطلاق درست نہیں ب لکہ وہ ضعیف ہوں گی اور بعض کے ضعف میں خفت ہوگی بلکہ بعض میں ضعف ہی نہیں ان کے ذکر کا سبب یہ ہے تاکہ اس بات پر تنبیہ کی جائے کہ بعض مصنفین نے انہیں موضوع قرار دیا ہے جیسے ابن جوزی نے اپنی موضوعات میں تساہل سے کام لیا ہے۔ حتی کہ صحیح روایات کو موضوعات میں ذکر کردیا چہ جائیکہ حسن اور ضعیف امام سیوطی نے ان کا تعاقب کیا ہے میں نے بھی ان کے تعقبات کی طرف اشارہ کیا ہے الخ (ت)
تو متکلمین طائفہ کا یہ سفیہانہ زعم کہ حدیث تقبیل ابہامین شوکانی کے نزدیك موضوع نہ ہوتی تو کتاب موضوعات میں کیوں کرتا کیسی جہالت فاحشہ ہے۔
تنبیہ : ہر چند یہ افادہ ان گیارہ افادات سابقہ سے زیادہ متعلق تھا جن میں حضرات طائفہ کے زعم موضوعیت کا ابطال ہوا مگر ازانجا کہ ایسی لچربے معنی بات سے توہم موضوعیت کسی ذی علم کا کام نہ تھا لہذا ان افادات کے ساتھ منسلك کیا کہ واضح ہوکہ ذکر فی الموضوعات ضعف شدید کو بھی مستلزم نہیں جو ایك مسلك پر قبول فی الفضائل میں مخل ہو بلکہ حقیقۃ نفس ذکر بے ملاحظہ حکم تو مفید مطلق ضعف بھی نہیں کہ دونوں قسم میں صحاح وحسان تك موجود ہیں کماتبین۔
لطیفہ : اقول حضرات وہابیہ کے پچھلے متکلم اگر موضوعات شوکانی کو موضوع نہ سمجھے تو کیا عجب کہ خود ان کے امام شوکانی کی سمجھ بھی ایسی ہی ناقص اور ناکافی تھی یہیں خطبہ موضوعات میں علمائے نافیان کذب کی دو قسمیں کیں ایك وہ جنہوں نے رواۃ ضعفاء وکذابین وغیرہم کے بیان میں تصنیفیں کیں جیسے کامل ومیزان وغیرہما وقسم : جعلوا مصنفاتھم مختصۃ بالاحادیث الموضوعۃ دوسرے وہ جنہوں نے اپنی تصانیف احادیث موضوعہ سے خاص کیں جیسے ابن جوزی وصغانی وغیرہما۔ اور اسی قسم دوم میں مقاصد حسنہ امام سخاوی کو گن دیا حالانکہ وہ ہرگز تصانیف عــــہ مختصہ بہ موضوعات سے نہیں بلکہ اس کا مقصود ان احادیث کا حال بیان کرنا ہے جو زبانوں پر دائر ہیں عام ازیں کہ صحیح ہوں یا حسن یا ضعیف یا بے اصل یا باطل ولہذا اس میں بہت احادیث کو ذکر کرکے فرماتے ہیں : یہ صحیح بخاری میں ہے یہ صحیح مسلم کی ہے یہ صحیحین دونوں کے متفق علیہ ہے بھلے مانس نے اس کے نام کو بھی خیال نہ کیا المقاصد الحسنۃ فی بیان کثیر من الاحادیث المشتھرۃ علی الالسنۃ (مقاصد حسنہ زبانوں پر دائر بہت سی مشہور حدیثوں کے بیان میں ۔ ت) نہ اسی کو آنکھ کھول کر دیکھا اس کے پہلے ہی ورق کی چوتھی حدیث ہے حدیث آیۃ المنافق ثلث متفق علیہ (منافق کی تین علامات ہیں بخاری ومسلم۔ ت) وہیں ساتویں حدیث ہے حدیث ابدأ بنفسك مسلم فی الزکوۃ من صحیحہ (اپنے آپ سے ابتدا کرو اسے امام مسلم نے اپنی صحیح میں زکوۃ کے باب میں ذکر کیا ہے۔ت)
عــــہ : افادہ ۲۴ میں شاہ ولی الله کا قول گزرا کہ ابن جوزی موضوعات رامجرد ساخت وسخاوی ومقاصد حسنہ حسان لغیرہا ازضعاف ومناکیر ممیز نمود یہیں سے ظاہر کہ مقاصد حسنہ کتب موضوعات سے کتنے جدا ہیں ۱۲ منہ (م)
ب کبھی میں اس کتاب میں وہ احادیث ذکر کروں گا جن پر موضوع کا اطلاق درست نہیں ب لکہ وہ ضعیف ہوں گی اور بعض کے ضعف میں خفت ہوگی بلکہ بعض میں ضعف ہی نہیں ان کے ذکر کا سبب یہ ہے تاکہ اس بات پر تنبیہ کی جائے کہ بعض مصنفین نے انہیں موضوع قرار دیا ہے جیسے ابن جوزی نے اپنی موضوعات میں تساہل سے کام لیا ہے۔ حتی کہ صحیح روایات کو موضوعات میں ذکر کردیا چہ جائیکہ حسن اور ضعیف امام سیوطی نے ان کا تعاقب کیا ہے میں نے بھی ان کے تعقبات کی طرف اشارہ کیا ہے الخ (ت)
تو متکلمین طائفہ کا یہ سفیہانہ زعم کہ حدیث تقبیل ابہامین شوکانی کے نزدیك موضوع نہ ہوتی تو کتاب موضوعات میں کیوں کرتا کیسی جہالت فاحشہ ہے۔
تنبیہ : ہر چند یہ افادہ ان گیارہ افادات سابقہ سے زیادہ متعلق تھا جن میں حضرات طائفہ کے زعم موضوعیت کا ابطال ہوا مگر ازانجا کہ ایسی لچربے معنی بات سے توہم موضوعیت کسی ذی علم کا کام نہ تھا لہذا ان افادات کے ساتھ منسلك کیا کہ واضح ہوکہ ذکر فی الموضوعات ضعف شدید کو بھی مستلزم نہیں جو ایك مسلك پر قبول فی الفضائل میں مخل ہو بلکہ حقیقۃ نفس ذکر بے ملاحظہ حکم تو مفید مطلق ضعف بھی نہیں کہ دونوں قسم میں صحاح وحسان تك موجود ہیں کماتبین۔
لطیفہ : اقول حضرات وہابیہ کے پچھلے متکلم اگر موضوعات شوکانی کو موضوع نہ سمجھے تو کیا عجب کہ خود ان کے امام شوکانی کی سمجھ بھی ایسی ہی ناقص اور ناکافی تھی یہیں خطبہ موضوعات میں علمائے نافیان کذب کی دو قسمیں کیں ایك وہ جنہوں نے رواۃ ضعفاء وکذابین وغیرہم کے بیان میں تصنیفیں کیں جیسے کامل ومیزان وغیرہما وقسم : جعلوا مصنفاتھم مختصۃ بالاحادیث الموضوعۃ دوسرے وہ جنہوں نے اپنی تصانیف احادیث موضوعہ سے خاص کیں جیسے ابن جوزی وصغانی وغیرہما۔ اور اسی قسم دوم میں مقاصد حسنہ امام سخاوی کو گن دیا حالانکہ وہ ہرگز تصانیف عــــہ مختصہ بہ موضوعات سے نہیں بلکہ اس کا مقصود ان احادیث کا حال بیان کرنا ہے جو زبانوں پر دائر ہیں عام ازیں کہ صحیح ہوں یا حسن یا ضعیف یا بے اصل یا باطل ولہذا اس میں بہت احادیث کو ذکر کرکے فرماتے ہیں : یہ صحیح بخاری میں ہے یہ صحیح مسلم کی ہے یہ صحیحین دونوں کے متفق علیہ ہے بھلے مانس نے اس کے نام کو بھی خیال نہ کیا المقاصد الحسنۃ فی بیان کثیر من الاحادیث المشتھرۃ علی الالسنۃ (مقاصد حسنہ زبانوں پر دائر بہت سی مشہور حدیثوں کے بیان میں ۔ ت) نہ اسی کو آنکھ کھول کر دیکھا اس کے پہلے ہی ورق کی چوتھی حدیث ہے حدیث آیۃ المنافق ثلث متفق علیہ (منافق کی تین علامات ہیں بخاری ومسلم۔ ت) وہیں ساتویں حدیث ہے حدیث ابدأ بنفسك مسلم فی الزکوۃ من صحیحہ (اپنے آپ سے ابتدا کرو اسے امام مسلم نے اپنی صحیح میں زکوۃ کے باب میں ذکر کیا ہے۔ت)
عــــہ : افادہ ۲۴ میں شاہ ولی الله کا قول گزرا کہ ابن جوزی موضوعات رامجرد ساخت وسخاوی ومقاصد حسنہ حسان لغیرہا ازضعاف ومناکیر ممیز نمود یہیں سے ظاہر کہ مقاصد حسنہ کتب موضوعات سے کتنے جدا ہیں ۱۲ منہ (م)
حوالہ / References
الفوائد المجموعہ خطبۃ الکتاب دارالکتب العلمیۃ بیروت ص ۴
قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین قسم دوم شہات الخ مکتبہ سلفییہ لاہور ص ۲۸۲
المقاصد الحسنہ مقدمۃ الکتاب مطبوعہ دارالکتاب العلمیۃ بیروت ص ۴
المقاصد الحسنہ حرف الہمزۃ مطبوعہ دارالکتاب العلمیۃ بیروت ص ۶
المقاصد الحسنہ حرف الہمزۃ مطبوعہ دارالکتاب العلمیۃ بیروت ص ۶
قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین قسم دوم شہات الخ مکتبہ سلفییہ لاہور ص ۲۸۲
المقاصد الحسنہ مقدمۃ الکتاب مطبوعہ دارالکتاب العلمیۃ بیروت ص ۴
المقاصد الحسنہ حرف الہمزۃ مطبوعہ دارالکتاب العلمیۃ بیروت ص ۶
المقاصد الحسنہ حرف الہمزۃ مطبوعہ دارالکتاب العلمیۃ بیروت ص ۶
طرفہ تریہ کہ انہیں میں تخریج الاحیاء للعراقی بھی گن دی سبحان الله کہاں تخریج احادیث کتاب کہاں تصنیف فی الموضوعات اسی فہم پر ابوحنیفہ وشافعی سے دعوی مساوات ولاحول ولاقوۃ الا بالله العلی العظیم۔
نتیجۃ الافادات : الحمدلله کلام اپنے ذروہ اعلی کو پہنچا اور احقاق حق حد اقصی کو ان چودہ۱۴ افادوں نے ماہ شب چہاردہ کی طرح روشن کردیا کہ تقبیل ابہامین کی حدیثیں اگر تعدد طرق وعمل اہل علم سے متقوی نہ بھی ہوں تو انتہا درجہ ضعیف بضعف خفیف اور فضائل اعمال میں باجماع علماء محدثین وفقہاء مقبول وکافی اور ثبوت استحباب عمل کے لئے مفید ووافی ہیں منکرین کی ساری چہ میگوئیاں کہ ان کے ابطال واہمال کے لئے تھیں بعونہ تعالی اپنی سزائے کردار کو پہنچ گئیں والحمدلله رب العالمین اب پھر دست استعانت قائد توفیق کے ہاتھ میں دیجئے اور بعنایت الہی واعانت حضرت رسالت پناہی علیہ الصلوۃ والسلام غیر المتناہی تحقیق مرام میں اس سے بھی وسیع تر تنزلی کلام اور آخر میں ازالہ وازہاق بقیہ اوہام منکرین لیام کیجئے وبالله التوفیق۔
افادہ بست۲۶ وششم (ایسی جگہ اگر سند کسی قابل نہ ہوتو صرف تجربہ سند کافی ہے) اقول : بالفرض اگر ایسی جگہ ضعف سند ایسی ہی حد پر ہوکہ اصلا قابل اعتماد نہ رہے مگر جو بات اس میں مذکور ہوئی وہ علما وصلحا کے تجربہ میں آچکی تو علمائے کرام اس تجربہ ہی کو سند کافی سمجھتے ہیں کہ آخر سند کذب واقعی کو مستلزم نہ تھا حاکم نے بطریق عمر بن ہارون بلخی سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے نماز قضائے حاجت کیلئے
نتیجۃ الافادات : الحمدلله کلام اپنے ذروہ اعلی کو پہنچا اور احقاق حق حد اقصی کو ان چودہ۱۴ افادوں نے ماہ شب چہاردہ کی طرح روشن کردیا کہ تقبیل ابہامین کی حدیثیں اگر تعدد طرق وعمل اہل علم سے متقوی نہ بھی ہوں تو انتہا درجہ ضعیف بضعف خفیف اور فضائل اعمال میں باجماع علماء محدثین وفقہاء مقبول وکافی اور ثبوت استحباب عمل کے لئے مفید ووافی ہیں منکرین کی ساری چہ میگوئیاں کہ ان کے ابطال واہمال کے لئے تھیں بعونہ تعالی اپنی سزائے کردار کو پہنچ گئیں والحمدلله رب العالمین اب پھر دست استعانت قائد توفیق کے ہاتھ میں دیجئے اور بعنایت الہی واعانت حضرت رسالت پناہی علیہ الصلوۃ والسلام غیر المتناہی تحقیق مرام میں اس سے بھی وسیع تر تنزلی کلام اور آخر میں ازالہ وازہاق بقیہ اوہام منکرین لیام کیجئے وبالله التوفیق۔
افادہ بست۲۶ وششم (ایسی جگہ اگر سند کسی قابل نہ ہوتو صرف تجربہ سند کافی ہے) اقول : بالفرض اگر ایسی جگہ ضعف سند ایسی ہی حد پر ہوکہ اصلا قابل اعتماد نہ رہے مگر جو بات اس میں مذکور ہوئی وہ علما وصلحا کے تجربہ میں آچکی تو علمائے کرام اس تجربہ ہی کو سند کافی سمجھتے ہیں کہ آخر سند کذب واقعی کو مستلزم نہ تھا حاکم نے بطریق عمر بن ہارون بلخی سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے نماز قضائے حاجت کیلئے
ایك ترکیب عجیب مرفوعا روایت کی جس کے آخر میں ہے :
ولاتعلموھا السفھاء فانہ یدعون بھا فیستجابون ۔
بیوقوفوں کو یہ نماز سکھاؤ کہ وہ اس کے ذریعہ سے جو چاہیں گے مانگ بیٹھیں گے اور قبول ہوگی۔
ائمہ جرح وتعدیل نے عمر بن ہارون کو سخت شدید الطعن متروك بلکہ متہم بالکذب تك کہا۔ امام احمد وامام نسائی وامام ابو علی نیشاپوری نے فرمایا : متروك الحدیث ہے۔ امام علی بن مدینی وامام دارقطنی نے کہا : سخت ضعیف ہے۔ صالح جزرہ نے کہا : کذاب ہے۔ امام یحیی بن معین نے فرمایا : محض لاشیئ کذاب خبیث ہے۔ (بالکل کوئی شے نہیں کذاب وخبیث ہے۔ ت) کل ذلك فی المیزان (یہ سب میزان میں ہے۔ ت) لاجرم حافظ الشان نے تقریب میں فرمایا : متروك وکان حافظا (یہ متروك ہے اور حافظ تھا۔ ت) ذہبی نے میزان میں کہا :
کان من اوعیۃ العلم علی ضعفہ وکثرۃ مناکیرہ وما اظنہ ممن یتعمد الباطل
اس ضعف وکثرت مناکیر کے باوجود وہ علم کا ذخیرہ تھا اور میں گمان نہیں کرتا کہ کوئی باطل کا ارادہ کرتا ہو۔ (ت)
تذکرۃ الحفاظ میں آخر کہا : لاریب فی ضعفہ (اس کے ضعف میں کوئی شك نہیں ۔ ت) امام اجل ثقہ حافظ عبدالعظیم زکی منذری نے کتاب الترغیب عــــہ میں یہ حدیث بروایت حاکم نقل کرکے عمر بن ہارون کے متروك ومتہم ہونے سے اسے معلول کیا
حیث قال قدتفرد بہ عمربن ھارون البلخی
جہاں کہا کہ اس کے بیان کرنے میں عمر بن ہارون بلخی متفرد ہے
عــــہ : فی الترغیب فی صلاۃ الحاجۃ ۱۲ منہ (م)
(ترغیب میں نماز حاجت کے تحت اس کو بیان کیا ہے۔ ت)
ولاتعلموھا السفھاء فانہ یدعون بھا فیستجابون ۔
بیوقوفوں کو یہ نماز سکھاؤ کہ وہ اس کے ذریعہ سے جو چاہیں گے مانگ بیٹھیں گے اور قبول ہوگی۔
ائمہ جرح وتعدیل نے عمر بن ہارون کو سخت شدید الطعن متروك بلکہ متہم بالکذب تك کہا۔ امام احمد وامام نسائی وامام ابو علی نیشاپوری نے فرمایا : متروك الحدیث ہے۔ امام علی بن مدینی وامام دارقطنی نے کہا : سخت ضعیف ہے۔ صالح جزرہ نے کہا : کذاب ہے۔ امام یحیی بن معین نے فرمایا : محض لاشیئ کذاب خبیث ہے۔ (بالکل کوئی شے نہیں کذاب وخبیث ہے۔ ت) کل ذلك فی المیزان (یہ سب میزان میں ہے۔ ت) لاجرم حافظ الشان نے تقریب میں فرمایا : متروك وکان حافظا (یہ متروك ہے اور حافظ تھا۔ ت) ذہبی نے میزان میں کہا :
کان من اوعیۃ العلم علی ضعفہ وکثرۃ مناکیرہ وما اظنہ ممن یتعمد الباطل
اس ضعف وکثرت مناکیر کے باوجود وہ علم کا ذخیرہ تھا اور میں گمان نہیں کرتا کہ کوئی باطل کا ارادہ کرتا ہو۔ (ت)
تذکرۃ الحفاظ میں آخر کہا : لاریب فی ضعفہ (اس کے ضعف میں کوئی شك نہیں ۔ ت) امام اجل ثقہ حافظ عبدالعظیم زکی منذری نے کتاب الترغیب عــــہ میں یہ حدیث بروایت حاکم نقل کرکے عمر بن ہارون کے متروك ومتہم ہونے سے اسے معلول کیا
حیث قال قدتفرد بہ عمربن ھارون البلخی
جہاں کہا کہ اس کے بیان کرنے میں عمر بن ہارون بلخی متفرد ہے
عــــہ : فی الترغیب فی صلاۃ الحاجۃ ۱۲ منہ (م)
(ترغیب میں نماز حاجت کے تحت اس کو بیان کیا ہے۔ ت)
حوالہ / References
الترغیب والترہیب فی صلاۃ الحاجۃ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۲۸نصب الرایۃ الحدیث الثانی والاربعون من کتاب الکراہیۃ مطبوعہ المکتبۃ الاسلامیہ لصاحبہا الحاج ریاض الشیخ ۴ / ۲۷۳
میزان الاعتدال ترجمہ ۶۲۳۷ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۳ / ۲۲۸
تقریب التہذیب حرف العین مطبوعہ مطبع فاروقی دہلی ص ۱۹۲
میزان الاعتدال ترجمہ ۶۲۳۷ عمر بن ہارون مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۳ / ۲۲۹
تذکرۃ الحفاظ الطبقۃ السابعہ مطبوعہ دائرۃ المعارف النظامیہ حیدرآباد دکن ۱ / ۳۱۲
میزان الاعتدال ترجمہ ۶۲۳۷ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۳ / ۲۲۸
تقریب التہذیب حرف العین مطبوعہ مطبع فاروقی دہلی ص ۱۹۲
میزان الاعتدال ترجمہ ۶۲۳۷ عمر بن ہارون مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۳ / ۲۲۹
تذکرۃ الحفاظ الطبقۃ السابعہ مطبوعہ دائرۃ المعارف النظامیہ حیدرآباد دکن ۱ / ۳۱۲
وھو متروك متھم اثنی علیہ ابن مھدی وحدہ عــــہ فیما اعلمہ اھ
اور وہ متروك ومتہم ہے میرے علم کے مطابق ابن مہدی نے فقط اسے بہتر قرار دیا ہے اھ۔
قلت بل اختلف الروایۃ عن ابن مھدی ایضا فقال فی المیزان قال
قلت (میں کہتا ہوں ) کہ ابن مہدی سے بھی روایت مختلف ہے میزان میں ہے
عــــہ : اقول : ھذا عجیب من مثل الحافظ مع قول نفسہ فی خاتمۃ الکتاب ضعفہ الجمھور وثقہ قتیبۃ وغیرہ اھ فی تذکرۃ الحفاظ عن الابار عن ابی غسان عن بھربن اسد انہ قال اری یحیی بن سعید حسدہ قال وساق الخطیب باسنادہ عن ابن عاصم انہ ذکر عمربن ھارون فقال عمر عندنا احسن اخذا للحدیث من ابن المبارك وقال المروزی سئل ابوعبدالله عن عمربن ھارون فقال مااقدر ان اتعلق علیہ بشیئ کتبت عنہ کثیرا فقیل لہ قدکانت لہ قصۃ مع ابن مھدی فقال بلغنی انہ کان یحمل علیہ وقال احمد بن سیار کان کثیر السماع کان قتیبۃ یطریہ ویوثقہ الخ ثم ذکر تکذیبہ وترکہ وجرحہ عن ابن معین واخرین ثم قال قلت لاریب فی ضعفہ وکان لما حافظا فی حروف القرأت مات سنۃ اربعین وتسعین ثلث مائۃ اھ ۱۲ منہ (م)
اقول : حافظ جیسے لوگوں پر تعجب ہے کہ خود انہوں نے خاتمہ کتاب میں کہا کہ اسے جمہور نے ضعیف کہا اور قتیبہ وغیرہ نے اسکی توثیق کی اھ اور تذکرۃ الحفاظ میں ازابار ازابن غسان ازبہربن اسد ہے وہ کہتے ہیں میں نے یحیی بن سعید کو دیکھا وہ ان پر حسد کرتے تھے کہا اور خطیب اپنی سند سے ابوعاصم سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عمربن ہارون کا ذکر کیا تو کہا کہ عمر ہمارے نزدیك حدیث اخذ کرنے میں ابی المبارك سے احسن ہے اور مروزی نے کہا ابوعبدالله سے عمر بن ہارون کے متعلق پوچھا گیا تو کہا میں ان کے بارے میں کوئی شیئ کہنے کی طاقت نہیں رکھتا میں نے ان سے بہت روایات لکھی ہیں ان سے کہاگیا کہ ان کا ابن مہدی کے ساتھ فلاں معاملہ ہے تو انہوں نے کہا مجھے خبر پہنچی ہے کہ وہ اس پر حملہ کرتا تھا اور احمد بن سبار نے کہا کہ وہ کثیر السماع تھا قتیبہ اس کی تعریف وتوثیق کرتا تھا الخ) پھر اس کی تکذیب ترك اور جرح ابن معین وغیرہم سے ذکر کرنے کے بعد کہا میں کہتا ہوں اس کے ضعف میں کوئی شك نہیں اور وہ قراء ات حروف میں امام وحافظ تھے ان کا وصال ۳۹۴ھ میں ہوا اھ ۱۲ منہ (ت)
اور وہ متروك ومتہم ہے میرے علم کے مطابق ابن مہدی نے فقط اسے بہتر قرار دیا ہے اھ۔
قلت بل اختلف الروایۃ عن ابن مھدی ایضا فقال فی المیزان قال
قلت (میں کہتا ہوں ) کہ ابن مہدی سے بھی روایت مختلف ہے میزان میں ہے
عــــہ : اقول : ھذا عجیب من مثل الحافظ مع قول نفسہ فی خاتمۃ الکتاب ضعفہ الجمھور وثقہ قتیبۃ وغیرہ اھ فی تذکرۃ الحفاظ عن الابار عن ابی غسان عن بھربن اسد انہ قال اری یحیی بن سعید حسدہ قال وساق الخطیب باسنادہ عن ابن عاصم انہ ذکر عمربن ھارون فقال عمر عندنا احسن اخذا للحدیث من ابن المبارك وقال المروزی سئل ابوعبدالله عن عمربن ھارون فقال مااقدر ان اتعلق علیہ بشیئ کتبت عنہ کثیرا فقیل لہ قدکانت لہ قصۃ مع ابن مھدی فقال بلغنی انہ کان یحمل علیہ وقال احمد بن سیار کان کثیر السماع کان قتیبۃ یطریہ ویوثقہ الخ ثم ذکر تکذیبہ وترکہ وجرحہ عن ابن معین واخرین ثم قال قلت لاریب فی ضعفہ وکان لما حافظا فی حروف القرأت مات سنۃ اربعین وتسعین ثلث مائۃ اھ ۱۲ منہ (م)
اقول : حافظ جیسے لوگوں پر تعجب ہے کہ خود انہوں نے خاتمہ کتاب میں کہا کہ اسے جمہور نے ضعیف کہا اور قتیبہ وغیرہ نے اسکی توثیق کی اھ اور تذکرۃ الحفاظ میں ازابار ازابن غسان ازبہربن اسد ہے وہ کہتے ہیں میں نے یحیی بن سعید کو دیکھا وہ ان پر حسد کرتے تھے کہا اور خطیب اپنی سند سے ابوعاصم سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عمربن ہارون کا ذکر کیا تو کہا کہ عمر ہمارے نزدیك حدیث اخذ کرنے میں ابی المبارك سے احسن ہے اور مروزی نے کہا ابوعبدالله سے عمر بن ہارون کے متعلق پوچھا گیا تو کہا میں ان کے بارے میں کوئی شیئ کہنے کی طاقت نہیں رکھتا میں نے ان سے بہت روایات لکھی ہیں ان سے کہاگیا کہ ان کا ابن مہدی کے ساتھ فلاں معاملہ ہے تو انہوں نے کہا مجھے خبر پہنچی ہے کہ وہ اس پر حملہ کرتا تھا اور احمد بن سبار نے کہا کہ وہ کثیر السماع تھا قتیبہ اس کی تعریف وتوثیق کرتا تھا الخ) پھر اس کی تکذیب ترك اور جرح ابن معین وغیرہم سے ذکر کرنے کے بعد کہا میں کہتا ہوں اس کے ضعف میں کوئی شك نہیں اور وہ قراء ات حروف میں امام وحافظ تھے ان کا وصال ۳۹۴ھ میں ہوا اھ ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
الترغیب والترہیب فی صلاۃ الحاجۃ ودعائہا مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۷۸
ابن مھدی واحمد والنسائی متروك الحدیث ثم قال وقال ابن حبان کان ابن مھدی حسن الرای فی عمر بن ھارون اھ فالله تعالی اعلم۔
کہ ابن مہدی احمد اور نسائی نے کہا کہ یہ متروك الحدیث ہے پھر کہا کہ ابن حبان کہتے ہیں کہ ابن مہدی عمر بن ہارون کے بارے میں اچھی رائے رکھتے تھے اھ فالله تعالی اعلم۔ (ت)
باینہمہ از انجا کہ مستدرك میں تھا :
قال احمد بن حرب قدجربتہ فوجدتہ حقا وقال ابراھیم بن علی الدیبلی عــــہ۱ قدجربتہ فوجدتہ حقا وقال الحاکم قال لنا ابوزکریا قدجربتہ فوجدتہ حقا قال الحاکم قدجربتہ فوجدتہ حقا۔
احمد بن حرب نے کہا میں نے اس نماز کو آزمایا حق پایا ابراہیم بن علی دیبلی نے کہا میں نے آزمایا حق پایا ہم سے ابوزکریا نے کہا میں نے آزمایا حق پایا حاکم کہتے ہییں خود میں نے آزمایا تو حق پایا عــــہ۲۔
لہذا امام حافظ منذری نے فرمایا : الاعتماد فی مثل ھذا علی التجربۃ لاعلی الاسناد (ایسی جگہ اعتماد تجربہ پر ہوتا ہے نہ کہ اسناد پر)۔ امام ابن امیرالحاج حلیہ عــــہ۳ میں حدیث کا وہ ضعف شدید اور امام ابن جوزی کا اسے
عــــہ۱ : نسبۃ الی دیبل بفتح الدال المھملۃ وسکون الیاء المثناۃ من تحت وضم الباء الموحدۃ والاخر لام قصبۃ بلاد السند کمافی القاموس ۱۲ منہ (م)
عــــہ۲ : اخر الکتاب فی الفضائل الثالث عشر فی صلاۃ الحاجۃ من فصول تکمیل الکتاب ۱۲ منہ (م)
یہ دیبل کی طرف منسوب ہے۔ دیبل دال مہملہ کے فتح کے ساتھ یاء مثنی کے سکون باء موحدہ کے پیش کے ساتھ اور آخر میں لام ہے کہ بلاد سندھ میں ایك قصبہ ہے قاموس میں ایسے ہی ہے ۲ منہ (ت)عــــہ۳ : اقول : بحمدالله تعالی اس فقیر نے بھی کئی بار آزمایا حق پایا بعض قریب تر اعزہ کو سخت ناسازی تھی طول ہوا یہاں تك کہ ایك روز حالت مثل نزع طاری ہوئی سب رونے لگے فقیر مشغول نماز مذکور ہوا پڑھ کر آیا تو عزیز مذکور بیٹھا باتیں کرتا پایا ولله الحمد بیس۲۰ سال ہونے کو آئے جب سے بحمدالله فضل الہی ہے ماشاء الله لاقوۃ الابالله ۱۲ منہ (م)
یہ کتاب کے آخر میں فضائل کے بیان میں جو تیرھویں فصل نماز حاجت کے بیان میں تمیل کتاب کی فصول میں سے ہے (ت)
کہ ابن مہدی احمد اور نسائی نے کہا کہ یہ متروك الحدیث ہے پھر کہا کہ ابن حبان کہتے ہیں کہ ابن مہدی عمر بن ہارون کے بارے میں اچھی رائے رکھتے تھے اھ فالله تعالی اعلم۔ (ت)
باینہمہ از انجا کہ مستدرك میں تھا :
قال احمد بن حرب قدجربتہ فوجدتہ حقا وقال ابراھیم بن علی الدیبلی عــــہ۱ قدجربتہ فوجدتہ حقا وقال الحاکم قال لنا ابوزکریا قدجربتہ فوجدتہ حقا قال الحاکم قدجربتہ فوجدتہ حقا۔
احمد بن حرب نے کہا میں نے اس نماز کو آزمایا حق پایا ابراہیم بن علی دیبلی نے کہا میں نے آزمایا حق پایا ہم سے ابوزکریا نے کہا میں نے آزمایا حق پایا حاکم کہتے ہییں خود میں نے آزمایا تو حق پایا عــــہ۲۔
لہذا امام حافظ منذری نے فرمایا : الاعتماد فی مثل ھذا علی التجربۃ لاعلی الاسناد (ایسی جگہ اعتماد تجربہ پر ہوتا ہے نہ کہ اسناد پر)۔ امام ابن امیرالحاج حلیہ عــــہ۳ میں حدیث کا وہ ضعف شدید اور امام ابن جوزی کا اسے
عــــہ۱ : نسبۃ الی دیبل بفتح الدال المھملۃ وسکون الیاء المثناۃ من تحت وضم الباء الموحدۃ والاخر لام قصبۃ بلاد السند کمافی القاموس ۱۲ منہ (م)
عــــہ۲ : اخر الکتاب فی الفضائل الثالث عشر فی صلاۃ الحاجۃ من فصول تکمیل الکتاب ۱۲ منہ (م)
یہ دیبل کی طرف منسوب ہے۔ دیبل دال مہملہ کے فتح کے ساتھ یاء مثنی کے سکون باء موحدہ کے پیش کے ساتھ اور آخر میں لام ہے کہ بلاد سندھ میں ایك قصبہ ہے قاموس میں ایسے ہی ہے ۲ منہ (ت)عــــہ۳ : اقول : بحمدالله تعالی اس فقیر نے بھی کئی بار آزمایا حق پایا بعض قریب تر اعزہ کو سخت ناسازی تھی طول ہوا یہاں تك کہ ایك روز حالت مثل نزع طاری ہوئی سب رونے لگے فقیر مشغول نماز مذکور ہوا پڑھ کر آیا تو عزیز مذکور بیٹھا باتیں کرتا پایا ولله الحمد بیس۲۰ سال ہونے کو آئے جب سے بحمدالله فضل الہی ہے ماشاء الله لاقوۃ الابالله ۱۲ منہ (م)
یہ کتاب کے آخر میں فضائل کے بیان میں جو تیرھویں فصل نماز حاجت کے بیان میں تمیل کتاب کی فصول میں سے ہے (ت)
حوالہ / References
میزان الاعتدال ترجمہ ۶۲۳۷ عمر بن ہارون مطبوعہ دارالمعرفت بیروت ۳ / ۲۲۸ و ۲۲۹
الترغیب والترہیب بحوالہ الحاکم الترغیب فی صلاۃ الحاجۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۷۸
الترغیب والترہیب بحوالہ الحاکم الترغیب فی صلاۃ الحاجۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۷۸
الترغیب والترہیب بحوالہ الحاکم الترغیب فی صلاۃ الحاجۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۷۸
الترغیب والترہیب بحوالہ الحاکم الترغیب فی صلاۃ الحاجۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۷۸
بایقین موضوع کہنا عہ ذکر کرکے فرماتے ہیں :
ومشی علی ھذا فی الحاوی القدسی فانہ ذکر ھذہ الصلوۃ للحاجۃ علی ھذا الوجہ من الصلوۃ المستحبۃ ۔
حاوی قدسی میں اسی پر عمل کیا کہ انہوں نے حاجت کے لئے اس ترکیب کو مستحب نمازوں میں ذکر فرمایا۔
مرقاۃ شرح مشکوۃ سے امام اجل سیدی شیخ اکبر محی الدین ابن عربی قدس سرہ الشریف کا ارشاد لطیف افادہ ۱۵ میں گزرا کہ میں نے صحت حدیث کو اس جوان کی صحت کشف سے پہچانا یعنی جب اس کے کشف سے معلوم ہوا کہ حدیث میں جو وعدہ آیا تھا ٹھیك اترا معلوم ہوا کہ حدیث صحیح ہے اب صدر رسالہ میں امام سخاوی کے نقول دیکھ لیجئے کہ اس تقبیل ابہامین کے کتنے تجربے علما وصلحا سے منقول ہوئے ہیں لاجرم علامہ طاہر فتنی نے فرمایا روی تجربۃ ذلك عن کثیرین (اس کا تجربہ بہت سے لوگوں سے روایت کیا گیا) تو عزیزو! اگر بفرض غلط سند کسی قابل نہ سمجھو تاہم تجربہ علما کو سند کافی جانو۔
افادہ بست ۲۷ وہفتم (بالفرض اگر کتب میں اصلا پتا نہ ہوتا تاہم ایسی حدیث کا بعض کلمات علما میں بلاسند مذکور ہونا ہی بس ہے) اقول : بھلایاں تو طرق مسندہ باسانید متعددہ کتب حدیث میں موجود علمائے کرام تو ایسی جگہ صرف کلمات بعض علما میں بلاسند مذکور ہونا ہی سند کافی سمجھتے ہیں اگرچہ طبقہ رابعہ وغیرہا
عــــہ : ھواخر حدیث من باب الصلاۃ فی الموضوعات قال المخرج موضوع عمربن ھارون کذاب قال خاتم الحفاظ عمرروی لہ الترمذی وابن ماجۃ وقال فی المیزان کان من اوعیۃ العلم الی آخر مانقلنا قال ووجدت للحدیث طریقا آخر فذکر مااسند ابن عساکر عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ نحوہ وسکت علیہ خاتم الحفاظ والله تعالی اعلم ۱۲ منہ (م)
نماز کے باب میں موضوعات میں یہ آخری حدیث ہے تخریج کرنے والے نے کہا یہ موضوع ہے عمر بن ہارون کذاب ہے خاتم الحفاظ نے کہا عمر سے ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت لی ہے میزان میں “ کان من اوعیۃ العلم الی آخر مانقلنا “ (وہ علم کا ذخیرہ تھا آخر تك جو عبارت ہم نے نقل کی ہے) کہا اور کہا کہ اس حدیث کی ایك اور سند بھی میں نے دیکھی ہے پھر وہ سند ذکر کی جو ابن عساکر نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے اس کی مثل روایت کی ہے اس پر خاتم الحفاظ نے سکوت کیا ہے والله تعالی اعلم ۱۲ منہ (ت)
ومشی علی ھذا فی الحاوی القدسی فانہ ذکر ھذہ الصلوۃ للحاجۃ علی ھذا الوجہ من الصلوۃ المستحبۃ ۔
حاوی قدسی میں اسی پر عمل کیا کہ انہوں نے حاجت کے لئے اس ترکیب کو مستحب نمازوں میں ذکر فرمایا۔
مرقاۃ شرح مشکوۃ سے امام اجل سیدی شیخ اکبر محی الدین ابن عربی قدس سرہ الشریف کا ارشاد لطیف افادہ ۱۵ میں گزرا کہ میں نے صحت حدیث کو اس جوان کی صحت کشف سے پہچانا یعنی جب اس کے کشف سے معلوم ہوا کہ حدیث میں جو وعدہ آیا تھا ٹھیك اترا معلوم ہوا کہ حدیث صحیح ہے اب صدر رسالہ میں امام سخاوی کے نقول دیکھ لیجئے کہ اس تقبیل ابہامین کے کتنے تجربے علما وصلحا سے منقول ہوئے ہیں لاجرم علامہ طاہر فتنی نے فرمایا روی تجربۃ ذلك عن کثیرین (اس کا تجربہ بہت سے لوگوں سے روایت کیا گیا) تو عزیزو! اگر بفرض غلط سند کسی قابل نہ سمجھو تاہم تجربہ علما کو سند کافی جانو۔
افادہ بست ۲۷ وہفتم (بالفرض اگر کتب میں اصلا پتا نہ ہوتا تاہم ایسی حدیث کا بعض کلمات علما میں بلاسند مذکور ہونا ہی بس ہے) اقول : بھلایاں تو طرق مسندہ باسانید متعددہ کتب حدیث میں موجود علمائے کرام تو ایسی جگہ صرف کلمات بعض علما میں بلاسند مذکور ہونا ہی سند کافی سمجھتے ہیں اگرچہ طبقہ رابعہ وغیرہا
عــــہ : ھواخر حدیث من باب الصلاۃ فی الموضوعات قال المخرج موضوع عمربن ھارون کذاب قال خاتم الحفاظ عمرروی لہ الترمذی وابن ماجۃ وقال فی المیزان کان من اوعیۃ العلم الی آخر مانقلنا قال ووجدت للحدیث طریقا آخر فذکر مااسند ابن عساکر عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ نحوہ وسکت علیہ خاتم الحفاظ والله تعالی اعلم ۱۲ منہ (م)
نماز کے باب میں موضوعات میں یہ آخری حدیث ہے تخریج کرنے والے نے کہا یہ موضوع ہے عمر بن ہارون کذاب ہے خاتم الحفاظ نے کہا عمر سے ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت لی ہے میزان میں “ کان من اوعیۃ العلم الی آخر مانقلنا “ (وہ علم کا ذخیرہ تھا آخر تك جو عبارت ہم نے نقل کی ہے) کہا اور کہا کہ اس حدیث کی ایك اور سند بھی میں نے دیکھی ہے پھر وہ سند ذکر کی جو ابن عساکر نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے اس کی مثل روایت کی ہے اس پر خاتم الحفاظ نے سکوت کیا ہے والله تعالی اعلم ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
خاتمہ مجمع بحار الانوار نولکشور لکھنؤ ۳ / ۵۱۱
خاتمہ مجمع بحار الانوار نولکشور لکھنؤ ۳ / ۵۱۱
کسی طبقہ حدیث میں اس کا نام نہ نشان نہ ہو حضور اقدس سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے وصال اقدس کے بعد امیرالمومنین عمرفاروق رضی اللہ تعالی عنہکا حضور والا کوندا کرکے بابی انت وامی یارسول الله میرے ماں باپ حضور پر قربان یارسول الله کہہ کر حضور کے فضائل جلیلہ وشمائل جمیلہ عرض کرنا یہ حدیث امام ابومحمد عبدالله بن علی لخمی اندلسی رشاطی نے کہ پانچویں صدی کے علماء سے تھے ۴۶۶ھ میں انتقال کیا اپنی کتاب اقتباس الانوار والتماس الازہار اور ابوعبدالله محمدمحمد ابن الحاج عبدری مکی مالکی نے کہ آٹھویں صدی کے فضلا سے تھے ۷۳۷ھ میں وصال ہوا اپنی کتاب مدخل میں ذکر کی دونوں نے محض بلاسند ائمہ کرام وعلمائے اعلام نے اس سے زائد اس کا پتا نہ پایا کتب حدیث میں اصلا نشان نہ ملا مگر ازانجا کہ مقام مقام فضائل تھا اسی قدر کو کافی سمجھا ان نادانوں کند حواسوں فرق مراتب ناشناسوں کی طرح طبقہ رابعہ میں ہونا درکنار اصلا کسی طبقہ میں نہ ہونا بھی انہیں اس کے ذکر وقبول سے مانع نہ آیا بلکہ اس سے استناد فرمایا علامہ ابوالعباس قصار نے اسے شرح قصیدہ بردہ شریف میں ذکر کیا اور انہیں زشاطی کا حوالہ دیا پھر امام علامہ احمد قسطلانی عــــہ۱ نے مواہب للدنیہ میں بصیغہ جزم ذکر کی اسی شرح قصار ومدخل کی سند دی اسی مواہب شریف ونسیم الریاض علامہ شہاب خفاجی مصری ومدارج النبوۃ شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی وغیرہا میں علمائے کرام نے اس حدیث کو زیر بیان آیہ کریمہ لا اقسم بهذا البلد(۱) و انت حل بهذا البلد(۲) (میں اس شہر کی قسم کھاتا ہوں اور اے محبوب! تو اس میں جلوہ افروز ہے۔ ت)جس میں رب العزت جل وعلانے شہر مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی قسم یاد فرمائی ہے محل استناد میں ذکر کیا کہ قرآن عظیم نے حضور پرنور سید المحبوبین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی جان پاك بھی قسم کھائی کہ
لعمرك انهم لفی سكرتهم یعمهون(۷۲) (تیری جان کی قسم یہ کافر اپنے نشہ میں بہك رہے ہیں ) اور حضور کے شہر مکہ معظمہ کی بھی قسم کھائی کہ لا اقسم بهذا البلد(۱) مگر اس قسم میں اس قسم سے زیادہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی تعظیم ہے جس طرح امیرالمومنین عمرفاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہنے اس طرف اشارہ کیا کہ عرض کرتے ہیں میرے ماں باپ حضور پر قربان یارسول الله الله عزوجل کے نزدیك حضور کا مرتبہ اس حد کو پہنچا کہ حضور کے خاك پاکی قسم یاد فرمائی لا اقسم بهذا البلد(۱)۔ نسیم عــــہ۲ کی دلکشا عبارت یہ ہے :
عــــہ۱ : الفصل الاول من المقصد العاشر ۱۲ منہ
(م) عــــہ۲ : الفصل الرابع من الباب الاول ۱۲ منہ (م)
دسویں مقصد کی پہلی فصل میں دیکھو۔ (ت)
باب اول کی چوتھی فصل میں دیکھو۔ (ت)
لعمرك انهم لفی سكرتهم یعمهون(۷۲) (تیری جان کی قسم یہ کافر اپنے نشہ میں بہك رہے ہیں ) اور حضور کے شہر مکہ معظمہ کی بھی قسم کھائی کہ لا اقسم بهذا البلد(۱) مگر اس قسم میں اس قسم سے زیادہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی تعظیم ہے جس طرح امیرالمومنین عمرفاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہنے اس طرف اشارہ کیا کہ عرض کرتے ہیں میرے ماں باپ حضور پر قربان یارسول الله الله عزوجل کے نزدیك حضور کا مرتبہ اس حد کو پہنچا کہ حضور کے خاك پاکی قسم یاد فرمائی لا اقسم بهذا البلد(۱)۔ نسیم عــــہ۲ کی دلکشا عبارت یہ ہے :
عــــہ۱ : الفصل الاول من المقصد العاشر ۱۲ منہ
(م) عــــہ۲ : الفصل الرابع من الباب الاول ۱۲ منہ (م)
دسویں مقصد کی پہلی فصل میں دیکھو۔ (ت)
باب اول کی چوتھی فصل میں دیکھو۔ (ت)
حوالہ / References
نسیم الریاض شرح شفا باب اول الفصل الرابع فی قسمہ تعالٰی مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۱۹۶
القرآن ۹۰ / ۲
القرآن ۱۵ / ۷۲
القرآن ۹۰ / ۱
القرآن ۹۰ / ۲
القرآن ۱۵ / ۷۲
القرآن ۹۰ / ۱
قدقالوا ان ھذا القسم ادخل فی تعظیمہ صلی الله تعالی علیہ وسلم من القسم بذاتہ وبحیاتہ کمااشار الیہ عمررضی الله تعالی عنہ بقولہ بابی انت وامی یارسول الله قدبلغت من الفضیلہ عندہ ان اقسم بتراب قدمیك فقال
لا اقسم بهذا البلد(۱) ۔
مفسرین نے تحریر کیا ہے کہ آپ کے شہر کی قسم آپ کی ذات اور عمر کی قسم سے زیادہ تعظیم پر دلالت کرتی ہے جیسا کہ اس کی طرف حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہنے ان الفاظ کے ساتھ اشارہ فرمایا : یارسول الله ! میرے والدین آپ پر فدا ہوں آپ الله تعالی کے ہاں اتنے عظیم المرتبت ہیں کہ الله تعالی نے آپ کے مبارك قدموں کی قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا ہے : لا اقسم بهذا البلد(۱) (میں اس شہر کی قسم کھاتا ہوں ) (ت)
مواہب عــــہ میں ہے :
علی کل حال فھذا متضمن للقسم ببلد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ولایخفی مافیہ من زیادۃ التعظیم وقدروی ان عمر بن الخطاب رضی الله تعالی عنہ قال للنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم بابی انت وامی یارسول الله لقد بلغ من فضیلتك عندالله ان اقسم بحیاتك دون سائر الانبیاء ولقد بلغ من فضیلتك عندہ ان اقسم بتراب قدمیك فقال لا اقسم بهذا البلد(۱) ۔
ہر حال میں یہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے شہر کی قسم کو متضمن ہے اور اس قسم میں جو عظمت مرتبہ ہے وہ مخفی نہیں حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالی عنہسے منقول نہیں حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالی عنہسے منقول ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی خدمت اقدس میں عرض کیا : یارسول الله ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں آپ کی فضیلت الله تعالی کے ہاں اتنی بلند ہے کہ آپ کی حیات مبارکہ کی ہی اس نے قسم اٹھائی ہے نہ کہ دوسرے انبیاء کی اور آپ کی عظمت ومرتبت اس کے ہاں اتنی عظیم ہے کہ اس نے “ لا اقسم بهذا البلد(۱) “ کے ذریعے آپ کے مبارك قدموں کی خاك کی قسم اٹھائی ہے۔ (ت)
عــــہ : المقصد السادس النوع الخامس الفصل الخامس ۱۲ منہ (م)
چھٹےمقصد کی نوع خامس سے پانچویں فصل دیکھو ۱۲ منہ (ت)
لا اقسم بهذا البلد(۱) ۔
مفسرین نے تحریر کیا ہے کہ آپ کے شہر کی قسم آپ کی ذات اور عمر کی قسم سے زیادہ تعظیم پر دلالت کرتی ہے جیسا کہ اس کی طرف حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہنے ان الفاظ کے ساتھ اشارہ فرمایا : یارسول الله ! میرے والدین آپ پر فدا ہوں آپ الله تعالی کے ہاں اتنے عظیم المرتبت ہیں کہ الله تعالی نے آپ کے مبارك قدموں کی قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا ہے : لا اقسم بهذا البلد(۱) (میں اس شہر کی قسم کھاتا ہوں ) (ت)
مواہب عــــہ میں ہے :
علی کل حال فھذا متضمن للقسم ببلد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ولایخفی مافیہ من زیادۃ التعظیم وقدروی ان عمر بن الخطاب رضی الله تعالی عنہ قال للنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم بابی انت وامی یارسول الله لقد بلغ من فضیلتك عندالله ان اقسم بحیاتك دون سائر الانبیاء ولقد بلغ من فضیلتك عندہ ان اقسم بتراب قدمیك فقال لا اقسم بهذا البلد(۱) ۔
ہر حال میں یہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے شہر کی قسم کو متضمن ہے اور اس قسم میں جو عظمت مرتبہ ہے وہ مخفی نہیں حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالی عنہسے منقول نہیں حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالی عنہسے منقول ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی خدمت اقدس میں عرض کیا : یارسول الله ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں آپ کی فضیلت الله تعالی کے ہاں اتنی بلند ہے کہ آپ کی حیات مبارکہ کی ہی اس نے قسم اٹھائی ہے نہ کہ دوسرے انبیاء کی اور آپ کی عظمت ومرتبت اس کے ہاں اتنی عظیم ہے کہ اس نے “ لا اقسم بهذا البلد(۱) “ کے ذریعے آپ کے مبارك قدموں کی خاك کی قسم اٹھائی ہے۔ (ت)
عــــہ : المقصد السادس النوع الخامس الفصل الخامس ۱۲ منہ (م)
چھٹےمقصد کی نوع خامس سے پانچویں فصل دیکھو ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
نسیم الریاض شرح شفا باب اول الفصل الرابع فی قسمہ تعالٰی مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۱۹۶
المواہب اللدنیہ مع شرح الزرقانی الفصل الخامس من النوع الخامس الخ مطبعۃ عامرہ مصر ۶ / ۲۷۰
المواہب اللدنیہ مع شرح الزرقانی الفصل الخامس من النوع الخامس الخ مطبعۃ عامرہ مصر ۶ / ۲۷۰
مدارج عــــہ میں اسے نقل کرکے فرمایا : یعنی سوگند خوردن ببلد کہ عبارت است کہ از زمینے کہ پے سپر میکند آنرا (پائے آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) سوگند بخاك پائے خوردن ست وایں لفط درظاہر نظر سخت مے درآید نسبت بجناب عزت چوں گویند کہ سوگند میخورد بخاك پائے حضرت رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمونظر بحقیقت معنی صاف وپاك ست کہ غبارے براں نمی نشیند وتحقیق ایں سخن آنست کہ سوگند خوردن حضرت رب العزت جل جلالہ پچیزے غیر ذات وصفات بود برائے اظہار شرف وفضیلت وتمیزآں چیزست نزدمردم ونسبت بایشاں تابدانند کہ آں امرے عظیم وشریف است نہ آنکہ اعظم است نسبت بوئے تعالی الخ
یعنی شہر کی قسم کھانے سے مراد یہی ہے کہ اس خاك پاکی قسم اٹھائی ہے کیونکہ شہر سے مراد وہ زمین اور جگہ ہے جہاں حضور پاؤں رکھ کر چلتے ہیں بظاہر یہ الفاظ سخت معلوم ہوتے ہیں کہ باری تعالی حضور کے خاك پاکی قسم اٹھائے لیکن اگر اس کی حقیقت کو دیکھا جائے تو اس میں کوئی پوشیدگی وغبار نہیں وہ اس طرح کہ الله تعالی جب اپنی ذات وصفات کے علاوہ کسی شے کی قسم اٹھاتا ہے تو وہ اس لئے نہیں ہوتی کہ وہ شیئ (معاذالله) الله تعالی سے عظیم ہے بلکہ حکمت یہ ہوتی ہے کہ اس چیز کو وہ شرف وعظمت نصیب ہوجائے جس کی وجہ سے عام لوگوں پر اس کا امتیاز قائم ہو اور لوگ محسوس کریں کہ یہ شے بنسبت دوسری چیزوں کے نہایت عظیم ہے نہ کہ وہ معاذالله بنسبت الله تعالی کے عظیم ہے
میں ایك اسی حدیث بے سند کو کیا ذکر کرتا کہ اس کی تو صدہا نظیریں کتب علماء میں موجود ہیں زیادہ جانے دیجئے یہ پچھلے زماے کے بڑے محدث شاہ ولی الله صاحب بھی جابجا اپنی تصانیف میں ایسی کتب کی حدیثوں سے سند لاتے ہیں جو نہ کسی طبقہ حدیث میں داخل نہ ان میں سند کا نام ونشان
قرۃ العینین میں روایات مذکورہ تاریخ یافعی وروضۃ الاحباب وشواہد النبوۃ مولانا جامی قدس سرہ السامی سے استناد موجود مثلا لکھا :
اما اتصاف شیخین بصفات کاملہ تلبیہ پس بطریق
شیخین (صدیق وفاروق) صفات کاملہ مشہورہ
عــــہ : قسم اول باب سوم فصل دوم ۱۲ منہ (م)
یعنی شہر کی قسم کھانے سے مراد یہی ہے کہ اس خاك پاکی قسم اٹھائی ہے کیونکہ شہر سے مراد وہ زمین اور جگہ ہے جہاں حضور پاؤں رکھ کر چلتے ہیں بظاہر یہ الفاظ سخت معلوم ہوتے ہیں کہ باری تعالی حضور کے خاك پاکی قسم اٹھائے لیکن اگر اس کی حقیقت کو دیکھا جائے تو اس میں کوئی پوشیدگی وغبار نہیں وہ اس طرح کہ الله تعالی جب اپنی ذات وصفات کے علاوہ کسی شے کی قسم اٹھاتا ہے تو وہ اس لئے نہیں ہوتی کہ وہ شیئ (معاذالله) الله تعالی سے عظیم ہے بلکہ حکمت یہ ہوتی ہے کہ اس چیز کو وہ شرف وعظمت نصیب ہوجائے جس کی وجہ سے عام لوگوں پر اس کا امتیاز قائم ہو اور لوگ محسوس کریں کہ یہ شے بنسبت دوسری چیزوں کے نہایت عظیم ہے نہ کہ وہ معاذالله بنسبت الله تعالی کے عظیم ہے
میں ایك اسی حدیث بے سند کو کیا ذکر کرتا کہ اس کی تو صدہا نظیریں کتب علماء میں موجود ہیں زیادہ جانے دیجئے یہ پچھلے زماے کے بڑے محدث شاہ ولی الله صاحب بھی جابجا اپنی تصانیف میں ایسی کتب کی حدیثوں سے سند لاتے ہیں جو نہ کسی طبقہ حدیث میں داخل نہ ان میں سند کا نام ونشان
قرۃ العینین میں روایات مذکورہ تاریخ یافعی وروضۃ الاحباب وشواہد النبوۃ مولانا جامی قدس سرہ السامی سے استناد موجود مثلا لکھا :
اما اتصاف شیخین بصفات کاملہ تلبیہ پس بطریق
شیخین (صدیق وفاروق) صفات کاملہ مشہورہ
عــــہ : قسم اول باب سوم فصل دوم ۱۲ منہ (م)
حوالہ / References
مدارج النبوۃ وصل مناقب جلیلہ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۶۵
نوٹ : مدارج النبوۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھّر کے نسخہ میں خط کشیدہ عبارت نہیں ہے غوروفکر سے معلوم ہوتا ہے کہ اتنی عبارت اس نسخے میں کسی وجہ سے رہ گئی اور اعلحٰضرت کی عبارت میں جو اضافہ ہے وہ درست ہے۔ نذیراحمد سعیدی
قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین اتصاف شیخین بہ صفاتِ کاملہ الخ مطبوعہ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص ۹۲
نوٹ : مدارج النبوۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھّر کے نسخہ میں خط کشیدہ عبارت نہیں ہے غوروفکر سے معلوم ہوتا ہے کہ اتنی عبارت اس نسخے میں کسی وجہ سے رہ گئی اور اعلحٰضرت کی عبارت میں جو اضافہ ہے وہ درست ہے۔ نذیراحمد سعیدی
قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین اتصاف شیخین بہ صفاتِ کاملہ الخ مطبوعہ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص ۹۲
اتم بودو ظہور خرق عوائد وتربیت الہی ایشاں رابرؤیا وماندآں ازیشاں بسیار مروی شدہ حدیثی چند ازیں جملہ نیز روایت کنیم ۔ درشواہد النبوہ ازابومسعود انصاری منقول است کہ گفتہ است اسلام ابوبکر شبیہ بوحی است زیراکہ وے گفتہ است کہ شبی پیش ازبعث رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکہ شبی پیش ازبعث رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمدرخواب دیدم کہ نورے عظیم ازآسماں فروآمد وبربام کعبہ افتاد الخ۔ ونیز درشواہد مذکور است کہ امیرالمومنین ابوبکر صدیق گفتہ است کہ روزے درایام جاہلیت درسایہ درختے نشستہ بودم ناگاہ میل بمن کردبجانب من کرد آوازے ازاں درخت بگوش من آمد کہ پیغمبرے درفلاں وقت بیرون خواہد آمدے باید کہ تو سعادت مند ترین مردمان باشی بوے الخ ونیز درشواہد ازابوبکر صدیق منقول است کہ درمرض آخر خود گفت کہ امشب درتفویض امرخلافت بتکرار استخارہ کردم الخ ملتقطا۔
کے ساتھ بطریق اتم متصف تھے اور ان سے خرق عادت اور تربیت الہیہ کے طور خواب وغیرہ جسے معاملات کا اظہار بھی احادیث میں مروی ہے ان میں سے ایك حدیث کا میں یہاں ذکر کرتا ہوں شواہد النبوۃ میں ابومسعود انصاری سے مروی ہے کہا گیا ہے کہ سیدنا ابوبکر کا اسلام مشابہ بالوحی ہے کیونکہ وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی بعثت سے پہلے میں نے خواب میں دیکھا کہ ایك عظیم نور آسمان سے نیچے آیا اور کعبہ کی چھت پر اترا ہے الخ شواہد النبوۃ میں یہ بھی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہبیان کرتے ہیں کہ میں دور جاہلیت میں ایك دن ایك درخت کے نیچے بیٹھا ہواتھا اچانك وہ درخت میری طرف جھك گیا اور اس درخت سے میرے کانوں میں یہ آواز آئی کہ فلاں وقت الله کا پیغمبر آئے گا تو ان کے ساتھیوں میں نہایت ہی سعادت مند ہوگا الخ اور یہ بھی شواہد میں حضرت ابوبکر صدیق سے منقول ہے کہ آپ نے آخری مرض وصال میں فرمایا کہ آج میں نے خلافت کے معاملات کو سپرد کرنے کے لئے باربار استخارہ کیا ہے الخ ملتقطا (ت)
اسی میں ہے :
چونوبت خلافت بفاروق رسید سیاستی بردست اوواقع شدکہ غیر نبی برآں قادر نباشد واگر عقل سلیم رااعمال نمایم درا مورے کے خلافت انبیاء رامی شاید بہتر از حال وے متصور نگر دد زیر اکہ حضرت پیغامبر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمبدو چیز مشغول بودند یکے تعلیم علم فاروق اعظم مسائل را تفحص کرد و ترتیب کتاب وسنت واجماع وقیاس آورد وسد مداخل تحریف نمود چنانچہ علمائے صحابہ ہمہ گواہی دادند کہ وے اعلم زمان خود است دیگر جہاد کفار و فاروق تحمل اعبائے جہاد بوجہے نمود کہ خوب ترازاں صورت نگیرد وقال الیافعی فی السنۃ الرابعۃ عشر فتحت دمشق الخ در روضۃ الاحباب مذکور ست کہ در زبان خلافت وے ہزار وسی وشش شہر باتوابع ولواحق آں فتح شد و چہار ہزار مسجدساختہ گشت وچہار ہزار کنیسہ خراب گردید ویك ہزار ونہ صد منبر بناکردند اھ بالالتقاط۔
جب خلافت حضرت فاروق اعظم کے سپرد ہوئی تو آپ نے سیاست کو اس طرح بہتر انداز میں نبھایا کہ کسی غیر نبی سے ایسا ممکن نہ تھا اگر عقل سلیم کو امور خلافت
کے ساتھ بطریق اتم متصف تھے اور ان سے خرق عادت اور تربیت الہیہ کے طور خواب وغیرہ جسے معاملات کا اظہار بھی احادیث میں مروی ہے ان میں سے ایك حدیث کا میں یہاں ذکر کرتا ہوں شواہد النبوۃ میں ابومسعود انصاری سے مروی ہے کہا گیا ہے کہ سیدنا ابوبکر کا اسلام مشابہ بالوحی ہے کیونکہ وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی بعثت سے پہلے میں نے خواب میں دیکھا کہ ایك عظیم نور آسمان سے نیچے آیا اور کعبہ کی چھت پر اترا ہے الخ شواہد النبوۃ میں یہ بھی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہبیان کرتے ہیں کہ میں دور جاہلیت میں ایك دن ایك درخت کے نیچے بیٹھا ہواتھا اچانك وہ درخت میری طرف جھك گیا اور اس درخت سے میرے کانوں میں یہ آواز آئی کہ فلاں وقت الله کا پیغمبر آئے گا تو ان کے ساتھیوں میں نہایت ہی سعادت مند ہوگا الخ اور یہ بھی شواہد میں حضرت ابوبکر صدیق سے منقول ہے کہ آپ نے آخری مرض وصال میں فرمایا کہ آج میں نے خلافت کے معاملات کو سپرد کرنے کے لئے باربار استخارہ کیا ہے الخ ملتقطا (ت)
اسی میں ہے :
چونوبت خلافت بفاروق رسید سیاستی بردست اوواقع شدکہ غیر نبی برآں قادر نباشد واگر عقل سلیم رااعمال نمایم درا مورے کے خلافت انبیاء رامی شاید بہتر از حال وے متصور نگر دد زیر اکہ حضرت پیغامبر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمبدو چیز مشغول بودند یکے تعلیم علم فاروق اعظم مسائل را تفحص کرد و ترتیب کتاب وسنت واجماع وقیاس آورد وسد مداخل تحریف نمود چنانچہ علمائے صحابہ ہمہ گواہی دادند کہ وے اعلم زمان خود است دیگر جہاد کفار و فاروق تحمل اعبائے جہاد بوجہے نمود کہ خوب ترازاں صورت نگیرد وقال الیافعی فی السنۃ الرابعۃ عشر فتحت دمشق الخ در روضۃ الاحباب مذکور ست کہ در زبان خلافت وے ہزار وسی وشش شہر باتوابع ولواحق آں فتح شد و چہار ہزار مسجدساختہ گشت وچہار ہزار کنیسہ خراب گردید ویك ہزار ونہ صد منبر بناکردند اھ بالالتقاط۔
جب خلافت حضرت فاروق اعظم کے سپرد ہوئی تو آپ نے سیاست کو اس طرح بہتر انداز میں نبھایا کہ کسی غیر نبی سے ایسا ممکن نہ تھا اگر عقل سلیم کو امور خلافت
حوالہ / References
قرۃ العینین فی تقبیل الشیخین اتصاف شیخین بہ صفاتِ کاملہ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ص ۹۳
قرۃ العینین فی تقبیل الشیخین اتصاف شیخین بہ صفاتِ کاملہ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ص ۹۴
قرۃ العینین فی تقبیل الشیخین اتصاف شیخین بہ صفاتِ کاملہ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ص ۹۵
قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین مآثر جمیلہ فاروق اعظم مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ص ۱۳۰
قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین مآثر جمیلہ فاروق اعظم مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ص ۱۳۱
قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین مآثر جمیلہ فاروق اعظم مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ص ۱۳۲
قرۃ العینین فی تقبیل الشیخین اتصاف شیخین بہ صفاتِ کاملہ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ص ۹۴
قرۃ العینین فی تقبیل الشیخین اتصاف شیخین بہ صفاتِ کاملہ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ص ۹۵
قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین مآثر جمیلہ فاروق اعظم مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ص ۱۳۰
قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین مآثر جمیلہ فاروق اعظم مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ص ۱۳۱
قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین مآثر جمیلہ فاروق اعظم مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ص ۱۳۲
بروئے کار لایا جائے تو محسوس ہوگا کہ انبیاء کی خلافت کا کام ان سے بہتر نبھایا نہیں جاسکتا کیونکہ نبی اکرمصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجن دو معاملات کی طرف بہت ہی زیادہ توجہ دیتے تھے ان میں سے ایك تعلیم علم ہے اور فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہنے مسائل میں کھود کرید کرکے اور نہایت ہی محنت و کوشش کے ساتھ کتاب وسنت اجماع و قیاس کی ترتیب کو قائم فرماکر تحریف کے تمام راستے بند کردئے چنانچہ تمام صحابہ نے اس بات کی گواہی دی ہے کہ وہ اپنے دور میں سب سے زیادہ عالم تھے۔ اور دوسرا معاملہ جہاد کاتھا فاروق اعظم نے اس معاملہ کو اس طرح نبھایا کہ اس سے بہتر تصور نہیں کیا جاسکتا۔ یافعی کہتے ہیں کہ ۱۴ھ میں دمشق فتح ہوگیا الخ اور روضۃ الاحباب میں ہے کہ فاروق اعظم کے دور میں ایك ہزارچھتیس(۱۰۳۶) شہر مع مضافات فتح ہوئے چار ہزار(۴۰۰۰) مساجد کی تعمیر ہوئی چار ہزار(۴۰۰۰) کنیسے تباہ کئے گئے ایك ہزارنوسو(۱۹۰۰) منبر تیار ہوئے اھ بالالتقاط۔ (ت)
یوں ہی تفسیر عزیزی وغیرہ تصانیف مولانا شاہ عبد العزیز صاحب میں ایسے بہت اسناد ملیں گے اس کا گننا ہی کہاتھا مجھے تو یہاں یہ نص قاہر وباہر سنانا ہے کہ حدیث مذکور فاروقی بابی انت وامی یارسول الله کا ایك پارہ امام قاضی عیاض رحمۃ اللہ تعالی علیہنے بھی شفا شریف میں یونہی بلاسند ذکرفرمایا اس پر امام خاتم الحفاظ جلال الملۃ والدین سیوطی نے مناہل عـــہ الصفا فی تخریج احادیث الشفا پھر ان کے حوالہ سے علامہ خفاجی نے نسیم میں ارشاد کیا :
عـــہ احادیث الفصل السابع من الباب الاول ۱۲ منہ(م)
یوں ہی تفسیر عزیزی وغیرہ تصانیف مولانا شاہ عبد العزیز صاحب میں ایسے بہت اسناد ملیں گے اس کا گننا ہی کہاتھا مجھے تو یہاں یہ نص قاہر وباہر سنانا ہے کہ حدیث مذکور فاروقی بابی انت وامی یارسول الله کا ایك پارہ امام قاضی عیاض رحمۃ اللہ تعالی علیہنے بھی شفا شریف میں یونہی بلاسند ذکرفرمایا اس پر امام خاتم الحفاظ جلال الملۃ والدین سیوطی نے مناہل عـــہ الصفا فی تخریج احادیث الشفا پھر ان کے حوالہ سے علامہ خفاجی نے نسیم میں ارشاد کیا :
عـــہ احادیث الفصل السابع من الباب الاول ۱۲ منہ(م)
لم اجدہ فی شیئ من کتب الاثر لکن صاحب اقتباس الانوار وابن الحاج فی مدخلہ ذکراہ فی ضمن حدیث طویل وکفی بذلك سند المثلہ فانہ لیس ممایتعلق بالاحکام ۔
میں نے یہ حدیث کسی کتاب حدیث میں نہ پائی مگر صاحب اقتباس الانوار اور ابن الحاج نے مدخل میں ایك حدیث طویل اسے ذکر کیا ایسی حدیث کو اتنی ہی سند بہت ہے کہ وہ کچھ احکام سے تو متعلق نہیں ۔ (ت)
فقیر بعون رب قدیر جل وعلا تنزل پر تنزل کرکے روشن تر سے روشن تر کلام کرے مگر حضرات منکرین کی آنکھیں خدا ہی کھولے۔
افادہ بست۲۸ وہشتم : (حدیث اگر موضوع بھی ہوتو تاہم اس سے فعل کی ممانعت لازم نہیں ) اقول اچھا سب جانے دیجئے اپنی خاطر پورا تنزل لیجئے بالفرض حدیث موضوع وباطل ہی ہو تاہم موضوعیت حدیث عدم حدیث ہے نہ حدیث عدم اس کا اصل صرف اتنا ہوگا کہ اس بارہ میں کچھ وارد نہ ہوا نہ یہ کہ انکار ومنع وارد ہوا اب اصل فعل کو دیکھا جائے گا اگر قواعد شرع ممانعت بتائیں ممنوع ہوگا ورنہ اباحت اصلیہ پر رہے گا اور بہ نیت حسن حسن ومستحسن ہوجائے گا۔
کماھو شان المباحات جمیعا کمانص علیہ عـــہ فی الاشباہ وردالمحتار وانموذج العلوم وغیرھا من معتمدات الاسفار۔
جیسا کہ تمام مباحات کا معاملہ ہے جیسا کہ اس پر اشباہ و ردالمحتار اور انموذج العلوم اور ان جیسی دیگر معتمد کتب میں تصریح کی ہے۔ (ت)
عـــہ : قال فی الاشباہ من القاعدۃ الاولی اما المباحات فانھا تختلف صفتھا باعتبار ماقصدت لاجلہ الخ وعنھا نقل فی اوائل نکاح ردالمحتار وفیہ ایضا من کتاب الاضحیۃ فی مسئلۃ العقیقۃ وان قلنا انھا مباحۃ لکن یقصد الشکر تصیر قربۃ فان النیۃ تصیر العادات عبادات والمباحات طاعات اھ وکلام الانموذج مرفی الافادۃ الحادیۃ والعشرین ۱۲ منہ(م)
اشباہ میں قاعدہ اولی میں ہے کہ مباحات صفت کے اختلاف سے مختلف ہوجاتے ہیں اس اعتبار کے ساتھ جس کا ارادہ کیاگیا ہو الخ اس عبارت کو ردالمحتار کی کتاب النکاح کے اوائل میں نقل کیاگیا ہے ردالمحتار کی کتاب الاضحیۃ میں بھی عقیقہ کے مسئلہ کے متعلق ہے کہ ہم کہتے ہیں یہ اگرچہ مباح ہے لیکن شکر کے ارادہ سے عبادت بن جاتا ہے کیونکہ نیت عادت کو عبادت میں اور مباحات کو عبادت وفرمانبرداری میں بدل دیتی ہے اھ اور انموذج العلوم کا کلام اکیسویں ۲۱ افادہ میں گزرچکا ہے ۱۲ منہ (ت)
میں نے یہ حدیث کسی کتاب حدیث میں نہ پائی مگر صاحب اقتباس الانوار اور ابن الحاج نے مدخل میں ایك حدیث طویل اسے ذکر کیا ایسی حدیث کو اتنی ہی سند بہت ہے کہ وہ کچھ احکام سے تو متعلق نہیں ۔ (ت)
فقیر بعون رب قدیر جل وعلا تنزل پر تنزل کرکے روشن تر سے روشن تر کلام کرے مگر حضرات منکرین کی آنکھیں خدا ہی کھولے۔
افادہ بست۲۸ وہشتم : (حدیث اگر موضوع بھی ہوتو تاہم اس سے فعل کی ممانعت لازم نہیں ) اقول اچھا سب جانے دیجئے اپنی خاطر پورا تنزل لیجئے بالفرض حدیث موضوع وباطل ہی ہو تاہم موضوعیت حدیث عدم حدیث ہے نہ حدیث عدم اس کا اصل صرف اتنا ہوگا کہ اس بارہ میں کچھ وارد نہ ہوا نہ یہ کہ انکار ومنع وارد ہوا اب اصل فعل کو دیکھا جائے گا اگر قواعد شرع ممانعت بتائیں ممنوع ہوگا ورنہ اباحت اصلیہ پر رہے گا اور بہ نیت حسن حسن ومستحسن ہوجائے گا۔
کماھو شان المباحات جمیعا کمانص علیہ عـــہ فی الاشباہ وردالمحتار وانموذج العلوم وغیرھا من معتمدات الاسفار۔
جیسا کہ تمام مباحات کا معاملہ ہے جیسا کہ اس پر اشباہ و ردالمحتار اور انموذج العلوم اور ان جیسی دیگر معتمد کتب میں تصریح کی ہے۔ (ت)
عـــہ : قال فی الاشباہ من القاعدۃ الاولی اما المباحات فانھا تختلف صفتھا باعتبار ماقصدت لاجلہ الخ وعنھا نقل فی اوائل نکاح ردالمحتار وفیہ ایضا من کتاب الاضحیۃ فی مسئلۃ العقیقۃ وان قلنا انھا مباحۃ لکن یقصد الشکر تصیر قربۃ فان النیۃ تصیر العادات عبادات والمباحات طاعات اھ وکلام الانموذج مرفی الافادۃ الحادیۃ والعشرین ۱۲ منہ(م)
اشباہ میں قاعدہ اولی میں ہے کہ مباحات صفت کے اختلاف سے مختلف ہوجاتے ہیں اس اعتبار کے ساتھ جس کا ارادہ کیاگیا ہو الخ اس عبارت کو ردالمحتار کی کتاب النکاح کے اوائل میں نقل کیاگیا ہے ردالمحتار کی کتاب الاضحیۃ میں بھی عقیقہ کے مسئلہ کے متعلق ہے کہ ہم کہتے ہیں یہ اگرچہ مباح ہے لیکن شکر کے ارادہ سے عبادت بن جاتا ہے کیونکہ نیت عادت کو عبادت میں اور مباحات کو عبادت وفرمانبرداری میں بدل دیتی ہے اھ اور انموذج العلوم کا کلام اکیسویں ۲۱ افادہ میں گزرچکا ہے ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
نسیم الریاض شرح الشفاء باب اول الفصل السابع فیما اخبر اللہ تعالٰی الخ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۲۴۸
الاشباہ والنظائر بیان دخول النیۃ فی العبادات الخ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۳۴
ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۲۰۸
الاشباہ والنظائر بیان دخول النیۃ فی العبادات الخ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۳۴
ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۲۰۸
حدیث کے موضوع ہونے سے فعل کیوں ممنوع ہونے لگا موضوع خود باطل ومہل وبے اثر ہے یا نہی وممانعت کا پروانہ لاجرم علامہ سیدی احمد طحطاوی ومصری حاشیہ درمختار میں زیرقول رملی واما الموضوع فلایجوز العمل بہ بحال فرماتے ہیں :
ای حیث کان مخالفا لقواعد الشریعۃ واما لوکان داخلا فی اصل عام فلامانع منہ لالجعلہ حدیثا بل لدخولہ تحت الاصل العام ۔
یعنی جس فعل کے بارے میں حدیث موضوع وارد ہو اسے کرنا اسی حالت میں ممنوع ہے کہ خود وہ فعل قواعد شرع کے خلاف ہو اور اگر ایسا نہیں بلکہ کسی اصل کلی کے نیچے داخل ہے تو اگرچہ حدیث موضوع ہو فعل سے ممانعت نہیں ہوسکتی نہ اس لئے کہ موضوع کو حدیث ٹھہرائیں بلکہ اس لئے کہ وہ قاعدہ کلیہ کے نیچے داخل ہے۔
اقول : فقدافاد رحمہ الله تعالی بتعلیلہ ان المراد جواز العمل بمافی موضوع لالکونہ فی موضوع وسنلقی علیك تحقیق المقام بتوفیق الملك العلام فانتظر۔
اقول : سید احمد طحطاوی نے اس تعلیل کے ذریعے یہ ضابطہ بیان فرمادیا کہ مراد یہ ہے (کہ موضوع حدیث کے مفہوم میں جو شرعی قاعدہ کے موافق ہے اس پر عمل ہے نہ کہ موضوع حدیث پر عمل ہے) عنقریب ہم الله تعالی کی توفیق سے اس پر تفصیلی گفتگو کریں گے پس آپ انتظار کریں ۔ (ت)
یہ تو تصریح کلی تھی اب جزئیات پر نظر کیجئے تو وہ بھی باعلی ندا شہادت جواز دے رہے ہیں جس نے کلمات علماء کرام حشرنا الله تعالی فی زمرتہم کی خدمت کی وہ جانتا ہے کہ درود موضوعات واباطیل ان کے نزدیك موجب منع فعل نہ تھا بلکہ باوصف اظہار وضع وبطلان حدیث اجازت افعال کی تصریح فرماتے یہاں بنظر اختصار چند امثلہ پر اقتصار۔
(۱) امام سخاوی مقاصد حسنہ میں فرماتے ہیں :
حدیث لیس الخرقۃ الصوفیۃ وکون الحسن البصر لبسھا من علی قال ابن دحیۃ و ابن الصلاح الہ باطل وکذا قال شیخنا انہ لیس فی شیئ من طرقھا مایثبت ولم یرد فی خبر صحیح ولاحسن ولاضعیف ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم البس الخرقۃ علی الصورۃ المتعارفۃ بین الصوفیۃ لاحد من اصحابہ ولاامر احدا من اصحابہ بفعل ذلك وکل مایروی فی ذلك صریحا فباطل ثم ان ائمۃ الحدیث لم یثبتوا اللحسن من علی سماعا فضلا عن ان یلبسہ الخرقۃ ولم یتفرد شیخنا بھذا بل سبقہ الیہ جماعۃ حتی من لبسھا والبسھا کالد میاطی والذھبی والھکاری وابی حیان والعلائی ومغلطائی والعراق وابن الملقن والابناسی والبرھان الحلبی وابن ناصرالدین ھذا مع الباسی ایاھا لجماعۃ من اعیان المتصوفۃ امتثالا لالزامھم لی بذلك حتی تجاہ الکعبۃ المشرقۃ تبرکا بذکر الصلحین واقتفاء لمن اثبتہ من الحفاظ المعتمدین اھ بتلخیص۔
خرقہ پوشی صوفیہ کرام کی حدیث اور یہ کہ حضرت حسن بصری قدس سر السری نے امیرالمومنین مولی علی کرم الله تعالی
ای حیث کان مخالفا لقواعد الشریعۃ واما لوکان داخلا فی اصل عام فلامانع منہ لالجعلہ حدیثا بل لدخولہ تحت الاصل العام ۔
یعنی جس فعل کے بارے میں حدیث موضوع وارد ہو اسے کرنا اسی حالت میں ممنوع ہے کہ خود وہ فعل قواعد شرع کے خلاف ہو اور اگر ایسا نہیں بلکہ کسی اصل کلی کے نیچے داخل ہے تو اگرچہ حدیث موضوع ہو فعل سے ممانعت نہیں ہوسکتی نہ اس لئے کہ موضوع کو حدیث ٹھہرائیں بلکہ اس لئے کہ وہ قاعدہ کلیہ کے نیچے داخل ہے۔
اقول : فقدافاد رحمہ الله تعالی بتعلیلہ ان المراد جواز العمل بمافی موضوع لالکونہ فی موضوع وسنلقی علیك تحقیق المقام بتوفیق الملك العلام فانتظر۔
اقول : سید احمد طحطاوی نے اس تعلیل کے ذریعے یہ ضابطہ بیان فرمادیا کہ مراد یہ ہے (کہ موضوع حدیث کے مفہوم میں جو شرعی قاعدہ کے موافق ہے اس پر عمل ہے نہ کہ موضوع حدیث پر عمل ہے) عنقریب ہم الله تعالی کی توفیق سے اس پر تفصیلی گفتگو کریں گے پس آپ انتظار کریں ۔ (ت)
یہ تو تصریح کلی تھی اب جزئیات پر نظر کیجئے تو وہ بھی باعلی ندا شہادت جواز دے رہے ہیں جس نے کلمات علماء کرام حشرنا الله تعالی فی زمرتہم کی خدمت کی وہ جانتا ہے کہ درود موضوعات واباطیل ان کے نزدیك موجب منع فعل نہ تھا بلکہ باوصف اظہار وضع وبطلان حدیث اجازت افعال کی تصریح فرماتے یہاں بنظر اختصار چند امثلہ پر اقتصار۔
(۱) امام سخاوی مقاصد حسنہ میں فرماتے ہیں :
حدیث لیس الخرقۃ الصوفیۃ وکون الحسن البصر لبسھا من علی قال ابن دحیۃ و ابن الصلاح الہ باطل وکذا قال شیخنا انہ لیس فی شیئ من طرقھا مایثبت ولم یرد فی خبر صحیح ولاحسن ولاضعیف ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم البس الخرقۃ علی الصورۃ المتعارفۃ بین الصوفیۃ لاحد من اصحابہ ولاامر احدا من اصحابہ بفعل ذلك وکل مایروی فی ذلك صریحا فباطل ثم ان ائمۃ الحدیث لم یثبتوا اللحسن من علی سماعا فضلا عن ان یلبسہ الخرقۃ ولم یتفرد شیخنا بھذا بل سبقہ الیہ جماعۃ حتی من لبسھا والبسھا کالد میاطی والذھبی والھکاری وابی حیان والعلائی ومغلطائی والعراق وابن الملقن والابناسی والبرھان الحلبی وابن ناصرالدین ھذا مع الباسی ایاھا لجماعۃ من اعیان المتصوفۃ امتثالا لالزامھم لی بذلك حتی تجاہ الکعبۃ المشرقۃ تبرکا بذکر الصلحین واقتفاء لمن اثبتہ من الحفاظ المعتمدین اھ بتلخیص۔
خرقہ پوشی صوفیہ کرام کی حدیث اور یہ کہ حضرت حسن بصری قدس سر السری نے امیرالمومنین مولی علی کرم الله تعالی
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۳
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت ۱ / ۷۵
المقاصد الحسنۃ حرف اللام مطبوعہ دارالکتاب العلمیہ بیروت ص ۳۳۱
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت ۱ / ۷۵
المقاصد الحسنۃ حرف اللام مطبوعہ دارالکتاب العلمیہ بیروت ص ۳۳۱
وجہہ الکریم سے خرقہ پہنا امام ابن وحیہ وامام ابن الصحاح نے فرمایا باطل ہے ایسا ہی ہمارے استاد امام ابن حجر عسقلانی نے فرمایا کہ اس کی کوئی سند ثابت نہیں نہ کسی خبر صحیح نہ حسن نہ ضعیف میں آیا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے اس صورت معمولہ صوفیہ کرام پر کسی کو خرقہ پہنایا یا اس کا حکم فرمایا جو کچھ اس بارہ میں صریح روایت کیا جاتا ہے سب موضوع ہے پھر ائمہ حدیث تو حضرت حسن کا حضرت مولی سے حدیث سننا بھی ثابت نہیں کرتے خرقہ پہنانا تو بڑی بات ہے اور یہ بات کچھ ہمارے شیخ ہی نے نہ فرمائی بلکہ ان سے پہلے ایك جماعت ائمہ محدثین ایسا ہی فرماچکی یہاں تك کہ وہ اکابر جنہوں نے خود پہنا پہنایا جیسے امام۱دمیاطی امام ۲ ذہبی امام۳ شیخ الاسلام سیدنا ہکاری امام۴ ابوحیان امام۵ علاء الدین علائی امام۶ مغلطائی امام۷ عراقی امام۸ ابن ملقن ۹ امام ابناسی امام۱۰ برہان حلبی امام۱۱ ابن ناصرالدین دمشقی یہ باآنکہ میں نے خود ایك جماعت عمدہ متصوفین کو خرقہ پہنایا کہ مشائخ کرام نے مجھ پر لازم فرمایا تھا یہاں تك کہ خاص کعبہ معظمہ کے سامنے پہنایا ذکر اولیائے کرام سے برکت لینے اور حفاظ معتمدین کی پیروی کی جو اسے ثابت کرگئے۔ (ت)
رحمۃ اللہ تعالی علیہعلیہم اجمعین دیکھو یہ جماعت کثیرہ ائمہ دین وحملہ شرع مبین باآنکہ احادیث خرقہ کو باطل محض جانتے پھر بھی خرقہ پہنتے پہناتے اور اسے باعث برکات مانتے۔
تنبیہ : یہ انکار محدثین اپنے مبلغ علم پر ہے اور وہ اس میں معذور مگر حق اثبات سماع ہے محققین نے اسے بسند صحیح ثابت کیا امام خاتم الحفاظ جلال سیوطی نے خاص اس باب میں رسالہ اتحاف الغرفۃ تالیف فرمایا اس میں
رحمۃ اللہ تعالی علیہعلیہم اجمعین دیکھو یہ جماعت کثیرہ ائمہ دین وحملہ شرع مبین باآنکہ احادیث خرقہ کو باطل محض جانتے پھر بھی خرقہ پہنتے پہناتے اور اسے باعث برکات مانتے۔
تنبیہ : یہ انکار محدثین اپنے مبلغ علم پر ہے اور وہ اس میں معذور مگر حق اثبات سماع ہے محققین نے اسے بسند صحیح ثابت کیا امام خاتم الحفاظ جلال سیوطی نے خاص اس باب میں رسالہ اتحاف الغرفۃ تالیف فرمایا اس میں
پھر دلائل ترجیح لکھ کر فرماتے ہیں : امام ابن حجر نے فرمایا : مسند ابی یعلی میں ایك حدیث ہے کہ :
مروی ہیں :
اثبتہ جماعۃ وھو الراجح عندی لوجوہ وقد رجحہ ایضا الحافظ ضیاء الدین المقدسی فی المختارۃ وتبعہ الحافظ ابن حجر فی اطراف المختارۃ ۔
حضرت حسن کا حضرت مولی سے سماع ایك جماعت محدثین نے ثابت فرمایا اور یہی متعدد دلیلوں سے میرے نزدیك راجح ہے اسی کو حافظ ضیاء الدین مقدسی نے ملخصا صحیح مختارہ میں ترجیح دی اور امام الشان ابن حجر عسقلانی نے اطراف مختارہ میں ان کی تبعیت کی۔ (ت)
حدثنا جویریۃ بن اشرس قال اخبرنا عقبۃ بن ابی الصھباء الباھلی قال سمعت الحسن یقول سمعت علیا یقول قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم مثل امتی مثل المطر الحدیث
جویریہ بن اشرس نے ہمیں حدیث بیان کی کہ عقبہ بن ابی صہبا باہلی نے ہمیں خبر دی کہ میں نے حسن بصری سے سنا وہ کہتے تھے میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہسے سنا ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : میری امت کی مثال بارش کی طرح ہے الحدیث۔ (ت)
ہمارے شیخ المشائخ محمد بن حسن بن صیرفی نے فرمایا یہ حدیث نص صریح ہے کہ حسن کو مولی علی سے سماع حاصل ہے اس کے رجال سب ثقات ہیں جویریہ کو ابن حبان اور عقبہ کو امام احمد ویحیی بن معین نے ثقہ کہا انتہی۔
اقول : یہ تو بطور محدثین ثبوت صریح وصحیح ہے اور حضرات صوفیہ کرام کی نقل متواتر تو موجب علم قطعی ویقینی ہے جس کے بعد حصول سماع ولبس خرقہ میں اصلا محل سخن نہیں ولله الحمد۔
(۲) علامہ طاہر فتنی آخر مجمع بحار الانوار میں فرماتے ہیں :
من شم الورد ولم یصل علی فقد جفانی ھو باطل وکذب وکذا من شم الورد الاحمر الخ عــــہ زقدکتبت فی شان الصلوۃ علی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم عند الطیب لشیخنا الشیخ علی المتقی قدس سرہ ھل لہ اصل فکتب الجواب عن شیخنا الشیخ ابن حجر قدس سرہ اوغیرہ بمانصہ اما الصلاۃ علی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم عند ذلك ونحوہ فلااصل لھاومع فی ذلك فلاکراھۃ عندنا اھ ملخصا۔
یہ حدیث کہ جس نے پھول سونگھا اور مجھ پر درود نہ بھیجا اس نے مجھ پر ظلم کیا باطل وکذب ہے ایسی ہی وہ حدیث جو گلاب کا پھول سونگھنے میں آئی الخ (ز) میں نے عــــہ : الفتنی یکتب زعلی مایزید من عند نفسہ فلعلھا رمز للزیادۃ ۱۲ منہ (م)
علامہ فتنی جو اپنی طرف سے اضافہ کرتے ہیں تو “ ز “ لکھ دیتے ہیں غالبا اس “ ز “ سے اس اضافہ کی طرف اشارہ کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
مروی ہیں :
اثبتہ جماعۃ وھو الراجح عندی لوجوہ وقد رجحہ ایضا الحافظ ضیاء الدین المقدسی فی المختارۃ وتبعہ الحافظ ابن حجر فی اطراف المختارۃ ۔
حضرت حسن کا حضرت مولی سے سماع ایك جماعت محدثین نے ثابت فرمایا اور یہی متعدد دلیلوں سے میرے نزدیك راجح ہے اسی کو حافظ ضیاء الدین مقدسی نے ملخصا صحیح مختارہ میں ترجیح دی اور امام الشان ابن حجر عسقلانی نے اطراف مختارہ میں ان کی تبعیت کی۔ (ت)
حدثنا جویریۃ بن اشرس قال اخبرنا عقبۃ بن ابی الصھباء الباھلی قال سمعت الحسن یقول سمعت علیا یقول قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم مثل امتی مثل المطر الحدیث
جویریہ بن اشرس نے ہمیں حدیث بیان کی کہ عقبہ بن ابی صہبا باہلی نے ہمیں خبر دی کہ میں نے حسن بصری سے سنا وہ کہتے تھے میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہسے سنا ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : میری امت کی مثال بارش کی طرح ہے الحدیث۔ (ت)
ہمارے شیخ المشائخ محمد بن حسن بن صیرفی نے فرمایا یہ حدیث نص صریح ہے کہ حسن کو مولی علی سے سماع حاصل ہے اس کے رجال سب ثقات ہیں جویریہ کو ابن حبان اور عقبہ کو امام احمد ویحیی بن معین نے ثقہ کہا انتہی۔
اقول : یہ تو بطور محدثین ثبوت صریح وصحیح ہے اور حضرات صوفیہ کرام کی نقل متواتر تو موجب علم قطعی ویقینی ہے جس کے بعد حصول سماع ولبس خرقہ میں اصلا محل سخن نہیں ولله الحمد۔
(۲) علامہ طاہر فتنی آخر مجمع بحار الانوار میں فرماتے ہیں :
من شم الورد ولم یصل علی فقد جفانی ھو باطل وکذب وکذا من شم الورد الاحمر الخ عــــہ زقدکتبت فی شان الصلوۃ علی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم عند الطیب لشیخنا الشیخ علی المتقی قدس سرہ ھل لہ اصل فکتب الجواب عن شیخنا الشیخ ابن حجر قدس سرہ اوغیرہ بمانصہ اما الصلاۃ علی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم عند ذلك ونحوہ فلااصل لھاومع فی ذلك فلاکراھۃ عندنا اھ ملخصا۔
یہ حدیث کہ جس نے پھول سونگھا اور مجھ پر درود نہ بھیجا اس نے مجھ پر ظلم کیا باطل وکذب ہے ایسی ہی وہ حدیث جو گلاب کا پھول سونگھنے میں آئی الخ (ز) میں نے عــــہ : الفتنی یکتب زعلی مایزید من عند نفسہ فلعلھا رمز للزیادۃ ۱۲ منہ (م)
علامہ فتنی جو اپنی طرف سے اضافہ کرتے ہیں تو “ ز “ لکھ دیتے ہیں غالبا اس “ ز “ سے اس اضافہ کی طرف اشارہ کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
الحادی للفتاوٰی رسالہ اتحاف الفرقۃ دارالفکر بیروت ۲ / ۱۰۲
الحادی للفتاوٰی رسالہ اتحاف الفرقۃ دارالفکر بیروت ۲ / ۱۰۴
خاتمہ مجمع بحارالانوار فصل فی تعیین بعض الاحادیث المشتہرۃ علی الالسن نولکشور لکھنؤ ۲ / ۵۱۲ و ۵۱۳
الحادی للفتاوٰی رسالہ اتحاف الفرقۃ دارالفکر بیروت ۲ / ۱۰۴
خاتمہ مجمع بحارالانوار فصل فی تعیین بعض الاحادیث المشتہرۃ علی الالسن نولکشور لکھنؤ ۲ / ۵۱۲ و ۵۱۳
اس باب میں اپنے شیخ حضرت شیخ علی متقی مکی قدس سرہ الملکی کو لکھا کہ خوشبو سونگھتے وقت درودپاك کی کچھ اصل ہے انہوں نے ہمارے استاد امام ابن حجر مکی رحمۃ اللہ تعالی علیہیا کسی اور عالم کے حوالہ سے جواب تحریر فرمایا کہ ایسے وقت نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر درود پڑھنے کی کچھ اصل نہیں تاہم ہمارے نزدیك اس میں کوئی کراہت بھی نہیں اھ ملخصا۔
پھر امام مذکور بعد اس تحقیق کے کہ اس وقت غافلانہ بے نیت ثواب درود نہ پڑھنا چاہئے ارشاد فرماتے ہیں :
امامن استیقظ عند اخذ الطیب اوشمہ الی ماکان علیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم من محبتہ للطیب واکثارہ منہ فتذکر ذلك الخلق العظیم فصلی علیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم حینئذ لماوقر فی قلبہ من جلالتہ واستحقاقہ علی کل امتہ ان یلحظوہ بعین نھایۃ الاجلال عندرؤیۃ شیئ من آثارہ اومایدل علیھا فھذا لاکراھۃ فی حقہ فضلا عن الحرمۃ بل ھو ات بمافیہ اکمل الثواب الجزیل والفضل الجمیل وقد استحبہ العلماء لمن رأی شیئا من اثارہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ولاشك ان من استخصر ماذکرتہ عندشمہ الطیب یکون کالرأی لشیئ من اثارہ الشریفۃ فی المعنی فلیسن لہ الاکثار من الصلاۃ والسلام علیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ح اھ مختصرا۔
ہاں خوشبو لیتے یا سونگھتے وقت متنبہ ہوکر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماسے دوست رکھتے اور بکثرت استعمال فرماتے تھے اس خلق عظیم کو یاد کرکے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر درود بھیجے کہ حضور کی عظمت اور تمام امت پر حضور کا یہ حق ہونا اس کے دل میں جماکہ جب حضور کے آثار شریفہ یا ان پر دلالت کرنے والی کوئی چیز دیکھیں تو نہایت تعظیم کی آنکھ سے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا تصور کریں تو ایسے کے حق میں حرمت چھوڑ کراہت کیسی اس نے تو وہ کام کیا جس پر ثواب کثیر وفضل جمیل پائے گا کہ زیارت آثار شریفہ کے وقت درود پڑھنا علما نے مستحب رکھا ہے اور شك نہیں کہ جس نے خوشبو سونگھتے وقت یہ تصور کیا وہ گویا معنی بعض آثار شریفہ کی زیارت کررہا ہے تو اسے اس وقت حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر درود وسلام کی کثرت سنت ہے اھ مختصرا۔
پھر امام مذکور بعد اس تحقیق کے کہ اس وقت غافلانہ بے نیت ثواب درود نہ پڑھنا چاہئے ارشاد فرماتے ہیں :
امامن استیقظ عند اخذ الطیب اوشمہ الی ماکان علیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم من محبتہ للطیب واکثارہ منہ فتذکر ذلك الخلق العظیم فصلی علیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم حینئذ لماوقر فی قلبہ من جلالتہ واستحقاقہ علی کل امتہ ان یلحظوہ بعین نھایۃ الاجلال عندرؤیۃ شیئ من آثارہ اومایدل علیھا فھذا لاکراھۃ فی حقہ فضلا عن الحرمۃ بل ھو ات بمافیہ اکمل الثواب الجزیل والفضل الجمیل وقد استحبہ العلماء لمن رأی شیئا من اثارہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ولاشك ان من استخصر ماذکرتہ عندشمہ الطیب یکون کالرأی لشیئ من اثارہ الشریفۃ فی المعنی فلیسن لہ الاکثار من الصلاۃ والسلام علیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ح اھ مختصرا۔
ہاں خوشبو لیتے یا سونگھتے وقت متنبہ ہوکر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماسے دوست رکھتے اور بکثرت استعمال فرماتے تھے اس خلق عظیم کو یاد کرکے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر درود بھیجے کہ حضور کی عظمت اور تمام امت پر حضور کا یہ حق ہونا اس کے دل میں جماکہ جب حضور کے آثار شریفہ یا ان پر دلالت کرنے والی کوئی چیز دیکھیں تو نہایت تعظیم کی آنکھ سے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا تصور کریں تو ایسے کے حق میں حرمت چھوڑ کراہت کیسی اس نے تو وہ کام کیا جس پر ثواب کثیر وفضل جمیل پائے گا کہ زیارت آثار شریفہ کے وقت درود پڑھنا علما نے مستحب رکھا ہے اور شك نہیں کہ جس نے خوشبو سونگھتے وقت یہ تصور کیا وہ گویا معنی بعض آثار شریفہ کی زیارت کررہا ہے تو اسے اس وقت حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر درود وسلام کی کثرت سنت ہے اھ مختصرا۔
حوالہ / References
خاتمہ مجمع بحارالانوار فصل فی تعیین بعض الاحادیث المشتہرۃ علی الالسن نولکشور لکھنؤ ۲ / ۵۱۲ و۵۱۳
دیکھو باآنکہ احادیث موضوع تھیں اور خاص فعل کی اصلا سند نہیں پھر بھی علما نے جائز رکھا اور بہ نیت نیك باعث اجر عظیم وفضل کریم قرار دیا۔
(۳) فتح الملك المجید کے باب ثامن عشر میں بعد ذکر احادیث ادعیہ واذکار صبح وشام ہے :
یشبھما مایتداولہ اولہ السادۃ الصوفیۃ من قول لاالہ الاالله سبعین الف مرۃ یذکرون الله تعالی یعتق بھا رقبۃ من قالھا واشتری بھا نفسہ من النار ویحافظون علیھا لانفسھم ولم مات من اھالیھم واخوانھم وقدذکرھا الامام الیافعی والعارف الکبیر المحی الدین ابن العربی واوصی بالمحافظۃ علیھا وذکروا انہ قدورد فیھا خبر نبوی لکن قال بعض المشایخ لم تردبہ السنۃ فیما اعلم وقدوقفت علی صورۃ سؤال للحافظ ابن حجر رضی الله تعالی عنہ عن ھذا الحدیث وھو من قال لاالہ الا الله سبعین الفافقد اشتری نفسہ من الله وصورۃ جوابہ الحدیث المذکور لیس بصحیح ولاحسن ولاضعیف بل ھو باطل موضوع اھ ھکذا قال النجم الغیطی وعقبہ بقولہ لکن ینبغی للشخص ان یفعل ذلك اقتداء بالسادۃ وامتثالا لالقول من اوصی بھا وتبرکا بافعالھم اھ ملخصا
انہیں دعاؤں کا مشابہ ہے وہ جو سادات صوفیہ کرام میں ستر ہزار بار لاالہ الاالله کا رواج ہے اور بیان کرتے ہیں کہ جو ایسا کہے گا الله عزوجل اسے آزاد فرمائے گا اس نے اپنی جان دوزخ سے بچالی اور اس پر اپنی اور پانے وموات اقارب واحباب کے لئے محافظت فرماتے ہیں اسے امام یافعی اور عارف کبیر سید محی الدین ابن عربی قدس سرہما نے ذکر کیا اور شیخ اکبر نے اس پر محافظت کی تاکید فرمائی صوفیہ کرام اس باب میں حدیث نبوی کا آنا بیان فرماتے ہیں لیکن بعض مشائخ نے کہا میری دانست میں کوئی حدیث اس میں وارد نہ ہوئی اور میں نے ایك فتوی دیکھا کہ امام ابن حجر سے اس حدیث کی نسبت سوال ہوا تھا کہ جو کوئی ستر ہزار بار لاالہ الا الله کہے اس نے اپنی جان الله عزوجل سے خرید لی امام نے جواب لکھا کہ یہ حدیث نہ صحیح ہے نہ حسن نہ ضعیف بلکہ باطل وموضوع ہے علامہ نجم الدین غیطی نے اس فتوے کو ذکر کرکے فرمایا کہ آدمی کو چاہئے کہ اس عمل کو بجالائے کہ اولیائے کرام کی پیروی اور اس کے وصیت فرمانے والوں کا حکم ماننا اور ان کے افعال سے برکت لینا حاصل ہو اھ ملخصا۔
یہ علام نجم الدین محمد بن محمد غیطی امام شیخ الاسلام فقیہ محدث عارف بالله زکریا انصاری قدس سرہ الشریف کے تلمیذ اور حافظ الشان ابن حجر عسقلانی کے تلمیذ التلمیذ اور شاہ ولی الله وشاہ عبدالعزیز صاحب کے استاد
(۳) فتح الملك المجید کے باب ثامن عشر میں بعد ذکر احادیث ادعیہ واذکار صبح وشام ہے :
یشبھما مایتداولہ اولہ السادۃ الصوفیۃ من قول لاالہ الاالله سبعین الف مرۃ یذکرون الله تعالی یعتق بھا رقبۃ من قالھا واشتری بھا نفسہ من النار ویحافظون علیھا لانفسھم ولم مات من اھالیھم واخوانھم وقدذکرھا الامام الیافعی والعارف الکبیر المحی الدین ابن العربی واوصی بالمحافظۃ علیھا وذکروا انہ قدورد فیھا خبر نبوی لکن قال بعض المشایخ لم تردبہ السنۃ فیما اعلم وقدوقفت علی صورۃ سؤال للحافظ ابن حجر رضی الله تعالی عنہ عن ھذا الحدیث وھو من قال لاالہ الا الله سبعین الفافقد اشتری نفسہ من الله وصورۃ جوابہ الحدیث المذکور لیس بصحیح ولاحسن ولاضعیف بل ھو باطل موضوع اھ ھکذا قال النجم الغیطی وعقبہ بقولہ لکن ینبغی للشخص ان یفعل ذلك اقتداء بالسادۃ وامتثالا لالقول من اوصی بھا وتبرکا بافعالھم اھ ملخصا
انہیں دعاؤں کا مشابہ ہے وہ جو سادات صوفیہ کرام میں ستر ہزار بار لاالہ الاالله کا رواج ہے اور بیان کرتے ہیں کہ جو ایسا کہے گا الله عزوجل اسے آزاد فرمائے گا اس نے اپنی جان دوزخ سے بچالی اور اس پر اپنی اور پانے وموات اقارب واحباب کے لئے محافظت فرماتے ہیں اسے امام یافعی اور عارف کبیر سید محی الدین ابن عربی قدس سرہما نے ذکر کیا اور شیخ اکبر نے اس پر محافظت کی تاکید فرمائی صوفیہ کرام اس باب میں حدیث نبوی کا آنا بیان فرماتے ہیں لیکن بعض مشائخ نے کہا میری دانست میں کوئی حدیث اس میں وارد نہ ہوئی اور میں نے ایك فتوی دیکھا کہ امام ابن حجر سے اس حدیث کی نسبت سوال ہوا تھا کہ جو کوئی ستر ہزار بار لاالہ الا الله کہے اس نے اپنی جان الله عزوجل سے خرید لی امام نے جواب لکھا کہ یہ حدیث نہ صحیح ہے نہ حسن نہ ضعیف بلکہ باطل وموضوع ہے علامہ نجم الدین غیطی نے اس فتوے کو ذکر کرکے فرمایا کہ آدمی کو چاہئے کہ اس عمل کو بجالائے کہ اولیائے کرام کی پیروی اور اس کے وصیت فرمانے والوں کا حکم ماننا اور ان کے افعال سے برکت لینا حاصل ہو اھ ملخصا۔
یہ علام نجم الدین محمد بن محمد غیطی امام شیخ الاسلام فقیہ محدث عارف بالله زکریا انصاری قدس سرہ الشریف کے تلمیذ اور حافظ الشان ابن حجر عسقلانی کے تلمیذ التلمیذ اور شاہ ولی الله وشاہ عبدالعزیز صاحب کے استاد
حوالہ / References
فتح الملك المجید
سلسلہ حدیث ہیں دیکھو انہوں نے امام ابن حجر کا وہ فتوی نقل کرکے حدیث کے باطل وموضوع ہونے کو برقرار رکھا پھر بھی فعل کی وصیت فرمائی کہ اولیائے کرام کا اتباع اور ان کے حکم کا امتثال اور ان کے افعال سے تبرك نصیب ہو وبالله التوفیق اسی طرح جناب شیخ مجدد صاحب نے بھی اس کی ہدایت فرمائی جلد ثانی مکتوبات میں لکھتے ہیں :
بیاران ودوستان فرمایند کہ ہفتاد ہفتاد ہزاربار کلمہ طیبہ لاالہ الالله بروحانیت مرحومی خواجہ محمد صادق وبرحانیت مرحومہ ہمشیرہ اوام کلثوم نجوانند وثواب ہفتا دہزار بار رابر وحانیت یکے بخشمند وہفتاد ہزار دیگر رابر وحانیت دیگرے ازدوستان دعا وفاتحہ مسئول است ۔
دوست واحباب سے فرمایا کہ سترستر ہزار بار کلمہ طیبہ لاالہ الاالله خواجہ محمد صادق مرحوم کی روحانیت کے واسطے اور ان کی ہمشیرہ ام کلثوم کی روح طیبہ کے واسطے پڑھیں اور ستر ہزار ایك روح کو اور ستر ہزار دوسرے کی روح کو ایصال ثواب کریں اور دوستوں سے دعا وفاتحہ کا سوال ہے۔ (ت)
باقی اس باب میں مرقاۃ عــــہ شرح مشکوہ کی عبارت افادہ ۱۵ اور احادیث کریمہ حضرات اولیائے کرام کی تحقیق افادہ ۱۹ میں دیکھئے۔ (۴)مولانا علی قاری علیہ رحمۃ الباری نے موضوعات کبیر میں فرمایا :
احادیث الذکر علی اعضاء الوضوء کلھا باطلۃ ۔
جن حدیثوں میں یہ آیا ہے کہ وضو میں فلاں فلاں عضو دھوتے وقت یہ دعا پڑھو سب موضوع ہیں ۔
عــــہ شیخ اکبر قدس سرہ الاطہر کی روایت کہ مرقاۃ سے گزری فتح الملك المجید میں بھی نقل کی طرفہ یہ کہ وہابیہ نانوتہ ودیوبند کے امام مولوی قاسم صاحب نے بھی اسے نقل کیا اور حضرت شیخ کی جگہ حضرت سید الطائفہ جنید بغدادی رضی اللہ تعالی عنہکا نام پاك لکھا اور ستر ہزار کا لاکھ یا پچھتر ہزار بنایا شاید یہ دھوکا انہیں سوم کے چنوں سے لگا ہو۔ تحذیر الناس میں لکھتے ہیں : “ حضرت جنید کے کسی مرید کا رنگ یکایك متغیر ہوگیا سبب پوچھا تو بروئے مکاشفہ کہا اپنی ماں کو دوزخ میں دیکھتا ہوں حضرت جنید نے لاکھ یا پچھتر ہزار کلمہ پڑھا تھا یوں سمجھ کر بعض روایتوں میں اس قدر کلمہ کے ثواب پر وعدہ مغفرت ہے جی ہی جی میں اسکو بخش دیا بخشتے ہی کیا دیکھتے ہیں کہ وہ جوان بشاش ہے کہ اب والدہ کو جنت میں دیکھتا ہوں آپ نے فرمایا اس جوان کے مکاشفہ کی صحت مجھ کو حدیث سے معلوم ہوئی اور حدیث کی تصحیح اس کے مکاشفہ سے ہوگئی اھ تلخیص ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ۔ (م)
بیاران ودوستان فرمایند کہ ہفتاد ہفتاد ہزاربار کلمہ طیبہ لاالہ الالله بروحانیت مرحومی خواجہ محمد صادق وبرحانیت مرحومہ ہمشیرہ اوام کلثوم نجوانند وثواب ہفتا دہزار بار رابر وحانیت یکے بخشمند وہفتاد ہزار دیگر رابر وحانیت دیگرے ازدوستان دعا وفاتحہ مسئول است ۔
دوست واحباب سے فرمایا کہ سترستر ہزار بار کلمہ طیبہ لاالہ الاالله خواجہ محمد صادق مرحوم کی روحانیت کے واسطے اور ان کی ہمشیرہ ام کلثوم کی روح طیبہ کے واسطے پڑھیں اور ستر ہزار ایك روح کو اور ستر ہزار دوسرے کی روح کو ایصال ثواب کریں اور دوستوں سے دعا وفاتحہ کا سوال ہے۔ (ت)
باقی اس باب میں مرقاۃ عــــہ شرح مشکوہ کی عبارت افادہ ۱۵ اور احادیث کریمہ حضرات اولیائے کرام کی تحقیق افادہ ۱۹ میں دیکھئے۔ (۴)مولانا علی قاری علیہ رحمۃ الباری نے موضوعات کبیر میں فرمایا :
احادیث الذکر علی اعضاء الوضوء کلھا باطلۃ ۔
جن حدیثوں میں یہ آیا ہے کہ وضو میں فلاں فلاں عضو دھوتے وقت یہ دعا پڑھو سب موضوع ہیں ۔
عــــہ شیخ اکبر قدس سرہ الاطہر کی روایت کہ مرقاۃ سے گزری فتح الملك المجید میں بھی نقل کی طرفہ یہ کہ وہابیہ نانوتہ ودیوبند کے امام مولوی قاسم صاحب نے بھی اسے نقل کیا اور حضرت شیخ کی جگہ حضرت سید الطائفہ جنید بغدادی رضی اللہ تعالی عنہکا نام پاك لکھا اور ستر ہزار کا لاکھ یا پچھتر ہزار بنایا شاید یہ دھوکا انہیں سوم کے چنوں سے لگا ہو۔ تحذیر الناس میں لکھتے ہیں : “ حضرت جنید کے کسی مرید کا رنگ یکایك متغیر ہوگیا سبب پوچھا تو بروئے مکاشفہ کہا اپنی ماں کو دوزخ میں دیکھتا ہوں حضرت جنید نے لاکھ یا پچھتر ہزار کلمہ پڑھا تھا یوں سمجھ کر بعض روایتوں میں اس قدر کلمہ کے ثواب پر وعدہ مغفرت ہے جی ہی جی میں اسکو بخش دیا بخشتے ہی کیا دیکھتے ہیں کہ وہ جوان بشاش ہے کہ اب والدہ کو جنت میں دیکھتا ہوں آپ نے فرمایا اس جوان کے مکاشفہ کی صحت مجھ کو حدیث سے معلوم ہوئی اور حدیث کی تصحیح اس کے مکاشفہ سے ہوگئی اھ تلخیص ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ۔ (م)
حوالہ / References
مکتوبات امام بربانی مکتوب ۱۴ بمولانا برکی الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۳۹
الاسرار المرفوعۃ المعروف بالموضوعات الکبرٰی احادیث الذکر علٰی اعضاء الوضوء دارالکتاب العربیۃ بیروت ص ۳۴۵
تحذیر الناس خلاصہ دلائل دار الاشاعت کراچی ص ۴۴ ، ۴۵
الاسرار المرفوعۃ المعروف بالموضوعات الکبرٰی احادیث الذکر علٰی اعضاء الوضوء دارالکتاب العربیۃ بیروت ص ۳۴۵
تحذیر الناس خلاصہ دلائل دار الاشاعت کراچی ص ۴۴ ، ۴۵
باینہمہ فرمایا :
ثم اعلم انہ لایلزم من کون اذکار الوضوء غیر ثابتۃ عنہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ان تکون مکروھۃ اوبدعۃ مذمومۃ بل انھا مستحبۃ استحبھا العلماء الاعلام والمشایخ الکرام لمناسبۃ کل عضو بدعاء یلیق فی المقام ۔
پھر یہ جان رکھ کر ادعیہ وضو کا حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے ثابت نہ ہونا اسے مستلزم نہیں کہ وہ مکروہ یا بدعت شنیعہ ہوں بلکہ مستحب ہیں علمائے عظام واولیائے کرام نے ہر ہر عضو کے لائق دعا اس کی مناسبت سے مستحب مانی ہے۔
اس عبارت سے روشن طور پر ثابت ہوا کہ اباحت تو اباحت موضوعیت حدیث استحباب فعل کی بھی منافی نہیں اور واقعی ایسا ہی ہے کہ موضوعیت عدم حدیث ہے اور وہ ورود حدیث بخصوص فعل لازم استحباب نہیں کہ اس کے ارتفاع سے اس کا انتفا لازم آئے کما لایخفی۔
تنبیہ : اس بارہ میں سب احادیث کا موضوع ہونا ابن القیم کا خیال ہے اسی سے مولانا علی قاری نے نقل فرمایا اور ایسا ہی ذہبی نے ترجمہ عباد بن صہیب میں حسب عادت حکم کیاگیا مگر عندالتحقیق اس میں کلام ہے اس باب میں ایك مفصل حدیث ابوحاتم اور ابن حبان نے تاریخ میں انس رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی انصافا غایت اسکی ضعف ہے اور مقام مقام فضائل
راجع الحلیۃ شرح المنیۃ للامام ابن امیرالحاج تجد مایرشدك الی الحق بسراج وھاج فی لیل داج۔
امام ابن امیرالحاج کی کتاب حلیہ شرح منیہ کا مطالعہ کرو اس میں تو اندھیری رات میں روشن چراغ کے ساتھ حق کو پالے گا۔ (ت)
(۵) سب سے طرفہ تر یہ کہ حدیث مسلسل بالاضافۃ کہ شاہ ولی الله صاحب نے اس کی اجازت مع ضیافت آب وخرما اپنے شیخ علامہ ابوطاہر مدنی سے لی اور اسی طرح مع ضیافت اپنے صاحبزادہ مولانا شاہ عبدالعزیز اور انہوں نے اپنے نواسے میاں اسحاق صاحب کو دی اس کا مدار عبدالله بن میمون قداح متروك پر ہونے کے علاوہ خود الفاظ متن ہی سخت منکر واقع ہوئے ہیں بااینہمہ اکابر محدثین کرام آج تك اس سے برکت تسلسل چاہا کئے ہیں ان کے اسماء کرام سلسلہ سند سے ظاہر شیخ شیخانی الحدیث مولانا عابد سندی مدنی رحمۃ اللہ تعالی علیہعلیہ اپنے ثبت حصر الشارو میں اسے ذکر کرکے فرماتے ہیں :
ثم اعلم انہ لایلزم من کون اذکار الوضوء غیر ثابتۃ عنہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ان تکون مکروھۃ اوبدعۃ مذمومۃ بل انھا مستحبۃ استحبھا العلماء الاعلام والمشایخ الکرام لمناسبۃ کل عضو بدعاء یلیق فی المقام ۔
پھر یہ جان رکھ کر ادعیہ وضو کا حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے ثابت نہ ہونا اسے مستلزم نہیں کہ وہ مکروہ یا بدعت شنیعہ ہوں بلکہ مستحب ہیں علمائے عظام واولیائے کرام نے ہر ہر عضو کے لائق دعا اس کی مناسبت سے مستحب مانی ہے۔
اس عبارت سے روشن طور پر ثابت ہوا کہ اباحت تو اباحت موضوعیت حدیث استحباب فعل کی بھی منافی نہیں اور واقعی ایسا ہی ہے کہ موضوعیت عدم حدیث ہے اور وہ ورود حدیث بخصوص فعل لازم استحباب نہیں کہ اس کے ارتفاع سے اس کا انتفا لازم آئے کما لایخفی۔
تنبیہ : اس بارہ میں سب احادیث کا موضوع ہونا ابن القیم کا خیال ہے اسی سے مولانا علی قاری نے نقل فرمایا اور ایسا ہی ذہبی نے ترجمہ عباد بن صہیب میں حسب عادت حکم کیاگیا مگر عندالتحقیق اس میں کلام ہے اس باب میں ایك مفصل حدیث ابوحاتم اور ابن حبان نے تاریخ میں انس رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی انصافا غایت اسکی ضعف ہے اور مقام مقام فضائل
راجع الحلیۃ شرح المنیۃ للامام ابن امیرالحاج تجد مایرشدك الی الحق بسراج وھاج فی لیل داج۔
امام ابن امیرالحاج کی کتاب حلیہ شرح منیہ کا مطالعہ کرو اس میں تو اندھیری رات میں روشن چراغ کے ساتھ حق کو پالے گا۔ (ت)
(۵) سب سے طرفہ تر یہ کہ حدیث مسلسل بالاضافۃ کہ شاہ ولی الله صاحب نے اس کی اجازت مع ضیافت آب وخرما اپنے شیخ علامہ ابوطاہر مدنی سے لی اور اسی طرح مع ضیافت اپنے صاحبزادہ مولانا شاہ عبدالعزیز اور انہوں نے اپنے نواسے میاں اسحاق صاحب کو دی اس کا مدار عبدالله بن میمون قداح متروك پر ہونے کے علاوہ خود الفاظ متن ہی سخت منکر واقع ہوئے ہیں بااینہمہ اکابر محدثین کرام آج تك اس سے برکت تسلسل چاہا کئے ہیں ان کے اسماء کرام سلسلہ سند سے ظاہر شیخ شیخانی الحدیث مولانا عابد سندی مدنی رحمۃ اللہ تعالی علیہعلیہ اپنے ثبت حصر الشارو میں اسے ذکر کرکے فرماتے ہیں :
حوالہ / References
الاسرار المعرفۃ المعروف بالموضوعات الکبرٰی احادیث الذکر علی اعضاء الوضوء مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ص ۴۳۴۵
ھذا بماتفردبہ عبدالله بن میمون القداح وصرح غیر واحد بانہ متھم بالکذب والوضع قال السخاوی لایباح ذکرہ الامع ذکر وضعہ لکن المحدثین مع کثرۃ کلامھم فیہ ورمبالغتھم فیہ ورمیہ بالوضع لایزالون یذکرونہ یتبرکون بالتسلسل اھ
یہ حدیث صرف بروایت قداح آئی اور متعدد ائمہ نے اس کے متہم بکذب ووضع ہونے کی تصریح فرمائی امام سخاوی فرماتے ہیں اس کا ذکر بے بیان موضوعیت روا نہیں مگر محدثین کثرت سے کلام اور مبالغہ آرائی کرتے رہے اور اس پر وضع حدیث کا طعن کرتے رہے پھر بھی ہمیشہ اس حدیث کو ذکر کرتے اس سے مسلسل برکت چاہتے رہے ہیں ۔ اھ (ت)
اقول : یہ حدیث ہمیں اپنے مشائخ کرام رضی اللہ تعالی عنہمسے دو۲ طریق سے پہنچی اول بطریق شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی :
بسندہ الی الامام ابی الخیر شمس الدین محمد بن محمد بن محمد ابن الجزری بسندہ الی ابی الحسن الصقلی بطریقۃ الی القداح عن الامام جعفر الصادق عن آبائہ الکرام عن امیرالمؤمنین علی کرم الله تعالی وجوھھم عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
اپنی سند سے امام ابوالخیر شمس الدین ابن جزری تك وہ اپنی سند سے ابوالحسن الصقلی تك وہ اپنی سند سے قداح تك امام جعفر صادق سے وہ اپنے آباء کرام سے وہ حضرت علی کرم الله وجوھھم سے وہ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کرتے ہیں ۔ (ت)
دوسری بطریق شاہ ولی الله صاحب دہلوی :
بسندہ الی ابی الحسن الی القداح الی امیرالمؤمنین عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
اپنی سند سے ابوالحسن تك وہ قداح تك وہ امیرالمومنین علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریمتك وہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کرتے ہیں ۔ (ت)
قداح رجال جامع ترمذی سے ہے متروك سہی حد وضع تك منتہی نہیں متن طریق دوم میں مبالغات عظیمہ ہیں اس پر حکم بطلان نہیں شاہ ولی الله صاحب کی روایت وہی ہے اور اسی میں ہمارا کلام مگر طریق اول میں صرف اتنا ہے کہ :
من اضاف مؤمنا فکانما اضاف آدم ومن اضاف اثنین فکانما اضاف آدم وحواء ومن اضاف ثلثۃ فکانما اضاف جبر ائیل ومیکائیل واسرافیل ۔
وہ شخص جس نے کسی ایك مومن کی ضیافت کی گویا اس نے آدم کی ضیافت کی اور جس نے دو۲ کی ضیافت کی اس نے آدم وحوا کی ضیافت کی جس نے تین مومنوں کی ضیافت کی گویا اس نے جبریل میکائیل اور اسرافیل کی مہمان نوازی کی۔ (ت)
یہ حدیث صرف بروایت قداح آئی اور متعدد ائمہ نے اس کے متہم بکذب ووضع ہونے کی تصریح فرمائی امام سخاوی فرماتے ہیں اس کا ذکر بے بیان موضوعیت روا نہیں مگر محدثین کثرت سے کلام اور مبالغہ آرائی کرتے رہے اور اس پر وضع حدیث کا طعن کرتے رہے پھر بھی ہمیشہ اس حدیث کو ذکر کرتے اس سے مسلسل برکت چاہتے رہے ہیں ۔ اھ (ت)
اقول : یہ حدیث ہمیں اپنے مشائخ کرام رضی اللہ تعالی عنہمسے دو۲ طریق سے پہنچی اول بطریق شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی :
بسندہ الی الامام ابی الخیر شمس الدین محمد بن محمد بن محمد ابن الجزری بسندہ الی ابی الحسن الصقلی بطریقۃ الی القداح عن الامام جعفر الصادق عن آبائہ الکرام عن امیرالمؤمنین علی کرم الله تعالی وجوھھم عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
اپنی سند سے امام ابوالخیر شمس الدین ابن جزری تك وہ اپنی سند سے ابوالحسن الصقلی تك وہ اپنی سند سے قداح تك امام جعفر صادق سے وہ اپنے آباء کرام سے وہ حضرت علی کرم الله وجوھھم سے وہ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کرتے ہیں ۔ (ت)
دوسری بطریق شاہ ولی الله صاحب دہلوی :
بسندہ الی ابی الحسن الی القداح الی امیرالمؤمنین عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
اپنی سند سے ابوالحسن تك وہ قداح تك وہ امیرالمومنین علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریمتك وہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کرتے ہیں ۔ (ت)
قداح رجال جامع ترمذی سے ہے متروك سہی حد وضع تك منتہی نہیں متن طریق دوم میں مبالغات عظیمہ ہیں اس پر حکم بطلان نہیں شاہ ولی الله صاحب کی روایت وہی ہے اور اسی میں ہمارا کلام مگر طریق اول میں صرف اتنا ہے کہ :
من اضاف مؤمنا فکانما اضاف آدم ومن اضاف اثنین فکانما اضاف آدم وحواء ومن اضاف ثلثۃ فکانما اضاف جبر ائیل ومیکائیل واسرافیل ۔
وہ شخص جس نے کسی ایك مومن کی ضیافت کی گویا اس نے آدم کی ضیافت کی اور جس نے دو۲ کی ضیافت کی اس نے آدم وحوا کی ضیافت کی جس نے تین مومنوں کی ضیافت کی گویا اس نے جبریل میکائیل اور اسرافیل کی مہمان نوازی کی۔ (ت)
حوالہ / References
ثبت حصر الشارد
کنزالعمال کتاب الضیافت من قسم الافعال حدیث ۲۵۹۷۵ مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۹ / ۲۶۹
کنزالعمال کتاب الضیافت من قسم الافعال حدیث ۲۵۹۷۵ مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۹ / ۲۶۹
اس میں کوئی ایسا امر نہیں کہ قلب خواہی نخواہی وضع پر شہادت دے ولہذا امام الجزری نے اسی قدر فرمایا کہ حدیث غریب لم یقع لنابھذا الاسناد (یہ حدیث غریب ہے ہمیں اس طور پر صرف اسی سند کے ساتھ معلوم ہے۔ ت) ظاہر ہے کہ تفرد متروك مستلزم وضع نہیں
کمابیناہ فی الافادۃ التاسعۃ اماما اعلہ الشیخ ابومحمد محمد بن الامیر المالکی المصری المدرس بالجامع الازھر بعد ایرادہ فی ثبتہ بالمتن الثانی المذکور فیہ الاضافۃ الی تمام العشرۃ بذك الملئکۃ فی الضیافۃ وھم لایاکلون ولایشربون قال فان صح فھو خارج مخرج الفرض والتقدیر اھ کماانبأنا بہ فی جملۃ مرویانۃ شیخنا العلامۃ زین الحرم السید احمد بن زین بن دحلان المکی عن الشیخ عثمان بن حسن الدمیاطی عن مؤلفہ الشیخ الامیر المالکی
فاقول : لیس باعجب مماانبأنا السید حسین بن صالح جمل اللیل المکی عن الشیخ محمد عابد السندی المدنی بسندہ المشھور الی صحیح مسلم بسندہ المعلوم الی ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ان الله عزوجل یقوم یوم القیمۃ یاابن ادم مرضت فلم تعدنی الحدیث “ وفیہ یاابن ادم استطعمتك فلم تطمعنی قال یارب کیف اطعمك وانت رب العلمین قال اما علمت انہ استطعمك عبدی فلان فلم تطعمہ اماعلمت انك لواطعمتہ لوجدت ذلك عندی یاابن آدم استسقیتك فلم تسقنی الحدیث المعروف ۔
جیسا کہ ہم نے اسے نویں افادہ میں بیان کردیا ہے لیکن شیخ ابومحمدمحمد بن امیر مالکی مصری جو جامع ازہر کے مدرس بھی ہیں انہوں نے اس کو اپنے ثبت میں متن ثانی مذکور کے ساتھ ذکر کرنے کے بعد جو علت بیان کی ہے اس متن میں ضیافۃ میں ذکر ملائکہ کے ساتھ دس مومنوں تك کا اضافہ ذکر ہے حالانکہ نہ وہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں فرمایا کہ اگر یہ روایت صحیح ہوتو یہ تمثیل بطور فرض وتقدیر ہے اھ جیسا کہ اس کی خبر ہمیں ان کی جملہ مرویات میں ہمارے شیخ علامہ زین الحرم سید احمد بن زین بن دحلان مکی نے شیخ عثمان بن حسین دمیاطی سے اس کے مؤلف شیخ امیر مالکی سے دی ہے۔
فاقول : یہ اس سے کوئی زیادہ عجیب نہیں جس کی خبر ہمیں سید حسین بن صالح جمل اللیل المکی نے شیخ محمد عابد سندھی مدنی سے اپنی مشہور سند کے ساتھ دی جوکہ صحیح مسلم تك ہے وہك اپنی سند معلوم سے حضرت ابوہریرہ سے راوی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا الله عزوجل قیامت کے روز فرمائے گا اے ابن آدم! میں بیمار ہواتھا تونے میری عیادت نہ کی “ الحدیث “ اور اسی میں ہے کہ اے ابن آدم! میں نے تجھ سے کھانا مانگا تھا
کمابیناہ فی الافادۃ التاسعۃ اماما اعلہ الشیخ ابومحمد محمد بن الامیر المالکی المصری المدرس بالجامع الازھر بعد ایرادہ فی ثبتہ بالمتن الثانی المذکور فیہ الاضافۃ الی تمام العشرۃ بذك الملئکۃ فی الضیافۃ وھم لایاکلون ولایشربون قال فان صح فھو خارج مخرج الفرض والتقدیر اھ کماانبأنا بہ فی جملۃ مرویانۃ شیخنا العلامۃ زین الحرم السید احمد بن زین بن دحلان المکی عن الشیخ عثمان بن حسن الدمیاطی عن مؤلفہ الشیخ الامیر المالکی
فاقول : لیس باعجب مماانبأنا السید حسین بن صالح جمل اللیل المکی عن الشیخ محمد عابد السندی المدنی بسندہ المشھور الی صحیح مسلم بسندہ المعلوم الی ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ان الله عزوجل یقوم یوم القیمۃ یاابن ادم مرضت فلم تعدنی الحدیث “ وفیہ یاابن ادم استطعمتك فلم تطمعنی قال یارب کیف اطعمك وانت رب العلمین قال اما علمت انہ استطعمك عبدی فلان فلم تطعمہ اماعلمت انك لواطعمتہ لوجدت ذلك عندی یاابن آدم استسقیتك فلم تسقنی الحدیث المعروف ۔
جیسا کہ ہم نے اسے نویں افادہ میں بیان کردیا ہے لیکن شیخ ابومحمدمحمد بن امیر مالکی مصری جو جامع ازہر کے مدرس بھی ہیں انہوں نے اس کو اپنے ثبت میں متن ثانی مذکور کے ساتھ ذکر کرنے کے بعد جو علت بیان کی ہے اس متن میں ضیافۃ میں ذکر ملائکہ کے ساتھ دس مومنوں تك کا اضافہ ذکر ہے حالانکہ نہ وہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں فرمایا کہ اگر یہ روایت صحیح ہوتو یہ تمثیل بطور فرض وتقدیر ہے اھ جیسا کہ اس کی خبر ہمیں ان کی جملہ مرویات میں ہمارے شیخ علامہ زین الحرم سید احمد بن زین بن دحلان مکی نے شیخ عثمان بن حسین دمیاطی سے اس کے مؤلف شیخ امیر مالکی سے دی ہے۔
فاقول : یہ اس سے کوئی زیادہ عجیب نہیں جس کی خبر ہمیں سید حسین بن صالح جمل اللیل المکی نے شیخ محمد عابد سندھی مدنی سے اپنی مشہور سند کے ساتھ دی جوکہ صحیح مسلم تك ہے وہك اپنی سند معلوم سے حضرت ابوہریرہ سے راوی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا الله عزوجل قیامت کے روز فرمائے گا اے ابن آدم! میں بیمار ہواتھا تونے میری عیادت نہ کی “ الحدیث “ اور اسی میں ہے کہ اے ابن آدم! میں نے تجھ سے کھانا مانگا تھا
حوالہ / References
کنزالعمال بحوالہ ابن الجزری حدیث ۲۵۹۷۵ مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۹ / ۲۶۹
ثبت ابومحمد محمد بن امیر مالکی مصری
صحیح مسلم باب فضل عیادۃ المریض مطبوعہ مطبع اصح المطابع قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۳۱۸
ثبت ابومحمد محمد بن امیر مالکی مصری
صحیح مسلم باب فضل عیادۃ المریض مطبوعہ مطبع اصح المطابع قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۳۱۸
تونے مجھے نہیں کھلایا وہ عرض کرے گا اے میرے رب! میں تجھے کیسے کھلاتا حالانکہ تو تمام جہانوں کا رب ہے فرمایا کیا تو نہیں جانتا تجھ سے میرے فلاں بندے نے کھانا مانگا تھا اور تونے نہیں دیاتھا کیا تو نہیں جانتا کہ اگر تو اسے کھلادیتا تو اسے آج میرے پاس پاتا اے ابن آدم! میں نے تجھ سے پانی مانگا تھا تونے مجھے نہیں پلایا۔ حدیث معروف ہے۔ (ت)
ثم اقول : تحقیق مقام یہ ہے کہ عمل بموضوع وعمل بمافی موضوع میں زمین آسمان کا فرق ہے کمایظھر مماقدمناہ فی الافادۃ الحادیۃ والعشرین (جیسا کہ ظاہر ہے اسے ہم اکیسویں فائدے میں بیان کرآئے ہیں ۔ ت) ثانی مطلقا ممنوع نہیں ورنہ ایجاب وتحریم کی باگ مفتریان بیباك کے ہاتھ ہوجائے لاکھوں افعال مباحہ جن کے خصوص میں نصوص نہیں وضاعین ان میں سے جس کی ترغیب میں حدیث وضع کردیں حرام ہوجائے جس سے ترہیب میں گھڑلیں وہ واجب ہوجائے کہ تقدیر اول پر فعل ثانی پر ترك مستلزم موافقت موضوع ہوگا اور وہ ممنوع لطف یہ کہ اگر ترغیب وترہیب دونوں میں بنادیں تو فعل وترك دونوں کی جان پر بنادیں نہ کرتے بن پڑے نہ چھوڑتے فاعلم وافھم انکنت تفھم (جان لے سمجھ لے اگر تو سمجھ سکتا ہے۔ ت) اور اول میں بھی حقیقۃ مخدور نفس فعل میں نہیں بلکہ نظر امتثال واعتقاد ثبوت میں تو بفرض وضع اس نظر سے منع ہے نہ اصل فعل سے سفہائے وہابیہ ہمیشہ ذات وعارض میں فرق نہیں کرتے ع
ماعلی مثلھم یعد الخطاء
افادہ بست۲۹ ونہم : (اعمال مشایخ محتاج سند نہیں اعمال میں تصرف وایجاد مشایخ کو ہمیشہ گنجایش)بالفرض کچھ نہ سہی تو اقل درجہ اس فعل کو اعمال مشایخ سے ایك عمل سمجھئے کہ بغرض روشنائی بصر معمول ایسی جگہ ثبوت حدیث کی کیا ضرورت صیغہ اعمال میں تصرف واستخراج مشایخ کو ہمیشہ گنجائش ہے ہزاروں عمل اولیائے کرام بتاتے ہیں کہ باعث نفع بندگان خدا ہوتے ہیں کوئی ذی عقل حدیث سے ان کی سند خاص نہیں مانگتا کتب ائمہ وعلما ومشایخ واساتذہ شاہ ولی الله وشاہ عبدالعزیز اور خود ان بزرگواروں کی تصانیف ایسی صدہا
ثم اقول : تحقیق مقام یہ ہے کہ عمل بموضوع وعمل بمافی موضوع میں زمین آسمان کا فرق ہے کمایظھر مماقدمناہ فی الافادۃ الحادیۃ والعشرین (جیسا کہ ظاہر ہے اسے ہم اکیسویں فائدے میں بیان کرآئے ہیں ۔ ت) ثانی مطلقا ممنوع نہیں ورنہ ایجاب وتحریم کی باگ مفتریان بیباك کے ہاتھ ہوجائے لاکھوں افعال مباحہ جن کے خصوص میں نصوص نہیں وضاعین ان میں سے جس کی ترغیب میں حدیث وضع کردیں حرام ہوجائے جس سے ترہیب میں گھڑلیں وہ واجب ہوجائے کہ تقدیر اول پر فعل ثانی پر ترك مستلزم موافقت موضوع ہوگا اور وہ ممنوع لطف یہ کہ اگر ترغیب وترہیب دونوں میں بنادیں تو فعل وترك دونوں کی جان پر بنادیں نہ کرتے بن پڑے نہ چھوڑتے فاعلم وافھم انکنت تفھم (جان لے سمجھ لے اگر تو سمجھ سکتا ہے۔ ت) اور اول میں بھی حقیقۃ مخدور نفس فعل میں نہیں بلکہ نظر امتثال واعتقاد ثبوت میں تو بفرض وضع اس نظر سے منع ہے نہ اصل فعل سے سفہائے وہابیہ ہمیشہ ذات وعارض میں فرق نہیں کرتے ع
ماعلی مثلھم یعد الخطاء
افادہ بست۲۹ ونہم : (اعمال مشایخ محتاج سند نہیں اعمال میں تصرف وایجاد مشایخ کو ہمیشہ گنجایش)بالفرض کچھ نہ سہی تو اقل درجہ اس فعل کو اعمال مشایخ سے ایك عمل سمجھئے کہ بغرض روشنائی بصر معمول ایسی جگہ ثبوت حدیث کی کیا ضرورت صیغہ اعمال میں تصرف واستخراج مشایخ کو ہمیشہ گنجائش ہے ہزاروں عمل اولیائے کرام بتاتے ہیں کہ باعث نفع بندگان خدا ہوتے ہیں کوئی ذی عقل حدیث سے ان کی سند خاص نہیں مانگتا کتب ائمہ وعلما ومشایخ واساتذہ شاہ ولی الله وشاہ عبدالعزیز اور خود ان بزرگواروں کی تصانیف ایسی صدہا
باتوں سے مالامال ہیں انہیں کیوں نہیں بدعت وممنوع کہتے خود شاہ ولی الله ہوا مع میں لکھتے عــــہ۱ ہیں :
اجتہاد رادر اختراع اعمال تصریفیہ راہ کشادہ است مانند استخراج اطبانسخہا سے قرابا دین را این فقیر را معلوم شدہ است کہ دروقت اول طلوع صبح صادق تا اسفار مقابل صبح نشستن وچشم رابآں نورد وختن “ دیانور “ رامکرر گفتن تاہزاربار کیفیت ملکیہ راقوت میدہد واحادیث نفس می نشاند اھ ملخصا۔
اعمال تصریفیہ میں نئی نئی ایجاد کے لئے اجتہاد کا دروازہ کھولنا ایسے ہی ہے جیسے اطباع قرابا دین سے نسخوں کا استخراج کرلیتے ہیں اس فقیر کو معلوم ہے کہ اول صبح صادق سے سفیدی تك صبح کے مقابل بیٹھنا اور آنکھ کو اس کے نور واجالے کی طرف لگانا اور یانور کا لفظ باربار ایك ہزار تك پڑھنا کیفیت ملکیہ کو قوت دیتا ہے اور وسواس سے نجات دلاتا ہے۔ اھ ملخصا (ت)
اس عــــہ۲ میں ہے :
چند نوع کرامت ازہیچ ولی الا ماشاء الله منفك نمی شوداز انجملہ فراست صادقہ وکشف واشراف برخواطر واز انجملہ ظہور تاثیر درد عاورقے واعمال تصریفیہ او تا عالم بفیض نفس اومنتفع شود اھ ملتقطا۔
چند کرامات تو ایسی ہیں جو کسی ولی سے الا ماشاء الله جدا نہیں ہوتیں ان میں سے بعض یہ ہیں فراست صادقہ کشف احوال دلوں کے رازوں سے آگاہی اور ان میں سے دعا وتعویذ دم اور اعمال تصرفیہ میں برکت ہے یہاں تك کہ سارا جہان ان کے اس فیض سے مستفید ہوتا ہے اھ ملتقطا (ت)
عزیزو! خدارا انصاف ذرا شاہ ولی کے “ قول الجمیل “ کو دیکھو اور ان کے والد ومشایخ وغیرہم کے اختراعی اعمال تماشا کرو درد سر کے لئے تختہ پر ریتا بچھانا کیل سے ابجد ہوز لکھنا چیچك کو نیلے سوت کا گنڈا بنانا پھونك پھونك کر گرہیں لگانا اسمائے اصحاب کہف سے استعانت کرنا انہیں آگ لوٹ چوری سے امان سمجھنا دیواروں پر ان کے لکھنے کو آمد جن کی بندش جاننا دفع جن کو چار کیلیں گوشہ ہائے مکان میں گاڑنا عقیمہ کے لئے
عــــہ ۱ : ھامہ عاشرہ ازھوا مع مقدمہ ۱۲ منہ (م)
عــــہ۲ : ھامعہ خامسہ تحت قول شیخ رضی الله تعالی عنہ وھب لنامن لدنك ریحا طیبۃ الخ (م)
اجتہاد رادر اختراع اعمال تصریفیہ راہ کشادہ است مانند استخراج اطبانسخہا سے قرابا دین را این فقیر را معلوم شدہ است کہ دروقت اول طلوع صبح صادق تا اسفار مقابل صبح نشستن وچشم رابآں نورد وختن “ دیانور “ رامکرر گفتن تاہزاربار کیفیت ملکیہ راقوت میدہد واحادیث نفس می نشاند اھ ملخصا۔
اعمال تصریفیہ میں نئی نئی ایجاد کے لئے اجتہاد کا دروازہ کھولنا ایسے ہی ہے جیسے اطباع قرابا دین سے نسخوں کا استخراج کرلیتے ہیں اس فقیر کو معلوم ہے کہ اول صبح صادق سے سفیدی تك صبح کے مقابل بیٹھنا اور آنکھ کو اس کے نور واجالے کی طرف لگانا اور یانور کا لفظ باربار ایك ہزار تك پڑھنا کیفیت ملکیہ کو قوت دیتا ہے اور وسواس سے نجات دلاتا ہے۔ اھ ملخصا (ت)
اس عــــہ۲ میں ہے :
چند نوع کرامت ازہیچ ولی الا ماشاء الله منفك نمی شوداز انجملہ فراست صادقہ وکشف واشراف برخواطر واز انجملہ ظہور تاثیر درد عاورقے واعمال تصریفیہ او تا عالم بفیض نفس اومنتفع شود اھ ملتقطا۔
چند کرامات تو ایسی ہیں جو کسی ولی سے الا ماشاء الله جدا نہیں ہوتیں ان میں سے بعض یہ ہیں فراست صادقہ کشف احوال دلوں کے رازوں سے آگاہی اور ان میں سے دعا وتعویذ دم اور اعمال تصرفیہ میں برکت ہے یہاں تك کہ سارا جہان ان کے اس فیض سے مستفید ہوتا ہے اھ ملتقطا (ت)
عزیزو! خدارا انصاف ذرا شاہ ولی کے “ قول الجمیل “ کو دیکھو اور ان کے والد ومشایخ وغیرہم کے اختراعی اعمال تماشا کرو درد سر کے لئے تختہ پر ریتا بچھانا کیل سے ابجد ہوز لکھنا چیچك کو نیلے سوت کا گنڈا بنانا پھونك پھونك کر گرہیں لگانا اسمائے اصحاب کہف سے استعانت کرنا انہیں آگ لوٹ چوری سے امان سمجھنا دیواروں پر ان کے لکھنے کو آمد جن کی بندش جاننا دفع جن کو چار کیلیں گوشہ ہائے مکان میں گاڑنا عقیمہ کے لئے
عــــہ ۱ : ھامہ عاشرہ ازھوا مع مقدمہ ۱۲ منہ (م)
عــــہ۲ : ھامعہ خامسہ تحت قول شیخ رضی الله تعالی عنہ وھب لنامن لدنك ریحا طیبۃ الخ (م)
حوالہ / References
ہوامع شاہ ولی اللہ
ہوامع شاہ ولی اللہ
ہوامع شاہ ولی اللہ
گلاب اور زعفران سے ہرن کی کھال لکھنا یہ کھال اس کے گلے کا ہار کرنا اسقاط حمل کو کسی کا رنگا گنڈا نکالنا عورت کے قد سے ناپنا گن کر نو گرہیں لگانا درد زہ کو آیات قرآنی لکھ کر عورت کی بائیں ران میں باندھنا فرزند نرینہ کیلئے ہرن کی کھال اور وہی گلاب وزعفران کا خیال بچہ کی زندگی کو اجوائن اور کالی مرچیں لینا ان پر ٹھیك دوپہر کو قرآن پڑھنا لڑکا نہ ہونے کو عورت کے پیٹ پر دائرے کھینچنا ستر سے کم شمار نہ ہونا دفع نظر کو چھری سے دائرہ کھینچنا کنڈل کے اندر چھری رکھنا عائن وساحر کا نام لے کر پکارنا ناپ کر تین گز ڈورا لینا اس پر شہت بہت کیاکیا الفاظ غیر معلوم المعنی پڑھنا قنطاع النجا خدا جانے کون ہے اسے ندا کرنا چور کی پہچان کا عمل نکالنا یس پڑھ کر لوٹا گھمانا بخار کو عیسی وموسی ومحمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی قسمیں دینا مصروع کو تانبے کی تختی پر دو اسم کھدوانا پھر تعیین یہ کہ دن بھی خاص اتوار ہو اس کی بھی پہلی ہی ساعت میں کار ہو۔ اس کے سوا صدہا باتیں ہیں ان میں کون سی حدیث صحیح یا حسن یا ضعیف ہے ارے یہ قرون ثلاثہ میں کب تھیں اور جب کچھ نہیں تو بدعت کیوں نہ ٹھہریں شاہ صاحب اور ان کے والد ماجد وفرزند ارجمند واساتذہ ومشایخ معاذالله بدعتی کیوں نہ قرار پائے یہ سب تو بے سند حلال ونفائس اعمال مگر اذان میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا نام پاك سن کر انگوٹھے چومنا آنکھوں سے لگانا اس سے روشنی بصر کی امید رکھنا کہ اکابر سلف سے ماثور علماء وصلحاء کا دستور کتب فقہ میں مسطور یہ معاذالله حرام و وبال وموجب ضلال تو کیا بات ہے یہاں نام پاك حضور سیدالمحبوبین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمدرمیان ہے لہذا وہ دلوں کی دبی آگ بحیلہ بدعت شعلہ فشاں ہے
بہررنگے کہ خواہی جامہ مے پوش
من انداز قدرت رامے شناسم
یہ سب درکنار شاہ صاحب اور ان کے اسلاف واخلاف یہاں تك کہ میاں اسمعیل دہلوی تك نے امر اعظم دین تقریب رب العلمین یعنی راہ سلوك میں صدہا نئی باتیں نکالیں طرح طرح کے ایجاد واختراع کی طرحیں ڈالیں اور آپ ہی صاف صاف تصریحیں کیں کہ ان کا پتا سلف صالح میں نہیں خاص ایجاد بندہ ہیں مگر نیك وخوب وخوش آئندہ ہیں محدثات کو ذریعہ وصول الی الله جانا یا باعث ثواب تقرب رب الارباب مانا اس پر ان حضرات کو نہ کل بدعۃ ضلالۃ (ہر بدعت گمراہی ہے۔ ت) کا کلیہ یاد آتا ہے نہ من احدث فی امرنا مالیس منہ (وہ شخص جس نے ہمارے دین میں کچھ ایجاد کیا جو دین میں سے نہ ہو۔ ت) یہاں فھو رد (پس وہ مردود ہے۔ ت) کا خلعت پاتا ہے مگر شریعت اپنے گھر کی ٹھہری کہ ع
بہررنگے کہ خواہی جامہ مے پوش
من انداز قدرت رامے شناسم
یہ سب درکنار شاہ صاحب اور ان کے اسلاف واخلاف یہاں تك کہ میاں اسمعیل دہلوی تك نے امر اعظم دین تقریب رب العلمین یعنی راہ سلوك میں صدہا نئی باتیں نکالیں طرح طرح کے ایجاد واختراع کی طرحیں ڈالیں اور آپ ہی صاف صاف تصریحیں کیں کہ ان کا پتا سلف صالح میں نہیں خاص ایجاد بندہ ہیں مگر نیك وخوب وخوش آئندہ ہیں محدثات کو ذریعہ وصول الی الله جانا یا باعث ثواب تقرب رب الارباب مانا اس پر ان حضرات کو نہ کل بدعۃ ضلالۃ (ہر بدعت گمراہی ہے۔ ت) کا کلیہ یاد آتا ہے نہ من احدث فی امرنا مالیس منہ (وہ شخص جس نے ہمارے دین میں کچھ ایجاد کیا جو دین میں سے نہ ہو۔ ت) یہاں فھو رد (پس وہ مردود ہے۔ ت) کا خلعت پاتا ہے مگر شریعت اپنے گھر کی ٹھہری کہ ع
من کنم آنچہ من خواستم تو مکن آنچہ خواستے
(میں جو چاہوں گا کروں گا تو جو چاہے نہ کر)
ان امور کی قدرے تفصیل اور ان صاحبوں کی تصریحات جلیل فقیر کے رسالہ انھار الانوار من یم صلاۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ میں مذکور اور عدم ورود کو ورود عدم جاننے کا قلع کافی وقمع وافی کتاب مستطاب اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد وکتاب لاجواب اذاقۃ الاثام لمانعی عمل المولد والقیام وغیرہما تصنیفات شریفہ وتالیفات منیفہ اعلحضرت تاج المحققین الکرام سراج المدققین الاعلام حامی السنن السنیہ ماحی الفتن الدنیہ بقیہ السلف المصلحین سیدی دوالدی ومولای ومقصدی حضرت مولانا مولوی محمد نقی علی خاں صاحب قادری برکاتی احمدی رضی اللہ تعالی عنہواجزل قربہ منہ اور بقدر حاجت باجمال ووجازت رسالہ اقامۃ القیامہ علی طاعن القیام لنبی تھامہ وغرہار سائل ومسائل فقیر میں مسطور والحمدلله العزیز الغفور والصلاۃ والسلام علے المنیر النور وعلی الہ وصحبہ الی یوم النشور امین۔
افادہ سیم ۳۰ : (ہم تو استحباب ہی کہتے ہیں طرفہ یہ کہ وہابیہ جدیدہ کے طور پر تقبیل ابہامین خاص سنت ہے) اقول ہمیں تو اس عمل تقبیل ابہامین کا جواز واستحاب ہی ثابت کرنا تھا کہ بعونہ عزوجل باحسن وجوہ نقش مراد کرسی نشین اور عرش تحقیق مستقر ومکین ہوا ولله الحمد علی ما اولی من نعم لاتحصی (الله ہی کیلئے تعریف جو غیر محدود نعمتوں کا مالك ہے۔ ت) مگر حضرات وہابیہ اپنے نئے اماموں کی خبر لیں ان کے طور پر یہ فعل جائز کہاں کا مستحب کیسا خاص سنت سنیہ بلند وبالا ہے اور اس کا منکر سنت مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا رد کرنے والا بات بظاہر بہت چونکنے کی ہے کہ کہاں وہابی کہاں یہ انکہی مذہب بھر کی خرابی مگر نہ جانا کہ توہب واضطراب وتقلب وانقلاب دونوں ایك پستان سے دودھ پئے ہیں رفاقت دائم کا عہد کیے ہیں
گر براند نرود ور برود باز آید
ناگزیراست تناقض سخن نجدی را
(اگر دور کرنے تو دور نہ ہوگا اور اگر چلاجائے تو واپس آجائے گا نجدی کے کلام سے تناقض جدا نہیں رہ سکتا)طائفہ جدید کے استاد رشید نے اپنی کتاب عجاب براہین قاطعہ “ ماامرالله بہ ان یوصل “ میں مسئلہ قبول ضعاف فیما دون الاحکام کے اگرچہ بکمال سلیم القلبی وبصیر العینی وعجیب وغریب معنے تراشے کہ جدت کی لہریں حدث کے تماشے ایك ایك ادا پر ہزارہزار مکابرے اپنی جانیں واریں عقل وہوش وچشم وگوش اپنے عدم ملکہ کو صدقے اتاریں خادمان شریعت چاکر ان ملت مالم تسمعوا انتم ولااباؤکم (جو تم نے اور تمہارے
(میں جو چاہوں گا کروں گا تو جو چاہے نہ کر)
ان امور کی قدرے تفصیل اور ان صاحبوں کی تصریحات جلیل فقیر کے رسالہ انھار الانوار من یم صلاۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ میں مذکور اور عدم ورود کو ورود عدم جاننے کا قلع کافی وقمع وافی کتاب مستطاب اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد وکتاب لاجواب اذاقۃ الاثام لمانعی عمل المولد والقیام وغیرہما تصنیفات شریفہ وتالیفات منیفہ اعلحضرت تاج المحققین الکرام سراج المدققین الاعلام حامی السنن السنیہ ماحی الفتن الدنیہ بقیہ السلف المصلحین سیدی دوالدی ومولای ومقصدی حضرت مولانا مولوی محمد نقی علی خاں صاحب قادری برکاتی احمدی رضی اللہ تعالی عنہواجزل قربہ منہ اور بقدر حاجت باجمال ووجازت رسالہ اقامۃ القیامہ علی طاعن القیام لنبی تھامہ وغرہار سائل ومسائل فقیر میں مسطور والحمدلله العزیز الغفور والصلاۃ والسلام علے المنیر النور وعلی الہ وصحبہ الی یوم النشور امین۔
افادہ سیم ۳۰ : (ہم تو استحباب ہی کہتے ہیں طرفہ یہ کہ وہابیہ جدیدہ کے طور پر تقبیل ابہامین خاص سنت ہے) اقول ہمیں تو اس عمل تقبیل ابہامین کا جواز واستحاب ہی ثابت کرنا تھا کہ بعونہ عزوجل باحسن وجوہ نقش مراد کرسی نشین اور عرش تحقیق مستقر ومکین ہوا ولله الحمد علی ما اولی من نعم لاتحصی (الله ہی کیلئے تعریف جو غیر محدود نعمتوں کا مالك ہے۔ ت) مگر حضرات وہابیہ اپنے نئے اماموں کی خبر لیں ان کے طور پر یہ فعل جائز کہاں کا مستحب کیسا خاص سنت سنیہ بلند وبالا ہے اور اس کا منکر سنت مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا رد کرنے والا بات بظاہر بہت چونکنے کی ہے کہ کہاں وہابی کہاں یہ انکہی مذہب بھر کی خرابی مگر نہ جانا کہ توہب واضطراب وتقلب وانقلاب دونوں ایك پستان سے دودھ پئے ہیں رفاقت دائم کا عہد کیے ہیں
گر براند نرود ور برود باز آید
ناگزیراست تناقض سخن نجدی را
(اگر دور کرنے تو دور نہ ہوگا اور اگر چلاجائے تو واپس آجائے گا نجدی کے کلام سے تناقض جدا نہیں رہ سکتا)طائفہ جدید کے استاد رشید نے اپنی کتاب عجاب براہین قاطعہ “ ماامرالله بہ ان یوصل “ میں مسئلہ قبول ضعاف فیما دون الاحکام کے اگرچہ بکمال سلیم القلبی وبصیر العینی وعجیب وغریب معنے تراشے کہ جدت کی لہریں حدث کے تماشے ایك ایك ادا پر ہزارہزار مکابرے اپنی جانیں واریں عقل وہوش وچشم وگوش اپنے عدم ملکہ کو صدقے اتاریں خادمان شریعت چاکر ان ملت مالم تسمعوا انتم ولااباؤکم (جو تم نے اور تمہارے
آبا و اجداد نے کبھی نہیں سنیں ۔ ت)
پکاریں حضرت کی تمام سعی باطل تطویل لاطائل کا یہ حاصل بے حاصل کہ ارشادات عــــہ۱ علماء کی یہ مراد کہ صرف۱ وہ حدیث ضعیف قابل قبول جس میں کسی عمل صالح کی فضیلت اور اس پر ثواب مذکور اگرچہ خاص اس عمل میں حدیث صحیح نہ آئی ہو جیسے روزہ ماہ رجب وغیرہ اس کے بغیر اگرچہ حدیث میں عمل کی طلب نکلے جب کوئی خاص ثواب وفضیلت مذکور نہ ہو مقبول نہیں کہ یہ تو حدیث۲ عمل کی ہوئی نہ فضائل عمل کی پھر بشرط عــــہ۲ مذکور حدیث اگرچہ مقبول ہوگی مگر وہ عمل۳ باوصف قبول حدیث وتسلیم فضیلت مستحب ہرگز نہ ٹھہرے گا جب تك حدیث حسن لغیرہ نہ ہوجائے حدیث۴ ضعیف سے ثبوت استحباب محض اختراع وخلاف اجماع ہے علما نے جتنے ۵ اعمال کو بہ نظر ورود احادیث مستحب مانا ان سب میں حدیث حسن لغیرہ ہوگئی ہے دلیل۶ یہ کہ احادیث ادعیہ وضو کو علامہ طحطاوی نے کہہ دیا کہ حسن لغیرہ ہیں ۔ بس معلوم ہوگیا کہ سب جگہ ایسے ہی ہیں آخر دیگ میں ایك ہی چاول دیکھتے ہیں یہ تو ان کا حکم تھا جو حدیثیں افعال
عــــہ۱ : اقوال قبول ضعیف کو کہا سب کا یہی (ص ۹۶) مدعا ہے کہ فضائل اعمال میں ضعیف پر عمل درست ہے بھلا لیلۃ الجمعہ شب برأت عیدین کے صدقہ میں کون سی فضیلت وثواب عظیم مذکور ہے جس پر عمل جائز ہو روایات میں کوئی ثواب مذکور نہیں فقط روح کا آنا اور حسرتناك بات کرنا اور طلب صدقہ کرنا ہے یہ فضائل اعمال کس طرح ہوئے ہاں اعلام ان کے آنے کا ہے یہ باب (ص ۹۹)علم کا ہے نہ فضل عمل کا کیونکہ ان روایات(ص ۹۷) میں عمل ہی نہیں بلکہ علم ہے اور اگر کوئی بپاس خاطر مؤلف عمل تسلیم بھی کرلے تو فقط عمل ہے نہ فضل عمل ہاں حدیث صوم رجب وصلاۃ الاوابین میں فضل عمل ہے ص۹۷ اھ ملتقطا ۱۲ منہ (م)
عــــہ۲ : انوار ساطعہ میں تھا فقہاء اس عمل کو جو حدیث ضعیف سے ثابت ہو مستحسن لکھتے ہیں چنانچہ صلاۃ الاوابین گردن کا مسح رجب کا روزہ اس پر کہا یہ سرتاپا غلط ہے کسی نے یہ نہ کہا محض ایجاد ناصواب ہے مستحب کا ثبوت صحیح یا حسن سے ہوتا ہے ضعاف کہ ان امور میں ہیں تعدد طرق سے حسن لغیرہ ہوگئے ہیں ۔
قال فی الدرالمختار رواہ ابن حبان وغیرہ من طرق فی ردالمحتار فارتقی الی مرتبۃ الحسن ط اقول لکن ھذا اذاکان ضعفہ لسوء ضبط الراوی الصدوق الامین اولا رسالہ اوتدلیس اوجھالۃ الحال اما لوکان لفسق الراوی اوکذبہ فلاانتھی ۔ ملتقتا
درمختار میں کہا اس کو ابن حبان وغیرہ نے کئی طریقوں سے روایت کیا ہے ردالمحتار میں ہے اس طرح حدیث مرتبہ حسن تك ترقی کرتی ہے طحطاوی۔ اقول لیکن یہ اس وقت ہے جب حدیث کا ضعف صدوق میں راوی کے سوء ضبط یا ارسال یا تدلس یا جہات حال کی وجہ سے ہو۔ اگر وہ ضعف فسق راوی یا کذب راوی کی وجہ سے ہوتو وہ ترقی نہ کرے گی انتہی۔ (ت)
پس جس قدر نظائر مؤلف نے لکھے اور جس قدر کتب فقہ میں ہیں سب حسن لغیرہ سے ثابت ہوئے ہیں ۱۲ منہ (م)
پکاریں حضرت کی تمام سعی باطل تطویل لاطائل کا یہ حاصل بے حاصل کہ ارشادات عــــہ۱ علماء کی یہ مراد کہ صرف۱ وہ حدیث ضعیف قابل قبول جس میں کسی عمل صالح کی فضیلت اور اس پر ثواب مذکور اگرچہ خاص اس عمل میں حدیث صحیح نہ آئی ہو جیسے روزہ ماہ رجب وغیرہ اس کے بغیر اگرچہ حدیث میں عمل کی طلب نکلے جب کوئی خاص ثواب وفضیلت مذکور نہ ہو مقبول نہیں کہ یہ تو حدیث۲ عمل کی ہوئی نہ فضائل عمل کی پھر بشرط عــــہ۲ مذکور حدیث اگرچہ مقبول ہوگی مگر وہ عمل۳ باوصف قبول حدیث وتسلیم فضیلت مستحب ہرگز نہ ٹھہرے گا جب تك حدیث حسن لغیرہ نہ ہوجائے حدیث۴ ضعیف سے ثبوت استحباب محض اختراع وخلاف اجماع ہے علما نے جتنے ۵ اعمال کو بہ نظر ورود احادیث مستحب مانا ان سب میں حدیث حسن لغیرہ ہوگئی ہے دلیل۶ یہ کہ احادیث ادعیہ وضو کو علامہ طحطاوی نے کہہ دیا کہ حسن لغیرہ ہیں ۔ بس معلوم ہوگیا کہ سب جگہ ایسے ہی ہیں آخر دیگ میں ایك ہی چاول دیکھتے ہیں یہ تو ان کا حکم تھا جو حدیثیں افعال
عــــہ۱ : اقوال قبول ضعیف کو کہا سب کا یہی (ص ۹۶) مدعا ہے کہ فضائل اعمال میں ضعیف پر عمل درست ہے بھلا لیلۃ الجمعہ شب برأت عیدین کے صدقہ میں کون سی فضیلت وثواب عظیم مذکور ہے جس پر عمل جائز ہو روایات میں کوئی ثواب مذکور نہیں فقط روح کا آنا اور حسرتناك بات کرنا اور طلب صدقہ کرنا ہے یہ فضائل اعمال کس طرح ہوئے ہاں اعلام ان کے آنے کا ہے یہ باب (ص ۹۹)علم کا ہے نہ فضل عمل کا کیونکہ ان روایات(ص ۹۷) میں عمل ہی نہیں بلکہ علم ہے اور اگر کوئی بپاس خاطر مؤلف عمل تسلیم بھی کرلے تو فقط عمل ہے نہ فضل عمل ہاں حدیث صوم رجب وصلاۃ الاوابین میں فضل عمل ہے ص۹۷ اھ ملتقطا ۱۲ منہ (م)
عــــہ۲ : انوار ساطعہ میں تھا فقہاء اس عمل کو جو حدیث ضعیف سے ثابت ہو مستحسن لکھتے ہیں چنانچہ صلاۃ الاوابین گردن کا مسح رجب کا روزہ اس پر کہا یہ سرتاپا غلط ہے کسی نے یہ نہ کہا محض ایجاد ناصواب ہے مستحب کا ثبوت صحیح یا حسن سے ہوتا ہے ضعاف کہ ان امور میں ہیں تعدد طرق سے حسن لغیرہ ہوگئے ہیں ۔
قال فی الدرالمختار رواہ ابن حبان وغیرہ من طرق فی ردالمحتار فارتقی الی مرتبۃ الحسن ط اقول لکن ھذا اذاکان ضعفہ لسوء ضبط الراوی الصدوق الامین اولا رسالہ اوتدلیس اوجھالۃ الحال اما لوکان لفسق الراوی اوکذبہ فلاانتھی ۔ ملتقتا
درمختار میں کہا اس کو ابن حبان وغیرہ نے کئی طریقوں سے روایت کیا ہے ردالمحتار میں ہے اس طرح حدیث مرتبہ حسن تك ترقی کرتی ہے طحطاوی۔ اقول لیکن یہ اس وقت ہے جب حدیث کا ضعف صدوق میں راوی کے سوء ضبط یا ارسال یا تدلس یا جہات حال کی وجہ سے ہو۔ اگر وہ ضعف فسق راوی یا کذب راوی کی وجہ سے ہوتو وہ ترقی نہ کرے گی انتہی۔ (ت)
پس جس قدر نظائر مؤلف نے لکھے اور جس قدر کتب فقہ میں ہیں سب حسن لغیرہ سے ثابت ہوئے ہیں ۱۲ منہ (م)
حوالہ / References
براہین قاطعہ مطبع نے بلاساڈھور ص ۹۸
متعلقہ بجوارح میں آئیں اور ۷ جو کچھ متعلق بجوارح نہیں وہ اگرچہ سیر۸ ہوں خواہ مواعظ۹ معجزات خواہ فضائل صحابہ۱۰ واہلبیت وسائر رجال جن میں قبول ضعاف کی علماء برابر تصریحیں فرماتے چلے آئے ہیں خواہ کسی اور خبر زائد کا بیان جس میں کسی طرح کا اعلام واخبار ہو اگرچہ وہ نفیا واثباتا عقائد میں اصلا داخل نہ ہو یہ سب کا سب باب عقاید سے ہے جس میں ضعاف درکنار بخاری ومسلم کی صحیح حدیثیں بھی مردود ہیں جب تك متواتر وقطعی الدلالۃ نہ ہوں مثلا یہ حدیث کی روحیں شب جمعہ اپنے مکانوں پر آتی اور صدقات چاہتی ہیں باب عــــہ عقائد سے ہے اور بنظر طلب صدقہ اگر ہوتو باب عمل سے کہ یہاں کوئی فضیلت صدقہ تو مذکور نہ ہوئی خلاصہ یہ کہ جو متعلق بجوارح نہیں اس میں صحاح احاد بھی بے اعتبار اور متعلق بجوارح بے ذکر ثواب مخصوص میں خاص صحاح درکار ہاں ثواب بھی مذکور ہوتو ضعاف قبول اور یہی مراد علما مگر مستحب نہ ٹھہرے گا جب تك حسن لغیرہ نہ ہو شروع صفحہ۸۱ سے وسط صفحہ ۸۹ تك ان محدث نے یہی قاعدہ حادثہ احداث کیا ہے ان خرافات بے سروپا کے ابطال میں کیا وقت ضائع کیجئے جس نے افادات سابقہ میں ہمارے کلمات رائقہ دیکھے وہ اس تاروپود عنکبوت کو بعونہ تعالی نیم جنبش نظر میں تار تارکرسکتا ہے معہذا ہم نے یہاں بھی تلخیص تقریر میں اس کے اجمالی ابطال کی طرف اشارے کیی اور مواقع مواخذات پر ہند سے لگادیی خیریہ تو ان کا نہیں ان کی سمجھ کا قصور ہے جب خدا فہم نہ دے بندہ مجبور ہے مگر ہمیں یہاں یہ کہنا ہے کہ تقبیل ابہامین کی سنیت ثابت ہوگئی کہ اگر بہ نظر تعدد طرق اس کی حدیث کو حسن لغیرہ کہئے فبہا ورنہ یہ تو آپ کی تفسیر پر بھی باب فضائل سے ہے کہ متعلق بعمل جوارح بھی اور اس میں ثواب خاص بھی مذکور تو احادیث مفید استحباب نہ سہی جواز تو ضرور ثابت کریں گے قبول ضعاف فی الفضائل کا اجماعی مسئلہ یہاں تو آپ کو بھی جاری ماننا ہوگا اب اس جواز کو خواہ اس حدیث سے مستفاد مانیے کہ جو حدیث جس باب میں مقبول لاجرم وہ اس میں دلیل شرعی ہے خواہ اجماع علماء سے کہ ایسی جگہ ایسی حدیث معمول بہ خواہ قرآن عظیم وحدیث صحیح “ کیف وقدقیل “ وحدیث صحیح ارتقائے شبہات واحادیث مذکورہ افادہ ۱۸ وغیرہا سے کہ قبول وعمل کی طرف ہدایت فرماتے ہیں خواہ قاعدہ مسلمہ شریعت محمدیہ علی صاحبہا افضل الصلاۃ والتحیۃ یعنی اخذ بالاحتیاط سے ہر طرح ایك دلیل شرعی اس پر قائم اور آپ کے نزدیك جس فعل کے جواز پر کوئی دلیل شرعی صراحۃ دلالۃ کسی طرح دال ہو اگرچہ وہ فعل خاص بلکہ اس کے جنس کا بھی کوئی فعل قردن ثلاثہ میں نہ پایا گیا ہو سب سنت ہے تو اب اس کی سنیت میں کیا کلام رہا۔ اسی براہین کے صفحہ ۲۸ و ۲۹ پر ارشاد ہوتا ہے :
عــــہ : شب جمعہ وغیرہ ارواح کے آنے اور صدقہ چاہنے کی احادیث کو کہا ان روایات ص۹۷ میں عمل ہی نہیں بلکہ علم ہے عقیدہ کے باب میں یہ حدیث ہے یہ مسئلہ ص۹۶ عقائد کا ہے اس میں مشہور ومتواتر صحاح کی حاجت ہے یہ اعتقادیات میں داخل ہے کہ ارواح کا شب جمعہ کو گھر آنا اعتقاد کرے اور اعتقاد میں قطعیات کا اعتبار ہے نہ ظنیات صحاح کا اھ بالالتقاط ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ(م)
عــــہ : شب جمعہ وغیرہ ارواح کے آنے اور صدقہ چاہنے کی احادیث کو کہا ان روایات ص۹۷ میں عمل ہی نہیں بلکہ علم ہے عقیدہ کے باب میں یہ حدیث ہے یہ مسئلہ ص۹۶ عقائد کا ہے اس میں مشہور ومتواتر صحاح کی حاجت ہے یہ اعتقادیات میں داخل ہے کہ ارواح کا شب جمعہ کو گھر آنا اعتقاد کرے اور اعتقاد میں قطعیات کا اعتبار ہے نہ ظنیات صحاح کا اھ بالالتقاط ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ(م)
حوالہ / References
براہین قاطعہ مطبع نے بلاساڈھور ص ۸۹
“ مؤلف اپنی خوبی فہم سے معنی قرون ثلثہ میں نہ موجود ہونے کے یہ سمجھ رہا ہے کہ اگر جزئی خاص نے ان قرون میں وجود خارجی نہ پایا اگرچہ دلیل جواز کی موجود ہوتو وہ بدعت سیہ ہے مگر یہ بالکل غلط فاحش اور کور علمی اور کج فہمی ہے بلکہ معنے یہ ہیں کہ جو شے بوجود شرعی قرون ثلثہ میں موجود ہو وہ سنت ہے اور جو بوجود شرعی موجود نہ ہو وہ بدعت ہے وجود شرعی اس کو کہتے ہیں کہ بدون شارع کے بتلانے کے معلوم نہ ہوسکے پس اس شے کا وجود شارع کے ارشاد پر موقوف ہوا خواہ صراحۃ ارشاد ہو یا اشارۃ ودلالۃ پس جب کسی نوع ارشاد سے حکم جواز کا ہوگیا وہ شے وجود شرعی میں آگئی اگرچہ اس کی جنس بھی خارج میں نہ آئی ہو پس جس کے جواز کا حکم کلیۃ ہوگیا وہ بجمیع جزئیات شرع میں موجود ہوگیا اور جس کے عدم جواز کا حکم ہوگیا تو شرع میں اس کا عدم ثابت ہوگیا پس یہ حاصل ہوا کہ جس کے جواز کی دلیل قرون ثلثہ میں ہو خواہ وہ جزئیہ بوجود خارجی ان قرون میں ہوا یا نہ ہوا اور خواہ اس کی جنس کا وجود خارج میں ہوا ہو یا نہ ہوا ہو وہ سب سنت ہے اور وہ بوجود شرعی ان قرون میں موجود ہے اور جس کے جواز کی دلیل نہیں تو کواہ وہ ان قرون میں بوجود خارجی ہوا یا نہ ہوا وہ سب بدعت ضلالہ ہے اس قاعدہ کو خوب سمجھ لینا ضرور ہے مولف اور اس کے اشیاع نے اس کی ہوا بھی نہ سونگھی اس عاجز کو اپنے اساتذہ جہاندیدہ کی توجہ سے حاصل ہوا ہے اس جوہر کو اس کتاب میں ضرورۃ رکھتا ہوں کہ موافقین کو نفع اور مخالفین کو شاہد ہدایت ہو الخ ملخصا۔ “
اقول : ماشاء الله کیا چمکتا جوہر کتاب میں رکھا ہے کہ آدھی وہابیت اپنا جوہر کر گئی نجدیت بیچاری کے دو۲ رکن ہیں شرك وبدعت رکن پسین پر قیامت گزرگئی کبرائے طائفہ کی برسوں کی مالا جسے جپتی بیتی جس کا لقب بحمدالله اب آپ ہی کی زبان سے غلط وفاحش وکور علمی وکج فہمی کہ فلاں فعل صحابہ نے نہ کیا تابعین نے نہ کیا تابعین نے نہ کیا فلاں صدی میں شائع ہوا فلاں شخص بانی تھا تم کیا صحابہ وتابعین سے بھی محبت وتعظیم میں زیادہ کہ انہوں نے نہ کیا تم کرنے پر آمادہ بہتر ہوتا تو وہی کر گزرتے فعل میں اتباع ہے ترك میں کیوں نہیں کرتے نیم شوخی میں سارے بکھرگئی صحابہ وتابعین نے ہزار نہ کیا ہو بلکہ اس جنس کا بھی کوئی کار نہ کیا ہو کچھ ضرر نہیں اشارۃ دلالۃ جزئیہ کسی طرح ارشاد شارع سے جواز نکلے پھر سنت ماننے سے مضر نہیں
طائفہ بھر کے خلاف آپ سبق کہتے ہیں لله الحمد اسے ہیبت حق کہتے ہیں
طرفہ یہ کہ اب قرون ثلثہ کی وہ ہٹ نئے طائفہ کی پرانی رٹ جسے یہاں بھی نباہ رہے ہو مہمل رہ گئی لفظ کا سوار پکڑا کیجئے معنی کی نیا اس پار بہہ گئی جب ان میں وجود سے سود نہ عدم سے زیاں پھر ان کا قدم
اقول : ماشاء الله کیا چمکتا جوہر کتاب میں رکھا ہے کہ آدھی وہابیت اپنا جوہر کر گئی نجدیت بیچاری کے دو۲ رکن ہیں شرك وبدعت رکن پسین پر قیامت گزرگئی کبرائے طائفہ کی برسوں کی مالا جسے جپتی بیتی جس کا لقب بحمدالله اب آپ ہی کی زبان سے غلط وفاحش وکور علمی وکج فہمی کہ فلاں فعل صحابہ نے نہ کیا تابعین نے نہ کیا تابعین نے نہ کیا فلاں صدی میں شائع ہوا فلاں شخص بانی تھا تم کیا صحابہ وتابعین سے بھی محبت وتعظیم میں زیادہ کہ انہوں نے نہ کیا تم کرنے پر آمادہ بہتر ہوتا تو وہی کر گزرتے فعل میں اتباع ہے ترك میں کیوں نہیں کرتے نیم شوخی میں سارے بکھرگئی صحابہ وتابعین نے ہزار نہ کیا ہو بلکہ اس جنس کا بھی کوئی کار نہ کیا ہو کچھ ضرر نہیں اشارۃ دلالۃ جزئیہ کسی طرح ارشاد شارع سے جواز نکلے پھر سنت ماننے سے مضر نہیں
طائفہ بھر کے خلاف آپ سبق کہتے ہیں لله الحمد اسے ہیبت حق کہتے ہیں
طرفہ یہ کہ اب قرون ثلثہ کی وہ ہٹ نئے طائفہ کی پرانی رٹ جسے یہاں بھی نباہ رہے ہو مہمل رہ گئی لفظ کا سوار پکڑا کیجئے معنی کی نیا اس پار بہہ گئی جب ان میں وجود سے سود نہ عدم سے زیاں پھر ان کا قدم
حوالہ / References
براہین قاطعہ قرون ثلاثہ میں موجود ہونے نہ ہونے کے معنی مطبوعہ مطبع لے بلاسا واقع ڈھور ص ۲۹۔ ۲۸
کیا درمیاں ۔ خود کہتے ہوکہ وجود خارجی درکار نہیں اور وجود شرعی بے ارشاد شارع محال تو کیا صحابہ تابعین پر کوئی نئی شریعت اترے گی کہ ان کے قرون میں وجود نو کا خیال ارشاد شارع سے جس کا جواز مستفادہ وہ ہر قرن میں بوجود شرعی موجود اور جس کا منع مقتضائے ارشاد وہ ہر قرن میں شرع مطہر سے معدوم ومفتود پھر قرن دون قرن سے کیا کام رہا محض ارشاد اقدس میں کلام رہا یعنی فعل کبھی حادث ہوا ہو قواعد شرعیہ پر عرض کریں گے اباحت سے وجوب یا ترك اولی سے حرمت تك جس اصل میں داخل ہو وہی فرض کریں گے یہی خاص مذہب مہذب ارباب حق ہے صاف نہ کہہ دو شرم نباہنے کو اگلی رٹ کا ناحق سبق ہے تم سمجھنا کہ اب تو جو کہنی تھی کہہ گئے ہم جانیں گے تم جہنم کے ایسے ہی تھے چلو
نہ ہم سمجھے نہ تم آئے کہیں سے
پسینہ پونچھیی اپنی جبیں سے
طرفہ تر یہ کہ جس کا جواز دلیل شرع میں موجود وہ سب سنت جس کا معدوم وہ سب بدعت ضلالت اب تیسری شق کی کون سی صورت تمام افعال انہیں دو۲ حکموں میں محصور ہوگئے خصوصا اباحت واستحباب وکراہت تنزیہ عــــہ تین حکم شرع کو کافور ہوگئے اساتذہ جہابذہ نے سجھائی تو اچھی کہ دونی الجھ گئی سلجھائی لچھی اسی ہستی پر یہ ناز وغرور کہ لوگ تو اس کی ہوا سے دور حضرت یہ اپنی ہوا خود آپ ہی سونگھیں اہل حق کو معاف ہی رکھیں اچھی تعلیم بھلے تلامذہ رہے تلقین خہے اساتذہ
گرہمیں مکتب وھمیں ملا
کارطفلاں تمام خواہد شد
خیریہ تو وہابیہ جدیدہ کا نامعتقد عقیدہ کہ تقبیل ابہامین سنت مجیدہ پرانوں کی سنیے تو وہ اور ہی ہوا پر کہ یہ فعل معاذالله زنا وربا وقذف محصنہ وقتل ناحق نفس مومنہ سب سے بدتر بلکہ عیاذا بالله شرك کے انداز اصل ایمان میں خلل انداز کہ آکر باجماع طائفہ بدعت حائضہ اور تقویۃ الایمان کا یہ عقیدہ فوائقہ شرك وبدعت سے بہت بچے کہ یہ دونوں چیزیں اصل ایمان میں خلل ڈالتی ہیں اور باقی گناہ ان سے نیچے ہیں کہ وہ اعمال میں خلل ڈالتے ہیں ۔ اب خدا جانے انہوں نے سنت کو کفر سے ملایا انہوں نے قریب بہ کفر کو سنت بنایا خیر طویلے کے لتیاؤ میں ہمیں کیا مقال
کفی الله اھل الحق القتال والحمدلله المھیمن المتعال والصلاۃ والسلام علی ذی الافضال والہ وصحبہ خیر صحب وآل آمین۔
اہل حق کی طرف سے قتال میں الله کافی ہے اور تمام تعریف اس باری تعالی کے لئے جو محافظ وبلند ہے اور صلوۃ وسلام اس ذات پر جو صاحب فضل واکرام ہے اور آپ کی آل پر اور اصحاب پر جو بہترین ہیں آمین۔ (ت)
عــــہ : ظاہر ہے کہ ضلالت کا ادنی درجہ کراہت تحریم ہے مکروہ تنزیہی ہرگز ضلالت نہیں دلیل واضح یہ کہ ہر ضلالت میں باس ہے اور مکروہ تنزیہی لاباس بہ ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ(م)
نہ ہم سمجھے نہ تم آئے کہیں سے
پسینہ پونچھیی اپنی جبیں سے
طرفہ تر یہ کہ جس کا جواز دلیل شرع میں موجود وہ سب سنت جس کا معدوم وہ سب بدعت ضلالت اب تیسری شق کی کون سی صورت تمام افعال انہیں دو۲ حکموں میں محصور ہوگئے خصوصا اباحت واستحباب وکراہت تنزیہ عــــہ تین حکم شرع کو کافور ہوگئے اساتذہ جہابذہ نے سجھائی تو اچھی کہ دونی الجھ گئی سلجھائی لچھی اسی ہستی پر یہ ناز وغرور کہ لوگ تو اس کی ہوا سے دور حضرت یہ اپنی ہوا خود آپ ہی سونگھیں اہل حق کو معاف ہی رکھیں اچھی تعلیم بھلے تلامذہ رہے تلقین خہے اساتذہ
گرہمیں مکتب وھمیں ملا
کارطفلاں تمام خواہد شد
خیریہ تو وہابیہ جدیدہ کا نامعتقد عقیدہ کہ تقبیل ابہامین سنت مجیدہ پرانوں کی سنیے تو وہ اور ہی ہوا پر کہ یہ فعل معاذالله زنا وربا وقذف محصنہ وقتل ناحق نفس مومنہ سب سے بدتر بلکہ عیاذا بالله شرك کے انداز اصل ایمان میں خلل انداز کہ آکر باجماع طائفہ بدعت حائضہ اور تقویۃ الایمان کا یہ عقیدہ فوائقہ شرك وبدعت سے بہت بچے کہ یہ دونوں چیزیں اصل ایمان میں خلل ڈالتی ہیں اور باقی گناہ ان سے نیچے ہیں کہ وہ اعمال میں خلل ڈالتے ہیں ۔ اب خدا جانے انہوں نے سنت کو کفر سے ملایا انہوں نے قریب بہ کفر کو سنت بنایا خیر طویلے کے لتیاؤ میں ہمیں کیا مقال
کفی الله اھل الحق القتال والحمدلله المھیمن المتعال والصلاۃ والسلام علی ذی الافضال والہ وصحبہ خیر صحب وآل آمین۔
اہل حق کی طرف سے قتال میں الله کافی ہے اور تمام تعریف اس باری تعالی کے لئے جو محافظ وبلند ہے اور صلوۃ وسلام اس ذات پر جو صاحب فضل واکرام ہے اور آپ کی آل پر اور اصحاب پر جو بہترین ہیں آمین۔ (ت)
عــــہ : ظاہر ہے کہ ضلالت کا ادنی درجہ کراہت تحریم ہے مکروہ تنزیہی ہرگز ضلالت نہیں دلیل واضح یہ کہ ہر ضلالت میں باس ہے اور مکروہ تنزیہی لاباس بہ ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ(م)
حکم اخیر وخلاصہ تحریر بالجملہ حق اس میں اس قدر کہ فعل مذکور بحکم احادیث وبہ تصریح کتب فقہیہ مستحب ومندوب وامید گاہ فضل مطلوب وثواب مرغوب جو کتب علما وعمل قدما وترغیب وارد پر نظر رکھ کر اسے عمل میں لائے اس پر ہرگز کچھ مواخذہ نہیں بلکہ ثواب مروی کی امید وارحسن ظن وصدق نیت باعث فضل جاوید اور جو اسکے مکروہ وممنوع وبدعت بتائے مبطل وخاطی علمائے کرام مقتدایان عام جب کسی منکر کو دیکھیں اس کے سامنے ضرور ہی کریں کہ بد مذہب کا رد اور اس کے دل پر غیظ اشد ہو جس طرح ائمہ کرام نے فرمایا کہ وضو نہر سے افضل مگر معتزلی عــــہ۱ منکر حوض کے سامنے حوض سے بہتر کمابینہ المولی المحقق فی فتح القدیر وغیرہ فی غیرہ عــــہ۲ جب ترك افضل اس نیت سے افضل تو مستحب ومندوب تو آپ ہی افضل
والحمدلله ولی الانعام وافضل الصلاۃ واکمل السلام علی سیدالختام قمر التمام والہ وصحبہ الغر الکرام امین۔
تمام تعریف الله کے لئے جو انعام کا مالك ہے اور افضل صلاۃ اور اکمل سلام ہو انبیاء کے خاتم وسربراہ پر جو چودھویں کا کامل چاند ہیں اور آپ کی آل واصحاب پر جو نہایت ہی روشن اور مکرم ہیں آمین!
خاتمہ فوائد منثورہ : میں ایہا المسلمون اس مسئلہ کا سوال فقیر کے پاس بلاد نزدیك ودور سے باربار آیا ہر دفعہ بمقتضائے حال کبھی مختصر کبھی کچھ مطول کبھی دو ایك صفحہ کبھی دوچار ہی سطر جواب لکھتا رہا بار آخر قدرے زیادہ تفصیل کی کہ ایك جز تك پہنچ کر صورت رسالہ میں جلوہ گر ہوئی سائل نے علمائے اعلام بدایوں وبریلی ورامپور وقین عن الشروع وبقین بالسرور (جو شر سے دور سرور سے معمور رہتے ہیں ۔ ت) سے مہریں کرائیں تصدیقیں لکھائیں اصل رسالہ منیرالعین اسی قدر تھا کہ بفرمائش سید معظم مولانا مولوی غلام حسین صاحب جونا گڈھی نزیل بمبئی حفظہ الله عن شرکل بشرو رئی (الله تعالی انہیں ہر بشر اور نظر بد کے شر سے محفوظ رکھے۔ ت)واہتمام تمام نام مولانا المکرم مولوی محمد عمرالدین صاحب ہزاروی جعلہ الله کاسمہ عمرالدین وعمر بہ عمران الدین المتین (الله تعالی انہیں ان کو نام کی طرح دین کی خدمت کرنے والا بنائے اور ان کے ذریعے اپنے دین متین کو آباد فرمائے۔ ت) وعلو ہمت سیٹھ حاجی محمد بن حاجی محمد عبداللطیف لطف بھما المولی اللطیف (لطف فرمانے والا مولی ان دونوں پر لطف فرمائے۔ ت) ماہ مبارك اشرف وافضل شہرر ربیع الاول ۱۳۱۳ھ میں چھپنا آغاز ہوا سرکار مفیض سے مضامین کثیرہ کا القا وافادہ دلنواز ہوا اور ادھر کاپی کی تیاری ادھر تصنیف جاری جو جز لکھا روانہ کیا یہاں تك کہ ایك جز کا رسالہ دس جز تك پہنچا الحمدلله من جآء بالحسنة فله عشر امثالها- (تمام تعریف الله کے لئے جو ایك نیکی پر دس اجر عطا فرماتا ہے۔ ت) جس میں رسالہ عربیہ مدارج طبقات الحدیث جدا کرلیا ادھر یہ تعجیل ادھر ورود فتاوی سے فرصت قلیل نظر ثانی کی بھی فرصت نہ ملی بعض فوائد حاضرہ کی تجرید رہ گئی بعض نے نظر یا خاطر میں وقعت غابر میں تجلی کی ہنوز کہ سیارہ طبع بذریعہ حرکت بمعنی القطع مبدء کا تارك منتہی کا طالب ہے نہ الحاق باقی مواقع ماضیہ سے متیسر نہ اس کا ترك ہی مناسب ہے اور ائمہ تصنیف کا داب شریف کہ آخر کتاب میں کچھ مسائل تازہ کچھ متعلق بابواب سابقہ تحریر اور انہیں مسائل شتی یا مسائل منثورہ سے تعبیر فرماتے ہیں لہذا اقتضاء بہم یہ فوائد منثورہ بعونہ تعالی سلك تحریر میں انتظام پاتے ہیں ۔
عــــہ۱ : یہ لفظ یہاں عجب لطیف واقع ہوا کہ معتزلہ حوض سے وضو ناجائز بتاتے ہیں یہاں یہی معنی مراد اور وہ اشقیا حوض کوثر کے بھی منکر ہیں ۱۲ منہ (م)
عــــہ۲ : کلد روحواشیہ وآخرین کلہم فی المیاہ ۱۲ منہ (م)
والحمدلله ولی الانعام وافضل الصلاۃ واکمل السلام علی سیدالختام قمر التمام والہ وصحبہ الغر الکرام امین۔
تمام تعریف الله کے لئے جو انعام کا مالك ہے اور افضل صلاۃ اور اکمل سلام ہو انبیاء کے خاتم وسربراہ پر جو چودھویں کا کامل چاند ہیں اور آپ کی آل واصحاب پر جو نہایت ہی روشن اور مکرم ہیں آمین!
خاتمہ فوائد منثورہ : میں ایہا المسلمون اس مسئلہ کا سوال فقیر کے پاس بلاد نزدیك ودور سے باربار آیا ہر دفعہ بمقتضائے حال کبھی مختصر کبھی کچھ مطول کبھی دو ایك صفحہ کبھی دوچار ہی سطر جواب لکھتا رہا بار آخر قدرے زیادہ تفصیل کی کہ ایك جز تك پہنچ کر صورت رسالہ میں جلوہ گر ہوئی سائل نے علمائے اعلام بدایوں وبریلی ورامپور وقین عن الشروع وبقین بالسرور (جو شر سے دور سرور سے معمور رہتے ہیں ۔ ت) سے مہریں کرائیں تصدیقیں لکھائیں اصل رسالہ منیرالعین اسی قدر تھا کہ بفرمائش سید معظم مولانا مولوی غلام حسین صاحب جونا گڈھی نزیل بمبئی حفظہ الله عن شرکل بشرو رئی (الله تعالی انہیں ہر بشر اور نظر بد کے شر سے محفوظ رکھے۔ ت)واہتمام تمام نام مولانا المکرم مولوی محمد عمرالدین صاحب ہزاروی جعلہ الله کاسمہ عمرالدین وعمر بہ عمران الدین المتین (الله تعالی انہیں ان کو نام کی طرح دین کی خدمت کرنے والا بنائے اور ان کے ذریعے اپنے دین متین کو آباد فرمائے۔ ت) وعلو ہمت سیٹھ حاجی محمد بن حاجی محمد عبداللطیف لطف بھما المولی اللطیف (لطف فرمانے والا مولی ان دونوں پر لطف فرمائے۔ ت) ماہ مبارك اشرف وافضل شہرر ربیع الاول ۱۳۱۳ھ میں چھپنا آغاز ہوا سرکار مفیض سے مضامین کثیرہ کا القا وافادہ دلنواز ہوا اور ادھر کاپی کی تیاری ادھر تصنیف جاری جو جز لکھا روانہ کیا یہاں تك کہ ایك جز کا رسالہ دس جز تك پہنچا الحمدلله من جآء بالحسنة فله عشر امثالها- (تمام تعریف الله کے لئے جو ایك نیکی پر دس اجر عطا فرماتا ہے۔ ت) جس میں رسالہ عربیہ مدارج طبقات الحدیث جدا کرلیا ادھر یہ تعجیل ادھر ورود فتاوی سے فرصت قلیل نظر ثانی کی بھی فرصت نہ ملی بعض فوائد حاضرہ کی تجرید رہ گئی بعض نے نظر یا خاطر میں وقعت غابر میں تجلی کی ہنوز کہ سیارہ طبع بذریعہ حرکت بمعنی القطع مبدء کا تارك منتہی کا طالب ہے نہ الحاق باقی مواقع ماضیہ سے متیسر نہ اس کا ترك ہی مناسب ہے اور ائمہ تصنیف کا داب شریف کہ آخر کتاب میں کچھ مسائل تازہ کچھ متعلق بابواب سابقہ تحریر اور انہیں مسائل شتی یا مسائل منثورہ سے تعبیر فرماتے ہیں لہذا اقتضاء بہم یہ فوائد منثورہ بعونہ تعالی سلك تحریر میں انتظام پاتے ہیں ۔
عــــہ۱ : یہ لفظ یہاں عجب لطیف واقع ہوا کہ معتزلہ حوض سے وضو ناجائز بتاتے ہیں یہاں یہی معنی مراد اور وہ اشقیا حوض کوثر کے بھی منکر ہیں ۱۲ منہ (م)
عــــہ۲ : کلد روحواشیہ وآخرین کلہم فی المیاہ ۱۲ منہ (م)
حوالہ / References
فتح القدیر باب ماء الذی یجوزبہ الوضوء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۲
القرآن ۶ / ۱۶۰
القرآن ۶ / ۱۶۰
فائدہ ۱ : نفیسہ جلیلہ (فضیلت وافضلیت میں فرق ہے دربارہ تفضیل حدیث ضعیف ہرگز مقبول نہیں ) فضیلت وافضلیت میں زمین آسمان کا فرق ہے وہ اسی باب سے ہے جس میں ضعاف بالاتفاق قابل قبول اور یہاں بالاجماع مردود ونامقبول۔
اقول : جس نے قبول ضعاف فی الفضائل کا منشا کہ افادات سابقہ میں روشن بیانوں سے گزرا ذہن نشین کرلیا ہے وہ اس فرق کو بنگاہ اولین سمجھ سکتا ہے قبول ضعاف صرف محل نفع بے ضرر میں ہے جہاں ان کے ماننے سے کسی تحلیل یا تحریم یا اضاعت حق غیر غرض مخالفت شرع کا بوجہ من الاجوہ اندیشہ نہ ہو فضائل رجال مثل فضائل اعمال ایسے ہی ہیں جن بندگان خدا کا فضل تفصیلی خواہ صرف اجمالی دلائل صحیحہ سے ثابت ہے ان کی کوئی منقبت خاصہ جسے صحاح وثوابت سے معارضت نہ ہو اگر حدیث ضعیف میں آئے اس کا قبول تو آپ ہی ظاہر کہ ان کا فضل تو خود صحاح سے ثابت یہ ضعیف اسے مانے ہی ہوئے مسئلہ میں تو فائدہ زائدہ عطا کرے گی اور اگر تنہا ضعیف ہی فضل میں آئے اور کسی صحیح کی مخالفت نہ ہو وہ بھی مقبول ہوگی کہ صحاح میں تائید نہ سہی خلاف بھی تو نہیں بخلاف افضلیت کے کہ اس کے معنی ایك کو دوسرے سے عندالله بہتر وافضل ماننا ہے یہ جب ہی جائز ہوگا کہ ہمیں خدا ورسول جل جلالہ وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ارشاد سے خوب ثابت ومحقق ہوجائے ورنہ بے ثبوت حکم لگادینے میں محتمل کہ عندالله امر بالعکس ہوتو افضل کو مفضول بنایا یہ تصریح تنقیص شان ہے اور وہ حرام تو مفسدہ تحلیل حرام وتضیع حق غیر دونوں درپیش کہ افضل کہنا حق اس کا تھا اور کہہ دیا اس کو۔ یہ اس صورت میں تھا کہ دلائل شرعیہ سے ایك کی افضلیت معلوم نہ ہو۔ پھر وہاں
اقول : جس نے قبول ضعاف فی الفضائل کا منشا کہ افادات سابقہ میں روشن بیانوں سے گزرا ذہن نشین کرلیا ہے وہ اس فرق کو بنگاہ اولین سمجھ سکتا ہے قبول ضعاف صرف محل نفع بے ضرر میں ہے جہاں ان کے ماننے سے کسی تحلیل یا تحریم یا اضاعت حق غیر غرض مخالفت شرع کا بوجہ من الاجوہ اندیشہ نہ ہو فضائل رجال مثل فضائل اعمال ایسے ہی ہیں جن بندگان خدا کا فضل تفصیلی خواہ صرف اجمالی دلائل صحیحہ سے ثابت ہے ان کی کوئی منقبت خاصہ جسے صحاح وثوابت سے معارضت نہ ہو اگر حدیث ضعیف میں آئے اس کا قبول تو آپ ہی ظاہر کہ ان کا فضل تو خود صحاح سے ثابت یہ ضعیف اسے مانے ہی ہوئے مسئلہ میں تو فائدہ زائدہ عطا کرے گی اور اگر تنہا ضعیف ہی فضل میں آئے اور کسی صحیح کی مخالفت نہ ہو وہ بھی مقبول ہوگی کہ صحاح میں تائید نہ سہی خلاف بھی تو نہیں بخلاف افضلیت کے کہ اس کے معنی ایك کو دوسرے سے عندالله بہتر وافضل ماننا ہے یہ جب ہی جائز ہوگا کہ ہمیں خدا ورسول جل جلالہ وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ارشاد سے خوب ثابت ومحقق ہوجائے ورنہ بے ثبوت حکم لگادینے میں محتمل کہ عندالله امر بالعکس ہوتو افضل کو مفضول بنایا یہ تصریح تنقیص شان ہے اور وہ حرام تو مفسدہ تحلیل حرام وتضیع حق غیر دونوں درپیش کہ افضل کہنا حق اس کا تھا اور کہہ دیا اس کو۔ یہ اس صورت میں تھا کہ دلائل شرعیہ سے ایك کی افضلیت معلوم نہ ہو۔ پھر وہاں
کا تو کہنا ہی کیا ہے جہاں عقائد حقہ میں ایك جانب کی تفصیلی محقق ہو اور اس کے خلاف احادیث مقام وضعاف سے استناد کیا جائے جس طرح آج کل کے جہال حضرات شیخین رضی اللہ تعالی عنہاپر تفضیل حضرت مولا علی کرم الله تعالی وجہہ الکریم میں کرتے ہیں ۔ یہ تصریح مضادت شریعت ومعاندت سنت ہے۔ ولہذا ائمہ دین نے تفضیلیہ کو روافض سے شمار کیا کمابیناہ فی کتابنا المبارك مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین۱۳۹۷ھ (جیسا کہ ہم نے اسے اپنی مبارك کتاب “ مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین “ میں بیان کیا ہے۔ ت) بلکہ انصافا اگر تفضیل شیخین کے خلاف کوئی حدیث صحیح بھی آئے قطعا واجب التاویل ہے اور اگر بفرض باطل صالح تاویل نہ ہو واجب الرد کہ تفضیل شیخین متواتر واجماعی ہے کمااثبتنا علیہ عرش التحقیق فی کتابنا المذکور (جیسا کہ ہم نے اپنی اس مذکورہ کتاب میں اس مسئلہ کی خوب تحقیق کی ہے۔ ت) اور متواتر واجماع کے مقابل اعاد ہرگز نہ سنے جائیں گے ولہذا امام احمد قسطلانی ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں زیر حدیث عرض علی عمر بن الخطاب وعلیہ قمیص یجرہ قالوا فمااولت ذلك یارسول الله (صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) قال الذین (مجھ پر عمر بن الخطاب کو پیش کیا گیا اور وہ اپنی قمیص گھسیٹ کر چل رہے ہیں صحابہ نے عرض کیا یارسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمآپ نے اس کی کیا تعبیر فرمائی ہے فرمایا دین۔ ت) فرماتے ہیں :
لئن سلمنا التخصیص بہ (ای بالفاروق رضی الله تعالی عنہ) فھو معارض بالاحادیث الکثیرۃ البالغۃ درجۃ التواتر المعنوی الدالۃ علی افضلیۃ الصدیق رضی الله تعالی عنہ فلاتعارضھا الاحاد ولئن سلمنا التساوی بین الدلیلین لکن اجماع اھل السنۃ والجماعۃ علی افضلیتہ وھو قطعی فلایعارضہ ظنی ۔
اگر ہم یہ تخصیص ان (یعنی فاروق رضی اللہ تعالی عنہ) کے ساتھ مان لیں تو یہ ان اکثر احادیث کے منافی ہے جو تواتر معنوی کے درجہ پر ہیں اور افضلیت صدیق رضی اللہ تعالی عنہپر دال ہیں اور احاد کا ان کے ساتھ تعارض ممکن ہی نہیں اور اگر ہم ان دونوں دلیلوں کے درمیان مساوات مان لیں لیکن اجماع اہلسنت وجماعت افضلیت صدیق اکبر پر دال ہے اور وہ قطعی ہے تو ظن اس کا معارض کیسے ہوسکتا ہے! (ت)
الجملہ مسئلہ افضلیت ہرگز باب فضائل سے نہیں جس میں ضعاف سن سکیں بلکہ موافقت وشرح مواقف میں تو تصریح کی کہ باب عقائد سے ہے اور اس میں احاد صحاح بھی نامسموع
حیث قال لیست ھذہ المسألۃ یتعلق بھا عمل فیلتفی فیھا بالظن الذی ھوکاف فی الاحکام العلمیۃ بل ھی مسألۃ علمیۃ یطلب فیھا الیقین ۔
ان دونوں نے کہا کہ یہ مسئلہ عمل سے متعلق نہیں کہ اس
لئن سلمنا التخصیص بہ (ای بالفاروق رضی الله تعالی عنہ) فھو معارض بالاحادیث الکثیرۃ البالغۃ درجۃ التواتر المعنوی الدالۃ علی افضلیۃ الصدیق رضی الله تعالی عنہ فلاتعارضھا الاحاد ولئن سلمنا التساوی بین الدلیلین لکن اجماع اھل السنۃ والجماعۃ علی افضلیتہ وھو قطعی فلایعارضہ ظنی ۔
اگر ہم یہ تخصیص ان (یعنی فاروق رضی اللہ تعالی عنہ) کے ساتھ مان لیں تو یہ ان اکثر احادیث کے منافی ہے جو تواتر معنوی کے درجہ پر ہیں اور افضلیت صدیق رضی اللہ تعالی عنہپر دال ہیں اور احاد کا ان کے ساتھ تعارض ممکن ہی نہیں اور اگر ہم ان دونوں دلیلوں کے درمیان مساوات مان لیں لیکن اجماع اہلسنت وجماعت افضلیت صدیق اکبر پر دال ہے اور وہ قطعی ہے تو ظن اس کا معارض کیسے ہوسکتا ہے! (ت)
الجملہ مسئلہ افضلیت ہرگز باب فضائل سے نہیں جس میں ضعاف سن سکیں بلکہ موافقت وشرح مواقف میں تو تصریح کی کہ باب عقائد سے ہے اور اس میں احاد صحاح بھی نامسموع
حیث قال لیست ھذہ المسألۃ یتعلق بھا عمل فیلتفی فیھا بالظن الذی ھوکاف فی الاحکام العلمیۃ بل ھی مسألۃ علمیۃ یطلب فیھا الیقین ۔
ان دونوں نے کہا کہ یہ مسئلہ عمل سے متعلق نہیں کہ اس
حوالہ / References
ارشاد الساری شرح صحیح البخاری باب تفاضل اہل ایمان فی الاعمال مطبوعہ دارالکتاب العربیۃ بیروت ۱ / ۱۰۶
شرح مواقف المرصد الرابع ازموقف سادس فی السمعیات مطبوعہ منشورات الشریف الرضی قم ایران ۸ / ۳۷۲
شرح مواقف المرصد الرابع ازموقف سادس فی السمعیات مطبوعہ منشورات الشریف الرضی قم ایران ۸ / ۳۷۲
میں دلیل ظنی کافی ہوجائے جو احکام میں کافی ہوتی ہے بلکہ یہ معاملہ تو عقائد میں سے ہے اس کے لئے دلیل قطعی کا ہونا ضروری ہے۔ (ت)
فائدہ ۲ : مہمہ عظیمہ (مشاجرات صحابہ میں تواریخ وسیر کی موحش حکایتیں قطعا مردود ہیں ) افادہ ۲۳ پر نظر تازہ کیجئے وہاں واضح ہوچکا ہے کہ کتب سیر میں کیسے کیسے مجروحوں میں مطعونوں شدید الضعفوں کی روایات بھری ہیں وہیں کلبی رافضی متہم بالکذب کی نسبت سیرت عیون الاثر کا قول گزرا کہ اس کی غالب روایات سیر وتواریخ ہیں جنہیں علما ایسوں سے روایت کرلیتے ہیں وہیں سیرت انسان العیون کا ارشاد گزرا کہ سیر موضوع کے سوا ہر قسم ضعیف وسقیم وبے سند حکایات کو جمع کرتی ہے پھر انصافا یہ بھی انہوں نے سیر کا منصب بتایا جو اسے لائق ہے کہ موضوعات تو اصلا کسی کام کے نہیں انہیں وہ بھی نہیں لے سکتے ورنہ بنظر واقع سیر میں بہت اکاذیب واباطیل بھرے ہیں کمالایخفی بہرحال فرق مراتب نہ کرنا اگر جنوں نہیں تو بدمذہبی ہے بد مذہبی نہیں تو جنون ہے سیر جن بالائی باتوں کے لئے ہے اس میں حد سے تجاوز نہیں کرسکتے اس کی روایات مذکورہ کسی حیض ونفاس کے مسئلہ میں بھی سننے کی نہیں نہ کہ معاذالله ان واہیات ومعضلات وبے سروپا حکایات سے صحابہ کرام حضور سیدالانام علیہ وعلی آلہ وعلیہم افضل الصلاۃ والسلام پر طعن پیدا کرنا اعتراض نکالنا ان کی شان رفیع میں رخنے ڈالنا کہ اس کا ارتکاب نہ کرے گا مگر گمراہ بددین مخالف ومضاد حق تبیین آج کل کے بدمذہب مریض القلب منافق شعار ان جزافات سیروخرافات تواریخ وامثالہا سے حضرات عالیہ خلفائے راشدین وام المومنین وطلحہ وزبیر ومعاویہ وعمروبن العاص ومغیرہ بن شعبہ وغیرہم اہلبیت وصحابہ رضی اللہ تعالی عنہمکے مطاعن مردودہ اور ان کے باہمی مشاجرات میں موحش ومہل حکایات بیہودہ جن میں اکثر تو سرے سے کذب وواحض اور بہت الحاقات ملعونہ روافض چھانٹ لاتے اور ان سے قرآن عظیم وارشادات مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمواجماع امت واساطین ملت کا مقاببلہ چاہتے ہیں بے علم لوگ انہیں سن کر پریشان ہوتے یا فکر جواب میں پڑتے ہیں ان کا پہلا جواب یہی ہے کہ ایسے مہملات کسی ادنی مسلمان کو گنہگار ٹھہرانے کیلئے مسموع نہیں ہوسکتے نہ کہ ان محبوبان خدا پر طعن جن کے مدائح تفصیلی خواہ اجمالی سے کلام الله وکلام رسول الله مالامال ہیں جل جلالہ وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم امام حجۃ الاسلام مرشد الانام محمدمحمد محمد غزالی قدسہ سرہ العالی احیاء العلوم شریف میں فرماتے ہیں :
لاتجوز نسبۃ مسلم الی کبیرۃ من غیر تحقیق نعم یجوز ان یقال ان ابن ملجم قتل علیا فان ذلك یثت متواترا ۔
کسی مسلمان کو کسی کبیرہ کی طرف بے تحقیق نسبت کرنا حرام
فائدہ ۲ : مہمہ عظیمہ (مشاجرات صحابہ میں تواریخ وسیر کی موحش حکایتیں قطعا مردود ہیں ) افادہ ۲۳ پر نظر تازہ کیجئے وہاں واضح ہوچکا ہے کہ کتب سیر میں کیسے کیسے مجروحوں میں مطعونوں شدید الضعفوں کی روایات بھری ہیں وہیں کلبی رافضی متہم بالکذب کی نسبت سیرت عیون الاثر کا قول گزرا کہ اس کی غالب روایات سیر وتواریخ ہیں جنہیں علما ایسوں سے روایت کرلیتے ہیں وہیں سیرت انسان العیون کا ارشاد گزرا کہ سیر موضوع کے سوا ہر قسم ضعیف وسقیم وبے سند حکایات کو جمع کرتی ہے پھر انصافا یہ بھی انہوں نے سیر کا منصب بتایا جو اسے لائق ہے کہ موضوعات تو اصلا کسی کام کے نہیں انہیں وہ بھی نہیں لے سکتے ورنہ بنظر واقع سیر میں بہت اکاذیب واباطیل بھرے ہیں کمالایخفی بہرحال فرق مراتب نہ کرنا اگر جنوں نہیں تو بدمذہبی ہے بد مذہبی نہیں تو جنون ہے سیر جن بالائی باتوں کے لئے ہے اس میں حد سے تجاوز نہیں کرسکتے اس کی روایات مذکورہ کسی حیض ونفاس کے مسئلہ میں بھی سننے کی نہیں نہ کہ معاذالله ان واہیات ومعضلات وبے سروپا حکایات سے صحابہ کرام حضور سیدالانام علیہ وعلی آلہ وعلیہم افضل الصلاۃ والسلام پر طعن پیدا کرنا اعتراض نکالنا ان کی شان رفیع میں رخنے ڈالنا کہ اس کا ارتکاب نہ کرے گا مگر گمراہ بددین مخالف ومضاد حق تبیین آج کل کے بدمذہب مریض القلب منافق شعار ان جزافات سیروخرافات تواریخ وامثالہا سے حضرات عالیہ خلفائے راشدین وام المومنین وطلحہ وزبیر ومعاویہ وعمروبن العاص ومغیرہ بن شعبہ وغیرہم اہلبیت وصحابہ رضی اللہ تعالی عنہمکے مطاعن مردودہ اور ان کے باہمی مشاجرات میں موحش ومہل حکایات بیہودہ جن میں اکثر تو سرے سے کذب وواحض اور بہت الحاقات ملعونہ روافض چھانٹ لاتے اور ان سے قرآن عظیم وارشادات مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمواجماع امت واساطین ملت کا مقاببلہ چاہتے ہیں بے علم لوگ انہیں سن کر پریشان ہوتے یا فکر جواب میں پڑتے ہیں ان کا پہلا جواب یہی ہے کہ ایسے مہملات کسی ادنی مسلمان کو گنہگار ٹھہرانے کیلئے مسموع نہیں ہوسکتے نہ کہ ان محبوبان خدا پر طعن جن کے مدائح تفصیلی خواہ اجمالی سے کلام الله وکلام رسول الله مالامال ہیں جل جلالہ وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم امام حجۃ الاسلام مرشد الانام محمدمحمد محمد غزالی قدسہ سرہ العالی احیاء العلوم شریف میں فرماتے ہیں :
لاتجوز نسبۃ مسلم الی کبیرۃ من غیر تحقیق نعم یجوز ان یقال ان ابن ملجم قتل علیا فان ذلك یثت متواترا ۔
کسی مسلمان کو کسی کبیرہ کی طرف بے تحقیق نسبت کرنا حرام
حوالہ / References
احیاء علوم الدین کتاب آفات اللسان الآفۃ الثامنۃ : اللعن مطبوعہ مطبعۃ المشہد الحسینی القاہرہ ۳ / ۱۲۵
ہے ہاں یہ کہنا جائز ہے کہ ابن ملجم شقی خارجی اشقی الآخرین نے امیرالمومنین مولی علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریمکو شہید کیا کہ یہ بتواتر ثابت ہے۔ (ت)
حاش لله اگر مورخین وامثالہم کی ایسے حکایات ادنی قابل التفات ہوں تو اہل بیت وصحابہ درکنار خود حضرات عالیہ انبیاء ومرسلین وملئکم مقربین صلوات الله تعالی وسلامہ علیہم اجمعین سے ہاتھ دھوبیٹھا ہے کہ ان مہملات مخذولہ نے حضرات سعادتنا ومولنا آدم صفی الله وداؤد خلیفۃ الله وسلیمان نبی الله ویوسف رسول الله سے سیدالمرسلین محمد حبیب الله صلی الله تعالی علیہ وعلیہم وسلم تك سب کے بارہ میں وہ وہ ناپاك بیہودہ حکایات موحشہ نقل کی ہیں کہ اگر اپنے ظاہر پر تسلیم کی جائیں تو معاذالله اصل ایمان کو رد بیٹھنا ہے ان ہولناك اباطیل کے بعض تفصیل مع رد جلیل کتاب مستطاب شفا شریف امام قاضی عیاض اور اس کی شروح وغیرہا سے ظاہر لاجرم ائمہ ملت وناصحان امت نے تصریحیں فرمادیں کہ ان جہال وضلال کے مہملات اور سیر وتواریخ کی حکایت پر ہرگز کان نہ رکھا جائے شفا وشروح شفا ومواہب وشرح مواہب ومدارج شیخ محقق وغیرہا میں بالاتفاق فرمایا جسے میں صرف مدارج النبوۃ سے نقل کروں کہ عبارت فارسی ترجمہ سے غنی اور کلمات ائمہ مذکورین کا خود ترجمہ ہے فرماتے ہیں رحمۃ اللہ تعالی علیہ:
ازجملہ توقیر وبرآنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمتوقیر اصحاب وبرایشاں است وحسن ثنا ورعایت ادب بایشاں ودعا واستغفار مرایشاں راوحق است مرکسے راکہ ثنا کردہ حق تعالی بروے وراضی ست ازوے کہ ثنا کردہ شوبروے وسب وطعن ایشاں اگر مخالف اولہ قطعیہ است کفر والا بدعت وفسق وہمچنیں امساك وکف نفس ازذکر اختلاف ومنازعات ووقائع کہ میان ایشاں شدہ وگزشتہ است واعراض واضراب ازاخبار مورخین وجہلہ رواۃ وضلال شیعہ وغلاۃ ایشاں ومبتدعین کہ ذکر قوادح وزلالت ایشاں کنند کہ اکثر آں کذب وافتراست وطلب کردن درآنچہ نقل کردہ شدہ است ازایشاں ازمشاجرات ومحاربات باحسن تاویلات واصوب خارج وعدم ذکر ہیچ یکے ازیشاں بہ بدی وعیب بلکہ ذکر حسنات وفضائل وعمائد صفات ایشاں ازجہت آنکہ صحبت ایشاں بآنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمیقینی ست وماورائے آں ظنی است وکافیست دریں باب کہ حق تعالی برگزید ایشاں رابرائے صحبت حبیبہ خود صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمطریقہ اہل سنت وجماعت دریں باب این است درعقائد نوشتہ اند لاتذکر احدا منھم الابخیر ف۱ وآیات واحادیث کہ درفضائل صحابہ عموما وخصوصا واقع شدہ است دریں باب کافی است اھ مختصرا۔
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی تعظیم واحترام درحقیقت آپ کے صحابہ کا احترام اور ان کے ساتھ نیکی ہے ان کی اچھی تعریف اور رعایت کرنی چاہے اور ان کے لئے دعا وطلب مغفرت کرنی چاہئے بالخصوص جس جس کی الله تعالی نے تعریف فرمائی ہے اور اس سے راضی ہوا ہے اس سے وہ اس بات کی مستحق ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے پس اگر ان پر طعن وسب کرنے والا دلائل قطعہ کا منکر ہے تو کافر ورنہ مبتدع وفاسق اسی طرح ان کے درمیان جو اختلافات یا جھگڑے یا واقعات ہوئے ہیں ان پر خاموشی اختیار کرنا ضروری ہے
حاش لله اگر مورخین وامثالہم کی ایسے حکایات ادنی قابل التفات ہوں تو اہل بیت وصحابہ درکنار خود حضرات عالیہ انبیاء ومرسلین وملئکم مقربین صلوات الله تعالی وسلامہ علیہم اجمعین سے ہاتھ دھوبیٹھا ہے کہ ان مہملات مخذولہ نے حضرات سعادتنا ومولنا آدم صفی الله وداؤد خلیفۃ الله وسلیمان نبی الله ویوسف رسول الله سے سیدالمرسلین محمد حبیب الله صلی الله تعالی علیہ وعلیہم وسلم تك سب کے بارہ میں وہ وہ ناپاك بیہودہ حکایات موحشہ نقل کی ہیں کہ اگر اپنے ظاہر پر تسلیم کی جائیں تو معاذالله اصل ایمان کو رد بیٹھنا ہے ان ہولناك اباطیل کے بعض تفصیل مع رد جلیل کتاب مستطاب شفا شریف امام قاضی عیاض اور اس کی شروح وغیرہا سے ظاہر لاجرم ائمہ ملت وناصحان امت نے تصریحیں فرمادیں کہ ان جہال وضلال کے مہملات اور سیر وتواریخ کی حکایت پر ہرگز کان نہ رکھا جائے شفا وشروح شفا ومواہب وشرح مواہب ومدارج شیخ محقق وغیرہا میں بالاتفاق فرمایا جسے میں صرف مدارج النبوۃ سے نقل کروں کہ عبارت فارسی ترجمہ سے غنی اور کلمات ائمہ مذکورین کا خود ترجمہ ہے فرماتے ہیں رحمۃ اللہ تعالی علیہ:
ازجملہ توقیر وبرآنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمتوقیر اصحاب وبرایشاں است وحسن ثنا ورعایت ادب بایشاں ودعا واستغفار مرایشاں راوحق است مرکسے راکہ ثنا کردہ حق تعالی بروے وراضی ست ازوے کہ ثنا کردہ شوبروے وسب وطعن ایشاں اگر مخالف اولہ قطعیہ است کفر والا بدعت وفسق وہمچنیں امساك وکف نفس ازذکر اختلاف ومنازعات ووقائع کہ میان ایشاں شدہ وگزشتہ است واعراض واضراب ازاخبار مورخین وجہلہ رواۃ وضلال شیعہ وغلاۃ ایشاں ومبتدعین کہ ذکر قوادح وزلالت ایشاں کنند کہ اکثر آں کذب وافتراست وطلب کردن درآنچہ نقل کردہ شدہ است ازایشاں ازمشاجرات ومحاربات باحسن تاویلات واصوب خارج وعدم ذکر ہیچ یکے ازیشاں بہ بدی وعیب بلکہ ذکر حسنات وفضائل وعمائد صفات ایشاں ازجہت آنکہ صحبت ایشاں بآنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمیقینی ست وماورائے آں ظنی است وکافیست دریں باب کہ حق تعالی برگزید ایشاں رابرائے صحبت حبیبہ خود صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمطریقہ اہل سنت وجماعت دریں باب این است درعقائد نوشتہ اند لاتذکر احدا منھم الابخیر ف۱ وآیات واحادیث کہ درفضائل صحابہ عموما وخصوصا واقع شدہ است دریں باب کافی است اھ مختصرا۔
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی تعظیم واحترام درحقیقت آپ کے صحابہ کا احترام اور ان کے ساتھ نیکی ہے ان کی اچھی تعریف اور رعایت کرنی چاہے اور ان کے لئے دعا وطلب مغفرت کرنی چاہئے بالخصوص جس جس کی الله تعالی نے تعریف فرمائی ہے اور اس سے راضی ہوا ہے اس سے وہ اس بات کی مستحق ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے پس اگر ان پر طعن وسب کرنے والا دلائل قطعہ کا منکر ہے تو کافر ورنہ مبتدع وفاسق اسی طرح ان کے درمیان جو اختلافات یا جھگڑے یا واقعات ہوئے ہیں ان پر خاموشی اختیار کرنا ضروری ہے
حوالہ / References
مدارج النبوۃ وصل درتوقیر حضور واصحاب وے صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۱۳
اور ان اخبار واقعات سے اعراض کیا جائے جو مورخین جاہل راویوں اور گمراہ وغلو کرنے والے شیعوں نے بیان کیے ہیں اور بدعتی لوگوں کے ان عیوب اور برائیوں سے جو خود ایجاد کرکے ان کی طرف منسوب کردئے اور ان کے ڈگمگا جانے سے کیونکہ وہ کذب بیانی اور افترا ہے اور ان کے درمیان جو محاربات ومشاجرات منقول ہیں ان کی بہتر توجیہ وتاویل کی جائے اور ان میں سے کسی پر عیب یا برائی کا طعن نہ کیا جائے بلکہ ان کے فضائل کمالات اور عمدہ صفات کا ذکر کیا جائے کیونکہ حضور علیہ السلام کے ساتھ ان کی محبت یقینی ہے اور اس کے علاوہ باقی معاملات ظنی ہیں اور ہمارے لئے یہی کافی ہے کہ الله تعالی نے انہیں پانے حبیب علیہ السلام کی محبت کے لئے منتخب کرلیا ہے اہل سنت وجماعت کا صحابہ کے بارے میں یہی عقیدہ ہے اس لئے عقائد میں تحریر ہے کہ صحابہ میں سے ہر کسی کا ذکر خیر کے ساتھ ہی کیا جائے اور صحابہ کے فضائل میں جو آیات واحادیث عموما یا خصوصا وارد ہیں وہ اس سلسلہ میں کافی ہیں اھ مختصرا (ت)
امام محقق سنوسی وعلامہ تلمسانی پھر علامہ زرقانی شرح مواہب میں فرماتے ہیں : مانقلہ المؤرخون قلۃ حیاء وادب (مؤرخین کی نقلیں قلت حیا وادب سے ہیں ) امام اجل ثقہ مثبت حافظ متقن قدوہ یحیی بن سعید قطان نے کہ اجلہ ائمہ تابعین سے ہیں عبدالله قوایری سے پوچھا کہاں جاتے ہو کہا وہب بن جریر کے پاس سیر لکھنے کو فرمایا : تکتب کذبا کثیرا (بہت سا جھوٹ لکھوگے)ذکرہ فی المیزان عــــہ (اس کا ذکر میزان میں ہے۔ ت)تفصیل اس مبحث کی ان رسائل فقیر سے لی جائے کہ مسئلہ حضرت امیر معویہ رضی اللہ تعالی عنہمیں تصنیف کیے یہاں شاہ عبدالعزیز صاحب کی ایك عبارت تحفہ اثنا عشریہ سے یاد رکھنے کی ہے مطاعن افضل الصدیقین رضی اللہ تعالی عنہسے طعن سوم تخلف حبیش اسامہ رضی اللہ تعالی عنہکے رد میں فرماتے ہیں :
عــــہ : فی ترجمۃ محمد بن اسحق حیث قال
اس کا ذکر محمد بن اسحاق کے ترجمہ میں ہے جہاں (باقی اگلے صفحہ پر)
ف۱ : مدارج النبوہ مطبوعہ سکھر میں “ وآیات کا لفظ نہیں ہے
امام محقق سنوسی وعلامہ تلمسانی پھر علامہ زرقانی شرح مواہب میں فرماتے ہیں : مانقلہ المؤرخون قلۃ حیاء وادب (مؤرخین کی نقلیں قلت حیا وادب سے ہیں ) امام اجل ثقہ مثبت حافظ متقن قدوہ یحیی بن سعید قطان نے کہ اجلہ ائمہ تابعین سے ہیں عبدالله قوایری سے پوچھا کہاں جاتے ہو کہا وہب بن جریر کے پاس سیر لکھنے کو فرمایا : تکتب کذبا کثیرا (بہت سا جھوٹ لکھوگے)ذکرہ فی المیزان عــــہ (اس کا ذکر میزان میں ہے۔ ت)تفصیل اس مبحث کی ان رسائل فقیر سے لی جائے کہ مسئلہ حضرت امیر معویہ رضی اللہ تعالی عنہمیں تصنیف کیے یہاں شاہ عبدالعزیز صاحب کی ایك عبارت تحفہ اثنا عشریہ سے یاد رکھنے کی ہے مطاعن افضل الصدیقین رضی اللہ تعالی عنہسے طعن سوم تخلف حبیش اسامہ رضی اللہ تعالی عنہکے رد میں فرماتے ہیں :
عــــہ : فی ترجمۃ محمد بن اسحق حیث قال
اس کا ذکر محمد بن اسحاق کے ترجمہ میں ہے جہاں (باقی اگلے صفحہ پر)
ف۱ : مدارج النبوہ مطبوعہ سکھر میں “ وآیات کا لفظ نہیں ہے
حوالہ / References
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ باب وفات امہ صلی اللہ علیہ وسلم الخ مطبوعہ مطبعۃ عامرہ مصر ۱ / ۲۰۴
میزان الاعتدال ترجمہ نمبر ۷۱۹۷ محمد بن اسحاق مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۳ / ۴۶۹
میزان الاعتدال ترجمہ نمبر ۷۱۹۷ محمد بن اسحاق مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۳ / ۴۶۹
جملہ لعن الله من تخلف عنہا ہرگز درکتب اہل سنت موجود نیست قال الشھرستانی فی الملل والنحل ان ھذہ الجملۃ موضوعۃ ومفتراۃ وبعضے فارسی نویسان کہ خود رامحدثین اہل سنت شمردہ اند ودرسیر خود ایں جملہ را اوردہ برائے الزام اہل سنت کفایت نمی کند زیراکہ اعتبار حدیث نزد اہل سنت بیافتن حدیث درکتب مسندہ محدثین نزد اہل سنت بیافتن حدیث درکتب مسندہ محدثین است مع الحکم بالصحۃ وحدیث بے سند نزد ایشاں شتربے مہار است کہ اصلا عــــہ گوش بآں نمی نہند ۔
جملہ “ لعن الله من تخلف عنھا “ کتب اہل سنت میں ہرگز موجود نہیں شہرستانی نے الملل والنحل میں کہا کہ یہ جملہ موضوع اور جھوٹا ہے اور بعض فارسی لکھنے والوں نے خود کو محدثین اہلسنت ظاہر کیا ہے اور اہل اسنت کو الزام دینے کے لئے اپنی کتب میں اس جملہ کو شامل کردیا لیکن یہ قابل اعتبار نہیں اہلسنت کے ہاں حدیث وہی معتبر ہے جو محدثین کی کتب احادیث میں صحت کے ساتھ ثابت ہو ان کے ہاں بے سند حدیث ایسے ہی ہے جیسے بے مہار اونٹ جو کہ ہرگز ناقابل سماعت نہیں ۔ (ت)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
مالہ عندی ذنب الاماقد حشانی فی السیرۃ من الاشیاء المنکرۃ المنقطعۃ والاشعار المکذوبۃ قال الفلاس سمعت یحیی القطان یقول لعبیدالله القواریری الی این تذھب قال الی وھب بن جریر ا کتب السیرۃ قال تکتب کذبا کثیرا ۱۲ منہ (م)
انہوں نے کہا میرے نزدیك اس کا کوئی گناہ نہیں ماسوائے اس کے کہ انہوں نے سیرت میں منکر ومنقطع روایات اور جھوٹے اشعار شامل کردئے ہیں فلاس نے کہا میں نے یحیی قطان کو عبیدالله قواریری سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ کہاں جارہے ہو انہوں نے کہا وہب بن جریر کی طرف سیرت لکھنے کیلئے اس نے کہا تو وہاں بہت زیادہ جھوٹ لکھے گا ۱۲ منہ (ت)
عــــہ : اقول : یعنی درامثال باب تاباب احکام فاما دون اوکہ باب تساہل ست نقل معتمدی بسند است
اقول : یعنی یہ مثال مقام تاباب میں ہے اسکے علاوہ جو باب تساہل ہے کوئی ایك معتمد نقل سند کے ساتھ ہو
جملہ “ لعن الله من تخلف عنھا “ کتب اہل سنت میں ہرگز موجود نہیں شہرستانی نے الملل والنحل میں کہا کہ یہ جملہ موضوع اور جھوٹا ہے اور بعض فارسی لکھنے والوں نے خود کو محدثین اہلسنت ظاہر کیا ہے اور اہل اسنت کو الزام دینے کے لئے اپنی کتب میں اس جملہ کو شامل کردیا لیکن یہ قابل اعتبار نہیں اہلسنت کے ہاں حدیث وہی معتبر ہے جو محدثین کی کتب احادیث میں صحت کے ساتھ ثابت ہو ان کے ہاں بے سند حدیث ایسے ہی ہے جیسے بے مہار اونٹ جو کہ ہرگز ناقابل سماعت نہیں ۔ (ت)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
مالہ عندی ذنب الاماقد حشانی فی السیرۃ من الاشیاء المنکرۃ المنقطعۃ والاشعار المکذوبۃ قال الفلاس سمعت یحیی القطان یقول لعبیدالله القواریری الی این تذھب قال الی وھب بن جریر ا کتب السیرۃ قال تکتب کذبا کثیرا ۱۲ منہ (م)
انہوں نے کہا میرے نزدیك اس کا کوئی گناہ نہیں ماسوائے اس کے کہ انہوں نے سیرت میں منکر ومنقطع روایات اور جھوٹے اشعار شامل کردئے ہیں فلاس نے کہا میں نے یحیی قطان کو عبیدالله قواریری سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ کہاں جارہے ہو انہوں نے کہا وہب بن جریر کی طرف سیرت لکھنے کیلئے اس نے کہا تو وہاں بہت زیادہ جھوٹ لکھے گا ۱۲ منہ (ت)
عــــہ : اقول : یعنی درامثال باب تاباب احکام فاما دون اوکہ باب تساہل ست نقل معتمدی بسند است
اقول : یعنی یہ مثال مقام تاباب میں ہے اسکے علاوہ جو باب تساہل ہے کوئی ایك معتمد نقل سند کے ساتھ ہو
حوالہ / References
تحفہ اثناعشریہ باب دہم طعن سوم ازمطاعن ابی بکر مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۲۶۵
میزان الاعتدال ترجمہ نمبر ۷۱۹۷ محمد بن اسحاق دارالمعرفۃ بیروت ۱۳ / ۴۶۹
میزان الاعتدال ترجمہ نمبر ۷۱۹۷ محمد بن اسحاق دارالمعرفۃ بیروت ۱۳ / ۴۶۹
فائدہ ۳ : (اظہر یہی ہے کہ تفرد کذاب بھی مستلزم موضوعیت نہیں ) افادہ دہم دیکھیے جو حدیث ان پندرہ قرائن وضع سے منزہ ہو ہم نے اس کے بارے میں کلمات علماء تین طرز پر نقل کئے اصلا موضوع نہ کہیں گے تفرد کذاب ہوتو موضوع تفرد متہم ہو تو موضوع اور افادہ ۲۳ میں اشارہ کیا کہ ہمارے نزدیك مسلك اول قوی واقرب بصواب ہے افادہ ۱۰ میں امام سخاوی سے اس کی تصریح اور کلام علی قاری سے نظیر صریح ذکر کی دوسری نظیر صاف وسفید حدیث مرغ سپید کہ کلام علامہ مناوی سے افادہ ۲۳ میں گزری وہیں دلیل ثامن میں بشہادت حدیث وحکم عقل اس کی تقویت کا ایما کیا۔
والان اقول : یہی مذہب فقیر نے کلام امیرالمومنین فی الحدیث شعبہ بن طجاج سے استنباط کیا فائدہ تاسعہ میں آتا ہے کہ انہوں نے قسم کھاکر کہا ابان بن ابی عباس حدیث میں جھوٹ بولتا ہے پھر خود ابان سے حدیث سنی اس پر پوچھا گیا فرمایا اس حدیث سے کون صبر کرسکتا ہے معلوم ہوا کہ مطعون بالکذب کی ہر حدیث موضوع نہیں ورنہ اس کی طرف ایسی رغبت اور وہ بھی ایسے امام اجل سے چہ معنی۔
ثم اقول : اور فی الواقع یہی اظہر ہے کہ آخر الکذوب قدیصدق (جھوٹ بولنے والا بھی کبھی سچ کہتا ہے۔ ت) میں کلام نہیں اور یہ بھی مسلم کہ ایك شخص واحد کا روایت حدیث سے تفرد ممکن یہاں تك کہ غریب فرد میں صحیح حسن ضعیف بہ ضعف قریب وضعف شدید سب قسم کی حدیثیں مانی جاتی ہیں تو یہ کیوں نہیں ممکن کہ کبھی موسم بتکذیب بھی تفرد کرے اور اس حدیث خاص میں سچا ہو اس کے بطلان پر کیا دلیل قائم لاجرم یہی مذہب مہذب مقتضائے ارشادات امام ابن الصلاح وامام نووی وامام عراقی وامام قسطلانی وغیرہم اکابر ہے ان سب ائمہ نے موضوع کی یہی تعریف فرمائی کہ وہ حدیث کہ جو نری گھڑت اور افترا اور نبی عــــہ صلی الله تعالی علیہ وسلم پر جھوٹ بنائی گئی ہو علوم الحدیث امام ابوعمر وتقریب میں ہے : الموضوع ھوالمختلق المصنوع (موضوع وہ حدیث ہے جو من گھڑت اور بناوٹی ہو۔ ت)الفیہ میں ہے :
دگرچندبے سنداست چنانکہ در افادہ بست وہفتم تحقیق نمودیم خود شاہ صاحب درہچو مقام بہ بسیارے ازروایات بے سند استنادکردہ است کما لایخفی علی من طابع کتبہ وسر انجام است کہ کمال تحقیق ایں معنی در فائدہ اخیر کردیم ۱۲منہ(م)
عــــہ : بناء علی ان ماوضع علی غیرہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فیقال لہ الموضوع علی فلان ومطلقہ لایراد بہ الالکذب وعلی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم وعلیہ یبتنی مافی الارشاد وان طلقت فانت فی سعتہ منہ کماھو ظاھر کلام اخرین ۱۲ منہ (م)
دوسری چاہے بے سندہوں چنانچہ ستائیسویں ۲۷ افادہ میں ہم نے تحقیق کی ہے کہ خود شاہ صاحب نے اس جیسے مقام میں بہت روایات بے سند ذکر کی ہیں جیسا کہ اس پر مخفی نہیں جس نے ان کی کتب کا مطالعہ کیا ہے آخر کار اس معنی کی مکمل تحقیق میں نے آخری فائدہ میں کردی ہے ۱۲ منہ (ت)
اس بنا پر کہ اگر اس نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
والان اقول : یہی مذہب فقیر نے کلام امیرالمومنین فی الحدیث شعبہ بن طجاج سے استنباط کیا فائدہ تاسعہ میں آتا ہے کہ انہوں نے قسم کھاکر کہا ابان بن ابی عباس حدیث میں جھوٹ بولتا ہے پھر خود ابان سے حدیث سنی اس پر پوچھا گیا فرمایا اس حدیث سے کون صبر کرسکتا ہے معلوم ہوا کہ مطعون بالکذب کی ہر حدیث موضوع نہیں ورنہ اس کی طرف ایسی رغبت اور وہ بھی ایسے امام اجل سے چہ معنی۔
ثم اقول : اور فی الواقع یہی اظہر ہے کہ آخر الکذوب قدیصدق (جھوٹ بولنے والا بھی کبھی سچ کہتا ہے۔ ت) میں کلام نہیں اور یہ بھی مسلم کہ ایك شخص واحد کا روایت حدیث سے تفرد ممکن یہاں تك کہ غریب فرد میں صحیح حسن ضعیف بہ ضعف قریب وضعف شدید سب قسم کی حدیثیں مانی جاتی ہیں تو یہ کیوں نہیں ممکن کہ کبھی موسم بتکذیب بھی تفرد کرے اور اس حدیث خاص میں سچا ہو اس کے بطلان پر کیا دلیل قائم لاجرم یہی مذہب مہذب مقتضائے ارشادات امام ابن الصلاح وامام نووی وامام عراقی وامام قسطلانی وغیرہم اکابر ہے ان سب ائمہ نے موضوع کی یہی تعریف فرمائی کہ وہ حدیث کہ جو نری گھڑت اور افترا اور نبی عــــہ صلی الله تعالی علیہ وسلم پر جھوٹ بنائی گئی ہو علوم الحدیث امام ابوعمر وتقریب میں ہے : الموضوع ھوالمختلق المصنوع (موضوع وہ حدیث ہے جو من گھڑت اور بناوٹی ہو۔ ت)الفیہ میں ہے :
دگرچندبے سنداست چنانکہ در افادہ بست وہفتم تحقیق نمودیم خود شاہ صاحب درہچو مقام بہ بسیارے ازروایات بے سند استنادکردہ است کما لایخفی علی من طابع کتبہ وسر انجام است کہ کمال تحقیق ایں معنی در فائدہ اخیر کردیم ۱۲منہ(م)
عــــہ : بناء علی ان ماوضع علی غیرہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فیقال لہ الموضوع علی فلان ومطلقہ لایراد بہ الالکذب وعلی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم وعلیہ یبتنی مافی الارشاد وان طلقت فانت فی سعتہ منہ کماھو ظاھر کلام اخرین ۱۲ منہ (م)
دوسری چاہے بے سندہوں چنانچہ ستائیسویں ۲۷ افادہ میں ہم نے تحقیق کی ہے کہ خود شاہ صاحب نے اس جیسے مقام میں بہت روایات بے سند ذکر کی ہیں جیسا کہ اس پر مخفی نہیں جس نے ان کی کتب کا مطالعہ کیا ہے آخر کار اس معنی کی مکمل تحقیق میں نے آخری فائدہ میں کردی ہے ۱۲ منہ (ت)
اس بنا پر کہ اگر اس نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
حوالہ / References
تقریب النواوی مع شرح تدریب الراوی النوع الحادی والعشرون مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ ۱ / ۲۷۴
کے علاوہ کسی دوسرے پر جھوٹ گھڑا ہوتو اسے “ موضوع علی فلاں “ کہا جاتا ہے اور جب مطلقا ذکر ہوتو اس وقت حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر ہی جھوٹ مراد ہوگا جو ارشاد میں ہے اس کی بنا اسی پر ہے اگر آپ اس کو مطلق ذکر کریں تو آپ کو اس میں گنجائش ہے جیسا کہ دوسروں کے کلام سے ظاہر ہے ۱۲ منہ (ت)
شرالضعیف الخیر الموضوع
الکذب المختلق المصنوع
(ضعیف کی بدترین قسم خبر موضوع ہے جو جھوٹ ہو گھڑی گئی ہو اور بناوٹی ہو۔ ت)
ارشاد الساری میں ہے :
الموضوع ھوالکذب علی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ویسمی المختلق ۔
موضوع وہ حدیث ہے جو نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر جھوٹ گھڑاگیا ہو اسے مختلق بھی کہتے ہیں ۔ (ت)
ہاں اس میں کلام نہیں کہ حکم وضع کبھی قطعی ہوتا ہے کبھی ظنی جیسا کہ ہم نے شمار قرائن میں تبدیل اسلوب عبارت سے اس کی طرف اشارہ کیا اور حدیث مطعون بالکذب کو موضوع کہنے والے بھی اس کی موضوعیت بالیقین کا دعوی نہیں فرماتے بلکہ وضع ظنی میں رکھتے ہیں کماصرح بہ شیخ الاسلام فی النزھۃ (جیسا کہ شیخ الاسلام نے نزہۃ النظر میں اس کی تصریح کی ہے۔ ت) شیخ محقق دہلوی قدس سرہ القوی مقدمہ لمعات التنقیح میں فرماتے ہیں :
حدیث المطعون بالکذب یسمی موضوعا ومن ثبت عنہ تعمد الکذب فی الحدیث وان کان وقوعہ مرۃ لم یقبل حدیثہ ابدا فالمراد بالموضوع فی اصطلاح المحدثین ھذا لا انہ ثبت کذبہ وعلم ذلك فی ھذا الحدیث بخصوصہ والمسألۃ ظنیۃ والحکم بالوضع والافتراء بحکم الظن الغالب اھ ملخصا
ایسے راوی کی حدیث جس پر کذب کا طعن ہو موضوع کہلاتی
عــــہ : حال التفصی عن ھذا فی المیزان بقولہ قلت ومایدری ھشام بن عروۃ فلعلہ سمع منھا فی المسجد اوسمع منھا وھو صبی اودخل علیھا فحدثتہ من وراء حجاب فای شیئ فی ھذا وقدکانت امرأۃ قدکبرت واسنت اھ۔
اس سے خلاصی میزان میں ان کے اس قول سے ہوجاتی ہے : میں کہتا ہوں ہشام بن عروہ کیا جانے شاید انہوں نے اس سے مسجد میں سنا یا اس وقت اس سے سنا جب وہ بچے تھے یا وہ اس کے پاس گئے ہوں تو اس خاتون نے پردے کے پیچھے سے بیان کیا ہو کیا معلوم کہ ان میں سے کون سی صورت ہے حالانکہ وہ خاتون بوڑھی اور سن والی ہوچکی تھی (صاحب فتنہ نہ تھی) اھ
شرالضعیف الخیر الموضوع
الکذب المختلق المصنوع
(ضعیف کی بدترین قسم خبر موضوع ہے جو جھوٹ ہو گھڑی گئی ہو اور بناوٹی ہو۔ ت)
ارشاد الساری میں ہے :
الموضوع ھوالکذب علی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ویسمی المختلق ۔
موضوع وہ حدیث ہے جو نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر جھوٹ گھڑاگیا ہو اسے مختلق بھی کہتے ہیں ۔ (ت)
ہاں اس میں کلام نہیں کہ حکم وضع کبھی قطعی ہوتا ہے کبھی ظنی جیسا کہ ہم نے شمار قرائن میں تبدیل اسلوب عبارت سے اس کی طرف اشارہ کیا اور حدیث مطعون بالکذب کو موضوع کہنے والے بھی اس کی موضوعیت بالیقین کا دعوی نہیں فرماتے بلکہ وضع ظنی میں رکھتے ہیں کماصرح بہ شیخ الاسلام فی النزھۃ (جیسا کہ شیخ الاسلام نے نزہۃ النظر میں اس کی تصریح کی ہے۔ ت) شیخ محقق دہلوی قدس سرہ القوی مقدمہ لمعات التنقیح میں فرماتے ہیں :
حدیث المطعون بالکذب یسمی موضوعا ومن ثبت عنہ تعمد الکذب فی الحدیث وان کان وقوعہ مرۃ لم یقبل حدیثہ ابدا فالمراد بالموضوع فی اصطلاح المحدثین ھذا لا انہ ثبت کذبہ وعلم ذلك فی ھذا الحدیث بخصوصہ والمسألۃ ظنیۃ والحکم بالوضع والافتراء بحکم الظن الغالب اھ ملخصا
ایسے راوی کی حدیث جس پر کذب کا طعن ہو موضوع کہلاتی
عــــہ : حال التفصی عن ھذا فی المیزان بقولہ قلت ومایدری ھشام بن عروۃ فلعلہ سمع منھا فی المسجد اوسمع منھا وھو صبی اودخل علیھا فحدثتہ من وراء حجاب فای شیئ فی ھذا وقدکانت امرأۃ قدکبرت واسنت اھ۔
اس سے خلاصی میزان میں ان کے اس قول سے ہوجاتی ہے : میں کہتا ہوں ہشام بن عروہ کیا جانے شاید انہوں نے اس سے مسجد میں سنا یا اس وقت اس سے سنا جب وہ بچے تھے یا وہ اس کے پاس گئے ہوں تو اس خاتون نے پردے کے پیچھے سے بیان کیا ہو کیا معلوم کہ ان میں سے کون سی صورت ہے حالانکہ وہ خاتون بوڑھی اور سن والی ہوچکی تھی (صاحب فتنہ نہ تھی) اھ
حوالہ / References
الفیۃ الحدیث مع فتح المغیث بحث الموضوع دارالامام الطبری بیروت ۱ / ۲۹۳
ارشاد الساری شرح البخاری الفصل الثالث فی نبذۃ لطیفۃ الخ مطبوعہ دارالکتاب العربیہ ۱ / ۱۳
لمعات التنقیح شرح المشکوٰۃ فصل فی العدالۃ الخ مطبوعہ المعارف العلمیۃ لاہور ۱ / ۲۷
میزان الاعتدال ترجمہ ۷۱۹۷ محمد بن اسحاق مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۳ / ۴۷۰
ارشاد الساری شرح البخاری الفصل الثالث فی نبذۃ لطیفۃ الخ مطبوعہ دارالکتاب العربیہ ۱ / ۱۳
لمعات التنقیح شرح المشکوٰۃ فصل فی العدالۃ الخ مطبوعہ المعارف العلمیۃ لاہور ۱ / ۲۷
میزان الاعتدال ترجمہ ۷۱۹۷ محمد بن اسحاق مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۳ / ۴۷۰
ہے اور ایسا شخص جس سے حدیث میں عمدہ جھوٹ ثابت ہوجائے خواہ وہ ایك ہی دفعہ ہو اس کی حدیث ہمیشہ قبول نہیں کی جائے گی تو اصطلاح محدثین میں موضوع سے مراد یہی ہے یہ نہیں کہ اس خاص حدیث میں اس کا جھوٹ ثابت ومعلوم ہو اور چونکہ مسئلہ ظنی ہے لہذا وضع وافترا کا حکم ظن غالب کی بنا پر ہوگا اھ ملخصا (ت)
اقول : مگر محل تامل یہی ہے کہ مجرد کذب فی بعض الاحادیث سے کہ معاذالله کسی طمع دینا یا تائید مذہب فاسد یا غضب وربخش وغیرہا کے باعث ہو ظن غالب ہوجائے کہ اب جتنی حدیثوں میں یہ متفرد ہو سب میں وضع وافترا ہی کرے گا اگرچہ وہاں کوئی طمع وغیرہ غرض فاسد نہ ہو شاہد زور اگر کسی طمع یا عداوت سے ایك جگہ غلط گواہی دی تو اس کی سب گواہیاں مردود ضرور ہوں گی کہ فاسق ہے مگر بے لاگ جگہ میں خواہی نخواہی یہ ظن غالب نہ ہوگا کہ یہاں بھی جھوٹ ہی کہہ رہا ہے وجدان صحیح اس پر شہادت کو بس ہے اور اگر سند ہی چاہئے تو امام ائمہ الشان محمد بن اسمعیل بخاری علیہ رحمۃ الباری کا ارشاد سنیے محمد بن اسحاق صاحب سیرت ومغازی کو ہشام بن عروہ پھر امام مالك پھر وہب پھر یحیی بن قطان نے کذاب کہا
اخرجہ عــــہ ابن عدی عن ابی بشر الدولابی ومحمد بن جعفر بن یزید عن ابی قلابۃ الرقاشی ثنی ابوداؤد سلیمن بن داؤد قال قال یحیی القطان اشھد ان محمد بن اسحق کذاب قلت ومایدریك قال قال لی وھیب فقلت لوھیب ومایدرک قال قال لی مالك بن انس فقلت لمالك ومایدریک قال قال لی ھشام بن عروۃ قلت لھشام بن عروۃ ومایدریک قال حدث عن امرأتی فاطمۃ بنت المنذر وادخلت علی وھی بنت تسع وماراھا رجل حتی بقیت الله تعالی ۔
ابن عدی نے ابوبشر دولابی سے اور محمد بن جعفر بن یزید نے ابو قلابہ رقاشی سے وہ کہتے ہیں مجھے ابوداؤد سلیمن داؤد نے بیان کیا کہ یحیی القطان نے بیان کیا کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد بن اسحق کذاب ہے میں نے عرض کیا تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا کہا مجھے وہیب نے بتایا میں نے وہیب سے پوچھا کہ آپ کو کیسے معلوم ہے انہوں نے کہا مجھے مالك بن انس نے بتایا تھا تو میں نے مالك سے پوچھا آپ کو کیسے علم ہے انہوں نے کہا مجھے ہشام بن عروہ نے بتایا تھا۔ میں نے ہشام بن عروہ سے کہا کہ آپ کو اس بات کا کیسے علم ہے انہوں نے کہا اس نے میری اہلیہ فاطمہ بنت منذر سے حدیث بیان کی ہے اور ان کی شادی میرے ساتھ نوسال کی عمر میں ہوئی اور اس نے کسی آدمی کو نہیں دیکھا یہاں تك کہ اس کا وصال ہوگیا۔ (ت)
اقول : مگر محل تامل یہی ہے کہ مجرد کذب فی بعض الاحادیث سے کہ معاذالله کسی طمع دینا یا تائید مذہب فاسد یا غضب وربخش وغیرہا کے باعث ہو ظن غالب ہوجائے کہ اب جتنی حدیثوں میں یہ متفرد ہو سب میں وضع وافترا ہی کرے گا اگرچہ وہاں کوئی طمع وغیرہ غرض فاسد نہ ہو شاہد زور اگر کسی طمع یا عداوت سے ایك جگہ غلط گواہی دی تو اس کی سب گواہیاں مردود ضرور ہوں گی کہ فاسق ہے مگر بے لاگ جگہ میں خواہی نخواہی یہ ظن غالب نہ ہوگا کہ یہاں بھی جھوٹ ہی کہہ رہا ہے وجدان صحیح اس پر شہادت کو بس ہے اور اگر سند ہی چاہئے تو امام ائمہ الشان محمد بن اسمعیل بخاری علیہ رحمۃ الباری کا ارشاد سنیے محمد بن اسحاق صاحب سیرت ومغازی کو ہشام بن عروہ پھر امام مالك پھر وہب پھر یحیی بن قطان نے کذاب کہا
اخرجہ عــــہ ابن عدی عن ابی بشر الدولابی ومحمد بن جعفر بن یزید عن ابی قلابۃ الرقاشی ثنی ابوداؤد سلیمن بن داؤد قال قال یحیی القطان اشھد ان محمد بن اسحق کذاب قلت ومایدریك قال قال لی وھیب فقلت لوھیب ومایدرک قال قال لی مالك بن انس فقلت لمالك ومایدریک قال قال لی ھشام بن عروۃ قلت لھشام بن عروۃ ومایدریک قال حدث عن امرأتی فاطمۃ بنت المنذر وادخلت علی وھی بنت تسع وماراھا رجل حتی بقیت الله تعالی ۔
ابن عدی نے ابوبشر دولابی سے اور محمد بن جعفر بن یزید نے ابو قلابہ رقاشی سے وہ کہتے ہیں مجھے ابوداؤد سلیمن داؤد نے بیان کیا کہ یحیی القطان نے بیان کیا کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد بن اسحق کذاب ہے میں نے عرض کیا تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا کہا مجھے وہیب نے بتایا میں نے وہیب سے پوچھا کہ آپ کو کیسے معلوم ہے انہوں نے کہا مجھے مالك بن انس نے بتایا تھا تو میں نے مالك سے پوچھا آپ کو کیسے علم ہے انہوں نے کہا مجھے ہشام بن عروہ نے بتایا تھا۔ میں نے ہشام بن عروہ سے کہا کہ آپ کو اس بات کا کیسے علم ہے انہوں نے کہا اس نے میری اہلیہ فاطمہ بنت منذر سے حدیث بیان کی ہے اور ان کی شادی میرے ساتھ نوسال کی عمر میں ہوئی اور اس نے کسی آدمی کو نہیں دیکھا یہاں تك کہ اس کا وصال ہوگیا۔ (ت)
حوالہ / References
میزان الاعتدال ترجمہ ۷۱۹۷ محمد بن اسحٰق مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۳ / ۴۷۱ ، الکامل فی ضعفا الرجال ترجمہ محمد اسحاق دارالفکر بیروت ۷ / ۲۱۱۷
ثم قال افبمثل ھذا یعتمد علی تکذیب رجل من اھل العلم ھذا مردود ثم قدروی عنھا محمد بن سوقۃ الخ اقول : لقائل ان یقول ان الحفاظ الناقدین ربنما یعرفون کذب الرجل بقرائن تلوح لھم ولقد نری قوما من الائمۃ یکذبون رجلا ولایذکرون من السبب الاماھو قاصر عندنا لعدم علمنا بالقرائن فتبدولنا احتمالات شیئ لعل الامرکذا عسی ان کذا وھی جمیعا مندفعۃ عندھم نص علی ذلك الامام النووی فی مواضع من شرحہ صحیح مسلم فقال ھنا قاعدۃ ننبہ علیھا ثم نحیل علیھا فیما بعد ان شاء الله تعالی وھی ان عفان رحمہ الله تعالی قال انما ابتلیج ھشام (ھو ابن زیاد الاموی) یعنی انما ضعفوہ من قبل ھذا الحدیث کان یقول حدثنی یحیی عن محمد ثم ادعی بعد انہ سمعہ من محمدہ وھذا القدر وحدہ لایقتضی ضعفا لانہ لیس فیہ تصریح بکذب لاحتمال انہ سمعہ من محمد
پھر کہا : کیا اس طرح کی صورت میں اہل علم شخص کو جھوٹا قرار دینا درست ہے یہ مردود ہے (درست نہیں ) پھر اس سے محمد بن سوقہ نے بھی روایت لی ہے الخ اقول : (میں کہتا ہوں ) قائل کے لئے یہ کہنا جائز ہے کہ حفاظ ناقدین بعض اوقات کسی آدمی کا جھوٹ قرائن کی وجہ سے جانتے ہوتے ہیں اور ہم ائمہ کی ایك ایسی جماعت کا علم رکھتے ہیں جس نے کسی شخص کو جھوٹا کہا مگر سب ذکر نہ کیا صرف وہ ہے جو ہمارے نزدیك قاصر ہے کیونکہ ان قرائن کو نہیں جانتے تو ہمارے لئے متعدد احتمالات ظاہر ہوں گے شاید یہ ہویا یہ ہو اور وہ تمام ان کے ہاں مدفوع ہوں اس پر امام نووی نے اپنی شرح صحیح مسلم میں کئی جگہ تصریح کی ہے اور کہا کہ یہاں ایك قاعدہ ہے جس پر ہم تنبیہ کرتے ہیں ۔ اگر الله تعالی نے چاہا اس پر حوالہ دیں گے اور وہ یہ ہے کہ عفان رحمۃ اللہ تعالی علیہنے بیان کیا کہ ہشام (ابن زیاد اموی) مبتلا ہوئے یعنی اس حدیث کی وجہ سے ان کو لوگوں نے ضعیف کہا جس کے متعلق وہ کہتے تھے مجھے یحیی نے محمد سے بیان کیا پھر دعوی کیا کہ اس نے یہ محمد سے روایت سنی ہے اور صرف یہ چیز ضعف کا تقاضا نہیں کرتی کیونکہ اس میں کذب صراحۃ نہیں ہے ممکن ہے اس نے محمد سے سنا ہو
پھر کہا : کیا اس طرح کی صورت میں اہل علم شخص کو جھوٹا قرار دینا درست ہے یہ مردود ہے (درست نہیں ) پھر اس سے محمد بن سوقہ نے بھی روایت لی ہے الخ اقول : (میں کہتا ہوں ) قائل کے لئے یہ کہنا جائز ہے کہ حفاظ ناقدین بعض اوقات کسی آدمی کا جھوٹ قرائن کی وجہ سے جانتے ہوتے ہیں اور ہم ائمہ کی ایك ایسی جماعت کا علم رکھتے ہیں جس نے کسی شخص کو جھوٹا کہا مگر سب ذکر نہ کیا صرف وہ ہے جو ہمارے نزدیك قاصر ہے کیونکہ ان قرائن کو نہیں جانتے تو ہمارے لئے متعدد احتمالات ظاہر ہوں گے شاید یہ ہویا یہ ہو اور وہ تمام ان کے ہاں مدفوع ہوں اس پر امام نووی نے اپنی شرح صحیح مسلم میں کئی جگہ تصریح کی ہے اور کہا کہ یہاں ایك قاعدہ ہے جس پر ہم تنبیہ کرتے ہیں ۔ اگر الله تعالی نے چاہا اس پر حوالہ دیں گے اور وہ یہ ہے کہ عفان رحمۃ اللہ تعالی علیہنے بیان کیا کہ ہشام (ابن زیاد اموی) مبتلا ہوئے یعنی اس حدیث کی وجہ سے ان کو لوگوں نے ضعیف کہا جس کے متعلق وہ کہتے تھے مجھے یحیی نے محمد سے بیان کیا پھر دعوی کیا کہ اس نے یہ محمد سے روایت سنی ہے اور صرف یہ چیز ضعف کا تقاضا نہیں کرتی کیونکہ اس میں کذب صراحۃ نہیں ہے ممکن ہے اس نے محمد سے سنا ہو
حوالہ / References
میزان الاعتدال ترجمہ ۷۱۹۷ محمد بن اسحٰق مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۳ / ۴۷۱
ثم نسیہ فحدث عن یحیی عنہ ثم ذکر سماعہ من محمد فرواہ عنہ ولکن انضم الی ھذا قرائن وامور اقتضت عندالعلماء بھذا الفن الحذاق فیہ المبرزین من اھلہ العارفین بدقائق احوال رواتہ انہ لم یسمعہ من محمد فحکموا بذلك لماقامت لدلائل الظاھرۃ عندھم بذلك وسیاق بعد ھذا اشیاء کثیرۃ من اقوال الائمۃ فی الجرح بنحو ھذا وکلھا یقال فیھا ماقلنا ھنا والله تعالی اعلم اھ۔ وقال بعد ذلك معنی ھذا الکلام ان الحسن بن عمارۃ کذب فروی ھذا الحدیث عن الحکم عن یحیی عن علی وانما ھو عن الحسن البصری من قولہ وقد قدمنا ان مثل ھذا وان کان یحتمل کونہ جاء عن الحسن وعن علی لکن الحفاظ یعرفون کذب الکاذبین بقرائن وقدیعرفون ذلك بدلائل قطعیۃ یعرفھا اھل ھذا الفن فقولھم مقبول فی کل ھذا اھ۔
پھر بھول گیا ہو پھر ہشام نے یحیی سے حدیث بیان کی ہو پھر یحیی کو محمد سے سماع یاد آیا تو دونوں نے محمد کے حوالے سے روایت بیان کی ہو لیکن اس فن کے ماہرین اور اس کے راویوں کے دقیق اصول پہچاننے والوں پر ایسے قرائن آشکار ہوئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے محمد سے نہیں سنا جب ان کے ہاں اس پر دلائل ظاہری قائم ہوگئے تو اب انہوں نے یہ فیصلہ دے دیا کہ ہشام نے محمد سے نہیں سنا اور اس کے بعد عنقریب ائمہ کے اقوال میں اسی طرح سے کثرت کے ساتھ جرح کا ذکر آئے گا ان سب میں وہی بات کہی جائے گی جو ہم نے یہاں کہہ دی ہے والله تعالی اعلم اھ۔ اور اس کے بعد کہا کہ اس کلام کا معنی یہ ہے کہ حسن بن عمارہ نے جھوٹ بولتے ہوئے اس حدیث کو حکم از یحیی ازعلی روایت کیا حالانکہ وہ حسن بصری سے ان کے قول سے مروی ہے اور ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ اس کی مثل یہ ہے اگرچہ اس میں یہ احتمال ہے کہ وہ حسن سے اور علی سے ہو لیکن اس فن کے حفاظ قرائن سے جھوٹوں کے جھوٹ سے آگاہ ہوجاتے ہیں اور اس کو وہ ایسے دلائل قطعیہ سے جان لیتے ہیں جن کو صرف اہل فن ہی پہچانتے ہیں لہذا ان کا فیصلہ ان تمام میں مقبول ہوگا اھ۔
پھر بھول گیا ہو پھر ہشام نے یحیی سے حدیث بیان کی ہو پھر یحیی کو محمد سے سماع یاد آیا تو دونوں نے محمد کے حوالے سے روایت بیان کی ہو لیکن اس فن کے ماہرین اور اس کے راویوں کے دقیق اصول پہچاننے والوں پر ایسے قرائن آشکار ہوئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے محمد سے نہیں سنا جب ان کے ہاں اس پر دلائل ظاہری قائم ہوگئے تو اب انہوں نے یہ فیصلہ دے دیا کہ ہشام نے محمد سے نہیں سنا اور اس کے بعد عنقریب ائمہ کے اقوال میں اسی طرح سے کثرت کے ساتھ جرح کا ذکر آئے گا ان سب میں وہی بات کہی جائے گی جو ہم نے یہاں کہہ دی ہے والله تعالی اعلم اھ۔ اور اس کے بعد کہا کہ اس کلام کا معنی یہ ہے کہ حسن بن عمارہ نے جھوٹ بولتے ہوئے اس حدیث کو حکم از یحیی ازعلی روایت کیا حالانکہ وہ حسن بصری سے ان کے قول سے مروی ہے اور ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ اس کی مثل یہ ہے اگرچہ اس میں یہ احتمال ہے کہ وہ حسن سے اور علی سے ہو لیکن اس فن کے حفاظ قرائن سے جھوٹوں کے جھوٹ سے آگاہ ہوجاتے ہیں اور اس کو وہ ایسے دلائل قطعیہ سے جان لیتے ہیں جن کو صرف اہل فن ہی پہچانتے ہیں لہذا ان کا فیصلہ ان تمام میں مقبول ہوگا اھ۔
حوالہ / References
شرح الصحیح لمسلم باب بیان الاسناد الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴
شرح الصحیح لمسلم باب بیان الاسناد الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۷
شرح الصحیح لمسلم باب بیان الاسناد الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۷
اماقولك افبمثل ھذا یعتمد الخ اقول : افترا علی ھولاء الائمۃ الجلۃ الاعاظم یشھدون جزافا من دون ثبت ثم ھذا کلہ انما ذکرناہ لیعرف ان الذھبی کیف یحتال للذب عن قدری امرہ قدظھر واذاوقع بسنی اشعری اوولی الله صوفی صارلایبقی ولایذرکما بینہ تلمیذہ الامام تاج الدین السبکی رحمہ الله تعالی فی الطبقات والافا الراجح عند علمائنا ایضا ھو توثیق ابن اسحق کماسنذکرہ ان شاء الله تعالی والله تعالی اعلم ۱۲ منہ (م)
رہا تیرا قول : افبمثلہ ھذا یعتمد الخ اقول : یہ ان عظیم ائمہ پر اسی بات کا افترا ہے کہ وہ اندازے سے کام لیتے ہیں تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ ذہبی نے کس حیلہ سے قدری سے کذب کیا جس کا معاملہ واضح تھا اور جس وقت یہ معاملہ کسی سخی اشعری یا کسی ولی الله صوفی کو رد کیا ہوتو وہ نہ چھوڑے نہ باقی رہنے دے جیسے کہ ان کے شاگرد امام تاج الدین سبکی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے طبقات میں اس کو بیان کیا ہے ورنہ ہمارے ہاں بھی راجح یہی ہے کہ ابن اسحق ثقہ ہیں جیسا کہ عنقریب ہم اسے بیان کریں گے۔ (ت)
رہا تیرا قول : افبمثلہ ھذا یعتمد الخ اقول : یہ ان عظیم ائمہ پر اسی بات کا افترا ہے کہ وہ اندازے سے کام لیتے ہیں تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ ذہبی نے کس حیلہ سے قدری سے کذب کیا جس کا معاملہ واضح تھا اور جس وقت یہ معاملہ کسی سخی اشعری یا کسی ولی الله صوفی کو رد کیا ہوتو وہ نہ چھوڑے نہ باقی رہنے دے جیسے کہ ان کے شاگرد امام تاج الدین سبکی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے طبقات میں اس کو بیان کیا ہے ورنہ ہمارے ہاں بھی راجح یہی ہے کہ ابن اسحق ثقہ ہیں جیسا کہ عنقریب ہم اسے بیان کریں گے۔ (ت)
امام بخاری عــــہ۱ جزء القرأۃ خلف الامام میں توثیق عــــہ۲ ابن اسحق ثابت فرمانے کو اس سے جواب دیتے ہیں :
رأیت علی بن عبدالله یحتج بحدیث ابن اسحاق وقال علی عن ابن عیینۃ مارأیت احدا یتھم محمد بن اسحاق (الی ان قال) ولوصح عن مالک تناولہ عن ابن اسحاق فلم بماتکلم الانسان فیرمی صاحبہ بشیئ واحد ولایتھمہ فی الامور کلھا الخ
میں نے علی بن عبدالله کو حدیث ابن اسحاق سے استدلال کرتے ہوئے پایا ہے اور علی ابن عینیہ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا جو محمد بن اسحق پر اتہام کرتا ہو (آگے چل کر کہا) اور اگر امام مالك سے ابن اسحاق کے بارے میں جو کچھ منقول ہے وہ صحیح ہوتو اکثر ہوتا رہتا ہے کہ ایك آدمی دوسرے پر کسی ایك بات میں طعن کرتا ہے اور باقی تمام امور میں اس پر تہمت نہیں لگاتا الخ (ت)
عــــہ۱ : نقلہ زیلعی فی نصب الرایۃ قبیل کتاب الخنثی ۱۲ منہ (م)
جیسے کہ زیلعی نے نصب الرایۃ میں کتاب الخنثی سے تھوڑا پہلے اس کو ذکر کیا ہے۔ (ت)
عــــہ۲ : ہمارے علمائے کرام قدست اسرارہم کے نزدیك بھی راجح محمد بن اسحاق کی توثیق ہی ہے محقق علی الاطلاق فتح میں زیر مسئلہ یستحب تعجیل المغرب فرماتے ہیں :
توثیق ابن اسحاق ھو الحق الابلج ومانقل عن کلام المالك فیہ لایثبت ولوصح لم یقبلہ ھل العلم کیف وقدقال شعبۃ فیہ ھو امیرالمؤمنین فی الحدیث وروی عنہ مثل الثوری وابن ادریس وحماد بن زید ویزید بن زریع وبن علیۃ وعبدالوارث وابن المبارك واحتملہ احمد وابن معین وعامۃ اھل حدیث غفرالله تعالی لھم وقداطال البخاری فی توثیقہ فی کتاب القرأۃ خلف الامام لہ وذکرہ ابن حبان فی الثقات وان مالکا رجع عن الکلام فی ابن اسحاق واصطلح معہ وبعث الیہ ھدیۃ ذکرھا اھ ۱۲ منہ (م)
ابن اسحاق کی توثیق ہی واضح اور حق ہے اور امام مالك کا ان کے بارے میں جو قول منقول ہے وہ ثابت نہیں اگر وہ ثابت بھی ہو تب بھی اہل علم کے ہاں قابل قبول نہیں ایسا کیونکر ہو حالانکہ شعبہ نے ان کے بارے میں امیرالمومنین فی الحدیث کہا اور ان سے ثوری ابن ادریس حمادبن زید یزید بن زریع ابن علیہ عبدالوارث اور ابن مبارك جیسے محدثین نے روایت لی ہے اور احمد ابن معین اور اکثر محدثین (رحمہم اللہ تعالی) نے ان کے بارے میں (عدم توثیق کا) احتمال غیر یقینی طور پر بیان کیا۔ امام بخاری نے اپنی کتاب القرأۃ خلف الامام میں ان کی توثیق کے بارے میں طویل گفتگو کی ہے۔ ابن حبان نے ثقات میں ان کا ذکر کیا اور یہ کہ امام مالك نے ابن اسحق کے بارے میں اپنے قول سے رجوع کرلیا ان کے ساتھ متفق ہوگئے اور ان کے پاس ہدیہ ارسال کیا جس کا انہوں نے تذکرہ کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
رأیت علی بن عبدالله یحتج بحدیث ابن اسحاق وقال علی عن ابن عیینۃ مارأیت احدا یتھم محمد بن اسحاق (الی ان قال) ولوصح عن مالک تناولہ عن ابن اسحاق فلم بماتکلم الانسان فیرمی صاحبہ بشیئ واحد ولایتھمہ فی الامور کلھا الخ
میں نے علی بن عبدالله کو حدیث ابن اسحاق سے استدلال کرتے ہوئے پایا ہے اور علی ابن عینیہ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا جو محمد بن اسحق پر اتہام کرتا ہو (آگے چل کر کہا) اور اگر امام مالك سے ابن اسحاق کے بارے میں جو کچھ منقول ہے وہ صحیح ہوتو اکثر ہوتا رہتا ہے کہ ایك آدمی دوسرے پر کسی ایك بات میں طعن کرتا ہے اور باقی تمام امور میں اس پر تہمت نہیں لگاتا الخ (ت)
عــــہ۱ : نقلہ زیلعی فی نصب الرایۃ قبیل کتاب الخنثی ۱۲ منہ (م)
جیسے کہ زیلعی نے نصب الرایۃ میں کتاب الخنثی سے تھوڑا پہلے اس کو ذکر کیا ہے۔ (ت)
عــــہ۲ : ہمارے علمائے کرام قدست اسرارہم کے نزدیك بھی راجح محمد بن اسحاق کی توثیق ہی ہے محقق علی الاطلاق فتح میں زیر مسئلہ یستحب تعجیل المغرب فرماتے ہیں :
توثیق ابن اسحاق ھو الحق الابلج ومانقل عن کلام المالك فیہ لایثبت ولوصح لم یقبلہ ھل العلم کیف وقدقال شعبۃ فیہ ھو امیرالمؤمنین فی الحدیث وروی عنہ مثل الثوری وابن ادریس وحماد بن زید ویزید بن زریع وبن علیۃ وعبدالوارث وابن المبارك واحتملہ احمد وابن معین وعامۃ اھل حدیث غفرالله تعالی لھم وقداطال البخاری فی توثیقہ فی کتاب القرأۃ خلف الامام لہ وذکرہ ابن حبان فی الثقات وان مالکا رجع عن الکلام فی ابن اسحاق واصطلح معہ وبعث الیہ ھدیۃ ذکرھا اھ ۱۲ منہ (م)
ابن اسحاق کی توثیق ہی واضح اور حق ہے اور امام مالك کا ان کے بارے میں جو قول منقول ہے وہ ثابت نہیں اگر وہ ثابت بھی ہو تب بھی اہل علم کے ہاں قابل قبول نہیں ایسا کیونکر ہو حالانکہ شعبہ نے ان کے بارے میں امیرالمومنین فی الحدیث کہا اور ان سے ثوری ابن ادریس حمادبن زید یزید بن زریع ابن علیہ عبدالوارث اور ابن مبارك جیسے محدثین نے روایت لی ہے اور احمد ابن معین اور اکثر محدثین (رحمہم اللہ تعالی) نے ان کے بارے میں (عدم توثیق کا) احتمال غیر یقینی طور پر بیان کیا۔ امام بخاری نے اپنی کتاب القرأۃ خلف الامام میں ان کی توثیق کے بارے میں طویل گفتگو کی ہے۔ ابن حبان نے ثقات میں ان کا ذکر کیا اور یہ کہ امام مالك نے ابن اسحق کے بارے میں اپنے قول سے رجوع کرلیا ان کے ساتھ متفق ہوگئے اور ان کے پاس ہدیہ ارسال کیا جس کا انہوں نے تذکرہ کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
نصب الرایۃ لاحادیث الہدایۃ آخر کتاب الوصایا مطبوعہ المکتبۃ الاسلامیہ لصاحبہا الحاج ریاض الشیخ ۴ / ۴۱۶
حاشیہ فتحہ القدیر فصل فی استحباب التعجیل مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۰۰
حاشیہ فتحہ القدیر فصل فی استحباب التعجیل مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۰۰
دیکھو صاف تصریح ہے کہ ایك جگہ کاذب پانے سے ہر جگہ مہتم سمجھنا لازم نہیں لاجرم امام ابن عراق تنزیہ الشریعۃ میں فرماتے ہیں :
قال الزرکشی فی نکتہ علی ابن الصلاح بین قولنا موضوع وقولنا لایصح بون کبیر فان الاول اثبات الکذب والاختلاق والثانی اخبار عن عدم الثبوت ولایلزم منہ اثبات العدم وھذا یجیئ فی کل حدیث قال فیہ ابن الجوزی لایصح ونحوہ قلت وکان نکتۃ تعبیرہ بذلك حیث عبربہ انہ لم یلح لہ فی الحدیث قرینۃ تدل علی انہ موضوع غایۃ الامرانہ احتمل عندہ ان یکون موضوعا لانہ من طریق متروك اوکذاب وھذا انما یتم عندتفرد الکذاب اوالمتھم علی ان الحافظ ابن حجر خص ھذا فی النخبۃ باسم المتروك ولم ینظمہ فی مسلك الموضوع ۔
زرکشی نے اپنی نکت علی ابن الصلاح میں لکھا کہ ہمارے قول موضوع اور لایصح میں بہت بڑا فرق ہے پہلی صورت میں کذب اور گھڑنے کا اثبات ہے اور دوسری صورت میں عدم ثبوت کی اطلاع ہوتی ہے اور اس سے عدم وجود کا اثبات لازم نہیں آتا اور یہ ضابطہ ہر اس حدیث میں جاری ہوگا جس کے بارے میں ابن جوزی نے 'لایصح “ کہا یا اس کی مثل کوئی کلمہ کہا ہے میں کہتا ہوں کہ حدیث کو ان الفاظ سے تعبیر کرنے میں حکمت یہ ہے کہ ان کے لئے اس حدیث میں کوئی ایسا ظاہری قرینہ نہیں جس کی بنیاد پر وہ حدیث موضوع ہو زیادہ سے زیادہ یہ ہوسکتا ہے کہ ان کے نزدیك اس میں موضوع ہونے کا احتمال ہے کیونکہ یہ متروك یا کذاب سے مروی ہے اور یہ بات اس وقت تام ہوگی جبکہ وہ حدیث صرف اور صرف کذاب یا متہم سے مروی ہو علاوہ ازیں حافظ ابن حجر نے ننجۃ الفکر میں اسے متروك کا نام دیا ہے موضوع کی لڑی میں اس کو شامل نہیں کیا۔ (ت)
دیکھئے تفرد کذاب کو صرف احتمال وضع کا مورث بتایا اور ابن الجوزی نے موضوعات میں جہاں موضوع کہنے سے
قال الزرکشی فی نکتہ علی ابن الصلاح بین قولنا موضوع وقولنا لایصح بون کبیر فان الاول اثبات الکذب والاختلاق والثانی اخبار عن عدم الثبوت ولایلزم منہ اثبات العدم وھذا یجیئ فی کل حدیث قال فیہ ابن الجوزی لایصح ونحوہ قلت وکان نکتۃ تعبیرہ بذلك حیث عبربہ انہ لم یلح لہ فی الحدیث قرینۃ تدل علی انہ موضوع غایۃ الامرانہ احتمل عندہ ان یکون موضوعا لانہ من طریق متروك اوکذاب وھذا انما یتم عندتفرد الکذاب اوالمتھم علی ان الحافظ ابن حجر خص ھذا فی النخبۃ باسم المتروك ولم ینظمہ فی مسلك الموضوع ۔
زرکشی نے اپنی نکت علی ابن الصلاح میں لکھا کہ ہمارے قول موضوع اور لایصح میں بہت بڑا فرق ہے پہلی صورت میں کذب اور گھڑنے کا اثبات ہے اور دوسری صورت میں عدم ثبوت کی اطلاع ہوتی ہے اور اس سے عدم وجود کا اثبات لازم نہیں آتا اور یہ ضابطہ ہر اس حدیث میں جاری ہوگا جس کے بارے میں ابن جوزی نے 'لایصح “ کہا یا اس کی مثل کوئی کلمہ کہا ہے میں کہتا ہوں کہ حدیث کو ان الفاظ سے تعبیر کرنے میں حکمت یہ ہے کہ ان کے لئے اس حدیث میں کوئی ایسا ظاہری قرینہ نہیں جس کی بنیاد پر وہ حدیث موضوع ہو زیادہ سے زیادہ یہ ہوسکتا ہے کہ ان کے نزدیك اس میں موضوع ہونے کا احتمال ہے کیونکہ یہ متروك یا کذاب سے مروی ہے اور یہ بات اس وقت تام ہوگی جبکہ وہ حدیث صرف اور صرف کذاب یا متہم سے مروی ہو علاوہ ازیں حافظ ابن حجر نے ننجۃ الفکر میں اسے متروك کا نام دیا ہے موضوع کی لڑی میں اس کو شامل نہیں کیا۔ (ت)
دیکھئے تفرد کذاب کو صرف احتمال وضع کا مورث بتایا اور ابن الجوزی نے موضوعات میں جہاں موضوع کہنے سے
حوالہ / References
تنزیہ الشریعۃ لابن عراق کتاب التوحید فصل ثانی دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ / ۱۴۰
لایسع وغیرہ کی طرف عدول کیا اس کا یہی نکتہ ٹھہرایا کہ بوجہ تفرد کذاب یا متہم احتمال وضع تھا اگر غلبہ ظن ہوتا حکم بالوضع سے کیا مانع تھا کہ آخر صحیح موضوع وغیرہما تمام احکام میں غلبہ ظن کافی اور بلاشبہہ حجت شرعی ہے۔
اقول : والاشارۃ فی قولہ خص ھذا انما تلمح الی لاقرب وھو المتھم فھو الذی خصہ الحافظ باسم المتروك اماما تفرد بہ الکذاب فھو عین الموضوع عندہ فانما عرفہ بمافیہ الطعن بکذاب الراوی فلیتنبہ ھذا کلہ ماظھرلی والحمدلله الواحد العلی۔
اقول : زرکشی کے الفاظ “ خص ھذا “ میں اشارہ اقرب کی طرف یعنی متہم کی طرف ہے تو یہ وہی ہے جس کے لئے حافظ ابن حجر نے متروك کا نام خاص کیا ہے لیکن جس روایت میں کذب متفرد ہو وہ حافظ کے نزدیك بھی عین موضوع ہے کیونکہ انہوں نے خود موضوع کی تعریف ہی یہ کی ہے کہ جس میں کذاب راوی کا طعن ہو اس پر توجہ کرو یہ وہ امور تھے جو میرے لئے ظاہر ہوئے اور تمام حمدالله کے لئے جو واحد وبلند ہے (ت)
فقیر نے اپنی بعض تحریرات میں اس مسئلہ پر قدرے کلام کرکے لکھا تھا :
ھذا مایظھرلنا والمحل محل تامل فلیتامل لعل الله یحدث بعد ذلك امرا۔
یہ وہ ہے جو ہم پر ظاہر ہوا اور یہ مقام مقام غوروفکر ہے لہذا ہر کوئی غور کرے شاید الله تعالی اس کے بعد کوئی دوسرا امر ظاہر فرمادے۔ (ت)
الحمدلله اب بوجہ کثیر اسے تاکد وتائید حاصل ہوا کلام۱ امام سخاوی کی تصریح کلام۲ علامہ قاری وعلامہ۳ مناوی ہیں اس کے نظائر۴ صریح کلام امام اجل شعبہ بن الحجاج سے استنباط صحیح تعریف۵ امام ابن الصلاح وامام۶ نووی وامام۷ عراقی وامام۸ قسطلانی کا اقتضائے نجیع حدیث۹ سے تائید دلیل عقل ۱۰ سے تشیید کلام امام۱۱ بخاری وعلامہ ابن عراق۱۲ سے تاکید الحمدلله سرا وجھرا فقد حقق رجائی واحدث امرا تمام خوبیاں ظاہرا وباطنا الله کے لئے ہیں پس اس نے میری امید پوری کی اور نئی راہ پیدا فرمائی۔ (ت)
تنبیہ : تنبیہ متعلق افادہ ۲۵ کہ کتاب موضوعات میں ذکر حدیث مؤلف کے نزدیك یہ مستلزم موضوعیت نہیں ) اس عبارت تنزیہ الشریعۃ سے ایك اور نفیس فائدہ حاصل ہوا کہ کتب موضوعات قسم اول میں بھی لفظ حکم پر لحاظ چاہئے اگر صراحۃ موضوع یا باطل کہہ دیا تو مؤلف کے نزدیك وضع ثابت ہوگی اور اگر لایصح وغیرہ ہلکے الفاظ کی طرف عدول کیا تو آخر یہ عدول بے چیزے نیست ظاہرا خود مؤلف کو اس پر حکم وضع کی جرأت نہ ہوئی صرف احتمال درج کتاب کیا فافہم فلعلہ حسن وجیہ ولم ارہ لغیرہ فلیحفظ اسے اچھی طرح سمجھ لیجئے شاید یہ بہتر توجیہ ہو اور میں نے اسے کسی غیر سے نہیں پڑھا پس اسے محفوظ کرلیجئے۔ ت)
اقول : والاشارۃ فی قولہ خص ھذا انما تلمح الی لاقرب وھو المتھم فھو الذی خصہ الحافظ باسم المتروك اماما تفرد بہ الکذاب فھو عین الموضوع عندہ فانما عرفہ بمافیہ الطعن بکذاب الراوی فلیتنبہ ھذا کلہ ماظھرلی والحمدلله الواحد العلی۔
اقول : زرکشی کے الفاظ “ خص ھذا “ میں اشارہ اقرب کی طرف یعنی متہم کی طرف ہے تو یہ وہی ہے جس کے لئے حافظ ابن حجر نے متروك کا نام خاص کیا ہے لیکن جس روایت میں کذب متفرد ہو وہ حافظ کے نزدیك بھی عین موضوع ہے کیونکہ انہوں نے خود موضوع کی تعریف ہی یہ کی ہے کہ جس میں کذاب راوی کا طعن ہو اس پر توجہ کرو یہ وہ امور تھے جو میرے لئے ظاہر ہوئے اور تمام حمدالله کے لئے جو واحد وبلند ہے (ت)
فقیر نے اپنی بعض تحریرات میں اس مسئلہ پر قدرے کلام کرکے لکھا تھا :
ھذا مایظھرلنا والمحل محل تامل فلیتامل لعل الله یحدث بعد ذلك امرا۔
یہ وہ ہے جو ہم پر ظاہر ہوا اور یہ مقام مقام غوروفکر ہے لہذا ہر کوئی غور کرے شاید الله تعالی اس کے بعد کوئی دوسرا امر ظاہر فرمادے۔ (ت)
الحمدلله اب بوجہ کثیر اسے تاکد وتائید حاصل ہوا کلام۱ امام سخاوی کی تصریح کلام۲ علامہ قاری وعلامہ۳ مناوی ہیں اس کے نظائر۴ صریح کلام امام اجل شعبہ بن الحجاج سے استنباط صحیح تعریف۵ امام ابن الصلاح وامام۶ نووی وامام۷ عراقی وامام۸ قسطلانی کا اقتضائے نجیع حدیث۹ سے تائید دلیل عقل ۱۰ سے تشیید کلام امام۱۱ بخاری وعلامہ ابن عراق۱۲ سے تاکید الحمدلله سرا وجھرا فقد حقق رجائی واحدث امرا تمام خوبیاں ظاہرا وباطنا الله کے لئے ہیں پس اس نے میری امید پوری کی اور نئی راہ پیدا فرمائی۔ (ت)
تنبیہ : تنبیہ متعلق افادہ ۲۵ کہ کتاب موضوعات میں ذکر حدیث مؤلف کے نزدیك یہ مستلزم موضوعیت نہیں ) اس عبارت تنزیہ الشریعۃ سے ایك اور نفیس فائدہ حاصل ہوا کہ کتب موضوعات قسم اول میں بھی لفظ حکم پر لحاظ چاہئے اگر صراحۃ موضوع یا باطل کہہ دیا تو مؤلف کے نزدیك وضع ثابت ہوگی اور اگر لایصح وغیرہ ہلکے الفاظ کی طرف عدول کیا تو آخر یہ عدول بے چیزے نیست ظاہرا خود مؤلف کو اس پر حکم وضع کی جرأت نہ ہوئی صرف احتمال درج کتاب کیا فافہم فلعلہ حسن وجیہ ولم ارہ لغیرہ فلیحفظ اسے اچھی طرح سمجھ لیجئے شاید یہ بہتر توجیہ ہو اور میں نے اسے کسی غیر سے نہیں پڑھا پس اسے محفوظ کرلیجئے۔ ت)
فائدہ ۵ : (مجہول العین کا قبول ہی مذہب محققین ہے) افادہ دوم میں گزرا کہ امام نووی نے مجہول العین کا قبول بہت محققین کی طرف نسبت کیا اور امام اجل ابوطالب مکی نے اسی کو مذہب فقہائے کرام واولیائے عظام قرار دیااور یہی مذہب ہمارے ائمہ اعلام کا ہے رضی اللہ تعالی عنہماجمعین۔ مسلم الثبوت وفواتح الرحموت میں ہے :
(لا) جرح (بان لہ راویا) واحدا (لفظ) دون غیرہ (وھو مجھول العین باصطلاح) کسمعان لیس لہ راوغیر الشعبی فان المناط العدالۃ والحفظ لاتعدد الرواۃ وقیل لایقبل عند المحدثین وھو تحکم اھ مختصرا۔
اس میں جرح (نہیں کہ (اس کا راوی) (فقط) ایك ہے (اور وہ اصطلاح میں مجہول العین ہے) مثلا سمعان ان سے راوی شعبی کے علاوہ کوئی نہیں کیونکہ مدار عدالت راوی وحفظ ہے راویوں کا متعدد وہونا نہیں بعض نے کہا کہ محدثین کے نزدیك یہ مقبول نہیں یہ زیادتی ہے اھ مختصرا (ت)
پس دربارہ مجہول قول مقبول یہ ہے کہ مستور ومجہول العین دونوں حجت ہاں مجہول الحال جس کی عدالت ظاہری بھی معلوم نہ ہو احکام میں حجت نہیں فضائل میں بالاتفاق وہ بھی مقبول۔
تنبیہ : (غالبا مطلق مجہول سے مراد مجہول العین ہوتا ہے) مجہول جب مطلق بولا جاتا ہے تو کلام محدثین میں غالبا اس سے مراد مجہول العین ہے امام سبکی شفاء السقام عــــہ میں فرماتے ہیں :
جھالۃ العین وھو غالب اصطلاح اھل ھذا الشان فی ھذا الاطلاق ۔
محدثین جب مطلقا مجہول کا لفظ بولیں تو اکثر طور پر اس سے مراد مجہول العین ہوتا ہے۔ (ت)
فائدہ ۵ : (فائدہ ۵ متعلق افادہ ۲۱ کہ قبول ضعیف کے لئے درود صحیح کی حاجت نہیں ) ہم نے افادہ ۲۱ میں روشن دلیلوں سے ثابت کیا کہ مادون الاحکام میں ضعیف محتاج ورود صحیح نہیں اور دلیل ثابت میں اس کی دس۱۰ نظائر کے پتے دئے سب سے اجل واعظم یہ کہ اکابر ائمہ کرام اعاظم محدثین اعلام مثل امام۱ ابن عساکر وامام۲ ابن شاہین وابوبکر۳ خطیب بغدادی وامام۴ سہیلی وامام۵ محب الدین طبری وعلامہ۶ ناصرالدین ابن المنیر وعلامہ۷ ابن سید الناس وحافظ۸ ابن ناصر وخاتم۹ الحفاظ وعلامہ۱۰ زرقانی وغیرہم نے حدیث احیاء ابوین کریمین کو باوصف تسلیم ضعف دربارہ فضائل ایسا معمول ومقبول مانا کہ اسے احادیث سے کہ بظاہر مخالف تھیں متاخر ٹھہرا کر ان کا ناسخ جانا تو خود اس باب میں حدیث صحیح کی حاجت درکنار اس کے مقابل کی صحاح اس سے منسوخ نے ٹھہرائیں شرح مواہب لدنیہ میں ہے :
عــــہ : فی الباب الاول تحت حدیث الاول ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
(لا) جرح (بان لہ راویا) واحدا (لفظ) دون غیرہ (وھو مجھول العین باصطلاح) کسمعان لیس لہ راوغیر الشعبی فان المناط العدالۃ والحفظ لاتعدد الرواۃ وقیل لایقبل عند المحدثین وھو تحکم اھ مختصرا۔
اس میں جرح (نہیں کہ (اس کا راوی) (فقط) ایك ہے (اور وہ اصطلاح میں مجہول العین ہے) مثلا سمعان ان سے راوی شعبی کے علاوہ کوئی نہیں کیونکہ مدار عدالت راوی وحفظ ہے راویوں کا متعدد وہونا نہیں بعض نے کہا کہ محدثین کے نزدیك یہ مقبول نہیں یہ زیادتی ہے اھ مختصرا (ت)
پس دربارہ مجہول قول مقبول یہ ہے کہ مستور ومجہول العین دونوں حجت ہاں مجہول الحال جس کی عدالت ظاہری بھی معلوم نہ ہو احکام میں حجت نہیں فضائل میں بالاتفاق وہ بھی مقبول۔
تنبیہ : (غالبا مطلق مجہول سے مراد مجہول العین ہوتا ہے) مجہول جب مطلق بولا جاتا ہے تو کلام محدثین میں غالبا اس سے مراد مجہول العین ہے امام سبکی شفاء السقام عــــہ میں فرماتے ہیں :
جھالۃ العین وھو غالب اصطلاح اھل ھذا الشان فی ھذا الاطلاق ۔
محدثین جب مطلقا مجہول کا لفظ بولیں تو اکثر طور پر اس سے مراد مجہول العین ہوتا ہے۔ (ت)
فائدہ ۵ : (فائدہ ۵ متعلق افادہ ۲۱ کہ قبول ضعیف کے لئے درود صحیح کی حاجت نہیں ) ہم نے افادہ ۲۱ میں روشن دلیلوں سے ثابت کیا کہ مادون الاحکام میں ضعیف محتاج ورود صحیح نہیں اور دلیل ثابت میں اس کی دس۱۰ نظائر کے پتے دئے سب سے اجل واعظم یہ کہ اکابر ائمہ کرام اعاظم محدثین اعلام مثل امام۱ ابن عساکر وامام۲ ابن شاہین وابوبکر۳ خطیب بغدادی وامام۴ سہیلی وامام۵ محب الدین طبری وعلامہ۶ ناصرالدین ابن المنیر وعلامہ۷ ابن سید الناس وحافظ۸ ابن ناصر وخاتم۹ الحفاظ وعلامہ۱۰ زرقانی وغیرہم نے حدیث احیاء ابوین کریمین کو باوصف تسلیم ضعف دربارہ فضائل ایسا معمول ومقبول مانا کہ اسے احادیث سے کہ بظاہر مخالف تھیں متاخر ٹھہرا کر ان کا ناسخ جانا تو خود اس باب میں حدیث صحیح کی حاجت درکنار اس کے مقابل کی صحاح اس سے منسوخ نے ٹھہرائیں شرح مواہب لدنیہ میں ہے :
عــــہ : فی الباب الاول تحت حدیث الاول ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
حوالہ / References
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفی مسئلہ مجہول الحال الح مطبوعہ منشورات الشریف الرضی قم ۲ / ۱۴۹
شفاء السقام فی زیارۃ خیر الانام الحدیث الاول مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص ۹
شفاء السقام فی زیارۃ خیر الانام الحدیث الاول مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص ۹
قال ا لسیوطی فی سبیل النجاۃ مال الی ان الله تعالی احیاھما حتی امنا بہ طائفۃ من الائمۃ وحفاظ الحدیث واستندوا الی حدیث ضعیف لاموضوع کالخطیب وابن عساکر وابن شاھین والسھیلی والمحب الطبری والعلامۃ ناصرالدین ابن المنیر وابن سیدالناس ونقلہ عن بعض اھل العلم ومشی علیہ الصلاح الصفدی والحافظ ابن ناصر وقد جعل ھؤلاء الائمۃ ھذا الحدیث ناسخا للاحادیث الواردۃ بمایخالفہ ونصوا علی انہ متاخر عنھا فلاتعارض بینہ وبینھا اھ وقال فی الدرج المنیفۃ جعلوہ ناسخا ولم یبالوا بضعفہ لان الحدیث الضعیف یعمل بہ فی الفضائل والمناقب وھذہ منقبۃ ھذا کلام ھذا : الجھبذ وھو فی غایۃ التحریر اھ ملخصا۔
امام سیوطی نے سبیل النجاۃ میں فرمایا کہ ائمہ اور حفاظ حدیث کی ایك جماعت اس طرف مائل ہے کہ الله تعالی نے حضور علیہ السلام کے والدین کریمین کو زندہ فرمایا اور وہ آپ کی ذات اقدس پر ایمان لائے یہ قول انہوں نے ایك ایسی حدیث کی بنا پر کیا ہے جو ضعیف ہے موضوع نہیں وہ ائمہ یہ ہیں مثلا خطیب بغدادی ابن عساکر ابن شاہین سہیلی محب طبری علامہ ناصرالدین بن منیر اور ابن سیدالناس۔ اسے بعض اہل علم سے نقل کیا اور اسی پر صلاح الصفدی اور حافظ ابن ناصر چلے ہیں اور ان ائمہ نے اس مذکورہ حدیث کو اس سلسلہ میں وارد مخالف احادیث کے لئے ناسخ قرار دیا اور تصریح کی ہے کہ یہ حدیث ان سے موخر ہے لہذا اس کے اور ان کے درمیان کوئی تعارض نہیں اھ اور درج المنیفہ میں فرمایا کہ اس حدیث کو محدثین نے ناسخ قرار دیتے ہوئے اس کے ضعف کی پرواہ نہیں کی کیونکہ فضائل ومناقب میں ضعیف حدیث پر عمل کیا جاتا ہے اور یہ (والدین کا اسلام لانا) آپ کی منقبت ہے یہ ان ماہرین حدیث کا کلام ہے اور یہ اس مسئلہ میں انتہائی بہتر رائے اور تحریر ہے اھ ملخصا (ت)
تنبیہ ضروری : (وہابیہ کے ایك کید پر آگاہ کرنا) اقول : جب کسی اصل کا کلمات علما سے اثبات منظور ہوتو اس کے لئے کافی ہے کہ انہوں نے فلاں فلاں فروع میں اس پر مشی فرمائی ہوا کہ یہ اصل ان کے نزدیك متأصل ہے ان کلمات کی نقل سے غرض مستدل اسی قدر امر سے متعلق اگرچہ وہ فرع خاص بنظر کسی اور وجہ کے اس کو مسلم نہ ہو مثلا ہم نے افادہ ۲۸ میں اس امر کے استحباب کو کہ موضوعیت مستلزم ممنوعیت نہیں کلام ائمہ سے چند نظائر
امام سیوطی نے سبیل النجاۃ میں فرمایا کہ ائمہ اور حفاظ حدیث کی ایك جماعت اس طرف مائل ہے کہ الله تعالی نے حضور علیہ السلام کے والدین کریمین کو زندہ فرمایا اور وہ آپ کی ذات اقدس پر ایمان لائے یہ قول انہوں نے ایك ایسی حدیث کی بنا پر کیا ہے جو ضعیف ہے موضوع نہیں وہ ائمہ یہ ہیں مثلا خطیب بغدادی ابن عساکر ابن شاہین سہیلی محب طبری علامہ ناصرالدین بن منیر اور ابن سیدالناس۔ اسے بعض اہل علم سے نقل کیا اور اسی پر صلاح الصفدی اور حافظ ابن ناصر چلے ہیں اور ان ائمہ نے اس مذکورہ حدیث کو اس سلسلہ میں وارد مخالف احادیث کے لئے ناسخ قرار دیا اور تصریح کی ہے کہ یہ حدیث ان سے موخر ہے لہذا اس کے اور ان کے درمیان کوئی تعارض نہیں اھ اور درج المنیفہ میں فرمایا کہ اس حدیث کو محدثین نے ناسخ قرار دیتے ہوئے اس کے ضعف کی پرواہ نہیں کی کیونکہ فضائل ومناقب میں ضعیف حدیث پر عمل کیا جاتا ہے اور یہ (والدین کا اسلام لانا) آپ کی منقبت ہے یہ ان ماہرین حدیث کا کلام ہے اور یہ اس مسئلہ میں انتہائی بہتر رائے اور تحریر ہے اھ ملخصا (ت)
تنبیہ ضروری : (وہابیہ کے ایك کید پر آگاہ کرنا) اقول : جب کسی اصل کا کلمات علما سے اثبات منظور ہوتو اس کے لئے کافی ہے کہ انہوں نے فلاں فلاں فروع میں اس پر مشی فرمائی ہوا کہ یہ اصل ان کے نزدیك متأصل ہے ان کلمات کی نقل سے غرض مستدل اسی قدر امر سے متعلق اگرچہ وہ فرع خاص بنظر کسی اور وجہ کے اس کو مسلم نہ ہو مثلا ہم نے افادہ ۲۸ میں اس امر کے استحباب کو کہ موضوعیت مستلزم ممنوعیت نہیں کلام ائمہ سے چند نظائر
حوالہ / References
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ باب وفات امہ ومایتعلق بابویہ صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ مطبعۃ العامرہ مصر ۱ / ۱۹۷
نقل کیے کہ دیکھو حدیث کو موضوع اور فعل کو مشروع مانا اسی قدر سے استدلال تمام ہوگیا اگرچہ ہمیں ان بعض احادیث کی وضع تسلیم نہ ہو یونہی یہاں اتنی بات سے کام ہے کہ علمائے نے ضعیف کو صحیح سے اتنا مستغنی مانا کہ ناسخ جانا دعوی غنا مؤید ومشید ہوگیااگرچہ ہم قائل نسخ نہ ہوں اور دوسرے طور پر صحاح کا معارضہ دفع کرکے ان ضعاف کو قبول کریں یہ نکتہ ہمیشہ ملحوظ رکھنے کا ہے کہ متکلمین وہابیہ دھوکے دیتے اور خارج از مبحث اس فرع کے ترجیح وتزییف کی طرف کتراجاتے ہیں ۔ خاتمۃ المحققین سیدنا الوالد قدس سرہ الماجد نے قاعدہ یازدہم اصول الرشاد شریف میں ان سفہا کے اس کید ضعیف کی طرف ایمائے لطیف فرمایا یونہی فقیر نے آخر نکتہ جلیلہ فصل سیزدہم نوع اول مقصد سوم کتاب حیاۃ المواۃ فی بیان سماع الاموات ۱۳۰۵ھ میں سے اس کی نظیر پر متنبہ کیا فلیحفظ۔
فائدہ ۶ : (فائدہ ۶ کا متعلق افادہ ۲۰ کہ حدیث ضعیف بعض احکام میں بھی مقبول) افادہ ۲۰ میں گزرا کہ فضائل تو فضائل بعض احکام میں بھی حدیث ضعیف مقبول ہے جبکہ محل محل احتیاط ونفع بے ضرر ہو اس کی ایك اور نظیر نیز علامہ حلبی کا فرمانا ہے کہ نماز میں سترہ کو سیدھا اپنے سامنے نہ رکھے بلکہ دہنی یا بائیں ابروپر ہوکہ حدیث میں ایسا وارد ہوا اور وہ اگرچہ ضعیف ہے مگر ایسے حکم میں مقبول۔
حیث قال عــــہ ینبغی ان یجعلھا حیال احد حاجبیہ لماروی ابوداؤد من حدیث ضباعۃ بنت المقداد بن الاسود عن ابیھا رضی الله تعالی عنہ قال مارأیت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یصلی الی عود ولاعمود ولاشجرۃ الاجعلہ علی حاجبہ الایمن اوالایسر ولایصمد لہ صمدا وقداعل بالولید بن کامل وبجھالۃ ضباعۃ لکن ھذا الحکم ممایجوز العمل فیہ بمثل ھذا لانہ من الفضائل اھ باختصار۔
الفاظ یہ ہیں مستحب یہ ہے کہ سترہ دونوں ابروؤں میں سے کسی ایك کے سامنے کھڑا کیا جائے جیسا کہ ابوداؤد نے ضباعۃ بنت مقداد بن اسود اور انہوں نے اپنے والد رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو کسی لکڑی ستون یا درخت کی طرف نماز ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا مگر آپ اس کو اپنی دائیں یا بائیں ابرو مبارك کے سامنے کردیتے بالکل سیدھا اس کی طرف رخ نہ ہوتا۔ اس حدیث کو ولید بن کامل اور ضباعۃ کے مجہول ہونے کی وجہ سے معلول قرار دیا گیا لیکن یہ حکم ان مسائل میں سے ہے جن پر عمل اس طرح کی روایت سے جائز ہے کیونکہ یہ مسئلہ فضائل اعمال سے ہے اھ باختصار۔ (ت)
عــــہ : اواخر کراھۃ الصلاۃ قبیل الفروع ۱۲ منہ (م)
فائدہ ۶ : (فائدہ ۶ کا متعلق افادہ ۲۰ کہ حدیث ضعیف بعض احکام میں بھی مقبول) افادہ ۲۰ میں گزرا کہ فضائل تو فضائل بعض احکام میں بھی حدیث ضعیف مقبول ہے جبکہ محل محل احتیاط ونفع بے ضرر ہو اس کی ایك اور نظیر نیز علامہ حلبی کا فرمانا ہے کہ نماز میں سترہ کو سیدھا اپنے سامنے نہ رکھے بلکہ دہنی یا بائیں ابروپر ہوکہ حدیث میں ایسا وارد ہوا اور وہ اگرچہ ضعیف ہے مگر ایسے حکم میں مقبول۔
حیث قال عــــہ ینبغی ان یجعلھا حیال احد حاجبیہ لماروی ابوداؤد من حدیث ضباعۃ بنت المقداد بن الاسود عن ابیھا رضی الله تعالی عنہ قال مارأیت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یصلی الی عود ولاعمود ولاشجرۃ الاجعلہ علی حاجبہ الایمن اوالایسر ولایصمد لہ صمدا وقداعل بالولید بن کامل وبجھالۃ ضباعۃ لکن ھذا الحکم ممایجوز العمل فیہ بمثل ھذا لانہ من الفضائل اھ باختصار۔
الفاظ یہ ہیں مستحب یہ ہے کہ سترہ دونوں ابروؤں میں سے کسی ایك کے سامنے کھڑا کیا جائے جیسا کہ ابوداؤد نے ضباعۃ بنت مقداد بن اسود اور انہوں نے اپنے والد رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو کسی لکڑی ستون یا درخت کی طرف نماز ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا مگر آپ اس کو اپنی دائیں یا بائیں ابرو مبارك کے سامنے کردیتے بالکل سیدھا اس کی طرف رخ نہ ہوتا۔ اس حدیث کو ولید بن کامل اور ضباعۃ کے مجہول ہونے کی وجہ سے معلول قرار دیا گیا لیکن یہ حکم ان مسائل میں سے ہے جن پر عمل اس طرح کی روایت سے جائز ہے کیونکہ یہ مسئلہ فضائل اعمال سے ہے اھ باختصار۔ (ت)
عــــہ : اواخر کراھۃ الصلاۃ قبیل الفروع ۱۲ منہ (م)
حوالہ / References
غنیۃ المستملی فروع فی الخلاصہ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۳۶۸
ایك اور اعلی واجل نظیر کلام امام۱ حافظ محدث ابوبکر بیہقی وامام۲ محقق علی الاطلاق وامام۳ ابن امیرالحاج وعلامہ۴ ابراہیم حلبی وعلامہ۵ حسن شرنبلالی وعلامہ۶ سید احمد طحطاوی وعلامہ۷ سید ابن عبادین شامی وغیرہم علمائے اعلام رحمہم اللہ تعالی سے یہ ہے کہ سنن ابی داؤد وابن ماجہ میں بطریق ابوعمر یا ابومحمد بن محمد بن حریث عن جدہ حریث رجل من بنی عذرۃ عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالی عنہعن الابی القاسم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمدربارہ سترہ نماز مروی ہوا :
فان لم یکن معہ عصا فلیخطط خطا ۔
اگر اس کے پاس لکڑی نہ ہوتو اپنے سامنے ایك خط کھینچ لے۔
امام ابوداؤد نے کہا امام سفین بن عینیہ نے فرمایا :
لم نجد شیئا نشدبہ ھذا الحدیث ولم یجئ الامن ھذا الوجہ ۔
ہم نے کوئی چیز نہ پائی جس سے اس حدیث کو قوت دیں اور اس سند کے سوا دوسرے طریق سے نہ آئی۔
یونہی امام شافعی وامام بیہقی وامام نووی وغیرہم ائمہ نے اس کی تضعیف عــــہ فرمائی باینہمہ ائمہ وعلمائے مذکورین نے تصریح کی کہ حدیث ضعیف سہی ایسے حکم میں حجت ومقبول ہے کہ اس میں نفع بے ضرر ہے
عــــہ : قال فی الحلیۃ ثم فی ردالمحتار وقدیعارض تضعیفہ بتصحیح احمد وابن حبان وغیرھما لہ اھ وعقبہ فی الحلیۃ بمایاتی عنھا من قولہ ویظھر ان الاشبھہ الخ وقال فی المرقاۃ قداشار الشافعی الی ضعفہ واضطرابہ قال ابن حجر صححہ احمد وابن المدینی وابن المنذر وابن حبان وغیرھم وجزم بضعفہ النووی اھ ملخصا قلت وھو وان فرض صحتہ لم یضرنا فیما نحن بصددہ لماقدمنا انفافی التنبیہ ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
حلیہ پھر ردالمحتار میں ہے کہ اسکی تضعیف کبھی احمد اور ابن حبان وغیرہ کی تصحیح کے معارض ہوتی ہے اور حلیہ میں اس کا تعاقب ان الفاظ کے ساتھ کیا ہے جو آگے آرہے ہیں یعنی “ وان یظھر ان الاشبہ الخ “ اور مرقات میں ہے کہ امام شافعی نے اس کے ضعف اور اضطراب کی طرف اشارہ کیا ہے ابن حجر نے کہا کہ احمد ابن مدینی ابن منذر اور ابن حبان وغیرہ نے اس کی تصحیح کی ہے اور امام نووی نے اس کے ضعف پر جزم کیا ہے اھ ملخصا۔ میں کہتا ہوں اگر اس کی صحت ہی فرض کرلی جائے تو ہمارے بیان کردہ مسئلہ میں یہ نقصان دہ نہیں جیسا کہ ابھی ہم نے تنبیہ میں اس کا ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
فان لم یکن معہ عصا فلیخطط خطا ۔
اگر اس کے پاس لکڑی نہ ہوتو اپنے سامنے ایك خط کھینچ لے۔
امام ابوداؤد نے کہا امام سفین بن عینیہ نے فرمایا :
لم نجد شیئا نشدبہ ھذا الحدیث ولم یجئ الامن ھذا الوجہ ۔
ہم نے کوئی چیز نہ پائی جس سے اس حدیث کو قوت دیں اور اس سند کے سوا دوسرے طریق سے نہ آئی۔
یونہی امام شافعی وامام بیہقی وامام نووی وغیرہم ائمہ نے اس کی تضعیف عــــہ فرمائی باینہمہ ائمہ وعلمائے مذکورین نے تصریح کی کہ حدیث ضعیف سہی ایسے حکم میں حجت ومقبول ہے کہ اس میں نفع بے ضرر ہے
عــــہ : قال فی الحلیۃ ثم فی ردالمحتار وقدیعارض تضعیفہ بتصحیح احمد وابن حبان وغیرھما لہ اھ وعقبہ فی الحلیۃ بمایاتی عنھا من قولہ ویظھر ان الاشبھہ الخ وقال فی المرقاۃ قداشار الشافعی الی ضعفہ واضطرابہ قال ابن حجر صححہ احمد وابن المدینی وابن المنذر وابن حبان وغیرھم وجزم بضعفہ النووی اھ ملخصا قلت وھو وان فرض صحتہ لم یضرنا فیما نحن بصددہ لماقدمنا انفافی التنبیہ ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
حلیہ پھر ردالمحتار میں ہے کہ اسکی تضعیف کبھی احمد اور ابن حبان وغیرہ کی تصحیح کے معارض ہوتی ہے اور حلیہ میں اس کا تعاقب ان الفاظ کے ساتھ کیا ہے جو آگے آرہے ہیں یعنی “ وان یظھر ان الاشبہ الخ “ اور مرقات میں ہے کہ امام شافعی نے اس کے ضعف اور اضطراب کی طرف اشارہ کیا ہے ابن حجر نے کہا کہ احمد ابن مدینی ابن منذر اور ابن حبان وغیرہ نے اس کی تصحیح کی ہے اور امام نووی نے اس کے ضعف پر جزم کیا ہے اھ ملخصا۔ میں کہتا ہوں اگر اس کی صحت ہی فرض کرلی جائے تو ہمارے بیان کردہ مسئلہ میں یہ نقصان دہ نہیں جیسا کہ ابھی ہم نے تنبیہ میں اس کا ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
سنن ابی داؤد باب الخط اذالم یجد عصاً مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۰۰
سنن ابی داؤد باب الخط اذالم یجد عصاً مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۰۰
سنن ابی داؤد باب الخط اذالم یجد عصاً مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۰۰
مرقاۃ شرح مشکوۃ امام ابن حجر مکی سے منقول :
قال البیہقی لاباس بالعمل بہ وان اضطرب اسنادہ فی مثل ھذا الحکم ان شاء الله تعالی ۔
امام بیہقی فرماتے ہیں کہ اگرچہ اس حدیث کی سند میں اضطراب ہے مگر اس طرح کے مسائل میں اس پر عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں ان شاء الله تعالی۔ (ت)
حلیہ میں فرمایا :
یظھر ان الاشبہ قول البیہقی ولاباس بالعمل بھذا الحدیث فی ھذا الحکم ان شاء الله تعالی وجزم بہ شیخنا رحمہ الله تعالی فقال والسنۃ اولی بالاتباع ۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ بیہقی کا قول اس حکم میں اس حدیث پر عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں ان شاء الله تعالی اشبہ ومختار ہے اور اسی پر ہمارے شیخ رحمۃ اللہ تعالی علیہنے یہ کہتے ہوئے جزم فرمایا کہ سنت زیادہ لائق اتباع ہے۔ (ت)
غنیہ میں ہے :
من جوزہ استدل بحدیث ابی داؤد وتقدم مافیہ لکن قدیقال انہ یجوز العمل بمثلہ فی الفضائل کمامر انفا ولذا قال ابن الھمام والسنۃ اولی بالاتباع اھ ملخصا۔
جس نے جائز قرار دیا اس کا حدیث ابی داؤد سے استدلال ہے اور اس حدیث میں جوہے وہ پیچھے بیان ہوچکا لیکن کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ فضائل میں ایسی حدیث ضعیف پر عمل جائز ہے جیسا کہ ابھی گزرا اور اسی لئے امام ابن الہمام نے فرمایا سنت زیادہ لائق اتباع ہے اھ ملخصا۔ (ت)
نیز غنیہ پھر امداد الفتاح شرح نورالایضاح پھر حاشیہ طحطاویہ علی مراقی الفلاح میں ہے :
ان سلم انہ یعنی الخط غیر مفید فلاضرر فیہ مع مافیہ من العمل بالحدیث الذی یجوز العمل بہ فی مثلہ ۔
اگر تسلیم کرلیا جائے کہ خط مفید نہیں تو اس میں کوئی ضرر نہیں باجود اس کے محل نظر ہونے کے یہ حدیث ان میں سے ہے جس پر ایسے احکام میں عمل جائز ہوتا ہے۔ (ت)
قال البیہقی لاباس بالعمل بہ وان اضطرب اسنادہ فی مثل ھذا الحکم ان شاء الله تعالی ۔
امام بیہقی فرماتے ہیں کہ اگرچہ اس حدیث کی سند میں اضطراب ہے مگر اس طرح کے مسائل میں اس پر عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں ان شاء الله تعالی۔ (ت)
حلیہ میں فرمایا :
یظھر ان الاشبہ قول البیہقی ولاباس بالعمل بھذا الحدیث فی ھذا الحکم ان شاء الله تعالی وجزم بہ شیخنا رحمہ الله تعالی فقال والسنۃ اولی بالاتباع ۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ بیہقی کا قول اس حکم میں اس حدیث پر عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں ان شاء الله تعالی اشبہ ومختار ہے اور اسی پر ہمارے شیخ رحمۃ اللہ تعالی علیہنے یہ کہتے ہوئے جزم فرمایا کہ سنت زیادہ لائق اتباع ہے۔ (ت)
غنیہ میں ہے :
من جوزہ استدل بحدیث ابی داؤد وتقدم مافیہ لکن قدیقال انہ یجوز العمل بمثلہ فی الفضائل کمامر انفا ولذا قال ابن الھمام والسنۃ اولی بالاتباع اھ ملخصا۔
جس نے جائز قرار دیا اس کا حدیث ابی داؤد سے استدلال ہے اور اس حدیث میں جوہے وہ پیچھے بیان ہوچکا لیکن کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ فضائل میں ایسی حدیث ضعیف پر عمل جائز ہے جیسا کہ ابھی گزرا اور اسی لئے امام ابن الہمام نے فرمایا سنت زیادہ لائق اتباع ہے اھ ملخصا۔ (ت)
نیز غنیہ پھر امداد الفتاح شرح نورالایضاح پھر حاشیہ طحطاویہ علی مراقی الفلاح میں ہے :
ان سلم انہ یعنی الخط غیر مفید فلاضرر فیہ مع مافیہ من العمل بالحدیث الذی یجوز العمل بہ فی مثلہ ۔
اگر تسلیم کرلیا جائے کہ خط مفید نہیں تو اس میں کوئی ضرر نہیں باجود اس کے محل نظر ہونے کے یہ حدیث ان میں سے ہے جس پر ایسے احکام میں عمل جائز ہوتا ہے۔ (ت)
حوالہ / References
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ الفصل الثانی من باب السترۃ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۲ / ۲۴۶
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
غنیۃ المستملی فروع فی الخلاصہ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۳۶۸
غنیۃ المستملی فروع فی الخلاصہ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۳۶۹
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
غنیۃ المستملی فروع فی الخلاصہ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۳۶۸
غنیۃ المستملی فروع فی الخلاصہ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۳۶۹
ردالمحتار میں ہے :
یسن الخط کماھو الروایۃ الثانیۃ عن محمد لحدیث ابی داؤد فان یکن معہ عصا فلیخط خطا وھو ضعیف لکنہ یجوز العمل بہ فی الفضائل ولذا قال ابن الھمام والسنۃ اولی بالاتباع الخ۔
خط کھینچنا مسنون ہے جیسا کہ امام محمد کی روایت ثانیہ ہے انہوں نے ابوداؤد کی اس حدیث اس سے استدلال کیا : اگر نمازی کے پاس عصا (لکڑی) نہ ہوتو ایك خط کھینچ لے۔ یہ حدیث ضعیف ہے لیکن فضائل میں ضعیف حدیث پر عمل جائز ہے اس بنا پر امام ابن حمام نے فرمایا : سنت زیادہ لائق اتباع ہے الخ۔ (ت)
تنبیہ : (فضائل اعمال سے مراد اعمال حسنہ ہیں نہ صرف ثواب اعمال) ان دونوں نظیروں میں علامہ ابراہیم حلبی اور نظیر اخیر میں علامہ شامی کا ان افعال میں سترہ کو ابرو کے مقابل رکھنے یا خط کھینچنے کو فضائل سے بتانا اس معنی کی صریح تصریح کررہا ہے جو فقیر نے حاشیہ افادہ ۲۱ میں ذکر کیا تھا کہ فضائل اعمال سے مراد اعمال فضائل ہیں یعنی وہ اعمال کہ بہتر ومستحسن ہیں نہ خاص ثواب اعمال یہاں سے خیالات باطلہ گنگوہیہ کی تفضیح کامل ہوتی ہے ولله الحمد۔
فائدہ ۷ : (حدیث ضعیف سے سنیت بھی ثابت ہوسکتی ہے یا نہیں ) عبارت ردالمحتار کہ ابھی منقول ہوئی بتارہی ہے کہ امثال مقام میں نہ صرف استحباب بلکہ سنیت بھی حدیث ضعیف سے ثابت ہوسکتی ہے یونہی افادہ ۱۷ میں علی قاری کا ارشاد گزرا کہ حدیث ضعیف کے سبب ہمارے علماء نے مسح گردن کو مستحب یا سنت مانا۔
اقول : لکن قال الامام ابن امیرالحاج فی الحلیۃ بعد ماذکر حدیث ابن ماجۃ عن الفاکہ وعن ابن عباس والبزار عن ابی رافع رضی الله تعالی عنہم فی اغتسال النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم یوم العیدین وقال ان فی اسانید ھذہ ضعفاء مانصہ واستنان غسل العیدین ان قلنا بان تعدد الطرق الواردۃ فیہ یبلغ درجۃ الحسن والالندب وفی ذلك تأمل اھ فقداشار رحمہ الله تعالی الی ان الضعیف لایفید الاستنان ولك ان تقول ان السنۃ ربما تطلق علی المستحب کعکسہ کما صرحوا بھما فیتجہ کلام الشامی والقاری وبہ یحصل التوفیق بین الروایتین عن علمائنا فی المسألۃ اعنی مسألۃ الخط فمن اثبت اراد الاستحسان ومن نفی نفی الاستنان وقدکان متأیدا بمافی الحلیۃ ھل ینوب الخط بین یدیہ منابھا فعن ابی حنیفۃ وھو احدی الروایتین عن محمد انہ لیس بشیئ ای لیس بشیئ مسنون اھ لولا انہ زاد بعدہ بل فعلہ وترکہ سواء انتھی ففیہ بعدبعد فافھم۔
اقول : لیکن امام ابن امیرالحاج نے حلیہ میں عیدین کے دن نبی اکرمصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے غسل کے بارے میں حدیث ابن ماجہ فاکہ ابن عباس سے اور حدیث بزار ابورافع رضی اللہ تعالی عنہمسے روایت کرنے کے بعد کہا کہ ان اسانید میں راوی ضعیف ہیں اور پھر کہا کہ عیدین کے موقعہ پر غسل سنت ہے اگر ہم یہ کہیں کہ حدیث متعدد طرق سے مروی ہونے کی بنا پر حسن کا درجہ پاچکی ہے اور اگر یہ نہیں تو غسل مستحب ہے اور اس میں تأمل ہے اھ۔ امام رحمۃ اللہ تعالی علیہنے اس بات
یسن الخط کماھو الروایۃ الثانیۃ عن محمد لحدیث ابی داؤد فان یکن معہ عصا فلیخط خطا وھو ضعیف لکنہ یجوز العمل بہ فی الفضائل ولذا قال ابن الھمام والسنۃ اولی بالاتباع الخ۔
خط کھینچنا مسنون ہے جیسا کہ امام محمد کی روایت ثانیہ ہے انہوں نے ابوداؤد کی اس حدیث اس سے استدلال کیا : اگر نمازی کے پاس عصا (لکڑی) نہ ہوتو ایك خط کھینچ لے۔ یہ حدیث ضعیف ہے لیکن فضائل میں ضعیف حدیث پر عمل جائز ہے اس بنا پر امام ابن حمام نے فرمایا : سنت زیادہ لائق اتباع ہے الخ۔ (ت)
تنبیہ : (فضائل اعمال سے مراد اعمال حسنہ ہیں نہ صرف ثواب اعمال) ان دونوں نظیروں میں علامہ ابراہیم حلبی اور نظیر اخیر میں علامہ شامی کا ان افعال میں سترہ کو ابرو کے مقابل رکھنے یا خط کھینچنے کو فضائل سے بتانا اس معنی کی صریح تصریح کررہا ہے جو فقیر نے حاشیہ افادہ ۲۱ میں ذکر کیا تھا کہ فضائل اعمال سے مراد اعمال فضائل ہیں یعنی وہ اعمال کہ بہتر ومستحسن ہیں نہ خاص ثواب اعمال یہاں سے خیالات باطلہ گنگوہیہ کی تفضیح کامل ہوتی ہے ولله الحمد۔
فائدہ ۷ : (حدیث ضعیف سے سنیت بھی ثابت ہوسکتی ہے یا نہیں ) عبارت ردالمحتار کہ ابھی منقول ہوئی بتارہی ہے کہ امثال مقام میں نہ صرف استحباب بلکہ سنیت بھی حدیث ضعیف سے ثابت ہوسکتی ہے یونہی افادہ ۱۷ میں علی قاری کا ارشاد گزرا کہ حدیث ضعیف کے سبب ہمارے علماء نے مسح گردن کو مستحب یا سنت مانا۔
اقول : لکن قال الامام ابن امیرالحاج فی الحلیۃ بعد ماذکر حدیث ابن ماجۃ عن الفاکہ وعن ابن عباس والبزار عن ابی رافع رضی الله تعالی عنہم فی اغتسال النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم یوم العیدین وقال ان فی اسانید ھذہ ضعفاء مانصہ واستنان غسل العیدین ان قلنا بان تعدد الطرق الواردۃ فیہ یبلغ درجۃ الحسن والالندب وفی ذلك تأمل اھ فقداشار رحمہ الله تعالی الی ان الضعیف لایفید الاستنان ولك ان تقول ان السنۃ ربما تطلق علی المستحب کعکسہ کما صرحوا بھما فیتجہ کلام الشامی والقاری وبہ یحصل التوفیق بین الروایتین عن علمائنا فی المسألۃ اعنی مسألۃ الخط فمن اثبت اراد الاستحسان ومن نفی نفی الاستنان وقدکان متأیدا بمافی الحلیۃ ھل ینوب الخط بین یدیہ منابھا فعن ابی حنیفۃ وھو احدی الروایتین عن محمد انہ لیس بشیئ ای لیس بشیئ مسنون اھ لولا انہ زاد بعدہ بل فعلہ وترکہ سواء انتھی ففیہ بعدبعد فافھم۔
اقول : لیکن امام ابن امیرالحاج نے حلیہ میں عیدین کے دن نبی اکرمصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے غسل کے بارے میں حدیث ابن ماجہ فاکہ ابن عباس سے اور حدیث بزار ابورافع رضی اللہ تعالی عنہمسے روایت کرنے کے بعد کہا کہ ان اسانید میں راوی ضعیف ہیں اور پھر کہا کہ عیدین کے موقعہ پر غسل سنت ہے اگر ہم یہ کہیں کہ حدیث متعدد طرق سے مروی ہونے کی بنا پر حسن کا درجہ پاچکی ہے اور اگر یہ نہیں تو غسل مستحب ہے اور اس میں تأمل ہے اھ۔ امام رحمۃ اللہ تعالی علیہنے اس بات
حوالہ / References
ردالمحتار باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فبہا مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۷۱
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
کی طرف اشارہ کیا ہے کہ حدیث ضعیف سنت کا فائدہ نہیں دیتی اور تیرے لئے یہ جائز ہے کہ تو کہے کہ بعض سنت کا اطلاق مستحب اور مستحب کا سنت پر ہوتا رہتا ہے جیسا کہ فقہا نے اس کی اور تصریح کی ہے لہذا امام شامی اور قاری کے کلام کی توجیہ ہوجائے گی اور اسی سے مسئلہ خط میں ہمارے علماء سے مروی دو۲ روایات میں تطبیق بھی ہوجائے گی پس جس نے اسے ثابت کیا اس نے اس استحسان کا ارادہ کیا اور جس نے نفی کی اس کا مقصد یہ ہے کہ یہ سنت نہیں اور اس کی تائید حلیہ کی اس عبارت سے ہوتی ہے کہ کیا خط سترہ کے قائم مقام ہوگا یا نہیں تو امام ابوحنیفہ اور ایك روایت کے مطابق امام محمد فرماتے ہیں کہ یہ کوئی شیئ نہیں یعنی سنت نہیں اھ کاش اس کے بعد وہ یہ اضافہ نہ کرتے کہ اس کا کرنا اور چھوڑنا برابر ہے انتہی اس میں نہایت ہی بعد ہے اسے اچھی طرح سمجھ لو۔ (ت)
فائدہ ۸ : (فائدہ ۸ متعلق افادہ ۱۱ کہ وضع یا ضعف کا حکم کبھی بلحاظ سند خاص ہوتا ہے نہ بلحاظ اصل حدیث) ہم نے افادہ ۱۱ میں بہت نصوص نقل کیے کہ بارہا محدثین کا کسی حدیث کو موضوع یا ضعیف کہنا ایك سند خاص کے اعتبار سے ہوتا ہے نہ کہ اصل حدیث کے۔ اور سنیے حدیث صحیح زکوۃ حلی مروی سنن ابی داؤد ونسائی :
امرأۃ اتت النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ومعھا ابنۃ لھا وفی یدابنتھا مسکتان غلیظتان من ذھب فقال أتعطین زکاۃ ھذا قالت لاقال ایسرك ان یسورك الله بھما یوم القیمۃ سوارین من نار قال فخلعتھما فالقتھما الی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فقالت ھما لله ورسولہ ۔
یعنی ایك بی بی خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیں حاضر ہوئیں ان کی بیٹی ان کے ساتھ تھیں دختر کے ہاتھ میں سونے کے کڑے تھے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا ان کی زکوۃ ادا کرتی ہو عرض کی نہیں ۔ فرمایا : کیا تجھے یہ پسند ہے کہ الله عزوجل قیامت میں ان کے
فائدہ ۸ : (فائدہ ۸ متعلق افادہ ۱۱ کہ وضع یا ضعف کا حکم کبھی بلحاظ سند خاص ہوتا ہے نہ بلحاظ اصل حدیث) ہم نے افادہ ۱۱ میں بہت نصوص نقل کیے کہ بارہا محدثین کا کسی حدیث کو موضوع یا ضعیف کہنا ایك سند خاص کے اعتبار سے ہوتا ہے نہ کہ اصل حدیث کے۔ اور سنیے حدیث صحیح زکوۃ حلی مروی سنن ابی داؤد ونسائی :
امرأۃ اتت النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ومعھا ابنۃ لھا وفی یدابنتھا مسکتان غلیظتان من ذھب فقال أتعطین زکاۃ ھذا قالت لاقال ایسرك ان یسورك الله بھما یوم القیمۃ سوارین من نار قال فخلعتھما فالقتھما الی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فقالت ھما لله ورسولہ ۔
یعنی ایك بی بی خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیں حاضر ہوئیں ان کی بیٹی ان کے ساتھ تھیں دختر کے ہاتھ میں سونے کے کڑے تھے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا ان کی زکوۃ ادا کرتی ہو عرض کی نہیں ۔ فرمایا : کیا تجھے یہ پسند ہے کہ الله عزوجل قیامت میں ان کے
حوالہ / References
سُنن ابی داؤد باب الکنز ماہو وزکوٰۃ الحلی مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۲۱۸
بدلے آگ کے کنگن پہنچائے ان بی بی نے کڑے اتار کر ڈال دئے اور عرض کی یہ الله اور اس کے رسول کے لئے ہیں جل جلالہ و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔
جیسے امام ابوالحسن ابن القطان وامام ابن الملقن وعلامہ سید میرك نے کہا : اسنادہ صحیح (اس کی سند صحیح ہے) امام عبدالعظیم منذری نے مختصر میں فرمایا : اسنادہ لامقال فیہ (اس کی سند میں کچھ گفتگو نہیں )محقق علی الاطلاق نے فرمایا : لاشبھۃ فی صحتہ (اس کی صحت میں کچھ شبہہ نہیں )امام ترمذی نے جامع میں روایت کرکے فرمایا : لایصح فی ھذا الباب عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم شیئ (اس باب میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے کچھ صحیح مروی نہ ہوا)امام منذری نے فرمایا : لعل الترمذی قصد الطریقین الذین ذکرھما والافطریق ابی داؤد لامقال فیہ (شاید ترمذی ان دو طریق کو کہتے ہیں جو انہوں نے ذکر کیے ورنہ سند ابی داؤد میں اصلا جائے گفتگو نہیں ) ابن القطان نے فرمایا :
انما ضعف ھذا الحدیث لان عندہ فیہ ضعیفین ابن لھیعۃ والمثنی بن الصباح ۔ ذکرہ الامام المحقق فی الفتح ثم العلامۃ القاری فی المرقاۃ۔
انہوں نے اس وجہ سے تضعیف کی کہ ان کے پاس اس کی سند میں دو۲ راوی ضعیف تھے ابن لہیعۃ اور مثنی بن الصباح۔ اسے امام محقق نے فتح القدیر اور ملاعلی قاری نے مرقاۃ میں ذکر کیا۔ (ت)
اور سنیے حدیث رد شمس کہ حضور پرنور سید الانوار ماہ عرب مہر عجم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے لئے ڈوبا ہوا آفتاب پلٹ آیا مغرب ہوکر پھر عصر کا وقت ہوگیا یہاں تك کہ امیرالمومنین مولی علی کرم الله تعالی
جیسے امام ابوالحسن ابن القطان وامام ابن الملقن وعلامہ سید میرك نے کہا : اسنادہ صحیح (اس کی سند صحیح ہے) امام عبدالعظیم منذری نے مختصر میں فرمایا : اسنادہ لامقال فیہ (اس کی سند میں کچھ گفتگو نہیں )محقق علی الاطلاق نے فرمایا : لاشبھۃ فی صحتہ (اس کی صحت میں کچھ شبہہ نہیں )امام ترمذی نے جامع میں روایت کرکے فرمایا : لایصح فی ھذا الباب عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم شیئ (اس باب میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے کچھ صحیح مروی نہ ہوا)امام منذری نے فرمایا : لعل الترمذی قصد الطریقین الذین ذکرھما والافطریق ابی داؤد لامقال فیہ (شاید ترمذی ان دو طریق کو کہتے ہیں جو انہوں نے ذکر کیے ورنہ سند ابی داؤد میں اصلا جائے گفتگو نہیں ) ابن القطان نے فرمایا :
انما ضعف ھذا الحدیث لان عندہ فیہ ضعیفین ابن لھیعۃ والمثنی بن الصباح ۔ ذکرہ الامام المحقق فی الفتح ثم العلامۃ القاری فی المرقاۃ۔
انہوں نے اس وجہ سے تضعیف کی کہ ان کے پاس اس کی سند میں دو۲ راوی ضعیف تھے ابن لہیعۃ اور مثنی بن الصباح۔ اسے امام محقق نے فتح القدیر اور ملاعلی قاری نے مرقاۃ میں ذکر کیا۔ (ت)
اور سنیے حدیث رد شمس کہ حضور پرنور سید الانوار ماہ عرب مہر عجم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے لئے ڈوبا ہوا آفتاب پلٹ آیا مغرب ہوکر پھر عصر کا وقت ہوگیا یہاں تك کہ امیرالمومنین مولی علی کرم الله تعالی
حوالہ / References
فتح القدیر بحوالہ ابی الحسن ابن القطعان فصل فی الذھب ، مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۱۶۴
فتح القدیر بحوالہ ابی الحسن ابن القطعان فصل فی الذھب ، مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۱۶۴
فتح القدیر بحوالہ ابی الحسن ابن القطعان فصل فی الذھب ، مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۱۶۵
جامع الترمذی باب ماجاء فی زکوٰۃ الحلّی مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۸۱
فتح القدیر بحوالہ المنذر فصل فی الذھب مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۱۶۴
فتح القدیر بحوالہ ابن القطان فصل فی الذھب مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۱۶۴
فتح القدیر بحوالہ ابی الحسن ابن القطعان فصل فی الذھب ، مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۱۶۴
فتح القدیر بحوالہ ابی الحسن ابن القطعان فصل فی الذھب ، مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۱۶۵
جامع الترمذی باب ماجاء فی زکوٰۃ الحلّی مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۸۱
فتح القدیر بحوالہ المنذر فصل فی الذھب مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۱۶۴
فتح القدیر بحوالہ ابن القطان فصل فی الذھب مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۱۶۴
وجہہ الکریم نے نماز عصر ادا کی جسے طحاوی و امام قاضی عیاض وامام مغلطای وامام قطب خیضری وامام حافظ الشان عسقلانی وامام خاتم الحفاظ سیوطی وغیرہم اجلہ کرام نے حسن وصحیح کہا کماھو مفصل فی الشفاء وشروحہ والمواھب وشرحھا (جیسے شفاء اس کی شروح اور مواہب اور اس کی شرح زرقانی میں تفصیلا مذکور ہے۔ ت) علامہ شامی اپنی سیرت پھر علامہ زرقانی شرح مواہب میں فرماتے ہیں :
اماقول الامام احمد وجماعۃ من الحفاظ بوضعہ فالظاھر انہ وقع لھم من طریق بعض الکذابین والافطرقہ السابقۃ یتعذر معھا الحکم علیہ بالضعف فضلا عن الوضع ۔
امام احمد اور حفاظ کی ایك جماعت کا اسے موضوع قرار دینا اس وجہ سے ہے کہ ان کو یہ روایت ایسے لوگوں کے ذریعے پہنچی ہوگی جو کذاب تھے ورنہ اس کی سابقہ تمام اسانید پر ضعف کا حکم لگانا متعذر ہے چہ جائیکہ اسے موضوع کہا جائے۔ (ت)
عام تر سنیے امام شیخ الاسلام عمدۃ الکرام مرجع العلماء الاعلام تقی الملۃ والدین ابوالحسن علی بن عبدالکافی سبکی قدس سرہ الملک کی کتاب مستطاب مظہر الصواب مرغم الشیطان مدغم الایمان شفاء السقام عــــہ فی زیادۃ خیرالانام علیہ وعلی آلہ افضل الصلاۃ والسلام میں فرماتے ہیں :
ومما یجب ان یتنبہ لہ ان حکم المحدثین بالانکار والاستغراب قدیکون بحسب تلك الطریق فلایلزم من ذلك ردمتن الحدیث بخلاف اطلاق الفقیہ ان الحدیث موضوع فانہ حکم علی المتن من حیث الجملۃ ۔
اس سے آگاہ رہنا واجب ہے کہ محدثین کا کسی حدیث کو منکر یا غریب کہنا کبھی خاص ایك سند کے لحاظ سے ہوتا ہے تو اس سے اصل حدیث کا رد لازم نہیں آتا بخلاف فقیہ کے موضوع کہنے کہ وہ بالاجمال اس متن پر حکم ہے۔
لطیفہ جلیلہ منیفہ : (لطیفہ جلیلہ منیفہ جان پر لاکھ من کا پہاڑ) ابوداؤد ونسائی کی یہ حدیث صحیح عظیم جلیل جس میں ان بی بی نے کڑوں کے صدقہ کرنے میں الله عزوجل کے ساتھ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا نام پاك بھی ملایا اور حضور نے انکار نہ فرمایا بعینہ یہی مضمون صحیح بخاری وصحیح مسلم نے حدیث تو بہ کعب بن مالك رضی اللہ تعالی عنہمیں روایت کیا کہ جب ان کی توبہ قبول ہوئی عرض کی :
عــــہ : فی الباب الاول تحت الحدیث الخامس من حج البیت فم یزرنی فقد جفانی ۱۲ منہ (م)
باب اول میں حدیث خامس کے تحت یہ مذکور ہے جس نے حج کیا اور میری زیارت نہ کی اس نے مجھ پر ظلم کیا ۱۲ منہ (ت)
اماقول الامام احمد وجماعۃ من الحفاظ بوضعہ فالظاھر انہ وقع لھم من طریق بعض الکذابین والافطرقہ السابقۃ یتعذر معھا الحکم علیہ بالضعف فضلا عن الوضع ۔
امام احمد اور حفاظ کی ایك جماعت کا اسے موضوع قرار دینا اس وجہ سے ہے کہ ان کو یہ روایت ایسے لوگوں کے ذریعے پہنچی ہوگی جو کذاب تھے ورنہ اس کی سابقہ تمام اسانید پر ضعف کا حکم لگانا متعذر ہے چہ جائیکہ اسے موضوع کہا جائے۔ (ت)
عام تر سنیے امام شیخ الاسلام عمدۃ الکرام مرجع العلماء الاعلام تقی الملۃ والدین ابوالحسن علی بن عبدالکافی سبکی قدس سرہ الملک کی کتاب مستطاب مظہر الصواب مرغم الشیطان مدغم الایمان شفاء السقام عــــہ فی زیادۃ خیرالانام علیہ وعلی آلہ افضل الصلاۃ والسلام میں فرماتے ہیں :
ومما یجب ان یتنبہ لہ ان حکم المحدثین بالانکار والاستغراب قدیکون بحسب تلك الطریق فلایلزم من ذلك ردمتن الحدیث بخلاف اطلاق الفقیہ ان الحدیث موضوع فانہ حکم علی المتن من حیث الجملۃ ۔
اس سے آگاہ رہنا واجب ہے کہ محدثین کا کسی حدیث کو منکر یا غریب کہنا کبھی خاص ایك سند کے لحاظ سے ہوتا ہے تو اس سے اصل حدیث کا رد لازم نہیں آتا بخلاف فقیہ کے موضوع کہنے کہ وہ بالاجمال اس متن پر حکم ہے۔
لطیفہ جلیلہ منیفہ : (لطیفہ جلیلہ منیفہ جان پر لاکھ من کا پہاڑ) ابوداؤد ونسائی کی یہ حدیث صحیح عظیم جلیل جس میں ان بی بی نے کڑوں کے صدقہ کرنے میں الله عزوجل کے ساتھ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا نام پاك بھی ملایا اور حضور نے انکار نہ فرمایا بعینہ یہی مضمون صحیح بخاری وصحیح مسلم نے حدیث تو بہ کعب بن مالك رضی اللہ تعالی عنہمیں روایت کیا کہ جب ان کی توبہ قبول ہوئی عرض کی :
عــــہ : فی الباب الاول تحت الحدیث الخامس من حج البیت فم یزرنی فقد جفانی ۱۲ منہ (م)
باب اول میں حدیث خامس کے تحت یہ مذکور ہے جس نے حج کیا اور میری زیارت نہ کی اس نے مجھ پر ظلم کیا ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ ردّ شمس لہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مطبوعہ مطبعۃ عامرہ مصر ۵ / ۱۳۲
شفاء السقام الحدیث الخامس مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص ۲۹
شفاء السقام الحدیث الخامس مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص ۲۹
یارسول الله من توبتی ان انخلع من مالی صدقۃ الی الله والی رسولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ۔
یارسول الله ! میری توبہ کی تمامی یہ ہے کہ میں اپنا سارا مالی الله اور الله کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے لئے صدقہ کردوں ۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے انکار نہ فرمایا۔ یہ حدیثیں حضرات وہابیہ کی جان پر آفت ہیں انہیں دو۲ پر کیا موقوف فقیر غفرالله تعالی لہ نے بجواب استفتائے بعض علمائے دہلی ایك نفیس وجلیل وموجز رسالہ مسمی بنام تاریخی الامن والعلی لناعتی المصطفی عــــہ۱ بدافع البلا۱۳۱۰ھ ملقب بلقب تاریخی اکمال الطامہ علی شرك سوی بالامور العامہ تالیف کیا اس میں ایسی بہت کثیر وعظیم باتوں کا آیات واحادیث سے صاف وصریح ثبوت دیا مثلا قرآن وحدیث ناطق ہیں الله ورسول عــــہ۲ نے دولتمند کردیا الله ورسول عــــہ۳ نگہبان ہیں الله ورسول عــــہ۴ بے والیوں کے والی ہیں الله ورسول عــــہ۵ مالوں کے مالك ہیں الله ورسول عــــہ۶ زمین کے مالك ہیں الله ورسول عــــہ۷ کی طرف توبہ الله ورسول عــــہ۸ کی دوہائی الله ورسول عــــہ۹ دینے والے ہیں الله ورسول عــــہ۱۰ سے دینے کی توقع الله ورسول عــــہ۱۱ نے نعمت دی الله ورسول عــــہ۱۲ نے عزت بخشی۔ حضور عــــہ۱۳ اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماپنی امت کے حافظ ونگہبان ہیں حضور عــــہ۱۴ کی طرف سب کے ہاتھ پھیلے ہیں حضور عــــہ۱۵ کے آگے سب گڑگڑا رہے ہیں حضور عــــہ۱۶ ساری زمین کے مالك ہیں حضور عــــہ۱۷ سب آدمیوں کے مالك ہیں حضور عــــہ۱۸ تمام امتوں کے مالك ہیں ساری دنیا کی مخلوق حضور عــــہ۱۹ کے قبضہ میں ہے مدد کی کنجیاں حضور عــــہ۲۰ کے ہاتھ میں ہیں نفع کی کنجیاں حضور عــــہ۲۱ کے ہاتھ میں جنت کی کنجیاں عــــہ۲۲ حضور کے ہاتھ میں دوزخ کی کنجیاں حضور عــــہ۲۳ کے ہاتھ میں آخرت میں عزت دینا حضور عــــہ۲۴ کے ہاتھ میں قیامت میں کل اختیار حضور عــــہ۲۵ کے ہاتھ میں ہیں حضور عــــہ۲۶ مصیبتوں کو دور فرمانے والے حضور عــــہ۲۷ سختیوں کے ٹالنے والے ابوبکر صدیق وعمر فاروق حضور عــــہ۲۸ کے بندے حضور عــــہ۲۹ کے خادم نے بیٹا دیا حضور عــــہ۳۰ کے خادم رزق آسان کرتے ہیں حضور عــــہ۳۱ کے خادم بلائیں دفع کرتے ہیں
عــــہ۱ : صلی الله تعالی علیہ وسلم ۱۲ منہ
عــــہ ۲ تا عــــہ ۱۲ جل جلالہ وصلی الله تعالی علیہ وسلم ۱۲ منہ
عــــہ۱۳ تا عــــہ۳۱ صلی الله تعالی علیہ وسلم ۱۲ منہ
یارسول الله ! میری توبہ کی تمامی یہ ہے کہ میں اپنا سارا مالی الله اور الله کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے لئے صدقہ کردوں ۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے انکار نہ فرمایا۔ یہ حدیثیں حضرات وہابیہ کی جان پر آفت ہیں انہیں دو۲ پر کیا موقوف فقیر غفرالله تعالی لہ نے بجواب استفتائے بعض علمائے دہلی ایك نفیس وجلیل وموجز رسالہ مسمی بنام تاریخی الامن والعلی لناعتی المصطفی عــــہ۱ بدافع البلا۱۳۱۰ھ ملقب بلقب تاریخی اکمال الطامہ علی شرك سوی بالامور العامہ تالیف کیا اس میں ایسی بہت کثیر وعظیم باتوں کا آیات واحادیث سے صاف وصریح ثبوت دیا مثلا قرآن وحدیث ناطق ہیں الله ورسول عــــہ۲ نے دولتمند کردیا الله ورسول عــــہ۳ نگہبان ہیں الله ورسول عــــہ۴ بے والیوں کے والی ہیں الله ورسول عــــہ۵ مالوں کے مالك ہیں الله ورسول عــــہ۶ زمین کے مالك ہیں الله ورسول عــــہ۷ کی طرف توبہ الله ورسول عــــہ۸ کی دوہائی الله ورسول عــــہ۹ دینے والے ہیں الله ورسول عــــہ۱۰ سے دینے کی توقع الله ورسول عــــہ۱۱ نے نعمت دی الله ورسول عــــہ۱۲ نے عزت بخشی۔ حضور عــــہ۱۳ اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماپنی امت کے حافظ ونگہبان ہیں حضور عــــہ۱۴ کی طرف سب کے ہاتھ پھیلے ہیں حضور عــــہ۱۵ کے آگے سب گڑگڑا رہے ہیں حضور عــــہ۱۶ ساری زمین کے مالك ہیں حضور عــــہ۱۷ سب آدمیوں کے مالك ہیں حضور عــــہ۱۸ تمام امتوں کے مالك ہیں ساری دنیا کی مخلوق حضور عــــہ۱۹ کے قبضہ میں ہے مدد کی کنجیاں حضور عــــہ۲۰ کے ہاتھ میں ہیں نفع کی کنجیاں حضور عــــہ۲۱ کے ہاتھ میں جنت کی کنجیاں عــــہ۲۲ حضور کے ہاتھ میں دوزخ کی کنجیاں حضور عــــہ۲۳ کے ہاتھ میں آخرت میں عزت دینا حضور عــــہ۲۴ کے ہاتھ میں قیامت میں کل اختیار حضور عــــہ۲۵ کے ہاتھ میں ہیں حضور عــــہ۲۶ مصیبتوں کو دور فرمانے والے حضور عــــہ۲۷ سختیوں کے ٹالنے والے ابوبکر صدیق وعمر فاروق حضور عــــہ۲۸ کے بندے حضور عــــہ۲۹ کے خادم نے بیٹا دیا حضور عــــہ۳۰ کے خادم رزق آسان کرتے ہیں حضور عــــہ۳۱ کے خادم بلائیں دفع کرتے ہیں
عــــہ۱ : صلی الله تعالی علیہ وسلم ۱۲ منہ
عــــہ ۲ تا عــــہ ۱۲ جل جلالہ وصلی الله تعالی علیہ وسلم ۱۲ منہ
عــــہ۱۳ تا عــــہ۳۱ صلی الله تعالی علیہ وسلم ۱۲ منہ
حوالہ / References
صحیح البخاری باب قولہ تعالٰی لقدتاب اللہ علی النبی الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۶۷۵
فائدہ ۹ : (وہ محدثین جو غیر ثقہ سے روایت کرتے) ہم نے افادہ ۲۱ میں ذکر کیا محدثین میں بہت کم ایسے ہیں جن کا التزام تھا کہ ثقہ ہی سے روایت کریں جیسے شعبہ بن الحجاج ۱ وامام مالك ۲ و امام احمد۳ اور افادہ دوم میں یحیی بن سعید قطان ۴ وعبدالرحمن بن مہدی ۵کو گنا اور انہیں سے ہیں امام شعبی۶ وبقی بن مخلد ۷ وحریز بن عثمن ۸ وسلیمن بن حرب ۹ ومظفر بن مدرك خراسانی ۱۰ وامام بخاری ۱۱۔ مقدمہ صحیح مسلم شریف میں ہے :
حدثنی ابوجعفر الدارمی ثنا بشربن عمر قال سألت مالك بن انس (فذکر الحدیث قال) و سألتہ عن رجل اخر نسیت اسمہ فقال ھل رأیتہ فی کتبی قلت لاقال لوکان ثقۃ لرأیتہ فی کتبی ۔
ابوجعفر دارمی نے مجھے حدیث بیان کی کہ ہمیں بشربن عمر نے بتایا کہ میں نے مالك بن انس سے پوچھا (پھر تمام حدیث بیان کی اور کہا) اور میں نے ایك دوسرے آدمی کے بارے میں ان سے پوچھا جن کا نام میں اس وقت بھول گیا تو انہوں نے فرمایا کہ تونے اسے میری کتب میں پایا ہے میں نے عرض کیا نہیں ۔ فرمایا اگر وہ ثقہ ہوتے تو میری کتب میں انہیں ضرور پاتا۔ (ت)
منہاج امام نووی میں ہے :
ھذا تصریح من مالك رحمہ الله تعالی بان من ادخلہ فی کتابہ فھو ثقۃ فمن وجدناہ فی کتابہ حکمنا بانہ ثقۃ عند مالك وقدلایکون ثقۃ عند غیرہ ۔
یہ امام مالك کی تصریح ہے کہ جسے وہ اپنی کتاب میں ذکر کریں گے وہ ثقہ ہوگا تو اب ہم ان کی کتاب میں جسے پائیں ہم اسے امام مالك کے نزدیك ثقہ سمجھیں گے اور کبھی ان کے غیر کے ہاں وہ شخص ثقہ نہیں ہوگا۔ (ت)
حدثنی ابوجعفر الدارمی ثنا بشربن عمر قال سألت مالك بن انس (فذکر الحدیث قال) و سألتہ عن رجل اخر نسیت اسمہ فقال ھل رأیتہ فی کتبی قلت لاقال لوکان ثقۃ لرأیتہ فی کتبی ۔
ابوجعفر دارمی نے مجھے حدیث بیان کی کہ ہمیں بشربن عمر نے بتایا کہ میں نے مالك بن انس سے پوچھا (پھر تمام حدیث بیان کی اور کہا) اور میں نے ایك دوسرے آدمی کے بارے میں ان سے پوچھا جن کا نام میں اس وقت بھول گیا تو انہوں نے فرمایا کہ تونے اسے میری کتب میں پایا ہے میں نے عرض کیا نہیں ۔ فرمایا اگر وہ ثقہ ہوتے تو میری کتب میں انہیں ضرور پاتا۔ (ت)
منہاج امام نووی میں ہے :
ھذا تصریح من مالك رحمہ الله تعالی بان من ادخلہ فی کتابہ فھو ثقۃ فمن وجدناہ فی کتابہ حکمنا بانہ ثقۃ عند مالك وقدلایکون ثقۃ عند غیرہ ۔
یہ امام مالك کی تصریح ہے کہ جسے وہ اپنی کتاب میں ذکر کریں گے وہ ثقہ ہوگا تو اب ہم ان کی کتاب میں جسے پائیں ہم اسے امام مالك کے نزدیك ثقہ سمجھیں گے اور کبھی ان کے غیر کے ہاں وہ شخص ثقہ نہیں ہوگا۔ (ت)
حوالہ / References
صحیح لمسلم باب بیان ان الاسناد من الدین الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۹
شرح صحیح مسلم النووی باب بیان ان الاسناد من الدین الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۹
شرح صحیح مسلم النووی باب بیان ان الاسناد من الدین الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۹
میزان میں ہے :
ابراھیم بن العلاء ابوھارون الغنوی وثقہ جماعۃ ووھاہ شعبۃ فیما قیل ولم یصح بل صح انہ حدث عنہ ۔
ابراہیم بن العلاء ابوہارون غنوی کو ایك جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور کہا گیا ہے کہ شعبہ نے انہیں کمزور کہا اور یہ صحیح نہیں بلکہ صحیح یہ ہے کہ شعبہ نے ان سے حدیث بیان کی ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
عبدالاکرم بن ابی حنیفۃ عن ابیہ وعنہ شعبۃ لایعرف لکن شیوخ شعبۃ جیاد اھ
عبدالاکرم بن ابی حنیفہ اپنے والد سے اور ان سے شعبہ نے روایت کیا ہے اور وہ معروف نہیں لیکن شعبہ کے تمام اساتذہ جید ہیں اھ (ت)
اقول : لکن قال یزید بن ھارون قال شعبۃ داری وحماری فی المساکین صدقۃ ان لم یکن ابان ابن ابی عیاش یکذب فی الحدیث قلت لہ فلم سمعت منہ قال ومن یصبر عن ذا الحدیث۔ یعنی حدیثہ عن ابراھیم عن علقمۃ عن عبدالله عن امہ انھا قالت رأیت رسول صلی الله تعالی علیہ وسلم قنت فی الوتر قبل الرکوع کمافی المیزان ولك التفصی عنہ بان السماع شیئ والتحدیث شیئ والکلام فی الاخیر وان کان اسم الشیخ یتناول الوجھین وسنذکر اخر ھذہ الفائدۃ
اقول : لیکن یزید بن ہارون نے بیان کیا کہ شعبہ نے کہا کہ میرا گھر اور میری سواری مساکین میں صدقہ ہے اگر ابان ابن ابی عیاش حدیث میں جھوٹا نہ ہو میں نے انہیں کہا تو پھر آپ نے ان سے کیوں سماع کیا تو اس نے فرمایا کون ہے جو صاحب حدیث سے حدیث لینے سے باز رہے اس سے انہوں نے ان کی وہ حدیث مراد لی جو ابراہیم سے علقمہ سے عبدالله سے اور انہوں نے اپنی والدہ سے بیان کی ہے وہ بیان کرتی ہے کہ میں نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو دیکھا آپ نے وتر میں رکوع سے پہلے قنوت پڑھی ہے جیسا کہ میزان میں ہے اور تیرے لئے اس سے خلاصی کی صورت
ابراھیم بن العلاء ابوھارون الغنوی وثقہ جماعۃ ووھاہ شعبۃ فیما قیل ولم یصح بل صح انہ حدث عنہ ۔
ابراہیم بن العلاء ابوہارون غنوی کو ایك جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور کہا گیا ہے کہ شعبہ نے انہیں کمزور کہا اور یہ صحیح نہیں بلکہ صحیح یہ ہے کہ شعبہ نے ان سے حدیث بیان کی ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
عبدالاکرم بن ابی حنیفۃ عن ابیہ وعنہ شعبۃ لایعرف لکن شیوخ شعبۃ جیاد اھ
عبدالاکرم بن ابی حنیفہ اپنے والد سے اور ان سے شعبہ نے روایت کیا ہے اور وہ معروف نہیں لیکن شعبہ کے تمام اساتذہ جید ہیں اھ (ت)
اقول : لکن قال یزید بن ھارون قال شعبۃ داری وحماری فی المساکین صدقۃ ان لم یکن ابان ابن ابی عیاش یکذب فی الحدیث قلت لہ فلم سمعت منہ قال ومن یصبر عن ذا الحدیث۔ یعنی حدیثہ عن ابراھیم عن علقمۃ عن عبدالله عن امہ انھا قالت رأیت رسول صلی الله تعالی علیہ وسلم قنت فی الوتر قبل الرکوع کمافی المیزان ولك التفصی عنہ بان السماع شیئ والتحدیث شیئ والکلام فی الاخیر وان کان اسم الشیخ یتناول الوجھین وسنذکر اخر ھذہ الفائدۃ
اقول : لیکن یزید بن ہارون نے بیان کیا کہ شعبہ نے کہا کہ میرا گھر اور میری سواری مساکین میں صدقہ ہے اگر ابان ابن ابی عیاش حدیث میں جھوٹا نہ ہو میں نے انہیں کہا تو پھر آپ نے ان سے کیوں سماع کیا تو اس نے فرمایا کون ہے جو صاحب حدیث سے حدیث لینے سے باز رہے اس سے انہوں نے ان کی وہ حدیث مراد لی جو ابراہیم سے علقمہ سے عبدالله سے اور انہوں نے اپنی والدہ سے بیان کی ہے وہ بیان کرتی ہے کہ میں نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو دیکھا آپ نے وتر میں رکوع سے پہلے قنوت پڑھی ہے جیسا کہ میزان میں ہے اور تیرے لئے اس سے خلاصی کی صورت
حوالہ / References
میزان الاعتدال ترجمہ ۱۵۲ ابراہیم بن العلاء مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت لبنان ۱ / ۴۹
میزان الاعتدال ۴۷۳۴ عبدالاکرم مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت لبنان ۲ / ۵۳۲
میزان الاعتدال ترجمہ ۱۵ ابان ابن ابی عیاش مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت لبنان ۱ / ۱۱
میزان الاعتدال ۴۷۳۴ عبدالاکرم مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت لبنان ۲ / ۵۳۲
میزان الاعتدال ترجمہ ۱۵ ابان ابن ابی عیاش مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت لبنان ۱ / ۱۱
ان الامام ربما حمل عمن شاء فاذا حدث تثبت نعم لعل الصواب التقیید بمن حدث عنہ فی الاحکام دون مایتساھل فیہ لماتقدم فی الافادۃ الثالثۃ والعشرین من قول ابن عدی ان شعبۃ حدث عن الکلبی ورضیہ بالتفسیر کمانقلہ فی المیزان وفیہ ایضا فی محمد بن عبدالجبار قال العقیلی مجھول بالنقل قلت شیوخ شعبۃ نقاوۃ الا النادر منھم وھذا الرجل قال ابوحاتم شیخ اھ قلت وھذا لایضر فقد یکون الرجل ثقۃ عندہ وعند غیرہ مجروح اومجھول حتی ان من شیوخہ الذین وثقھم وصرح بحسن الثناء علیھم جابربن یزید الجعفی ذاك الضعیف الرافضی المتھم قال الامام الاعظم رضی الله تعالی عنہ مارأیت فیمن رأیت افضل من عطاء ولااکذب من جابر الجعفی وکذلك کذبہ ایوب و زائدۃ ویحیی والجوزجانی وترکہ القطان وابن مھدی والنسائی واخرون۔
یہ ہے کہ سماع اور شیئ ہے اور حدیث بیان کرنا اور ہے گفتگو دوسرے میں ہے اگرچہ شیخ کا نام دونوں کے لئے مستعمل ہے عنقریب ہم اس فائدہ کے آخر میں ذکر کرینگے کہ امام شعبہ کبھی جس سے چاہے روایت لیتا ہے جب وہ حدیث بیان کرے تو تو اس پر ثابت قدم رہ۔ ہاں شاید درست یہ ہوکہ اسے مقید کردیا جائے اس شخص کے ساتھ جس سے احکام کی احادیث بیان کی گئی ہیں نہ کہ وہ احادیث جن میں نرمی کی جاتی ہے جیسا کہ تئیسویں افادہ میں ابن عدی کا یہ قول گزرا ہے کہ شعبہ نے کلبی سے روایت کی ہے اور باب تفسیر میں اسے پسند کیا ہے میزان میں اسی طرح منقول ہے اور اس میں محمد بن عبدالجبار کے بارے میں بھی ہے کہ عقیلی نے کہا کہ وہ مجہول بالنقل ہے میں کہتا ہوں کہ شعبہ کے تمام شیوخ جید ہیں مگر بہت کم ایسے ہیں جو جید نہ ہوں اور یہ وہ آدمی ہیں جس کے بارے میں ابوحاتم نے کہا شیخ ہے اھ قلت یہ نقصان دہ نہیں یہ ہوتا رہتا ہے کہ ایك آدمی ایك محدث کے ہاں ثقہ ہے دوسرے کے ہاں مجروح یا مجہول ہوتا ہے حتی کہ اس کے شیوخ وہ ہیں جن کو ثقہ کہاگیا اور ان کی تعریف کی تصریح کی گئی ان میں سے جابر بن یزید الجعفی ہے جو ضعیف رافضی اور متہم ہے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہنے فرمایا میں نے جو لوگ دیکھے ان میں عطا سے بڑھ کر سچا کسی کو نہیں پایا اور جابر جعفی سے زیادہ جھوٹا کوئی نہیں دیکھا اسی طرح ایوب زائدہ یحیی اور جوزجانی نے اسے جھوٹا قرار دیا۔ قطان ابن مہدی نسائی اور دیگر محدثین نے اسے ترك کردیا۔ (ت)
یہ ہے کہ سماع اور شیئ ہے اور حدیث بیان کرنا اور ہے گفتگو دوسرے میں ہے اگرچہ شیخ کا نام دونوں کے لئے مستعمل ہے عنقریب ہم اس فائدہ کے آخر میں ذکر کرینگے کہ امام شعبہ کبھی جس سے چاہے روایت لیتا ہے جب وہ حدیث بیان کرے تو تو اس پر ثابت قدم رہ۔ ہاں شاید درست یہ ہوکہ اسے مقید کردیا جائے اس شخص کے ساتھ جس سے احکام کی احادیث بیان کی گئی ہیں نہ کہ وہ احادیث جن میں نرمی کی جاتی ہے جیسا کہ تئیسویں افادہ میں ابن عدی کا یہ قول گزرا ہے کہ شعبہ نے کلبی سے روایت کی ہے اور باب تفسیر میں اسے پسند کیا ہے میزان میں اسی طرح منقول ہے اور اس میں محمد بن عبدالجبار کے بارے میں بھی ہے کہ عقیلی نے کہا کہ وہ مجہول بالنقل ہے میں کہتا ہوں کہ شعبہ کے تمام شیوخ جید ہیں مگر بہت کم ایسے ہیں جو جید نہ ہوں اور یہ وہ آدمی ہیں جس کے بارے میں ابوحاتم نے کہا شیخ ہے اھ قلت یہ نقصان دہ نہیں یہ ہوتا رہتا ہے کہ ایك آدمی ایك محدث کے ہاں ثقہ ہے دوسرے کے ہاں مجروح یا مجہول ہوتا ہے حتی کہ اس کے شیوخ وہ ہیں جن کو ثقہ کہاگیا اور ان کی تعریف کی تصریح کی گئی ان میں سے جابر بن یزید الجعفی ہے جو ضعیف رافضی اور متہم ہے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہنے فرمایا میں نے جو لوگ دیکھے ان میں عطا سے بڑھ کر سچا کسی کو نہیں پایا اور جابر جعفی سے زیادہ جھوٹا کوئی نہیں دیکھا اسی طرح ایوب زائدہ یحیی اور جوزجانی نے اسے جھوٹا قرار دیا۔ قطان ابن مہدی نسائی اور دیگر محدثین نے اسے ترك کردیا۔ (ت)
حوالہ / References
میزان الاعتدال ترجمہ ۷۵۷۴ محمد بن السائب الکلبی مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت لبنان ۳ / ۵۵۸
میزان الاعتدال ترجمہ ۷۸۲۲ محمد بن عبدالجبار مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت لبنان ۳ / ۶۱۳
میزان الاعتدال ترجمہ ۱۴۲۵ جابر بن یزید الجعفی مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت لبنان ۱ / ۳۸۰
میزان الاعتدال ترجمہ ۷۸۲۲ محمد بن عبدالجبار مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت لبنان ۳ / ۶۱۳
میزان الاعتدال ترجمہ ۱۴۲۵ جابر بن یزید الجعفی مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت لبنان ۱ / ۳۸۰
شفاء السقام عــــہ۱ شریف میں ہے :
احمد رحمہ الله تعالی لم یکن یروی الا عن ثقۃ وقدصرح الخصم (یعنی ابن تیمیۃ) بذلك فی الکتاب الذی صنفہ فی الرد علی البکری بعد عشر کرار لیس منہ قال ان القائلین بالجرح والتعدیل من علماء الحدیث نوعان منھم من لم یروالا عن ثقۃ عندہ کمالك وشعبۃ ویحیی بن سعید وعبدالرحمن بن مھدی واحمد بن حنبل وکذلك البخاری وامثالہ اھ
امام احمد رحمۃ اللہ تعالی علیہثقہ کے علاوہ کسی سے روایت نہیں کرتے اورمخالف (یعنی ابی تیمیہ) نے اس بات کی اپنی اس کتاب میں تصریح کی ہے جو اس نے بکری کے رد میں اس کے دس رسائل کے بعد لکھی کہا کہ علماء جرح وتعدیل (حدیث میں ) دو۲ اقسام ہیں ایك وہ ہیں جو صرف ثقہ سے روایت کرتے ہیں مثلا مالک شعبہ یحیی بن سعید عبدالرحمن بن مہدی احمد بن حنبل اور اسی طرح بخاری اور ان کے ہم مثل اھ (ت)
تہذیب التہذیب امام ابن حجر عسقلانی میں ہے :
خارجۃ بن الصلت البرجمی الکوفی روی عنہ الشعبی وقدقال ابن ابی خیثمۃ اذاروی الشعبی عن رجل وسماہ فھو ثقۃ یحتج بحدیثہ ۔
خارجہ بن الصلت برجمی کوفی جن سے شعبی نے روایت کیا ہے اور ابن ابی خیثمہ نے کہا کہ جب شعبی کسی شخص سے حدیث بیان کریں اور اس کا نام لیں تو وہ ثقہ ہوگا اس کی حدیث سے استدلال کیا جائیگا۔ (ت)
تدریب عــــہ۲ میں ہے :
من لایروی الاعن عدل کابن مھدی ویحیی بن سعید اھ اقول : ولاینکر علیہ بمافی المیزان عن عباس الدوری عن یحیی بن معین عن یحیی بن سعید لولم ار والا عمن ارضی مارویت الاعن خمسۃ اھ فان رضی یحیی غایۃ لاتدرك وکیف یظن بہ ان الخلق کلھم عندہ ضعفاء الاخمسۃ وانما المرضی لہ جبل ثبت شامخ راسخ لم یزل ولم یتزلزل ولافی حرف ولامرۃ۔
وہ لوگ جو صرف عادل راویوں سے روایت لیتے ہیں مثلا ابن مہدی اور یحیی بن سعید اھ اقول : اور اس پر اس بات سے اعتراض نہیں کیا جاسکتا جو میزان میں عباس دوری نے یحیی بن معین سے انہوں نے یحیی بن سعید کے حوالے سے روایت کی ہے کہ اگر میں اس شخص سے روایت کرتا ہوں جس سے میں راضی ہوتا ہوں تو میں صرف پانچ سے روایت کرتا ہوں اھ اور یحیی کے راضی ہونے کی غایت ومقصد معلوم نہیں اور یہ ان کے بارے میں کیسے گمان کیا جاسکتا ہے کہ پانچ کے علاوہ تمام لوگ ان کے نزدیك ضعیف ہوں اور ان کے ہاں پسندیدہ ومعتبر وہی شخص ہوگا جو اس فن میں پہاڑ کی مانند ٹھوس مستحکم اور مضبوط ہونہ زائل ہو اور نہ حرکت کرے نہ کسی حرف میں نہ ایك مرتبہ میں (ت)
عــــہ ۱ : فی الباب الاول تحت حدیث الاول ۱۲ منہ (م)
عــــہ ۲ : فی ترجمۃ اسرائیل بن یونس ۱۲ منہ (م)
احمد رحمہ الله تعالی لم یکن یروی الا عن ثقۃ وقدصرح الخصم (یعنی ابن تیمیۃ) بذلك فی الکتاب الذی صنفہ فی الرد علی البکری بعد عشر کرار لیس منہ قال ان القائلین بالجرح والتعدیل من علماء الحدیث نوعان منھم من لم یروالا عن ثقۃ عندہ کمالك وشعبۃ ویحیی بن سعید وعبدالرحمن بن مھدی واحمد بن حنبل وکذلك البخاری وامثالہ اھ
امام احمد رحمۃ اللہ تعالی علیہثقہ کے علاوہ کسی سے روایت نہیں کرتے اورمخالف (یعنی ابی تیمیہ) نے اس بات کی اپنی اس کتاب میں تصریح کی ہے جو اس نے بکری کے رد میں اس کے دس رسائل کے بعد لکھی کہا کہ علماء جرح وتعدیل (حدیث میں ) دو۲ اقسام ہیں ایك وہ ہیں جو صرف ثقہ سے روایت کرتے ہیں مثلا مالک شعبہ یحیی بن سعید عبدالرحمن بن مہدی احمد بن حنبل اور اسی طرح بخاری اور ان کے ہم مثل اھ (ت)
تہذیب التہذیب امام ابن حجر عسقلانی میں ہے :
خارجۃ بن الصلت البرجمی الکوفی روی عنہ الشعبی وقدقال ابن ابی خیثمۃ اذاروی الشعبی عن رجل وسماہ فھو ثقۃ یحتج بحدیثہ ۔
خارجہ بن الصلت برجمی کوفی جن سے شعبی نے روایت کیا ہے اور ابن ابی خیثمہ نے کہا کہ جب شعبی کسی شخص سے حدیث بیان کریں اور اس کا نام لیں تو وہ ثقہ ہوگا اس کی حدیث سے استدلال کیا جائیگا۔ (ت)
تدریب عــــہ۲ میں ہے :
من لایروی الاعن عدل کابن مھدی ویحیی بن سعید اھ اقول : ولاینکر علیہ بمافی المیزان عن عباس الدوری عن یحیی بن معین عن یحیی بن سعید لولم ار والا عمن ارضی مارویت الاعن خمسۃ اھ فان رضی یحیی غایۃ لاتدرك وکیف یظن بہ ان الخلق کلھم عندہ ضعفاء الاخمسۃ وانما المرضی لہ جبل ثبت شامخ راسخ لم یزل ولم یتزلزل ولافی حرف ولامرۃ۔
وہ لوگ جو صرف عادل راویوں سے روایت لیتے ہیں مثلا ابن مہدی اور یحیی بن سعید اھ اقول : اور اس پر اس بات سے اعتراض نہیں کیا جاسکتا جو میزان میں عباس دوری نے یحیی بن معین سے انہوں نے یحیی بن سعید کے حوالے سے روایت کی ہے کہ اگر میں اس شخص سے روایت کرتا ہوں جس سے میں راضی ہوتا ہوں تو میں صرف پانچ سے روایت کرتا ہوں اھ اور یحیی کے راضی ہونے کی غایت ومقصد معلوم نہیں اور یہ ان کے بارے میں کیسے گمان کیا جاسکتا ہے کہ پانچ کے علاوہ تمام لوگ ان کے نزدیك ضعیف ہوں اور ان کے ہاں پسندیدہ ومعتبر وہی شخص ہوگا جو اس فن میں پہاڑ کی مانند ٹھوس مستحکم اور مضبوط ہونہ زائل ہو اور نہ حرکت کرے نہ کسی حرف میں نہ ایك مرتبہ میں (ت)
عــــہ ۱ : فی الباب الاول تحت حدیث الاول ۱۲ منہ (م)
عــــہ ۲ : فی ترجمۃ اسرائیل بن یونس ۱۲ منہ (م)
حوالہ / References
شفاء السقام الحدیث الاول مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص ۱۰
تہذیب التہذیب لابن حجر عسقلانی ترجمہ ۱۴۵ خارجہ بن الصلت مطبوعہ دائرۃ المعارف حیدرآباد دکن ۳ / ۷۵
تدریب الراوی شرح تقریب النواوی روایۃ مجہول العدالۃ والمستور دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱ / ۳۱۷
تہذیب التہذیب لابن حجر عسقلانی ترجمہ ۱۴۵ خارجہ بن الصلت مطبوعہ دائرۃ المعارف حیدرآباد دکن ۳ / ۷۵
تدریب الراوی شرح تقریب النواوی روایۃ مجہول العدالۃ والمستور دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱ / ۳۱۷
تہذیب التہذیب میں ہے :
سلیمن بن حرب بن بجیل الازدی الواشجی قال ابوحاتم امام من الائمۃ کان لایدلس وقال ابوحاتم ایضا کان سلیمن بن حرب قل من یرضی من المشائخ فاذا رأیتہ قدروی عن شیخ فاعلم انہ ثقۃ اھ ملتقطا۔
سلیمان بن حرب بن بجیل ازدی واشجی کے بارے میں ابوحاتم کہتے ہیں کہ ائمہ حدیث میں سے امام ہیں اور وہ تدلیس نہیں کرتے تھے اور ابوحاتم نے یہ بھی کہا کہ سلیمان بن حرب بہت کم مشائخ کا اعتبار کرتے تھے لہذا جب آپ دیکھیں کہ انہوں نے کسی شیخ سے روایت کی ہے تو یقینا وہ ثقہ ہی ہوگا اھ ملتقطا (ت)
تقریب التہذیب ہے :
مظفر بن مدرك الخراسانی ابوکامل ثقۃ متقن کان لایحدث الاعن ثقۃ ۔
مظفر بن مدرك خراسانی ابوکامل ثقہ اور پختہ ہیں اور وہ ثقہ کے علاوہ کسی سے روایت نہیں کرتے تھے۔ (ت)
نافعہ جامعہ : امام سخاوی فتح عــــہ المغیث میں فرماتے ہیں :
تتمۃ من کان لایروی الاعن ثقۃ الافی النادر الامام احمد وبقی بن مخلد وحریز بن عثمن
تتمہ ان لوگوں کے بارے میں جو ثقہ کے علاوہ سے روایت نہیں کرتے مگر شاذ ونادر۔ وہ امام احمد
عــــہ : فی معرفۃ من تقبل روایتہ ۱۲ منہ (م)
جس کی روایت مقبول ہو اسکی معرفت میں اس کا ذکر ہے ۱۲ منہ (ت)
سلیمن بن حرب بن بجیل الازدی الواشجی قال ابوحاتم امام من الائمۃ کان لایدلس وقال ابوحاتم ایضا کان سلیمن بن حرب قل من یرضی من المشائخ فاذا رأیتہ قدروی عن شیخ فاعلم انہ ثقۃ اھ ملتقطا۔
سلیمان بن حرب بن بجیل ازدی واشجی کے بارے میں ابوحاتم کہتے ہیں کہ ائمہ حدیث میں سے امام ہیں اور وہ تدلیس نہیں کرتے تھے اور ابوحاتم نے یہ بھی کہا کہ سلیمان بن حرب بہت کم مشائخ کا اعتبار کرتے تھے لہذا جب آپ دیکھیں کہ انہوں نے کسی شیخ سے روایت کی ہے تو یقینا وہ ثقہ ہی ہوگا اھ ملتقطا (ت)
تقریب التہذیب ہے :
مظفر بن مدرك الخراسانی ابوکامل ثقۃ متقن کان لایحدث الاعن ثقۃ ۔
مظفر بن مدرك خراسانی ابوکامل ثقہ اور پختہ ہیں اور وہ ثقہ کے علاوہ کسی سے روایت نہیں کرتے تھے۔ (ت)
نافعہ جامعہ : امام سخاوی فتح عــــہ المغیث میں فرماتے ہیں :
تتمۃ من کان لایروی الاعن ثقۃ الافی النادر الامام احمد وبقی بن مخلد وحریز بن عثمن
تتمہ ان لوگوں کے بارے میں جو ثقہ کے علاوہ سے روایت نہیں کرتے مگر شاذ ونادر۔ وہ امام احمد
عــــہ : فی معرفۃ من تقبل روایتہ ۱۲ منہ (م)
جس کی روایت مقبول ہو اسکی معرفت میں اس کا ذکر ہے ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
تہذیب التہذیب لابن حجر عسقلانی ترجمہ ۳۱۱ سلیمٰن بن حرب مطبوعہ مجلس دائرۃ المعارف حیدرآباد دکن ۴ / ۱۷۸ و ۱۷۹
تقریب التہذیب من اسمہ مظفر مطبوعہ مطبع فاروقی دہلی ص ۲۴۸
تقریب التہذیب من اسمہ مظفر مطبوعہ مطبع فاروقی دہلی ص ۲۴۸
وسلیمن بن حرب وشعبۃ والشعبی وعبد الرحمن بن مھدی ومالك ویحیی بن سعید القطان وذلك فی شعبۃ علی المشھور فانہ کان یتعنت فی الرجال ولایروی الاعن ثبت والا فقدقال عاصم بن علی سمعت شعبۃ یقول لولم احدثکم الاعن ثقۃ لم احدثکم عن ثلثۃ وفی نسخۃ ثلثین وذلك اعتراف منہ بانہ یروی عن الثقۃ وغیرہ فینظر وعلی کل حال فھو لایروی عن متروك ولاعمن اجمع علی ضعفہ واما سفین الثوری فکان یترخص مع سعۃ علمہ وورعہ ویروی عن الضعفاء حتی قال فیہ صاحبہ شعبۃ لاتحملوا عن الثوری الاعمن تعرفون فانہ لایبالی عمن حمل وقال الفلاس قال لی یحیی بن سعید لاتکتب عن معتمر الاعمن تعرف فانہ یحدث عن کل اھ۔
اقول : ماذکر عن عاصم فیجوز بل یجب حملہ علی مثل ماقدمنا فی کلام یحیی کیف وان للثقۃ اطلاقا اخر اخص واضیق کماقال فی التدریب ان ابن مھدی قال حدثنا ابوخلدۃ فقیل لہ اکان ثقۃ فقال کان صدوقا وکان مأمونا وکان خیر الثقۃ شعبۃ وسفین قال وحکی المروزی قال سألت ابن حنبل عبدالوھاب بن عطاء ثقۃ قال لاتدری ماالثقۃ انما الثقۃ یحیی بن سعید القطان۱ اھ فعلیک بالتثبت فان الامر جلی واضح۔
بقی بن مخلد حریز بن عثمان سلیمان بن حرب شعبہ شعبی عبدالرحمن بن مہدی مالك اور یحیی بن سعید القطان اور شعبہ کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ لوگوں کے بارے میں سختی سے کام لیتے ہیں وہ صرف ثبت سے ہی روایت کرتے ہیں ورنہ عاصم بن علی کہتے ہیں کہ میں نے شعبہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اگر میں تمہیں ثقہ کے علاوہ کسی سے حدیث بیان نہ کرتا تو صرف تین راویوں (بعض نسخوں میں تیس کا ذکر ہے) سے حدیث بیان کرتا۔ یہ ان کا اعتراف ہے کہ میں ثقہ اور غیر ثقہ دونوں سے روایت کرتا ہوں لہذا غوروفکر کرلیا جائے ہرحال میں وہ متروك سے روایت نہیں کرتے اور نہ اس شخص سے جس کے ضعف پر محدثین کا اتفاق ہو رہا معاملہ سفیان ثوری کا تو وہ باوجود علمی وسعت اور ورع وتقوی کے نرمی کرتے ہوئے رخصت دیتے اور ضعفا سے روایت کرتے ہیں حتی کہ ان کے بارے میں ان کے شاگرد شعبہ نے کہا ہے کہ ثوری سے روایت نہ لو مگر ان لوگوں کے حوالے سے جن کو تم جانتے ہو کیونکہ وہ پروا نہیں کرتے کہ وہ کس سے حدیث اخذ کررہے ہیں فلاس کہتے ہیں کہ مجھے یحیی بن سعید نے کہا کہ معتمر سے نہ لکھو مگر ان لوگوں کے حوالے سے جن کو تم خود جانتے ہو کیونکہ وہ ہر ایك سے حدیث اخذ کرتے ہیں اھ (ت)
اقول : (میں کہتا ہوں ) جو کچھ عاصم کے حوالے سے مذکور ہے اس کو اس گفتگو پر محمول کرنا جائز بلکہ واجب ہے جو ہم نے پہلے کلام یحیی پر کی تھی اور یہ کیسے نہ ہو حالانکہ ثقہ کا ایك دوسرا اطلاق نہایت ہی محدود اخص ہے جیسا کہ تدریب میں ہے کہ ابن مہدی
اقول : ماذکر عن عاصم فیجوز بل یجب حملہ علی مثل ماقدمنا فی کلام یحیی کیف وان للثقۃ اطلاقا اخر اخص واضیق کماقال فی التدریب ان ابن مھدی قال حدثنا ابوخلدۃ فقیل لہ اکان ثقۃ فقال کان صدوقا وکان مأمونا وکان خیر الثقۃ شعبۃ وسفین قال وحکی المروزی قال سألت ابن حنبل عبدالوھاب بن عطاء ثقۃ قال لاتدری ماالثقۃ انما الثقۃ یحیی بن سعید القطان۱ اھ فعلیک بالتثبت فان الامر جلی واضح۔
بقی بن مخلد حریز بن عثمان سلیمان بن حرب شعبہ شعبی عبدالرحمن بن مہدی مالك اور یحیی بن سعید القطان اور شعبہ کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ لوگوں کے بارے میں سختی سے کام لیتے ہیں وہ صرف ثبت سے ہی روایت کرتے ہیں ورنہ عاصم بن علی کہتے ہیں کہ میں نے شعبہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اگر میں تمہیں ثقہ کے علاوہ کسی سے حدیث بیان نہ کرتا تو صرف تین راویوں (بعض نسخوں میں تیس کا ذکر ہے) سے حدیث بیان کرتا۔ یہ ان کا اعتراف ہے کہ میں ثقہ اور غیر ثقہ دونوں سے روایت کرتا ہوں لہذا غوروفکر کرلیا جائے ہرحال میں وہ متروك سے روایت نہیں کرتے اور نہ اس شخص سے جس کے ضعف پر محدثین کا اتفاق ہو رہا معاملہ سفیان ثوری کا تو وہ باوجود علمی وسعت اور ورع وتقوی کے نرمی کرتے ہوئے رخصت دیتے اور ضعفا سے روایت کرتے ہیں حتی کہ ان کے بارے میں ان کے شاگرد شعبہ نے کہا ہے کہ ثوری سے روایت نہ لو مگر ان لوگوں کے حوالے سے جن کو تم جانتے ہو کیونکہ وہ پروا نہیں کرتے کہ وہ کس سے حدیث اخذ کررہے ہیں فلاس کہتے ہیں کہ مجھے یحیی بن سعید نے کہا کہ معتمر سے نہ لکھو مگر ان لوگوں کے حوالے سے جن کو تم خود جانتے ہو کیونکہ وہ ہر ایك سے حدیث اخذ کرتے ہیں اھ (ت)
اقول : (میں کہتا ہوں ) جو کچھ عاصم کے حوالے سے مذکور ہے اس کو اس گفتگو پر محمول کرنا جائز بلکہ واجب ہے جو ہم نے پہلے کلام یحیی پر کی تھی اور یہ کیسے نہ ہو حالانکہ ثقہ کا ایك دوسرا اطلاق نہایت ہی محدود اخص ہے جیسا کہ تدریب میں ہے کہ ابن مہدی
حوالہ / References
فتح المغیث شرح معرفۃ من تقبل روایتہ ومن ترد دارالامام الطبری بیروت ۲ / ۴۲ و ۴۳
کہتے ہیں کہ ہمیں ابوخلدہ نے بیان کیا کہ ان سے کہاگیا کہ کیا وہ ثقہ ہے تو کہا کہ وہ صدوق اور مامون ہے اور بہتر ثقہ شعبہ اور سفیان ہیں اور کہا کہ مروزی نے بیان کیا کہ میں نے ابن حنبل سے عبدالوہاب بن عطا کے ثقہ ہونے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا تم ثقہ کو نہیں جانتے ثقہ صرف یحیی بن سعید القطان ہے اھ اس پر قائم رہنا کیونکہ معاملہ بڑا ہی واضح ہے۔ (ت)
ثم اقول : (ہمارے امام اعظم جس سے رعایت فرمالیں اس کی ثقاہت ثابت ہوگئی) انہیں ائمہ محتاطین سے ہیں علم اعلم امام اعظم سیدنا ابوحنیفۃ النعمان انعم الله تعالی علیہ بانعام الرضوان ونعمہ بانعم نعم الجنان یہاں تك کہ اگر بعض مختلطین سے روایت فرمائیں تو اخذ قبل التغیر پر محمول ہوگا جس طرح احادیث صحیحین میں کرتے ہیں محقق علی الاطلاق فتح میں فرماتے ہیں :
قال محمد بن الحسن رضی الله تعالی عنہ فی کتاب الاثار اخبرنا ابوحنیفۃ ثنالیث بن ابی سلیم عن مجاھد عن ابن مسعود رضی الله تعالی عنہ قال لیس فی مال الیتیم زکوۃ ولیث کان احد العلماء العباد وقیل اختلط فی اخر عمرہ ومعلوم ان اباحنیفۃ لم یکن لیذھب فیاخذ عنہ فی حال اختلاطہ ویرویہ وھو الذی شدد فی امرالروایۃ مالم یشددہ غیرہ علی ماعرف اھ۔
امام محمد بن حسن رضی اللہ تعالی عنہکتاب الآثار میں فرماتے ہیں کہ ہمیں امام ابوحنیفہ نے ازلیث بن ابی سلیم ازمجاہد ازابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا کہ یتیم کے مال میں زکوۃ نہیں لیث علمائے عابدین میں سے تھا اور انہیں آخر عمر میں اختلاط ہوگیا اور یہ بات مسلم ہے کہ امام اعظم ان سے اختلاط کے بعد حدیث اخذ نہیں کرسکتے کیونکہ آپ حدیث اخذ کرنے اور بیان کرنے میں جتنے سخت ہیں دوسروں سے اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا جیسا کہ معلوم ومعروف ہے اھ (ت)
تنبیہ : (قلۃ المبالاۃ فی الاخذ قدحدث من زمن التابعین اخذ حدیث میں نرمی اکابر تابعین کے زمانہ سے پیدا ہوئی ہے۔ ت)
قلت ھذا التوسع وقلۃ المبالاۃ فی
قلت (میں کہتا ہوں ) اخذ حدیث میں وسعت
ثم اقول : (ہمارے امام اعظم جس سے رعایت فرمالیں اس کی ثقاہت ثابت ہوگئی) انہیں ائمہ محتاطین سے ہیں علم اعلم امام اعظم سیدنا ابوحنیفۃ النعمان انعم الله تعالی علیہ بانعام الرضوان ونعمہ بانعم نعم الجنان یہاں تك کہ اگر بعض مختلطین سے روایت فرمائیں تو اخذ قبل التغیر پر محمول ہوگا جس طرح احادیث صحیحین میں کرتے ہیں محقق علی الاطلاق فتح میں فرماتے ہیں :
قال محمد بن الحسن رضی الله تعالی عنہ فی کتاب الاثار اخبرنا ابوحنیفۃ ثنالیث بن ابی سلیم عن مجاھد عن ابن مسعود رضی الله تعالی عنہ قال لیس فی مال الیتیم زکوۃ ولیث کان احد العلماء العباد وقیل اختلط فی اخر عمرہ ومعلوم ان اباحنیفۃ لم یکن لیذھب فیاخذ عنہ فی حال اختلاطہ ویرویہ وھو الذی شدد فی امرالروایۃ مالم یشددہ غیرہ علی ماعرف اھ۔
امام محمد بن حسن رضی اللہ تعالی عنہکتاب الآثار میں فرماتے ہیں کہ ہمیں امام ابوحنیفہ نے ازلیث بن ابی سلیم ازمجاہد ازابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا کہ یتیم کے مال میں زکوۃ نہیں لیث علمائے عابدین میں سے تھا اور انہیں آخر عمر میں اختلاط ہوگیا اور یہ بات مسلم ہے کہ امام اعظم ان سے اختلاط کے بعد حدیث اخذ نہیں کرسکتے کیونکہ آپ حدیث اخذ کرنے اور بیان کرنے میں جتنے سخت ہیں دوسروں سے اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا جیسا کہ معلوم ومعروف ہے اھ (ت)
تنبیہ : (قلۃ المبالاۃ فی الاخذ قدحدث من زمن التابعین اخذ حدیث میں نرمی اکابر تابعین کے زمانہ سے پیدا ہوئی ہے۔ ت)
قلت ھذا التوسع وقلۃ المبالاۃ فی
قلت (میں کہتا ہوں ) اخذ حدیث میں وسعت
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الزکوٰۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۱۱۵
الاخذ قدحدث فی العلماء من لدن التابعین الاعلام اخرج الدارقطنی عن ابن عون قال قال محمد بن سیرین اربعۃ یصدقون من حدثھم فلایبالون ممن یسمعون الحسن وابوالعالیۃ وحمید بن ھلال ولم یذکر الرابع وذکرہ غیرہ فسماہ انس بن سیرین ذکرہ الامام الزیلعی فی نصب الرایۃ عــــہ وقال علی بن المدینی کان عطاء یاخذ عن کل ضرب مرسلات مجاھد احب الی من مرسلاتہ بکثیر وقال احمد بن حنبل مرسلات سعید بن المسیب اصح المرسلات ومرسلات ابراھیم النخعی لاباس بہا ولیس فی المرسلات اضعف من مرسلات الحسن وعطاء بن ابی رباح فانھما کانا یاخذان عن کل احد وقال الشافعی فی مراسیل الزھری لیس بشیئ لانانجدہ یروی عن سلیمن بن الارقم ذکرھا فی التدریب۔
قلت ومراسیل الائمۃ الثقات
اور نرمی اکابر تابعین کے زمانہ سے پیدا ہوئی ہے دارقطنی نے ابن عون سے بیان کیا کہ محمد بن سیرین کہتے ہیں چار ایسے آدمی ہیں جو ان سے حدیث بیان کرے (اساتذہ) اس کو سچا سمجھتے ہیں ! اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ کس سے سماع کررہے ہیں وہ چار یہ ہیں حسن ابوالعالیہ حمید بن ہلال اور چوتھے کا نام نہیں لیا اور ان کے غیر نے چوتھے کا نام ذکر کیا اور اس کا نام انس بن سیرین بتایا ہے اس کو امام زیلعی نے نصب الرایہ میں ذکر کیا ہے۔ علی بن مدینی نے کہا کہ عطاء ہر قسم کی روایات لیتا تھا مجاہد کی مرسلات اس کی کثیر مرسلات سے مجھے بہت زیادہ پسند ہے۔ اور احمد بن حنبل کا قول ہے مرسلات میں سے سعید بن مسیب کی مرسلات اصح ہیں اور مرسلات ابراہیم نخعی میں کوئی حرج نہیں حسن اور عطاء بن رباح کی مراسیل سب سے ضعیف ہیں کیونکہ وہ دونوں ہر ایك سے حدیث اخذ کرلیتے تھے۔ امام شافعی کہتے ہیں کہ زہری کی مراسیل میں کوئی شیئ نہیں کیونکہ ہم نے اسے سلیمان بن ارقم سے روایت کرتے ہوئے پایا ہے اس کا ذکر تدریب میں ہے۔ (ت)
قلت (میں کہتا ہوں ) ثقہ ائمہ کی مراسیل
قلت ومراسیل الائمۃ الثقات
اور نرمی اکابر تابعین کے زمانہ سے پیدا ہوئی ہے دارقطنی نے ابن عون سے بیان کیا کہ محمد بن سیرین کہتے ہیں چار ایسے آدمی ہیں جو ان سے حدیث بیان کرے (اساتذہ) اس کو سچا سمجھتے ہیں ! اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ کس سے سماع کررہے ہیں وہ چار یہ ہیں حسن ابوالعالیہ حمید بن ہلال اور چوتھے کا نام نہیں لیا اور ان کے غیر نے چوتھے کا نام ذکر کیا اور اس کا نام انس بن سیرین بتایا ہے اس کو امام زیلعی نے نصب الرایہ میں ذکر کیا ہے۔ علی بن مدینی نے کہا کہ عطاء ہر قسم کی روایات لیتا تھا مجاہد کی مرسلات اس کی کثیر مرسلات سے مجھے بہت زیادہ پسند ہے۔ اور احمد بن حنبل کا قول ہے مرسلات میں سے سعید بن مسیب کی مرسلات اصح ہیں اور مرسلات ابراہیم نخعی میں کوئی حرج نہیں حسن اور عطاء بن رباح کی مراسیل سب سے ضعیف ہیں کیونکہ وہ دونوں ہر ایك سے حدیث اخذ کرلیتے تھے۔ امام شافعی کہتے ہیں کہ زہری کی مراسیل میں کوئی شیئ نہیں کیونکہ ہم نے اسے سلیمان بن ارقم سے روایت کرتے ہوئے پایا ہے اس کا ذکر تدریب میں ہے۔ (ت)
قلت (میں کہتا ہوں ) ثقہ ائمہ کی مراسیل
حوالہ / References
نصب الرایۃ لاحادیث الہدایۃ کتاب الطہارۃ واما المراسیل مطبوعہ المکتبۃ الاسلامیہ لصاحبہا ریاض ۱ / ۵۱
تدریب الراوی شرح تقریب النواوی الکلام فی احتجاج الشافعی بالمرسل مطبوعہ المکتبۃ الاسلامیہ لاہور ۱ / ۲۰۳
تدریب الراوی شرح تقریب النواوی الکلام فی احتجاج الشافعی بالمرسل مطبوعہ المکتبۃ الاسلامیہ لاہور ۱ / ۲۰۵
تدریب الراوی شرح تقریب النواوی الکلام فی احتجاج الشافعی بالمرسل مطبوعہ المکتبۃ الاسلامیہ لاہور ۱ / ۲۰۳
تدریب الراوی شرح تقریب النواوی الکلام فی احتجاج الشافعی بالمرسل مطبوعہ المکتبۃ الاسلامیہ لاہور ۱ / ۲۰۵
مقبولۃ عندنا وعندالجماھیر ولاشك ان عطاء والحسن والزھری منھم وقلۃ المبالاۃ عندالتحمل لایقتضیھا عند الاداء فقدیاخذ الامام عمن شاء ولایرسلہ الا اذااستوثق وقد وافقنا علی قبول مراسیل الحسن ذاك الورع الشدید عظیم التشدید قدوۃ الشان یحیی بن سعید القطان وذاك الجبل العلی علی بن مدینی الذی کان البخاری یقول مااستصغرت نفسی الاعندہ وذلك الامام الاجل نقاد العلل ابوزرعۃ الرازی وناھیك بھم قدوۃ اما القطان فقال ماقال الحسن فی حدیثہ قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم الا وجدنا لہ اصلا الاحدیثا اوحدیثین واما علی فقال مرسلات الحسن البصری التی رواھا عنہ الثقات صحاح مااقل مایسقط منھا واما ابوزرعۃ فقال کل شیئ قال الحسن قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم وجدت لہ اصلا ثابتا ماخلا اربعۃ احادیث نقلھا فی التدریب۔
قلت وعدم الوجدان لایقتضی عدم الوجود فلم یفت یحیی الاواحدا و اثنان ولعل غیر یحیی وجد مالم یجدہ و فوق كل ذی علم علیم(۷۶) ونقل فی مسلم الثبوت عنہ رضی الله تعالی عنہ انہ قال متی قلت لکم حدثنی فلان فھو حدیثہ ومتی قلت قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فعن سبعین اھ وفی التدریب قال یونس بن عبید سألت الحسن قلت یاابا سعید انك تقول قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم وانك لم تدرکہ فقال یاابن اخی لقد سألتنی عن شیئ ماسألنی عنہ احد قبلك ولولا منزلتك منی مااخبرتك انی فی زمان کماتری وکان فی زمن الحجاج کل شیئ سمعتنی اقول قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فھو عن علی بن ابی طالب غیرانی فی زمان لااستطیع ان اذکر علیا اھ والله تعالی اعلم۔
ہمارے اور جمہور علما کے ہاں مقبول ہیں اس میں کوئی شك نہیں کہ عطا حسن اور زہری ان میں سے ہیں اور اخذ میں نرمی کے لئے لازم نہیں کہ بیان کرتے وقت بھی نرمی ہو بعض اوقات امام کسی شخص سے حدیث اخذ کرلیتے ہیں مگر ارسال اسی وقت کرتے ہیں جب اسے وہ ثقہ محسوس کرتے ہوں اور ہمارے ساتھ حسن کی مراسیل کو قبول کرنے میں یحیی بن سعید القطان شریك ہیں جو ورع وتقوی اور حدیث کے اخذ کرنے میں نہایت ہی سخت ہیں اور اس فن کا عظیم شخص علی بن مدینی بھی جن کے بارے میں امام بخاری کا قول ہے میں نے اپنے آپ کو ان کے سوا کسی کے سامنے ہیچ نہیں سمجھا اور امام اجل نقاد العلل ابوزرعہ رازی بھی شریك ہیں اور یہ لوگ اقتدا کے لئے کافی ہیں لیکن قطان نے کہا ہے کہ جس حدیث کے بارے میں امام حسن یہ کہہ دیں “ قال رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم“ تو ہمیں ایك یا دو کے علاوہ ہر حدیث کی اصل ضرور ملی علی بن مدینی کہتے ہیں کہ وہ مراسیل حسن بصری جو ان سے ثقہ لوگوں نے روایت کی ہیں وہ صحیح ہیں میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اب سے ساقط ہونے والی کتنی ہیں اور ابوزرعہ کہتے ہیں جس شے کے بارے میں بھی حسن نے “ قال رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم“ کہا ہے مجھے چار احادیث کے علاوہ ہر ایك کی اصل مل گئی ہے۔ اس عبارت کو تدریب میں نقل کیا ہے۔ (ت)
قلت (میں کہتا ہوں ) عدم وجدان عدم وجود کو مستلزم نہیں تو یحیی کو ایك یا دو احادیث جو
قلت وعدم الوجدان لایقتضی عدم الوجود فلم یفت یحیی الاواحدا و اثنان ولعل غیر یحیی وجد مالم یجدہ و فوق كل ذی علم علیم(۷۶) ونقل فی مسلم الثبوت عنہ رضی الله تعالی عنہ انہ قال متی قلت لکم حدثنی فلان فھو حدیثہ ومتی قلت قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فعن سبعین اھ وفی التدریب قال یونس بن عبید سألت الحسن قلت یاابا سعید انك تقول قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم وانك لم تدرکہ فقال یاابن اخی لقد سألتنی عن شیئ ماسألنی عنہ احد قبلك ولولا منزلتك منی مااخبرتك انی فی زمان کماتری وکان فی زمن الحجاج کل شیئ سمعتنی اقول قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فھو عن علی بن ابی طالب غیرانی فی زمان لااستطیع ان اذکر علیا اھ والله تعالی اعلم۔
ہمارے اور جمہور علما کے ہاں مقبول ہیں اس میں کوئی شك نہیں کہ عطا حسن اور زہری ان میں سے ہیں اور اخذ میں نرمی کے لئے لازم نہیں کہ بیان کرتے وقت بھی نرمی ہو بعض اوقات امام کسی شخص سے حدیث اخذ کرلیتے ہیں مگر ارسال اسی وقت کرتے ہیں جب اسے وہ ثقہ محسوس کرتے ہوں اور ہمارے ساتھ حسن کی مراسیل کو قبول کرنے میں یحیی بن سعید القطان شریك ہیں جو ورع وتقوی اور حدیث کے اخذ کرنے میں نہایت ہی سخت ہیں اور اس فن کا عظیم شخص علی بن مدینی بھی جن کے بارے میں امام بخاری کا قول ہے میں نے اپنے آپ کو ان کے سوا کسی کے سامنے ہیچ نہیں سمجھا اور امام اجل نقاد العلل ابوزرعہ رازی بھی شریك ہیں اور یہ لوگ اقتدا کے لئے کافی ہیں لیکن قطان نے کہا ہے کہ جس حدیث کے بارے میں امام حسن یہ کہہ دیں “ قال رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم“ تو ہمیں ایك یا دو کے علاوہ ہر حدیث کی اصل ضرور ملی علی بن مدینی کہتے ہیں کہ وہ مراسیل حسن بصری جو ان سے ثقہ لوگوں نے روایت کی ہیں وہ صحیح ہیں میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اب سے ساقط ہونے والی کتنی ہیں اور ابوزرعہ کہتے ہیں جس شے کے بارے میں بھی حسن نے “ قال رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم“ کہا ہے مجھے چار احادیث کے علاوہ ہر ایك کی اصل مل گئی ہے۔ اس عبارت کو تدریب میں نقل کیا ہے۔ (ت)
قلت (میں کہتا ہوں ) عدم وجدان عدم وجود کو مستلزم نہیں تو یحیی کو ایك یا دو احادیث جو
حوالہ / References
تدریب الراوی شرح تقریب النواوی الکلام فی احتجاج الشافعی بالمرسل مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱ / ۲۰۴
القرآن ۱۲ / ۷۶
مسلم الثبوت تعریف المرسل مطبوعہ مطبع انصاری دہلی ص ۲۰۲
تدریب الراوی شرح تقریب النوادی الکلام فی احتجاج الشافعی بالمرسل مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱ / ۲۰۴
القرآن ۱۲ / ۷۶
مسلم الثبوت تعریف المرسل مطبوعہ مطبع انصاری دہلی ص ۲۰۲
تدریب الراوی شرح تقریب النوادی الکلام فی احتجاج الشافعی بالمرسل مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱ / ۲۰۴
نہ ملیں ممکن ہے کسی اور محدث کو وہ مل گئی ہوں اورشاد باری ہے وفوق کل ذی علم علیم (ہر علم والے پر ایك علم والا ہے) اور مسلم الثبوت میں حسن رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہے جب تم کو یہ کہوں کہ مجھے فلاں نے حدیث بیان کی تو وہ اس کی حدیث ہوتی ہے اور جب میں یہ کہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا تو وہ ستر۷۰ سے مروی ہوتی ہے اھ تدریب میں ہے یونس بن عبید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن سے پوچھا اے ابوسعید! آپ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا حالانکہ آپ نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی زیارت نہیں کی فرمایا اے بھتیجے! تو نے مجھ سے ایسا سوال کیا ہے جو تجھ سے پہلے آج تك مجھ سے کسی نے نہیں کیا اگر تیرا یہ مقام میرے ہاں نہ ہوتا تو میں تجھے اس سوال کا جواب نہ دیتا میں جس زمانے میں ہوں (وہ جیسے تجھے معلوم ہے) اور یہ حجاج کا زمانہ تھا جو کچھ مجھ سے آپ لوگ سنتے ہیں کہ میں کہتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہسے میں نے سنا ہوتا ہے (یہ نہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی ظاہری حیات پائی ہے) چونکہ میں ایسے دور میں ہوں جس میں حضرت علی کا نام ذکر نہیں کرسکتا (اس لئے میں حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا نام لیتا ہوں ) والله تعالی اعلم۔ (ت)
عــــہ : فصل نواقض الوضو ۱۲ منہ
فائدہ ۱۰ : (فائدہ ۱۰ متعلق افادہ ۲۴ دربارہ احادیث طبقہ رابعہ) سفہائے زمانہ نے احادیث طبقہ رابعہ کو مطلقا باطل وبے اعتبار محض قرار دیا جو شان موضوع ہے جس کا ابطال بین بابین
عــــہ : فصل نواقض الوضو ۱۲ منہ
فائدہ ۱۰ : (فائدہ ۱۰ متعلق افادہ ۲۴ دربارہ احادیث طبقہ رابعہ) سفہائے زمانہ نے احادیث طبقہ رابعہ کو مطلقا باطل وبے اعتبار محض قرار دیا جو شان موضوع ہے جس کا ابطال بین بابین
وجوہ افادہ ۲۴ میں گزرا یہاں اتنا اور سن لیجئے کہ برعکس اس کے مولانا علی قاری علیہ رحمۃ الباری نے ان کی روایت کو دلیل عدم موضوعیت قرار دیا ہے موضوعات کبیر میں زیر حدیث :
من طاف بالبیت اسبوعا ثم اتی مقام ابراھیم فرکع عندہ رکعتین ثم اتی زمزم فشرب من مائھا اخرجہ الله من ذنوبہ کیوم ولدتہ امہ ۔
جو سات پھیرے طواف کرکے مقام ابراہیم میں دو رکعت نماز پڑھے پھر زمزم شریف پر جاکر اس کا پانی پئے الله عزوجل اسے گناہوں سے ایسا پاك کردے جیسا جس دن ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔
فرماتے ہیں :
حیث اخرجہ الواحدی فی تفسیرہ والجندی فی فضائل مکۃ والدیلمی فی مسندہ لایقال انہ موضوع غایتہ انہ ضعیف ۔
جبکہ اسے واحدی نے تفسیر اور جندی نے فضائل مکہ اور دیلمی نے مسند میں روایت کیا تو اسے موضوع نہ کہا جائیگا نہایت یہ کہ ضعیف ہے۔
اقول : وجہ یہ ہے کہ اصل عدم وضع ہے اور بوجہ خلط صحاح وسقام وثابت وموضوع جس طرح وضع ممکن یونہی صحت محتمل تو جب تك خصوص متن وسند کے لحاظ سے دلیل قائم نہ ہو احد الاحتمالین خصوصا خلاف اصل کو معین کرلینا محض ظلم وجزاف ہے تو ان کی حدیث قبل تبین حال جس طرح بسبب احتمال ضعف وسقوط احکام میں مستند ومعتبر نہ ہوگی یوں ہی بوجہ احتمال صحت وحسن وضعف محض موضوع وباطل وساقط بھی نہ ٹھہر سکے گی لاجرم درجہ توقف میں رہے گی اور یہی مرتبہ ضعیف محض کا ہے جس طرح وہاں توقف مانع تمسك فی الفضائل نہیں یونہی یہاں بھی کمالایخفی علی اولی النھی (جیسا کہ اصحاب فہم پر مخفی نہیں ۔ ت) فواتح الرحموت عــــہ میں ہمارے علماء کرام رضی اللہ تعالی عنہمسے ہے :
الراوی انکان غیر معروف بالفقاھۃ ولا بالروایۃ بل انما عرف بحدیث اوحدیثین فان قبلہ الائمۃ اوسکتوا عنہ عند ظھور الروایۃ اواختلفوا کان کالمعروف وان لم یظھر منھم غیر الطعن کان مردودا وان لم یظھر شیئ منھم لم یجب العمل بل یجوز فیعمل بہ فی المندوبات والفضائل والتواریخ ۔
راوی حدیث اگر فقاہت وروایت میں معروف نہ ہو بلکہ کسی ایك یا دو۲ احادیث سے معروف ہو اور محدثین نے اسے قبول کرلیا یا ظہور روایۃ کے وقت اس سے خاموشی اختیار کی ہو یا اس میں اختلاف کیا ہوتو یہ بھی معروف کی طرح ہی ہوگا اگر اس پر محدثین نے طعن کا اظہار ہی کیا ہے تو وہ مردود ہوگا اور اگر محدثین نے کسی شیئ کا اظہار نہیں کیا تو اب عمل واجب نہیں بلکہ جائز ہوگا تو وہ مستحبات فضائل اور تاریخ میں قابل عمل ہے۔ (ت)
عــــہ : فی مسئلۃ معرف العدالۃ ۱۲ منہ (م)
معرف العدالۃ کے بحث میں ہے ۱۲ منہ (ت)
من طاف بالبیت اسبوعا ثم اتی مقام ابراھیم فرکع عندہ رکعتین ثم اتی زمزم فشرب من مائھا اخرجہ الله من ذنوبہ کیوم ولدتہ امہ ۔
جو سات پھیرے طواف کرکے مقام ابراہیم میں دو رکعت نماز پڑھے پھر زمزم شریف پر جاکر اس کا پانی پئے الله عزوجل اسے گناہوں سے ایسا پاك کردے جیسا جس دن ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔
فرماتے ہیں :
حیث اخرجہ الواحدی فی تفسیرہ والجندی فی فضائل مکۃ والدیلمی فی مسندہ لایقال انہ موضوع غایتہ انہ ضعیف ۔
جبکہ اسے واحدی نے تفسیر اور جندی نے فضائل مکہ اور دیلمی نے مسند میں روایت کیا تو اسے موضوع نہ کہا جائیگا نہایت یہ کہ ضعیف ہے۔
اقول : وجہ یہ ہے کہ اصل عدم وضع ہے اور بوجہ خلط صحاح وسقام وثابت وموضوع جس طرح وضع ممکن یونہی صحت محتمل تو جب تك خصوص متن وسند کے لحاظ سے دلیل قائم نہ ہو احد الاحتمالین خصوصا خلاف اصل کو معین کرلینا محض ظلم وجزاف ہے تو ان کی حدیث قبل تبین حال جس طرح بسبب احتمال ضعف وسقوط احکام میں مستند ومعتبر نہ ہوگی یوں ہی بوجہ احتمال صحت وحسن وضعف محض موضوع وباطل وساقط بھی نہ ٹھہر سکے گی لاجرم درجہ توقف میں رہے گی اور یہی مرتبہ ضعیف محض کا ہے جس طرح وہاں توقف مانع تمسك فی الفضائل نہیں یونہی یہاں بھی کمالایخفی علی اولی النھی (جیسا کہ اصحاب فہم پر مخفی نہیں ۔ ت) فواتح الرحموت عــــہ میں ہمارے علماء کرام رضی اللہ تعالی عنہمسے ہے :
الراوی انکان غیر معروف بالفقاھۃ ولا بالروایۃ بل انما عرف بحدیث اوحدیثین فان قبلہ الائمۃ اوسکتوا عنہ عند ظھور الروایۃ اواختلفوا کان کالمعروف وان لم یظھر منھم غیر الطعن کان مردودا وان لم یظھر شیئ منھم لم یجب العمل بل یجوز فیعمل بہ فی المندوبات والفضائل والتواریخ ۔
راوی حدیث اگر فقاہت وروایت میں معروف نہ ہو بلکہ کسی ایك یا دو۲ احادیث سے معروف ہو اور محدثین نے اسے قبول کرلیا یا ظہور روایۃ کے وقت اس سے خاموشی اختیار کی ہو یا اس میں اختلاف کیا ہوتو یہ بھی معروف کی طرح ہی ہوگا اگر اس پر محدثین نے طعن کا اظہار ہی کیا ہے تو وہ مردود ہوگا اور اگر محدثین نے کسی شیئ کا اظہار نہیں کیا تو اب عمل واجب نہیں بلکہ جائز ہوگا تو وہ مستحبات فضائل اور تاریخ میں قابل عمل ہے۔ (ت)
عــــہ : فی مسئلۃ معرف العدالۃ ۱۲ منہ (م)
معرف العدالۃ کے بحث میں ہے ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
الاسرار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ حرف المیم مطبوعہ دارالکتاب العلمیہ بیروت ص ۲۳۶
الاسرار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ حرف المیم مطبوعہ دارالکتاب العلمیہ بیروت ص ۲۳۶
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفی مسئلہ مجہول الحال الخ مطبوعہ منشورات الشریف الرضی قم ۲ / ۱۴۹
ف۱ یہ عبارت مختصراً ورمتعدد صفحات سے نقل کی گئی ہے۔ حوالہ کے لئے ص ۵۱۰ تا ۵۱۹ ملاحظہ ہو۔
الاسرار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ حرف المیم مطبوعہ دارالکتاب العلمیہ بیروت ص ۲۳۶
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفی مسئلہ مجہول الحال الخ مطبوعہ منشورات الشریف الرضی قم ۲ / ۱۴۹
ف۱ یہ عبارت مختصراً ورمتعدد صفحات سے نقل کی گئی ہے۔ حوالہ کے لئے ص ۵۱۰ تا ۵۱۹ ملاحظہ ہو۔
فائدہ ۱۱ : (تذکرۃ الموضوعات محمد طاہر فتنی میں ذکر مستلزم گمان وضع نہیں ) ان ضروری فوائد سے کہ بوجہ تعجیل ہنگام تبییض تحریر سے رہ گئے تذکرۃ الموضوعات علامہ محمد طاہر فتنی رحمۃ اللہ تعالی علیہکا حال ہے کہ اس میں مجرد ذکر سے موضوعیت پر استدلال تو بڑے بھاری متکلمین منکرین نے کیا حالانکہ محض جہالت وبے رہی یا دیدہ ودانستہ مغالطہ دہی تذکرہ مذکورہ بھی کتب قسم ثانی سے ہے اس میں ہر طرح کی احادیث لاتے اور کسی کو موضوع کسی کو لم یجد کسی کو منکر کسی کو لیس بثابت کسی کو لایصح کسی کو ضعیف کسی کو مؤول کسی کو رجالہ ثقات کسی کو لاباس بہ کسی کو صححہ فلان کسی کو صحیح فرماتے ہیں حدیث تقبیل ابہامین انہیں میں ہے جنہیں ہرگز موضوع نہ کہا بلکہ صرف لایصح پر اقتصار اور تجربہ کثیرین سے استظہار کیا خاتمہ مجمع بحار الانوار میں فرماتے ہیں :
فصل فی تعیین ف۱ بعض الاحادیث المشتھرۃ علی الالسن والصواب خلافھا علی نمط ذکرتہ فی التذکرۃ فیہ من عرف نفسہ عرف ربہ لیس بثابت ح رأیت ربی فی صورۃ شاب لہ وفرۃ صحیح محمول علی رویۃ المنام اومؤول ح المؤمن غرکریم والمنافق خب لئیم موضوع عــــہ ح ماشھد رجل علی رجل بکفر
فصل بعض احادیث کی تعیین کے بارے میں جو لوگوں کی زبانوں پر مشہور ہیں حالانکہ صواب اس کے خلاف ہے اس طریقہ پر جس کا ذکر تذکرہ میں میں نے کیا ہے اس میں ہے وہ شخص جس نے اپنے نفس (آپ) کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا یہ ثابت نہیں حدیث میں نے اپنے رب کو ایسے خوبصورت جوان کی صورت میں دیکھا جس کے بال لمبے وخوب صورت ہوں صحیح ہے یہ
عــــہ اقول : ھذا عجیب فقد اخرجہ ابوداؤد
اقول یہ عجیب ہے حالانکہ ابوداؤد
فصل فی تعیین ف۱ بعض الاحادیث المشتھرۃ علی الالسن والصواب خلافھا علی نمط ذکرتہ فی التذکرۃ فیہ من عرف نفسہ عرف ربہ لیس بثابت ح رأیت ربی فی صورۃ شاب لہ وفرۃ صحیح محمول علی رویۃ المنام اومؤول ح المؤمن غرکریم والمنافق خب لئیم موضوع عــــہ ح ماشھد رجل علی رجل بکفر
فصل بعض احادیث کی تعیین کے بارے میں جو لوگوں کی زبانوں پر مشہور ہیں حالانکہ صواب اس کے خلاف ہے اس طریقہ پر جس کا ذکر تذکرہ میں میں نے کیا ہے اس میں ہے وہ شخص جس نے اپنے نفس (آپ) کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا یہ ثابت نہیں حدیث میں نے اپنے رب کو ایسے خوبصورت جوان کی صورت میں دیکھا جس کے بال لمبے وخوب صورت ہوں صحیح ہے یہ
عــــہ اقول : ھذا عجیب فقد اخرجہ ابوداؤد
اقول یہ عجیب ہے حالانکہ ابوداؤد
الاباء بہ احدھما ضعیف عــــہ۱ فیہ طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم طرقھا واھیۃ عــــہ۲ ح من ادی الفریضۃ وعلم الناس الخیر کان فضلہ علی العابد الحدیث ضعیف اسنادہ لکنھم یتساھلون فی الفضائل ح الوضوء علی الوضوء نورعلی نور لم یوجد عــــہ۱ فیہ مسح العینین بباطن السبابتین بعد تقبیلھما لایصح وروی تجریۃ ذلك عن کثیرین فیہ الصلاۃ عماد الدین ضعیف وصلاۃ التسبیح ضعیف عــــہ ۲ الدارقطنی اصح شیئ فی فضل الصلوت صلاۃ التسبیح فیہ طعام الجواد واء وطعام البخیل داء فی المقاصد عــــہ۳ رجالہ ثقات وفی المختصر منکر فی المقاصد ماء زمزم لماشرب لہ ضعیف عــــہ۴ لکن لہ شاھد فی مسلم ح ان الله یبعث لھذہ الامۃ علی رأس کل مائۃ من یجدد لھا دینھا صححۃ عــــہ۵ الحاکم ح مثل امتی کالمطر لایدری اولہ خیر ام اخرہ موضوع (عہ) فی الوجیز انا وابوبکر وعمر خلقنا من تربۃ واحدۃ فیہ مجاھیل قلت لہ طریق اخر ولہ شاھد فی اویس حدیث فی ورقتین قال ابن حبان باطل قلت الوقف اولی فان لہ طرقا عدیدۃ لاباس ببعضھا ح من اخلص لله اربعین یوما سندہ ضعیف ولہ شاھد ح یکون فی اخر الزمان خلیفۃ لایفضل علیہ ابوبکر ولاعمر موضوع قلت بل مؤول الی ھنا مافی التذکرۃ اھ ملتقطا۔
خواب پر محمول ہے یا یہ مؤول ہے اور حدیث مومن دھوکا کھانے والا اور شرم والا ہوتا ہے اور منافق دغاباز اور کمینہ ہوتا ہے موضوع ہے۔ حدیث نہیں گواہی دیتا کوئی آدمی دوسرے کے کفر کی مگر کفران میں سے کسی ایك پر لوٹ آتا ہے ضعیف ہے۔ اسی میں ہے علم کا طلب کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے اس کے تمام طرق کمزور ہیں ۔ حدیث وہ شخص جس نے فرض ادا کیا اور لوگوں کو خیر کی تعلیم دی اس کو عابد پر فضیلت حاصل ہے اس حدیث کی سند ضعیف ہے لیکن محدثین فضائل عمل میں نرمی برتتے ہیں ۔ حدیث وضو پر وضو نور علی نور ہے موجود نہیں ۔ اس میں ہے سبابہ انگلیوں کا باطن چومنے کے بعد آنکھوں سے لگانا صحیح نہیں اور بطور تجربہ یہ عمل کثیر علماء سے مروی ہے۔ اس میں ہے نماز دین کا ستون ہے یہ حدیث ضعیف ہے۔ صلاۃ التسبیح (والی حدیث) ضعیف ہے۔ دارقطنی میں ہے فضائل نماز کے بارے میں جتنی احادیث مروی ہیں ان میں نماز تسبیح والی حدیث اصح ہے۔ اس میں ہے سخی کا کھانا دوا ہے بخیل کا کھانا بیماری ہے مقاصد میں ہے کہ اس کے رواۃ ثقہ ہیں اور مختصر میں ہے کہ یہ منکر ہے۔ مقاصد میں ہے زمزم کا پانی اسی کام کے لئے ہے جس کی خاطر اسے پیا گیا ضعیف ہے لیکن اس کے لئے مسلم میں شاہد ہے۔ حدیث الله تعالی ہر سو۱۰۰ سال کے بعد اس امت میں ایسے شخص کو مبعوث فرماتا ہے جو اس کے لئے دین کی تجدید کرتا ہے حاکم نے اس کی تصحیح کی۔ حدیث میری امت کی مثال بارش کی طرح ہے معلوم نہیں اس کا اول بہتر ہے یا آخر موضوع ہے۔ وجیز میں ہے : میں ابوبکر اور عمر تینوں ایك ہی مٹی سے پیدا ہوئے اس میں راوی مجہول ہیں میں کہتا ہوں اس کی ایك اور سند ہے اور اس کے لئے شاہد ہے حدیث اویس جو دو۲ ورقوں پر ہے ابن حبان نے کہا یہ باطل ہے میں کہتا ہوں سکوت بہتر ہے کیونکہ اس کی متعدد اسناد ہیں اس کی بعض سندوں میں
والترمذی والحاکم عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ بلفظ الفاجر مکان المنافق واسنادہ کماقال المناوی جید ۱۲ منہ (م)
ترمذی اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے منافق کی جگہ لفظ فاجر روایت کیا ہے اور اس کی سند بقول امام مناوی کے جید ہے ۱۲ منہ (ت)
عــــہ۱ : اقول : بل صحیح من اعلی الصحاح فلمالك والصحیحین غیرھما عن ابن عمر رضی الله تعالی عنہما رفعہ اذاقال الرجل لاخیہ یا کافر فقد باء بھا احدھما وللبخاری عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ رفعامن قال لاخیہ یاکافر فقدباء بھا احدھما ولابن حبان عن ابی سعید رضی الله تعالی عنہ بسند صحیح مرفوعا مااکفر رجل رجلا قط الاباء بھا احدھما وفی الباب غیر ذلك فان اراد خصوص اللفظ فقلیل الجدوی ۱۲ منہ (م)
اقول : بلکہ یہ اعلی درجہ کی صحاح میں سے صحیح ہے امام مالك اور شیخین وغیرہما نے حضرت عبدالله ابن عمررضی اللہ تعالی عنہماسے مرفوعا روایت کیا کہ جب کوئی شخص اپنے بھائی کو “ یاکافر “ (اے کافر) کہا تو وہ کفر ان دونوں میں سے ایك پر لوٹ آتا ہے۔ اور بخاری نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالی عنہسے مرفوعا بیان کیا کہ جس نے اپنے بھائی کو “ یاکافر “ کہا تو وہ کفر ان میں سے ایك پر لوٹ آئیگا۔ ابن حبان نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہسے مرفوعا سند صحیح کے ساتھ روایت کیا جب بھی کوئی کسی کو کافر کہتا ہے تو وہ کفر یقینا ان میں سے کسی ایك کی طرف رجوع کرتا ہے اور اس باب میں اس کے علاوہ بھی احادیث ہیں اگر اس سے مراد خاص الفاظ ہیں تو ایسی روایات تو بہت ہی کم ہیں ۱۲ منہ (ت)
عــــہ۲ : اقول : والصحیح انہ لاینزل عن الحسن کمابینتہ فی النجوم الثواقب فی تخریج احادیث الکواکب ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
اقول : (میں کہتا ہوں کہ) صحیح وہ ہے کہ جو حسن سے نیچے نہ ہو جیسے کہ میں نے “ النجوم الثواقب فی تخریج احادیث الکواکب “ میں بیان کیا ہے ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ(ت)
خواب پر محمول ہے یا یہ مؤول ہے اور حدیث مومن دھوکا کھانے والا اور شرم والا ہوتا ہے اور منافق دغاباز اور کمینہ ہوتا ہے موضوع ہے۔ حدیث نہیں گواہی دیتا کوئی آدمی دوسرے کے کفر کی مگر کفران میں سے کسی ایك پر لوٹ آتا ہے ضعیف ہے۔ اسی میں ہے علم کا طلب کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے اس کے تمام طرق کمزور ہیں ۔ حدیث وہ شخص جس نے فرض ادا کیا اور لوگوں کو خیر کی تعلیم دی اس کو عابد پر فضیلت حاصل ہے اس حدیث کی سند ضعیف ہے لیکن محدثین فضائل عمل میں نرمی برتتے ہیں ۔ حدیث وضو پر وضو نور علی نور ہے موجود نہیں ۔ اس میں ہے سبابہ انگلیوں کا باطن چومنے کے بعد آنکھوں سے لگانا صحیح نہیں اور بطور تجربہ یہ عمل کثیر علماء سے مروی ہے۔ اس میں ہے نماز دین کا ستون ہے یہ حدیث ضعیف ہے۔ صلاۃ التسبیح (والی حدیث) ضعیف ہے۔ دارقطنی میں ہے فضائل نماز کے بارے میں جتنی احادیث مروی ہیں ان میں نماز تسبیح والی حدیث اصح ہے۔ اس میں ہے سخی کا کھانا دوا ہے بخیل کا کھانا بیماری ہے مقاصد میں ہے کہ اس کے رواۃ ثقہ ہیں اور مختصر میں ہے کہ یہ منکر ہے۔ مقاصد میں ہے زمزم کا پانی اسی کام کے لئے ہے جس کی خاطر اسے پیا گیا ضعیف ہے لیکن اس کے لئے مسلم میں شاہد ہے۔ حدیث الله تعالی ہر سو۱۰۰ سال کے بعد اس امت میں ایسے شخص کو مبعوث فرماتا ہے جو اس کے لئے دین کی تجدید کرتا ہے حاکم نے اس کی تصحیح کی۔ حدیث میری امت کی مثال بارش کی طرح ہے معلوم نہیں اس کا اول بہتر ہے یا آخر موضوع ہے۔ وجیز میں ہے : میں ابوبکر اور عمر تینوں ایك ہی مٹی سے پیدا ہوئے اس میں راوی مجہول ہیں میں کہتا ہوں اس کی ایك اور سند ہے اور اس کے لئے شاہد ہے حدیث اویس جو دو۲ ورقوں پر ہے ابن حبان نے کہا یہ باطل ہے میں کہتا ہوں سکوت بہتر ہے کیونکہ اس کی متعدد اسناد ہیں اس کی بعض سندوں میں
والترمذی والحاکم عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ بلفظ الفاجر مکان المنافق واسنادہ کماقال المناوی جید ۱۲ منہ (م)
ترمذی اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے منافق کی جگہ لفظ فاجر روایت کیا ہے اور اس کی سند بقول امام مناوی کے جید ہے ۱۲ منہ (ت)
عــــہ۱ : اقول : بل صحیح من اعلی الصحاح فلمالك والصحیحین غیرھما عن ابن عمر رضی الله تعالی عنہما رفعہ اذاقال الرجل لاخیہ یا کافر فقد باء بھا احدھما وللبخاری عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ رفعامن قال لاخیہ یاکافر فقدباء بھا احدھما ولابن حبان عن ابی سعید رضی الله تعالی عنہ بسند صحیح مرفوعا مااکفر رجل رجلا قط الاباء بھا احدھما وفی الباب غیر ذلك فان اراد خصوص اللفظ فقلیل الجدوی ۱۲ منہ (م)
اقول : بلکہ یہ اعلی درجہ کی صحاح میں سے صحیح ہے امام مالك اور شیخین وغیرہما نے حضرت عبدالله ابن عمررضی اللہ تعالی عنہماسے مرفوعا روایت کیا کہ جب کوئی شخص اپنے بھائی کو “ یاکافر “ (اے کافر) کہا تو وہ کفر ان دونوں میں سے ایك پر لوٹ آتا ہے۔ اور بخاری نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالی عنہسے مرفوعا بیان کیا کہ جس نے اپنے بھائی کو “ یاکافر “ کہا تو وہ کفر ان میں سے ایك پر لوٹ آئیگا۔ ابن حبان نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہسے مرفوعا سند صحیح کے ساتھ روایت کیا جب بھی کوئی کسی کو کافر کہتا ہے تو وہ کفر یقینا ان میں سے کسی ایك کی طرف رجوع کرتا ہے اور اس باب میں اس کے علاوہ بھی احادیث ہیں اگر اس سے مراد خاص الفاظ ہیں تو ایسی روایات تو بہت ہی کم ہیں ۱۲ منہ (ت)
عــــہ۲ : اقول : والصحیح انہ لاینزل عن الحسن کمابینتہ فی النجوم الثواقب فی تخریج احادیث الکواکب ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
اقول : (میں کہتا ہوں کہ) صحیح وہ ہے کہ جو حسن سے نیچے نہ ہو جیسے کہ میں نے “ النجوم الثواقب فی تخریج احادیث الکواکب “ میں بیان کیا ہے ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ(ت)
حوالہ / References
خاتمہ مجمع بحارالانوار فصل فی تعیین بعض الاحادیث المشتہرۃ علی الحسن نولکشور لکھنؤ ۳ / ۵۱۰ تا ۵۱۹
عــــہ۱ : بل اخرجہ زرین وان قال المنذری ثم العراتی لم نقف علیہ ۱۲ منہ (م)
بلکہ اس کی تخریج زرین نے کی ہے اگرچہ منذری پھر عراقی نے کہا کہ ہم اس سے آگاہ نہ ہوسکے ۱۲ منہ (ت)
عــــہ۲ : الحق انہ حدیث حسن صحیح لاشك حسن لذاتہ صحیح لغیرہ ان لم یکن لذاتہ والتفصیل فی اللآلی ۱۲ منہ (م)
حق یہ ہے کہ حدیث حسن صحیح ہے اس میں کوئی شك نہیں کہ یہ حسن لذاتہ ہے صحیح لغیرہ ہے البتہ صحیح لذاتہ نہیں اور اس کی تفصیل اللآلی میں ہے (ت)
عــــہ۳ : اقول کذا قال المناوی وبالغ الذھبی کعادتہ فقال کذب ۱۲ منہ (م)
اقول : اسی طرح مناوی نے کہا اور ذہبی نے اپنی عادت کے مطابق مبالغہ کیا اور کہا کہ وہ جھوٹے ہیں ۱۲ منہ (ت)
عــــہ۴ : اقول بل نص الحافظ انہ حجۃ بطرقہ وحسنہ المناوی وصححہ الامام سفین بن عینیہ والد میاطی والمنذری وابن الجزری ۱۲ منہ (م)
اقول : بلکہ حافظ نے تصریح کی ہے کہ یہ اپنی اسناد کی بنا پر حجت ہے مناوی نے اسے حسن کہا امام سفیان بن عینیہ دمیاطی منذری اور ابن جزری نے اسے صحیح کہا ۱۲ منہ (ت)
عــــہ۵ : ورواہ ابوداؤد وقال المناوی الاسناد صحیح ۱۲ منہ (م)
اسے ابوداؤد نے روایت کیا اور مناوی کہتے ہیں اسکی سند صحیح ہے۔ (ت)
بلکہ اس کی تخریج زرین نے کی ہے اگرچہ منذری پھر عراقی نے کہا کہ ہم اس سے آگاہ نہ ہوسکے ۱۲ منہ (ت)
عــــہ۲ : الحق انہ حدیث حسن صحیح لاشك حسن لذاتہ صحیح لغیرہ ان لم یکن لذاتہ والتفصیل فی اللآلی ۱۲ منہ (م)
حق یہ ہے کہ حدیث حسن صحیح ہے اس میں کوئی شك نہیں کہ یہ حسن لذاتہ ہے صحیح لغیرہ ہے البتہ صحیح لذاتہ نہیں اور اس کی تفصیل اللآلی میں ہے (ت)
عــــہ۳ : اقول کذا قال المناوی وبالغ الذھبی کعادتہ فقال کذب ۱۲ منہ (م)
اقول : اسی طرح مناوی نے کہا اور ذہبی نے اپنی عادت کے مطابق مبالغہ کیا اور کہا کہ وہ جھوٹے ہیں ۱۲ منہ (ت)
عــــہ۴ : اقول بل نص الحافظ انہ حجۃ بطرقہ وحسنہ المناوی وصححہ الامام سفین بن عینیہ والد میاطی والمنذری وابن الجزری ۱۲ منہ (م)
اقول : بلکہ حافظ نے تصریح کی ہے کہ یہ اپنی اسناد کی بنا پر حجت ہے مناوی نے اسے حسن کہا امام سفیان بن عینیہ دمیاطی منذری اور ابن جزری نے اسے صحیح کہا ۱۲ منہ (ت)
عــــہ۵ : ورواہ ابوداؤد وقال المناوی الاسناد صحیح ۱۲ منہ (م)
اسے ابوداؤد نے روایت کیا اور مناوی کہتے ہیں اسکی سند صحیح ہے۔ (ت)
عــــہ : اقول : ھذا عجیب بل اخرجہ احمد والترمذی فی الجامع عن انس رضی الله تعالی عنہ وحسنہ وفی الباب عن عمر ان بن حصین رضی الله تعالی عنہ اخرجہ البزار قال السخاوی بسند حسن وفیہ عن علی وعن عمار وعن عبدالله بن عمر رضی الله تعالی عنہ وقال ابن عبدالبر ان الحدیث حسن وقال ابن القطان لانعلم لہ علۃ قال المناوی اسنادہ جید ۱۲ منہ (م)
اقول : (میں کہتا ہوں کہ) یہ عجیب ہے بلکہ اس کو احمد اور ترمذی نے جامع میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا اور حسن قرار دیا نیز اس بارے میں حضرت عمران بن حصینرضی اللہ تعالی عنہماسے بھی مروی ہے اس کو بزار نے روایت کیا ہے۔ سخاوی کہتے ہیں کہ اس کی سند حسن ہے اور اس بارے میں حضرت علی حضرت عمار اور حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہمسے بھی مروی ہے ابن عبدالبر کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے ابن القطان کی رائے ہے کہ ہمیں اس میں کسی علت کا علم نہیں ۔ مناوی نے کہا کہ اس کی سند جید ہے ۱۲ منہ (ت)
اقول : (میں کہتا ہوں کہ) یہ عجیب ہے بلکہ اس کو احمد اور ترمذی نے جامع میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا اور حسن قرار دیا نیز اس بارے میں حضرت عمران بن حصینرضی اللہ تعالی عنہماسے بھی مروی ہے اس کو بزار نے روایت کیا ہے۔ سخاوی کہتے ہیں کہ اس کی سند حسن ہے اور اس بارے میں حضرت علی حضرت عمار اور حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہمسے بھی مروی ہے ابن عبدالبر کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے ابن القطان کی رائے ہے کہ ہمیں اس میں کسی علت کا علم نہیں ۔ مناوی نے کہا کہ اس کی سند جید ہے ۱۲ منہ (ت)
کوئی حرج نہیں ۔ حدیث جس نے چالیس دن الله تعالی کے لئے خالص کیے اس کی سند ضعیف ہے اور اس کے لئے شاہد ہے۔ حدیث آخر زمانے میں ایك خلیفہ ہوگا جس سے ابوبکر و عمر افضل نہ ہوں گے موضوع ہے۔ میں کہتا ہوں بلکہ اس میں تاویل ہے یہاں تك ان روایات کا ذکر ہے جو تذکرہ میں تھیں اھ ملتقطا۔ (ت)
فائدہ ۱۲ : (حدیث بے سند مذکور علماء کے قبول میں نفیس وجلیل احقاق اور اوہام قاصرین زماں کا ابطال وازہاق) اقول : وبالله التوفیق اذہان اکثر قاصرین زمان میں سند کی فضیلتیں اور کلام اثریین میں اتصال کی ضرورتیں دیکھ دیکھ کر مرتکز ہو رہا ہے کہ احادیث بے سند اگرچہ کلمات ائمہ معتمدین میں بصیغہ جزم مذکور ہوں مطلقا باطل ومردود وعاطل کہ احکام مغازی سیر فضائل کسی باب میں اصلا نہ سننے کے لائق نہ ماننے کے قابل حالانکہ یہ محض اختراع بین الاندفاع مشاہیر محدثین وجماہیر فقہا دونوں فریق کے مخالف اجماع ہے غیر صحابی جو قول یا فعل یا حال حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی طرف بے سند متصل نسبت کرے محدثین کے نزدیك باختلاف حالات واصطلاحات مرسل منقطع معلق معضل ہے اور فقہا واصولین کی اصطلاح میں سب کا نام مرسل اصطلاح حدیث پر تعلیق واعضال یا اصطلاح فقہ واصول پر ارسال میں کچھ بعض سند کا ذکر ہرگز لازم نہیں بلکہ تمام وسائط حذف کرکے علمائے مصنفین جو قال یا فعل رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمذلك کہتے ہیں یہ بھی معضل ومرسل ہے امام اجل ابن الصلاح کتاب معرفۃ انواع علم الحدیث میں فرماتے ہیں :
المعضل عبارۃ عماسقط من اسنادہ اثنان فصاعدا ومثالہ مایرویہ تابعی التابعی قائلا فیہ قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم وکذلك مایرویہ من دون تابعی التابعی عن رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اوعن ابوبکر وعمر وغیرھما : غیر ذاکر للوسائط بینہ وبینھم وذکر ابو نصر السنجری الحافظ قول الراوی “ بلغنی “ نحو قول مالك “ بلغنی عن ابی ھریرۃ ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم قال للملوك طعامہ وکسوتہ الحدیث وقال اصحاب الحدیث یسمونہ المعضل قلت وقول المصنفین من الفقہاء وغیرھم قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کذا وکذا “ ونحو ذلك کلہ من قبیل المعضل لماتقدم وسماہ الخطیب ابوبکر الحافظ فی بعض کلامہ مرسلا وذلك علی مذھب من یسمی کل مالایتصل مرسلا کماسبق اھ باختصار۔
معضل حدیث وہ ہوتی ہے جس کی سند سے دو یا دو سے زائد راوی ساقط ہوں مثلا وہ جسے تبع تابعی یہ کہتے ہوئے روایت کرے کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا اور اسی طرح وہ روایت جسے تبع تابعی کے بعد کا کوئی شخص حضور علیہ السلام سے یا ابوبکر وعمر یا دیگر کسی صحابی سے حضور اور صحابہ کے درمیان واسطہ ذکر کیے بغیر روایت کرے ابونصر السنجری حافظ بیان کرتے ہیں کہ راوی کا قول “ بلغنی “ (مجھے یہ روایت پہنچی ہے) مثلا امام مالك کا قول کہ مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے یہ روایت پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا مملوك کے لئے کھانا اور کپڑے ہیں الحدیث۔ اور فرمایا
فائدہ ۱۲ : (حدیث بے سند مذکور علماء کے قبول میں نفیس وجلیل احقاق اور اوہام قاصرین زماں کا ابطال وازہاق) اقول : وبالله التوفیق اذہان اکثر قاصرین زمان میں سند کی فضیلتیں اور کلام اثریین میں اتصال کی ضرورتیں دیکھ دیکھ کر مرتکز ہو رہا ہے کہ احادیث بے سند اگرچہ کلمات ائمہ معتمدین میں بصیغہ جزم مذکور ہوں مطلقا باطل ومردود وعاطل کہ احکام مغازی سیر فضائل کسی باب میں اصلا نہ سننے کے لائق نہ ماننے کے قابل حالانکہ یہ محض اختراع بین الاندفاع مشاہیر محدثین وجماہیر فقہا دونوں فریق کے مخالف اجماع ہے غیر صحابی جو قول یا فعل یا حال حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی طرف بے سند متصل نسبت کرے محدثین کے نزدیك باختلاف حالات واصطلاحات مرسل منقطع معلق معضل ہے اور فقہا واصولین کی اصطلاح میں سب کا نام مرسل اصطلاح حدیث پر تعلیق واعضال یا اصطلاح فقہ واصول پر ارسال میں کچھ بعض سند کا ذکر ہرگز لازم نہیں بلکہ تمام وسائط حذف کرکے علمائے مصنفین جو قال یا فعل رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمذلك کہتے ہیں یہ بھی معضل ومرسل ہے امام اجل ابن الصلاح کتاب معرفۃ انواع علم الحدیث میں فرماتے ہیں :
المعضل عبارۃ عماسقط من اسنادہ اثنان فصاعدا ومثالہ مایرویہ تابعی التابعی قائلا فیہ قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم وکذلك مایرویہ من دون تابعی التابعی عن رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اوعن ابوبکر وعمر وغیرھما : غیر ذاکر للوسائط بینہ وبینھم وذکر ابو نصر السنجری الحافظ قول الراوی “ بلغنی “ نحو قول مالك “ بلغنی عن ابی ھریرۃ ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم قال للملوك طعامہ وکسوتہ الحدیث وقال اصحاب الحدیث یسمونہ المعضل قلت وقول المصنفین من الفقہاء وغیرھم قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کذا وکذا “ ونحو ذلك کلہ من قبیل المعضل لماتقدم وسماہ الخطیب ابوبکر الحافظ فی بعض کلامہ مرسلا وذلك علی مذھب من یسمی کل مالایتصل مرسلا کماسبق اھ باختصار۔
معضل حدیث وہ ہوتی ہے جس کی سند سے دو یا دو سے زائد راوی ساقط ہوں مثلا وہ جسے تبع تابعی یہ کہتے ہوئے روایت کرے کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا اور اسی طرح وہ روایت جسے تبع تابعی کے بعد کا کوئی شخص حضور علیہ السلام سے یا ابوبکر وعمر یا دیگر کسی صحابی سے حضور اور صحابہ کے درمیان واسطہ ذکر کیے بغیر روایت کرے ابونصر السنجری حافظ بیان کرتے ہیں کہ راوی کا قول “ بلغنی “ (مجھے یہ روایت پہنچی ہے) مثلا امام مالك کا قول کہ مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے یہ روایت پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا مملوك کے لئے کھانا اور کپڑے ہیں الحدیث۔ اور فرمایا
حوالہ / References
مقدمہ ابن الصلاح فی علوم الحدیث النوع الحادی عشر بالمعضل مطبوعہ فاروقی کتب خانہ ملتان ص ۲۸
کہ محدثین ایسی روایت کو معضل کہتے ہیں ۔ میں کہتا ہوں فقہاء اور دیگر مصنفین کا قول کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے یہ یہ فرمایا یہ تمام از قبیل معضل ہی ہے جیسا کہ اس کا ذکر پہلے گزرچکا اور خطیب ابوبکر حافظ نے بعض مقامات پر اسے مرسل کا نام دیا ہے اور یہ ان لوگوں کے مذہب کے مطابق ہے جنہوں نے ہر اس روایت کو مرسل کہا ہے جو متصل نہ ہو جیسا کہ گزرا اھ اختصار (ت)
توضیح میں ہے :
الارسال عدم الاسناد وھو ان یقول الراوی قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم من غیر ان یذکر الاسناد ۔
ارسال وہ ہے جس میں سند کا ذکر نہ ہو وہ یوں کہ کوئی راوی بغیر سند ذکر کیے کہہ دے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے یہ فرمایا۔ (ت)
علامہ تفتازانی تلویح پھر مدقق علائی صاحب درمختار افاضۃ الانوار علی اصول المنار میں فرماتے ہیں : ان لم یذکر الواسطۃ اصلا فمرسل (اگر راوی اصلا واسطہ ذکر نہ کرے تو وہ مرسل ہے۔ ت) مسلم الثبوت وفواتح الرحموت میں ہے:
(المرسل قول العدل قال علیہ) وعلی الہ واصحابہ الصلاۃ (والسلام کذا) وعند اھل الحدیث فالمرسل قول التابعی قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ والہ واصحابہ وسلم کذا والمعلق مارواہ من دون التابعی من دون سند والکل داخل فی المرسل عند اھل الاصول اھ مختصرا۔
مرسل وہ ہے جس کے متعلق عادل کا قول ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے یہ فرمایا اور محدثین کے ہاں مرسل سے مراد تابعی کا یہ قول ہے کہ نبی اکرم صلی الله تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے یوں فرمایا اور حدیث معلق وہ روایت ہے جو بغیر سند کے تابعی کے بعد کوئی شخص روایت کرے اور اہل اصول کے ہاں یہ تمام مرسل میں داخل ہیں اھ مختصرا۔ (ت)
توضیح میں ہے :
الارسال عدم الاسناد وھو ان یقول الراوی قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم من غیر ان یذکر الاسناد ۔
ارسال وہ ہے جس میں سند کا ذکر نہ ہو وہ یوں کہ کوئی راوی بغیر سند ذکر کیے کہہ دے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے یہ فرمایا۔ (ت)
علامہ تفتازانی تلویح پھر مدقق علائی صاحب درمختار افاضۃ الانوار علی اصول المنار میں فرماتے ہیں : ان لم یذکر الواسطۃ اصلا فمرسل (اگر راوی اصلا واسطہ ذکر نہ کرے تو وہ مرسل ہے۔ ت) مسلم الثبوت وفواتح الرحموت میں ہے:
(المرسل قول العدل قال علیہ) وعلی الہ واصحابہ الصلاۃ (والسلام کذا) وعند اھل الحدیث فالمرسل قول التابعی قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ والہ واصحابہ وسلم کذا والمعلق مارواہ من دون التابعی من دون سند والکل داخل فی المرسل عند اھل الاصول اھ مختصرا۔
مرسل وہ ہے جس کے متعلق عادل کا قول ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے یہ فرمایا اور محدثین کے ہاں مرسل سے مراد تابعی کا یہ قول ہے کہ نبی اکرم صلی الله تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے یوں فرمایا اور حدیث معلق وہ روایت ہے جو بغیر سند کے تابعی کے بعد کوئی شخص روایت کرے اور اہل اصول کے ہاں یہ تمام مرسل میں داخل ہیں اھ مختصرا۔ (ت)
حوالہ / References
توضیح التلویح فصل فی الانقطاع مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاورص ۴۷۴
حاشیۃ الوشیح مع التوضیح فصل فی الانقطاع مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ص ۴۷۴
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفی مسئلہ فی الکلام علی المرسل مطبوعہ منشورات الشریف الرضی قم ۲ / ۱۷۴
حاشیۃ الوشیح مع التوضیح فصل فی الانقطاع مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ص ۴۷۴
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفی مسئلہ فی الکلام علی المرسل مطبوعہ منشورات الشریف الرضی قم ۲ / ۱۷۴
پھر باجماع علما محدثین وفقہا یہ سب انواع موضوع سے بیگانہ ہیں اور مادون الاحکام مثل فضائل اعمال ومناقب رجال وسیر واحوال میں سلفا وخلفا ماخوذ ومقبول جملہ مصنفین علوم حدیث موضوع کو شرالانواع بتاتے اور انہیں اس سے جدا شمار فرماتے آئے اور تمام مؤلفین سیر بلانکیر منکر ومراسیل ومعضلات کا ذکر واثبات کرتے رہے افادہ ۲۳ میں علامہ حلبی کا ارشاد گزرا کہ سیر بلاغ ومرسل ومنقطع ومعضل غرض ماسوائے موضوع ہر قسم حدیث کو جمع کرتی ہے کہ ائمہ کرام نے ماورائے احکام میں مساہلت فرمائی ہے یہ عبارت دونوں مطلب میں نص ہے معضل کا موضوع نہ ہونا اور اس کا مادون الاحکام میں مقبول ہونا خود صحیح بخاری ومسلم وصحیح مؤطا میں معضلات وبلاغات موجود ہیں وسط میں بقلت طرفین میں بکثرت خصوصا بعض بلاغات مالك وہ ہیں کہ ان کی اسناد اصلا نہ ملی تدریب عــــہ میں امام ابوالفضل زین الدین عراقی سے ہے :
ان مالکالم یفرد الصحیح بل ادخل فیہ المرسل والمنقطع والبلاغات ومن بلاغاتہ احادیث لاتعرف کماذکرہ ابن عبدالبر ۔
امام مالك نے احادیث صحیحہ کو الگ نہیں بلکہ اس میں مرسل منقطع اور بلاغات کو شامل کردیا ہے حالانکہ ان کی بلاغات میں ایسی احادیث بھی ہیں جو معروف نہیں جیسا کہ ابن عبدالبر نے ذکر کیا ہے۔ (ت)
وہیں امام مغلطائی سے ہے : مثل ذلك فی کتاب البخاری (اسی کی مثل بخاری کی کتاب میں ہے۔ ت)وہیں امام حافظ الشان سے ہے :
کتاب مالك صحیح عندہ وعند من یقلدہ علی مااقتضاہ نظرہ من الاحتجاج بالمرسل والمنقطع وغیرھما۔
امام مالك کی کتاب اور ان کے اور ان لوگوں کے نزدیك صحیح ہے جو ان کی تقلید کرتے ہیں اس بنیاد پر کہ اس کی نظر کا تقاضا ہے کہ مرسل منقطع وغیرہما سے استدلال درست ہے۔ (ت)
اسناد کے سنت مطلوبہ وفضیلت مرغوبہ وخاصہ امت مرحومہ ہونے میں کسے کلام ہے محققین قابلین مراسیل و
عــــہ : فی الثانیہ من مسائل الصحیح ۱۲ منہ (م)
مسائل صحیح کی دوسری قسم میں ہے ۱۲ منہ (ت)
ان مالکالم یفرد الصحیح بل ادخل فیہ المرسل والمنقطع والبلاغات ومن بلاغاتہ احادیث لاتعرف کماذکرہ ابن عبدالبر ۔
امام مالك نے احادیث صحیحہ کو الگ نہیں بلکہ اس میں مرسل منقطع اور بلاغات کو شامل کردیا ہے حالانکہ ان کی بلاغات میں ایسی احادیث بھی ہیں جو معروف نہیں جیسا کہ ابن عبدالبر نے ذکر کیا ہے۔ (ت)
وہیں امام مغلطائی سے ہے : مثل ذلك فی کتاب البخاری (اسی کی مثل بخاری کی کتاب میں ہے۔ ت)وہیں امام حافظ الشان سے ہے :
کتاب مالك صحیح عندہ وعند من یقلدہ علی مااقتضاہ نظرہ من الاحتجاج بالمرسل والمنقطع وغیرھما۔
امام مالك کی کتاب اور ان کے اور ان لوگوں کے نزدیك صحیح ہے جو ان کی تقلید کرتے ہیں اس بنیاد پر کہ اس کی نظر کا تقاضا ہے کہ مرسل منقطع وغیرہما سے استدلال درست ہے۔ (ت)
اسناد کے سنت مطلوبہ وفضیلت مرغوبہ وخاصہ امت مرحومہ ہونے میں کسے کلام ہے محققین قابلین مراسیل و
عــــہ : فی الثانیہ من مسائل الصحیح ۱۲ منہ (م)
مسائل صحیح کی دوسری قسم میں ہے ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
تدریب الراوی الثانیہ من مسائل الصحیح مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ ۱ / ۹۰
تدریب الراوی الثانیہ من مسائل الصحیح مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ ۱ / ۹۰
تدریب الراوی الثانیہ من مسائل الصحیح مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ ۱ / ۹۰
تدریب الراوی الثانیہ من مسائل الصحیح مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ ۱ / ۹۰
تدریب الراوی الثانیہ من مسائل الصحیح مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ ۱ / ۹۰
معاضیل بھی مسانید کو ان پر تفضیل دیتے اور منقطع سے متصل کا نسخ نہیں مانتے ہیں کمانص علیہ فی المسلم وغیرہ (جیسا کہ مسلم الثبوت وغیرہ میں اسکی تصریح کی ہے۔ ت) تاکید اثریین بجائے خود ہے اور قول بقیہ بن الولید ذاکرت حماد بن زید باحادیث فقال مااجودھا لوکان لھا اجنحۃ یعنی الاسناد (میں نے حماد بن زید سے بعض احادیث کے متعلق مذاکرہ کیا تو فرمایا بڑی جید ہیں اگر ان کے لئے پر یعنی اسناد ہو۔ ت) قطع نظر اس سے کہ واقعۃ عین لاعموم لھا (یہ ایك معین واقعہ ہے اس کے لئے عموم نہیں ۔ ت) ممکن کہ وہ احادیث دربارہ احکام ہوں یوں بھی صرف نفی جودت کرے گا وہ بطور محدثین مطلقا مسلم کہ معضل ضعیف ہے اور ضعیف جید نہیں قول امام سفیان ثوری الاسناد سلاح المؤمن فاذالم یکن معہ سلاح فبای شیئ یقاتل (سند مومن کا اسلحہ ہے جب اس کے پاس اسلحہ نہ ہوتو وہ کس شے سے لڑے گا۔ ت) صراحۃ دربارہ عقائد واحکام ہے۔
فان الحاجۃ الی القتال انما ھی فیما یجری فیہ التشدید والتماکس دون مااجمعوا علی التساھل فیہ۔
لڑائی کی نوبت وہاں آتی ہے جہاں سختی اور باہم جھگڑا ہو نہ کہ وہاں جس میں نرمی پر اجماع ہو۔ (ت)
یوں ہی ارشاد امام مبارك عبدالله مبارك لولا الاسناد لقال من شاء ماشاء (اگر سند کا اعتبار نہ ہوتا تو جو کسی کی مرضی ہوتی وہی کہتا۔ ت) کہ جب قبول ضعاف فی الفضائل میں دخول تحت اصل خود مشروط اور امر عمل قواعد مقررہ شرعیہ مثل احتیاط واختیار نفع بے ضرر سے منوط تو ضعیف اثبات جدید نہ کرے گی اور من شاء ماشاء (جو کسی کی مرضی ہو کہے۔ ت) صادق نہ آئے گا کماقدمنا بیانہ فی الافادۃ الثانیۃ والعشرین (جیسا کہ ہم اس کا بیان بائیسویں افادہ میں پہلے کر آئے ہیں ۔ ت) پرظاہر کہ یہ اور ان کی امثال جتنے کلمات محدثین کرام سے ضرورت اسناد میں ملیں گے سب کا مفاد ضرورت خاص اتصال ہے کہ نامتصل بجمیع اقسامہ ان کے نزدیك ضعیف اور ضعیف خود مجروح ہے نہ کہ سلاح وصالح قتال یونہی ایك راوی بھی ساقط ہوتو ان کے طور پر وہی من شاء کا احتیاطی احتمال ولہذا وہ بالاتفاق منقطع ومعضل اور معضل دون معضل میں اصلا فرق حکم نہیں کرتے اسی لئے فواتح الرحموت میں اصطلاحات مرسل ومعضل ومنقطع ومعلق بیان کرکے فرمایا : لم یظھر لتکثیر الاصطلاح والاسامی فائدۃ (کثیر اصطلاحوں اور ناموں کی وجہ سے کوئی فائدہ ظاہر نہ ہوگا۔ ت) بالجملہ جب اتصال نہ ہوتو بعض سند کا مذکور ہونا نہ ہونا سب یکساں آخر نہ دیکھا کہ انہیں امام ابن المبارک
فان الحاجۃ الی القتال انما ھی فیما یجری فیہ التشدید والتماکس دون مااجمعوا علی التساھل فیہ۔
لڑائی کی نوبت وہاں آتی ہے جہاں سختی اور باہم جھگڑا ہو نہ کہ وہاں جس میں نرمی پر اجماع ہو۔ (ت)
یوں ہی ارشاد امام مبارك عبدالله مبارك لولا الاسناد لقال من شاء ماشاء (اگر سند کا اعتبار نہ ہوتا تو جو کسی کی مرضی ہوتی وہی کہتا۔ ت) کہ جب قبول ضعاف فی الفضائل میں دخول تحت اصل خود مشروط اور امر عمل قواعد مقررہ شرعیہ مثل احتیاط واختیار نفع بے ضرر سے منوط تو ضعیف اثبات جدید نہ کرے گی اور من شاء ماشاء (جو کسی کی مرضی ہو کہے۔ ت) صادق نہ آئے گا کماقدمنا بیانہ فی الافادۃ الثانیۃ والعشرین (جیسا کہ ہم اس کا بیان بائیسویں افادہ میں پہلے کر آئے ہیں ۔ ت) پرظاہر کہ یہ اور ان کی امثال جتنے کلمات محدثین کرام سے ضرورت اسناد میں ملیں گے سب کا مفاد ضرورت خاص اتصال ہے کہ نامتصل بجمیع اقسامہ ان کے نزدیك ضعیف اور ضعیف خود مجروح ہے نہ کہ سلاح وصالح قتال یونہی ایك راوی بھی ساقط ہوتو ان کے طور پر وہی من شاء کا احتیاطی احتمال ولہذا وہ بالاتفاق منقطع ومعضل اور معضل دون معضل میں اصلا فرق حکم نہیں کرتے اسی لئے فواتح الرحموت میں اصطلاحات مرسل ومعضل ومنقطع ومعلق بیان کرکے فرمایا : لم یظھر لتکثیر الاصطلاح والاسامی فائدۃ (کثیر اصطلاحوں اور ناموں کی وجہ سے کوئی فائدہ ظاہر نہ ہوگا۔ ت) بالجملہ جب اتصال نہ ہوتو بعض سند کا مذکور ہونا نہ ہونا سب یکساں آخر نہ دیکھا کہ انہیں امام ابن المبارک
حوالہ / References
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفی مسئلہ فی الکلام علی المرسل مطبوعہ منشورات الشریف الرضی قم ۲ / ۱۷۴
الصحیح لمسلم باب بیان الاسناد من الدین مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۲
الصحیح لمسلم باب بیان الاسناد من الدین مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۲
رحمۃ اللہ تعالی علیہنے حدیث ابن خراش عن الحجاج بن دینار قال قال رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی نسبت کیا فرمایا :
اخرج مسلم فی مقدمۃ صحیحہ قال قال محمد یعنی ابن عبدالله بن قھزاذ سمعت ابا اسحق ابراھیم بن عیسی الطالقانی قال قلت لعبدالله بن مبارك یا اباعبدالرحمن الحدیث الذی جاء ان من البر بعد البران تصلی لابویك مع صلاتك وتصوم لھمامع صومك قال فقال عبدالله یا ابا اسحق عن من ھذا قال قلت لہ ھذا من حدیث شہاب بن خراش فقال ثقۃ عمن قال قلت عن الحجاج بن دینار قال ثقہ عمن قال قلت قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم قال یاابا اسحق ان بین الحجاج بن دینار وبین النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم مفاوز تنقطع فیھا اعناق المطی ولکن لیس فی الصدقۃ اختلاف ۔
امام مسلم نے اپنی صحیح کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ محمد یعنی ابن عبدالله بن قہراذ کہتے ہیں کہ میں نے ابواسحق ابراہیم بن عیسی طالقانی کویہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے عبدالله بن مبارك سے کہا کہ اے ابو عبدالرحمن! وہ حدیث جس میں یہ ہے کہ نیکی کے بعد نیکی یہ ہے کہ تو اپنی نماز کے بعد اپنے والدین کے لئے نماز پڑھے اور اپنے روزے کے بعد والدین کے لئے روزہ رکھے فرمایا تو عبدالله نے کہا اے ابواسحق! یہ حدیث کس سے مروی ہے فرمایا تو میں نے اسے کہا یہ حدیث شہاب بن خراش سے ہے فرمایا کیا وہ ثقہ ہیں جس سے انہوں نے روایت کی ہے میں نے کہا یہ حجاج بن دینار سے ہے فرمایا وہ ثقہ ہیں تو میں نے کہا رسول اکرمصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے یہ فرمایا تو انہوں نے فرمایا اے ابواسحق! حجاج بن دینار اور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے درمیان اتنی عظیم مسافت ہے جسے طے کرتے ہوئے سواریوں کی گردن منقطع ہوجائے لیکن والدین کی طرف سے صدقہ کردینے میں کوئی اختلاف نہیں ۔ (ت)
امام نووی شرح میں فرماتے ہیں :
معنی ھذہ الحکایۃ انہ لایقبل الحدیث الاباسناد صحیح ۔
اس حکایت کا معنی ومفہوم یہ ہے کہ حدیث کو سند صحیح کے بغیر قبول نہیں کیا جائیگا۔ (ت)
اب اگر ان کلمات کو عموم پر رکھئے مرسل منقطع معلق معضل ہرنامتصل باطل وملتحق بالموضوع ہوجاتی ہے اور وہ بالاجماع باطل افادہ سوم میں ابن حجر مکی شافعی وعلی قاری حنفی سے گزرا المنقطع یعمل بہ فی الفضائل اجماعا (منقطع پر فضائل میں اتفاقا عمل کیا جائے گا۔ ت) لاجرم واجب کہ یہ سب
اخرج مسلم فی مقدمۃ صحیحہ قال قال محمد یعنی ابن عبدالله بن قھزاذ سمعت ابا اسحق ابراھیم بن عیسی الطالقانی قال قلت لعبدالله بن مبارك یا اباعبدالرحمن الحدیث الذی جاء ان من البر بعد البران تصلی لابویك مع صلاتك وتصوم لھمامع صومك قال فقال عبدالله یا ابا اسحق عن من ھذا قال قلت لہ ھذا من حدیث شہاب بن خراش فقال ثقۃ عمن قال قلت عن الحجاج بن دینار قال ثقہ عمن قال قلت قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم قال یاابا اسحق ان بین الحجاج بن دینار وبین النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم مفاوز تنقطع فیھا اعناق المطی ولکن لیس فی الصدقۃ اختلاف ۔
امام مسلم نے اپنی صحیح کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ محمد یعنی ابن عبدالله بن قہراذ کہتے ہیں کہ میں نے ابواسحق ابراہیم بن عیسی طالقانی کویہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے عبدالله بن مبارك سے کہا کہ اے ابو عبدالرحمن! وہ حدیث جس میں یہ ہے کہ نیکی کے بعد نیکی یہ ہے کہ تو اپنی نماز کے بعد اپنے والدین کے لئے نماز پڑھے اور اپنے روزے کے بعد والدین کے لئے روزہ رکھے فرمایا تو عبدالله نے کہا اے ابواسحق! یہ حدیث کس سے مروی ہے فرمایا تو میں نے اسے کہا یہ حدیث شہاب بن خراش سے ہے فرمایا کیا وہ ثقہ ہیں جس سے انہوں نے روایت کی ہے میں نے کہا یہ حجاج بن دینار سے ہے فرمایا وہ ثقہ ہیں تو میں نے کہا رسول اکرمصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے یہ فرمایا تو انہوں نے فرمایا اے ابواسحق! حجاج بن دینار اور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے درمیان اتنی عظیم مسافت ہے جسے طے کرتے ہوئے سواریوں کی گردن منقطع ہوجائے لیکن والدین کی طرف سے صدقہ کردینے میں کوئی اختلاف نہیں ۔ (ت)
امام نووی شرح میں فرماتے ہیں :
معنی ھذہ الحکایۃ انہ لایقبل الحدیث الاباسناد صحیح ۔
اس حکایت کا معنی ومفہوم یہ ہے کہ حدیث کو سند صحیح کے بغیر قبول نہیں کیا جائیگا۔ (ت)
اب اگر ان کلمات کو عموم پر رکھئے مرسل منقطع معلق معضل ہرنامتصل باطل وملتحق بالموضوع ہوجاتی ہے اور وہ بالاجماع باطل افادہ سوم میں ابن حجر مکی شافعی وعلی قاری حنفی سے گزرا المنقطع یعمل بہ فی الفضائل اجماعا (منقطع پر فضائل میں اتفاقا عمل کیا جائے گا۔ ت) لاجرم واجب کہ یہ سب
حوالہ / References
صحیح لمسلم باب بیان ان الاسناد من الدین مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۲
صحیح لمسلم باب بیان ان الاسناد من الدین مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۲
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ الفصل الثانی من باب الرکوع مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۲ / ۳۱۶
صحیح لمسلم باب بیان ان الاسناد من الدین مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۲
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ الفصل الثانی من باب الرکوع مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۲ / ۳۱۶
عبارات صرف باب اہم واعظم یعنی احکام میں ہیں اگرچہ ظاہر اطلاق وارسال ہو نہ کہ جب نفس کلام تخصیص پر دال ہو کماقررنا فی الکلمات المذکورۃ (جیسے کہ ہم نے کلمات مذکورہ میں گفتگو کی ہے۔ ت) اور واقعی دربارہ رد وقبول غالب ومحاورات علما صرف نظر بہ باب احکام ہوتے ہیں کہ وہی اکثر محط انظار نحبہ ونزہہ وغیرہما میں دیکھئے کہ حدیث کی دو۲ قسمیں کیں : مقبول ومردود۔ مقبول میں صحیح وحسن کو رکھا اور تمام ضعاف کو مردود میں داخل کیا حالانکہ ضعاف فضائل میں اجماعا مقبول ھکذا ینبغی التحقیق والله ولی التوفیق (تحقیق اسی طرح کرنی چاہئے اور توفیق دینے والا الله تعالی ہے۔ ت)
(جماہیر فقہائے کرام ائمہ فقہاء کی بے سند حدیثیں دربارہ احکام بھی حجت ہیں ) یہ سب کلام بطور محدثین تھا اور جماہیر فقہائے کرام کے نزدیك تو معضلات مذکورہ فضائل درکنار خود باب احکام میں حجت ہیں جبکہ مرسل امام معتمد محتاط فی الدین عارف بالرجال بصیر بالعلل غیر معروف بالتساہل ہو اور مذہب مختار امام محقق علی الاطلاق وغیرہا اکابر میں کچھ تخصیص قرن غیر قرن نہیں ہر قرن کے ایسے عالم کا قال رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکہنا حجت فی الاحکام ہے کمانص علیہ فی المسلم عــــہ وشروحہ (جیسا کہ مسلم الثبوت اور اس کی شروح وغیرہ میں اس کی تصریح ہے۔ ت)
عــــہ : المرسل ان کان من الصحابی یقبل مطلقا اتفاقا وان من غیرہ فالاکثر ومنھم الامام ابوحنیفہ والامام مالك والامام احمد رضی الله تعالی عنھم قالوا یقبل مطلقا اذاکان الراوی ثقۃ وقال ابن ابان رحمہ الله تعالی من مشائخنا الکرام یقبل من القرون الثلثۃ مطلقا ومن ائمۃ النقل بعد تلك القرون وقال طائفۃ من المتاخرین منھم الشیخ ابن الحاجب المالکی والشیخ کمال الدین بن الھمام منایقبل من ائمۃ النقل مطلقا من ای قرن کان اعتضد بشیئ ام لاویتوقف فی المرسل من
مرسل اگر صحابی کی ہوتو مطلقا اتفاقا اسے قبول کیا جائے گا اور غیر صحابی کی مرسل کے بارے میں اکثر علماء جن میں امام اعظم ابوحنیفہ امام مالك اور امام احمد رضی اللہ تعالی عنہمہیں کی رائے یہ ہے کہ مطلقا مقبول ہے بشرطیکہ راوی ثقہ ہو ابن ابان رحمۃ اللہ تعالی علیہجو ہمارے مشائخ کرام میں سے ہیں فرماتے ہیں کہ قرون ثلثہ (تین زمانوں ) کی مرسل مطلقا مقبول ہے اور تین قرون کے بعد ائمہ نقل کی مرسل بھی مقبول ہے متاخرین کی ایك جماعت جن میں ابن حاجب مالکی اور شیخ کمال الدین بن الہمام ہم سے (یعنی احناف سے) کی رائے یہ ہے کہ ائمہ نقل کی مرسل مطلقا مقبول ہے
(جماہیر فقہائے کرام ائمہ فقہاء کی بے سند حدیثیں دربارہ احکام بھی حجت ہیں ) یہ سب کلام بطور محدثین تھا اور جماہیر فقہائے کرام کے نزدیك تو معضلات مذکورہ فضائل درکنار خود باب احکام میں حجت ہیں جبکہ مرسل امام معتمد محتاط فی الدین عارف بالرجال بصیر بالعلل غیر معروف بالتساہل ہو اور مذہب مختار امام محقق علی الاطلاق وغیرہا اکابر میں کچھ تخصیص قرن غیر قرن نہیں ہر قرن کے ایسے عالم کا قال رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکہنا حجت فی الاحکام ہے کمانص علیہ فی المسلم عــــہ وشروحہ (جیسا کہ مسلم الثبوت اور اس کی شروح وغیرہ میں اس کی تصریح ہے۔ ت)
عــــہ : المرسل ان کان من الصحابی یقبل مطلقا اتفاقا وان من غیرہ فالاکثر ومنھم الامام ابوحنیفہ والامام مالك والامام احمد رضی الله تعالی عنھم قالوا یقبل مطلقا اذاکان الراوی ثقۃ وقال ابن ابان رحمہ الله تعالی من مشائخنا الکرام یقبل من القرون الثلثۃ مطلقا ومن ائمۃ النقل بعد تلك القرون وقال طائفۃ من المتاخرین منھم الشیخ ابن الحاجب المالکی والشیخ کمال الدین بن الھمام منایقبل من ائمۃ النقل مطلقا من ای قرن کان اعتضد بشیئ ام لاویتوقف فی المرسل من
مرسل اگر صحابی کی ہوتو مطلقا اتفاقا اسے قبول کیا جائے گا اور غیر صحابی کی مرسل کے بارے میں اکثر علماء جن میں امام اعظم ابوحنیفہ امام مالك اور امام احمد رضی اللہ تعالی عنہمہیں کی رائے یہ ہے کہ مطلقا مقبول ہے بشرطیکہ راوی ثقہ ہو ابن ابان رحمۃ اللہ تعالی علیہجو ہمارے مشائخ کرام میں سے ہیں فرماتے ہیں کہ قرون ثلثہ (تین زمانوں ) کی مرسل مطلقا مقبول ہے اور تین قرون کے بعد ائمہ نقل کی مرسل بھی مقبول ہے متاخرین کی ایك جماعت جن میں ابن حاجب مالکی اور شیخ کمال الدین بن الہمام ہم سے (یعنی احناف سے) کی رائے یہ ہے کہ ائمہ نقل کی مرسل مطلقا مقبول ہے
حوالہ / References
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفی مسئلہ فی الکلام علی المرسل مطبوعہ منشورات الشریف الرضی قسم ۲ / ۱۷۴
اقول : (تحقیق مصنف کہ غیر ناقد کے لئے ان کا قبول محدثین پر بھی لازم) انصافا غیر ناقد کے لئے مراسیل مذکورہ سے احتجاج فی الاحکام اثریین پر بھی لازم آخر اس کی سبیل یہی ناقد پر اعتماد ہے نہ نقد کہ تکلیف مالا یطاق ہے تو اس کے لئے ذکر وعدم ذکر سند دونوں یکساں اور بلاشبہہ قول ناقد محتاط قال رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمتصحیح صریح والتزامی سے اعلی نہیں تو کم بھی نہیں اور جو احتمالات مساہلت وتحسین ظن وخطا فی النظر یہاں ہیں وہاں بھی حاصل بلکہ مجرب ومشاہد باینہمہ امام ابن الصلاح وامام طبری وامام نووی وامام زرکشی وامام عراقی وامام عسقلانی وامام سخاوی وامام زکریا انصاری وامام سیوطی وغیرہم نے تصریحیں فرمائیں کہ اگر امام معتمد نے کسی حدیث کی صحت پر تنصیص کی یا کتاب ملتزم الصحۃ میں اسے روایت کیا اسی قدر اعتماد کے لئے بس ہے اور احتجاج روا
کماذکرنا نصوصھم فی مدارج طبقات الحدیث وقدتقدم نص القاری عن شیخ الاسلام فی الافادۃ الحادیۃ والعشرین۔
جیسے کہ ہم نے مدارج طبقات الحدیث میں ان کی تصریحات کا ذکر کیا ہے اور پہلے اکیسویں افادہ میں ملاعلی قاری کے حوالے سے شیخ الاسلام کی تصریح گزرچکی ہے۔ (ت)
تو کیا وجہ کہ یہاں اس پر اعتماد نہ ہو لاجرم جس طرح امام احمد یا یحیی کا ھذا الحدیث صحیح (یہ حدیث صحیح ہے۔ ت) فرمانا یا بخاری یا مسلم یا ابن خزیمہ یا ضیا کا صحاح میں لانا یونہی منذری کا مختصر میں ساکت رہنا
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
غیرھم وھو المختار قیل وھو مراد الائمۃ الثلثۃ والجمھور ولایقول احد بتوثیق من لیس معرفۃ فی التوثیق والتجریح وعلی ھذا خلاف ابن ابان فی عدم اشتراط ھذا الشرط فی القرون الثلثۃ لزعمہ عدم الحاجۃ الی التوثیق فی تلك القرون لان الرواۃ فیھا کانوا اھل بصیرۃ فی التوثیق والتجریح اھ من مسلم الثبوت وفواتح الرحموت ملخصا ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
خواہ اس کا تعلق کسی قرن سے ہو خواہ اس کی تائید ہو یا نہ ہو اور ان کے علاوہ کی مرسل میں توقف ہے اور یہی مختار ہے اور کہا گیا ہے کہ تینوں ائمہ اور جمہور کی مراد بھی یہی ہے اور کوئی ایسے شخص کی توثیق کیسے کرسکتا ہے جو توثیق وتجریح کی معرفت نہ رکھتا ہو اسی بنا پر ابن ابان نے قرون ثلاثہ میں عدم اشراط کا اختلاف کیا ہے کیونکہ ان کے نزدیك ان قرون میں توثیق کی حاجت نہیں اس لئے کہ ان ادوار میں تمام راوی توثیق اور تجریح کے ماہر تھے اھ مسلم الثبوت اور فواتح الرحموت سے ملخصا بیان ہے ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ(ت)
کماذکرنا نصوصھم فی مدارج طبقات الحدیث وقدتقدم نص القاری عن شیخ الاسلام فی الافادۃ الحادیۃ والعشرین۔
جیسے کہ ہم نے مدارج طبقات الحدیث میں ان کی تصریحات کا ذکر کیا ہے اور پہلے اکیسویں افادہ میں ملاعلی قاری کے حوالے سے شیخ الاسلام کی تصریح گزرچکی ہے۔ (ت)
تو کیا وجہ کہ یہاں اس پر اعتماد نہ ہو لاجرم جس طرح امام احمد یا یحیی کا ھذا الحدیث صحیح (یہ حدیث صحیح ہے۔ ت) فرمانا یا بخاری یا مسلم یا ابن خزیمہ یا ضیا کا صحاح میں لانا یونہی منذری کا مختصر میں ساکت رہنا
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
غیرھم وھو المختار قیل وھو مراد الائمۃ الثلثۃ والجمھور ولایقول احد بتوثیق من لیس معرفۃ فی التوثیق والتجریح وعلی ھذا خلاف ابن ابان فی عدم اشتراط ھذا الشرط فی القرون الثلثۃ لزعمہ عدم الحاجۃ الی التوثیق فی تلك القرون لان الرواۃ فیھا کانوا اھل بصیرۃ فی التوثیق والتجریح اھ من مسلم الثبوت وفواتح الرحموت ملخصا ۱۲ منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
خواہ اس کا تعلق کسی قرن سے ہو خواہ اس کی تائید ہو یا نہ ہو اور ان کے علاوہ کی مرسل میں توقف ہے اور یہی مختار ہے اور کہا گیا ہے کہ تینوں ائمہ اور جمہور کی مراد بھی یہی ہے اور کوئی ایسے شخص کی توثیق کیسے کرسکتا ہے جو توثیق وتجریح کی معرفت نہ رکھتا ہو اسی بنا پر ابن ابان نے قرون ثلاثہ میں عدم اشراط کا اختلاف کیا ہے کیونکہ ان کے نزدیك ان قرون میں توثیق کی حاجت نہیں اس لئے کہ ان ادوار میں تمام راوی توثیق اور تجریح کے ماہر تھے اھ مسلم الثبوت اور فواتح الرحموت سے ملخصا بیان ہے ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ(ت)
حوالہ / References
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت مسئلہ فی الکلام علی المرسل مطبوعہ منشورات الشریف الرضی قم ۲ / ۱۷۴
یوں ہی ابن السکن کا صحیح یا عبدالحق کا احکام میں وارد کرنا یونہی امام معتمد ناقد محتاط کا کہنا :
قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فعل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم الی غیر ذلك من احکامہ واحوالہ ونعوت جمالہ وشیون جلالہ وصفات کمالہ صلوات الله تعالی وسلامہ علیہ وعلی الہ صلی الله تعالی علیہ وعلیھم وبارك وسلم وشرف ومجد وعظم وکرم امین۔
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے یہ فرمایا نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے یہ کیا اور اس طرح کے آپ کے دیگر احکام واحوال آپ کے جمال وجلال کی صفات وشانیں اور آپ کے صفات کاملہ ہیں آپ پر الله تعالی کی رحمتیں اور سلام ہو اور آپ کی آل واصحاب پر آپ پر اور صحابہ پر برکت وسلام شرافت بزرگی عظمت وکرم کی برسات ہو آمین۔ (ت)
الحمدلله کہ اس جواب کی ابتداء بھی حضور اقدس واکرم سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے نام پاك اور حضور پر درود سے ہوئی اور انتہا بھی حضور ہی کے نام محمود ودرود مسعود پر ہوئی امید ہے کہ مولی عزوجل اس نام کریم وصلوۃ وتسلیم کی برکت سے قبول فرمائے اور انارت عیون وتنویر قلوب وتکفیر ذنوب وسلامت ایمان وامن وامان وتنعیم قبر ونجات فی الحشر کا باعث بنائے فانہ تعالی بکرمہ یقبل الصلاتین وھو اکرم من ان یدع مابینھما وکان ذلك للیلۃ الثانیۃ یوم الاثنین لعلھا الثامنۃ عشر من الشھر الفاخر شھر ربیع اخرت من شھور السنۃ الثالثۃ عشر من المائۃ الرابعۃ عشر من ھجرۃ الحبیب سید البشر صلی الله تعالی علیہ والہ وصحبہ واولیائہ اجمعین واخر دعونا ان الحمدلله رب العلمین سبحنك اللھم وبحمدك اشھد ان لاالہ الانت استغفرك واتوب الیک والله سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
______________________
قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فعل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم الی غیر ذلك من احکامہ واحوالہ ونعوت جمالہ وشیون جلالہ وصفات کمالہ صلوات الله تعالی وسلامہ علیہ وعلی الہ صلی الله تعالی علیہ وعلیھم وبارك وسلم وشرف ومجد وعظم وکرم امین۔
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے یہ فرمایا نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے یہ کیا اور اس طرح کے آپ کے دیگر احکام واحوال آپ کے جمال وجلال کی صفات وشانیں اور آپ کے صفات کاملہ ہیں آپ پر الله تعالی کی رحمتیں اور سلام ہو اور آپ کی آل واصحاب پر آپ پر اور صحابہ پر برکت وسلام شرافت بزرگی عظمت وکرم کی برسات ہو آمین۔ (ت)
الحمدلله کہ اس جواب کی ابتداء بھی حضور اقدس واکرم سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے نام پاك اور حضور پر درود سے ہوئی اور انتہا بھی حضور ہی کے نام محمود ودرود مسعود پر ہوئی امید ہے کہ مولی عزوجل اس نام کریم وصلوۃ وتسلیم کی برکت سے قبول فرمائے اور انارت عیون وتنویر قلوب وتکفیر ذنوب وسلامت ایمان وامن وامان وتنعیم قبر ونجات فی الحشر کا باعث بنائے فانہ تعالی بکرمہ یقبل الصلاتین وھو اکرم من ان یدع مابینھما وکان ذلك للیلۃ الثانیۃ یوم الاثنین لعلھا الثامنۃ عشر من الشھر الفاخر شھر ربیع اخرت من شھور السنۃ الثالثۃ عشر من المائۃ الرابعۃ عشر من ھجرۃ الحبیب سید البشر صلی الله تعالی علیہ والہ وصحبہ واولیائہ اجمعین واخر دعونا ان الحمدلله رب العلمین سبحنك اللھم وبحمدك اشھد ان لاالہ الانت استغفرك واتوب الیک والله سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
______________________
نھج السلامۃ فی حکم تقبیل الابھامین فی الاقامۃ ۱۳۳۳ھ
(اقامت کے دوران انگوٹھے چومنے کے حکم میں عمدہ تفصیل۔ت)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
مسئلہ (۳۸۷) : از اپربرہما شہر مانڈے سورتی مسجد مرسلہ مولوی احمد مختار صاحب قادری رضوی صدیقی میرٹھی ۲۶ جمادی الاخری ۱۳۳۳ ہجری
منقول از فتاوی امدادیہ معروف بہ فتاوی اشرفیہ جلد چہارم صفحہ ۵۷ و ۵۸
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ جس وقت مؤذن اقامت میں “ اشھد ان محمدا رسول الله “ بولے تو سننے والا دونوں انگوٹھوں کو چوم کر دونوں آنکھوں پر رکھے یا نہیں اگر رکھتا ہے تو آیا جائز یا مستحب یا واجب یا فرض ہے اور جو شخص اس کا مانع ہووے اس کا کیا حکم ہے اور اگر نہیں رکھتا ہے تو آیا مکروہ یا مکروہ تحریمی یا حرام ہے اور جو مرتکب اس فعل کا ہووے اس کا اور جو حکم کرے اس کا کیا حکم ہے بینوا توجروا۔
جدید یہ کہ اذان پر قیاس کرکے تحریر نہ فرمائیں بلکہ درصورت جواز یا عدم جواز کسی کتاب معتبر سے عبارت نقل کرکے
(اقامت کے دوران انگوٹھے چومنے کے حکم میں عمدہ تفصیل۔ت)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
مسئلہ (۳۸۷) : از اپربرہما شہر مانڈے سورتی مسجد مرسلہ مولوی احمد مختار صاحب قادری رضوی صدیقی میرٹھی ۲۶ جمادی الاخری ۱۳۳۳ ہجری
منقول از فتاوی امدادیہ معروف بہ فتاوی اشرفیہ جلد چہارم صفحہ ۵۷ و ۵۸
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ جس وقت مؤذن اقامت میں “ اشھد ان محمدا رسول الله “ بولے تو سننے والا دونوں انگوٹھوں کو چوم کر دونوں آنکھوں پر رکھے یا نہیں اگر رکھتا ہے تو آیا جائز یا مستحب یا واجب یا فرض ہے اور جو شخص اس کا مانع ہووے اس کا کیا حکم ہے اور اگر نہیں رکھتا ہے تو آیا مکروہ یا مکروہ تحریمی یا حرام ہے اور جو مرتکب اس فعل کا ہووے اس کا اور جو حکم کرے اس کا کیا حکم ہے بینوا توجروا۔
جدید یہ کہ اذان پر قیاس کرکے تحریر نہ فرمائیں بلکہ درصورت جواز یا عدم جواز کسی کتاب معتبر سے عبارت نقل کرکے
تحریر فرمائیں ۔
جواب : اول تو اذان ہی میں انگوٹھے چومنا کسی معتبر روایت سے ثابت نہیں اور جو کچھ بعض لوگوں نے اس بار ے میں روایت کیا ہے وہ محققین کے نزدیك ثابت نہیں چنانچہ شامی بعد نقل اس عبارت کے لکھتے ہیں :
وذکر ذلك الجراحی واطال ثم قال ولم یصح فی المرفوع من کل ھذا شیئ انتھی (جلد اول صفحہ ۲۶۷)
جراحی نے اس بحث کا طویل ذکر کیا ہے پھر کہا ان میں سے کوئی حدیث مرفوع درجہ صحت کو نہیں پہنچی انتہی۔ (ت)
مگر اقامت میں تو کوئی ٹوٹی پھوٹی روایت بھی موجود نہیں پس اقامت میں انگوٹھے چومنا اذان کے وقت سے بھی زیادہ بدعت وبے اصل ہے اسی واسطے فقہاء نے اس کا بالکل انکار کیا ہے یہ عبارت شامی کی ہے :
ونقل بعضھم ان القھستانی کتب علی ھامش نسختہ ان ھذا مختص بالاذان واما فی الاقامۃ فلم یوجد بعد الاستقصاء التام والتتبع ۔
بعض نے نقل کیا کہ قہستانی نے اپنے ایك نسخہ کے حاشیہ پر تحریر کیا ہے کہ یہ اذان کے ساتھ مختص ہے اقامت میں جستجو اور تلاش بسیار کے باوجود ثبوت نہیں ملا۔ (ت)
یہی مفتی صاحب لم یصح فی المرفوع پر حاشیہ منہیہ لکھتے ہیں :
قلت واما الموقوف فانہ وان کان منقولا لکن مع ضعف اسنادہ لیس فیہ کون ھذا العمل طاعۃ بل ھو رقیۃ للحفظ عن رمد والعوام یفعلونہ باعتقاد کونہ طاعۃ ۱۲ منہ حاشیہ صاحب فتاوی اشرفیہ برعبارت شامی۔
رہی موقوف حدیث تو وہ اس سلسلہ میں اگرچہ منقول ہے لیکن اس کی سند ضعیف ہونے کے ساتھ اس میں یہ نہیں ہے کہ یہ عمل عبادت وطاعت ہے بلکہ یہ صرف آنکھوں کے دکھنے کا علاج ہے اور عوام اسے عبادت سمجھتے ہوئے بجالاتے ہیں ۱۲ منہ (ت)
گزارش وموجب تکلیف دہی یہ ہے کہ ہفتہ گزشتہ میں ایك عریضہ دربارہ استفتائے تقبیل ابہامین عند قول المؤذن اشھد ان محمدا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمابلاغ خدمت کیا ہے آج فتاوائے امدادیہ میں ایك صاحب نے عبارت مرقومہ بالا دکھائی جو بلفظہ ملاحظہ عالی میں پیش کرکے رفع شکوك کا خواستگار ہوں وھی ھذہ :
جواب : اول تو اذان ہی میں انگوٹھے چومنا کسی معتبر روایت سے ثابت نہیں اور جو کچھ بعض لوگوں نے اس بار ے میں روایت کیا ہے وہ محققین کے نزدیك ثابت نہیں چنانچہ شامی بعد نقل اس عبارت کے لکھتے ہیں :
وذکر ذلك الجراحی واطال ثم قال ولم یصح فی المرفوع من کل ھذا شیئ انتھی (جلد اول صفحہ ۲۶۷)
جراحی نے اس بحث کا طویل ذکر کیا ہے پھر کہا ان میں سے کوئی حدیث مرفوع درجہ صحت کو نہیں پہنچی انتہی۔ (ت)
مگر اقامت میں تو کوئی ٹوٹی پھوٹی روایت بھی موجود نہیں پس اقامت میں انگوٹھے چومنا اذان کے وقت سے بھی زیادہ بدعت وبے اصل ہے اسی واسطے فقہاء نے اس کا بالکل انکار کیا ہے یہ عبارت شامی کی ہے :
ونقل بعضھم ان القھستانی کتب علی ھامش نسختہ ان ھذا مختص بالاذان واما فی الاقامۃ فلم یوجد بعد الاستقصاء التام والتتبع ۔
بعض نے نقل کیا کہ قہستانی نے اپنے ایك نسخہ کے حاشیہ پر تحریر کیا ہے کہ یہ اذان کے ساتھ مختص ہے اقامت میں جستجو اور تلاش بسیار کے باوجود ثبوت نہیں ملا۔ (ت)
یہی مفتی صاحب لم یصح فی المرفوع پر حاشیہ منہیہ لکھتے ہیں :
قلت واما الموقوف فانہ وان کان منقولا لکن مع ضعف اسنادہ لیس فیہ کون ھذا العمل طاعۃ بل ھو رقیۃ للحفظ عن رمد والعوام یفعلونہ باعتقاد کونہ طاعۃ ۱۲ منہ حاشیہ صاحب فتاوی اشرفیہ برعبارت شامی۔
رہی موقوف حدیث تو وہ اس سلسلہ میں اگرچہ منقول ہے لیکن اس کی سند ضعیف ہونے کے ساتھ اس میں یہ نہیں ہے کہ یہ عمل عبادت وطاعت ہے بلکہ یہ صرف آنکھوں کے دکھنے کا علاج ہے اور عوام اسے عبادت سمجھتے ہوئے بجالاتے ہیں ۱۲ منہ (ت)
گزارش وموجب تکلیف دہی یہ ہے کہ ہفتہ گزشتہ میں ایك عریضہ دربارہ استفتائے تقبیل ابہامین عند قول المؤذن اشھد ان محمدا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمابلاغ خدمت کیا ہے آج فتاوائے امدادیہ میں ایك صاحب نے عبارت مرقومہ بالا دکھائی جو بلفظہ ملاحظہ عالی میں پیش کرکے رفع شکوك کا خواستگار ہوں وھی ھذہ :
حوالہ / References
ردالمحتار علی ردالمحتار باب الاذان مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۶۷
ردالمحتار علی ردالمحتار باب الاذان مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۶۷
ردالمحتار علی ردالمحتار باب الاذان مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۶۷
(۱) علامہ شامی یا دوسرے محققین نے تقبیل کے بارہ میں ابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالی عنہکی روایت نقل کرکے “ لم یصح فی المرفوع “ (کوئی مرفوع حدیث نہیں ملی۔ ت) یا اس کے ہم معنی الفاظ تحریر کئے ہیں ان سے حدیث کے مرفوع ہونے کا انکار ہے یا کلیۃ تقبیل ہی کا ثبوت صحت کو نہیں پہنچتا مفتی صاحب کی تحریر وحاشیہ خود غور طلب ہے۔ پھر ان کے معتقدین تقبیل مطلق کو غیر صحیح فرماتے ہیں خواہ بروایت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہیا بہ تعلیم سیدنا خضر علیہ السلام جامع۱ الرموز نے کنزالعباد سے جو عبارت نقل کی ہے اس میں اثبات استحباب ہے۔ مجموعہ فتاوی جلد سوم صفحہ ۴۲ طحطاوی۲ نے شرح مراقی الفلاح مصری صفحہ ۱۱۸ میں اسی روایت کو نقل کیا ہے نیز فردوس دیلمی سے حدیث ابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالی عنہمرفوعا لکھ کر حضرت خضر علیہ السلام سے عملا روایت بطور تائید بیان کے علی ہذا سادات احناف کی اکثر کتب میں موجود ہے۔ اعانۃ۳ الطالبین علی حل الفاظ فتح المعین مصری ص ۲۴۷ (فقہ شافعی) :
وفی الشنوانی مانصہ من قالحین یسمع قول المؤذن اشھد ان محمدا رسول الله مرحبا بحبیبی وقرۃ عینی محمد بن عبدالله صلی الله تعالی علیہ وسلم ثم یقبل ابھامیہ ویجعلھا علی عینیہ لم یعم ولم یرمدا ابدا انتھی ۔
شنوانی میں عبارت یہ ہے : جس نے مؤذن کا یہ جملہ “ اشھد ان محمدا رسول الله “ سن کر کہا “ مرحبا بحبیبی وقرۃ عینی محمد بن عبدالله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم“ پھر اپنے انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگائے تو وہ نہ کبھی اندھا ہوگا اور نہ اس کی آنکھیں کبھی خراب ہوں گی انتہی (ت)
کفایۃ۴ الطالب الربانی لرسالۃ ابن ابی زید القیروانی فی مذھب سیدنا الامام مالك رضی اللہ تعالی عنہمصری جلد ا ص ۱۶۹
فائدۃ : نقل صاحب الفردوس ان الصدیق رضی الله تعالی عنہ لماسمع قول المؤذن اشھد ان محمدا رسول الله قال ذلك وقبل باطن انملۃ السبابتین ومسح عینیہ فقال صلی الله تعالی علیہ وسلم من فعل مثل خلیلی فقد حلت علیہ شفاعتی قال الحافظ السخاوی ولم یصح ثم نقل عن الخضر انہ علیہ الصلاۃ والسلام قال من قال حین یسمع قول المؤذن اشھد ان محمدا رسول الله مرحبا بحبیبی وقرۃ عینی محمد بن عبدالله (صلی الله تعالی علیہ وسلم) ثم یقبل ابھامیہ ویجعلھما علی عینیہ لم یعم ولم یرمدا ابدا ونقل غیر ذلك ثم قال ولم یصح فی المرفوع من کل ھذا شیئ والله تعالی اعلم۔
فائدۃ : صاحب الفردوس نے نقل کیا ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہنے جب مؤذن کا یہ جملہ سنا “ اشھد ان محمدا رسول الله “ تو آپ نے یہ دہرایا اور دونوں شہادت کی انگلیوں کا باطنی حصہ اپنی آنکھوں سے لگایا تو اس پر نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : جس شخص نے یہ عمل کیا جو میرے اس دوست نے کیا ہے تو اس کے لئے میری شفاعت
وفی الشنوانی مانصہ من قالحین یسمع قول المؤذن اشھد ان محمدا رسول الله مرحبا بحبیبی وقرۃ عینی محمد بن عبدالله صلی الله تعالی علیہ وسلم ثم یقبل ابھامیہ ویجعلھا علی عینیہ لم یعم ولم یرمدا ابدا انتھی ۔
شنوانی میں عبارت یہ ہے : جس نے مؤذن کا یہ جملہ “ اشھد ان محمدا رسول الله “ سن کر کہا “ مرحبا بحبیبی وقرۃ عینی محمد بن عبدالله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم“ پھر اپنے انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگائے تو وہ نہ کبھی اندھا ہوگا اور نہ اس کی آنکھیں کبھی خراب ہوں گی انتہی (ت)
کفایۃ۴ الطالب الربانی لرسالۃ ابن ابی زید القیروانی فی مذھب سیدنا الامام مالك رضی اللہ تعالی عنہمصری جلد ا ص ۱۶۹
فائدۃ : نقل صاحب الفردوس ان الصدیق رضی الله تعالی عنہ لماسمع قول المؤذن اشھد ان محمدا رسول الله قال ذلك وقبل باطن انملۃ السبابتین ومسح عینیہ فقال صلی الله تعالی علیہ وسلم من فعل مثل خلیلی فقد حلت علیہ شفاعتی قال الحافظ السخاوی ولم یصح ثم نقل عن الخضر انہ علیہ الصلاۃ والسلام قال من قال حین یسمع قول المؤذن اشھد ان محمدا رسول الله مرحبا بحبیبی وقرۃ عینی محمد بن عبدالله (صلی الله تعالی علیہ وسلم) ثم یقبل ابھامیہ ویجعلھما علی عینیہ لم یعم ولم یرمدا ابدا ونقل غیر ذلك ثم قال ولم یصح فی المرفوع من کل ھذا شیئ والله تعالی اعلم۔
فائدۃ : صاحب الفردوس نے نقل کیا ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہنے جب مؤذن کا یہ جملہ سنا “ اشھد ان محمدا رسول الله “ تو آپ نے یہ دہرایا اور دونوں شہادت کی انگلیوں کا باطنی حصہ اپنی آنکھوں سے لگایا تو اس پر نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : جس شخص نے یہ عمل کیا جو میرے اس دوست نے کیا ہے تو اس کے لئے میری شفاعت
حوالہ / References
اعانۃ الطالبین فصل فی الاذان والاقامۃ مطبوعہ احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۲۳۳
کفایت الطالب الربانی لرسالۃ ابن ابی زید القیروانی مطبوعہ مصر ۱ / ۱۶۹
کفایت الطالب الربانی لرسالۃ ابن ابی زید القیروانی مطبوعہ مصر ۱ / ۱۶۹
ثابت ہوگئی۔ حافظ سخاوی نے کہا کہ یہ صحیح نہیں پھر حضرت خضر علیہ السلام سے یہ منقول ہے فرمایا کہ جو شخص مؤذن کا یہ جملہ اشھد ان محمدا رسول الله سن کر یہ کہے مرحبا بحبیبی وقرۃ عینی محمد بن عبدالله ( صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) پھر اپنے دونوں انگوٹھے چوم کر اپنی دونوں آنکھوں سے لگائے تو وہ نہ کبھی اندھا ہوگا اور نہ اس کی آنکھیں کبھی خراب ہوں گی اور ان کے علاوہ نے بھی ذکر کیا پھر کہا کہ اس سلسلہ میں کوئی مرفوع صحیح روایت نہیں ملی والله تعالی اعلم۔ (ت)
علامہ۵ الشیخ علی الصعیدی العدوی اسی شرح کے حاشیہ ص ۱۷۰ میں فرماتے ہیں :
(قولہ ثم یقبل الخ) لم یبین موضع التقبیل من الابھامین الا انہ نقل عن الشیخ العالم المفسر نورالدین الخراسانی قال بعضھم لقیتہ وقت الاذان فلما سمع المؤذن یقول اشھد ان محمدا رسول الله قبل ابھامی نفسہ ومسح بالظفرین اجفان عینیہ من المآقی الی ناحیۃ الصدغ ثم فعل ذلك عند کل تشھد مرۃ مرۃ فسألتہ عن ذلك فقال کنت افعلہ ثم ترکتہ فمرضت عینای فرأیتہ صلی الله تعالی علیہ وسلم مناما فقال لم ترکت مسح عینیك عند الاذان ان اردت ان تبرأ عیناك فعد الی المسح فاستیقظت ومسحت فبرئت ولم یعاودنی مرضھما الی الان انتھی فھذا یدل علی ان الاولی التکریر والظاھر انہ حیث کان المسح بالظفرین ان التقبیل لھما
(قولہ ثم یقبل الخ) انگوٹھوں کی کون سی جگہ چومے اس میں اس کا ذکر نہیں کیا مگر شیخ العالم المفسر نورالدین خراسانی سے یہ منقول ہے بعض لوگوں نے کہا میں ان سے دوران اذان ملا جب انہوں نے مؤذن سے اشھد ان محمد رسول الله سنا تو انہوں نے اپنے دونوں انگوٹھے چومے اور ان دونوں کے ناخن اپنی پلکوں پر ناك کی طرف ملے پھر انہوں نے ہر بار ایسا کیا تو میں نے ان سے اس کے بارے میں سوال کیا تو وہ کہنے لگے میں پہلے یہ عمل کیا کرتا تھا پھر میں نے اسے چھوڑ دیا تو میری آنکھیں خراب ہوگئیں اور مجھے خواب میں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی زیارت ہوئی تو فرمایا : تونے اذان کے وقت
علامہ۵ الشیخ علی الصعیدی العدوی اسی شرح کے حاشیہ ص ۱۷۰ میں فرماتے ہیں :
(قولہ ثم یقبل الخ) لم یبین موضع التقبیل من الابھامین الا انہ نقل عن الشیخ العالم المفسر نورالدین الخراسانی قال بعضھم لقیتہ وقت الاذان فلما سمع المؤذن یقول اشھد ان محمدا رسول الله قبل ابھامی نفسہ ومسح بالظفرین اجفان عینیہ من المآقی الی ناحیۃ الصدغ ثم فعل ذلك عند کل تشھد مرۃ مرۃ فسألتہ عن ذلك فقال کنت افعلہ ثم ترکتہ فمرضت عینای فرأیتہ صلی الله تعالی علیہ وسلم مناما فقال لم ترکت مسح عینیك عند الاذان ان اردت ان تبرأ عیناك فعد الی المسح فاستیقظت ومسحت فبرئت ولم یعاودنی مرضھما الی الان انتھی فھذا یدل علی ان الاولی التکریر والظاھر انہ حیث کان المسح بالظفرین ان التقبیل لھما
(قولہ ثم یقبل الخ) انگوٹھوں کی کون سی جگہ چومے اس میں اس کا ذکر نہیں کیا مگر شیخ العالم المفسر نورالدین خراسانی سے یہ منقول ہے بعض لوگوں نے کہا میں ان سے دوران اذان ملا جب انہوں نے مؤذن سے اشھد ان محمد رسول الله سنا تو انہوں نے اپنے دونوں انگوٹھے چومے اور ان دونوں کے ناخن اپنی پلکوں پر ناك کی طرف ملے پھر انہوں نے ہر بار ایسا کیا تو میں نے ان سے اس کے بارے میں سوال کیا تو وہ کہنے لگے میں پہلے یہ عمل کیا کرتا تھا پھر میں نے اسے چھوڑ دیا تو میری آنکھیں خراب ہوگئیں اور مجھے خواب میں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی زیارت ہوئی تو فرمایا : تونے اذان کے وقت
حوالہ / References
حاشییہ علی کفایۃ الطالب الربانی الخ مطبوعہ مصر ۱ / ۱۷۰
آنکھوں پر انگوٹھے لگانے کیوں ترك کردئے اگر تو چاہتا ہے کہ تیری آنکھیں درست ہوجائیں تو انگوٹھے چومنا دوبارہ شروع کردے پھر میں بیدار ہوا اور میں نے انگوٹھے چومنے کا عمل کیا تو میں صحیح ہوگیا اس کے بعد آج تك میری آنکھیں کبھی خراب نہیں ہوئیں انتہی پس یہ عبارت دلالت کررہی ہے کہ باربار کرنا بہتر ہے اور ظاہر یہی ہے کہ جب کبھی آنکھوں پر انگوٹھے لگائے تو چوما بھی انہیں کرے والله تعالی اعلم (ت)
ان تمام عبارات میں کہیں تقبیل ابہامین پر نکیر ثابت نہیں ہوتی بلکہ استحباب کا پتا الفاظ صریحہ میں ملتا ہے برخلاف اس کے صاحب فتاوی اشرفیہ عبارت شامی پر حاشیہ لکھ کر مباح (ص ۲ ملاحظہ ہو) مان رہے ہیں پھر اس مباح کو بھی بدعت ٹھہرا رہے ہیں اس تضاد واشکال کو رفع فرما کر قاطع فیصلہ فرمایا جائے۔ صاحب فتاوی اشرفیہ عمل مانحن فیہ کو اپنے حاشیہ مذکورہ میں رقیہ مان کر دعوی کرتے ہیں والعوام یفعلونہ باعتقاد الطاعۃ (عوام اسے عبادت سمجھ کر کرتے ہیں ۔ ت) یہاں صرف یہ اشکال ہے کہ اعتقاد قلب سے تعلق رکھتا ہے اس پر مفتی صاحب مذکور کو کس طرح اطلاع ہوئی درصورتیکہ ان کے نزدیك رسولعليه الصلوۃ والسلام بھی باوصف اعلام علام مافی الصدور علوم غیبیہ سے بے خبر ہیں (معاذاللہ) وہ بھی عامہ مومنین کے دلی خیال اور اعتقاد سے اطلاع ہوئی خواہ وہ ہند میں ہوں یا کابل میں ایران میں ہوں یا عرب شریف میں غرض شرق میں ہوں یا غرب میں حیث یقول والعوام یفعلونہ باعتقاد الطاعۃ (عوام اسے عبادت سمجھ کر کرتے ہیں ۔ ت) یہاں بعض الناس نے سخت فتنہ برپا کررکھا ہے مترصد کہ جلد تر جواب باصواب سے اعزاز بخشیں اجرکم الله تعالی بجاہ طہ ویس صلی الله تعالی علیہ وعلی الہ وصحبہ اجمعین والحمدلله رب العلمین۔ مختار صدیقی
الجواب :
اس مسئلہ کی تحقیق بالغ وتنقیح بازغ میں بائیس سال ہوئے فقیر نے منیرالعین فی حکم تقبیل الابھامین۱۳۰۱ھ لکھی کہ بیس۲۰سال ہوئے بمبئی میں چھپ کر ملك میں مفت تقسیم ہوئی اب میرے پاس صرف ایك نسخہ باقی ہے کہ آپ جیسے علم دوست حق پرست کی اعانت کو بغرض ملاحظہ مرسل ایك نسخہ بھی اور ہوتا تو
ان تمام عبارات میں کہیں تقبیل ابہامین پر نکیر ثابت نہیں ہوتی بلکہ استحباب کا پتا الفاظ صریحہ میں ملتا ہے برخلاف اس کے صاحب فتاوی اشرفیہ عبارت شامی پر حاشیہ لکھ کر مباح (ص ۲ ملاحظہ ہو) مان رہے ہیں پھر اس مباح کو بھی بدعت ٹھہرا رہے ہیں اس تضاد واشکال کو رفع فرما کر قاطع فیصلہ فرمایا جائے۔ صاحب فتاوی اشرفیہ عمل مانحن فیہ کو اپنے حاشیہ مذکورہ میں رقیہ مان کر دعوی کرتے ہیں والعوام یفعلونہ باعتقاد الطاعۃ (عوام اسے عبادت سمجھ کر کرتے ہیں ۔ ت) یہاں صرف یہ اشکال ہے کہ اعتقاد قلب سے تعلق رکھتا ہے اس پر مفتی صاحب مذکور کو کس طرح اطلاع ہوئی درصورتیکہ ان کے نزدیك رسولعليه الصلوۃ والسلام بھی باوصف اعلام علام مافی الصدور علوم غیبیہ سے بے خبر ہیں (معاذاللہ) وہ بھی عامہ مومنین کے دلی خیال اور اعتقاد سے اطلاع ہوئی خواہ وہ ہند میں ہوں یا کابل میں ایران میں ہوں یا عرب شریف میں غرض شرق میں ہوں یا غرب میں حیث یقول والعوام یفعلونہ باعتقاد الطاعۃ (عوام اسے عبادت سمجھ کر کرتے ہیں ۔ ت) یہاں بعض الناس نے سخت فتنہ برپا کررکھا ہے مترصد کہ جلد تر جواب باصواب سے اعزاز بخشیں اجرکم الله تعالی بجاہ طہ ویس صلی الله تعالی علیہ وعلی الہ وصحبہ اجمعین والحمدلله رب العلمین۔ مختار صدیقی
الجواب :
اس مسئلہ کی تحقیق بالغ وتنقیح بازغ میں بائیس سال ہوئے فقیر نے منیرالعین فی حکم تقبیل الابھامین۱۳۰۱ھ لکھی کہ بیس۲۰سال ہوئے بمبئی میں چھپ کر ملك میں مفت تقسیم ہوئی اب میرے پاس صرف ایك نسخہ باقی ہے کہ آپ جیسے علم دوست حق پرست کی اعانت کو بغرض ملاحظہ مرسل ایك نسخہ بھی اور ہوتا تو
ہدیۃ حاضر کردیتا بعد ملاحظہ بیرنگ واپس فرمائیں یہ رسالہ باذنہ تعالی دربارہ حدیث وفقہ منکرین کے خیالات باطلہ عاطلہ کی بیخ کنی وصفرا شکنی کو بس ہے لہذا ان سے زیادہ تعرض کی حاجت نہیں صرف بعض امور جہالت فتوائے مذکور کے متعلق اجمالا گزارش وبالله التوفیق۔
(۱) دعوی یہ کہ اذان میں کسی معتبر روایت سے ثابت نہیں اور اس پر دلیل شامی کی جراحی سے نقل کہ ان میں سے کوئی حدیث مرفوع درجہ صحت کو نہیں پہنچی جو خود مشیر ہے کہ اس کی احادیث موقوفہ پر یہ حکم نہیں ورنہ مرفوع کی تخصیص کیوں ہوتی عبارات کتب میں مفہوم مخالف بلاشبہہ معتبر ہے اسی شامی طابع قسطنطینہ جلد ۵ ص ۵۲ میں ہے :
فان مفاھیم الکتب حجۃ ولومفھوم لقب علی ماصرح بہ الاصولیون ۔
عبارات کتب میں مفہوم مخالف حجت ہوتا ہے خواہ وہ مفہوم لقبی ہو علمائے اصول نے یہی تصریح کی ہے۔ (ت)
نیز جلد اول ص ۱۶۷ :
یفتی بہ عندالسؤال اھ ای لان مفاھیم الکتب معتبرۃ کماتقدم ۔
سوال کے وقت اسی پر فتوی ہوگا کیونکہ عبارات کتب میں مفہوم مخالف حجت ہوتا ہے جیسے کہ پہلے گزرچکا ہے۔ (ت)
درمختار بیان سنن وضو میں نہرالفائق میں سے ہے :
مفاھیم الکتب حجۃ بخلاف اکثر مفاھیم النصوص ۔
عبارات کتب میں مفہوم مخالف حجت ہوتا ہے اور نصوص کے اکثر مفاہیم معتبر نہیں ہوتے (ت)
احادیث موقوفہ کیا روایت نہیں لاجرم ملا علی قاری نے موضوعات کبیر میں کل مایروی فی ھذا فلایصح رفعہ البتۃ (اس سلسلہ میں جو کچھ مروی ہے اس کا مرفوع ہونا کسی طرح بھی صحیح نہیں ۔ ت)لکھ کر فرمایا :
قلت واذا ثبت رفعہ الی الصدیق رضی الله تعالی عنہ فیکفی العمل بہ لقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم “ علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین “
میں کہتا ہوں جب اس کا مرفوع ہونا صدیق اکبر
(۱) دعوی یہ کہ اذان میں کسی معتبر روایت سے ثابت نہیں اور اس پر دلیل شامی کی جراحی سے نقل کہ ان میں سے کوئی حدیث مرفوع درجہ صحت کو نہیں پہنچی جو خود مشیر ہے کہ اس کی احادیث موقوفہ پر یہ حکم نہیں ورنہ مرفوع کی تخصیص کیوں ہوتی عبارات کتب میں مفہوم مخالف بلاشبہہ معتبر ہے اسی شامی طابع قسطنطینہ جلد ۵ ص ۵۲ میں ہے :
فان مفاھیم الکتب حجۃ ولومفھوم لقب علی ماصرح بہ الاصولیون ۔
عبارات کتب میں مفہوم مخالف حجت ہوتا ہے خواہ وہ مفہوم لقبی ہو علمائے اصول نے یہی تصریح کی ہے۔ (ت)
نیز جلد اول ص ۱۶۷ :
یفتی بہ عندالسؤال اھ ای لان مفاھیم الکتب معتبرۃ کماتقدم ۔
سوال کے وقت اسی پر فتوی ہوگا کیونکہ عبارات کتب میں مفہوم مخالف حجت ہوتا ہے جیسے کہ پہلے گزرچکا ہے۔ (ت)
درمختار بیان سنن وضو میں نہرالفائق میں سے ہے :
مفاھیم الکتب حجۃ بخلاف اکثر مفاھیم النصوص ۔
عبارات کتب میں مفہوم مخالف حجت ہوتا ہے اور نصوص کے اکثر مفاہیم معتبر نہیں ہوتے (ت)
احادیث موقوفہ کیا روایت نہیں لاجرم ملا علی قاری نے موضوعات کبیر میں کل مایروی فی ھذا فلایصح رفعہ البتۃ (اس سلسلہ میں جو کچھ مروی ہے اس کا مرفوع ہونا کسی طرح بھی صحیح نہیں ۔ ت)لکھ کر فرمایا :
قلت واذا ثبت رفعہ الی الصدیق رضی الله تعالی عنہ فیکفی العمل بہ لقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم “ علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین “
میں کہتا ہوں جب اس کا مرفوع ہونا صدیق اکبر
حوالہ / References
ردالمحتار باب الاجارۃ الفاسدۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵ / ۳۸
ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۱۹
درمختار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱
الاسرار المرفوعۃ فی اخبار الموضوعہ حرف المیم مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ص ۲۱۰
ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۱۹
درمختار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱
الاسرار المرفوعۃ فی اخبار الموضوعہ حرف المیم مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ص ۲۱۰
رضی اللہ تعالی عنہتك ثابت ہے تو عمل کے لئے اتنا ہی کافی ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد ہے : “ تم پر میری اور میرے خلفاء راشدین کی سنت لازم ہے “ ۔ (ت)
(۲) صحیح کی نفی سے معتبر کی نفی جاننا فن حدیث سے جہالت پر مبنی۔ کتب رجال میں ہزار جگہ ملے گا یعتبربہ ولایحتج بہ (یہ معتبر ہے لیکن اس سے استدلال نہیں کیا جائیگا۔ ت) اور فضائل اعمال میں احادیث معتبرہ بالاجماع کافی اگرچہ صحیح بلکہ حسن بھی نہ ہوں ۔
(۳) فقہ میں روایت روایت فقہیہ بھی ہے بالفرض اگر حدیث معتبر مطلقا منفی تو اس سے روایت معتبرہ کی نفی یا جہل محض ہے یا نری غیر مقلدی کہ بے ثبوت حدیث روایت فقہیہ معتبر نہ مانی۔
(۴) یہیں یہیں اسی شامی میں قہستانی وفتاوی صوفیہ وکنزالعباد سے صراحۃ اس کا استحباب منقول اور بصیغہ جزم بلاتعصب مذکور ومقبول تو شامی سے صرف نسبت حدیث ایك کلام نقل کرلانا اور اسی عبارت میں شامی کے حکم مقرر فقہی کو چھوڑجانا صریح خیانت ہے۔
(۵) پھر روایت فقہیہ قصدا بچا کر وہ سالبہ کلیہ کو کسی معتبر روایت سے ثابت نہیں صاف اغوائے عوام ہے کیا کتب فقہ میں ہزار سے کم اس کے نظائر ملیں گے کہ حکم فقہی پر جو حدیث نقل کی اس میں کلام کردیاگیا مگر اس سے روایت فقہی نامعتبر نہ ہوئی ہاں وہی غیر مقلدی کی علت پیچھے ہوتو کیا علاج!
(۶) اقامت میں کوئی ٹوٹی پھوٹی روایت بھی موجود نہ ہونے پر شامی کا کلام نقل کیا کہ بعض نے قہستانی سے نقل کیا کہ انہوں نے اپنے نسخہ کے حاشیہ پر لکھا کہ دربارہ اقامت بعد تلاش کامل روایت نہ ملی اور انہیں شامی کا کلام نہ دیکھا کہ ایسی نقل نقل مجہول اور نقل مجہول محض نامقبول جلد دوم ص ۵۱۲ :
قول المعراج ورأیت فی موضع۔ ۔ ۔ الخ (ای معزوا الی المبسوط) لایکفی فی النقل لجہالتہ ۔
معراج کا قول اور میں نے ایك جگہ دیکھا ہے الخ (یعنی مبسوط کی طرف منسوب ہے) جہالت کی وجہ سے
(۲) صحیح کی نفی سے معتبر کی نفی جاننا فن حدیث سے جہالت پر مبنی۔ کتب رجال میں ہزار جگہ ملے گا یعتبربہ ولایحتج بہ (یہ معتبر ہے لیکن اس سے استدلال نہیں کیا جائیگا۔ ت) اور فضائل اعمال میں احادیث معتبرہ بالاجماع کافی اگرچہ صحیح بلکہ حسن بھی نہ ہوں ۔
(۳) فقہ میں روایت روایت فقہیہ بھی ہے بالفرض اگر حدیث معتبر مطلقا منفی تو اس سے روایت معتبرہ کی نفی یا جہل محض ہے یا نری غیر مقلدی کہ بے ثبوت حدیث روایت فقہیہ معتبر نہ مانی۔
(۴) یہیں یہیں اسی شامی میں قہستانی وفتاوی صوفیہ وکنزالعباد سے صراحۃ اس کا استحباب منقول اور بصیغہ جزم بلاتعصب مذکور ومقبول تو شامی سے صرف نسبت حدیث ایك کلام نقل کرلانا اور اسی عبارت میں شامی کے حکم مقرر فقہی کو چھوڑجانا صریح خیانت ہے۔
(۵) پھر روایت فقہیہ قصدا بچا کر وہ سالبہ کلیہ کو کسی معتبر روایت سے ثابت نہیں صاف اغوائے عوام ہے کیا کتب فقہ میں ہزار سے کم اس کے نظائر ملیں گے کہ حکم فقہی پر جو حدیث نقل کی اس میں کلام کردیاگیا مگر اس سے روایت فقہی نامعتبر نہ ہوئی ہاں وہی غیر مقلدی کی علت پیچھے ہوتو کیا علاج!
(۶) اقامت میں کوئی ٹوٹی پھوٹی روایت بھی موجود نہ ہونے پر شامی کا کلام نقل کیا کہ بعض نے قہستانی سے نقل کیا کہ انہوں نے اپنے نسخہ کے حاشیہ پر لکھا کہ دربارہ اقامت بعد تلاش کامل روایت نہ ملی اور انہیں شامی کا کلام نہ دیکھا کہ ایسی نقل نقل مجہول اور نقل مجہول محض نامقبول جلد دوم ص ۵۱۲ :
قول المعراج ورأیت فی موضع۔ ۔ ۔ الخ (ای معزوا الی المبسوط) لایکفی فی النقل لجہالتہ ۔
معراج کا قول اور میں نے ایك جگہ دیکھا ہے الخ (یعنی مبسوط کی طرف منسوب ہے) جہالت کی وجہ سے
حوالہ / References
ردالمحتار باب الولی من کتاب النکاح مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۲ / ۳۳۹
نقل میں وہ ناکافی ہے۔ (ت)
وہاں بواسطہ مجہول ناقل امام قوام الدین کاکی شارح ہدایہ تھے یہاں شامی وہاں منقول عنہ بالواسطہ امام شمس الائمہ سرخسی تھے یا خود محرر المذہب امام محمد اور یہاں قہستانی ع
ببیں تفاوت راہ ازکجاست تابکجا
(اتنا بڑا فرق کہاں وہ کہاں یہ)
جب وہ بوجہ جہالت واسطہ مقبول نہ ہوئی اس کی کیاہستی مگر کیا کیجئے کہ ع
عقل بازار میں نہیں بکتی
(۷) لم یوجد(روایت نہیں پائی گئی۔ ت) اور “ موجود نہیں “ میں جو فرق ہے عاقل پر مخفی نہیں مگر عقل بھی ہو یہ تو خالی نایافت کی نقل ہے کہ شہادت علی النفی سے زائد نہ ٹھہرے گی آکد الفاظ فتوے سے فتوی منقول ہوا اور بوجہ جہالت نامقبول ہوا انہیں علامہ شامی کا کلام سنیے عقود الدریہ جلد ۲ ص ۱۰۹ :
نقل الزیلعی ان الفتوی علی قولھما فی جوازھا قال الشیخ قاسم فی تصحیحہ مانقلہ الزیلعی شاذ مجھول القائل اھ۔
زیلعی نے نقل کیا ہے کہ فتوی ان دونوں کے قول پر اسکے جواز میں ہے شیخ قاسم نے اپنی تصحیح میں کہا کہ زیلعی سے جو منقول ہے وہ شاذ ہے کیونکہ قائل مجہول ہے اھ (ت)
درمختار میں ہے :
علیہ الفتاوی زیلعی وبحر معزیا للمغنی لکن ردہ العلامۃ قاسم فی تصحیحہ بان مافی المغنی شاذ مجھول القائل فلایعول علیہ ۔
اس پر زیلعی اور بحر کا فتوی ہے انہوں نے مغنی کی طرف منسوب کیا لیکن علامہ قاسم نے اسے اپنی تصحیح میں بایں طور رد کیا کہ مغنی میں جو کچھ ہے وہ شاذ ہے کیونکہ اس کا قائل مجہول ہے لہذا اس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ (ت)
شامی نے اسے مقرر رکھا۔
(۸) اس پر یہ ادعا کہ اسی واسطے فقہاء نے اس کا بالکل انکار کیا ہے صریح کذب ہے۔
وہاں بواسطہ مجہول ناقل امام قوام الدین کاکی شارح ہدایہ تھے یہاں شامی وہاں منقول عنہ بالواسطہ امام شمس الائمہ سرخسی تھے یا خود محرر المذہب امام محمد اور یہاں قہستانی ع
ببیں تفاوت راہ ازکجاست تابکجا
(اتنا بڑا فرق کہاں وہ کہاں یہ)
جب وہ بوجہ جہالت واسطہ مقبول نہ ہوئی اس کی کیاہستی مگر کیا کیجئے کہ ع
عقل بازار میں نہیں بکتی
(۷) لم یوجد(روایت نہیں پائی گئی۔ ت) اور “ موجود نہیں “ میں جو فرق ہے عاقل پر مخفی نہیں مگر عقل بھی ہو یہ تو خالی نایافت کی نقل ہے کہ شہادت علی النفی سے زائد نہ ٹھہرے گی آکد الفاظ فتوے سے فتوی منقول ہوا اور بوجہ جہالت نامقبول ہوا انہیں علامہ شامی کا کلام سنیے عقود الدریہ جلد ۲ ص ۱۰۹ :
نقل الزیلعی ان الفتوی علی قولھما فی جوازھا قال الشیخ قاسم فی تصحیحہ مانقلہ الزیلعی شاذ مجھول القائل اھ۔
زیلعی نے نقل کیا ہے کہ فتوی ان دونوں کے قول پر اسکے جواز میں ہے شیخ قاسم نے اپنی تصحیح میں کہا کہ زیلعی سے جو منقول ہے وہ شاذ ہے کیونکہ قائل مجہول ہے اھ (ت)
درمختار میں ہے :
علیہ الفتاوی زیلعی وبحر معزیا للمغنی لکن ردہ العلامۃ قاسم فی تصحیحہ بان مافی المغنی شاذ مجھول القائل فلایعول علیہ ۔
اس پر زیلعی اور بحر کا فتوی ہے انہوں نے مغنی کی طرف منسوب کیا لیکن علامہ قاسم نے اسے اپنی تصحیح میں بایں طور رد کیا کہ مغنی میں جو کچھ ہے وہ شاذ ہے کیونکہ اس کا قائل مجہول ہے لہذا اس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ (ت)
شامی نے اسے مقرر رکھا۔
(۸) اس پر یہ ادعا کہ اسی واسطے فقہاء نے اس کا بالکل انکار کیا ہے صریح کذب ہے۔
حوالہ / References
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ کتاب الاجارۃ الخ مطبوعہ تاجران کتب ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ / ۱۳۰
درمختار باب الاجارۃ الفاسدۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۲ / ۱۷۷
درمختار باب الاجارۃ الفاسدۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۲ / ۱۷۷
(۹) اس پر کہنا کہ یہ عبارت شامی کی ہے بکف چراغی ہے شامی میں قہستانی سے بنقل مجہول یہ منقول کہ اس کی روایت نہ ملی اگر بفرض غلط یہ نقل مجہول مقبول بھی ہو اور عدم وجدان روایت عدم وجود روایت بھی ہوتو نفی روایت روایت نفی نہیں ہذا کا اشارہ جانب نقل ہے نہ جانب حکم فقہا نے بالکل انکار کیا کس گھر سے لائے۔
(۱۰) اینہم برعلم تو غایت درجہ یہ قہستانی کا اپنا انکار ہوگا نہ کہ وہ فقہا سے کئی قول نقل کررہے ہیں اور قہستانی کا بایں معنی فقہا میں شمار کہ ان کا اپنا قول بلانقل مسلم ہو یقینا باطل ہے بلکہ نقل میں بھی ان کی وہ حالت جو خود یہی علامہ شامی عقود الدریہ جلد ۲ ص ۲۹۷ میں بتاتے ہیں کہ :
القھستانی کجارف سیل وحاطب لیل خصوصا واستنادہ الی کتب الزاھدی المعتزلی ۔
قہستانی بہالے جانے والے سیلاب اور رات کو لکڑی اکٹھی کرنے والے کی طرح ہے خصوصا جبکہ اس کا استناد زاہدی معتزلی کتب کی طرف۔ (ت)
اور کشف الظنون حرف النون میں علامہ عصام اسفرائنی کا قول نہ دیکھنا کہ اس ادعائے باطل کی لگی نہ رکھے گا اور بالکل کشف ظنون بلکہ علاج جنون کردے گا ہم نے پتا بتادیا نہ ملے تو پیش بھی کردیں گے ان شاء الله تعالی۔
(۱۱) یہ بھی سہی تو کیسا ظلم شدید وتعصب عنید ہے کہ مسئلہ اقامت میں قہستانی کا اپنا قول بلانقل بلکہ صرف روایت نہ پانا سند میں پیش کیا جائے اور اسے انہیں ایك فقیہ نہیں بلکہ فقہا کا انکار ٹھہرادیا جائے اور یہیں یہیں مسئلہ اذان میں جو یہی قہستانی خاص روایت فقہی نقل فرما کر حکم استحباب بتارہے ہیں وہ مردود ونامعتبر قرار پائے غرض بڑی امام اپنی ہوائے نفس ہے وبس۔
(۱۲) اقامت میں اذان سے بھی زیادہ بدعت وبے اصل ہے یعنی بدعت وبے اصل اذان میں بھی ہے یہ وہی مرض غیر مقلدی ہے کہ فقہا اگرچہ صراحۃ مستحب فرمائیں مگر ان کا قول مردود اور بدعت مذمومہ ہونا غیر مسدود۔
(۱۳) نہیں نہیں نری غیر مقلدی نہیں بلکہ اجماع امت کا رد اور غیر سبیل المومنین کا اتباع بد ہے جس پر قرآن عظیم میں و نصله جهنم-و سآءت مصیرا(۱۱۵) کی وعید مؤکد ہے احادیث یہاں قطعا مروی مرفوع بھی اور موقوف بھی اور غایت ان کا ضعف جس کا بیان قطعی منیرالعین میں ہے جس سے حق کی آنکھیں پرنور اور باطل کی ظلمتیں دور بلکہ خود اسی قدر عبارت کہ منکر نے نقل کی منصف کو کافی کہ اس میں صرف لم یصح (صحیح نہیں ۔ ت) کہا اور وہ بھی فقط احادیث مرفوعہ اگر سب کو کہتے جب بھی نفی صحت سے غایت درجہ اتنا معلوم ہوتا کہ ضعیف ہیں پھر
(۱۰) اینہم برعلم تو غایت درجہ یہ قہستانی کا اپنا انکار ہوگا نہ کہ وہ فقہا سے کئی قول نقل کررہے ہیں اور قہستانی کا بایں معنی فقہا میں شمار کہ ان کا اپنا قول بلانقل مسلم ہو یقینا باطل ہے بلکہ نقل میں بھی ان کی وہ حالت جو خود یہی علامہ شامی عقود الدریہ جلد ۲ ص ۲۹۷ میں بتاتے ہیں کہ :
القھستانی کجارف سیل وحاطب لیل خصوصا واستنادہ الی کتب الزاھدی المعتزلی ۔
قہستانی بہالے جانے والے سیلاب اور رات کو لکڑی اکٹھی کرنے والے کی طرح ہے خصوصا جبکہ اس کا استناد زاہدی معتزلی کتب کی طرف۔ (ت)
اور کشف الظنون حرف النون میں علامہ عصام اسفرائنی کا قول نہ دیکھنا کہ اس ادعائے باطل کی لگی نہ رکھے گا اور بالکل کشف ظنون بلکہ علاج جنون کردے گا ہم نے پتا بتادیا نہ ملے تو پیش بھی کردیں گے ان شاء الله تعالی۔
(۱۱) یہ بھی سہی تو کیسا ظلم شدید وتعصب عنید ہے کہ مسئلہ اقامت میں قہستانی کا اپنا قول بلانقل بلکہ صرف روایت نہ پانا سند میں پیش کیا جائے اور اسے انہیں ایك فقیہ نہیں بلکہ فقہا کا انکار ٹھہرادیا جائے اور یہیں یہیں مسئلہ اذان میں جو یہی قہستانی خاص روایت فقہی نقل فرما کر حکم استحباب بتارہے ہیں وہ مردود ونامعتبر قرار پائے غرض بڑی امام اپنی ہوائے نفس ہے وبس۔
(۱۲) اقامت میں اذان سے بھی زیادہ بدعت وبے اصل ہے یعنی بدعت وبے اصل اذان میں بھی ہے یہ وہی مرض غیر مقلدی ہے کہ فقہا اگرچہ صراحۃ مستحب فرمائیں مگر ان کا قول مردود اور بدعت مذمومہ ہونا غیر مسدود۔
(۱۳) نہیں نہیں نری غیر مقلدی نہیں بلکہ اجماع امت کا رد اور غیر سبیل المومنین کا اتباع بد ہے جس پر قرآن عظیم میں و نصله جهنم-و سآءت مصیرا(۱۱۵) کی وعید مؤکد ہے احادیث یہاں قطعا مروی مرفوع بھی اور موقوف بھی اور غایت ان کا ضعف جس کا بیان قطعی منیرالعین میں ہے جس سے حق کی آنکھیں پرنور اور باطل کی ظلمتیں دور بلکہ خود اسی قدر عبارت کہ منکر نے نقل کی منصف کو کافی کہ اس میں صرف لم یصح (صحیح نہیں ۔ ت) کہا اور وہ بھی فقط احادیث مرفوعہ اگر سب کو کہتے جب بھی نفی صحت سے غایت درجہ اتنا معلوم ہوتا کہ ضعیف ہیں پھر
حوالہ / References
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ کتاب الاجارۃ الخ مطبوعہ تاجران کتب ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ / ۳۵۶
القرآن ۴ / ۱۱۵
القرآن ۴ / ۱۱۵
ضعیف تعدد طرق سے حسن ہوجاتی ہے اور مسائل حلال میں بھی حجت قرار پاتی ہے اور نہ بھی سہی تو قطعا باب فضائل اعمال میں حدیث ضعیف بالاجماع مقبول اور مخالف اجماع مردود مخذول اربعین امام ابوزکریا نووی رحمۃ اللہ تعالی علیہمیں ہے :
قداتفق العلماء علی جواز العمل بالحدیث الضعیف فی فضائل الاعمال ۔
علماء محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل جائز ہے (ت)
(۱۴) اجماع امت کا خلاف وہاں دشوار نہ تھا مصیبت یہ ہے کہ جمہور وہابیہ کی بھی مخالفت ہوئی کہ تخصیص عدم صحت باحادیث مرفوعہ نے صحت بتائی ملا علی قاری کی عبارت گزری تو قرون ثلثہ میں اصل متحقق ہوئی پھر بدعت وبے اصل کہنا اصول وہابیت پر بھی چھری پھیرنا ہے۔
(۱۵) وہابیت بجہنم سخت تر آفت یہ ہے کہ دیوبندیت کے امام اعظم جناب گنگوہی صاحب سے چل گئی اور وہ بھی بہت بری طرح کہ ان کی سنت ان کی بدعت ان کی ہدایت ان کی ضلالت یہ فاعل کو بدعتی گمراہ ٹھہرائیں وہ ان کو منکر سنت ضال بد راہ بتائیں پھر یہ کیا کہ انہیں چھوڑ دیتے ہیں یہ کہیں گے کہ وہ بدعت ضلالت کو سنت بتاکر سخت گمراہ بے دین ہوئے کفی الله المؤمنین القتال (لڑائی میں مومنوں کے لئے الله تعالی کافی ہے۔ (ت) اس کا مفصل بیان منیرالعین افادہ ۳۰ میں ملاحظہ ہو مجمل یہ کہ یہ احادیث تقبیل گنگوہی صاحب کے نزدیك بھی فضائل اعمال کی ہیں کہ اس پر ترغیب وثواب ان میں مذکور ہے مسند الفردوس کی حدیث میں بروایت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہہے کہ انہوں نے اذان میں نام سن کر انگلیوں کے پوروں کو بوسہ دے کر آنکھوں پر پھیرا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا :
من فعل مثل مافعل خلیلی فقد حلت علیہ شفاعتی ۔
جو ایسا کرے جیسا میرے اس پیارے نے کیا اس پر میری شفاعت حلال ہوجائیگی۔
جامع الرموز وکنزالعباد وغیرہما میں ہے :
فانہ صلی الله تعالی علیہ وسلم یکون قاعدا لہ الی الجنۃ ۔
جو ایسا کرے گا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماپنے پیچھے پیچھے اسے جنت میں لے جائیں گے۔
اور یہ تو روایات عدیدہ میں ہے جو ایسا کرے کبھی اندھا نہ ہوگا نہ اس کی آنکھیں دکھیں یہ کیا فضیلت و
قداتفق العلماء علی جواز العمل بالحدیث الضعیف فی فضائل الاعمال ۔
علماء محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل جائز ہے (ت)
(۱۴) اجماع امت کا خلاف وہاں دشوار نہ تھا مصیبت یہ ہے کہ جمہور وہابیہ کی بھی مخالفت ہوئی کہ تخصیص عدم صحت باحادیث مرفوعہ نے صحت بتائی ملا علی قاری کی عبارت گزری تو قرون ثلثہ میں اصل متحقق ہوئی پھر بدعت وبے اصل کہنا اصول وہابیت پر بھی چھری پھیرنا ہے۔
(۱۵) وہابیت بجہنم سخت تر آفت یہ ہے کہ دیوبندیت کے امام اعظم جناب گنگوہی صاحب سے چل گئی اور وہ بھی بہت بری طرح کہ ان کی سنت ان کی بدعت ان کی ہدایت ان کی ضلالت یہ فاعل کو بدعتی گمراہ ٹھہرائیں وہ ان کو منکر سنت ضال بد راہ بتائیں پھر یہ کیا کہ انہیں چھوڑ دیتے ہیں یہ کہیں گے کہ وہ بدعت ضلالت کو سنت بتاکر سخت گمراہ بے دین ہوئے کفی الله المؤمنین القتال (لڑائی میں مومنوں کے لئے الله تعالی کافی ہے۔ (ت) اس کا مفصل بیان منیرالعین افادہ ۳۰ میں ملاحظہ ہو مجمل یہ کہ یہ احادیث تقبیل گنگوہی صاحب کے نزدیك بھی فضائل اعمال کی ہیں کہ اس پر ترغیب وثواب ان میں مذکور ہے مسند الفردوس کی حدیث میں بروایت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہہے کہ انہوں نے اذان میں نام سن کر انگلیوں کے پوروں کو بوسہ دے کر آنکھوں پر پھیرا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا :
من فعل مثل مافعل خلیلی فقد حلت علیہ شفاعتی ۔
جو ایسا کرے جیسا میرے اس پیارے نے کیا اس پر میری شفاعت حلال ہوجائیگی۔
جامع الرموز وکنزالعباد وغیرہما میں ہے :
فانہ صلی الله تعالی علیہ وسلم یکون قاعدا لہ الی الجنۃ ۔
جو ایسا کرے گا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماپنے پیچھے پیچھے اسے جنت میں لے جائیں گے۔
اور یہ تو روایات عدیدہ میں ہے جو ایسا کرے کبھی اندھا نہ ہوگا نہ اس کی آنکھیں دکھیں یہ کیا فضیلت و
حوالہ / References
شرح متن اربعین نوویہ قبیل حدیث اول مطبوعہ امیر دولت قطر ص ۶
المقاصد الحسنۃ حرف المیم حدیث ۱۰۲۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ص ۳۸۴
جامع الرموز باب الاذان مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۱۲۵
المقاصد الحسنۃ حرف المیم حدیث ۱۰۲۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ص ۳۸۴
جامع الرموز باب الاذان مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۱۲۵
ترغیب نہیں بہرحال یہ حدیثیں فضائل اعمال کی ہیں اور گنگوہی صاحب براہین قاطعہ طبع دوم ص ۹۶ میں فرماتے ہیں : “ سب کا یہ مدعا ہے کہ فضائل اعمال میں ضعیف پر عمل درست ہے “ ۔ ظاہر ہے کہ درست یہاں بمعنی جائز ہی ہے خصوصا جبکہ امیرالمؤمنین صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہسے ثبوت لیں جیسا کہ عبارت علی قاری میں گزرا جب تو اس مسئلہ قبول ضعاف کی بھی حاجت نہ ہوگی کہ شیخین رضی اللہ تعالی عنہماکی تقلید کا خود احادیث صحیحہ میں حکم فرمایا حدیث خلفا کلام قاری میں گزری دوسری حدیث میں ارشاد فرمایا :
اقتدوا بالذین من بعدی ابی بکر وعمر ۔
رواہ احمد والترمذی وحسنہ وابن ماجۃ والرویانی والحاکم وصححہ وابن حبان فی صحیحہ عن حذیفۃ والترمذی والحاکم عن ابن مسعود وابن عدی عن انس بن مالك رضی الله تعالی عنہم عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
ان دو۲ کی پیروی کرو جو میرے بعد والی امت ہوں گے ابوبکر وعمر رضی اللہ تعالی عنہما۔
اسے احمد نے اور ترمذی نے روایت کرکے حسن کہا ابن ماجہ رویانی اور حاکم نے روایت کرکے اسے صحیح قرار دیا ابن حبان نے اسے اپنی صحیح میں روایت کیا حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہسے اور ترمذی اور حاکم نے حضرت ابن مسعود سے اور ابن عدی نے حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہماور ان سب نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے بیان کیا ہے۔ (ت)
بلکہ تقلید عام صحابہ ہمارے امام رضی اللہ تعالی عنہموعنہ کا مذہب ہے بلکہ وہابیہ کے نزدیك تین قرن تك حکم تقلید بلکہ منصب تشریف جدید ہے کمابیناہ فی کتبنا فی الرد علیھم (جیسے کہ ہم نے اپنی کتب میں ان کا رد کرتے ہوئے واضح کیا ہے۔ ت) بہرحال اس عمل کی دلیل جواز قرون ثلثہ میں متحقق ہوئی اور گنگوہی صاحب ص ۲۸ میں کہتے ہیں : “ جس کے جواز کی دلیل قرون ثلثہ میں ہو وہ سب سنت ہے اھ “ تو روشن ہوا کہ جناب گنگوہی صاحب کے نزدیك اذان میں نام اقدس سن کر انگوٹھے چومنا سنت ہے اور حدیث سے ثابت کہ منکر سنت پر لعنت ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
اقتدوا بالذین من بعدی ابی بکر وعمر ۔
رواہ احمد والترمذی وحسنہ وابن ماجۃ والرویانی والحاکم وصححہ وابن حبان فی صحیحہ عن حذیفۃ والترمذی والحاکم عن ابن مسعود وابن عدی عن انس بن مالك رضی الله تعالی عنہم عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
ان دو۲ کی پیروی کرو جو میرے بعد والی امت ہوں گے ابوبکر وعمر رضی اللہ تعالی عنہما۔
اسے احمد نے اور ترمذی نے روایت کرکے حسن کہا ابن ماجہ رویانی اور حاکم نے روایت کرکے اسے صحیح قرار دیا ابن حبان نے اسے اپنی صحیح میں روایت کیا حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہسے اور ترمذی اور حاکم نے حضرت ابن مسعود سے اور ابن عدی نے حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہماور ان سب نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے بیان کیا ہے۔ (ت)
بلکہ تقلید عام صحابہ ہمارے امام رضی اللہ تعالی عنہموعنہ کا مذہب ہے بلکہ وہابیہ کے نزدیك تین قرن تك حکم تقلید بلکہ منصب تشریف جدید ہے کمابیناہ فی کتبنا فی الرد علیھم (جیسے کہ ہم نے اپنی کتب میں ان کا رد کرتے ہوئے واضح کیا ہے۔ ت) بہرحال اس عمل کی دلیل جواز قرون ثلثہ میں متحقق ہوئی اور گنگوہی صاحب ص ۲۸ میں کہتے ہیں : “ جس کے جواز کی دلیل قرون ثلثہ میں ہو وہ سب سنت ہے اھ “ تو روشن ہوا کہ جناب گنگوہی صاحب کے نزدیك اذان میں نام اقدس سن کر انگوٹھے چومنا سنت ہے اور حدیث سے ثابت کہ منکر سنت پر لعنت ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
حوالہ / References
براہین قاطعۃ علٰی ظلام الانوار الساطعۃ مسئلہ فاتحہ اعتقادیت ہے الخ مطبوعہ لے بلاسا واقع ڈھور ص ۹۶
جامع الترمذی مناقب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مطبوعہ امین کمپنی دہلی ۲ / ۲۰۷
براہین قاطعۃ علی ظلام الانوار الساطعۃ قرونِ ثلٰثہ میں موجود نہ ہونے کے معنی مطبوعہ لے بلاسا واقع ڈھور ص ۲۸
جامع الترمذی مناقب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مطبوعہ امین کمپنی دہلی ۲ / ۲۰۷
براہین قاطعۃ علی ظلام الانوار الساطعۃ قرونِ ثلٰثہ میں موجود نہ ہونے کے معنی مطبوعہ لے بلاسا واقع ڈھور ص ۲۸
ستۃ لعنتھم لعنھم الله وکل نبی مجاب (الی قولہ) والتارك لسنتی رواہ الترمذی عن ام المؤمنین والحاکم عنہا وعن علی والطبرانی بلفظ سبعۃ لعنتھم وکل نبی مجاب عن عمروبن سعواء رضی الله تعالی عنہم بسند حسن۔
چھ۶ آدمی ایسے ہیں جن پر میں نے لعنت کی الله ان پر لعنت کرے اور ہر نبی کی دعا مقبول ہے ازاں جملہ ایك وہ کہ میری سنت کا منکر ہو اس کو ترمذی نے ام المومنین سے اور حاکم نے ان سے اور حضرت علی سے روایت کیا اور طبرانی کے الفاظ یہ ہیں “ سات۷آدمی ایسے ہیں جن پر میں نے لعنت کی اور ہر نبی کی دعا مقبول ہے “ ۔ یہ حضرت عمروبن سغوی رضی الله تعالی سے سند حسن کے ساتھ مروی ہے۔ (ت)
اب صاحب فتاوی اشرفیہ اپنا حکم گنگوہی صاحب سے دریافت کریں یا گنگوہی صاحب کے حق میں خود کوئی حکم فرمائیں ۔
(۱۶) اب اقامت کی طرف چلیے شامی سے بحوالہ مجہول قہستانی کا روایت نہ پانا تو نقل کرلائے اور اس سے یہ نتیجہ کہ فقہانے اس کا بالکل انکار کیا حالانکہ فقہائے کرام کا مسلك وہ ہے جو امام محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر ص ۱۴ میں فرمایا : عدم النقل لاینفی الوجود (عدم نقل وجود کے منافی نہیں ۔ ت)
(۱۷) عدم نقل کو نقل عدم ٹھہرانے کا رد خود اسی شامی میں جابجا موجود از انجملہ جلد اول ص ۶۰ میں بعد ذکر احادیث فرمایا :
قال العلماء ھذہ الاحادیث من قواعد الاسلام وھو ان کل من ابتدع شیأ من الخیر کان لہ مثل اجر کل من یعمل بہ الی یوم القیمۃ ۔
یعنی علمائے کرام نے فرمایا کہ یہ حدیثیں دین اسلام کے قواعد سے ہیں ان سے یہ قاعدہ ثابت ہوا کہ جو شخص کوئی اچھا کام نیا نکالے کہ پہلے نہ تھا قیامت تك جتنے مسلمان اس پر عمل کریں سب کے برابر ثواب اس ایجاد کرنے والے کو ہو۔
(۱۸) بدعت وبے اصل کی بھی حقیقت سن لیجئے فتح الله المعین جلد ۳ ص ۴۰۲ :
چھ۶ آدمی ایسے ہیں جن پر میں نے لعنت کی الله ان پر لعنت کرے اور ہر نبی کی دعا مقبول ہے ازاں جملہ ایك وہ کہ میری سنت کا منکر ہو اس کو ترمذی نے ام المومنین سے اور حاکم نے ان سے اور حضرت علی سے روایت کیا اور طبرانی کے الفاظ یہ ہیں “ سات۷آدمی ایسے ہیں جن پر میں نے لعنت کی اور ہر نبی کی دعا مقبول ہے “ ۔ یہ حضرت عمروبن سغوی رضی الله تعالی سے سند حسن کے ساتھ مروی ہے۔ (ت)
اب صاحب فتاوی اشرفیہ اپنا حکم گنگوہی صاحب سے دریافت کریں یا گنگوہی صاحب کے حق میں خود کوئی حکم فرمائیں ۔
(۱۶) اب اقامت کی طرف چلیے شامی سے بحوالہ مجہول قہستانی کا روایت نہ پانا تو نقل کرلائے اور اس سے یہ نتیجہ کہ فقہانے اس کا بالکل انکار کیا حالانکہ فقہائے کرام کا مسلك وہ ہے جو امام محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر ص ۱۴ میں فرمایا : عدم النقل لاینفی الوجود (عدم نقل وجود کے منافی نہیں ۔ ت)
(۱۷) عدم نقل کو نقل عدم ٹھہرانے کا رد خود اسی شامی میں جابجا موجود از انجملہ جلد اول ص ۶۰ میں بعد ذکر احادیث فرمایا :
قال العلماء ھذہ الاحادیث من قواعد الاسلام وھو ان کل من ابتدع شیأ من الخیر کان لہ مثل اجر کل من یعمل بہ الی یوم القیمۃ ۔
یعنی علمائے کرام نے فرمایا کہ یہ حدیثیں دین اسلام کے قواعد سے ہیں ان سے یہ قاعدہ ثابت ہوا کہ جو شخص کوئی اچھا کام نیا نکالے کہ پہلے نہ تھا قیامت تك جتنے مسلمان اس پر عمل کریں سب کے برابر ثواب اس ایجاد کرنے والے کو ہو۔
(۱۸) بدعت وبے اصل کی بھی حقیقت سن لیجئے فتح الله المعین جلد ۳ ص ۴۰۲ :
حوالہ / References
المستدرك کتاب الایمان ستۃ لعنھم اللّٰہ دارالفکر بیروت ۱ / ۳۶
المعجم الکبیر ترجمہ عمروبن سعواء حدیث نمبر ۸۹ المکتبۃ الفیصلۃ بیروت ۱۷ / ۴۳
فتح القدیر کتاب الطہارت نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۰
ردالمحتار مطلب یجوز تقلید المفضول الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۳
المعجم الکبیر ترجمہ عمروبن سعواء حدیث نمبر ۸۹ المکتبۃ الفیصلۃ بیروت ۱۷ / ۴۳
فتح القدیر کتاب الطہارت نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۰
ردالمحتار مطلب یجوز تقلید المفضول الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۳
لااصل لھا لایقتضی الکراھۃ ولذا قال فی الدر ماقیل انھا بدع ای مباحۃ حسنۃ ۔
یعنی بے اصل ہونے سے مکروہ ہونا لازم نہیں آتا اسی لئے درمختار میں فرمایا کہ اسے جو بدعت کہاگیا اس کے معنی یہ ہیں کہ نو پیدا جائز اچھی بات ہے (ت)
(۱۹) فرض کردم کہ اس سے بوجہ عدم نقل انکار مطلق ہی مقصود ہوتو بحال عدم نقل احکام فقہا جن کا نمونہ ہم نے ذکر کیا اس کے معارض ہوں گے اور ترجیح وتوفیق وتوجیہ وتحقیق کہ ہمارے رسائل رد وہابیہ میں ہے اس کی مؤنت جناب گنگوہی صاحب نے کم دی اور منکرین کو کسی عبارت خلاف سے شبہہ ڈالنے کی گنجائش نہ رکھی کہ اس سے غایت درجہ مسئلہ عدم نقل میں اختلاف ثابت ہوگا اور گنگوہی صاحب براہین ص ۱۳۷ میں فرماتے ہیں : “ اس کی کراہت مختلف فیہ ہوئی اور مختلف فیہ مسئلہ تو یوں بھی بلاضرورت جائز ہوجاتا ہے “ ۔ یہ وہاں کہی اور پوری غیر مقلدی بلکہ بہ ہوائے نفس اتباع رخص حلال کردینے کی داد دی ہے جہاں ہمارے علماء اور امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہمکا اختلاف ہے تو جہاں خود علمائے حنفیہ کے قول دونوں طرف ہوں وہ تو بدرجہ اولی بلاضرورت مطلقا جائز رہے گا اور منکر کہ قول خلاف سے سند لائے احمق کج فہم ٹھہرے گا۔
(۲۰) نہیں نہیں فقط جائز نہیں بلکہ گنگوہی صاحب کے دھرم میں وقت اقامت بھی تقبیل مذکور سنت اور تھانوی صاحب کا اس پر انکار گمراہی وضلالت اور بحکم حدیث موجب لعنت ہے۔ علماء فرماتے ہیں اقامت احکام میں مثل اذان ہے سوا مستثنیات کے بلکہ ہدایہ میں ہے :
یروی انہ لاتکرہ الاقامۃ ایضا لانھا احدی الاذانین ۔
اور یہ مروی ہے کہ اقامت بھی مکروہ نہیں کیونکہ یہ بھی ایك اذان ہے۔ (ت)
اور عندالتحقیق تنقیح مناط انتفائے خصوص کرے گی تو اس کی دلیل جواز بھی متحقق ہوئی اور سنت ٹھہری گنگوہی صاحب کے نزدیك تو سنت ہونے کے لئے اشرفعلی کی جنس بھی قرون ثلثہ میں موجود ہونے کی حاجت نہیں یہاں تو اس کی جنس یعنی تقبیل اذان خود موجود ہے براہین گنگوہی ص ۱۸ میں ہے : “ جس کے جواز کی دلیل قرون ثلثہ میں ہو خواہ وہ جزئیہ بوجود خارجی ان قرون میں ہوا یا نہ ہوا اور خواہ اسکی
یعنی بے اصل ہونے سے مکروہ ہونا لازم نہیں آتا اسی لئے درمختار میں فرمایا کہ اسے جو بدعت کہاگیا اس کے معنی یہ ہیں کہ نو پیدا جائز اچھی بات ہے (ت)
(۱۹) فرض کردم کہ اس سے بوجہ عدم نقل انکار مطلق ہی مقصود ہوتو بحال عدم نقل احکام فقہا جن کا نمونہ ہم نے ذکر کیا اس کے معارض ہوں گے اور ترجیح وتوفیق وتوجیہ وتحقیق کہ ہمارے رسائل رد وہابیہ میں ہے اس کی مؤنت جناب گنگوہی صاحب نے کم دی اور منکرین کو کسی عبارت خلاف سے شبہہ ڈالنے کی گنجائش نہ رکھی کہ اس سے غایت درجہ مسئلہ عدم نقل میں اختلاف ثابت ہوگا اور گنگوہی صاحب براہین ص ۱۳۷ میں فرماتے ہیں : “ اس کی کراہت مختلف فیہ ہوئی اور مختلف فیہ مسئلہ تو یوں بھی بلاضرورت جائز ہوجاتا ہے “ ۔ یہ وہاں کہی اور پوری غیر مقلدی بلکہ بہ ہوائے نفس اتباع رخص حلال کردینے کی داد دی ہے جہاں ہمارے علماء اور امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہمکا اختلاف ہے تو جہاں خود علمائے حنفیہ کے قول دونوں طرف ہوں وہ تو بدرجہ اولی بلاضرورت مطلقا جائز رہے گا اور منکر کہ قول خلاف سے سند لائے احمق کج فہم ٹھہرے گا۔
(۲۰) نہیں نہیں فقط جائز نہیں بلکہ گنگوہی صاحب کے دھرم میں وقت اقامت بھی تقبیل مذکور سنت اور تھانوی صاحب کا اس پر انکار گمراہی وضلالت اور بحکم حدیث موجب لعنت ہے۔ علماء فرماتے ہیں اقامت احکام میں مثل اذان ہے سوا مستثنیات کے بلکہ ہدایہ میں ہے :
یروی انہ لاتکرہ الاقامۃ ایضا لانھا احدی الاذانین ۔
اور یہ مروی ہے کہ اقامت بھی مکروہ نہیں کیونکہ یہ بھی ایك اذان ہے۔ (ت)
اور عندالتحقیق تنقیح مناط انتفائے خصوص کرے گی تو اس کی دلیل جواز بھی متحقق ہوئی اور سنت ٹھہری گنگوہی صاحب کے نزدیك تو سنت ہونے کے لئے اشرفعلی کی جنس بھی قرون ثلثہ میں موجود ہونے کی حاجت نہیں یہاں تو اس کی جنس یعنی تقبیل اذان خود موجود ہے براہین گنگوہی ص ۱۸ میں ہے : “ جس کے جواز کی دلیل قرون ثلثہ میں ہو خواہ وہ جزئیہ بوجود خارجی ان قرون میں ہوا یا نہ ہوا اور خواہ اسکی
حوالہ / References
فتح المعین فصل فی الاستبراء وغیرہ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۴۰۲
براہین قاطعۃ علٰی ظلام الانوار الساطعۃ تحقیق مسئلہ اجرۃ تعلیم القرآن الخ مطبوعہ بلاسا واقع ڈھور ص۱۳۷
الہدایۃ باب الاذان مطبوعہ المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ / ۷۴
براہین قاطعۃ علٰی ظلام الانوار الساطعۃ تحقیق مسئلہ اجرۃ تعلیم القرآن الخ مطبوعہ بلاسا واقع ڈھور ص۱۳۷
الہدایۃ باب الاذان مطبوعہ المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ / ۷۴
جنس کا وجود خارج میں ہوا ہو یا نہ ہوا ہو وہ سب سنت ہے ۔ “
یہ اس چار سطری تحریر پر تلك عشرون کاملۃ (یہ مکمل بیس۲۰دلائل ہیں ۔ ت) وہ بھی بنہایت اختصار اب ڈیڑھ سطری منہیہ کی طرف چلئے وبالله التوفیق۔
(۲۱) علمائے کرام نے کہ نفی صحت میں مرفوع کی تخصیص فرمائی بکمال حیا اس کا مطلب یہ گھڑا کہ اس بارہ میں حدیث موقوف اگرچہ منقول ہے مگر ضعیف الاسناد ہے کیا علما نے یہ فرمایا تھا کہ اس بارہ میں حدیث مرفوع کوئی منقول ہی نہیں یا یہ فرمایا تھا کہ جو منقول ہے ضعیف نہیں بلکہ صحیح ہے یا یہ فرمایا تھا کہ ضعیف بھی نہیں بلکہ موضوع ہے انہیں تین صورتوں میں اس اختراعی مطلب پر مرفوع وموقوف کا تفرقہ اور تخصیص کا فائدہ صحیح رہتا مگر ہر ذرا سے فہم والا بھی دیکھ رہا ہے کہ یہ بہر وجہ علماء پر افترا ہے علما نے یہی بتایا ہے کہ اس بارہ میں احادیث مرفوعہ اگرچہ منقول ہیں مگر درجہ صحت پر نہیں ببلکہ ضعیف ہیں یہی اس بے معنی منہیہ نے حدیث موقوف میں کہا تو فرق کیا رہا صراحۃ تخصیص مرفوع باطل کرنے کو تخصیص مرفوع کا مطلب ٹھہرانا جنون نہیں تو شدید مکاری ڈھٹائی ہے مکاری نہیں تو سخت جنون وبے عقلی ہے۔
(۲۲) بفرض باطل یہی مطلب سہی مگر یوں بھی کال نہ کٹا امام الطائفہ گنگوہی صاحب ایمان لاچکے کہ یہاں مقبول ہے اگرچہ ضعیف حدیث اور طائفہ بھر کا دھرم قرون کی تثلیث پھر حدیث موقوف وضعیف موجود مان کر بدعت وبے اصل کہنا کیسا قول خبیث!
(۲۳) ایك بھاری دیانت یہ دکھائی کہ حدیث سے اس عمل کا طاعت ہونا نہیں نکلتا بلکہ رمد سے بچنے کا ایك منتر ہے الحق حیا وایمان متلازم ہیں یہ اعتراض اگر چل سکتا تو نہ موقوف وضعیف بلکہ خود رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد صحیح اگر صحیح بخاری وصحیح مسلم میں ہوتا اسے بھی اڑادیتا حدیثوں میں تو یہ ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماس کی شفاعت فرمائیں گے اسے اپنے ساتھ جنت میں لے جائینگے اور منہیہ کہتا ہے کہ یہ کوئی طاعت ہی نہیں کیا کوئی مسلمان کہہ سکتا ہے کہ جس پر یہ عظیم وجلیل ثواب موعود ہوں وہ سرے سے طاعت ہی نہیں ایك منتر ہے۔
(۲۴) حدیث ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہمیں ہے یوں پڑھیے :
رضیت بالله ربا وبالاسلام دینا وبمحمد صلی الله تعالی علیہ وسلم نبیا ۔
میں الله تعالی کے رب اسلام کے دین اور محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے نبی ہونے پر راضی اور خوش ہوں ۔ (ت)
یہ اس چار سطری تحریر پر تلك عشرون کاملۃ (یہ مکمل بیس۲۰دلائل ہیں ۔ ت) وہ بھی بنہایت اختصار اب ڈیڑھ سطری منہیہ کی طرف چلئے وبالله التوفیق۔
(۲۱) علمائے کرام نے کہ نفی صحت میں مرفوع کی تخصیص فرمائی بکمال حیا اس کا مطلب یہ گھڑا کہ اس بارہ میں حدیث موقوف اگرچہ منقول ہے مگر ضعیف الاسناد ہے کیا علما نے یہ فرمایا تھا کہ اس بارہ میں حدیث مرفوع کوئی منقول ہی نہیں یا یہ فرمایا تھا کہ جو منقول ہے ضعیف نہیں بلکہ صحیح ہے یا یہ فرمایا تھا کہ ضعیف بھی نہیں بلکہ موضوع ہے انہیں تین صورتوں میں اس اختراعی مطلب پر مرفوع وموقوف کا تفرقہ اور تخصیص کا فائدہ صحیح رہتا مگر ہر ذرا سے فہم والا بھی دیکھ رہا ہے کہ یہ بہر وجہ علماء پر افترا ہے علما نے یہی بتایا ہے کہ اس بارہ میں احادیث مرفوعہ اگرچہ منقول ہیں مگر درجہ صحت پر نہیں ببلکہ ضعیف ہیں یہی اس بے معنی منہیہ نے حدیث موقوف میں کہا تو فرق کیا رہا صراحۃ تخصیص مرفوع باطل کرنے کو تخصیص مرفوع کا مطلب ٹھہرانا جنون نہیں تو شدید مکاری ڈھٹائی ہے مکاری نہیں تو سخت جنون وبے عقلی ہے۔
(۲۲) بفرض باطل یہی مطلب سہی مگر یوں بھی کال نہ کٹا امام الطائفہ گنگوہی صاحب ایمان لاچکے کہ یہاں مقبول ہے اگرچہ ضعیف حدیث اور طائفہ بھر کا دھرم قرون کی تثلیث پھر حدیث موقوف وضعیف موجود مان کر بدعت وبے اصل کہنا کیسا قول خبیث!
(۲۳) ایك بھاری دیانت یہ دکھائی کہ حدیث سے اس عمل کا طاعت ہونا نہیں نکلتا بلکہ رمد سے بچنے کا ایك منتر ہے الحق حیا وایمان متلازم ہیں یہ اعتراض اگر چل سکتا تو نہ موقوف وضعیف بلکہ خود رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد صحیح اگر صحیح بخاری وصحیح مسلم میں ہوتا اسے بھی اڑادیتا حدیثوں میں تو یہ ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماس کی شفاعت فرمائیں گے اسے اپنے ساتھ جنت میں لے جائینگے اور منہیہ کہتا ہے کہ یہ کوئی طاعت ہی نہیں کیا کوئی مسلمان کہہ سکتا ہے کہ جس پر یہ عظیم وجلیل ثواب موعود ہوں وہ سرے سے طاعت ہی نہیں ایك منتر ہے۔
(۲۴) حدیث ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہمیں ہے یوں پڑھیے :
رضیت بالله ربا وبالاسلام دینا وبمحمد صلی الله تعالی علیہ وسلم نبیا ۔
میں الله تعالی کے رب اسلام کے دین اور محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے نبی ہونے پر راضی اور خوش ہوں ۔ (ت)
حوالہ / References
براہین قاطعہ الخ قرون ثلٰثہ میں موجود ہونے نہ ہونے کے معنی مطبوعہ لے بلاساواقع ڈھور ص۲۸
المقاصد الحسنہ حرف المیم حدیث ۱۰۲۱ مطبوعہ دارالکتاب العلمیۃ بیروت لبنان ص ۳۸۴
المقاصد الحسنہ حرف المیم حدیث ۱۰۲۱ مطبوعہ دارالکتاب العلمیۃ بیروت لبنان ص ۳۸۴
حدیث خضرعليه الصلوۃ والسلام میں ہے یوں کہے :
مرحبا بحبیبی وقرۃ عینی محمد بن عبدالله صلی الله تعالی علیہ وسلم ۔
اے میرے حبیب! مرحبا آپ کا اسم گرامی محمد بن عبدالله ( صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک۔ (ت)
اسی طرح حدیث سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالی عنہمیں ہے۔ چوتھی روایت میں ہے یوں کہے :
صلی الله تعالی علیك یارسول الله قرۃ عینی بك یارسول الله اللھم متعنی بالسمع والبصر ۔
اے الله کے رسول آپ پر الله تعالی کی طرف سے صلاۃ (رحمت ہو یارسول اللہ! آپ میری آنکھوں کی ٹھنڈك ہیں اے اللہ! میری سماعت وبصارت کو اس کی برکت سے مالامال فرما۔ (ت)
پانچویں میں ہے درود پڑھے۔ چھٹے میں ہے یوں کہے :
صلی الله علیك یاسیدی یارسول الله یا حبیب قلبی ویانور بصری ویاقرۃ عینی ۔
یاسیدی یارسول اللہ! اے میرے دل کے حبیب اے میری آنکھوں کے نور وسرور اور میری آنکھوں کی ٹھنڈك آپ پر الله تعالی رحمت فرمائے۔ (ت)
ساتویں میں ہے یوں کہے :
اللھم احفظ حدقتی ونورھما ببرکۃ حدقتی محمد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ونورھما ۔
اے اللہ! میری آنکھوں کی حفاظت فرما اور انہیں منور فرما نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی مبارك آنکھوں اور ان کی نور کی برکت سے۔ (ت)
منہیہ کے نزدیك یہ الله ورسول کے ذکر نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر درود الله عزوجل سے دعا
مرحبا بحبیبی وقرۃ عینی محمد بن عبدالله صلی الله تعالی علیہ وسلم ۔
اے میرے حبیب! مرحبا آپ کا اسم گرامی محمد بن عبدالله ( صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک۔ (ت)
اسی طرح حدیث سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالی عنہمیں ہے۔ چوتھی روایت میں ہے یوں کہے :
صلی الله تعالی علیك یارسول الله قرۃ عینی بك یارسول الله اللھم متعنی بالسمع والبصر ۔
اے الله کے رسول آپ پر الله تعالی کی طرف سے صلاۃ (رحمت ہو یارسول اللہ! آپ میری آنکھوں کی ٹھنڈك ہیں اے اللہ! میری سماعت وبصارت کو اس کی برکت سے مالامال فرما۔ (ت)
پانچویں میں ہے درود پڑھے۔ چھٹے میں ہے یوں کہے :
صلی الله علیك یاسیدی یارسول الله یا حبیب قلبی ویانور بصری ویاقرۃ عینی ۔
یاسیدی یارسول اللہ! اے میرے دل کے حبیب اے میری آنکھوں کے نور وسرور اور میری آنکھوں کی ٹھنڈك آپ پر الله تعالی رحمت فرمائے۔ (ت)
ساتویں میں ہے یوں کہے :
اللھم احفظ حدقتی ونورھما ببرکۃ حدقتی محمد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ونورھما ۔
اے اللہ! میری آنکھوں کی حفاظت فرما اور انہیں منور فرما نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی مبارك آنکھوں اور ان کی نور کی برکت سے۔ (ت)
منہیہ کے نزدیك یہ الله ورسول کے ذکر نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر درود الله عزوجل سے دعا
حوالہ / References
المقاصد الحسنہ حرف المیم حدیث ۱۰۲۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان ص ۳۸۴
جامع الرموز باب الاذان مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۱۲۵
المقاصد الحسنہ حرف المیم حدیث ۱۰۲۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان ص ۳۸۴
المقاصد الحسنہ حرف المیم حدیث ۱۰۲۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان ص ۳۸۵
جامع الرموز باب الاذان مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۱۲۵
المقاصد الحسنہ حرف المیم حدیث ۱۰۲۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان ص ۳۸۴
المقاصد الحسنہ حرف المیم حدیث ۱۰۲۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان ص ۳۸۵
کچھ طاعت ہی نہیں حالانکہ ذکر ہی روح طاعت ہے اور دعا مغز عبادت اور درود کو مسلمان ایمان کا چین چین کا ایمان جانتے ہیں اگرچہ منہیہ منتر مانے۔
(۲۵) اس عمل مبارك کے فوائد میں ایك فائدہ جو یہ فرمایا گیا کہ جو ایسا کرے گا اس کی آنکھیں نہ دکھیں گی نہ کبھی اندھا ہو اس جرم پر وہ ذکر الہی ودرود ودعا سب طاعت سے خارج ہوکر رمد کامنتر رہ گئے نام محمد رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے اس عداوت کی کوئی حد ہے صدہا حدیثیں ہیں جن میں تلاوت قرآن عظیم وتسبیح وتہلیل وحمد وتکبیر ولاحول وغیرہا اذکار جلیلہ پر منافع جسمانیہ ودنیاویہ ارشاد ہوئے ہیں جسے شوق ہو صحاح ستہ وترغیب وترہیب امام منذری وجوامع امام جلیل سیوطی وحصن حصین امام جزری وغیرہا کتب حدیث مطالعہ کرے منہیہ کے دھرم میں یہ اسلامی ایمانی کلمے اور خود قرآن عظیم سب منتر ہیں جنہیں طاعت سے کچھ علاقہ نہیں اعوذبالله من الشیطن الرجیم ولاحول ولاقوۃ الا بالله العلی العظیم۔
(۲۶) الله ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمہر حکیم سے بڑھ کر حکیم ہیں ان کی رعایا میں ہر قسم کے لوگ ہیں ایك وہ عالی ہمت کہ الله ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو الله ورسول کے لئے یاد کریں اپنی کوئی منفعت دنیوی تو دنیوی اخروی بھی مقصود نہ رکھیں یہ خالص مخلص بندے ہیں جن کی بندگی میں کسی ذاتی غرض کی آمیزش نہیں ان کے لئے وصل ذات ہے جن کو فرمایا :
و الذین جاهدوا فینا لنهدینهم سبلنا-
جو ہماری یاد میں مجاہدہ کرتے ہیں ہم یقینا ان کے لئے اپنے تمام راستے کھول دیتے ہیں ۔ (ت)
دوسرے وہ جن کو کسی طمع کی چاشنی ابھارے مگر نفع فانی کے گرویدہ نہیں باقی کی تلاش ہے قرآن وحدیث میں نعیم جنت کے بیان ان کی نظیر سے ہیں جن کو فرمایا :
ان الله اشترى من المؤمنین انفسهم و اموالهم بان لهم الجنة-
الله تعالی نے مومنوں سے ان کی جان ومال کو جنت کے عوض خریدلیا ہے (ت)
تیسرے وہ جن کو نفع عاجل کی امید دلانا زیادہ مؤید ہے جن کو فرمایا :
فقلت استغفروا ربكم-انه كان غفارا(۱۰) یرسل السمآء علیكم مدرارا(۱۱)
میں کہتا ہوں اپنے رب سے معافی مانگو وہ یقینا معافی دینے والا ہے وہ آسمان سے تم پر زور دار بارش بھیجے گا۔ (ت)
(۲۵) اس عمل مبارك کے فوائد میں ایك فائدہ جو یہ فرمایا گیا کہ جو ایسا کرے گا اس کی آنکھیں نہ دکھیں گی نہ کبھی اندھا ہو اس جرم پر وہ ذکر الہی ودرود ودعا سب طاعت سے خارج ہوکر رمد کامنتر رہ گئے نام محمد رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے اس عداوت کی کوئی حد ہے صدہا حدیثیں ہیں جن میں تلاوت قرآن عظیم وتسبیح وتہلیل وحمد وتکبیر ولاحول وغیرہا اذکار جلیلہ پر منافع جسمانیہ ودنیاویہ ارشاد ہوئے ہیں جسے شوق ہو صحاح ستہ وترغیب وترہیب امام منذری وجوامع امام جلیل سیوطی وحصن حصین امام جزری وغیرہا کتب حدیث مطالعہ کرے منہیہ کے دھرم میں یہ اسلامی ایمانی کلمے اور خود قرآن عظیم سب منتر ہیں جنہیں طاعت سے کچھ علاقہ نہیں اعوذبالله من الشیطن الرجیم ولاحول ولاقوۃ الا بالله العلی العظیم۔
(۲۶) الله ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمہر حکیم سے بڑھ کر حکیم ہیں ان کی رعایا میں ہر قسم کے لوگ ہیں ایك وہ عالی ہمت کہ الله ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو الله ورسول کے لئے یاد کریں اپنی کوئی منفعت دنیوی تو دنیوی اخروی بھی مقصود نہ رکھیں یہ خالص مخلص بندے ہیں جن کی بندگی میں کسی ذاتی غرض کی آمیزش نہیں ان کے لئے وصل ذات ہے جن کو فرمایا :
و الذین جاهدوا فینا لنهدینهم سبلنا-
جو ہماری یاد میں مجاہدہ کرتے ہیں ہم یقینا ان کے لئے اپنے تمام راستے کھول دیتے ہیں ۔ (ت)
دوسرے وہ جن کو کسی طمع کی چاشنی ابھارے مگر نفع فانی کے گرویدہ نہیں باقی کی تلاش ہے قرآن وحدیث میں نعیم جنت کے بیان ان کی نظیر سے ہیں جن کو فرمایا :
ان الله اشترى من المؤمنین انفسهم و اموالهم بان لهم الجنة-
الله تعالی نے مومنوں سے ان کی جان ومال کو جنت کے عوض خریدلیا ہے (ت)
تیسرے وہ جن کو نفع عاجل کی امید دلانا زیادہ مؤید ہے جن کو فرمایا :
فقلت استغفروا ربكم-انه كان غفارا(۱۰) یرسل السمآء علیكم مدرارا(۱۱)
میں کہتا ہوں اپنے رب سے معافی مانگو وہ یقینا معافی دینے والا ہے وہ آسمان سے تم پر زور دار بارش بھیجے گا۔ (ت)
حوالہ / References
القرآن ۲۹ / ۶۹
القرآن ۹ / ۱۱۱
القرآن ۷۱ / ۱۰
القرآن ۹ / ۱۱۱
القرآن ۷۱ / ۱۰
اور فرمایا :
قل هو للذین امنوا هدى و شفآء-
فرمادیجئے یہ مومنوں کے لئے ہدایت اور شفاء ہے۔ (ت)
اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا :
اغزوا تغنموا وصوموا تصحوا وسافروا تستغنوا وفی حدیث حجوا تستغنوا ۔ روی الاول الطبرانی فی الاوسط بسند صحیح عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ والاخر عبدالرزاق عن صفوان بن سلیم مرسلا ووصلہ فی مسند الفردوس۔
جہاد کرو غنیمت پاؤ گے اور روزہ رکھو تندرست ہوجاؤگے اور حج کرو غنی ہوجاؤ گے۔ پہلی کو طبرانی نے اوسط میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے صحیح سند کے ساتھ ذکر کیا اور دوسری کو عبدالرزاق نے صفوان بن سلیم سے مرسلا روایت کیا اور مسند الفردوس میں یہ متصلا مروی ہے۔ (ت)
چوتھے وہ پست فطرت دون ہمت کہ امید نفع پر بھی نہ سرکیں جب تك تازیانہ کاڈر نہ دلائیں قرآن حدیث میں عذاب نار کے بیان ان کی نظیر سے ہیں جن کو فرمایا :
و من یعش عن ذكر الرحمن نقیض له شیطنا فهو له قرین(۳۶) و انهم لیصدونهم عن السبیل و یحسبون انهم مهتدون(۳۷) حتى اذا جآءنا قال یلیت بینی و بینك بعد المشرقین فبئس القرین(۳۸) و لن ینفعكم الیوم اذ ظلمتم انكم فی العذاب مشتركون(۳۹) ۔
جسے رتوند آئے رحمان کے ذکر سے ہم اس پر ایك شیطان متعین کردیں گے کہ وہ اس کا ساتھی رہے اور بیشك وہ شیطان ان کو راہ سے روکتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ وہ راہ پر ہیں یہاں تك کہ جب کافر ہمارے پاس آئیگا اپنے شیطان سے کہے گا ہائے کسی طرح مجھ میں تجھ میں پورپ پچھم (مشرق ومغرب) کا فاصلہ ہوتا تو کیا ہی برا ساتھی ہے اور ہرگز تمہارا اس (حسرت) سے بھلانہ ہوگا آج جبکہ (دنیا میں ) تم نے ظلم کیا توتم سب عذاب میں شریك ہو (ت) (۴)
اور نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا :
من لم یدع الله غضب علیہ رواہ ابن ابی شیبۃ فی المصنف عن ابی ھریرۃ وبلفظ من لم یسأل الله یغضب علیہ احمد والبخاری فی الادب المفرد والترمذی وابن ماجۃ والبزار وابن حبان والحاکم وصححاہ وللعسکری عنہ رضی الله تعالی عنہ فی المواعظ بسند حسن عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم قال قال الله تعالی من لایدعونی اغضب علیہ اللھم صل وسلم وبارك علیہ وعلی الہ وصحبہ وابنہ وحزبہ ابدا امین۔
وہ شخص جو الله تعالی سے دعا نہیں مانگتا اس پر الله تعالی
قل هو للذین امنوا هدى و شفآء-
فرمادیجئے یہ مومنوں کے لئے ہدایت اور شفاء ہے۔ (ت)
اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا :
اغزوا تغنموا وصوموا تصحوا وسافروا تستغنوا وفی حدیث حجوا تستغنوا ۔ روی الاول الطبرانی فی الاوسط بسند صحیح عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ والاخر عبدالرزاق عن صفوان بن سلیم مرسلا ووصلہ فی مسند الفردوس۔
جہاد کرو غنیمت پاؤ گے اور روزہ رکھو تندرست ہوجاؤگے اور حج کرو غنی ہوجاؤ گے۔ پہلی کو طبرانی نے اوسط میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے صحیح سند کے ساتھ ذکر کیا اور دوسری کو عبدالرزاق نے صفوان بن سلیم سے مرسلا روایت کیا اور مسند الفردوس میں یہ متصلا مروی ہے۔ (ت)
چوتھے وہ پست فطرت دون ہمت کہ امید نفع پر بھی نہ سرکیں جب تك تازیانہ کاڈر نہ دلائیں قرآن حدیث میں عذاب نار کے بیان ان کی نظیر سے ہیں جن کو فرمایا :
و من یعش عن ذكر الرحمن نقیض له شیطنا فهو له قرین(۳۶) و انهم لیصدونهم عن السبیل و یحسبون انهم مهتدون(۳۷) حتى اذا جآءنا قال یلیت بینی و بینك بعد المشرقین فبئس القرین(۳۸) و لن ینفعكم الیوم اذ ظلمتم انكم فی العذاب مشتركون(۳۹) ۔
جسے رتوند آئے رحمان کے ذکر سے ہم اس پر ایك شیطان متعین کردیں گے کہ وہ اس کا ساتھی رہے اور بیشك وہ شیطان ان کو راہ سے روکتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ وہ راہ پر ہیں یہاں تك کہ جب کافر ہمارے پاس آئیگا اپنے شیطان سے کہے گا ہائے کسی طرح مجھ میں تجھ میں پورپ پچھم (مشرق ومغرب) کا فاصلہ ہوتا تو کیا ہی برا ساتھی ہے اور ہرگز تمہارا اس (حسرت) سے بھلانہ ہوگا آج جبکہ (دنیا میں ) تم نے ظلم کیا توتم سب عذاب میں شریك ہو (ت) (۴)
اور نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا :
من لم یدع الله غضب علیہ رواہ ابن ابی شیبۃ فی المصنف عن ابی ھریرۃ وبلفظ من لم یسأل الله یغضب علیہ احمد والبخاری فی الادب المفرد والترمذی وابن ماجۃ والبزار وابن حبان والحاکم وصححاہ وللعسکری عنہ رضی الله تعالی عنہ فی المواعظ بسند حسن عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم قال قال الله تعالی من لایدعونی اغضب علیہ اللھم صل وسلم وبارك علیہ وعلی الہ وصحبہ وابنہ وحزبہ ابدا امین۔
وہ شخص جو الله تعالی سے دعا نہیں مانگتا اس پر الله تعالی
حوالہ / References
القرآن ۴۱ / ۴۴
المعجم الاوسط حدیث نمبر ۸۳۰۸ مکتبۃ المعارف ریاض سعودیہ ۹ / ۱۴۴
المصنف لعبدالرزاق باب فضل الحج مکتبۃ المکتب الاسلامی بیروت ۵ / ۱۱
القرآن ۴۳ / ۳۶ تا ۴۹
مصنف ابن ابی شیبہ (۱۵۷۷) فی فضل الدعاء حدیث ۹۲۱۶ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ۱۰ / ۲۰۰
جامع الترمذی باب ماجاء فی فضل الدعاء مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۱۷۳
کنزالاعمال بحوالہ العسکری الباب الثامن فی الدعاء الخ مکتبہ التراث الاسلامی بیروت ۲ / ۶۲
المعجم الاوسط حدیث نمبر ۸۳۰۸ مکتبۃ المعارف ریاض سعودیہ ۹ / ۱۴۴
المصنف لعبدالرزاق باب فضل الحج مکتبۃ المکتب الاسلامی بیروت ۵ / ۱۱
القرآن ۴۳ / ۳۶ تا ۴۹
مصنف ابن ابی شیبہ (۱۵۷۷) فی فضل الدعاء حدیث ۹۲۱۶ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ۱۰ / ۲۰۰
جامع الترمذی باب ماجاء فی فضل الدعاء مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۱۷۳
کنزالاعمال بحوالہ العسکری الباب الثامن فی الدعاء الخ مکتبہ التراث الاسلامی بیروت ۲ / ۶۲
ناراض ہوتا ہے اسے ابن ابی شیبہ نے اپنے مصنف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے حدیث کے دوسرے الفاظ یہ ہیں : وہ شخص جو الله تعالی سے سوال نہیں کرتا الله تعالی اس پر ناراض ہوتا ہے اسے احمد اور بخاری نے “ الادب المفرد “ میں ترمذی ابن ماجہ بزار ابن حبان اور حاکم سب نے روایت کیا ہے اور آخری دو۲نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور عسکری نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے اپنی “ المواعظ “ میں سند حسن کے ساتھ بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا الله تعالی کا ارشاد گرامی ہے : جو شخص مجھ سے دعا نہیں کرتا میں اس پر ناراض ہوتا ہوں ۔ الله تعالی ہمیشہ رحمت کاملہ اور سلامتی بھیجے آپ پر آپ کی آل اصحاب بیٹے اور گروہ سب پر آمین (ت)
صاحب منہیہ الله عزوجل کی حکمتوں کو باطل کرتا اور طاعت کو صرف قسم اول میں منحصر کرنا چاہتا اور حدیث وقرآن کے تمام اذکار جنت ونار ترغیب وترہیب کو لغو وفضول بلکہ اغوا واضلال بناتا ہے کہ بندوں کو مقصود سے دور کرکے منتر جنتر میں لاڈالا۔ و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون(۲۲۷) (عنقریب جان لیں گے ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ ت)
(۲۷) عوام پر غیظ ہے کہ وہ یہ ذکر خدا ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمباعتقاد طاعت کرتے ہیں الحمدلله مسلمانوں کے عوام آپ جیسے خواص سے عقل وفہم وفضل وعلم میں بدرجہازائد ہیں وہ اپنے رب عزوجل کے ذکر ودعا اور اپنے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ذکر ومحبت وتعظیم وتوسل کو طاعت نہ جانیں تو کیا آپ کی طرح ذکر وتعظیم مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو بہرحیلہ ممکنہ باطل کرنے بلکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی صریح توہینوں کو عبادت مانیں ۔ وہ رمد چشم کا عمل ہی سہی فرض کیجئے ایك دیوبندی اپنی آنکھوں کے علاج کو جالینوس کا شیاف یا ابن سینا کی سلائی لگاتا ہے اور ایك مسلمان سورہ فاتحہ وآیۃ الکرسی واسم الہی نور وصلاۃ نور سے علاج کرتا ہے آپ کے دھرم میں دونوں برابر
صاحب منہیہ الله عزوجل کی حکمتوں کو باطل کرتا اور طاعت کو صرف قسم اول میں منحصر کرنا چاہتا اور حدیث وقرآن کے تمام اذکار جنت ونار ترغیب وترہیب کو لغو وفضول بلکہ اغوا واضلال بناتا ہے کہ بندوں کو مقصود سے دور کرکے منتر جنتر میں لاڈالا۔ و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون(۲۲۷) (عنقریب جان لیں گے ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ ت)
(۲۷) عوام پر غیظ ہے کہ وہ یہ ذکر خدا ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمباعتقاد طاعت کرتے ہیں الحمدلله مسلمانوں کے عوام آپ جیسے خواص سے عقل وفہم وفضل وعلم میں بدرجہازائد ہیں وہ اپنے رب عزوجل کے ذکر ودعا اور اپنے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ذکر ومحبت وتعظیم وتوسل کو طاعت نہ جانیں تو کیا آپ کی طرح ذکر وتعظیم مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو بہرحیلہ ممکنہ باطل کرنے بلکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی صریح توہینوں کو عبادت مانیں ۔ وہ رمد چشم کا عمل ہی سہی فرض کیجئے ایك دیوبندی اپنی آنکھوں کے علاج کو جالینوس کا شیاف یا ابن سینا کی سلائی لگاتا ہے اور ایك مسلمان سورہ فاتحہ وآیۃ الکرسی واسم الہی نور وصلاۃ نور سے علاج کرتا ہے آپ کے دھرم میں دونوں برابر
حوالہ / References
القرآن ۲۶ / ۲۲۷
ہیں کہ ایك فعل مباح کررہے ہیں طاعت نہ یہ نہ وہ مگر مسلمان جانتے ہیں کہ کہاں جالنیوس وابن سینا پر بھروسا اور کہاں کلام الله نور ہدی وشفاء واسمائے الہیہ سے تو سل والتجایہ ضرور اطاعت اور اس کے حسن ایمان کی علامت ہے ولکن النجدیۃ لایعلمون (لیکن نجدی نہیں سمجھتے۔ ت) بات یہ ہے کہ وعیدوں یا جسمانی دنیاوی بلکہ اخروی منفعتوں ثوابوں کے وعدے سے بھی حاشایہ مراد خدا ورسول نہیں جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکہ ان وعیدوں سے بچنا یا ان منافع کا ملنا ہی مقصود بالذات بناکر اسی غرض ونیت سے ذکر خدا ورسول جل جلالہ وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکروکہ یہ تو قلب موجوع وعکس مقصود ہے جو عبادت جنت کی نیت سے کرے کہ وہی اس کی مقصود بالذات ہو ہرگز عابد خدا نہیں عابد جنت ہے تورات مقدس سے منقول اس سے بڑھ کر ظالم کون جو بہشت کی طمع یا دوزخ کے ڈر سے میری عبادت کرے کیا اگر میں جنت ونارنہ بناتا مستحق عبادت نہ ہوتا بلکہ اس سے مراد صرف ابھارنا ہے کہ اس طمع وخوف کے لحاظ سے عمل لوجہ الله کریں مضرت سے بچنا یا منفعت جسمانی خواہ روحانی دنیوی خواہ اخروی کا ملنا مقصود بالغرض ہو جیسے حج میں تجارت جہاد میں غنیمت روزے میں صحت نماز میں کسرت بحمدلله تعالی مسلمانوں کے عوام اپنے رب کی مراد سمجھے اور اس عمل میں بھی وہی ان کا مقصود ہوا کہ اپنے رب جل وعلا اپنے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ذکر کرتے ہیں اپنے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے نام اقدس پر براہ محبت وتعظیم بوسہ دیتے ہیں اور یہ سب قطعا طاعت ومراد شریعت ہے اس کی برکت اس کے طفیل اس کے صدقہ سے ہمیں جسمانی فائدہ بھی ملے گا کہ آنکھیں نہ دکھیں گی اندھے نہ ہوں گے یہ عین وہی نیت ہے جو شارع کو ایسے وعدوں میں مقصود ہوتی ہے مگر خائب وخاسر احمق وغادر وہ کہ ایسے وعدوں پر پھول کر اصل مقصود خدا ورسول کو بھول جائے اور ان کے ذکر وتعظیم ومحبت کو نرا منتر بتائے نسوا الله فانسىهم انفسهم- (جو بھول گئے الله تعالی کو تو اس نے انہیں بلا میں ڈالا کہ اپنی جانیں یاد نہ رہیں ۔ ت)
(۲۸) غنیمت ہے کہ رمد کا منتر مان کر منتر کے نام سے وہ محض عدم روایات یا ضعف مروی بدعت بدعت کا بھوت تو اترا اور یہ عمل مباح ٹھہرا ورنہ عدم ورود پر بدعت وبے اصل ہونے کے جو معنی آپ حضرات کے یہاں ہیں ان کا مصداق کسی طرح مباح نہیں ہوسکتا اگرچہ اعتقاد طاعت نہ ہو۔
(۲۹) یہ تو اوپر گزرا کہ اسی فعل کو اذان میں ہو خواہ اقامت میں محض مباح جاننا شریعت گنگوہیہ کے بالکل خلاف ہے کہ اس میں یہ عمل سنت ہے تو عوام میں ٹھیك سمجھے اور طاعت کے طاعت اعتقاد کرنے کو بدعت بتاکر تمہیں بدعتی بد مذہب ہوئے اگرچہ دیوبندیت کی معراج ترقی فی المراوق من الدین کے بعد بدعت کی کیا گنتی ع
(۲۸) غنیمت ہے کہ رمد کا منتر مان کر منتر کے نام سے وہ محض عدم روایات یا ضعف مروی بدعت بدعت کا بھوت تو اترا اور یہ عمل مباح ٹھہرا ورنہ عدم ورود پر بدعت وبے اصل ہونے کے جو معنی آپ حضرات کے یہاں ہیں ان کا مصداق کسی طرح مباح نہیں ہوسکتا اگرچہ اعتقاد طاعت نہ ہو۔
(۲۹) یہ تو اوپر گزرا کہ اسی فعل کو اذان میں ہو خواہ اقامت میں محض مباح جاننا شریعت گنگوہیہ کے بالکل خلاف ہے کہ اس میں یہ عمل سنت ہے تو عوام میں ٹھیك سمجھے اور طاعت کے طاعت اعتقاد کرنے کو بدعت بتاکر تمہیں بدعتی بد مذہب ہوئے اگرچہ دیوبندیت کی معراج ترقی فی المراوق من الدین کے بعد بدعت کی کیا گنتی ع
حوالہ / References
القرآن ۵۹ / ۱۹
ماعلی مثلہ بعد الخطاء
(بعد ازخطا اس کی مثل پر کیا لازم آئے)
مگر یہاں یہ گزارش ہے کہ مباح بمعنی شامل فرض جس طرح امکان عام شامل وجوب ہے قطعا وجوب ہے قطعا یہاں مراد نہیں ورنہ فرض کو بھی طاعت سمجھنا گمراہی وبدعت ہو لاجرم مباح بمعنی مساوی الطرفین نظیر امکان خاص مراد ہے یعنی وہ فعل نہ محمود نہ مذموم آپ نے اسے رمد چشم کا منتر بناکر ایسا ہی مباح سمجھا اور یہ شریعت گنگوہیہ سے کفر ہے عالی جناب گنگوہی صاحب کے دھرم میں کوئی فعل ایسا مباح نہیں اسی صفحہ ۲۸ پر بولتے ہیں : “ جس کے جواز کی دلیل قرون ثلثہ میں ہو خواہ وہ جزئیہ بوجود خارجی ان قرون میں ہوا یا نہ ہوا وہ سب سنت ہے اور جس کے جواز کی دلیل نہیں خواہ وہ ان قرون میں بوجود خارجی ہوا یا نہ ہوا وہ سب بدعت ضلالت ہے “ ۔ ظاہر ہے کہ کوئی فعل ہو یا اس کے جواز کی دلیل قرون ثلثہ میں ہوگی یا نہیں تیسری شق ناممکن ہے کہ یہ حصر عقلی دائربین النفی والاثبات ہے اور گنگوہی صاحب دوکلیہ دے گئے کہ شق اول کے سب سنت ہیں اور شق دوم کے سب ضلالت۔ اب وہ کون سا رہا کہ دونوں سے خارج ہوکر نرا مباح ہو بلکہ نہ ایك مباح کہ مکروہ تنزیہی وخلاف اولی ومستحب یہ سب احکام شرعیہ یکسر اڑگئے یہ ہے وہ گنگوہی شریعت کا تازہ جوہر جس پر صفحہ ۲۹ میں یہ ناز ہیں کہ اس قاعدہ کو خوب غور کرنا اور سمجھ لینا ضرور ہے اس عاجز کو اساتذہ جہاندیدہ کی توجہ سے حاصل ہوا ہے اس جوہر کو اس کتاب میں ضرورۃ رکھتا ہوں “ ۔ کیا نفیس جوہر ہے کہ ادھر تو شریعت محمدیہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے آدھے احکام اڑگئے ادھر آدھی وہابیت اپنا جوہر کرگئی جس کا بیان منیرالعین افادہ مذکور میں ہے منیرالعین نے آنکھیں کھول دی تھیں پھر بھی تنبہ نہ ہوا اور کیوں ہوتا کہ حضور اقدس عالم ماکان ومایکون صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمصحیح حدیث صحیح بخاری شریف میں فرماچکے ہیں ثم لایعودون فیہ (پھر وہ لوٹ کر دین میں نہیں آئیں گے۔ ت)
(۳۰) مباح کا اعتقاد طاعت سے بدعت ہوجانا اگر اس سے یہ مراد کہ جو شے مباح محض ہے جس کے فعل وترك شرعا دونوں مساوی اسے فی نفسہ ماموربہ ومطلوب شرع اعتقاد کرنا اسے بدعت کردیتا ہے تو منہیہ والے کے پاس کیا دلیل ہے کہ یہ فعل مساوی الطرفین ہے اور عام عوام فی نفسہ اس کو ماموربہ یا مطلوب من جہۃ الشرع اعتقاد کرتے ہیں اب یہاں وہ علم غیب کا مسئلہ جانگزائے اہل منہیہ ہوگا جو ہمارے سائل فاضل سلمہ نے ایراد کیا اور اگر یہ مراد کہ مباح کو بہ نیت قربت کرنا اسے بدعت کردیتا ہے تو شریعت مطہرہ پر محض افتراء ہے بلکہ مباح کو بہ نیت قربت کرنا اسے قربت کردیتا ہے
(بعد ازخطا اس کی مثل پر کیا لازم آئے)
مگر یہاں یہ گزارش ہے کہ مباح بمعنی شامل فرض جس طرح امکان عام شامل وجوب ہے قطعا وجوب ہے قطعا یہاں مراد نہیں ورنہ فرض کو بھی طاعت سمجھنا گمراہی وبدعت ہو لاجرم مباح بمعنی مساوی الطرفین نظیر امکان خاص مراد ہے یعنی وہ فعل نہ محمود نہ مذموم آپ نے اسے رمد چشم کا منتر بناکر ایسا ہی مباح سمجھا اور یہ شریعت گنگوہیہ سے کفر ہے عالی جناب گنگوہی صاحب کے دھرم میں کوئی فعل ایسا مباح نہیں اسی صفحہ ۲۸ پر بولتے ہیں : “ جس کے جواز کی دلیل قرون ثلثہ میں ہو خواہ وہ جزئیہ بوجود خارجی ان قرون میں ہوا یا نہ ہوا وہ سب سنت ہے اور جس کے جواز کی دلیل نہیں خواہ وہ ان قرون میں بوجود خارجی ہوا یا نہ ہوا وہ سب بدعت ضلالت ہے “ ۔ ظاہر ہے کہ کوئی فعل ہو یا اس کے جواز کی دلیل قرون ثلثہ میں ہوگی یا نہیں تیسری شق ناممکن ہے کہ یہ حصر عقلی دائربین النفی والاثبات ہے اور گنگوہی صاحب دوکلیہ دے گئے کہ شق اول کے سب سنت ہیں اور شق دوم کے سب ضلالت۔ اب وہ کون سا رہا کہ دونوں سے خارج ہوکر نرا مباح ہو بلکہ نہ ایك مباح کہ مکروہ تنزیہی وخلاف اولی ومستحب یہ سب احکام شرعیہ یکسر اڑگئے یہ ہے وہ گنگوہی شریعت کا تازہ جوہر جس پر صفحہ ۲۹ میں یہ ناز ہیں کہ اس قاعدہ کو خوب غور کرنا اور سمجھ لینا ضرور ہے اس عاجز کو اساتذہ جہاندیدہ کی توجہ سے حاصل ہوا ہے اس جوہر کو اس کتاب میں ضرورۃ رکھتا ہوں “ ۔ کیا نفیس جوہر ہے کہ ادھر تو شریعت محمدیہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے آدھے احکام اڑگئے ادھر آدھی وہابیت اپنا جوہر کرگئی جس کا بیان منیرالعین افادہ مذکور میں ہے منیرالعین نے آنکھیں کھول دی تھیں پھر بھی تنبہ نہ ہوا اور کیوں ہوتا کہ حضور اقدس عالم ماکان ومایکون صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمصحیح حدیث صحیح بخاری شریف میں فرماچکے ہیں ثم لایعودون فیہ (پھر وہ لوٹ کر دین میں نہیں آئیں گے۔ ت)
(۳۰) مباح کا اعتقاد طاعت سے بدعت ہوجانا اگر اس سے یہ مراد کہ جو شے مباح محض ہے جس کے فعل وترك شرعا دونوں مساوی اسے فی نفسہ ماموربہ ومطلوب شرع اعتقاد کرنا اسے بدعت کردیتا ہے تو منہیہ والے کے پاس کیا دلیل ہے کہ یہ فعل مساوی الطرفین ہے اور عام عوام فی نفسہ اس کو ماموربہ یا مطلوب من جہۃ الشرع اعتقاد کرتے ہیں اب یہاں وہ علم غیب کا مسئلہ جانگزائے اہل منہیہ ہوگا جو ہمارے سائل فاضل سلمہ نے ایراد کیا اور اگر یہ مراد کہ مباح کو بہ نیت قربت کرنا اسے بدعت کردیتا ہے تو شریعت مطہرہ پر محض افتراء ہے بلکہ مباح کو بہ نیت قربت کرنا اسے قربت کردیتا ہے
حوالہ / References
براہین قاطعہ علٰی ظلام انوار الساطعۃ قرونِ ثلٰثہ میں موجود ہونے نہ ہونے کا معنی مطبوعہ لے بلاسا واقع ڈھور ص ۲۸
براہین قاطعہ علٰی ظلام انوار الساطعۃ قرونِ ثلٰثہ میں موجود ہونے نہ ہونے کا معنی مطبوعہ لے بلاسا واقع ڈھور ص ۲۹
صحیح البخاری آخر کتاب ا لتوحید مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۱۲۸
براہین قاطعہ علٰی ظلام انوار الساطعۃ قرونِ ثلٰثہ میں موجود ہونے نہ ہونے کا معنی مطبوعہ لے بلاسا واقع ڈھور ص ۲۹
صحیح البخاری آخر کتاب ا لتوحید مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۱۲۸
اور ہر قربت طاعت ہے تو اس میں اعتقاد طاعت ضرور حق اور اسے بدعت بتانا جہل مطلق اشباہ والنظائر وردالمحتار میں ہے :
اما المباحات فتختلف صفتھا باعتبار ماقصدت لاجلہ فاذا قصد بہ التقوی علی الطاعات او التوصل الیھا کانت عبادۃ ۔
باقی مباحات کا معاملہ نیت کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے اگر ان سے مقصود طاعات پر تقوی یا ان تك پہنچنا ہوتو پھر یہ عبادت ہے۔ (ت)
غمزالعیون میں ہے : کل قربۃ طاعۃ ولاتنعکس (ہر قربت طاعت ہے اور ہر طاعت قربت نہیں ہوتی۔ ت)
یہ اس ڈیڑھ سطری منہیہ پر تلك عشرۃ کاملۃ (دس مکمل دلائل ہیں ۔ ت) ہیں ۔
بالجملہ منکرین کے پاس کوئی دلیل نہیں اور ادعائے بے دلیل سے بدتر کوئی شے ذلیل نہیں دربارہ اذان تو احادیث وارد اور اس کا استحباب کتب فقہ میں مصرح تو انکار نہیں مگر جہل مبین اور دربارہ اقامت اگر ورود نہیں کہیں منع بھی نہیں اور بے منع شرعی منع کرنا ظلم مہین ادنی درجہ منع کراہت ہے اور کراہت کے لئے دلیل خاص کی حاجت ہے اور بے دلیل شرعی ادعائے منع شریعت پر افتراء وتہمت ہے ردالمحتار جلد ۱ ص ۶۸۳ :
لایلزم منہ ان یکون مکروھا الابنھی خاص لان الکراھۃ حکم شرعی فلابدلہ من دلیل ۔
اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ مکروہ ہوگا مگر کسی نہی خاص کے ساتھ کیونکہ کراہت حکم شرعی ہے اس کے لئے دلیل کا ہونا ضروری ہے۔ (ت)
البحرالرائق جلد ۲ ص ۱۷۶ :
لایلزم من ترك المستحب ثبوت الکراھۃ اذلابدلھا من دلیل خاص ۔
ترك مستحب سے کراہت کا ثبوت نہیں ہوتا کیونکہ اس کیلئے خاص دلیل کی ضرورت ہے (ت)
وہابیہ کی جہالت کہ جواز کے لئے ورود خاص مانگیں اور منع کے لئے دلیل خاص کی کچھ حاجت نہ جانیں اس اوندھی الٹی سمجھ کا کیا ٹھکانا مگر علت وہی شریعت مطہرہ پر افترا اٹھانا۔ ردالمحتار جلد ۵ ص ۴۵۵ :
لیس الاحتیاط فی الافتراء علی الله تعالی باثبات الحرمۃ اوالکراھۃ اللذین لابدلھا من دلیل بل فی القول بالاباحۃ التی ھی الاصل ۔
احتیاط نہیں کرتے الله تعالی پر افتراء میں حرمت و
اما المباحات فتختلف صفتھا باعتبار ماقصدت لاجلہ فاذا قصد بہ التقوی علی الطاعات او التوصل الیھا کانت عبادۃ ۔
باقی مباحات کا معاملہ نیت کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے اگر ان سے مقصود طاعات پر تقوی یا ان تك پہنچنا ہوتو پھر یہ عبادت ہے۔ (ت)
غمزالعیون میں ہے : کل قربۃ طاعۃ ولاتنعکس (ہر قربت طاعت ہے اور ہر طاعت قربت نہیں ہوتی۔ ت)
یہ اس ڈیڑھ سطری منہیہ پر تلك عشرۃ کاملۃ (دس مکمل دلائل ہیں ۔ ت) ہیں ۔
بالجملہ منکرین کے پاس کوئی دلیل نہیں اور ادعائے بے دلیل سے بدتر کوئی شے ذلیل نہیں دربارہ اذان تو احادیث وارد اور اس کا استحباب کتب فقہ میں مصرح تو انکار نہیں مگر جہل مبین اور دربارہ اقامت اگر ورود نہیں کہیں منع بھی نہیں اور بے منع شرعی منع کرنا ظلم مہین ادنی درجہ منع کراہت ہے اور کراہت کے لئے دلیل خاص کی حاجت ہے اور بے دلیل شرعی ادعائے منع شریعت پر افتراء وتہمت ہے ردالمحتار جلد ۱ ص ۶۸۳ :
لایلزم منہ ان یکون مکروھا الابنھی خاص لان الکراھۃ حکم شرعی فلابدلہ من دلیل ۔
اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ مکروہ ہوگا مگر کسی نہی خاص کے ساتھ کیونکہ کراہت حکم شرعی ہے اس کے لئے دلیل کا ہونا ضروری ہے۔ (ت)
البحرالرائق جلد ۲ ص ۱۷۶ :
لایلزم من ترك المستحب ثبوت الکراھۃ اذلابدلھا من دلیل خاص ۔
ترك مستحب سے کراہت کا ثبوت نہیں ہوتا کیونکہ اس کیلئے خاص دلیل کی ضرورت ہے (ت)
وہابیہ کی جہالت کہ جواز کے لئے ورود خاص مانگیں اور منع کے لئے دلیل خاص کی کچھ حاجت نہ جانیں اس اوندھی الٹی سمجھ کا کیا ٹھکانا مگر علت وہی شریعت مطہرہ پر افترا اٹھانا۔ ردالمحتار جلد ۵ ص ۴۵۵ :
لیس الاحتیاط فی الافتراء علی الله تعالی باثبات الحرمۃ اوالکراھۃ اللذین لابدلھا من دلیل بل فی القول بالاباحۃ التی ھی الاصل ۔
احتیاط نہیں کرتے الله تعالی پر افتراء میں حرمت و
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر القاعدۃ الاولی من الفن لاول ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱ / ۳۲
شرح غمزالعیون البصائر مع الاشباہ من الفن لاول ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱ / ۳۲
ردالمحتار مطلب بیان السنۃ والمستحب الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۸۳
البحرالرائق باب العیدین مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۱۶۳
ردالمحتار کتاب الاشربۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵ / ۳۲۶
شرح غمزالعیون البصائر مع الاشباہ من الفن لاول ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱ / ۳۲
ردالمحتار مطلب بیان السنۃ والمستحب الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۸۳
البحرالرائق باب العیدین مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۱۶۳
ردالمحتار کتاب الاشربۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵ / ۳۲۶
کراہت ثابت کرنے میں جن کے لئے دلیل کا ہونا ضروری ہے البتہ اباحت کا قول کرنے میں احتیاط کرتے ہیں جو کہ اصل ہے (ت)
ظاہر ہے کہ نام اقدس سن کر انگوٹھے چومنا آنکھوں سے لگانا عرفا دلیل تعظیم ومحبت ہے اور امور ادب میں قطعا عرف کا اعتبار۔ امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں :
فیحال علی المعھود حال قصد التعظیم ۔
تعظیم مقصود ہونے کے وقت اسے عرف پر محمول کیا جائیگا۔ (ت)
اور تعظیم حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممطلقا ماموربہ۔
قال الله لتؤمنوا بالله و رسوله و تعزروه و توقروه- ۔
الله تعالی کا ارشاد مبارك ہے : تم الله تعالی اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور ہمیشہ ان کی تعظیم وتوقیر بجالاؤ۔ (ت)
اور مطلق ہمیشہ اپنے اطلاق پر جاری رہے گا جب تك کسی خاص فرد سے منع شرعی نہ ثابت ہو جیسے سجدہ زیادات امام عتابی پھر جامع الرموز پھر ردالمحتار جلد ۵ ص ۳۷۹ میں ہے :
ان المطلق یجری علی اطلاقہ الا اذاقام دلیل التقیید نصا اودلالۃ فاحفظہ فانہ للفقیہ ضروری ۔
مطلق اپنے اطلاق پر ہی رہتا ہے مگر اس صورت میں کہ جب تقیید پر کوئی صراحۃ یا دلالۃ دلیل قائم ہو اسے اچھی طرح محفوظ کرلو کیونکہ یہ فقیہ کے لئے ضروری قاعدہ ہے۔ (ت)
مگر ہے یہ کہ اشقیا کے نزدیك تعظیم حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممطلقا شرك وظلم ہے شریعت نے برخلاف قیاس بعض مواضع میں خدا جانے کس ضرورت سے ناچاری کو مقرر کردی ہے لہذا مورد پر مقتصر رہے گی باقی اسی اصل حکم پر شرك وبدعت وحرام ٹھہرے گی فلہذا جہاں وارد ہوئی خدا کا دھرا سر پر قہر درویش
ظاہر ہے کہ نام اقدس سن کر انگوٹھے چومنا آنکھوں سے لگانا عرفا دلیل تعظیم ومحبت ہے اور امور ادب میں قطعا عرف کا اعتبار۔ امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں :
فیحال علی المعھود حال قصد التعظیم ۔
تعظیم مقصود ہونے کے وقت اسے عرف پر محمول کیا جائیگا۔ (ت)
اور تعظیم حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممطلقا ماموربہ۔
قال الله لتؤمنوا بالله و رسوله و تعزروه و توقروه- ۔
الله تعالی کا ارشاد مبارك ہے : تم الله تعالی اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور ہمیشہ ان کی تعظیم وتوقیر بجالاؤ۔ (ت)
اور مطلق ہمیشہ اپنے اطلاق پر جاری رہے گا جب تك کسی خاص فرد سے منع شرعی نہ ثابت ہو جیسے سجدہ زیادات امام عتابی پھر جامع الرموز پھر ردالمحتار جلد ۵ ص ۳۷۹ میں ہے :
ان المطلق یجری علی اطلاقہ الا اذاقام دلیل التقیید نصا اودلالۃ فاحفظہ فانہ للفقیہ ضروری ۔
مطلق اپنے اطلاق پر ہی رہتا ہے مگر اس صورت میں کہ جب تقیید پر کوئی صراحۃ یا دلالۃ دلیل قائم ہو اسے اچھی طرح محفوظ کرلو کیونکہ یہ فقیہ کے لئے ضروری قاعدہ ہے۔ (ت)
مگر ہے یہ کہ اشقیا کے نزدیك تعظیم حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممطلقا شرك وظلم ہے شریعت نے برخلاف قیاس بعض مواضع میں خدا جانے کس ضرورت سے ناچاری کو مقرر کردی ہے لہذا مورد پر مقتصر رہے گی باقی اسی اصل حکم پر شرك وبدعت وحرام ٹھہرے گی فلہذا جہاں وارد ہوئی خدا کا دھرا سر پر قہر درویش
حوالہ / References
فتح القدیر باب صفۃ الصّلٰوۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۴۹
القرآن ۴۸ / ۹
ردالمحتار فصل فی البیع من کتاب الحظر مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵ / ۲۷۲
القرآن ۴۸ / ۹
ردالمحتار فصل فی البیع من کتاب الحظر مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵ / ۲۷۲
ماننی پڑی وہ بھی فقط ظاہرا نہ دل سے جیسے التحیات میں رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی تعظیم رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو غائبانہ ندا کرنے کا شریعت نے حکم دیا خدا جانے شریعت کو کیا ہوگیا تھا کہ عین نماز میں یہ غیر خدا کی تعظیم اور اس پر دور ونزدیك سے پکارنا رکھ دیا خیر قہرا جبرا التحیات کے لفظ تو پڑھ لو مگر انشائے معنی کا ارادہ نہ کرنا وہ دیکھو امام الطائفہ اسمعیل دہلوی صراط مستقیم میں حکم لگارہے ہیں کہ :
“ صرف ہمت درنماز بسوئے شیخ وامثال آں ازمعظمین گوجناب رسالتمآب باشند بچندیں مرتبہ بدترست ازاستغراق درخیال گاؤ وخر خود الی آخر الکلمۃ الملعونۃ لعن الله قائلہا وقابلہا۔
“ نماز میں اپنے شیخ یا بزرگوں میں سے کسی دوسرے بزرگ حتی کہ رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی طرف توجہ صرف کرنا اپنے گدھے اور بیل کے خیال میں مستغرق ہوجانے سے کئی درجے بدتر ہے “ آخر کلام ملعون تک الله تعالی اس کلام کے قائل اور قبول کرنے والے کو اپنی رحمت سے دور رکھے۔ (ت)
ولہذا وہابیہ تصریح کرتے ہیں کہ تشہد میں السلام علیك ایھا النبی ورحمۃ الله وبرکاتہ سے حکایت لفظ کا ارادہ کرے قصد معنی نہ کرے تصریح کرتے ہیں دور سے یارسول الله کہنا شرك ہے مگر بحمدالله تعالی مسلمانوں کے ایمان میں تعظیم رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمعین ایمان ایمان کی جان ہے اور علی الاطلاق مطلوب شرع تو جو کچھ بھی جس طرح بھی جس وقت بھی جس جگہ بھی تعظیم اقدس کے لئے بجالائے خواہ وہ بعینہ منقول ہو یا نہ ہو سب جائز ومندوب ومستحب ومرغوب ومطلوب وپسندیدہ وخوب ہے جب تك اس خاص سے نہی نہ آئی ہو جب تك اس خاص میں کوئی حرج شرعی نہ ہو وہ سب اس اطلاق ارشاد الہی وتعزروہ وتؤقروہ میں داخل اور امتثال حکم الہی کا فضل جلیل اسے شامل ہے ولہذا ائمہ دین تصریح فرماتے ہیں کہ جو کچھ جس قدر ادب وتعظیم حبیب رب العالمین جل جلالہ وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیں زیادہ مداخلت رکھے اسی قدر زیادہ خوب ہے فتح القدیر امام محقق علی الاطلاق ومنسك متوسط وفتاوی علمگیریہ وغیرہا میں ہے :
کل ماکان ادخل فی الادب والاجلال کان حسنا ۔
جس قدر بھی ادب وعزت میں کامل ہو اتنا ہی زیادہ اچھا ہے۔ (ت)
امام ابن حجر مکی “ جوہر منظم “ میں فرماتے ہیں :
“ صرف ہمت درنماز بسوئے شیخ وامثال آں ازمعظمین گوجناب رسالتمآب باشند بچندیں مرتبہ بدترست ازاستغراق درخیال گاؤ وخر خود الی آخر الکلمۃ الملعونۃ لعن الله قائلہا وقابلہا۔
“ نماز میں اپنے شیخ یا بزرگوں میں سے کسی دوسرے بزرگ حتی کہ رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی طرف توجہ صرف کرنا اپنے گدھے اور بیل کے خیال میں مستغرق ہوجانے سے کئی درجے بدتر ہے “ آخر کلام ملعون تک الله تعالی اس کلام کے قائل اور قبول کرنے والے کو اپنی رحمت سے دور رکھے۔ (ت)
ولہذا وہابیہ تصریح کرتے ہیں کہ تشہد میں السلام علیك ایھا النبی ورحمۃ الله وبرکاتہ سے حکایت لفظ کا ارادہ کرے قصد معنی نہ کرے تصریح کرتے ہیں دور سے یارسول الله کہنا شرك ہے مگر بحمدالله تعالی مسلمانوں کے ایمان میں تعظیم رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمعین ایمان ایمان کی جان ہے اور علی الاطلاق مطلوب شرع تو جو کچھ بھی جس طرح بھی جس وقت بھی جس جگہ بھی تعظیم اقدس کے لئے بجالائے خواہ وہ بعینہ منقول ہو یا نہ ہو سب جائز ومندوب ومستحب ومرغوب ومطلوب وپسندیدہ وخوب ہے جب تك اس خاص سے نہی نہ آئی ہو جب تك اس خاص میں کوئی حرج شرعی نہ ہو وہ سب اس اطلاق ارشاد الہی وتعزروہ وتؤقروہ میں داخل اور امتثال حکم الہی کا فضل جلیل اسے شامل ہے ولہذا ائمہ دین تصریح فرماتے ہیں کہ جو کچھ جس قدر ادب وتعظیم حبیب رب العالمین جل جلالہ وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیں زیادہ مداخلت رکھے اسی قدر زیادہ خوب ہے فتح القدیر امام محقق علی الاطلاق ومنسك متوسط وفتاوی علمگیریہ وغیرہا میں ہے :
کل ماکان ادخل فی الادب والاجلال کان حسنا ۔
جس قدر بھی ادب وعزت میں کامل ہو اتنا ہی زیادہ اچھا ہے۔ (ت)
امام ابن حجر مکی “ جوہر منظم “ میں فرماتے ہیں :
حوالہ / References
صراط المستقیم ہدایت نامہ درذکر مخلات مطبوعہ المکتبۃ السلفیۃ لاہور ص ۸۶
المسلك المقتسط فی المنسك المتوسط مع ارشاد الساری باب زیادۃ سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ دارالکتاب العربی بیروت ص ۳۳۶
المسلك المقتسط فی المنسك المتوسط مع ارشاد الساری باب زیادۃ سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ دارالکتاب العربی بیروت ص ۳۳۶
تعظیم النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم بجمیع انواع التعظیم التی لیس فیھا مشارکۃ الله تعالی فی الالوھیۃ امر مستحسن عند من نورالله ابصارھم ۔
وہ لوگ جنہیں الله تعالی نے آنکھوں کا نور عطا فرمایا ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی تعظیم کی تمام اقسام وصورتوں کو امر مستحسن تصور کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان میں ہر گز باری تعالی کے ساتھ شرکت کا کوئی پہلو نہیں ۔ (ت)
تو مسلمان اگر وقت اقامت بھی تقبیل کرے ہرگز کوئی وجہ ممانعت نہیں اور اسے شرعا ناجائز نہ کہے گا مگر وہ کہ شرع پر افترا کرتا یا نام واکرام سیدالانام علیہ افضل الصلاۃ والسلام سے جلتا ہے۔ اسی طرح نماز واستماع قرآن مجید واستماع خطبہ جن میں حرکت منع ہے اور ان کے امثال مواضع لزوم محذور کے سوا جہاں کہیں بھی یہ فعل بنظر تعظیم ومحبت حضرت رسالت علیہ افضل الصلاۃ والتحیۃ ہو جیسا کہ بعض محبان سرکار سے مشہور ہے بہرحال محبوب ومحمود ہے والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
____________________
وہ لوگ جنہیں الله تعالی نے آنکھوں کا نور عطا فرمایا ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی تعظیم کی تمام اقسام وصورتوں کو امر مستحسن تصور کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان میں ہر گز باری تعالی کے ساتھ شرکت کا کوئی پہلو نہیں ۔ (ت)
تو مسلمان اگر وقت اقامت بھی تقبیل کرے ہرگز کوئی وجہ ممانعت نہیں اور اسے شرعا ناجائز نہ کہے گا مگر وہ کہ شرع پر افترا کرتا یا نام واکرام سیدالانام علیہ افضل الصلاۃ والسلام سے جلتا ہے۔ اسی طرح نماز واستماع قرآن مجید واستماع خطبہ جن میں حرکت منع ہے اور ان کے امثال مواضع لزوم محذور کے سوا جہاں کہیں بھی یہ فعل بنظر تعظیم ومحبت حضرت رسالت علیہ افضل الصلاۃ والتحیۃ ہو جیسا کہ بعض محبان سرکار سے مشہور ہے بہرحال محبوب ومحمود ہے والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
____________________
حوالہ / References
الجوہر المنظم الفصل الاول مطبوعہ ادارۃ المرکزیۃ واشاعۃ القرآن گلبرگ لاہور ص ۱۲
ایذان الاجر فی اذان ھ القبر۱۳۰۷ھ
(دفن کے بعد قبر پر اذان کہنے کے جواز پر مبارك فتوی)
مسئلہ ۳۸۸ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دفن کے وقت جو قبر پر اذان کہی جاتی ہے شرعا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
فتوی
بسم الله الرحمن الرحیم
الحمدلله الذی جعل الاذان علم الایمان وسبب الامان وسکینۃ الجنان ومنافۃ الاحزان و مرضاۃ الرحمن والصلاۃ والسلام الاتمان الاکملان علی من رفع الله ذکرہ واعظم قدرہ فبذکرہ زان کل خطبۃ واذان وعلی الہ وصحبہ الذاکرین ایاہ مع ذکر مولاہ فی الحیوۃ والموت والوجدان والفوت وکل حین وان واشھد ان لاالہ الاالله الحنان المنان وان محمدا عبدہ ورسولہ سید الانس والجان صلی الله تعالی علیہ وعلی الہ وصحبہ المرضین لدیہ مااذن اذن لصوت اذان قال الفقیر عبدالمصطفی احمد رضا المحمدی السنی الحنفی القادری البرکاتی البریلوی سقاہ المجیب من کاس الجیب عذبا فراتا وجعلہ من الذین ھم اھل الایمان والصلاۃ والاذان احیاء وامواتا امین الہ الحق امین۔
تمام تعریفیں الله تعالی کے لئے جس نے اذان کو ایمان کی علامت سبب امان دلوں کا سکون غموں کا ازالہ اور رحمان کی رضا کا ذریعہ بنایا صلاۃ وسلام کاملہ تامہ ہو اس ذات پر جس کا ذکر الله تعالی نے بلند کردیا اور اس کے مرتبہ کو عظیم کیا چنانچہ ان کے ذکر سے ہر خطبہ اور اذان کو
(دفن کے بعد قبر پر اذان کہنے کے جواز پر مبارك فتوی)
مسئلہ ۳۸۸ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دفن کے وقت جو قبر پر اذان کہی جاتی ہے شرعا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
فتوی
بسم الله الرحمن الرحیم
الحمدلله الذی جعل الاذان علم الایمان وسبب الامان وسکینۃ الجنان ومنافۃ الاحزان و مرضاۃ الرحمن والصلاۃ والسلام الاتمان الاکملان علی من رفع الله ذکرہ واعظم قدرہ فبذکرہ زان کل خطبۃ واذان وعلی الہ وصحبہ الذاکرین ایاہ مع ذکر مولاہ فی الحیوۃ والموت والوجدان والفوت وکل حین وان واشھد ان لاالہ الاالله الحنان المنان وان محمدا عبدہ ورسولہ سید الانس والجان صلی الله تعالی علیہ وعلی الہ وصحبہ المرضین لدیہ مااذن اذن لصوت اذان قال الفقیر عبدالمصطفی احمد رضا المحمدی السنی الحنفی القادری البرکاتی البریلوی سقاہ المجیب من کاس الجیب عذبا فراتا وجعلہ من الذین ھم اھل الایمان والصلاۃ والاذان احیاء وامواتا امین الہ الحق امین۔
تمام تعریفیں الله تعالی کے لئے جس نے اذان کو ایمان کی علامت سبب امان دلوں کا سکون غموں کا ازالہ اور رحمان کی رضا کا ذریعہ بنایا صلاۃ وسلام کاملہ تامہ ہو اس ذات پر جس کا ذکر الله تعالی نے بلند کردیا اور اس کے مرتبہ کو عظیم کیا چنانچہ ان کے ذکر سے ہر خطبہ اور اذان کو
زینت بخشی اور آپ کی آل واصحاب پر جو موت وحیات وجدان وفوت غرضیکہ ہر وقت اپنے رب کریم کے ذکر کے ساتھ اپنے آقا کا ذکر کرتے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ الله حنان ومنان کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور انس وجن کے سردار نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمالله تعالی کے برگذیدہ بندے اور رسول ہیں آپ پر اور آپ کی آل پاك اور صحابہ کرام پر جو کہ پسندیدہ ہیں سب پر اس وقت تك الله تعالی کی رحمتیں ہوں جب تك کان اذان کی آواز سنتے رہیں خیر عبدالمصطفی احمد رضا محمدی سنی حنفی قادری برکاتی بریلوی دعا کرتا ہے کہ الله تعالی اسے اپنے حبیب کے حوض کوثر سے سیراب کرے اور اسے ان لوگوں میں سے کردے جو موت وحیات میں ایمان نماز اور اذان والے ہیں آمین الہ الحق آمین۔ (ت)
الجواب :
بعض علمائے دین نے میت کو قبر میں اتارتے وقت اذان کہنے کو سنت فرمایا امام ابن حجر مکی وعلامہ خیر الملۃ والدین رملی استاذ صاحب درمختار علیہم رحمۃ الغفار نے ان کا یہ قول نقل کیا :
اما المکی ففی فتاواہ وفی شرح العباب وعارض واما الرملی ففی حاشیۃ البحرالرائق ومرض۔
مکی نے اپنے فتاوی اور شرح العباب میں نقل کیا اور اس نے معارضہ کیا رملی نے حاشیہ البحرالرائق میں نقل کیا اور اسے کمزور کہا۔ (ت)
حق یہ ہے کہ اذان مذکور فی السوال کا جواز یقینی ہے ہرگز شرع مطہر سے اس کی ممانعت کی کوئی دلیل نہیں اور جس امر سے شرع منع نہ فرمائے اصلا ممنوع نہیں ہوسکتا قائلان جواز کے لئے اسی قدر کافی جو مدعی ممانعت ہو دلائل شرعیہ سے اپنا دعوی ثابت کرے پھر بھی مقام تبرع میں آکر فقیر غفرالله تعالی لہ بدلائل کثیرہ اس کی اصل شرع مطہر سے نکال سکتا ہے جنہیں بقانون مناظرہ اسانید تصور کیجئے فاقول : وبالله التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق۔
دلیل اول : وارد ہے کہ جب بندہ قبر میں رکھا جاتا اور سوال نکیرین ہوتا ہے شیطان رجیم (کہ الله عزوجل
الجواب :
بعض علمائے دین نے میت کو قبر میں اتارتے وقت اذان کہنے کو سنت فرمایا امام ابن حجر مکی وعلامہ خیر الملۃ والدین رملی استاذ صاحب درمختار علیہم رحمۃ الغفار نے ان کا یہ قول نقل کیا :
اما المکی ففی فتاواہ وفی شرح العباب وعارض واما الرملی ففی حاشیۃ البحرالرائق ومرض۔
مکی نے اپنے فتاوی اور شرح العباب میں نقل کیا اور اس نے معارضہ کیا رملی نے حاشیہ البحرالرائق میں نقل کیا اور اسے کمزور کہا۔ (ت)
حق یہ ہے کہ اذان مذکور فی السوال کا جواز یقینی ہے ہرگز شرع مطہر سے اس کی ممانعت کی کوئی دلیل نہیں اور جس امر سے شرع منع نہ فرمائے اصلا ممنوع نہیں ہوسکتا قائلان جواز کے لئے اسی قدر کافی جو مدعی ممانعت ہو دلائل شرعیہ سے اپنا دعوی ثابت کرے پھر بھی مقام تبرع میں آکر فقیر غفرالله تعالی لہ بدلائل کثیرہ اس کی اصل شرع مطہر سے نکال سکتا ہے جنہیں بقانون مناظرہ اسانید تصور کیجئے فاقول : وبالله التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق۔
دلیل اول : وارد ہے کہ جب بندہ قبر میں رکھا جاتا اور سوال نکیرین ہوتا ہے شیطان رجیم (کہ الله عزوجل
صدقہ اپنے محبوب کریم علیہ افضل الصلاۃ والتسلیم کا ہر مسلمان مرد و زن کو حیات وممات میں اس کے شر سے محفوظ رکھے) وہاں بھی خلل انداز ہوتا ہے اور جواب میں بہکاتا ہے والعیاذ بوجہ العزیز الکریم ولاحول ولاقوۃ الا بالله العلی العظیم۔ امام ترمذی محمد بن علی نوادر الاصول میں امام اجل سفین ثوری رحمۃ اللہ تعالی علیہسے روایت کرتے ہیں :
اذا سئل المیت من ربك تراأی لہ الشیطان فی صورت فیشیر الی نفسہ ای اناربك فلھذا ورد سوال التثبیت لہ حین یسئل۔
یعنی جب مردے سے سوال ہوتا ہے کہ تیرا رب کون ہے شیطان اس پر ظاہر ہوتا اور اپنی طرف اشارہ کرتا ہے یعنی میں تیرا رب ہوں اس لئے حکم آیا کہ میت کے لئے جواب میں ثابت قدم رہنے کی دعا کریں ۔ (ت)
امام ترمذی فرماتے ہیں :
ویؤیدہ من الاخبار قول النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم عند دفن المیت اللھم اجرہ من الشیطان فلولم یکن للشیطان ھناك سبیل مادعا صلی الله تعالی علیہ وسلم بذلك ۔
یعنی وہ حدیثیں جو اسکی مؤید ہیں جن میں وارد کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیت کو دفن کرتے وقت دعا فرماتے الہی! اسے شیطان سے بچا۔ اگر وہاں شیطان کا کچھ دخل نہ ہوتا تو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمیہ دعا کیوں فرماتے۔ (ت)
اور صحیح حدیثوں سے ثابت کہ اذان شیطان کو دفع کرتی ہے صحیح بخاری وصحیح مسلم وغیرہما میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے مروی حضور اقدس سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
اذااذن المؤذن ادبر الشیطان ولہ حصاص ۔
جب مؤذن اذان کہتا ہے شیطان پیٹھ پھیر کر گوززناں بھاگتا ہے۔ (ت)
صحیح مسلم کی حدیث جابر رضی اللہ تعالی عنہسے واضح کہ چھتیس میل تك بھاگ جاتا ہے ۔ اور خود حدیث میں حکم آیا جب شیطان کا کھٹکا ہو فورا اذان کہو کہ وہ دفع ہوجائے گا اخرجہ الامام ابوالقاسم سلیمن بن احمد
اذا سئل المیت من ربك تراأی لہ الشیطان فی صورت فیشیر الی نفسہ ای اناربك فلھذا ورد سوال التثبیت لہ حین یسئل۔
یعنی جب مردے سے سوال ہوتا ہے کہ تیرا رب کون ہے شیطان اس پر ظاہر ہوتا اور اپنی طرف اشارہ کرتا ہے یعنی میں تیرا رب ہوں اس لئے حکم آیا کہ میت کے لئے جواب میں ثابت قدم رہنے کی دعا کریں ۔ (ت)
امام ترمذی فرماتے ہیں :
ویؤیدہ من الاخبار قول النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم عند دفن المیت اللھم اجرہ من الشیطان فلولم یکن للشیطان ھناك سبیل مادعا صلی الله تعالی علیہ وسلم بذلك ۔
یعنی وہ حدیثیں جو اسکی مؤید ہیں جن میں وارد کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیت کو دفن کرتے وقت دعا فرماتے الہی! اسے شیطان سے بچا۔ اگر وہاں شیطان کا کچھ دخل نہ ہوتا تو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمیہ دعا کیوں فرماتے۔ (ت)
اور صحیح حدیثوں سے ثابت کہ اذان شیطان کو دفع کرتی ہے صحیح بخاری وصحیح مسلم وغیرہما میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے مروی حضور اقدس سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
اذااذن المؤذن ادبر الشیطان ولہ حصاص ۔
جب مؤذن اذان کہتا ہے شیطان پیٹھ پھیر کر گوززناں بھاگتا ہے۔ (ت)
صحیح مسلم کی حدیث جابر رضی اللہ تعالی عنہسے واضح کہ چھتیس میل تك بھاگ جاتا ہے ۔ اور خود حدیث میں حکم آیا جب شیطان کا کھٹکا ہو فورا اذان کہو کہ وہ دفع ہوجائے گا اخرجہ الامام ابوالقاسم سلیمن بن احمد
حوالہ / References
نوادر الاصول فی معرفۃ احادیث الرسول الاصل التاسع والاربعون والمائتان الخ مطبوعہ دارصادر بیروت ص ۳۲۳
نوادر الاصول فی معرفۃ احادیث الرسول الاصل التاسع والاربعون والمائتان الخ مطبوعہ دارصادر بیروت ص ۳۲۳
نوٹ : یہ دونوں عبارتیں اعلٰیحضرت نے بالمعنی نقل کی ہیں اس لئے الفاظ میں کافی تغیر وتبدل ہے ، پہلی عبارت درست کردی ہے دوسری عبارت اس طرح ہے : فلولم یکن للشیطان ھناك سبیل ماکان لیدعولہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم بان یجیرہ من الشیطان۔
الصحیح لمسلم باب فضل الاذان وہرب الشیطان عندسماعہ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۶۷
الصحیح لمسلم باب فضل الاذان وہرب الشیطان عندسماعہ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۶۷
معجم اوسط حدیث نمبر ۷۴۳۲ مکتبۃ المعارف الریاض ۸ / ۲۱۰
نوادر الاصول فی معرفۃ احادیث الرسول الاصل التاسع والاربعون والمائتان الخ مطبوعہ دارصادر بیروت ص ۳۲۳
نوٹ : یہ دونوں عبارتیں اعلٰیحضرت نے بالمعنی نقل کی ہیں اس لئے الفاظ میں کافی تغیر وتبدل ہے ، پہلی عبارت درست کردی ہے دوسری عبارت اس طرح ہے : فلولم یکن للشیطان ھناك سبیل ماکان لیدعولہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم بان یجیرہ من الشیطان۔
الصحیح لمسلم باب فضل الاذان وہرب الشیطان عندسماعہ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۶۷
الصحیح لمسلم باب فضل الاذان وہرب الشیطان عندسماعہ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۶۷
معجم اوسط حدیث نمبر ۷۴۳۲ مکتبۃ المعارف الریاض ۸ / ۲۱۰
الطبرانی فی اوسط معاجیمہ عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ(اسے امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی نے المعجم الاوسط میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے۔ ت) ہم نے اپنے رسالہ نسیم الصبافی ان الاذان یحول الوبا (صبح کی خوشگوار ہوا اس بارے میں کہ اذان سے وبا دور ہوجاتی ہے۔ ت) میں اس مطلب پر بہت احادیث نقل کیں اور جب ثابت ہولیا کہ وہ وقت عیاذا بالله مداخلت شیطان لعین کا ہے اور ارشاد ہوا کہ شیطان اذان سے بھاگتا ہے اور اس میں حکم آیا کہ اس کے دفع کو اذان کہو تو یہ اذان خاص حدیثوں سے مستنبط بلکہ عین ارشاد شارع کے مطابق اور مسلمان بھائی کی عمدہ امداد واعانت ہوئی جس کی خوبیوں سے قرآن وحدیث مالامال۔
دلیل دوم : امام احمد وطبرانی وبیہقی حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ تعالی عنہماسے راوی :
قال لمادفن سعد بن معاذ (زاد فی روایۃ) وسوی علیہ سبح النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم وسبح الناس معہ طویلا ثم کبر وکبرالناس ثم قالوا یارسول الله لم سبحت (زاد فی روایۃ) ثم کبرت قال لقد تضایق علی ھذا الرجل الصالح قبرہ حتی فرج الله تعالی عنہ ۔
یعنی جب سعد بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہدفن ہوچکے اور قبر درست کردی گئی نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمدیر تك سبحان الله فرماتے رہے اور صحابہ کرام بھی حضور کے ساتھ کہتے رہے پھر حضور الله اکبر الله اکبر فرماتے رہے اور صحابہ بھی حضور کے ساتھ کہتے رہے پھر صحابہ نے عرض کی یارسول الله ! حضور اول تسبیح پھر تکبیر کیوں فرماتے رہے ارشاد فرمایا : اس نیك مرد پر اس کی قبر تنگ ہوئی تھی یہاں تك کہ الله تعالی نے وہ تکلیف اس سے دور کی اور قبر کشادہ فرمادی۔ (ت)
علامہ طیبی شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں :
ای مازلت اکبر وتکبرون واسبح وتسبحون حتی فرجہ الله اھ۔
یعنی حدیث کے معنی یہ ہیں کہ برابر میں اور تم الله اکبر الله اکبر سبحان الله کہتے رہے یہاں تك کہ الله تعالی نے اس تنگی سے انہیں نجات بخشی۔ اھ (ت)
اقول : اس حدیث سے ثابت ہوا کہ خود حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے میت پر آسانی کے لئے بعد دفن کے قبر پر الله اکبر الله اکبر بار بار فرمایا ہے اور یہی کلمہ مبارکہ اذان میں چھ بار ہے تو عین سنت ہوا غایت یہ
دلیل دوم : امام احمد وطبرانی وبیہقی حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ تعالی عنہماسے راوی :
قال لمادفن سعد بن معاذ (زاد فی روایۃ) وسوی علیہ سبح النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم وسبح الناس معہ طویلا ثم کبر وکبرالناس ثم قالوا یارسول الله لم سبحت (زاد فی روایۃ) ثم کبرت قال لقد تضایق علی ھذا الرجل الصالح قبرہ حتی فرج الله تعالی عنہ ۔
یعنی جب سعد بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہدفن ہوچکے اور قبر درست کردی گئی نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمدیر تك سبحان الله فرماتے رہے اور صحابہ کرام بھی حضور کے ساتھ کہتے رہے پھر حضور الله اکبر الله اکبر فرماتے رہے اور صحابہ بھی حضور کے ساتھ کہتے رہے پھر صحابہ نے عرض کی یارسول الله ! حضور اول تسبیح پھر تکبیر کیوں فرماتے رہے ارشاد فرمایا : اس نیك مرد پر اس کی قبر تنگ ہوئی تھی یہاں تك کہ الله تعالی نے وہ تکلیف اس سے دور کی اور قبر کشادہ فرمادی۔ (ت)
علامہ طیبی شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں :
ای مازلت اکبر وتکبرون واسبح وتسبحون حتی فرجہ الله اھ۔
یعنی حدیث کے معنی یہ ہیں کہ برابر میں اور تم الله اکبر الله اکبر سبحان الله کہتے رہے یہاں تك کہ الله تعالی نے اس تنگی سے انہیں نجات بخشی۔ اھ (ت)
اقول : اس حدیث سے ثابت ہوا کہ خود حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے میت پر آسانی کے لئے بعد دفن کے قبر پر الله اکبر الله اکبر بار بار فرمایا ہے اور یہی کلمہ مبارکہ اذان میں چھ بار ہے تو عین سنت ہوا غایت یہ
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل عن مسندہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ / ۳۷۷۔ ۳۶۰
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح الفصل الثالث من اثبات عذاب القبر مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۲۱۱
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح الفصل الثالث من اثبات عذاب القبر مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۲۱۱
کہ اذان میں اس کے ساتھ اور کلمات طیبات زائد ہیں سو ان کی زیادت نہ معاذالله کچھ مضر نہ اس امر مسنون کے منافی بلکہ زیادہ مفید ومؤید مقصود ہے کہ رحمت الہی اتارنے کے لئے ذکر خدا کرنا تھا دیکھو یہ بعینہ وہ مسلك نفیس ہے جو دربارہ تلبیہ اجلہ صحابہ عظام مثل حضرت امیرالمومنین عمر وحضرت عبدالله بن عمر وحضرت عبدالله بن مسعود وحضرت امام حسن مجتبی وغیرہم رضی اللہ تعالی عنہماجمعین کو ملحوظ ہوا اور ہمارے ائمہ کرام نے اختیار فرمایا ہدایہ میں ہے :
لاینبغی ان یخل بشیئ من ھذہ الکلمات لانہ ھو المنقول فلاینقص عنہ ولوزاد فیھا جاز لان المقصود الثناء واظھار العبودیۃ فلایمنع من الزیادۃ علیہ اھ ملخصا۔
یعنی ان کلمات میں کمی نہ چاہئے کہ یہی نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے منقول ہیں تو ان سے گھٹائے نہیں اور اگر بڑھائے تو جائز ہے کہ مقصود الله تعالی کی تعریف اور اپنی بندگی کا ظاہر کرنا ہے تو اور کلمے زیادہ کرنے سے ممانعت نہیں اھ ملخصا (ت)
فقیر غفرالله تعالی لہ نے اپنے رسالہ صفائح اللجین فی کون التصافح بکفی الیدین ۱۳۰۶ھ وغیرہا رسائل میں اس مطلب کی قدرے تفصیل کی۔
دلیل سوم : بالاتفاق سنت اور حدیثوں سے ثابت اور فقہ میں مثبت کہ میت کے پاس حالت نزع میں کلمہ طیبہ لاالہ الاالله کہتے رہیں کہ اسے سن کر یاد ہو حدیث متواتر میں ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں : لقنوا موتاکم لاالہ الالله (اپنے مردوں کو لا الہ الا الله سکھاؤ)
رواہ احمد ومسلم وابوداؤد والترمذی والنسائی وابن ماجۃ عن ابی سعید الخدری وابن ماجۃ کمسلم عن ابی ھریرۃ وکالنسائی عن ام المؤمنین عائشۃ رضی الله تعالی عنہم۔
اسے احمد مسلم ابوداؤد ترمذی نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہسے اور ابن ماجہ نے مسلم کی طرح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہاور نسائی کی طرح حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالی عنہمسے روایت کیا ہے۔ (ت)
اب جو نزع میں ہے وہ مجازا مردہ ہے اور اسے کلمہ اسلام سکھانے کی حاجت کہ بحول الله تعالی خاتمہ اسی پاك کلمے پر ہو اور شیطان لعین کے بھلانے میں نہ آئے اور جو دفن ہوچکا حقیقۃ مردہ ہے اور اسے بھی کلمہ پاك سکھانے کی حاجت کہ بعون الله تعالی جواب یاد ہوجائے اور شیطان رجیم کے بہکانے میں نہ آئے اور بیشك اذان میں
لاینبغی ان یخل بشیئ من ھذہ الکلمات لانہ ھو المنقول فلاینقص عنہ ولوزاد فیھا جاز لان المقصود الثناء واظھار العبودیۃ فلایمنع من الزیادۃ علیہ اھ ملخصا۔
یعنی ان کلمات میں کمی نہ چاہئے کہ یہی نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے منقول ہیں تو ان سے گھٹائے نہیں اور اگر بڑھائے تو جائز ہے کہ مقصود الله تعالی کی تعریف اور اپنی بندگی کا ظاہر کرنا ہے تو اور کلمے زیادہ کرنے سے ممانعت نہیں اھ ملخصا (ت)
فقیر غفرالله تعالی لہ نے اپنے رسالہ صفائح اللجین فی کون التصافح بکفی الیدین ۱۳۰۶ھ وغیرہا رسائل میں اس مطلب کی قدرے تفصیل کی۔
دلیل سوم : بالاتفاق سنت اور حدیثوں سے ثابت اور فقہ میں مثبت کہ میت کے پاس حالت نزع میں کلمہ طیبہ لاالہ الاالله کہتے رہیں کہ اسے سن کر یاد ہو حدیث متواتر میں ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں : لقنوا موتاکم لاالہ الالله (اپنے مردوں کو لا الہ الا الله سکھاؤ)
رواہ احمد ومسلم وابوداؤد والترمذی والنسائی وابن ماجۃ عن ابی سعید الخدری وابن ماجۃ کمسلم عن ابی ھریرۃ وکالنسائی عن ام المؤمنین عائشۃ رضی الله تعالی عنہم۔
اسے احمد مسلم ابوداؤد ترمذی نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہسے اور ابن ماجہ نے مسلم کی طرح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہاور نسائی کی طرح حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالی عنہمسے روایت کیا ہے۔ (ت)
اب جو نزع میں ہے وہ مجازا مردہ ہے اور اسے کلمہ اسلام سکھانے کی حاجت کہ بحول الله تعالی خاتمہ اسی پاك کلمے پر ہو اور شیطان لعین کے بھلانے میں نہ آئے اور جو دفن ہوچکا حقیقۃ مردہ ہے اور اسے بھی کلمہ پاك سکھانے کی حاجت کہ بعون الله تعالی جواب یاد ہوجائے اور شیطان رجیم کے بہکانے میں نہ آئے اور بیشك اذان میں
حوالہ / References
الہدایۃ باب الاحرام مطبوعہ المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ / ۲۱۷
سنن ابی داؤد باب فی التلقین مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۸۸
سنن ابی داؤد باب فی التلقین مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۸۸
یہی کلمہ لاالہ الا الله تین جگہ موجود بلکہ اس کے تمام کلمات جواب نکیرین بتاتے ہیں ان کے سوال تین ہیں ۱ من ربك تیرا رب کون ہے ۲ مادینك تیرا دین کیا ہے ۳ ما کنت تقول فی ھذا الرجل تو اس مرد یعنی نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے باب میں کیا اعتقاد رکھتا تھا اب اذان کی ابتدا میں الله اکبر الله اکبر الله اکبر الله اکبر اشھد ان لاالہ الاالله اشھد ان لاالہ الاالله اور آخر میں الله اکبر الله اکبر لاالہ الاالله سوال من ربك کا جواب سکھائیں گے ان کے سننے سے یاد آئیگا کہ میرا رب الله ہے اور اشھد ان محمدا رسول الله اشھد ان محمدا رسول الله سوال ماکنت تقول فی ھذا الرجل کا جواب تعلیم کریں گے کہ میں انہیں الله کا رسول جانتا تھا اور حی علی الصلاۃ حی علی الفلاح جواب مادینك کی طرف اشارہ کریں گے کہ میرا دین وہ تھا جس میں نماز رکن وستون ہے کہ الصلاۃ عمادالدین تو بعد دفن اذان دینا عین ارشاد کی تعمیل ہے جو نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے حدیث صحیح متواتر مذکور میں فرمایا اب یہ کلام سماع موتی وتلقین اموات کی طرف مخبر ہوگا فقیر غفرالله تعالی خاص اس مسئلہ میں کتاب مبسوط مسمی بہ حیاۃ الموات فی بیان سماع الاموات تحریر کرچکا جس میں پچھتر حدیثوں اور پونے چارسو۴۷۵ اقوال ائمہ دین وعلمائے کاملین وخود بزرگان منکرین سے ثابت کیا کہ مردوں کا سننا دیکھنا سمجھنا قطعا حق ہے اور اس پر اہل سنت وجماعت کا اجماع قائم اور اس کا انکار نہ کرے گا مگر غبی جاہل یا معاند مبطل اور اسی کی چند فصول میں بحث تلقین بھی صاف کردی یہاں اس کے اعادہ کی حاجت نہیں ۔
دلیل چہارم : ابویعلی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے راوی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
اطفؤا الحریق بالتکبیر (آگ کو تکبیر سے بجھاؤ)ابن عدی حضرت عبدالله بن عباس اور وہ اور ابن السنی وابن عساکر حضرت عبدالله بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہمسے راوی حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
اذا رأیتم الحریق فکبروا فانہ یطفیئ النار ۔
جب آگ دیکھو الله اکبر الله اکبر کی بکثرت تکرار کرو وہ آگ کو بجھا دیتا ہے۔
دلیل چہارم : ابویعلی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے راوی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
اطفؤا الحریق بالتکبیر (آگ کو تکبیر سے بجھاؤ)ابن عدی حضرت عبدالله بن عباس اور وہ اور ابن السنی وابن عساکر حضرت عبدالله بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہمسے راوی حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
اذا رأیتم الحریق فکبروا فانہ یطفیئ النار ۔
جب آگ دیکھو الله اکبر الله اکبر کی بکثرت تکرار کرو وہ آگ کو بجھا دیتا ہے۔
حوالہ / References
مشکوٰۃ المصابیح الفصل الثانی من اثبات عذاب القبر مطبوعہ مجتبائی دہلی ص ۲۵
کنزالعمال فی سنن الاقوال والافعال کتاب الصلاۃ مطبوعہ مکتبۃ التراث الاسلامی بیروت ۷ / ۲۸۴
معجم اوسط ، حدیث نمبر ۸۵۶۴ مکتبۃ المعارف ریاض ۹ / ۲۵۹
الکامل فی الضعفاء الرجال ازمن اسمہ عبداللہ بن لہیعہ مطبوعہ مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل ۴ / ۱۴۶۹
کنزالعمال فی سنن الاقوال والافعال کتاب الصلاۃ مطبوعہ مکتبۃ التراث الاسلامی بیروت ۷ / ۲۸۴
معجم اوسط ، حدیث نمبر ۸۵۶۴ مکتبۃ المعارف ریاض ۹ / ۲۵۹
الکامل فی الضعفاء الرجال ازمن اسمہ عبداللہ بن لہیعہ مطبوعہ مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل ۴ / ۱۴۶۹
علامہ مناوی تیسیر شرح جامع صغیر میں فرماتے ہیں :
فکبروا ای قولو الله اکبر الله اکبر وکرروہ کثیرا ۔
“ فکبروا “ سے مراد یہ ہے کہ الله اکبر الله اکبر کثرت کے ساتھ بار بار کہو۔ (ت)
مولنا علی قاری علیہ الرحمۃ الباری اس حدیث کی شرح میں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمقبر کے پاس دیر تك الله اکبر فرماتے رہے لکھتے ہیں :
التکبیر علی ھذا لاطفاء الغضب الالھی ولھذا اورد استحباب التکبیر عندرؤیۃ الحریق ۔
اب یہ الله اکبر الله اکبر کہنا غضب الہی کے بجھانے کو ہے ولہذا آگ لگی دیکھ کر دیر تك تکبیر مستحب ٹھہری۔
وسیلۃ النجاۃ میں حیرۃ الفقہ سے منقول :
حکمت درتکبیر آنست براہل گورستان کہ رسول علیہ السلام فرمودہ است اذارأیتم الحریق فکبروا چوں آتش درجائے افتد و ازدست شمابر نیاید کہ بنشانید تکبیر بگوئید کہ آتش بہ برکت آں تکبیر فرونشیند چوں عذاب قبر بآتش ست ودست شمابآں نمیرسد تکبیر میباید گفت تامردگان ازآتش دوزخ خلاص یابند ۔
اہل قبرستان پر تکبیر کہنے میں حکمت یہ ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے “ اذارأیتم الحریق فکبروا “ یعنی جب تم کسی جگہ آگ بھڑکتی ہوئی دیکھو اور تم اسے بجھانے کی طاقت نہ رکھتے ہو توتکبیر کہو کہ اس تکبیر کی برکت سے وہ آگ ٹھنڈی پڑ جائیگی چونکہ عذاب قبر بھی آگ کے ساتھ ہوتا ہے اور اسے تم اپنے ہاتھ سے بجھانے کی طاقت نہیں رکھتے لہذا الله کا نام لو(تکبیر کہو)تاکہ فوت ہونے والے لوگ دوزخ کی آگ سے خلاصی پائیں (ت)
یہاں سے بھی ثابت کہ قبر مسلم پر تکبیر کہنا فردسنت ہے تو یہ اذان بھی قطعا سنت پر مشتمل اور زیادات مفیدہ کا مانع سنیت نہ ہونا تقریر دلیل دوم سے ظاہر۔
دلیل پنجم : ابن ماجہ وبیہقی سعید بن مسیب سے راوی :
قال حضرت ابن عمر فی جنازۃ فلما وضعھا فی اللحدقال بسم الله وفی سبیل الله فلما اخذ فی تسویۃ اللحد قال اللھم اجرھا من الشیطن ومن عذاب القبر ثم قال سمعتہ من رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ھذا مختصر ۔
یعنی میں حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہماکے
فکبروا ای قولو الله اکبر الله اکبر وکرروہ کثیرا ۔
“ فکبروا “ سے مراد یہ ہے کہ الله اکبر الله اکبر کثرت کے ساتھ بار بار کہو۔ (ت)
مولنا علی قاری علیہ الرحمۃ الباری اس حدیث کی شرح میں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمقبر کے پاس دیر تك الله اکبر فرماتے رہے لکھتے ہیں :
التکبیر علی ھذا لاطفاء الغضب الالھی ولھذا اورد استحباب التکبیر عندرؤیۃ الحریق ۔
اب یہ الله اکبر الله اکبر کہنا غضب الہی کے بجھانے کو ہے ولہذا آگ لگی دیکھ کر دیر تك تکبیر مستحب ٹھہری۔
وسیلۃ النجاۃ میں حیرۃ الفقہ سے منقول :
حکمت درتکبیر آنست براہل گورستان کہ رسول علیہ السلام فرمودہ است اذارأیتم الحریق فکبروا چوں آتش درجائے افتد و ازدست شمابر نیاید کہ بنشانید تکبیر بگوئید کہ آتش بہ برکت آں تکبیر فرونشیند چوں عذاب قبر بآتش ست ودست شمابآں نمیرسد تکبیر میباید گفت تامردگان ازآتش دوزخ خلاص یابند ۔
اہل قبرستان پر تکبیر کہنے میں حکمت یہ ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے “ اذارأیتم الحریق فکبروا “ یعنی جب تم کسی جگہ آگ بھڑکتی ہوئی دیکھو اور تم اسے بجھانے کی طاقت نہ رکھتے ہو توتکبیر کہو کہ اس تکبیر کی برکت سے وہ آگ ٹھنڈی پڑ جائیگی چونکہ عذاب قبر بھی آگ کے ساتھ ہوتا ہے اور اسے تم اپنے ہاتھ سے بجھانے کی طاقت نہیں رکھتے لہذا الله کا نام لو(تکبیر کہو)تاکہ فوت ہونے والے لوگ دوزخ کی آگ سے خلاصی پائیں (ت)
یہاں سے بھی ثابت کہ قبر مسلم پر تکبیر کہنا فردسنت ہے تو یہ اذان بھی قطعا سنت پر مشتمل اور زیادات مفیدہ کا مانع سنیت نہ ہونا تقریر دلیل دوم سے ظاہر۔
دلیل پنجم : ابن ماجہ وبیہقی سعید بن مسیب سے راوی :
قال حضرت ابن عمر فی جنازۃ فلما وضعھا فی اللحدقال بسم الله وفی سبیل الله فلما اخذ فی تسویۃ اللحد قال اللھم اجرھا من الشیطن ومن عذاب القبر ثم قال سمعتہ من رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ھذا مختصر ۔
یعنی میں حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہماکے
حوالہ / References
التیسیر شرح جامع الصغیر زیر حدیث مذکور مکتبہ امام شافعی ریاض سعودیہ ۱ / ۱۰۰
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح الفصل الثالث من باب اثبات عذاب القبر مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۲۱۱
وسیلۃ النجاۃ
سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی ادخال المیت القبر مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۱۲
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح الفصل الثالث من باب اثبات عذاب القبر مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۲۱۱
وسیلۃ النجاۃ
سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی ادخال المیت القبر مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۱۲
ساتھ ایك جنازہ میں حاضر ہوا حضرت عبدالله رضی اللہ تعالی عنہنے جب اسے لحد میں رکھا کہا بسم الله وفی سبیل الله جب لحد برابر کرنے لگے کہا الہی! اسے شیطان سے بچا اور عذاب قبر سے امان دے پھر فرمایا میں نے اسے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے سنا۔
امام ترمذی حکیم قدس سرہ الکریم الکریم بسند جید عمروبن مرہ تابعی سے روایت کرتے ہیں :
کانوا یستحبون اذا وضع المیت فی اللحد ان یقولوا اللھم اعذہ من الشیطان الرجیم ۔
یعنی صحابہ کرام یا تابعین عظام مستحب جانتے تھے کہ جب میت کو دفن کریں یوں کہیں “ الله کے نام سے اور الله کی راہ میں اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی ملت پر الہی! اسے عذاب قبر وعذاب دوزخ اور شیطان ملعون کے شر سے پناہ بخش۔
ابن ابی شیبہ استاذ امام بخاری ومسلم اپنے مصنف میں خثیمہ سے راوی :
کانوا یستحبون اذاوضعوا المیت ان یقولوا بسم الله وفی سبیل الله وعلی ملۃ رسول الله اللھم اجرہ من عذاب القبر وعذاب النار ومن شر الشیطان الرجیم ۔
مستحب جانتے تھے کہ جب میت کو دفن کریں یوں کہیں “ الله کے نام سے اور الله کی راہ میں اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی ملت پر الہی! اسے عذاب قبر وعذاب دوزخ اور شیطان ملعون کے شر سے پناہ بخش۔
ان حدیثوں سے جس طرح یہ ثابت ہوا کہ اس وقت عیاذا بالله شیطان رجیم کا دخل ہوتا ہے یونہی یہ بھی واضح ہوا کہ اس کے دفع کی تدبیر سنت ہے کہ دعا نہیں مگر ایك تدبیر اور احادیث سابقہ دلیل اول سے واضح کہ اذان رفع شیطان کی ایك عمدہ تدبیر ہے تو یہ بھی مقصود شارع کے مطابق اور اپنی نظیر شرعی سے موافق ہوئی۔
دلیل ششم : ابوداؤد وحاکم وبیہقی امیرالمومنین عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
کان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اذافرغ من دفن المیت وقف علیہ قال استغفروا لاخیکم وسلوا لہ بالتثبت فانہ الان یسأل ۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجب دفن میت سے فارغ ہوتے قبر پر وقوف فرماتے اور ارشاد
امام ترمذی حکیم قدس سرہ الکریم الکریم بسند جید عمروبن مرہ تابعی سے روایت کرتے ہیں :
کانوا یستحبون اذا وضع المیت فی اللحد ان یقولوا اللھم اعذہ من الشیطان الرجیم ۔
یعنی صحابہ کرام یا تابعین عظام مستحب جانتے تھے کہ جب میت کو دفن کریں یوں کہیں “ الله کے نام سے اور الله کی راہ میں اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی ملت پر الہی! اسے عذاب قبر وعذاب دوزخ اور شیطان ملعون کے شر سے پناہ بخش۔
ابن ابی شیبہ استاذ امام بخاری ومسلم اپنے مصنف میں خثیمہ سے راوی :
کانوا یستحبون اذاوضعوا المیت ان یقولوا بسم الله وفی سبیل الله وعلی ملۃ رسول الله اللھم اجرہ من عذاب القبر وعذاب النار ومن شر الشیطان الرجیم ۔
مستحب جانتے تھے کہ جب میت کو دفن کریں یوں کہیں “ الله کے نام سے اور الله کی راہ میں اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی ملت پر الہی! اسے عذاب قبر وعذاب دوزخ اور شیطان ملعون کے شر سے پناہ بخش۔
ان حدیثوں سے جس طرح یہ ثابت ہوا کہ اس وقت عیاذا بالله شیطان رجیم کا دخل ہوتا ہے یونہی یہ بھی واضح ہوا کہ اس کے دفع کی تدبیر سنت ہے کہ دعا نہیں مگر ایك تدبیر اور احادیث سابقہ دلیل اول سے واضح کہ اذان رفع شیطان کی ایك عمدہ تدبیر ہے تو یہ بھی مقصود شارع کے مطابق اور اپنی نظیر شرعی سے موافق ہوئی۔
دلیل ششم : ابوداؤد وحاکم وبیہقی امیرالمومنین عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
کان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اذافرغ من دفن المیت وقف علیہ قال استغفروا لاخیکم وسلوا لہ بالتثبت فانہ الان یسأل ۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجب دفن میت سے فارغ ہوتے قبر پر وقوف فرماتے اور ارشاد
حوالہ / References
نوادر الاصول فی معرفۃ احادیث الرسول الفصل التاسع والاربعون مطبوعہ دارصادر بیروت ص ۳۲۳
المصنف ابن ابی شیبہ ماقالوا اذاوضع المیت فی قبرہ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۳ / ۳۲۹
سنن ابوداؤد باب استغفار عند القبر للمیت مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۱۰۳
المصنف ابن ابی شیبہ ماقالوا اذاوضع المیت فی قبرہ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۳ / ۳۲۹
سنن ابوداؤد باب استغفار عند القبر للمیت مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۱۰۳
کرتے اپنے بھائی کے لئے استغفار کرو اور اس کے لئے جواب نکیرین میں ثابت قدم رہنے کی دعا مانگو کہ اب اس سے سوال ہوگا۔
سعید بن منصور اپنے سنن میں حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
قال کان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یقف علی القبر بعدماسوی علیہ فیقول اللھم نزل بك صاحبنا وخلف الدنیا خلف ظھرہ اللھم ثبت عندالمسألۃ منطقۃ ولاتبتلہ فی قبرہ بمالاطاقۃ لہ بہ ۔
یعنی جب مردہ دفن ہوکر قبر درست ہوجاتی حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمقبر پر کھڑے ہوکر دعا کرتے الہی! ہمارا ساتھی تیرا مہمان ہوا اور دنیا اپنے پس پشت چھوڑ آیا الہی! سوال کے وقت اس کی زبان درست رکھ اور قبر میں اس پر وہ بلانہ ڈال جس کی اسے طاقت نہ ہو۔
ان حدیثوں اور احادیث دلیل پنجم وغیرہ سے ثابت کہ دفن کے بعد دعا سنت ہے امام محمد بن علی حکیم ترمذی قدس سرہ الشریف دعا بعد دفن کی حکمت میں فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ بجماعت مسلمین ایك لشکر تھا کہ آستانہ شاہی پر میت کی شفاعت وعذر خواہی کیلئے حاضر ہوا اور اب قبر پر کھڑے ہوکر دعا یہ اس لشکر کی مدد ہے کہ یہ وقت میت کی مشغول کا ہے کہ اسے اس نئی جگہ کا ہول اور نکیرین کا سوال پیش آنے والا ہے نقلہ المولی جلال الملۃ والدین السیوطی رحمۃ اللہ تعالی علیہفی شرح الصدور (امام جلال الدین سیوطی نے اسے شرح الصدور میں نقل کیا ہے۔ ت) اور میں گمان نہیں کرتا کہ یہاں استحباب دعا کا عالم میں کوئی عالم منکر ہو۔ امام آجری فرماتے ہیں :
یستحب الوقوف بعد الدفن قلیلا والدعاء للمیت ۔
مستحب ہے کہ دفن کے بعد کچھ دیر کھڑے رہیں اور میت کے لئے دعا کریں ۔
اسی طرح اذکار امام نووی وجوہرہ نیرہ ودرمختار وفتاوی عالمگیری وغیرہا اسفار میں ہے طرفہ یہ کہ امام ثانی منکرین یعنی مولوی اسحاق صاحب دہلوی نے مائۃ مسائل میں اسی سوال کے جواب میں کہ بعد دفن قبر پر اذان کیسی ہے فتح القدیر و
سعید بن منصور اپنے سنن میں حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
قال کان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یقف علی القبر بعدماسوی علیہ فیقول اللھم نزل بك صاحبنا وخلف الدنیا خلف ظھرہ اللھم ثبت عندالمسألۃ منطقۃ ولاتبتلہ فی قبرہ بمالاطاقۃ لہ بہ ۔
یعنی جب مردہ دفن ہوکر قبر درست ہوجاتی حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمقبر پر کھڑے ہوکر دعا کرتے الہی! ہمارا ساتھی تیرا مہمان ہوا اور دنیا اپنے پس پشت چھوڑ آیا الہی! سوال کے وقت اس کی زبان درست رکھ اور قبر میں اس پر وہ بلانہ ڈال جس کی اسے طاقت نہ ہو۔
ان حدیثوں اور احادیث دلیل پنجم وغیرہ سے ثابت کہ دفن کے بعد دعا سنت ہے امام محمد بن علی حکیم ترمذی قدس سرہ الشریف دعا بعد دفن کی حکمت میں فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ بجماعت مسلمین ایك لشکر تھا کہ آستانہ شاہی پر میت کی شفاعت وعذر خواہی کیلئے حاضر ہوا اور اب قبر پر کھڑے ہوکر دعا یہ اس لشکر کی مدد ہے کہ یہ وقت میت کی مشغول کا ہے کہ اسے اس نئی جگہ کا ہول اور نکیرین کا سوال پیش آنے والا ہے نقلہ المولی جلال الملۃ والدین السیوطی رحمۃ اللہ تعالی علیہفی شرح الصدور (امام جلال الدین سیوطی نے اسے شرح الصدور میں نقل کیا ہے۔ ت) اور میں گمان نہیں کرتا کہ یہاں استحباب دعا کا عالم میں کوئی عالم منکر ہو۔ امام آجری فرماتے ہیں :
یستحب الوقوف بعد الدفن قلیلا والدعاء للمیت ۔
مستحب ہے کہ دفن کے بعد کچھ دیر کھڑے رہیں اور میت کے لئے دعا کریں ۔
اسی طرح اذکار امام نووی وجوہرہ نیرہ ودرمختار وفتاوی عالمگیری وغیرہا اسفار میں ہے طرفہ یہ کہ امام ثانی منکرین یعنی مولوی اسحاق صاحب دہلوی نے مائۃ مسائل میں اسی سوال کے جواب میں کہ بعد دفن قبر پر اذان کیسی ہے فتح القدیر و
حوالہ / References
الدر المنثور زیر آیت ویثبت اللّٰہ الذین اٰمنوا الخ مطبوعہ منشورات مکتبہ آیۃ اللہ ، قم ایران ۴ / ۸۳
نوادر الاصول فی معرفۃ احادیث الرسول الفصل التاسع والاربعون والمائتان مطبوعہ دارصادر بیروت ص ۳۲۳
نوادر الاصول فی معرفۃ احادیث الرسول الفصل التاسع والاربعون والمائتان مطبوعہ دارصادر بیروت ص ۳۲۳
نوادر الاصول فی معرفۃ احادیث الرسول الفصل التاسع والاربعون والمائتان مطبوعہ دارصادر بیروت ص ۳۲۳
نوادر الاصول فی معرفۃ احادیث الرسول الفصل التاسع والاربعون والمائتان مطبوعہ دارصادر بیروت ص ۳۲۳
بحرالرائق ونہرالفائق وفتاوی عالمگیریہ سے نقل کیا کہ قبر کے پاس کھڑے ہوکر دعا سنت سے ثابت ہے اور براہ بزرگی اتنا نہ جانا کہ اذان خود دعا بلکہ بہترین دعا سے ہے کہ وہ ذکر الہی ہے اور ہر ذکر الہی دعا تو وہ بھی اسی سنت ثابتہ کی ایك فرد ہوئی پھر سنیت مطلق سے کراہت فرد پر استدلال عجب تماشا ہے مولانا علی قاری علیہ رحمۃ الباری مرقاۃ شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں : کل دعا ذکر وکل ذکر دعا (ہر دعا ذکر ہے اور ہر ذکر دعا ہے)رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں : افضل الدعاء الحمدلله (سب دعاؤں سے افضل دعا الحمدلله ہے)
اخرجہ الترمذی وحسنہ والنسائی وابن حبان والحاکم وصححہ عن جابر بن عبدالله رضی الله تعالی عنہما۔
اسے ترمذی نے روایت کرکے حسن قرار دیا نسائی ابن حبان اور حاکم نے حضرت جابر بن عبدالله تعالی عنہما سے روایت کرکے صحیح قرار دیا ہے (ت)
صحیحین میں ہے ایك سفر میں لوگوں نے بآواز بلند الله اکبر الله اکبر کہنا شروع کیا نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : اے لوگو! اپنی جانوں پر نرمی کرو انکم لاتدعون اصم ولاغائبا انکم تدعون سمیعا بصیرا (تم کسی بہرے یا غائب سے دعا نہیں کرتے سمیع بصیر سے دعا کرتے ہو)دیکھو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے الله تعالی کی تعریف اور خاص کلمہ الله اکبر کو دعا فرمایا تو اذان کے بھی ایك دعا اور فرد مسنون ہونے میں کیا شك رہا۔
دلیل ہفتم : یہ تو واضح ہولیا کہ بعد دفن میت کے لئے دعا سنت ہے اور علماء فرماتے ہیں آداب دعا سے ہے کہ اس سے پہلے کوئی عمل صالح کرے امام شمس الدین محمد بن الجزری کی حصن حصین شریف میں ہے :
اداب الدعاء منھا تقدیم عمل صالح وذکرہ عند الشدۃ م ت د۔
آداب دعا میں سے ہے کہ اس سے پہلے عمل صالح ہو اور ذکر الہی مشکل وقت میں ضرور کرنا چاہئے مسلم ترمذی ابوداؤد۔ (ت)
اخرجہ الترمذی وحسنہ والنسائی وابن حبان والحاکم وصححہ عن جابر بن عبدالله رضی الله تعالی عنہما۔
اسے ترمذی نے روایت کرکے حسن قرار دیا نسائی ابن حبان اور حاکم نے حضرت جابر بن عبدالله تعالی عنہما سے روایت کرکے صحیح قرار دیا ہے (ت)
صحیحین میں ہے ایك سفر میں لوگوں نے بآواز بلند الله اکبر الله اکبر کہنا شروع کیا نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : اے لوگو! اپنی جانوں پر نرمی کرو انکم لاتدعون اصم ولاغائبا انکم تدعون سمیعا بصیرا (تم کسی بہرے یا غائب سے دعا نہیں کرتے سمیع بصیر سے دعا کرتے ہو)دیکھو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے الله تعالی کی تعریف اور خاص کلمہ الله اکبر کو دعا فرمایا تو اذان کے بھی ایك دعا اور فرد مسنون ہونے میں کیا شك رہا۔
دلیل ہفتم : یہ تو واضح ہولیا کہ بعد دفن میت کے لئے دعا سنت ہے اور علماء فرماتے ہیں آداب دعا سے ہے کہ اس سے پہلے کوئی عمل صالح کرے امام شمس الدین محمد بن الجزری کی حصن حصین شریف میں ہے :
اداب الدعاء منھا تقدیم عمل صالح وذکرہ عند الشدۃ م ت د۔
آداب دعا میں سے ہے کہ اس سے پہلے عمل صالح ہو اور ذکر الہی مشکل وقت میں ضرور کرنا چاہئے مسلم ترمذی ابوداؤد۔ (ت)
حوالہ / References
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح الفصل الثانی من باب التسبیح الخ مطبو عہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۵ / ۱۱۲
جامع الترمذی باب ماجاء ان دعوۃ المسلم مستجابۃ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۱۷۴
الصحیح لمسلم باب خفض الصوت بالذکر قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۳۴۶
حصن حصین آداب الدعاء نولکشور لکھنؤ ص ۱۴
جامع الترمذی باب ماجاء ان دعوۃ المسلم مستجابۃ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۱۷۴
الصحیح لمسلم باب خفض الصوت بالذکر قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۳۴۶
حصن حصین آداب الدعاء نولکشور لکھنؤ ص ۱۴
علامہ علی قاری حرز ثمین میں فرماتے ہیں : یہ ادب حدیث ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہسے کہ ابوداؤد وترمذی ونسائی وابن ماجہ وابن حبان نے روایت کی ثابت ہے اور شك نہیں کہ اذان بھی عمل صالح ہے تو دعا پر اس کی تقدیم مطابق مقصود وسنت ہوئی۔
دلیل ہشتم : رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
ثنتان لاترد الدعاء عند النداء وعند البأس ۔ اخرجہ ابوداؤد وابن حبان والحاکم بسند صحیح عن سھل بن سعد الساعدی رضی الله تعالی عنہ۔
دو۲دعائیں رد نہیں ہوتیں ایك اذان کے وقت اور ایك جہاد میں جب کفار سے لڑائی شروع ہو۔ اسے ابوداؤد ابن حبان اور حاکم نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالی عنہسے سند صحیح کے ساتھ روایت کیا ہے۔ (ت)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم:
اذا نادی المنادی فتحت ابواب السماء واستجیب الدعا ۔ اخرجہ ابویعلی والحاکم عن ابی امامۃ الباھلی وابوداؤد الطیالسی وابویعلی والضیاء فی المختارۃ بسند حسن عن انس بن مالك رضی الله تعالی عنھما۔
جب اذان دینے والا اذان دیتا ہے آسمان کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور دعا قبول ہوتی ہے۔ یہ روایت ابویعلی اور حاکم نے حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی اور ابوداؤد طیالسی اور ابویعلی اور ضیاء الدین نے المختارہ میں حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہماسے سند صحیح کے ساتھ بیان کی ہے (ت)
ان حدیثوں سے ثابت ہوا کہ اذان اسباب اجابت دعا سے ہے اور یہاں دعا شارع جل وعلا کو مقصود تو اس کے اسباب اجابت کی تحصیل قطعا محمود۔
دلیل نہم : حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
یغفر الله للمؤذن منتھی اذانہ ویستغفرلہ کل رطب ویابس سمع صوتہ ۔ اخرجہ الامام احمد بسند صحیح واللفظ لہ والبزار والطبرانی فی الکبیر عن عبدالله بن عمر رضی الله تعالی عنھما ونحوہ عند احمد وابی داؤد والنسائی وابن ماجۃ وابن خزیمۃ وابن حبان من حدیث ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ وصدرہ عند احمد والنسائی بسند حسن جید عن البراء بن عازب والطبرانی فی الکبیر عن ابی امامۃ ولہ فی الاوسط عن انس بن مالك رضی الله تعالی عنھم۔
اذان کی آواز جہاں تك جاتی ہے مؤذن کیلئے
دلیل ہشتم : رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
ثنتان لاترد الدعاء عند النداء وعند البأس ۔ اخرجہ ابوداؤد وابن حبان والحاکم بسند صحیح عن سھل بن سعد الساعدی رضی الله تعالی عنہ۔
دو۲دعائیں رد نہیں ہوتیں ایك اذان کے وقت اور ایك جہاد میں جب کفار سے لڑائی شروع ہو۔ اسے ابوداؤد ابن حبان اور حاکم نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالی عنہسے سند صحیح کے ساتھ روایت کیا ہے۔ (ت)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم:
اذا نادی المنادی فتحت ابواب السماء واستجیب الدعا ۔ اخرجہ ابویعلی والحاکم عن ابی امامۃ الباھلی وابوداؤد الطیالسی وابویعلی والضیاء فی المختارۃ بسند حسن عن انس بن مالك رضی الله تعالی عنھما۔
جب اذان دینے والا اذان دیتا ہے آسمان کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور دعا قبول ہوتی ہے۔ یہ روایت ابویعلی اور حاکم نے حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی اور ابوداؤد طیالسی اور ابویعلی اور ضیاء الدین نے المختارہ میں حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہماسے سند صحیح کے ساتھ بیان کی ہے (ت)
ان حدیثوں سے ثابت ہوا کہ اذان اسباب اجابت دعا سے ہے اور یہاں دعا شارع جل وعلا کو مقصود تو اس کے اسباب اجابت کی تحصیل قطعا محمود۔
دلیل نہم : حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
یغفر الله للمؤذن منتھی اذانہ ویستغفرلہ کل رطب ویابس سمع صوتہ ۔ اخرجہ الامام احمد بسند صحیح واللفظ لہ والبزار والطبرانی فی الکبیر عن عبدالله بن عمر رضی الله تعالی عنھما ونحوہ عند احمد وابی داؤد والنسائی وابن ماجۃ وابن خزیمۃ وابن حبان من حدیث ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ وصدرہ عند احمد والنسائی بسند حسن جید عن البراء بن عازب والطبرانی فی الکبیر عن ابی امامۃ ولہ فی الاوسط عن انس بن مالك رضی الله تعالی عنھم۔
اذان کی آواز جہاں تك جاتی ہے مؤذن کیلئے
حوالہ / References
المستدرك علی الصحیحین لایرد الدعاء عندالاذان وعندالبأس مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۱۹۸
المستدرك علی الصحیحین اجابۃ الاذان والدعاء بعدہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۵۴۶
مسند امام احمد بن حنبل عن مسند عبداللہ بن عمر مطبوعہ دارالفکر بیروت ۲ / ۱۳۶
المستدرك علی الصحیحین اجابۃ الاذان والدعاء بعدہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۵۴۶
مسند امام احمد بن حنبل عن مسند عبداللہ بن عمر مطبوعہ دارالفکر بیروت ۲ / ۱۳۶
اتنی ہی وسیع مغفرت آتی ہے اور جس تر وخشك چیز کو اس کی آواز پہنچتی ہے اذان دینے والے کے لئے استغفار کرتی ہے۔ اسے امام احمد نے سند صحیح کے ساتھ تخریج کیا اور یہ الفاظ امام احمد کے ہیں اور بزار طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہماسے روایت کیا اور اس کی مثل احمد ابوداؤد نسائی ابن ماجہ ابن خزیمہ اور ابن حبان نے حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا اس کا ابتدائی حصہ احمد اور نسائی نے سند حسن اور جید کے ساتھ حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہسے اور طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالی عنہاور اوسط میں حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے(ت)
یہ پانچ حدیثیں ارشاد فرماتی ہیں کہ اذان باعث مغفرت ہے اور بیشك مغفور کی دعا زیادہ قابل قبول واقرب باجابت ہے اور خود حدیث میں وارد کہ مغفوروں سے دعا منگوانی چاہئے امام احمد مسند میں حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہماسے راوی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
اذا لقیت الحاج فسلم علیہ وصافحہ ومرہ ان یستغفرلك قبل ان یدخل بیتہ فانہ مغفورلہ ۔
جب تو حاجی سے ملے اسے سلام کر اور مصافحہ کر اور قبل اس کے کہ وہ اپنے گھر میں داخل ہو اس سے اپنے لئے استغفار کراکہ وہ مغفور ہے۔
پس اگر اہل اسلام بعد دفن میت اپنے میں کسی بندہ صالح سے اذان کہلوائیں تاکہ بحکم احادیث صحیحہ ان شاء الله تعالی اس کے گناہوں کی مغفرت ہو پھر میت کے لئے دعا کرے کہ مغفور کی دعا میں زیادہ رجائے اجابت ہوتو کیا گناہ ہوا بلکہ عین مقاصد شرع سے مطابق ہوا۔
یہ پانچ حدیثیں ارشاد فرماتی ہیں کہ اذان باعث مغفرت ہے اور بیشك مغفور کی دعا زیادہ قابل قبول واقرب باجابت ہے اور خود حدیث میں وارد کہ مغفوروں سے دعا منگوانی چاہئے امام احمد مسند میں حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہماسے راوی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
اذا لقیت الحاج فسلم علیہ وصافحہ ومرہ ان یستغفرلك قبل ان یدخل بیتہ فانہ مغفورلہ ۔
جب تو حاجی سے ملے اسے سلام کر اور مصافحہ کر اور قبل اس کے کہ وہ اپنے گھر میں داخل ہو اس سے اپنے لئے استغفار کراکہ وہ مغفور ہے۔
پس اگر اہل اسلام بعد دفن میت اپنے میں کسی بندہ صالح سے اذان کہلوائیں تاکہ بحکم احادیث صحیحہ ان شاء الله تعالی اس کے گناہوں کی مغفرت ہو پھر میت کے لئے دعا کرے کہ مغفور کی دعا میں زیادہ رجائے اجابت ہوتو کیا گناہ ہوا بلکہ عین مقاصد شرع سے مطابق ہوا۔
حوالہ / References
مسند امام احمد بن حنبل مرویات عن مسند عبداللہ بن عمر مطبوعہ دارالفکر بیروت ۲ / ۱۲۸
دلیل دہم : اذان ذکر الہی اور ذکر الہی دافع عذاب رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
مامن شیئ انجی من عذاب الله من ذکر الله رواہ الامام احمد عن معاذبن جبل وابن ابی الدنیا والبیھقی عن ابن عمر رضی الله تعالی عنہم۔ کوئی چیز ذکر خدا سے زیادہ عذاب خدا سے نجات بخشنے والی نہیں ۔ اسے امام احمد نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہسے اور ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہماسے روایت کیا (ت)
اور خود اذان کی نسبت وارد جہاں کہی جاتی ہے وہ جگہ اس دن عذاب سے مامون ہوجاتی ہے طبرانی معاجیم ثلثہ میں انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہسے راوی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
اذا اذن فی قریۃ امنھا الله من عذابہ فی ذلك الیوم وشاھدہ عندہ فی الکبیر من حدیث معقل بن یسار رضی الله تعالی عنہ۔
جب کسی بستی میں اذان دی جائے تو الله تعالی اس دن اسے اپنے عذاب سے امن دے دیتا ہے اور اس کی شاہد وہ روایت ہے جو معجم کبیر میں حضرت معقل بن یسار رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہے۔ (ت)
اور بیشك اپنے بھائی مسلمان کے لئے ایسا عمل کرنا جو عذاب سے منجی ہو شارع جل وعلا کو محبوب ومرغوب مولنا علی قاری رحمہ الباری شرح عین العلم میں قبر کے پاس قرآن پڑھنے اور تسبیح ودعائے رحمت ومغفرت کرنے کی وصیت فرماکر لکھتے ہیں : فان الاذکار کلھا نافعۃ لہ فی تلك الدار (کہ ذکر جس قدر ہیں سب میت کو قبر میں نفع بخشتے ہیں ۔ ت)امام بدرالدین محمود عینی شرح صحیح بخاری میں زیر باب موعظۃ المحدث عندالقبر فرماتے ہیں :
واما مصلحۃ المیت فمثل مااذا اجتمعوا عندہ لقراء ۃ القران والذکر فان المیت ینتفع بہ ۔
میت کے لئے اس میں مصلحت ہے کہ مسلمان اس کی
مامن شیئ انجی من عذاب الله من ذکر الله رواہ الامام احمد عن معاذبن جبل وابن ابی الدنیا والبیھقی عن ابن عمر رضی الله تعالی عنہم۔ کوئی چیز ذکر خدا سے زیادہ عذاب خدا سے نجات بخشنے والی نہیں ۔ اسے امام احمد نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہسے اور ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہماسے روایت کیا (ت)
اور خود اذان کی نسبت وارد جہاں کہی جاتی ہے وہ جگہ اس دن عذاب سے مامون ہوجاتی ہے طبرانی معاجیم ثلثہ میں انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہسے راوی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
اذا اذن فی قریۃ امنھا الله من عذابہ فی ذلك الیوم وشاھدہ عندہ فی الکبیر من حدیث معقل بن یسار رضی الله تعالی عنہ۔
جب کسی بستی میں اذان دی جائے تو الله تعالی اس دن اسے اپنے عذاب سے امن دے دیتا ہے اور اس کی شاہد وہ روایت ہے جو معجم کبیر میں حضرت معقل بن یسار رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہے۔ (ت)
اور بیشك اپنے بھائی مسلمان کے لئے ایسا عمل کرنا جو عذاب سے منجی ہو شارع جل وعلا کو محبوب ومرغوب مولنا علی قاری رحمہ الباری شرح عین العلم میں قبر کے پاس قرآن پڑھنے اور تسبیح ودعائے رحمت ومغفرت کرنے کی وصیت فرماکر لکھتے ہیں : فان الاذکار کلھا نافعۃ لہ فی تلك الدار (کہ ذکر جس قدر ہیں سب میت کو قبر میں نفع بخشتے ہیں ۔ ت)امام بدرالدین محمود عینی شرح صحیح بخاری میں زیر باب موعظۃ المحدث عندالقبر فرماتے ہیں :
واما مصلحۃ المیت فمثل مااذا اجتمعوا عندہ لقراء ۃ القران والذکر فان المیت ینتفع بہ ۔
میت کے لئے اس میں مصلحت ہے کہ مسلمان اس کی
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل مرویات معاذ ابنِ جبل مطبوعہ دارالفکر بیروت ۵ / ۲۳۹
نوٹ : ابن ابی الدنیا اور بیہقی کے الفاظ عبداللہ ابن عمر سے یوں ہی مروی ہیں جبکہ احمد بن حنبل کے الفاظ معاذ بن جبل سے یوں مروی ہیں : ماعمل آدمی عملاقط انجی لہ من عذاب اللّٰہ من ذکراللّٰہ الخ
المعجم الکبیر مرویات انس بن مالك حدیث ۷۴۶ مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۱ / ۲۵۷
شرح عین العلم لملا علی قاری مع عین العلم الباب الثامن فی الصحبۃ والمؤلفۃ مطبوعہ امرت پریس لاہور ص ۳۳۲ ، شرح عین العلم لملا علی قاری مع عین العلم الباب الثامن فی الصحبۃ والمؤلفۃ مطبوعہ مطبع اسلامیہ لاہور ص ۱۶۶
عمدۃ القاری شرح البخاری باب موعظۃ المحدث عندالقبر الخ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۸ / ۱۸۶
نوٹ : ابن ابی الدنیا اور بیہقی کے الفاظ عبداللہ ابن عمر سے یوں ہی مروی ہیں جبکہ احمد بن حنبل کے الفاظ معاذ بن جبل سے یوں مروی ہیں : ماعمل آدمی عملاقط انجی لہ من عذاب اللّٰہ من ذکراللّٰہ الخ
المعجم الکبیر مرویات انس بن مالك حدیث ۷۴۶ مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۱ / ۲۵۷
شرح عین العلم لملا علی قاری مع عین العلم الباب الثامن فی الصحبۃ والمؤلفۃ مطبوعہ امرت پریس لاہور ص ۳۳۲ ، شرح عین العلم لملا علی قاری مع عین العلم الباب الثامن فی الصحبۃ والمؤلفۃ مطبوعہ مطبع اسلامیہ لاہور ص ۱۶۶
عمدۃ القاری شرح البخاری باب موعظۃ المحدث عندالقبر الخ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۸ / ۱۸۶
قبر کے پاس جمع ہوکر قرآن پڑھیں ذکر کریں کہ میت کو اس سے نفع ہوتا ہے (ت)
یارب مگر اذان ذکر محبوب نہیں یا مسلمان بھائی کو نفع ملنا شرعا مرغوب نہیں ۔
دلیل یازدہم : اذان ذکر مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمہے اور ذکر مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمباعث نزول رحمت۔
اولا حضور کا ذکر عین ذکر خدا ہے امام ابن عطا پھر امام قاضی عیاض وغیرہما ائمہ کرام تفسیر قولہ تعالی و رفعنا لك ذكرك(۴) میں فرماتے ہیں :
جعلتك ذکرا من ذکری فمن ذکرك فقدذکرنی ۔
میں نے تمہیں اپنی یاد میں سے ایك یاد کیا جو تمہارا ذکر کرے وہ میرا ذکر کرتا ہے۔
اور ذکر الہی بلاشبہہ رحمت اترنے کا باعث سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمصحیح حدیث میں ذکر کرنے والوں کی نسبت فرماتے ہیں :
حفتھم الملئکۃ وغشیتھم الرحمۃ ونزلت علیھم السکینۃ ۔ رواہ مسلم والترمذی عن ابی ھریرۃ و ابی سعید رضی الله تعالی عنھما۔
انہیں ملائکہ گھیر لیتے ہیں اور رحمت الہی ڈھانپ لیتی ہے اور ان پر سکینہ اور چین اترتا ہے۔ اسے مسلم اور ترمذی نے حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہماسے روایت کیا ہے۔ (ت)
ثانیا ہر محبوب خدا کا ذکر محل نزول رحمت ہے امام سفین بن عینیہ رحمۃ اللہ تعالی علیہفرماتے ہیں : عند ذکر الصالحین تنزل الرحمۃ (نیکوں کے ذکر کے وقت رحمت الہی اترتی ہے)
ابوجعفر بن حمدان نے ابوعمر وبن نجید سے اسے بیان کرکے فرمایا : فرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم رأس الصلحین (تو رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمتو سب صالحین کے سردار ہیں )
یارب مگر اذان ذکر محبوب نہیں یا مسلمان بھائی کو نفع ملنا شرعا مرغوب نہیں ۔
دلیل یازدہم : اذان ذکر مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمہے اور ذکر مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمباعث نزول رحمت۔
اولا حضور کا ذکر عین ذکر خدا ہے امام ابن عطا پھر امام قاضی عیاض وغیرہما ائمہ کرام تفسیر قولہ تعالی و رفعنا لك ذكرك(۴) میں فرماتے ہیں :
جعلتك ذکرا من ذکری فمن ذکرك فقدذکرنی ۔
میں نے تمہیں اپنی یاد میں سے ایك یاد کیا جو تمہارا ذکر کرے وہ میرا ذکر کرتا ہے۔
اور ذکر الہی بلاشبہہ رحمت اترنے کا باعث سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمصحیح حدیث میں ذکر کرنے والوں کی نسبت فرماتے ہیں :
حفتھم الملئکۃ وغشیتھم الرحمۃ ونزلت علیھم السکینۃ ۔ رواہ مسلم والترمذی عن ابی ھریرۃ و ابی سعید رضی الله تعالی عنھما۔
انہیں ملائکہ گھیر لیتے ہیں اور رحمت الہی ڈھانپ لیتی ہے اور ان پر سکینہ اور چین اترتا ہے۔ اسے مسلم اور ترمذی نے حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہماسے روایت کیا ہے۔ (ت)
ثانیا ہر محبوب خدا کا ذکر محل نزول رحمت ہے امام سفین بن عینیہ رحمۃ اللہ تعالی علیہفرماتے ہیں : عند ذکر الصالحین تنزل الرحمۃ (نیکوں کے ذکر کے وقت رحمت الہی اترتی ہے)
ابوجعفر بن حمدان نے ابوعمر وبن نجید سے اسے بیان کرکے فرمایا : فرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم رأس الصلحین (تو رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمتو سب صالحین کے سردار ہیں )
حوالہ / References
القرآن ۹۴ / ۴
نسیم الریاض شرح الشفاء زیر آیت مذکور مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۱۲۵
صحیح لمسلم باب فضل الاجتماع علٰی تلاوت القرآن الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۳۴۵
اتحاف السادۃ المتقین الفائدۃ الثانیۃ التخلص بالعزلۃ علی المعاصی الخ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۶ / ۳۵۰
اتحاف السادۃ المتقین الفائدۃ الثانیۃ التخلص بالعزلۃ علی المعاصی الخ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۶ / ۳۵۱
نسیم الریاض شرح الشفاء زیر آیت مذکور مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۱۲۵
صحیح لمسلم باب فضل الاجتماع علٰی تلاوت القرآن الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۳۴۵
اتحاف السادۃ المتقین الفائدۃ الثانیۃ التخلص بالعزلۃ علی المعاصی الخ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۶ / ۳۵۰
اتحاف السادۃ المتقین الفائدۃ الثانیۃ التخلص بالعزلۃ علی المعاصی الخ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۶ / ۳۵۱
پس بلاشبہہ جہاں اذان ہوگی رحمت الہی اترے گی اور بھائی مسلمان کے لئے وہ فعل جو باعث نزول رحمت ہو شرع کو پسند ہے کہ نہ ممنوع۔
دلیل دوازدہم : خود ظاہر اور حدیثوں سے بھی ثابت کہ مردے کو اس نئے مکان تنگ وتاریك میں سخت وحشت اور گھبراہٹ ہوتی ہے الا ما رحم ربی-ان ربی غفور رحیم(۵۳) (مگر جس پر میرا رب رحم فرمائے یقینا میرا رب بخشش فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ ت)اور اذان دافع وحشت وباعث اطمینان خاطر ہے کہ وہ ذکر خدا ہے اور الله عزوجل فرماتا ہے : الا بذكر الله تطمىن القلوب(۲۸) (سن لو خدا کے ذکر سے چین پاتے ہیں دل)ابونعیم وابن عساکر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے راوی حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
نزل ادم بالھند فاستوحش فنزل جبرئیل علیہ الصلاۃ والسلام فنادی بالاذان الحدیث۔
جب آدمعليه الصلوۃ والسلام جنت سے ہندوستان میں اترے انہیں گھبراہٹ ہوئی تو جبرئیلعليه الصلوۃ والسلام نے اتر کر اذان دی۔ (الحدیث)
پھر ہم اس غریب کی تسکین خاطر ودفع تو حش کو اذان دیں تو کیا برا کریں حاشا بلکہ مسلمان خصوصا ایسے بے کس کی اعانت حضرت حق عزوجل کو نہایت پسند حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
الله فی عون العبد ماکان العبد فی عون اخیہ ۔ رواہ مسلم وابوداؤد والترمذی وابن ماجۃ والحاکم عن ابن ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ۔
الله تعالی بندے کی مدد میں ہے جب تك بندہ اپنے بھائی مسلمانوں کی مدد میں ہے۔ اسے مسلم ابوداؤد ترمذی ابن ماجہ اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے۔ (ت)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم:
من کان فی حاجۃ اخیہ کان الله فی حاجتہ و من فرج عن مسلم کربۃ فرج الله عنہ بھاکربۃ من کرب یوم القیمۃ ۔ رواہ الشیخان وابوداؤد عن ابن عمر رضی الله تعالی عنھما۔
جو اپنے بھائی مسلمان کے کام میں ہو الله تعالی اس کی
دلیل دوازدہم : خود ظاہر اور حدیثوں سے بھی ثابت کہ مردے کو اس نئے مکان تنگ وتاریك میں سخت وحشت اور گھبراہٹ ہوتی ہے الا ما رحم ربی-ان ربی غفور رحیم(۵۳) (مگر جس پر میرا رب رحم فرمائے یقینا میرا رب بخشش فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ ت)اور اذان دافع وحشت وباعث اطمینان خاطر ہے کہ وہ ذکر خدا ہے اور الله عزوجل فرماتا ہے : الا بذكر الله تطمىن القلوب(۲۸) (سن لو خدا کے ذکر سے چین پاتے ہیں دل)ابونعیم وابن عساکر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے راوی حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
نزل ادم بالھند فاستوحش فنزل جبرئیل علیہ الصلاۃ والسلام فنادی بالاذان الحدیث۔
جب آدمعليه الصلوۃ والسلام جنت سے ہندوستان میں اترے انہیں گھبراہٹ ہوئی تو جبرئیلعليه الصلوۃ والسلام نے اتر کر اذان دی۔ (الحدیث)
پھر ہم اس غریب کی تسکین خاطر ودفع تو حش کو اذان دیں تو کیا برا کریں حاشا بلکہ مسلمان خصوصا ایسے بے کس کی اعانت حضرت حق عزوجل کو نہایت پسند حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
الله فی عون العبد ماکان العبد فی عون اخیہ ۔ رواہ مسلم وابوداؤد والترمذی وابن ماجۃ والحاکم عن ابن ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ۔
الله تعالی بندے کی مدد میں ہے جب تك بندہ اپنے بھائی مسلمانوں کی مدد میں ہے۔ اسے مسلم ابوداؤد ترمذی ابن ماجہ اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے۔ (ت)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم:
من کان فی حاجۃ اخیہ کان الله فی حاجتہ و من فرج عن مسلم کربۃ فرج الله عنہ بھاکربۃ من کرب یوم القیمۃ ۔ رواہ الشیخان وابوداؤد عن ابن عمر رضی الله تعالی عنھما۔
جو اپنے بھائی مسلمان کے کام میں ہو الله تعالی اس کی
حوالہ / References
القرآن ۱۲ / ۵۳
القرآن ۱۳ / ۲۸
حلیۃ الاولیاء مرویات عمروبن قیس الملائی نمبر ۲۹۹ مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ۲ / ۱۰۷
صحیح لمسلم باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۳۴۵
صحیح البخاری باب لایظلم المسلم المسلم الخ ، من ابواب المظالم ، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۳۰
القرآن ۱۳ / ۲۸
حلیۃ الاولیاء مرویات عمروبن قیس الملائی نمبر ۲۹۹ مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ۲ / ۱۰۷
صحیح لمسلم باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۳۴۵
صحیح البخاری باب لایظلم المسلم المسلم الخ ، من ابواب المظالم ، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۳۰
حاجت روائی فرماتا ہے اور جو کسی مسلمان کی تکلیف دور کرے الله تعالی اس کے عوض قیامت کی مصیبتوں سے ایك مصیبت اس پر سے دور فرمائیگا۔ اسے بخاری ومسلم اور ابوداؤد نے حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہماسے روایت کیا ہے۔
دلیل سیزدہم : مسند الفردوس میں حضرت جناب امیرالمومنین مولی المسلمین سیدنا علی مرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریمالکریم سے مروی :
قال رانی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم حزینا فقال یاابن ابی طالب انی اراك حزینا فمربعض اھلك یؤذن فی اذنك فانہ درء الھم ۔
یعنی مجھے حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے غمگین دیکھا ارشاد فرمایا : اے علی! میں تجھے غمگین پاتا ہوں اپنے کسی گھر والے سے کہہ کہ تیرے کان میں اذان کہے اذان غم وپریشانی کی دافع ہے۔
مولی علی اور مولی علی تك جس قدر اس حدیث کے راوی ہیں سب نے فرمایا : فجربتہ فوجدتہ کذلك (ہم نے اسے تجربہ کیا تو ایسا ہی پایا) ذکرہ ابن حجر کمافی المرقاۃ (اس کا تذکرہ حافظ ابن حجر نے کیا جیسا کہ مرقات میں ہے۔ ت) اور خود معلوم اور حدیثوں سے بھی ثابت کہ میت اس وقت کیسے حزن وغم کی حالت میں ہوتا ہے مگر وہ خاص عبادالله اکابر اولیاء الله جو مرگ کو دیکھ کر مرحبا بحبیب جاء علی فاقۃ (خوش آمدید اس محبوب کو جو بہت دیر سے آیا۔ ت) فرماتے ہیں تو اس کے دفع غم والم کے لئے اگر اذان سنائی جائے کیا معذور شرعی لازم آئے حاشالله بلکہ مسلمان کا دل خوش کرنے کے برابر الله عزوجل کو فرائض کے بعد کوئی عمل محبوب نہیں ۔ طبرانی معجم کبیر ومعجم اوسط میں حضرت عبدالله بن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے راوی حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
ان احب الاعمال الی الله تعالی بعد الفرائض ادخال السرور علی المسلم ۔
بیشك الله تعالی کے نزدیك فرضوں کے بعد سب اعمال سے زیادہ محبوب مسلمان کو خوش کرنا ہے۔
دلیل سیزدہم : مسند الفردوس میں حضرت جناب امیرالمومنین مولی المسلمین سیدنا علی مرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریمالکریم سے مروی :
قال رانی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم حزینا فقال یاابن ابی طالب انی اراك حزینا فمربعض اھلك یؤذن فی اذنك فانہ درء الھم ۔
یعنی مجھے حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے غمگین دیکھا ارشاد فرمایا : اے علی! میں تجھے غمگین پاتا ہوں اپنے کسی گھر والے سے کہہ کہ تیرے کان میں اذان کہے اذان غم وپریشانی کی دافع ہے۔
مولی علی اور مولی علی تك جس قدر اس حدیث کے راوی ہیں سب نے فرمایا : فجربتہ فوجدتہ کذلك (ہم نے اسے تجربہ کیا تو ایسا ہی پایا) ذکرہ ابن حجر کمافی المرقاۃ (اس کا تذکرہ حافظ ابن حجر نے کیا جیسا کہ مرقات میں ہے۔ ت) اور خود معلوم اور حدیثوں سے بھی ثابت کہ میت اس وقت کیسے حزن وغم کی حالت میں ہوتا ہے مگر وہ خاص عبادالله اکابر اولیاء الله جو مرگ کو دیکھ کر مرحبا بحبیب جاء علی فاقۃ (خوش آمدید اس محبوب کو جو بہت دیر سے آیا۔ ت) فرماتے ہیں تو اس کے دفع غم والم کے لئے اگر اذان سنائی جائے کیا معذور شرعی لازم آئے حاشالله بلکہ مسلمان کا دل خوش کرنے کے برابر الله عزوجل کو فرائض کے بعد کوئی عمل محبوب نہیں ۔ طبرانی معجم کبیر ومعجم اوسط میں حضرت عبدالله بن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے راوی حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
ان احب الاعمال الی الله تعالی بعد الفرائض ادخال السرور علی المسلم ۔
بیشك الله تعالی کے نزدیك فرضوں کے بعد سب اعمال سے زیادہ محبوب مسلمان کو خوش کرنا ہے۔
حوالہ / References
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰہ المصابیح باب الاذان مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۲ / ۱۴۹
المعجم الکبیر مرویات عبداللہ ابن عباس حدیث ۱۱۰۹ مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۱۱ / ۷۱
المعجم الکبیر مرویات عبداللہ ابن عباس حدیث ۱۱۰۹ مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۱۱ / ۷۱
انہی دونوں میں حضرت امام ابن الامام سیدنا حسن مجتبی رضی اللہ تعالی عنہماسے مروی حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
ان موجبات المغفرۃ ادخالك السرور علی اخیك المسلم ۔
بیشك موجبات مغفرت سے ہے تیرا اپنے بھائی مسلمان کو خوش کرنا۔
دلیل چہاردہم : قال الله تعالی :
یایها الذین امنوا اذكروا الله ذكرا كثیرا(۴۱) ۔
اے ایمان والوں ! الله کا ذکر کرو بکثرت ذکر کرنا۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
اکثروا ذکرالله حتی یقولوا مجنون ۔ اخرجہ احمد وابویعلی وابن حبان والحاکم والبیھقی عن ابی سعید الخدری رضی الله تعالی عنہ صححہ الحاکم وحسنہ الحافظ ابن حجر۔
الله کا ذکر اس درجہ ذکر بکثرت کرو کہ لوگ مجنون بتائیں ۔ اسے احمد ابویعلی ابن حبان حاکم اور بیہقی نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے حاکم نے اسے صحیح اور حافظ ابن حجر نے حسن قرار دیا ہے۔ (ت)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم:
اذکرالله عندکل حجر وشجر ۔ اخرجہ الامام احمد فی کتاب الزھد والطبرانی فی الکبیر عن معاذبن جبل رضی الله تعالی عنہ بسند حسن۔
ہر سنگ وشجر کے پاس الله کا ذکر کر۔ اسے امام احمد نے کتاب الزہد اور طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہسے سند حسن کے ساتھ روایت کیا۔ (ت)
عبدالله بن عباس رضی اللہ تعالی عنہمافرماتے ہیں :
لم یفرض الله علی عبادہ فریضۃ الاجعل لھا حدا معلوما ثم عذر اھلھا فی حال العذر غیر الذکر فانہ لم یجعل لہ حدا انتھی الیہ ولم یعذر احدا فی ترکہ الامغلوبا علی عقلہ وامرھم بہ فی الاحوال کلھا ۔
الله تعالی نے اپنے بندوں پر کوئی فرض مقرر نہ فرمایا مگر یہ کہ اس کے لئے ایك حد معین کردی پھر عذر کی
ان موجبات المغفرۃ ادخالك السرور علی اخیك المسلم ۔
بیشك موجبات مغفرت سے ہے تیرا اپنے بھائی مسلمان کو خوش کرنا۔
دلیل چہاردہم : قال الله تعالی :
یایها الذین امنوا اذكروا الله ذكرا كثیرا(۴۱) ۔
اے ایمان والوں ! الله کا ذکر کرو بکثرت ذکر کرنا۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
اکثروا ذکرالله حتی یقولوا مجنون ۔ اخرجہ احمد وابویعلی وابن حبان والحاکم والبیھقی عن ابی سعید الخدری رضی الله تعالی عنہ صححہ الحاکم وحسنہ الحافظ ابن حجر۔
الله کا ذکر اس درجہ ذکر بکثرت کرو کہ لوگ مجنون بتائیں ۔ اسے احمد ابویعلی ابن حبان حاکم اور بیہقی نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے حاکم نے اسے صحیح اور حافظ ابن حجر نے حسن قرار دیا ہے۔ (ت)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم:
اذکرالله عندکل حجر وشجر ۔ اخرجہ الامام احمد فی کتاب الزھد والطبرانی فی الکبیر عن معاذبن جبل رضی الله تعالی عنہ بسند حسن۔
ہر سنگ وشجر کے پاس الله کا ذکر کر۔ اسے امام احمد نے کتاب الزہد اور طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہسے سند حسن کے ساتھ روایت کیا۔ (ت)
عبدالله بن عباس رضی اللہ تعالی عنہمافرماتے ہیں :
لم یفرض الله علی عبادہ فریضۃ الاجعل لھا حدا معلوما ثم عذر اھلھا فی حال العذر غیر الذکر فانہ لم یجعل لہ حدا انتھی الیہ ولم یعذر احدا فی ترکہ الامغلوبا علی عقلہ وامرھم بہ فی الاحوال کلھا ۔
الله تعالی نے اپنے بندوں پر کوئی فرض مقرر نہ فرمایا مگر یہ کہ اس کے لئے ایك حد معین کردی پھر عذر کی
حوالہ / References
المعجم الکبیر مرویات حسن بن علی حدیث ۲۷۳۱ و ۲۷۳۸ مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۳ / ۸۳ ، ۸۵
القرآن ۳۳ / ۴۱
مسند احمد بن حنبل من مسند ابی سعید الخدری مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ / ۶۸ ، ۷۱
المعجم الکبیر مرویات معاذ بن جبل حدیث ۳۳۱ مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۲۰ / ۱۵۹
تفسیر البغوی المعروف بہ معالم التنزیل مع تفسیر خازن ، زیر آیت مذکورہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵ / ۲۶۵
القرآن ۳۳ / ۴۱
مسند احمد بن حنبل من مسند ابی سعید الخدری مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ / ۶۸ ، ۷۱
المعجم الکبیر مرویات معاذ بن جبل حدیث ۳۳۱ مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۲۰ / ۱۵۹
تفسیر البغوی المعروف بہ معالم التنزیل مع تفسیر خازن ، زیر آیت مذکورہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵ / ۲۶۵
حالت میں لوگوں کو اس سے معذور رکھا سوا ذکر کے کہ الله تعالی نے اس کے لئے کوئی حد نہ رکھی جس پر انتہا ہو اور نہ کسی کو اس کے ترك میں معذور رکھا مگر وہ جس کی عقل سلامت نہ رہے اور بندوں کو تمام احوال میں ذکر کا حکم دیا۔
ان کے شاگرد امام مجاہد فرماتے ہیں : الذکر الکثیران لایتناھی ابدا (ذکر کثیریہ ہے کہ کبھی ختم نہ ہو)
ذکرھما فی المعالم وغیرھا (معالم وغیرہ میں ان دونوں کا ذکر ہے۔ ت) تو ذکر الہی ہمیشہ ہر جگہ محبوب ومرغوب ومطلوب ومندوب ہے جس سے ہرگز ممانعت نہیں ہوسکتی جب تك کسی خصوصیت خاصہ میں کوئی نہی شرعی نہ آئی ہو اور اذان بھی قطعا ذکر خدا ہے پھر خدا جانے کہ ذکر خدا سے ممانعت کی وجہ کیا ہے ہمیں حکم ہے کہ ہر سنگ درخت کے پاس ذکر الہی کریں قبر مومن کے پتھر کیا اس کے حکم سے خارج ہیں خصوصا بعد دفن ذکر خدا کرنا تو خود حدیثوں سے ثابت اور بتصریح ائمہ دین مستحب ولہذا امام اجل ابوسلیمان خطابی دربارہ تلقین فرماتے ہیں :
لانجدلہ حدیثا مشھورا ولابأس بہ اذ لیس فیہ الا ذکرالله تعالی قولہ وکل ذلك حسن ۔
ہم اس میں کوئی مشہور حدیث نہیں پاتے اور اس میں کچھ مضائقہ نہیں کہ اس میں نہیں ہے مگر خدا کا ذکر اور یہ سب کچھ محمود ہے۔
دلیل پانزدہم : امام اجل ابوزکریا نووی شارح صحیح مسلم کتاب الاذکار میں فرماتے ہیں :
یستحب ان یقعد عندالقبر بعد الفراغ ساعۃ قدر ماینحر جزور ویقسم لحمھا ویشتغل القاعدون بتلاوۃ القران والدعاء للمیت والوعظ وحکایات اھل الخیر واحوال الصالحین ۔
مستحب ہے کہ دفن سے فارغ ہوکر ایك ساعت قبر کے پاس بیٹھیں اتنی دیر کہ ایك اونٹ ذبح کیا جائے اور اس کا گوشت تقسیم ہو اور بیٹھنے والے قرآن مجید کی تلاوت اور میت کے لئے دعا اور وعظ ونصیحت اور نیك بندوں کے ذکر وحکایت میں مشغول رہیں ۔
ان کے شاگرد امام مجاہد فرماتے ہیں : الذکر الکثیران لایتناھی ابدا (ذکر کثیریہ ہے کہ کبھی ختم نہ ہو)
ذکرھما فی المعالم وغیرھا (معالم وغیرہ میں ان دونوں کا ذکر ہے۔ ت) تو ذکر الہی ہمیشہ ہر جگہ محبوب ومرغوب ومطلوب ومندوب ہے جس سے ہرگز ممانعت نہیں ہوسکتی جب تك کسی خصوصیت خاصہ میں کوئی نہی شرعی نہ آئی ہو اور اذان بھی قطعا ذکر خدا ہے پھر خدا جانے کہ ذکر خدا سے ممانعت کی وجہ کیا ہے ہمیں حکم ہے کہ ہر سنگ درخت کے پاس ذکر الہی کریں قبر مومن کے پتھر کیا اس کے حکم سے خارج ہیں خصوصا بعد دفن ذکر خدا کرنا تو خود حدیثوں سے ثابت اور بتصریح ائمہ دین مستحب ولہذا امام اجل ابوسلیمان خطابی دربارہ تلقین فرماتے ہیں :
لانجدلہ حدیثا مشھورا ولابأس بہ اذ لیس فیہ الا ذکرالله تعالی قولہ وکل ذلك حسن ۔
ہم اس میں کوئی مشہور حدیث نہیں پاتے اور اس میں کچھ مضائقہ نہیں کہ اس میں نہیں ہے مگر خدا کا ذکر اور یہ سب کچھ محمود ہے۔
دلیل پانزدہم : امام اجل ابوزکریا نووی شارح صحیح مسلم کتاب الاذکار میں فرماتے ہیں :
یستحب ان یقعد عندالقبر بعد الفراغ ساعۃ قدر ماینحر جزور ویقسم لحمھا ویشتغل القاعدون بتلاوۃ القران والدعاء للمیت والوعظ وحکایات اھل الخیر واحوال الصالحین ۔
مستحب ہے کہ دفن سے فارغ ہوکر ایك ساعت قبر کے پاس بیٹھیں اتنی دیر کہ ایك اونٹ ذبح کیا جائے اور اس کا گوشت تقسیم ہو اور بیٹھنے والے قرآن مجید کی تلاوت اور میت کے لئے دعا اور وعظ ونصیحت اور نیك بندوں کے ذکر وحکایت میں مشغول رہیں ۔
حوالہ / References
تفسیر البغوی المعروف بہ معالم التنزیل مع تفسیر خازن ، زیر آیت مذکورہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر۵ / ۲۶۶
نوٹ : تفسیر معالم التنزیل سے حوالہ دیاگیا ہے الفاظ مختلف ہیں لیکن مفہوم یہی ہے جو اعلٰیحضرت نے بیان کیا ہے۔ نذیر احمد۔
امام اجل سلیمان خطابی
الاذکار المنتخبہ من کلام سیدالابرار باب مایقول بعدالدفن مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ص ۱۴۷
نوٹ : تفسیر معالم التنزیل سے حوالہ دیاگیا ہے الفاظ مختلف ہیں لیکن مفہوم یہی ہے جو اعلٰیحضرت نے بیان کیا ہے۔ نذیر احمد۔
امام اجل سلیمان خطابی
الاذکار المنتخبہ من کلام سیدالابرار باب مایقول بعدالدفن مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ص ۱۴۷
شیخ محقق مولنا عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ لمعات شرح مشکوۃ میں زیرحدیث امیرالمومنین عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہکہ فقیر نے دلیل ششم میں ذکر کی فرماتے ہیں :
قدسمعت عن بعض العلماء انہ یستحب ذکر مسئلۃ من المسائل الفقھیۃ ۔
یعنی بتحقیق میں نے بعض علما سے سنا کہ دفن کے بعد قبر کے پاس کسی مسئلہ فقہ کا ذکر مستحب ہے۔
اشعۃ اللمعات شرح فارسی مشکوۃ میں اس کی وجہ فرماتے ہیں کہ باعث نزول رحمت ست (نزول رحمت کا سبب ہے۔ ت) اور فرماتے ہیں : مناسب حال ذکر مسئلہ فرائض ست (ذکر مسئلہ فرائض مناسب حال ہے۔ ت) اور فرماتے ہیں : اگر ختم قرآن کنند اولی وافضل باشد (اگر قرآن پاك ختم کریں تو یہ اولی وبہتر ہے۔ ت)جب علمائے کرام نے حکایات اہل خیر وتذکرہ صالحین وختم قرآن وبیان مسئلہ فقہیہ وذکر فرائض کو مستحب ٹھہرایا حالانکہ ان میں بالخصوص کوئی حدیث وارد نہیں بلکہ وجہ صرف وہی کہ میت کو نزول رحمت کی حاجت اور ان امور میں امید نزول رحمت تو اذان کہ بشہادت احادیث موجب نزول رحمت ودفع عذاب ہے کیونکر جائز بلکہ مستحب عـــہ نہ ہوگی۔
بحمدالله یہ پندرہ۱۵ دلیلیں ہیں کہ چند ساعت میں فیض قدیر سے قلب فقیر پر فائض ہوئیں ناظر منصف جانے گا کہ ان میں اکثر تو محض استخراج فقیر ہیں اور باقی کے بعض مقدمات اگرچہ بعض اجلہ اہل سنت وجماعترحمہم اللہ تعالیکے کلام میں مذکور مگر فقیر غفرالله تعالی لہ نے تکمیل ترتیب وتسجیل تقریب سے ہر مقدمہ منفردہ کو دلیل کامل اور ہر مذکور ضمنی کو مقصود مستقل کردیا والحمدلله رب العالمین (سب تعریف الله تعالی کے لئے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ ت) بااینہمہ ع
لاشك ان الفضل للمتقدم
(بیشك بزرگی پہلے کرنے والے کے لئے ہے۔ ت)
عـــہ بالجملہ بحمدالله تعالی ان دلائل جلائل نے کالشمس فی وسط السماء واضح کردیا کہ اس اذان کا جواز بلکہ استحباب یقینی بلکہ بنظر عمومات شرع بوجوہ کثیرہ فرد سنت ہے شاید وہ بعض علماء جنہوں نے اس کے سنت ہونے کی تصریح فرمائی جن کا قول امام ابن حجر مکی وعلامہ خیر رملی رحمۃ اللہ تعالی علیہم نے نقل کیا یہی معنی مراد لیتے ہیں کہ فرد سنت ہے نہ کہ فردا سنت ولہذا مناسب ہے کہ کبھی کبھی ترك بھی کریں اگر اوہام عوام معنی ثانی کی طرف جاتے سمجھیں والله تعالی اعلم ۱۲ منہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ(م)
قدسمعت عن بعض العلماء انہ یستحب ذکر مسئلۃ من المسائل الفقھیۃ ۔
یعنی بتحقیق میں نے بعض علما سے سنا کہ دفن کے بعد قبر کے پاس کسی مسئلہ فقہ کا ذکر مستحب ہے۔
اشعۃ اللمعات شرح فارسی مشکوۃ میں اس کی وجہ فرماتے ہیں کہ باعث نزول رحمت ست (نزول رحمت کا سبب ہے۔ ت) اور فرماتے ہیں : مناسب حال ذکر مسئلہ فرائض ست (ذکر مسئلہ فرائض مناسب حال ہے۔ ت) اور فرماتے ہیں : اگر ختم قرآن کنند اولی وافضل باشد (اگر قرآن پاك ختم کریں تو یہ اولی وبہتر ہے۔ ت)جب علمائے کرام نے حکایات اہل خیر وتذکرہ صالحین وختم قرآن وبیان مسئلہ فقہیہ وذکر فرائض کو مستحب ٹھہرایا حالانکہ ان میں بالخصوص کوئی حدیث وارد نہیں بلکہ وجہ صرف وہی کہ میت کو نزول رحمت کی حاجت اور ان امور میں امید نزول رحمت تو اذان کہ بشہادت احادیث موجب نزول رحمت ودفع عذاب ہے کیونکر جائز بلکہ مستحب عـــہ نہ ہوگی۔
بحمدالله یہ پندرہ۱۵ دلیلیں ہیں کہ چند ساعت میں فیض قدیر سے قلب فقیر پر فائض ہوئیں ناظر منصف جانے گا کہ ان میں اکثر تو محض استخراج فقیر ہیں اور باقی کے بعض مقدمات اگرچہ بعض اجلہ اہل سنت وجماعترحمہم اللہ تعالیکے کلام میں مذکور مگر فقیر غفرالله تعالی لہ نے تکمیل ترتیب وتسجیل تقریب سے ہر مقدمہ منفردہ کو دلیل کامل اور ہر مذکور ضمنی کو مقصود مستقل کردیا والحمدلله رب العالمین (سب تعریف الله تعالی کے لئے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ ت) بااینہمہ ع
لاشك ان الفضل للمتقدم
(بیشك بزرگی پہلے کرنے والے کے لئے ہے۔ ت)
عـــہ بالجملہ بحمدالله تعالی ان دلائل جلائل نے کالشمس فی وسط السماء واضح کردیا کہ اس اذان کا جواز بلکہ استحباب یقینی بلکہ بنظر عمومات شرع بوجوہ کثیرہ فرد سنت ہے شاید وہ بعض علماء جنہوں نے اس کے سنت ہونے کی تصریح فرمائی جن کا قول امام ابن حجر مکی وعلامہ خیر رملی رحمۃ اللہ تعالی علیہم نے نقل کیا یہی معنی مراد لیتے ہیں کہ فرد سنت ہے نہ کہ فردا سنت ولہذا مناسب ہے کہ کبھی کبھی ترك بھی کریں اگر اوہام عوام معنی ثانی کی طرف جاتے سمجھیں والله تعالی اعلم ۱۲ منہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ(م)
حوالہ / References
لمعات التنقیح شرح مشکوٰۃ المصابیح الفصل الثانی من باب اثباب عذاب القبرمطبوعہ مکتبۃ المعارف العلمیہ لاہور ۱ / ۲۰۰
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ الفصل الثانی من باب اثباب عذاب القبر مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۰۱
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ الفصل الثانی من باب اثباب عذاب القبر مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۰۱
ہم پر ان اکابر کا شکر واجب جنہوں نے اپنی تلاش وکوشش سے بہت کچھ متفرق کو یکجا کیا اور اس دشوار کام کو ہم پر آسان کردیا جزاھم الله عنا وعن الاسلام والسنۃ خیر جزاء وشکر مساعیھم الجمیلۃ فی حمایۃ الملۃ الغراء ونکایۃ الفتنۃ العوراء وھنأھم بفضل رسول نفی علی حمید رضی یوم القضاء وصلی الله تعالی علیہ سیدنا ومولنا محمد والہ وصحبہ الاطائب الکرماء امین۔
تنبیہات جلیلہ تنبیہ اول: ہمارے کلام پر مطلع ہونے والا عظمت رحمت الہی پر نظر کرے کہ اذان میں ان شاء الله الرحمن اس میت اور ان احیا کے لئے کتنے منافع ہیں سات۷ فائدہ میت کیلئے :
(۱) بحولہ تعالی شیطان رجیم کے شر سے پناہ۔
(۲) بدولت تکبیر عذاب نار سے امان۔
(۳) جواب سوالات کا یاد آجانا۔
(۴) ذکر اذان کے باعث عذاب قبر سے نجات پانا۔
(۵) بہ برکت ذکر مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنزول رحمت۔
(۶) بدولت اذان دفع وحشت۔
(۷) زوال غم وسرور وفرحت۔
اور پندرہ احیا کے لئے سات۷ تو یہی سات۷ منافع اپنے بھائی مسلمان کو پہنچانا کہ ہر نفع رسانی جدا حسنہ ہے اور ہر حسنہ کم سے کم دس۱۰ نیکیاں پھر نفع رسانی مسلم کی منفعتیں خدا ہی جانتا ہے۔
(۸) میت کے لئے تدبیر دفع شیطان سے اتباع سنت۔
(۹) تدبیر آسانی جواب سے اتباع سنت۔
(۱۰) دعاء عندالقبر سے اتباع سنت۔
(۱۱) بقصد نفع میت قبر کے پاس تکبیریں کہہ کر اتباع سنت۔
(۱۲) مطلق ذکر کے فوائد ملنا جن سے قرآن وحدیث مالامال۔
(۱۳) ذکر مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے سبب رحمتیں پانا۔
(۱۴) مطلق دعا کے فضائل ہاتھ آنا جسے حدیث میں مغز عبادت فرمایا۔
(۱۵) مطلق اذان کے برکات ملنا جنہیں منتہائے آواز تك مغفرت اور ہر تر وخشك کی استغفار وشہادت
تنبیہات جلیلہ تنبیہ اول: ہمارے کلام پر مطلع ہونے والا عظمت رحمت الہی پر نظر کرے کہ اذان میں ان شاء الله الرحمن اس میت اور ان احیا کے لئے کتنے منافع ہیں سات۷ فائدہ میت کیلئے :
(۱) بحولہ تعالی شیطان رجیم کے شر سے پناہ۔
(۲) بدولت تکبیر عذاب نار سے امان۔
(۳) جواب سوالات کا یاد آجانا۔
(۴) ذکر اذان کے باعث عذاب قبر سے نجات پانا۔
(۵) بہ برکت ذکر مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنزول رحمت۔
(۶) بدولت اذان دفع وحشت۔
(۷) زوال غم وسرور وفرحت۔
اور پندرہ احیا کے لئے سات۷ تو یہی سات۷ منافع اپنے بھائی مسلمان کو پہنچانا کہ ہر نفع رسانی جدا حسنہ ہے اور ہر حسنہ کم سے کم دس۱۰ نیکیاں پھر نفع رسانی مسلم کی منفعتیں خدا ہی جانتا ہے۔
(۸) میت کے لئے تدبیر دفع شیطان سے اتباع سنت۔
(۹) تدبیر آسانی جواب سے اتباع سنت۔
(۱۰) دعاء عندالقبر سے اتباع سنت۔
(۱۱) بقصد نفع میت قبر کے پاس تکبیریں کہہ کر اتباع سنت۔
(۱۲) مطلق ذکر کے فوائد ملنا جن سے قرآن وحدیث مالامال۔
(۱۳) ذکر مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے سبب رحمتیں پانا۔
(۱۴) مطلق دعا کے فضائل ہاتھ آنا جسے حدیث میں مغز عبادت فرمایا۔
(۱۵) مطلق اذان کے برکات ملنا جنہیں منتہائے آواز تك مغفرت اور ہر تر وخشك کی استغفار وشہادت
اور دلوں کو صبر وسکون وراحت ہے اور لطف یہ کہ اذان میں اصل کلمے سات۷ ہی ہیں الله اکبر اشھد ان لاالہ الاالله اشھد ان محمدا رسول الله حی علی الصلاۃ حی علی الفلاح الله اکبر لاالہ الاالله اور مکررات کو گنیے تو پندرہ۱۵ ہوتے ہیں میت کے لئے وہ سات۷ فائدے اور احیا کے لئے پندرہ۱۵ انہیں سات۷ اور پندرہ۱۵ کے برکات ہیں والحمدلله رب العلمین تعجب کرتا ہوں کہ حضرات مانعین نے میت واحیا کو ان فوائد جلیلہ سے محروم رکھنے میں کیا نفع سمجھا ہے ہمیں تو مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے یہ ارشاد فرمایا ہے :
من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلینفعہ ۔ رواہ احمد ومسلم عن جابر بن عبدالله رضی الله تعالی عنھما۔
تم میں سے جس سے ہوسکے کہ اپنے بھائی مسلمان کو کوئی نفع پہنچائے تو لازم ومناسب ہے کہ پہنچائے۔ اسے احمد اور مسلم نے حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ تعالی عنہماسے روایت کیا۔
پھر خدا جانے اس اجازت کلی کے بعد جب تك خاص جزئیہ کی شرع میں نہی نہ ہو ممانعت کہاں سے کی جاتی ہے والله الموفق۔
تنبیہ دوم: حدیث میں ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں : نیۃ المومن خیر من عملہ (مسلمان کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے)
رواہ البیھقی عن انس والطبرانی فی الکبیر عن سھل بن سعد رضی الله تعالی عنہما۔
اسے بیہقی نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ (ت)
اور بیشك جو علم نیت جانتا ہے ایك ایك فعل کو اپنے لئے کئی کئی نیکیاں کرسکتا ہے مثلا جب نماز کے لئے مسجد کو چلا اور صرف یہی قصد ہے کہ نماز پڑھوں گا تو بیشك اس کا یہ چلنا محمود ہر قدم پر ایك نیکی لکھیں گے اور دوسرے پر گناہ محو کریں گے مگر عالم نیت اس ایك ہی فعل میں اتنی نیتیں کرسکتا ہے۔
(۱) اصل مقصود یعنی نماز کو جاتا ہوں ۔
(۲) خانہ خدا کی زیارت کروں گا۔
من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلینفعہ ۔ رواہ احمد ومسلم عن جابر بن عبدالله رضی الله تعالی عنھما۔
تم میں سے جس سے ہوسکے کہ اپنے بھائی مسلمان کو کوئی نفع پہنچائے تو لازم ومناسب ہے کہ پہنچائے۔ اسے احمد اور مسلم نے حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ تعالی عنہماسے روایت کیا۔
پھر خدا جانے اس اجازت کلی کے بعد جب تك خاص جزئیہ کی شرع میں نہی نہ ہو ممانعت کہاں سے کی جاتی ہے والله الموفق۔
تنبیہ دوم: حدیث میں ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں : نیۃ المومن خیر من عملہ (مسلمان کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے)
رواہ البیھقی عن انس والطبرانی فی الکبیر عن سھل بن سعد رضی الله تعالی عنہما۔
اسے بیہقی نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ (ت)
اور بیشك جو علم نیت جانتا ہے ایك ایك فعل کو اپنے لئے کئی کئی نیکیاں کرسکتا ہے مثلا جب نماز کے لئے مسجد کو چلا اور صرف یہی قصد ہے کہ نماز پڑھوں گا تو بیشك اس کا یہ چلنا محمود ہر قدم پر ایك نیکی لکھیں گے اور دوسرے پر گناہ محو کریں گے مگر عالم نیت اس ایك ہی فعل میں اتنی نیتیں کرسکتا ہے۔
(۱) اصل مقصود یعنی نماز کو جاتا ہوں ۔
(۲) خانہ خدا کی زیارت کروں گا۔
حوالہ / References
الصحیح لمسلم باب استحباب الرقیۃ من العین الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۲۲۴
المعجم الکبیر مرویات سہل الساعدی ، حدیث ۵۹۴۲ مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۶ / ۱۸۵
المعجم الکبیر مرویات سہل الساعدی ، حدیث ۵۹۴۲ مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۶ / ۱۸۵
(۳) شعار اسلام ظاہر کرتا ہوں
(۴) داعی الله کی اجابت کرتا ہوں ۔
(۵) تحیۃ المسجد پڑھنے جاتا ہوں ۔
(۶) مسجد سے خس وخاشاك وغیرہ دور کروں گا۔
(۷) اعتکاف کرنے جاتا ہوں کہ مذہب مفتی بہ پر اعتکاف کے لئے روزہ شرط نہیں اور ایك ساعت کا بھی ہوسکتا ہے جب سے داخل ہو باہر آنے تك اعتکاف کی نیت کرلے انتظار نماز وادائے نماز کے ساتھ اعتکاف کا بھی ثواب پائے گا۔
(۸) امر الہی خذوا زینتكم عند كل مسجد (اپنی زینت لو جب مسجد میں جاؤ۔ ت) امتثال کو جاتا ہوں ۔
(۹) جو وہاں علم والا ملے گا اس سے مسائل پوچھوں گا دین کی باتیں سیکھوں گا۔
(۱۰) جاہلوں کو مسئلہ بتاؤں گا دین سکھاؤں گا۔
(۱۱) جو علم میں میرے برابر ہوگا اس سے علم کی تکرار کروں گا۔
(۱۲) علماء کی زیارت۔
(۱۳) نیك مسلمانوں کا دیدار۔
(۱۴) دوستوں سے ملاقات۔
(۱۵) مسلمانوں سے میل۔
(۱۶) جو رشتہ دار ملیں گے ان سے بکشادہ پیشانی مل کر صلہ رحم۔
(۱۷) اہل اسلام کو سلام۔
(۱۸) مسلمانوں سے مصافحہ کروں گا۔
(۱۹) ان کے سلام کا جواب دوں گا۔
(۲۰) نماز جماعت میں مسلمانوں کی برکتیں حاصل کروں گا۔
(۲۱ و ۲۲) مسجد میں جاتے نکلتے حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر سلام عرض کروں گا بسم الله الحمدلله والسلام علی رسول الله ۔
(۲۳ و ۲۴) دخول وخروج میں حضور وآل حضور وازواج حضور پر درود بھیجوں گا اللھم صل علی سیدنا
(۴) داعی الله کی اجابت کرتا ہوں ۔
(۵) تحیۃ المسجد پڑھنے جاتا ہوں ۔
(۶) مسجد سے خس وخاشاك وغیرہ دور کروں گا۔
(۷) اعتکاف کرنے جاتا ہوں کہ مذہب مفتی بہ پر اعتکاف کے لئے روزہ شرط نہیں اور ایك ساعت کا بھی ہوسکتا ہے جب سے داخل ہو باہر آنے تك اعتکاف کی نیت کرلے انتظار نماز وادائے نماز کے ساتھ اعتکاف کا بھی ثواب پائے گا۔
(۸) امر الہی خذوا زینتكم عند كل مسجد (اپنی زینت لو جب مسجد میں جاؤ۔ ت) امتثال کو جاتا ہوں ۔
(۹) جو وہاں علم والا ملے گا اس سے مسائل پوچھوں گا دین کی باتیں سیکھوں گا۔
(۱۰) جاہلوں کو مسئلہ بتاؤں گا دین سکھاؤں گا۔
(۱۱) جو علم میں میرے برابر ہوگا اس سے علم کی تکرار کروں گا۔
(۱۲) علماء کی زیارت۔
(۱۳) نیك مسلمانوں کا دیدار۔
(۱۴) دوستوں سے ملاقات۔
(۱۵) مسلمانوں سے میل۔
(۱۶) جو رشتہ دار ملیں گے ان سے بکشادہ پیشانی مل کر صلہ رحم۔
(۱۷) اہل اسلام کو سلام۔
(۱۸) مسلمانوں سے مصافحہ کروں گا۔
(۱۹) ان کے سلام کا جواب دوں گا۔
(۲۰) نماز جماعت میں مسلمانوں کی برکتیں حاصل کروں گا۔
(۲۱ و ۲۲) مسجد میں جاتے نکلتے حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر سلام عرض کروں گا بسم الله الحمدلله والسلام علی رسول الله ۔
(۲۳ و ۲۴) دخول وخروج میں حضور وآل حضور وازواج حضور پر درود بھیجوں گا اللھم صل علی سیدنا
حوالہ / References
القرآن ۷ / ۳۱
محمد وعلی ال سیدنا محمد وعلی ازواج سیدنا محمد۔
(۲۵) بیمار کی مزاج پرسی کروں گا۔
(۲۶) اگر کوئی غمی والا ملا تعزیت کروں گا۔
(۲۷) جس مسلمانوں کو چھینك آئی اور اس نے الحمدلله کہا اسے یرحمك الله کہوں گا۔
(۲۸ و ۲۹) امر بالمعروف ونہی عن المنکر کروں گا۔
(۳۰) نمازیوں کے و ضو کو پانی دوں گا۔
(۳۱ و ۳۲) خود مؤذن ہے یا مسجد میں کوئی مؤذن مقرر نہیں تو نیت کرے کہ اذان واقامت کہوں گا اب اگر یہ کہنے نہ پایا دوسرے نے کہہ دی تاہم اپنی نیت پر اذان واقامت کا ثواب پاچکا فقد و قع اجره على الله- (الله تعالی اسے اجر عطا فرمائے گا۔ ت)
(۳۳) جو راہ بھولا ہوگا راستہ بتاؤں گا۔
(۳۴) اندھے کی دستگیری کروں گا۔
(۳۵) جنازہ ملا تو نماز پڑھوں گا۔
(۳۶) موقع پایا تو ساتھ دفن تك جاؤں گا۔
(۳۷) دو مسلمانوں میں نزاع ہوئی تو حتی الوسع صلح کراؤں گا۔
(۳۸ و ۳۹) مسجد میں جاتے وقت دہنے اور نکلتے وقت بائیں پاؤں کی تقدیم سے اتباع سنت کروں گا۔
(۴۰عـــہ) راہ میں جو لکھا ہوا کاغذ پاؤں گا اٹھا کر ادب سے رکھ دوں گا الی غیرذلك من نیات کثیرۃ تو دیکھئے کہ جوان ارادوں کے ساتھ گھر سے مسجد کو چلا وہ صرف حسنہ نماز کے لئے نہیں جاتا بلکہ ان چالیس۴۰ حسنات کے لئے جاتا ہے تو گویا اس کا یہ چلنا چالیس طرف چلنا ہے اور ہر قدم چالیس قدم پہلے اگر ہر قدم ایك نیکی تھا اب چالیس۴۰ نیکیاں ہوگا۔ اسی طرح قبر پر اذان دینے والے کو چاہئے کہ ان پندرہ نیتوں کا تفصیلی قصد کرے تاکہ ہر نیت پر جدا گانہ ثواب پائے اور ان کے ساتھ یہ بھی اراد ہ کہ مجھے میت کے لئے دعا کا حکم ہے اس کی اجابت کا سبب حاصل کرتا ہوں اور نیز اس سے پہلے عمل صالح کی تقدیم چاہئے یہ ادب دعا بجالاتا ہوں الی غیرذلك ممایستخرجہ العارف النبیل والله الھادی الی سواء السبیل (ان کے علاوہ دوسری نیتیں جن کو عارف اور عمدہ رائے استخراج کرسکتی ہے الله تعالی ہی سیدھی راہ دکھانے والا ہے۔ ت) بہت لوگ اذان تو دیتے ہیں مگر ان منافع ونیات سے غافل ہیں وہ جوکچھ نیت کرتے ہیں اسی قدر پائیں گے۔
عـــہ یہ چالیس نیتیں ہیں جن میں چھبیس۲۶ علماء نے ارشاد فرمائیں اور چودہ۱۴ فقیر نے بڑھائیں جن کے ہندسوں پر خطوط کھینچے ہیں ۱۲ منہ
(۲۵) بیمار کی مزاج پرسی کروں گا۔
(۲۶) اگر کوئی غمی والا ملا تعزیت کروں گا۔
(۲۷) جس مسلمانوں کو چھینك آئی اور اس نے الحمدلله کہا اسے یرحمك الله کہوں گا۔
(۲۸ و ۲۹) امر بالمعروف ونہی عن المنکر کروں گا۔
(۳۰) نمازیوں کے و ضو کو پانی دوں گا۔
(۳۱ و ۳۲) خود مؤذن ہے یا مسجد میں کوئی مؤذن مقرر نہیں تو نیت کرے کہ اذان واقامت کہوں گا اب اگر یہ کہنے نہ پایا دوسرے نے کہہ دی تاہم اپنی نیت پر اذان واقامت کا ثواب پاچکا فقد و قع اجره على الله- (الله تعالی اسے اجر عطا فرمائے گا۔ ت)
(۳۳) جو راہ بھولا ہوگا راستہ بتاؤں گا۔
(۳۴) اندھے کی دستگیری کروں گا۔
(۳۵) جنازہ ملا تو نماز پڑھوں گا۔
(۳۶) موقع پایا تو ساتھ دفن تك جاؤں گا۔
(۳۷) دو مسلمانوں میں نزاع ہوئی تو حتی الوسع صلح کراؤں گا۔
(۳۸ و ۳۹) مسجد میں جاتے وقت دہنے اور نکلتے وقت بائیں پاؤں کی تقدیم سے اتباع سنت کروں گا۔
(۴۰عـــہ) راہ میں جو لکھا ہوا کاغذ پاؤں گا اٹھا کر ادب سے رکھ دوں گا الی غیرذلك من نیات کثیرۃ تو دیکھئے کہ جوان ارادوں کے ساتھ گھر سے مسجد کو چلا وہ صرف حسنہ نماز کے لئے نہیں جاتا بلکہ ان چالیس۴۰ حسنات کے لئے جاتا ہے تو گویا اس کا یہ چلنا چالیس طرف چلنا ہے اور ہر قدم چالیس قدم پہلے اگر ہر قدم ایك نیکی تھا اب چالیس۴۰ نیکیاں ہوگا۔ اسی طرح قبر پر اذان دینے والے کو چاہئے کہ ان پندرہ نیتوں کا تفصیلی قصد کرے تاکہ ہر نیت پر جدا گانہ ثواب پائے اور ان کے ساتھ یہ بھی اراد ہ کہ مجھے میت کے لئے دعا کا حکم ہے اس کی اجابت کا سبب حاصل کرتا ہوں اور نیز اس سے پہلے عمل صالح کی تقدیم چاہئے یہ ادب دعا بجالاتا ہوں الی غیرذلك ممایستخرجہ العارف النبیل والله الھادی الی سواء السبیل (ان کے علاوہ دوسری نیتیں جن کو عارف اور عمدہ رائے استخراج کرسکتی ہے الله تعالی ہی سیدھی راہ دکھانے والا ہے۔ ت) بہت لوگ اذان تو دیتے ہیں مگر ان منافع ونیات سے غافل ہیں وہ جوکچھ نیت کرتے ہیں اسی قدر پائیں گے۔
عـــہ یہ چالیس نیتیں ہیں جن میں چھبیس۲۶ علماء نے ارشاد فرمائیں اور چودہ۱۴ فقیر نے بڑھائیں جن کے ہندسوں پر خطوط کھینچے ہیں ۱۲ منہ
حوالہ / References
القرآن ۴ / ۱۰۰
فانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی (اعمال کا ثواب نیتوں سے ہی ہے اور ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔ ت)
تنبیہ سوم: جہال منکرین یہاں اعتراض کرتے ہیں کہ اذان تو اعلام نماز کے لئے ہے یہاں کون سی نماز ہوگی جس کے لئے اذان کہی جاتی ہے مگر یہ ان کی جہالت انہیں کو زیب دیتی ہے وہ نہیں جانتے کہ اذان میں کیاکیا اغراض ومنافع ہیں اور شرع مطہر نے نماز کے سوا کن کن مواضع میں اذان مستحب فرمائی ہے ازانجملہ گوش مغموم میں اور دفع وحشت کو کہنا تو یہیں گزرا اور بچے کے کان عــــہ میں اذان دیتا سنا ہی ہوگا ان کے سوا اور بہت مواقع ہیں جن کی تفصیل ہم نے اپنے رسالہ نسیم الصبا میں ذکر کی۔
تنبیہ چہارم: شرع مطہر کی اصل کلی ہے کہ جو امر مقاصد شرع سے مطابق ہو محمود ہے اور جو مخالف ہو مردود اور حکم مطلق اس کے تمام افراد میں جاری وساری جب تك کسی خاص خصوصیت سے نہی شرع وارد نہ ہو تو بعد ثبوت حسن مطلق حسن مقید پر کسی دلیل کی حاجت نہیں بلکہ حسن مطلق ہے اس پر دلیل قاطع اور بقاعدہ مناظرہ اثبات ممانعت ذمہ مانع معہذا اصل اشیا میں اباحت تو قائل جواز متمسك باصل ہے کہ اصلا دلیل کی حاجت نہیں رکھتا اجازت خصوصیت کو اجازت خاصہ وارد ہونے پر موقوف جاننا اور منع خصوصیت کے لئے منع خاص وارد ہونے کی ضرورت نہ ماننا صرف تحکم وزبردستی ہی نہیں بلکہ دائرہ عقل ونقل سے خروج اور مطمورہ سفہ وجہل میں کامل دلوج ہے علمائے سنت شکر الله تعالی مساعیہم الجمیلہ ان سب مباحث کو اعلی درجہ پر طے فرماچکے۔ ان تمام اصول جلیلہ رفعیہ ودیگر قواعد نافعہ بدیعہ کی تنقیح بالغ وتحقیق بازغ حضرت ختام المحققین امام المدققین حجۃ الله فی الارضین معجزۃ
عــــہ : بعض احمق جاہل گوش مولود کی اذان سے یہ جواب دیتے ہیں کہ اس اذان کی نماز تو بعد موت مولود ہوتی ہے یعنی نماز جنازہ یہ اذان جو قبر پر کہوگے اس کی نماز کہاں ہے اذان گوش مولود کو نماز جنازہ کی اذان بتانا جیسی جہالت فاحشہ ہے خود ظاہر ہے مگر ان کا جواب ترکی بہ ترکی یہ ہے کہ نماز جنازہ جس طرح صرف قیام سے ہوتی ہے جو ادنی افعال نماز ہے ایك نماز روز محشر صرف سجود سے ہوگی جو اعلی افعال نماز ہے جس دن کشف ساق ہوگا اور مسلمان سجدے میں گرینگے منافق سجدہ نہ کرسکیں گے جس کا بیان قرآن عظیم سورہ ق شریف میں ہے قبر کی اذان اس نماز کی اذان ہے ۱۲ منہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ۔ (م)
تنبیہ سوم: جہال منکرین یہاں اعتراض کرتے ہیں کہ اذان تو اعلام نماز کے لئے ہے یہاں کون سی نماز ہوگی جس کے لئے اذان کہی جاتی ہے مگر یہ ان کی جہالت انہیں کو زیب دیتی ہے وہ نہیں جانتے کہ اذان میں کیاکیا اغراض ومنافع ہیں اور شرع مطہر نے نماز کے سوا کن کن مواضع میں اذان مستحب فرمائی ہے ازانجملہ گوش مغموم میں اور دفع وحشت کو کہنا تو یہیں گزرا اور بچے کے کان عــــہ میں اذان دیتا سنا ہی ہوگا ان کے سوا اور بہت مواقع ہیں جن کی تفصیل ہم نے اپنے رسالہ نسیم الصبا میں ذکر کی۔
تنبیہ چہارم: شرع مطہر کی اصل کلی ہے کہ جو امر مقاصد شرع سے مطابق ہو محمود ہے اور جو مخالف ہو مردود اور حکم مطلق اس کے تمام افراد میں جاری وساری جب تك کسی خاص خصوصیت سے نہی شرع وارد نہ ہو تو بعد ثبوت حسن مطلق حسن مقید پر کسی دلیل کی حاجت نہیں بلکہ حسن مطلق ہے اس پر دلیل قاطع اور بقاعدہ مناظرہ اثبات ممانعت ذمہ مانع معہذا اصل اشیا میں اباحت تو قائل جواز متمسك باصل ہے کہ اصلا دلیل کی حاجت نہیں رکھتا اجازت خصوصیت کو اجازت خاصہ وارد ہونے پر موقوف جاننا اور منع خصوصیت کے لئے منع خاص وارد ہونے کی ضرورت نہ ماننا صرف تحکم وزبردستی ہی نہیں بلکہ دائرہ عقل ونقل سے خروج اور مطمورہ سفہ وجہل میں کامل دلوج ہے علمائے سنت شکر الله تعالی مساعیہم الجمیلہ ان سب مباحث کو اعلی درجہ پر طے فرماچکے۔ ان تمام اصول جلیلہ رفعیہ ودیگر قواعد نافعہ بدیعہ کی تنقیح بالغ وتحقیق بازغ حضرت ختام المحققین امام المدققین حجۃ الله فی الارضین معجزۃ
عــــہ : بعض احمق جاہل گوش مولود کی اذان سے یہ جواب دیتے ہیں کہ اس اذان کی نماز تو بعد موت مولود ہوتی ہے یعنی نماز جنازہ یہ اذان جو قبر پر کہوگے اس کی نماز کہاں ہے اذان گوش مولود کو نماز جنازہ کی اذان بتانا جیسی جہالت فاحشہ ہے خود ظاہر ہے مگر ان کا جواب ترکی بہ ترکی یہ ہے کہ نماز جنازہ جس طرح صرف قیام سے ہوتی ہے جو ادنی افعال نماز ہے ایك نماز روز محشر صرف سجود سے ہوگی جو اعلی افعال نماز ہے جس دن کشف ساق ہوگا اور مسلمان سجدے میں گرینگے منافق سجدہ نہ کرسکیں گے جس کا بیان قرآن عظیم سورہ ق شریف میں ہے قبر کی اذان اس نماز کی اذان ہے ۱۲ منہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ۔ (م)
حوالہ / References
مشکوۃ المصابیح خطبۃ الکتاب مطبوعہ مجتبائی دہلی ص ۱۱
بیوقوفی اور جہالت کے گڑھے میں مکمل طور پر داخل ہونا ہے۔
بیوقوفی اور جہالت کے گڑھے میں مکمل طور پر داخل ہونا ہے۔
من معجزات سید المرسلین صلوات الله وسلامہ علیہ وعلی آلہ واصحابہ اجمعین سیدالعلما سند الکملا تاج الافاضل سراج الاماثل حضرت والد ماجد قدس الله سرہ ورزقنابرہ نے کتاب مستطاب اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد وکتاب لاجواب اذاقۃ الاثام لمانعی عمل المولد والقیام وغیرہا میں افادہ فرمائی اور فقیر نے بھی بقدر حاجت اپنے رسالہ اقامۃ القیامۃ علی طاعن ۱۲۹۹ھ عن القیام لنبی تھامہ ورسالہ منیرالعین فی حکم ۱۳۰۲ھ تقبیل الابھامین ورسالہ نسیم الصبافی ۱۳۰۲ھ ان الاذان یحول الوباء وغیرہا تصانیف میں ذکر کی یہاں ان مباحث کے ایراد سے تطویل کی ضرورت نہیں حضرات مخالفین باآنکہ ہزار ہا بار گھر تك پہنچ چکے اگر پھر ہمت فرمائیں گے ان شاء الله العزیز وہ جواب باصواب پائیں گے جس کے انوار باہرہ ولمعات قاہرہ کے حضور باطل کی آنکھیں جھپکیں اور اس کی سہانی روشنیوں ودلکشا تجلیوں سے حق وصواب کے نورانی چہرے دمکیں وبالله التوفیق وھوالمعین۔ والحمدلله رب العلمین والصلاۃ والسلام علی سیدالمرسلین محمد والہ وصحبہ اجمعین امین امین برحمتك یاارحم الراحمین الحمدلله کہ یہ رسالہ آخر محرم ۱۳۰۷ھ سے دو۲ جلسوں میں تمام ہوا والله سبحنہ وتعالی اعلم علمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
کتبہ
عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عفی عنہ بمحمدن المصطفی النبی الامی صلی الله تعالی علیہ وسلم
تمت بالخیر
image
کتبہ
عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عفی عنہ بمحمدن المصطفی النبی الامی صلی الله تعالی علیہ وسلم
تمت بالخیر
image
مآخذومراجع
نام مصنف سن وفات ہجری
ا
۱۔ الاجزاء فی الحدیث عبدالرحمن بن عمربن محمد البغدادی المعروف بالنحاس ۴۱۶
۲۔ الاجناس فی الفروع ابوالعباس احمد بن محمد الناطفی الحنفی ۴۴۶
۳۔ الاختیارشرح المختار عبداللہ بن محمود (بن مودود) الحنفی ۶۸۳
۴۔ الادب المفرد للبخاری محمد بن اسمعیل البخاری ۲۵۶
۵۔ ارشاد الساری شرح البخاری شہاب الدین احمد بن محمد القسطلانی ۹۲۳
۶۔ ارشاد العقل السلیم ابوسعود محمد بن محمد العمادی ۹۵۱
۷۔ الارکان الاربع مولانا عبدالعلی بحرالعلوم ۱۲۲۵
۸۔ الاشباہ والنظائر شیخ زین الدین بن ابراہیم بابن نجیم ۹۷۰
۹۔ اشعۃ اللمعات شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی ۱۰۵۲
۱۰۔ اصول البزدوی علی بن محمد البزدوی ۴۸۲
۱۱۔ الاصلاح للوقایۃ فی الفروع احمد بن سلیمان بن کمال باشا ۹۴۰
۱۲۔ آکام المرجان فی احکام الجان قاضی بدرالدین محمد بن عبداللہ الشبلی ۷۶۹
۱۳۔ انفع الوسائل قاضی برہان الدین ابراہیم بن علی الطرسوسی الحنفی ۷۵۸
۱۴۔ امداد الفتاح حسن بن عمار الشرنبلالی ۱۰۶۹
۱۵۔ انوارالائمۃ الشافعیہ امام یوسف الاردبیلی الشافعی ۷۹۹
۱۶۔ الایضاح للوقایۃ فی الفروع احمد بن سلیمان بن کمال باشا ۹۴۰
۱۷۔ امالی فی الحدیث عبدالملک بن محمد بن محمد بشران ۴۳۲
۱۸۔ الایجاز فی الحدیث احمد بن محمد المعروف بابن السنی ۳۶۴
۱۹۔ القاب الروات احمدبن عبدالرحمن الشیرازی ۴۰۷
نام مصنف سن وفات ہجری
ا
۱۔ الاجزاء فی الحدیث عبدالرحمن بن عمربن محمد البغدادی المعروف بالنحاس ۴۱۶
۲۔ الاجناس فی الفروع ابوالعباس احمد بن محمد الناطفی الحنفی ۴۴۶
۳۔ الاختیارشرح المختار عبداللہ بن محمود (بن مودود) الحنفی ۶۸۳
۴۔ الادب المفرد للبخاری محمد بن اسمعیل البخاری ۲۵۶
۵۔ ارشاد الساری شرح البخاری شہاب الدین احمد بن محمد القسطلانی ۹۲۳
۶۔ ارشاد العقل السلیم ابوسعود محمد بن محمد العمادی ۹۵۱
۷۔ الارکان الاربع مولانا عبدالعلی بحرالعلوم ۱۲۲۵
۸۔ الاشباہ والنظائر شیخ زین الدین بن ابراہیم بابن نجیم ۹۷۰
۹۔ اشعۃ اللمعات شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی ۱۰۵۲
۱۰۔ اصول البزدوی علی بن محمد البزدوی ۴۸۲
۱۱۔ الاصلاح للوقایۃ فی الفروع احمد بن سلیمان بن کمال باشا ۹۴۰
۱۲۔ آکام المرجان فی احکام الجان قاضی بدرالدین محمد بن عبداللہ الشبلی ۷۶۹
۱۳۔ انفع الوسائل قاضی برہان الدین ابراہیم بن علی الطرسوسی الحنفی ۷۵۸
۱۴۔ امداد الفتاح حسن بن عمار الشرنبلالی ۱۰۶۹
۱۵۔ انوارالائمۃ الشافعیہ امام یوسف الاردبیلی الشافعی ۷۹۹
۱۶۔ الایضاح للوقایۃ فی الفروع احمد بن سلیمان بن کمال باشا ۹۴۰
۱۷۔ امالی فی الحدیث عبدالملک بن محمد بن محمد بشران ۴۳۲
۱۸۔ الایجاز فی الحدیث احمد بن محمد المعروف بابن السنی ۳۶۴
۱۹۔ القاب الروات احمدبن عبدالرحمن الشیرازی ۴۰۷
ب
۲۰۔ بدائع الصنائع علاء الدین ابی بکربن مسعود الکاسانی ۵۸۷
۲۱۔ البدایۃ (بدایۃ المبتدی) علی بن ابی بکر المرغینانی ۵۹۳
۲۲۔ البحرالرائق شیخ زین الدین بن ابراہیم بابن نجیم ۹۷۰
۲۳۔ البرہان شرح مواہب الرحمان ابراہیم بن موسی الطرابلسی ۹۲۲
۲۴۔ بستان العارفین فقیہ ابواللیث نصربن محمد السمرقندی ۳۷۲
۲۵۔ البسیط فی الفروع حجۃ الاسلام محمد بن محمد الغزالی ۵۰۵
۲۶۔ البنایۃ شرح الہدایۃ امام بدرالدین ابومحمد العینی ۸۵۵
ت
۲۷۔ تاج العروس سیدمحمدمرتضی الزبیدی ۱۲۰۵
۲۸۔ تاریخ ابن عساکر علی بن الحسن الدمشقی بابن عساکر ۵۷۱
۲۹۔ تاریخ البخاری محمدبن اسمعیل البخاری ۲۵۶
۳۰۔ التجنیس والمزید برہان الدین علی بن ابی بکر المرغینانی ۵۹۳
۳۱۔ تحریرالاصول کمال الدین محمد بن عبدالواحدبن الہمام ۸۶۱
۳۲۔ تحفۃ الفقہاء امام علاء الدین محمد بن احمد السمرقندی ۵۴۰
۳۳۔ تحقیق الحسامی عبدالعزیز بن احمد البخاری ۷۳۰
۳۴۔ الترجیح والتصحیح علی القدوری علامہ قاسم بن قطلوبغاالحنفی ۸۷۹
۳۵۔ التعریفات لسیدشریف سید شریف علی بن محمد الجرجانی ۸۱۶
۳۶۔ تفسیر ابن جریر (جامع البیان) محمد بن جریر الطبری ۳۱۰
۳۷۔ تفسیر البیضاوی عبداللہ بن عمر البیضاوی ۶۹۱
۳۸۔ تفسیر الجلالین علامہ جلال الدین المحلی وجلال الدین السیوطی ۸۔ ۹۱۱
۳۹۔ تفسیر الجمل سلیمان بن عمرالعجیلی الشہیربالجمل ۱۲۰۴
۴۰۔ تفسیر القرطبی ابوعبداللہ محمد بن احمدالقرطبی ۶۷۱
۴۱۔ التفسیرالکبیر امام فخرالدین الرازی ۲۶
۲۰۔ بدائع الصنائع علاء الدین ابی بکربن مسعود الکاسانی ۵۸۷
۲۱۔ البدایۃ (بدایۃ المبتدی) علی بن ابی بکر المرغینانی ۵۹۳
۲۲۔ البحرالرائق شیخ زین الدین بن ابراہیم بابن نجیم ۹۷۰
۲۳۔ البرہان شرح مواہب الرحمان ابراہیم بن موسی الطرابلسی ۹۲۲
۲۴۔ بستان العارفین فقیہ ابواللیث نصربن محمد السمرقندی ۳۷۲
۲۵۔ البسیط فی الفروع حجۃ الاسلام محمد بن محمد الغزالی ۵۰۵
۲۶۔ البنایۃ شرح الہدایۃ امام بدرالدین ابومحمد العینی ۸۵۵
ت
۲۷۔ تاج العروس سیدمحمدمرتضی الزبیدی ۱۲۰۵
۲۸۔ تاریخ ابن عساکر علی بن الحسن الدمشقی بابن عساکر ۵۷۱
۲۹۔ تاریخ البخاری محمدبن اسمعیل البخاری ۲۵۶
۳۰۔ التجنیس والمزید برہان الدین علی بن ابی بکر المرغینانی ۵۹۳
۳۱۔ تحریرالاصول کمال الدین محمد بن عبدالواحدبن الہمام ۸۶۱
۳۲۔ تحفۃ الفقہاء امام علاء الدین محمد بن احمد السمرقندی ۵۴۰
۳۳۔ تحقیق الحسامی عبدالعزیز بن احمد البخاری ۷۳۰
۳۴۔ الترجیح والتصحیح علی القدوری علامہ قاسم بن قطلوبغاالحنفی ۸۷۹
۳۵۔ التعریفات لسیدشریف سید شریف علی بن محمد الجرجانی ۸۱۶
۳۶۔ تفسیر ابن جریر (جامع البیان) محمد بن جریر الطبری ۳۱۰
۳۷۔ تفسیر البیضاوی عبداللہ بن عمر البیضاوی ۶۹۱
۳۸۔ تفسیر الجلالین علامہ جلال الدین المحلی وجلال الدین السیوطی ۸۔ ۹۱۱
۳۹۔ تفسیر الجمل سلیمان بن عمرالعجیلی الشہیربالجمل ۱۲۰۴
۴۰۔ تفسیر القرطبی ابوعبداللہ محمد بن احمدالقرطبی ۶۷۱
۴۱۔ التفسیرالکبیر امام فخرالدین الرازی ۲۶
۴۲۔ التفسیر لنیشابوری نظام الدین الحسن بن محمد بن حسین النیشابوری ۷۲۸
۴۳۔ تقریب القریب ابوزکریا یحیی بن شرف النووی ۹۱۱
۴۴۔ التقریر والتحبیر محمد بن محمد ابن امیر الحاج الحلبی ۸۷۹
۴۵۔ التیسیر للمناوی عبدالرؤف المناوی ۱۰۳۱
۴۶۔ تبیین الحقائق فخرالدین عثمان بن علی الزیلعی ۷۴۳
۴۷۔ تقریب التہذیب شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی ۸۵۲
۴۸۔ تنویرالمقیاس ابوطاہر محمد بن یعقوب الفیروزآبادی ۸۱۷
۴۹۔ تنویرالابصار شمس الدین محمد بن عبداللہ بن احمد التمرتاشی ۱۰۰۴
۵۰۔ تعظیم الصلوۃ محمدبن نصرالمروزی ۲۹۴
۵۱۔ تاریخ بغداد ابوبکراحمد بن علی الخطیب البغدادی ۴۶۳
۵۲۔ التوشیح فی شرح الہدایۃ عمربن اسحق السراج الہندی ۷۷۳
ج
۵۳۔ جامع الترمذی ابوعیسی محمدبن عیسی الترمذی ۲۷۹
۵۴۔ جامع الرموز شمس الدین محمد الخراسانی ۹۶۲
۵۵۔ الجامع الصحیح للبخاری امام محمد بن اسمعیل البخاری ۲۵۶
۵۶۔ الجامع الصغیر فی الفقہ امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
۵۷۔ الجامع الصحیح للمسلم مسلم بن حجاج القشیری ۲۶۱
۵۸۔ جامع الفقہ(جوامع الفقہ) ابونصراحمد بن محمد العتابی ۵۸۶
۵۹۔ جامع الفصولین شیخ بدرالدین محمود بن اسرائیل بابن قاضی ۸۲۳
۶۰۔ الجامع الکبیر ابی الحسن عبیداللہ بن حسین الکرخی ۳۴۰
۶۱۔ جواہرالاخلاطی برہان الدین ابراہیم بن ابوبکر الاخلاطی ۰
۶۲۔ الجواہرالزکیۃ احمد بن ترکی بن احمد المالکی ۹۸۹
۶۳۔ جواہرالفتاوی رکن الدین ابوبکر بن محمد بن ابی المفاخر ۵۶۵
۶۴۔ الجوہرۃ النیرۃ ابوبکربن علی بن محمد الحداد الیمنی ۸۰۰
۶۵۔ الجرح والتعدیل فی رجال الحدیث یحیی بن معین البغدادی ۲۳۳
۶۶۔ الجامع الصغیرفی الحدیث علامہ جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر السیوطی ۹۱۱
۴۳۔ تقریب القریب ابوزکریا یحیی بن شرف النووی ۹۱۱
۴۴۔ التقریر والتحبیر محمد بن محمد ابن امیر الحاج الحلبی ۸۷۹
۴۵۔ التیسیر للمناوی عبدالرؤف المناوی ۱۰۳۱
۴۶۔ تبیین الحقائق فخرالدین عثمان بن علی الزیلعی ۷۴۳
۴۷۔ تقریب التہذیب شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی ۸۵۲
۴۸۔ تنویرالمقیاس ابوطاہر محمد بن یعقوب الفیروزآبادی ۸۱۷
۴۹۔ تنویرالابصار شمس الدین محمد بن عبداللہ بن احمد التمرتاشی ۱۰۰۴
۵۰۔ تعظیم الصلوۃ محمدبن نصرالمروزی ۲۹۴
۵۱۔ تاریخ بغداد ابوبکراحمد بن علی الخطیب البغدادی ۴۶۳
۵۲۔ التوشیح فی شرح الہدایۃ عمربن اسحق السراج الہندی ۷۷۳
ج
۵۳۔ جامع الترمذی ابوعیسی محمدبن عیسی الترمذی ۲۷۹
۵۴۔ جامع الرموز شمس الدین محمد الخراسانی ۹۶۲
۵۵۔ الجامع الصحیح للبخاری امام محمد بن اسمعیل البخاری ۲۵۶
۵۶۔ الجامع الصغیر فی الفقہ امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
۵۷۔ الجامع الصحیح للمسلم مسلم بن حجاج القشیری ۲۶۱
۵۸۔ جامع الفقہ(جوامع الفقہ) ابونصراحمد بن محمد العتابی ۵۸۶
۵۹۔ جامع الفصولین شیخ بدرالدین محمود بن اسرائیل بابن قاضی ۸۲۳
۶۰۔ الجامع الکبیر ابی الحسن عبیداللہ بن حسین الکرخی ۳۴۰
۶۱۔ جواہرالاخلاطی برہان الدین ابراہیم بن ابوبکر الاخلاطی ۰
۶۲۔ الجواہرالزکیۃ احمد بن ترکی بن احمد المالکی ۹۸۹
۶۳۔ جواہرالفتاوی رکن الدین ابوبکر بن محمد بن ابی المفاخر ۵۶۵
۶۴۔ الجوہرۃ النیرۃ ابوبکربن علی بن محمد الحداد الیمنی ۸۰۰
۶۵۔ الجرح والتعدیل فی رجال الحدیث یحیی بن معین البغدادی ۲۳۳
۶۶۔ الجامع الصغیرفی الحدیث علامہ جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر السیوطی ۹۱۱
ح
۶۷۔ حاشیۃ علی الدرر محمدبن مصطفی ابوسعید الخادمی ۱۱۷۶
۶۸۔ حاشیۃ ابن شلبی علی التبیین احمدبن محمدالشلبی ۱۰۲۱
۶۹۔ حاشیۃ علی الدرر عبدالحلیم بن محمد الرومی ۱۰۱۳
۷۰۔ حاشیۃ علی الدرر لملاخسرو قاضی محمد بن فراموزملاخسرو ۸۸۵
۷۱۔ حاشیۃ علی المقدمۃ العشماویۃ علامہ سفطی ۰
۷۲۔ الحاشیۃ لسعدی آفندی سعداللہ بن عیسی الآفندی ۹۴۵
۷۳۔ الحدیقۃ الندیۃ شرح طریقہ محمدیۃ عبدالغنی النابلسی ۱۱۴۳
۷۴۔ الحاوی القدسی قاضی جمال الدین احمدبن محمد نوح القابسی الحنفی ۶۰۰
۷۵۔ حصرالمسائل فی الفروع امام ابواللیث نصربن محمد السمرقندی الحنفی ۳۷۲
۷۶۔ حلیۃ الاولیاء ابونعیم احمدبن عبداللہ الاصبحانی ۴۳۰
۷۷۔ حلیۃ المجلی محمدبن محمد ابن امیر الحاج ۸۷۹
خ
۷۸۔ خزانۃ الروایات قاضی جکن الحنفی
۷۹۔ خزانۃ الفتاوی طاہربن احمد عبدالرشید البخاری ۵۴۲
۸۰۔ خزانۃ المفتین حسین بن محمد السمعانی السمیقانی ۷۴۰کے بعد
۸۱۔ خلاصۃ الدلائل حسام الدین علی بن احمد المکی الرازی ۵۹۸
۸۲۔ خلاصۃ الفتاوی طاہربن احمد عبدالرشید البخاری ۵۴۲
۸۳۔ خیرات الحسان شہاب الدین احمد بن حجرالمکی ۹۷۳
د
۸۴۔ الدرایۃ فی تخریج احادیث الہدایۃ شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی ۸۵۲
۸۵۔ الدرر(دررالحکام) قاضی محمد بن فراموز ملاخسرو ۸۸۵
۸۶۔ الدرالمختار علاء الدین الحصکفی ۱۰۸۸
۸۷۔ الدرالنثیر علامہ جلال الدین عبدالرحمن السیوطی ۹۱۱
۶۷۔ حاشیۃ علی الدرر محمدبن مصطفی ابوسعید الخادمی ۱۱۷۶
۶۸۔ حاشیۃ ابن شلبی علی التبیین احمدبن محمدالشلبی ۱۰۲۱
۶۹۔ حاشیۃ علی الدرر عبدالحلیم بن محمد الرومی ۱۰۱۳
۷۰۔ حاشیۃ علی الدرر لملاخسرو قاضی محمد بن فراموزملاخسرو ۸۸۵
۷۱۔ حاشیۃ علی المقدمۃ العشماویۃ علامہ سفطی ۰
۷۲۔ الحاشیۃ لسعدی آفندی سعداللہ بن عیسی الآفندی ۹۴۵
۷۳۔ الحدیقۃ الندیۃ شرح طریقہ محمدیۃ عبدالغنی النابلسی ۱۱۴۳
۷۴۔ الحاوی القدسی قاضی جمال الدین احمدبن محمد نوح القابسی الحنفی ۶۰۰
۷۵۔ حصرالمسائل فی الفروع امام ابواللیث نصربن محمد السمرقندی الحنفی ۳۷۲
۷۶۔ حلیۃ الاولیاء ابونعیم احمدبن عبداللہ الاصبحانی ۴۳۰
۷۷۔ حلیۃ المجلی محمدبن محمد ابن امیر الحاج ۸۷۹
خ
۷۸۔ خزانۃ الروایات قاضی جکن الحنفی
۷۹۔ خزانۃ الفتاوی طاہربن احمد عبدالرشید البخاری ۵۴۲
۸۰۔ خزانۃ المفتین حسین بن محمد السمعانی السمیقانی ۷۴۰کے بعد
۸۱۔ خلاصۃ الدلائل حسام الدین علی بن احمد المکی الرازی ۵۹۸
۸۲۔ خلاصۃ الفتاوی طاہربن احمد عبدالرشید البخاری ۵۴۲
۸۳۔ خیرات الحسان شہاب الدین احمد بن حجرالمکی ۹۷۳
د
۸۴۔ الدرایۃ فی تخریج احادیث الہدایۃ شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی ۸۵۲
۸۵۔ الدرر(دررالحکام) قاضی محمد بن فراموز ملاخسرو ۸۸۵
۸۶۔ الدرالمختار علاء الدین الحصکفی ۱۰۸۸
۸۷۔ الدرالنثیر علامہ جلال الدین عبدالرحمن السیوطی ۹۱۱
ذ
۸۸۔ ذخیرۃ العقبی یوسف بن جنید الجلبی(چلپی) ۹۰۵
۸۹۔ ذخیرۃ الفتاوی برہان الدین محمود بن احمد ۶۱۶
۹۰۔ ذم الغیبۃ عبداللہ بن محمد ابن ابی الدنیا القرشی ۲۸۱
ر
۹۱۔ الرحمانیۃ
۹۲۔ ردالمحتار محمدامین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۹۳۔ رحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ ابوعبداللہ محمد بن عبدالرحمن الدمشقی ۷۸۱
۹۴۔ رغائب القرآن ابومروان عبدالملک بن حبیب السلمی(القرطبی) ۲۳۹
۹۵۔ رفع الغشاء فی وقت العصر والعشاء شیخ زین الدین بابن نجیم ۹۷۰
۹۶۔ ردعلی الجہمیۃ عثمان بن سعید الدارمی ۲۸۰
ز
۹۷۔ زادالفقہاء شیخ الاسلام محمد بن احمد الاسبیجابی المتوفی اواخرالقرن السادس
۹۸۔ زادالفقیر کمال الدین محمد بن عبدالواحد المعروف بابن الہمام ۸۶۱
۹۹۔ زواہرالجواہر محمدبن محمد التمرتاشی تقریبا ۱۰۱۶
۱۰۰۔ زیادات امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
س
۱۰۱۔ السراج الوہاج ابوبکربن علی بن محمد الحداد الیمنی ۸۰۰
۱۰۲۔ السنن لابن ماجۃ ابوعبداللہ محمد بن یزید ابن ماجۃ ۲۷۳
۱۰۳۔ السنن لابن منصور سعیدبن منصورالخراسانی ۲۷۳
۱۰۴۔ السنن لابی داؤد ابوداؤد سلیمان بن اشعث ۲۷۵
۱۰۵۔ السنن للنسائی ابوعبدالرحمن احمد بن شعیب النسائی ۳۰۳
۱۰۶۔ السنن للبیہقی ابوبکراحمد بن حسین بن علی البیہقی ۴۵۸
۸۸۔ ذخیرۃ العقبی یوسف بن جنید الجلبی(چلپی) ۹۰۵
۸۹۔ ذخیرۃ الفتاوی برہان الدین محمود بن احمد ۶۱۶
۹۰۔ ذم الغیبۃ عبداللہ بن محمد ابن ابی الدنیا القرشی ۲۸۱
ر
۹۱۔ الرحمانیۃ
۹۲۔ ردالمحتار محمدامین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۹۳۔ رحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ ابوعبداللہ محمد بن عبدالرحمن الدمشقی ۷۸۱
۹۴۔ رغائب القرآن ابومروان عبدالملک بن حبیب السلمی(القرطبی) ۲۳۹
۹۵۔ رفع الغشاء فی وقت العصر والعشاء شیخ زین الدین بابن نجیم ۹۷۰
۹۶۔ ردعلی الجہمیۃ عثمان بن سعید الدارمی ۲۸۰
ز
۹۷۔ زادالفقہاء شیخ الاسلام محمد بن احمد الاسبیجابی المتوفی اواخرالقرن السادس
۹۸۔ زادالفقیر کمال الدین محمد بن عبدالواحد المعروف بابن الہمام ۸۶۱
۹۹۔ زواہرالجواہر محمدبن محمد التمرتاشی تقریبا ۱۰۱۶
۱۰۰۔ زیادات امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
س
۱۰۱۔ السراج الوہاج ابوبکربن علی بن محمد الحداد الیمنی ۸۰۰
۱۰۲۔ السنن لابن ماجۃ ابوعبداللہ محمد بن یزید ابن ماجۃ ۲۷۳
۱۰۳۔ السنن لابن منصور سعیدبن منصورالخراسانی ۲۷۳
۱۰۴۔ السنن لابی داؤد ابوداؤد سلیمان بن اشعث ۲۷۵
۱۰۵۔ السنن للنسائی ابوعبدالرحمن احمد بن شعیب النسائی ۳۰۳
۱۰۶۔ السنن للبیہقی ابوبکراحمد بن حسین بن علی البیہقی ۴۵۸
۱۰۷۔ السنن لدارقطنی علی عمرالدارقطنی ۳۸۵
۱۰۸۔ السنن لدارمی عبداللہ بن عبدالرحمن الدارمی ۲۵۵
ش
۱۰۹۔ الشافی شمس الائمۃ عبداللہ بن محمود الکردری
۱۱۰۔ شرح الاربعین للنووی شہاب الدین احمدبن حجرالمکی ۹۷۳
۱۱۱۔ شرح الاربعین للنووی ابراہیم ابن عطیہ المالکی ۱۱۰۶
۱۱۲۔ شرح الاربعین للنووی علامہ احمد بن الحجازی ۹۷۸
۱۱۳۔ شرح الاشباہ والنظائر ابراہیم بن حسین بن احمد بن محمد ابن البیری ۱۰۹۹
۱۱۴۔ شرح الجامع الصغیر امام قاضی خان حسین بن منصور ۵۹۲
۱۱۵۔ شرح الدرر شیخ اسمعیل بن عبدالغنی النابلسی ۱۰۶۲
۱۱۶۔ شرح سفرالسعادۃ شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی ۱۰۵۲
۱۱۷۔ شرح السنۃ حسین بن منصور البغوی ۵۱۶
۱۱۸۔ شرح شرعۃ الاسلام یعقوب بن سیدی علی زادہ ۹۳۱
۱۱۹۔ شرح مختصرالطحاوی للاسبیجابی ابونصراحمد بن منصورالحنفی الاسبیجابی ۴۸۰
۱۲۰۔ شرح الغریبین
۱۲۱۔ شرح المسلم للنووی شیخ ابوزکریا یحیی بن شرف النووی ۶۷۶
۱۲۲۔ شرح معانی الآثار ابوجعفر احمد بن محمد الطحاوی ۳۲۱
۱۲۳۔ شرح المنظومۃ لابن وہبان عبدالبربن محمد ابن شحنۃ ۹۲۱
۱۲۴۔ شرح المنظومۃ فی رسم المفتی محمدامین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۱۲۵۔ شرح المنیۃ الصغیر شیخ محمدابراہیم الحلبی ۹۵۶
۱۲۶۔ شرح مواہب اللدنیۃ علامۃ محمد بن عبدالباقی الزرقانی ۱۱۲۲
۱۲۷۔ شرح مؤطاامام مالک علامۃ محمدبن عبدالباقی الزرقانی ۱۱۲۲
۱۲۸۔ شرح المہذب للنووی شیخ ابوزکریایحیی بن شرف النووی ۶۷۶
۱۲۹۔ شرح النقایۃ مولانا عبدالعلی البرجندی ۹۳۲
۱۳۰۔ شرح الوقایۃ صدرالشریعۃ عبیداللہ بن مسعود ۷۴۷
۱۰۸۔ السنن لدارمی عبداللہ بن عبدالرحمن الدارمی ۲۵۵
ش
۱۰۹۔ الشافی شمس الائمۃ عبداللہ بن محمود الکردری
۱۱۰۔ شرح الاربعین للنووی شہاب الدین احمدبن حجرالمکی ۹۷۳
۱۱۱۔ شرح الاربعین للنووی ابراہیم ابن عطیہ المالکی ۱۱۰۶
۱۱۲۔ شرح الاربعین للنووی علامہ احمد بن الحجازی ۹۷۸
۱۱۳۔ شرح الاشباہ والنظائر ابراہیم بن حسین بن احمد بن محمد ابن البیری ۱۰۹۹
۱۱۴۔ شرح الجامع الصغیر امام قاضی خان حسین بن منصور ۵۹۲
۱۱۵۔ شرح الدرر شیخ اسمعیل بن عبدالغنی النابلسی ۱۰۶۲
۱۱۶۔ شرح سفرالسعادۃ شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی ۱۰۵۲
۱۱۷۔ شرح السنۃ حسین بن منصور البغوی ۵۱۶
۱۱۸۔ شرح شرعۃ الاسلام یعقوب بن سیدی علی زادہ ۹۳۱
۱۱۹۔ شرح مختصرالطحاوی للاسبیجابی ابونصراحمد بن منصورالحنفی الاسبیجابی ۴۸۰
۱۲۰۔ شرح الغریبین
۱۲۱۔ شرح المسلم للنووی شیخ ابوزکریا یحیی بن شرف النووی ۶۷۶
۱۲۲۔ شرح معانی الآثار ابوجعفر احمد بن محمد الطحاوی ۳۲۱
۱۲۳۔ شرح المنظومۃ لابن وہبان عبدالبربن محمد ابن شحنۃ ۹۲۱
۱۲۴۔ شرح المنظومۃ فی رسم المفتی محمدامین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۱۲۵۔ شرح المنیۃ الصغیر شیخ محمدابراہیم الحلبی ۹۵۶
۱۲۶۔ شرح مواہب اللدنیۃ علامۃ محمد بن عبدالباقی الزرقانی ۱۱۲۲
۱۲۷۔ شرح مؤطاامام مالک علامۃ محمدبن عبدالباقی الزرقانی ۱۱۲۲
۱۲۸۔ شرح المہذب للنووی شیخ ابوزکریایحیی بن شرف النووی ۶۷۶
۱۲۹۔ شرح النقایۃ مولانا عبدالعلی البرجندی ۹۳۲
۱۳۰۔ شرح الوقایۃ صدرالشریعۃ عبیداللہ بن مسعود ۷۴۷
۱۳۱۔ شرح الہدایۃ محمد بن محمدبن محمدابن شحنۃ ۸۹۰
۱۳۲۔ شرعۃ الاسلام امام الاسلام محمدبن ابی بکر ۵۷۳
۱۳۳۔ شعب الایمان ابوبکراحمد بن حسین بن علی البیہقی ۴۵۸
۱۳۴۔ شرح الجامع الصغیر احمدبن منصور الحنفی الاسبیجابی ۴۸۰
۱۳۵۔ شرح الجامع الصغیر عمربن عبدالعزیزالحنفی ۵۳۶
ص
۱۳۶۔ صحاح الجوہری اسمعیل بن حماد الجوہری ۳۹۳
۱۳۷۔ صحیح ابن حبان محمدبن حبان ۳۵۴
۱۳۸۔ صحیح ابن خزیمۃ محمدبن اسحاق ابن خزیمۃ ۳۱۱
۱۳۹۔ الصراح ابوفضل محمدبن عمربن خالدالقرشی تقریبا ۶۹۰
ط
۱۴۰۔ الطحطاوی علی الدر سیداحمدالطحطاوی ۱۳۰۲
۱۴۱۔ الطحطاوی علی المراقی سیداحمدالطحطاوی ۱۳۰۲
۱۴۲۔ الطریقۃ المحمدیۃ محمدبن ببرعلی المروف ببرکلی ۹۸۱
۱۴۳۔ طلبۃ الطلبۃ نجم الدین عمربن محمدالنسفی ۵۳۷
ع
۱۴۴۔ عمدۃ القاری علامہ بدرالدین ابی محمد محمودبن احمد العینی ۸۵۵
۱۴۵۔ العنایۃ اکمل الدین محمدبن محمدالبابرتی ۷۸۶
۱۴۶۔ عنایۃ القاضی شہاب الدین الخفاجی ۱۰۶۹
۱۴۷۔ عیون المسائل ابواللیث نصربن محمدالسمرقندی ۳۷۸
۱۴۸۔ عقودالدریۃ محمدامین ابن عابدین لشامی ۱۲۵۲
۱۴۹۔ عدۃ کمال الدین محمدبن احمد الشہیر بطاشکبری ۱۰۳۰
۱۵۰۔
۱۳۲۔ شرعۃ الاسلام امام الاسلام محمدبن ابی بکر ۵۷۳
۱۳۳۔ شعب الایمان ابوبکراحمد بن حسین بن علی البیہقی ۴۵۸
۱۳۴۔ شرح الجامع الصغیر احمدبن منصور الحنفی الاسبیجابی ۴۸۰
۱۳۵۔ شرح الجامع الصغیر عمربن عبدالعزیزالحنفی ۵۳۶
ص
۱۳۶۔ صحاح الجوہری اسمعیل بن حماد الجوہری ۳۹۳
۱۳۷۔ صحیح ابن حبان محمدبن حبان ۳۵۴
۱۳۸۔ صحیح ابن خزیمۃ محمدبن اسحاق ابن خزیمۃ ۳۱۱
۱۳۹۔ الصراح ابوفضل محمدبن عمربن خالدالقرشی تقریبا ۶۹۰
ط
۱۴۰۔ الطحطاوی علی الدر سیداحمدالطحطاوی ۱۳۰۲
۱۴۱۔ الطحطاوی علی المراقی سیداحمدالطحطاوی ۱۳۰۲
۱۴۲۔ الطریقۃ المحمدیۃ محمدبن ببرعلی المروف ببرکلی ۹۸۱
۱۴۳۔ طلبۃ الطلبۃ نجم الدین عمربن محمدالنسفی ۵۳۷
ع
۱۴۴۔ عمدۃ القاری علامہ بدرالدین ابی محمد محمودبن احمد العینی ۸۵۵
۱۴۵۔ العنایۃ اکمل الدین محمدبن محمدالبابرتی ۷۸۶
۱۴۶۔ عنایۃ القاضی شہاب الدین الخفاجی ۱۰۶۹
۱۴۷۔ عیون المسائل ابواللیث نصربن محمدالسمرقندی ۳۷۸
۱۴۸۔ عقودالدریۃ محمدامین ابن عابدین لشامی ۱۲۵۲
۱۴۹۔ عدۃ کمال الدین محمدبن احمد الشہیر بطاشکبری ۱۰۳۰
۱۵۰۔
غ
۱۵۱۔ غایۃ البیان شیخ قوام الدین امیرکاتب ابن امیرالاتقانی ۷۵۸
۱۵۲۔ غررالاحکام قاضی محمدبن فراموزملاخسرو ۸۸۵
۱۵۳۔ غریب الحدیث ابوالحسن علی بن مغیرۃ البغدادی المعروف باثرم ۲۳۰
۱۵۴۔ غمزعیون البصائر احمدبن محمدالحموی المکی ۱۰۹۸
۱۵۵۔ غنیۃ ذوالاحکام حسن بن عمار بن علی الشرنبلالی ۱۰۶۹
۱۵۶۔ غنیۃ المستملی محمدابراہیم بن محمدالحلبی ۹۵۶
ف
۱۵۷۔ فتح الباری شرح البخاری شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی ۸۵۲
۱۵۸۔ فتح القدیر کمال الدین محمد بن عبدالواحدبابن الہمام ۸۶۱
۱۵۹۔ فتاوی النسفی امام نجم الدین النسفی ۵۳۷
۱۶۰۔ فتاوی بزازیۃ محمدبن محمدبن شہاب ابن بزاز ۸۲۷
۱۶۱۔ فتاوی حجہ
۱۶۲۔ فتاوی خیریۃ علامہ خیرالدین بن احمد بن علی الرملی ۱۰۸۱
۱۶۳۔ فتاوی سراجیۃ سراج الدین علی بن عثمان الاوشی ۵۷۵
۱۶۴۔ فتاوی عطاء بن حمزہ عطاء بن حمزہ السغدی
۱۶۵۔ فتاوی غیاثیہ داؤدبن یوسف الخطیب الحنفی
۱۶۶۔ فتاوی قاضی خان حسن بن منصورقاضی خان ۵۹۲
۱۶۷۔ فتاوی ہندیہ جمعیت علماء اورنگ زیب عالمگیر
۱۶۸۔ فتاوی ظہیریۃ ظہیرالدین ابوبکر محمدبن احمد ۶۱۹
۱۶۹۔ فتاوی الولوالجیہ عبد الرشید بن ابی حنیفۃ الولوالجی ۵۴۰
۱۷۰۔ فتاوی الکبری امام صدرالشہید حسام الدین عمربن عبدالعزیز ۵۳۶
۱۷۱۔ فقہ الاکبر الامام الاعظم ابی حنیفۃ نعمان بن ثابت الکوفی ۱۵۰
۱۷۲۔ فتح المعین سیدمحمد ابی السعود الحنفی
۱۵۱۔ غایۃ البیان شیخ قوام الدین امیرکاتب ابن امیرالاتقانی ۷۵۸
۱۵۲۔ غررالاحکام قاضی محمدبن فراموزملاخسرو ۸۸۵
۱۵۳۔ غریب الحدیث ابوالحسن علی بن مغیرۃ البغدادی المعروف باثرم ۲۳۰
۱۵۴۔ غمزعیون البصائر احمدبن محمدالحموی المکی ۱۰۹۸
۱۵۵۔ غنیۃ ذوالاحکام حسن بن عمار بن علی الشرنبلالی ۱۰۶۹
۱۵۶۔ غنیۃ المستملی محمدابراہیم بن محمدالحلبی ۹۵۶
ف
۱۵۷۔ فتح الباری شرح البخاری شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی ۸۵۲
۱۵۸۔ فتح القدیر کمال الدین محمد بن عبدالواحدبابن الہمام ۸۶۱
۱۵۹۔ فتاوی النسفی امام نجم الدین النسفی ۵۳۷
۱۶۰۔ فتاوی بزازیۃ محمدبن محمدبن شہاب ابن بزاز ۸۲۷
۱۶۱۔ فتاوی حجہ
۱۶۲۔ فتاوی خیریۃ علامہ خیرالدین بن احمد بن علی الرملی ۱۰۸۱
۱۶۳۔ فتاوی سراجیۃ سراج الدین علی بن عثمان الاوشی ۵۷۵
۱۶۴۔ فتاوی عطاء بن حمزہ عطاء بن حمزہ السغدی
۱۶۵۔ فتاوی غیاثیہ داؤدبن یوسف الخطیب الحنفی
۱۶۶۔ فتاوی قاضی خان حسن بن منصورقاضی خان ۵۹۲
۱۶۷۔ فتاوی ہندیہ جمعیت علماء اورنگ زیب عالمگیر
۱۶۸۔ فتاوی ظہیریۃ ظہیرالدین ابوبکر محمدبن احمد ۶۱۹
۱۶۹۔ فتاوی الولوالجیہ عبد الرشید بن ابی حنیفۃ الولوالجی ۵۴۰
۱۷۰۔ فتاوی الکبری امام صدرالشہید حسام الدین عمربن عبدالعزیز ۵۳۶
۱۷۱۔ فقہ الاکبر الامام الاعظم ابی حنیفۃ نعمان بن ثابت الکوفی ۱۵۰
۱۷۲۔ فتح المعین سیدمحمد ابی السعود الحنفی
۱۷۳۔ فتح المعین شرح قرۃ العین زین الدین بن علی بن احمد الشافعی ۹۲۸
۱۷۴۔ الفتوحات المکیۃ محی الدین محمد بن علی ابن عربی ۶۳۸
۱۷۵۔ فواتح الرحموت عبدالعلی محمد بن نظام الدین الکندی ۱۲۲۵
۱۷۶۔ الفوائد تمام بن محمد بن عبداللہ البجلی ۴۱۴
۱۷۷۔ فوائد المخصصۃ محمد امین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۱۷۸۔ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر عبدالرؤف المناوی ۱۰۳۱
۱۷۹۔ فوائدسمویۃ اسمعیل بن عبداللہ الملقب بسمویۃ ۲۶۷
ق
۱۸۰۔ القاموس محمدبن یعقوب الفیروزآبادی ۸۱۷
۱۸۱۔ قرۃ العین علامہ زین الدین بن علی الملیباری ۹۲۸
۱۸۲۔ القنیۃ نجم الدین مختاربن محمدالزاہدی ۶۵۸
۱۸۳۔ القرآن
ک
۱۸۴۔ الکافی فی الفروع حاکم شہید محمدبن محمد ۳۳۴
۱۸۵۔ الکامل لابن عدی ابواحمد عبداللہ بن عدی ۳۶۵
۱۸۶۔ الکبریت الاحمر سیدعبدالوہاب الشعرانی ۹۷۳
۱۸۷۔ کتاب الآثار امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
۱۸۸۔ کتاب الآثار امام ابویوسف یعقوب بن ابراہیم الانصاری ۱۸۲
۱۸۹۔ کتاب الالمام فی آداب دخول الحمام ابوالمحاس محمدبن علی
۱۹۰۔ کتاب السواک ابونعیم احمدبن عبداللہ ۴۳۰
۱۹۱۔ کتاب الہدیۃ لابن عماد عبدالرحمن بن محمد عماد الدین بن محمدالعمادی ۱۰۵۰
۱۹۲۔ کتاب الطہور لابی عبید
۱۹۳۔ کتاب العلل علی ابواب الفقہ ابومحمدعبدالرحمن ابن ابی حاتم محمدالرازی ۳۲۷
۱۹۴۔ کتاب الاصل امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
۱۹۵۔ کتاب الوسوسۃ ابوبکربن ابی داؤد
۱۷۴۔ الفتوحات المکیۃ محی الدین محمد بن علی ابن عربی ۶۳۸
۱۷۵۔ فواتح الرحموت عبدالعلی محمد بن نظام الدین الکندی ۱۲۲۵
۱۷۶۔ الفوائد تمام بن محمد بن عبداللہ البجلی ۴۱۴
۱۷۷۔ فوائد المخصصۃ محمد امین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۱۷۸۔ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر عبدالرؤف المناوی ۱۰۳۱
۱۷۹۔ فوائدسمویۃ اسمعیل بن عبداللہ الملقب بسمویۃ ۲۶۷
ق
۱۸۰۔ القاموس محمدبن یعقوب الفیروزآبادی ۸۱۷
۱۸۱۔ قرۃ العین علامہ زین الدین بن علی الملیباری ۹۲۸
۱۸۲۔ القنیۃ نجم الدین مختاربن محمدالزاہدی ۶۵۸
۱۸۳۔ القرآن
ک
۱۸۴۔ الکافی فی الفروع حاکم شہید محمدبن محمد ۳۳۴
۱۸۵۔ الکامل لابن عدی ابواحمد عبداللہ بن عدی ۳۶۵
۱۸۶۔ الکبریت الاحمر سیدعبدالوہاب الشعرانی ۹۷۳
۱۸۷۔ کتاب الآثار امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
۱۸۸۔ کتاب الآثار امام ابویوسف یعقوب بن ابراہیم الانصاری ۱۸۲
۱۸۹۔ کتاب الالمام فی آداب دخول الحمام ابوالمحاس محمدبن علی
۱۹۰۔ کتاب السواک ابونعیم احمدبن عبداللہ ۴۳۰
۱۹۱۔ کتاب الہدیۃ لابن عماد عبدالرحمن بن محمد عماد الدین بن محمدالعمادی ۱۰۵۰
۱۹۲۔ کتاب الطہور لابی عبید
۱۹۳۔ کتاب العلل علی ابواب الفقہ ابومحمدعبدالرحمن ابن ابی حاتم محمدالرازی ۳۲۷
۱۹۴۔ کتاب الاصل امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
۱۹۵۔ کتاب الوسوسۃ ابوبکربن ابی داؤد
۱۹۶۔ کشف الاسرار علاء الدین عبدالعزیز بن احمدالبخاری ۷۳۰
۱۹۷۔ کشف الرمز علامۃ المقدسی
۱۹۸۔ کشف الاستارعن زوائدالبزار امین الدین عبدالوہاب بن وہبان الدمشقی ۷۶۸
۱۹۹۔ کنزالعمال علاء الدین علی المتقی بن حسام الدین ۹۷۵
۲۰۰۔ الکفایۃ جلال الدین بن شمس الدین الخوارزمی تقریبا ۸۰۰
۲۰۱۔ کف الرعاع شہاب الدین احمدبن حجرالمکی ۹۷۳
۲۰۲۔ کنزالدقائق عبداللہ بن احمدبن محمود ۷۱۰
۲۰۳۔ الکنی للحاکم ابوعبداللہ الحاکم ۴۰۵
۲۰۴۔ الکواکب الدراری شمس الدین محمدبن یوسف الشافعی الکرمانی ۷۸۶
۲۰۵۔ کتاب الجرح والتعدیل محمدبن حبان التمیمی ۳۵۴
۲۰۶۔ کتاب المغازی یحیی بن سعید القطان ۱۹۸
۲۰۷۔ کتاب الصمت عبداللہ بن محمدابن ابی الدنیاالقرشی ۲۸۱
۲۰۸۔ کتاب الزہد عبداللہ بن مبارک ۱۸۰
۲۰۹۔ الکشاف عن حقائق التنزیل جاراللہ محمود بن عمرالزمحشری ۵۳۸
ل
۲۱۰۔ لمعات التنقیح علامہ شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی ۱۰۵۲
۲۱۱۔ لقط المرجان فی اخبارالجان علامہ جلال الدین عبدالرحمن بن محمدالسیوطی ۹۱۱
م
۲۱۲۔ مبارق الازہار الشیخ عبداللطیف بن عبدالعزیز ابن الملک ۸۰۱
۲۱۳۔ مبسوط خواہرزادہ بکرخواہرزادہ محمد بن حسن البخاری الحنفی ۴۸۳
۲۱۴۔ مبسوط السرخسی شمس الائمۃ محمد بن احمد السرخسی ۴۸۳
۲۱۵۔ مجری الانہر شرح ملتقی الابحر نورالدین علی الباقانی تقریبا ۹۹۵
۲۱۶۔ مجمع بحارالانوار محمدطاہرالصدیقی ۹۸۱
۲۱۷۔ مجموع النوازل احمدبن موسی بن عیسی ۵۵۰
۲۱۸۔ مجمع الانہر الشیخ عبداللہ بن محمد بن سلیمان المعروف بدامادآفندی ۱۰۷۸
۱۹۷۔ کشف الرمز علامۃ المقدسی
۱۹۸۔ کشف الاستارعن زوائدالبزار امین الدین عبدالوہاب بن وہبان الدمشقی ۷۶۸
۱۹۹۔ کنزالعمال علاء الدین علی المتقی بن حسام الدین ۹۷۵
۲۰۰۔ الکفایۃ جلال الدین بن شمس الدین الخوارزمی تقریبا ۸۰۰
۲۰۱۔ کف الرعاع شہاب الدین احمدبن حجرالمکی ۹۷۳
۲۰۲۔ کنزالدقائق عبداللہ بن احمدبن محمود ۷۱۰
۲۰۳۔ الکنی للحاکم ابوعبداللہ الحاکم ۴۰۵
۲۰۴۔ الکواکب الدراری شمس الدین محمدبن یوسف الشافعی الکرمانی ۷۸۶
۲۰۵۔ کتاب الجرح والتعدیل محمدبن حبان التمیمی ۳۵۴
۲۰۶۔ کتاب المغازی یحیی بن سعید القطان ۱۹۸
۲۰۷۔ کتاب الصمت عبداللہ بن محمدابن ابی الدنیاالقرشی ۲۸۱
۲۰۸۔ کتاب الزہد عبداللہ بن مبارک ۱۸۰
۲۰۹۔ الکشاف عن حقائق التنزیل جاراللہ محمود بن عمرالزمحشری ۵۳۸
ل
۲۱۰۔ لمعات التنقیح علامہ شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی ۱۰۵۲
۲۱۱۔ لقط المرجان فی اخبارالجان علامہ جلال الدین عبدالرحمن بن محمدالسیوطی ۹۱۱
م
۲۱۲۔ مبارق الازہار الشیخ عبداللطیف بن عبدالعزیز ابن الملک ۸۰۱
۲۱۳۔ مبسوط خواہرزادہ بکرخواہرزادہ محمد بن حسن البخاری الحنفی ۴۸۳
۲۱۴۔ مبسوط السرخسی شمس الائمۃ محمد بن احمد السرخسی ۴۸۳
۲۱۵۔ مجری الانہر شرح ملتقی الابحر نورالدین علی الباقانی تقریبا ۹۹۵
۲۱۶۔ مجمع بحارالانوار محمدطاہرالصدیقی ۹۸۱
۲۱۷۔ مجموع النوازل احمدبن موسی بن عیسی ۵۵۰
۲۱۸۔ مجمع الانہر الشیخ عبداللہ بن محمد بن سلیمان المعروف بدامادآفندی ۱۰۷۸
۲۱۹۔ المحیط البرہانی امام برہان الدین محمود بن تاج الدین ۶۱۶
۲۲۰۔ المحیط الرضوی رضی الدین محمد بن محمد السرخسی ۶۷۱
۲۲۱۔ مختارات النوازل برہان الدین علی بن ابی بکرالمرغینانی ۵۹۳
۲۲۲۔ مختارالصحاح محمدبن ابی بکر عبدالقادرالرازی ۶۶۰
۲۲۳۔ المختارۃ فی الحدیث ضیاء الدین محمد بن عبدالواحد ۶۴۳
۲۲۴۔ المختصر علامہ جلال الدین السیوطی ۹۱۱
۲۲۵۔ مدخل الشرع الشریف ابن الحاج ابی عبداللہ محمد بن محمد العبدری ۷۳۷
۲۲۶۔ مراقی الفلاح بامدادالفتاح شرح نورالایضاح حسن بن عماربن علی الشرنبلالی ۱۰۶۹
۲۲۷۔ مرقات شرح مشکوۃ علی بن سلطان ملاعلی قاری ۱۰۱۴
۲۲۸۔ مرقات الصعود علامہ جلال الدین السیوطی ۹۱۱
۲۲۹۔ مستخلص الحقائق ابراہیم بن محمد الحنفی
۲۳۰۔ المستدرک للحاکم ابوعبداللہ الحاکم ۴۰۵
۲۳۱۔ المستصفی حافظ الدین عبداللہ بن احمد النسفی ۷۱۰
۲۳۲۔ مسلم الثبوت محب اللہ البہاری ۱۱۱۹
۲۳۳۔ مسند ابی داؤد سلیمان بن داؤد الطیالسی ۲۰۴
۲۳۴۔ مسند ابی یعلی احمد بن علی الموصلی ۳۰۷
۲۳۵۔ مسند اسحق ابن راہویۃ حافظ اسحق ابن راہویۃ ۲۳۸
۲۳۶۔ مسند الامام احمد بن حنبل امام احمد بن محمد بن حنبل ۲۴۱
۲۳۷۔ مسندالبزار ابوبکراحمد بن عمروبن عبدالخالق البزار ۲۹۲
۲۳۸۔ مسند عبدبن حمید ابومحمد عبدبن محمد حمید الکشی ۲۹۴
۲۳۹۔ مسند الفردوس شہرداربن شیرویہ الدیلمی ۵۵۸
۲۴۰۔ مصباح المنیر احمد بن محمدبن علی ۷۷۰
۲۴۱۔ المصفی حافظ الدین عبداللہ بن احمدالنسفی ۷۱۰
۲۴۲۔ مصنف ابن ابی شیبۃ ابوبکرعبداللہ بن محمداحمدالنسفی ۲۳۵
۲۴۳۔ مصنف عبدالرزاق ابوبکرعبدالرزاق بن ہمام الصنعانی ۲۱۱
۲۴۴۔ مصباح الدجی امام حسن بن محمد الصغانی الہندی ۶۵۰
۲۲۰۔ المحیط الرضوی رضی الدین محمد بن محمد السرخسی ۶۷۱
۲۲۱۔ مختارات النوازل برہان الدین علی بن ابی بکرالمرغینانی ۵۹۳
۲۲۲۔ مختارالصحاح محمدبن ابی بکر عبدالقادرالرازی ۶۶۰
۲۲۳۔ المختارۃ فی الحدیث ضیاء الدین محمد بن عبدالواحد ۶۴۳
۲۲۴۔ المختصر علامہ جلال الدین السیوطی ۹۱۱
۲۲۵۔ مدخل الشرع الشریف ابن الحاج ابی عبداللہ محمد بن محمد العبدری ۷۳۷
۲۲۶۔ مراقی الفلاح بامدادالفتاح شرح نورالایضاح حسن بن عماربن علی الشرنبلالی ۱۰۶۹
۲۲۷۔ مرقات شرح مشکوۃ علی بن سلطان ملاعلی قاری ۱۰۱۴
۲۲۸۔ مرقات الصعود علامہ جلال الدین السیوطی ۹۱۱
۲۲۹۔ مستخلص الحقائق ابراہیم بن محمد الحنفی
۲۳۰۔ المستدرک للحاکم ابوعبداللہ الحاکم ۴۰۵
۲۳۱۔ المستصفی حافظ الدین عبداللہ بن احمد النسفی ۷۱۰
۲۳۲۔ مسلم الثبوت محب اللہ البہاری ۱۱۱۹
۲۳۳۔ مسند ابی داؤد سلیمان بن داؤد الطیالسی ۲۰۴
۲۳۴۔ مسند ابی یعلی احمد بن علی الموصلی ۳۰۷
۲۳۵۔ مسند اسحق ابن راہویۃ حافظ اسحق ابن راہویۃ ۲۳۸
۲۳۶۔ مسند الامام احمد بن حنبل امام احمد بن محمد بن حنبل ۲۴۱
۲۳۷۔ مسندالبزار ابوبکراحمد بن عمروبن عبدالخالق البزار ۲۹۲
۲۳۸۔ مسند عبدبن حمید ابومحمد عبدبن محمد حمید الکشی ۲۹۴
۲۳۹۔ مسند الفردوس شہرداربن شیرویہ الدیلمی ۵۵۸
۲۴۰۔ مصباح المنیر احمد بن محمدبن علی ۷۷۰
۲۴۱۔ المصفی حافظ الدین عبداللہ بن احمدالنسفی ۷۱۰
۲۴۲۔ مصنف ابن ابی شیبۃ ابوبکرعبداللہ بن محمداحمدالنسفی ۲۳۵
۲۴۳۔ مصنف عبدالرزاق ابوبکرعبدالرزاق بن ہمام الصنعانی ۲۱۱
۲۴۴۔ مصباح الدجی امام حسن بن محمد الصغانی الہندی ۶۵۰
۲۴۵۔ معرفۃ الصحابۃ ابونعیم احمدبن عبداللہ الاصبہانی ۴۳۰
۲۴۶۔ المعجم الاوسط سلیمان بن احمد الطبرانی ۳۶۰
۲۴۷۔ المعجم الصغیر سلیمان بن احمد الطبرانی ۳۶۰
۲۴۸۔ المعجم الکبیر سلیمان بن احمد الطبرانی ۳۶۰
۲۴۹۔ معراج الدرایۃ قوام الدین محمد بن محمد البخاری ۷۴۹
۲۵۰۔ مشکوۃ المصابیح شیخ ولی الدین العراقی ۷۴۲
۲۵۱۔ المغنی فی الاصول شیخ عمربن محمدالخبازی الحنفی ۶۹۱
۲۵۲۔ المغرب ابوالفتح ناصربن عبدالسید المطرزی ۶۱۰
۲۵۳۔ مختصرالقدوری ابوالحسین احمد بن محمد القدوری الحنفی ۴۲۸
۲۵۴۔ مفاتیح الجنان یعقوب بن سیدی علی ۹۳۱
۲۵۵۔ المفردات للامام راغب حسین بن محمد بن مفضل الاصفہانی ۵۰۲
۲۵۶۔ المقدمۃ العشماویۃ ابوالعباس عبدالباری العشماوی المالکی
۲۵۷۔ الملتقط(فی فتاوی ناصری) ناصرالدین محمد بن یوسف الحسینی ۵۵۶
۲۵۸۔ مجمع الزوائد نورالدین علی بن ابی بکرالہیتمی ۸۰۷
۲۵۹۔ مناقب الکردری محمد بن محمدبن شہاب ابن بزاز ۸۲۷
۲۶۰۔ المنتقی(فی الحدیث) عبداللہ بن علی ابن جارود ۳۰۷
۲۶۱۔ المنتقی فی فروع الحنیفہ الحاکم الشہیرمحمدبن محمدبن احمد ۳۳۴
۲۶۲۔ منحۃ الخالق محمد امین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۲۶۳۔ منح الغفار محمد بن عبداللہ التمرتاشی ۱۰۰۴
۲۶۴۔ ملتقی الابحر امام ابراہیم بن محمد الحلبی ۹۵۶
۲۶۵۔ منہاج شیخ ابوزکریا یحیی بن شرف النووی ۶۷۶
۲۶۶۔ مجمع البحرین مظفرالدین احمدبن علی بن ثعلب الحنفی ۶۹۴
۲۶۷۔ المبتغی شیخ عیسی بن محمد ابن ایناج الحنفی
۲۶۸۔ المبسوط عبدالعزی بن احمد الحلوانی ۴۵۶
۲۶۹۔ مسند فی الحدیث الحافظ ابوالفتح نصربن ابراہیم الہروی ۵۱۰
۲۴۶۔ المعجم الاوسط سلیمان بن احمد الطبرانی ۳۶۰
۲۴۷۔ المعجم الصغیر سلیمان بن احمد الطبرانی ۳۶۰
۲۴۸۔ المعجم الکبیر سلیمان بن احمد الطبرانی ۳۶۰
۲۴۹۔ معراج الدرایۃ قوام الدین محمد بن محمد البخاری ۷۴۹
۲۵۰۔ مشکوۃ المصابیح شیخ ولی الدین العراقی ۷۴۲
۲۵۱۔ المغنی فی الاصول شیخ عمربن محمدالخبازی الحنفی ۶۹۱
۲۵۲۔ المغرب ابوالفتح ناصربن عبدالسید المطرزی ۶۱۰
۲۵۳۔ مختصرالقدوری ابوالحسین احمد بن محمد القدوری الحنفی ۴۲۸
۲۵۴۔ مفاتیح الجنان یعقوب بن سیدی علی ۹۳۱
۲۵۵۔ المفردات للامام راغب حسین بن محمد بن مفضل الاصفہانی ۵۰۲
۲۵۶۔ المقدمۃ العشماویۃ ابوالعباس عبدالباری العشماوی المالکی
۲۵۷۔ الملتقط(فی فتاوی ناصری) ناصرالدین محمد بن یوسف الحسینی ۵۵۶
۲۵۸۔ مجمع الزوائد نورالدین علی بن ابی بکرالہیتمی ۸۰۷
۲۵۹۔ مناقب الکردری محمد بن محمدبن شہاب ابن بزاز ۸۲۷
۲۶۰۔ المنتقی(فی الحدیث) عبداللہ بن علی ابن جارود ۳۰۷
۲۶۱۔ المنتقی فی فروع الحنیفہ الحاکم الشہیرمحمدبن محمدبن احمد ۳۳۴
۲۶۲۔ منحۃ الخالق محمد امین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۲۶۳۔ منح الغفار محمد بن عبداللہ التمرتاشی ۱۰۰۴
۲۶۴۔ ملتقی الابحر امام ابراہیم بن محمد الحلبی ۹۵۶
۲۶۵۔ منہاج شیخ ابوزکریا یحیی بن شرف النووی ۶۷۶
۲۶۶۔ مجمع البحرین مظفرالدین احمدبن علی بن ثعلب الحنفی ۶۹۴
۲۶۷۔ المبتغی شیخ عیسی بن محمد ابن ایناج الحنفی
۲۶۸۔ المبسوط عبدالعزی بن احمد الحلوانی ۴۵۶
۲۶۹۔ مسند فی الحدیث الحافظ ابوالفتح نصربن ابراہیم الہروی ۵۱۰
۲۷۰۔ المسند الکبیر یعقوب بن شیبۃ السدوسی ۲۶۲
۲۷۱۔ منیۃ المصلی سدید الدین محمد بن محمد الکاشغری ۷۰۵
۲۷۲۔ موطاامام مالک امام مالک بن انس المدنی ۱۷۹
۲۷۳۔ مواردالظمأن نورالدین علی بن ابی بکرالہیثمی ۸۰۷
۲۷۴۔ مشکلات احمدبن مظفرالرازی ۶۴۲
۲۷۵۔ مہذب ابی اسحق ابن محمد الشافعی ۴۷۶
۲۷۶۔ میزان الشریعۃ الکبری عبدالوہاب الشعرانی ۹۷۳
۲۷۷۔ میزان الاعتدال محمدبن احمدالذہبی ۷۴۸
۲۷۸۔ المستخرج علی الصحیح البخاری احمدبن موسی ابن مردویۃ ۴۱۰
۲۷۹۔ مکارم اخلاق محمدبن جعفر الخرائطی ۳۲۷
ن
۲۸۰۔ النقایۃ مختصرالوقایۃ عبداللہ بن مسعود ۷۴۵
۲۸۱۔ نصب الرایۃ ابومحمد عبداللہ بن یوسف الحنفی الزیلعی ۷۶۲
۲۸۲۔ نورالایضاح حسن بن عماربن علی الشرنبلالی ۱۰۶۹
۲۸۳۔ النہایۃ حسام الدین حسین بن علی السغناقی ۷۱۱
۲۸۴۔ النہایۃ لابن اثیر مجدالدین مبارک بن محمدالجزری ابن اثیر ۶۰۶
۲۸۵۔ النہرالفائق عمربن نجیم المصری ۱۰۰۵
۲۸۶۔ نوادرفی الفقہ ہشام بن عبیداللہ المازنی الحنفی ۲۰۱
۲۸۷۔ نورالعین محمدبن احمدالمعروف بنشانجی زادہ ۱۰۳۱
۲۸۸۔ النوازل فی الفروع ابواللیث نصربن محمدبن ابراہیم السمرقندی ۳۷۶
۲۸۹۔ نوادرالاصول فی معرفۃ اخبارالرسول ابوعبداللہ محمدبن علی الحکیم الترمذی ۲۵۵
۲۷۱۔ منیۃ المصلی سدید الدین محمد بن محمد الکاشغری ۷۰۵
۲۷۲۔ موطاامام مالک امام مالک بن انس المدنی ۱۷۹
۲۷۳۔ مواردالظمأن نورالدین علی بن ابی بکرالہیثمی ۸۰۷
۲۷۴۔ مشکلات احمدبن مظفرالرازی ۶۴۲
۲۷۵۔ مہذب ابی اسحق ابن محمد الشافعی ۴۷۶
۲۷۶۔ میزان الشریعۃ الکبری عبدالوہاب الشعرانی ۹۷۳
۲۷۷۔ میزان الاعتدال محمدبن احمدالذہبی ۷۴۸
۲۷۸۔ المستخرج علی الصحیح البخاری احمدبن موسی ابن مردویۃ ۴۱۰
۲۷۹۔ مکارم اخلاق محمدبن جعفر الخرائطی ۳۲۷
ن
۲۸۰۔ النقایۃ مختصرالوقایۃ عبداللہ بن مسعود ۷۴۵
۲۸۱۔ نصب الرایۃ ابومحمد عبداللہ بن یوسف الحنفی الزیلعی ۷۶۲
۲۸۲۔ نورالایضاح حسن بن عماربن علی الشرنبلالی ۱۰۶۹
۲۸۳۔ النہایۃ حسام الدین حسین بن علی السغناقی ۷۱۱
۲۸۴۔ النہایۃ لابن اثیر مجدالدین مبارک بن محمدالجزری ابن اثیر ۶۰۶
۲۸۵۔ النہرالفائق عمربن نجیم المصری ۱۰۰۵
۲۸۶۔ نوادرفی الفقہ ہشام بن عبیداللہ المازنی الحنفی ۲۰۱
۲۸۷۔ نورالعین محمدبن احمدالمعروف بنشانجی زادہ ۱۰۳۱
۲۸۸۔ النوازل فی الفروع ابواللیث نصربن محمدبن ابراہیم السمرقندی ۳۷۶
۲۸۹۔ نوادرالاصول فی معرفۃ اخبارالرسول ابوعبداللہ محمدبن علی الحکیم الترمذی ۲۵۵
و
۲۹۰۔ الوافی فی الفروع عبداللہ بن احمدالنسفی ۷۱۰
۲۹۱۔ الوجیزفی الفروع ابوحامد محمدبن محمدالغزالی ۵۰۵
۲۹۲۔ الوقایۃ محمودبن صدرالشریعۃ ۶۷۳
۲۹۳۔ الوسیط فی الفروع ابی حامد محمد بن محمدالغزالی ۵۰۵
ھ
۲۹۴۔ الہدایۃ فی شرح البدایۃ برہان الدین علی بن ابی بکر المرغینانی ۵۹۳
ی
۲۹۵۔ الیواقیت والجوھر سیدعبدالوہاب الشعرانی ۹۷۳
۲۹۶۔ ینابیع فی معرفۃ الاصول ابی عبداللہ محمدابن رمضان الرومی ۷۶۹
__________________
۲۹۰۔ الوافی فی الفروع عبداللہ بن احمدالنسفی ۷۱۰
۲۹۱۔ الوجیزفی الفروع ابوحامد محمدبن محمدالغزالی ۵۰۵
۲۹۲۔ الوقایۃ محمودبن صدرالشریعۃ ۶۷۳
۲۹۳۔ الوسیط فی الفروع ابی حامد محمد بن محمدالغزالی ۵۰۵
ھ
۲۹۴۔ الہدایۃ فی شرح البدایۃ برہان الدین علی بن ابی بکر المرغینانی ۵۹۳
ی
۲۹۵۔ الیواقیت والجوھر سیدعبدالوہاب الشعرانی ۹۷۳
۲۹۶۔ ینابیع فی معرفۃ الاصول ابی عبداللہ محمدابن رمضان الرومی ۷۶۹
__________________
اسی میں ہے :
یعملون لہ مایشاء من محاریب کان مماعملوا لہ بیت المقدس ابتدأہ داؤد علیہ الصلوۃ والسلام فلما توفاہ الله تعالی استخلف سلیمن علیہ الصلوۃ والسلام فبنی المسجد بالرخام والجواھر واللالیئ والیواقیت فلم یزل بیت المقدس علی مابناہ سلیمن علیہ الصلوۃ والسلام حتی غزاہ بخت نصر فخرب المدینۃ ونقض المسجد اھ ملتقطا۔
(بناتے تھے اس کے لئے جو وہ چاہتا تھا یعنی محراب وغیرہ) جنوں نے جو کچھ ان کے لئے بنایا ان میں ایك بیت المقدس بھی تھی جس کی ابتداء داؤد علیہ السلام نے کی تھی ان کی وفات کے بعد سلیمان علیہ السلام ان کے جانشین ہوئے تو انہوں نے مسجد کو سنگ رخام ہیروں موتیوں اور یاقوتوں سے بنوایا یہ مسجد مدتوں اسی طرح برقرار رہی جس طرح سلیمان علیہ السلام نے بنوائی تھی تا آنکہ بخت نصر اس پر حملہ آور ہوا اس نے شہر برباد کردیا اور مسجد گرادی اھ ملتقطا (ت)
بخلاف قول چہارم کہ اس کی کسی بات پر اعتراض نہیں تو ظاہرا وہی مرجح وقرین قیاس اور حقیقت حال کا علم مولی سبحنہ کے پاس والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم۔
_________________
یعملون لہ مایشاء من محاریب کان مماعملوا لہ بیت المقدس ابتدأہ داؤد علیہ الصلوۃ والسلام فلما توفاہ الله تعالی استخلف سلیمن علیہ الصلوۃ والسلام فبنی المسجد بالرخام والجواھر واللالیئ والیواقیت فلم یزل بیت المقدس علی مابناہ سلیمن علیہ الصلوۃ والسلام حتی غزاہ بخت نصر فخرب المدینۃ ونقض المسجد اھ ملتقطا۔
(بناتے تھے اس کے لئے جو وہ چاہتا تھا یعنی محراب وغیرہ) جنوں نے جو کچھ ان کے لئے بنایا ان میں ایك بیت المقدس بھی تھی جس کی ابتداء داؤد علیہ السلام نے کی تھی ان کی وفات کے بعد سلیمان علیہ السلام ان کے جانشین ہوئے تو انہوں نے مسجد کو سنگ رخام ہیروں موتیوں اور یاقوتوں سے بنوایا یہ مسجد مدتوں اسی طرح برقرار رہی جس طرح سلیمان علیہ السلام نے بنوائی تھی تا آنکہ بخت نصر اس پر حملہ آور ہوا اس نے شہر برباد کردیا اور مسجد گرادی اھ ملتقطا (ت)
بخلاف قول چہارم کہ اس کی کسی بات پر اعتراض نہیں تو ظاہرا وہی مرجح وقرین قیاس اور حقیقت حال کا علم مولی سبحنہ کے پاس والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم۔
_________________







