Fatawa Razaviah Volume 6 in Typed Format

#3100 · پیش لفظ
پیش لفظ
مارچ ۱۹۸۸ء میں رضافاؤنڈیشن کے زیراہتمام فتاوی رضویہ کی جدید اشاعت کے جس عظیم الشان منصوبے کاآغاز ہواتھا اس میں تخریج حوالہ جات عربی وفارسی عبارات کے ترجمہ اور پیرابندی کاالتزام کیاگیاتھا یہ کوئی آسان کام نہ تھا کیونکہ اس میں مندرجہ ذیل کٹھن اور دشوارمراحل سے گزرنا لازمی تھا
(۱) ایک ایسی لائبریری کاقیام جس میں مصنف کی ذکرکردہ تمام کتب موجود ہوں ۔
(۲) تخریج حوالہ جات کے لئے بعض نایاب مخطوطات کی تلاش۔
(۳) ایسے اہل علم حضرات کی کمیٹی کاقیام جو نہایت محنت سے کتب کی چھان بین کرکے تخریج حوالہ جات کاکام سرانجام دے سکیں ۔
(۴) ان حضرات کی کفالت کاانتظام وانصرام۔
(۵) ترجمہ کے لئے ایسے اہل علم حضرات سے رابطہ جونہ صرف عربی فارسی اور اردو زبان میں کامل مہارت اور علوم نقلیہ وعقلیہ میں وسیع نظررکھتے ہوں بلکہ مصنف کے مزاج شناس بھی ہوں ۔
(۶) ایسے خوشنویس کی تلاش جوعربی فارسی اور اردو صرف لکھنا ہی نہ جانتاہو بلکہ اس فن کااستاذ ہو۔
(۷) ان ہزارہاصفحات کی کتابت کے بعد اس کی پروف ریڈنگ کے لئے محنتی اور مخلص افراد کی تلاش۔
رضافاؤنڈیشن کے سربراہ اور ان کے معاونین لائق صد تبریک ہیں کہ اﷲ تعالی کے فضل وکرم اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی عنایت وشفقت سے انہوں نے ان مراحل کوعظیم استقامت کے ساتھ عبورکیااور انتہائی قلیل عرصے میں فتاوی رضویہ (جدید) کی چھ جلدیں پیش کرنے میں کامیاب ہوگئے جبکہ ساتویں جلد زیرکتابت ہے۔
#3101 · فتاوٰی رضویہ جلد ششم
فتاوی رضویہ جلد ششم
یہ جلد فتاوی رضویہ جلدسوم قدیم کے آغاز سے لے کر باب الامامۃ کے آخر تک ۴۵۷ سوالوں کے جوابات پرمشتمل ہے اور بے شمار ضمنی فوائدنافعہ کے علاوہ چا۴رمستقل ابواب کومحیط ہے :
(۱) باب شروط الصلوۃ
(۲)صفۃ الصلوۃ
(۳) باب القرأۃ
(۴) باب الامامۃ
اس میں یہ چارانمول قیمتی رسائل ہیں :
(۱) ھدایۃ المتعال فی حدالاستقبال(۱۳۲۴ھ)
سمت قبلہ کے بیان میں
(۲) نعم الزاد لروم الضاد(۱۳۱۷ھ)
حرف ضاد کی تحقیق
(۳) الجام الصاد عن سنن الضاد (۱۳۱۷ھ)
حرف ضاد کے احکام اور اس کے ادا کرنے کاطریقہ
(۴) النھی الاکید عن الصلوۃ وراء عدی التقلید (۱۳۰۵ھ)
غیرمقلدین کے پیچھے نمازناجائز ہونے کابیان
ف : مندرجہ ذیل رسائل دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے کتاب میں شامل نہ ہوسکے :
(۱) الطرۃ فی سترالعورۃ
(۲) ازین کافل بحکم القعدۃ فی المکتوبۃ والنوافل
(۳) جمال الاجمال لتوقیف حکم الصلوۃ فی النعال
پروفیسر ڈاکٹرظہوراحمد اظہر صاحب چیئرمین شعبہ عربی پنجاب یونیورسٹی کامعلوماتی مقالہ “ فتاوی رضویہ کی علمی قدروقیمت “ جو ۲۷ / اکتوبر ۱۹۹۳ء کو آواری ہوٹل لاہور میں فتاوی رضویہ کی ایک تعارفی تقریب
کے موقع پرپڑھاگیا مقالہ کی علمی اہمیت کے پیش نظر جلدششم میں شامل کیاجارہاہے۔
الحمد ﷲ اس حصہ کی عربی وفارسی عبارات کاترجمہ کرنے کی سعادت اس حقیر کوحاصل ہوئی ہے
#3102 · فتاوٰی رضویہ جلد ششم
جس پر اﷲ تعالی کی بارگاہ میں سجدہ شکربجالاتاہوں کہ اس نے تکمیل کی توفیق بخشی ان دنوں جلدہفتم کاترجمہ جاری ہے۔ قارئین سے التماس ہے کہ وہ اپنی قیمتی آراء سے نوازیں اور دعاکریں کہ اﷲ تعالی اپنے پیارے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے وسیلہ جلیلہ سے رضافاؤنڈیشن کو اس منصوبہ میں کامیاب فرمائے۔
یکم محرم الحرام ۱۴۱۴ھ ٭ احقر الانام محمدخاں قادری عفی عنہ
جامعہ اسلامیہ لاہور
#3103 · فتاوٰی رضویہ کی علمی قدر و قیمت
فتاوی رضویہ کی علمی قدر و قیمت
پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد اظہر چیئرمین شعبہ عربی پنجاب یونیورسٹی
اسلام میں فتوی نویسی ایک دینی فریضہ بھی ہے اور ایک مہتم بالشان فن بھی لیکن یہ فریضہ جتنا نازک اور اہم ہے یہ فن اسی قدر مشکل اور پیچیدہ ہے۔ کتاب اﷲ میں افتاء کے منصب کی نسبت اﷲ رب العزت سے بیان ہوئی ہے (قل الله یفتیكم) یہ بات بھی اہل علم سے پوشیدہ نہیں کہ فتوی افتاء اور مفتی کے الفاظ زبان نبوت پربھی جاری ہوئے اسی طرح عہدنبوی کے ساتھ ساتھ خلفائے راشدین کے عہدمبارک میں عطائے فتوی یاافتاء کامنصب بہت اہم اور اونچا منصب تھا تاریخ اسلام کے مختلف ادوار میں فتو ی نویسی یا افتاء اور مفتی کا منصب ہمیشہ نہایت اہم اور بلند متصورہوتارہا ہے لیکن یہ سب باتیں ایک اہم موضوع اور دلچسپ مطالعہ سہی مگران سب باتوں کی تفصیل کایہ موقع نہیں تاہم اس بات کی طرف ایک مختصراشارہ کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہوگا کہ گزشتہ بارہ تیرہ صدیوں کے دوران میں برعظیم پاک وہندوستان کے علمائے کرام نے فتوی نویسی کے میدان میں جو عظیم خدمات انجام دی ہیں اور منصب افتاء نے ملت اسلامیہ کوجو رہنمائی مہیاکی ہے وہ جہاں قابل قدر ہے وہاں باعث فخر بھی ہے۔
برعظیم پاک وہند ان اسلامی خطوں میں شامل رہاہے جہاں امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی فقہ کادوردورہ رہا یہاں کے علمائے حنفیہ نے فقہ اسلامی کی عظیم الشان خدمت انجام دی ہے۔ سیرت نبوی کی طرح علوم شریعت بھی اس خطے کے اہل علم کے نزدیک ایک مہتم بالشان اور نہایت مرغوب موضوع رہاہے۔ یہاں کے علماء نے علوم فقہیہ یعنی فقہ اصول فقہ اور فتاوی نویسی کے علاوہ شرعی علوم کے دیگربے شمار پہلوؤں کو اپنے مطالعہ و توجہ کامرکز بنائے رکھا۔ عربی فارسی اردو اور دیگر علاقائی زبانوں میں شرعی علوم کااتناوسیع ذخیرہ تیارکیاہے جو ملت کانہایت قیمتی سرمایہ ہے اور اس کااحاطہ کرنا کسی مورخ کے لئے آسان نہیں ہوگا۔ برعظیم پاک وہند کے اکابراحناف کے اس عظیم القدرعلمی وفقہی سرمایہ فخرمیں امام اہلسنت حضرت مولانا احمدرضاخان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے فتاوی العطایاالنبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ جو فتاوی رضویہ کے نام سے مشہور اور متداول ہیں بلاشبہ ایک منفرد اور قیمتی سرمایہ ہے۔
برعظیم جنوبی ایشیا یاپاک وہند کے علمائے اسلام نے فقہ اسلامی کے فتاوی کاجوعظیم القدر ذخیرہ
#3104 · فتاوٰی رضویہ کی علمی قدر و قیمت
عربی زبان میں مرتب کیاہے اس کی فہرست بہت طویل ہے اور اس میں تعددوتنوع بھی ہے اور اس میں حسن وخوبی کے عناصر بھی موجود ہیں ۔ اسی طرح اسلامی ہندکی سرکاری زبان فارسی ہونے کے باعث اس زبان میں بھی لاتعداد چھوٹے بڑے فتاوی مرتب ہوئے جن میں بہت سے ابھی تک زیورطباعت سے آراستہ بھی نہیں ہوسکے۔ یہی حال ان فتاوی کابھی ہے جواردو عربی یا اردوفارسی کاامتزاج پیش کرتے ہیں ۔ یہ ہماری بہت بڑی بدقسمتی ہے اور افسوس ناک کوتاہی کہ ہم اپنے بزرگوں کی میراث کوبھی نہیں سنبھال سکے۔ سب سے زیادہ افسوس اہل دولت وثروت مسلمانوں پرہے جواپنی دولت کا حقیرساحصہ بھی کارثواب سمجھ کر ہی وقف کرنے سے قاصر ہیں مگر اس سے کہیں زیادہ افسوس ان اہل علم پرہے جوابتدائی قدم اٹھانے یا عملی تحریک کرنے سے بھی عاجز ہیں ۔ علم کوسنبھالنے اور علمی میراث کومحفوظ کرنے کا اصل کام آخرمسلمان علماء کا ہے۔ یہ حضرات نہ صرف یہ کہ اس علمی ورثے کی نوک پلک درست کرکے مسلمان اہل دولت وثروت کوسرمایہ خرچ کرنے کی تحریک بھی پیداکرسکتے ہیں بلکہ وہ ان علمی کاوشوں پراضافے اور ترقی کاکام بھی انجام دے سکتے ہیں ۔ اس کی روشن مثال ہمارے دوست وکرم فرما حضرت مولانامفتی عبدالقیوم ہزاروی کی ہے۔ آپ بعض احباب کے مشورے اور تعاون سے لاہور میں “ رضافاؤنڈیشن “ جیساعظیم ادارہ قائم کرنے کی سعادت حاصل کرچکے ہیں جو “ فتاوی رضویہ “ کی طباعت واشاعت کافریضہ انجام دے رہاہے میں صمیم قلب سے حضرت مولانا کوہدیہ تبریک پیش کرتے ہوئے ان کی کامیابی کے لئے دعاگو ہوں مجھے یقین ہے کہ وہ اپنے اس نیک مقصدمیں ضرور کامیاب ہوں گے ان شاء اﷲ!
“ فتاوی رضویہ “ کی مطبوعہ مجلدات پرایک اجمالی نظرڈالنے سے جومجموعی تاثرملتاہے وہ یہ ہے کہ فاضل بریلوی دیگرمفتیان برعظیم پاک وہندمیں ایک نہایت بلند اور منفردمقام رکھتے ہیں اور ان کے یہ فتاوی اپنی عظیم ترافادیت کے ساتھ ساتھ ایک ایسی انفرادیت بھی رکھتے ہیں جوتنوع ایجاد جامعیت اور باریک بینی کے علاوہ ایک مصنف کے کمال فن وسعت نظر عمق بصیرت ظرافت طبع اور جزئیات میں کلیات اور کلیات میں جزئیات کوایک خاص رنگ میں پیش کرنے کی فقیہانہ مہارت سے قاری کی قوت فیصلہ اور قلب وروح کومتاثرکرتی نظرآتی ہے۔ یہ وہ انفرادیت وامتیاز ہے جو برعظیم پاک وہند کے مفتیان عظام کے حصے میں بہت کم کم آیا ہے مگرفتاوی رضویہ کے مصنف
کے ہاں کثرت ومقدار وافر کے ساتھ میسرہے۔
حضرت مولانا احمدرضاخاں بریلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے ہاں ایک انفرادیت یہ ہے کہ انہوں نے اپنے فتاوی کے مختلف ابواب فقہیہ میں سے بعض موضوعات منتخب فرمائے ہیں اور ان میں سے ہرموضوع پرایک الگ اور مستقل رسالہ تصنیف کیاہے یہ رسائل جہاں بلند درجہ تحقیق وتدقیق کے آئینہ دار ہیں وہاں تمام متداو ل فقہی مصادر ومآخذ کانچوڑ بھی پیش کرتے ہیں ۔ مصنف کی یہ کوشش لائق تحسین ہے کہ وہ ان مختلف ومتنوع مصادر کی مختصرترین عبارات بلکہ جملوں کومنتخب کرتے ہیں اور انہیں کمال مہارت سے یکجاکرکے یوں جوڑدیتے ہیں کہ وہ ایک مسلسل عبارت بن جاتی ہے۔ یوں
#3105 · فتاوٰی رضویہ کی علمی قدر و قیمت
لگتاہے جیسے یہ عبارات کے ٹکڑے یاجملے مختلف مصنفین نے اسی غرض سے تخلیق کئے تھے کہ وہ ان فقہی موضوعات پر مشتمل رسائل کی عبارات کی زینت بنیں ۔ یہ کام جہاں دقت نظر اور کمال ادراک وانتخاب کامقتضی ہے وہاں قوت حافظہ اور زبان پر کامل عبور کابھی تقاضاکرتاہے۔ ان مختصرمگرجامع رسائل کاایک انفرادی امتیاز یہ بھی ہے کہ فاضل بریلوی نے ان کے تسمیہ میں بڑے تفنن طبع اور فقیہانہ بصیرت سے کام لیاہے۔ کتابوں کے تسمیہ میں نزاکت وظرافت کی یہ روش برعظیم کے علمائے اسلام کا طرہ امتیاز رہاہے اور مولانا احمدرضاخاں اس میدان میں امامت ومہارت کاشرف رکھتے ہیں ۔
فتاوی رضویہ کی ایک انفرادیت یہ بھی ہے کہ ان کافاضل مصنف کوئی عام عالم دین یامحض مفتی وفقیہ نہیں بلکہ ایک کثیر الجوانب عبقری یعنی ورسٹائل جینیئس (veratile genius) ہے اس لئے نہ تو ان کی نظر محض فقہی پہلوپرمحدودومرکوز رہتی ہے اور نہ ان کی بات میں کسی پہلو کی تشنگی یااسے نظرانداز کرنے کا احساس ہوتاہے بلکہ ان کے انداز بیان سے منقولات اورمعقولات کے ہرعلم وفن کے تقاضوں کی تسکین ہوتی ہے فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ ارشاد نبوی العلم علمان علم الادیان وعلم الابدان کی حقیقت سے نہ صرف آگاہ تھے بلکہ اس پرعمل پیرا بھی تھے وہ علم ادیان یعنی شرعی علوم اور علم ابدان یعنی سائنسی علوم پریکساں عبور کے قائل تھے شریعت کے علوم قرآن و حدیث سے شروع ہوئے اور عربی زبان وادب کی جزئیات سے ہوتے ہوئے فقہ وکلام اور جدل ومناظرہ تک پہنچے ہیں اسی طرح سائنسی علوم کادائرہ بھی وسعت پذیر اور لامحدود ہے اس لئے شریعت ان مفید ونافع علوم سے اعراض نہیں سکھاتی بلکہ ان میں کمال پیداکرنے کی دعوت وتلقین اس شریعت کاامتیاز ہے۔
وقت کی رفتار تغیربڑی تیزہے جو اس رفتارتغیر کاساتھ نہ دے سکے اسے وقت کی تلوارکاٹ کررکھ دیتی ہے جوشریعت یاقانون وقت کی اس رفتار تغیر کامقابلہ نہ کرسکے اس کانابود ہونایقینی ہے لیکن اسلامی شریعت توزمان ومکان کی قید سے آزاد وماوراء ہے اس لئے یہ شریعت ہرزمان وہرمکان کے لئے ہے اسی حوالے سے اسلامی شریعت کے ماہرفقیہ کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی فکری صلاحیتوں سے وقت کی رفتارتغیرکاصرف ساتھ ہی نہیں بلکہ اس کامقابلہ بھی کرسکے۔ یہ فکر ی صلاحیتیں دو۲چیزوں کی محتاج ہوتی ہیں ان سے ایک خدا دادعبقریت اور دوسرے علم ادیان کے ساتھ علم ابدان یعنی سائنسی علوم کاماہرہوناہے۔ امام احمدرضابریلوی میں یہ دونوں صلاحیتیں بتمام وکمال موجود ہیں بلکہ ہرزمان ومکان کے فقیہ ہیں ۔ جس طرح اسلامی شریعت زمان ومکان کی قید سے آزاد ہے اسی طرح اس کاماہرفقیہ جوخداداد عبقریت اور سائنسی علوم خصوصا طب وریاضت اور فلسفہ وہیئت کے بھی امام ہیں وہ بھی زمان ومکان کی قید سے آزاد ہیں ۔ وہ جدیدزندگی کے مسائل کواسلامی فقہ کی روشنی میں اس طرح حل کرتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ “ فتاوی رضویہ “ اس دعوی پرشاہدعادل ہیں ۔ تمام فصول اور ابواب میں وہ فقہی مسائل کوعصرحاضر کی زبان میں حل کرتے ہیں ان کے تمام فتاوی عقلی ونقلی استدلال پرمبنی ہوتے ہیں اور یہ ثابت ہوتاہے کہ یہ
#3106 · فتاوٰی رضویہ کی علمی قدر و قیمت
شریعت نہ صرف یہ کہ عقل کے خلاف نہیں بلکہ عقل کے لئے نشوونما کاسامان بھی کرتی ہے۔ اظہاروبیان کاوسیلہ زبان ہوتی ہے فقہ اور مفتی کے لئے اظہاروبیان کی قدرت ایک لازمی اورضرورری صفت ہے ورنہ مسائل ومشاغل کی تفہیم آسان نہ ہوگی۔ حضرت مولانا احمدرضاخاں بریلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اس میدان کے مردمیدان ہی نہیں شہسوار بھی ہیں ۔ عربی فارسی اور اردو پرانہیں جوکامل عبورتھا اس کاایک ثبوت تو ان تین زبانوں میں ان کے شاعرانہ کمالات ہیں جونعت ومدح رسول کے لئے وقف ہیں مگر “ فتاوی رضویہ “ میں بھی وہ اظہاروبیان کے وسائل یعنی زبان کے ادبی اسلوب سے قاری کے ذہن کی چٹکیاں لیتے ہوئے نظرآتے ہیں ۔ الفاظ کو نئے معنی پہنانا اور مرکبات وکلام کوتضمین کے طور پریوں استعمال کرنا کہ وہ انگشتری میں نگینہ جڑدینے کا منظر پیش کرتے ہوئے آئیں یہ صرف قادر الکلام شاعراور باکمال ادیب ہی کرسکتاہے۔
اختصار سے کام لیتے ہوئے یہاں صرف “ فتاوی رضویہ “ کی جلد اول کے دوتمہیدی عنوانات یعنی “ خطبۃ الکتاب “ اور “ صفۃ الکتاب “ کے علاوہ مستقل فقہی مو ضو ع پرلکھے جانے والے پہلے رسالے “ اجلی الاعلام ان الفتوی مطلقا علی قول الامام “ کے خطبے کی طرف اشارہ کافی ہوگا۔ خطبۃ الکتاب میں فقہ حنفی کی امہات الکتب کے اسماء اور فنی مصطلحات کو بطورتلمیح وبراعت ا ستہلال استعمال کرکے جوسماں باندھا ہے وہ کچھ انہی کا کمال ہے الفاظ پرانے ہیں مگربطور تلمیح استعمال ہوکرنئے معا نی کالباس بن گئے ہیں الحمدﷲ ھوالفقہ ا لا کبر والجامع الکبیر لزیادات فیضہ المبسوط الدرر الغرر بہ الھدایۃ و منہ البدایۃ والیہ النھایۃ (یعنی سب حمد اﷲ کے لئے ہے یہی سب سے بڑی سمجھ اور اضافوں کویکجاکرنے والی بات ہے اس کافیض ہے جوپھیلاہواہے جیسے چمکتے ہوئے موتی ہوں اسی ذات سے ہدایت وابستہ ہے وہی اول اور وہی آخرہے)یہ تو وہ نئے معنی ہیں جوان پرانے الفاظ کے لباس میں یہاں واردہوئے ہیں مگران کے معانی فقہ حنفی کی امہات الکتب کے نام ہیں ۔ فقہ اکبر امام اعظم ابوحنیفہ کی تصنیف ہے جامع کبیر زیادات فیض مبسوط درر غرر ہدایہ اور بدایہ ونہایہ یہ سب کتب فقہ ہیں مگرزبان عربی پرعبوررکھنے والے نے ان پرانے الفاظ سے دوہراکام لے کر اپنی مہارت وعبقریت کاثبوت دے دیاہے۔
اسی تمہیدکتاب میں صفۃ الکتاب کے عنوان سے کتاب کاتعارف کراتے ہوئے قرآنی الفاظ وتراکیب سے برکت و سعادت کاجوسماں باندھا گیاہے وہ کسی فنافی العربیہ اور ماہرکلام ربانی کاپتادیتاہے۔ رسالہ اجلی الاعلام میں یہی رنگ کمال نظرآتاہے یہاں پر مصنف عربی زبان کے اسالیب نگارش پرعبوررکھنے کے علاوہ جدت تعبیر سے کام لینے میں بھی لاثانی نظرآتے ہیں فقہ جیسے خشک مضمون میں اس جدت تعبیر نے جورنگ پیداکیاہے ا س نے دلچسپی میں اضافہ کردیاہے۔ فقہی نصوص کے صحیح ادراک دقت نظر وباریک بینی بداہت قول وحاضر جوابی منطقی ومؤثر طریقہ استدلال اور حسن استنباط واستنتاج میں فاضل بریلوی کاکوئی جواب نہیں ۔ یہاں پرمیں ایک خاص بات کاتذکرہ ضروری سمجھتاہوں جومیں نے محسوس کی ہے یوں توبرعظیم پاک وہند کے نامور عربی دانوں اور علوم اسلامیہ کے
#3107 · فتاوٰی رضویہ کی علمی قدر و قیمت
ماہرین کے علمی کارناموں سے اپنے اوربیگانے سبھی ناآشنا اور کم آگاہ ہیں مگر ان میں سے بعض اہل علم توبے قدری اور احسان ناشناسی کی حد تک گمنام چلے آتے ہیں اورلوگ ان کے حقیقی مقام ومرتبے کے منکردکھائی دیتے ہیں ۔ برعظیم کی جن ہستیوں کودانستہ یانادانستہ طوپر فراموشی وبے قدری کامستحق گردانا گیا اور ان میں سے ایک کاتعلق سرزمین پنجاب سے ہے اور دوسرے کاتعلق علم وثقافت کے خطے یوپی سے ہے۔ پنجاب کی نادرئہ روزگارہستی اور بیمثال عبقری تومولانا عبدالعزیز پرہاروی ( رحمۃ اللہ تعالی علیہ ) تھے جومشہورعرب شاعرابوالقاسم الشابی اور ایک انگریز شاعر کیٹس کی طرح جوانی میں ہی دنیا سے کوچ کرگئے مگرعلمی کارناموں کے لحاظ سے ان کی مختصرعمربھی طویل مدت ثابت ہوئی۔ مولاناپرہاروی رحمۃ اللہ تعالی علیہ جس شہرت اور عزت کے مستحق تھے وہ نہ توانہیں زندگی میں مل سکی اور نہ موت کے بعد گمنامی کاپردہ چاک ہوسکا۔ پنجاب کے اس عظیم عبقری اورعالم دین کوکماحقہ متعارف کرانے کاشرف اﷲ تعالی نے مجھے بخشا ہے ان کے متعلق خودبھی لکھاہے اور دو۲مقالے پی ایچ ڈی کے بھی میری نگرانی میں ہورہے ہیں ۔
خطہ علم وثقافت یوپی سے اٹھنے والی ہستی فاضل بریلوی مولانا احمدرضا ( رحمۃ اللہ تعالی علیہ ) ہیں جن کے علمی کارناموں سے شدیداغماض برتاگیا بلکہ ان کے فضل وکمال سے انکارکیاگیا یہی نہیں بلکہ بدنامی کی جسارتیں بھی ہوتی رہیں بظاہر اس کے تین اسباب نظرآتے ہیں :
پہلاسبب توخودان کے نام لیواؤں کی کمزوری ہے جو ان کے علمی کارناموں کوعام کرنے کی سنجیدہ کوشش نہ کرسکے الاماشاء اﷲ!
دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ عالمی ادارے یاتنظیمیں جوبرعظیم میں اہل علم کومتعارف کرانے کے ذمہ دار تھے وہ حضرت فاضل بریلوی کی قدرشناسی اور اعتراف فضل سے گریزاں رہے۔
میرے خیا ل میں ا س کاتیسراسبب حسدورقابت کے جذبات ہوسکتے ہیں معمولی آدمیوں کوایسے حادثے کم پیش آتے ہیں مگرغیرمعمولی ذہانت وقابلیت کے مالک انسانوں کے لئے مخالفت وعداوت اور حسد ورقابت بھی غیرمعمولی نوعیت کی سامنے آتی ہے۔ امام احمدرضا رحمۃ اللہ تعالی علیہ کثیرالجوانب عبقریت کے مالک تھے غالبا اس وجہ سے ان کے علمی کارناموں کوپردہ خفا میں رکھنے اور ان پرخاک ڈالنے کی کوشش بھی ہوسکتی ہے۔
بہرحال یہ بات باعث اطمینان ہونی چاہئے کہ اب برعظیم پاک وہند میں ایسے افراد وادارے وجود میں آچکے ہیں جوحضرت فاضل بریلوی کے تعارف کے ضمن میں تلافی مافات کے لئے کوشاں ہیں ۔
__________________
#3108 · کتابُ الصلوۃ · باب شروط الصلوۃ ( نماز کی شرطوں کا بیان )
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
باب شروط الصلوۃ ( نماز کی شرطوں کا بیان )
مسئلہ ۳۸۹ :
ازکلکتہ دھرم تتلہ نمبر ۶ مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ ۵ / رجب ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تہبند اگر ایسے باریك کپڑے کا ہے کہ اس میں سے بدن کی سرخی یا سیاہی نمایاں ہے تو اس تہبند سے نماز ہو جائے گی یا نہیں
الجواب :
فی الدرالمختار ساتر لا یصف ما تحتہ فی ردالمحتار بان لایری منہ لون البشرۃ ۔
درمختار میں ہے چھپانے والی چیز وہ ہے جو اپنے اندر کی چیز کو ظاہر نہ کرے۔ ردالمحتار میں ہے بایں طور پر کہ اس سے جسم کا رنگ دکھائی نہ دے۔ (ت)
یہاں سے معلوم ہوا کہ عورتوں کا وہ دوپٹہ جس سے بالوں کی سیاہی چمکے مفسدنماز ہے۔ (واﷲ تعالی اعلم)
مسئلہ ۳۹۰ : مسئولہ مرزا باقی بیگ صاحب ۲۳محرم ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علما ئے دین اس مسئلہ میں کہ مرد کے بدن میں کے عضو عورت ہیں بینوا تو جروا
الجواب :
اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔
یہ تو معلوم ہے کہ مرد کے لئے ناف سے زانو تك عورت ہے۔
حوالہ / References ∞ €&درمختار باب شروط الصّلوۃ€∞ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲€
∞ €&ردالمحتار باب شروط الصّلوۃ€∞ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۰۲€
#3109 · کتابُ الصلوۃ · باب شروط الصلوۃ ( نماز کی شرطوں کا بیان )
ناف خارج گھٹنے داخل مگر جدا جدا اعضاء بیان کرنے میں یہ نفع ہے کہ ان میں ہر عضو کی چوتھائی پر احکام جاری ہیں
مثلا : ۱۔ اگر ایك عضو کی چہارم کھل گئی اگر چہ اس کے بلا قصد ہی کھلی ہو اور اس نے ایسی حالت میں رکوع یا سجود یا کوئی رکن کامل ادا کیا تو نماز بالا تفاق جاتی رہی۔
۲۔ اگر صورت مذکورہ میں پورا رکن تو ادا نہ کیا مگر اتنی دیر گزر گئی جس میں تین بار سبحان اﷲ کہہ لیتا تو بھی مذہب مختار پر جاتی رہی۔
۳۔ اگر نمازی نے بالقصد ایك عضو کی چہارم بلا ضرورت کھولی تو فورا نماز جاتی رہی اگرچہ معا چھپالے یہاں ادائے رکن یا اس قدر دیر کی کچھ شرط نہیں ۔
۴۔ اگر تکبیر تحریمہ اسی حالت میں کہی کہ ایك عضو کی چہارم کھلی ہے تو نماز سرے سے منعقد ہی نہ ہو گی اگرچہ تین تسبیحوں کی دیر تك مکشوف نہ رہے۔
۵۔ ان سب صورتوں میں اگر ایك عضو کی چہارم سے کم ظاہر ہے تو نماز صحیح ہو جائے گی اگرچہ نیت سے سلام تك انکشاف رہے اگرچہ بعض صورتوں میں گناہ و سوئے ادب بیشك ہے۔
۶۔ اگر ایك عضو دو۲ جگہ سے کھلا ہو مگر جمع کرنے سے اس عضو کی چوتھائی نہیں ہوتی تو نمازہو جائے گی اور چوتھائی ہو جائے تو بتفاصیل مذکورہ نہ ہوگی۔
۷۔ متعدد عضووں مثلا دو۲ میں سے اگر کچھ کچھ حصہ کھلا ہے تو سب جسم مکشوف ملانے سے ان دونوں میں جو چھوٹا عضو ہے اگر اس کی چوتھائی تك نہ پہنچے تو نماز صحیح ہے ورنہ بتفصیل سابق باطل مثلا ران و زیر ناف سے کچھ کچھ کپڑا الگ ہے تو دونوں کی قدر منکشف اگر زیر ناف کی چہارم کو پہنچے نماز نہ ہوگی اگر چہ مجموعہ ران کی چوتھائی کو بھی نہ پہنچے کہ ان دونوں میں زیر ناف چھوٹا عضو ہے اور سرین اور زیر ناف میں انکشاف ہے تو مجموعہ سرین کے ربع تك پہنچناچاہیے اگر چہ زیر ناف کی چوتھائی نہ ہو کہ ان میں سرین عضو اصغر ہے اسی طرح تین یا چار یا زیادہ اعضا میں انکشاف ہو تو بھی ان میں سب سے چھوٹے عضو کی چہارم تك پہنچنا کافی ہے اگرچہ اکبر یا اوسط یا خفیف حصہ ہو۔
ھذا الصحیح الذی نص علیہ محمد فی الزیادات فلا علیك من بحث التبیین وان تبعہ الفتح والبحر واختارہ البرھان الحلبی فی الصغیر و تمام الکلام بتوفیق الملك العلام فی
یہ وہ صحیح ہے جس پر امام محمد نے زیادات میں تصریح کی ہے تجھے تبیین کی بحث کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت ہی نہیں اگر چہ فتح القدیر اور البحرالرائق نے اس کی اتباع کی اور برہان حلبی نے اسے صغیر میں مختار قرار دیا اﷲ تعالی مالك وعلام کی توفیق سے اس کی پوری
#3976 · کتابُ الصلوۃ · باب شروط الصلوۃ ( نماز کی شرطوں کا بیان )
رسالتنا الطرۃ فی ستر العورۃ التی الفتھا بعد ورود ھذا السؤال لازاحۃ مافی المسائل من وجوہ الاشکال والحمدﷲ المھیمن المتعال۔
تفصیل ہمارے رسالے الطرۃ فی سترالعورۃ میں مذکور ہے جسے میں نے اس سوال کے جواب میں اس کے متعلقہ مسائل میں وارد ہونے والے اشکالات کو زائل کرنے کے لئے لکھا ہے اور تمام تعریف اﷲ تعالی کے لئے جو محافظ و بلند ہے۔ (ت)
یہ سب مسائل در مختار و ردالمحتار وغیر ہما اسفار سے مستفاد۔
وھذا نصھما ملتقطاومختلطا و یمنع کشف ربع عضو قدراداء رکن (بسنتہ منیۃ قال شارحھاو ذالك قدر ثلث تسبیـحات واعتبر محمد اداء الرکن حقیقۃ والاول المختار للاحتیاط شرح المنیۃ واقل من قدر رکن فلایفسد اتفاقا لان الانکشاف الکثیرفی الزمان القلیل عفو کالانکشاف القلیل فی زمان الکثیر وھذا فی الانکشاف الحادث فی الصلاۃ اما المقارن لابتداء ھا فیمنع انعقاد ھا مطلقا اتفاقا بعد ان یکون المکشوف ربع العضو) بلا صنعہ ( فلوبہ فسدت فی الحال عندھم قنیۃ قال ح ای وان کان اقل من اداء رکن الالحاجۃ کرفع نعلہ لخوف الضیاع مالم یؤد رکنا کما فی الخلاصۃ) او تجمع بالاجزاء
ان دونوں کتابوں کے چیدہ چیدہ مخلوط طور پر الفاظ یہ ہیں : اداء رکن کی مقدار چوتھائی عضو کا ننگا رہنا نماز سے مانع ہے ( یعنی اداء رکن جو سنت کے مطابق ہو منیہ۔ اس کے شارح نے کہا کہ یہ تین تسبیحات کی مقدار ہے۔ اور امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے حقیقۃ رکن کی ادائیگی کا اعتبار کیا ہے احتیاط کے پیش نظر پہلا قول مختار ہے شرح المنیہ اور جب ربع عضو کا اداء رکن کی ادائیگی سے کم کھلا رہے تو بالا تفاق نماز فاسد نہیں ہوگی کیونکہ قلیل وقت میں انکشاف کثیر معاف ہے یہ اس انکشاف کا معاملہ ہے جو دوران نماز عارض ہو اگر وہ انکشاف ابتداء نماز سے عارض ہو اور کھلنے والی جگہ عضو کی چوتھائی ہو تو ایسا انکشاف بالاتفاق مطلقا انعقادنماز سے مانع ہے یہ اس وقت ہے جبکہ یہ کشف عورت قصد مصلی کے بغیر ہو (پس اگر ایسا کشف عورت قصد مصلی کے باعث ہو تو فقہاء کے ہاں نماز فی الفور فاسد ہو جائے گی قنیہ حلبی نے کہا یعنی اگرچہ وہ اداء رکن کی ادائیگی سے کم میں ہو مگر یہ کہ وہ فعل مصلی کسی ضرورت کی بنا پر ہو جیسے مصلی کا اپنے
#3977 · کتابُ الصلوۃ · باب شروط الصلوۃ ( نماز کی شرطوں کا بیان )
(وھی النصف والربع والثلث) لو فی عضو واحد والا فبالقدر (ای المساحۃ) فان بلغ (المجموع بالمساحۃ) ربع ادناھا (ای ادنی الاعضاء المنکشف بعضھا) منع (کمالو انکشف نصف ثمن الفخذ و نصف ثمن الاذن من المرأۃ فان مجموعھما بالمساحۃ اکثر من ربع الاذن التی ھی ادنی العضوین المنکشفین )
جوتوں کو ضائع ہونے کے خوف سے اٹھالینا جتنے وقت میں وہ رکن نماز ادا نہ کرسکے ۔ خلاصہ میں ایسے ہے۔ ) اور مکشوف اجزاء کو جمع کیا جائے گا (اور وہ اجزاء مثلا نصف چوتھائی اور تہائی ہیں ) اگر ایك عضو میں کئی کشف ہوں ورنہ مقدار یعنی پیمائش کے ساتھ اندازہ کیا جائے گا پھر اگر (وہ پیمائش کے ساتھ مجموعہ ) ادنی عضو کے ربع کو پہنچ جائے (یعنی وہ اعضاء جو جزوی طور پر مکشوف ہیں ان میں کہ ادنی عضو کے ربع کو پہنچ جائے) تو ایسا کشف نماز سے مانع ہے (مثلا عورت کی ران کے آٹھویں حصے کا نصف اور کان کے آٹھویں حصے کا نصف اگر کھل جائے تو پیمائش کے اعتبار سے ان دونوں کا مجمموعہ ان دونوں کھلنے والے اعضاء میں سے چھوٹے عضو کان کے چوتھائی سے زیادہ بنتا ہے) (ت)
میں نے ان مسائل میں ہر جگہ اقوی ارجح و احوط قول کو اختیار کیا کہ عمل کے لئے بس ہے اماذکر الخلاف و بسط التعلیل فداع الی تفصیل یفضی الی الطویل(ذکر اختلاف اور ان کے دلائل کی تفصیل کے لئے طویل بحث درکار ہے ۔ ت)بالجملہ ان احکام سے معلوم ہو گیا کہ صرف اجمالا اس قدر سمجھ لینا کہ یہاں سے یہاں تك سترعورت ہے ہرگز کافی نہیں بلکہ اعضاء کو جدا جدا پہچاننا ضروری ہے اور وہ علامہ حلبی و علامہ طحطاوی و علامہ شامی محشیان درمختار رحمۃ اﷲ علیہم نے مرد میں آٹھ گنے : (۱) ذکر مع اپنے سب پرزوں یعنی حشفہ وقصبہ و قلفہ کے ایك عضو ہے یہاں تك کہ مثلا صرف قصبہ کی
حوالہ / References درمختار باب شروط الصلوۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۶۶ ، ردالمحتار باب شروط الصلوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر۱ / ۳۰۰
نوٹ : قوسین کے درمیان والی عبارت ردالمحتار کی ہے اور باہر والی درمختار کی۔ نذیر احمد سعیدی
#3978 · کتابُ الصلوۃ · باب شروط الصلوۃ ( نماز کی شرطوں کا بیان )
چوتھائی یا فقط حشفہ کا نص کھلنا مفسد نماز نہیں اگر باوجود علم و قدرت ہو تو گناہ وبے ادبی ہے اور ذکر کے گرد سے کوئی پارہ جسم اس میں شامل نہ کیا جائے گا یہی صحیح ہے یہاں تك کہ صرف ذکر کی چوتھائی کھلنی مفسد نماز ہے وسری ذالك وتمام التحقیق فی رسالتنا المذکورۃ (اس پر تفصیلی گفتگو اور تحقیقی راز ہمارے مذکور ہ رسالے میں ہیں ۔ ت)
(۲) انثیین یعنی بیضے کہ دونوں مل کر ایك عضو ہے یہی حق ہے یہاں تك کہ ان میں ایك کی چہارم بلکہ تہائی کھلنی بھی مفسد نہیں وقد زلت ھنا قدم العلامۃ البرجندی فی شرح النقایۃ کما نبھنا علیہ فی الطرۃفلیتنبہ۔
اس مقام پر شرح نقایہ میں علامہ برجندی کے قدم پھسل گئے جیسا کہ ہم نے “ الطرۃ فی ستر العورۃ “ میں اس پر تنبیہ کی ہے اس کا مطالعہ کیجئے۔ (ت)
پھر یہاں بھی صحیح یہی ہے کہ ان کے ساتھ ان کے حول سے کچھ ضم نہ کیا جائے گا یہ دونوں تنہا عضو مستقل ہیں ۔
(۳) دبر یعنی پاخانہ کی جگہ اس سے بھی صرف اس کا حلقہ مراد یہی صحیح ہے اور اسی پر اعتماد۔
(۴و۵) الیتین یعنی دونوں چوتڑ ہر چوتڑ مذہب صحیح میں جدا عورت ہے کہ ایك کی چوتھائی کھلنی باعث فساد ہے۔
(۶و۷) فخذین یعنی دونوں رانیں کہ ہر ران اپنی جڑ سے جسے عربی میں رکب و رفع ومغین اور فارسی میں پیغولہ ران اور اردو میں چڈھا کہتے ہیں گھٹنے کے نیچے تك ایك عضو ہے ہر گھٹنا اپنی ران کا تابع اور اس کے ساتھ مل کر ایك عورت ہے یہاں تك کہ اگر صرف گھٹنے پورے کھلے ہوں توصحیح مذہب پر نماز صحیح ہے کہ دونوں مل کر ایك ران کے ربع کو نہیں پہنچتے ہاں خلاف ادب و کراہت ہونا جدا بات ہے۔
(۸)کمر باندھنے کی جگہ ناف سے اور سیدھ میں آگے پیچھے دہنے بائیں چاروں طرف پیٹ کمر کولہوں کا جو ٹکڑا باقی رہتا ہے وہ سب مل کر ایك عورت ہے۔ ردالمختارمیں ہے :
اعضاء عورۃ الرجل ثمانیۃ الاول الذکر وماحولہ الثانی الانثیان و ماحولھما الثالث الدبر وما حولہ الرابع والخامس الالیتان السادس والسابع الفخذان مع الرکبتین الثامن مابین السرۃ الی العانۃ مع مایحاذی ذلك من الجنبین والظھر والبطن
مرد کا ستر آٹھ اعضاء ہیں : (۱) عضو مخصوص اور ارد گرد (۲) خصیتین اور ان کاا ارد گرد (۳) دبر اور ارد گرد (۴و۵)دونوں سرین کاحصے (۶و۷) دونوں رانیں گھٹنوں سمیت (۸) ناف تا زیر ناف سمیت پشت پیٹ اور دونوں پہلوؤں کے اس حصہ کے جو اس کے مقابل و محاذی ہے۔ (ت)
حوالہ / References &ردالمحتار باب شروط الصلٰوۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۰۱
#3979 · کتابُ الصلوۃ · باب شروط الصلوۃ ( نماز کی شرطوں کا بیان )
اقول : و باﷲ التوفیق(میں اﷲ کی توفیق سے کہتا ہوں ۔ ت) یہاں دو ۲مقام تحقیق طلب ہیں :
مقام اول : آیا عورت ہشتم میں پیٹ کا وہی نرم حصہ جو ناف کے نیچے واقع ہے جسے ہندی میں پیڑو کہتے ہیں تینوں طرف یعنی کروٹوں اور پیٹھ سے اپنے محاذی بدن کے ساتھ صرف اسی قدر داخل ہے ذکر کے متصل وہ سخت بدن جو بال اگنے کامقام ہے جسے عربی میں عانہ کہتے ہیں اس میں شامل نہیں یہاں تك کہ صرف مقدار اول کی چوتھائی کھلنی مفسد نماز نہ ہو اگر چہ عانہ کے ساتھ ملا کر دیکھیں تو چہارم سے کم رہے یا عانہ سمیت ناف سے نیچے جس قدر جسم رانوں اور ذکر اور چوتڑوں کے شروع تك باقی رہا سب مل کر ایك عورت ہے۔ یہاں تك کہ افساد نماز کے لئے اس مجموع کی چوتھائی درکار ہو اور مقدار اول کا ربع کفایت نہ کرے جتنی کتب فقہ اس وقت فقیر کے پیش نظر ہیں ان میں کہیں اس تنقیح کی طرف توجہ خاص نہ پائی اور بنظر ظاہر کلمات علما مختلف سے نظر آتے ہیں مگر بعد غور و تعمق اظہر و اشبہ امر ثانی ہے یعنی یہ سب بدن مل کر ایك ہی عورت ہے تو یوں سمجھئے کہ چار اطراف بدن میں اس سے ملے ہوئے جو عضو ہیں مثلا ران وسرین وذکر ان کا آغاز تو معلوم ہی ہے ان سے اوپراوپر ناف کے کنارہ زیریں اور سارے دور میں اس کنارے کی سیدھ تك جسم باقی رہا اس سب کا مجموعہ عضو واحد ہے اوراسی طرف علامہ حلبی و علامہ طحطاوی و علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا کلام مذکور ناظر کہ انہوں نے عانہ عضو جداگانہ نہ ٹھہرایا ورنہ تقدیر اول پر اس قدر ٹکڑا اس میں داخل نہ تھا اور اس کا ران و ذکر میں داخل نہ ہونا خود ظاہر تو واجب تھا کہ اس پارہ جسم یعنی عانہ کو نواں ۹ عضو شمار فرماتے اس مقام کی تحقیق کامل بقدر قدرت فقیر غفراﷲ تعاالی نے اپنے رسالہ مذکورہ الطرۃ فی ستر العورۃ میں ذکر کی یہاں ان شاء ا ﷲتعالی اسی قدر کافی کہ عانہ اور عانہ سے اوپر ناف تك سارا جسم جسم واحد ہے حقیقۃ وہ حسا و حکما سب طرح متصل توا سے دو عضو مستقل ٹھہرانے کی کوئی وجہ نہیں ۔ ہدایہ میں ہے :
عندنا ھما (یعنی اللحیین و ھما العظمان الذان علیہما منابۃ الاسنان ) من الوجہ لا تصالھمابہ من غیر فاصلۃ۔
ہمارے نزدیك یہ دونوں (یعنی دونوں جبڑے یہ وہ دونوں ہڈیاں ہیں جن پر دانت قائم ہیں ) چہرہ ہی کا حصہ ہیں کیونکہ ان دونوں کا چہرے کے ساتھ اتصال بغیر فاصلہ کے ہے۔ (ت)
حوالہ / References &الہدایہ کتاب الدیات فصل فی الشجاع€ مطبوعہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ / ۵۸۸
ف : قوسین سے باہر کی عبارت ہدایہ کی ہے۔ نذیر احمد سعیدی
#3980 · کتابُ الصلوۃ · باب شروط الصلوۃ ( نماز کی شرطوں کا بیان )
یہ تو بحمد اﷲ دلیل فقہی ہے اور خاص جزئیہ کی تصریح وہ ہے کہ جواہرالاخلاطی میں فرمایا :
اذاانکشف مابین سرتہ و عورتہ ان کان ربعا فسدت صلوتہ لان ما بینھما عضوکامل ارید منہ حول جمع البدن فاذا انکشف ربعہ کان فاحشا اھ
اگر نمازی کی ناف اور شرمگاہ کا درمیان کھل گیا (کشف ہوگیا) اگر وہ چوتھائی ہو تو نماز فاسد ہو جائے گی کیونکہ ان دونوں کا درمیانی حصہ عضو کامل ہے اس سے مراد تمام بدن کا ارد گرد لیا ہے پس جب اس کا چوتھائی کھل جائے تو یہ کشف فحش ہوگا اھ (ت)
دیکھو ناف کے نیچے سے ذکر کے آغاز تك سارے بدن کو ایك عضو ٹھہرایا یہ نص جلی ہے اور باقی عبارات علماء محتمل تو اسی پر اعتماد اسی پر عمل مالم یظھر الاقوی فی المحل والعلم بالحق عند الملك الاجل (جب تك اس بارے میں اس سے قوی دلیل ظاہر نہیں ہوگی باقی قطعی علم اس ذات کے پاس ہے جو مالك و بزرگ ہے۔ ت)
مقام دوم : فقیر غفراﷲ لہ نے اس مسئلہ کے تحقیق کے لئے جامع صغیر ۱ امام محمد و قدوری۲ امام ابوالحسن و۳ وافی امام حافظ الدین نسفی و۴کنز الدقائق و ۵وقایۃ الروایہ امام تاج الشر یعۃ و ۶نقایہ امام صدر الشریعۃ و۷منیۃ المصلی و۸اصلاح ابن کمال باشا و۹ملتقی الابحرعلامہ ابراہیم حلبی و۱۰اشباہ علامہ زین العابدین مصری و۱۱ تنویر الابصار علامہ عبداﷲ محمد بن عبداﷲ غزی و۱۲ نور الایضاح علامہ حسن شرنبلالی و ۱۳ہدایہ امام علی بن ابی بکربرہان الدین فرغانی و۱۴کافی امام ابو البرکات عبداﷲ بن احمد سغدی و۱۵ شرح وقایہ امام عبیداﷲ بن مسعود محبوبی و۱۶تبیین الحقائق امام فخرالدین زیلعی و۱۷ فتح القدیر امام محقق علی الاطلاق محمد بن الہمام و۱۸ حلیہ امام محمد بن محمد بن امیر الحاج حلبی و۱۹ایضاح علامہ احمد بن سلیمن وزیر رومی و۲۰ذخیرۃ العقبی علامہ یوسف بن جنید چلپی و۲۱ غنیہ علامہ برہا ن الدین حلبی و ۲۲صغیری شرح منیۃالمصلی و۲۳شرح نقایہ علامہ عبدالعلی برجندی ہروی و۲۴ جامع الرموز علامہ شمس الدین محمد قہستانی و ۲۵بحرالرائق علامہ زین بن ابراہیم مصری و۲۶مراقی الفلاح علامہ ابوالاخلاص ابن عمار مصری و ۲۷درمختار محقق محمد بن علی دمشقی و ۲۸غمزالعیون علامہ سیدی احمد حموی و ۲۹مجمع الانہر علامہ شیخی زادہ قاضی رومی و ۳۰حاشیہ مراقی للعلامۃ السید احمد المصری و۳۱ حاشیہ درمختار للعلامۃ السید الطحطاوی و ۳۲ردالمحتار علامہ محقق سیدی امین الدین محمد بن عابدین شامی و ۳۳فتاوی خانیہ امام اجل ابوالمحاسن فخرالدین اوزجندی و۳۴ خلاصہ امام طاہربن احمد بن عبدالرشید بخاری و ۳۵جواہر الاخلاطی علامہ برہان الدین ابراہیم بن ابی بکر محمد حسینی و ۳۶خزانۃ المفتین و۳۷ فتاوی خیریہ و۳۸عقود الدریہ و ۳۹فتاوی رحمانیہ ہندیہ وغیرہا کتب فقہ متون
حوالہ / References جواہر الاخلاطی فصل فی الفرائض الخارجیۃ عن الصلٰوۃ قلمی نسخہ€ ص ۲۰
#3981 · کتابُ الصلوۃ · باب شروط الصلوۃ ( نماز کی شرطوں کا بیان )
و شروح و فتاوی جس قدر فقیر کے پاس ہیں سب کی مراجعت کی سوا دو حاشیہ طحطاوی و شامی کے اس تعداد ہشت میں حصر کا نشان کہیں نہ پایا علماء کرام رحمہم اللہ تعالی بدایت ونہایت عورت کی حدیں بتا گئے اور بعض بعض اعضاء کو جدا جدا بھی ذکر فرما گئے پھر کسی کتاب میں صرف دو تین عضو ذکر کئے کسی میں چار پانچ کسی میں کوئی مگر استیعاب نہ فرمایا نہ پورا شمار بتایا۔ ہاں اس قدر ضرور ہے کہ متفرق کتابوں سے سب کو جمع کیجئے تو بیان میں یہی آٹھ آئے ہیں غالبا اسی پر نظر فرما کر علامہ حلبی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے آٹھ میں حصر فرمادیا اور سیدین فاضلین نے ان کا اتباع کیا خود عبارت علامہ شامی قدس سرہ السامی دلیل ہے کہ یہ تعداد علامہ حلبی کی استخراج کی ہوئی ہے یعنی ان سے پہلے علماء نے ذکر نہ فرمائی حیث قال بعد تمام الکلام بتعداد اعضاء العورۃ فی الامۃ والحرۃ کذاحررہ ح ا ھ(کیونکہ انہوں نے لونڈی اور آزاد عورت کے اعضاء ستر کی تعداد پر گفتگو کی تکمیل کے بعد یہ کہا ہے اسی طرح اس تعدادکو علامہ حلبی نے تحریر کیا ہے ۱ھ ۔ ت) مگر فقیر غفراﷲ تعالی لہ کو اس شمار میں کلام ہے کہ وہ بدن جو دبر انثیین کے درمیان ہے اس گنتی میں نہ آیا اسے عورت ہشتم کے توابع سے قرار دے سکتے ہیں کہ بیچ میں دو مستقل عورتیں یعنی ذکر و انثیین فاضل ہیں ہدایہ میں فرمایا :
لاوجہ الی ان یکون (یعنی الساعد) بتعاللاصابع لان بینھما عضواکاملا۔
اس کی کوئی وجہ (دلیل) نہیں کہ (بازو)انگلیوں کے تابع ہو کیونکہ ان دونوں کے درمیان ایك عضو کامل ہے (ت)
امام نسفی نے کافی شرح وافی میں فرمایا :
اماالساعد فلا یتبعھا(یعنی الاصابع) لانہ غیر متصل بھا۔
بازو ان (یعنی انگلیوں )کے تابع نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ ان کے ساتھ متصل نہیں ہے (ت)
نہ یہ صحیح کہ اسے دو ۲ حصے کرکے دبر و اثنیین میں شامل مانیے کہ مذہب صحیح پر تنہا انثیین عضو کامل ہیں یونہی صرف حلقہ دبر عضو مستقل ہے کہ ان کے گرد سے کوئی جسم ان کے ساتھ نہ ملایا جائے گا ملتقی الابحر میں ہے :
کشف ربع عضوھوعورۃ یمنع کالذکر بمفردہ والانثیین وحدھماوحلقہ الدبر بمفردھا
ایسا عضو جو ستر گاہ میں داخل ہے اس کا چوتھائی کھل جانا نماز سے مانع ہے مثلا عضو مخصوص تنہا تنہا خصیتین اور تنہا حلقہ دبر۔ (ت)
حوالہ / References ردالمحتار باب شروط الصلوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۰۱
الہدایہ کتاب الدیات فصل فی دیۃ اصابع الید وغیرہا مطبوعہ یوسفی لکھنؤ ۴ / ۵۸۹
کافی شرح وافی
ملتقی الابحر باب شروط صحۃ الصلٰوۃ مطبوعہ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱ / ۶۶
#3982 · کتابُ الصلوۃ · باب شروط الصلوۃ ( نماز کی شرطوں کا بیان )
خزانۃالمفتین میں ہے :
الذکر عضو بانفرادہ وکذاالانثیان و ھذا ھو الصحیح
ذکر تنہا عضو ہے اور اسی طرح خصیتین بھی اور یہی صحیح ہے۔ (ت)
صغیری شرح منیہ میں ہے :
انکشاف ربع الذکر وحدہ او ربع الانثیین بمفردھما یمنع جوازھا
تنہا ذکر(عضو مخصوص) کی چوتھائی یا تنہا خصیتین کی چوتھائی کا کھل جانا جواز نماز سے مانع ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
حلقۃ الدبر عضو بمفردھاوکلھا لاتزید علی قدرالدرھم
حلقہ دبر تنہا عضو ہے اور یہ تمام کا تمام قدر درہم سے زیادہ نہیں ہے۔ (ت)
غنیہ شرح کبیر منیہ میں ہے :
القبل والدبراذاانکشف من احدھما ربعہ وان کان اقل من قدرالدرھم یمنع جواز الصلوۃ اھ ملخصا۔
قبل اور دبر میں سے کسی ایك کا جب چوتھائی حصہ کھل جائے اگر چہ وہ قدر درہم سے کم ہو جواز نمازسے مانع ہوگا اھ ملخصا(ت)
کافی میں ہے :
کشف ربع ساقھا یمنع جواز الصلاۃ وکذاالدبر والذکر والانثیان حکمھا کحکم الساق والکرخی اعتبر فی الدبر قدر الدرھم والدبر لایکون اکثرمن قدرالدرھم فھذا یقتضی جوازالصلوۃ وان کان کل الدبر مکشوفا وھوتناقض اھ ملتقطا
عورت کی پنڈلی کا چوتھائی حصہ کھل جانا جواز نماز سے مانع ہے اور اسی طرح دبر و ذکر اور خصیتین ہیں ان میں سے ہر ایك کا حکم پنڈلی کی طرح ہے ۔ امام کرخی نے دبر میں قدر درہم (کے انکشاف) کا اعتبار کیا ہے حالانکہ دبر قدر درہم سے زائد نہیں ہوتا تو اس قول کا تقاضا یہ ہے کہ اگر چہ تمام دبر ننگی ہو پھر بھی نماز ہو جائے گی اور یہ تناقض ہے۔ ا ھ ملتقطا (ت)
حوالہ / References خزانۃ المفتین فصل فی سترالعورۃ قلمی نسخہ ۱ / ۲۲
صغیری شرح منیۃ المصلی الشرط الثالث مطبوعہ مجتبائی دہلی ص ۱۱۹
صغیری شرح منیۃ المصلی الشرط الثالث مطبوعہ مجتبائی دہلی ص ۱۱۹
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۲۱۳
کافی شرح وافی
#3983 · کتابُ الصلوۃ · باب شروط الصلوۃ ( نماز کی شرطوں کا بیان )
حلیہ میں ہے :
غلطوہ بان ھذا تغلیظ یؤدی الی التخفیف اوالاقساط لان من الغلیظۃ مالیس باکثر من قدرالدرھم فیؤدی الی ان کشف جمیعہ لا یمنع و قد اجیب عنہ بانہ قد قیل بان الغلیظۃ القبل والدبر مع حولھما فیجوز کونہ اعتبر ذلك فلا یرد علیہ ما قالوا ویدفعہ ما تقدم من ان الصحیح ان کلامن الذکر والخصیتین عضو مستقل وکذالك الصحیح ان کلا من الالیتین والدبر عضو مستقل فلا یتم ذالك الاعتبار اھ مختصرا۔
انہوں نے غلط کہا ہے کہ یہ تغلیظ تخفیف یا اسقاط کا سبب ہے کیونکہ بعض عورت غلیظہ ایسی ہیں جو قدر درہم سے زیادہ نہیں تواس سے لازم آتا ہے کہ ایسے عضو کا تمام کا تمام ننگا ہونا نماز سے مانع نہ ہوگا اس کا جواب یہ دیا گیا کہ ایك قول یہ ہے کہ قبل دبر اور ان دونوں کا ارد گرد (سب مل کر ) غلیظہ ہے پس امام کرخی کے قول قدر درھم کا اعتبار درست ہوگا اور فقہاء نے جو اعتراض کیا ہے وہ وارد نہ ہو گا۔ اس کا دفاع گزشتہ گفتگو سے ہو جاتا ہے کہ صحیح قول یہی ہے کہ ذکر (عضو مخصوص) اور خصیتین میں سے ہر ایك مستقل عضو ہے اور اسی طرح صحیح قول کے مطابق دبر اور سرین میں سے ہر ایك مستقل عضو ہے اب وہ( قدر درہم کا) اعتبار درست نہ ہوگا اھ مختصرا(ت)
اسی طرح تبیین وغیرہ میں تصریح فرمائی فقیر غفراﷲلہ نے اپنے رسالہ مذکورہ میں اس بحث کی بحمداﷲ تنقیح بالغ بمالا مزید علیہ ذکر کی اور اس میں ثابت کردیا کہ افاضل ثلثہ قدست اسرار ہم کا ذکر و دبر انثیین کے ساتھ لفظ حول زائد کرنا بیکار بلکہ موہم واقع ہوا جب ثابت ہولیا کہ یہ جسم یعنی مابین الدبرو الانثیین ان آٹھوں عورتوں سے کسی میں شامل اور کسی کا تابع نہیں ہوسکتا اور وہ بھی قطعا ستر عورت میں داخل تو واجب کہ اسے عضو جداگانہ شمار کیا جائے۔ مرد میں عدداعضائے عورت نو۹ قرار دیا جائے اور کتب مذکورہ میں اس کا عدم ذکر ذکر عدم نہیں کہ آخر ان میں نہ استیعاب کی طرف ایماء نہ کسی تعداد کا ذکر وہ ستر عورت کی دونوں حدیں ذکر فرماچکے اور اتنے اعضا کے استقلال و انفراد پر بھی تصریحیں کر گئے تو جو باقی رہا لاجرم عضو مستقل قرار پائے گا
فلیفھم ولیتامل لعل اﷲ یحدث بعد ذلك امرا ھذا ماعندی والعلم بالحق
عند ربی۔ سمجھو اور غور کرو شاید اﷲ تعالی اس کے بعد کسی آسان امر کو پیدا فرما دے یہ میری تحقیق ہے اور
حوالہ / References حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
#3984 · کتابُ الصلوۃ · باب شروط الصلوۃ ( نماز کی شرطوں کا بیان )
عند ربی۔
حق کا علم میرے رب کے پاس ہے (ت)
فقیر غفراﷲ لہ نے سہولت حفظ کے لئے اس مطلب کو چار شعر میں نظم کیا اور ذکر اعضاء میں ترتیب بھی وہی ملحو ظ رہی۔ ان اشعار میں مرد کے لئے سترعورت کی حدیں بھی بتائی گئیں وہ بھی اس تصریح سے کہ نا ف خارج اور زانو داخل اور وہ مقدار بھی بتا دی گئی جس قدر کا کھلنا مذہب مختار پر مفسد ہے پھر یہ تفرقہ بھی کہ بالقصد کھولنے میں فورا نماز فاسد ہوگی اور بلا قصد میں مقدار ادائے رکن تك کھلنا چاہئے اس میں یہ بھی بتا دیا گیا کہ مذہب مختار پر حقیقۃ ادائے رکن شرط نہیں پھر اس مذہب صحیح کی طرف ایما ہے کہ ذکر و انثیین و دبر و ہر سرین تنہا تنہا عضو کامل ہیں اور یہ مذہب صحیح بھی ظاہر کر دیا گیا کہ ہر گھٹنا اپنی ران کا تابع ہے اور جو عضو فقیر نے زائد کیا اس میں یہ اشارہ بھی کردیا کہ اس جزئیہ کی تصریح نہ پائی اور عورت زیر نا ف میں یہ بھی مصرح ہوگیا کہ سب جوانب بدن سے مراد ہے اور نیز یہ بھی کہ عانہ اس میں داخل ہے ولہذا اسے بھی لفظ ظاہرا کے نیچے رکھا۔ بحمداﷲ مختصر بحر کی چار بیتوں میں اس قدر فوائد کثیرہ کے ساتھ لطف یہ ہے کہ بعنایت الہی کوئی حرف حشو و مصرع پر کن نہیں نہ کہیں ادائے مطلب میں ایجاز مخل واقع ہوا والحمدﷲ رب العلمین وہ اشعار آبداریہ ہیں :
ستر عورت بمرد نہ عضو ست از تہ ناف تا تہ زانو
ہرچہ ربعش بقدر رکن کشود یا کشو دے دمے نماز مجو
ذکر وانثیین و حلقہ بس دوسریں ہرفخذ بزانوئے او
ظاہرا فصل ا نثیین و دبر باقی زیر ناف از ہر سو
گویا یہ سارا فتوی ان چار شعر کی شرح ہے۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۳۹۱ : مسئو لہ مرزا باقی بیگ صاحب رامپوری ۲۸ ذیقعد ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورت آزاد کے بدن کے عضو عورت ہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
زن آزاد کا سارا بدن سر سے پاؤں تك سب عورت ہے مگر منہ کی ٹکلی اور دونوں ہتھیلیاں کہ یہ بالاجماع اور عبارت خلاصہ سے مستفاد کہ ناخن پا سے ٹخنوں کے نیچے جوڑ تك پشت قدم بھی بالاتفاق عورت نہیں تلووں اور پشت کف دست میں اختلاف تصحیح ہے اصل مذہب یہ کہ وہ دونوں بھی عورت ہیں تو اس تقدیر پر صرف پانچ ٹکڑے مستثنی ہوئے منہ کی ٹکلی دونوں ہتھیلیاں دونوں پشت پا ۔ ان کے سوا سارا بدن عورت ہے اور وہ تیس۳۰ عضووں پر مشتمل کہ ان میں جس عضو کی چوتھائی کھلے گی نماز کا وہی حکم ہوگا جو ہم نے پہلے فتوے میں
#3985 · کتابُ الصلوۃ · باب شروط الصلوۃ ( نماز کی شرطوں کا بیان )
اعضاء عورت مرد کی نسبت لکھا وہ تیس عضو یہ ہیں :
(۱) سر یعنی طول میں پیشانی کے اوپر سے گردن کے شروع تك اور عرض میں ایك کان سے دوسرے کان تك جتنی جگہ پر عادۃ بال جمتے ہیں ۔
(۲) بال یعنی سر سے نیچے جو لٹکے ہوئے بال ہیں وہ جدا عورت ہیں ۔
(۳و۴) دونوں کان
(۵) گردن جس میں گلا بھی شامل ہے۔
(۶و۷) دونوں شانے یعنی جانب پشت کے جوڑ سے شروع بازو کے جوڑ تک۔
(۸و۹) دونوں بازو یعنی اس جوڑ سے کہنیوں سمیت کلائی کے جوڑ تک۔
(۱۰ و ۱۱) دونوں کلائیاں یعنی کہنی کے اس جوڑ سے گٹوں کے نیچے تک۔
(۱۲ و۱۳) دونوں ہاتھوں کی پشت۔
(۱۴) سینہ یعنی گلے کے جوڑ سے دونوں پستان کی زیریں تک۔
(۱۵ و۱۶) دونوں پستانیں جبکہ اچھی طرح اٹھ چکی ہوں یعنی اگر ہنوز بالکل نہ اٹھیں یا خفیف نوخاستہ ہیں کہ ٹوٹ کر سینہ سے جدا عضو کی صورت نہ بنی ہوں تو اس وقت تك سینہ ہی کے تابع رہیں گی الگ عورت نہ گنی جائیں گی اور جب ابھار کی اس حد پر آجائیں کہ سینہ سے جدا عضو قرار پائیں تو اس وقت ایك عورت سینہ ہوگا اور دو ۲عورتیں یہ اور وہ جگہ کہ دونوں پستان کے بیچ میں خالی ہے اب بھی سینہ میں شامل رہے گی۔
(۱۷) پیٹ یعنی سینہ کی حد مذکور سے ناف کے کنارہ زیریں تك ناف پیٹ ہی میں شامل ہے۔
(۱۸) پیٹھ یعنی پیٹ کے مقابل پیچھے کی جانب محاذات سینہ کے نیچے سے شروع کمر تك جتنی جگہ ہے۔
(۱۹) اس کے اوپر جو جگہ پیچھے کی جانب دونوں شانوں کے جوڑوں اور پیٹھ کے بیچ سینہ کے مقابل واقع ہے ظاہرا جدا عورت ہے ہاں بغل کے نیچے سینہ کی زیریں حد تك دونوں کروٹوں میں جو جگہ ہے اس کا اگلا حصہ سینہ میں شامل ہے اور پچھلا اسی سترھویں عضو یا شانوں میں اور زیر سینہ سے شروع کمر تك جو دونوں پہلو ہیں ان کا اگلا حصہ پیٹ اور پچھلا پیٹھ میں داخل ہوگا۔
(۲۰و ۲۱) دونوں سرین یعنی اپنے بالائی جوڑ سے رانوں کے جوڑ تک۔
(۲۲) فرج۔
(۲۳) دبر۔
#3986 · کتابُ الصلوۃ · باب شروط الصلوۃ ( نماز کی شرطوں کا بیان )
(۲۴و۲۵) دونوں رانیں یعنی اپنے بالائی جوڑ سے زانوؤں کے نیچے تك دونوں زانو بھی رانوں میں شامل ہیں ۔
(۲۶) زیر ناف کی نرم جگہ اور اس سے متصل و مقابل جو کچھ باقی ہے یعنی ناف کے کنارہ زیریں سے ایك سیدھا دائرہ کمر پر کھینچے اس دائرے کے اوپر اوپر تو سینہ تك اگلا حصہ پیٹ اور پچھلا پیٹھ میں شامل تھا اور اس کے نیچے نیچے دونوں سرین اور دونوں رانوں کے شروع جوڑ اور دبر بالائی کنارے تك جو کچھ حصہ باقی ہے سب ایك عضو ہے عانہ یعنی بال جمنے کی جگہ بھی اسی میں داخل ہے۔
(۲۷ و ۲۸) دونوں پنڈلیاں یعنی زیر زانو سے ٹخنوں تک۔
(۲۹و۳۰) دونوں تلوے۔ فی تنویر الابصار والدرالمختار (تنویر الابصار اور درمختار)
عورۃ(للحرۃ) ولوخنثی (جمیع بدنھا) حتی شعرھا النازل فی الاصح (خلاالوجہ و الکفین) فظھر الکف عورۃ علی المذھب(والقدمین)علی المعتمد اھوفی الخلاصۃ المرأۃ اذالم تستر ظھر قد مھا تجوز صلاتھا وبطن الکف والوجہ علی ھذا لان ھذاالثلثۃ منھا لیست بعورۃ وبطن قدمھا ھل ھی عورۃ فیہ روایتان والتقدیر فیہ بربع بطن القدم فی روایۃ الاصل وفی رویۃ الکرخی لیس بعورۃ اھ ملخصاوبھذا التفصیل بین ظھر القدم وبطنھا جزم المحقق علی الاطلاق فی مقدمتہ زادالفقیر وقال العلامۃ الغزی صاحب التنویر فی شرحھااعانۃ الحقیر اقول فاستفید من کلام الخلاصۃ ان الخلاف انما ھو فی
آزاد عورت اگر چہ خنثی ہو اس کاستر تمام بدن ہے حتی کہ اسکے لٹکے ہوئے بال بھی اصح مذہب پر مگر چہرہ دونوں ہتھیلیاں اور دونوں قدم معتمد قول کے مطابق ستر نہیں ۔ ہتھیلی کی پشت صحیح مذہب پر ستر میں شامل ہے ا ھ
خلاصہ میں ہے کہ اگر عورت نے اپنی پشت قدم کو نہ ڈھانپا تو اس کی نماز جائز ہے اور ہتھیلی کے اندرونی حصے اور چہرے کا بھی یہی حکم ہے کیونکہ عورت کی یہ تینوں چیزیں ستر میں شامل نہیں عورت کے پاؤں کا اندرونی حصہ ستر ہے یا نہیں اس میں دو روایتیں ہیں روایت اصل میں تلووں کی چوتھائی کھلنے کومانع نمازقرا ردیا اور امام کرخی کی روایت میں ہے یہ شامل ستر نہیں ہے ا ھ ملخصا ظاہر قدم اور باطن قدم کے درمیان اسی تفصیل پرمحقق علی الاطلاق امام بن ہمام نے اپنے مقدمہ زادالفقیر میں جزم کیا ہے اس کی شرح اعانۃ الحقیر میں صاحب التنویر علامہ غزی نے کہا میں کہتا ہوں خلاصہ کی گفتگو سے پتا چلتا ہے کہ عورت کے
حوالہ / References درمختار شرح تنویر الابصار باب شروط الصلٰوۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۶۶
خلاصۃ الفتاوٰی الفصل السادس فی سترالعورۃ مطبوعہ نو لکشو لکھنؤ ۱ / ۷۴
#3987 · کتابُ الصلوۃ · باب شروط الصلوۃ ( نماز کی شرطوں کا بیان )
باطن القدم و اما ظاھرہ فلیس بعورۃ بلاخلاف الخ وفی الھندیۃ عن الخلاصۃ ثدی المرأۃ ان کانت صغیرۃ ناھدۃ فھو تبع لصدرھا وان کانت کبیرۃ فھو عضو علیحدۃ اھ
اقول : امامابین الثدیین فقد کان ھو و موضع الثدیین جمیعا من الصدر قبل انکسارھما اما ھما فقد انحازتا بالانکسار فبقی ما بینھما داخلا فی الصدر کما کان وھوظاھر اماتبعیۃ السرۃ للبطن فلانا نرھاتتبعہ فی شمول حکم الستر وعدمہ فبطن الرجل لمالم یکن عورۃ لم تکن عورۃ من الامۃ مع ظھرھا وبطنھا مانصہ (الشامی)البطن ما لان من المقدم والظھر مایقابلہ من الموخر کذا فی الخزائن وقال الرحمتی الظہرماقابل البطن من تحت الصدر الی السرۃ “ جوھرۃ “ ای فما حاذی الصدر لیس من الظہر
پاؤں کے تلوے میں اختلاف ہے رہا معاملہ ظاہر قدم کا تو وہ بالاتفاق ستر میں شامل نہیں الخ اور فتاوی ہندیہ میں خلاصہ کے حوالے سے ہے کہ اگر لڑکی چھوٹی نوخاستہ پستانوں والی ہو تو اس کے پستان سینے کے تابع ہوں گے اور اگر بڑی ہوتو پستان الگ الگ مستقل عضو ہوں گے۔
اقول : (میں کہتا ہوں ) وہ جو پستانوں کے درمیان جگہ ہے تو اس بارے میں مسئلہ یہ ہے کہ پستانوں کے ڈھلکنے سے پہلے پستانوں کی جگہ اور پستان کے درمیان کی جگہ سینے ہی کا حصہ تھے پھر پستان ڈھلکنے سے جدا عضو بن گئے تو پستانوں کے درمیان کی جگہ جس طرح پہلے سینہ میں شامل تھی ویسے ہی سینہ میں داخل رہے گی یہ بات تو ظاہر ہے باقی ناف بطن کے تابع اس لئے ہے کہ وہ ستر اور عدم ستر کے حکم میں شامل ہونے میں پیٹ کے تابع ہے تو بطن مرد جب ستر میں شامل نہیں تو مرد کی ناف بھی ستر میں شامل نہ ہو گی لیکن لونڈی کی پشت اور بطن دونوں ستر میں شامل ہیں جیسا کہ اس بارے میں شامی نے تصریح کی ہے بطن (پیٹ) وہ ہے جو آگے کی طرف نرم حصہ ہے اور ظہر(پشت) اس کے مقابل پچھلا حصہ ہے کذافی الخزائن ۔ شیخ رحمتی نے کہا ظہر (پشت) سے مراد جسم کا وہ
حوالہ / References ردالمحتار بحوالہ اعانۃ الحقیر باب شروط الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۹۸
فتاوٰی ہندیۃ الباب الثالث فی شروط الصلوٰۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۵۹
#3988 · کتابُ الصلوۃ · باب شروط الصلوۃ ( نماز کی شرطوں کا بیان )
الذی ھو عورۃ اھ وفی حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح اما الجنب فانۃ تبع للبطن کذافی القنیۃ والاوجہ ان مایلی البطن تبع لہ کما فی البحر یعنی وما یلی الظھر تبع لہ کما فی تحفۃ الاخیار اھ وفی ط علی الدرالمختار ان کانت امۃ فاعضاء عورتھا ثمانیۃ ایضا الفخذان و الالیتان والقبل والدبر وما حولھما والبطن و الظھر ومایلیھما زمن الجنبین و یزاد فی الحرۃ الساقان مع الکعبین والثدیان المنکسران والاذنان والعضدان مع المرفقین والذراعان مع الرسغین والکتفان وبطناقدمیھا فی روایۃ الاصل و الصدر والراس و الشعر والعنق و ظھر الکفین فھی ثمانیۃ و عشرون عضوا اھ قال ش کذاحررہ ح اھ
اقول : فاتھم رحمھم اﷲ تعالی عضوان الاول ماتحت السرۃ الی العانۃ ومایحاذیہ من کل جانب فان
حصہ جو سینے سے نیچے ناف تك پیٹ کے مقابل ہے جوہرۃ۔ یعنی جسم کا وہ حصہ جو سینے کے مقابل ہو وہ اس پشت کا ایسا حصہ نہیں جو ستر میں شامل ہے اھ۔ حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے جانب پہلو بطن کے تابع ہے قنیہ میں اسی طرح ہے اور اوجہ (بہتر) یہ ہے کہ جو حصہ پہلو کا بطن کے ساتھ متصل ہے وہ بطن کے تابع ہے کما فی البحر۔ یعنی جو پشت کے ساتھ ملنے والا حصہ ہے وہ پشت کے تابع ہے کما فی تحفۃ الاخیاراھ۔ طحطاوی علی الدرالمختار میں ہے اگر خاتون لونڈی ہو تو اس کے بھی اعضاء ستر آٹھ ہیں دونوں رانیں دونوں سرین قبل دبر اور ان کا ارد گرد پیٹ پشت اور ان دونوں سے متصل پہلو ۔ اور آزاد عورت میں ان اعضاء کا اضافہ ہے دونوں پنڈلیاں ٹخنوں سمیت ڈھلکے ہوئے دونوں پستان دونوں کان دونوں بازو کہنیوں سمیت (مونڈھے تک) دونوں کلائیاں یعنی کہنی کے جوڑ سے گٹوں کے نیچے تك دونوں کاندھے اور روایت اصل کے مطابق عورت کے دونوں قدموں کے تلوے سینہ سر بال گردن دونوں ہاتھوں کی پشت یہ تمام اٹھائیس اعضاء ہیں اھ شامی نے کہا کہ امام حلبی نے اسی طرح تحریر کیاہے اھ (ت)
اقول : ( میں کہتا ہوں ) ان اسلاف رحمہم اللہ تعالی نے دو اعضاء کا ذکر نہیں کیا پہلا جسم کا وہ حصہ جو ناف سے زیرناف تك اور ہر جانب سے اس کے
حوالہ / References ردالمحتار باب شروط الصلوٰۃ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۹۷
حاشیۃالطحطاوی علی مراقی الفلاح فصل فی المتعلقات الشروح الخ مطبوعہ نور محمد تجارت کتب گھر کراچی ص ۱۳۱
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب شروط الصلوٰۃ مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت ۱ / ۱۹۱
ردالمحتار باب شروط الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۰۱
#3989 · کتابُ الصلوۃ · باب شروط الصلوۃ ( نماز کی شرطوں کا بیان )
ھذا غیرداخل فی البطن والظھر لانہ عورۃ من الرجل دونھما ولافی الفرجین والالیتین لکنہ عورۃ بحیالہ فی الرجل فکیف فیھا فھذا فاتھم فی الامۃ والحرۃ جمیعا والاخرمایحاذی الصدر من خلف الی مبدأ الظھر فان الظھر کما علمت لا یشملہ ولا الکتفان ولا العنق کما لا یخفی ولا شك انہ عورۃ من الحرۃ ۃ فوجب ان یکون عضوا مستقلا منھا فتمت لھا ثلثون و باﷲ التوفیق۔
مدمقابل ہے اس لئے کہ یہ حصہ بطن اور پشت میں شامل نہیں اس لئے مرد کا یہ حصہ ستر میں شامل ہے جبکہ بطن و پشت دونوں اس کے ستر میں شامل نہیں اور یہ حصہ دونوں فرجوں (قبل ودبر) اور سرین کے دونوں حصوں میں بھی شامل نہیں لیکن ہرحال میں مرد کا ستر ہے تو عورت کا ستر کیوں نہ ہوگا ایك عضو یہ ہے جس کا ذکر لونڈی اور آزاد عورت دونوں کے بارے میں اسلاف سے رہ گیا۔ دوسرا عضو جسم کا وہ حصہ جو سینے کے مقابل پیچھے سے ابتدائے پشت تك ہے کیونکہ آپ کو معلوم ہے کہ یہ حصہ پشت میں شامل نہیں اور نہ ہی دونوں کاندھوں اور گردن میں شامل ہے جیسا کہ مخفی نہیں اس کے باوجود بلاشك آزاد عورت کے جسم کا یہ حصہ ستر میں شامل ہے لہذا اس کو بھی عورت کا مستقل عضو شمار کرنا ثابت ہو گیا تو اب ان اعضا کی تعداد تیس۳۰ ہوگئی و باﷲ التوفیق۔ (ت)
تنبیہ اول : ملاحظہ حلیہ وغنیہ و بحر و ردالمحتار وغیرہا سے ظاہر کہ قدم حرہ میں ہمارے علما رضی اﷲتعالی عنہم کو اختلاف شدید مع اختلاف تصحیح ہے بعض کے نزدیك مطلقا عورت ہے امام اقطع نے شرح قدوری اور امام قاضی خان نے اپنے فتاوی میں اس کی تصحیح اور حلیہ میں بدلیل احادیث اسی کی ترجیح کی امام ا سبیجابی و امام مرغینانی نے اسی کو اختیار فرمایا۔ بعض کے نزدیك اصلا عورت نہیں ۔ امام برہان الدین نے ہدایہ اور امام قاضی خان نے شرح جامع صغیر اور امام نسفی نے کافی میں اسی کی تصحیح فرمائی اسی کو محیط میں اختیار کیا اور درمختار میں معتمد اور مراقی الفلاح میں اصح الروایتین کہا کنز وغیرہ اکثر متون کتاب الصلوۃ میں اسی طرف ناظر ہیں ۔ بعض کے نزدیك بیرون نماز عورت ہیں نماز میں نہیں یعنی اجنبی کو انکا دیکھنا حرام مگر نماز میں کھل جانا مفسد نہیں اختیار شرح مختار میں اسی کی تصحیح فرمائی۔ پھر کلام خلاصہ وغیرہا سے مستفاد کہ یہ اختلافات صرف تلووں میں ہیں پشت قدم بالاتفاق عورت نہیں مگر کلام علامہ قاسم و حلیہ وغنیہ وغیرہا سے ظاہر کہ وہ بھی مختلف فیہ ہے اور شك نہیں کہ بعض احادیث اس کے عورت ہونے کی طرف ناظر کما یظہر بمراجعۃ الحلیۃ وغیرھا (جیساکہ حلیہ وغیرہ کے مطالعہ سے یہ ظاہر ہو جائے گا۔ ت) تو اگر زیادت احتیاط کی طرف نظر جائے تو نہ صرف تلووں بلکہ ٹخنوں کے نیچے سے ناخن پا تك سارے پاؤں کو عورت سمجھا جائے یوں بھی شمار اعضا
#3990 · کتابُ الصلوۃ · باب شروط الصلوۃ ( نماز کی شرطوں کا بیان )
تیس۳۰ ہی رہے گا اور اگر آسانی پر عمل کریں تو سارے پاؤں عورت سے خارج ہوکر اعضاء اٹھائیس ۲۸ ہی رہیں گے۔ آدمی ان معاملات میں مختار ہے جس قول پر چاہے عمل کرے۔
تنبیہ دوم : پشت دست اگر چہ اصل مذہب میں عورت ہے مگر من حیث الدلیل یہی روایت قوی ہے گٹوں سے نیچے ناخن تك دونوں ہاتھ اصلا عورت نہیں ۔
یظھرذلك بمراجعۃ الحلیۃ والغنیۃ وغیرھما ونص فیہ ماعند ابی داؤد مرسلا من قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان الجاریۃ اذاحاضت لم یصلح ان یری منھا الاوجھھا ویدیھا الی المفصل قال فی الغنیۃ وکذلك الایۃ لان المراد من الزینۃ بالنظر الی الید ھوالخاتم وھو غیرمختص بباطن الکف بل زینتہ فی الظاھر اظھر لانہ موضع الفص والنقش قال ولان الضرورۃ فی ابدائہ اشد قال فکان ھذا ھو الاصح وان کان غیر ظاھر الروایۃ الخ وکذلك قال فی مراقی وحاشیتھا للطحطاوی (جمیع بدن الحرۃ عورۃ الاوجھھا وکفیھا باطنھما و ظاھرھما فی الاصح و ھو المختار) وان کان خلاف ظاھر الروایۃ اھ قال الشامی
غنیہ اور دیگر کتب کے مطالعہ سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے اور اس سلسلہ میں حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا وہ ارشاد بھی بطور نص ذکر کیا گیا ہے جو امام ابو داؤد کے نزدیك مرسلا مروی ہے : جب لڑکی حائضہ ہوجائے تو اس کے چہرے اور کلائیوں تك ہاتھ کے علاوہ اس کے جسم کے کسی حصہ کو دیکھنا جائز نہیں ۔ غنیہ میں کہا آیت قرآنی سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ زینت ہاتھ کے اعتبار سے ہے اور وہ انگوٹھی میں ہے اور وہ باطن کف کے ساتھ ہی مختص نہیں بلکہ اس کی زینت ہتھیلی کے اوپر میں زیادہ ہوگی کیونکہ ظاہرہی نگینہ و نقش کا محل ہے
اور یہ بھی کہا کہ اس کے اظہار میں شدید ضرورت ہے پھر کہا یہ اگر چہ غیر ظاہر الرویۃ ہے مگر اصح یہی ہے الخ اسی طرح مراقی الفلاح اور اس کے حاشیہ طحطاوی میں ہے(اصح مذہب کے مطابق آزاد عورت کا تمام بدن ماسوائے چہرے اور ہتھیلیوں کے خواہ ان کا باطن ہو یا ظاہر عورت کا ستر ہے یہی مختار ہے) اگر چہ یہ ظاہرالروایۃ
حوالہ / References کتاب المراسیل ماجاء فی اللباس حدیث ۳۹۷ مطبوعہ مطبعۃ المکتبۃ العلمیۃ لاہور ص۱۷۵
کتاب المراسیل ماجاء فی اللباس حدیث ۳۹۷ مطبوعہ مطبعۃ المکتبۃ العلمیۃ لاہور ص۱۷۵
کتاب المراسیل ماجاء فی اللباس حدیث ۳۹۷ مطبوعہ مطبعۃ المکتبۃ العلمیۃ لاہور ص۱۷۵
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی الشرط الثالث مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۲۱۱
طحطاوی علی مراقی الفلاح فصل فی متعلقات الشروط الخ مطبوعہ نور محمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۳۱
#3991 · کتابُ الصلوۃ · باب شروط الصلوۃ ( نماز کی شرطوں کا بیان )
وکذا ایدہ فی حلیۃ وقال مشی علیہ فی المحیط و شرح الجامع لقاضی خان اھ
کے خلاف ہے اھ امام شامی نے فرمایا اس طرح حلیہ میں اس کی تائید کی ہے اور کہا ہے کہ محیط اور قاضی خان نے شرح الجامع میں اسی کی اتباع کی ہے اھ(ت)
تو روایت قوی پر دو پشت دست نکال کر اٹھائیس ہی عضو عورت رہے اور اگر بنظر آسانی اس قول مصحح پر عمل کرکے تلوے بھی خارج رہیں تو صرف چھبیس ہی ہیں اور اصل مذہب پر تیس۳۰ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۳۹۲ : ازکلکتہ نل موتی گلی ۱۸ مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب ۲۱جماد ی الاخر ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں یہ کہنا کہ نماز خدا ئے تعالی کی پڑھتا ہوں جائز ہے یا نہیں ایك صاحب اس کہنے کو منع کرتے ہیں ۔ بینوا توجروا
الجواب :
بلا شبہ جائز ہے ان صاحب کے منع کرنے کے اگر یہ معنی ہیں کہ نیت کرتے وقت زبان سے یہ الفاظ نہ کہے جائیں تو ایك قول ضعیف و نا معتمد ہے عامہ کتب میں جواز تلفظ بہ نیت بلکہ اس کے استحباب کی تصریح فرمائی۔ درمختار میں ہے :
التلفظ بھا مستحب ھو المختار و قیل سنۃ یعنی احبہ السلف او سنۃ علمائنا ۔
نیت زبان کے ساتھ کرنا مستحب ہے مختار قول یہی ہے بعض نے سنت کہا یعنی اسے اسلاف پسند کرتے تھے یا ہمارے علماء کا طریقہ ہے (ت)
اور اگر یہ مراد نماز کو اﷲ عزوجل کی طرف اضافت کرنا منع ہے تو سخت جہل اشنع ہے یہ صاحب بھی ہر نماز میں التحیات ﷲ والصلوات کہتے ہونگے (کہ سب مجرے اور سب نمازیں اﷲ کی ہیں ) پر ظاہر کہ یہاں اضافت بھی لامیہ ہے بالجملہ اس منع کی کوئی وجہ اصلا نہیں واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۳۹۳ : ازبدایوں قاضی محلہ مکان مولوی بقاء اﷲ رئیس مرسلہ مولوی عبدالحمید صاحب ۴رجب المرجب ۱۳۱۲ھ
بجناب معلی القاب مخدوم و معظم بندہ جناب مولینا صاحب دام فیوضہ خادم بے ریا عبدالحمید بعد بجاآوری آداب گزارش کرتا ہے کہ ایك فتوی اپنا لکھا ہوا حسب ہدایت اپنے استاذ جناب مولانا حافظ بخش کے
حوالہ / References ردالمحتار باب شروط الصلوٰۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۹۸
درمختار باب شروط الصلوٰۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۶۷
#3992 · کتابُ الصلوۃ · باب شروط الصلوۃ ( نماز کی شرطوں کا بیان )
واسطے تصدیق جناب والا کو بھیجتاہوں ملاحظہ فرما کر مہرسے مزین فرمادیجئے اور اگر کوئی غلطی ملاحظہ سے گزرے تو درست فرما کر ممنون فرمایئے زیادہ ادب۔
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرح اس مسئلہ میں کہ فرائض اور واجبات کی نیت میں لفظ “ آج “ یا “ اس “ کا اضافہ کرنا چاہیئے یا نہیں مثلا یوں کہنا کہ نیت کرتا ہوں فرض آج کے ظہر یا عصر یا اس ظہر یا عصر کی اور اگر نہیں کرے گا تو نماز ادا ہوگی یا نہیں
خلاصہ جواب :
صورت مستفسرہ میں فقہا کا اختلاف ہے چنانچہ قاضی خان نے بلا لفظ “ آج “ یا “ اس “ کے نیت کو جائز ہی نہیں رکھا ہے کما فی فتاواہ وھکذا فی العلمگیریۃ (جیسا کہ ان کے فتاوی میں ہے اور اسی طرح فتاوی عالمگیری میں ہے۔ ت) اور درمختار میں ہے کہ تعین ضروری نہیں ۔ پس بموجب قولین اولین کے بلا لفظ “ آج “ یا “ اس “ کے مطلق نیت سے نماز ادا نہ ہوگی اور بموجب قول صاحب درمختار کے ادا ہو جائیگی لیکن چونکہ خروج عن الخلاف بالاجماع مستحب ہے اور اسی درمختار میں نسبت تعین کی اولویت ظاہر فرمائی ہے اور بلفظ وہوالمختارارشاد کہا ہے پس اولی اور مختار یہ ہی ہے کہ تعین وقت کی لفظ “ آج “ یا “ اس “ سے ضرور کرلے ورنہ تارك اولیت ہوگا اور جب شناخت وقت کی نہیں رکھتا اور یہ بالعموم ہے کہ اس عہد میں اکثر لوگ وقت کھو کر نماز پڑھتے ہیں تو عنداﷲ مواخذہ دار رہے گا۔ واﷲتعالی اعلم ۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
نیت قصدقلبی کا نام ہے تلفظ اصلا ضروری نہیں نہایت کار مستحب ہے تو لفظ اس یا آج درکنار سرے سے کوئی حرف نیت زبان پر نہ لایا تو ہرگزکسی کا حرج بھی نہیں قصدقلبی کی علمائے کرام نے یہ تحدید فرمائی کہ نیت کرتے وقت پوچھاجائے کہ کون سی نماز پڑھنا چاہتا ہے تو فورا بے تامل بتادے کماذکرہ الامام الزیلعی فی التبیین وغیرہ فی غیرہ(جیسا کہ امام زیلعی نے اسے تبیین الحقائق میں اور دیگر علماء نے اپنی کتب میں ذکر کیا۔ ت)اور شك نہیں کہ جوشخص نماز وقتی میں یہ بتادے گا کہ مثلا نمازظہر کا ارادہ وہ یہ بھی بتا دیگا کہ آج کی ظہر شاید یہ صورت کبھی واقع نہ ہو کہ نیت کرتے وقت دریافت کئے سے یہ تو بتا دے کہ ظہر پڑھتا ہوں اور یہ سوچتا رہے کہ کب کی تو قصد قلب میں تعیین نوعی نماز کے ساتھ تعیین شخصی بھی ضروری ہوتی ہے اور اسی قدر کافی ہے ہاں اگر کوئی شخص بالقصد ظہر غیر معین کے نیت کرے یعنی کسی خاص ظہر کا قصد نہیں کرتا بلکہ مطلق ظہر پڑھتا ہوں چاہے وہ کسی دن کی ہو تو بلا شبہ اس کی نماز نہ ہوگی فان التعیین فی الفرض فرض بالوفاق وانما الخلف فی عدم اللحاظ لا لحاظ العدم(فرائض میں تعیین وقت بالاتفاق فرض ہے عدم لحاظ میں اختلاف ہے لحاظ عدم میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ت)اس طور پر تو یہ مسائل اصلامحل خلاف نہیں ۔
ولہذا محقق اکمل الدین
#3993 · کتابُ الصلوۃ · باب شروط الصلوۃ ( نماز کی شرطوں کا بیان )
بابرتی نے عنایہ شرح ہدایہ میں فرمایا :
اقول : الشرط المتقدم وھوان یعلم بقلبہ ای صلاۃ یصلی یحسم مادۃ ھذہ المقالات وغیرہا فان العمدۃ علیہ لحصول التمیز بہ وھو المقصود کما نقلہ فی ردالمحتار واقرہ ھھنا وفی منحۃ الخالق وایدہ العلامۃ اسمعیل مفتی دمشق کمافی المنحۃ۔
میں کہتا ہوں شرط مقدم یہ ہے کہ نمازی دل سے یہ جانتا ہو کہ وہ کون سی نماز ادا کر رہا ہے یہ شرط ان اعتراضات وغیرہ کی بنیاد کو ختم کر دیتی ہے کیونکہ حصول تمیز کے لئے نمازی پر قصد و نیت ضروری ہے اور یہی مقصود ہے اھ ردالمحتار نے یہاں اسے نقل کر کے مقررر کھا ہے اورمنحۃ الخا لق میں اسے نقل کیا ہے نیز اسکی تائید مفتی دمشق شیخ اسمعیل نے کی ملاحظہ ہو منحۃ الخالق(ت)
البتہ تعدد فوائت خصوصا کثرت کی حالت میں یہ صورت ضرور ہوسکتی بلکہ بہت عوام سے واقع ہوتی ہے کہ ظہر کی نیت کرلی اور یہ تعیین کچھ نہیں کہ کس دن تاریخ کی ظہر یہاں باوصف اختلاف تصحیح مذہب اصح واحوط یہی ہے کہ دن کی تخصیص نہ کی تو نماز ادا ہی نہ ہوگی مگر طول مدت یا کثرت عدد میں تعیین روز کہاں یاد رہتی ہے لہذا علماء نے اس کا سہل طریقہ یہ رکھا ہے کہ سب سے پہلی یا سب سے پچھلی ظہر یا عصر کی نیت کرتا رہے جب ایك پڑھ لے گا تو باقی میں جو سب سے پہلی یا پچھلی ہے دہ ادا ہوگی وعلی ھذاالقیاس آخر تك ۔
فی التنویر لابد من التعیین لفرض ولوقضاء قال فی الدرلکنہ یعین ظھر یوم کذا علی المعتمد والاسھل نیۃ اول ظھرعلیہ واخر ظہر وفی القھستانی عن المنیۃ لا یشترط ذلك فی الاصح وسیجی آخر الکتاب قال الشامی نقل الشارح ھناك عن الاشباہ انہ مشکل و مخالف لماذکرہ اصحابنا کقاضی خان وغیرہ والاصح الاشتراط قلت وکذا
تنویر الابصار میں ہے کہ گر فرض نماز میں تعیین ضروری ہے خواہ وہ قضا ہی کیوں نہ ہوں درمختار میں کہا معتمد قول کے مطابق تعیین یہ ہے کہ فلاں دن کی ظہر ادا کر رہا ہوں اس مسئلہ میں آسان طریقہ یہ ہے کہ یوں نیت کرلے کہ پہلی ظہر جو اس پر لازم ہے وہ پڑھتا ہے۔ یا یہ کہ آخر ظہر جو اس پر لازم ہے وہ پڑھتا ہے ۔ قہستانی میں منیہ کے حوالے سے ہے اصح یہ ہے کہ یہ کہنا شرط نہیں اور عنقریب کتاب کے آخر میں اس کا ذکر آئے گا۔
حوالہ / References العنایۃ مع فتح القدیر باب شروط الصلوٰۃ الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۳۳ ، ردالمحتار باب شروط الصلوٰۃ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۰۸
درمختار باب شروط الصلوٰۃ الخ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۶۷
#3994 · کتابُ الصلوۃ · باب شروط الصلوۃ ( نماز کی شرطوں کا بیان )
صححہ فی متن الملتقی ھناك فقد اختلف التصحیح والاشتراط احوط و بہ جزم فی الفتح ھناکمالا یخفی۔
امام شامی فرماتے ہیں کہ شارح نے یہاں اشباہ سے نقل کیا ہے کہ (تعیین شرط نہ ہونا)ناقابل فہم اور ہمارے علماء قاضی خان وغیرہ کی تصریحات کے خلاف ہے۔ بلکہ شرط ہونا اصح ہے میں کہتا ہوں متن ملتقی میں اس مقام پر اسکی تصحیح کی ہے تو اس کی تصحیح میں اختلاف واقع ہوا ہے مگر شرط ہونا احوط ہے اور اسی پر فتح القدیر میں یہاں جزم کیا ہے۔ (ت)
اور اگر فائتہ ایك ہی ہے تو نیت فائتہ کرنے ہی میں تعیین یوم خود ہی آگئی۔
فی ردالمحتار عن الحلیہ لوکان فی ذمتہ ظہر واحد فائت فانہ یکفیہ ان ینوی ما فی ذمتہ من الظھر الفائت وان لم یعلم انہ من ای یوم ۔
جیسا کہ ردالمحتار میں حلیہ سے ہے کہ اگر کسی شخص کے ذمے ایك ظہر کی نماز قضا لازم ہے تو اس کے لئے اتنی نیت کرلینا کافی ہے کہ وہ اپنی فوت شدہ ظہر ادا کر رہا ہے اگرچہ یہ نہ جانتا ہو کہ وہ کون سے دن کی فوت شدہ ہے(ت)
بالجملہ نماز وقتی میں صور واقعہ معلومۃ الوقوع موقع خلاف و نزاع نہیں خلافیہ علماء اس صورت مفروضہ میں ہے کہ کوئی شخص نماز امروزہ میں تعیین نوعی تو کرلے اور تعیین شخصی سے اصلا ذاہل وغافل ہو کہ بحالت شعور قصد صحیح تعیین شخصی کا ملزوم اور عدم لحاظ مفقود و معدو م اوربقصد خلاف عدم لحاظ نہیں لحاظ عدم ہے اور وہ بلاشبہ نافی نماز و منافی جواز تو غفلت و بے خبری ایسی چاہیئے کہ سوال پر یہ تو بتادے کہ مثلا ظہر پڑھتا ہوں اور بے تامل و فکر نہ بتاسکے کہ آج کی ظہر ایسی حالت میں اس سوال کا محل نہیں کہ مجھے نیت میں کیا بڑھانا چاہیے کہ وہ تو حال ذہول وعدم شعور میں ہے بلکہ بحث یہ ہوگی کہ ایسی نماز ہوگئی یا نہیں اس میں تین صورتیں ہیں اگر وقت باقی ہے تو روایات مختلف تصحیحات مختلف کما بینہ فی ردالمحتار وغیرہ من الاسفار(جیسا کہ ردالمحتار اور دیگر معتمد کتب میں اس کا بیان ہے۔ ت) غرض توسیع مسلم اور احتیاط اسلم یونہی اگر وقت جاتا رہااور اسے معلوم نہیں اس صورت میں اختلاف تصحیح ہے۔
فی البحر الرائق شمل مااذانوی العصر بلا قید وفیہ خلاف ففی الظھیریۃ لونوی الظھرلایجوز و قیل یجوز وھو الصحیح ھذا
البحر الرائق میں ہےکہ یہ اس صورت کو بھی شامل ہے جب کوئی نماز عصر کی نیت بغیر کسی قید کے کرے تو اس میں اختلاف ہے ظہیر یہ میں ہے اگر کسی نے
حوالہ / References ردالمحتار باب شروط الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۰۸
ردالمحتار باب شروط الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۰۸
#3995 · کتابُ الصلوۃ · باب شروط الصلوۃ ( نماز کی شرطوں کا بیان )
اذا کان مودیافان کان قاضیافان صلی بعد خروج الوقت وھولایعلم لا یجوز و ذکر شمس الائمۃ ینوی صلاۃ علیہ فان کانت وقتیۃ فھی علیہ وان کانت قضاء فھی علیہ ایضا اھ وھکذا صححہ فی فتح القدیر معزیا الی فتاوی العتابی لکن جزم فی الخلاصۃ بعدم الجواز وصححہ السراج الھندی فی شرح المغنی فاختلف التصحیح کما تری اھ ملخصاوفی ردالمحتار فی النھران ظاھر مافی الظھیریۃ انہ یجوز علی الارجح اھ
اقول : بل لعل ظاھر مافیھا انہ لا یجوز علی الارجح حیث جزم بہ ولم یذبل ماذکر عن شمس الائمۃ بما یدل علی ترجیحہ وانت تعلم ان اماما من الائمۃ اذاقال لایجوز ذلك وقال فلان یجوز فان المتبادر منہ ان مختارنفسہ الاول بل الظاھر انہ الذی علیہ الاکثر خلا فالمن ذکر۔
ظہر کی نیت کی تو جائز نہیں بعض کے نزدیك جائزہے اور یہی صحیح ہے۔ لیکن یہ اس وقت ہے جب وہ نماز ادا کر رہا ہو (یعنی قضاوالا نہ ہو) اگر نمازقضا پڑھنے والا ہوتو اگر وقت کے نکلنے کے بعد اس حال میں پڑھی ہے کہ اسے خروج وقت کا علم نہیں ہوا تو نماز جائز نہ ہوگی۔ اور شمس الائمہ کہتے ہیں اتنی نیت کافی ہے کہ میں وہ نماز پڑھتا ہوں جو مجھ پر واجب ہے اب ادا ہو یا قضا وہ یقینا ا س پر لازم تھی اھ اسی طرح فتح القدیر میں فتاوی عتابی کے حوالے سے اس کی تصحیح کی ہے لیکن خلاصہ میں عدم جواز پر جزم کا اظہار کیا گیا ہے اور سراج ہندی نے شرح المغنی میں اسی کو صحیح کہا جیسا کہ آپ ملاحظہ کر رہے ہیں ۔ تصحیح مسئلہ میں اختلاف ہے اھ تلخیصا ۔ ردالمحتار میں نہر کے حوالے سے ہے کہ ظہیر یہ کی عبارت سے ظاہر یہی ہوتا ہے کہ ارجح قول پر جواز ہی ہے۔ اھ(ت)
اقول : (میں کہتا ہوں ) بلکہ ہو سکتا ہے ظاہر مافی الظہیریۃ کے مطابق ارجح قول پر عدم جواز ہو کہ انہوں نے اس پر جزم کیا ہے اور شمس الائمہ سے اس کی جو ترجیح ذکر کی گئی ہے اس کو رد نہیں کیا کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ جب کوئی امام کہتا ہے کہ یہ بات جائز نہیں اور فلاں اس کے جواز کا قائل ہے تو اس عبارت سے متبادر یہی ہوتا ہے کہ ان کا اپنا مختارقول اول ہے بلکہ ظاہر وہی ہے جو مختار و اکثر کی رائے کے مطابق ہے بخلاف اس کے جو انہوں نے ذکر کیا ہے۔ (ت)
حوالہ / References البحر الرائق شرح کنز الدقائق باب شروط الصلوٰۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ٢٧٩
ردالمحتار باب شروط الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٣٠٨
#3996 · کتابُ الصلوۃ · باب شروط الصلوۃ ( نماز کی شرطوں کا بیان )
اور اگر یہ بھی خروج وقت پر مطلع ہے تو ظاہر جواز ہے محشیان درمختار سادات ابرار حلبی و طحطاوی و شامی رحمہم العزیز الغفار نے اس مسئلہ میں روایت نہ پائی علامہ ح نے عدم جواز کا خیال اور علامہ ط نے ان کے خلاف اور علامہ ش نے انکا وفاق کیا
قال ط الظاھر الصحۃ عندالعلم بالخروج لان نیتہ حینئذ القضاء خلافا لمافی الحلبی اھ وقال ش بحث ح انہ لا یصح و خالفہ ط قلت وھوالاظھر لما مر من العنایۃ اھ اقول نعم ھوالاظہرلما مرعن البحر عن الظہیریۃ من تقیید عدم الجواز بقولہ وھولایعلم اما الاستناد بما مر عن العنایۃ فعندی غیر واقع فی محلہ لما علمت ان محل ھذہ المقالات ما اذا ذھل و غفل وکلام العنایۃ فیما ھو المعتاد و المعھود من ان من شعر بالتعیین النوعی شعر ایضا بالشخصی و رأیتنی کتبت ھھنا علی ھامش الشامی مانصہ
اقول : مامر عن العنایۃ فیما اذا علم بقلبہ التعیین ولاینبغی لاحد ان یخالف فیہ وھوجارفی کل صورۃ من الصور التسع بل لا تسع علیہ ولاثمان انما ھی صورۃ واحدۃ لاغیر وانما الکلام فیما اذانوی ذلك ذاھلا عن تعیین الیوم والوقت و
امام طحطاوی نے کہا اگر اسے خروج وقت کا علم ہو تو صحت نماز ظاہر ہے کیونکہ اس وقت نیت قضاکی ہوگی بخلاف اسکے جو حلبی نے کہا اھ شامی نے کہا حلبی نے بحث کرتے ہوئے اس کی عدم صحت کا قول کیا ہے اورطحطاوی نے ان کی مخالفت کی میں کہتا ہوں یہی اظہر ہے جیسا کہ عنایہ کے حوالے سے گزراہے اھ اقول : (میں کہتا ہوں )ہاں یہی اظہر ہے جیسا کہ البحرالرائق سے ظہیریہ کے حوالے سے عدم جواز کی تقیید اس کے قول “ وھولایعلم “ کے ساتھ گزری لیکن اس بات کی سند پکڑنا اس کے ساتھ جو عنایہ سے گزرا میرے نزدیك اس مقام کے مناسب نہیں کیونکہ اس تمام گفتگو کا محل وہ ہے کہ جب انسان غافل ہوجائے اور بھول جائے اور عنایہ کی گفتگو معروف مشہور طریقہ (یعنی عدم غفلت) پر ہے کیونکہ جو شخص تعیین نوعی کا ادراك رکھتا ہے اسے تعیین شخصی کا ادراك بھی رہے گا اور مجھے وہ یاد آیا جو حاشیہ شامی کے اس مقام پر میں نے لکھا ہے اس کے الفاظ یہ ہیں اقول : (میں کہتا ہوں ) عنایہ کی جو عبارت گزری ہے وہ اس صورت سے متعلق ہے جب دل سے اس کے تعین
حوالہ / References حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار باب شروط الصلوٰۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۱۹۴
ردالمحتار باب شروط الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۰۸
#3997 · کتابُ الصلوۃ · باب شروط الصلوۃ ( نماز کی شرطوں کا بیان )
ح لاستظھار بمامرعن العنایۃ کو جانتا ہو اس میں مخالفت کسی کو مناسب نہیں اور یہ بات نو۹ صورتوں میں سے ہر صورت میں جاری ہوگی بلکہ یہ نو۹ ہیں نہ آٹھ یہ تو صرف ایك ہی صورت ہے اسکے علاوہ کچھ نہیں یہاں گفتگو اس صورت سے متعلق ہے جب کسی انسان نے نماز کی نیت دن اور وقت کے تعین سے غافل ہو کر کی ہو اب تو عنایہ کی گفتگو سے تائید نہیں لائی جاسکتی۔ (ت)
غرض اس صورت مفروضہ کی تینوں شکلوں میں جواز کی طرف راہ ہے۔ ولذاارسل فی الدر ارسالا وقال انہ الاصح(اسی لئے درمختار میں اس کو مرسلا ذکر کیاہے اور کہا یہی اصح ہے۔ ت) اور امر عبادات خصوصا نماز میں حکم احتیاط معروف و معلوم ھکذا ینبغی المقام واﷲ ولی الفضل والانعام واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(تحقیق مقام کے لئے یہی مناسب تھا اﷲ تعالی فضل و انعام کا مالك اور وہی پاك اور بہتر جاننے والا ہے۔ ت)
___________________
حوالہ / References جدالممتار باب شروط الصلوٰۃ المجمع الاسلامی مبارك پور (ہند) ۱ / ۲۱۸
#3998 · کتابُ الصلوۃ · بابُ القبلَۃِ (قبلہ کا بیان)
باب القبلۃ (قبلہ کا بیان)
مسئلہ نمبر ۳۹۴ : ازخیر آباد وضلع سیتاپور محلہ مہمان سرائے درگاہ حضرت مخدوم صاحب خوردقدس سرہ مرسلہ مولوی سید عظیم الدین صاحب خادم آستانہ مقدسہ ۲۵محرم الحرام ۱۳۳۲ھ
چہ می فرمایند علماء دین و مفتیان شرح متین اندریں مسئلہ نقشہ نظری بالا درگاہ حضرت مخدوم سید نظام الدین صاحب الہ دیا خیر آبادی عرف حضرت چھوٹے مخدوم صاحب قدس سرہ کا ہے اس احاطہ میں ایك مسجد سہہ دری تعمیر شدہ ۱۰۵۶ھ ہے جس کے اندر دو صف کی گنجائش تھی ان صفوف کاجہت قبلہ موافق رخ مسجد قریب ثلث شمالی بین المغربین تھا اور تخمینا آخر صدی دو ازدہم تك اسی رخ نمازادا ہوتی رہی بعد ازاں فرش مسجد و صحن مسجد کو بوجہ شکستہ ہوجانے کے مرمت ہوئی چونکہ رخ روضہ شریف کا جو تعمیر کردہ صناعان دہلی تعمیر شد ہ ۹۹۴ھ ہے ایسا تھا جس کا جہت قبلہ وسط مغربین ہوتا تھا فرش جدید میں نشان صفوف میں موافق رخ روضہ قائم ہوکر اب تك نماز اس رخ ادا ہوئی اس کارروائی سے اندر مسجد کے بجائے دو صفوف کامل کی گنجائش رہی اور وقت ضرورت اگر اندر مسجد صف دویم قائم کی گئی تو کامل نہ ہوسکی ناقص رہی اب پھر فرش مذکورہ خراب ہو کر مرمت ہو رہا ہے بصورت ضرورت نشانات صفوف جدید قائم کئے جائیں گے چونکہ اکثر مساجد بلادوامصار ہند قطب رخ ہیں جن کا جہت قبلہ ثلث جنوبی مغرب میں ہے نیز عبارت کتب فقہ سے اس کی تائید حسب ذیل معلوم ہوتی ہے۔
#3999 · کتابُ الصلوۃ · بابُ القبلَۃِ (قبلہ کا بیان)
فی تجنیس الملتقط القبلۃ فی دیارنا بین مغرب الشتاء ومغرب الصیف فان صلی الی جہۃ خرجت من المغربین فسدت صلاتہ قال الامام ابومنصورینظر الی اقصر ایام الشتاء والی اطول ایام الصیف فیتعرف مغربھما ثم یترك الثلثین عن یمینہ وثلثا عن یسارہ و یصلی مابین ذلك قال الامام السید ناصر الدین الاول للجواز والثانی للاحتساب کما فی جامع المضمرات۔
تجنیس ملتقط میں ہے کہ ہمارے علاقے کا قبلہ موسم سرما کے مغرب اور موسم گرما کے مغرب کے درمیان ہے اگر کسی نے ایسی جہت میں نمازادا کی جو دونوں مغرب سے خارج ہو تو نماز فاسد ہوگی امام ابو منصور نے فرمایا موسم سرما کے سب سے چھوٹے دنوں اور موسم گرما کے سب سے بڑے دنوں کودیکھا (غور کیا ) تو ان دونوں کے مغرب کی پہچان ہو جائے گی ۔ پھر اپنے دائیں طرف سے دوتہائی اور بائیں طرف سے ایك تہائی چھوڑ کر اسکے درمیان نماز ادا کرے۔ امام السید ناصرالدین نے فرمایاپہلا قول جواز اور دوسرا استحباب کے لئے ہے اسی طرح جامع المضمرات میں ہے۔ (ت)
عبارت بالا کے متعلق تو یہ بات دریا فت طلب ہے کہ صیغہ مضارع ینظر فیتعرف یترک یصلی معروف یا مجہول اور فاعل یا مفعول مالم یسم فاعلہ کون ہےاور لفظ عن یمینہ و عن یسارہ کی ضمائر کا مرجع مصلی ہے یا قبلہ لہذا عبارت عربیہ پر اعراب قائم فرما ئے جائیں اور فاعل وغیرہ مرجع ضمائر کی تشریح اور ہدایتا امور ذیل کی ہدایت مطلوب ہے۔ مسجد موجودہ مذکورہ مخصوصہ کا جہت قبلہ مسجد ہی کے رخ رہنے دینا اور ہر دو صفوف کامل کی بدستور گنجائش قائم رکھنا افضل واولی ہے یا نشانات قائم کرکے جہت قبلہ بدل دینا افضل ہے تو قطب رخ میں صف واحد بھی کامل نہیں رہتی ہے افضل و اولی ہے یاروضہ کے مطابق جس سے ایك صف کامل قائم رہ سکتی ہے حد مکان اس مسجد خاص میں لحاظ تکمیل صفوف کی تصریح مستحب ہے یا تبدیلی جہت قبلہ کی مغربین شمس و مغربین قمر ایك ہی ہیں یا جداگانہ جواب استفتاء ہذا کی نہایت عجلت ہے مرمت قریب الاختتام ہے اور یہ پوشیدہ نہیں کہ بحالت تری فرش کے نشانات جیسے پائدار قائم ہو سکیں گے بعد خشکی ممکن نہ ہوگا لہذا توجہ خاص کا محتاج ہے اور کیونکہ استفتاء خاص متعدد علوم و فنون سے تعلق رکھتا ہے بدیں وجہ باوجود آگہی عدیم الفرصتی بندگان ذات بابرکات سے رجوع کی گئی کہ حسب مراد دوسرے کی دوسری جگہ حصول جواب کی پوری امید نہ تھی لہذا اس تکلیف دہی خاص کی نسبت مترصد معافی ہوکر توجہ خاص سے مستفید ہونے کا بواپسی امیدوار ہوں جزاك اﷲفی الدارین خیرا۔
حوالہ / References تجنیس الملتقط
#4000 · کتابُ الصلوۃ · بابُ القبلَۃِ (قبلہ کا بیان)
الجواب :
علمائے کرام نے جو خاص تخمینے جہت قبلہ کے لئے ارشاد فرمائے وہ خاص اپنے بلاد کے لئے ہیں نہ کہ حکم عام و لہذا وہ تخمینے بہت مختلف آئے ہیں جن کا بیان ہمارے رسالہ ھدایۃ المتعال فی حدالاستقبال میں ہے ۔
علامہ برجندی نے شرح نقایہ میں اسی عبارت تجنیس الملتقط کی نسبت فرمایا انما یصح فی بعض البقاع ( یہ قاعدہ بعض جگہوں میں صحیح و درست ہے۔ ت)خیرآباد جس کا عرض شمالی ستائیس ۲۷ درجے اکتیس۳۱ دقیقے اور گرینچ سے مشرقی اسی ۸۰ درجے اڑتالیس دقیقے ہے اس کا قبلہ تقریبا ٹھیك نقطہ مغرب الاعتدال ہے یعنی وسط مغربین صیف و شتا وسط حقیقی سے جنوب کی طرف ایك خفیف مقدار جھکا ہوا پاؤ درجہ تك بھی نہیں پہنچتی نہ وہ محسوس ہونے کے قابل ہے۔
وذلك لان عرض مکۃ المکرمۃ شرفھا اﷲ تعالی کاحہ الہ وطولھا محہ ی فما بین الطولین م حہ لح : .لوظل عرض مکۃ۵۹۳۵۴۲۳ء۹-لوجم مابین الطولین ۸۸۰۱۸۰۲ء۹=۷۱۳۳۶۲۰ء۹قوسہ فی جدول الظل حہ لط نہ لو جمھا ۹۴۸۵۸۹۶ء۹- محفوظ اول ثم فضل عرض البلد علی ھذہ القوس ماقہ لوجمھا بالتدفیق۵۰۸۳۹۵۸ء۷-محوظ ثانی فلوظل مابین الطولین ۹۳۳۵۴۴۶ء۹+ محفوظ-محفوظ ثانیا = ۷۳۷۲۸۴ء۱۲ قوس ھذاالظل فسط حہ مہ الو-ھوالانحراف الی نقطۃ المغرب من نقطۃ الجنوب لان عرض البلد الشمالی اکثر من القوس المذکورۃ فالانحراف من المغرب الاعتدال الی الجنوب مدقہ لح وھوالمقصود۔
یہ اس لئے ہے کہ مکہ مکرمہ ( اﷲ اسکی بزرگی میں اضافہ فرمائے)کا عرض مثلا کاحہ الہ ئہو اور اسکا طول م حہ ی ہو تو دونوں طولوں کے درمیان م حہ لح ہوگا کہ : . اگر ظل عرض مکہ۵۹۳۴۵۲۳ء۹-لو جم جو دونوں طولوں کے درمیان ہے ۸۸۰۱۸۰۲ء۹=۷۱۳۳۶۲۰ء۹ہے جس کا قوس جدول میں حہ لط نہ ہو ا اسکا لوجم ۹۴۸۵۸۹۶ء۹ ہے یہ محفوظ اول ہے۔ پھر اس قوس پر عرض بلد زائد ہوگا جو مانہ ہے جس کا لوجم بالتد قیق ۵۰۸۳۹۵۸ء۷ہے یہ محفوظ ثانی ہے پس اگر ظل “ جو دونوں طولوں کے درمیان ہے “ ۹۳۳۵۴۴۶ء۹+محفوظ اول-محفوظ ثانی =۳۷۳۷۲۸۴ء۱۲ ہے اس ظل کا قوس فسط مہ حہ لو ہے اور یہ نقطہ جنوب سے نقطہ مغرب کی طرف انحراف ہے کیونکہ بلد شمالی کا عرض قوس مذکورہ سے زائد ہے پس مغرب اعتدال سے جنوب کی طرف انحراف مدقہ لح ہے اور یہی مقصود ہے۔ ت
حوالہ / References شرح النقایہ للبرجندی کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ لکشور لکھنؤ ۱ / ۸۹
#4001 · کتابُ الصلوۃ · بابُ القبلَۃِ (قبلہ کا بیان)
سوال میں وسط مغربین کو جہت قبلہ روضہ ر خ لکھا اس سے معلوم ہوا کہ مزار مبارك کا منہ صحیح جانب قبلہ تحقیقی ہے تو لازم تھا کہ سرہانا تقریبا سیدھا جانب قطب ہو کہ وسط مغربین و وسط قطبین شیئ واحد ہے مگر نقشہ میں قطب شمالی کا خط دیوار روضہ مبارکہ کی جانب مغرب منحرف بنایا ہے اگرواقعی اتنا انحراف ہے تو وسط مغربین کا ہر گز جہت قبلہ روضہ رخ ہونا متصور نہیں پھر یہاں امراہم اس کی معرفت ہے کہ دیوار محراب مسجد کو قبلہ تحقیقی سے کتنا انحراف ہے اگر وہ انحراف ثمن دور یعنی ۴۵ درجے کے اندر ہے تو نماز محراب کی جانب بلا تکلف صحیح و درست ہے اس انحراف قلیل کا ترك صرف مستحب ہے خود سوال میں تجنیس ملتقط سے گزرا۔
قال الامام السید ناصر الدین الاول للجواز والثانی للاحتساب۔
امام ناصر الدین نے کہا : پہلی صورت میں جواز اور دوسری میں استحباب ہے ۔ (ت)
اسی طرح اس سے اور نیز ملتقط سے حلیہ امام ابن امیر الحاج میں ہے : شرح زاد الفقیر للعلامۃ الغزی و شرح الخلاصہ للقھستانی۔ پھر ردالمحتار میں وہی دو ثلث جانب راست اور ایك ثلث جانب چپ رکھنا بیان کرکے فرمایا :
ولولم یفعل ھکذا وصلی فیما بین المغربین یجوز۔
اگر کسی نے اس طرح نہ کیا اور مغربین کے درمیان نماز پڑھ لی تو جائز ہوگی۔ (ت)
تو ایك امر مستحب کے لئے مسلمانوں کو تردد میں ڈالنا اور صفوف مسجد کو ناقص و نا تمام کر دینا ہر گز مناسب نہیں ۔ شرع مطہر میں تکمیل نہایت امر مہتم بالشان ہے جس کا پتاا س حدیث سے چلتا ہے کہ رسول اﷲفرماتے ہیں :
من وصل صفاوصلہ اﷲ ومن قطعہ قطعہ اﷲ
جس نے صف کو ملایا اﷲ تعالی اسے ملائے گا اور جس نے صف کو قطع اﷲ تعالی اسے قطع فرمائے گا(ت)
یہاں اگر قطع صف موجود نہیں صف بروجہ قطع ہے کہ دیواریں حائل ہوکر تکمیل نہ کرنے دیں گی فکان کالصف بین السواری وقد نھی عنہ بنحو ذلك کما ذکر نافی فتاونا (یہ اس صف کی طرح ہے جو ستونوں کے درمیان ہو حالانکہ اس سے اور اس طرح کی دوسری صورتوں سے منع کیا گیا ہے جیسا کہ اسے ہم نے اپنے فتاوی میں بیان کیا۔ (ت)بیان
حوالہ / References تجنیس الملتقط
ردالمحتار باب شروط الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفٰی البابی مصر ۱ / ۳۱۶
سنن ابو داؤد باب تسویۃ الصفوف مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۹۷
#4002 · کتابُ الصلوۃ · بابُ القبلَۃِ (قبلہ کا بیان)
سوال اگر صحیح ہے تو یہ انحراف ثابت کر چکے ہیں کہ جب تك ۴۵ درجے انحراف نہ ہو نماز بلا شبہ جائز ہے اور یہ کہ قبلہ تحقیقی کو منہ کرنا نہ فرض نہ واجب صرف سنت مستحبہ ہے لہذا مسجد میں نماز بلا شبہ جائز ہے اور اس میں اصلا نقصان نہیں نہ دیوار سیدھی کرنا فرض البتہ بہترو افضل ہے ردالمحتار میں ہے :
لو انحرف عن العین انحرافا لا تزول منہ المقابلۃ بالکلیۃ جاز ویؤ یدہ ماقال فی الظھیریۃ اذاتیا من اوتیا سرتجوز ۔
اگر عین کعبہ سے اتنا منحرف ہوا کہ اس سے بالکلیہ مقابلہ ختم نہ ہو تو نماز جائز ہے اس کی تائید ظھیریہ کی اس عبارت سے ہوتی ہے کہ جب وہ تھوڑا دائیں یابائیں ہو جائے تو نماز جائز ہوگی۔ (ت)
حلیہ میں ملتقط سے :
ھذا استحباب والاول للجواز اھ یرید ان عدم الانحراف مع عدم الخروج عن الجھۃ بالکلیۃ جائز ۔
یہ استحباب کے لئے ہے اور پہلا جواز کے لئے ہے اھ اس سے مراد یہ ہے کہ کسی قدر بھی انحراف نہ ہو یہ مستحب ہے اور اس طرح کا انحراف کہ جہت کعبہ سے بالکل خروج نہ ہو یہ بھی جائز ہے۔ (ت)
پھر اگر اس افضل کو اختیار کرنا چاہیں تو دیوار سیدھی قطب سے مشرق کو ہٹی ہوئی بنائیں اور اس کا وہ طریقہ جس میں زاویہ ناپنے کی حاجت نہ پڑے یہ ہے کہ اس دیوار قبلہ کا جنوبی گوشہ جس پر حرف “ ب “ لکھا ہے قائم رکھیں اور صحیح قطب نما سے ایك خط ب سے سیدھا قطب کو اتنا بڑا کھینچیں جس کا طول اس دیوار کے برابر ہو ایك رسی لیں اوراسکا ایك سرا حرف ب پر خوب جمائے رہیں کہ سرکے نہیں اوردوسرا سرا حرف ح سے ملاکر مشرق کی طرف اس طرح کھینچیں کہ رسی میں جھول نہ پڑنے پائے اس کی کشش سے کمان کی شکل میں زمین پر بن جائے اور پھر ایك سیدھی لکڑی سوا چھ قبضہ کی ناپ کر اس کاایك سرا حرف ح پر رکھیں اور دوسرا اس کمان سے ملادیں جہاں ملے اس ملنے کی جگہ کا نام حرف ء رکھیں ۔ ء سے ب تك سیدھا خط ملا دیں یہ ٹھیك دیوار قبلہ ہو گی۔
وذلك لان فی مثلث ح ب ع ساقا ح ب ع ب-کل ۱۰۶۔ وزاویۃ ب= مح الح فکل من زوایتی القاعدۃ مح ح ل فلوجیبھا
اور یہ اس لئے کہ مثلث ح ب ء میں ح ب ء ب کی دو ساقیں ہے کل ۱۰۶ ہوئے اور زاویہ ب=ح صہ الح ہے تو قاعدہ کے دونوں زاویوں کا مح ح ل
حوالہ / References ردالمحتار باب شروط الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۱۵
حلیۃالمحلی شرح منیۃ المصلی
#4003 · کتابُ الصلوۃ · بابُ القبلَۃِ (قبلہ کا بیان)
۹۹۹۸۱۰۷ء۹ ولو جیب ح صہ الح ۷۷۰۹۶۹۷ء۸ ولو۱۰۶=۰۲۵۰۳۰۵۹ء۲مجموع ھذین = ۷۹۶۲۷۵۶ء۱۰-۹۹۹۸۱۰۷=۷۹۶۴۶۴۹۔ ء عددہ =۲۵۸ء۶ھذہ قبضات خط ح ء وذلك مااردناہ۔
ہوگا اسکا اگرجیب ۹۹۹۸۱۰۷ء۹ ہوا اوراگر جیب ح صہ الح کا ۷۷۰۹۶۹۷ء۸ ہے اور لو ۱۰۶=۰۲۵۳۰۵۹ء ۲ ان دونوں کا مجموعہ =۷۹۶۲۷۵۶ء۱۰-۹۹۹۸۱۰۷=۷۹۶۴۶۴۹ء ۰ جس کا عدد=۲۵۸ء۶ ہے یہ خط حء کے قبضے ہیں اور یہی ہماری مراد ہے(ت)
اور اگر پہلے صحیح جانچ کر لی ہو تو دوبارہ قطب نما لگانے اور بیچ کا خط یعنی ح ب بنانے کی حاجت نہیں بلکہ دیوار کے ناپ کی رسی لیں اور اس کا ایك سرا حرف ب کی جگہ خوب جما کر رسی میں بے خم پڑے دوسرا سرا دیوار کے حرف او پر رکھ کر دوسرا سرا جہاں ملے کمان سے ملا دیں اس ملنے کی جگہ دیوار کے کنارہ ب تك سیدھا خط کھینچ دیں دیوار قبلہ اس خط پراٹھائیں کہ صحیح ہوگی۔
لان زاویۃ ا ب ء = وصہ لرکماتقدم فکل زاویۃ القاعدۃ و صہ مال جیبھا ۹۹۹۳۷۵۷ء۹وجیب ؤ صہ لر ۰۶۱۵۵۰۹ء فاذاجمع فیہ ۱۰۶ صار ۰۹۶۸۵۶۸ء۱۱-۹۹۹۳۰۵۷ء۹=۰۸۷۵۸۱۱ء۱ عددہ=۲۳۴ء۱۲ وذالك ما اردناہ۔
کیونکہ زاویہ ا ب ء =وصہ لر کے ہے جیسا کہ گزرا تو قاعدہ کے زاوریہ کا کل وصہ مال ہوگا جس کا جیب ۹۹۹۳۷۵۷ء۹ اور جیب وصہ لر کا ۰۶۱۵۵۰۹ء ہے تو جب اس میں اگر ۱۰۶ کو جمع کیا جائے تو یہ ۰۸۶۸۵۶۸ء۱۱-۹۹۹۳۰۵۷ء۹=۰۸۵۸۱۱ء۱ ہو گا جس کا عدد =۲۳۴ء۱۲ ہے اور یہی ہماری مراد ہے(ت)
مگر ان صورتوں میں ایك لحاظ لازم ہے جبکہ مسلمان اسے مسجد کرچکے تو یہ گلی جو دیوار سیدھی کرنے میں چھوٹے گی اسے ضائع چھوڑ دینا جائز نہیں کہ وہ مسجد ہی کا ٹکڑا ہے اور اس کی بے حرمتی حرام۔ تو یا تو سیدھی دیوار ہی اور چن کر اس سے ملا دیں کہ زمین چھوٹی نہ رہے یا ممکن ہو تو دیوار کا گوشہ الف برقرار رکھیں اور گوشہ ب سے سوا بارہ قبضہ زمین مغرب کو حرف ر تك بڑھا کر ا اور ر میں خط ملا کر دیوار جدید اٹھائیں کہ اگلی دیوار کی زمین شامل مسجد رہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۳۹۵ : ازحیات نگر ڈاکخانہ سرائے ترین ضلع مراد آباد مرسلہ سید حبیب شاہ صاحب ۸جمادی الاخری ۱۳۳۶ھ ہادی مراحل تحقیق جناب مولینا صاحب دامت برکاتکم اسلام علیکم ورحمۃ اﷲ جناب عالی اس قصبہ حیات نگرکی مسجد سمت مغرب سے متجاوز ہے اسکا نقشہ علیحدہ ایك پرچہ کاغذ کی پشت پر اور تمام حال کاغذ کی پیشانی پر لکھ کر حضور کے ملاحظہ کے واسطے ارسال کرتا ہوں باعث اس کا یہ ہے کہ یہاں چند اشخاص ایسے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ اس مسجد میں سیدھے مسجد کے رخ نماز نہیں ہوتی کمترین نے ایك صاحب کے پاس مسجد کا
#4004 · کتابُ الصلوۃ · بابُ القبلَۃِ (قبلہ کا بیان)
نقشہ بھیج کر ان سے دریافت کیا تھا انہوں نے ردالمحتار سے یہ نشان دے کر(ج ا ص۴۴۶) کچھ عربی کی عبارت لکھ کر اس کاخلاصہ اردو میں کیا تھا کہ اس انحراف قلیل جانب کعبہ سے مصلی کو مضر نہیں ہے اور انحراف قلیل کی حد یہ ہے کہ چہرہ اور چہرے کے اطراف میں کوئی جزو کعبہ کے مقابل باقی رہے اس طرح کہ چہرہ یا اس کے بعض اطراف سے کعبہ تك خط مستقیم کھینچا جاسکے اور یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ خط مستقیم پیشانی سے ہی خارج ہو بلکہ عام ہے خواہ پیشانی سے خارج ہو یا اس کے دونوں طرف میں کسی طرف سے خارج ہوا ہو اس صورت میں بہت بڑی وسعت ہے جو نقشہ مسجد کا آپ نے بھیجا ہے اس مسجد کے رخ پر نماز پڑھنا بے شبہ جائز ہے لہذا مسجد کے رخ پر نماز پڑھایئے بعض صاحب اس جواب کو پزیرا نہیں کرتے اور وہ حضور ہی پر اسکا انحصار رکھتے ہیں لہذا گزارش یہ ہے کہ حضور اس کاغذ کو جس پر مسجد کا نقشہ ہے ہر دو جانب سے ملاحظہ فرماکر اگر ممکن ہو تو کاغذ مذکورکے ذیل ہی میں جو دریافت طلب گزارشیں کاغذکی پیشانی پر عرض کی گئی ہیں ان کاجواب ارقام فرما کر کمترین کو معزز فرمایا جائے۔ واجبا گزارش ہے کہ اس مسجد کا رخ نقشہ مذکور سے بخوبی نمایاں ہے یہ قصبہ حیات نگر ۲۸ درجے ۳۰ دقیقے عرض شمالی پر واقع ہے اور مکہ معظمہ ۲۱درجے ۴۰دقیقے عرض شمالی پر لہذا دریافت طلب امر یہ ہی کہ اس مسجد میں جماعت سیدھی مسجد کے رخ پر کی جائے یا مسجد کا خیال چھوڑ کر کعبہ شریف کا خیال کرکے ٹیڑھی اور اگر مسجد کے رخ پر سیدھی جماعت کی جائے تو نماز ہوگی یا نہیں
الجواب :
ا ب ء مثلث قائم الزاویہ ہے ب موضع قیام مصلی ء سمت نقطہ مغرب کے اسمت قطب شمالی ہے نقطہ ب سے مسجد کی دیوار قبلہ اء پر عمود ب ح قائم کیا تو مثلث ا ب ء کا مشابہ ہو اس کا زاویہ ب اس کے زاویہ ا کے مساوی ہے کہ ہر ایك زاویہ ء سے مل کر ا قائمہ کے برابر ہے تو زاویہ ا زاویہ انحراف یعنی اس کے مساوی ہوا یہ وہ مقدار ہے کہ مسجد نقطہ مغرب سے جس قدر شمال کو جھکی ہوئی ہے یہ زاویہ پیمائش میں ۱۸ درجے ہے۔ اب یہ معلوم کرنا ہے کہ حیات پور میں قبلہ نقطہ مغرب سے کتنا جدا ہے اس کےلئے صرف عرض بلد کافی نہیں ہوتا طول بھی درکار ہے۔ وہ سوال میں نہ لکھا نہ یہاں اطالس میں حیات پور کا نام نکلا مگر ضلع مرادآباد کی عام آبادیاں ۷۸ ۷۹ درجے کے اندر ہیں ۲۸درجے عرض پر اگر طول ۷۸ درجے ہو تو عمود قبلہ سمت الر اس سے جنوب کو تین درجے جھکے گا دوسری میں دو۲ درجے ستائیس۲۷درجے بہرحال حیات پور میں قبلہ جنوب کو تقریبا ۲ درجے مائل ہے اور مسجد ۱۸درجے شما بل کو ہے تو مسجد قبلہ واقعہ حیات پور سے اکیس درجے کم شمال کو جھکی ہوئی ہے اور ہم نے اپنے رسالہ ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال میں ثابت کیا ہے کہ جب تك پینتالیس ۴۵درجے انحراف نہ ہو سمت قبلہ باقی رہتی ہے۔ عبارت ردالمحتار وغیرہاعبارات کثیرہ مختلفہ اسی طرف راجح ہیں نہ وہ اطلاق کہ سوال میں کسی سے حکایت کیا تو یہ مسجد ضرور حد قبلہ کے اندر ہے بلکہ اس سے دوچند جھکی ہوتی تب بھی حد سے
#4005 · کتابُ الصلوۃ · بابُ القبلَۃِ (قبلہ کا بیان)
نہ نکلتی تو مسجد ہی کے رخ پر نماز پڑھی جائے ضرور صحیح ہو جائے گی مگر بعد اطلاع قبلہ سے اتنا انحراف مکروہ و خلاف سنت ہے لہذا سمت مسجد کا خیال نہ کریں بلکہ سمت قبلہ کا یعنی خط ب ء ہی کی سیدھ پر پڑھیں حرج نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
__________________
#4006 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبال قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالی جل شانہ کی رہنمائی)

مسئلہ نمبر ۳۹۶ : ازعلی گڑھ معرفت مولوی بشیر احمد صاحب مدرس مدسہ اہلسنت ۲۴ذی الحجہ ۱۳۲۴ھ
شہر علی گڑھ کی عید گاہ کہ صد ہا سال سے بنی ہوئی ہے اورحضرات علماء متقدمین میں بلاکراہت اس میں عیدین کی نمازیں پڑھتے پڑھاتے رہے آج کل نئی روشنی والوں نے اپنے قیاسات اور نیز آلات انگریز سے یہ تحقیق کیا ہے کہ سمت قبلہ سے منحرف ہے اور قطب شمالی داہنے کونے کی پشت پر واقع ہے جس سے نوے فٹ کے قریب مغرب سے پھری ہوئی ہے لہذا اس کوتوڑ کر سمت ٹھیك کرنا مسلمانان شہر پر برتقدیر استطاعت کے لازم اور فرض ہے ورنہ نماز اس میں مکروہ تحریمی ہے اور۱۰ دسمبر ۱۹۰۶ء کو اس میں ایك فتوی چھاپا جس کی عبارت جواب یہ ہے : “ اگر وہاں کے مسلمانوں میں اس قدر مالی طاقت ہے کہ اس کو شہید کرکے ٹھیك سمت قبلہ پر بناسکتے ہیں تو ان کے ذمے فرض ہے کہ وہ ایسا ہی کرے اگر ان میں ٹھیك سمت قبلہ بنانے کی طاقت نہیں تو ان کے ذمہ فرض ہے کہ وہ اس مسجد یا عید گاہ میں ٹھیك سمت قبلہ کی خطوط کھینچ لیں اور ان خطوط پر کھڑے ہوکر نماز پڑھا کریں چنانچہ ہدایہ میں مذکور ہے :
ومن کان غائباففرضہ اصابتہ جھتھا ھوالصحیح لان التکلیف بحسب الوسع انتہی
جوشخص کعبہ سے دور ہو اس پر نماز کے دوران سمت کعبہ کی طرف رخ کرنا فرض ہے یہی صحیح ہے کیونکہ تکلیف حسب طاقت ہوتی ہے انتہی(ت)
حوالہ / References الہدایۃ باب شروط الصلوٰۃ مطبوعہ المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ / ۱۰۰
#4007 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
کتب معتبرہ سے یہ ارشاد ہو کہ اب ہندوستان کا قبلہ مابین المغربین ہونا چاہیئے یا کیا اور اسکا سمت قبلہ درست کرنا ضروری ہے یا کیا بینوا تو جروا
الجواب :
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمدﷲ الذی جعل لنا الکعبۃ قبلۃ وامانا والصلوۃ والسلام علی من الی افضل قبلۃ ولانا رسول الثقلین وامام القبلتین جعل اﷲ تعالی بابہ الکریم فی الدارین قبلۃ امالنا وکعبۃ منانا وعلی الہ وصحابتہ و سائر اھل قبلتہ الذین ولواالیہ وجوھھم تصدیقا و ایمانا امین اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔
تمام تعریف اﷲ تعالی کے لئے جس نے کعبہ کو ہمارا قبلہ اور پناہ گاہ بنایا اور صلوۃ سلام ان پر کہ جس نے ہمیں اچھے قبلہ کی طرف پھیرا جن و انس کے رسول اور دونوں قبلوں کے امام جن کے باعزت دروازے کو اﷲ تعالی نے جنہیں دنیا و آخرت میں ہماری تمام امیدوں کا قبلہ اور آرزؤں کا کعبہ بنایا آپ کی آل اصحاب اور ان کے اہل قبلہ پر جنہوں نے حالت ایمان و تصدیق میں اس کعبہ کی طرف رخ کیا آمین : اے اﷲ!حق و صواب کی ہدایت فرما(ت)
فتوائے مذکورہ محض باطل اور حلیہ صدق و صحت سے عاطل اور منصب افتا پر نرا اجترا بلکہ شریعت مطہرہ پر کھلا افتراء ہے۔
اولا : اگر بفرض باطل یہ عید گاہ جہت قبلہ سے بالکل خارج ہوتی بلکہ مشرق و مغرب بدل گئے ہوتے جب بھی یہ جبروتی حکم کہ بحالت استطاعت اسے توڑ کر ٹھیك سمت قبلہ بنانا فرض ہے دل سے نئی شریعت ایجاد کرنا تھا اس حالت پر غایت یہ کہ اگر بے انہدام کوئی چارہ کارممکن نہ تھا منہدم کرنا مطلوب ہوتا ٹھیك سمت پر بنانا کس نے فرض مانا عید گاہ میں کوئی عمارت ہونا ہی سرے سے خدا اور رسول جل جلالہ و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرض کیا نہ واجب نہ سنت زمانہ اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں مصلائے عید کف دست میدان تھا جس میں اصلا کسی عمارت کا نام نہ تھا جب حضورپرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نماز عید کو تشریف لے جاتے مواجہ اقدس میں سترہ کے لئے ایك نیزہ نصب کردیاجاتا زمانہ خلفائے راشدین رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین میں بھی یوں ہی رہا۔ عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ نے جب حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے نماز پڑھنے کے سب مواضع میں تبرك کے لئے مسجدیں بناکیں ظاہرا انہیں کے وقت میں مصلائے عید میں بھی عمارت بنی کما استظھرہ السید نورالدین السمھودی قدس سرہ فی تاریخ المدینۃ(جیسا کہ سید نورالدین سمہودی قدس سرہ نے اپنی کتاب تاریخ المدینہ المنورہ میں اس بات کی تصریح کی ہے۔ ت) صحیح بخاری شریف میں عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے :
#4008 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان تر کزلہ الحربۃ قد امہ یوم الفطروالنحرثم یصلی ۔
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے مواجہہ اقدس کے سامنے عید الفطر کے موقع پر نیزہ نصب کیا جاتا پھر آپ نماز پڑھاتے۔ (ت)
انھیں کی دوسری روایت میں ہے :
قال کان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یغدو الی المصلی والعنزۃ بین یدیہ تحمل و تنصب بالمصلی بین یدیہ فیصلی الیھا ۔
حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم عید گاہ کی طرف تشریف لے جاتے تو آپ کے آگے نیزہ اٹھا کر لایا جاتا اور عید گاہ میں آپ کے سامنے گاڑ دیا جاتا تھا پھر اس کی طرف رخ کرکے نمازپڑھاتے تھے۔ (ت)
سنن ابن ماجہ میں و صحیح ابن خزیمہ و مستخرج اسمعیلی میں زائد کیا :
وذلك ان المصلی کان فضاء لیس فیہ شیء یستتربہ ۔
یہ اس لئے کیا جاتا تھا کہ عید گاہ فضاء میں تھی وہاں کوئی ایسی چیز نہ تھی جسے سترا بنایا جاسکے۔ (ت)
افسوس کہ نئی روشنی کا یہ فرض زمانہ رسالت و زمانہ خلافت و زمانہ رسالت سب میں متروك رہا۔
ثانیا اس عید گاہ کی عمارت موجودہ سے دین الہی کو کوئی ایسا ضرر شدید پہنچتا ہے جس کے سبب اس کا ڈھانا فرض ہو یا نہیں اگر نہیں تو بحال استطاعت مالی اس کا ہدم کیوں فرض ہوا اور اگر ہاں تو بحال عدم استطاعت مالی کیوں فرض نہیں استطاعت مالی بنانے کو چاہیئے ڈھانے میں ایسا کیا درکار ہے جس سے مسلمانان شہر عاجز ہوں ۔
ثالثا خطوط سمت قبلہ ڈال لینے سے کار براری ممکن اور وہ ضرر مندفع ہے یا نہیں اگر نہیں تو بحال عدم استطاعت یہ لغو حرکت کیوں فرض ہوئی اور کس نے فرض کی اور اگر ہاں تو بحال استطاعت یوں کاربراری کس نے حرام کی کہ باتعیین ڈھا دینا ہی فرض ہوگیا کیا یہاں متعدد ضرر مفترض الازالہ مختلف الحالہ ہیں کہ توزیع ممکن ہو۔
رابعا یہ عید گاہ سمت سے یکسر خارج ہے یا حدود جہت کے اندر ہے اگرچہ عین محاذات سے منحرف ہے بر تقدیر اول اس میں نماز مکروہ تحریمی کیوں ہوئی باطل محض ہونی لازم تھی بر تقدیر ثانی اس کا ڈھانا کیوں فرض ہوا جبکہ وہ حدود مشروع کے اندر ہے۔
حوالہ / References صحیح بخاری باب الصلوٰۃ الی الحربۃ یوم العید مطبوعہ قدیمی کتب خانہ اصح المطابع کراچی ۱ / ۱۳۳
صحیح بخاری باب حمل العنزۃ اوالحربۃ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ اصح المطابع کراچی ۱ / ۱۳۳
سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی الحربۃ یوم العید مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ص ۹۳
#4009 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
خامسا علماء کرام کا حکم تو یہ ہے کہ جہت سے بالکل خروج ہو تو نماز فاسد اور حدود جہت میں بلاکراہت جائز کہ آفاقی کا قبلہ ہی جہت ہے نہ کہ اصابت عین ۔ بدائع امام ملك العلماء ابوبکر مسعود کاسانی پھر حلیہ امام ابن امیر الحاج حلبی میں ہے۔
قبلتہ حالۃ البعد جہۃالکعبۃ وھی المحاریب لاعین الکعبۃ ۔
کعبہ سے دوری کی صورت میں جہت کعبہ ہی قبلہ ہے اور وہ محراب مسجد ہے نہ کہ عین قبلہ۔ (ت)
جامع الرموزمیں امام زندویسی سے ہے : الجہۃ قبلۃ کالعین (جہت کعبہ عین قبلہ کی طرح ہے ۔ ت) ہاں حتی الوسع اصابت عین سے قرب مستحب۔ اس بارے میں ملتقط و حلیہ وغیرہما کے نصوص بعونہ تعالی آگے آتے ہیں اور خیریہ میں فرمایا : ھوافضل بلاریب ولامین الخ(یہ بغیر کسی شبہ کے افضل ہے۔ ت)دررمولاناخسرو و ردالمحتار میں ہے :
لوانحرف عن العین انحرا فالاتزول منہ المقابلۃ بالکلیۃ جاز ویؤیدہ ماقال فی الظھیریۃ اذا تیامن اوتیاسرتجوز ۔
اگر عین کعبہ سے باکلیہ انحراف نہ ہو( یعنی معمولی انحراف ہوا)تو نماز جائز ہے۔ اسکی تائید ظہیریہ کے ان الفاظ سے ہوتی ہے : جب نمازی ذرا دائیں یا بائیں ہوگیا تو نماز جائز ہوگی۔ (ت)
اور ترك مستحب مستلزم کراہت تنزیہ بھی نہیں کراہت تحریم تو بڑی چیز بحر الرائق باب العیدین میں ہے :
لایلزم من ترك المستحب ثبوت الکراھۃ اذلا بدلھامن دلیل خاص ۔
ترك مستحب سے کراہت لازم نہیں آتی کیونکہ اس کے ثبوت کے لئے مستقل دلیل کا ہونا ضروری ہے ۔ (ت)
تو اس میں نماز مکروہ تحریمی ٹھہرانا نئی روشنی کی محض ظلماتی ساخت ہے۔
سادسا : عبارت ہدایہ کہ فتوی مذکورہ نے نقل کی اسکی مدعا سے اصلا مس نہیں رکھتی بلکہ حقیقۃ وہ اس کا رد ہے عبارت کا مطلب یہ ہے کہ غیر مکی کو ہر گز ضرور نہیں کہ اس کی توجہ عین کعبہ معظمہ کی طرف ہو بلکہ اس جہت کی طرف
حوالہ / References بدائع الصنائع فصل فی شرائط الارکان مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۸
نوٹ : بدائع میں یہ عبارت معنًا مذکور ہے الفاظ بعینہ موجود نہیں ۔ نذیر احمد سعیدی
جامع الرموز فصل شروط الصلوٰۃ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۱۳۰
فتاوٰی خیریہ کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت ۱ / ۹
ردالمحتار باب شروط الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفٰی البابی مصر ۱ / ۳۱۵
البحر الرائق باب العیدین مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۱۶۳
#4010 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
منہ ہونا بس ہے جس میں کعبہ واقع ہے تکلیف بقدر وسعت اور طاعت بحسب طاقت ہے اس سے خود ثابت ہوا کہ غیر مکہ مکرمہ میں اتنا انحراف کہ جہت سے خارج نہ کرے مضر نہیں اور اسکی تصریح نہ صرف ہدایہ بلکہ عامہ کتب مذہب میں ہے پھر مسافت بعیدہ میں ایك حد تك کثیرانحراف بھی جہت سے باہر نہ کرے گا اور در حق نماز قلیل ہی کہلائے گا اور جتنا بعد بڑھتا جائےگا انحراف زیادہ گنجائش پائے گا۔ بحرالرائق و طحطاوی علی الدر وغیرہما میں ہے :
المسامتۃ التقریبیۃ ھوان یکون منحرفا عن القبلۃ انحرافالاتزول بہ المقابلۃ بالکلیۃ والمقابلۃ اذا وقعت فی مسافۃ بعیدۃ لاتزول بما تزول بہ من الانحراف لو کانت فی مسافۃ قریبۃ ۔
مسامتت تقریبی یہ ہے کہ انحراف عن القبلہ اس طرح ہو کہ جہت کعبہ سے مقابلہ بالکلیۃ ختم نہ ہو اور مقابلہ جب مسافت بعیدہ کی صورت میں ہو تو وہ اتنے انحراف سے ختم نہیں ہوتا جتنے سے مسامت قریبیہ میں مقابلہ ہو تو ختم ہو جاتا ہے۔ (ت)
معراج الدرایہ وفتح القدیر و حلیہ شرح منیہ و بحر شرح کنز و فتاوی خیریہ وغیرہا میں ہے۔
ویتفاوت ذلك بحسب تفاوت البعد و تبقی المسامتۃ مع انتقال مناسب لذلك البعد ۔
انحراف بعد کے اعتبار سے متفاوت ہوتا ہے اور اس بعد کے مناسب انتقال کے ساتھ مسامتت (سمت) باقی رہتی ہے۔ (ت)
فتوی میں عبارت ہدایہ سے استناد کے لئے یہ ثبوت دینا کہ مکہ معظمہ سے علی گڑھ کو یہ ہزاروں میل کا بعد نقطہ مغرب سے تیس۳۰ گز انحراف کی گنجائش نہیں رکھتا اتنا تفاوت جہت سے باہر لے جائے گا بے اس ثبوت کے ذکر عبارت محض تغلیط عوام ہے اور حقیقت امر دیکھئے تو عبارت مستدل کے لئے صرف نامفید ہی نہیں بلکہ صاف مضر ہے ہم عنقریب بعونہ تعالی ثابت کریں گے کہ عید گاہ مذکورہ ضرور حدود جہت کے اندر ہے۔
سابعا : ہمارے بعض علماء تو یہاں تك فرماتے ہیں کہ اس باب میں ہیأت قیاسات و آلات کا اعتبار ہی نہیں جامع الرموز نے اسی بحث سمت قبلہ میں لکھا :
منھم من بناہ علی بعض العلوم الحکمیۃ الاان العلامۃ البخاری قال فی بحث القیاس من الکشف ان اصحابنا
فقہاء میں سے بعض نے اس مسئلہ کی بنیاد بعض علوم حکمیہ پر رکھی ہے مگر علامہ بخاری نے کشف الاسرار میں قیاس کی بحث کے تحت لکھا ہے کہ ہمارے علماء نے
حوالہ / References حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب شروط الصلوٰۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۱۹۷
البحرالرائق شرح کنز الدقائق باب شروط الصلوٰۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۸۴
#4011 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
لم یعتبروہ وبہ یشعرکلام قاضی خان اھ وایدہ فی النھر بان علیہ اطلاق المتون اھ وردہ فی ردالمحتار قائلالم ارفی المتون مایدل علی عدم اعتبارھا ولنا تعلم مانھتدی بہ علی القبلۃ من النجوم وقال تعالی والنجوم لتھتدوا بھا الخ واستظہر ان الخلاف فی عدم اعتبارھا انما ھو عند وجود المحاریب القدیمۃ اذلایجوز التحری معھا کما قدمناہ لئلایلزم تخطئۃ السلف الصالح وجما ھیر المسلمین بخلاف ما اذاکان فی المفازۃ فینبغی وجوب اعتبار النجوم و نحو ھا فی المفازۃ لتصریح علمائنا وغیرھم بکونھا علامۃ معتبرۃ فینبغی الاعتماد فی اوقات الصلاۃ وفی القبلۃ علی ماذکرالعلماء الثقات فی کتب المواقیت وعلی ماوضعوہ لھا من الالات کالربع والاصطر لاب فانھا ان لم تفد الیقین تفید غلبۃ الظن للعالم بھا وغلبۃ الظن کا فیۃ فی ذلک الخ۔
اس کا اعتبار نہیں کیا قاضی خان کی گفتگو بھی اسی طرف رہنمائی کرتی ہے اھ نھر میں اس کی تائید یوں کی ہے کہ اسی پر متون کا اطلاق ہے اھ ردالمحتارمیں یہ کہتے ہوئے اس کا ردکیا کہ میں نے متون میں ایسی کوئی دلیل نہیں دیکھی جوان کے عدم اعتبار پر دال ہو حالانکہ ہم پر اس چیز کا تعلم ہے جس کے ساتھ ستاروں کے ذریعے ہم قبلہ پر رہنمائی حاصل کرتے ہیں اور اﷲ تعالی کا یہ ارشاد بھی دلیل ہے والنجوم لتھتدو ابھا الخ(اس نے ستارے اس لئے بنائے تاکہ تم ان سے رہنمائی حاصل کرو) اس سے ظاہرکیا کہ ان کے عدم اعتبار میں اختلاف اس صورت میں ہے جب وہاں قدیم محراب موجود ہوں کیونکہ ان کے ہوتے ہوئے تحری جائز نہیں جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر آئے تاکہ سلف صالحین اور جمہور مسلمانوں کو غلط ثابت قرار دینا لازم نہ آئے بخلاف اس صورت کے جب مصلی جنگل اور ویران جگہ میں ہو تو وہاں ستاروں وغیرہم نے ان چیزوں کے علامت معتبرہ ہونے کی تصریح کی ہے لہذا اوقات نماز اور تعیین قبلہ کے متعلق ثقہ علماء کے کتب مواقیت میں بیان کردہ قواعد و ضوابط پر اعتماد کرنا مناسب ہے اور آلات مثلا ربع اصطرلاب وغیرہ جو اوقات کی پہچان کے لئے انھوں نے بنائے ہیں ان پر بھی اعتماد کیا جائے۔ کیونکہ اگر ان آلات سے یقین کا درجہ حاصل نہ ہو تو کم از کم غلبہ ظن تو اسی شخص کو جوان آلات سے متعلق معلومات رکھتا ہو حاصل ہو جائےگا۔ اور اس مسئلہ میں ظن غالب ہی کافی ہے الخ(ت)
حوالہ / References جامع الرموز فصل شروط الصلوٰۃ مطبوعہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۱۳۰
ردالمحتار بحوالہ النہر مبحث فی استقبال القبلۃ مطبوعہ مصطفٰی البابی مصر ۱ / ۳۱۷
ردالمحتار بحوالہ النہر مبحث فی استقبال القبلۃ مطبوعہ مصطفٰی البابی مصر ۱ / ۳۱۷
#4012 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
اقول : وھوکلام نفیس واین تحری جزاف لایکاد یرجع الی اثارۃ علم من الظن الغالب الحاصل بتلك القواعد ولو لا مکان اطوال البلاد و عروضھا فی امر تعیین القبلۃ ومجال الظنون فی اکثرھا لکان مایحصل بھا قطعیا لامساغ لریبۃ فیہ بل لو حققت لالفیت جل المحاریب المنصوبۃ بعد الصحابۃ والتابعین رضی اﷲ عنہم انما بنیت بناء علی تلك القواعد و علیھا اسست لھا القواعد فکیف یحل اعتماد تلك المحاریب دون الذی بنیت علیہ نعم عندالتعارض ترجح القدیم خلافاللشا فعیۃ لئلایلزم تخطئۃ السلف الصالح و جماھیر المسلمین کما ذکرہ الشامی وغیرہ ولان علم الجمیع اقوی من علم الآحادو للسلف مزیۃ جلیۃ علی الخلف ولر بما یخطی النظر فی استعمال القواعد والالات کما ھومرئی مشاھد فہو اولی بالخطاء منھم ولذاقال فی الفتاوی الخیریۃ واما الاجتہاد فیھا ای فی محاریب المسلمین بالنسبۃ الی الجھۃ فلا یجوز حیث سلمت من الطعن لانھا لم تنصب الابحضرۃ جمع من المسلمین اھل معرفۃ بسمت الکواکب والادلۃ فجری ذلك مجری الخیر فتقلد
اقول : (میں کہتا ہوں ) یہ نفیس گفتگو ہے علم کے کسی پہلو کو نہ چھونے والے بے اصل اندازے کو ان آلات سے حاصل شدہ ظن غالب سے کیا تعلق اگر تعیین قبلہ کے معاملہ میں طول البلد اور عرض البلد اور ان کے اکثر معاملات میں ظن کا دخل نہ ہوتا تو ان آلات سے حاصل شدہ علم قطعی ہوتا جس میں شك کی گنجائش نہ ہوتی۔ بلکہ اگر تو تحقیق کرے تجھے معلوم ہوگا کہ وہ بڑے بڑے محراب جو صحابہ و تابعین رضی اللہ تعالی عنہم کے بعد بنائے گئے ہیں اور انہی قواعد کی بنا پر اور انہیں ضوابط پر ان مساجد کے ستون بنائے گئے تو یہ کیسے درست ہوگا کہ ان محرابوں پر تو اعتماد کیا جائے مگر ان قواعد پر نہ کیا جائے جن کی بنا پر وہ محراب معرض وجود میں آئے ہیں ۔ ہاں یہ درست ہے کہ جہاں (قاعدہ و محراب ) قدیم میں تعارض ہوگا وہاں محراب قدیم کو ترجیح ہوگی بخلاف شوافع کے تاکہ سلف صالحین اور جمہور مسلمانوں کوغلط ثابت قرار دینا لازم نہ آئے جیسا کہ امام شامی وغیرہ نے ذکر کیا ہے۔ اور یہ بات بھی ہے کہ جماعت کا علم احاد کے علم سے زیادہ قوی ہوتا ہے۔ اور سلف کو خلف پر واضح فضیلت حاصل ہے نیزبعض دفعہ استعمال قواعد و آلات میں نظر سے خطا بھی ہو جاتی ہے جیسا کہ مشاہدہ و ملاحظہ میں آیا ہے لہذا واحد کا خاطی ہونا جماعت کے خاطی ہونے سے زیادہ قریب ہے اسی لئے فتاوی خیریہ میں کہا کہ جہت قبلہ کی تعیین
حوالہ / References ردالمحتار مبحث فی استقبال القبلۃ مطبوعہ مصطفٰی البابی مصر ۱ / ۳۱۷
#4013 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
تلك المحاریب اھ۔
اقول : وبہ ظھران الحکم لایختص بالمفاوز فانھم انما نصبوا فی الامصار بناء علی تلك الادلۃ لاجرم ان قال العلامۃ البرجندی فی شرح النقایۃ ان امرالقبلۃ انما یتحقق بقواعد الھندسۃ والحساب بان یعرف بعد مکۃ عن خط الاستواء وعن طرف المغرب ثم بعد البلد المفروض کذلك ثم یقاس بتلك القواعد لتحقیق سمت القبلۃ ونحن قدحققنابتلك القواعدسمت قبلۃ ھر اۃ الی اخر ماسیأتی ونقلہ الفتال فی حاشیتہ مقرا علیہ۔
کے معاملہ میں مسلمانوں کے قدیم محرابوں میں اجتہاد اور غورو فکر اس لئے جائز نہیں تاکہ طعن سے محفوظ رہا جاسکے کیونکہ یہ محراب مسلمانوں کی ان جماعتوں نے قائم کئے ہیں جو کواکب کی سمت اور دلائل کی معرفت رکھتی تھیں تو چونکہ خیرو بھلائی اسی میں ہے لہذا ان محرابوں کی تقلید کی جائے اھ(ت)
اقول : (میں کہتا ہوں ) اس سے یہ بھی آشکارا ہوگیا کہ یہ حکم محض ویرانے اور جنگل کے ساتھ ہی مخصوص نہیں کیونکہ شہروں میں بھی مسلمانوں نے انہی قواعد و ضوابط کی بنا پر محراب قائم کئے ہیں چنانچہ علامہ برجندی نے شرح نقایہ میں کہا کہ قبلہ کا معاملہ قواعد ہندسہ و حساب کی بناء پر حل ہوتا ہے بایں طور کہ پہلے خط استوا سے مغرب کی جانب سے مکہ کا بعد پہچانا جائے پھر مفروض شہر کے بعد کو اسی طرح پہچانا جائے پھر ان قواعد کے مطابق قیاس کیا جائے تاکہ سمت قبلہ معلوم ہو سکے اور ہم ان قواعد کے ذریعے قبلہ ہرات کی سمت یونہی ثابت کر چکے ہیں آخر تك جس کا بیان آئیگا اور اس کو علامہ فتال نے اپنے حاشیہ میں ثابت رکھتے ہوئے نقل کیا ہے۔ (ت)
اور اتنا تو اکابر نے بھی فرمایا کہ جو مسجد مدتوں سے بنی ہو اور اہل علم و عامہ مسلمین اس میں بلا نکیر نمازیں پڑھتے رہے ہوں جیسا کہ عید گاہ مذکورہ کی نسبت سوال میں مسطور ہے اگر کوئی فلسفی اپنے آلات و قیاسات کی رو سے اس میں شك ڈالا چاہے اس کی طرف التفات نہ کیا جائے گا کہ صد ہا سال سے علماء وسائر مسلمین کو غلطی پر مان لینا نہایت سخت بات ہے بلکہ تصریح فرماتے ہیں کہ ایسی قدیم محرابیں خود ہی دلیل قبلہ ہیں جن کے بعد تحری کرنے اور اپنا قیاس لگانے کی شرعا اجازت نہیں ایسی تشکیك بعض مدعیان ہیأت نے بعض محرابات نصب کردہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم میں بھی پیش کی حالانکہ بالیقین صحابہ کرام کا علم زائد تھا اس کے بعد فلسفی ادعا کا سننا بھی حلال نہیں ہاں بتحقیق معلوم ہو
حوالہ / References فتاوٰی خیریہ کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۷
شرح النقایۃ للبر جندی باب شروط الصلوٰۃ مطبوعہ منشی نو لکشور لکھنؤ ۱ / ۸۹
#4014 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
کہ فلاں محراب کسی جاہل نا واقف نے یونہی جزافا قائم کردی ہے تو البتہ اس پر اعتماد نہ ہوگا۔ علا مہ خیرالدین رملی استاد صاحب درمختار رحمہم اللہ تعالی فتاوی خیریہ میں فرماتے ہیں :
نحن علی علم بان الصحابۃ رضی اﷲعنہم اعلم من غیرھم فاذاعلمنا انھم وضعوا محرابا لایعارضھم من ھودونھم واذاعلمنا ان محرابا وضع من غیرھم بغیر علم لانعتمدہ واذالم نعرف شیئا وعلمنا کثرۃ المارین و تو الی المصلین علی مرور السنین علمنا بالظاھر وھوالصحۃ ۔
ہمیں یقین ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم دیگر تمام افراد امت سے زیادہ علم رکھتے تھے۔ جب ہمیں یہ معلوم ہوا کہ یہ محراب صحابہ نے قائم کئے ہیں تو ان کے مقابل کسی دوسرے کی با ت کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا(لہذا اس محراب پر اعتماد کیا جائے گا) اور جب ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ صحابہ کے علاوہ کسی جاہل ناواقف نے یہ محراب بنائی تو اس پر ہم اعتماد نہیں کریں گے اور اگر کسی محراب کے بارے میں ہمیں کچھ معلومات نہ ہوں صرف اتنا جانتے ہوں کہ یہاں کئی سالوں سے کثیر راہگیر اور نمازی مسلسل نماز پڑھتے رہے ہیں تو ہم اسی ظاہر صورت پر عمل کریں گے اور یہی درست ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
مذھب الحنفیۃ یعمل بالمحاریب المذکورۃ ولا یلتفت للطعن المذکورۃ ۔
احناف کا مسلك یہی ہے کہ ان محاریب مذکورہ پر عمل پیرا ہوں اور مخالف کے طعن و اعتراض مذکورہ کی طرف توجہ نہ کی جائے۔ (ت)
اسی میں ہے :
نھایۃ الفلکی المذکوران یطعن بالانحراف الیسیر الذی لا یجاوز الحد المذکور وھوعلی تقدیر صدقہ لایمنع الجواز ولھذا قال الشارح
قول فلکی(ماہر فلکیات ) مذکور کی نہایۃ یہ ہے کہ وہ ا س تھوڑے انحراف کے ساتھ جوحد مذکورسے تجاوز نہ کرتا ہو طعن (اعتراض) کریگا حالانکہ اگر اسکا قول سچا بھی ہو تاہم جواز نماز کے منافی نہیں اس لئے شارح
حوالہ / References فتاوٰی خیریۃ کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۹
فتاوٰی خیریۃ کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۸
#4015 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
الزیلعی لا یجوز التحری مع المحاریب ۔
امام زیلعی نے فرمایا محاریب کے ہوتے ہوئے اجتہاد اور غوروفکر کی ضرورت نہیں ۔ (ت)
اسی میں ہے :
الکلام فی تحقق ذلك (یعنی الانحراف الکثیر) ولایقع علی وجہ الیقین مع البعد باخبار المیقاتی کما لا یخفی عندالفقہاء ۔
لیکن کلام انحراف کثیر کی تحقیق کے بارے میں ہے اور یہ بات بعد کی صورت میں ماہر فلکیات کی رائے سے یقینی طور پرحاصل نہیں ہوسکتی جیسا کہ فقہاء پر مخفی نہیں ۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
المحراب فی حق المصلی قد صارکعین الکعبۃ ولھذالا یجوز للشخص ان یجتہد فی المحاریب فایاك ان تنظر الی ما یقال ان قبلۃ اموی دمشق واکثر مساجدھا المبنیۃ علی سمت قبلۃ فیھا بعض انحراف اذلا شك ان قبلۃ الاموی من حین فتح الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنھم ومن صلی منھم الیھا وکذامن بعدھم اعلم و اوثق من فلکی لاندری ھل اصاب ام اخطأبل ذلك یرجع خطأہ وکل خیر من اتباع من سلف ۔
نمازی کے لئے محراب عین کعبہ کی طرح ہے اسی لئے کسی شخص کو روا نہیں کہ وہ محاریب میں اجتہاد یا غور و فکر کرے اس بات سے تو دور رہ(جو کہا جاتا ہے) کہ جامع اموی دمشق اور اسکی اکثر دیگر مساجد جو اسکی سمت پر بنائی گئی ہیں ان کی سمت قبلہ کچھ منحرف ہے کیونکہ جامع اموی کے قبلہ کا تعین اس وقت ہوا جب صحا بہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے اس علاقہ کو فتح کیا تھا صحابہ کرام خود بھی اسی رخ نماز ادا کرتے رہے اور ان سے بعد کے لوگ بھی اور وہ حضرات اس فلکی سے زیادہ عالم اور ثقہ تھے اس فلکی کے بارے میں ہمیں کیا معلوم کہ اسکی رائے درست ہے یاغلط بلکہ اس کا خاطی ہونا ہی راجح ہے اور تمام خیر اسلاف کی اتباع میں ہے۔ (ت)
پھر علماء کے یہ ارشادات اس بارے میں تھے جو فن ہیأت کا ماہر کامل عامل فاضل ثقہ عادل ہو یہ نئی روشنی والے نہ فقہ سے مس نہ ہئیات سے خبر اور دین و دیانت کاحال روشن تر ان کی بات کیا قابل التفات
حوالہ / References فتاوٰی خیریۃ ، کتاب الصلوٰۃ ، مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ، ۱ / ۷
فتاوٰی خیریۃ کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۹
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
#4016 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
ان کی ہیأت دانی اس اعتراض ہی سے پیدا ہے کہ قطب شمالی شانہ راست سے جانب پشت مائل ہونے کو دلیل انحراف بتایا اور دیوار توڑ کر ٹھیك محاذات قطب میں بنانا چاہتے ہیں علم ہیأت مین ادراك سمت قبلہ کےلئے دوطریقے ہیں : ایك تقریبی کہ عامہ کتب متداولہ میں مذکور دوسرا تحقیقی کہ زیجات میں مسطور۔ یہاں سے واضح کہ یہ حضرات ان دونوں سے محجور اگر وہ طریقہ تقریبی جانتے ان پر معترض نہ ہوتے کہ اس کی رو سے سمت قبلہ علی گڑھ نکالیں تو ضرور قطب شمالی شانہ راست سے جانب پشت ہی پھرا رہے گا کہ اس طریقہ پر علی گڑھ کا خط قبلہ نقطہ مغرب سے ساڑھے دس درجے جانب جنوب جھکا ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ نقطہ مغرب کی طرف منہ کرتے تو قطب محاذات شانہ پر رہتا اب کہ مغرب سے دس درجے جنوب کو پھرے قطب ضرور جانب پشت میلان کرے گا اور اگر طریقہ تحقیقی سے آگاہ ہوتے ہر گز دیوار جدید محاذی قطب بنانی نہ چاہتے کہ طریق تحقیقی میں بھی خط قبلہ علی گڑھ نقطہ مغرب سے جنوب ہی کو مائل ہے اگرچہ نہ اتنا کہ ہم دونوں طریق تقریب و تحقیق ان شاء ا ﷲ آخر کلام میں ذکر کریں گے۔
ثامنا : محاذات قطب چاہنا بھی ان صاحبوں کے خیال میں علمائے اسلام رحمہم اللہ تعالی کا صدقہ ہے جن کا منشا اگران کے خیال میں ہوتا مسجد کا ڈھانا فرض نہ کرتے زمانہ اقدس صحابہ کرام بلکہ حضو پر نور سید الانام صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے غیر مکی کیلئے جہت کعبہ قبلہ قرار پائی ہے اصابت عین کی ہر گز تکلیف نہیں و لہذا صحابہ وتابعین رضی اللہ تعالی عنہم نے بلاد متقاربہ بلکہ ملك بھر کیلئے ایك ہی قبلہ قرار دیا ملك عراق کے واسطے باتباع ارشاد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم و فرمان فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ صحابہ نے بین المشرق والمغرب قبلہ مقرر فرمایا ائمہ کرام نے بخارا سمرقند نسف ترمذ بلخ مرو سرخس وغیرہا کا قبلہ مسقط راس العقرب بنایا بیت المقدس حلب دمشق رملہ نابلس وغیرہا تمام ملك شام کا قبلہ ستارہ قطب کو پس پشت لینا ٹھرایا۔ کوفہ بغداد ہمدان قزوین طبرستان جرجان وغیرہا میں نہر شاش تك قطب کو داہنے کان کے پیچھے ہلکہ عراق میں سیدھے (دائیں ) شانے ملك مصر میں بائیں کندھے ملك یمن میں منہ کے سامنے بائیں کو ہٹا ہوا فرمایا۔ امام فقیہ ابو جعفر ہندوانی نے بغداد مقدس و بخارا شریف کا قبلہ ایك بتایا۔ علماء نے خراسان و سمر قند وغیرہا بلاد مشرقیہ کےلئے جن میں ہندوستان بھی داخل بین المغربین قبلہ ٹھہرایا۔ امام اجل فقیہ النفس قاضی خا ن رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے مشائخ کرام رحمہم اللہ تعالی سے دربارہ قبلہ چھ ۶ قول نقل فرمائے : بنات النعش۱صغری کو جس کی نعش کا سب سے روشن ستارہ قطب ہے دہنے کان پر لےکر قدرے بائیں کو پھرنا۔ ۲ستارہ قطب کو سیدھے (دائیں ) کان کے پیچھے لینا ۳مسقط راس العقرب کی طرف منہ کرنا آفتاب ۴جب برج جوزا میں ہو آخر وقت ظہر میں اسکی سمت دیکھ کر ملحوظ رکھنا مسقط دو۵نسر طائر و واقع کے درمیان بین ۶المغربین کے فاصلے سے دو ثلث دہنے ایك بائیں کو رکھنا۔ اور فرمایا کہ یہ سب ا قوال باہم قریب ہیں ان تمام احکام کا مبنی وہی ہے کہ اعتبارجہت میں بڑی وسعت ہے فلسفی بیچارا آلات کا پٹارا خیالات کا پشتارا کھول کر بیٹھے تو ہرگز
#4017 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
نہ ان شہروں کا قبلہ ایك پاسکتا ہے نہ ملك بھر کی ایك سمت ٹھہرا سکتا ہے مگر وہ نہیں جانتا کہ یہ دین تدقیقی آلات پر مبنی نہیں یہ محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا دین سمح سہل ہے۔ الحمدﷲ رب العلمین قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اناامۃ امیۃ لا نکتب ولا نحسب ۔ (تمام خوبیاں اﷲ کیلئے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : ہم امی امت ہیں نہ لکھتے ہیں نہ حساب رکھتے ہیں ۔ ت)فتاوی خانیہ میں ہے :
جہۃ الکعبۃ تعرف بالدلیل والدلیل فی الامصار والقری المحاریب التی نصبتھا الصحابۃ والتابعون رضی اﷲ عنھم فحین فتحوا العراق جعلوا قبلۃ اھلھا بین المشرق والمغرب لذلك قال ابو حنیفۃ رضی اﷲ عنہ ان کان بالعراق جعل المغرب عن یمینہ والمشرق عن یسارہ وھکذا قال محمد رحمہ اﷲ تعالی وانما قال ذلك لقول عمر رضی اﷲتعالی عنہ اذا جعلت المغرب عن یمینك والمشرق عن یسارك فما بینھما قبلۃ لاھل العراق وحین فتح خراسان جعلوا قبلۃ اھلھا مابین مغرب الصیف ومغرب الشتاء فعلینا اتباعھم وعن ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالی انہ قال فی قبلۃ اھل الری اجعل الجدی عــــہ علی منکبک
جہت کعبہ دلیل کے ذریعہ پہچانی جاسکتی ہے اور دلیل شہروں اور دیہاتوں میں وہ محراب ہیں جو صحابہ کرام و تابعین رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین نے قائم کئے صحابہ نے جب عراق کا علاقہ فتح کیا تو انہوں نے وہاں کے لوگوں کےلئے مشرق و مغرب کے درمیان جہت کعبہ مقر ر کی اس لئے اما م ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا عراقی مغرب کو اپنی دائیں طرف اور مشرق کو اپنی بائیں طرف کر لے۔ اسی طرح امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا یہ انھوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے اس قول کی اتباع میں کہا ہے جس میں ہے کہ جب تم مغرب کو اپنی دائیں اور مشرق کو اپنی بائیں طرف کرلے تو ان کے درمیان اہل عراق کا قبلہ ہے۔ اور جب صحابہ نے خراسان فتح کیا تو وہاں کے رہنے والوں کے لئے موسم گرما کے مغرب اور موسم سرما کے مغرب کے درمیا ن کو قرار دیا۔ پس ہم پر ان کی اتباع لازم ہے۔ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے یہ مروی ہے کہ انہوں نے اہل رے کے لئے قبلہ کا تعین کرتے ہوئے
عـــہ بضم الجیم و فتح الدال و تشدید الیاء ای جدی الفرقداسم النجم الثاقب السابع فی اخرالنعش الصغری ۱۲ العلامۃ حامد رضا خان رحمۃ اﷲ علیہ۔
جیم پر پیش دال پر زبر یا مشدد کے ساتھ جدی الفرقدیہ اس ساتویں ثاقب ستارے کا نام ہے جو نعش صغری کے آخر میں ہے۔ ۱۲ علامہ حامد رضا رحمۃ اللہ تعالی علیہ ۔ (ت)
حوالہ / References صحیح مسلم باب وجوب صوم رمضان الرؤیۃ الہلال الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۴۷
#4018 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
الایمن واختلف المشائخ رحمھم اﷲ تعالی فیما سوی ذلك من الامصار قال بعضھم اذا جعلت بنات نعش الصغری علی اذنك الیمنی یمینك وانحرفت قلیلا الی شمالك فتلك القبلۃ وقال بعضھم اذاجعلت الجدی خلف اذنك الیمنی فتلك القبلۃ وعن عبداﷲ المبارك و ابی مطیع و ابی معاذ وسلم بن سالم و علی ابن یونس رحمھم اﷲ تعالی انھم قالوا قبلتنا العقرب وعن بعضھم اذاکانت الشمس فی برج الجوزاء ففی اخر وقت الظھراذا استقبلت الشمس بوجھك فتلك القبلۃ وعن الفقیہ ابی جعفر رحمہ اﷲ تعالی انہ قال اذا قمت مستقبل المغارب فالنسر الواقع بسقوطہ یکون بحذاء منکبك الایمن والنسر الطائر سقوطہ فی وجھك بحذاء عینك الیمنی فالقبلۃ مابینھما قال قبلۃ بخارا ھی علی قبلتنا وعن القاضی الامام صدرالاسلام قال القبلۃ مابین النسرین وعن الشیخ الامام ابی منصور الماتریدی رحمۃ اﷲ علیہ انظر الی مغرب الشمس فی اطول ایام السنۃ ثم فی اقصر ایام السنۃ دع الثلثین عن یمینك والثلث عن یسارك فالقبلۃ عند ذلك وھذہ الاقاویل بعضھا قریب من بعض اھ مختصرا۔
فرمایا : جدی (ستارہ) کا اپنے بائیں کاندھے پر کرو۔ ان کے علاوہ دیگر شہروں کے بارے میں مشائخ کرام رحمہم اللہ تعالی کا اختلاف ہے۔ بعض کا قول یہ ہے کہ جب بنات نعش صغری کو اپنے دائیں کان پر کرتے ہوئے تھوڑا سا اپنی بائیں طرف پھر جاؤ یہی تمہارا قبلہ ہے۔ اور بعض کا قول یہ ہے کہ جدی(ستارہ) کو جب اپنے بائیں کان کے پیچھے کرلے تو یہ تیرا قبلہ ہے اور حضرت عبداﷲ ابن مبارك ابو مطیع ابو معاذ سلم بن سالم اور علی بن یونس رحمھم اﷲ عنھم فرماتے ہیں کہ ہمارا قبلہ عقرب(ستارہ) ہے۔ اوربعض کا کہنا یہ ہے کہ سورج برج جوزا میں ہو تو ظہر کے آخری وقت میں جب تو سورج کی طرف اپنے چہرے کو پھیر لے تو یہی تمھارا قبلہ ہے۔ اور فقیہ ابو جعفر رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا : جب تم چہرہ مغارب کے سامنے کی طرف کرو تونسر واقع تمھارے دائیں کاندھے کے برابر اورنسر طائرچہرے میں تمھاری دائیں آنکھ کے مقابل ہوگا جو ان کے درمیان ہو وہ قبلہ ہے۔ فرمایا اور بخارا کا قبلہ ہمارے ہی قبلہ پر ہے اور امام قاضی صدرالاسلام کا قول ہے کہ قبلہ دونوں نسروں کے درمیان ہے۔ شیخ الاسلام ابومنصور ماتریدی رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہ نے فرمایا کہ تم سال کے بڑے دنوں میں سورج کے مغرب کی طرف دیکھو اس طرح سال کے چھوٹے دنوں میں دیکھو پھر اپنی دائیں جانب سے دو تہائی اور بائیں جانب سے ایك تہائی چھوڑ دو تو یہ سمت قبلہ ہے۔ یہ تمام اقوال ایك دوسرے کے قریب قریب ہیں اھ مختصرا(ت)
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خان کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ نو لکشور لکھنؤ ۱ / ۳۳
#4019 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
معراج الدرایہ و فتح القدیر و حلیہ میں ہے :
ولذا وضع العلماء قبلۃ بلدین و بلاد علی سمت واحد فجعلوا قبلۃ بخاری وسمرقند ونسف وترمذ وبلخ و مرو و سرخس موضع الغروب اذاکانت الشمس فی اخرالمیزان وأول العقرب کما اقتضتہ الدلائل الموضوعۃ لمعرفۃ القبلۃ ولم یخرجوا لکل بلد سمتا لبقاء المقابلۃ والتوجہ فی ذلك القدر و نحوہ من المسافۃ ۔
اسی لئے علماء نے ایك شہر دو شہر بلکہ متعدد شہروں کا قبلہ ایك ہی سمت مقرر کیا ہے مثلا بخارا سمرقند نسف ترمذ بلخ مرو سرخس کا قبلہ موضع غروب (مسقط رأس العقرب) قرار دیا جبکہ شمس آخر میزان اور اول عقرب میں ہو جیسا کہ معرفت قبلہ کے لئے وضع کردہ دلائل اسی کا تقاضا کرتے ہیں اور ہر شہر کے لئے الگ الگ سمت مقرر نہ کی کیونکہ اس قدر اور اسی جیسی مسافت میں مقابلہ اور توجہ الی الکعبہ باقی رہتی ہے۔ (ت)
مبتغی اور حلیہ و بحر و ردالمحتار وغیرہا میں ہے :
لجدی اذا اجعلہ الواقف خلف اذنہ الیمنی کان مستقبل القبلۃ ان کان بناحیۃ الکوفۃ و بغداد و ھمدان و قزوین و طبرستان و جرجان وما والاھاالی نھر الشاش و یجعلہ من بمصر علی عاتقہ الیسر ومن بالعراق علی عاتقہ الایمن وبالیمن قبالۃ المستقبل ممایلی جانبہ الایسر وبالشام وراء ہ ۔
جب کھڑا ہونے والا جدی (قطب ستارہ) کو اپنے دائیں کان کے پیچھے کرلے تو اب اس کے سامنے جہت قبلہ ہے اگر وہ کوفہ بغداد ہمدان قزوین طبرستان جرجان اور اس کے قرب و جوار نہر شاش تك کے علاقے میں رہنے والاہو (تمام علاقوں کا قبلہ یہی ہے) مصر میں رہنے والا جدی(ستارہ قطب) اپنے بائیں کاندھے پر کرلے عراقی دائیں کاندھے پر کرلے یمنی اپنے سامنے کی اس جانب کرے جو بائیں جانب سے متصل ہے اور شامی اپنے پیچھے کی طرف کرلے۔ (ت)
فتاوی خیریہ میں ہے :
وذکر بعضھم ان اقوی الادلۃ القطب فیجعلہ من بالشام ورائہ والرملۃ ونابلس
بعض علماء نے فرمایا کہ سب سے قوی دلیل قطب (ستارہ) ہے تو اہل شام اسے پشت کی طرف کریں ۔ رملہ نابلس
حوالہ / References فتح القدیر باب شروط الصلوۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۳۵
البحرالرائق باب شروط الصلوۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۸۵
#4020 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
و بیت المقدس من جملۃ الشام کدمشق وحلب و جوز للکل الاعتماد علی القطب و جعلہ خلفہ ولا بد فی ذلك من نوع انحراف لاھل ناحیۃ منھا لکنہ لا یضر کما قررناہ ۔
بیت المقدس سب ملك شام کے حصے ہیں جیسا کہ دمشق اور حلب اور ان کے بعض حضرات نے ان تمام کے لئے قطب ستارے پر اعتماد کو جائز قرار دیا ہے جبکہ وہاں کے رہنے والا اسے اپنے پیچھے کرے حالانکہ اس صورت میں یہاں سے ایك جانب رہنے والوں کیلئے کچھ نہ کچھ انحراف ضرور لازم آتا ہے لیکن یہ انحراف نقصان دہ نہیں جیسے کہ ہم اس کو بیان کر آئے ۔ (ت)
اسی حکم کی بنا پر ہندوستان میں ستارہ قطب داہنے شانے پر لیا گیا ہے اور قدیم سے عام مساجد اسی سمت پر بنیں کہ بین المغربین کا اوسط مغرب اعتدال تھا اور اس کی طرف توجہ میں قطب سیدھے ہی شانے پر ہوتا ہے اس کی پہچان آسان اور اس میں انحراف بقدر عـــہ(قدرے انحراف) مضر نہیں و لہذا اسی پر تعامل ہوا
یہ مدعیان ہیأت سمجھے کہ عام بلاد ہندیہ شاید خاص علی گڑھ کا یہی قبلہ تحقیقی ہے حالانکہ وہ محض ناواقفی ہے۔ ہندوستان آٹھ درجے عرض شمال سے پینتیس ۳۵ درجے تك آباد ہے طول شرقی چھیاسٹھ ۶۶ درجے سے بانوے ۹۲ تك ۔ یہ بھی ہندوستان کی خوش نصیبی ہے ۶۶ عدد ہیں اسم جلالت اﷲ کے اور ۹۲ نام پاك محمد کے جل جلا لہ و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔ ہم نے اپنے رسالے کشف العلۃ عن سمت القبلۃ (۱۳۰۴ھ) میں براہین ہندسیہ سے ثابت کیا ہے کہ شروع جنوبی ہند جزیرہ سرندیپ وغیرہا سے تئیس ۲۳درجے چونتیس۳۴دقیقے عرض تك جتنے بلاد ہیں جن میں مدراس حاطہ بمبئی حیدرآباد کا علاقہ وغیرہا داخل ہیں سب کا قبلہ نقطہ مغرب سے شمال کو جھکا ہوا ہے ستارہ قطب داہنے شانے سے سامنے کی جانب مائل ہوگا اور انتیسویں ۲۹ درجہ عرض سے اخیر شمالی ہند تك جس میں دہلی بریلی مراد آباد میرٹھ پنجاب بلوچستان شکار پور قلات پشاور کشمیر وغیرہا داخل ہیں سب کا قبلہ جنوب کو جھکا ہوا ہے قطب سیدھے کندھے سے پشت کی طرف میلان کرے گا۔ دلیل کی رو سے یہ عام حکم ساڑھے بتیس درجے سے ہوتا تھا مگر ۲۸کے بعد ۳۲ تك عدم انحراف کے لئے جتنا طول درکار ہے ہندوستان میں اس طول و عرض پر آبادی نہیں ۔ ۲۳-۳۴سے ۲۸ تك جتنے بلاد کثیرہ ہیں ان میں کسی کا قبلہ مغربی جنوبی کسی خاص نقطہ مغرب کی طرف علی گڑھ اسی قسم دوم میں ہے جس کا قبلہ جنوب کو مائل ہے۔ ہم نے اس رسالے میں عرض الح ل سے
عـــہ ھھنا سقط ۱۲ العلامۃ حامد رضا رحمہ اﷲ تعالی
یہاں کچھ عبارت ساقط ہوگئی ۱۲ علامہ حامد رضا رحمۃ اللہ تعالی علیہ (ت)
حوالہ / References فتاوٰی خیریۃ کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۷
#4021 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
عرض الح ہاتك ایك ایك دقیقے کے فاصلے سے ایك جدول دی ہے کہ اتنے عرض پر جب اتنا طول ہو تو قبلہ ٹھیك مغرب اعتدال کی طرف ہو گا اس کے ملاحظہ سے واضح ہوسکتا ہے کہ ہندوستان میں کتنے شہروں کا تحقیقی قبلہ اس حکم مشہور کے مطابق ہے یا اینہمہ عام عملدرآمد اسی حکم واحد پر ہے اور کچھ مضر نہیں کہ حدود شرع سے باہر نہیں بالجملہ یہ ناواقف لوگ اگر سمت حقیقی چاہتے ہیں تو محاذات قطب چاہنا باطل اور جہت پر قانع ہیں تو جہت اب بھی حاصل بہرحال مسجد شہید کرنے کی فرضیت باطل اس میں نماز کی تحریمی کراہت باطل ۔ غرض اس بے معنی فتوے کی جہالت کہاں تك گنئے ہم اصل حکم شرع بتوفیق اﷲ تعالی واضح کریں کہ عید گاہ مذکورضرور حدود شرعیہ کے اندر ہے اس کا بیان چند افادوں پر موقوف فاقول وماتوفیقی الا باﷲ علیہ توکلت والیہ انیب(میں اﷲ تعالی کی توفیق سے کہتا ہوں اسی پر بھروسہ اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ ت)
افادہ اولی : جہت قبلہ کی حد کیا ہے کہ جب اس سے باہر ہو جہت سے باہر ہو اس بارے میں عبارات علماء متعدد وجوہ پر پائی گئیں :
اول جب مشارق مغارب نہ بدلیں جہت نہ بدلے گی۔ فتح القدیر و بحرالرائق وخیریہ و طحطاوی و ردالمحتار وغیرہا کتب کثیرہ میں یہاں اور نیز مسئلہ اقتداء بالشافعی میں ہے :
الانحراف المفسدان یجاوز المشارق الی المغارب وفی الخیریۃ بعد ما قدمنا عنہ فی الایرادالسابع وعند تحققنا بالخطاء زال الغطاء وھو فی اختلاف الجھۃ بحیث یکون متجاوز المشارق الی المغارب ۔
مفسد نماز وہ انحراف جومشارق سے مغارب کی طرف متجاوز ہو اور فتاوی خیریہ میں اس کی گفتگو کے بعد جو پہلے ایرادسابع میں بیان کرچکے ) ہے ۔ جب ہمیں خطاء کا تحقیقی ثبوت مل گیا تو پردہ اٹھ گیا یعنی کوئی اشکال نہ رہا وہ یہ ہے کہ جہت قبلہ مختلف ہوجاتی ہے جب مشارق و مغارب سے متجاوز ہوں (یعنی مشارق مغارب بدل جائیں ) ۔ (ت)
اور اسکی تائید اس حدیث سے کی گئی کہ ترمذی و ابن ماجہ و حاکم نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ ترمذی نے کہا حسن صحیح ہے حاکم نے کہا برشرط بخاری و مسلم صحیح ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : ما بین المشرق والمغرب قبلۃ مشرق و مغرب کے درمیان قبلہ ہے ۔ امام ملك مؤطا اور ابو بکر ابن ابی شیبہ اور عبدالرزاق مصنفات
حوالہ / References البحر الرائق باب شروط الصلوٰۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۸۵
فتاوٰی خیریہ کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۹
جامع الترمذی باب ماجاء ان بین المشرق والمغرب قبلۃ مطبوعہ امین کمپنی دہلی ۱ / ۴۶
#4022 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
اور بیہقی سنن اور ابولعباس اصم اپنے جزء حدیثی میں راوی امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا : مابین المشرق والمغرب قبلۃ (مشرق و مغرب کے درمیان قبلہ ہے۔ ت)جامع ترمذی میں یہ قول متعدد صحابہ کرام مثل امیرالمؤمنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ و حضر ت عبداﷲ بن عباس وغیرہما رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہونا بیان کیا اور کہا عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں ۔
اذاجعلت المغرب عن یمینك والمشرق عن یسارك فما بینھما اذا استقبلت القبلۃ
جب تو مغرب کو داہنے ہاتھ پر لے اور مشرق کو بائیں ہاتھ پر تو ان دونوں کے اندر قبلہ ہے۔ اس وقت روبقبلہ ہولیا۔
اقول : عبارت مذکورہ علماء سے ظاہر ایہ معلوم ہوتا ہے کہ جب تك منہ کرنے کے عوض پیٹھ کرنا نہ ہو کہ قبلہ مغرب کو ہے یہ مشرق کو منہ کرے یا بالعکس اس وقت تك استقبال فوت نہ ہوگا یہاں تك کہ اگر مغربی قبلہ والا جنوب یا شمال کو منہ کرکے کھڑا ہو یعنی کعبہ معظمہ کو ٹھیك دہنی یا بائیں کروٹ پڑے تو جہت ہنوز باقی رہی اور یہ ظاہر الفساد ہے پہلو کرنے کو کوئی منہ کرنا نہ کہے گا۔ یہ فول وجھک(پس اپنا چہرہ اقدس پھیر یے۔ ت) کے عوض ول جنبک(اپنا پہلو مبارك پھیریے۔ ت) رہے گا اور وہ بالاجماع باطل ہے لہذا قول ظہیریہ اذا تیا من اوتیا سر تجوز (اگر دائیں یا بائیں ہوگیا تو جائز ہے۔ ت) کی تاویل کی طرف درمختار میں اشارہ فرمایا ردالمحتار میں اسکی شرح کی :
ای لیس المراد منہ ان یجعل الکعبۃ عن یمینہ اویسارہ اذلا شك حینئذ فی خروجہ عن الجھۃ بالکلیۃ بل المرادالانتقال عن عین الکعبۃ الی الیمین اوالیسار اھ ملخصا۔
یعنی اس سے مراد یہ نہیں کہ وہ کعبہ کو دائیں یا بائیں کرے کیونکہ اس صورت میں وہ بلا شك جہت کعبہ سے نکل جائے گا بلکہ اس مراد یہ ہے کہ وہ عین کعبہ سے دائیں یا بائیں طرف منتقل ہوجائے اھ ملخصا(ت)
اگر چہ یہ مراد نہیں ہو سکتی کہ اپنے یہاں کے نقاط اربعہ جہات اربعہ کے اعتبار سے افق بلد کے دو نصف کئے جائیں قبلہ اگر وہاں سے جنوب یا شمال کو ہے (جیسے مدینہ طیبہ کہ اس کا قبلہ میزاب رحمت ہے)تو جنوبی شمالی اور اگر شرق یا غرب کوہے (جیسے ہندوستان میں اس کا قبلہ باب کعبہ و مقام ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم ہے) تو شرقی غربی
حوالہ / References سنن الکبری کتاب الصلٰوۃ مطبوعہ دار صادر بیروت ۲ / ۹
جامع الترمذی باب ماجاء ان بین المشرق والمغرب قبلۃ مطبوعہ امین کمپنی دہلی ۱ / ۴۶
ردالمحتار مبحث فی استقبال القبلۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۱۵
ردالمحتار مبحث فی استقبال القبلۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۱۶
#4023 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
پھر جس نصف میں کعبہ ہے مصلی اس میں کسی طرف منہ کرلے استقبال ہو جائے گا اور دوسرے نصف کی طرف منہ کیا تو جہت سے نکل جائے گا یہ پہلے سے بھی زیادہ ظاہر البطلان ہے کہ اس پر استقبال قبلہ میں نماز فاسد اور استدبار قبلہ میں صحیح ٹھہرتی ہے۔ فرض کرو اب حء شہری کا دائرہ افق ہے
images
جس میں ا نقطہ مغرب ء نقطہ مشرق تو ب ا ح قوس غربی ہوئی ر کعبہ معظمہ اسی نصف میں واقع تو مصلی نقطہ ط کی طرف منہ کرے تو اسکی توجہ اسی نصف کی طرف واقع ہوئی مگرقطعا اس کی پشت کعبہ کو ہے اور ح کی طرف استقبال کرے تو نماز نہ ہو کہ نصف بدل گیا حا لانکہ وہ قطعا استقبال میں ہے بلکہ معنی یہ ہیں کہ ایك خط مستقیم موضع مصلی و محل کعبہ میں وصل کیا جائے اور دوسرا خط کہ اس پر عمود ہو جانبین میں دائرہ افق تك ملا دیا جائے
images
اس عمود سے جو افق کے دو نصف ہوئے ان میں قبلہ اس حصہ میں ہےجس کے ٹھیك وسط میں کعبہ ہے پس صورت مفروضہ میں تصویر سمت یہ ہے خط ی ك خط قبلہ تحقیقی اور ح ط اس پر عمود قوس ح ك ط میں قبلہ ہے ح ط سے وہ استحالے تو اٹھ گئے مگر ایراد اول ہنوز باقی ہے کہ ظاہریہ کہ نقطتین ح ط کے اندر اندر ساری قوس جہت ہے اور شك نہیں کہ ح ط درکنار ال کی طرف منہ کرنا بھی یقیناتیامن تیا سر ہے نہ استقبال و لہذا علماء نے اسے مشکل جانا اور تاویل و تقلید کی طرف متوجہ ہوئے کہ اس سے مراد صرف وہ حصہ قوس ہے جس کی طرف توجہ میں ہوائے کعبہ سے کچھ بھی محاذات و مسامتت باقی ہے اگر چہ تقریبا نہ یہ کہ جس نقطے کو چاہو منہ کر لو ۔ منحۃ الخالق میں ہے :
قولہ وفی الفتاوی الانحراف المفسد ان یتجاوز المشارق الی المغارب کذانقلہ فی فتح القدیر وھومشکل فان مقتضاہ ان الانحراف اذالم یوصلہ الی ھذاالقدرلا یفسد الخ۔
اس کا قول فتاوی میں ہے کہ مفسد نمازوہ انحراف ہے جو مشارق سے مغارب کی طرف متجاوز ہو فتح القدیر میں اسی طرح منقول ہے حالانکہ یہ صورت مشکل ہے کیونکہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ انحراف اس کو جب تك اس مقدار تك نہ پہنچائے وہ مفسدنماز نہ ہو گاالخ۔ (ت)
حلیہ میں فرمایا :
قبلۃ اھل المشرق المغرب عندنا ش ھذافی الذخیرۃ (الی ان قال) ثم
م (متن) اہل مشرق کا قبلہ ہمارے نزدیك مغرب ہے ش(شرح) یہ ذخیرہ میں ہے (آگے چل کر کہا ) پھر
الظاھر ان ھذا انما یستقیم فیما اذا کان التوجہ من المشرق الی المغرب وبالعکس مسامتا لھواء الکعبۃ اما تحقیقا او تقریبا علی ماذکرنا لاعلی ای وجہ کان ذلك التوجہ من احدی الجھتین الی الاخری فتنبیہ لہ وکان للعلم بہ لم یفصحوا بہ ۔
ظاہر یہ ہے یہ اس صورت درست ہوگا جب توجہ مشرق سے جانب
حوالہ / References منحۃالخالق حاشیۃ البحر الرائق باب شروط الصلوٰۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۸۵
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
#4024 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
مغرب یا بالعکس ہوائے کعبہ کی سمت حقیقتا یا تقریبا باقی رہے جیسے کہ ہم نے ذکر کیا یہ نہیں کہ ہر صورت میں درست ہوگا یعنی جب دونوں جہتوں میں سے ایك کی توجہ دوسری کی طرف ہو۔ یہ اس کے لئے تنبیہ ہے اور گویا اس بات کا علم تھا اس لئے انھوں نے وضاحت نہیں کی۔ (ت)
یوں ہی ردالمحتار میں اسے موؤل کیا کما سیأتی وللعبد الضعیف فیہ کلام ستعر فہ ان شاء اﷲ تعالی (جیسے کہ عنقریب آئیگا اور عبدضعیف کو اس میں کلام ہے جس سے ان شاء اﷲ تعالی آگاہی ہوگی۔ ت)
۲دوم کہ عامہ کتب میں شہرت وافیہ رکھتا ہے کہ اتنا پھر سکتا ہے جس میں منہ یعنی وجہ کا کوئی حصہ مقابل کعبہ معظمہ رہے دو مسطح چیزوں میں مقابلا تھوڑے انحراف سے زائل ہوجاتا ہے مگر قوس کا مقابلہ بے انحراف کثیر زائل نہ ہوگا اور حق جل و علا نے انسان کا چہرہ مقوس بنایا ہے جب تك کوئی حصہ رخ مقابل رہے گا استقبال بالوجہ حاصل رہے گا اور فول وجهك شطر المسجد الحرام- (پس اپنا چہرہ اقدس مسجد حرام کی طرف پھیر لو۔ ت)کا امتثال ہو جائے گا۔
اقول : اس کی وجہ یہ ہے کہ سطح مستوی پر جتنے خط عمود ہوں گے سب کی سمت ایك ہی ہوگی جب ان میں ایك مقابلہ سے منحرف ہوا سب منحرف ہوگئے بخلاف قوس کہ اس کے ہر نقطہ کے خط مماس پر نقطہ تماس سے جو عمود قائم ہوگا جدا جہت رکھے گا تو اس کا مقابلہ زائل ہوا دوسرے کا ہوگا اس کا نہ رہا اور کا ہوگا یہاں تك کہ قوس ختم ہو جائے۔
معراج الدرایہ و فتح القدیر و زادالفقیر و حلیہ و غنیہ و بحرالرائق و فتاوی خیریہ و درمختار و ردالمحتار وغیرہا میں ہے۔
وھذا لفظ الاخیر ثم اعلم انہ ذکر فی المعراج عن شیخہ ان جہۃ الکعبۃ ھی الجانب الذی اذا توجہ الیہ الانسان یکون مسامتا للکعبۃ او ھوا ئھا تحقیقا او تقریبا و معنی
آخری کتا ب کے الفاظ یہ ہیں : پھر جان لے کہ معراج الداریہ میں اپنے شیخ سے ذکر کیا ہے کہ جہت کعبہ سے مراد وہ جانب ہے کہ انسان جب اس کی طرف توجہ کرے تو انسان کا چہرہ کعبہ یا ہوائے کعبہ کی جانب تحقیقا یا
#4025 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
التقریب ان یکون منحرفا عنھا اوعن ھوائھا بما لاتزول بہ المقابلۃ بالکلیۃ بان یبقی شئی من سطح الوجہ مسامتا لھا ولھوائھا ملخصا ۔
تقریبا باقی رہے تقریب کا معنی یہ ہے کہ کعبہ یا ہوائے کعبہ سے تھوڑا منحرف ہو جس سے بالکلیہ مقابلہ زائل نہ ہو بایں طور کہ چہرہ کی سطح کعبہ یا ہوائے کعبہ کی سمت باقی رہے۔ (ت)
جامع الرموز میں ہے :
لابأس بالانحراف انحرافا لاتزول بہ المقابلۃ بالکلیۃ بان یبقی شئی من سطح الوجہ مسامتا للکعبۃ ۔
ایسے انحراف میں کوئی حرج نہیں جس سے تقابل بالکلیہ ختم نہ ہو بایں طور کہ سطح چہرہ کا کچھ حصہ کعبہ کی جانب باقی رہے۔ (ت)
درر میں ہے :
فیعلم منہ انہ لو انحرف عن العین انحرافا لا یزول بہ المقابلۃ بالکلیۃ جاز یؤ یدہ ماقال فی الظہیریۃ اذاتیا من اوتیاسر یجوز لان وجہ الانسان مقوس فعندالتیا من او التیا سریکون احد جوانبہ الی القبلۃ ۔
تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر عین کعبہ سے اتنا تھوڑا منحرف ہو جس سے باکلیہ مقابلہ ختم نہ ہوتا ہو تو نماز جائز ہو ظہیریہ کا یہ قول بھی اس کی تائید کرتا ہے : جب انسان متیامن متیا سر ہوگیا تو نماز جائز ہے کیونکہ انسان کا چہرہ کمان کی طرح گول ہے تھوڑا سا دائیں بائیں ہونے سے اس کی کوئی ایك جانب قبلہ رخ باقی رہے گی۔ (ت)
رد المحتار میں ہے :
فعلم ان الانحراف الیسیر لایضر وھوالذی یبقی معہ الوجہ او شیء من جوانبہ مسامتا لعین الکعبۃ اولھوائھا بان یخرج الخط من الوجہ اومن بعض جوانبہ ویمر علی الکعبۃ اوھواء ھا مستقیما ولا یلزم ان یکون الخط الخارج علی استقامۃ خارجا من
تو اس سے معلوم ہوا کہ تھوڑا انحراف نقصان دہ نہیں وہ تھوڑا انحراف یہ ہے کہ چہرہ یا چہرہ کی کوئی ایك جانب عین کعبہ ہوائے کعبہ کے مقا بل باقی رہے بایں طو ر کہ چہرے اس کی کسی ایك جانب سے نکلنے والا خط کعبہ یا ہوائے کعبہ کی طرف مستقیم (سیدھا ) ہو کر گزرے یہ ضروری نہیں کہ نکلنے والا خط سیدھا
حوالہ / References ردالمحتار ، مبحث فی استقبال القبلۃ مطبوعہ مجتبائی د ہلی ، ۱ / ۲۸۷
جامع الرموز باب شروط الصلوٰۃ مطبوعہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۱۳۰
الدرر الحکام شرح غررالاحکام باب شروط الصلوٰۃ مطبوعہ مطبع احمد کامل الکائنۃ فی دار السعادت بیروت ۱ / ۶۰
#4026 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
جبھۃ المصلی بل منھا اومن جوانبھا کما دل علیہ قول الدررمن جبین المصلی فان الجبین طرف الجبھۃ وھما جبینان وعلی ما قررناہ یحمل مافی الفتح والبحر عن الفتاوی من ان الانحراف المفسدان یجاوز المشارق الی المغارب
نمازی کی پیشانی سے خارج ہو بلکہ پیشانی یا پیشانی کے کسی ایك حصہ سے خارج ہو جیسے کہ اس پر درر کے یہ الفاظ دال ہیں وہ خط نمازی کے جبین سے خارج ہو کیونکہ جبین پیشانی کی ایك طرف کو کہتے ہیں اوراس کے دونوں طرف دو جبینیں ہوئے۔ یہ جو ہم نے گفتگو کی ہے اسی پر اس کو محمول کیا جائے جو فتح القدیر اور بحرالرائق میں فتاوی سے منقول ہے : یعنی مفسد نماز وہ انحراف ہے جس سے مشارق مغارب بدل جائیں (ت)
اقول : وباﷲ التوفیق (میں اﷲ کی توفیق سے کہتا ہوں ۔ ت) تمام کتب مذکورہ میں شئی من سطح الوجہ(سطح چہرہ کا کچھ حصہ ۔ ت) کا لفظ ہے اور ہمارے مذہب میں ایك کان سے دوسرے تك سب سطح وجہ ہے و لہذا مابین العذارو الاذن (رخسار اور کان کا درمیانی حصہ۔ ت) کا دھونا بھی وضو میں فرض ہوا اور قطعا معلوم ہے کہ جب کوئی کسی نقطہ افق کی محاذات پر کھڑا ہو تو اس کی سطح وجہ کی محاذات نصف دائرہ افق کو گھیر لے گی تو ربع دور تك پھرنا روا ہوگا اور ٹھیك جنوب یا شمال کو منہ کئے سے مستقبل کعبہ قرار پائے گا کہ کان کے متصل جو سطح وجہ یعنی کنپٹی کا حصہ ہے ضرور محاذی کعبہ ہے حالانکہ وہ بداہۃ متیامن یا متیاسر نہ کہ مستقبل تو اس قول کے ظاہر پر بھی وہی استبعاد شدید لازم جو عبارت اولی پر تھا اور حلیہ و ردالمحتار کے اول کو دوم کے ساتھ تاویل کرنا۔
حیث قال فی الحلیۃ او تقریبا علی ما ذکرناہ وماذکر ھو ھذا القول الثانی من بقاء شیئ من سطح الوجہ مسامتا وسمعت انفاقول الشامی۔
جہاں حلیہ میں کہا : یا وہ تقریبا محاذی ہو جیسے کہ ہم ذکر کر آئے اور جو انھوں نے ذکر کیا وہ قول ثانی یہی ہے کہ سطح وجہ کا کوئی حصہ سمت کعبہ میں باقی رہے۔ اور شامی کا قول ابھی آپ نے سنا۔ (ت)
اصلا نافع نہ ہوا کہ کلام بھی اپنے ظاہر پر اتنا ہی وسیع ہے جتنا قول اول تھا اور یہ زنہار نہ قابل اعتبار نہ مراد علماء ہونے کا سزا وار مثلا جہاں کعبہ خاص سمت قبلہ مغرب ہو اگر کوئی شخص ٹھیك نقطہ جنوب و شمال کو منہ کرے یا نہ سہی بلکہ دو تین درجے مغرب کو پھرا ہی مانیے کہ مسافات بعیدہ میں اتنا انحراف فرق محسوس نہیں دیتا تو یقینا یہی کہا جائے گا کہ اس کا منہ جنوب یا شمال کو ہے نہ کہ کعبہ معظمہ کو حالانکہ اس کی سطح کی وجہ سے بعض جز بلا شبہ مسامت کعبہ ہے۔
نعم رأیت الفاضل عبدالحلیم الرومی من
ہاں میں نے دور عثمانی کے علماء میں سے عبدالحلیم رومی
حوالہ / References ردالمحتار ، مبحث فی استقبال القبلۃ ، مطبو عہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۸۸
#4027 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
علماء الدولۃ العثمانیۃ ذکر فی حاشیتہ علی الدرر تقیید عبارتھا حیث قال(قولہ یکون احد جوانبہ الی القبلۃ )لا یرید بہ زوال الطرف الاخر عن المقابلۃ بالکلیۃ کماظن بل المراد مقابلۃ طرف بکلہ مقابلۃ شئی من سطح الاخر مسامتا کماھو المفہوم من المنبع اھ اقول لم یذکر عبارۃ المنبع حتی ینظر فیھا وھو مع مخالفتہ لظاھر الدرر لایلائمہ نص عامۃ الکتب المذکورۃ من الاجتزاء ببقاء شئی من سطح الوجہ مسامتا فانہ صریح فی عدم الحاجۃ الی مسامتۃ ما فی الباقی اصلابل اقول : لعلك ان امنعت النظرلم ترہ یرجع الی صحۃ فان المسامتۃ لا بدلھا من مقابلۃ حقیقیۃ فی حقیقیۃ لوسط الجبھۃ وفی التقریبیۃ شئی من الاطراف امااذا فاتت مقابلۃ الحقیقیۃ اصلا فلامسامتۃ فلا استقبال فلا صلوۃ والمقابلۃ انما تکون باتصال الخط قوائم الا تری اح ہ ان سطح ایقابل ب و ح یواجہ ء اماہ فلا یسامت رلعدم الاتصال علی قوائم
کو دیکھا جنہوں نے درر پر اپنے حاشیہ میں ان کی عبارت کو مقیدذکر کیا ان کی عبارت یہ ہے قولہ یکون احد جوانبہ الی القبلۃ(کوئی ایك قبلہ کی طرف ہو) اس سے ان کی مرا د یہ نہیں کہ دوسری جانب بالکل مسامتت قبلہ سے ختم ہوجائے جیسا کہ گمان کیا گیا ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ ایك طرف کلیۃ محاذی ہو اور دوسری کی سطح کا کچھ مسامت رہے جیسا کہ منبع سے یہی مفہوم ہوا ہے اھ
اقول : (میں کہتا ہوں ) انہوں نے منبع کی عبارت ذکر نہیں کی تاکہ اس پر غور کیا جا سکے اور انکا یہ قول ظاہر درر کے مخالف ہے اور اس سے مناسبت بھی نہیں رکھتا نیز عامہ کتب مذکورہ کے نصوص کے بھی خلاف ہے کیونکہ کتب مذکورہ نے سطح وجہ کے کسی حصہ کے سمت قبلہ میں ہونے کو کافی قرار دیا ہے یہ اس بات کی صراحت ہے کہ باقی حصہ کا مسامت و محاذی ہونا قطعا ضروری نہیں ۔ بل ا قول (بلکہ میں کہتا ہوں ) اگرتو غور وفکر کرے توتواس قول کو صحیح نہیں پائے گا کیونکہ مسامتت حقیقی کے لئے حقیقۃ وسط پیشانی کا مقابل ہونا ضروری ہے اور مسامتت تقریبی کے لئے چہرے کی کسی ایك طرف کا مقابل ہونا کافی ہے۔ پس جب مقابلہ حقیقی اصلا ختم ہو گیا تو اب نہ مسامتت رہی نہ استقبال قبلہ رہا نہ نماز درست ہوگی۔ اور مقابلہ قائموں پر خط کے اتصال سے بنتا ہے۔ آپ نہیں دیکھتے ا ح ہ میں کہ سطح ا مقابل ہے ب کے اور ح ء کے موجہ ہے لیکن ہ ب ء ر کے قائموں پر عدم اتصال کی وجہ سے ر کے
حوالہ / References حاشیۃ الدررعلی غررلعبد الحلیم الرومی باب شروط صلوٰۃ مطبوعہ مطبع عثمانیہ دار سعادت بیروت ۱ / ۵۲
#4028 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
ب ء ر وھو لایکون لمقوس قط مع مسطح الامن نقطۃ واحدۃ تحقیقا و بعض نقاط مجاورۃ اخری تقریبا۔
فاولا : لا امکان لمقابلۃ طرف بکلہ ا لا مجازا۔
و ثانیا : اذتقابل طرف من قوس مسطحا استحال ان یقابلہ شیئ من طرفھا الآخر لما قدمنا ان الاعمدۃ الخارجۃ من مماسات القوس لا یکون اثنان۔ منھا الی جھۃ واحدۃ قط الم تعلم ان تلك الا عمدۃ کلھا ھی الخطوط الخارجۃ من المرکز الی نقاط القوس اوعلی سموتھا وکلھا تلتقی علی المرکز فان اتصل اثنان منھا بمقابل کالکعبۃ او الخط الماربھا عرضا الی الافق واحدث کل علیہ قائمتین ووصلنا بینھما اجتمع فی مثلث قائمتان وھومحال فتبصر۔
مسامت نہیں ہے اور یہ بات مسطح کے ہوتے ہوئے مقوس میں قطعا نہیں ہوگی مگر نقطہ واحدہ سے تحقیقا اور بعض دوسرے نقاط متصلہ سے تقریبا ۔
پس اولا تو یہ ہے کہ ایك طرف کا مقابلہ کلی طورممکن ہی نہیں البتہ مجازا ہو سکتا ہے۔
وثانیا جب ایك طرف قوس مسطح کے مقابل ہو تو اس کی دوسری طرف کے کسی حصے کا اس کے مقابل ہونا محال ہے جیسا کہ ہم پیچھے بیان کر آئے کہ مماسات قوس سے جو نکلنے والے خارجی عمود ہیں ان میں سے فقط دو جہت واحدہ کی طرف متصل نہ ہوں گے آپ کو یہ معلوم نہیں کہ وہ تمام کے تمام عمود مرکز سے نقاط قوس کی طرف یا ان کی سمتوں پر نکلنے والے خطوط ہی ہیں اور تمام کے تما م مرکز پر مل رہے ہیں ان میں سے اگر دو مقابل کے ساتھ متصل ہو جائیں جیسے کعبہ یا وہ خط جو کعبہ کے ساتھ عرضا افق کی طرف گزر رہا ہے اورہرایك اس پر دو قائمے پیدا کردے اور ہم ان کے درمیان اتصال کردیں تو ایك مثلث میں دو قائموں کا اجتماع لازم آئیگا جو محال ہے پس تدبر کرو(ت)
۳سوم : وسط راس مقابل ہر دو چشم سے ایك زاویہ بنا تے آنکھوں پر گزرتے دو خط نکلیں یہ جہاں تك پھیلیں کعبہ جب تك ان کے اندر ر ہے جہت باقی ہے اور دونوں سے باہر واقع ہو تو نہیں ۔ یہ امام حجۃ الاسلام غزالی قدس سرہ العالی پھر علامہ تفتازانی نے شرح کشاف پھر علامہ مولی خسرو نے درر میں افادہ فرمایا ان دونوں نے اس زاویہ کی مقدار نہ بتائی جو وسط سر میں التقائے خطین سے بنے گا اور امام حجۃ الاسلام نے تصریح فرمائی کہ قائمہ ہو درر میں اصابت جہت کی ایك وجہ بیان کرکے فرمایا :
اونقول ھوان تقع الکعبۃ فیما بین خطین یلتقیان فی الدماغ
یا ہم کہتے ہیں جہت قبلہ یہ ہے کہ کعبہ واقع ہو درمیان ان دو خطوں کے جو وسط رأس (دماغ) میں ملتے ہوئے ۔
#4029 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
فیخرجان الی العینین کساقی مثلث کذا قال النحریر التفتازانی فی شرح الکشاف ۔
دونوں آنکھوں پر گزریں جیسے مثلث کی دو۲ ساقیں ہوتی ہیں اسی طرح علامہ تفتازانی نے شرح کشاف میں بیان کیاہے۔ (ت)
شرح نقایہ علامہ برجندی میں ہے :
معنی التوجہ الی جھۃ الکعبۃ ھوان تقع الکعبۃ بین خطین یخرجان من العینین و یلتقی طرفاھما داخل الرأس بین العینین ویلتقی طرفاھما داخل الرأس بین العینین علی زاویۃ قائمۃ کذاذکرہ الامام الغزالی فی الاحیاء ثم قال البرجندی فعلی ھذا لو وصل الخط الخارج من العینین الی جدار الکعبۃ یقع علی حادۃ او منفرجۃ لم یکن مقابلا للکعبۃ وھو لا یخلو عن بعد اھ۔ اقول : ھذا عجیب من مثل ذلك الجھبذ المبرز فی الفنون الھندسیہ۔ فاولا : انما قال الامام ان تقع الکعبۃ بین الخطین لا ان یصل شیئ منھما الی جدار الکعبۃ۔ وثانیا انما قال یلتقیان بین العینین علی قائمۃ لا علی ان یتصل احدھما بالکعبۃ فیحدث ھنالك قائمتین ولذلك افرد
جہت کعبہ کی طرف توجہ (منہ) کرنے کا معنی یہ ہے کہ کعبہ ایسے دو خطوں کے درمیان واقع ہو جو دونوں آنکھوں سے نکلیں اور جہاں ان کی دونوں طرفیں وسط راس میں دونوں آنکھوں کے درمیان زاویۃ قائمہ پر ملاقی ہوں ۔ امام غزالی نے احیاء العلوم میں اسے اسی طرح ذکر کیا پھر علامہ برجندی نے کہا اس بنا پر اگر آنکھوں سے نکلنے والا خط کعبہ کی دیوار کی جانب ملے گا تو زاویہ حادہ یا زاویہ منفرجہ پر واقع ہوگاتو یہ کعبہ کے مقابل نہ ہوگا اور وہ بعد سے خالی نہیں اھ اقول : (میں کہتا ہوں ) فنون ہندسہ کے ایسے عظیم اور ماہر شخص سے ایسا قول بڑا تعجب خیز ہے۔ فاولا : اس لئے کہ امام غزالی نے صرف یہ کہا کہ کعبہ دوخطوں کے درمیان واقع ہو یہ نہیں کہاکہ آنکھوں سے نکلنے والاخط دیوار کعبہ سے متصل ہو۔ ثا نیا اس لئے کہ انہوں نے یہ کہا کہ دونوں خطوں کا اتصال دونوں آنکھوں کے درمیان زاویہ قائمہ پر ہو یہ نہیں کہا کہ ان میں سے ایك کا اتصال کعبہ کے ساتھ ہوپھر وہاں سے دو زاویے قائمے القائمۃ۔
حوالہ / References الدررالحکام شرح غررالاحکام باب شروط صلوٰۃ مطبوعہ احمد کامل الکائنہ دارسعادت بیروت ۱ / ۶۰
شرح النقایۃ للبرجندی باب شروط صلوٰۃ مطبوعہ احمد کامل الکائنہ دارسعادت بیروت ۱ / ۸۹
#4030 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
اقول : وبما قررنا ظھرقلق ما قال الفاضل الحلیمی افندی فی حاشیتہ الدرر ان حاصلہ ان تقع الکعبۃ بین خطین یخرجان من العینین وان کان احد الخطین طویلاکماھوالمشاھد عندانحراف التوجہ اھ فان الخطین یمتدان الی الافق فلامساغ ثمہ لطول و قصر ولاد اعی الی قطعھما علی حد و انما النظر الی الفضاء الحاصل بینھما ان تقع الکعبۃ فیہ۔
پیدا ہوں اسی وجہ سے “ قائمہ “ بطور مفرد ذکر کیا۔
اقول : (میں کہتا ہوں ) ہماری اس تقریر سے وہ اضطراب اور پیچیدگی بھی ظاہر ہو گئی جو کہ فاضل حلیمی آفندی نے اپنے حاشیہ درر میں پیدا کی ہے انہوں نے کیا : اس کاحاصل یہ ہے کہ کعبہ ایسے دو خطوں کے درمیان واقع ہو جو دونوں آنکھوں سے نکلتے ہوں اگر چہ ان دوخطوں میں ایك طویل ہو جیسا کہ انحراف توجہ کے وقت مشاہدہ میں آتا ہے ۔ اھ کیونکہ دونوں خط جب افق کی طرف ممتد ہوتے ہیں تو وہاں نہ طول وقصر رہتا ہے اور نہ ہی کسی حد پر دونوں کے قطع کا کوئی داعی ملتا ہے اس صورت میں ان دونوں کے درمیان حاصل ہونے والی فضا میں نظر اس طرح ہوتی ہے گویا کعبہ اسی فضاء میں واقع ہے۔ (ت)
اقول : اس قول پر یہ خط جو وسط دماغ محاذی عینین سے زاویہ قائمہ بناتے نکلے ان کے اندر کعبہ کسی طرح واقع ہونا مطلقا حصول جہت کو کافی ہے اگرچہ ایك خط کعبہ سے ملا ہوا گزرے اب اگر یہ معنی لئے جائیں کہ یہ دونوں خط جہاں تك پھیلیں ان کے اند ر اندر جو کچھ ہے جہت کعبہ ہے ا س کی طرف توجہ توجہ بجہت کعبہ ہے جیسا کہ احیاء امام حجۃ الاسلام سے نقل کیا گیاولم ارہ فیہ ولا فی شرحہ اتحاف السادۃ فی کتاب اسرار الصلاۃ(حالانکہ یہ بات مجھے احیاء العلوم اور اس کی شرح اتحاف السادہ کی کتاب اسرار الصلاۃ میں نہیں ملتی۔ ت)کہ ان دونوں خطوں کا بیان کرکے فرمایا۔ فما یقع بین الخطین الخارجین من العینین فھود اخل فی الجھۃ(پس جو دونوں آنکھوں سے نکلنے والے خطوط کے درمیان واقع ہوگا وہ جہت قبلہ میں داخل ہے۔ ت)تو اس تقدیر پر یہ قول بھی مثل دو قول پیشیں اتنی ہی وسعت بعیدہ رکھے گا جب زاویۃ قائمہ ہے اور اس کے
حوالہ / References حاشیۃ الدُرر الی الغر رللفاضل الحلیمی باب شروط الصلوٰۃ مطبوعہ مطبع عثمانیہ دارسعادت بیروت ، ۱ / ۵۲
#4031 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
ایك خط سے کعبہ متصل ہو سکتا ہے تو دونوں طرف تقریبا نوے درجے انحراف جائز ہوا اور وہی ایك خفیف ناقابل احساس مقدار کم ایك سو اسی۱۸۰ درجے تك جہت پھیل گئی اور وہی مخالفت نص و اجماع لازم آئی یہ لا جرم مراد ہے کہ وقت نماز جب تك کعبہ معظمہ ان دونوں خطوں کے اندر ہے وہاں تك انحراف میں جہت باقی ہے تو یہ نہ ہوگا مگر عین کعبہ سے دونوں طرف ۴۵-۴۵ درجے انحراف تك ٹھیك جہت توجہ کا خط اس زاویہ قائمہ کی تنصیف کرتا ہے تو اگر نصف قائمہ سے زیادہ انحراف ہوا کعبہ دونوں خطوں سے باہر ہو جائے گا کمالا یخفی۔ (جیسا کہ ظاہرہے۔ ت) بالجملہ حاصل یہ کہ آدمی ٹھیك محاذی کعبہ کھڑا ہو اس وقت جو یہ خطوط نکل کر پھیلیں ان کے اندر اندر دونوں طرف کو انحراف روا ہے اب یہ عبارت آئندہ پنجم کی طرف راجع ہو جائے گا اور طرفین میں پینتالیس ۴۵ پینتالیس۴۵ درجے تك انحراف جائز ہوگا اور یہ صاف وصحیح بے غبار ہے۔
۴چہارم کہ نہایت تحقیق طلب ہے :
قال فی الدرر جھتھا ان یصل الخط الخارج من جبین المصلی الی الخط المار بالکعبۃ علی استقامۃ بحیث یحصل قائمتان اھ وھذا ھوالوجہ الاول واختلف الانظار فی محلہ فحملہ العلامۃ الشامی فی ردالمحتار علی بیان المسامتۃ الحقیقیۃ حیث ذکر اولا عن المعراج عن شیخہ ان معنی التحقیق انہ لو فرض خط من تلقاء وجہہ علی زاویۃ قائمۃ الی الافق یکون مارا علی الکعبۃ اھوائھا اھ ثم نقل کلام الدرثم قال قولہ فی الدرر علی استقامۃ متعلق بقولہ یصل لانہ لو وصل الیہ معوجالم تحصل قائمتان بل تکون احدھما حادۃ والاخری منفرجۃ کما بینا ثم ان الطریقۃ
درر میں کہا ہے کہ کعبہ کی جہت یہ ہے کہ نمازی کی جبین سے نکلنے والا خط کعبہ پر سے گزرنے والے خط سے سیدھا اس طرح ملے کہ اس سے ۲ زاویے قائمے حاصل ہو جائیں اھ اور یہ پہلی وجہ ہے۔ اور اس محمل میں اختلاف ہے علا مہ شامی نے ردالمحتار میں اس کو حقیقی سمت پر محمول کیا ہے جہاں اس نے اولا معراج کے حوالے سے ان کے شیخ کا ذکر کیا ہے کہ تحقیقی کا معنی یہ ہے کہ نمازی کے چہرے کی طرف زاویہ قائمہ پر سیدھا خط افق کی طرف فرض کیا جائے تو وہ کعبہ یا ہوائے کعبہ پر سے گزرے اھ۔ پھر علامہ شامی نے درر کا کلام نقل کرتے ہوئے کہا کہ درر کا قول “ علی استقامۃ “ کا تعلق اس کے قول “ یصل “ سے متعلق ہے اس لئے کہ اگر وہ خط ٹیڑھا ہو کر کعبے کو ملے تو پھر “ قائمین “ (دو قائمے) حاصل نہ ہوں گے بلکہ ان میں سے ایك حادہ اور دوسرا منفرجہ ہوگا۔
حوالہ / References الدرر الحکام شرح غررالحکام باب شروط الصلوٰۃ احمد کامل الکائنہ دار سعادت بیروت ۱ / ۶۰
ردالمحتار مبحث فی استقبال القبلۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۸۷
#4032 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
التی فی المعراج ھی الطریقۃ الاولی التی فی الدرر الا انہ فی المعراج جعل الخط الثانی مارا علی المصلی علی ماھو المتبادر من عبارتہ وفی الدرر جعلہ ماراعلی الکعبۃ اھ ثم صور الذی فی المعراج ھکذا :
جیسے ہم بیان کر آئے پھر معراج والا طریقہ یہ درر میں ذکر کردہ پہلا طریقہ ہے مگر اتنا فرق ہے کہ معراج میں دوسرے خط کو نمازی پر سے گزرنے والا قرار دیا ہے۔ جیسا کہ اسکی عبارت سے سمجھا جا رہا ہے۔ اور درر میں اس کو کعبہ پر سے گزرنے والا قرار دیا ہے اھ اس کے بعد علامہ شامی نے (دونوں کے فرق کو واضح کرتے ہوئے ) ایك معراج والی اور دوسری درر والی تصویر بنائی : (ت)
images
قلت وقد یؤید ھذاالمحمل ان اصل الکلام للامام حجۃ الاسلام وھو کمافی شرح النقایۃ ھکذا معنی التوجہ الی عین الکعبۃ ھو ان یقف المصلی بحیث لو خرج خط مستقیم من عینیہ بحیث یتساوی بعدہ عن العینین الی جدار الکعبۃ تحصل من جانبیہ زاویتان متساویتان اھ۔
میں کہتا ہوں علامہ شامی کے اس حقیقی سمت پرحمل کی تائید یوں ہوتی ہے کہ امام حجۃ الاسلام کی اصل کلام جوکہ شرح النقایہ میں ہے کہ عین کعبہ کی طرف توجہ کا معنی یہ ہے کہ نمازی یوں کھڑا ہو کہ اگر اسکی دونوں آنکھوں سے ایك سیدھا خط اس طرح نکلے کہ جس کا بعد دونوں آنکھوں سے دیوار کعبہ تك اس طرح متساوی ہو کہ نمازی کی دونوں جانب دو متساوی زاویے بن جائیں اھ۔ اسکے بعد انھوں نے جہت کعبہ کی
حوالہ / References ردالمحتار مبحث استقبال القبلۃ مطبوعی مجتبائی دہلی ۱ / ۲۸۷
شرح النقایۃ للبرجندی باب شروط الصلوٰۃ مطبوعہ منشی نو لکشو لکھنؤ ۱ / ۸۸
#4033 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
ثم ذکر معنی التوجہ الی الجھۃ بما قدمنا فی القول الثالث۔
اقول : اولا لکن یلزم العلامۃ المحشی بھذا الحمل حمل الجبین فی عبارۃ الدرر علی الجبھۃ ولا غرو ففی تاج العروس عن شیخہ قدورد الجبین بمعنی الجبھۃ لعلا قۃ المجاورۃ فی قول زھیرکما صرحوابہ فی شرح دیوانہ ثم ذکر شعرا مثلہ للمتنبی لکن العلامۃ المحشی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ قد استدل بوقوع لفظ الجبین فی عبارۃ الدرر علی انہ لا یلزم خروج الخط من وسط الجبھۃ فان الجبین طرفھا و ھما جبینان کما تقدم فیکون ھذا مناقضا لذاک۔
واقول : ثانیا زاد فی التصویرین مصلیین عن یمین و شمال غیر محاذیین للجدار الذی بازائہ المصلی الوسطانی واقام اعمدتھا فی التصویر الاول علی المار بذاك المصلی عرضا
طرف توجہ کا معنی وہی ذکر کیا ہے جو ہم قول ثالث میں ذکر کر آئے ہیں ۔
اقول : (میں کہتا ہوں ) اولا لیکن علامہ محشی کے اس حمل میں درر کی عبارت میں جبین کو الجبھۃ(پیشانی)کے معنی میں لینا لازم ہوگا اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ تاج العروس والے نے اپنے شیخ کے حوالے سے کہا کہ جبین پیشانی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے کیونکہ ان دونوں میں قریب کا تعلق ہے زہیر کے قول میں یہ استعمال پایا گیا ہے جیسا کہ زہیر کے دیوان کے شارحین نے تصریح کی ہے پھرایسا ہی ایك شعر متنبی کا انھوں نے ذکر کیا۔ لیکن علامہ محشی نے درر کی عبارت میں جبین کا حقیقی معنی مراد لیتے ہوئے اس سے یہ استدلال کیا ہے کہ لفظ جبین سے ثابت ہوتا ہے یہ ضروری نہیں کہ خط نمازی کی پیشانی کے وسط سے نکلے کیونکہ جبین پیشانی کی ایك طرف کو کہتے ہیں اور اس کے دونوں اطراف دو۲ جبین ہیں جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے لہذا علامہ کی یہ استدلال والی عبارت جبین کو پیشانی کے معنی میں لینے والی عبارت کے مناقض ہے۔
اقول : ثانیا مذکورہ دونوں تصویروں میں کعبہ کی دیوار کے متوازی درمیانے نمازی کے دائیں اور بائیں مزید دو نمازی رکھیں گئے ہیں جو اس دیوار کے متوازی نہیں ہے اور پہلی تصویر میں ان دونوں نمازیوں کے خطوط کو درمیانے نمازی پر سے عرض میں گذر نے والے خط
حوالہ / References تاج العروس من جواہر القاموس فصل الجیم من باب النون مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت۹ / ۱۵۹
#4034 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
ولاشك انھما لاینتھیان الی الکعبۃ بل یتزوران عنھا ذات الیمین و ذات الشمال کما صور وانما کان شرط فی المعراج ان یمرالخط بالکعبۃ وفی التصویر الثانی اقامھما علی الخط المار فی امتدادہ بالکعبۃ غیر واقعین علی نفس البیت بل متزا ورین عنھا کما مرولم یرم الدرر خطا یمر علی الکعبۃ ممتدا عن جنبیھا الی الافق انما اراد خطا مقتصرا علیھا لیقع مرور خط الجبین علی نفس الکعبۃ کما فی المعراج والاکیف تکون مسامتۃ حقیقیۃ مع کون المصلی بمعزل عن محاذاتھا فھذان المصلیان لا مدخل لھما فی تصویر الحقیقۃ وکانہ رحمۃاﷲ علیہ اراد ان یزید مع تصویر الحقیقیۃ تصویرالتقریبیۃ وقد کان سھلاعلینا ان نفرض المصلین المزیدین منتقلین بعدۃ فراسخ بحیث لاتزول المقابلۃ لکنہ رحمہ اﷲ تعالی سبق الی خاطرہ ان الشرط فی التقریب ان یقف المصلی علی ذلك الخط المار عرضا بالمصلی الوسطانی او نقول یقوم بحذاء ذلك الخط العرضی المارفی امتدادہ بالکعبۃ بحیث یکون خط جبھۃ عمود اعلی
پر ملایا جبکہ یقینا یہ دونوں خطوط کعبہ کے متوازی نہیں ہوتے بلکہ کعبہ سے دائیں اور بائیں گرتے ہیں جیسا کہ تصویر سے واضح ہے (حالانکہ یہ تصویر معراج والی ہے) جبکہ معراج میں خط کا کعبہ پر واقع ہونا شرط قرار دیا گیا ہے اور دوسری تصویر میں ان دونوں نمازیوں کے خطوط کو کعبہ پر سے گزرنے والے خط سے ملایا جو عین کعبہ پر نہیں بلکہ کعبہ سے دائیں اور بائیں گزرجاتے ہیں جیسا کہ گزرا حالانکہ درر نے کعبہ سے گزرکر اس کے دونوں جانب سے افق کی طرف نکل جانے والے خط کو ذکر نہیں کیا اس نے صرف وہ خط مرادلیا ہے جو کعبہ پر ختم ہوتا کہ نمازی کی جبین سے نکلنے والے خط کا گزر نفس کعبہ پر واقع ہو جیسا کہ معراج میں ہے ورنہ نمازی کے متوازی نہ ہونے کے باوجود حقیقی سمت کیسے ہو سکتی ہے پس معلوم ہواکہ دائیں اور بائیں جانب والے دونوں نمازیوں کا حقیقی سمت کی تصویر میں کوئی دخل نہیں اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ گویا محشی رحمۃ اﷲتعالی علیہ نے سمت حقیقی کے ساتھ ساتھ قریبی سمت کی تصویر بھی زائد بنائی ہے (قریبی سمت بنانے کےلئے) ہمیں یہ کہہ دینا آسان تھا کہ (حقیقی سمت والے نمازی ) کے علاوہ ہم دو نمازی اس سے چند فرسخ کے فاصلے پر اس طرح فرض کرلیں کہ کعبہ سے ان کا تقابل زائل نہ ہو۔ لیکن اﷲ تعالی ان پر رحم کرے محشی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے دل میں یہ بات آئی کہ قریبی سمت کےلئے یہ شرط ہے کہ درمیانے حقیقی سمت والے نمازی پر عرض میں گزرنے والے خط پر کوئی نمازی کھڑا ہو یا یوں کہیں کہ کعبہ پر سے گزرنے والے عرضی خط کے متوازی یوں کھڑا ہو کہ اس کی
#4035 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
احدھما ای فی التصویر وعلیھما جمیعا فی التقدیر وبعد تحقیق ھذا الشرط لا تقدیر بمسافۃ فلیحفظا جہتہما وینتقلا ما بدالھما فاذن یکون الخط القائم علیہ اوالیہ المصلیان غیرمحدود علی ما زعم کمایاتی تنصیصہ وھاتان زلتان عظیمتان یجب التنبہ لھما فان الامردین وحاش ﷲ لایزری بالعلماء وقوع بعض زلات من اقلامھم لا سیما مثل ھذا المحقق الذی استنار مشارق الارض ومغاربھا بنورتحقیقاتہ السنیۃ و تطفل الوف مثلی علی موائد عوائد فوائدھ الھنیئۃ جزاہﷲ تعالی جزاء العزوالاکرام جمع بیننا و بینہ فی دارالسلام بفضل رحمتہ بہ و بسائر العلماء الکرام علی سیدھم و مولاھم و علیھم و علیہ وعلینا الصلوۃ والاسلام امین امین یا بدیع السموات والارض یا ذا الجلال و الاکرام فانا اذکرفی سیاق ذلك ما عرض للمحشین من الوھم والایھام فی فہم کلام المدقق العلائی العلام لیتضح
پیشانی سے نکلنے والاخط عمود بنے خواہ وہ نمازی یا کعبہ پر سے گزرنے والے ایك خط پر یعنی تصویر میں بنے یا ان دونوں پر عمود بنے فرضی طور پر اس شرط کے پائے جانے کے بعد مسافت فرض کرنے کی ضرورت نہیں وہ دونوں نمازی اپنی جہت کو محفوظ رکھیں اور بس دائیں یا بائیں جتنا چاہیں وہ منتقل ہو جائیں اور جس پر خط قائم ہے یا جس خط کی طرف دونوں نمازی متوجہ ہیں اسکی محشی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے خیال میں کوئی حد نہیں (بشرطیکہ وہ ان خطوط پر قائم رہیں ) جیسا کہ خود ان کی نص اس پر آئے گی حالانکہ (قریبی سمت کی بیان کردہ شرط اور اسکے بعد مذکورہ خطوط کی مسافت کو غیر محدود رکھ کر دونوں نمازیوں کاان خطوط پرحسب خواہش منتقل ہونا) یہ دونوں عظیم غلطیاں ہیں ان پر تنبیہ ضروری ہے کیونکہ یہ دینی معاملہ ہے حاش للہ! علماء کو ان قلموں کی غلطیاں زیب نہیں دیتیں خصوصا یہ محقق جس کی قیمتی تحقیقات کے نور سے زمین کے مشرق ومغرب منور ہو رہے ہیں اور مجھ جیسے ہزاروں لوگ اس کے بے مثل اور اہم فوائد کے دسترخواں کے خوشہ چیں ہیں اﷲ تعالی اس کو عزت و اکرام کی جزا عطا فرمائے ہمیں اور اسے جنت میں جمع فرمائے اپنی رحمت کے فضل سے جو ان پر اور تمام علماء کرام پر ہو اور ان سب کے مولی و آقا پراور ان پر اور ہم پر رحمت و سلام ہو آمین آمین! اے آسمانوں اور زمینوں کو ابتداء پیدا کرنے والے! یا ذالجلال والاکرام ! میں تو ا س بیان کے سیاق میں علامہ علائی کے کلام کو سمجھنے میں حاشیہ لکھنے والوں کو جو وہم اور اہمام واقع ہوا ہے کو ذکر کروں گا تاکہ مقصود واضح
#4036 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
المرام وینجلی بدر السداد من تحت الغمام فاعلم ان الجھبذ المدقق الذی قلما اکتحل عین الزمان بمثلہ فی الاخرین اعنی العلامۃ علاء الدین محمد الحصکفی عاملہ اﷲ تعالی بلطفہ الوفی اثر ھھنا عن المنح کلاما قصرمبناہ واستترمعناہ فقال اصابۃ جھتھا بان یبقی شیئ من سطح الوجہ مسامتا للکعبۃ اولھواء ھابان یفرض من تلقاء وجہ مستقبلھا حقیقۃ فی بعض البلاد خط علی الکعبۃ وخط اخر یقطعہ علی زاویتین قائمتین یمنۃ و یسرۃ منح قلت فھذا معنی التیامن والتیا سر فی عبارۃ الدرر فتبصر اھ
اقول : اراد العلامۃ الغزی من تلقاء وجہ مستقبلھا حقیقۃ فی ای بلدکان فعبر ھذا التنکیر بتنکیر بعض ولوقال کقول المعراج فی ھذا البلد ای البلد والمطلوب الجھۃ لکان اولی قال العلامۃ السید احمد المصری الطحطاوی فی حاشیتہ قولہ
ہو سکے اور بادل کے نیچے سے درستگی کا روشن چاند نمودار ہوسکے ۔ واضح ہو کہ وہ ماہر مدقق جن کی مثل متاخرین میں زمانے نے نہ پائی میری مراد علامہ علاء الدین محمد حصکفی ہیں ان سے اﷲ تعالی اپنے کامل لطف و کرم کا معاملہ فرمائے نے یہاں پر منح سے ایك ایسی کلام نقل کی جو مختصر ہے اور اسکا معنی مخفی ہے ۔ پس کہا کہ جہت کعبہ کو پانے کا مطلب یہ ہے کہ نمازی کے چہرے کی سطح کا کوئی حصہ کعبہ یا اسکی فضاء کی سمت میں اس طرح ہو جائے کہ کعبہ کا حقیقی استقبال کرنے والے کے چہرہ سے ایك سیدھا خط زاویہ قائمہ پر افق کی طرف اس طرح نکلے کہ بعض بلاد میں وہ کعبہ پر سے گزرے اور ایك دوسرا خط اس طرح فرض کیا جائے جو پہلے خط کو قطع کرتے ہوئے دو زاویے قائمے دائیں اور بائیں طرف بنائے منح۔ میں کہتا ہوں کہ درر میں مذکور الیتامن والتیاسر کا یہی معنی ہے غور کر اھ
اقول : (میں کہتا ہوں ) علامہ غزی (اپنی عبارت) “ من تلقاء وجہ مستقبلھا حقیقۃ فی بعض البلاد “ میں “ بعض البلاد “ سے کوئی بھی بلد ہو مراد لیا ہے اوراس تنکیر کو لفظ “ بعض کی تنکیر “ سے تعبیر کیا ہے اور اگر معراج کے قول کی طرح یہ بھی “ ھذا البلاد “ کہہ کر وہ علاقہ مرادلیتے جس کی جہت مطلوب ہوتی تو بہتر ہوتا۔ علامہ سید احمد مصری الطحطاوی نے (علامہ الحصکفی کی عبارت کی)تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اس کا
حوالہ / References درمختار باب شروط الصلوٰۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۶۸
#4037 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
منح اختصر عبارتھا وھی فلو فرض خط من تلقاء وجہ المستقبل للکعبۃ علی التحقیق فی بعض البلاد وخط اخر یقطعہ علی زاویتین قائمتین من جانب یمین المستقبل و شمالہ لاتزول تلك المقابلۃ بالانتقال الی الیمین والشمال علی ذلك الخط بفراسخ کثیرۃ ولھذا وضع العلماء قبلۃ بلد وبلدین و بلاد علی سمت واحد۔ اھ (قولہ قلت فھذا معنی الخ)لیس کما فھمہ فان المتیا من و المتیاسرفی عبارتہ ھو الخط وفی عبارۃ الدر الشخص الخ وعزاہ للعلامۃ السید ابراہیم الحلبی محشی الدرر وقال السید العلامۃ محمد الشامی فیہ ان عبارۃ المنح ھی حاصل ماقدمناہ عن المعراج ولیس فیھا قولہ ماراعلی الکعبۃ بل ھو المذکور فی صورۃ الدرر ویمکن ان یراد انہ مار علیھا طولا لاعرضا فیکون ھوالخط الخارج من جبین المصلی والخط الاخر الذی یقطعہ ھو المار عرضا علی المصلی او علی الکعبۃ
قول “ منح “ علامہ نے منح کی جس عبارت کا حوالہ دیا ہے وہ عبارت مفصل ہے جس کو علامہ حصکفی نے مختصر کرکے لکھا ہے اسکی عبارت یوں ہے بعض بلاد میں کعبہ کی طرف تحقیقی طور پر چہرہ کرنے والے کی پیشانی سے ایك خط فرض کیا جائے اور کعبہ کا استقبال کرنے والے کے دائیں و بائیں ایك اور خط فرض کیا جائے جو پہلے خط کو دوقائمہ زاویوں پر قطع کرتے ہوئے کئی فرسخ تك اس طرح دراز ہو کہ اس خط پر سے کئی فرسخ تك دائیں بائیں انتقال کرنیوالے کا کعبہ سے تقابل زائل نہ ہو۔ اس بناء پر علماء نے ایك ہی سمت پر کئی بلاد کے قبلے وضع کئے۔ علامہ حصکفی کا قول “ قلت فھذامعنی الخ “ علامہ کا یہ فہم درست نہیں ہے کیونکہ ان کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ دائیں اور بائیں ہونے والی چیز خط ہے حالانکہ درر کی عبارت میں وہ شخص ہے الخ۔ علامہ طحطاوی نے اس بیان کو محشی در علامہ سید ابراہیم حلبی کی طرف منسوب کیا ہے۔ علامہ حصکفی کی عبارت پر علامہ شامی نے کہا کہ منح کی عبارت یہ معراج کی عبارت (جو ہم ذکر کر آئے) کا خلاصہ ہے حالانکہ معراج میں “ ماراعلی الکعبۃ “ (کعبہ پر سے گزرنے والے خط ) کا ذکر نہیں ہے بلکہ یہ درر کی تصویر میں مذکور ہے۔ ممکن ہے اس سے عرض کی بجائے طول میں گزرنے والا خط مراد ہو تو یہ ایك نمازی کی جبین سے نکلنے والا خط اور دوسرا خط جو پہلے کو قطع کرکے وہ نمازی پر سے عرض (چوڑائی) میں گزرنے والا ہوگا یا کعبہ پر گزرنے والا ہوگا
حوالہ / References حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمحتار باب شروط الصلوٰۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۱۹۷
#4038 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
فیصدق بما صورناہ اولاوثانیا ثم ان اقتصارہ علی بعض عبارۃ المنح ادی الی قصر بیانہ علی المسامتۃ تحقیقا و ھی استقبال العین دون المسامتۃ تقدیرا وھی استقبال الجھۃ مع ان المقصود الثانیۃ فکان علیہ ان یحذف قولہ من تلقاء وجہ مستقبلھا حقیقۃ فی بعض البلاد اھ فھذاکل ما اوردہ وتمام ما ارادوہ۔
اقول : و باﷲ التوفیق شرح نظم الدرھکذا (یفرض من تلقاء وجہ) ای وسط جبھتہ (مستقبلھا حقیقۃ) بحیث لورفعت الحجب لرئیت الکعبۃ بین عینیہ (فی بعض البلاد) ای ای بلد یراد (خط) مستقیم قائم (علی) الخط المار بجبھۃ معترضا من وسطہ الی یمینہ او شمالہ بحیث یحدث معہ (زاویۃ قائمۃ) عند الجبھۃ ولم یقل قائمتین لا نہ لا یجب فرض المعترض مارا الی الجھتین بل یکفی ادنی خط الی ایۃ جہۃ منھما۔
تو اس سے ہماری پہلی اور دوسری دونوں تصویریں (ان کی تصدیق ہوگی) درست ہوں گی پھر علامہ کامنح کی کچھ عبارت پر انحصار کرنا حقیقی سمت پر انحصار کو ظاہر کرتا ہے اور وہ عین کعبہ کی طرف استقبال ہے نہ کہ فرضی سمت پر انحصار کیونکہ وہ جہت قبلہ کی طرف استقبال ہے حالانکہ سمت فرضی یعنی کعبہ کی جہت کی سمت استقبال کرنا ہی مقصود ہے اس لئے ان کو عبارت سے “ بعض بلاد میں حقیقی طور پر کعبہ کو پیشانی کرنے “ کو حذف کرنا ضروری تھا اھ یہ علامہ شامی کی مکمل عبارت ہے اور یہی ان کی مراد ہے۔
اقو ل : اﷲ کی توفیق سے درمختار کی عبارت کی شرح یوں ہے (وجہ کی طرف سے) وجہ سے مراد وسط پیشانی ہے (حقیقۃ کعبہ کا استقبال کرنے والے) مراد یہ ہے کہ اس طرح سیدھا استقبال ہو کہ اگر درمیان سے پردے اٹھا دئے جائیں تو کعبہ دونوں آنکھوں کے درمیان نظر آئے (بعض بلاد میں ) سے مراد کوئی بھی علاقہ ہو (خط فرض کیا جائے) سے مراد سیدھا خط قائم کیا جائے ایك دوسرے خط پر جو استقبال کرنے والے کی پیشانی پر عرضی (چوڑائی) طور پر اس کے درمیان سے دائیں اور بائیں پھیلا ہوا ہو ایك خط دوسرے سے اس طرح ملے کہ اس سے وسط پیشانی پر زاویہ قائمہ پیدا ہو یہاں ایك زاویہ قائمہ کو ذکر کیا ہے کیونکہ پیشانی پر خط کا دونوں طر ف پھیلنا ضروری نہیں بلکہ خط ان سے کسی
حوالہ / References ردالمحتار باب شروط الصلوٰۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۸۸
#4039 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
فلا یحدث بالفعل الا قائمۃ واحدۃ وذلك من ایجازات ھذاالفاضل المدقق فان زاویۃ قائمۃ اخصر من زاویتین قائمتین وفیھا الکفایۃ فاختار ماقل وکفی (الی الافق) مقابل من فی قولہ من تلقاء وجہ ای یبتدئ من وسط الجبھۃ وینتھی الی الافق ویکون فی امتدادہ ھذا (ماراعلی) نفس(الکعبۃ) الی ھھنا تم بیان المسامتۃ الحقیقۃ ثم شرع فی بیان التقریبیۃ فقال (و) یفرض (خط اخر) مستقیم (یقطعہ) عند جبھۃ المستقبل (علی زاویتین قائمتین ) مارا بالعرض (یمنۃ ویسرۃ) ای یمین المستقبل ویسارہ ولم یکتف بالخط الاخر المشار الیہ فی قولہ علی زاویۃ قائمۃ لان ثمہ کان یکفی ادنی ماینطق علیہ اسم الخط فی احد الجانبین وان لم یستوعب نصف جبین ذلك الجانب ولاربعہ والآن یحتاج الی خط ممتد یمیناوشمالا الی فراسخ کثیرۃ لیکون محل الانتقال یمنۃ ویسرۃ ولذا اتی ھھنا بتثنیۃ القائمۃ
ایك طرف بھی ظاہر ہو تو کافی ہو گا لہذا بالفعل دونوں خطوں سے ایك ہی زاویہ قائمہ پیدا ہوگا اسی لئے یہاں دو زاویوں کو ذکر نہیں کیا۔ اس فاضل مدقق کا یہ ایك اختصار ہے کیونکہ ایك زاویہ قائمہ دو قائم زاویوں کے مقابلہ میں مختصر ہے اور اس ایك زاویے سے مطلوب میں کفایت بھی پائی جاتی ہے اس لئے انھوں نے مختصرا اور کافی کو پسند کیا ہے۔ (افق کی طرف ) یہ لفظ “ من تلقاء وجہ “ میں من کا مقابل ہے یعنی پیشانی کے وسط سے نکل کر افق کی طرف پہنچا ہو جس میں لمبائی ہو ( وہ گزر رہا ہو) نفس (کعبہ پر سے) یہاں تك مسامتت حقیقی کا بیان تام ہوگیا اس کے بعد سمت تقریبی کا بیان شروع ہوا تو کہا اور دوسرا سیدھا خط فرض کیا جائے جو استقبال کرنے والے کی پیشانی پر پہلے خط کو اس طرح قطع کرے کہ اس سے دو زاوئیے قائمے پیدا ہوں اور یہ دوسرا خط پیشانی پر عرض میں دائیں اور بائیں پھیلا ہوا ہو مراد یہ ہے کہ کعبہ کا استقبال کرنے والے کے دائیں اور بائیں دراز ہوا ہو اور یہاں پہلے کی طرح ایك زاویہ قائمہ پر اکتفا نہیں کیا بلکہ دو زاویوں کو ذکر کیا کیونکہ وہاں پر پیشانی پر ظاہر والے خط کا پیشانی کے دائیں اور بائیں دونوں طرف پھیلنا ضروری نہیں تھا بلکہ وہاں برائے نام ہونا کافی تھا جس پر لمبا خط آگرے اگر چہ اس جانب پیشانی کے نصف بلکہ چوتھائی کو بھی نہ گھیرا ہو لیکن یہاں پیشانی پر ظاہر ہونے والے خط کا دائیں اور بائیں کئی فرسخ تك بڑھا ہونا ضروری ہے تاکہ سمت کعبہ سے دائیں اور بائیں انتقال کا محل بن سکے اسی لئے یہاں دو قائموں
#4040 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
فاذا انتقل المصلی علی ھذا الخط فی ای جہۃ الی فراسخ کثیرۃ حسب مایقتضیہ بعد البلد من الکعبۃ لا یخرج عن الجھۃ واشار الی ذلك بقولہ(قلت فھذا معنی التیامن والتیاسر) المسوغین للمصلی(فی عبارۃ الدرر) فان الدرر انماذکرتیا من المصلی و تیاسرہ وکان یحتمل ان معناہ یجعل الکعبۃ علی یمینہ اویسارہ ولیس مراداقطعا فرسم الخط یمنۃ ویسرۃ واشار بطرف خفی کعادتہ رحمۃ اﷲ تعالی فی غایۃ الایجاز الی ان ذلك التیامن للمصلی انما ھو علی ھذا الخط المخرج یمنۃ و یسرۃ لاما یتوھم (فتبصر ) کیلا تزل وقد ظھرلك من ھذاالشرح بتوفیق اﷲ تعالی :
اولا سقوط مازعمواان بیانہ قاصر علی الحقیقۃ کیف ولو کان کذلك لما احتاج الی قولہ وخط اخر الخ
کو ذکر کیا پس جب نمازی دائیں بائیں بڑھنے والے خط پر منتقل ہو خواہ کئی فرسخ دائیں یا بائیں جس قدر بھی کعبہ سے شہر کا بعد ہو اس کے مطابق منتقل ہونے سے جہت کعبہ سے خارج نہ ہوگا اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صاحب الدر نے کہا میں کہتا ہوں (دائیں اور بائیں طرف ہونے کا یہی معنی ہے کہ ) دونوں خط نمازی کی دونوں جانب بنیں گے ( جو مذکور ہے درر میں ) کیونکہ درر نے نمازی کے دائیں اور بائیں ہونے کا ذکرکیا ہے۔ اور یہ احتمال بھی ہوسکتاہے کہ نمازی کعبہ کو اپنے دائیں اور بائیں کرے لیکن یہ احتمال قطعا مراد نہیں ہو سکتا۔ اس لئے انہوں نے دائیں اور بائیں خط بنا کر ایك مخفی اشارہ دیا جیسا کہ ان رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی اختصار کی عادت ہے نمازی کے تیامن و تیا سر میں بھی اختصار سے کام لیا ہے وہ یوں کہ نمازی کا دائیں بائیں پھیلنے والے خط پر قائم رہتے ہوئے سے دائیں یا بائیں ہونا مراد ہے نہ وہ کہ جو بعض کو وہم ہوا (پس غور کر) تاکہ تو پھسلے نہیں ۔ اﷲ تعالی کی توفیق سے تجھ پر اس شرح سے چند امور ظاہر ہوئے :
اولا : یہ کہ بعض محشی حضرات کا یہ خیال کہ علامہ حصکفی نے صرف سمت حقیقی کو ہی بیان کیا ہے یہ خیال ساقط ہوا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر علامہ کو “ وخط آخر “ الخ
حوالہ / References ف : یہاں تك دو قوسوں کے درمیان جو عبارت ہے و ہ دُرمختار کی ہے باقی عبارت شرح صورت میں اعلٰی حضرت کی اپنی ہے۔
#4041 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
لان بیان الحقیقۃ قدتم الی قولہ مارا علی الکعبۃ۔
ثانیا : سقوط ما اعترض بہ العلامتان الحلبی والطحطاوی من التخالف بین کلامی الدر والدرر فی معنی التیامن والتیاسر کما علمت۔
وثالثا : سقوط مازعم العلامۃ الشامی من التغایر فی تصویرہ وتصویرالمنح و من العجب انہ رحمہ اﷲ تعالی معترف بان عبارۃ المنح حاصل ماقدمناہ عن المعراج وقد تقدم فی المعراج مرورہ علی الکعبۃ فمن این نشأ التغایر وانما عبارتہ عین عبارۃ المعراج لا تفاوت بینھما الابان المعراج ذکر المرور عن الکعبۃ فی الجزاء والدرر اوردہ حالا لانہ کان بصدد بیان التقریبیۃ فاخذ الحقیقۃ فی الفرض والتصویر۔
ورابعا : اعجب منہ قولہ کان علیہ ان یحذف قولہ من تلقاء وجہ الی اخر الخ ولاادری کیف یتم بیان التقریب باسقاط ھذہ الکلمات مع عدم ذکرہ عندکم الانتقال علی ذلك الخط یمینا وشمالا وان استنبط ھذا کہنے کی ضرورت نہ تھی کیونکہ حقیقی سمت کا بیان “ مارا علی الکعبۃ “ پر تام ہو جاتا ہے۔
ثانیا یہ کہ علامہ حلبی اور علامہ طحطاوی کا یہ اعتراض بھی ساقط ہو گیا کہ الدر یعنی حصکفی کا کلام تیامن اور تیاسر کے معنی کے تعین میں درر کے کلام کے مخالف ہے جیسا کہ تمہیں معلوم ہے۔ ثالثا : یہ کہ علامہ شامی کا یہ خیال کہ علامہ حصکفی اور منح کی تصویر میں تغایر ہے۔ یہ خیال ساقط ہوا۔ اور تعجب ہے کہ علامہ شامی خود معترف ہیں کہ منح کی عبارت معراج کی بیان شدہ عبارت کا ماحاصل ہے جبکہ معراج کی گزشتہ عبارت میں خط کا کعبہ پر سے گزرنا مذکور ہے پھر تغایر کہاں پیدا ہوا حالانکہ ان کی اور معراج کی عبارت ایك ہے دونوں کے درمیان صرف اتنا فرق ہے کہ معراج نے کعبہ پر سے خط گزرنے کو بطور جزاء ذکر کیا ہے اور درر نے اس کو بطور حال ذکر کیا ہے کیونکہ وہ صرف سمت تقریبی کو بیان کر رہے ہیں اور حقیقی سمت کا اظہار انہوں نے صرف فرضی طورپر اور تصویر میں کیا ہے۔ رابعا اس سے بھی عجیب ان کا یہ قول ہے کہ علامہ حصکفی کےلئے ضروری تھا کہ وہ کعبہ کے حقیقی استقبال کرنے والے کی پیشانی سے الخ والی عبارت کو حذف کرتے (تاکہ سمت تقریبی کا بیان درست ہوتا) مجھے معلوم نہیں کہ ان کلمات کے حذف سے سمت تقریبی کا بیان کیسے تام ہو سکتا تھا جبکہ آپ کے خیال میں دائیں اور بائیں نکلنے والے خط پر انتقال کو
#4042 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
من قولہ فھذا معنی التیا من کما فعلت شعری ماذایضرہ ذکر الاخراج من تلقاء وجہ المستقبل حقیقۃ فلیس الابفرض التحقیق اولاثم تقدیر الانتقال عنہ۔
وخامسا لئن اسقط ھذا کلہ لبقی مخرج الخط مھملا لم یتبین ولم یتعین فلا تقریب ولا تحقیق واﷲ الھادی الی سواء الطریق۔
قال الشامی قولہ قلت الخ قد علمت انہ لو فرض شخص مستقبلا من بلدہ لعین الکعبۃ حقیقۃ بان یفرض الخط الخارج من جبینہ واقعا علی عین الکعبۃ فھذا مسامت لھا تحقیقا ولو انہ انتقل الی جہۃ یمینہ او شمالہ بفراسخ کثیرۃ وفرضنا خطامارا علی الکعبۃ من المشرق الی المغرب (قلت قالہ بالنظر الی بلدہ الشامی الجنوب ویقال من الشمال الی الجنوب وبالجملۃ المراد الخط المعترض
انہوں نے ذکر نہیں کیا اگر چہ یہ معنی ان کے قول “ فھذا معنی “ الخ “ تیامن وتیاسر کا یہ معنی ہے “ سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ تاہم مجھے معلوم نہیں “ حقیقی مستقبل کعبہ کی پیشانی سے خط نکلا “ کے ذکر سے ان کو کیا نقصان ہو رہا ہے صرف یہی کہ اس سے سمت حقیقی کے تعین کے بعد سمت تقریبی کا بیان ہو رہا ہے۔
خامسا : اگر بقول علامہ شامی اس کلام کو حذف کردیا جائے تو پھر خط کا مخرج کیا ہوگا۔ جب مخرج مذکور نہ ہوا تو نہ بیان صحیح ہوگا نہ ہی کعبہ کاتعین ہو سکے گا ۔ اس طرح نہ سمت تقریبی ثابت ہوگی اور نہ ہی تحقیقی ثابت ہوگی ۔ اور اﷲ تعالی ہی سیدھے راستے کا ہادی ہے۔ علامہ شامی نے کہا قولہ قلت الخ آپ کو معلوم ہو چکا ہے کہ اگر کسی شخص کو اپنے علاقہ سے عین کعبہ کی طرف استقبال حقیقی کرتے ہوئے یوں فرض کیا جائے کہ اس کی پیشانی سے نکلنے والا خط عین کعبہ پر واقع ہو رہا ہے تو یہ تحقیقی سمت ہوگی اور اگر وہ شخص دائیں یا بائیں کئی فرسخ منتقل ہوجائے اور ہم ایك خط فرض کریں جو کعبہ پر سے مشرق سے مغرب کی طرف گزرے ۔ (قلت علامہ شامی کا یہ قول ان کے اپنے علاقہ شام سے متعلق ہے کیونکہ وہاں سمت قبلہ جنوبا ہے ( اس لئے کعبہ پر عرض میں فرض کردہ خط مشرق سے مغرب میں گزرے گا) ہمارے علاقہ میں یوں کہا جائے کہ شمال سے جنوب کی طرف بڑھنے والا خط (کعبہ پر عرض میں گزرنے والا ہوگا) غرضیکہ عرض میں پھیلنے والا خط
حوالہ / References ردالمحتار باب شروط الصلوٰۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی ۱ / ۲۸۸
#4043 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
قال وکان الخط الخارج من جبین المصلی یصل علی استقامۃ الی ھذاالخط المار علی الکعبۃ فانہ بھذا الانتقال لاتزول المقابلۃ بالکلیۃ لان وجہ الانسان مقوس فمھما تاخر یمینا اویسارا عن عین الکعبۃ یبقی شیئ من جوانب وجہہ مقابلا لھا اھ ۔
اقول : فھم رحمہ اﷲ تعالی ان وصول خط الجبھۃ عمود اعلی الخط المعترض المار بالکعبۃ عندالانتقال للیمین والشمال شرط بقاء الجھۃ عندھم وقد افصح عنہ بعیدھذاحیث قال بل المفھوم مماقد مناہ عن المعراج والدررمن التقیید بحصول زاویتین قائمتین عند انتقال المستقبل لعین الکعبۃ یمینا اویسارا انہ لایصح لوکانت احداھما حادۃ والاخری منفرجۃ بھذہ الصورۃ اھ وفیہ :
images
اولا لیس فی عبارۃ الدرر ذکر الانتقال ھھنا اصلا فضلا عن حصول قائمتین بعد الانتقال وماذکر بعد فی التفریع
مراد لیا ہے علامہ شامی نے کہا) کہ نمازی کی جبین سے نکلنے والا خط سیدھا کعبہ پر سے گزرنے والے خط کو ملے گا تو اس صورت میں دائیں اور بائیں انتقال کرنے پر نمازی کا کعبہ سے تقابل کلیۃ زائل نہ ہوگا کیونکہ انسان کا چہرہ کمان کی طرح گول ہے لہذا وہ جتنا بھی عین کعبہ سے دائیں یا بائیں پھرے گا اس کے چہرے کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور کعبہ کے مقابل رہے گا اھ۔
اقول : علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے یہ سمجھا کہ دائیں یا بائیں منتقل ہوتے وقت نمازی کی پیشانی سے نکلنے والے خط کا عمودی شکل میں کعبہ پر سے گزرنے والے خط سے ملنا کعبہ کی جہت کے بقاء کے لئے ان کے ہاں شرط ہے اس کے کچھ بعد انھوں نے اس بات کو واضح کرتے ہوئے کہا بلکہ درر اور معراج سے عین کعبہ کا استقبال کرنے والے کا دائیں یا بائیں انتقال کرتے ہوئے دو زاوئے قائمے حاصل ہونے کی جو ہم نے قید ذکر کی ہے اس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ اگر انتقال کرتے ہوئے دو قائموں کی بجائے ایك زاویہ حادہ اور دوسرا منفرجہ اس صورت پر حاصل ہوا تو جہت کعبہ کا استقبال صحیح نہ ہو گا اھ۔ اس بیان میں چند اشکال ہیں :
images
اولا : یہ کہ درر کی عبارت میں سرے سے انتقال کا ذکر ہی نہیں ہے چہ جائیکہ انتقال کے بعد وہاں دو۲ قائموں کے حصول کا ذکر ہو اور اس نے بعد میں تفریع
حوالہ / References ردالمحتار مبحث استقبال القبلۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۸۸
ردالمحتار مبحث استقبال القبلۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۸۸
#4044 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
من التیامن والتیاسر فلیس فیہ ایض اثر من ذلك ولا ھو یستلزم الانتقال بل و لا یحصلان لك بالانحراف عن المحاذات وانت قائم مقامك وبہ عبر فی الدررحیث قال فیعلم منہ انہ لو انحرف عن العین انحرافا الخ۔
و ثانیا : المعراج وکل من ذکرنا من متابعیہ انما فرضوا خطا من جبین مستقبل العین ماراالی الکعبۃ واخر قاطعالہ علی قائمتین ثم فرضوا الانتقال یمینا ویسارا بفراسخ کثیرۃ علی ھذا القاطع ولم یشرط ھو ولا احد منھم حدوث القائمتین بعد الانتقال۔
وثالثا : لو شرط ذلك لم یصح لان الانتقال لا یمکن علی خط مستقیم فان القاطع انما یمر فی جانبی المستقبل بعد موضع قدمہ فی الھواء لکون الارض کرۃ وانما ینتقل المنتقل علی دائرۃ فھوان حفظ توجھہ حین استقبالہ عین الکعبۃ وانتقل علی تلك الدائرۃ یمینا وشمالا فلا شك ان الخط الخارج من جبھتہ
کے طور دائیں اور بائیں ہونے کا جو ذکر کیا ہے اس میں بھی اس کا کوئی نشان نہیں اور نہ ہی وہ انتقال کو مستلزم ہے بلکہ جب تو اپنی جگہ کھڑا رہ کرمحاذات سے انحراف بھی کرے تب بھی دو قائمے حاصل نہیں ہوسکتے ۔ اسی بات کو درر نے تعبیر کرتے ہوئے کہا ـ “ پس اس سے معلوم ہوا کہ عین کعبہ سے کچھ انحراف کرے۔ الخ
ثانیا یہ کہ معراج اور اس کے مذکورہ متبعین حضرات نے عین کعبہ کا استقبال کرنے والے کی جبین سے خط نکل کر کعبہ کی طرف جائے اور دوسراخط جو اس کو دو قائموں زاویوں پر قطع کرنے کو ذکر کیا ہے اور پھر ان لوگوں نے اس قاطع خط پر دائیں بائیں کئی فرسخ تك انتقال کو فرض کیا ہے اس کے باوجود معراج اور اس کے متبعین نے انتقال کے بعد ۲دو قائمہ زاویوں کی شرط نہیں لگائی۔
ثالثا یہ کہ اگر یہ شرط لگائی جائے تو درست نہیں ہوگی کیونکہ انتقال خط مستقیم پر ممکن نہیں ہے اس لئے کہ قطع کرنے والا خط کعبہ کا استقبال کرنے والے کے دائیں اور بائیں دونوں طرف فضا میں ایك قدم کے فاصلہ سے گزرے گا کیونکہ زمین کروی یعنی گول ہے اور انتقال کرنے والا صرف ایك دائرہ پر انتقال کرے گا اب اگر وہ عین کعبہ کا استقبال کرتے ہوئے اپنی جہت کو محفوظ رکھتے ہوئے اس دائرہ پر دائیں یا بائیں انتقال کرے تو یقینااس کی پیشانی سے نکلنے والا
حوالہ / References الدرر الحکام فی شرح غرر الاحکام باب شروط الصلوٰۃ مطبوعہ احمد کامل الکائنہ دارالسعادت مصر ۱ / ۶۰
#4045 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
لایقطع الخط المار بالکعبۃ عرضا علی قائمتین کما لا یخفی۔
ورابعا : یصح ذلك اولا یصح فلن یصح قولہ مھما تاخر یمینا او یسارا وانما ذکرالمعراج ومن معہ بقاء الجھۃ بالانتقال علیہ بفراسخ کثیرۃ وھذا صحیح ولم یدعواانہ مھما انتقل لم یتبدل کیف والواغل فی الانتقال علیہ لا یبقی مواجھا للکعبۃ لاشك و سیستبین لک۔
وخامسا لما ارتکز فی ذھنہ رحہ اﷲ تعالی ان شرط بقاء المواجھۃ وصول خط الجھۃ الی ذلك الخط المعترض بالکعبۃ عمودا توھم ان لو ترك المنتقل تلك الو جھۃ وانحراف قلیلا یمینا او شمالا لم یصح لکون الزاویتین اذ ذاك حادۃ و منفرجۃ کما قدم فزعم ان کلام المعراج والدرر ھذا مخالف لاجازۃ الانحراف القلیل المصرح بھا فی غیر ما کتاب وصرح بہ اذقال والحاصل ان المراد بالتیامن و التیاسر الا نتقال عن عین الکعبۃ لی جھۃ الیمین اوالیسار لا الانحراف
خط کعبہ پر سے عرض میں گزرنے والے خط کو دو۲ قائموں پر قطع نہیں کرے گا کما لا یخفی۔
رابعا یہ شرط صحیح ہو یا نہ ہو مگر شامی کا یہ کہنا ہر گز درست نہ ہوگا کہ “ جتنا بھی دائیں بائیں ہٹ جائے “ معراج اوراس کے متبعین نے صرف یہ ذکر کیا ہے کہ دائیں بائیں کئی فرسخ تك منتقل ہونے والے کی جہت باقی ہوگی اور یہ بات صحیح ہے کیونکہ انہوں نے یہ دعوی نہیں کیا کہ جتنا بھی منتقل ہوجائے تب بھی جہت نہ بدلے گی۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے جب انتہائی طور پر انتقال ہوگا تو یقینا وہ کعبہ کی جہت پر نہ رہے گا اور عنقریب یہ تجھ پر واضح ہو جائے گا۔
خامسا یہ کہ جب محشی رحمۃ علیہ کے ذہن میں یہ بات مرکوز ہو چکی ہے کہ کعبہ کی جہت کی بقاء کے لئے یہ شرط ہے کہ نمازی کی پیشانی سے نکلنے والا خط کعبہ پر سے عرض میں گزرنے والے خط کو عمودی شکل میں قطع کرے تو ان کو وہم ہوا کہ اگر منتقل ہو نے والے نے مذکو رہ معیار والی جہت کو چھوڑ دیا اور تھوڑا سا بھی دائیں بائیں اس نے انحراف کیا تو استقبال صحیح نہ ہو گا کیونکہ اس صورت میں (مذکورہ دونوں خطوں کے ملنے سے ) دو قائمہ زاویے نہیں بلکہ ایك حادہ اور ایك منفرجہ حاصل ہوں گے جیسا کہ قبل ازیں وہ ذکر ہو چکے ہیں ۔ اور انہوں نے یہ گمان کرلیا کہ معراج اور درر کا یہ کلام اس قلیل انحراف کی اجازت کے خلاف ہے جس کا صراحۃ متعدد کتب میں ذکر ہے۔ اور انھوں نے اس کی یہ کہہ کر تصریح کردی کہ دائیں بائیں ہونے سے مرا دکا حاصل یہ ہے کہ عین کعبہ سے دائیں یا بائیں جہت انتقال کرنا ہے نہ کہ
#4046 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
لکن وقع فی کلامھم ما یدل علی ان الانحراف لایضرثم نقل کلام القھستانی و شرح العلامۃ الغزی لزاد الفقیرومنیۃ المصلی عن امالی الفتاوی والعجب ان نسی مانقل بنفسہ من الدرر فان الذی نقل ھھنا عن القھستانی عین ما قدم عن الدررمن ان الانحراف الیسیرالذی لاتزول بہ المقابلۃ بالکلیۃ لا یضر فکیف یکون کلام الدرر مخالفالہ۔
سادسا : لیس الامرکما فھم بل انحراف وسط جبھۃ المستقبل عن مسامتۃ الکعبۃ لازم الانتقال والخروج عن سطح الجدار الشریف ولوحفظ فی انتقالہ تلك الوجہۃ لاتی علی ما یخرجہ عن الجہۃ بالکلیۃ ولو انحرفا ان تلك وجہۃ انحرافا مناسبا لحفظ التوجہ الی الکعبۃ فکلامہ منقوض طرداوعکسا ولیکن لبیان ذلك موضع شرقی مکۃ المکرمۃ بین طولیھما نحو من ثلاثمائۃ
انحراف کرنا مراد ہے لیکن اس کے باوجود فقہاء کی کتب میں ایسا کلام ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انحراف قلیل مضر نہیں ہے اس پر پھر انہوں نے قہستانی زادالفقیرکی شرح علامہ غزی اور امالی الفتاوی کے حوالہ سے منیۃ المصلی کی عبارات نقل کیں ۔ تعجب ہے کہ علامہ شامی (محشی) رحمۃ اللہ تعالی علیہ درر سے خود اپنی نقل کردہ بات کو بھول گئے کیونکہ انھوں نے یہاں قہستانی سے جو یہ نقل کیا ہے کہ ایسا قلیل انحرا ف جس سے کعبہ کا مقابلہ کلیۃ زائل نہ ہو مضر نہیں ہے۔ یہ بعینہ وہی چیز ہے جس کو وہ خود پہلے درر سے بیان کر چکے ہیں تو درر کا کلام قہستانی کے خلاف کیسے ہو گا۔
سادسا یہ کہ معاملہ وہ نہیں جیسا کہ انہوں نے سمجھا بلکہ کعبہ کا استقبال کرنے والے کی وسط پیشانی کا سمت کعبہ سے انحراف دائیں بائیں انتقال اور کعبہ کی دیوار کی سطح سے خروج کو لازم ہے اب اگر محشی رحمۃ علیہ نمازی کے دائیں بائیں انتقال میں اس زاویۃ قائمہ والی توجہ پر قائم رہتے ہیں تو اس صورت میں ان سے نمازی کو جہت کعبہ سے بالکلیہ خارج کردینے والی بات صادر ہو رہی ہے اوراگر وہ منتقل ہونے والے کے لئے (اس قائمہ والی بات) سے انحراف کرکے کعبہ کی طرف توجہ کی حفاظت کے لئے (منتقل ہونے والے کعبہ کی طرف) انحراف مراد لیں تو
حوالہ / References ردالمحتار مبحث استقبال القبلہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۸۸
#4047 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
وخمسین میلا اعنی خمس درج و عرضھا کاحہ الط نحو امن عرض مکۃ المکرمۃ علی ماثبت بالقیاسات الجدیدۃ کاحہ الہ فاذن تکون قبلتہ نقطۃ المغرب سواء بسواء کمالا یخفی علی المھندس وذلك لان فی اللوغار ثمیات ظل عرض مکۃ۵۹۳۵۴۲۳ء۹جیب تمام ما بین الطولین ۹۹۸۳۴۴۲ء۹ = ۵۹۵۱۵۸۱ء ۹ظل عرض موقع العمود الواقع من نقطۃ المغرب علی نصف نھار البلد مارا بسمت راس مکۃ المکرمۃ قوسہ کاحہ الط مساویۃ لعرض البلد فیکون العمود نفسہ دا سمتیۃ مرت سمتی راس البلدومکۃ ثم نقول ظل ما بین الطولین۹۴۱۹۵۱۸ء۸+جیب تمام عرض موقع العمود ۲۷۶+۹۶ء۹= ۹۶۰۶۷۹۴ء۱۸ نجعلہ محفوظا وننتقل علی نصف النھار ھذا یمینا و شمالا مع حفظ الوجہ اعنی بقاء القطب الشمالی علی منکب الایمن فلیکن :
اولا موضع علی خط الاستواء فعرض الموقع ھوالفضل بینہ و بین عرض البلد لانتفائہ جیبہ ۵۶۳۷۵۴۶ء۹ ویبقی بتفریقہ من
اس صورت میں ان کا کلام جامع اور مانع نہ رہے گا اس کا بیان یہ ہے کہ مکہ مکرمہ سے مشرق میں واقع ایسا مقام کہ اس کے اور مکہ مکرمہ کے دونوں طولوں میں ساڑھے تین سو میل یعنی پانچ درجے ہو اور اس مقام کا عرض کاحہ الط مکہ مکرمہ کے عرض جتنا ہوگا جیسا کہ جدید قوانین میں ثابت ہے کہ وہ کاحہ الط ہے تو اس صورت میں اس مقام کا قبلہ ٹھیك نقطہ مغرب ہوگا جو کہ ریاضی دان حضرات پر مخفی نہیں یہ اس لئے کہ لوگارثم میں عرض مکہ مکرمہ کا ظل ۵۹۳۵۴۲۳ء۹ دونوں طولوں میں مکمل جیب ۹۹۸۳۴۴۲ء۹ = ۵۹۵۱۵۸۱ء۹ ہے نقطہ مغرب سے گرنے والے عمود کے مقام کاظل نصف النہار کے وقت عین مکۃ المکرمہ کی سمت پر سے گزرے تو اس کا قوس کاحہ الط ہو گا جو عرض بلد کے مساوی ہوگا اس طرح خود عمود ایك دائرہ سمتی ہو گا جور أس البلد اور مکہ مکرمہ کی دونوں سمتوں سے گزرے گا۔ پھر ہم کہیں گے کہ دونوں طولوں کا ظل ۹۴۱۹۵۱۸ء۸+عمود کے موقع کے تمام عرض کا جیب ۲۷۶+۹۶ء۹ =۹۶۰۶۷۹۴ء۱۸ ہے جس کو ہم محفوظ کرلیں گے اور ہم دائیں کندھے پر قطب شمالی کو باقی رکھ کر اپنے جہت کو محفوظ بنا کر اس نصف النہار پر دائیں اور بائیں منتقل ہوں تو :
اولا خط استواء پر ایك موضع ہو تو عمود کے وقوع کی جگہ کا عرض منفی ہونے کی وجہ سے اس کے اور عرض البلد کے درمیان زائد ہوگا جس کا جیب ۸۶۳۷۵۴۶ء۹ہوگا اس کو محفوظ سے تفریق
#4048 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
المحفوظ ظل الانحراف الشمالی ۳۴۶۹۲۴۸ء۹ قوس ہحہ ل تمامھا عہحہ الح فمن حفظ الوجھۃ فقد انحراف عن القبلۃ اکثر من سبع وسبعین درجۃ وھو بان یسمی مجانبااحق من ان یسمی مواجھا اذلم یبق جنبہ الحقیقی و بین الکعبۃ الا اقل من ثلث عشرۃ درجۃ و بینھا و بین وجھہ اکثر من درجۃ وان انحرف عن تلك الوجھۃ الی یمینہ اعنی الشمال اکثرمن درجۃ فقد اصاب القبلۃ بھذا الانحراف العظیم فانتقض ذلك طردا و عکسا فی انتقال اقل من اثنتین و عشرین درجۃ۔
ولیکن ثانیا موضع عرضہ م حہ نح شمالیا لیکون انتقال الشمالی مثل ذلك جنوبی فتفاضلہ مع عرض الموقع مثل ذلك جنوبی فتفاضلہ مع عرضاالموقع مثلہ فجیبہ جیبہ والعمل العمل یکون انحراف القبلۃ ھنا من نقطۃ المغرب الی الجنوب عرض الح و لزم ما لزم۔
ولیکن ثالثا عرضہ الجنوبی م حہ نح فمجموعہ مع عرض الموقع سلصہ الرجیبہ ۹۵۵۳۰۷۳ء۹ نفروقا من المحفوظ = ۹۵۵۳۷۲۱ء۸ قوس فانظل لاحہ ط تمامھا قدصہ نا فقد انحرف
کرنے پر شمالی انحراف کا ظل۳۴۶۹۲۴۸ء۹ باقی رہےگا جس کا قوس حہل مکمل عرحہ الح ہو گا پس اب جس نے اپنی جہت کو محفوظ رکھا اس کا قبلہ سے ۷۷ درجے سے زائد انحراف ہوگا تو اسکو قبلہ رؤ قراردینے کی بجائے قبلہ سمت سے پہلو پھیرنے والا قرار دینا بہتر ہے کیونکہ اس کے حقیقی پہلو اورکعبہ کے درمیا ن صرف ۱۳درجے سے بھی کم باقی رہے گا اور کعبہ اور اس کے چہرے کے درمیان ۷۷ درجے سے زائد ہوگا اب اگر وہ اس جہت سے اپنے دائیں یعنی شمال کی طرف ۷۷ درجے سے زیادہ انحرا ف کرے تو تب بھی اس عظیم انحراف سے کعبہ کی جہت کو پائے گا تو یوں ۲۲ درجے سے کم انتقال ہے اسکی جامعیت اور مانعیت ختم ہو جائیگی۔
ثانیا ایك ایسا موضع جس کا عرض مح حہ نح شمالی ہوتا کہ شمالی اور جنوبی انتقال ایك جیسا ہو جائے تو اس کا تفاضل عمود کے موقع کے عرض سمیت اسی کے برابر ہوگا تو دونوں کاجیب اور عمل ایك ہی ہوگا تو یہاں سے قبلہ کا انحرا ف مغرب کے نقطہ سے جنوب کی جانب عرصہ الح ہو گا اور وہی خرابی لازم آئیگی جو آئی ۔
ثالثا ایك ایسا موضع ہو جس کا جنوبی عرض مہ حہ نح ہوتو اس کا مجموعہ عمود کے موقع کے عرض سمیت سل حہ الر ہو گا جس کا جیب ۹۵۵۳۰۷۳ء۹ محفوظ سے تفریق شدہ = ۹۵۵۳۷۲۱ء۸قوس ہو گا یہ ظل لا حہ ط جس کا کل قدناحہ ہوگا اس صورت میں
#4049 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
القبلۃ من نقطۃ المغرب خمس و ثمانین درجۃ ولم یبق الی نقطۃ الشمال الاخمس درج فان حفظ الوجھۃ بطلت صلاتہ قطعا وان توجہ الی القطب الشمالی صحت یقینا وان اخذنا مابین الطولین اصغر من ذلك یظھر التفاوت اکبر من ذلك وبالجملۃ فتلزم استحالات لاتحصی فالحق ان لیس فی عبارۃالدرر ولا المعراج شیئ مما ذکر ولا مافھم من جواز الانتقال علی ذلك الخط مھما شاء ولا مافھم من مخالفتھما لتجویزالانحراف الیسیر ولامافھم من اشتراط حفظ الوجھۃ لبقاء الجھۃ ولا ما فھم من افادتھما فسادالصلوۃ ان احدث الخطان زاویتین مختلفتین بل الامر فیہ کما اقول انھم انما فرضوا الانتقال علی القاطع لہ علی قائمتین ای علی نصف نھار الموضع المفروض المسامت حقیقۃ لیحصل بالانتقال الانحراف علی عکس مافھم العلامۃ المحشی رحمۃ اﷲ تعالی وذلك لانہ لو جعلت الکعبۃ مرکزا ورسمت ببعد مستقبلھا دائرۃ وانتقل ھو علیھا حتی طاف الدنیا
نقطہ مغرب سے قبلہ کا انحراف ۸۵درجے ہوگا اور نقطہ شمالی کی طرف صرف پانچ درجے باقی رہے گا پس اگر وہ اپنی اسی توجہ کو محفوظ رکھے تو اس کی نماز لازمی طور پر باطل ہوگی اور اگر وہ قطب شمالی کی طرف پھر گیا تو اس کی نماز یقینا درست ہوگی اور اگر ہم دونوں طولوں میں اس سے بھی کم فاصلہ فرض کریں تو تفاوت اس سے بھی بڑھ جائے گا۔ خلاصہ یہ کہ اس سے بے شمار خرابیاں لازم آئیں گی۔ تو حق یہ ہے کہ درر اور معراج کی عبارت میں محشی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے ذکر کردہ امور میں سے کچھ بھی نہیں نہ اس خط پر حسب خواہش انتقال کا جواز اور نہ ہی معمولی انحراف کے جواز کی ان دونوں سے مخالفت اور نہ ہی بقاء جہت کے لئے توجہ کہ محفوظ رہنے کی شرط اور نہ ہی مختلف زاویے والے دو خطوں کے پیدا ہونے سے ان دونوں حضرات کی طر ف سے نماز کے فساد کا افادہ غرضیکہ محشی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی فھم کردہ ان مذکورہ چیزوں میں کوئی بھی ان دونوں حضرات کی عبارت میں موجود نہیں بلکہ معاملہ یوں ہے جیسے میں کہتا ہوں (اقول) انہوں نے دو قائموں کی شکل میں اس کو قطع کرنے والے خط پر سے انتقال فرض کیا جس کا مطلب یہ ہے کعبہ سے حقیقی سمت والے مقام مفروض پر خاص نصف نہار ہو جس سے سمت میں کچھ انحراف حاصل ہوسکے بالعکس اس کے جو علامہ محشی الرحمۃ نے سمجھا یہ اس لئے کہ اگر کعبہ کو مرکز قرار دے کر اس کی طرف استقبال کرنے والے
#4050 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
وعاد الی مقامہ الاول ای علی الفرض لم یزل الاستقبال الحقیقی ولم یحصل انحراف ما اصلا و مقصود ھم ان ینبھوا علی جواز الانحراف الیسیر ففرضواالخط کما مروذکرواانہ لایجاوز الجھۃ بالانتقال علیہ الی فراسخ کثیرۃ وقدصدقوا فی ذلك ولم یقدروالفراسخ لانھا تتبدل بتبدل البعد کما تقدم ولو راموا تسویغ الانتقال مطلقا لما قیدو بفراسخ وقالو لایزول بالانتقال کم ما کان قلتم فھذا ماکان یجب التنبہ لہ و باﷲ التوفیق ولیرجمع الی ماکنا فیہ۔
فاقول ثالثا : بقی فی شرحہ عبارۃ الدرر شیئ وھو جعل “ علی استقامۃ “ متعلقا “ بیصل “ وانت تعلم انہ کما یجب الاستقامۃ بھذاالمعنی فی الخط الخارج من الجبھۃ کذلك فی الخط المار بالکعبۃ عرضا وعلی جعلہ متعلقا
کے فاصلہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے دائرۃ بنایا جائے اور نمازی اس دائرہ پر انتقال کرتا چلاجائے حتی کہ ساری دنیا کا چکر بھی لگائے اور پہلے مقام پر لوٹ آئے تب بھی اس کا استقبال حقیقی باقی رہے گا اور ذرا بھی انحراف نہ ہوگا اور مذکورہ انحراف ذکر سے ان کا مقصد معمولی انحراف کے جواز پر تنبیہ کرنا ہے تو اس لئے انھوں نے مذکورہ خط پر کئی فرسخ تك انتقال کرنے والے کی جہت تبدیل نہ ہوگی اور یہ بات انھوں نے درست فرمائی ساتھ ہی انھوں نے فرسخ کی تعداد معین نہ فرما کر یہ واضح کیا کہ یہ تعداد کعبہ کے دائرہ والے خط کے بعد پر موقوف ہے یعنی بعد کی تبدیلی سے فرسخ کی تعداد بدل جائے گی جیسے کہ گزر چکا اور اگر وہ عام ہر طرح کا انتقال مراد لیتے تو پھر بیان میں فراسخ کی قید ذکر نہ کرتے بلکہ یوں کہتے “ جتنا تم چاہو انتقال کرو اس سے جہت میں تبدیلی نہ ہوگی “ یہ وہ ہے جس پر تنبیہ ضروری تھی جبکہ توفیق صرف اﷲ تعالی کی طرف سے ہے اب ہمیں اپنی بحث میں واپس لوٹنا چاہیئے۔
فاقول ثالثا (نوٹ : )یہ ثالثا اس اولا سے متعلق ہے جو صفحہ ۸۸ پر گزرا)
درر کی عبارت کی شرح کرتے ہوئے محشی علیہ رحمۃ نے جو فرمایا اس میں ابھی کچھ امرباقی ہے وہ یہ کہ انہوں نے فرمایا کہ درر کی عبارت میں “ علی استقامۃ “ کاتعلق “ یصل “ کے لفظ سے ہے حالانکہ آپ کو معلوم ہے کہ کعبہ کا استقبال کرنے والے نمازی کی پیشانی سے نکلنے والے خط میں جس معنی میں استقامت ضروری ہے
#4051 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
بیصل لا یبقی ایماء الی استقامۃ المار و یبصر قولہ بحیث تحصل قائمتان مجرد بیان لقولہ علی استقامۃ فالاصوب عندی جعلہ متعلقا بالمار لیتم البیانان ولیصیرتاسیسا ولیتعلق بالقریب ھذاماکان یتعلق بالحمد الاول وحملہ الفاضل الحلیمی فی حواشی الدرر علی بیان التقریبیۃ حیث قال (قولہ بحیث یحصل قائمتان) اطلقہ فشمل ان تینك القائمتین یتساوی بعد ھماعن العینین الی جدارالکعبۃ اولافالاول ھوالمراد فی التوجہ الی العین والثانی فی التوجہ الی الجھۃ وھوالمراد ھنا فقط “ ثم قال “ حاصلہ ان تقع الکعبۃ بین خطین الی اخر ماقدمنا عنہ فصرح بالمراد و جعل حاصل الوجھین واحدا۔
اسی معنی میں کعبہ پر سے عرضی طور پر گزرنے والے خط میں بھی استقامت ضروری ہے اور “ علی استقامۃ “ کا تعلق “ یصل “ سے کرنے میں کعبہ پر سے سیدھے گزرنے والے خط کی طرف اشارہ باقی نہ رہے گا اور اسی طرح درر کی عبارت میں “ بحیث تحصل قائمتان “ کو دیکھا جائے تو وہ صرف “ علی استقامۃ “ کا بیان بن کر رہ جائیگا لہذا میرے نزدیك بہتر یہ ہوگا کہ “ علی استقامۃ “ کا تعلق “ یصل “ کی بجائے لفظ “ المار “ سے کیا جائے تاکہ دونوں بیان تام ہو جائیں اور تاسیس یعنی فائدہ بھی حاصل ہو جائے نیز اس کا تعلق قریب سے بھی ہو جائے گا یہ مذکورہ ساری گفتگو سے پہلے محمل سے متعلق ہے۔ جبکہ فاضل حلیمی نے درر کی شرح کرتے ہوئے اس کی عبارت کا محمل سمت حقیقی کی بجائے سمت تقریبی قرار دیا (یعنی عین سمت کعبہ کی بجائے انھوں نے اس کو جہت کعبہ پر محمول کیا جہان انہوں نے کہا “ قولہ بحیث تحصل قائمتان “ اس کو عام رکھا ہے لہذا وہ دونوں قائمے جن کا فاصلہ دونوں آنکھوں سے جدا کعبہ تك مساوی ہو گا یا نہ ہوگا مساوی ہوتو اس سے عین کعبہ کی طرف توجہ مراد ہے اوریہاں یہی آخری یعنی فقط جہت کی طرف توجہ مراد ہے پھر انہوں نے فرمایا کہ اس کا حاصل یہ ہے کہ کعبہ دونوں خطوں کے درمیان واقع ہو الخ جہاں تك ہم نے پہلے ان سے ذکر
حوالہ / References حاشیۃ الدرر للمولٰی عبدالحلیم باب شروط الصلوٰۃ مطبوعہ مطبع عثمانیہ دار سعادت بیروت ۱ / ۵۲
#4052 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
اقول : وھذااولی بوجوہ لقولہ فی صدرہ استقبال عین الکعبۃ للمکی وجھتھالغیرہ ان یصل الخ فافاد انہ الآن بصددبیان التقریبیۃ لاالحقیقۃ الواقعۃ علی العین ولانہ قال بعدہ اونقول ھوان تقع الکعبۃ الی اخرما تقدم فی القول الثالث ولاشك انہ للتقریب وظاہر قولہ اونقول ان محصلھما واحد ولان الجبین یکون علی ھذا بمعناہ الحقیقی وکذلك فھم العلامۃ الطحطاوی فصور بیان الدد ھکذ۔
images
اقول : ولیس المراد حدوث الخطین فی حالۃ واحدۃ حتی یرد علیہ انہ مع حمل الجبین علی طرفی الجبھۃ عدل الی جعلہ لبیان التحقیق حیث اوصل الخطین الی الکعبۃ عمودین وانہ قد علمت مما قد منا ان
کر دیا ہے غرضیکہ انہوں نے مراد کی تصریح کردی ہے اور دونوں وجہوں کا ماحاصل انہوں نے ایك ہی قرار دیا۔
اقول : ان کا یہ بیان کئی طرح سے بہتر ہے ایك وجہ تو ماتن کا یہ قول ہے کہ مکی کےلئے عین کعبہ کا استقبال اور غیر مکی کےلئے جہت کعبہ کا استقبال ہے الخ۔ لہذا وہ بتارہے ہیں کہ اب سمت تقریبی کو بیان کر رہے ہیں (یعنی وجھتھا لغیرہ الخ) نہ کہ سمت حقیقی جس کا وقوع عین کعبہ پر ہے اور اسلیئے بھی کہ انھوں نے بعد میں یہ کہا “ یا ہم یوں کہیں کہ ان تقع الکعبۃ الخ “ جیسا کہ تیسرے قول میں گزرا ہے اس بیان کے بارے میں شك نہیں کہ یہ سمت تقریبی سے متعلق ہے نیز ماتن کا قول “ اونقول “ ظاہرا بتا تا ہے کہ دونوں کا ماحاصل ایك ہے اور نیز اس مراد پر جبین کا حقیقی معنی مراد ہوگا۔ علامہ طحطاوی نے اسکو اسی طرح سمجھا اور انہوں نے درر کے بیان کے مطابق تصویر یوں بنائی۔
images
اقول : علامہ طحطاوی کے بیان میں دونوں خطوں کا ایك شکل پر ہونا ضروری نہیں ورنہ یہ اعتراض پیدا ہوگا کہ انہوں نے جبین کا حقیقی معنی یعنی پیشانی کی دونوں طرفیں (پہلو) مراد لینے کے باوجود جبین سے نکلنے والے خطوں کو عین کعبہ پر بصورت عمود(سیدھا) گرا کر سمت حقیقی کو بیان کیا ہے حالانکہ ہمارے پہلے
حوالہ / References حاشیۃ الدرر للمولٰی عبدالحلیم باب شروط الصلوٰۃ مطبوعہ مطبع عثمانیہ دار سعادت بیروت ۱ / ۵۲
#4053 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
الخط الخارج من الجبین لا یخرج علی استقامۃ الجبھۃ بل منحرفا من الجبین الایمن یمینا ومن الایسر یسارا وانہ لایمکن ان یکون کلا الخطین الخارجین من الجبینین عمود اعلی خط مستقیم بل المراد عندی تصویر التیامن والتیاسرفالاول مثلا جبین المصلی الایمن عندانحرافہ عن الکعبۃ یساراوالثانی جبینہ الایسرحین انحراف یمینا وایضاح تصویرہ ھکذا
یہاں امیج بنانی ہے جلد ۶ ص ۱۰۸
ینبغی ان یفھم ھذا المقام اماقولہ رحمۃ اﷲ علیہ فی بیان تصویرہ نقلا عن بعض الافاضل فقد حصل من الخط المار بالکعبۃ قائمۃ ومن الخط الخارج من جبین المصلی قائمۃ اخری وحدث منھما زاریتان متساویتان اھ۔
فاقول : ھذا وان کان
بیان سے آپ معلوم کرچکے ہیں کہ جبین (پیشانی کے پہلو) سے نکلنے والا خط پیشانی کے وسط سے سیدھا نہیں نکلتا بلکہ دائیں جبین سے نکلنے والا خط دائیں طرف اور بائیں جبین سے نکلنے والا خط بائیں طرف نکلے گا۔ اور یہ ہرگز ممکن نہیں کہ دونوں جبینوں سے نکلنے والے خطوط عمودی طور پر خط مستقیم پر نکلیں بلکہ میری رائے میں ان کا یہ بیان التیامن اورالتیاسر کی صورت کا بیان ہے۔ کہ مثلا التیامن یہ ہے کہ نمازی دائیں جبین کا کعبہ سے بائیں طرف انحراف ہوجائے اور التیاسر یہ ہیکہ اس کی بائیں جبین کا کعبہ سے دائیں طرف انحراف ہو جائے تو اس صورت میں دونوں جبینوں کے خط مستقیم شکل میں کعبہ کی طرف ہوں گے۔ ان کی تصویر کو یوں سمجھنا مناسب ہے
images
ایسے مشکل مقام کو یوں سمجھا جا سکتا ہے۔ لیکن علامی طحطاوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا وہ قول جوانہوں نے اپنی بنائی ہوئی تصویر کے بارے میں ایك فاضل سے نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ کعبہ پر سے گزرنے والے خط سے زاویہ قائمہ حاصل ہوا اور اسی طرح نمازی کی جبین سے نکلنے والے خط سے دوسراقائمہ حاصل ہوا اور ان دونوں خطوں سے دو مساوی زاویے پیدا ہوئے۔ اھ۔
فاقول(تو میں کہتا ہوں ) اگر چہ ان کے اس تکلف
حوالہ / References حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب شرو ط صلوٰۃ مطبوعہ دارامعرفۃ بیروت ۱ / ۱۹۷
#4054 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
فی حکایتہ غنی عن نکایتہ لکن لاازراء فیہ بھم فانھم رحمھم اﷲ تعالی لم یکن لھم اشتعال بتلك الفنون وقد کانوامعتنین بمایھم و یعنی فرحھم اﷲ تعالی ورحمنا بھم رحمتہ تکفی وتغنی امین!
ثم اعلم ان الجبینین منتھیان فی الجانبین الی محاذاۃ الحاجبین قال فی القاموس الجبیان حرفان مکتنفا الجبھۃ من جانبیھا فیما بین الحاجبین مصعد الی قصاص الشعرہ ۔
کی ضرورت نہ تھی لیکن اس سے ان پر طعن نہیں آتا کیونکہ ان حضرات کا اس فن سے خاص شغل نہیں ہے وہ صرف اپنے مقصد اور ضروری مراد کو بیان کرنے کا اہتمام کرتے ہیں اﷲ تعالی ان پر اور ہم پر اپنی کفایت کرنے والی رحمت فرمائے آمین!
پھر واضح ہو کہ دونوں جبینیں دونوں ابروؤں کے برابر جانبین پر ختم ہوتی ہین ۔ قاموس میں ہے : “ جبینیں “ پیشانی کو دونوں طرف سے گھیر اؤ کرنے والی دو طرفیں ہیں جو دونوں ابروؤں سے بلند ہو کر پیشانی کے بالوں تك پہنچتی ہیں اھ ۔ (ت)
بالجملہ ہماری تحقیق پر قول پر چہارم کاحاصل یہ ہوا کہ محاذات حقیقیہ سے دونوں طرف جھك سکتا ہے کہ جبین یعنی کنارہ پیشانی محاذی کنارہ بیرونی ابرو سے جو خط اس کی استقامت پر افق کی طرف جائے سطح کعبہ معظمہ پر زاویہ قائمہ بناتا گزرے اقول(میں کہتا ہوں ) ظاہر ہے کہ اس معنی پر جبین سے دوسری تك یعنی مابین دو ابرو اگر سر کو مدور فرض کیا جائے تقریبا ربع دور ہوگا تو وسط جبہہ سے ہر طرف ثمن دور ہے صفت مذکورہ پر خط اگر وسط پیشانی پر جاتا تو محاذات حقیقیہ ہوتی اب اس سے ثمن دور پھرنا صحیح ہوا تو وہی جانبین کعبہ میں ۴۵-۴۵درجے آئے قول سوم کا بھی یہی محصل تھا اور کیوں نہ ہو کہ عبارت درر سے ان کا ایك محصل ہونا ظاہر کما قدمنا وباﷲ التوفیق۔
پنجم۵۔ اہل مشرق کا قبلہ مغرب ہے اہل مغرب کا مشرق اہل جنوب کا شمال اہل شمال کا جنوب ۔ تو جب تك ایك جہت دوسری سے نہ بدلے مثلا ربع مغرب میں قبلہ ہے یہ ربع شمال یا ربع جنوب کی طرف منہ کرے جہت قبلہ باقی رہے گی۔ اقول : اس قول کا حاصل یہ ہے کہ موضع مصلی سے محاذات حقیقیہ کا خط کعبہ معظمہ پر گزرتا ہوا دونوں طرف کے افق تك ملا دیں اور وہیں سے دوسراخط اس پر عمود پر گرا دیں کہ افق کے چارحصے مساوی ہوجائےں پھر ہر حصے کی تنصیف کرکے ہر دو نصف متجاوز میں خط وصل کردیں ان اخیر خطوط سے جو چار ربع افق حاصل ہوں گے وہی ارباع جہات اربعہ ہیں ان میں وہ ربع جس کے منتصف پر کعبہ معظمہ ہے جہت
حوالہ / References القاموس المحیط فصل الجیم باب النون مطبوعہ مصطفے البابی مصر ۴ / ۲۱۰
#4055 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
استقبال ہے اور اس کے مقابل جہت استدبار اور باقی دو ربع جہات یمین و شمال بایں صورت ہ مصلی ہے اور ر م کعبہ معظمہ ا ب خط محاذات حقیقیہ ح ء ا س پر عمود ان نقاط اربعہ نے تربیع افق کی پھر ربع ا ح کو ح اور ربع ا ء کو ط پر تنصیف کرکے خط ح ط ملا دیا یونہی ط ک=ك ی۔ ی ح تو قوس ح ا جہت قبلہ ہے اور ی ب ك جہت استدبار ی ح ح جہت یمین ك ء ط جہت شمال ۔ ہ اگر ا کی طرف منہ کرے عین کعبہ کی طرف متوجہ ہے اور روا ہے کہ دہنی جانب ح یا بائیں طرف ط کے قریب تك پھرے جہت قبلہ باقی رہے گی ۔
images
جب قوس ح ا ط سے باہر گیا جہت نہ رہی تو وہی دونوں جانب ۴۵-۴۵ درجے تك انحراف روا ہوا۔ یہ قول نفیس خود امام مذہب سیدنا امام اعظم رضی اﷲتعالی عنہ سے منقول فتاوی خیریہ میں ہے :
عن ابی حنیفۃ رحمۃ اﷲ تعالی المشرق قبلۃ اھل المغرب والمغرب قبلۃ اھل المشرق والجنوب قبلۃ اھل الشمال و الشمال قبلۃ اھل جنوب ۔
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے مروی ہے کہ مغرب والوں کا قبلہ مشرق ہے اور مشرق والوں کا مغرب شمال والوں کا جنوب اور جنوب والوں کا شمال ہے۔ (ت)
شرح نقایہ علامہ قہستانی میں ہے :
قال الزندویسی ان المغرب قبلۃ لاھل المشرق و بالعکس والجنوب لا ھل الشمال وبالعکس فالجھۃ قبلۃ کالعین ۔
زندویسی نے کہا کہ مشرق والوں کا مغرب قبلہ ہے اور اسکے برعکس اور شمال والوں کا جنوب قبلہ ہے اور اسکے برعکس ۔ پس جہت بھی عین کعبہ کی طرح قبلہ ہے۔ (ت)
حلیہ میں ہے۔
قد قطع الزندویسی فی روضتہ بالتفریع المذکور الخ قالہ بعد ماذکر انہ بناہ علی کون الکعبۃ وسط الارض وتردد
زندویسی نے اپنی کتاب “ روضہ “ میں مذکورہ تفریع پر یقین کا اظہار کیا ہے الخ انھوں نے یہ بات کعبہ کو وسط زمین پر قرار دینے کے بعد کہی اور اس کے اثبات
حوالہ / References فتاوٰی خیریۃ کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۷
جامع الرموز فصل شروط الصلوٰۃ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۱۳۰
التعلیق المجلی لما فی منیۃ المصلی مع منیۃ المصلی الشرط الرابع مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص ۱۸۶
#4056 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
فی ثبوتہ ثم ایدہ بکلام الامام الرازی فی التفسیر وانہ من القضایا المتلقاۃ بینہم بالقبول اقول : لا محل لتردد فان الارض کرۃ فلك ان تقدرایۃ نقطۃ منھا شئت وسطاوالکعبۃ احق بذلك فان اﷲ تعالی جعلھا مثابۃللناس ثم الفرع لایتوقف علیہ الاتری انا صورناہ بفرض موضع المصلی وسطا۔
میں انھوں نے تردد کیا ہے پھر انھوں نے اس کی تائید امام رازی کے کلام جو ان کی تفسیر میں ہے سے فرمائی یہ بات مسلمہ قضا یا میں سے ہے۔ میں کہتا ہوں اس میں تردد کی گنجائش نہیں کیونکہ آپ زمین کے جس نقطہ کو وسط قرار دیں وہ کعبہ ہے اس لئے کہ زمین گول ہے اسی لئے اﷲ تعالی نے کعبہ کو “ مثابۃ للناس “ فرمایاہے پھر یہ تفریع کعبہ کے وسط ہونے پر موقوف نہیں ہے۔ آپ نے خیال نہیں کیا کہ ہم نے نماز کی جگہ کو وسط فرض کرتے ہوئے اس کی تصویر بنائی ہے۔ (ت)
نظم زندویسی پھر ذخیرہ پھر حلیہ میں :
قبلۃ اھل المشرق الی المغرب عندنا و قبلۃ اھل المغرب الی المشرق وقبلۃ اھل المدینۃ الی یمین من توجہ الی المغرب و قبلۃ اھل الحجاز الی یسار من توجہ الی المغرب اھ
اقول : کانہ اراد بالحجاز نحو الیمین والا فالمدینۃ السکینۃ سیدۃ الحجاز و سیدۃ البلاد العالم ثم من المعلوم قطعا ان قبلتھا الی یسار من توجہ الی المغرب اعنی الجنوب فکانہ انقلب فی البیان الیمین والیسار او تبدل المشرق بالمغرب ولعل من ھذاالقبیل واﷲ تعالی اعلم ما وقع من الخانیۃ من ان القبلۃ لا ھل الھندما بین الرکن
ہمارے ہاں مشرق والوں کا قبلہ مغرب اور مغرب والوں کا مشرق ہے اور مدینہ والوں کا قبلہ مغرب کی طرف متوجہ ہونے والے کی دائیں طرف ہے اور حجاز والوں کا قبلہ مغرب کی طرف متوجہ ہونے والے کی بائیں جانب ہے اھ (ت)
اقول : انھوں نے حجاز سے گویا دایاں حصہ مرادلیا ہے ورنہ مدینہ منورہ حجازکا مرکز اور سردار ہے بلکہ پورے عالم کا سردارہے۔ پھر قطعا یہ معلوم ہے کہ مدینہ منورہ کا قبلہ مغرب کی طرف متوجہ ہونے والے کی بائیں جانب یعنی جنوب ہے گویا انہوں نے بیان میں ( غلطی سے) یمن کی جگہ یسار کو ایك دوسرے سے بدل دیا یا پھر مشرق اور مغرب کو ایك دوسرے سے بدل دیا واﷲتعالی اعلم ہوسکتا ہے کہ جو خانیہ میں مذکور ہے وہ بھی اسی طرح کی تبدیلی پر مبنی ہو کہ ہند والوں کا
حوالہ / References التعلیق المجلی لما فی منیۃ المصلی مع منیۃ المصلی بحوالہ الشرط الرابع مطبوعہ مکبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۱۸۶
#4057 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
الیمانی الی الحجر وکتبت علیہ اقول ھذا جھۃالجنوب ولایصح الالبعض بلاد الھند الی عرض الح ص تقریبا الا ان یقرأ الحجربالکسر وھوالحطیم ویراد بالرکن الیمانی الجدار الیمانی تماما و یخرج الغایتان فیبقی الجدار الشرقی الذی فیہ الباب الکریم او یقرأ الرکن علی معناہ ویدخل الغایتان ویراد التوزیع ای قبلۃ الھند متوزعۃ بین الجنوب والشرق والشمال وھذا لبعید بعد قولہ ثم تعین لکل قوم منھا ای “ من الکعبۃ “ مقام فلاھل الشام الرکن الشامی ولاھل المدینۃ موضع الحطیم والمیزاب و لاھل الیمین الرکن الیمانی ولا ھل الھند الخ فلیتامل واﷲ تعالی اعلم
قبلہ رکن یمانی اور حجر کے مابین ہے۔ اور میں نے اس پر حاشیہ لکھا کہ یہ جنوبی جہت ہے اور یہ صرف بعض ہند جو کہ عرض الح صہ تقریبا ہے کا قبلہ ہو سکتا ہے۔ ہاں اگر حجر کی بجائے حجرکسرہ (زیر) کے ساتھ پڑھا جائے یعنی حطیم کعبہ مراد لیاجا ئے۔ اور “ رکن یمانی “ سے مراد ساری یمانی دیوار مراد لی جائے اور پھر (خانیہ کی بیان کردہ لمبائی میں سے ) دونوں انتہاؤں یعنی یمانی دیوار اور حطیم کو خارج کردیاجائے اور صرف ان دونوں حدوں کا درمیانی یعنی کعبہ کی شرقی دیوار جس میں کعبہ کا دروازہ ہے مراد لیا جائے یا پھر یوں کہا جائے کہ رکن یمانی اپنے اصلی معنی پر باقی رہے اور دونوں حدیں یعنی رکن یمانی اور حطیم کو شمار میں داخل مان کر ہند کے قبلہ کو پھیلا دیا جائے اور یوں کہا جائے کہ ہند کا قبلہ جنوب مشرق او رشمال میں پھیلا ہوا ہے لیکن یہ احتمال ان کے ا س بیان کے بعد بعید ہے کہ پھر کعبہ کا ہر حصہ ایك قوم کے لئے متعین ہے شام والوں کے لئے رکن شامی اور مدینہ والوں کےلئے حطیم اور میزاب کاحصہ یمن والوں کے لئے رکن یمانی اور ہند والوں کے لئے الخ مذکورہ یعنی رکن یمانی اور حجر کا درمیان ہے غور سے کام لو واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
اقول : یہی قول نقل و عقل و شرع و عرف سب سے مؤید اور یہی اضبط الاقول واعدال واصح و اظہر و اسد۔
اولا یہ خود اما م مذہب سے منقول وکلام الامام امام الکلام (امام کاکلام کلام کا امام )
اذقال الامام فصد قرہ
فان القول ماقال الامام
(جب امام فرمائے تو اس کی تصدیق کرو کیونکہ صحیح قول وہی ہے جو امام نے فرمایا ہے)
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خان کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ نو لکشور لکھنؤ ۱ / ۳۳
حواشی الفتاوٰی الخانیہ
#4058 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
ثانیا امام احمد و بخاری و مسلم و ابوداؤد و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ وغیرہم حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی رسول اﷲ فرماتے ہیں :
اذااتی احدکم الغائط فلا یستقبل القبلۃ ولا یولھا ظھرہ ولکن شرقو اوغربوا ۔
جب تم میں سے کوئی شخص پاخانے کو جائے تو نہ قبلہ کو منہ کرے نہ پیٹھ ہاں پورب پچھم منہ کرو۔
مدینہ طیبہ کا قبلہ جانب جنوب ہے لہذا شرقا غربا منہ کرنا فرمایا ہمارے بلاد میں جنوبا شمالا ہوگا۔ حدیث میں جنوب شمال کے کسی حصے کو رو یا پشت کرنے کی اجازت ارشاد نہ ہوئی اور مشرق و مغرب کے کسی حصے کا استثناء نہ فرمایا تو دائرہ ئ افق کے صاف چار۴ حصے ظاہر ہوئے جن میں ایك جہت استقبال ہے۔
ثالثا عرف عام میں بھی یہ دائرہ چار ہی ربع پر منقسم شرق غرب جنوب شمال اور بدن انسان بھی چار ہی رخ و پہلو رکھتا ہے قدام خلف یمین شمال ۔ انہی میں فوق و تحت ملا کر تمام جہان میں جہات ستہ مشہور ہیں ان چاروں میں ایك دوسری پر کوئی ترجیح نہیں کوئی وجہ نہیں کہ مثلا ایك کا اتساع ۱۴۰ درجے تك لیا جاوے اور دوسری کا صر ف ۴۰ تک تو دائرہ افق چار ربع متساوی ہی پر تقسیم ہونا چاہیئے۔
رابعا : دائرہ افق میں چار نقطے مفروض ہوئے ان میں ایك نقطہ ئ استقبال حقیقی ہے دوسرا استدبار حقیقی دو باقی یمین و شمال حقیقی تو جوان میں کسی نقطہ کا ٹھیك محاذی نہ ہو اس کی تقریب لاجرم راجع بقریب ہوگی بعید کی طرف نسبت تبعید ہے نہ کہ تقریب لاجرم ہر ایك پہلو پر وہی ثمن ثمن دور اس کا حصہ پڑے گا۔
خامسا : تمام اقوال مذکورہ میں یہ ایسا نص ہے کہ دوسری طرف راجع نہ ہوگا اور بقیہ اقوال سب اس کی طرف رجوع کر سکتے ہیں اور فائدہ مستمرہ ہے کہ توفیق ابقائے خلاف سے اولی ہے اور متحمل جانب مفسر رد کیا جاتا ہے قول سوم و چہارم کا یہی محصل ہوناتو ہم اوپر بیان کرچکے ہیں اور قول اول میں عبارت منیہ قبلۃ اھل المشرق والمغرب عندنا ہمارے نزدیك اہل مشرق و اہل مغرب کا قبلہ ت)کی شرح اما م ابن امیر الحاج نے اسی عبار ت ذخیرہ عن نظم الزندویسی سے فرمائی جس میں تقسیم رباعی مذکور قول دوم میں وجہ سے جبہہ مراد لینا چاہیئے کہ موضع سجود ہونے کے سبب اشرف اجزائے وجہ ہے اوپر گزرا کہ وجہ کو مطلق چھوڑ یں ۔
حوالہ / References صحیح البخاری باب لاتستقبل القبلۃ بغائط الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۶، سنن ابو داؤد باب کراہیۃ استقبال القبلۃ الخ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۳
منیۃ المصلی شرط الرابع استقبال القبلۃ مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامع نظامیہ لاہور ص۱۸۵
#4059 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
تو جہتیں یمین و شمال بھی داخل استقبال ہو جاتی ہیں کہ کان کے نزدیك کنپٹیوں کی جہت یقینا جہت چپ و راست ہے دوشخص کہ برابرایك سمت کو جارہے ہوں کوئی نہ کہے گا کہ ان میں ایك کا منہ دوسرے کی طرف ہے۔ غرض کعبے کو اپنی داہنی یا بائیں کنپٹی پر لینا لغۃ عرفا شرعا کسی طرح استقبال ہیں۔
سادسا : یہ تو قطعا معلوم کہ قول اول دوم اور ایك توہم پر سوم کا جو ا رسال و اطلاق ہے ہر گز مرادنہیں ہو سکتا اب اگر تقیید میں اسی تربیع جہات کی طرف رجوع کیجئے تو عین مطلوب ہے ورنہ بیچ میں کوئی حدفاصل معین و مرجح للاعتبارنہیں اور ترجیح بلا مرج باطل توحد نہ بندھ سکے گی کہ یہاں تك انحراف رو اء اور اس کے بعد فساد تو یہی قول اضبط القوال ہے تو اسی طرف رجوع بلکہ ان سب کا بھی ارجاع مناسب۔
سابعا : اس میں وسعت جہت ان سب سے تنگ تر تو یہی احوط ہے کہ جہاں تك اس کا مفا دہے وہ تمام اقوال مذکورہ پر یقینا جہت قبلہ ہے اور جو اس کے مفاد سے باہر وہ مختلف فیہ و مشکوك و نا منضبط ہے تو احد متفق و ترك شبہ و اختلاف ہی مناسب لا جرم اسلامی علمائے ہیئیات نے بھی شرع سے اخذ کرکے جہت قبلہ کے لئے یہی ضابطہ باندھا فتاوی خیریہ کے ایك سوال میں ہے :
من القواعد الفلکیۃ اذکان الانحراف عن مقتضی الادلۃ اکثرمن خمس و اربعین درجۃ یمنۃ اویسرۃ یکون ذلك الانحراف خارجاعن الربع الذی فیہ مکۃ المشرفۃ من غیراشکال علی ان لاجھات بالنسبۃ الی المصلی اربعۃ ۔
فلکی قواعدمیں ہے کہ جب دلائل کے مقتضی سے انحراف ۴۵ درجہ سے زیادہ دائیں یا بائیں ہو جائے تو نمازی کےلئے مسلمہ چار جہت میں سے وہ ایك چوتھائی جہت جس میں مکہ مکرمہ واقع ہے بغیر کسی اشکال کے یہ انحراف اس سے خارج قرار پائے گا۔ (ت)
اقول : اوریہیں سے ظاہر ہوا کہ یہ قول امام زندویسی ہر گز ایسی وسعت نہیں رکھتا کہ اسے قول دوم سے مقید کیجئے بلکہ وہی اتنا وسیع ہے کہ اسے اس سے مقید کرنا چاہیئے۔
فما وقع من الامام الحلبی فی حلیۃ مماقدمنا نقلہ لیس فی موضعہ وھذاتمام انجاز ما وعندناك فی القوالاول۔
پس امام حلبی کا وہ کلام جو حلیہ میں واقع ہے جس کو ہم پہلے نقل کرچکے ہیں وہ مناسب محل نہیں ہے قول اول میں جو ہم نے وعدہ کیا تھا یہ اسکی تکمیل ہے(ت)
رہی حدیث مرفوع
مابین المشرق والمغرب قبلہ
(مشرق اور مغرب کے درمیان قبلہ ہے۔ ت)
حوالہ / References فتاوٰی خیریہ کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۹
جامع الترمذی باب ماجاء ان بین المشرق و المغرب قبلۃ مطبوعہ امین کمپنی دہلی ۱ / ۴۶
#4060 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
اور اس کے مثل ارشادات امیر المؤمنین فاروق اعظم و عبداﷲ بن عمروغیرہما صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم
اقول : اس کا یہ مفاد ہونا ہر گز مسلم نہیں نہ ممکن التسلیم کہ شرق سے غرب تك نصف دور میں قبلہ پھیلا ہوا ہے ورنہ لازم کہ نصف دیگر میں استدبار پھیلے کہ استقبال و استدبار دو جہت مقابل ہیں سارا دائرہ انہی دو جہتوں نے گھیر لیا اب ارشاد اقدس ولکن شرقوا او غربوا ( لیکن پورب اور پچھم کی طرف منہ کرو۔ ت) کا کیا محل رہے گا مگر یہ کہیں کہ خاص نقطتین مشرق و مغرب مستثنی ہیں تو لازم ہو گا کہ ہر شخص جو پیشاب کو بیٹھے یا پاخانے کو جائے صحیح آلات معرفت نقاط ساتھ لیتا جائے حالانکہ آلات بھی حقیقی تعیین نقاط سے قاصر ہیں اگر کہیے عرفا جہاں تك جہت مشرق و مغرب پھیلے گی وہ سب مستثنی ہے فان بین اذااضیف الی غیر الاعداد لم یدخل فیہ الغایتان کما فی الفتح (لفظ “ بین “ جب غیر عدد کی طرف مضاف ہو تو ابتداء اور انتہا دونوں غایتیں اس میں داخل نہ ہوں گی جیسا کہ فتح میں ہے۔ ت)
اقول : اب ٹھکانے سے آگئے عرف میں جہتیں چارہی سمجھی جاتی ہیں اور جو ایك سے قریب ہے وہ وہ اسی کی طرف منسوب ہوتا ہے تو اس نصف دور کے ۸۰ ۱درجے سے ۴۵-۴۵ درجے کہ مشرق و مغرب سے قریب ہیں ان کے حصے میں رہ کر مستثنی ہوں گے بیچ کے ۹۰ درجے جن کی وسط میں کعبہ واقع ہے جہت قبلہ رہیں گے وھوالمطلوب(اور یہی مطلوب ہے ۔ ت) معہذا ایك جماعت علماء نے یہاں بین بمعنی وسط لیا یعنی مشر ق و مغرب کے اندر جو قوس جنوبی ہے اس کے وسط و منتصف کی طرف قبلہ مدینہ سکینہ ہے۔
اقول : اور اس کے مؤید قول مذکور عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما ہے کہ جب تو مغرب کو اپنے دہنے بازو اور مشرق کو بائیں بازو پر لے تو اس وقت تیرا منہ قبلے کو ہے
وکانہ رضی اﷲ عنہ لذازاد قولہ اذا استقبلت بعد قولہ فما بینھما قبلۃ لکون ھذا محتملا لخلاف المراد ھذا و حملہ الامام الاجل عبداﷲ بن المبارك علی ان ھذا لاھل المشرق وکذاقال الشیخ البغوی فی المعالم انہ صلی اﷲ علیہ وسلم اراد بقولہ بابین المشرق والمغرب قبلۃ فی حق اھل المشرق اھ ولا ادری ماالحامل
ہو سکتا ہے کہ عبداﷲ بن عمر نے اپنے قول “ فما بینھما قبلۃ “ کے بعد “ اذا استقبلت “ کا لفظ اسی لئے بڑھایا ہو کہ فما بینھما قبلۃمیں اس سے مراد کے خلاف کا احتمال تھا۔ امام عبداﷲ بن مبارك نے مابین المشر والمغرب والی حدیث کو اہل مشرق کے لئے قرار دیا ہے۔ امام بغوی نے اس کو یوں بیان کیا اور معالم میں فرمایا کہ حضور نے اپنا قول “ مشرق و مغرب کے درمیان قبلہ ہےــ “ اہل مشرق کے حق میں فرمایا اھ مجھے معلوم نہیں کہ ان حضرات
حوالہ / References تفسیر البغوی المعروف معالم التنزیل مع الخازن زیر آیۃ وما انت بتابع مطبعہ مصطفٰی البابی مصر ۱ / ۱۲۲
#4061 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
ذلك بل الاظھر کما افادالامام الحلبی فی الحلیۃ وعلی القاری فی المرقاۃ ان المراد لاھل المدینۃ وما وافق قبلتھا۔
اقول : ومعلوم ان المدینۃ السکینۃ علی شمالیتھا من مکۃ المکرمۃ مائلۃ قلیلا الی المغرب دون المشرق ثم ان البغوی فی التفسیر والرازی فی الکبیروالمناوی فی التیسیر حملوا المشرق علی اقصریوم فی الشتاء قال فی المناوی وھو مطلع قلب العقرب ۔
اقول : ولا یستقیم الابفرق عدۃ درج ولا فی زمانہ اذکان اذذاك بعد القلب عــــہ الہصــہ لو جنوبیا والمغرب علی مغرب اطول یوم فی الصیف قال
نے یہ کیوں فرمایا________ جبکہ زیادہ ظاہر وہ معنی ہے جس کا افادہ امام حلبی نے حلیہ میں اور ملا علی قاری نے مرقات میں فرمایا کہ اس سے مدینہ منورہ اور اسکے اردگرد والوں کا قبلہ مراد ہے۔
اقول : ( میں کہتا ہوں ) مدینہ منورہ کا مکہ مکرمہ سے شمال میں تھوڑا سا مغرب کی طرف مائل ہونا واضح طور معلوم ہے نہ کہ مشرق کی طرف پھر امام بغوی نے اپنی تفسیر امام رازی نے تفسیر کبیر میں اور امام مناوی نے التیسیر میں مشرق سے مراد سردیوں میں سب سے چھوٹے دن کا مطلع مراد کیا ہے امام مناوی نے یوں فرمایا کہ وہ عقرب کے قلب کا مطلع ہے۔ (ت)
اقول : (میں کہتا ہوں )یہ بیان چند درجوں کے فرق بغیر درست نہیں ہو سکتا اور نہ ہی ان کے زمانے میں یہ درست تھا کیونکہ اس وقت قلب کا بعد الہ صہ لو جنوبی تھا اور ان حضرات نے مغرب کو گرمیوں
عــــہ طول القلب فی زمان المناوی ح صہ ہ تقریبا فالبعد عن الاعتدال الاقرب سہصہ جیبہ فی اللوغارثمیات ۹۵۷۲۷۵۷ء۹x ظل المیل الکلی ذاك الح الط تقریبا ۶۳۷۹۵۶۳ء۹=۵۹۵۲۳۲۰ ء۹ قوسہ کا الط ل ھوالمیل الثانی للقلب ثم بعد درجۃ القلب عن الانقلاب الاقرب الہ جیبہ ۶۲۵۹۴۸۳ء۹+جیب المیل الکلی الح الط ۶۰۰۴۰۹۰ء۹ =۲۶۳۵۷۳ء۹ قوسہ ط صہ مامح المیل الکلی
علامہ منادی کے زمانہ میں طول القلب تقریبا ح صہ تھا تو اعتدال اقرب سے اس کا بعد سہصہ جس کا جیب لوگارثم ۹۵۷۲۷۵۷ئ۹x اس کے میل کلی کا ظل الح الط تقریبا ۹۵۶۳ ۶۳۷ئ۹ = ۵۹۵۲۳۲۰ئ۹ ہوگا اس کے قوس کا الط ل ہوگا جو کہ قلب کے لئے میل ثانی ہے پھر انقلاب اقرب سے قلب کے درجہ بعد الہ ہوگا جس کا جیب ۶۲۵۹۴۸۳ئ۹+ میل کلی کا جیب
حوالہ / References التیر شرح الجامع الصغیر حدیث مابین المشرف الح کے تحت مکتبہ امام شافعی الریاض ۲ / ۳۴۵
#4062 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
وھو مغرب السما الرامح
اقول : ھذا ابعد وابعد فان عـــہ بعد السماك اذاذاك لوصہ ك شمالیا
کے طویل ترین دن کا مغرب قرار دیا اور امام منادی نے فرمایا کہ وہ “ سماك رامح “ کا مغرب ہے(ت)
اقول : (میں کہتا ہوں ) یہ بات بہت بعید ہے کیونکہ اس وقت “ سماک “ کا بعد لو صہ ك
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الح الط ۶۰۰۴۰۹۰ء۹=۲۶۳۵۷۳ء۹ طصہ مامح ھو المکیلالمنکوس لہ وعرضہ ءصہ ل کمیلہ الثانی جنوبی فمجموعہما الہ صہ نط ل حصۃ البعد جیبہ ۶۴۱۷۱۲۴ء۹ +جیب تمام المیل المنکوس ۹۹۳۷۵۲۴ء۹= ۶۳۵۴۶۴۸ء۹ قوسہ الہ صہ لو بعد القلب ای میلہ الاول و معلوم ان المیل الاعظم کان اصغرمنہ باکثر من درجتین فکیف یتساوی سعتامشرقھما ۱۲منہ(م)
عـــہ طول السماك اذذاك ونط تقریبا بعدہ عن الاعتدال الاقرب نط جیبہ ۵۱۲۶۴۱۹ء۹+ظل المیل الاعظم= ۱۵۰۵۹۸۲ء۹قوسہ ح صہ ح ھومیلہ الثانی وبعد درجتہ عن راس الجدی عا صہ جیبہ ا۹۷۵۶۷۰ء۹ جیب المیل الاعظم+ ۵۷۶۰۷۹۱ء۹ قوسہ ال ح میلہ المنکوس وعرضہ لا صہ لح شمالیا+ح صہح= لط مو حصۃ البعد جیبہ ۸۰۵۹۵۱۰ء۹+جیب سرنب صہ۹۶۶۷۵۶۲ ء۹= ۷۷۲۷۰۷۲ء ۹ قوسہ لو صہ ك بعد السماک۱۲منہ (م) الح
الط ۶۰۰۴۰۹۰ء۹=۲۶۳۵۷۳ئ۹ہوگا اور اس کا قوس طصہ مامح ہوگا یہی اس کا منکوس میل کلی ہوگا جس کا عرض ء صہ ل ہوگا جواسکے جنوبی میل ثانی جیسا ہوگا پس ان کا مجموعہ الہ صہ الط ل جو بعد کا حصہ ہوگا اس کا جیب ۶۴۱۷۱۲۴ء۹+میل منکوس کے کل کا جیب ۹۹۳۷۵۲۴ء۹=۶۳۵۴۶۴۸ء۹ ہوگا جس کا قوس الہ صہ لو بعد قلب یعنی اسکا میل اول ہوگا اور یہ بات معلوم ہے کہ میل اعظم اس سے دو درجے کم ہوگا تو اس سے دونوں مشرقوں کی وسعت کیسے مساوی ہوگی۱۲منہ (ت)
سماك کا طول اس وقت ونط تقریبا ہو تو اس کا اعتدال اقرب سے بعد نط ہوگا جس کا جیب ۵۱۲۶۴۱۹ء۹+ظلمیل اعظم =۱۵۰۵۹۸۲ء۹ ہوگا جس کا قوس ح صہ جو اس کا میل ثانی ہوگا اور ر اس جدی سے اسکے درجے کا بعد عاصہ جس کا جیب = ۹۷۵۶۷۰۱ء۹ +میل اعظم کا جیب ۵۷۶۰۷۹۱ء۹ہوگا جس کا قوس ال ح اسکا میل منکوس ہو گا اور اسکا شمالی عرض لا صہ لح +ح صہ ح =لط مو بعد کا حصہ ہوگا جس کا جیب سرنب صہ ۹۶۶۷۵۶۲ء ۹=۷۷۲۷۰۷۲ئ۹ہوگا جس کا قوس لو صہ ك سماك کا بعد ہوگا ۱۲منہ (ت)
#4063 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
زائدا علی المیل الکلی بنحو درجۃ قال البغوی فمن جعل مغرب الصیف فی ھذاالوقت علی یمینہ و مشرق الشتاء علی یسارہ کان وجھہ الی القبلۃ اھ قال الرازی وذلك لان المشرق الشتوی جنوبی متباعد عن خط الاستواء بقدرالمیل والمغرب الصیفی شمالی متباعد عن خط الاستواء بمقدارالمیل والذی بینھما ھو سمت مکۃ اھ
اقول : ولا ادری کیف یحمل المطلقان علی ھذین المقیدین وای قرینۃ علیہ بل وای حاجۃ الیہ فان الظاہر من الاطلاق ارادۃمغرب الاعتدال ومشرقہ ولاشك ان بینھما قبلۃ المدینۃ السکینۃ ومایلیھا بل ان ارید زیادۃ التقریب کان العکس اولی وھواخذ مغرب الجدی و مشرق السرطان لان قبلۃ المدینۃ الکریمۃ علی جنوبیتھا میلا ماعن نقطۃ الجنوب الی الشرق بعدۃ درج۔
ثم اقول : فی قول الامام الرازی متباعد عن خط الاستواء شمالی تھا اور یہ بعد “ میل کلی “ سے تقریبا ۱۳ درجے زائد تھا۔ امام بغوی نے فرمایا : جس نے اس وقت گرمیوں کے مغرب کو اپنی دائیں طرف اور سردیوں کے مشرق کو اپنی بائیں طرف کیا تو اس شخص کا منہ قبلہ کی طرف ہو گا اھ اور امام رازی نے فرمایا یہ اس لئے ہے کہ سردیوں کا مشرق جنوبی ہوتاہے اور خط استواء سے میل کی مقدار دور ہوتا ہے اور اگر گرمیوں کا مغرب شمالی ہوتا ہے اور خط استواء سے میل کی مقدار دور ہوتا ہے اور جوان دونوں کے درمیان ہے وہ سمت مکہ ہے اھ(ت)
اقول : (میں کہتا ہوں ) معلوم نہیں مطلق مشرق و مغرب کو کیونکر مقید کر دیا گیا ہے اور اس پر قرینہ کیا ہے بلکہ اس کی ضرورت ہی کیا ہے کیونکہ مشرق و مغرب سے اعتدال کا مشرق و مغرب علی الاطلاق مراد ہے۔ اور یقینا ان دونوں کے درمیان مدینہ منورہ اور اسکے ارد گرد کا قبلہ ہے بلکہ (عین قبلہ کی بجائے) صرف تقریبی سمت مراد ہو تو پھر اس بیان کا عکس بہتر ہے وہ یہ کہ “ الجدی “ کا مغرب او ر “ السرطان “ کا مشرق لیا جائے کیونکہ مدینہ منورہ کا قبلہ اس سے جنوب میں تھوڑا سا نقطہ جنوب سے مشرق کی طرف چند درجے ہٹ کر ہے ۔ (ت) ثم اقول : کہ امام رازی کے قول “ کہ گرمیوں کا مغرب اور سردیوں کا مشرق خط استواء سے
حوالہ / References تفسیر البغوی المعروف بمعالم التنزیل مع الخازن زیر آیت و ماانت بتابع مطبوعہ مصطفے البابی مصر ۱ / ۱۲۲
التفسیر الکبیر زیرآیت فولّ وجھك الخ مطبوعہ المطبعۃ البیہۃ المصریۃ مصر ۴ / ۲۲۲
#4064 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
بمقدارالمیل تسامحاظاہرا فان ذلك انما ھوفی الافق المستوی اما فی غیرہ فسعۃ المشرق والمغرب لراسی الجدی والسرطان اکبر دائمامن المیل الکلی کیف وھی وتر القائمۃ من مثلث کروی یحدث من قوس المعدل بین الافق والمیلیۃ وقوس من المیلیۃ واخری من الافق کلتاھما بین المعدل والجزئ وزاویتاہ الباقیتان حاتان اماکون ھذہ قائمۃ فلا نھا من میلیۃ وقعت علی المعدل واماحدۃ البواقی فلان وتر القائمۃ وھی السعۃ والمیل کلاھما اقل من الربع واحدی الزاویا غیرحادۃ فتمت شرائط امن اولی اکرو جب ا عظیمۃ وترالعظمی بالسابع منھا وھی السعۃ فھی اعظم من المیل الاعظم ومن قوس المعدل الباقیۃ ایضاامافی افق المستوی فتنطبق المیلیۃ علی الافق فلامثلث ولم یکن بین الجزء ونقطۃ الاعتدال حینئذ الامیلہ وذلك مااردناہ واﷲ تعالی اعلم۔
میل کی مقدار دور ہوتا ہے میں کھلا تسامح ہے کیونکہ یہ مستوی افق میں ہے لیکن اسکے غیر میں مشرق و مغرب کی وسعت راس جدی اور راس سرطان پر ہمیشہ میل کلی سے بڑی ہوتی ہے ان کا قول کیسے صحیح ہو سکتا ہے جبکہ یہ وسعت مثلث کروی کے قائمہ کا وتر ہے اور یہ مثلث کروی افق اور میلیۃ کے درمیان معدل کے قوس اور میلیۃ کے قو س اور ایك دوسرے جوکہ افق کا قوس ہے سے پیدا ہوئی ۔ یہ دونوں معدل اور جزء کے درمیان ہیں اس کے باقی دونوں زاویے حادہ ہیں اس کا قائمہ ہونا تو اس لئے ہے کہ یہ میلیۃسے معدل پر گری ہے اور دوسرے زاویوں کا حادہ ہونا اس لئے ہے کہ قائمہ کا وتر جو کہ وسعت اور میل ہے یہ دونوں چوتھائی سے کم ہیں اور ایك زاویہ جوکہ غیر حادہ ہے تو اس طرح کروں میں سے پہلے کی “ ا “ کے شرائط مکمل ہوگئے تو اب ان کے ساتویں کی وجہ سے وتر عظمی کی بڑھانی ضروری ہوگئی اور یہ وہی وسعت ہے تو یہ میل اعظم سے اور باقی معدل کے قوس سے بھی بڑی ہے مستوی کے افق میں میلیۃ افق پر منطبق ہوجاتی ہے اس لئے وہاں مثلث نہیں ہے اور جزء اور نقطہ اعتدال کے درمیان اب صرف اس کا میل ہے اور یہی ہماری مراد ہے اﷲتعالی بہتر جانتا ہے۔ (ت)
تذییل کتب مذہب میں یہ پانچ عبارتیں ہیں کہ افادہ حکم عام کرتی ہیں اور یہاں ایك عبارت اور ہے جسے بعض کتب میں صورۃ بطور عموم ظاہر کیا اور حقیقۃ اصلاصالح عموم نہیں بلکہ انھیں علامات خاصہ سے ہے جو بلاد مخصوصہ کے لئے اقوال فقیہ ابو جعفر وغیرہ مشائخ سے گزریں وہ یہ کہ بین المغربین قبلہ ہے یعنی گرمیوں میں سب سے بڑے دن مثلا ۲۲جون اور جاڑوں میں سب سے چھوٹے دن مثلا ۲۱دسمبر میں آفتاب جہاں ڈوبے ان
#4065 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
دونوں موضع غروب کے اندر سمت قبلہ ہے۔ ردالمحتار میں بحوالہ شرح زادالفقیر للعلامۃالغزی بعض کتب معتمدہ سے شرح الخلاصہ للعلامۃ القہستانی میں ہے :
ینظر مغرب الصیف فی اطول ایامہ ومغرب الشتاء فی اقصرایامہ فلیدع الثلثین فی الجانب الایمن والثلث فی الایسرو القبلۃ عند ذلك ولولم یفعل ھکذا وصلی فیما بین المغربین یجوز ۔
گرمیوں کے طویل ترین دن کے مغرب اور سردیوں کے چھوٹے دن کے مغرب کو ملحوظ رکھ کر دائیں جانب ۳۰ اور بائیں جانب ۳ درجے چھوڑے تو یہ نمازی کا قبلہ ہوگا اور اگر وہ یہ احتیاط نہ کرے اور دونوں مغرب کے درمیان سیدھا نماز پڑھ لے تو نماز جائز ہوگی۔ (ت)
حلیہ میں ملتقط و تجنیس ملتقط سے ہے :
وقال ابومنصورینظر الی اقصر یوم اطول یوم فیعرف مغربیھما ثم یترك الثلثین عن یمینہ قال صاحب الملتقط ھذا استحباب والاول للجواز اھ وھذاماوعدناك صدرالکلام فی الایراد الخامس۔
اور ابو منصور نے کہا سب سے چھوٹے اور سب سے بڑے دن کے مغرب کو معلوم کرکے پھر ۳۰ درجے دائیں طرف چھوڑے۔ صاحب ملتقط نے کہا کہ پہلا بیان جواز کے لئے اور یہ دوسرا استحباب ہے اھ اور یہی صدر کلام میں پانچویں اعتراض میں ہمارا وعدہ تھا۔ (ت)
ظاہر ہے کہ جو بلاد مکہ معظمہ سے خاص جنوب یا شمال کو ہیں یہ بیان ان سے تو اصلا متعلق نہیں ہوسکتا آخر نہ دیکھا کہ قبلہ مدینہ سکینہ قبلہ قطعیہ یقینیہ ہے بین المغربین درکنار خد جمیع جہت مغرب سے بہت بعید ہے اور بلاد شرقیہ و غربیہ کو بھی عام نہیں ہوسکتی آخر نہ دیکھا کہ ابھی بحث چہارم مکالمہ علامہ شامی میں جو شہر مکہ معظمہ سے پانچ درجے طول مشرقی زائد خاص خط استواء پر لیا اس کا قبلہ بین المغربین سے چون درجے شمال کو ہٹا ہوا ہے
لان السعۃ العظمی فی الافق المستوی الح صہ الر و قدکان انحراف قبلۃ عن نقطۃ المغرب عرصہ الح۔
کیونکہ مستوی افق میں بڑی وسعت الح الر صہ ہے جبکہ نقطہ مغرب سے قبلہ کا انحراف عر صہ الح تھا۔ (ت)
تو قبلہ تقریبی ۹۹نناوے درجے مغربین سے باہر ہوگا جو ربع دور سے بھی زیادہ ہے۔ لاجرم امالی الفتاوی میں اس قول کو اپنے بلاد سمرقند وغیرہ سے خاص کیا منیہ میں ہے۔
حوالہ / References ردالمحتار مبحث فی استقبال القبلۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۸۸
التعلیق المجلی لما فی منیۃ المصلی مع منیۃ المصلی بحوالہ حلیہ الشرط الرابع مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۱۸۶
#4540 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
ذکر فی امالی الفتاوی حدالقبلۃ فی بلادنا یعنی فی سمرقند ما بین المغربین المغربین مغرب الشتاء ومغرب الصیف
امالی الفتاوی میں ذکر کیا گیا ہے کہ ہمارے سمرقند کے علاقہ میں قبلہ کی حد گرمیوں اور سردیوں کے دونوں مغربوں کے درمیان ہے۔ (ت)
انھیں بلاد شرقیہ سے ہرات ہے علامہ برجندی فرماتے ہیں : ہم نے اسکا قبلہ تحقیق کیا بین المغربین سے باہر جنوب کو ہٹاہوا پایا۔ اور اسی کے مطابق امام عبداﷲ بن مبارك مروزی وامام ابومطیع بلخی کا ارشاد آیا شرح نقایہ میں ہے :
نحن قد حققنا بتلك القواعد قبلۃ ھراۃ فظھر لناانہ یقع عن یسار مغرب اقصر ایام السنۃ حیث یغرب کواکب العقرب وھوالموافق لماذکرہ عبداﷲ بن المبارك وابومطیع فما وقع فی تجنیس الملتقط انہ لوصلی الی جھۃ خرجت ممابین مغرب الصیف ومغرب الشتاء فسدت صلاتہ انما یصح فی بعض البقاع (ملخصا )۔
ہم نے ان قواعد سے ہرات کے قبلہ کی سمت تحقیق کی ہے تو ہمیں معلوم ہوا کہ سال کے چھوٹے دن کے مغرب سے بائیں جانب جہاں عقرب کے ستارے غروب ہوتے ہیں یہاں کا قبلہ ہے عبداﷲ بن مبارك اور ابو مطیع کے بیان کے یہی مطابق ہے اور جوتجنیس الملتقط میں ہے کہ اگر نمازی نے گرمیوں کے مغرب اور سردیوں کے مغرب سے خارج کسی جہت میں نماز پڑھی تو اسکی نماز فاسد ہوگی تو یہ بات بعض علاقوں میں درست ہوسکتی ہے ملحضا(ت)
اقول : حقیقت امر یہ ہے کہ معظم معمورہ میں اکثر بلاد شرقیہ کا قبلہ تحقیقی مغرب سرطان سے مغرب جدی تك ہے اوربہ نسبت درجات ادراك مغربین ہر شخص پر آسان اور ان بلادکثیرہ میں اگر چہ جہت قبلہ مغربین سے باہر تك ممتد مگر امر محدود سہل الادراك کی تعیین جو حدود قبلہ کے اندر داخل ہے مضائقہ نہیں رکھتی بلکہ بارہا اس میں زیادہ تقریب ہے جس سے سہولت و قرب بحقیقت دونوں منافع حاصل لہذا علماء نے ان بلاد میں عامہ کو مابین المغربین کی تحدید بتائی اس کے معنی یہ نہ تھے کہ اس سے باہر جہت اصلا نہیں اور مغربین سے تجاوز ہوتے ہی نماز فاسد ہو مگر شرح خلاصہ قہستانی اور شرح زادالفقیر میں بحوالہ بعض کتب معتمدہ کہ شاید وہی شرح خلاصہ ہو کہ وہ تمام عبارت بعینہا فقیر نے اس میں پائی بعد عبارت مذکور ہے : واذاوقع توجھہ خار جا منھا لایجوز بالاتفاق (اگر اس کی
حوالہ / References منیۃ المصلی الشرط الرابع استقبال القبلہ مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص ۱۸۵
شرح النقایۃ للبرجندی باب شروط الصلوٰۃ مطبوعہ منشی نولکشور بالسرور لکھنؤ ۱ / ۸۹
ردالمحتار ، باب شروط الصلوٰۃ مبحث فی استقبال القبلۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۲۸۸
#4541 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
توجہ اسی جگہ سے خارج ہوجائے تو اسکی نماز بالاتفاق جائز نہ ہوگی۔ ت)دونوں کتابوں میں یہ عبارت بلفظ منھا بضمیر مونث ہے نہ منھما بضمیر تثنیہ کہ جانب مغربین راجع ہو اور شك نہیں کہ جہت سے خروج مفسد صلوۃ ہے اور لفظ بالاتفاق اس معنی پر صریح دال کہ خروج عن الجہتہ ہی کا مفسد ہونا متفق علیہ ہے نہ کہ یہ تحدید خاص جو اقوال خمسہ مذکورہ ائمہ مشہورہ دوراہ فی کتب المذہب سب کے خلاف ہے لیکن منیہ میں امالی سے یوں ہے :
فان صلی الی جھۃ خرجت من المغربین فسدت صلاتہ ۔
اگر نمازی نے کسی ایسی جہت میں نماز پڑھی جو مغربین سے خارج ہو تو اس کی نماز فاسد ہو گی۔ (ت)
اور تجنیس الملتقط کی نقل گزری علامہ برجندی کا ارشاد سن چکے کہ انھوں نے ہراۃ کے لیے یہ حکم نہ مانا بلکہ اس کا تحقیقی مغربین سے باہر ہے اور اس حکم کو صرف بعض مقامات سے مخصوص کہا اقول : بلکہ اصلا کہیں صادق نہ آئے گا سوا گنتی کے دوچار نادر مقاموں کے جو شاید آباد بھی نہ ہوں بلکہ غالبا سمندر میں پڑیں جن کا قبلہ نقطہ اعتدال ہو اور عرض تقریبا چھپن۵۶ درجے کہ ان کی سعۃ المغرب ۴۵ درجے ہوگی ورنہ اگر عرض اس سے کم ہوا تو سعۃ المغرب ۴۵ درجے سے کم ہوگی اور باجماع اقوال خمسہ بین المغربین سے کم و بیش خروج روا ہوگا اور اگر قبلہ اعتدال سے ہٹاہوا ہے تو ضرور احدالسعتین کی طرف جھکے گا تو جس سے جتنا قریب ہے اس سے اسی قدر باہر جانا بھی روا ہوگا اور جس سے بعید ہے اس کے اندر بھی بعض انحراف مفسد نماز ہوگا کمالا یخفی (جیسا کہ ظاہر ہے۔ ت)پھر یہ بھی زیادہ بین الفساد پھر تمام دنیا چھوڑ کر گنتی کے چند مواضع کا حکم لینا اور اسے صورت عام میں بیان کرنا کیونکر روبصحت ہوگا خصوصا وہ مواضع بھی اتنے دور دراز عرض کے جو اگرآباد بھی ثابت ہوں تو شك نہیں کہ اس زمانے میں معمورہ سے باہر سمجھے جاتے اور خارج الاقالیم کہلاتے تھے کہ ان کی تقسیم میں ساتوں اقلی میں ۵۰۰۲۰ تك ختم ہو گئیں ۔ ہماری اس تقریر سے متفطن نکال سکتا ہے کہ اس قول پر کتنے نقض وارد ہیں ۔
اولا عرب و عجم و ہند وسندھ غرض ایشیا افریقہ کے عام شہر بلکہ تمام ہفت اقلیم میں کہیں سعتہ المغرب ۴۵درجے نہیں اور اوپر واضح ہوچکا کہ یہاں تك انحراف باجماع جمیع اقوال مذکورہ روا ہے کہ یہی سب سے تنگ تر قول ہے تو عامہ معمورہ کے جملہ بلاد جن کا قبلہ نقطہ مشرق یا مغرب ہو باتفاق اقوال مزبورہ ان میں مابین المغربین سے بھی انحراف روا ہوگا اور تمام نماز فاسد نہیں ہوسکتی جب تك ۴۵درجے سے زائد نہ ہو۔
ثانیا وہ بلاد کم ہیں جن کا قبلہ خاص نقطہ اعتدال ہو اکثر میں کم یا زیادہ انحراف ہے اب تین حال سے خالی نہیں یا تو انحراف اعنی تمامہ ای من نقطہ الاعتدال الی الجنوب اوشمال(میری مراد
حوالہ / References منیۃ المصلی الشرط الرابع استقبال القبلۃ مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص ۱۸۵
#4542 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
اس کا تمام ہے یعنی نقطہ اعتدال سے جنوب وشمال کی طرف۔ ت) سعۃ المغرب سے کم ہوگایا برابر یا زائد بر تقدیر اول جس سمت انحراف ہے ادھر کی سعۃ المغرب سے اور بھی باہر جانا روا ہوگا مثلا ۳۴درجے سعت ہے اگر انحراف نہ ہوتا تو اس سے ۲۱ درجے خروج جائز ہوتا اب فرض کیجئے ۳۰درجے انحراف ہے یہ تو بین المشرقین ۴۱درجے عدول صحیح ہوگا۔
ثالثاجس سمت سے انحراف ہو اگر انحراف وسعت کا مجموعہ ۴۵ درجے سے زائد ہے تو بین المغربین ہی وہ جگہ پائی جائے گی جب تك انحراف مفسد نماز ہے حالانکہ اس قول پر جواز ہوگا۔
رابعا فرض کیجئے ۲۰ درجے جانب جنوب انحراف ہے اور وسعت ۲۴ تو اس قول پر قبلہ تحقیقی سے جنوب کو صرف چار درجے انحراف جائز ہوگا کہ بین المغربین سے خروج نہ ہو اور شمال کو ۴۴ درجے تك انحراف روا ہوگا یہ بدیہی البطلان اور بالاجماع غلط ہے قبلہ حقیقی سے جس قدر ایك طرف پھرنے میں مواجہہ نہیں جاتا واجب کہ دوسری طرف بھی اس قدر میں زوال نہ ہو کہ چہرہ انسان کے دونوں رخ یکساں ہیں یہ چار چوالیس کا تفرقہ کدھر سے آیا۔
خامسا و سادسا برتقدیر ثانی استحالے ظاہر تر ہیں فرض کیجئے سعت و انحراف جنوب دونوں رخ یکساں ہیں (اور یہ کوئی فرض ناواقعی نہیں ہیأت داں کو عمل تعکیس کا اجرا بتادیگا کہ فلاں فلاں مقام ایسے ہیں ) اب اس صورت میں حکم شرعی تو یہ ہے کہ بین المغربین سے جانب جنوب ۴۵درجے تك باہر جانا روا ہے اور جانب شمال سعت کے صرف تك جھك سکتا ہے نصف شمال کی طرف جھکنا مفسد نماز ہوگا اور اس قول پر اسکے برعکس حکم یہ نکلے گا کہ ایك پہلو پر تو ساٹھ ۶۰درجے تك انحراف روا اور دوسرے پہلو پر قدم بھر ہٹا اور نماز گئی کیا یہ حکم شریعت مطہرہ کا ہوسکتا ہے ہر گز نہیں ۔
سابعا تقدیرثالث تو خد استحالہ حاضرہ ہے کہ جب انحراف سعت سے زائد ہے تو جو قبلہ حقیقی چاہے واجب ہے کہ بین المغربین سے باہر جائے اس قول پر خود استقبال حقیقی مفسد نماز ہوا۔
ثامنا دنیا میں کوئی سعت سے زائد ہے طرفین کا مجموعہ ۴۶ ۵۴ہوا تو بین المغربین یقینا وہ انحراف ہے جسے قبلہ حقیقی سے ۴۵ درجے زائد اختلاف ہے تو جو فساد نماز کی صورت تھی وہ اس پر جواز کی ہوئی اور جو جواز بلکہ اعلی استحباب کی تھی وہ فساد ٹھری اس سے بڑھ کر اور کیا استحالہ ہوگا۔
تاسعا فرض کیجئے ایك شہر مکہ معظمہ سے قریب اور کثیر العرض ہے اور دوسرا بہت بعید اور قلیل العرض یا بے عرض تو قطعا اول کی سعۃ المغرب دوم سے زائد ہوگی جس کی زیادت چھیاسٹھ۶۶ درجے تك پہنچ سکتی ہے تو اس قول پر لازم کہ قریب شہر کی سمت قبلہ بہت دور والے شہر کی سمت سے ہزارہا میل زیادہ دور تك پھیلی ہو یہ عکس قضیہ معقول و منقول ہے۔
#4543 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
عاشرا ناواقف گمان کرے گا کہ اس قول میں بہ نسبت دیگر اقوال کے تضییق ہے معظم معمورہ میں سعت ۴۵ درجے سے بھی کم ہے مگر یہ خیال باطل ہے ہم ابھی ثابت کر آئے کہ اس میں قبلہ حقیقی سے ساٹھ درجے انحراف روا ٹھرتا ہے اور تنقیح کیجئے تو اس کی وسعت ظاہر قولین اولین سے کچھ کم نہیں بلکہ زائد ہے ۶۶صہ -۳۳کے عرض پر مجموع سعتین کے پورے ایك سو اسی۱۸۰ درجے ہیں۔
اقول : والبرھان علیہ تساوی المیل الکلی وتمام عرض البلد فتساوی جیوبھما وفی المثلث الکروی نسب جیوب الزاویا الی جیوب اوتارھا متسایۃ فیتساوی جیوب السعۃ والقائمۃ وبہ یظھر فی کلام المدقق الرومی فی شرح الچغمینی حیث قال سعۃ المشرق والمغرب تزید بزیادۃ العرض الی ان تبلغ قریبا من الربع مالم یبلغ العرض ربعا اھ
اقول : (میں کہتا ہوں )اس پر دلیل میل کلی اور تمام عرض بلد کا متساوی ہونا ہے تو اس طرح ان دونوں کی جیبیں بھی متساوی ہوں گی اور مثلث کروی میں جنوب زوایا کو اس کے جیوب اوتار کی طرف متساوی منسوب کیا گیا ہے تو اس طرح جیوب سعتہ وقائمہ دونوں متساوی ہوں گے اور اسی سے شرح چغمینی میں فاضل رومی کے دقیق کلام میں جو ابہام ہے واضح ہوجاتا ہے جیسا کہ انھوں نے فرمایا : سعۃ مشرق و مغرب عرض کے بڑھنے سے بڑھتی رہتی ہے یہاں تك کہ سعۃ قریب ربع کو پہنچ جائے جبکہ عرض بلد ربع کو نہ پہنچی ہو اھ(ت)
بلکہ حسم مناقشہ کے لئے ساٹھ۶۰ ہی درجے کا عرض لیجئے کہ وہاں سعت۵۲ ۴۴ہوا فرض کیجئے کہ انحراف جنوبی ۷۷ ۱۷ ہو کہ اس سے زیادہ کا انحراف ہم اوپر ثابت کر آئے ہیں اب اگر مصلی نقطہ مغرب سے ۵۲ ۴۳ شمال کو پھر کر کھڑا ہو اس قول پر نماز صحیح ہوگی کہ قبلہ بین المغربین کے اندر ہے حالانکہ قبلہ حقیقی سے پورا ایك سو تیس درجے پھرا ہوا ہے قولین اولین کے ظاہر پر تو قبلے کو کروٹ ہی ہوتی تھی یہاں اس سے بھی گزر کر پیٹھ کا حصہ ہے اور استقبال موجود بالجملہ اس پر وہ استحا لات ہائلہ وارد ہیں جن کا شمار دشوار تو یہ قول اس قول پر نقلا عقلا اصلا قابل قبول نہیں اورخد اسی قدر اس کی غرابت و نامسموعی کو بس تھا کہ تمام کتب معتمدہ کے پانچوں اقوال سے صریح مناقص ہے ہاں اس وجہ پرکہ فقیر نے تقریرکی ضرور صحیح ونجیح ہے وباﷲالتوفیق الحمدﷲ کہ جہت قبلہ کا ہی کافی وافی شافی صافی بیان اس جلالت شان و ایضاح صواب و احاطہ وتحقیق وکشف و حجاب کے ساتھ واقع ہوا کہ اس تحریر کے غیر میں نہ ملے گا ذلك من فضل اﷲ علینا وعلی الناس ولکن اکثر الناس لا یشکرون رب اوزعنی ان اشکر نعمتک
حوالہ / References شرح چغمینی الباب الثالث من المقالۃ الاول فی الدوائر مطبوعہ نو لکشور لکھنؤ ص۶۹
#4544 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
التی انعمت علی وعلی والدی وان اعمل صلحا ترضہ واجعلنی من التائبین وادخلنی برحمتك فی الصلحین امین و صلی اﷲتعالی علی سیدنا محمد والہ وصحبہ اجمعین امین۔
افادہ ثانیہ : علی گڑھ میں انقلابین کی سعت المغرب کیا ہے۔ الحمدﷲ کہ جہت قبلہ کے معنی آفتاب کی طرح واضح ہوگئے اور معلوم ہولیا کہ جب تك حدود جہت کے اندر ہے جواز و ابا حت ہے حتی الوسع اصابت عین صرف مستحب ہے اب یہ دیکھنا رہا کہ مقام ادغا متانزعہ فیہ کا انحراف ہے حدود جہت کے اندر ہے یا نہیں اس کے لئے اس ظاہری وسعت اقوال سابقہ کی تکلیف دینی درکنار قول پنجم جسے ہم محقق و منقح کرآئے اس سے بھی تنزل کریں اور اس میں بین المغربین ہی کی تحدید کو لیں کہ ہمارے بلاد میں واقعی یہی سب سے تنگ تر ہے تاکہ ناواقف فتوی دہندوں کو کوئی شکایت نہ رہ جائے اس لئے اولا علی گڑھ میں راس الجدی و راس السرطان کی سعۃ المغرب معلوم کرنی ضروری ہے

فنقول : ا ب ح ء افق علی گڑھ ہے ا ء قوس معدل ہ قطب شمالی ح راس الجدی وقت غروب ہ ح دائرہ میلیہ رح میل کلی ۲۳ ۲۷ اح سعۃ المغرب مثلث ا ر ح قائم الزاویہ میں زاویہ ا تمام عرض البلد یعنی ۶۲ ۴ ہے کہ زاویہ تقاطع معدل و افق ہمیشہ تمام عرض بلد ہو تا ہے الاتری ان قیا سھا قوس ط ح و ی سمت راس البلد فکان ی ط عرضہ و ط عرضہ و ط ح تمامہ بحکم شکل مغنی جیب میل : جیب تمام عرض : جیب اح مجہول : ع : . بلوگارثم جیب اول ۵۹۹۸۱۷۰ء۹-جیب دوم ۹۴۶۲۰۳۲ء۹ = جیب سوم ۶۵۳۶۲۳۸ء ۹ قوسہ الومو صہ ۔ معلوم ہوا کہ علی گڑھ میں راس السرطان نقطہ مغرب سے ۲۶ درجے ۴۶دقیقے شمال کو اور راس الجدی اسی قدر جنوب کو ہٹا ہوا ڈوبتاہے۔
افادہ ثالثہ : یہ عید گاہ نقطہ مغرب سے کس قدر منحرف ہے۔ اب وضوح مقصد میں صرف اتنی ہی بات کا دریافت کرنا رہا اگر ثابت ہوکہ اس کا انحراف پونے ستائیس درجے سے کم ہے تو یقینا وہ اس سب سے تنگ تر قول پربھی جہت قبلہ کی طرف ہے اوراس میں نماز مکروہ تحریمی بتانا اور اسے ڈھانا فرض ٹھرانا سب جہل وافتراء اس کے ادراك کو عید گاہ مذکور کی دیوارقبلہ کا جنوبا شمالا طول درکار تھا دریافت کئے پر تحریر آئی کہ ساڑھے بیاسی گز ہے اگر یہ پیمائش اور معترضوں کا وہ دعوی کہ دیوار محاذات قطب شمالی سے نوے فٹ جانب مغرب ہٹی ہوئی ہے صحیح ہے تو زاویہ انحراف کرنا مشکل نہیں فاقول : ء نقطہ قطب اور ا ب دیوارقبلہ بحالت موجودہ ب سے ٹھیك سمت ء پر خط ب ح غیر محدود کھینچا اور ب کو مرکز فرض کرکے ا کے بعد پر قوس ا ر ح رسم کی جس نے خط کو نقطہ ح پر قطع کیا تو ب ح اس حالت پر دیوار ہوگی جس پر معترضین اسے لانا چاہتے ہیں
image
#4545 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
وتر اح وصل کیا کہ حسب بیان معترضین ۹۰ فٹ یعنی ساٹھ۶۰ ذراع شرعی ہے اور ا ب ح ب دونوں ضلعے یعنی نصف قطر کہ ایك مرفوع ہے حسب بیان سائلان ایك سو پینسٹھ ۱۶۵ ذراع شرعی : . ۱۶۵ : : : ۶۰ : درجات وتر اح : . ۶۰x ۶۰ =۳۶۰۰ ÷۱۶۵ =۸۱۸۱۸۱۸ء۲۱ یعنی کا صہ مط ہ الر مقدار وتر کوئی اس کا نصف یصہ ند لہ مد جدول جیب میں اس قوس یصہ الط تو قوس اح یعنی زاویہ ا ب ح = ك صہ نح یعنی اس کی سمت قبلہ قطب شمالی سے دو دقیقے کم اکیس۲۱ درجے جانب غروب ہے وبوجہ اخر کہ بیان میں رسم قوس کی حاجت نہ ہو ب سے سمت ء پر خط غیر محدود کھینچا اور ب ح مساوی اب قطع کرکے اور بحکم شکل ہشتم بلکہ پنجم اور چہارم مقالہ اولی زاویہ ب کا منصف ہوا اور بحکم حدود اح پرعمود اہ حسب بیان معترضان ۳۰ ذراع شرعی ہے تو بحکم شکل نافع لو ۳۰xع= ۴۷۷۱۲۱۳ئ۱۱-لو ۱۶۵ یعنی ۲۱۷۴۸۳۹ء۲=۲۵۹۶۳۷۴ء۹ لو جیب زاویہ اب ہ یعنی ی صہ ندلہ مد ۔ قوس ی صہ الط توکل زاویہ و ہی ۲۰۵۸ ہوا اور ظاہر ہے کہ جتنا انحراف اس دیوار کو قطب شمالی جانب غرب سے ہے اتنا ہی اس کی سمت قبلہ کو نقطہ مغرب سے جانب جنوب ہوگا کہ دیوار مثلا
یہاں امیج بنانی ہے جلد ۶ ص ۱۲۶
ا ب پر اس کے سمت ح ب اور ح ب خط جنوب و شمال پر ر ب خط اعتدال عمود ہے تو ا ب ح ح ب ر قائمتین سے ا ب ر مشترك ساقط کیا ح ب ر برابر ا ب ح کے رہا پس دلائل قطعیہ سے ثابت ہوا کہ سب سے تنگ تر قول پر بھی عید گاہ مذکورہ پونے چھ درجے سے زیادہ حدود قبلہ میں داخل ہے اور قول محقق و منقح پر ۲۶ درجے سے زائد اندرون حد ہے کما سیظھر ان شاء اﷲ تعالی(جیسا کہ ان شاء اﷲ تعالی ظاہر ہو جائے گا۔ ت)یعنی شرعا جہاں تك انحراف کی اجازت ہے اس کا نصف بھی اس میں نہیں اتنا ہی انحراف اور ہوتا جب بھی سات درجے زائد میں ہی رہتی تو روشن ہوا کہ نئی روشنی والوں کے بیان و فتوے سب ظلمات جہل و اہوا ہیں والعیا باﷲ تعالی۔
افادہ رابعہ : علی گڑھ کا قبلہ تقریبی۔ کتب متداولہ ہیأت میں جو طریقہ معرفت سمت کا لکھا جسے سید المحققین علامہ سید شریف قدس سرہ الشریف نے تحقیقی گمان فرمایا اور عندالتحقیق تحقیق نہیں تقریب ہے اس طریقہ پر یہاں معرفت سمت یوں ہے
image
ہ مرکز دائرہ ہندیہ ہے افق علی گڑھ میں ا ح خط اعتدال ل ب خط جنوب و شمال ا ر آنجا کہ علیگڑھ مکہ معظمہ سے شرق شمالی ہے اور طول مکہ معظمہ صریحہ طول علیگڑھ ع ح صہ ومابین الطولین لرنوصہ عرض مکہ کا صہ الہ عرض علی گڑھ الرصہ نو مابین العرضین وحہ لا لہذا نقطتین جنوب و شمال سے نقطہ مغرب کی طرف ل ء ب ح ا بقدر لر نو وصل کیا اور نقطین مشرق و مغرب سے
حوالہ / References زیرا کہ تحویل لوگار ثم مذکور بجیب اصلی عشری ۱۸۱۸۱۸۸۲ء۰ و تحویل بہ ستینی ی صہ ند ل مد ۱۲ منہ(م)
#4546 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
نقطہ جنوب کی طرف ا م ح بقدر و لا ر ح ملایا جس نے ء ح کو ط پر قطع کیا ہ سے ط پر گزرتا خط ہ سہ کھینچا کہ سمت قبلہ ہے یعنی نقطہ مغرب سے بقدر قوس اسہ جانب جنوب پھرے تو مواجہ کعبہ معظمہ ہو مکتب ہیأت کا عمل یہاں تك تمام ہوا کہ ان کا مقصود دائرہ ہندیہ میں خط قبلہ نکالنا تھا وہ اس قدر سے حاصل۔ ظاہر ہے کہ جب ہ سہ سمت قبلہ ہوئی ہ ف اس پر عمود گرایا یہ شانہ راست کی جہت ہو گی تو عہ کی قطب شمالی ہے دہنے شانے سے جانب پشت ہی ما ئل ہوگا یا یوں س سجھیئے ہ قہ دیوار قبلہ بحالت موجودہ ہے اور قہ صہ محاذات قطب سے تفاوت کے فیٹ۔ خیر یہ تو استخراج خط تھا مگر ہم کو یہ معلوم کرناہے کہ درجوں دقیقوں میں اس انحراف کی مقدار کیا ہوئی۔ اقول ر ك یعنی بحکم توازی صرط جب تفاضل عرض ہے اس کی مقدار و صہ مح لد ط مربع مو الـــــــ ما ب الح ل - ح ی مرہ جیب تفاضل طور مقدار لو صہ نح ء مد مربع الـــــ ع مر الح لح ی والذنو مجموع مربعین الح ع الوبہ مط مح ب ر اس کا جذر لرصہ ل لط کہ بحکم عروسی مثلث قائم الزاویہ ہ صہ ط میں مقدار وترہ ط ہے اب بحکم شکل نافع ہ ط : ع : : مر ط جیب مرہ ط مجہول : . وصہ صح لد ولط÷ لہ ل الح لط منحط = یصہ نح لد لہ قوسہ ی الح یعنی دس۱۰ درجے اٹھائیس دقیقے جانب جنوب پھرنا چاہے و باللو غار ثمیات خط مرہ یعنی فرق طول ۳۷۵۶کی جیب لوگاثمی ۷۸۸۶۹۴۴ء۹ : . لو مربع ۵۷۷۳۸۸۸ء۹ یعنی ۵۷۷۳۸۸۸ء۹ءt : . مربع ۳۷۷۹۱۳۳ء خط د ط یعنی فرق عرض ۱۶ ۳کی جیب لوگارثمی۰۵۴۹۶۶۱ء۹ : . لو مربع ۱۰۹۹۳۳۲۲ء ۸یعنی ۱۰۹۹۳۲۲ء۲ : . مربع ۰۱۲۸۸۰۵ء مجموع مربعین ۳۹۰۷۹۳۸ء لوگارثم ۵۹۱۹۴۷۶ءtلوجذر ۷۹۵۹۷۳۸ءt : . لو مط ۰۵۴۹۶۶۱ء۹- ۷۹۵۹۷۳۸ء۹=۲۵۸۹۹۲۳ ء۹ قوس وہی ۸۱۰۲۔
افادہ خامسہ : علی گڑھ کا قبلہ تحقیقی
image
اقول : ا ب ح ء افق شمالی علی گڑھ ب نقطہ مغرب ء معدل النہارح قطب شمالی ط سمت راس مکہ مکرمہ ح ط ك نص نہار ہا ح ر نصف نہار علی گڑھ ہ سمت راس علیگڑھ ہ طل خط سمت قبلہ علی گڑھ ل ب تمام انحراف یعنی انحراف از نقطہ مغرب بجنوب اس کی معرفت مقدار کےلئے اولا نقطہ مغرب سے سمت راس مکہ معظمہ پر گزرتا ہوا نصف النہار علی گڑھ پر عمود ب ط م ڈالا کہ سمت راس سے علی گڑھ ہ سے جنوب گذرا لما ستعرفہ ان شاء اﷲ تعالی م ر عرض موقع العمود ہوا مثلث ط ك ب قائم الزاویہ ہے لحدوث ك بین میلیتہ والمعدل اور سب ضلعیں ربع سے کم ہیں لان کلا قطعۃ من ب ر ب م ح ك الارباع اور زاویہ ب کا قیاس قوس م ر ہے فان کل زاویۃ علی کرۃ من عظیمتین قسا سھا قوس غایۃ الفصل بینھما اور ط ك عرض مکہ ب ك تمام فرق طول ہے تو بحکم ظلی ظل ب مجہول : ظل ط ك : : ع : جیب ب ك : . لو ظل عر ض مکہ ۵۹۳۵۴۲۳ء۹ لو حم مابین الکطولین۔
#4547 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
لرصہ نو ۸۹۶۹۲۶۵ء۹=۶۹۶۶۱۵۸ء۹ قوس ایں ظل الوصہ الو الح عرض موقع العمود ظاہر ہے کہ علیگڑھ الرنو سے بقدر اصہ الط ل کم ہے لہذا سمت راس سے جنوب کو واقع ہوا لا جرم قبلہ مغرب سے جنوب کو ہٹے گا اور از انجاکہ علی گڑھ بھی شمالی العرض ہے لو جیب تفاضل لیں اور ازانجا کہ اتنی چھوٹی قوسوں میں تفاضل لوگارثم بشدت ہے محض تعدیل مابین السطرین مساہلت کثیرۃ لاتی ہے اسے بطریق دقیق نکالیں ۴۱۵۶۶۱۸ء ۱۸ یا اسے محفوظ رکھیں ۔
ثانیا مثلث ح مط قائم الزاویہ میں زاویہ ح کا قیاس قوس ك ر مابین الطولین ہے اور ح م تمام عرض عمود سح لح لب : . ظل ح : ظل ط م مجہول : : ع : جیب ح م : . لو ظل تفاضل طول ۸۹۱۷۶۷۹ء۹+ لوحم عرض عمود ۹۵۲۰۱۳۴ء۹= ۸۴۷۸۱۳ء۹ =ظل ط م۔
ثالثا مثلث ط م ہ قائم الزاویہ میں زاویہ ہ کا قیاس قول ال ہے کہ مقدار انحراف ہے نقطہ جنوب سے غروب کو اور ظل زاویہ ہ مجہولہ : ظل ط م : : ع : جیب ہ م محفوظ : . ۸۴۳۷۸۱۳ء۹- ۴۱۵۶۶۱۸ء ۸ = ۴۲۸۱۱۹۵ء۱۱ جدول ذیل میں اس کی کوس نر حہ صہ اس کا تمام ب حہ ح کہ مقدار قوس ب ل مطلوب ہوئی یعنی دو درجے آٹھ دقیقے نقطہ مغرب سے جانب جنوب جھکیں تو عین کعبہ معظمہ کے مواجہ ہوں ۔
وبوجہ اخر فرق طول لر صہ نوکی جیب ۷۸۸۶۹۴۴ء۹+ لوحم عرض حرم محترم سح صہ لہ ۹۶۸۹۲۶۲ء۹ = ۷۵۷۶۲۰۶ء۹ قوسہ لرند لح تمام مھا نہصہ الــــ محفوظ اول جیبش ۹۱۳۸۳۸۴ء۹ : . لوج عرض مکہ مکرمہ ۵۶۲۴۶۸۵ء۹-لوج محفوظ اول= ۶۴۸۶۳۰۱ء۹ قوسہ الو الو الح محفوظ دوم + تمام عرض علی گڑھ سہ صہ ء = مح ل لح محفوظ سوم جبیبہ ۹۹۹۸۵۲۶ء۹ + لو ج محفوظ اول = ۹۱۳۶۹۱ء۹ قوسہ نہ صہ ح ہہ محفوظ چہارم تمامہ لو حہ نولح بعد علیگڑھ از مکہ معظمہ یعنی تقریبا دو ہزار چارسو میل کا فاصلہ ہے اس مسافت کی جیب ۷۵۷۹۲۲۹ء۹ : .لوحم محفوظ اول ۷۵۷۶۲۰۶ء۹ - لوج بعد = ۹۹۹۶۹۷۷ء۹ قوسہ فر صہ نہ تمامہا ب ح وہی دو۲ درجے آٹھ۸ دقیقے جنوب کو آئے وذلك ما اردناہ انکو انحراف دیوار ك صہ نح سے تفریق کیا تو قبلہ حقیقی سے صرف لح صہ ? انصراف رہا اسے ۴۵ سے کم کیا باقی الوی یعنی ابھی چھبیس درجے سے بھی کچھ زیادہ اور انحراف ہوتا ہے جب بھی حدود قبلہ کے اندر تھی یا یوں سمجھئے کہ قبلہ حقیقی قطب شمالی سے ۲ درجے ۸ دقیقے غرب کو ہے اور قبلہ حقیقی سے۴۵ درجے تك انحراف روا تو قطب سے ۴۷ ۸ ہوگا ۸ دقیقے چھوڑ کر ۴۷ درجے ہی انحراف رکھئے
image
میں وتر ا ح کی مقدار ۸۴۹۸۸۸۳ء۴۷ کہ ۲۳۳۰ کی جیب نہ الط مر نو ہاعشاریہ میں کسور درجہ کی تحویل سے ۹۲۴۹۴۴۱۴ء۲۳ ہوئی جس کا دو چندیہ وتر ہے اور ضلع ا ب کی ۱۶۵ ذراع شرعی ہے= ۶۰ پس تناسب یہ ہوا۶۰ : ۱۶۵ : : ۸۴۹۸۸۸۳ء۴۷ : مجہول : . سطح وسطین ۲۳۱۵۶۹۵ء۷۸۹۵÷۶۰=۵۸۷ء۱۳۱ یہ اح کے ذراع شرعی ہوئے ا ۲ / ۱ میں ضرب
#4548 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی)
دئے سے ۴ء۱۹۷ فٹ آئے یعنی نوے فٹ یہ اور ۱۰۷ فٹ اور یہ جملہ ۱۹۷ فٹ بھی اگر یہ دیوار قطب شمالی سے پھری ہوتی حدود سے باہر نہ تھی ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالی ولی التوفیق۔
تنبیہ : قول محقق ومنقح کہ کعبہ معظمہ کے دونوں جانب ۴۵ درجے تك انحراف روا ہے اس پر عمل قبلہ تحقیقی برہانی نکال کر کرنا چاہیئے کہ طریق تقریبی میں خود کئی کئی درجے کا تفاوت آتا ہے ۔ اب یہیں دیکھئے کہ ۸ درجے ۲۰ دقیقے کا تفاضل ہے واﷲ الھادی الی الصواب الحمد ﷲ کہ اس تحریر میں افادہ اولی غایت نفع و افاضت پر واقع ہوا مناسب اس کے لحاظ سے اس کا تاریخی نام ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ہو کہ اس کی تصنیف اواخرذیالحجہ ۱۳۲۴ھ میں ہوئی اور اگر یہ لحاظ کریں کہ تبییض میں ا وائل محرم ۱۳۲۵ھ کی تاریخیں آئیں گی تو حد الاستقبال کے عوض جھۃ الاستقبال کہنا مناسب وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا و مولانا محمد و الہ وصحبہ اجعین امین واﷲ تعالی اعلم و علمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
___________________
#4549 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · باب اماکن الصلوۃ (مقامات نماز کا بیان)
باب اماکن الصلوۃ (مقامات نماز کا بیان)

مسئلہ نمبر ۳۹۷ : از شہر کہنہ ۲۷ ربیع الاخری شریف
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا کہ نماز مسجد کے در میں جائز نہیں ہے چاہے اکیلا ہو چاہے امام ہو ۔ عمرو کہتا ہے کہ در میں بلا کراہت جائز ہے اکیلا ہو یا امام البتہ صفوں کا دروں میں قائم کرنا مکروہ ہے چاہے مسجد کے محراب میں اکیلا ہو یا امام ۔ اس مسئلہ میں زید کا قول سچا ہے یا عمر کا بینوا توجرواحکم اﷲ اور نقشہ مسجد کا واسطے ملاحظہ کے لکھ دیا ہے۔

الجواب :
فی الواقع امام کا بے ضرورت محراب میں کھڑا ہونا کہ پاؤں محراب کے اندر ہوں یہ بھی مکروہ (ہاں پاؤں باہر اور سجدہ محراب کے اندر ہو تو کراہت نہیں) اور امام کا در میں کھڑا ہونا بھی مکروہ مگر اسی طرح پاؤں باہر اور سجدہ در میں ہو تو کراہت نہیں بشرطیکہ در کی کرسی بلند نہ ہو ورنہ اگر سجدہ کی جگہ پاؤں کے موضع سے چارہ گرہ سے زیادہ اونچی ہوئی تو سرے سے نماز ہی نہیں ہوگی اور چارہ گرہ یا کم بلند ی ممتاز ہوئی تو کراہت سے خالی نہیں اور بے ضرورت مقتدیوں کا در میں صف قائم کرنا یہ سخت مکروہ کہ باعث قطع صف ہے اور قطع صف ناجائز ہاں اگر کثرت جماعت کے باعث جگہ میں تنگی ہو اس لئے مقتدی در میں اور امام محراب میں کھڑے ہوں تو کراہت نہیں ۔ یونہی اگر مینہ کے
#4550 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · باب اماکن الصلوۃ (مقامات نماز کا بیان)
باعث پچھلی صف کے لوگ دروں میں کھڑے ہوں تو یہ ضرورت ہے والضرو رات تبیح المحظورات(سخت ضرورت ممنوعات کو مباح کردیتی ہے۔ ت)رہا اکیلا اسکے لئے ضرورت بے ضرورت محراب میں در میں مسجد کے کسی حصہ میں کھڑا ہونا اصلا کراہت نہیں رکھتا ۔ درمختار میں ہے :
کرہ قیام الامام فی المحراب لاسجودہ فیہ وقد ماہ خارجہ لان العبرۃ للقدم ۔
امام کا محراب میں کھڑا ہونا مکروہ ہے اگر قدم باہر ہوں اور سجدہ محراب میں ہو تو یہ مکروہ نہیں کیونکہ اعتبار قدموں کا ہے۔
ردالمحتار میں بحرالرائق سے ہے :
فی الولوالجیۃ وغیرھا اذالم یضق المسجد بمن خلف الامام لاینبغی لہ ذلك لانہ یشبہ تباین المکانین انتھی یعنی وحقیقۃ اختلاف المکان تمنع الجواز فشبھۃ الاختلاف توجب الکراھۃ والمحراب وان کان من المسجد فصوورتہ و ھیأتہ اقتضت شبھۃ الاختلاف ا ھ ملخصا ۔
ولو الجیہ وغیرہا میں ہے جب امام کے پیچھے والے نمازیوں کے لئے مسجد تنگ نہ ہو تو امام کو محراب میں قیام نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ یہ دو جگہوں کے الگ الگ ہونے کا شبہ پیدا کرے گا انتہی یعنی مکان کا حقیقۃ اختلاف جواز نماز سے مانع ہے اور جہاں اختلاف مکان کا شبہ ہو وہاں کرہت ہو گی اور محراب اگرچہ مسجد ہی سے ہے مگر محراب کی صورت اور ہیئت اختلاف مکان کا شبہ پیدا کرتی ہے۔ اھ ملخصا (ت)
اسی میں معراج الداریہ سے ہے :
حکی الحلوانی عن ابی اللیث لا یکرہ قیام الامام فی الطاق عند الضرورۃ بان ضاق المسجد علی القوم ۔
حلوانی نے ابو اللیث سے نقل کیا کہ ضرورت کے وقت امام کا محراب میں کھڑا ہونا مکروہ نہیں جبکہ نمازیوں پر مسجد تنگ ہو۔ (ت)
اسی میں کتاب مذکور سے ہے :
الاصح ماروی عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ انہ قال أکرۃ للامام ان یقوم
اصح روایت کے مطابق امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ہی مروی ہے کہ امام کا دو ستون کے درمیان
حوالہ / References درمختار باب ما یفسد الصلوٰۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۹۲
ردالمحتار باب ما یفسد الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفے البابی مصر ۱ / ۴۷۷
ردالمحتار باب ما یفسد الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفے البابی مصر ۱ / ۴۷۸
#4551 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · باب اماکن الصلوۃ (مقامات نماز کا بیان)
بین الساریتین ۔
کھڑا ہونا مکروہ ہے۔ (ت)
تنویر الابصار میں ہے :
لو کان موضع سجودہ ارفع عن موضع القدمین بمقدار البنتین منصوبتین جاز وان اکثرلا ۔
اگر نمازی کے سجدہ کی جگہ قدموں کی جگہ سے دو کھڑی اینٹوں کے برابر بلند ہو تو نماز جائز اور اگر ا س سے زیادہ بلند ہو تو نماز جائز نہ ہوگی۔ (ت)
درمختار میں ہے :
مقدار ارتفا عھما نصف ذراع ثنتاعشرۃ اصبعا ذکرہ الحلبی ۔
ان دونوں کا بلند ہونا نصف ذراع ہے جو کہ بارہ۱۲ انگلیوں کی مقدار ہے حلبی نے اسے ذکر کیا ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ جاز سجودہ الظاھر انہ مع الکرھۃ لمخالفتہ للماثور من فعلہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔
قولہ جاز سجودہ یعنی سجدہ تو جائز ہوگا مگر بظاہر کراہت ہوگی کیونکہ حضور کے فعل منقول کے خلاف ہے۔ (ت)
سنن ابن ماجہ میں ہے :
عن معویۃ بن قرۃعن ابیہ رضی اﷲ تعالی عنہ قال کناننھی ان نصف بین السواری علی عھد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ونطرد عنھا طردا ۔
یعنی قرہ بن ایاس مزنی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے زمانہ میں ہمیں دو ستونوں کے بیچ صف باندھنے سے منع فرمایا جاتا اور وہاں سے دھکے دے کرہٹائے جاتےے تھے (ت)
مسند امام احمد و سنن ابی داؤد و جامع ترمذی و سنن نسائی و صحیح حاکم میں ہے :
عن عبدالمجید بن محمود قال صلینا خلف امیرمن الامراء فاضطرنا الناس صلینا
یعنی ایك تابعی کہتے ہیں ہم نے ایك امیر کے پیچھے نماز پڑھی لوگوں نے ہمیں مجبور کیا کہ ہمیں دو ستونوں میں نماز
حوالہ / References ردا لمحتار باب ما یفسد الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفے البابی مصر ۱ / ۴۷۸
درمختار شرح تنویر الابصار ، فصل واذارادالشروع فی الصلوٰۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۷۶
درمختار شرح تنویر الابصار ، فصل واذارادالشروع فی الصلوٰۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۷۶
ردالمحتار ، فصل واذارادالشروع فی الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفے البابی مصر ۱ / ۳۷۲
سنن ابن ماجہ باب الصّلوٰۃ بین السواری فی الصف مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۷۱
#4552 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · باب اماکن الصلوۃ (مقامات نماز کا بیان)
بین الساریتین فلما صلینا قال انس بن مالك رضی اﷲ عنہ کنا نتقی ھذا علی عھد رسول اﷲ صلی اﷲعلیہ وسلم ۔
پڑھنی ہوئی (جب ہم نماز پڑھ چکے تو) انس بن مالك نے فرمایا ہم زمانہ اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں اس سے بچتے تھے۔
حاکم نے کہا یہ حدیث صحیح ہے ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن ہے عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں قبیل باب الصلوۃ الی الراحلۃ سیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے کہ انہوں نے فرمایا : لاتصفوا بین الاساطین واتموا الصفوف ۔ ستونوں کے بیچ میں صف نہ باندھو اور صفیں پوری کرو ۔
اور اس کی وجہ قطع صف ہے اگر تینون دروں میں لوگ کھڑے ہوئے تو ایك صف کے تین ٹکڑے ہوئے اور یہ ناجائز ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : من قطع صفا قطعہ اﷲ ۔ جو کسی صف کو قطع کرے اﷲ اسے قطع کردے ۔ اور بعض دروں میں کھڑے ہوئے بعض خالی چھوڑ دے جب بھی قطع صف ہے صف ناقص چھوڑ دی کاٹ دی پوری نہ کی اور اس کا پورا کرنا لازم ہے ۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : اتمواالصفوف ۔ (صفوں کو مکمل کرو۔ ت)اور اگر اس وقت زائد لوگ نہ ہوں تو آنے سے کون مانع ہے تو یہ ممنوع کا سامان مہیا کرنا ہے اور وہ بھی ممنوع ہے ۔ قال اﷲ تعالی تلك حدود الله فلا تقربوها- ۔ ( اﷲ تعالی فرماتا ہے یہ اﷲ تعالی کی حدود ہیں پس ان کو توڑنے کے قریب مت جاؤ۔ ت) اور دروں میں مقتدیوں کے کھڑے ہونے کو قطع صف نہ سمجھنا محض خطاہے۔ علمائے کرام نے صاف تصریح فرمائی کہ اس میں قطع صف ہے۔ صحیح بخاری میں ہے : باب الصلاۃ بین السواری فی غیر جماعۃ ۔ (باب جماعت کے علاوہ ستونوں کے درمیان نماز پڑھنے کا ۔ ت)امام علامہ محمود عینی کہ اجلہ ائمہ حنفیہ سے ہیں اس شرح میں فرماتے ہیں :
قید بغیر جماعۃ لان ذلك یقطع الصفوف و تسویۃ الصفوف فی الجماعۃ مطلوبۃ
بغیر جماعت کی قید اس لئے ہے کہ یہ (نمازی کا دوستونوں کے درمیان ٹھرنا) صفوں کو توڑنا ہے حالانکہ صفوں کا
حوالہ / References جامع الترمذی باب ماجاء فی کراہیۃ الصف بین السواری مطبوعہ امین کمپنی دہلی ۱ / ۳۱
عمدۃ القاری شرح البخاری باب الصلوٰۃ بین السواری فی غیر جماعۃ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت ۴ / ۲۸۶
سنن ابی داؤد باب تسویۃ الصفوف الخ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۹۷
صحیح مسلم باب تسویۃ الصفوف الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۸۲
القرآن ۲ / ۱۸۷
صحیح البخاری باب الصلوٰۃ بین السواری فی غیر جماعۃ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۷۲
#4553 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · باب اماکن الصلوۃ (مقامات نماز کا بیان)
بعینہ ۔
مکمل و برابر ہونا جماعت میں مطلوب ہے۔ (ت)
اسی طرح فتح الباری امام ابن حجر عسقلانی پھر ارشاد الساری امام احمد قسطلانی وغیرہما میں ہے نیز فتح الباری میں محب طبری سے ہے :
محل الکرھۃ عند عدم الضیق ۔
جب تنگی نہ ہو تو پھر مکروہ ہے۔ (ت)
عمدۃ القاری میں ابن حبیب سے ہے :
لیس النھی عن تقطیع الصفوف اذاضاق المسجد و انما نھی عنہ اذکان المسجد واسعا ۔
جب مسجد تنگ ہو تو اس وقت صفوں کو توڑنا منع نہیں یہ اسوقت منع ہے جب مسجد کشادہ ہو۔ (ت)
اسی میں ہے :
قال مالك فی المدونۃ لاباس بالصلاۃبینھما لضیق المسجد اھ ثم ذکر قول ابن حبیب اقول : ولا یخفی انہ مستقیم عل قواعد مذھبنا۔
امام مالك مدونہ میں فرماتے ہیں جب مسجد تنگ ہو تو دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھنے میں حرج نہیں اھ۔ پھر انھوں نے ابن حبیب کا قول نقل کیا ہے۔ اقول : مخفی نہ رہے یہ ہمارے مذہب کے قواعد پر درست ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
ھذا کلہ عندعدم العذر کجمعۃ وعید فلوقاموا علی الرفوف والامام علی الارض اوفی المحراب لضیق المکان لم یکرہ ۔
یہ تمام (یعنی کرہت) اس وقت ہے جب عذر نہ ہو عذر کی صورت میں مثلا جمعہ اور عید کے بھیڑ کے موقع پر بھی اگر مسجد تنگ ہو اور بعض نمازی رفوف ف (دروازے کے تختے ) پر کھڑے ہوں اور امام زمین پر یا محراب میں ہو تو کراہت نہیں ۔ (ت)
حوالہ / References عمدۃ القاری شرح البخاری باب الصلاۃ بین السواری فی غیر جماعۃ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت ۴ / ۲۸۴
فتح الباری شرح البخاری باب الصلاۃ بین السواری فی غیر جماعۃ مطبوعہ مصطفے البابی مصر ۲ / ۱۲۴
عمدۃ القاری شرح البخاری باب الصلاۃ بین السواری فی غیر جماعۃ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت ۴ / ۲۸۶
عمدۃ القاری شرح البخاری باب الصلاۃ بین السواری فی غیر جماعۃ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت ۴ / ۲۸۶
درمختار باب مایفسد الصلوٰۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۹۲
ف : رفوف جمع رف کی ہے اس کے کئی معانی ہیں ، ایك معنی یہ ہے “ وہ لکڑی جس کے دونوں کنارے دیوار میں لگاکر اس پر گھر کا سامان رکھتے ہیں “ یہاں مراد دروازے کے درمیان بلند جگہ بھی ہو سکتی ہے اور زمین سے بلند مقام بھی ہوسکتا ہے۔ نذیر احمد سعیدی
#4554 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · باب اماکن الصلوۃ (مقامات نماز کا بیان)
عمدۃ القاری میں ہے :
اذکان منفردا لاباس فی الصلاۃ بین الساریتین اذا لم یکن فی جماعۃ ۔
جب تنہا نماز ادا کر رہا ہو تو دو ستونوں کے درمیان نماز ادا کرنے میں حرج نہیں جبکہ و ہ جماعت میں نہ ہو۔ (ت)
اس بیان سے واضح ہو کہ زید و عمر دونوں کے کلام میں دو دو غلطیاں ہیں زید نے در میں نماز ناجائز بتائی یہ زیادت ہے ناجائز نہیں ہاں امام کو مکروہ ہے۔ یونہی منفرد کو اس حکم میں شریك کرنا ٹھیك نہیں خود حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جب کعبہ معظمہ تشریف لے گئے دوستونوں کے درمیان نماز پڑھی
کما فی ثبت فی الصحاح عن ابن عمرعن بلال رضی اﷲ تعالی عنھم۔
جیسا کہ صحاح میں حضرت ابن عمر نے حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہم سے روایت کیا ہے۔ (ت)
عمر و کا امام کو در میں کھڑا ہونا بلا کراہت جائز ماننا صحیح نہیں یونہی منفرد کا محراب میں قیام مکروہ جاننا کہ یہاں جو وجوہ کراہت علما نے لکھے ہیں یعنی شبہ اختلاف مکان امام و جماعت یا اشتباہ حال یا تشبہ اہل کتاب ان میں سے کوئی وجہ منفرد کے لئے متحقق نہیں واﷲ سبحنہ و تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم و حکمہ عزشانہ احکم۔
مسئلہ نمبر ۳۹۸ : ازدہلی فراش خانہ مدرسہ نعمانیہ اسلامیہ مسئولہ محمد ابراہیم الاحمد آبادی غفر لہ الہادی ۷ شعبان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ریل پر نماز کس طرح ادا کی جائے گی ایك شخص نے سوال کیا کہ چلتی ریل اور جہاز پر نماز جائز ہے یا نہیں مولوی کفایت اﷲ صاحب نے تعلیم اسلام نمبر ۴ کے صفحہ ۵ پر جو جواب منقولہ ذیل لکھا ہے صحیح ہے یا نہیں اور جہاز یا کشتی اور ریل کا ایك ہی حکم ہے یا غیر غیر میں اس میں تفصیلی بحث چاہتا ہوں آجکل اس کے جملہ مسائل کی اہل اسلام کو سخت ضرورت ہے جواب مولوی صاحب موصوف کا یہ ہے ۔
ج ۔ چلتی ریل اور جہاز پر نماز جائز ہے اگر کھڑے ہو کر پڑھ سکے چکر کھانے یا گرنے کا ڈر نہ ہو تو کھڑے ہوکر پڑھنا ضروری ہے اور کھڑے ہوکر نہ پڑھ سکے تو بیٹھ کر پڑھ لے اور اگر درمیان نماز میں ریل یا جہاز گھوم جانے سے نمازی کا منہ قبلہ کی طرف نہ رہے تو فورا قبلہ کی طرف پھر جانا چاہئے ورنہ نماز نہ ہوگی بلفظہ اور یہ بھی فرمایا جاوےکہ فرض نفل سب کا حکم ایك ہی ہے یا فرق ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
فرض اور واجب جیسے وتر و نذراور ملحق بہ یعنی سنت فجر چلتی ریل میں نہیں ہوسکتے اگر ریل نہ ٹھہرے اور
حوالہ / References عمدۃ القاری شرح البخاری باب الصلوٰۃ بین لسواری الح مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت ۴ / ۲۸۴
#4555 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · باب اماکن الصلوۃ (مقامات نماز کا بیان)
وقت نکلتا دیکھے پڑھ لے پھر بعد میں استقرار اعادہ کرے تحقیق یہ ہے کہ استقرار بالکلیہ ولو بالوسائط زمین یا تابع زمین پر کہ زمین سے متصل با تصال قرار ہو ان نمازوں میں شرط صحت ہے مگر بہ تعذر ولہذا دابہ پر بلا عذر جائز نہیں اگرچہ کھڑا ہوکہ دابہ تابع زمین نہیں ولہذا گاڑی پر جس کا جوا بیلوں پر رکھا ہے اور گاڑی ٹھہری ہوئی ہے جائز نہیں کہ بالکلیہ زمین پر استقرار نہ ہوا ایك حصہ غیر تابع زمین پر ہے و لہذا چلتی کشتی سے اگر زمین پر اترنا میسر ہو کشتی میں پڑھنا جائز نہیں بلکہ عندالتحقیق اگرچہ کشتی کنارے پر ٹھہری ہو مگر پانی پر ہو زمین تك نہ پہنچی ہو اور کنارے پر اتر سکتا ہے کشتی میں نماز نہ ہوگی اس کا استقرار پانی پر ہے اور پانی زمین سے متصل باتصال قرار نہیں جب استقرار کی حالتوں میں نمازیں جائز نہیں ہوتیں جب تك استقرار زمین پر اور وہ بھی بالکلیہ نہ ہو توچلنے کی حالت میں کیسے جائز ہو سکتی ہیں کہ نفس استقرار ہی نہیں بخلاف کشتی رواں جس سے نزول متیسر نہ ہوکہ اسے اگر روکیں گے بھی تو استقرار پانی پر ہوگا نہ کہ زمین پر لہذا سیر ووقوف برابر لیکن اگر ریل روك لی جائے تو زمین ہی پر ٹھہرے گی اور مثل تخت ہو جائےگی انگریزوں کے کھانے وغیرہ کے لئے روکی جاتی ہے اور نماز کے لئے نہیں تو منع من جہتہ العباد ہوا اور ایسے منع کی حالت میں حکم وہی ہے کہ نماز پڑھ لے اور بعد زوال مانع اعادہ کرے ۔
در مختار میں ہے :
لوصلی علی دابۃ فی شق محمل وھویقدر علی النزول بنفسہ لا تجوز الصلاۃ علیھا اذاکانت واقفہ الا ان تکون عیدان المحمل علی الارض بان رکز تحتہ خشبۃ واماالصلوۃ علی العجلۃ ان کان طرف العجلۃ علی الدابۃ وھی تسیرا ولا تسیر فھی صلاۃ علی الدابۃ فتجوز فی حالۃ العذرالمذکور فی التیمم لا فی غیرھا وان لم یکن طرف العجلۃ علی الدابۃ جاز لو واقفۃ لتعلیلھم بانھا کالسریرھذا اکلہ فی الفرض والواجب بانواعہ وسنۃ الفجر بشرط ایقافھاللقبلۃ ان امکنہ والا فبقدرالامکان لئلا یختلف بسیرھا لامکان و اما فی
اگر کسی نے کھڑے چارپائے پر کجاوے میں نماز ادا کی حالانکہ وہ اترنے پر قادر تھا تو نماز نہ ہوگی البتہ اس صورت میں نماز ہوجائے گی جب کجاوے کی لکڑیاں زمین پر ہوں بایں طورکہ اس کے نیچے لکڑی کی گاڑی ہو۔ رہا معاملہ گاڑی(مثلا بیل گاڑی جس کو جانور کھنچتے ہیں ) پر نماز کا تو اگر گاڑی کا ایك حصہ چوپائے کے اوپر ہے خواہ وہ چلتی ہے یا نہیں تو یہ چوپائے پر نماز سمجھی جائے گی تو تیمم میں بیان کردہ عذر کی وجہ سے نماز ادا ہوجائے گی اسکے علاوہ میں نہیں ۔ اور اگر گاڑی کا کوئی حصہ چارپائے پر نہیں تو نماز ہوجائے گی اگر بیل گاڑی کھڑی ہو کیونکہ فقھا نے اسے تخت کی مثل قرار دیا ہے ۔ یہ تمام گفتگو فرائض واجبات کی تمام انواع اور فجر کی سنتوں میں ہے بشرطیکہ
#4556 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · باب اماکن الصلوۃ (مقامات نماز کا بیان)
النفل فتجورعلی المحمل والعجلۃ مطلقا ۔
قبلہ رخ کھڑی کی ہو اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو بقدر الامکان قبلہ رخ کھڑا کرنا شرط ہے تاکہ اسکے چلنے سے مکان میں تبدیلی نہ ہو جائے باقی نوافل کجاوے اور بیل گاڑی میں پڑھنا مطلقا جائز ہیں ۔ (ت)
خود ردالمحتار میں ہے :
الحاصل ان کلامن اتحاد المکان واستقبال القبلۃ شرط فی صلاۃ غیر النافلۃ عند الامکان لا یقسط الا بعذر فلو امکنہ ایقافھا مستقبلا فعل بقی لو امکنہ الایقاف دون الاستقبال فلا کلام فی لزمہ لماذکرہ الشارح من العلۃ (ملخصا)
حاصل یہ ہے کہ جہاں تك ممکن ہو نوافل کے علاوہ نماز میں اتحاد مکان اور استقبال قبلہ دونوں شرط ہیں تو شرط عذر کے بغیر ساقط نہ ہوگی پس اگر سواری کو قبلہ رخ کھڑا کرسکے تو کرے باقی رہایہ کہ اگر کھڑا کرسکتا ہے مگر قبلہ رخ کھڑا نہیں کرسکتا تو کھڑا کرنا لازم ہے جیسا کہ شارح نے اسکی علت ذکر کی ہے (یعنی تاکہ اتحاد مکان سب نماز میں حاصل رہے) (ملخصا) ۔ (ت)
اسی میں ہے :
الفرض والواجب بانواعہ لایصح علی الدابۃ الا لضرورۃ فیومی علیھا بشرط ایقافھاجھۃ القبلۃ ان امکنہ واذاکانت تسیرلاتجوز الصلاۃ علیھا اذاقدر علی ایقافھا والابان کان خوفہ من عدو یصلی کیف قدرکمافی الامدادوغیرہ اھ اقول فثبت ان المانع شیأان الاول کون الصلاۃ علی دابۃ ولو بواسطۃ عجلۃ طرفھا علی دابۃ الثانی السیر واختلاف المکان الا تری انھم اوجبوا الایقاف وابطلو
فرض اور واجبات کی تمام انواع کو بغیر ضرورت کے چارپائے پر ادا نہیں کیا جاسکتا ہاں اگر ضرورت و عذر کے وقت اس پر اشارے سے نماز ادا کرے بشرطیکہ امکانی حد تك دابہ کو قبلہ رخ کھڑا کرے جب دابہ کھڑا کرنے پر قادر ہو تو ایسی صورت میں چلتے ہوئے دابہ (جانور) پر نماز جائز نہیں البتہ کھڑا کرنا ممکن نہ ہو مثلا اگر اسے دشمن کا خوف ہے تو جس طرح ممکن ہو نماز ادا کرے ۔ امداد وغیرہ میں اسی طرح ہے اھ میں کہتا ہوں یہ ثابت ہوا کہ مانع ۲دو چیزیں ہیں پہلی چیز نماز کا جانور کے اوپر پڑھنا اگرچہ بوسطہ بیل گاڑی کے جس
حوالہ / References درمختار ، باب الوتر والنوافل ، مطبوعہ مجتبائی دہلی ، ۱ / ۹۸
ردالمحتار باب الوتر والنوافل مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۴۷۲
باب الوتر والنوافل ، مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۷۰
#4557 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · باب اماکن الصلوۃ (مقامات نماز کا بیان)
بالسیر الالمن یخاف فلولم یکن المانع الا الاول فقد وجد عذر یبیح الصلوۃ علی الدابۃ لکان واجبا ان تجوز من دون فرق بین سیرو وقوف لکنھم فرقو افتبین ان السیر بنفسہ مفسدالا بعذریمنع الایقاف ولا یکفی مجرد عذر یمنع النزول لا الایقاف فان کانت العجلۃ کلھا علی الارض وجرتھا دابۃ بحبل فھھنا انما فقد المانع الاول دون الثانی فوجب الفساد الابعذر فلا نظر الی ماارادش استنباطہ من مفھوم لیس علی عادۃ ذلك الزمان بمفھوم فافھم وتثبت۔
جس کی ایك طرف چوپائے پر ہو دوسری چیز چوپائے کا چلنا مکان کا مختلف ہونا کیا آپ نے ملاحظہ نہیں کیا کہ فقہا نے چوپائے کے کھڑا کرنے کو لازم قرار دیا ہے اور چلنے کی حالت میں اس پر نماز کو باطل قرار دیا ہے سوائے اس کے جسے دشمن وغیرہ کا خوف ہو پس پہلی چیز کے علاوہ کوئی مانع نہیں تو پھر ایسا عذر موجود ہے جو چارپائے پر نماز کو مباح بنادے تو اب چلنے اور کھڑے ہونے کے فرق سے بالا تر ہوکر نماز کے جواز کو ماننا لازم ہوگا لیکن فقہا نے ان کے درمیان فرق کیا تو واضح گیاکہ چلنا بذات خود مفسد نماز ہے مگر اس صورت میں جب کھڑا کرنا ممکن نہ ہو محض اتنا عذر کافی نہیں جو نزول سے مانع ہو بلکہ وہ عذر جو کھڑا کرنے سے مانع ہو معتبر ہے اب اگر بیل گاڑی کلی طور پر زمین پر ہو اور جانور اسے رسی کے ذریعے لے جارہا ہے تو اب یہاں پہلا مانع(نماز کا چارپائے پر ہونا) موجود نہیں البتہ دوسرا مانع (جگہ کی تبدیلی) موجود ہے لہذا اس صورت میں عذر کے بغیر نماز فاسد ہوگی پس اسے نہیں دیکھا جائے گا کہ جو شارح نے مفہوما استنباط کرلیا ہے کیونکہ اس دور کی عادت مفہوم کو قبول نہیں کرتا اسے سمجھ لے اور اس پر قائم رہ ۔ (ت)
نیز اسی میں غنیہ سے ہے۔
ھذابناء علی ان اختلاف المکان مبطل مالم یکن لا صالا حھا ۔
یہ اس بنا پر ہے کہ جگہ کا مختلف ہونا (نمازکو) باطل کرنے والا ہے جبکہ یہ اس کی اصلاح کے لئے نہ ہو(ت)
اسی ۷۹۷ میں بحوالہ بحرالرائق فتاوی ظہیریہ سے ہے :
ان جذبتہ الدابۃ حتی از التہ عن موضع سجودہ تفسد ۔
اگر جانور نے اسے اتنا کھینچا کہ اس کے سجدہ کی جگہ بدل گئی تو نماز فاسد ہوگی۔ (ت)
حوالہ / References ردالمحتار باب مایفسد الصلوٰۃ الخ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۴۲۱
باب مایفسد الصلوٰۃ الخ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۴۲۲
#4558 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · باب اماکن الصلوۃ (مقامات نماز کا بیان)
اسی میں ہے :
ظاہرمافی الھدایۃ وغیرھا الجواز قائما مطلقا ای استقرت علی الارض اولاو صرح فی الایضاح بمنعہ فی الثانی حیث امکنہ الخروج الحاقالھا بالدابۃ نھرو اختارہ فی المحیط والبدائع بحر وعزاہ فی الامدادایضا الی مجمع الروایات عن المصفی وجزم بہ فی نورالایضاح و علی ینبغی ان لا تجوز الصلاۃ فیھا سائرۃ مع امکان الخروج الے البر وھذہ المسألۃ الناس عنھا غافلون ۔ شرح المنیۃ۔
ہدایہ وغیرہا سے ظاہر یہی ہے کہ کشتی میں کھڑے ہو کر مطلقا نماز جائز ہے یعنی خواہ وہ زمین پر مستقر ہو یا نہ ہو۔ ایضاح میں تصریح ہے کہ جب زمین پر مستقر نہ ہو تو نماز نہیں ہوگی جبکہ اس سے اترنا ممکن ہو کہ اس کا حکم دابہ (چارپایہ) کی طرح ہوگا نہر-بحر میں ہے کہ محیط اور بدائع نے اسے مختار قرار دیا ہے ۔ اور امداد میں بھی ہے کہ اسے مجمع الرویات میں مصفی کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔ اور نور الایضاح میں اسی پر جزم ہے۔ اسی بنا پر چلتی کشتی پر نماز جائز نہیں ہونی چاہئے جبکہ خشکی پر اترنا ممکن ہے۔ اس مسئلہ سے لوگ غافل ہیں شرح المنیۃ۔ (ت)
فتح القدیر میں ہے :
فی الایضاح فان کانت موقوفۃ فی الشط وھی علی قرار الارض فصلی قائما جاز لانہا اذا استقرت علی الارض فحکمھا حکم الارض فان کانت مربوطۃ و یمکنہ الخروج لم تجز الصلوۃ فیھا لا نھا اذالم تستقرفھی کالدابۃ انتھی بخلاف مااذا استقرت فانھا حینئذ کالسریر ۔
ایضاح میں ہے اگر کشتی دریا کے کنارے کھڑی ہو اور زمین پر مستقر ہو اور نمازی نے نماز کھڑے ہوکر ادا کی تو جائز ہے کیونکہ استقرار کی صورت میں اسکا حکم زمین والا ہی ہے اگر کشتی باندھی ہوئی ہو اور اس سے نکلنا ممکن ہو تو اس میں نماز جائز نہیں ہوگی کیونکہ جب مستقل نہیں تو وہ چارپائے کی طرح ہے انتہی بخلاف اس کے جب مستقر ہو کیونکہ اس صورت میں وہ تختہ کی طرح ہے(ت)
محیط امام سرخسی پھر فتاوی ہندیہ میں ہے۔
لوصلی فیھا فان کانت مشدودۃ علی الجد مستقرۃ علی الارض فصلی قائما اجزاہ وان لم
اگر کشتی مضبوط باندھی ہوئی ہو اور زمین پر مستقر ہے تو ایسی صورت میں اگر کسی نے کھڑے ہو کر نماز ادا کی تو جائز
حوالہ / References ردالمحتار باب صلوٰۃ المریض مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۱۲
فتح القدیر ، باب صلوٰۃ المریض ، مطبوعہ نور یہ رضویہ سکھر ، ۱ / ۴۶۲
#4559 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · باب اماکن الصلوۃ (مقامات نماز کا بیان)
تکن مستقرۃ ویمکنہ الخروج عنھا لم تجز الصلاۃ فیھا اھ اقول واطلاق الھدایۃ واجب الحمل علی ھذہ النصوص الصریحۃ المقیدۃ وکم لہ من نظیر کما صرح بہ الجم الغفیر۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ہوگی اور اگر مستقر نہ ہو اور اس سے نکلنا بھی ممکن ہو تو اب اس میں نماز صحیح نہ ہو گی اھ اقول ہدایہ کے اطلاق کو ان صریح مقید نصوص پر محمول کرنا واجب ہے اور اس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں جیسا کہ جم غفیر نے اس کی تصریح کی ہے۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ نمبر ۳۹۹ : ۲۴ربیع الاول ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو نمازیں حالت مجبوری و معذوری میں بیٹھ کر پڑھی گئیں جیسے سفرحج میں جہاز کے اندر کہ سخت حالت طغیانی میں تھا اور تین دن تك برابر طغیانی عظیم میں رہا ایسی حالت میں قیام نہایت دشوار اورغیر ممکن تھا اور نیز خوف جان تھا پس ایسی حالت میں جتنی نمازیں پڑھی گئی ہیں ان کا اعادہ حالت قرار واقامت میں واجب ولازم وضروری ہے یا نہیں نیز وہ نمازیں کہ اونٹ پر شغدف وغیرہ میں قافلہ کے چلنے کی حالت میں بیٹھ کر پڑھی گئی ہیں کیونکہ بڈھے آدمی کو اتارنے چڑھانے والا نہ تھا اور اترنے کی صورت میں قافلے سے پیچھے رہ جانے کا اندیشہ تھا جس سے خوف جان ومال ہوتا ہے پس ان صورتوں میں جو نمازیں اونٹ کی سواری پر اور حالت طغیانی میں جہاز پر بیٹھ کر مجبورا پڑھی گئیں ان سب کا اعادہ بصورت اقامت و اطمینان کرنا چاہئے یا نہیں
الجواب :
ان کا اعادہ نہیں واﷲ تعالی اعلم۔
___________________
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ وممایتصل بذلك الصلوٰۃ علی الدابۃ والسفینۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۴۳
#4560 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
باب صفۃ الصلوۃ (طریقہ نماز کا بیان)

مسئلہ۴۰۰ : ازخیر آباد مرسلہ شیخ حسین بخش صاحب رضوی قادری ۲۹رجب ۱۳۰۵ھ
چہ فرمایند عالمان شرع شریف وحاکمان صدرنشین دارلطیف دریں امرکہ بمذہب حنفیہ لطیفہ مردمان بحکم حدیث مے بندوزناں بالائے ناف می بندندآیا ایں عمل دست بندی زناں حین نماز موافق شرع نبوی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم است یا نہ اتفاق علمائے کرام و علماء شریعت اور دار روحانیت کے سربراہ اس مسئلا میں کیا فرماتے جو علماء احناف نے بتایا ہے کہ مرد ناف کے نیچے اور خواتین ناف کے اوپر ہاتھ باندھے خواتین کا اس طرح ہاتھ باندھنا موافق شرع نبوی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہے یا نہیں یا علماء کرام یا مفتیان عظام کا
#4561 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
مفتیان عظام است اگر از احادیث رسول انام علیہ الصلوۃ والسلام ثابت است یا باتفاق امامان حنفیان راجع است برایں استفتا مہر ودستخط بحوالہ کتاب الجواب الصواب(ت) اتفاق ہے یہ مسئلا اسی طرح ہے اگر احادیث رسول انام صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ثابت ہے یا ائمہ احناف کے اتفاق کی بنا پر مسئلا اس طرح ہے جو بھی ہو اس استفتاء پر کتاب وسنت کے حوالے سے اپنی مہر ودستخط ثبت کرتے ہیں اور اﷲ تعالی سے اجر و ثواب پائیں کتاب کے حوالے سے درست جواب دیں ۔ (ت)
الجواب :
زنان رانزد حنفیہ کرام عمہم اﷲ باللطف والاکرام حکم آنست کہ دست درنماز بر سینہ بند ندوایں مسئلہ باتفاق ائمہ ماثابت است جم غفیر از علماء در تصانیف خودہا برو بے حکایت خلاف تنصیص کردہ اند علامہ محمد ابن محمد ابن محمد الشہیر بابن امیر الحاج الحلبی رحمۃ اللہ تعالی علیہ در شرح منیہ فر مود : الموضع الثالث فی محل الوضع فقال اصحا بنا محلہ تحت السرۃ فی حق الرجل والصدر فی حق المرأۃ اھ مخلصا و نیز فرمود : المرأۃ تضعھما علی صدر ھا کما قال الجم اغفیر ۔ لاجرم علامہ ابراہیم بن محمد بن ابراہیم حلبی رحمۃ اللہ تعالی علیہ درغنیہ ایں مسئلہ را متفق علیھا گفت و حدیث اگر بمواقف معلوم نیست علماء احناف ( اﷲ تعالی ان پر لطف و کرم عام فرمائے )کے نزدیك حکم یہ ہے کہ خواتین نماز مین سینے پر ہاتھ باندھیں اس مسئلہ پر ہمارے ائمہ کا اتفاق ہے۔ علماء کا جم غفیر نے یہ بات اپنی اپنی کتب میں بغیر اختلاف نقل کی ہے چنانچہ علامہ محمد بن محمد بن محمد المعروف ابن امیر الحاج حلبی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے منیہ کی شرح میں فرمایا : تیسرا۳مقام ہاتھ رکھنے کے بارے میں ہمارے علما نے فرمایا کہ مرد ناف کے نیچے اور عورت سینہ پر ہاتھ باندھے اھ ملخصا ۔ اور یہ بھی فرمایا کہ عورت اپنے دونوں ہاتھ سینہ پر رکھے جیسا کہ جم غفیر نے تصریح کی ہے اور علامہ ابراہیم بن محمد بن ابرہیم حلبی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے غنیہ میں اس مسئلہ پر اتفاق علما کی تصریح کی ہے او راگر کوئی حدیث اس کے موافق نہیں ملتی تو اس کی
حوالہ / References حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
#4562 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
بمخالف ہم واردنیست ومن ادعی فعلیہ البیان ولہذا محقق حلبی در حلیہ فرمود : ثم انما قلنا ان المرأۃ تضع یمنا ھا علی یسر ھا علی صدرھا لائہ استر لھا فیکون ذلك فی حقھا اولی لما عرف من ان الاولی اختیار ماھو استرلھا من الامور الجائزۃ کل منھا لھا من غیر منع شرعی عنہ وخصوصا فی الصلوۃ ایں است آنچہ درباری النظر رونما یدو انما۔ اقول : وباﷲ التوفیق میر سد کہ ایں مسئلہ را بحدیثے جید الاسناد رنگ اثبات وہیم تقریرش آنچناں کہ در محل وضع از سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم دو صورت مروی است یکے زیرناف بستن ودروے احادیث عدیدہ وارداست اجلھا ماروی ابوبکر بن ابی شیبۃ فی مصنفہ قال حدثنا وکیع عن موسی بن عمیر عن علقمۃ بن وائل بن حجر عن ابیہ رضی اﷲ عنہ قال رأیت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وضع یمینہ علی شمالہ فی صلاۃ تحت السرہ ۔ امام علامہ قاسم بن قطلوبغا رحمۃ اللہ تعالی علیہ در تخریج احادیث اختیار شرح مختار فرماید سندہ جید ورواتہ کلھم ثقات دوم بر سینہ نہادن و دریں باب ابن خزیمہ را
مخالفت میں بھی وارد نہیں م اگر کوئی دعوی کرتا ہے ت دلیل پیش کرے اسی لیے محقق حلبی نے حلیہ میں فرمایا : ہم نے جو یہ کہا کہ عورت اپنا دایاں ہاتھ بایں ہاتھ پر اپنے سینے پر باندھے یہ اس لیے کہ عورت کے لئے اس میں زیادہ سترہے لہذا یہ اس کے حق میں اولی ہے کیونکہ یہ بات معلوم ہے کہ عورت کے حق میں جتنے بھی امور جائز ہیں ان میں سے اسی کو اختیار کرنا بہتر ہے جو سب سے زیادہ ستر کا سبب ہو خصوصا حالت نماز میں زیادہ خیال رکھنا چاہئے یہ تو وہ ہے جو ظاہر نظر میں آیا ہے
اقول : (میں کہتا ہوں ) اﷲ کی توفیق سے کہ اس مسئلہ پر ایك حدیث جید الاسناد پیش کروں اس کی تقریریوں ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ہاتھ باندھنے کی دو صورتیں مروی ہیں ایك صورت زیر ناف کی ہے اور اس بارے میں متعدد احادیث وار د ہیں سب سے اہم روایت وہ ہے جسے ابو بکر بن ابی شیبہ نے اپنے مصنف میں ذکر کیا کہ ہمیں وکیع نے موسی بن عمیر سے علقمہ بن وائل بن حجر نے اپنے والد گرامی رضی اللہ تعالی عنہ سے حدیث بیان کی ہے کہ میں نے دوران نماز نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے باندھے دیکھا ہے۔ امام علامہ قاسم بن قطلو بغاحنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اختیار شرح مختار کی احادیث کی تخریج کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس کی سند جید اور تمام راوی ثقہ ہیں ۔ دوسری ۲ صورت سینے پر ہاتھ باندھنے کی ہے اس بارے میں
حوالہ / References حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
مصنف ابن ابی شیبہ وضع الیمین علی اشمال من کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ ادرۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱ / ۳۹۰
تخریج احادیث شرح مختار للقاسم بن قطلوبنا
#4563 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
حدیثے است درصحیح خودش ہم از وائل ابن حجر رضی اللہ تعالی عنہ : قال صلیت مع رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فوضع یدہ الیمینی علی یدہ الیسرے علی صدرہ وازانجاکہ تاریخ مجہول است وہر دور روایت ثابت و مقبول ناچارکار بتر جیح افتاد چوں نیك نگریم مبنائے ایں امر بلکہ تمام افعال صلاۃ بر تعظیم است و معہود و معلوم عندالتعظیم دست زیر ناف بستن است ولہذا امام محقق علی الاطلاق در فتح فرماید : فیحال علی المعھود من وضعھا حال قصد التعظیم فی القیام والمعھود فی الشاھد منہ تحت السرہ پس دربارہ مرداں روایت ابن ابی شبیہ راحج تر آمد و درامرزنان شرع مطہر راکمال نظر برستروحجاب است و لہذا فرمودند : خیر صفوف الرجال اولھا وشرھا اخر ھا و خیرصفوف النساء اخرھا وشر ھا اولھا اخرجہ الستہ الاالبخاری عن ابی ھریرۃ والطبرنے فی الکبیر عن ابی امامۃ وعن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھم وفرمودند صلاۃ المرأۃ فی بیتھا افضل من صلاتھا فی حجرتھا وصلاتھا فی مخدعھا افضل من صلاتھا فی بیتھا ۔ اخرجہ ابو داؤد عن ابن مسعود والحاکم عن ابن خزیمہ اپنے صحیح میں حضرت وائل بن حجر رضی اللہ تعالی عنہ سے ہی روایت لائیں ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی معیت میں نماز پڑھنے کا شرف پایا تو آپ نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں پر رکھ کر سینے پر ہاتھ باندھیں چونکہ اس کی تعریف کا علم نہیں کہ کون سی روایت پہلے کی ہے اور کون سی بعد کی اور دونوں روایات ثابت و مقبول ہیں تو لاجرم دونوں میں سے کسی ایك کو ترجیح ہوگی جب ہم نماز کے اس فعل بلکہ نمازکے تمام افعال پر نظر ڈالتے ہیں تو وہ تمام کے تمام تعظیم پر مبنی نظر آتے ہیں اور مسلم ومعروف تعظیم کا طریقہ ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا ہے لہذا امام محقق علی الاطلاق نے فتح میں فرمایا ہے : قیام میں بقصد تعظیم ہاتھ باندھنے کا معاملہ معروف طریقے پر چھوڑا جائے اور قیام میں تعظیما ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا ہی معروف ہے ۔ لہذامردوں کے بارے ابن ابی شیبہ کی روایت راجح ہے اور چونکہ خواتین کے معاملہ میں شرع مطہر کا مطالبہ کمال ستر حجاب ہے اس لئے فقہاء نے فرمایا مردوں کی پہلی صف افضل اور آخری غیر افضل اور خواتین کی آخری صف افضل اور پہلی غیر افضل یہ حدیث صحاح ستہ کی تمام کتابوں میں ہے سوائے بخاری کے ۔
حوالہ / References صحیح ابن خزیمہ باب وضع الیمین علی الشمال فی الصلوۃ مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت۱ / ۲۴۳
فتح القدیر باب صفت الصلوۃ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۴۹
سنن ابن داؤد باب صف النساء و التاخر عن الصف الاول مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۹۹
ایضا کتاب الصلوۃ باب التشدید فی ذالک ۱ / ۸۴
#4564 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
ام سلمۃ رضی اﷲ تعالی عنہا بسند صالح وعبد اﷲ بن مسعود فرمودہ رضی اللہ تعالی عنہ اخروھن من حیث اخرھن اﷲ اخرجہ عبدالرزاق فی المصنف و من طریقہ الطبرانی فع المعجم وزنان را حکم شد کہ در سجدہم بر زمین چسپد باند آنکہ سنت در مردان خلاف آنست ابوداؤد فی المراسیل عن یزید بن حبیب ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مر علی امرأتین تصلیان فقال اذا سجدتما فضما بعض اللحم الی بعض الارض فان المرأۃ لیست فی ذالك کرجل ویروی موصولا بوجہین قال البھقی ھو احسن منھما وسنت مرایشاں راتورك شد رواہ الامام ابو حنیفۃ عن نافع عن ابی عمر رضی اﷲ تعالی عنھما و فی الباب علی کرم اﷲ تعالی وجہہ قال اذا صلت المرأۃ فلتحتفر قال الجوھری تتضام اذا جلست واذا سجدت واگر جماعت خواھند امام آنہا میاں آنہا ایستد قال الامام محمد فی الاثار اخبرنا ابو حنیفۃ عن حماد بن ابی سلیمن عن ابراھیم النخعی ان عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنہا کانت تؤم النساء فی الشھر رمضان
حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے اور طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت ابو امامہ اورحضرت عبدﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہم سے روایت کیاہے یہ بھی فرمایا عورت کی نماز کمرے میں گھر کے صحن میں نماز پڑھنے سے افضل اور خاص چھوٹے کمرے میں اس سے بھی افضل ہے۔ اسے ابو داؤد نے حضرت ابن مسعود سے حاکم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ سے سند صالح سے روایت کیا ۔ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کا فرمان ہے انھیں اسی طرح پیچھے رکھو جیسے انھیں اﷲ نے پیچھے رکھا ہے اسے امام عبدالرزاق نے مصنف میں اور اسی سند سے طبرانی نے معجم میں ذکر کیا ہے نیز خواتین کے لئے حکم ہے کہ بوقت سجدہ زمین کے ساتھ چمٹ جائیں حالانکہ مردوں کے لئے اس کے خلاف کرنا سنت ہے ابو داؤد نے المراسیل میں یزید بن حبیب سے روایت کیا کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم دو خواتین کے پاس سے گزرے جو نماز ادا کر رہی تھیں فرمایا جب تم سجدہ کرو تو اپنے جسم کا کچھ حصہ زمین کے ساتھ ملاؤ کیونکہ سجدہ کی حالت میں عورت مرد کی طرح نہیں اور یہ روایت دو سندوں سے متصل مروی ہے ۔ بیہقی فرماتے ہیں یہ سند دونوں سے احسن ہے خاص کر عورتوں کے لئے تورك (حالت قعدہ میں زمین کے ساتھ چمٹ کر بیٹھنا)
حوالہ / References المنصف لعبد الرزاق باب شہود النساء الجماعۃ مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ / ۱۴۹
کتاب المراسیل لابی داؤد باب ماجاء فی من نام علی الصلوٰۃ مطبوعہ المطبعۃ العلمیۃ لاہور ص۵۵
الصحاح باب الزاء فصل الحائ مطبوعہ دارالعلم للملایین بیروت ۳ / ۸۷۴
#4565 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
فتوم وسطا عبدالرزاق فی المصنف و الدار قطنی ثم البیھقی فی سننھما واللفط بعد الرزاق عن ریطۃ الحنفیۃ ان عائشۃ رضی اﷲ عنھا امتھن وقامت بینھن فی صلاۃ مکتوبۃ وفی الباب عن ام سلمۃ و ابن عباس رضی اﷲ عنھم و یروی فیہ حدیث مرفوع لیس بذلك بالجملہ زنان روعوتے مستورہ داشتہ اندومبنائے کار آنہا برستر نہادہ الترمذی بسند حسن عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم المرأۃ عورۃ
وشك نیست کہ درحق آنہادست بر سینہ بستین استرو اقرب بحیاست ازدست زیرناف نہادن و تعظیم نیز درایناں ہم بتسترو احتجاب باشد اذ لا تعظیم الا بالادب ولادب بالحیاء ولاحیاء الابالتستر پس درباب زناں حدیث ابن خزیمہ ارجح برآمد و ثابت شد کہ ہر دو مسئلہ بحدیثے جید استناد دارو اصحاب ماہر دوجا بحدیث و ترجیحے عمل فرمودہ اندر رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہم اجمعین نظیرش مسئلہ قعود است کہ بہر دو وجہ از نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم منقول است و علمائے مدر مرداں نصب یمنی و جلوس علی یسری سنت ہے اس کو امام ابو حنیفہ نے نافع سے انہوں نے حضرت ابن صعمر رضی اللہ تعالی عنہم سے روایت کیا ہے اس مسئلہ میں حضرت علی کرم اﷲ وجہہ سے یہ مروی ہے کہ جب عورت نماز پڑھے تو وہ رانوں پر سرین کے بل بیٹھے ۔ جوہری نے اسکا معنی یہ کیا ہے کہ سجدہ کی حالت میں زمین سے چمٹ کر بیٹھے اگر خواتین جماعت کروانا چاہیں تو ان کی امام خاتون ان کے درمیان کھڑی ہو جائے۔ امام محمد نے کتاب الاثار میں کہا امام ابوحنیفہ نے حماد بن ابی سفیان سے انھوں نے ابراہیم نخعی سے ہمیں حدیث بیان کی کہ سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا رمضان کے مہینے میں عورتوں کی جماعت کرواتیں تو وسط میں کھڑی ہوتیں امام عبدالرزاق نے مصنف میں اور دارقطنی و بہقی نے سنن میں یہ روایت کی الفاظ عبدالرزاق کے ہیں کہ ریطہ حنفیہ بیان کرتی ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہما خواتین کی امامت کرواتیں تو فرائض کی نماز میں ان کے درمیان کھڑی ہوتیں اس بارے میں حضرت ام سلمہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہم سے بھی مروی ہے جو اس کی طرح نہیں ہے بالجملہ خواتین عورت مستورہ کی مالك ہوتی ہیں اور ان کے تمام افعال کی بناء پر وہ حجاب پر
حوالہ / References کتاب الاثار للشیبانی باب المرأۃ تومئ النساء الخ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ص۴۴
المصنف لعبدالرازاق باب المرأۃ تومئ النساء الخ مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ / ۱۴۱
جامع الترمذی ابواب الرضاع مطبوعہ امین کمپنی دہلی ۱ / ۱۴۰
#4566 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
اختیارکردند لانہ اشق و افضل الاعمال اشقھا ودرناں بتورك رفتند لانہ استروالیسرومبنی امرھن علی الستر والیسر بخلاف مسلك شافیعۃ ومن وافقھمکہ دست برشکم بستن است نہ برسینہ کما فی المنھاج والمیزان وغیرھما کہ ہرگز دریں باب حدیثے یافتہ نمی شو دخو دائمہ ایشاں رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہم درخلاصہ و منہاج امام وبلوغ المرام حدیثے موید مذہب خودشاں نیا ورد ند جز حیث ابن خزیمہ ومن فقیر عجم ازاستدلال ایشاں بانچہ مساسے ندارد وبمذہب ایشاں کہ درتحت الصدور علی الصدر فرقے ہست کہ پیداست وقد فصلنا الکلام فی محل اخروفی ماذکرنا کفایۃ لمن امعن النظر واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
رکھی گئی ہے۔ ترمذی نے سند حسن کے ساتھ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاکہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : عورت تمام کی تمام کی تمام قابل ستر وحجاب ہے۔ اور اس میں کوئی شك نہیں کہ عورتوں کے حق میں سینے پر ہاتھ باندھنا زیرناف باندھنے سے زیادہ حجاب اور حیا کی صورت میں ہے ۔ اور خواتین کا تعظیم کرناستر وحجاب کی صورت میں ہے کیونکہ تعظیم ادب کے بغیر اور ادب حیا کے بغیر حاصل نہیں ہوتا لہذا خواتین کے حق میں حدیث ابن خزیمہ زیادہ راجح ثابت ہوئی اور ثابت ہوگیا کہ دونوں مسائل میں ایسی حدیث موجود ہے جس کی سند جید ہے اور ماہر علماء حدیث نے دونوں مقامات پر حدیث و ترجیح پر ہی عمل فرمایا ہے رحمۃ اﷲ علیہم اجمعین۔ اس کی ایك نظیر مسئلہ قعود ہے کہ اس کے دونوں طریقے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے منقول ہیں ہمارے علماء نے مردوں کے لئے دایاں پاؤں کھڑا کرنا اور بائیں پر بیٹھنے کو اختیار کیا ہے کیونکہ یہ شاق ہے اور بہتر عمل وہی ہوتا ہے جس میں مشقت ہو اور خواتین کے لئے تورك کا قول کیا کیونکہ اس میں زیادہ ستر اور آسانی ہے اور خواتین کا معاملہ ستر اور آسانی پر مبنی ہے بخلاف شوافع اور ان کے موافقین کے کہ ان کے ہاں عورت شکم پر ہاتھ باندھے نہ کہ سینہ پر جیسا کہ منہاج میزان وغیرہما میں ہے کہ اس بارے میں کوئی حدیث نہیں ملی خود ان کے ائمہ رحمہم اللہ تعالی نے خلاصہ امام نوی کی منہاج اور بلوغ المرام میں اپنے مذہب کی تائید میں سوائے حدیث ابن خزیمہ کے کوئی حدیث ذکر نہیں کی مجھ فقیر کو ان کے استدلال پر تعجب ہے کہ یہ حدیث ان کے مذہب کی دلیل کیسے بن سکتی ہے ! کیونکہ تحت الصدر(سینے کے نیچے) اور علی الصدر(سینے کے اوپر) میں نمایاں فرق ہے ہم نے دوسرے مقام پر اس پر تفصیلی گفتگو کی ہے ہماری یہ مذکورہ گفتگو ہر اس شخص کے لئے کافی ہے جو دقت نظر رکھتا ہے واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم ۔ (ت)
مسئلہ نمبر ۴۰۱۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ انگشت شہادت سے التحیات میں اشارہ کیسا ہے اور ہمارے فقہا سے ثابت ہے یا نہیں بینو ا تجروا
#4567 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
الجواب :
اخرج مسلم فی صحیحہ عن سیدنا عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما قال فیہ کان اذاجلس فے الصلوۃ وضع(یرید رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ) کفہ الیمنی علی فخذہ الیمنی وقبض اصابعہ کلھا واشار باصبعہ التی تلی الابھام ۔ یعنی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے تشہد میں اپنا دہنا ہاتھ دہنی ران پر رکھا اور سب انگلیاں بند کرکے انگوٹھے کے پاس انگلی سے اشارہ فرمایا۔ واخرج ابن السکن فی صحیحہ عنہ رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الاشارۃ بالاصبع اشد علی الشیطان من الحدید ۔ یعنی فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے انگلی سے اشارہ کرنا شیطان پر دھار دار ہتھیار سے زیادہ سخت ہے۔ وعنہ رضی اللہ تعالی عنہ ایضاعن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال ھی مذعرۃ للشطان ۔ یعنی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا وہ شیطان کے دل میں خوف ڈالنے والا ہے۔ واخرج اباداؤد والبیھقی وغیرھما عن سیدنا وائل بن حجر رضی اﷲ عنہ ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عقد فی جلوس التشھد الخنصر والبنصرثم حلق الوسطی بالابھام و اشار بالسبابۃ ۔ یعنی نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اپنے جلسہ تشہد میں چھوٹی انگلی اور اس کی برابر والی کو بند کیا پھر بیچ کی انگلی کو انگوٹھے کے ساتھ حلقہ بنایا اور انگشت شہادت سے اشارہ فرمایا۔ وبمعناہ اخرج ابن حیان فی صحیحہ (ابن حبان نے بھی اپنی صحیح میں اسی طرح کی حدیث ذکر کی ہے ۔ ت)اور اس باب میں احادیث و آثار بکثرت وارد ہمارے محققین کا بھی مذہب صحیح و معتمد علیہ ہے صغیری میں ملتقط وشرح ہدایہسے اس کی تصحیح نقل کی اور اسی پر علامہ فہامہ محقق علی الاطلاق مولاناکمال الدین محمد بن الہمام و علامہ ابن امیرالحاج حلبی وفاضل بہنسیوباقی و ملاخسرو وعلامہ شربنلالی وفاضل ابراہیم طرابلسی وغیرہم اکابر نے اعتماد فرمایا اور انھیں کا صاحب درمختا فاضل مدقق علاء الدین حصکفی وفاضل اجل سید احمد طحطاوی وفاضل ابن عابدین شامی وغیرہم اجلہ نے اتباع کیا علامہ بدرالدین عینی نے تحفہ سے اس کا استحباب نقل فرمایا اور صاحب محیط و
حوالہ / References صحیح مسلم باب صفۃ الجلوس فی صلوٰۃ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۱۶
مسند احمد بن حنبل ازمسند عبداﷲ ابن عمر مطبوعہ دارلفکر بیروت ۲ / ۱۱۹
السنن الکبرٰی للبیہقی باب من روی انہ اشاربہا الخ مطبوعہ دار صادر بیروت ۲ / ۱۳۲
السنن الکبرٰی للبیہقی باب ماروی فی تحلیق الوسطی بالابہام مطبوعہ دار صادر بیروت ۲ / ۱۳۱
#4568 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
ملا قہستانی نے سنت کہا ففی الدرالمختار(درمختار میں ہے ۔ ت) :
لکن المعتد ماصححہ الشراح ولاسیما المتاخرون کالکمال والحلبی والبھنسی والباقی وژیخ الاسلام الجد وغیرھم انہ یشیر لفعلہ علیہ الصلوۃ والسلام ونسبوہ لمحمد ولامام بل فی متن دررالبحار وشرحہ غررالاذکار المفتی بہ عندنا انہ یشیر الخ افی الشرنبلالیۃ عن البرھان الصحیح انہ یشیر الخ واحتزر بالصحیح عماقیل لایشیر لانہ خلاف الدرایۃ والروایۃ الخ وفی العینی عن التحفۃ الاصح انھا مستجۃ وفی المحیط سنۃ انتھی ملتقطا ۔
لیکن معتمد وہی ہے جسے شارحین نے صحیح کیا خصوصا متاخرین علماء کمال حلبی بہنسی باقانی اور شیخ الاسلام الجد وغیرہم نے اشارہ کرنے کو صحیح قرار دیا کیونکہ یہنبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا عمل ہے اور انھوں نے اس قول کی نسبت امام محمد اورامام صاحب کی طرف کی ہے بلکہ متن دررالبحار اور اسکی شرح غررالاذکار میں ہے کہ اشارہ کرنا ہمارے نزدیك مفتی بہ قول ہے الخ اور شرنبلالیہ میں برہان سے منقول ہے کہ صحیح یہی ہے کہ نمازی اشارہ کرے الخ لفظ صحیح کہہ کر متوجہ کیا ہے کہ وہ قول کہ اشارہ نہ کیا جائے کیونکہ وہ درایت و روایت دونوں کے خلاف ہے اور عینی میں تحفہ کے حوالے سے ہے کہ اشارہ کرنا مستحب ہے اور محیط میں ہے کہ سنت ہے انتہی ملتقطا۔ (ت)
اور اس مسئلہ میں ہمارے تینوں ائمہ کرام سے روایتیں وارد جس نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے اس میں عدم روایت یا روایت عدم کا زعم کیا محض ناواقفی یا خطائے بشری پر مبنی تھا امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ کتاب المشیخۃ میں دربارہ اشارہ ایك حدیث رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کرکے فرماتے ہیں : فنفعل مافعل النبی صلی اﷲعلیہ وسلم ونصنع ماصنعہ وھو قول ابی حنیفۃ وقولنا ۔ ذکرہ العلامۃ الحلبی فی الحلیۃ عن البدائع یعنی پس ہم کرتے ہیں جو رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کیا اور عمل کرتے ہیں اس پر جو حضور کا فعل تھا اور وہ مذہب ہے امام ابو حنیفہ کا اور ہمارا۔ اس کو علامہ حلبی نے حلیہ میں بدائع سے نقل فرمایا ہے۔
ویروی عنہ رحمۃ اﷲ تعالی ثم قال ھذا قولی وقول ابی حنیفۃ ۔ اثرہ العلامۃ عن الذخیرۃ
حوالہ / References درمختار باب صفۃ الصلوٰۃ مطبعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۷۷
بدائع الصنائع فصل فی سنن الصلوٰۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی ۱ / ۲۱۴
نوٹ : کتاب المشیخہ دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے بدائع الصنائع سے حوالہ نقل کیا ہے۔
حلیۃ المحلی شرح منیہ المصلی
#4569 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
وشرح الزاھدی صاحب القنیۃ اور انہی سے مروی ہے پھر امام محمد نے فرمایا اشارہ کرنا میرا قول ہے اور قول ابی حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا ۔ علامہ حلبی نے ذخیرہ اور شرح الزاہدی صاحب قنیہ سے اسے نقل کیا۔ وہ مذکورہ اور کبیری اور ردالمحتار میں اسے امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے روایت کیا یہاں تك کہ شامی نے اس حاشیہ میں تصریح کی :
ھو منقول عن ائمتنا الثلثلۃ۔ ۔
(یہ ہمارے تینوں ائمہ سے منقول ہے۔ ت)
اور اسی میں ہے :
ھذا ما اعتمدہ المتأخرون لثبوتہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بالاحادیث اصحیحۃ والصحۃ نقلہ عن ائمتنا الثلثۃ فلذا قال فی الفتح ان الاول(یعنی عدم الاشارہ) خلاف الدرایۃ والروایۃ وفیہ عن القھستانی وعن اصحابنا جمیعا انہ سنۃ فیحلق ابھام الیمنی و وسطاھا ملصقاراسھا براسہا ویشیر بالسبابۃ ۔
اسی پر متاخرین نے اعتماد کیا کیونکہ نبیاکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے احادیث صحیحہ کے ساتھ ثابت ہے اور ہمارے تینوں ائمہ سے اس کا منقول ہونا صحیح ہے اسی لئے فتح میں کہا پہلا(یعنی اشارہ نہ کرنا) وروایت سے ہے کہ ہما رے تمام احناف کے نزدیك یہ سنت ہے لہذا دائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور درمیان انگلی کے سروں کو ملا کے حلقہ بناکر سبابہ سے اشارہ کرے (ت)
کبیری میں ہے :
قبض الاصابع عند الاشارۃ المروی عن محمد فی کیفیۃ الاشارۃ وعن کثیر من المشائخ (انہ) لایشیر اصلا وھوخلاف الدریۃ والروایۃ فعن محمد ان ما ذکرہ فی کیفیۃ الاشارۃ ھو قولہ وقولہ ابی حنیفۃ رحمۃ اﷲ تعالی ملخصا ۔
اشارہ کے وقت انگلیا بند کرلے طریقہ اشارہ میں امام محمد سے یہی مروی ہے اور متعدد مشائخ کا قول ہے کہ اشارہ اصلا نہ کیا جائے یہ درایر و روایت کے خلاف ہے۔ امام محمد سے منقول ہے کہ کیفیت اشارہ میں کچھ ذکر کیا ہے یہ ان کا اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا قول ہے ملخصا(ت)
حوالہ / References ردالمختار ، باب صفۃ الصلوٰۃ ، مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۴۲
ردالمختار ، باب صفۃ الصلوٰۃ ، مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۴۲
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی ، صفۃ الصلوٰۃ ، مطبوعہ سہیل اکیڈیمی لاہور ص ۳۲۸
#4570 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
اور اسی طرح محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں فرمایا۔ بالجملہ اشارہ مذکورہ کی خوبی میں کچھ شك نہیں احادیثرسو ل اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور اقوال ہمارے مجتہدین کرام کے اسی کو مفید بعد اس کے اگر کتب متاخرین مثل تنویر الابصار و ولوالجیہ وتجنیس وخلاصہ وبزازیہ و واقعات و عمدۃالمفتی ومنیتی المفتی وتبیین کبری ومضمرات و ہندیہ وغیرہا عامہ فتاوی میں عدم اشارہ کی ترجیح تصحیح منقول ہو تو قابل اعتماد نہیں ہوسکتی علماء نے ان اقوال پر التفات نہ فرمایا اور خلاف عقل و نقل ٹھہرایا کما سمعت مرارا والحمد ﷲ لیلا و نھارا وجھرا واسرارا وﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۴۰۲ : محرام الحرام ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ رفع یدین حضرت رسول مقبول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کیایا نہیں اور کب تك کیا یہ بات ثابت ہے کہ ہمیشہ آپ نے کیا مسلمانوں کو کرنا چاہئے یا نہیں مکمل ارشاد فرما کر مشکور و ممنون فرمایئے فقط۔
الجواب :
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ہر گزکسی حدیث میں ثابت نہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ہمیشہ رفع یدین فرمایا بلکہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے اس کا خلاف ثابت ہے۔ نہ احادیث میں اسکی مدت مذکور ۔ ہاں حدیثیں اس کے فعل و ترك دونوں میں وارد ہیں سنن ابی داؤد وسنن نسائی و جامع ترمذی وغیرہامیں ایسی سند سے جس کے رجال صحیح ومسلم ہیں بطریق عاصم بن کلیب عن عبدالرحمن بن الاسودعن علقمہ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی :
یعنی انہوں نے فرمایا کیا میں تمہیں خبر نہ دوں کہ حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نماز کس طرح پڑھتے تھے یہ کہہ کر نماز کو کھڑے ہوئے تو صرف تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھا ئے پھر نہ اٹھائے(ت)
قل الااخبر کم بصلاۃ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال فقام فرفع یدیہ اول مرۃ ثم لم یعد ۔
ترمذی نے کہا :
حدیث ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ حدیث حسن وبہ یقول غیر واحد من
یعنی حدیث ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث حسن ہے اور یہی مذہب تھا متعدد علماء منجملہ
حوالہ / References سنن النسائی باب رفع الیدین للرکوع الخ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۱۲۳ ، جامع الترمذی باب رفع الیدین عند الرکوع مطبوعہ امین کمپنی کراچی ۱ / ۳۵
#4571 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
اھل العلم من اصحاب النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم والتابعین وھو قول سفیان واھل الکوفہ ۔
اصحاب رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم و تابعین کرام و امام سفیان وعلمائے کوفہ رضی اللہ تعالی عنہم کا(ت)
مسند امام الائمہ مالك الازمہ امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ میں ہے :
حد ثنا حماد عن ابراہیم عن علقمہ والاسود عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان لایرفع یدیہ الاعندافتتاح الصلوۃ ولایعود لشیئ من ذلک ۔
ہمیں حماد نے ابراہیم سے علقمہ واسود سے عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے بیان کیا کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم صرف نماز کے شروع میں رفع یدین فرماتے پھر کسی جگہ ہاتھ نہ اٹھاتے۔
امام ابو جعفر طحاوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ شرح معانی الاثار میں فرماتے ہیں :
حدثنا ابی بکرۃ قال ثنا قال سفیان عن المغیرۃ قال قلت لابراہیم حدیث وائل انہ رأی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یرفع یدیہ اذاافتتح الصلاۃ واذارکع واذارفع رأسہ من الرکوع فقال ان کان وائل رأہ مرۃ یفعل ذلك فقد رأہ عبداﷲ خمسین مرۃ لا یفعل ذلك ۔
ابو بکرہ نے ہمیں حدیث بیان کی کہا ہمیں مومل نے حدیث بیان کی کہا ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی ہے مغیرہ سے اور مغیرہ کہتے ہیں کہ میں نے امام ابراہیم نخعی سے حدیث وائل رضی اللہ تعالی عنہ کی نسبت دریافت کیا کہ انھوں نے حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو دیکھا کہ حضور نے نماز شروع کرتے اور رکوع میں جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین فرمایا ابراہیم نے فرمایا وائل نے اگر ایك بار حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کورفع یدین کرتے دیکھا تو عبداﷲ رضی اللہ تعالی عنہ نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو پچاس با دیکھا کہ حضور نے رفع یدین نہ کیا۔
صحیح مسلم شریف میں ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
حوالہ / References جامع الترمذی باب رفع الیدین عند الرکوع مطبوعہ امین کمپنی کراچی ۱ / ۳۵
مسند الامام اعظم اجتماع الاوزاعی و ابی حنیفہ مطبوعہ نور محمد کتب خانہ کراچی ص۵۰
شرح معافی الاثار باب التکبیر عند الرکوع مطبوعہ ایچ ایم سعید ۱ / ۱۵۴
#4572 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
مالی اراکم رافعی ایدیکم کانھا اذناب خیل شمس اسکنوا فی الصلاۃ ۔
کیا ہوا کہ میں تمہیں رفع یدین کرتے دیکھتا ہوں گویا تمہارے ہاتھ چنچل گھوڑوں کی دمیں ہیں قرار سے رہو نماز میں ۔
اصول کا قاعدہ متفق علیہا ہے کہ اعتبار عموم لفظ کا ہے نہ خصوص سبب کا۔ اور حاظر بلیح پر مقدم ہے۔ ہمارے ائمہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین نے احادیث ترك پر عمل فرمایا حنفیہ کو ان کی تقلید چاہئے شافعیہ وغیرہم اپنے ائمہ رحمہم اللہ تعالی کی پیروی کریں کوئی محل نزاع نہیں ہاں وہ حضرات تقلید ائمہ دین کو شرك و حرام جانتے اور با آنکہ علمائے مقلدین کاکلام سمجھنے کی لیاقت نصیب اعداء اپنے لئے منصب اجتہاد مانتے اور خواہی نخواہی تفریق کلمہ مسلمین و اثارت فتنہ بین المومنین کرنا چاہتے بلکہ اسی کو اپنا ذریعہ شہرت و ناموری سمجھتے ہیں ان کے راستے سے مسلمانوں کو بہت دور رہنا چاہئے ۔ مانا کہ احادیث رفع ہی مرجع ہوں تاہم آخر رفع یدین کسی کے نزدیك واجب نہیں غایت درجہ اگر ٹھہرے گا تو ایك امرمستحب ٹھہرے گا کہ کیا تو اچھا نہ کیا تو کچھ برائی نہیں مگر مسلمانوں میں فتنہ اٹھانا دو۲ گروہ کردینا نماز کے مقدمے انگریزی گورنمنٹ تك پہنچانا شاید اہم واجبات سے ہو گا۔ اﷲ عزوجل فرماتا ہے :
 و الفتنة اشد من القتل-
فتنہ قتل سے بھی سخت تر ہے۔
خود ان صاحبان میں بہت لوگ صد ہا گناہ کبیرہ کرتے ہوں گے انھیں نہ چھوڑنا اور رفع یدین نہ کرنے پر ایسی شورشیں کرنا کچھ بھلا معلوم ہوتا ہوگا(ہر گز نہیں ) اﷲ سبحنہ وتعالی ہدایت فرمائے آمین واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۰۳ : ازاجین مکان میرخادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہحاجی یعقوب علی خان صاحب ۲۹ جمادی الاخری ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شافعیہ ایك ہاتھ کے فرق سے نماز میں پاؤں کشادہ رکھتے ہیں یہ میں نے کعبۃ اﷲ میں دیکھا اس کی کیا وجہ ہے اور مذہب حنفیہ میں چار انگشت کے فاصلے پر ایك پاؤں سے دوسرا پاؤں رکھتے ہیں کس طرح کرنا چاہئےبینوا توجروا۔
الجواب :
چار ہی انگل کا فاصلہ رکھنا چاہئے یہی ادب اور یہی سنت ہے اور یہی ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے
حوالہ / References صحیح مسلم باب الامر بالسکون فی الصلوٰۃ الخ مطبوعہ اصح المطابع کراچی ۱ / ۱۸۱
القرآن ۲ / ۱۹۱
#4573 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
منقول ہے۔
قال فی ردالمحتار ینبغی ان یکون بینھما مقدار اربع اصابع الید لا نہ اقرب الی الخشوع ھکذا روی عن ابی نصر الدبوسی انہ کان یفعلہ کذا فی الکبری ۔ اھ اقول : بل فی نورالایضاح و شرحہ مراقی الفلاح للعلامۃ الشرنبلا لی یسن تفریج القدمین فی القیام قدر اربع اصابع لانہ اقرب الی الخشوع ۔ اھ قال السید الطحطاوی فی حاشیۃ نص علیہ ف کتاب الاثرعن الامام ولم یحك فیہ خلافا اھ ۔
ردالمحتار میں ہے کہ دونوں قدموں کے درمیان ہاتھ کی چار انگلیوں کی مقدار فاصلہ ہونا چاہیئے کیونکہ یہ خشوع کے زیادہ قریب ہے۔ ابو نصر دبوسی سے اسی طرح منقول ہے کہ وہ یہی کرتے تھے کذا فی الکبری اھ قول : (میں کہتا ہوں ) بلکہ نورالایضاح اور اسکی شرح مراقی الفلاح للعلامۃ الشربنالالی میں ہے کہ حالت قیام میں دونوں قدموں کو چار انگلیوں کے فاصلہ پر کھلا رکھنا سنت ہے کیونکہ یہ خشوع کے زیادہ قریب ہے اھ سید طحطاوی نے اسکے حاشیہ میں فرمایا کہ کتاب الاثر میں امام صاحب نے اس پر نص کی ہے اور اس میں اختلاف بیان نہیں کیا اھ(ت)
امام علامہ جمال الدین یوسف اردبیلی شافعی نے بھی کتاب الانوار میں کہ اجل معتمدات مذہب شافعی سے ہے اسی چار انگل فصل کے مستحب ہونے کی تصریح فرمائی
حیث قال یکرہ الصاق القدمین ویستحب التفریق بینھما بقدر اربع اصابع ۔
قدموں کو ملا کر رکھنا مکروہ ہے ان کے درمیان چار انگلیوں کی مقدار فاصلہ رکھنا مستحب ہے۔ (ت)
ہاں سید علامہ شیخ زکریا انصاری شافعی قدس سرہ نے شرح روض الطالب میں بالشت بھر کا فاصلہ تحریر فرمایا۔ حاشیہ الکمثری علی الانوار میں ہے :
قولہ بقدر اربع اصابع لعلھا متفرقۃ لان فی شرح الروض بقدر شبر ۔
اس کا قول “ چار انگلیوں کی مقدار “ شاید متفرق طور پر مراد ہوں کیونکہ شرح روض میں ہے کہ فاصلہ ایك بالشت ہونا چاہئے۔ (ت)
حوالہ / References ردالمحتار باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۹۹
مراقی الفلاح و حاشیۃ مراقی فصل فی بیان سنن الصلوٰۃ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت آرم باغ کراچی ص ۱۴۳
مراقی الفلاح و حاشیۃ مراقی فصل فی بیان سنن الصلوٰۃ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت آرم باغ کراچی ص ۱۴۳
الانوار العمل الابرار لیوسف الکتاب الصلوٰۃ المطبعۃ الجمالیۃ مصر ۱ / ۶۱
حاشیہ الکمثری علی الانوار الصلوٰۃ المطبعۃ الجمالیۃ مصر
#4574 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
مگر ایك ہاتھ کا فرق نہ کسی مذہب کی کتاب میں نظر سے گزرا نہ کسی طرح قابل قبول ہوسکتا ہے کہ ہدایۃ طرز و روش ادب وخشوع سے جدا ہے جن شافعیہ نے ایسا کیا غالبا کوئی عذر ہوگا یا شاید ناواقفی کی بنا پر کہ مکہ معظمہ کا ہر متنفس تو عالم نہیں اعتبار اقوال و افعال علماء کا ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر۴۰۴ : کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ نفل نماز بیٹھ کر ادا کرے تو رکوع کس طرح ادا کریں یعنی سرین اٹھیں یا نہیں درصورت مخالف نماز مکروہ تحریمی یا تنزیہمی یا فاسد بینو توجروا۔
الجواب :
رکوع میں قدر واجب تو اسی قدر ہے کہ سرجھکا ئے اور پیٹھ کو قدرے خم د ے مگر بیٹھ کر نما ز پڑھے تو اسکا درجہ کمال و طریقہ اعتدال یہ ہے کہ پیشانی جھك کر گھٹنوں کے مقابل آجائے اس قدر کے لئے سرین اٹھانے کی حاجت نہیں تو قدر اعتدال سے جس قدر زائد ہوگا وہ عبث و بیجا میں داخل ہو جائے گا۔
فی الحاشیۃ الشامیۃ فی حاشیۃ الفتال عن البرجندی ولوکان یصلی قاعداینبغی ان یحاذی جبھتہ قد ا م رکبتیہ لیحصل الرکوع اھ قلت ولعلہ محمول علی تمام الرکوع والا فقد علمت حصولہ باصل طأطأۃ الراس ای مع انحناء الظھر تامل انتھی۔
حاشیہ شامیہ میں ہے برجندی کے حوالے سے حاشیہ قتال میں ہے اگر کوئی بیٹھ کر نماز ادا کرتا ہو تو اپنی پیشانی کو گھٹنوں کے برابر جھکائے تاکہ رکوع حاصل ہوجائے اھ قلت شاید یہ تمام رکوع پر محمول ہو کیونکہ آپ جان چکے ہیں کہ رکوع سرکو صرف جھکا دینے سے یعنی ساتھ کچھ پیٹھ کو جھکانے سے ادا ہوجاتا ہے غور کرو انتہی۔
اور نماز میں جو ایسا فعل کیا جائے گا لااقل ناپسند مکروہ تنزیہی ہوگا۔
وفی الدرالمختار ویکرہ ترك کل سنۃ انتھی ملتقطا۔ واﷲتعالی اعلم۔
درمختار میں ہے کہ ہر سنت کا ترك مکروہ ہے انتہی ملتقطا۔ واﷲ تعالی اعلم ۔ (ت)
مسئلہ نمبر ۴۰۵ : مرسلہ محمود حسین ۵محرم ۱۳۰۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ایك شخص نماز کھڑے ہوکر بوجہ عذر بیماری کے نہیں پڑھ سکتا
حوالہ / References ردالمحتار باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۴۷۷
درمختار باب مایفسد الصلوٰۃ وما یکرہ الخ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۹۳
#4575 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
لیکن اس قدر طاقت اس کوہے کہ تکبیر تحریمہ کھڑے ہی ہو کر باندھ لے اور باقی بیٹھ کر رکوع وسجود کے ساتھ ادا کر سکتا ہے تو اس صورت میں آیا اس کو ضروری ہے کہ تکبیرتحریمہ کھڑے ہی ہوکرکہے اور پھربیٹھ جائے یا سرے سے بیٹھ کر نماز شروع کرے اور ادا کرلے دوسری شق میں نماز اس کی ادا ہوجائے گی یا نہیں بینو ا توجروا۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں بیشك اس پر لازم کہ تحریمہ کھڑے ہوکر باندھے جب قدرت نہ رہے بیٹھ جائے ۔ یہی صحیح ہے بلکہ ائمہ رضوان اﷲ تعالی اجمعین سے اس کا خلاف اصلا منقول نہیں ۔ تنویر الابصار ودرمختار میں ہے :
ان قدرعلی بعض القیام ولومتکأا علی عصا او حائط قام لزومابقدر مایقدر ولوقدرایۃ او تکبیرۃ علی المذھب لان البعض معتبر بالکل ۔
اگر نمازی قیام پر قادر ہو اگر چہ وہ عصا یا دیوار کے ذریعے ہو تو اس پر حسب طاقت قیام کرنا لازم ہے خواہ وہ ایك آیت یا تکبیر کی مقدار ہو۔ مختار مذہب یہی ہے کیونکہ بعض کاکل کے ساتھ اعتبار کیا جاتا ہے۔ (ت)
تبیین الحقائق شرح کنزالدقائق للعلامۃ الزیلعی میں ہے :
ولو قدر علی بعض القیام دون تمامہ بان کان قدر علی التکبیر قائما اوعلی التکبیر وبعض القراء ۃ فانہ یؤمر بالقیام و یأتی بماقدر علیہ ثم یقعد اذاعجز ۔
اگر کچھ قیام پر قادر ہو تمام پر نہ ہو مثلا کھڑے ہوکر تکبیر یا تکبیر اور کچھ قرأت پر قادر ہو تو اسے قیا م کا حکم دیا جائے اور وہ حسب طاقت قیام کے ساتھ بجا لائے پھر جب عاجز آئے تو بیٹھ جائے۔ (ت)
خانیہ میں ہے :
ولو قدر علی ان یکبر قائماولایقدر علی اکثر من ذلك یکبر قائما ثم یقعد ۔
اگر کھڑ ے ہوکر صرف تکبیر کہنے پر قادر ہے اس سے زیادہ پر قادر نہیں تو کھڑے ہوکر تکبیر کہے پھر بیٹھ جائے۔ (ت)
حوالہ / References دُرمختار شرح تنویرالابصار باب صلوٰۃ المریض مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۰۴
تبیین الحقائق باب صلوٰۃ المریض مطبعۃ امیریۃ کبرٰی مصر ۱ / ۲۰۰
فتاویٰ قاضی خان باب صلوٰۃ المریض مطبعۃ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۸۲
#4576 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
غنیہ شرح المنیہ للعلامہ ابراہیم حلبی میں ہے :
لو قدر علی بعض القیام لا کلہ لزمہ ذلك القدر حتی لوکان لایقدر الاعلی قدر التحریمۃ لزمہ ان یتحرم قائماثم یقعد ۔
اگر کچھ قیام پرقادر ہے تمام پر نہیں تو اس پر اس کی مقدار قیام لاز م ہے حتی کہ اگر کوئی صرف تکبیر تحریمہ کے مقدار پر قادر ہو تو کھڑا ہوکر تکبیر تحریمہ کہے پھر بیٹھ جائے۔ (ت)
خلاصہ وغیرہ میں ہے :
قال سراج الائمۃ الحلوائی ھوالمذھب الصحیح ۔
سراج الائمہ حلوائی نے فرمایا کہ یہی صحیح مذہب ہے۔ (ت)
بحرالرائق پھر حاشیہ طحطاویہ علی الدر میں ہے :
لا یروی عن اصحابنا خلافہ ۔
ہمارے اصحاب سے اس کےخلاف مروی نہیں ۔ (ت)
پھر اگر اس کا خلاف کیا یعنی باوجودقدرت تحریمہ بھی بیٹھ کر باندھی نماز نہ ہوئی۔
لقول الغنیۃ لزمہ وقول الدر لزوما مع قول العلامۃ الشرنبلالی عبرت باللزوم لکونہ اقوی لان ھذایفوت الجواز بفوتہ الخ لقول المحقق العلائی وغیرہ ان البعض معتبر بالکل۔
کیونکہ غنیہ میں اس پر لازم ہے۔ در میں ہے : لازم ہے اور علامہ شرنبلالی کی تصریح “ باللزوم “ کے ساتھ ہے وہ کہتے ہیں میں نے “ باللزوم “ سے تعبیر اس لئے کیا ہے کہ یہ اقوی ہے کیونکہ اس کے فوت ہونے سے جواز ہی فوت ہاجاتا ہے الخ اورمحقق علائی نے کہا کہ بعض کا کل کے ساتھ اعتبار کیا جاتا ہے۔ (ت)
فقیر غفراﷲ لہ کو اﷲ تعالی تحقیق حق القا کرے علما تصریح فرماتے ہیں کہ تحریمہ کے لیے قیام شرط ہے اگر بیٹھ کر بلکہ اتنا جھکا ہے کہ ہاتھ گھٹنوں تك پہنچیں تحریمہ باندھے ہرگز صحیح نہ ہوگی اور تحریمہ شرط نماز ہے کہ بے اس کے نماز باطل توجبکہ تحریمہ کے لئے قیام کرسکتا اور نہ کیا شرط تحریمہ فوت ہوئی تو تحریمہ صحیح نہ ہوئی تو نماز ادا نہ ہوئی اذافات الشرط فات المشروط(جب شرط فوت ہوگئی تو مشروط از خود فوت ہوجائے گا۔ ت) درمختار میں شرح الوہانیہ للعلامۃ حسن بن عمار سے ہے :
حوالہ / References غنیۃ المستلمی شرح منیہ المصلی الثانی القیام ، مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ، ص۲۶۲
خلاصۃ الفتاوٰی الحادی والعشرون فی صلوٰۃ المریض مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۱۹۴
حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار باب صلوٰۃ المریض مطبوعہ المعرفۃ بیروت ۱ / ۳۱۸
#4577 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
شروط لتحریم حظیت بجمعھا : : مھذبۃ حسنامدی الدھرتزھر : : دخول لوقت واعتقاد دخولہ : : وسترطھروالقیام المحرر : : تکبیر تحریمہ کے لئے کچھ شرطیں ہیں میں ان کو اکھٹا کر دنے ے بہرہ ور ہوا حالانکہ وہ شرطیں خوب آراستہ و زمانہ بھر چمکتی ہیں (وہ یہ ہیں ) وقت فرض کا داخل ہونااور بدن مکان اور کپڑے کے طہارت اور قیام محرر۔ (ت)
ردالمختار میں ہے :
المحرر بان لا تنال یداہ رکبیۃ کما مر فلو ادرك الامام راکعافکبرمنحنیالم تصح تحریمتہ اھ
قیام محرریہ ہے کہ اس کے ہاتھ گھٹنوں تك نہ پہنچ سکیں جیسا کہ گزر چکا اگر نمازی نے امام کو رکوع میں پایا اور جھك کر تکبیر تحریمہ کہہ کر شامل ہوا تو اس کی تحریمہ صحیح نہیں ہے اھ(ت)
شرح التنویر للعلائی میں ہے :
من فرائضھاالتی لا تصح بدونھا التحریمۃ قائما ۔
ان فرائض میں سے جن کے بغیر نماز نہیں ہو سکتی ایك کھڑے ہوکر تکبیر تحریمہ کہنا بھی ہے (ت)
حاشیہ علامہ ابن عابدین میں ہے
قولہ قائما احد ا شروطہا العشرین الآیتہ
اس کا قول “ قائما “ یہ ان بیس۲۰ شروط میں سے ایك ہے جن کا ذکر آرہا ہے۔ (ت)
آج کل بہت جہال ذرا سی با طاقتی مرض یا کبر سن میں سرے سے بیٹھ کر فرض پڑھتے ہیں حالانکہ اولا ان میں بہت ایسے ہیں کہ ہمت کریں تو پورے فرض کھڑے ہوکر ادا کر سکتے ہیں اور اس ادا سے نہ ان کا مرض بڑھے نہ کوئی نیا مرض لاحق ہو نہ گر پڑنے کی حالت ہو نہ دوران سر وغیرہ کوئی سخت الم شدید ہو صرف ایك گونہ مشقت و تکلیف ہے جس سے بچنے کو صراحۃ نمازیں کھوتے ہیں ہم نے مشاہدہ کیا ہے وہی لوگ جنھوں نے بحلیہ ضعف و مرض فرض بیٹھ کر پڑھتے اور وہی باتوں میں اتنی دیر کھڑے رہے کہ اتنی دیر میں دس بارہ رکعت ادا کرلیتے ایسی حالت میں ہر گز قعود کی
حوالہ / References دُرمختار باب صفۃ الصّلوٰۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۷۱
ردالمحتار باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ مطفی البابی مصر ۱ / ۳۳۴
درمختار ، باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۷۰
ردالمحتار باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ مطفی البابی مصر ۱ / ۳۲۶
#4578 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
اجازت نہیں بلکہ فرض ہے کہ پورے فرض قیام سے ادا کریں ۔ کافی شرح وافی میں ہے :
ان لحقہ نوع مشقۃ لم یجز ترك القیام ۔
اگر ادنی مشقت لاحق ہو تو ترك قیام جائز نہ ہوگا۔ (ت)
ثانیا مانا کہ انھیں اپنے تجربہ سابقہ خواہ کسی طبیب مسلمان حاذق عادل مستورالحال غیر ظاہر الفسق کے اخبار خواہ اپنے ظاہر حال کے نظر صحیح سے جو کم ہمتی و آرام طلبی پر مبنی نہ ہو بظن غالب معلوم ہے کہ قیام سے کوئی مرض جدید یا مرض موجود شدید و مدید ہوگا مگر یہ بات طول قیام میں ہوگی تھوڑی دیر کھڑے ہونے کی یقینا طاقت رکھتے ہیں تو ان پر فرض تھا کہ جتنے قیام کی طاقت تھی اتنا ادا کرتے یہاں تك کہ اگر صرف اﷲ اکبر کھڑے ہو کر کہہ سکتے تھے تو اتنا ہی قیام میں ادا کرتے جب وہ غلبہ ظن کی حالت پیش آتی تو بیٹھ جاتے یہ ابتدا سے بیٹھ کر پڑھنا بھی ان کی نماز کا مفسد ہوا۔
ثالثا ایسا بھی ہوتا ہے کہ آدمی اپنے آپ بقدر تکبیر بھی کھڑے ہونے کی قوت نہیں رکھتا مگر عصا کے سہارے سے یا کسی آدمی خواہ دیوار یا تکیہ لگا کر کل یا بعض قیا م پر قادر ہے تو اس پر فرض ہے کہ جتنا قیام اس سہارے یا تکیہ کے ذریعے سے کرسکے بجالائے کل توکل یا بعض تو بعض ورنہ صحیح مذہب میں اس کی نماز نہ ہوگی۔ فقد مرمن الدر ولو متکأا علی عصااوحائط ۔ (در کے حوالے سے گزرا اگرچہ عصا یا دیوار کے سہارے سے کھڑا ہوسکے ت)تبیین الحقائق میں ہے :
لوقدرعلی القیام متکأا (قال الحلوانی) الصحیح انہ یصلی قائما متکأا ولا یجزیہ غیرذلك وکذلك لوقدران یعتمد علی عصا اوعلی خادم لہ فانہ یقوم ویتکیئ ۔
اگر سہارے سے قیام کرسکتا ہو (حلوانی نے کہا ) تو صحیح یہی ہے کہ سہارے سے کھڑے ہوکر نماز ادا کرے اس کے علاوہ کفایت نہ کریگی اور اسی طرح اگر عصا یا خادم کے سہارے سے کھڑا ہوسکتا ہے تو قیام کرے اور سہارے سے نماز ادا کرے۔ (ت)
یہ سب مسائل خوب سمجھ لئے جائیں باقی اس مسئلہ کی تفصیل تام و تحقیق ہمارے فتاوی میں ہے جس پر اطلاع نہایر ضرورواہم کہ آجکل ناواقفی سے جاہل تو جاہل بعض مدعیان علم بھی ان احکام کا خلاف کرکے ناحق اپنی نمازیں کھوتے اور صراحۃ مرتکب گناہ و تارك صلوۃ ہوتے ہیں ۔ وباﷲالعصمۃ ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم و عملہ جل مجدہ اتم واحکم۔
حوالہ / References کافی شرح وافی
دُرمختار باب صلوٰۃ المریض مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۰۴
تبیین الحقائق باب صلوٰۃ المریض مطبوعہ مطبعۃ امیریہ کبرٰی مصر ۱ / ۲۰۰
#4579 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
مسئلہ نمبر ۴۰۶ : ۱۱محرم الحرام ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ الحمدﷲ کے بعد جو سورۃ پڑھی جائے اس پر بھی بسم اﷲ شریف پڑھنی چاہیئے یا نہیں بعض لوگ کہتے ہیں یہ ناجائز ہے اس لئے کہ ضم سورت واجب ہے اور بسم اﷲ شریف پڑھنے سے ضم نہ ہوا فصل ہوگیا یہ قول ان کا کیسا ہے
الجواب :
ہمارے علمائے محققین رحمہم اللہ تعالی علیہم اجمعین کتب معتمدہ میں روشن تصریحیں فرما رہے ہیں کہ ابتدائے سورت پر بھی بسم اﷲ شریف پڑھنی چاہئے مطلقا مستحب و مستحسن ہے خواہ نماز سریہ ہو یا جہریہ ۔ اور صاف ارشاد فرماتے ہیں کہ اس کا ناجائز ہونا درکنار ہمارے ائمہ مذہب رضی اللہ تعالی عنہم میں کوئی اس کی کراہت کا بھی قائل نہیں بلکہ سب ائمہ کرام بالاتفاق اسے خوب بہتر جانتے ہیں اختلاف صرف سنیت میں ہے کہ جس طرح سرفاتحہ پر بسم اﷲ شریف بلا شبہہ سنت ہے یونہی سر سورت پر بھی سنت ہے یا مستحب۔ امام محمد کے نزدیك سریہ میں سنت ہے محیط ومضمرات وعتابہ ومستصفی وغیرہامیں اسی کی تصحیح فرمائی اور مذہب امام نفی استنان ہے اور اس پر فتوی اور یہی کلمات متون “ لایاتی “ و “ لایمسی “ (نہ لائے اور نہ بسم اﷲ پڑھے ۔ ت)سے مراد بہرحال اس کی خوبی و حسن پر ہمارے سب ائمہ کا اتفاق ہے پھر اس کے بعد زید و عمرو کو اپنی رائے لگانے اور اتفاق ائمہ کرام کے خلاف اجتہاد کرنے کی گنجائش اور وہ بات بھی کچھ ٹھکانے کی ہو جس نے چند حروف فقہ کے پڑھے یا کسی عالم کی صحبت پائی وہ خوب جانتا ہے کہ ضم سورت جو واجب ہے اس کے یہ معنی نہیں کہ خاص سورت ہی ملانی واجب ہے یہاں تك کہ بعد فاتحہ وسط سورت سے کسی رکوع کا پڑھنا ناجائز و موجب ترك واجب ٹھہرے کہ سورت بمعنی معروف کا ملانا اس پر بھی صادق نہیں بلکہ اس سے مراد قرآن عظیم کی بعض آیات ملانا ہے کہ خواہ سورت ہو یا نہ ہو بسم اﷲ شریف خود ایك آیت قرآن عظیم ہے تو اس کا ملانا قرآن عظیم ہی کا ملانا ہوا نہ کسی غیر کا جو صاحب اتنا بھی خیال نہ فرمائیں انھیں احکام شریعت میں رائے زنی کیا مناسب ہے اب تصریحات علمائے کرام سنئے درمختار میں ہے :
(لا) تسن (بین الفاتحۃ والسورۃ مطلقا)ولو سریۃ ولا تکرہ اتفاقا ۔
(نہیں ہے)بسم اﷲ پڑھنا سنت(فاتحہ اور سورت کے درمیان مطلقا)اگرچہ نماز سری ہو اور نہ مکروہ ہے اتفاقا۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
صرح فی الذخیرۃ والمجتبی بانہ ان سمی
ذخیرہ اور مجتبی میں اس بات کی تصریح ہے کہ فاتحہ اور
حوالہ / References درمختار باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ مجتائی دہلی ۱ / ۷۵
#4580 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
بین الفاتحہ والسورۃ المقروئۃ سرا اوجھرا کان حسنا عند ابی حنیفۃ ورجحہ المحقق ابن الھمام وتلمیذہ الحلبی الشبہۃ الاختلاف فی کو نھا ایۃ من کل سورۃبحر ۔
اس سے ملائی جانے والی سورت کے درمیان بسم اﷲ آہستہ یا بلند پڑھنا امام ابو حنیفہ کے نزدیك حسن ہے۔ امام ابن الہمام اور ان کے شاگردحلبی نے اسی کو ترجیح دی ہے اور اس کی وجہ یہ بیان کی کہ بسم اﷲ کے ہر سورت کا جزء ہونے میں اختلاف کا شبہ ہے۔ بحر (اس لئے پڑھ لینا ہی بہتر ہے۔ ت)
طحطاوی میں ہے :
قولہ ولا تکرہ اتفاقابل لا خلاف فی انہ لو سمی لکان حسنانھر ۔
اس کا قول کہ “ بالاتفاق مکروہ نہیں “ بلکہ اگر بسم اﷲ پڑھی تو اس کے حسن ہونے کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں نہر۔ (ت)
امام ابن امیرالحاج نے حلیہ میں عن الذخیرۃ عن المعلی عن ابی یوسف عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ (ذخیرہ سے معلی سے ابویوسف سے امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہم ست) روایت فرمایا :
انہ اذاقرأھا مع کل سورۃ فحسن ۔
اگر نمازی ہر سورت کے ساتھ بسم اﷲپڑھتا ہے تو یہ حسن ہے۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
لاتسن التسمیۃ بین الفاتحہ والسورۃ مطلقا عندھما وقال محمد تسن اذا خافت لا ان جھر وصحح فی البدائع قولھما والخلاف فی الاستنان اماعدم الکرھۃ فمتفق علیہ لھذا صرح فی الذخیرۃ و
شیخین کے ہاں فاتحہ او ر سورت کے درمیان بسم اﷲ پڑھنا مطلقا سنت نہیں ۔ امام محمد کہتے ہیں کہ سری نماز میں سنت ہے مگر جہری میں سنت نہیں بدائع میں شیخین کے قول کوصحیح کہا گیا لیکن یہ اختلاف سنت ہونے میں ہے پڑھ لینا مکروہ نہیں اس پر اتفاق ہے اسی لیے ذخیرہ
حوالہ / References درمختار باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ مطفی البابی مصر ۱ / ۳۶۲
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۲۱۹
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
#4581 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
والمجتبی الی اخرمامر۔
اور مجتبی اس کی تصریح کی ہے جس کا ذکر ہوچکا ہے (ت)
علامہ حسن شرنبلالی غنیۃ ذوی الاحکام میں فرماتے ہیں :
المراد نفی سنیۃ الاکاتیان بھا بعد الفاتحہ و ھذاعندھما وقال محمد یسن الاتیان بھافی السریۃ بعد الفاتحہ ایضا للسررۃ واتفقواعلی عدم کرھۃ الاتیان بھا بل ان سمی بین الفاتحہ والسورۃ کان حسنا سواء کانت الصلاۃ جھرۃ جھریۃ او سریۃ ۔
اس سے مراد فاتحہ کے بعد بسم اﷲ پڑھنے کی سنیت کی نفی ہے اور یہ شیخین کے نزدیك ہے۔ امام محمد کا قول یہ ہے کہ نماز سری میں فاتحہ کے بعد سورت کے لئے بسم اﷲ پڑھنا بھی سنت ہے لیکن اگر کوئی پڑھ لیتا ہے تو اس کے مکروہ نہ ہونے پر سب کا اتفاق ہے بلکہ فاتحہ اور سورت کے درمیان اگر پڑھ لیتا ہے تو یہ حسن ہے خواہ نماز جہری ہو یا سری۔ (ت)
مراقی الفلاح میں ہے :
لا کراھۃ فیھا ان فعلھا اتفاقا للسورۃ سواء جھرا وخافت بالسورۃ ۔
سورت سے پہلے بسم اﷲ پڑھ لینا بالاتفاق مکروہ نہیں خواہ سورت جہرا پڑھے یا سراأ(ت)
رحمانیہ و برجندی وغیرہما میں محیط سے ہے :
ذکر الفقیہ ابو جعفر عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ انہ اذا قرأھا مع کل سورۃ فحسن وھو قول محمد رحمہ اﷲ تعالی واﷲ تعالی اعلم۔
فقیہ ابو جعفر امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب ہر سورت کےساتھ بسم اﷲ پڑھتا ہے تو یہ حسن ہے اور یہی امام محمد کا قول ہے واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ نمبر ۴۰۷ : ازاٹاوہ متصل کچہری منصفیمرسلہ مولوی محمد حبیب علی صاحب علوی۹رمضان المبارك ۱۳۱۷ھ
حامدا و مصلیا مخلص نوززادکم اﷲ مجد کم۔ اسلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ ۔ اس طرف جو رسائل شریفہ آنجناب مثلحیات الموات و شاح الجید النہی الحاجر ازالۃ العاروغیرہا کے مطالعہ سے شرف اندوزی حاصل ہوئی ۔ شکریہ
حوالہ / References البحرالرائق فضل واذاارادالدخول الخ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۱۲
غنیۃ ذوی الاحکام حاشیہ دررالحکام باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ مطبع احمد کامل الکائنہ در سعادت بیروت ۱ / ۶۹
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی فصل فی کیفیۃ ترکیب افعال الصلوٰۃ مطبوعہ نور محمد تجارت کتب کراچی ص۱۵۴
شرح النقایۃ للبرجندی ، کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ نولکشور بالسرور لکھنؤ ، ۱ / ۱۰۴
#4582 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
اس کا حوالہ قلم نہیں ہوسکتا ہے واقعی آپ کاطرز ایسے مسائل میں تحقیق کا اوروں سے نرالا ہے اور بہمہ وجوہ سب سے اعلی ہے آپ نے پایہ تحقیق مسائل نزاعیہ میں مراتب عالیہ کو پہنچا دیا ہے جزاکم اﷲ خیرا الجزا۔ اس عریضہ کی تسطیر کی بالفعل یہ ضرورت درپیش ہے کہ وقت رکوع درمختار میں الصاق کعبین کو مسنون دو۲ مقام پر تحریر کیا ہے شامی نے ثبوت مسنونیت میں کوئی حدیث تحریر نہیں کی بلکہ کچھ زیادہ تعرض اور لحاظ نہیں فرمایا صاحب مفتاح الصلوۃ نے احادیث اور ظاہرالروایۃ میں وارد ہوناتحریر کرکے الصاق کو بمعنی قربو اتصال تصریح کرکے زیادہ تحقیق کا حوالہ اپنے حواشی پر لکھ دیا دریاف طلب امر صرف امور ذیل ہیں : (۱) مسنونیت الصاق کعبین فی الرکوع کہاں ثابت ہے کون حدیث دلیل قول صاحب درمختار ہے اور وہ کہاں تك قابل عمل اور اعتماد ہے صاحب مفتاح الصلوۃ کا بیان بنسبت اس مسئلہ کے بجمیعہ صحیح ہے یا کیا۔ دیگر متون معتمدہ فقہ مذہب حنفی میں اس سنت رکوع کا بیان کیوں نہیں درج ہوا ہے تساہل بعض فقہا نے کیوں گوارا فرمایا۔ عبارت فتاوی درمختار ہر دو مقام سے اور عبارت مفتاح الصلوۃبقیہ صفحہ ذیل میں درج ہے غایۃ الاوطار ترجمہ درمختارصفحہ ۲۱۹ ۲۳۰ سنن نماز و طریق ادائے نماز وتکبیر الرکوع وکذاالرفع منہ بحیث یستوی قائما و التسبیح فیہ ثلاثاوالصاق کعبیہ و ینصب ساقیہ(تکبیر رکوع اور اسی طرح رکوع سے سیدھا کھڑا ہونا اس میں تین دفعہ تسبیح پڑھنا ٹخنوں کا متصل ہونااور پنڈلیوں کو کھڑا کرنا۔ (ت)مفتاح الصلوۃ صفحہ ۹۴ :
مجتبی کہ تصنیف امام زاہدی است از مسنونات رکوع الصق کعبین باستقلال انگشتاں بسوئے قبلہ مسنون گفتہ است لیکن در حدیث صحیح و در کتب ظاہرا لرویۃ ظاہر نمی شود ظاہر مراد امالہ کعب بسوئے کعب دیگر باشد چجانکہ صاحب قاموس معنی لصوق گفتہ است زیراکہ اگر الصاق در وقت رکوع کند حرکت کثیر لازم مے آید باآنکہ استقبال انگشتاں نمی ماند وسنت قیام مے رود کہ فر جہ چہار انگشت مسنون است ومؤید امالہ قول نحویین است الباء للالصاقیی یعنی القرب و درحدیث نیز الصاق الکعب بمعنی القرب والمقابلہ واقع است پس
مقابلہ کعب بکعب نیز ارادہ می تواں نمود چنانکہ تحقیق ایں مسئلہ در حواشی بحراالرائق کاتب بتفصیل مذکورہ نمودہ۔ واﷲ اعلم۔ امام زاہدی کی کتابمجتبی میں سنن رکوع کی بحث میں ٹخنوں کو متصل کرنا اور پاؤ ں کی انگلیوں کو قبلہ رخ کرنا سنت بیان کیا گیا ہے لیکن حدیث صحیح اور کتب ظاہرالرویۃ میں یہ وارد نہیں ہے زیادہ سے زیادہ اتنا ملتا کہ ایك ٹخنے کا دوسر ٹخنے کی طرف میلان ہو جیسا کہ صاحب قاموس نے اس کا معنی لصوق بیان کیاہے ورنہ رکوع میں اتصال کی صورت میں حرکت کثیرہ لازم آئے گی با آنکہ اس کے ساتھ انگلیوں کا رخ قبلہ کی طرف نہیں رہے گا اور سنت قائم نہ ہوگی کہ حالت قیام میں دونوں قدموں کے درمیان چار انگلیوں کی مقدار کافاصلہ سنت ہے یہاں
#4583 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
مقابلہ کعب بکعب نیز ارادہ می تواں نمود چنانکہ تحقیق ایں مسئلہ در حواشی بحراالرائق کاتب بتفصیل مذکورہ نمودہ۔ واﷲ اعلم۔
الصاق کے معنی امالہ پر نحویوں کا قول بھی تائید کرتا ہے کہ وہ کہتے ہیں باالصاق یعنی قرب کے لئے ہے اور حدیث میں بھی الصاق الکعب کا معنی قرب اور مقابلہ واقع ہوا ہے لہذا یہاں کعب کا کعب کے مقابل ہونا مراد لیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ اس مسئلہ کی تفصیل و تحقیق راقم نے البحر الرائق کی حواشی میں ذکر ہے۔ واﷲ اعلم(ت)
الجواب :
مکرمی کرم فرمایا اکرام اﷲ تعالی السلام علیکم ورحمۃ اﷲ برکاتہ ۔ خاتم المدققین علامہ علائی دمشقی صاحب درمختار اعلی اﷲ تعالی مقامہ اس مسئلہ میں متفرد نہیں ان سے بھی پہلے علما نے اس کی تصریح اور ان کے بعد ناقلین و ناظرین نے تقریر وتوضیح فرمائی۔ علامہ ابراہیم حلبی غنیۃ شرح منیہ میں فرماتے ہیں :
السنۃ ایضافی الرکوع الصاق الکعبین و استقبال الصابع القبلۃ ۔
رکوع میں ٹخنوں کا اتصال اور انگلیوں کا قبلہ رخ ہونا بھی سنت ہے۔ (ت)
شرح نقایہ للعلا مۃ الشمس القہستانی میں ہے :
ینبغی ان یزاد مجافیا عضدیہ ملصقا کعبیہ مستقبلا اصابعہ فانھا سنۃ کما فی الزاہدی ۔
یہاں اس بات کا اضافی کرنا مناسب ہے کہ بازو پیٹ سے جدا اور ٹخنے متصل اور پاؤں کی انگلیوں کا قبلہ رخ ہونا سنت ہے جیسا کہ زاہدی میں ہے(ت)
بعینہ اسی طرح علامہ سید ابو المسعود ازہری نے فتح اﷲ المعین میں علامہ سید خموی سے نقل کیا علامہ بحر الفقہ زین الفقہا بحرالرائق میں شرح قدوری سے نقل فرماتے ہیں :
والسنۃ فی الرکوع الصاق الکعبین واستقبال الاصابع للقبلۃ ۔
رکوع میں ٹخنوں کا متصل ہونا اور انگلیوں کا قبلہ رخ ہونا سنت ہے۔ (ت)
طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے :
حوالہ / References غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۱۵
جامع الرموز ، فصل صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۱۵۲
البحر الرائق فصل واذاارادالدخول مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۱۵
#4584 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
وسن ابعاد مرفقیہ عن جنبیہ والصاق کعبیۃ فیہ واستقبال اصابعہ القبلۃ ای اصابع رجلیہ کذافی القہستانی عن الزاھدی ۔
رکوع میں کہنیوں کا پہلوؤں سے دور ہونا اور ٹخنوں کا متصل ہونا اور پاؤں کی انگلیوں کا قبلہ رخ ہونا سنت ہے۔ قہستانی میں زاہدی کے حوالے سے اسی طرح ہے۔ (ت)
طحطاوی علی الدرمیں ہے :
والصاق کعبیہ حالۃ الرکوع ھذا ان تیسر لہ ولاکیف تیسرلہ علی الظاھر ۔
حالت رکوع میں اگر آسانی ہو تو ٹخنوں کو ملا لیا جائے ورنہ جس طرح آسانی ہو ویسے کرلیاجائے ظاہر الروایۃ پر۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
والصاق کعبیہ ای حیث لاعذر ۔
ٹخنوں کو ملانا اس وقت ہے جب کوئی عذر نہ ہو۔ (ت)
مسائل ظاہر الروایۃ میں محصور نہیں نہ ظاہر الروایۃ خواہ متونوں میں عدم ذکر ذکر عدم متون مختصرات ہیں اور غالبا نقل ظواہر پر مقتصر زیادت۔ شرح معتمدین اگر مسلم نہ ہوں تو مذہب کا ایك حصہ قلیلہ ہاتھ میں رہ جائے تتبع بتائے گا کہ نن درکناربعض واجبات و فرائض ومفسدات ونواقص تك عامہ متون میں نہیں رہی دلیل وہ مجتہد کے پاس ہے نہ ہمارا عدم وجدان وجدان عدم ہمارے لئے نصوص فقیہیہ بس ہیں اور نصوص حتی الامکان ظاہر پر محمول اور جب تك حیقت بنے ہے نہ مجر د محاذات یاامالہ (محض مقابل یا مائل ہونا نہیں )قاموس میں فقیر نے اس معنی کا نشان نہ پایا
ان کان فھو من المجاز وقد عدوا من عیوب القاموس کماذکرہ العلامۃ الزرقانیفی عدۃ مواضع من شرح المواھب وغیرہ فی غیرہ انہ یذکر المعانی المجازیۃ ای فیوھم الوضع لھالان کان موضوع کتب اللغۃ بیان المنی الموضوع لہ اللفظ۔
اور اگر یہ معنی قاموس میں ہے تو یہ معنی مجازی ہوگا۔ اہل علم نے قاموس کے عیوب تحریر کئے ہیں مثلازرقانی نے شرح المواہب میں متعدد جگہ پراور دیگر علمائے کرام نے اپنی کتب میں تصریح کی ہے کہ صاحب قاموس الفاظ کے مجازی معنے ذکر کرتے ہیں جس سے انکا حقیقی ہونے کا وہم ہوتا ہے کیونکہ ان لغت کی کتب کا موضوع الفاظ کے ان معانی کا بیان کرنا جس کے لیے ان کی وضع ہے۔ (ت).
حوالہ / References حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح فصل فی بیان سنن الصلوٰۃ مطبوعہ نور محمد تجارت کتب کراچی ص۱۴۵
حاشیۃ الطحطاوی علی الدررالمختار باب صفۃالصلوٰۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۳۱۳
ردالمحتار باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ مطفی البابی مصر ۱ / ۲۵۲
#4585 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
زبان عرب میں استعمال “ ب “ مواضع الصاق حقیقی سے مختص نہیں وہ جس طرح وامسحوا برؤسکم میں اپنی حقیقت پر ہے یونہی “ مررت بزید “ میں تو الباء للالصاق کا بطریق عموم مجاز معنی قرب پر حمل واجب یوں ہی حدیث صحیح نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہما :
رأیت الرجل منا یلزق کعبہ بکعب صاحبہ ۔
میں نے دیکھا کہ ہم سے کوئی شخص اپنے ٹخنے کو دوسرے کے ٹخنے کے ساتھ ملا کر صف میں کھڑا ہوتا ہے۔ (ت)
وحدیث اصح انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہما :
کان احد نایلزق منکبہ بمنکب صاحبہ وقدمہ بقدمہ ۔
ہم میں سے ہر ایك اپنے کاندھے کو دوسرے کے کاندھے سے اوپر اپنے قدم کو دوسرے کے قدم سے ملاتا تھا۔ (ت)
میں درباہ کعاب و اقدام ارادہ معنی حقیقی پر اقدام نہیں ہوسکتا کہ قیام میں سنت تقریب قدمین ہے خود صاحب مفتاح رحمہ الفتاح کو مسلم کہ فرجہ چہار انگشت مسنون است(چار انگل کا فاصلہ مسنون ہے ۔ ت)
اگر چہ اس تجدید کی بھی سند پوچھئے تو کتاب الاثرمیں امام سے روایت ملے گی یا امام اقطع کا قول نہ بالخصوص حدیث صحیح یا ظاہر الروایۃ و متون کی تصریح بہرحال ایسی تفریج کہ زید کا کعب ادھر عمرو ادھربکر کے کعب سے ملصق ہو صراحۃ شان ادب کے بھی خلاف و شنیع ہے تو قیام کی دلیل کے باعث مجاز پر حمل ہر گز تجوز بے دلیل کے دستاویز نہیں ہو سکتا یہاں مجرد محاذات مراد لینے کا تو کوئی محل نہیں یہ علما اسے خاص سنت رکوع بتاتے ہیں اور محاذات ہر گز اس سے خاص نہیں قیام خواہ سجود میں کب چاہئے کہ ایك آگے یا پیچھے ہو اور امالہ مراد ہونے پر بھی اصلا کوئی دلیل نہیں الصاق کو مستلزم حرکت کثیرہ ماننا سخت عجب ہے بالفرض اگر قیام میں تفریج تام مسنون ہوتی جب بھی الصاق میں کثیرہ نہ تھی ۔ علماء تصریح فرماتے ہیں کہ ایك صف کی قدر چلنا بھی حرکت قلیلہ ہے نہ کہ صرف قدمین کا ملالینا کثیرہ ہو ھذا عجیب جدا (یہ نہایت ہی عجیب ہے۔ ت) درمختار میں ہے :
مشی مستقبل القبلۃ ھل تفسد ان قدرصف ثم وقف قدر رکن ثم مشی و وقف کذلك و ھکذا لا تفسد وان کثر مالم یختلف المکان الخ ۔
نمازی اگر قبلہ رخ چلا تو نماز فاسد ہوگی یا نہیں اگر وہ صف کی مقدار چلا پھر رکن کی مقدار کھڑا رہا اور پھر چلا اور رکن کی مقدار کھڑا رہا نماز فاسد نہ ہوگی اگر چہ یہ عمل۔
حوالہ / References صحیح البخاری باب الزاق المنکب بالمنکب الخ مطبوعہ اصح المطابع قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ١٠٠
صحیح البخاری باب الزاق المنکب بالمنکب الخ مطبوعہ اصح المطابع قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ١٠٠
درمختار باب یفسد الصلٰوۃ الخ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۹۰
#4586 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
وتمام تفصیلہ و تحقیقہ فی ردالمحتار۔
کثیر مرتبہ کرے جب تك جگہ تبدیل نہ ہو الخ اور اس مسئلہ کی تمام تفصیل و تحقیق ردالمحتار میں ہے (ت)
اور اگر کثیرہ سے کثیرہ فقہیہ مراد نہ لیجئے تو وہاں ہر گز کثیرہ لغویہ بھی نہیں اور ہوتی بھی تو نفی سنیت پر اس سے استدلال از قبیل مصادر ہوگا کہ تحصیل سنت کے لئے حرکت قلیلہ قطعا مطلوب اگرچہ بالاضافت لغۃ کثیرہ ہو تو اس فعل پر بوجوہ لزوم حرکت اعتراض اس پر موقوف کہ سنیت مصرحہ فقہا باطل ہو کر فعل عبث و خارج عن افعال الصلوۃ قرار پائے اور حقیقت امر پر نظر کیجئے تو نہ یہاں اقدام کو ان کے مواضع سے تحریك کی ضرورت ہوتی ہے نہ انگلیوں کے استقبال میں فرق آتا ہے نہ فرجہ چار انگشت ہاتھ سے جاتا ہے یہ تو ہرگز نہ مسنون نہ مطلوب کہ پاؤں اپنی وضع خلق کے خلاف رکھے جائیں اور ان کی سطح طولا ہر گز ہموار نہیں تو پنجوں سے ایڑیوں تك ہر جگہ چار انگشت کا فرجہ ہوناغیر متصور بلکہ قطعا مقصود یہ ہے کہ صدور اقدام میں اتنا فرجہ رکھے اور پاؤں کو اپنے حال فطری پر چھوڑے نہ یہ کہ ایڑیوں میں بھی اس قدر فرجہ حاصل کرنے کے لئے انہیں دہنے بائیں ہٹائے پاؤں کی تخلیق اس طرح واقع ہوئی ہے کہ صدور یعنی پنجوں میں فصل زائد اور اعقاب یعنی ایڑیوں میں کم ہے جتنا فصل پنجوں میں رکھئے اور پاؤں وضع فطری پر رہنے دیجئے تو ایڑیوں میں یقینا اس سے فصل کم ہوگا اور کعبین میں بلند و برآمدہ میں اور بھی کم ہوگا تو دونوں تلوے بجائے خود جمے رہنے کے ساتھ ایك خفیف امالہ کعبین میں ٹخنے بلا تکلف مل جائیں گے جس پر کم از کم ہر روز بتیس ۳۲ با رکا تجربہ شاہد ہے کہ آخر تصریحات مذکورہ علمادیکھئے کہ الصاق کعبین اور ان کے ساتھ ہی استقبال اصابع کی سنیت لکھ رہے ہیں ان میں تنافی ہوتی تو کیا متنافیین کو معا مسنون بتاتے ہاں جسے فربہی مفرط وغیرہ کوئی عذر ایسا ہو کہ سرے سے پنجوں ہی میں چار انگل فصل نہ رکھ سکے بلکہ معتدبہ زیادت پر مجبورہوا مثلا بالشت بھر کا فاصلہ تو وہ بیشك کعبین نہ ملاسکے گا جب تك پنجوں کو دہنے بائیں اور ایڑیوں کو اندر کی جانب حرکت نہ دے اور اب بے شك تحریك بھی پائی جائے گی اور استقبال اصابع بھی نہ رہے گا غالبا یہی صورۃ خاصہ اس وقت صاحب مفتاح کے خیال مبارك میں ہوگی ایسا شخص نہ اس سنت قیام یعنی فرجہ چار انگشت پر قادر نہ ہم اس کے لئے الصاق کعبین مسنون کہیں ۔ علامہ طحطاوی کا ارشاد سن چکے کہ ھذا ان تیسر (یہ آسانی کے وقت ہے ۔ ت) علامہ شامی کا افادہ گزرا کہ ای حیث لا عذر (یعنی جہاں عذر نہ ہو۔ ت) اس قدر کلا م کا جواب تو یہ بتوفیقہ تعالی بنگاہ اولیں معا حاضر خاطر ہوا باقی ان کا حاشیہ بحر اگر ملے دیکھنا رہا مگر بعونہ تعالی امید یہ ہے کہ اس بیان کے بعد کسی اعتراض کی گنجائش نہیں وباﷲ توفیق واﷲ سبحنہ و تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر۴۰۸ : ازگونڈھ ملك اودھ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ حافظ عبدالعزیز صاحب مدرس مدرسہ مذکورہ۔ ۱۳ جمادی الاخری ۱۳۱۸ھ۔
بعض مقلدین وغیر مقلدین عموما قومہ و جلسہ میں دیر تك ٹھہرتے ہیں یہ کیسا ہے
#4587 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
الجواب :
قومہ و جلسہ کے اذکار طویلہ نوافل پر محمول ہیں و لہذاہمارے ائمہ فرائض میں انھیں مسنون نہیں جانتے اور شك نہیں کہ فرائض میں تطویل فاحش خلاف سنت ہے اور امام کے لئے توقطعا ممنوع جبکہ مقتدیوں میں کسی پر بھی گراں ہو ہاں منفرد بعض کلمات ماثورہ بڑھائے تو حرج بھی نہیں یونہی امام بھی جبکہ مقتدی محصور اور سب راضی ہوں رہا مقتدی وہ آپ ہی اتباع امام کرے گا اگر امام کہے کہے ورنہ نہیں ۔
وفی الدرالمختار یجلس بین السجدتین مطمئنا ولیس بینھما ذکر مسنون و کذالیس بعد رفعہ من الرکوع دعاء وکذا لایاتی فی رکوعہ وسجود بغیر التسبیح علی المذھب وماورد محمول علی النفل ۔
درمختار میں ہے نمازی دو سجدوں کے درمیان جلسہ میں اطمینان سے بیٹھے دو سجدوں کے درمیان کوئی ذکر سنت نہیں ۔ اسی طرح رکوع سے کھڑے ہونے کے بعد قومہ میں کوئی دعا مسنو ن نہیں ۔ اسی طرح رکوع وسجود میں تسبیح کے علاوہ کوئی دعا نہ کرے صحیح مذہب یہی ہے اور جو روایات میں آیا ہے وہ نوافل پر محمول ہے (ت)
محرر مذہب سیدنا اما م محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں :
قال ابویوسف سالت ابا حنیفۃ عن الرجل یرفع راسہ من الرکوع فی الفریضۃ ویقول اللھم اغفرلی قال یقول ربنا لك الحمد و یسکت (کذلک) بین السجدتین یسکت ۔
امام ابویوسف بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام ابو حنیفہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو فرائض میں رکوع کے بعد سر اٹھانے کے بعد یہ کہتا ہے اللھم اغفرلی (اے اﷲ مجھے معاف فرما) ۔ آپ نے فرمایا : وہ صرف ربنا لك الحمد (اے رب ہمارے ! تیرے لئے حمد ہے)کہے پھر خاموش ہوجائے اور اسی طرح دونوں سجدوں کے درمیان جلسہ میں بھی خاموش رہے (ت)
حلیہ میں زیر قول متن ولا یزید علی ھذا (اس پر اضافہ نہ کرے ۔ ت) فرمایا۔
ان ارادالزیادۃ ماورد فی السنۃ فینبغی ان یکون ھذا فی حق الا مامۃ اذاخاف التثقیل
اگر زیادتی سے مراد اذکار ہیں جو سنت میں وارد ہیں تو یہ حق امامت کے بارے میں ہوگا جبکہ مقتدی بوجھ
حوالہ / References دُرمختار باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعیہ مجتبائی دہلی ۱ / ۷۶
الجامع الصغیر امام محمد بن الحسن الشیبانی باب فی رکبیر الرکوع والسجود مطبوعہ مطبع یوسفی لکھنؤ ص۱۲۔ ۱۱
#4588 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
علی القوم وفی حق المقتدی اذالم یفعل الامام ذلك اماالمنفرد او الامام اذاکان لایثقل علی القوم اتیانہ بذلك اوالمقتدی اذاکان امامہ قد اتی بہ فلیسوا بممنوعین من زیادتھم بہ علی ذلك ولا سیماالمنفرد فی النوافل ومن ادعی ذلك فعلیہ البیان ۔
محسوس کریں اور مقتدی کے حق میں اس وقت ہے جب امام یہ نہ پڑھ رہا ہو رہا معاملہ منفرد یا وہ امام جس کے مقتدی اس کے پڑھنے کو بوجھ محسوس نہ کریں یا وہ مقتدی جس کا امام پڑھ رہا ہو تو ایسی صورت میں ان کے لئے ان اذکار کا اضافہ ممنوع نہیں خصوصا وہ منفرد جو نوافل پڑھ رہا ہو اور جو اسکا مدعی ہو وہ اس پر دلیل لائے۔ (ت)
اسی میں دو ورق بعد ہے :
صرح مشائخنا یحمل مافی حدیث علی رضی اﷲ تعالی عنہ علی النوافل علی انہ ثبت فی المکتوبۃ فلیکن فی حالۃ الانفراد وفی حالۃ کونہ اماما والمامومون محصورون لا یثقلون بذلك کما نصت علیہ الشافعیۃ ولا ضیر فی التزامہ الخ واﷲ سبحنہ تعالی اعلم۔
ہمارے مشائخ نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ حضرت سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی حدیث کو نوافل پر محمول کیا جائے گا علاوہ ازیں فرائض میں یہ ثابت ہے تو اس وقت جب نمازی تنہا فرائض ادا کر رہا ہو یا امامت کی حالت میں اس وقت جب مقتدی محصور ہوں جو بوجھ محسوس نہ کریں جیسا کہ شوافع نے تصریح کی ہے اور اس کے التزام میں کوئی نقصان نہیں الخ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم (ت)
مسئلہ نمبر ۴۰۹ : ازمدرسہ مصباح التہذیب مسئولہ مولوی محمد سلطان صاحب بنگالی ۳ جمادی الاولی ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اندریں مسئلہ کہ نماز میں دونوں سجدے فرض ہیں یا ایك فرض اور دوسرا واجب اگر یہ مسئلہ اختلافیہ ہے توقول قوی اور راجح کون ہے اور اسکی دلیل کیا ہے اور دوسرے کے مرجوح و ضعیف ہونے کی کیا دلیل ہے مع دلائل معتبرہ بحوالہ کتب بیان فرمایا جائے بینوا توجروا عندالجلیل
الجواب :
باجماع امت دونوں سجدے فرض ہیں اصلا اس میں کسی عالم کا خلاف نہیں کہ قوی و راجح بتایا جائے اس کا منکر اجماع امت کا منکر ہے دو۲ روز ہوئے ایك طالب علم نے فقیر سے یہ مسئلہ پوچھا تھا فقیر نے عرض کی
حوالہ / References حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
#4589 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
دونوں فرض ہیں رات مسموع ہوا کہ مدرسین مدرستین مصباح التہذیب واشاعت العلوم سے مولوی محمد عثمان صاحب ولایتی تو ایسا ہی بتاتے ہیں باقی سب خلا ف پر ہیں سجدہ اولی کو فرض اور ثانیہ کو واجب کہتے ہیں اس کی سند شرح وقایہ وہدایہ کی عبارت بتاتے ہیں بلکہ ایك نئے مولوی صاحب محمود نام کہ دیوبندی تعلیم کے فاضل ہیں فقیر کے قول کو محض بے دلیل فقیر غفرلہ اﷲ بلا مبالغہ دوسو۲۰۰ کلمات علماء کرام سے اس کی سندیں پیش کرسکتا ہے جن سے ثابت ہو کہ مخالفین مسئلہ کو فقہ سے کس قدر غفلت ہے مگر مسئلہ نہایت وضوح سے واضح ہے اور اطالت موجب ملامت لہذا صرف دس نصوص صریحہ پر قناعت :
نص اول : بحرالرائق میں کنز الدقائق کے قول فرضھا التحریمۃ والقیام والقراء ۃ والرکوع والسجود ۔ (نماز کے فرائض تکبیر تحریمہ قیام قرأ ت رکوع اور سجود ہیں ۔ ت) کی شرح میں فرمایا :
(لقولہ تعالی) اركعوا و اسجدوا وللاجماع علی فریضتھما ورکنیتھما والمراد من السجود السجدتان فاصلہ ثابت بالکتاب والسنۃ و الاجماع ۔
اس کی دلیل اﷲ تعالی کا ارشاد گرامی ہے : ارکعوا واسجدوا (رکوع کرو اور سجدہ کرو۔ ت) نیز ان دونوں کے فرض اور رکن ہونے پر اجماع ہے اور سجود سے دونوں سجدے مراد ہیں اور سجدہ کی اصل کتاب و سنت اور اجماع سے ثابت ہے اور سجدہ کا ہر رکعت میں دو۲ دفعہ ہونا سنت اور اجماع سے ثابت ہے۔ (ت)
نص ثانی : امام محمد محمد محمد ابن امیر الحاج حلیہ شرح میں فرماتے ہیں :
م والخامسۃ السجدۃ ش ای والفریضۃ الخامسۃ من الفرائض الست المشتمل علی فریضتھا الصلاۃ السجدۃ والاولی السجدتان فی کل رکعۃ ثم اصل السجدۃ ثابت بالکتاب و السنۃ و الاجماع وکونہ مثنی فی کل رکعۃ بالسنۃ والاجماع ولا خلاف فی کونھما من ارکان صلاۃ ۔
متن پانچواں فرض سجدہ ہے شرح یعنی وہ چھ فرائض جن پر نماز مشتمل ہے ان میں پانچواں فرض سجدہ ہے اور (السجدتان فی کل رکعۃ) کہنا بہتر تھا یعنی ہر رکعت میں دو سجدے فرض ہیں پھر سجدہ کی اصل کتاب سنت اور اجماع سے ثابت ہے اور اس کا ہر رکعت میں دو۲ دفعہ ہونا سنت اور اجماع سے ثابت ہے اور ان دونوں کے رکن نماز ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ۔ (ت)
حوالہ / References کنزالدقائق باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۰
البحر الرائق باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۹۳
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
#6205 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
ایضا یہاں تصریح ہے کہ فرضیت درکنار دونوں سجدے بالاجماع رکن نماز ہیں ۔
نص ثالث : مبسوط امام شیخ الاسلام پھر حلیۃ میں دونوں سجدے فرض ہونے کی حکمت بیان فرمائی :
ھذا ماروی فی الاخباران اﷲ تعالی لما اخذ المیثاق من ذریۃ ادم علیہ الصلاۃ والسلام حیث قال عزوجل واذ اخذ ربك من بنی ادم من ظھورھم ذریتھم الایۃ امرھم بالسجود تصدیقا لما قال فسجد المسلمون کلھم وبقی الکفار فلما رفع المسلمون رؤسھم ورأو الکفار لم یسجدوا فسجدوا ثانیا شکرالما وفقھم اﷲ تعالی علی السجود الاول فصار المفروض سجدتین لھذا والرکوع مرۃ ۔
یہ اس بنا پر ہے جو روایات میں ہے کہ اﷲ تعالی نے جب اولادآدم علیہ الصلوۃ والسلام سے عہد لیا جس کا ذکر اﷲ نے اس آیت میں کیا ہے : اور یاد کرو اس وقت کو جب اے حبیب! آپ کے رب نے بنی آدم سے ان کی پشتوں میں ان کی اولاد سے عہد لیا الآیۃ تو انھیں بطور تصدیق سجدے کا حکم دیا تو اﷲ کے حکم ہر تمام مسلمان سجدہ ریز ہوگئے لیکن کافر کھڑے محروم رہ گئے جب مسلمانوں نے سجدے سے سر اٹھایا اور دیکھا کہ کفار نے سجدہ نہیں کیا تو وہ دوبارہ اﷲ تعالی کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ ریز ہوگئے کہ اﷲ تعالی نے انھیں سجدہ اول کی توفیق دی لہذا نماز میں دو۲ سجدے فرض ولازم ہوگئے اور رکوع ایك ہی رہا۔ (ت)
نص رابع : مراقی الفلاح میں تھا : یفترض السجود (سجدہ فرض کیا گیا ہے۔ ت)علامہ طحطاوی نے حاشیہ میں فرمایا :
المراد منہ الجنس ای السجدتان ۔
(مراد اس سے جنس سجدہ یعنی دو سجدے ہیں ۔ ت)
نص خامس : دررالحکام شرح غررالاحکام للعلامہ مولی خسرو میں ہے :
فان قیل فرضیۃ الرکوع والسجود ثبتت بقولہ تعالی اركعوا و اسجدوا والامرلایوجب التکرار
اگر یہ سوال ہو کہ رکوع و سجود کی فرضیت اﷲ تعالی کے اس فرمان سے ثابت ہے ارکعو اواسجدوا (رکوع کرو اور سجدہ کرو)
حوالہ / References حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب شروط الصلٰوۃ مطبوعہ نور محمد تجارت کتب کراچی ص۱۲۵
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب شروط الصلٰوۃ مطبوعہ نور محمد تجارت کتب کراچی ص۱۲۵
#6206 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
ولذالم یجب تکرار الرکوع فبماذاثبت فرضیۃ تکرار السجود (ولما اذاتکرر) قلنا قد تقرران آیۃ الصلاۃ مجملۃ وبیان المجمل قد یکون بفعل الرسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وقد یکون بقولہ وفرضیۃ تکرارہ تثبت بفعلہ المنقول عنہ تواترااذکل من نقل صلاۃ الرسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نقل تکرار سجودہ ۔
یہ امر ہے اور امر تکرار کا تقاضا نہیں کرتا ۔ یہی وجہ ہے کہ رکوع میں تکرار ثابت نہیں تو تکرار تکرار سجود کس سے ثابت ہے جب تکرار ثابت ہوگیا تو ہم جوابا کہیں گے کہ یہ بھی ثابت ہے کہ نماز والی آیت مجمل ہے اور مجمل کا بیان کبھی حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے عمل سے ہوتا ہے کبھی قول سے تکرار سجود کی فرضیت متواترا آپ کے عمل سے ثابت ہے کیونکہ جس نے بھی حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نماز کو نقل کیا ہے اس نے یہ ضرور بیان کیا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہر رکعت میں دو سجدے فرماتے تھے۔ (ت)
نص سادس : نقایہ میں تھا :
فرضھا التحریمۃ(الی قولہ) والسجود ۔
نماز کا فرض تکبیر تحریمہ ہے (آگے چل کر کہا) اور سجدہ بھی ۔ (ت)
جامع الرموز میں ہے :
ای سجدتان فان اسم الجنس یدل علی العدد الخ
یعنی دو سجدے کیونکہ اسم جنس عدد پر دلالت کرتا ہے الخ(ت)
نص سابع : اسی کے واجبات میں ہے :
(ورعایۃ الترتیب) بین ارکان کل رکعۃ فوجب ان یکون السجود بعد الرکوع والسجدۃ الثانیۃ بعد الاولی ۔
(اور رعایت ترتیب) ہر رکعت کے ارکان کے درمیان پس اس سے ثابت ہوا کہ سجدہ رکوع کے بعد ہوگا اور دوسرا سجدہ پہلے کے بعد ہوگا۔ (ت)
یہاں سے بھی ظاہر کہ دونوں سجدے رکن ہیں ۔
حوالہ / References دررالحکام شرح غررالاحکام باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ احمد کامل الکائنہ درسعادت مصر ۱ / ۷۳
مختصر الوقایۃ فی مسائل الہدایۃ کتاب الصلٰوۃ نور محمد کارخانہ بازار کراچی ص ۱۳ ، ۱۴
جامع الرموز کتاب الصلٰوۃ نور محمد کارخانہ بازار کراچی ۱ / ۱۴۰
جامع الرموز کتاب الصلٰوۃ نور محمد کارخانہ بازار کراچی ۱ / ۱۴۲
#6207 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
نص ثامن : فتح اﷲ المعین للعلامۃ السید ابی المسعود الازہری میں ہے :
السجدتان(لانھما) فرضان فی کل رکعۃ ۔
کیونکہ دو۲سجدے ہر رکعت میں دونوں سجدے فرض ہیں ۔ (ت)
نص تاسع : علامہ شرنبلانی اپنے متن نور الایضاح اور اسکی شرح میں فرماتے ہیں :
(و) یفترض(العود الی السجود) الثانی لان السجود الثانی کالاول فرض باجماع الامۃ ۔
(اور) فرض ہے( لوٹنا سجدہ کی طرف) یعنی دوسرے سجدے کی طرف کیونکہ دوسرا سجدہ پہلے کی طرح ہی فرض ہے اور اس پر امت کا اجماع ہے۔
نص عاشر : مجتبی شرح قدوری پھر ہندیہ میں ہے :
السجود الثانی (فرض) کالاول باجماع الامۃ ۔
اس پر اجماع امت ہے کہ دوسرا سجدہ پہلے کی طرح فرض ہے۔ (ت)
ہدایہ کی طرف اس زعم باطل ووہم عاطل کی نسبت تو محض غلط و بے منشا ہے شرح وقایہ سے یہ مطلب سمجھنا عدم تدبر و سوء فہم سے پیدا ہو ا امام صدر الشریعۃ کی عبارت یہ ہے :
فی الھدایۃ و مراعاۃ الترتیب فیما شرع مکررا من الافعال وذکر حواشی الھدایۃ نقلا عن المبسوط کالسجدۃ فانہ لوقام الی الثانیۃ بعد ما سجد سجدۃ واحدۃ قبل ان یسجد الاخری یقضیھا ویکون القیام معتبرالانہ لم یترك الا الواجب ۔
ہدایہ میں ہے ان افعال میں رعایت ترتیب واجب ہے جن میں تکرار مشروع ہوا ہے اور حواشی ہدایہ میں مبسوط کے حوالے سے مذکور ہے مثلا سجدہ پس اگر نمازی دوسری رکعت کی طرف صرف ایك سجدہ کے بعد کھڑا ہوا اور دوسرا سجدہ نہیں کیا تو اس سجدہ کی قضا کرے اور اس کا قیام معتبر ہوگا کیونکہ نمازی نے صرف واجب(یعنی ترتیب) کو چھوڑا ہے (ت)
قلت فہم نے یہ سمجھا کہ لم یترك الاالواجب (اس نے واجب ہی ترك کیا ہے۔ ت) میں واجب سے
حوالہ / References فتح اﷲ المعین باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۶۹
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب شروط الصلٰوۃ مطبوعہ نور محمد تجارت کتب کراچی ص ۱۲۷
فتاوٰی ہندیۃ الفصل الاول فی فرائض مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۷۰
شرح الوقایۃ باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ المکتبہ الرشید دہلی ۱ / ۱۶۱
#6208 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
سجدہ ثانیہ مراد ہے حالانکہ یہ واضح الفساد ہے سجدہ ثانیہ کو تو فرما دیا یقضیھا (اس سجدہ ثانیہ کی قضا کرے۔ ت)آگے فرمایا ویکون القیام معتبرا(اس کا قیام معتبر ہے۔ ت) جب سجدہ ثانیہ مراد ہو حالانکہ اس کی تو قضا کرچکا پھر سجدہ متروك کب ہوا موخر ہوا ترك و تاخیر میں جو فرق ہے ہر عامی پر روشن ہے ترك فرض مبطل صلاۃ ہے اور تاخیر موجب سجود سہو بلکہ واجب سے مراد ترتیب ہے کہ بوجہ تاخیر سجدہ ثانیہ و تقدیم قیام ترتیب متروك ہوئی یہ خود نفس کلام سے واضح ہے کہ یہاں گفتگو واجب ترتیب میں ہے ابتداء میں بشمار واجبات فرمایا تھا “ ورعایۃ الترتیب فیما تکرر “ کلام مذکور کے بعد فرمایا :
اقول قولہ “ فیما تکرر “ لیس قیدایوجب نفی الحکم عماعداہ فان مراعاۃ الترتیب فی الارکان التی لایتکرر فی رکعۃ واحدۃ کالرکوع و نحوہ واجبۃ ایضا ۔
میں کہتا ہوں اس کا قول فیما تکرر(وہ افعال جن میں تکرار ہے) یہ ایسی قید نہیں جو دوسروں کی نفی کرے کیونکہ رعایت ترتیب ان افعال میں بھی واجب ہے جو ایك رکعت میں متعدد نہیں ہوتے مثلا رکوع وغیرہ(ت)
اخیر میں اس تمام کلام پر تفریع فرمائی فعلم ان رعایۃ الترتیب واجبۃ مطلقا (پس واضح ہوگیا کہ رعایت ترتیب مطلقا واجب ہے ۔ ت)دیگر علمائے کرام نے مراد کو خوب واضح کردیا کہ ترتیب ہی کو واجب کہا گیا نہ کہ سجدہ ثانیہ کو علامہ اکمل الدین بابرتی شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں :
(مراعاۃ الترتیب فیما شرع مکررا) یعنی فی الرکعۃ الواحدۃ کالسجدۃ الثانیۃ من الرکعۃ الاولی فان ترکھا ساھیا وقام واتم صلاتہ ثم تذکرفان علیہ ان یسجد السجدۃ المتروکۃ ویسجد للسھو لترك الترتیب ۔
(متکررافعال میں رعایت ترتیب مطلقا واجب ہے) یعنی رکعت واحدہ میں مثلا پہلی رکعت کا دوسرا سجدہ جس نے اسے بھول کر چھوڑ دیا اور دوسری رکعت کی طرف کھڑا ہوگیااور نماز پوری کرنے کے بعد متروکہ سجدہ یاد آیا تو اس پر لازم ہے کہ پہلے متروکہ سجدہ کرے پھر سجدہ سہو کرے کیونکہ ترتیب باقی نہ رہی۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
لو ترك السجدہ الثانیۃ من الرکعۃ الاولی
اگر بھول کر پہلی رکعت کا دوسرا سجدہ چھوڑ کر دوسری
حوالہ / References شرح الوقایۃ باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ المکتبۃ الرشید دہلی ۱ / ۱۶۱
شرح الوقایۃ باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ المکتبۃ الرشید دہلی ۱ / ۱۶۲
العنانیۃ مع فتح القدیر باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۴۱
#6209 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
سھو اوقام الی الرکعۃ الثانیۃ ثم تذکرھا فی اخر صلاتہ لم تسدصلاتہ بل یسجد المتروکۃ ثم یسجد للسھولترك الترتیب لان ترك الواجب الاصلی ساھیا یوجب سجود السھوبا لاتفاق ۔
رکعت کا قیام کیا پھر آخر نماز میں (متروکہ سجدہ) یاد آگیا تو اس کی نماز فاسد نہ ہوگی بلکہ پہلے چھوڑا ہوا سجدہ کرے پھر ترك ترتیب کی وجہ سے سجدہ سہو کرے کیونکہ واجب اصل کو بھول کرچھوڑنے سے بالاتفاق سجدہ سہو لازم آتا ہے۔ (ت)
جوہرہ نیرہ میں ہے :
لو ترك السجدۃ الثانیۃ من الرکعۃ الاولی ساھیا وقام وصلی تمام صلاتہ ثم تذکرھا فعلیہ ان یسجدالمتروکۃ ویسجد للسھو لترك الترتیب فیما شرع مکررا ۔
اگر پہلی رکعت کا دوسرا سجدہ بھول کر چھوڑ دیا اور دوسری رکعت کے لئے کھڑا ہوگیا آخر میں نماز پوری کرنے پر متروکہ سجدہ یاد آیا تو اس پر لازم ہے پہلے متروکہ سجدہ ادا کرے پھر سجدہ سہو کرے کیونکہ ان افعال میں ترتیب متروك ہوگئی جو متکرر مشروع ہوئے تھے (ت)
فتح القدیر وغنیۃ شرح منیۃ و بحرالرائق و حاشیۃ الشبلی علی تبیین الحقائق وغیرہا کتب کثیرہ میں ہے :
وھذا لفظ الغنیۃ مختصرا اعلم ان المشروع فرضا فی الصلاۃ اربعۃ انواع مایتحد فی کل الصلاۃ کالقعدۃ او فی کل رکعۃ کالقیام و الرکوع وما یتعدد فی کلھا کالرکعات اوفی کل رکعۃ کالسجود فالترتیب شرط بین مایتحد فی کل الصلاۃ وبین جمیع ما سواہ من الثلثۃ الاخری حتی لوتذکر بعد القعدۃ قبل السلام او بعدہ قبل ان یاتی بمناف رکعۃ او سجدۃ صلبیۃ او سجدۃ تلاوۃ فعلھا واعادالقعدۃ وسجد للسھو والترتیب بین
یہ اختصارا غنیۃ کے الفاظ ہیں نماز میں مشروع فرائض چار انواع کے ہیں ایك وہ جو پوری نماز میں ایك ہو مثلا قعدہ یا پوری رکعت میں ایك جیسے قیام و رکوع۔ اور کچھ وہ ہیں جو پوری نماز میں متعدد ہوں جیسے سجود بہرحال وہ فرض جو پوری نماز میں ایك ہو اور اسکے ماسوا مذکورہ تینوں انواع کے درمیان ترتیب شرط ہے حتی کہ قعدہ کے بعد سلام سے پہلے یا بعد بشرطیکہ ابھی اس نے نماز کے منافی کوئی عمل نہ کیا ہو کسی کو متروکہ رکعت یا چھوڑا ہوا سجدہ نماز یا سجدہ تلاوت یاد آگیا تو پہلے
حوالہ / References حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
الجوہرۃ النیرۃ باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۵۹
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی واجبات الصلٰوۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۲۹۷
#6210 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
ما یتکرر فی کل رکعۃ کالسجود وبین مابعدہ واجب حتی لوترك سجدۃ من رکعۃ ثم تذکرھا فیما بعدھا من قیام او رکوع اوسجود فانہ یقضیھا ولایقضی ما فعلہ قبل قضائھا مما ھو بعد رکعتھا من قیام او رکوع اوسجود بل یلزمہ سجود السھو فحسب لکن اختلف فی لزوم قضاء ما تذکر فقضاھا فیہ کما لو تذکروھو راکع او ساجد انہ لم یسجد فی الرکعۃ التی قبلھا فانہ یسجدھاو ھل یعید الرکوع اوالسجود المتذکر فیہ ففی الھدایۃ انہ لا یحب اعادتہ بل تستحسب معللابان الترتیب لیس بفرض بین ما یتکرر من الافعال وفی فتاوی قاضی خان انہ یعیدہ ولو لم یعدہ فسدت صلاتہ معللا بانہ ارتفض بالعود الی ماقبلہ من الارکان لانہ قبل الرفع منہ یقبل الرفض بخلاف مالو تذکر السجدۃ بعد ما رفع من الرکوع لانہ بعد ماتم بالرفع لا یقبل الرفض ۔
اسے بجالائے پھر قعدہ لوٹائے اور سجدہ سہو کرے(اس طرح نماز ہو جائے گی) اور پوری رکعت میں جو متکرر افعال ہیں مثلا سجود میں اور ان کے بعد والے افعال میں ترتیب لازم ہے حتی کہ اگر کسی نے ایك رکعت کا سجدہ ترك کردیا اور بعد میں قیام رکوع یا سجدہ میں یاد آیا تو سجدہ کو قضا کرے اسکی قضا سے پہلے اس سجدہ والی رکعت کے بعد جو کچھ قیام رکوع یا سجدہ کرلیا ہے اس کا اعادہ نہ کرے بلکہ آخر میں صر ف سجدہ سہو کرے کافی ہے لیکن چھوٹا ہوا سجدہ یاد آیا تو وہاں اس نے وہ سجدہ قضا کرلیا تو کیا یہ رکوع یا سجدہ قضا کرنا پڑے گا یا نہیں اس میں اختلاف ہے توہدایہ میں ہے کہ اس رکن کا اعادہ واجب نہیں ہے بلکہ مستحب ہے انہوں نے وجہ یہ بیان کی کہ تکرار والے افعال میں ترتیب فرض نہیں ہے۔ اورفتاوی قاضی خان میں ہے کہ اس رکن کا اعادہ ضروری ہے اگر اعادہ نہ کیا نماز فاسد ہوجائے گی ۔ انھوں نے وجہ یہ بیان کی ہے کہ اس رکن کو چھوڑ کر ماقبل کی طرف لوٹنے سے وہ رکن (درمیان میں چھوٹ گیا اور مکمل نہ ہوا) کیونکہ رکن مکمل کرکے اٹھنے سے پہلے وہ مکمل نہیں ہوتا بخلاف جبکہ رکن کو مکمل کرکے اٹھنے کے بعد چھوٹا ہوا سجدہ یا د آئے اور قضا کرے تو رکوع کا اعادہ ضروری نہیں کیونکہ رکوع سے اٹھنے پر رکوع مکمل ہوگیا تو اب رکوع کے چھوٹنے کا احتمال نہ رہا۔ (ت)
اب ان عبارات میں اس فائدے کے علاوہ دو فائدہ زائدہ ہیں ایك سجدہ کو فرض مکرر کہنا معلوم ہوا کہ دونوں سجدے فرض ہیں دوم تعلیل کہ جب پہلی رکعت میں ایك سجدہ بھول گیا اور مثلا دوسری کے رکوع میں یاد آیا کہ معا اس کی
حوالہ / References غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی واجبات الصلٰوۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۲۹۷
#6211 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
قضا کر لی تو اس رکوع کا پھر اعادہ کرے کہ رکن سابق کی طرف عود کرنے سے یہ رکوع کان لم یکن یعنی کالعدم ہوگیا۔ معلوم ہوا کہ سجدہ ثانیہ صرف فرض ہی نہیں بلکہ رکن ہے اور ہدایہ میں جو اس رکوع کا اعادہ صرف مستحب جانا اور یہی راجح ہے اس کی وجہ یہ فرمائی کہ جو فرض ایك رکعت میں مکرر ہے یعنی سجدہ اس میں اور اسکے بعد فرائض مثلا قیام ورکوع و سجود رکعت آئندہ میں ترتیب فرض نہیں صرف واجب ہے کہ اس کے ترك کی تلافی بسجدہ سہو حاصل غرض مسئلہ آفتاب کی طرح روشن ہے مقدس مدرسین سے بنظر خیر خواہی گزارش کہ فرض قطعی و اجماع امت کا انکار سہل نہیں لہذا اگر مناسب جانیں کلمہ و اسلام و نکاح کی تجدید فرما لیں آئندہ احتیاط وماالتوفیق الا باﷲ العزیز الغفار۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۱۰ : مرسلہ مظہر حسین امام مسجد گول بازار ضلع بلاسپور۔ سی۔ پی ۔ دکان شیخ سلیمان عمر صاحب جنرل مرچنٹ ۲۷ محرم ۱۳۳۰ھ
زید نماز میں صرف بحالت رکوع و سجود الصاق کعبین کرتا ہے عمرو کہتا ہے کہ فعل وہابیوں کا ہے حرام ہے اور واجب الترك ہے حنفی لوگ اس فعل کو جائز سمجھیں یا مکروہ تحریمی
الجواب :
حاشاﷲ نہ یہ فعل وہابیہ کا ہے نہ حرام نہ واجب الترك بلکہ رکوع میں الصاق کعبین غنیۃ شرح منیہ و جامع الرموز و مجتبی شرح قدوری و درمختار و حاشیہ حموی و فتح اﷲ المعین و طحطاوی علی مراقی الفلاح و علی درمختار وغیرہا میں سنت لکھا ۔ وقد ذکرنا نصوصھا جمیعا فی فتا ونا(ہم نے ان سب کی عبارات و نصوص کو اپنے فتاوی میں ذکر کیا ہے۔ ت)در مختار میں ہے۔
سننھا تکبیر الرکوع والتسبیح فیہ ثلاثا والصاق کعبیہ۔
نماز کی سنتیں تکبیر رکوع اس میں تین مرتبہ تسبیح اور ٹخنوں کا متصل کرنا ہے۔ (ت)
اسی کی صفۃ الصلاۃ میں ہے :
یفرج اصابعہ ویسن ان یلصق کعبیہ ۔
انگلیاں کشادہ رکھے اور ٹخنوں کو ملانا سنت ہے۔ (ت)
اور سجدہ میں الصاق کعبین کو علامہ سید ابو مسعود الازہری نے حواشی کنز میں سنت بتایا۔ سنن میں فرمایا : الصاق کعبیہ فی السجود سنۃ ۔ (سجود میں ٹخنوں کو ملانا سنت ہے ۔ ت)
حوالہ / References دُرمختار باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۷۳
دُرمختار باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۷۵
فتح اﷲ المعین مبحث سنن الصلاۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۷۷
#6212 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
صفۃ الصلاۃمیں فرمایا :
کما یسن الصاق الکعبین فی الرکوع فکذا فی السجود ایضا ۔
جیسا کہ رکوع میں ٹخنوں کا ملانا سنت ہے اسی طرح سجدہ میں بھی سنت ہے۔ (ت)
ہاں دربارہ سجودیہ صرف انھیں کا بیان ہے اگر چہ علامہ طحطاوی نے ان کا اتباع کیا اورشرح علائی کا حوالہ سہوا واقع ہوا اس میں صرف دربارہ رکوع مذکور ہے اور علامہ شامی نے جو اس کی توجیہ فرمائی محل کلام ہے۔ طحطاوی علی الدر میں ہے :
قولہ یسن ان یلصق الخ ای فی الرکوع والسجود ابوالسعود ۔
اس کا قول “ یسن ان یلصق “ الخ (الصاق سنت ہے یعنی رکوع اور سجدہ میں ابو السعود۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قال السید ابوالسعود وکذا فی السجود(ایضا) وسبق فی السنن ایضا اھ والذی سبق ھوقولہ الصاق کعبیہ فی السجود سنۃ در اھ ولا یخفی ان ھذا سبق نظرفان شارحنا لم یذکرذلك لا فی الدرالمختار ولافی الدرالمنتقی ولم ارہ لغیرہ ایضا فافھم نعم ربمایفھم ذلك من انہ اذکان السنۃ فی الرکوع الصاق الکعبین ولم یذکروا تفریجھما بعدہ فالاصل بقاء وھما ملصقین فی حالۃ السجود ایضا تأمل اھ مافی الشامی ورأیتنی کتبت علیہ مانصہ (اقول) تاملنا فلم نجدہ وافیا فان الحرکۃ الانتقالیۃ
سید ابو السعود کہتے ہیں اسی طرح سجود میں بھی اور بیان سنن میں بھی گزر چکا ہے اور گزرے ہوئے قول کے الفاظ یہ ہیں کہ سجدہ میں الصاق کعبین سنت ہے دراھ واضح رہے کہ ان کے اس قول (جو پیچھے گزر چکا ہے ) میں نظر کی خطا ہے کیونکہ ہمارے شارح نے اسے نہ درمختار میں ذکر کیا اور نہ ہی درمنتقی میں اور میں نے کسی غیر کی عبارت میں بھی یہ نہیں دیکھا اسے سمجھو ہاں اکثر اوقات اس سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ جب رکوع میں ٹخنوں کا ملانا سنت ہے اور اس کے بعد ان کا کشادہ رکھنا انہوں نے بیان نہیں کیا تو اصل یہی ہے کہ حالت سجود میں بھی ٹخنے متصل ہی رہیں غور سے سمجھ لو اھ شامی کا حاشیہ ختم ۔ اور مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے بھی شامی
حوالہ / References فتح المعین فصل واذاارادالدخول فی الصّلٰوۃ الخ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۸۹
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار فصل واذا ارادالدخول فی الصّلٰوۃ الخ دار المعرفۃ بیروت ۱ / ۲۲۰
ردالمحتار باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۶۴
#6213 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
الی السجود ان خلی فیھا الطبع بالتفریج الا ان یحافظ علی الالصاق بالقصد الخاص ومثل ھذالایحتاج الی البیان بل الاختصار علی ذکرہ فی الرکوع دلیل علی انہ لایطلب الا فیہ والاذکروہ فی السجود ایضافاعرفہ فان الامر واضح ۔
پر کچھ لکھا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں (اقول) ہم نے تامل کیا مگر ہم کا ملا اس مسئلہ کو نہ پاسکے کیونکہ حرکت انتقال سجدہ کی طرف اگر طبعا و فطرتا ہو تو اس صورت میں کشادگی ہوگی مگر اس صورت میں جب اتصال کا خصوصی اہتمام کیا جائے اور اس طرح کے مسائل کے بیان کی احتیاجی نہیں بلکہ صرف رکوع میں اس کا تذکرہ ہونا دلیل ہے کہ صرف اسی میں اس کا مطالبہ ہے ورنہ اس کا تذکرہ سجدہ میں بھی کیا جاتا اسے جان لے کیونکہ معاملہ واضح ہے (ت)
اور بعض متاخرین علما نے دربارہ رکوع بھی سنیت میں کلام کیا :
ولہ فی ذلك رسالۃ عندی واقصی مایقال ھنا ان عامۃ کتب المذھب خالیۃ عنہ وانما انہ بینہ الزاھدی والباقون انما تبعوہ و قد بینت فی کتابی “ کفل الفقیہ الفاھم “ ان الغرابۃ لاتندفع بکثرۃ الناقلین اذالم یکن مرجعھم الا واحدا لاسیما مثل الزاھدی۔
اس مسئلہ سے متعلق میرے پاس ایك رسالہ ہے زیادہ سے زیادہ جو کہاجاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ عامہ کتب مذہب اس سے خالی ہیں صرف زاہدی نے اسے بیان کیا اور باقی فقہاء نے ان کی اتباع کی ہے اور میں نے اپنی کتاب “ کفل الفقیہ الفاھم “ ـ میں یہ بیان کیا ہے کہ کثرت ناقلین کی وجہ سے غرابت ختم نہیں ہوجاتی جبکہ ان سب کا مرجع ایك ہو خصوصا زاہدی جیسا آدمی (ت)
بہر حال اسے حرام و فعل وہابیہ کہنا نادانی ہے واﷲ تعالی اعلم ۔
مسئلہ نمبر ۴۱۱ : مسئولہ ازنجیب آباد و ضلع بجنور ۷ ذی الحجہ ۱۳۲۹ھ
نماز میں سبحانك اللھم پڑھنا فرض یا واجب مقتدی سبحان ختم نہ کرنے پایا تھا کہ امام نے قرأت شروع کردی اس کو ناتمام چھوڑ کر خاموش ہوجانا پڑے یا فوراختم کرکے خاموش ہوجانا چاہئے ایك وہابی واعظ نے سبحانك اللھم کے بارہ میں ایك شخص سے یہ مسئلہ بیان کیا کہ اگر امام نے قرأت شروع کردی ہو اور اب کوئی شخص اگر جماعت میں شامل ہو تو اس کو چاہئے کہ سبحانك اللھم اس طرح پڑھے کہ جہاں جہاں امام سانس لینے کی غرض سے ذرا بھی رکے اس وقت ایك ایك کلمہ بول کرکے سبحانك اللھم پڑھ لیا جائے مثلا جب اول مرتبہ رکا تو فورا کہے سبحنك اللھم پھر جب دوسری مرتبہ ٹھہرا تو کہے وبحمدك پھرجب تیسری بار سانس لے تو کہنا چاہئے وتبارك اسمك غرض اسی طرح ختم کرلیا جائے ایسا ہر نماز میں کرسکتے ہیں مگر مغرب میں خواہ پہلی رکعت میں شامل ہو یا دوسری میں سبحانك اللھم تیسری رکعت میں اور عشاء
حوالہ / References جد الممتار کتاب الصلٰوۃ المجمع الاسلامی مبا رک پور ہند ۱ / ۲۴۳
#6214 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
میں تیسری یا چوتھی رکعت میں بھی پڑھ سکتے ہیں خواہ دوسری ہی رکعت میں شامل ہوں کیا یہ طریقہ ٹھیك ہے بغیر سبحانك اللھم کے نماز ہو جاتی یا نہیں
الجواب :
سبحانك اللھم اسی وقت پڑھ سکتے ہیں کہ امام قرأت با آوازشروع نہ کرلے جب قرأت جہری شروع کردی اب خاموش رہنا اور سننا فرض ہے وہ جو وہابی نے بتایا کہ امام کی ٹھہرنے کی جگہ ایك ایك دو دو لفط کہہ کر پورا کرے ضعیف و غیرمختار اور جیسے استثناء کیا کہ ایسا ہر نماز میں کرسکتے ہیں مگر مغرب میں نہیں یہ محض باطل اور اسکی اپنی ایجاد ہے جس روایت ضعیفہ میں یہ طریقہ ہے اس میں مغرب میں بھی ایسا ہی ہے اور مذہب صحیح میں کہ اس کی اجازت نہیں فجر و مغرب و عشا کسی میں ایسا نہیں اور اس کا یہ کہنا بھی محض غلط ہے کہ جو دوسری رکعت میں شامل ہوا وہ تیسری یا چوتھی رکعت میں سبحانك پڑھ سکتا ہے سبحانك اللھم کی جگہ ابتدائے نماز ہے جب دوسری میں ملا تو تیسری یا چوتھی ابتدائے نماز کب ہے کہ اس میں پڑھے کہ اس میں سبحانك پڑھے ہاں وہ جو ایك رکعت رہ گئی بعد سلام امام جب اسے پڑھنے کے کھڑا ہو اس کی ابتداء میں پڑھے کہ یہ اس کی پہلی رکعت ہے سبحانك پڑھناسنت ہے بغیر اس کے نماز ہوجاتی ہے مگر بلا ضرورت ترك سنت کی اجا زت نہیں اور عادت ڈالنے سے گناہگار ہوگا اور جو مثلا پہلی رکعت جہریہ میں ملا اور قرأت شروع ہوجانے کے باعث سبحانك نہ پڑھ سکا اس پر کوئی الزام نہیں کہ اس نے یہ ترك ادائے فرض خاموشی کے لئے بحکم شرع کیا ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۱۲ : از موضوع منصور پور متصل ڈاکخانہ قصبہ شیش گڑھ تحصیل بہیڑی ضلع بریلی مرسلہ محمد شاہ خان ۲۹ محرم الحرام۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس باب میں کہ دونوں سجدوں کے درمیان میں اللھم اغفرلی وارحمنی واھدنی (اے اﷲ! مجھے بخش دے مجھ پر رحم فرما اور مجھے ہدایت فرما۔ ت)پڑھنا چاہیئے امام کو یا مقتدی کو یا دونوں کو یا امام ومقتدی بلا اس کے پڑھے دونوں سجدے ادا کریں ۔
الجواب :
اللھم اغفرلی کہنا امام ومقتدی و منفرد سب کو محتسب ہے اور زیادہ طویل دعا سب کو مکروہ ہاں منفرد کو نوافل میں مضائقہ نہیں ۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر۴۱۳ : ازامرتسر دفتر پولیس مرسلہ عبدالعزیر ہیڈ کانسٹیبل ۲۷صفرالمظفر۱۳۳۲ھ
بعدسلام علیك حضور کی خدمت میں میری عرض یہ ہے کہ مجھے درود شریف جو نماز میں پڑھا جا تاہے
#6215 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
اس کی یا کسی دوسرے درود شریف کی جو سب درودوں سے افضل ہو اجاز ت فرمائیں مجھے درود شریف یا کلمہ شریف یا استغفار پڑھنے کا نہایت شوق ہے خدا حضور کو اجردے گا عام طور پر راستہ چلتا ہوں و دیگر بازار وغیرہ جگہ میں بھی پڑھتا ہوں مجھے عام طور پر درود شریف ہر جگہ پڑھنے کی اجازت ہے یا نہیں حضور برائے مہربانی تحریر فرمائیں میں ہر وقت وظیفہ رکھنا چاہتا ہوں یا آیت کریمہ کا یا کوئی دوسرا یہ اس لئے کہ محبت خدا و رسول کی پورے طور پر حاصل ہوجائے جناب مہربانی کرکے ضرور بالضرور جلد مجھے آگاہ کردیں درود شریف یا کلمہ شریف اور استغفار کی نسبت ضرور بالضرور تحریر فرمائیں ان شاء اﷲ تعالی تحریر حضور پر عملدرآمد ہوگا۔
الجواب :
سب درودوں سے افضل درود وہ ہے جو سب اعمال سے افضل یعنی نماز میں مقرر کیا گیا ہے درود شریف راہ چلتے بھی پڑھنے کی اجازت ہے جہاں نجاست پڑی ہو وہاں رك جائے بہتر یہ ہے ایك وقت معین کرکے ایك عدد مقرر کر لے اس قدر باوضو دو زانو ادب کے ساتھ مدینہ طیبہ کی طرف منہ کرکے روزانہ عرض کیا کرے جس کی مقدار سو بار سے کم نہ ہوزیادہ جس قدر نبھا سکے بہتر ہے علاوہ اس اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے باوضو بے وضو ہر حال میں درود جاری رکھے اور اس کے لئے بہتر یہ ہے کہ ایك صیغہ خاص کا پابند نہ ہوبلکہ وقتا فوقتا مختلف صیغوں سے عرض کرتا رہے تاکہ حضور قلب میں فرق نہ ہو درود شریف او رکلمہ طیبہ اور استغفار ان سب کی کثرت نہایت محبوب و مطلوب ہے کلمہ طیبہ کو افضل الذکر فرمایا اور یہ کہ اﷲ عزوجل تك اس کے پہنچنے میں روك نہیں اور استغفار کے لئے فرمایا شادمانی ہے اسے جو اپنے نامہ اعمال میں استغفار بکثرت پائے اور اپنے تمام اوقات کو درود شریف میں صرف کردینے کو فرمایا کہ ایسا کرے گا تو اﷲ تیرے سب کام بنادے گااور تیرے گناہ معاف فرما دے گا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۱۴ تا ۴۱۷ : ازکاہنور ضلع روہتك محلہ سیمان مرسلہ بھورے خان ۱۲ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
(۱) امام کے پیچھے مقتدی سورہ فاتحہ پڑھے یا نہ پڑھے
(۲) آمین با آواز بلند کینا درست ہے یا نہیں
(۳) بجائے بیس رکعت تراویح کے آٹھ رکعت پڑھے تو درست ہے
(۴) بجائے تین وتر کے ایك وتر پڑھنا درست ہے یا نہیں
الجواب :
(۱) مقتدی کو قرآن مجید پڑھنا مطلقا جائز نہیں اﷲ عزوجل فرماتا ہے :
و اذا قرئ القران فاستمعوا له و انصتوا
اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور
#6216 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
لعلكم ترحمون(۲۰۴)
خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (ت)
نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
انما جعل الامام لیؤتم بہ فاذاکبرفکبروا اذا قرأ فانصتوا ۔
امام اس لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اتباع کی جائے جب تکبیر تحریمہ کہے تم تکبیر کہو جب قرأت کرے خاموش رہو۔ (ت)
عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :
“ مجھے تمنا ہے کہ جوامام کے پیچھے پڑھے اس کے منہ میں آگ ہو “ ۔
عبداﷲبن عباس رضی اللہ تعالی عنہم ا فرماتے ہیں :
“ قدرت پاتا تو اسکی (امام کے پیچھے پڑھنے والے کی) زبان کاٹ دیتا “ واﷲ تعالی اعلم
(۲) آمین با آواز بلند کہنا نماز میں مکروہ و خلاف سنت ہے اﷲ عزوجل فرماتا ہے :
ادعوا ربكم تضرعا و خفیة- ۔
تم اپنے رب کو عاجزی اور تواضع سے آہستہ آہستہ پکارو۔ (ت)
نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
واذقال ولا الضالین فقولوا امین فان الامام یقولھا ۔
جب امام ولا الضالین کہے تو تم آمین کہو کیونکہ امام اسے کہہ رہا ہے۔ (ت)
حوالہ / References القرآن ۷ / ۲۰۴
مصنّف ابن ابی شیبہ فی الامام یصلی جالسا مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ / ۳۲۶
القرآن ۷ / ۵۵
سنن انسائی جہر الامام بآمین مطبوعہ المکتبہ السلفیۃ لاہور ۱ / ۱۱۳
نوٹ : حدیث شریف کے الفاظ سنن نسائی میں ابو ہریرہ کے حوالہ سے یوں منقول ہیں :
اذاقال الامام غیرالمغضوب علیہم ولاالضالین فقولوا اٰمین فان الملٰئکۃ تقول اٰمین وان الامام یقول اٰمین۔
اور فتح الباری جلد دوم مطبوعہ بیروت صفحہ ۲۱۹ میں یوں منقول ہیں :
اذقال الامام ولاالضالین فقولو اٰمین فان الملٰئکۃ تقول اٰمین و ان الامام یقول اٰمین ۔ الحدیث۔ نذیر احمد سعیدی۔
#6217 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
(۳) تراویح بیس رکعت سنت مؤکدہ ہیں سنت مؤکدہ کا ترك بد ہے۔ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
علیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین عضوا علیھا بالنواجذ ۔
تم پر میری اور میرے خلفاء راشدین کی سنت لازم ہے اسے اپنی داڑھوں کے ساتھ مضبوطی سے تھام لو : (ت)
دوسری حدیث میں ہے :
انہ سیحدث بعدی اشیاء وان من احبھا الی لما احدث عمر ۔ واﷲ تعالی اعلم ۔
میرے بعد بہت سی اشیاء ایجاد ہوں گی ان میں سے مجھے وہ سب سے زیادہ پسند ہیں جو عمر ایجاد کریں گے۔ (ت)
(۴) ایك رکعت وتر خواہ نفل باطل محض ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا آخری فعل تین رکعت وتر ہے :
وانما یؤخذ بالاخر فہو الاخر من فعل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
آپ کے آخری عمر کے اعمال پر عمل کیا جاتا ہے اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا آخری عمل یہی ہے (ت)
اتنا یاد رہے کہ یہاں ان مسائل میں مخالفت کرنے والے غیر مقلدین وہابیہ ہیں جن پر بوجوہ کثیرہ ان کے ضالہ کے سبب کفر لازم جس کی قدرے تفصیل ہمارے رسالہ الکوکبۃ الشھابیۃ میں ہے وہ کہ مسلمان ہی نہیں اٹھیں ایسے فروعی مسائل اسلامی میں نیا دخل دینے کا کیا حق ان سے تو اصول پر گرفت کی جائے گی کہ مقتدی فاتحہ پڑھے نہ پڑھے آمین جہر سے کہے یا آہستہ تراویح آٹھ رکعت ہوں یا بیس وتر ایك ہو یا تین یہ تو سب اس پر موقوف ہیں کہ نماز بھی صحیح ہو جس کا اسلا م صحیح نہیں اس کی نمازکیسے صحیح ہو سکتی ہے وہ ان مسائل میں اس طرف عمل کرے تو اس کی نماز باطل اس طرف عمل کرے تو باطل پھر لایعنی فضول زق زق سے کیا فائدہ ! اور مسلمان کو ہوشیار رہنا چا ہئے کہ نہ ان سے ملناجائز نہ ان کی بات سننی جائز نہ اس کے پاس بیٹھنا جائز ۔ اﷲ عزوجل فرماتا ہے :
حوالہ / References سنن ابی داؤد باب فی لزوم السنۃ مطبوعہ آفتاب پریس لاہور ۲ / ۲۷۹
کنزالعمال فی سنن الاقوال والافعال ، فضائل فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی ، مکتبہ التراث الاسلامی مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۲ / ۵۸۷
نوٹ : حدیث کے الفاظ کنزالعمال میں یوں منقول ہیں :
ان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم قال سیحدث بعدی اشیاء فاحبھا الی ان تلزمو اما احدث عمر رضی اﷲ عنہ۔ نذیر احمد سعیدی
#6218 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
و اما ینسینك الشیطن فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظلمین(۶۸)
اور جب کہیں تجھے شیطان بھلا دے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس مت بیٹھ۔ (ت)
نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ایاکم و ایاھم لا یضلو نکم ولا یفتنونکم ۔
تم ان سے سخت بچو کہ نہ وہ تمھیں گمراہ کریں نہ ہی فتنہ میں ڈالیں ۔
مسئلہ نمبر ۴۱۸ : از نرسنگڈھ سنٹرل انڈیا براہ سیہور مراسلہ میرزامحمد بیگ عرف میاں محمد صاحب وکیل ۸ شعبان ۱۳۳۷ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم حامدا ومصلیا و مسلما۔ ہدیہ تسلیم بالوف التعظیم قبول ہو!
مزاج عالی! الحمد ﷲ علی احسانہ راقم بخیریت دعاگوئے عافیت مزاج سامی نرسنگڈھ میں انگریزی تعلیم کے ملحدانہ اثر کو بڑھتا ہوا دیکھ کر نیاز مند نے اور یہاں کے مسلمانوں نے ایك مدرسہ اسلامی جاری کیا ہے فی الحال بیس روپے۲۰ ماہوار کا ایك مدرس نوکر رکھا ہے جس وقت بہت سے لوگوں کی درخواست آئی تھی میں نے دیوبند کے متعلق درخواست بالکل نامنظور کی ایك صاحب مولوی شفاعت رسول خلف مولوی عنایت رسول جو خود کو جناب کا شاگرد اور مرید کہتے ہیں صرف جناب سے نسبت رکھنے کے سبب یہاں مقرر کئے گئے ہیں مگر حیرت ہے ان کی بعض باتوں پر قرآن شریف بالکل صحیح نہیں پڑھ سکتے اور مجھ سے فرمانے لگے کہ میں نے سنا آپ اشارہ بہ سبابہ التحیات میں نہیں کرتے میں نے کہا ہاں اشارہ نہیں کرتا ہوں فرمانے لگے کہ مولوی احمد رضاخان صاحب مدظلہ العالی تو اشارہ کرتے ہیں میں نے کہا مجھ کو یقین نہیں آسکتا کیونکہ الکوکبۃ الشھابیۃ میں اس کی مفصل بحث بحوالہ کتب امام ربانی موجود ہے چنانچہ جناب والا مجھ کوجب میں ۱۸۹۹ء میں حاضر خدمت ہوا تھا ۲ رسالے عطا فرمائے تھے اور میں نے وہ رسالہ مولوی شفاعت رسول کو دکھایاقاضی ریاض الدین جو مارہرہ شریف کے رہنے والے ہیں کہنے لگے بڑی حیرت کی بات ہے اگر مولوی احمد رضا خان صاحب مدظلہ العالی انگلی سے اشارہ کرتے ہوں چنانچہ جناب والا کی خدمت اقدس میں مکلف ہوں کہ اس باب میں جناب والا کا کیا معمول ہے بواپسی مستفید فرمائیں میں نے اس باب میں مولوی عبدالحی مرحوم کا رسالہ نفع المفتی والمسائل اور دیگر کتب مشکوۃ شریف و ہدایہ سب کو دیکھا ہے لیکن میں تو مقلد ہوں اور جمہور امت کا جس پر اجماع و اتفاق ہے وہی میرا مسئلہ مختار ہے
حوالہ / References القرآن ۶ / ۶۸
صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء الخ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۱۰
#6219 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
جناب والا کے ارشاد سے اور مضبوطی ہوجائے گی اور یہ تعجب جو اجتماع نقیضین کے قبیل سے ہے رفع ہو جائیگا کہ جناب والا کتابوں میں ایسا لکھیں اور عمل اسکے خلاف ہو۔
الجواب :
وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔ اشارہ ضرور سنت ہے۔ محرر مذہب سیدنا امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا :
صنعہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فنصنع کما صنعہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وھوقول ابی حنیفۃ و اصحابنا ۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اشارہ فرمایا تو ہم بھی اشارہ کرتے ہیں جس طرح رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کیا اور یہی مذہب امام اعظم ابو حنیفہ اور ہمارے اصحاب کا ہے۔
امام ملك العلماء نے بدائع اورامام محقق علی الاطلاق نےفتح القدیر اور دیگر ائمہ کبار نے اس کی تحقیق فرمائی۔ فقیر اور فقیر کے آباء و اساتذہ و مشائخ کرام قدست اسرارہم سب اس پر عامل رہے مارہروی صاحب نے زیاہ نہیں توحضرت شاہ ابوالحسن نوری میاں صاحب قدس سرہ کو ضرور دیکھا ہوگا۔ کوکبہ شہابیہ میں مسئلہ اشارہ کی بحث نہیں بلکہ اس بات کی اسمعیل دہلوی نے معاذ اﷲ حضرت شیخ مجدد کو بھی مشرك ٹھہرادیاہے جو وجوہ انھوں نے یہاں لکھے اسماعیل کہتا ہے کہ ان کا قائل مشرك ہے اس کو تناقض سے کیا علاقہ مولوی شفاعت رسول میرے ایك خالص دوست مرحوم و مغفور کے صاحبزادے ہیں ان کو یہاں بیعت بھی ہے میرے مدرسہ میں پڑھا ہے اگر چہ مجھ سے نہ پڑھا نہ میں نے ان کا قرآن مجید سنا ممکن کہ جس طرح آجکل اکثر علماء و حفاظ غلط پڑھتے ہیں ان پر بھی اسی عالمگیر بلا کا اثر ہو وحسبنااﷲ و نعم الوکیل واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۱۹ : از شہر دہلی پہاڑ گنج مسجد غریب شاہ مرسلہ سید محمد عبدالکریم صاحب ۹ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ایك پیش امام صاحب نماز کی حالت میں جب رکوع سے فارغ ہوکر سمع اﷲ لمن حمدہ کو سجدہ کے قریب جاکر ختم کرکے بوصل اﷲ اکبر کہتا ہے اور جگہ جو اماموں کو دیکھا ہے وہ سمع اﷲ لمن حمدہ کو قیام میں ختم کرتے ہیں اور وہاں سے اﷲ اکبر کہتے ہوئے سجدہ کرتے ہیں ۔ اب جو امام مسجد کے قریب سمع اﷲ لمن حمدہ کو ختم کرتا ہے تو مقتدی ربنا لك الحمد کہاں پر کہیں کھڑے رہیں یا امام کے ساتھ سجدے میں جاکر کہیں اگر اسی طرح کریں گے تو ان
حوالہ / References بدائع الصنائع فصل فی سنن الصلٰوۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۱۴
#6220 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
جاہلوں کو عادت پڑجائے گی اور اب سوال یہ ہے کہ نماز میں کوئی نقصان نہیں ہوگا
الجواب :
سنت یہ ہے کہ سمع اﷲ کا سین رکوع سے سر اٹھانے کے ساتھ کہیں اور حمدہ کی “ ہ “ سیدھا ہونے کے ساتھ ختم اسی طرح ہر تکبیر انتقال میں حکم ہے کہ ایك فعل سے دوسرے فعل کو جانے کی ابتداء کے ساتھ اﷲ اکبر کا الف شروع ہو اور ختم کے ساتھ ختم ہو امام مذکور جو اس طرح کرتا ہے دو باتیں خلاف سنت کرتا ہے۔ سمع اﷲ لمن حمدہ کا سجدہ کو جاتے ہوئے ختم کرنا اور سجدہ کو جانے کی تکبیر سجدہ کو جھکنے کی ابتداء سے شروع نہ کرنا ان وجوہ سے نماز دو کراہتو ں سے مکروہ ہوتی ہے اسے سمجھا یا جائے کہ خلاف سنت نہ کر۔ اگر نہ مانے اور اس سے بہتر اما م سنی صحیح العقیدہ صحیح القرأۃ صحیح الطہارۃ مل سکے تو اس کو بدل دیاجائے مقتدی خلاف سنت میں اسکی پیروی نہ کریں بلکہ رکوع سے سر اٹھانے کے ساتھ اللھم ربنا لك الحمد کا الف اور جو صرف ربنا لك الحمد پڑھتا ہو وہ ربنا کی ر شروع کریں اور سیدھے ہوجانے کے ساتھ حمدہ کی دال ختم ہوجائے تو پھر سجدہ کو جانے کے ساتھ اﷲ اکبر کا الف شروع کریں اور ا ﷲ کے لام کو بڑھائیں جب سر رکھنے کے قریب پہنچیں تو اﷲ کی ہ اور عین سر زمین پر پہنچتے وقت اکبر کی رختم کریں ۔ لام کو بڑھانا اس لئے کہ یہ راستہ طے کرنے میں اگر لام کو نہ بڑھایا تو اکبر سجدے میں پہنچنے سے ختم ہوجائے گا اور یہ خلاف سنت ہے یا راستہ پورا کرنے کو اکبرکا ا لف یا ب بڑھائیں گے اور اس سے نماز فاسد ہوتی ہے۔ یا ربڑھائیں گے اور یہ غلط و خلاف سنت واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۲۰ : از موضع میمونڈی بزرگ مسئولہ سید امیر عالم حسن صاحب ۲۶ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے کہ نماز فریضہ بجماعت جو شخص ادا کرلے تو اس پر لازم ہے کہ جب تك امام بعد سلام دعا نہ مانگے تب تك مقتدی بھی دعا نہ مانگے اگر چہ کیسا ہی ضروری کام خواہ نماز فجر ہو یا ظہر ہو یا عصر ہو یامغرب یا عشاء اگر امام سے پہلے دعا مانگ کر مقتدی اٹھ جائے گا تو وہ گناہگار ہوجائے گا اور امام کی اطاعت سے نکل جائیگا ۔ عمرو کہتا ہے کہ اگر امام نے سلام پھیر دیا تو مقتدی امام کی اطاعت سے نکل گیا اب مقتدی کو اختیار ہے کہ انتظار دعائے امام کرے یا نہ کرے اگر انتظار کیا تو فبہا ورنہ چلے آنے سے گناہگار نہ ہوگا اور نہ اطاعت امام سے دور ۔ اب علمائے دین کی خدمت میں عرض ہے کہ اسکا پورا پورا ثبوت کیوں نہ دیا جائے کہ زید کا قول ثابت ہے یا عمرو کا اور اس کا بھی ثبوت دیا جائے کہ کھانے پرفاتحہ پڑھنا درست ہے یا نہیں اور غیر مقلد ووہابڑا و تعلیم یافتہ مدرسہ دیوبند کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں بینواتؤجروا۔
#6221 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
الجواب :
عمرو کا قول صحیح ہے ہاں جماعت کے ساتھ دعا میں برکت ہے اس کیلئے انتظار بہتر ہے اور اگر کوئی ضرورت جلدی کی ہو تو جاسکتا ہے کوئی حرج نہیں ورنہ مسلمانوں کی جماعت کے خلاف بات پسندیدہ نہیں کھانے پر فاتحہ پڑھنا درست ہے اس میں کتابیں تصنیف ہوچکی ہیں جو نادرست کہے وہ بتائے کہ اﷲ ورسول نے اسے منع فرمایا یا تم منع کرتے ہو اگر اﷲ ورسول نے منع فرمایا تو بتاؤ اور اگر تم منع کرتے ہو تو تم شارع نہیں اپنا سر کھاؤ۔ غیر مقلد وہابی دیوبندی سب اسلام سے خارج ہیں اور ان کے پیچھے نماز باطل محض والتفصیل فی حسام الحرمین والنھی الاکید وغیرھما(اور اس مسئلہ کی تفصیل حسام الحرمین اور النہی الاکید وغیرہ میں ہے۔ ت) واﷲ سبحنہ و تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۲۱ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے کہ عورتوں کو نیت نماز میں ہاتھ سینہ پر باندھنا چاہئے اور بوقت قعدہ التحیات میں دونوں پاؤں بچھا کر بیٹھنا چاہئے اور پاؤں کی گرہ بھی ڈھکی رکھنا چاہئے اوربعض کہتے ہیں کہ گرہ نہ ڈھکی جائے ۔ اب علماء دین فرمائیں کہ عورتوں کو نیت نماز میں سینہ پر ہاتھ باندھنا اور قعدہ التحیات میں پاؤں بچھا کر بیٹھنا جائز ہے یا نہیں بعض کہتے ہیں کہ مردوں کی طرح عورتوں کو بھی نماز پڑھنا چاہئے جس طرح مرد ایك پاؤں بچھا کر قعدہ میں بیٹھتے ہیں اور زیر ناف ہاتھ باندھتے ہیں اور پاؤں کی گرہیں کھلی رکھتے ہیں اسی طرح عورتوں کو بھی چاہئے یعنی جو قاعدہ مردوں کی نماز کا ہے وہی عورتوں کا ہے۔ اب حضور سے امید وار ہیں کہ اس کا پورا پورا ثبوت حوالہ کتب وآیت و حدیث کے کیوں نہ دیا جائے کہ عورتوں کو کس طرح اور کس قاعدے سے نماز پڑھنا چاہئے۔
الجواب :
زید کا قول صحیح ہے سب کتابوں میں اس طرح ہے ان بعض کا قول محض باطل ہے اور عورت کے گٹے ستر عورت ہیں ان کا کھلنا جائز نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر۴۲۲ : از گولڑہ ضلع راولپنڈی مکان حضرت پیر صاحب مرسلہ حمیداﷲ صاحب پیر المعروف بہ نعمان ملا ۱۲صفر ۱۳۳۸ھ
رفع سبابہ کے بارے میں جناب کا کیا عمل ہے
الجواب :
فقیر اور فقیر کے آبائے کرام و مشائخ عظام و اساتذہ اعلام قدست اسرارہم کا ہمیشہ معمول باتباع احادیث متواترہ و ارشادات کتب متکاثرہ رفع سبابہ رہا اور اسے سنت جانتا ہے تفصیل کلام بدائع امام ملك العلماء وفتح القدیر امام محقق علی الاطلاق وغیرہما کلمات شراح محققین وفتاوی فقیر میں ہے واﷲ
#6222 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۴۲۳ : ازبریلی مدرسہ منظرالاسلام مسئولہ مولوی عبداﷲ صاحب بنگالی ۱۴صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز کے بعد چاروں جہات میں کسی ایك جہت کو متوجہ ہو کر دعا کرنا درست ہے یا نہیں اورہندوستان کے لئے ان چار جہتوں میں سے کوئی جہت مخصوص ہے یا نہیں
الجواب :
جہت قبلہ ہر جگہ افضل ہے مگر امام کے لئے کہ بعد سلام اسے قبلہ رو رہنا مکروہ ہے دہنے یا بائیں پھر جائے یا مقتدیوں کی طرف
منہ کرلے اگر سامنے کوئی نماز نہ پڑھتا ہو۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۲۴ : از قلعہ لنڈی کوتل ڈاکخانہ خاص ضلع پشاور بمعرفت شیرجان صوبیدار میجر خیبر رائفل مرسلہ ادخان شنواری ۲۴صفر ۱۳۳۸ھ
بخدمت جناب مولوی صاحب دام اقبالہ اسلام علیکم و رحمۃ اﷲ التحیات میں انگلی کا اشارہ کرنا منع ہے یا جائز آپ مہربانی فرما کر بندے کو تحریر کریں کہ نماز میں انگلی کا اشارہ کرناجائز ہے یا نہیں اور کس کس طریقہ پر جائز ہے
الجواب :
التحیات میں انگلی کا اشارہ سنت ہے جب اشھد پرپہنچے چھنگلیا اور اس کے برابر کی انگلی کی گرہ باندھے اور انگوٹھے اور بیچ کی انگلی کا حلقہ بنائے اور “ لا “ پر کلمے کی انگلی اٹھائے اور “ الا “ پر گرا کر ہاتھ کھول دے محرر مذہب سیدنا امام محمد رضی اللہ تعالی عنہ
فرماتے ہیں :
صنعہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فنصنع کما صنع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وھوقول ابی حنیفۃ واصحابنا ۔
یہ اشارہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کیا تو ہم کریں گے جس طرح رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کیا اور یہی مذہب امام ابو حنیفہ اور ہمارے اصحاب کا ہے رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۲۵ ۴۲۶ : مرسلہ سید احمد حسین صاحب ازمقام سید پور ڈاکخانہ وزیر گنج بدایوں بتاریخ ۹ جمادی الاخری ۱۳۳۸ھ
آپ ان مسئلوں میں کیا فرماتے ہیں :
حوالہ / References بدائع الصنائع فصل فی سنن الصلٰوۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۱
#6223 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
(۱) جمعہ کے فرض کی نیت کس طرح کرنا چاہئے اور بعد نماز جمعہ دو۲ رکعت کے کیا کیا پڑھنا چاہئے کل مفصل نماز لکھنا۔
(۲) اور درمیان نماز میں ہر الحمد شریف سے پہلے اور قل ھواﷲ شریف سے پہلے بسم اﷲ شریف پڑھنا چاہئے الحمد شریف سے پہلے بسم اﷲ کافی ہوگی یا قل ھواﷲ سے پہلے بھی پڑھنا چاہئے
الجواب :
اتنی نیت کافی ہے کہ آج کے فرض جمعہ اور چاہے دو۲رکعت بھی کہے اوربعضے یہ بھی بڑھاتے ہیں کہ واسطے ساقط کرنے ظہر کے اس میں بھی کوئی حرج نہ حاجت فرض جمعہ کے بعد چھ۶ رکعت نماز سنت پڑھیں چا۴ پھر دو۲ اور ان میں سنت بعد جمعہ کی نیت کریں اور پہلی چار میں قبل جمعہ کی ۔ بعد کی
سنتیں پڑھ کر ۲ یا جتنے چاہیں نفل پڑھیں ان سے زائد عام لوگوں کی حاجت نہیں ۔
(۲) سورہ فاتحہ کی ابتداء میں تو تسمیہ پڑھنا سنت ہے اور بعد کو اگر سورت یا شروع سورت کی آیتیں ملائے تو ان سے پہلے تسمیہ پڑھنا مستحب ہے پڑھے تو اچھا نہ پڑھے تو حرج نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر۴۲۷ : از شہرگلی ملاناں محلہ ذخیرہ مسئولہ سید مشتاق علی صاحب ۱۵ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہم جملہ اہل اسلام محلہ ذخیرہ ساکنان بریلی گلی ملاناں نے تارکان صلاۃ کی تہدید و تاکید کے لئے اصحاب ذیل کو منتخب کیا اور ممبر بنایا ہے اس حضرات کو تارکان صلاۃ کے ساتھ ان کے عذرات تو پورا کرنے کے بعد کسی قسم کی کارروائی ازروئے شرع مطہر عمل میں لانا چاہئے۔ اسمائے گرامی ممبران ہادی حسین شیخ مختار احمد قرب محمد محبوب حسن مشتاق علی سید حسین عنایت حسین سید اظہر علی ہر شخص کے نام کے نیچے انگوٹھے کا نشان ہے۔
الجواب :
بہ نرمی سمجھائیں ترك نماز وترك جماعت و ترك مسجد پر قرآن عظیم و احادیث میں جو سخت وعیدیں ہیں باربار سنائیں جن کے دلوں میں ایمان ہے انھیں ضرور نفع پہنچے گا اﷲ عزوجل فرماتا ہے۔
و ذكر فان الذكرى تنفع المؤمنین(۵۵) ۔
اور سمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے (ت)
اﷲ کے کلام و احکام یاد دلاؤ کہ بیشك ان کا یاد دلانا ایمان والوں کو نفع دے گا۔ اور جو کسی طرح نہ مانیں اس پر اگر کسی کا دباؤ ہے اس کے ذریعے سے دباؤ ڈالیں اور یوں بھی باز نہ آئے تو ا سے سلام وکلام میل جول یك لخت ترك کر دیں ۔
حوالہ / References القرآن ۵۱ / ۵۵
#6224 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
و اما ینسینك الشیطن فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظلمین(۶۸)
اور جب کبھی تجھے شیطان بھلا دے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔ (ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۴۲۸ : از فیض آباد محلہ کوکی علی بیگ مسئولہ سید عبداﷲ صاحب سب انسپکٹر ۱۳ محرم ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید اپنی پنج وقتی نماز و دیگر نوافل مثل تہجد وغیرہ میں زبان سے قرأت نہیں کرتا بلکہ اپنی کل نمازوں میں زبان تالو سے لگا کر دلی خیال کے ساتھ ادا کرتا ہے۔ قرآن شریف و کتاب ودرود شریف وغیرہ سب دھیان سے ادا کرتا ہے کہتا ہے کہ قرآن شریف حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے قلب پر القا ہوا تھا بایں وجہ بمقابلہ زبانی پڑھنے کے دل میں خیال کرنا زیادہ افضل و موجب مزید ثواب ہے زید اپنی زبان کو تالو سے لگا کر بالکل معطل اور بیکار کردیتا ہے زید کہتا ہے کہ یہ مسائل اہل ذوق اور اصفیاء کرام کے ہیں ۔ ظاہرین ان مسائل کو نہیں سمجھ سکتے ۔ اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ اس طریقہ مذکورہ بالا پرزید کی نماز صحیح اور اعلی درجے کی ہوئی یا نہیں اگر اعلی درجے کی ہوئی ہے تو ہم لوگ بھی اسی طریقہ سے کیوں نہ پڑھیں کہ مستحق ثواب عظیم کے ہوں ۔ اور اگر زید کی نماز اس طریقہ مذکورہ پر صحیح نہیں ہوئی ہے تو زید کو اپنی ان نمازوں کی بابت جن کو وہ ادا کرچکا ہے کیا کرنا چاہئے زید اگر امامت بھی کرتا ہے بس ایسی حالت میں زید کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں اور آئندہ زید کے پیچھے نماز پڑھنا چاہئے یا نہیں اور جو مقتدی زید کے پیچھے نماز پڑھ چکے ہیں ان کو اپنی نمازوں کی بابت کیا کرنا چاہئے کیا لوٹانا واجب ہے
الجواب :
زید نے شریعت پر افترا کیا صوفیہ کرا م پرافترا کیا اپنی نمازیں سب برباد کیں اس کی ایك نماز بھی نہیں ہوئی نہ اسکے پیچھے دوسروں کی ہوئی اس پر فرض ہے کہ جتنی نمازیں ایسی پڑھی ہوں سب کی قضا کرے اور جتنی نمازیں اور وں نے اس کے پیچھے پڑھی ہیں ان پر بھی فرض ہے کہ ان کی قضا کریں ۔ قرآن عظیم حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ضرور قلب مبارك پر نازل ہوا مگر پڑھنے کیلئے ۔ قال اﷲ تعالی
و قرانا فرقنه لتقراه على الناس على مكث ۔
اس قرآن کو تھوڑا تھوڑا کرکے اتارا کہ تم لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔
حوالہ / References القرآن ۶ / ۶۸
القرآن ۱۷ / ۱۰۶
#6225 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
نماز میں قرآن کا پڑھنا فرض ہے قال اﷲ تعالی :
فاقرءوا ما تیسر من القران- ۔
نماز میں قرآن پڑھو جتنا آسان ہو۔
اس کا نام پاك ہی قرآن ہے قرآن قرأت سے اور قرأت پڑھنا اور پڑھنا نہ ہوگا مگر زبان سے دل میں تصور کرنے کو پڑھنا نہیں کہتے حالت جنابت میں قرآن پڑھنا حرام ہے اور تصور منع نہیں ۔ نماز میں قرأت کلام مجید پر اجماع مسلمین کا خلاف جہنم کا خیال ہے۔ قال اﷲ تعالی :
و من یشاقق الرسول من بعد ما تبین له الهدى و یتبـع غیر سبیل المؤمنین نوله ما تولى و نصله جهنم-و سآءت مصیرا(۱۱۵) ۔
جو شخص ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی مخالفت کرتا ہے اور مومنین کی راہ کے علاوہ راہ پر چلتا ہے ہم پھیر دیں گے اسے اس راہ پر جس پر وہ چلا اور اسے جہنم میں ڈال دیں گے اور وہ بہت بری جگہ ہے۔ (ت)
مسئلہ نمبر ۴۲۹ : از شہر محلہ ملو کپور مسئولہ شفیق احمد خان صاحب ۲۶ محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مقتدی کو آخری رکعت کے قعدہ میں کیا پڑھنا چاہیے۔
الجواب :
التحیات درود دعا اگر اسے اول سے نماز ملی ہو اور اگر کسی رکعت کے پڑھنے کے بعد شامل ہوا تو امام کے ساتھ قعدہ اخیرہ میں التحیات ٹھہر ٹھہر کر اس قدر ترتیل کے ساتھ پڑھے کہ اس کی التحیات امام کے سلام وقت ختم ہو اور اگر یہ التحیات پڑھ چکا اور امام نے ابھی سلام نہ پھیرا تو پچھلے دونوں کلمہ شھات بار بار پڑھتا رہے یہاں تك کہ امام سلام پھیر ے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر۴۳۰ : ازدھو راجی کاٹھیا واڑ مدرسہ سرمایہ فخر عالم مرسلہ مولینا مولوی غلام گیلانی صاحب ۷ صفر ۱۳۳۹ھ
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الاستفتاء
کیا فرماتے ہیں علما ئے دین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے کہ اگر نماز فرض یا نفل بیٹھ کر پڑھے جائیں تو سجدے میں پاؤں سے سرین کو نہ اٹھائے ورنہ نماز ٹوٹ جائے گی چنانچہ طحاوی و عینی و ہدایہ وجواہرنفیسہ و کنز العباد و عنایہ و کفایہ نے اس کو ذکر کیا ہے بینوا تو جروا۔
حوالہ / References القرآن ۳ ۷ / ۲۰
القرآن ۴ / ۱۱۵
#6226 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
الجواب : وھوالموفق للصدق والصواب والیہ المرجع والماب
طحاوی و عینی ہدایہ وکفایہ وعنایہ میں تو یہ مسئلہ بالکل نہیں غلط مشہور ہے ناقل پر تصحیح نقل ضروری ہے۔ جواہر نفیسہ وکنزالعباد دونوں ضعیف کتابیں ہیں اوراول غیر مشہور بھی ہے اور اس کا مصنف بہت ہی کم علم ہوا ہے چنانچہ اس کے دیکھنے سے پوراحال اس کا معلوم ہوتاہے اس میں بڑے ضعیف و خلاف تحقیق و غلط مسائل ہیں ایك ہی جگہ میں بلا وجہ ترجیح “ یجوز “ و “ لایجوز “ کو جمع کیا ہوا ہے یہ چھوٹا سا رسالہ ہے عربی زبان میں جنازہ کے غسل و کفن دفن قبر وغیرہ کے متعلق مسائل بیان کئے ہیں اور دوسری کا مصنف علی بن لقمہ غوری ہے اس کو ضعیف کہا ہے۔ علامہ ملا علی قاری نے وجمال الدین مرشدی نے مفید المفتی صفحہ ۱۹۴ اور علامہ شامی نے بھی اس کو ضعیف کہا ہے۔ بعض کتابوں کے بیاض یا وقایہ پر یہ عبارت اس طور پر ہے :
من صلی قاعد افسجد لایرفع الیتیہ وان رفع الیتیہ فسدت صلاتہ فکذارجلیہ کذافی المحیط الچلپی والاصل ان المریض او غیرہ اذاصلی قاعد ا لا یرفع الیتیہ کما لا یرفع رجلیہ فی السجود واذارفع رجلہ واحداوالیتیہ واحدۃ لاتفسد کذافی چلپی ابن الملك والمختار ان یقعد کما یقعد فی حالۃ التشھد وھوالذی اختارہ فقیہ ابواللیث و شمس الائمۃ السرخسی وقال ابو یوسف رحمہ اﷲ اذاحان وقت الرکوع والسجود ویقعد کما یقعد فی التشھدکذا فی العینی شرح الھدایۃ ص ۱۶ اھ
جو شخص بیٹھ کر نماز ادا کر ے وہ سجدہ کے وقت سرین نہ اٹھائے اگر اس نے سرین کو اٹھایا تو اس کی نماز فاسد ہوجائیگی اسی طرح دونوں پاؤں کا حکم ہے محیط چلپی میں اسی طرح ہے اصل یہ ہے کہ مریض وغیرہ جب بیٹھ کر نماز پڑھے تو وہ سرین نہ اٹھائے جیسا کہ سجدہ میں پاؤں نہیں اٹھاتا اور جب کسی نے ایك پاؤں اور ایك سرین اٹھایا تو نماز فاسد نہ ہوگی چلپی ابن املك میں اسی طرح ہے اور مختاریہ ہے کہ اسی طرح بیٹھ جائے جس طرح تشہد میں بیٹھتا ہے۔ اسے فقیہ ابوللیث وشمس الائمہ سرخسی نے اختیار کیا ہے امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا جب رکوع و سجود کے وقت جھکے تو اس طرح بیٹھے جس طرح تشہد میں بیٹھا جاتا ہے۔ عینی شرح ہدایہ صفحہ ۱۶ میں اسی طرح ہے اھ۔ (ت)
حالانکہ عینی وچلپی میں اس عبارت کا پتا بھی نہیں اور محیط متعدد ہیں معلوم نہیں کون سی محیط ہے وہ خود موجود نہیں جو دیکھی جائے۔ معلوم ہوا کہ یہ
عبارتیں مصنوعی ہیں جن کتابوں کا ذکر کرتے ہیں ان میں ان کا نشان تك نہیں ۔
ایضایہ عبارت اگر کسی معتبر کتاب میں مل بھی جائے تو اس مطلب سے اس کو مساس بھی نہیں کیونکہ عبارت اولی میں جو دلیل بیان کی ہے لان الیتیہ فی صلوۃ القاعدہ الخ (قاعدکی نماز میں اسکے سرین الخ۔ ت)
#6227 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
وہ دعوی مذکور پر منطبق نہیں ہوتی اگر یہ حالت سجدہ کا بیان ہوتا تو دلیل میں بجائے واذارفع قدمیہ فی صلاۃ القائم(جب قائم نے نماز میں دونوں قدم اٹھا لئے۔ ت)کے رفع قدمیہ فی السجود (دونوں قدم حالت سجدہ میں اٹھالئے۔ ت) ہوتا ورنہ قید فی صلاۃ القائم سے لازم آتا ہے کہ صلاۃ قاعد میں رفع قدمین فی السجود مفسدصلاۃ نہ ہو اور صلاۃ قائم میں ہو حالانکہ اطلاق دلائل مبطل تفاوت ہے اس سے غالب ظن یہ ہوتا ہے کہ اس عبارت میں لفظ فسجد ناقل یا کاتب کی غلطی ہے پس جبکہ اس لفظ کو غلط مانا جائے تو اس عبارت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ حالت قیام حکمی میں رفع الیتین نہ کرے ورنہ وہ ایسا ہوگا جیسے قیام حقیقی میں کوئی شخص رفع قدمین کرے کہ وہ مفسد صلاۃ ہے۔ پس اس تقریر پر یہ عبارت سائل کے مطلب سے ہے اور عبارت ثانیہ میں لا یرفع الیتیہ (سرین کو نہ اٹھائے ۔ ت)کے ساتھ قید فی السجدہ کی بھی مذکور نہیں لہذا اس سے بھی وہی مراد ہوگی کہ لایرفع الیتیہ فی القیام الحکمی(قیام حکمی میں سرین نہ اٹھائے۔ ت) اور آگے جو مشبہ بہ کے ساتھ فی السجدۃ مذکور ہے سو وہ محتمل ہے کہ صرف لا یرفع رجلیہ (پاؤں نہ اٹھائے۔ ت)کے ساتھ متعلق ہوا اور تشبیہ محض فساد میں ہوا اگر یہ احتمال متعین بھی نہ ہوتا ہم مستدل کو مضر ہے لانہ اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال(کیونکہ جب احتمال آگیا تو استدلال باطل ہوگیا۔ ت)
ایضا متون وشروح و فتاوی مشہور متداولہ بین ایدی العلماء میں جو مطلقا سجدہ رجال کی ہیئت لکھی وہ اس کے خلاف ہے اور بقاعدہ رسم المفتی وہ مقدم ہیں ۔ اس قدر کتب کاخالی ہونا اسی پر مشعر ہے کہ یہ مسئلہ عدم الوجود ہے یا غیر معتبرہے۔ شامی جلد اول ص ۱۵۲ میں ہے :
عدم الذکر یشعر باختیار عدمہ ا ھ
عدم ذکر واضح کررہا ہے کہ وہ مختار نہیں اھ(ت)
اسی جلد ص ۱۷ میں ہے :
عدم الذکر کذکرالعدم۔
عدم ذکر ذکرعدم کی مانندہے۔ (ت)
ایضا سلف کاعمل اس پر نہیں پایا گیا لہذا اگر چہ صحیح بھی ہو اس پر عمل نہ ہوگا۔ شامی جلد اول ص ۳۰۸ طبع خورد میں ہے :
ھذا یعلم ولا یعمل علیہ لما فیہ من مخالفۃ السلف۔
یہ معلوم کر لیا جائے اور اس پر عمل نہیں کیا جائے گا کیونکہ اس میں سلف کی مخالفت ہے۔ (ت)
#6228 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
ایضا جواہر نفیسہ اور دوسری بعض کتابوں میں جو یہ مسئلہ بتایا جاتا ہے کتب غیر معتبرہ مجہولہ ہیں اور جو معتبرہ ہیں ان کا حوالہ غلط ہے اور ظاہر ہے کہ علم فقہ کا ایسے غیر مشہور و مجہول حواشی و فتاوی سے نہیں لیا جاتا اسی شامی اسی جلد میں ہے :
الفقہ لاینقل من الھوامش المجھولۃ و ان قال معتمدانہ بخط ثقۃ ۔ اھ
مسائل فقہ حواشی مجہولہ سے نقل نہیں کئے جاتے اگر چہ کوئی معتمدیہ کہے کہ یہ ثقہ کی تحریر ہے۔ اھ (ت)
بر خلاف استصحاب کے وہ نقل کرنا حواشی مجہولہ سے بھی درست ہے
لانہ لتائید ابقاء ماکان علی ماکان فیکفی المدفع وان لم یکف المرفع فان الرفع اسھل من الدفع فافھم وتثبت ولاتھبت۔
کیونکہ یہ کسی شے کو اپنی اصلی حالت پر باقی رکھنے کی تائید کے لئے ہوتا ہے تو دافع کو کفایت کرے گا اگر چہ رافع کو کفایت نہ کرے کیونکہ رفع دفع سے اسہل ہے تو غور کر ثابت قدم رہ اور بزدل نہ بن۔ (ت)
ایضا یہ قول مخصص کا ہے اور یہ معتبر نہیں شامی جلد اول ص ۵۱۵ میں ہے۔ تخصیص القول یفید انہ خلاف المعتمد اھ (تخصیص قول مفید ہے اس بات کے کہ یہ معتمد کے خلاف ہے اھ ۔ ت)
ایضا اس طرح سجدہ کرنے سے متعدد سنتوں کا ترك لازم ہوتا ہے پس من حیث الدلیل بھی ضعیف ہے اگر چہ اس پر عمل و فتوی بھی ہو نہ ایك فقیہ و امام بلکہ بہت اماموں کا اسی شامی جلد اول ص ۱۱۴ میں المرجح بقوۃ الدلیل ھوالارجح وان صرح بان الفتوی علی غیرہ اھ (جو قول قوت دلیل کی بنا پر ترجیح پائے وہ ہی ارجح ہوتاہے اگر چہ اس بات پر تصریح ہو کہ فتوی اس کے غیر پر ہے اھ ۔ ت)ص ۸۱۶ میں ہے :
لیس للمفتی الافتاء بالضعیف ولاینتفی الضعف بافتاء کثیرمن ائمۃ خوارزم ۔
مفتی کے لئے ضعیف پر فتوی جاری کرنا درست نہیں اور اکثر ائمہ خوارزم کے افتاء سے ضعف ختم نہیں ہو سکتا۔ (ت)
ایضا اس میں احتمال ہے کہ یہ امر بدعت ہو اذا ترددالحکم بین سنۃ وبدعۃ
حوالہ / References ردالمحتار باب العیدین مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۱۴
ردالمحتار باب العیدین مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۱۴
ردالمحتار باب العیدین مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۱۴
#6229 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
کان ترکہ اولی ۔
(جب کسی حکم کے سنت اور بدعت ہونے میں تردد ہو تو اس کا ترك اولی ہوتا ہے ۔ ت)
شامی جلداول ص۳۷۰ بحرالرائق جلد دوم ص ۱۷۸ میں ہے :
ماتردد بین بدعۃ وواجب یؤتی بہ اوبین سنۃ و بدعۃ فلایؤتی بہ ۔
جب کسی چیز کے بدعت اور واجب ہونے میں تردد ہو تو اس چیز پر عمل کیاجائے گا اور جب سنت یا جس چیز کے سنت و واجب ہونے میں تردد ہو تو پھر عمل نہیں کیا جائے گا اھ(ت)
اور ظاہر کہ اس طور پر سجدہ کرنا غیر معتبر ہے پس اگر یہ مسئلہ درست ہونے کی تقدیر پر جبکہ لوگوں سے نہ ہوسکے گا لوگ گناہگار ہوں گے اور اس میں حرج عظیم ہے۔ شامی جلد ثالث ص ۲۳۹میں ہے :
فیہ حرج عظیم لانہ یلزم منہ تاثیم الامۃ اھ۔
اس میں حرج عظیم ہے کیونکہ اس سے امت کا گناہگار ہونا لازم آتا ہے اھ (ت)
لوگوں کے ساتھ یہی ارفق واوفق ہے کہ سجدہ میں سرین کو بلند کریں تاکہ سجدہ آسانی سے ادا ہوجائے۔ شامی جلدپنجم ص ۳۴۶ میں ہے :
وھو ارفق باھل ھذا الزمان لئلایقع فی الفسق والعصیان اھ
یہی اہل زمانہ کے لئے آسان ہے تاکہ وہ فسق اور عصیان (نافرمانی) میں واقع نہ ہوں اھ (ت)
اسی جگہ میں ہے :
لکن اطلاق المتون موافق لاطلاق الادلۃ ولکونہ ارفق باھل ھذاالزمان اھ۔
متون کے اطلاق کو دلائل کے اطلاق کے ساتھ موافقت کی وجہ سے تقدیم حاصل ہوگی اور اس لئے بھی لوگوں کے لئے یہ نہایت ہی آسان ہے اھ(ت)
فقہ کی معتبر کتابوں میں یہ مسئلہ باکل نہیں ہے اورتصوف واوراد کی کتابوں میں سے ناقل نے نقل کیاہے کیونکہ کنزالعباد اورادو وظائف کی کتاب ہے اور تکلیفیہ کا محل و باب کتب فقہ ہیں اور یہ قاعدہ فقیہہ ہے۔
حوالہ / References ردالمحتار مطلب اذتردوالحکم بین سنۃ وبدعۃ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۷۵
بحرالرائق آخر باب العیدین مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۱۶۵
ردالمحتار کتاب الحدود مطلب فیمن وطئی من زفت الیہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۳ / ۱۷۰
ردالمحتار کتاب الخظر والاباحۃ فصل فی اللبس مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵ / ۲۴۹
ردالمحتار کتاب الخظر والاباحۃ فصل فی اللبس مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵ / ۲۴۹
#6230 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
کہ جو مسئلہ مذکور ہو فی بابہ و ہ اولی بالعمل ہوتا ہے اس سے جو کہ مذکور فی غیربابہ ہو۔
شامی جلد ثالث میں ہے :
المسئلہ المذکورۃفی بابہ اولی من المذکورۃ فی غیر بابہ اھ۔
اپنے باب و فصل میں مذکورہ مسئلہ اس سے اولی بالعمل ہوتا ہے جو متعلقہ باب کے غیر میں مذکور ہوا اھ(ت)
مسائل فقہ کے لئے کنزالعباد کی تین کتابیں غیر مظنہ ہیں :
قال الحموی ما فی غیر المظنہ والکتب الغریبۃ یتوھم ان یکون ضعیفا ص۳۱
امام حموی کہتے ہیں جو غیر مظنہ اورکتب غریبہ میں ہو اس کے متعلق وہم ہوتا ہے کہ وہ ضعیف ہو اھ (ت)
کلام ائمہ بھی اسی کا مقتضی ہے کہ سجدہ میں رفع الیتین نہ کیا جائے ابو السعود حاشیہ ملا مسکین علی الکنز میں ہے :
مایقضیہ کلام الائمۃ یوخذبلا توقف اھ ص ۳۲۴
کلام ائمہ جس کا تقاضا کرے اس پر بلا توقف عمل کیا جائے گا اھ(ت)
یہ مسئلہ فقیہ کا قول نہیں اگر ہو بھی تو بمقتضائے کلام ائمہ متروك ہو جائے گا۔ المسلك المتقسط میں ہے :
مقتضی کلام ائمۃ المذھب اولی بالاعتبار من کلام نعض المشائخ ۔
ائمہ مذہب کے کلام کا مقتضی باعتبار بعض مشائخ کے کلام سے اولی ہوتا ہے(ت)
یہ مسئلہ کسی صورت سے ثابت نہیں ہوتا اور جب تك ثابت نہ ہوسکے عمل اصل ہی پر ہوگا اور وہ نفی ہے یعنی نفی عمل اسی مسلك المتقسط میں ہے :
الاصل ھوالنفی حتی یتحقق الثبوت اھ۔
جو چیز ثابت نہ ہو اس کی اصل نفی ہے۔ اھ (ت)
غرض یہ مسئلہ غلط ہے آداب نماز سے بھی نہیں ہوسکتا ہے اور ذکر بھی نہیں ہو سکتا ہے اس کا ایك آدھ رسالہ بے سروپا میں ہے اگر تسلیم بھی کیا جائے کہ بہت سی جگہوں میں مذکور ہے تو بھی کثرت نقول مستلزم صحت کو نہیں پہلے ایک
حوالہ / References ردالمحتار باب الوطء الذی یوجب الحدوالذی یوجبہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۱۵۲
حاشیہ حموی مع الاشباہ والنظائر مقدمۃ الکتاب مطبوعہ ادارۃ القرآن الخ کراچی ۱ / ۱۶
فتح المعین باب الصلٰوۃ العیدین مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کرای ۱ / ۳۲۴
المسلک المتقسط مع ارشاد الساری فصل فی تمتع المکی مطبوعہ دارالکتاب العربیۃبیروت ص۱۹۰
المسلک المتقسط مع ارشاد الساری فصل فی رکعتی الطواف مطبوعہ دارالکتاب العربیۃبیروت ص۱۱۰
#6231 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
شخص کو غلطی ہوجاتی ہے اور بعد کے لوگ اس کی غلطی بظن صحت نقل کرتے چلے جاتے ہیں ۔ شامی جلد ۴ ص ۳۵۱ میں ہے :
قد یقع کثیراان مؤلفایذکر شیئاخطا فینقلونہ بلا تنبیہ فلیکثرالناقلون واصلہ لواحدمخطئ ۔
اکثر ایسا واقع ہوا ہے کہ مؤلف سے کوئی غلطی ہوگئی تو لوگ اسے بلا تنبیہ نقل کرتے رہتے ہیں حتی کہ اس کے ناقلین کثیر ہوجاتے ہیں حالانکہ اصل کے اعتبار سے ایك مخطی ہوتا ہے۔ (ت)
اور اگر مدعی اس امر کا بعد عرق ریزی کے ثابت بھی کردے کہ یہ ہی مطلب ہے اور فلاں فلاں کتاب میں اس کو لکھا ہے تو بنا برتسلیم یہ جواب ہے کہ یہ قول مخطی کا ہے جبکہ شرح وقایہ کے متفرق الحواشی میں ہے :
قال الشیخ الامام الفاضل المحقق ابو عبیداﷲ فی صلاۃ النافلۃ قاعدا ثلثۃ اقوال قول الروافض وقول اھل السنۃ والجماعۃ وقول المخطی اما قول الروافض فھم یقولون ان المصلی اذاصلی النافلۃ قاعدا فصلاتہ کصلاۃ القائم الا اذا رکع وسجد یرفع الالیتین فی الرکوع والسجود ولانھم قالواصلاتہ علی صلاۃ القائم واما قول المخطی فھو یقول لا یرفع الالیتین لا فی الرکوع ولافی السجود لان نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فعل کذلك واماقول اھل السنۃ والجماعۃ فھو یقولون بعدم الرفع فی حال الرکوع و بالرفع فی حال السجود والمخطی رأی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من بعید ولم یقف بحالہ علیہ الصلوۃ والسلام او لعلہ صلی فی حالۃ المرض بالایماء کما ھوشان الرکوع والسجود للمومی فی الصلاۃ وسجد
شیخ فاضل محقق ابو عبیداﷲ نے کہا کہ بیٹھ کر نوافل اداکرنے کے بارے میں تین اقوال ہیں روافض کا قول اہلسنت وجماعت کا قول اور خطا کرنے والے کا قول ۔ (تفصیل) روافض کا قول یہ ہے وہ کہتے ہیں نمازی جب نوافل بیٹھ کر ادا کرے تو اس کی نماز قائم کی طرح ہی ہے البتہ وہ رکوع و سجدہ کے وقت سرین بلند کرے ۔ اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کی نماز (کا درجہ) قائم کی نماز کی طرح ہے۔ خطا کرنے والے کا قول یہ ہے کہ وہ کہتا ہے رکوع اور سجود دونوں وقت سرین نہ اٹھائے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ایسا ہی کیا ہے۔ اہلسنت وجماعت کہتے ہیں حالت رکوع میں سرین نہ اٹھائے لیکن حالت سجود میں اٹھائے اور خطا کرنے والے نے حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو دور سے دیکھا لہذا وہ کامل طور پر آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے حال سے آگاہ نہ ہوسکا یا یہ بھی امکان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے
حوالہ / References ردالمحتار باب المتفرقات مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۴ / ۲۵۲
#6232 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
اخفض قریبا من الرکوع قریبامن الارض ولم یرفع الیتیہ لان فی ھذہ الصلاۃ لا یحتاج المصلی الی رفعھما فظن الرائی انہ علیہ الصلاۃ والسلام صلی فی حالۃ الصحۃ قاعدا وسجد بوضع الجبھۃ علی الارض ولم یرفع الیتیہ فحکم علی الاطلاق کما فی مسح العمامۃ اخطأ الرائی حیث مسح النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی رأسہ ثم وضع العمامۃ علی الرأس وظن ان مسح العمامۃ تجوز بدلا عن مسح الراس والحال انہ علیہ الصلاۃ والسلام لم یمسح علی العمامۃ ھذا کتبہ العبد المذنب الجانی القاضی غلام گیلانی السنی الحنفی النقشبندی الرضوی کان اﷲ لہ ولمشائخہ امین بحرمۃ النبی الامن الامین۔
حالت مرض میں اس طرح اشارہ کے ساتھ نماز ادا فرمائی ہو جس طرح اشارہ سے نماز ادا کرنے والا نمازی رکوع وسجود ادا کرتا ہے آپ نے سجدہ زمین کے قریب رکوع سے زیادہ جھك کر کیا ہواور پچھلے حصے کو نہ اٹھایا ہو کیونکہ اس حالت میں نمازی سرینوں کو اٹھانے کا محتاج ہی نہیں ہوتا تو دیکھنے والے نے گمان کرلیا کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے حالت صحت میں بیٹھ کر نماز ادا فرمائی ہے اور سجدہ کے وقت پیشانی زمین پر رکھی اور جسم کے پچھلے حصے کو نہ اٹھایا تو اس نے مطلقا حکم جاری کردیاجیسا کہ عمامہ پر مسح کے معاملے میں دیکھنے والے سے خطاہوئی کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے سر اقدس پر مسح فرمایا پھر عمامہ پر مسح سر کے مسح کے بدلہ میں جائز ہے حالانکہ آقائے دو جہاں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے عمامہ پر مسح نہیں فرمایا تھا یہ الفاظ ایك گناہگار بندے قاضی غلام جیلانی سنی حنفی نقشبندی رضوی نے لکھے ہیں اﷲ تعالی نبی امین کے صدقے اسکا اور اسکے مشائخ کا ہوجائے۔ (ت)
الجواب :
الحمد ﷲ وحدہ (تمام تعریف اﷲ کے لئے ہے جو وحدہ لا شریك ہے۔ ت) فاضل سلمہ القریب المجیب نے جو حکم تحقیق فرمایا وہی صحیح و حق صریح ہے اور سجدہ قاعدہ میں رفع الیتین مفسد صلاۃ ہونا زعم باطل و مردودوقبیح ہے اور جن معتبر معتمد کتابوں کا مدعی نے نام لیا ان سب پر محض افترا ہے اور جو دہم دلیل بنام دلیل ذکر کیا یکسر پادر ہوا ہے صحیح بخاری و صحیح مسلم و سنن ابی داؤد و نسائی و ابن ماجہ میں عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
امرت ان اسجد علی سبعۃ اعظم
میرے رب نے مجھے حکم فرمایا کہ سات استخوانوں پر سجدہ
#6233 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
علی الجبھۃ والیدین والرکبتین واطراف القدمین ۔
کروں پیشانی اور دونوں ہاتھ اور دونوں زانو اور دونوں پاؤں کے نیچے۔
ان میں دونوں سرین ملانا زیادت فی الشرع ہے اور زیادت فی الشرع حرام
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من احدث فی امرنا ھذا مالیس منہ فھورد اخرجہ البخاری ومسلم وابوداؤد وابن ماجۃ عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ عنھا۔
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے ہمارے اس امر(شرع) میں بدعت ایجاد کی جو شریعت سے نہ ہو تو وہ مردود ہے۔ بخاری و مسلم و ابوداؤد اور ابن ماجہ نے اسے حضرت ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کیا ہے ۔ (ت)
اور زیادت بھی اس ادعا سے کہ فرض ہے اور اسکا ترك مفسد نماز اس کے ثبوت کو تو احادیث احادہ بھی ناکافی ہوتیں کما تقرر فی مقرہ وعلم من صنیع صحابنا رضی اﷲ تعالی عنھم فی سورۃ الفاتحہ و غیرھا (جیسا کہ اپنے مقام پر اسکی تقریرہوچکی ہے اور سورۃ فاتحہ وغیرہا سے متعلق ہمارے اصحاب احناف رضی اللہ تعالی عنہم کے طریقہ سے معلوم ہوچکا ہے ۔ ت) نہ کہ وہ کہ جس کا پتا نہ حدیث میں نہ فقہ میں جس پر دلیل درکنار شبہہ تك نہیں ایسی جگہ غیر فرض کو فرض بتانا بہت سخت حکم رکھتا ہے فهل انتم منتهون(۹۱) (کیاتم باز نہیں آؤ گے۔ ت) اول تو الیتین کی بجائے قدمین ہونے پر کیا دلیل اور بفرض غلط ہو بھی تو قعود میں کہ صلاۃ القاعد میں بجائے قیام ہے اور مفہوم قعود میں الصاق الیتین داخل کما فی بدائع ملك العلماء (جیسا کہ بدائع ملك العلماء میں ہے۔ ت) سجود کہ نہ قیام ہے نہ قعود نہ الصاق مذکور اس سے مفہوم نہ اس میں مقصود بلکہ سجدہ رجال میں احادیث متوترہ قولیہ و فعلیہ و نصوص متظافرہ متون و شروح و فتاوی فقہیہ میں صراحۃ اس کی نفی موجود اس میں الصاق مذکور سے نفی کراہت و مخالفت سنت بھی قطعا مردود نہ کہ ادعائے فرضیت کہ اشنع باطل و اخنع مطرود ونسأل اﷲ العفو والعافیۃ ولا حول ولا قوہ الا باﷲ الغفور الودود واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر۴۳۱ : از مولوی عبداﷲ صاحب مدرس مدرسہ منظر الاسلام محلہ سوداگران بریلی ۹صفر ۱۳۳۹ھ
رکوع کرتے وقت نظر کس جگہ رکھنا چاہئے
حوالہ / References صحیح البخاری باب السجود علی الانف مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۱۲
صحیح البخاری باب اذ اصطلحواعلی صلح جورٍ فہومردود مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۷۱
القرآن ۵ / ۹۱
#6234 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
الجواب :
رکوع میں قدموں پر نظر ہو ۔ واﷲ تعالی اعلم بالصواب
مسئلہ نمبر ۴۳۲ : ازکلکتہ بلگچھیا مدرسہ عظیمیہ مسئولہ تصدق حسین صاحب ۱۰ رمضان المبارك ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ فریضہ نمازوں کے بعد دعا مانگ کر ہاتھوں کو منہ پر ملتے ہوئے زور کی آواز کے ساتھ چومنا کیسا ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
نماز کے بعد دعا مانگنا سنت ہے اور ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا اور بعد دعا منہ پر ہاتھ پھیر لینا یہ بھی سنت سے ثابت ہے مگر چومنا کہیں ثابت نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۴۳۳ : از مدرسہ منظر الاسلام بریلی مسئولہ مولوی عبداﷲ بہاری ۳شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ الحمد شریف کے بعد آمین آہستہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں امام سورہ فاتحہ پڑھ کر آمین کہے یا نہیں اور جماعت کے ساتھ مقتدی بھی کہے یا نہیں منفرد کو تیسری چوتھی رکعت میں آمین کہنا جائز ہے یا نہیں اگر نہیں اور زبان سے نکل جائے تو سجدہ سہو ہوگایا نہیں بینوا تو جروا۔
الجواب :
نماز کی ہررکعت میں امام و منفرد کو ولا الضالین کے بعد آمین کہنا سنت ہے۔ جہری نماز میں مقتدی بھی ہر رکعت میں کہیں اور غیر جہری رکعت یا سری نماز میں ولاالضالین ایسی خفی آواز میں کہا کہ اس کے کان تك پہنچی تو اس وقت بھی یہ آمین کہے ورنہ نہیں اور آمین سے سجدہ سہو کسی وقت نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۴۳۴ : از شہر محلہ گڑھیا مسئولہ مولوی حشمت علی صاحب بریلوی ۱۷ ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ
عالی جاہ دام ظلکم ۔ اسلام علیکم ورحمۃ اﷲ و برکاتہ۔ اگر کوئی شخص ٹھہری ہوئی ریل میں قبلہ رخ ہو کر اس طرح نماز پڑھے کہ ریل کی دونوں پٹڑیوں کے درمیان جو جگہ خالی ہے اس میں کھڑا ہوکر رکوع کرے اور کوتاہی جگہ سے ایك پٹڑی پر سرین رکھ کر دوسری پٹڑی پرسجدہ کرے اور پاؤں اسی خالی جگہ میں قائم رہیں یونہی پیچھے کی پٹڑی پر بیٹھ کر اور آگے پاؤ ں ٹکا کر جلسہ قعدہ کرے تو نماز صحیح ہوگی یا نہیں بینوا تو جروا۔
الجواب :
مولنااکرمکم اﷲ وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔ اس طرح سجدہ ہر گر ادا نہ ہوگا۔ نمازنہ ہوگی اورایسا قعدہ بھی محض خلاف سنت اوراسکی ضرورت بھی نہیں ۔ قعدہ میں پاؤں سمیٹ کر اسی خالی جگہ میں
#6235 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
بیٹھ سکتا ہے اور سجدہ کیلئے سرذراخم کرکے سامنے کی پٹڑی کے نیچے داخل کرکے بخوبی ادا کرسکتا ہے میں نے بارہا اس طرح ادا کی ہے۔ جب مولانا عبدالقادر رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ہمراہی میں تیسرے درجے میں سفر کرنا ہوتا تھا ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۳۵ : مرسلہ مولوی سید غلام امام صاحب سیہسوانی ۳جمادی الآخرہ ۱۳۰۸ھ
بخدمت مولوی صاحب سر جمیع اہل فضل وکمال مسلم الشر ف والعلا ابقاھم اﷲ دائم البقا علی الطریق المسنون ۔ السلام علیکم و بطریقے ومرادے ہزاروں دعا و ثنا ئے خلق عالم نوازہ وسلام مخلصانہ کے بعد کچھ تصدیق ہے آپ کے روبرو ایك جمعہ کی نماز کے بعد میں ذکر فضلیت عمامہ کا جو آپ سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ ایسا ہی ہے اور کچھ عربی فقرہ بھی پڑھا تھا لہذا میں چاہتا ہوں کہ اگر میری یاد صحیح ہے تو اس کو لکھ کر عنایت فرمائیں میں نہایت ممنونی موروثی کے ساتھ شکر عنایت عالی کو اچھا ضمیمہ کروں گا۔ فقط
الجواب :
جناب من ادام اﷲ تعالی کر امتکم و رحمۃ اﷲ و برکاتہ فضل صلاۃ بالعما مۃ میں احادیث مروی وہ اگر چہ ضعاف ہیں مگر دربارہ فضائل ضعاف مقبول اور عندالتحقیق ان پر حکم بالوضع محل کلام ۔
حدیث اول : اخرج الطبرانی فی الکبیر عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ تعالی علیہ وسلم ان اﷲ عزوجل و ملئکتہ یصلون علی اصحاب العمائم یوم الجمعۃ
یعنی بیشك اﷲ عزوجل اور اسکے فرشتے جمعہ میں عمامہ باندھے ہوؤں پر درود بھیجتے ہیں ۔
اقتصرالحافظان العراقی والعسقلانی فی تخریجی احادیث الاحیاء والرافعی علی تضعیفہ قالہ السیوطی فی اللالی واورد الحدیث فی جامعہ الصغیر ملتزما ان لا یورد فیہ موضوعا۔
دو حفاظ محدثین عراقی اور عسقلانی نے تخریج احادیث احیاء علوم الدین اور تخریج احادیث الرافعی الکبیرمیں اس کی تضعیف پر اقتصار کیاہے یہ بات سیوطی نے اللآلی میں بیان کی ہے اور اپنی کتاب جامع صغیر میں اسے نقل کیا ہے حالانکہ انہوں نے اس کتاب جامع صغیر میں اس بات کا التزام کر رکھا ہے کہ کوئی موضوع روایت اس میں ذکر نہ کی جائے گی۔ (ت)
حوالہ / References مجمع الزوائد باب اللباس للجمعۃ مطبوعہ دارالکتاب ۲ / ۱۷۶ ، الجامع الصغیر مع فیض القدیر حدیث ۱۸۱۷ مطبوعہ دارالعرفۃ بیروت ۲ / ۲۷۰
#6236 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
حدیث دوم : ابن عساکر والدیلمی وابن النجار عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما قال سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یقول صلاۃ تطوع او فریضۃ بعمامۃ تعدل خمساو عشرین صلاۃ بلا عمامۃ و جمعۃ بعمامۃ تعدل سبعین جمعۃ بلا عمامۃ ۔
یعنی ایك نماز نفل ہو یا فرض عمامہ کے ساتھ پچیس نماز بے عمامہ کے برابر ہے اور ایك جمعہ عمامہ کے ساتھ ستر جمعہ بے عمامہ کے ہمسر۔
فیہ مجاھیل قلت ولیس فیھم کذاب ولا وضاع ولامتھم بہ ولا فیہ ما یردہ الشرع اور یحیلہ العقل وقد اوردہ السیوطی فی الجامع الصغیر۔
اس میں مجہول راوی ہیں قلت (میں کہتا ہوں ) ان میں سے کوئی بھی کذاب اور وضاع (حدیث گھڑنے والا) نہیں اور نہ ہی کوئی متہم بالوضع ہے اور نہ اس میں کوئی ایسی چیز ہے جس کو شریعت رد کرتی ہو یا اسے عقل محال تصور کرتی ہو اسے امام سیوطی نے جامع صغیر میں نقل کیا ہے۔ (ت)
حدیث سوم : الدیلمی عن انس رضی اﷲ تعالی قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الصلاۃ فی العمامۃ تعدل بعشرۃ الاف حسنۃ ۔
یعنی عمامہ میں نماز دس ہزار نیکیوں کے برابر ہے۔
ھذا ضعیف جدافیہ ابان متروك واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
یہ نہایت ہی ضعیف ہے کیونکہ اس میں ابان متروك ہے۔ ت
مسئلہ نمبر ۴۳۶ : از پٹنہ مرسلہ ابوالمساکین مولوی ضیاء الدین صاحب ۱۶ذی الحجہ ۱۳۲۰ ھ
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بعد سلام امام کو پنجوقتہ نماز میں داہنے بائیں پھر کے دعا مانگنا چاہئے یا صرف فجر و عصر میں ۔
الجواب :
کسی نماز میں امام کو ہرگز نہ چاہئے کہ وہ روبقبلہ بیٹھا رہے انصراف مطلقا ضرور ہے صرح بہ فی الذخیرۃ
حوالہ / References مرقات بحوالہ ابن عساکر الفصل الثانی من کتاب اللباس مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۸ / ۲۵۰ کنز العمال بحوالہ ابن عساکر فرع فی العمائم مطبوعہ مکتبۃ التراث الاسلامی حلب بیروت ۱۵ / ۳۰۶
الفردوس بما ثور الخطاب حدیث ۳۸۰۵ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ / ۴۰۶
نوٹ : جس کتاب سے حوالہ دیا گیا ہے اس کتاب کے الفاظِ حدیث میں “ تعدل “ کا لفظ نہیں ہے اور بجائے “ الاف “ کے “ الف “ ہے ، الفاظِ حدیث یوں ہیں : “ الصلٰوۃ فی العمامۃ عشرۃ الف حسنۃ “ ۔ نذیر احمد سعیدی
#6237 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
والحلیۃ وغیرھما(اس پر ذخیرہ اور حلیہ وغیرہ میں تصریح ہے۔ ت) البتہ ظہر ومغرب وعشاء کے بعد دعا میں زیادہ اطالت نہ ہو اور جبکہ معمول مقتدیان ہے کہ تافراغ دعا پابند امام رہتے ہیں ایسی تطویل کہ کسی مقتدی پر ثقیل ہو مطلقا منع ہے وتحقیق المسألۃ فی فتاوی الفقیر غفراﷲ تعالی لہ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۳۷ : از بریلی محلہ ذخیرہ مرسلہ شیخ محمد حسین ربیع الآخر ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں زید کہتا ہے کہ ہر ایك مسلمان مرد وعورت عاقل و بالغ پر جیسے کہ نماز پڑھنا فرض ہے ویسے ہی نماز کے معنی اپنی زبان میں یاد کرلینا بھی فرض ہے پھر وقت نماز کے جو لفظ زبان عربی میں پڑھا جائے اس کے معنی بغور دل میں سمجھ لینا بھی فرض ہے پس باوجود طاقت ہونے کے سیکھنے سکھانے میں سستی کرے یا معنی جانتا ہے اور وقت پر بے غوری کرے ایسے شخص کی نماز کا پھل کیا ہوگا دنیا وآخرت میں بینواتوجروا۔
الجواب :
ان دونوں باتوں میں کچھ فرض نہیں بغیر ان کے بھی سر سے فرض اتر جانے کا پھل حاصل ہے۔
فی الاشباہ لاتحسب اعادتھا لترك الخشوع و فی الغمز عن الملتقط قول بعض الزھاد من لم یکن قلبہ فی الصلاۃ (مع الصلوۃ) لا قیمۃ لصلاتہ لیس بشیئ الخ
اشباہ میں ہے ترك خشوع کی بنا پر نماز کا اعادہ مستحب نہیں اور غمز میں ملتقط کے حوالے سے ہے کہ بعض زاہدوں کے اس قول کی کوئی حقیقت نہیں کہ جس کا دل نماز میں حاضر نہ ہو اس کی نماز کی کوئی قیمت نہیں الخ(ت)
ہاں نماز کا کما ل نماز کا نور نماز کی خوبی فہم وتدبر و حضور قلب پر ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۳۸ : ازغازی پور محلہ میاں پورہ مرسلہ منشی علی بخش صاحب محرر دفتر ججی غازی پور ۱۷ذیقعد ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ تمام فرائض پنجگانہ کے بعد امام کو شمال یا جنوب کی طرف پھر جانا دعا کے واسطے واجب یا مستحب ہے یا نہیں اور سوائے عصر و فجر کے فرائض سہ گانہ کے بعد اگر نہ پھرے تو گنہگار ہوگا یا نہیں
الجواب :
بعد سلام قبلہ رو بیٹھا رہنا ہر نماز میں مکروہ ہے وہ شمال و جنوب و مشرق میں مختار ہے مگر جب کوئی
حوالہ / References الاشباہ والنظائر کتاب الصّلوٰۃ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱ / ۲۱۲
غمز عیون البصائر مع الاشباہ والنظائر کتاب الصّلوٰۃ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱ / ۲۱۲
#6238 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
مسبوق اس کے محاذات میں اگر چہ اخیر صف میں نماز پڑھ رہا ہو تو مشرق یعنی جانب مقتدیان منہ نہ کرے بہرحال پھر نامطلوب ہے اگر نہ پھرا اور قبلہ رو بیٹھا رہا تومبتلائے کراہت و تارك سنت ہوگا۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر۴۳۹ : قازاروہ نگلہ ڈاکخانہ اچھنیرہ ضلع آگرہ مسئولہ جناب محمدصادق علی صاحب رمضان شریف۱۳۳۰ھ
اکثر دیہات میں نماز پڑھ کر جب اٹھتے ہیں کونا مصلی کا الٹ دیتے ہیں اس کا شرعا ثبوت ہے یا نہیں
الجواب :
ابن عساکر نے تاریخ میں جابر بن عبداﷲ رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
الشیاطین یستمتعون بثیابکم فاذانزع احدکم ثوبہ فلیطوہ حتی ترجع الیھا انفاسھا فان الشیطان لایلبس ثوبا مطویا ۔
شیطان تمہارے کپڑے اپنے استعمال میں لاتے ہیں تو کپڑا اتار کر تہہ کر دیا کرو کہ اس کا دام راست ہوجائے کہ شیطان تہہ کئے کپڑے نہیں پہنتا۔
معجم اوسط طبرانی کے لفظ یہ ہیں :
أطووا ثیابکم ترجع الیھا ارواحھا فان الشیطان اذا وجد الثوب مطویا لم یلبسہ وان وجدہ منشورا لبسہ ۔
کپڑے لپیٹ دیا کرو کہ ان کی جان میں جان آجائے اس لئے کہ شیطان جس کپڑے کو لپٹا ہوا دیکھتا ہے اسے نہیں پہنتا اور جسے پھیلا ہوا پاتا ہے اسے پہنتا ہے۔ (ت)
ابن ابی الدنیا نے قیس ابن ابی حازم سے روایت کی :
قال ما من فراش یکون مفروشا لاینام علیہ احد الا نام علیہ الشیطان ۔
فرمایا جہاں کوئی بچھونا بچھا ہو جس پر کوئی سوتا نہ ہو اس پر شیطان سوتا ہے۔ (ت)
ان احادیث سے اس کی اصل نکل سکتی ہے اور پورا لپیٹ دینا بہتر ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References کنز العمال بحوالہ ابن عساکر عن جابر الباب الثالث فی اللباس منشورات مکتبۃ التراث الاسلامی حلب بیروت ۱۵ / ۲۹۹
العجم الاوسط حدیث نمبر ۵۶۹۸ مکتبہ المعارف ، الریاض ۶ / ۳۲۸
ابن ابی الدنیا
#6239 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
مسئلہ نمبر ۴۴۰ : از جڑودہ ضلع میرٹھ مرسلہ سید صابر جیلانی صاحب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر پیروں کے نیچے کپڑا نہ ہو اور صرف زانو اور سجدہ کی جگہ ہو تو نماز ہوسکتی ہے یا نہیں
الجواب :
نماز ہوجائے گی اور بہتر اس کا عکس ہے پاؤں کی احتیاط پیشانی سے زیادہ ہے و لہذا اگر انگر کھایا کرتا بچھا کر نماز پڑھے تو چاہئے کہ گریبان کی جانب پاؤں
رکھے اور دامنوں پر سجدہ کرے کہ گریبان بہ نسبت دامن احتمال نجاست سے دور ہے۔
مسئلہ نمبر ۴۴۱ : ۳۵ شعبان ۱۳۲۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و ہادیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ امام کو قبلہ کی طرف دعا مانگنا مطلقا مکروہ ہے تو اس کی کراہت کا کیا اثر پڑنا چاہئے اور درحالتے کہ ۱۰ دس آدمی سے زیادہ ہوں مقتدی میں سے اگر اخیرصفوں تك کوئی نمازمیں نہ ہو بشرط محاذات تو امام کو چاہئے کہ مقتدیوں کو پیٹھ نہ کرے لیکن اس صورت میں اگر مقتدیوں کی مقتدیوں کو پیٹھ ہو تو اس کا کیا جواب ہے اور ایضا مطلقا مکروہ کے کیا معنی ہیں بینوا تو جروا۔
الجواب :
کراہت کا اثر نا پسندی اور اس کا اوسط درجہ اساء ت ہے یعنی برا کیا اور اعلی درجہ کراہت تحریم اس کا اثر گنہگار و مستحق عذاب ہونا مطلق مکروہ غالبا تحریم کا افادہ کرتا ہے اور بلکہ خاص معنی کراہت تنز یہ بھی مستعمل ہوتا ہے مقتدیوں کے لئے شرعا اتنا مستحب ہے کہ نقض صفوف کریں اور نماز کے بعد اس انتظام پر نہ بیٹھے رہیں جیسے نماز میں تھے پھر بھی سب کو پھر کر بیٹھنے کا حکم نہیں کہ اس میں حرج ہے اور مقتدی سب ایك حالت پر شریك نماز ہوئے تھے ان میں سے کسی کا آگے پیچھے ہونا کوئی بالخصوص مقصود و مطلوب و لازم نہ تھا بلکہ اتفاقی طور پر واقع ہوا جو پہلے پہنچ گیا اس نے پہلی صف میں جگہ پائی اور جو بعد میں پہنچے انھوں نے بعد کی صف میں اگر یہ بعد والے پہلے پہنچتے تو یہی پہلی میں ہوتے اور وہ کہ اگلی صف میں ہیں بعد کو آتے تو بعد کی صف میں ہوتے ان کا بیٹھنا ایسا ہے جیسا مجلس کثیر میں لوگوں کا بیٹھنا کہ ایك دوسرے کی طرف پیٹھ ہوتی ہے مگر وہ سب ایك حالت میں ہیں قصدا و التزاما ان میں ایك دوسرے پر تقدم نہیں بخلاف امام کہ وہ بالقصد آگے ہوتا اور انھیں پیٹھ کرتا ہے اور یہی واجب و لازم اور متعین ہے تو اسے اس قصدی پشت کرنے سے انحراف کا حکم ہوا واﷲ تعالی اعلم۔
#6241 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
مسئلہ نمبر ۴۴۲ : ازپیلی بھیت مرسلہ جناب مولانا مولوی محمد وصی احمد صاحب محدث سورتی ۴ذی الحجہ۱۳۲۲ھ
حدیث صلاۃ تطوع اوفر یضۃ بعمامۃ تعدل خمسا وعشرین صلاۃ بلا عمامۃ وجمعۃ بعمامۃ تعدل سبعین جمعۃ بلا عمامۃ (عمامہ کے ساتھ نفل یا فرض نمازوں کا پڑھنا بغیر عمامہ کی نماز سے پچیس گنا افضل ہے اور عمامہ کے ساتھ جمعہ پڑھنا بغیر عمامہ کے جمعہ سے ستر گنا افضل ہے۔ ت) محدثین کے نزدیك موضوع یا ضعیف ہے اور اگر کوئی شخص بسبب نفس پروری کے اس حدیث کو موضوع سمجھے اور کتب معتبرہ فقہیہ کی عبارت جو عمامہ باندھ کر نماز پڑھنے کے ثواب پر دال ہیں مثلا علمگیریہ وکنزوفتاوی حجہ وآداب اللباس مؤلفہ شیخ محدث دہلوی وقنیہ وغیرہا تسلیم نہ کرے اور اس حدیث کے بیان کرنےوالے پر لعن طعن کرے اور مفتری علی الاحادیث تصور کرے اور لوگوں کو تاکید اس امر کی کرے کہ عما مہ باندھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور قصداعمامہ اتروا ڈالے اور عمامہ باندھنے کو باوجود تاکید احادیث ثواب نہ جانے تو وہ شخص قابل الزام شرعی ہوگا یا نہیں جامع الرموز میں الفاظ کی حدیث ملی :
ونص عبارتہ تنبغی ان یصلی مع العمامۃ فی الحدیث الصلاۃ مع العمامۃ خیر من سبعین صلاۃ بغیر عمامۃ کما فی المنیۃ ۔
اس کی عبارت یہ ہے عمامہ کےساتھ نماز ادا کرنی چاہئے کیونکہ حدیث میں ہے عمامہ والی نماز بغیر عمامہ والی نماز سے ستر گنا افضل ہے۔ اسی طرح منیہ میں ہے۔
اس حدیث کے حال سے آگاہ فرمائیے اور یہ منیہ کا حوالہ جامع الرموز نے دیا ہے یہی منیۃ المصلی مروج ہے یا اور کوئی منیہ ہے بینواتوجروا۔
الجواب :
عمامہ حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی سنت متواترہ ہے جس کا تواتر یقینا سرحد ضروریات دین تك پہنچا ہے و لہذا علمائے کرام نے عمامہ تو عمامہ ارسال عذبہ یعنی شملہ چھوڑنا کہ اس کی فرع اور سنت غیر موکدہ ہے یہاں تك کہ مرقاۃ میں فرمایا :
حوالہ / References مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح الفصل الثانی من الکتاب اللباس مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۸ / ۲۵۰
جامع الرموز فصل مایفسد الصلوٰۃ مطبوعہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۱۹۳
#6242 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
قد ثبت فی السیر بروایات صحیحۃ ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یرخی علامتہ احیانا بین کتفیہ و احیانا یلبس العمامۃ من غیر علامۃ فعلم ان الاتیان بکل واحد من تلك الامور سنۃ ۔
کتب سیر میں روایات صحیحہ سے ثابت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کبھی عمامہ کا شملہ دونوں کاندھوں کے درمیان چھوڑتے کبھی بغیر شملہ کے باندھتے۔ اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ان امور میں سے ہر ایك کو بجا لانا سنت ہے (ت)
اس کے ساتھ استہزا کو کفر ٹھہرایا کمانص علیہ الفقھاء الکرام وامروابترکہ حیث یستھزئ بہ العوام کیلا یقعوا فی الھلاك بسوء الکلام(جیساکہ فقہاء کرام نے اس پر تصریح کی ہے اور وہاں اسکے ترك کا حکم دیا جہاں عوام اس پر مذاق کرتے ہوں تاکہ وہ اس کلام بد سے ہلاکت میں نہ پڑیں ۔ ت) تو عمامہ کہ سنت لازمہ دائمہ یہاں تك کہ علماء نے خالی ٹوپی پہننے کو مشرکین کی وضع قرار دیا اور حدیث آتی رکانۃ رضی اللہ تعالی عنہ کواس پر حمل کیا۔ علامہ علی قاری نے شرح مشکوۃ میں فرمایا
لم یرو انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لبس القلنسوۃ بغیر العمامۃ فیتعین ان یکون ھذا زی المشرکین ۔
یعنی اصلا مروی نہ ہوا کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کبھی بغیر عمامہ کے ٹوپی پہنی ہو متعین ہوا کہ یہ کافروں کی وضع ہے (ت)
اسی میں بعد ذکر بعض احادیث فضیلت عمامہ ہے :
ھذا کلہ یدل علی فضلیۃ العمامۃ مطلقا نعم مع القلنسوۃ افضل فلبسھا وحدھا مخالف للسنۃ کیف وھی زی الکفرۃ وکذا المبتدعۃ فی بعض البلدان ۔
یعنی ان سب سے عمامہ کی فضیلت مطلقا ثابت ہوئی اگر چہ بے ٹوپی ہو ہاں ٹوپی کے ساتھ افضل ہے اور خالی ٹوپی خلاف سنت ہے اور کیونکر نہ ہو کہ کافروں اور بعض بلاد کے بد مذہبوں کی وضع ہے(ت)
اس کا انکار کس درجہ اشد و اکبر ہوگا اس کا سنت ہونا متواتر ہے اور سنت متواتر کا استخفاف کفر ہے۔ وجیز کردری پھرنہرالقائق پھر ردالمحتارمیں ہے :
لولم یرالسنۃ حقا کفر لانہ
اگر کوئی شخص سنت کو حق و سچ نہیں جانتا تو اس
حوالہ / References مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح والفصل الثانی من کتاب اللباس مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۸ / ۲۵۰
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح والفصل الثانی من کتاب اللباس مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۸ / ۲۵۰
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح والفصل الثانی من کتاب اللباس مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۸ / ۲۵۰
#6243 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
استخفاف ۔
نے کفر کیا کیونکہ یہ اسکا استخفاف ہے۔ (ت)
عمامہ کی فضیلت میں احادیث کثیرہ وارد ہیں بعض ان سے کہ اس وقت پیش نظر ہیں مذکور ہوتی ہیں :
حدیث اول : سنن ابی داؤد و جامع ترمذی میں رکانہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
فرق ما بیننا و بین المشرکین العمائم علی القلانس ۔
ہم میں اور مشرکوں میں فرق ٹوپیوں پر عمامے ہیں ۔ (ت)
علامہ مناوی تیسیر شرح جامع صغیر میں اس حدیث کے نیچے لکھتے ہیں :
فالمسلمون یلبسون القلنسوۃ وفوقھا العمامۃ امالبس القلنسوۃ وحد ھافزی المشرکین فلبس العمامۃ سنۃ ۔
مسلمان ٹوپیاں پہن کر اوپر سے عمامہ باندھتے ہیں تنہا ٹوپی کافروں کی وضع ہے تو عمامہ باندھنا سنت ہے۔
یہی حدیث باوردی نے ان لفظوں میں روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
العمامۃ علی القلنسوۃ فصل ما بیننا وبین المشرکین یعطی یوم القیمۃ بکل کورۃ یدروھا علی راسہ نورا ۔
ٹوپی پر عمامہ ہمارا اور مشرکین کا فرق ہے ہر پیچ کہ مسلمان اپنے سر پر دے گا ا س پر روز قیامت ایك نور عطا کیا جائے گا۔
حدیث ۲ و ۳ : قضاعی مسند شہاب میں امیر المومنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم سے اور دیلمی مسند الفردوس میں مولی علی و عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہم سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : العمائم تیجان العرب ۔ (عمامے عرب کے تاج ہیں) ۔
حدیث ۴ : مسند الفردوس میں انس ابن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
حوالہ / References الفتاوی البزازیۃ مع الفتاوی الہندیۃ نوع فی السنن من کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۲۸
سنن ابی داؤد باب العمائم مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۲۰۸
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث فرق مابیننا الح مکتبہ الامام شافعی الریاض ۲ / ۱۶۹
کنز العمال بحوالہ باوردی عن رکانۃ فرع فی العمائم مطبوعہ منشورات مکتبہ التراث الاسلامی بیروت ۱۵ / ۳۰۵
الفردسوس بما ثور الخطاب حدیث ۴۲۴۶ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳ / ۸۷
#6244 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
العمائم تیجان العرب فاذا وضعواالعمائم وضعواعزھم وفی لفظ وضع اﷲ عزھم ۔
عمامے عرب کے تاج ہیں جب عمامہ چھوڑ دیں تو اپنی عزت اتار دیں گے ۔ اور ایك روایت میں ہے کہ اﷲ تعالی ان کی عزت اتار دے گا۔
حدیث ۵ : ابن عدی امیر المومنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ایتواالمساجد حسراومقنعین فان العمائم تیجان المسلمین ۔
مسجدوں میں حاضر ہو سر برہنہ اور عمامے باندھے اس لئے کہ عمامہ مسلمانوں کے تاج ہیں ۔
حدیث ۶ : طبرانی معجم کبیر اور حاکم مستدرك میں حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اعتموا تزدادوا حلما ۔ صححہ الحاکم۔
عمامہ باندھو تمہارا حلم بڑھے گا۔ (حاکم نے اسے صحیح قرار دیا۔ ت)
حدیث۷ : ابن عدی کامل و بیہقی شعب الایمان میں اسامہ بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اعتمواتزدادواحلماوالعمائم تیجان العرب ۔
عمامہ باندھو وقار زیادہ ہوگا اور عمامے عرب کے تاج ہیں
وروی عنہ الطبرانی صدرہ واشار المناوی الی تقویتہ۔
طبرانی نے اس کا ابتدائی حصہ روایت کیا امام مناوی نے اس کا قوی ہونا بیان کیا ہے (ت)
حدیث ۸ : دیلمی عمران بن حصین رضی اللہ تعالی عنہ وان اسلم حصین فعنھما سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
العمائم وقار المؤمن وعز العرب فاذاوضعت
عمامے مسلمان کے وقار اور عرب کی عزت ہیں تو جب
حوالہ / References الجامع الصغیر مع فیض القدیر بحوالہ مسند فردوس عن ابن عباس مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۴ / ۳۹۲
الکامل فی ضعفاء الرجال اسامی شتٰی ممن ابتداء اسامیہم میم المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۶ / ۲۴۱۳
المعجم الکبیر باب ماجاء فی لبس العمائم الخ مطبوعہ المکتبۃ الٖفیصلیۃبیروت ۱ / ۱۹۴
شعب الایمان حدیث۶۲۶۰ مطبوعہ دارالکتب العربیۃ بیروت ۵ / ۱۷۶
#6245 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
العرب عمائمھا وضعت عزھا ۔
عرب عمامے اتار دیں اپنی عزت اتاردیں گے۔
حدیث ۹ : وہی رکانہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لاتزال امتی علی الفطرۃ مالبسواالعمائم علی القلانس ۔
میری امت ہمیشہ دین حق پر رہے گی جب تك وہ ٹوپیوں پر عمامے باندھیں ۔
حدیث ۱۰ : ابوبکر ابن ابی شیبہ مصف اور ابوداؤد طیالسی و ابن منیع مسانید اور بیہقی سنن میں امیر المومنین مولی علی رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
ان اﷲ امدنی یوم بدروحنین بملئکۃ یعتمون ھذہ العمۃ وقال ان العمامۃ حاجزۃ بین الکفر والایمان ۔
بیشك اﷲ عزوجل نے بدروحنین کے دن ایسے ملائکہ سے میری مدد فرمائی جو اس طرز کا عمامہ باندھتے ہیں بیشك عمامہ کفر و ایمان میں فارق ہے۔
حدیث۱۱ : دیلمی مسند الفردوس میں عبدالاعلی بن عدی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا :
ھکذا فاعتموافان العمامۃ سیماء الاسلام وھی حاجزۃ بین المسلمین والمشرکین ۔
اسی طرح عمامے باندھو کہ عمامہ اسلام کی نشانی ہے اور وہ مسلمانوں اور مشرکوں میں فارق ہے۔
حدیث ۱۲ : ابن شاذان اپنی مشیخت میں مولی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے عمامہ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا :
ھکذا تکون تیجان الملئکۃ ۔
فرشتوں کے تاج ایسے ہوتے ہیں ۔
حدیث ۱۳ و ۱۴ : طبرانی کبیر میں عبداﷲ بن عمر اوربیہقی شعب میں عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہم سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
علیکم بالعمائم فانھا سیماء الملئکۃ وارخوا لھا خلف ظھورکم ۔
عمامے اختیار کرو کہ وہ فرشتوں کے شعار ہیں اور ان کے شملے اپنے پس پشت چھوڑ و۔
حوالہ / References الفردوس بما ثورالخطاب بحوالہ عن ابن عباس حدیث ۴۲۴۷ مطبوعہ دارالکتب العربیہ بیروت ۳ / ۸۸
الفردوس بما ثورالخطاب بحوالہ عن ابن عباس حدیث ۷۵۶۹ مطبوعہ دارالکتب العربیہ بیروت ۵ / ۹۳
السنن الکبرٰی للبیہقی باب التحریض علی الرمی مطبوعہ دار صادر بیروت ۱۰ / ۱۴
کنزالعمال بحوالہ الدیلمی حدیث۴۱۹۱۱ مطبوعہ منشورات مکتبۃ التراث الاسلامی حلب بیروت ۱۵ / ۴۸۳
کنزالعمال بحوالہ ابن شاذان فی مشیختہ حدیث ۴۹۱۳ مطبوعہ منشورات مکتبۃ التراث الاسلامی حلب بیروت ۱۵ / ۴۸۴
المعجم الکبیر حدیث ۱۳۴۱۸ مطبوعہ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ۱۲ / ۳۸۳
#6246 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
حدیث ۱۵ : ابو عبداﷲ محمد بن وضاح فضل لباس العمائم میں خالد بن معدان سے مرسلا راوی کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ان اﷲ تعالی اکرم ھذہ الامۃ بالعصائب الحدیث ۔
بیشك اﷲ عزوجل نے اس امت کو عماموں سے مکرم فرمایا الحدیث
حدیث ۱۶ : بیہقی شعب الایمان میں انہی سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اعتمواخالفواعلی الامم قبلکم ۔
عمامے باندھو اگلی امتوں یعنی یہود و نصاری کی مخالفت کرو کہ وہ عمامہ نہیں باندھتے۔
حدیث ۱۷ : معجم کبیر طبرانی میں ہے :
حدثنا محمد بن عبداﷲ الحضرمی حدثنا العلاء بن عمرو الحنفی حدثنا ایوب بن مدرك عن مکحول عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان اﷲ عزوجل وملئکتہ یصلون علی اصحاب العمائم یوم الجمعۃ ۔
بیان کیا محمد بن عبداﷲ حضرمی نے بیان کیا العلاء بن عمرو الحنفی نے بیان کیا ایوب بن مدرك سے مکحول سے ابوالدرداء رضی اللہ تعالی عنہ سے کہ فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کہ بیشك اﷲ تعالی اور اسکے فرشتے درود بھیجتے ہیں جمعہ کے روز عمامہ والوں پر۔
حدیث ۱۸ : دیلمی انس رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
الصلاۃ فی العمامۃ تعدل بعشرالاف حسنۃ ۔ فیہ ابان۔
عمامہ کے ساتھ نماز دس ہزار نیکی کے برابر ہے۔ (اس کی سند میں ابان راوی ہے۔ ت)
حدیث ۱۹ : رامہرمزی کتاب الامثال میں معاذ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
حوالہ / References کنز العمال فی سنن الاقوال والافعال حدیث ۴۱۱۴۵ مطبوعہ منشورات مکتبۃ التراث الاسلامی حلب بیروت ۱۵ / ۳۰۷
شعب الایمان حدیث ۶۲۶۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۵ / ۱۷۶
مجمع الزوائد بحوالہ معجم کبیر باب اللباس للجمعۃ مطبوعہ دار الکتب بیروت ۲ / ۱۷۶
الفردوس بماثور الخطاب حدیث ۳۸۰۵ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ / ۴۰۶
نوٹ : جس کتاب سے حدیث کا حوالہ دیا گیا ہے اس میں “ تعدل “ کا لفظ نہیں ہے ۔ نذیر احمد سعیدی
#6247 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
فرماتے ہیں :
العمائم تیجان العرب فاعتموا تزدادواحلما ومن اعتم فلہ بکل کورحسنۃ فاذا حط فلہ بکل حطۃ حط خطیئۃ ۔
عمامے عرب کے تاج ہیں تو عمامہ باندھو تمہاراوقار بڑھے گا اور جو عمامہ باندھے اس کے لئے ہر پیچ پر ایك نیکی اور جب(بلا ضرورت یا ترك کے قصد پر) اتارے تو ہر اتارنے پر ایك خطا ہے یا جب (بضرورت بلا قصد ترك بلکہ با ارادہ معاودت) اتارے تو ہر پیچ اتارنے پر ایك گناہ اترے۔
دونوں محتمل ہیں واﷲ تعالی اعلم والحدیث اشد ضعفافیہ ثلثۃ مترکون متھمون عمرو بن الحصین عن ابی علاثۃ عن ثویر(اﷲ تعالی ہی بہتر جانتا ہے۔ اس حدیث میں شدید قسم کا ضعف ہے کیونکہ اس کے تین راوی متروك ومہتم ہیں انھوں نے ابو علاثہ سے اور انہوں نے ثویر سے روایت کیا۔ ت)
حدیث۲۰ : مسند الفردوس میں جابر بن عبداﷲ انصاری رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
رکعتان بعمامۃ خیرمن سبعین رکعۃ بلا عمامۃ ۔
عمامہ کے ساتھ دو۲ رکعتیں بے عمامے کی ستر رکعتوں سے افضل ہیں ۔
رہی حدیث مذکور سوال : اسے ابن عساکر نے تاریخ دمشق اور ابن النجار نے تاریخ بغداد اور دیلمی نے مسندالفردوس میں بطریق عدیدہ عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا :
ابن عساکر بطریق احمد بن محمد الرقی ثنا عیسی بن یونس حدثنا العباس بن کثیر ح والدیلمی بطریق الحسین بن اسحق بن یعقوب القطان حدثنا سفین بن زیاد المخرمی حدثنا العباس بن کثیر القرشی حدثنا یزید بن
ابن عساکر نے بطریق احمد بن محمد ازعیسی بن یونس از عباس بن کثیر حدیث بیان کی ح اوردیلمی نے بطریق حسین بن اسحق العجلی از اسحق بن یعقوب قطان از سفین بن زیاد المخرمی از عباس بن کثیر القرشی از یزید بن ابی حبیب ازمیمون بن مہران حدیث بیان کی کہا میں سالم بن عبداﷲ بن عمر کی خدمت میں حاضر ہواتو انہوں نے حدیث املاء کرائی پھر میری طرف متوجہ
حوالہ / References کنز العمال بحوالہ الرامہرمزی فی الامثال حدیث ۴۱۱۴۶ مطبوعہ منشورات مکتبۃ الاسلامی حلب بیروت ۱۵ / ۳۰۸
الفردوس بماثورالخطاب حدیث ۳۲۳۳ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ / ۲۶۵
نوٹ : جس کتاب سے حوالہ نقل کیا گیا ہے اس میں لفظ “ خیر “ کی بجائے “ افضل “ ہے۔ نذیر احمد سعیدی
#6248 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
ابی حبیب عن میمون بن مھر ان قال دخلت علی سالم بن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہم فحدثنی ملیا ثم التفت الی فقال یا ابا ایوب الا اخیرك بحدیث تحبہ وتحملہ عنی وتحدث بہ فقلت بلی قال دخلت علی عبداﷲ بن عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالی عنھما وھویتعمم فلما فرغ التفت فقال اتحب العمامۃ قلت بلی قال احبھا تکرم ولا یراك الشیطان الاولی (ھاربا انی) سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یقول صلاۃ تطوع او فریضۃ بعمامۃ تعدل خمسا وعشرین صلاۃ بلا عمامۃ وجمعۃ بعمامۃ تعدل بسبعین جمعۃ بلا عمامۃ ای بنی اعتم فان الملئکۃ یشھدون یوم الجمعۃ معتمین فیسلمون علی اھل العمائم حتی تغیب الشمس ۔
ہو کر فرمایا اے ابو ایوب ! کیا تجھے ایسی حدیث کہ خبر نہ دوں جو تجھے پسند ہو میری طرف سے روایت کرے اور اسے بیان کرے۔ میں نے عرض کیا کیوں نہیں ___ تو سالم بن عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہم فرماتے ہیں میں اپنے والد ماجدعبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کے حضور حا ضر ہوا اور وہ عمامہ باندھ رہے تھے جب باندھ چکے میری طرف التفات کرکے فرمایا تم عمامہ کو دوست رکھتے ہو میں نے عرض کی کیوں نہیں ! فرمایا اسے دوست رکھو عزت پاؤگے اور جب شیطان تمہیں دیکھے گا تم سے پیٹھ پھیر لے گا۔ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو فرماتے سنا کہ عمامہ کے ساتھ ایك نفل نماز خواہ فرض بے عمامہ کی پچیس نمازوں کے برابر ہے اور عمامہ کے ساتھ ایك جمعہ بے عمامہ کے ستر جمعوں کے برابر ہے۔ پھر ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا : اے فرزند! عمامہ باندھ کہ فرشتے جمعہ کے دن عمامہ باندھے آتے ہیں اور سورج ڈوبنے تك عمامہ والوں پر سلام بھیجتے رہتے ہیں ۔
حق یہ ہے کہ یہ حدیث موضوع نہیں اس کی سند میں نہ کوئی وضاع ہے نہ متہم بالوضع نہ کوئی کذاب نہ متہم بالکذب نہ اس میں عقل یا نقل کی اصلا مخالفت لاجرم اسے امام جلیل خاتم الحفاظ جلال الملۃ والدین سیوطی نے جامع صغیر میں ذکر فرمایا جس کے خطبہ میں ارشاد کیا :
ترکت القشر واخذت اللباب وصنتہ عما تفرد بہ وضاع اوکذاب ۔
میں نے اس کتاب میں پوست چھوڑ کر خالص مغز لیاہے اور اسے ہر ایسی حدیث سے بچایا جسے تنہا کسی وضاع یا کذاب نے روایت کیا ہے۔
حوالہ / References لسان المیزان حرف العین ترجمہ العباس بن کثیر مطبوعہ دائرۃ المعارف النظامیہ حیدرآباد دکن ۳ / ۲۴۴
نوٹ : جن کتابوں کا اعلٰیحضرت نے ذکر کیا ہے وہ نہ ملنے کی وجہ سے اس کتاب کا حوالہ دیا ہے ۔ نذیر احمد سعیدی۔
الجامع الصغیر مع فیض القدیر درخطبہ کتاب مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت ۱ / ۲۰
#6250 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
اما ا بن النجار فاخرجہ من طریق محمد بن مھدی المروزی انبانا ابوبشر بن سیار الرقی حدثنا العباس بن کثیرالرقی عن یزید بن ابی حبیب قال قال لی مھدی بن میمون دخلت علی سالم بن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنھم وھویعتم فقال لی یا اباایوب الا احدثك بحدیث تحبہ وتحملہ وترویہ فذکرمثلہ وقال لا یزالون یصلون علی اصحاب العمائم حتی تغیب الشمس قال الحافظ فی اللسان ھذا حدیث منکر بل موضوع ولم ارللعباس بن کثیر ذکرا فی الغرباء لابن یونس ولا فی ذیلہ لابن الطحان واما ابو بشر بن سیار فلم یذکرہ ابواحمد الحاکم فی الکنی وماعرفت محمد بن مھدی المروزی ولا مھدی بن میمون الراوی لھذاالحدیث من سالم ولیس ھوالبصری المخرج فی الصحیحین وذاك یکنی ابایحیی ولا ادری ممن الافۃ اھ
اقول : رحم اﷲ الحافظ من این یاتیہ الوضع ولیس فیہ مایحیلہ عقل ولا
ابن نجار نے اسکی تخریج اس سند سے کی ہے کہ محمد بن مہدی مروزی بیان کرتے ہیں کہ ہمیں ابوبشر بن سیاررقی نے خبر دی وہ کہتے ہیں کہ ہمیں عباس بن کثیر رقی نے یزید بن ابی حبیب کے حوالے سے حدیث بیان کی کہا مجھے مہدی بن میمون نے بتایا کہ ایك دفعہ میں سالم بن عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہم کے پاس گیا تو وہ عمامہ باندھ رہے تھے انھوں نے مجھے فرمایا کہ اے ابو ایوب !میں تجھے ایك حدیث نہ بیان کروں جسے تو محبوب رکھے حاصل کرنے کے بعد اسے بیان کرے پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث بیان کی اور فرمایا کہ فرشتے عمامہ باندھنے والوں پر غروب آفتاب تك صلوۃ بھیجتے ہیں حافظ نے لسان میں فرمایا یہ حدیث منکر بلکہ موضوع ہے اور میں نے عباس بن کثیر کا ذکر ابن یونس کی غرباء میں اور اس کے حاشیہ لا بن طحان میں نہیں پایا اور ابوبشر بن سیار کا تذکرہ ابواحمد حاکم نے الکنی میں نہیں کیا اور نہ ہی میں محمد بن مہدی مروزی اور اس حدیث کے راوی مہدی بن میمون کو جانتا ہوں اور یہ وہ بصری بھی نہیں جو مسلم وبخاری کے راوی ہیں ان کی کنیت ابو یحیی ہے اور نہ میں اس کی آفت سے آگاہ ہوں ۔ (ت)
اقول : حافظ پر اﷲ تعالی رحم کرے اس روایت میں وضع کو کہاں سے لائے ہیں
حوالہ / References لسان المیزان حرف العین ترجمہ العباس بن کثیرہ مطبوعہ دائرۃ المعارف النظامیہ حیدر آباد دکن ۳ / ۲۴۴
نوٹ : یہ حوالہ بھی اصل کتاب نہ ملنے کی وجہ سے لسان المیزان سے ذکر کیا گیا۔ نذیر احمد
لسان المیزان حرف العین ترجمہ عباس بن کثیر مطبوعہ دائرۃ المعارف النظامیہ حیدرآباد دکن ۳ / ۲۴۴
#6251 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
شرع ولا فی سندہ وضاع ولاکذاب ولامتھم ومجرد جھل الراوی لایقضی بالسقوط حتی لایصلح للتمسك بہ فی الفضائل فضلا عن الوضع ولمااورد الحافظ ابو الفرج ابن الجوزی حدیث قزعۃ بن سوید عن عاصم بن مخلد عن ابی الاشعث الصنعانی عن شداد بن اوس رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من قرض بیت شعر بعد العشاء الاخرۃ لم تقبل لہ صلاۃ تلك اللیلۃ فی الموضوعات واعلہ بان عاصما فی عداد المجھولین و قزعۃ قال احمد مضطرب الحدیث و قال ابن حبان کان کثیر الخطا فاحش الوھم فلما کثر ذلك فی روایتہ سقط الاحتجاج بخبرہ اھ قال الحافظ نفسہ فی القول المسدد لیس فی شیئ من ھذا ما یقضی علی ھذاالحدیث بالوضع الخ ولما حکم ابن الجوزی علی حدیث ابی عقال عن انس ابن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم العسقلان احدالعروسین یبعث منھا یوم القیامۃ
حالانکہ اس روایت میں ایسی کسی چیز کا بیان نہیں جسے عقل و شرع محال گردانے اور نہ ہی اس کی سند میں وضاع کذاب اور متہم ہے محض راوی کے مجہول ہونے سے اس حدیث کو چھوڑنے کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا حتی کہ فضائل میں قابل استدلال ہی نہ رہے چہ جائیکہ وہ موضوع ہو ۔ حافظ ابن الفرج ابن الجوزی نے حدیث قزعہ بن سوید عاصم بن مخلد سے انھوں نے ابواشعث صنعانی سے انھوں نے حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالی عنہ سے موضوعات میں بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا جس نے آخری عشاء کے بعد شعر کا ایك بیت پڑھا اس کی اس رات کی نماز قبول نہ ہوگی اور علت یہ بیان کی کہ عاصم کا شمار مجہولین میں ہوتا ہے۔ قزعہ کے بارے میں امام احمد کاقول ہے کہ یہ مضطرب الحدیث ہے۔ ابن حبان نے کہا کہ یہ کثیر الخطا اور فاحش الوہم ہے آخر میں فرمایا جب اس کی روایت میں علتیں ا س قدر کثیر ہوگئیں تو اس کی روایت سے استدلال ساقط ہوگیا اھ اورخودحافظ نے القول المسدد کہا یہاں پر کوئی ایسی چیز نہیں جو اس حدیث کے موضوع ہونے کا فیصلہ
حوالہ / References کتاب الموضوعات لابی الفرج حدیث فی انشاد الشعر بعد العشاء مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۲۶۱
کتاب الموضوعات لابی الفرج حدیث فی انشاد الشعر بعد العشاء مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۲۶۱
القول المسدد الحدیث الثانی ممالم یذکرہ حدیث شداد بن اوس الخ مطبوعہ دائرہ المعارف العثمانیہ حیدرآباد دکن ص۳۶
#6252 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
سبعون الفالاحساب علیھم ویبعث منھا خمسون الفاشھداء وفودا الی اﷲ عزوجل وبھا صفوف الشھداء ر ء وسھم مقطعۃ فی ایدیھم تثج او داجھم دما یقولون ربناواتنا ماوعدتنا علی رسلك ولا تخزنا یوم القیمۃ انك لاتخلف المیعاد فیقول صدق عبیدی اغسلوھم بنھرالبیضۃ فیخرجون منھا نقیابیضا فیسرحون فی الجنۃ حیث شاء وا بالوضع محتجابان جمیع طرقہ تدور علی ابی عقال واسمہ ھلال بن زید بن یسار قال ابن حبان یروی عن انس اشیاء موضوعۃ ماحدث بھا انس قط لایجوز الاحتجاج بہ بحال اھ وقال الذھبی فی المیزان باطل قال الحافظ نفسہ فیہ وھو فی فضائل الاعمال والتحریض علی الرباط فی سبیل اﷲ ولیس فیہ مایحیلہ الشرع ولا العقل فالحکم علیہ بالبطلان بمجرد کونہ من روایۃ ابی عقال لا یتجہ و طریقۃ الامام احمد معروفۃ فی التسامح فی روایۃ احادیث الفضائل دون احادیث الاحکام اھ فلیت شعری لم لایقال مثل ھذا فی حدیث العمامۃ مع انہ ایضا فی فضائل
کرتی ہو الخ جب ابن جوزی نے موضوعات میں اس حدیث ابی عقال کو موضوعہ قرار دیا جو کہ حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : عسقلان ان خوش نصیب شہروں میں سے ایك ہے جن سے روز قیامت ستر ہزار ایسے افراد اٹھائے جائیں گے جن کا حساب نہیں ہوگااور اس میں پچاس ہزار شہداء اٹھائے جائیں گے جو وفد کی صورت میں صف بستہ اپنے رب کے ہاں حاضر ہونگے حالانکہ ان کے سر کٹے ہوئے ہاتھوں میں ان کی ودج(وہ رگ جسے بوقت ذبح کاٹا جاتا ہے) سے خون بہہ رہا ہوگا اور وہ اﷲ کے حضور یہ عرض کریں گے : اے ہمارے رب! ہمیں عطا فرما جس کا تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے ہم سے وعدہ کیا ہے اور ہمیں روز قیامت ذلت سے محفوظ فرما بلاشبہ تو وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ اﷲ تعالی ارشاد فرمائے گا میرے بندوں نے سچ کہا ان کو سفید نہر میں غسل دو تو وہ اس نہر سے صاف شفاف اور چمکدار ہو کر نکلیں گے اور وہ جنت میں حسب خواہش چلے جائیں گے اور کھائیں گے پئیں گے۔ اس روایت کے موضوع ہونے پر یہ دلیل دی کہ اس کی تمام اسناد کا مرکز ابو عقال ہے جس کا نام ہلال بن زید بن یسار ہے ابن حبان نے کہا کہ یہ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے ایسی روایات
حوالہ / References کتاب الموضوعات لابن جوزی باب فی فضل عسقلان مطبوعہ دارالفکر بیروت ۲ / ۵۳
کتاب الموضوعات لابن جوزی باب فی فضل عسقلان مطبوعہ دارالفکر بیروت ۲ / ۵۴
میزان الاعتدال ترجمہ نمبر ۹۲۶۷ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۴ / ۳۱۴
القول المسدد جواب الکلام علی الحدیث الثامن مطبوعہ دائرۃ المعارف العثمانیہ حیدرآباد دکن ہند ص۳۲
#6253 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
الاعمال والتحریض علی التأدب فی حضرۃ اﷲ ولیس فیہ ما یحلہ الشرع ولا العقل بل ولافیہ احد رمی بروایۃ الموضوعات کابی عقال فکیف یتجہ الحکم علیہ بالبطلان بل الوضع بمجرد کون بعض روایۃ ممن لم یعرفھم الحافظ اولم یذکرھم فلان وفلان علا ان مھدی بن میمون عندی وھم من بعض رواۃ ابن النجار لان عیسی بن یونس عند ابی نعیم و سفین بن زیاد عندالدیلمی انما یرویانہ عن العباس عن یزید عن میمون بن مھران کما تقدم و میمون ھو ابوایوب الجزری الرقی ثقۃ فقیہ من رجال مسلم والاربعۃ کما قالہ الحافظ فی التقریب لاجرم لم یمنع کلام الحافظ ھذا خاتم الحافظ السیوطی عن ایرادہ فیما وعد بتنزیھہ عن الموضوع اماقول تلمیذہ الحافظ السخاوی حدیث صلوۃ بخاتم تعدل سبعین صلوۃ بغیر خاتم ھو موضوع کما قال شیخناوکذامارواہ الدیلمی عن حدیث ابن عمر مرفوعا بلفظ صلوۃ بعمامۃ الحدیث المذکور ومن حدیث انس مرفوعا الصلوۃ فی العمامۃ تعدل بعشرۃ الاف حسنۃ اھ فلم یذکر وجھہ
موضوعہ نقل کرتا ہے جو حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے بالکل بیان نہیں کیں لہذا کسی صورت میں بھی اس سے استدلال نہیں کیا جاسکتا اھ اورامام ذہبی نے میزان میں کہا یہ باطل ہے اور خود حافظ ابن حجر نے اس روایت کے بارے میں کہا یہ روایت فضائل اعمال سے متعلق ہے اس میں اﷲ کی راہ میں جہاد کی ترغیب اور شوق دلایا گیا ہے۔ اس میں ایسی کوئی بات نہیں جسے عقل و شرع محال قرار دیتی ہو لہذا محض اس لئے اس باطل قرار دینا کہ اس کا راوی ابوعقال ہے قابل حجت نہیں ۔ اور امام احمد احادیث احکام میں تو نہیں لیکن احادیث فضائل میں تسامح سے کام لیتے ہیں ان کا یہ طریقہ معروفہ ہے اھ میری سمجھ سے باہر ہے یہی قول عمامہ والی حدیث میں کیوں نہیں کیا گیا حالانکہ یہ حدیث بھی فضائل اعمال سے متعلق ہے اور اس سے بارگاہ الہی کے ادب پر شوق دلایا گیا ہے اور اس میں کوئی بھی ایسی بات نہیں جسے شرح و عقل محال قرار دیتی ہو بلکہ اس میں کوئی راوی بھی ایسا نہیں جسے ابوعقال کی طرح موضوعات کا راوی قرار دیا گیا ہو تو اس روایت پر بطلان بلکہ موضوع ہونے کا حکم (محض اس بنا پر کہ بعض روایات کا ایسے راویوں سے ہونا جن کوحافظ ابن حجر نہیں جانتے یا فلاں فلاں نے ان کا ذکر نہیں کیا) کیسے درست ہوسکتا ہے علاوہ ازیں میرے نزدیك ابن نجار کے بعض رواۃ میں سے
حوالہ / References المقاصد الحسنہ تحت حرف الصاد المہملۃ مطبوعہ دارالکتب بیروت ص۲۶۳
#6254 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
وانما تبع شیخہ وقد علمت مافیہ وکذا حدیث انس انما فیہ ابان متروك متروك وترك الراوی لایقضی بوضع الحدیث کما بینتہ فی الھاد الکاف فی حکم الضعاف واﷲ تعالی اعلم۔
مہدی بن مہمون کے بارے میں وہم ہوا ہے کیونکہ ابو نعیم کے نزدیك عیسی بن یونس اور دیلمی کے نزدیك سفیان بن زیاد دونوں نے عباس سے انھوں نے یزید سے انھوں نے میمون بن مہران سے روایت کیا ہے جیسا کہ گزر چکا اور میمون سے مراد ابو ایوب جزری الرقی ہے جو نہایت ثقہ اور فقیہ ہے اور مسلم اور چاروں سنن کے رواۃ میں سے ہے جیسا کہ حافظ نے یہ بات تقریب میں کہی ہے بلا شبہ حافظ ابن حجر کی یہ گفتگو خاتم الحافظ سیوطی کی اس روایت کو الجامع الصغیر ( جس کے بارے میں انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ اس میں موضوع روایت ذکر نہیں کروں گا) میں نقل کرنے سے مانع نہیں رہا ان کے شاگرد رشید حافظ سخاوی کا قول کہ حدیث “ انگوٹھی کے ساتھ نماز ستر دوسری بغیر انگوٹھی والی نمازوں کے برابر ہے “ ۔ یہ موضوع ہے جیسا کہ ہمارے استاد محترم نے فرمایا اور اسی طرح وہ حدیث جس کو دیلمی نے حضرت ابن عمر کی حدیث سے مرفوعاصلوۃ بعمامہ حدیث مذکور کے الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے اور حضرت انس سے مرفوعا حدیث کے الفاظ یہ ہیں : “ عمامہ میں نماز دس ہزار نیکیوں کے برابر ہے “ اھ تو انہوں نے اسکے موضوع ہونے کی وجہ بیان نہیں کی صرف اپنے شیخ کے اتباع میں ایسا کہہ دیا ہے حالانکہ آپ اس کے محل نظر ہونے پر آگاہ ہوچکے۔ اسی طرح حدیث انس میں صرف ابان راوی متروك ہے اور ایك راوی کا متروك ہونا حدیث کے موضوع ہونے کا فیصلہ نہیں دے سکتا۔ یہ تفصیلی گفتگو میں نے “ الہاد الکاف فی حکم الضعاف “ میں کی ہے واﷲ تعالی اعلم ۔ (ت)
جاہل اگر حدیث کو محض بہوائے نفس موضوع کہے واجب التعزیرہے اور کتب معتمدہ فقہیہ کو نہ ماننا جہالت و ضلالت اور اس حدیث کے بیان کرنے والے پر لعنت کا اطلاق خود اس کے لئے سخت آفت کہ بحکم احادیث صحیح جولعنت غیر مستحق پر کی جاتی ہے کرنے والے پر پلٹ آتی ہے والعیاذ باﷲ تعالی اور مسلمانوں کے عمامے قصدا اتروا دینا اور اسے ثواب نہ جاننا قریب ہے کہ ضروریات دین کے انکار اور سنت قطعیہ متواترہ کے استخفاف کی حد تك پہنچے ایسے شخص پر فرض ہے کہ اپنی ان حرکات سے توبہ کرے اور از سرنو کلمہ اسلام پڑھے اور اپنی عورت کےساتھ تجدید نکاح کرے حدیث کہ جامع الرموز میں ہے وہ حدیث بستم مذکور کے قریب قریب ہے اور تعدیہ بقصد تحدید نہ ہو تو اسی کی نقل بامعنی ۔ یہ منیہ منیۃ المصلی نہیں بلکہ فخر الدین بدیع ابن ابی منصور عراقی استادزاہدی کی منیۃ الفقہا جس کی تلخیص قنیہ ہے واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۴۳ : ازکا سگنج محلہ ناتھو رام گلی چورامن مرسلہ محمد مصطفی ۲۶شعبان ۱۳۳۷ھ
عامل نبیل فاضل جلیل بمتابعۃ سید الانبیاء صاحب الکوثر والسلسبیل السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔ معروض خدمت ہے کہ قبل ا سکے ایك عریضہ دربارہ حصول فتوی مسئلہ ذیل روانہ کیا تھا جواب سے
#6256 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
مشرف نہیں ہوا مغموم ہوں امید کرتا ہوں کہ امر حق ظاہر کرنے میں توقف نہ فرمایئے گا اور بندہ کے استقامت و حسن خاتمہ کی واسطے بدرگاہ خدا ہو جیے گا۔ مسئلہ : پاک(جس کی طہارت میں قطع یقین حاصل ہوجائے جیسے نیا) جو تا پہن کر کوئی سی نماز نوافل یا فرائض ادا کرنا جائز ہے یا نہیں فقہ و حدیث کے مطولات کا حوالہ دیں تو بہت خوب ہے۔
الجواب :
جناب من ! وعلیك السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔ اس سے پہلے کہ کاسگنج سے یہ سوال بصورت دیگر مرسل عباداﷲ خان کا آیا اور جواب دیا گیا اب اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر جوتا بالکل غیر استعمالی ہو کہ صرف مسجد کے اندر پہنا جائے اور پنجہ اتنا سخت نہ ہو کہ سجدہ میں انگلیوں کا پیٹ زمین پر نہ بچھنے دے تو اس سے نماز میں کچھ حرج نہیں بلکہ بہتر ہے اور یہی امیر المومنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ کی سنت ہے کہ دو۲ جوتے رکھتے ایك راہ میں پہنتے اور جب کنارہ مسجد پر آتے اسے اتارکر غیر استعمالی کو پہن لیتے اوراگر استعمالی ہوتو اسے پہن کر مسجد میں جانا بے ادبی ہے اورغیر مسجد میں بھی نماز میں اتار دیا جائے اوراور اگر پنجہ اتنا سخت ہے کہ کسی انگلی کا پیٹ زمین پر نہ بچھنے دے گا تو نماز نہ ہو گی کما حققناہ فی فتاونا(جیسا کہ اس کی تحقیق ہم نے اپنے فتاوی میں کی ہے۔ ت) واﷲتعالی اعلم ۔
مسئلہ نمبر ۴۴۴ : از رام نگرضلع نینی تال عنایت اﷲ خان ڈپٹی پوسٹ ماسٹر ۲۶ ذیقعد ۱۳۱۲ھ
قبلہ و کعبہ دارین ودام ظلکم! کلمہ طیبہ شریف جب ورد کرکے پڑھا جائے تو اس میں کلمہ پر جب نام نامی حضور اقدس (صلعم)
صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا آوے درود پڑھنا چاہئے یا ایك مرتبہ جبکہ جلسہ ختم کرے بینوا توجروا۔
الجواب :
جواب مسئلہ سے پہلے ایك بہت ضروری مسئلہ معلوم کیجئے سوال میں نام پاك حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ بجائے صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم (صلعم) لکھا ہے ۔ یہ جہالت آج کل بہت جلد بازوں میں رائج ہے۔ کوئی صلعم لکھتا ہے کوئی عم کوئی ص اور یہ سب بیہودہ و مکروہ و سخت ناپسند وموجب محرومی شدید ہے اس سے بہت سخت احتراز چاہیئے اگر تحریر میں ہزار جگہ نام پاك حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم آئے ہر جگہ پورا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم لکھا جائے ہرگز ہر گز کہیں صلعم وغیرہ نہ ہو علماء نے اس سے سخت ممانعت فرمائی ہے یہاں تك کہ بعض کتابوں میں تو بہت اشد حکم لکھ دیا ہے۔ علامہ طحطاوی حاشیہ درمختار میں فرماتے ہیں :
ویکرہ الرمز بالصلوۃ والترضی بالکتابۃ بل یکتب ذلك کلہ بکمالہ وفی بعض المواضع
صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی جگہ (ص ) وغیرہ اور رضی اللہ تعالی عنہ کی جگہ (رض) لکھنا مکروہ ہے بلکہ اسے کامل طور پر
#6257 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
من التتار خانیۃ من کتب علیہ السلام بالھمزۃ والمیم یکفر لانہ تخفیف و تخفیف الانبیاء کفربلاشك ولعلہ ان صح النقل فھو مقید بقصد والافالظاھر انہ لیس بکفر وکون لازم الکفر کفرابعد تسلیم کونہ مذھبا مختارا محلہ اذاکان اللزوم بینا نعم الاحتیاط فی الاحتزار عن الایھام و الشبھۃ ۔
لکھا پڑھا جائے تاتار خانیہ میں بعض جگہ پر ہے جس نے درود و سلام ہمزہ(ء) اور میم(م) کے ساتھ لکھا اس نے کفر کیا کیونکہ یہ عمل تخفیف ہے اور انبیاء علیہم السلام کی بارگاہ میں یہ عمل بلا شبہ کفر ہے۔ اگر یہ قول صحت کے ساتھ منقول ہو تو یہ مقید ہوگا اس بات کے ساتھ کہ ایسا کرنے والا قصدا ایسا کرے ورنہ ظاہر یہ ہے کہ وہ کافر نہیں باقی لزوم کفر سے کفر اس وقت ثابت ہوگا جب اسے مذہب مختار تسلیم کیاجائے اور اس کا محل وہ ہوتا ہے جہاں لزوم بیان شدہ اور ظاہر ہو البتہ احتیاط اس میں ہے کہ ایہام اور شبہ سے احتزار کیا جائے۔ (ت)
اب جواب مسئلہ لیجئے نام پاك حضور پرنور سید ودعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مختلف جلسوں میں جتنے بار لے یا سنے ہر بار درود شریف پڑھنا واجب ہے اگر نہ پڑھے گا گنہگار ہوگا اور سخت وعیدوں میں گرفتار ہاں اس میں اختلاف ہے کہ اگرایك ہی جلسہ میں چند بار نام پاك لیا یا سنا تو ہر بار واجب ہے یا ایك بار کافی اور ہر بار مستحب ہے بہت علما قول اول کی طرف گئے ہیں ان کے نزدیك ایك جلسہ میں ہزار بار کلمہ شریف پڑھے تو ہر بار درود شریف بھی پڑھتا جائے اگر ایك بار بھی چھوڑ ا گنہگار ہوا مجتبی ودرمختار وغیرہما میں اس قول کو مختار واضح کہا۔
فی الدرالمختار اختلف فی وجوبھا علی السامع والذاکر کلما ذکر صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و المختار تکرار الوجوب کلماذکر ولو اتحد المجلس فی الاصح اھ بتلخیص ۔
دمختار میں ہے کہ اس بارے میں اختلاف ہے کہ جب بھی حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا اسم گرامی ذکر کیا جائے تو سامع اور ذاکر دونوں پر ہر بار درود و سلام عرض کرناواجب ہے یا نہیں اصح مذہب پر مختارقول یہی ہے کہ ہر بار درودوسلام واجب ہے اگر چہ مجلس ایك ہی ہو اھ خلاصۃ(ت)
دیگر علمانے بنظر آسانی امت قول دوم اختیار کیا ان کے نزدیك ایك جلسہ میں ایك بار درود ادائے واجب کے لئے کفایت کرے گا زیادہ کے ترك سے گنہگار نہ ہوگا مگر ثواب عظیم و فضل جسیم سے بیشك محروم رہا کافی وقنیہ وغیرہما میں اسی قول کی تصحیح کی۔
حوالہ / References حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار مقدمۃ الکتاب مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۶
درمختار فصل واذا اراد الشروع الخ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۷۸
#6259 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
فی ردالمحتار صححہ الزاھدی فی المجتبی لکن صحح فی الکافی وجوب الصلوۃ مرۃ فی کل مجلس کسجود التلاوۃ للحرج الا انہ یندب تکرار الصلوۃ فی المجلس الواحد بخلاف السجود وفی القنیۃ قیل یکفی المجلس مرۃ کسجدۃ التلاوۃ و بہ یفتی وقد جزم بھذا القول المحقق ابن الھمام فی زادالفقیر اھ ملتقطا۔
ردالمحتار میں ہے کہ اسے زاہدی نے المجتبی میں صحیح قرار دیا ہے لیکن کافی میں ہر مجلس میں ایك ہی دفعہ درود کے وجوب کو صحیح کہا ہے جیسا کہ سجدہ تلاوت کا حکم ہے تاکہ مشکل اور تنگی لازم نہ آئے البتہ مجلس واحد میں تکرار درودمستحب ومندوب ہے بخلاف سجدہ تلاوت کے ۔ قنیہ میں ہے ایك مجلس میں ایك ہی دفعہ درود پڑھنا کافی ہے جیسا کہ سجدہ تلاوت کا حکم ہے اور اسی پر فتوی ہے۔ ابن ہمام نے زادالفقیر میں اسی قول پر جزم کیاہے اھ ملتقطا(ت)
بہر حال مناسب یہی ہے کہ ہر بار صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کہتا جائے کہ ایسی چیز جس کے کرنے میں بالاتفاق بڑی بڑی رحمتیں برکتیں اور نہ کرنے میں بلا شبہ بڑے فضل سے محرومی اور ایك مذہب قوی پر گناہ ومعصیت عاقل کا کام نہیں کہ اسے ترك کرے وباﷲ التوفیق۔
مسئلہ نمبر ۴۴۵ : ۶ جمادی الاولی ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص وظیفہ پڑھتا ہے اور نماز نہیں پڑھتا یہ جائز ہے یا ناجائز بینوا توجروا۔
الجواب :
جو وظیفہ پڑھے اور نماز نہ پڑھے فاسق و فاجر مرتکب کبائر ہے اس کا وظیفہ اس کے منہ پر مارا جائے گا ایسوں ہی کوحدیث میں فرمایا :
کم من قارئ یقرأن والقران یلعنہ ۔ والعیاذ باﷲ تعالی۔
بہتیرے قرآن پڑھتے ہیں اور قرآن انھیں لعنت کرتا ہے۔
حوالہ / References ردالمحتار فصل واذا ارادالشروع الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۸۱
المدخل للعبدری الکلام علی جمع القرآن الخ مطبوعہ دارالکتاب العربیۃ بیروت ۱ / ۸۵
#6260 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
مسئلہ نمبر ۴۴۶ : ازملك بنگالہ ۱۹محرم الحرام ۱۳۱۱ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدہ و بصلی علی رسولہ الکریم
علمائے دین و مفتیان شرع متین کی اس بارے میں کیا رائے ہے کہ بنگالہ کے علاقے میں ایك نیا گروہ پیدا ہوا ہے جنھیں جہادو کہا جاتا ہے یہ غیر مقلدین کی ایك شاخ ہی ہے لیکن چند امور میں ان سے آگے بڑھ گئے ایك یہ کہتے ہیں کہ نماز کے بعد دعا کرنا درست نہیں بلکہ بدعت ہے یہ علم فقہ اور اصول فقہ وغیرہ کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ اسے برا بھلا کہتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کبھی دعا نہیں کی اگر قرآن شریف وصحاح ستہ کے حوالے سے اس مسئلہ کے استخراج پر دلائل فراہم فرمائیں تو بہت خوب ہوگا۔ والسلام چہ می فرمایند علمائے دین و مفتیان شرح متین اندریں مسئلہ کہ درملك بنگالہ یك گروہ نوپیدا شدہ کہ آں راجہاں دومی گویندوایشاں یك شاخ غیر مقلدین اند لیکن ازاں طائفہ درچندامور زائد اندیکے اینکہ می گویند کہ بعد نماز مناجات خواستین درست نیست بلکہ نسبت بدعتش می کنند علم فقہ و اصول وغیرہ ایں قوم تسلیم نمی کنند بلکہ دشنام می دہند وفحش ناسزامی گویندومی کہ سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم گاہے دعا نہ کردہ پس اگر ایشاں ازقرآن شریف و صحاح ستہ استخراج مسائل کردہ فرستند نہایت خوب خواہد شد والسلام۔
الجواب :
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
اے اﷲ! حمد تیری ہے اے عظیم! اپنے کریم نبی پر رحمتیں نازل فرما ان کی صاحب شرف آل و اصحاب اور دین قویم کے مجتہدین پر بھی آمین ۔ الحمد ﷲ اگر اس پر تفصیلی گفتگو کی جائے تو اﷲ تعالی کے فضل وکرم سے بات بڑی طویل ہوگی بہرحال اس سلسلہ میں یہاں ایك آیت اور سات احادیث مع سند ذکر کی جائیں گی آیۃ اﷲ تعالی کا ارشاد ہے : پس جب تم نماز سے فارغ ہو تو دعا میں محنت کرو اپنے ہی
حمدالك اللھم یاعظیم صل علی نبیك الکریم والہ وصحبہ اولی التکریم و مجتھدی دینہ القویم امین
الحمد ﷲسلسلہ سخن دراست و در فیض الہی باز خامہ اگر بتفصیل گراید ہماناں نامہ گرد آدردن باید لا جرم ایك آیت وہفت حدیث بسند ومی نماید آیہ قال اﷲ عزوجل
فاذا فرغت فانصب(۷) و الى ربك فارغب(۸) ۔
قول ا صح در تفسیر آیۃ کریمہ قول سلطان المفسرین بن عم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
حوالہ / References القرآن ۹۴ / ۸
#6261 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما ست کہ فراغ فراغ از نماز و نصب نصب دردعاست یعنی چوں ازنماز فارغ شوی در دعا جہد و مشقت نما و بسوئے پروردگار خودبزاری و تضرع گرا فی تفسیر الجلالین فاذا فرغت من الصلوۃ فانصب اتعب فی الدعاء
و الى ربك فارغب(۸) ۔ ہمدرد خطبہ ادست ھذا فی تکملۃ الامام جلال الدین المحلی علی نمطہ من الاعتماد علی ارجع الاقوال و ترك التطویل بذکرالاقوال غیر مرضیۃ ۔ اھ ملخصا ۔ علامہ زرقانی درشرح مواہب لدنیہ فرماید ھو الصحیح فقد اقتصرعلیہ الجلال وقد التزم الاقتصار علی ارجح الاقوال ۔
حدیث اول : مسلم ابوداؤد وترمذی ونسائی و ابن ماجہ و احمدودارمی و بزار و طبرانی و ابن السنی ہر ہمہ ازثوبان رضی اللہ تعالی عنہ مولائے اقدس سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم روایت کنند قال کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا انصرف من صلاتہ استغفر ثلاثا وقال اللھم انت السلام تبارکت
رب کی طرف رغبت کرو۔ اس آیۃ کریمہ کی تفسیر میں راجح قول حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے چچا زاد حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کا ہے کہ فراغ فراغ نماز و نصب نصب در دعاست یعنی جب تم نماز سے فارغ ہوجاؤ تو دعا میں خوب محنت کرو اور بارگاہ خداوندی میں آہ و زاری کے ساتھ رغبت کرو۔ جلالین کے خطبہ میں یہ بھی ہے کہ جلال الدین محلی کی تفسیر کا تکملہ انہی کے طریقہ پر ہے اور ان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ مختار و راجح پر اعتماد کرتے ہیں اور ایسے اقوال کا ذکر جو مختار نہ ہوں ترك کرتے ہیں اھ تلخیصا ۔ علامہ زرقانی نے شرح مواہب میں فرمایا یہی صحیح ہے کیونکہ اس پرجلال الدین نے اقتصار کیا اور انہوں نے مختار و راجح قول کے ذکر کا التزام کر رکھا ہے۔ (ت)
پہلی حدیث : ۱ مسلم ۲ابوداؤد ۳ترمذی ۴نسائی ۵ابن ماجہ ۶احمد ۷ دارمی ۸براز ۹طبرانی اور ۱۰ابن السنی ان تمام نے حضرت ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ خادم رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ جب حضور سید المرسلین صلوات اﷲ وسلامہ علیہم اجمعین نماز سے رخ انور پھیرتے (سلام کہتے) تو تین دفعہ اﷲ تعالی سے استغفار کرتے اور یہ
حوالہ / References القرآن ۹۴ / ۸
تفسیر جلالین خطبہ کتاب مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی حصہ اول ص۲
شرح المواہب اللدنیہ للزرقانی المقصد الثانی کنیۃ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم دارالمعرفۃ بیروت ۳ / ۱۷۱
#6262 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
یا ذاالجلال ولاکرام یعنی چوں سید المرسلین صلوات اﷲ وسلامہ علیہم اجمعین از نماز برگشتے وسلام دادے سہ بار ازحق سبحانہ وتعالی مغفرت خواستے وایں دعا گفتے خدایا توئی سلام (کہ ہیچ عیب و نقصے راگرد سراپردہ عزوجلال تو بازنیست) وازتست سلام (کہ سلامت ما بندگان ازہمہ آفات و بلیات ہمیں بقدرت و ارادت و لطف رحمت تست) برکت و عظمت مراتست اے صاحب بزرگی و بزرگی دہے یا رب مگر ایں حدیث در صحاح مشہور و متداول نیست یا از خداطلب مغفرت و سوال سلامت دعا نباشد آرے جہل بلائیست نہ سہل وچوں مرکب شود دوائے ندارد والعیاذ باﷲ تبارك وتعالی۔
حدیث دوم و سوم و چہارم : بخاری ۲مسلم ۳ابو داؤد ۴نسائی ۵ابوبکر ابن السنی اور ۶ابوالقاسم طبرانی از مغیرہ ابن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ و بزار و طبرانی از عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما و نیز بزار ازجابر بن عبداﷲ انصاری رضی اللہ تعالی عنہما روایت کنند وھذا حدیث المغیرۃ واللفظ للنسائی قال کتب معویۃ الی مغیرۃ بن شعبۃ اخبرنی بشیئ سمعتہ من رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذاقضی الصلاۃ قال لا الہ دعا کرتے اللھم انت السلام ومنك السلام تبارکت یا ذاالجلال والاکرام اے اﷲ! تو سلام ہے (یعنی تیری ذات جل مجدہ کی طرف کوئی عیب یا نقص راہ نہیں پاسکتا) اور تیری طرف سے سلام (کہ ہم بندوں کی تمام مصیبتوں اور بلیات سے سلامتی تیری قدرت ارادے مہربانی اور کرم سے ہے) برکت وعظمت تیرے ہی لئے ہے اے صاحب بزرگی اور بزرگی عطافرمانے والے یارب۔ کیا یہ حدیث صحاح میں مشہور و متداول نہیں یا مغفرت کی طلب اور سلامتی کا سوال دعا نہیں ہوتا ۔ جہالت ایسی مرض ہے کہ اس کا علاج آسان نہیں اور جب یہ مرکب ہو جائے تو اس کا کوئی علاج ہی نہیں والعیاذ باﷲ تبرك و تعالی۔ (ت)
حدیث دوسری تیسری اور چوتھی : ۱بخاری ۲مسلم ۳ابو داؤد ۴نسائی ۵ابوبکر ابن السنی اور ۶ابوالقاسم طبرانی نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ سے اور بزار و طبرانی نے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے نیز بزار نے حضرت جابر بن عبداﷲانصاری رضی اللہ تعالی عنہما سے بھی روایت کیا ہے یہ حدیث مغیرہ کی اور الفاظ نسائی کے ہیں کہ جب حضرت امیر معاویہ نے مغیرہ بن شعبہ کو لکھا کہ مجھے اس بات سے آگاہ کرو جو تم نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے سنی ہو انھوں نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
حوالہ / References جامع الترمذی باب مایقول اذاسلم مطبوعہ امین کمپنی دہلی ۱ / ۴۰صحیح مسلم باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۱۸
#6263 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
کا یہ معمول مبارك تھا کہ جب نماز سے فارغ ہوتے تو یہ پڑھتے لا الہ الا اﷲ وحدہ لا شریك لہ لہ الملك ولہ الحمد وھوعلی کل شئی قدیر اللھم لامانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولاینفع ذاالجدمنك الجد(اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہا و یکتا ہے اسکا کوئی شریك نہیں ملك و بادشاہی اور حمد اسی کے لئے ہے اور وہ ہر شئی پر قادر ہے اے اﷲ! جو تو عطا کرے اسے کوئی روك نہیں سکتا جسے تو روك لے اسے کوئی دے نہیں سکتا کسی کا بخت ودولت تیرے قہر و غضب سے اسے نفع نہیں دے سکتا اللھم لا مانع لما اعطیت الخ یہ کلمات دعا نہیں تو کیا ہیں بلکہ لہ الحمد خود بہترین دعا ہے ۔ ترمذی نسائی ابن حبان اور حاکم نے اول بطور تحسین اور آخری بطور تصحیح حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا کہ سید عالم صلی اللہ
تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا سب سے افضل ذکر لا الہ الااﷲ ہے اور سب سے افضل دعاالحمدﷲ کہنا ہے ۔ (ت)
پانچویں حدیث : سنن نسائی میں عطاء بن مروان سے ان کے والد گرامی کے حوالے سے مروی ہے کہ حضرت کعب احبار نے ابومروان کے سامنے قسم اٹھائی
#6264 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
الا اﷲ وحدہ لا شریك لہ لہ الملك ولہ الحمد وھو علی کل شیئ قدیر اللھم لا مانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذاالجد منك الجد ۔
یعنی امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ مر مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ را نوشت کہ مہراآگہی دہ بچیزے باشی مغیرہ گفت رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم چوں نماز ختم نمودے چناں فرمودے ہیچکس سزائے پرستش نیست جز خدائے یکتائے بے ہمتا مراد راست پادشاہی و مراد راست ستائش واوبر ہر چہ کہ خواہد تواناست خدایا ہیچ بازدارندہ نیست چیزے را کہ تو دہی وہیچ دہندہ نیست چیزے را کہ تو بازداری وسود ندہد خداوند بخت ودولت رااز قہر و عذاب توآں بخت و دولتش اللھم لامانع لما اعطیت الخ اگر دعا نیست آخر چیست بلکہ لہ الحمد خودبہترین دعاست ترمذی و نسائی و ابن حبان و حاکم اول بتحسین و آخر بتصحیح از جابر بن عبداﷲ رضی اللہ تعالی عنہما آوردند کہ سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرمودہ افضل ذکر لا الہ الا اﷲ و افضل الدعاء الحمد ﷲ ۔ بہترین ذکر لا الہ الا اﷲ و بہترین دعا الحمدﷲ گفتن ست۔ حدیث پنجم : در سنن نسائی از عطاء ابن ابی مروان از پدرش مروی ست ان کعبا حلف باﷲ الذی فلق البحر لموسی انالنجد فی التوراۃ ان داؤد نبی اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان اذا انصرف من صلاتہ قال اللھم اصلح لی دینی الذی جعلتہ لی عصمۃ واصلح لی دنیای التی جعلت فیھا معاشی اللھم انی اعوذ برضاك من سخطك واعوذیعنی بعفوك من نقمتك واعوذبك منك لا مانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذاالجد منك الجد قال وحدثنی کعب ان صھیبا حدثہ ان محمدا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یقولھن عند انصرافہ من صلوتہ
یعنی کعب! احبار پیش ابی مروان بحلف گفت کہ سوگند بخدا ئیکہ دریارا بہر موسی علیہ الصلوۃ والسلام شگافت ہر آئینہ ما بتورایت مقدس می یا بیم کہ داؤد نبی اﷲ علیہ الصلوۃ والسلام چوں ازنماز برگشتے ایں دعا کردے الہی بیارا بہرمن دین مرا او راہ پناہ من کردہ و بیارا بہر من دنیائے مراکہ دروسامان زندگی من نہادہ خدا یا پناہ می برم بخوشنودی تواز خشم تو و پناہ مے برم (واینجا کلمہ گفت کہ معنیش چنین باشد) بہ درگزر شتن تواز سخت گرفتن تو و پناہ می برم بتواز تو ہیچ باز دراندہ نیست دادہ تراونہ دہندہ باز داشتہ وسود نکند بختور را ازتو بخت اوابومروان گوید کعب بمن حدیث گفت کہ صہیب رضی اللہ تعالی عنہ او را تحدیث کردو خبرداد کہ محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نیز ایں دعا برگشتن ازنماز مے کرد۔
اس اﷲ کی قسم جس نے حضرت موسی علیہ السلام کے لئے سمندر کو پھاڑ دیا کہ یقینا ہم نے تورات مقدس میں یہ تحریر پائی ہے کہ اﷲ کے نبی حضرت داؤد علیہ الصلوۃ والسلام جب نماز سے فارغ ہوتے تو یہ دعا پڑھتے تھے۔ اللھم اصلح لی دینی الذی جعلتہ لی عصمۃ واصلح لی دنیای التی جعلت فیھا معاشی اللھم انی اعوذ برضاك من سخطك و اعوذ یعنی بعفوك من نقمتك و اعوذبك منك لامانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذاالجد منك الجد (اے اﷲ! میرے دین کو میرے لئے بہتر بنا جسے تونے میرے لئے محافظ بنایا ہے اور میرے لئے اس دنیا کو بہتر فرما جس کو تو نے میری معاش کا ذریعہ بنایا ہے اے اﷲ! میں تیری رضا کے ساتھ تیرے غضب سے پناہ مانگتا ہوں اور میں (اس جگہ جو کلمہ کہا ہے اس کا معنی یہ بنتا ہے) اے اﷲ! تیری معافی کے ساتھ تیری سخت گرفت سے پناہ مانگتا ہوں اور میں تیری ذات کے ساتھ تجھ سے پناہ مانگتا ہوں تیری عطا کو کوئی روك نہیں سکتا اورجسے تو روکے اسے کوئی عطا نہیں کر سکتا اور کسی بختاور کو اسکا بخت تجھ سے نفع نہیں دے سکتا اور پھر حضرت ابو مروان نے کہا کعب نے مجھے حدیث بیان کہ صہیب نے ان کو خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بھی نماز سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔ (ت)
حوالہ / References سنن نسائی نوع آخر من القول عند انقضاء الصلوٰۃ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۱۵۷
جامع الترمذی باب ماجاء ان دعوۃ المسلم مستجابۃ مطبوعہ امین کمپنی دہلی ۲ / ۱۷۴
سنن النسائی نوع آخر من الدعاء عندالانصراف من الصلوٰۃ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ ۱ / ۱۵۸
#6265 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
حدیث ششم : درصحیح مسلم از براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہما روایت است گفت کنا اذا صلینا خلف رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم احببنا ان نکون عن یمینہ یقبل علینا بوجہہ قال فسمعتہ یقول رب قنی عذابك یوم تبعث او تجمع عبادک ۔ بو دیم کہ چوں پس نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نماز می گزاردیم دوست می دا شتیم کہ از دست راست او باشیم تاپس از سلام دادن روئے مبارك بسوئے ماکند پس شنیدم اور راکہ مے گفت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اے پروردگار من نگاہدار مراازعذاب خودت روزیکہ برانگیزی یا فرمودگرد آری بندگان خودرا۔
حدیث ہفتم : ۱بزار نے مسند ۲طبرانی نے معجم اوسط ۳ابن السنی کتاب عمل الیوم واللیلۃ و ۴خطیب بغدادی درتاریخ از انس رضی اللہ تعالی عنہ روایت دارند کان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا صلی وفرغ من صلوتہ مسح بیمینہ علی رأسہ وقال بسم اﷲ الذی لا الہ الاھو الرحمن الرحیم اللھم اذھب عنی الھم والحزن ۔ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم چوں از نماز فارغ شدے دست راست بر سر مبارك خودش سودے وایں دعا نمودے
چھٹی حدیث : صحیح مسلم میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ جب ہم نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہمیں آپ کے دائیں طرف کھڑا ہونا زیادہ محبوب ہوتا تھا تاکہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سلام کے بعد چہرہ انور ہماری طرف پھیریں کہا پھر میں نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو یہ کلمات کہتے ہوئے سنا رب قنی عذابك یوم تبعث او تجمع عبادك (اے میرے رب! مجھے اپنے اس دن کے عذاب سے محفوظ فرما جس دن تو اپنے تمام بندوں کو اٹھائے گا یا جمع کرے گا)۔ (ت)
ساتویں حدیث : ۱بزار نے مسند ۲طبرانی نے معجم اوسط ۳ابن السنی کتاب عمل الیوم واللیلۃ و ۴خطیب بغدادی نے تاریخ میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے سر پر پھیرتے اور پڑھتے بسم اﷲ الذی لا الہ الا ھو الرحمن الرحیم اللھم اذھب عنی الھم والحزن(اﷲ کے نام سے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ رحمن و رحیم ہے اے اﷲ مجھ سے غم و حزن دور فرما دے) ۔
حوالہ / References الصحیح المسلم باب جواز الانصراف من الصلوٰۃ عن الیمین والشمال مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۴۷
تاریخ بغداد للخطیب باب الکاف عن اسمہ کثیر حدیث ۶۹۵۳ دارالکتاب العربیۃ بیروت ۱۲ / ۴۸۰
#6266 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
بنام خدائیکہ جزا و ہیچکس سزائے پرستیدن نیست بخشائندہ مہربان خدایا پریشانی و غم از من دو رکن
طرفہ تر آنکہ ایں ہوشمندان را از قول امام وقت و مجتہد العصر و صاحب الزمان خودشاں خبرے نیست تا بدرك احادیث و ادراك دلائل چہ رسد مولوی عبدالحی صاحب لکھنوی نہ ہمیں در ثبوت دعا بلکہ در اثبات رفع یدین از برائے دعا بعد از نماز فتوائے نوشت امام ایناں میاں نذیر حسین دہلوی کہ بر قولش ایمان آوردہ ائمہ دین خدا را بجوئے نشمر ند و فقہ و فقہارا دشنام دہند تصدیق و تائید اوکر حدثیے مجیب لکھنوی اوردہ بو حدیثے دگر ایں کس افزود فتوی اینست۔ چہ می فرمایند علما ئے دین اندریں مسئلہ کہ رفع یدین در دعا بعد نماز چنانکہ معمول ائمہ دیاراست ہر چند فقہا مستحسن می نو سند و احادیث در مطلق رفع یدین در دعا نیز وارد دریں خصوص ہم حدیثے واردست یا نہ بینوا توجروا۔ ھو المصوب دریں خصوص نیز حدیثے واردست حافظ ابوبکر احمد بن محمد بن اسحق ابن السنی درکتاب عمل الیوم واللیلہ مے نویسند حدثنی احمد بن الحسن حدثنا ابو یعقوب اسحاق بن خالد بن یزید البالسی حدثنا عبدالعزیز بن عبدالرحمن القرشی عن خصیف عن انس عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ قال مامن عبدبسط کفیہ فی دبر کل صلوۃ ثم یقول اللھم الھی والہ ابراہیم و اسحق و یعقوب والہ جبرئیل ومیکائیل و اسرافیل علیہم السلام اسئلك ان تستجیب اور طرفہ تر یہ کہ ان عقلمندوں کو اپنے امام وقت اپنے دور اور زمانے کے مجتہد کی
خبر تك نہیں چہ جائیکہ یہ
احادیث اور دلائل سے آگاہ ہوسکیں مولوی عبدالحی لکھنوی نے صرف ثبوت دعا ہی نہیں بلکہ نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے پر فتوی جاری کیا ان کے امام میاں نذیر حسین دہلوی (جن کے قول پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ دین الہی کے ائمہ کو کسی شمار میں نہیں لاتا فقہ اور فقہا کو گالیاں دیتا ہے) انھوں نے فتوی میں مجیب لکھنوی کی حدیث لاکر لکھنوی کی تائید و تصدیق کی ہے دوسری حدیث کا اس نے خود اضافہ کیا ہے وہ فتوی یہ ہے کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز کے بعد دعا کے لئے ہاتھ اٹھا نا جس کا اس علاقے کے ائمہ میں معمول ہے کیسا ہے اگر چہ فقہا نے اسے مستحسن لکھا اور مطلق ہاتھ اٹھانے اور دعا میں روایات موجود ہیں کیا اس عمل خاص (رفع یدین ) پر بھی کوئی حدیث ہے جواب عنایت کرو اجر پاؤ گے وہی صواب کی توفیق دینے والا ہے ۔ خاص اس بارے میں بھی حدیث موجود ہے۔ حافظ ابوبکر احمد بن محمد بن اسحق ابن السنی نے اپنی کتاب عمل الیوم واللیلہ میں لکھا ہے مجھے احمد بن حسن نے انھیں ابو یعقوب اسحاق بن خالد بن یزید البالسی نے انھیں عبدالعزیز بن عبدالرحمن القرشی نے خصیف سے انھوں نےحضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے بھی ہر نماز کے بعد دعاکیلئے ہاتھ پھیلائے اور عرض کیا اے اﷲ میرے معبود! اے ابراہیم اسحق
#6267 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
دعوتی فانی مضطر وتعصمنی فی دینی فانی مبتلی و تنالی برحمتك فانی مذنب وتتقی عن الفقر فانی متمسکن الاکان حقا علی اﷲ عزوجل ان لا یردیدیہ خائبتین واﷲ تعالی اعلم
image
حاصل ایں حدیث کہ حدیث ہشتم : باشد آنست کہ حضور رحمت عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم امت را دعائے می آموزدکہ ہر کہ بعد ہر نماز ہر دودست خود برداشتہ ایں دعاکند بر حضرت جل وعلا حق باشد دستہائے او را نومید باز نہ گرداند بازتصدیق امام الطائفہ خود بینیدمی سراید الجواب صحیح و یؤیدہ مارواہ ابوبکر بن ابی شیبۃ فی المصنف عن الاسود العامری عن ابیہ قال صلیت مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الفجر فلما سلم انصرف ورفع یدیہ ودعا الحدیث فثبت بعد الصلوۃ المفروضۃ رفع الیدین فی الدعاء عن السیدالانبیا و اسوۃ الاتقیاء صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کما لا یخفی عن العلماء الاذکیا
image
لیکن ایں حدیث نہم : کہ ابو بکر بن ابی شیبہ در اور یعقوب کے معبود! اے جبرائیل میکائیل اور اسرافیل (علیہم السلام) کے معبود! میری عرض ہےکہ میری دعا قبول فرما کہ پریشان ہوں میری دین میں حفاظت فرما میں ابتلاء میں ہوں مجھے اپنی رحمت سے نواز میں گنہگار ہوں مجھ سے میرے فقر کو دور فرما میں مسکین ہوں ۔ تو اﷲ تعالی نے اپنے ذمہ کرم لیا ہے کہ اسکے ہاتھ خالی نہیں لوٹا ئیگا وﷲ تعالی اعلم ۔
image
آٹھویں حدیث : آٹھویں حدیث کا حاصل یہ ہے کہ حضور رحمت عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے امت کو عملا دعا کی تعلیم دی ہے اور فرمایا “ جو شخص اس طرح ہاتھ باندھ کر بعد نماز دعا کرے گا اﷲ تعالی جل و علانے اپنے ذمہ کرم میں لیا ہے کہ اسے ناامید نہیں لوٹا ئے گا “ ۔ پھر اپنے امام کی تصدیق ہی دیکھ لیتے تو بات واضح ہوجاتی وہ کہتے ہیں یہ جواب صحیح ہے اور اس کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے۔ _______جسے ابو بکر بن ابی شیبہ نے مصنف میں اسود عامری سے اور انہوں نے اپنے والد گرامی رضی اللہ تعالی عنہ سے بیان کیا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ فجر کی نماز ادا کی جب آپ نے سلام
حوالہ / References کتاب عمل الیوم واللیلۃ باب مایقول فی دبر الصلوٰۃ مطبو عہ دائرۃ المعارف العثمانیہ حیدرآباد دکن ۱ / ۳۸
مصنف ابن ابی شیبہ من کان یستحب اذاسلم ان یقوم او ینحرف الخ مطبوعہ ادارۃ القرآن و العلوم الاسلامیہ کراچی ۱ / ۳۰۲
نوٹ : اس حوالے کے لئے بڑی کوشش کی ہے لیکن جو حوالہ ملا ہے اس کے الفاظ اتنے ہیں کہ صلیت مع رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم الفجر فلما سلم انحرف۔ یہاں پر “ و رفع یدیہ ودعا “ کے الفاظ نہیں ۔ نذیر احمد سعیدی۔
#6268 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
مصنف ازا سود عامری از پدراو رضی اللہ تعالی عنہ روایت کردہ است کہ من ماحضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نماز فجر گزا ردم چوں سلام دادبرگشت وہر دو دست پاك برداشتہ دعا فرمود امام ایناں گوید کہ پس خوداز سید الانبیاء صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بعد نماز فریضہ دست بہر دعا برداشتن بثبوت پیوست چنانکہ بر علمائے اذکیا پوشیدہ نیست من میگویم مگر مجتہدین اغبیا شمار ادر ماں چیست الحمدﷲ کفی اﷲ اھل السنۃ القتال ہفت حدیث راوعدہ کردم و بجا آور دیم کہ ہفت از افضل اعداد بود حالا بتقریب ذکر ایں فتوی درحدیث دیگر مذکور شدمی خواہم کہ حدیث دگر خوانیم وعددبہ تلك عشر کاملۃ رسانیم وباﷲ التوفیق۔
حدیث دہم : امام احمد در مسند و نسائی در مجتبی و ابن حبان در صحیح از حارث بن مسلم و ابوداؤد در سنن از پدرش مسلم بن حارث رضی اللہ تعالی عنہ وھوالصواب کما افاد الحافظ المنذری فی الترغیب روایت کنند سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مراو رافرمود اذا صلیت الصبح فقل قبل ان تتکلم احدا من الناس اللھم اجرنی من النار سبع مرات فانك ان مت من یومك ذلك کتب اﷲ لك جوارا من النار واذا صلیت المغرب فقل قبل ان تکلم احدا من الناس اللھم اجرنی من النار کہا رخ انورپھیرا ہاتھ اٹھائے اور دعا کی (الحدیث) اس حدیث کے متعلق ان کا امام کہتا ہے کہ اس سے فرض نماز کے بعد دعا میں ہاتھ اٹھانا خود سید الانبیاء اسوہ الاتقیا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ثابت ہے جیسا کہ علما ء اذکیا پر مخفی نہیں سید محمد نذیر حسین۔ میں کہتا ہوں مگر تمھارے مجتہدوں کی بیماری کا علاج کیا ہو سکتا ہے ! تمام تعریف اﷲ تعالی کے لئے جو اہل سنت کو لڑائی کے لئے کافی ہے میں نے سات احادیث کا وعدہ کیا تھا جو میں نے پورا کردیا اس لئے کہ سات کا عدد افضل اعداد میں سے ہے اور مذکورہ فتوی کے حوالے سے دو احادیث کا مزید ذکر آگیا اب میں چاہوں گا کہ ایك اور حدیث کا ذکر کردوں تاکہ اس ساتھ “ تلك عشرۃ کاملۃ “ کا عدد مکمل ہوجائے وباﷲ التوفیق۔ (ت)
دسویں حدیث : امام احمد نے مسند نسائی نے مجتبی ابن حبان صحیح میں حارث بن مسلم سے ابو داؤد نے سنن میں اس کے والد حارث بن مسلم رضی اللہ تعالی عنہ سے (اور یہی صواب ہے جیسا کہ حافظ منذری نے ترغیب میں ذکر کیا ہے) روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ان سے فرمایا “ جب تم فجر کی نماز ادا کرلو تو لوگوں سے ہمکلام ہونے سے پہلے سات۷ مرتبہ یہ دعا پڑھو اللھم اجرنی من النار (اے اﷲ! مجھے دوزخ کی آگ سے آزاد فرما) اب اگر تو اس دن فوت ہو گیا تو اﷲ تعالی تجھے جہنم سے آزادی عطافرمائے گا اور جب مغرب کی
#6269 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
سبع مرات فانك ان مت لیلتك کتب اﷲ لك جوارا من النار چوں نمازبا مداد اد اکنی پیش ازآنکہ با کسے سخن گوئی ہفت بارایں دعا کن خدا یا مرا از دوزخ پناہ دہ کہ اگرآں روز میری حق جل وعلا برائے تو پناہ از دوزخ نویسد وچوں نماز شام گزاری ہمچناں کن اگرآں شب میری ہمچناں شود اللھم اجرنا من النار برحمتك یا عزیز یاغفار وصلی اﷲ تعالی علی نبیہ المختار والہ الاطھار وبارك وسلم ۔ واﷲ سبحنہ و تعالی اعلم ۔
نماز پڑھ لو تو لوگوں سے گفتگو سے پہلے سات دفعہ یہ دعا پڑھ لو اللھم اجرنی من النار(اے اﷲ!مجھے جہنم کی آگ سے بچالے ) اگر اس رات تجھے موت آگئی تو اﷲ تعالی تجھے جہنم سے آزادی عطا فرمائے گاــ “ اے اﷲ! ہمیں بھی اپنی رحمت سے جہنم کے عذاب سے آزاد فرما یا عزیز یا غفار وصلی اﷲ تعالی علی نبیہ المختار والہ الاطھار وبارك وسلم ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۴۷ : از ندی پار بتی علاقہ ریاست گوالیار گوتاباور ریلوے ڈاك خانہ ندی مذکور مرسلہ سید کرامت علی صاحب محرر منشی محمدامین صاحب ٹھیکیدار ریلوے مذکور ۴رمضان المبارك ۱۳۲۵ھ
بخدمت فیض درجت مولینا و مرشد نا مولوی احمد رضاخان صاحب دام اقبالہ السلام علیك واضح رائے شریف ہو کہ بوجہ چند ضروریات کے آپ کو تکلیف دیتا ہوں کہ بنظر توجہ بزرگانہ جواب سے معزز فرمایا جاؤں ۔ وظیفہ یا درود شریف بلند پڑھنا درست ہے یا نہیں ان معاملات میں کچھ شبہ ہے اور کچھ دلیل بھی ہوئی ہے لہذا دریافت کی ضرورت ہوئی۔
الجواب :
مکرمی! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ و برکاتہ ۔ درود شریف خواہ کوئی وظیفہ بآواز نہ پڑھا جائے جبکہ اس کے باعث کسی نمازی یا سوتے مریض کی ایذا ہو یا ریا آنے کا اندیشہ اور اگر کوئی محذورنہ موجود ہو نہ مظنون تو عندالتحقیق کوئی حرج نہیں تاہم اخفا افضل ہے لما فی الحدیث خیر الذکر الخفی (جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ ذکر خفی بہتر ہے۔ ت) واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر۴۴۸ : از میرٹھ دفتر طلسمی پریس مرسلہ مولوی محمد حسین صاحب تاجر طلسمی پریس ۱۳ رمضان ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ادھر کے لوگ صبح اورعصر میں بعد سلام اول تسبیحات پڑھ کر دعا مانگتے اور وہاں بعد سلام فورا دعا ان میں کون سا طریقہ سنت ہے اور کیا ثبوت ہے
الجواب :
نماز کے بعد دعا ثابت ہے اور تسبیح حضرت بتول زہرا رضی اللہ تعالی عنہا بھی صحیح حدیثوں میں آئی ہے۔
حوالہ / References سنن ابو داؤد باب مایقول اذ اصبح مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۳۳۷ ، الترغیب والترہیب فی اذکار الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۰۴
مسند احمد بن حنبل از مسند سعد بن ابی وقاص مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۱۷۲-۱۸۰-۱۸۷
#6270 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
صبح اور عصر کے بعد سنتیں نہیں ان کے بعد ذکر طویل کا موقع ہے مگر مسلمانوں میں رسم یہ پڑ گئی ہے اور ضرور محمود ہے کہ بعد سلام امام کے ساتھ دعا مانگتے ہیں اور اگر وہ دعا میں دیر کرے منتظر رہتے ہیں ان کے ساتھ دعا مانگنے کے بعد متفرق ہوتے ہیں ا س حالت میں تسبیحات کی تقدیم اگر خوب تحقیق ثابت ہو کہ ان میں کسی ایك فرد پر بھی ثقیل نہ ہوگی تو کچھ حرج نہیں ورنہ یہی بہتر ہے کہ خفیف دعا مانگ کر فارغ کردے پھر جس کے جی میں آئے تسبیحات
میں شامل رہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۴۴۹ : از راموچکما کوں ضلع چٹاگانگ مدرسہ عزیزیہ مرسلہ سید مفیض الرحمان ۱۰ جمادی الاخری ۱۳۲۶ھ
درود شریف بالجہر پڑھنا جائز ہے یا نہیں بر تقدیر ثانی مطلقا ناجائز ہے یا جواز مع الکراہت اور کراہت تحریمی ہے یا تنزیہی
الجواب :
درود شریف ذکر ہے ذکر بالجہر جائز ہے جبکہ نہ ریاء ہو نہ کسی نمازی یا مریض یا سوتے کی ایذا نہ کسی اور مصلحت شرعیہ کا خلاف یونہی درود شریف جہرا جائز و مستحب ہے جس کے جواز پر دلیل اجماع کہ قرأت حدیث و ذکر نام اقدس میں سلفا خلفا تمام ائمہ و علماء و مسلمین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اسی آوز سے کہتے ہیں جتنی آواز سے قرأت حدیث وکلام کر رہے ہیں اور یہ جہر ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر۴۵۰ : از بریلی محلہ بہاری پور جناب نواب مولوی سلطان احمد خان صاحب ۴ صفر المظفر ۱۳۳۰ھ
جس فرض کے بعد سنت ہے اس فرض کے بعد مناجات کرنا درست ہے یا نہیں یا بغیر مناجات کے سنت ادا کرکے یا مختصر مناجات کے بعد سنت شروع کرے دلیل حدیث یا فقہ کی کتاب سے مع عبارت ہونی چاہئے مع نشان باب و نام کتاب۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
جائز و درست تو مطلقا ہے مگر فصل طویل مکروہ تنزیہی و خلاف اولی ہے اور فصل قلیل میں اصلا حرج نہیں درمختار فصل صفۃ الصلوۃ میں ہے :
یکرہ تاخیر السنۃ الابقدر اللھم انت السلام الخ وقال الحلوانی لاباس بالفصل
سنتوں کا مؤخر کرنا مکروہ ہے مگر اللھم انت اسلام الخ کی مقدار۔ حلوانی نے کہا اوراد اور
#6271 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
بالا وراد واختارہ الکمال قال الحلبی ان ارید بالکراھۃ التنزیھیۃ ارتفع الخلاف قلت وفی حفظی حملہ علی القلیلۃ ۔
دعاؤں کی وجہ سے فصل(وقفہ) میں کوئی حرج نہیں کمال نے اسے مختار قرار دیا ہے۔ حلبی نے کہا کہ اگر کراہت سے مراد تنزیہی ہو تواختلاف ہی ختم ہوجاتا ہے۔ میں کہتا ہوں مجھے یاد آتا ہے کہ حلوانی نے اسے اوراد قلیلہ پر محمول کیا ہے۔ (ت)
فتح القدیر میں ہے :
قول الحلوانی لاباس الخ والمشھور فی ھذہ العبارۃ کون خلافہ اولی فکان معناھا ان الاولی ان لا یقرأ ای الاوراد قبل السنۃ ولو فعل لا باس اھ مختصرا نقلہ الشامی ثم قال وتبعہ علی ذلك تلمیذہ فی الحلیۃ وقال فتحمل الکراھۃ فی قول البقالی علی التنزیھیۃ لعدم دلیل التحریمیۃ حتی لوصلاھا بعد الاورادتقع سنۃ مؤادۃ لکن لافی وقتھا المسنون ۔
حلوانی کا قول لا باس الخ(دعاؤں کی وجہ سے فصل (وقفہ) میں کوئی حرج نہیں ) اس عبارت میں مشہور ہے کہ اس کا خلاف اولی ہے اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ سنت سے پہلے (اوراد کا) نہ پڑھنا اولی ہے اگر کسی نے ایسا کرلیا تو اس میں حرج نہیں اھ اختصارا ۔ شامی نے اس کو نقل کرکے اس کے بعد فرمایا حلیہ میں ان کے شاگرد نے ان کی اتباع کی اور کہا مکروہ تحریمی پر دلیل نہ ہونے کی وجہ سے بقالی کے قول میں کراہت کو کراہت تنزیہی پرمحمول کیا جائے گا۔ حتی کہ اگر کسی شخص نے اوراد کے بعد سنتیں ادا کیں تو وہ ادا ہی ہونگی البتہ وقت مسنون میں ادا نہیں ہوئیں (ت)
ردالمحتار میں ہے :
مسلم والترمذی عن عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنھا کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لایقعد الابمقدر ارما یقول اللھم انت السلام الخ قال وقول عائشۃ بمقدار لا یفیدانہ کان یقول
مسلم اورترمذی نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم (نماز فرض کے بعد) اللھم انت السلام کی مقدار ہی بیٹھتے تھے ۔ شامی نے کہاکہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے قول کی بمقدار سے
حوالہ / References دُرمختار باب صفۃ الصّلوٰۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۷۹
فتح القدیر باب النوافل مطبوعہ نوریہ رضویہ سکّھر ۱ / ۳۸۴
ردالمحتار باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۹۲
#6272 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
ذلك بعینہ بل کان یقعد بقدر مایسعہ و نحوہ من القول تقریبا فلا ینافی فی الصحیحین من انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یقول دبر کل مکتوبۃ لا الہ الا اﷲ وحدہ لا شریك لہ لہ الملك ولہ الحمد وھو علی کل شیئ قدیر اللھم لا مانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذاالجد منك الجد وتمامہ فی شرح المنیۃ وکذافی الفتح من الوتر والنوافل اھ مختصرا۔
یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس وقت میں بعینہ یہی کلمات جس میں تقریبا یہی دعا یا اسی طرح کی کوئی دوسری دعا پڑھی جاسکتی تھی ۔ لہذا ان کا یہ قول بخاری ومسلم کی اس روایت کے منافی نہ ہوگا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد یہ دعا پڑھتے : لا الہ الا اﷲ وحدہ لا شریك لہ لہ الملك ولہ الحمد وھو علی کل شیئ قدیر اللھم لامانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذاالجد منك الجد(اﷲکے سوا کوئی معبود نہیں وہ وحدہ لا شریك ہے ملك اس کا حمد اس کی اور وہ ہر شے پر قادر ہے اے اﷲ! تیری عطا میں کوئی رکاوٹ نہیں بن سکتا جو تو نہ دے وہ کوئی اور دے نہیں سکتا اور کسی کو اسکا بخت و دولت تیرے قہر و عذاب سے بچا نہیں سکتا) اس کی تفصیل شرح المنیہ اور اسی طرح فتح القدیر کے باب الوتر والنوافل میں ہے اھ اختصارا (ت)
غنیہ میں ہے :
وکذا ماروی مسلم و غیرہ عن عبداﷲ بن الزبیر رضی اﷲ تعالی عنھما کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا سلم من صلوتہ قال بصوتہ الاعلی لا الہ الا اﷲ وحدہ لا شریك لہ لہ الملك ولہ الحمد وھو علی کل شیئ قدیر ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ ولا نعبد الا ایاہ لہ النعمۃ ولہ الفضل ولہ الثناء الحسن لا الہ الا اﷲ
اسی طرح وہ حدیث (یعنی حضرت عائشہ کاقول اس حدیث کے بھی منافی نہیں ) ہے جس کو مسلم وغیرہ نےحضرت عبداﷲ بن الزبیر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیاہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تو بلند آواز سے کہتے : اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اسکا کوئی شریك نہیں سلطنت اسی کی حمد اسی کے لئے اور وہ ہر شے پر قادر ہے برائی سے پھیرنا نیکی کی
حوالہ / References ردالمحتار باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۹۱
#6273 · ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ۱۳۲۴ھ (استقبالِ قبلہ کی تعیین میں اﷲ تعالٰی جل شانہ کی رہنمائی) · بابِ صِفَۃِ الصّلوٰۃ (طریقۂ نماز کا بیان)
مخلصین لہ الدین ولوکرہ الکافرون لان المقدار المذکور من حیث التقریب دون التحدید قد یسع کل واحد من نحو ھذہ الازکار لعدم التفاوت الکثیرۃ بینھا الخ
طاقت دینا یہ اﷲ کی طاقت و قدرت میں ہے ہم اسکے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے نعمت و فضل اسی کے لئے ثناء جمیل اسی کی ہے اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں خالص کرنے والے ہیں (اس کے لئے دین کو اگرچہ کافر اسے ناپسند کریں کیونکہ مقدار مذکور تقریبی اعتبار سے ہے نہ کہ تحدیدی اعتبار سے اس مقدار میں ان اذکار میں سے ہر ایك پڑھا جا سکتا ہے کیونکہ ان کے درمیان زیادہ تفاوت نہیں الخ(ت)
اشعۃ اللمعات شرح مشکوۃ باب الذکر بعد الصلوۃ میں ہے :
با ید دانست آنست کہ تقدیم روایت منافی نیست بعدیتے راکہ درباب بعض ادعیہ و اذکار دراحادیث واقع شدہ است کہ بخواند بعد از نمازفجر و مغرب دہ بار لا الہ الا اﷲ وحدہ لا شریك لہ لہ الملك ولہ الحمد وھو علی کل شیئ قدیر (مختصرا)
یہاں اس بات کا جاننا ضروری ہے کہ تقدیم روایت بعدیت روایت کے منافی نہیں کیونکہ بعض دعاؤں اور اذکار کے بارے میں احادیث موجود ہیں ایك روایت میں ہے کہ نماز فجر اور مغرب کے بعد دس مرتبہ یہ کلمات پڑھے جائیں : اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں و ہ یکتا ہے ذات و صفات میں اسکا کوئی شریك نہیں سلطنت اسی کی ہے حمد اسی کی ہے اور وہ ہر شے پرقادر ہے۔ (مختصرا)۔ (ت)
یہاں سے ظاہر ہوا کہ آیۃ الکرسی یا فرض مغرب کے بعد دس۱۰ بار کلمہ توحید پڑھنا فصل قلیل ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۵۱ : ازشہر کہنہ محلہ روہیلہ ٹولہ مسئولہ مولوی رحیم اﷲ ۱۹ رجب المرجب ۱۳۳۶ھ
زید بعدہر نماز جماعت فریضہ قبل از مانگنے دعا روز ایك مرتبہ کلمہ توحید روز بعد مانگنے دعا کلمہ طیبہ تین مرتبہ اور ایك مرتبہ کلمہ شہادت بآواز بلند بہ نیت مع حاضرین جماعت پڑھا کرتا ہے ۔ یہ فعل اسکا جائز ہے یا نہیں
الجواب :
جائز ہے مگر حاضرین کو ان کی خوشی پر رکھا جائے مجبور نہ کیا جائے۔ واﷲ تعالی اعلم
__________
حوالہ / References غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۴۲
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ الفصل الاول من باب الذکر بعد الصلوٰۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۴۱۸
#6274 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
باب القرأۃ (قرأت کا بیان)

مسئلہ نمبر ۴۵۲ : ازبریلی مسئولہ سید احمد علی ساکن نوادہ شیخان ۳صفر ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تلاوت کلام مجید مصلی یا غیر مصلی پر باترتیب پڑھنا فرض ہے یا واجب یا سنت یا مستحب اور امام نماز میں بے ترتیب سورہ پڑھے تو اس پر کیا حکم ہے
الجواب :
نماز ہو یا تلاوت بطریق معہود ہو دونوں میں لحاظ ترتیب واجب ہے اگر عکس کرے گا گنہگار ہوگا۔ سیدنا حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایسا شخص خوف نہیں کرتا کہ اﷲ عزوجل اس کا دل الٹ دے ۔
ہاں اگر خارج نماز ہیکہ ایك سورت پڑھ لی پھر خیال آیا کہ دوسری سورت پڑھوں وہ پڑھ لی اوراس سے اوپر کی تھی تو اس میں حرج نہیں ۔ یا مثلا حدیث میں شب کے وقت چار۴ سورتیں پڑھنے کا ارشاد ہوا ہے۔ یسین شریف کہ جو رات میں پڑھے گا صبح کو بخشا ہوا اٹھے گا۔ سورہ دخان شریف پڑھنے کا ارشاد ہوا ہے کہ جو اسے رات میں پڑھے گا صبح اس حالت میں اٹھے گا کہ ستر ہزار فرشتے اس کے لئے استغفار کر تے ہوں گے۔ سورہ واقعہ شریف کہ جو اسے رات پڑھے گا محتاجی اس کے پاس نہ آئے گی ۔ سورہ تبارك الذی شریف کہ جو اسے ہر رات پڑھے گا عذاب قبر سے محفوظ رہے گا۔
ان سورتوں کی ترتیب یہی ہے مگراس غرض کے لئے پڑھنے والا چار سورتیں متفرق پڑھنا چاہتا ہے کہ ہر ایك مستقل جدا عمل ہے اسے اختیار ہے کہ جس کو چاہے پہلے پڑھے جسے چاہے پیچھے پڑھے۔
اما م نے سورتیں بے ترتیبی سے سہوا پڑھیں تو کچھ حرج نہیں قصدا پڑھیں تو گنہگار ہوا نماز میں کچھ خلل نہیں واﷲ تعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
#6275 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
مسئلہ نمبر ۴۵۳ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مقتدی کو امام کے پیچھے قرأت سورہ فاتحہ یااورکسی سورت کی جائز ہے یا نہیں ۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
مذہب حنفیہ دربارہ قرأت مقتدی عدم اباحت و کراہت تحریمیہ ہے۔ نماز سری میں روایت استحباب کہ حضرت امام محمد بن حسن شیبانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہ کی طرف نسبت کی گئی محض ضعیف
کما بسط المحقق علی الاطلاق فقیہ النفس مولنا کمال الملۃ والدین محمد رحمہ اﷲ تعالی کما قالہ فی الدرالمختار۔
جیسا کہ محقق علی الاطلاق فقیہ النفس مولنا کما ل الملۃ والدین محمد(ابن ہمام) رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔ جیسا کہ درمختار میں بیان کیاگیا ہے۔ (ت)
خود تصانیف امام محمد میں جابجا عدم جواز مصرح آثار میں فرماتے ہیں یہی مذہب ہمارا مختار اور اسی پر عامہ حدیث و اخبار وارد اور فرمایا ایك جماعت صحابہ رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین قرأت مقتدی کو مفسد نماز کہتی ہے اور قوی الدلیلین پر عمل کرنے میں احتیاط ہے۔
مؤطا میں بہت آثار روایت فرمائے جن سے عدم جوازثابت قالہ الشیخ مولنا عبدالحق المحدث الدہلوی قدس اﷲ سرہ العزیز فی اللمعات ( یہ بات شیخ محقق حضرت مولانا عبدالحق دہلوی قدس اﷲ تعالی سرہ نے اشعۃ اللمعات میں کہی ہے۔ ت) باایں ہمہ خلاف تصریحات امام ایك روایت مرجوجہ مجروحہ سے نماز سری میں جواز خواہ استحباب قرأت ان کا مذہب ٹھہرانا اور فقہ حنفی میں اس کا وجود سمجھنا محض باطل و وہم عاطل ۔ ہمارے علمائے مجتہدین بالاتفاق عدم جواز کے قائل ہیں اور یہی مذہب جمہور صحابہ و تابعین کا ہے حتی کہ صاحب ہدایہ امام علامہ برہان الملۃ والدین مرغینانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے دعوی اجماع صحابہ کیا ہے رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین۔ احادیث و آثار کہ اس باب میں وارد بیحد وشمار یہاں خوف طوالت بیان بعض پر اقتصار :
حدیث ۱ : صحیح مسلم شریف میں سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی سرورعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : اذ صلیتم فاقیمواصفوفکم ثم لیؤمکم احدکم فاذاکبر فکبر واواذاقرأفانصتوا ۔ یعنی جب تم نماز
حوالہ / References الصحیح المسلم باب التشہد فی الصلوٰۃ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۷۴
نوٹ : مسلم میں حدیث کے آخری الفاط ''واذااقراء فانصتوا'' اسی جگہ پر قتادہ اور ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہما کی حدیث میں ہیں ۔ نذیر احمد سعیدی
#6276 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
پڑھو اپنی صفیں سیدھی کرو پھر تم میں کوئی امامت کرے و ہ تکبیر کہے تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ قرأت کرے تم چپ رہو۔
حدیث ۲ : ابوداؤد و نسائی اپنی اپنی سنن میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : انما الامام لیؤتم بہ فاذا کبر فکبر وا اذاقرأ فانصتوا ھذا الفظ النسائی۔ یعنی امام تو اس لئے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے پس جب وہ تکبیرکہے تو تم بھی کہو اورجب قرأت کرے خاموش رہو ۔ یہ نسائی کے الفاظ ہیں ۔ امام مسلم بن حجاج نیشاپوری رحمۃ اللہ تعالی علیہ اپنی صحیح میں اس حدیث کی نسبت فرماتے ہیں کہ میرے نزدیك صحیح ہے۔
حدیث۳ : ترمذی اپنی جامع میں سیدنا جابر بن عبداﷲ انصاری رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی : من صلی رکعۃ لم یقرء فیھا بام القران فلم یصل الا ان یکون وراء الامام ۔
یعنی جو کوئی رکعت بے سورہ فاتحہ کے پڑھی اس کی نماز نہ ہوئی مگر جب امام کے پیچھے ہو۔ ھکذا رواہ مالك فی مؤطاہ مو قو فا (اسی طرح اس حدیث کوامام مالك نے مؤطا میں موفوقا روایت کیا ہے ۔ ت) اور امام ابو جعفر احمد بن سلامہ طحاوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے معانی الآثار میں اسے ورایت کیا اور ارشادات سیدمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے قرار دیا وا ﷲ تعالی اعلم ۔ حافظ ابو عیسی ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ سیدنا امام الائمہ مالك الازمہ سراج الامہ کاشف الغمہ امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت کو فی رضی اللہ تعالی عنہ وعن مقلدیہ باحسان روایت فرماتے ہیں :
حدیث۴ : حدثنا ابوالحسن موسی بن ابی عائشۃ عن عبداﷲ بن شداد بن الھاد عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنھما عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ قال من صلی خلف الامام فان قرأۃ الامام لہ قرأۃ ۔
یعنی حضور اقدس سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں جو شخص امام کے پیچھے نماز پڑھے تو امام کا پڑھنا اس کا پڑھنا ہے۔ فقیر کہتا ہے یہ حدیث صحیح ہے رجال اس کے سب رجال صحاح ستہ ہیں ۔ ورواہ محمد ھکذا
حوالہ / References سنن النسائی تاویل قولہ عزوجل واذاقرئ القرآن الخ حدیث ۹۲۳ مطبوعہ مکتبۃ السلفیہ لاہور ۱ / ۱۱۲
جامع الترمذی باب ماجاء فی ترك القرأۃ خلف الامام اذا جہر بالقرأۃ مطبوعہ امین کمپنی دہلی ۱ / ۴۲
مسند الامام الاعظم کفایۃ قرأۃ الامام للماموم مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کراچی ص ۶۱
#6277 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
مرفوعا من طریق اخر (اس کو امام محمد نے مرفوعا دوسری سند سے روایت کیا ہے۔ ت) حاصل حدیث کا یہ ہے کہ مقتدی کو پڑھنے کی کچھ ضرورت نہیں امام کا پڑھنا کفایت کرتا ہے ۔ ھکذا روی عند محمد رحمہ اﷲ تعالی مختصراورواہ الامام تارۃ اخری مستوعبا۔
حدیث ۵ : قال صلی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بالناس فقرأرجل خلفہ فلما قضی الصلوۃ قال ایکم قرأ خلفی ثلث مرات فقال رجل انا یا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من صلی خلف الامام فان قرأۃ الامام لہ قرأۃ ۔
خلاصہ مضمون یہ ہے کہ سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی ایك شخص نے حضور کے پیچھے قرأت کی سید اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے نماز سے فارغ ہوکر ارشاد فرمایا کس نے میرے پیچھے پڑھا لوگ بسبب خوف حضور کے خاموش ہو رہے یہاں تك کہ تین بار بتکرار یہی استفسار فرمایا آخر ایك شخص نے عرض کی یارسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ! میں نے ۔ ارشاد ہوا کہ جو امام کے پیچھے ہو اس کے لئے امام کا پڑھنا کافی ہے۔
حدیث ۶ : ابو حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ ایضاعن حماد بن ابراہیم ان عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ لم یقرأ خلف الامام لا فی الرکعتین الاولین ولا فی غیرھما
یعنی سیدناعبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے امام کے پیچھے قرأت نہ کی نہ پہلی دو رکعتوں میں نہ ان کے غیر میں ۔
فقیر کہتا ہے عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ جو افاضل صحابہ و مومنین سابقین سے ہیں حضر و سفر میں ہمراہ رکاب سعادت انتساب حضور رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم رہتے اور بارگاہ نبوت میں بے اذن لئے جانا ان کے لئے جائز تھا بعض صحابہ فرماتے ہیں ہم نے راہ و روش سرورانبیا ء علیہ التحیۃ والثنا سے جو چال ڈھال ابن مسعود کو ملتی پائی کسی کی نہ پائی خودحضور اکرم الاولین والآخرین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں :
حوالہ / References مسند الامام الاعظم کفایۃ قرأۃ الامام للماموم مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۶۱
المؤطا للامام محمد باب القرأۃ فی الصلوۃ خلف الامام مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ص۱۰۰
نوٹ : مجھےعبداﷲ بن مسعود کی حدیث مسند امام اعظم سے نہیں ملی اس لئے موطا امام محمد سے نقل کی ہے جومتن میں آرہی ہے الفاظ یہ ہیں : ۔ ان عبداﷲ بن مسعودکان لایقرأ خلف الامام فیما یجھر فیہ وفیمایخافت فیہ الاولیین ولا فی الاخریین واذا صلی وحدہ قرأفی الاولیین بفاتحۃ الکتاب وسورۃ ولم یقرأ فی الاخریین شیئا۔ نذیر احمد سعیدی۔
#6278 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
رضیت لا متی ما رضی لھا ابن ام عبد و کرھت لامتی ماکرہ لہا ابن ام عبد ۔
میں نے اپنی امت کے لئے وہ پسند کیا جو عبداﷲ بن مسعود ا س کے لئے پسند کرے اور میں نے اپنی امت کے لئے ناپسند کیا جو اس کے لئے عبداﷲ بن مسعود نا پسند کرے۔
گویا ان کی رائے حضور والا کی رائے اقدس ہے اور معلوم ہے کہ جناب ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ جب مقتدی ہوتے فاتحہ وغیرہ کچھ نہیں پڑھتے تھے اور ان کے سب شاگردوں کا یہی وتیرہ تھا۔
حدیث ۷ : محمد فی مؤطاہ من طریق سفیانین عن منصور بن المعتمر وقال الثوری نا منصور وھذا لفظ ابن عینیۃ عن منصور بن المعتمر عن ابی وائل قال سئل عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ عن القرأۃ خلف الامام قال انصت فان فی الصلوۃ لشغلا سیکفیك ذلك لامام ۔
خلاصہ یہ کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے دربارہ قرأت مقتدی سوال ہوا فرمایا خاموش رہ کہ نماز میں مشغولی ہے یعنی بیکار باتوں سے باز رہنا عنقریب تجھے امام اس کام کی کفایت کردے گا یعنی نماز میں تجھے لاطائل باتیں روا نہیں اور جب امام کی قرأت بعینہ اس کی قرأت ٹھہرتی ہے تو پھر مقتدی کا خود قرأت کرنا محض لغو نا شائستہ ہے۔ فقیر کہتا ہے یہ حدیث اعلی درجہ صحاح میں ہے اس کے سب رواۃ ائمہ کبار و رجال صحاح ستہ ہیں ۔
حدیث ۸ : واما حدیث الامام عن ابن مسعود فوصلہ محمدنامحمد بن ابان بن صالح القرشی عن حماد عن ابراہیم النخعی عن علقمۃ بن قیس ان عبداﷲ بن مسعود کان لایقرأ خلف الامام فیما یجھر و فیما یخافت فیہ فی الاولیین ولا فی الاخریین و اذا صلی وحدہ قرأفی الاولیین بفاتحۃ الکتاب وسورۃ ولم یقرأ فی الاخریین شینا ۔
حاصل یہ کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ جب مقتدی ہوتے تو نماز میں جہریہ ہو یا سریہ کچھ نہ پڑھتے تھے نہ پہلی رکعتوں میں نہ پچھلی میں ۔ ہاں جب تنہا ہوتے تو صرف پہلیوں میں الحمد و سورت پڑھتے۔
اثر ۱ : ابو حنیفۃ عن حماد عن ابراہیم انہ قال لم یقرأ علقمۃ خلف الامام حرفا لا فیما یجھر فیہ القرأۃ ولا فیما لایجھر فیہ ولا قرأ فی الاخریین بام الکتاب ولاغیرھا خلف الامام
حوالہ / References مجمع الزوائد باب ماجاء فی عبد اللہ بن مسعود مطبوعہ دارالکتاب بیروت ۹ / ۲۹۰
مؤطا امام محمد باب القرأۃ فی الصلوۃ خلف الامام مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ص۱۰۰
مؤطا امام محمد باب القرأۃ فی الصلوۃ خلف الامام مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ص۱۰۰
#6279 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
ولا اصحاب عبداﷲ جمیعا ۔ یعنی علقمہ بن قیس کہ کبار تابعین و اعاظم مجتہدین اور افقہ تلامذہ سیدنا بن مسعود ہیں امام کے پیچھے ایك حرف نہ پڑھتے چاہے جہر کی قرأت ہو چاہے آہستہ کی اور نہ پچھلی رکعتوں میں فاتحہ پڑھتے اور نہ اور کچھ جب امام کے پیچھے ہوتے اور نہ کسی نے حضرت کے اصحاب عبد اﷲ بن مسعود سے قرأت کی رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین۔
اثر ۲ : محمد فی الموطااخبرنا بکیر بن عامر مرثنا ابرہیم النخعی عن علقمۃ بن قیس قال لان اعض علی جمرۃ احب الی من ان اقرأخلف الامام ۔ یعنی حضرت علقمہ بن قیس فرماتے ہیں البتہ آگ کی چنگاری منہ میں لینا مجھے اس سے زیادہ پیاری ہے کہ میں امام کے پیچھے قرأت کروں ۔
اثر ۳ : محمد ایضا اخبرنا اسرائیل من یونس ثنا منصور عن ابراہیم قال ان اول من قرأ خلف الامام رجل اتھم ۔ یعنی ابراہیم بن سوید النخعی نے کہ رؤسائے تابعین وائمہ دین متین سے ہیں تحدیث و فقاہت ان کی آفتاب نیمروز ہے فرمایا پہلے جس شخص نے امام کے پیچھے پڑھا وہ ایك مرد متہم تھا۔ حاصل یہ کہ امام کے پیچھے قرأت ایك بدعت ہے جو ایك بے اعتبار آدمی نے احداث کی ۔ فقیر کہتا ہے رجال اس حدیث کے رجال صحیح مسلم ہیں۔
حدیث ۹ : امام مالك اپنی مؤطا میں اورامام احمد بن حنبل رحمہم اللہ تعالی اپنی مسند میں روایت کرتے ہیں : وھذا سباق مالك عن نافع ان عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما کان اذا سئل ھل یقرأ احد خلف الامام قال اذا صلی احدکم خلف امام فحسبہ قرأۃ الامام واذا صلی وحدہ فلیقرأ قال وکان عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما لایقرأخلف الامام ۔ یعنی سیدنا و ابن سیدنا عبداﷲ بن امیرالمؤمنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہما سے جب دربارہ قرأت مقتدی سوال ہوتا فرماتے جب کوئی تم میں امام کے پیچھے نماز پڑھے تواسے قرأت امام کافی ہے اور جب اکیلا پڑھے تو قرأت کرے۔ نافع کہتے ہیں عبدااﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما خود امام کے پیچھے قرأت نہ کرتے فقیر کہتاہے۔
حوالہ / References کتاب الآثار امام محمد باب القرأۃ خلف الامام وتلقینہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ص۱۶
موطا امام محمد باب القرأۃ فی الصلوٰۃ خلف الامام مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ص۱۰۰
موطا امام محمد باب القرأۃ فی الصلوٰۃ خلف الامام مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ص۱۰۰
مؤطا امام مالك ترك القرأۃ خلف الامام مطبوعہ میر محمد کتب خانہ کراچی ص ۸۶
#6293 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
کہ یہ حدیث غایت درجہ کی صحیح الاسناد ہے حتی کہ مالك بن نافع عن ابن عمر کو بہت محدثین نے صحیح ترین اسا نید کہا۔
حدیث ۱۰ : محمد اخبرنا عبیداﷲ بن عمربن حفص بن عاصم بن عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالی عنہ عن نافع عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہ قال من صلی خلف الامام کفتہ قرأتہ ۔ یعنی حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں مقتدی کو امام کا پڑھنا کافی ہے ۔ فقیر کہتا ہے یہ سند بھی مثل سابق کے ہے اور اس کے رجال بھی رجال صحاح ستہ ہیں بلکہ بعض علما ء حدیث نے روایات نافع عن عبیداﷲ بن عمر کو امام مالك پر ترجیح دی ۔
حدیث ۱۱ : محمد اخبرنا عبدالرحمن بن عبداﷲ المسعودی اخبرنی انس بن سیرین عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما انہ سئل عن القرأۃ خلف الامام قال تکفیك قرأۃ الامام ۔ یعنی سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے دربارہ قرأت استفسار ہوا فرمایا تجھے امام کا پڑھنا بس کرتا ہے۔
حدیث ۱۲ : امام ابو جعفر احمد بن محمد طحاو ی رحمۃ اللہ تعالی علیہ معانی الآثار میں روایت کرتے ہیں : حدثنا ابن وھب فساق باسنادہ عن زید بن ثابت رضی اﷲ تعالی عنہ سمعہ یقول لایقرأ المؤتم خلف الامام فی شیئ من صلاۃ یعنی سیدنا زید بن ثابت انصاری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں مقتدی امام کے پیچھے کسی نماز میں قرات نہ کرے یعنی نماز جہر ہو یا سریہ :
حدیث ۱۳ : محمد اخبرنا داؤد بن قیس ثنا عمر بن محمد بن زید عن موسی بن سعید بن زید بن ثابت الانصاری یحدثہ عن جدہ قال من قرأخلف الامام فلا صلوۃ لہ ۔ یعنی حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں جو شخص امام کے پیچھے پڑھے اس کی نماز جاتی رہی ۔ فقیر کہتا ہے یہ حدیث حسن ہے اور دارقطنی نے بطریق طاؤس اسے مرفوعا روایت کیا۔
حدیث ۱۴ : الحافظ بن علی بن عمر الدارقطنی عن ابی حاتم بن حبان ثنی ابراہیم بن سعد عن احمد بن علی بن سلیمان الدوری عن عبدالرحمن المخزومی
حوالہ / References مؤطا الامام محمد باب القرأۃ فی الصلوٰۃ خلف الامام مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ص۹۷
مؤطا الامام محمد باب القرأۃ فی الصلوٰۃ خلف الامام مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ص۹۸
شرح معانی الاثار باب القرأۃ خلف الامام مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵۱)
مؤطا الامام محمد باب القرأۃ فی الصلوٰۃ خلف الامام مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ص۱۰۲
#6294 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
عن سفیان بن عیینہ عن ابن طاؤس عن ابیہ عن زید عن ثابت عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال من قرأخلف الامام فلا صلوۃ لہ ۔ یعنی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : امام کے پیچھے پڑھنے والے کی نماز نہیں ہوتی۔
حدیث ۱۵ : محمد ایضااخبرنا داؤد بن قیس الفراء المدنی اخبرنی بعض ولد سعد بن ابی وقاص انہ ذکرلہ ان سعدا رضی اﷲ تعالی عنہ قال وددت ان الذی یقرأ خلف الامام فی فیہ جمرۃ ۔ یعنی سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ سے کہ افاضل صحابہ و عشرہ مبشرہ و مقربان بارگاہ سے ہیں منقول ہے انھوں نے فرمایا میرا جی چاہتا ہے کہ امام کے پیچھے پڑھنے والے کے منہ میں انگارہ ہو۔
حدیث ۱۶ : محمد ایضا اخبرنا داؤد بن قیس الفراء ثنا محمد بن عجلان ان عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالی عنہ قال لیت فی فم الذی یقرأ خلف الامام حجرا ۔ یعنی حضرت امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کاش جوشخص امام کے پیچھے قرأت کرے اسکے منہ میں پتھر ہو۔
فقیر کہتا ہے رجال اس حدیث کے بر شرط صحیح مسلم ہیں ۔ الحاصل ان احادیث صحیحہ و معتبرہ سے مذہب حنفیہ بحمد اﷲ ثابت ہوگیا اب باقی رہے تمسکات شافعیہ ان میں عمدہ ترین دلائل جسے ان کا مدار مذہب کہنا چاہئے حدیث صحیحین ہے یعنی لا صلوۃ الا بفاتحۃ الکتاب کوئی نماز نہیں ہوتی بے فاتحہ کے۔ جواب اس حدیث سے چندطور پر ہے یہاں اسی قدر کافی کہ یہ حدیث تمھارے مفید نہ ہمارے مضر ہم خود مانتے ہیں کہ کوئی نماز ذات رکوع سجود بے فاتحہ کے تمام نہیں امام کی ہو خواہ ماموم کی مگر مقتدی کے حق میں خود رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے لئے امام کی قرأت کافی اور امام کا پڑھنا بعینہ اس کا پڑھنا ہے۔ کما مرسابقا(جیسا کہ پیچھے گزر چکا۔ ت) پس خلاف ارشاد حضور والا تم نے کہاں سے نکال لیا کہ مقتدی جب تك خود نہ پڑھے گا نماز اس کی بے فاتحہ رہے گی اور فاسد ہوجائے گی۔
دوسری دلیل : حدیث مسلم من صلی صلاۃ لم یقرأفیھا بام القران فھی خداج
حوالہ / References نصب الرایۃ بحوالہ علل متنا ہیۃ من طریق دارقطنی کتاب الصلوٰۃ مکتبہ اسلامیہ ریاض ۲ / ۱۹ ، کنز العمال الباب الخامس قرأۃ الماموم مطبوعہ مکتبۃ التراث اسلامی بیروت ۸ / ۲۸۶
مؤطاللامام محمد باب القرأۃ فی الصلوٰۃ خلف الامام مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ص۱۰۱
مؤطاللامام محمد باب القرأۃ فی الصلوٰۃ خلف الامام مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ص ۱۰۲
اتحاف السادۃ المتقین القراء مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ / ۴۸-۴۷
ف : بخاری جلد ۱ ص ۱۰۴ اور مسلم ج ۱ ص ۱۶۹ پر لاصلٰوۃ لمن لم یقرأ بفاتحۃ الکتاب کے الفاظ ہیں ۔
#6296 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
ھی خداج ھی خداج ۔ حاصل یہ کہ جس نے کوئی نماز بے فاتحہ پڑھی وہ ناقص ہے ناقص ہے ناقص ہے۔ اس کا جواب بھی بعینہ مثل اول کے ہے نماز بے فاتحہ کا نقصان مسلم اور قرأت امام قرأت ماموم سے مغنی خلاصہ یہ کہ اس قسم کی احادیث اگر چہ لاکھوں ہوں تمھیں اس وقت بکار آمد ہوں گی جب ہمارے طور پر نماز مقتدی بے ام الکتاب رہتی ہو وھو ممنوع (اور یہ ممنوع ہے ۔ ت) اور آخر حدیث میں قول حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ اقرأ بھا فی نفسك یا فارسی (اپنے دل میں پڑھ اے فارسی۔ ت)کہ شافعیہ اس سے بھی استناد کرتے ہیں فقیر بتوفیق الہی اس سے ایك جواب حسن طویل الذیل رکھتا ہے جس کے ذکر کی یہاں گنجائش نہیں ۔
تیسری دلیل : حدیث عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ لا تفعلو ا الابام القران امام کے پیچھے اور کچھ نہ پڑھو سوائے فاتحہ کے۔
اولایہ حدیث ضعیف ہے ان صحیح حدیثوں کی جو ہم نے مسلم اورترمذی ونسائی وموطائے امام مالك وموطائے امام محمد وغیرہا صحاح و معتبرات سے نقل کیں کب مقاومت کرسکتی ہے امام احمد بن حنبل وغیرہ حفاظ نے اس کی تضعیف کی یحیی بن معین جیسے ناقدین جس کی نسبت امام مدوح نے فرمایا جس حدیث کو یحیی نہ پہچانے حدیث ہی نہیں فرماتے ہیں استثنائے فاتحہ غیر محفو ظ ہے۔
ثانیا خودشافعیہ اس حدیث پر دو ۲ وجہ سے عمل نہیں کرتے : ایك یہ کہ اس میں ماورائے فاتحہ سے نہی ہے اور ان کے نزدیك مقتدی کو ضم سورت بھی جائز ہے۔ صرح بہ الامام النو وی فی شرح صحیح مسلم (امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں اس کی تصریح کی ہے) دوسرے یہ کہ حدیث مذکور جس طریق سے ابوداؤد نے روایت کی بآواز بلند منادی کہ مقتدی کو جہرا فاتحہ پڑھنا روا اور یہ امر بالاجماع ممنوع صرح بہ الامام النووی فی شرح صحیح مسلم (شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے لمعات میں اس بات کی تصریح کی ہے اور امام نووی کا کلام
حوالہ / References الصحیح المسلم باب وجوب قرأۃ الفاتحہ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۷۰-۱۶۹
الصحیح المسلم باب وجوب قرأۃ الفاتحہ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۶۹
مسند احمد بن حنبل حدیث عبادہ بن الصامت مطبوعہ دارالفکر بیروت ۵ / ۳۲۲ ، سنن الدار قطنی باب وجوب قرأۃ ام الکتاب الخ مطبوعہ نشر السنۃ ملتان ۱ / ۳۱۸
#6297 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
شرح میں بھی اسکا فائدہ دیتا ہے۔ ت) پس جو خود ان کے نزدیك متروك ہم پر اس سے کس طرح احتجاج کرتے ہیں۔
بالجملہ ہمارا مذہب مہذب بحمد اﷲ حجج کافیہ و دلائل وافیہ سے ثابت اور مخالفین کے پاس کوئی دلیل قاطع ایسی نہیں کہ اسے معاذاﷲ باطل یا مضمحل کرسکے مگر اس زمانہ پرفتن کے بعض جہال بے لگام جنھوں نے ہوائے نفس کو اپنا امام بنایا اور انتظام اسلام کو درہم برہم کرنے کے لئے تقلید ائمہ کرام میں خدشات و اوہام پیدا کرتے ہیں جس ساز و سامان پر ائمہ مجتہدین خصوصا امام الائمہ حضرت امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ وعن مقلد یہ کی مخالفت اور جس بضاعت مزجات پر ادعائے اجتہاد وفقاہت ہے عقلائے منصفین کا معلوم اصل مقصود ان کا اغوائے عوام ہے کہ وہ بیچارے قرآن و حدیث سے ناواقف ہیں جو ان مدعیان خام کار نے کہہ دیا انھوں نے مان لیا اگرچہ خواص کی نظر میں یہ باتیں موجب ذلت و باعث فضیحت ہوں اﷲ سبحنہ وتعالی وساوس شیطان سے امان بخشے امین ھذاوالعلم عند واھب العلوم العالم بکل سرمکتوم (اسے قبول فرما اور حقیقی علم اس ذات کے پاس جو تمام علوم عطا فرمانے والا اورتمام مخفی رازوں سے واقف ہے۔ ت)
مسئلہ نمبر ۴۵۴ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں جو حافظ نماز میں اس طرح قرآن مجید پڑھتا ہو کہ نہ تو صحیح اعراب کا دھیان رکھتا ہے اور نہ اوقاف لازمہ پر وقف کرتا ہے اور ماضی جمع متکلم کے صیغے ایسے ادا کرتا ہے کہ سامعین کو جمع مونث غائب کا شبہ ہوتا ہے اور اکثر جگہ حروف و کلمات بھی فروگذاشت ہوجاتے ہیں تو اس کے سننے میں کچھ ثواب کی امید یا باکل نہیں اور نماز اس کے پیچھے درست ہے یا نہیں اور یہ عذر ترك جماعت کے لئے مقبول ہوگا یا نہیں یا دوسری مسجد میں جماعت کے لئے جانا ضروری ہے یا صرف فرض جماعت سے ادا کرے باقی نماز مکان پر پڑھے۔ (بیان کرو اور اجر پاؤ۔ ت)
الجواب :
خطا فی الاعراب یعنی حرکت سکون تشدید تخفیف قصر مد کی غلطی میں علمائے متاخرین رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہم اجعیمن کا فتو ی تو یہ ہے کہ علی الاطلاق اس سے نماز نہیں جاتی۔
فی الدرالمختار وزلۃ القاری لو فی اعراب لا تفسد وان غیر المعنی بہ یفتی۔ بزازیہ
درمختار میں ہے کہ قرأت کرنے والے کی غلطی اگر اعراب میں ہو تو نماز فاسد نہیں ہوگی اگرچہ اس سے معنی بدل جائے اسی پر فتوی ہےبزازیہ۔ (ت)
حوالہ / References دُر مختار باب ما یفسد الصلوٰۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۹۰
#6299 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
ردالمحتار میں ہے :
لا تفسد فی الکل وبہ یفتی ۔ بزازیہ و خلاصہ
ان تمام صورتوں میں نماز فاسد نہ ہوگی اور اسی پر فتوی ہے ۔ بزازیہ و خلاصہ (ت)
اگرچہ علمائے متقدین و خود ائمہ مذہب رضی اللہ تعالی عنہم درصورت فساد معنی فساد نماز مانتے ہیں اور یہی من حیث الدلیل اقوی اور اسی پر عمل احوط واحری ۔
فی شرح منیۃ الکبیر ھو الذی صححہ المحققون وفرعواعلیہ الفروع فاعمل بما تختار والاحتیاط اولی سیما فی امرالصلوۃ التی ھی اول مایحاسب العبد علیھا۔ (ملخصا)
شرح منیہ کبیر میں ہے کہ اسی کو محققین نے صحیح قرار دیا اور اسی فروع کو ذکر کیا پس تو اپنے مختار پر عمل کر اوراحتیاط بہر صورت ہر مقام پر بہتر ہے خصوصا نماز میں کیونکہ یہی وہ عمل ہے جس کے بارے میں بندے سے سب سے پہلے پوچھ ہوگی(ملخصا۔ ت)
اور وقف و وصل کی غلطی کوئی چیزنہیں یہاں تك کہ اگر وقف لازم پر نہ ٹھہرا برا کیا مگر نمازنہ گئی۔
فی العلمگیریۃ ان وصل فی غیرموضع الوصل کما لولم یقف عند قولہ اصحب النار بل وصل بقولہ الذین یحملون العرش لاتفسد لکنہ قبیح ھکذا فی الخلاصۃ ۔
فتاوی عالمگیری میں ہے اگر قاری نے وہاں وصل کیا جہاں وصل کا مقام نہ تھا جیسا کہ قاری نے وقف نہ کیا اﷲ تعالی کے ارشاد “ اصحب النار “ پر بلکہ “ الذین یحملون العرش “ کے ساتھ ملا دیا تو نماز فاسد نہ ہو گی البتہ یہ عمل برا ہے۔ خلاصہ میں اسی طرح ہے۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
صرح غیر واحد منھم صاحب الذخیرۃ علی ان الفتوی علی عدم الفساد بکل حال لان فی مراعاۃ الوقف والوصل والابتداء
متعدد علماء جس میں صاحب ذخیرہ بھی ہے نے اس بات کی تصریح فرمائی کہ ہر حال میں عدم فساد پر فتوی ہے کیونکہ وقف وصل اور ابتداء کی
حوالہ / References ردالمحتار باب ما یفسد الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفی البابی ۱ / ۴۶۷
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فوائد من زلۃ القاری مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۹۳
فتاوٰی ہندیۃ الفصل الخامس فی زلۃ القاری مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۸۱
#6300 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
ایقاع الناس فی الحرج خصوصا فی حق العوام و الحرج مدفوع شرعا ۔
رعایت لازم کرنے سے لوگوں پر خصوصا عوام پر تنگی لازم آئے گی اور شرعا تنگی مرفوع ہے۔ (ت)
یوں ہی ضمیر “ نا “ میں الف مسموع نہ ہونا مفسد نہیں ۔
لما صرح بہ القنیۃ ان من العرب یکتفی عن الالف بالفتحۃ و الیاء بالکسرۃ والواو بالضمۃ تقول اعذباﷲ مکان اعوذ باﷲ قلت وعلیہ یخرج ماصرح بہ فی الغنیۃ ان حذف الیاء من تعالی فی تعالی جد ربنا لاتفسداتفاقا۔
کیونکہ قنیہ میں تصریح ہے کہ بعض عرب الف کے عوض فتحہ یاء کے عوض کسرہ اور واؤ کے عوض ضمہ پر اکتفاء کرتے ہیں مستفاد ہے کہ اﷲ تعالی کے ارشاد تعالی جد ربنا میں تعالی کی یا حذف کرنے سے بالاتفاق نماز فاسد نہ ہوگی۔
اسی طرح حروف و کلمات کا فروگذاشت ہوجانا بھی دواما موجب فساد نہیں ہوتا بلکہ اسی وقت کہ تغییر کا معنی کرلے کما ھو ضابطۃ الائمۃ المتقد مین رحمھم اﷲ تعالی (جیسا کہ ائمہ متقدمین رحمہم اللہ تعالی کا مسلمہ ضابطہ ہے ۔ ت)
بالجملہ اگر حافظ مذکور سے وہ خطائیں جو مفسد نماز ہیں واقع نہیں ہوتیں تو نماز اسکے پیچھے درست اور ترك جماعت کے لئے یہ عذر نا مسموع اور اگر خطایائے مفسدہ صادر ہوتے ہیں تو بے شك وہ نماز نماز ہی نہیں ۔ نہ وہاں ثواب کی گنجائش بلکہ عیاذا باﷲ عکس کا خوف ہے نہ اہل محلہ کو دوسری مسجد میں جانے کی حاجت کہ یہی مسجد جوان پر حق رکھتی ہے ہنوز محتاج نماز و جماعت ہے۔ نماز فاسد کا تو عدم وجودشرعا یکساں پس اگر ممکن ہو تودوبارہ جماعت وہیں قائم کرے ورنہ آپ ہی مسجد میں تنہا پڑھ لے کہ حق مسجد ادا ہو
کما افادہ فی الفتاوی الخانیۃ وفیھا ایضامؤذن بمسجد لایحضر مسجدہ احد قالوا یوذن ھو یقیم ویصلی وحدہ وذاك احب من ان یصلی
جیسا کہ فتاوی خانیہ میں اس کا افادہ کیا اور اس میں یہ بھی ہے کہ کسی ایسی مسجد کا موذن جہاں کوئی اور نمازی نہیں آتا تو موذن اذان دے تکبیر کہے اور تنہا نماز ادا کرے۔ اور یہ اس کے لئے دوسری
حوالہ / References حِلیۃ
قنیہ باب فی حذف الحرف والزیادۃ مطبعہ مشتہرہ بالمہا نندیۃ ص۶۳
#6302 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
فی مسجد اخر ۔
مسجد میں نماز ادا کرنے سے بہتر ہے۔ (ت)
اور اگر یہ صورت ہو کہ حافظ مذکور فرضوں میں قرآن مجید صحیح پڑھتا ہے اور خطا یا ئے مفسد ہ صرف تراویح میں بوجہ عجلت وبے احتیاطی واقع ہوتی ہیں تو فرض میں اس کی اقتدا کرے تراویح میں بھی یہی حکم ہے ورنہ درصورت فسادفرضوں میں بھی اقتداء درست نہیں کما لا یخفی (جیسا کہ ظاہر ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۵۵ : ۷ ربیع الآخر ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر امام یا منفرد تیسری یا چوتھی رکعت میں کچھ قرأت جہر سے پڑھ جائے تو سجدہ سہو واجب ہوگا یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
اگر امام ان رکعتوں میں جن میں آہستہ پڑھنا واجب ہے جیسے ظہر و عصر کی سب رکعات اور عشاء کی پچھلی دو اور مغرب کی تیسری اتنا قرآن عظیم جس سے فرض قرأت ادا ہو سکے(اور وہ ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے مذہب میں ایك آیت ہے) بھول کر بآواز پڑھ جائیگا تو بلاشبہ سجدہ سہو واجب ہوگا اگر بلا عذرشرعی سجدہ نہ کیا یا اس قدر قصدا بآواز پڑھا تو نماز کا پھیرنا واجب ہے اور اگر اس مقدار سے کم مثلا ایك آدھ کلمہ بآواز بلند نکل جائے تو مذاہب راجح میں کچھ حرج نہیں ۔ ردالمحتار میں ہے۔
الاسرار یجب علی الامام والمنفرد فیما یسرفیہ وھو صلوۃ الظھر والعصر و الثالثۃ من المغرب و الاخریان من العشاء و صلاۃ الکسوف و الاستسقاء کما فی البحر ۔ الخ
سری نمازوں میں امام منفرد دونوں پر اسرار(سرا قرأت) واجب ہے اور نماز ظہر عصر مغرب کی تیسری رکعت عشاء کی آخری دوکعت نمازکسو ف اور نماز استسقاء ہیں ۔ جیسا کہ بحر میں ہے الخ(ت)
در مختار میں ہے :
تجب سجدتان بترك واجب سھواکالجھر فیما یخافت فیہ وعکسہ والاصح تقدیرہ بقدرما تجوز بہ الصلوۃ
سہوا ترك واجب سے دو سجدے لازم آتے ہیں مثلا سری نماز میں جہرا قرأت کرلے یا اسکا عکس اور اصح یہی ہے کہ دونوں صورتوں میں اتنی قرأت
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خان فصل فی المسجد مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۲
ردالمحتار باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۴۶
#6303 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
فی الفصلین اھ ملخصا
سے سجدہ لازم ہوجائے گا جس سے نماز ادا ہوجاتی ہو۔ اھ ۔ ملخصا۔ (ت)
غنیہ میں ہے :
الصحیح ظاہر الروایۃ وھوالتقدیر بما تجوز بہ الصلوۃ من غیر تفرقۃ لان القلیل من الجھر موضع المخافۃ عفوا الخ
صحیح ظاہر الروایۃ میں ہے وہ اتنی مقدار ہے کہ اس کے ساتھ نماز بغیر کسی تفرقہ کے جائز ہوجائے کیونکہ سر کی جگہ جہر قلیل معاف ہے الخ(ت)
حاشیۃ شامی میں ہے :
صححہ فی الھدایۃ والفتح والتبیین والمنیۃ الخ وتمامہ فیہ۔
اس کو ہدایہ فتح تبیین اورمنیہ میں صحیح کہا ہے الخ اور اس میں تفصیلی گفتگو ہے۔ (ت)
تنویر الابصار میں ہے :
فرض القرأۃ ایۃ علی المذھب ۔
(مذہب مختار کے مطابق ایك آیت کی قرأت فرض ہے۔ ت)
بحرالرائق و علمگیری میں ہے :
لا یحب السجود فی االعمد و انما یجب الاعادۃ جبرا لنقصانہ ۔
عمدا (ترك واجب سے) سجدہ سہو واجب نہیں کیونکہ اس کے نقصان کو پورا کرنے کے لئے نماز کا اعادہ ضروری ہے (ت)
یہ حکم امام کا ہے اور منفرد کے لئے بھی زیادہ احتیاط اسی میں ہے کہ اس فعل سے عمدا بچے اور سہوا واقع ہو توسجدہ کرلے۔
وذلك لان العلماء اختلفوا فیہ اختلافا شدید افمنھم من لم یوجب علیہ الاسرار فیما یسر کما لا یحب علیہ
اور یہ اس لئے ہے کیونکہ اس میں علماء کا شدید اختلاف ہے بعض منفرد پر سری نماز میں سرا قرأت کو واجب قرار نہیں دیتے جیسا کہ جہری نماز میں بالاتفاق جہرا
حوالہ / References دُرمختار باب سجود السھو مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۰۲
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل باب فی سجود السھو مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۵۸
ردالمحتار باب سجود السہو مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۴۸
درمختار فصل یجہر الامام مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۸۰
فتاوٰی ہندیہ الباب الثانی فی سجود السہو مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۲۶
#6305 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
الجھر فیما یجھر بالاتفاق و علیہ مشی فی الھدایۃ والمحیط والتتار خانیۃ و غیرھا ونص فی النھایۃ والکفایۃ والعنایۃ ومعراج الدرایۃ وغیرھا من شروح الھدایۃ والذخیرۃ وجامع الرموز شرح النقایۃوفی کتب اخر یطول عدھا انہ ھو ظاھر الروایۃ وان خلافہ روایۃ النوادر منھم من جعلہ فیما یسر کالامام والمنح والملتقی الا بحر والیہ اشارفی کنزالدقائق ونورالایضاح وصححہ فی البدائع والتبیین والفتح والدرر والھندیۃ وقال فی البحر والدر انہ المذھب یظھر کل ذلك بالمراجعۃ للبعض الی ردلمحتارو لبعض اخرالی ماسمینا من الاسفار فکان الاحوط ماقلنا واﷲ تعالی اعلم۔
قرأت لازم نہیں اور یہی ہدایہ محیط اورتاتار خانیہ وغیرہا میں ہے۔ ہدایہ کی شروح نہایہ کفایہ عنایہ اورمعراج الداریہ وغیرہا اور ذخیرہ اور جامع الرموز شرح النقایہ اور دیگر کتب جن کا شمار طویل ہے میں اسے ظاہر الروایۃ کہا ہے اور بعض نے سری نماز میں منفرد کو امام کی طرح قرار دیا ہے حلیہ منیہ بحر نھر منح اورملتقی الابحر میں اسی پر جزم ہے کنزالدقائق اور نورالایضاح میں بھی اسی طرف اشارہ ہے۔ بدائع تبیین فتح درر اورہندیہ میں اسی کو صحیح قرار دیا گیاہے۔ بحر اوردر میں ہے کہ مذہب یہی ہے۔ اس مذکورہ گفتگو کا بعض حصہ ردالمحتار سے واضح ہے اور دوسراحصہ دیگر معتبر کتب سے جن کا نام ہم نے ذکر کیا ہے پس احوط وہی ہے جو ہم نے بیان کیا واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ نمبر ۴۵۶ : مسئولہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب دوم جمادی الاولی۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہین علمائےدین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص جسے لوگوں نے مسجد جامع کا امام معین کیا جمعہ وجماعات میں گروہ مسلمین کی امامت کرتا ہے اور سورہ فاتحہ شریف میں بجائے الحمد والرحمن والرحیم کے الھمد والرہمن والرہیم بہ ہائے ہوز پڑھتا ہے ایسے شخص کو امام بنانا جائز ہے یا نہیں اور اس کے پیچھے نماز درست ہوگی یا نہیں بینوا تو جروا۔
الجواب :
اسے امام بنانا ہرگز جائز نہیں اورنماز اس کے پیچھے نادرست ہے کہ اگر وہ شخص ح کے ادا پر بالفعل قادر ہے اور باوجود اس کے اپنی بے خیالی یا بے پروائی سے کلمات مذکورہ میں ھ پڑھتا ہے۔
#6306 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
تو خود اس کی نماز فاسد وباطل اوروں کی اسکے پیچھے کیا ہوسکے اور اگر بالفعل ح پر قادر نہیں اور سیکھنے پر جان لڑاکر کوشش نہ کی تو بھی خود اس کی نماز محض اکارت اور اس کے پیچھےہر شخص کی باطل اور اگر ایك ناکافی زمانہ تك کوشش کر چکا پھر چھوڑ دی جب بھی خود اس کی نماز پڑھی بے پڑھی سب ایك سی اور اس کے صدقے میں سب کی گئی اور برابر حد درجہ کی کوشش کئے جاتا ہے مگر کسی طرح ح نہیں لکلتی تو اس کاحکم مثل امی کے ہے کہ اگر کسی صحیح پڑھنے والے کے پیچھے نماز مل سکے اور اقتداء نہ کرے بلکہ تنہا پڑھے تو بھی اسکی نماز باطل پھر امام ہونا تو دوسرا درجہ ہے اور پر ظاہر ہے کہ اگر بالفرض عام جماعتوں میں کوئی درست خواں نہ ملے تو جمعہ میں تو قطعا ہر طرح کے بندگان خدا موجود ہوتے ہیں پھر اس کا ان کی اقتدا نہ کرنا اور آپ امام ہونا خود اس کی نماز کا مبطل ہوا اور جب اس کی گئی سب کی گئی۔
بہرحال ثابت ہوا کہ نہ اس شخص کی اپنی نماز ہوتی ہے نہ اسکے پیچھے کسی اور کی تو ایسے کو امام بنانا حرام ہے اور ان سب مسلمانوں کی نماز کا وبال اپنے سر لیتا ہے والعیاذ باﷲتعالی البتہ اگر ایسا ہو کہ تاحدادنی امید کہ یہ شخص ہمیشہ برابر رات دن تصحیح حرف میں کوشش بلیغ کئے جائے اور باوصف بقائے امید واقعی محض طول مدت سے گبھرا کر نہ چھوڑے اور واجب الحمد شریف کے سوا اول نماز سے آخر تك کوئی آیت یا سورۃ یا ذکر وغیرہ اصلا ایسی چیز نام کو نہ پڑھے جس میں ح آتی اور اسے ھ پڑھنے سے نماز جاتی ہو بلکہ قرآن مجید کی دوسورتیں اختیار کرے جن میں ح نہیں جیسے سورہ کافرون وسورہ ناس اور ثناء اور تسبیحات رکوع و سجود و تشہد و درود وغیرہ کے کلمات میں جن میں ایسی ح آئی ان کے مرادفات مقاربات سے بدل لے مثلا بجائے سبحنك اللھم وبحمدك اقدسك اللھم مثنیا علیك و علی ھذاالقیاس اور اسے کوئی شخص صحیح خواں ایسا نہ ملے جس کی اقتدا کرے اور جماعت بھرکے سب لوگ اسی طرح ح کو ھ پڑھنے والے ہوں تو البتہ جب کوشش کرتا رہے گا اس کی بھی صحیح ہوگی اور ان سب اس کے مانند وں کی بھی اسکے پیچھے صحیح ہوگی اور جس دن باوصف تنگ آکر کوشش چھوڑ ی یا صحیح القراءۃ کی اقتداء ملتے ہو ئے تنہا پڑھی یا امامت کی اسی دن اس کی بھی باطل اور اسکے پیچھے سب کی باطل اور جبکہ معلوم ہے کہ یہ شرائط متحقق نہیں توحکم وہی ہے کہ جمعہ و غیر جمعہ کسی میں نہ اس کی نماز درست نہ اسکے پیچھے کسی کی درست۔ یہ جو کچھ مذکور ہوا یہی صحیح ہے یہی راجح ہے یہی مختار ہے یہی مفتی بہ ہے اسی پر عمل اسی پر اعتماد۔ واﷲ الھادی الی سبیل الرشاد ۔ درمختار میں ہے :
لا یصح اقتداء غیر الالثغ بہ و حرر
غیر تو تلے کی اقتداء توتلے کے پیچھے درست نہیں (الثغ اس
#6307 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
الحلبی و ابن الشحنۃ انہ بعد بذل جھدہ دائما حتما کالامی فلو یؤم الامثلہ ولا تصح صلوتہ اذاامکنہ الاقتداء بمن یحسنہ او ترك جھدہ او وجد قدرالفرض مما لالثغ فیہ ھذا ھو الصحیح المختار فی حکم الالثغ وکذا من لا یقدر علی التلفظ بحرف من الحروف اھ ملتقطا
شخص کو کہتے ہیں جس کی زبان سے ایك حرف کی جگہ دوسرا نکلے)حلبی اورابن شحنہ نے لکھا ہے کہ ہمیشہ کی حتمی کوشش کے بعد توتلے کا حکم امی کی طرح ہے پس وہ اپنے ہم مثل کا امام بن سکتا ہے (یعنی اپنے جیسے توتلے کے سوا دوسرے کی امامت نہ کرے) جب اچھی درست ادائیگی والے کی اقتداء ممکن ہو یا اس نے محنت ترك کردی یا فرض کی مقدار بغیر توتلے پن کے پڑھ سکتا ہے ان صورتوں میں اسکی نماز درست نہ ہوگی توتلے کے متعلق یہی مختار اورصحیح حکم ہے اور اسی طرح اس شخص کا بھی یہی حکم ہےجو حروف تہجی میں سے کوئی حرف نہ بول سکے یعنی صحیح تلفظ پر قادر نہ ہو اھ ملخصا۔
فتاوی محقق علامہ ابوعبداﷲ محمد بن عبداﷲ غزی تمر تاشی میں ہے :
الراجع المفتی بہ عدم صحۃ امامۃ الالثغ لغیرہ ۔
راجح اور مفتی بہ قول یہی ہے کہ توتلے کی امامت غیر کے لئے جائز نہیں ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
من لا یقدر علی التلفظ بحرف من الحروف کالرھمن الرھیم والشیتان الرجیم والالمین وایاك نابد و ایاك نستئین السرات انأمت فکل ذلك حکمہ مامر من بذل الجھد دائما والا فلاتصح الصلوۃ بہ ملخصا۔
جو شخص حروف تہجی میں سے کسی حرف کے صحیح تلفظ پر قادر نہ ہو مثلا الرحمن الرحیم کی جگہ الرھمن الرھیم الشیطان کی جگہ الشیتان العالمین کی جگہ الآلمین ایاك نعبد کی جگہ ایاك نابد نستعین کی جگہ نستئین الصراط کی جگہ السرات انعمت کی جگہ انأمت پڑھتا ہے ان تمام صورتوں میں اگر کوئی ہمیشہ درست ادائیگی کی کوشش کے باوجود ایسا کرتا ہے تو نماز درست ہوگی ورنہ نماز درست نہ ہوگی۔ ملخصا (ت)
حوالہ / References دُرمختار باب الامامۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۸۵
ردالمحتار بحوالہ فتاوٰی امام غزی مطلب فی الالثغ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۳۰
ردالمحتار بحوالہ فتاوٰی امام غزی مطلب فی الالثغ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۳۱
#6309 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
حاشیہ طحطاویہ میں زیر قولہ بذل جھدہ دائما ہے۔
قولہ دائما ای اناء اللیل واطراف النھار کما مرعن القھستانی ۔
ان کے قول دائما کا مطلب یہ ہے کہ وہ رات کے حصوں اور دن کے اطراف میں بھر پور کوشش کرے جیسا کہ قہستانی کے حوالے سے گزرا۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ دائما ای فی اناء اللیل واطراف النھار فمادام فی التصحیح والتعلم ولم یقدر علیہ فصلاتہ جائزۃ و ان ترك جھدہ فصلاتہ فاسدۃ کما فی المحیط وغیرہ قال فی الذخیرۃ وانہ مشکل عندی لان ما کان خلقۃ فالعبد لا یقدر علی تغییرہ اھ وتمامہ فی شرح المنیۃ
ان کے قول دائما سے مراد یہ ہے کہ رات اور دن کے اطراف میں تصحیح کی بھر پور کوشش کرے پس اگر وہ ہمیشہ تصحیح و تعلم میں بھر پور کوشش کے باوجود اس پر قدرت نہ رکھے تو اس کی نماز درست اور اگر وہ کو شش ہی ترك کردے تو اس کی نماز فاسد ہوگی جیسا کہ محیط وغیرہ میں ہے ذخیرہ میں کہا یہ میرے نزدیك مشکل ہے کیونکہ جو چیز فطری اور خلقی ہو بندہ اس کی تبدیلی پر قادر نہیں ہوسکتا اور اس پر تفصیلی گفتگو شرح منیہ میں ہے (ت)
غنیہ میں ہے :
قال صاحب المحیط المختار للفتوی انہ ان ترك جھدہ فی بعض عمرہ لایسعہ ان یترك فی باقی عمرہ ولو ترك تفسد صلوتہ قال صاحب الذخیرۃ انہ مشکل عندی الخ وذکر فی فتاوی الحجۃ مایوافق المحیط فانہ قال علی جواب الفتاوی الحسامیۃ ماداموافی التصحیح والتعلم با للیل
صاحب المحیط نے کہا ہے یہ مختار للفتوی ہے اوراگر اس نے عمر کے بعض حصے میں یہ کوشش ترك کردی ہو تو باقی عمر میں ترك کی گنجائش نہیں اگر ترك کرے گا تو نماز فاسد ہوگی صاحب الذخیرہ نے کہا میرے نزدیك یہ بہت مشکل ہے الخ فتاوی حجہ میں جو کچھ ہے وہ محیط کے موافق ہے کیونکہ انہوں نے فتاوی حسامیہ کے جواب پر کہا ہے کہ
حوالہ / References حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار باب الامامۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۲۵۱
ردالمحتار مطلب فی الالثغ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۳۱
#6310 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
والنھار جازت صلوتھم واذاترکو االجھد فسدت اھ وبمعناہ فی فتاوی قاضی خان فالحاصل ان اللثغ یجب علیہم الجھد دائما ھذا ھوالذی علیہ الاعتماد اھ ملخصا
جب وہ دن رات اس کی تصحیح اور سیکھنے میں کوشاں رہیں تو ان کی نماز درست ہوگی اور جب کوشش ترك کردیں گے تو نماز فاسد ہوجائے گی۔ اھ فتاوی قاضی خان میں بھی اسی معنی میں ہے الغرض توتلے پر دائمی کوشش لازم ہے اور اسی پر اعتماد ہے اھ ملخصا۔ (ت)
خلاصہ میں ہے :
ان کان یجتھد اناء اللیل والنھار فی تصحیحہ ولا یقدر علی ذلك فصلاتہ جائزۃ وان ترك جھدہ فصلاتہ فاسدۃ الا ان یجعل العمرفی تصحیحہ ولا یسعہ ان یترك جھدہ فی باقی عمرہ ۔
تصحیح میں ہے جب دن رات کوشش کرتا رہا مگر وہ قدرت حاصل نہ کر پایا تو اس کی نماز درست ہے اگر اس نے کوشش ترك کردی تو نماز فاسد ہوگی۔ ہاں اگر عمر کا کچھ حصہ تصحیح میں صرف کرے اور درست کی قدرت حاصل نہ ہو تو باقی عمر میں تصحیح کی کوشش ترك کرنے کی گنجائش نہیں (ت)
اسی طرح فتح القدیر فصل القرأت اور اسی کے قریب مراقی الفلاح میں ہے : حلیہ میں ہے :
الا ان ھذاالشق الثانی کما قال صاحب الذخیرۃ مشکل لان ماکان خلقۃ فالعبد لایقدر علی تغییرہ قلت وکذا اذاکان لعارض لیس ممایزول عادۃ واذاکان کذلك لا یعول فی الفتوی علی مقتضی ھذاالشرط ومن ثمہ ذکر
البتہ یہ دوسری صورت جیسا کہ صاحب ذخیرہ نے کہا مشکل ہے کیونکہ فطری اور خلقی شے کے تبدیل کرنے پر بندہ قادر نہیں ہوسکتا۔ میں کہتا ہوں ایسا ہی حکم ہے اس وقت جب کسی ایسے عارضہ کی وجہ سے ہو جس کا ازالہ عادۃ نہ ہو پائے اور جب اس طرح کی صورت ہو تو فتوی میں اس
حوالہ / References غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی زلۃ القاری مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۸۲
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی زلۃ القاری مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۴۸۳
خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الثانی عشر فی زلۃ القاری مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ص ۱۱۰
#6312 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
فی خزانۃ الاکمل فی سیاق النقل عن فتاوی ابی اللیث لو قال الھمدﷲ اوکل ھواﷲ احد جاز اذالم یقدر علی غیر ذلك او بلسانہ عقلۃ قال الفقیہ فان لم تکن بلسانہ عقلۃ ولکن جری علی لسانہ ذلك لا تفسد انتھی فلم یذکر ھذا الشرط وان کان بعد ذلك ذکرہ عن ابراھیم بن یوسف والحسین بن مطیع۔
شرط کے مقتضی کا اعتبار نہیں کیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ خزانۃ الاکمل میں فتاوی ابوللیث سے نقل کرتے ہوئے کہا اگر نمازی نے الھمد ﷲ یا کل ھواﷲ احد پڑھ لیاتو جائز ہے بشرطیکہ وہ اس کے غیر پر قادر نہ ہو یا اس کی زبان میں رکاوٹ(لکنت) ہوفقیہ(ابوللیث) نے کہا اگر زبان میں رکاوٹ(لکنت) نہ تھی لیکن اس کی زبان پر یہ چیز ازخود جاری ہوگئی تو نماز فاسد نہیں ہوگی انتہی پس انھوں نے یہ شرط ذکر نہیں کی اگرچہ اس کے بعد والوں نے ابراہیم بن یوسف اور حسین بن مطیع کے حوالے سے ذکر کی ہے(ت)
اسی میں ہے :
قد عرفت انفاانہ لاینبغی اشتراط الاجتھاد فی ذلك لمن ھو فیہ خلقۃ او لعارض لیس ممایزول عادۃ۔
ابھی آپ نے پڑھا کہ اس شخص کے لئے کوشش کرنے کی شرط لگانا مناسب نہیں جس میں وہ چیز خلقۃ (فطرۃ) ہویا ایسے عارضہ کی وجہ سے جو عادۃ زائل نہیں ہوتا ۔ (ت)
طحطاوی حاشیہ مراقی الفلاح میں ہے :
کلام ابن امیر الحاج یفید ان ھذاالشرط فیہ خلاف والاکثرلم یذکروہ لان فیہ حرجا عظیما اھ اقول ورأیتنی کتبت علی ھامش حاشیتہ علی المراقی مانصہ اقول رب ماکان خلقۃ یتبدل بالتکلف ورب مالا یتوقع یاتی الجھد فیہ بالفرج ولعل القول الفصل
ابن امیر الحاج کے کلام سے پتا چلتا ہے کہ اس شرط میں اختلاف ہے اور اکثر علماء نے اس کا ذکر نہیں کیا کیونکہ اس میں حرج عظیم ہے اھ میں کہتا ہوں مجھے یاد آرہا ہے کہ مراقی الفلاح پرطحطاوی کے حاشیہ پر میں نے حاشیہ لکھا ہے عبارت یہ ہے میں کہتا ہوں بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ جو چیز خلقۃ و فطرۃ ہو اسے
حوالہ / References حلیۃ المحلی شرح منیہ المصلی
حلیۃ المحلی شرح منیہ المصلی
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب الامامۃ مطبوعہ نور محمد کتب خانہ کراچی ص ۱۵۸
#6313 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
ایجاب الجھد ماکان یرجی التعلم ولو رجاء ضعیفا فاذاأیس تحقیقا لاتبر ماوسعہ الترك لا یکلف اﷲ نفسا الا وسعھا و فیہ رعایۃ الجانبین ویؤید عدم خزانۃ الاکمل اذا قرأمکان الظاء ضادااومکان الضاد ظاء فقال القاضی المحسن الاحسن یقال ان تعمد ذلك تبطل صلوتہ عالما کان او جاھلا وان جری علی لسانہ اولم یکن یمیز بین الحرفین فظن انہ ادی الکلمۃ کما ھی جازت صلاتہ وھو قول محمد بن مقاتل وبہ کان یفتی الشیخ اسمعیل الزاھد لان السنۃ الاکراد و اھل السوادوالاتراك غیر طائعۃ فی مخارج ھذہ الحروف وفی ذلك حرج عظیم والظاھر ان ھذامجمل مافی جمیع الفتاوی اھ با ختصار فقد عذرھم بعجزھم ولم یلزمھم ادامۃ جہد لئن تبتعت فعساك تجد شواھدہ بوفر وکثر واﷲ یحب الیسر ویقبل العذر وھو سبحنہ وتعالی اعلم۔
تکلفا بدلا جاسکتا ہے اور بعض غیر متوقع چیزوں کو آسانی سے بجا لایا جا سکتا ہے شاید قول فیصل یہ ہوکہ اس وقت تك کوشش واجب ہے جب تعلم کے ذریعے تبدیلی کی امید ہو اگر چہ ضعیف سی امید ہی سہی اور جب یقینا نا امیدی ہوجائے تو اب ترك کی گنجائش کا نہ ہونا زیادتی ہے اﷲ تعالی کسی ذات کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا اور اس میں جانبین کی رعایت ہے اور دائمی طور پر کوشش کا واجب نہ ہونا بھی اس کی تائید کرتا ہے۔ حلیہ میں خزانۃ الاکمل کے حوالے سے کہ ظاء کی جگہ ضاد یا ضاد کی ظاء پڑھا تو قاضی محسن نے کہا کہ احسن یہ ہے کہ اگر ایسا عمدا کیا تو کہا جائے نماز باطل ہوگئی خواہ وہ شخص عالم ہو یا جاہل اور اگر زبان پر ازخود جاری ہوگیا یا وہ ان دونوں حروف کے درمیان امتیاز نہیں کرسکتا کہ وہ سمجھ رہا ہے کہ کلمہ اسی طرح ادا ہوگیا جس طرح ہونا چاہئے تھا تو اسکی نماز درست ہوگی اور یہی محمد بن مقاتل کا قول ہے اور اسی پر شیخ اسماعیل الزاہد نے فتوی جاری کیا کیونکہ کرد اہل سواد(عراق) اور ترك کے لوگوں کی زبانیں ان حروف کے مخارج کی صحیح ادائیگی نہیں کر سکتیں اور اس میں حرج عظیم ہے اور ظاہر یہ ہے یہ تمام فتاوی کے بیان کا اجمال ہے اھ مختصرا پس ان کو عجز کے پیش نظر معذور گردانا اور ان پر دائمی کوشش لازم نہیں کی اگر آپ محنت سے تلاش کریں گے تو بہت سے اسکے شواہد آپ کو مل جائیں گے۔ اﷲ تعالی آسانی کو پسند کرتا ہے اور عذر قبول فرماتا ہے اور وہ پاك ذات ہی سب سے زیادہ جاننے والی ہے۔ (ت)
حوالہ / References حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
#6314 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
صغیری میں ہے :
لو قرأالھمدﷲ بالھاء مکان الحاء الحکم فیہ کالحکم فی الالثغ علی مایاتی قریبا اھ ملخصا
اگر کوئی حاء کی جگہ ھاء کہتے ہوئے الھمدﷲ پڑھے تو اس کا حکم توتلے کے حکم کی طرح ہے جیسا کہ عنقریب آئے گا اھ ملخصا(ت)
پھر فرمایا :
المختار فی حکمہ یجب علیہ بذل الجھد دائما فی تصحیح لسانہ ولا یعذر فی ترکہ وان کان لاینطق لسانہ فان لم یجد ایۃ لیس فیھا ذلك الحرف الذی لایحسنہ تجوز صلاتہ بہ ولا یؤم غیرہ فھوبمنزلۃ الامی فی حق من یحسن ما عجز ھو عنہ واذا امکنہ اقتدأہ بمن یحسنہ لاتجوز صلاتہ منفردا وان وجد قدرما تجو زبہ الصلاۃ ممالیس فیہ ذلك الحرف الذی عجز عنہ لاتجوز صلاتہ مع قرأۃ ذلك الحرف لان جواز صلاتہ مع التلفظ بذلك الحرف ضروری فینعدم بانعدام الضرورۃ ھذا ھوالصحیح فی حکم الالثغ ومن بمعناہ ممن تقدم انفا ۔
مختار یہی ہے کہ اس پر تصحیح زبان کے لئے ہمیشہ کوشش کرنا ضروری ہے اور اس کے ترك پر معذور نہیں سمجھا جائے گا اگرچہ اس کی زبان کا اجراء درست نہ ہو جس کو وہ اچھی طرح ادا نہیں کرسکتا تو اب اس کی نماز اس آیت سے درست ہوگی البتہ وہ غیر کی امامت نہ کروائے پس وہ صحیح ادائیگی کرنے والے کے حق میں امی کی طرح ہوگا اس آیۃ میں جس سے عاجز ہے اور جب مذکورہ شخص کو ایسے آدمی کی اقتدا ممکن ہو جوصحیح ادا کرسکتا ہے تو اس کی تنہا نماز نہ ہوگی اور اگر وہ ایسی آیۃ پر قادر ہے جس میں مذکورہ حرف نہیں تو اس حرف والی آیۃ پڑھنے کی وجہ سے نماز نہ ہوگی کیونکہ اس حر ف کا درست پڑھنا نماز کے لئے ضروری تھا جب وہ تقاضا معدوم ہے تو نماز کا وجود بھی نہ ہو گا ۔ توتلے اور اس جیسے شخص کے لئے یہی حکم ہے اور یہی صحیح ہے۔ (ت)
ولوالجیہ میں ہے :
ان کان یمکنہ ان یتخذ من القران
اگر توتلے کے لئے قرآن مجیدکے دیگر مقامات سے
حوالہ / References صغیری شرح منیۃ المصلی فصل فی زلۃ القاری مطبوعہ مجتبائی دہلی ص۲۴۹
صغیری شرح منیۃ المصلی فصل فی زلۃ القاری مطبوعہ مجتبائی دہلی ص۲۵۰
#6315 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
ایات لیس فیھا تلك الحروف یتخذ الا فاتحۃ الکتاب فانہ لا یدع قرأتھا فی الصلوۃ انتھی اقول ولا منشأ لاستثناء الفاتحہ الا الاختلاف فی رکنیتھا فیترأای لی تقیید ذلك فی المکتوبات بالاولیین حتی لو قرأفی الاخریین فسدت واﷲ تعالی اعلم۔
آیات کا پڑھنا ممکن ہو جن میں ایسے حروف نہیں تو وہ انھیں پڑھ لے ماسوا فاتحہ کے کیونکہ اس کی قرأت نماز میں ترك نہیں کی جاسکتی انتہی۔ میں کہتا ہوں یہاں فاتحہ کا استثناء اس لئے ہے کہ اس کی رکنیت میں اختلاف ہے پس مجھ پر یہ با ت واضح ہوئی کہ اسے فرض کی ابتدائی دو۲ رکعتوں کے ساتھ مقید کرنا ضروری ہے حتی کہ اگر آخری دو ۲ رکعتوں میں پڑھے گا تو نماز فاسد ہوجائے گی ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر۴۵۷ : از سہسرام مرسلہ مولوی محمد نورصاحب ولایتی ۱۳۰۹ھ
خلاصہ فتوی مرسلہ مولوی صاحب مذکور کہ بہر تصدیق نزد فقیر آمدہ
ماہرین شریعت پر پوشیدہ نہ رہے کہ ضاد کا مشتبہ الصوت ہونا ساتھ ظائے معجمہ کے جملہ کتب تفسیر و فقہ و صرف و تجوید سے ثابت ہے کہ بخلاف دال کے ضاد اور دال میں سات صفتوں کا فرق ہے اور قاعدہ کلیہ جملہ کتب فقہیہ کا یہ ہے کہ جن دونوں حرفوں میں فرق بآسانی ممکن ہے اس کے بدل جانے سے نماز فاسد ہوتی ہے اور اگر فرق دو حروف میں مشکل ہے تو اکثر کا مذہب یہ ہے نماز فاسد نہیں ہوتی اور یہی مذہب متاخرین کا معتدل و پسندیدہ ہے او ر مذہب متقدمین کا یہ ہے کہ ضاد کے ظاء پڑھنے سے بھی نماز فاسد ہوتی ہے پس لفظ ولاالضالین کی جگہ دالین پڑھنے سے سب کے نزدیك نماز فاسد ہوتی ہے اور ظاء پڑھنے سے اکثر کے نزدیك فاسد نہیں ہوتی اور اسی پر فتوی ہے حاصل یہ کہ جس شخص سے مخرج ضاد کا نہ آوے وہ ظاء پڑھے ھذاھوالحق والصواب تو مسلمانوں کو چاہئے کہ بہت جلد اس کے عامل ہوجائیں واﷲ اعلم بالصواب فی الواقع بمذہب مختار جمہور ضاد کی ظاء پڑھے یا ذال نماز فاسد نہ ہو گی واﷲ اعلم ۔
ابو الحسنات محمد عبدالحی لکھنوی
الجواب :
اللھم ھدایۃ الحق والصواب بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
اس قدر تجوید جس کے باعث حروف کوحرف سے امتیاز اور تلبیس و تبدیل سے احتراز حاصل ہو واجبات عینیہ و اہم مہمات دینیہ سے ہے آدمی پر تصحیح مخارج میں سعی تام اورہر حرف میں اس کے مخرج سےٹھیك ادا کرنے کا۔
حوالہ / References و لوالجیہ
#6316 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
قصد و اہتمام لازم کہ قرآن مطابق ما انزل اﷲ تعالی پڑھے نہ معاذاﷲ مداہنت و بے پروائی کہ آجکل کے عوام بلکہ یہاں کے کثیربلکہ اکثر خواص نے اپنا شعار کرلیا فقیر نے بگوش خود بعض مولوی صاحبوں کو پڑھتے سنا قل ھو اﷲ اھدحالانکہ نہ ہر گز اﷲ الاحد نے اھد فرمایا نہ امین وحی علیہ الصلوۃ والسلام نے اھد پہنچایا نہ صاحب قرآن صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اھد پڑھایا پھر اسے قرآن کیونکر کہا جائے فانا ﷲ وانا الیہ راجعون حاشا فتوی متاخرین پروانہ بے پروائی نہیں باوصف قدرت تعلیم تعلم نہ کرنا اور براہ سہل انگاری غلط خوانی قرآن پر مصر ومتمادی رہنا کو ن جائز رکھے گا اتقان شریف میں ہے۔
من المھمات تجوید القران وھواعطاء الحروف حقوقھا و ردالحرف الی مخرجہ واصلہ ولاشك ان الامۃ کما ھم متعبدون بفھم معانی القران واقامۃ حدودہ ھم متعبدون بتصحیح الفاظہ واقامۃ حروفہ علی الصفۃ المتلقاۃ عن ائمۃ القرأۃ المتصلۃ بالحضرۃ النبویۃ وقد عد العلماء القرأۃ بغیر تجوید لحنا ۔
اہم چیزوں میں سے تجوید قرآن سیکھنا بھی ہے اور تجوید حروف کو ان کے حقوق دینا اور ان کو ان کے اصل اور مخرج کی طرف لوٹانا ہے اور اس میں کوئی شك نہیں جس طرح امت مسملہ معانی قرآن کے فہم اور اسکی حدود کے قیام کو عبادت جانتے ہیں اسی طرح اس کے الفاظ کی تصحیح اور اسکے حروف کی اس صفت جوائمہ قراء سے منقول ہے پر ادائیگی کو بھی عبادت جانتے ہیں اور ان قراء کی قرأت کا سلسلہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تك پہنچتا ہے اور علماء نے تجوید کے بغیر قرآن پڑھنے کو غلط پڑھنا قرار دیا ہے(ت)
اس احسن الفتاوی فتاوی بزاریہ وغیرہا میں ہے :
ان اللحن حرام بلاخلاف
غلط پڑھنا بالاجماع حرام ہے۔
ولہذا ائمہ دین تصریح فرماتے ہیں کہ آدمی سے اگر کوئی حرف غلط ہوتا ہو تو اس کی تصحیح و تعلم میں اس پر کوشش واجب بلکہ بہت علماء نے اس سعی کی کو ئی حد مقرر نہ کی اور حکم دیا کہ عمر بھر روزوشب ہمیشہ جہد کئے جائے کبھی اس کے ترك میں معذور نہ ہوگا۔ علامہ ابراہیم حلبی غنیہ میں فرماتے ہیں :
یجب علیہ بذل الجھد دائما فی تصحیح لسانہ ولایعذر
غلط لفظ کی تصحیح کے لئے ہمیشہ کوشاں رہنا ضروری ہے ترك کی صورت میں معذور نہیں
حوالہ / References الاتقان فی علوم القرآن الفصل الثانی من المہمات تجوید القرآن مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۰۰
فتاوٰی بزازیہ علی حاشیۃ الفتاوی الہندیہ الثانی فی العبادات من کتاب الکراہیۃ مطبوعہ نورانی کتب خانی پشاور ۶ / ۳۵۳
#6318 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
فی ترکہ ۔
سمجھا جائے گا (یعنی اس میں جہد کو ترك کرنا قابل قبول نہیں (ت)
قہستانی و طحطاوی وغیرہما میں ہے :
قولہ دائما ای اناء اللیل واطراف النھار ۔
دائما سے رات کا کچھ حصہ اور دن کے اطراف مراد ہیں ۔ (ت)
اسی طرح اور کتب کثیرہ میں ہے تو کیونکر جائز کہ جہد وسعی بالائے طاق سرے سے حرف منزل فی القرآن کا قصد ہی نہ کریں بلکہ عملا اسے متروك و مہجور اور اپنی طرف سے دوسراحرف اس کی جگہ قائم کردیں ۔ فقیر کہتا ہے غفراﷲ تعالی بعد اسکے کہ عرش تحقیق مستقر ہوچکا کہ قرآن اسم نظم و معنی جمیعا بلکہ اسم نظم من حیث الارشاد الی المعنی ہے اور نظم نام حروف علی ہذاالترتیب المعروف اورحروف باہم متباین اور تبدیل جز قطعا مستلزم تبدیل کل کہ مؤلف من مبائن یقینا غیر مؤلف من مبائن آخر ہے۔ میں نہیں جانتا کہ اس تبدیل عمدی اور تحریف کلام اﷲ میں کتنا تفاوت مانا جائے گا۔ لاجرم امام اجل ابوبکر محمد بن الفضل فضلی وامام برہان الدین محمود بن الصدر السعید وغیرہما اجلہ کرام نے تو یہاں تك حکم دیا کہ جو قرآن عظیم میں عمدا ض کی جگہ ظ پڑھے کافر ہے۔
اقول : ولا حاجۃ الی استثناء (وماھو علی الغیب بضنین) فان ھھنا لیس مقام الضاد خاصۃ بل مقامھما جمیعا لان اللفظ قرئ بھما فی القران فکان مثل صراط وسراط وبسطۃ وبصطۃ ویبسط ویبصط ومصیطر ومسیطر الی اشباہ ذلك بخلاف ضالین وظالین وسجیل وصجیل فانہ تبدیل۔
میں کہتاہوں “ وماھوعلی الغیب بضنین “ کے استثناء کی حاجت نہیں ہے کیونکہ اس مقام پر ضاد کی جگہ ظاء کو رکھنا نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ مقام ضاد کے ساتھ ہی مخصوص نہیں بلکہ دونوں کا مقام ہے کیونکہ قرآن میں یہ لفظ دونوں قرأتوں کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ یہ ان الفاظ کی طرح ہے۔ صراط اور سراط بسطۃ اور بصطۃ یبسط اور یبصط مصیطر ار مسیطر اور ان کی طرح کے دوسرے الفاظ بخلاف ضالین کی جگہ ظالین اور سجیل کی جگہ صجیل کے کیونکہ یہاں تبدیلی ہے۔ (ت)
حوالہ / References غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی زلۃ القاری مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۸۳
نوٹ : غنیۃ کی عبارت جو مجھے ملی ہے وہ اس طرح ہے : یجب علیھم الجھد دائما وصلٰوتھم جائزۃ مادامواعلی الجھد - اور اس سے کچھ قبل یہ الفاظ ہیں : ینبغی ان یجتھد ولا یعذر فی ذلك الخ - البتہ صغیری شرح منیۃ المصلی مطبوعہ دہلی بعینہٖ یہی الفاظ متن ص ۲۵۰ پر موجود ہیں ۔ نذیر احمد سعیدی
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب الامامۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۲۵۱
#6319 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
محیط میں ہے :
سئل الامام الفضلی عمن یقرأالظاء المعجمۃ مکان الضاد المعجمۃ اوعلی العکس فقال لا تجوز امامتہ ولو تعمد یکفر ۔
امام فضلی سے سوال کیا گیا کہ اس شخص کا کیا حکم ہے جس نے ضاد کی جگہ ظاء یا اس کے بالعکس پڑھا تو انہوں نے (جواب میں ) فرمایا ایسے شخص کی امامت جائز نہیں اور اگر ایسا عمدا کرے تو کافر ہوگا۔ (ت)
منح الروض میں ہے :
کون تعمدہ کفرالاکلام فیہ
(ایساعمدا کرنا کفر ہے اس میں کسی کو کلام نہیں الخ ۔ ت)
پس جز ما لازم کہ ہر حرف میں خاص حرف منزل من عنداﷲ ہی کی اداکا قصد کریں اسی کے مخرج سے اسے نکالنا چاہیں پھر بوجہ عسر حرف و قصور لسان اگر غلط ادا ہو تو مثل ض میں کہ اعسر الحروف ہے۔ تیسیراعلی الامۃ فتوی بعض متاخرین پر عمل کرکے صحت نماز کا حکم دینا معیوب نہیں بلکہ محبوب ہے کہ شارع علیہ السلام کو یسروآسانی مطلوب و مرغوب ہے۔
قال المولی سبحنہ وتعالی
یرید الله بكم الیسر و لا یرید بكم العسر- وقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یسراو لاتعسروا وبشروا ولاتنفروا اخرجہ الائمۃ احمد و الشیخان عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ۔
اﷲ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے اﷲ تمھارے ساتھ آسانی کا ارادہ کرتا ہے اور وہ تمھارے ساتھ تنگی کا ارادہ نہیں کرتا اورنبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ آسانی پیدا کرو مشکل وتنگی پیدا نہ کرو خوشخبری دو نفرت نہ پھیلاؤ۔ اس حدیث کو امام احمد امام بخاری اورمسلم نےحضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ت)
پھر ایسی حالت میں عندالانصاف اشتراك صفات خواہ اشتباہ اصوات کسی کی تخصیص نہیں ہوسکتی
حوالہ / References منح الروض شرح فقہ اکبر لملّا علی قاری فصل فی القرأءۃ والصّلوٰۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۱۶۷
منح الروض شرح فقہ اکبر لملّا علی قاری فصل فی القرأءۃ والصّلوٰۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۱۶۷
القرآن ۲ / ۱۸۵
صحیح البخاری باب قول النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم یسروا ولا تعسرواالخ مطبوعہ اصح المطابع قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۹۰۴
#6325 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
کہ جو خلاف قصد ہے اختیاری نہیں اور جو اختیاری نہیں اس پر حکم جاری نہیں اور اگر اپنی طرف سے خاص ارادہ احد الاغلاط کاحکم دیجئے تو یہ وہی تعمد غلط ہے کہ یقینا ممنوع ولہذا علامہ شامی قدس سرہ السامی نے عبارت تاتار خانیہ :
اذالم یکن بین الحرفین اتحاد المخرج ولا قربہ الا ان فیہ بلوی العامۃ کالذال مکان الضاد والزاء المحض مکان الذال والظاء مکان الضاد ولا تفسد عند بعض المشائخ اھ
جب دو۲ حرفوں کے درمیان اتحاد مخرج اور قرب مخرج نہ ہو مگر اس صورت میں جب عموم بلوی ہو مثلا ذال ضاد کی جگہ اور زا ذال کی جگہ اورظاء ضاد کی جگہ پڑھا تو بعض مشائخ کے نزدیك نماز فاسد نہ ہوگی۔ اھ (ت)
نقل کرکے فرمایا
قلت فینبغی علی ھذاعدم الفساد فی ابدال الثاء سینا والقاف ھمزۃ کما ھو لغۃ عوام زماننا فانھم لایمیزون بینھما و یصعب علیھم جدا کالذال مع الزاء ولا سیما علی قول القاضی ابی عاصم وقول الصفار وھذا کلہ قول المتأخرین و قد علمت انہ اوسع وان قول المتقدمین احوط قال فی شرح المنیۃ وھوالذی صححہ المحققون وفرعواعلیہ فاعمل بماتختار والاحتیاط اولی سیما فی امر الصلوۃ التی ھی اول ما یحاسب العبد علیھا ۔
میں کہتا ہوں اس کے مطابق ان صورتوں میں فساد نہیں ہونا چاہئے جبکہ کوئی شخص ثاء کی سین قاف کی جگہ ہمزہ پڑھے جیسا کہ ہمارے دور کے عوام کی زبان ہے وہ ان کے درمیان کوئی امتیاز نہیں کرتے اور یہ ان پر نہایت دشوار ہے جیسا کہ ذال اور زا میں فرق کرنا خصوصا قاضی ابو عاصم اورصفار کے قول پر اور یہ تمام متاخرین کا قول ہے اور آپ جان چکے کہ اس میں کافی وسعت ہے اور متقدین کا قول احوط ہے شرح منیہ میں فرمایا اسی کو محققین نے صحیح کہا اور اسی پر انہوں نے تفریع بٹھائی پس مختار پر عمل کرو اور احتیاط اولی ہے خصوصا نماز کے معاملات میں کیونکہ بندے سے اسی کے بارے میں سب سے پہلے سوال ہوگا(ت)
اس تحقیق انیق سے ظاہر ہوا کہ تعمدنہ ظاد کا جائز نہ دواد کاکہ نہ وہ ظا ہے نہ دال مفخم اور بعد قصد ض وارادہ حرف صحیح و استعمال مخرج معین براہ غلط جو کچھ ادا ہو تیسیرا صحت نماز پر فتوی لتعسر
حوالہ / References ردالمحتار مطلب مسائل زلۃ القاری مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۶۸
#6326 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
المرمی و تکثر البلوی ھذا ماعندی فلتنظر نفس ماذاتری(کیونکہ ادائیگی مشکل اور استعمال زیادہ ہے یہ میری رائے ہے پس تمہاری رائے اس میں کیا ہے اس پر خود غور وخوض کرو۔ ت) ہندیہ و حلیہ وخزانۃ الاکمل میں ہے :
ان جری علی لسانہ او لا یعرف التمیز لاتفسد ھوالمختار ۔
اگر زبان پر ازخود جاری ہوگیا یا امتیاز کی معرفت نہیں تونماز فاسد نہ ہوگی یہی مختار ہے۔ (ت)
وجیز کردری میں ہے :
ھو اعدل الاقاویل وھوالمختار ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم عز شانہ احکم۔
یہ سب سے معتدل قول ہے اور یہی مختار ہے۔ (ت) اوراﷲ سبحانہ تعا لی سب سے بہتر جاننے والا ہے اس کا علم سب سے کامل اور اسکی شان حاکمیت سب سے اعلی ومستحکم ہے (ت)
مسئلہ نمبر ۴۵۸ : مرسلہ جناب نواب مولوی سید سلطان احمد خان صاحب سلمہ اﷲ تعالی ازبریلی ۳ رمضان المبارك ۱۳۱۰ھ
چہ مے فرمایند علمائے کرام دریں مسئلہ کہ درصور ذیل حکم نماز چیست عام ازانکہ فرض بود یا نفل کہ در ہررکعت ہماں سورت تکرارکردن۔
درج مسائل نماز میں علماء کرام کی کیا رائے ہے خواہ نماز فرض ہو یا نفل کہ ہر رکعت میں ایك سورت کا تکرار کرنا کیسا ہے
الجواب :
بے ضرورت در فرائض مکروہ تنزیہی است پس نشاید دراولی قرأت ناس راتعمد کردن تاحاجت بتکرار نیفتند اما اگرخواند بسہو یا عمد ناچار درثانیہ تیرہموں باید خواند کہ قرأت معکوسہ سخت تراز تکرار است بخلاف ختم کنندہ قرآن عظیم کہ اوراباید در رکعت اولی تاناس خواندن و درثانیہ از
بغیر ضرورت فرائض میں مکروہ تنزیہی ہے پس پہلی رکعت میں سورۃ الناس عمدا نہیں پڑھنی چاہئے تاکہ تکرار کی ضرورت نہ پڑ جائے اگر سہوا یاعمدا پڑھ چکا تواب دوسری رکعت میں وہی سورت یعنی سورۃ الناس دوبارہ پڑھے کیونکہ ترتیب بدل کر پڑھنا تکرار سے بھی سخت ہے بخلاف
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ الفصل الخامس فی زلۃ القاری نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۷۹
فتاوٰی بزازیۃ علی ہامش الفتاوٰی الہندیۃ الثانی عشرفی زلۃ القاری نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۴۲
#6327 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
الم تا مفلحون لحدیث الحال المرتحل کذا فی النھر وردالمحتار اقول : وانچہ مراد اینست کہ بحالت ختم قرآن مجید ایں خود نکس و عکس نیست بلکہ از سرگفتن باشد چنانکہ لفظ حال و مرتحل نیز برآں دلیل است فافھم واﷲ تعالی اعلم۔
ختم قرآن کی صورت کے کہ اس میں پہلی رکعت میں سورۃ الناس تك پڑھنا اور دوسری رکعت میں الم تا مفلحون پڑھنا جائز اور درست ہے۔ کیونکہ حدیث شریف میں ہے : ایك شخص نے عرض کیا یا رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ! اﷲ تعالی کے ہاں پسندیدہ عمل کیا ہےحضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ نے فرمایا : منزل میں اترنے والا اور کوچ کرنیوالا (یعنی جوشخص قرآن شریف ختم کرے فورا شروع کرے اور یوں ہی کرتا رہے)جیسا کہ نہر اور ردالمحتار میں ہے ۔ میں کہتا ہوں اس سے مراد یہ ہے کہ ختم قرآن کی صورت میں یہ عکس اور ترتیب کا بدلنا نہیں بلکہ قران کو نئے سرے سے شروع کرنا ہے جیسا کہ لفظ حال و مرتحل بھی اسی پر دلیل ہے فافھم واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ نمبر ۴۵۹ : در یك رکعت چند سورت خواند(ایك رکعت میں متعدد سورتیں پڑھناکیسا ہے۔ (ت)
الجواب :
دو رکعتے زیادہ بریك سورت خواندن در فرائض نباید امااگر کند مکروہ نباشد بشرط اتصال سور و اگر سور متفرقہ در رکعتے جمع کند مکروہ باشد کما فی الغنیۃ ثم ردالمحتار اقول و بحالت امامت شرطے دیگرنیز است وآں عدم تثقیل بر مقتدی ورنہ کراہت تحریمی است۔ واﷲ تعالی اعلم
فرائض کی ایك رکعت میں ایك سے زائد سورتیں نہیں پڑھنی چاہئیں اگر کوئی پڑھ لیتا ہے تو کراہت نہیں بشرطیکہ وہ سورتیں متصل ہوں اگر کوئی متفرق سورتیں کسی ایك رکعت میں جمع کرتا ہے تو اس میں کراہت ہے۔ جیسا کہ غنیۃ میں اور پھرردالمحتار میں ہے میں کہتا ہوں امام ہونے کی صورت میں ایك اور شرط بھی ہے وہ یہ کہ مقتدی اسے بوجھ محسوس نہ کرے ورنہ کراہت تحریمی ہوگی واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ نمبر ۴۶۰ : یك سورت فروگزاشتہ خواندن (ایك سورت چھوڑ کر پڑھنا کیسا ہےت)
الجواب :
سورت متروکہ اگر مدیداست کہ برتقدیر قرأتش در ثانیہ اطالت ثانیہ براولی لازم آید پس ازاں گزشتہ
اگر متروکہ سورت اتنی لمبی ہے کہ اس کی قرات سے دوسری رکعت پہلی رکعت سے طویل ہوجائے گی تو
حوالہ / References الجامع الترمذی ابواب القرأۃ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۱۱۸
#6328 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
سورت ثالثہ خواندن باکے ندارد چنانکہ دراولی والتین ودر ثانیہ قدر ورنہ در فرائض مکروہ چنانچہ نصر و اخلاص واگردو سورت درمیان باشد مضائقہ نے ہمچو نصر و فلق -واﷲ تعالی اعلم
ایسی سورت کو ترك کرکے تیسری سورت پڑھنے میں کوئی حرج نہیں مثلا پہلی رکعت میں سورہ والتین اور دوسری رکعت میں سورہ قدر پڑھے اور اگر ایسی صورت نہیں تو فرائض میں ایسا کرنا مکروہ ہے جیسا کہ سورہ نصر اور سورہ اخلاص کا پڑھنا اور اگر درمیان میں دو۲سورتیں ہوں تو پھر کوئی مضائقہ نہیں مثلا سورہ نصر اور سورہ فلق- واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر۴۶۱ : دریك رکعت یك سورت یا یك رکعت یك آیت چند بار خواندن(ایك رکعت میں کسی سورت یاآیت کا تکرار کے ساتھ پڑھنا کیسا ہے ۔ ت)
الجواب :
چوں تکرار یك سورت در دو۲رکعت و دو۲ سورت در یك رکعت ہر دو در فرائض نا بائستہ بودتکرار یك سورت در یك رکعت اولی نبابائستگی باشد و ہمچناں تکرار آیت خلاصہ موجب اطالت ثانیہ براولی باشد وکل ذلك خلاف الماثور المتوارث فی الفرائض فاما کرا ہت تحریم راوجہے نیست جزدرفاتحہ کہ دررکعتین اولین پیش ازقرأت سورۃ اعادہ کل یا اکثر اوکند اقول : لتفویت واجب الضم پس اگر عامداست اعادہ کند و اگر ساہی است سجدہ سہو بخلاف تکرار فاتحہ دراخریین اقول لعدم الضم فیہما یا بعد سورت در اولیین اقول لحصول الضم من قبل ولایجب الرکوع اثر السورۃ بل کلماتلامن القران کان لہ ان یتلوہ اقول : وازصورت تثقیل بر مقتدی غافل نباید بو د کہ ہمچو سور زائد بر قدر مسنون است پس اگر گرانی آرد مطلقا ناجا ئز و مکروہ تحریمی باشد و ایں حکم عام است مر فریضہ ونافلہ ہمہ راپس ہرجا از جب فرائض کی دو رکعتوں میں ایك سورت کا تکرار یا ایك رکعت میں دوسورتوں کا مناسب نہیں تو ایك رکعت میں ایك سورت کا تکرار بطریق اولی مناسب نہ ہوگا اسی طرح کسی مخصوص آیت کا تکرار دوسری رکعت کے پہلی رکعت کے طویل ہونے کی وجہ بن سکتا ہے اور یہ تمام باتیں فرائض کے بارے میں منقول ماثور کے خلاف ہیں لیکن اس کو مکروہ تحریمی قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں ماسوائے پہلی ۲دو رکعات میں قرأت سورت سے پہلے کل سورہ فاتحہ یا اکثر کا اعادہ کرنا کیونکہ یہ مکروہ تحریمی ہے۔ میں کہتا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ سورت ملانا واجب تھا اعادہ کی صورت میں وہ فوت ہوجاتاہے پس اگر کسی شخص نے عمدا ایسا کیا تو اعادہ نماز کرے اور اگر سہوا کیا تو سجدہ سہو ہوگا بخلاف آخری دو رکعت میں سورہ فاتحہ کے تکرار کے ۔ میں کہتا ہوں کیونکہ ان میں ضم سورت واجب نہیں یا ضم سورت کے بعد پہلی دو رکعات میں کیونکہ
#6330 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
صورت جواز مستثنی بایدش فہمید ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ضم سورت (واجب) پہلے حاصل ہو چکا اور سورت کے بعد رکوع فورا واجب نہیں ہوتا بلکہ جب تك نمازی تلاوت کرنا چاہے کرسکتا ہے ۔ میں کہتا ہوں مقتدی پر بوجھ ہونے کی صورت سے غافل نہیں ہوجانا چاہئے کیونکہ مثلا قدر مسنون قرأت سے زائد پر اگر نمازی بوجھ محسوس کرتا ہے تو ایسی صورت مطلقا ناجائز اور مکروہ تحریمی ہے اور یہ حکم ہر مقام پر ہوگاخواہ نمازفرض ہو یا نفل البتہ ہرجا صورت جوازکو مستثنی سمجھ لینا چاہئے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۶۲ :
از یك سورۃ طویلہ آیات متفرقہ در رکعات خواندن مثلا دراولی آیت الکرسی ودر ثانیہ امن الرسول
طویل سورت سے مختلف رکعات میں متفرق آیات پڑھنا کیسا ہے مثلا پہلی رکعت میں آیت الکرسی اور دوسری میں امن الرسول۔
الجواب :
ایں چنیں قرأت در دو۲رکعت جائز است وکراہت ندارد بشرط آنکہ میان ہردو موضع فصل کم زدوآیت نباشد فاما بہتر آنست کہ بے ضرورت ایں ہم نکند لانہ یوھم الاعراض عن البعض والعیاذ باﷲ تعالی واگرہمیں فصل یك آیت است یا دررکعت واحدہ بے ضرورت ارتکاب ایں معنی کرد مکروہ است اگرچہ فصل چندیں آیات باشد اقول : وگمان دارم کہ نفل دریں باب مخالف فرض نباشد لما ذکر فی فتح القدیر من قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لبلال رضیﷲ تعالی عنہ اذاابتدأت بسورۃ فا تمھا علی نحوھا قالہ حین سمعہ ینتقل فی التھجد من سورۃ الی سورۃ کما رواہ ابوداؤدوغیرہ فقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ھذا کما کان نھیا عن
یہ قرأت دو رکعت میں بلاکراہت جائز ہے بشرطیکہ دونوں قرأت کے درمیان دو آیات سے کم مقدار نہ ہو اور بہتر یہ ہے کہ بغیرضرورت ایسا بھی نہ کرے کیونکہ بعض آیات سے اعراض کا وہم ہوگا العیاذ باﷲ تعالی اگر یہ فاصلہ ایك آیت کی مقدار ہو یا ایك رکعت کی مقدار ہو یا ایك ہی رکعت میں بغیر ضرورت کے ایسا کرے تو مکروہ ہے اگرچہ فاصلہ متعدد آیات کا ہو۔ اقول(میں کہتا ہوں ) میں یہ سمجھتا ہوں اس معاملہ میں نوافل فرائض کے مخالف نہیں کیونکہ فتح القدیر میں ہے : نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کو ارشاد فرمایا جب تو کوئی سورۃ شروع کرے تو اسے مکمل کر آپ نے یہ اس وقت فرمایا جب انھیں تہجد میں ایك سورت سے دوسری سورت کی طرف منتقل ہوتے ہوئے سنا جیسا کہ
حوالہ / References فتح القدیر باب الامۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ ۱ / ۹۹۲
#6331 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
الانتقال من سورۃ الی سورۃ کذلك افادالنہی عن الانتقال من ایۃ الی اخری ایضا بالا ولی ولکن لی فیہ کلام سیاتی واﷲ تعالی اعلم۔
ابوداؤد وغیرہ نے اسکوروایت کیا ہے تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی جس طرح ایك سورت سے دوسری سورت کی طرف منتقل ہونے سے منع پر دال ہے اسی طرح ایك آیت سے دوسری آیت کی طرف انتقال کے منع ہونے پر بھی بطریق اولی دال ہے لیکن اس میں مجھے کلام ہے جو عنقریب آرہا ہے واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ نمبر ۴۶۳ : سورۃ معکوس خواندن (الٹی سورت پڑھنا کیسا ہے۔ ت)
الجواب :
بالقصد ناجائز وممنوع است در حدیث براں تہدید شدید فرمودہ اندواگرسہوا باشد چنانکہ در اولی نصرخواندہ درثانیہ قصد فلق داشت کہ بجائے قل اعوذ کلمہ قل یابر زبان رفت انگاہ ہمیں سورت کافرون باتمام رساند ونکندایں راگزاشتہ بسورت دیگر گزشتن بے ضرورت مکروہ اس پس ایں رجوع باشداز عدم کراہت بکراہت وھوکما تری سخن گفتگی ماندازآنکہ ایں معنی درنقل ہم مکروہ باشد یاخیر درمختار بتبیعت خلاصہ ایں راوچیزے چندازجنس ایں راکہ در فرائض کراہت داشت ذکر کردہ مبگوید ولا یکرہ فی النفل شیئ من ذلك اما امام محقق حیث اطلق فرمود عندی فی ھذہ الکلیۃنظر علامہ حلبی محشی درہم درمسئلہ دائرہ بریں کلیہ معترض آمد کہ قرأت منکوس بیروں نماز مکروہ وممنوع است در نفل چناں مکروہ نباشد اقول : وھوحسن ظاھر ومااجاب عنہ العلامۃ الطحطاوی واقرہ للعلامۃ الشامی وبالجملۃ فالاحوط الاحتراز واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
ارادۃ ایسا کرنا ممنوع و ناجائز ہے حدیث میں اس پر سخت وعید ہے اگر یہ سہوا ہوا جیسا کہ پہلی رکعت میں سورہ نصر پڑھی دوسری میں سورہ فلق پڑھنے کا قصد تھا مگر قل اعوذ کی جگہ زبان پر قل یا ایھا الکفرون) جاری ہوگیا ایسی صورت میں سورہ کافرون مکمل کرلے اسے چھوڑ کر دوسری طرف نہ جائے کیونکہ بغیر ضرورت کے ترك مکروہ ہے پس یہ عدم کراہت سے کراہت کی طرف رجوع ہوگا اور وہ اسی طرح ہے جس طرح تم جانتے ہو اب اس معاملہ میں یہ گفتگو رہ گئی کہ کیا نفل میں بھی کرنا مکروہ ہے یا مکروہ نہیں بلکہ درست ہے اور درمختار میں خلاصہ کی اتباع کرتے ہوئے اسے اس کے علاوہ اسی طرح کی چیزیں جو فرائض میں مکروہ ہیں ذکر کرکے فرمایا البتہ ان میں سے کوئی شے بھی نوافل میں مکروہ نہیں لیکن امام محقق علی الاطلاق نے اظہار کرتے ہوئے کہا مجھے اس کلیہ میں اعتراض ہے۔ علامہ حلبی محشی نے بھی مذکورہ مسئلہ میں اسی کلیہ پر اعترض کیا اور کہا کہ الٹی قرأت نماز سے باہر جب مکروہ و ممنوع ہے تو نوافل میں کیوں نہ مکروہ ہوگی۔ اقول : (میں کہتا ہوں )
#6332 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
یہ ہی بہتر ہے۔ اورعلامہ طحطاوی نے ان کی طرف سے اسکا جواب نہیں دیا ۔ اور علامہ شامی نے اسے ثابت رکھا الغرض اس طرح قرأت سے احتراز ہی بہتر ہے۔ و اﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم ۔ ت)
مسئلہ نمبر ۴۶۴ : کمی و بیشی در قرأت رکعات کردن(رکعتوں میں قرأت کی کمی بیشی کیسی ہے۔ ت)
الجواب :
اطالت ثانیہ براولے در فرائض مکروہ است بالاتفاق ودرنوافل علی الاصح وعکس آں رادر نوافل کراہتے نیستودر صبح نیز نائز است بالاتفاق والاطلاق یعنی ہرچہ تطویل کند پاك نباشد وبقدر ثلث خود مستحب است و بعضے تا نصف گویند و زیادہ برآں باوصف جواز خلاف اولی است ودر غیر فجر از فرائض اختلاف است نزد امام محمد ہمہ جا اطالت اولی باید و شیخین رضی اللہ تعالی عنہما بہ تسوید رفتہ اندوفتوی مختلف است باید کہ ارجح واوجہ قول شیخین باشد فان کلام الامام امام الکلام ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ فرائض کی دوسری رکعت کو پہلی پر لمبا کرنا بالاتفاق مکروہ ہے اور اصح قول کے مطابق نوافل میں بھی مکروہ ہے اس کے برعکس قرأت کرنا نوافل میں کراہت نہیں رکھتا اور نماز فجر(کی رکعت اولی) میں بھی بالاتفاق اور بالاطلاق جائز ہے یعنی جس طرح بھی طویل کرے کوئی حرج نہیں تہائی کی مقدار مستحب ہے اور بعض نصف مقدار تك کا قول بھی کرتے ہیں اوراس سے زیادہ لمبا کرنا جائز ہونے کے باوجود خلاف اولی ہے۔ فرائض فجر کے علاوہ دیگر نمازوں میں اختلاف ہے۔ امام محمد کے نزدیك ہرمقام پر پہلی رکعت کا لمبا کرنا اولی ہے شیخین رضی اللہ تعالی عنہما برابری کی طرف گئے ہیں اور فتوی بھی مختلف ہے لیکن شیخین کا قول راجح ہونامناسب لگتا ہے کیونکہ کلام امام امام کلام ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۴۶۵ : پس سورت اسمائے الہی ضم کرد(سورت کے ساتھ اسمائے الہی کا ملانا کیسا ہے۔ ت)
الجواب :
در فرائض مکروہ ست ہمچو سوال و استعاذہ نزد آیات ترغیب و ترہیب و درنوافل نیز لتغییر نظم الصلوۃ وانچہ وارددوثابت باشد کما فی صلوۃ و قال فی ردالمحتار والطعن فی ندبھا بان فیھا تغییرالنظم الصلوۃ انما یتأتی علی ضعف حدیثھا فاذا ارتقی الی درجۃ
فرائض میں مکروہ ہے اسی طرح آیات ترغیب و ترہیب میں رحمت کا سوال اور عذاب سے پناہ مانگنا بھی مکروہ ہے اور یہ نوافل میں بھی مکروہ ہے کیونکہ ایسے عمل سے نظم نماز میں تبدیلی آجاتی ہے اور جو معمولات کے بارے میں احادیث میں وارد ہے جیسا کہ نماز تسبیح میں ہے ردالمحتار میں کہا اس کے
#6333 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
الحسن أثبتھا وان کان فیھا ذلك اھ واﷲ تعالی اعلم
مستحب ہونے پر یہ اعتراض کہ نظم نماز میں تبدیلی کا باعث بنیں گے تب ہوسکتاہے جب اس کی حدیث ضعیف ہو پس جب اس کی حدیث درجہ حسن پر فائز ہوچکی تو اس کا اثبات ہوگیا اگرچہ اس میں وہ معمولات ہو ں (جو اس نماز میں مذکور ہیں ) اھ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۶۶ : ۲۸ ربیع الآخر ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرح متین اس مسئلہ میں کہ زید کو متولی صاحب اور اہل محلہ نے جو نماز پڑھنے مسجد میں آتے ہیں امام کیا اور زید حرفوں کو مخارج سے ادا کرتا ہے اب اس میں چند آدمی یہ کہتے ہیں کہ تم ضاد نہیں پڑھتے بلکہ ضاد کو مشابہ ظاء کے پڑھتے ہو اور زید کہتا ہے کہ میں مخارج سے ادا کرتا ہوں اور تم لوگ زبان کو دانتوں سے لگا کر نکالتے ہوئے “ د “ ہے اور میں داڑھ سے زبان کی نوك لگاکر نکالتا ہوں وہ “ ضاد “ ہے اور ایك شخص کبھی نماز پڑھا دیتا ہے وہ ضاد کو مخارج “ د “ سے ادا کرتا ہے آیا ان میں کس کے پیچھے نماز جائز ہوگی صاف صاف فرمایئے کلام اﷲ وحدیث رسول اﷲ سے بینوا توجروا۔
الجواب :
ظاد اور دواد محض غلط ہیں اسکا مخرج بھی نہ زبان کو دانتوں سے لگا کر ہے نہ زبان کی نوك داڑھ سے لگا کر بلکہ اس کا مخرج زبان کی ایك طرف کی کروٹ اسی طرف کی بالائی داڑھوں سے مل کر درازی کے ساتھ ادا ہونا اور زبان اوپر کو اٹھ کر تالو سے ملنا اور ادا میں سختی و قوت ہونا ہے اس کا مخرج سیکھنا مثل تمام حرفوں کے ضروری ہے جو شخص مخرج سیکھ لے اور اپنی قدرت تك اس کا استعمال کرے اور ظ یا د کا قصد نہ کرے بلکہ اسی حرف کا حق جو عزوجل کی طرف سے اترا ہے پھر جوکچھ نکلے بوجہ آسانی صحت نماز پر فتوی دیا جائے گا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۶۷ : کیا فرماتے علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص نماز میں ضاد کو مشتبہ بظاء پڑھے تو اس کی نماز صحیح ہوگی یا نہیں اور اس شخص کا کیا حکم ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
اللھم ھدایۃ الحق والصواب
یہ حرف دشوار ترین حرف ہے اور اس کی ادا خصوصا عجم پر کہ ان کی زبان کا حرف نہیں سخت مشکل
حوالہ / References ردالمحتار مطلب فی صلٰوۃ التسبح مطبوعہ مصطفی البابی ۱ / ۵۰۸
#6334 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
مسلمانوں پر لازم کہ اس کا مخرج صحیح سے اداکرنا سیکھیں اور کوشش کریں کہ ٹھیك ادا ہو اپنی طرف سے نہ ظاد کا قصد کریں نہ دواد کا دونوں محض غلط ہیں اور جب اس نے حسب وسع وطاقت جہد کیا اورحرف صحیح ادا کرنے کا قصد کیا پھر کچھ نکلے اس پر مواخذہ نہیں لا یكلف الله نفسا الا وسعها- ۔ (اﷲ تعالی کسی ذی نفس کو اسکی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں ٹھہراتا۔ ت)
خصوصا ظاء سے اس حرف کا جدا کرنا تو سخت مشکل ہے پھر ایسی جگہ ان سخت حکموں کی گنجائش نہیں تکفیر ایك امر عظیم ہے۔ لا یخرج الانسان من الاسلام الاحجود ما ادخلہ فیہ (انسان کو اسلام سے خارج نہیں کرتی مگر جب اس چیز کا انکار کرے جو اسے دین میں داخل کرتی ہے(ت)۔ اور جمہور متاخرین کے نزدیك فسادنماز کا بھی حکم نہیں ۔
فی ردالمحتار ان کان الخطأ بابدال حرف بحرف فان امکن الفصل بینھما بلا کلفۃ کالصاد مع الطاء فاتفقوا علی انہ مفسد و ان لم یکن الا بمشقۃ کالظاء مع الضاد فاکثرھم علی عدم الفساد لعموم البلوی ۔ اھ ملخصا۔ وفی الدر المختار الامایشق تمیزہ کالضاد والظاء فاکثرھم لم یفسدھا ۔
ردالمحتار میں ہے اگر ایك حرف کو دوسرے حرف سے بدل کر خطا کرے تو ان دوکے درمیان بغیر مشقت کے امتیاز ممکن ہو جیسا صاد اور طاء کے درمیان تو سب کا اتفاق ہے کہ نماز فاسد ہوجائے گی اور اگر امتیاز کرنے میں مشقت ہو مثلا ظاء اور ضاد تو اکثر علماء کی رائے یہی ہے عموم بلوی کے پیش نظر نماز فاسد نہ ہوگی اھ ملخصا۔ اور درمختارمیں ہے مگر جن حروف میں امتیاز مشکل ہو جیسے ضاد اور ظاء تو اکثر کے نزدیك نماز فاسد نہ ہوگی۔ (ت)
اور ائمہ متقدمین بھی علی الاطلاق حکم فساد نہیں دیتے عجب کی بات ہے کہ ابنائے زمانہ ان باتوں میں بے طورجھگڑتے اور ایك دوسرے کی تکفیر کرتے ہیں حالانکہ اصول ایمان و امہات عقائد میں جو فتنے طوائف جدید ملا رہیں ہے ان سے کام نہیں رکھتے اور لطف یہ ہے کہ وہ جہال جن سے سہل حرف بھی ٹھیك ادا نہیں ہوتے ضاد اور دوادپر کٹے مرتے ہیں ۔ اﷲ تعالی ہم اہل اسلام کو نیك توفیق عطا فرمائے ۔ ہاں اگر کوئی معاند بد باطن بقصد تغییر کلام اﷲو تبدیل وحی منزل من اﷲ اس حرف خواہ کسی حرف کو بدلے گا تو وہ بےشك اپنے اس قصد خبیث کے سبب حکم کفر کا مستحق ہوگا۔ اس میں ظاد و دواد
حوالہ / References القرآن ۲ / ۲۸۶
ردالمحتار مطلب مسائل زلۃ القاری مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۶۶
دُرمختار ، باب ما یفسدالصلٰوۃ الخ ، مجتبائی دہلی ، ۱ / ۹۱
#6388 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
و سین ساد سب برابر ہیں وھذا ھو محمل التعمد المذکور فی کلام الامام الفضلی رحمۃ اللہ تعالی علیہ (امام فضلی رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہ کے کلام میں مذکور تعمد کا محمل یہی ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۴۶۸ : ۱۶ جمادی الاولی ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام مغرب میں رکوع لقد صدق اﷲ رسولہ پڑھ رہا تھاجب فی الانجیل تك پڑھ لیا آیت پارہ ۲۲ متشابہ لگا اس کے بعد یہ آیت انما یریداﷲلیذھب تك پڑھی پھر جب یاد آیا اسے چھوڑ کر مقام اصل سے شروع کیا اور نماز ختم کی اور سجدہ سہو نہ کیا اس صورت میں نماز ہوئی یا نہیں ۔ بینوا توجروا۔
الجواب : نماز ہوگئی اور سجدہ سہو کی بھی حاجت نہ تھی اگر بقدر ادائے رکن سوچتا نہ رہا ہو ہاں اگر بھولا اور سوچنے میں اتنی دیر خاموش رہا جس میں کوئی رکن نماز کا ادا ہوسکتا ہے تو سجدہ سہو لازم آیا کما فی الدر المختار وغیرہا (جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے۔ ت) اگر نہ کیا تو نمازجب بھی ہوگئی مگر ناقص ہوئی پھیرنا واجب ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۶۹ : ۶ شعبان المعظم ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے کہ امام جب نماز میں کھڑا ہو کر قرأت شروع کرے اگر اس وقت بعذریعنی قرأت بند ہونے کی وجہ گلا صاف کرنے کے لئے کھانسا تو نماز جائز ہو جائے گی۔ عمرو کہتا ہے نہیں کہ نہیں خواہ کسی حالت میں ہو یا عذر یا بلاعذر اگر پے در پے تین مرتبہ کھانساتونماز باطل ہوجائے گی اس مسئلہ میں کون حق پر ہے۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
صورت مذکورہ میں نماز میں اصلا کوئی خلل نہ آیا کھانسنا کھنکارنا جبکہ بعذ ریا کسی غرض صحیح کے لئے ہو جیسے گلا صاف کرنا یا امام کو سہو پر متنبہ کرنا تو مذہب صحیح میں ہرگز مفسد نماز نہیں ۔
فی الدرالمختار فی المفسدات (والتنحنح بلاعذر) اما بہ بان نشأمن طبعہ فلا (او) بلا (غرض صحیح) فلو لتحسین
درمختار وغیرہ کے باب نماز کے مفسدات میں ہے (اور بغیر عذر کے کھانسنا) ہاں اگر عذر کی بنا پر ہو مثلا طبعا ایسا ہوا تو فاسد نہیں (یا) بغیر (غرض صحیح کے ہو)
حوالہ / References دُرمختار باب سجود السہو مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۰۲
#6389 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
صوتہ او لیھتدی امامہ اوالاعلامہ انہ فی الصلاۃ فلا فساد علی الصحیح ۔ واﷲ تعالی اعلم
پس اگر تحسین آواز یا امام کی رہنمائی یا اس اطلاع کے لئے کھانسا کہ وہ نماز میں ہے تو صحیح یہی ہےکہ نماز فاسد نہ ہوگی ۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ نمبر ۴۷۰ : مرسلہ جناب حافظ مولوی امیر اﷲ صاحب ۲۳ شعبان ۱۳۱۵ھ
بیضاوی مین قرأت بضنین کو بتایا اور ضاد کا مخرج اور ظاء کا اس سے محشی اشارہ بتاتا ہے قرأتین واحد نہ کی جائیں اس کے متعلق جو جو حاشیے یا شرح ہوں ان میں سے یہ بات بتائی جائے کہ کوئی باوجود مخرجین جدا ہونےکے اور استعلا واطباق میں ایك ہونے کو مشتبہ الصوت کون کون بتاتا ہے اور اس قضیہ کا کیا حال ہے صرف مشتبہ الصوت مان لینے سے ظواد یا دواد صحیح ہوسکتا ہے فقہانے دواد مفخم اور ظواد ودواد مستہجن کا صریح حکم کیابتایا ہے بینوا توجروا
الجواب : ض و ظ قدر مشتبہ الصوت ہونا یقینی ہے یہاں تك کہ تمیز دشوار مگر نہ یہ ظ جو عامہ عوام نکالتے ہیں یہ ذمفخم جب اپنے مخرج سے صحیح طور پر برعایت استعلا واطباق لسان ادا کی جائے گی ضرور مشابہ الصوت بض ہوگی یہاں تك کہ اگر استطالہ واقع ہو ض ہوجائے ذواد نہ مستحسن نہ مستہ جن بلکہ محض غلط اسی طرح دواد اور صحیح ظواد بھی نہیں فقہائے کرام سب کا ایك حکم دیتے ہیں کہ بحالت فساد معنی نماز فاسد جیسے مغظوب اور معذوب اور بحالت صحت معنی صحیح جیسے ظالین دوالین کما فی الغنیۃ وغیرھا (جیسا کہ غنیۃ وغیرہ میں ہے) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۴۷۱ : از شہر کٹك ضلعاڑیسہ بخشی بازار مرسلہ شیخ طاہر محمد عثمان ۲۵رمضان المبارك ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علما ئے دین و شرح متین اس مسئلہ میں کہ آنریری مجسٹریٹ کی امامت جائز ہے یا نہیں اور جو ترتیل سے نہ پڑھے اس کی امامت جائز یا ناجائز اور نیز تر تیل کی حد معلوم ہو۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
ترتیل کی تین حدیں ہیں ہر حد اعلی میں اسکے بعد کی حد ماخوز و ملحوظ ہے۔
حد اول : یہ کہ قرآن عظیم ٹھہر ٹھہر کر بآہستگی تلاوت کرے کہ سامع چاہے تو ہر کلمے کو جدا جدا گن سکے
حوالہ / References دُرمختار ، باب مایفسدالصلٰوۃ ، مطبوعہ مجتبائی دہلی ، ۱ / ۸۹
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی زلۃ القاری مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۷۶
#6391 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
کما قال اﷲ تعالی و رتلنه ترتیلا(۳۲) ای انزلناہ نجما نجما علی حسب ما تجددت الیہ حاجات العباد ومثلہ قولہ تعالی
و قرانا فرقنه لتقراه على الناس على مكث و نزلنه تنزیلا(۱۰۶) ۔
جیسا کہ اﷲ تعالی کا ارشاد ہے ورتلناہ ترتیلا یعنی ہم نے اسے بندوں کی ضرورت کے مطابق تھوڑا تھوڑا نازل فرمایاہے اسی طرح اﷲ تعالی کا یہ فرمان ہے ہم نے قرآن کو تھوڑا تھوڑا کرکے نازل فرمایا تاکہ آپ لوگوں پر پڑھیں ٹھہر ٹھہر کر اور ہم نے اسے تدریجا نازل فرمایا۔ (ت)
الفاظ بہ تفخیم ادا ہوں حروف کو ان کی صفات شدت و جہر و امثالہا کے حقوق پورے دئے جائیں اظہار و اخفا و تفخیم و ترقیق وغیرہا محسنات کا لحاظ رکھا جائے یہ مسنون ہے اور اسکا ترك مکروہ و ناپسند اور اسکا اہتمام فرائض و واجبات میں تراویح اور تراویح میں نفل مطلق سے زیادہ جلالین میں ہے : رتل القران تثبت فی تلاوتہ (رتل القران کا معنی قرآن کی ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرنا ہے۔ ت) کمالین میں ہے :
ای تان واقرأ علی تؤدۃ من غیر تعجل بحیث یتمکن السامع من عدایاتہ وکلماتہ ۔
یعنی قرآن مجید کو اس طرح آہستہ اور ٹھہر کر پڑھو کہ سننے والا اس کی آیات و الفاظ گن سکے۔ (ت)
اتقان امام سیوطی میں برہان امام زرکشی سے ہے :
کمال الترتیل تفخیم الفاظ والابانۃ عن حروفہ وان لا یدغم حرف فی حرف وقیل ھذا اقلہ ۔
کمال ترتیل یہ ہے الفاظ میں تفخیم (حرف کو پر کرکے پڑھنا) اورحروف کو جدا جدا کرکے پڑھا جائے ایك حرف کو دوسرے حرف سے نہ ملایا جائے ۔ بعض نے کہا یہ ترتیل کا کم درجہ ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
یسن الترتیل فی قرأۃ القران قال اﷲ تعالی
قرأت قرآن میں ترتیل سنت ہے جیسا کہ اﷲ تعالی کا
حوالہ / References القرآن ۲۵ / ۳۲
القرآن ۷ ۱ / ۱۰۶
تفسیر جلالین زیر آیۃ ورتل القرآن الخ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۲ / ۴۷۶
کمالین علی حاشیہ جلالین زیر آیۃ مذکورہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۲ / ۴۷۶
الاتقان فی علوم القرآن ، النوع الخامس والثلاثون فی آداب تلاوتہ الخ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۰۶
#6392 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
و رتل القران ترتیلا(۴) وروی ابو داؤد وغیرہ عن ام سلمۃ رضی اﷲ تعالی عنہا نعتت قرأۃ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قرأۃ مفسرۃ حرفا حرفا ۔
ارشاد ہے قرآن کو خوب ترتیل کے ساتھ پڑھو اور ابو داؤد نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی قرأۃ کی صفت کے بارے میں یوں بیان کیا ہے کہ آپ اس طرح تلاوت فرماتے کہ قرأت مفسر ہوتی اور ایك ایك حرف جدا جدا معلوم ہوتاتھا الخ(ت)
حدیث میں ہے :
لاتنثروہ نثرالدقل ولا تھذوہ ھذا الشعر قفواعند عجائبہ وحرکوہ بہ القلوب ولا یکون ھم احدکم اخر السورۃ ۔
یعنی قرآن کو سوکھے چھوہاروں کی طرح نہ جھاڑو(جس طرح ڈالیاں ہلانے سے خشك کھجوریں جلد جلد جھڑ جھڑ پڑتی ہیں اور شعر کی طرح گھاس نہ کاٹو
عجائب کے پاس ٹھہرتے جاؤ اوراپنے دلوں کو اس سے تدبر سے جنبش دو اور یہ نہ ہو کہ سورت شروع کی تو اب دھیان اسی میں لگا ہے کہیں جلد اسے ختم کریں ۔
رواہ ابوبکر الآجری فی کتاب حملہ القران وعن طریقہ البغوی فی المعالم عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ من قولہ والدیلمی مثلہ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ والعسکری فی المواعظ من حدیث امیر المؤمنین علی کرم اﷲ تعالی وجہہ انہ سئل النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن قولہ و رتل القران ترتیلا(۴) قال فذکرہ۔
اسے امام ابوبکر آجری نے “ کتاب حملۃ القرآن “ میں نقل کیا ہے اور امام بغوی نے معالم میں اسے حضرت عبداﷲ بن مسعودکا قول اور دیلمی نے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا عسکری نے المواعظ میں حضرت امیر المؤمنین علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم کے حوالے سے بیان کیاکہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے اﷲ تعالی کے ارشاد گرامی ورتل القران ترتیلا کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے مذکورہ الفاظ میں تشرح فرمائی(ت)
حوالہ / References الاتقان فی علوم القرآن النوع الخامس والثلاثو ن فی آداب تلاوۃ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۰۶
الاتقان فی علوم القرآن بحوالہ الاخبری فی حملۃ القرآن فی آداب تلاوۃ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۰۶
#6393 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
درمختار میں ہے :
یقرأ فی الفرض بالترتیل حرفا حرفا وفی التراویح بین بین وفی النفل لیلالہ ان یسرع بعدان یقرأ کما یفھم ۔
فرض نماز میں اس طرح تلاوت کرے کہ جدا جدا ہرحرف سمجھ آئے تراویح میں متوسط طریقے پر اور رات کے نوافل میں اتنی تیز پڑھ سکتا ہے جسے وہ سمجھ سکے۔ (ت)
اس کے بیان تراویح میں ہے :
ویجتنب ھذرمۃ القرأۃ ۔
(اور جلدی جلدی قرأت سے اجتناب کرے۔ ت)
دوم : مدوقف ووصل کے ضروریات اپنے اپنے مواقع پر ادا ہوں کھڑے کھڑے کا لحاظ ہے حروف مذکورہ جن کے قبل نون یا میم ہوان کے بعد غنہ نہ نکلے انا کنا کو ان کن یا اناں کناں نہ پڑھا جائے باوجیم ساکنین جن کے بعد “ ت “ ہو بشدت ادا کئے جائیں کہ پ اور چ کی آواز نہ دیں جہال جلدی میں ابتر اور تجتنبوا کو اپتر اور تچتنبوا پڑھتے ہیں حروف مطبقہ کا کسرہ ضمہ کی طرف مائل نہ ہونے پائے ۔ جہاں جب صراط وقاطعہ میں ص وط کے اجتماع میں مثلا “ یستطیعون “ “ لاتطع “ بے خیالی کرنے والوں سے حرف تا بھی مشابہ طا ادا ہوتا ہے بلکہ بعض سے “ عتو “ میں بھی بوجہ تفخیم عین و ضمہ تا آواز مشابہ طا پیدا ہوتی ہے بالجملہ کوئی حرف و حرکت بے محل دوسرے کی شان اخذنہ کرے نہ کوئی حرف چھوٹ جائے نہ کوئی اجنبی پیدا ہو نہ محدود ومقصود ہو نہ ممدود اسی زیادت اجنبی کے قبیل سے ہے وہ الف جو بعض جہال “ واستبقات “ “ دعوا اﷲ “ “ وقال الحمدﷲ “ “ ذاقا الشجرۃ “ کے قیاس پر “ کلتاالجنتین “ “ قیل ادخلو النار “ میں نکالتے ہیں حالانکہ یہ محض فاسد اور زیادت باطل وکاسدو واجب واجماعی مدمتصل ہے منفصل کا ترك جائز و لہذا اس کا نام ہی مد جائز رکھا گیا اور جس حرف مدہ کے بعد سکون لازم ہو جیسے ضالین الم وہاں بھی مد بالاجماع واجب اور جس کے بعد سکون عارض ہو جیسے العالمین الرحیم العباد یوقنون بحالت وقف یا قال اللھم بحالت ادغام وہاں مدوقصر دونوں جائز اس قدر ترتیل فرض و واجب ہے اور اس کا ترك گنہگار مگر فرائض نماز سے نہیں ترك مفسد صلاۃ ہو۔ مدارك التنزیل میں ہے :
و رتل القران ترتیلا(۴) ای قرأعلی تؤدۃ
قرآن کو آہستہ آہستہ ٹھہر کر پڑھو اس کا معنی یہ ہے۔
حوالہ / References درمختار باب الامۃ فصل ویجہر الامام مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۸۰
درمختار باب الوتر والنوافل مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۹۹
#6395 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
بتبتیین الحرف و حفظ الوقوف واشباع الحرکات ترتیلا ھو تاکید فی ایجاب الامر بہ وانہ لا بد منہ للقاری ۔
کہ اطمینان کے ساتھ حروف جدا جدا وقف کی حفاظت اور تمام حرکات کی ادائیگی کا خاص خیال رکھنا “ ترتیلا “ اس مسئلہ میں تاکید پیدا کررہا ہے کہ یہ بات تلاوت کرنے والے کے لئے نہایت ہی ضروری ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
یمد اقل مدقال بہ القراء والاحرم لترك الترتیل الما موربہ شرعاط ۔
اسے تھوڑا لمبا کرکے پڑھا جائے قراء کا یہی قول ہے ورنہ مامور بہ ترتیل کی خلاف ورزی ہوگی اور یہ شرعا حرام ہے ط(ت)
سیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ ایك شخص کو قرآن عظیم پڑھا رہے تھے اس نے انما الصدقت للفقراء کوبغیر مد کے پڑھا فرمایا : ماھکذا اقرأنیھا رسول اﷲ تعالی علیہ وسلم(مجھے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے یوں نہ پڑھایا) عرض کی : آپ کو کیا پڑھایافرمایا : انما الصدقت للفقرآء ۔ مد کے ساتھ ادا کرکے بتایا رواہ سعید بن منصور فی سنتۃ و الطبرانی فی الکبیر بسند صحیح(اسے سعید بن منصور نے اپنی سنن اور طبرانی نے المعجم الکبیر میں صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ت)اتقان میں ہے :
قد اجمع القراء علی مد نوعی المتصل و ذی الساکن اللازم وان اختلفو ف مقدارہ واختلفو فی النوعین الاخریین و ھما المتفصل وذو الساکن العارض وفی قصرھما ۔
تمام قراء مدتصل کی دونوں انواع مد متصل اور ساکن لازم پر متفق ہیں اگر چہ ان کی مقدار میں انھوں نے اختلاف کیاہے مد کی آخری دو انواع میں اور و مدمنفصل اور ساکن عارض میں اور ان دونوں کی قصر میں بھی اختلاف ہے ۔ (ت)
حوالہ / References تفسیر مدارك التنزیل المعرو ف بتفسیر سورۃ مزمل زیرِ آیت ورتل القرآنالخ دارالکتاب العربیہ بیروت ، ۴ / ۳۰۳
ردالمحتار فصل فی القرأہ مطبوعہ مصطفی البابی ، ۱ / ۴۰۰
الاتقان فی علوم القرآن النوع الثانی والثلاثون الخ ۱ / ۹۶
الاتقان فی علوم القرآن بحوا لہ سنن سعید بنن سعید ابن منصور ۱ / ۷۹
#6396 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
ہندیہ میں ہے :
اذاوقف فی غیر موضع الو قف اوابتدأ فی غیر موضع الابتداء ان لم یتغیر بہ المعنی تغیرا فاحشانحو ان یقرأ ان الذین امنو اوعلموا الصلحت ووقف ثم ابتدأ بقولہ اولئك ھم خیر البریۃلاتفسدبالاجماع بین العلمائنا ھکذافی المحیط وکذا ان وصل فی غیر موضع الوصل کما لو لم یقف عند قولہ اصحب النار بل وصل بقولہ الذین یحملون العرش لا تفسد لکنہ قبیح ھکذا فی الخلاصۃ وان تغیربہ المعنی تغیرافاحشانحوان یقرأ اشھد اﷲ انہ لا الہ ووقف ثم قال الاھولا تفسد صلاتہ عندعامۃ علمائنا وعندالبعض تفسد صلاتہ والفتوی علی عدم الفساد بکل حال ھکذا فی المحیط
جب کسی نے غیر وقف کی جگہ وقف کیا یا مقام ابتدا کے غیر سے سے ابتدا کی تو اگر معنی میں فحش تبدیلی نہیں مثلا پڑھنے والے نے ان الذین امنوا و عملوا الصلحت- پڑھ کر وقف کیا پھر اولىك هم خیر البریة(۷) سے ابتداکی تو ہمارے علماء کا اتفاق ہے کہ نمازفاسد نہ ہو گی محیط میں اسی طرح ہے اسی طرح اگر وصل کی جگہ کے علاوہ میں وصل کر لیا جیسا کہ اﷲ تعالی کے قول اصحب النارپر وقف نہ کیا بلکہ اسے الزین یحملون العرش کےساتھ ملا لیا نماز فاسد نہ ہوئی لیکن ایسا کرنا سخت ناپسند ہے۔ خلاصہ میں اسی طرح ہے اور اگر معنی میں فحش تبدیلی ہو مثلا کسی نے اشھد اﷲ انہ لا الہ پرکرکے پڑھا “ الا ھو “ تو ہمارے اکثر علماء کے نزیك نماز فاسد نہ ہوگی بعض کے ہاں فاسد ہوجائے گی اور فتوی اسی پر ہے کہ ہر صورت میں نماز فاسد نہ ہوگی محیط میں اسی طرح ہے۔ (ت)
جو شخص اس قسم ترتیل کی مخالفت کرے اس کی امامت نہ چاہئے مگر نماز ہو جائے گی اگر چہ بکراہت عالمگیریہ میں ہے :
من یقف فی غیر مواضعہ ولا یقف فی مواضعہ لا ینبغی لہ ان یؤم وکذا من یتنحنح عندالقرأۃ کثیرا ۔
جو شخص مقامات وقف میں وقف نہیں کرتا بلکہ مقامات وقف کے غیر میں وقف کرتا ہے تو اسے امام نہ بنایا جائے اسی طرح اس کو امام نہ بنایا جائے جو اکثر کھانستا رہتا ہو۔ (ت)
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ ، الفصل الخامس فی زلۃ القاری مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۸۱
فتاوٰی ہندیہ الفصل الثالث فی بیان من یصلح اماما لغیرہ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۸۶
#6398 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
سوم : جو حروف وحرکات کی تصحیح ا ع ت ط ث س ص ح ہ ذ ز ظ وغیرہا میں تمیز کرے غرض ہر نقص و زیادت و تبدیل سے کہ مفسد معنی ہو احتراز یہ بھی فرض ہے اور علی التفصیل فرائض نماز سے بھی ہے کہ اسکا ترك مفسد نماز ہے جو شخص قادر ہے اور بے خیالی یا بے پروائی یا جلدی کے باعث اسے چھوڑتا ہے یا سیکھے تو آجائے مگر نہیں سیکھتا ہمارے ائمہ کرام مذہب رضی اللہ تعالی عنہم کے نزدیك اس کی نماز باطل اور اس کی امامت کے بطلان اوراسکے پیچھے اوروں کی نماز فاسد ہونے میں تو کلام ہی نہیں علمائے متاخرین نے بنظر تیسیر جو تو سیعیں کیں وہ عندالتحقیق صورت لغزش و خطا سے متعلق ہیں کہ صحیح جانتا ہے اور صحیح پڑھ سکتا ہے مگر زبان سے بہك کر غلط ادا ہوگیا نہ کہ معاذاﷲ فتوی بے پروائی و اجازت غلط خوانی و ترك تعلم وکوشش جیسا کہ عوام زمانہ بلکہ اکثرخواص میں بھی وبائے عالمگیر کی طرح پھیلا ہوا ہے اور نہ بھی سہی تو وہ عوام کی نمازیں ہیں نہ کہ غلط خوانوں کو امام بنانے کے لئے وہی علماء جو وہ توسیعات لکھتے ہیں بطلان امامت کی تصریح فرماتے ہیں اور جو قادر ہی نہیں کوشش کرتا ہے محنت کرتا ہے مگر نہیں نکلتا جیسے کچی زبان والے گنوار کہ قاف کو کاف ذال کو جیم پڑھیں ۔ صحیح مذہب میں صحیح خواں کی نماز ان کے پیچھے بھی نہیں ہوسکتی تفصیل اس مسئلہ جلیلہ کی جس سے آج کل نہ صرف عوام بلکہ بہت علماء و مشائخ تك غافل ہیں ۔ فقیرغفر اﷲ تعالی لہ کے فتاوی میں ہے درمختار میں ہے :
لا یصح اقتداء غیرالالثغ بہ ای بالالثغ علی الاصح کما فی البحرعن المجتبی وحررالحلبی وابن ا لشحنۃ انہ بعد بذل جہدہ دائما حتما کالامی فلا یؤم الامثلہ ولاتصح صلاتہ اذا امکنہ الاقتداء بمن یحسنہ اوترك جہدہ اووجد قدر الفرض مما لالثغ بہ فیہ ھذا ھو الصحیح المختار فی حکم الالثغ وکذامن لایقدر علی التلفظ بحرف من الحروف من ۔
اور غیر توتلے کی اقتداء توتلے کے پیچھے اصح قول کے مطابق درست نہیں ہے جیسا کہ البحر الرائق میں مجتبی سے منقول ہے(الثغ بروزن افعل اس شخص کو کہتے ہیں جس کی زبان سے ایك حرف کی جگہ دوسرا نکلے مثلا “ ر “ کی جگہ “ ل “ بولے)
حلبی اور ابن شحنہ نے تنقیح کی ہے کہ توتلا پن رکھنے والا شخص ہمیشہ صحت حروف کے لئے کوشاں رہے اس کے بعد وہ امی کی طرح ہے یعنی وہ اپنے ہم مثل کا امام بن سکتا ہے اور اس کی نماز صحیح نہ ہوگی جب اسے صحیح پڑھنے والے اقتدا ممکن ہو یا اس نے کوشش ترك کردی ہو یا بقدر فرض قرأت کی وہ
حوالہ / References دُرمختار ، باب الامۃ ، مطبوعہ مجتبائی دہلی ، ۱ / ۸۵
#6400 · باب القرأۃ (قرأٔت کا بیان)
آیتیں حاصل کرلے جن میں توتلا پن نہ ہو توتلا پن رکھنے والے شخص کے بارے میں یہی صحیح و مختار قول ہے اسی طرح حکم ہے اس شخص کا جو حروف تہجی میں سے کسی حرف پر صحیح تلفظ کی قدرت نہ رکھتا ہو۔ (ت)اور جو شخص خلاف شریعت مطہرہ کے فیصلہ کر ے اسے امام بنانا جائز نہیں قال اﷲ تعالی و من لم یحكم بما انزل الله فاولىك هم الفسقون(۴۷) (اﷲ تعالی نے فرمایا جو لوگوں کے درمیان اﷲ تعالی کی تعلیمات کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ لوگ فاسق ہیں ۔ ت) غنیۃ میں ہے : لو قدموافاسقایاثمون (اگر فاسق کو لوگوں نے امام بنایا تو وہ تمام گنہگار ہوں گے۔ ت) اور اس کے پیچھے نماز سخت مکروہ
کما حققہ المحقق الحلبی فی الغنیۃ والعلامۃ الشرنبلالی فی المراقی وفی غیرھما فقد بینا فی غیر موضع من فتاونا وھو فضیۃ الذیل فعلیہ فلیکن التعویل واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وحکمہ جل مجدہ اتم واحکم
جیسا کہ محقق حلبی نے غنیہ اورعلامہ شرنبلالی نے مراقی میں اس کی تحقیق کی اور ان دونوں کے غیر نے اپنی اپنی کتابوں میں تحقیق کی ہے ہم نے اپنے فتاوی میں متعدد جگہ پر اسے بیان کیا ہے اور یہی اس کا خلاصہ ہے اور اسی پر اعتماد ہونا چاہئے واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وحمکمہ جل مجدہ اتم واحکم (ت)
_________________
حوالہ / References القرآن ۵ / ۴۷
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامامۃ الخ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۵۱۳
#6427 · رسالہ نِعم الزّاد لِرَوم الضاد (ضاد پڑھنے کا بہترین طریقہ)
رسالہ
نعم الزاد لروم الضاد (ضاد پڑھنے کا بہترین طریقہ)
_______ بسم اللہ الرحمن الر حیم ط _______
مسئلہ نمبر ۴۷۲تا ۴۷۶ : ازریاست رام پور محلہ کنڈہ متصل مسجد میاں گاماں مرسلہ مولوی محمد یحیی صاحب ۲۴شوال ۱۳۱۵ھ
چہ مے فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین دریں باب کہ در قراء ت غیر المغضوب علیہم ولاالضآلین درچند اشخاص نزاع مے مانندواکثر رسائل وفتاوی دریں باب مختلف ہستند بعضے خواندن ضاد را بدال توراث بین الناس دلیل مے آرند و بعضے برائے تبدیل ظا و زا تشابہ صورت رادلیل مے گردانند وقاری عبدالرحمان مرحوم پانی پتی دررسائل و فتاوی خلاصہ تحقیق بدیں نہج رقم کردہ اند کہ بجائے ضاد دال یاحرف خواندن محض غلط است ہر حرف خصوصا ضادرا ازمخرج خود مع صفاتش اداکردن برہمہ شخص واجب است دریں ہنگام شور و شغب علمائے شرع متین اس بارے میں کیافرماتے ہیں کہ غیرالمغضوب علیھم ولا الضآلین کے پڑھنے میں کچھ لوگوں کا اختلاف ہے اکثر رسائل و فتاوے اس بارے میں مختلف ہیں بعض لوگ توارث بین الناس (معمول) کو دلیل بناتے ہوئے ضاد کو دال کے ساتھ پڑھنے کا کہتے ہیں اور بعض اسے ظا اور زا کے ساتھ تبدیلی کے قائل ہیں اور آواز میں مشابہ ہونے کی دلیل پیش کرتے ہیں قاری عبدارحمان مرحوم پانی پتی نے کہا کہ رسائل اور فتاوی میں اس بارے میں خلاصہ تحقیق یوں بیان کیا گیا ہے کہ ضاد کی جگہ دال یا کوئی
#6428 · رسالہ نِعم الزّاد لِرَوم الضاد (ضاد پڑھنے کا بہترین طریقہ)
بعضے خواص و عوام سند خواندن دال از شرح کبیر بیان کردہ اند از استماعش درچند امور خلجان واقع گردید ترصد ازعلمائے ماہرین ومعتبرین کہ ازجواب رافع خلجان احقاق حق و ابطال باطل فرمایند اجرکم اﷲ تعالی فی الدارین امرے چند موجب اشتباہ وخلجان مخصوص ادائے ضاد شبیہ بدال مہملہ یا ظامعجمہ دریافت طلب ازعلمائے دین۔
اول : فصل زلۃ قاری کہ درکتب فقہ علیحدہ ذیل حکم قراء ت فی الصلوۃ موضوع شدہ آیاحکم مسائل آں مخصوص بداں صورت است کہ ازقاری بلاقصد و ارادہ حرفے بجائے حرفے فجأۃ برزبان جاری شدہ باشد یاعلی العموم است قاری وتالی بالقصد و ارادہ حرفے حرف بجائے حرف خواندہ باشد برتقدیر تسلیم شق عموم ہرگاہ حکم قراء ت بالارادہ نوشتہ شدہ باعث معنون کردن فصل بہ زلۃ القاری چیست حالانکہ درزلۃ کہ معرب لغزش است ارادہ مفقود است۔
دوم : درصورت عموم صرف بر اتحاد مخرج و تشابہ صورت عموم و سہولت ادا اکتفاکردہ خواہد شد یالحاظ معنی ہم داشتہ خواہد شد و بصورت تبدیل معنی آں حکم فساد نماز دادہ خواہد شد ودریں صورت کسےکہ درابدال ضاد
اور حرف پڑھنا محض غلط ہے ہر حرف خصوصا ضاد کو اپنے مخرج سے اس کی صفات کے ساتھ ادا کرنا ہر شخص پر لازم ہے اس معاملہ میں بڑا اختلاف اور شور ہے بعض خواص اورعوام اسے دا ل پڑھنے پر شرح کبیر سے سند ذکر کرتے ہیں اس معاملہ میں چندامور سے خلجان واقع ہو رہا ہے ماہرین شریعت اپنے جواب سے انہیں رفع کریں تاکہ حق ثابت ہو اور باطل کا بطلان ہوجائے اﷲ تعالی دارین میں تجھے اجر سے نوازے ضاد کو دال یا ظا پڑھنے کی صورت میں جن امور میں اشتباہ و خلجان واقع ہو رہا ہے وہ علماء سے دریافت طلب ہیں ۔ (وہ یہ ہیں )
اول : کتب فقہ میں نماز کی قراء ت کے ضمن میں “ زلۃ القاری “ (قاری کا پھسلنا) کی جو فصل قائم کی گئی ہے اس کے مسائل کا حکم صرف اسی صورت کے ساتھ مخصوص ہے جب قاری سے بلاقصد وارادہ ایك حرف کی جگہ دوسرا حرف اچانك زبان پر جاری ہوجائے یاحکم عام ہے خواہ قاری اور تلاوت کرنے والا عمدا اور قصدا کسی حرف کی جگہ دوسراحرف پڑھ لے اگر عموم حکم والی (شق) تسلیم کرلی جائے تو جب اس میں قصدا قراء ت کاحکم بھی تحریر ہوا ہے تو پھر اس فصل کا عنوان زلۃ القاری کیوں رکھا گیا حالانکہ لفظ زلۃ لغزش سے معرب ہے جس میں قصد ا وارادہ مفقود ہوتا ہے۔ بذال توارث بین الناس رامطلقا دلیل گردانیدہ توجیہ صحت قولش چہ خواہد شد۔
دوم : عموم کی صورت میں صرف اتحاد مخرج یا قرب مخرج اور تشابہ کی صورت میں عام وآسان ادائیگی پر اکتفا کر لیا جائے گا یا معنی کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے اور بصورت تبدیل معنی وفساد حکم فساد نماز کا ہوگا اس صورت میں جو شخص ضاد کو ذال سے
#6429 · رسالہ نِعم الزّاد لِرَوم الضاد (ضاد پڑھنے کا بہترین طریقہ)
بدل کر پڑھنے پرمطلقا لوگوں کے معمول کو دلیل بناتا ہے اس کے قول کی صحت کی توجیہ کیسے ہوگی
سوم : چنانکہ صاحب غنیۃالمستملی شرح منیہ درفصل زلۃ قاری بمقام حکم ابدال حرفے بحرفے مدار بر صحت و فساد معنی داشتہ بصور تیکہ معنی صحیح ازبدل می شود حکم صحت نماز نگاشتہ وجائیکہ ازبدل فساد معنی شدہ حکم فساد نماز دادہ ہمیں حکم درابدال ضاد بدال مہملہ ہم جاری خواہد ماندوبہر جاکہ ضاد بدال مہملہ فساد معنی لازم است حکم فساد نماز دادہ خواہد شد یا نہ اگر شق اول مسلم است پس ابدال ضاد بدال مہملہ وبصورت دال خواندن عموما و مطلقا چگونہ صحیح خواہد شد واگر شق ثانی است مخصص آں و موجب تخصیص کدام دلیل است۔
چہارم : کسیکہ از عبارت شرح کبیرولاالضالین بالظاء المعجمۃ اوالدال المہملہ لا تفسد الخ خواندن دال بجائے ضاد بدون لحاظ تخالف و تباعد معنی علی العموم قیاس کردہ قیاس فاسد خواہد شد یا نہ زیرا کہ دریں آیہ کریمہ ھل ندلکم علی رجل۔ ۔ ۔ الخ صاحب شرح کبیر از بدل قرب معنی ثابت کردہ وحکم صحت نماز دادہ وممکن است کہ بدےگر مقام از ابدال ضاد بدال فساد معنی شود معنی آں خواہد شد تباہ شوند یا در “ اکواب موضوعہ “ کہ بمعنی بی ترتیب چیدہ شدہ است ہرگاہ مودوعہ خواند شود معنی آں پدور کردہ شدہ خواہد شد کہ مشعر پر انقطاع آن ست علی ہذا بسیارے سوم : جس طرح صاحب غنیۃ المستملی نےشرح منیہ کی فصل زلۃ القاری میں ایك حرف کو دوسرے حرف سے بدلنے کی صورت میں مدار معنی کی صحت وفساد پر رکھا ہے تو جس صورت میں تبدیلی حرف کے باوجود معنی درست ہوگا نماز کی صحت کا حکم دیا جائے گا اور جہاں تبدیلی حرف کی وجہ سے معنی فاسد ہوگا وہاں نماز کے فاسد ہونے کا حکم جاری ہوگا اور جب ضاد کو دال پڑھا جائے تو پھر بھی یہی حکم جاری ہوگا جہاں ضاد کو دال پڑھنے سے فسا معنی لازم آئے وہاں نماز کے فساد کا حکم جاری ہوگا یا نہیں اگر شق اول مسلم ہے تو ضاد کو دال سے بدل کر دال کی آوازمیں پڑھنا عموما و مطلقا کیسے ہوگا اور اگر دوسری شق ہے تو اس کا مخصص اور موجب تحصیص کون ہے۔
چہارم : جس شخص نےشرح کبیر کی عبارت ولاالضالین بالظاء المعجمہ اوالدال المہملہ لا تفسد الخ۔ سے ضاد کی جگہ دال پڑھنا بغیر لحاظ مخالفت تباعد معنی علی العموم قیاس کیا ہے وہ قیاس فاسد ہے یا نہیں کیونکہ آیۃ کریمہ ھل ندلکم علی رجل۔ ۔ ۔ الخ میں صاحب شرح کبیر نے تبدیلی سے قرب معنی ثابت کیا ہے اور صحت نماز کا حکم دیا ہے اور ممکن ہے کہ دوسرے مقام ضاد کو دال سے بدلنے سے فساد معنی لازم آئے اور اسکا معنی یہ ہوگا کہ وہ تباہ ہوگئے یا “ اکواب موضوعہ “ میں کہ اس کا معنی ہے وہ برتن جو ترتیب سے رکھے گئے ہوں اگر اسے “ مودوعۃ “ پڑھا جائے جس کا
#6430 · رسالہ نِعم الزّاد لِرَوم الضاد (ضاد پڑھنے کا بہترین طریقہ)
آیات ہستند کہ حالش بر متفقش خبیر پوشیدہ نخواہد ماند پس دراں صورت لامحالہ حکم فساد نماز دادہ خواہدشد وہرگاہ مدار حکم صحت و فسادنماز بصورت ابدال ضاد وبظاء ودال خود حسب تحریر صاحب شرح کبیر برصحت وفساد معنی بدل شدہ چگونہ قیاس مذکور بسبیل عموم بلوی بخصوص عدم فساد صلاۃ چنانکہ درحق عوام است کہ ہیچ امتیاز درصحت لفظ وفرق معنی نمےدارند ہمنیاں درحق خواص کہ امتیاز ہرگونہ دارند جاری خواہد شدیانہ۔
پنجم : ہرگاہ ازعبادت تمہید جزری و شرح شیخ الاسلام زکریا انصاری برمقدمہ جزری دہم از شرح ملا علی قاری برآں ثابت است کہ السنہ ناس در ادائے ضاد مختلف است بعضے ظائے معجمہ مے خوانند وایں ہمہ حضرات از قراء عرب معدودند دریں صورت دعوی توارث ادائے ضاد بصوت دال چگونہ قابل تسلیم خواہد شد۔ بینوا تو جروا۔
معنی یہ بنے گا رخصت کیا ہوا یہ معنی وہ ہے جو اس کے انقطاع کی طرف مشعر ہے علی ہذا القیاس بہت سی آیات قرآنی ہیں جن کا حال ہر صاحب مطالعہ اور باخبر شخص سے مخفی نہیں ہیں پس اس صورت میں یقینا نماز کے فساد کا حکم ہی دیا جائے گا جب ضاد کو ظا اور دال سے بدل کر پڑھنے میں نماز کی صحت و فساد کے حکم کا مدار خود صاحب شرح کبیر کی تحریر کے مطابق صحت معنی و فساد معنی کی تبدیلی پر ہے تو پھر عموم بلوی کی بنیاد پر عوام کے حق میں عدم فساد نماز کا قول جس کی وجہ یہ ہے کہ صحت لفظ اور تبدیلی معنی کا فرق عوام نہیں کرسکتے اسی طرح خواص جو ہر قسم کا فرق کرسکتے ہیں تو کیا ان پر بھی یہ حکم جاری ہوگا یا نہ
پنجم : جب امام جزری کی تمہید عبارت شیخ الاسلام زکریا انصاری کی شرح مقدمہ جزری اور شرح ملا علی قاری میں ہے کہ لوگوں کی زبانیں ضاد کی ادائیگی میں مختلف ہیں بعض ظا بعض دال بعض ذال اور بعض اسے زا کی بودے کر پڑھتے ہیں اوریہ تمام حضرات قراء عرب میں شمار ہوتے ہیں اس صورت میں ضاد کو دال مہملہ پڑھنے پر توارث کا دعوی کیسے تسلیم کیا جاسکتا ہے بینوا تو جروا۔
الجواب :
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمد ﷲ الذی انزل علی نبیہ ص والصلوۃ والسلام علی افصح من نطق بض وعلی الہ وصحبہ الذین اقتدوہ وھم لسفر الاخرۃ زاد صلی اﷲ تعالی وبارك وسلم علیہ و
تمام حمد اﷲ کے لئے جس نے اپنے نبی پر ص (قرآن عظیم روشن عربی زبان میں )نازل کیا اور صلوۃ والسلام اس ذات پر جس نے ض کو فصیح زبان سے ادا کیا (قرآن کی تلاوت سب سے اعلی فرمائی) اور آپ کی آل و
#6432 · رسالہ نِعم الزّاد لِرَوم الضاد (ضاد پڑھنے کا بہترین طریقہ)
علیھم وزاد حق جل و علا و تبارك قرآن عظیم بلسان عربی مبین بر نبی عربی قرشی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرستاد برائے تلاوت و استماع و استفاضہ وا نتقاع عباد آں صفت کریمہ قدیمہ خود رابکسوت حروف واصوات تجلی داد سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کما انزل الیہ بصحابہ کرام رسانید وصحابہ بتابعین و تابعین بہ تبع و ہمچناں قرنا بقرنا وطبقۃبطبقۃ ہر ہر حرف و حرکت و صفت و ہیئت براقصی غایات تواتر کہ موفوق آں متصور نیست بما رسید والحمدﷲ العلی المجید وذلك قولہ تعالی
انا نحن نزلنا الذكر و انا له لحفظون(۹) ۔
بس بحمداﷲ چنانکہ درہیچ کلمہ از کلمات کریمہ اش اصلامحل توہمے نیست کہ شاید بجائے الحمد الشکر نازل شدہ باشد ہمچناں بمنت مولی عزوجل درہیچ حرفے از حروف طیبہ اش زنہار جائے تردد نیست کہ شاید بحمل لام تعریف میم تعریف بودہ باشدپس بنہجیکہ بیقین قاطع میدانیم کہ ا و ع و ق درزبان عربی جداگانہ است درقرآن عظیم الاوعلا وفلا برمعانی مختلف برہماں وجہ بتیقن جازم می شناسم کہ ض و ظ و د نیز لسان عرب سہ حرف متباین است و درفرقان کریم و ضل و ظل و دل بمبدلولات متخالفہ پس ض را ظ یا د خواندن بعینہ بہماں ماند کہ کسے “ ا “ را ع یا ف خواندا دعائے دعائے توارث درادائے بجائے
اصحاب پر جنہوں نے آپ کی اقتداء کی جبکہ وہ سفر آخرت کے لئے سامان ہیں ۔ اﷲ جل جلالہ رحمتیں برکتیں اور سلامتی آپ پر اور ان سب پر نازل فرمائے اور زیادہ کرے قرآن عظیم روشن عربی زبان میں اﷲ عزوجل نے اپنے عربی قریشی نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر نازل فرمایا اوراسکی تلات و سماعت اور اس سے استفاضہ و نفع کے لئے اﷲ تعالی نے اپنی صفت کریمہ قدیمہ کو حروف و تجلی اصوات کا لباس پہنا کر اپنے بندوں کو عنایت فرمایا نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے صحابہ تك قرآن پاك کو اسی طرح پہنچا دیا جس طرح و ہ نازل ہوا تھا ۔ صحابہ نے تابعین تك تابعین تبع تا بعین تک اور اسی طرح ہر دور اور ہر طبقہ میں اس کاحرف ہر حرکت صفت اور ہیئت تواتر کے اعلی درجہ کے ساتھ ہم تك منقول ہے اس سے بڑھ کر تواتر کا تصور بھی نہیں ہو سکتا حمد ہے اﷲ کے لئے جو بلند بزرگی و الا ہے اسی سے متعلق اﷲ تعالی کا ارشاد گرامی ہے : “ بلاشبہ ہم نے اس ذکر کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اسکے محافظ ہیں “ ۔ الحمدﷲ قرآن مجید کے کلمات میں سے کسی ایك کلمہ کے بارے میں بھی ہر گز کسی قسم کا وہم نہیں کیا جاسکتا کہ شاید الحمد کی جگہ الشکر نازل ہواتھا اسی طرح اﷲ تعالی کا شکر ہے کہ قرآن کے کسی حرف کے بارے میں کوئی شك و تردد نہیں کہ شاید الف لام کی جگہ تعریف کے لئے میم نازل ہوا تھا جس طرح ہمیں قطعی یقین ہے کہ ا ع ۔ ق
حوالہ / References القرآن ۱۵ / ۹
#6433 · رسالہ نِعم الزّاد لِرَوم الضاد (ضاد پڑھنے کا بہترین طریقہ)
ض سخنے است بس غلط و پر بیمزہ-توارث اگر در علمائے معتمدین قراء ت مقصود خود باطل و مردود واگر در عوام ہند مراد ازیں چہ کشادسکتات سورۃ فاتحہ ازصد ہا سال در عامیاں رائج است وجہلہ برائے توجیہ آنہا ہفت نام شیطان دروئے تراشیدہ اند دلل ھرب کیوکنع کنس تعلی بعلی بعض دیگر فرمودند مماومصرا وکذلك کان ینبغی علی مزعومہم شدت تحفظ ایشاں بریں سکتات بیشتر و فزود تراز تحفظ بر واجبات اجماعیہ تجوید مے بینم وہرکہ مراعات آنہاں نکند ایں ناداں اورا ازتجوید قرآن جاہل و غافل دانند فانظر کیف صارفیھم المعروف منکرا والمنکر معروفا۔ ایں اختراعات باطلہ را حقیقت بیش ازاں نیست کہ ان ھی الا اسماء سمیتموھا۔ علماء ایں سکتات باطلہ راتقبیح کردہ اند و بطلان آنہا تصریح علامہ ابراہیم حلبی در غنیۃ المستملی فرماید قال فی فتاوی الحجۃ المصلی اذا بلغ فی الفاتحۃ ایاك نعبد و ایاك نستعین لا ینبغی ان یقف علی قولہ ایاك ثم یقول نعبد
عربی زبان میں جدا جداحروف ہیں اور قرآن میں الا علا اور فلا کے الگ الگ مختلف معانی ہیں اسی طرح ہم اس پر بھی حتمی یقین رکھتے ہیں کہ ض ظ اور د زبان عرب میں آپس میں متبائن حروف ہیں اور فرقان عظیم میں ضل ظل اور دل کے معانی مختلف اور متبائن ہیں پس ض کو بعینہ ظ یا د پڑھنا اسی طرح ہے جیسے کوئی الف کو عین یا فا پڑھا کرے باقی اس توارث کا دعوی کہ ض کی جگہ دال ہے سخت غلط ہے کیونکہ اس توارث سے مراد قابل اعتماد قراء کا مقصود ہو تو یہ از خود باطل و مردود عوام ہند کا توارث ہے تو اس سے مقصد کیسے حاصل ہو سکتا ہے ! عوام کا حال تو یہ ہے کہ صد ہا سال سے سورۃ فاتحہ میں سات سکتے رائج ہیں اور جاہل ان کی توجیہ میں سات یاطین کانام لیتے ہیں دلل حرب کیو کنع کنس تعلی بعلی اور بعض ان دو ناموں مما اور مصرا کا اضافہ کرتے ہیں انکے زعم پر انہیں یونہی مناسب نظر آیا اپنے غلط زعم کے مطابق ان سات سکتات کا تحفط تجوید کے اجماعی واجبات سے بڑھ کر کرتے ہیں اور جو ان کی پابندی نہیں کرتا یہ بے وقوف اسے تجوید قرآن سے جاہل اور غافل قرار دیتے ہیں آپ غور سے دیکھیں کیسے عوام کے ہاں معروف منکر اور منکر معروف بن چکا ہے ۔ ان خرافات باطلہ کی کوئی حقیقت اس سے زیادہ نہیں کہ یہ ان کے خود ساختہ نام اورتصورات ہیں اہل علم نے ان باطل سکتوں کی سخت تقبیح کی ہے اور ان کے باطل ہونے کی تصریح کی ہے علامہ ابراہیم حلبی غنیۃ المستملی میں فرماتے ہیں فتاوی الحجہ میں ہے۔
#6434 · رسالہ نِعم الزّاد لِرَوم الضاد (ضاد پڑھنے کا بہترین طریقہ)
وانما الاولی والاصح ان یصل ایاك نعبد وایاك نستعین انتھی فلا اعتبار بمن یفعل ذلك السکت من الجہال المتفقھین بغیر علم اھ
علامہ علی قاری علیہ رحمۃ الباری درمنحۃ الفکریہ بعد ایراد عبارت فتاوی الحجۃ مے فرمایند اقول : ومااشتھر علی لسان بعض الجھلۃ من القران فی سورۃ الفاتحۃ للشیطان کذا من الاسماء فی مثل ھذہ التراکیب من البناء فخطاء فاحش و اطلاق قبیح ثم سکتھم عن نحو دال الحمد وکاف ایاك وامثالھا غلط صریح علامہ محمد بن عمر بن خالد قرشی حنفی در رد ایں مزعوم رسالہ مستقلہ نوشت کما ذکرہ کشف الظنون فی ذکر الرسائل ۔ من فقیر در عنفوان امر خودم پیش از وقوف بریں کلمات ایں سکتات باطلہ را ابطال می کردم و منشاء اختراع آنہامی دانم کہ اگر غرابت سخن مانع نبودے بقلم می سپردم علماء کہ اختلاف السنہ ناس در ادائے ض بیان فرمودہ اند
کہ جب نمازی فاتحہ میں ایاك نعبد وایاك نستعین پرپہنچے تو یہ نہ کرے کہ ایاك پررك جائے پھر نعبد کہے بلکہ اولی اور اصح یہی ہے کہ ایاك نعبد و ایاك نستعین کومتصل پڑھے انتہی اگر بعض جاہل ان پڑ ھ لوگ بغیر کسی دلیل کے سکتہ کرتے ہیں تو ان کا ہر گز اعتبار نہیں کیا جائے گا اھ۔ علامہ علی قاری علیہ الرحمۃ الباری منحۃالفکریہ میں فتاوی الحجہ کی عبارت ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں میں کہتا ہوں بعض جاہل لوگوں کی زبان پر یہ جو مشہور ہے کہ قرآن کی سورۃ فاتحہ میں اس ترکیب سے شیطان کے نام ہیں یہ بات صراحۃ غلط ہے اور اسکا قبیح پر اطلاق ہے اور پھر ان کے سکتوں سے مراد الحمد کی “ د “ اور ایاك کی “ کاف “ ہے اور ان کی مثل وسرے مقامات ہیں جو نہایت ہی غلط اور باطل ہیں علامہ محمد بن عمر بن خالد قرشی حنفی اس باطل خیال کے رد میں ایك مستقل رسالہ لکھا جس کا ذکر صاحب کشف الظنون نے رسائل میں کیا ہے ۔ فقیر نے اپنے ابتدائی دور میں علماء کے مذکورہ ارشادات پر اطلاع نہ ہونے کے باوجود ان سکتوں کا رد کیا اور ان خرافات کے منشاء سے بھی آگاہی حاصل ہے اگر غرابت سخن مانع نہ ہوتی تو میں اسے احاطہ تحریر میں ضرور لاتا۔ علماء نے ضاد کی ادائیگی میں لوگوں کی مختلف
حوالہ / References غنیۃ المستملی شرح منیہ المصلی فصل فی زلۃ القاری مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۴۸۱
منح الفکریہ شرح المقد مۃ الجزریہ بیان الوقف علی رؤس الایۃ سنۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۶۳
#6436 · رسالہ نِعم الزّاد لِرَوم الضاد (ضاد پڑھنے کا بہترین طریقہ)
حاشا مرادنہ آنست کہ ایں طریق ادا قراء عرب است بلکہ مقصود بیان غلط و خطائے عوام در ادائے ایں حرف و تبنیہ بر بطلان وتحذیر ازآن ست عبارت مولانا قاری در شرح مقدمہ جزریہ زیر قول ماتن والضاد باستطالۃ و مخرج میزمن الظاء وکلہاتجی : : فی الظعن ظل ظھرعظم الحفظ : : ایقظ وأنظر عظم ظھر اللفظ چنان ست قدانفرد الضاد بالا ستطالۃ حتی تتصل بمخرج اللام لما فیہ من قوۃ الجھروالاطباق والاستعلاء ولیس فی الحروف مایعسر علی اللسان مثلہ وألسنۃ الناس فیہ مختلفۃ فمنھم من یخرجہ ظاء ومنھم من یخرجہ دالا مھملۃ او معجمۃ ومنھم من یخرجہ طاء مھملۃ کالمصریین ومنھم من یشمہ ذالا ومنھم من یشیر بھا بالظاء المعجمۃ لکن لماکان تمییزہ عن الظاء مشکلا بالنسبۃ الی غیرہ امرالناظم بتمییزہ عنہ نطقا ثم بین ماجاء فی القران بالظاء لفظا الخ
ایں شدت تحفظ علما است بر تمایز حروف و آنچنانکہ امام ناظم رحمۃ اللہ تعالی علیہ کلمات قرآنیہ واردہ بظائے معجمہ راضبط
زبانوں کا جو تذکرہ کیا ہے اس سے مراد یہ ہر گز نہیں ہے کہ قراء عرب کی ادائیگی کا یہ طریقہ ہے بلکہ اس سے مقصود صرف اسی حرف کی ادائیگی کے بارے میں عوام کی خطا اور غلطی کی نشان دہی کرنا ہے اور اس کے بطلان پر تنبیہ اور اس سے پرہیز پر متوجہ کرنا ہےعبارت ملا علی قاری شرح مقدمہ جزریہ میں ماتن کے اس قول “ ضاد میں استطالہ ہے اور اسکا مخرج ظا سے الگ ہے اور ظا ان تمام میں ہے : ظعن ظل ظہر عظم الحفظ : : ایقظ انظر عظم ظہراللفظ : : کے تحت یوں ہے کہ ضاد استطالہ میں منفرد ہے حتی کہ وہ لام کے مخرج کے ساتھ متصل ہے کیونکہ اس میں قوت جہر اطباق اور استعلاء پایا جاتا ہے اورحروف میں کوئی حرف ایسا نہیں جس کی ادائیگی ضاد کی طرح مشکل ہو اس کی ادائیگی میں لوگوں کی زبان مختلف ہے بعض اسے ظا اور بعض دال یا ذال کے مخرج سے اور بعض طا کے مخرج سے پڑھتے ہیں جیسے مصری لوگ اور بعض اسے ذال کی بو دیتے ہیں بعض ظا سے ملاکر پڑھ دیتے ہیں لیکن چونکہ اس کا امتیاز دیگر حروف کی بنسبت ظا سے مشکل ہے اس لئے ناظم (ماتن) نے صراحۃ اس سے ممتاز کرنے کی بات کی پھر وہ مقامات بیان کئے جہاں قرآن مجید میں ظاء لفظا استعمال ہوا ہے الخ یہ شدت حروف کے امتیاز کے تحفظ پر علماء کے کاربند ہونے کے لئے ہے اور وہ جو امام ناظم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے کلمات قرآنی ذکر کر دئے
حوالہ / References منح الفکریہ شرح المقدمۃ الجزریۃ مطلب ادغام المتجانسین مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۳۸
#6437 · رسالہ نِعم الزّاد لِرَوم الضاد (ضاد پڑھنے کا بہترین طریقہ)
فرمودہ تابدانند کہ ایں حرف بقرآن عظیم درہمیں مواداست وآنچہ غیراینہاست ہمہ بضاد است ہمچنان فاضل ادیب حریری درمقامہ حلبیہ عامہ لغات عرب وارادہ بظا رامظبوط نمود جائیکہ فرمود۔ ایھا السائلی عن الضاد والظاء : : لکیلا تضلہ الالفاظ : : ان حفظ الظاء آت یغنیك فاسمعھا استماع امرئ لہ استیقاظ غیرطائفۃ فی مخارج ھذہ الحروف وفی ذلك حرج عظیم والظاہر ان ھذا مجمل مافی جمیع الفتاوی باز فرمود۔ ثم فی الخزانۃ ایضالو قرء ولاالضآلین بالظاء فسدت صلوتہ وعلیہ اکثر الائمۃ منھم ابو مطیع ومحمد بن مقاتل ومحمد بن سلام وعبداﷲ بن الازھری وعلی ھذالقیاس فی جمیع القران ولو قرأ بالظاء مکان الضاد تفسد صلاتہ الا فی قولہ تعالی وماھو علی الغیب بضنین بالظاء والضاد فھما قرأ تان ۔ ببیں چہ قدر نصوص روشن است کہ ایں تبدیلہا از کج مج زبانی ہائے کردیاں و ترکیاں و دہقانیان کوفہ وغیرہم عوام و اعجام است ولہذا
ہیں جن میں ظاہے تاکہ ہر کوئی جان لے کے قرآن کریم میں ظا کے ساتھ یہی کلمات ہیں اور ان کے علاوہ میں ضاد ہے اسی طرح فاضل ادیب حریری نے مقامہ حلبیہ میں ظا کے الفاظ عربی ذکر کرتے ہوئے کہا جس جگہ کہا اے ضاد اور ظا کے بارے میں پوچھنے والے تاکہ الفاظ میں خلط ملط نہ ہو اگر تو ظاء کے تمام مقامات محفوظ کرے تو بے نیاز ہوجائیگا پس اب تو انھیں غور سے سن جس طرح ایك بیدار آدمی سنتا ہے ۔ ایك گروہ نے ان حروف کے مخارج میں تغیر و تبدل کیا ہے اور اس میں حرج عظیم ہے اور ظاہر یہ ہے کہ تمام فتاوی کا اجمال یہی ہے پھر فرمایا کہ خزانہ میں بھی ہے اگر ولاالضالین میں ظاء پڑھی تو نماز فاسد ہوجائے گی اکثر ائمہ اسی پر ہیں ان میں ابو مطیع محمد بن مقائل محمد بن سلام عبداﷲ بن الازھری بھی ہیں اسی پر قیاس کرتے ہوئے کہا کہ تمام قرآن میں ضاد کہ جگہ اگر ظاء پڑھی تو نماز فاسد ہوجائے گی البتہ اﷲ تعالی کا قول وما ھو علی الغیب بضنین مستثنی ہے کیونکہ اس میں ظااور ضاد دونوں کے ساتھ دو قرائتیں آئی ہیں آپ نے دیکھا کس قدر واضح تصریحات ہیں کہ یہ تبدیلی کرد ترك اورکوفہ کے بادیہ نشین وغیرہ عام اور عجمی لوگوں کی زبانیں گڈ مڈ ہونے کی وجہ سے ہے یہی وجہ ہے کہ
حوالہ / References مقامات حریری مقامہ سادسہ ولاربعون الموامہ الحلبیہ مطبوعہ مصطفٰی البابی ص ۳۹۳
خزانۃ
#6438 · رسالہ نِعم الزّاد لِرَوم الضاد (ضاد پڑھنے کا بہترین طریقہ)
اکثر علماء متاخرین کہ درمحفل مشقت روبہ تیسیر کردہ اند ایں تر خیص راہم بحق عامیاں مقصود داشتند بازحکم جمہور ائمہ نظرکن کہ بریں ابدال ہنگام فساد معنی حکم بفساد نماز فرمودند وہمیں است مذہب ائمہ ثلاثہ سیدنا الامام الاعظم و امام ابی یوسف و امام محمد رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین علی خلاف بینھم فی ما اذاکان مثلہ فی القران اولا کما فصلہ فی الغنیۃ باحسن تفصیل فاﷲ یجزیہ الجزاء الجلیل ۔ درخانیہ و خلاصہ و بزازیہ و غنیہ و حلیۃ و خزانۃ المفتین وغیرہا کتب معتمدہ مذہب بکثرت فروع ایں تبدیلہا است کہ دروے حکم بفساد نماز دادہ اند من شاء فلیراجعھا فان فی نقلھا طولا کبیرا۔ وخودعلامہ قاری در شرح جزریہ فرمود (وان تلاقیا) ای الضاد الظاء(البیان) ای فبیان کل منھما لازم ولا یجوز الا دغام لبعد مخرجھما قال الیمنی فلو قرأبالادغام تفسد الصلاۃ وقال ابن المصنف وتبعہ الرومی ولیتحرز من عدم بیانہما فانہ لوأبدل ضادا بظاء او بالعکس بطلت صلاتہ لفساد المعنی و قال المصری فلو بدل ضادا بظاء فی الفاتحۃ لم تصح قراء تہ بتلك الکلمۃ (ملخصا)باز کلام ابن الہمام و کلام مذکور منیہ اکثر علمائے متاخرین جو مشقت کے مقام پرآسانی کی طرف گئے ہیں انھوں نے بھی اس رخصت کو عوام کے حق میں جائز رکھا ہے پھر جمہور ائمہ کا حکم دیکھو انھوں نے اس تبدیلی پر فساد معنی کے وقت فساد نماز کا حکم دیا ہے اور یہی مذہب ائمہ ثلاثہ سیدناامام اعظم امام ابویوسف اورامام محمد رضی اللہ تعالی عنہ علیہم اجمعین کا ہے اس اختلاف کے ساتھ کہ اس کی مثل قرآن مجید میں ہے یا نہیں اس کی پوری اور
عمدہ تفصیل غنیہ میں ہے پس اﷲ تعالی انھیں جزائے خیر عطا فرمائے ۔
خانیہ خلاصہ بزازیہ غنیۃ حلیہ خزانۃالمفتین اور دیگر کتب معتمدہ مذہب میں ایسی تبدیلی کہ متعدد جزئیات کاذکر کرکے نماز کے فساد کا حکم بیان کیا گیا جو شخص تفصیل چاہتا ہے ان کی طرف رجوع کرے کیونکہ ان تمام کے نقل کرنے میں طوالت کاخدشہ ہے خود علامہ علی قاری شرح جزریہ میں فرماتے ہیں (اور اگر یہ دونوں اکھٹے ہوں ) یعنی ضاد اور ظاء تو ہر ایك کا امتیاز ضروری ہے ان کے بعد مخرج کی وجہ سے ادغام جائز نہیں یمنی نے کہا کہ اگر کسی نے مدغم کرکے پڑھا تو نماز فاسد ہوجائےگی۔ ابن مصنف اور ان کی اتباع میں رومی نے کہا ان دونوں کے عدم امتیاز سے احتراز چاہئے کیونکہ اگرضاد کو ظاء سے بدلا یا اس کا عکس کہا تو فساد معنی کی وجہ سے نماز باطل ہوجائے گی اور مصری نے کہا اگر کسی نے فاتحہ میں ضاد کو ظا سے بدل کر پڑھا تو اس کلمہ کی قراء ت درست نہ ہوگی پھر ابن الہام اورمنیہ کی مذکورہ
حوالہ / References المنح الفکریۃ شرح المقدمۃ الجزریۃ ، باب التحذیرات ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص ۴۳
#6439 · رسالہ نِعم الزّاد لِرَوم الضاد (ضاد پڑھنے کا بہترین طریقہ)
آوردہ گفت قال الشارح وھذا معنی ماذکر فی فتاوی الحجۃ انہ یفتی فی حق الفقھاء باعادۃ الصلاۃ وفی حق العوام بالجواز اقول وھذا تفصیل حسن فی ھذا الباب واﷲ تعالی اعلم بالصواب ۔
وفی فتاوی قاضیخان ان قرأغیر المغضوب بالظاء او بالدال تفسد صلاتہ ولا الضالین بالظاء المعجمۃ اوالدال المھملۃ لاتفسد ولو بالذال المعجمۃ تفسد (ملخصا) ۔ در شرح امام شیخ الاسلام زکریا انصاری است (وان تلاقیا) ای الضاد والظاء فقل (البیان) لاحدھما من الاخر لازم للقاری لئلا یختلط احدھما بالاخر فتبطل صلاتہ سبحن اﷲ اگر ایں نہج ادا قرائے عرب را بودے حکم فساد دراچہ گنجائش بود بلکہ قطعا ادغام روا بود و نماز مطلقا اجماعا صحیح ماندے چنانکہ در ماھو علی الغیب بضنین وہمچنیں درقول او تعالی
انكم و ما تعبدون من دون الله حصب جهنم-
حصب وحضب وحطب وحظب لصاد وضاء طاء وظاء ہر چہ خواند نماز قطعا صحیح است کہ ایں کلمہ بہرچار حروف منطبقہ در قراء ت آمدہ است کما فی المنح الفکریۃ و غیرھا۔
گفتگو کے بعد کہا شارح نے کہافتاوی حجہ میں جو کچھ مذکور ہے اس کا خلاصہ یہی ہے کہ علماء وفقہا کے حق میں نماز کے لوٹانے کا فتوی دیا جائے گا اور عوام کے حق میں جواز کا میں کہتا ہوں اس معاملہ میں یہی تفصیل احسن ہے واﷲ اعلم بالصواب۔
اورفتاوی قاضی خان میں ہے اگر کسی نے غیر المغضوب میں ظاء یا دال سے بدل کر پڑھا تو نماز فاسد ہوگی اور ولاالضالین میں ظاء یا دال سے بدل کر پڑھا تو نماز فاسد نہ ہوگی اور اگر ذال سے بدل کر پڑھا تو نماز فاسد ہوجائیگی ۔ امام شیخ الاسلام زکریا انصاری کی شرح میں ہے(اور اگر یہ دونوں متصل ہوں ) یعنی ضاد اور ظاء تو قاری کے لئے دونوں کو الگ الگ کرکے پڑھنا ضروری ہے تاکہ ایك دوسرے کے ساتھ مختلط ہو جائے ورنہ اس کی نماز باطل ہوجائےگی سبحان اﷲ اگر اس کی ادائیگی کا یہ طریقہ قراء عرب کا ہوتا تو فساد کے حکم کی یہاں کیا گنجائش تھی بلکہ ادغام یقینا جائز اور نماز مطلقا بالاتفاق درست ہوتی جیسا کہ ماھو علی الغیب بضنین میں ہے یہی حکم اﷲ تعالی کے اس ارشاد گرامی میں ہے ۔
انكم و ما تعبدون من دون الله حصب جهنم- ۔
یہاں حصب حضب حطب حظب صاد ضاد طاء اورظاء کے ساتھ جس طرح بھی پڑھ لیا جائے نماز درست ہوگی کیونکہ اس کلمہ کی ان چاروں حرفوں کے ساتھ قراء ت ثابت ہے جیسا کہ منح الفکریہ وغیرہ میں ہے۔ (ت)
حوالہ / References المنح الفکریۃ شرح المقدمۃ الجزریۃ باب التحذیرات مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص ۴۳
شرح المقدمۃ الجزریۃ ابوزکریا انصاری مع المنح الفکریہ باب التحذیرات مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۴۳
#6485 · رسالہ نِعم الزّاد لِرَوم الضاد (ضاد پڑھنے کا بہترین طریقہ)
اقول : وباﷲ التوفیق بتحقیقنا ھذا ظھرلك انخساف مازعم بعض النحاۃ وھو ابن الاعرابی الکوفی حیث کان یقول جائز فی کلام العرب ان یعاقبوا بین الضاد والظاء فلایخطیئ من یجعل ھذہ فی موضع ھذہ وینشد
“ الی اﷲ اشکو من خلیل اودہ
ثلث خلال کلھا لی غائض بالضاد “ ۔
ویقول : ھکذاسمعتہ من فصحاء العرب ۔
نقلہ ابن خلکان فی وفیات الاعیان و ذلك لانہ لوکان مازعمہ صحیحا لما حکم ائمۃ الفقۃ وھم ماھم فی جمیع فنون العربیۃ وغیرھا من العلوم الدینیۃ بفساد الصلوۃ فی غیر المغضوب وامثالہ مما یفسد بہ المعنی ولما فرقوا بینہ وبین ضنین وظنین فاین ھذا ممامر عن الحلیۃ عن الخزانۃ عن الائمۃ ان فی جمیع القرآن تفسد بہ الصلوۃ ما خلاضنین ومن سوغ فانما نظر الی التیسیر علی العوام لانہ صحیح فی فصیح الکلام اما البیت فلا حجۃ لہ فیہ فقد یکون اقول : ( میں کہتا ہوں ) اﷲ تعالی کی توفیق و عنایت سے جو ہم نے تحقیق کی ہے اس سے ایك نحوی ابن الاعرابی کوفی کے اس قول کی کمزوری بھی واضح ہوجاتی ہے جو اس نے کہا تھا کہ ضاد اور ظاء کو ایك دوسرے کی جگہ کلام عرب میں پڑھا جا سکتا ہے تو جو ایك کی جگہ دوسرے کو پڑھ دے اسے خطاوار نہیں کہا جائیگا اور اس نے یہ شعر پڑھا : اﷲ کے ہاں یہی میری شکایت ہے اپنے محبوب دوست کی تین عادتوں کی جو مجھے نا پسند ہیں ۔
(اس شعر میں غائض ضاد کے ساتھ ہے)
اور یونہی میں نے فصحاء عرب سے سنا ہے
اسے ابن خلکان نے وفیات الاعیان میں نقل کیا ہے اور یہ اس لئے ہے کہ اگر ان کا قول درست ہوتا تو یہ تمام ائمہ فقہ جو علوم دینیہ اور فنون عربیہ کے ماہر ہیں غیر المغضوب اور اس جیسے دیگر الفاظ جن میں فساد معنی لازم آتا ہے سے نماز فاسد ہونے کاحکم جاری نہ کرتے اور ضنین و ظنین اورمذکورہ لفظ کے درمیان فرق نہ کرتے یہ اس میں سے کہا ہے حلیہ سے خزانہ سے ائمہ کے حوالے سے گزرا کہ ضنین کے علاوہ تمام قرآن میں (جب فساد معنی ہو) تو نماز فاسد ہوجائیگی اور جن لوگوں نے اسے جائز قرار دیا تھا انہوں نے عوام پرآسانی کی خاطر ایسا کیا یہ نہیں کہ ایسا کرنا فی الواقع فصیح کلام میں صحیح ہے رہا معاملہ شعر کا وہ اس سلسلہ
حوالہ / References وفیات الاعیان ترجمہ محمدبن زیادابن الاعرابی ۶۳۳ مطبوعہ دارالثقافۃ بیروت ۴ / ۳۰۷
#6486 · رسالہ نِعم الزّاد لِرَوم الضاد (ضاد پڑھنے کا بہترین طریقہ)
من غاضہ اذا نقصہ قال الاسود بن یعفر
اما ترینی قدفنیت وغاضنی
ما نیل من بصری ومن اجلادی
قال فی تاج العروس معناہ نقصنی بعد تمامی وھذا ابن الاعرابی قد انشد بنفسہ
ولو قد عض معطسہ جریری
لقد لانت عریکتہ وغاضا
وفسرہ فقال اثرنی انفہ حتی یذل وقد قال ابن سیدہ فی ذلك البیت یجوز عندی ان یکون غائض غیر بدل ولکنہ من غاضہ ای نقصہ ویکون معناہ حینئذ انہ ینقصننی ویتھضمنی نقلھافی التاج ایضا وعن ھذاحکم علماؤنابعدم الفساد فیما لو قرأ لیغیض بھم الکفار بالضاد مکان الظاء کما فی الخانیۃ قال فی الغنیۃ لان معناہ مناسب ای لینقص بھم الکفار اھ وکذاقال فی قولہ تعالی قل موتوا بغیظكم- و
میں ان کی حجت نہیں بن سکتا تو کبھی یہ غاضہ سے آتا ہے اس وقت اس کا معنی نقص ہوتا ہے چنانچہ اسود بن یعفرنے کہا کیا تو دیکھتی نہیں کہ میں فنا ہوچکا ہوں اور میری آنکھوں اور اعضاء کے عوارض نے مجھے ناقص کر دیا ہے۔ تاج العروس میں ہے : اس کا معنی یہ ہے اس نے مجھے کمال تك پہنچنے کے بعد ناقص کردیا اور اس ابن اعرابی نے خو د یہ شعر کہا : اگر جریری نے اس کی ناك کو کاٹا ہے تو ضرور اس کی ناك ہڈی نرم اور ناقص ہوگی۔ اور اسکی شرح کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اس کی ناك کو داغدار کردیا حتی کہ وہ ذلیل ہو گیا۔ اور ابن سیدہ نے اس(پہلے) شعر کے متعلق کہا کہ اس میں “ غائض “ غا ظ ط سے نہیں بدلا بلکہ وہ غاض سے ہے جس کا معنی نقص ہے لہذا اب معنی یوں ہوگا اس نے مجھے ناقص کردیا اس کو تاج العروس نے بھی نقل کیا ہے اور اسی بناء پر ہمارے علماء نے فرمایا کہ اگر کسی نے لیغیظ بھم الکفار میں ظاء کی جگہ ضاد پڑھا تو نماز فاسد نہ ہوگی جیسا کہ خانیہ میں ہے۔
غنیۃ میں ہے کہ اس کا معنی مناسب ہی رہتا ہے یعنی ان سے کافروں میں نقص و اضطراب ہو اھ او ر اسی طرح اﷲ تعالی کے ارشاد گرامی۔ قل موتوا
حوالہ / References تاج العروس فصل العین من باب الضاد مطبوعہ احیاء التراث العربی ۵ / ۶۵- ۶۴
فتاوٰی قاضی خان فصل فی قراء ۃ القرآن خطائ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۶۸
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی زلۃ القاری مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۷۸
فتاوٰی قاضی خان فصل فی قراء ۃ القرآن خطاء مطبوعہ لکشور لکھنؤ ۱ / ۶۹
#6487 · رسالہ نِعم الزّاد لِرَوم الضاد (ضاد پڑھنے کا بہترین طریقہ)
بالجملۃ فالفقہ لایوخذ من قول نحوی خالف نصوص الائمۃ بل الانصاف عند من نوراﷲ بصیرتہ تقدیم قولھم علی اقوال النحاۃ فی العربیۃ ایضا فان الاجتھادلا یتاتی الا لمتصلح منھا مقذوف فی قلبہ نور الالھی فاعرف ذلك فانہ نفیس مھم
آرے مارا انکار نیست کہ درکلام عرب معاقبہ میان ض و ظ اصلا نیامدہ کلمات عدیدہ بہر دو حرف وارد شدہ چوں عض الحرب والزمان وعظ الزمان جنگ گزید وگزد رسانید وتماضوا و تماظوا باہم بجنگ افتاد ندوبریك دگر زبان گفتن کشادند وفاض فلاں وفاظ مرد و بظ الضارب اوتارہ وبض چنگ زن اوتار را برائے زدن جنبانید و مہیا نمود و تقریظ وتقریض مدح کردن و بیض وبیظ خایہ مور وبظرو بضر خروسہ الی غیر ذلك مماعداہ ابن مالك فی کتاب الاعتضاد فی معرفۃ الظاء والضاد اما ایں معنی مستلزم آں نباشدکہ ہرجا ابدال روا بود چنانکہ میان لام و راجاہا معاقبہ است در مجمع بحار الانو ار آورد فیہ کان یکرہ تعطر النساء تشبھن بالرجال ارادعطرا یظھر ریحہ کما یظھر عطر الرجل وقیل اراد تعطل
بغیظكم- میں کہا بالجملہ دین و فقہ کا مسئلہ نحوی کے ایسے قول سے نہیں لیا جاسکتا جو ائمہ کی تصریحات کے خلاف ہو بلکہ ہر شخص جسے اﷲ نے نور بصیرت سے نوازا ہے وہ ائمہ کے اقوال کو فنون عربیہ میں بھی نحاۃ کے اقوال پر مقدم رکھے گا کیونکہ اجتہاد وہ کرسکتا ہے جس میں اسکی کامل صلاحیت ہو اور اسکا دل نور الہی سے پر ہو اسے اچھی طرح محفوظ کرلو کیونکہ یہ نہایت ہی اہم اور قیمتی تحقیق ہے البتہ ہمیں اس بات سے ہرگز انکار نہیں کہ کلام عرب میں ضاد اور ظا ایك دوسرے کی جگہ آہی نہیں سکتے بہت سے کلمات ان دونوں حروف کے ساتھ وارد ہیں مثلا عض الحرب والزمان وعظ زمان(دونوں کا معنی یہ ہے کہ جنگ نے کاٹا اور تکلیف پہنچائی ) تماضوا اورتماظوا آپس میں جنگ وغیرہ کرنا اور ایك دوسرے پر زبان کھولنا “ فاض فلاں ' ' اور “ فاظ “ فلاں فوت ہوا بظ الضارب اوتارہ اور بض صاحب موسیقی کا تار کو بجانے کے لئے حرکت دینا ۔ تقریظ اور تقریض تعریف کرنا ۔ بیض اور بیظ مور کا انڈا -بظر وبضر عورت اور شرمگاہ الی غیر ذلك یہ وہ ہیں جنھیں ابن مالك نے “ کتاب الاعتضاد فی معرفۃ الظاوالضاد “ میں شمار کیا ہے ۔ لیکن یہ اس بات کو مستلزم نہیں کہ ابدال ہر جگہ جائز ہوگا مثلا لام اور را کئی مقام پر ایك دوسرے کی جگہ آتے ہیں ۔ مجمع بحار الانور میں ہے کہ اس حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم خواتین کو خوشبو لگانے اور مردوں کے ساتھ مشابہت کرنے کو
#6488 · رسالہ نِعم الزّاد لِرَوم الضاد (ضاد پڑھنے کا بہترین طریقہ)
النساء باللام وھی من لاحلی علیھا ولاخضاب واللام والراء یتعاقبان وزنہار جائزنبود کہ ہر جا خواہند یکے بجائے دیگر ے خوانند علماء تصریح فرمودہ اند کہ یوم تبلی السرائر سرائل یا در یوم ترجف الارض والجبال بجائے جبال جبار خواند نماز فاسد شو کما فی الخانیۃ والمنیۃ وغیرھما باز ایں جملہ کہ گفتہ آمدیم درخصوص ظائے معجمہ است وحاشاکہ جاہلے وکنیزے و دہقانے از عرب بجائے ض د یا طامہملتین یا ذ یا ز معجمتین بر زباں راند سخن من درعرب خالص است نہ در قومے کہ باعجم مخالطہ شدہ ودر زبان نیز خالط و مالط شدندرجعت قہقری را گہگری گویند وثلثہ عشرراتلتعشر وخذکذا را خدکدا خدکدا بکسرکاف و دال مہملۃ الی غیر ذلك من التغیرات المہملۃ و بابعضے ازا عراب واطراف یمن ملاقی شد م کہ ہکذا را ہچامی گفتند ومنك خطاب بانثی رامنچ بجیم فارسی و بعضے دیگر ویدم کہ جیم را کا ف فارسی مسجد را مسگدا وجمال راگمال مے گفتند
قال الرضی الباء التی کالفاء قال السیرفی ھی کثیرۃ فی لغۃالعجم واظن
ناپسند فرماتے تھے ۔ یہاں عطر سے وہ خوشبو مراد ہے جو اس طرح مہکد ار ہو جو مرد لگاتے ہیں ۔ بعض نے کہا کہ لام کے ساتھ را کی جگہ لام ہے یعنی تعطل النساء لام کے ساتھ یعنی عورت کا بغیر زیور اور مہندی کے ہونا مراد ہے کہ لام اور را ایك دوسرے کی جگہ مستعمل ہوتے ہیں (یہ اگر چہ جائز ہے) مگر یہ بعض مقام پر جائزنہیں ہوتا کہ جہاں چاہیں ایك کو دوسرے کی جگہ پڑھ لیں ۔ علمانے تصریح کی ہے کہ یوم تبلی السرائر کی جگہ سرائل یا یوم ترجف الارض والجبال کی جگہ جبال کی جگہ جبار پڑھنے سے نماز فاسد ہو جائے گی جیسا کہ خانیہ اور منیہ وغیرہا میں ہے پھر یہ تمام گفتگو جو میں نے کی ہے یہ صرف ظاء معجمہ کے لئے خاص ہے ہوسکتا ہے کوئی جا ہل لونڈی یا دیہاتی از عرب ضاد کی جگہ دال طا ذال یا زا اپنی زبان پر جاری کردے کیونکہ ہماری گفتگو عرب خالص میں ہے نہ کہ اس قوم میں جو عجم کے ساتھ ملی ہو او راس کی زبان خلط ملط ہوگئی ہو مثلا رجعت قہقری کی جگہ رجعت گہگری اور ثلثہ عشر کی جگہ تلتعشر خذکذا کو خد کدا خد کدا کاف کے کسرہ اور دال کے ساتھ پڑھتے ہیں ان کے علاوہ دیگر بے مقصد و لایعنی تغیرات یاایسے بدوی اور یمنی لوگوں سے ملا ہوں جو ہکذا کوہچامی
حوالہ / References مجمع بحارالانوار لفظ عطر کے تحت مذکور ہے مطبوعہ مطبع عالی منشی نولکشو لکھنؤ ۲ / ۳۹۷
فتاوٰی قاضی خان فصل فی قراء ۃ القرآن خطائ مطبوعہ نو لکشور لکھنؤ ۱ / ۶۸
#6489 · رسالہ نِعم الزّاد لِرَوم الضاد (ضاد پڑھنے کا بہترین طریقہ)
ان العرب انما اخذوا ذلك من العجم لمخالتطھم ایاھم باز اخراج ز معجمہ بجائے ض خالصا یا اشماما در کلام علماء نقلش از عوام جہالی نیز بیادنیست البتہ بعض عامیاں زماں کہ تشابہ صورت شنیدہ اند بجائے ض ظ بر آور دن مے خواہند وبعض دیگر کہ تحفظ کنند و نتواں چیزے بین الضاد والظاء برمی آرند واولئك امثلھم طریقا نسأل اﷲ ان یرزقنا الحق فی کل باب تحقیقا۔
بالجملہ حق واضح ہمیں است کہ ایں ہمہ حروف باھم متبائن است و برہمہ مخرج جدا وابدال ضباہر حرفیکہ باشد مردود و ناروا ایں حرفے است کہ حق جل و علا او را تنہا آفرید وہیچ حرفے را قرینش نگر دانید و لہذا سیبو گفت ودر صفت لو لا الاطباق فی الصاد لکان سینا وفی الظاء پڑھتے تھے مونث کو خطاب کرتے ہیں منك کہ جگہ منچ پڑھتے ہیں بعض دیگر ایسے لوگ بھی میں نے دیکھے کہ جیم کو گاف کے ساتھ مثلا مسگد جمال کو گمال بولتے ہیں ۔ رضی نے کہا وہ باء جو فاء کی طرح ہے سیرفی کہتا ہے یہ لغت عجم میں کثرت کے ساتھ مستعمل ہے اور میرا گمان ہے کہ عرب نے عجم سے اختلاط کی وجہ سے یہ اخذ کیا ہے پھر ضاد کی جگہ خالصا یا اشماما زا پڑھنے کے بارے میں جاہل لوگوں نے علماء کے کلام سے جو کچھ نقل کیا ہے وہ بھی محفوظ نہیں البتہ جن بعض عوام زمان سے متشابہ صوت سنا گیا ہے کہ وہ ض کی جگہ ظاء پڑھنا چاہتے ہیں اور بعض دوسرے لوگ ادائیگی کی طاقت نہ رکھتے ہوئے بھی کوشاں رہتے ہیں ضاد اور ظا کے درمیان پڑھتے ہیں یہ لوگ بہتر اور اوسط راہ پر ہیں ہم اﷲ تعالی سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ہر معاملہ تحقیقی حق پر چلنا نصیب کرے (آمین)
بالجملہ : حق واضح یہی ہے کہ تمام حروف آپس میں متبائن اور ان کے مخارج الگ الگ ہیں لہذا ضاد کسی بھی حرف کے ساتھ بدل کر پڑھنا مردود اور ناجائز ہے۔ اس حرف(ضاد) کو اﷲ تعالی نے اتنا جدا پیدا کیا ہے کہ کوئی حرف بھی اسکا قریبی نہیں گردانا جاسکتا اسی لئے سیبویہ نے کہا اور خوب کہا اگر صاد میں اطباق نہ ہو تو سین بن جائے اگر ظاء میں نہ ہو تو
حوالہ / References شرح شافیہ للرضی صفات الحروف مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳ / ۲۵۶
#6490 · رسالہ نِعم الزّاد لِرَوم الضاد (ضاد پڑھنے کا بہترین طریقہ)
کان ذالا وفی الطاء کان دالاو لخرجت الضاد من الکلام لانہ لیس شیئ من الحروف من موضعھا غیرھا نقلہ الرضی وآنکہ ازقاری پانی پتی نقل کردند۔
اقول : تحقیق آنست کہ درصفات حروف بعضے صفات لازمہ است کہ فقد انش مستلزم فقدان ذات باشد چنانچہ اطباق در ط وانفتاح در ت او قطعا واجب المراعاۃست وبعضے نہ چنان ست اگر بجا نیارند ذات حرف درہم نحورد چوں تہوع در ہمزہ وتفشے در ش وھو کما فی المنح انتشار الصوت عند خروجھا حتی تتصل بحروف طرف اللسان منھا مخرج الظاء المشالۃ والحال ان مخرجھا حافۃ اللسان من محاذات وسطہ ۔ پس مراعات صفات مطلقا واجب نیست بلکہ از صفات حروف آنست کہ ترکش واجب است وآں صفت تکریر دررائے مخفف مطلقا و در مثقلہ بیش ازیکبارمعنی ایں صفات دررآنست کہ قابل تکرار است نہ آنکہ تکرارش باید بایں معنی بتوفیق اﷲ تعالی بخاطرم خطور کردہ بود کہ تصریحش در کلام مولنا
وہ ذال بن جائے اگر طاء میں نہ ہو تو وہ دال بن جائے اور ضاد کلام سے ہی خارج ہوجائے کیونکہ اس کے متبادل کوئی حرف ہی نہیں اھ اسے رضی نے نقل کیا اورجو انہوں نے قاری پانی پتی سے نقل کیاہے۔ اس کے بارے میں کہتا ہوں تحقیقی بات یہ ہے کہ حروف کی صفات میں بعض ایسی صفات لازمہ ہیں جن کے فقدان سے حروف کی ذات کا فقدان لازم آتا ہے مثلا “ طاء “ میں اطباق اور “ تاء “ میں انفتاح اس کی رعایت نہایت ضروری ہے اور بعض حروف ایسے نہیں یعنی اگر انھیں ان صفات سے ادا نہ کہا جائے تو ان کی ذات ختم نہیں مثلا ہمزہ میں تہوع اور شین میں تفشی یہ وہی ہے جو المنح میں ہے کی اس کے خروج کے وقت آواز کا اس طرح انتشار یہاں تك ہوکہ حروف کے ساتھ طرف لسان متصل ہوجائے ایسے حروف میں ظا ء کامخرج بھی ہے حالانکہ اس کا اصل مخرج اس کے محاذات وسط سے اور حافہ زبان ہے ۔ پس صفات حروف کی رعایت ہر جگہ لازم نہیں بلکہ بعض حروف کی صفات ایسی ہیں جن کا ترك ضروری ہے اوروہ رائے مخففہ میں مطلقا اور راء مثقلہ میں ایك بار سے زائد تکرار ہے یعنی را میں اس صفت کی موجودگی کا معنی یہ ہے کہ را قابل تکرار ہے یہ نہیں کہ اس میں تکرار ضروری ہے یہ معنی اﷲ تعالی کی توفیق سے میرےذہن میں آیا اور اس کی تصریح
حوالہ / References شرح شافیہ للرضی صفات الحروف مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳ / ۲۶۲
المنح الفکریۃ مطلب بیان الحروف المھموستہ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۱۹
#6491 · رسالہ نِعم الزّاد لِرَوم الضاد (ضاد پڑھنے کا بہترین طریقہ)
علی قاری چہرہ کشودحیث قال تحت قول الماتن والرا بتکریر جعل معنی قولھم ان الرا مکرر ھو ان الراء لہ قبول التکرار لار تعاد طرف اللسان بہ عند التلفظ کقولھم لغیر الضاحك انسان ضاحك یعنی انہ قابل للضحك وفی جعل اشارۃ الی ذلك وتکریرہ الحسن فیجب معرفۃ التحفظ عنہ للتحفظ بہ کمعرفۃ السحر لیتجنب عن تضررہ ولیعرف وجہ رفعہ قال الجعبری وطریقۃ السلامۃ انہ یلصق اللافظ ظھر لسانہ باعلی خنکہ لصقا محکما مرۃ واحدۃ ومتی ارتعد حدث من کل مرۃ راء وقال مکی لابد فی القرأۃ من اخفاء التکریر وقال واجب علی القاری ان یخفی تکریرہ ومتی اظھر فقد جعل من الحرف المشدد حروفا ومن الحرف المشدد حروفا ومن المخفف حرفین اھ بعض اختصار ودروجوب ادا ازمخرج برمعنی کہ مسلم است جملہ حروف متساویہ الاقدام است ہیچ خصوصیت ض رانیست بلکہ تواں گفت کہ چوں ادائے صادق در وا عسر
مولانا علی قاری کے اس کلا م میں ظاہر ہوئی جو انہوں نے ماتن کے قول “ والراء بتکریرجعل “ کے تحت کی ہے کہ قراء کے قول “ را میں تکرارہے “ کا معنی یہ ہے کہ را تکرار کو قبول کرتا ہے کیونکہ اس کے تلفظ کے وقت طرف زبان حرکت کرتی ہے جیساکہ غیر ضاحك کو انسان ضاحك کہا جائے کہ وہ ضحك کے قابل ہے اس جعل میں اسی طرف اشارہ ہے اور اس کا تکرار غلط ہے پس اس کےساتھ تلفظ کے لئے اس سے بچنے کی معرفت ضروری ہے تاکہ غلطی سے بچاجاسکے جیسا کہ جادو کا علم اس لئے حاصل کیا جائے تاکہ اس کے نقصان سے بچاجائے اور اس سے دفاع کی معرفت ہوجائے اور اس کو اٹھایا جاسکے جعبری نے کہا سلامتی کا طریقہ یہ ہے کہ تلفظ کرنے والا اپنی زبان کے اوپر والے حصے کو تالو کے بلند حصے کے ساتھ ایك دفعہ مضبوط طریقہ سے ملائے اب جب وہ حرکت کرے گی تو ہر دفعہ را پیداہوگا مکی نے کہا ہے قرأت میں اخفاء تکریر ضزوری ہے اور فرما یا قاری پر لازم ہے کہ اس کے تکرار میں اخفاء کرے اور جب اظہار کرے گا تو حرف مشددہ میں کئی حروف پیدا کرے گا اور مخففہ میں دو حروف سے کرے اھ اھ یہ عبارت کچھ اختصار کے ساتھ ہے ہر حرف کو اس کے مخرج سے اس طرح ادا کرنے کا وجوب اس معنی پر ہے کہ تمام حروف کا متساوی الاقدام ہونا مسلم ہے اس میں ضاد ہی کی کوئی خصوصیت نہیں بلکہ یہ
حوالہ / References المنح الفکریہ شرح المقدمۃ الجزریۃ مطلب بیان الحروف المہمومۃ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۱۸
#6493 · رسالہ نِعم الزّاد لِرَوم الضاد (ضاد پڑھنے کا بہترین طریقہ)
از جملہ حروف است حکم وجوب بعارض مشقت دروے بنسبت سائر حروف درد بتخفیف است فان المشقۃ تجلب التیسیر وماضاق امر الاتسع و
لا یكلف الله نفسا الا وسعها-
و ما جعل علیكم فی الدین من حرج-
یرید الله بكم الیسر و لا یرید بكم العسر-
والحمدﷲ رب العلمین آرے خصوصیت ض بوجہ عسر مراودرشدت احتیاج باہتمام درآں تحفظ وتیقظ درادائے آنست۔
کہا جاسکتا ہے کہ جب اس کی صحیح ادائیگی دیگر حروف کی نسبت زیادہ مشکل ہے تو اس مشقت کے پیش نظر دیگر حروف کے اعتبار سے اس کے حکم وجوبی میں تخفیف ہوگی کیونکہ مشقت آسانی لاتی ہے ۔ ہرمشکل معاملہ میں گنجائش ہے اﷲ تعالی کسی نفس کو اس کی طاقت سے بڑھ کر حکم تکلیف نہیں دیتا اﷲ تعالی نے تم پر دین کے معاملے میں تنگی نہیں رکھی اﷲ تعالی تم پر آسانی کا ارادہ رکھتا ہے اور تنگی کا ارادہ نہیں فرماتا اور تمام خوبی اﷲ تعالی کے لئے جو تما م جہانوں کارب ہے ہاں ضاد میں تنگی کی وجہ سے اس کی ادائیگی کے لئے خوب اہتمام اور تحفظ ہونا چاہئے اور ادائیگی میں ہوش سے کام لیا جائے۔ (ت)
_________________
حوالہ / References القرآن ۲ / ۲۸۶
القرآن ۲۲ / ۷۸
القرآن ۲ / ۱۸۵
#6495 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
الجام الصاد عن سنن الضاد۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)

مسئلہ نمبر ۴۷۷ : ازدربھنگہ محلہ اسمعیل گنج ڈاك خانہ لہریا سرائے مرسلہ مولوی محمد یسین صاحب ۱۰ جمادی الاخری ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ ان اطراف بنگالہ وغیرہ میں کچھ لوگ ایسے پیدا ہوئے ہیں کہ ض معجمہ کو قصدا ظ یاذ بلکہ ز معجمات پڑھتے ہیں اور اسی کا دوسروں کو امر کرتے ہیں اور عام عوام ہندوستان میں جس طرح یہ حرف ادا کیا جاتا ہے جس سے بوئے دال مہملہ پیدا ہوتی ہے اس سے نماز مطلقا فاسد و باطل بتاتے ہیں اور اپنے دعووں کی سند میں اہل ندوہ وغیرہ ہندیان زمانہ کے چھ ۶ فتوے دکھاتے ہیں جن کا خلاصہ کلام و محصل مرام نماز میں ض کو مشابہ د مہملہ پڑھنے پرحکم فساد اوراس پر ان دو وجہ سے استناد ہے :
اولا : فی فتاوی قاضی خان :
ولو قرأالظآلین بالظاء وبالذال لاتفسد صلاتہ ولوقرأ الدالین بالدال تفسد ۔
اگر الضآلین کو الظآلین یا الذآلین پڑھا جائے تو نماز فاسد نہ ہوگی اگر دآلین میں دال کے ساتھ پڑھا تو فاسد ہو جائے گی۔ (ت)
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خان فصل فی قرأۃ القرآن خطاء الخ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۶۹
#6497 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
ثانیا : ضاد مشابہ ظا کے نہ دال کے میان ضاد ودال کے صفتوں کا فرق ہے جب ضادو دال میں صوتا تغایر ہے تو فصل ان میں بلا مشقت ممکن۔
فتوی ندوہ کی عبارت یوں ہے : ایسی صورت میں نماز فاسد ہوجائے گی کہ ضاد ودال دو حرف متغایر المعنی ہیں جن میں امتیاز بلا مشقت ممکن اور ایسی صورت میں فقہاء فسادنماز کو لکھتے ہیں شامی کہتے ہیں :
اذا ذکر حرفا مکان حرف وغیرالمعنی ان امکن الفصل بینھما بلا مشقۃ تفسد والایمکن الا بمشقۃ کالظاء مع الضاد قال اکثرھم لا تفسد ۔ (ملخصا)
جب کسی حرف کی جگہ دوسرا بولا جائے اور معنی بدل جائے اگر ان کے درمیان امتیاز بغیر مشقت ممکن نہ ہو جیسا کہ ظا اورضاد کا معاملہ ہے تو اکثر علماء نے کہا ہے کہ نماز فاسد نہ ہوگی۔ (ت)
پانچ فتووں کا حاصل تو صرف اسقدر ہے اور ایك یعنی پانچویں میں اتنا بیان اورہے کہ ظآلین پڑھنا بھی غلط ہے لیکن چونکہ ان میں تشابہ صوتی ہے اور امتیاز متعسر اکثر فقہاء کے نزدیك نماز فاسد نہیں ہوتی لیکن تعمد یہاں بھی مفسد ہے یہی مذہب مختار ہے کما فی البزازیۃ (جیساکہ بزازیہ میں ہے ۔ ت) ان فتووں کا کیا حال ہے اور یہ ان لوگوں کے موافق وموید ہیں یا نہیں اور جولوگ ض ہی کا قصد کریں اورض سمجھ کر پڑھیں مگر بوجہ عدم قدرت صاف ادا نہ ہو اور سننے میں دال سے مشابہ ہو تو ان کی نماز ہوگی یا نہیں اور جو قصدا ض کو ز پڑھے اس کی نماز کا کیاحکم ہے اور ہنگام تغیر حرف و تفاوت معنی میں جو حکم فساد ہے وہ صرف ض و د و ظ ہی خاص ہے یا باقی حروف مثل (ا ع ت ط س ث ص ح ہ) کو بھی عام ہے اگر عام ہے تو آج کل یہ جھگڑا اسی حرف میں کیوں ہے جواب مختصر ہو کہ عوام مطول کو نہیں پڑھتے ۔ بینواتو جروا۔
الجواب :
اللھم ھدایۃ الحق والصواب
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمد ﷲ الذی نزہ سبیل الرشاد عن تحریف کل صاد وعد بالعذاب من حاد وضاد والصلوۃ والسلام علی الکریم الجواد علی مولی العباد مولی المراد والہ الاسیادوصحبہ الا مجاد ما اھملت الصاد واعجمت الضاد کشف صواب وایضاح جواب کو چند مجمل جملے
حوالہ / References ردالمحتار ، مطلب مسائل زلۃ القاری ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۶۸
#10543 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
ملحوظ ہیں :
اول : ض ظ ذ ز معجمات سب حروف متبائنہ متغائرہ ہیں ان میں کسی دوسرے سے تلاوت قرآن میں قصدا بدلنا اس کی جگہ اسے پڑھنا نماز میں خواہ بیرون نماز حرام قطعی و گناہ عظیم افتراء علی اﷲ و تحریف کتاب کریم ہے۔ فقیر نے اپنے رسالہ نعم الزاد لروم الضاداس پر دلائل قاہرہ باہرہ قائم کئے ہیں یہاں تك کہ امام اجل ابوبکر محمد بن الفضل فضلی وامام برہان الدین محمود صاحب ذخیرہ وغیرہ وعلامہ علی قاری مکی رحم اﷲ تعالی تصریح فرماتے ہیں کہ جو قصدا ض کی جگہ ظ پڑھے کافر ہے محیط برہانی میں ہے :
سئل الامام الفضلی عمن یقرأ الظاء المعجمہ مکان الضاد المعجمۃ اوعلی العکس فقال لایجوزامامۃ ولو تعمد یکفر ۔ (ملخصا)
امام فضلی سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے ضاد کی جگہ ظا یا ظا کی جگہ ضاد پڑھا تو فرمایا اس کی امامت جا ئزنہیں اور اگر اس نے قصدا ایسا کیا تو یہ کفر ہے۔ (ت)
منح الروض الازہر میں ہے : اماکون تعمدہ کفر فلاکلام فیہ (عمدا ایسا کرنا کفر ہے اس میں کوئی شك نہیں ۔ ت) عالمگیری میں ض کی جگہ زعمدا پڑھنے کو کفر لکھا :
حیث قال سئل عمن یقرأ الزاء مقام الضاد وقرأ اصحاب الجنۃ مقام اصحب النار قال لایجوز امامتہ ولو تعمد یکفر اھ فی النسخۃ الھندیۃ الضاد المعجمۃ وفی المصریۃ الصاد وکلا ھما محتمل والحکم واحد لایتبدل۔
عبارت یہ ہے سوال یہ کیا گیا کہ کوئی ضاد کی جگہ زااور اصحب النارکی جگہ اصحب الجنۃپڑھے توکیاحکم ہے فرمایا اس کی امامت جائز نہیں اور اگر اس نے ایسا عمدا کیا تو اسے کافر قرار دیا جائے گا اھ اس فتاوی کے ہندوستانی نسخہ میں ضاد اورمصری میں صاد ہے اور ان دونوں کا احتمال ہے حکم ایك ہی ہوگا اس میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ (ت)
اس طائفہ حادثہ کا حکم تو یہیں سے ظاہر ہوگیا۔
حوالہ / References منح الروض الازہر شرح فقہ اکبر بحوالہ محیط فصل فی القرأۃ والصلوٰۃ مطبوعہ مطبع قیومی کانپور ص۲۰۵
منح الروض الازہر شرح فقہ اکبر فصل فی القرأۃ والصلوٰۃ مطبوعہ مطبع قیومی کانپور ص۲۰۵
فتاوٰی ہندیہ الباب التاسع فی احکام المرتدین مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۸۱
#10544 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
دوم : قاری سے بے قصد تبدیل اگرض مشابہ د بلکہ عین د ہوا تو اس پر مطلقا فساد نماز کا حکم غلط و فاسد ہے عبارت امام قاضی میں اگر ذکر ہے تو صرف ایك لفظ کا نہ کہ بر بنائے تباین صوت و سہولت تمیز حکم مطلق حنفیہ کرام کا اصل مذہب یعنی مذہب مہذب امام محمد رضی اﷲ عنہ کہ جماہیر محققین نے اسی کی تصحیح کی اس پر اعتماد فرمایا خود واضح وآشکار کہ اس میں صرف اصلاح و فساد معنی پر بنائے کار تو جہاں ض کی جگہ د پڑھ جانے سے معنی نہ بگڑ یں فساد ہر گز نہ ہوگا
مثل افید وابتضمین معنی المن والانعام فی قولہ تعالی افیضوا علینا من الماء ومثل اکواب مود وعۃ موضع موضوعۃ ورادیۃ مردیۃ مکان راضیۃ مرضیۃ کما بیناہ فی نعم الزاد۔
جیسا کہ اﷲ تعالی کے ارشاد گرامی افیضواعلینا من الماء میں افیضواکی جگہ افیدواجواحسان و انعام کے معنی پر مشتمل ہے اور اکواب موضوعۃکی جگہ اکواب مودعۃ اور راضیۃ مرضیۃ کی جگہ رادیۃ مردیۃپڑھناجس پر تفصیلی گفتگو ہم نعم الزاد میں کرچکے ہیں ۔ (ت)
یہ علمائے متاخرین کہ عوام کی ہرآسانی کے لئے عسر و یسر تمیز کا لحاظ رکھتے ہیں کیا آسانی تمیز کی حالت میں مطلقا حکم فساد دیں گے اگر چہ معنی معتبر نہ ہوں یہ اصل مذہب سے آسانی ہوئی یا اور شدت وگرانی نہیں ان کاحکم قطعا اس صورت میں مقصود جہاں معنی بگڑیں اور ان حرفوں میں تمیز آسان ہو دیکھنے والے اگر کلمات علما پرنظر رکھتے اس امر کے نصوص واضح ملتے یہی امام اجل قاضی خان اپنے اس فتاوی میں فرماتے ہیں :
اذااخطأ بذکر حرف مکان حر ف کلمۃ ولم یتغیر المعنی بان قرأ ان المسلمون ان الظالمون وما اشبہ ذلك لم تفسد صلوتہ لانہ لا یغیر المعنی وان ذکر حرفا مکان حرف وغیرالمعنی فان امکن الفصل بین الحرفین من غیر مشقۃ کالطاء مع الصاد فقرأ الطالحات مکان الصلحت تفسد صلوتہ عند الکل وان کان لایمکن
جب خطا ء ایك حرف کی جگہ دوسرا حرف ایك کلمہ میں پڑھ دیا لیکن معنی میں تبدیلی واقع نہ ہوئی مثلا ان المسلمون اور ان الظالمون اسی کی طرح دیگر مقامات تو نماز فاسد نہ ہوگی کیونکہ اس سے معنی متغیر نہیں ہوتا اور اگر ایك حرف کی جگہ دوسرا حرف پڑھنے سے معنی میں تبدیلی آجائے تو اگر دونوں حروف کے درمیان بغیر مشقت کے امتیاز ممکن تھا جیسے طا اور صاد یعنی صالحات کی جگہ طالحات پڑھا تو تمام کے نزدیك اس کی نماز فاسد ہوجائیگی اور اگر
#10545 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
الفصل بین الحرفین الا بمشقۃ قال اکثرھم لاتفسد صلوتہ اھ مختصرا
دونوں حرفوں کے درمیان مشقت کے بغیر امتیاز ممکن نہ تھا تو اکثر علماء کا قول یہی ہے کہ نماز فاسد نہ ہوگی اھ اختصارا۔ (ت)
اسی طرح فتاوی ہندیہ میں فتاوی خانیہ سے منقول ابن امیر الحاج حلیہ شرح منیہ میں فرماتے ہیں :
فی الخانیۃ والخلاصۃ انہ ان لم یتغیر المعنی جاز مطلقا وان تغیر المعنی فان لم یشق التمییز بین الحرفین فسدت عند الکل وان شق فاکثرھم لاتفسد ۔
خانیہ اورخلاصہ میں ہے اگر معنی میں تبدیلی نہیں آئی تو نماز (مطلقا) ہر حال میں جائز اور اگرمعنی میں تبدیلی آجائے تو اب ان دونوں حروف کے درمیان امتیاز مشکل نہیں تو تمام کے نزدیك نماز فاسد اور اگر امتیاز میں مشقت ہے تو اکثر کے نزدیك فاسد نہ ہوگی۔ (ت)
سوم : قطع نظر اس سے کہ دال ومشابہ دال میں فرق بدیہی دعوی میں یہ تھا اور سند میں وہ۔ اور قطع نظر اس سے عبارت خلاصہ میں اگر دال مہملہ ہے تو مستدل کے صریح خلاف اور معجمہ ہے تو مہملہ کا ذکر اصلا نہیں تو سند دعوی سے بے علاقہ صاف ہمیں عبارت قاضی خان سے بحث کرنی ہے جس سے فتوی ندوہ نے بھی استناد کیا اس عبارت میں دال و ذال کے صرف اسماء لکھے ہیں انھیں صفت مہملہ و معجمہ سے مقید نہ فرمایا اور نقول خصوصا مطابع میں نقاط کا تغیر کوئی نئی بات نہیں مگر علامہ محقق ابرہیم حلبی نے غنیہ شرح منیہ اورعلامہ محقق مولانا علی قاری مکی نےمنح فکریہ مقدمہ جزریہ میں یہی عبارت قاضی خان بتصریح اہمال و اعجام نقل فرمائی جس میں صراحۃ مذکور کہ ضالین کی جگہ دالین بہ دال مہملہ پڑھے تو نماز نہ جائیگی اور ذالین بہ ذال معجمہ پڑھے تو جاتی رہے گی اول نے فرمایا ہے :
ھذا فصل وھو ابدال احد ھذہ الاحرف الثلثۃ اعنی الضاد والظاء والذال من غیرہ فلنور دماذکر ہ فی فتاوی قاضی خان من ھذہ القبیل قرأ ولا الضالین بالظاء المعجمۃ والدال المھملۃ لا تفسد لوجود لفظھما
اس کی تفصیل یہ ہے کہ ان تین حروف یعنی ضاد ظاء اور ذال کو کسی دوسرے حرف سے تبدیل کر کے پڑھنا اس سلسلہ میں فتاوی قاضی خان میں جو کچھ بیان ہوا اس کا عنقریب ہم تذکرہ کرتے ہیں اگر ضالین کی جگہ ظالین اعجاما یا دالین اہمالا پڑھا تو نمازفاسد نہ ہوگی کیونکہ ان
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خان فصل فی قرأۃ القرآن خطاء الخ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۶۸
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
#10546 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
فی القران وقرب المعنی ولوقرأبالذال المعجمۃ تفسد لبعد معناہ ملتقطا۔
دونوں کا وجود قرآن میں ہے اور معنی بھی قریب ہی ہے اور اگر ذالین ذال کےساتھ پڑھا تو نماز فاسد ہوگی کیونکہ اس کے معنی میں بعد ہے ملخصا(ت)
ثانی نے فرمایا :
فی فتاوی قاضی خان ان قرأغیرالمغضوب بالظاء اوبالدال المھملۃ لا تفسد ولو بالذال المعجمۃ تفسد ۔
فتاوی قاضی خان میں ہے اگر کسی نے غیرالمغضوب کو ظاء یا دال کے ساتھ پڑھا تو نمازفاسد ہوجائے گی اور ولا الضالین کو ظاء یا دال کے ساتھ پڑھا تو نماز فاسد نہ ہوجائے گی۔ (ت)
اب اس سے استناد کرنے والے دیکھیں کہ عبارت قاضی خان ان دونوں اکابر کی نقل پر ان کے صریح مخالف و عکس مراد ہے ندوے کا دارالافتاء اپنا مبلغ علم دکھائے ورنہ تحقیق بالغ وتنقیح بازغ کے لئے بحمداﷲ تعالی فقیر کا رسالہ نعم الزاد ہے۔
چہارم : ض و ط میں دشواری تمیز اس طائفہ حادثہ کا اصلا مفید نہیں وہ ایك گروہ متاخرین کے نزدیك ہنگام لغزش و خطاسبیل آسانی ہے نہ کہ معاذاﷲ قصدا بتبدیل کلام اﷲ کی دستاویز جو بالقصد مغضوب کی جگہ مغظوب مغذوب مغزوب پڑھے اس کی نماز بلا شبہہ فاسد اور وہ پڑھنے والے مغضوب ومفسد تو یہ سب فتوی اس کے حق میں بیکار و نامؤید ۔ علامہ طحطاوی حاشیہ مراقی الفلاح میں فرماتے ہیں ۔
محل الاختلاف فی الخطأ والنسیان اما فی العمد فتفسد بہ مطلقا بالاتفاق اذا کان مما یفسد الصلاۃ اما اذکان ثناء فلا یفسد ولو تعمد ذلك افادہ ابن امیرالحاج ۔
محل اختلاف خطاء ونسیان کی صورت میں ہے رہا عمدا کا معاملہ تو اس صورت میں مطلقا بالاتفاق نماز فاسد ہوگی بشرطیکہ وہ ایسی قرأت میں ہو جس سے نماز فاسد ہوسکتی ہو اور اگرایسا معاملہ ثناء میں ہوا تو نماز فاسدنہ ہوگی اگرچہ عمدا ہوابن امیر الحاج نے اس طرح بیان کیا ہے۔ (ت)
حوالہ / References غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی احکام زلۃ القاری مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۷۸
المنح الفکریۃ شرح مقدمہ جزریۃ باب التحذیرات مطبوعہ تجارت الکتب بمبئی ص۴۳
حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی باب ما یفسد الصلوٰۃ مطبوعہ نور محمد کتب خانہ ص۱۸۶
#10547 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
حلیہ میں ہے :
ثم ما سنذکرمن الخلاف من المتقدمین والمتاخرین فی ھذا علی مافی الخانیۃ ینبغی ان یکون محلہ ما اذالم یتعمد فتنبہ لہ ۔
پھر اس مسئلہ میں متقدمین و متاخرین کا جو اختلاف خانیہ کے حوالے سے بیان کریں گے اس کا محل و مقام اسی صورت میں ہے جو عمدا نہ ہو تو اس پر توجہ کرو(ت)
پانچویں فتوی کی عبارت سوال میں مذکور اس میں تو صراحۃ تعمد ظ پر حکم فساد مسطور پھر اسے مفید سمجھنا کس قدر عقل و فہم سے دور اس خاص جزئیہ کی عبارتیں بکثرت ہیں حلیہ میں خزانۃ الفتاوی وغیرہا سے منقول :
غیر المغضوب بالظاء والظلمین بالذال اوبالضاد قال بعضھم لا تفسد ھم ابوالقاسم الصفار ومحمدبن سلمۃ وکثیر من المشائخ افتوابہ لعموم البلوی فان العوام لا یعرفون مخارج الحروف وقال الامام ابوالمحسن والقاضی الامام ابو عاصم ان تعمد ذلك تفسد وان جری علی لسانہ او لم یکن ممن یمیزبین الحرفین لا تفسد وھوالمختار ۔
اگر غیرالمغضوب کوظاء کے ساتھ الظالمین کوذال یا ضاد کے ساتھ پڑھا تو علماء کی رائے یہ ہے کہ نماز فاسدنہ ہوگی ان کے اسماء یہ ہیں ابوالقاسم الصفار محمد بن سملہ اور متعدد مشائخ نے عموم بلوی کی وجہ سے اسی پر فتوی دیا ہے کیونکہ عوام مخارج حروف سے آگاہ نہیں ہوتے اور امام ابوالم حسن اور قاضی امام ابوالعاصم نے کہا اگرایسا عمدا کیاتو نماز فاسد ہوگی اور اگر زبان پر ازخود جاری ہوگیا تو دونوں حروف میں امتیاز کرنے والا نہیں تو نماز فاسد نہ ہوگی اور یہی مختار ہے(ت)
اسی میں خز ا نۃ الاکمل سے ہے :
اذاقرأ مکان الظاء ضادااومکان الضاد ظاء فقال القاضی المحسن الاحسن ان یقال ان تعمد ذلك تبطل صلاتہ عالما کان اوجاھلا امالوکان مخطئا اراد الصواب
جب کسی نے ظاء کی ضاد یا ضاد کی جگہ ظاء پڑھا تو قاضی محسن نے کہا احسن یہ ہے کہ اگر اس نے عمدا ایسا کیا تو کہا جائے کہ نماز باطل ہے خواہ وہ عالم ہو یا جاہل لیکن اگر خطاء ایسا ہوا یعنی درست پڑھنے
حوالہ / References حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
#10548 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
فجری ھذا علی لسانہ اولم یکن ممن یمیز بین الحرفین فظن انہ ادی الکلمۃ کما ھی فغلط جازت صلوتہ وھو قول محمد بن مقاتل وبہ کان یفتی الشیخ اسمعیل الزاھد وھو احسن لان السنۃ الاکراد واھل السواد والاتراك غیرطائعۃ فی مخارج والظاھر ان ھذامجمل ما فی جمیع الفتاوی ۔
اقول : انما یشیر الی اطلاق الفساد فی العمد انہ مطمح انظارھم جمیعا والا فاطلاق عدمہ فی الخطاء لایمکن ان یحمل علیہ ما فی جمیع الفتاوی فان منہم من یفصل بعسر الفصل ومنھم من یفرق بقرب مخرج۔
کا ارادہ تھا مگر زبان پر ازخود جاری ہوگیا یا وہ دونوں حرفوں میں امتیاز نہ کرنے والا ہو اور اس کا گما ن یہی ہو کہ اس نے کلمہ صحیح ادا کیا ہے لیکن درحقیقت غلط تھا تو اس کی نماز ہوجائیگی۔ یہی محمد بن مقاتل کا قول ہے اورشیخ اسمعیل الزاہدنے اسی پر فتوی دیا ہے اور یہی احسن ہے کیونکہ کرد عراقی اورترکی لوگوں کی زبانیں ان حروف کی صحیح ادائیگی پر قادر نہیں اور اس میں بہت تنگی ہے اور ظاہر یہی ہے کہ تمام فتاوی جات کی گفتگو کا اجمال بھی یہی ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں یہ جو مطلقا فساد کی طرف اشارہ ہے یہ قصد کی صورت میں ہے کیونکہ ان تمام کی آراء کی مطمح یہی ہے ورنہ خطا کی صورت میں عدم فساد کا اطلاق ہوگا اور اس پر ان کے کلام کو محمول نہیں کیا جاسکتا کیونکہ بعض ان میں سے عسر امتیاز کے ساتھ اور بعض قرب مخرج کی بناء پر فرق کرتے ہیں۔ (ت)
منیہ میں ہے :
اما اذاقرأمکان الذال ظاء اومکان الضاد ظاء اوعلی القلب فتفسد صلوتہ وعیلہ اکثرالائمۃ وروی عن محمد بن سلمۃ رحمۃ اﷲ تعالی انھا لاتفسد لان العجم لایمیزون بین ھذہ الحروف و کان القاضی الامام الشھید المحسن یقول الاحسن فیہ ان یقول ان جری
جب کسی نے ذال کی جگہ ظاء یاضاد کی ظاء یا اس کا عکس کیاتو اسکی نماز فاسد ہوجائیگی اور اکثر ائمہ اسی پر ہیں محمد بن سلمہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے مروی ہے کہ نماز فاسد نہ ہوگی کیونکہ عجمی لوگ ان حروف میں امتیاز نہیں کرسکتے اور قاضی امام الشہید المحسن فرمایا کرتے تھے کہ احسن یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ اگر زبان پر اس طرح ازخودجاری ہوگیا۔
حوالہ / References حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
#10549 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
علی لسانہ ولم یکن ممیزاوفی زعمہ انہ ادی الکلمۃ علی وجھھا لا تفسد و کذا روی عن محمد بن مقائل والشیخ الامام اسماعیل الزاہد ۔
اور وہ امتیازکرنےوالا نہ تھا اور اس کا گمان یہی تھا اس کلمہ کو صحیح طور پر ادا کیا ہے تو نماز فاسد نہ ہوگی محمد بن مقائل اور شیخ اسمعیل الزاہد سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ (ت)
بزازیہ میں دربارہ مغظوب ذالین وظالین ہے :
قال القاضی ابوالمحسن والقاضی ابو عاصم ان تعمد فسد وان جری علی لسانہ اوکان لا یعرف التمیز لایفسد وھواعدل الاقاویل وھو المختار ۔
قاضی ابوالحسن اورقاضی ابو عاصم نے کہا کہ اگر ایسا عمدا کیا تو نماز فاسد ہوجائے گی اور اگر زبان پر از خود اس طرح ہوگیا یا وہ امتیاز نہ کر سکتا تھا تو نماز فاسد نہ ہوگی اور یہ تمام اقوال میں معتدل ہے اور یہی مختار ہے۔ (ت)
اسی طرح ہندیہ میں اس سے منقول ۔
اقول : والظاھر ان ھذہ الاختیارات ترجع الی شق الجواز عند الخطأ اما الفساد عند العمد فینبغی الاتفاق علیہ کما تقدم ما یفیدہ عن الحلیۃ والتصریح بہ عن الطحطاوی وھومعنی استظھار الاکمل انہ مجمل ما فی جمیع الفتاوی کیف واذا جعلوا التعمد من الردۃ فما بقاء الصلوۃ ھذا واضح جدا۔
اقول : (میں کہتا ہوں ) ظاہر یہ ہے کہ تمام اختلافات میں مختار اقوال جواز کی طرف اسی صورت میں راجع ہوتے ہیں جب ایسا معاملہ خطاء واقع ہو۔ رہا معاملہ عمدا کا تو اس صورت میں فساد نماز پر اتفاق ہے جیسا کہ حلیہ کے حوالے سے افادہ کے طور پر گزرا ۔ اورطحطاوی کی تصریح گزری اور اکمل کا بطور استظہار کہنا کہ فتاوی جات کا اجمال یہی ہے ــ “ کا معنی بھی یہی اور یہ کیسے نہ ہو حالانکہ انہوں نے عمدا ایسا کرنے سے ارتداد کا حکم لگایا تو نماز کے باقی رہنے کا کیا معنی! اوریہ نہایت ہی واضح ہے۔ (ت)
حوالہ / References منیۃ المصلی فصل فی زلۃ القاری مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامع نظامیہ رضویہ لاہور ص۴۴۱
فتاوی بزازیہ علٰی حاشیۃ فتاوٰی ہندیۃ فصل فی زلۃ القاری مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۴۲
#10550 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
پنجم : ضاد و دال میں فرق صفات کا ذکر لغو و فضول اور محل بحث سے یکسر معزول متقد مین کا مسلك معلوم ہے کہ ان کے یہاں تشابہ و عدم تشابہ پر اصلا نظر نہیں اور متاخرین قرب مخرج یا عسر تمیز پر لحاظ کرتے ہیں صفات سے انہیں بھی بحث نہیں نہ صفات خواہی نہ خواہی آسانی تمیز کو مستلزم نہ ان کا تشارك دشواری پر حاکم ط مہملہ دال مہملہ سے سوائے اطباق کے کچھ فرق نہیں اور فرق تمیز کی آسانی مبین اورتائے مثناۃ سے متعدد صفات میں تباین تام اور دشواری فصل منصوص اعلام ط مجہورہ ومستعلیہ مطبقہ قلقلہ ہے ادرت مہموسہ مستفلہ منضحہ بے قلقلہ خانیہ و خلاصہ و حلیہ وہندیہ و ردالمختاروغیرہا میں ہے :
ان کان لا یمکن الفصل بین الحرفین الا بمشقۃ کالطاء مع التاء ۔ الخ
اگر دو۲ حرفوں کے درمیان مشقت کے بغیر امتیاز ممکن نہ ہو جیسے طاء اور تء الخ(ت)
شرح جزریہ میں ہے :
قال الرمانی وغیرہ لولا الاطباق لصارت الطاء دالالانہ لیس بینھما فرق الا الاطباق۔
رمانی وغیرہ نے کہا کہ اگر اطباق نہ ہو تو طاء دال ہو جائے گی اس لئے کہ اطباق کے علاوہ ان دونوں کے درمیان کوئی فرق ہی نہیں ۔ (ت)
ششم : فتوی ندوی کا قول کہ ضاد ودال دو حروف متغایرالمعنی عجیب الفاظ متغایر المعنی ہیں اگر مسمی مراد تو ان ك لئے معنی کہاں بھلا بتائیے تو کہ مجرد حرف ض کے کیا معنی ہوئے اور اگر اسماء مقصود یعنی حدود دال تو نہ دو حرف نہ ان میں مقال شاید یہ کہنا چاہا اور کہنا نہ آیا کہ ض و د دو حرف جداگانہ ہیں کسی کلمے میں ان کاتغیر معنی کے لئے مستلزم تغایر یہ معنی فی البطن اگر مقصود بھی ہوں تو اولا اطلاق ممنوع ثانیا ہر تغیر میں تغییر بحد فساد مدفوع دیکھو ضالین و دالین میں کس قدر تغایر معنی ہے مگر محقق حلبی نے تغیر نہ مانا وھذا ببداھتہ غنی عن ابانۃ (یہ بات بدیہی ہونے کی وجہ سے محتاج بیان نہیں ۔ ت)
ہفتم : دونوں حرفوں میں تغایر صوت ہر گز سب کے لئے سہولت تمییز کو مستلزم نہیں ح خ کی آوازیں کتنی جدا ہیں مگر ترك کو ان میں تمیز سخت دشوار۔ غنیہ میں ہے :
ذکر محمد بن الفضل فی فتاواہ ان الترك لایمکنہ اقامۃ الحاء الا بمشقۃ الخ۔
محمد بن فضل نے اپنے فتاوی میں تحریر کیا کہ ترك لوگوں کے لئے حاء کی ادائیگی مشقت کے بغیر ممکن نہیں الخ(ت)
حوالہ / References ردالمحتار مطلب مسائل زلۃ القاری مطبوعہ مصطفی البابی ۱ / ۴۶۶
المنح الفکریہ شرح المقد مۃ الجزریۃ مطلب بیان ان الاسنان علی اربعۃ اقسام مطبوعہ تجارت الکتب حاملی محلہ بمبئی ص ۱۵
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی احکام زلۃ القاری مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۸۲-۴۸۱
#10551 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
ان سے زیادہ ہمزہ و ق کی آوازوں کا تباین ہے مگر علامہ شامی فرماتے ہیں ہمارے زمانے کے عوام پر ان میں تمیز کمال مشکل ہے۔ ردالمحتار میں ہے :
فی التتار خانیۃ اذالم یکن بین الحرفین اتحاد المخرج ولاقربہ الا انہ فیہ بلوی العامۃ کالذال مکان الصاد والظاء مکان الضاد لاتفسد عند بعض المشائخ اھ قلت فینبغی علی ھذا عدم الفساد فی ابدال القاف ھمزۃ کما ھو لغۃ عوام زماننا فانھم لا یمیزون بینھما ویصعب علیھم جدا کالذال مع الزاء وھذا کلہ قول المتاخرین اھ باختصار
تتار خانیہ میں ہے جب دو حرفوں کے درمیان اتحاد مخرج نہ ہو اور نہ ہی قرب مخرج ہو مگر اس صورت میں ضرورت عامہ ہو مثلا صاد کی جگہ ذال یا ضاد کی جگہ ظاء پڑھا تو بعض مشائخ کے نزدیك نماز فاسد نہ ہوگی اھ میں کہتاہوں اس بناء پر قاف کو ہمزہ کے ساتھ بدلنے میں جیسا کہ ہمارے زمانے کے عوام کی زبان ہے بھی فساد نہیں ہونا چاہئے کیونکہ وہ ان دونوں کے درمیان امتیاز نہیں کرسکتے جیسے ذال اور زاء کے درمیان فرق کرنا ان پر نہایت ہی دشوار و مشکل ہے یہ تمام متاخرین کے قول پر ہے اھ باختصار(ت)
ان عبارات سے واضح ہوا کہ دشواری تمیز میں ہرقوم کے لئے اس کاحال معتبر ہے۔ قرب مخرج یا تشابہ وغیرہ کچھ ضرور نہیں تو عوام ہند اگر ض و د میں تمیز پر قادر نہیں تو وہ ان کے لئے اسی مشقت فصل کی فصل میں ہیں جس میں ض و ظ و ت ط کا شمار ہوا اب عبارت شامی منقولہ فتوی ندوہ اور اس کے مثل تمام عبارات بحث سے محض بیگانہ بلکہ استناد کرنے والوں کے صریح خلاف مراد ہوں گی اور دالین پر بطور متاخرین حکم جواز دیا جائے گا اورقصدا مغظوب پڑھنے والے پر باتفاق متقدمین و متاخرین حکم بطلان نماز۔
ہشتم : یہاں تك مدارك ابنائے عصر پر کلام تھا مگر جان برادر عربی عبارت میں “ من علی فی “ کا ترجمہ سمجھ لینا اور بات ہے اور مقاصد و مراد ومرام علمائے اعلام تك رسائی او ر
ایں سعادت بزور بازو نیست
تانہ بخشد خدائے بخشندہ
مشقت جس سے فتوی ندوہ نے استناد کیا اس بحث سوال سے اصلا متعلق ہی نہیں علماء کا وہ قول صورت
حوالہ / References ردالمحتار ، مطلب مسائل زلۃ القاری ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۴۶۸
#10552 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
خطا وزلت میں ہے کہ لغزش زبان سے باوصف قدرت ایك حرف کی جگہ دوسرا نکل جائے اور یہاں صاف صورت عجز ہے کہ یہ ظالین یا اس کے مشابہ دالین پڑھنے والے ہرگز ادائے “ ض “ پرقادر نہیں جس طرح خزانۃ الاکمل و حلیہ کی عبارت گزری کہ
ان السنۃ الاکراد واھل السواد والاتراك غیر طائعۃ فی مخارج ھذہ الحروف ۔
کرد عراقی ترك لوگوں کی زبانیں ان حروف کی ادائیگی پر قادر نہیں ۔ (ت)
فتاوی امام قاضی خان وغیرہ کی عبارت اوپر گزری کہ اس قول کو اذا اخطأ بذکر حرف مکان حرف ۔ (یعنی اگر ایك حرف کی جگہ دوسرا حرف خطاء زبان سے نکل گیا ۔ ت)میں ذکر فرمایا اب محقق علی الاطلاق کا ارشاد اجل و اجلی سنیے فتح میں فرماتے ہیں :
اما الحروف فاذاوضع حرفا مکان غیرہ فاماخطأ واماعجزا فالاول ان لم یغیر المعنی لاتفسد و ان غیرفسدت فالعبرۃ فی عدم الفساد عدم تغیر المعنی وحاصل ھذا ان کان الفصل بلا مشقۃ تفسد وان کان بمشقۃ قیل تفسد واکثرھم لا تفسد ھذاعلی رأی ھو لاء المشائخ ثم لم تنضبط فروعھم فاورد فی الخلاصۃ ما ظاھرہ التنافی للمتامل فالاولی قول المتقدمین والثانی وھو الاقامۃ عجزا کالحمدﷲ الرحمن الرحیم بالھاء فیھا اعوذ بالمھملۃ الصمد بالسین ان کان یجھداللیل و النھار فی تصحیحہ ولا یقدر فصلوتہ جائزۃ ولو ترك جھدہ ففاسدۃ ولا
رہا معاملہ حروف کا توجب ایك حرف کو کسی دوسرے حرف کی جگہ رکھ دیا جائے تو یہ خطاء ہوگا یا عجزا پہلی صورت میں اگرمعنی نہیں بدلا تو نماز فاسد نہیں ہوگی اور اگر معنی بدل گیا ہو تو نماز فاسد ہوجائے گی پس نماز کے عدم فسا د میں معنی کے تبدیل نہ ہونے کا اعتبار ہے اس کلام کا حاصل یہ ہے کہ اگر حروف میں امتیاز بغیر مشقت کے ممکن ہو تو نماز فاسد ہوگی اور اگر اس میں مشقت ہو تو بعض نے کہا نماز فاسد ہوگی لیکن اکثر کے نزدیك فاسد نہ ہوگی یہ ان مشائخ کی رائے کے مطابق ہے پھر ان کی تمام فروعات و جزئیات کو منضبط نہیں ۔ پس خلاصہ میں ایسی چیز کو وارد کیا گیاہے جو بظاہر صاحب غور وفکر کے ہاں منافی ہے پس متقدمین کا قول اولی ہے اور دوسری صورت
#10553 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
یسعہ ان یترك فی باقی عمرہ اھ مختصرا ۔
کہ یہ عمل عجزا ہو مثلا الحمدﷲ الرحمن الرحیم میں “ ھا “ کے ساتھ اعوذ میں دال کے ساتھ اور الصمدمیں سین کے ساتھ پڑھتا ہے اس صورت میں اگر اس نے تصحیح کے لئے شب وروز محنت کی اور قادر نہ ہوسکا تو اسکی نماز درست ہوگی اور جدو جہد ترك کردی تو نماز فاسد ہوگی اور اس کے لئے باقی عمر میں جدوجہد ترك کرنے کی گنجائش نہیں ۔ اھ اختصارا(ت)
دیکھو خطا و عجز کو صاف دو صورتیں متقابل قرار دیا اور وہ فرق مشقت کا قول صرف صورت خطا میں ذکر کیا صورت عجز میں اس تفرقے کا اصلا نام نہ لیا بلکہ س و ص ود و ذ کی مثالوں سے صرف متشابہ الصوت و غیر متشابہ دونوں کا یکساں حکم ہونا صراحۃ ظاہر فرما دیا تو بحالت عجز مغضوب مغذوب بلکہ بالفرض مغکوب مغموب سب کو قطعا ایك حکم شامل اور حرف و دو حرف کا فرق باطل۔
نہم : مانا کہ نہ ظاء طائفہ جدیدہ کی قصدیت پر نظر ہوئی نہ دال عوام پر نہ اقوال علماء میں فرق عجز و خطا وغیرہ پر اور باتباع بعض علمائے متاخرین ارشاد اقدس اصل ائمہ مذہب رضی اللہ تعالی عنہم مصحح ومختار جمہور محققین بھی پسند نہ آیا یہ سب مسلم مگر متاخرین کا صرف ایك ہی قول تفرقہ مشقت نہ تھا متعدد اقوال تھے ازانجملہ امام قاضی ابوعاصم و امام محمد ابن مقاتل و امام اسمعیل زاہد وغیرہم اکابراماجد کا قول بہت قوت تھا جس پر امام زاہد نے فتوی دیا امام محسن و صاحب خزانۃ الاکمل نے احسن کہا خزانۃ الفتاوی وحلیہ وغیرہما میں مختار بتایا وجیز کردری و ہندیہ وغیرہما میں اعتدال الاقاویل فرمایا کہ یہ سب عبارات زیر امر چہارم گزریں یعنی اگر خطاء ایك حرف کی جگہ دوسرا زبان سے نکل گیا یا تمیز نہیں جانتا تو نماز فاسد نہیں اس قول میں مشقت وغیرہ کا کچھ تفرقہ نہ تھا صرف خطاء یا عدم تمیز پر حکم ہے اس تقدیر پر واجب تھا کہ ظ و د کا ایك حال ہو اور بحال عدم تعمد صحت نماز پر فتوی دیا جائے کون سی فقہی نظر موجب ہوئی کہ قول متاخرین ہی لینا تھا تو یہ قول جلیل نہ لیا جائے حالانکہ اس کی قوت جلیلہ شانے دارد پھر جس مصلحت کے لئے قول ائمہ متقدمین سے عدول ہوا یعنی عوام پرآسانی وہ بھی اسی میں اتم وازید ہاں اگر منظور ہی یہ ہو کہ وہابیہ غیر مقلدین ندوی کے برادران معظمین کی نماز میں درستی پائیں اور عوام اہلسنت کی نمازیں برباد ہوجائیں اس لئے وہ قول تفرقہ اختیار کیا تو اختیار ہے۔
دہم : بلکہ یہاں ایك اور قول باقوت تھا جسے امام ابوالقاسم صفار و امام محمد سلمہ وغیرہما اجلہ ائمہ نے اختیار فرمایا اور بہت مشائخ نے اس پر فتوی دیا کہ نظر عموم بلوی پر ہے جہاں ابتلائے عام ہو صحت پر فتوی دیں گے اسی شامی میں یہیں تھا
حوالہ / References فتح القدیر شرح ہدایہ فصل فی القرأۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۸۱
#10554 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
وفی التاتار خانیۃ عن الحاوی حکی عن الصفار انہ کان یقول الخطاء اذا دخل فی الحروف لایفسد لان فیہ بلوی عامۃ الناس لانھم لایقیمون الحروف الابمشقۃ اھ وفیھا اذالم یکن بین الحرفین اتحاد المخرج ولاقربہ الاان فیہ بلوی العامۃ لا تفسد عند بعض المشائخ اھ مختصرا وقد مر تمامہ ۔
تاتار خانیہ میں حاوی سے منقول ہے کہ امام صفار کہا کرتے تھے کہ حروف میں خطا ہوجائے تو نماز فاسد نہیں ہوتی کیونکہ اس میں عوام الناس کو شدید ضرورت ہے کیونکہ وہ مشقت کے بغیر ان حروف کو ادا نہیں کرسکتے اھ اسی میں ہے جب دوحرفوں کے درمیان اتحاد مخرج اور قرب مخرج نہ ہو البتہ اس میں عموم بلوی ہو تو بعض مشائخ کے ہاں نماز فاسد نہ ہوگی اھ اختصارا اور تمام عبارت پیچھے گزر چکی ہے۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
قال بعضھم لاتفسد منھم ابوالقاسم الصفار ومحمد بن وسلمۃ وکثیر من المشائخ افتوابہ لعموم البلوی فان العوام لا یعرفون مخارج الحروف ۔
بعض علماء نے کہا کہ نماز فاسد نہیں ہوگی انہی میں شیخ ابوالقاسم الصفار اورمحمد بن سلمہ ہیں اور کثیر مشائخ نے ضروریات عامہ کی بنا پر اسی پرفتوی دیا ہے کیونکہ عوام مخارج حروف سے واقفیت نہیں رکھتے۔ (ت)
ا س قول پر تو صراحۃ عکس مراد ہوتا تھا۔ یہاں ظ خاص طائفہ قلیلہ ذلیلہ وہابیہ پڑھتے ہیں اور د یا مشابہ د میں عام ابتلا خود انہیں فتووں سے سائل نے نقل کیاکہ ایك بلا عام اس زمانے میں یہ ہوگئی ہے کہ ض کو بصورت د پڑھتے ہیں اب تو لازم تھا کہ ان ظائیوں ندویوں کے بھائیوں کی نماز فاسد کرتے اور عامہ عوام کی نماز صحیح الحمد ﷲ تلك عشرۃ کاملۃ وقدبقی خبایافی زاویا لو لا ان السائل اوصی بالاجمال لاتینابھا(تمام تعریف اﷲ تعالی کے لئے ہے یہ دس۱۰ کامل دلائل مکمل ہیں ابھی کچھ دلائل خفا کے گوشے میں رہ گئے ہیں اگر سائل نے اجمالا لکھنے کا نہ کہا ہوتا توہم ان کا بھی تذکرہ کردیتے ۔ ت) یہاں تك ان فتووں کی حالتیں ظاہر ہو گئیں اور یہ بھی کہ وہ اس طائفہ حادثہ کو مفید اصلا نہیں امور مسئولہ میں صرف اس کا جواب رہا کہ یہ نزاع خاص اس حرف میں کیوں ہے جہل اور عوام اہلسنت کے جہلا کا علم ض کا دشوار ترین
حوالہ / References ردالمحتار ، مطلب مسائل زلۃالقاری ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۴۶۸
حلیۃ المحلی منیۃ المصلی
#10555 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
حروف ہونا تو ظاہر ادا نہ ہوسکنے میں وہ علما اور یہ جہلا برابرمگر فرق یہ ہے کہ ہمارے عوام نے معاذاﷲ کلام اﷲ وتحریف حرف منزل من اﷲ کا قصد نہ کیا وہ یہی چاہتے ہیں کہ جو حرف یہاں اﷲ عزو جل نے اتارا ہے اسی کو پڑھیں اسی کا ارادہ کرتے اسی کی نیت رکھتے اور اپنے زعم میں یہی سمجھتے کہ یہ حرف جہاں تك ہم سے ادا ہوسکتا ہے اس کی یہی آواز ہے۔ مگر علمائے وہابیہ کو کہاں تاب کہ عجز و جہل کے طعنے سمجھیں دقتوں دشواریوں کی کشاکش میں رہیں وہاں تو مذہب کی بنا ہی آرام پروری ہے۔ تراویح کی آٹھ وتر کی ایك رکعت میں قسمت سے انھیں اوروں کے قو ل مل گئے ورنہ اصل مقصود ہی آرام نفس ہے۔ جاڑا لگتا ہے تیمم کرلو جماع میں انزال نہ ہو غسل نہ کرو سال دو سال عورت کی خبر نہ آئے عورت کا نکاح کردو تین طلاقیں ایك جلسہ میں کہیں بے حلالہ سمجھو چھ چیز کے سوا سب میں سود روا خون ومردار وغیرہ دو ایك چیزیں ناپاک باقی تمام اشیاء حتی کہ شراب بھی طاہر ۔ بے باك رفع ضرورت کو زنا سے خود اپنی بیٹی رضاعی بھتیجی سوتیلی خالہ سب حلال بلکہ سگی پھوپھی کے لئے بھی یہی خیال ۔ انتہائے آرام طلبی یہ کہ وضو میں سر سے عمامہ دشوار اوپر ہی سے مسح کرلو مولی سبحنہ تعالی نے و امسحوا برءوسكم فرمایا تم بعمامتکم سمجھو وہ تو وہ مشکل یہ ہے کہ ہاتھوں کے لئے حکم غسل آیا اور ان کے دھونے سے آستین دھونا دشوار تر کہ پہنچے بھی بھیگے اور کپڑا بھی تر ورنہ انہیں ایدیکم کی جگہ آستینکم بنالینا کیا دشوارتھا یہاں ایك غیر مقلد صاحب کا قول تھا صاحبو تم نے تہجد میں آپ دشواریاں لگالی ہیں ہماری تو جاڑے میں جب آنکھ کھلی تکیے پر ہاتھ مار کر منہ پر پھیر لئے اور چارپائی پر بیٹھے بیٹھے دو۲ رکعتیں پڑھیں اور لحاف میں دبك رہے۔ مسلمانو کریمہ “ لم تجد واماء “ کے معنی سمجھے یعنی جب چارپائی پر رکھا ہوا گھڑا نہ ملے تو تکیہ پر ہاتھ مار لو اگر چہ نام کو مٹی نہ غبار نہ تکیہ دار کو مرض نہ آزار ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ الواحد القہار۔ یوں بھی جبکہ وہ قصدی تحریف ہے اور یہ عجز یا جہل یا خطا کی تصحیف تو وہی احق بالانکار ہے اور عوام کا ان کے علماء سے اعلم ہونا واضح آشکار اصل اس قدر ہے آگے افراط وتفریط واجب الحذر ۔ یہ جواب امور مسئولہ ہے اور اس مسئلہ خاص میں حق تحقیق حقیق بالقبول و عطر تنقیح اکابر فحول یہ ہے کہ مولی عزوجل وتبارك و تعالی نے قرآن عظیم اتارا اور ہمیں بحمداﷲ اس کے نظم و معنی دونوں سے متعبد کیا ہر مسلمان پر حق ہے کہ اسے جیسا اترا ویسا ہی اداکرے حرف کی آواز بدلنے میں بیشمار جگہ الفاظ مہمل رہتے یا معنی کچھ سے کچھ ہوجاتے ہیں یہاں تك کہ معاذاﷲ کفر واسلام کا فرق ہوجاتا آواز صحیح سے جو معنی تھے ایمان تھے اور بدلنے پر جو پیدا ہوئے ان کا اعتقاد صریح کفر تو معاذاﷲ وہ کلام اﷲ کیونکر ہوا آجکل یہاں عوام بلکہ کثیر بلکہ اکثر خواص نے اس امر خطیر میں مداہنت و بے پروائی اپنا شعار کرلی فقیر نے بگوش خود مولوی صاحبوں اصحاب وعظ ودرس وفتوی کو خاص پنچایت میں برملا پڑھتے سنا قل ھو اﷲ اھد حالانکہ ہرگز نہ اﷲ نے اھد فرمایا نہ امین وحی علیہ الصلوۃ والتسلیم نے اھد پہنچایانہ صاحب قرآن صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اھد پڑھایا پھر یہ قرآن کیونکر ہوا احد کے معنی ایك اکیلا
#10556 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
شریك و نظیر سے پاك نرالا اور اھد کے معنی معاذاﷲ بزدل کمزور فی القاموس الاھد الجبان زادفی تاج العروس الضعیف (قاموس میں ہے الاھد بزدل تاج العروس میں کمزور کا اضافہ کیا ہے۔ ت)
ببین تفاوت رہ از کجا ست بکجا
(ان میں بڑا فرق ہے یہ کہاں اور وہ کہاں )
لاجرم اس قدر تجوید کہ ہر حرف سے ممتاز اور تبدیل وتلبیس سے احتراز ہو ہر مسلمان پر لازم ہے تصحیح مخارج و اقامۃ حروف کا اہتمام فرض متحتم علمائے متاخرین کا فتوی معاذاﷲ پروانہ بے پروائی نہیں کہ قرآن کو کھیل بنائے اور خلاف ما انزل اﷲ جو جی میں آئے پڑھ لینا مناسب باوصف قدرت تعلم تعلم نہ کرنا اور اس امراہم کو ہلکا سمجھنا غلط خوانی قرآن پر جمے رہنا کون جائز کہے گا اس سہل انگاری کی ایك نظیر سن چکے اﷲ کواحدمانناعین اسلا م اور معاذ اﷲ اھدکہناصریح دشنام مانا کہ تمھیں قصد دشنام نہیں پھر اس سے کیا ہوا کفر سے بچ گئے بات کی شناعت کیا جاتی رہے گی تعریف کیجئے اور اسی کا قصد ہو مگر لفظ وہ نکلیں جو صریح ذم ہوں کیا علمائے متاخرین اسے حلال بتاگئے ہیں کلا واﷲ حاشاﷲ صحیح حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اذا نعس احدکم وھو یصلی فلیرقد حتی یذھب عنہ النوم فان احدکم اذاصلی وھوناعس لا یدری لعلہ یذھب لیستغفر فلیسب نفسہ ۔ رواہ مالك و البخاری ومسلم وابوداؤد والترمذی وابن ماجۃ عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنھا۔
جب تم میں کسی کو نماز میں اونگھ آئے تو سو جائے یہاں تك کہ نیند چلی جائے کہ اونگھتے میں پڑھے گا تو کیا معلوم شاید اپنے لئے دعائے مغفرت کرنے چلے اور بجائے دعا بد دعا نکلے اسے امام مالك بخاری مسلم ابوداؤد ترمذی اورابن ماجہ نے حضرت ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کیا ہے۔
جب اونگھتے میں نماز سے منع کیا کہ احتمال ہے شاید اپنے لئے دعائے بد نکل جائے اگرچہ قصد دعا ہے تو خود جاگتے میں خود اﷲ عزوجل کی شان میں سخت گستاخی کا کلمہ نہ فقط احتمالا بلکہ تجربۃ بارہا منہ سے نکالنا کیونکر گوارا ہوسکے اگرچہ قصد ثناہے۔ اتقان شریف میں ہے :
من المھمات تجوید القران وھوا عطاء
تجوید قرآن اہم امور میں سے ہے وہ حروف کو
حوالہ / References تاج العروس شرح قاموس فصل الھاء من باب الدال مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۵۴۴
مؤطا الامام مالك ماجاء فی صلوٰۃ الّلیل مطبوعہ میر محمد کتب خانہ کراچی ص۱۰۰ ، صحیح البخاری باب الوضو من النوم مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۴
#10557 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
الحروف حقوقھا ورد الحرف الی مخرجہ واصلہ ولا شك ان الامۃ کما ھم متعبدون بفھم معانی القران واقامۃ حدودہ ھم متعبدون بتصحیح الفاظہ واقامۃ حروفہ علی الصفۃ المتلقاۃ من ائمۃ القرأۃ المتصلۃ بالحضرۃ النبویۃ وقد عد العلماء القرأۃ بغیر تجوید لحنا ملخصا۔
انکے حقوق دینا اور ہرحرف کو اسکے مخرج اور اصل کی طرف لوٹانا ہے بلاشبہ امت مسلمہ جس طرح معانی قرآن کے فہم اور حدود قرآنی کے نفاذ میں پابند ہے اسی طرح وہ قرآن کے الفاظ کی تصحیح اور انہیں اسی طریقہ وصف پر ادا کرنے کی بھی پابند ہے جس طرح ان کو قرأت کے ائمہ نے ادا کیا جس کا سلسلہ سند نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تك متصل ہے اورعلما نے بغیر تجوید کے قرآن پڑھنے کو لحن قرار دیا ہے ملخصا(ت)
دیکھو کیسی تصریح ہے کہ علمائے کرام قرأت بے تجوید کو لحن بتاتے ہیں اور احسن الفتاوی فتاوی بزازیہ میں فرمایا :
ان اللحن حرام بلا خلاف لحن سب کے نزدیك حرام ہے۔ ولہذا ائمہ دین تصریح فرماتے ہیں کہ آدمی سے کوئی حرف غلط ادا ہوتا ہے تو اس کی تصحیح وتعلم میں اس پر کوشش واجب اگرکوشش نہ کرے گا معذور نہ رکھیں گے اورنماز نہ ہوگی بلکہ جمہور علما نے اس سعی کی کوئی حد مقررنہ کی اور حکم دیا کہ تاعمر شبانہ روز ہمیشہ جہد کئے جائے کبھی اس کے ترك میں معذور نہ ہوگا یہی قول امام ابراہیم ابن یوسف وامام حسین بن مطیع کا ہےمحیط میں اسی کو مختارالفتوی فرمایا خانیہ وخلاصہ وفتح القدیر ومراقی الفلاح وفتاوی الحجۃ و جامع الرموز و درمختار و ردالمحتاروغیرہا میں اسی پرجزم کیا علامہ ابن الشحنہ نے اسی کو محرر بتایا علامہ ابراہیم حلبی نے غنیہ میں اسی کو معتمد فرمایا اگرچہ امام برہان محمود نے ذخیرہ میں اس کو مشکل بتایا امام بن الحاج نے اسی پر تعویل کی علامہ طحطاوی نے حاشیہ مراقی الفلاح میں اسی طرف میل کیا کما بیناکل ذلك فی فتاونا(جیسا کہ یہ سارے کا سارا ہمارے فتاوی میں بیان کیا گیا ہے ۔ ت) تو کیونکر جائز کہ جہد وسعی بالائے طاق سرے سے حرف منزل من القرآن کا قصد ہی نہ کریں بلکہ عمدا اسے متروك و مہجور اور اپنی طرف سے دوسرا حرف اس کی جگہ قائم کردیں ھذا مما لایبیحہ شرع ولا دین والعیاذ باﷲ رب العالمین(شریعت اور دین اس کی ہر گز اجازت نہیں دیتے اﷲ تعالی کی پناہ جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ ت)فقیر کہتا ہے غفراﷲ تعالی لہ بعد اس کے عرش تحقیق مستقر ہوچکا کہ قرآن نظم و معنی جمیعا بلکہ نظم دال
حوالہ / References الاتقان فی علوم القرآن الفصل الثانی من المہمات تجوید القرآن مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۰۰
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ بزازیۃ الباب الرابع فی الصلوٰۃ والتسبیح و قرأۃ القرآن الخ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۱۷
#10558 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
علی المعنی کانام ہے اور نظم یہ حروف بہ ترتیب معروف اور باہم متبائن اور تبدیل جز مستلزم تبدیل کل فان المولف من مبائن مبائن للمولف من مبائن اخر( ایك مبائن حروف کا مجموعہ دوسرے مبائن حروف کے مجموعے کے مبائن ہوتا ہے۔ ت) میں نہیں جانتا کہ اس تبدیل قصدی و تحریف کلام اﷲ میں کیا تفاوت مانا جائے گا۔ یہی منشا ہے امام فضلی و امام محمود وعلامہ قاری وغیر ہم کے اس حکم کا جو قرآن مجید میں ض عمداظ سے بدلے کافر ہے۔
اقول : ولا حاجۃ الی استثناء وما ھو علی الغیب بضنین فان ھھنا لیس اقامۃ الظاء مقام الضاد لان المکان لیس مکانھا خاصۃ بل مکانھما جمیعا علی التوارد حیث قرئ بھما فی القرآن فکان مثل صراط و سراط وبسطۃ و بصطۃ ویبسط ویبصط ومصیطر ومسیطر الی اشباہ ذلك بخلاف مغضوب مغظوب وبخلاف سجیل وصجیل فانہ تبدیل۔
اقول : میری رائے یہ ہے کہ وماھو علی الغیب بضنین کومستثنی کرنے کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ یہاں ظاء کو ضاد کی جگہ رکھنا لازم نہیں آتا کیونکہ یہ صرف ضاد ہی کا مقام نہیں بلکہ یکے بعد دیگرے دونوں کی جگہ ہے کیونکہ ان دونوں حروف کے ساتھ قرأت قرآنی ثابت ہے جیسے صراط اور سراط بسطۃ اور بصطۃ یبسط اور یبصط مصیطر اور مسیطر اور ان کے ہم مثل دیگر الفاظ بخلاف مغضوب اور مغظوب کے اور بخلاف سجیل اور صجیل کے کیونکہ یہاں تبدیلی ہے۔ (ت)
پس جزما لازم کہ ہر حرف میں خاص حرف منزل من اﷲ ہی کا قصد کریں اور اسی کے مخرج سے اسے نکالنا چاہئے ۔
مخرج ضاد زبان کی دہنی یا بائیں کروٹ ہے یوں کہ اکثر پہلوئے زبان حلق سے نوك کے قریب تك اسی جانب کی ان بالائی داڑھوں کے طرف جو وسط زبان کے محاذی ہیں قریب ملاصق ہوتا ہوا کچیلوں کی طرف دراز ہو یہاں تك کہ شروع مخرج لام تك بڑھے زبان کی کروٹ داڑھوں سے متصل ہوتی باقی زبان اس حرکت میں اوپر کو میل کرکے تالو سے نزدیکی پائے دانتوں یازبان کی نوك کا اس میں کچھ حصہ نہیں وہ ان قوی حرفوں میں ہے جو ادا ہوتے وقت اپنے مخرج پر اعتماد قوی مانگتے ہیں جس قدر سانس ان کی آواز میں سینے سے باہر آتی ہے سب کو اپنی کیفیت میں رنگ لیتے ہیں کہ کوئی پارہ سانس کا ان کے ساتھ جدا چلتا معلوم نہیں ہوتا جب تك ان کی آوازختم نہ ہولے سانس بند رہے گی ایسے حرفوں کو مجہورہ کہتے ہیں اور ان کے خلاف کو مہموسہ جن کا جامع فحثہ شخص سلت ہے یا ستشحثك خصفہ مثلا ثائے مثلثہ کو مکرر کرکے بولے ثلث تو آواز ثاکے ساتھ ایك حصہ ساکن کاجدا معلوم ہوگا نفس بند نہ ہوا مجہورہ میں ایسا نہیں بلکہ تمام سانس جو
#10559 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
شروع تلفظ کے وقت موجود ہو انھیں کی آواز سے بھر جاتی ہے اور جب تك اس کا تلفظ ختم ہو دوسری نہیں آتی جیسے ز ز ز ظ ظ ظ یونہی ضضض یہ امر قوت اعتماد کولازم ہے کہ دہن یا حلق کے کسی حصے پر اعتماد قوی بے آواز بھی حابس دم ہے کما لا یخفی جب اس جگہ سے اس طور پر حرف نکلے گا تو وہ ض ہی ہوگا نہ اس کا غیر ۔ فرق جو پڑتا ہے اس کا منشا انھیں سے کسی بات کا رہ جانا ہے مثلا زبان اگلے دانتوں کو لگی یا زبان کی نوك سے کام لیا کہ وہ آغاز مخرج لام کی طرف جھکی ۔ پہلوئے زبان کا وسط داڑھوں کی جانب خلاف کو چلا حالانکہ ان کی طرف میل درکار تھا یا زبان تالو کی طرف نہ اٹھائی یا اٹھانا چاہی مگر حرف کی دشواری و غرابت آڑے آئی کہ زبان دب گئی کما ینبغی اطباق نہ ہوا جس طرح لڑائی میں ناتجربہ کار کا ہاتھ باوصف قصد جھجك کر اوچھا پڑتا ہے یا اعتماد میں ضعف رہا یا مخرج لام تك استطالہ نہ ہوا یہ بیان دکہ ادمی صرف منزل من اﷲ ہی کا کا خیال کرکے پر لکھنے اور عمل میں رکھنے کا ہے کہ ان شاء اﷲ تعالی صحت ادا میں بہت مددگار ہے وباﷲ التوفیق۔ اب بعد اس کے اسکا مخرج و طریقہ استعمال جان بھی لے ادا کرنے والے مشابہت د سے تو اس تقریر آخری کا خیال کرکے بچ سکتے ہیں اور اگر آدمی تا آخر جو کچھ ہم نے محررہ صفات مین بیان کیا اس سب کے مراعات ٹھیك طور پر ہوجائے تو یقینا اب جو حروف نکلے گا وہ خالص صحیح و فصیح ض ہوگااگر چہ ناواقف سننے والا اپنی ناشنائی کے باعث اسے کچھ سمجھے یا کچھ نہ سمجھے اور بقدر قدرت اس کے برتنے میں کمی بھی نہ کرے تو اب جو کچھ بھی ادا ہوگا صحت نماز کا فتوی دیں گے کہ عسر متحقق ہولیا اور عذر واضح ہوچکا اور عسر جانب یسر ہے۔
قال اﷲ تعالی لا یكلف الله نفسا الا وسعها- وقال اﷲ تعالی یرید الله بكم الیسر و لا یرید بكم العسر- وقال اﷲ تعالی و ما جعل علیكم فی الدین من حرج- وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یسروا ولا تعسروا بشروا ولا تنفروا رواہ الشیخان عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔
اﷲ تعالی کا ارشاد گرامی ہے اﷲ تعالی کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر۔ دوسرا فرمان ہے اﷲ تعالی تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا ۔ تیسرے مقام پر فرمایا اس نے تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے آسانی پیدا کرو مشکل میں نہ ڈالو محبتیں پیدا کرو نفرت نہ دلاؤ۔ اسے بخاری ومسلم نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے(ت)
حوالہ / References القرآن ۲ / ۲۸۶
القرآن ۲ / ۱۸۵
القرآن ۲۲ / ۷۸
صحیح بخاری باب قول النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم یسروا اولاتعسروا مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۹۰۴
#10560 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
پھر ایسی حالت میں عند الانصاف اشتراك صفات خواہ اشتباہ اصوات کسی کی تخصیص نہیں ہوسکتی کہ براہ عجز ہے اختیاری نہیں اور غیر اختیاری پر حکم جاری نہیں کما قد منا فی جعل الاتراك الحاء خاء وعوام عصر العلامۃ الشامی القاف ھمزۃ(جیسا کہ ہم نے پیچھے بیان کیا کہ ترك لوگ حاء کو خاء اور علامہ شامی کے زمانہ کے لوگ ق کو ہمزہ بنادیتے ہیں ۔ ت)واضح ہوا کہ یہ طائفہ جدیدہ جس نے قصدا ضاد پڑھنا ٹھہرالیا ان کی نماز تو باجماع ائمہ متقدمین واتفاق اقوال مذکورہ متاخرین کبھی ولاالضالین تك نہیں پہنچنے پاتی پہلی ہی رکعت میں مغضوب کی مغظوب پڑھا اور نماز رخصت ہوئی اب افعال بے معنی کئے جاؤ۔ اسی طرح اگر کوئی جاہل حرف منزل ض کا قصد نہ کرے بلکہ عمدا اس کو دال خواہ کوئی حرف پڑھنا ٹھہرالے اس کی نماز بھی مغدوب سے آگے نہ چلے گی تعلم مخر وج طریق اداوقصد صحیح بقدر قدرت ہر شخص پر لازم پھر جو کچھ ادا ہوا فتوی تیسیر صحت پر حاکم۔
نسأل اﷲ تیسیر کل عسیر انہ ولیہ وعلیہ قدیر وصلی اﷲ تعالی علی البشیر والنذیر والہ وصحبہ۔
ہم اﷲ تعالی سے سوال کرتے ہیں وہ ہر مشکل کوآسان فرمادے کیونکہ وہی مالك ہے اور اس پر وہ قادر ہے اﷲ کی رحمتیں نازل ہوں اس ذات اقدس پر جو بشیر و نذیر ہے آپ کی آل اور اصحاب پر بھی ۔ (ت)
بالجملہ عمدا ظا یا داد دونوں حرام جوقصد کرے کہ بجائے ض ظ یاد پڑھوں گا ان کی نماز کبھی تام فاتحہ تك بھی نہ پہنچے گی مغذوب و مغظوب کہتے ہی بلا شبہہ فاسد و باطل ہوجائے گی اور جو حروف منزل ہی کا قصد رکھتا اور اسی کو ادا کرنا چاہتا ہے پھر اگر ایسی جگہ غلطی پڑے جس سے معنی نہ بدلے تو نماز فاسد نہ ہوگی اور اگر معنی بدل گئے تو دو حال سے خالی نہیں یا تو یہ شخص ادائے حرف پر قادر تھا براہ لغزش زبان یا جہلا یا سہوا زبان سے نکل گیا تو ہمارے مذہب سیدناامام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہ تعالی و محرر مذہب سیدنا امام محمد رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیك نماز مطلقا فاسد اور اگر یہ بدلا ہوا کلمہ قرآن مجید میں نہیں تو امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا بھی اتفاق ہوکر اجماع ائمہ متقدمین کہ نماز باطل ہے اور متاخرین کے اقوال کثیرہ و مضطرب ہیں ۔
مسئلہ نمبر۴۷۸ : از دلیر گنج پرگنہ جہاں آباد ضلع پیلی بھیت مرسلہ خلیفہ الہی بخش ۱۸رجب ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر جہلا کو قواعدتجوید سے انکار ہے اور ناحق جانتے ہیں ۔
الجواب :
تجوید بنص قطعی قرآن و اخبار متواترہ سید الانس والجان علیہ وعلی آلہ افضل الصلوۃ والسلام واجماع تام صحابہ و تابعین وسائر ائمہ کرام علیہم الرضوان المستدام حق و واجب اور علم دین شرع الہی ہے قال اﷲ
پھر ایسی حالت میں عند الانصاف اشتراك صفات خواہ اشتباہ اصوات کسی کی تخصیص نہیں ہوسکتی کہ براہ عجز ہے اختیاری نہیں اور غیر اختیاری پر حکم جاری نہیں کما قد منا فی جعل الاتراك الحاء خاء وعوام عصر العلامۃ الشامی القاف ھمزۃ(جیسا کہ ہم نے پیچھے بیان کیا کہ ترك لوگ حاء کو خاء اور علامہ شامی کے زمانہ کے لوگ ق کو ہمزہ بنادیتے ہیں ۔ ت)واضح ہوا کہ یہ طائفہ جدیدہ جس نے قصدا ضاد پڑھنا ٹھہرالیا ان کی نماز تو باجماع ائمہ متقدمین واتفاق اقوال مذکورہ متاخرین کبھی ولاالضالین تك نہیں پہنچنے پاتی پہلی ہی رکعت میں مغضوب کی مغظوب پڑھا اور نماز رخصت ہوئی اب افعال بے معنی کئے جاؤ۔ اسی طرح اگر کوئی جاہل حرف منزل ض کا قصد نہ کرے بلکہ عمدا اس کو دال خواہ کوئی حرف پڑھنا ٹھہرالے اس کی نماز بھی مغدوب سے آگے نہ چلے گی تعلم مخر وج طریق اداوقصد صحیح بقدر قدرت ہر شخص پر لازم پھر جو کچھ ادا ہوا فتوی تیسیر صحت پر حاکم۔
نسأل اﷲ تیسیر کل عسیر انہ ولیہ وعلیہ قدیر وصلی اﷲ تعالی علی البشیر والنذیر والہ وصحبہپھر ایسی حالت میں عند الانصاف اشتراك صفات خواہ اشتباہ اصوات کسی کی تخصیص نہیں ہوسکتی کہ براہ عجز ہے اختیاری نہیں اور غیر اختیاری پر حکم جاری نہیں کما قد منا فی جعل الاتراك الحاء خاء وعوام عصر العلامۃ الشامی القاف ھمزۃ(جیسا کہ ہم نے پیچھے بیان کیا کہ ترك لوگ حاء کو خاء اور علامہ شامی کے زمانہ کے لوگ ق کو ہمزہ بنادیتے ہیں ۔ ت)واضح ہوا کہ یہ طائفہ جدیدہ جس نے قصدا ضاد پڑھنا ٹھہرالیا ان کی نماز تو باجماع ائمہ متقدمین واتفاق اقوال مذکورہ متاخرین کبھی ولاالضالین تك نہیں پہنچنے پاتی پہلی ہی رکعت میں مغضوب کی مغظوب پڑھا اور نماز رخصت ہوئی اب افعال بے معنی کئے جاؤ۔ اسی طرح اگر کوئی جاہل حرف منزل ض کا قصد نہ کرے بلکہ عمدا اس کو دال خواہ کوئی حرف پڑھنا ٹھہرالے اس کی نماز بھی مغدوب سے آگے نہ چلے گی تعلم مخر وج طریق اداوقصد صحیح بقدر قدرت ہر شخص پر لازم پھر جو کچھ ادا ہوا فتوی تیسیر صحت پر حاکم۔
نسأل اﷲ تیسیر کل عسیر انہ ولیہ وعلیہ قدیر وصلی اﷲ تعالی علی البشیر والنذیر والہ وصحبہ۔
ہم اﷲ تعالی سے سوال کرتے ہیں وہ ہر مشکل کوآسان فرمادے کیونکہ وہی مالك ہے اور اس پر وہ قادر ہے اﷲ کی رحمتیں نازل ہوں اس ذات اقدس پر جو بشیر و نذیر ہے آپ کی آل اور اصحاب پر بھی ۔ (ت)
بالجملہ عمدا ظا یا داد دونوں حرام جوقصد کرے کہ بجائے ض ظ یاد پڑھوں گا ان کی نماز کبھی تام فاتحہ تك بھی نہ پہنچے گی مغذوب و مغظوب کہتے ہی بلا شبہہ فاسد و باطل ہوجائے گی اور جو حروف منزل ہی کا قصد رکھتا اور اسی کو ادا کرنا چاہتا ہے پھر اگر ایسی جگہ غلطی پڑے جس سے معنی نہ بدلے تو نماز فاسد نہ ہوگی اور اگر معنی بدل گئے تو دو حال سے خالی نہیں یا تو یہ شخص ادائے حرف پر قادر تھا براہ لغزش زبان یا جہلا یا سہوا زبان سے نکل گیا تو ہمارے مذہب سیدناامام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہ تعالی و محرر مذہب سیدنا امام محمد رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیك نماز مطلقا فاسد اور اگر یہ بدلا ہوا کلمہ قرآن مجید میں نہیں تو امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا بھی اتفاق ہوکر اجماع ائمہ متقدمین کہ نماز باطل ہے اور متاخرین کے اقوال کثیرہ و مضطرب ہیں ۔
مسئلہ نمبر۴۷۸ : از دلیر گنج پرگنہ جہاں آباد ضلع پیلی بھیت مرسلہ خلیفہ الہی بخش ۱۸رجب ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر جہلا کو قواعدتجوید سے انکار ہے اور ناحق جانتے ہیں ۔
الجواب :
تجوید بنص قطعی قرآن و اخبار متواترہ سید الانس والجان علیہ وعلی آلہ افضل الصلوۃ والسلام واجماع تام صحابہ و تابعین وسائر ائمہ کرام علیہم الرضوان المستدام حق و واجب اور علم دین شرع الہی ہے قال اﷲ
۔
ہم اﷲ تعالی سے سوال کرتے ہیں وہ ہر مشکل کوآسان فرمادے کیونکہ وہی مالك ہے اور اس پر وہ قادر ہے اﷲ کی رحمتیں نازل ہوں اس ذات اقدس پر جو بشیر و نذیر ہے آپ کی آل اور اصحاب پر بھی ۔ (ت)
بالجملہ عمدا ظا یا داد دونوں حرام جوقصد کرے کہ بجائے ض ظ یاد پڑھوں گا ان کی نماز کبھی تام فاتحہ تك بھی نہ پہنچے گی مغذوب و مغظوب کہتے ہی بلا شبہہ فاسد و باطل ہوجائے گی اور جو حروف منزل ہی کا قصد رکھتا اور اسی کو ادا کرنا چاہتا ہے پھر اگر ایسی جگہ غلطی پڑے جس سے معنی نہ بدلے تو نماز فاسد نہ ہوگی اور اگر معنی بدل گئے تو دو حال سے خالی نہیں یا تو یہ شخص ادائے حرف پر قادر تھا براہ لغزش زبان یا جہلا یا سہوا زبان سے نکل گیا تو ہمارے مذہب سیدناامام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہ تعالی و محرر مذہب سیدنا امام محمد رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیك نماز مطلقا فاسد اور اگر یہ بدلا ہوا کلمہ قرآن مجید میں نہیں تو امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا بھی اتفاق ہوکر اجماع ائمہ متقدمین کہ نماز باطل ہے اور متاخرین کے اقوال کثیرہ و مضطرب ہیں ۔
مسئلہ نمبر۴۷۸ : از دلیر گنج پرگنہ جہاں آباد ضلع پیلی بھیت مرسلہ خلیفہ الہی بخش ۱۸رجب ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر جہلا کو قواعدتجوید سے انکار ہے اور ناحق جانتے ہیں ۔
الجواب :
تجوید بنص قطعی قرآن و اخبار متواترہ سید الانس والجان علیہ وعلی آلہ افضل الصلوۃ والسلام واجماع تام صحابہ و تابعین وسائر ائمہ کرام علیہم الرضوان المستدام حق و واجب اور علم دین شرع الہی ہے قال اﷲ
#10561 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
تعالی و رتل القران ترتیلا(۴) (اﷲ تعالی کا فرمان ہے اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔ ت)اسے مطلقا ناحق بتانا کلمہ کفر ہے والعیاذ باﷲ تعالی ۔ ہاں جو اپنی ناواقفی سے کسی قاعدے پر انکار کرے وہ اسکا جہل ہے اسے آگاہ و متنبہ کرنا چاہئے ۔ واﷲ تعالی اعلم ۔
مسئلہ نمبر ۴۷۹ : ازبریلی محلہ ذخیرہ مرسلہ محبت حسین یکم ربیع الاول ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اکثر نمازی معنی نماز کے نہیں جانتے ہیں اور نہ کلمہ شریف کے معنی جانتے ہیں پس جاننا معنی کلمہ شریف اور نماز کے اوپر عمل کرنا بہت ضروری ہے پس اگر اہل عرب اور عربی جاننے والے عربی میں پڑھیں اور باقی اہل زبان اپنی اپنی زبان میں عربی کا ترجمہ کرکے پڑھیں تو نماز درست اور صحیح ہے یا نہیں یعنی انگریزی خواں انگریزی میں اور ناگری والے ناگری میں اور اردو والے اردو میں پنجگانہ نماز پڑھیں بینوا توجروا(بیان کرو اور اجر پاؤ۔ ت)
الجواب :
مراہی کہہ کر نہیں آتی گمراہی کا پہلا پھاٹك یہی ہے کہ آدمی کے دل سے اتباع سبیل مومنین کی قدر نکل جائے تمام امت مرحومہ کو بیوقوف جانے اور اپنی رائے الگ جانے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے زمانہ اقدس میں یہی عجمی لوگ مشرف باسلام ہوئے حضرت بلال حبشی تھے۔ حضرت صہیب رومی حضرت سلمان فارسی و ابو ہریرہ وغیرہم رضی اللہ تعالی عنہم جمیعا اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے زمانہ میں جو ہزاروں بلاد عجم فتح ہوئے لاکھوں عجمی مشرف باسلام ہوئے کبھی بھی حکم فرمایا کہ تم لوگ اپنی زبان میں نماز پڑھا کرو اب تیرہ سو برس کے بعد یہ مصلحت بعض ہندی بے علموں کو سوجھی اس قدر کا ملاحظہ اتنا سمجھنے کو کافی ہے کہ الہام رحمن نہیں بلکہ وسوسہ شیطان ہے قرأت قرآن فرض ہے اور وہ خاص عربی ہے غیر عربی میں ادا نہ ہوگی اور نماز نادرست ہوگی اور اس کے ماورا میں گنہگاری ہے ہاں جو عاجز محض ہوتو مجبوری کی بات جدا ہے واﷲ سبحنہ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۸۰ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی عادت ہمیشہ نمازمغرب میں باقرأت ایك یا نصف رکوع یا سورہ والضحی یا الہکم یا والشمس حالت امامت میں پڑھنے کی ہے بعض مقتدی اس کو ناپسند کرتے ہیں اور بعض اس طریقہ کو ناپسند بوجہ طوالت ایسی صورت میں امام اپنی عادت کے موافق کرے یا مقتدیوں کی تابعداری اختیار کرے اور یہ سورتیں ایسے وقت میں کچھ زیادہ تو نہیں ایك روز نمازمغرب میں زید نے ۱۶ پارہ کا ۳ رکوع
حوالہ / References القرآن ۷۳ / ۴
#10562 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
پڑھنے پر مقتدی نہایت شاکی ہوئے اور ایك مولوی صاحب نے فرمایا کہ یہ امام گنہگار ہوتے ہیں اتنا بڑا رکوع پڑھنے سے ایسی صورت اور ایسے وقت میں نہیں چاہئے منع آیا ہے پست ہمت مقتدیوں کی شکایت شرعا جائز ہے یا نہیں اورامام صاحب پر شرعا کیا الزام اور گناہ ہے سو آدمی کی جماعت میں دومقتدی علیل پیرانہ سالی کی وجہ سے زیادہ شکایت اور امام کو برا جانیں وہ بھی الزام دینے سے گناہگار ہیں یا نہیں
الجواب :
نمازحضر یعنی غیر سفر میں ہمارے ائمہ سے تین روایتیں ہیں :
اول : فجر و ظہر میں طوال مفصل سے دو سورتیں پوری پڑھے ہر رکعت میں ایك سورت اور عصر و عشاء میں اوساط مفصل سے دو سورتیں اور مغرب میں قصار مفصل سے۔ مفصل قرآن کریم کے اس حصہ کو کہتے ہیں جو سورہ حجرات سےاخیر تك ہے اس کے تین حصے ہیں حجرات سے بروج تك طوال بروج سے لم یکن تك اوساط لم یکن سے ناس تك قصار
دوم : فجر و ظہر میں سورہ فاتحہ کے علاوہ دونوں رکعت کی مجموع قرأت چالیس پچاس آیت ہے اور ایك روایت میں ساٹھ آیت سے سو تك ۔ اور عصر وعشاء کی دونوں رکعت کا مجموعہ پندرہ بیس آیت اور مغرب میں مجموعہ دس آیتیں۔
سوم : کچھ مقرر نہ رکھے جہاں وقت و مقتدیان و امام کی حالت کا مقتضی ہو ویسا پڑھے مثلا نمازفجر میں اگر وقت تنگ ہو یا مقتدیوں میں کوئی شخص بیمار ہے کہ بقدر سنت پڑھنا اس پر گراں گزرے گا یا بوڑھا ضعیف ناتواں یا کسی ضرورت والا ہے کہ دیر لگانے میں اس کاکام حرج ہوتا ہے اسے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوگا توجہاں تك تخفیف کی حاجت سمجھے تخفیف کرے خودحضو اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے نماز فجر میں ایك بچے کے رونے کی آواز سن کر اس خیال رحمت سے کہ اس کی ماں جماعت میں حاضر ہے طول قرأت سے ادھر بچہ پھڑکے گا ادھر ماں کا دل بیچین ہوگا صرف قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس سے نماز پڑھا دی صلی اﷲ تعالی علیہ وعلی آلہ واصحابہ وبارك وسلم اجمعین اور اگر دیکھے کہ وقت میں وسعت ہے اور نہ کوئی مقتدیوں میں بیمار نہ ویسا کامی تو بقدر سنت قرأت ان روایات میں پہلی اور تیسری روایت مختار و معمول بہ ہے وانا اقول لاخلاف بینھما وانما الثالثۃ تقیید الاولی کما لا یخفی (میری رائے میں ان دونوں روایات کے درمیان کوئی تعارض نہیں تیسری پہلی کو مقید کررہی ہے جیسا کہ واضح ہے۔ ت) تو حاصل مذہب معتمدیہ قرار پایا کہ جب گنجائش بوجہ وقت خواہ بیماری وضعف وحاجت مقتدیان کم دیکھے تو قدر گنجائش
#10563 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
پر عمل کرے ورنہ وہی طول واوساط وقصار کا حساب ملحوظ رکھے او رقلت گنجائش کے لئے زیادہ مقتدیوں کا ناتواں یا کام کا ضرورت مند ہونا درکار نہیں بلکہ صرف ایك کا ایسا ہونا کافی ہے یہاں تك کہ اگر ہزار آدمی کی جماعت ہے اور صبح کی نماز ہے اور خوب وسیع وقت ہے اور جماعت میں ۹۹۹ آدمی دل سے چاہتے ہیں کہ امام بڑی بڑی سورتیں پڑھے مگر ایك شخص بیمار یا ضعیف بوڑھا یا کسی کام کا ضرورت مند ہے کہ اس پرتطویل بار ہوگی اسے تکلیف پہنچے گی تو امام کو حرام ہے کہ تطویل کرے بلکہ ہزار میں سے اس ایك کے لحاظ سے نماز پڑھائے جس طرح مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے صرف اس عورت اور اسکے بچے کے خیال سے نماز فجر معوذتین سے پڑھا دی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور معاذ ابن جبل رضی اللہ تعالی عنہ پر تطویل میں سخت ناراضی فرمائی یہاں تك کہ رخسار ہ مبارك شدت جلال سے سرخ ہوگئے اورفرمایا :
افتان انت یا معاذ افتان انت یامعاذ افتان انت یا معاذ کما فی الصحاح وغیرھا وفی الھدایۃ مرفوعالقولہ علیہ الصلوۃ والسلام من ام قوما فلیصل بھم صلوۃ اضعفھم فان فیھم المریض والکبیر و ذالحاجۃ ۔
کیا تو لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والا ہے کیا تو لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والا ہے کیا تو لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والا ہے اے معاذ ! جیسا کہ صحاح وغیرہا میں ہے ہدایہ میں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے مروی ہے کہ جو شخص کسی قوم کا امام بنے وہ انھیں ان کے ضعیف کے اعتبار سے نماز پڑھائے کیونکہ ان میں مریض بوڑھے اور صاحب حاجت بھی ہوں گے(ت)
اس بیان سے واضح ہوا کہ اما م کا مغرب میں سورہ والشمس یا والضحی یااول میں افحسب الذین کفروا دوسری میں ان للمتقین یہ دونوں رکوع پڑھنا خلاف سنت اور تینوں سے الگ ہوا کہ نہ یہ قصار مفصل سے ہے نہ دونوں رکعت میں صرف دس۱۰ آیت نہ یہی کہ مقتدیوں پر گراں نہ گزرا ایسی حالت میں مقتدیوں کی شکایت برمحل ہے اور امام پر ضرور لازم ہے ہاں الھکم التکاثر ایك رکعت میں اور اس سے پہلی میں القارعۃ یا دوسری میں والعصر پڑھنا مطابق سنت ہے یہاں مقتدیوں کی شکایت حماقت ہے مگر اس حال میں کہ کوئی بیمار یا بوڑھا ناتواں اس قدر کا تحمل نہ رکھتا ہو تو وہاں اس سے بھی تخفیف کا حکم ہے
فی فتح القدیر قد بحثنا ان التطویل ھو
فتح القدیر میں ہے ہم نے اس پر بحث کی ہے کہ قرأۃ
حوالہ / References صحیح بخاری باب اذاطول الامام الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۹۸-۹۷ ، ۲ / ۹۰۲
الہدایۃ باب الامامۃ مطبوعہ المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ / ۱۰۱
#10564 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
الزیادۃ علی القرأۃ المسنونۃ فانہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نھی عنہ وکانت قرأتہ ھی المسنونۃ فلا بد من کون مانھی عنہ غیر ماکان دابہ الالضرورۃ اھ وباقی ماذکرنا من المسائل معرفۃ فی الدر المختار وردالمحتار وغیرھما من الکتب المتداولۃ فلا حاجۃ بایراد العبارات۔ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
میں طوالت وہ زیادتی ہے جو قرأت مسنونہ پر ہو کیونکہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ایسی ہی زیادتی سے منع فرمایا ہے اور آپ کی قرأت قرأۃ مسنونہ ہی تھی لہذا جس سے آپ نے روکا وہ اس مسنو نہ کے علاوہ ہوئی مگر ضرورت کے وقت اھ اور دیگر مسائل جو ہم نے ذکر کئے وہ درمختار ردالمحتار اور دیگر متداول کتب میں معروف ہیں اس لئے تمام عبارات کے تذکرے کی ضرورت نہیں (ت)
مسئلہ نمبر۴۸۱ : ۲۷شوال ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے نماز میں بعد الحمدﷲ اور تین یا زائد آیتوں کے کہا قال رسول اﷲ پھر رکوع کردیا یا قرآن مجید اور تلاوت کی تو اس صورت میں نماز ہوئی یا نہیں اور سجدہ سہو حاجت ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
اگر اس لفظ سے اس نے کسی شخص کی بات کا جواب دینے کا قصد کیامثلا کسی نے پوچھا فلاں حدیث کس طرح ہے اس نے کہا قال رسول اﷲ اورمعا نماز کا خیال آگیا خاموش ہو رہا یا ابتداء کسی سے خطاب کا ارادہ کیا مثلا کسی کو کوئی فعل ممنوع کرتے دیکھا اسے حدیث ممانعت سنانی چاہی اس کے خطاب کی نیت سے کہا قال رسول اﷲ پھریاد آگیا آگے نہ کہا تو ان دو۲ صورتوں میں ضرور نماز فاسد ہوجائیگی ۔
کما نصواعلیہ فیماھو ذکر و ثنا محض کلا الہ الااﷲ ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ وانا الیہ راجعون و غیرذلك اذا قصد بہ الجواب اوالخطاب فکیف ما لیس کذلک۔
جیسے کہ فقہاء نے ان الفاظ کے بارے میں تصریح کی ہے جو کہ فقط ذکر و ثناء ہی ہیں مثلا لا الہ الا اﷲ لاحول ولا قوۃ الا باﷲ اور انا ﷲ وانا الیہ راجعون اور دیگر کلمات جب ان سے مقصد کسی کا جواب یا کسی کو خطاب ہو تو ان کلمات کا کیا حال ہوگا جو محض ذکر و ثنا نہیں (ت)
حوالہ / References فتح القدیر شرح ہدایہ باب الامامۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۰۵
#10565 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
اور اگر یہ صورتیں نہ تھیں تواس کا جزئیہ اس وقت نظر میں نہیں اور ظاہر کلام علمائے کرام سے یہ ہے کہ اگر یہ شخص حدیث خوانی کا عادی تھا اس عادت کے مطابق زبان سے قال رسول اﷲ نکلاتو نماز فاسد ہوگئی لا نہ من کلامہ و لیس ثناء اودعاء بل اخبار(کیونکہ یہ اس کا اپنا کلام ہے ثنا اور دعا نہیں بلکہ خبر دینا ہے۔ ت)اور اگر ایسا نہ تھا تو نماز فاسد نہ ہوگی کہ یہ جملہ آیت کریمہ کا ٹکڑا ہے قال اﷲ تعالی فقال لهم رسول الله ناقة الله و سقیها(۱۳) (اﷲ تعالی کا ارشاد مبارك ہے تو ان سے اﷲ کے رسول نے فرمایا اﷲ تعالی کے ناقہ اوراس کی پینے کی باری سے بچو۔ ت) بحرالرائق و درمختار وغیرہما میں ہے :
لو جری علی لسانہ نعم ان کان ھذاالرجل یعتاد فی کلامہ نعم تفسد صلوتہ و ان لم یکن عادۃ لہ لا تفسد لان ھذہ الکلمۃ فی القرا ن فتجعل منہ ۔
اگر کسی زبان پر لفظ نعم جاری ہوگیا تو اگر وہ آدمی ایسا ہے جو اپنے کلام میں لفظ نعم کو اکثر لاتا رہتا ہے تو نماز فاسد ہوگی اور اگراس کلمہ کو ذکر کرنا اس کی عادت نہیں تو نماز فاسد نہ ہوگی کیونکہ یہ کلمہ قرآن پاك میں موجود ہے لہذا اسے کلام کی بجائے قرآن پاك کا حصہ ہی سمجھا جائے گا (ت)
اور سجدہ سہو کی کسی حالت میں حاجت نہیں مگر یہ کہ صورت اخیرہ پائی گئی ہو جس میں جواز نماز ہے اور بوجہ سہو اتنی دیر تك چپکا کچھ سوچتا رہا ہو جس قدر دیر میں ایك رکن ادا ہوسکے تو اس سقوط کے با عث سجد ہ سہو لازم آئے جگا کما فی التنویر(تنویر میں اسی طرح ہی ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۴۸۲تا ۴۸۷ : ۱۰ جمادی الاولی ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
۱۔ اﷲ کے الف کو حذف کرکے پڑھے تو جائز ہے یا نہیں
۲۔ الف کے لام کو پر کرنا سنت ہے یا نہیں
۳۔ الف اﷲ کو تکبیرات میں کچھ دراز کرکے پڑھنا جائز ہے یا نہیں
۴۔ قعدہ اولی میں شك ہوا مگر یقین نہیں اور سجدہ سہو کا کیاتو نماز جائز یا نہیں
۵۔ جس نماز میں سہو نہ ہوا اور سجدہ سہو کا کیا تو نماز جائز ہے یا نہیں
۶۔ ہاتھ ملا کر دعا چاہئے یا علیحدہ علیحدہ کرے۔ بینوا تو جروا۔
حوالہ / References القرآن ۹۱ / ۱۳
البحرالرائق باب یفسد الصلوٰۃ الخ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۸
#10566 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
الجواب :
(۱) نماز جائز مگر قصدا کرے تو حرام و گناہ۔
(۲) ہاں سنت متوارثہ ہے جبکہ اس سے پہلے فتحہ یا ضمہ ہو۔
(۳) تھوڑا دراز کرنا تو مستحب ہے اسے مد تعظیم کہتے ہیں اور زیادہ دراز کرنا کہ حد اعتدال سے خروج فاحش ہو مکروہ اور اگر معاذ اﷲ تان کے طور پر ہو کہ کچھ حروف زوائد پیدا ہوں مثل ا ا تو مفسد نماز ہے۔
(۴) جائز ہے
(۵) بے حاجت سجدہ سہو نماز میں زیادت اور ممنوع ہے مگر نماز ہوجائے گی ۔ ہاں اگر یہ امام ہے تو جو مقتدی مسبوق تھا یعنی بعض رکعات اس نے نہیں پائی تھیں وہ اگر اس سجدہ بے حاجت میں اسکا شریك ہو ا تو اس کی نماز جاتی رہے گی لانہ اقتدی فی محل الانفراد(کیونکہ اس نے محل انفراد میں اس کی اقتدا کی ۔ ت)
(۶) دونوں ہاتھوں میں کچھ فاصلہ ہو
فی الدرالمختار یبسط یدیہ حذاء صدرہ نحوالسماء لانھا قبلۃ الدعاء ویکون بینھما فرجۃ فی ردالمحتار ای وان قلت قنیۃ واﷲ سبحنہ و تعالی اعلم۔
درمختار میں ہے وہ اپنے دونوں ہاتھ اپنے سینہ کے برابرآسمان کی طرف پھیلائے کیونکہ آسمان دعا کا قبلہ ہے اور ان کے درمیان فاصلہ ہو۔ ردالمحتار میں ہے اگرچہ تھوڑا فاصلہ ہی ہو قنیہ(ت)
مسئلہ نمبر ۴۸۸ : ازشہر کہنہ بانس بریلی کانکر ٹولہ ۱۷ شوال ۱۳۱۹ھ
نماز چار رکعت میں زید اس طرح پڑھتا ہے اول رکعت میں بعد سورہ فاتحہ سورہ یس شریف دوسری میں سورہ دخان شریف تیسری میں سورہ تنزیل چوتھی میں سورہ ملك اس طرح سے یہ نماز پڑھنا خلاف ترتیب ہوگا یانہیں اور تنزیل سے کون سی سورۃ مراد ہےبینوا تو جروا۔
الجواب :
یہ نماز اسی ترتیب سے حدیث میں حفظ قرآن کے لئے ارشاد ہوئی ہے جامع ترمذی شریف میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے سورہ تنزیل سورہ الم تنزیل السجدۃ ہے۔
حوالہ / References درمختار فصل واذارادلشروع فی الصلوٰۃ الخ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۷۷
ردالمحتار فصل فی بیان تالیف الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۷۵
#10567 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
روایت ترمذی میں یہی پو را نام آیا ہے اس میں خلاف ترتیب اصلا نہیں کہ نفل کا ہر شفع نماز جداگانہ ہے اور شك نہیں کہ ترتیب قرآن عظیم سورہ یسین شریف حم الدخان سے مقدم ہے اور تنزیل السجدہ سورہ ملك سے تو رعایت ترتیب ہر شفع میں ہو گئی اگر چاروں کے لحاظ سے سب سے پہلے تنزیل السجدہ ہے پھر یس پھر دخان پھر ملك یہ مخالف ترتیب نہیں کہ ہر شفع صلاۃ علیحدہ ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۴۸۹ : ۲رمضان المبارك ۱۳۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص نماز میں سورہ فاتحہ میں لفظ نستعین اور مستقیم کی جگہ نسعین اور مسقیم بدون تاء کے پڑھے تو اس کی نماز باطل ہو گی یا مکروہ یا نہیں جواب دیجئے مؤجب ثواب ہے۔
الجواب :
نماز ہوجائے گی لاجل الادغام (ادغام کی وجہ سے۔ ت)مگر کراہت ہے۔ لاجل الاحداث فلا ادغام صغیرا فی الفاتحۃ کما نص علیہ فی غیث النفع (کیونکہ اس نے یہ خود ایجاد کیا ہے فاتحہ میں ادغام نہیں ہے جیسا کہ غیث النفع میں اس پر تصریح موجود ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۹۰ : ۲۰ ربیع الاول شریف ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و شرع متین ان مسائل میں کہ سورہ فاتحہ سے ایك آیت کا تلاوت کرنا نماز میں فرض ہے یا اس کے ماسوا دوسری سورت میں سے ایك آیت پڑھنا فرض ہے مثلا زید نے نماز پڑھی اور فقط الحمدﷲ رب العلمین پڑھ کر بھول گیا اور رکوع و سجود کیا اور سجدہ سہو کیاسلام پھیرا اس حالت میں نماز زید کی ہوئی یا نہیں اور نیز دوسری صورت یہ ہے کہ امام صاحب نے نماز پڑھائی اور وہ تشہد کرنا اول کا بھول گئے اور مقتدی نے دومرتبہ کھڑے ہونے امام سے پیشتر کہا التحیات ﷲ مگر امام صاحب کھڑے ہوگئے اور قرأت بالجہر پڑھی اور فقط سورہ فاتحہ پڑھ کر رکوع کیا اور سجدہ سہو کیا اس صورت میں مقتدی کی نماز میں کوئی نقصان آیا یا نہیں اور نیز اس صورت میں کہ امام صاحب قرأت بھول گئے اور مقتدی نے لقمہ دیا اور امام صاحب نے نہیں لیا تو نماز مقتدی میں کوئی نقصان آیا یا نہیں اوروقت ظہر میں اگر جماعت ہو رہی ہو تو شریك ہو جاوے اور چار رکعت سنت جو رہیں ان کا پڑھنا کس وقت اولی ہے آیا دو پہلے پڑھے یا چار بینواتو جروا۔
الجواب :
قرآن مجید کی ایك آیت سورہ فاتحہ سے ہو خواہ کسی سورت سے پڑھنا فرض ہے نہ خاص فاتحہ کی تخصیص ہے نہ کسی سورت کی جو فقط الحمد ﷲ رب العلمین پڑھ کر بھول گیا اور رکوع کر دیا نماز کا فرض ساقط ہو جائیگا
#10568 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
مگر ناقص ہوئی کہ واجب ترك ہوا الحمد شریف تمام وکمال پڑھنا ایك واجب ہے اوراس کے سوا کسی دوسری سورت سے ایك آیت بڑی یا تین آیتیں چھوٹی پڑھنا واجب ہے اگر الحمد ﷲ بھولا تھا اور واجب اول کے ادا کرنے سے باز رکھا گیا تو واجب دوم کے ادا سے عاجز نہ تھا فقط ایك ہی آیت پر قناعت کرکے رکوع کردینے میں قصدا ترك واجب ہوا
علی ماھوالظاھر وترتیب السورۃ علی الفاتحۃ واجب ثالث کماان ترك الفصل بینھما باجنبی واجب رابع فاسقاط وجوب السورۃ للعجز عن الفاتحۃ لا یظھر فیما یظھرواﷲ تعالی اعلم۔
جیسا کہ واضح ہے فاتحہ اور سورت میں ترتیب تیسرا واجب جس طرح ان کے درمیان اجنبی کے ساتھ ترك فصل چوتھا واجب ہے پس بظاہر فاتحہ سے عاجز آنا وجوب سورت کے اسقاط کا سبب نہیں بن سکتا واﷲ تعالی اعلم(ت)
اور جو واجب قصدا چھوڑا جائے سجدہ سہو اس کی اصلاح نہیں کرسکتا تو واجب ہے کہ نماز دوبارہ پڑھے ہاں اگر ایسا بھولا کہ نہ بقیہ فاتحہ یاد آتا ہے نہ قرآن عظیم سے کہیں کی آیتیں اور نا چار رکوع کردیا اور سجدے میں جانے تك فاتحہ وآیات یاد نہ آئیں تو اب سجدہ سہو کافی ہے اور اگر سجدہ کو جانے سے پہلے رکوع میں خواہ قومہ بعد الرکوع میں یاد آجائیں تو واجب ہے کہ قرأت پوری کرے اور رکوع کا پھر اعادہ کرے اگر قرأت پوری نہ کی تواب پھر قصدا ترك واجب ہوگا اور نماز کا اعادہ کرنا پڑے گا اور اگر قرأت بعدا لرکوع پوری کرلی اور رکوع دوبارہ نہ کیا تو نماز ہی جاتی رہی کہ فرض ترك ہوا۔
وذلك لان الرکوع یرتفض بالعود الی القرأۃ لانھا فریضۃ وکل مایقرأ ولوالقران العظیم کلہ فانما یقع فرضا کما نصواعلیہ۔
اس لئے کہ قرأت کی طرف لوٹنے کی وجہ سے رکوع ختم ہوگیا کیونکہ قرأت فرض ہے اور قرأت جتنی بھی کی جائے خواہ تمام قرآن پاك کی قرأت ہو اس سے ایك ہی فرض ادا ہوگا جیسا کہ اس پر فقہاء نے تصریح کی ہے۔ (ت)
(۳)جبکہ امام پہلاقعدہ بھول کر اٹھنے کو ہوا اورابھی سیدھا نہ کھڑا ہو ا تھا تو مقتدی کے بتانے میں کوئی حرج نہیں بلکہ بتانا ہی چاہئے ہاں اگر پہلا قعدہ چھوڑ کر امام پورا کھڑا ہوجائے تو اس کے بعد بتانا جائز نہیں اگر مقتدی بتائے گا تو اس کی نماز جاتی رہے گی اور اگر امام اس کے بتانے پر عمل کرے گا تو سب کی جائیگی کہ پورا کھڑا ہوجانے کے بعد قعدہ اولی کے لئے لوٹنا حرام ہے تو اب مقتدی کا بتانا محض بیجا بلکہ حرام کی طرف بلانا اور بلا ضرورت کلام ہوا وہ مفسد نماز
#10569 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
ہے قرات میں صحیح لقمہ دینا مطلقا جائز ہے نماز فرض ہو خواہ نفل امام تین آیات سے زائد پڑھ چکا ہو خواہ کم تو اس صورت میں لقمہ دینے سے مقتدی کی نماز میں کچھ نقصان نہیں ہاں اگر وہ غلطی کہ امام نے کی مغیر معنی مفسد نماز تھی اور مقتدی نے بتایا اور اس نے نہ لیا اسی طرح غلط پڑھ کر آگے چل دیا تو امام کی نماز جاتی رہی اور اس کے سبب سے سب مقتدیوں کی بھی گئی اور اگر غلطی مفسد نماز نہ تھی تو سب کی نماز ہو گئی اگر چہ امام غلطی پر قائم رہا اور لقمہ نہ لیا اور امام نے صحیح پڑھا مقتدی کو دھوکا ہوا کہ اس نے غلط بتایا تو اس مقتدی کی نماز ہر طرح جاتی رہی پھر اگر امام نے نہ لیا تو امام اور دیگر مقتدیوں کی نماز صحیح رہی اور اگر لے لیا تو سب کی گئی ۔ ظہر کی پہلی سنتیں نہ پڑھی ہوں تو علماء کے دونوں قول ہیں اور دونوں باقوت ہیں ایك یہ کہ فرض کے دوسنتیں پہلے پڑھے پھر وہ چا ر سنتیں پڑھے دوسرے اس کا عکس کہ فرض کے بعد پہلے چار پہلی پڑھے پھر دو اور پہلا قول زیادہ قوی ہے لمطابقۃ لنص الحدیث الصریح(کیونکہ وہ حدیث صریح کے الفاظ کے مطابق ہے۔ ت) واﷲ سبحنہ و تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۹۱ : ۱۴شوال ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز فجر وعشاء میں سورہ طوال پڑھنا مسنون ہے یا نہیں اور اگر ایسے وقت کہ ابتدائی وقت ہو او ر طولی بآسانی پڑھی جائے گی اور الم تر وغیرہ سے پڑھا دے اور مقتدی جماعت سے محروم رہیں تو جماعت خلاف سنت اور مخالفت سے جماعت مکروہ ہوگی یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
قرآن عظیم سورہ حجرات سے آخر تك مفصل کہلا تا ہے اس کے تین حصے ہیں حجرات سے بروج تك طوال مفصل بروج سے لم یکن تك اوساط مفصل لم یکن سے ناس تك قصار مفصل ۔ سنت یہ ہے کہ فجر و ظہر میں ہر رکعت میں ایك پوری سورت طوال مفصل سے پڑھی جائے اور عصر و عشاء میں ہر رکعت میں ایك کامل سورت اوساط مفصل سے اورمغرب کے ہر رکعت میں ایك سورت کاملہ قصار مفصل سے۔ اگر وقت تنگ ہو یا جماعت میں کوئی مریض یا بوڑھا یا کسی شدید ضرورت والا شریك جس پر اتنی دیر میں ایذا و تکلیف و حرج ہوگا تو اس کا لحاظ کرنا لازم ہے جس قدر میں وقت مکروہ نہ ہونے پائے اور اس مقتدی کو تکلیف نہ ہو اسی قدر پڑھیں اگر چہ صبح میں انا اعطینا و قل ھواﷲ احد ہوں یہی سنت ہے اور جب یہ دونوں باتیں نہ ہوں تو اس طریقہ مذکورہ کا ترك کرنا صبح یاعشاء میں قصارمفصل پڑھنا ضرور خلاف سنت و مکروہ ہے مگر نماز ہوجائے گی واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۴۹۲ : ۲۱ ربیع الاخر ۱۳۲۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ امام کے پیچھے لفظ آمین کو کس قدر آواز سے کہے اگر برابر والے نمازی جو اس سے دوسرے یا تیسرے درجے پر ہیں سنیں تو کوئی حرج ہے یا نہیں
#10570 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
(۲) سوائے لفظ امین کے اور کچھ پڑھے تو کس قدر آواز سے پڑھنا چاہئے
(۳) حقہ تمباکو کو پینے والے کے منہ کی بو نماز میں دوسرے نمازی کو معلوم ہوئی تو کوئی قباحت تو نہیں بینوا تو جروا۔
الجواب :
(۱-۲)امین سب کو آہستہ کہنا چاہئے امام ہو خواہ مقتدی خواہ اکیلا یہی سنت ہے اور مقتدی کو سب کچھ آہستہ ہی پڑھنا چاہئے آمین ہو خواہ تکبیر خواہ تسبیح ہو خواہ التحیات و درود خواہ سبحنك اللھم وغیرہ ۔ اورآہستہ پڑھنے کے یہ معنی ہیں کہ اپنے کان تك آواز آنے کے قابل ہو اگر چہ بوجہ اس کے یہ خود بہرا ہے یا اس وقت کوئی غل وشور ہورہا ہے کان تك نہ آئے اور اگر آواز اصلا پیدا نہ ہوئی تو صرف زبان ہلی تو وہ پڑھنا پڑھنا نہ ہوگا اور فرض و واجب و سنت و مستحب جو کچھ تھا وہ ادا نہ ہوگا فرض ادا نہ ہوا تو نماز ہی نہ ہوئی اور واجب کے ترك میں گنہگار ہوا اورنماز پھیرنا واجب رہا اور سنت کے ترك میں عتاب ہے اور نماز مکروہ اور مستحب کے ترك میں ثواب سے محرومی پھر جو آوا زاپنے کان تك آنے کے قابل ہوگی وہ غالب یہی ہے کہ برابر والے کو بھی پہنچے گی اس میں حرج نہیں ایسی آواز آنی چاہئے جیسے راز کی بات کسی کے کان میں منہ رکھ کر کہتے ہیں ضرور ہے کہ اس سے ملا ہوا جو بیٹھا ہو وہ بھی سنے مگر اسے آہستہ ہی کہیں گے واﷲ تعالی اعلم۔
(۳) منہ میں بدبو ہونے کی حالت میں نماز مکروہ اور ایسی حالت میں مسجد میں جانا حرام ہے جب تك منہ صاف نہ کرلے اور دوسرے نمازی کو ایذا پہنچی حرام ہے اور دوسرا نمازی نہ بھی ہو تو بدبو سے ملئکہ کو ایذا پہنچتی ہے حدیث میں ہے :
ان الملئکۃ تتاذی بمایتاذی بہ بنو ادم ۔ واﷲ تعالی اعلم
کیونکہ ملائکہ ہر اس شے سے اذیت پاتے ہیں جس سے بنی آدم اذیت پاتے ہیں ۔ (ت)
مسئلہ نمبر ۴۹۵ : الحمد شریف قرآن شریف سے ہے نماز میں کیوں واجب کی گئی اور سورت کا ملانا کیوں فرض رکھا گیااور اگر مصلی الحمد بھول جائے تو اس پر سجدہ سہو واجب ہوتا ہے اور آیتیں پڑھنا بھول جائے تو نماز جاتی رہتی ہے ا س کے بدلے سجدہ سہو نہیں رکھا گیا اس کی کیا وجہ ہے اور الحمد واجب ٹھہری اور مقتدی پیچھے امام کے الحمد نہیں پڑھتا ہے اور الحمد کے نہ پڑھنے سے سجدہ سہو لازم آتا ہے توا س مقتدی کی نماز بغیر سجدہ سہو کئے ہوئے کیونکر صحیح ہوجاتی ہے بینوا توجروا
حوالہ / References صحیح مسلم باب نہی من اکل ثوامًا اوبصلًا الخ قدیمی کتب خانہ اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۰۹
#10571 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
الجواب :
سورۃ ملانا بھی فرض نہیں نہ اس کے ترك سے نماز جائے وہ بھی مثل فاتحہ واجب ہی ہے اور اس کے ترك کی بھی سجدہ سہو سے اصلاح ہوجاتی ہے جبکہ بھول کر ہو یہی حال فاتحہ کا ہے تو یہ مسئلہ ہی سائل کو غلط معلوم ہے جس کی بنا پر طالب فرق ہے فرض صرف ایك آیت کی تلاوت ہے سورہ فاتحہ سے ہو یا کسی سورت سے۔
فاقرءوا ما تیسر من القران- ۔
اﷲ تعالی کا فرمان ہے جو آسان ہو وہ پڑھو۔ (ت)
سورہ فاتحہ اور فرضوں کی پہلے دو۲ رکعتوں میں ضم سورت کا وجوب سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی مواظبت اور بعض احادیث احاد قولیہ سے ثابت ہوا یہ وجوب ہمارے ائمہ کے نزدیك صرف امام و منفرد پر ہے مقتدی پر نہیں تو لزوم سجدہ کی کوئی وجہ نہیں نہ ترك قصدی میں نہ سہو مقتدی سے اس پر سجدہ لازم آئے گا اگر چہ دس واجب ترك ہوں واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۹۶ : ۲۶ صفر ۱۳۱۷ھ
امام نے جمعہ میں ایك آیت پڑھی بسبب بھول جانے کے اس کو دوسری بار پڑھ کر دوسری آیتوں کی طرف منتقل کیا ایسی صورت میں نماز مکروہ تحریمی یا تنزیہی یا جائز بلاکراہت یا سجدہ لازم ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
جبکہ بمجبوری سہو تھا کچھ کراہت نہیں اور اگر آیت کے یاد کرنے میں بقدرر کن ساکت نہ رہا تو سجدہ سہو بھی نہیں ورنہ سجدہ لازم ہے۔ کما فی الدرالمختار (جیسا کہ درمختار میں ہے ۔ ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۴۹۷ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ نماز میں مثل سورہ والیل کے درمیان چھوڑ کر پڑھنا اگر چہ سہوا ہو کیسا ہے مثلا رکعت اولی میں والشمس اور رکعت ثانیہ والضحی پڑھے ۔
الجواب :
فرضوں میں قصدا چھوٹی سورت بیچ میں چھوڑدینا مکروہ ہے اور سہوا اصلا کراہت نہیں والیل والشمس سے پانچ آیت زائد ہے ایسی صورت میں کراہت نہیں
فی الدرالمختار یکرہ الفصل بسورۃ قصیرۃ اھ۔
در مختار میں ہے کہ چھوٹی سورت کے ساتھ فاصلہ(چھوڑ دینا ) مکروہ ہے اھ۔
حوالہ / References القرآن ۷۳ / ۲۰
درمختار باب السجود سہو مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۰۲
درمختار فصل ویجہر الامام مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۸۱
#10572 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
فی ردالمحتار اما بسورۃ طویلۃ بحیث یلزم منہ اطالۃ الرکعۃ الثانیۃ فلا یکرہ شرح المنیۃ الخ ۔ فی الدر اطالۃ الثانیۃ علی الاولی یکرہ تنزیھا اجماعا ان بثلث ایات ان تقاربت طولا وقصرا والا اعتبر الحروف الکلمات واعتبر الحلبی فحش الطول لاعدد الایات واستثنی فی البحر ماوردت بہ سنۃ واستظھرفی النفل عدم الکراھۃ مطلقا وان باقل لایکرہ لانہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وصلی بالمعوذتین واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
ردالمحتار میں ہے کہ اگر وہ چھوڑی جانے والی سورت اتنی بڑی ہے کہ اس سے دوسری رکعت کا پہلی رکعت سے نہایت ہی طویل ہونا لازم آتا ہو تو پھر مکروہ نہیں شرح المنیۃ الخ ۔ درمختار میں دوسری رکعت کو پہلی پر تین آیتوں کی مقدار لمبا کرنا بالاجماع مکروہ تنزیہی ہے اگر دونوں رکعتوں کی آیتیں بڑی اور چھوٹی ہونے میں قریب قریب ہوں اگر آیتیں ایك سی نہ ہوں تو حروف اور کلمات کا اعتبار ہوگا ۔ اورحلبی نے فحش طول کا اعتبار کیا ہے نہ کہ آیتوں کے شمار کا ۔ اور بحرالرائق میں ان سورتوں کو مستثنی کہا ہے جن کے متعلق حدیث وا رد ہے(یعنی ان کے پڑھنے میں کراہت نہیں ہے)اور نفلوں میں مطلقا (یعنی اس کے متعلق حدیث وارد ہو یا نہ ہو) عدم کراہت کو ترجیح ہے اگر دوسری رکعت کی زیادتی تین آیات سے کم ہو تو مکروہ نہیں کیونکہ سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے معوذتین سے فجر کی نماز پڑھائی ہے واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم (ت)
مسئلہ نمبر ۴۹۸ : اس میں کیا حکمت ہے کہ فرضوں کی دو کعت خالی اور دورکعت بھری پڑھی جاتی ہیں اور سنت اور نفلوں میں قرأت لازم ہو کر چاروں بھری ہوگئیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
الجواب :
نماز میں صرف دو ہی رکعت میں تلاوت قرآن مجید ضرور ہے سنت و نفل کی ہر دورکعت نماز جداگانہ ہے لہذاہر دورکعت میں قرأت لازم ہو کر چاروں بھری ہو گئیں ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۹۹ : زید نے اول وقت نماز پڑھی اور بعد فراغ سنن مغرب سے دورکعت نفل جماعت سے بالجہر سوا پارے سے پڑھے پھراس کے متصل نماز عشاء کا وقت آیا یہ دونوں نفل جو ما بین عشاء و مغرب باجماعت جہر سے پڑھے جائز ہیں یا نہیں
الجواب :
اگر اس جماعت نفل میں صرف دو یا زیادہ سے زیادہ تین مقتدی تھے اور ان میں کسی پر اتنی قرأت
حوالہ / References ردالمحتار ، فصل ویجہر الامام مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۰۴
درمختار فصل ویجہر الامام مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۸۰
#10573 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
طویل گراں تکلیف دہ نہ تھی تو یہ جماعت و قرأت جائز بلامنع وکراہت ہوئی ورنہ مکروہ و ممنوع بحرالرائق میں ہے :
قال شمس الائمۃ الحلوائی ان کان سوی الامام ثلثۃ لایکرہ بالاتفاق وفی الاربع اختلف المشائخ والاصح انہ یکرہ اھ ھکذا فی شرح المنیۃ ۔
امام شمس الائمہ حلوائی فرماتے ہیں جماعت نفل میں اگر امام کے علاوہ تین افراد ہوں تو بالاتفاق کراہت نہیں چار میں مشائخ کا اختلاف ہے اصح یہی ہے کہ مکروہ ہے اھ شرح المنیہ میں اسی طرح ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
والظاھر انھا فی تطویل الصلوۃ کراھۃ تحریم للامر بالتخفیف وھو للجواب الا لصارف ولادخال الضرر علی الغیر اھ واﷲ تعالی اعلم۔
ظاہر یہی ہے کہ نماز میں طوالت مکروہ تحریمی ہے کیونکہ تخفیف کے لئے امروارد ہے جو سوائے صارف کے اور اس لئے کہ یہاں غیر کو نقصان ہوتا ہے اھ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ نمبر ۵۰۰ : ازبنارس تھانہ بہلولپورہ محلہ احاطہ روہیلہ مرسلہ عبدالرحمن رفو گر ۲۸ محرم ۱۳۳۲ھ
حضرت کی خدمت میں یہ عرض ہے کہ اذاجائکے آخرمیں جو پڑھا کرتے ہیں انہ کان تواباکے پاس پڑھا کرتے تھے مولینا امجد علی صاحب تو وہ ذرا سا لکھ دیجئے گا فقط۔
الجواب :
مستحب طریقہ یہ ہے کہ آخر سورہ میں اگر نام الہی جیسے سورہ اذا جاء میں انہ کان تواباتو اس پر وقف نہ کرے بلکہ رکوع کی تکبیر اﷲ اکبرکا ہمزہ وصل گرا کر اس سورہ کا آخری حرف لام اﷲ سے ملادے جیسے اذاجاء میں توابان اﷲ اکبر ب قیام کی حالت میں اور دونوں لام سے ملتا ہوا رکوع کے لئے جھکنے کی حالت میں اس طرح کہ رکوع پورا نہ ہونے تك اکبر کی رختم ہوجائے یونہی سورہ والتین میں احکم الحاکمین کے ن کو زبر دے کر اﷲ اکبرکے ل میں ملادے اور جس سورہ کے آخر میں نام الہی نہ ہو اور کوئی لفظ نام الہی کے مناسب بھی نہ ہو وہاں یکساں ہے چاہے وصل کرے یا وقف جیسے الم نشرح میں فارغب اﷲ اکبراور جہاں کوئی لفظ اسم الہی کے نامناسب ہو جیسے سورہ کوثر کے آخر میں ھو الابتر وہاں فصل ہی چاہئے وصل نہ چاہئے ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References البحراالرائق باب الامامۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۴۵
البحراالرائق ، باب الامامۃ ، مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۵۱
#10574 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
مسئلہ نمبر۵۰۱ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ صبح کی نماز طلوع آفتاب سے کس قدر پہلے ہونا چاہئے اور کتنی آیتیں پڑھنا چاہئے اور اگر کوئی خرابی نماز میں ہوجائے تو کیا اسی آیت کو جو کہ پہلے پڑھی گئی اس کی مقدار پڑھنا چاہئے یا کم بینوا تو جروا۔
الجواب : نماز صبح میں بحال گنجائش وقت و عدم عذر چالیس سے ساٹھ تك آیت پڑھنا چاہئے اور طلوع آفتاب سے اتنے پہلے ختم ہوجانا چاہئے کہ اگر نماز میں کوئی خرابی ظاہر ہو تو چالیس آیتوں سے قبل طلوع اعادہ ہوسکے اوراس کے لئے دس منٹ کافی ہیں اور اگر وقت کم رہ گیا اور خرابی ظاہر ہوئی تو بقدر گنجائش وقت آیات پڑھے اگر چہ سورہ کوثر و اخلاص ہو واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۰۲ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے نماز پڑھائی والعصر ان الانسان لفی خسر الا الذین میں الا پڑھ کر وقف کیا پھر الا الذین امنو سے آخر تك ختم کیا نماز درست ہے یا نہیں وقیل من (سکتہ) راق وظن انہ الفراق میں سکتہ کیسا ہے اور لفظ من کے نون کو راق کی رامیں ادغام نہ کرنا کیسا ہے
الجواب :
نماز ہوگئی ہر آیت پر وقف جائز ہے اگر چہ آیت لاہو ہماری یعنی امام خصص کی قرأت میں نون پر سکتہ ہے کہ ادغام سے کلمہ واحدہ نہ مفہوم ہو۔ مراق بر وز ن براق اور تمام باقی قرأ ادغام کرتے ہیں تو دونوں ہیں مگر یہاں عوام کے سامنے ادغام نہ کرے کہ وہ معترض نہ ہوں ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۵۰۳ : از موضع گھورنی ڈڈاکخانہ کرشن گڑھ ضلع انڈیا ۶جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
ض را مشابہ صوت ظ مجمعہ باید خواند یا مماثل صوت دال مہملہ و ہر کہ دال محض خواند نمازش روابود یا نہ ودریں ملك را تقریبا ہمہ خواص و عوام مشابہ دال می خوانند و خوائند ہ ض مشابہ ظ از بس قلیل بینوا تو جروا۔
ض کو ظاء معجمہ کی آواز یا دال مہملہ کی آواز کے مشابہ پڑھنا چاہئے اور جو اسے محض دال پڑھے اس کی نماز درست ہوگی یا نہ ہمارے ملك میں تقریبا تما م خواص و عوام اسے دال سے مشابہ پڑھتے ہیں ظاء کے مشابہ بہت قلیل لوگ پڑھتے ہیں جواب دے کر اجر پاؤ۔ (ت)
الجواب :
صوت ایں حرف را خالق عزوجل از ہمہ حروف جدا
اﷲ تعالی نے اس حرف کی ادائیگی اور آواز کو دوسرے
#10575 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
آفریدہ است حقیقۃ ہیچ حرف مشابہ با ونیست فرض قطعی آنست کہ مخرجش آموز وطرز ادایش یا دگیردو قصد حرف منزل من اﷲ کند واز پیش خویش نہ ظا خواند نہ دال کہ ہر دومباین اوست و شبانہ روز سعی موفور بجائے آورد تا آنکہ می کو شد چہ برآید روا باشد لا یكلف الله نفسا الا وسعها- فامااگر برصحیح قادر نہ شود امامت صحیح نتواں کرد درفتاوی خیریہ است امامۃ الثغ با تفصیح فاسدہ فی الراجح الصحیح وبراد فرض باشد کہ تاپس صحیح خواند نماز تواں یافت تنہا نہ گزارد کہ دراقتدا ازقرأت بے نیاز باشد وآنکہ مخرج نیا موخت یا درصحیح او سعی نہ کرد اگر از زبالش ظا یا دال ادا شود ہرچہ بافساد معنی شود نماز فاسد شود ورنہ نے واگر بہر دو فساد نعنی رونماید چنانکہ مغظوب و مغذوب بہر دوفاسد شودایں ہم آنگاہ ہست کہ قصد حرف منزل من اﷲ کند وزبان یادری نہ دہد ظا یا دال اداشود چنانکہ صورت اخیرہ درعوام ہند و بنگالہ است واگربالقصد بجائے او حرفے دیگر نشاندن خواہد حکم او سخت تر شود زیرا کہ تبدیل کلام اﷲ میکند چنانکہ بعض نامقلدان تصریح کردہ اند کہ ضادنتواں ظا خواند امام اجل ابوبکرمحمد بن الفضل رحمۃ اللہ تعالی علیہ دریں صورت حکم کفر فرمودہ است کما فی منح الروض الازہر ومارادریں مسئلہ رسالہ ایست مختصرہ جامعہ الجام الصاد عن سنن الضاد آنجا ایں را رنگ تفصیل تمام حروف سے جدا پیدا فرمایا ہے حقیقی طور پر کوئی بھی اس کے مشابہ نہیں اس لئے فرض قطی یہ ہے کہ اس کا مخرج سیکھا(جانا) جائے اس کی ادائیگی کا طریقہ یاد کیا جائے اور اس حرف کا ارادہ کیا جائے جو اﷲ کی طرف سے نازل ہے اپنی طرف سے نہ اسے ظا پڑھا جائے اور نہ ہی دال کیونکہ یہ دونوں اس کے مخالف ہیں شبانہ روز کی محنت و کوشش کے بعد جو پڑھا جاسکے وہ درست ہوگا کیونکہ اﷲ تعالی کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگراس کی طاقت بھر۔ اگر حرف کی صحیح ادائیگی پر قادر نہ ہوا تو اس کو امامت کرانا درست نہیں فتاوی خیریہ میں ہے کہ توتلے کا فصیح کی امامت کرنا راجح اور صحیح مذہب میں فاسد ہے اور ایسے شخص پر فرض ہے کہ وہ کسی صحیح کی اقتداء میں نماز ادا کرے اگر اقتداء ممکن ہو تنہا نہ پڑھے کیونکہ اقتداء کی صورت میں وہ قرأت سے بے نیاز ہوجائے گا اور وہ شخص جس نے ض کا مخرج نہ سیکھا یا اس کی صحت کے لئے کوشش نہ کی ہو اگر اس کی زبان سے ضاد کی جگہ ظا یا دال ادا ہو جس کے ساتھ فساد معنی ہوگا اس سے نماز بھی فاسد گی اور جس کے ساتھ فساد معنی نہ ہوگا تو اس سے نماز ہوجائیگی اور اگر دونوں صورتوں میں فساد معنی ہو مثلا مغظوب اور مغدوب تو دونوں صورتوں میں نماز فاسد ہوگی۔ یہ تمام اس وقت ہے جب اس سے
حوالہ / References القرآن ۲ / ۲۸۶
فتاوٰی خیریۃ کتاب الصلٰوۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۱۰
#10576 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
دادہ ایم وباﷲ التوفیق واﷲ تعالی اعلم۔
قصد اسی حرف کا ہو جو اﷲ تعالی کی طرف سے نازل کردہ ہے مگر زبان معاون نہ بنی اورظا یا دال ادا ہوگیا جیسے کہ عوام اہل ہند و بنگالہ کا معاملہ آخری صورت میں اسی طرح ہے اور اگر قصدا اس کی جگہ کوئی دوسرا حرف پڑھا تو ا سکا حکم شدید ترین ہوگا کیونکہ یہ توا ﷲ تعالی کے کلام میں تبدیلی کرنا ہے جیسا کہ بعض غیر مقلدین نے تصریح کی کہ ضاد کو نہ پڑھا جاسکے تو ظاء پڑھے۔ امام ابوبکر محمد بن فضل رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے مذکورہ صورت میں کفر کا حکم جاری فرمایا ہے جیسا کہ منح الراض الازہر میں موجود ہے ہم نے اس موضوع پر ایك مختصر مگر جامع رسالہ لکھا ہے جس کا نام الجامع الصاد عن سنن الضاد رکھا ہے۔ اس مسئلہ کی تفصیل وہاں خوب کی ہے وباﷲ التوفیق واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ نمبر ۵۰۴ : از رادھن پور گجرات قریب احمد آباد مرسلہ حکیم محمد میاں صاحب ۱۷ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
جمعہ کی اذان کے بعد بہت آدمی مسجد میں جمع ہو کر سورہ کہف پڑھتے ہیں بلند آواز سے اور بغیر پڑھے جو لوگ ہیں یعنی ان پڑھ نمازی بھی ہوتے ہیں جن کو کلام مجید پڑھنا ہی نہیں آتا وہ نمازی سورہ کہف شوق سے سنتے ہیں اور بعض نمازی جو دیر سے آتے وہ نفل پڑھ کر سنتے ہیں نفل پڑھنے والے کہتے ہیں سورہ کہف بلند آواز سے مت پڑھو ہمارے نفل میں خرابی آتی ہے نفل کا ثواب زیادہ ہے یا سورہ کہف پڑھنے کا بعد ختم سورہ کہف کے تمام نمازی سنتیں پڑھتے ہیں مولوی مذکور فرماتے ہیں زور سے ہر گز مت پڑھو نفل نماز میں خرابی آتی ہے آیا سورہ کہف کو بلند آواز پڑھیں یا نہیں یا نفل نماز چھوڑ دیں
الجواب :
حدیث صحیح میں قرآن مجید با آواز ایسی جگہ پڑھنے سے جہاں لوگ نماز پڑھ رہے ہوں ممانعت فرمائی ہے ا ور قرآن عظیم نے حکم فرمایا ہے کہ قرآن پڑھا جائے کان لگاکر سنو اور چپ رہو تو ایسی جگہ جہر سے پڑھنا ممنوع اور دو یا زیادہ آدمیوں کا بآواز پڑھنا اور شدید ممنوع کہ مخالف حکم قرآن اور قرآن عظیم کی بے حرمتی ہے ان لوگوں کو چاہئے کہ آہستہ پڑھیں اور نفل پڑھنے والے نفل سے نہیں روکے جاسکتے نفل نماز مستحب تلاوت سے افضل ہے کہ ا س میں تلاوت بھی ہے رکوع سجود بھی ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۰۵ : از کھنوڑہ ڈاکخانہ خاص ضلع ہوشیار پور مرسلہ امجد علی خان صاحب معرفت مولوی شفیع احمد صاحب متعلم مدرسہ اہلسنت ۱۲ جمادی االاخری ۱۳۳۶ھ
زید کہتا ہے کہ مخارج حروف معلوم کرنا اور ان سے حروف نکالنا فرض ہے ہاں باوجود کوشش کے اگر
حوالہ / References القرآن ۷ / ۲۰۴
#10577 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
ما ینبغی ادا نہ ہوئے تو اس قدر میں معذور رہے گا اور اگر مخارج ہی نہیں معلوم یا معلوم ہیں نکالتا نہیں تو نماز ہر گز نہ ہوگی اگر صحیح ہے تو اکثر مسلمان فرض کو چھوڑدیں یا کسی حرام کے مرتکب ہوں تو اس فعل سے ساقط یاحلال نہ ہوجائے گا یوں تو اکثر مسلمان نماز ہی نہیں پڑھتے اورجو پڑھتے ہیں ان میں اکثر مواضبت نہیں کرتے سو میں ننانوے۹۹ یا اس کے قریب غیبت سے پر ہیز نہیں کرتے تو قول زید صحیح ہے یا نہیں
الجواب : زید کے ا قوال مذکورہ سب صحیح ہیں سوائے اتنے لفظ کے کہ اگر مخارج معلوم نہیں تو نماز صحیح نہ ہوگی مخارج معلوم ہونا ضرور نہیں حروف صحیح ادا ہونا ضرور ہے بہتیرے ہیں کہ سن سن کر صحیح پڑھتے ہیں اگر ان سے پوچھا جائے تو مخارج بتا نہیں سکتے اردو زبان والا ہر جاہل اپنی زبان کے حروف ٹھیك ادا کرتا ہے اور مخارج نہیں بتا سکتا ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۵۰۶ : ازبریلی مرسلہ حضرت محمد میاں صاحب مد ظلہ العالی
یہ ارشاد فرمائیں کہ قرآن کریم کی اس قدر تجوید کہ حرف اپنے غیر سے ممتا ز رہے فرض عین ہے کتب فقہ میں مذکور ہے اگر ہے تو کس کتاب میں کس جگہ جناب کی نظر میں اس بارہ میں صرع تصریح کس کتاب کی ہے اوراگر کوئی حدیث اس بارہ میں اس وقت پیش نظر ہو تو اس کا ارشاد ہو۔
الجواب :
تمام کتابوں مین تصریح ہے کہ ایك حرف کی جگہ دوسرے سے تبدیل اگر عجزا ہو تو مذہب صحیح و معتمد میں اور خطئا ہو تو ہمارے ائمہ مذہب کے نزدیك مفسد نماز ہے جبکہ مفسد معنی ہو یا امام ابی یوسف کے نزدیك جبکہ وہ کلمہ قرآن کریم میں نہ ہو اور اس سے بچنا بے تعلم تمایز حروف ناممکن اور فساد نماز سے بچنا فرض عین ہے۔ قال اﷲ تعالی و لا تبطلوا اعمالكم(۳۳) (اﷲ تعالی کا فرمان ہے تم اپنے اعما ل باطل نہ کور۔ ت)مقدمہ امام جزری میں ہے :
اذواجب علیھم محتم قبل الشروع اولا ان یعلموا مخارج الحروف والصفات لینطقوا بافصح اللغات ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
قرآن پاك میں شروع ہونے سے پہلے اولا قاریان قرآن پر حروف کے مخارج و صفات (ذاتیہ و عرضیہ) کا جاننا قطعا ضروری ہے تاکہ قاریان قرآن صحیح ترین لغات کے ساتھ قرآن پاك کا نطق کرسکیں (یعنی پڑھ سکیں )۔ (ت)
حوالہ / References القرآن ۴۷ / ۳۳
مقد مہ جزریہ خطبۃ الکتاب مطبوعہ سعیدیہ کتب خانہ قصہ خوانی بازار پشاور ص ۴
#10578 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
مسئلہ نمبر ۵۰۷ : ازماہرہ مطہرہ ضلع ایٹہ درگاہ شریف مرسلہ صاحبزادہ حضرت سید شاہ محمد میاں صاحب دامت برکاتہم
والا نامہ میں متعلق تجویدارشاد جناب ہے دو ایك حرف کہ دوسرے سے تبدیل اگر عجزا ہو تو مذہب صحیح و معتمد میں مفسد نماز ہے جبکہ مفسد معنی ہو یا امام ابی یوسف کے الخ مجھے اس میں تامل ہے کہ الثغ کی نماز صحیح ہے جبکہ وہ اپنی سعی و کوشش اور صحیح حروف نکالنے میں کوتاہی نہ کرتا ہو اس کوشش کے بعد کوئی تقیید مفسد معنی یا غیر مفسد معنی کی خود جناب نے بھی اپنے اصلاح رسالہ مباحث امامت میں نہیں زائد فرمائی۔
الجواب :
الثغ کی نماز جبھی تو صحیح ہے کہ وہ تصحیح حرف میں کوشش کئے جائے یہ بھی بے تعلیم صحیح ناممکن یہی تعلیم تجوید ہے تو اس کی فرضیت قطا ثابت اگر صحیح کو نہ سیکھے یا سیکھے اور اس کے ادا کرنے کی کوشش نہ کرے تو نماز ضرور باطل ہوگی تو علم و عمل دونوں فرض ہوئے ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۰۸ : از اردہ نگلہ ڈاکخانہ اچھیزہ ضلع آگرہ
حرف ضاد کو بصورت دواد یعنی دال پر پڑھتے ہیں یہ صحیح ہے یا غلط اگر غلط ہے تو نماز فاسد ہوتی ہے یا نہیں اور اکثر لوگ ض اور ظ میں بسبب ہونے مشابہت کے فرق نہیں کرسکتے ان کی نماز درست ہوتی ہے یا نہیں
الجواب :
یہ حرف نہ د ہے نہ ظ صورتیں تین ہیں :
(۱) قصدا حرف منزل من اﷲ کی تبدیل کرے یہ دواد والوں میں نہیں وہ اپنے نزدیك ضاد ہی پڑھتے ہیں نہ یہ کہ اس سے ہٹ کر دال مفخم اس کی جگہ بالقصد قائم کرتے ہیں البتہ ظا والوں میں ایسا ہے ان کے بعض نے تصریحا لکھ دیا کہ ض کی جگہ ظ پڑھو اور سب مسلمانوں اس پر عمل پیرا ہوجاؤ یہ حرام قطعی ہے اور اشد اخبث کبیرہ بلکہ امام اجل ابوبکر فضلی وغیرہ اکابر ائمہ کی تصریح سے کفر ہے کما فی منح الروض الازھر والفتاوی عالمگیریۃ وغیرھما(جیسا کہ منح الروض الازہر فتاوی عالمگیری اور دیگر کتب میں ہے۔ ت) ان کی نماز پہلی ہی بار مغظوب پڑھتے ہی ہمیشہ باطل ہے۔
(۲) خطئا تبدیل ہو یعنی ادائے ض پر قادر ہے اسی کا قصد کیا اور زبان بہك کر دال یا ظ ادا ہوئی اس میں متاخرین کے اقوال کثیرہ و مضطرب ہیں اور ہمارے امام مذہب رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ مذہب ہے اگر فساد معنی ہو تو نماز فاسد ورنہ صحیح۔
(۳) یہ کہ عجزا تبدیل یعنی قصد توض کا کرتا ہے مگر ادا نہیں کر سکا د یا ظ ادا ہوتی ہے اور ہندوستان
#10579 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
میں اکثر دواد والے ایسے ہی ہیں ان پر فرض عین ہے کہ ض کا مخرج اور اسکا طریقہ ادا سیکھیں اور شبانہ روز حد درجے کی کوشش اس کی تصحیح میں کریں جب تك کوشاں رہیں گے ان کی نماز صحیح کہی جائے گی جبکہ صحیح خواں کے پیچھے اقتداء پر قادر نہ ہوں ان کی اپنی بھی باطل اوران کے پیچھے اوروں کی بھی باطل یہی حکم ظائیوں کا ہے جبکہ قصدا تبدیل نہ کرتے ہوں یہ خلاصہ حکم ہے اور تفصیل ہمارے رسالہ الجام الصاد عن سنن الضاد میں ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۵۰۹ : از جڑودہ ضلع میرٹھ مرسلہ سید صابر جیلانی صاحب
کیا سورہ تبت کانماز میں پڑھنا بہتر ہے
الجواب :
سورہ تبت کے پڑھنے میں استغفراﷲ اصلا کوئی حرج نہیں ۔
مسئلہ نمبر ۵۱۰ : از شہر بریلی محلہ سودگران مدرسہ منظرالاسلام مولوی محمد افضل صاحب۶ جمادی الاخری ۱۳۳۷ھ
چہ می فرمایند علمائے دین دریں مسئلہ کہ در لما یتفجر منہ الانھر خواندہ شد لما نماز شدبغیر کراہت یا نہ
اس مسئلہ میں علمائے دین کی کیا رائے ہے کہ ایك شخص نے لما یتفجر منہ الانھرمیں لما شد کے ساتھ پڑھا نماز بغیر کراہت کے درست ہوگی یا نہیں
الجواب :
نماز درست باشد وبحال سہو وزلت کراہت نیست وحذف جزا برائے دلالت برعظمت شانش شائع است قال اﷲ تعالی
فلما اسلما و تله للجبین(۱۰۳) و نادینه ان یابرهیم(۱۰۴) جزاذکر نفر مود ہمچناں ایں جا تاویل شود کہ وان منھا ما یکون منہ شیئ عجیب لما یتفجر منہ الانھر بالجملہ نماز درست ہوگی بھول اور پھسل جانے کی صورت میں کراہت نہیں اس کی عظمت شان کے پیش نظر جزا کا حذف مشہور و معروف ہے اﷲ تعالی کا ارشاد ہے
فلما اسلما و تله للجبین(۱۰۳) و نادینه ان یابرهیم(۱۰۴) یہاں جزا کو ذکر نہیں فرمایا اسی طرح مذکورہ مقام میں تاویل ہوسکتی ہے کہ
حوالہ / References القرآن ۳۷ / ۱۰۳
#10580 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
دریں صورت فساد معنی نیست۔ واﷲ تعالی اعلم
ان میں بعض وہ ہیں جس سے شیئ عجیب صادر ہوتی ہے کہ جب وہ پھٹتے ہیں تو اس سے نہریں جاری ہوتی ہیں الغرض اس صورت میں فساد معنی نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ نمبر ۵۱۱ : از الہ آباد محلہ نخاس کہنہ بر مکان دھوم شاہ صاحب مرسلہ محمد ناظم آزاد حقانی مظفر پوری مقیم حال الہ آباد ۱۱ رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و شرع متین اس مسئلہ مین کہ نماز جمعہ میں اما م الحمدکی تین آیتوں سے زیادہ پڑھ چکا ہو اور قرأت سے رك گیا ہو پیچھے سے کسی مقتدی نے لقمہ دیا اس نے بجائے لقمہ لینے کے خود سورت کو اعادہ کیا جس آیت پر رکا تھا اس آیت کو نکال کر سورت کو پورا کیا بعد ازاں رکوع و سجود وغیرہ کیا بعد میں لقمہ دینے والے مقتدی سے امام نے کہا کہ تمہاری نماز باطل ہوگئی اب سوال یہ ہے کہ اس صورت میں مقتدی کو لقمہ دینا چاہیئے یا نہیں اور ایسی صورت میں لقمہ دینا جائر ہے یا نہیں اور صورت مسئولہ میں مقتدی کی نماز ہوگئی یا نہیں
الجواب :
مقتدی و امام سب کی نماز ہوگئی مقتدی لقمہ دے سکتا ہے اگر چہ امام سو آیتیں پڑھ چکا ہو یہی صحیح ہے امام نے جس خیال پر نماز مقتدی باطل مانی امام کی خود کب ہوئی اگر وہ خیال صحیح ہو تو امام کی بھی باطل ہوئی کہ لقمہ دینا کلام ہے اور وہ باجازت شرع رکھا گیا اگر تین آیتوں کے بعد اجازت شرع نہ تھی تو مقتدی کی نماز گئی اور اس کے لقمہ دینے سے امام کو یاد آگیا تو اس نے خارج از نماز سے تعلیم پاکر آیت پڑھی اور شروع سورت سے اعادہ کرنا اس یاد دہانی کو باطل نہیں کرسکتا توامام کی اپنی بھی گئی اور اس کے سبب سے سب کی گئی ۔ رہا یہ کہ صرف اس مقتدی کی نماز باطل ہوئی امام و جماعت کی ہوگئی یہ محض باطل ہے اور صحیح وہ ہے کہ سب کی ہوگئی۔ درمختار میں ہے :
فتحہ علی امامہ فانہ لا یفسد مطلقا لفاتح واخذ بکل حال الا اذا سمعہ الموتم من غیر مصل ففتح بہ تفسد صلاۃ الکل ۔
مقتدی کا اپنے امام کو لقمہ دینا نماز کے لئے مطلقا ہر حال میں فاسد نماز نہیں ہوتا مطلقا کا مطلب یہ ہے کہ نہ لقمہ دینے والے کی نماز ٹوٹتی ہے اور نہ لینے والے کی اور ہر حال میں اسکا مطلب یہ ہے کہ برابر ہے امام اس قدر بڑھ چکا ہو جس سے نماز درست ہوتی ہے یا نہ پڑھ چکا ہو
حوالہ / References دُرمختار باب ما یفسد الصلٰوۃ الخ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۹۰
#10581 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
البتہ اس صورت میں تمام کی نماز فاسد ہوجائے گی جب مقتدی نے کسی غیر نمازی سے سنا اور اپنے امام کو لقمہ دے دیا اور امام نے لے لیا۔ (ت)ردالمحتار میں ہے :
قولہ بکل حال ای سواء قرأ الامام ما تجوز بہ الصلاۃ ام لا انتقل الی ایۃ اخری ام لا تکرر الفتح ام لا ھو الاصح نھر قولہ الا اذا سمعہ المؤتم الخ فی البحرعن القنیۃ یحب ان تبطل صلاۃ الکل لان التلقین من خارج اھ واقرہ فی النھر واﷲ تعالی اعلم۔
مصنف کے قول “ بکل حال “ سے مراد یہ ہے کہ خواہ امام نے اتنی قرأت کر لی ہو جس سے نماز ہوجاتی ہے یا نہ کی ہو وہ کسی دوسری آیت کی طرف منتقل ہوگیا یا نہ خواہ لقمہ بار بار دیا گیا ہو یا نہ اصح یہی ہے نھر۔ اس کا قول الا اذاسمعتہ المؤتم الخبحر میں قنیہ سے ہے کہ تمام کی نماز باطل ہوجانا ضروری ہے کیونکہ اس صورت میں خارج نماز شخص سے تلقین پائی گئی اور اسے نھر میں چابت رکھا گیا واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ نمبر ۵۱۲ : از ضلع سیونی چھپرہ محلہقاضی قریب مسجد حنفیہ مرسلہ ظہور الحسن طالب علم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ تجوید سے پڑھنا فرض ہے کیونکہ قرآن کاصحیح طور سے پڑھنا فرض ہے تو صحیح پڑھنا بغیر تجوید کے آہی نہیں سکتا تو اس وجہ سے تجوید بھی فرض ہے بتائیے کہ کون حق پر ہے فقط محمد ظہور الحسن طالب علم
الجواب :
بلاشبہ اتنی تجوید جس سے تصحیح حرف ہوا ور غلط خوانی سے بچے فرض عین ہے بزازیہ وغیرہ مین ہے اللحن حرام بلا خلاف (لحن بلا خلاف حرام ہے ۔ ت) جو اسے بدعت کہتا ہے اگر جاہل ہے اسے سمجھا دیا جائے اور دانستہ کہتا ہے تو کفر ہے فرض کو بدعت کہتا ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۵۱۳ : جو شخص حافظ ہو قاری نہ ہو اعراب میں غلطی کرتا ہو یعنی زیر کا زبر جےسے غیر المغضوب کے غ پر زیر پڑھتا ہو اور ایاك کے کاف پر زیر پڑھتا ہو نماز مکروہ تحریمی ہو سکتی ہے یا نہیں اور معنی بدلتے ہیں یا نہیں اور داڑھی بھی کترواتا ہے۔ اور مغرور و متکبرجو جس ہوا پر کھڑا زیر جیسے ربہ اس کو آیت پر وقف آجانے پر وقف کے وقت ربہ پڑھے یا ربہ۔
الجواب :
ایاك نعبد وایاك نستعین میں اگر کاف کو زیر پڑھے گا معنی فاسد ہوں گے اور نماز
حوالہ / References ردالمحتار باب مایفسد الصلٰوۃ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۶۰
فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ بزایۃ الباب الرابع فی الصلٰوۃ والتسبیح و قرأۃ القرآن الخ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۱۷
#10582 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
باطل غیرالمغضوب کے غ کو لوگ زیر پڑھتے بلکہ صحیح ادا پر قادر نہ ہونے کے سبب بوئے کسرہ پیدا ہوتی ہے اور یہ مفسد نما ز نہیں داڑھی کتروانے والے کو امام بنانا گناہ ہے اوراس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی اور مغرور متکبر اس سے بھی بد تر جبکہ وہ علی الاعلان تکبر سے معروف و مشہور ہو۔ وقف کی حالت میں ربہ پڑھا جائے گا اور ربہ کوئی چیز نہیں اور ربہ میں سنت یہ ہے کہ محض کسرہ نہ ہو بلکہ خفیف بوئے یا پیدا ہو نہ یہ کہ بالکل ہی اس کا فرق ادا زبان سے سن کر معلوم ہوسکتا ہے تحریر میں آنے کا نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۱۴-۵۱۵ : از شہر مسئولہ احسان علی طالب علم مدرسہ منظر الاسلام ۵ شوال ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ پارہ دوم۲ نواں رکوع تیسری آیت یعنی كان الناس امة واحدة- کو باظہار تنوین پڑھنا چاہئے یاوقف کے ساتھ یعنی واحدۃ یا واحدہ
(۲) اول رکعت میں ایك بڑی آیت اور دوسری رکعت میں دو تین چار چھوٹی آیتیں پڑھ سکتے ہیں یا نہیں جیسے آیت مذکور کو پوری اول رکعت میں پڑھا اور دوسرے میں ام حسبتم ان تدخلوا الجنة سے دو۲ ایتیں و ما تفعلوا من خیر فان الله به علیم تك تو جائز ہے یا نہیں ۔ بینوا تو جروا
الجواب :
دونوں صورتیں جائز ہیں یہاں علامت قف ہے اوت وصل اولی ہے۔
(۲)بے شك جائز بلا کراہت ہے اور یہ صورت خاصہ ان خاص آیتوں سے کہ سورۃ میں لکھی عین عدل ہے کہ یہ دو۲ آیتیں اس آیت کے تقریبا بلکل مساوی ہیں واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر۵۱۶ : از شہربریلی مدرسہ منظرالاسلام مولوی احسان علی صاحب ۱۱ شوال ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتی ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آیت ما یجوز بہ صلوۃ کتنی مقدار ہے
الجواب :
وہ آیت کہ چھ حرف سے کم نہ ہو اور بہت نے اس کے ساتھ یہ بھی شرط لگائی کہ صرف ایك کلمہ کی نہ ہو تو ان کے نزدیك مدھامتن اگرچہ پوری آیت اور چھ۶ حرف سے زائد ہے جواز نماز کو کافی نہیں اسی کو منیہ وظہ یریہ وسراج وہاج و فتح القدیر و بحرالرائق و درمختار وغیرہا میں اصح کہا اور امام اجل اسبیحابی وامام مالك العلماء ابو بکر مسعود کاشانی نے فرمایا کہ ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیك صرف مدھامتن سے بھی نمازجائز ہے اور اس میں اصلا ذکر خلاف نہ فرمایا درمختار میں ہے :
اقلھا ستۃ احرف ولو تقدیر اکلم یلد
اس آیت کے کم از کم چھ حروف ہوں اگر چہ وہ
#10583 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
الا اذاکانت کلمۃ فالاصح عدم الصحۃ ۔
لفظا نہ ہوں بلکہ تقدیرا ہوں مثلا لم یلد(کہ اصل میں لم یولد تھا) مگر اس صورت میں کہ جب وہ آیت صرف ایك کلمہ پر مشتمل ہو تو اصح عدم صحت نماز ہے(ت)
ہندیہ میں ہے :
الاصح انہ لا یجوز کذافی شرح المجمع لابن ملك وھکذا فی الظہیریۃ والسراج الوھاج وفتح القدیر ۔
اصح یہی ہے کہ اس سے نماز جائز نہیں شرح مجمع لابن مالك میں اسی طرح ہے۔ ظہیریہ السراج الوہاج اورفتح القدیر میں بھی یوں ہی ہے۔ (ت)
فتح القدیر میں ہے :
لو کانت کلمۃ اسما او حرفا نحو مدھامتن ص ق ن فان ھذہ ایات عند بعض القراء اختلف فیہ علی قولہ والاصح انہ لا یجوز لانہ یسمی عاد الا قارئا ۔
اگروہ آیت ایك کلمہ پر مشتمل ہے خواہ اسم ہو یا حرف مثلا مدھامتن ص ق ن کیونکہ یہ بعض قراء کے نزدیك آیات ہیں ان کے قول پر اس میں اختلاف ہے اور اصح یہی ہے کہ یہ جواز نماز کے لئے کافی نہیں کیونکہ ایسے شخص کو قاری نہیں کہا جاتا بلکہ شمار کرنے والا کہا جاتا ہے۔ (ت)
بحرالرائق میں اسے ذکر کرکے فرمایا :
کذا ذکرہ الشارحون وھومسلم فی ص و نحو امافی مدھا متن فذکر الاسبیجابی وصاحب البدائع انہ یجوز علی قول ابی حنیفۃ من غیر ذکر خلاف بین المشائخ ۔
شارحین نے اسے یوں ہی بیان کیا ہے اور یہ بات ص وغیرہ میں تو مسلم مگر مدھامتن کے بارے میں اسبیجابی اور صاحب بدائع نے کہا کہ امام ابو حنیفہ کے قول کے مطابق یہ جواز نماز کے لئے کافی ہے اور انہوں نے مشائخ کے درمیان کسی اختلاف کا ذکر نہیں کیا۔ (ت)
بدائع میں ہے :
فی ظاھر الروایۃ قدر ادنی المفروض
ظاہر الروایہ کے مطابق فرض قرأۃ کی مقدار کم ازکم
حوالہ / References درمختار فصل ویجہر الامام مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۸۰
فتاوٰی ہندیہ الباب الرابع فی صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۶۹
فتح القدیر شرح الہدایۃ ، فصل فی القرأۃ ، مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۱ / ۲۸۹
البحرالرائق شرح کنزالدقائق فصل واذاارادالدخول فی الصلٰوۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۳۸
#10584 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
بالایۃ التامۃ طویلۃ کانت اوقصیرۃ کقولہ تعالی مدھامتن وماقالہ ابوحنیفۃ اقیس ۔
ایك مکمل آیت ہے وہ آیت لمبی ہو یا چھوٹی ۔ جیسے اﷲ تعالی کا ارشاد ہے مدھامتناورامام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے جو کچھ فرمایا ہے وہی زیادہ قرین قیاس ہے۔ (ت)
اقول : اظہر یہی ہے مگر جبکہ ایك جماعت اسے ترجیح دے رہی ہے تو احتراز ہی میں احتیاط ہے خصوصا اس حالت میں کہ اس کی ضرورت نہ ہوگی مگر مثل فجر میں جبکہ وقت قدر واجب سے کم رہا ہو ایسے وقت ثم نظرکہ بالاجماع ہمارے امام کے نزدیك ادائے فرض کو کافی ہے مدهآ متن سے جلد ادا ہوجائے گا کہ اس میں حرف بھی زائد ہیں اور ایك مد متصل ہے جس کا ترك حرام ہے ہاں جسے یہی یاد ہو اس کے بارے میں وہ کلام ہوگا اور احوط اعادہ ۔ واﷲ تعالی۔
مسئلہ نمبر ۵۱۷ : مسئولہ احسان علی مظفر پوری طالب علم مدرسہ منظر الاسلام بریلی بتاریخ ۳ ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ آیت (٭لا ) پر ٹھہرنایا رکوع یا وقف کرنا کیسا ہے کیا قباحت ہے اگر جس آیت پر(لا)ہے اس پررکوع کر دیا تو جائز ہے یا نہیں مثلا اوپر سے پڑھتا آیا اور صم بكم عمی فهم لا یرجعون پر رکوع کردیا تو جائز ہے یا کچھ حرج بھی ہے
الجواب :
ہر آیت پر وقف مطلقا بلا کراہت جائز بلکہ سنت سے مروی ہے رہا رکوع اگر معنی تام ہوگئے جیسے آیت مذکورہ میں اس کے بعد دوسری مستقل تمثیل ارشاد ہے جب تو اصلا حرج نہیں اگر معنی بے آیت آئندہ کے نا تمام ہیں تو نہ چا ہئے خصوصا امثال فویل للمصلین(۴)میں نہایت قبیح ہے اور ثم رددنه اسفل سفلین(۵) میں قبیح اس سے کم ہے نماز بہر حال ہوجائے گی۔
مسئلہ نمبر ۵۱۸ : ازمانیا والا ڈاکخانہ قاسم پور گڈھی ضلع بجنورمرسلہ سید کفایت علی صاحب ۵ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام نے پہلی رکعت میں قل اعوذ برب الناس پڑھی دوسری میں قل اعوذ برب الفلق پڑھی اور آخر میں سجدہ سہو کیا اس مسئلہ کا حکم بیان فرمایئے۔ بینوا توجروا
حوالہ / References ا؎ بدائع الصنائع فصل فی ارکان الصلٰوۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۲
#10585 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
الجواب :
اگر بھول کر ایسا کیانماز میں حرج نہیں اور سجدہ سہو نہ چاہئے تھا اور قصدا ایسا کیا تو گناہگار ہوگا نماز ہوگئی سجدہ سہو اب بھی نہ چاہئے تھا توبہ کرے پہلی میں اگر سورہ ناس پڑھی تھی تو اسے لازم تھا کہ دوسری میں بھی سورہ ناس ہی پڑھتا کہ فرض کی دونوں رکعتوں میں ایك ہی سورت پڑھنا خلاف اولی ہے اور ترتیب الٹا کر پڑھنا حرام ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۵۱۹ : ازبیکانیر مارواڑ محلہ مہاوتان مرسلہ قاضی تمیز الدین صاحب ۹ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
میں نے ایك معلم صاحب کی زبانی سنا ہے کہ نماز میں تین آیت شریف سے کم مضمون پڑھا جائے گا یعنی دو۲ آیت شریف پڑھی جائے گی تونماز نہیں ہوگی اگر غلطی سے پڑھی گئی تو نماز دہرانا چاہئے ۔ ایك امام نے پہلی رکعت میں ایك رکوع پڑھا دوسری رکعت میں و ان یكاد الذین كفروا لیزلقونك بابصارهم لما سمعوا الذكر و یقولون انه لمجنون(۵۱) تو قبلہ و کعبہ یہ دوسری رکعت میں جو پڑھا گیا وہ میں نے لکھا ہے یہ صرف دو آیت شریف ہیں آیا نماز صحیح ہوگئی یا نہیں یا دہرانا پڑے گی۔ بینوا توجروا
الجواب :
نماز میں ایك آیت پڑھنا فرض ہے مثلا الحمد ﷲ رب العلمین اس کے ترك سے نماز نہ ہوگی اور پوری سورہ فاتحہ اور اس کے بعد تین آیتیں چھوٹی چھوٹی یا ایك آیت تین چھوٹی آیتوں کے برابر ہو پڑھنا واجب ہے اگر اس میں کمی کرے گا نماز تو ہوجائے گی یعنی فرض ادا ہو جائے گا مکروہ تحریمی ہوگی بھول کر ہے تو سجدہ سہو واجب ہوگا اور قصدا ہے تو نماز پھیرنی واجب ہوگی اور بلا عذر ہے تو گناہگار بھی ہوگا مثلا تین آیتیں ہیں ثم نظر(۲۱)ثم عبس و بسر(۲۲) ثم ادبر و استكبر(۲۳) یا یہ الرحمن(۱) علم القران(۲) خلق الانسان(۳) ظاہر ہےکہ وہ دو۲ آیتیں وان یکاد الذین کفروا بلکہ اس میں کی پہلی ہی آیت ان تین چھوٹی آیتوں سے بڑی ہے تو نماز مع واجب ادا ہوگئی دہرانے کی حاجت نہیں واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر۵۲۰ : ۲۴ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
حوالہ / References القرآن ۷۴ / ۲۱ ، ۲۲ ، ۲۳
القرآن ۵۵ / ۱
#10586 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
(۱) امام کو قرأت میں مغالطہ لگا اور امام ایك آیت کلاں یا ایك چھوٹی تین آیت سے زیادہ پڑھ چکا ہے باوجود اس کے کوئی مقتدی امام کو لقمہ دے اور بتادے تو امام کو لقمہ لینے یا مقتدی کو لقمہ دینے میں کوئی نماز میں فساد یا نقصان نہ آوے گا
(۲) امام کو متشابہ لگا اور اوپر کی دو ایك آیت کو لوٹایا اور دہرایا تو اس صورت میں دہرانے سے نماز میں کچھ خلل تو نہ آئے گا اور آئے گا تو کیا سجدہ سہو کرنے سے جبر نقصان ہوجائیگا یا نہیں
الجواب :
کسی کے نماز میں صحیح بتانے سے کچھ فساد نہ آئے گا اگرچہ ہزار آیتیں پڑھ چکا ہو دہرانے سے کچھ نقصان نہیں ہاں اگر تین بار سبحان اﷲ کہنے کی قدر چپکا کھڑا رہا تو سجدہ سہو آتا واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۵۲۲ : از ریاست رام پور دکان ملا حمید محلہ کنڈہ مرسلہ محمد اسد الحق صاحب ۱۳ رمضان ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قل ھواﷲ احد میں دال پر تنوین ہے اس کو کسرہ دے کر مابعد سے وصل کرکے نماز میں پڑھے ہوگئی یا نہیں اور گناہ تو نہیں ضروری ہے یا جائز یا منع
الجواب : نون تنوین کو کسرہ دے کر لام میں ملا کر پڑھنا جائز ہے کوئی حرج نہیں نہ اس سے نماز میں کوئی خلل اور یہاں وقف بھی ج کا ہے جو وصل کی اجزت دیتا ہے۔ و ھواﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر۵۲۳ : از سرائے چھبیلہ ضلع بلند شہرمرسلہ راحت اﷲ امام مسجد جامع ۱۹ رمضا ن ۱۲۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام قرأت میں مما قالو ا وکان عنداﷲ وجیھا کی جگہ وکان الخ پڑھ جائے تو نماز درست ہوگی یا نہیں مگر اول مما قالو پڑھاپھر خیال ہو کہ کانوا ہے ۔
الجواب :
کہ نمازہر طرح ہوگئی کہ فساد نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر۵۲۴ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہاں راجکوٹ میں الرحمن پڑھتے ہیں اور ۲۰ رکعت تراویح سورۃ الرحمن میں ختم کرتے ہیں پہلی رکعت میں چار آیت اور دوسری میں دو آیت تو اس سے نماز فاسد ہوتی ہے یا نہیں
الجواب :
یو سولھویں رکعت میں یہ دونوں آیتیں واقع ہوں گی فبای الآء ربكما تكذبن(۴۷) ذواتا افنان(۴۸) بہتریہ ہے کہ ان کے ساتھ ایك آیت اور ملائے جائے کہ ان میں صرف ستائیس حروف ہیں اور ردالمحتار میں
#10587 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
کم از کم تیس حرف درکار بتائے وان کان فیہ کلام بیناہ علی ھامشہ مع ان المروات فیھما ثلثون (اگر چہ اس میں کلام ہے جیسے ہم نے حاشیہ ردالمحتار میں تحریر کیاگیاہے علاوہ ازیں ان آیات میں مفردات تیس۳۰ ہیں ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۲۵ : ازنوشہرہ تحصیل جامپور ضلع ڈیرہ غازنوں مرسلہ عبدالغفور صاحب ۱۴ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کی نمازظہر و عصر میں جو قرأت باجہر نہیں پڑھی جاتی باقی شام اور عشاء و فجر کی نماز میں بالجہر پڑھی جاتی ہے اس کی وجہ اور رموزات سے مطلع فرمائیے
الجواب :
یہ احکام ہیں بندے کو حکم ماننا چاہیئے حکمت کی تلاش ضرور نہیں ۔ اس کے دو۲ سبب بتائے جاتے ہیں ایك ظاہری کہ کفار قرآن عظیم سن کربیہودہ بکا کرتے تھے ظہر و عصر دونوں ان کی بیداری کے تھے اس لئے ان میں قرأت خفی کوئی کہ وہ سن کرکچھ بکیں نہیں فجرو عشا کے وقت وہ سوئے ہوتے تھے اور مغرب کے وقت کھانے میں مشغول لہذا ان میں قرأت بالجہر ہوئی مگر یہ سبب چنداں قوی نہیں ۔ دوسرا سبب صحیح و قوی باطنی وہ ہے جو ہم نے اپنے رسالہ انھارالانوارمیں ذکر کیا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۵۲۶ : ازشہر کہنہ محلہ کانکڑ ٹولہ مسئولہ ننھے خان صاحب ۱۵ محرم ۱۳۳۹ھ
قرأت کتنی فرض ہے اورواجب اور سنت اور مستحب کہاں تک
الجواب :
قرأت ایك آیت فرض ہے اور الحمد اور اس کے بعد اس کے متصل ایك بڑی آیت یا تین آیتیں چھوٹی پڑھنا واجب اور فجر و ظہر میں حجرات سے بروج تك دونوں رکعتوں میں دو۲ سورتیں اور عصر و عشاء میں بروج سے لم یکن تك اور مغرب میں لم یکن سے ناس تك سنت یا ان کی مقدار دوسرے مقام سے اور جماعت میں کوئی مریض یاضعیف وغیرہ ایسا ہو کہ طویل سے مشقت ہوگی تو اسکے حالت کی رعایت واجب اور نوافل میں جس قدر تطویل اپنے اوپر شاق نہ ہو مستحب ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۵۲۷ : ازشہرمحلہ ملو کپور مسئولہ شفیق احمد خان صاحب ۲۶ محرم الحرام۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہر نماز میں کتنی مرتبہ اور کس کس مقام پر بسم اﷲ الرحمن الرحیم پڑھنا چاہئے
الجواب :
سورہ فاتحہ لے شروع میں بسم اﷲ الرحمن الرحیم سنت ہے اور اس کے بعد اگر کوئی
#10588 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
سورت اول سے پڑھے تو اس پر بسم اﷲ کہنا مستحب ہے اور کچھ آیتیں کہیں اور سے پڑھے تو اس پر کہنا مستحب نہیں اور قیام کے سوا رکوع و سجود و قعود کسی جگہ بسم اﷲ پڑھنا جائز نہیں کہ وہ آیہ قرآنی ہے اور نماز میں قیام کے سوا کسی جگہ کوئی آیت پڑھنی ممنوع ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۵۲۸ : از شہرمحلہ سوداگران مسئولہ مولوی احسان علی مرحوم کا طالب علم مدرسہ منظر الاسلام ۱۸ صفر ۱۳۲۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اول رکعت میں ایك رکوع یا سورہ پڑھی دوسری رکعت میں اگر اس سے مقدم کی سورہ یا رکوع زبان پر سہوا جاری ہوجائے تو اس کو پڑھے یا مؤخر کی سورہ یا رکوع پڑھے اس کو چھوڑ کر اگر پڑھ کر نماز تمام کرلی تو ہوئی یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
زبان سے سہوا جس سورہ کا ایك کلمہ نکل گیا اسی کا پڑھنا لازم ہوگیا مقدم ہو خواہ مکرر ہاں قصدا تبدیل ترتیب گناہ ہے اگر چہ نماز جب بھی ہوجائے گی۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر۵۲۹ : از تحصیل اترولی ضلععلی گڑھ مسئولہ محمد حسین محرر جو ڈیشل ۱۶ جمادی الاولی ۱۳۳۹ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
ایك مسئلہ پر بحث درپیش ہے اور آپس میں مباحثہ لفظی ہو رہا ہے وہ یہ کہ امام نے بوقت نماز مغرب رکعت اول میں سورہ دھرقرأت کی اور اس قدر پڑھا اور سہو ہ ہو گیا پھر رکوع کردیا
و یطاف علیهم بانیة من فضة و اكواب كانت قواریرا(۱۵) قواریرا من فضة نشانی آیت پر حرف لاموجودہے اما م اعظم صاحب رحمۃ اﷲ علیہ کے یہاں اس قدر قرأت پڑھنے سے نماز ہوگی یا نہیں
الجواب :
نماز بے تکلف بلا کراہت ہوگئی تین آیات کی قدر واجب ادا ہوجاتاہے اور یہ تو پندرہ آیتیں ہوگئیں بلکہ مغرب میں اتنی تطویل مناسب بھی نہ تھی کہ اس میں قصار مفصل یعنی لم یکن سے آخر تك ہر رکعت میں ایك سورت پڑھنے کا حکم ہے یہ اس سے زائد ہوگیا تنویر ودرمختار میں ہے :
یسن فی الحضرالامام ومنفرد طوال المفصل فی الفجر والظھر واوساطہ فی العصر والعشاء و قصارہ فی المغرب ای فی کل
(مقیم ہونے کی صورت میں امام و منفرد دونوں کی ) نماز فجر اور ظہر کی نماز میں طوال مفصل اورعصر و عشاء میں اوساط مفصل اور نمازمغرب میں قصار مفصل پڑھنا مسنون ہے یعنی ہر رکعت میں
#10589 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
رکعۃ سورۃ ۔
ایك سورۃ ان سورتوں میں سے جو مذکور ہوئےں پڑھے(ت)
در مختار میں ہے :
من الحجرات الی اخری البروج ومنھا الی اخر لم یکن اوساطہ وباقیہ قصارہ واﷲ تعالی اعلم۔
حجراتا(سے آخر بروج تك طوال مفصل اور سورتوں کا بقیہ حصہ قصارمفصل کہلا تا ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۵۳۰ : از محلہ سوداگران مدرسہ منظرالاسلام ۱۷ جمادی الثانی۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام کو تین آیتوں کے بعد غلطی ہوئی معنی بگڑ گیا جبکہ سورہ یوسف شریف میں چار آیت بعد رأیتھم کی جگہ رأ یتھم پڑھا اس حالت میں نماز ہوگئی یا نہیں
الجواب فساد معنی اگر ہزار آیت کے بعد ہو نماز جاتی رہے گی مگر یہاں رایئتھم میں ت کا زبر پڑھنا مفسد نماز ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۳۱ : از ہ بروگ مسئولہ محمد علی ۶ رجب المرجب پنجشنبہ ۱۳۳۶ھ
قبلہ و کعبہ جناب مولوی صاحب دام اظلالکم السلام علیکم بعداوائے آداب دست بستہ تسلیمات گزارش خدمت میں یہ ہے کہ نماز ظہر و عصر کے وقت امام کے پیچھے مقتدی کو حسب معمول پڑھنا چاہئے یا سکوت واجب ہے
(۲) نماز مغرب و عشاء کے فرضوں کی ادائیگی میں مقتدی کو چاروں رکعتوں میں سکوت لازم ہے یا اول کی دو۲ میں اور آخری دو میں نہیں بینوا توجروا
الجواب :
مطلقا کسی نماز کی کسی رکعت میں مقتدی کو قرأت اصلا جائز نہیں نہیں قطعا خاموش کھڑا رہے صرف سبحنك اللھم شامل ہوتے وقت پڑھے جبکہ امام نے قرأت بجہر شروع نہ کی ہو۔ درمختار میں ہے :
المؤ تم لا یقرأ مطلقا ولا الفاتحۃ فی
مقتدی مطلقا قراءت نہ کرے نہ جہری نماز میں نہ
حوالہ / References درمختار فصل و یجہر الامام مطبوعہ مطبر مجتبائی دہلی ا / ۸۹
درمختار فصل و یجہر الامام مطبوعہ مطبر مجتبائی دہلی ا / ۸۹
#10590 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
السریۃ اتفاقا بل یستمع اذاجھر وینصت اذا اسر ۔ واﷲ تعالی اعلم
سری نماز میں اور نہ ہی سری نماز میں فاتحہ بالاتفاق (یعنی اس پر ائمہ ثلثہ کا اتفاق ہے) بلکہ جب امام جہرا پڑھے تو سنے اور جب امام سترا پڑھے تو مقتدی چپ رہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ نمبر ۵۳۳ ۵۳۴ : از ہزار ضلع بلذانہ اسٹیشن بسوہ متعلق ملکہ پور مسئولہ سراج الدین ۱۳ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ :
(۱) آیت قرآن شریف کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے نماز میں پڑھنے کے متعلق شرع شریف میں کیا حکم ہے
(۲) سورہ یس شریف میں سلم قول کی جگہ سلام قولا پڑھنا یا سلام پر آیت کرنا صحیح کس طرح پر ہے
الجواب :
(۱) سائل نے صاف بات نہ لکھی کہ ٹکڑے کرنے سے کیا مراد ہے اگر آیت بڑی ہے اور ایك سانس میں نہیں پڑھ سکتا تو جہاں سانس ٹوٹ جائے مجبورا وقف کرے گا موقع موقع پرٹھہرتا ہوا چلا جائے گا ہاں بلاضرورت بے موقع ٹھہرنا خلاف سنت ہے واﷲ تعالی اعلم۔
(۲) دونوں صحیح اور دونوں جائز ہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۳۵ : از جے پور بیرون اجمیری دروازہ مکان عبدالواحد خان مسئولہ حامد حسین قاردی ۱۴ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زید کا خیال ہے کہ عام لوگ تکبیر انتقال نماز میں اﷲ اکبر کی را کو اس قدر کھینچتے ہیں کہ اس کی وجہ سے نماز میں نقصان واقع ہوتا ہے اﷲ اکبر کی را کو اس طرح خارج کرنا کہ عام لوگ بجائے ر کے دال محسوس کریں کیسا ہے
الجواب :
اکبرمیں رکودپڑھنا مفسد نمازہے کہ فساد معنی ہے اور یہ بات کہ وہ رپڑھتا اور سب سننے والے دسنتے ہیں بہت بعید ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۳۶ : از شہر ممباسہ ضلع مشرقی افریقہ دکان حاجی قاسم اینڈ سنز مسئولہ حاجی عبداﷲ حاجی یعقوب ۲۶رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اول رکعت میں سورہ کفرون پڑھی دوسری میں
حوالہ / References درمختار ، فصل ویجہر الامام مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۸۱
#10591 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
کوثر کی ایك آیت پڑھی پھر اس کو چھوڑ کر اخلاص پڑھی ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں اور نمازمیں کچھ خلل واقع ہوگا یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
نماز تو ہو گئی مگر ایسا کرنا ناجا ئز تھا جس سورت کا ایك لفظ زبان سے نکل جائے اسی کا پڑھنا لازم ہوجاتا ہے خواہ وہ قبل ہو یا بعد کی۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۳۷ : ازمانا دوارہ کاٹھیاواڑ مرسلہ ماسٹر اسمعیل صاحب ۲ شوال ۱۳۳۹ھ
نماز مین قرآن شریف اس طرح پڑھنا کہ اول میں الم ترا دوسری میں قل ھواﷲ تیسری میں لا یلف چوتھی میں پھر قل ھواﷲ مکرہ تنزیہی ہے یا نہیں حالانکہ لایلف اورپھر ترتیب وار بھی پڑھ سکتا ہے۔
الجواب :
نوافل میں مکروہ نہیں کہ اس کی ہر دو رکعت نماز علیحدہ ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۳۸ : ازدھمی پور ضلع بیہڑی مرسلہ مستقیم خان ۲۴ رمضان المبارك ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی حافظ مسجد میں تراویح میں کلام مجید صحیح پڑھتا ہو اور اچانك اس کے پیچھے دوسرا کوئی حافظ اس کو بہکانے آجائے تو ایسا کرنا اور نما ز میں آکر فساد ڈالنا جائز ہے یا ناجائز بینوا تو جروا۔
الجواب :
اگر فی الواقع اس نے دھوکا دینے اور نماز خراب کرنے کے لئے قصدا غلط بتایا تو سخت گناہ عظیم میں مبتلا ہوا اور شرعا سخت سزا کا مستحق ہے ایسے لوگ مسجدمیں آکر فساد ڈالیں اور ناجائز غل مچائیں اور بلاوجہ فوجداری پر آمادہ ہوں جیسا کہ سائل نے بیان کیا موذی ہیں اور موذی کی نسبت حکم ہے کہ اسے مسجد میں نہ آنے دیا جائے کما نص علیہ العلامۃ البدر العینی فی عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری و عنہ فی الدرالمختار وغیرہ(جیسا کہ علامہ بدرالدین عینی نےعمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں تصریح کی ہے اور اس کے حوالے سے درمختار وغیرہ میں بھی مذکور ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۳۹ : بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
چہ می فرمایند جوہر شناسان نکات فرقانی و دقیقہ رسان علم حبیب رحمانی اندریں باب کہ امام در قرأت نماز
قرآنی نکات اور حبیب خدا کے ارشادات عالیہ سے آگاہ وواقف اہل علم و دانش اس بارے میں
#10592 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
مغرب و خفتن وفجر و جمعہ و عیدین درمیان قرأت سہ آیۃ یا زائد از سہ آیۃ سہو کرد و مقتدی او رامیان نماز مذکورہ بالا لقمہ دادو مقتدی خود گرفت نماز امام و مقتدی درست شد یا نہ ۔ بینو ا تو جروا
کیا فرماتے ہیں کہ امام نماز مغرب عشاء فجر جمعہ اور عیدین میں قرأت کرتے ہوئے تین آیات سے زائد پڑھ کر بھول گیا ایسی صورت میں مقتدی نے لقمہ دیا اور امام نے اس کا لقمہ قبول کرلیا تو امام اور مقتدی کی نمازدرست ہوگی یا نہیں بینوا تو جروا۔
الجواب :
صحیح است مطلقا در ہر نماز و بہر حال اگر چہ بعد سہ آیت باسد ہمیں است قول صحیح الدر المختار فتحہ علی امامہ لایفسدمطلقا بفاتح واخذ بکل حال الخ فی ردالمحتار ای سواء قرأ الامام قدر مایجوز بہ الصلوۃ ام لا انتقل الی ایۃ اخری ام لا تکرر ام لاھو الاصح نھر واﷲ سبحنہ تعالی اعلم ۔
نماز مطلقا درست ہے ہر نماز میں ہر حال میں رضی اﷲ عنہ لقمہ اگرچہ وہ تین آیات کے بعد ہو درست اور صحیح قول یہی ہے ۔ درمختار میں ہے امام کو لقمہ دینے سے نماز فاسد نہیں ہوتی نہ لقمہ دینے والے کی اور نہ لینے والے کی ہر حال میں الخ ردالمحتار میں ہے خواہ امام نے اتنی قرأت کرلی ہو جس سے نماز ہوجاتی ہے یا نہ کی ہو امام کسی اور آیت کی طرف منتقل ہوچکا ہو یا نہ ہوا ہو لقمہ بار بار ہو یا نہ ہو اصح یہی ہے نہر۔ واﷲ سبحنہ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۴۰ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا اناشانئك یابلہ کو لاہ یا لھم کو لاھم مغفرۃ باشباع فتحہ یا الحمد ﷲ الحمد لیلہ باشباع کسرہ یاقل کو قول با شباع ضمہ پڑھنا عمدا یا سہوا مفسد صلوۃ ہے یا نہیں بینوا توجروا ۔
الجواب :
عمدا گناہ عظیم ہے اور سہوا معاف اور فساد نماز کسی حالت میں نہیں لان الاشباع لغۃ مرقوم من العرب کالاکتفاء عن المدۃ بالحرکۃ کما نص علیہ فی الغنیۃ و غیرھما(کیونکہ اشباع عرب کی معروف لغت ہے جیسا کہ مدہ کی جگہ حرکت پر اکتفا کیا جاتا ہے غنیہ اور دیگر کتب میں اس پر تصریح ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References درمختار باب ما یفسد الصلٰوۃ وما یکرہ فیہا مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۰
ردالمحتار باب ما یفسد الصلٰوۃ وما یکرہ فیہا مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۶۰
#10593 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
مسئلہ نمبر ۵۴۱ : مسئولہ احمد شاہ صاحب از موضع نگریا سادات ضلع بریلی یکم ذی الحجہ ۱۳۲۹ھ
اگر امام نماز پڑھاتا ہو اور و ہ کسی صورت میں درمیان کے دو ایك لفظ چھوڑ گیا ہو تو وہ نماز صحیح ہوگی یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
اگر ان کے ترك سے معنی نہ بگڑے تو صحیح ہوگی ورنہ نہیں پھر اگر یہ سورۃ فاتحہ ہے تو اس میں مطلقا کسی لفظ کے ترك سے سجدہ سہوواجب ہوگا جبکہ سہوا ہو ورنہ اعادہ۔ اور اور کسی صورت سے اگر لفظ یا الفاظ متروك ہوئے اور معنی فاسد نہ ہوئے اور تین آیت کی قدر پڑھ لیاگیا تو اس چھوٹ جانے میں کچھ حرج نہیں واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۴۲ : مسئولہ مولوی عبدالجلیل صاحب متوطن بنگال ۱۵ صفر ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے دو۲ رکعت فجر کی فرض پڑھائی بعد الحمد شریف کے ضم سورت میں کسی لفظ کو تین مرتبہ تکرار کیا بوجہ مشتبہ ہونے کے اب اس کی نماز شرعا درست ہے یا نہیں اگر اس کا بقول شخصے اعادہ کیا جائے اگر لوگ آکر اقتدا کریں بعد والوں کی نماز درست ہے یا نہیں
الجواب :
لفظ کے تکرار سے نماز میں فساد نہیں آتا اعادہ میں جونئے لوگ ملیں گے ان کی نماز نہ ہوگی لانھم مفترضون خلف متنفل(کیونکہ وہ نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض ادا کر رہا ہے۔ ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۴۳ ۵۵۴ : ازجنوبی افریقہ ٹرنسوال مقام کروگرس ڈروپ بکس نمبر ۳۳ مرسلہ ایم ایم داؤد احمد موسی جی سالوجی ۱۴ رمضان ۱۳۳۶ ھ
اولا تحریر حال ملك ٹرنسوال کرتا ہوں کہ اسئلہ ذیل کے جواب میں سہولت ہو یہاں پر حکومت کفار ہے اور یہاں کے باشندے بھی کفار ہیں ہاں کچھ لوگ مسلمان شافعی المذہب بھی ہیں باقی مسلمان انڈیا کے تاجر وغیرہ ہیں مگر مجموعہ مسلمان کفار کی نسبت بہت کم ہیں گاؤں کا تو میں ذکر نہیں کرتا مگر اس ملك کے شہرں میں تخمینا مفصلہ ذیل تعداد ہوگی کسی جگہ دس۱۰ بیس۲۰ کسی جگہ تیس۳۰ چالیس۴۰ کسی جگہ اسی۸۰ سو۱۰۰ سوائے ایك شہر کے میرے خیال کے موافق کہیں چارسو۴۰۰ پانچ سو۵۰۰ کا مجمع نہ ہوگا مساجد کا یہ حال ہے کہ کہیں تو کرایہ میں مکان لیا ہوا ہے اور اس میں نماز جمعہ و عید ادا کی جاتی ہے اور کسی جگہ مسجد ہے مگر بوجہ قلت وہ بھی نہیں بھرتی البتہ ایك جگہ تین مسجدیں ہیں اور مسلمانوں کی جماعت بڑی ہے تخمینا پانچ سو۵۰۰ سے کم نہ ہوگی نماز جمعہ و عید سب جگہ ادا کی جاتی ہے عید کے موقع پر گاؤں کے مسلمانان وہ شریك نماز ہو کر تعداد بڑھا دیتے ہیں میرے علم میں یہاں کھبی اسلامی حکومت نہیں ہوئی اور حکام کی طرف سے کوئی حکم شر عی یہاں جاری نہیں مگر نماز جمعہ و عید کو منع نہیں کرتے جس جگہ کے لئے یہ تحریر کی جاتی ہے وہ بھی شہر ہے اورایك مسجد بھی ہے تعداد مسلمانان
#10594 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
ساٹھ ستر سے زیادہ نہیں مسجد نہیں بھر سکتی مگر عید کے موقع پر گاؤ ں والے شریك ہوتے ہیں اور مسجد بھر جاتی ہے۔
(۱) جمعہ کی ادا کے لئے شہر شرط ہے یا نہیں
(۲) شہرکس کو کہتے ہیں اکبر مساجد کی تعریف روایت مذہب ہے یا نہیں
(۳) جب قدرت اجرائے حدود شرط ہے اور بالفعل ضرور نہیں تو توانی کی وجہ سے تعریف مذکور کو اختیار کرنا اور ظاہر مذہب کو ترك کرنا کیونکر صحیح ہو سکتا ہے
(۴) علمائے حنفیہ کے اختلاف کی وجہ سے احتیاطی ظہر تجویز ہوئی مگر جہاں حنفی مذہب کے موافق تحقیق شروط نہ ہو اور دیگر مذاہب کے موافق ہو وہاں کیونکر جائز نہیں ۔ خروج اختلاف کی علت دونوں جگہ موجود ہے اعنی وہاں بھی جمعہ اور احتیاطی ظہر پڑھ لینا چاہئے
(۵) کل موضع لہ امیر وقاض الخ (ہروہ مقام جہاں کوئی ایسا امیر اور قاضی ہو الخ۔ ت) سے استدلال عدم جواز جمعہ دار حرب پر ہو سکتا ہے یا نہیں
(۶) کیفیت مذکور کی رو سے کہاں جمعہ جائز ہے اور کہاں نہیں
(۷) جہاں ناجائز ہے انھیں منع کیا جائے یا نہیں اور ان کی ظہر کا کیا حکم ہے
(۸) جہاں بادشاہ مسلمان نہ ہو وہاں جمعہ کا کیا حکم ہے اور حکومت کفار میں جمعہ کیوں جائز ہے
(۹) یہ ملك دار حرب ہے یا نہیں
(۱۰) دار حرب کی کیا تعریف اور کس طور سے دار حرب دار اسلام بنتا ہے اور دار اسلام دار حرب بنتا ہے
(۱۱) جہاں شروط جمعہ نہ پائے جائیں وہاں عید کی نماز کا کیاحکم اگر جائز نہیں تو پڑھ لینے سے کیا خرابی ہے اگر اپنے مذہب کے طور پر واجب نہیں تو دوسرے مذہب مثل شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے تو واجب ہے اور خروج عن الاختلاف ہوجائے گا
(۱۲) ہماری جگہ شہر گنا جاتا ہے اور ایك مسجد ہے مصلی باشندے اسے بھر نہیں سکتے یہاں جمعہ کا کیا حکم ہے بینوا تو جروا۔
الجواب :
جمعہ کے لئے ہمارے ائمہ رضی اللہ تعالی عنہم کے اتفاق و اجماع سے شہر شرط ہے شہر کی صحیح تعریف مذہب حنفی میں یہ ہے جو خود امام مذہب سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد فرمائی وہ آبادی جس میں متعدد محلے اور دوامی بازار ہوں اور وہ ضلع یا پرگنہ ہواس کے متعلق دیہات ہوں اور اس میں کوئی حاکم با اختیار ایسا ہو کہ اپنی شوکت اور اپنے یا دوسرے کے علم کے ذریعہ سے مظلوم کا انصاف ظالم سے لے سکے ۔
#10595 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
امام علاء الدین سمر قندی نے تحفۃ الفقہاء اورامام مالك العلماء ابو بکر مسعود نے بدائع میں اسی کی تصریح فرمائی ۔
غنیہ شرح منیہ میں ہے :
صرح فی تحفۃ الفقھاء عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ انہ بلدۃ کبیرۃ فیھا سکك واسواق ولھارساتیق وفیھا وال یقدر علی انصاف المظلوم من الظالم بحشمۃ وعلمہ او علم غیرہ یرجع الناس الیہ فیما یقع من الحوادث و ھذا ھوالاصح ۔
تحفۃ الفقہاء میں امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالے سے تصریح ہے کہ بڑے شہر سے مراد وہ آبادی ہے جس میں محلے اور بازار ہوں اس کے متعلق کچھ دیہات ہوں وہاں کوئی ایسا با اختیار شخص ہو جو اپنی حشمت اور علم یا دوسرے کے علم کے ذریعے مظلوم کو ظالم سے انصاف دلا سکے اور لوگ حوادثات کی صورت میں اس کی طرف رجوع کریں اور یہی اصح ہے۔ (ت)
کتبہ جلیلہ معتمدہ میں ظاہرا لروایہ یعنی مذہب مہذب حنفی سے بالالفاظ مختلفہ جتنی نقول ہیں سب کا مآل یہی ہے مثلا ہدایۃ ومتن کنز میں فرمایا :
ھو کل موضع لہ امیر وقاض ینفذا الاحکام ویقیم الحدود ۔
ہر وہ مقام جہاں کوئی ایسا امیر یا قاضی ہو جو احکام نافذ کر سکے اور حدود کا اجرا کرسکے۔ (ت)
اس میں سکك وا سواق ورساتیق کا ذکر نہیں اور عبارت آتیہ غیاثیہ میں بجائے سکك جماعات ہیں اور رساتیق مذکور نہیں اسی کی دوسری عبارت میں فتاوی سے رساتیق کا ذکر فرمایا سکك واسواق کو ترك کیا کہ
فی الفتاوی الوصلی الجمعۃ فی قریۃ بغیر مسجد جامع والقریۃ کبیرۃ لھا قری وفیھا وال وحاکم جازت الجمعۃ بنوا المسجد اولم یبنوہ وان کان بخلاف ذلك لایجوز وھذاقول ابی القاسم
فتاوی میں ہے اگر کسی نے قریہ میں بغیر جامع مسجد کے جمعہ پڑھا اور قریہ اتنا بڑا ہو جس کے کچھ دیہات ہوں اور اس میں کوئی حاکم و والی بھی موجود ہو تو نمازجمعہ درست ہوگی خواہ وہ مسجد بنائیں یا نہ بنائیں اور اگر اس کے خلاف ہو تو جمعہ درست نہ ہو گا یہ شیخ ابوالقاسم الصفار
حوالہ / References غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ ایچ ایم سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۵۰
کنز الدقائق باب صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ص۴۷
#10596 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
الصفار و ھذا اقرب الاقاویل الی الصواب ۔
کے قول کے مطابق ہے اور تمام اقوال میں سے یہ رائے صواب کے زیادہ قریب ہے۔ (ت)
اور محصل ایك ہے کہ عادۃ والی و قاضی ایسی جگہ ہوتے ہیں جس میں آبادی کثیر ہو اور اسے تعدد محلہ ووجود اسواق لازم اور ہرگاؤں میں نیا حاکم مقر رکرنا نہ معہود ہے نہ متیسر بلکہ گرد وپیش کے دیہات آبادی کبیر کے حاکم کے متعلق کردئے جاتے ہیں اسے ضلع یا کم از کم پرگنہ ہونا لازم غنیہ میں ہے :
صاحب الھدایۃ ترك ذکر السکك والرساتیق بناء علی الغالب اذالغاب ان الامیر والقاضی شانہ القدرۃ علی تنفیذ الاحکام واقامۃ الحدود لایکون الا فی بلد کذلك فالحاصل ان اصح الحدود ما ذکرہ فی التحفۃ لصدقۃ علی مکۃ والمدینۃ وانھما الاصل فی اعتبار المصریۃ ۔
صاحب ہدایہ نے محلوں اور بازاروں کا ذکر اس لئے ترك کیا کہ غالب یہی ہے کہ ایسے حاکم اور قاضی جو احکام کا نفاذ اور حدود کا قیام کرسکتے ہیں وہ ایسے شہر میں ہی ہوتے ہیں جو بڑا ہو حاصل یہ ہے کہ تحفہ میں بیان کردہ شہر کی تعریف اصح ہے کیونکہ وہ مکہ اور مدینہ پر صادق آتی ہے اور شہر ہونے میں یہ دونوں اصل ہیں ۔ (ت)
پھر ظاہر ہے کہ ان کتب میں تنفیذ و اقامت سے قدرت مراد ہے کہ حاکم کا خلاف حکم حکم کرنا شہر کو شہر ہونے سے خارج نہیں کرتا ولہذاعلامہ محقق ابراہیم حلبی نے اسی سے پہلے غنیہ میں فرمایا :
الحد الصحیح ما اختارہ صاحب الھدایۃ انہ الذی لہ امیر وقاض ینفذالاحکام ویقیم الحدود والمراد القدرۃ علی اقامۃ الحدود ماصرح بہ فی تحفۃ الفقھاء عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ ۔
صحیح تعریف وہ ہے جسے صاحب ہدایہ نے اختیار کیا ہے وہ یہ ہے کہ ایسا شہر ہو جس میں حاکم وقاضی ہو جو احکام کا نفاذ اور حدود کا قیام کرے اور اس سے مراد قیام حدود پر قدرت ہے جیسا کہ تحفۃ الفقہاء میں امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالے سے منقول ہے (ت)
امام اکمل نےعنایہ میں فرمایا : المراد بالامیر وال یقدر علی انصاف المظلوم من الظالم ۔ (امیر سے
حوالہ / References فتاوٰی غیاثیہ ، باب الجمعۃ وشرائطہا ، مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۳۹
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۵۱
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۵۰
العنایۃ مع فتح القدیر ، باب صلٰوۃ الجمعۃ ، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکّھر ، ۲ / ۲۴
#10597 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
ایسا والی مراد ہے جو ظالم سے مظلوم کو انصاف دلانے پر قادر ہو۔ ت)اسی طرح درمختار میں بلفظ یقدرتعبیر کیا اور خود نص امام مذہب سے اس کی تصریح گزری۔ لہذا امام شمس الائمہ سرخسی نے مبسوط میں یوں تعبیر فرمایا :
ظاہر المذہب (عندنا) ان یکون فیہ سلطان وقاضی لا قا مۃ الحدود وتنقیذ الاحکام ۔
(مصر جامع کی تعریف میں ) ہمارے ہاں ظاہر مذہب کے مطابق وہاں اقامت حدود اوراحکام کے نفاذ کے لئے کسی حاکم یا قاضی کا ہونا ضروری ہے(ت)
پھر ہدایہ وغیرہا میں امیر وقاض اور مبسوط میں سلطان وقاضدو لفظ ہیں کہ عادۃ والی شہر اور ہوتا ہے اوروہ قاضی مقرر کرتا ہے اور مقصود فیصلہ مقدمات ہے و لہذا امام مذہب نے ذکر والی پراقتصاد فرمایا اور وہی سلطان سے مراد اس پر اس حدیث سے استناداربع الی الولاۃ منھا الجمعۃ (چار چیزیں
حکمرانوں کی ذمی داری ہے ان میں سے ایك جمعہ ہے۔ ت)
جواہر خلاطی وغیرہ میں نائب والی بھی اضافہ فرمایا کہ وفیھا وال اونائبہ یقدر علی انصاف المظلوم الی قولہ وھوالاصح (وہاں والی یا اس کا ایسا نائب ہو جو مظلوم کو انصاف دلانے پر قادر ہو آگے چل کر فرمایا اور یہی اصح ہے۔ ت) اور علامہ قاسم نے تصحیح القدوری پھر علامہ حصکفی میں در منتقی پھرعلامہ شامی نے ردالمحتارمیں کہا : یکتفی بالقاضی عنالامیر (امیر کی جگہ قاضی ہی کافی ہے۔ ت)یہاں قاضی کےساتھ مفتی کی شرط نہ کی کہ ان زمانوں میں قاضی نہ ہوتے مگر علماء ۔ ردالمحتار میں ہے :
لم یذکر المفتی اکتفاء بذکر القاضی لان اقضاء فی الصدر الاول کان وظیفۃ المجتھدین ۔
ذکر قاضی پر اکتفا کرتے ہوئے مفتی کا ذکرنہیں کیا کیونکہ صدر اول میں قضاء (فیصلہ کرنا) ائمہ مجتہدین کی ہی ذمہ داری ہوتی تھی۔ ت)
اور بعض نے شرط مفتی اضافہ کی ۔ جامع الرموز میں ہے۔
ظاہر المذہب ان مافیہ جماعت الناس
ظاہر مذہب یہ ہے کہ شہر وہ جہاں کچھ محلے
حوالہ / References مبسوط سر خسی باب صلاۃ الجمعۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۲۳
مبسوط سر خسی باب صلاۃ الجمعۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۲۵
جواہر الاخلاطی فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ غیر مطبوعہ نسخہ ص ۲۴
ردالمحتار ، باب الجمعۃ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۹۰ ردالمحتار ،
ردالمحتار ، باب الجمعۃ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۹۰
#10598 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
وجامع واسواق ومفت وسلطان اوقاض یقیم الحدود وینفذالاحکام و قریب منہ ما فی المضمرات وفیہ انہ الاصح ۔
جامع مسجد بازار مفتی حاکم یا ایسا قاضی ہو جو حدود کا قیام اوراحکام کا نفاذ کرسکے ۔ مضمرات کے الفاظ بھی اس کی تائید کرتے ہیں اور اسی میں ہے کہ یہی اصح ہے۔ (ت)
اکابر نے اس کی یہ توجیہ فرمائی کہ حاکم عالم نہ ہو تو عالم کا ہونا بھی لازم ۔ غیاثیہ میں ہے۔
قال الشمس الائمۃ السرخسی ظاہر المذہب ان المصر الجامع مافیہ جماعت الناس واسوق التجارات وسلطان اوقاض یقیم الحدود وینفذ الاحکام ای یقدر علی ذلك و یکون فیہ مفت ان لم یکن القاضی او السلطان بنفسہ مفتیا ۔
شمس الائمہ سرخسی فرماتے ہیں کہ ظاہر مذہب یہ ہے کہ جامع شہر وہ ہوگا جس میں کچھ محلے ہوں اور بازار تجارت سلطان یا قاضی جو حدود کو قائم اور احکام کو نافذ کرے یعنی اس میں ان کے قیام اور نفاذ کی قدرت ہو اوراگر قاضی یا سلطان خود مفتی نہ ہوں تو وہاں کسی نہ کسی مفتی کا ہونا بھی ضروری ہے(ت)
امام طاہر بخاری نے فرمایا :
قال امام السرخسی فی ظاہر المذھب عندنا ان یکون فیہ سلطان وقاض لاقامۃ الحدود وتنفیذ الاحکام ویشترط المفتی اذالم یکن القاضی اوالو لی مفتیا ۔
امام سرخسی نے فرمایا ہء کہ ظاہر مذہب میں ہمارے ہا ں یہی ہے کہ وہاں اقامت حدود اور تنفیذ احکام کے لئے قاضی یا سلطان کاہوناضروری ہے اور جب قاضی یا والی خود مفتی نہ ہو تو وہاں امام سرخسی نے مفتی کا ہونا شرط قرار دیا ہے (ت)
امام مذہب نے اس طرف خود ہی اشارہ فرمایا تھا کہ لعلمہ علم غیرہ(وہ قاضی خود عالم ہویا عالم اس کا معاون ہو۔ ت)فتح میں فرمایا :
اذ کان القاضی یفتی ویقیم الحدود اغنی عن التعدد ۔
جب قاضی خود فتوی دیتا ہواور حدود نافذ کرتا ہوتو وہاں الگ مفتی کا ہونا ضروری نہیں ۔ (ت)
حوالہ / References جامع الرموز فصل صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۲۶۲
فتاوٰی غیاثیہ باب الجمعۃ وشرائطہا مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص ۳۸
خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الثالث والعشرون فی صلاۃ الجعۃ مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئتہ ۱ / ۲۰۷
فتح القدیر ، باب الصلٰوۃ المجعۃ ، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکّھر ۲ / ۲۵
#10599 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
بالجملہ عبارات مختلف ہیں اور مقصود واحد۔ ان تمام عبارات اوران کے امثال صدہا اور خود نص صریح امام مذہب سے جس طرح جمعہ کے لئے اشتراط مصر ظاہر یونہی احکام وو حدود مفتی کے الفاظ اور ان کی تفاریع مذکورہ کتب مذہب سے روشن کہ شہر سے یقینااسلامی شہر مراد ہے نہ یہ کہ مثلا بت پرستوں کا کوئی شہر ہوبادشاہ بت پرست اور دس لاکھ کی ابادی سب بت پرست چار پانچ مسلمان وہاں تاجرانہ جائیں اور پندرہ بیس دن ٹھہر نے کی نیت کریں ان پر وہاں جمعہ قائم کرنا فرض ہوجائے گا جبکہ وہ بادشاہ مانع نہ آتا ہو ہر گز شرح مطہر سے اس کا کوئی ثبوت نہیں عموما ت قطعا اجماعا مخصوص ہیں اورظاہر الروایہ واصل مذہب کی تعریفات یقینااسلامی شہر سے خاص بلکہ وہ ضعیف روایت نادرہ مرجوحہ مہمورہ مالا یسع اکبر مساجدہ اھلہ(اس مقام کی سب سے بڑی مسجد وہاں مقیم لوگوں کے لئے ناکافی ہو۔ ت) کہ محققین کے نزدیك اصلا وجہ صحت نہی رکھتی اور بعذر توانی فی الحدود اس کے اختیار کی راہ اسی ارادہ قدرت سے مسدود اور ظاہر الرایۃ و نص صریح امام اعظم مصح و مرجح کے ہوتے ہوئے روایت نوادر کی طرف رجوع بوجوہ ممنوع و مدفوع کما حققنا کل ذلك فی فتاوئنا (جیساکہ ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی تحقیق کردی ہے۔ ت) اس سے زیادہ اس کی غلطی کیا ہوگی کہ اس پر مکہ معظمہ ومدینہ طیبہ ہی گاؤں ہوجاتے ہیں اور ان میں زمانہ اقدس سے آج تك جمعہ ناجائز و باطل قرار پاتا ہے مجمع الانہر میں ہے :
قالو ان ھذاالحد غیر صحیح عند المحققین ۔
بلا شبہ یہ تعریف محققین کے نزدیك صحیح نہیں ہے۔ (ت)
غنیہ میں ہے :
الفضل فی ذلك ان مکۃ والمدینۃمصران تقام بھما الجمعۃ من زمنہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الی الیوم فکل موضع کان مثل احدھما فھو مصر وکل تفسیرلا یصدق علی احدھما فھو غیر معتبر حتی الذی اختارہ جماعۃ من المتأخرین حتی الذی اختارہ جماعۃ من المتاخرین وھو مالو اجتمع اھلہ فی اکبر مساجد لایستعھم فانہ منقوض بھما اذ مسجد کل منھمایسع
اس میں تفصیل یوں ہے کہ مکہ اورمدینہ دونوں شہر ایسے ہیں جن میں حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ظاہری حیات سے لے کر آج تك جمعہ ادا کیا جاتا رہاہے تو جس جگہ اس طرح کے انتظامات ہوں گے وہ شہر ہے اور جو تعریف ان میں سے کسی ایك پر صادق نہیں آئے گی وہ معتبر نہیں ہوسکتی حتی کہ متاخرین کی ایك جماعت نے جو اختیار کیا ہے شہر کی تعریف یہ ہے کہ وہاں کے لوگ سب سے بڑی مسجد میں اگر جمع ہوں تو وہ مسجد لوگوں کے لئے کافی
حوالہ / References مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب الجمعۃ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۶۶
#10916 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
اھلہ وزیادۃ ۔
نہ ہو یہ درست نہیں کیونکہ مکہ اور مدینہ دونوں کی مساجد وہاں کے لوگوں اور مزید دوسرے لوگوں کے لئے کافی ہیں (ت)
اسے ابن شجاع ثلجی نے امام ابو یوسف رضی اللہ تعالی عنہ ہی سے روایت کیا ہدایہ میں تعریف ظاہر الراویۃ بیان کرکے فرمایا :
ھذا عند ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالی وعنہ انھم اذا اجتمعوا فی اکبر مساجد ھم لم یسعھم والاول اختیار الکرخی وھو الظاہر والثانی اختیار الثلجی ۔
یہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے نزدیك ہے اور انہی سے مروی ہے کہ جب وہاں کے وہ لوگ جن پر جمعہ فرض ہے سب سے بڑی مسجد میں جمع ہوں تو وہ مسجد ناکافی ہو پہلے قول کو امام کرخی نے پسند فرمایااور یہی ظاہر ہے اور دوسرے امام ثلجی نے پسند فرمایا ۔ (ت)
خود امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے الفاظ کہ امام ملك العلماء نے بدائع پھر امام ابن امیر الحاج نےحلیہ میں ذکر کئے یہ ہیں کہ فرمایا :
اذااجتمع فی قریۃ منلایسمعھم مسجد واحد بنیلھم جامعا ونصب لھم من یصلی بھم الجمعۃ ۔
جب کسی قریہ کے لوگ ایك مسجد میں جمع ہوں اور وہ مسجد انکے لئے ناکافی ہو تو ان کے لئے جامع مسجد بنائی جائے اور وہاں کوئی ایسا شخص مقرر کیاجائے جو انھیں جمعہ پڑھائے۔ (ت)
بد یہی ہے کہ بنی او نصبکی ضمیریں سلطان اسلام کی طرف ہیں اور اسی پر وہ حدیث ناطق جس سے طبقۃ فطبقۃ ہمارے ائمہ و علماء اسی باب شرائط جمعہ میں استدلال فرماتےرہے کہ لہ امام عادل او جائر(اس کے لئے امام عادل یا ظالم ہو۔ ت) مبسوط امام سرخسی میں ہے :
لنا ماروینا من حدیث جابر رضی اﷲ تعالی عنہ ولہ امام جائر ا وعادل فقد شرط رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
ہماری دلیل وہ روایت ہے جوحضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ اس کے لئے امام ظالم یا عادل کا ہونا ضروری ہے تو نبی اکرم صلی اللہ تعالی
حوالہ / References غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی صلوٰۃ الجمعۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۵۵۰
الہدایۃ باب صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ / ۱۴۸
بدائع الصنائع فصل فی بیان شرائط الجمعۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۵۹
#10917 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
الامام لا لالحاقہ الوعید بتارك الجمعۃ ۔
علیہ والہ وسلم نے تارك جمعہ پر وعید لاحق ہونے کو امام کے ساتھ مشروط فرمایا ہے۔ (ت)
فتح القدیر میں ہے :
الحدیث رواہ ابن ماجۃ وغیرہ حیث شرط فی لزومھا الامام کما یفیدہ قید الجملۃ الواقعۃ حالا ۔
اس حدیث کو ابن ماجہ وغیرہ نے روایت کیا ہے اس میں جمعہ کے لزوم کے لئے امام کا ہونا شرط قرار دیا ہے جیسے کہ اس کا فائدہ بطور حال واقع ہونے والے جملہ کی قید سے حاصل ہو رہا ہے۔ (ت)
غرض بوجوہ ظاہر ہوا کہ محلیت جمعہ کو اسلامی شہر ہونا لازم ومن ادعی خلافہ فعلیہ البیان(اور جو شخص اس کے خلاف کا مدعی ہے اس پر دلیل کا لانا ضرور ی ہے۔ ت) شہر کی نسبت عرفا بھی باعتبار آبادی ہوتی ہے یا بلحاظ سلطنت مثلا جس شہر کا میں نہ سید آباد ہیں نہ ان میں سیدوں کی عملداری ہے یہ تھی اسے سیدوں کا شہر نہیں کہہ سکتے یونہی جبکہ وہاں عام آبادی کفار ہیں اوراسلامی سلطنت نہ اب ہے نہ کبھی تھی تو اگر چہ اس بنا پرحکام کی طرف سے مسلمانوں کو پناہ اور نماز وغیرہ کی اجازت ہے انھیں امان کے شہرکہیں مگر مسلمانوں کے شہر نہ کہلائیں گے تو اعم منتفی ہے چہ جائے اخص لہذا محل جمعہ وعیدین نہیں ہوسکتے عیدین کے لئے بھی سوائے خطبہ وہی شرائط ہیں جو جمعہ کے واسطے تنویر الابصار ودرمختار باب العیدین میں ہے :
تجب صلاتھما علی من تجب علیہ الجمعۃ بشرائطھا المقدمۃ سوی الخطبۃ ۔
عیدین کی نماز جمعہ کی سابقہ شرائط کےساتھ سوائے خطبہ کے انہی لوگوں پر واجب ہے جن پر نماز جمعہ واجب ہے۔ (ت)
ہاں جہاں ثابت نہ ہوکہ پہلے کبھی اسلامی سلطنت تھی مسلمانوں کا آذاد خود مختار شہر تھا اور دونوں صورتوں میں غیر مسلم نے مسلط ہوکر شعائر اسلام بند نہ کئے وہ بدستوراسلامی شہر و ملك رہے گا جیسے تمام بلاد ہندوستان اور وہاں حسب سابق جمعہ فرض اور عیدین واجب رہیں گے لیکن جمعہ و عیدین کی اقامت کو یہ ضرور ہے کہ بادشاہ یا والی خود امامت فرمائے یا دوسرے کو ان نمازوں میں اپنا نائب ٹھہرا کر امام بنائے جہاں یہ صورت میسر نہ رہے۔
حوالہ / References مبسوط سرخسی باب صلوٰۃ الجمعۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۲۵
فتح القدیر ، باب صلٰو ۃ الجمعۃ ، مطبوعہ نوریہ رضویہ سکّھر ، ۲ / ۲۷
درمختار ، باب العیدین ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۱۱۴
#10918 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
وہاں بضرورت مسلمان جمع ہوکر جسے ان تین نمازوں کا امام مقرر کرلیں گے پڑھائے گا اور یہ فرض وواجب ادا ہوجائےگا متن کنز میں ہے :
شرط ادائھا السلطان ونائبہ
(جمعہ کیادائیگی کے لئے حاکم یا اس کے نائب کا ہونا شرط اورضروری ہے۔ ت)
غنیہ میں ہے :
الشرط الثانی کون الامام فیھا السلطان اومن اذن لہ السلطان ۔
دوسری شرط یہ ہے کہ جمعہ کا امام خود سلطان یا ایسا شخص ہو جسے سلطان نے اجازت دی ہو۔ (ت)
جامع الرموز میں ہے :
اقامۃ الجمعۃ حق الخلیفۃ الا انہ لم یقدر علی ذلك فی کل الامصار فیقیم غیرہ نیابۃ ۔
جمعہ کا قیام خلیفہ وقت کی ذمہ داری ہے چونکہ وہ تمام شہروں میں امامت پر قادر نہیں ہوسکتا لہذا اسکے حکم پر اسکا کوئی نہ کوئی نائب ہونا چاہئے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
ونصب العامۃ الخطیب غیر معتبر مع وجود من ذکر اما مع عدمھم فیجوز للضرورۃ ۔
اشخاص مذکورہ کے ہوتے ہوئے عوام کا خطیب مقرر کرنا معتبر نہیں ہاں اگر اشخاص مذکورہ(خلیفہ وقاضی یعنی سلطان یا قاضی) نہ ہوں توضرورتا عوام کا خطیب مقرر کرلینا جائز ہوگا(ت)
جامع الفصولین میں ہے :
کل مصرفیہ وال من مسلم من جہۃ الکفار تجوز فیہ اقامۃ الجمع والاعیاد وامافی بلاد علیھا ولاۃ کفار فیجوز للمسلمین اقامۃ الجمع والاعیاد ۔ (ملخصا)
ہر وہ شہر جہان کافروں کی طرف سے مسلمان والی مقرر ہو وہاں جمعہ اورعیدین قائم کرنا جائز رہا معاملہ ان شہروں کا جہاں کا فر حاکم ہوں تو وہاں عامۃ المسلمین جمہ اور عیدین کی نمازیں قائم کر سکتے ہیں ۔ (ت)
ایسی ہی جگہ جہاں تحقیق بعض شرائط میں شبہہ ہو احتیاطی رکعتیں رکھی ہیں نہ بر بنائے مراعات خلاف
حوالہ / References کنز الدقائق باب صلٰو ۃ الجمعۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۴۸
غنیۃ المستملی شرھ منیۃ المصلی فصل فی صلٰو ۃ الجمعۃ مطبوعہ سہیل اکیدمی لاہور ص۵۵۳
جامع الرموز ، فصل صلٰو ۃ الجمعۃ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۲۶۳
درمختار ، باب الجمعۃ ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۱۱۰
جامع الصفولین الفصل الاول فی القضاء الخ مطبوعہ اسلامی کتب خانہ علّامہ بنوری ٹاؤن کراچی ۱ / ۱۴
#10919 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
فی المذہب کافی ومحیط وعالمگیریہ میں ہے :
فی کل موضع وقع الشك فی جواز الجمعۃ لوقوع الشك فی المصر وغیرہ واقام اھلہ الجمعۃ ینبغی ان یصلوا بعد الجمعۃ اربع رکعات الخ ۔
ہر و مقام جہاں شہر وغیرہ کسی شرط کے ہونے میں شك کی بناء پر جواز جمعہ میں شك ہوا ور وہاں کے لوگ نماز جمعہ پڑھتے ہوں تو وہاں کے لوگوں کو چاہئے کہ وہ جمعہ کے بعد چار رکعت (بنیت ظہر) ادا کریں الخ(ت)
فتح القدیر و بحرالرائق میں ہے :
قد وقع شك فی بعض قری مصر ممالیس فیھا وال وقاض نازلان بھابل لھا قاضی یسمی قاضی الناحیۃ وھو قاض یولی الکورۃ باصلہا فیاتی القریۃ احیانا فیفصل ما اجتمع فیھا من التعلقات وینصرف ووال کذلك ھل ھومصر نظراالی ان لہا والیا وقاضیا اولا نظرا الی عدمھما بھاواذااشتبہ علی الانسان ذلك ینبغی ان یصلی اربعا بعد الجمعۃ الخ۔
شك واقع ہوا ہے مصر کے بعض علاقوں میں جہاں والی اور قاضی مستقل نہیں بلکہ ان کے لئے ایك عارضی قاضی ہو جسے “ قاضی ناحیہ “ کہا جاتا ہے یعنی وہ بالاصل ضلع کا قاضی ہے جو اس قریہ میں کبھی کبھی آتا ہے اور جمع شدہ معاملات کے فیصلے کرکے واپس چلا جاتا ہے اسی طرح کا والی ہے کیا انھیں شہر کہاجائے گااس بنا پر کہ انکا والی اور قاضی ہے یا شہر نہیں کہا جائیگا اس بنا پرکہ وہ دونوں یہاں رہتے نہیں لہذا جب اس طرح کا کسی انسان پر اشتباہ پیدا ہوجائے تواسے وہاں جمعہ کے روز چار رکعت (بنیت ظہر) ادا کرنی چاہئیں الخ(ت)
شہر میں متعدد جمعے ہوں اور سابق نامعلوم تو اس میں احتیاطی رکعات کا حکم جنہوں نے دیا وہ بھی مجرد رعایت خلاف کے لئے نہیں کہ ایك امرمستحب ہے بلکہ شدت قوت خلاف کے باعث جس کے سبب براء ۃ عہدہ بالیقین نہیں ان کے نزدیك یہاں احتیاط اسی معنی پر ہے۔ حلیہ میں ہے :
قد یقع الشك فی صحۃ الجمعۃ بسبب فقد شروطھا ومن ذلک
بعض اوقات شرائط جمعہ نہ پائے جانے کی وجہ سے صحت جمعہ میں شك واقع ہوجاتا ہے ان میں یہ صورت
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ الباب السادس عشرفی صلٰو ۃ الجمعۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۴۵
فتح القدیر باب صلٰو ۃ الجمعۃ مطبوعہ مکتبہ نو ریہ رضویہ سکّھر ۲ / ۲۵
#10920 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
ما اذا تعددت فی المصر الواحد وجھل اسبق او علمت المعیۃ علی القول بعدم جواز التعدد وھی واقعۃ اھل مرؤ فیفعل ما فعلوہ قال المحسن امرتھم باداء الاربع بعد الجمعۃ حتما احتیاطا ۔
بھی ہے کہ ایك شہر میں متعدد مقامات پر جمعہ ہوتا ہے اور سب سے پہلے ہونے والے سے آگاہی نہیں یا معیت کا علم ہے لیکن اس قول پر ہے جس میں متعدد مقامات پر جمعہ جائزنہیں اور اہل مرو کا معاملہ اسی طرح کاہے پس آدمی انہی کی طرح کرے۔ محسن نے فرمایا کہ ایسی صورت میں جمعہ کے بعد چار رکعت کی ادائیگی انکے لئے احتیاطا ضروری ہے۔ (ت)
غنیہ میں ہے :
امامن حیث جواز التعدد وعدمہ فالاول ھو الاحتیاظ لان فیہ قوی اذا الجمعۃ جامعۃ للجماعات ولم تکن فی زمن السلف تصلی الافی موضع واحد من المصر وکون الصحیح جوازالتعدد للضرورۃ للفتوی لایمنع شرعیۃ الاحتیاط للتقوی ۔
رہا مسئلہ جواز تعداد اور عدم جواز تعدد کا تو پہلے قول میں احتیاط ہے کہ اس میں قوت ہے کیونکہ جمعہ نام ہے تمام جماعتوں کے جمع کرنے کا اور زمانہ اسلاف میں شہر میں فقط ایك ہی جگہ جمعہ ادا کیا جاتا رہا ہے ضرورت کے لئے متعدد جگہ جمعہ کے جواز پر فتوی کا صحیح ہونا اس بات سے مانع نہیں کہ تقوی کے پیش نظر شرعا احتیاطا چار رکعت کا ادا کرنا جائز نہ ہو۔ (ت)
منحۃ الخالق میں ہے :
ھو مبنی علی ان ذلك الاحتیاط ای الخروج عن العھدۃ بیقین لتصریحہ بان العلۃ اختلاف العلماء فی جوازھا اذاتعددت وفیہ شبہۃ قویۃ ۔
وہ اسی احتیاط پر مبنی ہے یعنی آدمی کے ذمے سے فریضہ بالیقین ساقط ہوجائے کیونکہ ان کی تصریح ہے کہ اس کی علت متعدد مقامات پر جواز جمعہ میں علماء کا اختلاف ہے اور اس میں اشتباہ قوی ہے۔ (ت)
ظاہرا عیدین کی نماز مذہب امام شافعی میں سرے سے واجب ہی نہیں نہ شہر نہ گاؤں میں اگرچہ
حوالہ / References حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
غنیۃ المستملی شعح منیۃ المصلی فصل فی صلٰو ۃ الجمعۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۵۲
منحۃ الخالق مع البحرالرائق باب صلاۃ الجمعۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۱۴۳
#10921 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
اسلامی ہو ہاں سنت ہے اور غیر اسلامی آبادی ان کے نزدیك بھی محل جمعہ و عیدین نہیں اورسب سے قطع نظر ہو تو رعایت خلاف وہاں تك ہے کہ اپنے مذہب کا مکروہ لازم نہ آئے نہ کہ فاسد و ناجائز محض ۔ ایك گناہ تو یہ ہوا پھر جمعہ کہ صحیح نہیں نفل بتداعی ہوئے اور یہ بدعت ہے پھر جہاں ظہر فرض ہے اور جماعت واجب اگر جمعہ کے سبب ظہر اصلا نہ پڑھیں تارك فرض ہوں اور تنہا تنہا بلکہ بذریعہ رکعات احتیاطی پڑھیں تو ترك جماعت کے سبب تارك واجب کہ اول ہر بار اور ثانی بعد تکرار کبیرہ ہے۔ درمختار میں ہے :
یندب للمخرج عن الخلاف لکن بشرط عدم لزوم ارتکاب مکروہ مذھبہ ۔
اس طرح عمل کرنا خلاف نہ رہے مستحب ہے لیکن شرط یہ ہے کہ وہاں ایسی چیز کا ارتکاب لازم نہ آئے جواسکے مذہب میں مکروہ ہو۔ (ت)
باایں ہمہ اپنا یہ مسلك ہے کہ ایسی جگہ عوام جس طرح بھی اﷲ اور رسول کا نام لیں روکا نہ جائے نہ خود شرکت کی جائے اگر عدم شرکت میں فتنہ نہ ہو ورنہ بہ بنیت نفل مشارکت ممکن کہ اختار اھونھما(دونوں میں سے آسان کا اختیار رکھا گیا ہے۔ ت) درمختار میں ہے :
کرہ تحریما وکل مالایجوز مکروہ صلاۃ مع شروق الا العوام فلا یمنعون من فعلھا لانھم یترکونھا والاداء الجائز عند البعض اولی من الترك کما فی القنیۃ وغیرھا ۔
یہ مکروہ تحریمہ طلوع آفتاب کے وقت مطلق نماز اور ہر وہ عمل جو جائز نہیں وہ مکروہ ہے مگر عوام لوگوں کو اس وقت نماز کی ادائیگی سے روکا نہ جائے کیونکہ وہ بکل ہی ترك کردیں گے اور اداء جائز بعض علماء کے نزدیك بالکل چھوڑ دینے سے بہتر ہے۔ جیسا کہ قنیہ وغیرہا میں ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
وعزاہ صاحب المصفی الی الامام حمیدالدین عن شیخہ الامام المحبوبی والی شمس الائمۃ الحلوانی وعزاہ فی القنیۃ الی الحلوانی والنسفی ۔
صاحب مصفی نے اس قول کی نسبت امام حمید الدین کی طرف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسے اپنے استاد امام محبوبی کے حوالے سے بیان کیا اورشمس الائمہ حلوانی کی طرف بھی اسے منسوب کیا ہے اور قنیہ میں اسے حلوانی اورنسفی کی طرف منسوب کیا ہے۔ (ت)
حوالہ / References درمختار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۷
درمختار کتاب الصلٰو ۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۶۱
ردالمحتار کتاب الصلٰو ۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۷۳
#10922 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
نیز درمختار باب العیدین میں ہے :
لا یکبر فی طریقھا ولا یتنفل قبلھا مطلقا وکذا بعدھا فی مصلاھا فانہ مکروہ عندالعامۃ وھذا للخواص اما العوام فلا یمنعون من تکبیر ولا تنفل اصلالقلۃ رغبتھم فی الخیرات بحروفی ھامشہ بخط ثقۃ ان علیا رضی اﷲ تعالی عنہ رأی رجلا یصلی بعد العید فقیل اما تمنعہ یا امیرالمومنین فقال اخاف ان ادخل تحت الوعید قال اﷲ تعالی ارأیت الذی ینھی عبدا اذاصلی ۔
نماز عید کے لئے عیدگاہ کو جاتے ہوئے راستے میں تکبیرات نہ کہے اور اس سے پہلے نفل نہ پڑھے کیونکہ یہ اکثر علماء کے نزدیك مکروہ ہیں اور یہ معاملہ خواص کا ہے رہا عوام کا معاملہ تو انھیں نہ تکبیر سے روکا جائے اور نہ ہی نفل پڑھنے سے کیونکہ بھلائی میں ان کی رغبت بہت کم ہوتی ہے بحر اور اسکے حاشیہ میں ثقہ تحریر میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے ایك شخص کو عید کے بعد نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا آپ سے عرض کیا گیا اے امیر المومنین ! اسے آپ منع کیوں نہیں کرتے آپ نے فرمایا : مجھے خوف آتا ہے کہ کہیں میں اﷲ تعالی کی بیان کردہ اس وعید کے تحت داخل نہ ہوجاؤں ارشاد باری تعالی ہے : ـ کیا آپ نے اس کو نہیں دیکھا جو بندے کو نماز سے منع کرتا ہے۔ (ت)
دارحرب حکومت اسلام سے دارالاسلام ہوجاتی ہے اور عیاذا باﷲ عکس کے لئے فقط حکومت کفر کافی نہیں بلکہ شرط ہے کہ وہ جگہ کسی طرف دارالحرب سے متصل ہو اور کوئی مسلم ذمی پہلے امان پر نہ رہے اور شعائر اسلام اس سے بالکل بند کر دیئے جائیں والعیاذ باﷲ تعالیجب شعائر اسلام سے کچھ بھی باقی ہے بدستور دارالاسلام رہے گی۔ تنویر میں ہے :
لا تصیر دارالاسلام دارحرب الا باجراء احکام الشرك وباتصالھا بدارالحرب وبان لایبقی فیھا مسلم او ذمی بالامان الاول ودارالحرب تصیر دارالاسلام باجراء احکام اھل الاسلام فیھا وان بقی فیھا کافر اصلی وان لم تتصل بدارالاسلام ۔
دارا لاسلام اس وقت دارالحرب بنتا ہے جب وہا ں احکام شرك جاری ہوں (یعنی معاذاﷲ وہاں شعائر اسلام بالکل ختم کر دئیے جائیں ) اور وہ جگہ کسی طرف سے دارالحرب سے متصل ہوا ور وہاں کوئی مسلمان اور ذمی پہلے امان پر نہ رہے اور دارالحرب اس وقت دارالاسلام بنتا ہے جب وہاں احکام اسلام جاری ہوں اگر چہ وہاں کافر اصلی موجود ہون اور اگرچہ وہ کسی طرف سے دارالاسلام کے ساتھ متصل بھی نہ ہو۔ (ت)
حوالہ / References درمختارشرح تنویرالابصار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۱۴
درمختار شرح تنویرالابصار فصل فی استیمان الکافر مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۴۷
#10923 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
جامع الرموزمیں ہے :
لا خلاف ان دارالحرب یصیر دارالاسلام باجراء بعض احکام الاسلام فیھا واما صیر ورتھا دارالحرب نعوذ باﷲ منہ فعندہ بشروط احدھا اجراء احکام الکفر اشتھارا بان یحکم الحاکم بحکمھم ولا یرجعون الی قضاۃ المسلمین کمافی الخیرۃ والثانی الاتصال بدار الحرب والثالث زوال الامان الاول وقال شیخ الاسلام والامام الاسبیجابی ان الدار محکومۃ بدارالاسلام ببقاء حکم واحد فیھا کما فی العمادی وغیرہ ۔
اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ بعض احکام اسلامی کے اجراء سے دارالحرب دارالاسلام بن جاتا ہے لیکن دارالاسلام کا نعوذباﷲ دارالحرب بننے کے لئے امام صاحب کے ہاں کچھ شرائط ہیں ان میں سے ایك یہ ہے کہ احکام کفر اعلانیہ جاری ہوں مثلا حاکم کفر کے مطابق فیصلہ کرے اور لوگ مسلمان قاضیوں سے رجوع نہ کرسکیں جیسا کہ خیرۃ میں ہے دوسری یہ کہ وہ جگہ دارالحرب کے ساتھ متصل ہو تیسری یہ کہ پہلی امان ختم ہوجائے شیخ الاسلام اورامام اسبیحابی کہتے ہیں اگر وہاں ایك حکم بھی اسلام کا باقی ہے تو اسے دارالاسلام ہی کہا جائے گاجیسا کہ عمادی وغیرہ میں ہے۔ (ت)
طحطاوی علی الدر میں ہے :
ذکرالاستروشنی فی فصولہ عن ابی الیسر ان دارالاسلام لا تصیردارالحرب مالم یبطل جمیع مابہ صارت دارالاسلام ذکرہ فی احکام المرتدین وذکر الاسبیجابی فی مبسوطہ ان دارالاسلام محکوم بکونہا دارالاسلام فیبقی ھذاالحکم ببقاء حکم واحد فیھا ولا تصیر دارحرب الا بعد زوال القرائن ودارالحرب تصیر دارالاسلام بزوال بعض القرائن وھو ان
شیخ استروشنی نے اپنی فصول میں شیخ ابوالیسر سے بیان کیاہے کہ دا رالاسلام اس وقت تك دارالحرب نہیں بن سکتا جب تك وہ تمام احکام باطل نہ ہوجائیں جن کی وجہ سے وہ دارالاسلام بنا تھا اس کو احکام مرتدین میں ذکر کیا ہے۔ اوراسبیجابی نے اپنی مبسوط میں ذکر کیا ہے کہ دارالاسلام اس وقت تك دارالاسلا م ہی رہے گاجب تك اس میں کوئی ایك حکم اسلام موجود ہو اور تمام قرائن اور شعائر کے زوال کے بعد ہی دارالحرب بنے گا لیکن دارالحرب بعض قرائن کے زوال سے دارالاسلام بن جاتا ہے وہ اس طرح کہ
حوالہ / References جامع الرموز کتاب الجہاد مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کنبد قاموس ایران ۴ / ۵۵۶
#10924 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
تجری فیھا احکام اھل الاسلام وذکر اللامشی فی واقعاتہ انھا صارت دارالسلام بھذہ الاعلام الثلثلۃ فلا تصیردارحرب مابقی شیئ منھا وذکرالامام ناصرالدین فی المنشور ان دارالحرب صارت دارالاسلام باجراء احکام الاسلام فما بقیت علقۃ من علائق الاسلام یترجح جانب الاسلام انتھی وﷲ الحمد واﷲ تعالی اعلم۔
اس میں بعض احکام اسلامی کا اجرا ہوجائے اور لامشی نے واقعات میں ذکر کیاہے کہ ان تین علامات کے پائے جانے پر وہ دارالاسلام بن جاتا ہے لیکن وہ دارالحرب اس وقت تك نہیں بن سکتا جب تك ان میں سے ایك کا وجود وہاں باقی رہے اور امام ناصر الدین نے منشور میں کہا ہے کہ احکام اسلامی کے اجرا سے وہ دارالاسلام بن جاتا ہے اور جب تك قرائن اسلام میں سے کوئی ایك پایا جائے تو جانب اسلا م کو ہی ترجیح ہوگی انتہی اور تمام تعریف اﷲ تعالی کے لئے ہے واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ نمبر ۵۵۵ : ازقلعہ چھرہ ضلع علی گڑھ مسئولہ مقبول احمد صاحب ۴رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ ایك حافظ صاحب نے نماز میں پڑھاورحمۃ للمؤمنین ولا یزید نون کو ساکن پڑھا اورسانس توڑ دی پورا وقف کیا یہ خیال تھا کہ یہاں آیت ہے پھر اپنے کئے پر اصرار کیا دوسرے صاحب نے کہا یہاں لاہے وصل ضرورتھا حافظ صاحب نے خیال نہ کیا انھوں نے نماز کا اعادہ کیا حافظ صاحب نے کہا اعادہ درست نہیں گو عمدا غلط پڑھا لیکن معنی میں کچھ فساد نہیں ہوا نماز صحیح ہے انھوں نے کہا عمدا کا یہ مطلب نہیں ہے کہ قرآن کو جان کر غلط پڑھو یہ توسخت گناہ ہوگا حافظ نے کہا گناہ ہوگا لیکن نماز صحیح ہے ارشاد فرمائیےکہ اعادہ درست ہوا یا وہی نماز صحیح ہے جس کتاب سے سند ہو اس کا پورا پتہ تحریر ہو۔ بینواتوجروا۔
الجواب :
وقف ووصل میں اتباع بہتر ہے مگراس کے نہ کرنے سے نماز میں اصلا کچھ خلل نہیں آتا خصوصا ایسی جگہ کہ کلام تام ہے قصدا وقف میں بھی حرج نہیں اعادہ محض بے معنی تھا ہاں قصد مخالفت البتہ گناہ بلکہ بعض صورتوں میں سب سے سخت تر حکم کا مستوجب ہوگا مگر وہ مسلمان سے متوقع نہیں عالمگیریہ میں ہے :
اذوقف فی غیر موضع الوقف اوابتداء فی غیر موضع الابتداء ان لم
جب ایسی جگہ وقف کی جگہ تھی یا وہاں سے شروع کیا جو شروع کا مقام نہ تھا اگر معنی میں
حوالہ / References حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار فصل فی استیمان الکافر مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۴۶۱
#10925 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
یتغیر بہ المعنی تغیرا فاحشا نحوان یقرأ ان الذین امنو وعملوالصلحت ووقف ثم ابتدأ بقولہ اولئك ھم خیر البریۃ لاتفسد بالاجماع بین علمائنا ھکذا فی المحیط واﷲ تعالی اعلم۔
فحش تبدیلی نہیں آئی مثلا ان الذین امنو وعملوا الصلحت پڑھ کر وقف کیاپھر اولئك الخ(سے ابتداء کی تو ہمارے علماء کا اتفاق ہے کہ نماز فاسد نہ ہوگی محیط میں اسی طرح ہے۔ (ت)
مسئلہ نمبر ۵۵۶ ۵۵۷ : از ککرالہ ضلع بدایوں مرسلہ یسین خان ۷ذی الحجہ ۱۳۳۶ھ
(۱) درمیان میں ایك سورت ترك کرنے سے نماز میں کچھ حرج ہے یا نہیں
(۲) امام نے آٹھ دس آیتیں پڑھ کر ایك یا دو آیتیں ترك کرکے پھر قرأت شروع کی اور دس۱۰ بارہ۱۲ آیتیں پڑھ کر رکوع کیا نماز میں کچھ حرج ہوا
الجواب :
(۱) چھوٹی سورت بیچ میں چھوڑنا مکروہ ہے جیسے اذا جاء کے بعد قل ھو اﷲ اور بڑی سورت ہوتو حرج نہیں جیسے والتین کے بعد انا انزلنا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
(۲) اس سے نماز میں حرج نہیں جبکہ سہوا ہو اور قصدا د و ایك آیت بیچ میں چھوڑ دینا مکروہ ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر۵۵۸ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ نماز فرض میں تین آیت کے بعد لقمہ دینا چاہئے یا نہیں اور تراویح نماز ایك مسجد میں دو۲ مصلے جائز ہے یا نہیں ۔ بینوا توجروا
الجواب :
امام جہاں غلطی کرے مقتدی کو جائز ہے کہ اسے لقمہ دے اگر چہ ہزار آیتیں پرھ چکا ہو یہی صحیح ہے ردالمحتار میں ہے : الفتح علی امامہ غیر منھی عنہ بحر (اپنے امام کو لقمہ دینا منع نہیں بحر ۔ ت)اسی میں ہے :
سواء قرأالامام قدر مایجوزبہ الصلوۃ ام لا انتقل الی ایۃ اخری ام لا تکرر الفتح ام لا ھو الاصح نھر ۔
خواہ امام نے اتنی قرأت کرلی ہو جو نماز کے لئے کافی تھی یا نہ کی ہو خواہ وہ دوسری آیۃ کی طرف منتقل ہوگیا یا نہ ہواہو لقمہ بارباردیا ہو یا ایك ہی بار دیا ہو اصح یہی ہے نہر۔ (ت)
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی زلۃ القاری مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۸۱
ردالمحتار مطلب مسائل زلۃ القاری مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۹۰
ردالمحتار مطلب مسائل زلۃ القاری مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۹۰
#10926 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
تراویح کی دو یا زائد جماعتیں ایك مسجد میں ایك وقت میں جبکہ ایك کی آواز سے دوسرے کو اشتباہ نہ ہو دوردور فاصلے پر ہوں جیسی مکہ معظمہ مسجد الحرام شریف میں ہوتی ہیں جائز ہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۵۹ : کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے نماز میں آخر سورہ بقرہ پڑھا اوربجائے ربنا لا تواخذنا ربنا ولا تواخذنا یعنی با ز د یا د حرف واؤ سہوا پڑھ گیا تو نماز اس کی ہوئی یا نہیں
الجواب :
ہوئی لانھا لم توثرخللافی المعنی(کیونکہ اس سے معنی میں خلل واقع نہیں ہوتا۔ ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۶۰ : امام نے غیرالمغضوب پڑھا اور علیھم
از راہ سہو چھوٹ گیا نماز صحیح ہوئی یا فاسد
الجواب :
نماز صحیح ہوگئی فرض اتر گیا لصحۃ المعنی فان حذف امثال الصلات شائع کثیرا ومنہ المغفور بمعنی المغفور لہ کما فی ط بل رأیتہ فی حدیث عن ابی بکر الصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ(معنی درست ہونے کی وجہ سے کیونکہ صلہ کاحذف مشہور و کثیر ہے اسی طرح لفظ مغفورہے اصلامغفورلہ ہے جیسا کہ ط میں ہے بلکہ میں نے اس حدیث میں بھی دیکھا ہے جو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے۔ ت) مگر واجب کہ قرأت سورہ ئفاتحہ بتمامہا تھی اس کی ادا میں قصور ہواسجدہ سہو چاہئے تھا اگر نہ کیا اعادہ نماز چاہئے ۔ ردالمحتار میں علامہ رحمتی سے ہے :
بترك شیئ منھا ایۃ او اقل ولو حرفا لا یکون اتیا بکلھا الذی ھوالواجب ۔
فاتحہ سے کوئی آیت چھوٹ گئی یا اس سے کم اگرچہ ایك حرف ہو تو ایسے شخص کو تمام فاتحہ(جوواجب تھی) کا پڑھنے والا قرار نہیں دیا جاسکتا۔ (ت)
مسئلہ نمبر ۵۶۱ ۵۶۲ : ۱۶ جمادی الاخری ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس۱ لفظ کے بارے میں اگر یرزقکم کو یرزکم پڑھا جائے تو کیا خرابی اور کس قسم کا گناہگار ہوگا م خطبہ اولی میں لکھا ہے یرزقکم اورقاری صاحب پڑھتے ہیں یرزکم اسلئے میں غلطی پکڑا ہوں اس میں اگر میرا قصور ہو تو میں تسلیم کروں اور قاری صاحب کی غلطی ہو تو ان پر کیا ۲لفط فاطمۃ الزھراء مدچار الف ہے۔
حوالہ / References ردالمحتار باب صفۃ الصلٰو ۃ مطبوعہ مصطفی البابی ۱ / ۳۳۸
#10927 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
قاری صاحب نے بے مد کے ادا کیا کیا یہ لفظ خطا ہے اس کے اول لفظ شدائد میں چار الف اس نے دراز نہیں کیا اس میں کیا ہے
الجواب :
اگر۱ خطبہ میں اس نے یرزقکم کی جگہ یرزکم بلا تشدید کاف پڑھا تو ضرور غلط پڑھا اور گرفت صحیح ہے مگر خطبہ میں ایسی غلطی کا اثر نماز پر نہیں پڑتا نماز ہوجائے گی اور یرزکم بہ تشدیدکاف پڑھا تو غلطی بھی نہیں کقولہ تعالی الم نخلقكم من مآء مهین(۲۰) واﷲ تعالی اعلم۔ ۲یہ مد متصل ہے اور متصل واجب ہے تلاوت میں اس کا ترك حرام ہے کما نص علیہ فی ردالمحتارجیسے کہ ردالمحتار میں اس پر تصریح ہے۔ ت) مگر خطبہ کا حکم تلاوت کا سا نہیں ہوسکتا وہ ایك بات چیت ہے کہ امام مقتدیوں سے کرتا ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۶۳ : ازجونا گڑھ سرکل مدار المہام مرسلہ مولوی امیرالدین صاحب ۲۰ رجب ۱۳۱۶ھ
ایك مسجد کا امام آیہ اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ کو جموعۃ مع الواؤ صاف پڑھتا ہے اور فی لیلۃ القدرکو پی لیلۃ الکھدر صاف پڑھتا ہے اب نماز ہوئی یا نہیں اور ایسے شخص کو امام بنانا چاہئے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
یہ سوال دو مسئلوں پر مشتمل ہے :
مسئلہ اولی : اشباع حرکات کہ ان سے حروف پیداہو جائیں مثلا فتحہ سے الف ضمہ سے واو کسرہ سے یاء۔ اس میں متاخرین سے روایات مختلف ہیں ۔ عین الائمہ کرابیسی وجاراﷲ زمحشری نے کہا اگر والصلوات کی جگہ واصلاوات پڑھانماز فاسد نہ ہوگی ۔ عین الائمہ نے کہا نؤمن کو نؤمین پڑھنے میں فساد نہیں ۔ زمحشری نے کہا ھدیت کو ھادیت پڑھنامفسد نہیں اور انھیں عین الائمہ نے کہا لم یلد کو لم یالد پڑھاتو اعادہ نمازاحوط ہے انہیں نے کہا اگر نشکرك یا نکفرك یا نترك میں اشباع کرکے نشکروک نکفروک نتروك پڑھانماز کا اعادہ کرے۔ قنیہ میں ہے :
عك وجاراﷲ والصلاوات لاتفسدعك ولو قرأنستعینك اوونؤمین بك لا تفسدجاراﷲ لوقرأ فی من ھادیت لاتفسدلانہ اشباع للفتحۃ عك فی الاخلاص لم یالد فالا عادۃ احوط وفی
عین الائمہ کرابیسی اورجاراﷲ زمحشری نے کہا کہ اگر کسی نے والصلوات کی جگہ والصلاوات پڑھاتو نماز فاسد نہ ہوگی عین الائمہ نے کہا اگر کسی نے نستعینك اور نؤمین بك پڑھا تو نماز فاسد نہ ہوگی ۔ جاراﷲ نے کہا اگر ھدیت کو ھادیت پڑھاتو اس میں نماز فاسد
#10928 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
قولہ نشکروك ونکفروك ونتروك یعید انتھی مختصرا
نہ ہو گی کیونکہ اس میں حرکت فتحہ کا اشباع ہے ۔ عین الائمہ نے کہا اگر کسی نے سورہ اخلاص میں لم یالدپڑھا تو اعادہ نماز احوط ہے اوراگر کوئی نشکروك نکفروك اورنتروك پڑھے تو وہ اعادہ کرے انتہی مختصرا (ت)
اور ہمارے ائمہ متقدمین رضی اللہ تعالی عنہم کے قضیہ مذہب پر تفصیل ہے اگر وہ محل محل اشباع ہے جیسے مقامات وقف مثلا نعبد کی جگہ نعبد (اگر چہ وہاں وقف نہ ہو جیسے اﷲ اکبر میں اﷲ باشباع ھاکہ وقف ووصل کی تبدیلی اصلا مفسد نہیں کما فی الھندیۃ والدرالمختاروغیرھما(جیسا کہ ہندیہ درمختار اور دیگر کتب میں ہے۔ ت)یافیہ عنہ منہ یدخلہ تشکروہ وانہمیں اشباع ھا تو قطعا مفسد نہیں ورنہ اگر اشباع سے معنی بتغیر فاحش متغیر ہوجائیں جیسے ربنا کی جگہ رابنا یا اﷲ اکبرمیں کلمہ جلالت کے عوض اﷲ اکبر کی جگہ اکبریاقول اصح میں ا کبار یا کلمہ مہمل ہوجائے جیسے بجائے نعبد ناعبود یا الحمد کی جگہ الحامد بسکون میم تو فساد ہے ورنہ نہیں خانیہ میں ہے :
لوقرأایاك نعبد واشبع ضم الدال حتی یصیر واوا لم تفسد صلاتہ ۔
اگر کسی نے ایاك نعبدکواس طرح پڑھا کہ ضمہ دال میں اشباع کیا حتی کہ وہ واؤ ہوگیا تو اس کی نماز فاسد نہ ہوگی۔ (ت)
وجیز کردری میں ہے :
لوزادحرفا لایغیرالمعنی لاتفسد عندھما وعن الثانی روایتان کما لوقرأ وانھی عن المنکر بزیادۃ الیاء أو انارادوہ والیك بزیادۃ واو أو رودوھا علی بزیادۃ الواو أویتعد حدودہ یدخلہ نارا وان غیرافسد الخ ۔
اگر کسی حرف کا اضافہ کردیا مگر معنی نہ بدلا تو صاحبین کے نزدیك نماز فاسد نہ ہوگی اور دوسرے (یعنی امام ابویوسف) سے دو۲روایتیں ہیں جیسا کہ کسی نے وانہ عن المنکرکو وانھی عن المنکر الف کی زیادتی کے ساتھ یا انا را دوہ الیك میں واؤکی زیادتی کے ساتھ یا رودھاعلی میں واؤ کی زیادتی کےساتھ یا یتعد حدودہ ید خلہ ونارا میں یدخلہ کی ہ کے بعد واؤ یتعدی کو یأ پڑھا اور اگر معنی بدل جائے تو نماز فاسد ہوجائے گی الخ(ت)
حوالہ / References قنیۃ ، فتاوٰی قنیۃ باب فی الحذف والزیادۃ المطبعۃ المشتہرہ بالمہانیدۃ ص۶۳
فتاوٰی قاضی خان فصل فی قرأۃ القرآن خطاء الخ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۶۸
فتاوٰی بزازیۃ مع الفتاوی الھندیۃ الثانی عشر فی زلۃ القاری مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۴۵
#10929 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
درمختار میں ہے :
کبر بالحذف اذمد احدالمھزتین مفسدو تعمدہ کفر وکذا الباء فی الاصح ۔
شروع میں اﷲ اکبر کہے ہمزوں کوحذف کرنےکے ساتھ(یعنی بڑھا کر لمبا کر کے نہ پڑھے) کیونکہ دونوں ہمزوں میں سے کسی ایك کو لمبا کرنا نماز کو فاسد کردیتا ہے اوراگر عمدا لمبا کرتا ہے تو کفر ہے اوراصح قول کے مطابق اکبر میں باء کو کرنا بھی مفسد نماز ہے۔ (ت)
ردالمحتارمیں ہے :
المد فی اﷲ فان کان فی اولہ لم یصربہ شارعاوافسد الصلوۃ لوفی اثنائھا وان فی وسطہ کرہ وفی اخرہ فھوخطأ ولا یفسد ایضا والمد فی اکبر فی اولہ مفسد فی وسطہ افسد وقال الصدر الشھید یصح وفی اخر قد قیل یفسد کذا فی الحلیہ ملخصا اقول وینبغی الفساد بمدالھاء لانہ یصیر جمع لاہ کما صرح بہ بعض الشافیعۃ تامل اھ مافی ردالمحتار ملخصا۔
ورأیتنی کتبت علی قولہ قد قیل یفسد مانصہ :
اقول : لایظہر الفراق بین
لفظ اﷲ میں مد کا معاملہ یوں ہے کہ اگر اول میں ہو تو اس سے نماز شروع کرنے والانہ ہوگا اور و ہ نماز کو فاسد کردے گااگر ایسا دوران نماز ہو اور اگر مد لفظ اﷲ کے درمیان میں ہو تو مکروہ ہے اور لفظ اﷲ کے آخر میں ہو تو و ہ خطا ہے اورنماز کو بھی فاسد نہیں کرتا اگر مدلفظ اکبر میں ہو اگر مدابتداء میں ہوتو نماز فاسد اور اگر وسط میں ہو تو وہ نماز کو فاسد کردے گا۔ اور صدر الشہید کہتے ہیں کہ نماز صحیح ہوگی اگر مد آخر میں ہو تو کہا گیا ہے کہ نماز فاسد کردے گا کذافی الحلیۃ تلخیصا میں کہتا ہوں ہاء کی مد سے بھی فساد نماز ہونا چاہئے کیونکہ ا س صورت میں وہ لاہ کی جمع ہوجاتا ہے جیسے کہ اس پر بعض شوافع نے تصریح کی ہے اچھی طرح غور کرو اھ یہ ردالمحتار کی عبارت کا خلاصہ ہے مجھے یاد آرہا ہے کہ میں نے اس کی عبارت قد قیل یفسدپر یہ حاشیہ لکھا ہے الفاظ یہ ہیں : اقول : (میں کہتا ہوں ) اکبر کی راء کی
حوالہ / References درمختار فصل واذا ارادالشروع فی الصلٰو ۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۷۴
ردالمحتار فصل واذاارادالشروع فی الصلٰو ۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۵۴
#10930 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
مدالراء من اکبر والھاء من الجلالۃ وقد قال فی البحر عن المبسوط لومدھاء اﷲ فھوخطأ لغۃ وکذالومد راء ہ اھ۔
اقول : ویؤیدہ مایاتی فی الدرمن المفسدات عن البزازیۃ شرعا ان القراء ۃ بالالحان تفسد ان غیر المعنی والا لا اھ وکتبت علی قولہ تأمل مانصہ فانہ خلاف المنقول عندناکما علمت وغایتہ ان یکون مترددا بین الاشباع وہو غیر مفسد للمعنی کما قدمنا عن الخانیۃ وبین جمع اللاھی و ھو مغیر وبالاحتمال لم یثبت التغیر کما تدل علیہ فروع جمۃ لاتکاد تحصی وسیصرح بہ المحشی فی المفسدات حیث یقول عند الاحتمال ینتفی الفساد لعدم تیقن الخطا اھ فالوجہ ماھوالمنقول۔
مد اور اسم جلالت کی ہا میں مد کے درمیان کوئی فرق ظاہر نہیں ہورہا۔ بحر میں مبسوط کے حوالے سے ہے اگر لفظ اﷲ کی ھا میں مد کی تو یہ لغۃ غلط ہے اگر اکبر کی را میں مد کی تو اس کا معاملہ بھی یوں ہی ہے اھ۔
اقول : (میں کہتاہوں ) شرعی طور پر اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے جو بزازیہ کے حوالے سے درمختار میں نماز کے مفسدات میں آرہا ہے کہ الحان کےساتھ قرأت نماز کو فاسد کردیتی ہے اگر معنی میں تبدیلی آجائے ورنہ نہیں اھ اورمیں نے ان کے لفظ “ تامل “ پر یہ حاشیہ لکھا جس کے الفاظ یہ ہیں یہ ہمارے نزدیك خلاف منقول ہے جیسا کہ آپ جان چکے زیادہ سے زیادہ اس میں تردد پیدا ہوتا ہے درمیان اشباع کے اور اشباع کی صورت میں معنی میں فساد پیدا نہیں ہوتا جیساکہ ہم خانیہ کے حوالے سے بیان کرچکے ہیں اور درمیان لاھی کی جمع کے اور وہ مغیرالمعنی ہے مگر محض احتمال کے ساتھ تبدیلی ثابت نہیں ہوجاتی جیسا کہ اس پر بے شمار جزئیات دال ہیں اور عنقریب محشی آگے مفسدات نماز میں اس بات کی تصریح کررہے ہیں عبارت یہ ہے احتمال کے وقت فسادنماز نہ ہوگا کیونکہ غلطی کا یقین نہیں اھ پس بہتر وہی ہے جو منقول ہے۔
اس میں ہے :
حوالہ / References جدالممتار فصل اذاارادالشروع الجمع الاسلامی مبارك پور ۱ / ۳۳۸
جدالممتار فصل اذا اراد الشروع الجمع الاسلامی مبارك پور ۱ / ۳۳۸
ردالمحتار فصل واذا اراد الشروع فی الصلٰوۃ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۶۸
#10931 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
قولہ بالالحان ای بالنغمات وحاصلہا کما فی الفتح اشباع الحرکات لمراعات النغم (قولہ ان غیرالمعنی) کما لو قرا ئالحمد ﷲ رب العلمین واشبع الحرکات حتی اتی بواوبعد الدال وبیاء بعد اللام والھاء وبالف بعد الراء ومثلہ قول المبلغ رابنالك الحامد بالالف بعد الراء لان الراب ھو زوج الام کمافی الصحاح والقاموس اھ۔
اقول : ذکر اتیان الواو بعد الدال والیاء بعد الھاء وقع فی غیرموقعہ لما علمت انھما محل الاشباع ولا یتغیر فیہ المعنی وانما مشی المحشی رحمۃ اﷲ تعالی علی ماظن سابقا فی اشباع ھاء الجلالۃ وقد علمت انہ خلاف المقصود۔
اس کی عبارت بالحان سے مراد نغمات ہیں اور فتح کے مطابق اس کا حاصل یہ ہے “ نغمہ کی رعایت کرتے ہوئے حرکات میں اشباع پیدا کرنا “ اور اس کی عبارت “ ان غیرالمعنی “ سے مراد یہ ہے جیسا کہ کسی نے الحمد ﷲ رب العلمین پڑھتے ہوئے حرکات میں اتنا اشباع کیا کہ دال کے بعد واو لام اور ہا کے بعد یا اور راء کے بعد الف بڑھا دیا اسی طرح کسی مبلغ (آواز پہنچانے والے) نے رابنا لك الحامد پڑھا یعنی را کے آگے الف بڑھا دیا کیوں کہ راب کا معنی ماں کے شوہر کے ہیں جیسا کہ صحاح اور قاموس میں ہے اھ(ت)
اقول : (میں کہتا ہوں ) یہاں دال کے بعد واؤ اور ھا کے بعد یا کا تذکرہ اس محل ومقام کے مناسب نہیں کیونکہ ان دونوں حرفوں میں اشباع ہے مگر معنی تبدیل نہیں ہوتا۔ محشی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تعالی اپنے سابقہ گمان پر چلے ہیں جو انھیں اسم جلالت کی ہاء کے بارے میں ہوا تھا اور آپ نے جان لیا کہ یہ خلاف مقصود ہے(ت)
مختار محققین قول ائمہ متقدمین ہے کما بینہ فی الغنیہ(جیسا کہ غنیہ میں بیان کیا ہے۔ ت) اور ظاہرا لفظ جموعۃشق ثانی سے ہے کہ اس کے معنی معلوم نہیں واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ثانیہ : حروف کو کچی زبان سے ادا کرنا یہ اگر ایسی جگہ ہو کہ فساد معنی لازم نہ آئے جیسے لاتقھرکی جگہ لا تکھر توامام اعظم وامام محمد کے نزدیك مطلقامفسد نہیں ورنہ معتمد ائمہ مذہب مطلقا فساد ہے اور پ یا چ یاگ بولنے میں فساد اظہر کہ یہ حروف کلام ا ﷲ تو کلام اﷲ کلام عرب ہی میں نہیں ۔ قنیہ میں :
سألت استاذنا برھان الائمۃ المطرزی عمن قرأفی صلاتہ کلمۃ فیھا جیم بالچیم
میں نے اپنے استاذ برہان الائمہ المطرزی سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو نماز میں جیم کی جگہ چ یا
حوالہ / References ردالمحتار باب یفسد الصلٰو ۃ الخ مطبوعہ مصطفی البابی ۱ / ۴۶۸
#10932 · الجام الصّاد عن سُنن الضّاد ۱۳۱۷ھ (ضاد کے طریقوں سے روکنے والے منہ میں لگام دینا)
اوالباء پاء ھل تفسد فتأمل فیہ کثیرا ثم تقرر رأیہ علی انہ لحن مفسد قلت ینبغی ان لاتفسد علی ما اختارہ المتأخرون انہ اذا تقارب المخرج لا یکون لحنامفسدا الخ ملخصا۔
باء کی جگہ پاء پڑھتا ہے کیا اس کی نماز فاسد ہوگی یا نہیں انھوں نے بڑے غور وفکر کے بعد اپنی اس پختہ رائے کا اظہار کیا کہ یہ لحن ہے جو مفسد نماز ہے میں کہتا ہوں اس صورت میں نماز فاسد نہیں ہونی چاہئے جیسا کہ متاخرین نے اس بنا پر سے اختیار کیاہے کہ جب مخارج قریب ہوں تو لحن مفسد نہیں ہوتا الخ تلخیصات(ت)
یہ مسئلہ مسئلہ الثغ ہے اور اس کی تفصیل و تحقیق ہمارے فتاوی میں ہے اور عامہ ائمہ کا مفتی بہ یہی ہے اس کی امامت صحیح نہیں اور نماز اس کے پیچھے فاسد ہے۔
فی الخیریۃ امامۃ الالثغ بالفصیح فاسدۃ فی الراجح الصحیح ۔
فتاوی خیریہ میں ہے کہ الثغ(توتلا) کا صحیح پڑھنے والے کاامام ہونا راجح اور صحیح قول کے مطابق فاسد ہے (یعنی درست نہیں )۔ (ت)
تو پی لیلۃ الکھدر پڑھنے والے کے پیچھے صحیح خواں کی نماز باطل ہے اور اسے امام کرنا حرام ھذا جملۃ الکلام وللتفصیل غیرذلك من المقام(یہ خلاصہ کلام ہے اور تفصیل کے لئے اس کے علاوہ مقام ہے ۔ ت) واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
________________
حوالہ / References قنیہ فتاوٰی قنیۃ باب زلۃ القاری المطبعۃ المشتہرہ بالمہانندیۃ ص ۶۲
فتاوٰی خیریہ کتاب الصلٰو ۃ مطبوعہ بیروت ۱ / ۱۰
#10933 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)

مسئلہ نمبر۵۶۴ : اگر امام رفع یدین کرتا ہے اور آمین پکارتا ہے اور سب مقتدی حنفی المذہب ہیں کہ آمین بالجہر اور رفع یدین نہیں کرتے اور مقتدی اس کی امامت سے پناہ مانگتے ہیں مگر وہ نماز جبرا پڑھاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں اس فعل کو ہر گز نہیں چھوڑوں گا خواہ میرے پیچھے کوئی نماز نہ پڑھے اور وہ علم بھی رکھتا ہے پس ایسے امام کے واسطے کیا حکم ہے ا س کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں کیا حکم شرع شریف دیتی ہے
الجواب :
ان بلاد میں آمین بالجہر و رفع یدین والے غیر مقلدین ہیں اور غیرمقلدین گمراہ بددین اور ان کے پیچھے نمازناجائز کما حققنا فیالنھی الاکید عن الصلوۃ وراء عدی التقلید(اس کی پوری تحقیق ہم نے اپنے رسالے النھی الاکید عن الصلوۃ وراء عدی التقلید میں کی ہے۔ ت)(جو آگے آرہا ہے) اور اگر بالفرض کوئی سنی صحیح العقیدہ شافعی مذہب بھی آگیا ہو تو اسے ہرگز حلال نہیں کہ کراہت جمیع جماعت و نفرت جملہ مقتدیان کے ساتھ بالجبر ان کی امامت کرے۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں تین شخصوں کی نماز ان کے کانوں سے بالشت بھر اوپرنہیں اٹھتی یعنی مردود ہے قبول بارگاہ کی طرف بلند نہیں کی جاتی واحد منھم من ام قوماوھم لہ کارھون ان میں ایك وہ ہے جو لوگوں کی امامت کرے اور وہ ناراض ہوں ___ (دوسراغلام ہے جو اپنے آقا سے بھاگ جائے تیسری وہ عورت ہے جو رات اس طرح گزارے کہ اس کا شوہر اس پر غضبناك رہے۔
مسئلہ نمبر ۵۶۵ : ایك شخص حافظ قرآن ہے مگر آدھا کلمہ لا الہ الا اﷲ پڑھتاہے اور خود ولی بن کر عورتوں مردوں کو نصف
حوالہ / References المصنّف لعبدالرزاق باب الآبق من سیّدہ مطبوعہ المجلس العلمی بیروت ۱۱ / ۲۴۷
#10934 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
کلمہ پڑھاتا ہے اور محمد رسول اﷲ بظاہراس کی زبان سے نہیں سنا جاتا اور وہ امامت بھی کرتا ہے ایسے شخص کے پیچھے نماز امت محمدیہ حنفیہ علی صاحبہا الصلو ۃ والسلام کی درست ہے یا نہیں
الجواب :
صوفیہ کرام نے تصفیہ قلب کے لئے ذکرشریف لا الہ الا اﷲ رکھا ہے کہ تصفیہ حرارت پہنچانے سے ہوتا ہے اور کلمہ طیبہ کا یہ جز گرم وجلالی ہے اور دوسرا جز کریم سرد خنك جمالی ہے اگر ایسے ہی موقع پرصرف لاالہ الا اﷲ کی تلقین کرتا ہے تو کچھ حرج نہیں اوراگر خود کلمہ طیبہ پڑھنے میں صرف لاالہ الا اﷲ کافی سمجھتا ہے اور محمد رسول اﷲ سے احتراز کرتا ہے تو اس کی امامت ناجائزہے کہ یہ ذکر پاك محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے معاذ اﷲ بے پرواہی پر دلیل ہے اور اگر واقعی اسے محمد رسول اﷲ کہنے سے انکار ہے یا یہ ذکر کریم اسے مکروہ و ناگوار ہے توصریح کافرو مستوجب تخلید فی النار والعیاذ باﷲ تعالی واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۵۶۶ : ۴ جمادی الاخری ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اگرامام نماز پڑھائے جماعت کی اور اﷲ آواز سے کہے اوراکبر نہ کہے کہ کسی مقتدی کو نہ سنائی دے جائز ہے یا ناجائز
الجواب :
اﷲ اکبرپورا با آواز کہنا مسنون ہے سنت ترك ہوئی نماز میں کراہت تنزیہی آئی مگر نماز ہوگئی واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۶۷ : از ورڈ ضلع نینی تال ڈاك خانہ کچھا مرسلہ عبدالعزیز خان ۴رمضان المبارک۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے رباعی نماز سے ایك رکعت آخری پائی اور وہ شخص قعدہ اولی کے واسطے دوسری رکعت میں قعدہ کرے گا یااس کو چاہئے کہ دوسری میں قعدہ کرے یا تیسری میں اور اگر تیسری میں قعدہ اولی کیا تواس پر سجدہ سہوآئے گا یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
قول ارجح میں اسے یہی چاہئے کہ سلام امام کے بعد ایك ہی رکعت پڑھ کر قعدہ اولی کرے پھر دوسری بلا قعدہ پڑھ کر تیسری پر قعدہ اخیرہ کرے درمختار میں ہے :
یقضی اول صلاتہ فی حق قرأۃ واخرھا فی حق تشھد فمدرك رکعۃ من غیر فجر یاتی
مسبوق قرأت کے باب میں اپنی نماز کا اول اور تشہد کے باب میں اپنی نماز کا آخر پڑھے(یعنی فوت شدہ نماز کو قرأت کے حق میں شروع نماز سمجھے اور تشہد کے
#10935 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
برکعتین بفاتحۃ وسورۃ وتشھد بینھما وبرابعۃ الرباعی بفاتحۃ فقط ولایقعد قبلھا ۔
حق میں امام کےساتھ پڑھی ہوئی کو بھی ملائے) پس نمازفجر کے علاوہ ایك رکعت پانے والا دورکعت میں فاتحہ اور سورت دونوں پڑھے اور انکے درمیان تشہد بیٹھے اورچاررکعتوں والی نماز کی چوتھی رکعت میں صرف فاتحہ پڑھے اور چوتھی رکعت سے پہلے تشہد نہ بیٹھے۔ (ت)
مگراس کا عکس بھی کیا کہ دو۲ پڑھ کر بیٹھا پہلی پر قعدہ نہ کیا پھر تیسری پر قعدہ اخیرہ کیا تو یوں بھی نماز جائز ہوگی سجدہ سہو لازم نہ آئے گا۔ ردالمحتار میں ہے :
قال فی شرح المنیۃ ولو لم یقعد جاز استحسانا لاقیاسا ولم یلزمہ سجود السہو لکون الرکعۃ اولی من وجہ ۔
شرح المنیہ میں ہے کہ اگر وہ پہلی رکعت پر قعدہ نہ بیٹھا تو استحسا نا جائزہے قیاسا نہیں اور چونکہ یہ من وجہ پہلی رکعت ہے لہذا اس پر سجدہ سہو لازم نہ ہوگا۔ (ت)
اقول : (میں کہتا ہوں ۔ ت) یہ فیصلہ بعینہا فتوی سیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ ہے کما ذکرہ محرر المذہب محمد رحمہ اﷲ تعالی(جیسا کہ محرر مذہب امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے ذکر کیاہے۔ ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۶۸ : ۱۷ جمادی الاولی۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك اندھا ہے لیکن حافظ قرآن اور قاری ہے اور مسائل روزہ ونماز سے بھی اچھی طرح واقف ہے اور نیز آیات قرآن مجید کا ترجمہ کرسکتا ہے اور بہت سی حدیثیں بھی جانتا ہے اور اس لیاقت کا کوئی شخص اس محلہ میں نہیں ہے اس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں
الجواب :
ہر جماعت میں سب سے زیادہ مستحق امامت وہی ہے جو ان سب سے زیادہ مسائل نمازوطہارت جانتا ہے اگرچہ اور مسائل میں بہ نسبت دوسروں کے علم کم ہو مگر شرط یہ ہے کہ حروف اتنے صحیح ادا کرے کہ نماز میں فساد نہ آنے پائے اور فاسق وبد مذہب نہ ہو جوشخص ان صفات کا جامع ہو اس کی امامت افضل اگرچہ
حوالہ / References دُرمختار ، باب الامۃ ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۸۶
ردالمحتار باب الامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۴۱
#10936 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
اندھا ہو کہ زیادت علم کے باعث کراہت نابینائی زائل ہوجاتی ہے ہاں فاسق وبدمذہب کی امامت بہر حال مکروہ اگرچہ سب حاضرین سے زیادہ علم رکھتے ہوں ۔ یوں ہی حرف ایسے غلط ادا کئے کہ نماز گئی تو امامت جائز ہی نہیں اگر چہ عالم ہی ہو ۔ درمختار میں ہے :
الاحق بالامامۃ الاعلم باحکام الصلوۃ فقط صحۃ وفسادا بشرط اجتنابہ للفواحش الظاہرۃ اھ ملخصا
امامت نماز کے زیادہ لائق وہ شخص ہے جو فقط احکام نمازمثلا صحت وفساد نماز سے متعلق مسائل سے زیادہ آگاہ ہو بشرطیکہ وہ ظاہری گناہوں سے بچنے والا ہو اھ تلخیصا(ت)
کافی میں ہے :
الاعلم باسنۃ اولی الا ان انیطعن علیہ فی دینہ ۔
جو شخص سنت سے زیادہ واقف ہو وہ امامت کے لئے سب سے بہتر ہوتا ہے مگر اس صورت میں نہیں جب اس کے دین پر اعتراض ہو۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
قید کراھۃ امامۃ الاعمی فی المحیط وغیرہ بان لایکون افضل القوم فان کان افضلھم فھو اولی ۔
محیط وغیرہ میں تصحیح امامت اعمی کی کراہت اس بات سے مقید کی ہے کہ جب وہ قوم سے افضل نہ ہو اگر وہ افضل ہو تو اس کا امام بننا بہتر ہے (ت)
ردالمحتار میں ہے :
اما الفاسق فقد عللوا کراھۃ تقدیمہ بانہ لایھتم لامردینہ وبان فی تقدیمہ للامامۃ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعا ولا یخفی انہ اذاکان اعلم من غیرہ لاتزول العلۃ فانہ لایؤمن ان یصلی بھم
فاسق کی امامت کے مکروہ ہونے کی فقہاء نے یہ علت بیان کی ہے کہ وہ اپنے دین کی تعظیم و اہتمام نہیں کرتا اور یہ بیان کیا گیا ہے کہ امامت کے لئے اس کی تقدیم میں تعظیم ہوگی حالانکہ شرعا لوگوں پر اسکی اہانت کا حکم ہے۔ واضح رہے کہ جب فاسق دوسروں سے زیادہ
حوالہ / References دُرمختار ، باب الامامۃ ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۸۲
کافی
بحرالرائق باب الامامۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۴۸
#10937 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
بغیر طھارۃ فھو کالمبتدع تکرہ امامتہ بکل حال الخ واﷲ تعالی اعلم۔
صاحب علم ہو تو یہ علت زائل نہیں ہوجاتی کیونکہ ممکن ہے وہ بغیر طہارت کے ہی نماز پڑھا دے بہر حال وہ بدعتی کی طرح ہے۔ جس کی امامت ہر حال میں مکروہ ہے الخ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ نمبر ۵۶۹ : ازچھاؤنی کامٹی ضلع ناگپور مرسلہ حافظ محمد یقین الدین صاحب رضوی ۱۹ شعبان ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جن مسجدوں میں کئی درجے ہوں اور ہردرجہ سہ درجہ پنج درجہ امام کو ان کی ہر محراب ودر میں کھڑا ہونا مکروہ ہے یا صرف اندرونی محرابوں یا وسطانی دروں میں ۔ بینوا توجروا
الجواب :
محرابیں وہی ہیں جووسط میں قیام امام کی علامت کے لئے بنائی جاتی ہیں باقی جو فرجے دو۲ ستونوں کے درمیان ہوتے ہیں درہیں اور امام کو بلاضرورت تنگی مسجد ہر محراب د درمیں کھڑا ہونا مکروہ ہے پھر اطراف کے دروں میں قیام نافی کراہت نہیں بلکہ بسااوقت اور کراہتوں کا باعث ہوگا کہ امام راتب کو محراب چھوڑ کر ادھر ادھر کھڑاہونا مکروہ ہے اور اگر مسجد کی صف پوری ہوئی تو اس صورت میں امام وسط صف کے محاذی نہ ہوگا یہ ہر امام کے لئے مکروہ ہے اگر چہ غیر راتب ہو تنویر الابصار میں ہے : کرہ قیام الامام فی المحراب مطلقا اھ مخلصا(امام کا محراب میں کھڑا ہونا مطلقا مکروہ ہے اھ تلخیصا۔ ت) بحر الرائق میں ہے : مقتصی ظاہرالروایۃ الکراھۃ مطلقا (ظاہر الروایۃکا تقاضایہی ہے کہ یہ مطلقا مکروہ ہے ۔ ت) ردالمحتار میں ہے :
فی معراج الدریۃ من باب الامامۃ الاصح ماروی ان یقوم بین الساریتین او زاویۃ اوناحیۃ المسجد او الی ساریۃ لانہ بخلاف عمل الامۃ اھ وفیہ ایضا السنۃ ان یقوم الامام ازاء وسط الصف الا تری ان المحاریب
معراج الدرایہ کے باب الامامت میں ہے کہ امام صاحب سے جو کچھ مروی ہے اس میں اصح یہ ہے کہ امام کا دو ۲ ستونوں کے درمیان یامسجد کے کسی گوشے میں یا مسجد کی کسی ایك جانب یا کسی ستون کی طرف کھڑا ہونا مکروہ ہے کیونکہ یہ امت کے عمل کے خلاف ہے۔ اھ اور اس میں یہ بھی ہے کہ امام کا وسط صف میں کھڑا ہونا سنت ہے کیا آپ نہیں دیکھتے کہ محراب مساجد کے درمیان میں
حوالہ / References ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۴
درمختار شرح تنویر الابصار باب ما یفسد الصلٰو ۃ ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۹۲
بحرالرائق ، باب ما یفسد الصلٰو ۃ ، مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۶
#10938 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
مانصبت الا وسط المساجد وھی قدعینت لمقام الامام اھ وفی التاتارخانیۃ ویکرہ ان یقوم فی غیر المحراب الالضرورۃ اھ ومقتضاہ ان الامام لو ترك المحراب وقام فی غیرہ یکرہ ولوکان قیامہ وسط الصف لانہ خلاف عمل الامۃ وھوظاہرفی الامام الراتب دون غیرہ والمنفرد فاغتنم ھذہ الفائدۃ اھ
ہوتے ہیں اور یہ امام کے کھڑے ہونے کےلئے متعین ہوتے ہیں اھ اورتاتارخانیہ میں ہے امام کا ضرورت کے بغیر محراب کے علاوہ کسی جگہ کھڑا ہونا مکروہ ہے اھ اس کا تقاضا یہ ہے کہ اگر امام محراب چھوڑ کر کسی دوسری جگہ کھڑا ہوگیا اگرچہ اس کا قیام وسط صف میں ہو تب بھی وہ مکروہ ہوگا کیونکہ یہ عمل امت کے خلاف ہے اور یہ بات مقررامام کے بارے میں ہے اگر امام مقرر نہیں یا تنہا نمازی ہے(توپھر یہ پابندی نہیں ) پس اس فائدہ کو قیمتی جان اھ(ت)
اسی میں ہے :
عن المعراج عن حلوانی عن ابی اللیث لایکرہ قیام الامام فی الطاق عند الضرورۃ بان ضاق المسجد علی القوم اھ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
معراج سے وہ حلوانی سے امام ابواللیث کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ امام کا ضرورت کے وقت طاق میں کھڑا ہونا مکروہ نہیں مثلا اگر مسجدنمازیوں کے لئے تنگ ہو تو ایسا کیا جاسکتا ہے اھ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم (ت)
مسئلہ نمبر ۵۷۰ : از پیلی بھیت مسجد جامع مرسلہ مولوی احسان صاحب ۳۰ رجب ۱۳۰۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کو کہ نہ حافظ قرآن ہے نہ مسائل دان نہ علم قرأت سے واقف ایك معمولی اردوخواں بلکہ بازار میں کتب فروشی و نعلین فروشی کی دکان کرنےوالا ہے ایك مسجد کا امام بننا چاہتا ہے حالانکہ دو عالم متقی ومحتاط اسی مسجد میں اور بھی موجود ہیں اور مہتمم مسجد واکثر نمازی اس شخص کی امامت سے راضی نہیں اس صورت میں ایسے امام کے حق میں کیا حکم ہے اور ان علماء کی اقتداء کی نسبت کیا ارشاد ہے بینوا تو جروا
الجواب :
صورت مسئولہ میں اس شخص کو امام بننا جائز نہیں اگر امامت کرے گا گنہگار ہوگا جب لوگ اسکی امامت اس وجہ سے ناپسند رکھتے ہیں کہ اس سے زیادہ علم والے موجود ہیں تو اسے امامت کرنا شرعا منع ہے۔
حوالہ / References ردالمحتار باب مایفسد الصلٰو ۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۷۸
ردالمحتار باب مایفسد الصلٰو ۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۷۸
#10939 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
درمختار میں ہے :
لو ام قوماوھم لہ کارھون ان الکراھۃ لفساد فیہ اولانھم احق بالامامۃ منہ کرہ لہ ذلك تحریما الخ
اگرکوئی کسی قوم کا امام بنا حالانکہ وہ لوگ اس کو برا جانتے ہیں تو اگران کی نفرت امام کے اندر کسی خرابی کی وجہ سے ہے یا اس وجہ سے کہ وہ لوگ بنسبت امام مذکور کے امامت کے زیادہ مستحق ہیں تو اس شخص کو امام ہونا مکروہ تحریمی ہے الخ۔ (ت)
پس شخص مذکور ہر گز امامت نہ کرے بلکہ جو سنی صحیح العقیدہ غیرفاسق کہ حروف بقدر صحت نماز ٹھیك ادا کرتا اور وہاں کے نمازیوں میں سب سے زیادہ مسائل نماز کا علم رکھتا ہو اسی کوامام کیا جائے کہ حق صاحب حق کو پہنچے اور مقتدیوں کی نماز بھی خوبی و خوش اسلوبی پائے ۔ حدیث شریف میں ہے :
ان سرکم ان تقبل صلوتکم فلیؤمکم علماؤکم رواہ الطبرانی فی الکبیر عن مرثد الغنوی رضی اﷲ تعالی عنہ وفی الباب عن ابی عمر وعن ابی امامۃ الباھلی رضی اﷲ تعالی عنہ۔
اگر تمھیں اپنی نماز مقبول ہونا منظور ہے تو چاہئے کہ تمھارے علماء تمھاری امامت کریں ۔ اس کوطبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت مرثد غنوی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے اور اس مسئلہ کے بارے میں حضرت ابو عمرو اورحضرت ابو امامہ الباہلی رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی حدیث بیان کی گئی ہے۔
کیا یہ شخص جس کے جہل کے باعث اکثر نمازی اس کی امامت سے ناراض ہین ان سخت وعیدوں سے خوف نہیں کرتا جو ایسے امام کے حق میں آئیں ۔ حضور پر نورسید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ثلثۃ لایقبل اﷲ منھم صلوۃ من تقدم قوماوھم لہ کارھون ۔ اخرجہ ابوداؤد
تین اشخاص ہین جن کی نماز اﷲ تعالی قبول نہیں فرماتا ایك وہ جو لوگوں کی امامت کرے اور وہ اسے ناپسند رکھتے
حوالہ / References درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۳
مجمع الزوائد باب الامامۃ مطبوعہ دارالکتاب بیروت ۲ / ۶۴ ، المعجم الکبیر مااسند مرثد لغنوی مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۳ / ۳۲۸
نوٹ : المعجم الکبیر میں فلیؤمکم علماءکم کی جگہ فلیومکم خیارکم ہے اور مجمع الزوائد فلیومکم علماءکم ہے اس لئے مجمع الزوائد سے حوالہ نقل کیا ہے (نزیر احمد سعید)
سنن ابی داؤد باب الرجل یؤم القوم ھم لہ کارھون مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۸۸
#10940 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
وابن ماجۃ عن عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہ وفی الباب عن ابن عباس وعن عمرو ابن حارث وعن جنادۃ ابن امیۃ وعن ابی امامۃ الباھلی رضی اﷲ تعالی عنھم۔
ہوں ۔ اس کو ابوداؤد اورابن ماجہ نے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ اور اس بارے میں حضرت ابن عباس حضرت عمروبن حارث حضرت جنادہ بن امیہ اور حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالی عنہم سے بھی حدیث مروی ہے۔
دوسری حدیث میں ہے :
من ام قوما وفیھم اقرأ لکتاب اﷲ منہ و اعلم لم یزل فی سفال الی یوم القیامۃ ۔ اخرجہ العقیلی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
جو کسی قوم کی امامت کرے اور ان میں وہ شخص موجود ہو جو اس سے زیادہ قارئ قرآن و ذی علم ہے وہ قیامت تك پستی و خواری میں رہے گا۔ اس کو عقیلی نے ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے نقل کیا ہے۔
مسئلہ ۵۷۱ : ۱۲ ربیع الاول شریف ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ایك مسجد میں ہمیشہ سے امامت کے واسطے معین ہے اور ایك شخص اس سے افضل کسی شہر سے آیا چند آدمیوں نے چاہا کہ یہ شخص فاضل ہے اس وقت کی نماز یہی پڑھائے امام قدیم سے پوچھا کہ آپ کی اجازت ہے یا نہیں اس نے انکار کیا مگر چند آدمیوں نے اس مسافر کو کھڑا کردیا یہ لوگ اور مسافر امام قدیم کے مؤاخذہ دار ہوئے یا نہیں ۔ بینوا تو جروا
الجواب :
اگر امام قدیم مثل غلط خوانی قرآن بحد افساد نماز بد مذہبی مثل وہابیت و غیر مقلدی یا فسق ظاہر مانند شراب نوشی و زنا کاری کوئی خلل ایسا نہ ہو جس کے باعث اسے امام بنانا شرعا ممنوع ہو تو اس مسجد کی امامت اسی کا حق ہوتی ہے اس کے ہوتے دوسرے کو اگرچہ اس سے زیادہ علم و فضل رکھتا ہو بے اس کی اجازت کے امام بننا بنانا شرعا نا پسندیدہ و خلا ف حکم حدیث وفقہ ہے حضوت پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لا یؤمن الرجل فی سلطانہ رواہ احمد ومسلم عن ابی مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ۔
امام مسجد کی موجودگی میں کوئی دوسراشخص امامت نہ کرائے ۔ اس حدیث کو امام احمد اورامام مسلم نے حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ت)
حوالہ / References کتاب الضعفاء الکبیر ترجمہ نمبر ۱۹۶۳ء الہیثم بن عقاب کوفی مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ۴ / ۳۵۵
صحیح مسلم باب من احق بالامامۃ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۳۶
#10941 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
دوسری حدیث میں ہے :
من زارقوما فلا یؤمھم ولیؤ مھم رجل منھم رواہ احمد و ابوداؤد والترمذی والنسائی عن مالك ابن الحویرث رضی اﷲ تعالی عنہ۔
جو شخص کسی قوم کا مہمان ہے وہ ان کی امامت نہ کروائے بلکہ اس قوم میں سے کوئی شخص ان کا امام بنے۔ اس کو احمد ابوداؤد ترمذی اورنسائی نے حضرت مالك بن حویرث رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
صاحب البیت ومثلہ امام المسجد الراتب اولی بالا مامۃ من غیرہ مطلقا الخ
صاحب خانہ اور مقرر امام مسجد کا امامت کروانا دوسرے لوگوں سے مطلقا بہتر ہے الخ(ت)
ردالمحتار میں ہے :
ای وان کان غیرہ من الحاضرین من ھو اعلم واقرأمنہ ۔
یعنی اگر چہ حاضرین میں سے کوئی شخص اس گھر والے یا مقرر کردہ امام مسجد سے زیادہ عالم اور قاری ہو۔ (ت)
پس صورت متفسرہ میں اگر اس امام قدیم میں اس قسم کا کوئی خلل نہ تھا تو بلاشبہ باوصف اس کی ممانعت کے اس مسافر کا امام بننا ناحق اسکے حق میں دست اندازی کرنا ہوا اور یہ خود اور وہ چند آدمی جنہوں نے ایسی حالت میں اسے امام بنایا مبتلائے کراہت و مخالف حکم شریعت ہوئے۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۷۲ : از سیتا پور محلہ تامس گنج مرسلہ حضور نور العارفین صاحب دام ظلہم المعین ۱۹ربیع الاول شریف ۱۳۰۹ہجری
بخدمت علمائے متبحرین ملتمس ہوں مثلا کوئی لڑکا عمر اس کی تیرہ ۱۳یا چودہ۱۴ برس کی ہے اور وہ قرآ ن شریف پڑھا ہے لیکن کبھی نماز نہیں پڑھتا اور باوجود ہونے متصل مسجد مکان کے بیٹھا رہتا ہے اور نماز جمعہ کی قصدا نہیں پڑھتا اور نابالغ ہے اور اپنے گھر کی عورت کو لے کر میلہ ہنود میں جیسے کہ میلہ کنبھ اور میلہ ردنا وغیرہ میں جاتا ہے
حوالہ / References سنن ابو داؤد باب امامۃ الزائر مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۸۸
درمختار ، باب الامامۃ ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۸۳
ردالمحتار ، باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۳
#10942 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
اور عورتیں اس گھر کی دھوبلاپوش ہیں اور پرستش رسم ہنود کی کرتی ہیں اس کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں اور اگر ایسا لڑکا نماز جنازہ پڑھائے تو درست ہے یا نادرستبینوا توجروا۔
الجواب :
اگر فی الواقع اس کے یہاں کی عورات غیر خدا کو پوجتی ہیں یعنی حقیقۃ دوسرے کی عبادت کہ شرك حقیقی ہے(نہ صرف وہ بعض رسوم جاہلیت یا افعال جہالت کہ حدفسق وگناہ سے متجاوز نہیں گو اہل تشدد انھیں بنام شرك و پرستش غیر تعبیر کریں ) اور وہ اس شرك حقیقی پر مطلع اوراس پر راضی ہے تو خود کافر ومرتد ہے فان الرضا بالکفر کفر(کیونکہ کفر کے ساتھ رضامندی بھی کفر ہے۔ ت) اس تقدیر پر وہ بالغ ہو نابالغ کسی بچے کی بھی کوئی نماز اس کے پیچھے صحیح نہیں ہوسکتی نہ اسکے پڑھنے سے نمازجنازہ کا فرض ساقط ہو فان الکافر لیس من اھل العبادۃ اصلا(کیونکہ کافر عبادت کا ہرگز اہل نہیں ۔ ت) اوراگر ان عوارت کے افعال حدکفر تك نہیں یا ہیں مگر یہ ان پر راضی نہیں تو مسلمان ہے پس اگر فی الواقع نابالغ ہے تو بالغین کی نماز اس کے پیچھے صحیح نہیں اگر چہ نمازجنازہ ہی ہو ہاں جنازہ میں امامت کرے گاتو ظاہرا نماز فرض کفایہ تھی ادا ہوجائے گی کہ گو اوروں کی نماز اس کے پیچھے نہ ہو اس کی اپنی توبہ تو ہوگئی سقوط فرض کے لئے اسی قدر بس ہے کہ نماز جنازہ میں جماعت شرط نہیں ولہذا اس میں عورت کی امامت سے بھی فرض ساقط ہوجاتا ہے۔
فی الدرالمختارلایصح اقتداء رجل بامرأۃ وخنثی وصبی مطلقاولو جنازۃ ۔
درمختار میں ہے کہ کسی مرد کا کسی عورت خنثی یا بچے کی اقتداء کرنا صحیح نہیں اگرچہ وہ نماز جنازہ ہی کیوں نہ ہو۔ (ت)
اسی کے صلاۃ الجنائز میں ہے :
لوام بلا طہارۃ والقوم بھا اعیدت و بعکسہ لاکما لوامت امرأۃ ولوامۃ لسقوط فرضہا بواحد ۔
اگر امام نے بغیر طہارت کے نماز پڑھائی اور قوم باطہارت تھی تو نماز لوٹائی جائے گی اگر اس کے برعکس ہو تو نہیں جیسا کہ کسی عورت نے امامت کرائی خواہ وہ لونڈی ہی ہو کیو نکہ شخص واحد سے فرض ساقط ہوگیا(ت)
ردالمحتار میں ہے :
حوالہ / References درمختار ، باب ا لامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی ۱ / ۸۴
درمختار باب صلٰو ۃ الجنائز مطبوعہ مطبع مجتبائی ۱ / ۱۲۱
#10943 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
قال الامام الاستروشنی فی کتاب احکام الصغار الصبی اذاغسل المیت جاز اھ ای یسقط بہ الوجوب فسقوط الوجوب بصلاتہ علی المیت اولی لانھا دعاء وھواقرب للاجابۃ من المکلفین۔
امام استروشنی نے کتاب الاحکام الصغار میں تصریح کی ہے کہ بچہ اگر کسی میت کو غسل دے تو جائز اھ یعنی اس سے وجوب ساقط ہوجائے گا لہذا میت پر بچے کی نمازسے وجوب نماز بطریق اولی ساقط ہوجائے گا کیونکہ نماز جنازہ دعا ہے اور بالغ لوگوں کی بنسبت بچے کی دعا جلدی قبول ہوتی ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
نقل الاحکام عن جامع الفتاوی سقوطہا بفعلہ کردالسلام اھ وتمام تحقیقہ فیہ من الامامۃ ومن الجنائز۔
لیکن احکام میں جامع الفتاوی سے منقول ہے کہ بچے کے نماز جنازہ پڑھانے سے اس کا سقوط ہوجاتا ہے جیسا کہ بچہ اگراسلام کا جواب دے تو اس کے سلام کا جواب دینا درست ہے اھ اور اس بارے میں تمام تحقیق باب الاما مۃ اورباب الجنائز میں ہے۔ (ت)
اور اگر بالغ ہے تو ہر نماز یہاں تك کہ فرائض پنجگانہ بھی اس کے پیچھے ہو توجائیں گے کہ داڑھی مونچھ شرط صحت امامت نہیں بلوغ درکار ہے اور وہ ظہور آثار مثل احتلام وغیرہ سے لڑکوں میں بارہ۱۲ برس کی عمر سے ممکن لیکن جبکہ وہ تارك الصلو ۃ اور بلا تاویل تارك جمعہ ہے اور بے عذر صحیح ترك مسجد اور ہنود کے میلوں میں جانے اوراپنی عورات کو لےجانے کا عادی ہے تو بوجوہ کثیر فاسق ہے کہ ان میں ہر امر فسق کے لئے کافی تو اس کے پیچھے نمازمکروہ ہے کہ پڑھی جائے تو شرعا اس کا اعادہ مطلوب ۔
لما صرحوبہ من کراھۃ الصلوۃ خلف الفاسق وان کل صلوۃ ادیت مع کراھۃ فانھا تعاد وجوبا لو تحریمۃ وندبا لوتنزیھۃ وقداختارالمحقق الحلبی کراھۃ التحریم فی الفاسق وھو قضیۃ الدلیل لاسیما اذکان
جیسا کہ فقہا نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ فاسق کے پیچھے نماز مکروہ ہے اور ہر وہ نمازجو کراہت کے ساتھ ادا کی جائے تو مکروہ تحریمی کی صورت میں اس کالوٹانا واجب اور تنزیہی کی صورت میں لوٹانا مستحب ہے اور محقق حلبی نے اقتداء فاسق کے مکروہ تحریمی ہونے کو مختار قرار دیا ہے اوریہی دلیل کا تقاضا ہے خصوصا جبکہ
حوالہ / References ردالمحتار باب صلٰو ۃ الجنائز مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۶۴۱
ردالمحتار باب صلٰو ۃ الجنائز مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۶۴۱
#10944 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
معلنا۔
وہ فاسق ملعن ہو۔ (ت)
اور نماز جنازہ میں اسے امام کرنا اور بھی زیادہ معیوب کہ یہ نماز بغرض دعا و شفاعت ہے اور فاسق کو شفاعت کے لئے مقدم کرناحماقت تاہم اگر پڑھا ئے گا تو جواز نماز وسقوط فرض میں کلام نہیں کما لا یخفی(جیسا کہ مخفی نہیں ہے ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم بالصواب ۔
مسئلہ نمبر ۵۷۳ : ۲۷ربیع الاول شریف ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس نے امام کے ساتھ کچھ رکعتیں نہ پائیں بعد سلام امام وہ اپنی رکعات باقیہ ادا کرتا ہے اس صورت میں کسی نے اس کی اقتدا کی تو اس اقتدا کرنے والے کی نماز صحیح ہوگی یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
نہ۔ فی تنویرالابصار المسبوق منفرد فیما یقضیہ الافی اربع لایجوز الاقتداء بہ (تنویر الابصار میں ہے مسبوق منفرد ہے اس نماز میں کہ قضا کرتا ہے یعنی وہ نماز جو امام کے ساتھ نہیں ملی اس کے پڑھنے میں منفردہے مگر چار مسئلوں میں کہ وہ مثل مقتدی کے اول مسئلہ یہ ہے کہ اس کی اقتداء جائز نہیں (ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر۵۷۴ : یکم جمادی الاخری ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سود خور کے پیچھے نماز کا کیا حکم ہے اور اسے امام مقرر کرنا چاہئے یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
سود خور فاسق ہے اور فاسق کے پیچھے نماز ناقص و مکروہ اگر پڑھ لی تو پھیری جائے اگر چہ مدت گزر چکی ہو ولہذا اسے ہر گزامام نہ کیا جائے جہاں امامت کرتا ہو بشرط قدرت معزول کرکے امام متقی صحیح العقیدہ صحیح القرأۃ مقرر کریں اگر قدرت نہ پائیں تو جمعہ کے لئے دوسری مسجد میں جائیں یونہی پنجگانہ میں خواہ اپنی دوسری جماعت یہیں کرلیں ۔ صغیری میں : یکرہ تقدیم الفاسق کراھۃ تحریم (فاسق کی تقدیم (یعنی امامت) مکروہ تحریمی ہے۔ ت)مراقی الفلاح میں ہے :
حوالہ / References درمختار شرح تنویرالابصار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۶
صغیری شرح منیۃ المصلی مباحث الامامت مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص ۲۶۲
#10945 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
کرہ امامۃ الفاسق العالم لعدم اھتما مہ بالدین فتجب اھانتہ شرعا فلایعظم بتقدیمہ للامامۃ واذا تعذر منعہ ینتقل عنہ الی غیر مسجد للجمعۃ وغیرھا ۔
فاسق عالم کی امامت مکروہ ہے کیونکہ وہ دین کی اتباع کا اہتمام نہیں کرتا لہذا شرعا اس کی تذلیل واجب ہے پس امامت کے لئے تقدیم کی صورت میں اس کی تعظیم درست نہیں جب اس کا روکنا دشوار ہو تو ایسے حضرات کو جمعہ وغیرہ کے لئے دوسری مسجد میں چلے جانا چاہئے۔ (ت)
طحطاویہ میں ہے :
تبع فیہ الزیلعی ومفادہ کون الکراھۃ فی الفاسق تحریمیۃ ۔
زیلعی نے اس میں اسی کا اتباع کیا اس کا مفادیہ ہے کہ فاسق کے امام ہونے میں کراہت تحریمی ہے۔ (ت)
حاشیہ درمختار میں فرمایا :
فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعا ومفادھذا کراھۃ التحریم فی تقدیمہ اھ ابو مسعود۔
فاسق کی تقدیم میں اس کی تعطیم ہے حالانکہ شرعا اس کی اہانت ان پر لازم ہے یہ بات اس پر دال ہے کہ فاسق کی تقدیم مکروہ تحریمہ ہے اھ ابومسعود(ت)
کبیری میں ہے :
لو استویافی العلم والصلاح واحد ھما اقرأ فقد موا الاخراساؤا ولا یاثمون فالاساء ۃ لترك السنۃ و عدم الاثم لعدم ترك الواجب لانھم قد موارجلا صالحا کذافی فتاوی الحجۃ و فیہ اشارۃ الی انھم لو قدموا فاسقا یا ثمون بناء علی ان کرھۃ تقدیمہ کراھۃ
اگردو۲ شخص علم وصلاح میں برابر ہوں مگر ایك صاحب تجوید ہو تواگر دوسرے کو امام بنالیا تو وہ اساء ت کے مرتکب ہوئے البتہ گناہگار نہ ہوں گے۔ اساء ت ترك سنت کے سبب ہے اور عدم گناہ عدم ترك واجب کی وجہ سے ہے کیونکہ انہوں نے ایك صالح شخص کو امام بنایا فتاوی حجہ میں اسی طرح ہے اسی میں اس طرف اشارہ بھی ہے کہ انہوں نے کسی
حوالہ / References مراقی الفلاح مع حاشیہ الطحطاوی فصل فی بیان الاحق بالامامۃ مطبوعہ اصح المطابع کراچی ص۱۶۵
حاشیہ الطحطاوی علی المراقی الفلاح فصل فی بیان الاحق بالامامۃ مطبوعہ اصح المطابع کراچی ص۱۶۵
حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار باب الامامۃ مطبوعہ درالمعرفۃبیروت ، ۱ / ۲۴۳
#10946 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
تحریم لعدم اعتنائہ باموردینہ وتسا ھلہ فی الایتان بلوازمہ فلا یبعدمنہ الاخلال ببعض شروط الصلوۃ وفعل ماینافیھا بل ھو الغالب بالنظر الی فسقہ ولذا لم تجزالصلوۃ خلفہ اصلا عند مالك وروایۃ عن احمد الخ واﷲ تعالی اعلم
فاسق کو مقدم کردیا تو گناہگار ہوں گے اس بنا پر کہ فاسق کا مقدم کرنا مکروہ تحریمی ہے کیونکہ وہ امور دین کی پرواہ نہیں کرتا اور دین کے لوازمات پر عمل کرنے سے تساہل برتتا ہے لہذا اس سے بعید نہیں کہ وہ نماز کے بعض شرائط فوت کر دے اور نماز کے منافی عمل کرے بلکہ اس کے فسق کے پیش نظر غالب گمان یہی ہے یہی وجہ ہے کہ امام مالك اور ایك روایت کے مطابق امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ تعالی کے نزدیك فاسق کے پیچھے نماز قطعا جائز نیں ۔ الخ واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ نمبر ۵۷۵ : مسئولہ مرزا باقی بیگ صاحب رامپوری ۴صفر ۱۳۰۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام کو در میں یعنی دو۲ ستونوں کے بیچ میں کھڑا ہونا کیسا ہےبینوا توجروا۔
الجواب : مکروہ ہے۔
فی مکروھات الصلوۃ من ردالمختار عن معراج الدریۃ باب الامامۃ الاصح ماروی عن ابی حنیفہ انہ قال اکرہ للامام ان یقوم بین الساریتین (الی قولہ) لانہ بخلاف عمل الامۃ انتھی ۔
ردالمحتار کے مکروہات صلو ۃ میں معراج الداریہ کے باب الامامت کے حوالے سے ہے کہ امام ابو حنیفہ سے اصح طور پر یہی مروی ہے کہ امام کے دوستونوں کے درمیان کھڑے ہونے کو مکروہ جانتا ہوں (آگے چل کر فرمایا) کیونکہ یہ عمل امت کے خلاف ہے انتہی (ت)واﷲ سبحنہ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر۵۷۶ : ازاجین گوالیار مرسلہمولوی یعقوب علی خان ۱۵ جمادی الاخری ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علما ئے دین ومفتیان سنت وجماعت اس مسئلہ میں کہ زید مسائل فقہ سے محض ناواقف اور نہ عبور حدیث وتفسیر باوجود ان اوصاف کے بلادلائل شرعیہ بیان کرے کہ جو مرد اپنی بی بی سے قربت کرے
حوالہ / References غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامامۃ ، مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۳
ردالمحتار ، مطلب مکروہات الصلٰو ۃ فصل فی الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۴۷۸
#10947 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
اور جب تك نہ نہاوے مورد لعنت ہے اور کہے کہ جوشخص دروازہ مسجد کو بحفاظت مسجد بعد نماز عشاء مقفل کرے اس مسجد میں نماز قطعی حرام ہے وہ آدمی سنگسار کیا جائے اوربغیر علم احادیث و تفسیر ترجمہ قرآن مجید کرے اور فرض کو سنت اور واجب کو مستحب بیان کرکے جھوٹے حوالے کتاب کے دے اور بعد ہونے نماز جنازہ بارہ دوم تکبیر پانچ منسوخہ سے نماز جنازہ پڑھاوے اور بلا وقفیت مسائل وارکان نماز پیش امامی کرے نماز اسکے پیچھے جائز ہے یا نہیں اور جائز کو ناجائز کے کہے اس کے حق میں اور اس کے ممدومعاون کے حق میں شرعا کیا حکم ہےاحکموا ﷲ بحوالۃ الکتاب (اﷲ تعالی کا حکم بیان کرو حوالہ کتاب کے ساتھ۔ ت)
الجواب :
زید جاہل سخت جری بیباك ہے۔
اولا : اس کاعلی الاطلاق کہنا کہ جو اپنی بی بی سے قربت کرے جب تك نہ نہائے معاذ اﷲ مورد لعنت ہے شریعت مطہرہ پر سخت افترائے ناپاك ہے حکم صرف اس قدر ہے کہ مھما امکن(جتنا جلدی ممکن ہو۔ ت) نہانے میں تعجیل مندوب ومحبوب ہے اگر نہ نہائے تو وضو کررکھے کہ جہاں جنب ہوتا ہے وہاں فرشتے آنے سے احتراز کرتے ہیں مگر غسل میں تعجیل نہ کرنے والامعاذاﷲ مورد لعنت ہونا درکنار سرے سے گناہگار بھی نہیں جب تك تاخیر باعث فوت نماز یا دخول وقت کراہت تحریمی نہ ہو خود صاحب شرع صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے تعلیم جواز کے لئے بعض اوقات بلکہ خاص شبہائے ماہ مبارك رمضان میں صبح تك تاخیر غسل فرمائی ہے کہ حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اس فعل سے امت کو دو۲ مسئلہ تخفیف ورحمت معلوم ہوں ایك یہی غسل میں تعجیل گو بہتر ہے پر واجب نہیں نماز تك تاخیر کا اختیار رکھتا ہے دوسرے یہ کہ بحالت جنابت صبح کرنے سے روزے میں کوئی خلل یا نقص نہیں آتا۔ احمدوبخاری ومسلم وام المومنین صدیقہ و ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے راوی :
ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یصبح جنبا من جماع ثم یغتسل ویصوم زادفی زاویۃ فی رمضا ن ۔
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم (بعض اوقات) جماع کی وجہ سے جنبی حالت میں صبح کرتے پھر غسل کرتے اور روزہ رکھتے تھے ایك روایت میں رمضان کا بھی اضافہ ہے۔ (ت)
حوالہ / References صحیح بخاری باب الصائم یصبح جنبا مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۵۸ ، صحیح مسلم باب صحۃ صوم من طلع علیہ الفجر مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۵۴ ، مسند احمد بن حنبل مروی عن عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا مطبوعہ دارالفکر بیروت ۲ / ۳۱۳
#10948 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
ثا نیا و ثالثا : مسئلہ مسجد میں خدا ورسول پر دو۲ افترااور کئے ایك یہ کہ اس مسجد میں نماز حرام دوسرا یہ کہ وہ آدمی سنگسار کیاجائے۔ پہلے افترا سے وہ ان لوگوں میں داخل ہوا جنہیں قرآن عظیم نے فرمایا :
و من اظلم ممن منع مسجد الله ان یذكر فیها اسمه و سعى فی خرابها- ۔
اس سے بڑھ کر ظالم کون جو خدا کی مسجدوں کو ان میں یاد الہی ہونے سے روکے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے۔ (ت)
اور دوسرے سے وہ بے گناہ مسلم کے ناحق قتل کا فتوی دینے والا ہوا علماء صاف اجازت دیتے ہیں کہ حاجت کے وقت غیر اوقات نماز میں حفاظت کے لئے دروازہ مسجد بند کرنا جائز ہے۔
کرہ خلق الباب المسجد الالخوف علی متاعہ بہ یفتی درمختار۔ ھذا ھوالصحیح تبیین الحقائق والمسألۃ فی الفتح والبحر والنھر و غیرھا عامۃ کتب المذہب۔
مسجد کے سامان کوچوری سے محفوظ کرنے کے لئے مسجد کو بند رکھنا جائز ہے ورنہ بلا ضرورت مسجد کو بند رکھنا مکروہ ہے۔ اسی پر فتوی ہے۔ درمختار(ت)یہی صحیح ہے تبیین الحقائق۔ اور یہ مسئلہ فتح بحر نہر اور دیگر مشہور کتب میں یونہی مذکور ہے۔ (ت)
ہاں بے حاجت یا غیر وقت حاجت خصوصا اوقات نماز میں بند کرنا ممنوع اور بند کرنےوالا گناہگار مگر نہ ایسا کہ سنگسار کرنے کے قابل اور یہ سخت جہالت فاحشہ دیکھئے کہ اس مسجد میں نماز حرام ۔ سبحن اﷲ! اس نے تو ایك آدھ وقت دروازہ بند کیا یہ ہمیشہ کو تیغا کٹے دیتا ہے وہ سنگسار کرنے کے قابل ہوا یہ کس سزا کے لائق ہوگا۔
رابعا : بے علم ترجمہ قرآن مجید میں دخل دینا گناہ کبیرہ ہے خودقرآن مجید فرماتا ہے :
ام تقولون على الله ما لا تعلمون(۸۰) ۔
یا تم اﷲ کے بارے میں وہ بات کہتے ہو جو تم نہیں جانتے۔ (ت)
حدیث میں ہے سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من قال فی القران بغیر علم فلیتبوأ مقعدہ من
جو بغیر علم کے قرآن میں زبان کھولے وہ اپنا گھر
حوالہ / References القرآن ۲ / ۱۱۴
درمختار باب مایفسد الصلٰو ۃ الخ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۳
تبیین الحقائق فصل کرہ استقبال القبلۃ بالفرج الخ مطبوعہ المطبعۃ الکبری الامیریۃ بولاق مصر ۱ / ۱۶۸
القرآن ۲ / ۸۰
#10949 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
النار ۔ رواہ الترمذی وصححہ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔
جہنم میں بنالے۔ اسے ترمذی نے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کرکے صحیح قرار دیا ۔
خامسا سادسا سابعا : بے سمجھے بوجھے مسائل شرعیہ میں مداخلت کرنا غلط سلط جو منہ پر آیا فرض کو سنت واجب کو مستحب ناجائز کو جائزبتا دینا بھی گناہ عظیم ہے۔ حدیث شریف میں ہے حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اجرؤکم علی الفتیا اجرؤکم علی النار ۔ اخرجہ الدارمی عن عبیداﷲ بن ابی جعفر مرسلا۔
جو تم میں فتوی پر زیادہ بیباك ہے آتش دوزخ پر زیادہ جری ہے اس کو دارمی نے عبیداﷲ بن ابی جعفر سے مرسلا ذکر کیا ہے۔
ثامنا تا سعا عاشراکتابوں کے جھوٹے حوالے دینا کذب و افتراء اور وہ بھی علماء پر اور وہ بھی امور دین میں یہ سب سخت گناہ ہیں مسائل میں علماء پرا فتراء شرع پر افتراء اور شرع پر افتراء خدا پر افتراء ۔
قال اﷲ تعالی و لا تقولوا لما تصف السنتكم الكذب هذا حلل و هذا حرام لتفتروا على الله الكذب-ان الذین یفترون على الله الكذب لا یفلحون(۱۱۶) ۔
ارشاد ربانی ہے اورنہ کہو اسے جو تمھاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اﷲ تعالی پر جھوٹ باندھو بے شك جو اﷲ تعالی پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا۔ (ت)
اور جنازہ کی جب ایك بار ہوچکی تو ہمارے علمائے کرام کے نزدیك اس کا اعادہ جائز نہیں مگر یہ کہ صاحب حق یعنی ولی میت کے بے اذن دیئے عام لوگوں سے کسی نے پڑھا دی اور ولی شریك نہ ہوا تو اسے اعادہ کا اختیار ہے پھر بھی جو پہلے پڑھ چکے اب نہ ملیں کہ اس کی تکرار مشروع نہیں ۔
فی الدرالمختار فان صلی غیرالولی ممن لیس لہ حق التقدم علی الولی ولم یتابعہ الولی اعاد ولو علی قبرہ ان شاء لاجل حقہ لالاسقاط الفرض
درمختار میں ہے اگر نماز جنازہ ولی کے علاوہ کسی ایسے شخص نے پڑھا دی جس کو ولی پر مقدم ہونے کا حق نہ تھا اور ولی نے اس کی متابعت نہ کی تو ولی اگر چاہے تو قبر پر بھی اعادہ کرسکتا ہے یہ اعادہ اس کے
حوالہ / References جامع الترمذی باب ماجاء فی الذی یفسر القرآن برأیہ مطبوعہ کتب خانہ رشیدیہ امین کمپنی دہلی ۲ / ۱۱۹
سنن الدارمی باب الفتیاومافیہ من الشدۃ مطبوعہ نشر السنۃ ملتان ۱ / ۵۳
القرآن ۱۶ / ۱۱۶
#10950 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
ولذا قلنالیس لمن صلی علیھا ان یعید مع الولی لان تکرارھا غیر مشروع وان صلی من لہ حق التقدم او من لیس لہ حق التقدم وتابعہ الولی لایعیدوان صلی الولی بحق بان لم یحضر من یقدم علیہ لایصلی غیرہ بعدہ اھ ملخصا۔
اپنے حق کی وجہ سے ہے نہ کہ اسقاط فرض کے لئے ۔ اسی وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ جس نے پہلے جنازہ پڑھ لیا ہو وہ ولی کے ساتھ اعادہ نہ کرے کیونکہ جنازہ کا تکرار مشروع نہیں ۔ اگر جنازہ کسی ایسے شخص نے پڑھا یا جس کو ولی پر حق تقدم تھا(مثلا قاضی یا نائب یا امام مسجد) یا اس شخص نے پڑھا دیا جس کوولی پر حق تقد م نہ تھا مگر ولی نے شرکت کرلی تو پھر جنازہ کا اعادہ نہیں کیاجاسکتا اور اگر ولی نے اپنے استحقاق کے بموجب جنازہ پڑھایا بایں طور پر وہاں اور کوئی صاحب حق تقدم نہیں تھا تو اس کے بعد کوئی دوبارہ جنازہ نہیں پڑھ سکتا اھ ملخصا(ت)
اور پانچ تکبیریں تو ہمارے ائمہ بلکہ ائمہ اربعہ بلکہ جمہور ائمہ کے نزدیك منسوخ ہیں بلکہ امام ابو عمر یوسف بن عبدالبرمالکی نے فرمایا چار پر اجماع منعقد ہوگیا و لہذا ہمارے علماء کرام حکم فرماتے ہیں کہ امام پانچویں تکبیر کہے تو مقتدی ہر گز ساتھ نہ دیں خاموش کھڑے رہیں یہی صحیح ہے اور بعض روایات میں تو یہاں تك ہے کہ وہ تکبیر پنجم کہے تو یہ سلام پھیر دیں کہ اتباع منسوخ کا رد خوب واضح ہوجائے۔
فی الدرالمختار لو کبرامام خامسالم یتبع لانہ منسوخ فیمکث المؤتم حتی یسلم معہ اذاسلم بہ یفتی۔
درمختار میں ہے اگر مقتدی کے امام نے پانچویں تکبیر کہی تو وہ امام کی اتباع نہ کرے کیونکہ یہ منسوخ ہے پس مقتدی ٹھہرا رہے اور امام کے ساتھ سلام پھیرے اسی پر فتوی ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
وروی عن الامام انہ یسلم للحال ولا ینتظر تحقیقا للمخالفہ ط۔
امام اعظم سے یہ بھی مروی ہے کہ مقتدی فی الفور سلام کہہ دے امام کا انتظار نہکرے تاکہ کھلی مخالفت ہوجائے ط(ت)
زید کہ یہ حرکت بھی وہی جہل و جرأت ہے یا غیر مقلدی کی آفت و علت ۔ بہر حال اس کے اقوال مذکورہ سوال
حوالہ / References دُرمختار ، باب صلٰو ۃ الجنازۃ ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۱۲۳
دُرمختار باب صلٰو ۃ الجنازۃ مطبوعہ مطبع مجتبارئی دہلی ۱ / ۱۲۲
ردالمحتارباب صلٰو ۃ الجنازۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۶۴۵
#10951 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
شاہد عدل کہ وہ فاسق و بیباك ہے اور فاسق کے پیچھے نماز مکروہ ناقص و خراب ہوتی ہے۔
صرح بہ فی الغنیۃ شرح المنیۃ والیہ اشار فی فتاوی الحجۃ وربما جنح الیہ فی ردالمحتار واوضحناہ فی رسالتنا النھی الاکید عن الصلوۃ وراء عدی التقلید۔
غنیہ شرح منیہ میں اس پر تصریح ہے اور اسی کی طرف فتاوی الحجہ میں اشارہ ہے اور ردالمحتار میں اسی کی طرف میلان ہے اور ہم نے اس کی وضاحت اپنے رسالے النھی الاکید عن الصلوۃ وراء عدی التقلیدمیں کی ہے۔ (ت)
پس حتی الامکان ہرگز اس کی اقتدا نہ کریں اور جتنی نمازیں اس کے پیچھے پڑھ چکے ہوں سب پھیریں اور ان باتوں پر جواس کے ممدومعاون ہیں وہ بھی گناہ میں اس کے شریك ہیں ۔
قال اﷲ تعالی و لا تعاونوا على الاثم و العدوان۪- ۔
اﷲ تعالینے فرمایا گناہ اور حد سے بڑھنے میں ایك دوسرے کی مدد نہ کرو۔ واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم
مسئلہ نمبر ۵۷۷ : ۱۸ محرم الحرام ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید حافظ قرآن ہے مگر نوکری خانساماں (بیرا) گیری کرتا ہے اب اس نوکری سے اس نے توبہ کی اور اب اس کے پیچھے لوگ نماز پڑھنے میں کراہت کرتے ہیں آیا کراہت کرنا ان لوگوں کا جاسے یا بیجا ہے صاف صاف کتاب اﷲ و حدیث رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے فرمایئے : بینوا توجروا
الجواب :
اگر صرف اس وجہ سے کراہت کرتے ہیں کہ اس نے وہ نوکری کی تھی اگرچہ اب توبہ کرلی توان کی کراہت بیجا ہے کوئی گناہ بعد توبہ باقی نہیں رہتا ۔ حدیث میں ہےحضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
التائب من الذنب کمن لاذنب لہ ۔
گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح ہوجاتا ہے جس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو۔ (ت)
واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
حوالہ / References القرآن ۵ / ۲
سنن ابن ماجہ بابذکرالتوبہ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ص۳۲۳
#10952 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
مسئلہ نمبر ۵۷۸ ۵۷۹ : از علی گڑھ کارخانہ مہر مرسلہ حافظ عبداﷲ صاحب ٹھیکیدار ۶جمادی الاولی ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کوئی مولوی مقلدین حنفیہ کو ذریۃ الشیطان اور کتاب و سنت کا منکر لکھے اور غیر مقلدی کی اشاعت میں ہمہ تن مصروف ہو اور مسائل خلافیہ مقلدین کا سخت مخالف اور غیر مقلدین کا حامی اور معاون ہو اور مسائل حنفیہ کو مثلا آمین بالخفا کو اپنی تحریرات میں خرافات لکھے اور بعض اوقات کسی مصلحت دنیوی سے اپنے آپ کو حنفی المذہب ظاہر کرے ایسے شخص کی اقتداء اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں اور ایسے شخص کو حنفی کہا جائے گا یا نہیں
دوم جس امام شہر سے شہر کے مسلمان بوجہ شرعی ناراض ہوں اور اسکے پیچھے نماز نہ پڑھیں تو اس حالت میں اس کا امام ہونا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
اللھم انا نعوذ بك من الشیطن الرجیم
جو ذریۃ الشیطان کتاب و سنت کا منکر حنفیہ کرام خصہم اﷲ تعالی باللطف والاکرام کا نام رکھتا ہے پر ظاہر کہ وہ گمراہ خود کا ہے کو حنفی ہونے لگا اگر چہ کسی مصلحت دنیوی سے براہ تقیہ شنیعہ اپنے آپ کو حنفی المذہب کہے کہ اس کے افعال و اقوال مذکورہ سوال اس کی صریح تکذیب پر دال منافقین بھی تو زبان سے کہتے تھے : نشهد انك لرسول الله- ۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ حضور اﷲ کے رسول ہیں ۔ مگر ان ملاعنہ کے گفتار و کردار اس جھوٹے اقرار کے بالکل خلاف تھے قرآن عظیم نے ان کے اقرار کو ان کے منہ پر مارا :
و الله یعلم انك لرسوله-و الله یشهد ان المنفقین لكذبون(۱) ۔
اﷲ خوب جانتا ہے کہ تم بیشك اس کے رسول اور اﷲ گواہی دیتا ہے کہ مبافق جھوٹے ہیں ۔
ایسے شخص کی اقتداء اور اسے امام بنانا ہرگز روا نہیں کہ وہ مبتدع گمراہ بد مذہب ہے اور بد مذہب کی شرعا توہین واجب اورامام کرنے میں عظیم تعظیم تو اس سے احتراز لازم ۔ علامہ طحطاوی حاشیہ درمختار میں نقل فرماتے ہیں :
من شذعن جمھود اھل الفقہ والعلم والسواد الاعظم فقد شذفیما یدخلہ فی
یعنی جو شخص جمہور اہل علم وفقہ سواد اعظم سے جدا ہوجائے وہ ایسی چیز میں تنہا ہوا جو اسے دوزخ میں لے جائے گی۔
حوالہ / References القرآن ۶۳ / ۱
القرآن ۶۳ / ۱
#10953 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
النار فعلیکم معاشر المؤمنین باتباع الفرقۃ الناجیۃ المسماۃ باھل السنۃ والجماعۃ فان نصرۃ اﷲ تعالی و حفظہ وتوفیقہ فی مواقتھم وخذلانہ وسخطہ ومقتہ فی مخالفتھم وھذہ الطائفۃ الناجیۃ قد اجتمعت الیوم فی مذاھب اربعۃ وھم الحنفیون والمالکیون والشافعیون والحنبلیون رحمہم اﷲ تعالی ومن کان خارجا عن ھذہ الاربعۃ فی ھذاالزمان فھومن اھل البدعۃ والنار ۔
تو اے گروہ مسلمین ! تم پر فرقہ ناجیہ اہلسنت وجماعت کی پیروی لازم ہے کہ خدا کی مدد اور اس کا حافظ و کارساز رہنا موافقت اہلسنت میں ہے اوراس کا چھوڑ دینا اور غضب فرمانا اور دشمن بنانا سنیوں کی مخالفت میں ہے اور یہ نجات دلانے والا گروہ ا ب چار مذاہب میں مجتمع ہے حنفی مالکی شافعی حنبلی اﷲ تعالی ان سب پر رحمت فرمائے۔ اس زمانہ میں ان چار سے باہر ہونے والا بدعتی جہنمی ہے۔
اور ان لوگوں کے بدعتی ہونے کا روشن بیان ہم نے اپنے رسالہ النھی الاکید میں لکھا من شاء فلیرجع الیھا(جو شخص تفصیل چاہتا ہے وہ ہمارے اس رسالہ کا مطالعہ کرے۔ ت) اور حدیث میں ہے حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من وقر صاحب بدعۃ فقد اعان علی ھدم الاسلام ۔ رواہ ابن عساکر وابن عدی عن ام المؤمنین الصدیقہ و ابو نعیم فی الحلیۃ والحسن بن سفیان فی مسندہ عن معاذبن جبل والسنجری فی الابانۃ عن ابن عمر وکابن عدی عن ابن عباس والطبرانی فی الکبیر وابونعیم فی الحلیۃ عن عبداﷲ بن بسر رضی اﷲ تعالی عنھم موصولا والبیھقی فی الشعب عن ابراہیم بن مسیرۃ المکی التابعی الثقۃ مرسلا۔
جو کسی بدعتی کی توقیر کرے اس نے دین اسلام کے ڈھانے میں مدد کی ۔ اس کوابن عساکر اورابن عدی نے حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہما سے اور ابو نعیم نے حلیہ میں حسین بن سفیان نے اپنی سند میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے سنجری نے ابانہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے اور مثل ابن عدی کےحضرت ابن عباس سے اورطبرانی نے کبیر میں ابو نعیم نےحلیہ میں حضرت عبداﷲ بن بسر رضی اللہ تعالی عنہم سے متصلا روایت کیا ہے اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں ابراہیم بن میسرہ مکی تابعی ثقہ سے اسے مرسلا روایت کیا ہے(ت)
حوالہ / References حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الذبائح مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۴ / ۱۵۳
شعب الایمان حدیث ۹۴۶۴ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۷ / ۶۱
#10954 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
توایسے شخصوں کو امام کرنا گویا دین اسلام ڈھانے میں سعی کرنا ہے العیاذ باﷲ تعالی سنن ابن ماجہ میں جابر بن عبداﷲ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لا یؤمن فاجر مؤمنا الا ان یقھرہ بسلطانہ یخاف سیفہ اوسوطہ ۔
ہر گز کوئی فاجر کسی مومن کی امامت نہ کرے مگر یہ کہ وہ اسے اپنی سلطنت کے زور سے مجبور کردے کہ اس کی تلوار یا تازیانہ کا ڈر ہو۔ (ت)
صغیری شرع منیہ میں ہے :
یکرہ تقدیم الفاسق کراھۃ تحریم وعند مالك لایجوز تقدیمہ وھوروایۃ عن احمد وکذاالمبتدع ۔
فاسق کی تقدیم مکروہ تحریمی ہے اور امام مالك رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے نزدیك فاسق کی تقدیم جائز ہی نہیں امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے بھی ایك روایت اسی طرح ہے بدعتی شخص کا حکم بھی یہی ہے ۔ (ت)
مراقی الفلاح میں ہے :
فتجب اھانتہ شرعا فلا یعظم بتقدیمہ للامامۃ واذا تعذر منعہ ینتقل عنہ الی غیر مسجدہ للجمعۃ وغیرہا ۔
شرعا فاسق کی اہانت لازم ہے پس امامت کے لئے مقدم کرکے اس کی تعظیم نہ کی جائے اگر اس کی تقدیم سے روکنا دشوار ہو تو جمعہ اور دیگر نمازوں کے لئے کسی دوسری مسجد کی طرف چلا جانا چاہئے ۔ (ت)
حاشیہ طحطاوی علی الدرالمختار میں ہے :
الکرھۃ فی الفاسق تحریمۃ علی ماسبق
(امامۃ فاسق میں کراہت تحریمی ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ ت)
محقق علی الاطلاق فتح میں فرماتے ہیں :
روی محمد ابن ابی حنیفہ و ابی یوسف رحمھما اﷲ تعالی ان الصلوۃ خلف اھل الاھواء لاتجوز ۔
امام محمد نے امام ابو حنیفہ اور امام ابویوسف رحمہم اللہ تعالی سے نقل کیا ہے کہ اہل بدعت کے پیچھے نماز جائز نہیں ۔ (ت)
حوالہ / References سنن ابن ماجہ باب فرض الجمعۃ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ص۷۷
صغیری شرح منیۃ المصلی مباحث الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص ۲۶۴
مراقی الفلاح شرح نورالایضاح مع حاشیۃ الطحطاوی فصل فی بیان الاحق بالامامۃ مطبوعہ نور محمد تجارت کتب کراچی ص ۱۶۵
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح فصل فی بیان الاحق بالامامۃ مطبوعہ نور محمد تجارت کتب کراچی ص ۱۶۵
فتح القدیر باب الامامۃ مطبوعہ مطبع نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۰۴
#10955 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
غیاث المفتی پھر مفتاح السعادۃ پھر شرح فقہ اکبر میں سیدنا امام ابو یوسف رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے : لا تجوز خلف المبتدع ( بدعتی کے پیچھے نماز جائز نہیں ۔ ت)
ففیر غفراﷲ تعالی نے ان حضرات غیر مقلدین کے پیچھے نماز جائز و ممنوع ہونے کے باب میں ایك مفصل رسالہ مسمی بہ النھی الاکید عن الصلاۃ وراء عدی التقلید لکھا اور اس میں مقدمات مذکورہ کو اس وجہ پر تحقیق اور متعدد دلائل قاہرہ سے ان کے پیچھے نماز ممنوع ہونے کا ثبوت دیا۔
از انجملہ یہ کہ انھوں نے نماز وطہارت وغیرہا کے مسائل میں آرام نفس کی خاطر وہ باتیں ایجاد کی ہیں جو مذاہب اربعہ عموما مذہب مہذب حنفی خصوصاکے بالکل خلاف ہیں مسح سر کے عوض پگڑی کا مسح کافی مانتے ہیں لوٹے بھر پانی میں تولہ بھر پیشاب پڑ جائے اس سے وضو جائز ٹھہراتے ہیں کہ یہ مسائل اور ان کے امثال ان کی کتب میں منصوص ہیں پھر دین میں ان کی بیباکی وسہل انگاری وبے احتیاطی و آرام جوئی مشہور و مشہود و عام گروہ اہل حق بالخصوص حضرات حنفیہ کے ساتھ ان کا تعصب معروف و معہود تو ہر گز مظنون نہیں کہ یہ برعایت مذہب حنفیہ اپنے ان مسائل پر عمل سے بچیں بلکہ بحالت امامت بنظر توصب و عداوت اس کاخلاف ہی مظنون ۔ پھر جمہور ائمہ کرام ارشاد فرماتے ہیں کہ شافعی المذہب کی اقتداء بھی اسی حالت میں صحیح ہوسکتی ہے کہ مواضع خلاف میں مذہب حنفیہ کی رعایت کرتاہو حنفیہ سے بغض نہ رکھتا ہو ور نہ اصلا جا ئز نہیں تو یہ بد مذہب کہ چاروں مذہب سے خارج ومہجور اور رعایت مذہب حنفیہ سے سخت نفور اور بغض و تعصب میں معروف و مشہور ان کے پیچھے نماز کیونکر روا ہوسکتی ہے۔ فتاوی عالمگیری میں ہے :
الاقتداء بشافعی المذھب انما یصح اذا کان الامام یتحامی مواضع الخلاف بان یتوضأ من الخارج النجس من غیرالسبیلین کالفصد ولایکون متعصباولا یتوضأ فی الماء الراکد القلیل وان یغسل ثوبہ من المنی ویفرك الیابس منہ ویمسح ربع راسہ ھکذا فی النھایۃ والکفایۃ ولا یتوضأ بالماء القلیل الذی وقعت فیہ النجاسۃ کذا فی فتاوی فاضی خان اھ ملخصا۔
شافعی المذہب (امام) کی اقتداء اس وقت جائز ہے جب وہ مواضع خلاف سے بچتا ہو مثلا غیر سبیلین سے خارج نجاست مثلا رگ کاٹنے کی وجہ سے وضو کرتا ہو مسلك میں متعصب نہ ہو کھڑے تھوڑے پانی سے وضو نہ کرنے والا ہو منی لگنے کی صورت میں کپڑا دھوتا ہو یا خشك ہوجانے کی صورت میں اسے کھرچ دیتا ہو سر کے چوتھائی حصے کا مسح کرتا ہو نہایہ اور کفایہ میں اسی طرح ہے اور اس تھوڑے پانی سے وضو جائز نہ سمجھتا ہو جس میں نجاست واقع ہوئی ہو فتاوی قاضی خان میں اسی طرح ہے اھ تلخیصا(ت)
حوالہ / References شرح الفقہ الاکبر ، خطبۃ الکتاب ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ص ۵
فتاوی ہندیہ الفصل الثالث فی بیان من یصلح اماما لغیرہ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۸۴
#10956 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
اسی طرح جامع الرموز ومجمع الانہر وحاشیہ طحطاویہ علی مراقی الفلاح وغیرہ میں ہے والتفصیل فی رسالتنا المذکورۃ (اس کی تفصیل ہمارے مذکورہ رسالے میں ہے۔ ت) واﷲ الموافق سبحنہ وتعالی اعلم۔
جواب سوال دوم : صورت مسؤلہ میں اسے امام ہونا حلال نہیں جو اسے امام بنائے گا گناہگار ہوگا۔ حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ثلثۃ لا یقبل اﷲ منھم صلوۃ من تقدم قوما وھم لہ کارھون ۔ رواہ ابوداؤد وابن ماجۃ عن ابن عمر وابن خزیمۃ عن انس والترمذی وحسنہ عن ابی امامۃ وابن ماجۃ وابن حبان ابن عباس وفی الباب عن طلحۃ التیمی رضی اﷲ تعالی عنھم عندالطبرانی فی الکبیر۔
تین شخصوں کی نماز اﷲ تعالی قبول نہیں فرماتا ایك وہ جو کسی قوم کی امامت کرے اور وہ اسے ناپسند رکھتے ہوں ۔ اس کوابو داؤداورابن ماجہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے ابن خزیمہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ اورترمذی نے اسے حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کر کے حسن کہا ہے۔ ابن ماجہ اور ابن حبان نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے اور اس مسئلہ میں طبرانی نے کبیر میں حضرت طلحہ التیمی رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی روایت کیا ہے۔ (ت)
درمختارمیں ہے :
لو ام قوماوھم لہ کارھون ان الکرھۃ لفساد فیہ اولانھم احق بالامامۃ منہ کرہ لہ ذلك تحریما ۔
اگر کسی نے کسی قوم کی امامت کی حالانکہ وہ قوم اسے ناپسند کرتی ہو خود اس میں فساد کی وجہ سے کراہت ہو یا اس لئے کہ دیگر لوگ فاسق سے زیادہ امامت کے اہل تھے اس صورت میں فاسق کا امام بننا مکروہ تحریمی ہے۔ (ت)
واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدھ اتم واحکم۔
حوالہ / References سنن ابی داؤد باب الرجل یؤم القوم وھم لہ کارھون مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۸۸
دُر مختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۳
#10957 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
مسئلہ نمبر ۵۸۰ : از بدایوں مروہی محلہ مرسلہ شیخ محمد حسین صاحب ۹ جمادی الاخری ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین ا س مسئلہ میں کہ جو شخص حنفی ہو کر مسح میں امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا طریقہ عمل میں لائے یعنی چند بال چھو لےنے پر اکتفا کرے اس وقت میں کہ پگڑی باندھے ہو تو اس کی نماز اور اس کے پیچھے نماز کیسی ہے
الجواب :
صورت متفسرہ میں اگر یہ شخص واقعی شافعی ہوتا تاہم حنفیہ کی نماز اس کے پیچھے محض باطل تھی نہ کہ ایسے آزاد لوگ کہ کن ہی میں نہیں
فی الھندیۃ الاقتداء بشافعی المذھب انما یصح اذاکان الامام یتحامی مواضع الخلاف بیان یسمح ربع راسہ ھکذا فی النھایۃ والکفایۃ ولا یتوضا بالماء القلیل الذی وقعت فیہ الجناسۃ کذا فی فتاوی قاضی خان ولا بالماء المستعمل ھکذا فی السراجیۃ اھ ملخصا ۔
ہندیہ میں ہے شافعی المذہب امام کی اقتدا تب جائز ہے کہ وہ مواضع خلاف سے بچنے والا ہو مثلا چوھائی سر کا مسح کرے اسی طرح نہایہ اورکفایہ میں ہے اور اس قلیل پانی سے وضو بھی نہ کرتا ہو جس میں نجاست واقع ہوئی ہے فتاوی قاضی خان میں اسی طرح ہے اور نہ ماء مستعمل سے وضو کرتا ہو سراجیہ میں یہی ہے اھ تلخیصا(ت)
اورا س کی اپنی نماز بھی ہمارے ائمہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے طور پر تو ظاہر کہ محض باطل ہے اور ہم بلاشبہ یہی حکم دیں گے
فانا انما نفتی بمذھبنا وان کان مذہب غیرنا ماکان کمانص علیہ فی اخلاصۃ والاشباہ وفی الدر المختار وردالمحتار وغیرھا من الاسفار۔
ہم تو اپنے مذہب کے مطابق ہی فتوی دیں گے اگر چہ غیر کا مذہب جیسا بھی ہو یہی تصریحخلاصہ اشباہ درمختار اور ردالمحتار وغیرہ معتبر کتب میں ہے۔ (ت)
مگر یہاں اور مذاہب پر بھی خیر نہیں سیدنا امام مالك رضی اللہ تعالی عنہ تو ہماری ہی طرح باطل ہی فرمائیں گے کہ ان کے یہاں پورے سر کا مسح فرض ہے یونہی سیدنا امام احمد رضی اللہ تعالی عنہ کوان سے بھی اظہر الروایات فرضیت استعیاب ہے۔ کما نقلہ الامام المولی الاجل القطب سیدی عبدالوھاب
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ الفصل الثالث فی بیان من یصلح امامًا لغیرہ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۸۴
#10958 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
الشعرانی قدس سرہ الربانی فی المیزان(جیسا اسے ہمارے سردار امام اجل والقطب عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی نے میزان میں نقل کیا ہے ۔ ت)رہا مذہب سیدنا امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ اس پر صحت نماز سمجھ لینا نری ہوس ہی ہوس ہے ایك اس مسئلہ میں ان سے توافق سہی پھر کیا ان کے یہاں ایك ہی مسئلہ ہے صد ہا مسائل طہارت و صلوۃ خلافیہ ہیں جن پر اطلاع تام اسی مذہب کے عالم متبحر کاکام خصوصا ان بلاد میں نہ اس مذہب کے علماء نہ کتب بھلا یوں نہ مانے تو بتائے تو کہ مذہب شافعی میں نواقض و فرائض وضو و غسل و فرائض داخلی و خارجی و مفسدات نماز بتفصیل صور وشقوق وتنقیح اقوال قدیم وجدید ونصوص ووجوہ وتصحیح و ترجیح شیخین وغیرہما کبرائے مذہب کس قدر ہیں اور جب نہیں بتاسکتا اور بے شك نہ بتاسکے گا تو مجہول شیئ کی مراعات کیونکر ممکن پھر کہاں سے اطمینان پایا کہ ان کے مذہب پر نماز صحیح ہی ہوگی نہیں نہیں بلکہ بوجہ کثرت خلاف وتکثر حوادث موقعہ فی الاختلاف عادۃ کہیں نہ کہیں وقوع مخالفت ہی مظنون کما لا یخفی علی المتدرب ومن لم یقنع فلیجرب (جیسا کہ ہر صاحب فہم پر واضح ہے اور اگر کوئی اس پر قناعت نہیں کرتا تو وہ کود تجربہ کرے۔ ت)اور جب ایساہوا اور کیوں نہ ہوگا تو بیٹھے بٹھائے ازیں سوراندہ ازاں سوماندہ نہ ادھر کے ہوئے نہ ادھر کے ہوئے ایك مذہب پر بھی نماز صحیح نہ ہوئی درمختار میں ہے :
لا باس بالتقلید عندالضرورۃ لکن بشرط ان یلتزم جمیع مایوجبہ ذلك الامام لما قدمنا ان الحکم الملفق باطل بالاجماع ۔
ضرورت کے وقت دوسرے امام کی تقلید میں کوئی حرج نہیں البتہ یہ شرط ہے کہ ان تمام امور کا التزام جن کو اس امام نے اس عمل کے واسطے واجب قرار دیا ہے کیونکہ ہم پہلے بیان کرچکے کہ وہ حکم جو دومذہب سے مخلوط ہو وہ بالاجماع باطل ہے۔ (ت)
غرض لااقل اس بیباکی کا اتنا حاصل کہ تین مذہب پر تو دانستہ نماز باطل کرلی چوتھے پر صحت کی خبر نہیں فاناﷲ وانا الیہ راجعون۔ مولی تعالی جنھیں توفیق خیر رفیق فرماتا ہے وہ ہر امر میں جہاں تك اپنے مذہب کا مکروہ لازم نہ آئے بقیہ مذاہب کا بھی لحاظ رکھتے ہیں مثلا محتاط حنفی وشافعی ہر گز مسح کل راس وولا ودلك ترك نہ کریں گے کہ آخر مسنون تو ہم بھی جانتے ہیں اور امام مالك رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیك ان کے بغیر طہارت ونماز ہی باطل تو کیا مقتضائے عقل ہے کہ سنت چھوڑے اور ایك امام دین کے نزدیك نماز ہی سے منہ موڑے ولا حول والا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم ولہذا علمائے مذاہب اربعہ رحمہم اللہ تعالی تصریح فرماتے ہیں کہ خروج عن الخلاف بالاجماع مستحب مگر بیباك لوگوں کے نزدیك سنت مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ترك اپنے امام مذہب کی مخالفت تین مذاہب حقہ پر نمازوں کا بطلان چوتھے پر صحت شك و جہالت یہ سب بلائیں آسان ہیں اور بندھی
حوالہ / References درمختار کتاب الصلٰوۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۶۲
#10959 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
ہوئی پگڑی کے پیچ ذرا سست ہوجانا دشوار ۔ اﷲ عزوجل ہدایت بخشے۔ واﷲ سبحنہ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم وحکمہ عزشانہ احکم۔
مسئلہ نمبر ۵۸۱ : ازشہر کہنہ بریلی ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کو شوق قرآن و حدیث کا نہایت درجہ کا ہے مگر بسبب فکر معاش کے نہیں ہوسکتا ہے اور اقرار کرتا ہے کہ اگر خداوند کریم میری اس فکر کو دورکردے تو میں اس شوق کو عمر بھر نہیں چھوڑوں گا اور کبھی بچپن سے شوق راگ وغیرہ کا اس کو زید نہیں تھا اور اب جس وقت سے ایك بزرگ کامل یعنی مولوی فضل الرحمن صاحب کا مرید ہوا ہے اس درجہ کا شوق راگ وغیرہ کا اس کوہو گیا کہ بیان سے باہر یعنی رنڈی اگر ناچتی ہو تو وہاں کھڑا ہوجاتا ہے اور ستار کا اس قدر شوق ہے کہ رات کے ۹ بجے فرصت ہوتی ہے فکر معاش سے تو اس وقت سے لے کر ۲بجے تك بلکہ بعض روز تمام رات ستار بجاتا ہے اور اگر منع کرو تو کہتا ہے میرے واسطے دعا کرو تاکہ خداوند کریم مجھے اپنی محبت عنایت کرے اور اگر دریافت کرو کہ جناب مولوی صاحب نے ان چیزوں کا حکم تم کو دیاہے تو کہتا ہے کہ نہیں
مبادا ہیچ دل بے عشق بازی
اگر باشد حقیقی یا مجازی
(خدا کرے کہ کوئی دل بغیر عشق کے نہ رہے خواہ عشق حقیقی ہو یا مجازی)
اور قرآن مجید اچھا جانتا ہے عمدہ جاننے میں شك نہیں بلکہ اس کے مقابلے میں اس جگہ پر لوگ غلط پڑھتے ہیں ایسے شخص کے پیچھے نماز صحیح ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
نماز اس شخص کے پیچھے بلا شبہ صحیح ہے۔
لما تقرر فقھا وحدیثا وکلاما من جواز الصلوۃ خلف کل بروفاجر ۔
کیونکہ فقہی حدیثی اور کلامی طور پر ثابت ہوچکا ہے کہ ہر نیك اور فاجر کے پیچھے نماز جائز ہے(ت)
مگر کراہت رکھتی ہے لہذا دوسرے شخص کو جو ایسے امور سے خالی اور باوجود اس کے سنی صحیح العقیدہ وقاری صحیح القرأت ہو امام مقرر کرلیں ہاں اگریہ بیان سچ ہے کہ وہاں اس شخص کے علاوہ سب غلط خواں ہیں یعنی حروف میں
حوالہ / References غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامامۃ وفیھا مباحث مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۴
#10960 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
تمیز نہیں رکھتے اور قرأت میں وہ غلطیاں کرتے ہیں جن سے نماز فاسد ہوتی ہے جب تك کوئی سنی صحیح القرأت نہ ملے اسی شخص کی اقتداء کریں فان تصحیح الصلوۃ اھم من دفع الکراھۃ(کیونکہ نمازکی تصحیح دفع کراہت سے اہم ہے ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم۔
سوال مکرر :
مکرر یہ کہ چونکہ سائل نے یہ سوال اپنے ہاتھ سے لکھا ہے لہذا بعض امر پوشیدہ کیا وہ یہ کہ اس شخص کے عقائد بھی کچھ ٹھیك نہیں یعنی عقیدہ غیر مقلدی وغیرہ کا رکھتا ہے سنی صحیح العقیدہ نہیں ہے اس میں جوحکم ہو تحریر فرمائیے کہ نماز اس کے پیچھے پڑھیں یا نہیں اورجواس نے لکھا ہے وہاں لوگ قرآن غلط پڑھتے ہیں تو ایسے سب نہیں ہیں کہ اتنی غلطی کریں کہ نماز نہ ہو ہاں قاری پورے طور سے نہیں جیسا کہ حق قاری ہونے کاہے۔
الجواب :
فاسق العقیدہ کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے خصوصا غیر مقلد کہ ان کی طہارت وغیرہ کسی بات کا کچھ اعتبا ر نہیں تو ان کے پیچھے نماز محض ناجائز ہے کما حققناہ فی رسالتنا النھی الاکیدعن الصلوۃ وراء عدی التقلید (جیسا کہ اس کی تحقیق ہم نے اپنے رسالہ “ النھی الاکید عن الصلوۃ واء عدی التقلید “ میں کی ہے ۔ ت)
پس اگر حال یون ہے تو صورت متفسرہ میں مسلمانوں پر واجب قطعی کہ اس شخص کو امامت سے معزول کریں اور اسکے پیچھے ہرگز پرگز اپنی نمازیں برباد نہ کریں واﷲ سبحنہ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۵۸۶ : از موضع بکہ حبیبی والاعلاقہ جاگل تھانہ ہری پور ڈاکخانہ نجیب اﷲ خان مرسلہ مولوی شیرمحمد صاحب۔ ۲۳ رمضان المبارك ۱۳۱۱ھ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص مولوی حافظ ہوکر روزہ نہ رکھے اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائزہے یا نہیں ۔
الجواب :
جوبے عذر شرعی روزہ نہ رکھے فاسق اور فاسق کے پیچھے نمازمکروہ تو اگر دوسرے شخص متقی کے پیچھے نماز مل سکے تو اس کے پیچھے نہ پڑھے یہاں تك کہ جمعہ بھی۔ فانہ بسبیل من التحول کما افادہ المولی المحقق حیث اطلق فی الفتح ( کیونکہ ایسی صورت میں دوسری مسجد کی طرف منتقل ہونا جائز ہے جیسا کہ فاضل محقق نے فتح میں بیان کیا ہے۔ ت) ورنہ پڑھ لے فانہ اولی من الانفراد کما فی
حوالہ / References فتح القدیر باب الامامۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۰۴
ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۳
#10961 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
ردالمحتار عملابقول من یقول ان الکرھۃ تنزیہۃ (کیونکہ اقتداء تنہا نماز ادا کرنے سے اولی ہے جیسا کہ ردالمحتار میں ہے تاکہ اس کے قول پرعمل ہوجائے جواسے مکروہ تنزیہی کہتا ہے۔ ت)
اور پڑھ کر پھر پھیر لے لما ذھب الیہ کثیر من العلماء ان الکرھۃ تحریمیۃ وھوالذی حققہ فی الغنیۃ وغیرھا وھوالاظھر کما بیناہ فی فتاوئنا
(کیونکہ اکثر علماء کے نزدیك اس میں کراہت تحریمی سے جیسا کہ غنیہ وغیرہا میں ثابت ہے اور یہی مختار ہے اسے ہم نے اپنے فتاوی میں بڑی تفصیل سے لکھا ہے۔ ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۵۸۳ : ازکلکتہ دھرم تلہ نمبر۶ مرسلہ جناب مرزا غلام قادربیگ صاحب ۲۶صفر ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر امام شافعی المذہب ہو اور مقتدی حنفی تو ان امور میں جو حنفی کوجائز نہیں جیسے آمین بالجہر کہنا اور رفع یدین اور قومہ میں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا امام کی متابعت کرے یا نہ کرے اور ایسے ہی مقتدی شافعی المذہب کو اپنے مذہب کے خلاف امور میں امام حنفی المذہب کی متابعت چاہئے یا نہیں اور اگر متابعت کرے تواس کی نماز کا کیاحال بینوا تو جروا۔
الجواب :
حنفی جب دوسرے مذہب والے کی اقتداء کرے جہاں اس کی اقتداء جائز ہو کہ اگر امام کسی ایسے امر کا مرتکب ہو جو ہمارے مذہب میں ناقض طہارت یا مفسد نماز ہے جیسے آب قلیل متجنس یامستعمل سے طہارت یا چوتھائی سر سے کم کا مسح یا خون فصد و ریم زخم وقے وغیرہا نجاسات غیر سبیلین پر وضو نہ کرنا یا قد درم سے زائد منی آلودہ کپڑے سے نماز پڑھنا یا صاحب ترتیب ہوکر باوصف یا وفائتہ ووسعت بے قضائے فائتہ نماز وقتی شروع کردینایا کوئی فرض ایك بار پڑھ کر پھر اسی نماز میں امام ہوجانا تو ایسی حالت میں تو حنفی کو سرے سے اس کی اقتداء جائز ہی نہیں اور اسکے پیچھے نماز محض باطل
کما نص علیہ فی عامۃ کتب المذھب بل فی الغنیۃ اما الاقتداء بالمخالف فی الفروغ کالشافعی فیجوز مالم یعلم منہ مایفسد الصلاۃ علی اعتقاد المقتدی علیہ الاجماع انما اختلف فی الکرھۃ اھ
جیسا کہ اس پر عامہ کتب مذہب میں تصریح ہے بلکہ غنیۃ میں ہے فروعات میں مخالف مثلا شافعی المسلك کی اقتداء اس وقت جائز ہوگی جب اس سے ایسے عمل کا علم نہ ہو جو اعتقاد مقتدی میں مفسدنماز ہو جواز پر اجماع ہے البتہ کراہت میں اختلاف ہے اھ(ت)
حوالہ / References غنیۃ المستملی شرح منیۃ المستملی فصل فی الامامۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۵۱۳
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المستملی فصل فی الامامۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۵۱۶
#10962 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
غرض جب وہ ایسے امور سے بری اور اس کی اقتدا صحیح ہواس وقت بھی ان باتوں میں اس کی متابعت نہ کرے جو اپنے مذہب میں یقینا ناجائز ونامشروع قرار پاچکی ہیں اگر متابعت کرے گا تو اس کی نماز اس نامشروع کی مقدار کراہت پر مکروہ تحریمی یا تنزیہی ہوگی کہ پیروی مشروع میں ہے نہ غیر مشروع میں ۔ ردالمحتار میں ہے :
تکون المتابعۃ غیر جائزۃ اذاکانت فی فعل بدعۃ او منسوخ او ما لاتعلق لہ بالصلوۃ ۔
امام کی متابعت بدعت عمل منسوخ اورہر اس عمل میں جائز نہیں جس کا تعلق نماز سے نہ ہو۔ (ت)
پھر خزائن الاسرار پھر حاشیہ شامی میں ہے : انما یتبعہ فی مشروع دون غیرہ (امام کی متابعت مشروع میں جائز لیکن غیر مشروع میں جائز نہیں ۔ ت)مجمع الانہر وحاشیہ طحطاویہ میں ہے : ماکان مشروعایتابعہ فیہ وماکان غیرمشروع لا (ہر مشروع عمل میں امام کی متابعت ہوگی مگر غیر مشروع میں نہیں ۔ ت)اسی طرح ترك سنت میں امام کی پیروی نہیں بلکہ موجب اسا ء ت وکراہت ہے اگر وہ چھوڑے مقتدی بجالائے جبکہ اس کی بجا آوری سے کسی واجب فعل میں امام کی متابعت نہ چھوٹے ولہذا علماء فرماتے ہیں اگر امام وقت تحریمہ رفع یدین یا تسبیح رکوع و سجود یا تکبیر انتقال یا ذکر قومہ ترك کرے تو مقتدی نہ چھوڑے
کمانص علیہ فی نظم الزندویسی والخانیۃ والخلاصۃ والبزازیۃ والھندیۃ وخزانۃ المفتین وفتح القدیر والغنیۃ والدرالمحتار وحاشیۃ الدرر للعلامۃ شرنبلالی وغیرھا وھذا نص البزازیۃ ملخصا تسعۃ اشیاء اذا ترك الامام اتی بھا الماموم رفع الیدین فی التحریمۃ وتکبیرۃ الرکوع اوالسجود او التسبیح فیھما اوالتسمیع الخ۔
نظم زندویسی خانیہ خلاصہ بزازیہ ہندیہ خزانۃ المفتین فتح القدیر غنیہ درمختاراورحاشیہ در للعلامہ شرنبلالی اور دیگر کتب میں اس پر تصریح ہے ۔ عبارت بزازیہ کا خلاصہ یہ ہے کہ نو ۹ ایسی اشیاء جن کو امام ترك کردے تو مقتدی ان کو بجا لائے تکبیر تحریمہ کے موقعہ پر ہاتھوں کا اٹھانا رکوع یا سجدہ کے لئے تکبیر یا ان دونوں مین تسبیح یا تسمیع (سمع اﷲلمن حمدہ کہنا) الخ(ت)
حوالہ / References رالمحتار مطلب مہم فی تحقیق متابعۃ الامام مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۴۸
رالمحتار مطلب مہم فی تحقیق متابعۃ الامام مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۴۹
حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار باب الوتر والنوافل مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت ۱ / ۲۸۱
فتاوٰی بزازیۃ مع الفتاوٰی الھندیۃ نوع من الثانی صلی المغرب مطبوعہ نورانی کتب کانہ پشاور ۴ / ۵۸
#10963 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
یوں ہی تکبیرات عیدین میں رفع یدین فی الدر یرفع فی الزوائد ان لم یرامامہ ذلك الخ(درمختار میں ہے تکبیرات زوائد میں اپنے ہاتھ بلند کرے خواہ امام اس عمل کو جائز نہ سمجھتا ہو الخ۔ ت)اور اگر رکوع و سجود میں ایك ہی تسبیح کہہ کر سر اٹھائے تو مقتدی بھی ناچار سنت تثلیث ترك کرے ورنہ قومہ و جلسہ کی متابعت میں خلل آئے گا۔
ھوالصحیح کما فی الخانیۃ والخلاصۃ والخزانۃ والوجیزوالفتح والبحر وغیرھامن الاسفار الغر وھذا نظم الدرانہ مما یبتنی علی لزوم المتابعۃ فی الارکان انہ لو رفع الامام راسہ من الرکوع اوالسجود قبل ان یتم الماموم التسبیحات الثلث وجب متابعتہ ۔
یہی صحیح ہے جیسا کہ خانیہ خلاصہ خزانہ وجیز فتح بحر وغیرہ معتبر کتابوں میں ہے درمختار کے الفاظ یہ ہیں ارکان نماز میں امام کی پیروی لاز م ہونے پر یہ مسئلہ مبنی ہے کہ اگر امام نے اپنا سر رکوع وسجود سے مقتدی کی تین تسبیحات مکمل ہونے سے پہلے اٹھا لیا تو مقتدی پر متابعت امام لازم ہے۔ (ت)
شرح منیہ علامہ ابرہیم حلبی و حاشیہ سید ابن عابدین میں ہے :
الاصل عدم وجوب المتابعۃ فی السنن فعلا فکذا ترکا وکذا الواجب القولی الذی لایلزم من فعلہ المخالفۃ فی واجب فعلی کالتشھد وتکبیر التشریق بخلاف القنوت و تکبیرات العیدین اذیلزم من فعلھا المخالفۃ فی الفعل وھو القیام مع رکوع الامام الخ اھ ملخصا۔
اصل یہ ہے کہ سنن میں امام کی متابعت جس طرح فعلا لازم نہیں اسی طرح ترکا بھی لازم نہیں یہی حکم اس واجب قولی کا ہے جس کے بجالانے سے کسی واجب فعلی کی مخالفت لازم نہ آئے مثلا تشہد اور تکبیرات تشریق بخلاف دعا قنوت اور تکبیرات عیدین کے کیونکہ ان کے بجالانے سے فعل میں مخالفت لازم آتی ہے یعنی ایسی صورت میں امام رکوع میں ہوگا اور مقتدی حالت قیام میں ہوگا الخ اھ تلخیصا۔ (ت)
جب یہ اصول معلوم ہولئے توان تینوں فروع کاحکم بھی انھیں سے نکل سکتا ہے رکوع وغیرہ میں رفع یدین ہمارے ائمہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے نزدیك منسوخ ہوچکا ہے اور منسوخ پر عمل نا مشروع تو اس میں متابعت نہیں ۔ امام ملك العلماء ابوبکر مسعود کاشانی قدس سرہ الربانی بدائع میں فرماتے ہیں :
لو اقتدی بمن یرفع یدیہ عند الرکوع او بمن یقنت فی الفجر او بمن یری خمس
اگر کسی نے ایسے امام کی اقتداء کی جو رکوع کے وقت رفع یدین کرتا ہے یا نماز فجر میں قنوت پڑھتا ہے
حوالہ / References درمختار ، باب العیدین ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۱۱۶
درمختار ، فصل واذا ارادالشروع الخ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۷۵
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامامۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۶۸
#10964 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
تکبیرات فی صلوۃ الجنازۃ لایتابعہ لظھور خطیئہ بیقین لان ذلك کلہ منسوخ اھ نقلہ فی عیدردالمحتار۔
یا تکبیرات جنازہ پانچ کہتا ہے تو مقتدی اس کی اتباع نہ کرے کیونکہ اس کا غلطی پر ہونا یقینی ہے کیونکہ یہ تمام منسوخ ہیں اھ ردالمحتار کے باب العید میں اس کو نقل کیا ہے۔ (ت)
جلالی پھرشرح المقدمۃ الکیدانیۃ للقہستانی پھر جنائز حاشیہ شامی میں ہے :
لا تجوز المتابعۃ فی رفع الیدین فی تکبیرات الرکوع ۔
تکبیرات رکوع کے موقعہ پر امام کے رفع یدین کرنے کی اتباع جائز نہیں ۔ (ت)
قومہ میں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا شافعیہ کے نزدیك نماز فجر کی رکعت اخیرہ میں ہمیشہ وتر کی تیسریمیں صرف نصف اخیر شہر رمضان المبارك میں ہے کہ وہ ان میں دعائے قنوت پڑھتے ہیں ۔ قنوت فجر تو ہمارے ائمہ کے نزدیك منسوخ یابدعت بہرحال یقینا نامشروع ہے۔ لہذا اس میں پیروی ممنوع اور جب اصل قنوت میں متابعت نہیں تو ہاتھ اٹھانے میں کہ اس کی فرع ہے اتباع کے کوئی معنی نہیں مگر اصل قومہ رکوع فی نفسہ مشروع ہے لہذا وہ جب تك نمازفجر میں قنوت پڑھے مقتدی ہاتھ چھوڑے چپکا کھڑا رہے۔ درمختار میں ہے :
یاتی الماموم بقنوت الوتر ولوبشافعی یقنت بعد الرکوع لانہ مجتھد فیہ لا الفجر لا نہ منسوخ بل یقف ساکتا علی الاظھر مرسلا یدیہ ۔
مقتدی وتروں میں دعائے قنوت پڑھے اگر چہ اس نے ایسے شافعی المذہب امام کی اقتدا میں نماز شروع کی جو رکوع کے بعد قنوت پڑھنے والا ہو کیونکہ یہ معاملہ اجتہادی ہے البتہ فجر میں قنوت نہ پڑھے کیونکہ وہ منسوخ ہے بلکہ وہ مقتدی مختار قول کے مطابق ہاتھ چھوڑے خاموش کھڑا رہے۔ (ت)
علامہ شرنبلالی نورالایضاح میں فرماتے ہیں :
اذا اقتدی بمن یقنت فی الفجر قام معہ فی قنوتہ ساکتا علی الاظہر
اگر کسی نے ایسے امام کی اقتدا کی جو فجر میں قنوت پڑھتا ہے تو مختار قول کے مطابق اس کے ساتھ خاموش
حوالہ / References بدائع الصنائع فصل فی بیان قدر صلٰوۃ العیدین مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۷۸
ردالمحتار ، مطلب المراد بالمجتہد فیہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۳۴۸
درمختار ، باب الوتر والنوافل ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۹۴
#10965 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
ویر سل یدیہ فی جنبیہ
کھڑا رہے اور اپنے ہاتھ پہلوؤں کی طرف چھوڑ دے۔ (ت)
اور نمازوتر میں اگر شافعی امام کے پیچھے اقتدا باقی رہے (کہ وہ وتر کےدو ٹکڑے کرتے ہیں پہلے تشہد پر سلام پھیرا اخیر رکعت اکیلی پڑھتے ہیں اگر امام نے ایسا کیا جب تو رکعت قنوت آنے سے پہلے ہی اس کی اقتدا قطع ہوگئی اب نہ وہ امام نہ یہ مقتدی نہ اس کے وتر صحیح کہ اس کی وسط نمازمیں عمدا سلام واقع ہوا فی الدرالمختار صح الاقتداء فیہ بشافعی لم یفصلہ بسلام لا ان فصلہ علی الاصح اھ ملخصادرمختار میں ہے وتر میں حنفی کواس شافعی کی اقتداء درست ہے جو وتر کو سلام کے ساتھ جدا نہ کرے(یعنی دورکعت پر سلام نہ پھیرے) اگر امام نے وتر کو دوگانہ کے بعد سلام پھیر کر جدا کیا تو اصح قول کے مطابق اس کی اقتدا درست نہیں ہے اھ ملخصا) جب ایسا نہ ہو اورا قتد ا قائم رہے)تو اگرچہ شافعیہ قنوت قومہ میں پڑھتے ہیں اور ہمارے مذہب میں اس کا محل قبل رکوع مگر ہمارے علماء نے تمام متون و شروح وفتاوی میں مقتدی کو حکم دیاکہ یہاں قنوت میں متابعت کرے اور اس کا منشاء وہی کہ اسے بالکل نامشروع نہیں ٹھہراتے والمسئلۃ منصوص علیھا بدلیلھا فی الھدایۃ والکافی وسائر الشروح(اس مسئلہ سے متعلق عبارات بمع دلائل ہدایہ کافی اور دیگر شروح میں موجود ہیں ۔ ت)
رہا یہ کہ مقتدی اس حالت میں اتباع امام کرے یا اتباع مذہب امام یعنی ہاتھ باندھے یا چھوڑے یا دعا کی طرح اٹھائے کیا کرنا چاہئے اس کی تصریح نظر فقیر سے نہ گزری نہ اپنے پاس کی کتب موجود میں اس سے تعرض پایا ظاہر یہ ہے کہ مثل قیام ہاتھ باندھے گا کہ جب اسے قنوت پڑھنے کا حکم ہے تو یہ قیام ذی قرارو صاحب ذکر مشروع ہوا اور ہر ایسے قیام میں ہاتھ باندھنا نقلا وشرعا سنت اور عقلا و عرفا ادب حضرت اور ترك سنت میں امام کی پیروی نہیں
وقد یؤید ذلك اطلاقھم قاطبۃ سنیۃ الوضع فی حالۃ القنوت کما فی عامۃ الکتب المذھبۃ فیکون متنا ولا لھذا القنوت المخصوص ایضا۔
اس کی تائید فقہا کی ان عبارات سے ہوتی ہے جن میں ہے کہ قنوت کے موقع پرہاتھ باندھنا سنت ہے جیسا کہ عام کتب مذہب مین ہے تو وہ حکم اس مخصوص قنوت کو بھی شامل ہوگا۔ (ت)
حوالہ / References نور الایصاح باب الوتر ، مطبوعہ مطبع علیمی لاہور ص۳۸
درمختار باب الوتر والنوافل مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۹۴
#10966 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
بلکہ درمختار میں ہے :
ھو ای الوضع سنۃ قیام لہ قرار فیہ ذکر مسنون فیضح حالۃ الثناء وفی القنوت لا فی قیام بین رکوع وسجود وتکبیرات العید مالم یطل القیام فیضع سراجیۃ اھ ملخصا۔
وہ یعنی ہاتھ باندھنا اس قیام کی سنت ہے جس میں طول اور کوئی ذکر مشروع ہو(یعنی جس کے پڑھنے کاحکم ہو خواہ وہ ذکر فرض واجب یا سنت ہو) پس ثنا اور قنوت کے موقع پر ہاتھ باندھے جائیں رکوع اور سجود کے درمیان (یعنی قومہ میں )اور تکبیرات عید کے قیام میں ہاتھ باندھے جب تك قیام کو طویل نہ کرے اگر طویل کرے تو باندھ لے سراجیہ اھ ملخصا (ت)
حاشیہ علامہ طحطاوی میں ہے :
ظاہرہ یعم ای قیام طال وعلیہ فیضع فی قیام صلوۃ التسبیح الذی بین الرکوع والسجود ۔
بظاہر اس میں عموم ہے یعنی ہر وہ قیام جو طویل ہو تو اسی عموم کی بناء پر نماز تسبیح کے رکوع اور سجدوں کے درمیان ہاتھ باندھ لینے چاہیں کیونکہ یہاں قیام طویل ہے۔ (ت)
یوں ہی ہمارے ائمہ کا اجماع ہے کہ آمین میں سنت اخفا ہے اور اس کی بجا آوری میں امام سے کسی واجب فعلی میں مخالفت نہیں تو کیوں ترك کی جائے۔
اقول : وتحقیق المقام علی ما علمنی الملك العلام ان السنن لاحظ لہا فی المتابعۃ الا بالتبع ذلك لان معنی متابعك غیرك جعلك نفسك تابعالہ والتبعیۃ انما تتصور بشیئین احدھما فی نفس اتیان شیئ بمعنی انہ ان فعلہ فعلت وان ترکہ ترکت والاخرفی وقتہ فلا تتقدم علیہ ولا تسبقہ
اقول : (میں کہتا ہوں ) مالك علام کی عطا سے تحقیق مقام یہ ہے کہ سنن میں تبعا اتباع ہوتی ہے یہ اس لئے کہ تیرا غیر کی متابعت کرنے کا معنی یہ ہے کہ تو نے اپنی ذات کو اس کے تابع بنادیاہے اور یہ تابعیت دو چیزوں کی وجہ سے متصور ہوگی ایك یہ کہ شے کو بجالانا اس طریقہ سے کہ اگر اس نے کیا تو تو بھی کرے اگر اس نے ترك کیا توتو بھی ترك کردے دوسری وقت میں کہ تو اسی وقت کرے نہ اس آگے ہو اور نہ اس سے پہلے
حوالہ / References درمختار فصل واذا ارادالشروع الخ مطبوعہ مطبع مجتبائی لاہور ۱ / ۷۴
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار فصل واذا ارادالشروع الخ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۲۱۸
#10967 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
الیہ وان لم یکن فعلك متوقفا علی فعلہ ولا متقیدا بتقدمہ بل تفعلہ وان لم یفعل وتبادر الیہ وان لم یاخذفیہ بعد فماانت تابع لہ بل انت مستقل بنفسك غیرتابع ولامتابع وھذا ظاہر جدا واذ قد علمت ان اتیان الماموم بالسنن غیر متقید باتیان الامام بل یاتی بھا ان ترکھا کما اسمعناك علیہ نصوص الائمۃ ومن لازم ذلك جواز التقدم علیہ مع الندب الیہ لجواز ان یرجع الامام بعد الترك الی الفعل کما اذا رکع فصوب راسہ وطبق اکفہ اوضم اصابعہ او بقی صامتا غیر مسبح والماموم قد فعل کل ذلك بطلب الشرع ثم عادالامام فسوی واخذ وخرج وسبح فقد تقدم فعل الماموم وھو فیہ غیر ملوم بل الیہ مندوب وہومنہ معتمد محسوب فقد ثبت ان لا مدخل للمتابعۃ فی السنن والمستحبات بل الماموم مستبد فیھا غیر داخل تحت حکم الامام ولم یتناولہ تحکیمہ ایاہ علی ذاتہ والتزامہ ان
اور تیرا ایسا فعل جواس کے فعل پر موقوف نہ ہواور نہ ہی اس کے تقدم کے ساتھ مقید ہو بلکہ آپ اسے کرسکتے ہیں اگرچہ امام اسے نہ کرے اسی طرح آپ اسکی طرف بڑھ سکتے ہیں اگرچہ امام ابھی تك اس میں شروع نہیں ہوا۔ تو آپ اس میں کسی معنی میں بھی تابع نہیں بلکہ آپ کی اس میں مستقل حیثیت ہے نہ کہ تابع اور متابع کی اور یہ بات نہایت ہی ظاہر ہے اور جب آپ یہ جان چکے کہ مقتدی کا سنن پر عمل امام کے بجالانے کے ساتھ مقید نہیں بلکہ امام کے ترك کی صورت میں مقتدی انھیں بجالاسکتا ہے جیسا کہ ہم نے بہت سے ائمہ کے اقوال سے آپ پر واضح کیا ہے اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ مقتدی کے لئے امام پر تقدم جائز جب مقتدی اس عمل کو مستحب بھی جانے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ امام ترك کے بعد اسے بجالائے مثلا امام نے رکوع میں سرپست کردیا اپنی دونوں ہتھیلیاں بند کرلیں یا انگلیاں متصل رکھیں یا تسبیح کہے بغیر خاموش رہا حالانکہ مقتدی ان تمام کو بجالایا کیونکہ شرعا یہ تمام مطلوب تھیں پھر امام لوٹا اور اس نے سر برابر کیا ہتھیلوں سے گھٹنے پکڑے انگلیوں میں انفصال کیا اورتسبیح کہی تو یہاں اگر چہ مقتدی نے پہلے عمل کیا لیکن یہ غیر مناسب نہیں لہذا اسے ملامت نہ جائے بلکہ یہ اس کے لئے مستحب ہے اور اس پر اسے ثواب ملے گا پس اس سے ثابت ہوگیا کہ سنن اورمستحبات میں متابعت کا کوئی دخل نہیں بلکہ مقتدی ان میں مستقل ہے اور وہ امام کے حکم کے تحت داخل نہیں اور نہ ہی اس کی تحکیم اس کی ذات
#10968 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
یصلی بصلاتہ فیما ھو محجور فیہ عن التقدم علیہ والاستبداد دونہ وماھوحقیقۃ الا الواجبات الفعلیۃ اذ ھی موضوع الاقتداء اصالۃ کما نص علیہ فی الغنیۃ واشار الیہ فی المرقاۃ تحت قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انما جعل الامام لیؤتم بہ ففیھا القدوۃ حقیقۃ ومنھا یسری الی غیرھا وان سری کوجوب ترك سنۃ یلزم من فعلھا مخالفۃ الامام فی واجب فعلی فلیس ذلك للمتابعۃ فی ترك السنۃ بل فی الواجب المذکور کعدم جوازان یاتی بسنن الرکوع قبل رکوع الامام فانہ لایفعلھا الا فی الرکوع ولارکوع لہ قبل رکوعہ فعن ھذا امتنع تقدیمھا علی رکوعہ لا علی فعلیۃ السنن کما علمت وھذا معنی قولنا لا خط لھا من المتابعۃ الابالتبع واذقد تبین ھذا وﷲ الحمد ظھر ان المقتدی یاتی بالسنن علی مذھب نفسہ دون مذہب الامام فان المستبدانما یعمل
پر جاری ہوگی رہا یہ معاملہ کہ مقتدی نے امام کی نماز میں اقتدا کا التزام کیاتھا تو یہ ان امور میں ہوگا جن میں امام پر تقدم منع ہے اور جن میں مقتدی امام کے بغیر مستقل حیثیت نہیں رکھتا اور وہ امور حقیقۃ واجبات فعلیہ ہی ہیں کیونکہ اصالۃ یہی موضوع اقتدا ہیں جیسا کہ اس پر غنیہ میں تصریح ہے۔ مرقات میں حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اس ارشاد گرامی “ امام اس لئے بنایاجاتا ہے کہ اس کی اتباع کی جائے “ کے تحت اسی طرف اشارہ کیا ہے تو ان واجبات میں اقتدا حقیقۃ ہے اور ان کے علاوہ میں ان کی وجہ سے ہے مثلا اس سنت کا ترك واجب ہوگا جس کو بجالانے سے واجب فعلی میں امام کی مخالفت لازم آئے تو یہ ترك سنت میں متانعت کی بنا پر نہیں ہے بلکہ واجب مذکور میں مطابقت کی بنا پر نہیں ہے بلکہ واجب مذکور میں مطابقت کی بنا پر ہے جیسا کہ مقتدی سنن رکوع کو امام کے رکوع سے پہلے بجا نہیں لا سکتا کیونکہ وہ انھیں رکوع کے علاوہ ادا نہیں کرسکتا اور امام کے رکوع سے پہلے مقتدی کو رکوع کی اجازت نہیں ہے تو اس وجہ سے ان سنن کا امام کے رکوع سے پہلے بجالانا منع ہوگیا نہ یہ کہ سنن کو بجالانا منع ہے جیسا کہ تو جان چکا ہے ہمارے قول کہ “ سنن میں اتباع امام تبعا ہی ہے “ کا معنی یہی ہے۔ الحمدﷲ جب یہ چیز واضح ہوگئی تو یہ بھی واضح ہوگیا کہ مقتدی سنن کی بجاآوری اپنے مذہب کے مطابق کرے گا نہ کہ
حوالہ / References مراقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ باب ماعلی الماموم الخ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۳ / ۹۴
#10969 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
برائی نفسہ ھذا اینبغی التحقیق واﷲ تعالی ولی التوفیق اتقن ھذا فانك لاتجدہ فی غیرھذا التحریر وھوعلم عزیز فی کلم یسیر۔
امام کے مذہب کے مطابق کیونکہ مستقل حیثیت رکھنے والا اپنی رائے کے مطابق عمل کرتا ہے تحقیق کا حق یہی تھا اﷲ تعالی ہی توفیق کامالك ہے اسے اچھی طرح پختہ کرلو کیونکہ ایسی تحقیق اس تحریر کے علاوہ تمھیں کہیں نہیں ملے گی اور یہ آسان ترین کلمات میں نہایت ہی اعلی علم ہے۔ (ت)
ولہذاحرمین طیبین زادہما اﷲ تعالی شرفا وتکریما میں مرئی ومشاہدہے کہ ایك امام کے پیچھے چاروں مذہب والے نماز پڑھتے ہیں اوران امور میں سب اپنے مذہب پر عمل کرتے ہیں حنفی امام حنفی کے پیچھے زیر ناف ہاتھ باندھے ہے اس کے دہنے بازو پر شافعی سینے پر ہاتھ رکھے بائیں بازو پر مالکی ہاتھ کھولے ہوئے ہے کوئی کسی پر انکار نہیں کرتا اور کیوں ہو کہ بحمد اﷲ ہم چاروں حقیقی بھائی ایك ماں باپ کی اولاد ہیں باپ ہمارا اسلام ماں ہماری سنت سنیہ سید الانام علیہ وعلی آلہ افضل الصلوۃ والسلام انکار تو ان گمراہوں پر ہے جو تقلید ائمہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کو معاذ اﷲ شرك و حرام بتاتے اور مذاہب حقہ راشدہ اہل حق کا نام چوراہہ رکھتے ہیں ۔ و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون(۲۲۷) (عنقریب ظالم جان لیں گے کہ وہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے ۔ ت)ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم صلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولانا محمد والہ وصحبہ وعلماء حزبہ اجمعین۔ رہا یہ کہ ایسی صورت میں شافعی کو کیا چاہئے یہ علماء شافعیہ سے پوچھا جائے ۔ خلاصہ ودرمختار میں ہے :
ولو قیل للحنفی مامذھب الامام الشافعی فی کذاوجب ان یقول قال ابوحنیفۃ کذا اھ۔
اقول : ولا شك ان الرجل بمذھبہ ادری وامر الفتیا امروادھی فترك اجتراء
اگر کسی حنفی سے سوال کیا جائے کہ امام شافعی کا مسلك فلاں مسئلہ کے بارے میں کیا ہے تو جوابا یہ کہنا واجب ہے کہ امام ابوحنیفہ کا موقف یہ ہے اھ
اقول : (میں کہتا ہوں ) اس میں کوئی شك نہیں کہ ہر آدمی اپنے مذہب کو خوب جانتا ہے اور فتوی جاری کرنے کا معاملہ نہایت ہی سخت اور دشوار
حوالہ / References القرآن ۲۶ / ۲۲۷
درمختار باب العدۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵۶
#10970 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
علی مذھب غیرہ احق واحری واﷲ تعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
ہے پس دیگر مذہب پر جرأت کا ترك ہی زیادہ مناسب و لائق ہے اﷲ تعالی سب سے بہتر جانتا ہے اس کا علم اتم اور سب سے کامل ہے(ت)
مسئلہ نمبر۵۸۴ : از ملك آسام ضلعجوہاٹ ڈاکخانہ گٹنگا مقام سرائے بہی مرسلہ سید محمد صفاء الدین صاحب ۱۰ ربیع الاول شریف ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عدیم البصر کے پیچھے نماز جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب :
بلاشبہ جائز ہے مگر اولی نہیں مکروہ تنزیہی ہے جبکہ حاضرین میں کوئی شخص صحیح العقیدہ غیر فاسق قرآن مجید صحیح پڑھنے والا اس سے زائد یا اس کے برابر مسائل نماز و طہارت کا علم رکھتا ہو ورنہ وہ عدیم البصرہی اولی وافضل ہے جو باوصف صفات مذکورہ باقی حاضرین سے اسے علم میں زائد ہو۔ ہندیہ میں ہے :
الاولی بالامامۃ اعلمھم باحکام الصلوۃ ھکذا فی المضمرات وھوالظاہر ھکذا فی البحرالرائق ھذا اذاعلم من القرأۃ قدرماتقوم بہ سنۃ القرأۃ ھکذا فی التبیین ولم یطعن فی دینہ کذا فی الکفایۃ وھکذا فی النھایۃ ویجتنب الفواحش الظاہرۃ وان کان غیرہ اورع منہ کذا فی المحیط وھکذا فی الزاھدی وان کان متبھرا فی علم الصلوۃ لکن لم لم یکن لہ حظ فی غیرہ من العلوم فھو اولی کذا فی الخلاصۃ ۔
امامت کے لئے سب سے بہتر وہ ہے جواحکام نماز سے زیادہ آگاہ ہو۔ مضمرات میں یہی ہے اور مختار بھی یہی ہے بحرالرائق میں اسی طرح ہے ۔ یہ اس وقت ہے جب اتنی قرأت سے واقف ہو جس سے قرأت مسنونہ ادا ہوجاتی ہو تبیین میں اسی طرح ہے۔ کفایہ اور نہایہ میں ہے کہ اس کے دین پر طعن نہ ہو ۔ محیط اور زاہدی میں ہے کہ وہ فواحش ظاہری سے بچنے والا ہو اگرچہ کوئی دوسرا اس سے زیادہ صاحب ورع ہو۔ خلاصہ میں ہے اگر وہ مسائل نماز کے بارے میں نہایت ہی ماہر ہو لیکن وہ دیگر علوم میں واقفیت نہ رکھتا ہو تو پھر وہی اولی ہے(ت)
اسی میں ہے :
تجوز امامۃ الاعرابی والاعمی والعبد
اعرابی نابینا اور غلام کی امامت جائز ہے
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ الفصل الثانی فی بیان من ہو احق بالامامۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۸۳
#10971 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
الا انھا تکرہ اھ ملخصا۔
البتہ مکروہ ہے اھ ملخصا(ت)
بحر میں ہے : کراہت تنزیہہ ۔ خانیہ میں ہے : غیرھم اولی(ان کے علاوہ اولی ہے ۔ ت)
حضرت عتبان بن مالك انصاری رضی اللہ تعالی عنہ باجازتحضور پر نور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپنی قوم کی امامت فرماتے
فی الصحیحین واللفظ لمسلم عن ابن شھاب ان محمود بن الربیع الانصاری حدثہ ان عتبان بن مالك وھومن اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ممن شھد بدرامن الانصار انہ اتی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال یارسول اﷲ انی قد انکرت بصری وانا اصلی لقومی الحدیث فی اتیانہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الی بیتہ وصلاتہ فیہ لیتخذہ مصلی۔
بخاری و مسلم میں ہے اور مسلم کے الفاظ یہ ہیں ابن شہاب بیان کرتے ہیں کہ محمود بن الربیع انصاری سے مروی ہے کہ حضر ت عتبان بن مالك جو انصاری اور بدری صحابی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہیں وہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے عرض کیایا رسول اﷲ ! میری آنکھیں جواب دے گئی ہیں حالانکہ میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہوں الی آخر الحدیث تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے نماز ادا فرمائی تاکہ وہ اس جگہ کواپنی نماز کی جگہ بنالیں ۔ (ت)
حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ تعالی عنہ کو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے سفر کو تشریف لیجاتے وقت دوبار مدینہ طیبہ پر نیابت عطا فرمائی کہ باقی ماندہ لوگوں کی امامت کرتے
عزاہ فی البحر الی صحیح ابن حبان قلت اخرج احمد وابوداؤد عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم استخلف ابن ام مکتوم علی المدینۃ مرتین یصلی بھم
بحر میں اس کی نسبت صحیح ابن حبان کی طرف ہے
میں کہتا ہوں امام احمد اورابو داؤد نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ تعالی عنہ کو دومرتبہ مدینہ طیبہ میں اپنا خلیفہ مقرر فرمایا
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ ، الفصل الثالث فی بیان من یصلح اماما لغیرہ ، مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ، ۱ / ۸۵
صحیح مسلم ، باب الرخصۃ فی التخلف الخ ، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ، ۱ / ۲۳۳
بحرالرائق باب الامامۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۴۸
#10972 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
وھو اعمی ۔
حالانکہ وہ نابینا تھے۔ (ت)
علماء فرماتے ہیں انھیں امام مقرر کرنے کی یہی وجہ ہے کہ حاضرین میں سب سے افضل یہی تھےبحرالرائق میں ہے :
قید کراھۃ امامۃ الاعمی فی المحیط وغیرہ بان لایکون افضل القوم فان کان افضلھم فھو اولی وعلی ھذا یحمل تقدیم ابن ام مکتوم لانہ لم یبق من الرجال الصالحین للامامۃ فی المدینۃ احد افضل منہ حینئذ ولعل عتبان بن مالك کان افضل من کان یؤمہ ایضا اھ
قلت وقد سمعت انہ کان من الاصحاب البدریین رضی اﷲ تعالی عنھم اجمعین فان لم یکن فی من کان یؤمھم من شھد بدراکان افضلہم بالیقین۔ واﷲ سبحنہ تعالی اعلم۔
محیط وغیرہ میں امامت اعمی کے مکروہ ہونے کے لئے یہ قید لگائی گئی ہے کہ وہ اعمی اس قوم سے افضل نہ ہو اگر وہ دوسروں سے افضل ہے تو وہی بہتر ہوگا اورحضرت ابن مکتوم رضی اللہ تعالی عنہ کی تقدیم کو بھی اسی بات پر محمول کیا جاتا ہے کہ اس وقت مدینہ منورہ میں ان سے بڑھ کر امامت کا اہل کوئی نہیں تھا ممکن ہے حضرت عتبان بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ بھی دوسرے لوگوں سے افضل ہوں ۔
قلت (میں کہتا ہوں ) آپ نے سن لیا ہے کہ وہ اصحاب بد رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین میں سے تھے اگر ان کے مقتدیوں میں کوئی بھی اصحاب بدر میں سے نہ تھا تو وہ بالیقین ان سے افضل ہوئے(ت)
مسئلہ نمبر ۵۸۵ ۵۸۸ : از شاہجہانپور محلہ بابوزئی مرسلہ شاہ فخر عالم صاحب قادری ۲۲ربیع الآخر شریف ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس باب میں کہ مسجد میں بحکم والی ملک(زید) جو حافظ قرآن و متشرع ہے قدیم سے خدمت امامت بجالاتا ہے اور اس کی تنخواہ پاتا ہے لیکن بکر جو دوسرے سرشتہ کا ملازم ہے اور اس کے پاس باوجود یکہ کوئی حکم فسخ امامت کا زید کانہیں ہے اور نہ بکر کو حکم امامت کا والی ملك کے یہاں سے ملا اور عموما مقتدیان بکر کی امامت سے بوجوہات ذیل نارضامند ہیں :
(۱) یہ کہ بکر بعض اوقات رقص طوائف دیکھ لیتا ہے۔
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل مروی از مسند انس بن مالك مطبوعہ دارالفکر بیروت ، ۳ / ۱۹۲ ، سنن ابو داؤد باب امامۃ الاعمٰی مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۸۸
بحر الرائق ، باب الامامۃ ، مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۳۴۸
#10973 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
(۲) کفار و مشرکین کے میلوں ٹھیلوں اور دیوالی کی شب جو ہنود میں صورت لچھمن کی ہوتی ہے اور خبائث دیوتاؤں کی پوجا کی جاتی ہے شریك ہوکر بھی سب کے ساتھ مہورت کا روپیہ چڑھاتا ہے اور علاوہ تنخواہ اپنی مقررہ کے خلاف حکم لوگوں سے نذرانہ بھی لیتاہے۔
(۳) محفل میلاد نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو اور قیام کو بدعت سیئہ بتلاتا ہے اور محفل یاز دہم حضرت غوث الثقلین محبوب سبحانی کرنے اور پڑھنے والے بدعتی اور گنہگار کہتا ہے اور شیرنی محفل میلاد کو برا جانتاہے ۔
(۴) شرفا و نجبا کی توہین اور غیبت کو فخر سمجھتا ہے اور مولوی ابو المنصور صاحب دہلوی کی نسبت جو امام وقت کہے جاتے ہیں ان کی تصنیف پر جو سب علماء دیکھ چکے ہیں اور کوئی حر فزن نہیں ہوا مگربکر نے فتوی کفر دے دیا ہے پس مقتدیان وغیرہ کے دلوں میں جو بکر کی طرف سے بوجوہات بالاکراہت آگئی ہے اس واسطے بکر نماز نہ پڑھنے میں کوئی حر ج تو نہیں ہے اور بکر اپنی امامت کے باعث مقتدیان وغیرہ کو تارك جماعت دیکھتا مگر پھر بھی اپنی امامت نہیں چھوڑتا اور اس کے امام حکمی کو جس کا ذکر اوپر آچکا امامت کرنے کا موقع نہیں آنے دیتا پہلے خود امام بن جاتاہے توبکر کس گناہ کا مرتکب کہا جائے گا فقط بینوا تو جروا۔
الجواب :
صورۃ مستفسرہ میں بکر کا فاسق فاجر مرتکب کبائر بدعتی گمراہ خائب و خاسر ہونا تو بداہۃ ظاہر اور اگر لچھمن کو روپیہ معاذ اﷲ بطور عبادت بھینٹ چڑھایا ہے تو قطعا یقینا مرتد کافر اور اس فعل ملعون کے بدترین فسق و فجور قریب بکفر ہونے میں تو کلام ہی نہیں بہرحال اس کے پیچھے نماز نہ پڑھنے میں کیا حرج ہوتا بلکہ اقتدا میں حرج اور سخت حرج ہے جو اسے امام کرے گا گنہگار ہوگا مسلمان اس فاسق بددین کے پیچھے نماز ہرگز نہ پڑھیں جہاں تك قدرت ہو اسے امامت سے دفع کریں قدرت نہ پائیں تو اپنی جماعت جدا کریں اور جبکہ امام معین یعنیزید اور عامہ اہل مسجد انھیں کے ساتھ ہیں تو جماعت اولی انھیں کی جماعت ہوگی اگرچہ وہ پہلے پڑھ جائے بلکہ جبکہ اس کے اسلام میں شك ہے تو انھیں درجہ اولی جائز ہے وہ جس وقت امامت کر رہا ہو اسی وقت مسجد میں یہ اپنی جماعت قائم کریں اور اگر یہ ایسا کریں تو اس جماعت کے مقتدیوں کو چاہئے فورا نیت توڑ کر اس میں میں آملیں اگر ایسا نہ کریں گے تو انھیں اپنی نماز پھیرنی ہوگی یوں ہی آج تك جتنی نمازین لوگوں نے دانستہ خواہ نادانستہ اس کے پیچھے پڑھی ہیں سب پھیریں اور اگر مسلمان نہ اسے امامت سے دفع کرسکتے ہیں نہ اس مسجد میں اپنی جماعت اس سے پہلے یا ساتھ یا بعد کرسکتے ہیں تو انھیں روا ہے کہ اس مسجد میں نماز نہ پڑھیں دوسری مسجد میں جاکر شریك جماعت ہوں ۔ مراقی الفلاح میں ہے :
کرہ امامۃ الفاسق العالم لعدم اھتمامہ بالدین فتجب اھانتہ شرعا فلا یعظم
فاسق کی امامت مکروہ ہے کیونکہ وہ اہتمام دین نہیں کرتا پس شرعا اس کی اہانت ضروری ہے تو امامت میں
#10974 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
بتقدیمہ للامامۃ واذاتعذر منہ ینتقل عنہ الی غیر مسجدہ للجمعۃ وغیرھا ۔
مقدم کرکے اس کی تعظیم نہ کی جائے اور جب اسے امامت سے روکنا متعذر ہو تو جمعہ وغیرہ کے لئے آدمی کسی دوسری مسجد میں چلا جائے۔ (ت)
غنیہ میں ہے :
فی فتاوی الحجۃ اشارۃ الی انھم لوقدموا فاسقایا ثمون اھ ملخصا۔
فتاوی الحجہ میں ہے اس سے اشارہ ہے کہ لوگوں نے فاسق کو امام بنایا تو تمام گنہ گار ہوں گے اھ ملخصا(ت)
ردالمحتار میں ہے :
بقی لوکان مقتدیابمن یکرہ الاقتداء بہ ثم شرع من لاکراھۃ فیہ ھل یقطع ویقتدی بہ استظھرط ان الاول لوفاسقالایقطع ولو مخالفا وشك فی مراعاتہ یقطع اقول والاظھر العکس لان الثانی کراھتہ تنزیھیۃ کالاعمی والاعرابی بخلاف الفاسق فانہ استظھر فی شرح المنیۃ انھا تحریمیۃ لقولھم ان فی تقدیمہ للامامۃ تعظیمہ وقد وجب علینا اھانتہ بل عند مالك و روایۃ عن احمد لاتصح الصلوۃ خلفہ اھ قلت والحکم فیما نحن فیہ ابین واظھر علی کلا الاستظھارین کما لایخفی من حال ذلك الافسق الاطغی۔
باقی رہا یہ معاملہ کہ اگر کسی نے اقتداء کی اس شخص کی جس کی اقتداء مکروہ تھی پھر ایسے شخص نے نماز شروع کی جس میں کراہت نہ تھی تو کیا نماز قطع کردے اور دوسرے کی اقتداء کرے ط نے اس کو ترجیح دی ہے کہ اگر اول فاسق ہو(یعنی مخالف نہ ہو) تو نماز قطع نہ کرے اوراگر وہ مخالف ہو اور رعایت نماز میں شك ہو تو قطع کردے میں کہتا ہوں مختاراس کا عکس ہے کیونکہ دوسری(یعنی مخالف کی) صورت میں کراہت تنزیہی ہے جیسا کہ نابینا اوراعرابی کی امامۃ میں ہے بخلاف فاسق کے کہ اس کے بارے میں شرح منیہ میں ہے کہ مختار یہی ہے کہ اس کی امامت مکروہ تحریمی ہے کیونکہ فقہا کہتے ہیں کہ اس کو امام بنانے کی بنا پر اس کی تعطیم ہوگی حالانکہ ہم پر اس کی اہانت لازم ہے بلکہ امام مالك رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیك اورایك روایت کے مطابق امام احمد رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیك فاسق کے پیچھے نماز جائز ہی نہیں اھ قلت (میں کہتا ہوں ) جس کے بارے
حوالہ / References مراقی الفلاح مع حاشیہ الطحطاوی فصل فی بیان الاحق بالامامۃ مطبوعہ نور محمد تجارت کتب کراچی ص۱۶۵
غنیۃ المستملی شرح منیہ المصلی فصل فی الامامۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۵۱۳
ردالمحتار باب ادراك الفریضہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۲۵
#10975 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
میں ہم گفتگو کر رہے ہیں دونوں مختار اقوال کے مطابق اس کا حکم نہایت ہی واضح ہے جیسا کہ اس بدتر فاسق اور بدتر باغی کے حال سے آشکارا ہے۔ (ت)درمختار میں ہے :
کل صلوۃ ادیت مع کراھۃ التحریم تجب اعادتھا ۔
ہر وہ نماز جو کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی جائے اس کا اعادہ واجب ہوتا ہے۔ (ت)
بکر جیسا کہ اپنے دیگر اقوال وافعال مذکورہ سوال کے باعث خاطی و بزہ کار اور اس بھینٹ کے سبب بدترین و ناپاك ترین اشرار یوں ہی اس امامت میں بھی کہ بنا راضی مقتدیان ہے مخالف شرع و گنہگار ہے۔ حدیث پاك میں ہےحضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ثلثۃ لعنھم اﷲ من تقدم قوما وھم لہ کارھون وامرأۃ باتت وزوجھا علیھا ساخط ورجل سمع حی علی الصلاۃ حی علی الفلاح فلم یجب ۔ رواہ الحاکم فی المستدرک۔
تین شخص ہیں جن پر اﷲ تعالی کی لعنت ہے ایك وہ کہ لوگوں کی امامت کو کھڑا ہوجائے اور وہ اس سے ناخوش ہوں دوسری وہ عورت کہ رات گزارے اس حالت میں کہ اس کا شوہر اس سے ناراض ہے تیسرا وہ شخص کہ حی علی الصلوۃ وحی علی الفلاح سنے اور نماز کو حاضر نہ ہو۔ اسےحاکم نےمستدرك میں روایت کیا ۔ (ت)
خصوصا ایسی امامت تو اور بھی سخت ہے کہ بلاوجہ شرعی امام متعین کا منصب چھین کر جبرا لوگوں کی امامت کرے ائمہ دین نے اسے کبیرہ گناہوں میں شمار فرمایا ابن حجر مکی زواجرعن اقتراف الکبائر میں فرماتے ہیں :
الکبیرۃ السادسۃ والثمانون امامۃ الانسان لقوم وھم لہ کارھون عدھذا من الکبائر مع الجزم بہ وقع لبعض ائمتنا وکانہ نظر الی مافی ھذہ الاحادیث وھو عجیب منہ فان ذلك مکروہ نعم ان حملت تلك الاحادیث
چھیاسیواں ۸۶ کبیرہ گناہ یہ ہے کہ آدمی کا ان لوگوں کی امامت کروانا جو اسے پسند نہ کرتے ہوں اس عمل کو ہمارے بعض ائمہ نے بالجزم کبائر میں شمارکیا ہے شاید انہوں نے یہ ان احادیث کی روشنی میں کیا ہو لیکن یہ عجیب ہے کیونکہ یہ عمل مکروہ ہے البتہ ایك صورت ایسی ہے جب ان احادیث کو اس شخص پر محمول کیا جائے جس نے
حوالہ / References درمختار باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۷۱
الزواجر عن اقتراف الکبائر بحوالہ مستدرك الکبیرۃ السادسۃ والثمانون دارالفکر بیروت ۱ / ۲۳۹
#10976 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
علی من تعدی علی وظیفۃ امام راتب فصلی فیھا قھرا علی صاحبھا وعلی المامومین امکن ان یقال حینئذ ان ذلك کبیرۃ لان غصب المناصب اولی بالکبیرۃ من غصب الاموال المصرح فیہ بانہ کبیرۃ اھ ملخصا۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مقرر امام پر زیادتی کی اور اس پر مقتدیوں پر جبرا اپنی امامت کو مسلط کیا تو اس وقت کہا جاسکتا ہے کہ یہ عمل کبیرہ گناہ ہے کیونکہ مناصب کا غصب کرنا بطریق اولی کبیرہ ہے اس غصب سے جو مال کہو جس کے کبیرہ ہو نے پر تصریح موجود ہے اھ ملخصا(ت)
مسئلہ نمبر ۵۸۹ : ازکلکتہ دھرم تلا نمبر۶ مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب ۵ جمادی الآخری ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جوامام نماز پڑھانے پر نوکر ہے اس کی اقتداء کی جائے یا جماعت ترك کی جائے بینواتوجروا
الجواب :
قطعا اقتداء کی جائے اس عذر پر ترك جماعت ہرگز جائز نہیں متقدمین کے نزدیك جو اجرت لے کر امامت کرنے والے کے پیچھے نماز میں کراہت تھی اس بنا پر کہ ان کے نزدیك امامت پر اجرت لینا ناجائز تھا وہ بھی ایسی نہ تھی جس کے باعث ترك جماعت کا حکم دیا جائے اب کہ فتوی جواز اجرت پر ہے تو وہ کراہت بھی نہ رہی طحطاوی میں زیر قول درمختارتکرہ خلف من ام باجرۃ قھستانی(اس شخص کے پیچھے نماز مکروہ ہے جو اجرت لے قہسانی۔ ت) فرمایا :
ھذا مبنی علی بطلان الاستئجار علی الطاعات وھی طریقۃ المتقدمین والمفتی بہ جوازہ خوف تعطیل الشعائرحلبی وابومسعود ۔
یہ حکم اس پر مبنی ہے کہ عبادات پر اجرت لینا جائز نہیں (باطل ہے) اور یہ متقدمین کا طریقہ تھا اب مفتی بہ قول یہ رہے کہ اجرت لینا جائز ہے ورنہ شعائر اسلامی کے معطل ہونے کا خوف ہےحلبی ومسعود (ت)
اسی طرح ردالمحتار وغیرہا میں ہے واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۹۰ : ازمارہرہ مطہر ضلع ایٹہ مرسلہ سید ظہور حیدر میاں صاحب ۱۱جمادی الآخری ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کو بہت رکوع اور سورتیں یاد ہیں جن سے وہ نماز پڑھاتا
حوالہ / References الزواجر عن اقتراف الکبائر الکبیرۃ السادسہ والثمانون مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۲۴۰
حاشیہ الطحطاوی باب الامامۃ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۲۴۴
#10977 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
ہے مگر اسے کھڑے پڑے مدوشد وقف رہاؤ پر چنداں خیال عبور نہیں اپنے نسیان کی وجہ سے مجبور ہے حافظ یاقاری کو سنا کر صاف بھی کرتا ہے تاہم بڑے رکوع یا سورت نقصان حافظہ یا کمی علم عربی قواعد قرأت کے سبب امور مذکورہ کا خیال نہیں رہتا ہاں چھوٹے رکوعوں سورتوں پر اکتفا کرے تو کسی قدر عبوررہ سکتا ہے مگر صبح وعشاء وغیرہ میں جوطوال اوساط کا حکم ہے اس کی رعایت نہ ہوگی زید سین وصاد میں بھی غلطی کرتا ہے اس صورت میں زید کی امامت درست ہے یا مکروہ اورکھڑا پڑا ادا نہ ہونے سے نماز تو مکروہ نہ ہوگی اور اگرہر نماز میں قصار پر قناعت کرے تو کیا حکم ہے دوسراشخص بکر ہے جو تمام امور قرأت حسب قواعد ملحوظ رکھتا ہے مگر بوجہ اپنے کسی فعل ناجائز مثل نشہ ممنوع شرعی میں معلن ہونے کے امامت سے انکار کرکے زید کو جو بوجہ غلطی سین و صاد وعدم رعایت امور مذکورہ معذور ہے امام کرنا چاہتا ہے اور خود انکار کرتا ہے ایسی صورت میں اس کا اپنی امامت سے انکاراور زید کو امام کرنا درست ہے یا نہیں اور ان دونوں میں لائق امامت کون ہے بینواتوجروا
الجواب : اس مسئلہ میں جواب سے پہلے چند مسائل کا معلوم کرنا ضرور :
(۱) وقف کی غلطی کہ وصل کی وقف وقف کی جگہ وصل کرے۔ یہ اصلا مفسدنماز نہیں اگرچہ وقف لازم پر نہ ٹھہرے
کما نص علیہ فی الھندیۃ وفی المنیۃ وشرحہا للعلامۃ الحلبی الوقف فی غیر موضعہ و الابتداء من غیر موضعہ لایوجب فساد الصلوۃ عندعامۃ علمائنا (الی ان قال بعد ذکر الامثلۃ) فالصحیح عدم الفساد فی ذلك کلہ لماتقدم ولانہ نظم القران اھ ملخصا
جیسا کہ ہندیہ منیہ اور اس کی شرحللعلامہ حلبی میں تصریح ہے کہ ہمارے اکثر علماء کے نزدیك غیر وقف کی جگہ وقف اور غیر شروع کی جگہ شروع کرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی (آگے چل کر مثالیں ذکر کرنے کے بعد کہا)صحیح یہ ہے کہ ان تمام صورتوں میں فساد نہیں اس دلیل کے پیش نظر جو گزرچکی اوراس لئے کہ یہ نظم قرآن ہیں اھ ملخصا (ت)
(۲) جن حروف پر مد ہے جیسے جآء تنوء جآء یا یھا قالوا انا فی ایام دآبۃ آمین (وہاں مد نہ کرنا بھی اصلا مفسد نہیں
فان ذلك من محسنات التجوید ولادخل لہ فی المعنی بل فی اللفظ ایضا بحیث یتغیر
کیونکہ یہ حسن تجوید میں سے ہے اس کا معنی میں بلکہ الفاظ میں بھی کوئی دخل نہیں کیونکہ اس کے ترك سے
حوالہ / References غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل زلۃالقاری مطبوعہ عہیل اکیڈمی لاہور ص ۴۸۰
#10978 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
بترکہ اللفاظ فضلا عن المعنی۔
الفاظ میں کوئی تبدیلی نہیں آتی چہ جائیکہ معنی میں تبدیلی آئے(ت)
(۳) جن حروف مد یا لین پر مد نہیں مثلا قال یقول قیل قول خیر۔ ان پر بھی موجب فساد نہیں جبکہ حد سے زیادہ نہ ہوں ہاں حد سے متحاوز ہو جیسے گانے میں زمزمہ کھینچا جاتا ہے توآپ ہی مطلقا مفسد ہے اگر چہ مد ہی کی جگہ ہو
فی الخانیۃ لوقرألقران فی صلاۃ بالحان ان غیرالکلمۃ تفسد صلوتہ لما عرف فان کان ذلك فی حروف المد واللین وھی الیاء والالف والواو لایغیر المعنی الا اذا فحش اھ فی ردالمحتار قولہ بالالحان ای بالنغمات وحاصلھا کما فی الفتح اشباع الحرکات لمراعات النغم ۔
خانیہ میں ہے اگر نماز میں الحان کے ساتھ قرآن پڑھا اگر کلمہ میں تبدیلی آگئی تونماز فاسد ہوجائے گی جیسا کہ معروف ہے پس اگر وہ الحان حروف مد اور لین میں ہو جو کہ یاء الف اور واؤ ہیں تو معنی میں تبدیلی نہیں ہوگی البتہ اس صورت میں آئےگی جب وہ حد سے متجاوز ہو اھ۔ ردالمحتار میں ہے قولہ بالالحانیعنی نغمہ کے ساتھ پڑھنا اوراس کا حاصل فتح کے مطابق نغمہ کی رعایت کی خاطر حرکات میں اشباع کرنا ہے۔ (ت)
(۴) کھڑے کو پڑا پڑھنا بھی مفسد نہیں :
فی القنیۃ قع حم قرأوتعال جدك بغیریاء لاتفسد وعن جار اﷲ مثلہ لان العرب یکتفی بالفتحۃ عن الالف اکتفاء ھم بالکسرۃ عن الیاء ولوقرأ اعذباﷲ لاتفسدصلاتہ ایضا لاکتفائھم بالضمۃ عن الواو ۔
عك وجار اﷲ والصلاوات لاتفسد وکذا لو قرأ وطور سنین بحذف الیاء
قنیہ میں ہے قع حم کے ہاں اگر کسی نے تعالی جدك یائکے بغیرپڑھا تو نماز فاسد نہ ہو گی اور جاراﷲ سے بھی یہی منقول ہے کیونکہ اہل عرب الف کی جگہ فتحہ پر اکتفا کرلیتے ہیں جیسا کہ یاء کی جگہ کسرہ پر اکتفاء کرتے ہیں اور اگر اعوذ باﷲ کی جگہ اعذ باﷲ پڑھا تو بھی نمازفاسدنہ ہوگی کیونکہ اہل عرب واو کی جگہ ضمہ پر اکتفاء کرلیتے ہیں ۔ (ت)
عین الائمہ کرابیسی اور جار اﷲ زمخشری کے نزدیك اگر کسی نے والصلاوات پڑھا
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خان ، فصل فی قرأۃ القرآن خطاء ، مطبوعہ نو لکشور لکھنؤ ، ۱ / ۷۵
ردالمحتار باب ما یفسد الصلٰوۃ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۶۶
قنیہ فتاوٰی قنیۃ باب فی حذف الحرف والزیادہ المطبعۃ المشتہرہ بالمہانندیۃ ص۶۳
#10979 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
لا تفسد عك ولو قرء نستعنك اوونؤمین بك لاتفسد اھ وفی الغنیۃ اذاکان الحذف علی وجہ الترخیم الجائز فی العربیۃ نحوان یقرأ یا مالك بحذف الکاف فلا تفسد اجماعاوکذا اذالم یکن من اصول الکلمۃ کما اذا اقرأ الواقعۃ بغیرھاوکذا ان کان من الاصول و لم یتغیر المعنی کان یقرأ تعالی جد ربنا باللام مع حذف الیاء فی تعالی لا تفسد بالاتفاق اھ
اور اسی طرح اگر کسی نے وطورسنین یاء کوحذف کرکے پڑھا تو نماز فاسد نہ ہوگی۔ عین الائمہ کرابیسی کے نزدیك اوراگر “ نستعینك ' ' یا “ ونؤمین بک “ پڑھاتو نماز فاسد نہ ہوگی اھ اور غنیہ میں ہے اگر حذف بطورترخیم ہو جو اہل عرب کے ہاں جائز ہے مثلا یامالك کے کا ف کو حذف کرکے پڑھا تو بالاتفاق نمازفاسدنہ ہوگی اسی طرح جب وہ حرف کلمہ کے اصلی حروف میں سے نہ ہو مثلا لفظ الواقعہ کو ہاء کے بغیر پڑھا اسی طرح اگروہ حرف کلمہ کے حروف اصلی میں سے ہو مگر معنی میں تبدیلی نہ آئے مثلا تعالی جد ربنا میں تعالی کے یاء کوحذف کرکے صرف لام کے ساتھ پڑھا تو بالاتفاق نماز فاسد نہ ہوگیاھ(ت)
ان چاروں باتوں سے اگرچہ فساد نماز نہیں مگر کراہت ضرور ہے کہ آخر قرآن عظیم کا غلط پڑھنا ہے یہاں تك کہ علمائے کرام نے فرمایا : مد کا ترك حرام ہے۔ توکھڑے کو پڑاپڑھنا بدرجہ اولی حرام ہوگا اس میں توجوہر لفظ میں کمی ہوگئی بخلاف مدکہ امرزائد تھا
فی الدرعن الحجۃ فی النفل لیلا لہ ان یسرع بعد ان یقرأکمایفھم اھ قال السید ان العلامتان الطحطاوی والشامی قولہ کما یفھم ای بعد ان یمد اقل مدقال بہ القراء والاحرم لترك الترتیل الماموربہ شرعا ۔
درمختار میں الحجہ کے حوالے سے ہے کہ رات کے وقت نوافل میں اتنا تیز پڑھ سکا ہے کہ پڑھا ہوا سمجھا جاسکے اھ ہمارے دونوں سید طحطاوی اورشامی فرماتے ہیں اس کا قول کما یفھم سے مراد یہ ہے کہ وہ مدکی کم ازکم مقدارضروری ہے ۔ یہ بات قراء نے بتائی ہے ورنہ یہ عمل حرام ہوگا کیونکہ اس میں اس کا ترتیل کا ترك لازم آتا ہے جس کا شرعا حکم ہے۔ (ت)
حوالہ / References قنیہ ، فتاوٰی قنیۃ باب فی حذف الحرف والزیادۃ مطبعۃ مشتہرۃ بالمہانندیۃ ص۶۳
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی بیان احکام زلۃ القاری مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۸۵
درمختار فصل ویجہر الامام الخ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۸۰
ردالمحتار فصل و یجہرالامام الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۰۰
#10980 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
یوں ہی تصریح فرماتے ہیں کہ جو شخص وقف ووصل کی رعایت نہ رکھتا ہو اسے امام نہ ہونا چاہئے۔
فی الھندیۃ عن المحیط من یقف فی غیر مواضعہ ولایقف فی مواضعہ لاینبغی لہ ان یؤم ۔
ہندیہ میں محیط کے حوالے سے ہے کہ وہ شخص جو غیر وقف کی جگہ وقف کرے اوروقف کی جگہ وقف نہ کرے اسے امام نہیں ہونا چاہئے۔ (ت)
(۶) پڑے کو کھڑا پڑھنے سے اگرمعنی فاسد نہ ہوں جیسےاتل ادع یرضہ لم یخش وانہ لاتأس علیہ لاتمش یعبادکو اتل ادع یرضہ لم یخش وانہ لا تاس علیہ لا تمش یعباد پڑھنا تو نماز فاسد نہ ہوگی۔
فی الغنیۃ ان زادحرفا ان لم یغیرالمعنی بان قرأ وامر بالمعروف وانھی عن المنکر بزیادۃ الالف فی اللفظ بعد الھاء لاتفسد اھ ملخصا۔
غنیہ میں ہے اگر کسی نے ایسے حرف کا اضافہ کیا جس سے معنی میں تبدیلی نہ آئے مثلا وأمر بالمعروف وانہی عن المنر میں ہا کے بعد الف پڑھا تو نماز فاسد نہ ہوگی اھ ملخصا۔ (ت)
ورنہ فاسد
کما قدمنا عن الخانیۃ وفی الدرومنھا ای من المفسدات القراء ۃ بالالحان ان غیر المعنی الخ فی ردالمحتار قولہ ان غیرالمعنی کمالو قرأ الحمدﷲ رب العلمین واشبع الحرکات حتی اتی بواو بعد الدال وبیاء بعد اللام والھاء وبالف بعد الراء ومثلہ قول المبلغ رابنا لك الحامد بالف بعد الراء لان الراب ھوزوج الام کمافی الصحاح والقاموس وابن الزوجۃ یسمی ربیبا اھ ۔
جیساکہ ہم پہلے خانیہ حوالے سے بیان کرچکے ہیں اور درمختار میں ہے مفسدات نماز میں قراء ۃ بالالحان بھی ہے بشرطیکہ معنی تبدیل ہوجائے الخ ردالمحتار میں ہے کہ ماتن کے قول ان غیرالمعنیکی مثالیں یوں ہیں کہ الحمد ﷲ رب العلمین میں اگر کسی نے حرکات میں اشباع کیا وہ یوں کہ دال کے بعد واو لام اور ہاء کے بعد یا اور راء کے بعد الف پیدا ہوگیا اسی طرح ہے مکبر کا قول “ رابنا لك الحامد “ یعنی راء کے بعد الف پڑھ دیا کیونکہ راب ماں کے شوہر کوکہا جاتا ہے جیسا کہ صحاح اورقاموس میں ہے اور زوجہ کے بیٹے کو ربیب کہا جاتا ہے اھ (ت)
حوالہ / References فتاوی ہندیہ الفصل الثالث فی بیان من یصلح امامًا لغیرہ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۸۶
غنیۃ المستملی شرح منیہ المصلی فصل فی بیان احکام زلۃ القاری مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۴۸۴
درمختار باب مایفسد الصلٰوۃ الخ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۹۰
ردالمحتار باب مایفسد الصلٰوۃ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۶۶
#10981 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
اقول : ھذاھوالموافق لکلام اصحابنا المتقدمین وقاعدتھم الغیر المنخرمۃ المختارۃ للمحققین فلا علیك ممایوجد من خلاف ذلك فی بعض الفروع المنقولۃ عن المتاخرین نعم ماذکر فی الراب فعندی فیہ وقفۃ فانہ القیاس فی اسم فاعل الربوبیۃ وان کان فی الاستعمال بمعنی اخرواھل اللغۃ لایذکرون المشتقات القیاسیۃ ولاھی موقوفۃ علی السماع والا لم تکن قیاسیۃ والقیاس لایردالابالنص علی ھجر انہ لاجرم قال فی تاج العروس ھواسم فاعل من ربہ یربہ ای تکفل بامرہ اھ وصحۃ الصلوۃ تعتمد علی احتمال معنی صحیح ولوکان ثم احتمالات فاسدۃ کما نص علیہ ھووغیرہ ففی ردالمحتار عند الاحتمال ینتفی الفساد لعدم تیقن الخطأ اھ وفی الغنیۃ التحقیق فیہ العمل بصحۃ المعنی بوجہ محتمل وعدمھا کماقررنا انہ قاعدتھم الغیر المنخرمۃ اھ فافھم۔
اقول : ( میں کہتا ہوں ) یہ گفتگو ہمارے متقدمین علماء کے کلام اور محققین کے اختیار کردہ ان کے پختہ ضابطہ کے مطابق ہے لہذا متاخرین سے اس کے خلاف جو جزئیات منقول ہیں آپ ان کی طرف متوجہ نہ ہوں البتہ لفظ رابکے بارے میں جو کچھ ذکر ہوا اس میں مجھے توقف ہے کیونکہ قیاسا یہ ربوبیت سے اسم فاعل کا صیغہ ہے اگرچہ کسی دوسرے معنی کے لئے بھی مستعمل ہے اور اہل لغت مشتقات قیاسیہ کا ذکر کرتے ہی نہیں اور نہ ہی وہ سماع پر موقوف ہوتے ہیں ورنہ وہ قیاسی ہی نہ رہیں اور قیاس کو اس وقت رد کیا جاسکتا ہے جب اس کے ترك پر نص ہو۔ لاجرم تاج العروس میں ہے کہ راب ربہ یربہسے اسم فاعل ہے جس کے معنی دوسرے کے معاملے کا کفیل ہونے کے ہیں اھ اور صحت نماز کا اعتبار صحت معنی کے احتمال پر ہوتا ہے اگرچہ وہاں احتمالات فاسدہ بھی ہوں جیسا کہ اس پر شامی وغیرہ نے تصریح کی ہے۔ ردالمحتار میں ہے احتمال کے وقت فساد منتقی ہوجاتا ہے کیونکہ خطا کا یقین
نہیں رہتا اھ
غنیہ میں ہے تحقیق اس مسئلہ میں یہ ہے کہ کسی طور صحت معنی کے احتمال اور عدم احتمال پر ہوگا جیسا کہ نے فقہا کا وہ ضابطہ بیان کیا ہے جو ٹوٹنے والا نہیں اھ فافھم ت)
(۷) یونہی مشدد کو مخفف مخفف کو مشدد پڑھنا فساد معنی میں فساد نماز ہے جیسے ظللنا بتحفیف لام
حوالہ / References تاج العروس من جواہرالقاموس فصل الراء من باب البائ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۲۶۲
ردالمحتار مطلب مسائل زلۃالقاری مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۶۹
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فی بیان احکام زلۃ القاری مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۴۸۴
#10982 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
ایاکبتشدد کاف نہیں ورنہ نہیں جیسے ماودعك بتخفیف دال اکبربتشدید راء
فی الغنیۃ تخفیف المشدد الاصل فیہ انہ ان کان لا یغیر المعنی کأن قرأ وقتلوا تقتیلا لاتفسدوان غیربان ترك التشدید فی رب الفلق ونحوہ فاختیار عامۃ المشائخ انھا تفسد کذا فی الخلاصۃ وذلك التفصیل علی قول المتقدمین وتقدم انہ الاحوط وحکم تشدید المخفف کحکم عکسہ وکذلك اظہار المدغم وعکسہ فالجمیع فصل واحد اھ ملخصا۔
اقول : ھکذا فی کتب اخری حکم الفساد بتخفیف الرب وعندی فیہ وقفہ فقد قال فی القاموس قد یخفف اھ ونقلہ الصاغانی عن ابن الانباری وانشد المفصل
وقـد علـم الاقـوام ان لیـس فــوقــہ
رب غیر من یعطی الحـظوظ ویرزق
نقلہ فی لسان العرب وغیرہا کما فی التاج۔
غنیہ میں ہے کہ جو لفظ مشدد کو مخفف پڑھنے میں قاعد ہ یہ ہے کہ اسکو مخفف پڑھنے سے اگر معنی میں تبدیلی نہیں آتی مثلا قتلو تقتیلا(شد کے بغیر پڑھا تو نماز فاسد نہ ہوگی اور اگر معنی بدل جاتا ہے مثلارب الفلق وغیرہ میں شد کو ترك کردیا تو عام مشائخ کے ہاں مختار یہی ہے کہ نماز فاسد ہوگی کذافی خلاصہ اور یہ تفصیل متقدمین کے قول کے مطابق ہے اور پہلے گزر چکا کہ اسی میں زیادہ احتیاط ہے مخفف کو شد کے ساتھ پڑھنا یامشدد کو مخفف پڑھنا دونوں کا حکم ایك جیسا ہے ۔ اسی طرح مدغم کا اظہار یااسکا عکس ہو و ان تمام صورتوں کا ایك ہی حکم ہے اھ ملخصا(ت)
اقول : ( میں کہتا ہوں اسی طرح دیگر کتب میں ربکے مخفف پڑھنے پر فساد نماز کا حکم دیا گیا ہے اور میرے نزدیك اس میں توقف ہے کیونکہ قاموس میں ہے کہ اس میں کبھی کبھی تخفیف کی جاتی ہے اھ اسے صاغانی نے ابن الانباری سے نقل کیا ہے اور مفضل نے یہ شعر کہا ہے :
ان اقوام نے یہ جان رکھاہے کہ ان سے اوپر رب کے سوا کوئی نہیں جو رزق اور نعمتیں عطا کرے۔ تاج العروس کے مطابق یہ شعرلسان العرب میں وغیرہا میں منقول ہے۔ (ت)
حوالہ / References غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی بیان احکام زلۃ القاری مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۴۸۸
القاموس المحیط فصل الراء من باب الراء مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۷۲
تاج العروس من جواہر القاموس فصل الراء من باب الباء مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۲۶۰
#10983 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
(۸) س ص وغیرہما حروف کی باہم تبدیل میں بھی فساد معنی ہی پر لحاظ ہے بحالت عدم فساد نماز فاسد نہیں خصوصا جب خاص لفظ زبان عرب میں دونوں طرح ہو جیسے صراط و سراطوہ تبدیل کسی قاعدہ عرب کے موافق ہو جیسے وہ ہر کلمہ جس میں سین کے بعد ط مہملہ یا غین معجمہ یا ق یا خ معجمہ واقع ہو اس سین کو ص پڑھنا صحیح ہے بعض نے قبل و بعد کی قید نہیں لگائی اور ت کی معیت میں بھی سین اور صاد کی باہم تبدیل دونوں جانب سے جائز بتائی بعض نے کہا جس کلمہ میں کے ص بعد ط مہملہ یا غ معجمہ یا سین کے بعد ق یا خ معجمہ ہو وہاں ان میں ہر ایك کے عوض دوسرا اور ز معجمہ بھی جائز اور جس ص کے بعد د مہملہ ہو اگر ص ساکن ہے تو اس کی جگہ س یا ز روا اور متحرك ہے تو ناجائز و مفسد نماز قنیہ میں ہے :
متی سألت جار اﷲ عمن قرأ وصطا او اصبغ او صقر او مصخرات بالصاد مکان السین فقال لا تفسد لان کل کلمۃ وقع فیھا بعد السین طاء اوغین اوقاف اوخاء جازان یبدل السین صادا اھ۔
جار اﷲ سے جب میں نے پوچھا کہ کوئی شخص وسطا کو وصطا اسبغ کو اصبغ سقر کو صقر اور مسخرات کو مصخرات س کی جگہ ص پڑھتا ہے تواسکا کیاحکم ہے فرمایا نماز فاسد نہ ہوگی کیونکہ ہر وہ کلمہ جس میں سین کے بعد طاء غین قاف یا خا آجائے تو اس سین کو صاد کے ساتھ بدلنا جائز ہے(ت)
اسی طرح حلیہ میں اس سے نقل فرمایا :
وضبط الحروف فقال کل کلمۃ وقع فیھا بعد السین طاء مھملۃ او غین معجمۃ اوقاف اوخاء معجمۃ جازان یبدل فیھا السین صادا۔
اور حروف کا ضابطہ اس کے متعلق فرمایا ہر وہ کلمہ جس میں سین کے بعد ط مہملہ یا غین معجمہ یا ق یاخ معجمہ واقع ہو وہاں سین کو صاد کے ساتھ بدلنا جائز ہے ۔ (ت)
اسی میں ہے :
وفی المبتغی ومن قرأمکان الصاد سینا ینظر ان کان صاد بعدھا طاء کالصراط وبعدھا غین کقولہ واصبغ اوسین بعدھا قاف کقولہ
المبتغی میں ہے وہ شخص جس نے صاد کی جگہ سین پڑھا وہاں غور کیا جائے اگرصاد کی بعد طاء مہملہ ہے مثلا صراط یا اس کے بعد غین معجمہ ہو مثلا واصبغ
حوالہ / References قنیہ ، فتاوٰی قنیۃ باب زلۃلقاری الخ مطبعۃ مشتہرۃ بالمہانندیۃ ص ۶۱
حلیہ المحلی شرح منیہ المصلی
#10984 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
سلقوکم او بعدھا خاکقولہ یسخرون یجوز مکان السین صادا او زاء واماالتی بعدھا دال ان کانت الصاد ساکنۃ کقولہ یصدریجوز بالسین والزاء واما التی تکون متحرکۃ کقولہ الصمد لایجوز قرأتہ بالسین ولو قرأ بالسین تفسد صلاتہ وعلی ھذا یخرج کثیرمن المسائل انتھی ۔
یا کسی کلمہ میں س کے بعد ق ہو جیسے سلقوکم یااس کے بعد خاء معجمہ ہو جیسے یسخرون تو ایسی صورت میں س کی جگہ ص یازپڑھنا جائز ہوگا لیکن اگر ص کے بعددمہملہ ہو تواگر صاد ساکن ہو مثلا یصدر تو اسے سین یا زاء پڑھنا جائز اور اگر صاد متحرك ہے جیسے الصمد تواب اسے سین پڑھنا جائز نہیں اگر کسی نے سین پڑھا توا س کی نمازفاسد ہوجائے گی اسی ضابطہ پر بہت سے مسائل کی تخریج ہوتی ہے انتہی (ت)
خانیہ میں ہے :
عن ابی منصور العراقی کل کلمۃ فیھاعین اوحاء اوقاف اوطاء اوتاء وفیھا سین اوصاد فقرأ السین مکان الصاداو الصاد مکان السین جاز اھ ۔
اقول : ھکذا ھوفی الخانیۃ طابع کلکتۃ ۱۸۳۵ المیلادیۃ باھمال العین والحاء جمیعا وکذاھو فی الغنیۃ طابع استامبول ۱۲۹۵ الھجریۃ ومثلہ فی البزازیۃ طابع مصر ۱۳۱۰ ھ وفی الخانیۃ طابع مصرمن تلك السنۃ باعجام الخاء واھمال العین وھوالموافق لما فی عنایۃ القاضی حاشیۃ العلامۃ الخفاجی علی البیضاوی طبع مصر ۱۲۸۳ ھ تحت قولہ
ابو منصور عراقی کہتے ہیں ہر وہ کلمہ جس میں عین حاء قاف طاء یا تاء ہو اس کلمہ میں سین یاصاد ہو توایسی صورت میں اگر کسی نے صاد کی جگہ سین یا سین کی جگہ صاد پڑھا تو جائز ہوگااھ (ت)
اقول : (میں کہتا ہوں ) خانیہ مطبوعہ کلکتہ۱۸۳۵ میلادیہ میں یوں ہی عین مہملہ اورحاء مہملہ دونوں کا ذکر ہے اسی طرح غنیہ مطبوعہ استنبول ۱۲۹۵ھ میں ہے اور بزازیہ مطبوعہ مصر ۱۳۱۰ھ میں بھی اسی طرح کے الفاظ ہیں مگرخانیہ مطبوعہ مصر سن مذکورہ میں خاء معجمہ اورعین مہملہ کا ذکر ہے اور یہ اس کے مطابق ہے جوعلامہ خفاجی نے عنایۃ القاضی حاشیہ بیضاوی مطبوعہ مصر۱۲۸۳ھ میں اﷲ تعالی کے ارشاد گرامی الصراط المستقیم کے تحت لکھا ہے وہ فرماتے ہیں
حوالہ / References حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
فتاوی قاضی خان فصل فی قرأۃ القرآن خطاء مطبوعہ نولکشور لکھنو ، ۱ / ۶۸
#10985 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
تعالی الصراط المستقیم حیث قال لغۃ قریش ابدال السین صاداھناوفی کل موضع بعدھا عین اوخاء اوقاف باطراد اھ والظاہر مما عن القنیۃ والحلیۃ مفسرا اعجامھاجمیعا فلیحرر۔
کہ اس مقام پر بلکہ ہر وہ مقام جہاں اس کے عین خاء معمہ یاقاف ہو وہاں سین کوصاد کےساتھ بدل کر پڑھنا لغت قریش ہے اور یہ مستعمل ہے اھ قنیہ اورحلیہ کے حوالے سے جوکچھ تفصیلا گزرا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سب معجمہ ہوں پس اسے اچھی طرح محفوظ کرو(ت)۔
پچھلے تین مسائل میں کہ بحالت فسادمعنی فسادنماز کا حکم مذکور ہمارے امام صاحب مذہب اور ان کے اتباع ائمہ متقدمین رضی اللہ تعالی عنہم کا مذہب تھا اور وہی احوط و مختار ہے اجلہ محققین نے اسی کی تصریح فرمائی
ومعلوم ان الفتوی متی اختلف وجب الرجوع الی قول الامام کما نص علیہ فی البحروالدر وحواشیہ وغیرھا من اسفارالکرم۔
اور یہ بات معلوم ہے کہ جب اختلاف ہوتو فتوی میں قول امام کی طرف رجوع کیاجائے گا جیسا کہ اس پربحر در اور دیگر مبارك کتب میں تصریح موجود ہے(ت)
غنیہ میں ہے :
الاولی الاخذفیہ بقول المتقدمین لانضباط قواعدھم وکون قولھم احوط واکثرالفروع المذکورۃ فی کتب الفتاوی منزلۃ علیہ ۔
بہتر یہ ہے کہ اختلافی صورت میں متقدمین کے قول کو لیا جائے کیونکہ ان کے قواعد نہایت مضبوط ہیں اور انکے اقوال بہت ہی محتاط ہوتے ہیں اور کتب فتاوی کی اکثر فروعات اسی پر مبنی ہیں ۔ (ت)
اسی میں ہے :
ھذابناء علی مختار المتقدمین وھوالمختار ۔
یہ متقدمین کے قول مختار کی بناء پر ہے اور درحقیقت یہی مختار ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
ھذا ملخص قاعدۃ المتقدمین وھوالذی صححہ المحققون من اھل الفتاوی
یہ قاعدہ متقدمین کا خلاصہ ہے اور اسی کو اہل فتوی محققین مثلا قاضی خان وغیرہ نے صحیح قرار دیا
حوالہ / References عنایۃ القاضی حاشیۃ الشہاب علی البیضاوی تحت الصراط المستقیم مطبوعہ دارصادر بیروت ۱ / ۱۳۱
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی بیان احکام زلۃ القاری مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۷۷
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی بیان احکام زلۃ القاری مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۸۳
#10986 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
کقاضی خان وغیرہ وفرعوا علیہ الفروع فافھم ترشد ۔
اور اس پر کئی فروعات کی تخریج کی پس اچھی طرح سمجھ لو تو رہنمائی پاؤ گے۔ (ت)
اگرچہ علمائے متاخرین ان تین میں بھی کہیں بعض کہیں اکثر بغرض آسانی جانب جواز نماز گئے اوربکثرت فروع میں ان کے اقوال خود مختلف و مضطرب رہے
کما یظھر بالرجوع الی الغنیۃ والنظر الی اقوالھم المنقولۃ فی الفتاوی مع سیر الفروع وردھا الی الاصول۔
جیسا کہ غنیہ کے مطالعہ سے اور ان کے فتاوی میں منقول اقوال میں غور کرنے سے ظاہر ہوتا ہے باوجود اصول پر فروعات کے جاری اوررد ہونے کے ۔ (ت)
(۹) س ص وغیرہما حروف کی تبدیل جس میں آج کل اکثر عوام مبتلا ہیں جب بطور عجز ہو یعنی صکہنا چاہیں توسہی ادا ہو صنہ نکال سکیں جیسا کہ یہاں آجکل عوام کا جنہوں نے قواعداعداد نہ سیکھے اور اس فرض عین کے تارك رہے یہی حال ہے تو اس صورت میں اگرچہ ان کی اپنی نماز ہوجانے پر فتوی ہے جبکہ سیکھنے پر کوشش کئے جائیں اور جو حرف نہیں نکال سکتے اس سے خالی کوئی صورت یا آیت پاتے ہوئے سوائے فاتحہ ایسا کلام جس میں وہ حروف آئے ہیں نہ پڑھیں اور صحیح خوان کی اقتدا ملتے ہوئے جدا نماز ادا نہ کریں مگر یہ حکم صرف ان کی اپنی نمازان شرطوں کے ساتھ جائز ہونے کے لئے صحیح خواں کی امامت نہیں کرسکتے نہ اس کی نماز ان کے پیچھے ہوگی یہی مذہب صحیح ہے اور یہی قول جمہور ائمہ ہے جن میں متاخرین بھی شامل ہیں ۔ فتاوی خیریہ میں ہے۔
الراجح المفتی بہ عدم صحۃ امامۃ الالثغ لغیرہ ممن لیس بہ لثغۃ ۔
راجح اورمفتی بہ قول یہی ہے کہ الثغ (توتلے) کی امامت اس شخص کے لئے جائزنہیں جس میں توتلاپن نہ ہو۔ (ت)
اسی میں ہے :
امامۃ الالثغ للفصیح فاسدۃ فی الراجح الصحیح ۔
الثغ(توتلے) کی امامت فصیح کے لئے راجح اورصحیح قول کے مطابق فاسد ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
قداباہ اکثر الاصحاب لما لغیرۃ من الصواب ۔
اس کا اکثر علماء نےانکار کیا ہے جبکہ اس کا غیر اس سے بہتر ودرست پڑنے والا موجود ہو۔ (ت)
حوالہ / References غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی بیان احکام زلۃ القاری مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۹۳
فتاوٰی خیریہ کتاب الصلٰوۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۱۰
فتاوٰی خیریہ کتاب الصلٰوۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۱۰
فتاوٰی خیریہ کتاب الصلٰوۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۱۰
#10987 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
بزازیہ میں ہے :
ان امکنہ ان یتخذ ایات خالیۃ عن تلك الحروف فعل والا سکت وان وجدایات خالیۃ عن لثغتہ ومع ذلك قرأ ما فیھا لثغتہ لایجوز وعلی قیاس ما ذکرنا فی المسئلۃ الاولی ان بدل حرفا بحرف ولم یقدر لایفسد وبہ نأخذ وکذا المستقین مکان المستقیم الاان غیرہ لایقتدی بہ۔
اگراس کے لئے ممکن ہے تو ایسی آیات پڑھے جو ان حروف سے خالی ہوں ورنہ ساکت رہے اور اگر وہ ایسی آیات (جن میں اس کو توتلاپن نہیں ہوتا) پر قادر ہونے کے باوجود وہ آیات پڑھتا ہے جن میں توتلا پن ہوتا ہے تو یہ جائز نہیں اور پہلے مسئلہ میں ہم نے جو کچھ بیان کیا اس پر قیاس کرتے ہوئے اگر اس نے ایك حرف کو کسی حرف کےساتھ بدل دیا اور درست پڑھنے پر قادر نہ ہو تو فسادنماز نہیں آئے گا اسی پرہمارا عمل ہے اسی طرح وہ جس نے مستقیمکی جگہ مستقین پڑھا مگر کوئی دوسرا اس کی اقتدا نہ کرے۔ (ت)
غنیہ میں محیط فتاوی حجہ فتاوی خانیہ وغیرہا کی عبارات لکھ کر فرمایا :
الحاصل ان اللثغ یجب علیھم الجھددائما وصلوتھم جائزۃ ماداموا علی الجھد ولکنھم بمنزلۃ الامین فی حق من یصح الحرف الذی عجزوا عنہ لایجوزاقتدائہ بھم لاتجوز صلوتھم اذا ترکوا الاقتداء بہ مع قدرتھم وانما تجوز صلاتھم مع قرأۃ تلك الحروف اذا لم یقدروا علی قرأۃ تلك الحروف اذا لم یقدروا علی قرأۃ ماتجوز بہ صلاۃ ممالیس فیہ تلك الحروف واما لوقدروامع ھذا قرأوا تلك الحروف فصلوتھم فاسدۃ ایضا ھذاھوالذی علیہ الاعتماد ۔
الحاصل توتلاپن رکھنے والے پر ہمیشہ تصحیح حروف کی جدوجہد کرنا ضروری ہے اور جب تك ایسے لوگ جدوجہد کرتے رہیں گے ان کی نمازیں درست ہونگی اور حروف کوصحیح ادا کرنے والے کے حق میں امی کی طرح ہیں لہذا صحیح اداکرنے والے کوان کی اقتداء نہیں کرنی چاہئے اور یہ لوگ صحیح پڑھنے والے کی اقتداء پر قادر ہونے کے باوجود اگراقتدا ترك کریں تو ان کی نماز نہ ہوگی اور ان کی اپنی نماز ان حروف کی قرأت کے ساتھ تبھی ہوگی جب یہ قرآن کے کسی اتنے حصے پر قادر نہ ہوں جتنے میں نماز جائز ہوجائے اور اس حصے میں وہ حروف بھی نہ ہوں اور اگر اتنی قرأت کی قدرت کے باوجود انہی حروف کو پڑھتے ہیں تو بھی ان کی نماز فاسد ہوگی یہ وہ ہے جس پر اعتماد ہے(ت)
حوالہ / References فتاوٰی بزازیہ مع الفتاوی الہندیہ ، الثانی عشر زلۃ القاری ، مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشارو ۴ / ۴۴
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی بیان احکام زلۃ القاری مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۸۳
#10988 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
(۱۰) فجر و ظہر میں طوال مفصل عصروعشاء میں اوساط کا پڑھنا اگرچہ سنت ہے کما نص علیہ فی المتون (جیسا کہ اس پر متون میں تصریح ہے۔ ت)مگر نہ ایسا ضروری عذر سے بھی ترك نہ کیاجائے ۔ صحیح حدیث سے ثابت کہ ایك بچہ جس کی ماں شریك جماعت تھیں اس کے رونے کی آواز سن کر حضور پرنور رحمت عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فجر کی نماز صرف معوزتین سے پڑھائی ۔ علماء یہاں منجلمہ اعذار ملال قوم و بدآوازی امام تك شمار کرتے ہیں کہ کریہہ الصوت ہو توچھوٹی سورتوں پر قناعت کرے تاکہ مقتدیوں کو ناگوار نہ ہو۔ درمختار میں ہے :
اختار فی البدائع عدم التقدیر وانہ یختلف بالوقت والقوم والامام
بدائع میں مقدار مقرر نہ کرنے کو پسند کیا ہے اور یہ وقت امام اور قوم کے باعث قرأت کاحال مختلف ہوجاتا ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ والامام ای من حیث حسن صوتہ وقبحہ ۔
قولہ والامام یعنی اس سے امام کی آواز کا اچھا یا برا ہونا مراد ہے۔ (ت)
توقرآن عظیم کو اپنے اغلاط اور اپنی مقتدیوں کی نماز کو فساد سے محفوظ رکھنا تو اعظم اعذار اور اہم کار ہے۔
(۱۱) فاسق کے پیچھے نماز مکروہ ہے بحرالرائق و درمختارومعراج الدرایہ ومجتبی وغیرہا میں اس کراہت کو تنزیہی اورغنیہ وفتاوی حجہ ومراقی الفلاح وفتح اﷲ المعین وغیرہا میں تحریمی ٹھہرایا اور یہی کلام امام زیلعی کا مفاد
کما بیناہ فی رسالتنا النھی الاکید عن الصلوۃ وراء عدی التقلید وغیرھا من تحریراتنا۔
جیسا کہ ہم نے اس کی تفصیل اپنے رسالہ النہی الاکید عن الصلوۃ وراء عدی التقلید اور دیگر تحریرات میں کی ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
ھوکالمبتدع تکرہ امامتہ بکل حال بل مشی فی شرح المنیۃ علی ان
فاسق بدعتی کی طرح ہے اس کی امامت ہر حال میں مکروہ ہے بلکہ شرح المنیہ میں ہے کہ اس
حوالہ / References درمختار فصل ویجہرالامام مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۸۰
ردالمحتار فصل ویجہرالامام مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۰۰
#10989 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
کراھۃ تقدیمہ کراھۃ تحریم لما ذکرنا ۔
کی تقدیم مکروہ تحریمی ہے اس دلیل کی بنا پر جو ہم نے ذکر کردی ۔ (ت)
(۱۲) جماعت اہم واجبات واعظم شعائراسلام سے ہے توفسق امام کے سبب ترك جماعت نہ چاہئے ادائے جماعت کے لئے اس کے پیچھے پڑھ لیں اور دفع کراہت کے لئے اعادہ کر لیں ۔
فی الفتح عن المحیط وفی البحر عن الفتاوی وفی الدرعن النھرعن المحیط صلی خلف فاسق او مبتدع نال فضل الجماعۃ اھ فی ردالمحتار افاد ان الصلوۃ خلفھا اولی من الانفراد الخ ومثلہ فی البحرعن السراج فی الفاسق وفی الفتح الحق التفصیل بین کون تلك الکراھۃ کراھۃ تحریم فتجب الاعادۃ اوتنزیہ فتستحب۔
فتح میں محیط سے بحر میں فتاوی سے اور درمختار میں نہر سے محیط کے حوالے سے ہے فاسق یا بدعتی کی اقتدا میں نماز ادا کرنے سے جماعت کا ثواب مل جاتا ہے اھ ردالمحتار میں ہے کہ اس سے یہ فائدہ حاصل ہوا کہ ان کی اقتدا میں تنہانماز پڑھنے سے اولی ہے الخ اوربحر میں معراج کے حوالے سے فاسق کے بارے میں یہی رائے ہے اور فتح القدیر میں بھی اسی طرح ہے حق یہ ہے کہ ا س میں تفصیل ہے اگر مکروہ تحریمی ہے تو اعادہ واجب اور اگر تنزیہ ہے تو اعادہ مستحب ہے۔ (ت)
بلکہ جب اس کے سوا نہ کوئی امامت کے قابل ہونہ دوسری جگہ جماعت ملے تو اس کے پیچھے کراہت بھی نہ رہے گی
فی الدرھذاان وجد غیرھم والا فلاکراھۃ بحر بحثا اھ قال الشامی قد علمت انہ موافق للمنقول عن الاختیاروغیرہ ۔
درمختار میں ہے کہ یہ کراہت اس وقت ہے جب ان کے علاوہ کوئی دوسرا امام ان سے میسر ہو ورنہ کوئی کراہت نہیں بحر میں اسی طرح بحث ہے اھ۔ امام شامی نے فرمایا کہ آپ نے جان لیا کہ یہ اختیار وغیرہ سے منقول کے موافق ہے۔ (ت)
جب یہ مسائل معلوم ہوگئے تو حکم مسئلہ منکشف ہوگیا ۔ زیدوبکر دونوں کے پیچھے نماز کم سے کم مکروہ تو ضرور ہے پس اگر کوئی تیسرا قابل امامت خالی از کراہت ملے تو اس کی اقتدا کریں اور اگر کوئی نہ ہو تو اگر
حوالہ / References ردالمختار ، باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۴
درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۳
ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۵
درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۸۳
ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۵
#10990 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
چھوٹی چھوٹی بعض سورتیں جو زید کوخوب صاف وصحیح یاد ہوں ۔ انہیں پر اکتفا کرنے میں زید سے وہ خرابیاں واقع نہ ہوتی ہوں ان سین وصاد وغیرہما حروف بھی ٹھیك اداکرلیتا ہو تو واجب بلکہ لازم ہے کہ ہمیشہ انھیں سورتوں پر قناعت کرے ان کے سوا اورہرگز ہرگز نہ پڑھے جن میں کراہت درکنار نوبت تابہ فساد پہنچے اور جب اس تدبیر سے وہ خرابیاں زائل ہوں تو اس تقدیر پر زید ہی کی امامت رکھیں کہ ہرنماز میں چھوٹی سورتوں پر اقتصار ترك سنت سہی مگر بعذر قوی ہے اور عذر دافع کراہت بخلاف بکر کہ اس کے پیچھے بسبب فسق کراہت بلکہ سخت کراہت ہے تو زید ہی اولی بامامت ہے۔ اگر کوئی سورت زید کو صاف نہیں یاد قصار پراقتصار میں بھی وہی خرابیاں پیش آتی ہیں اگرچہ کم ہوں تو اسے ہرگزامام نہ کیا جائے کہ جب پڑے پر کھڑا مخفف کو مشدد مشدد کو مخفف س کو ص ص کو س پڑھنے کی عادت ہے تو یہ امور ایسی جگہ بھی ضرور واقع ہوں گے جن سے ہمارے ائمہ مذہب رضی اللہ تعالی عنہم کے نزدیك نماز بالکل باطل ہوجائےگی ۔ اس کے کوئی معنی نہیں کہ اغلاط کا عادی وہیں غلطی کرے جہاں معنی نہ بدلیں اور جہاں فساد معنی ہوتا وہاں نہ کرتا ہو غلطی اپنے قصد واختیار کی نہیں جہاں چاہی کی جہاں چاہی نہ کی نہ بے علم آدمی یہ سمجھ سکتا ہے کہ کہا ں معنی بگڑیں گے کہاں نہیں خصوصا جبکہ س و ص کی تبدیلی بر بنائے عجز ہو کہ عاجز لاجرم کہیں ٹھیك نہ پڑھے گا اس تقدیر پر اس کے پیچھے نماز اصل مذہب اور تصحیح ائمہ محققین پر فاسد وباطل ہے اور بحالت عجز تو جمہور ائمہ کے نزدیك امامت صحیح خواں کی اس میں اصلا لیاقت نہیں بلکہ فاسق کے ہوتے ہوئے اس کی خود اپنی نماز نہ ہوگی کہ باوصف قدرت اس نے اس کی اقتداچھوڑ دی بخلافبکر کہ اگر چہ فاسق سہی مگر جبکہ صحیح خواں ہے تو اس کے پیچھے نمازباتفاق اصحاب صحیح ہے۔ رہی کراہت اس کا علاج اعادہ سے ممکن بلکہ جب دوسرا کوئی قابل امامت نہیں تو کراہت بھی نہیں کہ عذر و ضرورت نافی کراہت ہیں ۔ اور اسی سبب سے احسن واہم یہ کہ بکر اپنے رب جل وعلا سے ڈرے اپنے حال پر رحم کرے فسق و نافرمانی بادشاہ قہار سے تائب ہوکہ اس کے پیچھے نماز بروقت محبوب و مناسب ہو اگر روزقیامت کا اندیشہ نہیں تو اس مجلس اسلامی میں صدارت نہ ملنے کی غیرت چاہئے۔ آدمی اگر دنیا والوں کے کسی جلسہ میں جائے تو کوشش کرے گا کہ کوئی حرکت ایسی نہ ہو جو لوگ اچھی جگہ بٹھانے کے قابل نہ سمجھیں اور اگر کسی مجلس میں صدر کی جگہ سے ہاتھ پکڑ کر اٹھادیا جائے کس قدر غیرت آئے گی ندامت ہوگی تو یہ اﷲ عزوجل کے دربار میں صدر مقام ہے۔ یہاں کیوں نہ غیرت کو کام میں لائیے کہ کارکنان بارگاہ سلطانی صدرجگہ سے ہاتھ پکڑ کر اٹھا نہ دیں اﷲ تعالی توفیق خیر افیق عطا فرمائے۔ آمین واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۹۱ : از ریاست رامپور مولوی امداد حسین برادرمولانا ارشاد حسین صاحب ۱۲۹۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر امام کوئی مستحب ترك کرے تو کیا مقتدیوں پر اس کا ترك بحکم متابعت واجب ہوتا ہے اوردلیل یہ کہ متابعت فرض ہے اور وہ فعل مستحب اورقاعدہ کلیہ ہے کہ
#10991 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
مستحب مزاحم فرض نہیں ہوسکتا۔ بینوا توجروا
الجواب :
متابعت امام ہرفعل وترك میں علی الاطلاق فرض و واجب کیا معنی مسنون اور مستحب بھی نہیں بلکہ بعض صورتیں خلاف اولی اور بعض میں محض ناجائز ہوتی ہے
فی ردالمحتار والمتابعۃ لیست فرضا بل تکون واجبۃ فی الفرائض والواجبات الفعلیۃ وتکون سنۃ فی السنن وکذافی غیرھا عند معارضۃ سنۃ وتکون خلاف الاولی اذاعارضھاواجب اخر اوکانت فی ترك لایلزم من فعلہ مخالفۃ الامام فی واجب فعلی کرفع الیدین للتحریمۃ ونظائرہ وتکون غیرجائزۃ اذا کانت فی فعل بدعۃ اومنسوخ اوما لا تعلق لہ بالصلاۃ اصلا الخ
ردالمحتار میں ہے متابعت امام فرض نہیں بلکہ فرائض اور واجبات فعلیہ میں واجب سنن میں سنت اور اسی طرح ان کے علاوہ میں سنت کے معارضہ کی صورت میں اور متابعت خلاف اولی ہے جب اس کے ساتھ واجب آخر کا معارضہ ہوجائے یا ایسی چیز کے ترك میں جس کے فعل سے واجب فعلی میں امام کی مخالفت لازم نہ آئے مثلا تحریمہ کے لئے رفع یدین کرنا اور اس کی دیگر نطائر اور متابعت فعل بدعت منسوخہ یا ایسے عمل میں جس کانماز سے کوئی تعلق نہ ہو ناجائز ہے الخ(ت)
پھر اگرا س مستحب متروك الامام کے فعل سے کسی واجب فعلی میں مخالفت امام لازم نہ آئے تو اس کا فعل ہی اولی اور انسب ہوگا ۔ اور وہ مستحب درجہ استحباب سے بھی نہ گرے گا چہ جائیکہ بسبب ترك متابعت حرام یا ہلکے درجے کا مکروہ ہی ہوجائے ۔ کیا اگرامام ادب نظر کی مراعات نہ کرے تو مقتدی بھی آنکھیں پھاڑے دیوار قبلہ کو دیکھتے رہیں کیا اگر امام بحالت قیام پاؤں میں فصل زیادہ رکھے تو مقتدی بھی ٹانگیں چیرے کھڑے رہیں ۔ کیا اگرایسا نہ کریں تو بحکم متابعت تارك واجب وآثم وگنہگار ہوں گے لایقول بہ عاقل فضلا عن فاضل(اس کا قول کوئی عاقل نہیں کرسکتا چہ جائیکہ کوئی فاضل کرے۔ ت)اسی قبیل سے ہے عمامہ باندھنا مسواك وغیرہ کرنا 'غیرذلك من الاداب والحسنات التی لایستلزم فعلھا مخالفۃ الامام فی واجب فعلی(اس کے علاوہ آداب و حسنات جن کے بجالانے سے واجب فعلی میں امام کی مخالفت لازم نہیں آتی۔ ت) اور یہیں سے ظاہر ہوگئی اس دلیل کی شناعت اور یہ قاعدہ مسلمہ تعارض واجب وفرض و
حوالہ / References ردالمحتار مطلب مھم فی تحقیق متابعۃ الامام مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۴۸
#10992 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
مستحب مانحن فیہ سے محض بیگانہ اور اس کلیہ دلیل کے صریح ناقص نظم زندویسی کی وہ روایت ہے جسے علامہ ابن امیر الحاج حلبی نےشرح منیہ میں نقل فرمایا :
حیث قال تسعۃ اشیاء اذا لم یفعلھا الامام لا یترکھا القوم رفع یدین فی التحریمۃ و الثناء مادام الامام فی الفاتحۃ وتکبیرالرکوع والسجود والتسبیح فیھما والتسمیع وقرأۃ التشھد والسلام وتکبیرات التشریق اھ (ملخصا)
ان کی عبارت یہ ہے کہ نواشیاء ایسی ہیں اگر امام انھیں نہ کرے تو قوم ترك نہ کرے تحریمہ کے لئے رفع یدین ثناء کا پڑھنابشرطیکہ امام فاتحہ میں ہو رکوع کی تکبیر سجود کی تکبیر ان دونوں میں تسبیح سمع اﷲ لمن حمدہ کہنا قرأۃ تشہد سلام اور تکبیرات تشریق اھ ملخصا(ت)
کہ اگر ہر فعل میں متابعت امام فرض ہو تو جس طرح مستحب مزاحم فرض نہیں ہوسکتا سنن بھی بلکہ واجبات بھی صلاحیت مزاحمت نہیں رکھتے توان چیزوں میں ائمہ کا یہ حکم کہ اگر امام نہ کرے جب بھی مقتدی نہ چھوڑیں کیونکر صحیح ہوتا قلت والاستقراء یمنع الحصر والعدولاینبغی الزائد ولعبارۃاخری(میں کہتا ہوں تتبع وتلاش نویں حصہ کے منافی ہے لیکن عدد اقل کثر کے منافی نہیں اور دوسری طرح گفتگو یوں ہے۔ ت) متابعت امام صرف افعال نماز میں منظور ہے یا جو بات نماز سے کچھ علاقہ نہیں رکھتی اس میں بھی ضرور ہے۔ برتقدیر ثانی اگر امام کھجلائے تو مقتدیوں میں بھی خارش مچ جائے اگر امام احیانا ٹھنڈی سانسیں لے تو مقتدیوں کو بھی دھونکنی لگ جائے ۔ اوربرتقدیر اول کیا ترك مستحب بھی افعال نماز میں معدودہے جس میں متابعت حتما مقصود ہے۔
ثم اقول : بلکہ اگر نظر دقیق کو رخصت تدقیق دی جائے تو اس لزوم متابعت کے سلب کلیت درکنار کلیت سلب واضح اور آشکار ۔
لما ذکرنا انہ لا متابعۃ فی مالا تعلق لہ بالصلوۃ وترك المستحب کذلك ومایترا أی من النقص بما اذاااستلزم فعلہ مخالفۃ الامام فی واجب فعلی فانہ ح یجب متابعۃ
اس بنا پر جو ہم نے ذکر کیا کہ ان چیزوں میں متابعت نہیں ہے جن کا نماز سے تعلق نہیں اور ترك مستحب بھی اسی طرح ہے مجھے یہ ظاہر ہو اہے کہ اس صورت کے ساتھ اعتراض درست نہیں کہ جس کے فعل سے
حوالہ / References غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامام الامۃ مطبوع یہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۵۲۸
ف : ابن امیر الحاج کیشرح منیہ مجھے نہیں مل سکی۔ نذیر احمد سعیدی
#10993 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
الامام فی ترکہ کما صرح بہ العلماء فلیس ینقص فی الحقیقۃ لانھا انما ھی فی فعل ذالك الواجب ولزم من اتیانہ ترك ھذا المستحب فالامام ترکہ قصدا اوسھوا والمقتدی لایترکہ لمحض ان الامام ترکہ بل لانہ لو فعلہ فاتہ ما ھو اھم والزم فصح قولنا لا یلزم المتابعۃ فی ترك المستحب مطلقا ای من حیث ھو ھو فافھم فانہ احری بہ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
واجب فعلی میں امام کی مخالفت لازم آرہی ہو کیونکہ اس صورت میں امام کی متابعت اس کے ترك میں واجب ہوگی جیسا کہ علماء نے تصریح کی ہے پس یہ حقیقۃ اعتراض ہی نہیں کیونکہ یہ تو فعل واجب کی متابعت کا معاملہ تھا اور اس کے بجا لانے سے اس مستحب کا ترك ہوا پس امام اگر مستحب کو قصدا یا سہوا ترك کردے تو مقتدی محض اس لئے ترك نہیں کرسکتا کہ امام نے ترك کیا ہے بلکہ وہ اس لئے ترك کر ے گا کہ اگر وہ مستحب کو بجا لاتا ہے تواس سے جواہم اور زیادہ لازم ہے وہ فوت ہوجائے گا پس ہمارا قول “ مستحب بحیثیت مستحب کے ترك میں امام کی متابعت لازم نہیں “ صحیح ٹھہرا پس اسے اچھی طرح سمجھ لو کیونکہ یہی اس مقام کے لائق ہے۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ نمبر ۵۹۲ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وہابیہ کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں اور اگر کسی مسجد کا امام وہابی المذہب ہو تواس کی اقتدا کرنا بہتر ہے یا اس مسجد کو چھوڑ کر دوسری مسجد میں نماز پڑھنا بینوا توجروا
الجواب :
ان دیار میں وہابی ان لوگوں کو کہتے ہیں جو اسمعیل دہلوی کے پیرو اور اس کی کتاب “ تقویۃ الایمان “ کے معتقد ہیں یہ لوگ مثل شیعہ خارجی معتزلہ وغیرہم اہلسنت وجماعت کے مخالف مذہب ہیں ان میں سے جس شخص کی بدعت حد کفر تك نہ ہو یہ اس وقت تھا اب کبرائے وہابیہ نے کھلے کھلے ضروریات دین کا انکار کیا اور تمام وہابیہ اس میں ان کے موافق یا کم از کم ان کے حامی یا انھیں مسلمان جاننے والے ہیں اور یہ سب صریح کفر ہیں تو اب وہابیہ میں کوئی ایسا نہ رہا جس کی بدعت کفر سے گری ہوئی ہو خواہ غیر مقلد ہو یا بظاہر مقلد نسأل اﷲ العفو والعافیۃ (ہم اﷲ تعالی سے معافی اور عافیت کو سوال کرتے ہیں ۔ ت) نماز اس کے پیچھے مکروہ تحریمی ہے اور جو اس حد تك پہنچ گئی توا قتدا اس کی اصلا صحیح نہیں ۔ شرح عقائد نسفی میں ہے :
ما نقل عن بعض السلف من المنع عن الصلوۃ خلف المبتدع فمحمول
بعض اسلاف سے یہ جومنقول ہے کہ بدعتی کے پیچھے نماز منع ہے یہ کراہت پر محمول ہے کیونکہ فاسق
#10994 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
علی الکرھۃ اذلاکلام فی کراھۃ الصلوۃ خلف الفاسق وامبتدع ھذااذالم یؤد الفسق والبدعۃ الی حد الکفر اما اذا ادی الیہ فلا کلام فی عدم جواز الصلاۃ خلفہ ۔
بعض اسلاف سے یہ جومنقول ہے کہ بدعتی کے پیچھے نماز منع ہے یہ کراہت پر محمول ہے کیونکہ فاسق اور بدعتی کے پیچھے نماز کے مکروہ ہونے میں کوئی کلام نہیں لیکن یہ اس صورت میں ہے کہ اس کا فسق اور بدعت حد کفر تك نہ پہنچے ہوں اگر حد کفر تك پہنچ جائیں تو ان کے پیچھے نماز کا عدم جواز میں کوئی کلام نہیں ۔ (ت)
اور اسی طرحبحرالرائق میں محیط اور خلاصہ اور مجتبی سے منقول ہے :
حیث قال وقیدہ فی المحیط والخلاصۃ والمجتبی وغیرھا بان لا تکون بدعتہ تکفرہ فان کانت تکفرہ فالصلاۃ خلفہ لاتجوز ۔
اس کے الفاظ ہیں کہ محیط خلاصہ اور مجتبی وغیرہ میں اسے اس قید کے ساتھ مقید کیا ہے کہ وہ بدعت حد کفر تك نہ پہنچانے والی ہو اگر اس سے وہ کافر ہوگیا ہے تو اس کے پیچھے نماز ہر گز جائز نہیں (ت)
اور جب امام مسجد وہابی المذہب ہواسے منع کرنے اورامامت سے باز رکھنے پر قدرت حاصل نہ تو اس مسجد کو چھوڑ چلا جائے اور دوسر ی مسجدکا امام ایسے خبائث سے پاك ہو نماز پڑھے۔ بحرالرائق میں ہے :
وذکر الشارح وغیرہ ان الفاسق اذا تعذر منہ یصلی الجمعۃ خلفہ وفی غیرہا ینتقل الی المسجد اخروعلل لہ فی المعراج بان فی غیر الجمعۃ یجد اماما غیرہ فقال فی فتح القدیر یکرہ الاقتداء بہ فی الجمعۃ اذا تعددت اقامتھا فی المصر علی قول محمد ھوالمفتی بہ قلت فاذاکان ھذاحکم الفاسقین فی الاعمال فما ظنك بالفاسقین فی العقائد واﷲ تعالی اعلم
شارح وغیرہ نے ذکر کیا ہے کہ جب فاسق کو امامت سے روکنا دشوار ہو تو جمعہ کی نماز اس کی اقتداء میں پڑھ لی جائے اور دیگر نمازوں کے لئے کسی دوسری مسجد میں چلا جائے معراج میں اس کی دلیل یہ بیان کی ہے کہ جمعہ کے علاوہ میں دوسرا امام میسر آسکتا ہے اور فتح القدیر میں ہے اس بناء پر اگر جمعہ شہر میں متعدد جگہ ہوتا ہو توجمعہ میں بھی اقتداء مکروہ ہوگی اور امام محمد کے قول کے مطابق ایسا کرنا جائز ہے اور اسی پر فتوی ہےقلت (میں
حوالہ / References شرح عقائد اکنسفیۃ مسئلہ ان الفاسق لیس من اہل الولایۃ مطبوعہ مطبع شرکۃ الاسلام دارالاشاعت قندھار ص۱۱۵
بحرا لرائق باب الامامۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۴۹
بحرا لرائق باب الامامۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۴۹
#10995 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
کہتا ہوں ) جب اعمال میں فسق رکھنے والوں کا یہ حکم ہے تو عقائد میں فسق رکھنے والوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہوگا! واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ نمبر ۵۹۳ : ازا شہر کہنہ بریلی مرسلہ مولوی غلام محمد صاحب پنجابی ۸ شعبان المعظم ۱۳۱۲ھ
ایك جنازہ وقت غروب شمس کے پاس مسجدکے موجود ہو اور وہ جنازہ اہل سنت والجماعت کا تھا حال یہ ہے کہ وارث میت من کل الوجوہ جاہل تھے حتی کہ نماز سے اور امام اس مسجد کا پانچوں وقت نماز تاکید پڑھاتا ہے اور کتب د رسیہ متداولہ میں بھی تعلیم و تعلم رکھتا ہے اور خالص سنت وجماعت ہے خالص حنفی ہے اور اس امام کا یہ عقیدہ منعقد ہوا ہے خدا ایك ہے مثل اس کے متصور نہیں ہوسکتا ہے اور سب انبیاء علیہم السلام صادق ہیں خصوصا حضرت محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بزرگی میں سب سے زیادہ اور بعد سب انبیاء علیہم السلام کے بزرگی میں سب سے زیادہ حضرت ابوبکر صدیق ہیں پھرحضرت عمر ہیں پھرحضرت عثمان ہیں پھرحضرت علی ہیں رضی اللہ تعالی عنہم اور کرامت اولیاء اﷲ کی بھی برحق ہے خلاصہ جو طریقہ اہلسنت وجماعت کا ہے وہ اس امام میں موجودہے ا ور ایك شخص اور ہے کتب درسیہ پڑھے ہے یا نہیں واﷲ تعالی اعلم بالصواب مگر دعوی ہے اور تعلیم و تعلم بھی کسی کتاب کا نہیں ہے اس شخص کا عقیدہ یہ ہے کہ بزرگی حضرت محمدرسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی سب آدمی سے زیادہ ہے مگر حضرت علی اور بی بی فاطمہ اورحضرت امام حسن و حسین رضی اللہ تعالی عنہم سے زیادہ نہیں ہے بلکہ یہ سب پانچ تن بزرگی میں برابر ہیں اور بزرگی حضرت علی کی سب اصحاب سے زیادہ ہے اور وہ شخص نماز پانچ وقت جماعت سے نہیں پڑھتا ہے بلکہ محض جمعہ کے دن جماعت سے پڑھتا ہے اور تعزیہ بنانے کو بھی اچھا کہتا ہے وقت جنازہ کے یہ دونوں مولوی مذکور موجود تھے اور دونوں ورثائے میت نے بلایا تھا اور دونوں حکم جنازہ پڑھانے کا کیا اور سواامام کے دوسرا مولوی امام بن گیا اس وقت امام نے کہا لائق امامت جنازہ کے میں ہوں چونکہ سلطان اور قاضی اس وقت میں نہیں ہیں اور یہی بات شرح وقایہ اور ہدایہ اور سب کتابوں میں موجود ہے عبارت مسئلہ مذکورہ کی یہ ہے :
والاحق بالامامۃ السلطان ثم القاضی ثم امام الحی ثم الولی کما فی العصبات۔
امامت کا زیادہ حقدار سلطان ہے پھر قاضی پھر محلہ کا امام پھرولی اس ترتیب سے جو عصبات میں ہے۔ (ت)
اور وہ مولوی اس مسئلہ کو نہ مانا اور امام بنا اور امام الحی نے اس کے پیچھے نماز نہ پڑھی اس وجہ سے کہ اس نے اس مسئلہ محررہ کو نہ مانا اور بلحاظ عقائد مذکورہ محررہ کے امام الحی نے اس کے پیچھے
#10996 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
نماز ترك کی۔ آیا امام ہونا نماز جنازہ کا امام الحی مولوی کو لائق تھا یا دوسرے مولوی کو اور نماز کا ترك کرنا امام الحی کا ایسے شخص کے پیچھے مناسب تھا یا نہ اور سب نمازیعنی پانچ وقتی اور جمعہ کی اور جنازہ کی ان سب نمازوں میں امام ہونا ان دونوں میں سے کون لائق ہےبینوا توجروا۔
الجواب :
فی الواقع جبکہ ان بلاد میں حکام اسلام سلطان والی وقاضی مفقودہیں اور جب وہ نہیں تو ان کے نائب کہاں اور اولیائے میت حسب تصریح سائل محض جاہل تھے تو صورت مستفسرہ میں امام مسجد کو سب پر تقدم اور اسی کو امام کرنا مستحب و بہتر تھا۔
تنویر الابصار وردالمحتار یقدم فی الصلاۃ علیہ السلطان ( ثم نائبہ کما فی الفتح) ثم القاضی (فی الفتح ثم خلیفۃ الوالی ثم خلیفۃ القاضی ومثلہ فی الامداد عن الزیلعی) ثم امام الحی اھ ملتقطا وفی الدرتقدیم الولاۃ واجب وتقدیم اماالحی مندوب فقط بشرط ان یکون افضل من الولی والافالولی اولی الخ۔
تنویر الابصار اور ردالمحتار میں ہے نماز جنازہ مین سلطان مقدم ہے(پھر اس کا نائب جیسا کہ فتح میں ہے) پھر قاضی (فتح میں ہے پھر والی کا نائب پھر قاضی کا نائب اور امداد میں زیلعی کے حوالے سے اسی طرح ہے) پھر محلہ کا امام اھ تلخیصا۔ اوردر میں ہے حکام کی تقدیم واجب اور محلہ کے امام کی تقدیم فقط مندوب ہے بشرطیکہ وہ ولی سے افضل ہوورنہ ولی اولی ہوگا الخ (ت)
شخص دیگر کا ترك جماعت تو صرف گناہ تھا کہ بعد اعادہ گناہ کبیرہ موجب فسق ہوا اور تعزیہ رائجہ بنانے کو اچھا جاننابدعت شیعہ کی تحسین اور حضرت امیر المومنین سیدنا مولی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم کو حضرت شیخین رضی اللہ تعالی عنہما سے افضل بتانا رفض و بد مذہبی یہی وجوہ اس شخص کے پیچھے نماز کے سخت مکروہ ہونے کو کافی تھا۔ خلاصہ وفتح القدیر وہندیہ وغیرہا میں ہے : ان فضل علیا علیھما فمبتدع ۔ اگرکوئی شخص سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کو دونوں خلفاء پرفضیلت دیتا ہے تو وہ بدعتی ہے ۔ ت) ارکان اربعہ میں ہے :
اما الشیعۃ الذین یفضلون علیا
وہ شیعہ لوگ جوحضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو
حوالہ / References ردالمحتار باب صلٰوۃ الجنائز مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۶۴۹
نوٹ : ہلالین کے اندروالی عبارت ردالمحتار کی ہے اور باہر والی تنویرالابصار کی ہے جو حاشیہ ردالمحتار پر موجود ہے۔
درمختار باب صلٰوۃ الجنائز مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۲۳
خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الخامس عشر فی الامامۃ الخ مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۱۴۹
#10997 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
علی الشیخین ولایطعنون فیھما اصلا کالزید یۃ تجور خلفھم الصلوۃ لکن تکرہ کراھۃ شدیدۃ ۔
شیخین (حضرت ابوبکروحضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہما ) پر فضیلت دیتے ہیں اور ان پر ہر گز طعن و تشنیع بھی نہیں کرتے مثلا فرقہ زیدیہ کے لوگ تو ان کے پیچھے نماز جائز ہے لیکن سخت مکروہ ۔ (ت)
مگر بیان سائل اگرسچاہے تو حضرات آل عبا رضوان اﷲ تعالی علیہم کو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا معاذ اﷲ ہمسر وہم مرتبہ بنانا تو خود کفر صریح اور دوسراکفر صریح یعنی آل عبا کو انبیاء سابقین علیہم الصلاۃ والسلام پر تفصیل کو مستلزم اس تقدیر پر تو امامت کیسی وہ شخص اصلا و قطعا کسی نماز میں یا عبادت یا نیك کام کی خود لیاقت نہیں رکھتا کہ کفار کا کوئی حسنہ مقبول نہیں بلکہ حقیقۃ ان سے صدور عبادت معقول نہیں اس صورت میں اس کے پیچھے ترك نماز نہ صرف مناسب بلکہ فرض قطعی ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۹۴ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مسائل نماز سے جائل اور مخارج و صفات وقواعد قرأت سے محض ناواقف اور اس پر غیر عامل ایك بڑی مسجد کی امامت کرتا ہے عقیدہ کا بھی سنی نہیں ہے بلکہ ان لوگوں کی ترویج مذہب میں مصروف رہتا ہے جن میں تقیہ ہے اور ان کے مذہب کی ترویج میں ہر قسم کی چالاکی وبیباکی اور عوام کو مغالطہ دہی گو ارتکاب حرام ہو بے تکلف کرتا ہے اور اس مذہب کے علماء وعمائد کی مدح وستائش اور عوام کو ہر طرح ان کی طرف متوجہ اور مائل کر تا ہے اوران کے مذہبی مشوروں میں شریك ہوتا ہے اس مذہب والے کیسی ہی بات کہہ دیں گو حد کفر تك پہنچی ہواس کو مقبول و مسلم اور اس کی ترویج میں بجان ودل ساعی اور اس مذہب کے اہل علم کے پاس مسافت دور دراز قطع کرکے جاتا ہے اور اگر کوئی سنی عالم مسجد میں وعظ کہے تو ناخوش ہوتا ہے اور اکثر اوقات شریك نہیں ہوتا اور علمائے اہلسنت کی اہانت اور ان پر افتراء و بہتان اور خلق کو ان کی عقیدت سے باز رکھنا اس کا شیوہ ہے کہ ان حالات سے رفتہ رفتہ صد ہا وہزارہا اہلسنت واقف ہوگئے ہیں بایں ہمہ اس غرض سے کہ امامت اور جو منافع دنیویہ اس سے حاصل ہوتے ہیں قائم رہیں اور نیز اس خیال سے کہ سنیوں میں ملارہ کر عوام کو بتدریج دام میں لائے اور اپنے مذہب کو خفیہ طور پر پھیلائے اس درجہ تقیہ کرتا ہے کہ سنیوں کے مجامع و مجالس میں بظاہر شریك رہتا ہے اور سنیوں کے سامنے دوسرے مذہب پر تبرااوران کے علماء وعمائد کو خاص مسجد میں فحش گالیاں برملا دیتا ہے اور جب کہا جاتا ہے کہ اگر تو فی الواقع اس مذہب میں نہیں تو اس کے مسائل تجھے کیوں معلوم ہیں اور ان کے بیان کی عوام کے سامنے کیوں تعریف اور
حوالہ / References رسائل الارکان فصل فی الجماعت مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۹۹
#10998 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
ان کی طر ف راغب اور متوجہ کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے مجھے تو قال اﷲ وقال الرسول سے غرض ہے نہ ان کے مسائل سے گویا اس کے نزدیك سنی علماء جو مسجد میں وعظ کہتے ہیں وعظ ان کا قال اﷲ وقال الرسول کےخلاف ہے جو اسے نہیں سنتا اور جب ان کے مجامع میں شریك ہونے اور مذہب کی تائید وتقویت سے تعرض کیا جاتا ہے تو کبھی انکار کرتا ہے اور جب انکار سے چارہ نہیں پاتا تو توبہ کرتا مگر افعال مذکورہ بدستور رکھتاہے چنانچہ ایك سال میں تین بار توبہ کی اور ہر بار انھیں افعال کا مرتکب رہا تیسری بات توبہ کے بعد ایك سنی واعظ کو بعدنماز جمعہ کے وعظ کے لئے منبر پر بیٹھ لئے تھے وعظ سے روکا اور مذہب کے ایك عیار کو ایك مثنوی پڑھنے کو بٹھا دیا جس کی تصنیف کا باعث عوام کو مغالطہ دہی اور انھیں دام فریب میں لینا اور اپنے مذہب کی طرف گرویدہ کرنا ہے اور اس میں وہ عیاری وچالاکی کی ہے جس کی حقیقت عوام اور ناواقفوں کی سمجھ میں نہ آسکتی مگر مصنف مثنوی کو سب اہلسنت پہلے سے اپنا مخالف مذہب جانتے تھے لہذا واعظ سنی کو اٹھا کر اس شخص کو بٹھانا اور وعظ سے روك کے اسی کی مثنوی پڑھوانا باعث برہمی اہلسنت کا ہوا اور جولوگ اس کی ظاہری باتوں اور باربار کی توبہ کے فریب میں تھے ان پر حال اس کا منکشف ہوگیا اور نماز ا س کے پیچھے چھوڑ دی اور جو واقف ہوتاجاتا ہے اس مسجد میں نماز کو نہیں آتا روز بروز جماعت میں کمی اور مسجدکی ویرانی اور خرابی ہوتی جاتی ہے ہر وہ لوگ کہ احوال واقعی سے آگاہ اور اس کی چالاکیوں اور عیاریوں سے واقف نہیں اس کی پیچھے نماز پڑھنے آتے ہیں اور بعض اشخاص جنہیں نماز سے کام نہ دین سے غرض بعض وجوہ نفسانی سے مسلمانوں کی نماز اور مسجد کی خرابی گوارا کرکے اس کی حمایت بیجا اور امامت قائم رہنے پر اصرار کرتے ہیں آیا اس شخص کو سنی کہا جائے گایا دوسرے مذیب میں شمار کیا جائے گا یا کسی میں نہیں اور باوجود ان سب امورات کے اس کی توبہ کا اعتبار ہوگا یا نہیں اور ایسے شخص کے پیچھے نماز کا کیا حکم ہے اور مسلمانو ں کو اسے امامت سے موقوف کرکے کسی شخص سنی صحیح العقیدہ واقف مسائل و قواعد قرأت کو جس کی امامت پرکوئی فتنہ اور اختلاف اور جماعت کی کمی اور مسجد کی ویرانی نہ ہو اس کی جگہ مقرر کرنا اور اس کی حمایت کرنے والوں کو حمایت سے باز آنا ضرور ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
جو شخص مسائل نماز سے جاہل ہو اس کی امامت میں احتمال قوی نماز کے فساد وخرابی کا ہے کہ اس سے اکثر باتیں ایسی واقع ہوں گی جن سے نماز فاسد ہوجائے گی یا اس میں نقصان آئے گا۔ اور بسبب جہالت کے ان پر مطلع نہ ہوگا اور ان کی اصلاح نہ کرسکے گا اسی طرح جو شخص مخارج وصفات و حروف و قواعد تجوید سے آگاہ نہ ہو عجب نہیں کہ اس کے پڑھنے میں قرآن میں ایسا تغیر واقع ہوجائے جو بالاتفاق یا ایك مذہب پر موجب فسادنماز کا ہو کیا بلا ضرورت ایسے شخص کو امام کرنا نماز میں کہ عماد اسلام وافضل اعمال ہے بے احتیاطی
#10999 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
اور امر شرع میں مداہنت و سہل انگاری نہیں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ان سرکم ان یقبل ﷲ صلاتکم فلیؤمکم خیارکم فانھم وفدکم فیما بینکم وبین ربکم رواہ الحاکم فی المستدرک۔
اگر تمہیں خوش آئے کہ خدا تمہاری نماز قبول کرے تو چاہئے کہ تمہارے بہتر امامت کریں کہ وہ تمہارے سفیر ہیں تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان۔ اسےحاکم نے مستدرك میں روایت کیا۔ (ت)
زید کے اکثر افعال مذکورہ فی السوال فسق و گناہ کبیرہ ہیں اور خدااوررسول کی نافرمانی و ناراضی کے باعث خلق خداکو گمراہ کرنا راہ حق سے پھیرنا علمائے اہلسنت کی اہانت وتحقیر ان کی افتراء و بہتان خداو رسول جن کی تعظیم کا حکم دیں خلق خدا کو ان کی عقیدت سے باز رکھنا فحش گالیاں خود کبیرہ ہیں موجب فسق مسقط شہادت خصوصا جبکہ مسجدمیں ہوں جہاں دنیا کا مباح کلام بھی نیکیوں کو ایسا کھاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کما ورد فی الحدیث عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم (جیسا کہ حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے منقول ہے۔ ت)وعظ علماء سے ناخوش ہونا اور انھیں وعظ سے منع کرنا ظلم عظیم ہے حق سبحنہ تعالی فرماتا ہے :
و من اظلم ممن منع مسجد الله ان یذكر فیها اسمه و سعى فی خرابها- ۔
کون زیادہ ظالم ہے اس سے جو روکے خدا کی مسجدوں کو اس بات سے کہ ان میں ذکر کیاجائے اس کا نام اور کوشش کرے ان کے ویران ہونے میں ۔
اسی طرح وعظ علماء کو مکروہ سمجھ کر کہ نہ سننا اور وہاں چلا جانا ا ﷲ تعالی فرماتا ہے :
و من اظلم ممن ذكر بایت ربه فاعرض عنها و نسی ما قدمت یده-انا جعلنا
اور کون زیادہ ستم گار ہے اس سے جو نصیحت کیا گیا اپنے رب کی آیتوں سے تو ان سے منہ پھیر لیا اور بھول گیا
حوالہ / References مستدرك للحاکم کتاب المغازی والسرایا مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ / ۲۲۲
نوٹ : مستدرك میں '' ان یقبل اﷲ صلٰوتکم '' کی جگہ '' ان تقبل صلٰوتکم '' ہے۔ نذیر احمد سعیدی
احیاء علوم الدین فضیلۃ المسجد الخ مطبوعہ مطبعۃ المشہد الحسن قاہرہ ۱ / ۱۵۲
نوٹ : احیاء علوم الدین سے کافی جدوجہد کے بعد یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ ملی ہے '' الحدیث فی المسجد یا کل لحسنات کما تأکل لبھائم الحشیش '' مسجدمیں دنیا وی گفتگو نیکیوں کو اس طرح کھا جاتی ہے جس طرح جانور گھاس پھوس کھا جاتے ہیں )۔ اس حدیث میں آگ ، لکڑی کا ذکر نہیں ۔ واﷲ تعالٰی اعلم نذیر احمد سعیدی۔
القرآن ۲ / ۱۱۴
#11000 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
على قلوبهم اكنة ان یفقهوه و فی اذانهم وقرا-
جو آگے بھیجا اس کے ہاتھوں نے بیشك ہم نے کردےے ان کے دلوں پر پردے اس کے سمجھنے سے اورا ن کے کانوں میں ٹینٹ۔
مسلمانوں کے ساتھ عیاری و چالاکی اور انہیں دھوکے دینا فریب میں ڈالنا ایسے افعال کرکے جن کے سبب لوگوں کی نماز ان کے پیچھے خراب ہو ان کی تسکین کے لئے بظاہر توبہ کرنا اور انہیں باتوں کا مرتکب رہنا فتنہ ہے کہ اﷲ کے نزدیك قتل ناحق سے زیادہ سخت ہے اور عذاب جہنم کا موجب۔
قال اﷲ تعالی و الفتنة اكبر من القتل- وقال اﷲ تعالی ان الذین فتنوا المؤمنین و المؤمنت ثم لم یتوبوا فلهم عذاب جهنم و لهم عذاب الحریق(۱۰)
اﷲ تعالی کا ارشاد گرامی ہے اور فتنہ قتل سے بدترہے اور اﷲ تعالی کا یہ بھی فرمان ہے بلاشبہ وہ لوگ جو مومن مردوں اور مومن خواتین کو فتنہ میں ڈالتے ہیں پھر توبہ نہیں کرتے ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لئے جلانے والا عذاب ہے۔ (ت)
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : “ جب فاسق کی مدح کی جاتی ہے عرش خداکانپ جاتا ہے اور حق سبحنہ تعالی اس کی طرف سے منہ پھیر لیتا ہے “ ۔
رواہ ابن ابی الدنیا فی ذم الغیبۃ وابویعلی فی مسندہ والبیھقی فی شعب الایمان عن انس بن مالك وابن عدی فی الکامل عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہما۔
اس کو ابن ابی الدنیا نے کتاب ذم الغیبۃ میں ابویعلی نےمسند میں اوربیہقی نےشعب الایمان میں حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے اور ابن عدی نے کامل میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔ (ت)
جب فاسق کی مدح خداکو اس قدر ناپسند ہے تو رؤسائے اہل بدعت کی تعریف کس قدر موجب اس کی ناراضگی کی ہوگی بدل اہل بدعت سے محبت و عقیدت سے دور دور سے انکے پاس جانا ان کی ترویج
حوالہ / References القرآن ۱۸ / ۵۷
القرآن ۲ / ۲۱۷
القرآن ۸۵ / ۱۰
شعب ایمان باب فی حفظ اللسان ، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ۴ / ۲۳۰
#11001 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
مذہب میں ساعی رہنا اورسنیوں کی تعزیر کو انھیں گالیاں دینا اس مذہب پر تبرا کرنا ذوالوجہین ہونا جس پر وعید شدید وارد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : “ ذوالوجہتین کو قیامت میں دو زبانیں آگ کی دی جائیں گی “ قرآن مجید اس حرکت شنیعہ کی مذمت سے مشحون ہے۔
قال اﷲ عزوجل
یخدعون الله و الذین امنوا -و ما یخدعون الا انفسهم و ما یشعرون(۹) ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا دھوکا دینا چاہتے ہیں خدا اور مسلمانوں کو اور حقیقت میں نہیں فریب میں ڈالتے مگر اپنی جانوں کواور انہیں خبر نہیں ۔
اور فرماتا ہے :
و اذا لقوا الذین امنوا قالوا امنا-و اذا خلوا الى شیطینهم-قالوا انا معكم-انما نحن مستهزءون(۱۴)
جب مسلمانوں سے ملیں کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں اورجب اپنے شیطانوں کے پاس اکیلے ہوں تو کہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں ہم تو یونہی ٹھٹھا کرتے ہیں۔
الغرض زیدکے فاسق ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور نماز فاسق کے پیچھے مکروہ ہے ۔ علماء حکم دیتے ہیں کہ اس کے پیچھے نماز نہ پڑھے بلکہ دوسری مسجد میں چلا جائے اور جن لوگوں کے نزدیك جمعہ چند مسجدوں میں جائز نہیں ہوتا وہ بضرورت جمعہ اس کی اقتدا روارکھتے ہیں اگر اس طرح اس کا امامت سے روکنا نہ بن پڑے امام علامہ محقق علی الاطلاق کمال الدین محمد بن الہمام رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہ فرماتے ہیں جبکہ قول مفتی بہ یہ ٹھہرا کہ جمعہ بھی چند مسجدوں میں ہوجاتا ہے تو نمازجمعہ میں بھی اس کی اقتدا مکروہ ہے کہ دوسری مسجد چلا جانا میسر ہے
فی البحرالرائق وذکر الشارح وغیرہ ان الفاسق اذا تعدرمنعہ یصلی الجمعۃ خلفہ وفی غیرھا ینتقل الی مسجد اخر وعلل لہ فی المعراج بان فی غیرالجمعۃ یجد اماما غیرہ فقال فی
بحر الرائق میں ہے شارح وغیرہ نے یہ ذکر کیا ہے کہ جب فاسق کو امامت میں پڑھ لیا جائے البتہ دوسری نمازوں کے لئے کسی دوسری مسجد میں چلا جانا چاہئے اور معراج میں اس کی علت یہ بیان کی کہ جمعہ کے علاوہ
حوالہ / References مجمع الزوائد باب فی الوجہین واللسانین مطبوعہ دارالکتاب العرابیہ بیروت ۸ / ۹۵
القرآن ۲ / ۹
القرآن ۲ / ۱۴
#11002 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
فتح القدیر وعلی ھذا فیکرہ الاقتداء بہ فی الجمعۃ اذا تعددت اقامتھا فی المصر علی قول محمد وھوالمفتی بہ لانہ سبیل من التحول ح (حینئذ)
بقیہ نمازوں میں دوسرا امام میسر آسکتا ہے تو فتح القدیر میں کہا کہ اس بنا پر نماز جمعہ مین بھی فاسق کی اقتدا مکروہ ہوگی کیونکہ امام محمد کے قول کے مطابق شہرمیں متعدد جگہ جمعہ ادا کیا جاسکتا ہے۔ اور اسی قول پر فتوی ہے لہذا جمعہ میں بھی دوسری جگہ منتقل ہونا ممکن ہے (ت)
معہذا تکثیر جماعت شرع کو مطلوب ہے اسی واسطے جن کی امامت میں احتمال لوگوں کی قلت رغبت وکمی جماعت کا تھا ا نکی اقتداء مکروہ ٹھہری مثل اعرابی وغلام ولدالزنا پس جس شخص سے لوگ اپنے دین کو وجہ سے تنفر تام رکھیں اور جو اس کے حال سے آگاہ ہوتا جائے نماز چھوڑتا جائے اس کی امامت شرع کوکیونکر پسند آئے گی۔
فی البحرالرائق واماالکرھۃ فمبنیۃ علی قلۃ رغبۃ الناس فی الاقتداء بھؤلاء فیؤدی الی تقلیل الجماعۃ المطلوب تکثیراللاجر ۔
البحرالرائق میں ہے کراہت کی وجہ یہ ہے کہ ان کی اقتداکی رغبت لوگوں میں کم پائی جاتی ہے اس وجہ سے جماعت میں حاضری کم لوگوں کی ہوگی اور حالانکہ کثرت اجر کے پیشنظرجماعت میں کثیر افراد کی حاضری مطلوب ہے(ت)
علاوہ بریں افعال مذکورہ زید مجرد فسق ہی نہیں بلکہ دلیل واضح ہیں اس پر کہ وہ سخت بدعتی غالی مکلب اور مذہب حق کادشمن اور خلق خدا کو گمراہ کرنے والا ہے تو اب کراہت بہ نسبت پہلے کے بہت زائد ہوگئی کہ فسق فی الاعمال وفسق فی العقائد میں زمین و آسمان کا فرق ہے کبیری شرح منیہ میں ہے :
ویکرہ تقدیم المبتداع ایضالانہ فاسق من حیث الاعتقاد وھواشد من الفسق من حیث العمل یعترف بانہ فاسق ویخاف ویستغفر بخلاف المبتدع والمراد بالمبتدع من یعتقد شیا علی خلاف ما یعتقدہ اھل السنۃ والجماعۃ ۔
بدعتی کو امام بنانا بھی مکروہ ہے کیونکہ وہ اعتقاد کے لحاظ سے فاسق ہے اور ایسا آدمی عملی فاسق سے بدتر ہے کیونکہ عملی فاسق اپنے فسق کا اعتراف کرتا ہے اور ڈرتا ہے اور اﷲ سے معافی کا خواست گار ہوتا ہے بخلاف بدعتی کے اور بدعتی سے مراد وہ شخص ہے جو اہلسنت وجماعت کے عقائد کے خلاف کوئی دوسرا عقیدہ رکھتا ہوں ۔ (ت)
حوالہ / References البحرا لرائق ، باب الامامۃ ، مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۳۴۹
البحرا لرائق باب الامامۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۴۸
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامامۃ الخ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۴
#11003 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
یہاں تك تو مجرد کراہت تھی اب جبکہ اس کے حالات سے معلوم ہوا کہ اپنا وہ کوئی عقیدہ نہیں رکھتا بلکہ بعض اہل بدعت جوبات کہہ دیں وہ اس کے نزدیك مسلم ہوتی ہے حتی کہ ان کے کفریات کو مسلم رکھتا ہے اوراس کی ترویج میں بجان ودل ساعی ہوتا ہے تو معلوم ہواکہ بدعت اس کی حد کفر تك پہنچی ہے اور انتہا اس کے عقیدہ زائغہ کی نہیں معلوم ہوسکتی بلکہ جب اپنے ان پیشواؤں کو بھی گالیاں دیتااور ان کے مذہب سے تبراکرتا ہے تو ظاہر اس کے حال سے یہ ہے کہ وہ محض زندیق ملحد بے دین ہے جسے کسی خاص کسی مذہب سے غرض نہیں بلکہ مجرد مخالفت دین اسلام ومذہب اہل سنت منظور ہے ایسے شخص کے پیچھے نماز قطعا باطل وحرام ہے۔
فی البحرالرائق قیدہ فی المحیط والخلاصۃ والمجتبی وغیرھا بان لایکون بدعتہ تکفرہ فان کانت تکفرہ فالصلاۃ خلفہ لاتجوز ۔
بحرالرائق میں ہےمحیط خلاصہ مجتبی وغیرہ مین ہے اس کی بدعت حدکفر تك پہنچی ہو اگراس کی بدعت حد کفر تك پہنچتی تو اس کے پیچھے نماز جائز نہ ہوگی۔ (ت)
کبیری میں ہے :
انما یجوزالاقتداء بہ مع الکراھۃ اذا لم یکن مایعتقدہ یؤدی الی الکفرامالوکان مؤدیا الی الکفر فلایجوز اصلا ۔
کراہت کے ساتھ اس کی اقتداء اسی صورت میں جائز ہے جب اس کا اعتقاد حدکفر تك نہ پہنچادے اگر وہ حد کفر تك پہنچاتاہے تو بالکل اس کے پیچھے نماز جائز نہ ہوگی۔ (ت)
اور بعد امتحان و تجربہ کے ظاہر کہ فریب مسلماناں کے لئے توبہ کرتا ہے اور ان عقائد ومکائد سے باز نہیں آتا ہر گز اس کی توبہ پر اعتبار نہ ہوگا خصوصا امرنماز میں تمام اعمال سے افضل واتم ہے جولوگ ایسی توبہ پر اعتماد کرتے ہیں ان سے پوچھا جائے اگر کسی شخص کے چور ہونے کا تمہیں یقین ہوگیا اور وہ بار بار توبہ کرکے پھر چوریاں کرتا ہو آیا اس کی توبہ پر مطمئن ہوکہ پھر بھی اپنا مال اسے سپرد کردو گے افسوس مال دنیوی کہ اﷲ کے نزدیك محض حقیر وذلیل ہے تمہاری نگاہ میں ایسا عزیز ٹھہرا کہ جس امر میں اس کے نقصان کا وہم بھی ہو اس سے پرہیز کرو اور نماز کہ اﷲ کو نہایت محبوب اور اس کے نزدیك بس عظیم ہے اس میں یہ مداہنت اگر بالفرض اس کی توبہ سچی اور صدق باطن سے ہو تاہم جب حال اس کا مشتبہ ہوچکا تو خواہ مخواہ اس کے پیچھے نماز پڑھنے کا کس نے فرض وواجب کیا کیا ایسا کوئی شخص نہیں ملتا جو ان معائب سے بری اور اس کے پیچھے نماز بلا اشتباہ درست ہو اور
حوالہ / References بحرالرائق ، باب الامامۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۳۴۹
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامامۃ الخ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۴
#11004 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
جو لوگ ایسے شخص کی حمایت کرتے ہیں نماز کے دشمن اور مسجد کی ویرانی اور اہل اسلام کے عمدہ شعار یعنی نماز کی بربادی چاہنے والے ہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۹۵ : ازرنگون مرسلہانتظام علی صاحب ۱۵ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مرجہ ذیل مسئلہ میں : ایك شخص کا دہنا ہاتھ ٹوٹ گیا ہے اس وجہ سے نیت باندھتے وقت ہاتھ اسکا گوش تك نہیں پہنچتا کہ اس کو مس کرے اس سبب سے بعض لوگ اس کے پیچھے اقتداء کرنے سے انکار کرتے ہیں کیا موافق ان لوگوں کے اس کے پیچھے نماز نہیں ہوسکتی
الجواب : خیال مذکور غلط ہے اس کے پیچھے جوازنماز میں کلام نہیں ہاں غایت یہ ہے کہ اسکا غیر اولی ہونا ہے وہ بھی اس حالت میں کہ یہ شخص تمام حاضرین سے علم مسائل نماز وطہارت میں زیادت نہ رکھتا ہو ورنہ یہی احق و اولی ہے۔
فی ردالمحتار تحت قولہ تکرہ خلف امرد وسفیہ ومفلوج وابرص الخ وکذلك اعرج یقوم ببعض قدمہ فالاقتداء بغیرہ اولی تاتار خانیۃ وکذااجذم برجندی ومجبوب وحاقن ومن لہ ید واحد فتاوی الصوفیۃ عن التحفۃ اھ
وفی الدر یکرہ امامۃ الاعمی الا ان یکون اعلم القوم فھو اولی اھ ملخصاواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
ردالمحتار میں ماتن کے قول “ امرد بیوقوف مفلوج اور ابرص کے پیچھے نمازمکروہ ہے “ الخ کے تحت ہے یہی حکم اس لنگڑے کاہے جو اپنے قدم کے بعض حصے پر قیام کرتا ہو پس اس صورت میں غیر لنگڑے کی اقتداء بہتر ہوگی تاتار خانیہصاحب جزام کابھی یہی حکم ہے۔ برجندی مقطوع الذکر پیشاب روك رکھنے والا اور وہ شخص جس کا ایك ہی ہاتھ ہو اس کا بھی یہی حکم ہے۔ فتاوی صوفیہ میں تحفہ کے حوالے سے یہی ہے اھ اور درمختار میں ہے نابینا شخص کی امامت مکروہ ہے سوائے اس صورت کے کہ وہ قوم میں سب سے زیادہ عالم ہو تو اس صورت میں وہی امامت کے زیادہ لائق وافضل ہے اھ ملخصا واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۵۹۶ : ایك شخص کی جوان بی بی بے پردہ باہر نکلی ہے بلکہ بازار میں بیٹھ کر کچھ سودا بیچا کرتی ہے پس اس
حوالہ / References ردالمحتار مطلب فی امامۃ الامرد مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۶
درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۳
#11005 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
شخص کے پیچھے نماز کا کیا حکم ہے
الجواب :
اگر باہر نکلنے میں اس کے کپڑے خلاف شرع ہوتے ہیں مثلا باریك کہ بدن چمکے یا اوچھے کہ ستر عورت نہ کریں جیسے اونچی کرتی پیٹ کھلا ہو ا یا بے طوری سے اوڑھے پہنے جیسے دوپٹہ سر سے ڈھلکا یا کچھ حصہ بالوں کا کھلا یا زرق برق پوشاك جس پر نگاہ پڑے اور احتمال فتنہ ہو یا اسکی چال ڈھال بول چال میں آثار بدوضعی پائے جائیں اور شوہران باتوں پرمطلع ہوکر باوصف قدرت بندوبست نہیں کرتا تو وہ دیوث ہے اور اسکے پیچھے نمازمکروہ
فان الدیوث من لایغار علی امرأتہ اومحرمہ کما فی الدرالمختار وھوفاسق واجب التعزیر فی الدر لواقرعلی نفسہ بالدیاثۃ او عرف بھا لایقتل مالم یستحل ویبالغ فی تعزیرہ الخ والفاسق تکرہ الصلاۃ خلفہ۔
دیوث ہر وہ شخص ہے جس کو اپنی بیوی اور محرم پر غیرت نہ آئی ہو(اس کے پاس غیر مرد کے آنے سے) جیساکہ درمختار میں ہے ایسا شخص فاسق ہے اور اس پر تعزیہ واجب ہے۔ درمختار میں ہے اگر کوئی اپنی ذات کے بارے میں دیوث ہونے کا اقرارکرتا ہے یا اس فعل قبیح میں معروف ہوا تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا جب تك وہ دیوثت کو حلال نہ جانے لیکن تعزیر میں مبالغہ کیا جائے گا الخ اور فاسق کے پیچھے نماز مکروہ ہے۔ (ت)
اور اگر ان شناعتوں سے پاك ہے تو اس کے پیچھے نماز میں کوئی حرج نہیں
فان المرأۃ نفسھالا تفسق بمجرد کونھا برزۃ تخالط الرجال حتی انھا تصلح مزکیۃ معدلۃ للشھود فلا شنعتہ بذلك علی زوجھا فی الھندیۃ یقبل تعدیل المرأۃ لزوجھاوغیرھ اذاکانت امرأۃ برزۃ تخالط الناس وتعاملھم کذافی المحیط السرخسی واﷲ تعالی اعلم۔
کیونکہ عورت بذاتہا بے پردہ رہنے اور مردوں سے اختلاط کی وجہ سے فاسق نہیں ہوتی حتی کہ وہ گواہوں کی تعدیل اور تزکیہ کی صلاحیت رکھتی ہے تو اس بناپر اس کے خاوند پرکوئی اعتراض نہ ہوگا۔ ہندیہ میں ہے کہ اس عورت کی خاوندوغیرہ کے بارے میں تعدیل قبول کی خاوند وغیرہ کے بارے میں تعدیل قبول کی جائے گی جب وہ ایسی ہو کہ با پردہ باہر آئے اور مردوں سے اختلاط اور معاملات کرے محیط سرخی میں اسی طرح ہے واﷲ تعالی اعلم (ت)
حوالہ / References درمختار باب التعزیر مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۲۸
درمختار باب التعزیر مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۲۸
فتاوٰی ہندیہ الباب الثانی فی الجرح والتعدیل مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۳ / ۵۲۸
#11006 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
مسئلہ نمبر ۵۹۷ تا۵۹۹ : از ماہرہ مطہرہ مرسلہ حضرت میاں صاحب قبلہ سید شاہ ابولحسین احمد نوری میاں مدظلہ الاقدس ۳۰ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ :
(۱) توتلے کے پیچھے نماز کیسی ہے
(۲) ہکلے کے پیچھے نماز کیسی ہے
(۳) ایك شخص تھوڑی سی افیون بغرض دوا کھاتا ہے اور اسکے سبب اسے نشہ نہیں ہوتا ایسے کی امامت مکروہ ہے یا نہیں
الجواب :
(۱) مذہب صحیح میں غیر توتلے کی نماز اس کے پیچھے باطل ہے خیریہ میں ہے :
امامۃ الالثغ بالفصیح فاسدۃ فی الراجح الصحیح
(توتلے کی امامت فصیح(غیرتوتلے) کے لئے راجح اور صحیح قول کے مطابق فاسد ہے۔ ت)
(۲) اگر ہکلا نماز میں نہ ہکلائے جیسے بعض لوگوں کا ہکلانا وقت غضب سے مخصوص ہوتاہے صرف غصہ میں ہکلانے لگتے ہیں ویسے صاف بولتے ہیں یا بعض کا ہکلانا بے پروائی کے ساتھ ہوتا ہے اگر تحفظ واحتیاط کریں تو کلام صاف ادا ہو ایسے لوگوں کو دیکھا گیا کہ باتوں میں ہکلاتے ہیں اور اذان و نماز و تلاوت میں اس کا کچھ اثر نہیں پایا جاتا ایسی صورت میں تو کلام نہیں کہ وہ حق نماز میں خود فصیح ہے اور جو ہو جگہ ہکلائے اس کی تین قسمیں ہیں :
۱۔ ایك وہ کہ ان کی تکرار میں بعض حروف معین ہیں مثلا کاف یا چ یاپ کہ جہاں رکیں گے ان ہی حروف کی تکرار کریں گے یا گھبرا کر ایں ایں کرنے لگتے ہیں ان کے پیچھے فساد نماز بدیہی ہے۔
۲۔ دوسرے وہ کہ جس کلمہ پر رکتے ہیں اسی کے اول حرف کی تکرار کرتے ہیں اس صورت میں اگرچہ حرف خارج نہیں بڑھتا بلکہ اسی کلمہ کا ایك جزو مکرر ادا ہوتا ہے مگر از انجاکہ حرف بوجہ تکرار لغو ومہمل وخارج عن القرآن رہ گیا ان کے پیچھے بھی نماز فاسد ہے درمختار میں توتلے کے پیچھے فساد نماز کا حکم لکھ کر فرماتے ہیں :
ھذاھو الصحیح المختار فی حکم الالثغ وکذامن لایقدرعلی التلفظ
توتلے کے بارے میں مختار اور صحیح حکم یہی ہے اور اسی طرح وہ شخص ہوگا جو حروف تہجی میں سے کسی حرف کی ادا پر
حوالہ / References فتاوٰی خیریہ کتاب الصلٰوۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۱۰
#11007 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
بحرف من الحروف اولایقدر علی اخراج الفاء الابتکرار ۔
قادر نہ ہو یا ف کو بدون مکرر کرنے کے ادا نہ کرسکے۔ (ت)
نور الایضاح ومراقی الفلاح میں ہے :
لایصح اقتداء من بہ الفأفأۃ بتکرار الفاء والتمتمۃ بتکرار التاء فلایتکلم الابہ اھ ملخصا
اس شخص کی اقتدا درست نہیں جس کوفأفأۃ کا عارضہ ہو یعنی ف کو تکرار سے پڑھتا ہو یا تمتمۃ کا عارضہ ہو یعنی ت کو تکرار سے پڑھتا ہو یعنی جب بھی ایسے حروف کو بولتا ہے تو وہ حرف تکرار سے اداہوتا ہے اھ ملخصا (ت)
۳تیسرے وہ کہ ہکلاتے وقت نہ کوئی حرف غیر نکالتے ہیں نہ اسی حرف کی تکرار کرتے ہیں بلکہ صرف رك جاتے ہیں اور جب ادا کرتے تو ٹھیك ادا کرتے ہیں ایسوں کے پیچھے نماز صحیح ہے۔ ہندیہ میں ہے :
الذی لایقدر علی اخراج الحروف الابالجھد ولم یکن لہ تمتمۃ او فأفاۃ فاذا اخرج الحروف اخرجھا علی الصحۃ لایکرہ ان یکون اماما ھکذا فی المحیط۔
وہ شخص جو کوشش کے بغیر ادائے حروف پر قادر نہ ہو نہ تو وہ تکرار ت کرتا ہو اور نہ ہی تکرار ف تو جب حروف ادا کرتا صحیح ادا کرتا ہے تو ایسے شخص کو امام بنانا مکروہ نہیں ۔ محیط میں یونہی ہے۔ (ت)
رہا یہ کہ کوئی کراہت بھی ہے یا نہیں ۔ ظاہر ہے کہ اگر ان کا رکنا اتنی دیر نہ ہوتا جس میں ایك رکن ادا کرلیاجائے جب تو کراہت کی کوئی وجہ نہیں اور اگر اتنی دیر ہو تو اگر چہ بوجہ سہو اس قدر سکوت موجب سجدہ سہوہے اور بلا عذر کراہت تحریم کما یظھر من التنویر والدر والغنیۃ وردالمحتار(جیسا کہ تنویر در غنیہ اورردالمحتار میں اس کا بیان واضح ہے۔ ت) اور اگر ان کا رکنا بعذر ہے جس طرح جمائی یا چھینك یا کھانسی وغیرہا اعذار کے باعث بعض اوقات سکوت بقدرادائے رکن ہوجاتا ہے تو ظاہرا یہاں وہ حکم نہیں ہاں اس میں شك نہیں کہ ان کا غیر ان سے اولی ہے جبکہ بہ سبب حاضرین سے اعلم باحکام طہارت و نماز نہ ہوں ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
(۳) نشہ جو ہمارے محاورہ میں سکر و تفتیردونوں کو عام ہے اور بنص حدیث دونوں حرام اس کے یہی معنی نہیں کہ زمین و آسمان یا مرد و عورت میں امتیاز نہ رہے یہ تو اس کی انتہا اور نشہ کی ابتدا انتہا دونوں حرمت میں یکساں پس اگر افیون کے سبب کچھ بھی اس کی عقل میں فتور یا حواس میں اختلال پیداہو توکسی وقت پینك آتی ہو
حوالہ / References دُرمختار باب الامامۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۸۵
مراقی الفلاح شرح نور الایضاح مع حاشیہ الطحطاوی باب الامامۃ مطبوعہ نور محمد تجارت کتب کراچی ص ۱۵۷
فتاوٰی ہندیہ الفصل الثالث فی بیان من یصلح امامالغیرہ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۸۶
#11008 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
بیٹھے بیٹھے اونگھ جاتا ہو کسی وقت گردن ڈھلتے یا آنکھیں چڑھ جاتیں ان میں لال ڈورے پڑتے ہوں جیسے یہ لوگ اپنی اصطلاح میں کیف و سرور کہتے ہیں تو یہ سب صورتیں حرام ہیں اور ان کا مرتکب فاسق اور اس کے پیچھے نماز مکروہ بلکہ اگر صاف اتنا ہی ہوتا کہ جس دن نہ کھائے جمائیاں آئیں اعضاشکنی ہو دوران سر ہو تاہم حرمت میں شك نہیں کہ ترك پرخمار پیدا ہونا صاف بتارہا ہے کہ استعمال بطور دوا نہیں نفس اس کا خوگر ہوگیا ہے اور بلا غرض مرض اپنی طلب و شوق سے اسے مانگتا ہے اور یہ صورت خودناجائز ہے اگر چہ نشہ نہ ہو بلکہ حقیقۃ یہ حالت اسی کو پیدا ہوگی جس دماغ میں افیون اپنا عمل ناجائز کرتی ہو ورنہ مجرب دوا کا ترك خمار نہیں لاتا ہاں اگر ان سب حالتوں سے پاك ہے اور واقعی صرف حالت مرض میں بقصد دوا اتنی قلیل مقدارپراستعمال کرتا ہے کہ نہ اس کے کھانے سے سرور آتا ہے اور نہ چھوڑنے سے خمار تو اس کے پیچھے نماز مکروہ نہیں ۔ ردالمحتار میں ہے :
البنج والافیون استعمال الکثیر المسکر منہ حرام مطلقا واما قلیل فان کان لھوحرم وان للتداوی فلا انتہی ملتقطا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
بھنگ اور افیون کا استعمال کثیر کہ اس سے نشہ پیدا ہو تو ہر حال میں حرام ہے اگرقلیل ہو تو لہو کے لئے حرام ہے اور بطور دوائی حرام نہیں انتہی تلخیصا(ت)
مسئلہ نمبر ۶۰۰ : ۲۴ صفر المظفر ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك زمین اپنی بنام مسجد وقف کی ایك زمانے تك مہتمم مسجد کے قبضہ میں رہی اور کرایہ مسجد میں خرچ ہوتا رہا پھر با غوائے بعض ہنود زید نے ایك کچہری میں کرایہ دار پر خود کرایہ پانے کا دعوی کیا مہتمم مسجد جس کے متعلق اس زمین کا اہتمام تھا اور وہی مسجد کا امام ہے مسجد کے نام کے کرایہ نامہ وغیرہ کاغذات اس کے پاس تھے اس کچہری میں موافق مسجد رہا کہ دعوی خارج ہوا زید نے پھر دوسری کچہری میں دعوی مالکیت کیا اب وہ مہتمم زید سے مل گیا مقدمہ کی پیروی نہ کی نہ مسجدکی طرف سے کاغذات ثبوت پیش کئے عدم پیروی کی وجہ سے مقدمہ خلاف مسجد تجویز ہوا مسلمانوں نے مسجد کی طرف سے اپیل کیا اس کچہری میں کاغذات سے مہتمم نے صاف انکار کردیا کہ زمین قبضہ مسجد سے نکل گئی اس صورت میں مہتمم مذکور مسجد کا مہتمم یا امام رکھے جانے کے قابل ہے یا نہیں اسے امام مقرر کرنا کیسا ہے اور اب کہ مسلمان اس کی حرکت کے باعث ناراض ہیں اسے امام بننا کیسا ہےبینوا توجروا۔
الجواب :
صورت مذکورہ میں مہتمم خائن مجرم فاسق ہے اسے مہتمم رکھنا حرام امام
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الاشربۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵ / ۳۲۵
#11009 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
بنانا گناہ اسے امام بنناناجائز اگر امامت کرے گا اس کی نماز قبول نہ ہوگی۔ درمختار میں :
ینزع وجوبا بزازیۃ لو الواقف درر فغیرہ بالاولی غیر مامون ۔
وقف شدہ مال چھیننا واجب ہے کذافی البزازیہ اگر واقف پر اطمینان نہ ہو یعنی خائن ہو کہ کذا فی الدرر تو خیانت کی صورت میں غیر واقف سے مال چھیننا بطریق اولی جائز ہ ہو گا۔ (ت)
غنیہ میں ہے : لوقدموا فاسقایاثمون (اگر لوگوں نے فاسق کو امامت کے لئے مقدم کردیا تو گنہ گار ہوں گے۔ ت)
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : تین شخصوں کی نماز قبول نہیں ہوتی من ام قوما وھم لہ کارھون ایك وہ جو کسی قوم کی امامت کرے اور وہ اس کی امامت سے راضی نہ ہوں یعنی جبکہ یہ ناراضی اس میں کسی نقص شرعی کی وجہ سے ہو جیسا کہ یہاں ہے کما فی الدر وغیرہ (جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۶۰۱ : از مونڈیا ضلع بریلی غرہ محرم الحرام ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ جو شخص رشوت لیتاہے اسکے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے اور جو شخص اپنی زوجہ کو باہر نکلنے سے منع نہیں کرتا اور پردہ نہیں کراتا اس کے پیچھے نماز پڑھنا چاہئے یا نہیں
الجواب :
رشوت لینا حرام رشوت لینے والے کے پیچھے نماز سخت مکروہ ہے اوراگر عورت بے ستر نکلتی ہے جیسےبلاد ہند یہ کے ننگے کپڑے اور شوہر اس کا باوصف اطلاع و قدرت باز نہیں رکھتا تو فاسق ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ رونہ نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۶۰۲ : از پیلی بھت محلہ منیرخاں مرسلہ مولانا وصی احمد صاحب محدث سورتی۲۲ ربیع الاول ۱۳۱۴ھ
میں بعد فرض ظہر مغرب و عشاء کے سلام پھیرتے ہی یمین ویسار کی جانب رخ کرکے اللھم انت السلام ومنك السلام پڑھ کر سنتیں پڑھا کرتا ہوں مولوی حبیب الرحمن سہارن پوری نے مجھ سے کہا
حوالہ / References درمختار ، کتاب الوقف ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۳۸۳
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامامۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۳
المعجم الکبیر جنادۃ بن ابی امیۃ ترجمۃ۲۱۵ مطبوعہ المکتبۃالفیصیلیۃ بیروت ۲ / ۲۸۲
درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۳
#11010 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
کہ فقہا بعد ان فرضوں کے جن کے بعد تطوع ہے ترك استقبال قبلہ کو منع لکھتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ ان فرضوں کے بعد اسی ہیأت پر رہے اور فورا تطوع میں مصروف رہے اس پر خلیل الرحمان نے یہ کہا کہ تعامل حرمین میں بھی یوں ہی ہے۔ میں نے کتابوں میں دیکھا تو کہیں ممانعت نہ ملی صرف اتنا ملا کہ جن فرضوں کے بعد تطوع ہے مقدار اللھم انت السلام سے زیادہ توقف نہ کرے اس مسئلہ میں جو حضور کے نزدیك صواب ہو افادہ فرمائےے تاکہ میں اس کے مطابق عمل کروں بلکہ مناسب تو یہ ہوگا کہ عربی عبارت میں بطور اختصار اس کو قلمبد فرمائیے۔
الجواب :
الحمد ﷲ وحدہ السنۃ المتوارثۃ للامام من لدن امام الانام سید الرسل الکرام علیہ وعلیھم افضل الصلوۃ والسلام ھوالانصراف من القبلۃ لمن اراد مکثا مابعد السلام کل الصلوۃ فی ذلك متساویۃ الاقدام وصرح بذلك وبکراھۃ بقائہ مستقبل القبلۃ بعد التمام غیرواحد من العلماء العظام فالحق معکم ومازعم مخالفکم فقد افتری فیہ علی الفقھاء الفخام قال المولی المحقق محمد بن محمد بن محمد الشھیر بابن امیرالحاج فی الحلیۃ شرح المنیۃ ناقلا عن الذخیرۃ اذاکان فرغ الامام من صلاتہ اجمعوالی انہ لایمکث فی مکانہ مستقبل القبلۃ سائرالصلوات فی ذلك علی السواء قال وقد صرح غیرواحدبانہ یکرہ ذلك اھ وقد اخرج الامام ابوداؤد
سب تعریف اﷲ کے لئے جو وحدہ لاشریك ہے امام الانام سید الانبیاء نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیہم افضل الصلوۃ والسلام کی طاہری حیات سے لے کر اب تك امام کے لئے بطور سنت منقول ہے کہ جو شخص سلام کے بعد کچھ ٹھہر نے کا ارادہ رکھتا ہو تو قبلہ سے رخ پھیر ے۔ قدیم زمانہ سے یہ حکم تمام نمازوں میں برابر چلا آرہا ہے اور تکمیل نماز کے بعد اس کے لئے قبلہ رخ رہنا مکروہ ہے۔ ان دونوں باتوں کی تصریح بڑے بڑے علمائے اسلام نے فرمائی پس حق تمہارا ساتھ ہے اور تمہارے مخالف نے جوکچھ کہا وہ فقہاء کرام پر تہمت ہے ہمارے نہایت ہی فاضل محقق محمد بن محمد بن محمد المعروف ابن امیرالحاج حلیہ شرح منیہ میں ذخیرہ کے حوالے سے لکھتے ہیں جب امام نماز سے فارغ ہوجائے تو سب علماء کا اتفاق ہے کہ وہ اپنی جگہ قبلہ رخ نہ ٹھہرا رہے اور اس حکم میں تمام نمازیں برابر ہیں اور فرمایا کہ قبلہ رخ رہنے کی کراہت پر متعدد علماء نے تصریح کی ہے اھ اور امام ابوداؤد نے سنن میں حاکم نے مستدرك میں ابورمثہ رضی اللہ
حوالہ / References حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
#11011 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
فی سننہ والحاکم فی المستدرك عن ابی رمثۃ رضی اﷲ تعالی عنہ قال صلیت ھذہ الصلوۃ اومثل ھذہ الصلوۃمع النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وکان ابوبکر وعمر یقومان فی الصف المقدم عن یمینہ ۔ و کان رجل قد شھد التکبیرۃ الاولی من الصلاۃ یشفع فوثب الیہ عمر فاخذ بمنکبہ فھزہ ثم قال اجلس فانہ لم یھلك اھل الکتاب الاانھم لم یکن بین صلوتھم فصل فرفع النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بصرہ فقال اصاب اﷲ بك یابن الخطاب (ملخصا) قلت فھذا نص عن صاحب الشریعۃ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی انفتالہ عن القبلۃ بعد صلوۃ یتبعھا تطوع فلاوجہ للنھی عنہ وان خص بعض کراہۃ المکث مستقبلا بمالاتھوی بعدہ کما فی الغنیۃ عن الخلاصۃ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
تعالی عنہ سے روایت کیا فرمایا کہ میں نے یہ یا اسکی مثل نماز نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ ادا کی اور فرمایا کہ حضرت ابوبکر اورحضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہا امام کے پاس صف اول میں کھڑے ہوتے تھے اور ایك آدمی جو تکبیر اولی سے نماز میں شامل ہواتھا اٹھ کر دو۲ رکعت نماز ادا کرنی شروع کردی حضرت عمر اس کی طرف فی الفور بڑھے اور کاندھے سے پکڑ کر حرکت دی اور کہا بیٹھ جاؤ اہل کتاب نہیں ہلاك ہوئے مگر اس لئے کہ وہ اپنی نمازوں کے درمیان فاصلہ نہ کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے نظر مبارك اٹھا کر دیکھا اور فرمایا اے ابن خطاب اﷲ تعالی نے تیری رہنمائی فرمائی ہے قلت(میں کہتا ہوں ) یہ صاحب شریعت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف سے اس بات پر نص ہے کہ جس نماز کے بعد نوافل ہوں اس میں بھی امام قبلہ سے رخ موڑے اور قبلہ رخ سے موڑنے پر کوئی نہی وارد نہیں (یعنی انصراف سے منع کرنے کی کوئی وجہ نہیں ) اگرچہ بعض حضرات نے قبلہ رخ بیٹھنے کی کراہت کو اس صورت کے ساتھ خاص کیا جبکہ امام بیٹھنے کے بعد کوئی نماز نہ پڑھنا چاہتا ہو جیسا کہ غنیہ میں خلاصہ کے حوالے سے ہے واﷲ سبحنہ وتعا لی اعلم(ت)
حوالہ / References سنن ابو داؤد باب فی الرجل یتطوع فی مکانہ الخ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۴۴ ، المستدرك للحاکم کتاب الصلٰوۃ لم یہلك اہل الکتاب الخ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۲۷۰
#11012 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
مسئلہ نمبر ۶۰۳ : ازتحصیل جل گاؤں جامود ضلعآنولہ ملك برار مرسلہحاجی شیخ عبدالرحیم ولد تاج محمد صاحب ۲۱ربیع الاول شریف ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مبروص کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں یعنی جس کا تمام جسم عارضہ برص سے سفید ہوگیا ہو اس کی امامت کے لئے کیا حکم ہے اور اس ملك دکن میں اکثر لوگ ماہ محرم الحرام میں سواری اپنے مکان پر بٹھا لیتے ہیں اور اس کو فعل صاحب کی سواری کہتے ہیں اکثر لوگ اس سے منتیں مانگتے ہیں اور چڑھاوا وغیرہ بہت کچھ چڑھاتے ہیں کیا ایسے شخص کے پیچھے جو اپنے مکان پر سواری بٹھائے نماز جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
ایسے برص والے کے پیچھے نماز مکروہ ہے فی الدرالمختار تکرہ خلف ابرص شاع برصہ (درمختار میں ہے ایسے برص والے کے پیچھے نماز مکروہ ہے جس کا برص پھیل گیا ہو۔ ت)سواری مذکور بٹھانا اوراس سے منتیں مانگنا بدعت جہال ہے کہ فسق عقیدہ یا فسق عمل سے خالی نہیں اور اہل بدعت وفساق کے پیچھے نماز سخت مکروہ فی الدرالمحتار الفاسق کالمبتدع تکرہ امامتہ بکل حال الخ (ردالمحتار میں ہے کہ فاسق بدعتی کی طرح ہے اس کی امامت ہر حال میں مکروہ ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۶۰۴ : ازبدایوں مدرسہ قادریہ ۶جمادی الاخری ۱۳۱۴ھ
کیافرمایا ہے شرع مطہر نے اس مسئلہ میں کہ بخشش ولد الحرام المومن کی ہوگی یا نہیں اور بشرط قابلیت امامت کے نماز میں امام بنایا جائے گا یا نہیں اور طریقہ ازروئے قواعد طریقت کے بانسبت اور مرتبہ عرفان پاسکتا ہے یا نہیں اور استخلاف اس طریقہ کاجائز ہے یا نہیں یعنی شیخ اپنے کا درصورت حصول قابلیت جانشین ہوسکتا ہے یا نہیں اور شیخ کو سندخلافت اس کو دینا جائز ہوگا یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
ہر مومن جس کا خاتمہ ایمان پر ہو اور مومن عنداﷲ وہی قابل مغفرت ہے اوراس کا انجام یقیناجنت کما نطقت بہ النصوص واجمعت علیہ علماء السنۃ والجماعۃ(جیسا کہ اس پر نصوص کی تصریح اور علماء اہلسنت وجماعت کا اجماع ہے۔ ت) ولد الزنا کی امامت مکروہ تنزیہی یعنی خلاف اولی ہے جبکہ وہ سب حاضرین میں مسائل طہارت ونماز کا علم زائد نہ رکھتا ہو
حوالہ / References درمختار ، باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۸۳
ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۴
#11013 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
فی الدرالمختار کرہ امامۃ عبد واعرابی وولدالزناا لی قولہ الا ان یکون اعلم القوم ۔
درمختار میں ہے غلام اعرابی ولد الزنا کی امامت مکروہ ہے البتہ اس صورت میں مکروہ نہیں جبکہ وہ دوسری قوم سے زیادہ صاحب علم ہو۔ (ت)
پھر یہ بھی اس صورت میں ہے کہ دوسرا قابل امامت موجود ہو اور اگر حاضرین میں صرف وہی لائق امامت ہے تو اسے امام بنانا واجب ہوگا مرتبہ عرفان اہل حق کے نزدیك وہی ہے و الله یختص برحمته من یشآء- (اوراﷲ تعالی جسے چاہتا ہے اپنی رحمت کے لئے مختص فرما لیتا ہے۔ ت) ولدالزنا پر خود اس گناہ کاالزام نہیں الزام زانی اور زانیہ پر ہے
وقد سئل سید الطائفۃ جنید البغدادی رضی اﷲ تعالی عنہ ھل یزنی العارف فاطرق ملبیا ثم قال وکان امر اﷲ قدرامقدورا۔
سید الطائفہ جنید بغدادی رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا گیا کیا عارف زنا کرسکتا ہے آپ تلبیہ کہتے ہوئے چل پڑے اور کہا اﷲ کا امر مقدر و مقرر ہوچکا ہے۔ (ت)
اس کا استخلاف جبکہ وہ اس کا اہل ہو نظر شیخ عارف بصیر پر ہے اگر مصلحت دیکھے تو ممنوع نہیں اگر حال اس کا مشہور اور عامہ خلائق اس سے نفورہوں اور سمجھے کہ کار دعوت الی اﷲ اور ہدایت خلق اﷲ بسبب تنفرناس منتظم نہ ہوگا تو احتراز فرمائے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۶۰۵ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدکی ایك بی بی زینب غیر منکوحہ اور دو۲ بیبیاں صغری اورکبری منکوحہ ہیں زید عرصہ آٹھ سال سے بی بی زینب غیر منکوحہ سے بلالحاظ وپاس اس کی عدم منکوحیت اور بلا شرم و حجاب اپنے ہمسروں اور ہمچشموں کے مباشر اور ہم صحبت رہتاہے اس صورت میں زید کی امامت جائز ہے یا نہیں بینواوجروا
الجواب :
اگر اس کا زانی ہونا ثابت و متحقق ہو جب تو اسے امام بنانے کی ہرگز اجازت نہیں کہ زانی فاسق ہے اور فاسق کو امام کرنا منع ہےغنیۃ میں ہے :
لوقدموا فاسقا یاثمون بناء علی ان الکراھۃ
اگر لوگوں نے فاسق کو امام بنایا تو لوگ گنہگار ہوں گے
حوالہ / References درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۳
القرآن ۲ / ۱۰۵
#11014 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
اس لئے کہ اس کی تقدیم برائے امامت مکروہ تحریمی ہے کیونکہ وہ امور دینیہ میں لاپروائی برتتا ہے اور نماز کے لوازمات کی ادائیگی میں تساہل سے کام لیتاہے ممکن ہے وہ نماز کی بعض شرائط ادا نہ کرے(یعنی چھوڑ دے)یا ایسا عمل کردے جو نماز کے منافی ہو بلکہ ایسا کرنا اس کے فسق کے پیش نظر اغلب ہے(ت)
تقدیمہ کراھۃ تحریم لعدم اعتنائہ باموردینہ وتساھلہ فی الاتیان بلوازمہ فلا یبعد منہ الاخلال ببعض شروط الصلاۃ وفعل ماینا فیھا بل ھوالغالب بالنظر الی فسقہ ۔
اور اگر وہ لوگوں میں عام طور پر زانی مشہور ہو جب بھی اس کے امام بنانے سے احتراز چاہئے کہ اس صورت میں لوگ اس کی امامت سے نفرت کریں گے یہ امر باعث تقلیل جماعت ہوگا کہ مقاصد شرع کے خلاف ہے
کماکرھوا امامۃ ولدالزنا لاجل ذلك وان لم یکن الاثم منہ۔
جیسا کہ فقہاء نے اسی حکمت کے پیش نظر ولد زناکی امامت کو مکروہ قرار دیا ہے اگر چہ گناہ اس کی (اپنی ذات کی ) طرف سے نہیں ہوا۔ (ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۶۰۶ : ازگھورکھپور محلہ شاہ معروف مکان مولوی محمد مسعود العاقیۃ محمد عبدالقیوم صاحب مرحوم
۲۷ ربیع الاول شریف ۱۳۱۵ھ : بہرے کی امامت جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
عدم جوازکی کوئی وجہ نہیں حیث لامانع ہاں غیر بہرا کہ مرجحات راجیحات امامت میں بہرے سے کم نہ ہو افضل و اولی ہے کہ نماز میں جس طرح حفظ طہارت بدن وثوب ومصلی وتصحیح جہت قبلہ کے لئے حاسہ بصر کی حاجت ہوتی ہے جس کے سبب بینا کو اندھے بلکہ ضعیف البصر پر ترجیح دی گئی
فی الدریکرہ امامۃ الاعمی و نحوہ الاعشی نھر ۔ فی ردالمحتارھوسیئ البصر لیلا ونھارا
درمختار میں ہے نابینے کی امامت مکروہ ہے اسی طرح اعشی (ضعیف البصر) کی بھی نھر۔ ردالمحتار میں اعشی کا معنی را ت اور دن کو کم دیکھنے والا لکھے ہیں ۔
حوالہ / References غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی امامۃ الخ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۳
درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۳
#11015 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
قاموس فھذا ذکرہ فی النھر بحثا اخذامن تعلیل الاعمی بانہ لایتوقی النجاسۃ
قاموس اس کا ذکرنہر میں اعمی کی علت کی بناء پر کیا گیا ہے کہ یہ بھی نجاست سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ (ت)
یوں ہی حاسہ سمع کی بھی ضرورت پڑتی ہے اگرچہ نہ دواما مگر نادر بھی نہیں کہ انسان سے نسیان نادر نہیں اور وقت سہو امام اصلاح مقتدیوں کے بتانے سے ہو تی ہے اور وہ سمع پر موقوف جب اس کا حس سامعہ موقوف ہے تو ان صورتوں کا وقوع متوقع جن میں اس کے نہ سننے کے سبب نماز فاسد یا مکروہ یا مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوجائے مثلا قعدہ اخیرہ چھوڑ کر اٹھا مقتدیوں کا بتانا نہ سنا زائد کا سجدہ کرلیا فرض باطل ہوگئے یا اولی چھوڑا اور بتانے پر مطلع نہ ہو کر سلام پھیر دیاسجدہ سہو کے لئے بتایا گیا تو سمجھا کہ کوئی کچھ بات کرتا ہے تکلم کربیٹھا نماز بوجہ ترك واجب واجب الاعادہ رہی یا قرأت میں وہ غلطی کی جس سے معنی میں تغیر اور نماز میں فساد ہو فتح مقتدمین سن کر صحیح ارادہ کرلیتا تو اصلاح ہوجاتی
علی ماذکر فی الحلیۃ من احد القولین وھو الایسرالارفق کما لایخفی۔
اس قول کی بنا پر جو حلیہ میں دو قولوں میں سے ایك ذکر ہے اور یہی آسان اور نرم ہے جیسا کہ مخفی نہیں (ت)
اس نے نہ سنا اور نماز فاسد کرلی الی غیرذلك من وجوہ کثیرۃ(اس کے علاوہ متعددوجوہ ہیں ۔ ت)تو امامت کے لئے اصلح واولی وہی ہے جو وجوہ نقص سے خالی ہو لاجرم امام زیلعی نے تبیین الحقائق میں فرمایا کل من کان اکمل فھو افضل ۔ (جو بھی ہر لحاظ سے اکمل ہوگا وہی افضل ہوگا ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر۶۰۷ : ایك شخص کریہہ الصوت اور بہرا ہے دوسرا شخص کلام شریف اس سے اچھا پڑھتا ہے اور کریہہ الصوت نہیں ہے اور بہرا بھی نہیں ہے یعنی حواس خمسہ اس کے صحیح ہیں تو حالت مساوی العلم ہونے کے ان دونوں میں شرعا مرجح لائق امامت کون ہو سکتا ہے بینوا بالبراھین والکتاب توجروایوم الحساب(دلائل وبراہین اور کتاب اﷲ سے بیان کرو اور روزحساب اجر پاؤ۔ ت)
الجواب :
اگر اس شخص کے اس سے قرآن مجید اچھا پڑھنے سے مراد یہ حروف مخارج سے صحیح ادا کرتا ہے اوروہ نہیں جیسے آج کل عالمگیر وبا پھیلی ہے ا ع ہ ح ت ط ث س ص ذ ز ظ میں تمیز نہیں کرتے جب تو اس بہرے کے پیچھے نماز ہی نہیں ہوتی اگر باوصف قدرت کے سیکھے تو ادا کرسکے مگر نہ سیکھا غلط پڑھتا ہے جب تونہ اس کی اپنی نماز ہوئی نہ اس کے پیچھے کسی دوسرے کی اور اگر عاجز ہے جیسے توتلا وغیرہ
حوالہ / References ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۴۱۴
تبیین الحقائق باب الامامۃ والحدیث فی الصلٰوۃ مطبوعہ مطبعہ کبرٰی امیریہ بولاق مصر ۱ / ۱۳۴
#11016 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
تو اس کی اپنی ہوجائے گی جبکہ کسی صحیح خواں کے پیچھے اقتدا نہ پاسکے نہ ایسی کوئی آیت ملے جسے وہ صحیح پڑھ سکے اور یہ دونوں بہت نادر نہیں تاہم صحیح مذہب پر صحیح خواں کی نماز اس کے پیچھے کسی طرح صحیح نہیں ۔ کماحققناہ فی فتاونا (جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق اپنے فتاوی میں کی ہے ۔ ت )درمختار :
لاتصح صلاتہ اذا امکنہ الاقتدابمن یحسنہ او ترك جھدہ او وجدقدرالفرض ممالالثغ فیہ ھذاھوالصحیح المختار فی حکم الالثغ وکذا من لایقدر علی التلفظ بحرف من الحروف ۔
اس کی نماز اس صورت میں صحیح نہ ہوگی جب اسے ایسے شخص کی اقتداء ممکن ہو جوا حسن انداز میں قرآن پڑھ سکتاہے یا اس نے محنت و کوشش برائے صحت حروف ترك کردی یا وہ بقدر فرض قرأت وہ آیتیں حاصل کرلے جس میں تتلانا نہیں پایاجاتا توتلے کے بارے میں یہی صحیح تنقیح ومختار ہے اور اس شخص کا بھی یہی حکم ہے جو حروف تہجی میں کسی حرف کے صحیح تلفظ پر قادر نہ ہو۔ (ت)
خیریہ وغیرہا میں ہے :
الراجح المفتی عدم صحۃ امامۃ الالثغ لغیرہ ممن لیس بہ لثغۃ ۔
راجح اور مفتی بہ قول یہی ہے کہ توتلے کی امامت غیر توتلے کے لئے صحیح نہیں ہے۔ (ت)
اور اگر یہ معنی کہ صحیح وہ بھی پڑھتا ہے مگر اس کی قرأت و تجوید اس سے بہتر ہے تو اس صورت میں اگر اس کی کراہت اس حد تك ہے کہ لوگوں میں نفرت پیدا کرے تو اس کی امامت مکروہ ہے۔
فان من مسائل کراھۃ الامام مفرعۃ علی ھذا الاصل وھوان من کان فیہ تنفیر الناس وقلۃ رغبتھم فامامتہ مکروھۃ کولد بغی و ابرص شاع برصہ وغیرہما۔
کیونکہ کراہت امامت کے بعض مسائل اس ضابطہ پر مبنی ہیں وہ ضابطہ یہ ہے کہ ہر وہ شخص جس کے ساتھ لوگوں کو نفرت اور قلت رغبت ہواس کی امامت مکروہ ہے مثلا ولد الزنا اور برص والا ایساشخص کہ جس کا مرض برص پھیل گیا ہو وغیرہما (ت)
ولہذا تبیین میں فرمایا :
کل من کان اکمل فھو افضل لان
ہر وہ شخص جو ہرلحاظ سے اکمل ہو وہی افضل ہوگاکیونکہ
حوالہ / References درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۵
فتاوٰی خیریہ ، کتاب الصلٰوۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ، ۱ / ۱۰
#11081 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
المقصود کثرۃ الجماعۃ ورغبۃ الناس فیہ اکثر ۔
مقصود کثرت جماعت اور اس میں اکثر لوگوں کو رغبت ہے۔ (ت)
اور اگر یہ بھی نہیں تاہم تساوی علم یہ غیر بہرا اس سے احق و اولی ہے۔ اولا تجوید قرأت میں اس سے زائد ہے درمختار میں ہے :
الاحق بالامامۃ تقدیما بل نصبا الاعلم باحکام الصلوۃ ثم الاحسن تلاوۃ وتجویدا للقرأۃ ۔
امامت میں آگے بڑھنے کے بلکہ ہمیشہ کے لئے امام مقرر کرنے میں زیادہ مستحق ولائق وہ شخص ہے جوصحت و فسادنماز کے مسائل سے زیادہ آگاہ ہو(علم میں اگر برابر ہوں تو) پھر زیادہ لائق امامت وہ شخص ہے جو تلاوت اور تجوید قرأت کے لحاظ سے اچھا ہو۔ (ت)
ثانیا اسکا بہرا ہونا بھی اس کی ترجیح کی ایك وجہ ہے کما بیناہ فی المسئلۃ الاولی(جیسا کہ مسئلہ اولی میں ہم اسے بیان کر آئے ۔ ت)
ثالثا بہ نسبت اس کے خوش آوازی اور زیادہ مؤید ہے ولہذا وہ بھی مرجحات امامت سے شمار کی گئی ۔ نورالایضاح مراقی الفلاح میں ہے : ثم الاحسن صوتا للرغبۃ فی سماعہ للخضوع (پھروہ شخص جس کی آوازحسین ہو کیونکہ اس کے سننے میں رغبت اور خضوع پیدا ہوتاہے۔ ت)لوگ اگر اس کے ہوتے ہوئے بہرے کو امام کریں گے شرعا برا کریں گے درمختار میں ہے : لوقدموغیرالاولی ساء وا بلااثم (اگر لوگوں نے غیر اولی کو مقدم (پیش امام) کردیا تو بغیر گناہ کے ان لوگوں نے برا کیا(یعنی ترك سنت کی وجہ سے برا کیا اور گنہگار نہ ہوئے۔ ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۶۰۸ : از براہم پور ۲۱ربیع الآخر شریف ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ افیونی کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں اوراگر اس نماز کے پھیرنے کاحکم ہو تو فقط ظہر وعشاء کی پھیری جائے یافجر وعصرومغرب کی بھی اور افیون کھانی کیسی ہے افیونی فاسق مستحق عذاب ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
حوالہ / References تبیین الحقائق باب الامامۃوالحدیث فی الصلٰوۃ مطبوعہ المبطعۃ الکبری الامیریہ بولاق مصر ۱ / ۱۳۴
درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۲
مراقی الفلاح مع حاشیہ الطحطاوی فصل فی بیان الاحق بالامتہ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۱۶۴
درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۳
#11082 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
الجواب :
ضرور فاسق و مستحق عذاب ہے صحیح حدیث میں ہے :
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سن کل مسکرو مفتر ۔ رواہ امام احمد و ابوداؤد عن ام المؤمنین ام سلمۃ رضی اﷲ تعالی عنھا بسند صحیح۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ہر چیز کہ نشہ لائے اور ہر چیز کہ عقل میں فتور ڈالے حرام فرمائی۔ اسے امام احمد اور امام ابوداؤد نے بسند صحیح ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔
اگر افیونی پینك کی زور میں ہو جب تو اس کی خود نماز باطل اور اس کے پیچھے اوروں کی بھی محض باطل ۔ اﷲ تعالی فرماتاہے :
لا تقربوا الصلوة و انتم سكرى حتى تعلموا ما تقولون
نماز کے قریب نہ جاؤ اس حالت میں کہ تم نشہ میں ہو یہاں تك کہ جان لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ (ت)
اور اگر ہوش میں ہو جب بھی اس کے پیچھے نماز ممنوع ہے :
لان الصلوۃ خلف الفاسق تکرہ کراھۃ تحریم کما حققہ فی الغنیۃ وغیرھا
کیونکہ فاسق کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے جیسا کہ اس مسئلہ کی تحقیق غنیہ وغیرہ میں کی ہے۔ (ت)
اگر پڑھ لی ہو تو نما ز پھیرنی ضروری ہے اگرچہ فجرخواہ عصر خواہ مغرب کا وقت ہو
فان کل صلاۃ ادیت مع کراھۃ تحریم تعاد وجوبا کما فی الدر وغیرہ بل وکذا علی قول من قال بالتنزیہ فان الاعادۃ اکمال لاتنفل کما لایخفی واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
کہ ہر وہ نماز جو کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی گئی ہواسکا اعادہ واجب ہوتا ہے جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے بلکہ اس کے قول پر بھی یہی حکم ہے جو اسے مکرہ تنزیہی قرار دیتا ہے کیونکہ اعادہ کمال ہے فالتو اور بے فائدہ نہیں جیسا کہ واضح ہے واﷲ سبحنہ تعالی اعلم (ت)
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الاشربہ باب ماجاء فی السکر مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۱۶۳
القرآن ۴ / ۴۳
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی االامامۃ الخ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۵۱۳
درمختار باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۷۱
#11083 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
مسئلہ نمبر ۶۰۹تا ۶۱۲ : از کلکتہ مسجد دھرم تلہ مرسلہ حافظ محمد عظیم صاحب ۱۲جمادی الاولی ۱۳۱۵ھ
تسلیم بصد تکریم کے بعد خدمت عالی میں عرض رساں ہوں اپ کے اصاف حمیدہ کی تحریر سے بندہ قاصر ہے جناب کی خدمت میں نہ عرض کے لائق نہ طاقت چونکہ اس وقت ایك فتوی پر آپ کے دستخط اور مہر کی اشد ضرورت ہوئی خدمت عالی میں عرض رساں ہوں کہ عنداﷲوعندالرسول اپنے خاص دستخط اور مہر سے زینت بخشیں اس عاجز کو آپ کی قدم بوسی کی ازحد تمنا ہے دعافرمائیں فتوی یہ ہے :
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی اندریں کہ بامامت۱ کدام شخص اولی است وامامت۲حرام زادہ مکروہ تحریمی است یا نہ ۳ وامامت شخص بد پنداشتہ قوم مکروہ تحریمی است یاچہ واگرکسے ۴درمسجد از امام حی افضل باشد بامامت کدام اولی است بینوا توجروا تم پر اﷲ تعالی کی رحمت ہو اس مسئلہ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ امامت کے لئے افضل شخص کون ہوتا ہے حرام زادہ کی امامت مکروہ تحریمی ہے یا نہیں جس شخص کو قوم برا جانے اس کی امامت مکروہ تحریمی ہے یاکیا ہے اگر مسجد میں محلہ کے امام سے کوئی افضل شخص موجود ہو تو امام کس کو بنانا اولی ہے(ت)
الجواب :
(۱) ہرکہ عالم تردرسنت نماز بود درامامت آں اولی است پست ازآں اقرأ ثم اورع ثم معمراست کما فی الھدایۃ والعلمگیریۃ وملتقی الابحر وجامع الرموز
(۲) امامۃ حرام زادہ مکروہ تحریمی است لما فی الھدایۃ یکرہ تقدیم العبد والاعرابی والفاسق والاعمی وولدالزنا لانہ لیس لہ اب یشفقہ فیغلب علیہ الجھل ولان فی تقدیم ھؤلاء تنفیر الجماعۃ فیکرہ وفی العلمگیریۃ وتجوز امامۃ الاعرابی
(۱) ہر وہ شخص جو طریقہ نماز میں زیادہ عالم وآگاہ ہے وہ امامت کے زیادہ لائق ہے اس کے بعد سب سے اچھا قاری پھر سب سے صاحب تقوی پھر زیادہ عمر والا لائق امامت ہےہدایہ عالمگیری ملتقی البحراورجامع الرموز میں اسی طرح ہے۔
(۲) حرام زادہ کی امامت مکروہ تحریمی ہے ہدایہ میں ہے غلام اعرابی فاسق نابینا اور ولدزناکی امامت مکروہ ہے کیونکہ اس کا شفیق باپ نہیں جو اسے تعلیم دیتا لہذا اس پر جہالت غالب ہوگی اور (دوسری بات یہ ہے)کہ ایسے افراد کی تقدیم سے لوگ جماعت سے نفرت کریں گے لہذا ان میں سے ہر ایك کا اما م بننامکروہ ہے
حوالہ / References الہدایۃ باب الامامۃ مطبوعہ المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ / ۱۰۱
#11084 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
والاعمی والعبد و ولد الزنا والفاسق کذا فی الخلاصۃ الا انھا تکرہ وفی فشرح فالوقایۃ امامۃ بندہ واعرابی وفاسق واعمی ومبتدع وولد الزنا جائز بودے مکروہ باشد وفی جامع الرموز فان ام عبد او اعرابی اوفاسق او اعمی او مبتدع او ولد الزنا (ای ولد یحصل من وطئ حرام لعینہ)کرہ وفی ملتقی الابحر تکرہ امامۃ العبد والاعرابی والاعمی والفاسق والمبتدع و ولدالزنا الخ
(۳) اگر بد پنداشتن بباعث امر شرعی باشد امامت شخص بد پند اشتہ قوم مکروہ تحریمی ست لما فی العلمگیریۃ وقاضی خان رجل ام قوما وھم لہ کارھون فان کانت الکرھۃ لفساد فیہ اولانھم احق بالامامۃ منہ کرہ لہ ذلك ۔
عالمگیری میں ہے اعرابی نابینا غلام ولدزنا اور فاسق کی امامت جائز ہے اسی طرح خلاصہ میں ہے مگر مکروہ ہے ۔
شرح الوقایہ میں ہے غلام اعرابی نابینا بدعتی اور ولدالزنا کی امامت جائز ہے مگر مکروہ ہے جمع الرموز میں ہے اگر غلام اعرابی نابینا فاسق بدعتی او رولد الزنا (یعنی وہ بیٹا جو وطی حرام لعینہ سے حاصل ہو) نے امامت کرائی تو اس کی امامت مکروہ ہے۔ ملتقی الابحر میں ہے غلام اعرابی نابینا فاسق بدعتی اور ولدزنا سب کی امامت مکروہ ہے الخ۔
(۳) اسے برا جاننے کی وجہ اگر کسی امر شرعی کے باعث ہو تو اس کی امامت مکروہ تحریمی ہوگی کیونکہ عالمگیری اور قاضی خان میں ہے وہ شخص جس نے کسی قوم کی امامت کرائی حالانکہ وہ قوم اسے پسند نہیں کرتی پس اگر کراہت خوداس شخص میں کسی فساد کی وجہ سے ہو یا اس وجہ سے کہ اس سے دوسرے افراد امامت کے زیادہ لائق ہوں تو ان دونوں صورتوں میں شخص مذکور کو امامت کرانا مکروہ ہے۔
حوالہ / References فتاوی ہندیہ الفصل الثالث فی بیان من یصلح اماما لغیرہ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۸۵
شرح الوقایہ فصل فی الجماعۃ مطبوعہ المکتبۃ الرشید یہ دہلی ۱ / ۱۷۵
جامع الرموز فصل یجہرالامام مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۱۷۲
ملتقٰی الابحر فصل حکم الجماعۃ مطبوعہ مؤسستہ الرسالۃ بیروت ۱ / ۹۴
فتاوٰی ہندیۃ الفصل فی بیان من یصلح امامالغیرہ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۸۷-۸۶
ف : مجیب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے شرح وقایہ کی عبارت نقل نہیں کی صرف مفہوم بزبان فارسی ذکر کیا ہے نیز بعد والی عبارت میں قوسین کے درمیان جامع الرموز عبارت نقل کی ہے جسے قوسین سے باہر والی عبارت نقایہ یعنی جامع الرموز کے متن کی ہے اور شرح وقایہ کی عبارت بھی نقایہ کی عبارت جیسی ہے۔ (نذیر احمد سعیدی)
#11085 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
(۴) امامت امام حی اولی بود اگرچہ غیرش درمسجد افضل است لمافی العلمگیریۃ دخل مسجدامن ھواولی بالامامۃ من امام المسجد فامام المحلۃ اولی وفی المنیۃ : لو دخل فی المسجد من ھواولی بالامامۃ فامام المحلۃ اولی ھکذا حکم الکتاب والیہ المرجع والماب واﷲ اعلم بالصواب۔ المستخرج المذنب ابونعیم محمد نقی عفی عنہ اسلام آبادی المجیب المصیب فقیر محمد امانت اﷲ غازی پوری ۔ الجواب صحیح بندہ رشید احمد عفی عنہ اصاب من اجاب محمد قادر بخش سہسرامی عفی عنہ-صح من اجاب حرر الفقیرابوالبرکات غازیپوری ۔ مافیہ حق اماالدین عفی عنہ۔
محلہ کے مقرر امام کو امام بنانا اولی ہے اگرچہ کوئی دوسرا شخص افضل موجود ہو جیسا کہ عالمگیری میں ہے ایك ایسا شخص مسجد میں داخل ہواجو محلہ کے امام سے افضل ہے تو محلہ کے امام ہی کو امام بنانا اولی ہے ۔ اور منیہ میں ہے اگر مسجد میں ایسا شخص آیا جو امام مقرر سے افضل ہو تو محلے کا امام ہی بہتر ہوگا کتاب کا حکم بھی یہی ہے اور یہی مرجع اور جائے پناہ ہے واﷲ اعلم بالصواب المستخرج المذنب ابونعیم محمد نقی عفی عنہ اسلام آبادی المجیب المصیب فقیرمحمد امانت اﷲ غازی پوری ۔ الجواب صحیح بندہ رشید احمد عفی عنہ اصاب من اجاب محمدقادر بخش سہسرامی عفی عنہ ۔ صح من اجاب حررالفقیر ابو البرکات غازیپوری۔ اس میں جوکچھ ہے وہ حق ہے۔ امام الدین عفی عنہ۔
الجواب :
اولی بامامت کسے است کہ مسائل نماز وطہارت داناتر است درتنویر است الاحق بالامامۃ الاعلم باحکام الصلوۃ در درمختار است بشرط اجتنابہ للفواحش الظاھرۃ ۔ در ردالمحتار ازکافی وغیرہ است الاعلم بالسنۃ اولی ان یطعن علیہ فی دینہ ۔
امامت کےلئے وہ شخص اورلائق اور بہتر ہے جومسائل نماز وطہارت میں زیادہ آگاہی رکھتا ہو تنویر میں ہے امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جو احکام نماز سے زیادہ آگاہ ہو۔ درمختار میں بشرطیکہ وہ ظاہری گناہوں سے بچنے والا ہو۔ ردالمحتار میں کافی کے حوالے سے ہے سنت (یعنی طریقہ نماز) سے زیادہ آگاہی رکھنے والا شخص امامت کے لئے بہتر ہے بشرطیکہ اس کے دین پر کوئی طعن نہ کرتا ہو(ت)
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ الفصل الثانی فی بیان من ہواحق بالامامۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۸۳
منیہ : یہ عبارت سعیِ بسیار کے باوجود مشہور منیۃ المصلی سے نہ مل سکی ، معلوم ہوتا ہے اس سے کوئی اور منیہ مراد ہے جو مجھے دستیاب نہیں ۔ نذیر احمد سعیدی
در مختار باب الامامۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۸۲
در مختار باب الامامۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۸۲
ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۲
#11086 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
جواب و سوال دوم : وہم چنیں غلام ودہقانی وکور اگر درحاضرین غیرانیاں کسے صالح امامت نیست خود واجب بود قدیم ایناں زیرا کہ اگر نکند جماعت است رود واجب فوت شود وایں ناروا بود اگر دیگرے نیز حاضر است اما ایناں درعلم مسائل نماز وطہارت برو رجحان و زیادت دارندہم ایناں احق و اولی بامامت باشد چہ جائے کراہت باشد بلکہ کراہت درتقدیم دیگرے باشد کہ کمتراز ایشان است آرے اگر آں دیگر از ایشاں داناتر یا ہر دو درعلم مذکور ہمسر وبرابر اند آں گاہ امامت ایشاں مکروہ باشد وازمکروھے تنزیہی بیش نیست یعنی خلاف اولی است واگرامام نمایند رواہ باشدوباك ندارد در تنویر الابصار ودرمختار است یکرہ تنزیھا امامۃ عبدواعرابی واعمی الا ان یکون ای غیرالفاسق اعلم القوم فھواولی (وولدالزنا)ھذا ان وجد غیرھم والا فلا کرھۃ بحربحثا ملخصا۔ دربحرالرائق از مجتبی شرح قدوری ومعراج الدرایہ شرح ہدایہ ست ھذہ الکراھۃ تنزیھیۃ لقولہ فی الاصل امامۃ غیرھم احب الی ۔ ہمدراں باز در فتاوی اسعدیہ وغیرہ است فالحاصل انہ یکرہ لھؤلاء التقدم ویکرہ الاقتداء بھم کراھۃ تنزیہ ان وجد
جواب و سوال دوم : غلام دیہاتی اور نابینا کا حکم بھی یہی ہے اگر حاضرین میں سے کوئی دوسراامامت کے لائق نہ ہو تو خود بخود ان کو مقدم کرنا واجب ہوگا اور جماعت فوت ہو جائے گی جو واجب ہے اور جماعت کو فوت کرنا جائز نہیں اور اگر کوئی دوسرا بھی لائق امامت حاضر ہو لیکن یہ لوگ مسائل نماز و طہارت میں اس پر فوقیت رکھتے ہوں تو پھر بھی انہی کو امام بنانا اولی ہے چہ جائیکہ ان میں کراہت ہو بلکہ ایسی صورت میں دوسرے کو مقدم کرنا مکروہ ہوگا کیونکہ وہ دوسرا ان سے ادنی ہے البتہ اگر دوسرا ان سے زیادہ دانا اور صاحب علم ہو یا دونوں مذکورہ علم میں ہمسر اور برابر ہوں تو اس وقت ان کی امامت مکروہ ہوگی اور وہ بھی مکروہ تنزیہی اس سے زیادہ نہیں یعنی خلاف اولی ہوگی اگر ان کو امام بنا لیا جائے تو جائز ہے کوئی حرج نہیں تنویرالابصار اوردرمختار میں ہے امامت غلام اعرابی نابینا مکروہ تنزیہی ہے مگر جب وہ مذکورہ افراد فاسق کے علاوہ دوسروں سے زیادہ صاحب علم ہوں تو یہی لوگ امامت کے لائق ہیں (اور ولدزنا) یعنی ولدزناکی امامت بھی مکروہ ہے مذکورہ افراد کی امامت اس وقت مکروہ ہے جب ان کے سوا کوئی شخص لائق امامت موجود ہو ورنہ کوئی کراہت نہیں اس مسئلہ کی بحث بحرالرائق میں
حوالہ / References درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۳
بحرالرائق باب الامامۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۴۹
#11087 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
غیرھم والافلاکراھۃ ۔ در ردالمحتار از اختیار شرح مختار شرح الملتقی للبہنسی وشرح دررالبحاراست لو عدمت ای علۃ الکراھۃ بان کان الاعرابی افضل من الحضری والعبد من الحر وولدالزنا من ولدالرشدۃ والاعمی من البصیر فالحکم بالضد ملخصا در جامع الرموز است فان ام عبد او اعرابی اوولدالزناکرہ ذلك کراہۃ تنزیھۃ وفی الاختیار لوکانو افضل من ضدھم فالحکم بالصد ۔ در خانیہ است تجوز امامۃ لاعرابی والاعمی والعبد و ولد الزنا وغیرھم اولی درشرح نقایہ علامہ برجندی است المرادبہ الکراھۃ التنزیہیۃعلی ماصرح بہ فی الزاہدی در حاشیہ درر وغررللعلامۃ الشرنبلانی است وکرہ امامۃ ولد الزنا اقول الکراھۃ
ہے اھ ملخصا بحرالرائق میں مجتبی شرح قدوری اور معراج الدرایہ شرح ہدایہ سے ہے یہ کراہت کراہت تنزیہیہ ہے کیونکہ اصل(کتاب) میں ان کا قول ہے ان کے علاوہ کی امامت مجھے زیادہ پسند ہے پھر اس کے بعد فتاوی اسعدیہ وغیرہ کی عبارت یوں ہے حاصل یہ ہے کہ ان کی تقدیم مکروہ ہے اور ان کا غیر موجود ہو تواقتداء مکروہ تنزیہی ہے ورنہ کوئی کراہت نہیں ۔ ردالمحتار میں اختیارشرح مختار شرح الملتقی ل لبہنسی اور شرح دررالبحار سے ہے اگر علت کراہت معدوم ہو مثلا اعرابی شہری سے غلام آزاد سے ولد زناولد رشد سے اور نابینا بینا سے افضل ہو تو حکم اس کے برعکس ہوگا۔ جامع الرموز میں ہے اگر غلام یا اعرابی یا ولد زنا امام بنا تو یہ مکروہ تنزیہی ہے۔ اور اختیار میں ہے اگر یہ افراد مذکورہ اپنے مخالف سے افضل ہوں تو حکم اس کے برعکس ہوگا خانیہ میں ہے اعرابی نابینا غلام اور ولدزنا کی امامت جائز ہے اور ان کے علاوہ کی اولی ہے۔ علامہ برجندی کی شرح نقایہ میں ہے کراہت سے مراد کراہت تنزیہی ہے جیسا کہ اس بات کی تصریح زاہدی
حوالہ / References بحرالرائق باب الامامۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۴۹ ، فتاوی اسعدیہ کتاب الصلٰوۃ مطبوعہ مطبع خیریہ مصر ۱ / ۱۰
نوٹ : اس عبارت کے آخری حصہ یعنی ان وجد الخ میں تلخیص اور تبدیلی ہے تفصیل کے لئے دونوں کتابیں ملاحظہ ہوں ۔ نزیزاحمد
ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۴
جامع الرموز فصل یجہر الامام مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۷۳-۱۷۲
فتاوٰی قاضی خان فصل فیمن نصیح الاقتداء الخ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴۴
شرح النقایہ للعلامۃ البرجندی فصل یجہر الامام فی الجمعۃ الخ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۱۷
#11088 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
تنزیھیۃ کما فی البحر در حاشیہ علامہ سید احمد طحطاوی برمراقی الفلاح ازشرح علامہ سید محمد ازہری ازعلامہ سید احمد حموی است کراھۃ الاقتداء بالعبدوماعطف علیہ تنزیھیۃ ان وجد غیرھم والافلا اھ باوصف ایں تصریحات جلیلہ بکراہت تحریم جائے زدن چنانکہ از دوملایان گنگوہی و غازی پوری برخلاف رشد امامت سرزدہ باطل محض است واصلے نداردو کانھما اغتراباطلاق الکراھۃ فی الھدایۃ وغیرھا جاھلین بما صرح بہ الشراح فی خصوص المسألۃ وغیرھا من ان حمل المطلق علی المنع غیرکلیی بل کثیرا مایطلقون والمراد خصوص التنزیہ وربما یطلقون والمقصود الاعم اعنی مایشتمل النوعین الا تری انھم یسردون مکروھات الصلاۃ سردا ویدخلون الکل تحت قولھم کرہ وفیھا من کلا النوعین ولذاقال فی الدر المختار ھذہ تعم التنزیھیۃ التی مرجعھا خلاف الاولی فالفارق
نے کی حاشیہ درر وغررللعلامہ شرنبلالی میں ہے کہ ولد زنا کی امامت مکروہ ہے۔ میں کہتا ہوں اس سے کرہت تنزیہی مراد ہے جیسا کہ بحر میں ہے مراقی الفلاح کے حاشیہ میں علامہ سید احمد طحطاوی نے شرح علامہ سید محمد ازہری سے اور انہوں نےعلامہ سید احمد حموی کے حوالے سے لکھا کہ غلام اور اسکے دیگر معطوفات کی اقتداء کرنا مکروہ تنزیہی ہے بشرطیکہ ان کے علاوہ کوئی دوسرا لائق امت موجود ہو ورنہ مکروہ تنزیہی بھی نہیں اھ۔ ان واضح تصریحات کے باوجود کراہت تحریم کے ساتھ فتوی جڑ دینا مناسب نہیں ہے جیسا کہ دو۲ ملا حضرات گنگوہی اور غازی پوری سے درست امامت کے خلاف جو بیان سرزدہواوہ باطل محض ہے اس کی کوئی اصل نہیں گویا انہوں نے ہدایہ وغیرہ میں کراہت کے اطلاق سے دھوکا کھایا اور خصوصا اس مسئلہ اور اس جیسے دیگر مسائل کے تحت شارحین کی ان تصریحات سے جاہل رہے کہ مطلق کا منع پر محمول کرنا کلی نہیں بلکہ اکثر اوقات مطلقا کراہت ذکر کرتے اور مراد کراہت تنزیہی ہوتی ہے بہت دفعہ کراہت کو مطلقا ذکر کرتے ہیں اور اس سے مقصود تحریمی اور تنزیہی دونوں کا عموم ہوتا ہے کیا آپ نہیں دیکھتے کہ فقہاء جب مکروہات نماز بیان کرتے ہیں تو تمام کو وہ لفظ “ کرہ “ کے عنوان کے تحت لاتے ہیں
حوالہ / References حاشیہ دُرر وغرر للعلامۃ الشرنبلالی فصل فی الامامۃ مطبوعہ مطبعۃ احمد کامل الکائنہ فی دارالسعادۃ مصر ۱ / ۸۶-۸۵
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح ، فصل فی بیان الاحق بالامامۃ مطبوعہ نور محمد کتب خانہ تجارت کتاب گھر کراچی ص۱۶۴
#11089 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
الدلیل فان نھیا ظنی الثبوت ولاصارف فتحریمیۃ والا فتنزیھۃ قال الشامی نقلا عن البحر المکروہ تنزیھا مرجعہ الی ما ترکہ اولی وکثیرا ما یطلقونہ کما ذکرہ فی الحلیۃ فحینئذ اذا ذکروا مکروھا فلابد من النظر فی دلیلہ الخ
حالانکہ ان میں دنوں نوعیت کے مکروہات ہوتے ہیں اسی لئے درمختار میں کہا کہ یہ مکروہ تنزیہی کوشامل ہے جس کا انجام ومآل ترك اولی ہوتا ہے پس ان دونوں میں فرق دلیل کی بنیاد پر ہوگا یعنی اگر دلیل کراہت و ممانعت شرعی ہو جس کا ثبوت ظنی اور نہ ہی تحریم سے استحباب کی طرف پھیرنے والا کوئی امر ہو تو مکروہ تحریمی ورنہ تنزیہی اھ
امام شامی نے بحر سے نقل کرتے ہوئے فرمایا ہے مکروہ تنزیہی کا مآل ترك اولی ہوتا ہے اور اکثر اوقات اس کو مطلقا ذکر کرتے ہیں حلیہ میں اسی طرح مذکور ہے لہذا جب فقہاء کسی مقام پر مکروہ کا تذکرہ کریں تو اس کی دلیل میں نظر غائر کرنا ہوتا ہے الخ(ت)
جواب سوال سوم : کراہت قوم اگر بلاوجہ شرعی ست چنانکہ امامت عالمی صالح رابسبب بعض منازعات دنیویہ خودشاں مکروہ دارند یا امامت عبد واعمی دامثالہمارا بانکہ افضل واعلم قوم باشند بد پندارند نگاہ کراہت ایشاں باشد ودرحق امامت اثرے ندارد واگر بوجہ شرعی است چنانکہ امام فاسق یامبتدع ست یا بحال عدم اعلمیت یکے ازاربعہ مذکورین اعنی عبدواعرابی وولدالزناواعمی است یا آنکہ درقوم کسے ست بوجہ مرجحات شرعیہ مثل زیادت علم وجودت قرأت وغیرہما احق واولی ازوست دریں حالت ہمچوکس راباوصف مکروہ داشتن قوم بامامت پیشن رفتن
جواب سوال سوم : اگر قوم کی کراہت شرعی عذر کے بغیر ہو جیسا صالح اور عالم کی امامت کو اپنے بعض دنیوی تنازعے کی وجہ سے مکروہ سمجھتے ہوں یاغلام نابینا وغیرہ کی امامت کو مکروہ سمجھتے ہوں حالانکہ وہ قوم سے افضل ہوں تو ایسی صورت میں قوم کی اپنی ناپسندیدگی کوئی معنی نہیں رکھتی لہذا ان افراد کی امامت میں وہ اثر نہ ہوگی اگر کراہت کسی شرعی عذر سے ہو مثلا امام فاسق یا بدعتی ہو یا چار مذکور افراد غلام اعرابی ولد زنا اور نابینا دوسروں سے افضل واعلم نہ ہوں یا قوم میں کوئی ایساشخص موجود ہو جس میں شرعی ترجیحات ہوں مثلا علم زیادہ رکھتا ہے تجوید وقرأت کا ماہر ہے تو یہ خود امامت کے
حوالہ / References درمختار باب مایفسد الصلٰوۃ الخ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۱
ردالمحتار باب مایفسد الصلٰوۃ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۷۲
#11090 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
ممنوع ومکروہ تحریمی ست درمتن محقق غزی وشرح مدقق علائی ست ولوام قوما وھم لہ کارھون ان الکرھۃ لفساد فیہ اولانھم احق بالامامۃ منہ کرہ لہ ذلك تحریما لحدیث ابوداؤد ولایقبل اﷲصلوۃ من تقدم قوما وھم لہ کارھون وان ھواحق لا والکرھۃ علیہم درمراقی الفلاح علامہ شرنبلالی از کتاب التجنیس والمزید للامام صاحب الہدایہ ست لو ام قوماوھم لہ کارھون فھو علی ثلثہ اوجہ ان کانت الکراھۃ لفساد فیہ اوکانوااحق بالامامۃ منہ یکرہ وان کان ھو احق بھا منھم ولافساد فیہ ومع ھذا یکرھونہ لایکرہ لہ التقدم لان الجاہل والفاسق یکرہ العالم والصالح
اقول : تحقیق مقام آنست کہ اینجادوچیزست یکے فعل آنکس کہ بخودی خود بناگواری قوم پیش رفت وایشاں رامکروہانہ براقتدائے خودداشت دوم نماز راپس اوعلماء کہ درصورت مذکورہ حکم بکراہت تحریم فرمودہ اندبراطلاق خودش ناظر بہ اول ست یعنی آنکس را ایں چنیں کردن روانیست اگر میکند
زیادہ لائق اور حقدار ہے ایسی صورت میں جس شخص کو امام بنانا قوم مکروہ جانے اس شخص کو امام بننا ممنوع اور مکروہ تحریمی ہے۔ محقق غزی کے متن اورشرح مدقق علائی میں ہے اگر کسی شخص نے قوم کی امامت کی حالانکہ وہ لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں تو اگرلوگوں کی نفرت امام کے اندر کسی خرابی کی بنا پر ہو یا وہ لوگ بہ نسبت امام کے امامت کے زیادہ حقدار ہوں تو ایسی صورت میں اس شخص کا امام ہونا مکروہ تحریمی ہے اس کی دلیل حدیث ابوداؤد ہے جس میں فرمایا ہے : “ اﷲ تعالی اس شخص کی نماز قبول نہیں فرماتا جولوگوں کا امام بنا حالانکہ لوگ اسے ناپسند کرتے تھے “ ۔ اور اگر وہ امام ہی امامت کا زیادہ حق رکھتا ہو تو اس پر کراہت نہیں بلکہ لوگوں کا نفرت کرنا مکروہ ہوگا ۔ علامہ شرنبلالی نے مراقی الفلاح میں صاحب ہدایہ کی کتاب التجنیس والمزید کے حوالے سے ذکر کیا ہے اگر کسی شخص نے قوم کی امامت کی حالانکہ وہ لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں تو اس کی تین صورتیں ہیں : (۱) اگر کراہت خود امام میں فساد کی وجہ سے ہو(۲) یا دوسرے لوگ اس سے امامت کے زیادہ حقدار اور لائق ہوں تو اس کا امام بننا مکروہ ہے(۳) اور اگر وہ امام ہی دوسروں سے زیادہ لائق امامت ہو اور بذات خود اس میں کوئی فساد بھی نہ ہو اس کے باوجود لوگ اسے ناپسند کرتے
حوالہ / References دُرمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۳
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۱۶۴
#11091 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
گناہگار می شود ونمازخوداوخالی از ثواب رود وہذا معنی قولہم کرہ لہ ذلك ویکرہ لہ التقدمواماثانی پس تابع آں وجہ شرعی است کہ درآنکس حاصل وایناں رابروجہ حق برکراہت حامل است کما عددناہ بعضہآں وجہ حق اگر نماز موجب کراہت تحریم است کالفسق والبدعۃ وغیرھما نمازنیز مکروہ تحریمی باشد ورنہ مجردوتنزیہی کما فی العبد و نظرائہ الا تری انھم یصرحون بکراھۃ امامۃ ھؤلاء تنزیھا ویرسلون ذلك ارسالا ولایقیدونہ بتقدمھم برضی القوم بل یعللونہ بان فیہ تنفیرالجماعۃ وانما النفرۃ تنشؤعن کراھتھم ذلك فدل ان الصلاۃ لاتکرہ الا تنزیھا وان کان التقدم مکروھا لہ تحریما لانھم کارھون ولوان التنزیہ کان مقیدا برضاھم حتی لو کرھواکرھت الصلاۃ ایضا تحریما لکانت کراھتھم التی نشأت عن وجہ شرعی ایضا عائدۃ علیھم بالوبال حیث وقعتھم فی ارتکاب ماثم لم یکن لولم تکن وھوکما تری و انماالعود علیھم فی کراھۃ لاعن مستند صحیح کماعلمت۔
بالجملہ موجب کراہت دوگونہ است یکے ذاتی کہ خوددرآنکس وجہے باشد کہ شرعا امامت اومطلقا یادرجماعت حاضرہ ممنوع یا خلاف ہوں تو اس کا امام ہونا مکروہ نہیں کیونکہ جاہل اور فاسق عالم اور صالح افراد کوناپسندکرتے ہیں الخ۔ اقول : (میں کہتا ہوں ) تحقیق مقام یہ ہے کہ یہاں دو۲ چیزیں ہیں ایك یہ کہ کوئی شخص خود بخود لوگوں کی نفرت کے باوجود آگے بڑھے اور لوگوں کو اپنی اقتدا میں نماز ادا کرنے پر مجبور کرے دوسری چیز ایسے امام کے پیچھے نماز کا معاملہ ہے علماء نے صورت مذکور میں جو مکروہ تحریمی کاحکم لگایا ہے اس کا اطلاق پہلے کی طرف لوٹ رہا ہے یعنی اس شخص کے لئے ایسا کرنا جائز نہیں اگر اس نے ایسا کیا تو گناہگار ہوگا اور اسکی نماز ثواب سے خالی رہے گی فقہا کے ذکر کردہ الفاظ “ کرہ لہ ذلك ویکرہ لہ التقدم “ کایہی معنی ہے دوسری چیز کہ اس شرعی وجہ کے تابع ہے جواس آدمی میں حاصل ہے اور لوگوں کو کراہت پر بطریق حق راغب کرتی ہے جیسا کہ ہم نے اس میں بعض کا بیان کیا ہے اگر یہ وجہ نماز میں کراہت تحریمی کا موجب ہو مثلا فسق اور بدعت وغیرہ تو نماز بھی مکروہ تحریمی ہوگی ورنہ مکروہ تنزیہی ہے۔ جیساغلام اور اس کے ہم مثل میں تنزیہی ہے ۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ فقہا نے ان لوگوں کی امامت کے مکروہ تنزیہی ہونے پر تصریح کی ہے اور فقہا نے اس میں ارسال واطلاق سے کام لیا اوران کے تقدم کو قوم کی رضا کے ساتھ مقید نہیں کیا بلکہ اس کی علت یہ بیان کی اس میں جماعت کو متنفر کرنا لازم آتا ہے اورنفرت ان کے ناپسند کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اب اس بات کو واضح کردیا کہ نماز صرف مکروہ تنزیہی ہوگی اگر چہ اس کا امام بننا مکروہ تحریمی تھا کیونکہ لوگ اسے نا پسند کرتے تھے اگر مکروہ تنزیہی
#11092 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
اولی بود چنانکہ امثلہ اش گزشتہ دوم خارجی وآں مکروہ پنداشتن قوم است مرتقدم اورا بازذاتی بردوصنف است یکے لحق الشرع چوں فسق وابتداع وجہل دوم لحق الغیر چوں حضور صاحب البیت یا امام الحی یا قاضی یا سلطان کہ خلواینکس از مزیتے کہ دیگرے دارد حامل برکراہت شدازیں کراہت ذاتی است ووجہ اومرعات حق غیر است پس گویاں ایں صنف برزخ است میان ذاتی وخارجی ونسبت میان اینہا اعنی ہر دوقسم تقسیم اول عموم و خصوص من وجہ است جائے ذاتی یافت شود نہ خارجی چوں رضائے قوم بتقدم غلامے عامی وجائے بالعکس چوں کراہت قوم تقدم عالمے تقی را بعداوت نفسانی وجاہا باہم آیند وتاثیرذاتی درنفس نماز است واثر خارجی برذات امام یاقوم نہ برنماز ووقوع اثرش برامام مشروط بوجہ اول ست ورنہ خود برقوم بازگردد بخلاف اول کہ تاثیرش درنماز موقوف بروجہ ثانی نیست اگر قوم بتقدیم فاسق وولدالزناوجاہل راضی شوند نماز ازکراہت بری نشود ہمچناں اگر میہماناں برضائے خودشاں یکے از ایشاں رابامامت برگیرندبے رضائے صاحب خانہ کراہت نہ رود وحکم اول متنوع بتحریم وتنزیہ است وحکم دوم درحق امام دائما تحریم دارد ومندفع میشود برضائے قوم لارتفاع العلۃبخلاف اول کہ در صنف اول اورضائے وعدم رضائے کسے رادخلے نیست لکونہ حقاللشرع المطہر آرے درصنف ثانی رضائے صاحب حق نافی کراہت شود گو رضائے دیگراں نباشد لقولہ صلی اﷲ تعالی
ان کی رضاکے ساتھ مقید ہو حتی کہ اگر وہ ناپسند کریں تو نماز بھی مکروہ تحریمی ہوگی تو قوم کی وہ کراہت جو کسی وجہ شرعی کی بنا پر پیدا ہوئی اس کا وبال بھی انھی پر ہوگا کیونکہ ایسا نہ ہوتا تو یہ گناہ بھی نہ ہوتا اور جیسا معاملہ آپ نے دیکھ لیا اور ان پر گناہ کا لوٹنا اس کراہت میں ہے جو مستند دلیل سے ثابت ہے۔ جیسا کہ آپ نے جان لیا۔
الغرض کراہت کا سبب دوطرح پر ہے ایك ذاتی کہ اس شخص کے اندر ایسی بات پائی جاتی ہو کہ اس کی امامت مطلقا یا جماعت حاضرہ میں ممنوع یا خلاف اولی ہو جیسا کہ اس کی مثالیں گزریں ۔ دوم سبب خارجی ہے وہ یہ کہ قوم خاص اس کے امام بننے کو ناپسند جانتی ہو پھر ذاتی کی دوصورتیں ہیں ایك حق شرع کی بنا پر مثلا فاسق ہونا بدعتی ہونا اور جاہل ہونا۔ دوم غیر کے حق کی وجہ سے مثلا صاحب خانہ امام محلہ قاضی یاسلطان کاموجود ہونا کیونکہ اس صورت میں یہ شخص اس اضافی چیز سے خالی ہے جو دوسرے میں ہے لہذا اس وجہ سے کراہت آئے گی اس وجہ سے یہ ذاتی ہے اور اس کی وجہ حق غیر کی رعایت ہے گویا یہ قسم ذاتی اور خارجی کے درمیان برزخ کی طرح ہے اور تقسیم اول کی دو۲ اقسام کے درمیان عموم وخصوص من وجہ کی نسبت ہے ایك جگہ ذاتی ہو خارجی نہ ہو مثلا قوم کا عام غلام کے تقدم پر راضی ہونا اور دوسری جگہ اس کا عکس ہے مثلا قوم کا عداوت نفسانی کی وجہ سے متقی عالم کے تقدم کو ناپسند کرنا اور بعض مقامات پر ان دونوں کا
#11093 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
علیہ وسلم الا باذنہ وفی ردالمحتار عن التتارخانیہ اضیاف فی دار یرید ان یتقدم احدہم ینبغی ان یتقدم المالك فان قدم واحدا منھم لعلمہ وکبرہ فھوافضل الخ اغنتم ھذا التحریر فلعلك لاتجدہ ھذہ التحبیر غیر ھذا التحریر پس اعمی مثلا اعلم قوم نباشد وقوم ہم بتقدیم او راضی نے انگاہ تقدم مراو را مکروہ تحریمی بود ونماز پس اومکروہ تنزیہی واگر قوم بتقدیم او راضی شودکراہت اولی مرتفع شود وثانیہ باقی واگراعلم قوم است پس بحال رضارضائے قوم ہیچ کراہتے نیست وحال کراہت خودبرکاہین است وامام وامامت بری مثلہ فی ذلك نظرائہ الثلثۃ علی مابحثہ فی البحر واختارہ فی الدروقدثبت منصوصا فی الاختیار وغیرہ کما مروان خالفہ فی النھر فلیس مع النص لا حدمقال واﷲ تعالی اعلم بحقیقۃ الحال۔
اجتماع ہوتا ہے ذاتی کااثر نماز پر پڑتا ہے خارجی کا اثر ذات امام یا قوم پر ہوگا نماز پر نہیں خارجی کا وقوع اثر امام پر وجوداول سے مشروط ہے ورنہ خودقوم پراثر لوٹ جائے گا بخلاف پہلی (یعنی ذاتی)کے کہ اس کی تاثیر نماز پر وجہ ثانی پرموقوف نہیں اگر کوئی قوم فاسق یا جاہل ولدالزنا کے تقدم پر راضی ہوجاتی ہے تو نماز کراہت سے بری (خالی) نہیں ہوگی۔ اسی طرح اگر مہمان صاحب خانہ کی رضا کے بغیر اپنے میں سے کسی ایك کو امام بنائیں تو کراہت ختم نہ ہوگی ۔ پہلی صنف کا حکم تحریم وتنزہی پر منقسم ہے اور دوسری صنف امام کے حق میں دائما تحریم کا حکم ہے اور قوم کی رضامندی پر یہ حکم مرفوع ہوگا کیونکہ اس صورت میں قوم کی رضامندی سے علت ختم ہوجائے گی بخلاف پہلی صنف کے کہ اس میں کسی کی رضا یا عدم رضا کے دخل نہیں کیونکہ وہ شریعت مطہرہ کا حق ہے ہاں دوسری صنف میں صاحب حق کی رضا کراہت کے منافی ہوجائیگی اگرچہ دیگر لوگ راضی نہ ہوں کیونکہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے کہ اس کے اذن سے امام ہوسکتا ہے ۔
ردالمحتار میں تاتار خانیہ سے ہے کہ کسی گھر میں اگر مہمان کسی کو امام بنانا چاہیں تو مناسب یہی ہے کہ صاحب خانہ کو امام بنایا جائے اگر صاحب خانہ ان میں سے کسی کو علم یابزرگی کی بنا پر امام بنائے تو افضل ہے الخ۔ پس اسی تفصیلی گفتگو کو غنیمت جان کیونکہ اس تحریر کے علاوہ اس مسئلہ سے متعلق تفصیلی گفتگو کہیں نہیں ملے گی پھر نابینا مثلا جو قوم سے زیادہ عالم نہ ہو اورقوم اس کے تقدم پر راضی نہ ہو تو اس کا امام بننا مکروہ تحریمی ہوگا اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تنزیہی ہوگی اگر قوم اس کے تقدم پر راضی ہو تو پہلی کراہت ساقط دوسری باقی رہے گی۔ اوراگر قوم سے زیادہ عالم ہو توقوم کی رضا کی صورت میں کوئی کراہت نہ ہوگی اگر قوم ناپسند
حوالہ / References جامع الترمذی باب من احق بالامامۃ مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۳۲
ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۴۱۳
#11094 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
کرتی ہو تو کراہت ان لوگوں پر ہوئی جو ناپسند کررہے ہیں اور امام اور امامت دونوں اس (کراہت) سے بری ہوں گے باقی تینوں کا بھی یہی حکم ہے جیسا کہ بحر میں بیان کیا اوردرمختار میں اسے پسند کیا ہے اور اختیاروغیرہ میں اس پر نص موجود ہے جیسا گزرا اگرچہ نہرمیں اس کی مخالفت ہے مگر نص کے مقابل کسی کا قول نہیں چل سکتا ور اﷲ تعالی حقیقت حال سے زیادہ آگاہ ہے(ت)
جواب سوال چہارم : اگر امام الحی ازوجوہ خلل خالی است ہموں اولی است مگر درحضرت سلطان مسلمین و قاضی شرع ووالی اسلام کہ ایناں رابروتقدیم ست فی الدرالمختار اعلم ان صاحب البیت ومثلہ امام المسجد الراتب اولی بالامامۃ من غیرہ مطلقاالاان یکون معہ سلطان اوقاض فیقدم علیہ لعموم ولایتھماوصرح الحدادی بتقدیم الوالی علی الراتب اھ قال العلامۃ الطحطاوی فی حاشیۃ المراقی قال فی البنایۃ ھذا فی الزمن الماضی لان الولاۃ کانو علماء وغالبھم کانواصلحاء وامافی زماننا فاکثرالولاۃ ظلمۃ جھلۃ اھ ورأیتنی کتبت علی ھامشہ مانصہ اقول : نعم ولکن الفتنۃ اکبرمن القتل بببلی ان رضوابتقدیم غیرھم فلا کلام وان کانو علماء صلحاء کما اذا اذن صاحب البیت لغیرہ واﷲ تعالی اعلم اھ ماکتبت علیہ
جواب سوال چہارم اگر محلہ کا امام اسباب و وجوہ خلل سے خالی ہو تو اسی کاامام بننا بہتر ہے مگر اس صورت میں جب مسلمانوں کا حاکم قاضی شرع اوروالی اسلام موجود ہوں کیونکہ ان حضرات کو امام محلہ پر تقدیم کاحق حاصل ہے۔ درمختار میں ہے واضح رہے کہ صاحب خانہ اور اسی طرح مسجد کا مقررہ امام امامت کے لئے ہرحال میں دوسرے لوگوں سے اولی مگر اس صورت میں کہ جب صاحب خانہ یا امام معین کے ساتھ سلطان یاقاضی ہوتو بادشاہ اور قاضی کے تصرف وولایت کے عام ہونے کی وجہ سے ان کو مقدم کیا جائیگا اور حدادی نے والی کو امام معین پر مقدم کرنے کی تصریح کی ہے اھ۔ اور علامہ طحطاوی نے حاشیہ مراقی میں فرمایا بنایہ میں ہے یہ حکم زمانہ ماضی میں تھاکیونکہ حکمران (اصحاب اختیار ) علماء اور صلحاء ہوتے تھے ہمارے دور میں والی اکثر ظالم اور جاہل ہیں اھ مجھے یاد آرہا ہے اس پر میں نے حاشیہ لکھا ہے جس کی عبارت یہ ہے اقول : (میں کہتا ہوں ) یہ ٹھیك ہے لیکن فتنہ قتل سے بڑھ کر ہے ہاں اگر
حوالہ / References درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۳
حاشیہ الطحطاوی علی المراقی الفلاح فصل فی بیان الاحق بالامامۃ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۱۶۳
#11095 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
یہ خود کسی کو امام بنانے ہر رضا مند ہوں تو کوئی کلام ہی نہیں اگرچہ یہ حضرات خود علماء و صلحاء ہی ہوں جیسا کہ صاحب خانہ اگر اپنے غیر کو اجازت دے دے تو کوئی اعتراض نہیں واﷲ تعالی اعلم اھ میرا حاشیہ ختم ہوا واﷲ سبحنہ وتعالی ۔
مسئلہ ۶۱۳ : مرسلہ حافظ مولوی امیر اﷲ صاحب ۳شعبان ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے حفظ قرآن شریف کیااور عمر اس کی تقریبا ۱۵ برس کی ہے یعنی ۳ ماہ کم ہیں اور احتلام نہ ہونا ظاہر کرتاہے وللاکثرحکم الکل(اور اکثر کے لئے کل کا حکم ہوتا ہے۔ ت) حدبلوغ میں داخل ہوکرامامت تراویح بغرض ختم قرآن رجال کی کراسکتاہے اور بالغین کی درصورت عدم بلوغ امامت تراویح کرا سکتا ہے مثلا زید مذکور کے ولی نے کسی حافظ بالغ کو نوکر رکھااور بعد کہا کہ اس نابالغ کا قرآن شریف تراویح میں سن اس اجیر نے بوجہ اقتدا اس نابالغ کے قصد کیا کہ میں تراویح کا اعادہ کروں گا اس حیلہ سے اس فاعل پر کوئی کراہت ہے یا نہیں اکثر نابالغین امامت تراویح حسب تجویز مشائخ بلخ کرتے ہیں در صورت عدم جواز کیاان کاحکم یعنی ان رجال کا جوتراویح باقتدائے نابالغ اداکریں اعادہ ہے یا نہیں درصورت اعادہ ان پر کوئی اساء ت ہے یا نہیں خصوصا یہ مقتدی حافظ ہوکر جماعت نابالغ کرے بوجہ استاد ہونے کے اور اعادہ کرے تو اسپر کیا ہجنت وقباحت
الجواب :
جبکہ ہنوز پندرہ سال کامل نہیں اور وہ احتلام نہ ہونا ظاہر کرتا ہے تو اس کی تکذیب کی کوئی وجہ نہیں قول اس کا واجب القبول ہے اور تحدیدات میں وللاکثرحکم الکل نہیں کہہ سکتے ورنہ تحدید باطل ہوجائے اور آٹھ برس میں بھی حکم بلوغ ہوکہ پندرہ کااکثر وہ بھی ہے غرض پورے تمام پندرہ درکار ہیں ایك دن بھی کم ہوتو بے ا قرار یا ظہور آثار حکم بلوغ نہیں ہوسکتا
فی الدرالمختار فان لم یوجد فیھماشیئ فحتی یتم لکل منھماخمس عشرۃ سنۃ بہ یفتی ۔
درمختار میں ہے اگر دونوں (یعنی لڑکا اور لڑکی ) میں کوئی علامت نہ پائی جائے تو ہر ایك کے لئے پندرہ سال عمر کا کامل ہونا ضروری ہے اور اسی پر فتوی ہے (ت)
نابالغوں کی امامت تراویح تو درکنار فرائض بھی کرسکتا ہے
فی ردالمحتار غیرالبالغ فان کان
ردالمحتار میں ہے غیر بالغ اگر مذکر ہوتو اس کی امامت
حوالہ / References درمختار فصل ب لوغ الغلام الخ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۱۹۹
#11096 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
ذکراتصح امامتہ لمثلہ من ذکر وانثی وخنثی ۔
درست ہے یعنی اس کا اپنے ہم مثل مذکر مونث اور خسرہ کا امام بننا درست ہے(ت)۔
مگر بالغوں کی امامت مذہب اصح میں مطلقا نہیں کرسکتا حتی کہ تراویح ونافلہ میں بھی۔
فی ردالمحتار لایصح اقتداء الرجل بصبی مطلقا ولو فی نفل علی الاصح ۔
ردالمحتار میں ہے اصح قول ک۰عو ے مطابق بالغ مرد کا بچے کی اقتداء کرناہرحال میں درست نہیں اگرچہ نفل ہوں (ت)
ہدایہ میں ہے :
المختار انہ لایجوز فی الصلوات کلھا۔
مختار قول یہ ہے کہ سب نمازوں میں اس کی امامت درست نہیں ۔ (ت)
اس حافظ بالغ پراس حیلہ میں بربنائے مذہب اصح ضرورکراہت ہے لاشتغالہ بما لایصح(بسبب ایسے عمل میں مشغول ہونے کے جوصحیح نہیں ہے ۔ ت) درمختار میں ہے :
صلاۃ العید فی القری تکرہ تحریما ای لانہ اشتعال بمالایصح ۔
دیہاتوں میں عید ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے کیونکہ یہ ایسے عمل میں مصروف ہوناہے جو نادرست ہے(ت)
مذہب اصح میں ان بالغین پر اعادہ میں اساء ت کیا ہوتی بلکہ ترك اعادہ میں اساء ت ہے استاذ غیر استاذ سب اس حکم میں برابر ہیں ہاں اگر حافظ صحیح خواں سوانابالغ کے نہ ملتاہو توباتباع مشائخ بلخ سنت ختم حاصل کرلیں فان الادأعلی قول خیرمن الترك مطلقا(کیونکہ ایك قول کے مطابق ادا کرنا مطلقا ترك کرنے سے بہتر ہے ۔ ت)درمختار میں ہے :
الادء الجائز عند البعض اولی من الترك کما فی القنیۃ وغیرھا ۔
بعض کے نزدیك جائز ادا ترك سے اولی ہے جیسا کہ قنیہ وغیرہا میں ہے۔ (ت)
پھر مناسب یہ ہے کہ بلحاظ مذہب اصح اعادہ تراویح کرلیں لیحصل الاحتیاط بالمقدر المیسور(تاکہ بقدر
حوالہ / References ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۲۷
درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۸۴
الہدایۃ باب الامامۃ مطبوعہ المکبتبۃ العربیۃ کراچی ۱ / ۱۰۳
درمختار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۱۴
درمختار کتاب الصلٰوۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۶۱
#11097 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
آسانی احتیاط حاصل ہوجائے ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۶۱۴ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ۱ ہندہ زید کی بیوی کچھ روز علیحدہ رہی اب اس نے زید کو چھوڑ کر بکر سے نکاح کرناچاہااوراب ہندہ زید کے پاس جاکر دوچار روز رہی اس سے طلاق نامہ لکھوالائی اس جگہ کے جوصاحب پیش امام ہیں اور وہی قاضی بھی ہیں ان کو طلاق نامہ دکھایا پیش امام صاحب نے خود بھی پڑھا اور لوگوں نے بھی پڑھ کر پیش امام صاحب کو سنایا اور سب نے مع مادر ہندہ پیش امام صاحب سے کہا جب تك عدت کے دن پورے نہ ہوں نکاح نہیں ہوسکتا پیش امام صاحب نے فرمایا کہ تم لوگ نہیں جانتے ہو ضرور نکاح ہوجائےگا۔ چنانچہ رات کو مولوی صاحب پیش امام نے بکر کے خود گھرجاکر نکاح پڑھا دیابلکہ ہندہ کی والدہ اس نکاح میں بلانے سے بھی نہیں آئی نکاح بطمع نفسانی پڑھایاگیااورپہلے بھی اس قسم کے دوچار نکاح امام صاحب اور پڑھ چکے ہیں ۔ امام صاحب مولوی ہیں اوراکثر اس قسم کے فتوے بھی دیتے رہتے ہیں ۔ ۲ مسجد کے اندربوجہ پمپ ہونے کے پانی کی کثرت ہے بازار اور محلہ کے آدمی اپنے گھر وں کے کپڑے دھوتے ہیں پاك ناپاك چھینٹیں مسجد کے گھڑے لوٹے فرش مسجد پر پڑتی ہیں دوسرا آدمی کپڑے دھونے والوں کو منع کرتاہے تو مولوی صاحب منع کرنے والے کوبراکہتے ہیں اور مارنے کواس آدمی کے آمادہ ہوتے ہیں مسجد میں روزمرہ دھوبی گھاٹ رہتاہے اکثر لوگ مسجد کے اندر خط یعنی حجامت بھی بنواتے ہیں مگر مولوی صاحب کسی کے مانع نہیں آتے ۳ دوبرس سے مولوی صاحب اس مسجد میں مقررہیں چارمہینے اس جگہ رہتے ہیں باقی آٹھ ماہ باہراور شہروں میں وعظ کہتے ہیں اور اپنی اوگھائی کرتے ہیں غرض یہاں سے بھی اپنی تنخواہ سال تمام کی لیتے ہیں ۔ جو کوئی ان سے کہتا ہے کہ مولوی صاحب پیچھے آپ کے یہاں پر نماز پڑھانے والا میسر نہیں آتا ہم لوگوں کو بہت تکلیف ہوتی تو فرماتے ہیں ہم تو ایسے ہی رہیں گے اس مسجد کی تنخواہ میں پشم پرمارتاہوں ۔ ۴ اور جن لوگوں کی عورتیں باہر کی پھرنے والی ہیں ان کو مولوی صاحب نماز پڑھانے کی اجازت فرماتے ہیں ۔ فقط جواب سے مشرف فرمائیے۔
الجواب :
جس شخص کے وہ حالات و عادات واقوال وافعال ہوں وہ نرافاسق ہی نہیں بلکہ کھلا گمراہ بد دین ہے ۔ عدت کے اندر نکاح ناجائز و حرام قطعی ہے جس کی حرمت پر خود عظیم ناطق :
و المطلقت یتربصن بانفسهن ثلثة قروء-
اﷲ تعالی کا فرمان ہے وہ عورتیں جو مطلقہ ہوجائیں وہ اپنے آپ کو تین حیض تك روکے رکھیں ۔ (ت)
مسلمانوں پر فرض ہے کہ اس کو مسجد سے معزول کریں اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز کم از کم سخت
حوالہ / References القرآن ۲ / ۲۲۸
#11098 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
مکروہ جب اس کے فسق و بیباکی کی یہ حالت ہے توکیا اعتبار کے بے وضو نماز پڑھادیتاہو یا جاڑے کے دنوں میں خواہ ویسے ہی نہانے کی کاہلی سے بے نہائے امامت کرلیتاہو آخر بے غسل کے نماز پڑھنا عدت میں نکاح جائز کردینے سے زیادہ نہیں ہے۔ غنیہ شرح منیہ میں ہے :
انھم لوقدموا فاسقایا ثمون بناء علی ان کراھۃ تقدیمہ کراھۃ تحریم لعدم اعتنائہ بامور دینہ وتساہلہ فی الاتیان بلوازمہ فلایبعد منہ الاخلال ببعض شروط الصلاۃ وفعل بماینا فیھا بل ھو غالب بالنظر الی فسقہ ولذا لم تجزالصلوۃ خلفہ اصلا عند مالك وھوروایۃ عن احمد ۔
کیونکہ اگر لوگوں نے کسی فاسق کومقدم (امام)کردیا تو اس بنا پر گنہ گار ہوں گے کہ اس تقدیم کی کراہت مکروہ تحریمی ہے کیونکہ امور دینیہ میں لاپروائی برتتا ہے اور امور دینیہ کے تقاضوں اور لوازمات کو پورا کرنے میں تساہل سےکام لیتا ہے بعید نہیں کہ وہ نماز کے بعض شرائط کو خالی چھوڑنے کاارتکاب کرتاہو اورنماز کے منافی بعض اعمال بجالاتاہو بلکہ اس کے فسق کے پیش نظر ایساکرناغالب گمان ہے اسی لئے امام مالك کے نزدیك اس کے پیچھے نماز ہوتی ہی نہیں ۔ امام احمد بن حنبل سے بھی ایك روایت یوں ہی ہے(ت)
اور خود معاملہ نمازمیں اس کی بیباکی اور طہارت نجاست سے بے پروائی اسی بیان سے ظاہر جوسائل نے لکھے کہ ناپاك کپڑے مسجد میں دھونے والوں کو منع نہیں کرتا بلکہ منع کرنے کوبرا کہتا ہے اور لڑنے پر آمادہ ہوتا ہے تو جس کی یہ حالت ہے اس کے پیچھے نماز کی اصلا اجازت نہیں ہوسکتی واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۶۱۵ : از بنارس محلہ کندی گر ٹولہ مسجد بی بی راجی متصل شفاخانہ مرسلہ مولوی حکیم عبدالغفور صاحب ۲۰ محرم الحرام ۱۳۱۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شہر بنارس میں ایك مسجد متصل کچہری دیوانی جس میں نماز وقتیہ و جمعہ ہوتا ہے عرصہ دراز سے ایك جلسہ بایمائے حاکم ضلع بغرض انہدام مسجد مذکور اہل اسلام نے کیا منجملہ اور باتوں کے بیان کیا گیا کہ مسجد کا کھودنا بمعاوضہ مکان دیگر ازروئے کتب فقہ جائز ہے تو یہ مسجد کھود ڈالی جائے بعوض اس کے دوسری مسجد سرکار کی جانب سے تیار کردی جائے حالانکہ مسجد کا کھودنا ازروئے فقہ جائز نہیں ہے ۔ عالمگیریہ میں ہے :
لوکان مسجد فی محلۃ ضاق علی اھلہ ولایسعھم ان یزید وافیہ فسألھم بعض
اگر محلہ کی مسجد اہل محلہ پر تنگ ہو گئی ہو اور وہ لوگ اس میں کشادگی نہ کرسکتے ہوں تو اس مسئلہ کے متعلق بعض
مکروہ جب اس کے فسق و بیباکی کی یہ حالت ہے توکیا اعتبار کے بے وضو نماز پڑھادیتاہو یا جاڑے کے دنوں میں خواہ ویسے ہی نہانے کی کاہلی سے بے نہائے امامت کرلیتاہو آخر بے غسل کے نماز پڑھنا عدت میں نکاح جائز کردینے سے زیادہ نہیں ہے۔ غنیہ شرح منیہ میں ہے :
انھم لوقدموا فاسقایا ثمون بناء علی ان کراھۃ تقدیمہ کراھۃ تحریم لعدم اعتنائہ بامور دینہ وتساہلہ فی الاتیان بلوازمہ فلایبعد منہ الاخلال ببعض شروط الصلاۃ وفعل بماینا فیھا بل ھو غالب بالنظر الی فسقہ ولذا لم تجزالصلوۃ خلفہ اصلا عند مالك وھوروایۃ عن احمد ۔
کیونکہ اگر لوگوں نے کسی فاسق کومقدم (امام)کردیا تو اس بنا پر گنہ گار ہوں گے کہ اس تقدیم کی کراہت مکروہ تحریمی ہے کیونکہ امور دینیہ میں لاپروائی برتتا ہے اور امور دینیہ کے تقاضوں اور لوازمات کو پورا کرنے میں تساہل سےکام لیتا ہے بعید نہیں کہ وہ نماز کے بعض شرائط کو خالی چھوڑنے کاارتکاب کرتاہو اورنماز کے منافی بعض اعمال بجالاتاہو بلکہ اس کے فسق کے پیش نظر ایساکرناغالب گمان ہے اسی لئے امام مالك کے نزدیك اس کے پیچھے نماز ہوتی ہی نہیں ۔ امام احمد بن حنبل سے بھی ایك روایت یوں ہی ہے(ت)
اور خود معاملہ نمازمیں اس کی بیباکی اور طہارت نجاست سے بے پروائی اسی بیان سے ظاہر جوسائل نے لکھے کہ ناپاك کپڑے مسجد میں دھونے والوں کو منع نہیں کرتا بلکہ منع کرنے کوبرا کہتا ہے اور لڑنے پر آمادہ ہوتا ہے تو جس کی یہ حالت ہے اس کے پیچھے نماز کی اصلا اجازت نہیں ہوسکتی واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۶۱۵ : از بنارس محلہ کندی گر ٹولہ مسجد بی بی راجی متصل شفاخانہ مرسلہ مولوی حکیم عبدالغفور صاحب ۲۰ محرم الحرام ۱۳۱۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شہر بنارس میں ایك مسجد متصل کچہری دیوانی جس میں نماز وقتیہ و جمعہ ہوتا ہے عرصہ دراز سے ایك جلسہ بایمائے حاکم ضلع بغرض انہدام مسجد مذکور اہل اسلام نے کیا منجملہ اور باتوں کے بیان کیا گیا کہ مسجد کا کھودنا بمعاوضہ مکان دیگر ازروئے کتب فقہ جائز ہے تو یہ مسجد کھود ڈالی جائے بعوض اس کے دوسری مسجد سرکار کی جانب سے تیار کردی جائے حالانکہ مسجد کا کھودنا ازروئے فقہ جائز نہیں ہے ۔ عالمگیریہ میں ہے :
لوکان مسجد فی محلۃ ضاق علی اھلہ ولایسعھم ان یزید وافیہ فسألھم بعض
اگر محلہ کی مسجد اہل محلہ پر تنگ ہو گئی ہو اور وہ لوگ اس میں کشادگی نہ کرسکتے ہوں تو اس مسئلہ کے متعلق بعض
حوالہ / References غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامامۃ الخ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۵۱۳
#11099 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
الجیران ان یجعلوا ذلك المسجد لہ لید خلہ فی دارہ ویعطیھم مکانہ عوضا ماھو خیرلہ فیسع فیہ اھل المحلۃ قال محمد رحمہ اﷲ تعالی لایسعھم ذلك ۔
پڑوسی یہ کہتے ہوں کہ مسجد کو ان میں سے کوئی ایك حاصل کرے اور اپنے گھر میں شامل کرے اور اس کے عوض متبادل بہتر جگہ مسجد کے لئے خریدے تاکہ اہل محلہ مسجد میں کشادگی حاصل کر سکیں ۔ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا ایسا کرنا ان کے لئے جائز نہیں ہے۔ (ت)
اس جلسہ میں بعض وہ شریك تھے جو بنارس کے مولوی صاحب کہلاتے ہیں انھوں نے معلوم نہیں کس غرض سے مسجد مذکور کے کھودنے کے واسطے رائے دی اور دستخط بھی کئے بلکہ مولوی صاحب موصوف سے لوگوں نے دریافت کیا تو مولوی صاحب نے جواب دیا کھودنے کے واسطے رائے نہ دیتا تو کیا بیڑیاں پیروں میں ڈالتا حالت اکراہ میں تو دو خدا اور جناب رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو گالیاں دینا جائز ہیں ۔ حالانکہ کسی قسم کا اکراہ حاکم ضلع کی جانب سے نہ تھا صرف اہل اسلام سے امر مذکور الصدر میں رائے طلب کی گئی تھی مولوی صاحب نے اکراہ کو قطع اوقتل کےساتھ مقید نہیں کیا اور نہ توریہ کو کہا جس کی قید کتب فقہ میں ہے۔ الغرض ایسی ایسی باتیں مولوی صاحب نے بیان کیں جس سے عوام کے گمراہ ہوجانے کاخیال ہے۔ حنفیوں پر اکثر طعنے بھی مخالفین کے ہونے لگے کہ تمھارے یہاں ایسے ایسے گندے مسائل ہیں ۔ مولوی صاحب کو امام نماز کا ازروئے شرع ومصلحت بناناچاہئے یا نہیں بینوابالکتاب وتوجروایوم الحساب۔
الجواب :
یہ شخص بنص قطعی قرآن شریف فاسق وفاجر ہے ۔ قال اﷲتعالی :
و من اظلم ممن منع مسجد الله ان یذكر فیها اسمه و سعى فی خرابها-
اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو بازرکھے خدا کی مسجدوں کو ان میں نام خدا لئے جانے سے اور کوشش کرے ان کی ویرانی میں ۔
عذر اکراہ محض جھوٹا ہے جوکمیٹیاں رائے زنی کے لئے مقرر کی جاتی ہیں ہر گز حکام کی طرف سے گلے میں چھری نہیں رکھی جاتی کہ اگر تم نے یوں رائے نہ دی تو قتل کر دئیے جاؤ گے یا زبان کاٹ لی جائے گی یا ہاتھ قلم کر دئیے جائیں گے بلکہ رائے زنی کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ ہر شخص آزادانہ اپنی رائے ظاہر کرے۔ ہاں دنیا پرست جیفہ خور خوشامد میں
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ الباب الحادی عشر فی المسجد الخ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشارو ۲ / ۴۵۷
القرآن ۲ / ۱۱۴
#11100 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
آکر دین و ایمان گنواکر حکام پر جبرواکراہ کا طوفان اٹھا کر بحیلہ کاذبہ اکراہ چاہیں مسجد ڈھائیں چاہے خدا ورسول کو گالیاں سنائیں چاہے دو کے آتے تین گائیں
و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون(۲۲۷)
(عنقریب ظالم لوگ جان لیں گے کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ ت) ایسے لوگ نہ عنداﷲ معذور ہوسکتے ہیں نہ عندالحکام مجبور
مبادا دل آں فرومایہ شاد
کہ ازبہر دنیا دہد دیں بباد
(اس کمینے کا دل کبھی خوش نہ ہوجو دنیا کی خاطر دین کو ہوا کے حوالے کردیتا ہے۔ ت)
خرد مند انصاف پسند حاکموں کی نگاہ میں بھی دین فروش نہایت ذلیل و خوار ہوتا ہے کہ جس نے ذراسی خوشامد کے لئے دین جیسی عزیز چیز کوخیرباد کہا اس سے جو پاجائے تھوڑا ہے جس نے ادنی طمع کے واسطے حاکم حقیقی جل جلالہ سے روگردانی کی اس حاکم دنیوی کے ساتھ خیر خواہی کی توقع کیا ہے خسر الدنیا و الاخرة- ذلك هو الخسران المبین(۱۱) (دنیاوآخرت کا گھاٹا یہی صریح نقصان ہے۔ ت) اور مسئلہ اکراہ یوں بے قید الفاظ جو خدا اور رسول کی جانب منہ بھر کر اس شخص نے کہے وہ بھی اسکے سوئے ادب وقلت دین پر دال ہیں شرع مطہر میں خوف جان کے وقت بھی حکم عزیمت یہی ہے کہ کسی طرح اصلا کلمہ کفرزبان سے نہ نکالے اور رخصت یہ کہ حتی الامکان توریہ کر کے پہلو دار بات سے جان بچائیں اگر توریہ پر قادر تھا اور اسے چھوڑ کر صریح کلمہ کفر بولا قطعایقینا کافر ہوجائے گا درمختار میں ہے :
ان اکرہ علی الکفر باﷲ تعالی اوبسب النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بقطع اوقتل رخص لہ ان یظھر ما امر بہ علی لسانہ ویوری وقلبہ مطمئن بالایمان وان خطر ببالہ التوریۃ ولم یورکفرو بانت دیانۃ وقضاء نوازل وجلالیۃ ویوجر لوصبر لترکہ الاجراء المحرم الخ باختصار۔
اگر کسی کو مجبور کردیا گیا کہ وہ اﷲ تعالی کے ساتھ معاذاﷲ کفر کرے یانبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو معاذ اﷲ گالی دے ورنہ اسے قتل کردیا جائے گا یااس کا کوئی عضوکاٹ لیا جائے گاتو اسے اجازت ہے کہ زبان پر ایسے کلمات کو جاری کردے جن کا مطالبہ کیا گیا ہو لیکن توریہ (یعنی حتی الامکان پہلو دار بات کے ذریعے جان بچائے) سے کام لے اور اس کادل ایمان پر مطمئن اور قائم رہے اور اگر اس کے دل میں توریہ کا خیال آیا مگر اس نے توریہ نہ کیا تو وہ کافر ہوجائے گا اور اس کی عورت قضاء و
حوالہ / References القرآن ۲۶ / ۲۲۷
القرآن ۲۲ / ۱۱
درمختار کتاب الاکراہ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۱۹۶
#11101 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
دیانۃ بائنہ ہوجائیگی نوازل اورجلالیہ اور اگر صبر وہمت سے کام لے تو اجر پائے گا کیونکہ اس نے حرام کام کے ارتکاب کا ترك کیا ہے الخ اختصارا(ت)ایسے شدید فاسق کو افضل الاعمال نماز و مناجات بارگاہ بے نیاز میں اپنا امام بنانا سخت حماقت اور دین میں بے احتیاطی و جرأت ہے جب وہ ادنی طمع یا خوشامد کے لئے مسجد ڈھانے کے لئے موجود ہے تو ادنی تکلیف یا کاہلی کے باعث بے نہائے یا بے وضو نماز پڑھاتے اسے کیا لگتا ہے ایسے کوامام بنانے والے گناہگار ہوں گے مسلمانوں کو چاہئے ہرگزہرگز اس کے پیچھے نماز نہ پڑھیں ۔ اگر ناواقفی میں پڑھ لی تو اعادہ کریں ۔ غنیہ شرح منیہ میں ہے :
لو قدموا فاسقا یاثمون بناء علی ان کراہۃ تقدیمہ کراہۃ تحریم لعدم اعتنائہ باموردینہ وتساھلہ فی الاتیان بلوازمہ فلا یبعد منہ الاخلال ببعض شروط الصلوۃ وفعل ما ینافیھا بل ھوالغالب بالنظر الی فسقہ۔
اگر لوگوں نے فاسق کو امام بنادیا تو اس بناپر گناہگار ہوں گے کہ ایسے شخص کو امام بنانا مکروہ تحریمی ہے کیونکہ فاسق امور دینیہ میں لاپروائی برتتا ہے اور دین کے لوازمات کو بجالانے میں سستی کرتاہے ۔ پس ایسے شخص سے یہ بعید نہیں کہ وہ نماز کے بعض شرائط چھوڑ دے اور نماز کے منافی عمل کو بجالائے بلکہ ا یسا کرنا اس کے فسق کے پیش نظر اغلب ہے۔ (ت)
امام بنانا درکنار رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : “ ایسے کی صحبت سے دور بھاگو اسے اپنے سے دور رکھو کہیں وہ تمہیں بہکا نہ دے فتنہ میں نہ ڈال دے “ ۔ صحیح مسلم شریف میں ہے : ایاکم ایاھم لایضلونکم ولا یفتنونکم (تم اپنے آپ کو ان فساق سے بچاؤ تاکہ وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں اور فتنہ میں نہ ڈال دیں ۔ ت)اﷲ تعالی مسلمانوں کو ہدایت و توفیق بخشے۔ واﷲ سبحنہ وتعالی واعلم۔
مسئلہ ۶۱۶ : ازملك اپر برہما چھاؤنی مٹکینہ مرسلہ حاجی ہادی یارخان ۶صفر۱۳۶۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وحامیان دین اس مسئلہ میں کہ اس ملك میں رسم ہے کہ عورتیں بازار میں دکان کرتی ہیں اور باہر نکلتی ہیں سر کھول کر اور بجائے پاجامہ کے تہبند باندھتی ہیں چلتے میں ان کا جسم ران تك معلوم ہوتا ہے مردوں کو اور مرد ان کومنع نہیں کرتے اور جب ان کے شوہروں سے کہا گیا کہ شرع کے
حوالہ / References غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامامۃ الخ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۳
صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء الخ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۱۰
#11102 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
خلاف ہے ایسی عورتوں سے پرہیز کرو ۔ تو وہ کہتے ہیں ہم جوان ہیں جب ہم کو شہو ت ہوتی ہے تو ہم کیا کریں نکاح پڑھا لیتے ہیں ۔ اور وہاں اکثرآدمی اسی کے موافق پڑے ہوئے ہیں جن عورتوں کا ذکر ہوچکا اس کے پیچھے نماز اور امامت اس آدمی کی کیسی ہے
الجواب : ران کھولنا حرام ہے اور اس آزاد عورت کو سر کھولنا بھی حرام ہے۔ وہ عورتیں ان حرکات کی وجہ سے فاسقہ ہیں اور شوہر پر فرض ہے کہ اپنی عورت کوفسق سے روکے۔ اﷲ تعالی فرماتا ہے :
یایها الذین امنوا قوا انفسكم و اهلیكم نارا ۔
اے ایمان والو! بچاؤ اپنی جانوں کو اور اپنے گھروالوں کو آگ سے۔
اوررسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
کلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ ۔
تم سب اپنے متعلقین کے سردار وحاکم ہو اور ہرحاکم سے روزقیامت اس کی رعیت کے باب میں سوال ہوگا۔
تو یہ مرد کہ انھیں منع نہیں کرتے خود فاسق ہیں اور فاسق کے پیچھے نماز مکروہ ہے اور اسے امام بنانا گناہ ہے ۔ غنیہ میں ہے :
لوقدمو فاسقایاثمون ۔
اگر لوگوں نے فاسق کو امام بنایا تو وہ گنہ گار ہوں گے(ت)
بلکہ جب اس کی عورت بازار میں ران کھولے پھرتی ہے اور وہ منع نہیں کرتا تو دیوث ہے۔
فی الدرالمختار دیوث من لا یغار علی امرأتہ او محرمہ ۔
درمختار میں ہے کہ وہ شخص دیوث ہوتا ہے جو اپنی بیوی اور کسی محرم پر غیرت نہ کھائے ۔ (ت)
ہاں اگر یہ منع کرے روکے جس قدر اپنی قدرت اس رسم شنیع کے مٹانے سے ہے صرف کرے اور پھر عورت نہ مانے تو مرد پر الزام نہ رہے گا قال اﷲ تعالی : 
و لا تزر وازرة وزر اخرى-
( کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References القرآن ۶۶ / ۶
صحیح بخاری باب الجمعۃ فی القرٰی والمُدن مطبوعہ قدیمی کتب خانہ اصح المطابع کراچی ۱ / ۱۲۲
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامامۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۳
درمختار باب التعزیر مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۲۸
القرآن ۶ / ۱۶۴
#11103 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
مسئلہ ۶۱۷ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص ایك مسجد کا امام ہے اور وہ کارہائے مندرجہ ذیل سے روزی پیدا کرتا ہے : مردہ نہلانا اس کی اجرت لینا سوم میں قرآن مجید پڑھنا اور ناخواندہ لوگوں سے قرآن مجید پڑھوانا اور اس کی اجرت لینا مردے کے کپڑے وغیرہ لینا اور فروخت کرنا اور سود کھانا خفیہ طور سے۔ اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا ناجائز اور دوسرا شخص جس کو عام لوگ جانتے ہیں کہ اس کی روزی ناجائز ہے اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں ۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
سود لینا گناہ کبیرہ ہے یوں ہی جس ناجائز طریقہ سے روزی حاصل کی جائے وہ یا تو سرے سے خود ہی کبیرہ ہوگا یا بعد عادت کے کبیرہ ہوجائے گا ۔ ناخواندہ لوگوں سے پڑھواکر اجرت لیتاہے کے معنی سائل نے یہ بیان کیا کہ بے پڑھوں کو بلالاتا ہے اور براہ فریب ان کی قرآن خوانی ظاہر کرکے اجرت لیتا ہے یہ صورت خودکبیرہ کی ہے اور تلاوت قرآن کریم پر اجرت لینا ہی ناجائز ہے کما حققہ السید المحقق الشامی فی ردالمحتار وشفاء العلیل(جیسا کہ سید محقق شامی نے ردالمحتاراورشفاء العلیل میں اس پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔ ت) اور مردے کو نہلانے یا اٹھانے یا قبر کھودنے کی اجرت لینے میں دوصورتیں ہیں اگر یہ فعل اسی شخص پر موقوف نہ ہو اور لوگ بھی ہیں کہ یہ نہ کرے تو وہ کرسکتے ہیں جب توان پر اجرت لینی جائز ہے اوراگر خاص یہی شخص یا جنازہ اٹھانے کو یہی دو چار اشخاص ہیں کہ یہ نہ کریں تو کام نہ ہوگا اجرت لینی حرام ہے
فی الھندیۃ عن الخلاصۃ رجل استاجر قوما یحملون جنازۃ اویغلسون میتا ان کان فی موضع لایجد من یغسلہ غیرھؤلاء فلا اجرلھم وان کان ثمۃ اناس فلھم الاجروحفرالحفار علی ھذا وفی موضع لااجرھم لواخذوا الاجرلایطیب لھم ۔
ہندیہ میں خلاصہ سے ہے کہ ایك آدمی نے کچھ لوگوں کو جنازہ اٹھانے یا میت کو غسل دینے کے لئے کرایہ پر حاصل کیا اگر تو وہ ایسی جگہ ہے جہاں ان کے علاوہ اور کوئی دوسراغسل دینے والا نہیں اور نہ ہی جنازہ اٹھانے والا کوئی ہے تو ان کے لئے کوئی کرایہ لینا روا نہیں ہے اور اگر وہاں دوسرے لوگ ہیں تو پھر ان کے لئے کرایہ لینا جائز ہے ۔ قبر کھودنے والے کا معاملہ بھی یہی ہے اگر وہ ایسی جگہ ہے جہاں کرایہ لینا ان کے لئے جائز نہ تھا اور انہوں نے کرایہ لے لیا تو یہ ان کے لئے اچھاکام نہیں ہے۔ (ت)
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ الباب السادس عشرفی مسائل الشیوع الخ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۴۵۲
#11104 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
اور مردے کے کپڑے وغیرہ بہ نیت تصدق دے دئیے جاتے ہیں اگر یہ لینے والا محتاج ہے یا غنی ہے اور دینے والے کو اس کا غنی ہونا معلوم ہے یا وہاں بطور رسم امام نماز یا ملائے مسجد کو یہ چیزیں دی جاتی ہیں خواہ محتاج ہو یا نہیں تو لینا جائز ہے اگرچہ غنی کے لئے کراہت سے خالی نہیں اور اگر یہ شخص غنی ہے اور دینے والا محتاج کو دینا چاہتا ہے اوراس نے اپنے آپ کو محتاج جتاکر اس سے لے لئے توحرام ہے۔
کمالایخفی وقد نبہ فی الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ علی ادق من ھذا۔ جیسا
کہ مخفی نہیں کہ اورحدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہمیں اس سے بھی بڑھ کر سخت تنبیہ ہے۔ (ت)
اور گناہ کبیرہ خواہ ابتداء کبیرہ ہویا بعد عادت کبیرہ ہوجائے موجب فسق ہے اور فاسق معلن کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی اسے امام بنانا گناہ ہے کما حققہ المحقق الحلبی فی الغنیۃ (جیسا کہ محقق حلبی نے غنیہ میں اس کی تحقیق کی ہے۔ ت) ہاں گناہ کبیرہ خفیہ ہو یا اعلانیہ فاسق کردینے میں برابر ہے مگر ایسا خفیہ جس پر بندے مطلع نہ ہوں بندے اس پر حکم نہیں کرسکتے کہ بے جانے حکم کیونکر ممکن کما اوضحہ فی الدرالمختارمن الشھادۃ فی بیان تقییدھم شرب الخمر بالادمان(جیسا کہ درمختار میں شہادت سے متعلق گفتگو میں جہاں انھوں نے فقہاء کا شرب خمر کو دوام شرب کے ساتھ مقید کرنے کو بیان کیا ہے ۔ ت)اور مسلمان پر بدگمانی خود حرام ہے جب تك ثبوت شرعی نہ ہو واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۶۱۸ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جوشخص اسمعیل دہلوی مصنف تقویۃ الایمان کو حق جانتا ہواس کے پیچھے نماز پڑھنا چاہئے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
اگر اس کے ضلالت وکفریات پرآگاہی ہو کر اسے اہل حق جانتا ہو تو خود اس کی مثل گمراہ بددین ہے اور اس کے پیچھے نماز کی اجازت نہیں اگر نادانستہ پڑھ لی ہو تو جب اطلاع ہو اعادہ واجب ہے
کما ھوالحکم سائر اعداء الدین من المبتدین الفسقۃ المرتدۃ المفسدین۔
جیسا کہ یہی حکم تمام ان اعداء دین کا ہے جو بدعتی فاسق مرتد اور فساد پھیلانے والے ہیں ۔ (ت)
اوراگرآگاہ نہیں تو اسے اس کے اقوال ضالہ دکھائے جائیں اس کی گمراہی بتائی جائے رسالہ الکوکبۃ الشہابیۃ بطورنمونہ مطالعہ کرایاجائے۔ اگر اب بعد اطلاع بھی اسے اہل حق کہے وہی حکم ہے اور اگر توفیق پائے حق کی طرف فاخوانکم فی الدین(تو وہ تمھارے دینی بھائی ہیں ۔ ت)واﷲ سبحنہ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم ۔
#11105 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
مسئلہ ۶۱۹ : ۶جمادی الاولی ۱۳۱۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بغرض پیشہ کے جو شخص تصاویر دیوتائے اہل ہنود کی مثل ٹیسوو رادن ورام چندر وسیتا وغیرہ کی بناتا ہے اور فوٹوگرافر اور مغلم اور حرامی اور علی العموم جن اشخاص کی عورات بے پردہ سربازار پھرتی ہیں تواس حالت میں اشخاص مذکورین کے پیچھے پڑھنا نماز کا جائز ہے یا نہیں اور اگر پڑھ لی تو اعادہ اس کا چاہئے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
جاندار کی تصویر بنانی دستی ہو یا خواہ عکسی حرام ہے اورمعبودان کفار کی تصویریں بنانا اورسخت ترحرام واشد کبیرہ ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں ۔
ان اشد الناس عذابا یوم القیمۃ المصورون رواہ الائمۃ والشیخان عن عبداﷲ بن مسعود عن ام المؤمنین عائشۃ الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنھا۔
بیشك سب سے زیادہ سخت عذاب روزقیامت مصوروں پر ہوگا۔ اس کو ائمہ اوربخاری ومسلم نےحضرت عبداﷲ بن مسعود کے حوالے سے حضرت ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے نقل کیا ہے۔
یوں ہی مغلم فاسق فاجر مرتکب کبائر ہے۔ حدیث میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ملعون من یعمل عمل قوم لوط ۔ رواہ احمد عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔
ملعون ہے جو قوم لوط کا کام کرے۔ اس کو امام احمد نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا۔
جس کی عورت بے ستر باہر پھرتی ہے کہ بازو یا گلا یا پیٹ یا سر کے بال یا پنڈلی کا حصہ غرض جس جسم کا چھپانا فرض ہے کھلا ہوا ہے یا اس پر ایك باریك کپڑا ہو کہ بدن چمکتا ہو اور وہ اس حالت پر مطلع ہوکر عورت کو اپنی حد مقدور تك نہ روکتا ہو بندوبست نہ کرتا ہو وہ بھی فاسق و دیوث ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ثلثۃ لاید خلون الجنۃ العاق لوالدیہ والدیوث ورجلۃ النساء ۔ رواہ الحاکم والبیھقی بسند صحیح عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔
تین شخص جنت میں نہ جائیں گے ماں باپ کو ایذا دینے والا اور دیوث اور مردوں کی صورت بنانے والی عورت۔ اس کوحاکم اوربیہقی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے بسند صحیح روایت کیا ہے۔
حوالہ / References صحیح البخاری باب عذاب المصورین یوم القٰی مۃ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۸۸۰
مسند احمد بن حنبل مروی عن ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۲۱۷
السنن الکبرٰی للبیہقی باب الرجل یتخذ الفلاح والجاریۃ المغنیین الخ مطبوعہ دارصادر بیروت ۱۰ / ۲۲۶
درمختار باب التعزیرات مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۲۸
#11106 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
درمختار میں ہے :
دیوث من لایغارعلی امرأتہ او محرمہ ۔
جو اپنی عورت یا اپنی کسی محرم پر غیرت نہ رکھے وہ دیوث ہے۔
اسی طرح اگر عورت جوان اور محل فتنہ ہے اور اس کے باہر پھرنے سے فتنہ اٹھتا ہے اور یہ مطلع ہوکر باز نہیں رکھتاجب بھی کھلا دیوث ہے اگر چہ پورے ستر کےساتھ باہرنکلتی ہو ان سب لوگوں کو امام بنانا گناہ ہے اوران کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی قریب بحرام ہے نہ پڑھی جائے اور پڑھ لی تو اعادہ ضرور ہے۔ کماحققہ فی الغنیۃ وفصلناہ فی فتاونا(جیسا کہ اس تحقیق غنیہ میں ہے اور ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی تفصیلی گفتگو کی ہے۔ ت)اور حرامی کے پیچھے نماز مکروہ تنزیہی اور خلاف اولی ہے جبکہ وہ سب حاضرین سے زیادہ مسائل نماز وطہارت نہ جانتا ہو اگر امام نہ ملے تو ضرور اس کے پیچھے پڑھی جائے ۔ اس عذر سے ترك جماعت جائز نہیں فان الواجب لایترك لاجل (واجب کو کسی وجہ سے ترك نہیں کیا جاسکتا۔ ت) خلاف اولی اور دفع کراہت کےلئے اعادہ مستحب کما بینہ فی الدرالمختار(جیسا کہ درمختار میں اس کو بیان کیا ہے۔ ت) واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر۶۲۰ : ازنجیب آباد مرسلہ حافظ محمد ایازصاحب ۲۰ جمادی الاخری۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کو مرض بواسیر کا ہے اور مسے کثرت سے ہوگئے ان میں سے آلائش رنگ زردی مائل خارج ہوتی ہے ونیز کثرت مسوں سے اخراج ریح فضلہ براز کا دھبا بھی کپڑے پر آجاتا ہے کہ جو ہجوم مسوں کی وجہ سے وقت اجابت کسی جگہ اندر الجھا ہوا رہ جاتا ہے ان دونوں حالتوں میں کپڑا ہر وقت نجس رہتا ہے زید مذکور ہر طرح انتظام مثل لنگوٹ باندھنا دو یا تین پاجامے رکھنا اور ان کا وقتا فوقتا دھوکرپاك رکھنا یہ سب کچھ کر چھوڑا مگر کچھ نہ ہوسکا خاص کرسفر میں اس سے زیادہ دقتیں پیش آتی ہیں اور خصوصا امامت کرنا اگرچہ وہ امامت سے درگزر کرتا ہے مگر اس صورت میں وہ کیا کرسکتا ہے کہ ادائے نماز فرض کے واسطے کھڑا ہوا اور بعد کو اور نمازی آکر مقتدی بن گئے بجز اس کے کیا چارہ کہ نماز اداکرے ان دقتوں کی حالت میں زید مذکور کو کیا کرنا چاہئے کہ جس سے بے کراہت نماز ادا کرے اور وہ کپڑا حکم پاکی کا رکھےبینوا توجروا۔
الجواب :
اگر حالت ایسی ہے کہ کپڑا پاك کرے یا بدلے تو فرض نہ پڑھنے پائے گا کہ پھر نجس ہوجائے گا یعنی براز ساڑھے چارماشہ سے زائد یا وہ زرد پانی روپیہ بھر کی مساحت سے زیادہ آجائے گا تو دھونے کی کوئی ضرورت
حوالہ / References درمختار باب التعزیرات مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۲۸
درمختار ، باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۷۱
#11107 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
نہیں ورنہ بے دھوئے خود اس کی اپنی نماز نہ ہوگی اور جبکہ وہ حالت معذوری میں ہے یعنی کوئی وقت کامل نماز کا ایساگزر گیا شروع سے ختم تك کہ اسے وضو کرکے فرض پڑھ لینے کی فرصت نہیں ملی اور جب سے برابر ہروقت نمازمیں یہ نجاست آتی رہتی ہے اگرچہ وقت میں ایك ہی بار تو وہ ایسی حالت میں امامت نہیں کرسکتا لوگ اگرآکر شامل ہوں جہر نہ کرے تکبیر آواز سے نہ کہے وہ لوگ خود الگ ہوجائیں گے۔ اور اس پر بھی جدانہ ہوں تو بعد سلام اطلاع کردے کہ میں معذور ہوں میرے پیچھے نماز جائزنہیں تم اپنی پھر پڑھ لو۔
فی الدرالمختار ان سال علی ثوبہ فوق الدرھم جازلہ ان لا یغسلہ ان کان لوغسلہ تنجس قبل الفراغ منھا ای الصلاۃ والایتنجس قبل فراغہ فلا یجوز ترك غسلہ ھوالمختار للفتوی واﷲ تعالی اعلم۔
درمختار میں ہے اگر معذور کے کپڑے پر درہم سے زیادہ نجاست بہہ گئی تو اس کے لئے اس کا نہ دھونا اس صورت میں جائز ہے جبکہ اس کو دھوئے تو نماز سے فارغ ہونے سے پہلے کپڑے اس کے نجس ہوجاتے ہیں اگر اس کے فارغ ہونے سے پہلے نجس نہ ہو تو اس کے لیے دھونے کو ترك کرنا جائز نہیں۔ فتوی کے لئے یہی قول مختارہے(ت)
مسئلہ نمبر۶۲۱ : ازدلیرگنج پر گنہ جہاں آبادضلع پیلی بھیت مرسلہ خلیفہ الہی بخش ۱۸رجب ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں جو شخص قواعد تجوید سے ناواقف ہو اس کوامام کیاجائے یا نہیں اور اگر کیا جائے توا س کے پیچھے قواعدداں کی نماز ہوگی یا نہیں اور عام لوگوں یعنی غیرقواعدداں کی نماز بھی اس کے پیچھے ہوگی یا نہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
اگر ایسی غلطیاں کرتا ہے کہ معنی میں فساد آتا ہے مثلا حرف کی تبدیل جیسے ع ط ص ح ظ کی جگہ و ت س ہ ز پڑھناکہ لفظ مہمل رہ جائے یامعنی میں تغیر فاحش راہ پائے یاکھڑا پڑا کی بدتمیزی کہ حرکات بڑھ کر حروف مدہ ہوجائیں اور وہی قباحتیں لازم آئیں جس طرح بعض جہال نستعین کو نستاعین پڑھتے ہیں کہ بے معنی یا لا الی اﷲ تحشرون بلام تاکید کو لالی اﷲ تحشرون بلائے نافیہ کہ تغیر معنی ہے تو ہمارے ائمہ متقدمین کے مذہب صحیح ومعتمد محققین پر مطلقا خود اس کی نماز باطل ہے کما حققہ ورجححہ المحقق فی الفتح والحلبی فی الغنیۃ وغیرھما (محقق نے فتح میں اورحلبی نےغنیـہ میں اور دیگر لوگوں نے اپنی کتب میں اس کی تحقیق
حوالہ / References درمختار باب الحیض مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۳
#11108 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
کی ہے۔ ت) اور جب اس کی اپنی نہ ہوگی تو قوادداں وغیرہ کسی کی اس کے پیچھے نہ ہو سکے گی فان صلوۃ المأموم مبتنیۃ علی صلوۃ الامام (کیونکہ مقتدی کی نماز امام کی نماز پر مبنی ہے۔ ت) اور اگر غلطی یوں ہے کہ حرف بروجہ صحیح ادا نہیں کرسکتا جس طرح آج کل عام دہقانوں اور بہت شہریوں کا حال ہے تو اب جمہور متاخرین کا بھی فتوی اسی پر ہے کہ اس کے پیچھے صحیح خواں کی نماز باطل کما افادہ العلامۃ الغزی والعلامۃ الخیر الرملی وغیرھما(جیسے علامہ غزی اورعلامہ خیررملی اور دیگر علماء نے اس کا تذکرہ کیاہے۔ ت) اور جب اس کی اپنی نہ ہوگی اور اگر عجزیوں ہے کہ سیکھنے کی کوشش نہ کی یا کچھ دنوں کرکے چھوڑ دی اگر لپٹا رہتا تو امید تھی کہ آجاتا جب توایسی غلطی ان کے نزدیك بھی خود اس کی اپنی نماز بھی باطل کرے گی کما فی الخلاصۃ والفتح وغیرھماعامۃ الکتب(جیسے خلاصہ فتح اور ان کے علاوہ عام کتب میں ہے ۔ ت) غرض ایسا شخص امام بنانے کے لائق نہیں وقد فصلناالقول فی تلك المسائل فی عدۃ مواضع من فتاونا(ہم نے ان مسائل پر اپنے فتاوی میں متعدد جگہ پر تفصیل سے لکھا ہے ۔ ت) اور اگر ایسی غلطی نہیں کرتا جس سے فسادمعنی ہو تو نماز خود اس کی بھی صحیح اور اس کے پیچھے اور سب کی صحیح پھر اگر حالت ایسی ہے کہ تجوید کے امور ضروریہ واجبات شرعیہ ادا نہیں ہوتے جن کا ترك موجب گناہ ہے جیسے مدمتصل بقدر ایك الف وغیرہ فما فصلنا فی فتاوی لنا فی خصوص الترتیل(جس کا ہم نے اپنے فتاوی میں ترتیل کے تحت تفصیلا ذکر کیا ہے۔ ت) جب بھی اسے امام بنایا جائے گا نماز اس کے پیچھے بشدت مکروہ ہوگی لاشتمالہاعلی امرمؤثم وکونہ فاسقا بتمادیہ علی ترك واجب متحتم (کیونکہ وہ ایسے امر پر مشتمل ہے جو گناہ ہے اور اسکا فاسق ہونا اس شك میں ڈالتا ہے کہیں وہ حتمی واجب کا ترك نہ کر بیٹھے۔ ت) اور اگر ضروریات سب ادا ہولیتے ہیں صرف محسنات زائد ومثل اظہار اخفا وروم واشمام وتفخیم وترقیق وغیرہا میں فرق پڑتا ہے تو حرج نہیں ہاں قواعدان کی امامت اولی ہے لان الامام کلما کان اکمل کان افضل (وہ شخص جو ہر لحاظ سے اکمل ہو وہی افضل امام ہوگا۔ ت) واﷲ سبحنہ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۶۲۲ : ازبنگالہ سہلٹ موضع پیام مرسلہ جناب سورج میاں صاحب معرفت مولوی سلطان الدی ۱۳شعبان ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عمرو سے زید دربارہ جائداد مشترك فیہ بینھما نزاع مقدمہ کچہری کیاعمرو فتح یاب ہوا زید اس گاؤں کا امام ہے ابعمرو نے بوجہ تعصب ومخاصمت کے تمام اس کے مقتدیوں کو کہا کہ زید نے کچہری میں واسطے فتحیابی اپنے مقدمہ کرکے جھوٹ بولا تم لوگ اب اسکے پیچھے نماز مت پڑھو وہ اب امامت کے قابل نہیں رہا تب مقتدیوں نے عمرو سے کہا کہ تم اس کے جھوٹ بولنے کا کوئی ثبوت پیش کرو ہنوز کوئی شاہد پیش نہیں کیا گیا دعوی بلا دلیل ہے اور آج تك کبھی زید نے جھوٹ کلمہ اپنی زبان سے
#11109 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
نہ نکالا اور نہ کسی نے اس پر دروغ گوئی کا کبھی شك کیا اگر بالفرض اس کی کذب گوئی پر کوئی گواہ ثابت ہوجائے تو زید قابل امامت رہے گا یا نہیں اس کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
نماز اس کے پیچھے ہوجانے میں تو اصلا شبہ نہیں بحدیث صلواکل بر وفاجرف اورکچہری میں مقدمہ ہار جانے سے جھوٹا ہونا ثابت نہیں ہوتا
کچہریوں میں ہزاروں بار جھوٹے سچے اورسچے جھوٹے ٹھہرتے ہیں انگریزی کچہریاں تو شرع مطہر سے علاقہ رکھتی ہی نہیں بلالکہ یہاں کے اسلامی محکمے ہی پوری پابندی شرع سے صراحۃ کنارہ گزیں جہاں کامل شرعی عدالتیں تھیں وہاں بھی باآنکہ قاضی شرع جس کے خلاف حکم فرمادے اسے فقہاء دفع تناقض کے لئے صار مکذبا شرعالکھتے ہیں مگر کسی مدعی یا مدعا علیہ کو صرف اس بنا پر کاذب وفاسق ومرتکب کبیرہ نہیں کہہ سکتے کہ حکم حاکم بنظر ظاہر ہوتاہے اس سے واقع میں کذب لازم نہیں آتا۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
انما انا بشر وانکم تختصمون الی ولعل بعضکم ان یکون الحن بحجتہ من بعض فاقضی لہ علی مانحوما اسمع منہ فمن قضیت لہ بشیئ من حق اخیہ فلا یاخذنہ فانما اقطع قطعۃ من النار ۔ رواہ الشیخان عن ام سلمۃ رضی اﷲ تعالی عنہما۔
میں ایك انسان ہوں اور تم میرے پاس اپنے مقدمات لے کر آتے ہو ممکن ہے تم میں سے کوئی آدمی دلیل پیش کرنے میں ہوشیار ہو اور دلیل کی وجہ سے دوسرے پر غالب آجائے اور میں دلائل سننے کے بعد اس کے مطابق فیصلہ کردوں تو جس کے حق میں فیصلہ ہوا ہو وہ اس کو نہ لے کیونکہ وہ ایك آگ کا ایك ٹکڑا ہے ۔ اسے بخاری ومسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کیا۔ (ت)
علاہ بریں بعض وقت آدمی کسی شبہ یا سہو یا جہل کے باعث اپنے آپ کو حق پر جان کر دعوی یا جواب دہی کرتا ہے تو بات واقع میں اگرچہ خلاف ہے مگر اس نے قصد کذب نہ کیا حکم فسق اس پر نہ ہوا
ومثل ذلك کثیرفی خصومات الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنھم بل ھوالمتعین فیھم ۔
اس کی مثالیں مقدمات صحابہ میں بہت ہیں بلالکہ یہی ان میں متعین ہیں ۔ (ت)
حوالہ / References صحیح البخاری باب من اقام البینۃ بعد الیمین مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۰
ف : حدیث کےالفاظ تفصیلًا یوں ہیں : صلواخلف کل بر وفاجر صلواعلی کل بر وفاجر وجاھدوا مع کل بر وفاجر۔ نذیر احمد سعیدی
#11110 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
علاوہ بریں جب آدمی کا حق مارا جاتا ہو اور وہ بغیر کسی ایسے اظہار کے جوبظاہر خلاف واقع ہے حاصل نہ ہوسکتا ہو تو اپنے احیائے حق کے لئے ایسی بات کا بیان شرعا جائز ہے اگر چہ سامع اسے کذب پر محمول کرے۔ درمختار میں ہے :
اکذب مباح لاحیاء حقہ ودفع الظلم عن نفسہ الخ وتمام تحقیقہ فی ردالمحتار عن تبیین المحارم عن الامام حجۃ الاسلام۔
اپنے حق کے حصول اور اپنے آپ سے ظلم کو دور کرنے کے لئے کذب مباح ہے الخ اور اس کی پوری تفصیل امام حجۃ الاسلام کی تبیین المحارم کے حوالے سے ردالمحتار میں ہے۔ (ت)
بالجملہ صورت مذکورہ میں صرف بیان مدعا علیہ کوئی چیز نہیں اگر کسی گواہ سے بھی ثابت ہو کہ زید نے اپنے دعوی یا تائید دعوی میں کئی بات خلاف کہی تواس سے واقعی کاذب وفاسق ہونا ثابت نہیں ہوتا ہاں اگر شہادت شرعیہ سے زید کا کذاب فاسق بے حرمت ہونا پایہ ثبوت کو پہنچے تو بے شك اسے امام بنانا ممنوع اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ ہوگا کما ھوحکم الفاسق(جیسا کہ فاسق کا حکم ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۶۲۳ : از شہر کہنہ مرسلہ سید عبدالواحد متھراوی ۲۰ذیقعدہ ۱۳۱۷ھ
عورت کا اپنے خاوند کے ساتھ ایك ہی مصلے پر فرض نماز پڑھنا بایں صورت کہ خاوند امام ہو اور عورت مقتدی کیا حکم رکھتا ہے
الجواب :
اگر عورت اس قدر پیچھے کھڑی ہے کہ اس کی ساق مرد کی ساق یا کسی عضو کے محاذی نہیں تو اقتدا صحیح ہے اور دونوں کی نماز ہوجائے گی اور اگر برابر ہے کہ بیچ میں کوئی حائل ہے نہ کوئی اتنا فاصلہ جس میں ایك آدمی کھڑاہوسکے اور عورت کی ساق مرد کی ساق یا کسی عضو کے محاذی ہے تو اس صورت میں اگر مرد نے اس کی امامت کی نیت نہ کی تو مرد کی نماز صحیح ہے اور عورت کی فاسد اور اگر مرد نے تحریمہ نیت امامت زن کی تھی تو دونوں کی گئی ۔ فتاوی امام قاضی خان میں ہے :
المرأۃ اذاصلت مع زوجھا فی البیت ان کان قدماھا بحذاء قدم الزوج لاتجوز صلاتھما بالجماعۃ وان کان قدماھا
کسی خاتون نے جب اپنے خاوند کے ساتھ گھر میں نماز ادا کی ہو اگر اس کے قدم خاوند کے قدم کے مقابل ہوں تو دونوں کی نماز باجماعت جائز نہ ہوگی اور اگر اس کے قدم
حوالہ / References درمختار فصل فی البیع من کتاب الحظروالاباحت مطبوعہ مجتبائی دہلی ۲ / ۲۵۴
#11111 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
خلف قدم الزوج الا انھا طویلۃ تقع رأس المرأۃ فی السجود قبل رأس الزوج جازت صلاتھما لان العبرۃ للقدم ۔
خاوند کے قدم سے پیچھے اگر خاتون کا قد لمبا ہونے کے وجہ اس کا سر حالت سجدہ میں خاوند کے سر سے آگے ہوتا تو پھر بھی دونوں کی نماز درست ہوگی کیونکہ اعتبار قدموں کا ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
الزیلعی قال المعتبر فی المحاذاۃ الساق والکعب فی الاصح وبعضھم اعتبرالقدم اھ فعلی قول البعض لو تأخرت عن الرجل ببعض القدم تفسد وان کان ساقہا وکعبھا متاخرا عن ساقہ وکعبہ وعلی الاصح لاتفسدوان کان بعض مھا محاذیا لبعض قدمہ الخ
زیلعی کہتے ہیں کہ اصح قول کے مطابق محاذات میں پنڈلی اور ٹخنے کا اعتبار ہے اور بعض نے قدم کا اعتبار کیا ہے اھ تو بعض کے قول پر اگر قدم کا کچھ حصہ مرد سے پیچھے ہوا نماز فاسد ہوگی اگر چہ اس کی پنڈلی اور ٹخنے مرد کی پنڈلی اور ٹخنے سے پیچھے ہوں اور اصح یہ ہے کہ نماز فاسد نہیں ہوگی اگر چہ بعض قدم عورت کا مرد کے بعض قدم کا محاذی ہو الخ(ت)
درمختار میں ہے :
حاذتہ مشتھاۃ ولاحائل بینھما اقلہ قدرذراع فی غلظ اصبع اوفرجۃ تسع رجلا فی صلاۃ مطلقۃ مشترکۃ تحریمۃ واداء واتحدت الجھۃ فسدت صلاتہ لومکلفا ان نوی الامام وقت شروعہ لابعدہ امامتہا والا ینوھا فسدت صلاتھا اھ مختصرا
مرد کے محاذی ایسی خاتون ہوگئی جو صاحب شہوت ہو اور ان کے درمیان کوئی مرد اور آڑحائل نہ ہو آڑ کم ازکم بلالندی میں ایك ہاتھ کے برابر موٹائی میں ایك انگلی کے برابر کا اعتبار ہے یا یہ کہ دونوں کے درمیان فاصلہ اتنا چھوٹا ہو جو ایك آدمی کی گنجائش رکھتا ہو (کہ آڑ اور فاصلہ کی صورت میں نماز فاسد نہ ہوگی) اوریہ کہ نماز مطلق (یعنی رکوع سجدہ والی ) ہو ۔ تکبیر تحریمہ وادا میں دونوں مشترك ہوں اور جہت بھی ایك ہو تو مرد کی فاسد ہوجائے گی اگر وہ مکلف ہو(یعنی عاقل بالغ ہو) اورامام نے شروع نماز کے وقت اس خاتون کی امامت کی نیت کی ہو نہ کہ نمازشروع کرنے کے بعد اور اگرامام نے عورت کی امامت
حوالہ / References فتاوی قاضی خان فصل فیمن یصح الاقتداء الخ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴۵
ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۲۳
درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۴
#11112 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
کی نیت نہیں کی تو اس خاتون کی نماز فاسد ہوگی اھ اختصارا (ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر۶۲۴ : ۲۹ذیقعدہ ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سود خور اور رشوت خور اور جس شخص کی بی بی بے حجاب رہتی ہے اور جو شخص جھوٹی گواہی دیتا ہے اور جوشخص بعض اوقات نماز پڑھتا ہے ان سب کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں جواز وعدم جواز کی کیادلیل ہے
الجواب :
سود خور اوررشوت خور اورجھوٹی گواہی دینے والااور قصدا بعض اوقات نماز چھوڑ دینے والا یہ سب فاسق ہیں اور فاسق کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے۔
کما فی الغنیۃ عن الحجۃ واقرہ فی ردالمحتار وتفصیلہ فی رسالتنا النھی الاکید عن الصلاۃ ورای عدی التقلید۔ جیسا کہ غنیہ میں فتاوی حجہ سے مروی ہے ردالمحتار میں اسے ثابت رکھا اور اس کی تفصیل ہمارے اپنے رسالے “ النہی الاکید عن الصلاۃ ورای عدی التقلید “ میں ہے۔ (ت)
اور جس کی عورت بے پردہ نکلتی ہے اسی طرح کہ جن اعضاء کا چھپانا فرض ہے ان میں سے کچھ ظاہر ہوتا ہے مثلا سر کے بال یا بازو یا کلائی یا گلا یا پیٹ یا پنڈلی کاحصہ خواہ یوں کہ ان مواقع پر کپڑا ہی نہ یاہو تو باریك کہ ستر نہ کرسکے یا باہر نہیں نکلتی مگر گھر میں غیر محرم بکثرت آتے جاتے ہیں اوروہ ایسی ہی حالت میں رہتی ہے اور شوہر ان امور پر مطلع نہیں کرتا تو وہ خود دیوث ہے فاسق ہے۔
فان الدیوث کما فی الحدیث وکتب الفقہ کالدر وغیرہ من لایغار علی اھلہ ۔
حدیث اور کتب فقہ مثل درمختار وغیرہ کے مطابق دیوث وہ شخص ہوتا ہے جو اپنی بیوی پر غیرت نہیں کھاتا۔ (ت)
اور اگرت ایسا نہیں بلالکہ تمام بدن کے پورے سترعورت کے ساتھ گھر میں کسی نامحرم مثلا جیٹھ دیور بہنوئی یا اپنے چچا خالہ ماموں پھوپھی کے بیٹوں کے سامنے ہوتی ہے یا کم قوم لوگوں کی عورات جو خوب موٹے اور ڈھیلے کپڑے پہنے سارا بدن ڈھانکے اپنی ضرورتوں کے لئے باہر آتی جاتی ہیں یا عورت تو بے حجابی اسی طرح کرتی ہے مگر مرد اسے اپنی حد قدرت تك روکتا ہے منع کرتا ہے اور وہ یونہی نہیں مانتی تو ان صورتوں میں شوہر پر کچھ الزام نہیں اور اس وجہ سے
حوالہ / References درمختار ، باب التعزیر ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۳۲۸
#11113 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
اسکے پیچھے نماز میں کراہت نہیں ہوسکتی۔
قال اﷲ تعالی و لا تزر وازرة وزر اخرى- ۔
(اﷲ تعالی کا ارشاد گرامی ہے کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۶۲۵ ۶۲۶ : از بسولی ضلع بدایوں مرسلہ خلیل الرحمن صاحب ۹شعبان المعظم۱۳۱۹ہجری
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
(۱) وہ کون کون شخص ہیں مسلمانوں میں جن کے پیچھے نماز درست نہیں
(۲) کون سی صورت میں نابینا کے پیچھے نماز درست ہے یا بالکل ناجائز
الجواب :
(۱) بہت لوگ ہیں ازانجملہ غیرمقلدین اور رافضی اور وہ وہابی جن کی بدعت حدکفر تك پہنچی ہے سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : الصلوۃ خلف اھل الھواء لاتجوز(اہل ہواء کے پیچھے نماز جائز نہیں ۔ ت)جو قرآن مجید غلط پڑھتا ہو جس سے فساد معنی ہو جس کی طہارت صحیح نہ ہو اگرچہ معذوری کی وجہ سے مثلا جسے معاذاﷲ سلس البول یا ہروقت ریح خارج ہونے کا عارضہ ہے یازخم یا پھوڑے سے خون یا زردآب بہتا ہے۔ اسی طرح وہ شافعی المذہب مثلا جس نے اپنے طور پر طہارت صحیحہ کی مگر مذہب حنفی میں صحیح نہ ہوئی مثلا سر کے صرف ایك بال کا مسح کرلیا یا فصد لگوا کر وضو کا اعادہ نہ کیا کہ حنفی کی نماز اس کے پیچھے نہ ہوگی۔ ان کے سوا اور بکثرت صوتیں ہیں کہ کتب مذہب میں اس کی تفصیل ہے۔
(۲) نابینا کے کپڑے پر اگر نجاست بقدر منع نماز لگی ہے اور اسے خبر نہیں یااس کے زخم یاپھوڑے سے خون بہا اوراس نے نہ دیکھا تو اس صورت میں اس کے پیچھے نماز ناجائز ہے ورنہ صرف مکروہ تنزیہی اور خلاف اولی ہے جبکہ سب حاضرین سے زیادہ علم نہ رکھتا ہے ورنہ وہی امام کیا جائے گا۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۶۲۷ : ازگورا بازار ۲۲جمادی الاولی۱۳۱۸ھ
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ حافظ کریم بخش امام مسجد گورا بازار یتیموں کا مال پوشیدہ لے جانے میں شریك ہوئے اور اقرار بھی کیا اور ماسوا اس کے اور کچھ بھی نہیں اس سبب سے مقتدیوں نے اقتداکرناچھوڑ دیا اور امام دوسرے کی اقتدا کی تب امام اول ایك مولوی کو بلا کر لایا اور کچھ دے کر اور یہ بھی سنا گیا کہ آٹھ آنہ ماہواری بھی دینے کا اقرار کیا مولوی صاحب سے کچھ بیان کرایا اور اس نے کچھ حق بھی بیان کیا
حوالہ / References القرآن ۶ / ۱۶۴
#11114 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
اور کچھ طرف داری بھی کی آیا مولوی صاحب اس آیت کے حکم میں داخل ہوئے یا نہیں ولاتشترو بایتی ثمناقلیلا اورمولوی صاحب نے مقتدیوں کو سمجھایا اوران کی امامت قائم کرادی اور امام نے مقتدیوں سے معافی چاہی مقتدیوں نے دونوں اماموں کو قائم رکھا اورامام اول کی خطا مقتدیوں کے معاف کرنے سے یتیموں کی حق تلفی جو کی وہ بھی معاف ہوئی یا نہیں یا امام اول کو یتیموں کا حق دینا پڑے گا اوردلوانا پڑے گا یا نہیں اور ایك آدمی خوش الحانی کو ضروریات سے جاننے والا ہے امام کی آیایہ شرط ہے ازروئے شرع شریف کے یا نہیں اور ایك شخص پابندی نماز نہیں کرتا ہے فارسی میں دخل بہت ہے وہ امام اول کو چاہتے ہیں کہ یہ رہے اور دوسرے کو نہیں چاہتے اور امام دوسرے کی حقیقت یہ ہے کہ علم حدیث و تفسیر وفقہ واصول عربی میں دخل ہے اب اقتدا واسطے مقتدیوں کے کس کی امامت افضل اور بہتر ہے اور عالم کے پیچھے نماز پڑھنا ایسی ہے جیسے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے پیچھے پڑھی آیا اس کا ثبوت شرع شریف میں ہے یا نہیں اور امام اول کی اقتداء ابھی تك بعض لوگ مکروہ جانتے ہیں ۔ بینواتوجروامع حوالہ کتاب۔
الجواب :
پرایا مال بے اذن شرعی لینا چوری اور گناہ کبیرہ ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں لایسرق السارق حین یسرق وھومومن چور چوری کرتے وقت ایمان سے الگ ہوجاتا ہے اور یتیموں کا مال ناحق لینا سخت تر کبیرہ ہے اﷲ تعالی فرماتا ہے :
ان الذین یاكلون اموال الیتمى ظلما انما یاكلون فی بطونهم نارا-و سیصلون سعیرا(۱۰)
جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں نری آگ کھاتے ہیں اور عنقریب دوزخ میں جائیں گے۔
یتیموں کا حق کسی کے معاف کئے معاف نہیں ہوسکتا یہاں تك کہ خود یتیم کا دادا یا ماں کسی نابالغ کے ماں باپ اس کا حق کسی کو معاف کردیں ہر گز معاف نہ ہوگا فان الولایۃ للنظر لاللضرر(کیونکہ ولایت نگرانی کے لئے حاصل ہوتی ہے نقصان دینے کے لئے نہیں ۔ ت)بلالکہ خود یتیم ونابالغ بھی معاف نہیں کرسکتے نہ ان کی معافی کا کچھ اعتبار ہے للحجرالتام عماھوضرر(کیونکہ نقصان دہ معاملہ میں تصرف کرنے سے انہیں مکمل روك دیا گیا ہے۔ ت) محض یتیموں کا حق ضرور دینا پڑے گا اور جو نکلوا سکتا ہے اسے چاہیے کہ ضرور دلادے ہاں یتیم بالغ ہونے کے بعد معاف کرے تو اس وقت معاف ہوسکے گا۔ مقتدیوں نے کہ ایسی حرکات نشائستہ کے باعث
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الاشربہ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۸۳۶
القرآن ۴ / ۱۰
#11115 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
امام اول کے پیچھے نماز پڑھنی چھوڑ دی بہت اچھا کیا انھیں اسی کا حکم تھا کما حققہ فی الغنیۃ عن فتاوی الحجۃ واقرہ فی ردالمحتار وقد تکر ربیانہ فی فتاونا(جیسا کہ فتاوی حجہ کے حوالے سے غنیہ میں اس کی تحقیق کی ہے اور ردالمحتار میں اسے برقرار رکھا۔ اس مسئلہ کا بیان ہمارے فتاوی میں متعدد جگہ پر موجود ہے۔ ت)جس شخص نے کچھ لے کر بعض ناحق باتیں امام اول کی طرفداری کے حق میں ملادیں وہ ضرور آیہ کریمہ و لا تشتروا بایتی ثمنا قلیلا- اور آیہ کریمہ و لا تلبسوا الحق بالباطل کا موردہوا امام کے لئے خوش الحانی کچھ ضرورنہیں جو اسے ضروری و شرط بتائے شرع مطہر پر افتراء کرتا ہے بلالکہ خوش الحانی بعض وقت مضر ہوتی ہے کہ اس کے سبب آدمی اتراتا ہے یا کم سے کم اتنا ہوتا ہے کہ نماز میں خشوع وخضوع کے بدلے اپنے الحان بنانے کا خیال رہتا ہے۔ فتاوی قاضی خان و فتاوی عالمگیری میں ہے :
لا ینبغی للقوم ان یقدموا فی التراویح الخوشخوان ولکن یقد موا الدرستخوان فان الامام اذاقرأ بصوت حسن یشغلہ عن الخشوع والتدبر والتفکر ۔
قوم کے لئے ایسے شخص کو تراویح میں امام بنانا جو خوش الحان ہو مناسب نہیں البتہ درست پڑھنے والے کو امام بناسکتے ہیں کیونکہ امام جب قرأت کرے گا تو اس کو اچھی آواز خشوع تدبراورتفکر سے غافل کردے گی۔ (ت)
مامت عالم کاخاص حق ہے اس کے ہوتے ہوئے دوسرے کوترجیح نہیں جبکہ وہ عالم صحیح خواں و صحیح العقیدہ ہو فاسق نہ ہو۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ان سرکم ان تقنل صلاتکم فلیؤمکم علماؤکم فانھم وفدکم فیمابینکم وبین ربکم ۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن مرثد بن ابی مرثدالغنوی رضی اﷲ تعالی عنہ۔
اگر تمہیں اپنی نمازوں کا قبول ہونا پسند ہو تو چاہئے کہ تمہارے علما ء تمہاری امامت کریں وہ تمہارے واسطہ سفیر ہیں تمہارے اور تمہارے رب عزوجل کے درمیان ۔ اس کو طبرانی نے المعجمالکبیر میں حضرت مرثد بن ابی الغنوی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ت)
حوالہ / References القرآن ۲ / ۴۱
القرآن ۲ / ۴۲
فتاوٰی ہندیہ فصل فی التراویح مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۱۶
المعجم الکبیر مروی عن مرثد الغنوی مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲ / ۳۲۸
نوٹ : اصل کتاب میں فلیؤ مکم علماؤکم کی جگہ فلیؤمکم خیارکم ہے۔ نذیر احمد سعیدی
#11116 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
خاص یہ لفظ کہ عالم کے پیچھے نماز ایسی ہے جیسے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے پیچھے کسی حدیث میں نظر سے نہیں گزری ہاں یہ صحاح کی حدیث ہے کہ : العلماء ورثۃ الانبیاء (علماء انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے وارث ہیں )اور ہدایہ میں ہے :
من صلی خلف عالم تقی فکانماصلی خلف نبی
لکن لم یعرفہ المخرجون وقال الزیعلی ھو غریب
جس نے کسی عالم متقی کے پیچھے نماز پڑھی گویا نبی کے پیچھے پڑھی۔ (لیکن اصحاب تخریج کے ہاں یہ حدیث معروف نہیں امام زیلعی نے اسے غریب قرار دیاہے۔ ت)
امام اول اپنی ا س حرکت سے ضرور فاسق ہوا اور فاسق کے پیچھے نماز ضرور مکروہ ہے جبکہ سچی توبہ نہ کرے اور مال لینے والے کی توبہ بغیر مال واپس دئے ہرگز صحیح نہیں تو جب تك وہ یتیموں کا حق نہ پھیرے نماز اس کے پیچھے بیشك مکروہ۔
مسئلہ نمبر ۶۲۸ : ۳شعبان المعظم ۱۳۱۸ھ :
ندویوں کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں
الجواب :
ندویوں میں کچھ نیچری ہیں کچھ منکران ضروریات دین رافضی یہ بالاجماع کافر مرتدہیں اور ان کے پیچھے نمازمحض باطل کچھ غیرکافررافضی وہابی تفصیلی غیر مقلد وغیرہم بدمذہب ہیں کچھ وہ نئے بگڑے گمراہ ہیں جنہوں نے اب ندوہ جما کے اپنے دین کی بیخ کنی کی ندوے کی رودادوں لکچروں میں جن کے کلمات ضلالت چھاپے گئے یہ سب ضال مفضل گمراہ بددین ہیں اور ان کے پیچھے نمازناجائز جیسے عامہ غیر مقلدین
کما حققناہ فی النھی الاکید عن الصلوۃ وراء عدی التقلید ۔
جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق “ النھی الاکید عن الصلوۃ وراء عدی التقلید “ میں کی ہے(ت)
یا گناہ ومکروہ تحریمی کمابیناہ فی غیرموضع من فتاونا(جیساکہ ہم نے اسے اپنے فتاوی میں متعدد جگہ بیان کیا ہے۔ ت)یوں ہی وہ خود نہ پہلے بدمذہب تھے اور نہ اب کلمات بدمذہبی کہے مگران لیکچراروں کے
حوالہ / References صحیح البخاری باب العلم قبل العلم والعمل الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۶
الہدایہ باب الامامۃ مطبوعہ المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ / ۱۰۱
#11117 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
اقوال ضلالت سنے پسندکئے اور ان پرراضی ہوئے ان کی اشاعت کی حمایت کی یہ سب کل بوجہ رضاونصرت باطل اہل باطل وارباب ضلال اوراسی حکم میں ان کے شریك حال ہوگئے کچھ وہ ہیں جن بیچاروں کو اطلاع نہیں کہ ان ظلمہ نے کیا کہا ہے صرف مولویوں کا جلسہ سن کر شریك ہوگئے جب تك مطلع نہ ہوئے معذور ہیں بعداطلاع پھرشریك رہے تو اقل درجہ فاسق ضرورہیں اورفاسق کے پیچھے بھی نمازمکروہ۔ فتاوی حجہ وغنیہ شرح منیہ وغیرہما میں تصریح فرمائی کہ یہ کراہت تحریم ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۶۲۹ : ازبریلی محلہ سرخہ ۲۷محرم الحرام ۱۳۱۹ھ
علمائے دین ومفتیان شرع متین کیافرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ گروہ وہابیین یعنی فرقہ غیر مقلدین داخل ہے اہل سنت وجماعت میں خارج ان سے اور فرقوں ضالہ سے اور ہم مقلدوں کو ان کے ساتھ مخالطت اور مجالست کرنا اور ان کو اپنی مساجد میں باوجود خوف فساد کے آنے دینا درست ہے یا نہیں اور ان کے پیچھے نمازپڑھناکیساہے بینوابالتفصیل توجروا بالاجر الجزیل۔
الجواب :
فی الواقع فرقہ غیر مقلدین گمراہ بددین ضالین مفسدین ہیں انھیں امام بنانا حرام ہے ان کے پیچھے نماز پڑھنا منع ہے ان کی مخالطت آگ ہے ۔ صورۃمذکورہ سوال میں انھیں مساجد میں ہرگزہرگز نہ آنے دیاجائے۔ قال اﷲ تعالی :
و عهدنا الى ابرهم و اسمعیل ان طهرا بیتی
ہم نے ابراہیم واسمعیل سے یہ وعدہ لیا کہ وہ میرے گھر کو صاف رکھیں گے۔ (ت)
حدیث میں ہے :
امرالنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ببناء المساجد فی الدور وان تنظف وتطیب ۔
حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے محلوں میں مساجد بنانے اور انھیں ستھرا ونظیف اور خوشبوداررکھنے کا حکم دیا۔ (ت)
نجاستیں درکنار قاذورات مثل آب دہن و آب بینی باآنکہ پاك ہیں مسجد سے ان کو دور کرنا واجب تو بدمذہب گمراہ لوگ کہ ہر نجس سے بدتر نجس ہیں ۔ حدیث میں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
حوالہ / References القرآن ۲ / ۱۲۵
سنن ابو داؤد باب اتخاذ المساجد فی الدور مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۶۶
#11118 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
اھل البدع شرالخلق والخلیفۃ ۔
بد مذہب تمام مخلوق سے بد تمام جہان سے بد تر ہیں ۔
دوسری حدیث میں ہے :
اصحاب البدع کلاب اھل النار ۔
بدمذہب لوگ جہنمیوں کے کتے ہیں ۔
توایسے لوگوں کو خصوصا بحال فتنہ وفساد وہابیہ کی عادت قدیم ہے باوصف قدرت مساجد میں کیونکہ آنے دیا جاسکتا ہے ۔ قال اﷲ تعالی :
و الفتنة اشد من القتل- ۔
فتنہ قتل سے بھی سخت تر ہے۔
عینی شرح بخاری و درمختار وغیرہما میں تصریح ہے کہ مسجد سے موذی نکال دیا جائے ولو بلسانہاگرچہ صرف زبانی ایذ دیتا ہو۔ نجاستیں دھونے سے پاك ہو جاتی ہیں اور بد مذہب ع
ہرچہ شوئی پلید تر باشد
(جتنی بار دھویا جائے پلید ہی رہتا ہے)
اعاذنااﷲ منھم ومن حالھم وعقائدھم و اعمالھم بجاہ نبیہ الکریم علیہ وعلی الہ افضل الصلوۃ والتسلیم۔
اﷲ تعالی اپنے پیارے نبی علیہ وآلہ افضل الصلوۃ والسلام کے صدقے میں ان سے ان کے حال اور عقائد اعمال محفوظ رکھے۔ (ت)
مسئلہ نمبر ۶۳۰ : از جائس ضلع بریلی محلہ زیر مسجد مکان حاجی محمد ابراہیم مرسلہ حاجی ولی اﷲ صاحب ۲ ربیع الاول شریف ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس کی عورت بے پردہ عام عورتوں کی طرح پھرتی ہو اور اس کا شوہر اسے منع نہ کرتا ہو اس کے پیچھے نماز پڑھنا اور اس کودیوث کہنا جائز ہے یا نہیں بینواتو جروا۔
الجواب :
عورت اگر باہر بے پردہ باریك کپڑوں میں پھرتی ہو کہ ان سے بدن چمکے یا گلے یابازویا پیٹ یا پنڈلیوں
حوالہ / References کنز العمال البدع والرفض من الاکمال مطبوعہ موسستہ الرسالۃ بیروت ۱ / ۲۲۳وجامع الصغیر مع فیض التقدیر مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۳ / ۶۴
کنز العمال فصل فی البدع مطبوعہ موسستہ الرسالۃ بیروت ۱ / ۲۱۸وجامع الصغیر مع فیض القدیر مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۵۲۸
القرآن ۲ / ۱۹۱
#11119 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
یا سر کے بالوں کا کوئی حصہ کھولے پھرتی ہے اور شوہر مطلع ہے اور شوہر باوصف قدرت منع نہیں کرتا تو دیوث ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ ورنہ نہیں۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۶۳۱ : از جائس ضلع رائے بریلی محلہ زیر مسجد مکان حاجی ابراہیم مرسلہ ولی اﷲ صاحب ۲ ربیع الاول شریف ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دو شخص ہیں اور دونوں عالم اور پابندصوم و صلوۃ کے ہیں مگر ایك رذیل ایك شریف دونوں میں سے کس کو ترجیح ہوگی مرتبہ اور امارت وغیرہ میں ۔ بینواتوجروا۔
الجواب :
امامت میں بعد اس کے دو۲ شخص جامع شرائط امامت سنی العقیدہ غیرفاسق مجاہر ہوں قرآن عظیم صحیح پڑھتے حروف مخارج سے بقدر تمایزادا کرتے ہوں سب سے مقدم وہ ہے کہ نماز و طہارت کے مسائل کا علم زیادہ رکھتا ہو پھر اگر اس علم میں دونوں برابر ہوں تو جس کی قرأت اچھی ہو پھر جو زیادہ پرہیزگار ہو شبہات سے زیادہ بچتا ہو پھر جو عمر میں بڑا ہو پھر جو خوش خلق ہو پھر جو تہجد کا زیادہ پابند ہو یہاں تك شرف نسب کا لحاظ نہیں ۔ جب ان باتوں میں برابر ہوں تو اب شرافت نسب سے ترجیح ہے۔
فی التنویر والدرالاحق بالامامۃ الاعلم باحکام الصلوۃ بشرط اجتنابہ للفواحش الظاہرۃ ثم الاحسن تجویدا ثم الاورع ثم الاسن ثم الاحسن خلقابالضم الفۃ بالناس ثم اکثرھم تھجدا ثم الاشرف نسبا اھ مختصرا۔
تنویر اوردرمختار میں ہے امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جو احکام نماز سے زیادہ آگاہ ہو بشرطیکہ وہ فحش گناہوں سے اجتناب کرنے والا ہو اس کے بعد جو قرأت و تلاوت کی تجوید میں زیادہ اچھاہو پھر صاحب تقوی پھر عمر میں بڑا پھر جو اخلاق میں سب سے اچھاہو شارح نے کہا خلق ضمہ خاء کے ساتھ لوگوں سے ملنساری کو کہتے ہیں ۔ پھر زیادہ تہجد گزار پھر خاندانی شرف والا اھ اختصارا(ت)
ہاں اگررذیل اس درجہ کا ہے کہ اس کی امامت سے عام لوگ نفرت کرتے ہیں جماعت میں خلل پڑتاہے تو اس کی امامت نہ چاہئے
لان التنفیر من اشد ما یحترز عنہ کیونکہ یہاں سب سے زیادہ جس بات سے بچنا ضروری ہے
حوالہ / References ردمختار باب الامامۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۴۲
#11120 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
ھھنا وقد قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مطلقا بشروا تفروا ۔
وہ لوگوں میں نفرت سے بچنا ہے۔ سرورعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا(ہرحال میں ) خوشخبری دینے والے بنو نفرت پھیلانے والےنہ بنو۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ نمبر ۵۳۲ : ۲۲جمادی الاولی ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس امر میں کہ میلاد شریف کی مجلس کے حاضر نہ ہونے والے کے پیچھے اور قیام سے کراہت کرنےوالے کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں
الجواب :
مجلس مبارك کی عدم حاضری اور قیام سے کراہت اگر بر بنائے وہابیت نہ ہو مثلا اس وقت حاضری کی فرصت نہیں کسی امر اہم میں مصروف ہے یا وہاں پڑھنے والاروایات بے اصل یا نظم و نثر خلاف شرع پڑھے گا یا صاحب مکان سے دینی یا دنیوی مخالفت ہے جس کا الزام شرعا اسی صاحب مکان پر ہے وغیرذلك من الموانعان کے علاوہ دیگر موانع سے ۔ ت) اور قیام سے کراہت صرف اس مسئلے میں خطا کے باعث ہے نہ اصول وہابیت ما ن کر توان صورتوں میں اس کے پیچھے درست بلا کراہت ہے مگر ان بلاد میں صورت انکار و کراہت بے ضلال اصول وہابیت نہیں پائی جاتی مجلس مبارك و مقدس سے یہاں وہی منکرہیں جو وہابی گمراہ خاسر ہیں اور وہابیہ کے پیچھے نماز ناجائز وگناہ ۔ کما حققناہ فی عدۃ مواضع من فتاونا ورسالتنا النھی الاکید وغیرھما (ہم نے اس کی تحقیق اپنے فتاوی میں متعدد مقامات پر اپنے رسالے النہی الاکید وغیرہ میں خوب کی ہے ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۳۳۳ : ۷ ربیع الآخر شریف۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك حافظ نور باف نماز کے چند مسائل جانتا ہے چند مدت سے ایك مسجد کا امام ہے لوگوں نے اسے تعزیوں میں مرثیے پڑھتے دیکھا ہے دوسرا حافظ شیخ صدیقی پنجابی کل مسائل نماز سے واقف ہے مگر مسجد میں آتا ہے اور اس کی موجودگی میں اسی معین امام کے پیچھے نماز میں کچھ قصور تو نہ ہوگا اور دونوں ہوں تو کون امامت کرے
الجواب :
تعزیوں اور آج کل مرثیوں کا پڑھنا بدعت یا فسق سے خالی نہیں اور دونوں صورتوں میں
حوالہ / References صحیح البخاری باب ماکان محمد النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم یتخولہم بالموعظۃ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۶
#11121 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
ایسے شخص کے پیچھے نماز مکروہ ہے۔ اور وہ دوسراحافظ اگر بلاعذر شرعی جماعت مسجد میں کبھی آتا ہے کبھی نہیں تو ترك جماعت بھی فسق ہے اس کے پیچھے بھی نماز مکروہ ۔ ایسی صورت میں تیسرے شخص کو امام کیا جائے جو عقیدۃ پورا سنی ہو قرآن مجید صحیح پڑھتا ہو فاسق نہ ہو مسائل نماز وطہارت سے خوب واقف ہو۔ اور اگر دوسراحافظ سنی صحیح العقیدہ صحیح خواں غیر فاسق ہے جماعت کو جس وقت اس مسجد میں نہیں آتادوسری مسجد میں جاتا ہے یا کسی عذر صحیح شرعی کے سبب ترك کرتا ہے تو اس کی اقتداء میں حرج نہیں اس کے ہوتے ہوئے وہ امام مقرر نماز نہ پڑھائے ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۶۳۴ : ۲۲ شعبان المعظم ۱۳۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس مسجد میں امام مقرر موجود ہو اس کی بغیر اجازت دوسرا شخص نماز پڑھا سکتا ہے یا نہیں بینوا تؤجروا۔
الجواب :
بے اس کی اجازت کے دوسرے کو امامت نہ چاہئے جبکہ وہ امام معین صالح امامت ہو یعنی سنی صحیح العقیدہ کہ قرآن عظیم صحیح پڑھے اوراس کافسق ظاہر نہ ہو ۔ درمختار میں ہے :
امام المسجد الراتب الاولی بالامامۃ من غیرہ ملطقا الخ وفی ردالمحتار من التتارخانیۃ مایفید المنع ان ام بلااذن ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسجد کا مقررہ امام ہر حال میں دوسروں سے افضل ہوتا ہے الخ ردالمحتار میں تتارخانیہ سے جوکچھ مذکور ہے وہ مفید منع ہے اگر دوسرا بلا اجازت امامت کرائے(ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۶۳۵ : ۲۸ رجب ۱۳۲۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص مسجد میں رہتا ہے اور امامت پر مقرر ہے اور اس کی حالت یہ ہے کہ امرد لڑکوں سے محبت رکھتا ہے اور ایك لڑکا ضرور رکھتا ہے جب اس کو چھوڑ دیتا ہے دوسرا تجویز کرلیتا ہے خلوت میں بھی لڑکے اس کے پاس بیٹھتے ہیں بعض وقت انھیں پیار کرتے دیکھا گیا اس کی شکایت میں شخص مذکور کو پولیس تك بھی پہنچنا ہوا مگر پولیس کی دھمکی پر بھی باز نہ آیا آخر مسلمانوں نے اپنی مسجد سے نکال دیا کہ ہم مسجد میں ایسی ناشائستگی پسند نہیں کرتے۔ اب دوسری مسجد میں آیا یہاں بھی وہی حال ہے ایسی صورت میں اسے امام بنانا اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں بینواتوجروا
حوالہ / References دُر مختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۳
ردالمحتار بحوالہ تاتار خانیہ باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۳
#11122 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
الجواب :
ایسے شخص کو کہ مہتم ہے امام بنانا نہ چاہئے لان التھمۃ توجب تقلیل الجماعۃ وھوعکس مقصود الشریعۃ (کیونکہ تہمت جماعت کی قلت کا سبب ہے اور وہ مقصود شریعت کے خلاف ہے۔ ت) مسلمانوں کو چاہئے کہ دوسرے شخص سنی صحیح العقیدہ غیر فاسق وغیر مہتم کو کہ قرآن عظیم صحیح پڑھاتا ہو اور نماز و طہارت کے مسائل سے آگاہی رکھتا ہو امام مقرر کریں اور یہ شخص کہ کسی طرح اس عادت سے باز نہیں آتا امامت سے جدا کردیا جائے نہ مسجد میں سکونت کرے لان الخلوۃ القبیحۃ بالامرد اخبث من الخلوۃ بالاجنبیۃ فینزہ المسجد عنہ(کیونکہ بے ریش لڑکے کےساتھ خلوت قبیحہ اجنبیہ خاتون سے بھی بدتر ہے لہذا اس سے مسجد کو پاك کرنا ضروری ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۳۶ : ازحیدرآباد دکن یاقوت پورہ مسجد کمیلہ مکان ۲۸۹۰ مرسلہ سید عبداللطیف صاحب بتوسط مولوی ابو المساکین محمد ضیاء الدین صاحب مہتمم تحفہ حنفیہ ۲ربیع الآخر شریف ۱۳۲۲ہجری
کیا فرماتے ہیں علمائے دین محمدی ومستفیدان شریعت مصطفوی وتابعین مذہب حنفی اس مسئلہ میں کہ ایك صاحب نوجون خوبصورت لائق امامت قرأت سے بخوبی واقفیت رکھتے ہیں اور مسائل ماتجوزبہ الصلوۃ سے واقف مذہب حنفی کے تابع ہیں دوسرے صاحب حال میں مذہب حنفی ترك کرکے مذہب حنبلی اختیار فرمائے ہیں فن قرأت سے بمقابلالہ صاحب اول کے ناواقف ہیں مگر مسائل ماتجوزبہ الصلوۃ اور قدرے ریش بھی رکھتے ہیں پس حالت مندجہ بالا میں حسب قواعد حنفیہ بغرض امامت بلا کسی علت وکراہت کے ہر دو صاحب میں سے کس کو ترجیح دی جاسکتی ہے جس مقام پر کثرت سے مقتدی تابعین مذہب حنفی کے بوقت جماعت موجود ہوں ۔ السائل حسین خاں حنفی
الجواب :
عبارت سوال ابہام واجمال وتعداد احتمال رکھتی ہے دوسرے صاحب فن قرأت سے بمقابلالہ صاحب اول کے ناواقف ہیں ممکن یہ ناواقفی صرف امور زائدہ میں ہو جن پر صحت وفساد نماز مبنی نہیں اگرچہ واجبات تجوید بلالکہ واجبات شرع سے بھی ہوں یا شرعا خواہ تجویدا بھی صرف محسنات ومستحسنات ہوں جیسے وقف ووصل ومدوقصر و اظہار واخفاء وتفخیم وترقیق وروم واشمام وغیرہا کہ اکثر ان میں واجبات تجوید سے ہیں اورامثال ومدمتصل کی رعایت شرعا بھی واجب اور ترك حرام مگر ان میں کسی کا ترك اصلا مفسد نماز نہیں اور ممکن کہ امور لازمہ میں ہو جیسے تمایز حروف جہاں تغیر موجب فسادمعنی ہو صورت ثانیہ میں صاحب دوم کے پیچھے نماز باطل وفاسد ہوگی بخلاف صورت اولی اور دوسرے صاحب قدرے ریش بھی رکھتے ہیں اس میں بھی دو احتمال ہیں ایك یہ کہ ان کے تھوڑی تھوڑی داڑھی نکلی ہے پہلے صاحب محض امرد ہیں اس تقدیر پر پہلے صاحب کے پیچھے نماز مکروہ تنزیہی ہوگی
#11123 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
فی الدرالمختار تکرہ خلف امرد فی ردالمحتار الظاہر انھا تنزیہیۃ والظاھر ایضاکما قال الرحمتی ان المراد بہ الصبیح الوجہ لانہ محل الفتنۃ ۔
درالمختار میں ہے بے ریش لڑکے کے پیچھے نماز مکروہ ہے۔
ردالمحتار میں ہے ظاہر یہی ہے کہ یہ مکروہ تنزیہی ہے۔ اور یہ بھی ظاہر ہے جیسے کہ شیخ رحمتی نے کہا کہ وہ لڑکا مراد ہے جو خوبصورت چہرے والا ہو کیونکہ وہ فتنے کا محل ہے۔ (ت)
دوسرے یہ کہ دوسرے صاحب قدرے ریش باقی رکھتے ہیں اگرچہ زیادہ کتروادیتے ہیں بخلاف صاحب اول کہ اصلا نہیں رکھتے اس تقدیر پر دونوں کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہوگی اور انھیں امام بنانا گناہ کہ داڑھی منڈانا اور کترواکر حد شرع سے کم کرانا دونوں حرام وفسق ہیں اور اس کا فسق بالاعلان ہونا ظاہر کہ ایسوں کے منہ پر جلی قلم سے فاسق لکھا ہوتا ہے اور فاسق معلن کی امامت ممنوع وگناہ ہے کما نص علیہ فی الغنیۃ عن الحجۃ وحققناہ فی فتاونا (غنیہ میں حجہ کے حوالے سے اس پر تصریح ہے اور ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی تحقیق کی ہے ۔ ت) اور مذاہب اربعہ حقہ سے کسی دوسرے مذہب والے کے پیچھے حنفی کی اقتداء میں بھی چند صورتیں ہیں :
(۱) اس خاص نماز میں معلوم ہو کہ امام نے کسی فرض یا شرط وضو یانماز یا امامت مطابق مذہب حنفی کی رعایت نہ کی وقد المسناببیان بعضہ مع مالہ وعلیہ فی فتاونا (ہم نے اپنے فتاوی میں اس پر کچھ تفصیل سے اعتاضات مع جوابات ذکر کئے ہیں ۔ ت)اس صورت میں اس کے پیچھے حنفی کی نماز محض باطل ۔
(۲) خاص نماز کا حال معلوم نہ ہو مگر اس کی عادت معلوم ہے کہ غالبا امورمذکورہ میں مذہب حنفی کی مراعات نہیں کرتا تواس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے۔
(۳) عادت بھی معلوم نہیں تو اس کی امامت مکروہ ہے اور ارجح یہ کہ اب یہ کراہت تحریمی نہیں ۔
(۴) عادت یہ معلوم ہے کہ ہمیشہ مراعات کا التزام کرتا ہے تو صورت سوم سے حکم اخف ہے مگر ایك گونہ کراہت سے ہنوز خالی نہیں ۔
(۵) خاص اس نماز کا حال معلوم ہے کہ اس میں اس نے جمیع امور مذکورہ کی رعایت کی ہے تو اب عندالجمہور کراہت اصلا نہیں اگرچہ پہلے عادت عدم مراعات رکھتا ہو پھر بھی افضل یہی ہے کہ مل سکے تو موافق المذہب کی اقتداء کرے
حوالہ / References درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۳
ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۵
#11124 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
فی الدرالمختار تکرہ خلف مخالف کشافعی لکن فی وترالبحر ان تیقن المراعاۃ لم یکرہ او عدمھالم یصح وان شك کرہ اھ وقد فصلنا القول فیہ فیما علی ردالمحتار۔
درمختار میں ہے مخالف مذہب کے پیچھے نماز مکروہ ہے مثلا شافعی المسلك -------بحرالرائق کی وتر کی بحث میں یوں تفصیل ہے اگر مقتدی کو اس بات کا یقین ہو کہ شافعی المذہب دوسرے مسلك کی شرائط وارکان کی رعایت کرتا ہے تو اقتداء میں کراہت نہیں اور عدم رعایت کایقین ہو تو اقتداء صحیح نہیں ہے اور اگر رعایت اور عدم رعایت میں شك ہوتو مکروہ اھ اس بارے میں ہم نے ردالمحتار پر اپنے حاشیہ میں تفصیلا گفتگو کے ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ فی وتر البحر الخ ھذا ھوالمعتمد لان المحققین جنحوا الیہ وقواعد المذہب شاھدۃ علیہ وقال کثیرمن المشائخ ان عادتہ مراعاۃ مواضع الخلاف جاز والا فلا قولہ ان تیقن المراعاۃ ای فی الفرائض من شروط وارکان فی تلك الصلاۃ وان لم یراع فی الواجبات والسنن کماھوظاھر سیاق کلا م البحر وظاہر کلام شرح المنیۃ ایضا وفی رسالۃ الملا علی قاری ذھب عامۃ مشائخنا الی الجواز اذاکان یحتاط فی موضع الخلاف والا فلاوالمعنی انہ یجوزفی المراعی بلاکراھۃ وفی غیرمعھا اھ مختصرا
ماتن کا قول فی وترالبحرالخ یہی قول معتمد ہے کیونکہ محققین کااس کی طرف میلان ہے اور قواعد مذہب بھی اسی پر شاہد ہیں اور کثیر مشائخ کا قول ہے اگر اس امام کی عادت موضع اختلاف میں رعایت کرنا ہو تو اقتداء جائز ورنہ جائز نہیں ماتن کا قول ان تیقن المراعاۃسے مراد یہ ہے کہ وہ فرائض نماز یعنی شروط و ارکان کی رعایت کرتا ہوا اگر چہ واجبات وسنن کی رعایت نہ کرتا ہو اجیسا کہ بحرالرائق کے سیاق کلام سے ظاہر ہے شرح المنیہ کی عبارت سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے۔ ملا علی قاری کے رسالے میں ہے کہ جو امام مواضع اختلاف میں احتیاط اوررعایت کرتا ہو تو ہمارے اکثر مشائخ جوازاقتداء کے قائل ہیں ورنہ اقتداء جائز نہیں اور معنی یہ ہےکہ رعایت کرنے والے کی اقتداء بلا کراہت جائز اور نہ رعایت کرنے والے کی اقتداء کراہت کے ساتھ جائز ہے اھ مختصرا(ت)
حوالہ / References دُرمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۳
ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی ۱ / ۴۱۶
#11125 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
امام بحرالرائق (نے) مجتبی سے(نقل کیا)ہے :
وذاکان مراعیافالاقتداء بہ صحیح علی الاصح ویکرہ والا فلا یصح اصلا اھ (ملخصا) اقول : والتوفیق بنفی کراھۃ التحریم فی المراعی واثبات کراھۃ التنزیہ۔اگر وہ شافعی المذہب رعایت کرنے والاہو تو اصح قول کے مطابق اسکی نماز صحیح اور مکروہ ہے ورنہ بالکل صحیح نہیں اھ ملخصا(ت)اقول : (میں کہتا ہوں) ان میں موافقت یوں ہے کہ رعایت کرنے والے کی اقتداء میں کراہت تحریمی کی نفی اور کراہت تنزیہی کا اثبات ہو۔ (ت)
نیربحر میں ہے :
الاقتداء بالشافعی علی ثلثۃ اقسام الاول ان یعلم منہ الاحتیاط فی مذھب الحنفی فلا کراھۃ الثانی ان یعلم منہ عدمہ فلاصحۃ لکن اختلفوا ھل یشرط ان یعلم منہ عدمہ فی خصوص مایقتدی بہ او فی الجملۃ صحح فی النھایۃ الاول وغیرہ اختار الثانی وفی فتاوی الزاھدی (اذا راہ احتجم) ثم غاب فالاصح انہ یصح (الاقتداء بہ لانہ یجوزان یتوضأ احتیاطا) وحسن الظن بہ اولی الثالث ان لایعلم شیئا فالکراہۃ ۔
شافعی امام کی اقتداء کی تین صورتیں ہیں پہلی صورت یہ ہے کہ شافعی سے مذہب حنفی کی رعایت کرنا معلوم ہوتو اس کی اقتداء میں کراہت نہیں ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس سے عدم رعایت معلوم ہو تو اسکی اقتداء درست نہیں لیکن فقہاء کا اس میں اختلاف ہے کہ آیا یہ شرط ہے کہ اس سے عدم رعایت کا علم خاص اس نماز کے اعتبار سے ہے جس میں اقتداء مطلوب ہے یافی الجملۃ کا اعتبار ہے۔ نہایہ میں پہلے قول کو صحیح قرار دیا ہے اور دیگر کتب نے دوسرے قول کو اختیار کیا ہے اور فتاوی زاہدی میں ہے کہ جب کوئی حنفی شافعی کو دیکھے کہ اس نے پچھنے لگوائے پھر وہ غائب ہوگیا تو اصح مذہب یہ ہے کہ اس کی اقتداء درست ہے کیونکہ ممکن ہے اس نے احتیاطا وضو کرلیا ہو اور اس کےساتھ حسن ظن رکھنا بہتر اور اولی ہے۔ تیسری
حوالہ / References بحرالرائق باب الامامۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۵۱
بحرالرائق باب الوتر والنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۴۶
ف : اس عبارت میں قوسین کے درمیان والی عبارت کا اضافہ ضرورت کے تحت کیا ہے اصل میں عبارت ملخصًا مذکور ہے جو قوسین سے باہر ہے ۔ نذیر احمد
#11126 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
صورت یہ ہے کہ امام کے بارے میں کسی قسم کا علم نہ ہو(یعنی رعایت کا نہ عدم رعایت کا) تو اس صورت میں اس کی اقتداء مکروہ ہوگی۔ (ت)
پس صورت مستفسرہ میں اگر صاحب دوم میں کوئی امر مفسد نماز ہے مثلا قرآن عظیم کی غلط خوانی بحدافسادمعنی یا اس خاص نماز کے وقت طہارت وغیرہا کسی شرط نماز یا شرط امامت کا فوت جب تو ظاہر ہے کہ اس کی امامت کے کوئی معنی ہی نہیں ۔ اب اگر صاحب اول میں کوئی وجہ کراہت تحریم نہ ہو تو اس کی امامت میں حرج نہیں مگر بوجہ اجتماع امردیت وحسن صورت اولی یہ ہے کہ کسی اور صحیح العقیدہ صحیح خواں کو امام کریں جس میں اصلا کوئی وجہ کراہت نہ ہو اور اگر صاحب اول میں کراہت تحریم ہے تو واجب کہ دونوں کو چھوڑیں اور کسی اورصالح امامت کی اقتداء کریں اسی طرح اگر صاحب دوم میں کوئی امر موجب کراہت تحریم ہے مثلا داڑھی حد شرع سے کم کرنا یا فرائض و شرائط نماز میں مذہب حنفی کی پروا نہ کرنا اگر چہ یہ دو۲ یا ایك بار اس کے افعال سے مشاہدہ ہوا ہو اور صاحب اول میں کوئی تحریم نہیں جب بھی یہی حکم ہے کہ صاحب اول سے بہتر امام نہ ملے تو اسی کو امام کرنا لازم اور دونوں میں کوئی وجہ کراہت تحریم ہے تو دونوں کے سوا تیسرا امام پیدا کریں اور اگر صاحب دوم میں کوئی وجہ کراہت تحریم نہیں اور صاحب اول میں ہے تو حکم بالعکس ہوگا کہ اگر کوئی حنفی صالح امام نظیفہ ملے تواسی کی اقتداء کی جائے ورنہ صاحب دوم ہی کے پیچھے پڑھیں جبکہ اس کی عادت سے معلوم ہے کہ مذہب حنفی کی رعایت کا التزام رکھتا ہے یامعلوم ہوکہ اس خاص وقت میں جامع جملہ شرائط امامت مطابق مذہب حنفی ہے اور اگر دونوں میں کوئی کراہت تحریم نہیں تو اگر معلوم ہوکہ صاحب دوم خاص اس وقت شرائط حنفیہ ہے تواور کوئی حنفی صالح نہ ملنے کی حالت میں اسی کی امامت اولی کہ اس تقدیر پر اس کی امامت بلاکراہت ہے اور اگر حنفی ہوتا تو افضل ہوتا اورصاحب اول میں بوجہ امردیت وحسن کراہت ہے اور اگر خاص اس وقت شرائط جامعیت معلوم نہیں اور عادت مراعاۃ معلوم نہیں تو اور کوئی امام نظیف نہ ہونے کی حالت میں صاحب اول ہی کو ترجیح چایئے کہ اب مذہب جمہور ومشرب منصور پر کراہت تنزیہ میں دونوں شریك ہوئے اورمخالف المذہب میں اس قدر زیادت ہے کہ اس کے پیچھے ایك قول پر مطلقا نماز مکروہ تحریمی ہے اگرچہ مراعاۃ شرائط بھی کرے یہاں تك کہ اس کی اقتدا پر تنہا نماز پڑھنے اور جماعت چھوڑنے کو بعض نے ترجیح دی۔ دالمحتار میں ہے :
خالفھم العلامۃ الشیخ ابراہیم البیری بناء علی کراھۃ الاقتداء بھم لعدم مراعاتھم فی الواجبات والسنن وان الانفراد افضل لولم یدرك امام مذہبہ وخالفھم ایضا العلامۃ الشیخ رحمہ اﷲ السندی تلمیذ ابن الھمام فقال الاحتیاط فی
علامہ شیخ ابراہیم البیری نے ان حضرات کی اس بناء پر مخالفت کی ہے کہ ان کی اقتداء مکروہ ہے کیونکہ یہ واجبات وسنن میں رعایت نہیں کرتے اور اگر اپنے مذہب کا امام نہ ملے تو تنہا نماز پڑھنا افضل ہے۔ امام ابن ہمام کے شاگردشیخ سندی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے بھی ان حضرات کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ
#11127 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
عدم الاقتداء بہ ولومراعیا ۔ واﷲ سبحنہ و تعالی اعلم۔
اگر چہ مخالف رعایت کرنے والا ہو پھر بھی اقتدا نہ کرنے میں احتیاط ہے(ت)
مسئلہ ۶۳۷ : از مانوگاجہ ملك پیراگ مرسلہ نیاز محمد خان بدایونی ۳ ربیع الآخر یوم سہ شنبہ ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جمیع اہل اسلام شافعی مذہب میں عام جن میں ایك مرتبہ اور چند مرتبہ حج بھی کرآئے ہیں مگر تارك نماز سنت ہیں کوئی بھی کسی وقت کی نماز سنت ادا نہیں کرتا صرف فرض ادا کرلیتے ہیں ان کی امامت واسطے پیرو امام حنفی کے کیسی ہے
الجواب :
شبانہ روز میں بارہ رکعتیں سنت موکدہ ہیں دو۲ صبح سے پہلے اور چار۴ ظہر سے پہلے اور دو بعد اور دومغرب و عشاء کے بعد جوان میں سے کسی کوایك آدھ بار ترك کرے مستحق ملامت وعتاب ہے اور ان میں سے کسی کے ترك کا عادی گناہگار وفاسق ومستوجب عذاب ہے اور فاسق معلن کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی اور اس کو امام بنانا گناہ ہے ۔ صرح بہ الغنیۃ عن الحجۃ (اس کے بارے میں حجہ کے حوالے سے غنیہ میں تصریح ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۶۳۸ : از مانو گاجہ ملك پیراگ مرسلہ نیاز محمد خاں بدایونی ۳ ربیع الآخر یوم سہ شنبہ ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عام دستور اور رواج اس ملك کا ہے کہ مستورات باہر نکلتی ہیں ڈولی یا پالکی کا نہ دستور ہے نہ جانتی ہیں غرضکہ پردہ قطعی نہیں ہے کسی تقریب یا عیادت یاکسی ضرورت کو پا پیادہ جانا پوشش ان کی بجائے پاجامہ ایك تہبند مثل غلاف تکیہ کمر سے گھٹنوں تك بدن پر مثل ہندوستانی چھوٹے کپڑے یا دوپٹہ کے استعمال میں نہیں ایك چغہ کے مثل پہنتی ہیں جو نیچا پیر کے تلے تك ہوتا ہے۔ رہا سر کا پردہ جب گھر سے نکلنا ہوا تو ایك تہبند مثل بالا تحریر کے اندر جسم میں پہن لیا سر اورکمر تك کا پردہ ہوجاتا ہے ۔ مگر چہرہ کھلے رکھنے کی عادت ہے ہاتھ البتہ بحفاظت پردہ میں رہتے ہیں ان کا نکلنا عام وارثوں کی اجازت سے ہے ب لکہ خاوند یا وارث ہمراہ ہوتے ہیں یہ طریقہ عام ہے خواہ نواب ہو خواہ غریب ان کوگوں کی امامت کیسی ہے
الجواب :
عورت اگر نامحرم کے سامنے اس طرح آئے کہ اس کے بال گلے اور گردن یا پیٹھ یا کلائی یاپنڈلی کا کوئی حصہ ظاہر ہو یا لباس ایسا باریك ہو کہ ان چیزوں سے کوئی حصہ اس میں سے چمکے تو یہ بالاجماع حرام اور ایسی وضع ولباس کی عادی عورتیں فاسقات ہیں اوران کے شوہر اگر اس پر راضی ہوں یا حسب مقدور
حوالہ / References ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۷
#11128 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
بندوبست نہ کریں تو دیوث ہیں اور ایسوں کو امام بنانا گناہ ۔ اور اگر تمام بدن سر سے پاؤں تك موٹے کپڑے میں خوب چھپا ہوا ہے صرف منہ کی ٹکلی کھلی ہوئی جس میں کوئی حصہ کان کا یا ٹھوڑی کے نیچے کا یا پیشانی کے بال کا ظاہر نہیں تو اب فتوی اس سے بھی ممانعت پر ہے اور یہ امر شوہروں کی رضا سے ہو تو ان کی امامت سے بھی احتزاز انسب کہ سد فتنہ اہم واجبات شرعیہ سے ہے واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۶۳۹ : از مانوگاجہ ملك پیراگ مرسلہ نیاز محمدخاں بدایونی ۳ ربیع الاخری یوم سہ شنبہ ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ استنجاء کلوخ سے نہیں اسی وقت پیشاب کیا اور فورا پانی سے استنجاء لے لیا ان کی امامت کیسی ہے
الجواب :
اس صورت میں ترك سنت ضرور ہے مگر صرف پانی اگر انقطاع قطرہ ہوجاتا اور ان لوگوں کو اطمینان مل جاتا ہے تو یہ امر اس حد کا نہیں جس کے ترك پرا ن کی امامت کو ناجائز کہا جائے جبکہ ان کا منشاء کوئی امر قبیح مثل استخفاف سنت حضرت امیرالمؤمنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نہ ہو۔ واﷲ تعالی اعلم ۔
مسئلہ نمبر۶۴۰ : ازحیدرآباد دکن مرسلہ حسین خان بوساطت مولوی ضیاء الدین صاحب ۵ ربیع الآخر ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مصطفی اس مسئلہ میں کہ ایك مولوی صاحب نے مذہب حنفی ترك کرکے مذہب حنبلی اختیار کیا ہے اور وجہ تبدیل مذہب یہ بتاتے ہیں کہ قریب زمانہ وقت حضرت جناب سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز نے مذہب حنبلی اختیار فرمایا اس لئے میں نے بھی تبدیل مذہب کیا بس بصورت صحت بیان مولوی صاحب نسبت تبدیل مذہب اقتدائے مولوی صاحب حسب اصول حنفیہ درست ہے یا نہیں جبکہ وہاں کثرت سے حنفی لوگ لائق اقتدا موجود ہوں ۔
الجواب : ان بلاد میں کہ جہاں نہ حنبلی مذہب کے عالم ہیں نہ کتابیں حنفیت چھوڑ کر حنبلیت اختیار کرنا ہر گز جائز نہیں انتقال کرنے والا مذہب حنفی کا عالم تھا تو یہ انتقال صراحۃ مراد شرع کے مضاد ہوگا کہ شرع نے طلب علم کا حکم فرمایا اور یہ ترك علم وطلب جہل کرتا ہے حاشاﷲ حنبلیت جہل نہیں چاروں مذہب حق وہدی ورشاد ہیں مگر جہاں نہ جس مذہب کے عالم نہ کتابیں وہاں اس کا اختیار صراحۃ اپنے جہل کا اختیار ہے اور اگر اول سے جاہل تھا تو اپنے لئے علم وعمل کا دروازہ بند کرتا ہے احکام حنفیت سے آگاہ نہ تھا تو فســٴـلوا اهل الذكر (اہل ذکر سے پوچھو ۔ ت)کے امتثال پرتو قادر تھا اب کہ وہ مذہب اختیار کرتا ہے جس کے ہل ذکر بھی یہاں نہیں تو صراحۃ جہل کے ساتھ عجز ملتا اور اپنے منہ پر شریعت مطہرہ کا بند کرتا ہے واﷲ الھادی
حوالہ / References القرآن ۱۶ / ۴۳
#11129 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
مسئلہ نمبر ۶۴۱ : از کلی ناگرپرگنہ پورن ضلع پیلی بھیت مرسلہاکبر علی ۵ جمادی الاخری ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ منکوحہ زید کو لفظ طلاق کہنے کا ثبوت نہ پاکر پندرہ بیس مردمان اہل اسلام نے مشورہ کرکے اپنا پیش امام مقرر کیا اور مسئلہ دیکھا کہ جس پر مواہیر علمائے دین چسپاں تھیں اور علمائے دین نے نماز پڑھانے کی اجازت زید کو دی اور پیش امام مدت دراز سے امامت کرتے ہیں اور نمازجمعہ بھی پڑھاتے ہیں اور پیش امام حرام کاروں کو بھی نصیحت کرتے ہیں اورحرام کاروں نے نصیحت کرنے کے سبب سے دو جماعتیں کرلی ہیں ۔ اب ایك مولوی صاحب ان کے یہاں وارد حال مقیم ہیں کہ جو غیر اﷲ کا جانور ذبح کرتے ہیں مولوی صاحب بھی انکے یہاں کھاتے ہیں جمعہ کے روز وہ لوگ جو امام سے برگشتہ تھے مولوی صاحب کو مسجد میں لائے اور بروقت آنے مولوی صاحب کے پیش امام اٹھے اور منبر پر بیٹھ گئے اوراذان کاحکم دیا کہ اذان پڑھو اور جولوگ پیش امام سے برگشتہ تھے اور مولوی صاحب کو لائے تھے پیش امام سے کہا منبر سے تم اترو یہ مولوی صاحب نماز پڑھائیں گے جن مردمان اہل اسلام نے کہ پیش امام اپنا مقرر کیاتھا اور جو پیش امام منبر پر بیٹھے تھے ان کے روبرو اذان کہی گئی اس پر مولوی صاحب بولے کہ یہ پیش امام طلاقی ہے اس کے پیچھے نماز جائز نہیں ہے پیش امام نے اسی وقت مسئلہ باجازت نمازبمواہیر علمائے دین پیش کیا مولوی صاحب نے مسئلہ دیکھ کر پھینك دیا اور کہا کہ یہ مسئلہ درست نہیں یہ کلام مولوی صاحب کا سن کر جن اہل اسلام نے اپنا پیش امام مقرر کیا تھا پیش امام سے کہا کہ نماز پڑھاؤ اور مولوی صاحب سے کہا کہ ہم کو اعتبار اس مسئلہ کا ہے کہ جس پر مواہیر علمائے دین موجود اورچسپاں ہیں اگر یہ مسئلہ غلط ہوتا تو مواہیر علمائے دین کیونکر اس پر چسپاں کرتے اگر تمہاری نماز ان کے پیچھے نہیں ہوسکتی ہے تو نہ ہو ہماری نماز ہوسکتی ہے یہ کلام اہل اسلام کا سن کر مولوی صاحب مسجد سے باہر چلے گئے اور بعد ہوجانے نمازجمعہ کے پھر مسجد میں آئے اور دوسری مرتبہ مولوی صاحب نے خطبہ پڑھا اور جمعہ کی نماز پڑھائی تو حاصل کلام یہ کہ اول جمعہ کی نماز ہوجانے کے بعد دوسری نماز جمعہ کی ہوسکتی ہے اور مولوی صاحب جدید واردحال امامت کے لائق ہیں یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
جمعہ کے لئے امام وہی ہوسکتا ہے جس کا تقرر بادشاہ اسلام سے چلاآتا ہے یا وہ کہ جسے بضرورت عام مسلمان مقرر کرلیں نماز جمعہ قصدا چھوڑ کر چلاجانا اور پھر بعد ختم جماعت اپنے چند آدمیوں کو لاکر اسی مسجد میں دوبارہ خطبہ ونماز قائم کرنا ہر گز جائز نہیں یہ پچھلی نماز نہ ہوئی اور یہ دوسرا شخص گناہگار ہوا اور فتوی شرعی کو زمین پر پھینك دینے سے اس کاحکم بہت سخت ہوگیا۔ عالمگیری وغیرہ میں اسے کفر تك لکھا ہے ۔ یہ جدید شخص امام بنانے کے لائق نہیں واﷲ تعالی اعلم
#11130 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
مسئلہ نمبر۶۴۲ : از کلی ناگرپرگنہ پورن پور ضلع پیلی بھیت مرسلہ اکبر علی صاحب ۵ جمادی الآخرہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ایك شخص مدت دراز سے امامت کرتا ہے اور بہ مشورہ اہل اسلام پیش امام ہے اور بعد اس امامت کرنے کے پیش امام نے اپنے گھر میں حرام کرایا اور ایك عورت کا حرام پیٹ اپنے گھر میں گروایا تو اب اس کوامامت کرنی چاہئے یانہیں
الجواب :
اگرثابت ہوکہ اس نے حرام کروایا یا حرام کا سامان جمع کیا یا حرام میں کسی طرح ساعی ہوا یا اس پر راضی ہوا تو وہ فاسق ہے اسے ہرگز امامت نہ کرنی چاہئے اوراگر ان میں سے کچھ نہ تھا بلالکہ عورت کسی طرح معاذاﷲ حرام میں مبتلا ہوئی اور اسے حمل رہا اس نے اس کی پردہ پوشی کے لئے اسقاط حمل کروایا جبکہ بچہ میں جان نہ پڑی تھی تواس پر الزام نہیں بلالکہ پردہ پوشی امرحسن ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۶۴۳ : ازکلی ناگر پرگنہ پورن پور ضلع پیلی بھیت مرسلہ اکبر علی خان ۵ جمادی الاخری ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ پیش امام نے اپنے نفس کے واسطے جھوٹ بولا اور یہ کہا میرے گھر آگ لگ گئی ہے تو اس سے پیش امام کی امامت میں فرق تو نہیں آیا اور یہ پیش امام امامت کے لائق ہے یا نہیں
الجواب :
اگر اس نے جھوٹ بول کر لوگوں کو دھوکہ دیا ان سے کچھ مال وصول کیا تو وہ فاسق ہے امامت سے معزول کیا جائے اور اگر مراد یہ نہیں تو مراد واضح کی جائے کہ اس کا جواب دیا جائے ایسے گول الفاظ سوال میں لکھنا نادانی ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۶۴۴ : از پیلی بھیت محلہ منیرخاں مرسلہ جناب مولانا مولوی وصی احمد صاحب محدث سورتی رحمۃ اللہ تعالی علیہ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
(۱) کیاامامت میں شرعا وراثت جاری ہے کہ امام مرجائے تو اس کے بعد اسی کی اولاد یاخاندان سے امام ہونا ضرور ہے غیر شخص امام ہوتو ان کے حق میں دست اندازی ہو۔
(۲) کیا اہلسنت کے مذہب میں امامت حق خاندانی ہے کہ امام کے بعد اس کے خاندان سے باہر جانا ان کی حق تلفی ہے۔
(۳) امامت اصل حق علمائے دین کا ہے یا جاہلوں کا۔
(۴) اگر امامت کے شرعا احق والیق علماء ہیں تو جو لوگ عالم دین صالح متدین جامع جملہ شرائط امامت کے ہوتے ہوئے جاہلوں کو امام بنائیں یا بنانا چاہیں یا اس میں کوشش کریں ان پر شرعا الزام ہے یا نہیں ۔
(۵) امامت پنجگانہ وامامت جمعہ و عیدین کا ایك ہی حکم ہے یا کیا فرق ہے۔
مسئلہ نمبر۶۴۲ : از کلی ناگرپرگنہ پورن پور ضلع پیلی بھیت مرسلہ اکبر علی صاحب ۵ جمادی الآخرہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ایك شخص مدت دراز سے امامت کرتا ہے اور بہ مشورہ اہل اسلام پیش امام ہے اور بعد اس امامت کرنے کے پیش امام نے اپنے گھر میں حرام کرایا اور ایك عورت کا حرام پیٹ اپنے گھر میں گروایا تو اب اس کوامامت کرنی چاہئے یانہیں
الجواب :
اگرثابت ہوکہ اس نے حرام کروایا یا حرام کا سامان جمع کیا یا حرام میں کسی طرح ساعی ہوا یا اس پر راضی ہوا تو وہ فاسق ہے اسے ہرگز امامت نہ کرنی چاہئے اوراگر ان میں سے کچھ نہ تھا بلالکہ عورت کسی طرح معاذاﷲ حرام میں مبتلا ہوئی اور اسے حمل رہا اس نے اس کی پردہ پوشی کے لئے اسقاط حمل کروایا جبکہ بچہ میں جان نہ پڑی تھی تواس پر الزام نہیں بلالکہ پردہ پوشی امرحسن ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۶۴۳ : ازکلی ناگر پرگنہ پورن پور ضلع پیلی بھیت مرسلہ اکبر علی خان ۵ جمادی الاخری ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ پیش امام نے اپنے نفس کے واسطے جھوٹ بولا اور یہ کہا میرے گھر آگ لگ گئی ہے تو اس سے پیش امام کی امامت میں فرق تو نہیں آیا اور یہ پیش امام امامت کے لائق ہے یا نہیں
الجواب :
اگر اس نے جھوٹ بول کر لوگوں کو دھوکہ دیا ان سے کچھ مال وصول کیا تو وہ فاسق ہے امامت سے معزول کیا جائے اور اگر مراد یہ نہیں تو مراد واضح کی جائے کہ اس کا جواب دیا جائے ایسے گول الفاظ سوال میں لکھنا نادانی ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۶۴۴ : از پیلی بھیت محلہ منیرخاں مرسلہ جناب مولانا مولوی وصی احمد صاحب محدث سورتی رحمۃ اللہ تعالی علیہ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
(۱) کیاامامت میں شرعا وراثت جاری ہے کہ امام مرجائے تو اس کے بعد اسی کی اولاد یاخاندان سے امام ہونا ضرور ہے غیر شخص امام ہوتو ان کے حق میں دست اندازی ہو۔
(۲) کیا اہلسنت کے مذہب میں امامت حق خاندانی ہے کہ امام کے بعد اس کے خاندان سے باہر جانا ان کی حق تلفی ہے۔
(۳) امامت اصل حق علمائے دین کا ہے یا جاہلوں کا۔
(۴) اگر امامت کے شرعا احق والیق علماء ہیں تو جو لوگ عالم دین صالح متدین جامع جملہ شرائط امامت کے ہوتے ہوئے جاہلوں کو امام بنائیں یا بنانا چاہیں یا اس میں کوشش کریں ان پر شرعا الزام ہے یا نہیں ۔
(۵) امامت پنجگانہ وامامت جمعہ و عیدین کا ایك ہی حکم ہے یا کیا فرق ہے۔
#11131 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
(۶) اگر کسی گھرانے میں سابق سے امامت رہی پھر ان کے ایك شخص سے مسلمانوں نے ناراض ہوکر اسے امامت سے معزول کیاہواور باآنکہ اس خاندان میں دو تین شخص اور اسی کے مثل موجود ہوں ان کے ہوتے ہوئے ایك عالم دین کو امامت کے لئے منتخب کیا اور برسوں اس عالم یااس کے نائب نے جمعہ پڑھایا اوراس گھرانے والوں نے بھی بلا نزاع اس کے پیچھے نماز جمعہ پڑھی ہو پھر کئی سال کے بعد دفعۃ وہ لوگ مدعی ہوں کہ امامت ہمارا حق خاندانی ہے اوراس بنا پر عالم کی امامت چھیننا چاہیں تو ان کا یہ فعل محمود یا مذموم وممنوع اور یہ دعوی مسموع ہے یاممنوع و مدفوع اور اگر اب یہ لوگ زمانہ ریاست اسلام کی کوئی سند مہری ظاہر کریں کہ امامت ہمارے ہی خاندان کی ہے تو وہ سند شرعا مستند ہے یا نہیں ۔
(۷) اگر یہ لوگ اپنے اوپر علم دین کی ترجیح دفع کرنے کو حدیث صلواخلف کل بروفاجر (ہر نیك اورفاجر کے پیچھے نماز ادا کرلو۔ ت) پیش کریں تو ان کا استدلال صحیح ہے یا باطل۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
(۱) امامت میں وراثت جاری نہیں ورنہ سہام فرائض پرتقسیم ہو اوربحکم آیہ کریمہ
یوصیكم الله فی اولادكم-للذكر مثل حظ الانثیین- اﷲ تعالی تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ دو بیٹیوں کے برابر بیٹے کا حصہ ہوگا۔ ت)دوہراحصہ بیٹوں کو ملے اور اکہرا بیٹیوں کو اور بحکم آیہ کریمہفان كان لكم ولد فلهن الثمن مما تركتم (ان بیویوں کے لئے آٹھواں حصہ ہے اگر خاونداولاد چھوڑ گئے ہوں ۔ ت) آٹھویں دن کی امامت بی بی کو ملے بلالکہ پیٹ کے بچے بھی امامت کا حصہ پائیں کہ شرعا وارث تو وہ بھی ہیں عورات واطفال کا اصلا اہل امامت نہ ہونا ہی دلیل واضح کہ امامت میں وراثت نہیں کہ وراثت خاندانی اسی شیئ میں جاری ہوسکتی ہے جو ہر وارث کو پہنچ سکے بلالکہ سب کو معا پہنچنا لازم اور امامت میں تعدد محال تو کس بنا پر کہا جاسکتا ہے کہ امام کے بعد اس کے وارثوں ہی میں امامت ضرور ہے یہ صریح جہل مبین ہے ۔ ردالمحتار میں ہے :
اعتقادھم ان خبزالاب لابنہ لایفید لمافیہ من تغیر حکم الشرع ومخالفۃ شرط الواقف واعطاء الوظائف من تدریس وامامۃ وغیرھا الی غیر مستحقھا وکذلك اعتقادھم ان الارشد اذا
ان کا یہ اعتقاد کہ باپ کی روزی بیٹے کے لئے ہے مفید نہیں کیونکہ اس میں حکم شرع کی تبدیلی ہے اور واقف کی شرط کی مخالفت ہے اور تدریس امامت وغیرہ پر غیر مستحق کے لئے وظائف کا عطا کرنا ہے۔ اسی طرح ان کا یہ اعتقاد کہ زیادہ صاحب عقل اپنی مرض موت میں جب اپنی
حوالہ / References القرآن ۴ / ۱۱
القرآن ۴ / ۱۲
ردالمحتارمطلب فیما شاع فی زماننا من تفویض نظر الاوقاف للصغیر مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۳ / ۴۲۲
#11132 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
فوض واسند فی مرض موتہ لمن اراد صح لان مختار الارشد ارشد فھو باطل لان الرشد صفۃ قائمۃ بالرشید لاتحصل لہ بمجرد اختیار غیرہ لہ کما لا یصیرالشخص الجاھل عالما بمجرد اختیار الغیرلہ فی وظیفۃ التدریس وکل ھذہ امورنا شئۃ عن الجہل واتباع العادۃ المخالفۃ لصریح الحق بمجرد تحکیم العقل المختل ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم (ملخصا) واﷲ تعالی اعلم
مرضی کے مطابق کسی کوك حقوق تفویض کردیتاہے توصحیح ہے کیونکہ عقلمند کا اختیار درست ہی ہوتا ہے پس یہ باطل کیونکہ وقف کے معاملات میں رشد ایسی صفت ہے جو رشید کے ساتھ قائم ہوتی ہے یہ محض غیر کی پسندیدگی کی وجہ سے کسی کو حاصل نہیں ہوجاتی جیسا کہ جاہل شخص کے لئے غیر کے محض وظیفہ تدریس پسند کرنے سے جاہل عالم نہیں بن سکتا یہ تمام امور جہالت اور ایسی عادت پر مبنی ہیں جو عقل میں خلل کی بنا پر صریح حق خلاف حکم جاری کرتی ہے لاحول لاقوۃالا باﷲالعلی العظیم (ملخصا) واﷲ تعالی اعلم (ت)
(۲) اہلسنت کے مذہب میں امامت حق خاندانی نہیں کہ یہ رافضیوں میں جاہل رافضیوں کاخیال ہے۔ اسی بنا پر ان کے نزدیك امامت بعد حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے حق امیر المؤمنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ تھی۔ شیخین رضی اللہ تعالی عنہما کو معاذ اﷲ ناحق پہنچی کہ مولی علی حضور کے خاندان اقدس میں سے تھے نہ شیخین رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین آج تك ان کے جہال عوام کو یہی بہکاتے ہیں کہ خاندان کی چیز خاندان سے باہر نہیں جاسکتی صدیق و فاروق کیونکر مستحق ہوگئے اور اہلسنت یہی جواب دیتے ہیں کہ یہ دنیوی وراثت نہیں دینی منصب ہے اور میں وہی مستحق ومقدم رہے گا جو افضل ہو۔ واﷲ تعالی اعلم
(۳) امامت اصل حق حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ہے کہ نبی اپنی امت کا امام ہوتاہے قال اﷲ تعالی انی جاعلك للناس اماما- (اﷲ تعالی کا فرمان ہے بلا شبہ میں آپکو لوگوں کا امام بنانے والا ہوں ۔ ت)(۲)
اب حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تو نبی الانبیاء وامام الائمہ ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور ہرعاقل جانتا ہے جہاں اصل تشریف فرما نہ ہو وہاں اس کا نائب ہی قائم ہوگا نہ کہ غیر اور تمام مسلمان آگاہ ہیں کہ علمائے دین ہی نائبان حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہیں نہ جہال تو امامت خاص حق علماء ہے اس میں جہال کوان سے منازعت کا اصلا حق نہیں ولہذا علمائے کرام نے تصریح فرمائی ہے احق بالامامۃ اعلم قوم ہے :
حوالہ / References ردالمحتار مطلب فیما شاع فی زماننا من تفویض نظر الاوقاف للصغیر مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۳ / ۴۲۲
القرآن ۲ / ۱۲۴
#11133 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
تنویرالابصار ودرمختار وغیرہما میں ہے :
الاحق بالامامۃ تقدیما بل نصبا مجمع الانھر الاعلم باحکام الصلوۃ ۔
امامت کے لئے مقدم ہونے بلالکہ مقرر کرنے میں زیادہ حقدار وہ ہے مجمع الانہر جو شخص احکام نماز سے زیادہ آگاہ ہو۔ (ت)
(۴) بیشك جو عالم دین کے مقابل جاہلوں کو امام بنانے میں کوشش کرے وہ شریعت مطہرہ کا مخالف اور اﷲ ورسول اور مسلمانوں سب کا خائن ہے۔ حاکم وعقیلی طبرانی وابن عدی وخطیب بغدادی نے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی حضورپر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
من استعمل رجلا من عصابۃ وفیھم من ھوارضی اﷲ منہ فقد خان اﷲ ورسولہ و المؤمنین ۔
جوکسی جماعت سے ایك شخص کو کام مقرر کرے اور ان میں وہ موجود ہو جو اﷲ عزوجل کو اس سے زیادہ پسندیدہ ہے بیشك اس نے اﷲ ورسول اور مسلمانوں سب کے ساتھ خیانت کی۔ (ت)
(۵) امامت جمعہ وعیدین وکسوف امامت نماز پنجگانہ سے بہت تنگ تر ہے ۔ پنجگانہ میں ہر شخص صحیح الایمان صحیح القرأۃ صحیح الطہارۃ مردعاقل بالغ غیرمعذور امامت کر سکتا ہے یعنی اس کے پیچھے نماز ہوجائے گی اگرچہ بوجہ فسق وغیرہ مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہو تجوز الصلاۃ خلف کل بروفاجر(نماز ہرنیك وفاجر کے پیچھے جائز ہے۔ ت) کے یہی معنی ہیں مگر جمعہ و عیدین و کسوف میں کوئی امامت نہیں کرسکتا اگرچہ حافظ قاری متقی وغیرہ وغیرہ فضائل کا جامع ہو مگر وہ جو بحکم شرع عام مسلمانوں کا خود امام ہو کہ بالعموم ان پر استحقاق امامت رکھتاہو یا ایسے امام کا ماذون و مقرر کردہ ہو اوریہ استحقاق علی الترتیب صرف تین طور پر ثابت ہوتا ہے۔
اول : وہ سلطان اسلام ہو۔
ثانی : جہاں سلطنت اسلام نہیں وہاں امامت عامہ اس شہر کے اعلم علمائے کو ہے۔
ثالث : جہاں یہ بھی نہ ہو وہاں بمجبوری عام مسلمان جسے مقرر کرلیں بغیر ان صورتوں کے جو شخص نہ خود
حوالہ / References دُرمختار باب الامامۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۸۲
المستدرك علی الصحیحین الامارۃ امانۃ مطبوعہ دارلفکر بیروت ۴ / ۹۲
ف : مستدرك میں فیھم کی جگہ فی تلك العصبابۃ کا لفظ ہے۔ نذیر احمد سعیدی
#11134 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
ایسا امام ہے نہ ایسے امام کا نائب وماذون ومقرر کردہ اس کی امامت ان نمازوں میں اصلا صحیح نہیں اگر امامت کرےگا نماز باطل محض ہوگی جمعہ کا فرض سر پر رہ جائے گا ان شہروں میں کہ سلطان اسلام موجود نہیں اور تمام ملك کا ایك عالم پر اتفاق دشوار ہے اعلم علمائے بلد کہ اس شہر کے سنی عالموں میں سب سے زیادہ فقیہ ہو نماز کے مثل مسلمانوں کے دینی کاموں میں ان کا امام عام ہو اور بحکم قرآن عظیم ا ن پر اس کی طرف رجوع اور اسکے ارشاد پر عمل فرض ہے جمعہ وعیدین وکسوف کی امامت وہ خود کرے یا جسے مناسب جانے مقرر کرے اس کے خلاف پر عوام بطور خود اگر کسی کو امام بنالیں گے صحیح نہ ہوگا کہ عوام کاتقرر بمجبوری اس حالت میں روا رکھا گیا ہے جب امام عام موجود نہ ہو اس کے ہوتے ہوئے ان کی قرارداد کوئی چیز نہیں ۔ تنویر الابصار ودرمختارباب الجمعہ میں ہے :
یشترط لصحتھا سبعۃ اشیاء الاول المصر وفناء ہ والثانی السلطان اومامورہ باقامتھا ۔
جمعہ کی صحت کے لئے سات۷ اشیاء کا ہونا شرط ہے پہلی شہر اور فناء شہر دوسری خودبادشاہ یا وہ شخص جس کو بادشاہ وقت نے جمعہ قائم کرنے کی اجازت دی ہو۔ (ت)
فتاوی امام عتابی پھر حدیقہ ندیہ شرح محمدیہ مطبوعہ مصر جلد اول ص ۲۴۰ میں ہے :
اذاخلی الزمان من سلطان ذی کفایۃ فالامور مؤکلۃ الی العلماء ویلزم الامۃ الرجوع الیھم یصیرون ولاۃ فاذاعسر جمھم علی واحد استقل کل قطر باتباع علمائہ فان کثروا فالمتبع اعلمھم فان استووا اقرع بینھم ۔
جب زمانہ ذی کفایت سلطان سے خالی ہوجائے تو معاملات علماء کے سپرد کئے جائیں اورامت پر ان علماء کی طرف رجوع لازم ہوگا اور وہی حکمران کہلوائیں گے اگر کسی معاملہ پر سب کا اتفاق مشکل ہوجائے توہر علاقہ والے اپنے علماء کی اتباع کریں اگر زیادہ علماء ہوں تو جو ان میں سب سے زیادہ صاحب علم ہو اس کی اتباع کریں اگر سب برابر ہوں تو قرعہ اندازی کرلی جائے (ت)
اﷲعزوجل فرماتا ہے :
اطیعوا الله و اطیعوا الرسول و اولی
اﷲ کی اطاعت کرواور اس کے رسول کی اطاعت کرو
حوالہ / References درمختار باب الجمعۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۰۹
حدیقہ ندیۃ شرح طریقہ محمدیۃ النوع الثالث فی بیان العلوم المندوب الیہا مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ / ۳۵۱
#11135 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
الامر منكم-
اور اپنوں میں سے اولی الامر کی اطاعت کرو۔ (ت)
آئمہ دین فرماتے ہیں صحیح یہ ہے کہ آیہ کریمہ میں اولی الامر سے مراد علمائے دین ہیں نص علیہ العلامۃ الزرقانی فی شرح المواھب وغیرہ فی وغیرہ (اس پر علامہ زرقانی نے شرح المواہب اور دیگر علماء نے اپنی کتب میں تصریح کی ہے ۔ ت) درمختار میں ہے :
نصب العامۃ الخطیب غیر معتبرمع وجود من ذکر اما مع عدمھم فیجوز للضرورۃ ۔
عوام کا خطیب مقرر کرنا اس وقت معتبر نہیں ہے جبکہ مذکورہ افراد موجود ہوں اگر مذکورہ افراد نہ ہوں تو عوام کا خطیب مقرر کرنا ضرورت کے تحت جائز ہے۔ (ت)
فتاوی قاضی خان و درمختار وغیرہما میں ہے :
خطیب بلا اذن الامام والامام حاضر لم یجز الا ان یکون الامام امرہ بذلك واﷲ تعالی اعلم ۔
اگر کسی نے امام کی اجازت کے بغیر خطبہ دیاحالانکہ امام حاضر تھا تو یہ جائز نہیں البتہ اس صورت میں جائز ہوگا جب امام نے اسے اس بات کا حکم دیا ہو ۔ (ت)
(۶) عالم سے ان کی منازعت مذموم وممنوع اور ان کا دعوی مردود ونامسموع جوابات سابقہ میں واضح ہولیا کہ امامت میں وراثت نہیں نہ وہ کسی کاحق خاندانی ہے بلالکہ حق علمائے دین ہے اور انھیں کو تقدیم و ترجیح ہے خصوصا امامت جمعہ و عیدین کہ یہاں بے ان کے اذن کے محض باطل ہے اور سالہاسال تك عالم کا امامت کرنا اور ان کا معترض نہ ہونا دلیل واضح ہے کہ وہ عامیانہ خیالا ت کے طور پر بھی کوئی استحقاق محکم اس کا نہ رکھتے تھے کہ ان کے خاندانی سے باہر کوئی امام نہ ہو نہ اس وقت ان کے پاس کوئی سندتھی ورنہ ضرور ظاہر کرتے امامت اگر ان کا خاندانی حق ہوتی ہر گز سالہاسال دوسرے کو اس میں تصرف کرتے دیکھ کر ساکت نہ رہتے اب کہ منازعت تازی بات (نیامعاملہ) ہے جس طرح ائمہ دین تصریح فرماتے ہیں کہ جب ایك شخص کسی شےئ میں برسوں تصرف کرے اوردوسرا دیکھے اور مانع نہ ہو پھر دعوی کرے کہ میرا حق ہے تو اس کا دعوی ہر گز مسموع نہ ہو گا ۔ عقودالدریہ میں فتاوی علامہ غزی سے ہے :
سئل عن رجل لہ بیت فی داریسکنہ
ایك ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس کا ایک
حوالہ / References القرآن ۴ / ۵۹
درمختار باب الجمعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۱۰
ردالمحتار باب الجمعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۹۴
فتاوٰی قاضی خان باب صلٰوۃ الجمعہ مطبوعہ نو لکشور لکھنؤ ۱ / ۸۶
#11136 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
مدۃ تزید علی ثلث سنوات ولہ جار بجانبہ والرجل المذکوریتصرف فی البیت المذبور ھدما وعمارۃ مع اطلاع جارہ علی تصرفہ فی المدۃ المذکورۃ تسمع دعواہ ام لا اجاب لا تسمع دعواہ علی ما علیہ الفتوی ۔
گھر ہے وہ اس میں تین سال سے زائد عرصہ سے قیام پذیر ہے اور اس کی ایك جانب پڑوسی بھی ہے مذکورہ شخص اس گھرمیں گرانے اور بنانے ہرطرح کا تصرف کرتا ہے اور مدت مذکورہ میں اس کا پڑوسی اس کے تصرف سے آگاہ بھی ہے توکیا اس کا دعوی قابل سماعت ہوگا یا نہیں اس کا جواب یہ دیا گیا کہ مفتی بہ قول کے اس کا دعوی قابل سماعت نہیں ۔ (ت)
اسی میں ہے :
مجرد الاطلاع علی التصرف مانع من الدعوی ۔
تصرف پر محض اطلاع ہی دعوی سے مانع ہوتی ہے ۔ (ت)
اور مجردسند اگرچہ مہری ہوکوئی حجت شرعی نہیں نہ ہرگز ثبوت میں پیش ہونے کے قابل ۔ فتاوی امام قاضی خان میں ہے :
احضر صکا فیہ خطوط العدول والقضاۃ الماضیین وطلب من القاضی القضاء بذلك الصك قالوا لیس للقاضی ان یقضی بذلك الصك لان القاضی انما یقضی بالحجۃ والحجۃ ھی البینۃ اوالاقرار واما الصك فلا یصلح حجۃ لان الخط یشبہ الخط ۔
کسی شخص نے ایسا اشٹام پیش کردیا جس میں ماضی کے حکمران اور قاضیوں کے دستخط تھے اور قاضی سے اس اشٹام کے مطابق فیصلہ چاہا تو فقہاء کہتے ہیں کہ قاضی اس اشٹام کے مطابق فیصلہ نہیں کرسکتا کیونکہ قاضی دلیل و حجت کا پابند ہوتا ہے اور حجت گواہ یا اقرار کانام ہے رہا معاملہ اشٹام کا وہ قابل حجت نہیں کیونکہ تحریر ایك دوسرے سے مشابہ ہوسکتی ہے۔ (ت)
اشباہ والنظائر میں ہے :
لایعتمد علی الخط ولایعمل بہ
(تحریر پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا اور نہ اس کے
حوالہ / References العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ کتاب الدعوٰی حاجی عبدالغفاروپسران تاجران کتب ارگر بازار قندھار (افغانستان) ۲ / ۴
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ کتاب الدعوٰی حاجی عبدالغفاروپسران تاجران کتب ارگر بازار قندھار(افغانستان) ۲ / ۴
فتاوٰی قاضی خان فصل فی دعوی الوقوف والشہادۃ علیہ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۴ / ۷۴۲
الاشباہ والنطائر ، کتاب القضاء ، مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ، ۱ / ۳۳۸
#11137 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
طابق عمل کیاجائے گا۔ ت)فتاوی عالمگیری میں ہے۔
الکتاب قد یفتعل ویزور والخط یشبہ الخط والخاتم یشبہ الخاتم واﷲ تعالی اعلم۔
تحریر کبھی جعلی اور جھوٹی ہوتی ہے اسی طرح کبھی تحریر تحریر کے اور مہرمہر کے مشابہ ہوتی ہے۔ (ت) واﷲ تعالی اعلم
(۷) زمانہائے خلافت میں سلاطین خود امامت کرتے اور حضور عالم مکان ومایکون صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو معلوم تھا کہ ان میں فساق و فجار بھی ہونگے فرمایا کہ ستکون علیکم امراء یؤخرون الصلوۃ عن وقتھا (تم پر ایسے امراء وارد ہوں گے جو نمازوں کو وقت سے مؤخر کرینگے ۔ ت) اور معلوم تھا کہ اہل صلاح کے قلوب ان کی اقتداء سے تنفر کریں گے اور معلوم تھا کہ ان سے اختلاف آتش فتنہ کو مشتعل کرنے والا ہوگا اور دفع فتنہ دفع اقتداء فاسق سے اہم واعظم تھا ۔ قال اﷲ تعالی و الفتنة اكبر من القتل- ۔ (فتنہ قتل سے بڑاو بدتر ہوتا ہے۔ ت) لہذا دروازہ فتنہ بند کرنے کے لئے ارشاد ہوا : صلوا خلف کل بر وفاجر (ہر نیك وفاجر کے پیچھے نماز ادا کرو۔ ت)یہ اس باب سے ہے : من ابتلی بلیتین اختارا ھونھما(جوشخص دومصیبتوں میں مبتلا ہوجائے تو ان میں آسان کو اختیار کرے۔ ت)اور فقہا کا قول تجوز الصلاۃ خلف کل بروفاجر(ہر نیك وفاجرکے پیچھے نماز ادا کرنا جائز ہے۔ ت) اسی معنی پر ہے جو اوپر گزرے کہ نماز فاسق کے پیچھے بھی ہوجاتی ہے اگر چہ غیر معلن کے پیچھے مکروہ تنزیہی اور معلن کے پیچھے مکروہ تحریمی ہوگی مگر ان مدعیوں کے لئے اس حدیث و مسئلہ فقہ میں کوئی حجت وسند نہیں نفس جواز وصحت سے مساوات کیونکر نکلی کہ منافی ترجیح ہو اﷲ تعالی فرماتا ہے : ام نجعل المتقین كالفجار(۲۸) (کیاہم صاحب تقوی کو فاجر لوگوں کے برابر کردیں گے۔ ت) یہی فقہاء برابر تصریح فرماتے ہیں کہ امامت کااحق اعلم قوم کو ہے اور فاسق کے پیچھے نماز مکروہ پھر جواز بھی غیر نماز جمعہ و عیدین و کسوف میں ہے ان نمازوں کی شرط وہ تنگ ہے کہ بے امامت عامہ بمعنی مذکور کسی صالح متقی کے پیچھے بھی نہیں ہوسکتی “ کما تقدم بیانہ “ پھر عجب تناقص ہے کہ اپنا استحقاق جتانے کے لئے تو امامت خاص اپنے خاندان کے لئے محصور کردیں کہ خاندان سے باہر کسی عالم دین کو بھی اس کا استحقاق نہ مانیں اور عالم دین کی ترجیح رفع کرنے کو کل بروفاجر کا دامن تھامیں اور اسی امامت کو
حوالہ / References فتاوی ہندیہ الباب الثالث والعشرون فی کتاب القاضی الی القاضی مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۳ / ۳۸۱
مسند الامام احمد بن حنبل مروی عن عبادہ بن الصامت ، مطبوعہ دارالفکر بیروت ، ۵ / ۳۱۴
القرآن ۲ / ۲۱۷
سنن الدارقطنی باب صفۃ من تجوز الصلٰوۃ الخ مطبوعہ نشر السنۃ ملتان ۲ / ۵۷
القرآن ۳۸ / ۲۸
#11138 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
ہر نیك وبد کا مساوی حق قرار دیں ۔ جب صالح وطالح اس میں یکساں ہیں تو تمھارے خاندان کی خصوصیت کہاں ہے اور جب ہر فاسق وبدکار کے پیچھے روابتاتے ہوتو عالم دین صالح ثقہ متقی سے کیوں الجھتے ہو معلوم ہوا کہ اپنے ہوائے نفس کے پیرو ہیں باقی بس اﷲ تعالی اتباع شرع واطاعت علمائے دین کی توفیق بخشے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۶۵۱ : ۲۱ ذی قعدہ۱۳۲۲ھ : اندھے کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تنزیہی یاتحریمی ہے یا نہیں اور یہ امامت کے واسطے سزاوارہے یا نہیں اور مولانا روم کے اس شعر کا کیا مطلب ہے :
در شریعت ہست مکروہ اے کیا درامامت پیش کردن کور را
گرچہ حافظ باشد وچست وفقیہ چشم روشن بہ دگر باسد سفیہ
الجواب :
اندھا اگر تمام موجودین میں سب سے زیادہ مسائل کا جاننے والا نہ ہو اور اس کے سوا دوسرا صحیح القرأت صحیح العقیدہ غیرفاسق معلن حاضر جماعت ہے تو اندھے کی امامت مکروہ تنزیہی ہے اور اگر وہی سب سے زیادہ علم نماز رکھتا ہے تو اسی کی امامت افضل ہے اگر حاضرین میں دوسراصحیح خواں بدمذہب یافاسق ملعن ہے اور اندھا ان سب عیبوں سے پاك ہے تو اسی کی امامت ضرور ہے اور اگر صحیح خواں صرف وہی ہے جب تواصلا دوسرا قابل امامت ہی نہیں ۔ درمختار میں ہے :
یکرہ تنزیھا امامۃ اعمی الا ان یکون اعلم القوم فھواولی اھ
نابینے شخص کی امامت مکروہ تنزیہی ہے البتہ اس صورت میں اس کی امامت اولی ہوگی جب وہ دوسروں سے زیادہ صاحب علم ہو اھ مختصرا(ت)
حضرت مولو ی قدس اﷲ تعالی اسرارنا بسرہ النوری ان آنکھوں میں کلام فرتے ہیں جن سے انھیں کام ہے جس کی چشم باطن روشن ہے اگر چہ علم بطور رسمی حاصل نہ کیا ہو علم رسمی کے عالم غیر عارف سے افضل واحق بالتقدیم ہے علم لدنی علم رسمی سے بدرجہا اجل واکمل ہے۔
قال اﷲ تعالی و اتقوا الله-و یعلمكم الله-
وقا ل اﷲ تعالیقل هل یستوی الذین یعلمون اﷲ تعالی کا فرمان ہے اور اﷲ سے تقوی اختیار اور اﷲ تعالی ہی تمھیں علم کی دولت سے نوازتا ہے اﷲ
حوالہ / References درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۳
القرآن ۲ / ۲۸۲
#11139 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
و الذین لا یعلمون- واﷲ تعالی اعلم۔
تعالی کا یہ فرمان ہے کیا علم والے اور بے علم برابر ہوسکتے ہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ نمبر ۶۵۲ : از گندہ نالہ مرسلہ وزیر احمد ۹ جمادی الاخری یوم شنبہ ۱۳۲۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید تمسکات میں سود لکھوادلیتا ہے اور بیان کرتا ہے کہ میں صرف لکھوا لیتا ہوں اور چار پانچ برس ہوئے کہ اس نے مع سود نالش کرکے ڈگری کرائی تھی اس صورت میں اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
ہر گز نہیں جس طرح سود لینا حرام ہے یونہی سود لکھوانا حرام ہے بلالکہ حدیث میں دوسرے کے لئے سود کاکاغذلکھنے پر لعنت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ وہ اور سود لینے والا دونوں برابر ہیں تو خود اپنے لئے سود لکھوانا کیونکر موجب لعنت نہ ہوگا اور یہ زعم کہ میں لیتا نہیں محض اس کا اپنا ادعا ہے کہ قبول نہ ہوگا اور اگلی نالش مع سود اس کے کذب پر گواہ ہے غرض وہ فاسق ہے اور اسکے پیچھے نماز مکروہ تحریمی قریب بحرام واجب الاعادہ ہے یعنی نادانستہ پڑھ لی جب معلوم ہو جتنی نمازیں اس کے پیچھے پڑھی ہوں سب کا دہرانا واجب ہے اور دانستہ پڑھی تو نماز دہرانا جدا واجب اور اسکے پیچھے پڑھنے کا گناہ علاوہ۔ لہذا توبہ کرے ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۶۵۳ : ۹رجب المرجب یوم یکشنبہ ۱۳۲۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جس میں اوصاف حسب ذیل ہوں وہ شخص لائق امامت ہے یا نہیں
(۱) نماز میں قرآن شریف جو پڑھتے ہیں اس میں کبھی نیچے کی آیت اوپر پڑھ جاتے ہیں کبھی آیت چھوٹ جاتی ہے۔
(۲) فجر کی نماز اکثر قضا پڑھا کرتے ہیں ۔
(۳) ظہر کا وقت کبھی سونے میں گزر جاتا ہے ایسے تنگ وقت میں نماز پڑھتے ہیں کہ فرض پڑھتے ہی عصر کا وقت آجاتا ہے۔
(۴) مغرب کا وقت سیر بازار میں گزرتا ہے تنگ وقت میں واپس آتی ہیں جب ان سے کہا جاتا ہے
حوالہ / References القرآن ۳۹ / ۹
صحیح مسلم باب الرباء مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۲۷
صحیح مسلم باب الرباء مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۲۷
#11142 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
کہ آپ مسجد کے امام ہیں اور نماز اورلوگوں کو پڑھانا پڑتی ہے تو اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ نماز کا میں کچھ پابند نہیں ہوں ۔
(۵) اپنے وضوکا لوٹا اور گھڑا نہانے کا علیحدہ رکھتے ہیں ۔
(۶) ایك رافضی سے بے تکلفی ہے کہ اس کےساتھ کھانا کھاتے ہیں اور مسجد باہم دونوں کے مذاق بے تکلفانہ اور معشوقانہ ہواکرتا ہے۔
(۷) نماز کے مسائل معلوم نہیں ہیں ۔
الجواب :
سہوا کسی آیت میں تقدیم وتاخیر یا کسی آیت کا چھوٹ جانا اگر نادرا ہو تو مضائقہ نہیں اور اکثر ایسا ہوتا ہے تو ایسے شخص کی امامت سے احتراز اولی ہے جبکہ دوسرا صحیح خواں صحیح العقیدہ صحیح الطہارت غیرفاسق معلن قابل امامت موجود ہو نماز فجر اتفاقا قضا ہوجانے پر مواخذہ نہیں جبکہ اپنی طرف سے تقصیر نہ ہو مگر اکثر قضا ہونا بے تقصیر نہیں ہوتا اگر کوئی علت صحیح شرعی قابل قبول نہ رکھتا ہو تو بے پروائی ضروراسے حد فسق تك پہنچائے گی اور فاسق کوامام بنانا منع ہے ۔ جو شخص آفتاب ڈھلنے ظہر کاوقت شروع ہونے سے پہلے سوئے اور کسی مرض یا ماندگی کے سبب اتفاقا ایساسوجائے کہ ظہر کا وقت گزر جائے تو اس پر الزام نہیں ۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لاتفریط فی النوم انما التفریط فی الیقظۃ۔
سونے میں قصور نہیں قصور جاگنے میں ہے۔
اور اگر ظہر کاوقت آگیا یعنی آفتاب دائرہ نصف النہار سے ڈھل گیا اس کے بعد سویا اور وقت بلکل گزاردیا تو اس پر الزام ہے کما نص علیہ فی ردالمحتار(جیسا کہ اس پرردالمحتار میں تصریح کی ہے۔ ت)اور جبکہ اس کا عادی ہو بارہا ایسا واقع ہوتو ضرور فاسق ہے اسے امام بنانا گناہ یونہی اگر اتنے سونے کا عادی ہو کہ فرض ظہر پڑھتے ہی وقت عصر واقعی آجاتا ہے سنت کاوقت نہیں ملتا تو اس صورت میں بھی ترك سنت مؤکدہ کی عادت کے سبب آثم وگنہ گار اورامام بنانے کا ناسزاوارہے مغرب کاوقت سیر بازار میں تنگ کردینا اگر اتنا ہوکہ چھوٹے چھوٹے ستارے بھی ظاہر ہوجائیں کہ حقیقۃ تنگ وقت یہی ہے جب تو اس کا مکروہ وممنوع ہونا ظاہر اور اگر اتنا بھی نہ ہوتواس قدر میں شك نہیں کہ جماعت یااقل درجہ جماعت اولی ضرور متروك ہوئی وقد حققناہ فی فتاونا ان الواجب ھو ادراك الجماعۃ الاولی(ہم نے فتاوی میں اس کی تحقیق یہ کی ہے کہ
حوالہ / References سنن ابوداؤد باب فی من نام عن صلٰوۃ اونسیہا مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۶۳
#11145 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
جماعت اولی کاپانا واجب ہے۔ ت) تواس کے ترك کی عادت بھی فسق ہے اور ایسے کی امامت ممنوع اور وہ لفظ کہ میں نماز کا کچھ پابند نہیں ہوں اپنے ظاہر پر بد تر وشنیع تر فسق ہے اپنے وضو اورنہانے کے لئے برتن علیحدہ رکھنا اگر براہ تکبر ہو تو سخت کبیرہ اور براہ وہم ووسوسہ ہو جب بھی ممنوع اس کا مرتکب فاسق افسق ہے یاوہمی احمق دین اسلام میں نہ چھوت ہے نہ وساوس پروری ۔ روافض زمانہ علی العموم کفار ومرتد ہیں کما حققناہ فی ردالرفضۃ (جیسا کہ ہم نے ردالرفضہ میں اس کی تحقیق کی ہے ۔ ت) اور مرتدین سے میل جول حرام ۔ اور مسجد میں ایسامذاق سنی صحیح العقیدہ سے بھی حرام ۔ لاجرم شخص مذکور سخت فاسق وفاجر مرتکب کبائر ہے اور اس کی امامت ممنوع ۔ اسے امام بنانا حرام اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ اور نماز کے مسائل ضروریہ کانہ جاننا بھی فسق ہے بہرحال شخص مذکور کی امامت کی ہرگز اجازت نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۶۵۴ : ازفیض آبادڈاکخانہ شہزاد پور مرسلہ عبداﷲ طالب علم ۱۳۲۴ھ
کیا فرماتے ہیں ومفتیان شرع متین آیا زانی کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں کیونکہ اس مسئلہ میں بہت جھگڑا پیدا ہوگیا ہے یہاں تك کہ حالت گزرگئی کہ نمازجماعت میں تفرق ہوگیا ہے حدیث اور کتاب کی سند ہونا چاہئے ۔ بینوا توجروا
الجواب :
زانی فاسق اور فاسق کے پیچھے نماز منع ہے اسے امام بنانا گناہ ہے اس کے پیچھے جو نمازیں پڑھی ہوں ان کا پھیرنا واجب ہے ۔ ردالمحتار میں ہے :
مشی فی شرح المنیۃ علی ان کراھۃ تقدیمہ (یعنی الفاسق) کراھۃ تحریمہ ۔
شرح المنیہ میں ہے کہ اس(فاسق) کی تقدیم مکروہ تحریمی ہے(ت)
درمختار میں ہے :
کل صلاۃ ادیت مع کراھۃ التحریم تجب اعادتھا ۔
ہر وہ نماز جو کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی جائے اس کا اعادہ واجب ہے۔ (ت)
مسئلہ نمبر۶۵۵ : ازگونڈہ ملك اودھ مرسلہ مسلمانان گو نڈہ عموما وحافظ عبدالحفیظ صاحب مدرس مدرسہ انجمن اسلامیہ گونڈہ ذی الحجہ۱۳۲۴ھ
زید صاحب علم متین ہے یعنی عالم ہے اور سید ومعمروپابندصلوۃ ہے مگر اکثر جماعت سے نماز
حوالہ / References ردالمحتار ، باب الامامۃ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۴۱۴
درمختار باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۷۱
#11146 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
ادا نہیں کرتا اپنے گھر پر پڑھ لیتا ہے لیکن جمعہ کے روز مسجد میں امامت کرتا ہے اور کثرت سے لوگ اس کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں مگر بعض اشخاص اس کے پیچھے نماز سے اعتراض کرتے ہیں مگر اعتراض کنندہ زید سے ہر بات میں کم رتبہ ہیں اور محتاط و متقی بھی نہیں ہیں اور نفسا نیت و ضد بھی ہے اور پیشتر یہ معترض بھی اس کے پیچھے نماز پڑھتے تھے تو پس زید کے پیچھے نماز پڑھنی ایسے اشخاص مذکورہ بالا کی درست ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
زید کا ترك جماعت کرنا اگر کسی عذر صحیح شرعی کے سبب ہے تو زید پر مواخذہ نہیں اور اس کے پیچھے ہر نماز بلا کراہت درست ہے جبکہ کوئی مانع شرعی نہ ہو اشخاص مذکورین کا اس کی اقتداء سے ا حتراز اس صورت میں محض جہالت و بیجا ہے اوراگر وہ بلا عذر شرعی ترك جماعت کا عادی ہے تو یہ ضرور فسق ہے اور اس تقدیر پر اس کی اقتدا سے بچنا بجا ہے جبکہ جمعہ دوسری جگہ صالح امامت متقی کے پیچھے مل جاتا ہو ورنہ صرف اس عذر سے کہ امام تارك جماعت ہے ترك جمعہ کی اجازت نہیں ہوسکتی ۔ ردالمحتار میں ہے :
فی المعراج قال اصحابنا لا ینبغی ان یقتدی بالفاسق الا فی جمعۃ لانہ فی غیرھا یجد امام غیرہ اھ۔ قال فی الفتح و علیہ فیکرہ فی الجمعۃ اذا تعددت اقا متھا فی المصر علی قول محمد المفتی بہ لانہ بسبیل الی التحول ۔
معراج میں ہے ہمارے اصحاب احناف نے کہا ہے کہ جمعہ کے علاوہ فاسق کی اقتداء نہ کی جائے کیونکہ جمعہ کے علاوہ باقی نمازوں میں دوسرا امام میسر آسکتا ہے اھ۔ فتح میں ہے اس بنا پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ جمعہ بھی اس وقت مکروہ نہ ہوگا جب امام محمد کے قول جو مفتی بہ ہے کے مطابق شہر میں متعدد جگہ جمعہ ہوتا ہو کیونکہ ایسی صورت میں دوسرے امام کی اقتداء میسر ہوسکتی ہے (ت)
درمختا میں ہے :
الجماعۃ سنۃ مؤکدۃ للرجال وقیل واجبۃ وعلیہ عامۃ مشائخنا وھوالراجح عند اھل المذھب فتسن او تجب ثمرتہ تظھر فی الاثم بترکہا مرۃ اھ ملتقطا۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مردوں کے لئے جماعت سنت موکدہ ہے بعض نے واجب کہا ہے اور اکثر مشائخ اسی پر ہیں اور اہل مذہب کے ہاں بھی یہی راجح ہے پس جماعت سنت ہو یا واجب اس کا ثمر کسی ایك دفعہ ترك کی صورت میں ظاہر ہوگا اھ ملتقطا ۔ (ت) واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
حوالہ / References ردالمحتار ، باب لامامۃ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۴
درمختار باب لامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۲
#11147 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
مسئلہ ۶۵۶ : از ریاست جاورہ مکان عبدالمجید خان صاحب سر رشتہ دار ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ذابح البقر کی امامت کیسی ہے
الجواب :
جائز ہے جبکہ غلط خوانی یا بد مذہبی یا فسق وغیر ہا موانع شرعیہ نہ ہوں ذبح بقر کوئی مانع نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۶۵۷ : حیات النبی ہونے سے خالد کو انکار ہے اور مدینہ طیبہ کی زیارت سے بھی حافظ قرآن مذکور کو انکار ہے یہاں تك کہ بہت سے مسلمانوں کو خانہ کعبہ سے لوٹا لایا اور نہ جانے دیا ایسے شخص کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں کیا حکم ہے بینوا تو جروا
الجواب :
خالد گمراہ بد دین ہے اسے امام بنانا جائز نہیں حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بلالکہ جمیع انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کی حیات قرآن و حدیث واجماع سے ثابت ہے اور زیارت مدینہ طیبہ سے انکار رکھنا مسلمانوں کو لوٹا لانا کار شیطان وخلاف رائے مسلمانان ہے
قال اﷲ تعالی
و یتبـع غیر سبیل المؤمنین نوله ما تولى و نصله جهنم-و سآءت مصیرا(۱۱۵)واﷲ تعالی اعلم
اﷲ تعالی کا فرمان ہے جو مومنین کے علاوہ کسی کے راستے کی پیروی کرتا ہے ہم اسے اس طرف پھر دیتے ہیں جس طرف وہ پھر تا ہے اور اسے ہم جہنم میں ڈال دیں گے اور وہ برا ٹھکانہ ہے (ت)
مسئلہ ۶۵۸ : مسئولہ عبد الرحیم صاحب ٹھلیا موہن پور ضلع بریلی ۵محرم الحرام یوم یکشنبہ ۱۳۲۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص دونوں کانوں سے بہت بہرا ہے تکبیر اولی کانوں سے نہیں ستنا ہے اور قرآن شریف بھی اس کو صحیح یاد نہیں ہے بیوی اس کی بے پردہ دکان پر چونے فروخت کرتی ہے دوپٹہ موسم سرما میں گاڑھے کا اوڑھتی ہے اور موسم گرمی میں خاصہ وتن زیب کا اوڑھتی ہے اورکرتی دس گیارہ گرہ لانبی پہنتی ہے مگر کلائیاں ہر دو کھلی چوڑی آستنیوں کے باہر رکھتی ہے اور اس کے شوہر کا کلیا حال معلوم ہے بچشم خود دیکھتا ہے مگر کچھ ہدایت نہیں کرتا ہے اگر وہ ہدایت اپنی بیوی کو پردے کی کرے تو اس کی حالت بہرے ہونے سے اور صحیح نہ پڑھنے سے قابل پیش امام ہونے کے ہے یا نہیں علاوہ گزارش مندرجہ بالا کے نہایت بد آواز بھی ہے اور جو شخص اس کو ہدایت کرتا ہے تو اس حجت و تقریر
#11148 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
جہالت کے ساتھ کرتا ہے ۔ بینوا توجروا
الجواب :
جبکہ اس کی عورت کی کلائیں کھولے باہر پھرتی دکان کرتی ہے یا گرمیوں میں باریك کپڑے پہنے نکلتی ہے جن سے بدن چمکتا ہے اور اس کا شوہر ان احوال سے واقف ہو کر حسب مقدور کامل بندوبست نہیں کرتا تو وہ دیوث ہے اس کے پیچھے نماز پڑھنا اور اسے امام بنانا گناہ ہے اور اگر وہ عورت کو ہدایت بھی کرے اوراس الزام سے توبہ کرکے پاك ہوجائے تو اس حالت میں بھی جبکہ وہ قرآن مجید ایسا غلط پڑھتا ہو جس سے نماز فاسد ہوتی ہے تو اس کی امامت بلکل باطل ہے اور اس کے پیچھے نماز اصلا نہ ہوگی مگریہ الزام وہی لگا سکتے ہیں جو خود صحیح پڑھتے ہوں ور نہ ان کی خود بھی نماز نہیں ہوسکتی وہ سب ایك سے ہوئے ان سب پر فرض ہے کہ حرفوں کی اتنی صحت کرلیں جس سے نماز صحیح ہوجائے جب تك ایسا نہ کریں گے ان سب کی نماز باطل ہوگی اور اگر غلطی وہ ایسی نہیں کرتا جس سے نماز فاسد ہو اور اس کے سوا اور کوئی صحیح پڑھنے والا وہاں نہیں تو لازم ہے کہ وہی امام کیا جائے اور بہرا ہونے کی پروا نہ کی جائے جبکہ وہ عورت کا بندوبست کرلے اور اگر اور بھی صحیح العقیدہ وغیرہ فاسق صحیح پڑھنے والا وہاں موجود ہے تو یہ اگر چہ صحیح بھی پڑھے اور عورت کا بندوبست بھی کرلے اس دوسرے صحیح خواں کی امامت اولی ہوگی کہ جب یہ ایسا بہرا ہے کہ تکبیر کی آواز نہیں سنتا تو نماز میں اگر اس سے کہیں بھول یا غلطی واقع ہوئی مقتدیوں کا بتانا نہ سنے گا واﷲ تعالی اعلم وعلمہ وجل مجد ہ ا تم واحکم
مسئلہ ۶۵۹ : از بھیکن پور ضلع علی گڑھ مرسلہ جعفر علی صاحب ۲۴ ربیع الاول ۱۳۲۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین بیچ امامت اس شخص کے کہ جو صرف حفظ قرآن وفارسی خواں ہو اور ایك مسجد کا امام تنخواہ دار لیکن بازار میں مسلمان سے لڑتا شور مغلظات الفاظ زبان پر لاتا ہو اور کبھی مسجد میں مؤذن سے سخت کلامی اور اس کی حسب ونسب پر مجمع مقتدیان میں الزام لگاتا ہو امؤذن و بعض مقتدیوں سے عرصہ سے کدورت وکینہ رکھتا ہو تنبیہ کرنے پر مقتدیوں پر الزام لگاتاہو کہ تم میری غیبت کرتے اور میری روزی چھیننے کی کوشش کرتے ہو اور اپنے قصور کا ہنوز اعتراف نہ کرتا ہو اور مؤذن سے سلام علیك ترك کردی ہو ایسے امام کی اقتداء بلا کراہت جائز ہے یا کچھ کراہت ہے بینوا توجروا
الجواب :
مسلمان سے بلاوجہ شرعی کینہ وبغض رکھنا حرام ہے اور بلا مصلحت شرعیہ تین دن سے زیادہ ترك سلام و کلام بھی حرام ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرمائے ہیں :
لا تبا غضوا ولاتحا سدوا ولا تدابروا وکونوا عباداﷲ اخوانا ۔
بغض نہ رکھو حسد اور غیبت نہ کرو اور اﷲ کے بندے بن کر بھائی بھائی ہوجاؤ۔ (ت)
حوالہ / References صحیح البخاری باب الہجرۃ حدثنا مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۸۹۷
#11149 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
لایحل لمسلم ان یھجراخاہ فوق الثلث ۔
کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ دوسرے بھائی سے تین دن سے زائد سلام وکلام قطع کرے۔ (ت)
اور فحش بکنا خصوصا برسر بازار معصیت وفسق ہے حدیث میں ہے رسول ﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لیس المومن بالطعان ولا الفحاشف ۔
مومن طعن کرنے والا نہیں ہوتا اور نہ ہی فحش بکتا ہے (ت)
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
الحیاء من الا یمان والبذاء من النفاق ۔
حیاء ایمان کا حصہ ہے اور بے حیائی نفاق کا حصہ ہے ۔ (ت)
خصوصا اگر اس فحش میں کسی مسلمان مرد یا عورت کو زنا کی طرف نسبت کرتا ہو جیسے آج کل فحش لوگوں کی گالیوں میں عام طور پر رائج ہے جب تو اشد کبیرہ ہے ۔
قال اﷲ تعالی
یعظكم الله ان تعودوا لمثله ابدا ان كنتم مؤمنین(۱۷) ۔
اﷲ تعالی کا فرمان ہے : اﷲ تعالی تمھیں حکم دیتا ہے تم آئندہ کبھی ایسی بات نہ کرو اگر تم اہل ایمان ہو (ت)
بالجملہ شخص مذکور فاسق معلن ہے اور فاسق معلن کو امام بنانا گناہ اور اس کے پیچھے نماز مکرہ تحریمی یعنی پڑھنی منع ہے اور پڑھ لی ہو تو پھیرنی واجب ۔ فتاوحجہ پھر غنیہ پھر ردالمختار میں ہے : لوقدموا فاسقا یا ثمون ۔ ( اگر لوگ نے فاسق کو مقدم کردیا تو وہ گنہ گار ہونگے ۔ ت)
مسئلہ ۶۶۰ : از سیتا پور ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص پر رفض کا شبہ ہے اس کی نشست ان لوگوں کے
حوالہ / References صحیح البخاری ، الہجرۃ حدثنا الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۲۹۷
جامع الترمذی باب ماجاء فی الغنۃ مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۱۹ومسند احمد بن حنبل باب سند عبداﷲ ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مطبوعہ دارا الفکربیروت ۱ / ۴۰۵
جامع الترمذی ، باب ماجاء فی العیّ ، مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۲۳
القرآن ۲۴ / ۱۷
غنیۃ المتملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامامۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۳
ف : اعلحضرت کی ذکر کردہ عبارت میں '' الفحاش '' کا لفظ ہے جبکہ کتب احادیث جن سے حوالہ منقول ہے ان میں '' الفاحش '' کا لفظ ہے ۔ نذیر احمد سعیدی
#11150 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
پاس ہے اور ان کی خاص مجلسوں میں جاتے بھی اسے دیکھا اور اس سے توبہ کو کہا جائے تو توبہ بھی نہیں کرتا اور حالت اس کی یہ ہے کہ رافضیوں میں رافضی سنیوں میں سنی اور اسے بعض لوگوں نے اپنے لڑکوں کا معلم اور مسجد کا امام مقرر کیا ہے اس صورت میں اس کا اور اس کے مقرر کرنے والوں کا کیا حکم ہے اور اس کامعزول کرنا بوجہ شبہ کے واجب ہے یا نہیں اگر ہے توکس دلیل سے حالانکہ وہ اہلسنت کے سامنے کوئی بات عقیدہ روا فض کی زبان سے نہیں نکالتا اور اگر وہ توبہ کرلے تو اس کے بعد بھی رکھا جائے یانہیں بینوا توجروا
الجواب :
جبکہ ثابت و محقق ہو کہ رافضیوں رافضی اور سنیوں میں سنی بنتا ہے جب تو ظاہر ہے کہ وہ رافضی بھی ہے اور منافق بھی اور اس کے پیچھے نماز باطل محض جیسے کسی یہودی نصرانی ہندو مجوسی کے پیچھے کما بیناہ فی النھی الا کید ( جیسا کہ ہم نے اسے النہی الاکید میں بیان کیا ہے۔ ت) بلالکہ تبرائی روافض زمانہ ان سے بھی بدتر ہیں کہ وہ کافران اصلی ہیں اور یہ مرتد اور مرتد کا حکم سخت تر و اشد کما حققناہ فی المقالۃ المسفرۃ( اس کی تحقیق ہم نے اپنے مقالے مسفرہ میں کی ہے۔ ت) اور اگر صرف اسی قدر ہو کہ اس کی حالت مشکوك و مشتبہ ہے جب بھی اسے امامت سے معزول کرنا بدلائل کثیرہ واجب ہے۔
فاقول : وبا ﷲ التوفیق ( پس میں اﷲ کی توفیق سے کہتا ہوں )
دلیل اول : علماء تصریح فرماتے ہیں کہ جب کسی امر کے بدعت وسنت ہونے میں تردد ہوتو وہاں سنت ترك کی جائے ۔ بحرالرائق پھر ردالمحتار مکروہات الصلاۃ میں ہے :
اذا تردد الحکم بین سنۃ وبدعۃ کان ترك السنۃ راجحا علی فعل البدعۃ ۔ مختصرا
جب حکم سنت اور بدعت کے درمیان متردد ہو تو بدعت پر عمل کی بجائے ترك سنت راجح ہے (ت)
المحیط پھر فتح القدیر اواخر سجودالسہو میں ہے :
ما تردد بین البدعۃ والسنۃ ترکہ لان ترك البدعۃ لازم واداء السنۃ غیر لازم ۔
جب بدعت اور سنت کے درمیان تردد ہو تو سنت کو ترك کردیا جائے کیونکہ ترك بدعت لازم اور اداء سنت غیر لازم ہے ۔ (ت)
ظاہر ہے کہ اگر یہ شخص واقع میں سنی ہو تو خاص اسی کو امام کرنا کچھ سنت بھی نہیں اور رافضی ہو تو اسے امام کرنا حرام قطعی
حوالہ / References ردالمحتار مطلب اذاترددالحکم بین سنۃ وبدعت مطبوعہ مصطفی الباب مصر ۱ / ۴۷۵
فتح القدیر باب سجود السہو مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۴۵۵
#11151 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
جب سنت ومکروہ کے تردد میں ترك سنت کی علم ہو ا تو جائز وحرام قطعی کے تردد میں وہ جائز کیوں نہ واجب الترك ہوگا۔
دلیل دوم علماء فرماتے ہیں کہ جب کسی بات کے واجب و بدعت ہونے میں تردد ہو توترك نہ کی جائے ۔ فتح وحلیہ و بحر وردالمحتار وغیرہ میں ہے :
واللفظ لھذا فی النوافل قد تقرر ان مادار بین وقوعہ بدعۃ اوواجبا لا یترك ۔
بیان نوافل میں اس ( ردالمحتار) کے الفاظ یہ ہیں کہ یہ بات مسلمہ ہے جس کام کا وقوع بدعت اور واجب کے درمیان متردد ہو تو اسے ( یعنی واجب کو ) ترك نہیں کیا جائے گا ۔ (ت)
ظاہر ہے کہ یہ شخص سنی ہو تو اس کی جگہ دوسرا امام مقرر کرنا کچھ بدعت بھی نہیں اور رافضی ہو تو اسے معزول کرنا فرض قطعی جب بدعت و واجب کے تردد میں فعل ضروری ہوتاہے تو جائز و فرض قطعی کے تردد میں اسے معزول کرنا کیوں نہ اشد ضروری ہوگا۔
دلیل سوم : شرع مطہر کا قاعدہ مقرر ہے کہا اذا اجتمع الحلال والحرام غلب الحرام ۔ جب ایك چیز میں حلت وحرمت دونوں وجہیں جمع ہوں توغلبہ حرمت کورہے گا اور وہ شے حرام سمجھی جائے گی ۔ کما فی الاشباہ والنظائر( جیسا کہ اشباہ والنظائر میں ہے۔ ت) یہ سنی ہو تو امامت حلال اور رافضی ہو تو حرام تو غلبہ حرمت ہی کو دیا جائےگا۔
دلیل چہارم : عبادات میں احتیاط مطلقا واجب ہے نہ کہ نماز کہ اہم واعظم عبادات ہے جس کے لئے علماء فرماتے ہیں کہ اگر اس کی صحت و فساد میں اشتباہ پڑے ایك وجہ سے فاسد ہوتی ہو اور متعدد وجوہ سے صحیح تو اس ایك ہی وجہ کا اعتبار کر کے اس کے فساد ہی کا حکم دیں گے فتح القدیر صلاۃ المسافر میں ہے :
ھذہ مسائل الزیادات مسافر ومقیم ام احد ھما الاخر فلما شرعا شکافی الامام استقبلا لان الصلوۃ متی فسدت من وجہ وجازت من وجوہ حکم بفسادھا وامامۃ المقتدی مفسدۃ واحتمال کون کل منھما
یہ مسائل زیادات کے ہیں مسافر اور مقیم میں سے ایك نے دوسرے کی امامت کی جب دونوں نے نماز شروع کی تو انھیں امام کے بارے میں شك ہوگیا کہ میں امام ہوں یا دوسرا تو نماز نئے سرے سے ادا کریں کیونکہ نماز جب ایك جہت سے فاسد اور کئی وجوہ کی
حوالہ / References ردالمحتار ، باب الوتر والنوافل ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۱۶
الاشباہ والنظائر القاعدۃ الثانیۃ اذا اجتمع الحلال الخ ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۴۴
#11152 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
مقتدیا قائم فتفسد علیھما ۔
بناء پر صحیح ہو تو نماز کے فاسد ہونے کا حکم دیا جائیگا اور مقتدی کا امام ہونا مفسد نماز ہے اور ایسی صورت میں یہاں ہر ایك کے مقتدی ہونے کا احتمال باقی ہے لہذا دونوں کی نماز فاسد ہوجائےگی۔ (ت)
ظاہر ہے کہ بر تقدیر سنیت اس کے پیچھے نماز صحیح اور بر تقدیر رفض فاسد تو اس کی امامت کیونکر جائز ہوسکتی ہے
دلیل پنجم : علماء فرماتے ہیں قاضی محض تہمت وحصول ظن پر تعزیر دے سکتا ہے بحر و نہر و در مختار وغیر ہا میں ہے :
للقاضی تعزیر المتھم وان لم یثبت علیہ ۔
(قاضی محض تہمت کی بناء پر تعزیر جاری کرسکتا ہے اگر چہ ثبوت نہ ہو۔ ت)
جب تہمت ایسی چیز ہے جس کے سبب بے ثبوت صریح ایك مسلمان کو سزا دینے کی اجازت ہوجاتی ہے جس میں اصل حرمت ہے تو نماز کے لئے احتیاط کرنی کیوں نہ واجب ہوجائیگی جس کی اصل فرضیت ہے جس شخص نے اس کے حال سے مطلع ہوکر اسے مسلمانوں کا امام یا اپنے لڑکوں کا معلم مقرر کیا حالانکہ اہلسنت میں صاف و پاك امام ومعلم بکثرت مل سکتے ہیں اس نے اﷲ و رسول اور مسلمانوں سب کی خیانت کی وہ مسلمانوں کا بدخواہ ہے اس پراپنے فعل سے توبہ اور اپنے مقر کئے ہوئے کو معزول کرنا لازم حاکم صحیح مستدرك میں ہے اور ابن عدی وعقیلی و طبرانی و خطیب حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من استعمل رجلا من عصابۃ وفیھم من ھو ارضیﷲ منہ فقد خان اﷲ ورسولہ والمومنین ۔
جس نے کسی جماعت سے ایك شخص کو کام پر مقر رکیا اور ان میں وہ شخص موجود تھا جو اس سے زیادہ اﷲ کو پسند ہے تو اس نے اﷲ ورسول اور مسلمانوں سب کی خیانت کی ۔ (ت)
تیسیر شرح جامع صغیر میں اسی حدیث کی شرح میں ہے :
ای نصبہ علیھم امیرا اوقیما اوعریفا اواماما للصلوۃ ۔
یعنی اس نے لوگوں پر امیر نگہبان محاسب یا نماز کے لئے امام بنایا۔ (ت)
پھر اگر یہ شخص توبہ بھی کرلے تو بمجر و توبہ اسے امام نہیں بنا سکتے بلالکہ لازم ہے کہ ایك زمانہ ممتد تك اسے معزول رکھیں اور اور اس کے احوال پر نظر رہے اگرخوف وطمع وغضب ورضا وغیرہا حالات کے متعدد تجربے ثابت کردیں کہ واقعی یہ
حوالہ / References فتح القدیر باب صلوٰۃ المسافر مطبوعہ نوریہ رجویہ سکھر ۲ / ۱۴
درمختار باب التعزیر مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۲۹
المتدرك علی الصحیحین الامارۃ امانۃ مطبوعہ دارالفکریہ بیروت ۴ / ۹۲
ف : مستدرك میں فیھم کی جگہ فی تلك العصابۃ کا لفظ ہے۔ نذیر احمد سعیدی
التیسیر شرح الجامع الصغیر حدیث مذکو ر کے تحت مکتبہ الامام الشاجعی الریاض ۲ / ۳۹۶
#11466 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
سنی صحیح العقیدہ ثابت قدم ہے اور روافض سے اصلا میل جول نہیں رکھتا بلالکہ ان سے اور سب گمراہوں بدینوں سے متنفر ہے اس وقت اسے اما م کرسکتے ہیں فتاوی قاضی خاں پھر فتاوی عالمگیری میں ہے :
الفاسق اذا تاب لایقبل شہادتہ مالم یمض علیہ زمان یظھر علیہ اثرالتوبۃ والصحیح ان ذلك مفوض الی راء القاضی ۔
فاسق جب تاب ہوجائے تو اس وقت تك اس کی شہادت قبول نہیں کی جائے گی جب تك اتنا زمانہ نہ گزر جائے جس میں توبہ کا اثر ظاہر ہوجائے اور صحیح یہی ہے کہ یہ قاضی کی رائے کے سپرد کیا جائے ۔ (ت)
ا میر المومنین غیظ المنافقین امام العادلین سید نا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے جب صبیغ سے جس پر بوجہ بحث متشابہات بد مذہبی کا اندیشہ تھا بعد ضرب شدید توبہ لی ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ کو فرمان بھیجا کہ مسلمان اس کے پاس نہ بیٹھیں اس کے ساتھ خرید وفروخت نہ کریں بیمار پڑے تو اس کی عیادت کو نہ جائیں مرجائے تو اس کے جنازے پر حاضر نہ ہوں تعمیل حکم احکم ایك مدت تك یہ حال رہا کہ اگر سو آدمی بیٹھے ہوتے اور وہ آتا سب متفرق ہوجاتے جب موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض بھیجی کہ اب اس کا حال اچھا ہوگیا اس وقت اجازت فرمائی۔
اخرج ابوا لفتح نصر بن ابراھیم المقدسی فی کتاب الحجۃ وابن عساکر عن ابی عثمان النھدی عن صبیغ انہ سال عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالی عنہ عن المرسلات والذاریت و النازعات فقال لہ عمر الق ما علی راسك فاذالہ ضفیرتان فقال لووجد تك محلوقا لضربت الذی فیہ عیناك ثم کتب الی اھل البصرۃ ان لاتجالسوا صبیغا قال ابو عثمان فلوجاء ونحن مائۃ تفرقنا عنہ ۔ واخرج ابوبکربن الانباری فی کتاب المصاحف
ابوالفتح نصربن ابرہیم مقدسی نے کتاب الحجہ میں اور ابن عساکر نے ابو عثمان نہدی سے انھوں نے صبیغ سے بیان کیا کہ انھوں نے حضرت عمر سے سورہ المرسلات الذاریات والنازعات کے بارے میں پوچھا تو حضرت عمر نے انھیں فرمایا اپنا سر کا کپڑا اٹھاؤ جب اس نے کپڑا اٹھا یا تو اس کے دو چوٹیوں کی صورت بال تھے حضرت عمر نے فرمایا اگر میں تجھے حلق کیا ہواپاتا تومیں وہ ( سر)اڑادیتا جس میں تیری آنکھیں ہیں ۔ پھر اہل بصرہ کی طرف آپ نے خط لکھا کہ صبیغ کے ساتھ نہ بیٹھو۔ ابو عثمان کا بیان ہے اگر صبیغ آجاتا اور ہم سو کی تعداد میں ہوتے فورا ہم سب اس سے جدا ہوجاتے ۔ اور ابو بکر بن انباری نے کتاب المصاحف
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ الفصل الثانی فیمن لاتقبل شہادتہ لفسقہ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۳ / ۴۲۸
کتاب الحجۃ
#11467 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
وابن عساکرعن محمد بن سیرین قال کتب عمر بن الخطاب الی ابی موسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ ان لاتجالسوا صبیغاوان یحرم عطاء ھ لا ورزقہ واخرج المقدسی فی الحجۃ عن اسحق بن بشیر القریشی قال اخبرنا ابن اسحق او ابو اسحق قال کتب ای امیرالمؤمنین رضی اﷲ تعالی عنہ الی ابی موسی امابعد فان الاصبغ بن علیم التیمی تکلف ماکفی وضیع ماولی فاذاجاء ك کتابی ھذا فلاتبایعوہ وان مرض فلا تعودوہ وان مات فلا تشھدوہ ۔ قال فکان الاصبغ یقول قدمت البصرۃ فاقمت بھا خمسۃ وعشرین یوما وما من غائب احب الی ان القیہ من الموت ثم ان اﷲ الھمہ التوبۃ وقذ فھا فی قلبہ فاتیت اباموسی وھو علی المنبر فسلمت علیہ فاعرض عنی فقلت ایھا المعرض انہ قد قبل التوبۃ من ھو خیرمنك ومن عمر و انی اتوب الی اﷲ عزوجل مما اسخط امیر المومنین وعامۃ المسلمین فکتب بذلك الی عمر فقال صدق اقبلوا من اخیکم
میں اور ابن عساکر نے امام محمد سیرین سے نقل کیا کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف خط لکھا کہ صبیغ کو پاس نہ بٹھاؤ اس کو عطا اور رزق سے محروم رکھا جائے
اور المقدسی نے اسحاق بن بشر قرشی سے کتاب الحجہ میں نقل کیا ہے کہ ہم سے ابن اسحق یا ابو اسحق نے بیان کیا امیر المومنین رضی اللہ تعالی عنہ نے ابو موسی کو خط لکھا حمد و صلوۃ کے بعد اصبغ بن علیم تمیمی نے جو کچھ اسے کافی تھا اس میں تکلف کیا اور اس نے اپنی ولایت کو ضائع کیا جب اپ کے پاس میرا پیغام آجائے تو اسکے ساتھ خرید و فروخت نہ کرو اگر وہ بیمار ہوجائے تو عیادت نہ کرو اگر وہ مرجائے تو جنازہ میں شریك نہ ہونا ۔ راوی کہتا ہے اصبغ کہتا تھا میں بصرہ گیا وہاں پچیس دن ٹھہرا مجھے موت سے بڑھ کر کوئی غائب شیئ محبوب نہ تھی پھر اﷲ تعالی نے توبہ کی توفیق دی اور دل میں توبہ کا خیال پیدا کیا تو پھر میں ابو موسی کے پاس آیا آپ منبر پر تشریف فرماتھے میں نے سلام کیا انھوں نے ا عراض کیا میں نے کہا اے اعراض کرنے والے ! اس ذات نے توبہ قبول کرلی جو تجھ سے اور عمر سے بہتر ہے اور میں ہر اس معاملہ سے اﷲ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں جس پر امیرالمومنین اور عام مسلمان ناراض تھے پھر ابو موسی نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف یہ معاملہ لکھا تو آپ نے فرمایا وہ سچکہتا ہے اپنے بھائی
حوالہ / References کتاب المصاحف لابی بکر ابن الابناری
کتاب الحجۃ
#11479 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
واخرج الدرامی ونصرو الاصبہا نی کلاھما فی الحجۃ وابن الانباری فی المصاحف واللالکائی فی السنۃ وابن عساکر فی التاریخ عن سیلمن ابن یساران رجلا من بنی تمیم یقال لہ صبیغ بن عسل قدم المدینۃ وکان عندہ کتب فکان یسئل عن متشابہ القران فبلغ ذلك عمر رضی اﷲ تعالی عنہ فبعث الیہ وقد اعد لہ اعراجین النخل فلمادخل علیہ قال من انت قال انا عبد اﷲ صبیغ قال عمر رضی اﷲ تعالی عنہ وانا عبداﷲ عمر واومأ الیہ فجعل یضربہ بتلك العراجین فما زال یضربہ حتی شجہ وجعل الدم یسیل علی وجہ فقال حسبك یا امیرالمؤمنین واﷲ فقد ذھب الذی اجد فی راسی واخرج الدارمی و ابن عبدالحکیم وابن عساکر من مولی ابن عمر ان صبیغ العراقی جعل یسئل عن اشیاء من القران فی اجناد المسلمین (وساق الحدیث الی ان قال ) فارسل عمر الی یطلب الجرید فضربہ بھا حتی ترك ظھرہ دبرۃ ثم ترك حتی بری ثم عادلہ ثم ترکہ حتی بری ثم دعابہ لیعود بہ فقال صبیغ یا امیر
کو قبول کرو۔ دارمی نصر اصبہانی دونوں نے حجہ میں اور ابن انباری نے مصاحف میں لالکائی نے سنت میں اور ابن عساکر نے تاریخ میں سیلمان بن یسار سے روایت کیا کہ بنو تمیم کا ایك شخص تھا جس کا نام صبیغ بن عسل تھا وہ مدینہ آیا اس کے پاس کچھ کتب تھیں وہ قرآن کے متشابہات کے بارے میں پوچھتا تھا اس بات کی اطلاع حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو پہنچی تو آپ نے اسے بلایا اور اس کے لئے کھجور کی دو چھڑیاں تیار کیں آیا تو آپ نے پوچھا : تو کون ہے اس نے کہا : میں اﷲ کا بندہ صبیغ ہوں ۔ آپ نے فرمایا : میں اﷲ کا بندہ عمر ہوں اس کے بعد اپ نے اس کی طرف اشارہ کیا اور ان دو چھڑیوں کے ساتھ اسے مارا حتی کہ وہ زخمی ہوگیا اور چہرے سے خون بہنے لگا۔ وہ کہنے لگا اے امیر المؤمنین ! مجھے چھوڑ دو یہی کافی ہے اﷲ کی قسم جو کچھ میرے دماغ میں (خمار) تھا وہ جاتا رہا۔ اور دارمی ابن عبدالحکیم اور ابن عساکر نے حضرت ابن عمر کے آزاد کردہ غلام سے بیان کیا کہ صبیغ عراقی مسلمانوں کے مختلف گروہوں سے قرآن کی بعض اشیاء کے بارے میں سوال کرتا تھا ( آگے چل کر کہا) حضرت عمر نے مجھ سے چھڑی منگوائی اور اسے پیٹا حتی کہ اس کی پشت کو زخمی چھوڑدیا پھر مارا پھر چھوڑ دیا حتی کہ وہ صحیح ہوگیا پھر آپ نے دوبارہ اس کو مارا حتی کہ وہ صحیح ہوگیا ]پھر آپ نے اسے بلایا تاکہ پھر اس کی پٹائی کی جائے تو اس نے کہا
حوالہ / References سنن الدارمی باب من ھاب الفتیاکرہ التنطع والتبدع مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان ۱ / ۵۱
#11480 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
المؤمنین ان کنت ترید قتلی فاقتلنی قتلا جمیلا وان کنت ترید تداوینی فقد واﷲ برئت فاذن لہ الی ارضہ وکتب الی ابی موسی الشعری ان لایجالسہ احد من المسلمین فاشتد ذلك علی الرجل فکتب ابو موسی الشعری الی عمر ان قد حسنت توبتہ فکتب ان یاذن للناس فی مجالستہ ۔
اے امیر المؤمنین ! اگر آپ مجھے قتل کرنا ہی چاہتے ہیں تو بہتر انداز میں قتل کیجئے اور اگر میرا علاج فرمارہے ہیں تو اﷲ کی قسم اب میں درست ہوں آپ نے اسے اپنے علاقے میں جانے کی اجازت دے دی اور ابو موسی اشعری کو لکھا کہ اسے مسلمانوں کی کسی مجلس میں نہ بیٹھنے دو۔ اس شخص پر یہ معاملہ گراں گزرا حتی کہ حضرت ابو موسی اشعری نے حضرت عمر کی طرف خط لکھا کہ آپ نے اس کی توبہ درست کردی ہے تو حضرت عمر نے لکھا کہ اب لوگ اسے اپنے پاس بیٹھنے کی اجازت دے دیں ۔ (ت)
بلالکہ اگر اس کا مکر و زور وکذب وفریب ظاہر ومشہور ہو تو بعد توبہ بھی کبھی امام نہ کریں کہ اسے امام کرنا کچھ ضرور نہیں اور معروف کذاب کی توبہ پر ہمیں اعتبار کا کیا ذریعہ ہے خصوصا روافض خذ لہم اﷲ تعالی کہ تقیہ ان کا اصل مذہب اور اس کی بنیاد کا سب سے پہلا پتھر ہے خصوصا جہاں نوکری وغیرہ کی طمع یا کسی خوف کا قدم درمیان ہو ۔ امام ملك العلماء ابوبکر مسعود کا شانی قدس سرہ کی کتاب بدائع پھر فتاوی عالمگیری میں ہے :
المعرف بالکذب لاعدالۃ لہ فلا تقبل شھادتہ ابدا وان تاب بخلاف من وقع فی الکذب سھوا اوابتلی بہ مرۃ ثم تاب اھ ونسال اﷲ حسن التوبۃ والعفو والعافیۃ۔
جو شخص جھوٹ بولنے میں مشہور ہو اس کی عدالت ثابت نہیں لہذا اس کی شہادت کبھی قبول نہ کی جائے اگر چہ اس نے توبہ کرلی ہو بخلاف اس شخص کے جس نے سہوا یا وقت مجبوری کبھی ایك دفعہ جھوٹ بولا ہو اور پھر توبہ کرلی ہو اھ ہم اﷲ تعالی کی بارگاہ سے حسن توبہ معافی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں (ت)
بعینہ یہی حکم وہابیت دیوبند یہ کا ہے کہ وہ بھی مثل رفض زمانہ ارتداد مبین اور اس کے اصاغر مثل روافض تقیہ گزیں تو جسے دیکھیں کہ ان لوگوں سے میل جول رکھتا ان کی مجالس وعظ میں جاتا ہے اس کا حال مشتبہ ہے ہر گز اسے امام نہ کریں اگر چہ اپنے کو سنی کہتا ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References سنن الدارمی باب من ھاب الفتیاوکرہ التنطع والتبدع مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان ۱ / ۵۱
فتاوٰی ہندیۃ الفصل الثانی فیمن لاتقبل شہاتہ لفسقہ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۳ / ۴۶۸
#11481 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
مسئلہ ۶۶۱ : زید وہابیہ عقیدہ رکھتاہے اور اس کا لڑکا نابالغ بعمر تخمینا ۱۲ سال امسال قرآن حافظ ہوا ہے اور وہ ہم لوگ مذہب حنیفہ اہلسنت وجماعت کو مجبور کرتا ہے اور زور ڈالتا ہے کہ میرے لڑکے مذکورہ بالا کے پیچھے قرآن شریف سن لیا جائے اس کے پیچھے تراویح وغیرہ درست ہے یا نہیں بنیوا توجروا
الجواب :
اس لڑکے کے پیچھے تراویح وغیرہ کوئی نماز جائز نہیں کہ صحیح مذہب میں نا بالغ بالغوں کی امامت کسی نماز میں نہیں کرسکتا اور اگر وہ عقیدہ بھی وہابیہ رکھتا ہو جیسا کہ ظاہر یہی ہے تو وہابی کے پیچھے ویسے بھی نماز ناجائز محض ہے اگر چہ بالغ ہو۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۶۶۲ : از شہر کہنہ محلہ روہیلی ٹولہ مسئولہ جناب ہدایت اﷲ خان صاحب ۱۹ شوال ۱۳۲۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وقت نماز چند اشخاص جمع ہیں لیکن کامل پابند شریعت نہیں ہیں ایك حافظ ہے اور مسائل سے بھی واقف ہے مگر داڑھی اس کی کسی قدر کتری ہوئی ہے موافق شرع نہیں دوسرے کا لباس ووضع تو موافق شر یعت ہے اور کچھ مسائل سے کسی قدر واقفیت رکھتا ہے مگر قران مجیدبمقابلہ حافظ کے صحیح نہیں پڑھ سکتا نہ خطبہ جمعہ کا یہ کوئی شخص حافظ تو نہیں مگر مسائل نماز سے واقف ہے قرآن عظیم صحیح پڑھتا ہے ملازمت پولیس کرچکا ہے پنشن پاتا ہے غرض ایسی ہی حالت ہر شخص کی ہے اس حالت میں کون شخص امامت کے لائق سمجھا جائے بینوا توجروا
الجواب :
ان میں جو شخص وضو وغسل وغیرہ طہارت ٹھیك کرتا ہو نماز صحیح پڑھتا ہو قرآن مجید ایسا غلط نہ پڑھتا ہو جس سے معنی بدلیں فاسق ہوں اس کے پیچھے نماز ہوجائے گی مگر امام بنانا جائز ہونے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ مذہب کا سنی خالص ہوفاسق علی الاعلان نہ ہو یعنی کوئی گناہ کبھی اعلان کے ساتھ نہ کرتا ہو صغیرہ بھی عادت واصرار سے کبیرہ ہوجاتاہے جو شخص ان سب باتوں کا جامع ہو اگر چہ قرآن عظیم حافظ کی مثل نہ پڑھ سکے یا پولیس کی پنشن پائے اسے امام بنانے میں حرج نہیں اور داڑھی حد شرع سے کم کراتا ہو وہ فاسق معلن ہے اسے امام بنا نا گناہ ہے سنی ہونا جو ہم نے جواز امامت کی شرطوں میں رکھا ہے نہ صحت نمازکی اس سے مراد یہ ہے کہ ایسا بد مذہب بھی جس کی بد مذہبی حد کفر تك نہ پہنچے کہ ایسے کو امام بنانا گناہ اگر چہ فرض ساقط ہوجائےگا اور جس کی بد مذہبی حد کفر تك پہنچی ہو جیسے آج کل کے عام رافضی وہابی نیچری قادیانی غیر مقلد کے پیچھے تونماز محض باطل ہے جیسے کسی ہندو یا پادری کے پیچھے والعیاذ باﷲ تعالی واﷲ تعالی اعلم۔
#11482 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
مسئلہ ۶۶۳ : ازمور بہنج ضلع بریسال مرسلہ عبدالرحیم صاحب ۲۱ ذی القعدہ ۱۳۲۹ھ
جس شخص کو جذام کا گھاؤ ہوگیا ہو لیکن لنگڑا یا انگلیاں گرانہ ہو اچھی طرح اٹھ بیٹھ سکتا ہے اس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں اور جس کو سوزاك ہو یا منہ بانکا ہو گیا ہو یا ضعیف اس قدر ہو کہ اٹھنے بیٹھنے میں دیر لگتی ہو ان اشخاص کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے
الجواب :
جذام میں جب تك ٹپکنا نہ شروع ہوا ہو یہ حکم ہے کہ اگر لوگوں کی نفرت کی حد تك ہے جس کے سبب اس کی امامت میں جماعت کی کمی ہو تو اس کی امامت مکروہ ہے ورنہ نہیں اور اگر ٹپکنے لگا تو اگر معذور کی حد تك پہنچ گیا کہ ایك وقت کامل کسی نماز کا اس پر ایسا گزرا کہ وضو کرکے فرض پڑھ لینے کی مہلت نہ تھی تو جب تك ہر نماز کے وقت اگر چہ ایك ایك ہی بار ٹپکنا پایا جائے وہ معذور ہے اسے پانچ وقت تا زہ وضو کرنا کافی ہے اور اس کے پیچھے صرف ایسے ہی عارضہ والے کی جو اسی کی سی حالت رکھتا ہو نماز ہوجائے گی باقی لوگوں کی نماز نہیں ہو سکتی یہی حکم سوزاك کا ہے اگر پیپ بہتا ہو اور اگرپیپ نہ نکلے تو اس کے پیچھے نماز میں کچھ حرج نہیں جس کا منہ معاذاﷲ ٹیڑھا ہوگیا ہو اگر اس کے سبب قرأت صحیح نہ پڑھ سکتا ہو حروف غلط ادا ہوتے ہوں تو اس کے پیچھے نماز جائز نہیں اور اگر حروف صحیح نکلتے ہوں مگر پڑھنے میں بہت بدنمائی پیدا ہوگئی ہو تو اس کی امامت اولی نہیں ورنہ کچھ حرج نہیں جو ضعف کے سبب دیر میں اٹھتا بیٹھتا ہو اس کے پیچھے نماز میں کوئی حرج نہیں جبکہ ایسی حالت نہ ہو کہ مثلا جب تك سجدہ سے اٹھ کر بقدر تین بار سبحن اﷲ کہنے کے بیٹھا نہ رہے کھڑا نہیں ہوتا اور جب ایسی حالت ہو تو اس کے پیچھے نماز مکروہ ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۶۶۴ : ۸ ذی الحجہ ۱۳۲۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ایك شخص مسجد اہلسنت وجماعت کا امام اور وہ بھی مدعی ہے کہ میں سنی ہوں مگر اس کی رشتہ داری وقرابت روافض سے ہوئی ہے اس کی پھپھاں بھی روافض کو منسوب ہوئیں اور اس کی ہمشیر گان کے روافض سے نکاح ہوئے اور اس نے اپنا نکاح بھی روافض میں کیا ایسی حالت میں اس کا دعوی قبول ہوگا یا نہیں تقیہ جو روافض کا شعار ہے اور اس کے ذریعہ سے اہلسنت کے عبادات کو ضائع کرنا باعث نجات خیال کرتے ہیں محمول ہو کہ ایسے شخص کے پیچھے اہلسنت کو نماز پڑھنا جائز ہے یانہیں بفرض محال اس کے دعوی کو سچ سمجھا جائے اور اس کو سنی خیا ل کیا جائے تو نکاح اس کا اور اس کی ہمشیرگان کا صحیح ہوا یا نہیں اور جو نمازیں اس کے پیچھے پڑھیں اس کا اعادہ ضروری ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
اگر چہ رافضیوں کے یہاں بیاہت کرنے سے خود اس شخص کا خواہی نہ خواہی رافضی ہوناواضح نہیں ہوتا کہ
#11483 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
بعض احمق نادان جاہل سنی بھی اس بلائے عظیم میں محض اپنی جہالت سے مبتلا ہیں اور بعض وہ بھی ہیں کہ اسے برا سمجھتے ہیں اور پھر اپنی اگلی رشتہ داریوں وغیرہا بیہودہ وجوہ کے سبب اس میں مبتلا ہوتے ہیں اور پھپھیوں بہنوں کے نکاح میں وہ بھی عذر کرسکتا ہے کہ یہ فعل اس کے باپ دادا کا ہے بلالکہ شاید اپنے نکاح میں بھی یہی کہے کہ باپ نے کردیا اور ایسی وجو سے کسی کے قلب و عقیدہ پر حکم نہیں لگا سکتے اور جب وہ اپنے آپ کو سنی کہتا ہے اور اس کی کوئی بات عقیدہ اہلسنت کے خلاف نہیں تو بدگمانی کر کے رافضی ٹھہرادینے کی اجازت نہیں ۔ اﷲ تعالی فرماتا ہے :
و لا تقولوا لمن القى الیكم السلم لست مؤمنا- ۔
اور جو تمھیں سلام کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تو مومن نہیں ۔ (ت)
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : افلا شققت عن قلبہ ( کیا نونے اس کا دل پھاڑ کر دیکھ لیا تھا۔ ت)
مگر امام بنانے کےلئے فقط سنی تصور کرنا ہی کافی نہیں بلالکہ فاسق معلن نہ ہونا ضرور ہے اس کی حالت دیکھی جائے اگر رافضیوں سے میل جول خلا ملا دوستی اتحاد کے برتاؤ کرتاہے تو اگر رافضی نہیں تو کم از کم سخت فاسق ہے اور فاسق کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی اور اسے امام بنانا گناہ اور جو نمازیں اس کے پیچھے پڑھی ہوں ان کا پھیرنا واجب کما فی فتاوی الحجۃ والغنیۃ وغیرھما من الاسفار ا لکثیرۃ وقد حققناہ فی النھی الاکید( جیسا کہ فتاوی الحجہ غنیہ اور دیگرمتعدد کتب میں ہے اور ہم نے اس کی تحقیق النہی الاکید میں کی ہے ۔ ت) اور اگر باوصف ان بیاہتوں کے ان لوگوں سے بالکل جدا ہے تو اسے بتایا جائے کہ آج کل کے تبرائی رافضی علی العموم کافر و مرتد ہیں اور ان سے نکاح مرد کا ہو یا عورت کا محض باطل ہے اور اس میں قربت زنائے خالص اور اولاد اولاد الزنا ہے یوں نہ سمجھے تو اسے رسالہ ردالرفضہ دکھایا جائے جس میں بکثرت کتب معتمدہ کی صاف تصریحوں سے کفر ثابت کیا گیا ہے اگرپھر بھی نہ مانے تو متمروسرکش فاسق ہوگا اور رافضیہ عورت کے رکھنے سے زناکار ہوگا اور اسے امامت سے معزول کرنا واجب ہوگا اور اگر جاہل نہیں بلالکہ جانتا ہے کہ وہ مرتد ہے اور مرتد مرد خواہ عورت کا نکاح کسی سے نہیں ہوسکتا پھر اس عورت کو جدا نہیں کرتا آپ ہی فاسق وزانی اور امامت سے واجب العزل ہے اور اگر رافضیوں کے عقائد کفر یہ خالص پر مطلع ہے اور پھر ان کو مسلمان جانتا ہے جب توفسق درکنار خود کفر ہے ۔ بزازیہ و مجمع الانہر ودرمختاروغیرہا میں ہے : من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر (جس نے
حوالہ / References القرآن ۴ / ۹۴
مسند احمد بن حنبل مروہ عن اسامہ بن زید مطبوعہ دارالفکر بیروت ۵ / ۲۰۷
درمختار باب المرتد مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵۶
#11484 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
اس کے کفر اور عذاب میں شك کیا وہ خود کافر ہوگیا ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۶۶۵ : از ڈاکخانہ چویکہ تحصیل وضلع مٹر پور موہرہ کنھیالالمسئولہ غلام محمد صاحب ۲۸ صفر ۱۳۲۱ھ
مسند نشین شریعت غراجناب مولینا صاحب دام ظلکم بعد حصول سعادت قدمبوسی عرض یہ ہے کہ جو کہ کمترین کے آباؤ اجداد تھے وہ سب گاؤں کے امام تھے اور قدیم ایام سے امامت کرتے چلے آئے ہیں اور کمترین کے جناب دادا صاحب بھی خود گاؤں کے استاد تھے اور کتمرین کے جناب والدبزرگوار بھی استادہی اور امامت کرتے تھے اور ان کے بعد میں بھی استادی طریقہ رکھتا ہوں کہ گاؤں کے بہت سے لڑکوں کو قرآن مجید کی تعلیم اور کتابوں وغیرہ کی بھی دی ہے اور پانچ نماز بھی ہم امام ہوکر پڑھواتے رہے ہیں اور اب گاؤں کے ایك شخص زمیندار نے کہا اگر مرضی ہو تو امام رکھیں ورنہ نہ رکھیں کہ امام نوکر کی جگہ ہوتا ہے خواہ نوکر کے پیچھے نماز ادا کریں یا نہ کریں اور غرضیکہ ا س نے بہت بیہودہ گالی بھی نکالی ہیں اور بے ادب لفظ بو لے ہیں اور اب کمترین جناب کی جانب دراز دست ہے اس شخص کی نسبت فتوی حدیث اور شریعت کے تحریر کرکے ارسال فرمائیں کہ اس کو تعزیر لگائی جائے ازحد مہربانی ہوگی اور کمترین کا حق گاؤں پر ہے یا نہیں اور شریعت میں اس کے واسطے کیا حکم ہے وہ اب امامت سے برخاست کرنا چاہتے ہیں فتوی مع آیات واحادیث کے ارسال فرمائیں ۔
الجواب :
کسی مسلمان کو بلاوجہ شرعی ایذادینا حرام ہے اور گالی دینا سخت حرام ہے اور بعض گالیاں تو کسی وقت حلال نہیں ہوسکتی اور ان کا دینے والا سخت فاسق اور سلطنت اسلامیہ میں اس (۸۰)کوڑوں کا مستحق ہو تا ہے ان سے ہلکی گالی بھی بلاوجہ شرعی حرام ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من اذی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ ۔
جس نے کسی مسلمان کو بلا وجہ شرعی ایذادی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اﷲ کو ایذا دی۔
اور علم دین کے استاد کا حق باپ سے بھی زائد ہے ستانے والا عاق ہوتا ہے اور بلاوجہ شرعی کسی مسلمان کے رزق میں خلل اندازی بہت سخت بے جا اور بلاوجہ ایذا ہے اور ایسوں کو خوف نہیں آتا کہ وہ کسی مسلمان کے رزق میں بلاوجہ خلل ڈالیں اﷲ قادر مطلق ان کی روزی میں خلل ڈالے ان کا رزق تنگ کردے۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : کما تدین تدان ( جیسا تو اوروں کے ساتھ کرگا ویسا ہی اﷲ تیرے ساتھ
حوالہ / References کنز العمال الباب الثانی فیالترہیبات ، مؤسستہ الرسالہ بیروت ۱۶ / ۱۰
کنز العمال الباب الاول فی مواعظ الترغیبات مؤسستہ الرسالہ بیروت ۱۵ / ۷۷۲
#11485 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
کریگا ) ان لوگوں پر لازم ہے کہ امام سے معافی مانگیں استاد سے خطا بخشوائیں اور اگر کوئی حرج شرعی نہ ہو تو بے سبب اسے موقوف نہ کریں ہاں اگر سبب شرعی ہو توبہ نرمی اس سے کہیں اگر وہ اس کا علاج نہ کرے یا نہ کرسکے تو نرمی کی ساتھ الگ کردیں اس وقت اس امام کو بھی بے جا ہٹ مناسب نہیں امامت کسی کا حق و میراث نہیں اور وجہ شرعی کے سبب اہل جماعت جس کی امامت سے ناراض ہوں اسے امام بننا گناہ ہوتا ہے اس کی نماز قبول نہیں ہوتی ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۶۶۶ : ۸ ربیع الاول ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنا نکاح ایك عورت سے کیا کچھ عرصہ بعد اپنی عورت کی ہمشیرہ سے دوسرا نکاح کیا دونوں عورتیں اس کے پاس رہیں کچھ مدت کے بعد اس دوسری سے ایك لڑکا پیدا ہوا جب وہ بالغ ہو اس نے کلام مجید پڑھا اب اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں
الجواب :
یہ لڑکا ولد الحرام ہے ولد االزنا نہیں اسے حرامی نہیں کہہ سکتے کہ عرف میں حرامی والد الزنا کو کہتے ہیں اور یہ شرعا اپنے اسی باپ کا بیٹا ہے اس کے پیچھے نماز میں حرج نہیں ہاں اگر جماعت کو اس کے ولد حرام ہونے کے باعث اس کے پیچھے نماز پڑھنے سے نفرت ہو تو اس کی امامت مکروہ ہوگی کہ وجہ تقلیل جماعت ہوگی مگر اس صورت میں کہ یہ لڑکا سب حاضرین سے زیادہ مسائل نماز وطہارت کا علم رکھتا ہو تو اسی کی امامت اولی ہے اور اب اگر عوام کو نفرت ہو تو انھیں سمجھا یا جائے کہ ان کی یہ نفرت خلاف حکم و بے محل و بے جا ہے یہ تو یہ اگر کوئی ولد الزنا بھی ہو تو جب حاضرین سے علم میں زائد ہو وہی مستحق امامت ہے ۔ علمگیر یہ میں ہے :
ان تزوجھما فی عقد تین فنکاح الاخیرۃ فاسدۃ ویجب علیہ ان یفار قھما وان فارقھا بعد الدخول فعلیھا العدۃ ویثبت النسب (ملخصا)
اگر دو بہنوں کا کسی نے دوعقدوں میں نکاح کیا تو دوسرانکاح فاسد ہوگا اس پر اس آخری کی تفریق واجب ہوگی اگر اس نے دخول کے بعد تفریق کی تو اس خاتون پر عدت لازم ہوگی اور نسب ثابت ہوجائے گا۔ ملخصا (ت)
ہدایہ میں ہے :
یکرہ تقدیم العبد لانہ لا یتفرغ للتعلم و الاعرابی لان الغالب فیھم الجہل وولد الزنا
غلام کی تقدیم مکروہ ہے کیونکہ اسے حصول علم کے لئے وقت نہیں ملتا اور اعرابی کی تقدیم بھی مکروہ ہے کیونکہ اکثر
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ القسم الثالث المربات بالرضاع مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۷۷
#11486 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
لانہ لیس لہ اب یشفقہ فیغلبہ علیہ الجھل ولان فی تقدیم ھؤلاء تنفیرالجماعۃ فیکرہ (ملخصا)
طور پر یہ لوگ جاہل ہوتے ہیں ولد زنا کی امامت اس لئے مکروہ ہے کہ اس کا والد شفیق نہیں جو تعلیم کا ا نتظام کرے ایسے افراد اکثرطور پر جاہل رہتے ہیں اور ان کی تقدیم سے لوگوں کو جماعت میں شمولیت سے نفرت پیدا ہوگی لہذا انکو امام بنانا مکروہ ہے (ت)
اختیار شرح مختار میں ہے :
ان کان الاعرابی افضل من الحضری و العبد من الحر وولد الزنا من ولد الرشدۃ والاعمی من البصیر فالحکم بالضد ۔
اگر عرابی شہری سے غلام آزاد سے والدزنا ولد نکاح سے او رنابینا بینا افضل ہو تو حکم اس کے برعکس ہوگا۔ (ت)
رداالمحتار میں ہے :
نحوہ فی الشرح الملتقی للبھنسی وشرح درر البحارولعل وجہ ان تنفیر الجماعۃ بتقدیمہ یزول اذاکان افضل من غیرھ بل التنفیر یکون فی تقدیم غیرہ ۔
شرح الملتقی للنبہنسی اور شرح دررالبحار میں ہے بھی اسی طرح ہے ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ جب وہ دوسرے سے افضل ہے تو اس کے امام بننے کی صورت میں جماعت سے لوگوں کی نفرت کا ازالہ ہوجائے گا بلالکہ اس صورت میں دوسرے کو مقدم کرنا نفرت کا سبب بنے گا۔ (ت)
درمختار میں ہے :
الاان یکون غیرالفاسق اعلم فھو اولی ۔
مگر یہ فاسق کے علاوہ قوم سے زیادہ عالم ہو تو وہی امامت کے زیادہ لائق ہے (ت)
اسی میں ہے :
لوام قوما وھم لہ کارھون ان الکراھۃ لفسادفیہ اولانھم احق بالامۃ منہ
اگر کسی نے امامت کرائی حالانکہ لوگ اسے ناپسند کرتے تھے اگر کراہت خود اس میں کسی خرابی کی بنا پر ہو یا
حوالہ / References الہدایۃ باب الامامۃ مطبوعہ المکتبہ العربیہ کراچی ۱ / ۱۰۱
الاختیار لتعلیل المختار باب الجماعۃ مطبوعہ دار فراس للنشر والتوزیع ۱ / ۵۸
ردالمحتار ، باب الجماعۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۴
درمختار باب الجماعۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۷۳
#11487 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
کرہ ذلك تحریما وان ھو احق لا والکراھۃ علیھم ۔ واﷲ تعالی اعلم
اس بنا پر کہ دوسرے لوگ اس سے امامت کے زیادہ حقدار تھے دونوں صورتوں میں اس پر کراہت تحریمی ہوگی اگر وہ خود امامت کا زیادہ حقدار تھا تو اس پر کوئی کراہت نہ ہوگی اور لوگوں پر کراہت ہوگی۔ (ت)
مسئلہ ۶۶۷ : ۱۳۳۱ہجری
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص امام مسجد ہے اور وہ فاتحہ و علم غیب وغیرہ سے منکر ہے بلالکہ سجدہ میں اور رکوع میں تسبیح اس قدزور سے کہتا ہے کہ اگلی صف والے بخوبی سن لیتے ہیں اور پیچھے والے بھی سن لیتے ہیں اور ایسے مقام پر کوئی دوسرا امام میسر نہیں آتا تو اس حالت میں کس طرح باجماعت نماز پڑھی جائے کہ ثواب جماعت کا ہو اور نماز میں بھی کوئی نقص نہ ہونے پائے۔
الجواب :
اگر علم غیب بعطائے الہی کثیر و وافر اشیاء وصفات واحکام وبرزخ ومعاد واشراط ساعت وگزشتہ وآئندہ کا منکر ہے تو صریح گمراہ بددین ومنکر قرآن عظیم واحادیث متواترہ ہے اور ان میں ہزاروں غیب وہ ہیں جن کا علم حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ملنا ضروریات دین سے ہے اور ضروریات دین کا منکر یقینا کافر یوں ہی تلبیسی طور پر بعض کااقرارکرتا اور وہابیہ کا اعتقاد رکھتا ہے تو گمراہ بد دین ہے اور جو خاص دیو بندی عقائد پر ہو وہ کافر ومرتد ہے یوں ہی جو ان عقائد پر اپنا ہونا نہ بتائے مگر ان لوگوں کے عقائد کفر یہ پر مطلع ہو کر ان کو اچھا جانے یا مسلمان ہی سمجھے جب بھی خود مسلمان نہیں درمختار و مجمع ا لانہر و بزازیہ وغیر ہما میں ہے : من شك فی کفرہ فقد کفر ( جس نے اس کے کفر میں شك کیا وہ خود کافر ہوگیا ۔ ت) ہاں اگر تمام خباثتوں سے پاك ہواور علم غیب کثیر ووافر بقدر مذکور پر ایمان رکھے اور عظمت کے ساتھ اس کا اقرار کرے صرف احاطہ جمیع ماکان وما یکون میں کلام کرے اور ان میں ادب وحرمت ملحوظ رکھے تو گمراہ نہیں صرف خطا پر ہے مگر آج کل یہاں فاتحہ کاانکار خاص وہابیہ ہی کا شعار ہے اور وہابیہ اہل ہواسے ہیں اور اہل ہوا کے پیچھے نماز ناجائز ہے فتح القدیر میں ہے :
لاتجوز الصلاۃ خلف اھل الاھواع ۔
اہل ہوا کے پیچھے نماز جائز نہیں ۔ (ت)
حوالہ / References درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۷۳
درمختار باب المرتد مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵۶
فتح القدیر باب الامامۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۰۴
#11488 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
تو اگر امام میسر ہو بہتر ہے ورنہ تنہا نماز پڑھی جائے ۔ ہاں اگر وہاں وہابیت نہ ہوتی تو فقط اتنی بات پر کہ تسبیحات رکوع و سجود بآواز کہتا اور اس پر اصرار رکھتا ہو نماز اس کے پیچھے مکروہ ہوتی کہ اگر اور امام نہ ملتا تو اسی کے پیچھے پڑھنے کا حکم دیا جاتا مگر بحال وہابیت ہر گز اقتداء جائز نہ ہوگی ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۶۶۸ : از نجیب آباد ضلع بجنور متصل تحصیل مرسلہ محمد ظفر اﷲ صاحب حنفی ۱۶ ذی الحجہ ۱۳۳۱ھ
(۱) ایك شخص اس مسجد کا جو امام ہے جس کی بابت یہ قصہ ہے کہ صدقہ فطر لیتا ہے حتی کہ وہ خود صاحب زکوۃ ہے اگر اس کو صدقات سے کچھ نہ دیا جائے یا دینے میں دیر ہوجائے تو ناراض ہوجاتا ہے ایسی جگہ سے نماز ترك کرنا جائز ہے یانہیں
(۲) دائم المریض اور جس کے وضو کا بھی کافی طور سے احتمال ہو اور قران شریف کو صحت الفا ظی کے ساتھ نہ پڑھتا ہو بلالکہ غلط پڑھتا ہو باوجود اس کے کہ وہاں قاری اور حافظ موجود ہوں تو ایسے شخص کی شمولیت جماعت سے اجتناب چاہئے یا نہیں
(۳) جو اشخاص ناحق رعایت وپاسداری کرتے ہوں اور مدرس تدریس قرآنی سے حاسد ہوں اور وہ اس جماعت میں شامل ہوں اور عوام کی غیبت کرتے ہوں تو ایسے موقع پر ترك جماعت جائز ہے یانہیں
(۴)وہ شخص اس بنائے فساد سے مخوف ہوکر اس حجرے میں جو شارع عام سے کچھ فاصلہ مسجد سے واقع ہے نماز پڑھ لے تو جائز ہے یا نہیں ۔ اگر حجرہ میں جماعت علیحدہ کرتا ہے تو ناحق مفسدہ پیدا ہوتا ہے اب کیا کرنا چاہئے آیا نماز اب کس طریق پر اور کس جگہ پر ادا کرے
(۵) وہ امام جو اس مسجد میں امامت کے واسطے بلائے جاتے ہوں اس کے مقتدی ہمیشہ فحش کلامی سے یاد کرتے ہوں اور اس سے پھر مقتدی ناراض ہوں تو اس کے پیچھے ان کی نماز ہوتی ہے یا نہیں اور اس کو وہاں امامت کرنا روا ہے یا نہیں
(۶) اندر مسجد جمع ہوکر دنیا داری کی باتیں کرنا جائز ہے یا نہیں اور جو کرتے ہیں وہ خطاوار ہیں یا نہیں
(۷)مسجد کی امامت کے واسطے امام بے علم یا مشتبہ کافی ہے یا نہیں کہ نماز مع کل فرائض واجبات سنن کے پوری ہوجائے فقط۔
الجواب :
(۱) غنی کو صدقہ فطر لینا حرام ہے اگر امام غنی ہے اور صدقات فطر لیا کرتا ہے یہاں تك کہ ملنے میں دیر سے ناراض ہوتا ہے تو وہ فاسق معلن ہے اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے اگر اسے معزول نہ کر سکیں تو وہاں ترك جماعت کا یہ عذر صحیح ہے واﷲ تعالی اعلم
#11489 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
(۲)اگر قرآن مجید ایسا غلط پڑھتا ہے جس سے نماز فاسد ہوتی ہے مثلا أ ع یا ت ط ث س ص یا ح ہ یا ذ ز ظ ض میں فرق نہیں کرتا تو اس کے پیچھے نماز باطل ہے اور اس صورت میں اس کے پیچھے نماز نہ پڑھنا ترك جماعت نہیں کہ وہ جماعت کیا نمازہی نہیں یونہی اگر اس کا وضو مشکوك رہتا ہے جب بھی اس کے پیچھے نہ پڑھنے میں مواخذہ نہیں واﷲ تعالی اعلم
(۳) مقتدیوں کے گناہ کے باعث ترك جماعت جائز نہیں ان کے گناہ ان کے گنا ہ ہیں اورترك جماعت اس کا گناہ ہو گا واﷲ تعالی اعلم۔
(۴) اگر امام مسجد فاسق معلن یا بد مذہب یا بے طہارت یا غلط خواں ہے اسے آگے پیچھے یا اس سے الگ حجرہ میں جماعت پر بھی قدرت نہیں بلالکہ فتنہ اٹھتا ہے تو اس صورت میں تنہا پڑھنے کی اسے اجازت ہوگی مگر یہ بات بہت دشوار ہے کہ حجرہ میں دو ایك شخص کے ساتھ جماعت کرنے میں بھی فتنہ ہو واﷲ تعالی اعلم
(۵) اس صورت میں مقتدی گنہگار ہیں امام پر کچھ الزام نہیں وہ امامت کرسکتا ہے اور ان کی نماز اس کے پیچھے روا ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
(۶) مسجد میں دنیا کی بات کے لئے بیٹھنا حرام ہے اور اس میں جمع ہو کر دنیا کی بات کرنا ضرور خطا ہے واﷲ تعالی اعلم
(۷) امام میں چند شرطیں ضروری ہیں اولا قرآن عظیم ایسا غلط نہ پڑھتا ہو جس سے نماز فاسدہو جیسے وہ لوگ کہ مثلا ا ع یا ت ط یا ث س ص یا ح ہ ذ ز ظ ض میں فرق نہیں کرتے دوسرے وضو غسل طہارت صحیح رکھتاہو سوم سنی صحیح العقیدہ مطابق عقائد علمائے حرمین شریفین ہو تفضیلی وغیرہ بد مذہب نہ ہو نہ کہ وہابی خصوصا دیوبندی کہ سرے سے مسلمان ہی نہیں یا ان کو اچھا جانے والا کہ وہ بھی انھیں کے مثل ہے شفا شریف وبزازیہ و مجمع الانہر و درمختار وغیرہا میں ہے :
ومن شك فر کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔
جس نے اس کے کفر اور عذاب میں شك کیا وہ خود کافر ہوجائےگا۔ (ت)
چہارم فاسق معلن نہ ہو اسی طرح اور امور منافی امامت سے پاك ہو ان کے بعد ذی علم ہونا شرط صحت وحلت نہیں شرط اولیت ہے اگر جاہل ہے اور شرط مذکورہ رکھتا ہے اس کے پیچھے نماز ہوجائیگی۔ اگرچہ اولی نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References درمختار با ب ا لمرتد مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵۶
#11490 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
xمسئلہ ۶۷۵ : جو شخص داڑھی اپنی مقدار شرع سے کم رکھتا ہے اور ہمیشہ ترشواتا ہے اس کا امام کرنا نماز میں شرعا کیا حکم رکھتا ہے
الجواب :
وہ فاسق معلن ہے اور اسے امام کرنا گناہ اور اسے کے پیچھے نماز پڑھنی مکروہ تحریمی ۔ غنیـہ میں ہے : لو قدموا فاسقا یاثمون (اگر لوگوں نے فاسق کو مقدم کیا تو وہ لوگ گناہ گار ہونگے ۔ ت) اور دلائل مسئلہ لحیہ کی تفصیل ہمارے رسالہ لمعۃ الضحی فی اعفاء اللحی میں ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۶۷۶ : از سیتاپور ضلع بریلیمسئولہامیر علی صاحب رضوی ۱۶ شوال ۱۳۳۰ھ
ایك وقت کی نماز جس شخص کی قضاء ہوگئی ہو اس کے پیچھے نماز امامت درست ہوگی یا نہیں اتفاق سے قضا ہوگئی ہو۔
الجواب :
بلا قصد جس کی نماز قضا ہوجائے اس کے پیچھے نماز میں حرج نہیں ۔
مسئلہ ۶۷۷ : ہر ایك آدمی کی نماز کسی کی کسی وقت کی اور کسی کی کسی وقت کی قضا ہو اور سب اپنی اپنی قضا پڑھ لیں ایسی حالت میں امامت ہوگی یا نہیں کیونکہ بعض بعض جگہ بوجہ کاشتکاری کے کام کے اکثر لوگوں کی نماز قضا ہوجاتی ہے اور سب ایسی ہی حالت میں ہیں یہ لوگ امام کریں یا اپنی اپنی نماز علیحدہ ادا کریں یا کوئی ان میں امام ہوکر نمازادا کریں ۔
الجواب :
کاشتکاری خواہ کسی کام کے لئے نماز قضا کردینا سخت حرام و گناہ کبیرہ ہے جو ایسا کرتے ہین سب فاسق ہیں سب پر فورا توبہ فرض ہے کیا نہیں جانتے کہ کھیتی بھی اسی کے اختیار میں ہے جس نے نماز سب سے بڑھ کر فرض کی ہے اگر نماز کھونے میں تمہاری کھیتی برباد کردے تو تم کیا کر سکتے ہو نماز گھنٹوں میں نہیں ہوتی تھوڑی دیر کے لئے نماز کے واسطے کھیتی کے کام کو روك دو تو نماز اور کھیتی کا مالك تمھاری کھیتیوں میں بہت برکت دے جہاں سب اسی طرح کے ہوں وہاں ان سب پر توبہ تو فرض ہے ہی جب توبہ کرلیں ان میں سے جو قابل امامت ہے امامت کرے اور رافضیوں کی طرح الگ الگ نہ پڑھیں ہاں یہ ضرور ہے کہ امام اور مقتدی سب کی قضا متحد ہو مثلا سب کی آج کی ظہر یا سب کی کل کی عصر تو جماعت ہوسکتی ہے اور اگر نماز مختلف ہو مثلا امام کی ظہر اور مقتدی کی عصر یا امام کی آج
حوالہ / References غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامامۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۳
#11491 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
کی ظہر تو جماعت نہیں ہوسکتی اپنی اپنی الگ پڑھیں واﷲ تعالی اعلمc
مسئلہ ۶۷۸ : امام کی اتفاق سے ایك وقت کی نماز قضاء ہوگئی ہے تو وہ نماز پڑھا سکتا ہے یا دوسرا شخص کھڑا ہو بینوا تو جروا
الجواب :
وہی امامت کرے جبکہ قصدا قضا نہ کی ہو ۔ اور اگر قصدا قضا کی اگر چہ اتفاق سے تو فاسق ہوگیا ۔ اگر توبہ نہ کرے تو دوسرا شخص امامت کرے ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۶۷۹ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کی عمر اٹھارہ سال کی ہے اور حافظ ہے داڑھی نہیں ہے آیا اس کے پیچھے نماز درست ہے یانہیں
الجواب :
اگر حسین وجمیل خوب صورت ہو کہ فساق کے لئے محل شہوت ہو تو اس کی امامت خلاف اولی ہے ورنہ نہیں ۔ درمختار میں ہے : تکرہ خلف امرد ( امرد کے پیچھے نماز مکروہ ہے ۔ ت) ردالمحتار میں ہے :
قال الرحمتی المرادبہ الصبیح الوجہ لانہ محل الفتنۃ ۔ واﷲ تعالی اعلم
شیخ رحمتی نے کہا امرد سے مراد خوبصورت چہرے والا لڑکا ہے کیونکہ وہ فتنے کا محل ہے ۔ (ت)
مسئلہ ۶۸۰ : از قصبہ دھام پور ضلع بجنور محلہ بندو قچیاں مرسلہ محمدسعید صاحب ۱۶ ذی الحجہ ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارہ میں کہ ایك جامع مسجد کا امام جوابدی نماز پڑھاتا ہے وہ جماعت کثیرہ اس کے پیچھے نماز پڑھے اور جملہ قصبہ والے اور دیہات والے خوش ہوں اور دس پانچ آدمی بسبب خصومت نفسی کے اس پیش امام کے پیچھے نہ پڑھیں اور جماعت ہوتی رہے اور وہ مسجد کے صحن میں یا دیوار کے پاس کھڑے رہیں اس انتظار میں کہ جماعت ہوجائے تو ہم دوسری جماعت اپنی کر کے نماز پڑھیں اور اگر وہ لوگ قبل آجائیں تو امام کے مصلے پر کھڑے ہوکر نماز پڑھ کر چلے جائیں یہ فعل ناجائز ہے یا نہیں ۔ فقط
الجواب :
اگر امام سنی صحیح العقیدہ مطابق عقائد علمائے حمرمین شریفین ومخالف عقائد غیر مقلیدین و وہابیہ دیوبندیہ وغیر ہم گمراہان ہے اور قرآن مجید صحیح قابل جواز نماز پڑھتا ہے اور فاسق معلن نہیں ۔ غرض اگر کوئی بات
حوالہ / References درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۷۳
ردلمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۵
#11492 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
اس میں ایسی نہیں جس کے سبب اس کی امامت با طل یاگناہ ہو پھرجو لوگ براہ نفسانیت اس کے پیچھے نمازنہ پڑھیں اور جماعت ہوتی رہے اور شامل نہ ہوں وہ سخت گناہ گار ہیں ان پر توبہ فرض ہے اور اس کی عادت ڈالنے سے فاسق ہوگئے لیکن اگر امام میں ان عیوب میں سے کوئی عیب ہو اور اس کے سبب یہ لوگ اس کے پیچھے نماز سے احتراز کرتے ہوں تو درست و بجا ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۶۸۱ : از بیسلپور ضلع پیلی بھیت محلہ درگا پرشاد مکان فخر الدین صاحب مرسلہ حافظ شمس الدین صاحب ۲۳ ذی الحجہ ۱۳۳۱ھ
(۱) جو شخص کہ سودی دستاویز لکھا تا ہو لیکن لیتا نہ ہو اور جو ملازمان گورنمنٹ مثلا تھانیدار یا سب رجسٹرار اور نیز ملا زمان چونگی اگر پنجوقتہ نماز کے پابند نہیں وہ امامت کرسکتے ہیں یا نہیں
(۲) امام جماعت سے کس قدر فاصلہ سے کم سے کم یا زیادہ سے زیادہ کھڑا ہو اس صورت میں کہ مقتدیوں کی صف پوری ہو۔ فقط
الجواب :
(۱) سودی دستاویز لکھانا سود کا معاہدہ کرنا ہے اور وہ بھی حرام ہے صحیح حدیث میں ہے :
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعا لی علیہ وسلم اکل الربوا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء ۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے لعنت فرمائی سود کھانے والے اور سود لینے والے اور اس کا کاغذ لکھنے والے اور اس پر گواہیاں کرنے والو پر اور فرمایا وہ سب برابر ہیں ۔ (ت)
جب اس کا تمسك لکھنا موجب لعنت اور سود کھانے کے برابر ہے تو خود اس کا معاہدہ کرنا کس درجہ خبیث و بدتر ہے ایسے شخص کو امام نہ کیا جائے ہر نوکری جس میں خلاف شریعت حکم دینا پڑتا ہو حرام ہے اور رجسٹراری کاحال ابھی گزر چکا کہ اس میں سودی تمسکوں کا لکھنا اور ان کو تصدیق کرنا پڑتی ہے۔ تھانے دار اگر رشوت لے یا جھوٹ مقدمے بنائے جھوٹی گواہیاں دلوائے لوگوں سے دبا دھمکا کر مال حاصل کرے جب تو ظاہرہے کہ یہ سب افعال سخت حرام ہیں ورنہ چالان میں خلاف شریعت احکام کی اعانت ضرور ہوتی ہے تو ایسی حالت میں شرعا امامت کے لائق نہیں ۔ ہاں چونگی کا ملازم اگر چونگی تحصیل کرنے پر نوکر ہے اور اس میں یہ نیت رکھتا ہے کہ لوگوں پر آسانی کرے اور لوگ جو دباؤ ڈال کر زیادہ روپیہ وصول کرتے ہیں اس سے بچائے تو اس
حوالہ / References صحیح مسلم باب الربا مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۲۷
#11493 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
میں حرج نہیں کما فی الدرلمختار( جیسا کہ درمختار میں ہے ۔ ت) وہ اگرقابل امامت ہو تو اس کی امامت میں مضائقہ نہیں ۔
(۲)امام صف سے اتنا آگے کھڑاہو کہ جو مقتدی اس کے پیچھے ہے اس کا سجدہ بطور مسنون بآسانی ہوجائے بلا ضرورت اس سے کم فاصلہ رکھنا جس کے سبب مقتدیوں کو سجدہ میں تنگی ہو منع ہے یوں ہی فاصلہ کثیر عبث چھوڑنا خلاف سنت مؤکدہ ہے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۶۸۲ : سرکڑہ ضلع مراد آبادمسئولہعبدالعزیز صاحب ۵ محرم الحرام ۱۳۳۲ھ
(۱) باپ نے بیٹے کو عاق کردیا اور پھر اس کی خطا معاف بھی کردی تو اس کی خطا معاف ہوئی یا نہیں اور اس کے پیچھے نماز ہوجائے گی
(۲)اگر کسی شخص سے چار جمعہ حالت مرض میں پے در پے ساقط ہوگئے تو پانچویں جمعہ میں نماز اس کے پیچھے جائز ہے یا نہیں
الجواب :
ہاں اگر وہ باپ کی نافرمانی اور باپ کو ناراض کرنے سے باز آیا اور سچے دل سے توبہ کی توخطا معاف ہوگئی اور اب اس کے پیچھے نماز جائز ہوجائے گی۔ اور اگر وہ نافرمانی وایذائے پدر سے باز نہ آیا تو ضرور سخت اشد فاسق ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی جس کا پھیرنا واجب ہے اور اسے امام بنانا گناہ اگر چہ باپ اپنی مہربانی سے ہزار بار خطا معاف کردے کہ یہ صرف باپ کی خطا نہیں اﷲ اﷲ عزوجل کابھی گناہ اور سخت گناہ شدید کبیرہ ہے تو فقط باپ کے معاف کئے کیونکر معاف ہوسکتا ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم
(۲) اگر مرض ایسا تھا کہ قابل حاضری جمعہ نہ تھا تو اس پر کچھ الزام نہیں اور اگر حاضر ہوسکتا تھا اور کاہلی اور بے ہمتی سے نہ آیا تو فاسق ہے اسے امام کرنا گناہ ہے واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۶۸۴ : از بیتھو ضلع و ڈاکخانہ بیتھو مرسلہ حکیم رضا حسین صاحب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص ولد الزنا کا نکاح صحیح ہوا اور اس سے اولاد ہوئی تو اس اولاد کے پیچھے اقتدا درست ہے یا نہیں ۔ فقط
الجواب :
ولدالزنا کا بیٹا کہ نکاح صحیح سے پیدا ہوا ولد الزنا نہیں اس کے پیچھے نماز میں کچھ کراہت نہیں ۔ ہاں اگر اہل جماعت اس سے نفرت کریں او راس کے باعث جماعت کی تقلیل ہو تو اسے امام نہ کیا جائے اگر چہ وہ خود بے قصور ہے جیسے معاذاﷲ برص وجذام والے کی امامت مکروہ ہے جبکہ باعث تنفیر جماعت ہو اگر چہ مرض
#11494 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
میں اس کا کیا قصور ہے درمختار میں ہے تکرہ خلف ابرص شاع برصہ ( ایسا برص والا شخص جس کا برص پھیل گیا ہو اس کے پیچھے نماز مکروہ ہے ۔ ت)ردالمحتار میں ہے :
کذا اجزم برجندی والظاھر ان لعلۃ النفرۃ ولذا قید الا برص بالشیوع لیکون ظاھرا ۔ واﷲ تعالی اعلم
اسی طرح جذام والے کا حکم ہے برجندی اور ظاہرا علت نفرت ہی ہے اسی لئے ابرص کے ساتھ پھیل جانے کی قید کا اضافہ ہے تاکہ واضح ہوجائے ۔ (ت)
مسئلہ ۶۷۵ : از قصبہ نیٹھور ضلع بجنور مرسلہ محمد عبدالحی سوداگر جفت ۲۹ محرم ۱۳۳۲ ہجری
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عنایت اﷲ خاں صاحب جائداد ہے اور دوسری جائداد خرید نے کےلئے یا کسی وارث کی جائداد اپنے نام کرانے کے لئے روپیہ سودی تمسك لکھ کر بقال سے قرض لیا ایسے شخص کو امام بنانا مذہب حنفیہ میں کیسا ہے خصوصا جمعہ وعید ین کا امام بنانا ۔ عنایت ا ﷲ صاحب نصاب ہے ۔ فقط
الجواب :
شخص مذکور کو جائدا دخرید نا کوئی ضرورت شرعی نہ رکھتا تھا اور بے حالت اضطرار ومجبوری محض سود دینا اور لینا دونوں یکساں ہیں دینے لینے والے دونوں ملعون ۔ صحیح مسلم شریف میں امیر المؤ منین مولی علی کرم اﷲ وجہ الکریم سے ہے :
لعن رسول ﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اکل الربو وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ و قال ھم سواء ۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے سود کھانے والے اور سود کھلانے والے او راس کا کاغذ لکھنے والے اور اس کی گواہیاں کرنے والوں پر ۔ اور فرمایا وہ سب برابر ہیں ۔ (ت)
ایسا شخص جمعہ عید پنجگانہ کسی نماز میں امام بنانے کے قابل نہیں اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۶۸۶ : مسئولہ علاؤالدین صاحب عرضی نویس کچہری دیوانی پرتاب گڈھ ۲۲ صفر ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ قیام کرنا محفل مولد خیر الانام اور نماز تراویح کے بعد
حوالہ / References درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۷۳
ردالمحتار باب الامامۃ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۶
صحیح مسلم باب الربا مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۲۷
ف : صحیح مسلم ، باب الربا میں حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے حوالے سے حدیث مذکور ہے ۔ نذیر احمد
#11495 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
ختم قرآن مجید کے اپنے پاس سے خواہ چندہ سے بخوشی اپنے شیرنی تقسیم کرنا جائز ہے یا بدعت اور ایسے شخص جو قیام کامنکراور جو تراویح کے بعد ختم قرآن مجید کی شیرنی کا تقسیم کرنا بدعت سمجھتا ہوا ور ناجائز کہتا ہو اس کے پیچھے نماز کی اقتداء کرنا بروئے مذہب حنفی کیا ہے ایسے امام کے پیچھے نماز مکروہ ہوتی ہے یا نہیں یا کیا ہے فقط
الجواب :
قیام وقت ذکر ولادت حضور سید الانام علیہ و علی آلہ افضل الصلاۃوالتسلیم جس طرح حرمین طیبین و مصر و شام و سائر بلاد اسلام مین رائج ومعمول ہے ضرور مستحسن ومقبول ہے۔ علامہ سید جعفر برزنجی رحمۃ اﷲ تعالی جن کا رسالہ میلاد مبارك حرمین طیبین و دیگر بلاد عرب وعجم میں پڑھاتا جاتا ہے اس رسالہ میں فرماتے ہیں :
قد استحسن القیام عند ذکر مولد الشریف صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ائمۃ ذووروایۃ ودر ایۃ فطوبی لمن کان تعظیمہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم غایۃ مرامہ ومرماہ ۔
بے شك ذکر ولادت اقدس کے وقت قیام کرنا ان امامو نے مستحسن جانا جو اصحاب روایت و ارباب درایت تھے تو خوشی اور شادبانی ہو اس کے لئے جس کی نہایت مراد و غایت مقصود محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تعظیم ہو۔ (ت)
یہاں آج کل اس قیام مبارك کو بدعت و ناجائز کہنے والے حضرات وہابیہ ہیں خذ لھم اﷲ تعالی ( اﷲ تعالی انھیں خوار کرے ۔ ت) اور وہابیہ زمانہ اب بدعت وضلالت سے ترقی کرکے معراج کفر تك پہنچ چکے ہیں بہر حال ان کے پیچھے نماز ناجائز اور انھیں امام بنانا حرام یوں ہی ختم قرآن عظیم کے وقت مسلمانوں میں شیرینی کی تقسیم بھی ایك امر حسن ومحمود ہے اسے بدعت بتانا انھیں اصول ضالہ وہابیت پر مبنی ہے اﷲ عزوجل نے تو وجوب و ممانعت کی یہ معیار بتائی تھی :
و ما اتىكم الرسول فخذوه-و ما نهىكم عنه فانتهوا- ۔
رسول جس بات کا تمھیں علم دیں وہ اختیار کرو اور جس بات سے منع فرمائیں باز رہو۔ (ت)
مگر وہابی صاحبو ں نے معیا ر ممانعت یہ رکھی ہے کہ جسے ہم منع کر دیں اسے بچو اگر چہ اﷲ ورسول نے کہیں منع نہ فرمایاہو غرض یہ اس کا شرك فی الرسالت ہے اس کے پیچھے ہر گز نماز پڑھی نہ جائے والعیاذ باﷲ تعالی رب العالمین ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References رسالہ میلاد مبارك العلامہ سید برزنجی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ قیام بوقت ذکر تولد خیرالانام ، جامعہ اسلامیہ لاہور ص ۲۵ و ۱۶
القرآن ۵۹ / ۷
#11496 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
مسئلہ ۶۸۷ : از ضلع بھنڈارہ محلہ کم تالاب مرسلہ حکیم ہدایت اﷲ خاں صاحب متولی مسجد ۶۷ صفر المظفر ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفیتان شرع متین اس مسئلہ میں کہ :
(۱) ایك شخص حافظ قرآن ہے اور جبرا پیش امام بننا چاہتا ہے حالانکہ جماعت مسلمین اسکی مندرجہ ذیل باتوں سے ناخوش ہے اور اپنا پیش امام نہیں بنانا چاہتے حافظ صاحب پہلے گورنمنٹی ملازم تھے رشوت کھا کرسزا پائی مگر قسمت کے زور سے اپیل میں رہائی پائی۔
(۲) اس حافظ صاحب نے ایك سے آٹھ آنہ لے کر رسید لکھ دی تھی بعد میں دھوکا دے کر رسید جلادی کچہری میں انکار کیا کہ آٹھ آنہ نہیں لیا جس سے اس شخص کو بڑابھاری نقصان ہوا حالانکہ یہ بات سچ تھی کہ پیسے حافظ صاحب لے چکے تھے اور صاف انکار کردیااور اسی معاملہ میں پہلے بھی قسم قرآن شریف کی کھا چکے تھے۔
(۳) حافظ صاحب نے اپنے پیر و مرشد پر طعن وتشنیع کرتاہے کہ محلہ میں یا مدرسہ اسلامیہ میں جو خاص ان کے پیر ومرشد کا ایجاد کردہ ہے کہتے ہیں کہ ان کے باپ دادا کا میراث ہے کیا اور اپنے پیر کی بات پر فتوی بلالواتا ہے حالانکہ پیر مرحوم نے ان کو اپنا خلیفہ زبانی مقرر کیا ہے نہ کہ تحریری بعد اس طعنہ تشنیع کے پیر مرحوم پر حافظ صاحب کی خلافت باقی ہے یا باطل ہوئی یا خلافت سے نکل گئے۔
(۴) حافظ صاحب نے چمڑا قربانی کا جو کہ صاحب نصاب ہیں مدرسہ اسلامیہ میں دینے کو کہا تھا دھوکا دے کر اپنے صرف میں لے آئے
(۵) اور سید کو زکوۃ کا پیسہ لینا درست ہے یا نہیں اتنی باتیں حافظ بنو علی صاحب میں موجود ہیں جس کو ہر فردبشر اس محلہ کا بخوبی جانتا ہے تو اس پر بھی وہ پیش امام بننا چاہتے ہیں جبرا اور فساد برپا کرتے ہیں کہ میں حافظ ہوں خلیفہ ہوں میرا حق زیادہ ہے پیش امام میں بنوں گا اور جماعت کثیرہ کی رائے نہیں ہے کہ اس کو اپنا پیش امام بنائے اس لئے جناب والا کی خدمت میں ناقابل یہ تحریر ارسال کرتا ہوں کہ تکلیف گوارا فرماکر اس کاجواب تفصیل وار ہر ایك سوال کا تحریر فرمائیں گے کہ ایسی زبردستی پیش امام جس سے مقتدی ناراض ہوں درست ہے یا نہیں زیادہ کیا عرض کروں زیادہ حد ادب۔
الجواب :
جس سے مقتدی اس کے کسی عیب کی وجہ سے ناراض ہوں اس کی نماز قبول نہیں ہوتی ۔ حدیث میں ارشاد فرمایا :
ثلثۃ لا ترفع صلاتھم فوق اذانھم شبر
تین شخصوں کی نماز ان کے کانوں سے بالشت بھر بھی
#11497 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
اوعد منھم من اما قوما وھم لہ کارھون ۔
اونچی نہیں ہوتی یعنی بارگاہ عزت تك رسائی تو بڑی چیز ہے ایك وہ جو کچھ لوگوں کی امامت کرے اور وہ لوگ اس ناراض ہوں یعنی اس میں کسی قصور شرعی کے سبب۔
و الا فالوبال علیھم کما فی الدر المختار وغیرہ ( ورنہ وبال ان لوگوں پر ہوگا جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے ۔ ت) اور ظاہر ہے کہ صورت مستفسرہ میں اس شخص میں معتدد قصور ہیں رشوت لینا اگر ثابت ہو تو وہ گناہ کبیرہ ہے حدیث میں فرمایا : الراشی والمرتشی کلا ھما فی النار ۔ رشوت لینے والااور رشوت دینے والا دونوں دوزخی ہیں ۔ پیسے لے کر مکر جانا اور اس پر قرآن عظیم کی جھوٹی قسم کھانہ اور رسید جلا کر مسلمان پر جھوٹا دعوی کرنا اور اسے نقصان پہنچانا یہ سب گناہ کبیرہ ہیں ان وجوہ سے حافظ مذکور کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے اور اسے امام بنا نا گناہ اور جبرا امام بننے میں خود اس کی نماز بھی تباہ جب تك وہ ان تمام افعال شنیعہ سے علانیہ توبہ نہ کرے قربانی کی کھال اگر دوسرے نے اسے مدرسہ میں دینے کو دی تھی اور اس نے دھوکا دے کر اپنے صرف میں کرلی تو یہ بھی دغا اور خیانت اور گناہ کبیرہ ہے اور اگر اپنی قربانی کی کھال مدر سہ میں دینے کو کہی تھی پھر نہ دی تو بیجا ہے مگر چنداں الزام نہیں جبکہ کسی عذر شرعی سے ایسا کیا ہو ورنہ اﷲ عزوجل سے وعدہ خلافی ہے چنانچہ نتیجہ بہت شدید ہے
قال اﷲ تعالی
فاعقبهم نفاقا فی قلوبهم الى یوم یلقونه بما اخلفوا الله ما وعدوه و بما كانوا یكذبون(۷۷)
اﷲ تعالی دا رشاد ہے : تو اس کے پیچھے اﷲ تعالی نے ان کے دلوں میں نفاق رکھ دیا اس دن تك کہ اس سے ملیں گے بدلہ اس کا کہ انھوں نے اﷲ تعالی سے وعدہ جھوٹا کیا اور بدلہ اس کا کہ جھوٹ بولتے تھے (ت)
پیر پر طعنہ وتشنیع ارتداد طریقت ہے اس سے خلافت درکنار بیعت سے بھی خارج ہوجاتا ہے ۔ سید حاجت مند کو
حوالہ / References سنن ابن ماجہ باب من امّ قوما وھم لہ کارھون مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۶۹
ف : جس کتب سے حدیث کا حوالہ دیا ہے اس میں '' فوق اذانھم '' کی جگہ '' فوق روسھم '' ہے ۔ نذیر احمد سعیدی
درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۳
کنز العمال الفصل الثالث فی الہدیۃ والرشوۃ مبطوعہ مؤ سسۃ الرسالۃ بیروت ۶ / ۱۱۳
ف : جس کتاب سے حوالہ دیا ہے اس میں '' کلاھما '' کا لفظ نہیں ہے ۔ نذیر احمد سعیدی
القرآن ۹ / ۷۷
#11498 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
زکوۃ دینے میں بعض نے اجازت لکھی ہے اور صحیح و معتمد ظاہر الروایہ عدم جواز کما بیناہ فی الزھر الباسم( جیسا کہ ہم نے اس کو الزہر الباسم میں بیان کیا ہے ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۶۹۲ تا۶۹۴ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیا ن شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو شخص گناہ کبیرہ میں مبتلا رہتا ہو اوروہ حسب ہدایت گناہ سے باز آکر اکمل الفضلاء دین واسلام کے رو برو توبہ کرے اور اس گناہ سے بفضلہ تعالی نجات پائے تو کیا اس کا ایما ن کامل ہوا
(۲) اس کی امامت جائز ہے
(۳) جو لوگ بعد توبہ اس پر اعتراض کریں ان کے واسطے کیا حکم ہے فقط
الجواب :
اﷲ عزوجل توبہ قبول فرماتا ہے و هو الذی یقبل التوبة عن عباده ( وہ اﷲ تعالی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے ۔ ت)
اور سچی توبہ کے بعد گناہ بالکل باقی نہیں رہتے ۔ حدیث میں ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ ۔
گناہ سے توبہ کرنے والا بے گناہ کے مثل ہے۔
توبہ کے بعد اس کی امامت میں اصلا حرج نہیں بعد توبہ اس پر گناہ کا اعتراض جائز نہیں ۔ حدیث میں ہے بنی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من عیر اخاہ بذنب لم یمت حتی یعملہ و فی روایۃ من ذنب قد تاب منہ بہ فسرا بن منیع رواہ الترمذی وحسنہ عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ۔ واﷲ تعالی اعلم
جو کسی اپنے بھائی کو ایسے گناہ سے عیب لگائے جس سے توبہ کرچکاہے تو یہ عیب لگانے والا نہ مرے گا جب تك خود اس گنا ہ میں مبتلا نہ ہوجائے اس کو ترمذی نے حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کر کے حسن قرار دیا ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۶۹۵ : از میر ٹھ چھاؤنی ویلر کلب مرسلہ عمر بخش خانساماں ۴ ربیع الاول شریف ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ ایك شخص عرصہ چند سال سے امام مسجد رہ کر ببا عث
حوالہ / References القرآن ۴۲ / ۲۵
سنن ابن ماجہ باب ذکر التوبہ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۳۲۳
جامع الترمذی باب از ابواب صفۃ القیٰمۃ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۷۳
#11499 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
اسے مقر کرنا اصلا معتبر نہیں ہوسکتا نہ حالت مذکور میں کہ قوم بروجہ شرعی اس سے کراہت رکھتی ہے خود اسے امام بننا نا جائز ۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ثلثۃ لا ترفع صلاتھم فوق اذانھم شبرا وعدمنھم من ام قوما وھم لہ کارھون ۔
تین آدمیوں کی نماز ان کے کانوں سے ایك بالشت بھی اوپر نہیں جاتی ( یعنی بارگاہ عزت میں رسائی تو بڑی چیز ہے) ان میں ایك شخص ہے جو کچھ لوگوں کی امامت کرے حالانکہ وہ اسے ناپسند کرتے ہوں ۔ (ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۶۹۶ : از کانپور توپ خانہ بازار قدیم مسجد سہ منارہ ۲۰ ربیع الاول شریف ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع مبین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص عالم ہے یعنی علم فقہ وحدیث بخوبی جانتے ہیں مگر عالم موصوف بائیں پیر سے مجبور ہیں جس کو لنگڑا کہتے ہیں زمین میں پیر مذکورکا فقط انگشت لگاسکتے ہیں اور دہنا پیر درست ہے قیام رکوع سجود بخوبی کرسکتے ہیں یہ عالم مذکور پانچ وقتی نماز کی امامت کرسکتے ہیں اگر چہ عالم دیگر مودجو ہو یا نہیں باعبارت و دلائل کے تحریر فرمائیں کہ سامعین کو کسی قسم کا شبہ نہ رہے ۔ بینوا توجروا
الجواب :
صورت مستفسرہ میں ایسے شخص کی امامت بلا شبہ جائز ہے پھر اگر وہی عالم ہے تو وہی زیادہ مستحق ہے اس کے ہوتے جاہل کی تقدیم ہر گز نہ چاہئے اور اگر دوسرا عالم بھی موجود ہے جب بھی اس کی امامت میں حرج نہیں مگربہتر وہ دوسرا ہے یہ سب اس صورت میں کہ دونوں شخص شرائط صحت وجواز امامت کے جامع ہوں صحیح خواں صحیح الطہارۃ سنی صحیح العقیدہ غیر فاسق معلن ورنہ جامع شرائط ہوگا وہی امام ہوگا ۔ درمختار میں ہے :
صح اقتداء قائم باحدب وان بلغ حد بہ الرکوع علی المعتمد وکذا باعرج وغیرہ اولی ۔ واﷲ تعالی اعلم
مختار قول پر سیدھا کھڑے ہونے والے کی نماز کبڑے شخص کے پیچھے درست ہے اگر چہ اس کا کبڑا پن رکوع کی حد تك ہو اسی طرح لنگڑے کا حکم ہے البتہ دوسرے آدمی کی امامت افضل و اولی ہے ۔ (ت)
حوالہ / References سنن ابن ماجہ باب من ام قومًا وہم لہ کارھون مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۶۹
ف : جس کتاب سے حوالہ دیا ہے اس میں '' فوقھم اذنھم '' کی جگہ '' فوقھم رؤ سھم '' ہے ۔ نذیر احمد سعیدی
درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۷۵
#11500 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
مسئلہ ۶۹۷ : از تحصیل چونیا ں ضلع لاہورمسئولہانوار الحق صاحب ۲۱ ربیع الاول شریف ۱۳۳۲ھ
اس ملك پنجاب میں دین کی بہت سستی ہے خاصکر دیہات میں تو دین مذہب کا کچھ پتا ہی نہیں چنانچہ ہر ایك دیہات میں امام مسجد سوائے چند سورتوں کے یاد رکھنے کے اور کوئی علم نہیں رکھتا اور مقتدیوں کی غرض بھی یہی ہوتی ہے کہ امام مسجد ایسا ہو جو کہ ہماری میت کو غسل دے سکے یا نکاح پڑھ سکے یا دو تین سورتیں نماز پڑھانے کے واسطے یاد ہوں اور کوئی شوق نہیں چنانچہ ایك گاؤں بنام تیرتھ میں ایك امام مسجد ایسی ہی صفتوں والا صبح کو گیا اور وہیں وفات پائی اسی مذکورہ گاؤں میں ایك دہرکہارہ جو کہ اپنے آپ کو حنفی کہتا تھا اور پھر بعد میں چند سال وہابی مذہب رہا بعد ازیں چند سال سے چکڑالوی مذہب ہے اب مذکور امام مسجد فوتیدگی پر اس نے اس خیال سے کہ میں امام مسجد بن جاؤں مسجد کے متعلقہ گھروں کی آمدنی میرے کام آئے یہ ظاہر کیا کہ میں نے چکڑالوی مذہب سے توبہ کی مجھے امام مسجد مقرر کرو چنانچہ اس کے ہم خیا ل چند دوستوں نے اس کو پگڑی پہنائی اور اس کو امام مسجد مقرر کردیا۔ اب چند مسلمان اس کے مخالف اٹھے جن کو اس کے چند مذہب بدلنے کا رنج تھا انھوں نے اس کو معزول کرنا چاہا اب چونکہ وہ کچھ علم رکھتا ہے اس نے کہا کہ میں نے توبہ خالص کر دی ہے اور اب میں حنفی مذہب پر آگیا ہوں اگر تم اب بھی معزول کرتے ہو تو مجھے شریعت کا حکم دکھاؤ میں کنارے ہو جاؤں گا ۔ چنانچہ وہ کہتا ہے کہ کافر کی توبہ منظور ہے میری کیونکر نہ منظور ہوگی پکے مسلمانوں کاخیال ہے کہ اگر یہ امام مسجد مقرر رہا تو یہ دین میں رخنہ انداز ہوگا پھر کئی آدمی اس کے موافق ہوجائیں گے پھر ہم میں اتنی طاقت نہ ہوگی کہ ان کو سیدھا کریں اس خیا ل سے وہ چاہتے ہیں کہ اگر کوئی حکم ایسے مشکوك آدمی کے بارے میں ہو تو ہمیں فتوی دیا جائے کہ اس کو نکالا جائے اور اس کے فتنہ سے بے فکر ہوجائیں ۔ فقط
الجواب :
نماز اہم عبادت ہے اور اس کے لئے غایت احتیاط درکار ہے یہاں تك کہ ہمارے علماء نے تصریح فرمائی کہ اگر نماز چند وجہ سے صحیح ٹھہرتی ہو اور ایك سے فاسد تو اسے فاسدہی قرار دیں گے ۔ امام ابن الہمام کی فتح القدیر میں فرماتے ہیں :
لان الصلوۃ متی فسدت من وجہ وجازت من وجوہ حکم بفسادھا ۔
کیونکہ جب ایك جہت سے نماز فاسد ہو اور کئی وجوہ کی بنا پر صحیح ہو تو نماز کے فاسد ہونے کا حکم دیا جاتا ہے ۔ (ت)
جو شخص ایسا مضطرب الحال ہو کہ اتنے دنوں میں تین مذہب بدل چکا اس کی توبہ بایں معنی قبول کرنے میں
حوالہ / References فتح القدیر باب صلوٰۃ المسافر مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۴۱
#11501 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
کوئی غدر نہیں کو اگر تو نے دل سے توبہ کی ہے تو اﷲ قبول فرمانے والا ہے نیز اسی سنیت حنفیت کا اظہار کرتے ہوئے اگر وہ مرجائے گا ہم اس کے جنازہ کے ساتھ وہ طریقہ برتیں گے جو ایك سنی حنفی کے ساتھ کیا جاتا ہے لان انما نحکم بالظاھر واﷲ تعالی اعلم بالسرائر( کیونکہ ہم ظاہر پر حکم لگانے کے پابند ہےں دلوں کا حال اﷲ ہی جانتا ہے ۔ ت) مگر اس قبول توبہ سے یہ لازم نہیں کہ ہم ایسے مضطرب شخص ایسے مشکوك حالت والے کو اپنے ایسے ہم فرض دینی کا امام بھی بنالیں اگر واقع میں وہ سچے دل سے تائب ہوا ہے تو اس کے پیچھے نماز ہوجائے گی اور اگر امامت لینے کے لئے توبہ ظاہر کرتا ہے تو وہ نماز باطل وفاسد ہوگی اور اس کی حالت شك ڈالنے والی اور نفع کی طمع اس کی تائید کرنے والی کسی طرح عقل سلیم و احتیاط کا مقتضا ہر گز نہیں کہ اسے امام کیا جائے وہ پیسہ کے معاملے میں گواہی کے لئے تو علمائے کرام یہ احتیاط فرماتے ہیں کہ فاسق اگر چہ توبہ کرلے اس کی گواہی مقبول نہ ہوگی جب تك ایك زمانہ اس پر نہ گزرے جس سے صدق توبہ وصلاح و تقوی کے آثار اس پر ظاہر ہوں کہ جب وہ فاسق ہے تو ممکن کہ اس وقت اپنی گوہی قبول کرادینے کے لئے توبہ کااظہار کرتا ہو فتاوی عالمگیری و فتاوی قاضی خاں میں ہے :
الفاسق اذاتاب لا تقبل شھا دتہ مالم یمض علیہ زمان یظھر علیہ اثر التوبۃ والصحیح ان ذلك مفوض الی راء القاضی ۔
فاسق اگر توبہ کرلے تو جب تك اتنا وقت نہ گزر جائے جس میں اس پر توبہ صدق کا اثر ظاہر ہو اس کی گواہی قبول نہ کی جائے اور صحیح یہ ہے کہ یہ معاملہ قاضی کی رائے کے سپرد کیا جائے ۔ (ت)
بلکہ جو جھوٹ کے ساتھ مشہور ہے اس کی نسبت تصریح فرماتے ہیں کہ اس کی گواہی کبھی مقبول نہ ہوگی اگر چہ سو بار توبہ کرے ۔ بدائع امام ملك العلماء ابو بکر مسعود کاسانی پھر فتاوی ہندیہ میں ہے :
والمعروف بالکذب لا عدالۃ لہ فلا تقبل شہادتہ ابدا وان تاب بخلاف من وقع فی الکذب سھوا اوابتلی بہ مرۃ ثم تاب ۔
جو جھوٹ میں مشہور ہو وہ عادل نہیں ہوسکتا اس کی ہمیشہ گواہی قبول نہ ہوگی اگر چہ وہ تائب ہو جائے بخلاف اس شخص کے جس سے جھوٹ سہوا سرزد ہوا ہو یا وہ جھوٹ میں کسی ایك دفعہ مبتلا ہواہو پھر اس نے توبہ کرلی ہو ۔ (ت)
جب دو پیسے کے مال میں یہ احتیاطیں ہیں تو نماز کہ بعد ایمان اعظم ارکان دین ہے اس کے لئے کس درجہ احتیاط واجب
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ الفصل الثانی فیمن لاتقبل شہادۃ لفسقہ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۳ / ۴۶۸
فتاوٰی ہندیہ الفصل الثانی فیمن لاتقبل شہادۃ لفسقہ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۳ / ۴۶۸
#11502 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
شریعت مطہرہ ہر گز ایسے مشکوك شخص کو امام بنانا پسند نہیں فرماتی جو لوگ اس کی امامت میں کوشاں ہیں وہ اﷲ ورسول ومسلمانوں سب کے خائن ہوں گے ۔ حدیث میں ہے حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من استعمل رجلا من عصابۃ وفیھم من ھو ارضی اﷲ منہ فقد خان اﷲ ورسولہ والمؤ منین ۔ رواہ الحاکم وصححہ وابن عدی والعقیلی والطبرا نی والخطیب عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما
جو کسی جماعت پر ایك شخص کو مقرر کرے اوران میں وہ ہو جو اس شخص سے زیادہ اﷲ کو پسندیدہ ہے تو بےشك اس نے اﷲ ورسول اور مسلمانوں سب کے ساتھ خیانت کی اس کو حاکم نے روایت کرکے صحیح قرار دیا ۔ ابن عدی عقیلی طبرانی اور خطیب نے اسے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے
مسئلہ ۶۹۸ : از صدر بازار اسٹیشن و ڈاکخانہ رانی گنج ضلع بردوان مرسلہ مظفر حسین ۲۳ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ(آپ کا کیا ارشاد ہے اﷲ آپ پر رحم کرے ۔ ت) کی فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید ایك مسجد میں مؤذن وا مام یعنی دونوں کام پر امور ہے اور زید مذکور اپنی والدہ کو زدوکوب کرتاہے اس کو چند آدمیوں نے بطور پند کے کہا کہ تم ا پنی والدہ کو کس طرح مارتے ہو تو تمھاری نماز وظیفہ کرنا تمھارا اﷲ تعالی کے روبرو کیا کام دیں گے درجواب اس کے زید مذکور نے کہا کہ جس طرح سے اور لوگ غیر عورت سے زنا کرتے ہیں و شراب پیتے ہیں اسی طور سے ہمارا مسجد میں بیٹھ کے وظیفہ و نماز کرنا ہے تو زید مذکور نے نماز وظیفہ کو تشبیہ دیا ساتھ افعال قبیحہ کے تو اس صورت میں زید کا مسجد اذان کہنا ونماز اس کے عقب پڑھنا عند الشرع جائز ہے یا نہیں بغیر توبہ کئے ہوئے ۔ اور یہ کس درجہ میں شمار ہوگا آیا گنا کبیرہ میں یا کہ درجہ کفر میں درصورت اگر چہ یہ گناہ داخل ہو درجہ کفر میں تو یہ زید کی زوجہ اس کے عقد سے خارج ہوجائے گی یا نہیں اور زید مذکور کو بعد تائب ہونے کے زوجہ سے ازسر نو ضرورت درستگی عقد کی پڑے گی یا نہیں جواب بحوالہ کتب معتبر ارشاد ہو ۔ بینوا توجروا
الجواب :
صورت مستفسرہ میں وہ شخص سخت فاسق وفاجر مرتکب کبائر مستحق عذاب نارو غضب جبار ہے۔ ماں کو ایذا دینا سخت کبیرہ ہے نہ کہ مارنہ جس سے مسلمان تو مسلمان کافر بھی پرہیز کرے گا اور گھن کھائے گا۔ حدیث میں ارشاد ہوا :
حوالہ / References لمستدرك علی الصحیحین الامارۃ امانۃ مطبوعہ دارلفکر بیروت ۴ / ۷۲
ف : مستدرك میں '' فیھم '' کی جگہ '' فی تلك العصابۃ '' کا لفظ ہے ۔ نذیر احمد سعیدی
#11503 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
ثلثہ لاید خلون الجنۃ وعد منھم العاق لوایدیہ ۔
تین شخص جنت میں نہ جائیں گے ان میں سے ایك وہ جو اپنے ماں باپ کو ستائے ۔ (ت)
ایسا شخص قابل امامت نہیں ہوسکتا۔ فتاوی حجہ وغنیہ میں ہے :
لوقد موافاسقا یا ثمون
( اگر فاسق کو لوگوں نے امام بنایا تو وہ گناہگار ہوں گے ت)
تبیین الحقائق وغیرہ میں ہے :
لان فی تقدیمہ للامامۃ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعا ۔
کیونکہ امامت کے لئے اس کو مقدم کرنے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شرعا اس کی اہانت لازم ہے (ت)
اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے کہ پڑھنا گناہ اور پڑھی تو پھیرنی واجب جب وہ ایسا بیباك ہے کہ ماں کو مارتا ہے تواس سے کیا تعجب کہ بے وضو نماز پڑھائے یا نہانے کی ضرورت ہوجاڑے کے سبب بے غسل پڑھادے اور وہ جو اس نے پند کے جواب میں کہا سخت بیہودہ بے معنی مگر اس سے تکفیر نہیں ہوسکتی اس میں تاویل ممکن ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۶۹۹ : مسئولہ سید اشرف علی صاحب ۱۴ جمادی الاولی ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ حنفی شافعی کے پیچھے نماز پڑھے تو جائز ہے یانہیں اور اگر شافعی نماز پڑھا رہا ہے اورحنفی آیا تو اس جماعت میں شریك ہو یا نہیں فقط
الجواب : اگر شافعی طہارت ونماز میں فرائض وارکان مذہب حنفی کی رعایت کرتا ہے اس کے پیچھے نماز بلا کراہت جائز ہے اگرچہ حنفی کے پیچھے افضل اور اگر حال رعایت معلوم نہ ہو تو قدرے کراہت کے ساتھ جائز اور اگر عادت عدم رعایت معلوم ہو تو کراہت شدید ہے اور اگر معلوم ہو کہ خاص اس نماز میں رعایت نہ کی تو حنفی کو اس کی اقتداجائز نہیں اس کے پیچھے نماز نہ ہوگی صورت اول و دوم میں شریك ہوجائے اور صورت سوم میں شریك نہ ہو اور چہارم میں تو نماز ہی باطل ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۰۰ : مرسلہ مفخر حسین صاحب ازبدایوں محلہ سرائے چودھری ۱۶ جمادی الاولی ۱۳۳۱ھ
جناب مخدوم مکرم بندہ مولوی صاحب دام ظلکم بعد سلام سنت الاسلام کے عرض خدمت بابرکت میں ہے
حوالہ / References المعجم الکبیر حدیث ۱۳۱۸۰ مااسندسالم عن ابن عمیر مطبوعہ المکتبہ الفیصیلۃ بیروت ۱۲ / ۳۰۲
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الا مامۃ ، مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۵۱۳
تنیین الحقائق شرح کنزا لدقائق باب الامامۃ والحدث فی الصلوٰۃ مطبوعہ المطبعۃ الکبریٰ الامیر یہ بولاق مصر ۱ / ۱۳۴
#11504 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
کہ ایك مسئلہ دریافت کرنے کی ضرورت پڑی وہ یہ ہے کہ جس شخص کے والدین اس شخص سے کہیں کہ میرے جنازہ پر بھی ہرگز ہرگز نہ آئے اس شخص کو امام کرنا چاہئے یا نہیں اور مقتدی اس شخص کے پیچھے نماز پڑھیں یا نہیں زیادہ حد اداب ۔ فقط
الجواب :
والدین اگر بلاوجہ شرعی ناراض ہوں اور یہ ان کی استر ضأ میں حد مقدور تك کمی نہیں کرتا تو اس پر الزام نہیں اور اس کے پیچھے نماز میں کوئی حرج نہیں اور اگر یہ ان کو ایذا دیتا ہے اس وجہ سے ناراض ہیں تو عاق ہے اور عاق سخت مرتکب کبیرہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی اور امام بنانا گناہ اور اگر ناراضی توان کی بلاوجہ شرعی تھی مگر اس نے اس کی پروانہ کی وہ کھنچے تو یہ بھی کھنچ گیا جب بھی مخالف حکم خدا و رسول ہے اسے حکم یہ نہیں دیا گیا کہ ان کے ساتھ برابری کا برتاؤ کرے بلکہ یہ حکم فرمایا ہے : و اخفض لهما جناح الذل من الرحمة ( بچھادے ماں اور باپ کے لئے ذلت و فرو تنی کا بازورحمت سے)اس کے خلاف واصرار سے بھی فاسق ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۰۱ : از بریلی مدرسہ منظر اسلام مسئولہجناب استاذی مولوی رحم اﷲ صاحب ۱۵ صفر ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید سے خالد ظاہرا وباطنا کدورت رکھتا ہے حتی کہ زید جس وقت مسجد میں داخل ہو کر سلام علیك کہتا ہے خالد جواب سلام بھی نہیں دیتا اور خالد ہی امامت کرتا ہے ایسی حالت میں زید کی نماز خالد کے پیچھے ہوگی یا نہیں اور زید جماعت ترك کرکے قبل یا بعد جماعت علیحدہ نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں جبکہ خالد دل میں کدورت رکھتا ہے اس کے واسطے کیا حکم ہوتا ہے بینوا توجروا
الجوا ب :
محض دنیوی کدورت کے سبب اس کے پیچھے نماز میں حرج نہیں اور اس کے واسطے جماعت ترك کرنا حرام خالد کی زید سے کدورت اور ترك سلام اگر کسی دنیوی سبب سے ہے تو تین دن سے زائد حرم اور کسی دینی سبب سے ہے اور قصور خالد کا ہے تو سخت تر حرام اور قصور زید کا ہے تو خالد کے ذمے الزام نہیں زید خود مجرم ہے واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۰۲ : از قصبہ لبی یررہ اسٹیشن سربند گورنمنٹ پٹیالہ مسئولہ شیخ شیر محمد صاحب ۱۶ صفر ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید وبکر کی نسبت یہ مشتہر کیا گیا ہے کہ
حوالہ / References القرآن ۱۷ / ۲۴
#11505 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
ہر دو باہم فاعل ومفعول تھے یعنی اغلام کرتے تھے زید مفعول کے دیگر رشتہ داران مثل پدر و برادر قصبہ ہذا میں امامت کرتے میں زید کے افعال قبیحہ کی خبر اس کے پدر و برادر اور دیگر رشتہ داران کو بھی تھی جس کی اطلاع ان کو بذریعہ تحریرات کے دی گئی مگر بانیہمہ انھوں نے کبھی زید کو اس فعل ناجائز سے نہیں روکا اور نہ کسی قسم کی زجر و توبیح کی بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ زید کی ناجائز آمدنی سے وہ خود بھی فائدہ اٹھاتے تھے فاعل ومفعول کو ہنگام اختلاط کسی شخص نے بچشم خود نہیں دیکھا مگر واقعات اس امر کو پایہ ثبوت پر پہنچارہے ہیں مثلا برا در بکر کا تمام شب دونوں کو ایك جا دیکھنا اور بکر کی گوشمالی کرنا اور تحریرات کا عام لوگوں میں بذریعہ ڈاك روانہ کیا جانا اور زید کا عام لوگوں میں اپنی مفعولیت کا اقرار کرنا اور رہا یہاں پولیس کے روبرو زید کا اقبال بیان تحریر کرانا اور اس کے برادر کا تائید کرنا زید کا معمولی حیثیت کا آدمی ہونا مگر زیب وزینت اس درجہ رکھنا اوراس کے پدر وبرادرکا اس طرف توجہ نہ کرنا پس دریافت طلب یہ امر ہے کہ جو شخص خلاف وضع وحرام فعل کریں یا کرائیں ان کی امامت شرعا جائز ہے یا نہیں اور اگرمفعول کے پدر و برادر وغیرہ کو اس امر کی خبر ہو اور وہ چشم پوشی کرکے ان کو منع نہ کریں تو ان کی امامت کے متعلق شرعا کیا حکم ہے امید کہ قول مفتی بہ بحوالہ کتب تحریر فر ماکر مشکور فرمائیں ۔
الجواب :
یہ سخت شدید گناہ کبیرہ ہے اور فاعل ومفعول بھی اگر بالغ وغیر مجبور ہوں فاسق ہیں ان کی یہ حالت اگر صحیح طور پر معروف مشہور ہو یا وہ خود اقرار کرتے ہوں جس طرح یہاں زید کا اقرار مذکور ہے نہ صرف قیاسات وسوسے ظن جن کا شرع میں اعتبار نہیں بلکہ ان وجوہ پر کبیرہ کی نسبت کرنے والے خود ہی مرتکب کبیرہ ہوتے ہیں اﷲ عزوجل فرماتے ہیں :
لو لا اذ سمعتموه ظن المؤمنون و المؤمنت بانفسهم خیرا-
کیوں نہ ہوا جب تم نے اسے سنا کہ مومن مردوں اور خواتین نے اپنوں پر نیك گمان کیا ہوتا ۔ (ت)
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث ۔
بدگمانی سے بچا کر و کیونکہ بدگمائی سب سے بڑا جھوٹ ہے الحدیث (ت)
اس پر لحاظ و کار روائی جائز نہیں بلکہ وجہ صحیح شرعی سے ثابت ومعروف ہو تو فاسق معلن ہیں ان کو امام بنانا گنا ہ ان کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کہ پڑھنا گناہ اور پھیرنا واجب اور اگر ثبو ت شرعی واقرا ر معروف نہ ہو مگر لوگوں میں افواہ اڑگئی ہو جن کے سبب
حوالہ / References ا لقرآن ۲۴ / ۱۲
صحیح البخاری باب قول اﷲ عزوجل من بعد وصیۃ یوصی بہا اودین مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۸۴
#11506 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
ان سے نفرت اور ان کی امامت میں جماعت کی قلت ہو تو اس حالت میں ان کی امامت مکروہ تنزیہی ہے
وان لم یثبت الذنب بل لولم یکن لان المناط النفرۃ کمن شاع برصہ و العیاذ باﷲ تعالی ۔
اگر چہ گناہ ثابت نہ ہو بلکہ ہو ہی نہ کیونکہ بنیاد تو نفرت ہے اس شخص کی طرح جس کا برص پھیل گیا ہو والعیاذ باﷲ تعالی ۔ (ت)
پدرو برادر اگر اس کے روکنے پر قادر ہیں اور نہیں روکتے یا اس فعل پر راضی ہیں وہ بھی فاسق ہیں :
قال اﷲ تعالی یایها الذین امنوا قوا انفسكم و اهلیكم نارا و قودها الناس و الحجارة
وقال تعالی
كانوا لا یتناهون عن منكر فعلوه-
اﷲ تعالی کا فرمان ہے : اے اہل ایمان اپنے آپ کو اور پنے اہل کو اس اگ سے بچاؤ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے۔ اور اﷲ تعالی کا یہ فرمان بھی ہے : وہ اس برے کام سے منع نہیں کرتے تھے جو برا کام لوگ کرتے تھے (ت)
ان کی یہ حالت اگر معروف ہو تو ان کا بھی وہی حکم ہے کہ نہیں امام بنانا گناہ اور ان کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی۔ فتاوی حجہ و غنیہ میں ہے : لو قد موا فاسقا یاثمون ( اگر انھوں نے فاسق کو مقدم کردیا تو وہ گنہگار ہوں گے ۔ ت) اور اگر اس حرام کمائی سے ان کا فائدہ لینا اسی طرح بہ ثبوت شرعی ثابت ہو نہ فقط اتنا کہ کہا جاتاہے یہ کوئی چیز نہیں ۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
بئس مطیۃ الرجل زعموا ۔ رواہ حمد و ابوداؤ عن حذیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ
شك اور تخمینہ کی بنیاد پر خبر دینا قبیح ہے۔ اس کو امام احمد اور ابوداؤد نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالے سے بیان کیا ہے
حوالہ / References القرآن ۶۶ / ۶
القرآن ۵ / ۷۹
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامامۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۳
مسنداحمد بن حنبل ماروی عن حذیفۃ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۵ / ۴۰۱ ، سنن ابوداؤد باب فی الرجل یقول زعموا مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۳۲۳
#11507 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
اس ملعون کمائی سے فائدہ نہیں لیتے تو ان پر الزام نہیں :
قال ﷲ تعالی و لا تزر وازرة وزر اخرى- ۔
اﷲ تعالی کا ارشاد ہے : کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی (ت)
لیکن افواہ عام کی بنا پر نفرت وتقلیل جماعت ہو تو ان کی امامت مکروہ تنزیہی ہے اور نامناسب ہوگی اگر چہ پہلی صورت کی طرح مکروہ تحریمی اور گنا نہیں یہاں بحمد اﷲ تعالی فتوی پر کوئی فیس نہیں لی جاتی بفضلہ تعالی بفضلہ تعالی تمام ہندستان ودیگر ممالك مثل چین و افریقہ و امریکہ وخود عرب شریف وعراق سے ا ستفتا آتے ہیں اور ایك وقت میں چار چار سوفتوے جمع ہوجاتے ہیں بحمد اﷲ تعالی حضرت جد امجد قدس سرہ العزیز کے وقت سے اس ۱۳۳۷ھ تك اس دروازے سے فتوے جاری ہوئے اکانوے ۹۱ برس اور خود اس فقیر غفرلہ کے قلم سے فتوے نکلتے ہوئے اکاون۵۱ برس ہونے آئے یعنی اس صفر کی ۱۴ تاریخ کو پچاس۵۰ برس چھ ۶مہینے گزرے اس نو۹ کم سو۱۰۰ برس میں کتنے ہزار فتوے لکھے گئے بارہ مجلد تو صرف اس فقیر کے فتاوے کے ہیں بحمد اﷲ یہاں کبھی ایك پیسہ نہ لیا گیا نہ لیا جائے گا بعونہ تعالی ولہ الحمد معلوم نہیں کون لوگ ایسے پست فطرت و دنی ہمت ہیں جنھوں نے یہ صیغہ کسب کا اختیار کر رکھا ہے جس کے باعث دور دور کے ناواقف مسلمان کئی بار پوچھ چکے ہیں کہ فیس کیا ہوگی و ما اســٴـلكم علیه من اجر-ان اجری الا على رب العلمین(۱۲۷) میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا میرا اجر تو سارے جہاں کے پرور دگار پر ہے اگر وہ چاہے ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۰۳ : از بمبئی محلا قصابان پوست ۳۰ مرسلہ عبدالرزاق ۱۷ شعبان ۱۳۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید چند ماہ تك پہلے ایك مسجد میں امامت کرتا رہا اور وہاں پر زید کی کئی حرکتیں معلوم ہوئیں کہ پیشاب کرکے ڈھیلا نہ لینا بلکہ پیشاب و پاخانہ کرکے اسی وقت اسی جگہ پانی سے استنجاء کرکے اور لنگوٹ باند کر نماز پڑھنا اور بازاری عورتوں کے ساتھ خلاملا مزاح و تمسخر کرنا ان باتوں کا چرچا اہل جماعت میں ہونے کو تھا کہ زید دوسری مسجد میں منتقل ہوگیا وہاں بھی اس کی وہی حرکتیں بدستور قائم رہیں جب لوگوں نے اس کو لنگوٹ باندھنے اور ڈھیلا نہ لینے کی نسبت پوچھاتو کہا میں معذور ہوں ڈھیلا نہیں لے سکتا اور لنگوٹ میں بوجہ عذر کے باندھتا ہوں مگر نماز کے وقت صرف کپڑے بدل لیتا ہوں ۔ اور خلا ملا عورتوں سے بدستور سے لوگ اس کی ایسی حرکتوں سے سخت بے زار ہے اور اس کے پیچھے نماز پڑھنے سے بھی سخت ناراض ہیں بلکہ لوگوں نے اس کے پیچھے نماز پڑھنا ترك کردیا چند لوگ اپنی نفسانیت سے اس مکار کی حمایت پراڑے ہیں باوجود اس کے معذور ہونے اور یہ حرکتیں معلوم ہونے کے
حوالہ / References القرآن ۶ / ۱۶۴
القرآن ۲۶ / ۲۷ا
#11508 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
بھی اس کو علیحدہ اس منصب سے نہیں کرنا چاہتے اب زید نے اپنی سفاکی اور بے دینی کی وجہ ان کو یہ سبق پڑھا رکھا ہے کہ حدیث میں ہے : دع مایریبك الی مایریبك وان افتاك المفتون ۔ کہ تجھے کسی چیز میں شك یا شبہ آجائے تو اس کو چھوڑ دے اگر چہ مفتی لوگ فتوی دیں تو تو اس کو نہ مان غرض اس کی اس بیان سے یہ ہے کہ میری نسبت اگر کوئی شخص فتوی طلب کرے تو اس فتوے کو قبول مت کرو اور چھوڑ دو اور اثنائے بیان میں یہ افتراء اہل اسلام پر مجلس وعظ میں کیا کہ بمبئی میں کوئی مکان یا کوئی گلی کوچہ ایسا نہ ہوگا کہ جس میں شبانہ روززنانہ ہوتا ہو۔ اب بتلائے کہ جس شخص کی ایسی حالت ہو کہ ڈھیلا نہ لیتا ہو معذور ہو نجس کپڑوں سے نماز پڑھاتا ہو دروغ گو ہو مفتری ہو اور مسلمانوں کو ٹھگنے والا فریبی ہو ذکر خیر سے مانع ہو ایسے کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہیے اور جو اس کی حمایت کرے اس کا کیا حکم ہے اور ایسے کو اس منصب سے خارج کرنا چاہیے یانہیں اور اس حدیث دع ما یریبك الخ کا کیا مطب ہے جو ایسے مسئلے سے اپنی گھڑت لگا کر لوگوں کو گمراہ کرے اس کا کیا حکم ہے بینوا توجروا
الجواب :
ہاں چند امور قابل لحاظ :
(۱) مرد کو پیشاب کے بعد استبراء کہ اثر بول منقطع ہوجانے پر اطمینان قلب حاصل ہوجائے فرض ہے یعنی عملی کہ واجب کی قسم اعلی ہے جس کے بغیر عمل صحیح نہیں ہوتا ولہذا بعض نے فرض بعض نے واجب بعض نے لازم فرمایا کہ فرض و واجب دونوں کو شامل ہے پھر اس میں طبائع مختلف ہیں بعض کو وہ نم کہ سوراخ ذکر پربعدبول زائل ہوتے ہی اطمینان ہوجاتا ہے کہ اب کچھ نہ آئےگا بعض کو صرف دوتین بار کھنکھار نا کافی ہوتا ہے بعض کو ذکر کا دو یا ایك بار اوپر سے نیچے کو مل دینا اور بعض کو ٹہلنے کی حاجت ہوتی ہے دس۱۰ قدم سے چار سو قدم تك بعض کو بائیں کروٹ پر لیٹنا بعض کو ران پر ران رکھ کر ذکر کو دبانہ غرض مختلف طریقے ہیں اور ہر شخص اور اس کی طبیعت ( مختلف ہوتی ہے) درمختار میں ہے :
یجب الاستبراء بمشی او تنحنح او نوم علی شقہ الایسر ویختلف بطبائع الناس ۔
بول کا اثر ختم کرنا لازم ہے خواہ پیدل چلنے خواہ کھنکھار نے یا بائیں جانب لیٹنے سے ہو اور لوگوں کی مختلف طبائع کی وجہ سے حکم مختلف ہو تا ہے ( یعنی کسی کو جلد پاکیزگی حاصل ہوتی ہے کسی کو دیر سے ) ۔ (ت)
حوالہ / References المعجم الکبیر مااسند واثلۃ بن اسقع مطبوعہ المکتبہ الفصلیہ بیروت ۲۲ / ۷۸ ، مجمع الزوائد باب التورع عن الشہادت مطبوعہ دالاتاب بیروت ۱۰ / ۲۹۴
درمختار ، فصل فی الاستنجاء مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۵۷
#11509 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
ردا لمحتار میں ہے :
فی الغزنویۃالمرأۃ اکالرجل الا فی الاستبراء فانہ لا استبراء علیھا بل کما فرغت تصبر ساعۃ لطیفۃ ثم تستنجی ومثلہ فی الامداد وعبر بالوجوب تبعا للدرر وغیرھا وبعضھم عبر بانہ فرض وبعضھم بلفظ ینبغی وعلیہ فھو مندوب کما صرح بہ بعض الشا فعیۃ ومحلہ اذا امن خروج شیئ بعدہ فیند ب ذلك مبالغۃ فی الا ستبراء اوالمراد الا ستبراء بخصوص ھذہ الاشیاء من نحوالمشی والتنحنح اما نفس الا ستبراء حتی یطمئن قلبہ بزوال الرشح فھوفرض وھو المراد بالوجوب ولذا قال الشرنبلا لی یلزم الرجل الاستبراء حتی یزول اثر البول ویطمئن قلبہ وقال عبرت باللزوم لکونہ اقوی من الواجب لان ھذا یفوت الجواز لفوتہ فلا یصح لہ الشروع فی الوضو حتی یطمئن بزوال الرشح اھ
غزنویہ میں ہے عورت مرد کی طرح ہے البتہ عورت پر استبراء لازم نہیں بلکہ جیسے ہی فارغ ہو تھوڑی دیر کے بعد استنجاء کرسکتی ہے۔ اس کی مثل امداد میں بھی ہے اس نے درر وغیرہ کی اتباع کرتے ہوئے لفظ وجوب سے تعبیر کیا ہے اور بعض لوگوں نے لفظ فرض بعض نے لفظ “ ینبغی “ اور “ علیہ “ سے تعبیر کیا ہے پس یہ مندوب ہے جیسا کہ بعض شوافع نے تصریح کی ہے اس کا محل یہ ہے کہ جب اس کے بعد کسی شئی کے خروج کا خوف نہ ہو تو یہ استبراء میں مبالغہ کے لئے مندوب ہے یا استبراء سے مراد یہ مخصوص اشیاء ہیں مثلا چلنا اور کھنکارنا رہا نفس استبراء یہاں تك کہ قطروں کے زائل ہونے کے ساتھ دل مطمئن ہوجائے تووہ فرض ہے اور وجوب سے بھی یہی مراد ہے اس لئے شرنبلالی نے کہا آدمی پر استبراء لازم ہے یہاں تك کہ بول کا اثرزائل ہو جائے اور دل مطمئن ہوجائے اور کہا کہ میں نے اسے لفظ “ لزوم “ کے ساتھ اس لئے تعبیر کیا کہ یہ واجب سے اقوی ہے کیونکہ اس کے فوت ہونے سے جواز فوت ہوجاتا ہے پس نمازی کے لئے وضو میں شروع ہونا اس وقت تك درست نہیں جب تك کہ پیشاب کی چھینٹوں کے زائل ہونے سے دل مطمئن نہ ہو جائے(ت)
زید اگر ایسا ہوکہ وہیں بیٹھے بیٹھے کھنکھارنے یا ملنے سے اسے اطمینان صحیح ہوجاتا ہو اوربعد استبراء صرف پانی سے استنجاء کرے جب تو یہ فرض ادا اور وضو صحیح ہوجاتا ہے اور اگر مثلا ٹہلنا وغیرہ اسے درکار ہے بے اسے ادا کئے پانی سے دھولیتا ہے تو فرض کا تارك ہے اور اسی حالت میں وضو کرے تو وضو ناجائز اور اس کی نماز باطل
حوالہ / References ردالمحتار فصل الاستنجاء مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۵۳
#11510 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
امامت تو دوسری چیز ہے تو حالت زید مشکوك ہوئی بلکہ دریافت کرنے پر اس کا یہ نہ بتانا کہ مجھے جتنے خفیف استبراء کی حاجت ہے کر لیتا ہوں زیادہ کی ضرورت نہیں بلکہ اپنی معذوری کا عذر پیش کرنا اس کی حالت کو مشتبہ تر کر تا ہے اور وہ خود حدیث پڑھ چکا ہے کہ شبہ کی بات چھوڑو اگر چہ لوگ کچھ فتوی دیں تو اس نے خود مان لیا کہ مسلمانوں کو اس امامت سے احتراز کا حکم ہے اور اگر کوئی مفتی اس کی امامت پر فتوی بھی دے تو نہ مانا جائے
(۲) یہاں تك تو اس کی امامت صرف مشتبہ ٹھہری اور خود اس کی پڑھی ہوئی حدیث سے اس کے چھوڑنے کا حکم ہوا مگر اگلا بیان صراحۃ اس کی امامت کو باطل محض کررہا ہے اوروہ اپنے آپ کو ڈھیلا لینے سے معذور بتاتا ہے اور عادت کوئی عذر ڈھیلا لینے سے مانع نہیں مگر یہ کہ محل استنجاء پر زخم ہو یا دانے پکے یا پکنے پر ہیں جن میں ریم ہے ان کے سبب ڈھیلے کی رگڑ کی تاب نہیں زخم کی حالت تو ظاہر تھی کہ اس سے نہ وضو رہتا نہ کپڑے پاك دانوں میں احتمال تھا کہ شاید ابھی آب وریم نہ دیتے ہوں مگر اس کا کہنا کہ لنگوٹ بھی بوجہ عذر کے باندھتا ہوں مگر نماز کے وقت صرف کپڑے بدل لیتا ہوں صاف دلیل روشن ہے کہ وہ دانے آب وریم دیتے ہیں اور اتنا جس سے ہر وقت کپڑا نجس ہوتا ہے جب تو نماز کے وقت اسے کپڑے بدلنے کی ضرورت پڑتی ہے تو اب کھل گیا کہ وہ معذور شرعی ہے اور معذور کی امامت غیرمعزوروں کے لئے یقینا باطل محض ہے کما نص علیہ فی الکتب کلھا(جیساکہ تمام کتب میں اس پر تصریح موجود ہے ۔ ت)
(۳)اس شنا عت کبری کے بعد باقی امور کی طرف توجہ کی زیادہ حاجت نہیں ورنہ اس میں اور بھی وجوہ ہیں جن پر شرع مطہر اسے امام بنانے سے منع فرماتی ہے مثلا فاحشہ عورتوں سے خلا ملا مزاح تمسخر۔ اشباہ وغیر ہامیں ہے : الخلوۃ بالا جنبیۃ حرام( اجنبی عورت کے ساتھ خلوت ( یعنی تنہائی میں ملنا) حرام ہے ۔ ت) تو یہ حرم کا مرتکب پھر اس پرمصر پھر اس میں مشتہر ہے توفاسق معلن ہے اور فاسق معلن کاامام بناناگناہ۔ فتاوی حجہ وغنیہ میں ہے لوقدموا فاسقا یأثمون ( اگر لوگوں نے فاسق کو مقدم کیا تو وہ گنہ گار ہوں گے۔ ت)تبیین الحقائق وغیرہ میں ہے :
لان فی تقد یمہ للامامۃ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعا ۔
کیونکہ امامت کے لئے اس کو مقدم کرنے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شرعا اس کی اہانت لازم ہے (ت)
حوالہ / References الاشباہ ولانظائر کتاب الحظرہ والاباحۃ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ / ۱۱۱ / ۵۱۲
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامامۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۵۱۳
تبیین الحقائق باب الامامۃ والحدث فی الصلوٰۃ مطبوعہ المطبعۃ الکبریٰ الامیر یہ بولاق مصر ۱ / ۱۳۴
#11511 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
اس کے پیچھے نماز مکروہ تحرمی کما فی الغنیۃ وغیرھا واقرہ فی ردالمحتار (غنیۃ وغیرہ میں اسی طرح ہے اور ردالمحتار میں اس کو ثابت رکھا ہے ۔ ت) تو جتنی نماز اس کے پیچھے اس حالت میں پڑھیں ہوں سب مقتد یوں پر ان سب کا پھیرنا واجب اگر نہ پھیریں گے گنہگار رہیں گے اگر چہ دس برس کی نمازیں ہوں کما حکم کل صلاۃ ادیت مع کراھۃ التحریم ۔ کما فی الدرمختار وغیرہ ( جیسا کہ کہ کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی گئی ہر نماز کا حکم ہے درمختار میں ہے)
(۴) مقتدیوں کا اس کے عیوب کے باعث اس کی امامت سے ناراض ہونا ایسے کی نماز اس کے کانوں سے اوپر نہیں جاتی یعنی آسمانوں پر جانا اور بارگاہ عزت میں حاضر ہونا توبڑی بات ہے وہیں کی وہیں پرانے چیتھڑے کی طرح لپیٹ کر اس کے منہ پر ماردی جاتی ہے اور اس کی امامت مکروہ تحریمی ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ثلثۃ لاترفع صلاتھم فوق رؤسھم شبرا رجل ام قوما وھم لہ کارھون وامراۃ باتت وزوجھا علیھا ساخط واخوان متصارمان رواہ ابن ماجۃ وابن حبان عن ابن عباس رضی اﷲ عنھا بسند حسن۔
تین آدمیوں کی نماز ان کے سروں سے ایك بالشت برابر اوپر نہیں اٹھائی جاتی ایک۱ وہ شخص جو قوم کا امام بنے مگر لوگ اسے پسند نہ کرتے ہوں ۔ ایك ۲ وہ وعورت جو اس حال میں رات بسر کرے کہ اس کا خاوند اس پر ناراض ہو۔ اور ۳ دو بھائی جو آپس میں جھگڑا کرنے والے ہوں اس کو ابن ماجہ اور ابن حبان نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا ہے۔ (ت)
دوسری حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ثلثۃ لا یقبل اﷲ منھم صلاۃ من تقدم قوما وھم لہ کارھون ورجل اتی الصلوۃ دبارا والد بار ان یاتیھا بعد ان تفوتہ و
تین اشخاص کی نماز اﷲ تعالی قبول نہیں فرماتا ایك وہ شخص جو قوم کا امام بنا حالانکہ لوگ اسے پسند نہ کرتے ہوں ۔ دوسرا وہ شخص جو نماز کی طرف (جماعت کے) فوت ہونے کے بعد یا نماز کا وقت فوت ہونے کے
حوالہ / References درمختار باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۷۱
سنن ابن ماجہ باب من ام قومًا وہم لہ کارھون مطبوعہ ۤافتاب عالم پریس لاہور ص ۶۹
#11512 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
رجل اعتبد محررا۔ رواہ ابوداؤ و ابن ماجۃ عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما۔
بعد آئے تیسرا وہ شخص جو آزاد کو غلام بنائے۔ اسے ابو داؤد اور ابن ماجہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے ۔ (ت)
تیسری حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ایما رجلا ام قوما وھم کرھون لم تجز صلاتہ اذنہ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن طلحۃ ابن عبیدا ﷲ رضی اﷲ تعالی عنہ ۔
جو شخص بھی قوم کا امام بنے حالانکہ وہ اسے نا پسند کرتے ہوں تو اس کی نماز کانوں سے اوپر نہیں جاتی اسے طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے (ت)
چوتی حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ثلثۃ لا یقبل اﷲ منھم صلاۃ والاتصعد الی السماء ولاتجاوز رؤسھم رجل ام قوما وھم لہ کارھون ورجل صلی علی جنازۃ ولم یوئمر وامرأۃ دعاھا زوجھا من اللیل فابت علیہ ۔ رواہ ابن خزیمۃ عن عطاء ابن دینار وبسند اخر عن انس بن مالك متصلا رضی اﷲ تتعالی عنہ۔
تین افراد کی نماز اﷲ تعالی قبول نہیں فرماتانہ وہ آسمان کی طرف چڑھتی ہے اور نہ ان کے سروں سے بلند ہوتی ہے ایك وہ شخص جو قوم کا امام بنے حالانکہ وہ اسے پسند نہ کرتے ہوں دوسرا وہ شخص جو جنازہ پڑھائے حالانکہ اسے اجازت نہ دی گئی ہو۔ تیسری وہ خاتون جسے رات کو خاوند طلب کرے تو وہ انکار کردے اسے ابن خزیمہ نے عطاء بن دینار سے اور ایك دوسری سند کے ساتھ حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے متصلا روایت کیا ہے۔ (ت)
پانچویں حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ثلثۃ لاتجاوز صلاتھم اذانھم
تین اشخاص کی نماز ان کے کانوں بلند نہیں ہوتی
حوالہ / References سنن ابو داؤد باب الرجل یوم وہم لہ کارھون مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۸۸ ، سنن ابن ماجہ باب من ام قومًا وہم لہ کارھون مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ص ۶۹
المعجم الکبیر ، ما اسند طلحۃ بن عبیداﷲ حدیث ۲۱۰ ، مطبوعہ مکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ، ۱ / ۱۱۵
صحیح ابن خزیمۃ باب الزجر عن امامۃ المرء الخ حدیث ۱۵۱۸ مطبوعہ المکتب الاسلامیہ بیروت ۳ / ۱۱
#11513 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
العبد الابق حتی یرجع وامرأۃ باتت وزوجہا علیھا ساخط وامام قوم وھم لہ کارھون رواہ الترمذی عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالی عنہ وقال حسن غریب۔
ایك بھگوڑے غلام کی حتی کہ وہ لوٹ آئے دوسری وہ خاتون جورات اس حال میں بسر کرے کہ اس کا خاوند اس پر ناراض ہو تیسرا وہ شخص جو قوم کا امام بنا حلانکہ لوگ اسے ناپسند کرتے تھے ۔ اسے ترمذی نے حضرت ابو امامۃ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرکے کہا یہ حسن غریب ہے ۔ (ت)
تنویر الابصار و درمختار میں ہے :
ولوام قوما وھم لہ کارھون ان الکراھۃ لفساد فیہ اولانھم احق بالامامۃ منہ کرہ لہ ذلك تحریما ۔
اگر کسی نے قوم کی امامت کرائی حالانکہ وہ قوم اسے ناپسند نہ کرتی تھی اگر خود اس میں خرابی کی وجہ سے کراہت ہو یا اس لئے کہ دوسرے لوگ اس سے امامت کے زیادہ اہل تھے تو اس صورت میں اس کا امام بننا مکروہ تحریمی ہوگا (ت)
(۵) اس کے سبب تفریق جماعت کہ سوال میں ہے لوگوں نے اس کے پیچھے نماز پڑھنا ترك کردیا جس کے سبب تفریق جماعت ہو اسے امام بنانا منع ہے اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ ہے اگر چہ وہ خود بے قصور ہو جیسے برص والا نہ کہ وہ خود فساد رکھتا ہے درمختار میں ہے :
کذاتکرہ خلف ابرص شاع برصہ اھ واستظھر فی ردالمحتار ان العلۃ النفرۃ ولذاقید الابرص بالشیوع ولیکون ظاھرا اھ
اقول : لیس محل الاستظھار بل العلۃ ھی ھی لا شك ثم الذی یظھر لی ان کراھۃ الصلاۃ خلفہ تنزیھیۃ کما ھوقضیۃ کلام الشامی اذیقول تحت قول الدرھذا وکذلك اسی طرح اس صاحب برص کے پیچھے نماز مکروہ ہے جس کا برص پھیل گیا ہو اھ ردالمختار میں ہے اس کی علت نفرت قرار دیا ۔ ل اس لئے ابرص کے ساتھ الشیوع (یعنی پھیلنے) کی قید لگائی تاکہ معاملہ واضح ہوجائے اھ
میں کہتا ہوں یہ مقام ظاہر کرنے کا نہیں بلکہ علت یہی نفرت ہے اس میں کوئی شك نہیں پھر مجھ پر یہ بات واضح ہوئی کہ ا برص کے پیچھے نماز مکروہ تنزیہی ہے
حوالہ / References جامع الترمذی باب ماجاء من ام قومًا وہم لہ کارھون مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۴۷
درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۳
درمختار ، باب الامامۃ ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۸۳
ردالمحتار ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۴۱۶
#11514 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
اعرج یقوم ببعض قدمہ فالا قتداء بغیرہ اولی تاتارخانیۃ وکذا اجذم برجندی اھ وان لم ارہ فی امامۃ البرجندی من شرحہ للنقایۃ لکن کراھۃ تقدیمہ اذا بلغ التنفیر الی ترك الناس الجماعۃ کما فی السوال ینبغی ان تکون کراھۃ تتحریم لما فیہ من النقض الصریح لمقصود الشارع صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من شرعیۃ الجماعۃ وایجا بھا وقد قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بشرو اولا تنفرواوالتنفیر المعلل بہ فی الھدایۃ کراھۃ تقدیم العبد والاعمی والاعرابی لا یبلغ عشرھذا بل ھونا درمحتمل وھذا غالب متحقق فاقترقا فھذا ما عندی والعلم بالحق عند ربی عزوجل ۔
جسے علامہ شامی کے کلام کا تقاضاہے کیونکہ وہ درمختار کے اسی قول کے تحت لکھتے ہیں اسی طرح وہ لنگڑا ہے جو اپنے پاؤں کے کچھ حصہ پر کھڑا ہوتا ہو اس کے غیر کی اقتداء بہتر واولی ہے تاتار خانیہ اور اسی طرح ہاتھ کٹے کا معاملہ ہے برجندی اگر چہ میں نے برجندی مع شرح نقایہ برجندی کے باب الامامۃ میں یہ مسئلہ نہیں پایا لیکن جب اس کی تقدیم کی ناپسندیدگی اتنی بڑھ جائے کہ لوگ جماعت کو چھوڑنا شروع کردیں جیسا کہ سوال میں ہے تو ایسی صورت میں اسے کراہت تحریمی قرار دینا چاہئے کیونکہ اس میں تو شارع صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے مقصود کی صریح مخالفت ہے اور وہ مقصود جماعت کا مشروع اور واجب ہوتاہے حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کاارشاد ہے : لوگوں میں محبت و بشارت پیداکرو نفرت نہ پھیلاؤ ۔ اور وہ نفرت جس کی بناء پر صاحب ہدایہ نے غلام نابینا اور اعرابی کی امامت کو مکروہ قرار دیا ہے وہ تو اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچتی بلکہ وہ نادر اور ایك احتمال ہے اور یہ غالب وثابت ہے پس ان دونوں میں فرق ثابت ہوگیا یہ میرے نزدیك ہے اورحق علم میرے رب کے ہاں ہے ۔ (ت)
(۶) اس کا کہنا کہ بمبئی میں کوئی مکان یا گلی کوچہ ایسا نہ ہوگا جس میں شبانہ روز زنا نہ ہوتا ہو اگر وہ تعمیم و تصمیم کرتا تو بمبئی کے لاکھوں مسلمانوں مردوں مسلمان پارسا بیبیوں پر صریح تہمت ملعونہ زنا تھی جس کے سبب وہ لاکھوں قذف کا مرتکب ہوتا اور ایك ہی قذف گناہ کبیرہ ہے اور قذف کرنے والے پر لعنت آئی ہے تو وہ ایك سانس میں لاکھوں گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوتا اور لاکھوں لعنتوں کا استحقاق پاتا ہے مگر اس نے مکان اور کوچہ میں تردید سے تعمیم کوروکا اور “ نہ ہوگا “ کے لفظ سے جزم میں فرق ڈالا پھر بھی ا س قدر میں شك نہیں کہ اس نے وہاں کے عام مسلمانوں مردوں بیبیوں کی حرمت پر دھبا لگا یا اور اسے خاص مجلس وعظ میں کہ کر مسلمانوں کو ناحق بدنام کرنے اور ان میں اشاعت فاحشہ کا بوجھ اپنی گردن پر اٹھایا اور بکثرت مسلمانوں کو بلاوجہ شرعی ایذا دی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من اذی مسلما فقد اذانی ومن
جس نے کسی مسلمان کو ناحق ایذادی اس نے مجھے ایذا دی
حوالہ / References ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۶
#11515 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
اذانی فقد اذی اﷲ رواہ الطبرانی فی الاوسط عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن ۔
اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اﷲ عزوجل کوایذا دی ۔ اسے طبرانی نے معجم اوسط میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا ہے
اﷲ عزوجل فرماتا ہے :
ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشة فی الذین امنوا لهم عذاب الیم-فی الدنیا و الاخرة- ۔
جو یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانو ں میں بے حیائی کی بات کا چرچا پھیلے ان کےلئے دنیا و آخرت میں دردناك عذاب ہے۔
جب اس پر دونوں جہاں میں عذا ب شدید کی وعید ہے تو یہ بھی کبیرہ ہوا اورمرتکب کبیرہ فاسق ہے اور یہ فسق بالاعلان بر سر مجلس وعظ ہو ا تو اس وجہ سے وہ بھی فاسق معلن ہوا اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ۔
(۷) ظاہر ہے کہ وہ جاہل ہے اور باوصف جہل اس نے فتوے پر اقدام کیا اور ارشاد اقدس حدیث کو الٹا اور مفتیان شریعت مطہرہ کے فتووں کو بے اعتبار کہا ور عوام جہال کورد فتاوی شریعت پر دلیر کیا تو بلا شبہ وہ ضال ومضل ہوا خود گمراہ اور اوروں کو گمراہ کرے ۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اتخذالناس رؤسا جھالا فسئلوا فافتوا بغیر علم فضلوا واضلوا رواہ الائمۃ احمد والبخاری ومسلم والترمذی و ابن ماجۃ عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما
لوگ جاہلوں کو سردار بنالیں گے اور ان سے مسئلہ پوچھیں گے وہ بے علم فتوی دیں گے آپ بھی گمراہ ہوئے اوروں کو بھی گمراہ کریں گے ۔ اس کو ائمہ کرام احمد بخاری مسلم ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔
اس صورت میں اس کی امامت درکنار اس کے پاس بیٹھنا منع ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولا یفتنونکم ۔
ان سے دور رہو اور انھیں اپنے سے دور کرو کہیں وہ تمھیں
حوالہ / References المعجم الاوسط حدیث نمبر۳۶۳۲ مکتبہ المعارف الریاض ۴ / ۳۸۳
القرآن ۲۴ / ۱۹
صحیح البخاری باب الحرص علی الحدیث مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۰ ، صحیح مسلم باب رفع العلم وقبضہ الخ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ۲ / ۳۴۰ ، جامع الترمذی باب ماجاء فی الاستیصاء بمن یطلب العلم مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۹۰
صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء الخ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۱۰
#11516 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ گمراہ نہ کردیں وہ تمھیں فتنہ میں نہ ڈال دیں اسے مسلم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔
ایسی حالتوں میں جو اس کی حمایت کریں اس کی امامت قائم رکھنا چاہیں مسلمانوں کے بدخواہ ہیں اور ان کی نمازوں کی خرابی بلکہ تباہی وبربادی چاہنے والے اور اﷲ کے خائن ۔ اﷲ عزوجل فرماتا ہے :
و لا تعاونوا على الاثم و العدوان۪- ۔
گناہ اور حد سے بڑھنے پر ایك دوسرے کی مدد نہ کرو۔
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من مشی مع ظالم لیعینہ وھو یعلم انہ ظالم فقد خرج من الاسلام رواہ الطبرانی فی الکبیر وایضا فی صحیح لمختارۃ عن اوس بن شرجیل رضی اﷲ تعالی عنہ۔
جو دانستہ کسی ظالم کی مدد کو چلے وہ اسلام سے نکل جائے گا ۔ اسے طبرانی نے معجم کبیرمیں اور صحیح المختارۃ میں بھی حضرت اوس بن شرجیل رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے :
دوسری حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من استعمل رجلا من عصابۃ وفیھم من ھوارضی اﷲ منہ فقد خان اﷲ ورسولہ ولمؤ منین ۔ رواہ الحاکم وابن عدی و العقیلی والطبرانی والخطیب من ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ۔
جو کسی جماعت میں ایك شخص کو ان پر مقرر کرے اوراس جماعت میں وہ موجود ہوں جو اﷲ عزوجل کو اس سے زیادہ پسند ہے بیشك اس نے اﷲ رسول اور مسلمانوں سب کی خیانت کی اسے حکم ابن عدی عقیلی طبرانی اور خطیب نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔
ان لوگو ں پر لازم ہے کہ توبہ کریں اور اس کی حمایت سے باز آئیں اور مسلمانوں پر واجب ہے کہ اسے امامت سے معزول کریں اور کسی صالح امامت کو امام بنائیں اور حدیث مجتہد کے لئے ہے جسے کسی امر میں دلائل متعارض معلوم ہوں
حوالہ / References القرآن ۵ / ۲
المعجم الکبیر مااسند اوس بن شرجیل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حدیث ۶۱۹ مطبوعہ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ۱ / ۲۲۷
المستدرك علی الصحیحین الامارۃ امانۃ الخ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۴ / ۹۲
ف : مستدرك میں ''فیھم '' کی جگہ '' فی تلك العصابۃ '' ہے ۔ نذیر احمد سعیدی
#11517 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
وہ اسے ترك کرے گا اور دوسرے مجتہد کی تقلید اس پر نہیں یا اہل ورع کے لئے ان خاص امور دقیقہ میں ہے جن پر ظاہر شریعت مطہرہ سے فتوی جواز ہوگا اور متورع محتاط کا قلب اس پر مطمئن نہ ہوگا وہ اس سے بچے گا نہ اس لئے کہ فتوی معتبر نہیں بلکہ اس لئے کہ ایسی جگہ مقام تقوی فتوی سے اعلی ہے۔ ایك بی بی سید نا امام احمد کے پاس حا ضر ہوئیں رضی اللہ تعالی عنہ اور مسئلہ پوچھا بادشاہ کی سواری نکلتی ہے کیا میں اس کی روشنی میں سوئی میں ڈورا ڈال سکتی ہوں ۔ امام نے ان کی طرف نظر اٹھا ئی اور فرمایا آپ کون ہیں کہا میں بشر حافی کی بہن ہوں رضی اللہ تعالی عنہ ۔ فرمایا ایسا ورع تمھارے گھر سے نکلا ہے وباﷲ التوفیق واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۷۰۴ : از چوپرا ڈاك خانہ بائسی مرسلہ محمد کلیم الدین صاحب ۱۴ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بروز جمعہ بعد نماز فجر قبل فرض جمعہ کوئی نماز پیش مصلی پر خواہ اشراق ہو یا قبل الجمعہ غرہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں بعض علماء فرماتے ہیں منع ہے بعض فرماتے ہیں جائز ہے۔ بینو اتوجروا
الجواب :
وہ مصلی اگر واقف نے صرف امامت کے لئے وقف کیا ہے تو امام وغیر امام کوئی اسے دوسرے کام میں نہیں لاسکتا اگرچہ صراحۃ یاوہاں کے عرف کے سبب دلالۃ ممانعت ہو اور اگر صرف امام کے لئے بطور مذکور وقف ہواہے تو امام اس پر نوافل بھی پڑھ سکتا ہے دوسرا کچھ نہیں اور اگر عام طور پر وقف ہوا یعنی صراحۃ تخصیص ہے نہ دلالۃ تو غیر وقت امامت میں ہر شخص اس کو فرائض و نوافل سب کے کام میں لاسکتا ہے بلکہ درس وتدریس کے بھی کما فی القنیۃ۔ (جیسا کہ قنیۃ میں ہے ۔ ت) واﷲ سبحنہ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۰۵ : از حسن پور ضلع مرادآباد مرسلہ طفیل احمد صاحب قادری برکاتی رضوی سلمہ اﷲ القوی ۱۸ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
حضور مجھ کو معلوم ہواہے کہ دیوبندی کے پیچھے نماز نہیں ہوسکتی تو حضور ہم نے جو بے خبری میں ان کے پیچھے نمازیں پڑھی ہیں ان کا کیا کیا جائے اور حضور حسن پور سب مسجدوں میں وہی لوگ امام ہیں تو اب ہم کیا کریں اور اگر اپنی اپنی نماز پڑھ بھی لی تو نماز جمعہ کو کیا کیا جائے کیونکہ جہاں جہاں جمعہ ہوتا ہے وہی امام ہیں اور عیدیں بھی وہی پڑھاتے ہیں اور جنازہ کی بھی اور نماز تراویح بھی ۔ پھر یہ کہ جب ہم مریں گے تو ہمارئے جنازوں کی نماز بھی یہی پڑھائیں گے توحضور ہم بے نماز ہی دفن ہوں گے کیونکہ اگر انھوں نے پڑھائی بھی تو وہ نماز ہی کیا ہوئی۔ اور سنی بس ہم دو تین شخص ہیں اول حضور کوئی ایسی ترکیب ارشاد ہو کہ جو نمازیں ہم نے ان کے پیچھے پڑھی ہیں معاف ہوجائیں کیونکہ ہمارے ایمان ایسے کمزور ہیں کہ ہم سے پنج وقتہ نماز بھی ادا نہیں ہوتی تو حضور ان کی ادا کی کیا صورت ہے وہ
#11654 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
تو معاف ہونی چاہیں کیونکہ بے خبری میں ایسی خطاہوئی اور یہ بھی ناممکن ہے کہ حسن پور چھوڑدیا جائے ۔ حضور اس پر کچھ توجہ فرمائی جائے اور کوئی سبیل نکال دی جائے ۔ اور فورا جو مسئلہ دریافت کرنا ہو وہ کس سے دیافت کیا جائے کیونکہ وہاں جو عالم ہیں وہ وہی ہیں گو حسن پور میں میلاد شریف تیجہ دسواں چالیسواں وغیرہ کثرت سے ہوتا ہے مگریہ خبر نہیں کہ ان کے پیچھے نماز بھی نہ پڑھی جائے۔
الجواب :
دیوبندی عقیدے والوں کے پیچھے نماز باطل محض ہے ہوگی ہی نہیں فرض سر پر رہے گا اور ان کے پیچھے پڑھنے کا شدید عظیم گناہ ۔ علاوہ امام محقق علی الاطلاق فتح القدریر شرح ہدایہ میں ہمارے تینوں ائمہ مذہب امام اعظم و امام ابو یوسف وامام محمد رضی اللہ تعالی عنہم سے نقل فرماتے ہیں : ان الصلوۃ خلف اھل الھواء لاتجوز ۔ اہل بدعت کے پیچھے نماز جائز نہیں ۔ (ت)
اس میں سب برابر ہیں نماز پنجگانہ ہو خواہ جمعہ یا عید یا جنازہ یا تراویح کوئی نماز ان کے پیچھے ہو ہی نہیں سکتی بلکہ اگر( ان کو قابل امامت یا مسلمان جاننا بھی درکنار ) ان کے کفر مین شك ہی کرے تو خود کافر ہے جبکہ ان کے خبیث اقوال پر مطلع ہو علمائے حرمین شریفین بالاتفاق فرماتے ہیں :
من شك فی عذابہ وکفرہ فقد کفر ۔
جو شخص ان کے کافر ہونے میں شك کرے وہ بھی کافر ہے۔ (ت)
جب وہاں میلاد شریف اور سوم وغیرہ کرنے والے بکثرت ہیں تو ضرور وہ لوگ دیوبندی نہیں انھیں علمائے کرام مکہ معظمہ و مدینہ طیبہ کے فتوے (کہ دس برس سے چھپ کر تمام ملك میں شائع ہورہے ہیں ) دکھائیے اور رسالہ “ تمہید ایمان “ پڑھ پڑھ کر سنائیے الحمد اﷲ مسلمان ایسے نہیں کہ محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو گالیاں دینے والے کے پیچھے نماز جائز مانیں یا اسے مسلمان مانیں ان شاء اﷲ تعالی اﷲ عزوجل ضرور ہدایت واثر بخشے گا اور مسلمان ہوشیار ہو کر ان کے پیچھے نماز چھوڑدیں گے اور سنی عوام اپنے لئے پنجگانہ وجمعہ و عیدین و جنازہ سب کے لئے مقرر کریں گے اور اگر بالفرض کوئی نہ سنے تو دو آدمی مل کر سوائے جمعہ سب نماز وں پنجگانہ وعید و جنازہ وغیرہ میں جماعت کرسکتے ہیں ایك اور ایك مقتدی بس کافی ہے اور جمعہ کے لئے ایك شخص اہل کو امام مقرر کیجئے کہ وہی عیدین کی بھی امامت کرے اور جمعہ میں کم سے کم تین مقتدی ہوں جمعہ ہوجائے گا زیادہ نہ مل سکیں تو کچھ حرج نہیں مگر یہ ضرور ہے کہ جمعہ و عیدین اعلان کے
حوالہ / References فتح القدیر باب الامامۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۰۴
درمختار باب المرتد مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵۶، حسام الحرمین علی منحر الکفر والمین مکتبہ نبویہ لاہور ص ۳۱
#11658 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
ساتھ ہوں ظاہر کردیا جائے کہ مسلمانوں کا جمعہ وعیدین فلاں جگہ ہوگی جسے اﷲ تعالی ہدایت دے گا شریك ہوجائے گا ان کے پیچھے جو نمازیں بے خبری میں پڑھیں ان کا علاج ایك توتوبہ ہے دوسرے یہ ضرور ہے کہ ان نمازوں کی قضا پڑھی جائے اندازہ اتنا کرلیا جائے کہ کوئی نماز باقی نہ رہ جائے زیادہ ہوجائیں تو حرج نہیں ۔ اگر کوئی شخص دارالحرب خاص کفار کی بستی میں بسے جہاں مثلا صرف ہندو ہوں اور وہ کہے کہ میں یہاں کی سکونت تو چھوڑ نہیں سکتا یہ بتاؤ فوری ضرورت کے مسئلے کس سے پوچھوں تو کیا اس سے کہہ دیا جائے گا کہ پنڈت سے پوچھ لیا کرو اناﷲ وانا الیہ راجعون۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۰۶ : از موضع سریا ڈاکخانہ تیلو تہو ضلع شاہ آباد آرہ مرسلہ شیخ مدار بخش ۱۸ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص معمولی اردو خواں مؤذنی بھی کرتا ہے اور امامت بھی کرتا ہے اور وہی شخص گھر گھر سے صدقہ فطر مال زکوۃ و کھال قربانی وغیرہ لیتا اور کھاتا ہے اور قبرستان میں جوغلہ پیسہ کوڑی خیرات کیا جاتا ہے وہ بھی لیتا ہے اور اس کا پیشہ یہی ہے ایسے شخص کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں امام کےلئے کون کون شرائط ہیں کیسے شخص کو امام ہونا چاہئے اگر بجائے شخص مذکور کے دوسراشخص جو ان باتوں سے محتاط ہو اس کے پیچھے نماز پڑھنا افضل ہے یا نہیں
الجواب :
اگر وہ فقیر ہے صاحب نصاب نہیں نہ سید ہاشمی ہے تو ان اموال کا لینا اسے جائز ہے اور اس وجہ سے اس کی امامت میں کوئی حرج نہیں ۔ امامت کیلئے صحیح الاسلام صحیح الطہارت صحیح القراء ت سنی صحیح العقیدہ غیر فاسق معلن درکارہے جس میں ان باتوں سے کوئی بات کم ہوگی اسکے پیچھے نماز ہوگی ہی نہیں مکروہ تحریمی ہوگی اس شخص میں ان باتوں سے کوئی بات کم ہے تو اس کی امامت جائزنہیں واجب کہ دوسرے کو جو ان باتوں کا جامع ہو امام کریں اور یہ سب باتیں اس میں ہیں تو اس کی امامت میں حرج نہیں پھر دوسرا اگر نماز وطہارت کے مسائل اس سے زیادہ جانتا ہے تو وہ دوسرا ہی اولی ہے اور اگر یہ زیادہ جانتا ہے تو یہی بہتر ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۰۷ تا ۷۱۰ : از کراچی گاڑی احاطہ محلہ رام باغ مرسلہ نور احمد مولیڈنہ واکانی مہمیز ۱۸ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
(۱)جس امام کو اس کے عقائد پوچھے جائیں اوروہ نہ بتائے تو اس کی اقتداء جائز ہے یا نہیں
(۲) جو امام وقت مقررہ کا پابند نہ ہو یعنی کہے کہ نماز مقررہ وقت پر پڑھنا عرش اعظم پر لکھا ہوا ہے کیا حالانکہ مصلیوں کی آسانی کے لئے جماعت نے وقت مقرر کیا اس کو کیا سمجھنا چاہئے
(۳) جس امام سے جماعت کے بعض آدمی ناراض ہوں اور بعض اس کی خوشامد کرتے ہوں توایسے کی اقتداء کرنا جائز یا نہیں
#11663 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
(۴) جس امام کے دونوں ہاتھ ہوں مگر ایك ہاتھ سیدھا یعنی سیدھاہاتھ نکما ہو اور بائیں ہاتھ سے آبدست لیتا ہو استنجا کرتا ہوں وضوکرتا ہو اور کھانا کھاتا ہو امام ہوسکتا ہے یا نہیں
الجواب :
(۱) اپنا عقیدہ و مذہب دریافت کرنے پر نہ بتانے سے ظاہر یہی ہے کہ اس میں کچھ فساد ہے ورنہ دین بھی کچھ چھپانے کی چیز ہے اس کی اقتداء ہر گز نہ کی جائے کہ بطلان نماز کا احتمال قوی ہے اور نماز اعظم فرائض اسلام سے ہے اس کے لئے سخت احتیاط مطلوب یہاں تك کہ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں فرمایا :
لان الصلوۃ متی فسدت من وجہ و جازت من وجوہ حکم بفسادھا واﷲ تعالی اعلم
جب کسی ایك وجہ پر نماز فاسد ہو اور متعدد وجوہ کی بنا پر درست تو فساد نماز کا حکم ہوگا۔ (ت)
(۲) اس میں دونوں ہی باتیں ہیں بعض مقتدیوں کے مزاج میں تشدد اس قدر ہوتا کہ وہ چند منٹ کا آگا پیچھا روا نہیں رکھتے ایسی حالت میں اگر امام نے اس پر انکار کیا بیجا نہ کیا اوراگر امام کی طرف سے بلاوجہ شرعی تکاسل ہے اور اس جماعت کو تکلیف پہنچتی ہے تو اس پر الزام ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
(۳) رنجیدگی دیکھی جائے گی اگر اس میں کسی قصور شرعی کی وجہ سے ہے تو اسے امام بننا گناہ ہے اور بحکم حدیث اس کی نماز مقبول نہ ہوگی۔
ثلثۃ لاترفع صلاتھم فوق اذانھم شبرا الی ان قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و من ام قوما وھم لہ کارھون ۔
تین اشخاص کی نماز ان کے کانوں سے ایك بالشت برابر بھی بلند نہیں ہوتی آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے یہاں تك فرمایا کہ ایك وہ شخص جو کسی قوم کا امام بن جائے حالانکہ وہ لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں (ت)
اور اگر اس میں کوئی قصور شرعی نہیں تو اس کی امامت میں کوئی حرج نہیں اور ان رنج والوں پر وبال ہے کما نص فی الدرالمختار ( جیسا کہ درمختار میں اس پر نص موجود ہے ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
(۴) ہوسکتا ہے بلکہ اگر وہی حاضرین میں سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں وہی امام کیا جائے گا کما نصو علیہ فی المتون والشروح والفتاوی(جیسا کہ متون شروحات اور فتاوی جات میں اس مسئلہ کے متعلق
حوالہ / References فتح القدیر ، باب صلوٰۃ المسافر ، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۱۴
سنن ابن ماجہ باب من ام قومًا وھم لہ کارھون مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۶۹
ف : سنن ابن ماجہ میں '' فوق اذانھم '' کی جگہ '' فوق روسھم '' ہے ۔ نذیر احمد سعیدی
#11666 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
نصوص موجود ہیں ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۱۱ : از کراچی بندرصدر بازار دکان سیٹھ حاجی احمد حاجی کریم محمد شریف جنرل مرچنٹ مرسلہ عبد اﷲ ولد حاجی ۲۳ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
امام صدر ر ابباعث افتادن از ستور دریك دست تشنج واقع شدہ است ازیں وجہ دست ماؤفہ او بوقت تکبیر تحیریمہ مس مزمہ گوش نمی شود آیا دریں صورت امامت او بلا کراہت جائز است یا نہ
صدر کے امام کا ہاتھ گھوڑے سے گرنے کی وجہ سے بے حس وحرکت ہوگیا ہے اس وجہ سے وہ اپنا ماؤف ہاتھ بوقت تکبیر تحریمہ کان کی لو تك نہیں اٹھا سکتا اس صورت میں اس کی امامت بلا کراہت جائز ہے یا نہیں (ت)
الجواب :
جائز است بلکہ اگر اعلم قوم است ہموں احق بامامت است ۔ واﷲ تعالی اعلم ۔
جائز ہے بلکہ اگروہ قوم سے زیادہ عالم ہے تو امامت کا مستحق وہی ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۷۱۲ : از سیتا پور محلہ قضیارہ مرسلہ الیاس حسین صاحب ۲۳ ربیع الاخر ۱۳۳۶ھ
جب ایك عالم اور شریف ہے مگر سید نہیں ایك عالم رذیل ہے جاہل یا کم مجیب الطرفین سید کی موجودگی میں ان دونوں قسموں کے عالموں سے کون زیادہ مستحق امامت ہے صرف سید ہی کو استحقاق ہے
الجواب :
عالم بہر حال زیادہ مستحق امامت ہے جبکہ مبتدع یا فاسق معلن نہ ہو اور دونوں عالموں میں جسے علم نماز و طہارت میں ترجیح ہو وہ مقدم ہے او اس میں مساوی ہوں تو قراء ت و ورع وسن وغیرہا مرجحات کے بعد شریف نسب سے ترجیح دی جائے گی عالم رذیل کہنا بہت سخت لفظ ہے عالم کسی قوم کا جو اگر عالم دین ہے اﷲ کے نزدیك ہر جاہل سے اگر چہ کتنا ہی شریف ہو افضل ہے۔
قال اﷲ تعالی
قل هل یستوی الذین یعلمون و الذین لا یعلمون- ۔
اﷲ تعالی کا ارشاد گرامی ہے : کیا علم والے اور بے علم برا بر ہوسکتے ہیں ( ہر گز نہیں ) ۔ (ت)
مطلق فرمایا کہ جو عالم نہیں عالم کے برابر نہیں ہوسکتا اس میں کوئی تخصیص نسب وغیرہ کی نہ فرمائی ۔ واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References القرآن ۳۹ / ۹
#11668 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
'مسئلہ ۷۱۳ : از ترسائی کاٹھیاواڑ مرسلہ احمد داؤد صاحب ۲ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
(۱) ائمہ اربعہ میں سے کسی ایك امام کے مقلد کی امامت یا متابعت خواہ چار اماموں میں سے کوئی ایك امام کا مقلد ہو یعنی شافعی حنفی امام کے پیچھے یا حنفی شافعی امام کے پیچھے یا حنبلی حنفی کے یا حنفی حنبلی کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں
(۲) اگر حنفی کا شافعی امام بنے تو کیا یہ ضرور ہے کہ حنفی کی خاطر رفع یدین یا آمین بالجہر ترك کردے یا یہ کہ ہر شخص امام ہو یا مقتدی اپنے اپنے امام کی پیروی کرے
الجواب :
(۱) اگر معلوم ہے کہ اس وقت امام میں وہ بات ہے جس کے سبب میرے مذہب میں اس کی طہارت یا نماز فاسد ہے تو اقتداء حرام اور نماز باطل اور اگر اس وقت خاص کا حال معلوم نہیں مگر یہ معلوم ہے کہ یہ امام میرے مذہب کے فرائض وشرائط کی احتیاط نہیں کرتا تو اس کی اقتداء ممنوع اور اس کے پیچھے نماز سخت مکروہ اور اگر معلوم ہے کہ میرے مذہب کی بھی رعایت واحتیاط کرتاہے یا معلوم ہو کہ اس نماز خاص میں رعایت کئے ہوئے ہے تو اس کے پیچھے نماز بلا کراہت جائز ہے جبکہ سنی صحیح العقیدہ ہو نہ غیر مقلد کہ اپنے آپ کو شافعی ظاہر کرے اور اگر کچھ نہیں معلوم تو اس کی اقتداء مکروہ تنزیہی۔ واﷲ تعالی اعلم
(۲) ہر شخص اپنے امام کی پیروی کرے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۱۴ : از بریلی
زید امام مسجد ہے اور اس نے جھوٹ بولا اس پر ایك شخص نے ان کے پیچھے نماز پڑھنا ترك کردی او رکسی وقت کی نماز وہ شخص قبل پڑھ لیتے ہیں اور مؤذن بھی وہی شخص ہیں اور تکبیر بھی کہتے ہیں تو آیا یہ تکبیر صحیح ہوگی یا نہیں اور نماز ایسے امام کے پیچھے جائز ہے یا نہیں اور اس وقت تك جتنی نمازیں ان کے پیچھے پڑھی گئیں جس وقت سے انھوں نے جھوٹ بولا تو نمازیں ہوگئیں یا نہیں
الجواب :
سائل نے یہ بیان کیا کہ امام کے ذمے یہ جھوٹ رکھا جاتا ہے کہ اس سے پوچھا گیا کیا بجا ہے کہا سوا آٹھ بجے ہیں اور بجے تھے سوا نو۔ یہ کوئی جھوٹ ایسا نہیں جس کے سبب اس کے پیچھے نماز چھوڑدی جائے ۔ سوا نو بجے ہیں تو ضرور سواآٹھ بھی بج چکے ۔ عالمگیری میں ہے کہ اگر کوئی دس روپیہ کو خریدی اور پوچھنے پر کہا پانچ کو لی ہے تو یہ کوئی جھوٹ قابل مواخذہ نہیں ۔ یونہی سوا نو میں سواآٹھ داخل داخل ہیں ۔ مؤذن کہ اتنی سی بات پر ترك جماعت کرتا ہے دہرا گنہگار ہے ایك جماعت چھوڑنے کا گناہ ادوسرا سخت گناہ یہ کہ اوروں کو اذن دے کر بلانا اور خود باز رہنا
#11672 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
قال اﷲ تعالی یایها الذین امنوا لم تقولون ما لا تفعلون(۲) كبر مقتا عند الله ان تقولوا ما لا تفعلون(۳) ۔
واﷲ تعالی اعلم اﷲ تعالی نے فرمایا اے ایمان والو! کیوں کہتے ہو وہ جو (خود) نہیں کرتے اﷲ کو سخت ناپسند ہے یہ بات کہ وہ کہو جو نہ کرو
مسئلہ ۷۱۵ : از قصبہ نرنگ لاہور مسئولہ ابو رشید محمد عبدالعزیز
کیا فرماتے ہے علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی امام گاہے گاہے مردہ شوئی کرے تو کیا اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
میت مسلم کو نہلانا فرض ہے اور فرض کے ادا کرنے میں اجر ہے اور اگر وہاں اور بھی کوئی اس قابل ہو کہ نہلاسکے تو اس کے نہلانے پر اجرت لینا بھی جائز ہے بہر حال اس سے امامت میں کوئی خلل نہیں آتا اور اگر وہاں کوئی دوسرا ایسا نہ ہو کہ نہلا سکے تو اب اس پر نہلانا فرض عین ہے اور اس پر اجرت لینا حرام ایسا کرے گا تو فاسق ہوگا اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی اور اس کا امام بنانا گناہ ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۱۶ : از روپٹی ڈیہہ ضلع بہرائچ بازار نیپال گنج مرسلہ سید علی ناریل فروش ۸ محرم الحرام ۱۳۳۶ھ
زید نے بکر کی زوجہ سے زنا کیا بکر نے یہ حالات کماحقہ معلوم کرکے زوجہ مذکور کو طلاق بائن دی اورخود بھی تائب ہوا۔ بکر یہاں کی جامع مسجد کا پیش امام بھی ہے اب بکر کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں
الجواب :
صورت مذکورہ میں زنائے زوجہ کے سبب بکر کی امامت میں کوئی خلل نہیں جبکہ وہ بوجہ صحت مذہب و طہارۃ وصحت قراء ۃ وغیرہا شرعا قابل امامت ہو۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۱۷ : ازموضع کوتانہ ضلع میرٹھ مرسلہ شیخ وجیہ الدین احمد ومحمد عبد اﷲ خاں ومحمد واسمعیل خاں ۲۷ ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین محمدی ومفیتان شرع احمدی حنفی المذہب اہلسنت وجماعت اس مسئلہ میں کہ ایك شخص وہابی فرقہ کا حنفی المذہب اہل سنت وجماعت کے محلہ کی مسجد کا ایك ماہ و چند روزسے پیش امام ہے اور اس کے باپ دادا بھی اسی فرقہ وہابیہ میں مرگئے ۔ حسن اتفاق سے اس مسجد میں دو عالم واعظ تشریف لائے اور وعظ میں حضرت رسول مقبول محبوب رب العالمین شفیع المذنبین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی حمد وثنا بیان فرمائی اور امام مسجد
حوالہ / References ا لقرآن ۶۱ / ۲
#11675 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
نے ان کے پیچھے نماز پڑھنی ترك کردی اسی روز شب کو ایك شخص باشندہ محلہ نے اپنے مکان پر مولوی صاحبان نووارد سے مجلس مولود شریف کرائی۔ امام مسجد شامل نہ ہوا صبح کو بوقت ظہر دریافت کیا کہ تم مجلس مولود شریف کی نسبت کیا کہتے ہو جواب دیا کہ اچھا کہتا ہوں پھر کہا گیا تم اچھا کہتے ہو تو تم کیوں نہیں کرتے ہو امام نے جواب دیا کہ میرے باپ دادا نے اس فعل کو نہیں کیا میں بھی نہیں کرتا پھر کہا گیا کہ شب کو جو مجلس ہوئی تھی اس میں شامل کیوں نہ ہوئے جواب دیا کہ وہاں پر قیام ونعت ہوتی ہے اس لئے میں شامل نہیں ہوا۔ پھر کہا گیا کہ نعت کے معنی حمد وثناء تعریف کے ہیں ۔ حضرت رسول کریم رحمۃ للعالمین کی تعریف سے کیوں بھاگتے ہو کچھ جواب نہ دیا سکوت کیا ۱۵ ربیع الاولی۱۳۳۷ھ مقدسہ کو بعد نماز فجر بمواجہہ جملہ نمازیان مسجد امام سے کہا کہ جناب مولانا ومولوی حاجی قاری احمد رضا خاں صاحب کی تصنیفات سے یہ کتاب “ تجلی الیقین “ موجود ہے تمام و کمال انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام حضرت نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تعریف فرماتے ہیں تم حضرت کی تعریف ونعت سے کیوں گریز کرتے ہوں جواب نہ دیا خاموش رہا اس مبارك کتاب “ تجلی الیقین “ کے چند موقع پڑھ کر سنائے مگر کچھ اثر نہ ہوا اب حضور والا مفصل ومشرح تحریر فرمائیں کہ حنفی المذہب اہلسنت وجماعت کی نماز ایسے بد عقیدہ وہابی مذہب کے پیچھے جائز ہے یا نا جائز ہے بدلائل وبرہان قرآن شریف وحدیث شریف جواب مرحمت فرمائیں اﷲ جل شانہ نے حضور والا کی ذات ستودہ صفات کو مثل آفتاب عالمتاب کے روشن ومنور کیا ہے اسی طرح تایوم القیامۃ روشن رکھے مکرر عرض ہے کہ کمترین وجیہ الدین کا یا اور کسی باشندہ محلہ کا کوئی دنیاوی تعلق نہیں ہے نہ کسی کا کوئی عزیز امامت کے لائق ہے صرف بغضﷲ وحب ﷲ پر عمل ہے۔
الجواب :
بیان سوال سے ظاہر کہ وہ شخص وہابی بلکہ وہابیوں میں بھی اونچی چوٹی کا ہے وہابیہ کا اصل عقیدہ نعت اقدس سے جلنا ہے مگر مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے یوں صاف نہیں کہتے جو اس نے کہی کہ “ وہاں نعت ہوتی ہے اس لئے شامل نہ ہوا “ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے نفرت نہ کرے گا مگر کافر اورکافر کے پیچھے نماز محض باطل اگر مسلمان ہوتا نعت اقدس کو درست رکھتا ۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من احب شینا اکثر ذکرہ ۔ رواہ ابو نعیم ثم الدیلمی عن مقاتل ابن حیان عن داؤد ابن ابی ھند عن الشعبی عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنھا
جو کسی شی سے محبت رکھتا ہے اس کا ذکر زیادہ کرتا ہے اسے ابو نعیم پھردیلمی نے مقاتل بن حیان انھوں نے داؤد بن ہند انھوں نے شعبی سے انھوں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے
حوالہ / References اتحاف السادۃ المتقین بحوالہ ابی نعیم ثم الدیلمی ، فضیلۃ الشیخ ، مطبوعہ دارالفکر بیروت ، ۵ / ۲۰
#11679 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
ثلاثتھم من رجال مسلم والاربعۃ۔
روایت کیا ہے اس کے تینوں روای مسلم شریف کے اور اصحاب اربعہ کے رجال ہیں ۔ (ت)
(یعنی اسے بلند مرتبہ محدثین نے ان سے روایت کی ہے لہذا راوی معتمد ہیں ۔ نذیر احمد)
جسے محبت درکنار نفرت ہو ظاہر ہے کہ اسے حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے محبت نہیں پھر وہ مسلمان کیسے ہوسکتا ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لا یومن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین ۔ رواہ الائمۃ احمد والبخاری ومسلم والنسائی وابن ماجۃ عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ ۔
تم میں سے کوئی شخص مسلمان نہیں ہوتا جب تك میں اسے اس کے ماں باپ اولاد اور تمام آدمیوں سے زیادہ پیارا نہ ہوں ۔ اسے ائمہ کرام امام احمد بخاری مسلم نسائی ۔ اور ابن ماجہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے
“ تجلی الیقین “ کے کلمات سن کر اثرنہ ہونا اور نعت شریف کے ان سوالوں پر خاموش رہنا اس کے دل کی دبی آگ کو اور ظاہر کررہاہے۔
قال اﷲ قد بدت البغضآء من افواههم ﭕ و ما تخفی صدورهم اكبر-قد بینا لكم الایت ان كنتم تعقلون(۱۱۸) ۔
اﷲ تعالی نے فر مایا : دشمنی ان کے مونہوں سے ظاہر ہوگئی اور وہ جو ان کے سینوں میں (غیظ وعناد) چھپا ہے اور زیادہ ہے ہم نے تم پر نشانیاں کھول دیں اگر تمھیں عقل ہو۔ (ت)
بالجملہ وہ یقیناوہابی ہے اور وہابیہ قطعابے دین اور بے دین کے پیچھے نماز محض ناجائز۔ فتح القدیر میں ہے :
روی محمد عن ابی حنیفۃ وابی یوسف رضی اﷲ تعالی عنھما ان الصلاۃ خلف اھل الاھواء لا تجوز ۔
امام محمد نے امام ابو حنیفہ اور امام ابویوسف رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا کہ اہل بدعت کے پیچھے نماز جائز نہیں ہے۔ (ت)
حوالہ / References صحیح البخاری باب حب الرسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم من الایمان مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۷
القرآن ۳ / ۱۱۸
فتح القدیر باب الامامۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۰۴
#11681 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
نماز درکنا ربنص قران عظیم اس کے پاس بیٹھنا حرام۔
قال اﷲ تعالی و اما ینسینك الشیطن فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظلمین(۶۸) ۔ واﷲ تعالی اعلم ۔
اﷲ تعالی کا فرمان مبارك ہے : اور جو کہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس مت بیٹھ (ت)
مسئلہ ۷۱۸ : از اوپل ڈاکخانہ خاص ضلع کھیری مرسلہ مولوی خدابخش صاحب ۱۰ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میں جہلاء لوگوں کو صوم وصلوۃ کی جانب رجوع کرتا ہوں اور انھوں نے خدا کے فضل سے اس جانب توجہ فرمائی ہے لیکن بعض اشخاص بے نمازی تعزیہ وار قبر پرست اور بعضے صرف جمعہ کے نمازی رمضان شریف کے نمازی عید کے نمازی ان لوگوں کو میری جانب سے بدظن کرتے ہیں اور ان کے سامنے یہ بات پیش کرے ہیں کہ میری آنکھوں میں پھلی ہی لیکن پتلی پر نہ ہونے کے سبب دکھائی دیتا ہے دوسری تہمت لگاتے ہیں کہ ان کے والد کے دو نکاح ہوئے ایك عورت کا نکاح نہیں ہوا بلکہ انھوں نے ویسے ہی رکھا ہے حلانکہ یہ سب محض لغواور جھوٹ بیان ہے انھیں یہ بھی نہیں معلوم کہ میرے والد کے کے نکاح ہوئے جناب والد صاحب مرحوم کے تین نکاح ہوئے ا گر یہ ثابت کردیں تو میرا حقہ ترك ورنہ تہمت لگانے والوں کا حقہ ترك ہوناچاہئے
الجواب :
آنکھ میں پھلی ہونا جبکہ وہ پتلیوں سے الگ ہو اور دیکھنے کو مانع نہ ہو نمازمیں اصلا کراہت کا بھی موجب نہیں اور سائل کے باپ پر یہ الزام لگانا کہ ان کے دو نکاح ہوئے اور ایك عورت بے نکاحی رکھی اول تو ایك مسلمان کی طرف نسبت زنا بلا تحقیق ہے اور یہ سخت حرام کبیرہ ہے اور تہمت رکھنے والے پر شرعا اسی ۸۰ اسی ۸۰ کوڑے کا حکم ہے ۔
ثانیا سائل پر اس کاکیا الزام تك یہ ثبوت قطعی نہ دیں کہ اس کی ولادت بے نکاح ہے اب طعن کرنے والے مستحق سزائے شدید ے ہیں جب تك توبہ نہ کریں ان کا حقہ پانی بند کیا جائے ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۱۹ : از کوچین ـــ ضلع ملیبار محلہ مٹانچیرمکان سیٹھ سلیمان قاسم مرسلہ میمن حاجی طاہر محمد مولانا ۲۰ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو خدا کو مجسم ٹھہرادے اس کی اقتداء کرکے نماز پڑھنا کیسا ہے
حوالہ / References القرآن ۶ / ۶۸
#11684 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
الجواب :
اس کی قتداء حرام ہے اور اس کے پیچھے نماز باطل ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۲۰ : از دہلی چاندنی چوك متصل گھنٹہ گھر مسجد باغ والی مرسلہ مولوی عبدالمنان صاحب ۱۶ رجب المرجب ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید قدیم الایام سے ایك مسجد کا پیش امام تھا اب بعض اہل محلہ نے اس سے برخلاف ہوکر ایك دوسرے امام کو کھڑا کردیا ہے اور اس سے پہلے امام میں کوئی عیب شرعی جس سے معزول ہوسکے نہیں پایا گیا اور پہلا امام ثانی کے کھڑا کرنے پر ناراض ہے اور کہتا ہے کہ میری اجازت کے سوا اس کے پیچھے نماز مکروہ ہے کیا اس امام اول کا کہنا ٹھیك ہے کہ امام ثانی کے پیچھے نماز مکروہ ہے یا نہیں
الجواب :
اگر واقع میں امام اول نہ وہابی ہے نہ غیر مقلد نہ دیوبندی نہ کسی قسم کا بد مذہب نہ اس کی طہارت یا قرأت یا اعمال وغیرہ کی وجہ سے کوئی وجہ کراہت بلاوجہ اس کو معزول کرنا ممنوع ہے حتی کہ حاکم شرع کو اس کا اختیار نہیں دیا گیا ۔ ردالمختار میں ہے :
لیس للقاضی عزل صاحب وظیفۃ بغیر جنحۃ ۔
بغیر کسی وجہ کے قاضی مقرر امام کو معزول نہیں کرسکتا ۔ (ت)
اور اگر واقعی اس میں کوئی وجہ کراہت ہے تو اس کی امامت مکروہ ہے اور اس کی نماز نا مقبول۔ صحاح احادیث میں ہے :
ثلثۃ لاترفع صلا تھم فوق اذانھم شبرا ( وعد منھم) من ام قوما وھم لہ کارھون ۔
تین اشخاص کی نماز ان کی کانوں سے ایك بالشت برابر بلند نہیں ہوتی(اور ان میں سے ایك وہ شخص ہے) جو کسی قوم کی امامت کروائے حالانکہ وہ لوگ اسے پسند نہ کرتے ہوں ۔ (ت)
اور اگر اس میں کوئی وجہ فساد نماز ہے مثلا غیر مقلد یا دیوبندی یا غیر صحیح الطہارۃ یا غیر صحیح القراۃ ہونا جب تو ظاہر ہے کہ اس کی امامت فاسد اور اس کے پیچھے نماز باطل محض اس کا معزول کرنا فرض ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الوقف مطلب لایصح عزل صاحب وظیفۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۳ / ۴۲۳
ف : ردالمحتار میں یہ عبارت اختلاف الفاظ کے ساتھ متعدد جگہ پر موجود ہے معنی متحد ہے ۳ / ۴۲۲ ، ۴۵۲ ، ۴۵۹ط نذیر احمد
سنن ابن ماجہ باب من ام قومًاوہم لہ کارھون مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۶۹
ف : سنن ابن ماجہ میں '' فوق اذانھم '' کی جگہ '' فوق رؤسھم '' ہے نذیر احمد سعیدی
#11686 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
مسئلہ ۷۲۱ : از باندی کوئی مرسلہ منشی عبدالرحمن ملازم ڈاك سفری ۸شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علماتے دین اس مسئلہ میں کہ زید بسبب ہونے حافظ قرآن ایك مسجد میں بخدمت پیش امامی وبرائے تعلیم قرآن طفلان اہل اسلام سنت وجماعت کے مقرر کیا گیا چند عرصہ بعد تك بظاہر کسی قسم کا فرق نہ معلوم ہونے سے ایك گروہ جاہلوں کے معتقد ومطیع زید ہوگئے ۔ جب زید دو تین لڑکوں کا حافظہ ختم کراچکا اور اپنا رسوخ پورا پورا جما چکا تو اپنے منصب امامت پر فخر کرنے لگا اور مسجد کو اپنی میراث جان کر کہنے لگا کہ مجھ کو اس مسجد سے کوئی ہٹانہیں سکتا غرض زید کا ایك شاگرد رشید بکر نامی جس کا حافظہ ختم ہوچکا تھا اس کی شادی ہوجانے کے بعد اس کے والد نے زید ہی کو زوجہ بکر کی تعلیم قرآن کے لئے مقرر کیا چند ہی عرصہ میں انگشت نمائی ہونے لگی یہاں تك کہ برسوں کے بعد معاملہ طول ہو کر ظاہر ہوا تو بکر سے طلاق دلایاگیا اور زید نے مطلقہ کو خود نکاح میں لاکر فخر یہ کہتا ہے اب تو موافق شرع کے حرام نہیں ہے چونکہ عورت جو ان زید سن رسیدہ تھا زید کے دباؤ میں نہ رہ کر آزادانہ روش اختیار کرکے پردہ بھی بالا ئے طاق رکھا اور زید کے جو جو ان پرانے شاگرد تھے ان سے خلا ملا رہنے لگا چونکہ زید دیکھنے والا نواب صدیق حسن بھوپالی کا ہے ہر موقع پر حق کو ناحق اور ناحق کو حق بتا کر جاہلوں کی سیدھا کرلیا کرتا تھا اس پر تھوڑے لوگ حق شناس تھے ان سے الگ رہنے لگا اس کے درمیان ایك لڑکا ولد الزنا پیدا ہوا اس کا عقیقہ کیا گیا یہی زید پیش امام صاحب شریك عقیقہ ہو کر بکرے کی کھال کی غرض سے خوب پلاؤ پر ہاتھ مارکر پکارنے لگے کہ عقیقہ کھاناجائز تھا ہرگز حرام نہیں جب اس پر بھی لوگ ان کی پیش امامی پر معترض ہوئے تو خودہی زید صاحب غیظ وغضب میں آکر چلا اٹھے کہ پیش امامی کرنے پر لعنت ہے میں تو ہرگز نماز نہیں پڑھاؤں گا جو مجھ پر اعتراض کرتے ہیں وہی پڑھائیں قہر درویش برجان درویش ایك ہفتہ تك نماز پڑھانے سے رکے رہے آخر جھك مارکر خود ہی نماز پڑھانے لگے اور لوگوں نے نماز پڑھی پس ان سب باتوں پر نظر ڈالتے ہوئے معلوم ہونا چاہئے کہ ایسے شخص کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں
الجواب :
اگر چہ لوگوں کی انگشت نمائی کا اعتبارنہیں اکثر محض باطل بدگمانی پر ہوتی ہے مگر زید کا بعد نکاح کہنا اب تو حرام نہیں ظاہرا اس پر دلالت کرتا ہے کہ پہلے حرام تھا تو یہ اقرار حرام ہوا اگر چہ یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کے پہلے تم مجھ پر ناحق بدگمانی حرام کرتے تھے اب تو حرام نہیں ۔ زن زید کی نسبت جو لکھا گیا ہے اگر برضائے زید ہے یا زید بقدر قدرت بندوبست نہیں کرتا تو دیوث ہے اور دیوث سخت اخبث فاسق اور فاسق معلن کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ۔ اسے امام بنانا حلال نہیں اور اس کے پیچھے نماز پڑھنی گناہ اور پڑھی تو پھیرنا واجب سائل نے کچھ نہ لکھا کہ زنا سے لڑکا کس کے پیدا ہوا اگر کسی دوسرے کے یہاں کایہ واقعہ ہے اور وہ عورت شوہردار ہے شوہر نے اسے اپنا بچہ ٹھہراکر عقیقہ کیا توبیشك اس میں کوئی حرج نہ تھا نہ اس کے کھانے میں کوئی حرج ۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
#11691 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
الولد للفراش وللعاھر الحجر ۔
صاحب نکاح کیلئے ولد (نسب) اور زانی کےلئے پتھر ہے (ت)
اور اگر عورت بے شوہر تھی اور اس نے عقیقہ کیا تو ازانجا کہ اس سے نسب قطعا ثابت ہے اور نسب فی نفسہ نعمت ہے فجعله نسبا و صهرا- ( اﷲ تعالی نے آدمی کےلئے رشتے اور سسرال بنائے)اگر چہ جہت سبب سے یہ صورت سخت بلا ہے اس عقیقہ کی تحریم یا اس کے کھانے کی حرمت ظاہر نہیں ہوتی خصوصا جبکہ علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ شراب پینے پر بسم اﷲ کہے توکافر ہے اور پی کر الحمداﷲ کہے تو نہیں کہ شراب اگر چہ بلا ہے مگر اس کا حلق سے اتر جانا اور اسی وقت گلے میں پھنس کر دم نہ نکال دینا اس شدید عصیان کی حالت میں رب عزوجل کی نعمت ہے۔ فصول عمادی و فتاوی ہندیہ میں ہے :
من اکل طعاماحراما وقال عند الاکل بسم اﷲ حکم الامام المعروف بمشتملی ( ھندیہ) انہ یکفر ولوقال عند الفراغ الحمدﷲ قال بعض المتاخرین لایکفر
جس نے حرام کھایا اور کھانے کے وقت “ بسم اﷲ “ پڑھی امام معروف مشتملی( ہندیہ) نے کہا کہ وہ کافر ہے اور فراغت کے بعد اگر “ الحمد ﷲ “ کہا تو بعض متاخرین نے کہا کہ اس سے وہ کافر نہیں ہوگا۔ (ت)
البتہ اگرزانی نے عقیقہ کیا تو وجہ نعمت اصلا منتفی ہے پھر بھی زنا پر شکر اس سے مفہوم نہیں ہوتا بلکہ بہت جہال یہ جانتے بھی نہیں کہ عقیقہ سے شکر مقصود ہے ایك رسم سمجھ کر کرتے ہیں اس صورت میں شرکت اور اس کا کھانا ضرور معیوب و شینع تھا۔ امامت پر لعنت توصریح کفر ہے مگر اس سے یہ مقصود ہوسکتا ہے کہ اگر یہ شخص امامت کرے تو اس شخص پر لعنت ہے یہ کیا تھوڑا ناپاك لفظ ہے زید کی امامت نامناسب خصوصا اگر صدیق حسن خاں کے مذہب پر ہو کہ ان حالات میں ضرور بددین ہے اور اسے امام بنانا حرام ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۲۲ : زید کچہر ی میں جاکر مقدمہ دائر کرتا ہے اور اس کی کوشش اور پیروی میں مصروف رہتا ہے اس کے لڑکے کی منکوحہ بیوی یتیم ہے اور کوئی دوسرا ذریعہ معاش کا بھی نہیں ہے اور اس کا لڑکا باہم کھاتے پیتے ہیں اور لڑکے کی منکوحہ بیوی کو اپنے یہاں بلاتے نہیں جس کی وجہ سے وہ سخت تکلیف میں ہے زید نے لڑکے کا نکاح ثانی بھی کرلیا آیا اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں اس کے واسطے شرع شریف میں کیا حکم ہے
حوالہ / References صحیح مسلم باب الولد للفراش مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۴۷۰
القرآن ، ۲۵ / ۵۴
فتاوی ہندیہ الباب التاسع فی احکام المرتدین مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۷۳
#11694 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
الجواب :
عورت کو بلانا نان و نفقہ دینا اچھا برتاؤ کرنا شوہر کے ذمہ ہے اس کے باپ کے ذمہ نہیں ۔ اﷲ تعالی ایك کا گناہ دوسرے پر نہیں رکھتا۔ ہاں اگر بلاوجہ شرعی باپ اسے بلانے سے منع کرتا ہے یاا س کے اس ظلم پر راضی ہے تو خود شریك ظلم ہے ۔ اگر وہ بات با علان کرتا ہے لوگوں میں اس کے ارتکاب سے مشہور ہے تو اسے امام نہ بنایا جائے گا کہ فاسق معلن ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۲۳ : از قطب پور ڈاکخانہ پیر گنج ضلع رنگ پور مسئولہ محمد رحمت اﷲ ۵ رمضان المبارك ۱۳۳۹ھ
سود کھانے والے اور دینے والے دونوں کے پیچھے نماز درست ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب :
سود خور کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے اور سوددینے والا اگر حقیقۃ صحیح شرعی مجبوری کے سبب دیتا ہے اس پر الزام نہیں ۔ درمختار میں ہے :
یجوزللمحتاج الاستقراض بالربح ۔
ضرورت مند کے لئے نفع کی بنیاد پر قرض حاصل کرنا جائز ہے۔ (ت)
اور اگر بلامجبوری شرعی سود دیتا ہے مثلا تجارت بڑھانے یا جائداد میں اضافہ کرنے یا اونچا محل بنوانے یا اولاد کی شادی میں بہت کچھ لگا نے کے واسطے سودی قرض لیتا ہے تو وہ بھی سود کھانے والے کے مثل ہے اور اسے امام بنانا بھی گناہ اور نماز کا وہی حال ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۲۴ تا ۷۲۶ : از ڈونگر پور ملك میواڑراجپوتانہ مکان سمندر خاں جمعدار مسئولہعبدالرؤف خاں ۵ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ :
(۱) کوئی آدمی عالم کے آنے سے مسجد میں آنا چھوڑدے اور حسد کرے اور وہ پیش امام بھی ہو اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں
(۲) کوئی عالم ہو اور پیش امام وقاضی شہر ہو خود سب سے مسائل بیان کرے اور سب کو سنائے اور سب کے پہلے جاکر بوہروں کے یہاں کا ذبح کیا ہو گوشت کھائے اور اس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں
(۳) جو شخص ہمیشہ مسجد میں دنیا کی باتیں کرتا ہو اور وہ پیش امام ہو اس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں بینوا توجروا
حوالہ / References الاشباہ والنظائر قاعدہ خامسہ درء المفاسد مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۱۲۶
#11696 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
الجواب :
(۱) ایسی اجمالی باتوں پر حکم نہیں ہوسکتا وہ کیسا عالم اور وجہ حسد کیا تاوقتیکہ تفصیل نہ معلوم ہواجمالی بات کا جواب نہیں دیا جاسکتا عالم علمائے دین ہیں اور وہابیہ وغیر ہم مرتدین بھی عالم کہلاتے ہیں اور وجو ہ منازعت بھی مختلف ہوتی ہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
(۲) جو شخص دانستہ بوہروں کا ذبیحہ کھاتا ہے مردار کھاتا ہے اسے امام بنانا جائز نہیں اور اس کے پیچھے نماز منع۔ واﷲ تعالی اعلم
(۳) فقط اتنا کہ دنیا کی بات مسجد میں کرتا ہے علی الاطلاق ممانعت امامت کا موجب نہیں جب تك علانیہ حد فسق کو پہنچنا ثابت نہ ہو اگر دنیا کی بات کرنے کےلئے بالمقصدمسجد نہیں جاتا نماز کےلئے بیٹھا ہے اور کوئی دنیا کی باتیں بھی کرلیں جن میں فحش وغیرہ معاصی نہ ہوں اگر چہ ایسابھی نہ چاہئے مگراس سے امامت پر کوئی اثرنہیں پڑتا۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۲۷تا ۷۲۸ : از موضع سہاون پور گاؤں گوپال گنج متصل ڈروہ ڈاکخانہ ڈروہ تحصیل گنڈہ ضلع پرتاب گڈھ مسئولہ بیخودشاہ ۸ رمضان ۱۳۳۹ھ
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ حنفی کی نماز شافعی کے پیچھے ہوسکتی ہے یا مکروہ ہوتی ہے
(۲) اور جو لوگ مولود شریف کو منع کرتے ہیں اور بدعت کہتے ہیں ان کے پیچھے حنفی کی نماز ہو سکتی ہے یامکروہ ہوتی ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
اگرمعلوم ہے کہ اس خاص نماز میں حنفی مذہب کے کسی فرض طہارت یا فرض نماز کا تارك ہے تو حنفی کی یہ نماز اس کے پیچھے نہیں ہوسکتی اور اگر معلوم ہے کہ وہ اس نماز فرض و شرط مذہب حنفی کا تارك نہیں تو یہ نماز اس کے پیچھے ضرور ہوسکتی ہے اگر چہ حنفی کے پیچھے اولی ہے اور اگراس نماز کا حال معلوم نہیں مگر اس کی عادت معلوم ہے کہ فرض وشرائط میں مذہب حنفی کی رعایت کرتا ہے تو اس کی اقتداء میں حرج نہیں اگر چہ حنفی اولی ہے اور اگر اس کی عادت معلوم ہے کہ فرائض وشرائط میں مذہب حنفی کی رعایت نہیں کرتا تو اس کے پیچھے نماز مکروہ ہے اور کراہت شدیدہ ہے پھر اگر ان دونوں صورتوں میں بعدکو معلوم ہوکہ اس نماز میں اس نے رعایت نہ کی تھی وہ نماز پھر پڑھنی ہوگی کہ صحیح یہی ہے کہ مذہب مقتدی کا اعتبار ہے اور اگر بعد کو ثابت ہے کہ اس نماز خاص میں رعایت کی تھی تو نماز ہوگئی اعادہ کی کچھ حاجت نہیں اور اگر اس کی عادت ہی کچھ معلوم نہ ہو تو اس کی اقتداء مکروہ ہے مگر حنفی امام کے پیچھے نماز نہ ملے تو جماعت نہ چھوڑے بعد کو ظہور حال کا
#11697 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
حکم وہی ہے جو ابھی گزرا۔ واﷲ تعالی اعلم
(۲) اب مجلس میلاد مبارك مطلقا ناجائز کہنے والے نہیں مگر وہابیہ اور وہابیہ مرتدین ہیں اور مرتد کے پیچھے نماز باطل ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۲۹ تا ۷۳۴ : از بھوساول ضلع خاندیس محلہ ستارہ مسئولہحافظ ایس محبوب ۷ رمضان ۱۹۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین :
(۱) زید نصاری کی تابعداری کرتا ہو وہ امامت کے لائق ہے یا نہیں
(۲) اگر ہے تو کن لوگوں کی نماز ہوتی ہے کن لوگوں کی نہیں
(۳) زید مسلمانوں میں نفاق ڈالے تو وہ قابل امامت ہے یا نہیں
(۴) زید حاکم وقت کی چوری میں گرفتار ہوا تو وہ قابل امامت ہے یا نہیں
(۵) زید باطنی غیر مقلد ہو اور اہلسنت کے دکھانے کو کہے کہ میں حنفی مذہب رکھتا ہوں اور اس پر یہ بھی ساتھ فخر کے کہے تو وہ امامت لائق یا نہیں
(۶) ایك مسلمان عزت دارامامت کرتا ہو مگر دوچار مسلمانوں کے منحرف کر دینے سے ایك شخص اس پر الزام لگائے کہ یہ شخص اما مت کے لائق نہیں اوروہ لوگ احادیث وغیرہ سے واقف نہ ہو ں اور مسلمانو ں میں نااتفاقی کرائیں تو ان کے لئے کیا حکم ہے آیا وہ استغفار کے حقدار ہیں یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
(۱) سائل نے تابعداری کا گول اور مجمل لفظ لکھا تابعداری نصاری کی ہو یاہنود کی یا مسلم کی حلال میں حلال ہے حرام میں حرام ہے کفر میں کفر۔ جو کفر میں کسی کی تابعداری کرے وہ کافر ہے اور س کے پیچھے نماز باطل اور جو حرام میں اتباع کرتا ہو فاسق ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ اور جو حلال میں اطاعت کرے اس پر الزام نہیں نہ اس وجہ سے اس کی امامت میں حرج ۔ واﷲ تعالی اعلم
(۲) جو امامت کے لائق ہے اس کے پیچھے سب کی نماز ہوسکتی ہے اس صورت میں خاصہ کو یہاں دخل نہیں کہ ادمی ایك خاص قسم کے لوگوں کی امامت کرسکتا ہودوسرے لوگوں کی اس کے پیچھے نماز جائز نہ ہو جیسے معذور کہ اپنے مثل معذور کی امامت کرسکتا اوروں کی نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
(۳) مجمل سوال ہے بارہا مسئلہ حق بیا ن کرنے سے جاہلوں میں اختلاف پرتا ہے اور احمق یا بددین لوگ اسے نفاق ڈالنا کہتے ہیں یہ وجہ الزام نہیں ہوسکتا سائل مفصل لکھے کہ کیا کہتا اور کیا نفاق ڈالتا ہے واﷲ تعالی اعلم
(۴) اگر توبہ کرچکا اور اس سے نفرت قلوب میں نہ رہی اور کوئی وجہ مانع امامت نہ ہو تو اس کی امامت میں حرج
#11703 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
نہیں واﷲ تعالی اعلم
(۵) غیر مقلد کی امامت باطل ہے اور اس کے پیچھے نماز محض ناجائز اور جب اس کا غیر مقلد ہونا ثابت و تحقیق ہے تو اس کا براہ تقیہ اپنے آپ کو حنفی کہنا کچھ مفید نہیں ۔
قال اﷲ تعالی
اذا جآءك المنفقون قالوا نشهد انك لرسول الله-و الله یعلم انك لرسوله-و الله یشهد ان المنفقین لكذبون(۱) ۔
واﷲ تعالی اعلم
اﷲ تعالی نے فرمایا : جب منافق تمھارے حضور حاضر ہوتے ہیں توکہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں بیشك حضور ضرور اﷲ کے رسول ہیں اور اﷲ جانتا ہے کہ بیشك تم اس کے رسول ہو اور اﷲ گواہی دیتا ہے کہ بیشك منافق ضرور جھوٹے ہیں ۔
(۶) استغفار کا حقدار ہر مسلمان ہے۔
قال اﷲ تعالی
و استغفر لذنبك و للمؤمنین و المؤمنت- ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا : اور اے محبوب ! اپنے خاصوں اور عام مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگو۔ (ت)
اگر انھوں نے بیجاالزام لگایا ہے سخت گنہگار حق العبد میں گرفتار نفاق ڈالنے کا جواب نمبر۳میں ہوچکا مجمل باتوں پر قطعی حکم دے کر فتوی کو کسی غرض نفسانی کا مؤید نہیں کرسکتے ومن لم یعرف اھل زمانہ فھوجاھل (جواپنے زمانے کے احوال سے واقف نہیں وہ جاہل ہے ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۳۵ : از تحصیل سکندرہ راؤ ضلع علی گڑھ مسئولہ محمد لطیف قرق امین ۱۰ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی غیر صحیح النسل یعنی کسبی زادہ کے پیچھے جو حافظ قرآن ہو نماز پڑھنا اور خاص کر تراویح ادا کرنا درست ہے یا نہیں بینواتوجروا
الجواب : مکروہ تزیہی ہے اگر وہ سب حاضرین سے علم مسائل طہارت وصلاۃ میں زائد نہ ہو ورنہ وہی اولی اگر جملہ شرائط امامت کا جامع ہو کما فی الدرالمختار وغیرہ( جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۳۶ : از بریلی کانکر ٹولہ متصل چوکی پولیس پرانا شہر مسئولہعبدالغنی صاحب ۱۷ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ کس شخص کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے اور کس کس کے نہیں دیگر یہ کہ گاؤں کے
حوالہ / References القرآن ۶۳ / ۱
القرآن ۴۷ / ۱۹
#11704 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
کارندے کے پیچھے جو حال میں کارندگی کررہا ہو نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں اور حضور کو خوب روشن ہو گا کہ جس طرح کارندہ اپنی گزراوقات کے ذرائع نکالتے ہیں ۔ بینواتوجروا
الجواب :
ہر سنی صحیح العقیدہ صحیح القراۃ صحیح الطہارۃ غیر فاسق معلن جس میں کوئی بات ایسی نہ ہو کہ لوگوں کے لئے باعث نفرت اور جماعت کے لئے وجہ قلت ہو اس کے پیچھے نماز بلا کراہت جائز ہے ۔ گاؤں کے کارندے جن کا غبن اور اسامی وغیر ہم سے ناجائز پیسہ لینا ظاہر ومعروف ہو ان کو امام بنانا گناہ ہے اور ان کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ورنہ کارندگی خود کوئی گناہ نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۳۷ : از شہر محلہ باغ احمد علی خاں مسئولہنیاز علی ۴ ربیع الآخر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ پانچ آدمی باوجود مسجد میں جماعت ہورہی ہے شامل نہیں ہوتے بعد ختم جماعت کثیر پانچوں آدمی علیحدہ جماعت پڑھتے ہیں یا مسجد میں پڑھنے آتے ہی نہیں ۔ امام مسجد جو عرصہ سے امامت کررہا ہے اور اپنا عقیدہ ذیل بیان کرتا ہے اس کو وہ برا کہتے ہیں ایسے کے لئے کیا حکم ہے اور ان کے ساتھ کیا برتاؤ ہونا چاہے (عقیدہ پیش امام مسجد کایہ ہے ) “ میں مذہب اہلسنت وجماعت پر عمل کرتا ہوں ۔ میرا یہی مذہب ہے اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا مقلد ہوں اﷲ عزوجل کی توحید اور جناب رسالتمآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو بعد خدا کے تمام مخلوق سے افضل جانتا ہوں کرامات اولیاء و بزرگان دین کا قائل ہوں ۔ “ ایسا امام اگر وہابی ( جو فی زمانہ مشہور کردئے گئے ہیں ) کے مدرسہ میں پڑھنے کو چلا جائے اس کی امامت جائز ہے یا نہیں
الجواب :
صورت مسئولہ میں پیش امام موصوف کی امامت بلاشبہ صحیح و درست ہے جب پیش امام اپنا حنفی ہونا بیان کرتا ہے اور عقیدہ مطابق اہلسنت وجماعت رکھنے کا مدعی ہے اور اس کے کسی قول وفعل سے اس کا خلاف ثابت نہیں ہوتا تو محض کسی وہا بی کے مدرسہ میں پڑھنا یا بالفرض کسی پاٹ شالہ یا اسکول میں تعلیم حاصل کرنا ہرگز صحت امامت کےلئے قادح نہیں ہو سکتا کیونکہ احکام شرعیہ کا مدار ظاہر پر ہے ہم شق قلب پر مامور نہیں وہ اشخاص جومختلف عن الجماعۃ ہیں اگر کوئی عذر شرعی رکھتے ہوں تو معذور رہیں گے اور اگر محض عصبیت ونفسانیت کی جہت سے شریك جماعت نہیں ہوتے تو وہ فاسق مردود الشہادۃ قابل تعزیز ہیں اہل محلہ کو ان سے سلام وکلام ترك کردینا چاہئے ۔ العبد المجیب محمد عبداﷲ کان اﷲ لہ ۔ صحیح ہے محمد منور العلی غفرلہ۔ الجواب صحیح محمد واحد نور عفی عنہ ۔
الجواب :
یہ فتوی محض غلط ہے اس میں اصل بحث سے پہلو تہی کی گئی ہے اور بے علاقہ روایتیں محض فضول نقل کردیں
#11711 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
اس پر انہی لوگوں کے دستخط ہیں جو خود دیوبندی خیال کے ہیں یا کم از کم دیوبندیوں کو کافر نہیں کہتے وہ تو ایسا کہا ہی چاہیں حالانکہ علمائے حرمین شریفین باتفاق فتوی دے چکے کہ گنگوہی ونانوتوی وانبیٹھی وتھانوی سب مرتد ہیں اور بحوالہ بزازیہ ومجمع الانہر ودرمختار تحریر فرمایا ہے کہ جوان کے کفر میں شك کرے وہ بھی کافر ہے۔ عقائد اہلسنت کا مدعی ہونا یا اپنے آپ کو حنفی کہنا یا توحید ورسالت وافضلیت وکرامت کا اپنے آپ کو قائل بتانا ان میں سے کون سی بات کا وہابیہ ودیوبندیہ اقرار نہیں کرتے اور پھر کافر ہیں ایسے کہ جوان کے کفر میں شك کرے وہ بھی کاف بلکہ چاروں باتوں کے مقرقادیانی تك ہیں اور اپنے آپ کو مقلد امام ابوحنیفہ بھی کہتے ہیں کیا اس سے ان کا کفر اٹھ گیا۔ شریعت بیشك ظاہر پر حکم فرماتی ہے اور ظاہر یہی ہے کہ آدمی جسے کافر مرتد جا نے گا اس سے علم دین نہ پڑھے گا پاٹ شالہ اور اسکول کی مثال جہالت ہے کیا کوئی پنڈتوں پادریوں سے قرآن عظیم وحدیث و فقہ پڑھنے جاتا ہے اور بفرض غلط اگر وہابیہ سے پڑھنے والا عقائد وہابیہ کی طرف مائل نہ بھی ہو اور انھیں کافر مرتد جانتا ہو جب بھی انہیں استاد بنانا ا ن کی تعظیم کرناتو ہے اور ائمہ دین نے فرمایا جو کسی مجوسی کو تعظیما “ یا استاذ “ کہے وہ کافر ہوجاتا ہے فتاوی ظہیریہ و اشباہ والنظائر و تنویر الابصار و منح الغفارودرمختار وغیرہا میں ہے : ولو قال لمجوسی یا استاذ تبجیلا کفر (اگر کسی نے مجوسی کوتعظیما “ یا استاذ “ کہا تو کافر ہوجائیگا ۔ ت)جب صرف تعظیما “ یا استاذ “ کہنے پر یہ حکم ہے تو مرتد حقیقۃ استاذ بنانا اور اقسام تعظیم بجالانا کیسا ہوگابلا شبہ ایسا شخص امام بنانے کے قابل نہیں جس کے دل میں دین کی عظمت ہے ہر گزاسے امام نہ بنائے گا نہ اس کے پیچھے نماز پڑھے گا ہاں جو شخص دین کوہنسی کھیل سمجھے وہ جو چاہے کرے اﷲ تعالی مسلمانوں کو ہدایت دے کہ اپنی نمازیں برباد نہ کریں ہم اس کی ایك آسان پہچان بتا دیتے ہیں اس فتوی میں جن جن لوگوں کے دستخظ ہیں ان سے سوال کرو کہ “ حسام الحرمین شریف “ میں تمام علمائے حرمین شریفین نے جن جن وہابیوں کونام بنام کافر و مرتد لکھا ہے اور فرمایا ہے جو ان کے کفر میں شك کرے وہ بھی کافر آیا تم لوگ بھی انھیں کافر و مرتد کہتے ہو دیکھو ہر گز نہ کہیں گے تو صاف معلوم ہوا کہ یہ بھی متہم ہیں تو ان سے فتوی لینا کس طرح حلال ہوا اور اس پر عمل کون سی شریعت نے جائز کیا۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۳۸ : ازبالسك مسئولہ قاضی محمد سلیم ۲۷جمادی الاخری ۱۳۳۹ھ
اگر حنفی مذہب کا امام اس برات اورولیمہ میں شامل ہو جس میں مرزائی اوروہ شخص ہو جس نے کہ اپنے لڑکے کا نکاح اس عورت سے پڑھا لیا جس کو طلاق ثلاثہ چھ سال دی رکھی اور بغیر حلالہ کے نکاح پڑھا لیا ہو ایسے امام کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں خلاصہ یہ کہ جو امام علم والا حنفی مذہب کا اس برات یا ولیمہ میں شامل
حوالہ / References درمختار ، کتاب الحظر والا باحۃ فصل فی البیع مطبوعہ مجتبائی دہلی ۲ / ۲۵۱
#11712 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
ہو جائے جس میں کہ مرزائی وغیرہ کارکن ہو اس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں آیا اس کے لئے کوئی تعزیر وغیرہ ہے اور جس کے گھر شادی ہووہ بھی اپنے عقائد کا پورا لعین مرزائیوں کو اچھا مسلمان سمجھتا ہے ۔ فقط
الجواب :
فقط اتنی بات کہ جس برات یاولیمہ میں یہ شریك ہوا اس میں قادیانی مرتد اپنی تین طلاق کی مطلقہ سے بے حلالہ نکاح کرنے والا فاسق بھی تھا ایسا نہیں کہ اس نے اس کی امامت ناجائز کر دی ہاں اگر صاحب خانہ مرزائیوں کو مسلمان جانتا ہو تو وہ خود ہی مرتد ہے اور اس کے یہاں تقریب میں جانا حرام اگر امام جانتا تھا اور پھر اس کا مرتکب ہوا تو یہ اگر اس بنا پر ہوا کہ اما م خود بھی مرزائی کو کافر نہیں جانتا تو وہ آپ ہی کافر ہے اور اس کے پیچھے نماز باطل اور اگر اس کو کافر جان کر ہی شریك ہو اتو گنہ گار ہوا اور اس سے توبہ لی جائے اگر توبہ سے انکار کرے یا بارہا ایسی شرکت کرچکا ہو تو اسے امام بنانا گناہ ہے امامت سے معزول کیا جائے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۳۹ : ازناگپور ممالك متوسطہ محلہ گانجہ کا کھیت مسئولہ چاند میاں لعل محمد سوداگر ۱۷رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ایك شخص جو چوڑی پہنانے کا پیشہ کر تے ہیں ان کو امام بنایا ایك صاحب نے اعتراض کیا کہ ان کی اقتدا بوجہ چوڑی پہنانے کے ناجائز اور امامت مکروہ تحریمی ہے اور خود معترض پیشہ طبابت کرتے ہیں بوجہ نباضی ومس دیگر اعضاء مستورات وہی اعتراض اس پر واقع ہوگا یا نہیں بہت زیادہ حصہ جماعت کا اس امام کی اقتداء پر رضا مند ہے تو کوئی نقصان شرعی قائم رہتا ہے یا نہیں بینوا وجروا۔
الجواب :
جماعت کی رضا عدم رضا کو اس وقت دیکھا جاتا جب شرعی نقصان نہ ہو جہاں شرعی عدم جواز ہے مقدیوں کی رضا کیا کام دے سکتی ہے بلاشبہ اجنبیات کو چوڑی پہنانا ا ن کی کلائی کا دیکھنا یا ہاتھ کا مس کرنا حرام ہے اور اس کا پیشہ رکھنے والا فاسق معلن اور اسے امام بنانا گناہ اور اسے کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب اور طبیب کا اس پر قیاس صحیح نہیں طبیب کا نبض دیکھنا حاجت کے لئے ہے اور ایسی حاجت وضرورت کہ دیگر اعضاء مس بھی جائزہے رہا یہ کہ وہ نیت فاسدہ کرے یہ ضرور اسے حرام ہے مگر اس کا علم اﷲ عزوجل کو ہے ہاں بلا حاجت مس و نظر جائز کرتا ہوتو و ہ بھی فاسق ہے اوراسی اعتراض کا مستحق ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۴۰ : از بھنڈارامحلہ کھم تالاب مسئولہ نجم الدین ریڈر ڈپٹی کلکٹر ۱۹رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ایك حافظ نماز پنجگانہ و جمعہ کے امام ہیں جن کی جسمی حالت بسبب مرض حسب ذیل ہے آیا ان کے پیچھے نماز ہوتی ہے یا نہیں
(۱) پیش امام صاحب ہر نماز میں سجدہ جاتے وقت نصف یا نصف سے کم جھك جانے پر اﷲ اکبر کی ابتدا کیا کرتے ہیں اور سجدہ سے اٹھتے وقت نصف یا زائد اٹھجانے پر اﷲ اکبرکی
#11718 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
ابتداء کیا کرتے ہیں یہ ا س لئے کرتے ہیں کہ مقتدی ا ن سے پہلے سجدے سے اٹھنے یا سجدے میں جانے نہ پائیں ۔
(۲) بقاعدہ مذہب حنفی دونوں زانوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے پہلے زمین پر گھٹنے بعد ازاں ہاتھ وغیرہ سجدے کے لئے مطلق نہیں رکھ سکتے اور اسی طرح کھڑے بھی نہیں ہوسکتے ۔
(۳) سجدہ میں جاتے وقت ایك دم لمبے ہوکر دونوں ہاتھ زمین پر رکھتے ہیں اور پیروں کو برابر کیا کرتے اور اسی طرح سجدے سے اٹھتے وقت بھی لمبا ہوکر اٹھا کرتے ہیں کیونکہ ان کے دونوں پیر مرض سے بیکار ہوگئے ہیں ۔
(۴)بایاں پیر گھٹنے کے نیچے زیادہ تر بیکار ہے اس لئے ہر جلسہ میں پیر بچھانے کے لئے انھیں دقت ہوتی ہے اکثر ہاتھ سے پیر اٹھا کر بچھاتے ہیں تب بیٹھتے ہیں یا بعض موقع پر اونٹ کی بیٹھك کی مانند بیٹھ کر دوسرا سجدہ کرلیتے ہیں ۔
(۵) قرأت میں دم پھولتا ہے دم بدم منہ سے سانس خارج کرتے ہیں بے محل وقف ہوجایا کرتا ہے ایسے امام کے پیچھے نماز ہوجاتی ہے یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
یہ پانچوں باتیں کہ سوال میں لکھی ان میں سے کوئی مانع صحت نماز نہیں نہ ان میں کہیں فعل کثیرہے یہ محض گمان غلط ہے ان میں کہیں ترك واجب بھی نہیں سوائے صورت چہارم کی اس شق کے کہ بعض وقت دو سجدوں کے درمیان سیدھے نہیں بیٹھتے صرف یہ صورت ترك واجب کی ہے اس سے اسے ممانعت کی جائے اگر وہی علم وتقوی میں زائد ہے تو اسی کی امامت رکھیں ہاں اگر اسی کا کوئی استحقاق نہیں اور دوسرے اس سے احق موجود ہیں تو جو احق ہے اسی کی امامت اولی ہے۔
ففی الحدیث عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اجعلو اائمتکم خیارکم فانھم وفد کم فیما بینکم و بین ربکم ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ارشاد مبارك ہے : اپنے امام اپنے سے بہتر لوگوں کو بناؤ کیونکہ وہ تمھارے اور تمھارے رب کے درمیان نمائیندہ ہوتے ہیں (ت)
اور اسے چاہئے کہ سجدہ کو جاتے یا سجدہ سے اٹھتے وقت اﷲ اکبر کی ابتداء کرے اور ختم انتقال پر ختم کرے مقتدیوں کی رعایت جو وہ کرتا ہے عکس مقصود شرع ہے : حدیث میں فرمایا :
انما جعل الاما لیوتم بہ
(امام
حوالہ / References سنن الدارقطنی ، ب تخفیف القراء ۃ الحا جۃ ، مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان ، ۲ / ۸۸
صحیح البخاری باب الصلوٰۃ فی السطوح الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۵
#11721 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
اس لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اتباع کی جائے ۔ (ت)
یہ بات کہ ایسا نہ کرے تو مقتدی اس سے پہلے سجدہ کرلیں گے اس کا لحاظ مقدیوں پر ضرور ہے جب اسے سجدہ تك پہنچنے میں دیر ہوتی تو یہ انتظارکریں اور ایسے وقت سجدہ کو جھکیں کہ اس کے ساتھ سجدہ میں پہنچیں بذلك امرالنبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اصحابہ رضی اللہ تعالی عنہم (نبی اکرم صلی اﷲ تعالیی علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ تعالی عنہم کویہی حکم دیا ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۴۱ : ازہوڑہ ڈاك خانہ سلکھیا گھڑی محلہ بھوٹے بگان اصغرچائے والے کا باڑا مسئولہ شیخ سمن ۲۳رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو لوگ علمائے حرمین طیبین کو بدعتی بتائیں ان کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
مطلقا علمائے حرمین شریفین کو بدعتی وہی بتائے گا جو وہابی ہو اور وہابی کے پیچھے نماز باطل محض ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۴۲ : از مطبع شمس المطابع فرخ نگرضلع گوڑگانواں مسئولہ حکیم شمس الدین مالك مطبع ۲۸رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امور ذیل کرنے والے کی امامت جائز ہے یا نہیں اور اس کی بابت کیاحکم ہے باوجود نہ یاد ہونے قرآن کے کریم کے درمیان کلام مجید سے کچی پکی یاد پر نماز جمعہ میں قرأت شروع کردیتا ہے جس کی وجہ سے اکثر بلکہ عموما نماز جمعہ میں بھول جانے کی وجہ سے نماز دہرائی جاتی ہے خطبہ بھی صحت لفظی کے ساتھ نہیں پڑھتا ہے سمجھانے پر لوگوں کو مغلظات بکنا شطرنج سے باہر ہونے کے سبب کھیلنے والوں کو ان کے پاس بیٹھ کر چال بتانا ہمچو قسم کے لوگوں کے ساتھ کوئلے وغیرہ کی لکیروں سے طرح طرح کے پانسے بناکر کنکریوں کے ذریعہ سے مثل قمار بازان بغیر کسی شرط قائم کے کھیل کا کھیلنا ایسے شخص کےساتھ میل جول نشست برخاست رازداری رکھنی جو اپنے حقیقی پسرہ کی بیوہ سے اپنی زوجہ کی زندگی میں زنا کرتا ہے اور آئیندہ خواہش نکاح رکھتا ہے جس کو حالات مذکورہ کی وجہ سے اہل برادری نے بھی خارج کردیا ہے مسجد میں بیٹھ کر اپنے خانگی معاملات میں یا ناصح آدمیوں کو فحش اور مغلظات سنانا شخص مندرج صدر کی اعانت کرنےوالے کی بابت کیا حکم ہے جبکہ اس کی اعانت محض نفسانیت سے کرتے ہوں بصورت حالات مندرجہ صدرنمازجمعہ دوسری مسجد میں جائز ہے یا نہیں جبکہ ایك پرانا قصبہ مثل شہر کے ہو جس کی بنیاد شہر اور فرودگاہ افواج تواریخی حساب سے صدہا سال سے مع آبادی اہل اسلام ثابت ہے اورنمازی بھی تعداد شرعی سے زیادہ ہوجاتے ہوں ۔ روزہ کی حالت میں ایسے شخص کا آٹھ دس دفعہ غل کرنا جو بے صبری پر دال ہے۔ اصلی معاملہ پوشیدہ رکھ کر اپنے مطلب کی تائید میں سے فتوی حاصل کرنا ۔ بینواتو جروا
#11724 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
الجواب :
امام کو لازم ہے کہ نماز میں وہ سورت یا آیات پڑھے جو اسے پختہ طور پر یاد ہوں کچے یاد ہونے کی وجہ سے اگر غلطی کرتا ہے تو یہ دیکھا جائے کہ وہ غلطی کس قسم کی ہے اس سے فساد معنی یا کسی واجب کا ترك لازم آتا ہے یا نہیں اگر نہیں تو نماز دہرانا بے معنی ہے اور اس کا الزام جہالت پر ہے نہ کہ قرأت پر اور اگر ہاں تو بے شك ایسا شخص قابل امامت نہیں خطبہ میں صحت لفظی ہونا نماز کی طرح شرط نہیں ۔ ہاں ایسا خطبہ خلاف سنت ہے ۔ مغلظات بکنا فسق ہے۔ حدیث میں ارشاد ہوا کہ فحش بکا کرنا مسلمان کی شان نہیں ۔ ایسے شخص کی امامت مکروہ ہے ۔ شطرنج کھیلنے والوں کو چال بتانا اگر گوشہ تنہائی میں نہیں بلکہ برملا عام نطر گاہ میں ہے یا اس پر مداوت ہے تو یہ بھی فسق ہے قمار بازوں کی طرح پانسے بناکر ان سے کھیلنا بھی گناہ ہے اگرچہ کوئی شرط نہ لگائی جائے ۔ علمائے کرام نے فرمایا کہ شراب کے دور کی طرح پانی پینا حرام ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں ۔ من تشبہ بقوم فھو منھم (جو کسی قوم سے مشاہبت پیدا کرے وہ انہیں میں سے ہے۔ ت)بیوہ پسر کا جو واقعہ لکھا اگر واقعی ہے اور حسب عادت زمانہ لوگوں کی بدگمانی نہیں جس پر وہ تہمت لگانے والے خود اسی۸۰اسی۸۰ کوڑوں کے مستحق ہوں بلکہ ثبوت صحیح شرعی سے ثابت ہے تو ایسا شخص ہر گز میل جول کے قابل نہیں مسلمانوں کو اس کے پاس بیٹھنا منع ہے :
قال ﷲ تعالی و اما ینسینك الشیطن فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظلمین(۶۸)
اﷲ تعالی کا ارشاد مبارك ہے : اور اے سننے والے جب کہیں تجھے شیطان بھلا دے تو یاد کر آنے کے بعد ظالموں کے پاس مت بیٹھ۔ (ت)
اوراسے امام بنانا حرام فتاوی حجہ میں ہے :
لوقدمو فاسقایاثمون۔
اگر لوگوں نے فاسق کو امامت کے لئے مقدم کیا تو وہ گناہ گار ہوں گے۔ (ت)
مسجدمیں گالیا دینا سخت حرام اور بیت اﷲ کی بے ادبی ہے ان ناصحوں کی نصیحت پر گالیاں دینا اوربھی زیادہ خبیث اور
حوالہ / References جامع الترمذی باب ماجاء فی الفحش مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۱۹
مسند احمد بن حنبل از مسند عبداﷲا بن عمر مطبوعہ دارالفکر بیروت ۲ / ۵۰ ، ۹۲
القرآن ۶ / ۶۸
غنیہ المستملی شرح منیہ المصلی فصل فی الامامۃ ، مطوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۵۱۳
#11729 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
شریعت مطہرہ سے سرتابی ہے باطل پر اعانت حرام ہے
قال اﷲ تعالی و لا تعاونوا على الاثم و العدوان۪- ۔
اﷲ تعالی کا فرمان ہے : گناہ اور زیادتی پر باہم تعاون نہ کرو۔ (ت)
ایسا شخص جس کی امامت شرعا ممنوع ہے اگر جمعہ پڑھاتا ہو تو دوسری جگہ جمعہ پڑھیں جبکہ وہ قصبہ مصر شرعی ہو جہاں جمعہ صحیح وجائز ہے۔ فتح القدیر میں ہے : لانہ بسبیل من التحول (کیونکہ دوسری جگہ منتقل ہونا ممکن ہے۔ ت)
اور روزہ میں غل مچانا اور اظہار بے صبری کرنا مکروہ ہے حقیقت واقعہ چھپاکر علماء سے غلط فتوی لینا شریعت کو دھوکا دینا اور سخت حرام ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر۷۴۳ ۷۴۴ : ازمنصور پور ضلع مظفر نگر مسئولہ عبدالصمد صاحبسنی حنفی صوفی ۲۸رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ :
(۱) جس شخص میں بوجہ حرص کے طمع ہو اور ذلت کے ساتھ سوال کرنے کا عادی ہو باوجود معقول تنخواہ پانے کے ایسے بے حرمت آدمی کے پیچھے شرفا کی نماز کامل ہوسکتی ہے یا نہیں ۔
(۲) جو شخص یہ کہے کہ میں فلاں آدمی کا معین صورت میں محض نماز پڑھانے کے واسطے ملازم ہوں نماز جنازہ پأڑھانے سے یا کسی مقتدی کی اطاعت سے مجھے کیا کام ایسا آدمی قابل امامت ہے یا نہیں ۔ بینواتو جروا
الجواب :
(۱) بے ضرورت سوال حرام ہے ایسا شخص فاسق معلن ہے اسے امام بنانا گناہ ہے اس کے پیچھے عالم و جاہل سب کی نماز مکروہ تحریمی کی پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب ۔ واﷲ تعالی اعلم
(۲) اما م پر بلاوجہ مقتدی کی اطاعت لازم نہیں نہ اسے نمازجنازہ پڑھانا ضرور اس کے کہنے سے اس کی قابلیت امامت میں کوئی خلل نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۴۵ ۷۴۷ : از مدرسہ اہلسنت منظر اسلام مسئولہ مولوی عبداﷲ صاحب مدرس مذکورہ ۳ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں :
(۱) کسی مسجد میں جماعت تیار ہے لیکن اتنا وقت نہیں کہ دریافت کیا جائے کہ امام سنی ہے یا وہابی تو جماعت سے نماز پڑھنا چاہئے یا اپنی علیحدہ۔
حوالہ / References القرآن ۵ / ۲
فتح القدیر باب الامامۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۰۴
#11732 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
(۲)مسجد میں جماعت ہو رہی ہے اور امام میں نقص شرعی ہے تو جماعت چھوڑ کر فورا ہی اپنے فرض پڑھ سکتا ہے یا نہیں۔
(۳) عاق شدہ کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں ۔ بینوا تو جروا
الجواب :
(۱) جبکہ شبہ کی کوئی وجہ قوی نہ ہو جماعت سے پڑھے پھر اگر تحقیق ہو کہ امام وہابی تھا نماز پھیرے واﷲ تعالی اعلم
(۲) اگر امام میں ایسا نقص ہے کہ ا سکے پیچھے نماز باطل ہے مثلاوہابی ہے یا قرآن عظیم غلط پڑھتا ہے یا طہارت صحیح نہیں جب تو وہ نماز نماز ہی نہیں اگر صحیح جماعت کرسکتا ہو تو اس جماعت کے ہوتے ہوئے اپنی جماعت قائم کرے اگر فتنہ نہ ہو اور اپنی جماعت نہ مل سکے تو تنہا پڑھے اور اگر نقص ایسا ہے کہ اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے جیسے فاسق معلن تو دوسری جگہ جماعت کو چلا جائے ورنہ نہیں اس جماعت کے بعد دوسری جماعت کرے یا تنہا پڑھے اور اگر صرف کراہت تنزیہہ ہے تو اس جماعت کا ترك جائز نہیں شامل ہوجائے ۔ واﷲ تعالی اعلم
(۳) شرعا عاق وہ ہے جو بلاوجہ شرعی ماں باپ کو ایذا دے ان کی نافرمانی کرے۔ ایسا شخص فاسق ہے ۔ پھر اگر وہ یہ گناہ علانیہ کرتا ہے فاسق معلن ہے اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب اور اگر علانیہ نہیں کرتا تو اس کے پیچھے نماز مکروہ تنزیہی ہے کہ پڑھنی جائز اور پھیرنی مستحب اور اگر یہ ان کو ایذا نہیں دیتا غیر معصیت میں ان کی نافرمانی نہیں کرتا اگر چہ معصیت میں ان کا کہنا نہ مانتا ہواگر چہ اس سے ایذا ہوتا وہ عاق نہیں اگرچہ وہ سو بار کہیں کے ہم نے تجھے عاق کیا جب اس کے ذمہ مواخذہ شرعی نہ ہو تو اس کے پیچھے نماز میں حرج نہیں اگر چہ جاہل اسے عاق شدہ
سمجھیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۴۸ : ازسہرام برتلہ ضلع آرہ مسئولہ قدرت اﷲ ۵شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اعلم باسنۃ عالم باعمل سماع بالمزا میر سنتا ہے اور اس کی امامت جائز ہے اور اس کی امامت میں کراہت ہے یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
مزامیر حرام ہیں ان کا سننا عالم باعمل کا کام نہیں کما بیناہ فی اجل التحبیر فی حکم السماع بالمزامیر(جیسا کہ اسے اجل التحبیر فی حکم السماع بالمزامیر میں بیان کیا گیا ہے۔ ت) اگر اعلانیہ اس کا مرتکب ہو اسے امام نہ کریں اور کراہت سے کسی حال خالی نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۴۹ : ازسرکار اجمیر مقدس لنگر گلی مسئولہ حکیم غلام علی ۶شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام جامع درگاہ شریف حضرت خواجہ غریب نوازرحمۃ اﷲ تعالی
#11739 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
علیہ بعد ہر نماز یہ کہتا ہے کہ اے خداوند کریم! غیر شرع داڑھی منڈے جھوٹے دعویداران خلافت کو سچا دعویدار خلافت بنادے۔ اور جب کبھی وہابیوں کاذکر آتا ہے تو ان کے مولویوں کو جو مولوی خلافت کو اپنے پیٹ بھرنے کا پیشہ بناتے ہیں اور ان کے سب پیرؤوں کو خوب برا کہتا ہے اس کے پیچھے بموجب شریعت مطہرہ نماز پڑھنا جائز ہے اور جو مولوی اس کے پیچھے نماز پڑھنا حرام بتائے اس کے لئے شرعا کیا حکم ہے اگر یہ بحث مسجد میں ہو تو مسجد کی توہین ہوتی ہے یا نہیں بینوا بالتفصیل توجروا عندالرب الجلیل۔
الجواب :
اس دعا میں کوئی حرج نہیں اور وہابیہ کی برائی بیان کرنا فرض ہے یونہی جھوٹے مدعیان خلافت اور اس نام سے شکم پروران پر آفت کی شناعت سے مسلمانوں کو آگاہ کرنا ضرور ہے اور مسجد کہ مجمع مسلمانان ہو ان بیانوں کا بہتر موقع ہے اور اس میں مسجد کی کچھ توہین نہیں کہ مساجد ذکر اﷲ کے لئے بنائی گئی ہیں اور نہی عن المنکر اور بیان شناعت گمراہاں اعظم طرق ذکراﷲ واجل احکام شریعۃ اﷲ سے ہے۔ حدیث میں ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اترعون عن ذکر الفاجرمتی یعرفہ الناس اذکروالفاجر بمافیہ یحذرہ الناس ۔
کیا فاجر کو برا کہنے سے پرہیز کرتے ہو لوگ اسے کب پہچانیں گے فاجر کی برائیاں بیان کرو کہ لوگ اس سے بچیں
صحیح بخاری میں ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ تعالی عنہ کےلئے مسجد کریم مدینہ طیبہ میں منبر بچھاتے کہ وہ اس پر کھڑے ہوکر مشرکین کا رد فرماتے
حوالہ / References نوادرالاصول للترمذی الاصل السادس والستون والمائۃ الخ مطبوعہ دارصادر بیروت ص۲۱۳
ف : اس حدیث کا پہلا لفظ نوادر الاصول میں ''أتورعون'' ہے جبکہ دیگر متعدد کتابوں میں ''اترعون''مذکور ہے۔ نذیر احمد سعیدی
مشکوٰۃ المصابیح الفصل الثالث ازباب البیان والشعر مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی حصہ دوم ۲ / ۴۱۰
ف : یہ حدیث ترمذی ۲ / ۱۰۷ ، سنن ابی داؤد ۲ / ۳۲۸ ، مستدرك ۳ / ۴۷۸ ابن عساکر ۴ / ۱۲۹ ، شرع السنۃ ۱۲ / ۳۷۷
وغیرہ متعدد کتابوں میں موجود ہے حدیث کا یہ حصہ صحیح بخاری سے مجھے نہیں مل سکااورصاحب تحفۃ الاحوذی اسی حدیث کے تحت لکھتے ہیں : قال صاحب المشکٰوۃ بعد ذکر ھذاالحدیث اخرجہ البخاری وقال الحافظ فی الفتح بعد ذکرہ وعزوہ الی الترمذی مالفظہ وذکر المزی فی الاطراف ان البخاری اخرجہ تعلیقأ نحوہ واتم منہ لکنہ لم ارہ فیہ انتھی ( تحفۃالاحوذی مطبوعہ بیروت ۴ / ۳۲) نذیر احمد سعیدی
#11741 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
ان وجوہ امام مذکور کی امامت میں اصلا کوئی خلل کیا کراہت بھی نہیں اورجو اس سبب سے اس کے پیچھے نماز حرام بتاتا ہے اﷲ عزوجل ونبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم و شریعت مطہرہ پر افترا کرتا ہے اس پر توبہ فرض ہے ورنہ سخت عذاب نار وغضب جبار کا مستحق ہوگا۔
قال اﷲ تعالی
ان الذین یفترون على الله الكذب لا یفلحون(۱۱۶) متاع قلیل۪-و لهم عذاب الیم(۱۱۷) وقال اﷲ تعالی
ویلكم لا تفتروا على الله كذبا فیسحتكم بعذاب- ۔
والعیاذ باﷲ واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا : وہ جو اﷲ پر جھوٹا افترا اٹھاتے ہیں فلاح نہ پائی ں گے دنیا کا تھوڑا برت لینا ہے اور ان کے لئے دردناك عذاب ہے۔
اﷲ تعالی نے فرمایا : تمھاری خرابی ہو اﷲ پر جھوٹ نہ باندھو کہ تمھیں عذاب میں بھون ڈالے گا۔
مسئلہ نمبر ۷۵۰ : ازتلوندی رائے ضلع لودھیانہ پنجاب مسئولہ اقبال محمد ۷ شوال۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہمارے یہاں ایك سید صاحب ہیں قرآن کریم کو کافی درست پڑھتے ہیں ایك نہایت ہی اعلی بزرگ کے مرید ہیں ان بزرگ سے ان کوخلافت کا رتبہ مل گیا ہے قرآن مجید اچھا پڑھنے کی وجہ سے اکثر مسجد میں امامت کرتے ہیں لیکن سید موصوف نے ایك شغل اختیار کیا ہے وہ یہ کہ ایك باعزت نمازی تہجد خواں پرہیز گار نوجواں کا پیر بھائی ہے اور دو چار یوم پہلے سید صاحب نامعلوم ظاہری و باطنی اس کو دوست سمجھتے تھے مگر اب لوگوں کو ان کے چند آدمیوں کے خلاف قطع تعلق کی ترغیب دیتے ہیں حالانکہ وہ بے قصور ہیں اور بلاوجہ سید صاحب وغیرہ نے ان کو ذلیل کرنے کے لئے یہ حرکت کی ہے کہ ایك بڑے مجع میں سید صاحب نے بیٹھ کر قرآن شریف درمیان رکھ کر اہل مجلس کو علانیہ کہا کہ ان چند آدمیوں سے قطع تعلق کی قسم کھاؤ اور قرآن عظیم کو ہاتھ لگاؤ کہ ہمارا یہ قول تا زندگی رہے گا۔ آیا سید صاحب موصوف امامت کے قابل ہیں یا نہیں اگر ہیں تو کیا وہ بھی ان کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں جن کے ساتھ خواہ مخواہ بلاوجہ ایسا سلوك کیا گیا ہے۔ بینوا توجروا
الجواب :
اگر یہ واقعی بات ہے کہ سید صاحب مذکور نے ان مسلمانوں سے بلاوجہ شرعی محض کسی خصوصیت دنیوی کے سبب اپنے پیر بھائی اور مسلمانوں سے قطع تعلق کیا اور ہمیشہ کے لئے کیا اور علانیہ برسر مجلس کیا تو قابل امامت نہ رہے
حوالہ / References القرآن ۱۶ / ۱۱۶ / ۱۱۷
القرآن ۲۰ / ۶۱
#11746 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
اوران کو امام بنانا منع ہے جب تك اس حرکت سے علانیہ توبہ نہ کریں کہ بلاوجہ شرعی تین دن سے زیادہ مسلمانوں سے قطع تعلق حرام ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لا یحل لرجل یھجر اخاہ فوق ثلث لیال یلتقیان فیعرض ھذا ویعرض ھذا وخیرھما الذی یبدأ بالسلام ۔ رواہ الشیخان عن ابی ایوب انصاری رضی اﷲ تعالی عنہ۔
آدمی کو حلال نہیں کہ اپنے مسلمان بھائی کو تین رات سے زیادہ چھوڑے راہ میں ملیں تو یہ ادھر منہ پھیر لے وہ ادھر منہ پھیر لے اور ان میں بہتر وہ ہے جو پہلے سلام کرے یعنی ملنے کی پہل کرے۔
بخاری و مسلم نے اسے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ دوسری حدیث میں فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
لایحل لمؤمن ان یھجرمؤمنا فوق ثلث فان مرت بہ ثلث فلیلقہ فلیسلم علیہ وان ردعلیہ السلام فقد اشترکا فی الاجر فان لم یرد علیہ فقد باء بالاثم وخرج السلم من الھجرۃ ۔ رواہ ابوداؤد عن ابی ہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
کسی مسلمان کو حلال نہیں کہ کسی مسلمان سے تین رات سے زیادہ قطع کرے جب تین راتین گزر جائی ں تو لازم ہے کہ اس سے ملے اوراسے سلام کرے اگر سلام کا جواب دے تو دونوں ثواب میں شریك ہوں گے اور وہ جواب نہ دے گا تو سارا گناہ اسی کے سر رہا یہ سلام کرنے والا قطع کے وبال سے نکلے گا۔ اسے ابو داؤد نے حضرت ابو حریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ۔
تیسری حدیث میں فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
لایحل لمسلم ان یجھر اخاہ فوق ثلث فمن ھجر فوق ثلث فمات دخل النار ۔ رواہ احمد و ابو داؤد
مسلمان کو حرام ہے کہ مسلمان بھائی کو تین رات سے زیادہ چھوڑے جو تین رات سے زیادہ چھوڑے اوراسی
حوالہ / References صحیح بخاری باب الہجرۃ از کتاب الادب مطبوعہ قدیمی کتب خانہ اصح المطابع کراچی ۲ / ۸۹۷ ، صحیح مسلم باب تخریج الہجرۃ فوق ثلاثۃ ایام مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ۲ / ۳۱۶
سنن ابی داؤد باب فی ہجرۃ الرجل اخاہ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۳۱۷
مسند احمد بن حنبل ازمسند ابی ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۲ / ۳۹۲ ، سنن ابوداؤد باب ہجرۃ الرجل اخاہ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۳۱۷
ف : مسند احمد بن حنبل کے الفاظ اس طرح ہیں لا ھجرۃ فوق فمن ھجراخاہ فوق ثلاث فمات دخل النار۔ نذیر احمد
#11751 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
عنہ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
حالت میں مرے وہ جہنم میں جائے گا۔ امام احمد بن حنبل اور ابوداؤد نے اسے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ت)
معلوم ہوا کہ یہ کبیرہ ہے کہ اس پر وعید نار ہے اور کبیرہ کا علانیہ مرتکب فاسق معلن اور فاسق معلن کو امام بنانا گناہ اوراس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب ۔ فتاوی حجہ میں ہے : لوقد موافاسقایاثمون (اگر انھوں نے فاسق کو مقدم کیا تو گنہ گا ر ہوں گے۔ ت)تبیین الحقائق میں ہے :
لان فی تقدیمہ للامامۃ تعظیمۃ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعا ۔
کیونکہ امامت کے لئے فاسق کی تقدیم میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ اس کی اہانت شرعا واجب ہے(ت)
اور اس میں برابر ہیں وہ جن سے سیدصاحب نے قطع تعلق کیا اور وہ جن سے قطع نہ کیا سب کی نماز ان کے پیچھے مکروہ تحریمی ہوگی جب تك توبہ نہ کریں۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر۷۵۱ ۷۵۲ : از قصبہ رچھاروڈ ضلعبریلی مسئولہ حکیم محمد احسن صاحب ۹شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں کہ :
(۱) فاسق فاجر کے پیچھے جب کوئی نماز پڑھانے والا نہ ہو نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں ۔
(۲) ماہی گیر کے پیچھے نماز جائز ہے نہیں ۔ بینوا تو جروا
الجواب :
(۱)اگر علانیہ فسق وفجور کرتا ہے اور دوسرا کوئی امامت کے قابل نہ مل سکے تو تنہا نماز پڑھیں ۔
فان تقدیم الفاسق اثم والصلاۃ خلفہ مکروھۃ تحریما والجماعۃ واجبۃ فھما فی درجۃ واحدۃ ودرء المفاسد اھم من جلب المصالح۔
کیونکہ تقدیم فاسق گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے اور جماعت واجب ہے پس دونوں کو درجہ ایك ہوا لیکن مصالح کے حصول سے مفاسد کو ختم کرنا اہم اور ضروری ہوتا ہے۔ (ت)
اور اگر کوئی گناہ چھپا کر کرتا ہے تو اس پیچھے نماز پڑھیں اور اس کے فسق کے سبب جماعت نہ چھوڑیں
حوالہ / References غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامامۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۵۱۳
تبیین الحقائق باب الامامۃ المطبعۃ الکبر ی الامیر یہ بولاق مصر ۱ / ۱۳۴
#11755 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
لان الجماعۃ واجبۃ والصلاۃ خلف فاسق غیر معلن لا تکرہ الاتنزیھا۔ واﷲ تعالی اعلم
کیونکہ جماعت واجب ہے اور فاسق غیر معلن کے پیچھے نماز پڑھنا زیادہ سے زیادہ مکروہ تنزیہی ہے(ت)
(۲) جائز ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۵۳ ۷۵۵ : ازسینوٹوریم ضلع نینی تال مسئولہ سراج علی خان صاحب رضوی بریلوی ۱۶ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
(۱)فاسق کی کیا تعریف ہے فاسق وفاجر میں کوئی فرق ہےفاسق کے پیچھے نماز کیسی ہے فاسق معلن کب کہا جائے گا اور اس کے پیچھے نماز کیسی ہے اسے جان کر امام بنانے والے کا کیا حکم ہے
(۲) ہاتھ یا پیر میں انگوٹھی چھلے پہننا یعنی ایك نگ کی ایك انگوٹھی موافق شریعت مطہرہ سے زائد پہننے والے کا کیا حکم ہے اس کے پیچھے نماز کیسی اس پر اصرار کرنے والا کہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے نماز میں کوئی خرابی نہیں آتی کس درجہ مورد گناہ ہے۔
(۳) دو۲یا تین۳ شخص ایسے جمع ہوکر جماعت سے نماز پڑھنا چاہتے ہیں کہ ایك بالکل جاہل مگر صورت ہیئت لباس وغیرہ سب شریعت کے مطابق ہے اور نمازی بھی ہے مگر قرآن پاك کی تلاوت اس کو نہیں آتی اورتلفظ بالکل ادا نہیں ہوتا دوسرا خواندہ قرآن کی قرأت کرسکتا ہے ضروری مسائل بھی جانتا ہے مگر فاسق ہے تیسرا مسافر ہے جس پر قصر واجب ہے بے علمی میں پہلے شخص کا درجہ رکھتا ہے مگر صرف ان سورتوں میں معمولی طریقہ سے پڑھ سکتا ہے جو نماز میں بار بار آتی ہیں مثلا الحمد شریف یا قل ھواﷲ شریف وغیرہ ان میں سے کس کو امام بنایا جائے اور اگر کوئی بھی امامت کے قابل نہیں تو کیا علیحدہ علیحدہ پڑھیں ۔ بینواتوجروا
الجواب :
(۱) فاسق وہ کہ کسی گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا اور وہی فاجر ہے اور کبھی فاجر خاص زانی کو کہتے ہیں فاسق کے پیچھے نماز مکروہ ہے پھر اگر معلن نہ ہو یعنی وہ گناہ چھپ کر کرتا ہو معروف و مشہور نہ ہو تو کراہت تنزیہی ہے یعنی خلاف اولی اگر فاسق معلن ہے کہ علانیہ کبیرہ کا ارتکاب یاصغیرہ پر اصرار کرتا ہے تو اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کے پڑھنی گناہ اور پڑھ لی تو پھیرنی واجب ۔ واﷲ تعالی اعلم
(۲) ایك آدھ بار پہننا گناہ صغیرہ اور اگر پہنی اور اتار ڈالی تو اس کے پیچھے نماز میں حرج نہیں اور اگر نماز میں پہنے ہو تو اسے امام بنانا ممنوع اور اس کے پیچھے نماز مکروہ یوں ہی جو پہنا کرتا ہے اس کا عادی ہے فاسق معلن ہے اور اس کا امام بنانا گناہ اگراس وقت نماز میں نہ بھی پہنے ہو۔ گناہ اگر چہ صغیرہ ہواسے چھوٹی بات کہنا بہت سخت جرم ہے اس شخص پر توبہ فرض ہے واﷲ تعالی اعلم۔
(۳) صورت مذکور میں اس مسافر کو امام کیاجائے کہ فاسق کو امام بنانا گناہ ہے اور غلط خواں کے پیچھے نماز
#11757 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
باطل۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۵۶ ۷۵۷ : ازمیڑتہ سٹی ضلع جودہ پور مسئولہ فخرالدین شاہ ۱۹ذیقعد ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ :
(۱) یتیموں کو تکلیف دینا اورغیبت کرنا اور جھوٹی قسم کھانا مسلمانوں میں نفاق ڈلوانے والے کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں ۔
(۲) ایك شخص یہاں میڑتہ میں پیرزادہ کہلاتے ہیں اس نے اپنی عورت کو طلاق دی تین روز برابر اس کو سمجھایا پر نہیں مانا کہا کہ مہر دے کہاکہ مہر میں نے معاف کروایا پھر ہم نے اس لڑکی سے تلاش کیا جواب دیا کہ مہر تو میں نے معاف کردیا اور پھر اس کے چچا وغیرہ نے اس لڑکی کو اس کے گھر بھجوادیا بغیر نکاح کرے طلاق ہوئی یا نہیں اس کے بچہ پیدا ہوا وہ حرام کا ہے یانہیں اس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں یتیم سے بہت عداوت رکھتا ہے۔ بینواتوجروا
الجواب :
(۱) یتیموں کو بلاوجہ شرعی تکلف دینا سخت حرام ہے یونہی غیبت زنا سے سخت تر ہے جبکہ شرعا غیبت ہو مثلا فاسق معلن کی غیبت غیبت نہیں اور بدمذہب کی برائیاں بیان کرنے کا خود شرعا حکم ہے جھوٹی قسم گھروں کو ویران کر چھوڑتی ہے اور مسلمانوں میں بلاوجہ شرعی تفرقہ ڈالنا شیطان کا کام ہے اور فتنہ قتل سے سخت تر ہے فتنہ سو رہا ہے اس کے جگانے والے پر اﷲ کی لعنت ہے جو ان افعال کا علانیہ مرتکب ہو اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کی پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب۔ واﷲ تعالی اعلم۔
(۲) طلاق ہوگئی اور مہر عورت معاف کردیا ہے معاف ہوگیا۔ بچہ اگر طلاق سے دو۲ برس کے اندر پیدا ہوا حلالی ہے اسی شوہر کا ہے۔ طلاق دینے سے نمازکی امامت میں کوئی خلل نہیں آتا ۔ یتیم سے بلاوجہ عداوت سخت گناہ ہے اگر اس کی بلاوجہ عداوت علانیہ مشہور ہے تو امام بنانے کے قابل نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۵۸ : ازچھاؤنی فیروز پور کباڑی بازار مسئولہ حاجی خواج الدین ٹیلر ماسٹر ۲۹ذیقعد ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زناکار اور شرابی کے پیچھے نماز کسی وقت جائز ہے یا نہیں جب امام مقیم ہو وہ ہرایك کو امام مقرر کردیتا ہے یہ جائز ہےکہ نہیں ۔ بینواتوجروا۔
الجواب :
زانی اور شرابی کے پیچھے کسی وقت نماز پڑھنے کی اجازت نہیں مگر جہاں جمعہ و عیدین ایك ہی جگہ ہوتے ہوں اور امام فاسق ہو اس کے پیچھے پڑھ لئے جائیں ور جمعہ کا اعادہ کو چار رکعت ظہر پڑھیں امام غیر جمعہ وعیدین میں اگر
#11760 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
دوسرے کو کہ صالح امامت ہے اور امام کردیتا ہے حرج نہیں بلکہ وہ اگر اس سے علم وفضل میں زائد ہو تو اسے یہی بہتر ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۵۹ : ازعلی پور ٹپرا مسئولہ منصب علی ۱۲شعبان ۱۳۳۷ھ
قاری مکہ معظمہ کا قرأت سیکھا ہوا ور وہاں پر چند سال رہ کر معلمی کیا لیکن داڑھی ترشواتا ہے آیا اس کے پیچھے نماز پنجگانہ اورجمعہ جائز ہے یا نہیں ۔ بینواتوجروا
الجواب :
داڑھی ترشوانے والے کوامام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب اور مکہ معظمہ میں رہ کر قرأت سیکھنا فاسق کو غیرفاسق نہ کردے گا واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۷۶۰ : از فتح پور ضلع شاہجہاں پور مرسلہ مقبول حسن خان نائب مدرس میونسپل ا سکول ۱۷شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس شخص کی نماز فجر قضاہو وہ نماز ظہریا دیگر اوقات کی نمازوں میں امام ہوسکتا ہے یا نہیں
الجواب :
اگر صاحب ترتیب ہے تو جب تك قضائے فجر اد ا نہ کرلے ظہر کی امامت نہیں کرسکتا ور نہ کرسکتا ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۶۱ ۷۶۲ : ازپیلی بھیت محلہ احمد زئی مرسلہ مولوی عبد السبحان صاحب ۱۲ رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
(۱) بہرے کے پیچھے تراویح یا فرض نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں
(۲) بہرے کی کوئی تخصیص ہے یا نہیں
الجواب :
(۱) جائز ہے اور اس کا غیر بہتر ہے اگر یہ علم وقرأت میں اس سے افضل نہ ہو۔ واﷲ تعالی اعلم
(۲)اتنی ہی ہے کہ جواب اول میں گزری۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۷۶۳ : از سہسوانی ٹولہ مسئولہ محمد یامین ۶شوال ۱۳۳۷ھ
عمرو بہت مسخرا ہے اور بہت فحش گالی کے ساتھ مذاق کرتا رہتا ہے اس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں ۔

الجواب :
اسے امام بنانا گناہ ہے اور اسکے پیچھے نماز مکرہ تحریمی ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
#11762 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
مسئلہ نمبر۷۶۴ : از مقام چھاؤنی میرٹھ قصبہ کنکر کڑہ مرسلہ پیر سخاوت حسین صاحب ممبر جامع مسجد ۹ شوال ۱۳۳۷
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص حافظ قرآن پاك ہے اور امامت جامع مسجد کی کرتا ہے اور پابند صوم صلوۃہے زوجہ اس کی پردہ نشین ہے مگر قوم سے شخص مذکور قصاب ہے کیا ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں
الجواب :
اگر اس کی طہارت ونماز صحیح ہے اور مذہب کا وہابی یا دیوبندی وغیرہ بے دین وبددین نہیں سنی صحیح العقیدہ ہے اور فاسق ومعلن نہیں تو اس کے پیچھے نماز پڑھنی بیشك جائز ہے قصاب ہونا کوئی مانع امامت نہیں متعدد اکابردین نے یہ پیشہ کیا ہے ہاں اگر جماعت والے اس سے نفرت کرتے ہوں اور اس کی امامت کے باعث جماعت میں کمی پڑے اور دوسراامام سنی صحیح العقیدہ قابل امامت موجود ہوتو اس دوسرے کی امامت اولی ہے۔
فقدکرھواخلف ابرص شاع برصہ لاجل التنفیر مع انہ لا خطیئۃ لہ فیہ۔
فقہا نے نفرت کے پیش نظر ایسے صاحب برص کے پیچھے نماز کو مکروہ قرار دیا ہے جس کا برص مشہور (پھیل گیا) ہو باوجود اس بات کے کہ اس میں اس کا اپنا ذاتی کوئی گناہ نہیں (ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۶۵تا ۷۶۸ : ازمیونڈی بزرگ پرگنہ اجاؤں ڈاکخانہ شاہی ضلع بریلی مرسلہ سید امیر عالم حسن صاحب
۱۶ شوال ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
(۱) جو شخص زنا کرتا ہو اور اس کا ثبوت بھی ہوگیا ہو تو جو اس کے پیچھے نماز پڑھیں وہ ہوئیں یا نہیں ۔
(۲)جب زانی ایساشخص توبہ کرلے تو اس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں ۔
(۳) زانی اپنے افعال سے توبہ کرتا ہے اور گاؤں والے اس کی توبہ کو نہیں مانتے تو وہ گاؤں والے کس جرم کے مستحق اور کس درجہ شمار ہیں
(۴) جس عورت نے اپنے شوہر سے سرکشی کی اور اس کے حکم کو نہ مانا اور شوہر کا دل دکھایا اور شوہر پر زبان درازی کی تو ایسی عورت کو طلاق دینا واجب ہے یا نہیں اور اگر شوہر اپنی بی بی کی زبان درازی اور سرکشی پر راضی ہے اور وہ امامت کراتا ہے تو ایسے شخص کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں ۔
الجواب :
(۱) زنا کا ثبوت سخت دشوارہے جسے عوام ثبوت سمجھتے ہیں وہ اوہام ہوتے ہیں جب تك اس کی یہ حالت نہ تھی اس وقت تك اس کے پیچھے نماز میں کوئی حرج نہ تھا ان کا اعادہ کی بھی کچھ حاجت نہیں فانہ ان
#11764 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
کان فاسقا غیر معلن فمالکراھۃ خلفہ الاتنزیہیۃ
(کیونکہ اگر وہ شخص فاسق غیرمعلن ہوتواسکی اقتداء میں نمازپڑھنا زیادہ سے زیادہ مکروہ تنزیہی ہے۔ ت)
(۲) جب بعد توبہ صلاح حال ظاہر ہوااس کے پیچھے نماز میں حرج نہیں اگر کوئی مانع شرعی نہ ہو ۔
(۳)اﷲ عزوجل اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اورگناہ بخشتا ہے ھوالذی یقبل التوبۃ عن عبادہ ویعفوعن السیأت۱(وہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور گناہ معاف کرتا ہے۔ ت) جولوگ توبہ نہیں مانتے ہیں گنہگار ہیں ہاں اگر اس کی حالت تجربہ سے قابل اطمینان نہ ہو اور یہ کہیں کہ تونے توبہ کی اﷲ توبہ قبول کرے۔ ہم تجھے امام اس وقت بنائیں جب تیری صلاح حال ظاہر ہو تو یہ بجاہے۔
(۴) اسے جرما طلاق دینا واجب نہیں اوراس پر صبر کرنے والا نہایت نیك کام کرتا ہے اگر نیت اﷲ کے لئے ہو بہرحال یہ امر امامت میں خلل انداز نہیں کہ یہ اپنے حق سے درگزر ہے اوراس میں حرج نہیں اور یہاں راضی ہونا بایں معنی نہیں تھا کہ اس کے افعال خلاف شرع کو پسند کرتا ہے جس سے وہ قابل امامت نہ رہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۶۹ ۷۷۰ : از میونڈی ازسید صاحب۔
(۱) زید اپنی سوتیلی ساس سے زنا کرتا ہے اور زید کے سسر کو بھی یہ معلوم ہے لیکن اس کو منع نہیں کرتا اس خوف سے کہ میرے گھر سے نکل جائے گی تو وہ کس جرم کا مستحق ہے اور زید جو اپنی ساس سے زنا کررہا ہے وہی امامت بھی کرتاہے تو یہ زید کس درجہ کامستحق ہے اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا یا میل جول رکھنا کیسا ہے
(۲) جس کا پیر ایسا ہوکہ جملہ افعال حرام ہوں جیسے زنا وغیرہ کرنا اورسلفہ وغیرہ پینا اور اکثر محافل ناچ رنگ میں شامل ہونا وغیرہ وغیرہ ہوں اور علمائے دین اس سے بیعت کرناحرام فرما دیں اور جو بیعت حاصل کرچکا ہواس کو فسخ کرنے کاحکم دیں تو اب علمائے دین فرمائیں کہ جوایسے پیر سے بیعت کئے ہوئے ہو اور ایسے پیر پر اعتقاد رکھتا ہو اور علمائے دین کے حکم کے خلاف کرتا ہو کہ علما تو ایسے پیر سے بچنے کا حکم فرمائیں اوروہ نہ مانے او ر وہ متبع ہو اور امامت کرتا ہو اس کے پیچھے نماز پڑھنا اور میلاد پڑھوانا اور شریك حال ہونا کیسا ہے درست یا غیر درست اوربعض کہتے ہیں کہ جو نمازیں اس کے پیچھے پڑھی ہیں وہ نادرست ہیں ان کا بھی پھیرنا واجب ہے کیونکہ اس نے اتباع علماء نہیں کیا۔ بینواتو جروا
الجواب :
(۱)جوباوصف قدرت اپنی عورت کو اس بیحیائی سے منع نہیں کرتانہیں روکتا وہ دیوث ہے اور وہ جو زنا کرتا ہے
#11767 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
اگر کسی کا یہ حال صحیح مشہور ہے تو ا س کے پیچھے نماز مکروہ ہے اس سے میل جول نہ چاہئے اگر عوام کے اوہام کی افواہ ہے کہ خواہی نخواہی عیب لگاتے ہیں تواسکا اعتبار نہیں پھر بھی اگر اس کے سبب لوگوں کو اس کی امامت سے نفرت اور اسکے پیچھے جماعت کی قلت ہو تو اسے امام نہ کریں اگرچہ وہ الزام سے بری ہے کامشاع برصہ کما فی الدر(جیسے اس شخص کا حکم ہے جس کا برص پھیل گیا ہو درمختار میں ایسا ہی ہے۔ ت)
(۲) ایسا شخص ہو تو وہ فاسق ہے ا کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے اس سے میلاد شریف نہ پڑھوایا جائے لان فی تقدیمہ للامامۃ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانۃ شرعا (کیونکہ امامت کے لئے فاسق کی تقدیم میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شرعی طور پر اس کی اہانت لازم ہے۔ ت)تبیین الحقائق وغیرہييي جو نمازیں اس کے پیچھے پڑھی ہیں ضرور اعادہ کی جائیں اس کا شریك حال مذکور ہوناحرام ہے اس سے میل جول نہ چاہئے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۷۱ : ازشہر بریلی مرسہ منظر الاسلام مسئولہ مولوی محمد ظہور الحق صاحب ۳ ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ایسے شخص کے واسطے کہ وہ حافظ قرآن ہے مگر افیون کھاتا ہے اور رمضان المبارك کا روزہ نہیں رکھتا ہے آیاوہ امامت کرسکتا ہے یا نہیں اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں بینوا بالکتاب وتوجروایوم الحساب۔
الجواب :
افیونی اور بلاعذرشرعی تارك صوم رمضان فاسق اور ان کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے کہ پڑھنا گناہ اور پھیرنا واجب جبکہ ان کا فسق ظاہر وآشکارا ہو اور اگر مخفی ہو جب بھی کراہت سے خالی نہیں اورافیونی اگر پینك میں ہو جب تواس کے پیچھے نماز باطل محض قال تعالی حتى تعلموا ما تقولون (اﷲ تعالی کا ارشاد گرامی ہے : حتی کہ تم جان لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۷۲ : از شہر مدرسہ اہلسنت مسئولہ مولوی ظہور الحق صاحب طالب علم ۱۲ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ
اس سوال میں جو اوپر مذکور خلاف واقعہ محض حسد پر کیا گیا ہے افیونی تارك صوم اور پھر محض اس پر بلا عذر یہ تینوں لفظ اور ان کے مصداق تحقیق طلب ہیں کیونکہ نتیجہ جو اب انھیں پر مبنی ہے اس جواب سے یہ نہیں معلوم ہوا
حوالہ / References تبیین الحقائق باب الامامۃ ، مطبوعہ المطبعۃ الکبریٰ الامیریہ بولاق مصر ، ۱ / ۱۳۴
القرآن ۴ / ۴۳
#11770 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
کہ اطباء نے امراض نزلہ وجریان وغیرہ میں افیون بقدر اصلاح تجویز فرمائی ہو وہ عذر شرعی کے اندر مجوز ہے یا نہیں اگر نہیں تو عذر شرعی کیا ہے دوسرے یہ کہ اگر کوئی شخص بباعث سفر یامرض روزہ رمضان قضاکرے تو تارك صوم ہوگا یا نہیں اور عذر شرعی اس کے لئے ہے یا نہیں اور حافظ کلام مجید امیوں میں امامت کے لئے شرعا افضل ہے یا نہیں اگر کوئی شخص ایك مدت تك مقتدی رہ کر محض حسد سے الزام لگائے ایسے کبیرہ گناہ کے تو وہ عندالشرع مستوجب کس تعزیر کا ہے۔
الجواب :
افیون اتنی کہ پینك لائے مطلقا حرام ہے نہ کسی مرض کے لئے حلال ہوسکتی ہے نہ کسی طبیب کی تجویز سے ۔ اﷲ ورسول کے برابر حکیم کون ہے وہ منع فرماتے ہیں ان کا منع فرمایا ہوا کسی کی تجویز سے جائز نہیں ہوسکتا یہ عذر شرعی ہے نہ عذر شرعی فتوی میں دربارہ افیون لکھا تھا بلکہ دبارہ صوم درمختار میں ہے : ظاھر المذھب المنع (یعنی حرام چیز سے علاج ظاہر مذہب پر منع ہے۔ ت)ردالمحتار میں ہے :
اجاب الامام لان المرجع فیہ الاطباء وقولھم لیس بحجۃ حتی لوتعین الحرام مدفعاللھلاك یحل کالمیتۃ والخمر عند الضرورۃ ۔ (ملخصا)
امام اعظم نے یہ جواب دیا کہ اس میں اطباء کی طرف رجوع کیا جائے گا اور ان کے قول حجت نہیں حتی کہ اگر کوئی حرام چیز ہلاکت کو دور کرنے کے لئے متعین ہوجائے تو وہ حلال ہوجائے گی جیسا کہ ضرورت کے وقت مردار اور شراب(ملخصا)۔ (ت)
ہاں سفر اور مرض جس میں روزہ کا مضر ہونا ثابت ومحقق ہو روزہ قضا کرنے کے لئے عزر شرعی ہیں حافظ امیوں سے جب افضل ہے کہ فاسق نہ ہو اورفاسق تو عالم بھی افضل نہیں چہ جائے حافظ۔ درمختار میں ہے :
الا ان یکون غیرالفاسق اعلم القوم فھواولی۔
مگر اس صورت میں کہ جب فاسق کے علاوہ (یعنی مذکورہ افراد میں سے) کوئی شخص قوم سے زیادہ صاحب علم ہو وہی امامت کے لئے اولی ہوگا۔ (ت)
اگر الزام جھوٹا لگائے تو سخت کبیرہ ہے اور اس کی سخت سزا ہے اوراگر الزام سچا ہے تو مدت تك خاموش رہنے کا اس
حوالہ / References دُرمختار ، باب المیاہ ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۳۸
ردالمحتار باب المیاہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۵۴
درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۳
#11773 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
مقتدی پر الزام ہے اور وہ اس وجہ سے سزا وار سزا ہے مگر وہ امام اس بنا پر الزام سے بری نہیں ہوسکتا کہ اب تك مقتدی کیوں خاموش رہے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۷۳ : ازاورنگ آبادضلعگیا مرسلہمحمد اسمعیل مدرس مدرسہ اسلامیہ ۱۴صفر المظفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کی عمرو تعزیہ کی نہایت عظمت کرتا ہے اور اکھاڑے میں شریك ہوتا ہے اورحضرت سید الشہداء حسین رضی اللہ تعالی عنہ وحضرت علی کرم اﷲ تعالی وجہہ کی مجلس میلاد منعقد کرتا ہے اور اس میں یاحسین سلام علیك یاذکی سلام علیک یاعلی سلام علیك وغیرہ بحالت قیام پڑھواتا ہے اور مجلس سماع میں ہر قسم کے مزامیر یعنی انگریزی باجا روشن چوکی خروك شہنائی مشکی باجا وغیرہ بجواتا ہے اور نماز پنجگانہ و جمعہ کے لئے مسجد میں نہیں آتا صرف عیدین کی امامت کرتا ہے مقتدی اس سے بسبب ان افعال کے سخت نفرت رکھتے ہیں تو عمرو قابل امامت ہے یا نہیں اور عمرو کے یہ افعال شرع شریف میں کیا حکم رکھتے ہیں ۔
الجواب :
مزامیر حرام ہیں صحیح بخاری شریف'ف' کی حدیث میں ہے :
یستحلون الخمر والخنزیر والمعازف ۔
وہ لوگ شراب خنزیر اور مزامیر کو حلال جانیں گے۔ (ت)
ہدایہ میں ہے : لان الابتلاء المحرم یکون ۔ (امتحان وابتلاء حرام ہی سے ہوتا ہے۔ ت)تو مجلس مزامیر منعقد کرنا فسق اور نماز عید کوان شیطانی باجوں کے ساتھ آنا فسق اور جماعت کے لئے بلا عذر شرعی حاضر نہ ہواکرنا فسق اور جمعہ میں بلا مجبوری نہ آنا سخت تر فسق اور تعزیہ کی تعظیم بدعت عمرو ہر گز قابل امامت نہیں ۔ تبیین الحقائق میں ہے :
لان فی تقدیمہ للامامۃ تعظیمپ وقد وجب علیھم اھانۃ شرعا ۔
کیونکہ امامت کے لئے اس کی تقدیم میں تعظیم ہے حالانکہ ان پر شرعا اس کی اہانت لازم ہے۔ (ت)
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الاشربہ باب ماجاء فیمن یستحل الخمرالخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۸۳۷
الہدایہ کتاب الکراہیت ، مطبوعہ مطبع یوسفی لکھنؤ ، ۴ / ۴۵۳
تبیین الحقائق باب الامامۃ ، مطبوعہ المطبعۃ الکبرٰی الامیریۃ بولاق مصر ، ۱ / ۳۴
ف : بخاری کے الفاظ اس طرح ہیں : یستحلون الحروالحریروالخمروالمعازف الخ۔ اس حدیث کو مختلف الفاظ کے ساتھ دیگر متعدد کتابوں نے ۱بھی ذکر کیا ہے سنن ابوداؤ۲ / ۲۰۴ ، سنن الکبریٰ للبیہقی ۱۰ / ۲۲۱ ، کنزالعمال۱۱ / ۱۳۴ ، المعجم الکبیر ۳ / ۲۸۲ ، اتحاف السادۃ المتقین ۶ / ۴۷۲ ، الترغیب والترتیب ۳ / ۱۰۲۔ نذیر احمد
#11775 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
حضرت سید الشہداء اور حضرت مولی مشکلکشا رضی اللہ تعالی عنہما کی مجلس ذکر شریف منعقد کرنا اور یاعلی سلام علیك ویاذکی سلام علیك کہنا کچھ حرج نہیں رکھتا جبکہ منکرات شرعیہ سے خالی ہو۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر۷۷۴ : ازگونا سنٹرل انڈیا ریاستگوالیار مرسلہ محمد صدیق سیکریٹری انجمن اسلامیہ ۱۷ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہزید کی زوجہ ثانی ایك دوسرے شخص کے ساتھ فرار ہوگئی اور فسق و فجور کرتی ہے اورزیداس کو رکھے ہوئے ہے اور وہ زوجہ زید زید پرحاوی ہے زید دوسروں سے کہتا ہے کہ تم فلاں شخص جس کو میری زوجہ بلاتی ہے میرے گھرآنے سے روکو۔ جب زید سے کہا جائے تم اس کو طلاق دیدو تو بہتر ہے ۔ اس پر زید غصہ کرے اور کلمات سخت کہے اور کہے کہ میری زوجہ اولی بھی تو لوگوں کو بلواتی ہے کیا اس کو بھی طلاق دیدوں ایسا ہرگز نہیں کروں گا ۔ تو ایسے اصرار سے زید دیوث ہے یا نہیں اور مسلمانوں کو زید کو اگر وہ پیش امامی کرتا ہو معزول کرنا چاہئے یا نہیں ۔ زید جو پیش امام مسجد ہے اس نے چند جاہلوں کو اپنا طرفدار بنالیا ہے ان میں سے ایك شخص بکر نے کہا کہ ہمارا پیش امام دو دو بوتلیں شراب کی پئے گاا ورچار رنڈیاں رکھے گا اور وہی پیش امام رہے گا۔ پسبکر کی بابت شرعا کیا حکم ہے اور جولوگ ایسے امام کی طرفداری کریں اوراس کو پیش امام رکھنے پر اصرار کریں ان کی بابت کیا حکم ہےبینواتوجروا۔
الجواب :
زید اپنی زوجہ کے ایسے افعال پر اگر راضی ہے یا بقدر قدرت بندوبست نہیں کرتا تو بلاشبہ دیوث ہے اوراسے امامت سے معذول کرنا واجب اور اسکے پیچھے نماز پڑھنا گناہ اور اس کا پھیرنا لازم اور اس کے حامی گنہ گار۔
قال اﷲ تعالی و لا تعاونوا على الاثم و العدوان۪-
اﷲ تعالی کا فرمان ہے : گناہ اور زیادتی پر ایك دوسرے سے رتعاون نہ کیا کرو۔ (ت)
اور اگر وہ ان افعال پر راضی نہیں اور جہاں تك اسکا امکان ہے بندوبست کرتا ہے تو عورت کے افعال پر اسکا الزام نہیں ۔
قال اﷲ تعالی و لا تزر وازرة وزر اخرى- ۔
اﷲ تعالی کا ارشاد گرامی ہے : کوئی بوجھ اٹھانے والاکسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ (ت)
نہ اس پر طلاق دینا لازم ۔ حدیث میں ہے :
جاء رجل الی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
ایك شخص رسول خدا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں آیا
حوالہ / References القرآن ۵ / ۲
القرآن ۶ / ۱۶۴
#11778 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
فقال ان امرأتی لاتمنع ید لامس قال فطلقھاقال انی احبھا فاستمتع بھا رواہ ابوداؤد۔
اور عرض کی امیری بیوی کسی مس کرنے والے کو منع نہیں کرتی ۔ فرمایا : اسے طلاق دے دے۔ عرض کیا : میں اس سے محبت کرتا ہوں ۔ فرمایا : اس سے استفادہ کر ابوداؤد (ت)
درمختار میں ہے :
لایحب علی الزوج تطلیق الفاجرۃ
(خاوند پر فاجرہ عورت کو طلاق دینا واجب نہیں ۔ ت)
بکر جس نے وہ ناپاك کلمات کہے ان سے صراحۃ شریعت مطہرہ سے عناد ٹپکتا ہے اس پر توبہ فرض ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۷۵ : ازریاست جے پور گھاٹ دروازہ مدرسہ قادریہ تکیہ اعظم شاہ مرسلہ حاجی عبدالجبار صاحب رضوی
کیا حکم ہے شریعت مطہر کا اس مسئلہ میں کہ زید امامت کرتا ہے اور اس کے سر کے بال لمبے یعنی دوش سے نیچے قریب سینہ تك ہیں عمروکہتا کہ دوش سے نیچے بال بڑھانا حرام ہیں اور ایسے شخص کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے زید کہتا ہے کہ اتنے لمبے بال رکھنا یعنی دوش سے نیچے جائز ہے اور مشائخ سادات کا یہ شعار ہے چنانچہ اعلی حضرت فاضل بریلوی مدظلہ نے اپنے رسالہ الحرف الحسن فی للکتابۃ علی الکفن کے صفحہ ۱۹ سطرامیں حضرت سیدنا امام علی رضا رضی اللہ تعالی عنہ کے متعلق لکھا ہے کہ ان کے دو۲گیسو شانہ پر لٹك رہے تھے لہذا سوال یہ ہے کہ زید کا کہنا صحیح یا عمروکا اگر قول عمرو کا صحیح ہے تو جتنی نمازیں ہم مقتدیوں نے زید کے پیچھے پڑھی ہیں حساب کرکے سب کا اعادہ کریں یا نہیں
الجواب :
مسلمانوں کو اتباع شریعت چاہئے ۔ حکم نہیں ن مگر اﷲ ورسول کے لئے ۔ سینہ تك بال رکھنا شرعا مرد کو حرام اور عورتوں سے تشبہ اور بحکم احادیث صحیحہ کثیرہ معاذاﷲ باعث لعنت ہے۔
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لعن اﷲ المشتھبین من الرجال بالنساء الخ
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : اﷲ تعالی کی لعنت ان مردوں پر جو عورتوں کے ساتھ مشابہت کریں (ت) الخ
ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے ایك عورت کو مردانہ جوتا پہنے دیکھا اسے لعنت کی خبر دی۔ نبی اکرم
حوالہ / References سنن ابو داؤد باب فی تزویج الابکار مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۲۸۰ ، سنن نسائی تزویج الزانیۃ / / نور محمد کتب خانہ کراچی ۲ / ۷۱
ف : ان حوالوں میں مذکور الفاظ مختلف ہیں لیکن مفہوم ایك ہے ۔ نذیر احمد سعیدی
دُرمختار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۲۵۴
المعجم الکبیر ماروی ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مطبوعہ المتبۃ الفیصلیہ بیروت ۱۱ / ۲۵۲
#11781 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ایك عورت کو کمان لٹکائے ملاحظہ فرمایا ارشاد فرمایا : “ اﷲ کی لعنت ہو ان عورتوں پر کہ مردوں سے تشبہ کریں اوران مردوں پر کہ عورتوں سے مشابہت کریں “ ۔ حالانکہ جوتا کوئی جزو بدن نہیں جزولباس ہے اور کمان جزو لباس بھی نہیں ایك خارج شے ہے جب ان مشابہت پر لعنت فرمائی تو بال جزوبدن ہیں ان میں مشابہت کس درجہ حرام اور باعث لعنت ہوگی۔ الحرف الحسن میں یہ ہے کہ شانہ پر لٹك رہے تھے یا یہ کہ شانہ سے اتر کر سینہ تك پہنچے تھے ۔ شانہ تك لمبے گیسووں کا ہونا کہ آگے اصلانہ بڑھےں ضرور جائز بلکہ سنن زوائد سے ہے حساب کرکے نمازوں کا اعادہ چاہئے اورامام صاحب سے امید ہے کہ حکم شرع قبول فرماکر خود معصیت سے بچیں گے اور اپنی اور قتدیوں کی نماز کراہت سے بچائیں گے ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۷۶ : ازمانیا والا ڈاکخانہ قاسم پوگڈھی ضلع بجنور مرسلہ سید کفایت علی صاحب ۳ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام اور ایك مقتدی نماز پڑھتے ہوں دوسرامقتدی آگیاتو امام کو وہیں رہنا چاہئے یا آگے چلا جائے یا نہیں (اور آگے بڑھنے کی جگہ ہو) بینواتوجروا
الجواب :
اگر پہلا مقتدی مسئلہ دان ہے اوراسے پیچھے ہٹنے کی جگہ ہے تو وہ ہٹ آئے دوسرامقتدی اس کی برابر کھڑا ہوجائے اور اگر یہ مسئلہ دان نہیں یا اسے پیچھے ہٹنے کو جگہ نہیں تو امام آگے بڑھ جائے اوراگر امام کو بھی آگے بڑھنے کی جگہ نہیں تو دوسرا مقتدی بائیں ہاتھ کو کھڑاہوجائے مگر اب تیسرامقتدی آکر نہ ملے ورنہ سب کی نماز مکروہ تحریمی اور سب کا پھیرنا واجب۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۷۷۷ : ازبریلی مسئولہ محمود حسن صاحب طالب علم مدرسہ منظر اسلام بریلی ۱۹ ربیع الاول ۱۳۳۸ھ
ماقول علماء اھل السنۃ والجماعۃ رحمکم اﷲ ھل تجوز الصلاۃ خلف الامرد الذی ھوابن ستۃ عشر سنۃ افیدونا الجواب احمکم اﷲ الوہاب ۔
علمائے اہلسنت وجماعت رحمکم اﷲ تعالی کا اس بارے میں کیاارشاد ہے کہ سولہ سالہ امرد کے پیچھے نماز جائز ہوتی ہے یا نہیں ہمیں جواب سے مستفید کیا جائے رحمکم اﷲ الوہاب۔ (ت)
حوالہ / References صحیح البخاری ، باب المتشبہین بالنساء مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۸۷۴
ردالمحتار مطلب فی امامۃ الامرد مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۵
#11785 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
الجواب :
نعم تجوز ان لم یکن مانع شرعی لانہ بالغ شرعاوان لم تظھر الاثارنعم تکرہ انکان صبیحامحل الفتنۃ کما فی ردالمحتار عن الرحمتی۔
ہاں جائز ہے بشرطیکہ کوئی مانع شرعی موجود نہ ہو کیونکہ وہ شرعی طور پر بالغ ہے اگر بلوغ کے آثار ظاہر نہ ہوئے ہوں البتہ اگر وہ امرد خوبصورت ہے تو پھر نماز مکروہ ہوگی کیونکہ وہ محل فتنہ ہوتا ہے۔ ردالمحتار میں شیخ رحمتی سے یوں ہی ذکر ہے۔ (ت)
مسئلہ نمبر ۷۷۸ ۷۸۴ : ازکوٹ ڈسکہ مرسلہ محمد حیات صاحب مدرس ہائی اسکول ۱۶جمادی الاخری۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں حضرات علمائے کرام ایسے امام مسجد کے بارے میں جس میں مفصلہ ذیل نقص صریحا ہوں
(۱)غسال وذابح ہے اگر کسی صاحب میت سے کچھ نہ ملے تو شاکی رہتا ہے۔
(۲)سامان مسجد کے مطلق حفاظت نہیں کرتا اور نہ ان کی مرمت وغیرہ کی لوگوں کو ترغیب دیتاہے اس لئے اشیاء مسجد بگڑتی اور خراب ہوتی رہتی ہیں اور ضائع اور غبن ہوتی رہتی ہیں اور مسجدکے متعلقہ مکان میں رہائش رکھتے ہیں جو کہ مسجد سے علیحدہ متصل مسجد ہے اگر حفاظت سامان مسجد کو کہیں تو برافروختہ ہوجاتے ہیں ۔
(۳) جماعت نماز صرف مغرب کی کرتے ہیں باقی نمازیں متفرق طور پر لوگ خود بخود پڑھتے ہیں اگر کہیں تو ناراض۔
(۴) مرض بواسیر عرصہ سے ہے تقاطر بول اور پیپ اورخون سے محفوظ رہنے کے لئے نیچے لنگوٹی رکھتے ہیں پورے طور پر شکایت مرض بواسیر نہیں گئی اور نہ یہ جانے والی ہے۔
(۵) میونسپل کمیٹی قصبہ کوٹ ڈسکہ میں ایك ادنی آسامی جمعداری خاکروبان ۸ روپے ماہوار پر ملازم ہیں کام اچھا نہ ہونے پر مقامی افسر اور ممبران کمیٹی اکثر ناراض رہتے ہیں جو کہ مسلمانوں کو ناگوار گزرتا ہے۔
(۶) میاں جی کے اندرون شہر میں جو مکانات ہیں ان کے بالکل متصل ایك پرانی مسجد ہے انقلاب زمانہ سے اس محلہ میں مسلمانوں کے گھر نہ رہے اور مسجد غیر آباد ہوگئی اب میاں جی اس مسجد کو مال مویشی خانہ اور گوبر بھینس خانہ بنارکھاہے طرفہ یہ کہ حق اس مسجد کا برابر لے رہے ہیں۔
(۷) روزہ ماہ رمضان المبارك اگر معمر ہونے کی وجہ سے بھی رکھتے ہوں تو نمازتراویح پڑھانے کےلئے آتے ہیں کیونکہ تراویح پڑھانے والے کی خدمت ہوتی ہے مگر نماز فرض کی جماعت سوائے مغرب ندارد ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنی کیسی ہے
#11788 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
الجواب : اگر یہ بیانات صحیح ہوں تو صرف نمبر ۳ ونمبر۶اس کے فاسق معلن ہونے کے لئے کافی ہیں کہ چاروں نمازوں میں روزانہ تارك جماعت ہے اور مسجد کو ناپاك وملوث کرنےوالا اور فاسق معلن کو امام بنانا اوراسکے پیچھے نماز پڑھنی مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب۔ فتاوی الحجہ وغنیہ میں ہے : لوقدموافاسقایاثمون (اگر انھوں نے فاسق کو امامت کے لئے مقدم کیاتو گناہگار ہوں گے۔ ت)اور تقاطر بول اور جریان خون اگر لنگوٹ سے بند نہیں ہوتے تو سخت شدید فاسق ہے بہر حال اسے امامت سے معزول کرنا چاہئے ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۸۵ : از شہر مرسلہ غلام محمد صاحب درزی مورخہ ۲۱رجب المرجب ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کا قمیص چوری ہوا اوربکر چند قرائن کی وجہ سے بطور شبہ کے چوری ثابت کیا گیا اورجس روز سے بکر پر چوری ثابت ہوئی اس روز سے تمام محلہ والوں نے بکر کے پیچھے نماز پڑھنا قطعی چھوڑ دی اور بوجہ شك کے اور اسی شك کو لے کربکر کے پیچھے نماز پڑھنا بلاتو بہ جائز ہے یا نہیں دیگر گزارش یہ ہے کہ بکر کے باپ نے کہا کہزید اگر قسم کھائے تو مال مسروقہ ہم دیں گے اورزید نے کہا ہم قسم کھائیں گے لیکن قسم نہیں کھائی اورزید کے پیچھے بلاتوبہ نماز جائز ہوگی یا نہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
زید پر کوئی الزام نہیں اور خالی شبہ کے سبب بکر پر چوری ثابت نہیں ہوسکتی نہ اس کے پیچھے نماز منع نہ ہو۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۸۶ : از کلکتہ نارکل ڈانگار لنڈوگودام مرسلہشیخ عرفان علی صاحب ۲۱رجب المرجب ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی بیوی ہندہ کو طلاق مغلظہ دی ومطلقہ مدت ایك سال تك بیٹھی رہی پھر اس کے شوہر نے اس کو بلا عقد شرعیہ اپنی زوجیت میں رکھ لیا اور اس سے ایك لڑکی پیدا ہوئی یہاں تك کہ لڑکی مذکور بالغ ہوئی پس اس لڑکی سے کسی مسلمان نے اگرعقد شادی کرلی اور اس نسل سے اولاد جوپیدا ہووہ امامت کرسکتاہے یانہیں اور اسکے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
اس کی ماں ولدالزنا ہوئی وہ خود ولدالزنا نہیں اس کے پیچھے نماز میں حرج نہیں جبکہ مذہب واعمال و
حوالہ / References غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامامۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۳
#11791 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
قرأت وطہارت وغیرہا میں قابل ہو ہاں اگر عوام اس کی امامت سے نفرت کریں اور یہ امر باعث قلت جماعت ہو تو اسے امام نہ کریں۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۷۸۷ : از کلکتہ لورچت پور روڈ نمبر ۱۲۵ مرسلہ حاجی جان محمد صاحب ۱۴رمضان ۱۳۳۸ھ
(۱) ایك مسجد کے متولیوں نے زید کو پچاس روپے ماہوار تین سال کے لئے ملازم رکھا یہ شرط تھی کہ ہم تین سال بعد معزول کرسکتے ہیں اسے امام نے بذریعہ تحریری اقرار نامہ کے منظور کرکے اپنے دستخط کردئے ۔
(۲) باوجود متولیوں کے منع کرنے اورباضابطہ روکنے کے جب تك ہم کو کسی واعظ یا لیکچرار کے خیالات اور مذہب کا علم نہ ہوجائے کسی کو مسجد میں وعظ لیکچر دینے کی اجازت نہ دو بے اطلاع متولیوں کے خود اجازت دیتا ہے چنانچہ گزشتہ فساد کے موقع پر کلکتہ میں اس نے مسجد کے اندر ہندؤوں تك کو آنے دیا۔
(۳) امام مذکور اکثر مسجد کی امامت سے غیر حاضر ہوتا اور سیر یا دعوتوں میں بے اجازت متولیوں کے چلاجاتا ہے اور متولیوں کے منع کرنے کی بالکل پرواہ نہیں کرتا۔
(۴) متولیوں نے بعد گزرنے معیاد اقرار نامہ اور باضابطہ تحریری اطلاع دہی کے دوسرے امام کوجو مدینہ منورہ کا ساکن اور مسجد نبوی کے امام کے خاندان سے ہے اور مسجد نبوی میں امامت کرچکا ہے اب بجائے اس کے مقرر کیا ہے وہ مزاحم ومانع ہے اور آمادہ فتنہ وفساد ہے اور متولیوں پر خلاف واقعہ توہین آمیز الزام و بہتان مشتہر کرتا آیا ایسے کو امام شرعامتولیان مسجد معزول کرسکتے ہیں یا نہیں
الجواب :
ضرور معزول کرسکتے ہیں بلکہ ان حرکات پر اس کو معزول کرنا ہی چاہئے لایعزل صاحب وظیفۃ الا بجنحۃ وھذہ جنحۃ (صاحب وظیفہ کے مغیر معزول نہیں کیا جاسکتا اور یہ مقررہ ہے ۔ ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۷۸۸ : ۱۰ شوال ۱۳۳۸ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں زید نے عمرو سے مثلابوستان گلستان کے بچپن میں دویا تین سبق پڑھے تھے اب ان میں رنج ہوگیا اور عمرو نے اسے ہاک(عاق) کردیا توزید کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں
الجواب :
اگر شاگرد کا قصور تاحد فسق ہے اور بوجہ اعلان مشہور ومعروف ہے تواسے امام بنانا جائز نہیں اوراس کے
حوالہ / References ردالمحتار ، مطلب لایصح عزل صاحبِ وظیفہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ۳ / ۴۲۳
#11794 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
پیچھے نماز گناہ اور اگراس کا قصور نہیں یا حد فسق تك نہیں یا وہ بالاعلان اس کا مرتکب نہیں تو ان پہلی دو صورتوں میں اس کے پیچھے نماز میں اس وجہ سے کوئی کراہت نہیں اور پچھلی صورت میں مکروہ تنزیہی خلاف اولی ہے باقی عاق کردینا کوئی شے نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۸۹ : از راب گڈھ صدربازار بر دکان امیر بخش ٹیلر مرسلہ شیخ طالب حسین ۱۴ شوال بروز پنجشنبہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ راب گڈھ میں دومسجدیں ہیں جن میں سے ایك مسجد کا متولی جو روزہ نماز کا پابند نہیں ہے اس نے ایك پیش امام جو قوم کاصدیقی اور علم کا حافظ مولوی حکیم مقرر تھا اس کو متولی نے بلاوجہ الگ کردیا اور بجائے اس کے بلارائے مقتدیوں کے دوسرا امام جوصرف حافظ وقوم کا قصاب ہے اور ہنوزان کے یہاں پیشہ جاری ہے مقرر کردیا جس پر میں نے متولی صاحب سے پوچھا کہ سابق پیش امام کس قصور پر علیحدہ کئے گئے تو متولیعبدالصمد صاحب نے بہت غصہ ے ساتھ جواب دیا کہ ہماری مسجد ہم جو چاہیں سو کریں مقتدی پوچھ نہیں سکتے ایسے امام کے پیچھے اورایسی مسجد میں نماز جائز ہے یا نہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
اگرپہلا امام معاذاﷲ بدمذہب ہو تو اس کا معزول کرنا اشد ضروری تھا اور اگردوسرا بدمذہب ہو تو اس کامقررکرنا حرام ہوا اور معزول کرنا لازم ہے یوں ہی ان میں جو قرآن مجید غلط پڑھتا ہو یا طہارت صحیح نہ کرتا ہو اس کا معزول کرنا فرض ہے ایك ہو یا دونوں اور اگرصحت مذہب وقرأت وطہارت میں بقدرجواز نماز ہیں اور امام وظیفہ پاتا ہے تو بلا قصور پہلے کو معزول کرنا گناہ ہوا کہ بلا وجہ ایذائے مسلم کہ لایعزل صاحب وظیفۃ بغیرجنحۃ ( کسی صاحب وظیفہ کو بغیر کسی گناہ کے معزول نہیں کیاجاسکتا۔ ت)اور متولی کا کہنا کہ مسجد ہماری ہے ہم جو چاہیں کریں محض باطل ہے مسجدیں اﷲ عزوجل کی ہیں
و ان المسجد لله فلا تدعوا مع الله احدا(۱۸) (یقینا مسجدیں اﷲ تعالی کی ہیں تو اﷲ کے ساتھ کسی کی بندگی نہ کرو۔ ت) اس میں وہی کیا جائے گا جوبحکم شرع ہے اور اس کا یہ زعم باطل ہے کہ مقتدی پوچھ نہیں سکتے بلکہ امام ومؤذن مقرر کرنے میں متولی کا اختیار نہیں جبکہ خود بانی مسجد اس کے اقارب میں نہ ہو امام ومؤذن کے نصب میں پہلا اختیار بانی پھر اس کی اولاد واقارب کا ہے اور دوسرااختیار مقتدیوں کاہے یہ بھی جبکہ جس کو بانی مقرر کرنا چاہتا ہے اور جسے مقتدی چاہتے ہیں دونوں یکساں ہوں اور اگر جسے یہ چاہتے ہیں وہی شرعا اولی ہے تو انھیں کا اختیار مانا جائے گا متولی اس بارے میں کوئی چیز نہیں ۔ درمختار (میں ہے) :
حوالہ / References ردالمحتار ، مطلب لایصح عزل صاحبِ وظیفہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ۳ / ۴۲۳
القرآن ، ۷۲ / ۱۸
#11796 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
البانی للمسجد اولی من القوم بنصب الامام والمؤذن فی المختار (وکذاولدہ وعشیرتہ اولی من غیرھم اشباہ اھ شامی)الااذاعین القوم اصلح ممن عینہ البانی (لان منفعۃ ذلك ترجع الیھم انفع الوسائل اھ ش)
مختار قول کے مطابق امام اور مؤذن مقرر کرنے کا حق دیگر لوگوں کی بنسبت بانی مسجد کو زیادہ ہے(اسی طرح اسکی اولاد اورخاندان بھی دیگر حضرات سے زیادہ حقدار ہیں اھ شامی) البتہ اس صورت میں کہ جب قوم بانی مسجد سے اعلی و صالح امام مقرر کرے تو ہی بہتر ہوگا (کیونکہ اس کا نفع قوم کو پہنچے گاانفع الوسائل اھ ش)(ت)
اور اگر امامت بلا وظیفہ ہے اور پہلا امام شرعا اس دوسرے امام سے اولی تھا تو متوفی نے دوہرا ظلم کیا راجح کو ہٹانا اور مرجوح ك وبڑھانا اور دونوں برابر ہیں جب بھی بلاوجہ پہلے کو ایذا دہی کا مرتکب ہوا اور اگریہ دوسرا اولی بایں معنی پہلے کے پیچھے نماز میں کچھ کراہت تھی اس کے پیچھے نہیں تو متولی نے اچھا کیا مقتدیوں کا اس پر اعتراض بے جا ہے نماز اس کے پیچھے ہی مطلقا جائز ہے جبکہ مذہب وقرأت وطہارت واعمال صحیح ہوں اورمسجد کو تو کوئی جرم ہی نہیں اس میں بہر حال جائز ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۷۹۰ : ازناتھ دوار ریاست ادیپور ملك میواڑ سراج الدین صاحب ۲۲جون ۱۹۲۰ء
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ ایك شخص مسائل نماز روزہ کے تھوڑابہت واقفیت ہے مگر چند عرصہ سے اس کے کانوں میں سماعت کم ہوگئی ہے یعنی اونچا سنتے ہیں توایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھناجائز ہے یا نہیں ہونے کو سبب خلاصہ تحریر فرمائیں اور اگر بہرے پیش امام نے نماز میں غلطی کی اور اپنے مقتدی کا لقمہ نہ سنا تو نماز میں کوئی خلل تو نہیں آتا ہے یا آتا ہےاس کا جواب باصواب مع فقہ و حدیث اور کتب فقہ وحدیث کا حوالہ بھی ضرور تحریر فرمائیں اﷲ تعالی آپ کو اجزعظیم عطا فرمائے گا۔ ۲۲جون ۱۹۲۰ء از ناتھ دوار ریاستاودے پور ملك میوڑا سراج الدین ۔
الجواب :
بہرے کے پیچھے نماز جائز ہے مگر اس کا غیر اولی ہے جبکہ علم مسائل نماز و طہارت میں اس سے کم نہ ہو اور
حوالہ / References درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۹۰
ردالمحتارکتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ / مصطفی البابی مصر ۳ / ۴۵۴
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ / مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۹۰
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ / مصطفی البابی مصر ۳ / ۴۵۴
#11798 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
غلطی جس پر لقمہ نہ لیا اگر مفسد نماز تھی نماز جاتی رہی ورنہ نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۹۱ : از حسن پور مراد آباد مدرسہ مرسلہ مولوی عبدالرحمن مدرس ۸ ذی قعدہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سفر میں امام کے عقائد کی تصدیق کی ضرورت ہے یا نہیں ۔
الجواب :
ضرورت ہے اگر محل شبہ ہو مثلا کسی سے سنا کہ یہ امام وہابی ہے وہ کہنے والا اگر چہ عادل نہ ہو صرف مستور ہو تحقیق ضرور ہے۔
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کیف وقد قیل ۔
حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : کیسے نہیں ہوسکتا حالانکہ یہ کہا گیاہے۔ (ت)
یا وہ بستی وہابیہ کی ہو تو تحقیق کرو اور اگر کوئی وجہ شبہ نہیں تونماز پڑھے پھر اگر بعد کوئی ثابت ہو کہ مثلا وہابی تھا اعادہ فرض ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۷۹۲ تا ۷۹۴ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ :
(۱) ایك مسجد فرقہ غیر مقلد نے سنی حنفی اشخاص کے محلہ میں کسی طرح پر اراضی کا بیعنامہ کراکے تعمیر کرائی اور اس کے دروازے پر ایك پتھرجس پر لفظ اہل حدیث کندہ ہے نصب کرادیااور نماز پڑھنے لگے اس مسجد میں بعض ناواقف لوگ سنی حنفی ہوکر بھی اکثراوقات انکی جماعت میں شریك ہوکر نماز پڑھ لیتے ہیں ان کی نماز غیر مقلد امام کے پیچھے ہوگی یا نہیں
(۲) اگر اس مسجد سنی حنفی امام کے پیچھے لوگ حنفی غیر مقلدوں کی جماعت کے بعد یااول ہر روز یا جمعہ کے روز ادا کریں تو نماز ہوگی یا نہیں
(۳) اور اگر سنی حنفی امام کے پیچھے غیر مقلد شخص اسی مسجد میں جماعت میں شریك ہو کر نماز اپنے طریقہ پر پڑھے یعنی آمین بالجہر کرے اور رفع یدین کرے تو حنفیوں کی نماز میں کوئی نقص عائد ہوگا یا نہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
(۱) غیر مقلد کے پیچھے نماز باطل محض ہرگزنہ ہوگی اورپڑھنے والے کے سر پر گناہ عظیم ہوگا ۔
فتح القدیر میں امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے :
ان الصلوۃ خلف اھل الاھواء لاتجوز ۔
اہل ہواء و بدعت کے پیچھے نماز جائز نہیں ۔ (ت)
حوالہ / References صحیح البخاری باب الرحلۃ فیالمسألۃ النازلۃ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۹
فتح القدیر ، باب الامامۃ ، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ کّھر ، ۱ / ۳۰۴
#11801 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
واﷲ تعالی اعلم۔
(۲) سنی امام کے پیچھے نمازہوجائےگی مگراس مسجد میں پڑھنے سے مسجد کا ثواب نہ ملے گا کہ شرعامسجد نہیں اور بلاعذر شرعی ترك مسجد گناہ ہے حدیث میں ہے :
لاصلاۃ لجار المسجد الا فی المسجد ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسجد کے پڑوسی کی نماز مسجد ہی میں ہوسکتی ہے۔ (ت)
(۳) جماعت میں غیر مقلد کے شریك ہونے ضرور نماز میں نقص پیدا ہوتا ہے اول تو اس کے آمین بالجہر سے طبیعت مشوش ہوگی اور دوسرا عظیم نقص یہ ہے کہ اس کی شرکت سے صف قطع ہوگی کہ اس کی نماز نمازنہیں ایك بے نمازی شخص صف میں کھڑا ہوگا اور یہ صف کا قطع ہے اور صف کا قطع ناجائز ہے صحیح حدیث میں فرمایا :
من قطع صفا قطعہ اﷲ ۔
جس نے صف قطع کی اسے اﷲ تعالی (اپنی رحمت سے)قطع کردے(ت)
مع ہذا بد مذہبوں کےساتھ نماز پڑھنے سے بھی حدیث میں منع فرمایا ہے : لا تصلوا معھم (ان کے ساتھ نماز نہ پڑھو۔ ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۷۹۵ تا ۷۹۷ : از شہر محلہ شاہ دانا مرسلہ جناب میر فداحسین صاحب مورخہ ۲ ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ :
(۱) نماز جماعت سنی حنفی اشخاص کی طالب علمان مدرسہ مداری دروازہ وسرائے خامن کے پیچھے ہوگی یا نہیں ۔
(۲) اگر کسی مسجد میں پیش امام مقرر نہ ہو تو حاضرین مسجد کسی شخص کو اپنے میں سے منتخب کریں تو اس میں کس کس احترام والتزام اور کس کس بات کی ضرورت ہے
(۳) امام ہر طبقہ کے لوگوں میں سے جو کہ اس وقت موجود ہوں کثرت رائے سے منتخب ہوسکتا ہے باوجود یکہ وہ منتخب شدہ شخص اپنے آپ کو امامت کا اہل نہ سمجھتا ہو مگر اجماع اس کی امامت پر ہوجائے تو وہ امامت کرسکتا ہے یا نہیں بینواتوجروا
حوالہ / References المستدرك علی الصحیحین کتاب الصلوٰۃ لا صلوٰۃ لجار المسجدالخ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۲۴۶
سُنن ابوداؤد باب تسویۃ الصفوف مطبوعہ آفتا ب عالم پریس لاہور ۱ / ۹۷
کنز العمال ، الباب الثالث فی ذکر الصحابہ حدیث(۳۲۵۲۸ ، ۳۲۵۲۹) مطبوعہ موسستہ الرسالۃ بیروت ۱۱ / ۵۴۰
#11804 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
الجواب :
(۱) جو مدرسہ خلاف مذہب اہلسنت ہو اسکے طلباء کو امام نہیں بنا سکتے ۔ واﷲ تعالی اعلم
(۲) امام ایسا شخص کیا جائے جس کی طہارت صحیح ہو قرأت صحیح ہو سنی صحیح العقیدہ ہو فاسق نہ ہو اس میں کوئی بات نفرت مقتدیان کی نہ ہو مسائل نماز و طہارت سے آگاہ ہو واﷲ تعالی اعلم
(۳) جوشخص شرائط مذکورہ کا جامع ہے اور وہ امام کیا جائے اگر چہ وہ اپنے آپ کو نااہل کہے اور جوواقعی نااہل ہے وہ امام نہیں ہوسکتا اگرچہ سب کی رائے ہو۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۹۸ : مسئولہ مسلمانان شہر کہنہ روہیلی ٹولہ ۱۲ ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کرتا اس طرح کا پہنا کرتا ہے جس کی آستینیں کہنیوں کے برابر بلکہ کچھ اونچی ہوتی ہیں یعنی کہنیاں کھلی رہتی ہیں ایسا کرتا پہنے ہوئے پر زید کوامام بنایا جاسکتاہے یا نہیں اور کوئی نقص اس کے پیچھے نماز پڑھنے میں تو نہیں آتا زید کو اس قدر مقدور بھی ہے کہ وہ پوری آستینوں کے کرتے بنوا کر پہن سکتا ہے اورامامت کرنے کے وقت انگر کھا وغیرہا نہیں پہنتا علاوہ اس کے زید کو علم بھی اچھا ہے اور ہر ایك مسائل سے واقفیت رکھتا ہے۔
الجواب :
بیان مسائل سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کرتے ایسے ہی آدھے آستین کے بناتا ہے اور نماز کے وقت انگرکھا پہن سکتا ہے مگر نہیں پہنتا اور بازار کو انگرکھا پہن کر جاتا ہے اس صورت میں زید کے پیچھے نماز اگر چہ ہوجاتی ہے مگر کراہت سے خالی نہیں فانہ اذن من ثیاب مھنۃ والصلاۃ فیھا مکروھۃ (کیونکہ یہ اس کے کام کاج والے کپڑے ہوں گے اور ان کے ساتھ نماز ادا کرنا مکروہ ہے۔ ت) جب وہ ذی علم ہے اور اسے سمجھایا جائے کہ دربار الہی بازار سے زیادہ قابل تعظیم و تذلل ہے قال اﷲ تعالی زینتكم عند كل مسجد وقال ابن عمر اﷲ احق تتزین لہ(اﷲ تعالی کا ارشاد گرامی ہے : جب تم نماز کے لئے مسجد میں جاؤ اپنی زینت اختیار کرو ۔ اور حضرت ابن عمر نے فرمایا : اﷲ تعالی سب سے زیادہ حقدار ہے کہ تو اس کی بارگاہ میں زینت اختیار کرے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۹۹تا ۸۰۷ : ازقصبہ عمری ڈاك خانہ خاص ضلع مراد آباد مسئولہ غلام مصطفی اسرار الحق انصاری قادری ۱۲ محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین صورت ہائے مفصلی ذیل میں کہ :
حوالہ / References القرآن ۷ / ۳۱
#11810 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
(۱) وہابی امام کے پیچھے اہلسنت وجماعت کی اقتداء نماز خواہ پنجگانہ یا تراویح یا جمعہ یا عیدین یا نوافل یا نماز جنازہ میں درست حکم ہے یا کیاحکم ہے
(۲) زید مولویان فرقہ وہابیہ دیوبند کو عالم دین سمجھتا ہے اور ان کی تعظیم و تکریم بھی کرتا ہے لیکن خود عالم نہیں اب زید مذکوراہلسنت وجماعت کی امامت کرسکتا ہے یا نہیں اور اس کی امامت سے نماز سنی کی صحیح ہے یا کیا
(۳)زید فرقہ وہابیہ دیوبندیہ کو برا سمجھتا ہے اور کہتا ہے لیکن ان کی امامت سے نماز بلا تکلف پڑھتا ہے اور عمروسنی حنفی ہے اور وہابیہ کے پیچھے نماز پڑھنے سے احتزار کرتا ہے بخیال نہ ہونے نماز جائز کے لہذا زید مذکور کی امامت سے عمرو مذکورکی نماز صحیح ہوگی یا نہیں اور کیوں
(۴)امام جمعہ وہابی عقائد کا ہے اور صرف ایك ہی مسجد میں جمعہ ہوتا ہے آیا سنی اس کی امامت میں نماز جمعہ پڑھ سکتا ہے یا نہیں اور اگر نہیں تو کیا نماز ظہر ادا کرے
(۵) اگر امام جمعہ نمبران(۲)یا (۳) مذکورہ میں سے کوئی ہو تو اہل سنت وجماعت اس کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں اورنماز صحیح ہوگی یا کیا ۔ نیز نماز عیدین کے بارے میں ایسی صورت میں کیا حکم ہے
(۶) اما م سنی المذہب ہے اور چار مقتدی جن میں سے ایك سنی کامل ہے باقی تین صورتہائے متذکرہ نمبر (۲) اور (۳) کے ہیں ایسی حالت میں جمعہ قائم کرسکتے ہیں یا نہیں
(۷) نماز مغرب یا کسی وقت کی بہ جماعت نماز ساتھ امام صورتہائے متذکرہ ان (۱) یا (۲) یا (۳) کے ہورہی ہے توکیا سنی المذہب شریك جماعت ہوسکتا ہے یا نہیں اور تنہا پڑھنے کی حالت میں نماز صحیح ہوگی یا نہیں
(۸) حافظ نا بینا کی امامت جائز ہے یا نہیں نماز پنجگانہ یا تراویح میں بشرطیکہ سوائے اس کے اورکوئی حافظ قرآن موجود نہیں ہے البتہ ناظرہ خواں چند ہیں
(۹) صورت ہائے مذکورۃ الصدر نمبران (۲) یا (۳) میں سے اگر امام ہوتونماز تراویح میں اس کی اقتداء جائز ہے یا نہیں
الجواب :
(۱) وہابی کے پیچھے کوئی نماز فرض خواہ نفل کسی کی نہیں ہوسکتی نہ ا س کے پڑھنے سے نماز جنازہ ادا پو اگرچہ نماز جنارہ میں جماعت و امامت شرط نہیں ولہذا اگر عورت امام اور مقتدی ہے نماز جنازہ کا فرض ادا ہو جائے گاکہ اگ رچہ مقتدیوں کی اس کے پیچھے نہ ہوئی خود اس کی ہوگئی اور اسی قدر فرض کفایہ کی ادا کافی ہے مگر وہابی تو نماز خود باطل ہے لانہ لا دین لہ ولا صلوۃ لن لا دین لہ(کیونکہ اس کا تو کوئی دین نہیں اور جس کا
#11814 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
دین نہیں اس کی نماز نہیں ۔ ت) نہ تو اس کی اپنی ہوسکتی ہے نہ اس کے پیچھے کسی کی اگر چہ اس کا ہم مذہب ہو یا اور کسی قسم بدمذہب ہو سنی ہو تو سنی واﷲ تعالی اعلم۔
(۲) دیوبندیہ کی نسبت علمائے کرام حرمین شریفین نے بالاتفاق فرمایا کہ وہ مرتد ہیں ۔ اور شفائے قاضی عیاض وبزازیہ و مجمع الانہر ودرمختار وغیرہا کے حوالے سے فرمایا من شك فہ کفرہ وعذابہ فقد کفر (جس نے اس کے کفر وعذاب میں شك کیا وہ بھی کافر ہوگیا۔ ت)
جو ان کے اقوال پر مطلع ہوکر ان کے کفر میں شك کرے وہ بھی کافرا ور ان کی حالت کفر وضلال اور ان کے کفری وملعون اقوال طشت ازبام ہوگئے ہر شخص کہ نرا جنگلی نہ ہو ان کی حالت سے آگاہ ہے پھر انہیں عالم دین جانے تو ضرور متہم ہے اور اس کے پیچھے نماز باطل محض ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
(۳) ابھی گزرا کہ دیو بندیہ کے کافر ہونے میں جو شك کرے وہ بھی کافر ہے صرف انھیں برا جاننا کافی نہیں تو جو انھیں قابل امامت سمجھتا ہے اس کے پیچھے نماز بیشك باطل محض ہے فانہ منھم (کیونکہ وہ بھی انہی میں سے ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
(۴) اہلسنت پر فرض ہے کہ اپنا امام سنی صحیح العقیدہ جمعہ و عیدین کے لئے مقرر کریں وہابی کے پیچھے نماز باطل محض ہے اور شہروں میں جمعہ کا ترك حرام ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
(۵) اس کا جواب انھیں نمبروں میں گزرا۔
(۶) ایسی صورت میں جمعہ قائم نہیں ہوسکتا کہ اس کے لئے امام کے سوا کم از کم تین مقتدی درکار ہیں اور یہاں ایك ہی ہے باقی تین نہیں اینٹ پتھر کی مورتیں ہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
(۷) بار ہا بتا دیا گیا کہ انکے پیچھے نماز باطل اور خود ان کی نماز باطل وہ نماز ہی نہیں لغو حرکات ہیں مسلمان اسی وقت اپنی جماعت قائم کریں اور جماعت نہ ملے تو اپنی تنہا پڑھے۔
(۸) نابینا کی امامت جائزہے ہاں اگر اس سے افضل موجود ہو تو خلاف اولی ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
(۹) کتنی بار کہا جائے کہ کسی نماز میں اصلاجائز نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۸۰۸ : از شہرڈونگر پور ملك میوڑاراجپوتانہ برمکان جمعدار سکندر خان مسئولہ عبدالرؤف خان ۱۳ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص نجومی یا رمال یافال دیکھنے والا اس پر اجرت
دین نہیں اس کی نماز نہیں ۔ ت) نہ تو اس کی اپنی ہوسکتی ہے نہ اس کے پیچھے کسی کی اگر چہ اس کا ہم مذہب ہو یا اور کسی قسم بدمذہب ہو سنی ہو تو سنی واﷲ تعالی اعلم۔
(۲) دیوبندیہ کی نسبت علمائے کرام حرمین شریفین نے بالاتفاق فرمایا کہ وہ مرتد ہیں ۔ اور شفائے قاضی عیاض وبزازیہ و مجمع الانہر ودرمختار وغیرہا کے حوالے سے فرمایا من شك فہ کفرہ وعذابہ فقد کفر (جس نے اس کے کفر وعذاب میں شك کیا وہ بھی کافر ہوگیا۔ ت)
جو ان کے اقوال پر مطلع ہوکر ان کے کفر میں شك کرے وہ بھی کافرا ور ان کی حالت کفر وضلال اور ان کے کفری وملعون اقوال طشت ازبام ہوگئے ہر شخص کہ نرا جنگلی نہ ہو ان کی حالت سے آگاہ ہے پھر انہیں عالم دین جانے تو ضرور متہم ہے اور اس کے پیچھے نماز باطل محض ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
(۳) ابھی گزرا کہ دیو بندیہ کے کافر ہونے میں جو شك کرے وہ بھی کافر ہے صرف انھیں برا جاننا کافی نہیں تو جو انھیں قابل امامت سمجھتا ہے اس کے پیچھے نماز بیشك باطل محض ہے فانہ منھم (کیونکہ وہ بھی انہی میں سے ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
(۴) اہلسنت پر فرض ہے کہ اپنا امام سنی صحیح العقیدہ جمعہ و عیدین کے لئے مقرر کریں وہابی کے پیچھے نماز باطل محض ہے اور شہروں میں جمعہ کا ترك حرام ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
(۵) اس کا جواب انھیں نمبروں میں گزرا۔
(۶) ایسی صورت میں جمعہ قائم نہیں ہوسکتا کہ اس کے لئے امام کے سوا کم از کم تین مقتدی درکار ہیں اور یہاں ایك ہی ہے باقی تین نہیں اینٹ پتھر کی مورتیں ہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
(۷) بار ہا بتا دیا گیا کہ انکے پیچھے نماز باطل اور خود ان کی نماز باطل وہ نماز ہی نہیں لغو حرکات ہیں مسلمان اسی وقت اپنی جماعت قائم کریں اور جماعت نہ ملے تو اپنی تنہا پڑھے۔
(۸) نابینا کی امامت جائزہے ہاں اگر اس سے افضل موجود ہو تو خلاف اولی ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
(۹) کتنی بار کہا جائے کہ کسی نماز میں اصلاجائز نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۸۰۸ : از شہرڈونگر پور ملك میوڑاراجپوتانہ برمکان جمعدار سکندر خان مسئولہ عبدالرؤف خان ۱۳ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص نجومی یا رمال یافال دیکھنے والا اس پر اجرت
دین نہیں اس کی نماز نہیں ۔ ت) نہ تو اس کی اپنی ہوسکتی ہے نہ اس کے پیچھے کسی کی اگر چہ اس کا ہم مذہب ہو یا اور کسی قسم بدمذہب ہو سنی ہو تو سنی واﷲ تعالی اعلم۔
(۲) دیوبندیہ کی نسبت علمائے کرام حرمین شریفین نے بالاتفاق فرمایا کہ وہ مرتد ہیں ۔ اور شفائے قاضی عیاض وبزازیہ و مجمع الانہر ودرمختار وغیرہا کے حوالے سے فرمایا من شك فہ کفرہ وعذابہ فقد کفر (جس نے اس کے کفر وعذاب میں شك کیا وہ بھی کافر ہوگیا۔ ت)
جو ان کے اقوال پر مطلع ہوکر ان کے کفر میں شك کرے وہ بھی کافرا ور ان کی حالت کفر وضلال اور ان کے کفری وملعون اقوال طشت ازبام ہوگئے ہر شخص کہ نرا جنگلی نہ ہو ان کی حالت سے آگاہ ہے پھر انہیں عالم دین جانے تو ضرور متہم ہے اور اس کے پیچھے نماز باطل محض ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
(۳) ابھی گزرا کہ دیو بندیہ کے کافر ہونے میں جو شك کرے وہ بھی کافر ہے صرف انھیں برا جاننا کافی نہیں تو جو انھیں قابل امامت سمجھتا ہے اس کے پیچھے نماز بیشك باطل محض ہے فانہ منھم (کیونکہ وہ بھی انہی میں سے ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
(۴) اہلسنت پر فرض ہے کہ اپنا امام سنی صحیح العقیدہ جمعہ و عیدین کے لئے مقرر کریں وہابی کے پیچھے نماز باطل محض ہے اور شہروں میں جمعہ کا ترك حرام ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
(۵) اس کا جواب انھیں نمبروں میں گزرا۔
(۶) ایسی صورت میں جمعہ قائم نہیں ہوسکتا کہ اس کے لئے امام کے سوا کم از کم تین مقتدی درکار ہیں اور یہاں ایك ہی ہے باقی تین نہیں اینٹ پتھر کی مورتیں ہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
(۷) بار ہا بتا دیا گیا کہ انکے پیچھے نماز باطل اور خود ان کی نماز باطل وہ نماز ہی نہیں لغو حرکات ہیں مسلمان اسی وقت اپنی جماعت قائم کریں اور جماعت نہ ملے تو اپنی تنہا پڑھے۔
(۸) نابینا کی امامت جائزہے ہاں اگر اس سے افضل موجود ہو تو خلاف اولی ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
(۹) کتنی بار کہا جائے کہ کسی نماز میں اصلاجائز نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۸۰۸ : از شہرڈونگر پور ملك میوڑاراجپوتانہ برمکان جمعدار سکندر خان مسئولہ عبدالرؤف خان ۱۳ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص نجومی یا رمال یافال دیکھنے والا اس پر اجرت
حوالہ / References دُرمختار باب المرتد مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵۶
#11821 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
لینے والا ہو اور امامت کرتا ہو اس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں
الجواب :
نجومی ورمال قابل امامت نہیں یونہی جھوٹے فالناموں والے ہاں اگر جائز طور پر فال دیکھے اور نہ اس پر یقین کرے نہ یقین دلائے تو حرج نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۸۰۹ : از شہر کہنہ مسئولہ سید ممتاز علی صاحب رضوی ۱۴محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
اہلسنت وجماعت کا متفق علیہ عقیدہ ہے کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ بعد انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام افضل البشر ہیں زید وخالد دونوں اہل سادات ہیں زید کہتا ہے کہ جو شخص حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کوحضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ پر فضیلت دیتا ہے اس کے پیچھے نماز مکروہ ہوتی ہے۔ خالد کہتا ہے کہ میں علی الاعلان کہتا ہوں کہحضرت ابا بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ پر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو فضیلت ہے اور ہر سید تفضیلیہ ہے اور تفضیلیہ کے پیچھے نماز مکروہ نہیں ہوتی بلکہ جو تفضیلیہ کے پیچھے نماز مکروہ بتائے خود اس کے پیچھے مکروہ ہوتی ہے۔
الجواب :
تمام اہلسنت کا عقیدہ اجماعیہ ہے کہ صدیق اکبروفاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم سے افضل ہیں ائمہ دین کی تصریح ہے جو مولی علی کو ان پر فضیلت دے مبتدع بدمذہب ہے اس کے پیچھے نماز مکروہ ہے۔ فتاوی خلاصہ وفتح القدیرو بحرالرائق وفتاوی عالگیریہ وغیرہا کتب کثیرہ میں ہے : ان فضل علیا علیھما فمبتدع (اگر کوئی حضرت علیکوصدیق وفاروق پرفضیلت دےتا ہے تو وہ بدعتی ہے ۔ ت)غنیہ وردالمحتارمیں ہے : الصلوۃ خلف المبتدع تکرہ بکل حال (بدمذہب کے پیچھے ہر حال میں مکروہ ہے)ارکان اربعہ میں ہے : الصلوۃ خلفھم تکرہ کراھۃ شدیدۃ (ان یعنی تفضیلی شیعہ کی اقتداء میں نماز شدید مکروہ ہے۔ ت)تفضیلیوں کے پیچھے نماز سخت مکروہ یعنی مکروہ تحریمی ہے کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب ۔ واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References خلاصۃ الفتاویٰ کتاب الصلوٰۃ الاقتداء باھل الہوائ مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۱۴۹
ف : خلاصۃ الفتاویٰ میں '' ان فضل علیا علی غیرہ '' ہے ۔
ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۴
رسائل الارکان فصل فی الجماعۃ مطبوعہ مطبع علوی انڈیا ص۹۹
ف : عبارت مفہومًا منقول ہے لفظًا نہیں ۔ الفاظ یوں ہیں : فیجوز خلفھم الصلٰوۃ لکن یکرہ کراھۃ شدیدۃ۔
#11822 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
مسئلہ نمبر ۸۱۰ : شہر کہنہ محلہ کانکر ٹولہ مسئولہ ننھے خاں ۱۵محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دکاندار آدمی اس کی امامت جائز ہے یا نہیں
الجواب :
جائز چیز بیچنا اور جائز طور بیچنا کچھ حرج نہیں رکھتا نہ اسکے سبب امامت میں کوئی خلل آئے ہاں اگر ناجائز چیز بیچے یا مکروفریب کذب یا عقود فاسدہ مثل ربو وغیرہ کا ارتکاب کرے تو آپ بھی فاسق اور فاسق کے پیچھے نماز مکروہ ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۸۱۱ ۸۱۲ : ازصدر بازار بریلی مسئولہ نعمت اﷲ خاں محرر پونڈ ۱۶محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ :
(۱) زید اہل سنت وجماعت ہے زید کی نماز وہابی کے پیچھے جائز ہے یا نہیں
(۲) بکر وہابی اور زید اہلسنت وجماعت ہے تو بکر کی نماز زید کے پیچھے ہوسکتی ہے یا نہیں
الجواب :
سنی کی نماز وہابی کے پیچھے نہیں ہوسکتی امام محمد وامام ابویوسف و امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہم سے راوی : ان الصلوۃ خلف اھل الھواء لاتجوز (اہل بدعت و بدمذہب کے پیچھے نماز جائز نہیں ۔ ت)
بلکہ وہابی کی نماز نہ کسی کے پیچھے ہوسکتی ہے نہ خود تنہا وہابی کے پیچھے کسی کی نماز ہوسکتی ہے اگر چہ اس کا ہم مذہب ہو کہ صحت نماز کے لئے پہلی شرط اسلام ہے اور وہابیہ توہین خدا و رسول کے سبب اسلام سے خارج ہیں ۔ فتاوی علمائے کرام حرمین شریفین میں ہے :
من شك فی کفرہ و عذابہ فقد کفر ۔
جس نے اس کے کفر و عذاب میں شك کیا وہ بھی کافر ہو گیا۔ (ت)
مسئلہ نمبر۸۱۳ : از موضع برتا پور ضلع بریلی مسئولہ گلزار شاہ ۲۱محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چند آدمی ناخواندہ قطعا ہیں اوران آدمیوں میں ایك آدمی کچھ خواندہ عربی کا ہے لیکن پیشہ فقیری کا ہے اس کی امامت جائز ہے یا نہیں
الجواب :
فقیری کا پیشہ کہ تندرست ہوتے ہوئے بھیك مانگتے پھرتے ہیں حرام ہے اور اس کی کمائی خبیث اور اسے
حوالہ / References فتح القدیر باب الامامۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۰۴
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰۶ ، حسام الحرمین علی منحرالکفر والمین مکتبہ نبویہ لاہور
#11825 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
امام بنانا گناہ اس کے پیچھے نماز پڑھنی گناہ اس میں سے کسی پرہیز گار جو سنی صحیح العقیدہ ہو وضو غسل ٹھیك کرتا ہو نماز صحیح پڑھتا ہو امام بنائیں ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۸۱۴ : ازضلع سیونی چھپارہ محلہ قاضی ممالك متوسط مسئولہ محمد ظہور الحسن صاحب ۲۳محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعض لوگ مندرجہ ذیل حدیث شریف کو جھوٹا کہتے ہیں وہ یہ ہے :
عن عمرو بن سلمۃ قال لماکانت وقعۃ الفتح بادر کل قوم باسلامھم وبدرابی قومی باسلامھم فلما قدم قال جئتکم واﷲ من عندالنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حقا فقال صلواصلاۃ کذا فی حین کذا وصلاۃ کذافی حین کذافاذاحضرت الصلاۃ فلیؤذن احدکم ویؤمکم اکثرکم قرانا فنظر وافلم یکن احدااکثر قرانامنی لما کنت اتلقی من الرکبان فقد مونی بین ایدیھم وانا ابن ست اوسبع سنین وکانت علی بردۃ کنت اذا سجدت تقصلت عنی فقالت امرأۃ من الحی الا تغطوا عنااست قارئکم فاشتروافقطعو ا لی قمیصافمافرحت بشیئ فرحی بذلك القمیص رواہ البخاری وفی روایۃ النسائی کنت اومھم وانا ابن ثمان سنین وفی روایۃ لابی داؤد وانا ابن سبع سنین اوثمان سنین وفی روایۃ لاحمد وابی داؤد فما شھدت مجمعا من جرم الاکنت امامھم الی یوم ھذا ۔
عمرو بن سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ جب مکہ فتح ہوا تو ہر ایك قوم نے اسلام لانے میں جلدی کی اورمیرے والد نے اپنی قوم سے اسلام لانے میں جلدی کی پس جب وہ آں حضرت صلی اﷲ تعالی کی خدمت سے واپس آئے تو انھوں نے فرمایا واﷲ میں تمہارے پاس اس سچے نبی اورحق کے پاس سے آیاہوں پس تم لوگ نماز ایسے ایسے وقت میں پڑھا کرو پس جب نماز کا وقت آجائے تو تم میں سے ایك اذان کہے اور تم میں سے زیادہ قرآن پڑھا ہوا تمھاری امامت کرائے پس انھوں نے دیکھا تو مجھ سے زیادہ قرآن خواں کسی کو نہ پایا کیونکہ میں سواروں سے( جو ہمارے پاس سے گزرتے تھے ) سیکھ لیا کرتا تھا انہوں نے مجھ کو اپنا امام بنالیا اور میں چھوٹا سات برس کا لڑکا تھا اور مجھ پر ایك چادر ہوتی تھی جب میں سجدہ کرتا تھا تو وہ چادر مجھ سے سکڑ جاتی تھی پس قبیلہ کی ایك عورت نے کہا تم ہم سے اپنے قاری کے سرین نہیں ڈھانکتے پس انھوں نے کپڑا خریدا اور انھوں نے میرے لئے کرتا بنایا پس میں جیسا اس کپڑے سے خوش ہوا اور کسی چیز سے خوش نہیں ہوا بخاری ونسائی کی روایت بھی ہے کہ میں ان کی امامت کراتا تھا اور میں آٹھ برس کا تھا ۔ اورابی داؤد کی روایت میں زیادہ ہے کہ سات یا آٹھ برس کا لڑکا تھا اور احمد
حوالہ / References صحیح بخاری کتاب المغازی ۲ / ۶۱۶
سنن نسائی کتاب الامامۃ ۱ / ۹۱
سنن ابو داؤد باب من احق بالامامۃ ۱ / ۸۶
مسند احمد بن حنبل حدیث عمرو بن سلمہ ۵ / ۷۱
#11826 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
اور ابوداؤدکی ایك روایت میں زیادہ ہے کہ میں جرم قبیلہ کے کسی مجمع میں نہیں حاضر ہوا مگر وہ آج کے دن تك وہاں مجھ کو امام بناتے ہیں ۔ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ بچہ نابالغ کی امامت جائز ہے اور امام حسن بصری اوراسحاق اورامام شافعی اورامام یحیی کا بھی مذہب ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ بچے کی امامت کے منع میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہےکہ آیا یہ حدیث صحیح ہے یا نہیں اور کوئی شخص اس حدیث شریف کو جھوٹا کہے تو اس کے واسطے شریعت کی طرف سے کیاحکم ہے اور ایك لڑکا ہے جو دیکھنے میں بالغ معلوم ہوتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ میں بالغ ہوں اور بالغ کی علامت پائی جاتی ہے اور اس کی عمر ۱۴برس کی ہے اور وہ قرآن شریف کو ٹھیك طور سے حروف کی ادائیگی کے ساتھ پڑھتا ہے لیکن بعض لوگ اس کو نابالغ کہتے ہیں اس کی بات کا یقین نہیں کرتے دریافت طلب یہ بات ہے کہ وہ نماز پڑھا سکتا ہے یا نہیں اور اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں ہر دو سوالوں کے جواب باصواب سے مشرف فرمایا جائے۔
الجواب :
چودہ برس کی عمر کا لڑکا جب کہے کہ میں بالغ ہوں اس کا قول واجب القبول ہے اور اسے بالغ مانا جائے گا اور اس کے پیچھے نماز جائز ہوگی جبکہ ظاہر حال اس کی تکذیب نہ کرتاہو اورنابالغ ہمارے ائمہ کے نزدیك بالغ کا امام نہیں ہوسکتا کہ وہ متنفل ہے یہ مفترض اور نفل متضمن فرض نہیں ہوسکتا ۔ حدیث مذکور کو صحیح ہے اور جھوٹا کہنا جہل یا عناد اور اس کے جوابات فتح القدیر وعینی شرح ہدایہ میں مذکور ہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۸۱۵ : ازشہر محلہ قراولان مسئولہ عبدالکریم خیاط قادری رضوی ۲۳محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیا ارشاد ہے شریعت مقدسہ کا اس مسئلہ میں کہ زید بد مذہبوں کے یہاں علانیہ کھاتا ہے بد مذہبوں سے میل جول رکھتا ہے مگر خود سنی ہے اس کے پیچھے نماز کیسی اور اسکے تراویح سننا کیسا ہےبینوا تو جروا۔
الجواب :
اس صورت میں وہ فاسق معلن ہے اورامامت کے لائق نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۸۱۶ : ازشہر محلہ ذخیرہ مسئولہ منشی شوکت علی صاحب محرر چونگی ۲۴محرم ۱۳۳۹ھ
کیا حکم ہے اہل شریعت کا اس مسئلہ میں کہ امامت کن کن شخصوں کی جائز ہے اور کن کن کی ناجائز اور مکروہ اورسب سے بہتر امامت کس شخص کی ہے
الجواب :
جو قرأت غلط پڑھتا ہو جس سے معنی مفسد ہوں وضو یا غسل صحیح نہ کرتا ہو یا ضروریات دین سے کسی چیز کا منکر ہو جیسے وہابی رافضی غیر مقلد نیچری قادیانی چکڑالوی وغیرہم یا وہ جوان میں سے کسی کے عقائد پرمطلع ہوکر اس کے
#11828 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
کفر میں شك کرے یا اسکے کافر کہنے میں تامل کرے ان کے پیچھے نماز محض باطل ہے اور جس کی گمراہی حد کفر تك نہ پہنچی ہو جیسے تفضیلیہ : مولی علی کوشیخین سے افضل بتاتے ہیں رضی اللہ تعالی عنہم یا تفسیقیہ کہ بعض صحابہ کرام مثل امیر معاویہ وعمروبن عاص وابوموسی اشعری و مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہم کو برا کہتے ہیں ان کے پیچھے نماز بکراہت شدیدہ تحریمیہ مکروہ ہے کہ انھیں امام بنانا حرام ان کے پیچھے نماز پڑھنی گناہ اور جتنی پڑھی ہوں سب کا پھیرنا واجب اورانھیں کے قریب ہے فاسق معلن مثلا داڑھی منڈایا خشخاشی رکھنے والا یا کتر واکر حد شرع سے کم کرنے والا یا کندھوں سے نیچے عورتوں کے سے بال رکھنے والا خصوصا وہ جو چوٹی گندھوائے اور اس میں موباف ڈالے یا ریشمی کپڑے یامغرق ٹوپی یا ساڑھے چار ماشے زائدکی انگوٹھی یاکئی نگ کی انگوٹھی یا ایك نگ کی دو۲انگوٹھی اگر چہ مل کر ساڑھے چار ماشےسے کم وزن کی ہوں یا سود خور یا ناچ دیکھنے والا ان کے پیچھے بھی نماز مکروہ تحریمی ہے اور جو فاسق معلن نہیں یا قرآن میں وہ غلطیاں کرتا ہے جن سے نماز فاسد نہیں ہوتی یا نابینا یا جاہل یا غلام یا ولد الزنا یاخوبصورت امرد یا جذامی یا برص والا جس سے لوگ کراہت ونفرت کرتے ہوں اس قسم کے لوگوں کے پیچھے نماز مکروہ تنزیہی ہے کہ پڑھنی خلاف اولی اور پڑھ لیں تو کوئی حرج نہیں اور اگر یہی قسم اخیر کے لوگ حاضرین میں سب سے زائد مسائل نماز و طہارت کا علم رکھتے ہوں تو انھیں کی امامت اولی ہے بخلاف ان سے پہلی دوقسم والوں سے کہ اگر چہ عالم متبحر ہو وہی حکم کراہت رکھتا ہے مگر جہاں جمعہ یا عیدین ایك ہی جگہ ہوتے ہوں اور ان کا امام بدعتی یا فاسق معلن ہے اور دوسرا امام نہ مل سکتا ہو وہاں ان کے پیچھے جمعہ و عیدین پڑھ لئے جائیں بخلاف قسم اول مثل دیوبندی وغیرہم نہ ان کی نماز نماز ہے نہ ان کے پیچھے نماز نماز الغرض وہی جمعہ یا عیدین کا امام ہو اور کوئی مسلمان امامت کے لئے نہ مل سکے تو جمعہ و عیدین کا ترك فرض ہے جمعہ کے بدلے ظہر پڑھیں اورعیدین کا کچھ عوض نہیں امام اسے کیا جائے جو سنی العقیدہ صحیح الطہارۃ صحیح القرأۃ مسائل نماز و طہارت کا عالم غیر فاسق ہو نہ اس میں کوئی ایسا جسمانی یا روحانی عیب ہو جس سے لوگوں کو تنفر ہو یہ ہے اس مسئلہ کا اجمالی جواب اور تفصیل موجب تطویل واطناب واﷲ تعالی اعلم بالصواب۔
مسئلہ نمبر ۸۱۷ : از ٹھہریاموہن پورضلع بریلی مسئولہ حافظ ابراہیم خاں ۲۸محرم الحرام۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امامت کا مصلی اگر در میں ڈالا جائے توکون سے در میں ڈالا جائے اگر بائیں در میں ڈالا جائے تو جائز ہے یانہیں
الجواب :
سنت یہ ہے کہ امام مسجد کے وسط میں کھڑا ہو اگر مثلا اندر کی مسجدچھوٹی ہو اور باہر کی مسجد جنوب یا شمال کی طرف زیادہ وسیع ہو تو جب اندر پڑھائیں اس حصہ کے وسط میں امام کھڑا ہو اور جب باہر پڑھائیں تو اس حصہ کے وسط میں خواہ وہ کسی در کے مقابل ہو یا سب دروں سے باہر ہوجائے ۔ واﷲ تعالی اعلم
#11830 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
مسئلہ نمبر ۸۱۸ : شہر کہنہ محلہ لودھی ٹولہ مسئولہ حبیب اﷲ خاں صاحب ۲۹محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جوشخص جھوٹے مسئلے ظاہر کرے اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں
الجواب :
اگر قصدا جھوٹا فتوی دیا قابل امامت نہیں کہ سخت کبیرہ کا مرتکب ہوا اور جہالت سے ایك آدھ بار فتوی میں دخل دیا اسے سمجھایا جائے تائب ہو اور آئندہ باز رہے تو اس کی امامت میں حرج نہیں اوراگر عادی ہے اور نہیں چھوڑتا تو فاسق ہے اور لائق امامت نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۸۱۹ : از شہر محلہ بھوڑ مسئولہ حشمت علی ۲۱صفر ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدوہابیہ کے پیچھے نماز پڑھتا ہے اہلسنت وجماعت کا زید کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
جو وہابی کو وہابی جان کر اس کے پیچھے نماز پڑھے اگر وہابی کو قابل امامت جانتا ہے خود وہابی ہے اور اس کے پیچھےنماز باطل محض ورنہ اپنی نماز کا باطل کرنے والا اور کم از کم فاسق معلن ہے ۔ اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۸۲۰ : بشارت گنج ضلع بریلی مسئولہ حاجی غنی رضا خان صاحب ۲۸صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ داڑھی منڈانے والے کواول صف میں جماعت میں شریك ہونا چاہئے یا پچھلی صف میں ۔ زید کہتا ہے کہ اس کی ممانعت کسی جگہ شرع میں نہیں ہے اور داڑھی منڈانے والا جماعت بھی پڑھا سکتا ہے کیونکہ نمازفاسق کے پیچھے بھی جائز ہے اور یہ بھی تحریر فامائیے گا کہ امام کی داڑھی کتنی بڑی ہونی چاہئے اور داڑھی منڈانے والے کی نماز میں تنہا پڑھنے میں کچھ فرق آتا ہے کہ نہیں
الجواب :
داڑھی منڈانا فسق ہے اور فسق سے متلبس ہوکر بلا توبہ نماز پڑھنا باعث کراہت نماز ہے جیسے ریشمی کپڑے پہن کر یاصرف پائجامہ پہن کر اور داڑھی منڈانے والا فاسق معلن ہے نماز ہوجانا بایں معنی ہے کہ فرض ساقط ہوجائے گا ورنہ گناہگار ہوگا اسے امام بنانا اور اس کے پیچھے نماز مکرہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب باقی اگر وہ صف اول میں آئے تو اسے ہٹانے کا حکم نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۸۲۱ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں جو شخص تارك الجماعۃ بھی ہو اور نماز پنجوقتہ پڑھانے کی اجرت یا تنخواہ بطور چندہ مسلمانوں سے طلب کرے اس کے پیچھے نماز جمعہ جائز ہے یا نہیں اور وہ قبر کی
#11832 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
نوکری بھی کرتاہے۔
الجواب :
بیان سائل سے واضح ہوا کہ یہ شخص باوصف قدرت اصلا جماعت میں نہیں آتا اور اپنا آنا اس شرط پر مشروط کرتا ہے کہ مجھے تنخواہ دو تو امامت کروں اور قبر پر قرآن مجید پڑھنے کی نوکری کیا کرتا ہے تلاوت قرآن مجیدکی نوکری تو ناجائز حرام ہے کما حققہ العلامۃ الشامی فی اجارۃ ردالمحتار(جیسا کہ علامہ شامی نےردالمحتار کے باب الاجارہ میں اس کی تحقیق کی ہے۔ ت) اور امامت کی نوکری اگرچہ اب جائز ہے کما صرح بہ فی المتون(جیساکہ متون میں اس پر تصریح ہے ۔ ت) مگراس طرح کہ نوکری نہ ہو جماعت ہی کو نہ آئے ایساتارك جماعت باوصف قدرت بیشك فاسق مردود الشہادۃ ہے نص علیہ العلماء الکبار وشھدت بھاالحدیث والاثار(اس پر اکابر علما نے تصریح کی اور احادیث وآثار اس پر شاہد ہیں ۔ ت) اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی قریب بحرام ہے کما حققہ المولی المحقق ابراہیم الحلبی فی الغنیۃ شرح المنیۃ (جیسا کہ فاضل محقق ابراہیم حلبی نے غنیہ شرح منیہ میں تحقیق کی ہے۔ ت) جہاں کہ جمعہ متعدد مساجد میں ہوتا ہے نمازجمعہ بھی ہرگز نہ پڑھی جائے لانہ بسبیل من التحول کما فی فتح القدیر و غیرہ (کیونکہ وہاں سے منتقل ہونا ممکن ہے۔ فتح القدیر میں ایسا ہی ہے۔ ت) ایسے شخص کو امام بنانا گناہ ہے کما افادہ فی فتاوی الحجۃ (جیسا کہ فتاوی الحجہ سے مستفاد ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۸۲۲ : ازپیلی بھیت محلہ بھینسا بھاڑ مکان عبدالکریم صاحب رنگریز مرسلہ عبدالحکیم صاحب ۳ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ
علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں ایك شخص کو قطرہ کا عارضہ ہے مگر ہر وقت نہیں آتا جس وقت پیشاب پھرتا ہے اس کے بعد میں برابر آتا رہتا ہے اور ڈھیلے سے استنجا نہیں سوکھتا مگر پانی سے استنجا کرکے نصف گھنٹہ لنگوٹ باندھ لیتا ہے سوکھ جاتا ہے پھر جب تك پیشاب نہیں پھرتا ہے نہیں آتا ہے مگر کبھی دوسرے تیسرے دن پیشاب پھرے غیروقت بھی آجاتا ہے ہرروز نہیں آتا ہے ایسے شخص کے پیچھے فرض پڑھنا درست ہے یا نہیں اور یہ شخص حافظ قرآن بھی ہے اس کے پیچھے تراویح بھی درست ہے یا نہیں ۔
الجواب :
اس کے پیچھے فرض وتراویح وغیرہا سب درست ہیں ۔ درمختار میں ہے :
یجب ردعذرہ اوتقلیلہ بقدر قدرتہ
معذورپر عذر کا روکنا یاکم کردینا اس کی اپنی قدرت
حوالہ / References فتح القدیر باب الامامۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکّھر ۱ / ۳۰۴
#11833 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
ولو بصلاتہ مؤمئا ا وبردہ لایبقی ذاعذر ۔ واﷲ تعالی اعلم
کے مطابق واجب ہے خواہ اشارہ کرکے نماز پڑھنے سے عذر موقوف ہوسکے عذر ہٹانے کی صورت میں وہ شخص معذور نہ رہے گا۔ (ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۸۲۳ : کیا فرماتے ہیں علماء اس مسئلہ میں کہ امام مصلی پر کھڑاہو اورمقتدی بغیر مصلے یعنی فقط صحن میں کھڑا ہو اس صورت میں نماز مکروہ ہے یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
نماز میں کچھ کراہت نہیں کہ حدیث وفقہ میں کہیں اس کی ممانعت نہیں نہ امام کی تعظیم شرعا ممنوع ہے نہ یہ انفراد علی الدکان کی قبیل سے ہے بحرالرائق میں ہے : الکراھۃ لابدلھا من دلیل خاص (کراہت کے لئے مستقل دلیل کا ہونا ضروری ہے۔ ت)منح الغفار میں ہے : بمثل ھذالاتثبت الکراھۃ اذلا بدلھا من دلیل خاص ۔ (اس طرح کی چیز سے کراہت ثابت نہیں ہوتی کیونکہ اس کے لئے مستقل دلیل کا ہونا ضروری ہے۔ ت ) البتہ اگر امام براہ تکبر و استعلا ایسا امتیاز چاہے تواس کی یہ نیت سخت گناہ و حرام و کبیرہ ہے۔
قال اﷲ تعالی الیس فی جهنم مثوى للمتكبرین(۶۰) ۔ اعاذنا اﷲ سبحنہ وتعالی بمنہ وکمال کرمہ امین۔ واﷲ تعالی اعلم
اﷲ تعالی کا فرمان ہے کیا متکبرین کا ٹھکانہ جہنم میں نہیں ہے (ت) اﷲ تعالی اپنے فضل وکرم کے ذریعے اس سے ہم سب کو پناہ عطافرمائے۔ آمین(ت)
مسئلہ نمبر ۸۲۴ تا ۸۲۶ : ازقصبہ سرواڑ علاقہ کشن گڑھ متصل اجمیر ہوشیاروں کی مسجد مسئولہ جناب قاضی اکبر صاحب ۲۰ ذی القعدہ ۱۳۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ :
(۱) غیر مقلدین کے پیچھے ہماری نماز ہوتی ہے یا نہیں
(۲) غیر مقلدین کو ہماری مقلدین کی مسجد میں آنے دینا درست ہے یا نہیں
حوالہ / References درمختار ، باب الحیض ، مطبوعہ مجتبائی دہلی ، ۱ / ۵۳
بحرالرائق باب العیدین مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۱۶۳
ردالمحتار بحوالہ منح الغفار باب العیدین مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۶۱۴
القرآن ۳۹ / ۶۰
#11836 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
(۳) جس کسی محلہ کی مسجدمیں محلہ داران حنفیہ نے متفق ہو کر اپنے محلہ کی مسجد میں ایك تو مؤذن اور ایك پیش امام مقرر کر رکھا ہواور نماز کے وقت مؤذن کی راہ دیکھتا ہے کہ وقت ہوجائے تو اذان کہے اور پیش امام مذکور باوضو مسجد مذکور میں یاخاص مصلے پر بیٹھاہواہو اس حالت میں بلا رضامندی پیش امام مقررہ کے دوسرا کوئی مسجد مذکور میں اسی محلہ کا یا دوسرے محلہ کا یا دوسرے گاؤں کا اذان دے یا نماز پڑھائے تو جائز ہے یانہیں اگر بلا رضامندی اذان دینا یا نماز پڑھنا مقرر کے سوائے ناجائز ہو اور محلہ داران مذکور منع کرتے ہوں اوروہ نہ مانے تو شرع شریف سے ان کے لئے کیا حکم فقط
الجواب :
(۱) ان کے پیچھے نماز محض باطل ہے جیسے کسی یہودی کے پیچھے فتح القدیر میں ہے :
ان الصلوۃ خلف اھل الاھواء لاتجوز ۔ واﷲ تعالی اعلم
اہل بدعت و بدمذہب کے پیچھے نماز جائز نہیں (ت) واﷲ تعالی اعلم
(۲)یہ تو معلوم ہوچکا کہ نماز میں ان کا کوئی حق نہیں ان کی نماز نماز ہی نہیں تو مسجد میں انھیں آنے کا حق نہیں اور ان کے آنے سے فتنہ ہوتا ہے اور فتنہ کا بند کرنا فرض ہے اوروہ قصدا مسلمانوں کو ایذا دیتے ہیں کم از کم اپنی آمین بالجہر کی آوازوں سے جو قصدا اعتدال سے بھی زائد نکالتے ہیں اور موذی کو مسجد سے روکے جانے کاحکم ہے ۔ درمختار میں ہے :
یمنع منہ وکذاکل موذ ولو بلسانہ ۔ واﷲ تعالی اعلم
ایسے شخص کو دخول مسجد سے منع کیا جائے اور اسی طرح ہر تکلیف دینے والے کومنع کیا جائے گا اگرچہ وہ زبان ہی سے ایذا دے۔ (ت)
(۳)امام معین موجود وحاضر ہے تو بے اس کی مرضی کے دوسرا زبردستی بلاوجہ شرعی امام بن جانا ناجائز و گناہ ہے۔ حدیث میں فرمایا :
الالایؤمن الرجل فی سلطانہ الا باذنہ ۔
کوئی آدمی سلطان اورحاکم (مراد صاحب تصرف ہے صاحب خانہ ہو یا صاحب مجلس یا امام مسجد کوئی بھی ہو ) کی اجازت کے بغیر امامت نہ کروائے۔ (ت)
حوالہ / References فتح القدیر باب الامامۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۰۴
دُرمختار باب ما یفسد الصلٰوۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۴
صحیح مسلم باب من احق بالامامۃ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۳۶
#11837 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
اور مؤذن مقرر کئے ہوئے کے خلاف مرضی بلاوجہ شرعی اذان دینا اس کے حق میں ناحق دست اندازی اور نفرت دلانا ہے اور صحیح حدیث میں اس سے منع فرمایا بشروا ولا تنفروا (لوگوں کو خوش کرو اور نفرت نہ پھیلاؤ۔ ت) ایسے لوگ مفسد ہیں اگر نہ مانیں تو مسجد سے باہر کر دینے کاحکم ہے ہاں اگر امام ناقابل امامت ہے مثلا غلط خواں یا وہابی وغیرہ تو نہ وہ امام ہے نہ ا سکا پڑھانا امامت ۔ یونہی اگر موذن ایسی حالت پر جس کی اذان کے لئے شرعاحکم اعادہ ہے تو ایسوں کواذان وامامت سے باز رکھنا بجا ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۸۲۷ : از شہر جامع مسجد مولوی محمد افضل صاحب
چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ شخص اما م راخوب نمی داند باعتقادخودو درخانہ نما ز میگذارد روا ہست یانہ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ ایك شخص اپنے عقائد کے مطابق امام کو اچھا نہیں سمجھتا اورنماز گھر میں پڑھنا جائز ہے یا نہیں
الجواب :
اگر فی الواقع امام بدمذہب یافاسق معلن یافاسق القرأۃ است وتبدیلش نتواند نہ جماعت دیگر درمسجد می تواں کرد آنگاہ بخانہ بااہل خود اقامت جماعت باید کردیا تنہا گزارد اگردیگرے ندارد۔
اگر واقعی امام بدمذہب یافاسق معلن یا فاسق القرأۃ ہو اور اس کو تبدیل نہ کرسکتا ہو نہ مسجد میں دوسری جماعت کرواسکتاہو تو اس صورت میں گھر میں اپنے اہل کے ساتھ جماعت قائم رکے یا تنہا ادا کرے اگر کوئی دوسرا گھر نہ ہو۔ (ت)
مسئلہ نمبر ۸۲۸ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر مقتدی عمامہ باندھے ہوں اور امام فقط ٹوپی پہنے تو مکروہ ہوگی یا نہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
اس میں شك نہیں کہ نماز عمامہ کے ساتھ نماز بے عمامہ سے افضل کہ وہ اسباب تجمل ہے ہی اور یہاں تجمل محبوب اور مقام ادب کے مناسب اس لئے تلاوت قرآن کے وقت تعمم مندوب ہوا کما فی فتاوی قاضیخاں(جیساکہ فتاوی قاضی خان میں ہے۔ ت) اور نماز میں کہ گویہ دربار عظیم الشان حضرت ملك السموات والارض جل جلا لہ کی حاضری ہے رعایت آداب بہ نسبت تلاوت کے اہم اور امام کہ سردار مطاع قوم ہے اس کے ساتھ احق والیق لہذا نظافت ثوب و پاکیزگی لباس وجوہ تقدیم استحقاق امامت سے قرار پائی کما فی الدرالمختار(جیساکہ درمختار میں ہے۔ ت) مگر باایں ہمہ صورت مستفسرہ میں صرف ترك اولی
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الادب باب قول النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم یسروا الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۹۰۴
#11839 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
ہوا تو اس سے کراہت لازم نہیں آتی تاوقتیکہ اس کا ثبوت کسی خاص دلیل شرعی سے نہ ہو ورنہ نماز چاشت واشراق وغیرہما ہر مستحب کاترك مکروہ ٹھہرے اور یہ صحیح نہیں حاشیہ شامیہ میں بحرالرائق سے نقل کیا :
لایلزم من ترك المستحب ثبوت الکراھۃ اذبدلھا من دلیل خاص وفیھا عن تحریر الاصول خلاف اولی مالیس فیہ صیغۃ نھی کترك صلاۃ الضحی بخلاف المکروہ تنزیھا انتھی وتمامہ فیھا۔
ترك مستحب سے ثبوت کراہت لازم نہیں آتا اس کے لئے خاص اور مستقل دلیل کی ضرورت ہوتی ہے اور اسی میں تحریر الاصول کے حوالے سے ہے خلاف اولی یہ ہے کہ جس میں صیغہ نہی نہ ہو مثلا نماز چاشت کا ترك کرنا بخلاف مکروہ تنزیہی کے اھ اس کی پوری تفصیل وہاں ملاحظہ کیجئے۔ (ت)
بالجملہ جب تك اس بارہ میں نہی ثابت نہ ہوگی کراہت مانی جائے گی واﷲ تعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
مسئلہ نمبر ۸۲۹ : ازسرکار مارہرہ مطہرہ ضلع ایٹہ درگاہ کلاں مسئولہ حضرت صاحبزادہ والامرتبت بالامنقبت حضرت سید شاہ محمد میاں صاحب زید مجدہم ۲۰ ذیقعدہ ۱۳۳۰ھ
جامع کمالات منبع برکات مولنا المعظم زادت برکاتہم پس از سلام مسنون عارض ہوں فساق کی امامت علی المذہب مفتی بہ مکروہ تحریمی قابل اعادہ یا مکروہ تنزیہی یا کچھ تفصیل اگر فساق کی امامت سے صلحا بھی اور فساق دونوں نمازیں پڑھیں برتقدیر اعادہ صرف صلحا کے لئے نماز مکروہ تحریمی قابل اعادہ ہے یا صلحاوفساق دونوں کے لئے اور صلحا اگر منع فساق عن الامامۃ سے عاجز ہوں تو صلوت خمسہ بے جماعت پڑھنا یا فساق کی امامت سے پڑھنا اولی درمختار میں ہے کہ فساق واعمی وعبد و ولدالزناوغیرہ کی امامت تب مکروہ ہے جب دوسرے ان سے اچھے موجود ہوں ورنہ نہیں اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ جو لوگ مکروہ کہتے ہیں ان کے نزدیك بھی یہی حکم ہے یا کچھ اور بینواتوجروا۔
الجواب :
امامت فساق کی نسبت علما کے دونوں قول ہیں کراہت تنزیہی کما فی الدر اورکراہت تحریمی کما فی الغنیۃ وفتاوی الحجۃ و التبیین وابی السعود والطحطاوی علی مراقی الفلاح وغیرہا اور ان میں توفیق یہ ہے کہ فاسق غیرمعلن کے پیچھے مکروہ تنزیہی اور معلن کے پیچھے تحریمی مبتدع کی بدعت اگر حد کفر کو پہنچی ہو اگر عندالفقہا یعنی منکرقطعیات ہو اگر چہ منکر ضروریات نہ ہو توصحیح یہ ہے کہ اس کے پیچھے نماز باطل ہے کما فی فتح القدیر
حوالہ / References ردالمحتار مطلب ترك المندوب ھل تکرہ تنزیہا الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۹۱
#11841 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
ومفتاح السعادۃ والغیاثیۃ وغیرہا(فتح القدیر مفتاح السعادۃاورغیاثیہ وغیرہ میں اسی طرح ہے۔ ت)کہ وہی احتیاط جو متکلمین کو اس کی تکفیر سے باز رکھے گی اس کے پیچھے نماز کے فساد کا حکم دے گی فان الصلاۃ اذاصحت من وجوہ وفسدت من وجہ حکم بفسادھا (نماز جب کئی وجوہات کی بنا پر صحیح مگر ایك وجہ سے فاسد تو اس کو فاسد قرار دیا جائے گا۔ ت) ورنہ مکروہ تحریمی جن صورتوں میں کراہت تحریم کا حکم ہے صلحاء وفساق سب پر اعادہ واجب ہے جب مبتدع یافاسق معلن کے سوا کوئی امام نہ مل سکے تو منفردا پڑھیں کہ جماعت واجب ہے اوراس کی تقدیم بکراہت تحریم اور واجب و مکروہ تحریم دونوں ایك مرتبہ میں ہیں ودرء المفاسد اھم من جلب المصالح (مفاسد کا دور کرنا مصالح کے حصول سے اہم اور ضروری ہوتا ہے۔ ت) ہاں اگر جمعہ میں دوسرا امام نہ مل سکے تو جمعہ پڑھیں کہ وہ فرض ہے اور فرض اہم ۔
اسی طرح اگر اس کے پیچھے نہ پڑھنے میں فتنہ ہوتو پڑھیں اوراعادہ کریں کہ و الفتنة اكبر من القتل- (فتنہ قتل سے بڑی برائی ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۸۳۰ : ۱۲صفر ۱۳۲۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر استاد وہابی ہو تو شاگرد اس کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
وہابی کے پیچھے نماز جائز نہیں اگرچہ اپنا استاد ہو بلکہ اسے استاد بتاناہی اس کے حق میں زہر قاتل سے بدتر ہے فورا پرہیز کرے کہ صحبت بد آدمی کو بد بنا دیتی ہے نہ کہ بد کی تعلیم۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم ۔ واﷲ تعالی اعلم
ان سے دور بھاگو اور ان کو اپنے سے دور کرو کہیں وہ تم کو گمراہ نہ کر دیں کہیں وہ تم کو فتنہ میں نہ ڈال دیں ۔
مسئلہ نمبر ۸۳۱ : از فیض آباد ڈاك خانہ شہزاد پور مرسلہ عبداﷲ طالب العلم ۱۳۲۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ آیا زانی کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں کیونکہ اس مسئلہ میں بہت جھگڑا پیدا ہے یہاں تك حالت گزر گئی کہ نماز جماعت میں تفرق ہوگیا ہے حدیث اور کتاب کی سند ہونا چاہئے ۔ بینواتوجروا۔
الجواب :
زانی فاسق اور فاسق معلن کے پیچھے نماز منع ہے اسے امام بنانا گناہ ہے اس کے پیچھے جو نمازیں
حوالہ / References فتح القدیر باب صلٰوۃ المسافر ، مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۱۴
الاشباہ والنظائر الخامسۃ درء المفاسد اولٰی من جلب المصالح مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ۱ / ۱۲۵
القرآن ۲ / ۲۱۷
صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کرایچ ۱ / ۱۰
#11843 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
پڑھی ہوں ان کا پھیرنا واجب ہے ردالمحتار میں ہے :
مشی فی شرح المنیۃ علی ان کراھۃ تقدیمہ (یعنی الفاسق ) کراھۃ تحریم ۔
شرح منیہ میں ہے کہ فاسق کی تقدیم (یعنی اس کو امام بنانا)کراہت تحریمی ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
کل صلاۃ ادیت مع کراھۃ التحریم تجب اعادتھا ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ہر وہ نمازجو کراہت تحریمی کےساتھ اداکی گئی ہو اس کا اعادہ واجب ہے۔ (ت)
مسئلہ نمبر ۸۳۲ : ازکاسگنج ضلع ایٹہ محلہ نواب مرسلہ عباداﷲ صاحب ویکسینیٹر ۶شعبان ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید بزعم امامت نماز فرض پنجگانہ ونماز جمعہ بجماعت کثیر معمولی جوتا جوہر وقت پہنا کرتا ہے پہن کر پڑھاتا ہے وقت اعتراض بکر کو ترجمہ حدیث مشکوۃ شریف دکھاتا ہے کہ حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے الدوام پڑھی ہے چونکہ یہاں نہ کوئی ذخیرہ کتب دینیہ ہے جو دیکھ کر اطمینان کرایا جائے اورنہ کوئی عالم ہے جس کے ذریعہ سے پایہ ثبوت کو پہنچیں لہذا آپ سے التجا کی جاتی ہے کہ براہ نوازش عالمانہ آپ مع حوالہ کتاب وباب وصفحہ و سطر حسب قاعدہ مرحمت فرمائیے۔
الجواب :
تعظیم و توہین کا مدار عرف پر ہے عرب میں باپ کو کاف اور انت سے خطاب کرتے ہیں جس کا ترجمہ “ تو “ ہے اور یہاں باپ کو “ تو “ کہے بیشك بے ادب گستاخ اوراس ایہ کریمہ کا مخالف ہے فلا تقل لهما اف و لا تنهرهما و قل لهما قولا كریما(۲۳) (ماں باپ کو ہوں نہ کہہ نہ جھڑك اوران سے عزت کی بات کہہ)صد ہا سال سے عرف عام ہے کہ استعمالی جوتے پہن کر مسجد میں جانے کوبے ادبی سمجھتے ہیں ائمہ دین نے اس کے بے ادبی ہونے کی تصریح فرمائی امام برہان الملۃ والدین صاحب ہدایہ کی کتاب التجنیس والمزید اورمحقق بحر زین ابن نجیم کی بحرالرائق اورفتاوی سراجیہ اورعالمگیریہ جلد پنجم ص۱۲۲ کتاب الکراہۃ باب خامس میں ہے : دخول المسجد متنعلا مکروہ (مسجد میں جوتا پہن کرداخل ہونا مکروہ ہے۔ ت) آج اگر کسی نواب کے دربار
حوالہ / References ردالمحتار ، باب الامامۃ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۴
درمختار باب صفۃ الصلٰوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۴۱
القرآن ۱۷ / ۲۳
فتاوٰی ہندیۃ باب فی آداب المسجد والقبلۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۲۱
#11845 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
میں آدمی جوتا پہنے جائے تو بے ادب ٹھہرے نماز اﷲ واحد قہار کا دربار ہے مسلمانوں کی راہ کے خلاف چلنا اوران میں فتنہ وفساد پیدا کرنا اور انھیں نفرت دلانا قرآن عظیم واحادیث صحیحہ کے نصوص قاطعہ سے حرام اورسخت حرام ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۸۳۳ : ازترپول سولول ڈاکخانہ ہرول ضلع دربھنگہ بلگر چرسہ مرسلہ عبدالحکیم صاحب ۲۱جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
اگر کسی مسلمان کا بستی سے باہر دوسرے محلہ میں مکان ہواور وہ امام بھی ہو اور کبھی پنجوقتی نماز میں دھوکے سے آکر نماز پڑھے اور امامت کرے اور وہ ہمیشہ اپنے محلہ میں موجود رہتا ہے اور اپنی نماز پنجوقتی اورامامت کا خیال نہیں کرتا ہے اورمسجد میں ایك ہفتہ میں جمعہ کی نماز پڑھانے کے واسطے آیا کرتاہے اور ہمیشہ امامت کا جستجو(فخر) رکھتا ہے کہ ہم امام ہیں ایسے امام کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں اوراس امام کی شرکت کرنے والے جو لوگ ہیں ان کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں
الجواب :
جس شخص کو جمعہ کا امام مقرر کیاہے وہ اگر فقط جمعہ ہی کو آکر امامت کرتا ہے یا اور بھی کبھی کبھی آجاتا ہے یا نہیں آتا اور اپنے محلہ میں نماز باجماعت پابندی سے پڑھتا ہے تو اس پر کوئی الزام نہیں نہ اس کے شریکوں پر کوئی الزام ہے اور وہ ضرور جمعہ کا امام ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۸۳۴ : از شہرفراشی محلہ مسئولہ اہل محلہ معرفت ہدایت اﷲ نجار ۱۲ محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کہ جس کی نسبت تفضیلیہ ہونا کہا جاتا ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ طوائفوں کے ساتھ علانیہ خلاف شرع راہ ورسم وغیرہ رکھتا ہے نیز جسکے سر کے بال بھی مثل عورتوں کے شانوں سے نیچے لٹکتے ہوں وہ کسی جائے نماز پر بلا اجازت موقع کے پیش امام کے اگر نمازجمعہ ادا کرنے کی غرض سے بحیثیت امام بن کر نماز جمعہ ادا کرکے مع اپنے ہمراہیوں کے چلا جائے بعد اس کے باقی انبوہ اسی موقع اور جگہ پر وہیں مجوز امام کی تقلید سے اس کے پیچھے دوسری بار نماز جمعہ ادا کریں توایسی صورت میں پہلے امام کی نمازجو اس نے ادا کی ہے جائز ہے یادوسرے امام کی یا دونوں نہ ہوئیں ۔
الجواب :
مسلمانو! نماز حکم شرعی ہے احکام شرع کے مطابق ہی ہوسکتی ہے کوئی خانگی معاملہ نہیں کہ جس نے جب چاہا کرلیا حکم شرعی یہ ہے کہ اقامت جمعہ کے لئے سلطان اسلام یا اس کا نائب یا اس کا ماذون شرط ہے اور جہاں سلطان اسلام نہ ہو عالم دین فقیہ معتمد اعلم اہل بلد کے اذن سے امام جمعہ و عیدین مقررہوسکتا ہے اور جہاں یہ بھی نہ ہو
#11848 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
و بمجبوری جسے وہاں کے عامہ مسلمین انتخاب کرلیں وہ امامت جمعہ یاعیدین کرسکتا ہے ہر شخص کو اختیار نہیں کہ بطور خود یا ایك دو یا دس بیس یاسو پچاس کے کہے سے امام جمعہ یا عیدین بن جائے ایسا شخص اگرچہ اس کا عقیدہ بھی صحیح ہو اور عمل میں بھی فسق وفجور نہ ہو جب بھی امامت جمعہ وعیدین نہیں کرسکتا اگر کرے گا نماز اس کے پیچھے باطل محض ہوگی کہ ان تین طریقوں میں سے ایك وجہ کا امام یہاں شرط صحت نماز تھا جب شرط مفقود مشروط مفقود ولہذا صورت مسئولہ میں پہلے لوگوں کا جمعہ باطل محض ہوا اوردوسرے لوگوں کا صحیح ۔ درمختار میں ہے :
یشترط لصحتھا السلطان او مامورہ باقامتھا ۔
جمعہ کی صحت کے لئے سلطان یااس شخص کا ہونا جس کو سلطان نے اقامت جمعہ کی اجازت دی ہو ضروری ہے(ت)
حدیقہ ندیہ میں ہے :
اذاخلاالزمان من سلطان ذی کفایۃ فالامور موکلۃ الی العلماء ویلزم الامۃ الرجوع الیھم ویصیرون ولاۃ فاذاعسر جمعھم علی واحداستقل کل قطر باتباع علمائہ فان کثروا فالمتبع اعلمھم ۔
جب زمانہ کامل سلطان سے خالی ہو جائے تومعاملات علماء کے سپرد ہوں گے اورامت پر علماء کی طرف رجوع لازم ہوگا اور علماء والی بن جائیں گے اور جب علماء کاکسی ایك معاملہ پر اجماع واتفاق مشکل ہوجائے تو لوگ اپنے اپنے علاقے کے علماء کی اتباع کریں اگر علاقے کے علماء کی کثرت ہو تو پھر ان میں سے بڑے عالم کی اتباع کریں (ت)
تنویرالابصار ودرمختار میں ہے :
(نصب العامۃ) الخطیب غیر معتبر مع وجود من ذکر ۔ واﷲ تعالی اعلم
(عام لوگوں کا مقرر کرنا ) خطیب کو معتبر نہیں جبکہ مذکورہ لوگوں میں سے کوئی ایك موجود ہو۔ (ت)
مسئلہ نمبر ۸۳۵ : از کانپور پرتھی ناتھ اسکول مسئولہ قاضی محمد شمس الدین ۲۱صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے بریلی اس بارہ میں کہ اگر کوئی شخص حنفی المذہب وکرامات اولیاء اﷲ کا قائل علم دین و فن تجوید سے بہرہ ور حالت پیری میں نابینا ہوگیا ہو تو اس کی امامت کیسی ہے شرح وقایہ جلد اول باب الجمعہ صفحہ ۲۴۲ میں مرقوم ہے کہ :
حوالہ / References دُرمختار ، باب الجمعۃ ، مطبوعۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۰۹
حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ النوع الثالث من انواع العلوم الثلاثۃ الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ / ۳۵۱
دُرِمختار شرح تنویرالابصارباب الجمعہ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۱۰
#11850 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
من صلح اماما فی غیرھا (فی غیرصلوۃ الجمعۃ ) صلح فیھا ای ان ام المسافر او العبد فی الجمعۃ صحت الخ
جو اس (نماز جمعہ کے علاوہ) امام بننے کی صلاحیت رکھتا ہے وہ اس میں بھی امام بن سکتا ہے یعنی اگر مسافر مریض یاغلام نے جمعہ کی امامت کرائی تو جمعہ صحیح ہوگا الخ(ت)
کیااس عبارت مختصرمختصر وقایہ وشرح وقایہ سے یہ تنقید متر شح ہوتی ہے کہ جو نابینا متصف بہمہ اوصاف مذکورہ بالاہو اس کے امام بننے سے مقتدیوں کی نماز نہیں ہوتی نسخہ بحرالرائق جلد اول ص ۳۶۹ کی عبارت صاف دال ہے کہ ابن ام مکتوم جونابینا تھے امام بنائے گئے تھے بحوالہ کتب مرحمت فرمائیے۔
الجواب :
نابینا سنی صحیح العقیدہ صحیح الطہارۃ صحیح القرأۃ بلاشبہ امام ہوسکتا ہے صرف اس کا “ غیر “ اولی ہے کہ اگر یہ اس سے مسائل نمازوطہارت میں علم زیادہ نہ رکھتا ہو ورنہ یہی اولی ہے کما فی الدر وغیرہ(جیسا کہ درمختار وغیرہ میں نابینا کاحکم بیان کیا گیا ہے۔ ت)عبارت مذکورہ سوال کو امامت نابینا کی نفی سے کوئی تعلق نہیں ہاں جمعہ و عیدین میں بینا ہو یا نابینا وہی شخص امام ہوسکتا ہے جو خود ۱سلطان اسلام ہو یا۲اس کا ماذون یا ۳وہاں کااعلم اہل بلد یا ۴اس کا ماذون ہو ورنہ بضرورت ۵جسے عام مسلمانوں نے ان نمازوں میں امام مقرر کیا نابینا اگر ان پانچ میں سے ہے تو جمعہ و عیدین اس کے پیچھے ہوسکیں گے اور بینا اگران میں سے نہیں تو اس کے پیچھے نہ ہوں گے ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۸۳۶ : ازبشارت گنج ضلع بریلی مسئولہ حاجی رضاخان صاحب ۴رجب ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید قوم سادات سے ہے اورامامت بھی کرتا ہے وہابیہ اور سنی عالم کو یکساں سمجھتا ہے مسئلہ علم غیب کا جب ذکر آتا ہے جواب میں کہتا ہے یہ مسئلہ جدید نہیں ہے قدیم سے اسی طرح جھگڑا ہوتا چلا آیا ہے اور عالم باہمی تقریر اور حجت کرتے چلے آئے ہیں اس مسئلہ کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے اور سائل ایك مفتی سنی عالم کے جو کہ واجبات سنت و مستحب سے تعلق رکھتے ہیں ان کے بارے میں کہتا ہے کہ کرے توثواب ہے نہ کرے تو حرج نہیں اور خلاف کمیٹی جو علمائے وہابیہ کررہے ہیں ان کی امداد پہنچانے کی غرض سے نہایت کوشش سے چندہ فراہم کرکے پہنچاتا ہے اور جب یہ کہا جاتا ہے کہ سنی عالم انکارکرتے ہیں تو جواب میں کہتا ہے کہ ہم کس کا منہ پکڑیں لوگ تو سنی عالموں کو طرفدار انگریز وملازم کہتے ہیں عمرو ایك سنی مفتی عالم کا مرید ہے۔
حوالہ / References شرح وقایہ باب الجمعہ مطبوعہ المکتبۃ الرشید دہلی ۱ / ۲۴۲
درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۳
#11852 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
زید کی ان باتوں سے متنفر ہوکر نماز جمعہ ترك کرکے ظہر پڑھتا ہے آیا اس صورت میں زیدقابل امامت ہے یا نہیں معتبر کتب سے ثبوت ہونا چاہئے ۔ بینواتوجروا
الجواب :
جو شخص وہابیہ اور اہلسنت علماء کو یکساں سمجھتا ہے اسی قدربات اس کے خارج از اسلام ہونے کو بہت ہے اس کے پیچھے نماز باطل ہے جیسے کسی ہندو یا نصرانی کے پیچھے ۔ جمعہ اگر اور جگہ نہ مل سکے نہ اسے امامت سے جدا کرسکے تو فرض ہے کہ ظہر پڑھے اس کے پیچھے جمعہ پڑھے گا تو سخت شدید وکبیر گناہ کرے گا اگرچہ بعد کو ظہر بھی پڑھ لے اور اگر نہ پڑھے تو جمعہ ہوگا نہ ظہر فرض سرپر رہ جائے گا۔ فتح القدیر میں ہے :
روی محمد عن ابی حنیفۃ وابی یوسف رضی اﷲ تعالی عنھم ان الصلاۃ خلف اھل الاھواء لاتجوز ۔ واﷲ تعالی اعلم
امام محمد نے امام ابو حنیفہ اورامام ابو یوسف رضی اللہ تعالی عنہم سے روایت کیا کہ اہل بدعت وبدمذہب کے پیچھے نماز جائز نہیں ۔ (ت)
مسئلہ نمبر ۸۳۷ : از مارہرہ شریف ضلع ایٹہ مرسلہ جناب سید ظہورحیدر میاں صاحب ۴جمادی الاخری ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص ہمیشہ ہمیشہ بوجہ کثرت احتلام یا کسی اورمرض جسمی کے بجائے غسل تیمم سے نماز ادا کرتا ہے امامت کرنا اس کو تیمم سے بمقابلہ اور مقتدیوں کے جائز ہے یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
کثرت احتلام تو خود کوئی وجہ جوازتیمم کی نہیں جب تك نہانے سے مضرت نہ ہو بے صحیح اندیشہ مضرت کے تیمم سے پڑھے تواس کی خود نماز نہ ہوگی دوسرے کی اس کے پیچھے کیا ہو ہاں جسے بالفعل ایسا مرض موجود ہو جس میں نہانا نقصان دے گا یا نہانے میں کسی مرض کے پیدا ہوجانے کا خوف ہے اوریہ نقصان وخوف تو اپنے تجربے سے معلوم ہوں یا طبیب حاذق مسلمان غیرفاسق کے بتائے سے تو اس وقت اسے تیمم سے نماز جائز ہوگی اوراب اس کے پیچھے سب مقتدیوں کی نماز صحیح ہے غرض امام کا تیمم اور مقتدیوں کا پانی سے طہارت سے ہونا صحت امامت میں خلل انداز نہیں ہاں امام نے تیمم ہی بے اجازت شرع کیا ہو تو آپ ہی نہ اس کی ہوگی نہ اس کے پیچھے اوروں کی ۔ تنویر میں ہے : صح اقتداء متوضیئ بمتیمم (وضو والے کی اقتداء تیمم والے کے ساتھ صحیح ہے۔ ت) بحرالرائق
حوالہ / References فتح القدیر باب الامامۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۰۴
درمختارشرح تنویر الابصار مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۵
#11854 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
میں ہے :
ترجیح المذہب بفعل عمروبن العاص رضی اﷲ تعالی عنہ حین صلی بقومہ بالتیمم لخوف البرد من غسل الجنابۃ وھم متوضؤن ولم یأمرھم علیہ الصلوۃ والسلام بالاعادۃ حین علم ۔
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ کا عمل اس مذہب کی ترجیح کا سبب ہے کہ انہوں نے سردی کی وجہ سے غسل جنابت کی جگہ تیمم کرکے اپنی قوم کی امامت کی حالانکہ لوگوں نے وضو کیاہواتھا۔ اور جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں یہ معاملہ پیش ہوا تو آپ نے نماز لوٹانے کاحکم نہیں فرمایا(ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۸۳۸ : ۲۷ شوال ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك امام فقط نماز جمعہ پڑھاتا ہے دیگر اوقات پنجگانہ نماز میں کبھی امامت نہیں کرتا اور اس امامت جمعہ کے عوض میں سال بھر کے بعد رمضان المبارك کے آخری جمعہ میں اورنیز عیدین کی نماز کے بعد اجرت امامت جمعہ وامامت عیدین مصلیین سے طلب کرتا ہے یہ اجرت اس کو حلال ہے یا حرام اور باوجود منع بھی اخذاجرت سے باز نہیں آتا ایسے شخص کے پیچھے نماز جمعہ و عیدین مکروہ ہے یا ناجائز بینواتوجروا۔
الجواب :
اجرت امامت اگر اس شخص سے قرار پاگئی ہے کہ فی جمعہ یا ماہوار یا سالانہ اس قدر دیں گے یا خاص اس سے قرار داد نہ ہومگر اس امامت کی تنخواہ معین ہے اسے بھی معلوم تھی یہ اسی کے لئے امام بنا اورامام بنانے والوں نے بھی جانا اورمقبول رکھا غرض صراحۃ یادلالۃ تعین اجرت ہو لیا تو یہ اجرت اسے حلال ہے اوراس وجہ سے اس کے پیچھے نماز میں کچھ کراہت نہیں کہ امامت و اذان و تعلیم فقہ وتعلیم قرآن پراجرت لینے کو ائمہ نے بضرورت زمانہ جائز قرار دیا ہے کما نصوا علیہ فی الکتب قاطبۃ (جیسا کہ اس پر کتب میں نصوص قاطعہ موجود ہیں ۔ ت)اور جب تعین ہولیا تو اجارہ صحیحہ ہوا جس میں کوئی مضائقہ نہیں اوراگر اجارہ صراحۃ خواہ دلالۃ واقع تو ہوا یعنی اس نے اجرت کے لئے امامت کی اور قوم نے بھی اسے اجیر سمجھا مگر تعین اجرت نہ بیان میں آیا نہ قرائن سے واضح ہوا تو اجارہ فاسدہ ہے وہ اجرت اس کے حق میں خبیث ہے اسے تصدق کردینے کاحکم ہے مگر اصل اجارہ اب بھی باطل نہیں نہ طلب اجرت ظلم ہے ایسااجارہ اگر متعدد بار کرے گا فاسق ہوگا اوراس کے پیچھے نماز مکروہ
حوالہ / References بحرالرائق باب الامامۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۶۳
#11855 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
اوراگر سرے سے اجارہ ہی نہ ہو صراحۃ نہ دلالۃ اوراب اجرت مانگتا ہے تو صریح ظلم وفسق و کبیرہ ہے یہاں مطلقا اس کے پیچھے نماز نہ پڑھیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۸۳۹ : ۲ذی قعدہ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام مسجد یہ کہتے ہیں کہ نماز کے بعد مصافحہ بہ تخصیص نماز فجر درست نہیں اوراہل محلہ کہتے ہیں درست ہے اور کہتے ہیں کہ اگر تم اس کے جواز کے قائل نہ ہوگے تم ہم تمھارے پیچھے نماز نہیں پڑھیں گے اس لئے کہ تمھارا مذہب ہمارے مذہب کےخلاف ہے لہذا فرمائیے کہ شرع شریف میں کس طرح ہے اور کیا حکم ہے بینواتوجروا
الجواب :
صحیح یہ ہے کہ مصافحہ بعد نماز مباح ہے نص علی تصحیحہ العلامۃ الخفاجی فی نسیم الریاض(علامہ خفاجی نے نسیم الریاض میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔ ت) امام اگر سنی المذہب ہے صرف اس مسئلہ میں اس کا خیال بنظر بعض عبارات فقہیہ یہ ہے تو اسے سمجھا دینا چاہئے کہ تصحیح وترجیح جانب جواز ہے صرف اتنی بات پر وہ ترك اقتدا کا مستحق نہیں اوراگر بر بنائے وہابیت اس کا انکا ر کرتا ہے تو وہابی بلاشبہ لائق امامت نہیں اہل محلہ کو چاہئے ہرگز اس کے پیچھے نماز نہ پڑھیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۸۴۰ : ۲۸ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز کی پڑھائی معین کرکے لینا درست ہے یا نہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
درست ہے مگر بچنا بہتر ہے اﷲ کے واسطے پڑھائے اور نمازی اسے حاجتمند دیکھ کر اﷲ کے لئے اس کی اعانت کریں یہ صاف کرلیاجائے کہ امامت کی اجرت کچھ نہ لی دی جائے گی یوں بلا دغدغہ حلال طیب ہے لان النفی الصریح یزیل حکم دلالۃ الحال فان الصریح یفوق الدلالۃ کما فی قاضی خان (کیونکہ صراحۃ نفی دلالت کو زائل کردیتی ہے کیونکہ صراحت دلالت سے فوقیت رکھتی ہے قاضی خاں میں اسی طرح ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References درمختار کتاب الھبۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۲ / ۱۵۹
ف : سعی بسیار کے باوجود یہ عبارت فتاوٰی قاضی خان سے نہیں مل سکی ، دُرمختار سے یہ عبارت مفہومًا ملی ہے اس لئے اس کا حوالہ دیا ہے۔ نذیر احمد سعیدی
#11857 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
مسئلہ نمبر ۸۴۱ : از مرادآباد مرسلہ مولوی محمد عبدالباری صاحب ۷صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ بعد فراغت نماز اگر مقتدی کو مجبور کرے کہ باتباع اس کے ویسے ہی بیٹھے رہیں اور نہ اٹھیں تاخیر میں مقتدیوں کا قریب نصف گھنٹہ کے ضائع ہوا اور درصورت عدم شرکت بوجہ مجبوری ان پر اتہام مذکور کو بیجا لگا ئے تو یہ چیز کہاں ثابت اس کے لئے کون سی حدیث ناطق اوراس چیز کا نام سنت نبوی رکھنا اوران کومجبور کرنا حتی کہ ان پر الزام توہب کا نہیں بلکہ تلہب کا لگانا شرع شریف میں کس مقام پر وارد ہے
الجواب :
امام کو سلام کے بعد مقتدیوں پر کوئی جبر کا اختیار نہیں سلام سے تو اس کی ولایت منقطع ہوچکی عین نماز میں جب تك وہ متبوع تھا اوراس کی پیروی مقتدیوں پر واجب تھی اس وقت بھی اسے حرام تھا کہ سنت سے زیادہ کوئی بات ایسی کرے جو مقتدیوں پر ثقیل وگراں ہو اس پرحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے غضب شدید فرمایا اورایسا کرنےوالے کو فتان بتایا یعنی سخت فتنہ گر تو بعد نماز بلاوجہ شرعی مجبوری کرنا اورنہ ماننے والے کو جھوٹا اتہام لگانا کیسا سخت حرام شدید اورظلم بعید ہے ۔ پھراس ظلم وحرام کانام معاذاﷲ سنت رکھنا نہایت سخت اشد اورصریح گمراہی اور سنت پر افترا ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۸۴۲ : مسئولہ مکرم احمداﷲ صاحب صدر بازار ہردوئی
تارك فرض وواجب نیز سنت مؤکدہ اورتارك مستحب ومباح کس درجہ کا گنہگار ہے ۔ تارك امور خمسہ یا تارك مستحب ومباح کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں بینواتوجروا۔
الجواب : فرض کے ایك بار ترك سے فاسق ہے اور ترك واجب کی عادت سے سنت موکدہ کا حکم میں قریب واجب ہے فاسق کے پیچھے نماز مکروہ ہے اورفاسق بالاعلان ہو تو اسے امام بنانا گناہ اوراس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب مستحب ومباح کے ترك میں کچھ گناہ نہیں نہ ان کے تارك کی امامت میں کچھ نقص ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۸۴۳ : از شہر کہنہ ۲۷رجب ۱۳۲۰ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی اس مسئلہ میں کہ امام ضم سورہ میں اس قدر دیر کرتا ہے کہ بعد آمین کہنے کے کلمہ طیبہ پڑھ لیا اس قدر دیر کرنا امام کو جائز ہے یا نہیں ۔ اس کومنع کیا گیا کہ اس قدر دیر نہ کیا کرو وہ کہتاہے کہ سورۃ سوچنے میں دیر ہوجاتی ہے اور دیر کرنے کو نہیں چھوڑتا ہے۔ پس اس امام کی اقتدا سے نماز میں کسی
#11859 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
قسم کی کراہت ہوجاتی ہے یا نہیں
الجواب :
سورۃ سوچنے میں اتنی دیر جس میں تین بار سبحن اﷲ کہہ لیاجائے ترك واجب وموجب سجدہ سہو ہے کمانص علیہ فی التنویر والدر والغنیۃ وغیرھما (تنویر در غنیہ وغیرہ میں اس پر نص کی جاتی ہے۔ ت) تو یہ جس کی عادت ہے اس کے پیچھے نماز میں ضرور کراہت ہے۔ عالمگیریہ ومحیط میں ہے :
من یقف فی غیر مواضعہ ولایقف فی مواضعہ لاینبغی لہ ان یؤم وکذا من یتنحنح عند القرأۃ کثیرا ۔
جو نہ ٹھہرنے کی جگہ وقف کرے اور وقف کی جگہ وقف نہ کرے اسے چاہئے کہ وہ امام نہ بنے اور اسی طرح اس شخص کا حکم ہے جو قرأت کرتے وقت کثرت سے کھانستا ہو۔ (ت)
جو وقف ووصل بے جاکرے یا پڑھتے وقت باربار کھنکارے جب اسے فرماتے ہیں کہ اس کی امامت سزاوار نہیں حالانکہ مراعات وقف ووصل واجبات نمازسے نہیں ۔ تو جو واجب نماز یعنی وصل سورۃ و فاتحہ بے اجنبی کے ترك کا عادی ہو بدرجہ اولی لائق امامت نہیں ہاں فاتحہ کے بعد اتنی دیر کہ دم راست کرے آمین کہے کوئی سورۃ ابتداء سے پڑھنی ہو تو بسم اﷲ الرحمن الرحیم پڑھے کہ یہ دیر بھی تقریبا کلمہ طیبہ پڑھنے کے برابر ہوجائے گی بلاشبہ مباح وسنت و مستحب ہے۔ و اﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۸۴۴ : از شہر کہنہ ۲۸ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارہ میں کہ زید کہتا ہے کہ بعد کلمہ لا الہ الااﷲ کے محمد رسول اﷲ کی کیا ضرورت ہے اگر جنت نہ جائے گا تو کیا اعراف میں بھی نہ جائے گا۔ زیدقیام میں نماز کے بعد بقدر سات۷ بار اﷲ اکبر کہنے کے ٹھہرتا ہے۔ کہتا ہے کہ صرف سبحن اﷲ وبحمدہ کہنے سے نماز ہوجاتی ہے بے کرتا ٹوپی کے نماز ادا کرتا ہے کہتا ہے کہ صرف پائجامہ سے نماز ہوجاتی ہے ۔ یوں بھی کہتا ہے کہ نماز میں الحمد وسورۃ کی کچھ حاجت نہیں ۔ ایسے شخص کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں ایسے شخص کو مسلمان سمجھنا چاہئے یا نہیں اہل اسلام کا سا برتاؤاس سے چاہئے یانہیں جواب بدلیل قرآن وحدیث وفقہ سے تحریر فرمائیں ۔ بینواتوجروا
الجواب :
صرف پائجامہ پہنے بالائی حصہ بدن کا ننگارکھ کر نماز بایں معنی تو ہوجاتی ہے فرض ساقط ہوگیا مگر مکروہ تحریمی
حوالہ / References غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل سجود السہو مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۴۶۵ ، درمختار باب سجود السہو مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۰۳
فتاوٰی ہندیۃ الفصل الثالث فی بیان من یصلح امامالغیرہ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۸۶
#11860 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
ہوتی ہے۔ واجب ترك ہوتا ہے فاعل گنہگار ہوتا ہے اس کاپھیرنا گردن پر واجب رہتا ہے نہ پھیرے تو دوسرا گناہ سر پر آتا ہے ہاں اگر اتنے ہی کپڑے کی قدرت ہے تو ایسی محتاجی میں مجبوری و معافی ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لایصلی احدکم فی الثوب الواحد لیس علی عاتقہ من شیئ ۔ رواہ شیخان عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
ہرگز تم میں کوئی شخص ایك ہی کپڑا پہن کر نماز نہ پڑھے کہ کندھے پر اس کا کوئی حصہ نہ ہو ۔ اسے امام بخاری ومسلم نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ۔
خطیب بغدادی جابر بن عبداﷲ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی :
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن الصلوۃ فی السراویل وحدہ
(یعنی صرف پائجامہ سے نماز پڑھنے سے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے منع فرمایا۔
خلاصہ وہندیہ وغیرہما میں ہے :
لوصلی مع السراویل والقمیص عندہ یکرہ ۔
اگر کسی نے فقط شلوار میں نماز اداکی حالانکہ اس کے پاس قمیص موجود ہو تو نماز مکروہ ہوگی۔ (ت)
نماز میں فرضیت قرأت کا انکار احادیث کثیرہ صحیحہ صریحہ حضور پرنور سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا رداور اجماع ائمہ رضی اللہ تعالی عنہم کا خرق بلکہ بعد انقطاع اقوال شاذہ اجماع مستقر کاخلاف اور اب گمراہی و ضلالت صاف صاف ہے۔ امام عبدالوہاب شعرانی میزان الشریعۃ الکبری میں فرماتے ہیں :
اجمع الائمۃ رضی اﷲ تعالی عنہم علی ان الصلوۃ لاتصح الامع العلم بدخول الوقت وعلی ان للصلوۃ ارکانا داخلۃ فیھا وعلی ان النیۃ فرض وکذلك تکبیرۃ الاحرام والقیام مع القدرۃ والقرأۃ والرکوع والسجود والجلوس فی التشھد الاخیر (الی ان قال)
تمام ائمہ رضی اللہ تعالی عنہم کا اتفاق ہے کہ صحت نماز کے لئے نمازی کو اس بات کاعلم ہوناضروری ہے کہ نماز کا وقت شروع ہوچکا ہے اس پر بھی اتفاق ہے کہ نماز کے ارکان نماز میں داخل ہیں اسپر بھی اتفاق ہے کہ نیت فرض ہے اسی طرح تکبیر تحریمہ اور قدرت کے ساتھ قیام قرأت رکوع سجود اخیری تشہد
حوالہ / References صحیح بخاری باب اذاصلی فی الثوب الواحدالخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۲ ، صحیح مسلم باب الصلٰوۃ فی ثوب واحد الخ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۱۹۸
تاریخ بغداد حدیث ۲۵۶۴ مطبوعہ دارالکتاب العربی بیروت ۵ / ۱۳۸
فتاوٰی ہندیہ الفصل الثانی فیمایکرہ فی الصلٰوۃ مالا یکرہ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۰۶
#11862 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
ھذا ماوجدتہ من مسائل الاجماع التی لایصح دخولھا فی مرتبتی المیزان ۔
میں بیٹھنا (آگے چل کر کہا) یہ وہ مسائل ہیں جن پر میں نے اجماع پایا ان کو میری مرتب کردہ کتاب المیزان میں داخل کرنا صحیح نہیں ۔ (ت)
رحمۃ الامہ فی اختلاف الائمہ میں ہے :
اتفقوا علی ان القرأۃ فرض علی الامام والمنفرد فی رکعتی الفجر وفی الرکعتین الاولین من غیرھا ۔
فقہا کا اس بات پر اتفاق ہے کہ امام اور منفرد پر فجر کی دونوں رکعات اوراس کے علاوہ دیگر نمازوں کی پہلی دو رکعت میں قرأت فرض ہے۔ (ت)
بلکہ امام ابن الحاج حلیہ میں فرماتے ہیں :
نسب صاحب غایۃ البیان الاصم الی خرق الاجماع وھو یفید سبق الاجماع علی الافتراض قبل ذھابہ الی عدمہ ۔
صاحب غایۃ البیان نے اصم کی خرق اجماع کی طرف نسبت کی ہے اور یہ بات واضح کررہی ہے کہ اصم کے عدم فرضیت کا قول کرنے سے پہلے اس کی فرضیت پر اجماع ہو چکا ہے۔ (ت)
عالمگیری میں ہے :
من انکر خبرالواحد لا یکفر غیرانہ یاثم بترك القبول ھکذا فی الظہیریۃ ۔
خبر واحد کا منکر کافر نہیں البتہ ترك قبول کی وجہ سے گنہگار ہوگا۔ ظہیریہ میں اسی طرح ہے۔ (ت)
طحطاوی میں ہے :
من کان خارجا عن ھذہ الاربعۃ فی ھذا الزمان فھو من اھل البدعۃ والنار ۔
یعنی جوان چاروں مذہب سے اس زمانہ میں باہر ہے وہ بدعتی اور جہنمی ہے(ت)
نماز میں الحمد و سورۃ کی حاجت نہ ماننا بھی جہل قبیح اورارشادات حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا
حوالہ / References المیزان الکبرٰی باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۶
رحمۃ الامہ فی اختلاف ائمہ برحاشیہ میزان کبرٰی / باب شروط الصلٰوۃالخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۳۸
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
فتاوٰی ہندیۃ مطلب موجبات الکفر انواع مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۶۵
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار کتاب الذبائح مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۴ / ۱۵۳
#11863 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
انکار صریح ہے ۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : لاصلوۃ لمن لم یقرأ بفاتحۃ الکتاب ۔ یعنی بے سورہ فاتحہ کے نماز ناقص ہے رواہ الائمۃ احمد والستۃ عن عبادۃ بن الصامت رضی اﷲ تعالی عنہ(اسے امام احمد اوراصحاب صحاح ستہ نےحضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)(دوسری حدیث میں فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
من صلی صلاۃ لم یقرأ فیھا بفاتحۃ الکتاب فھی خداج ۔ رواہ احمد ومسلم وابوداؤد والترمذی والنسائی عن ابی ھریرۃ واحمد وابن ماجۃ عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہا۔
یعنی جونماز بے سورہ فاتحہ کے ہو وہ ناقص ہے ۔ اس کوامام احمد مسلم ابوداؤد ترمذی اور نسائی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے اورامام احمد اورابن ماجہ نے حضرت ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کیا ہے۔
تیسری حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے۔
ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم امرہ ان یخرج فینادی ان لاصلوۃ الابقرأۃ فاتحۃ الکتاب فمازاد ۔ رواہ احمد و ابوداؤد۔
یعنی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ باہرجاکر منادی کردیں کہ بے سورۃ فاتحہ اور کچھ زائد قرأت کی نماز ناقص ہے۔ اس کو امام احمد اورابوداؤد نے روایت کیا ہے۔
چوتھی حدیث میں ہے فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
لاتجزئ صلاۃ الا بفاتحۃ الکتاب ومعھاغیرھا ۔ رواہ الامام الاعظم ابو حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ عن سیدنا ابی سعیدن الخدری رضوان اﷲ تعالی علیہ ومعناہ
نمازکام نہیں دیتی بے فاتحہ اوراس کے ساتھ اور قرأت کے ۔ اس کوامام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نےسیدنا ابو سعید الخدری رضوان اﷲ تعالی علیہ سے روایت کیا اور معنا اسی طرح ترمذی اور ابن ماجہ
حوالہ / References صحیح بخاری باب وجوب القرأۃ للامام الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۰۴
صحیح مسلم باب وجوب قرأۃ الفاتحہ فی کل رکعۃ الخ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۱۷۰
المسند لاحمد بن حنبل ازمسند ابی ہریرہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۲ / ۴۲۸
مسند الامام اعظم مع تنسیق النظام کتاب الصلٰوۃ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ص۵۸
#11864 · باب الامامۃ (امامۃ کا بیان)
نحوہ عندالترمذی وابن ماجۃ۔
نے روایت کیا ہے۔
اور ان سب سے سخت تروناپاك تراس کا وہ قول مردود ہے کہ کلمہ طیبہ میں (خاکش بدہن) محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کہنے کی کیا ضرورت ! اگر اس سے یہ مراد لیتا ہے کہ اسلام لانے کو صرف لا الہ الا اﷲ ماننا کافی ہے محمد رسول اﷲکی حاجت نہیں جب تو قطعا یقینا نرا کافر مرتد ہے۔ عورت اس کی اس کے نکاح سے نکل گئی پاس جائے گا تو زنا ہوگا اولاد ہوتو ولدالزنا ہوگی۔ عورت کواختیار ہے جس سے چاہے نکاح کرے۔ اور اگر یہ مراد نہیں تاہم ناپاك کلام کی طرز سوق سخت گستاخی وبے باکی سے خبر دے رہی ہے۔ اور وہ لفظ “ جنت میں نہ جائے گا توکیا اعراف میں نہ جائے گا “ دین متین کےساتھ استہزا کا پتا دیتا ہے۔ بہرحال اس قدر میں شك نہیں کہ شخص مذکور فاسق فاجر گمراہ بد مذہب ہے اس کے پیچھے نماز پڑھنا ناجائز و ممنوع ہے کما حققناہ فی رسالتنا النھی الاکید وذکرنا فی عدۃ مواضع من فتاونا(اس کی تفصیل ہم نے اپنے رسالہ النہی الاکیداور اپنے فتاوی میں متعدد جگہ پر کی ہے۔ ت) مسلمان اس سے توبہ لیں اگر توبہ کرلے فبہا ورنہ اس کے ساتھ وہ معاملہ برتیں جو بددینوں کے ساتھ چاہئے واﷲ الہادی واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
_________________
#11866 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
النھی الاکید عن الصلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمن تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمدﷲ الذی ھدانا السنن ٭ووقانا المحن ٭ وجعل فینا کل امام حسن ٭ بہ یتأشی وعلیہ یؤتمن ٭ واغنانا ان نقتدی باھل الفتن ٭ والصلاۃ والسلام الاحن ٭ علی الامام الامین الامان الامن ٭ محمد مربی الروح والبدن ٭ والہ وصحبہ فی السروالعلن ٭ والائمۃ المجتھدین مصابیح الزمن ٭ کاشفی ماخفی ومظھری مابطن ٭ الثقات السراۃ ھداۃ السنن٭السقاۃ الفراۃ من فراۃ السنن وعلینا بھم یاعظیم المنن٭واشھد ان
تمام خوبیاں اس ذات اقدس کے لئے جس نے ہمیں صحیح راہ کی ہدایت عطاکی اور ہمیں محنت ومشقت سے بچالیا ہم میں اچھے واعلی امام بنائے جن کی اقتدا کی جاتی ہے اور ان پراعتماد کیاجاتا ہے ہمیں اہل فتن کی اقتداء سے محفوظ کیا۔ نہایت ہی عاجزانہ طور پر صلاۃ وسلام ہو اس امام و مقتدا پر جو امین جائے پناہ اور سب سے بڑے محسن ہیں جن کا اسم مبارك محمد ہے جو روح وبدن کے مربی ہیں ان کی آل واصحاب پر بھی سرا و جہرا ان ائمہ مجتہدین پر بھی جو اپنے زمانے کے لئے چراغ ہیں مخفی امور کھولنے اور باطنی معاملات کو ظاہر کرنے والے رازوں کے پختہ محافظ سنن نبی کی طرف ہادی سنن کی نہر فرات سے مشکیزے بھر بھر کر پلانے والے اے احسان فرمانے والے ان کے ساتھ ہم پر بھی رحمتوں کا نزول ہو۔ میں گواہی
#11867 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
لا الہ الا اﷲ وحدہ لا شریك لہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ صلی اﷲ علیہ ربھم وسلم ومن ٭
دیتا ہو ں اس بات کی کہ اﷲ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں ذات وصفات میں اس کا کوئی شریك نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اس کے برگزیدہ بند ے اور رسول ہیں ان پر ان کے رب کی طرف سے صلوۃ وسلام اور کرم ولطف ہو ۔ (ت)
اما بعد یہ چند سطور کا شفۃ السطور جلیلۃ الفائدۃ جمیلۃ العائدہ ہیں اظہا ر صواب میں اس سوال کے جواب میں جو فقیر ناسزا عبدالمصطفی احمد رضا محمدی سنی حنفی قادری برکاتی بریلوی غفراﷲ لہ وحقق املہ واصلح عملہ کے پاس مولوی فضل الرحمن صاحب حفظ عن الشرور امام جامع مسجد فیروز پور کا بھیجا کیمپ فیروز پور ملك پنجاب سے آیا فقیر ان دنوں ایك مبارك رسالہ بجواب سوال مونگیر بنگالہ مسمی بہ تجلی الیقین بان نبینا سیدالمرسلین لکھنے میں مشتغل اور اس کے اور چند مسائل دیگر بلاد کو مسئلہ پنجاب پرحق تقدم حاصل جب ان سے فراغت پائی اس کی نوبت آئی النھی الاکید عن الصلاۃ وراء عدی التقلید (۱۳۰۵ھ) اس تحریر کا نام اور یہی اس کی تا ریخ آغاز وانجام اس رسالہ میں اصل مقصود یہ ظاہر کرنا ہے کہ غیر مقلدوں کے پیچھے نماز ناروا ہے اس کے ضمن میں ان کے بعض عقائد واحوال ومکائد ودیگر فوائد بنہایت اجمال تحریر میں آئے مولی سے مسئول کہ قبول فرمائے اہل اسلام وسنت کو نفع پہنچائے ازانجا کہ موضوع رسالہ رد مخالف نہیں لہذا لحاظ مجادل سے کنا رہ گزیں کہ وہ تو ایك فتوی ہے جو اب مسئلہ کی حد پر مقتصر اور اپنے موافقوں پر ایك حکم کا مظہر جسے اس رنگ کا کلام مشتاق بنائے تصانیف افاضل یا فقیر حقیر کے دیگر رسائل مندرجہ مجموعہ “ البارقۃ الشارقۃ علی ما رقۃ المشارقۃ “ کی طرف رجوع لائے وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل وافضل الصلوۃ علی الحبیب الجمیل والہ وصحبہ بالوف التبجیل امین امین یا عزیز یا جلیل ۔
نقل عبارت استفتاء
مسئلہ ۸۴۵ : باسمہ سبحانہ بخدمت بابرکت حضرت مولینا وبالفضل والکمال اولنا مخدوم مکرم معظم حضرت مولینا احمد رضا خاں صاحب سلمہ الرحمن ۔ سلام مسنون بہ نیاز مقرون کے بعد عرض ہے کہ ﷲ اس استفتاء کا جواب مرحمت فرمائیں کہ عند اﷲ ماجور وعند الناس مشکور ہوں ۔ مولوی غلام نبی صاحب امام مسجد قصابان خورد جو شاگردمولویان لکھنؤ کے علاقہ فیروز پورکے ہیں اول انھوں نے رسالہ شاہ طیور جس میں حضرت ابن عربی اور مولینا روم ومولانا عبدالرحمن جامی علیھم الرحمۃ کی تکفیر درج تھی اور وہ رسالہ مطبع فیروز پور میں حافظ محمد صاحب لکھنؤی نے چھاپا تھا
#11869 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
اس کی تصدیق پر اپنے دستخط کردیے تھے جس کے شاہد بہت لوگ موجود ہیں اور اس کا کسی قدر ذکر رسالہ تصریح ابحاث فرید کوٹ کے صفحہ ۴۱ کے متن وحاشیہ میں مندرج ہے ۔ پھر جب ریاست فرید کوٹ میں علمائے مقلدین کا مناظرہ ہوا تھا تب بھی یہ مولوی صاحب بشمول علما ء غیر مقلدین کے تھے اور ان کے زمرہ میں ریا ست سے رخصت نامہ لےکر واپس آئے تھے جیسا کہ اشتہار ۱۱ فروری ۱۸۸۳ ء مطبوعہ ریاست فرید کوٹ اس پر شاہد ہے اور رسالہ کے صفحہ ۱۷ میں بھی اس کا نام بزمرہ غیر مقلدین شامل ہے ۔ پھر مسائل اور واقعات اس کے بھی صریح غیر مقلدی کی دلیل ہیں جس کا نمونہ ایك یہ ہے کہ مسماۃ فاطمہ بنت امام الدین خاں کو جب اس کے شوہر نے مطلقہ کیا اور طلاق نامہ تحریر ہو ا تو بائیس روز بعد ازاں عدت کے اندر ہی مولوی مشار الیہ نے اس مطلقہ کا نکاح بابو مین ملازم مسکوٹ لال کرتی سے منعقد کردیا اور اس کی دلیل مولوی جمال الدین امام مسجد بوچڑاں کلاں کو دکھلائی کہ حدیث ترمذی سے ثابت ہے کہ خلع کی عدت ایك حیض ہوتا ہے اس پر جواب دیا گیا کہ دینی کتابوں میں مثل فتح القدیر وغیرہ کے صریح لکھا ہے کہ خلع طلاق ہے بسند حدیث بخاری وغیرہ کے اور جمہور امامان سلف وخلف کا یہی مذہب ہے کما فصل فی باب الخلع (جیسا کہ باب خلع میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے ۔ ت) اور باب عدت میں بھی مذکور ہے اور طلاق اور خلع اور لعان سب کی عدت تین حیض ہیں اھ مترجما پس یہ نکاح عدت کے اندر حنفی مالکی شافعی سب کے نزدیك نارواہے جو شخص غیر مقلد ایسے اطوار کا طور رکھے اور حرام کو حلال بتا دینے تك نوبت پہنچائے تو اس کے پیچھے اقتدا روا ہے یا نہیں بینواتؤجروا ۔ حررہ محمد فضل الرحمن امام جامع مسجد صدربازار فیروز پور پنجاب ۱۰ شوال ۱۳۰۵ھ محمد فضل الرحمن
اللھم ھدایۃ الحق والصواب
الجواب :
فقیر غفر اﷲ تعالی لہ کو زید وعمرو کی ذات سے غرض نہیں اور حضرات اولیا ئے کرام قدست اسرارہم کی شان عظیم میں بعد وضوح حق اس کلمہ ملعونہ کہنے کا جواب جو روز قیا مت ملے گا بس ہے وہ حضرات جرات شعار جسارت وثار جن کا مسلك عامہ ائمہ وعلمائے کبار کو عیاذا باﷲ مشرك بتائے ان سے مدارك دقیقہ حقائق اولیا ءتك نہ پہنچنے کی کیا شکا یت کی جائے علاوہ بریں یہ مسئلہ خود اس قابل کہ اس میں ایك رسالہ مستقلہ تصنیف میں آئے اور خدا انصاف دے تو حدیث بخاری :
حتی احببتہ فکنت سمعہ الذی یسمع بہ وبصر ہ الذی یبصر بہ ویدہ
جب میں بندے کو محبوب بنا لیتا ہوں تو میں اس کی سمع (کان ) بن جا تا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اس کی آنکھ بنتا ہو ں جس سے وہ دیکھتا ہے اس کا ہاتھ
#11965 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
التی یبطش بھا ورجلہ التی یمشی بھا(الی قولہ تعالی ) وما ترددت عن شیئ انافاعلہ ترددی عن قبض'ف۱' نفس المؤمن یکرہ الموت واناکرہ مساء تہ ۔
بن جاتا ہوں جس سے وہ گرفت کرتا ہے۔ اس کے پاؤں بنتا ہوں جس سے چلتا ہے(آخر میں اﷲ تعالی کایہ بھی فرمان ہے) میں کسی شیئ کے بجالانے میں کبھی اس طرح تردد نہیں کرتا جس طرح جان مومن قبض کرتے وقت تردد کرتا ہوں وہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور میں اس کے مکروہ سمجھنے کو برا جانتا ہوں ۔ (ت)
و ۲ حدیث مسلم :
یا ابن ادم مرضت فلم تعدنی یاابن ادم استطعمتك فلم تطعمنی یاابن ادم ! استستقیتك فلم تسقنی اخرجاھما عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
اے ابن آدم !میں بیمار ہوا تونے میری عیادت نہیں کی اےابن آدم! میں نے تجھ سے کھانامانگا تو نے مجھے کھانا نہیں دیا اےابن آدم! میں نے تجھ سے پانی طلب کیا تونے مجھے پانی نہیں دیاان دونوں کو بخاری ومسلم دونوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے(ت)
و ۳ حدیث مشہور :
قم الی امش الیك وامش الی اھرول الیک ۔ اخرجہ احمد ف۲ عن رجل من الصحابۃ والبخاری بمعناہ عن۴ انس وعن۵ ابی ھریرۃ
اے بندے! تو میری طرف اٹھ میں تیری طرف چل پڑوں گا تو میری طرف چل میں تیری طرف دوڑ پڑوں گا۔ اس کو امام احمد نے ایك صحابی سے اور امام بخاری نے معنا اسے حضرت انس اور حضرت ابو ہریرہ سے
حوالہ / References صحیح بخاری کتاب الرقاق باب التواضع مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۹۶۳
صحیح مسلم ، باب فضل عیادۃ المریض ، مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ، ۲ / ۳۱۸
مسند لاحمد بن حنبل حدیث من اصحاب النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم مطبوعہ دارالفکر بیروت ، ۳ / ۴۷۸
ف۱ : بخاری شریف کی روایت میں “ عن نفس المؤمن “ ہے “ قبض “ کالفظ بخاری شریف میں موجود نہیں البتہ فتح الباری مطبوعہ مصر جلد ۱۴ص ۱۳۱ پر یہ عبارت ہے “ او قع فی الحلیۃ “ آخر میں “ عن قبض روح المؤمن الخ “ نذیراحمد
ف۲ : مسند احمد بن حنبل میں آغازِ حدیث یوُں ہے : قال اﷲ تعالٰی یا ابن اٰدم قم الٰی الخ۔ نذیر احمد
#11966 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
والطبرانی فی الکبیر عن۶سلمان رضی اﷲ تعالی عنھم۔
اور امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت سلمان رضی اللہ تعالی عنہم سے روایت کیا ہے(ت)
وحدیث ۷ :
واذا احب اﷲ عبدا لم یضرہ ذنب اخرجہ الدیلمی والامام الاجل القشیری وابن النجار فی التاریخ عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔
جب اﷲ تعالی کسی بندے کو محبوب بنالیتا ہے تو اسے کوئی گناہ ضرر نہیں دیتا ۔ اسےدیلمی امام اجل قشیری اور ابن نجار نے تاریخ میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ت)
وحدیث۸ :
الدنیا والاخرۃ حرام علی اھل اﷲ ۔ اخرجہ فی مسندالفردوس عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔
دنیا و آخرت اہل اﷲ پر حرام ہیں ۔ اسےمسند الفردوس میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے(ت)
حدیث۹ :
انزل القران علی سبعۃ احرف لکل حرف منھا ظھروبطن ولکل حرف حدولکل حدمطلع ۔ اخرجہ الطبرانی فی اکبر
قرآن سات حروف (لغتوں ) پر نازل ہوا ہر حرف کے لئے ظاہر اور باطن ہے ہر حرف کے لئے ایك حد(انتہائے معنی ) ہے اور ہر حد کے لئے ظاہر
حوالہ / References الرسالۃ القشیریۃ باب التوبہ مطبوعہ دارالکتب العربیہ الکبرٰی مصطفی البابی مصر ص۴۵ ، الفردوس بما ثور الخطاب حدیث ۲۴۳۲ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ / ۷۷
الفردوس بما ثور الخطاب حدیث ۳۱۱۰ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ / ۲۳۰
المعجم الکبیر مروی از عبداﷲ ابن مسعود حدیث ۱۰۱۰۷ مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۰ / ۱۳۰ ، المعجم الکبیر مروی از عبداﷲ ابن مسعود حدیث ۸۶۶۷ و ۸۶۶۸ مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۹ / ۱۴۶
ف : معجم کبیر میں مکمل حدیث ایك جگہ پر دستیاب نہیں ہوسکی بلکہ دو حصّوں میں مختلف مقامات سے ملی ہے جبکہ جامع صغیر مع فیض القدیر جلد ۳ مطبوعہ بیروت صفحہ ۵۴ پر یہ حدیث مکمل انہی الفاظ کے ساتھ موجود ہے اور حوالہ بھی طبرانی عن عبداﷲ بن مسعود کا دیا ہے ، ہوسکتا ہے اعلٰیحضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جامع صغیر سے دیکھ کر یہ حدیث نقل کی ہو مجمع الزوائد جلد ۷ مطبوعہ بیروت ص ۵۳- ۱۵۲ پر بھی یہ حدیث ازعبداﷲ ابن مسعود منقول ہے۔ نذیر احمد
#11967 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
معاجیمہ عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ ۔
اور باطن سے اطلاع کا مقام ہے۔ اس کو امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے (ت)
وحدیث۱۰ :
قولہ عزوجل اعطیھم من حلمی وعلمی اخرجہ احمدوالطبرانی فی الکبیر والحاکم فی المستدرك والبیھقی فی شعب الایمان باسناد صحیح عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالی عنہ۔
اﷲ عزوجل کا فرمان ہے میں انھیں اپنا حلم و علم عطا کرتاہوں ۔ اس کو احمد وطبرانی نے کبیرمیں حاکم نے مستدرك اوربیہقی نے شعب ایمان میں صحیح سند کے ساتھ حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ت)
و حدیث ۱۱ :
من زھد فی الدنیا علمہ اﷲ بلا تعلم و ھداہ بلاھدایۃ وجعلہ بصیرا وکشف عنہ العمی ۔ اخرجہ ابو نعیم فی الحلیۃ الاولیاء عن سید الاولیاء امیر المؤمنین علی کرم اﷲ وجہہ۔
جو دنیا سے محفوظ رہا اسے اﷲ بغیر حصول علم کے علم اور بغیر حصول ہدایت ہدایت دیتا ہے۔ اسے صاحب بصیرت بناتا ہے اور اس کی گمراہی اور تاریکی دور کردیتا ہے۔ اسے امام ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں سید الاولیاءامیر المومنین حضرت علی کرم اﷲ وجہہ سے روایت کیا ہے۔ (ت)
وحدیث ۱۲ :
دع عنك قول معاذفان اﷲ یباھی بہ الملئکۃ قالہ لرجل قال لہ معاذبن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ تعال حتی نؤمن ساعۃ فشکاہ الرجل الی النبی صلی اﷲ
قول معاذ کو چھوڑو (یعنی قول معاذ کو برا نہ جانو) کیونکہ اﷲ تعالی ملائکہ میں اس کے ساتھ فخر فرماتا ہے۔ یہ بات آپ نے اس شخص سے فرمائی جسےمعاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا تھا کہ آؤ ہم ایك گھڑی ایمان
حوالہ / References مسند احمدبن حنبل بقیہ حدیث ابی الدرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۶ / ۴۵۰ ، نوادرالاصول الاصل الحادی والعشرون فی خصوصیۃ ھذہ الامۃ مطبوعہ دارصادر بیروت ص ۲۹ و ۳۳
حلیۃ الاولیاء فصائل ومناقب علی بن ابی طالب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ۱ / ۷۲
#11968 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
تعالی علیہ وسلم وقال اومانحن بمؤمنین فقال لہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ذلک ۔ اخرجہ سیدی محمد بن علی الترمذی عن معاذ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
لائیں اس شخص نے حضور علیہ السلام کی خدمت اقدس میں شکایت کرتے ہوئے عرض کیا کیا ہم اہل ایمان نہیں اس موقعہ پر رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے مذکورہ جملہ فرمایا تھا۔ اس کوسیدی محمد بن علی ترمذی نے حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ت)
وحدیث ۱۳ :
کان عبداﷲ بن رواحۃ رضی اﷲ تعالی عنہ اذالقی الرجل من اصحاب النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یقول تعال نؤمن بربناساعۃ فقال ذات یوم لرجل فغضب الرجل فجاء الی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال یا رسول اﷲ الاتری الی ابن رواحۃ یرغب عن ایمانك الی ایمان ساعۃ فقال النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یرحم اﷲ ابن رواحۃ انہ یحب المجالس التی تباھی بھا الملئکۃ علیھم السلام۔ رواہ احمد بسند حسن عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ۔
حضرت عبداﷲ بن رواحہ رضی اللہ تعالی عنہ کا معمول تھا جب بھی کسی صحابی رسول سے ملاقات ہوتی تو کہتے آؤ ہم اپنے رب کے ساتھ ایك گھڑی ایمان لائیں ایك دن آپ نے یہی بات ایك شخص سے کہی تو وہ ناراض ہوگیا اوربارگاہ نبوی میں حاضر ہوکر عرض کیا یارسول اﷲ! آپ نے عبداﷲ بن رواحہ کے بارے میں نہیں سنا وہ تو آپ پر ایمان لانے کے بجائے ایك گھڑی ایمان کی طرف رغبت دلاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا عبداﷲ بن رواحہ پر اﷲ تعالی رحم فرمائے وہ ایسی مجالس کو پسند کرتا ہے جس پر ملائکہ بھی فخر کرتے ہیں ۔ اسے امام احمد نے سند حسن کےساتھ حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ت)
وحدیث۱۴ : ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ :
حفظت عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وعائین فاما احدھما
میں نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے علم کے دو ۲ برتن حاصل کئے ہیں ایك کو بیان کرتا ہو ں اگر
حوالہ / References نوادرالاصول الاصل الثانی والسبعون فی الذکر الخفی مطبوعہ دارصادر بیروت ص۱۱۰
مسند احمد بن حنبل از مسند انس بن مالك رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ / ۲۶۵
#11969 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
فبثثتہ واماالاخر فلو بثثتہ قطع ھذا البلعوم ۔ اخرجہ البخاری۔
دوسرا بیان کروں تو میرا یہ گلا کاٹ دیا جائے گا۔ اس کو بخاری نےروایت کیا ہے(ت)
وآیت :
ید الله فوق ایدیهم-
ان کے ہاتھ پر اﷲ کا ہاتھ ہے۔ (ت)
وآیت :
و ما رمیت اذ رمیت و لكن الله رمى-
اور اے محبوب! وہ خاك جو تم نے پھینکی تھی تم نے نہ پھینکی بلکہ اﷲ تعالی نے پھینکی تھی۔ (ت)
وآیت :
فاینما تولوا فثم وجه الله-
تو تم جدھر منہ کرو ادھر وجہ اﷲ (خدا کی رحمت تمھاری طرف متوجہ ہے(ت)
وآیت :
قل الروح من امر ربی و ما اوتیتم من العلم الا قلیلا(۸۵)
تم فرماؤ روح میرے رب کے حکم سے ایك چیز ہے اورتمھیں اس کا علم نہ ملا مگر تھوڑا۔ (ت)
وآیت :
اتینه رحمة من عندنا و علمنه من لدنا علما(۶۵)
(تو ہمارے بندوں میں سے ایك بندہ پایا) جسے ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی اور اسے اپنا علم لدنی عطا کیا۔ (ت)
وآیت :
قال انك لن تستطیع معی صبرا(۶۷)
و كیف تصبر على ما لم تحط به خبرا(۶۸)
کہا آپ میرے ساتھ ہر گز نہ ٹھہر سکیں گے اور اس بات پر کیونکر صبر کرینگے جسے آپ کا علم محیط نہیں ۔ (ت)
حوالہ / References صحیح بخاری کتاب العلم باب حفظ العلم مطبوعہ قدیمی کتب خانہ اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۳
القرآن ۴۸ / ۱۰
القرآن ۸ / ۱۷
القرآن ۲ / ۱۱۵
القرآن ۱۷ / ۸۵
القرآن ۱۸ / ۶۵
القرآن ۱۸ / ۶۷
القرآن ۱۸ / ۶۸
#11970 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
وآیت :
قال فان اتبعتنی فلا تســٴـلنی عن شیء حتى احدث لك منه ذكرا(۷۰)
کہا تواگرآپ میرے ساتھ رہتے تو مجھ سے کسی بات کو نہ پوچھنا جب تك میں خود اس کا ذکر نہ کروں (ت)
وآیت :
فانطلقا-حتى اذا ركبا فی السفینة خرقها-قال اخرقتها لتغرق اهلها-لقد جئت شیــٴـا امرا(۷۱) 
قال الم اقل انك لن تستطیع معی صبرا(۷۲)
اب دونوں چلے یہاں تك کہ جب کشتی میں سوار ہوئے تو اس بندہ نے اسے چیر ڈالا موسی علیہ السلام نے کہا کیا تم نے اسے اس لیے چیرا ہے کہ اس کے سواروں کو ڈبو دوں بے شك یہ تم نے بہت بری بات کی کہا میں نہ کہتا تھا کہ آپ میرے ساتھ ہر گز نہ ٹھہر سکیں گے ۔ (ت)
وآیت :
فانطلقا-حتى اذا لقیا غلما فقتله-قال اقتلت نفسا زكیة بغیر نفس-لقد جئت شیــٴـا نكرا(۷۴)
قال الم اقل لك انك لن تستطیع معی صبرا(۷۵)
پھر دونوں چلے یہاں تك کہ جب ایك لڑکا ملا اس بندہ نےاسے قتل کردیا ۔ موسی علیہ السلام نے کہا کیا تم نے ایك ستھری جان بے کسی جان کے بدلے قتل کردی بیشك تم نے بہت بری بات کی کہا میں نے آپ سے نہ کہا تھا کہ آپ ہرگز میرے ساتھ نہ ٹھہر سکیں گے(ت)
وآیت :
قال هذا فراق بینی و بینك-سانبئك بتاویل ما لم تستطع علیه صبرا(۷۸)
کہا یہ (وقت) میری اور آپ کی جدائی کاہے اب میں آپ کو ان باتوں کا پھیر (یعنی علت ووجہ) بتاؤں گا جن پر آپ سے صبر نہ ہو سکا۔ (ت)
حوالہ / References القرآن ۱۸ / ۷۰
القرآن ۱۸ / ۷۱
القرآن ۱۸ / ۷۲
القرآن ۱۸ / ۷۴
القرآن ۱۸ / ۷۵
القرآن ۱۸ / ۷۸
#11971 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
وآیت :
و ما فعلته عن امری-ذلك تاویل ما لم تسطع علیه صبرا(۸۲)
اور یہ کچھ مین نے اپنے حکم سے نہ کیا یہ پھیر (علت و وجہ) ہے ان باتوں کاجس پر آپ سے صبر نہ ہوسکا (ت)
وغیرہ ذلك آیت واحادیث سمجھ والوں کے لئے علم باطن اوراس کے رجال ومضائق مجال و حقائق اقوال و دقائق افعال کا پتا دینے کو بہت ہیں
و من لم یجعل الله له نورا فما له من نور(۴۰)
اور جسے اﷲ تعالی نورنہ دے اس کے لئے کہیں نور نہیں (ت)
یا نہ اس بحر عمیق کے لئے ساحل نہ یہ حضرات اس کی سیر کے قابل نہ اس معنی سے اصل غرض سائل لہذا فقیر این وآں سے قطع نظر کرکے نفس مرام مسئول عنہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے یعنی نماز میں حضرات غیر مقلدین کی اقتداء کا حکم کیا ہے اور ازانجا کہ اسکی تنقیح ان کی کشف بعض بد عات پر موقوف لہذا اس بارے میں ایك اجمالی مقدمہ لکھ کر عنان قلم جانب جواب مصروف ہرچند اس باب میں علماء متعدد تحریریں کرچکے مگر میں امید کرتا ہوں کہ بحول اﷲ تعالی یہ موجز تحریر کافی و کافل وافی وکامل شافی ونافع صافی و ناصع واقع ہو وباﷲ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق انہ نعم المولی ونعم المعین والحمد ﷲ رب العلمین۔
مقدمہ فی الکلام الاجمالی علی بدعۃ غیر المقلدین
یامعشر المسلمین یہ فرقہ غیر مقلدین کہ تقلید ائمہ دین کے دشمن اور بیچارہ عوام اہل اسلام کے رہزن ہیں مذاہب اربعہ کو چوراہا بتائیں ائمہ وہدی کو احبار و رہبان ٹھہرائیں سچے مسلمانوں کو کافر مشرك بنائیں قرآن وحدیث کی آپ سمجھ رکھنا ارشادات ائمہ کو جانچنا پرکھنا ہر عامی جاہل کا کام کہیں بے راہ چل کر بیگانہ مچل کر حرام خدا کو حلال کردیں حلال خدا کو حرام کہیں ان کا بدعتی بدمذہب گمراہ بے ادب ضال مضل غوی مبطل ہونا نہایت جلی واظہر بلکہ عن الانصاف یہ طائفہ تالفہ بہت فرق اہل بدعت سے اشرواضر واشنع وافجر کما یخفی علی ذی بصر(جیسا کہ کسی بھی صاحب بصیرت پر مخفی نہیں۔ ت) صحیح بخاری شریف میں تعلیقا اورشرح السنۃ امام بغوی وتہذیب الآثار امام طبری میں موصولا وارد :
کان ابن عمریراھم شرارخلق اﷲ وقال
یعنی عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما خوارج کو بدترین
حوالہ / References القرآن ۱۸ / ۸۲
القرآن ۲۴ / ۴۰
#11972 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
انھم انطلقو الی ایات نزلت فی الکفار فجعلوھا علی المؤمنین ۔
خلق اﷲ جانتے کہ انہوں نے وہ آیتیں جو کافروں کے حق میں اتریں اٹھا کر مسلمانوں پر رکھ دیں۔
بعینہ یہی حالت ان حضرات کی ہے ۔ آیہ کریمہ :
اتخذوا احبارهم و رهبانهم اربابا من دون الله
انھوں نے اپنے پادریوں اور جوگیوں کو اﷲ تعالی کے سوا خدا بنا لیا۔ (ت)
کہ کفار اہل کتاب اور ان کے عمائد وارباب میں اتری ہمیشہ یہ بیباك لوگ اہلسنت و ائمہ اہلسنت کو اس کا مصداق بتاتے ہیں ۔ علامہ طاہر پر رحمت غافر کہ مجمع بحارالانوار میں قول ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نقل کرکے فرماتے ہیں :
قال المذنب تاب اﷲ علیہ واشرمنھم من یجعل ایات اﷲ فی شرارالیہود علی علماء الامۃ المعصومۃ المرحومۃ طھراﷲ الارض عن رجسھم ۔
مذنب کہتا ہے اﷲ تعالی س پر رحم فرمائے ان خارجیوں سے بدتر وہ لوگ ہیں کہ اشرار یہود کے حق میں جو آیتیں اتریں انھیں امت محفوظہ مرحومہ کے علماء پرڈھالتے ہیں اﷲ تعالی زمین کو ان کی خباثت سے پاك کرے(ت)
اصل اس گروہ ناحق پژدہ کی نجد سے نکلی صحیح بخاری شریف میں ہے :
عن نافع عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما قال ذکر النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال اللھم بارك لنا فی شامنا اللھم بارك لنا فی یمننا قالوا یارسول اﷲ وفی نجدنا قال اللھم بارك لنا فی شامنا اللھم بارك لنا فی یمننا قالوا یارسول اﷲ وفی نجدنا فاظنہ قال فی الثالثۃ ھناك الزلزال والفتن وبھا یطلع قرن الشیطان۔
نافع سے ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے دعا فرمائی الہی ! ہمارے لئے برکت دے ہمارے شام میں ہمارے لئے برکت رکھ ہمارے یمن میں صحابہ نے عرض کی یارسول اﷲ ! ہمارے نجد میں حضور نے دوبارہ وہی دعا کی الہی ! ہمارے لئے برکت کر ہمارے شام میں الہی! ہمارے لیے برکت بخش ہمارے یمن میں صحابہ نے پھر عرض کی یا رسول اﷲ ہمارے نجد میں ۔ عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی فرماتے ہیں میرے گمان میں تیسری دفعہ حضور نے نجد کی نسبت فرمایا : وہاں زلزلے اور فتنے ہیں اور وہیں سے نکلے گا شیطان کا سینگ(ت)
حوالہ / References الصحیح البخاری کتاب استتبابہ المعاندین باب قتال الخوارج والملحدین الخ ، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۰۵۱
القرآن ۹ / ۳۱
مجمع بحار الانوار تحت لفظِ حدیث مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۶۴۲
الصحیح البخاری کتاب الفتن باب قول النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم الفتنہ من قبل المشرق مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۰۵۰ ، الصحیح البخاری باب ماقیل فی الزلزال والآیات الفتنہ من قبل المشرك مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۱
#11973 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
اس خبرصادق مخبر صادق صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے مطابق عبدالوہاب نجدی کے پسرواتباع نے بحکم آنکہ ع
پدر اگر نتواند پسر تمام کند (باپ اگر نہ کرسکا تو بیٹا تمام( مکمل)کردے گا)
تیرھویں صدی میں حرمین شریفین پر خروج کیا اور ناکردنی کاموں ناگفتنی باتوں سے کوئی دقیقہ زلزلہ وفتنہ کا اٹھا نہ رکھا
و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون(۲۲۷)
اور اب جان جائیں گے ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ (ت)
حاصل ان کے عقائد زائغہ کا یہ تھا کہ عالم میں وہی مشت ذلیل موحد مسلمان ہیں باقی تمام مومنین معاذاﷲ مشرک۔ اسی بناء پر انھوں نے حرم خداوحریم مصطفی علیہ افضل الصلوۃ والثناء کو عیاذا باﷲ دارالحرب اور وہاں کے سکان کرام ہمسائیگان خدا و رسول کو (خاکم بدہان گستاخاں ) کافر ومشرك ٹھہرایا اور بنام جہاد وخروج کرکے لوائے فتنہ عظمے پر شیطنت کبری کا پرچم اڑایا ۔ علامہ فہامہ خاتمۃ المحققین مولنا امین الدین محمد بن عابدین شامی قدس سرہ السامی نے کچھ تذکرہ اس واقعہ ہائلہ کافر مایا ردالمحتار حاشیہ درمختارکی جلدثالث کتاب الجہاد باب البغاۃ میں زیر بیان خوارج فرماتے ہیں :
کماوقع فی زماننا فی اتباع بن عبدالوہاب الذین خرجو امن نجد وتغلبوا علی الحرمین وکانوا ینتحلون مذھب الحنابلۃ لکنھم اعتقدوا انھم ھم المسلمون وان من خالف اعتقاد ھم مشرکون واستباحوا بذلك قتل اھل السنۃ وقتل علمائھم حتی کسر اﷲ تعالی شوکتھم وخرب بلادھم وظفربھم عساکر المسلمین عام ثلث وثلثین ومائتین والف ۔ والحمد ﷲ رب العلمین۔
یعنی خارجی ایسے ہوتے ہیں جیسا ہمارے زمانے میں پیروان عبدالوہاب سے واقع ہوا جنہوں نے نجد سے خروج کرکے حرمین محترمین پر تغلب کیا اور وہ اپنے آپ کو کہتے تو حنبلی تھے مگر ان کا عقیدہ یہ تھا کہ بس وہی مسلمان اور جو ان کے مذہب پر نہیں وہ مشرك ہیں اس وجہ سے انھوں نے اہلسنت وعلمائے اہلسنت کا قتل مباح ٹھہرالیا یہاں تك کہ اﷲ تعالی نے انکی شوکت توڑ دی اوران کے شہر ویران کئے اور لشکر مسلمین کو ان پر فتح بخشی۱۲۳۳ھ میں ۔
حوالہ / References القرآن ، ۲۶ / ۲۲۷
ردالمحتار کتاب الجہاد مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۳ / ۳۳۹
#11974 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
غرض یہ فتنہ شنیعہ وہاں سے مطرود اور خدا و رسول کے پاك شہروں سے مدفوع و مردود ہوکر اپنے لئے جگہ ڈھونڈتا ہی تھا کہ نجد کے ٹیلوں سے اس دارالفتن ہندوستان کی نرم زمین اسے نظر پڑی آتے ہی یہاں قدم جمائے بانی فتنہ نے کہ اس مذہب نامہذب کا معلم ثانی ہوا وہی رنگ آہنگ کفر وشرك پکڑا کہ ان معدودے چند کے سوا تمام مسلمان مشرك یہاں یہ طائفہ بحکم ان الذین فرقوا دینهم و كانوا شیعا (وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین میں جداجدا راہیں نکالیں اور کئی گروہ ہوگئے ۔ ت)
خود متفرق ہوگیا ایك فرقہ بظاہر مسائل فرعیہ میں تقلید ائمہ کا نام لیتا رہا دوسرے نے ع
قدم عشق پیشتر بہتر
(عشق کا قدم آگے بڑھانا ہی بہتر ہے)
کہہ کر اسے بھی بالائے طاق رکھا چلئے آپس میں چل گئی وہ انھیں گمراہ یہ انھیں مشرك کہنے لگے مگر مخالفت ہلسنت وعداوت اہل حق میں پھر ملت واحدہ رہے ہر چندان اتباع نے بھی تکفیر مسلمین میں اپنی چلتی گئی نہ کی لیکن پھر کلام الامام امام الکلام (امام کا کلام کلام کاامام ہوتا ہے۔ ت) ان کے امام وبانی وثانی کو شرك وکفر کی وہ تیز وتند چڑھی کہ مسلمانوں کے مشرك کافر بنانے کوحدیث صحیح مسلم : لا یذھب اللیل والنھار حتی یعبد اللات والعزی(الی قولہ) یبعث اﷲ ریحاطیبۃ فتوفی کل من کان فی قلبہ مثقال حبۃ من خردل من ایمان فیبقی من لاخیر فیہ فیرجعون الی دین ابائھم مشکوۃ کے باب لا تقوم الساعۃ شرارالناس سے نقل کرکے بے دھڑك زمانہ موجودہ پر جمادی جس میں حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ “ زمانہ فنا نہ ہوگا جب تك لات و عزی کی پھر سے پرستش نہ ہو اور وہ یوں ہوگی کہ اﷲ تعالی ایك پاکیزہ ہوا بھیجے گا جو ساری دنیا سے مسلمانوں کو اٹھالے گی جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہوگا انتقال کرے گا جب زمین میں نرے کافر رہ جائیں گے پھر بتوں کی پوجا بدستور جاری ہوجائے گی “ ۔ اس حدیث کو نقل کرکے صاف لکھ دیا سو پیغمبر خدا کے فرمانے کے موافق ہوا انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔
ہوشمند نے اتنا بھی نہ دیکھا کہ اگر یہ وہی زمانہ ہے جس کی خبر حدیث میں دی تو واجب ہوا کہ روئے زمین پر مسلمان کا نام و نشان باقی نہ ہو بھلے مانس اب تو اور تیرے
حوالہ / References القرآن ۶ / ۱۵۹
صحیح مسلم کتاب الفتن واشتراط الساعۃ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ۲ / ۳۹۴
مشکوٰۃ المصابیح کتاب الفتن باب لاتقوم الساعۃ الاعلی شرارالناس مطبوعہ مجتبع مجتبائی دہلی ص ۴۸۰
#11975 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
ساتھی کدھر بچ کرجاتے ہیں کیا تمھارا طائفہ دنیا کے پردے سے کہیں الگ بستا ہے تم سب بھی انہیں شرارالناس وبدترین خلق میں ہوئے جن کے دل میں رائی کے دانے کے برابرایمان کا نام نہیں اوردین کفارکی طرف پھر کر بتوں کی پوجا میں مصروف ہیں سچ آیا ۱۷حدیث مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ارشاد کہ حبك الشیئ یعمی ویصم (شیئ کی محبت تجھے اندھااور بہرا کر دے گی۔ ت) شرك کی محبت نے اس ذی ہوش کو ایسا اندھا بہرا کردیا کہ خود اپنے کفر کا اقرار کر بیٹھا غرض تو یہ ہے کہ کسی طرح تمام مسلمان معاذ اﷲ مشرك ٹھہریں اگرچہ پرائے شگون کواپنا ہی چہرہ ہموار ہوجائے اور اس بیباك چالاك کی نہایت عیاری یہ ہے کہ اسی مشکوۃ کے اسی باب لاتقوم الساعۃ الاعلی شرارالناس میں اسی حدیث مسلم کے برابر متصل بلافصل دوسری حدیث مفصل۔ اسی صحیح مسلم کی عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے وہ موجود تھی جس سے اس حدیث کے معنی واضح ہوتے اوراس میں صراحۃ ارشاد ہوا تھا کہ یہ وقت کب آئے گا اور کیونکر آئے گا اور آغازبت پرستی کا منشا کیا ہوگا وہ حدیث مختصرا یہ ہے :
وعن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یخرج الدجال فی امتی فیمکث اربعین فیبعث اﷲ عیسی بن مریم فیھلکہ ثم یمکث فی الناس سبع سنین لیس بین اثنین عداوۃ ثم یرسل اﷲ ریحاباردۃ من قبل الشام فلا یبقی علی وجہ الارض احد فی قلبہ مثقال ذرۃ من خیر اوایمان الاقبضتہ حتی لوان واحدکم دخل
یعنی عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں میری امت میں دجال نکل کر چالیس عــــہ تك ٹھہرے گا پھر اﷲ تعالی عیسی بن مریم علیہم الصلوۃ والسلام کو بھیجے گا وہ اس کو ہلاك کریں گے پھر سات برس تك لوگوں میں اس طرح تشریف رکھیں گے کہ کوئی دو۲ دل آپس میں عداوت نہ رکھتے ہوں گے اس کے بعد اﷲ تعالی شام کی طرف سے ایك ٹھنڈی ہوا بھیجے گا کہ روئے زمین پرجس دل میں ذرہ برابر بھی ایمان

عــــہ : راوی نے کہا مجھے نہیں معلوم کہ چالیس۴۰ دن فرمایا یا برس انتہی اور دوسری حدیث میں چالیس دن کی تصریح ہے کہ پہلا دن سال بھر کا دوسرا ایك مہینہ کا تیسرا ایك ہفتہ کا باقی دن عام دنوں کی طرح رواہ مسلم عن النواس بن سمعان رضی اﷲ تعالی عنہ فی حدیث طویل ۱۲ منہ(م)(اسے امام مسلم نے حدیث طویل میں حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ۔ ت)
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل باقی حدیث ابی الدرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۵ / ۱۹۴
مشکوٰۃ المصابیح کتاب الفتن باب لا تقوم الساعۃ الخ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص ۴۸۰
#11976 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
فی کبد جبل لدخلتہ علیہ حتی تقبضہ قال فیبقی شرارالناس فی خفۃ الطیر واحلام السباع لا یعرفون معروفا ولاینکرون منکرا فیتمثل لہم الشیطان فیقول الاتستحیون فیقولون فما تأمرنا فیامرھم بعبادۃ الاوثان ثم ینفخ فی الصور (ملخصا)۔ (رواہ مسلم)
ہوگا اس کی روح قبض کرلے گی یہاں تك کہ اگر تم میں کوئی پہاڑ کے جگر میں چلاجائے گا تو وہ ہوا وہاں جاکربھی اس کی جان نکال لے گی اب بد ترین خلق باقی رہ جائیں گے فسق وشہوت میں پرندوں کی طرح ہلکے سبك اور ظلم وشدت میں درندوں کی طرح گراں و سخت جواصلانہ کبھی بھلائی سے آگاہ ہوں گے نہ کسی بدی پرانکار کریں گے شیطان ان کے پاس آدمی کی شکل بن کر آئے گا اور کہے گا تمہیں شرم نہیں آتی یہ کہیں گے تم ہمیں کیا حکم کرتا ہے وہ انھیں بت پرستی کا حکم دے گا اس کے بعد نفخ صور ہو گا۔ (ملخصا)۔
عیارہوشیار اس حدیث کو الگ بچاگیا کہ یہاں تو سارے مکر کی قلعی کھلتی اورصاف ظاہر ہوتا کہ حدیث میں جس زمانے کی خبر دی ہے وہ بعد خروج وہلاك دجال وانتقال عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے آئے گا اس وقت کے لئے حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ روئے زمین پر کوئی مسلمان نہ رہے گاجس طرح ۱۹احمد ومسلم وترمذی کی حدیث میں انس رضی اللہ تعالی عنہ سے آیا سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
لاتقوم الساعۃ حتی لایقال فی الارض اﷲ اﷲ ۔
قیامت نہ آئے گی جب تك زمین میں کوئی اﷲ اﷲ کہنے والا رہے۔
اﷲ اﷲ یہ حدیث بھی مشکوۃ بحوالہ مسلم اسی باب کے شروع میں ہے مزور چالاك دلدادہ اشراك برابر کی حدیثیں نقل کرتا تو مسلمانوں کو کافر مشرك کیونکر بناتا اور اس جھوٹے دعوے کی گنجائش کہاں سے پاتا اپنے زمانے کی نسبت کہہ دیا : سو پیغمبر خدا کے فرمانے کے موافق ہوا۔ مسلمان دیکھیں کہ جو عیار صریح واضح متداول حدیثوں میں ایسی معنوی تحریفیں کریں بے پرکی اڑانے میں اپنے باطنی معلم کے بھی کان کتیریں جھوٹے مطلب دل سے بنائیں اور انھیں مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا مقصود ٹھہرائیں حالانکہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم متواتر حدیث میں ارشاد فرمائیں :
۲۰من کذب علی متعمدافلیتبوامقعدہ
جو جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانا
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الفتن باب الدجال مطبوعہ نور محمداصح المطابع کراچی ۲ / ۴۰۳
صحیح مسلم باب ذہاب الایمان آخر الزمان مطبوعہ نور محمداصح المطابع کراچی ۱ / ۸۴ ، مسند احمد بن حنبل ازمسند انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ / ۱۰۷ ، ۲۰۱ ، ۲۶۸
#11977 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
من النار۔
دوزخ میں بنالے۔ (ت)
ایسوں کا مذہب معلوم اور عمل بالحدیث کا مشرب معلوم ع
قیاس کن زگلستان شان بہار شاں
جب اصول میں یہ حال ہے تو ظاہر ہے کہ فروع مسائل فقہیہ میں حدیثوں کی کیا کچھ گت نہ بناتے ہوں گے ۔ پھر دعوی یہ ہے کہ ہم تو خیر البریہ یعنی قرآن اورقول خیر البریہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم یعنی حدیث پر چلتے ہیں سبحن اﷲ یہ منہ اور یہ دعوی۔
۲۱سچ فرمایا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے :
یأتی فی اخرالزمان قوم حدثاء الاسنان سفھاء الاحلام یقولون من خیر قول البریۃ یمرقون من الاسلام کما یمرق السھم من الرمیۃ لایجاوز ایمانھم حناجرھم ۔ اخرجہ البخاری ومسلم وغیرھما عن امیرالمومنین علی کرم اﷲ تعالی وجہہ واللفظ للبخاری فی فضائل القران من الجامع الصحیح۔
آخر زمانہ میں کچھ لوگ حدیث السن سفیہ العقل آئیں گے کہ اپنے زعم میں قرآن یاحدیث سے سند پکڑیں گے وہ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر نشانہ سے نکل جاتا ہے ایمان ان کے گلوں سے نیچے نہ اترے گا۔ اسےبخاری ومسلم اور دیگر محدثین نے امیر المومنین حضرت علی کرم اﷲ تعالی وجہہ سے روایت کیا اور مذکورہ الفاظ حدیث جامع صحیح للبخاری کے باب فضائل القرآن سے لئے گئے ہیں ۔
واقعی یہ لوگ ان پرانے خوارج کے ٹھیك ٹھیك بقیہ و یادگار ہیں وہی مسئلے وہی دعوے وہی انداز وہی وتیرے خارجیوں کا داب تھا اپنا ظاہر اس قدر متشرع بناتے کہ عوام مسلمین انہیں نہایت پابند شرع جانتے پھر بات پر عمل بالقرآن کا دعوی عجب دام درسبزہ تھا مسلك وہی کہ ہمیں مسلمان ہیں باقی سب مشرک۔ یہی رنگ ان حضرات کے ہیں آپ موحد اور سب مشرکین آپ محمدی اور سب بددین آپ عامل بالقرآن والحدیث اور سب چنیں وچناں بزم خبیث پھر ان کے اکثر مکلبین ظاہری پابندی شرع میں خوارج سے کیا کم ہیں اہلسنت کان کھول کر سن لیں دھوکے کی پٹی میں شکار نہ ہوجائیں ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے صحیح حدیث میں فرمایا :
حوالہ / References جامع الترمذی باب ماجاء فی تعظیم الکذب علی رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم مطبوعہ امین کمپنی دہلی ۲ / ۹۰
صحیح البخاری کتاب فضائل القرآن باب من رایا بقرأۃ القرآن الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۷۵۶
#11978 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
تحقرون صلاتکم مع صلاتھم وصیامکم مع صیامھم وعملکم مع عملھم۔
تم حقیر جانو گے اپنی نمازوں کوان کی نمازوں کے سامنے اوراپنے روزے ان کے روزوں کے سامنے اوراپنے اعمال کو ان کے اعمال کے مقابل۔
بااینہمہ ارشاد فرمایا :
ویقرئون القران لایجاوز حناجرھم یمرقون من الدین کما یمرق السھم من الرمیۃ ۔ رواہ البخاری ومسلم عن ابی سعید الخدری رضی اﷲ تعالی عنہ۔
ان اعمال پر ان کا یہ حال ہوگا کہ قرآن پڑھیں گے پر گلوں سے تجاوز نہ کرے گا دین سے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے ۔ اسے بخاری ومسلم دونوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔
پھر شان خداکہ ان مذہبی باتوں میں خارجیوں کے قدم بقدم ہونا درکنا خارجی بالائی باتوں میں بھی بالکل یك رنگی ہے انھیں ابو سعید رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث میں ہے :
قیل ماسیماھم قال سیماھم التحلیق ۔ رواہ البخاری ولیس بعدہ فی الجامع الصحیح الاحدیث واحد۔
عرض کی گئی یارسول اﷲ! ان کی علامت کیا ہوگی فرمایا سر منڈانا۔ یعنی ان کے اکثر سرمنڈے ہونگے عــــہ ۔ اسے بخاری نے روایت کیا اس کے بعد جامع صحیح میں فقط ایك حدیث ہے یعنی یہ حدیث صحیح البخاری کی آخری حدیث سے پہلے والی حدیث ہے۔
۲۳بعض احادیث میں یہ بھی آیا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ان کا پتا بتایا مشمری الازار ف۔ (گھٹنی ازار والے) اوکما وردعنہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم (یا جیسا کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے مروی ہوا ہے ۔ ت)اﷲ تعالی کے بے شمار درودیں حضور عالم ماکان ومایکون پر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔
عــــہ ظاہر ہے علامت قوم سے ہے وہ جو تمام قوم یا اکثر میں ہو ۱۲منہ(م)
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الفضائل باب من رایابقرأۃ القرآن مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۷۵۶
صحیح البخاری کتاب الفضائل باب من رایابقرأۃ القرآن مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۷۵۶
صحیح البخاری کتاب الفضائل باب من رایابقرأۃ القرآن مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۵۸ ، ۷۵۶
صحیح البخاری کتاب التوحید باب قرأۃ الفاجر والمنافق الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۱۲۸
ف : بلکہ ۶۲۴ پر دیگر چند علامات کا بھی ذکر ہے پوری عبارت یوں ہے : غائر العنین مشرف الوجنتین ناشز الجبھۃ کث اللحیۃ محلوق الرأس مشمر الازار۔ اس حدیث میں گستاخ رسو ل کی علامتوں کا ذکر ہے ۔ نذیر احمد
#11979 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
بالجملہ یہ حضرات خوارج نہروان کے رشیدپس ماندے بلکہ غلو و بیباکی میں ان سے بھی آگے ہیں یہ انھیں بھی نہ سوجھی تھی کہ شرك وکفر تمام مسلمین کا دعوی اس حدیث سے ثابت کر دکھاتے جس سے ذی ہوش مذکور نے استدلال کیا ع
طرفہ شاگردے کہ میگوید سبق استادرا
(کتنا اچھا شاگرد کہ استاد کو بھی سبق سکھاتا ہے)
مگر حضرت حق عزوجل کا حسن انتقام لائق عبرت ہے چاہ کن راچاہ درپیش من حفر بیرالا خیہ فقد وقع فیہ(جوشخص کسی کے لئے کنواں کھودتا ہے خود اسی میں گرتا ہے۔ ت) حدیث سے سند لائے تھے مسلمانوں کے کافر ومشرك بنانے کو اور بحمداﷲ خود اپنے مشرك وکافر ہونے کا اقرار کرلیا کہ جب یہ وقت وہی ہے کہ روئے زمین پر کوئی مسلمان نہیں تو یہ مستدل بھی انھیں کافروں میں کا ایك ہے قضی الرجل علی نفسہ(آدمی نے اپنے خلاف فیصلہ کیا۔ ت) اقرار مرد آزار مرد المرء مواخذباقرارہ(آدمی اپنے اقرار پر گرفتار ہوتا ہے۔ ت) مدہوش بیچارہ خود کردہ راعلاجے نیست میں گرفتار ہوا اور مسلمانوں کو تو خدا کی امان ہے ان کے لئے ان کے سچے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے سچی بشارت آئی ہے کہ یہ امت مرحومہ ہرگز شرك اورغیر خدا کی پرستش نہ کرے گی۔ ۲۴امام احمد مسند اور ابن ماجہ سنن اور حاکم مستدرك اور بیہقی شعب الایمان میں حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپنی امت کی نسبت فرماتے ہیں :
اماانھم لایعبدون شمساولاقمرا ولاحجرا ولاوثناولکن یراؤن باعمالھم۔
خبر دار ہو بیشك وہ نہ سورج کو پوجیں گے نہ چاند کو نہ پتھر کو نہ بت کو ہاں یہ ہوگا کہ دکھاوے کے لئے اعمال کریں گے۔
اسی لئے جب قیامت آنے کو ہوگی اور شرك محض کاوقت آیئگا ہوا بھیج کر مسلمانوں کو اٹھالیں گے والحمد ﷲ رب العلمین۔ پھراہل عرب کے لئے خاص مژدہ ارشاد ہوا ہے کہ وہ ہرگز شیطانی پرستش میں مبتلا نہ ہوں گے۔ ۲۵احمدو مسلم حضرت ۱جابر بن عبداﷲ رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ان الشیطن قد یئس ان یعبدہ المصلون فی جزیرۃ العرب ولکن فی التحریش بینھم ۔
بیشك شیطان اس سے ناامید ہوگیا کہ جزیرہ عرب کے نمازی اسے پوجیں ہاں ان میں جھگڑے اٹھانے کی طمع رکھتا ہے۔
حوالہ / References المسند لامام احمد بن حنبل حدیث شداد بن اوس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مطبوعہ دارلفکر بیروت ۴ / ۱۲۴
المسند لامام احمد بن حنبل از مسند جابر بن عبداﷲ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مطبوعہ کتب خانہ رشیدیہ ۳ / ۳۵۴ ، صحیح مسلم باب تحریش الشیطان الخ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ۲ / ۳۷۶ ، جامع الترمذی باب ماجاء فی التباعض مطبوعہ امین کمپنی دہلی ۲ / ۱۶
#11980 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
ابو یعلی ۲حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ان الشیطان قد یئس ان تعبد الاصنام فی ارض العرب ولکنہ سیرضی منکم بدون ذلك بالمحقرات الحدیث۔ واصلہ عنہ عنداحمد والطبرانی بسند حسن۔
یعنی شیطان یہ امید نہیں رکھتا کہ ا ب زمین عرب میں بت پوجے جائیں مگر وہ اس سے کم درجہ گناہ تم سے کرادینے کو غنیمت جانے گا جوحقیر وآسان سمجھے جاتے ہیں (الحدیث) اسے امام احمد اور طبرانی نے انھیں سے سندحسن کے ساتھ روایت کیا ہے۔
بیہقی ۲۷حضرت ۳معاذبن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے تذکیرا اور ۲۸حضرت ۴عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ تعالی عنہ سے تقریرا راوی حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے وداع کرتے وقت ارشاد فرمایا :
ان الشیطان قدیئس ان یعبدفی جزیرتکم ھذہ ولکن یطاع فیما تحتقرون من اعمالکم فقد رضی بذلک ۔
یعنی شیطان کو یہ امید نہیں کہ اب تمھارے جزیرے میں اس کی عبادت ہوگی ہاں ان اعمال میں اس کی اطاعت کروگے جنھیں تم حقیر جانو گے وہ اسی قدر کو غنیمت سمجھتا ہے۔
۲۹امام احمد حضرت ۵عبادہ بن صامت و۶ابودرداء۳۰ رضی اللہ تعالی عنہما سے معاراوی حضور سید الکونین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
ان الشیطان قد یئس ان یعبد فی جزیرۃ العرب ۔
بیشك شیطان اس سے مایوس ہے کہ جزیرہ عرب میں اس کی پرستش ہو۔
یہ چھ۶ صحابیوں کی حدیثیں ہیں رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین ۔ ہاں انھیں سن کر مسلمان کہے کہ دیکھو پیغمبر خدا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے فرمانے کے مطابق ہوا کفر وشرك جب سے جزیرہ عرب سے نکلے وہ دن اور آج کا دن پھر ادھر کا منہ کرنا نصیب نہ ہوا والحمدﷲ رب العلمین۔ پھر خطہ مبارکہ حجاز یعنی حرمین طیبین اور ان کے مضافات کے لئے اس سے اجل واعظم بشارت آئی ۳۱جامع ترمذی میں عمرو بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ
حوالہ / References مسند ابویعلی از مسند عبداﷲ ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حدیث ۵۱۰۰ مطبوعہ دارالقبلۃ جدہ موسسۃ علوم القرآن بیروت ۵ / ۶۹
شعب الایمان وہوباب فی اخلاص العمل الخ حدیث ۶۸۵۲ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ۵ / ۳۴۰
مسند احمد بن حنبل ، حدیث شداد بن اوس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ، مطبوعہ دارالفکر بیروت ، ۴ / ۱۲۶
#11981 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
سے مروی حضور پرنور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ان الدین لیأر ز الی الحجاز کماتأرز الحیۃ الی جحرھا ولیعقلن الدین من الحجاز معقل الارویۃ من الجبل ۔
بیشك دین حجاز کی طرف ایسا سمٹے گا جیسے سانپ اپنی بل کی طرف اوربیشك دین حرمین طیبین کو ایسا اپنا مسکن ومامن بنائے گا جیسے پہاڑی بکری پہاڑ کی چوٹی کو۔
پھر مدینہ امینہ کا کہنا ہی کیا کہ وہ تو خاصوں کا خاص اور دین متین کا اول وآخر ملجا ومناص ہے صلی اﷲ تعالی علی من جعلھا ھکذا وبارك وسلم ( اﷲتعالی اس ذات اقدس پر رحمتیں برکتیں اور سلام نازل فرمائے جس نے شہر مدینہ کو یہ شرف بخشا۔ ت) اس کی نسبت بالتخصیص ارشاد ہوا۔
ان الایمان لیأرز الی المدینۃ کماتأرز الحیۃ الی جحرھا ۔ رواہ الائمۃ احمد والبخاری ومسلم وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ وفی الباب عن سعد بن ابی وقاص وغیرہ رضی اﷲ تعالی عنھم۔
بیشك ایمان مدینے کی طرف یوں سمٹے گا جیسے سانپ اپنی بل کی طرف ۔ اسے ائمہ کرام احمد بخاری مسلم اور ابن ماجہ نےحضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ اس معاملہ میں حضرت سعد بن ابی وقاص اور دیگر صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم سے بھی حدیث مروی ہے۔
انصاف کیجئے تو صرف یہی حدیثیں اور ان کی مثال ان سفہاکے ابطال مذہب میں کافی ووافی وبرہان شافی کہ اگر ان کامذہب حق ہے تو اہل مدینہ واہل مکہ واہل حجاز واہل عرب اہل بلاد دارالاسلام سب کے سب معاذ اﷲ مشرکین بے دین ہیں اورمسلمان یہی ہند کے چند بے لجام کثیر الحیف یانجد کے بعض بے مہار بقیۃ السیف انا ﷲ واناالیہ راجعون۔ اسی طرح وہ متواتر حدیثیں ان کی مبطل مذہب جن میں ارشاد ہواکہ اس امت مرحومہ کا بڑا حصہ ہرگز گمراہی پر مجتمع نہ ہوگا میں ان کی وفور کثرت وکمال شہرت کے سبب یہاں ان کی نقل سے دست کشی کرتاہوں ان شاء اﷲ تعالی تحریر جداگانہ میں ان کی شوکت قاہرہ کو جلوہ دیاجائے گا ہر مسلمان اور یہ حضرات خود بھی جانتے ہیں کہ تمام بلاد اسلامیہ میں امت مرحومہ مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے کروڑوں اربوں آدمی بارك اﷲ تعالی
حوالہ / References جامع الترمذی باب ماجاء ان الاسلام بدأغریبًا الخ مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۸۷
صحیح البخاری باب الایمان یأرز الی المدینہ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۵۲
#11982 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
فیھم وعلیھم (اﷲ تعالی ان میں اور ان پر برکت نازل کرے۔ ت) اس نئے مذہب سے منزہ و بری ہیں اس کے نام لیوا فقط یہی ذلیل وقلیل مشتے چندہندی ونجدی ہیں طرفہ یہ کہ ان کے بعض مکلبین اپنی اس شذوذو قلت ومخالفت جماعت پر ناز کرتے اور احادیث جماعت وسواد اعظم کے مقابل آیہ و لو اعجبك كثرة الخبیث- (اگر تجھے خبیث کی کثرت تعجب میں نہ ڈال دے۔ ت) پڑھتے ہیں ۔ یہ کیدان صاحبوں نے کہ تمام مذاہب باطلہ کے عطر مجموعہ میں حضرات روافض سے اڑایا وہ اپنی ذلت و قلت کواپنی حقانیت کی حجت ٹھہراتے اور آیات قرآنیہ میں یونہی تحریفیں کرکے خواہی نخواہی مدعاپر جماتے ہیں ۔ شاہ عبدالعزیز صاحب تحفہ اثناء عشیریہ میں فرماتے ہیں :
کیدیاز دہم آنکہ گویند مذہب اثنا عشریہ حق ست زیرا کہ اثنا عشریہ قلیل وذلیل اند واہل سنت کثیر وعزیز وخدائے تعالی درحق اہل حق می فرماید و قلیل ما هم- ودریں تقریر تحریف کلام اﷲ است زیر ا کہ حق تعالی درحق اصحاب الیمین فرمودہ استثلة من الاولین(۳۹) و ثلة من الاخرین(۴۰) واگرقلت وذلت موجب حقیقت شود باید کہ نواصب وخوارج احق واولے بحق باشند کہ بسیار قلیل وذلیل اند بلکہ حق تعالی جابجا ظہور وغلبہ وتسلط درشان اہل حق می فرماید ودراحادیث جابجا باتباع سواد اعظم ازامت وموافقت باجماعت تاکید فرمودہ اند اھ ملتقطا
گیارھواں فریب ان کا یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں مذہب اثنا عشریہ حق ہے کیونکہ اثنا عشریہ تھوڑے اور کمزور اور اہلسنت کثیر و غالب اﷲ تعالی نے اہل حق کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا وہ بہت تھوڑے ہیں ۔ اس گفتگو میں اﷲ تعالی کے کلام میں تحریف ہے کیونکہ اﷲ تعالی نے اصحاب یمین کے بارے میں فرمایا : اگلوں میں ایك بڑا گروہ اور پچھلوں میں سے ایك گروہ ۔ اگر قلت وذلت حق ہونے کے زیادہ لائق ہیں کہ وہ بہت ہی تھوڑے اور نہایت ہی کمزور ہیں بلکہ خود اﷲ تعالی نے جابجا اہل حق کے غلبہ تسلط اور ظہور کا ذکر کیا ہے اوراحادیث میں جابجا امت کے سواد اعظم کی اتباع اورموافقت باجماعت کی تاکید کی گئی ہے اھ تلخیصا(ت)
لطف یہ ہے کہ اس کے بعد جو شاہ صاحب نے روافض کے حالات اوران کی بدمذہبی کے ثمرات لکھے کہ :
ہیچ ملك ناحیہ رااز کفار بدست نیاوردہ و دارالاسلام نساختہ بلکہ اگرگا ہے ایشاں راریاست ناحیہ بدست
انھوں نے کسی ملك کو کفار سے چھڑاکر دارالاسلام نہیں بنایا اگر کبھی ان کے قبضہ میں کوئی ریاست آئی بھی تو
حوالہ / References القرآن ۵ / ۱۰۰
تحفہِ اثناعشریہ فصل دوم درمکائد جزئیہ روافض الخ کیدیا زدہم مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۷
#11983 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
آمدہ باکفار مداہنتہ نمودہ ودارالاسلام رادارالکفر ساختہ اندہرگاہ درملکے تشیع رائج شد فتنہ وفسادونفاق فیما بین فوج فوج باریدہ حالت ہندوستان باید دید وحالت ملك عرب وشام وروم رابادے باید سنجید اھ ملخصا
انھوں نے مداہنت بالکفار سے کام لیتے ہوئے دارالاسلام کو دارالکفر بنادیا جہاں کسی ملك میں اہل تشیع کا غلبہ ہوا فتنہ وفساد اورنفاق کے باعث لوگ آپس میں گروہوں میں بٹ گئے ہندوستان کی حالت دیکھ لو اور ملك عرب شام اور روم کو اس پر قیاس کرلو اھ ملخصا(ت)
یہ سب باتیں بھی حروف بحرف اس طائفہ جدیدہ پر منطبق اول تو انھیں نکلے ایسے کے دن ہوئے تاہم جب سے سرابھارا ساراغصہ مسلمانوں ہی پر اتارا ہمیشہ مسلمانوں کو مشرك کہامسلمانوں ہی کے قتل و غارت کا حوصلہ رہا آخر کچھ دنوں شوکت بھی پائی ۔ فوج و جمعیت بھی ہاتھ آئی پھر کون سا ملك کافروں سے لیا کون سا حملہ مشرکوں پر کیا ہاں خداومصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے شہروں کو دارالحرب بتایا لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ ماننے والوں کا خون بہایا آدمی کوجب قوت ملتی ہے دل کی دبی بھڑك کر جلتی ہے جن سے غیظ تھا انھیں پر ٹوٹے خداومصطفی کے شہر لوٹے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وسیعلم الظالم این المثوی(عنقریب ظالم جان لے گاکہ اس کا ٹھکانہ کہاں ہے۔ ت) جب وہاں ان کا ستارہ لشکر سلطانی نے گرفتار بیت الوبال کیاان آزاد بلاد نے جہاں نہ کوئی پرسان سنت نہ خبرگان ملت انھیں حبلك علی غاربك (تیری رسی تیرے کاندھے پر ہے۔ ت) کہہ کر لیا قدموں کی برکت کہاں جائے ۔ جب نجد اجاڑکر ہند میں آئے یہاں ان کے دم سے جو فتنہ وفساد پھیلے باہم مسلمانوں میں نفاق وشقاق کے چشمے ابلے ظاہر وعیاں ہیں کس پر نہاں ہیں خصوصا ان شہروں کو تو پوری شامت جن میں ان کے عمائد کی کثرت کچھ دین قدیم پر جھگڑ رہے ہیں کچھ بگڑگئے کچھ بگڑ رہے ہیں باپ سنی ذریت وہابی شوہر سنی عورت وہابی گھر گھر فتنے آئے دن فساد عیش منغص چین برباد ابتداء بانی ثانی نے بھی وہی رنگ جمائے بلاد اسلام دارالکفر ٹھہرائے جس سال نجد میں ان کے اکابر کا قلع قمع ہوا اوپر سن چکے کہ ۱۲۳۳ھ تھا اسی سال انھوں نے یہاں کے شہروں پر یہ فتوی دیا امام الطائفہ نے ترغیب جہاد کے ضمن میں لکھا :
ہندوستان را دریں جز و ضمان کہ۱۲۳۳ دوصدوسی وسوم اکثرش دریں ایام دارالحرب گردیدہ ۔
ہندوستان کواس وقت یعنی۱۲۳۳میں کہ اس کا اکثر حصہ دارالحرب قرار دیاجاچکا ہے۔ (ت)
حوالہ / References تحفہ اثنا عشریہ فصل دوم درمکائد جزئیہ روافض الخ کیدیازدہم مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۳۷
صراطِ مستقیم فصل چہارم افادہ ۵ مطبوعہ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۶۵
#11984 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
مگر زمانے نے زیادہ مہلت نہ دی دل کی حسرت دل ہی میں رہی اتباع میں کوئی نہ ہوا کہ ٹوٹے جگ کو جوڑے ناچار زبان قلم وقلم زبان سے چلے دل کے پھپھولے پھوڑے تکفیر مسلمین اصل مذہب ہے کفر شرك تو پہلا لقب ہے ان کے بعض دلاوروں نے تصریحیں کی ہیں کہ اہلسنت کفار حربی ہیں ان کے خون ومال حلال بلکہ اس سے زائد شیطانی اقوال موقع پائیں تو کیا کچھ نہ کر دکھائیں
بغض وبیر ان کی باتوں سے جھلك اٹھا اور وہ (غیظ وعناد) جو سینوں میں چھپائے ہیں اور بڑاہے(ت)
اس اﷲ کے سوا کوئی طاقت وقوت نہیں رکھتا جو ہر شر کے خلاف مددگار ہے۔ (ت)
قد بدت البغضآء من افواههم ﭕ و ما تخفی صدورهم اكبر- ۔
ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ ھوالمستعان علی کل ذی شر۔
غرض کہیں خوارج کی ہمسنگی کہیں روافض سے ہمرنگی ع : مذہب معلوم واہل مذہب معلوم اور شاہ صاحب کے اخیر فقرے تو موتیوں میں تولنے کے قابل کہ :
حالت ایران ودکن وہندوستان باید دید وحالت ملك عرب وشام وروم وتوران وترکستان را باوے باید سنجید ۔
ایران و دکن اورہندوستان کی حالت دیکھ لیجئے اور ملك عرب و شام اورروم وتوران و ترکستان کو ان پر قیاس کر لینا چاہئے ۔ (ت)
واقعی دیکھیے یہاں ان کی آزادی وبے قیدی سے مذہب حق پر کتنا ضرر ہے اور وہاں جو عام بلاد میں ان کا نشان نہیں اورنجد میں جو بقیۃ السیف رہے ان میں سراٹھانے کی جان نہیں دین متین کس قوت پر ہے ماشاء اﷲ لا قوۃ الا باﷲ ان صاحبوں سے پوچھیئے آپ بھی شاہ صاحب کی طرح یہ عرب و روم و شام کا ہندوستان سے موازنہ مانیں گے یا ان برکت والے ملکوں کو اس سے بھی بد تر حال میں جانیں گے کہ یہاں آپ کے مذہب کو اشتہار بھی ہے اعلان مشرب کا اختیار بھی ہے اور وہاں تو یہ اعزازمذہب جدید کا نام لیا اور آفت رسید والحمد ﷲ العلی المجید غرض کہاں تك کہئے کلام طویل اورفرصت قلیل عرب وعجم کے علمائے اہلسنت شکراﷲ تعالی مساعیہم الجمیلہ نے بکرات ومرات اس طائفہ تالفہ کے ردبلیغ فرمائے اور فقیر غفراﷲ تعالی کے بھی متعدد فتاوی میں ہر بار کلام تازہ وفوائد جدیدہ بیان میں آئے یہاں سائل کا جس قدر سے سوال ہے
حوالہ / References القرآن ۳ / ۱۱۸
تحفہ اثنا عشریہ فصل دوم مکائد جزئیہ روافض الخ کید نمبر ۱۱ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۳۷
#11985 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
ا س کی طرف توجہ کا خیال ہے فاقول مستعینا بالقریب المجیب وما توفیقی الا باﷲ علیہ توکلت والیہ انیب۔
الشروع فی الجواب بتوفیق الملك الوہاب
بلا شبہہ غیر مقلد کے پیچھے نماز مکروہ وممنوع ولازم الاحتراز انھیں بااختیار خود امام کرناہر گز کسی سنی محب سنت وکارہ بدعت کاکام نہیں اور جہاں وہ امام ہوں اور منع پر قدرت نہ ہو سنی کو چاہئے دوسری جگہ امام صحیح العقیدہ کی اقتدا کرے حتی کہ جمعہ میں بھی جبکہ اور جگہ مل سکے۔ امام محقق ابن الہمام فتح القدیر شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں :
یکرہ فی الجمعۃ اذاتعددت اقامتھا فی المصر علی قول محمد وھوالمفتی بہ لانہ بسبیل من التحول ۔
امام محمد کے مفتی بہ قول کے مطابق جمعہ میں فاسق و بدعتی کی اقتداء مکروہ ہے جبکہ شہر میں جمعہ متعدد مقامات پر قائم ہوتا ہو کیونکہ اس صورت میں دوسرے مقام پر منتقل ہونا ممکن ہے(ت)
اور اگر بمجبوری ان کے پیچھے پڑھ لی یا پڑھنے کے بعد حال کھلا تو نماز پھیر لے اگر چہ وقت جاتا رہا ہو اگر چہ مدت گزر چکی ہو کما حققہ المولی الفاضل سیدی امین الدین محمد بن عابدین الشامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فی ردالمحتار (جیسا کہ ہمارے عظیم فاضل سیدی امین الدین محمد بن عابدین شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے ردالمحتار میں اس کی تحقیق کی ہے۔ ت)فقیر غفراﷲ تعالی اس حکم کو پانچ دلیلوں سے روشن کرتا ہے وباﷲ التوفیق ۔
دلیل اول : یہ تو خود واضح اور ہماری تقریر سابق سے لائح کہ طائفہ مذکورہ بدعتی بلکہ بد ترین اہل بدعت سے ہے اور فاضل علامہ سیدی احمد مصری طحطاوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ حاشیہ درمختار میں ناقل :
من شذ عن جمھور اھل الفقہ والعلم والسواد الاعظم فقد شذ فیما یدخلہ
یعنی جو شخص جمہور اہل علم وفقہ وسواداعظم سے جدا ہو جائے وہ ایسی چیز کے ساتھ تنہا ہوا جو اسے
حوالہ / References فتح القدیر باب الامامۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۰۴
#11986 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
فی النار فعلیکم معاشرالمومنین باتباع الفرقۃ الناجیۃ المسماۃ باہل السنۃ والجماعۃ فان نصرۃ اﷲ تعالی وحفظہ وتوفیقہ فی موافقتھم وخذلانہ وسخطہ فی مخالفتھم وھذہ الطائفۃ الناجیۃ قد اجتمعت الیوم فی مذاھب اربعۃ وھم الحنفیون والمالکیون والشافعیون والحنبلیون رحمھم اﷲ تعالی ومن کان خارجاعن ھذہ الاربعۃ فی ھذاالزمان فھو من اھل البدعۃ والنار ۔
دوزخ میں لے جائےگی تو اے گروہ مسلمین ! تم پر فرقہ ناجیہ اہلسنت وجماعت کی پیروی لازم ہے کہ خداکی مدد اوراس کا حافظ وکارساز رہناموافقت اہلسنت میں ہے اوراس کو چھوڑ دینا اورغضب فرمانا اور دشمن بنانا سنیوں کی مخالفت میں ہے اورنجات والا گروہ اب چار مذاہب میں مجتمع ہے حنفی مالکی شافعی حنبلی اﷲ تعالی ان سب پر رحمت فرمائے اس زمانے میں ان چار سے باہر ہونے والا بدعتی جہنمی ہے۔
علامہ شامی کا ارشاد گزرا کہ انھوں نے ان کے اسلاف نجد کوخارجیوں میں شمار فرمایا۔ یہ خلاف کہ اصول میں ان کے مقلد اور فروع میں اعلان بے لگامی سے ان پر بھی زائد کہ وہ بظاہر ادعائے حنبلیت رکھتے تھے یہ اس نام کو بھی سیمائے شرك اوراپنے حق میں دشنام سخت جانتے ہیں کیونکہ خوارج میں داخل اور اپنے اگلوں سے بڑھکر گمراہ ومبطل نہ ہوں گے۔ ان صاحبوں سے پہلے بھی ایك فرقہ قیاس واجتہاد کامنکر تھا جنہیں ظاہریہ کہتے تھے جن کی نسبت شاہ عبدالعزیزصاحب دہلوی نے لکھا :
داؤد ظاہری ومتابعانش را از اہلسنت شمردن درچہ مرتبہ ازجہل وسفاہت است الخ۔
داؤد ظاہری اور اس کے متبعین کو اہل سنت سے شمار کرنا بڑی جہالت و بیوقوفی ہے الخ(ت)
مگر وہ بیچارے بااینہمہ تقلید کو شرك اور مقلدان ائمہ کو مشرك نہ جانتے تھے جب بتصریح شاہ صاحب انھیں سنی جاننا سخت جہالت و حماقت ہے تو استغفراﷲ یہ کہ ضلالت میں ان سے ہزار قدم آگے کیونکر ممکن کہ بدعتی گمراہ نہ ٹھہریں بالجملہ ان کا مبتدع ہونا اظہر من الشمس وابین من الامس ہے اور اہل بدعت کی نسبت تمام کتب فقہ ومتون وشروح وفتاوی میں صریح تصریحیں موجود کہ ان کے پیچھے نماز مکروہ اور تحقیق یہ ہے کہ یہ کراہت
حوالہ / References حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الذبائخ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۴ / ۱۵۳
#11987 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
تحریمی ہے یعنی حرام کی مقارب گناہ کی جالب اعادہ نماز کی موجب
کما اثبتنا علیہ عرش التحقیق بحول ربنا ولی التوفیق فی تحریرلنا مستقل انیق واجبنا فیہ عما یتراای من خلاف ھذا القول التحقیق بقبول اھل التدقیق ولنذکر طرفا من الکلام افادۃ لمزیدا لتوثیق۔
جیسا کہ اس پرہم نے اپنی مستقل تصنیف لطیف میں اپنے رب کے فضل وکرم سے خوب تحقیق کی ہے اور اس محقق قول کے خلاف شبہات کا جواب بڑی دقیق نظر سے دیا ہے مزید توثیق کے لئے کچھ گفتگو یہاں کردیتے ہیں ۔ (ت)
علماء فرماتے ہیں نماز اعظم شعائر دین ہے اور مبتدع کی توہین شرعا واجب اور امامت میں اس کی توقیر وتعظیم مقصود شرع سے بالکل مجانب ۔ طبرانی ۳۲معجم کبیر میں عبداﷲ بن بسر رضی اللہ تعالی عنہ سے موصولا اور بیہقی ۳۳شعب الایمان میں ابراہیم بن میسرہ مکی سے مرسلا راوی حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں ۔
من وقر صاحب بدعۃ فقد اعان علی ھدم الاسلام ۔
جو کسی بدعتی کی توقیر کرے اس نے دین اسلام کے ڈھانے پر مدد کی۔
اقول : وباﷲ التوفیق اولا ظاہر ہے کہ امام سردار ہوتا ہے اورمقتدی اس کے پیرو ۔ حضور ۳۴سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
انما جعل الامام لیؤتم بہ ۔ رواہ الائمۃ واحمد والبخاری ومسلم وغیرھم عن ام المؤمنین الصدیقۃ و۳۵عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہما۔
امام تو اسی لئے مقرر ہوا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے ۔ اس کو ائمہ کرام احمد بخاری مسلم وغیرہ نے ام المومنین عائشۃ صدیقہ اور انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔
اورحدیث میں ہے حضور ۳۶سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اذامدح الفاسق غضب الرب واھتز لذلك العرش ۔ رواہ الامام ابوبکر ابی الدنیا
جب فاسق کی مدح کی جاتی ہے رب تبارك وتعالی غضب فرماتا ہے اوراس کے سبب عرش الہی
فی ذم الغیبۃ عن انس خادم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و۳۷ابن عدی فی الکامل عن ابی ہریرہ رضی اﷲ تعالی عنھما۔
ہل جاتا ہے ۔ اسے امام ابو بکر بن ابی الدنیا نے کتاب ذم الغیبت میں حضرت انس خادم رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
حوالہ / References شعب الایمان باب۲۶ فصل فی مجانبۃالفسقۃ والمبتدعۃ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۷ / ۶۱
صحیح البخاری کتاب الاذان باب انماجعل الامام لیوتم بہ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۹۲ ، ۹۵
الکامل لابن عدی ترجمہ س ابن عبداﷲ الرقی مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ / ۱۳۰۷ اور ۵ / ۱۹۱۷ ، شعب الایمان مطبوعہ بیروت ۴ / ۲۳۰ ، تاریخ ابن عساکر مطبوعہ بیروت ۶ / ۴۰ ، تاریخ بغداد مطبوعہ بیروت ۷ / ۲۹۸ اور ۸ / ۴۲۸
#11988 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
سے اورابن عدی نے الکامل میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔
اور امام عبد العظیم منذری زکی الدین علیہ الرحمۃ الی یوم الدین نے کتاب الترغیب والترہیب میں ایك ترہیب اس بارے میں لکھی کہ فاسق یا بدعتی کو سردار وغیرہ کلمات تعظیم سے یاد نہ کیا جائے
حیث قال الترھیب من قولہ لفاسق او مبتدع یا سیدی اونحوھا من الکلمات الدالۃ علی التعظیم ۔
ان کے الفاظ یہ ہیں کہ فاسق یا بدعتی کو یا سید وغیرہ تعظیم کے الفاظ سے پکارنا منع ہے۔
پھر اس میں حدیث بریدہ رضی اللہ تعالی عنہ نقل کی کہ حضور۳۸ سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لاتقولو اللمنافق یاسید فانہ ان یکن سید اقد اسخطتم ربکم عزوجل ۔ رواہ ابوداؤد و النسائی باسناد صحیح ۔
منافق کو 'اے سردار' کہہ کر نہ پکارو کہ اگر وہ تمھارا سردار ہوا تو بیشك تم نے اپنے رب عزوجل کو ناراض کیا اسکو ابو داؤد اورنسائی نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
اور حاکم کے لفظ یہ ہیں :
اذاقال الرجل للمنافق یاسید فقد اغضب ربہ عزوجل ۔ قلت وھکذااخرجہ البیھقی فی شعب الایمان۔
جب کوئی شخص منافق کو سردار کہہ کر پکارے تو بیشك وہ اپنے رب عزوجل کو غضب میں لایا میں کہتا ہوں اور یونہی اس کو بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے۔
سبحن اﷲ! جب فاسق وبدعتی کی زبانی تعریف اورانھیں صرف محل خطاب میں بلفظ سردار
حوالہ / References الترغیب والترہیب الترہیب من قولہ لفاسق الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۳ / ۵۷۹
الترغیب والترہیب الترہیب من قولہ لفاسق الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۳ / ۵۷۹
الترغیب والترہیب الترہیب من قولہ لفاسق الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۳ / ۵۷۹
الترغیب والترہیب الترہیب من قولہ لفاسق الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۳ / ۵۷۹
#11989 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
ندا کرنا موجب غضب الہی ہوتا ہے تواسے بحالت اختیار حقیقۃ امام وسردار بنانا اور آپ اس کے تابع و پیرو بننا معاذ اﷲ کیونکر موجب غضب نہ ہوگا اور بے شك جوبات باعث غضب رحمن عزوجل ہو اس کا ادنی درجہ کراہت تحریم ہے۔
ثانیا ابونعیم ۳۹حلیہ میں انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی حضورسید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اھل البدعۃ شرالخلق والخلیقۃ ۔
بدعتی لوگ تمام جہان سے بدتر ہیں ۔
۴۰بیہقی کی حدیث میں ہےحضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لایقبل اﷲ لصاحب بدعۃ صلوۃ ولا صوما ولا صدقۃ ولا حجا ولا عمرۃ ولاجہاد اولاصرفا ولا عدلا یخرج من الاسلام کما تخرج الشعرۃ من العجین ۔
اﷲ کسی بدمذہب کی نماز قبول کرے نہ روزہ نہ زکوۃ نہ حج نہ جہاد نہ فرض نہ نفل بدمذہب اسلام سے یوں نکل جاتا ہے جیسے آٹے سے بال۔
۴۱امام دارقطنی وابوحاتم محمد بن عبدالواحد خزاعی اپنے جزء حدیثی میں ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اصحاب البدع کلاب اھل النار ۔
اہل بدعت دوزخیوں کے کتے ہیں ۔
اور ان کے سوا بہت حدیثیں بدمذہبوں کی مذمت شدیدہ میں وارد ہوئیں اور پر ظاہر کہ نماز مقام مناجات وراز اور تمام اعمال صالحہ میں معزز و ممتاز ہے کیا نظافت ایمانی گواراکرسکتی ہے کہ ایسی جگہ ایسے اشرار کو بلاعذر اپنا پیشوا وسردار کیاجائےجن کے حق میں سگان جہنم وارد ہوا عقل سلیم تو یہی کہتی ہے کہ اگر اہل بدعت وا ہوأ زمانہ حضور اقدس سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں ظاہر ہوتے ان کے پیچھے
حوالہ / References حلیۃ الاولیاء ، مروی ازابوسعید موصلی ، مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ۸ / ۲۸۹
کنز العمال فصل فی البدع مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ / ۲۳۰ ، الترغیب والترہیب الترہیب من ترك السنۃ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۸۶ ، سنن ابن ماجہ باب البدع والجدل مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ص۶
کنز العمال فصل فی البدع مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ / ۲۱۸ ، الجامع الصغیر مع فیض القدیر حدیث ۱۰۷۹ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۵۲۸
#11990 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
نماز سے ممانعت آتی نہ یہ کہ صرف خلاف اولی ہے پڑھ لو تو کچھ مضائقہ نہیں ۔
ثالثا بدعتی مبغوض خدا ہے اورمبغوض خدا سے نفرت ودوری واجب ولہذا قرآن مجید میں ارشاد فرمایا :
و اما ینسینك الشیطن فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظلمین(۶۸)
اور اگر شیطان تجھے بھلا دے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔
اور اسی لئے احادیث میں فرق باطلہ سے قرب واختلاط کا منع آیا احمدو ۴۲ابوداؤد وحاکم حضرت امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لاتجالسوااھل القدر ولا تفاتحوھم ۔
قدریوں کے پاس نہ بیٹھو نہ ان سے سلام کلام کی ابتدا کرو ۔
عقیلی و۴۳ابن حبان انس رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی حضور سرورعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ان اﷲ اختارنی واختارلی اصحابا واصھارا وسیاتی قوم یسبونھم وینتقصونہم فلا تجالسوھم ولاتشاربوھم ولاتؤاکلوھم ولاتناکحوھم ۔
بیشك اﷲ تعالی نے مجھے پسند فرمایا اور میرے لئے اصحاب واصہار چن لئے اور قریب ایك قوم آئے گی کہ انہیں براکہے گی اور ان کی شان گھٹائے گی تم ان کے پاس نہ بیٹھنا نہ ان کے ساتھ پانی پینا نہ کھانا کھانا نہ شادی بیاہ کرنا۔
جن ے پاس بیٹھنا خداورسول کو ناپسند ہو جل جلالہ و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم انھیں امام بنانا شرع کیونکر گوارا فرمائےگی
والمکروہ تنزیھا سائغ مشروع یجامع الاباحۃ کمانص علیہ العلماء الکرام وذکرنا تحقیقہ فی رسالتنا “ جمل مجلیۃ ان المکروہ تنزیھا لیس بمعصیۃ “ ۔
مکروہ تنزیہی مشروع اور اباحت کو جامع ہے جیسا کہ علمائے کرام نے اس پرتصریح کی ہے۔ اس کی تحقیق ہم نے اپنے رسالہ ــ “ جمل مجلیۃ ان المکروہ تنزیہا لیس بمعصیۃ “ میں کی ہے(ت)
بلکہ اس حدیث میں روایت ابن حبان ان لفظوں سے ہے :
حوالہ / References القرآن ۶ / ۶۸
سنن ابو داؤد باب ذراری المشرکین مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۲۹۳ ، مسند احمد بن حنبل ازمسند عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۳۰ ، المستدرك علی الصحیحین آخر کتاب الایمان مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۸۵
کتاب الضعفاء الکبیر (۱۲۳) احمد بن عمران الاخنسی مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ / ۱۲۶
#11991 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
فلا تواکلو ھم ولاتشاربو ھم ولاتصلواعلیہم ولاتصلوامعھم ۔
یعنی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا نہ ان کے کھانا کھاؤ نہ پانی پیو نہ ان کے جنازے کی نماز پڑھو نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو۔
رابعا ابن ماجہ۴۴ حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لایؤم فاجر مؤمنا الاان یقھرہ بسلطان یخاف سیفہ اوسوطہ ۔
ہر گز کوئی فاسق کسی مسلمان کی امامت نہ کرے مگر یہ کہ وہ اس کوبزور سلطنت مجبور کردے کہ اس کی تلوار یا کوڑے کا ڈر ہو۔
بلکہ ابن شاہین نے کتاب الافراد میں حضرت۴۵ عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
تقربواالی اﷲ ببغض اھل المعاصی ولقوھم بوجوہ مکفھرۃ والتمسوا رضا اﷲ بسخطھم وتقربواالی اﷲ بالتباعد منھم ۔
اﷲ کی طرف تقرب کرو فاسقوں کے بغض سے اور ان سے ترش رو ہوکر ملو اور اﷲ کی رضامندی ان کی خفگی میں ڈھونڈو اور اﷲ کی نزدیکی ا ن کی دوری سے چاہو۔
جب فساق کی نسبت یہ احکام ہیں تو مبتدعین کا کیا پوچھنا ہے کہ یہ تو فساق سے ہزاردرجہ بدتر ہیں ان کی نافرمانی فروع میں ہے انکی اصول میں وہ گناہ کرتے اور اسے برا جانتے ہیں یہ اس اشدواعظم میں مبتلا ہیں اوراسے عین حق وہدی جانتے ہیں وہ گاہ گاہ نادم ومستغفر یہ گاہ وبےگاہ مصر ومستکبر وہ جب اپنے دل کی طرف رجوع لاتے ہیں اپنے آپ کو حقیر وبدکار اورصلحا کو عزیز ومقرب دربار بتاتے ہیں یہ جتنا غلو وتوغل بڑھاتے ہیں اتنا ہی اپنے نفس مغرور کو اعلی وبالا اور اہل حق و ہدایت کو ذلیل وپرخطا ٹھہراتے ہیں ولہذا حدیث میں ان کی نسبت بدترین
حوالہ / References کنز العمال الباب الثالث فی ذکر الصحابۃ الخ حدیث ۳۲۶۲۹ مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۱ / ۵۴۰
ف : صاحب کنز العمال نے “ ابن النجار عن انس “ کا حوالہ دیا ہے۔
سنن ابن ماجہ باب فرض الجمعۃ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ص ۷۷
الفردوس بماثور الخطاب حدیث ۱۳۲۰ باب التاء مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ / ۵۶ ، کنز العمال حدیث ۵۵۱۸ و ۵۵۸۵ بحوالہ ابن شاہین مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۳ / ۶۷-۸۱
#11992 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
خلق وارد ہواکمار وینا(جیسا کہ اس سے متعلق روایت میں ذکر کر آئے ہیں ۔ ت) اور غنیہ شرح منیہ میں ہے :
المبتدع نفاسق من حیث الاعتقاد وھواشد من الفسق من حیث العمل لان الفاسق من حیث العمل یعترف بانہ فاسق ویخاف ویستغفر بخلاف المبتدع ۔
بدعتی اعتقاد کے لحاظ سے فاسق ہوتا ہے جو عمل کے اعتبار سے فسق سے کہیں بد تر ہے کیونکہ فاسق اپنے فاسق ہونے کا معترف ہوتا ہے اوراﷲ تعالی سے ڈرتا اور معافی مانگتا ہے بخلاف بدعتی کے(ت)
بالجملہ بد مذہبی فی نفسہ ایسی ہی چیز ہے جسے امامت دینی سے مباینت یقینی ہے اور اسکے بعد منع پر دوسری دلیل کی چنداں حاجت نہیں کس کا دل گوارا کرے گا کہ جہنم کے کتوں سے ایك کتا مناجات الہی میں اس کا مقتداء ہو۔ علامہ یوسف چلپی ذخیرہ العقبی فی شرح صدر الشریعۃ العظمی میں فرماتے ہیں :
بدعۃ المبتدع یفضی الی عدم الاقتداء بہ سیمافی اھم امور الدین ۔
بدعتی کی بدعت اسکی عدم اقتدا کاتقاضا کرتی ہے خصوصا اہم امور دین میں (یعنی نماز میں )۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
المبتدع تکرہ امامتہ بکل حال ۔
بدعتی کی امامت ہر حال میں مکروہ ہے(ت)
علامہ ابراہیم حلبی نے تصریح فرمائی کہ فاسق ومبتدع دونوں کی امامت مکروہ تحریمی ہے اور امام مالك کے مذہب اور امام احمد کی ایك روایت میں ان کے پیچھے نماز اصلا ہوتی ہی نہیں جیسے کسی کافر کے پیچھے ۔ شرح صغیر منیہ میں فرمایا :
یکرہ تقدیم الفاسق کراھۃ تحریم وعند مالك لا یجوز تقدیمہ وھو روایۃ عن احمد وکذا المبتدع ۔
فاسق کی تقدیم (امامت) مکروہ تحریمی ہے اور امام مالك کے نزدیك اس کی تقدیم (امامت) جائز نہیں اورامام احمد سے بھی ایك روایت یہی ہے اور یہی حال بدعتی کا ہے۔ (ت)
علامہ طحطاوی حاشیہ درمختار میں فاسق وبدمذہب کے پیچھے نماز کے باب میں فرماتے ہیں : الکراھۃ
حوالہ / References غنیۃالمستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامامۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۴
ذخیرہ العقبٰی ، فصل فی الجماعۃ مطبوعہ مطبع اسلامیہ لاہور ۱ / ۲۹۸
ردالمحتارباب الامامۃ مطبوعہ مصطفٰی البابی مصر ۱ / ۴۱۴
صغیری شرح منیۃ المصلی مباحث الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص ۲۶۴
#11993 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
فیہ تحریمیۃ علی ما سبق
(اس میں کراہت تحریمی ہے جیسا کہ پہلے گزرا ۔ ت)
بحرالعلوم عبدالعلی لکھنوی نے ارکان اربعہ میں دربارہ تفضیلیہ فرمایا :
اماالشیعۃ الذین یفضلون علیا علی الشیخین ولا یطعنون فیھما اصلا کالزیدیۃ فیجوز خلفھم الصلاۃ لکن تکرہ کراھۃ شدیدۃ ۔
ایسے شیعہ لوگ جو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو شیخین پر فضیلت دیتے ہوں اور ان دونوں پر طعن بھی نہ کرتے ہوں مثلا فرقہ زیدیہ تو ان کے پیچھے نماز جائز ہے لیکن شدید کراہت ہے(ت)
جب تفضیلیہ کہ صرف جناب مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ کو حضرات شیخین پر افضل کہنے سے مخالف اہلسنت ہوئے باقی ان کی سرکار میں معاذاﷲ گستاخی نہیں کرتے ان کے پیچھے نماز سخت مکروہ ہوگی یہ تواشد مبتدعین جن کی اہلسنت سے مخالفتیں غیر محصور اورمحبوبان خدا پر طعن و تشنیع ان کا دائمی دستور ان کے پیچھے کس عظیم درجہ کی کراہت چاہئے ہمارے امام رضی اللہ تعالی عنہ نے دو۲ شخصوں کے پیچھے نماز پڑھنے سے منع فرمایا اوراس کی وجہ یہی فرمائی کہ یہ بدعتی ہیں :
فی شرح الفقہ الاکبر عن مفتاح السعادۃ عن تلخیص الزاھدی عن الامام ابی یوسف عن الامام ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنھما انہ قال فی رجلین یتنازعان فی خلق القران لاتصلوا خلفھما قال ابویوسف فقلت اما الاول فنعم فانہ لایقول بقدم القران واما الاخر فما بالہ لایصلی خلفہ فقال انھما ینازعان فی الدین والمنازعۃ فی الدین بدعۃ قال القاری ولعل وجہ ذم الاخر حیث اطلق فانہ محدث انزالہ اھ اقول لعل الامام اطلع منہ
شرح فقہ اکبر میں مفتاح السعادۃ سے تلخیص زاہدی کے حوالے سے امام ابویوسف سے منقول ہے کہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ان دو۲ اشخاص (جوخلق قرآن کے بارے میں تنازع کرتے تھے) کے بارے میں فرمایا ان کی اقتداء میں نماز ادا نہ کرو۔ ابو یوسف فرماتے ہیں میں نے عرض کیا ایك کے بارے میں تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ قرآن کو قدیم نہیں مانتا لیکن دوسرے میں کیا وجہ ہے کہ اس کی اقتدا میں نماز نہ ہوگی تو امام صاحب نے فرمایا وہ دونوں دین میں تنازعہ کررہے ہیں حالانکہ دین میں تنازعہ بدعت ہے۔ علی قاری نے فرمایا دوسرے کی مذمت میں شاید یہ
حوالہ / References حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار باب الامامۃ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۲۴۴
رسائل الارکان فصل فی الجماعۃ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۹۹
شرح الفقہ الاکبر لملّا علی قاری فصل علم التوحید علی سائر العلوم مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۵
#11994 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
علی انہ یرید المراء لیخجل صاحبہ لااظہار الحق واﷲ تعالی اعلم۔ حکمت ہوکہ اس نے مطلقا اسے قدیم کہاحالانکہ اس کا انزال حادث ہے اھ اقول (میں کہتا ہوں ) شاید امام صاحب رحمۃ اللہ تعالی علیہ اس کے ارادے سے آگاہ ہوں کہ اس کا مقصد اظہار نہیں بلکہ ریاکاری کے طور پر دوسرے ساتھی کو شرمندہ کرنا ہو واﷲ تعالی اعلم(ت)
بلکہ محرر المذہب امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ نےحضرت امام اعظم وامام ابو یوسف رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی کہ بد مذہب کے پیچھے نماز اصلا جائز نہیں ۔ محقق علامہ کمال الدین بن الہمام فتح میں فرماتے ہیں :
روی محمد عن ابی حنیفۃ وابی یوسف ان الصلاۃ خلف اھل الاھواء لاتجوز ۔
امام احمدنے امام ابو حنیفہ اور امام ابویوسف دونوں سے روایت کیا کہ بدمذہب کے پیچھے نماز جائز نہیں (ت)
اسی میں روایت امام ابو یوسف لایجوز الاقتداء بالمتکلم وان تکلم بحق (کلامی کے پیچھے نماز جائز نہیں اگر چہ وہ حق کے ساتھ متکلم ہو۔ ت)کی شرح میں امام ابو جعفر ہندوانی سے نقل کیا :
یجوزا ن یکون مراد ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالی من یناظر فی دقائق علم الکلام انتھی ۔
اس سے امام ابو یوسف کی مراد وہ شخص ہے جو علم کلا م کے دقائق میں مناظرہ کرے انتہی۔
اقول : المناظرۃ فی دقائقہ لایزید علی بدعۃ اوفسق وعلی کل یفید عدم الجواز خلف المبتدع کمالیس بخاف۔
اقول : (میں کہتا ہوں ) علم کلام کے دقائق مناظرہ زیادہ سے زیادہ بدعت یا فسق کا سبب ہے اور ہر صورت میں یہ واضح کررہا ہے کہ بدعتی کے پیچھے نماز جائز نہیں جیسا کہ مخفی نہیں (ت)
غیاث المفتی پھر مفتاح السعادۃ پھر شرح فقہ اکبر میں امام ثانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہ سے ہے : لاتجوز خلف المبتدع (بدعتی کے پیچھے نماز جائز نہیں ۔ ت)اقول : وباﷲ التوفیق جواز کبھی بمعنی صحت مستعمل ہوتا ہے تقول البیع عند اذان الجمعۃ یجوز ویکرہ ای یصح ویمنع (جیسے تو کہے جمعہ کی اذان کے وقت خرید وفروخت جائز اور مکروہ ہے یعنی صحیح مگر منع ہے۔ ت) اور گاہے بمعنی حلت لا تجوز الصلاۃ
حوالہ / References فتح القدیر باب الامامۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۰۴
فتح القدیر باب الامامۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۰۴
فتح القدیر باب الامامۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۰۴
شرح الفقہ الاکبر لملّا علی قاری فصل علم التوحید علٰی سائر العلوم مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص ۵
#11995 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
فی الارض المغصوبۃ ای لاتحل وان صحت( جیسے کہ ارض مغصوبہ میں نماز جائز نہیں یعنی حلال نہیں اگر چہ صحیح ہے۔ ت) اگر یہاں معنی اخیر مراد لیں لاسیما جبکہ افعال میں اکثر وہی ہے کما ان الاکثر فی العقود الاول کما صرح بہ فی ردالمحتار وغیرہ ( جیسا کہ عقود میں اول معنی اکثر ہے ردالمحتار وغیرہ میں اس پر تصر یح ہے ۔ ت) تو یہ روایات بھی سابق کے منافی نہ ہوں گی کہ مکروہ تحریمی بھی بایں معنی ناجائز ہے
ومعلوم ان ابداء الوفاق اولی ابقاء الخلاف ولذا صرحوا بانہ یوفق بین الروایات مھما امکن کما فی الشامیۃ۔ واﷲ تعالی اعلم
یہ بات مسلمہ ہے کہ اتفاق کااظہار اختلاف کو باقی رکھنے سے اولی ہے اسی لئے علماء نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ جہاں تك ممکن ہو روایات کے درمیان موافقت پیدا کی جائے جیسا کہ فتاوی شامی میں ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
دلیل دوم
غیر مقلد بد مذہبی کے علاوہ فاسق معلن بیباك مجاہر بھی ہیں اور فاسق متہتك کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کما اثبتناہ فی تحریرنا ذلك اقول و بہ یحصل التوفیق واﷲ تعالی ولی التوفیق ( جیسا کہ ہم نے اپنی تحریر میں اسے ثابت کیا ہے اقول : (میں کہتا ہوں ) اﷲ تعالی سے توفیق حاصل ہوجاتی ہے اور اﷲ تعالی ہی توفیق کا مالك ہے ۔ ت) دلیل اول میں اس مسئلے پر بعض کلام اور صغیری وطحطاوی کا نص گزرا اور اس طرف امام علامہ زیلعی نے تبیین الحقائق شرح کنزالدقائق اور علامہ حسن شرنبلالی نے شرح نور الایضاح اور علامہ سید احمد مصری نے حاشیہ مراقی الفلاح میں ارشاد فرمایا اور یہی فتاوی حجہ کا مفاد اور تعلیل مشائخ کرام سے مستفاد یہاں تك کہ علمانے تصریح فرمائی اگر غلام یا گنوار یا حرامی یا اندھا علم میں افضل ہوں تو انھیں کو امام کیا چاہئے مگر فاسق اگر چہ سب سے زیادہ علم والاہو امام نہ کیا جائے کہ امامت میں اس کی عظمت اور وہ شرعا مستحق اہانت ملخص امداد الفتاح میں ہے :
کرہ امامۃ الفاسق العالم لعدم اھتمامہ بالدین فتجب اھانتہ شرعا فلا یعظم بتقدیمہ للامامۃ واذاتعذر منعہ ینتقل عنہ الی غیر مسجدہ للجمعۃ وغیرھا ۔
فاسق عالم کی امامت مکروہ ہے کیونکہ وہ دین کا احترام نہیں کرتا تو شرعا اس کی اہانت لازم ہے لہذا امامت کا منصب دے کر اس کی تعظیم نہ کی جائے اور اگر اس کو روکنا دشوار ہو تو جمعہ اور دیگر نمازوں کے لئے کسی دوسری مسجد چلاجانا چاہئے (ت)
حوالہ / References مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی فصل فی بیان الاحق بالا مامۃ مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۱۶۵
#11996 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
سیدی احمد مصری اس کے حاشیہ میں فرماتے ہیں :
قولہ فتجب اھانتہ شرعا فلا یعظم بتقدیمہ للامامۃ تبع فیہ الزیلعی ومفادہ کون الکراھۃ فی الفساق تحریمیۃ ۔
اس کا قول “ پس اس کی اہانت واجب ہے تو امامت کا منصب دے کر اس کی تعظیم نہ کی جائے “ زیلعی نے اسی کی اتباع کی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ فاسق کی تقدیم (امامت) مکروہ تحریمی ہے (ت)
اور حاشیہ شرح علائی میں فرماتے ہیں :
اما الفاسق الا علم فلا یقدم لان فی تقدیمہ تعظیمہ وقدوجب علیہم اھانتہ شرعا ومفاد ھذا کراھۃ التحریم فی تقدیمہ اھ ابو السعود انتھی
فاسق بڑے عالم کو مقدم نہ کیا جائے کیونکہ اس کی تقدیم میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شرعا لوگوں پر اس کی اہانت لازم ہے اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ تعظیم فاسق مکروہ تحریمی ہے اھ ابو السعود انتہی (ت)
علامہ محقق حلبی غنیہ میں فرماتے ہیں :
العالم اولی بالتقدیم اذکان یجتنب الفواحش وان کان غیرہ اورع منہ ذکرہ فی المحیط ولواستویا فی العلم والصلاح واحدھما اقرأ فقدموا الآخر اساءوا ولایأثمون فالا ساءۃ لترك السنۃ وعدم الاثم لعدم ترك الواجب لا نھم قدموارجلا صالحا کذافی فتاوی الحجہ وفیہ اشارۃ الی انھم لوقدموا فاسقا یأثمون بناء علی ان کراھۃ تقدیمہ کراھۃ تحریم لعدم اعتنائۃ
عالم تقدیم ( امامت ) کے لئے بہتر اس وقت ہے جو وہ فاحش گناہوں سے بچنے والا ہو اگر چہ وہاں اس سے زیادہ کوئی صاحب تقوی موجود ہو اس کا ذکر محیط میں ہے اور اگر دونوں علم وصلاح میں برابر ہوں مگر ایك اچھا قاری ہے اس صورت میں اگرلوگوں نے دوسرے کو مقدم کردیا تو برا کیا مگر گناہ گار نہ ہوں گے کہ ا ساءت ترك سنت کی وجہ سے اور عدم گناہ واجب کو ترك نہ کرنے کی وجہ سے ہے کیونکہ انھوں نے صالح شخص کو ہی امام بنایا ہے فتاوی حجہ میں اسی طرح ہے اور اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اگر انھوں نے کسی فاسق کو مقدم کردیا تو گنہگار ہونگے
حوالہ / References حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح فصل فی بیان الاحق بالامامۃ ، مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ، ص ۱۶۵
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب الامامۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۲۴۳
#11997 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
بامور دینہ وتساھلہ فی الاتیان بلوازمہ فلایبعدمنہ الاخلال ببعض شروط الصلاۃ وفعل ماینا فیھا بل ھوالغالب بالنظر الی فسقہ ولذالم تجزالصلاۃ خلفہ اصلاعند مالك و روایۃ عن احمد الخ
اس بنا پر کہ اس کی تقدیم (امامت) مکروہ تحریمی ہے کیونکہ وہ امور دینی کی پروا نہیں کرتا اور لوازمات دین کو بجالانے میں کاہلی کرتا ہے لہذا یہ بھی بعید نہیں کہ وہ نماز کی کوئی شرط ہی چھوڑدے یا ایسا فعل کرے جو نماز کے منافی ہو بلکہ اس کے فسق کے پیش نظر ایسا کرنا اغلب ہے اسی وجہ سے امام مالك کے نزدیك اس کے پیچھے نماز جائز ہی نہیں امام احمد بن حنبل سے بھی ایك روایت یہی ہے (ت)
رہا یہ کہ غیر مقلد فساق مجاہر کیونکہ ہیں یہ خود واضح وہین کون نہیں جانتا کہ ان کے اصاغرعموما دواما ائمہ شریعت وعلمائے ملت واولیائے امت رحمہم اللہ تعالی کی طعن وتوہین میں گزار تے ہیں اور عام مسلمین کی سب وشتم تو ان کا وظیفہ ہر ساعت ہے جس نے جانا اس نے جانا اور جس نے نہ جانا وہ اب ان کے رسائل دیکھے باتیں سنے خصوصا اس وقت کے لچھے خدانہ سنوائے ۔ جب کہ باہم تنہا ہوتے ہیں اور اذاخلوا کا وقت پاکر آپس میں کھلتے ہیں یا بعض اہل حق نے جو اپنی تصانیف میں ان کے کلمات ان کی توالیف سے نقل کئے وہی دیکھے فقیر غفر اﷲ تعالی لہ ان ہفوات مغضوبہ کا زبان وقلم پرلانا پسند نہیں کرتا اور نہ نقل کرلاتا ہے تو ان میں فسق اول سب دشنام اہل اسلام ہے حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم حدیث مشہور میں فرماتے ہیں :
سباب المسلم فسوق ۔ ۴۶اخرجہ احمد و البخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن ماجۃ والحاکم عن ابن مسعود و۴۷الطبرانی فی الکبیر عنہ وعن عبداﷲ بن مغفل و ۴۸عن عمر و
مسلمان کو سب وشتم کرنا فسق ہے ۔ اسے امام احمد بخاری مسلم ترمذی نسائی ابن ماجہ اور حاکم نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے طبرانی نے کبیر میں ان سے اور حضرت عبداﷲ بن مغفل رضی اللہ تعالی عنہ سے اور حضرت عمرو
حوالہ / References غیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامامۃ الخ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۵۱۳
صحیح البخاری کتاب الادب باب ما ینھی عن السباب واللعن مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۷۹۳ ، صحیح مسلم ، باب بیان قول النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سباب المسلم فسوق الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ، ۱ / ۵۷ ، مسند احمد بن حنبل از مسند عبداﷲ ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۳۸۵ ، ۴۱۱ ، ۴۳۳ ، المعجم الکبیر مروی از عمروبن نعمان بن مقرن مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۱۷ / ۳۹
#11998 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
بن النعمان بن مقرن و ۴۹ابن ماجۃ وعن ابی ھریرۃ وعن ۵۰سعد بن ابی وقاص و۵۱الدارقطنی فی الافراد عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین ۔
بن نعمان بن مقرن سے ابن ماجہ نے حضرت ا بوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت سعد بن ا بی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ سے دار قطنی نے افراد میں حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین سے روایت کیا ہے (ت)
فسق دوم : طعن علما ء طبرانی کبیر میں بسند حسن ۵۲ابوامامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی حضورسید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لا یستخف بحقھم الامنافق ذوالشیبۃ فی الاسلام ذوالعلم وامام مقسط ۔
تین شخص ہیں جن کی تحقیر نہ کرے گا مگر منافق ۱ ایك وہ جسے اسلام میں بڑھاپا آیا ۲ دوسرا ذی علم ۳تیسرا امام عادل ۔
۵۳احمد بسند حسن واللفظ لہ ااور طبرانی و حاکم عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لیس من امتی من لم یبجل کبیرنا ویرحم صغیرنا ویعرف لعالمنا ۔
میری امت سے نہیں جو مسلمانوں کے بڑے کی تعظیم اور ان کے چھوٹے پر رحم نہ کرے اور عالم کا حق نہ پہچانے۔
۵۴مسند الفردوس میں حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
العالم سلطان اﷲ فی الارض فمن وقع فیہ فقد ھلك ۔ والعیاذباﷲ تعالی۔
عالم اﷲ کی سلطنت ہے اس کی زمین میں تو جو اس کی شان میں گستاخی کرے ہلاك ہوجائے۔
فسق سوم : عداوت عامہ اہل عرب وحجاز انھیں جو تعصب ان کے ساتھ ہے یہی خوب جانتے ہیں
قد بدت البغضآء من افواههم ﭕ و ما تخفی صدورهم اكبر-
بیر ان کی باتوں سے جھلك اٹھا وہ (غیظ وعناد) جو سینوں میں چھپائے ہیں وہ بڑا ہے۔ (ت)
اور اس کی مخالفت مذہبی کے علاوہ باربار بتکرارعلمائے عرب کے فتاوے ان کی تضلیل و تذلیل میں آنا اور بکرات ومرات کے ہم مذہبوں کا ذلتیں اور سزائیں پانا جس کی حکایت خواص وعوام میں مشہور و
حوالہ / References المعجم الکبیر مروی ابوامامہ باہلی مطبوعہ المکتبہ الفیصلیہ بیروت ۸ / ۲۳۸
مسند احمد بن حنبل حدیث عبادہ بن الصامت مطبوعہ دارالفکر بیروت ۵ / ۳۲۳
کنز العمال بحوالہ مسند الفردوس عن ابی ذر حدیث ۲۸۶۷۳ کتاب العلم مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۰ / ۱۳۴
#11999 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
مذکور کچھ مدت ہوئی کہ ان کے پانچ مکلب مجاہر بنام مہاجر وہاں رہے اور اپنے دام بچھانے چاہے حال کھلتے ہی تعزیر پاکر نکالے گئے جس پر ان کے ہمدردوں نے کہا کہ اہل حرمین نے مہاجر کو نکال کر معاذاﷲ سوادالوجہ فی الدارین (دونوں جہانوں میں کالا چہرہ ۔ ت) حاصل کیا حالانکہ علاوہ اور باتوں کے ان سفیہان گستاخ نے یہ بھی نہ جانا کہ دارالاسلام سے دارالاسلام کو جانا مہاجرت نہیں یہ صورت مجاورت ہے اور مجاورت خود مکروہ تحریمی مگر افراد اولیاء اﷲ کے لئے کما حققناہ بتوفیق اﷲ تعالی فی العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ ( اﷲ کی توفیق سے ہم نے اس کی تحقیق اپنے فتاوی “ العطا یا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ “ میں کی ہے ۔ ت) تووہ جہاں مدعیان فضل وکمال اس فعل میں بھی اثم تھے خصوصا جبکہ وہاں جاکر اشاعت بدعات چاہی اﷲ تعالی فرماتا ہے :
و من یرد فیه بالحادۭ بظلم نذقه من عذاب الیم(۲۵)
جو مکہ معظمہ میں براہ ظلم کسی بے اعتدالی کا ارادہ کرے گا اسے دردناك عذاب چکھائیں گے۔
اور یہ تو ابھی کی بات ہے کہ ان کے امام العصر جنھیں یہ حضرات شیخ الکل فی الکل کہا کرتے ہیں بخوف مسلمانان عرب کمشنران دہلی وبمبئ کی چٹھیاں لے کر حج کو گئے وہاں جو گزری انھیں سے پوچھ دیکھیے اگر ایمان سے کہیں ورنہ صدہا حاضرین و ناظرین موجود ہیں اور خود مکہ معظمہ کے چھپے ہوئے اشتہار شہروں شہروں شہرت پا چکے غرض کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ان کو تمام عمائد وعلمائے عرب وحجاز سے سخت بغض وعداوت ہے اور طبرانی معجم کبیر میں بہ سند حسن صحیح حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : بغض العرب نفاق ۔
( جو اہل عرب سے عداوت رکھے منافق ہے )
فسق چہارم : پھر یہ عداوت منجربہ سب ودشنام ہوتی ہے جس کی ایك نظیر ہم اوپر لکھ چکے اور ۵۶بیہقی شعب الایمان میں حضرت امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من سب العرب فاولئك ھم المشرکون ۔
جو اہل عرب کو سب وشتم کریں وہ خاص مشرك ہیں ۔
فسق پنجم : مدینہ طیبہ کو جزیرہ عرب پر جس قدر فضیلت ہے اسی قدر ان کی عداوت وبدخواہی کو اہل مدینہ
حوالہ / References القرآن ۲۲ / ۲۵
المعجم الکبیر حدیث ۱۱۳۱۲ مروی از عبداﷲ ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۱۱ / ۱۴۶
شعب الایمان فصل فی الصلوٰۃ علی النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳ / ۲۳۱
#12000 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
کے ساتھ زیادت ہے اور حضور ۵۷سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لایکید اھل المدینۃ احد الاانماع کما ینماع الملح فی الماء ۔ اخرجہ الشیخان عن سعد بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ۔
کوئی شخص اہل مدینہ کے ساتھ بداندیشہ نہ کرےگا مگر یہ کہ ایسا گل جائے گا جیسے نمك پانی میں اسے بخاری ومسلم نے حضرت سعد بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
من اراد اھل المدینۃ بسوء اذابہ اﷲ کما یذوب الملح فی الماء ۔ اخرجہ احمد ومسلم وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
جواہل مدینہ کے ساتھ کسی طرح کا برا ارادہ کرے اﷲ تعالی اسے ایسا گلادے جیسے نمك پانی میں گل جاتاہے ۔ اسے امام احمد مسلم اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔
۵۹دوسری حدیث میں ہے حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من اذی اھل المدینہ اذاہ اﷲ وعلیہ لعنۃ اﷲ والملئکۃ والناس اجمعین لایقبل منہ صرف ولا عدل ۔ اخرجہ الطبرانی فی الکبیر عن عبداﷲ بن عمر وبن العاص رضی اﷲ تعالی عنہما۔
جو مدینہ والوں کو ایذا دے اﷲ اسے مصیبت میں ڈالے اور اس پر خدا اور فرشتوں اور آدمیوں کی لعنت ہے اﷲ تعالی نہ اسکا نفل قبول کرے نہ فرض۔ اسے طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت عبداﷲ بن عمر وبن عاص رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔
اگر یہ حضرات ان امور سے انکار کریں توکیا مضائقہ ان سے کہیے تعالوا الى كلمة سوآءۭ بیننا و بینكم ۔ (ایسے کلمہ کی طرف آؤ جو ہم میں اور تم میں یکساں ہے ۔ ت) ہم اور تم سب مل کر مہر کردیں کہ مسائل مذہبی میں جو مسلك علمائے
حوالہ / References صحیح البخاری فضائل المدینہ باب اثم من کاداہل المدینہ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۵۲
صحیح مسلم کتاب الحج باب تحریم ارادۃ اہل المدینہ بسوء مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۴۴۵ ، مسند احمد بن حنبل از مسند ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۲ / ۳۵۷
کنزالعمال بحوالہ طبرانی عن ابن عمر فضائل المدینہ وماحولہا الخ حدیث ۳۴۸۳۶ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ، ۱۲ / ۲۳۷ ، مجمع الزاوائد باب فیمن اخاف اہل المدینۃ وارادہم بسوء مطبوعہ دارالکتاب بیروت ۳ / ۳۰۷ ، الترغیب والترہیب الترہیب من اخافۃ اہل المدینہ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۲ / ۲۴۱
القرآن ۳ / ۶۴
#12001 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
حرمین طیبین زادہما اﷲ شرفا وتعظیما کا ہے فریقین کو مقبول ہوگا اگر بے تکلف اس پر راضی ہوجائیں فبہا ورنہ جان لیجئے کہ یہ قطعا اہل حرمین کے مخالف مذہب اور سنیان ہندو وغیرہ کے مثل ان پاك مبارك شہروں کے علماء کو بھی معاذاﷲ مشرك وگمراہ وبددین جانتے ہیں پھر عداوت و بدخواہی نہ ہونا کیا معنے اور خود ان سے پوچھنے کی حاجت کیا ہے علمائے حرمین حفظہم اﷲ تعالی کے فتاوے ان صاحبوں کے رد میں بکثرت موجود انھیں سے حال کھل جائے گا کہ مخالفان مذہب میں جیسا ایك دوسرے کو کہتا ہے دوسرا بھی اس کی نسبت وہی گمان رکھتا ہے عداوت ہو خواہ محبت دونوں ہی طرف سے ہوتی ہے جب وہ اکابران کے عمائد کو لکھ چکے کہ :
اولىك حزب الشیطن-الا ان حزب الشیطن هم الخسرون(۱۹)
وہ شیطان کے گروہ ہیں بیشك شیطان ہی کا گروہ گھاٹے میں ہے۔ (ت)
تو کیو نکر معقول کہ یہ ان کے دشمن نہ ہوں آخر نہ دیکھا کہ ان کے امام العصر نے امن وامان والی حرمین کو اپنے لئے محل خوف وخطر سمجھا اور کمشنر دہلی و بمبئی کی چٹھیوں کو سپر ولا حول ولا قوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
فسق ششم : عداوت اولیائے کرام قدست اسرارہم جس کی تفصیل کو دفتر درکار جس نے ان کے اصول و فروع پر نظر کی ہے وہ خوب جانتا ہے کہ ان کی بنائے مذہب محبوبان خدا کے نہ ماننے اور ان کی محبت وتعظیم کو جہاں تك بن پڑے گھٹانے مٹانے پر ہے یہاں تك کہ ان کے بانی مذہب نے تصریح کردی کہ اﷲ کو مانے اور اس کے سوا کسی کو نہ مانے انتہی ۔ اور چوڑھے چمار اور ناکارے لوگ تو نوك زبان پر ہے خودحضور سید المحبوبین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نسبت صاف کہہ دیا کہ وہ بھی مرکر مٹی میں مل گئے
اشد مقت اﷲ علی کل من عادی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وبارك وسلم۔
سب سے زیادہ اﷲ تعالی کی ناراضگی ہر اس شخص پر ہے جو اﷲ تعالی کے رسول صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وبارك وسلم کے ساتھ عداوت رکھے (ت)
اﷲ تعالی فرماتا ہے :
و الذین یؤذون رسول الله لهم عذاب الیم(۶۱)
جو لوگ ایذادیتے ہیں اﷲ کے رسول اور ان کے لئے دکھ کی مارہے۔
اور فرماتا ہے :
حوالہ / References القرآن ۵۸ / ۱۹
القرآن ۹ / ۶۱
#12002 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
لعنهم الله فی الدنیا و الاخرة و اعد لهم عذابا مهینا(۵۷)
اﷲ نے ان پر لعنت کی دنیا وآخرت میں اور ان کے لئے تیار رکھا ہے ذلت کا عذاب۔
سبحان اﷲ حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ارشاد فرمائیں :
ان اﷲ حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء ۔ اخرجہ احمد وابوداؤد والنسائی و ابن ماجۃ وابن حبان والحاکم و ابونعیم کلھم عن اوس بن ابی اوس الثققی رضی اﷲ تعالی عنہ۔
بیشك اﷲ تعالی نے زمین پر پیغمبروں کا جسم کھانا حرام کیا ہے۔ اس کو امام احمد ابوداؤد نسائی ابن ماجہ ابن حبان حاکم اور ا بونعیم سب حضرات نے حضرت اوس بن ابی اوس ثققی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔
اور وارد کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
من کلمہ روح القدس لم یؤذن للارض ان تاکل من لحمہ ۔ اخرجہ الزبیر بن بکار فی اخبار المدینہ وابن زبالۃ عن الحسن مرسلا۔
جس سے جبریل نے کلام کیا زمین کو اجازت نہیں کہ اس کے گوشت پاك میں کچھ تصرف کرے۔ اسےحضرت زبیربن بکار نے اخبار المدینہ میں اور ابن زبالہ نے امام حسن بصری سے مرسلا روایت کیا ہے۔
امام ابو العالیہ تابعی نے کہا :
ان لحوم الانبیاء لا تبلیغھا الارض ولاتاکلھا السباع ۔ اخرجہ الزبیروالبیھقی۔
انبیاء کا گوشت زمین نہیں گلاتی نہ درندے گستاخی کریں ۔ اسے زبیر اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔
اور رب العالمین جل مجدہ ان کے غلاموں یعنی شہدائے کرام کی نسبت ارشاد فرمائے :
و لا تقولوا لمن یقتل فی سبیل الله اموات-
جو خدا کی راہ میں مارے گئے انھیں مردہ نہ کہو
حوالہ / References القرآن ۳۳ / ۵۷
سنن النسائی اکثارالصلوٰۃ علی النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم یوم الجمعۃ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۱۶۲ ، سنن ابی داؤد باب تفریع ابواب الجمعۃ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۵۰ ، مسند احمد بن حنبل حدیث اوس بن اوس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۴ / ۸
الدرالمنثور زیر آیۃ وایدناہ بروح القدس مطبوعہ منشورات آیۃاﷲ العظمی ، قم ، ایران ۱ / ۸۷
اخبار مدینہ لزبیربن بکار
#12003 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
بل احیآء و لكن لا تشعرون(۱۵۴)
بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں خبرنہیں ۔
اور فرمائے :
و لا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل الله امواتا-بل احیآء عند ربهم یرزقون(۱۶۹) فرحین
خبردار شہیدوں کومردہ نہ جانیو بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزی دئیے جاتے ہیں شاد شاد ہیں ۔
اور ایك سفیہ مغرور محبوبان خدا سے نفور خود حضورپرنوراکرم المحبوبین صلوات اﷲ وسلامہ علیہ وعلیہم اجمعین کی نسبت وہ ناپاك الفاظ کہے اور وہ بھی یوں کہ معاذاﷲ حضور ہی کی حدیث کایہ مطلب ٹھہرائے یعنی میں بھی ایك مرکر مٹی میں ملنے والاہوں قیامت میں ان شاء اﷲ مرکرمٹی میں ملنے کامزاالگ کھلے گا اور یہ جدا پوچھا جائے گا کہ حدیث کے کون سے لفظ میں اس ناپاك معنی کی بوتھی جوتو نے یعنی کہہ کر محبوب اعظم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پرافتراکیا حضورپرافترا خداپرافترا ہے اور خداپرافترا جہنم کی راہ کا پرلا سرا
ان الذین یفترون على الله الكذب لا یفلحون(۱۱۶)

متاع قلیل۪-و لهم عذاب الیم(۱۱۷)
بیشك وہ لوگ جو اﷲ تعالی پرجھوٹ باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے۔ یہ دنیا متاع قلیل ہے اور ان کے لئے (آخرت میں ) المناك عذاب ہے۔
بھلا جب خود حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ یہ برتاؤ ہیں تو اولیائے کرام کاکیاذکرہے اور حضرت حق عزجلالہ فرماتا ہے :
من عادی لی ولیا فقد اذنتہ بالحرب ۔ اخرجہ امام البخاری عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن ربہ عزوجل۔
جومیرے کسی ولی سے عداوت رکھے میں نے اعلان دے دیا اس سے لڑائی کا۔ اسے امام بخاری نے حضرت ابوہریرہ سے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے حوالے سے اﷲ عزوجل سے بیان کیاہے (یعنی یہ حدیث قدسی ہے)
حوالہ / References القرآن ۲ / ۱۵۴
القرآن ۳ / ۱۶۹
القرآن ۱۶ / ۱۱۶
القرآن ۱۶ / ۱۱۷
صحیح البخاری کتاب الرقاق باب التواضع مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۹۰۳
#12004 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
اور حضورپرنور سیدالمحبوبین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من عادی اولیاء اﷲ فقدبارزاﷲ بالمحاربۃ ۔ اخرجہ ابن ماجۃ والحاکم والبیھقی فی الزھد عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ قال الحاکم صحیح ولاعلۃ لہ۔
جس نے اولیاء اﷲ سے عداوت کی وہ سرمیدان خدا کے ساتھ لڑائی کونکل آیا۔ اس کو ابن ماجہ حاکم اور بیہقی نے زہد میں حضرت معاذبن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔ امام حاکم نے فرمایا یہ روایت صحیح ہے اور اس میں کوئی علت نہیں ہے۔ (ت)
اﷲ تعالی اپنے محبوبوں کی سچی محبت پردنیاسے اٹھائے امین۔ بجاھھم عندك یاارحم الراحمین یامن احبھم فامرنا بحبھم حبیھم الینا وحببنا الیھم بحبنا ایاھم یا اکرم الاکرمین امین امین۔
فسق ہفتم : ہم اوپر بیان کرآئے کہ ان کا خلاصہ مذہب یہ ہے کہ گنتی کے ڈھائی آدمی ناجی باقی تمام مسلمین شرك میں پڑکرہلاك ہوگئے اور حضور سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اذا سمعت الرجل یقول ھلك الناس فھو اھلکھم ۔ اخرجہ احمد والبخاری فی الادب ومسلم وابوداؤد عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
جب تو کسی کو یوں کہتے سنے کہ لوگ ہلاك ہوگئے تو وہ ان سب سے زیادہ ہلاك ہونے والاہے۔ اسے امام احمد اور بخاری نے الادب المفرد میں مسلم اور ابوداؤد نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔
حدیث سے ثابت ہواکہ حقیقۃ یہی لوگ جوناحق مسلمانوں کوچنیں وچناں کہتے ہیں خود ہلاك عظیم کے مستحق ہیں اور اﷲ جل جلالہ فرماتاہے :
فهل یهلك الا القوم الفسقون(۳۵)
کون ہلاك ہوا سوافاسق لوگوں کے۔
پھر ان کے اشد الفاسقین سے ہونے میں کیاشبہہ ہے والعیاذباﷲ سبحنہ وتعالی۔ پھرستم برستم یہ کہ وہ ان محرمات کاصرف ارتکاب ہی نہیں کرتے انہیں حلال ومباحات بلکہ افضل حسنات بلکہ اہم واجبات سمجھتے ہیں ہیہات اگرتاویل کاقدم درمیان نہ ہوتا توکیاکچھ ان کے بارے میں کہنا نہ تھا اﷲ تعالی نے یہ دین پراستقلال
حوالہ / References سنن ابن ماجہ باب من ترجی لہ السلامۃ من الفتن مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ص۲۹۶ ، شعب الایمان باب فی اخلاص العمل حدیث ۶۸۱۲ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۵ / ۳۲۸
الادب المفرد (۳۲۴) باب قول الرجل ھلك الناس حدیث ۷۵۹ مطبوعہ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل ص ۱۹۸
القرآن ، ۴۶ / ۳۵
#12005 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
اور کلمہ طیبہ کا ادب وجلال بمنہ وکرمہ ہم اہلسنت ہی کوعطافرمایاہے کہ بدمذہبان گمراہ ہماری تکفیریں کریں ہم پاس کلمہ سے قدم باہرنہ دھریں وہ ہروقت اس فکرمیں کہ کسی طرح ہم کومشرك بنائیں ہم ہمیشہ اس خیال میں کہ جہاں تك ممکن ہو انہیں مسلمان ہی بتائیں ۔ جیسے وہ بھوکی اونٹنی جس کے پیچھے ہری ببولیں رہیں اور ان میں شیر اور آگے صاف میدان پھرآباد شہر وہ ببولوں کی ہریالی پرمہاریں توڑاتی اور پلٹی جاتی ہے کہ خود بھی ہلاك ہو اور سوار کوبھی مہلکہ میں ڈالے سوارمہمیزیں کرتا تازیانے لگاتا آگے بڑھاتا ہے کہ آپ بھی نجات پائے اور اسے بھی بچالے
ھوی ناقتی خلفی وقدامی الہوی
وانی وایاھا لمختلفان
(میری سواری کی خواہش میرے پیچھے ہے اور میری خواہش آگے ہے اور میں اور وہ دونوں مختلف ہیں )
منصف کے نزدیك اتنی ہی بات سے اہل حق ومبطلین کافرق ظاہر والحمدﷲ رب العلمین٭
قل كل یعمل على شاكلته-فربكم اعلم بمن هو اهدى سبیلا(۸۴)
تم فرماؤ سب اپنے اپنے طریقے پرکام کرتے ہیں تو تمہارا رب خوب جانتاہے کہ کون زیادہ راہ پرہے۔
تنبیہ : عبارت مذکورہ غنیہ دیکھ کر بعض اذہان میں یہ خیال گزرسکتاہے کہ طائفہ غیرمقلدین اگرچہ ان فسقیات کے عادی ہیں مگروہ انہیں فسق جان کرنہیں کرتے بلکہ اپنے زعم میں کارثواب وعین صواب سمجھتے ہیں یہ ان کی فہم کی کجی اور مذہب کی بدی ہے اس سے وہ بیباکی ثابت نہ ہوئی جس کی بناپر امامت فاسق ممنوع ہوئی تھی کہ جب اسے دین کااہتمام نہیں توکیاعجب کہ بے وضو نمازپڑھائے یاشرائط نماز سے کوئی اور شرط چھوڑجائے۔
اقول : منع امامت فاسق صرف اسی پرمبنی نہ تھا بلکہ اس کی بڑی علت وہ تھی کہ تقدیم میں عظمت اور فاسق شرعا مستحق اہانت بہرحال موجود بلکہ عیوب وذنوب کوصواب وثواب جانتے ہیں اور زیادہ شدید الورود کہ اس سے فسق ہزارچند ہوجاتاہے تواسی قدراستحقاق اہانت ترقی پائے گا اور اس کی ترقی پر اتنا ہی شناعت امامت میں جوش آئے گا معہذا جس نے تجربہ کیا ہے اس سے پوچھئے کہ دنیادرکنار خاص امور دین میں اصاغر بالائے طاق ان کے اکابر و معتمدین میں جوشنیع بیباکیاں عظیم سفاکیاں پھیل رہی ہیں خدانہ کرے کہ کسی فاسق سے فاسق کوبھی ان کی ہوالگے کیانہ دیکھا کہ ان کے امام العصر نے اپنے مہری فتوے میں دودھ کے چچا کوبھتیجی دلائی
حوالہ / References القرآن ۱۷ / ۸۴
#12006 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
کیانہ جانا کہ ان کے رشید شاگرد نے مطبوعہ رسالے میں حقیقی پھوپھی تك حلال بتائی کیانہ سنا کہ دوسرے شاگرد نے سوتیلی خالہ کوبھانجے کے حق میں مباح کردیا اور اس آفت کے فتوے سے استاد صاحب نے اپنی مہر کا نکاح کردیا پھرامام العصر کااجرت لے کرمسائل لکھنا ایك ہی مقدمہ میں مدعی مدعاعلیہ دونوں کے پاس حضرت کا فتوی ہونا کیسی اعلی درجے کی دیانت ہے۔ ان سب وقائع کی تفصیل بعض احباب فقیرنے رسالہ سیف المصطفی علی ادیان الافتراء(۱۲۹۹ھ) ورسالہ نشاط السکین علی حلق البقر السمین(۱۳۰۳ھ) میں ذکر کی پھربات بنانے کو احیاء و اموات پرہزاروں افتراء وبہتان کرنا فرضی کتابوں سے سندلانا خیالی عالموں کے نام گھڑلینا نقل عبارت میں قطع وبرید کرنا جرح محدثین کونسب بدل لینا احادیث واقوال کے غلط حوالے دینا اور ان کے سوا دیدہ ودانستہ ہزاروں قسم کی عیاریاں ان کے عمائدومتکلمین اپنی مذہبی تصانیف میں کرگزرے زکیں کھائیں الزام اٹھائے اور بازنہ آئے۔ رسالہ سیف المصطفی انہیں امور کے بیان واظہار میں تالیف ہوا جس میں عزیزم مؤلف حفظہ اﷲ نے اکابر طائفہ کی ایك سوساٹھ دیانتوں کوجلوہ دیا۔ پھر کون گمان کرسکتاہے کہ جرأت وجسارت میں ان کاپایا کسی فاسق سے گھٹاہواہے معہذا آزمالیجئے کہ یہ حضرات جس مسئلہ میں خلاف کریں گے آرام نفس ہی کی طرف کریں گے کبھی وہ مذہب ان کے نزدیك راجح نہ ہوا جس میں ذرامشقت کاپلہ جھکا تراویح میں بیس رکعت چھوڑیں توچھتیس کی طرف نہ گئے جو امام مالك سے مروی نہ چالیس لیں جو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ سے منقول اور امام اسحق بن راہویہ واہل مدینہ کامذہب تھا آٹھ پرگرے کہ آرام کاسبب تھا۔ اور ان کے بعض مسائل کا نمونہ ان شاء اﷲ تعالی قریب آتاہے۔ مسلمانو! جب بیباکی وہ ہے کہ جوچاہا کہہ دیا نہ قرآن سے غرض نہ حدیث سے کام اجماع ائمہ تو کس چیزکانام ادھر آرام طلبی کاجوش تام توکیاعجب کہ بے غسل یابے وضو نمازجائز کرلیں خصوصا جبکہ موسم سرماہو اورپانی ٹھنڈا آخریہ پھوپھی بھتیجی خالہ کی حلت سے عجیب ترنہ ہوگا
سچ فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے :
اذالم تستحی فاصنع ماشئت ۔
جب توبے حیا ہوجائے توجوچاہے کر۔ (ت)
ع : آنرام کہ حیانیست ازوہیچ عجب نیست
(جس کوحیا نہیں اس سے کچھ بھی تعجب نہیں )
والعیاذباﷲ تعالی۔
حوالہ / References المعجم الکبیر مروی ازابومسعودانصاری حدیث ۶۵۷ مطبوعہ مکتبہ فیصلیۃ بیروت ۱۷ / ۲۳۷
#12007 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
دلیل سوم
اس کی تقریر میں اولا یہ سنئے کہ ان حضرات کی فقہی مسائل متعلقہ نمازوطہارت جوانہوں نے خوداپنی تصانیف میں لکھے کیاکیاہیں اور وہ علی الاطلاق مذاہب راشدہ یاخاص مذہب حنفیہ سے کتنے جداہیں محبنا مولوی وصی احمدصاحب سورتی سلمہ اﷲ تعالی نے فتوائے جامع الشواھد فی اخراج الوھابیین عن المساجد(مساجد سے وہابیوں کونکالنے پر جامع دلائل۔ ت) میں عقائد غیرمقلدین نقل کرکے ان کے بعض عملیات بھی تلخیص کئے ہیں یہاں اسی کے چندکلمات بطور التقاط لکھنا کافی سمجھتاہوں ۔
مسئلہ (۱) : پانی کتناہی کم ہونجاست پڑنے سے ناپاك نہیں ہوتا جب تك رنگ یابویامزہ نہ بدلے نواب صدیق حسن خاں بہادرشوہر ریاست بھوپال نے طریقہ محمدیہ ترجمہ درر بہیہ مصنفہ قاضی شوکانی ظاہری المذہب مطبوعہ مطبع فاروقی دہلی کے صفحہ ۶و۷ پر اس کی تصریح کی اس کتاب پر مولوی نذیرحسین صاحب نے مہر کی اور لکھااس پرموحدین بے دھڑك عمل کریں اور دیباچے میں خود نواب مترجم لکھتے ہیں : متبع سنت اس پر آنکھ بند کرکے عمل کرے اور اپنی اولاد اور بیبیوں کو پڑھائے اور یہی مضمون فتح المغیث مطبع صدیقی لاہور کے صفحہ ۵ میں ہے یہ وہی کتاب طریقہ محمدیہ ہے جس کانام بدل کر نواب بھوپال نے دوبارہ وسہ بارہ بھوپال اور لاہور میں چھپوایا۔ اس مسئلے کامطلب یہ ہواکہ کنواں توبڑی چیزہے اگرپاؤ بھر پانی میں دوتین ماشے اپنا یا کتے کاپیشاب ڈال دیجئے پاك رہے گا مزے سے وضوکیجئے نماز پڑھئے کچھ مضائقہ نہیں ۔
مسئلہ (۲) : اسی فتح المغیث کے صفحہ۵ اور طریقہ محمدیہ کے صفحہ ۷ میں ہے : نجاست گوہ اورموت ہے آدمی کامطلق مگرموت لڑکے شیرخوار کااور لعاب ہے کتے کااور لینڈ بھی اور خون بھی حیض ونفاس کااور گوشت ہے سؤرکا اور جو اس کے سواہے اس میں اختلاف ہے اور اصل اشیاء میں پاکی ہے اورنہیں جاتی پاکی مگرنقل صحیح سے کہ جس کے معارض کوئی دوسری نقل نہ ہو ۔
یہاں صاف صاف نجاست کوان سات چیزوں میں حصرکردیا باقی تمام اشیاء کو اصل طہارت پرجاری کیاجب تك نقل صحیح غیرمعارض وارد نہ ہو۔ میں کہتاہوں اب مثلا اگرکوئی غیرمقلد مرغی کے گوہ یاسوئر کے موت یاکتے کی منی سے اپنے چہرہ و ریش بروت (مونچھیں ) وجامہ پرعطروگلاب افشانی فرماکر نماز پڑھ لے یایہ چیزیں کیسی ہی کثرت سے پانی میں مل جائیں اگرچہ رنگ ومزہ وبوکوبدل دیں اور غیرمقلد صاحب
حوالہ / References طریقہ محمدیہ ترجمہ درربہیہ
(ف : اسی کادوسرا نام فتح المغیث ہے۔ نذیراحمد)
فتح المغیث
#12008 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
اس سے وضو کریں اصلا حرج نہیں کہ آخرجامہ بدن پرکوئی نجاست نہیں نہ پانی کے اوصاف کسی نجس نے بدلے پھرکیامضائقہ ہے سب مباح ورواہے انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔ ثم اقول آیہ کریمہ قل لا اجد فی ما اوحی الی محرما على طاعم یطعمه 
(محبوب فرمادیجئے میں اپنے اوپرنازل شدہ وحی میں نہیں پاتا کسی کھانےوالے پرکوئی کھاناحرام۔ ت)
الا یہ سند کافی موجود اور جس طرح نجاست بے نقل صحیح غیرمعارض ثابت نہیں ہوسکتی اور اصل اشیاء میں طہارت ہے یوں ہی حرمت کاثبوت بھی بے اس کے نہ ہوگا اور اصل اشیاء میں اباحت تو غیرمقلد کوان چیزوں کے نوش کرنے میں کیامضائقہ ہے
ع : گربرتو حلال ست حلالت بادا
(اگرتجھ پرپینا حلال ہے تیرااپناحلال کیاہواہے)
مسئلہ (۳) : نواب موصوف روضہ ندیہ کے صفحہ ۱۲میں فرماتے ہیں : شراب ومردار وخون کی حرمت ان کی نجاست پردلیل نہیں جوانہیں ناپاك بتائے دلیل پیش کرے اھ ملخصا مترجما ۔
میں کہتاہوں شاعر بھولاکہ ناحق خلاف شرع پینے کالفظ بولااگر یہ مسئلہ سنتاتویوں کہتا :
چھوتا نہیں شراب کبھی بے وضو کئے
قالب میں میرے روح کسی پارساکی ہے
جس میں شریعت جدیدہ کاخلاف بھی نہ ہوتا اور زیادت مبالغہ سے حسن شعر بھی بڑھ جاتا کہ پیتا نہیں سے چھوتانہیں میں کہیں زیادہ مبالغہ ہے۔
مسئلہ (۴) نواب صاحب اپنے صاحبزادہ کے نام سے نہج المقبول من شرائع الرسول مطبوعہ بھوپال کے صفحہ ۲۰ پرفرماتے ہیں :
شستن منی ازبرائے استقذار بودہ است نہ بنابرنجاست وبرنجاست خمر ودیگرمسکرات دلیلے کہ صالح تمسك باشد موجودنیست واصل درہمہ چیز ہاطہارت ست ودرنجاست لحم خوك خلاف ست ودم مسفوح
منی کونفرت ونظافت کی وجہ سے دھونا ضروری ہے نہ کہ ناپاك ہونے کی وجہ سے شراب اور دیگرنشہ آور اشیاکے ناپاك ہونے پرکوئی دلیل صالح نہیں جس سے استدلال کیاجاسکے اور تمام اشیاء میں اصلا طہارت ہے۔
حوالہ / References القرآن ۶ / ۱۴۵
روضہ ندیہ شرح درربہیہ عربی بیان الاصل فی الاشیاء الطہارۃ مطبوعہ فاروقی کتب خانہ لاہور ۱ / ۲۳
#12009 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
حرام ست نہ نجس اھ ملخصا
خنزیرکے گوشت کے نجس ہونے میں اختلاف ہے دم مسفوح حرام ہے مگرنجس نہیں اھ ملخصا (ت)
مسئلہ (۵) اسی فتح المغیث کے صفحہ ۶پرہے : کافی ہے مسح کرنا پگڑی پر ۔ یعنی وضو میں سرکامسح نہ کیجئے پگڑی پرہاتھ پھیرلیجئے وضوہوگیا اگرچہ قرآن عظیم فرمایاکرے و امسحوا برءوسكم (اپنے سروں کا مسح کرو)
مسئلہ (۶) مولوی محمدسعید شاگرد مولوی نذیرحسین ہدایت قلوب قاسیہ کے صفحہ ۳۶ میں لکھتے ہیں جو اپنی بیوی سے جماع کرے اورانزال نہ ہو تو اس کی نمازبغیر غسل کے درست ہے ۔
مسئلہ (۷) فتاوی ابراہیمیہ مصنفہ مولوی ابراہیم غیرمقلد مطبوعہ دھرم پرکاش الہ آباد کے صفحہ ۲ میں ہے : وضومیں بجائے پاؤں دھونے کے مسح فرض ہے ۔ انہوں نے پاؤں کے مسئلے میں رافضیوں سے بھی آگے قدم رکھا وہ بیچارے بھی صرف جوازمانتے ہیں واﷲ المستعان علی شرالرفاض وقوم شر من الرفاض (اﷲ تعالی ہی مددگارہے روافض کے شرپراور اس قوم کے شرپرجوروافض سے بھی بدترہے۔ ت
ثانیا یہ خیال کیجئے کہ انہیں اہلسنت کے ساتھ کس درجہ تعصب ہے اور تعصب وہ شئی ہے کہ خواہی نخواہی آدمی نیش عقرب (بچھوکاڈنگ) ہوکر بتقاضائے طبع ایذا واضرار پرکمرکستاہے اور جہاں تك بن پڑے شقاق وخلاف کو دوست رکھتا ہے اگرعلانیہ نہ ہوسکے توخفیہ ہی کوئی بات کرگزرے اورآپ ہی آپ دل میں ہنس لے جہال روافض کی حکایات مشہورہیں کہ ان کی مجالس مرثیہ میں جوجاہل سنی جابیٹھے انہوں نے قلتین کے چھینٹے شربت میں ملائے بعض اشقیا نے اسمائے طیبہ پرچوں پرلکھ کرفرش کے نیچے رکھ دئے کہ سنی بیٹھیں تو پاؤں کے نیچے آئیں اگرچہ نادانستہ ہی سہی۔ پھرجہاں ایساموقع ہاتھ لگاکہ کوئی خاص چیز کسی مہمان یاحاجتمند سنی ناواقف کے کھانے پینے کوپیش کی ظاہری تکلف حد سے گزرا اور بعض نجاسات قطعیہ سے آلودہ کردی یہ سب شاخیں تعصب کی ہیں پھر حضرات غیرمقلدین کا تعصب ان روافض سے کم نہیں بلکہ زائد ہے کہ یہ دشمن تازہ ہیں اور ان کے حوصلوں کی نئی
حوالہ / References نہج المقبول من شرائع الرسول
فتح المغیث
القرآن ۵ / ۶
ہدایت قلوب قاسیہ
فتاوٰی ابراہیمیہ
#12010 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
اٹھان ہے اب ان کی بیباکی وجرأت ومسائل مساہلت وشدت عداوت دیکھ کرنہ صرف احتمال فوری بلکہ ظن غالب ہوتا ہے کہ اگریہ امام کئے جائیں ضرور اپنے ان بعض مسائل مذکورہ پرعمل کریں گے انہیں کیاغرض پڑی ہے کہ مذہب مقتدیان کی رعایت کرکے ان امور سے بازآئیں اور تعصب برت کردل ٹھنڈانہ کریں پھربعض جگہ غسل وغیرہ کی مشقت اٹھانی ہو وہ نفع میں ۔
ثالثا اب یہ غورکیجئے کہ علمائے دین رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہم اجمعین نے اہل حق وہدی کے مذاہب مختلفہ مثلا باہم حنفیہ وشافعیہ میں ایك کی دوسرے سے اقتداپرکیاکلام کیاہے یہ مسئلہ ہمیشہ سے معرکۃ الآرارہااور اس میں تکثر شقوق واختلاف اقوال بشدت ہواہمیں یہاں صرف اس صورت سے غرض ہے کہ دوسرے مذہب والاجونماز وطہارت میں ہمارے مذہب کی مراعات نہ کرے اور خروج عن الخلاف کی پروانہ رکھے اس کے پیچھے نمازکاکیاحکم ہے۔ پہلے اس احتیاط ومراعات کے معنی سمجھ لیجئے بعض باتیں مذاہب راشدہ میں مختلف فیہ ہیں (اختلافی مسائل) مثلا فصدوحجامت سے شافعیہ کے نزدیك وضونہیں جاتاہمارے نزدیك جاتارہتاہے۔ مس ذکرومساس زن سے ہمارے نزدیك نہیں جاتا ان کے نزدیك ٹوٹ جاتاہے دوقلہ پانی میں اگرنجاست پڑجائے ان کے مذہب میں ناپاك نہ عــــہ ہوگاہمارے نزدیك (ناپاک) ہوجائے گا
انکےنزدیك ایك بال کامسح وضو میں کافی ہے ہمارے یہاں ربع سرکاضرور ہمارے مذہب میں نیت وترتیب وضومیں فرض نہیں ان کے نزدیك فرض وعلی ہذا القیاس اس قسم کے مسائل میں باجماع ائمہ آدمی کو وہ بات چاہئے جس کے باعث اختلاف علمامیں واقع نہ ہو جب تك یہ احتیاط اپنے کسی مکروہ مذہب کی طرف نہ لے جائے تومحتاط شافعی فصدوحجامت سے وضوکرلیتے ہیں اور مسح میں بعض پرقناعت نہیں کرتے اور محتاط حنفی مس ذکرومساس زن سے وضوکرلیتے ہیں او رترتیب ونیت نہیں چھوڑتے کہ اگرچہ ہمارے امام نے اس صورت میں وضو واجب نہ کیامنع بھی تونہ فرمایا پھرنہ کرنے میں ہماری طہارت ایك مذہب پرہوگی دوسرے پرنہیں اور کرلینے میں بالاتفاق طاہرہوجائیں گے اور اپنے مذہب میں وضو علی الوضو کاثواب پائیں گے جوایسی احتیاط کاخیال نہیں کرتے اور دوسرے مذہب کے خلاف ووفاق سے کام نہیں رکھتے جمہورمشائخ کے نزدیك ان کی اقتداجائز نہیں کہ صحیح مذہب پررائے مقتدی کااعتبارہے جب اس کی رائے پرخلل طہارت یااور وجہ سے فسادنماز کا مظنہ ہویہ کیونکر ایسی نماز پراپنی نماز بناکرسکتاہے خانیہ وخلاصہ و سراجیہ و کفایہ و نظم و بحرالفتاوی و شرح نقایہ ومجمع الانہر وحاشیہ مراقی الفلاح وغیرہاکتب میں اس کی تصریح فرمائی اور اسے علامہ سندی پھرعلامہ حلبی پھرعلامہ شامی نے بہت مشائخ اور علامہ قاری نے عامہ مشائخ کرام
عــــہ : بشرطیکہ پانی کاکوئی وصف مثلا بویارنگ یامزہ متغیرنہ ہوجائے ورنہ بالاتفاق ناپاك ہوجائے گا ا۲منہ(م)
#12011 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
سے نقل کیا فتاوی علمگیری میں ہے :
الاقتداء بشافعی المذھب انما یصح اذاکان الامام یتحامی مواضع الخلاف بان یتوضأ من الخارج النجس من غیر السبیلین کالفصد ولایکون متعصبا ولایتوضأ بالماء الراکد عـــہ۱ القلیل وان یغسل ثوبہ من المنی عـــہ۲ ویفرك الیابس منہ ویمسحعـــہ۳ ربع رأسہ ھکذا فی النھایۃ والکفایۃ ولایتوضأ بالماء القلیل الذی وقعت فیہ النجاسۃ کذا فی فتاوی قاضی خاں ولابالماء المستعمل ھکذا فی السراجیۃ اھ ملخصا۔
شافعی المذہب کی اقتداء اس وقت صحیح ہے جب وہ مقامات اختلاف میں احتیاط سے کام لیتاہو مثلا سبیلین کے علاوہ سے نجاست کے خروج پروضو کرتاہو جیسا کہ رگ کٹوانے پر اور متعصب نہ ہو اور نہ ہی قلیل کھڑے پانی سے وضو کرنے والا ہو اور منی والا کپڑا دھوتاہو اور خشك منی کپڑے سے کھرچ دیتاہو سر کے چوتھائی کامسح کرتاہو نہایہ اور کفایہ میں اسی طرح ہے اور ایسے ہی قلیل پانی جس میں نجاست گرگئی ہو اس سے وضو نہ کرتاہو فتاوی قاضی خان میں اسی طرح ہے اور نہ ہی ماء مستعمل سے وضوکرتا جیسا کہ سراجیہ میں ہےاھ ملخصا(ت)
فتاوی امام قاضی خاں میں ہے :
اما الاقتداء بشفعوی المذھب قالوا لاباس بہ اذالم یکن متعصبا وان یکون متوضأ من الخارج النجس من غیر السبیلین ولایتوضأ بالماء القلیل الذی وقعت فیہ النجاسۃ ۱ھ ملخصا۔
شافعی المذہب کی اقتداء کے بارے میں علماء نے فرمایا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ متعصب نہ ہو اور یہ کہ سبیلین کے علاوہ سے نجاست کے خروج پروضوکرتاہو اور اس قلیل پانی (جس میں نجاست گرگئی ہو) سے وضو نہ کرتاہو۔ اھ ملخصا(ت)
عـــہ ۱ : قلت ای بحیث تقع الغسالۃ فیہ بناء علی نجاسۃ الماء المستعمل ۱۲منہ(م)
عـــہ۲ : قلت ای اذا بلغ حدالمنع ۱۲منہ(م)
عـــہ۳ : قلت ای لایجتزیئ باقل منہ ۱۲منہ (م)
میں کہتاہوں یعنی اس وقت جب غسالہ پانی میں گرتاہو اس قول کی بناپر جو ماء مستعمل کونجس قراردیتے ہیں ۱۲(ت)
میں کہتاہوں یعنی جب مانع نماز کی حد تك پہنچ جائے ۱۲(ت)
میں کہتاہوں یعنی اس سے اقل پر اکتفاء نہ کرتاہو ۱۲منہ(ت)
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ الفصل الثالث فی بیان من یصلح اماما لغیرہ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۸۴
فتاوٰی قاضی خان فصل فی من یصلح الاقتداء وفی من لایصح مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴۳
#12012 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
فتاوی امام طاہربن عبدالرشید بخاری میں ہے :
الاقتداء بشفعوی المذھب یجوز ان لم یکن متعصبا ویکون متوضأ من الخارج من غیرالسبیلین ولایتوضأ بماء الذی وقعت فیہ النجاسۃ وھو قدر قلتین اھ عـــہ ملخصا۔
شافعی المذہب کی اقتداء جائز ہئے اگر وہ متعصب نہ ہواورغیرسبیلین سے نجاست کے خروج پروضوکرنے والاہو اور اس تھوڑے پانی سے وضونہ کرتا ہو جس میں نجاست گرگئی ہو اور وہ دوقلوں کی مقدارہے اھ تلخیصا (ت)
جامع الرموزمیں ہے :
ھذا اذا علم بالاحتراز عن مواضع الخلاف فلوشك فی الاحتراز لم یجز الاقتداء مطلقا کما فی النظم فلاباس بہ اذا لم یشك فی ایمانہ ولم یتعصب ای لم یبغض للحنفی (وساق الکلام فی مسائل المراعاۃ فجمع واوعی ثم قال) الکل فی بحر الفتاوی ۔
یہ اس وقت ہے جب وہ مقامات اختلاف سے بچنے کایقین رکھتاہو اگر اس کے احتراز میں شك ہوتوپھر ہر حال میں اقتداء جائزنہیں جیسا کہ نظم میں ہے پس اس وقت اس کی اقتدامیں کوئی حرج نہیں جب اس کے ایمان میں شك نہ ہو(یعنی انا مؤمن ان شاء اﷲ کہنے والانہ ہو) اور وہ متعصب نہ ہو یعنی حنفی کے ساتھ بغض نہ رکھتاہو (اس کے بعد مقامات رعایت پرگفتگوکرتے ہوئے مسائل کواکٹھاکیاپھرفرمایا) یہ تمام بحرالفتاوی میں ہے۔ (ت)
شرح ملتقی الابحرمیں ہے :
جواز اقتداء الحنفی بالشافعی اذاکان الامام یحتاط فی مواضع الخلاف ۔
حنفی کاشافعی کی اقتداکرنا اس وقت جائزہے جب شافعی امام مقامات اختلاف میں محتاط ہو۔ (ت)

عـــہ : قلت الاولی تعبیر غیرہ کالخانیۃ بالقلیل ۱۲منہ (م)
میں کہتاہوں اس کے غیر کی تعبیربہتر ہے جیسے کہ خانیہ نے “ قلیل “ کے ساتھ تعبیرکیاہے۱۲منہ(ت)
حوالہ / References خلاصۃ الفتاوی کتاب الصلوٰۃ الاقتداء باھل الہو اء مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۱۴۹
جامع الرموز فصل یجہرالامام مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبدقاموس ایران ۱ / ۱۷۳
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب الوتر والنوافل مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۲۹
#12013 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
علامہ احمد مصری حاشیہ شرح نورالایضاح میں فرماتے ہیں :
صحۃ الاقتداء اذاکان یحتاط فی مواضع الاختلاف کأن یجدد الوضوء بخروج نحو دم وان یمسح رأسہ وان یغسل ثوبہ من منی اویفرکہ اذاجف الخ
صحت اقتدا شافعی کی اس پرموقوف ہے کہ وہ مواضع اختلاف میں محتاط ہو مثلا خون جیسی چیز کے خروج پر نیا وضوکرتاہو اور سرکامسح کرتاہو منی والے کپڑے کو دھوتا ہو یاخشك ہونے کی صورت میں اسے کھرچ دیتاہو لخ(ت)
ردالمحتار میں ہے :
قال کثیر من المشائخ ان کان عادتہ مراعاۃ موضع الخلاف جاز والا فلا ذکرہ السندی المتقدم ذکرہ ح قلت وھذا بناء علی ان العبرۃ لرأی المقتدی وھو الاصح الخ
اکثرمشائخ نے فرمایا ہے کہ اگرشافعی امام کی عادت مقامات اختلاف میں احتیاط کی (یعنی وضو و نماز میں مذہب حنفی کی رعایت کرتاہو) توپھر اس کی اقتداء جائز ورنہ نہیں ۔ سندی نے اس کو ذکرکیااس کاتذکرہ پیچھے بھی گزراہے ح۔ میں کہتاہوں یہ اس بناپرہے کہ اس مسئلہ میں اعتبار مقتدی کی رائے کا ہے اور یہی اصح ہے الخ(ت)
اسی میں ہے :
فی رسالۃ الاھتداء فی الاقتداء لملا علی القاری ذھب عامۃ مشائخنا الی الجواز اذاکان یحتاط فی موضع الخلاف والافلا ۔
ملاعلی قاری کے رسالہ “ الاھتدا فی الاقتداء “ میں ہے کہ اکثرمشائخ کی رائے یہی ہے کہ اگرامام شافعی مقامات اختلاف میں محتاط ہے تو اقتدأ جائز ورنہ نہیں ۔ (ت)
اسی طرح اور کتب میں تصریح ہے :
بقی ان الشامی نقل عن القاری بعد قولہ المذکور المعنی انہ یجوز فی المراعی
رہایہ معاملہ کہ شامی نے علی قاری سے اپنے مذکور قول کے بعد یہ نقل کیاہے : اس کامعنی یہ ہے کہ
حوالہ / References حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح ، باب الوتر مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۲۱۰
ردالمحتار مطلب فی الاقتداء بشافعی ونحوہ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۶
ردالمحتار مطلب فی الاقتداء بشافعی ونحوہ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۶
#12014 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
بلاکراھۃ وفی غیرہ معھا اھ
اقول : وھذا یخالف تصریح الھندیۃ بعدم الصحۃ لکن لایعکر علی لانی انما عبرت بعدم الجواز الشامل للفساد وکراھۃ التحریم فینطبق علی تفسیر القاری و تصریح الھندیۃ جمیعا والذی یظھرلی وارجوان یکون ھو الصواب ان شاء اﷲ تعالی ان البطلان انما ھو اذاعلم عدم المراعاۃ فی خصوص الصلاۃ کما اختارہ العلامۃ السغناقی وجزم بہ وتر الدر وغیرہ والافالصواب مع القاری فتصح لعدم العلم بالمفسد وتکرہ لکونہ غیر محتاط وان حملت الصحۃ فی کلام الھندیۃ علی الجواز وان کان فیہ بعد فیتوافق القولان ومن الدلیل علی ھذا الحمل ان صاحب الھندیۃ ادخل کلام قاضی خاں تحت مسئلۃ عدم الصحۃ وانما نص الخانیۃ کما سمعت تعلیق نفی البأس بتلك الشرائط فانما یفید بمفھوم المخالفۃ وجود البأس عند
رعایت کرنے والے کے پیچھے بغیرکراہت جائزہے اور رعایت نہ کرنے والے کے پیچھے بالکراہت اھ (ت)
اقول : (میں کہتاہوں ) یہ فتاوی ہندیہ کی اس تصریح کے مخالف ہے جس میں انہوں نے عدم صحت کا ذکرکیاہے لیکن یہ بات مجھ پر لازم نہیں آتی کیونکہ میں نے اسے عدم جواز کے ساتھ تعبیرکیا ہے جو فساد اور کراہت تحریمی دونوں کوشامل ہے لہذا یہ علی قاری کی تفسیر اور ہندیہ کی تصریح دونوں کے موافق ہے اور جوچیز مجھ پر ظاہرہوئی ہے اور میں امیدکرتاہوں ان شاء اﷲ وہی صواب ہے وہ یہ ہے کہ نماز کاباطل ہونا اس صورت میں جب امام شافعی بالخصوص نمازمیں رعایت نہ کرتاہو (اس بات کاحنفی کویقین ہو) جیسا کہ اس کو علامہ سغناقی نے اختیار کیااور در وغیرہ کے بیان وتر میں اس پرجزم کیا ہے ورنہ اگرعلم نہ ہو کہ وہ رعایت کرتاہے تو علی قاری کی رائے صواب ہے کہ نماز درست ہوگی کیونکہ مفسد کاعلم نہیں البتہ مکروہ ہوگی کیونکہ وہ محتاط نہیں اور اگرہندیہ کی عبارت میں صحت کوجواز پرمحمول کرلیاجائے گا اگرچہ اس میں بعد ہے تودونوں اقوال میں موافقت ہوجائے گی اس حمل پر ایك دلیل یہ ہے کہ صاحب ہندیہ نے کلام قاضی خاں کومسئلہ عدم صحت کے تحت ذکرکیا ہے اور خانیہ نے تصریح کی ہے جیسا کہ آپ سن چکے کہ نفی حرج ان شرائط کے ساتھ معلق ہے اور یہ بات مفہوم مخالف کے طورپر اس
حوالہ / References ردالمحتار مطلب فی الاقتداء بشافعی ونحوہ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۶
#12015 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
عدمھا ووجود الباس لایستلزم البطلان نعم ھومساو لعدم الجواز بمعنی عدم الحل المجامع لکراھۃ التحریم ویؤید ذلك مانص علیہ العلامۃ الحلبی فی الغنیۃ الاختلاف انما ھو فی الکراھۃ والافعلی الجواز یعنی الصحۃ الاجماع۔ ثم لایذھبن عنك ان الکراھۃ ھھنا للتحریم اذھو الذی یصح تفسیر عدم الجواز بہ کما فعل القاری فافھم وتثبت ھذا ما ظھرلی وقد بقی خبایا العبد الضعیف حقق الکلام فی ھذا المرام فی فتاواہ الملقبۃ بالعطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ وباﷲ التوفیق۔
بات کی مفید ہے کہ جب شرائط معدوم ہوں توحرج لازم آئے گا اور وجود حرج بطلان کومستلزم نہیں ہاں وہ مساوی بنے گا عدم جواز بمعنی عدم حل کاجوکراہت تحریمی کوجامع ہے اور اس کی تائید علامہ حلبی کے ان الفاظ سے ہوتی ہے جو غنیـہ میں ہیں کہ اختلاف کراہت میں ہے ورنہ جواز یعنی صحت پراجماع ہے۔ پھریہ بھی ذہن نشین رہناچاہئے کہ یہاں کراہت تحریمی مراد ہے کیونکہ تفسیرعدم جواز کی اسی کے ساتھ درست ہوتی ہے جیسا کہ علی قاری نے کیاہے خوب سمجھ کر اس پرقائم رہو۔ یہ وہ تفصیل تھی جو مجھ پرواضح ہوئی اورابھی کچھ گوشے رہ گئے ہیں بندہ ضعیف نے اﷲ کی توفیق سے اس مقصدپراپنے فتاوی الملقب بہ العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ میں تحقیق کی ہے۔ (ت)
سبحن اﷲ جبکہ بے احتیاط شافعی کے پیچھے نمازجمہور ائمہ کے نزدیك ناجائز توان مبتدعین تہورین کو اہل حق وہدایت سے کیانسبت ان کے پیچھے بدرجہ اولی ناجائزو ممنوع ترہوناچاہئے کما لایخفی۔
تنبیہ : خانیہ وخلاصہ ونہایہ وکفایہ وبحرالفتاوی وشرح نقایہ وہندیہ کے نصوص سن چکے کہ متعصب شافعی کے پیچھے نمازجائز نہیں اور اس کی تفسیرگزری کہ متعصب عـــہ وہ جوحنفیہ سے بغض رکھتاہو اب غورکرلیجئے کہ غیرمقلدین کو نہ صرف حنفیہ بلکہ تمام مقلدین ائمہ دین سے کس قدر بغض شدید وکین مدید ہے خصوصا جوعنایت حضرات حنفیہ خصہم اﷲبالطافہ والحفیہ کے ساتھ ہے بیان سے باہرتو ان روایات پریہ جداگانہ دلیل ہوئی ان کی اقتداء ناجائزہونے کی
لکن قال المحقق فی الفتح لایخفی ان تعصبہ انما یوجب فسقہ اھ
لیکن محقق نے فتح القدیر میں فرمایا یہ مخفی نہ رہے کہ اس کامتعصب ہونافسق کاموجب وسبب ہےاھ

عـــہ : اقول ایسے ہی شافعیہ یامالکیہ یاحنبلیہ سے بغض رکھنے والا عند من برأہ اﷲ من التعصب کہ اہل حق سے بغض نہ رکھے گا مگربدمذہب اوربدمذہب کے پیچھے نمازممنوع ۱۲منہ سلمہ(م)
حوالہ / References فتح القدیر باب صلوٰۃ الوتر مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۸۱
#12016 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
اقول : قدعلمت ان عدم الجواز بمعنی عدم الحل الصادق بکراھۃ التحریم وان الصلاۃ خلف الفاسق مکروھۃ تحریمیۃ فان اعید الاشکال بمافی الھندیۃ اعدنا الکلام بماقدمنا وح یؤل ھذا الدلیل الی الدلیل الثانی کما لایخفی وبھذا الحمل تکون الروایات مؤیدات لما حققنا من ان الکراھۃ خلف الفاسق و المبتدع کراھۃ تحریم واﷲ سبحنہ بکل شیئ علیم۔
اقول : (میں کہتاہوں ) آپ نے پیچھے پڑھ لیا ہے کہ عدم جواز بمعنی عدم حلت ہے جوکراہت تحریمی پرصادق آتاہے اور فاسق کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے اگرہندیہ کی عبارت کے ساتھ اشکال کااعادہ کیاجائے تو ہم سابقہ کلام سامنے لائیں گے تو اس وقت یہ دلیل دوسری دلیل کی طرف لوٹ جائے گی جیسا کہ مخفی نہیں اور اس حمل کے ساتھ تمام روایات اس تحقیق کی مؤید ہوجائیں گی جوہم نے کی ہے کہ فاسق اور بدعتی کے پیچھے نماز پڑھنے کی کراہت مکروہ تحریمی ہے واﷲ سبحنہ بکل شیئ علیم۔ (ت)
دلیل چہارم
حضرت امام الائمہ سراج الامہ امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں جومتکلم ضروریات عقائد کی بحث میں (جن میں لغزش موجب کفر ہوتی ہے) یہ چاہے کہ کسی طرح اس کامخالف خطاکرجائے وہ کافر عـــہ ہے کہ اس نے اس کا
عـــہ : کافر سے مراد کہ اس پرکفرکااندیشہ ہے۔ والعیاذ باﷲ تعالی فی الخلاصۃ سمعت القاضی الامام (یرید الامام الاجل قاضی خاں) ان اراد تخجیل الخصم یکفر قال وعندی لایکفر ویخشی علیہ الکفر اھ وقال العلامۃ بدرالرشید الحنفی فی رسالتہ فی کلمات الکفر فی المحیط من رضی بکفر نفسہ فقد کفر ای اجماعا وبکفر غیرہ
اﷲ تعالی کی پناہ خلاصہ میں ہے میں نے قاضی امام (یعنی امام اجل قاضی خاں ) سے سنا کہ اگرکوئی مخالف کوشرمندہ کرنے کاارادہ رکھتا تو اسے کافرکہاجائے فرمایا اور میرے نزدیك اسے کافرنہ کہاجائے البتہ اس پرکفر کاخوف واندیشہ ہے۔ علامہ بدرالرشید حنفی نے اپنے رسالہ میں کلمات کفر کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھاہے کہ محیط میں ہے وہ شخص جواپنی ذات کے کفر پر راضی ہوگیا وہ کافرہوگیا یعنی بالاجماع اور جوکوئی(باقی اگلے صفحہ پر)
#12017 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
کافرہوناچاہا اور مسلمان کومبتلائے کفرچاہنا رضابالکفر ہے اور رضابالکفر آپ ہی کفر علماء فرماتے ہیں ایسے متکلم کے پیچھے نمازجائزنہیں فتح القدیرمیں ہے :
قال صاحب المجتبی واماقول ابی یوسف لاتجوز الصلاۃ خلف المتکلم فیجوز ان یرید الذی قررہ ابوحنیفۃ حین رأی ابنہ حمادا ینا ظرفی الکلام فنہاہ فقال رأیتك تناظر فی الکلا م و تنہانی فقال کنا نناظر وکان علی رؤسنا الطیر مخافۃ ان یزل صاحبنا وانتم تناظرون وتریدون زلۃ صاحبکم ومن اراد زلۃ صاحبہ
صاحب مجتبی نے فرمایا امام ابویوسف کاقول کہ کلامی کے پیچھے نمازجائز نہیں تو ہوسکتا ہے ان کی مراد وہ ہو جس کو امام ابوحنیفہ نے مقرررکھا ہے کہ انہوں نے جب اپنے صاحبزادے حماد کو علم کلام میں مناظرہ کرتے ہوئے دیکھا تو اپنے بیٹے کو اس سے منع کیا بیـٹے نے عرض کی میں نے آپ کوعلم کلام میں مناظرہ کرتے دیکھا ہے اور مجھے آپ اس سے منع کر رہے ہیں اس پرآپ نے فرمایا ہم اس حال میں مناظرہ کرتے تھے گویاہمارے سروں پرپرندے ہیں

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
اختلف المشائخ ثم ذکرعن شیخ الاسلام ماحقہ ان یسطر علی الصدور وحاصلہ انہ انما یکون کفرا اذا کان یستحسنہ ثم قال) وقد عثرنا علی روایۃ ابی حنیفۃ ان الرضاء بکفر الغیر کفرمن غیر تفصیل اھ قلت وھی ھذہ الروایۃ التی ذکرفی المجتبی قال العلامۃ القاری بعد نقل مافی رسالۃ البدرالجواب ان روایۃ ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی اذا کانت مجملۃ اوعبارتہ مطلقۃ فلنا ان نفصلھا ونقیدھا علی مقتضی القواعد الحنفیۃ اھ واﷲ تعالی اعلم ۱۲منہ سلمہ ربہ (م)
غیر کے کفر پر راضی ہوا اس میں مشائخ کااختلاف ہے پھر وہاں شیخ الاسلام کے حوالے سے وہ لکھا جو سینوں پرلکھنے کے قابل ہیں اس کاحاصل یہ ہے کہ یہ کفر اس وقت ہے کہ جب اس نے اسے پسند کیاہو پھرکہا ہم امام ابوحنیفہ کی اس روایت پر مطلع ہیں جس میں ہے کہ غیر کے کفر پرراضی ہوناکفر ہے بغیرکسی فرق کے اھ میں کہتاہوں یہی وہ روایت ہے جو مجتبی میں مذکور ہے علامہ علی قاری نے رسالہ بدر کی عبارت نقل کرنے کے بعد کہا اس کاجواب یہ ہے کہ بیشك امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی روایت جب مجمل ہو یا اس کی عبارت مطلق ہوتو ہم کہتے ہیں ہم اس کی تفصیل کرتے ہیں اور قواعد احناف کے مقتضا کے مطابق اسے مقیدکرتے ہیں اھ واﷲ تعالی اعلم ۱۲منہ سلمہ ربہ۔ (ت)
حوالہ / References منح الروض شرح الفقہ الاکبر بحوالہ المحیط فصل فی الکفر مصطفی البابی مصر ص۱۸۰
#12018 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
فقد اراد کفرہ فھو قدکفر قبل صاحبہ فھذا ھو الخوض المنھی عنہ وھذا المتکلم لایجوز الاقتداء بہ انتھی۔
اس سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں ہماراساتھی پھسل نہ جائے لیکن تم اپنے ساتھی کوپھسلانے کاارادہ کرکے مناظرہ کرتے ہواور جوشخص اپنے ساتھی کوپھسلانے کاارادہ کرے اس نے اس کا کفرچاہا تو وہ اپنے ساتھی سے پہلے کفر کامرتکب ہوا پس ایساغور وخوض ممنوع ہے اور ایسے کلامی کے پیچھے نمازجائزنہیں انتہی(ت)
جب اس متکلم کے پیچھے نمازناجائز ہوئی جس کے انداز سے کفرغیر پررضا نکلتی ہے تو یہ صریح متعصبین جن کا اصل مقصود تکفیر مسلمین دن رات اسی میں ساعی رہیں اور جب تقریرا وتحریرا اس کی تصریحیں کرچکے اور مکابر ہرطرح اپنی ہی بات بالاچاہتاہے توقطعا ان کی خواہش یہی ہے کہ جہاں تك ممکن ہو مسلمان کافرٹھہریں اور شك نہیں کہ اپنے زعم باطل میں اس کی طرف کچھ راہ پائیں توخوش ہوجائیں اور جب بحمداﷲ مسلمانوں کاکفر سے محفوظ ہونا ثابت ہو غم وغصہ کھائیں تو ان کاحکم کس درجہ اشد ہوگا اوران کی اقتدا کیونکر روا واﷲ الھادی الی الطریق الھدی۔
دلیل پنجم
یہاں تك توان کے بدعت وفسق وغیرہما کی بناپر کلام تھا مگرایك امراور اشد واعظم ان کے طائفہ تالفہ سے صادر ہوتاہے جس کی بناپر ان کے نفس اسلام میں ہزاروں دقتیں ہیں یہاں تك کہ احادیث صریحہ صحیحہ حضورسیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم واقوال جماہیرفقہائے کرام رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہم سے ان کاصریح کافر ہونا اور نماز کا ان کے پیچھے محض باطل جانا نکلتاہے وہ کیایعنی ان کا تقلید کوشرك اور حنفیہ مالکیہ شافعیہ حنبلیہ عمہم اﷲ جمیعا بالطافہ العلیہ سب مقلدان ائمہ کو مشرکین کوبتانا کہ یہ صراحۃ مسلمانوں کوکافرکہنا ہے اور پھرایك کونہ دوکولاکھوں کروڑوں اور پھرآج ہی کل کے نہیں گیارہ سوبرس کے عامہ مومنین کوجن میں بڑے بڑے محبوبان حضرت عزت و اراکین امت واساطین ملت وحملہ شریعت وکملہ طریقت تھے رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین ان کے بانی مذہب کے مرجع ومقتدا اور پدرنسب وعلم واقتدا شاہ ولی اﷲ صاحب دہلوی رسالہ انصاف میں لکھتے ہیں :
بعد المأتین ظھر بینھم التمذھب للمجتھدین باعیانھم وقل من کان
دو صدی کے بعد مسلمانوں میں تقلید شخصی نے ظہورکیاکم کوئی رہاجو ایك امام معین کے مذہب پر
حوالہ / References فتح القدیر باب الامامۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۰۴
#12019 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
لایعتمد علی مذھب مجتھد بعینہ ۔
اعتماد نہ کرتاہو ۔ (ت)
امام عارف باﷲ سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی جن کی میزان وغیرہ تصانیف عالیہ سے امام العصر ودیگر کبرائے طائفہ نے جابجا اسناد کیا اسی میزان میں فرماتے ہیں :
یجب علی المقلد العمل بالارجح من القولین فی مذھبہ مادام لم یصل الی معرفۃ ھذہ المیزان من طریق الذوق و الکشف کما علیہ عمل الناس فی کل عصر بخلاف مااذا وصل الی مقام الذوق و رأی جمیع اقوال العلماء وبحور علومھم تنفجر من عین الشریعۃ الاولی تبتدیئ منھا وتنتھی الیھا فان مثل ھذا لایؤمر بالتعبد بمذھب معین لشھودہ تساوی المذاھب فی الاخذ من عین الشریعۃ اھ ملخصا
یعنی مقلد پرواجب ہے کہ خاص اسی بات پرعمل کرے جو اس کے مذہب میں راجح ٹھہری ہو ہرزمانے میں علماء کااسی پر عمل رہا ہے البتہ جو ولی اﷲ ذوق و معرفت کی راہ سے اس مقام کشف تك پہنچ جائے کہ شریعت مطہرہ کا پہلا چشمہ جو سب مذاہب ائمہ مجتہدین کاخزانہ ہے اسے نظرآنے لگے وہاں پہنچ کر وہ تمام اقوال علماء کومشاہدہ کرے گا کہ ان کے دریا اسی چشمے سے نکلتے اور اسی میں پھر آکرگرتے ہیں ایسے شخص پرتقلید شخصی لازم نہ کی جائے گی کہ وہ توآنکھوں دیکھ رہا ہے کہ سب مذاہب چشمہ اولی سے یکساں فیض لے رہے ہیں اھ ملخصا
یہاں سے ثابت کہ جوپایہ اجتہاد نہ رکھتاہو نہ کشف و ولایت کے اس رتبہ عظمی تك پہنچا اس پرتقلید امام معین قطعا واجب ہے اور اسی پرہرزمانے میں علماء کاعمل رہا یہاں تك امام حجۃ الاسلام محمد غزالی قدس سرہ العالی نے کتاب مستطاب کیمیائے سعادت میں فرمایا :
مخالفت کردن صاحب مذہب خویش نزدیك ہیچکس عـــہ
اپنے صاحب مذہب کی مخالفت کرناکسی کے نزدیک

عـــہ : اقول : وانما اراد الاجماع بعد تقرر المذاھب وظھور التمذھب للائمۃ باعیانھم اذ ھو الصحیح لااضافۃ بین الناس واصحاب
میں کہتاہوں ان کی مراد تقررمذاہب اور ظہورتقلید معین ائمہ کے بعد کا اجماع ہے کیونکہ یہی صحیح ہے عام لوگوں اور اصحاب مذاہب کے درمیان کوئی نسبت نہیں ہے۔ (باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References رسالہ انصاف مع ترجمہ کشاف مطبوعہ مجتبائی دہلی ص۵۹
المیزان الکبرٰی فصل فان قال قائل فھل یجب الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۱
#12020 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
روا نبود ۔
بھی جائز نہیں ۔ (ت)
سبحان اﷲ جب تقلید شخصی معاذاﷲ کفروشرك ٹھہری توتمہارے نزدیك یہ ہرعصر کے علما اور گیارہ سو برس کے عامہ مومنین معاذاﷲ سب کفارومشرکین ہوئے نہ سہی آخر اتناتو اجلی بدیہیات سے ہے جس کاانکار آفتاب کا انکار کہ صدہا برس سے لاکھوں اولیاء علماء محدثین فقہا عامہ اہلسنت واصحاب حق وہدی غاشیہ تقلید ائمہ اربعہ اپنے دوش ہمت پراٹھائے ہوئے ہیں جسے دیکھو کوئی حنفی کوئی شافعی کوئی مالکی کوئی حنبلی یہاں تك کہ فرقہ ناجیہ اہلسنت وجماعت ان چار مذہب میں منحصرہوگیا جیسا کہ اس کی نقل سیدعلامہ احمد مصری رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے شروع دلیل اول میں گزری اور قاضی ثناء اﷲ پانی پتی کہ معتمدین ومستندین طائفہ سے ہیں ۔ تفسیرمظہری میں لکھتے ہیں :
اھل السنۃ قدافترق بعد القرون الثلثۃ اوالاربعۃ علی اربعۃ مذاھب ولم یبق مذھب فی فروع المسائل سوی ھذہ الاربعۃ ۔
اہل سنت تین چار قرن کے بعد ان چارمذاہب پر منقسم ہوگئے اور فروع مسائل میں ان مذاہب اربعہ کے سوا کوئی مذہب باقی نہ رہا۔
طبقات حنفیہ وطبقات شافعیہ وغیرہما تصانیف علماء دیکھوگے تو معلوم ہوگا کہ ان چاروں مذہب کے مقلدین کیسے کیسے ائمہ ہدی واکابر محبوبان خداگزرے جنہوں نے ہمیشہ اسی کی ترویج میں دفتر لکھے یہ سب تو معاذاﷲ تمہارے نزدیك چنین وچناں ہوئے۔ جانے دوعمل نہ سہی قول تومانوگے ان جماعات کثیرہ علماء کو کیا جانوگے جنہوں نے تقلید شخصی کے حکم دئیے اور یہی ان کامذہب منقول ہوا امام مرشد الانام
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
المذاھب کمالایخفی وعدم الاعتداد فی دعوی الاتفاق بمن شذوندر وکثیر مشتھر کمالایخفی علی ذی بصر ۱۲ منہ (م)
جیسا کہ واضح ہے اور دعوی اتفاق میں شاذونادر کا اعتبارنہ کرنا کثیر ومشہور ہے جیسا کہ صاحب بصیرت پرمخفی نہیں ۱۲منہ (ت)
حوالہ / References کیمیائے سعادت اصل نہم امربمعروف ونہی ازمنکر مطبوعہ انتشارات گنجینہ تہران ، ایران ص ۳۹۵
تفسیر مظہری مسئلہ اذا صح الحدیث علی خلاف مذہبہ الخ مطبوعہ ادارہ اشاعت العلوم دہلی ۲ / ۶۴
#12021 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
محمدغزالی قدس سرہ العالی احیاء العلوم شریف میں فرماتے ہیں :
مخالفتہ للمقلد متفق علی کونہ منکرا بین المحصلین ۔
تمام منتہی فاضلوں کااجماع ہے کہ مقلد کا اپنے امام مذہب کی مخالفت کرناشنیع وواجب الانکارہے۔
شرح نقایہ میں کشف اصول امام بزدوی سے منقول :
من جعل الحق متعددا کالمعتزلۃ اثبت للعامی الخیار من کل مذھب مایھواہ ومن جعل واحدا کعلمائنا الزم للعامی اماما واحدا ۔
یعنی جن کے نزدیك مسائل نزاعیہ میں حق متعدد ہے کہ ایك شے جومثلا ایك مذہب میں حلال دوسرے میں حرام ہوتو وہ عنداﷲ حلال بھی ہے اور حرام بھی وہ توعامی کواختیار دیتے ہیں کہ ہرمذہب سے جوچاہے اخذکرلے یہ مذہب معتزلہ وغیرہم کاہے اور جوحق کو واحد مانتے ہیں وہ عامی پرامام معین کی تقلید واجب کرتے ہیں یہ مذہب ہمارے علماوغیرہم کاہے۔
علامہ زین بن نجیم مصری صاحب بحرالرائق واشباہ وغیرہما رسالہ کبائروصغائر میں فرماتے ہیں :
اما الکبائر فقالوا ھی بعد الکفر الزنا واللواطۃ وشرب الخمر ومخالفۃ المقلد حکم مقلدہ اھ مختصرا
یعنی کبیرہ گناہ علماء نے یوں گنائے کہ عیاذا باﷲ سب میں پہلے تو کفرہے پھر زنا واغلام وشراب خوری اور مقلد کا اپنے امام کی مخالفت کرنا اھ مختصرا۔
ملل و نحل میں ہے :
علماء الفریقین لم یجوزوا ان یأخذ العامی الحنفی الابمذھب ابی حنفیۃ والعامی الشفعوی الابمذھب الشافعی ۔
دونوں فریق کے علما یہ جائز نہیں رکھتے کہ عامی حنفی مذہب ابوحنیفہ یاعامی شافعی مذہب شافعی کے سوا دوسرے مذہب پرعمل کرے۔
شاہ ولی اﷲ عقدالجید میں لکھتے ہیں :
المرجح عند الفقہاء ان العامی المنتسب
فقہاء کے نزدیك ترجیح اسے ہے کہ عامی جو ایك مذہب
حوالہ / References احیاء العلوم ، الباب الثانی فی ارکان الامر الخ مطبوعہ مطبعۃ المشہد الحسینی القاہرہ مصر ۲ / ۳۶۶
جامع الرموز(شرح نقایہ) کتاب الکراہیۃ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۳ / ۳۲۷
الرسائل الفقہیہ لمؤلف الاشباہ مع الاشباہ الخ الرسالۃ الرابعۃ والثلاثون الخ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ / ۹۰۷ ، ۹۴
الملل والنحل حکم الاجتہاد والتقلید الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۰۵
#12022 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
الی مذھب لہ مذھب فلاتجوز لہ مخالفتہ ۔
کی طرف انتساب رکھتاہے وہ مذہب اس کاہوچکا اسے اس کاخلاف جائزنہیں ۔
اب فرمائیے تمام منتہی فاضل جن سے امام غزالی ناقل کہ ترك تقلید شخصی کومنکر وناروا بتاتے اکابرائمہ جن کے قول سے کشف کاشف کہ تقلید امام معین کوواجب ٹھہراتے مشائخ کرام جن کے صحاب کلام صاحب بحرمغترف کہ ترك تقلید شخصی کوگناہ کبیرہ کہتے علمائے فریقین وفقہائے عظام جن سے ملل ونحل وشاہ ولی اﷲ حاکی کہ تقلید معین کی مخالفت ناجائز رکھتے یہ سب تومعاذاﷲ تمہارے طورپرصریح کفار ومشرکین ٹھہرے اس سے بھی درگزرکرو ان ائمہ دین کی خدمات عالیہ میں کیااعتقاد ہے جنہوں نے خود اپنی تصانیف جلیلہ وکلمات جمیلہ میں وجوب تقلید معین وغیرہ ان باتوں کی صاف صریح تصریحیں فرمائیں جو تمہارے مذہب پر خالص کفروشرك ہیں ان سب کوتو نام بنام بتعیین اسم (خاك بدہان گستاخاں ) معاذاﷲ کافرومشرك کہئے گا۔ یہ موجزرسالہ کواطلاع اہل حق کے لئے ایك مختصر فتوی ہے جواپنے منصب یعنی اظہار حکم فقہی کوبنہج احسن اداکرچکا اور کرتاہے اس میں ان اقوال وافرہ ونصوص متکاثرہ کی گنجائش کہاں ۔ مگران شاء اﷲ العظیم توفیق ر بانی مساعدت فرمائے توفقیرایك جامع رسالہ اس باب میں ترتیب دینے والاہے جوان اقوال کثیرہ سے جملہ صالحہ کوایك نئے طرزپرجلوہ دے گا اور ان شاء اﷲ تعالی غیرمقلدین کے اصول مذہبی کوان کے مستندین ہی کے کلمات مستندہ سے ایك ایك کرکے مستاصل کرے گا۔ میں یہاں صرف ان ائمہ دین وعلمائے مستندین کے چنداسماء شمارکرتاہوں جوخاص اپنے ارشادات وتصریحات کے روسے مذہب غیرمقلدین پرکافرومشرك ٹھہرے والعیاذباﷲ رب العالمین۔ ان میں سے ہیں :
۱امام ابوبکراحمدبن اسحاق جوزجانی تلمیذالتلمیذ امام محمد ۲امام ابن السمعانی ۳امام کیاہراسی ۴ امام اجل امام الحرمین ۵امام محمدمحمد محمدغزالی ۶امام برہان الدین صاحب ہدایہ ۷ امام طاہربن احمدبن عبدالرشید بخاری صاحب خلاصہ ۸امام کمال الدین محمدبن الہمام ۹امام علی خواص ۱۰امام عبدالوہاب شعرانی ۱۱امام شیخ الاسلام زکریاانصاری ۱۲امام ابن حجرمکی ۱۳علامہ ابن کمال باشاصاحب ایضاح واصلاح ۱۴علامہ علی بن سلطان محمدقاری مکی ۱۵علامہ شمس الدین محمدشارح نقایہ ۱۶علامہ زین الدین مصری صاحب بحر ۱۷علامہ عمربن نجیم مصری صاحب نہر ۱۸علامہ محمدبن عبداﷲ غزی تمرتاشی صاحب تنویرالابصار ۱۹علامہ خیرالدین رملی صاحب فتاوی خیریہ ۲۰علامہ سیدی احمدحموی صاحب غمز ۲۱علامہ محمدبن علی دمشقی صاحب دروخزائن ۲۲علامہ عبدالباقی زرقانی شارح مواہب ۲۳ علامہ برہان الدین ابراہیم بن ابی بکر بن محمد بن حسین حسینی صاحب جواہر اخلاطی ۲۴ علامہ شیخ محقق
حوالہ / References عقدالجید ، باب پنجم اقسام مقلد مطبوعہ قرآن محل مقابل مولوی مسافرخانہ کراچی ، ص۱۵۸
#12023 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
مولینا عبدالحق محدث دہلوی ۲۵علامہ احمد شریف مصری طحطاوی ۲۶ علامہ آفندی امین الدین محمدشامی ۲۷صاحب منیہ ۲۸ صاحب سراجیہ ۲۹صاحب جواہر ۳۰صاحب مصفی ۳۱صاحب ادب المقال ۳۲ صاحب تتارخانیہ ۳۳ صاحب مجمع ۳۴صاحب کشف ۳۵مؤلفان علمگیریہ کہ باقرار مؤلف امداد المسلمین پانسوعلما تھے یہاں تك کہ۳۶ جناب شیخ مجدد الف ثانی شاہ ولی اﷲ ۳۷ شاہ عبدالعزیز صاحب ۳۸قاضی ثناء اﷲ پانی پتی حتی کہ خود۴۰ میاں نذیرحسین دہلوی اور ان کے اتباع ومقلدین مگریوں کہ فاتىهم الله من حیث لم یحتسبوا- تواﷲ کاحکم ان کے پاس آیاجہاں سے ان کا گمان بھی نہ تھا۔ ت والحمدﷲ رب العلمین۔
اور لطف یہ ہے کہ ان میں وہ بھی ہیں جن سے خود امام العصر ودیگرمتکلمین طائفہ نے براہ جہالت وتجاہل اسنادکیا اور ان کے اقوال باہرہ وکلمات قاہرہ کوجو اصول طائفہ کے صریح بیخ کن تھے دامن عیاری میں چھپالیا میں ان شاء اﷲ تعالی اس رسالہ میں یہ بھی ثابت کروں گا کہ علمائے سلف سے ان کے استناد محض مغالطہ وتلبیس عوام ہیں ان کے مذہب کوان سے اصلا علاقہ نہیں بلکہ خود ہی اقوال جنہیں اپنی سند ٹھہراتے ہیں ان کے اصول مذہبب کی بنیاد گراتے ہیں مگرحضرات کوموافق ومخالف کی تمیزنہیں یاہے توقصدا اغوائے جہال کوسبزباغ دکھاتے ہیں ۔ میں بحول اﷲ تعالی اس رسالے میں یہ بھی تنبیہ کروں گا کہ اپنے مباحثہ میں ان حضرات کا تقلیدشخصی کے وجوب و عدم وجوب کی بحث چھیڑ دینا نراکید وفریب وتلبیس بدزیب ہے کہ اہل تعیین واصحاب تخییر دونوں فریق جوازتعین وعدم حرج کوتسلیم کئے ہوئے ہیں جن کے نزدیك سرے سے تقلید شرك وکفر ان کے مسلك سے اسے کیاتعلق وہ امرابتدائی یعنی عدم شرك وجواز کوطے کرلیں اس کے بعد آگے چلیں یہ چالاك لوگ اپنے لئے راہ آسان کرنے کوادھر سے ادھر طفرہ کرجاتے ہیں اور ہماری طرف کے ذی علم ارحناء للعنان اس میں گفتگو کرنے لگتے ہیں حالانکہ گربہ کشتن روزاول باید ابتداء ان ہوشیاروں کی راہ روکاچاہئے کہ پہلے شرك پھر حرمت سے جان بچالیجئے اس کے بعد آگے قصد کیجئے۔ فریقین کے اقوال کے اقوال ان حضرات کے رد میں یك دل ویك زبان اور طرفین کے علماان کے زعم پر معاذاﷲ مشرك وگمراہ ہوتے ہیں یکساں بلکہ میں بفضلہ تعالی ثابت کروں گا کہ اقوال تخییر ان کی ردوتکذیب میں اتم واکمل ہیں پھر ان سے استناد یا ان کاتذکرہ عجب تماشاہے میں بعونہ یہ بھی واضح کروں گا کہ ان حضرات کو ابھی خوداپنا ہی مسلك منقح نہیں ہوا ہے متناقض کلام متخالف احکام لکھتے اورجہاں جیسا موقع پاتے ہیں ویساہی بیان کرجاتے ہیں دعوے میں کچھ دلیل میں کچھ اعتراض میں کچھ جواب میں کچھ کبھی ایك پائے برقرار نہیں کرتے اور بیشك تمام اہل بدعت کایہی وتیرہ ہے خصوصا جو
حوالہ / References القرآن ۵۹ / ۲
#12024 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
اس قدرنوپیدا ہوکہ آخرجمتے جمتے ایك زمانہ چاہئے۔ میں یہاں اصل نزاع کی بحث وتحقیق میں نہیں ان کے اقتدا کاحکم واضح کرناہے لہذا اس کی طرف رجوع مناسب۔
بالجملہ اصلا محل شبہ نہیں ان صاحبوں نے تقلید کوشرك وکفر اورمقلدین کوکافر ومشرك کہہ کرلاکھوں کروڑوں علماء واولیاء وصلحاء واصفیابلکہ امت مرحومہ محمدیہ علی مولیہا وعلیہ الصلوۃ والتحیۃ کے دس حصوں سے نو۹ کو علی الاعلان کافرومشرك ٹھہرایا وہی علامہ شامی قدس سرہ السامی کا ان کے اکا بر کی نسبت ارشادکہ اپنے طائفہ تالفہ کے سواتمام عالم کومشرك کہتے اور جوشخص ایك مسلمان کوبھی کافر کہے ظواہرحدیث صحیحہ کی بناپر وہ خود کافرہے اور طرفہ یہ کہ اس فرقہ ظاہریہ کوظاہراحادیث ہی پرعمل کابڑا دعوی ہے امام مالك واحمد وبخاری ومسلم وابوداؤد وترمذی حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی واللفظ لمسلم (الفاظ مسلم شریف کے ہیں ۔ ت) حضوراقدس سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ایما امرئ قال لاخیہ کافر فقدباء بھا احدھما ان کان کما قال والارجعت علیہ ۔
یعنی جو شخص کلمہ گوکوکافرکہے توان دونوں میں ایك پریہ بلاضرور پڑے گی اگرجسے کہا وہ حقیقۃ کافرتھا جب توخیر ورنہ یہ کلمہ اسی کہنے والے پر پلٹے گا۔
صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی حضورسیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اذا قال الرجل لاخیہ یاکافر فقد باء بہ احدھما ۔
جب کوئی شخص اپنے بھائی مسلمان کو “ یا کافر “ کہے تو ان دونوں میں ایك کارجوع اس طرف بیشك ہو۔
امام احمد وبخاری ومسلم حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی حضورسیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لیس من دعا رجلا بالکفر اوقال عدواﷲ ولیس کذلك الاحار علیہ ولایرمی رجل رجلا بالفسق ولایرمیہ بالکفرالا
جوشخص کسی کوکافر یادشمن خداکہے اوروہ ایسانہ ہو یہ کہنا اسی پرپلٹ آئے اور کوئی شخص کسی کو فسق یاکفر کاطعن نہ کرے گا مگریہ کہ وہ اسی پرالٹا پھرے گا اگرجس پر
حوالہ / References صحیح مسلم باب بیان حال ایمان الخ مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۵۷
صحیح البخاری کتاب الادب ، باب من اکفر اخاہ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۹۰۱
صحیح مسلم باب بیان حال ایمان من قال لاخیہ المسلم یاکافر مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۵۷
#12025 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
ارتدت علیہ ان لم یکن صاحبہ کذلک ۔ ھذا مختصرا۔
طعن کیاتھا ایسانہ ہوا۔ یہ اختصارا ہے۔
امام ابن حبان اپنی صحیح مسمی بالتقاسیم والانواع میں بسند صحیح حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی حضورسیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
مااکفر رجل رجلا قط الاباء بھا احدھما ان کان کافرا والاکفر بتکفیرہ ۔
یعنی کبھی ایسانہ ہوا کہ ایك شخص دوسرے کی تکفیرکرے اور وہ دونوں اس سے نجات پاجائیں بلکہ ان میں ایك پرضرور گرے گی اگروہ کافرتھا تویہ بچ گیا ورنہ اسے کافر کہنے سے یہ خود کافرہوا۔
علماء فرماتے ہیں یوں ہی کسی کومشرك یازندیق یاملحد یامنافق کہنا علامہ عارف باﷲ سیدی عبدالغنی بن اسمعیل نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقہ ندیہ میں زیرحدیث ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :
من دعا رجلا بالکفر باﷲ تعالی اوالشرك بہ وکذلك بالزندقۃ والاحاد والنفاق الکفری اھ ملخصا۔
کسی شخص کے بارے میں کہنا کہ اس نے اﷲ تعالی کے ساتھ کفرکیا یاشرك کیا اسی طرح زندیق الحاد اورنفاق کفری کی نسبت کرکے پکارا(توخود کافرہوجائے گا)اھ تلخیصا(ت)
اور زیرحدیث ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما فرمایا : کذلك یامشرك ونحوہ (اسی طرح اسے مشرك وغیرہ کہاتومشرك ہوجائے گا۔ ت) اقول : وباﷲ التوفیق یہ معنی خود انہیں احادیث سے ثابت کہ ہرمشرك عدواﷲ ہے اور عدواﷲ کہنے کا حکم خود حدیث میں مصرح اور حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے تصریح فرمائی کہ فاسق کہنا بھی پلٹتاہے تو مشرك تو بہت بدتر بلکہ اخبث اقسام کفار سے ہے توعموما یاکافر میں بھی دخول اولی رکھتاہے والعیاذباﷲ سبحنہ وتعالی وجہ اس پلٹنے کی جس طرح ارباب قلوب نے افادہ فرمائی یہ ہے کہ مسلمان کاحال مثل آئینہ کے ہے ع
ترك وہند درمن آں بیندکہ اوست
(ترك اور ہند مجھ میں وہی دیکھتاہے جو اس میں ہے)
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الادب ، باب ماینھی عن السباب واللعن مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۳ ۸۹
الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ، من اکفر انسانًا الخ حدیث ۲۴۸ مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ / ۴۱۰
حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ النوع الرابع من الانواع الستین الکذب ، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ، ۲ / ۲۱۱
حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ العاشر الانواع الخ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۲۳۶
#12026 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
المرء یقیس علی نفسہ (انسان دوسرے کواپنے اوپرقیاس کرتاہے۔ ت) جب اس نے اسے کافریامشرك یافاسق کہا اور وہ ان عیوب سے پاك تھا توحقیقۃ یہ اوصاف ذمیمہ اسی کہنے والے میں تھے جن کاعکس اس آئینہ الہی میں نظرآیا اور یہ اپنی سفاہت سے اس کریہ بدنما شکل کو آئینہ تاباں کی صورت سمجھاحالانکہ دامن آئینہ اس لوث وغبار سے صاف ومنزہ ہے۔ یہ تو حدیث تھی جوبحکم یقولون من خیر قول البریۃ (وہ ساری مخلوق سے بہترکاقول کہتے ہیں ۔ ت) ان کا زبانی وظیفہ ہے اور دل کاوہی حال جوحدیث میں ارشاد فرمایا : لایجاوز تراقیھم (ان کے حلق سے (اسلام) تجاوزنہیں کرے گا۔ ت)
اب فقہ کی طرف چلئے بہت اکابر ائمہ مثل امام ابوبکراعمش وغیرہ عامہ علمائے بلخ و بعض ائمہ بخارا رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہم احادیث مذکورہ پرنظرفرماکر اس حکم کویوں ہی مطلق رکھتے اور مسلمان کی تکفیر کو علی الاطلاق موجب کفرجانتے ہیں ۔ سیدی اسمعیل نابلسی شرح درر وغرر مولی خسرو میں فرماتے ہیں :
لوقال للمسلم کافر کان الفقیہ ابوبکر الاعمش یقول کفر وقال غیرہ من مشایخ بلخ لایکفر واتفقت ھذہ المسئلۃ ببخارا فاجاب بعض ائمۃ بخارا انہ یکفر فرجع الجواب الی بلخ انہ یکفر فمن افتی بخلاف قول الفقیہ ابی بکر رجع الی قولہ الخ ملخصا
اگرکسی نے مسلمان کوکافرکہا توفقیہ ابوبکر اعمش اسے کافر قراردیتے اور مشائخ بلخ میں سے دوسرے علماء کافرنہیں کہتے۔ اتفاقا یہ مسئلہ بخارا میں پیش آیا اور بعض ائمہ بخارا نے ایسے شخص کوکافر قراردیا تویہ جواب واپس بلخ گیا (یعنی کافرکہاجائے گا) تو جس جس فقیہ نے ابوبکراعمش کے خلاف فتوی دیاتھا انہوں نے ان کے قول کی طرف رجوع کرلیااھ ملخصا(ت)
رسالہ علامہ بدررشید پھر شرح فقہ اکبر ملاعلی قاری میں ہے :
فرجع الکل الی فتاوی ابی بکر البلخی وقالوا کفر الشاتم ۔
تمام علماء نے ابوبکر بلخی کے اس فتوی کی طرف رجوع کرتے ہوئے اس طرح گالی دینے والے کو کافرقراردیا۔ (ت)
احکام میں بعد عبارت مذکورہ کے ہے :
وینبغی ان لایکفر علی قول ابی اللیث وبعض ائمۃ بخارا ۔
ابواللیث اور بعض ائمہ بخارا کے قول پرمناسب یہ ہے کہ کافرنہ کہاجائے۔ (ت)
حوالہ / References حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ النوع الرابع من الانواع الستین الکذب مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۲۱۲
شرح فقہ اکبر لملاعلی قاری فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص ۱۸۱
حدیقہ ندیہ شرح طریہ محمدیہ النوع الرابع من الانواع الستین الکذب مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۲۱۲
#12027 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
اورمذہب صحیح ومعتمد ومرجح فقہائے کرام میں تفصیل ہے کہ اگربطورسب ودشنام بے اعتقاد تکفیرکہا تو کافر نہ ہوگاجیسے بیباکوں بے قیدوں کوخربے لجام وسگ بے زنجیر کہیں کہ معنی حقیقی مرادنہیں ورنہ کافرہوجائے گا۔ فتاوی ذخیرہ و فصول عمادی و شرح درر و غرر و شرح نقایہ برجندی و شرح نقایہ قہستانی و نہرالفائق و شرح وہبانیہ علامہ عبدالبر و درمختار و حدیقہ ندیہ و جواہر اخلاطی و فتاوی عالمگیری و ردالمحتار وغیرہا کتب معتمدہ میں تصریح فرمائی کہ یہی مذہب
مختار ومختار للفتوی ومفتی بہ ہے۔ علمافرماتے ہیں جب اس نے اپنے اعتقاد میں اسے کافرسمجھا اور وہ کافر نہیں بلکہ مسلمان ہے تو اس نے دین اسلام کوکفرٹھہرایا اور جوایساکہے وہ کافرہے۔
اقول : وباﷲ التوفیق اس دلیل کی علی حسب مرامھم (ان کے مقاصد کے مطابق۔ ت) یہ ہے کہ کافرنہیں مگروہ جس کادین کفرہے اور کوئی آدمی دین سے خالی نہیں نہ ایك شخص کے ایك وقت میں دو دین ہوسکیں ۔
فان الکفر والاسلام علی طرفی النقیض بالنسبۃ الی الانسان لایجتعمان ابدا ولایرتفعان قال تعالی اما شاكرا و اما كفورا(۳) وقال تعالی
ما جعل الله لرجل من قلبین فی جوفه- ۔
کیونکہ کفراور اسلام ایك انسان کی بنسبت نقیض کی دوطرفوں پر ہیں نہ تویہ ہمیشہ جمع ہوسکتے ہیں اور نہ ہی مرتفع۔
اﷲ تعالی کا ارشادگرامی ہے : یاوہ شاکرہوگا یاکافر۔ دوسرے مقام پرفرمایا : اور ہم نے ایك آدمی کے سینے میں دو دل نہیں بنائے۔ (ت)
اب جویہ شخص مثلازید مؤمن کوکافرکہتاہے اس کے یہ معنی کہ اس کادین کفرہے اور زید واقع میں بیشك ایك دین سے متصف ہے جس کے ساتھ دوسرادین ہونہیں سکتا تولاجرم یہ خاص اسی دین کوکفربتارہا ہے جس سے زید اتصاف رکھتا ہے اور وہ دین نہیں مگراسلام توبالضرورۃ اس نے دین اسلام کوکفرٹھہرایا اور جودین اسلام کو کفرقراردے قطعا کافر۔ اب عبارات علماء سنئے ہندیہ میں ہے :
المختار للفتوی فی جنس ھذہ المسائل ان القائل بمثل ھذہ المقالات ان کان اراد الشتم ولایعتقدہ کافر ا لایکفرو ان کان یعتقدہ کافرا فخاطبہ بھذا بناء علی
اس قسم کے مسائل میں فتوی کے لئے مختاریہ ہے کہ ان اقوال کاقائل اگرمراد گالی لیتا ہے اور اسے اعتقادا کافرنہیں گردانتا تو وہ کافرنہیں اور اگراسے اعتقادا کافرگردانتے ہوئے اسے کافرکہتاہے توپھریہ کفرہوگا کذافی
حوالہ / References القرآن ۷۶ / ۳
القرآن ۳۳ / ۴
#12028 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
اعتقادہ انہ کافر یکفر کذا فی الذخیرۃ انتھی زادالشامی عن النھر عن الذخیرۃ لانہ لما اعتقد المسلم کافرا فقد اعتقد دین الاسلام کفرا ۔
الذخیرۃ انتہی شامی نے نہر کے حوالے سے ذخیرہ سے یہ اضافہ نقل کیا ہے کیونکہ وہ ایك مسلمان کوکافرمان رہاہے گویااس نے دین اسلام کوکفرگردانا ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
عزرالشاتم بیاکافر وھل یکفر ان اعتقد المسلم کافرا نعم والالابہ یفتی ۔
“ یا کافر “ کے ساتھ گالی دینے والے پرتعزیرنافذ کی جائے گی کیاوہ شخص کافرہوگا جومسلمان کو کافرگردانتاہے ہاں وہ کافرہوگا اوراگرکافرنہیں گردانتا تو کافرنہیں اسی پرفتوی ہے(ت)
علامہ ابراہیم اخلاطی نے فرمایا :
المختار للفتوی فی جنس ھذہ المسائل ان القائل اذا اراد بہ الشتم لایکفرو اذا اعتقد کفرالمخاطب یکفر لانہ لما اعتقد المسلم کافرا فقد اعتقد ان دین الاسلام کفرومن اعتقد ھذا فھو کافر ۔
ان مسائل میں مختار اورمفتی بہ یہ ہے کہ اگر قائل نے اس سے گالی مراد لی توکافرنہیں ہوگا اور جب مخاطب کو کافرجانے گا تو کافر ہوجائے گاکیونکہ جب اس نے ایك مسلمان کوکافرجانا توگویا اس نے دین اسلام کوکفرجانا اور جوایسی بات کااعتقاد رکھے وہ کافر ہوتا ہے۔ (ت)
علامہ عبدالعلی نے شرح مختصر الوقایہ میں فرمایا :
قداختلف فی کفر من ینسب مسلما الی الکفر ففی الفصول العمادیۃ اذا قال لغیرہ یاکافر کان الفقیہ ابوبکر الاعمش یقول یکفر القائل وقال غیرہ لایکفر
اس شخص کے کفرکے بارے میں اختلاف ہے جس نے کسی مسلمان کی کفرکی طرف نسبت کی فصول عمادیہ میں ہے جب کسی نے غیرکو “ یا کافر “ کہاتو فقیہ ابوبکر اعمش ایسے شخص کوکافر جانتے لیکن دیگر علماء کافر نہیں جانتے
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ الباب التاسع فی احکام المرتدین مطلب موجبات الکفر الخ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۲۷۸
ردالمحتار باب التعزیر مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۳ / ۲۰۱
درمختار ، باب التعزیر ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۳۲۷
جواہراخلاطی کتاب السیر ، فصل فی الجہاد (قلمی نسخہ) ص۶۹
#12029 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
والمختار للفتوی فی جنس ھذہ المسائل الخ ذکرمثل مامر عن الذخیرۃ بنقل الھندیۃ والنھر معا سواء بسواء۔
اور مختار مفتی بہ ایسے مسائل میں یہ ہے الخ گزشتہ عبارت کے مطابق ذخیرہ سے ہندیہ اور نہر دونوں کے حوالے سے ذکرکیاہے۔ (ت)
علامہ شمس الدین محمد نے جامع الرموز میں فرمایا :
المختار انہ لواعتقد ھذا الخطاب شتمالم یکفرولواعتقد المخاطب کافراکفر لانہ اعتقد الاسلام کفراکما فی العمادی ومافی المواقف انہ لم یکفر بالاجماع ارید بہ اجماع المتکلمین ۔
مختار یہ ہے کہ اگر اس خطاب سے گالی کااعتقاد رکھتا ہے توکفرنہیں اور اگرمخاطب کوکافر جانتا ہے توکفرہوگا کیونکہ اس صورت میں اس نے اسلام کو کفرجانا ہے جیسا کہ عمادی میں ہے۔ اور مواقف میں جوآیا ہے کہ وہ بالاجماع کافرنہیں تو اس سے اجماع متکلمین مرادہے۔ (ت)
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر میں ہے :
قذف مسلما بیاکافر واراد الشتم ولایعتقدہ کفرا فانہ یعزر ولایکفر ولواعتقد المخاطب کافراکفرلانہ اعتقد الاسلام کفرا ۔
اگرکسی نے کسی مسلمان کو “ یا کافر “ کہہ کرتہمت لگائی اور مراد گالی لی اور اسے کافرنہ جانا توایسی صورت میں اس پرتعزیرنافذکی جائے گی مگرکافرنہ ہوگا اور اگر مخاطب کوکافرجاناتو کافرہوجائے گا کیونکہ اس نے اسلام کوکفرجانا۔ (ت)
علامہ عبدالغنی شرح طریقہ محمدیہ میں احکام سے ناقل :
المختارللفتوی(فذکر عین مامر عن البرجندی و زاد) ومن اعتقد ان دین الاسلام کفرکفر۔
مختارللفتوی یہ ہے (پھربعینہ وہی ذکرکیا ہے جو برجندی سے گزرا ہے اور یہ اضافہ کیا) اور جس کایہ اعتقاد ہو کہ دین اسلام کفر ہے وہ کافر ہوگیا۔ (ت)
حوالہ / References شرح نقایہ برجندی کتاب الحدود مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۴ / ۶۸
جامع الرموز ، فصل من قذف ، مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۴ / ۵۳۵
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر فصل فی التعزیر مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۱۰
حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ النوع الرابع من الانواع الستین الکذب مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۲۱۲
#12030 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
اس مذہب مفتی بہ پربھی اس طائفہ تالفہ کوسخت دقت کہ یہ قطعا اپنے اعتقاد سے مسلمانوں کوکافر ومشرك کہتے اور اپنی تصانیف میں لکھتے اور اس پرفتوے دیتے ہیں توباتفاق ہردومذہب ان کاکافر ہونالازم اور ان کے پیچھے نمازایسی جیسے کسی یہودی اور نصرانی یامجوسی یاہندو کے پیچھے ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم سبحن اﷲ کہ کہ کرد کہ نیافت چاہ کن راچاہ درراہ مسلمانوں کوناحق مشرك کہاتھا احادیث صحیحہ ومذاہب ائمہ کرام وفقہاء عظام پرخود انہیں کے ایمان کے لالے پڑگئے
دیدی کہ خون ناحق پروانہ شمع را چنداں اماں نداد کہ شب راسحر کند
ماذا اخاضك یامغرور فی الخطر حتی ھلکت فلیت النمل لم تطر
(تونے دیکھا کہ پروانہ کے خون ناحق نے شمع کو اس طرح اماں نہیں دی کہ وہ رات کو سحرکردے
اے مغرور ! کس چیزنے تجھے خطرے میں ڈال دیاحتی کہ توہلاك ہواکاش چیونٹی نہ اڑتی!)
مگرحاش ﷲ ہم پھربھی دامن احتیاط ہاتھ سے نہ دیں گے اوریہ ہزار ہمیں جوچاہیں کہیں ہم زنہار ان کوکفار نہ کہیں گے ہاں ہاں یوں کہتے ہیں اور خداو رسول کے حضور کہیں یہ لوگ آثم ہیں خاطی ہیں ظالم ہیں بدعتی ہیں ضال ہیں مضل ہیں غوی ہیں مبطل ہیں مگرہیہات کافرنہیں مشرك نہیں اتنے بد راہ نہیں اپنی جانوں کے دشمن ہیں عدواﷲ نہیں ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
کفوا عن اھل لاالہ الا اﷲ لاتکفروھم بذنب فمن اکفر اھل لاالہ الااﷲ فھو الی الکفر اقرب ۔ اخرجہ الطبرانی فی الکبیر بسند حسن عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما۔
یعنی لا الہ الا اﷲ کہنے والوں کوکسی گناہ پرکافرنہ کہو جو لاالہ الا اﷲ کہنے والے کوکافرکہے وہ خودکافر سے نزدیك تر ہے۔ اسے طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے سندحسن کے ساتھ روایت کیاہے۔
اور مروی کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
ثلث من اصل الایمان الکف عمن قال لاالہ الااﷲ ولاتکفرہ بذنب ولاتخرجہ من الاسلام بعمل الحدیث۔ اخرجہ
یعنی اصل ایمان سے ہے یہ بات کہ لا الہ الا اﷲ کہنے والے سے زبان روکی جائے اسے کسی گناہ کے سبب کافر نہ کہیں اور کسی عمل پردائرہ اسلام سے خارج نہ بتائیں
حوالہ / References المعجم الکبیر مروی ازعبداﷲ ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۱۲ / ۲۷۲
سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب الغزو مع ائمۃ الجور مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۳۴۳
#12031 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
ابوداؤد عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔
الحدیث۔ اسے ابوداؤد نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔
اور وارد کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
الاسلام یعلوولایعلی اخرجہ الدار قطنی و البیھقی والضیاء عن عائد بن عمروالمزنی رضی اﷲ تعالی عنہ۔
اسلام غالب ہے مغلوب نہیں ۔ اسے دارقطنی بیہقی اور ضیاء مقدسی نے حضرت عائدبن عمر والمزنی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔
اور مذکور کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
لاتکفروا احدا من اھل القبلۃ ۔ اخرجہ العقیلی عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالی عنہ۔
اہل قبلہ سے کسی کوکافرنہ کہو اسے عقیلی نے حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔
ہمیں اپنے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی یہ حدیثیں اور اپنے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کاارشاد :
ولانکفر احدا من اھل القبلۃ ۔
اہل قبلہ سے کسی کوہم کافرنہیں کہتے۔ (ت)
اور اپنے علمائے محققین کافرمانا لایخرج الانسان من الاسلام الاجحود ما ادخلہ فیہ (انسان کواسلام سے کوئی چیزخارج نہیں کرسکتی مگراس شئی کاانکارجس نے اسلام میں داخل کیاتھا۔ ت) یادرہے اور جب تك تاویل وتوجیہ کی سب قابل احتمال ضعیف راہیں بھی بندنہ ہوجائیں مدعی اسلام کی تکفیر سے گریز چاہئے پھران چاروں حدیثوں میں بھی مثل احادیث اربعہ سا بقہ صلاح ودیانت طائفہ کے لئے پورامرثیہ اور انہیں سے ظاہرکہ یہ مدعیان عمل بالحدیث کہاں تك ہوائے نفس کوپالتے اور اس کے آگے کیسی کیسی احادیث کوپس پشت ڈالتے ہیں ھذا
واقول : یظھر للعبد الضعیف غفر اﷲ تعالی لہ ان ھھنا فی کلمات العلماء اطلاقا فی موضع التقیید کماھو داب کثیر من المصنفین فی غیرمامقام وانما محل الاکفار باکفار المسلم اذاکان ذلک
میں کہتاہوں عبدضعیف اﷲ تعالی اس کی بخشش فرمائے پریہ بات واضح ہوئی ہے کہ یہاں مقام تقیید میں عبارات علماء میں اطلاق ہے جیسا کہ بہت سے مقام پراکثر مصنفین کایہی طریقہ دیکھاگیاہے کسی کوکسی مسلمان کے کافر قراردینے پر اس وقت
حوالہ / References سنن الدارقطنی باب المہر مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان ۲ / ۲۵۲ ، صحیح البخاری کتاب الجنائز ، باب اذا اسلم الصبی الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۸۰
کنزالعمال بحوالہ (طس عن عائشہ) حدیث ۱۰۷۸ مطبوعہ مکتبہ التراث الاسلامی ۱ / ۲۱۵
شرح فقہ اکبر عدم جواز تکفیراہل القبلۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۱۵۵
#12032 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
لاعن شبھۃ او تأویل والا فلا فانہ مسلم بظاھرہ ولم نؤمر بشق القلوب و التطلع الی اماکن الغیوب ولم نعثر منہ علی انکار شیئ من ضروریات الدین فکیف یھجم علی نظیرماھجم علیہ ذلك السفیہ ھذا ھو التحقیق عند الفقھاء الکرام ایضا یذعن ذلك من احاط بکلامھم واطلع علی مرامھم رحمۃ اﷲ تعالی علیھم اجمعین الاتری ان الخوارج خذلھم اﷲ تعالی قداکفروا امیرالمؤمنین ومولی المسلمین علیا رضی اﷲ تعالی عنہ ثم ھم عندنا لایکفرون کما نص علیہ فی الدرالمختار والبحر الرائق و ردالمحتار وغیرھا من معتبرات الاسفار واماما مرمن تقریرالدلیل علی التکفیر فانت تعلم ان لازم المذھب لیس بمذھب واما الاحادیث فمؤلۃ عند المحققین کما ذکرہ الشراح الکرام اقول : ومن ادل دلیل علیہ قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی الحدیث المار فھو الی الکفر اقرب فلم یسمہ کافراو انما قربہ الی الکفر لان الاجتراء علی اﷲ تعالی بمثل ذلك قدیکون یرید الکفروالعیاذ باﷲ رب العلمین ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
کافرقرار دیاجاسکتاہے جب اس میں کوئی تاویل وشبہ نہ ہو ورنہ اگرایك وہاں شبہ ہوسکتاہو تو کافر نہیں ہوگا کیونکہ جب وہ بظاہر مسلمان ہے توہم دل پھاڑکر دیکھنے اور امورغیبیہ پرمطلع ہونے کے پابند نہیں او رنہ ہی ہم اس کے کسی ایسے عمل پرمطلع ہوئے ہیں جوضروریات دین کے انکارمیں سے ہو اور ہم اس طرح اس پرحملہ آور کیسے ہوسکتے ہیں جس طرح وہ بیوقوف کسی دوسرے پر ہواہے فقہاء کرام کی یہی تحقیق ہے نیز ہراس شخص کو بھی اس بات کااذعان حاصل ہوگا جس نے فقہاء رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہم اجمعین کے کلام کااحاطہ کیااور ان کے مدعا سے آگاہ ہواہو کیا آپ نہیں جانتے کہ خوارج (اﷲ انہیں رسواکرے) نے امیرالمومنین مولائے مسلمین حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کوکافرقراردیا پھر وہ ہمارے نزدیك کافر نہیں جیسا کہ اس پر درمختار بحرالرائق ردالمحتار اور دیگر معتبرکتب میں تصریح ہے اور جو تکفیر پرتقریر دلیل گزری ہے آپ جانتے ہیں لازم مذہب مذہب نہیں ہوتا رہامعاملہ احادیث کاتو وہ محققین کے ہاں مؤول ہیں اپنے ظاہر پرنہیں جیسا کہ شارحین کرام نے ذکرکیاہے اقول : (میں کہتاہوں ) سب سے قوی دلیل نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کاگزشتہ ارشادگرامی ہے کہ وہ کفر کے زیادہ قریب ہے آپ نے اسے کافرنہیں فرمایا قریب کفرفرمانے کی وجہ یہ ہے کہ ایساعمل اﷲ تعالی کے سامنے جرأت ودلیری ہے کیونکہ ان جیسے الفاظ سے بعض اوقات کفرمرادہوتاہے رب العلمین اپنی پناہ عطافرمائے(ت)
#12033 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
خیرتاہم اس قدر میں کلام نہیں کہ یہ حضرات غیرمقلدین وسائر اخلاف طوائف نجدیہ مسلمانوں کوناحق کافر ومشرك ٹھہراکر ہزارہا اکابرائمہ کے طورپرکافر ہوگئے اس قدر مصیبت ان پرکیاکم ہے والعیاذباﷲ سبحنہ وتعالی علامہ ابن حجر مکی اعلام بقواطع الاسلام میں فرماتے ہیں :
انہ یصیر مرتدا علی قول جماعۃ وکفی بھذا خسار اوتفریطا ۔
ایك جماعت کے قول کے مطا بق یہ مرتد ہوگیا اور یہ خسارے اور کمی میں کافی ہے(ت)
توبحکم شرع ان پرتوبہ فرض اور تجدیدایمان لازم اس کے بعد اپنی عورتوں سے نکاح جدیدکریں ۔
فی الدر المختار عن شرح الوھبانیۃ للعلامۃ حسن الشرنبلالی مایکون کفرا اتفاقا یبطل العمل والنکاح فاولادہ اولاد زنی ومافیہ خلاف یؤمر بالاستغفار والتوبۃ وتجدید النکاح ۔
درمختارمیں علامہ شرنبلالی کی شرح الوہبانیہ کے حوالے سے ہے جس سے بالاتفاق کفرلازم آئے اس کی وجہ سے ہرعمل باطل اسی طرح نکاح باطل اور اس کی اولاد زناکی اولاد ہوگی اور جس کے کافر ہونے میں اختلاف ہو اس پراستغفار توبہ اور تجدید نکاح کاحکم کیاجائے۔ (ت)
اہلسنت کوچاہئے ان سے بہت پرہیز رکھیں ان کے معاملات میں شریك نہ ہوں اپنے معاملات میں انہیں شریك نہ کریں ہم اوپراحادیث نقل کرآئے کہ اہل بدعت بلکہ فساق کی صحبت ومخالطت سے ممانعت آئی ہے اور بیشك بدمذہب آگ ہیں اور صحبت مؤثراور طبیعتیں سراقہ اورقلوب منقلب حضورسیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
انما مثل الجلیس الصالح وجلیس السوء کحامل المسك ونافخ الکیر فحامل المسك اما ان یحذیك واما ان تبتاع منہ واما ان تجدمنہ ریحا طیبۃ ونافخ الکیر اما ان یحرق ثیابك واما ان تجدمنہ ریحا خبیثۃ
نیك ہم نشین اور بدجلیس کی مثال یونہی ہے جیسے ایك کے پاس مشك ہے اور دوسرا دھونکنی دھونکتاہے مشك والا یاتوتجھے مشك ہبہ کرے گا یاتو اس سے خریدے گا اور کچھ نہ ہوتو خوشبو توآئے گی اور وہ دوسرا یا تیرے کپڑے جلادے گا یاتو اس سے بدبو
حوالہ / References اعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ مطبوعہ مکتبہ حقیقۃ استنبول ترکی ص۳۶۲
درمختار باب المرتد مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵۹
صحیح البخاری کتاب الذبائح ، باب المسك مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۸۳۰ ، صحیح مسلم کتاب البر ، باب استجاب الخ مطبوعہ نورمحمد اصح الطابع کراچی ۲ / ۳۳۰
#12034 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
رواہ الشیخان عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ۔
پائے گا۔ اسے بخاری ومسلم نے حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔ (ت)
انس رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث میں ہے حضورسیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
مثل جلیس السوء کمثل صاحب الکیران لم یصبك من سوادہ اصابك من دخانہ ۔ رواہ عنہ ابوداودوالنسائی
یعنی بدکی صحبت ایسی ہے جیسے لوہار کی بھٹی کہ کپڑے کالے نہ ہوئے تو دھواں جب بھی پہنچے گا۔ اسے ابوداؤد اور نسائی نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔
حاصل یہ کہ اشرار کے پاس بیٹھنے سے آدمی نقصان ہی اٹھاتاہے والعیاذباﷲ تعالی۔ اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔
انما سمی القلب من تقلبہ انما مثل القلب مثل ریشۃ بالفلاۃ تعلقت فی اصل شجرۃ تقلبھا الریاح ظھرا البطن ۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر بسند حسن عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ ولفظہ عن ابن ماجۃ مثل القلب مثل الریشۃ تقلبھا الریاح بفلاۃ اسنادہ جید ۔
دل کوقلب اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ انقلاب کرتاہے دل کی کہاوت ایسی ہے جیسے جنگل میں کسی پیڑ کی جڑ سے ایك پرلپٹا ہے کہ ہوامیں اسے پلٹا دے رہی ہیں کبھی سیدھا کبھی الٹا۔ اسے طبرانی نے المعجم میں سند حسن کے ساتھ حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے ہی روایت کیااور اس روایت کے الفاظ ابن ماجہ میں یوں ہیں : دل کی مثال اس پرکی طرح ہے جسے ہوائیں جنگل میں پلٹا دے رہی ہوں ۔ اس کی سند جید ہے ۔
اورفرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
اعتبرواالارض باسمائھا واعتبروا الصاحب بالصاحب ۔ اخرجہ ابن عدی عن
زمین کو اس کے ناموں پرقیاس کرو اور آدمی کو اس کے ہمنشین پر۔ اسے ابن عدی نے حضرت
حوالہ / References سنن ابوداؤد باب من یؤمر ان یجالس مجالستہ الصالحین مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۳۰۸
شعب الایمان الحادی عشر من شعب الایمان ، حدیث ۷۵۲ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۴۷۳
سنن ابن ماجہ باب فی القدر مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ص ۱۰
شعب الایمان فصل فی مجانبۃ الفسقۃ الخ حدیث ۹۴۴۰ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۷ / ۵۵
#12035 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ مرفوعا و البیھقی فی الشعب عنہ موقوفا ولہ شواہد بھا یرتقی الی درجۃ الحسن۔
ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے مرفوعا اور بیہقی نے انہی سے موقوفا روایت کیا ہے اس روایت کے شواہد موجود ہیں جن کی وجہ سے اسے احسن کا درجہ حاصل ہے۔
اور مروی کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
ایاك وقرین السوء فانك بہ تعرف ۔ رواہ ابن عساکر عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ
برے مصاحب سے بچ تو اس سے پہچانا جائے گا۔ اسے ابن عساکر نے حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔
یعنی جیسے لوگوں کے پاس آدمی کی نشست برخاست ہوتی ہے ویسا ہی جانتے ہیں اور بد مذہبوں سے محبت تو زہر قاتل ہے اس کی نسبت احادیث کثیرہ صحیحہ معتبرہ میں جو خطر عظیم آیا سخت ہولناك ہے ہم نے وہ حدیثیں اپنے رسالہ المقالۃ المسفرۃ عن احکام بدعۃ المفکرۃ(۱۳۰۱ھ) میں ذکر کیں بالجملہ ہر طرح ان سے دوری مناسب خصوصا ان کے پیچھے نماز سے تو احتراز واجب اور ان کی امامت پسند نہ کرے گا مگر دین میں مداہن یاعقل سے مجانب۔ امام بخاری تاریخ میں اور ابن عساکر ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ان سرکم ان تقبل صلاتکم فلیؤمکم خیارکم ۔
اگر تمہیں پسند آتا ہو کہ تمہاری نماز قبول ہو تو چاہئے کہ تمہارے نیك تمہاری امامت کریں ۔
حاکم مستدرك اور طبرانی معجم میں مرثد ابی مرثد غنوی رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ان سرکم ان تقبل صلاتکم فلیؤمکم خیارکم فانھم وفدکم فیما بینکم وبین ربکم ۔
اگر تمہیں اپنی نمازوں کا قبول ہونا خوش آتا ہو تو چاہئے جو تم میں اچھے ہوں وہ تمہارے امام ہوں کہ وہ تمہارے سفیر ہیں تم میں اور تمہارے رب میں ۔
حوالہ / References تہذیب تاریخ ابن عساکر ترجمہ حسین بن جعفر الغزی الجرجانی مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۲۹۲
کنز العمال بحوالہ ابن عساکر عن ابی امامہ حدیث ۲۰۴۳۳ مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۷ / ۵۹۶ ، اسرار الموضوعۃ حدیث ۵۶۸ مطبوعہ بیروت ص۱۴۸ ، الفوائد المجموعۃ صلوٰۃ الجماعۃ مطبوعہ بیروت ص۳۲
المستدرك علی الصحیحین ذکر مناقب ابومرثد الغنوی مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ / ۲۲۲
#12036 · النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید ۱۳۰۵ھ (دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)
دارقطنی و بیہقی اپنی سنن میں عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اجعلواائمتکم خیارکم فانھم وفدکم فیما بینکم وبین ربکم ۔
اقول : والاحادیث وان ضعفت فقد تائیدت اذ عن ثلثۃ من الصحابۃ وردت علیھم جمیعا رضوان المولی جل وعلا وتقدس وتعالی۔
اپنے نیکوں کو امام کر و کہ وہ تمہارے وسائط ہیں درمیان تمہارے اور تمہارے رب عزوجل کے۔
میں کہتا ہوں یہ احادیث اگرچہ ضعیف ہیں مگر یہ تائید کررہی ہیں کیونکہ یہ تین صحابہ سے مروی جن پر اﷲ جل وعلا وتقدس تعالی کی رضا وارد ہے(ت)
الحمد ﷲ کہ یہ موجز تحریر سلخ ذی القعدہ میں شروع اور چہارم ذی الحجہ روز جاں افروز دو شنبہ ۱۳۰۵ ہجریہ قدسیہ علی صاحبہا الف الف صلاۃ وتحیۃ کو بدر سمائے اختتام ہوئی وصلی اﷲ تعالی علی خاتم النبین بدرسماء المرسلین محمد والہ والائمۃ المجتھدین والمقلدین لھم باحسان الی یو م الدین والحمدﷲ رب العلمین واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم ۔
__________________
حوالہ / References سنن الدارقطنی باب تخفیف القرأۃ الحاجۃ مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان ۲ / ۸۸
#12037 · مآخذومراجع
مآخذومراجع
نام مصنف سن وفات ہجری
ا
۱۔ الاجزاء فی الحدیث عبدالرحمن بن عمربن محمد البغدادی المعروف بالنحاس ۴۱۶
۲۔ الاجناس فی الفروع ابوالعباس احمد بن محمد الناطفی الحنفی ۴۴۶
۳۔ الاختیارشرح المختار عبداللہ بن محمود (بن مودود) الحنفی ۶۸۳
۴۔ الادب المفرد للبخاری محمد بن اسمعیل البخاری ۲۵۶
۵۔ ارشاد الساری شرح البخاری شہاب الدین احمد بن محمد القسطلانی ۹۲۳
۶۔ ارشاد العقل السلیم ابوسعود محمد بن محمد العمادی ۹۵۱
۷۔ الارکان الاربع مولانا عبدالعلی بحرالعلوم ۱۲۲۵
۸۔ الاشباہ والنظائر شیخ زین الدین بن ابراہیم بابن نجیم ۹۷۰
۹۔ اشعۃ اللمعات شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی ۱۰۵۲
۱۰۔ اصول البزدوی علی بن محمد البزدوی ۴۸۲
۱۱۔ الاصلاح للوقایۃ فی الفروع احمد بن سلیمان بن کمال باشا ۹۴۰
۱۲۔ آکام المرجان فی احکام الجان قاضی بدرالدین محمد بن عبداللہ الشبلی ۷۶۹
۱۳۔ انفع الوسائل قاضی برہان الدین ابراہیم بن علی الطرسوسی الحنفی ۷۵۸
۱۴۔ امداد الفتاح حسن بن عمار الشرنبلالی ۱۰۶۹
۱۵۔ انوارالائمۃ الشافعیہ امام یوسف الاردبیلی الشافعی ۷۹۹
۱۶۔ الایضاح للوقایۃ فی الفروع احمد بن سلیمان بن کمال باشا ۹۴۰
۱۷۔ امالی فی الحدیث عبدالملک بن محمد بن محمد بشران ۴۳۲
۱۸۔ الایجاز فی الحدیث احمد بن محمد المعروف بابن السنی ۳۶۴
۱۹۔ القاب الروات احمدبن عبدالرحمن الشیرازی ۴۰۷
#12038 · مآخذومراجع
ب
۲۰۔ بدائع الصنائع علاء الدین ابی بکربن مسعود الکاسانی ۵۸۷
۲۱۔ البدایۃ (بدایۃ المبتدی) علی بن ابی بکر المرغینانی ۵۹۳
۲۲۔ البحرالرائق شیخ زین الدین بن ابراہیم بابن نجیم ۹۷۰
۲۳۔ البرہان شرح مواہب الرحمان ابراہیم بن موسی الطرابلسی ۹۲۲
۲۴۔ بستان العارفین فقیہ ابواللیث نصربن محمد السمرقندی ۳۷۲
۲۵۔ البسیط فی الفروع حجۃ الاسلام محمد بن محمد الغزالی ۵۰۵
۲۶۔ البنایۃ شرح الہدایۃ امام بدرالدین ابومحمد العینی ۸۵۵
ت
۲۷۔ تاج العروس سیدمحمدمرتضی الزبیدی ۱۲۰۵
۲۸۔ تاریخ ابن عساکر علی بن الحسن الدمشقی بابن عساکر ۵۷۱
۲۹۔ تاریخ البخاری محمدبن اسمعیل البخاری ۲۵۶
۳۰۔ التجنیس والمزید برہان الدین علی بن ابی بکر المرغینانی ۵۹۳
۳۱۔ تحریرالاصول کمال الدین محمد بن عبدالواحدبن الہمام ۸۶۱
۳۲۔ تحفۃ الفقہاء امام علاء الدین محمد بن احمد السمرقندی ۵۴۰
۳۳۔ تحقیق الحسامی عبدالعزیز بن احمد البخاری ۷۳۰
۳۴۔ الترجیح والتصحیح علی القدوری علامہ قاسم بن قطلوبغاالحنفی ۸۷۹
۳۵۔ التعریفات لسیدشریف سید شریف علی بن محمد الجرجانی ۸۱۶
۳۶۔ تفسیر ابن جریر (جامع البیان) محمد بن جریر الطبری ۳۱۰
۳۷۔ تفسیر البیضاوی عبداللہ بن عمر البیضاوی ۶۹۱
۳۸۔ تفسیر الجلالین علامہ جلال الدین المحلی وجلال الدین السیوطی ۸۔ ۹۱۱
۳۹۔ تفسیر الجمل سلیمان بن عمرالعجیلی الشہیربالجمل ۱۲۰۴
۴۰۔ تفسیر القرطبی ابوعبداللہ محمد بن احمدالقرطبی ۶۷۱
۴۱۔ التفسیرالکبیر امام فخرالدین الرازی ۲۶
#12039 · مآخذومراجع
۴۲۔ التفسیر لنیشابوری نظام الدین الحسن بن محمد بن حسین النیشابوری ۷۲۸
۴۳۔ تقریب القریب ابوزکریا یحیی بن شرف النووی ۹۱۱
۴۴۔ التقریر والتحبیر محمد بن محمد ابن امیر الحاج الحلبی ۸۷۹
۴۵۔ التیسیر للمناوی عبدالرؤف المناوی ۱۰۳۱
۴۶۔ تبیین الحقائق فخرالدین عثمان بن علی الزیلعی ۷۴۳
۴۷۔ تقریب التہذیب شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی ۸۵۲
۴۸۔ تنویرالمقیاس ابوطاہر محمد بن یعقوب الفیروزآبادی ۸۱۷
۴۹۔ تنویرالابصار شمس الدین محمد بن عبداللہ بن احمد التمرتاشی ۱۰۰۴
۵۰۔ تعظیم الصلوۃ محمدبن نصرالمروزی ۲۹۴
۵۱۔ تاریخ بغداد ابوبکراحمد بن علی الخطیب البغدادی ۴۶۳
۵۲۔ التوشیح فی شرح الہدایۃ عمربن اسحق السراج الہندی ۷۷۳
ج
۵۳۔ جامع الترمذی ابوعیسی محمدبن عیسی الترمذی ۲۷۹
۵۴۔ جامع الرموز شمس الدین محمد الخراسانی ۹۶۲
۵۵۔ الجامع الصحیح للبخاری امام محمد بن اسمعیل البخاری ۲۵۶
۵۶۔ الجامع الصغیر فی الفقہ امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
۵۷۔ الجامع الصحیح للمسلم مسلم بن حجاج القشیری ۲۶۱
۵۸۔ جامع الفقہ(جوامع الفقہ) ابونصراحمد بن محمد العتابی ۵۸۶
۵۹۔ جامع الفصولین شیخ بدرالدین محمود بن اسرائیل بابن قاضی ۸۲۳
۶۰۔ الجامع الکبیر ابی الحسن عبیداللہ بن حسین الکرخی ۳۴۰
۶۱۔ جواہرالاخلاطی برہان الدین ابراہیم بن ابوبکر الاخلاطی ۰
۶۲۔ الجواہرالزکیۃ احمد بن ترکی بن احمد المالکی ۹۸۹
۶۳۔ جواہرالفتاوی رکن الدین ابوبکر بن محمد بن ابی المفاخر ۵۶۵
۶۴۔ الجوہرۃ النیرۃ ابوبکربن علی بن محمد الحداد الیمنی ۸۰۰
۶۵۔ الجرح والتعدیل فی رجال الحدیث یحیی بن معین البغدادی ۲۳۳
۶۶۔ الجامع الصغیرفی الحدیث علامہ جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر السیوطی ۹۱۱
#12040 · مآخذومراجع
ح
۶۷۔ حاشیۃ علی الدرر محمدبن مصطفی ابوسعید الخادمی ۱۱۷۶
۶۸۔ حاشیۃ ابن شلبی علی التبیین احمدبن محمدالشلبی ۱۰۲۱
۶۹۔ حاشیۃ علی الدرر عبدالحلیم بن محمد الرومی ۱۰۱۳
۷۰۔ حاشیۃ علی الدرر لملاخسرو قاضی محمد بن فراموزملاخسرو ۸۸۵
۷۱۔ حاشیۃ علی المقدمۃ العشماویۃ علامہ سفطی ۰
۷۲۔ الحاشیۃ لسعدی آفندی سعداللہ بن عیسی الآفندی ۹۴۵
۷۳۔ الحدیقۃ الندیۃ شرح طریقہ محمدیۃ عبدالغنی النابلسی ۱۱۴۳
۷۴۔ الحاوی القدسی قاضی جمال الدین احمدبن محمد نوح القابسی الحنفی ۶۰۰
۷۵۔ حصرالمسائل فی الفروع امام ابواللیث نصربن محمد السمرقندی الحنفی ۳۷۲
۷۶۔ حلیۃ الاولیاء ابونعیم احمدبن عبداللہ الاصبحانی ۴۳۰
۷۷۔ حلیۃ المجلی محمدبن محمد ابن امیر الحاج ۸۷۹
خ
۷۸۔ خزانۃ الروایات قاضی جکن الحنفی
۷۹۔ خزانۃ الفتاوی طاہربن احمد عبدالرشید البخاری ۵۴۲
۸۰۔ خزانۃ المفتین حسین بن محمد السمعانی السمیقانی ۷۴۰کے بعد
۸۱۔ خلاصۃ الدلائل حسام الدین علی بن احمد المکی الرازی ۵۹۸
۸۲۔ خلاصۃ الفتاوی طاہربن احمد عبدالرشید البخاری ۵۴۲
۸۳۔ خیرات الحسان شہاب الدین احمد بن حجرالمکی ۹۷۳
د
۸۴۔ الدرایۃ فی تخریج احادیث الہدایۃ شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی ۸۵۲
۸۵۔ الدرر(دررالحکام) قاضی محمد بن فراموز ملاخسرو ۸۸۵
۸۶۔ الدرالمختار علاء الدین الحصکفی ۱۰۸۸
۸۷۔ الدرالنثیر علامہ جلال الدین عبدالرحمن السیوطی ۹۱۱
#12041 · مآخذومراجع
ذ
۸۸۔ ذخیرۃ العقبی یوسف بن جنید الجلبی(چلپی) ۹۰۵
۸۹۔ ذخیرۃ الفتاوی برہان الدین محمود بن احمد ۶۱۶
۹۰۔ ذم الغیبۃ عبداللہ بن محمد ابن ابی الدنیا القرشی ۲۸۱
ر
۹۱۔ الرحمانیۃ
۹۲۔ ردالمحتار محمدامین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۹۳۔ رحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ ابوعبداللہ محمد بن عبدالرحمن الدمشقی ۷۸۱
۹۴۔ رغائب القرآن ابومروان عبدالملک بن حبیب السلمی(القرطبی) ۲۳۹
۹۵۔ رفع الغشاء فی وقت العصر والعشاء شیخ زین الدین بابن نجیم ۹۷۰
۹۶۔ ردعلی الجہمیۃ عثمان بن سعید الدارمی ۲۸۰
ز
۹۷۔ زادالفقہاء شیخ الاسلام محمد بن احمد الاسبیجابی المتوفی اواخرالقرن السادس
۹۸۔ زادالفقیر کمال الدین محمد بن عبدالواحد المعروف بابن الہمام ۸۶۱
۹۹۔ زواہرالجواہر محمدبن محمد التمرتاشی تقریبا ۱۰۱۶
۱۰۰۔ زیادات امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
س
۱۰۱۔ السراج الوہاج ابوبکربن علی بن محمد الحداد الیمنی ۸۰۰
۱۰۲۔ السنن لابن ماجۃ ابوعبداللہ محمد بن یزید ابن ماجۃ ۲۷۳
۱۰۳۔ السنن لابن منصور سعیدبن منصورالخراسانی ۲۷۳
۱۰۴۔ السنن لابی داؤد ابوداؤد سلیمان بن اشعث ۲۷۵
۱۰۵۔ السنن للنسائی ابوعبدالرحمن احمد بن شعیب النسائی ۳۰۳
۱۰۶۔ السنن للبیہقی ابوبکراحمد بن حسین بن علی البیہقی ۴۵۸
#12042 · مآخذومراجع
۱۰۷۔ السنن لدارقطنی علی عمرالدارقطنی ۳۸۵
۱۰۸۔ السنن لدارمی عبداللہ بن عبدالرحمن الدارمی ۲۵۵
ش
۱۰۹۔ الشافی شمس الائمۃ عبداللہ بن محمود الکردری
۱۱۰۔ شرح الاربعین للنووی شہاب الدین احمدبن حجرالمکی ۹۷۳
۱۱۱۔ شرح الاربعین للنووی ابراہیم ابن عطیہ المالکی ۱۱۰۶
۱۱۲۔ شرح الاربعین للنووی علامہ احمد بن الحجازی ۹۷۸
۱۱۳۔ شرح الاشباہ والنظائر ابراہیم بن حسین بن احمد بن محمد ابن البیری ۱۰۹۹
۱۱۴۔ شرح الجامع الصغیر امام قاضی خان حسین بن منصور ۵۹۲
۱۱۵۔ شرح الدرر شیخ اسمعیل بن عبدالغنی النابلسی ۱۰۶۲
۱۱۶۔ شرح سفرالسعادۃ شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی ۱۰۵۲
۱۱۷۔ شرح السنۃ حسین بن منصور البغوی ۵۱۶
۱۱۸۔ شرح شرعۃ الاسلام یعقوب بن سیدی علی زادہ ۹۳۱
۱۱۹۔ شرح مختصرالطحاوی للاسبیجابی ابونصراحمد بن منصورالحنفی الاسبیجابی ۴۸۰
۱۲۰۔ شرح الغریبین
۱۲۱۔ شرح المسلم للنووی شیخ ابوزکریا یحیی بن شرف النووی ۶۷۶
۱۲۲۔ شرح معانی الآثار ابوجعفر احمد بن محمد الطحاوی ۳۲۱
۱۲۳۔ شرح المنظومۃ لابن وہبان عبدالبربن محمد ابن شحنۃ ۹۲۱
۱۲۴۔ شرح المنظومۃ فی رسم المفتی محمدامین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۱۲۵۔ شرح المنیۃ الصغیر شیخ محمدابراہیم الحلبی ۹۵۶
۱۲۶۔ شرح مواہب اللدنیۃ علامۃ محمد بن عبدالباقی الزرقانی ۱۱۲۲
۱۲۷۔ شرح مؤطاامام مالک علامۃ محمدبن عبدالباقی الزرقانی ۱۱۲۲
۱۲۸۔ شرح المہذب للنووی شیخ ابوزکریایحیی بن شرف النووی ۶۷۶
۱۲۹۔ شرح النقایۃ مولانا عبدالعلی البرجندی ۹۳۲
۱۳۰۔ شرح الوقایۃ صدرالشریعۃ عبیداللہ بن مسعود ۷۴۷
#12043 · مآخذومراجع
۱۳۱۔ شرح الہدایۃ محمد بن محمدبن محمدابن شحنۃ ۸۹۰
۱۳۲۔ شرعۃ الاسلام امام الاسلام محمدبن ابی بکر ۵۷۳
۱۳۳۔ شعب الایمان ابوبکراحمد بن حسین بن علی البیہقی ۴۵۸
۱۳۴۔ شرح الجامع الصغیر احمدبن منصور الحنفی الاسبیجابی ۴۸۰
۱۳۵۔ شرح الجامع الصغیر عمربن عبدالعزیزالحنفی ۵۳۶
ص
۱۳۶۔ صحاح الجوہری اسمعیل بن حماد الجوہری ۳۹۳
۱۳۷۔ صحیح ابن حبان محمدبن حبان ۳۵۴
۱۳۸۔ صحیح ابن خزیمۃ محمدبن اسحاق ابن خزیمۃ ۳۱۱
۱۳۹۔ الصراح ابوفضل محمدبن عمربن خالدالقرشی تقریبا ۶۹۰
ط
۱۴۰۔ الطحطاوی علی الدر سیداحمدالطحطاوی ۱۳۰۲
۱۴۱۔ الطحطاوی علی المراقی سیداحمدالطحطاوی ۱۳۰۲
۱۴۲۔ الطریقۃ المحمدیۃ محمدبن ببرعلی المروف ببرکلی ۹۸۱
۱۴۳۔ طلبۃ الطلبۃ نجم الدین عمربن محمدالنسفی ۵۳۷
ع
۱۴۴۔ عمدۃ القاری علامہ بدرالدین ابی محمد محمودبن احمد العینی ۸۵۵
۱۴۵۔ العنایۃ اکمل الدین محمدبن محمدالبابرتی ۷۸۶
۱۴۶۔ عنایۃ القاضی شہاب الدین الخفاجی ۱۰۶۹
۱۴۷۔ عیون المسائل ابواللیث نصربن محمدالسمرقندی ۳۷۸
۱۴۸۔ عقودالدریۃ محمدامین ابن عابدین لشامی ۱۲۵۲
۱۴۹۔ عدۃ کمال الدین محمدبن احمد الشہیر بطاشکبری ۱۰۳۰
۱۵۰۔
#12044 · مآخذومراجع
غ
۱۵۱۔ غایۃ البیان شیخ قوام الدین امیرکاتب ابن امیرالاتقانی ۷۵۸
۱۵۲۔ غررالاحکام قاضی محمدبن فراموزملاخسرو ۸۸۵
۱۵۳۔ غریب الحدیث ابوالحسن علی بن مغیرۃ البغدادی المعروف باثرم ۲۳۰
۱۵۴۔ غمزعیون البصائر احمدبن محمدالحموی المکی ۱۰۹۸
۱۵۵۔ غنیۃ ذوالاحکام حسن بن عمار بن علی الشرنبلالی ۱۰۶۹
۱۵۶۔ غنیۃ المستملی محمدابراہیم بن محمدالحلبی ۹۵۶
ف
۱۵۷۔ فتح الباری شرح البخاری شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی ۸۵۲
۱۵۸۔ فتح القدیر کمال الدین محمد بن عبدالواحدبابن الہمام ۸۶۱
۱۵۹۔ فتاوی النسفی امام نجم الدین النسفی ۵۳۷
۱۶۰۔ فتاوی بزازیۃ محمدبن محمدبن شہاب ابن بزاز ۸۲۷
۱۶۱۔ فتاوی حجہ
۱۶۲۔ فتاوی خیریۃ علامہ خیرالدین بن احمد بن علی الرملی ۱۰۸۱
۱۶۳۔ فتاوی سراجیۃ سراج الدین علی بن عثمان الاوشی ۵۷۵
۱۶۴۔ فتاوی عطاء بن حمزہ عطاء بن حمزہ السغدی
۱۶۵۔ فتاوی غیاثیہ داؤدبن یوسف الخطیب الحنفی
۱۶۶۔ فتاوی قاضی خان حسن بن منصورقاضی خان ۵۹۲
۱۶۷۔ فتاوی ہندیہ جمعیت علماء اورنگ زیب عالمگیر
۱۶۸۔ فتاوی ظہیریۃ ظہیرالدین ابوبکر محمدبن احمد ۶۱۹
۱۶۹۔ فتاوی الولوالجیہ عبد الرشید بن ابی حنیفۃ الولوالجی ۵۴۰
۱۷۰۔ فتاوی الکبری امام صدرالشہید حسام الدین عمربن عبدالعزیز ۵۳۶
۱۷۱۔ فقہ الاکبر الامام الاعظم ابی حنیفۃ نعمان بن ثابت الکوفی ۱۵۰
۱۷۲۔ فتح المعین سیدمحمد ابی السعود الحنفی
#12045 · مآخذومراجع
۱۷۳۔ فتح المعین شرح قرۃ العین زین الدین بن علی بن احمد الشافعی ۹۲۸
۱۷۴۔ الفتوحات المکیۃ محی الدین محمد بن علی ابن عربی ۶۳۸
۱۷۵۔ فواتح الرحموت عبدالعلی محمد بن نظام الدین الکندی ۱۲۲۵
۱۷۶۔ الفوائد تمام بن محمد بن عبداللہ البجلی ۴۱۴
۱۷۷۔ فوائد المخصصۃ محمد امین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۱۷۸۔ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر عبدالرؤف المناوی ۱۰۳۱
۱۷۹۔ فوائدسمویۃ اسمعیل بن عبداللہ الملقب بسمویۃ ۲۶۷
ق
۱۸۰۔ القاموس محمدبن یعقوب الفیروزآبادی ۸۱۷
۱۸۱۔ قرۃ العین علامہ زین الدین بن علی الملیباری ۹۲۸
۱۸۲۔ القنیۃ نجم الدین مختاربن محمدالزاہدی ۶۵۸
۱۸۳۔ القرآن
ک
۱۸۴۔ الکافی فی الفروع حاکم شہید محمدبن محمد ۳۳۴
۱۸۵۔ الکامل لابن عدی ابواحمد عبداللہ بن عدی ۳۶۵
۱۸۶۔ الکبریت الاحمر سیدعبدالوہاب الشعرانی ۹۷۳
۱۸۷۔ کتاب الآثار امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
۱۸۸۔ کتاب الآثار امام ابویوسف یعقوب بن ابراہیم الانصاری ۱۸۲
۱۸۹۔ کتاب الالمام فی آداب دخول الحمام ابوالمحاس محمدبن علی
۱۹۰۔ کتاب السواک ابونعیم احمدبن عبداللہ ۴۳۰
۱۹۱۔ کتاب الہدیۃ لابن عماد عبدالرحمن بن محمد عماد الدین بن محمدالعمادی ۱۰۵۰
۱۹۲۔ کتاب الطہور لابی عبید
۱۹۳۔ کتاب العلل علی ابواب الفقہ ابومحمدعبدالرحمن ابن ابی حاتم محمدالرازی ۳۲۷
۱۹۴۔ کتاب الاصل امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
۱۹۵۔ کتاب الوسوسۃ ابوبکربن ابی داؤد
#12046 · مآخذومراجع
۱۹۶۔ کشف الاسرار علاء الدین عبدالعزیز بن احمدالبخاری ۷۳۰
۱۹۷۔ کشف الرمز علامۃ المقدسی
۱۹۸۔ کشف الاستارعن زوائدالبزار امین الدین عبدالوہاب بن وہبان الدمشقی ۷۶۸
۱۹۹۔ کنزالعمال علاء الدین علی المتقی بن حسام الدین ۹۷۵
۲۰۰۔ الکفایۃ جلال الدین بن شمس الدین الخوارزمی تقریبا ۸۰۰
۲۰۱۔ کف الرعاع شہاب الدین احمدبن حجرالمکی ۹۷۳
۲۰۲۔ کنزالدقائق عبداللہ بن احمدبن محمود ۷۱۰
۲۰۳۔ الکنی للحاکم ابوعبداللہ الحاکم ۴۰۵
۲۰۴۔ الکواکب الدراری شمس الدین محمدبن یوسف الشافعی الکرمانی ۷۸۶
۲۰۵۔ کتاب الجرح والتعدیل محمدبن حبان التمیمی ۳۵۴
۲۰۶۔ کتاب المغازی یحیی بن سعید القطان ۱۹۸
۲۰۷۔ کتاب الصمت عبداللہ بن محمدابن ابی الدنیاالقرشی ۲۸۱
۲۰۸۔ کتاب الزہد عبداللہ بن مبارک ۱۸۰
۲۰۹۔ الکشاف عن حقائق التنزیل جاراللہ محمود بن عمرالزمحشری ۵۳۸
ل
۲۱۰۔ لمعات التنقیح علامہ شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی ۱۰۵۲
۲۱۱۔ لقط المرجان فی اخبارالجان علامہ جلال الدین عبدالرحمن بن محمدالسیوطی ۹۱۱
م
۲۱۲۔ مبارق الازہار الشیخ عبداللطیف بن عبدالعزیز ابن الملک ۸۰۱
۲۱۳۔ مبسوط خواہرزادہ بکرخواہرزادہ محمد بن حسن البخاری الحنفی ۴۸۳
۲۱۴۔ مبسوط السرخسی شمس الائمۃ محمد بن احمد السرخسی ۴۸۳
۲۱۵۔ مجری الانہر شرح ملتقی الابحر نورالدین علی الباقانی تقریبا ۹۹۵
۲۱۶۔ مجمع بحارالانوار محمدطاہرالصدیقی ۹۸۱
۲۱۷۔ مجموع النوازل احمدبن موسی بن عیسی ۵۵۰
۲۱۸۔ مجمع الانہر الشیخ عبداللہ بن محمد بن سلیمان المعروف بدامادآفندی ۱۰۷۸
#12047 · مآخذومراجع
۲۱۹۔ المحیط البرہانی امام برہان الدین محمود بن تاج الدین ۶۱۶
۲۲۰۔ المحیط الرضوی رضی الدین محمد بن محمد السرخسی ۶۷۱
۲۲۱۔ مختارات النوازل برہان الدین علی بن ابی بکرالمرغینانی ۵۹۳
۲۲۲۔ مختارالصحاح محمدبن ابی بکر عبدالقادرالرازی ۶۶۰
۲۲۳۔ المختارۃ فی الحدیث ضیاء الدین محمد بن عبدالواحد ۶۴۳
۲۲۴۔ المختصر علامہ جلال الدین السیوطی ۹۱۱
۲۲۵۔ مدخل الشرع الشریف ابن الحاج ابی عبداللہ محمد بن محمد العبدری ۷۳۷
۲۲۶۔ مراقی الفلاح بامدادالفتاح شرح نورالایضاح حسن بن عماربن علی الشرنبلالی ۱۰۶۹
۲۲۷۔ مرقات شرح مشکوۃ علی بن سلطان ملاعلی قاری ۱۰۱۴
۲۲۸۔ مرقات الصعود علامہ جلال الدین السیوطی ۹۱۱
۲۲۹۔ مستخلص الحقائق ابراہیم بن محمد الحنفی
۲۳۰۔ المستدرک للحاکم ابوعبداللہ الحاکم ۴۰۵
۲۳۱۔ المستصفی حافظ الدین عبداللہ بن احمد النسفی ۷۱۰
۲۳۲۔ مسلم الثبوت محب اللہ البہاری ۱۱۱۹
۲۳۳۔ مسند ابی داؤد سلیمان بن داؤد الطیالسی ۲۰۴
۲۳۴۔ مسند ابی یعلی احمد بن علی الموصلی ۳۰۷
۲۳۵۔ مسند اسحق ابن راہویۃ حافظ اسحق ابن راہویۃ ۲۳۸
۲۳۶۔ مسند الامام احمد بن حنبل امام احمد بن محمد بن حنبل ۲۴۱
۲۳۷۔ مسندالبزار ابوبکراحمد بن عمروبن عبدالخالق البزار ۲۹۲
۲۳۸۔ مسند عبدبن حمید ابومحمد عبدبن محمد حمید الکشی ۲۹۴
۲۳۹۔ مسند الفردوس شہرداربن شیرویہ الدیلمی ۵۵۸
۲۴۰۔ مصباح المنیر احمد بن محمدبن علی ۷۷۰
۲۴۱۔ المصفی حافظ الدین عبداللہ بن احمدالنسفی ۷۱۰
۲۴۲۔ مصنف ابن ابی شیبۃ ابوبکرعبداللہ بن محمداحمدالنسفی ۲۳۵
۲۴۳۔ مصنف عبدالرزاق ابوبکرعبدالرزاق بن ہمام الصنعانی ۲۱۱
۲۴۴۔ مصباح الدجی امام حسن بن محمد الصغانی الہندی ۶۵۰
#12048 · مآخذومراجع
۲۴۵۔ معرفۃ الصحابۃ ابونعیم احمدبن عبداللہ الاصبہانی ۴۳۰
۲۴۶۔ المعجم الاوسط سلیمان بن احمد الطبرانی ۳۶۰
۲۴۷۔ المعجم الصغیر سلیمان بن احمد الطبرانی ۳۶۰
۲۴۸۔ المعجم الکبیر سلیمان بن احمد الطبرانی ۳۶۰
۲۴۹۔ معراج الدرایۃ قوام الدین محمد بن محمد البخاری ۷۴۹
۲۵۰۔ مشکوۃ المصابیح شیخ ولی الدین العراقی ۷۴۲
۲۵۱۔ المغنی فی الاصول شیخ عمربن محمدالخبازی الحنفی ۶۹۱
۲۵۲۔ المغرب ابوالفتح ناصربن عبدالسید المطرزی ۶۱۰
۲۵۳۔ مختصرالقدوری ابوالحسین احمد بن محمد القدوری الحنفی ۴۲۸
۲۵۴۔ مفاتیح الجنان یعقوب بن سیدی علی ۹۳۱
۲۵۵۔ المفردات للامام راغب حسین بن محمد بن مفضل الاصفہانی ۵۰۲
۲۵۶۔ المقدمۃ العشماویۃ ابوالعباس عبدالباری العشماوی المالکی
۲۵۷۔ الملتقط(فی فتاوی ناصری) ناصرالدین محمد بن یوسف الحسینی ۵۵۶
۲۵۸۔ مجمع الزوائد نورالدین علی بن ابی بکرالہیتمی ۸۰۷
۲۵۹۔ مناقب الکردری محمد بن محمدبن شہاب ابن بزاز ۸۲۷
۲۶۰۔ المنتقی(فی الحدیث) عبداللہ بن علی ابن جارود ۳۰۷
۲۶۱۔ المنتقی فی فروع الحنیفہ الحاکم الشہیرمحمدبن محمدبن احمد ۳۳۴
۲۶۲۔ منحۃ الخالق محمد امین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۲۶۳۔ منح الغفار محمد بن عبداللہ التمرتاشی ۱۰۰۴
۲۶۴۔ ملتقی الابحر امام ابراہیم بن محمد الحلبی ۹۵۶
۲۶۵۔ منہاج شیخ ابوزکریا یحیی بن شرف النووی ۶۷۶
۲۶۶۔ مجمع البحرین مظفرالدین احمدبن علی بن ثعلب الحنفی ۶۹۴
۲۶۷۔ المبتغی شیخ عیسی بن محمد ابن ایناج الحنفی
۲۶۸۔ المبسوط عبدالعزی بن احمد الحلوانی ۴۵۶
۲۶۹۔ مسند فی الحدیث الحافظ ابوالفتح نصربن ابراہیم الہروی ۵۱۰
#12049 · مآخذومراجع
۲۷۰۔ المسند الکبیر یعقوب بن شیبۃ السدوسی ۲۶۲
۲۷۱۔ منیۃ المصلی سدید الدین محمد بن محمد الکاشغری ۷۰۵
۲۷۲۔ موطاامام مالک امام مالک بن انس المدنی ۱۷۹
۲۷۳۔ مواردالظمأن نورالدین علی بن ابی بکرالہیثمی ۸۰۷
۲۷۴۔ مشکلات احمدبن مظفرالرازی ۶۴۲
۲۷۵۔ مہذب ابی اسحق ابن محمد الشافعی ۴۷۶
۲۷۶۔ میزان الشریعۃ الکبری عبدالوہاب الشعرانی ۹۷۳
۲۷۷۔ میزان الاعتدال محمدبن احمدالذہبی ۷۴۸
۲۷۸۔ المستخرج علی الصحیح البخاری احمدبن موسی ابن مردویۃ ۴۱۰
۲۷۹۔ مکارم اخلاق محمدبن جعفر الخرائطی ۳۲۷
ن
۲۸۰۔ النقایۃ مختصرالوقایۃ عبداللہ بن مسعود ۷۴۵
۲۸۱۔ نصب الرایۃ ابومحمد عبداللہ بن یوسف الحنفی الزیلعی ۷۶۲
۲۸۲۔ نورالایضاح حسن بن عماربن علی الشرنبلالی ۱۰۶۹
۲۸۳۔ النہایۃ حسام الدین حسین بن علی السغناقی ۷۱۱
۲۸۴۔ النہایۃ لابن اثیر مجدالدین مبارک بن محمدالجزری ابن اثیر ۶۰۶
۲۸۵۔ النہرالفائق عمربن نجیم المصری ۱۰۰۵
۲۸۶۔ نوادرفی الفقہ ہشام بن عبیداللہ المازنی الحنفی ۲۰۱
۲۸۷۔ نورالعین محمدبن احمدالمعروف بنشانجی زادہ ۱۰۳۱
۲۸۸۔ النوازل فی الفروع ابواللیث نصربن محمدبن ابراہیم السمرقندی ۳۷۶
۲۸۹۔ نوادرالاصول فی معرفۃ اخبارالرسول ابوعبداللہ محمدبن علی الحکیم الترمذی ۲۵۵
#12050 · مآخذومراجع
و
۲۹۰۔ الوافی فی الفروع عبداللہ بن احمدالنسفی ۷۱۰
۲۹۱۔ الوجیزفی الفروع ابوحامد محمدبن محمدالغزالی ۵۰۵
۲۹۲۔ الوقایۃ محمودبن صدرالشریعۃ ۶۷۳
۲۹۳۔ الوسیط فی الفروع ابی حامد محمد بن محمدالغزالی ۵۰۵
ھ
۲۹۴۔ الہدایۃ فی شرح البدایۃ برہان الدین علی بن ابی بکر المرغینانی ۵۹۳
ی
۲۹۵۔ الیواقیت والجواہر سیدعبدالوہاب الشعرانی ۹۷۳
۲۹۶۔ ینابیع فی معرفۃ الاصول ابی عبداللہ محمدابن رمضان الرومی ۷۶۹
__________________
Scroll to Top