Fatawa Razaviah Volume 8 in Typed Format

#10410 · پیش لفظ
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
پیش لفظ
الحمدﷲ اعلی حضرت امام احمدرضاخاں فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے خزائن علمیہ وذخائر فقہیہ کو جدید انداز میں منصہ شہود پرلانے کے لئے “ رضافاؤنڈیشن “ کے نام سے قائم شدہ ادارہ انتہائی سرعت اورکامیابی کے ساتھ اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہاہے اس سے قبل فتاوی رضویہ کی سات مجلدات آپ تك پہنچ چکی ہیں اب اﷲ تعالی کے فضل وکرم اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نظرعنایت سے آٹھویں جلد آپ کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے اس جلد کی عربی وفارسی عبارات کاترجمہ فاضل شہیر مترجم کتب کثیرہ حضرت علامہ مفتی محمدخاں قادری نے کیاہے جبکہ جلد ششم وہفتم کاترجمہ بھی انہی کی رشحات قلم کانتیجہ ہے۔
جلدہشتم
یہ جلد فتاوی رضویہ (قدیم) کی جلد سوم میں سے باب احکام المساجد سے جلدسوم کے آخر تك سوالوں کے جوابات پرمشتمل ہے۔ متعدد ضمنی مسائل وفوائد کے علاوہ اس جلدمیں مندرجہ ذیل نومستقبل ابواب زیربحث ہیں :
(۱) باب احکام المساجد
() باب ادراك الفریضۃ
() باب قضاء الفوائت
() باب سجود السہو
() باب سجود التلاوۃ
#10411 · پیش لفظ
() باب صلوۃ المسافر
() باب الجمعۃ
() باب العیدین
() باب الاستسقاء
اس کے علاوہ انتہائی وقیع اور گرانقدر تحقیقات وتدقیقات پرمشتمل چھ رسائل بھی پیش نظر جلدمیں شامل ہیں جن کے نام یہ ہیں :
(۱) التبصیر المنجد بان صحن المسجد مسجد(۱۰ھ)
صحن مسجد کے مسجد ہونے کابیان
() مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان(ھ)
تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایك سیڑھی اترنے پھرچڑھنے کے بارے میں تحقیق
() رعایۃ المذھبین فی الدعاء بین الخطبتین(ھ)
دوخطبوں کے درمیان دعاکرنے کاطریقہ
() اوفی اللمعۃ فی اذان یوم الجمعۃ(ھ)
اذان ثانی مسجد سے باہردینے کابیان
(۵) سرورالعید السعید فی حل الدعاء بعد صلوۃ العید(ھ)
نماز عیدکے بعد ہاتھ اٹھاکر دعامانگنے کاثبوت
() وشاح الجید فی تحلیل معانقۃ العید(ھ)
نمازعید کے بعد معانقہ کے جائزہونے کابیان
مندرجہ ذیل رسائل دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اس جلد میں شامل نہ ہوسکے :
(۱) شمامۃ العنبر فی النداء بازاء المنبر
اذان جمعہ بیرون مسجد محاذیء منبر چاہئے
(۲) لوامع البھافی المصر للجمعۃ والاربع عقیبھا
جمعہ کے لئے شہر شرط ہونے اور احتیاطی ظہرکے بیان میں
(۳) احسن المقاصد فی بیان ماتنزہ عنہ المساجد
مسجدمیں کیاکیا کام نارواہیں
#10412 · پیش لفظ
() مایجلی الاصر عن تحدید المصر
شہرکی تعریف جمعہ وعیدین کہاں جائزہیں
رسالہ جلیلہ وشاح الجید فی تحلیل معانقۃ العید جو اس سے پہلے فتاوی رضویہ میں شامل نہیں تھا وہ حضرت علامہ مولانا محمد احمد مصباحی کے ترجمہ کے ساتھ اس جلدمیں شامل کردیاگیاہے۔
حضرت علامہ مولانا قاضی عبدالدائم دائم ایڈیٹر ماہ نامہ جام عرفان خانقاہ نقشبندیہ ہری پورہزارہ کا فتاوی رضویہ کے خطبہ سے متعلق وہ مقالہ جو ۲۷ اکتوبرء کو آواری ہوٹل میں پڑھاگیا جلدہشتم میں شامل کیاجارہاہے۔
محرم الحرام ۱ھ حافظ عبدالستارسعیدی
جون ء ناظم تعلیمات
جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
#10413 · پیش لفظ
مولاناقاضی عبدالدائم دائم
ایڈیٹرماہنامہ جام عرفاں
خانقاہ نقشبندیہ ہری پور

فتاوی رضویہ کاخطبہ

٭ علم وفضل کاشہ پارہ __________فکروفن کامہ پارہ
٭ فصاحت وبلاغت اور براعت استہلال کادمکتاہواشہکار
٭ کتب فقہ اور ائمہ کرام کے ناموں کامہکتاہواگلزار

سلسبیل وکوثر وتسنیم کی موج رواں
کیف آگیں جاں فزاتحریر شاہ احمدرضا
#10414 · پیش لفظ
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط

الحمد للمتوحد بجلالہ المتفرد
وصلوتہ دوما علی خیرالانام محمد
والال والاصحاب ھم مأوای عندشدائدی
فالی العظیم توسلی بکتابہ وباحمد
(امام احمدرضا)
ارشاد ربانی ہے : و اما بنعمة ربك فحدث(۱۱)یعنی اپنے رب کی نعمتوں کوبیان کیجئے۔
اعلیحضرت امام احمدرضاخاں رحمۃ اللہ تعالی علیہ اسی فرمان خداوندی پرعمل کرتے ہوئے یوں زمزمہ سراہوتے ہیں :
ملك سخن کی شاہی تم کو رضا مسلم
جس سمت آگئے ہو سکے بٹھادئیے ہیں
اگرچہ سیاق وسباق کے اعتبارسے یہاں “ سخن “ سے مراد منظوم کلام ہے لیکن درحقیقت امام احمد رضا کی شاہی ہرنوع سخن میں مسلم ہے______خواہ نظم ہو یانثر۔
مزیدکمال کی بات یہ ہے کہ کلام وبیان پر آپ کی قدرت کسی ایك زبان سے مختص نہیں ہے بلکہ عربی فارسی اردو اور ہندی میں سے جس زبان کو ذریعہ اظہاربنانا چاہیں اس کے تمام الفاظ آپ کے بے پایاں حافظے میں مستحضر ہو جاتے ہیں اور ان میں سے آپ جس کو موقع ومحل کے لحاظ سے موزوں سمجھتے ہیں اس کو اتنی خوبصورتی اور تناسب سے استعمال میں لاتے ہیں کہ خوش گفتاری کاحق اداکردیتے ہیں اور نثر میں بھی نظم کاسماں باندھ دیتے ہیں ۔
#10415 · پیش لفظ
مسجع الفاظ کی ایسی لڑیاں اور مقفی جملوں کی ایسی مالائیں آپ کے منظوم ومنثور کلام میں اتنی کثرت سے پائی جاتی ہیں کہ ان کا احاطہ ازبس دشوارہے تاہم ان میں سب سے زیادہ حیرت انگیز “ فتاوی رضویہ “ کا عربی خطبہ ہے جو بلاشبہ فصاحت وبلاغت کاایك اچھوتا شاہکار ہے۔ دلکش اشارات روشن تلمیحات خوبصورت استعارات اور خوشنما تشبیہات پرمشتمل اس بلاغت پارے کی خصوصیت یہ ہے کہ خطبے کے جملہ لوازمات و مناسبات۔ یعنی اﷲ تعالی کی حمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تعریف صحابہ اور اہلبیت کی مدح رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور ان کے اہل بیت پردرودوسلام ۔ یہ تمام چیزیں کتب فقہ اورائمہ کے ناموں سے اداکی گئی ہیں یعنی کتب فقہ کے ناموں اورائمہ کے اسماء گرامی کو اس طرح ترتیب دیاگیاہے کہ کہیں حمد کے غنچے چٹك اٹھے ہیں اور کہیں نعت کے پھول کھل پڑے ہیں کہیں منقبت کے گجرے بن گئے ہیں اور کہیں درودوسلام کی ڈالیاں تیار ہوگئی ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ جملہ محسنات بدیعیہ ازقسم براعت استہلال ورعایت سجع وغیرہ بھی پوری طرح ملحوظ رکھی گئی ہیں ۔ اتنی قیودات اور پابندیوں کے باوجود خطبے کی سلاست وروانی میں ذرہ برابرفرق نہیں پڑا۔ نہ جملوں کی بے ساختگی
میں کہیں جھول پیدا ہوا نہ تراکیب کی برجستگی میں کوئی خلل واقع ہوا۔ ذلك فضل اﷲ یؤتیہ من یشاء ط واﷲ ذو الفضل العظیم٭
اس مختصر مقالے میں اتنی گنجائش تونہیں کہ اس ضیابارخطبے کی تمام خوبیاں گنائی جائیں تاہم چنددلآویز جھلکیاں خوش ذوق
قارئین وسامعین کی نذر ہیں ع
گرقبول افتدز ہے عزوشرف
حمد باری تعالی
فقہ حنفی میں امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ایك مشہور تصنیف کانام الفقہ الاکبرہے اسی طرح جامع کبیر زیادات فیض مبسوط درر غرربھی بلندپایہ فقہی تصانیف ہیں امام احمدرضا نے ان ناموں میں کہیں ضمیرکا کہیں حرف جر وغیرہ کا اضافہ کرکے ان کو اس انداز میں ترتیب دیا ہے کہ
کتابوں کے یہ نام ہی اﷲ تعالی کی بہترین حمد بن گئے ہیں فرماتے ہیں :
الحمد للہ ھو الفقہ الاکبر والجامع الکبیر لزیادات فیضہ المبسوط الدرر الغرر (سب تعریفیں اﷲ ہی کے لئے ہیں اﷲ کی تعریف ہی سب سے بڑی دانائی ہے اور اﷲ تعالی کے پھیلے ہوئے فیض کے شفاف اور تابناك اضافوں کی بڑی جامع ہے)
#10416 · پیش لفظ
بسبحان اﷲ کیا دلپذیر حمدہے!
یعنی فیضان الہی کے اضافے اور زیادات موتیوں کی طرح شفاف اور روشن پیشانیوں کی طرح تابناك ہیں ۔ اب آپ خود ہی سوچئے کہ جس فیض کے اضافے اور زیادات اس قدرمنزہ اور روشن ہوں اس فیض کی اپنی شفافیت وتابندگی کاکیاعالم ہوگا! پھر صاحب فیض جل وعلا کی تابانی ودرخشانی کی توبات ہی نہ پوچھئے کہ وہ انسانی فہم و ادراك سے ماوراہے اور زبان وبیان اس کی
ترجمانی سے قاصرہیں ۔ بقول شیخ سعدی :
اے برتر ازخیال وقیاس وگمان ووہم وزہرچہ گفتہ اندوشنیدیم وخواندہ ایم
دفترتمام گشت وبپایاں رسیدعمر ماہمچناں دراول وصف توماندہ ایم
جزاك اﷲ اے امام احمد رضا! کیا البیلی اور انوکھی حمد بیان کی ہے آپ نے اﷲ رب العلمین کی!
لیکن واضح رہے سامعین وقارئین کرام! کہ حمد کا یہ پہلو ضمنی ہے جبکہ امام احمد رضا درحقیقت یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اﷲ تعالی کی نہ کوئی حد ہے نہ انتہا۔ یعنی ع :
حمد بیحد مرخدائے پاك را
لیکن محض “ حمدبے حد “ کہہ دینے سے وہ بات نہیں بنتی جو امام احمد رضاکہناچاہتے ہیں ۔ وہ اﷲ تعالی کے فیض مبسوط کا ذکرکرتے ہیں ۔ اور ظاہرہے کہ اﷲ کے فیض کی کوئی انتہانہیں ۔ اور غیرمتناہی فیض کی زیادات غیرمتناہی درغیرمتناہی ہوں گی اور جو حمد ان زیادات کی جامع ہوگی وہ غیرمتناہی درغیرمتناہی ہوگی اور امام احمد رضا اﷲ تعالی کی ایسی ہی حمد کرناچاہتے ہیں ۔ الجامع لزیادات فیضہ___________
کیاکمال درجے کا اغراق فی المبالغہ ہے! “ حمدبے حد “ یا “ بے انتہاتعریف “ میں اس مبالغے کا عشرعشیر بھی نہیں پایاجاتا۔
صلوۃ وسلام اور اس کے ضمن میں حضورپرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے فضائل کابیان
بارگاہ رسالت میں صلوۃ وسلام پیش کرتے ہوئے امام احمدرضانے پہلے توائمہ فقہ کے ناموں اورمعروف القاب کو اس طرح ترتیب دیا کہ کچھ ان میں سے سرورعالم کے نام بن گئے اور کچھ ان کی صفات۔ اس کے بعد اسماء کتب سے آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے فضائل بیان کئے ہیں البتہ صلوۃ وسلام پیش کرنے کے دوران امام احمدرضا نے مندرجہ بالاتمام محاسن و لطائف کے علاوہ ایك اورخوبی کااضافہ کیاہے یعنی سرورکونین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بارے میں اپنے عقیدے کی بھی وضاحت کردی ہے اور یوں اہلسنت کی ترجمانی کافریضہ بھی انجام دے دیاہے۔
#10417 · پیش لفظ
امام احمدرضا کا عقیدہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہم سب کے بلکہ سارے عالم کے مالك ہیں لیکن بالذات نہیں بلکہ اﷲ تعالی کی تملیك سے مالك ہیں ۔ اپنے نعتیہ کلام میں فرماتے ہیں :
ان کو تملیك ملیك الملك سے
مالك عالم کہا پھرتجھ کوکیا!
ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بروزمحشرعاصیوں کی شفاعت فرمائیں گے اور حق تعالی سے ان کو بخشوائیں گے
پیش حق مژدہ شفاعت کاسناتے جائیں گے
آپ روتے جائیں گے ہم کو ہنساتے جائیں گے
اب دیکھئے کہ ائمہ کرام کے اسماء والقاب سے کس طرح اپنے عقیدے کی وضاحت فرمائی ہے لکھتے ہیں :
والصلوۃ والسلام علی الامام الاعظم للرسل الکرام * مالکی وشافعی احمد الکرام۔
(اور صلوۃ والسلام ہو رسولوں کے سب سے بڑے امام پر جو میرے مالك ہیں اور میرے لئے شفاعت کرنے والے ہیں ان کانام احمد ہے بہت ہی عزت والے ہیں امام اعظم امام مالک امام شافعی امام احمد)
ائمہ مذاہب اربعہ کے معروف القاب واسماء مذکور ہیں انہی کے ساتھ رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تعریف کی جارہی ہے اور ساتھ ساتھ اپنا عقیدہ بیان کیاجارہاہے۔
تھوڑاآگے بڑھئے اور اہل سنت کے ایك اورعقیدے کی ترجمانی کاانداز دیکھئے۔ اہل سنت کاعقیدہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تمام کائنات کی اصل اور مبدأ ہیں
تو اصل وجود آمدی ازنخست
وگرہرچہ موجود شد فرع تست
یہی عقیدہ امام احمدرضاکاہے :
اصل ہربودوبہبود تخم وجود
قاسم کنزنعمت پہ لاکھوں سلام
اس عقیدے کے اظہار کے لئے آپ نے امام اعظم کے تین مشہورشاگردوں یعنی امام محمد امام حسن ابن زیاد اور امام قاضی ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ م اجمعین کے ناموں کاانتخاب کیا اور انہیں اس طرح یکجاکیا کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اسم گرامی کابھی اظہار ہوگیا آپ کے حسن وجمال کابھی بیان ہوگیا اور یہ بھی واضح ہوگیا کہ
#10418 · پیش لفظ
حسن یوسف پرتوحسن مصطفی ہے بلکہ خود یوسف علیہ السلام فرع مصطفی اور ابن مصطفی ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔ چنانچہ فرماتے ہیں :
یقول الحسن بلاتوقف
محمد الحسن ابو یوسف
آپ کے جمال بے مثال کو دیکھ کرخود حسن بغیرکسی توقف کے پکار اٹھتاہے کہ حسن والے محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم درحقیقت یوسف علیہ السلام کے 'اب' اور اصل ہیں ۔
ایك یوسف علیہ السلام پر ہی کیاموقوف۔ جب رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تمام مخلوقات کی اصل ٹھہرے توظاہری وجود میں جو آپ کے جدامجد ہیں یعنی ابوالبشرآدم علیہ السلام وہ بھی حقیقت کے اعتبارسے آپ کے پسرقرارپاتے ہیں ۔ “ حدائق بخشش “ میں اس حقیقت کویوں واضح کیا :
ان کی نبوت ان کی ابوت ہے سب کو عام ام البشر عروس انہی کے پسرکی ہے
“ ظاہر میں میرے پھول درحقیقت میں میرے نخل “ اس گل کی یاد میں یہ صدابوالبشرکی ہے
اوریوسف علیہ السلام کے حسن پرہی کیامنحصر۔ اہل سنت کے نزدیك توتمام انبیاء ورسل کے جملہ کمالات بارگاہ مصطفوی کافیضان وعطاہے۔ امام بوصیری فرماتے ہیں :
وکلھم من رسول اﷲ ملتمس
غرفامن البحراو رشفا من الدیم
(تمام انبیاء رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بحرکرم سے ایك چلو کے یا آپ کی باران رحمت سے ایك چھینٹے کے طلبگارہیں )
اورامام احمدرضایوں نغماسراہوتے ہیں :
لاورب العرش! جس کو ملا ان سے ملا
بٹتی ہے کونین میں نعمت رسول اﷲ کی
اسی عقیدے کو' فتاوی رضویہ' کے خطبے میں تلمیح کے اندازمیں بیان کیاہے :
البحر الرائق ÷ منہ یستمد کل نھر فائق۔
“ البحرالرائق “ اور “ النہر الفائق “ “ کنزالدقائق “ کی دوشرحیں ہیں ۔ اعلیحضرت نے “ منہ یستمد کل “ کااضافہ کرکے کیاایمان افروزمعنی پیداکئے ہیں ۔ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وہ حیران کن سمندر ہیں کہ ہرفوقیت رکھنے والا دریااورنہرانہی سے مددلیتی ہے۔
#10419 · پیش لفظ
گویا رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فضل وکمال کے بحرذخار ہیں اور باقی انبیاء ورسل فوقیت رکھنے والے دریااورنہریں ۔ ظاہرہے کہ دریاؤں اورنہروں میں وہ پانی بہتاہے جوبھاپ بن کرسمندر سے اٹھتاہے اور کہیں بارش بن کربرستاہے کہیں برف بن کرگرتاہے۔
منقبت
اگرکسی مسئلے میں امام ابوحنیفہ اور قاضی ابویوسف متفق ہوں توفقہاء ان کو “ شیخین “ کہتے ہیں اوراگرقاضی ابویوسف اور امام محمد کااتفاق ہوتو ان کو “ صاحبین “ کہاجاتاہے اور اگر امام ابوحنیفہ اور امام محمد کی ایك رائے ہوتو ان کو “ طرفین “ کالقب دیا جاتاہے۔ اب امام احمدرضاکاکمال دیکھئے کہ انہوں نے ان تینوں فقہی اصطلاحات کو صدیق اکبراور فاروق اعظم ( رضی اللہ تعالی عنہما ) پرمنطبق کردیا اورفرمایا :
لاسیما الشیخین الصاحبین ÷ الاخذین من الشریعۃ والحقیقۃ بکلاالطرفین۔
(خصوصا رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے وہ بزرگ ساتھی جو شریعت وحقیقت کے دونوں کناروں کوتھامنے والے ہیں )
غرضیکہ کیاکیالکھوں اورکہاں تك لکھوں کہ ع
نہ حسنش غایتے دارد نہ سعدی راسخن پایاں
مگرفی الحال اختصار کے پیش نظر اتناہی کہوں گا کہ اتنے اوصاف ومحاسن پرمشتمل خطبہ آج تك نہیں لکھاگیا۔ باقی خصوصیات کوچھوڑئیے صرف ایك خصوصیت پرنظرڈال لیجئے آپ کومیرے دعوے کی صداقت کایقین آجائے گا۔ اور وہ حیرت افزا خصوصیت یہ ہے کہ اس خطبے میں مجموعی طورپر نوے کتابوں اوراماموں کے نام مذکورہیں اور جس خوبی ولطافت سے مذکور ہیں اس پرفصاحت نازکرتی ہے اور بلاغت جھوم جھوم اٹھتی ہے۔ یہ بھی ملحوظ رہے کہ فصاحت وبلاغت کی یہ رعنائیاں صرف خطبے تك ہی محدودنہیں بلکہ پورافتاوی تخیل کی نزاکتوں اور ادبی لطافتوں سے مالامال ہے۔ اگر اس کی تفصیل بیان کی جائے توسینکڑوں صفحات درکارہیں تاہم ایك امتیازی کمال کی طرف اہل ذوق کومتوجہ کرناضروری سمجھتاہوں ۔ احمدرضا کامعمول ہے کہ اگرکسی سوال کاجواب زیادہ تفصیل سے دیناہوتو اس کومستقل رسالہ بنادیتے ہیں اورباقاعدہ اس کانام رکھتے ہیں ۔ یہ اس قدرموزوں مناسب اور واقع کے مطابق ہوتاہے کہ پڑھنے والا امام احمدرضا کی دسترس اور رسائی پرحیران رہ جاتاہے۔ ہرنام میں مندرجہ ذیل چارخصوصیات مشترك ہوتی ہیں :
#10420 · پیش لفظ
(۱) ہرنام عربی میں ہوتاہے خواہ رسالہ کسی بھی زبان میں ہو۔
() ہرنام دوحصوں پرمشتمل ہوتاہے اور دونوں حصوں کاآخری حرف ایك ہی ہوتاہے یعنی سجع کاپورا پورا خیال رکھاجاتاہے۔
(۳) ہرنام اسم بامسمی ہوتاہے یعنی نام ہی سے پتاچل جاتاہے کہ اس رسالے کاموضوع کیاہے۔
() ہرنام تاریخی ہوتاہے یعنی ابجد کے حساب سے اگر اس کے حروف کے اعداد نکالے جائیں تو ان کامجموعہ اس سن پر دلالت کرتاہے جس میں وہ رسالہ لکھاگیا۔
مثال کے طور پر رضافاؤنڈیشن کے زیراہتمام انتہائی آب وتاب سے چھپنے والی فتاوی رضویہ کی پہلی جلد میں گیارہ رسالے ہیں ان میں سے بطور نمونہ صرف تین نام پیش خدمت ہیں :
(ا) اگر امام ابوحنیفہ اور صاحبین ومتاخرین فقہاء کاکسی مسئلے میں اختلاف ہوجائے تو اس صورت میں کس کے قول پر فتوی ہوگا امام صاحب کے صاحبین ودیگرفقہاء کے یابعض معمولات میں امام صاحب کے قول پر اوربعض صاحبین ودیگرفقہاء کی رائے پر اس مسئلے کی توضیح کے لئے امام احمد رضانے جو رسالہ لکہا اس کے نام سے ہی ان کی تحقیق واضح ہوجاتی ہے۔
اجلی الاعلام ان الفتوی مطلقا علی قول الامام
(واضح اعلان کہ فتوی بہرصورت امام ابوحنیفہ کے قول پرہے)
(ب) کون سی نیند ناقض وضو ہے اور کون سی نہیں ۔ اس کی تفصیلات سے قوم کوآگاہ کرنے کے لئے جو رسالہ لکھا اس کانام ہے :
نبہ القوم ان الوضوء من ای نوم
(قوم کوآگاہ کرنا کہ کون سی نیند کے بعد وضوء ہے)
(ج) حالت جنابت میں قرأت جائزہے یانہیں اگرجائزہے تو کن کن صورتوں میں ان مسائل سے پردہ اٹھانے والے رسالے کانام ہے
ارتفاع الحجب عن وجوہ قرأۃ الجنب
(پردوں کااٹھ جانا ان تمام صورتوں سے جو جنبی کی قرأ ت سے متعلق ہیں )
تینوں رسائل کے نام مندرجہ بالاچاروں خصوصیات کے جامع ہیں جن میں سے پہلی تین تو واضح طورپرنظرآرہی ہیں البتہ چوتھی خصوصیت یعنی نام کا تاریخی ہونا استخراج کاتقاضاکرتی ہے۔ نبہ القوم کااستخراج درج ذیل ہے کیونکہ یہ نام تینوں میں مختصرہے باقیوں کو اس پرقیاس کرلیجئے۔
#10421 · پیش لفظ
نبہ القوم ن ب ہ ا ل ق و م
++++۰+++_______________________=
ان الوضوء من ای نوم ا ن ا ل و ض و م ن ا ی ن و م + +++++++++۱++++ = ۱
اس کامجموعہ اعداد ہے اور یہی سن تاریخ ہے۔
امام احمدرضا کے سوا ایسے عمدہ اعلی دلنشنین اور فکروفن کے شہکار نام کون رکھ سکتاہے! تاریخ میں کسی ایك فاضل کانام بتادیجئے جس نے اتنے رسالے لکھے ہوں اور ان کے ایسے خوبصورت نام رکھے ہوں !
بلاشبہ امام احمدرضا متنبی کے اس شعر کاحقیقی مصداق ہیں

مضت الدھور ومااتین بمثلہ
ولقد اتی فعجزن عن نظرائہ
وصلی اﷲ علی سیدنا ومولینا محمد وعلی الہ واصحابہ وذریاتہ اجمعین

مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام شمع بزم ہدایت پہ لاکھوں سلام
ان کے مولی کے ان پرکروروں درود ان کے اصحاب وعترت پہ لاکھوں سلام
شافعی مالک احمد امام حنیف چار باغ امامت پہ لاکھوں سلام
بے عذاب وعتاب وحساب وکتاب تا ابد اہل سنت پہ لاکھوں سلام
ایك میرا ہی رحمت پہ دعوی نہیں شاہ کی ساری امت پہ لاکھوں سلام

امین یارب العلمین!
____________________
#10422 · با ب احکام المسجد احکام مسجد کا بیان
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
با ب احکام المسجد احکام مسجد کا بیان
مسئلہ ۱۱۱۵ : ازلکھنو محلہ علی گنج مرسلہ حا فظ عبد اﷲ ذی الحجہ ھ
کیا فر ماتے ہیں علما ئے دین جواب اس مسئلہ کا کہہ سقف مسجد پر بسبب گرمی کے نما ز پڑھنا جا ئز ہے یا نہیں ۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
مکروہ ہے کہ مسجد کی بے ادبی ہے ہا ں اگر مسجد جماعت پر تنگی کرے نیچے جگہ نہ رہے تو باقی ماند ہ لوگ چھت پر صف بندی کر لیں یہ بلا کر اہت جائز ہے کہ اس میں ضرورت ہے بشرطیکہ حال اما م مشتبہ نہ ہو۔
فی العلمگیریۃ الصعود علی کل مسجد مکروہ ولھذا اذا اشتد الحریکرہ ان یصلوا بالجماعۃ فوقہ الااذاضاق المسجد فح لایکرہ الصعود علی سطحہ لضرورۃ کذا فی الغرائب واﷲ تعالی اعلم۔
عالمگیری میں ہے ہر مسجد کے اوپر چڑھنا مکروہ ہے یہی وجہ ہے کہ شدید گرمی کے وقت اس کے اوپر جماعت کرانا مکروہ ہے البتہ اس صورت میں کہ مسجد نمازیوں پر تنگ ہو جا ئے تو ضرورت کی وجہ سے مسجد کی چھت پر چڑھنا مکروہ نہیں ۔ جیسا کہ غرائب میں ہے۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
حوالہ / References ∞ €&فتاوٰی ہندیۃ الباب الخامس فی آداب المسجد€∞ مطبوعہ نورانی کتب خا نہ پشاور €٢∞ / ۳۲۲€
#10423 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
مسئلہ۱۱ : از قصبہ کٹھور اسٹیشن سائن ضلع سورت ملك گجرات مسجد پر ب والے مرسلہ مولوی عبدالحق صاحب مدرس
مدرسہ عربی کھٹو رو سیٹھ بانا بھائی صاحب مہتمم مدرسہ ۲۷جمادی الاولی۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے شریعت اس صحن مسجد کے حکم پر مو سم گرما میں ہمیشہ نماز فرض با جماعت مغرب و عشاء و فجر اور کبھی عصر بھی ادا کی جا ئے اور یہ مسجد چو نکہ برسر بازار واقع ہے اس واسطے آمد ورفت نمازیو ں کی زیادہ ہے عصر و مغرب کو کبھی جماعت ہو چکی ہو تو اکثر آدمی آکر اس صحن پر اکیلے فرض نماز پڑھ لیتے ہیں کبھی دوچار آدمی آگئے تو وہا ں پر جماعت بھی کرلیتے ہیں اور مو سم اعتدال ربیع و خریف میں بھی کبھی معمولی جماعت صحن مذکو ر پر ہو جا یا کرتی ہے اب صحن مذکو ر کو حکم مسجد کا دیا جائے یا نہیں اس پر جنبی وغیرہ ناپاك آدمی کا بلا عذر شرعی کے جانا جا ئز ہے یا نہیں وہ شخص باہم مناظرہ کرتے ہیں ایك کے نزدیك صحن مذکور مسجد ہے اور جنبی کا اس پر جانا حرام اور دوسرے کے نزدیك مصلی عید کے حکم میں ہے جنبی کو اس پر جانا جائز ہے دلیل اس کی یہ ہے کہ ہمارے شہر سورت میں اندرون مسجد کو جماعت خانہ اور صحن مسجد کو خارج بولتے ہیں دوسری دلیل یہ کہ فنا اور حریم مسجد اور صحن مسجد باعتبار مفہوم کے متحد ہیں فنا اور حریم مسجد پر جب جنبی کو جانا جائز ہو توصحن پر بھی جائز ہوگا کس واسطے کو فناء کو حکم مصلی عیدکا ہے اورعلماۓ سورت میں سے دوعالم صحن مذکورحکم مسجد کا فرماتے ہیں ان دونوں عالموں میں سے ایك عالم صاحب اس شخص کے جو صحن مسجد کو خارج مسجدکہتا ہے استاد بھی ہیں اب ہر ایك مناظرین مرقومہ بالا میں سے ایك دوسرے کو مفسد کہتا ہے مفسد فی الدین ہے اور مصلح عندالشرع کون اور لفظ فناء مسجد اور حریم مسجد کے معنی صحن مسجد کے سمجھنا صیحح ہیں یاغلط اور دوسرے یہ کہ ساکنان شہر سورت کا عرف کہ
#10424 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
اندرون مسجد جماعت خانہ اور صحن مسجد خارج مسجد بولنا یہ عندالشرع معتبر ہے یا نہیں اور کس قدریں نمازیں ہر سال میں اس صحن پر ادا کی جائیں کہ وہ صحن مسجد بن جائے اس صحن کی مسجد بن جانے میں سوائے نماز کے اور کوئی دوسری شرط بھی عندالشرع معتبر ہو تو تحریر فرمائیں ۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمدﷲ والصلوۃوالسلام علی رسول اﷲ
صحن مسجد قطعاجزیہ مسجد ہے جس طرح صحن دار جزء دار یہا ں تك کہ اگر قسم کھائی زیدکے گھر نہ جاؤں گا اور صحن میں گیا بیشك حانث ہو گا کما یظھر من الھدایۃ والھندیۃ والدرالمختار وردالمختار و عامۃ الاسفار (جیسا کہ ہدایہ ہندیہ درمختار ردالمختاراور عام کتب میں ہے ت) اسی طرح اگر قسم کھائی مسجد سے باہر نہ جاؤں گا اور صحن میں آیا ہر گزحانث نہ ہو ا ولہذا معتکف کو صحن میں آنا جانا بیٹھنا رہنا یقینا روا یہ مسئلہ اپنی نہا یت وضا حت وغایت شہرت سے قریب ہے کہ بدیہیات اولیہ سے ملتحق ہو جس پر تما م بلادمیں عام مسلمین کے تعامل وافعال شاہد عدل جن کے بعد اصلااحتیاج دلیل نہیں ہاں جو دعوی خلاف کرے اپنے دعوے پر دلیل لا ئے اور ہر گز نہ لاسکے گا حتى یلج الجمل فی سم الخیاط- (یہا ں تك کہ اونٹ سو ئی کے سوراخ میں داخل ہو جائے۔ ت) مدعی خلاف نے کہ صحن مسجد کے مسجد نہ ہونے پر دو دلیلیں پیش کیں ایك عام جس میں دلیل کی صورت بھی نہیں بلکہ محض دعوی ہے دلیل ہے دوسری خا ص مساجد سورت سے متعلق دونو ں محض باطل و زاہق۔ فقیر غفراﷲتعالی اس مسئلہ واضحہ کی ایضا ح کو بحکم ضرورت صرف دس وجہیں ذکرکرتا ہے جن سے حکم انجلائے تام پائے اور دونو ں دلیل خلاف کا ازالہ وہام ہو جائے اسی کے ضمن میں ان شاء اﷲ تعالی تمام مراتب سوال کا جواب منکشف ہو جائے گا۔
فاقول : وباﷲالتوفیق وافاضۃالتحقیق(میں کہتا ہوں اﷲتعالی ہی تو فیق اور تحقیق عطا کرنے والا ہے
اولا : مسجد اس بقعہ کا نام ہے جو بغرض نماز پنجگانہ وقف خالص کہا گیا وتمام تعریفہ مع فوائد قیودہ فی الوقف من کتابنا العطایاالنبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ(مسجد کی کامل تعر یف اور اس کے تمام قیود کے فوائدکی تفصیل ہما رے فتاویـــــ “ العطایا النویہ فی الفتاوی الرضویۃ “ کے باب الوقف میں ملاحظہ کیجئے۔ ت) یہ تعریف با لیقین صحن کو بھی شامل 'اور عمارات و بنایا سقف وغیرہ ہر گز اس کی ماہیت میں داخل نہیں یہاں تك کہ اگر عمارت اصلا نہ ہو صرف ایك چبوترہ یا محدودمیدان نماز کے لئے وقف کردیں قطعا مسجد
#10425 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
ہوجائے گا اور تمام احکام مسجد کااستحقاق پائے گا۔ فتاوی قاضی خاں وفتاوی ذخیرہوفتاوی علمگیریوغیرہا میں ہے
رجل لہ ساحۃ امر قوما ان یصلوافیھا بجماعۃان قال صلوا فیھاابداا وامرھم بالصلوۃ مطلقا و نوی الابدصارت الساحۃ مسجدا لو مات لا یورث عنہ اھ ملخصا
ایك آدمی کی کھلی جگہ ہے لوگوں سے کہتا ہے کہ یہاں نماز اداکرو اب اگر اس نے یہ کہاکہ یہاں ہمیشہ تم نماز پڑھو یا اتنا کہا نماز پڑھو مگر نیت ہمیشہ کی تو وہ جگہ مسجد کہلائے گی _____ اگر وہ فوت ہو جاتا ہے تو وہ زمین وراثت میں شامل نہ ہو گی اھ ملخصا(ت)
پھر مسقف وغیرہ مسقف میں فرق کرنا اسے مسجد اسے فناء مسجد ٹہرانا محض بے معنی۔
ثانیا ہر عاقل جانتا ہے کہ مسجد و معبد ہو یا مسکن ومنزل ہر مکان کو بلحاظ اختلاف موسم دو حصوں پر تقسیم کرنا عادات مطردئہ بنی نوع انسان سے ہے جس پر معظم معمورۃ الارض میں تمام اعصاروا امصار کے لوگ اتفاق کئے ہوئے ہیں ایك پارہ مسقف کرتے ہیں کہ برف وبارش وآفتاب سے بچائے دوسرا کھلا رکھتے ہیں کہ دھوپ میں بیٹھنے ہوا لینے گرمی سے بچنے کے کام آئے زبان عرب میں اول کو شتوی کہتے ہیں اور دوم کو صیفی کما افادہ العلامۃ بدرالدین محمود العینی فی کتاب الایمان من البنایۃ شرح الھدایۃ (جیسا کہ علامہ بدرالدین محمودعینی نے بنایہ شرح الہدایہ کے کتاب الایمان میں تصریح کی ہے ۔ ت) یہ دونو ں ٹکڑے قطعا اس معبد یا منزل کے یکسا دو جزء ہوتے ہیں جن کے باعث وہ مکان ہر موسم میں کام کا ہوتا ہے اور بالیقین مساجد میں صحن رکھنے سے بھی واقفین کی یہی غرض ہوتی ہے ورنہ اگر صرف شتوی یعنی مسقف کو مسجد اور صیفی یعنی صحن کو خا رج ازمسجد ٹھہرائے تو کیا واقفین نے مسجد صرف مو سم سرماو عصرین گرما کے لئے بنائی تھی کہ ان اوقات میں تو نماز مسجد میں ہو باقی زمانوں میں نمازوں اعتکاف کے لئے مسجد نہ ملے یا ان کا مقصو د یہ جبر کرنا تھا کیسی ہی حبس و حرارت کی شدت ہو مگر ہمیشہ مسلمان اسی بند مکان میں نماز پڑھیں معتکف رہیں ہوا ا و ر راحت کا نام نہ لیں یا انھیں دنیا کا حا ل معلوم نہ تھا کہ سال میں بہت اوقات ایسے آتے ہیں جن میں آدمی کو درجہ اندرونی میں مشغول نماز و تراویح و اعتکاف ہونا درکنار دم بھر کو جانا ناگوار ہو تا ہے اور جب کچھ نہیں تو بالجزم ثابت کہ جس طرح انھوں نے اپنے چین کے لئے مکان سکونت میں صحن و دالان دونوں درجے رکھے ہیں یو نہی عام مسلمان کی عام اوقات میں آسائش و آرام کے لئے مسجد کو بھی انہی دو حصوں پر تقسیم کیا۔
حوالہ / References ∞ €&فتاوٰی ہندیۃ الباب الحادی عشرفی المسجد ومایتعلق بہ €∞مطبوعہ مطبع نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / €٢٥٥
#10426 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
ثالثا : اب نمازیوں سے پو چھئے آپ اذان سن کر گھر سے کس ارادہ پر چلتے ہیں یہی کہ مسجد میں نماز پڑھیں گے یا کچھ اور قطعا یہی جواب دیں گے کہ مسجد میں نماز پڑھنے آتے ہیں اب دیکھئے کہ وہ موسم گرما میں فجر و مغرب وعشاء کی نمازیں کہاں پڑھتے ہیں اور ان کے حفاظ قرآن مجید کہاں سناتے ہیں اور ان کے معتکف کہاں بیٹھتے اور ذکر وعبادت میں مشغول رہتے ہیں خو دہی کھل جائے گا کہ مسلمانوں نے صحن کو بھی مسجد سمجھاہے یا نہیں تو مسجدیت صحن سے انکار اجماع کے خلاف۔
رابعا : بلکہ غور کیجئے تو جو صاحب انکار رکھتے ہیں خود انہی کے افعال ان کی خطا پر دال اگر وہ مسجدمیں نماز پڑھنے آتے ہوں تو لاجرم مو سم گرما میں عام مسلمانوں کی طرح صحن ہی پر پڑھتے ہوں گے پھر ان سے پوچھئے آپ گھر چھوڑ کر غیر مسجد میں نماز پڑھنے کیوں آئے اور جب یہ مسجد نہیں تو یہاں نماز پڑھنے میں کیا فضیلت سمجھی فضیلت درکنار داعی اﷲکی اجابت کب کی اور حدیث لاصلوۃلجارالمسجدالافی المسجد )مسجد کے پڑوسی کی نماز مسجد کے علاوہ نہیں ہو سکتی۔ ت)کی تعمیل کہاں ہوئی اور سنت عظیمہ جلیلہ کس واسطے چھوڑی کہا کو ئی ذی عقل مسلمان گوارا کرے گا کہ مکان چھوڑ کر آواز آذان سن کر نماز کو جائے اور مسجد ہو تے ساتے مسجد میں نہ پڑھے بلکہ اس کے حریم و حوالی میں نماز پڑھ کر چلا آئے کیا اہل عقل ایسے شخص کو مجنون نہ کہیں گے تو ا نکار والوں کا قو ل وفعل قطعا متناقض اگر یہ عذر کریں کہ جہاں امام نے پڑھی مجبوری ہیں پڑھنی ہوئی ہے تو محض بیجا و نا معقول وناقابل قبول آپ صاحبوں پر حق مسجد کی رعایت اتباع جماعت سے اہم و اقدم تھی جب آپ نے دیکھا کہ سب اہل جماعت مسجد چھوڑ کر غیر مسجد میں نماز پڑھتے ہیں آپ کو چاہئے تھا خود مسجد میں جاکر پڑھتے اگر کوئی مسلمان آپ کا ساتھ دیتا جماعت کرتے ورنہ تنہا ہی پڑھتے کہ حق مسجد سے ادا ہوتے۔ یہاں تك علما اس تنہا پڑھنے کو دوسری مسجد میں باجماعت پڑھنے سے افضل بتاتے ہیں نہ کہ غیر مسجد میں ۔ فتاوی امام قاضی خاں پھر خزانۃ لمفتین پھر ردلمحتار وغیرہ میں ہے۔
یذھب الی مسجد منزلہ ویؤذن فیہ ویصلی وان کان واحدا لان لمسجد منزلہ حقا علیہ فیؤدی حقہ مؤذن مسجد لایحضرمسجدہ احد قالوا یؤذن ویقیم ویصلی وحدہ فذالك احب من ان یصلی فی مسجد اخر۔
آدمی اپنے محلہ کی مسجد میں جائے اس میں آذان دے اور نماز پڑھے اگر چہ تنہا ہو کیونکہ اس پر محلہ کی مسجد کا حق ہے جس کی ادا ئیگی ضروری ہے ایسی مسجد کے مؤذن کے بارے میں جس میں کوئی نہیں آتا فقہاء نے کہا ہے کہ وہ وہاں تنہا ہی آذان دے کر اور نماز پڑھے یہ دوسری مسجد میں نماز پڑھنے سےافضل ہے
حوالہ / References ∞ €&مستدرك حاکم کتاب الصّلوٰۃ لاصلوٰۃلجارالمسجدالخ€∞ مطبوعہ دارالفکربیروت ۲۴۶ / ۱€
∞ €&فتاوٰی قاضیخاں فصل فی المسجد€∞ مطبوعہ نولکشورلکھنؤ ۳۲ / ۱€
#10427 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
تنبیہ : انھیں وجوہ سے ظاہر ہوگیا کہ اہل سورت کا خا ص درجہ شتوی کو جماعت خانہ کہنا ایك اصطلاح خاص ہے اور صیفی یعنی صحن کو خارج اسی معنی پر کہتے ہیں کہ اس جماعت خانہ مصطلحہ سے باہر ہے نہ بایں معنی کہ جزء مسجد نہیں اور اگر مسجد ہی کہتے ہو ں تو یہ کہنا ایساہے جیسے علماء کرام ظاہر بدن کو خارج البدن فرماتے ہیں جس کے یہ معنی کہ بدن بیرونی حصہ نہ یہ کہ بدن سے باہر یو نہی خارج مسجد یعنی مسجد کا بیرونی ٹکڑا نہ یہ کہ مسجد سے خارج۔ اور بالفرض اگر انھوں نے اپنی اصطلاح میں مسجد صرف شتوی یعنی مسقف ہی کا نام رکھا ہو تو اسے مسجد نہ کہنے کا حاصل اس قدر ہو گا کہ درجہ شتویہ نہیں نہ یہ کہ شرعا مسجد نہیں ان کے افعال دائمی یعنی موسم گرما میں ہمیشہ جماعت مغرب وعشاء وفجر صحن ہی پر پڑھنا اور آذان سننے پر مکانو ں سے بارادہ صلوۃفی المسجد آکر یہاں جماعت کرنا جس کی تصریح سوال میں موجود ۔ اور رمضان گرما میں یہیں تراویح پڑھنا معتکف رہنا کہ عادۃبالقطع معلوم ومشہود اس مرادمقصودپر شاہد مبین ومفید تعیین ومورث یقین کمالایخفی علی صبی عاقل فضلا عن فاضل (جیسا کہ کسی عاقل بچے سے مخفی نہیں چہ جائیکہ کسی فاضل پرخفی رہے۔ ت)
خامسا : طرفہ یہ کہ انکار کرنے والے حلت دخول جنب میں بحث ونزاع کرتے ہیں ان کے قول پر یہ معاذاﷲصراحۃبدعت شنیعہ مسلمانوں سے علی الدوام والالتزام واقع ہوتی ہے یعنی گرمی میں مسجد چھوڑکر غیر مسجد میں جماعت پڑھنا اور حق مسجد تلف کرنا اس پر کیوں نہیں انکار کرتے بلکہ اس میں تو خود بھی شریك ہوتے ہیں کہ خلاف میں اپنی بھی تکلیف ہے اب اگر وہ اپنے قول باطل پر اصرار کرکے اسی فکر میں پڑیں کہ نماز صحن مطلقابند کردی جائے اور ہمیشہ ہر موسم ہر وقت کی جماعت اندر ہی ہوا کرے اور بالفرض ان کی یہ بات خلق کو نماز صحن سے مانع آئے تو دیکھئے موسم گرما میں کتنی مسجدیں نماز و جماعت و تراویح واعتکاف سے معطل محض ہوئی جاتی ہیں کہ لوگ جب صحن سے روکے جائیں گے اور اندر ان افعال کی بجا آوری سے بالطبع گھبرائیں گے لاجرم مسجد کے آنے سے باز رہیں گے اور اگر ایك دو نے یہ ناحق و بے سبب کی سخت مصیبت گوارا بھی کرلی تو عام خلائق کا تنفر قطعی یقینی تو اس نزاع بیجا کا انجام معاذاﷲمساجد کا ویران کرنا اور ان میں ذکرونماز سے بندگان خدا کو روکنا ہے۔
قال اﷲعزوجل
و من اظلم ممن منع مسجد الله ان یذكر فیها اسمه و سعى فی خرابها- ۔
اﷲ عزو جل نے فرمایا : اس سے بڑھ کر ظالم کون جو خداکی مسجدوں کو ان میں نام خدایاد کئے جانے سے روکے اور ان کی ویرانی میں کو شش کرے۔
اب صحن کو مسجد نہ ماننے والے غور کریں کہ کس کا قول افسادفی الدین تھا ولاحول ولاقوۃ الاباﷲالعلی العظیم۔
حوالہ / References ∞ € &القرآن€∞ €٢∞ / ۱۱۴€
#10428 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
سادسا : اس مسئلہ جلیلہ کو کلمات ائمہ کرام ہی سے استخراج کرنا چاہئے تو بوجوہ کثیرہ میسر علماء تصریح فرماتے ہیں کہ مسجد مبارك حضورسید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم زمانہ اقدس میں جنوباشمالا یعنی دیوار قبلہ سے پائین مسجدتك سو گز طول رکھتی تھی اور اسی قدر شرفاغرباعرض تھا اور پائین میں یعنی جانب شام ایك مسقف دالان جنوب رویہ تھا جسےصفہ کہتے اور اہل صفہ رضی اللہ تعالی عنہم اس میں سکونت رکھتے یہ بھی جزء مسجد تھا علامہ رحمة اﷲسندی تلمیذامام محقق علی الاطلاق ابن الہمام منسك متوسط اورمولانا علی قاری مکی اس کی شرح مسلك متقسط میں فرماتے ہیں :
(حدہ) ای حدودالمسجدالاول(منالمشرق من وراء المنبر نحوذراع ومن المغرب الاسطوانۃ الخامسۃ من المنبر ومن الشام حیث ینتھی مائۃ ذراع من محرابہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم) وھو معلوم لاھل المدینۃ بالعلامۃ الموضوعۃ اھ ملخصا۔
(اس کی حد) یعنی مسجد اول کی حدود (منبر کی دوسری طرف مشرق کی طرف ایك گز کے برابر ہے اور جانب مغرب پانچویں ستون تك اور جانب شام حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے محراب سے سو گز ہے) اور نشانات مخصوصہ کی وجہ سے اہل مدینہ کو معلوم ہے اھ تلخیصا۔ (ت)
علامہ طاہرفتنی مجمع بحار الانوارمیں فرماتے ہیں :
اھل الصفۃ فقراء المھاجرین ومن لم یکن لہ منھم منزل یسکنہ فکانوا یاوون الی موضع مظلل فی مسجدالمدینۃ۔
اہل سفہ مہاجر فقراء میں سے تھے اور جس کے لئے گھر نہ ہوتا وہ وہیں ٹھہرتا پس صفہ مسجدنبوی میں ایك چھتدار جگہ میں رہتے تھے۔ (ت)
صحیح بخاری شریف میں ہے :
باب نوم الرجال فی المسجد وقال ابوقلابۃ عن انس رضی اﷲتعالی عنہ قدم رھط من عکل علی النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فکانوا فی الصفۃ وقال عبدالرحمن
باب لوگوں کا مسجد میں سونے کے بارے میں ابوقلابہ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ عکل کا ایك وفد رسالتمآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں آیا اور وہ صفہ میں تھے
حوالہ / References ∞ €&مسلك متقسط مع ارشادالساری فصل ولیغتنم ایام مقامہ بالمدینۃ المشرفۃ €∞مطبوعہ دارالکتاب العربی بیروت ص€٣∞۴€٣
∞ €&مجمع بحارالانوار €∞لفظ صفف کے تحت مذکور ہے مطبوعہ نو لکشور لکھنؤ ۲ / €٣٥٣
#10429 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
بن ابی بکر رضی اﷲتعالی عنھما کان اصحاب الصفۃ الفقراء
حضرت عبدلرحمن بن ابی بکر رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ اصحاب صفہ فقراء تھے۔ (ت)
علامہ احمد قسطلانی ارشاد الساری شرح صیحح بخاری میں فرماتے ہیں :
الصفۃ بضم الصاد و تشدید الفاء موضع مظلل فی اخریات المسجد النبوی تاوی الیہ المساکین ۔
الصفہ صاد پر پیش فاء پر تشدید مسجد نبوی کے آخری حصہ میں وہ چھتی ہوئی جگہ جہا ں مساکین پناہ لیتے تھے۔ (ت)
اب مشاہدہ کرنے والا جانتا ہے کہ محراب مصطفي صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کہ محراب امیرالمؤمنین عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کی جانب شمال ہے پائین مسجد کو پیمائش کرتے آئیے تو سو گز کی مساحت ایك حصہ صحن میں آئے گی اور قطعامعلوم کہ زمانہ اقدس میں جس قدر بنائے مسجد تھی اس میں کمی نہ ہوئی بلکہ افزونیاں ہی ہوتی آئیں تو واجب کہ اس وقت بھی یہ سو گز مع صحن تھی اور جبکہ صفہ تك جزء مسجد تھا کما ظھر مما نقلنا من العبارات (جیسے کہ ہماری نقل کردہ عبارات سے ظا ہر ہے۔ ت) تو کیونکہ معقول کہ بیچ میں صحن خارج مسجد گنا جائے۔
سابعا علماء ارشاد فرماتے ہیں کہ مسجدمیں پیڑ بونا ممنوع ہے کہ اس سے نماز کی جگہ رکے گی مگر جبکہ اس میں منفعت مسجد ہو اس طرح کہ زمین مسجد اس قدر گل ہو کہ ستون بوجہ شدت رطوبت نہ ٹھہر تے ہوں تو جذب تری کیلئے پیڑ بوئے جائیں کہ جڑیں پھیل کر زمین کی نم کھینچ لیں ۔ ظہیریہ و خانیہ وخانیہ و خلاصہ وہندیہ و بحرالرائق وغیرہا میں ہے
یکرہ غرس الشجر فی المسجد لانہ یشبہ بالبیعة تکون فیہ منفعۃ للمسجد بان کان الارض نزۃ لا تستقر اسا طینھا فیغرس فیہ الشجر لیقل النزۃ۔
مسجد میں درخت لگانا مکروہ ہے کونکہ یہ بیعۃ(گرجے) کی مشابہت ہے اور نماز کی جگہ مشغول کرنا ہے ۔ البتہ اس صورت میں جائز ہوگا جب اس میں کوئی نفع ہو مثلا زمین سیلابی ہے اس پر ستون کھڑے نہیں ہوتے تو اس میں درخت لگائے جائیں تاکہ سیلابیت کم ہوجائے۔ (ت)
ظہیریہ کے لفظ یہ ہیں :
فتغرس لتجذب عروق الاشجار ذلک
پس درخت لگائیں تاکہ ان کی جڑیں اس تری کو جذب
حوالہ / References ∞ €&صیحح البخاری باب نوم الرجال فی المسجد€∞ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی۱ / €٦٣
∞ €&ارشاد الساری شرح صیحح البخاری باب نوم الرجال فی المسجد€∞ مطبوعہ دارالکتاب العربی بیروت ۱ / €٤٣٧
∞ €&فتاوٰی قاضی خاں فصل فی المسجد€∞ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ €١∞ / ۳۱€
#10430 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
النز فح یجوز و الافلا وانما جو زمشائخنا فی المسجد الجامع ببخاری لما فیہ من الحاجۃ اھ۔
کرلیں تو اب درخت لگانا جائز ہوگا ورنہ نہیں ہمارے مشائخ نے بخاراکی جامع مسجد میں درخت لگانے کو جو جائز قراردیا ہے اس میں یہی ضرورت و حاجت پیش نظر ہے اھ (ت)
ظاہر ہے کہ ستون مسجد مسقف ہی میں ہو تے ہیں اور پیڑ درجہ اندرونی میں نہیں بوئے جاتے بلکہ سائے میں پرورش نہیں ہوتے معہذا جب تری کی وہ بیشتری کہ ستون نہیں ٹھہرتے تو ایسی رطوبت پھلواری وغیرہ کے چھوٹے چھوٹے پودوں سے دفع نہیں ہوسکتی نہ ان کی جڑیں اتنی پھیلیں کہ اطراف سے جذب کرلیں اور بڑے پیڑ اندر بوئے جانا معقول نہیں تو واجب کہ اس سے مراد صحن مسجد میں بونا ہے اور اسے انھوں نے مسجد میں بونا قراردیا _________ جب تو غرس فی المسجد کی صورت جواز میں رکھا اور مثال ظہیریہ نے تو اس معنی کو خوب واضح کردیا ۔ قطعا معلوم کہ جامع بخارا نامسقف نہیں نہ زنہار اس کے درخت زیرسقف ہیں بلکہ یقیناصحن میں بوئےگئے اور اسی کو علمائے کرام نے غرس فی المسجد جانا۔
ثامنا علماء فرماتے ہیں دروازہ مسجد پر جو دکانیں ہیں فنائے مسجد ہیں کہ مسجد سے متصل ہیں فتاوی امام قاضی خاں پھر فتاوی علمگیریہ میں ہے :
یصح الاقتداء لمن قام علی الدکاکین التی تکون علی باب المسجد لانھامن فناء المسجد متصلۃ بالمسجد۔
اس شخص کی اقتداء درست ہے جو اس دکان پر کھڑا ہے جو مسجد کے دروازے پر ہے کیونکہ یہ فنائے مسجد میں ہونے کی وجہ سے مسجد سے متصل ہے۔ (ت)
ظاہر ہے کہ جو دکانیں دروازہ پر ہیں صحن مسجد سے متصل ہیں نہ درجہ مسقفہ سے تو لاجرم صحن مسجد مسجدہے اور یہیں سے ظاہر کہ صحن کو فنا کہنا محض غلط ہے اگر وہ فنائے مسجد ہوتا تو دکانیں کہ اس سے متصل ہیں متصل بہ فنا ہوتیں نہ متصل بہ مسجد پھر ان دکانوں کے فنا ٹھہرنے میں کلام ہوتا کہ فنا وہ ہے جو متصل بہ مسجد ہو نہ وہ کہ متصل بہ فنا ہو ورنہ اس تعریف پر لزوم دور کے علاوہ متصل بالفنا بھی فنا ٹھہرے تو سارا شہر یا لااقل تمام محلہ فنائے مسجد قرار پائے کما لایخفی(جیسا کہ مخفی نہیں ۔ ت) اور یہ ادعا کہ صحن وفنا کا مفہوم واحد
حوالہ / References ∞ €&بحرالرائق بحوالہ الظہیریۃ فصل لمافرغ من بیان الکراہۃ الخ€∞ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / €٣٥
∞ €&فتاوٰی قاضی خاں فصل فی المسجد€∞ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / €٣٢
#10431 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
جہل شدید ہے کہ کسی عاقل سے معقول نہیں شاید یہ قائل ان دکانوں کو بھی صحن مسجد کہے گا۔
تاسعا انصاف کیجئے تو یہ خاص جزئیہ بھی یعنی صحن مسجد میں جنب کا جانا نا جائز ہونا کلمات علماسے مستفاد ہوسکتا ہے ائمہ فرماتے ہیں جنب کو مسجدمیں جانا جائز نہیں مگر جبکہ پانی کا چشمہ مسجد میں ہواور اس کے سوا کہیں پانی نہ ملے تو تیمم کرکے لے آئے ۔ مبسوط وعنایہ وردالمحتار و فتاوی حجہ و فتاوی ہندیہ وغیرہا اسفار میں ہے :
واللفظ للثلثۃ الاول مسافر مر بمسجد فیہ عین ماء وھو جنب ولایجد غیرہ فانہ یتیمم لدخول المسجد لان لاجنا بۃ تمنعہ من دخول المسجد علی کل حال عندنا۔
پہلی تین کتب کے الفاظ یہ ہیں : ایك جنبی مسافر ایسی مسجد سے گزرا جس کے اندر پانی کا چشمہ ہے اور اس کے علاوہ وہ پانی نہیں پاتا تو وہ دخول مسجد کے لئے تیمم کرے کیونکہ ہمارے نزدیك ہر حال میں جنابت اسے دخول مسجد سے مانع ہے ۔ (ت)
ظاہر ہے کہ عامہ بلاد میں عامہ مساجد جماعات مسقف ہوتی ہیں اور چشمہ آب عادۃ صحن ہی میں ہوتا ہے اور کلمات فقہاء امور عادیہ غالبہ ہی پر مبتنی ہوتے ہیں بہت نادرہے کہ حصہ اندرونی میں چشمہ آب ہو تو انھوں نے صحن ہی میں جنب کو جانے پر یہ احکام فرمائے فافھم وتبصر(پس سمجھو اور غور کرو۔ ت) ان کے سوا اور بہت وجوہ کثیرہ سے استنباط ممکن مگر بعد ان دلائل قاہرہ کے جوابتدا زیرگوش سامعین ہوئے حاجت تطویل نہیں ۔
عاشرا یاھذا ان براہین ساطعہ کے بعد صحن مسجد کا جزء مسجد ہونا اجلی بدیہیات تھا جس پر اصلا تصریح کتب کی احتیاج نہ تھی بلکہ جو اسے مسجد نہیں مانتا وہی محتاج تصریح وقطعی تھا اور ہر گز نہ دکھاسکتا نہ کبھی دکھا سکے تاہم فقیر نے بطور تبرع یہ چار استنباط بھی کلمات ائمہ سے ذکر کئے کہ یہ بدیہی مسئلہ اپنے غایت وضوح واشتہار کے باعث اس قبیل سے تھا جس پر خادم فقہ کو کتب ائمہ میں تصریح جزئیہ ملنے کی امید نہ ہوتی کہ ایسی روشن و مشہور باتوں پر فقہائے کرام کم توجہ فرماتے ہیں ۔ مثلااگر کوئی اس امر کی تصریح کتابوں سے نکالنا چاہے کہ مسجد کے درجہ شتوی میں جسے اہل سورت جماعت خانہ کہتے ہیں تین درہیں بائیں طرف کا در بھی جزء مسجد ہے اور اس میں بھی جنب کو جانا ممنوع یا نہیں تو غالبا ہر گز اس کا جزئیہ نہ پائے گا مگر بحمداﷲتعالی جب فقیر یہاں تك لکھ چکا مسئلہ کا خاص جزئیہ کلمات علماء میں یاد آیا جس میں ائمہ دین نے صاف تصر یحیں فرمائی ہیں کہ مسجد کے صیفی وشتوی یعنی صحن و مسقف دونوں درجے یقینا مسجد ہیں ۔ اب سنئے امام طاہربن عبدالرشید بخاری فتاوی خلاصہ پھرامام فخرالدین ابو محمد عثمان بن علی زیلعی تبیین الحقائق شرح کنزالدقائق پھر۳امام حسین بن محمد سمعانی خزانۃالمفتین پھر ۴امام محقق عل الاطلاق کمال الدین محمد بن الہمام فتح القدیرپھر ۵علامہ عبدالرحمن بن محمدرومی مجمع الانہرشرح
حوالہ / References ∞ €&المبسوط للسرخسی باب التیمم €∞مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۱۱۸€
#10432 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
ملتقی الابحر پھر ۶علامہ سیدی احمد مصری حاشیہ مراقی الفلاح شرح نورالایضاح پھر ۷خاتم المحققین سیدی محمد بن عا ب دین شامی ردالمحتار میں فرماتے ہیں :
واللفظ للخلاصۃ ولخزانۃ رجل انتھی الی المام والناس فی الصلوۃ الفجر ان رجال ان یدرك رکعۃ فی الجماعۃ یاتی برکعتی الفجر عند باب المسجد وان لم یمکن یاتی بھما فی المسجد الشتوی ان کان الامام فی الصیفی وان کان الامام فی الشتوی ھویاتی فی الصیفی وان کان المسجد واحدا یقف فی ناحیۃ المسجد الا یصلیھما مخالطاللصف مخالفا للجمایۃ فان فعل ذلك یکرہ اشد الکراھۃ اھ۔
خلاصہ اور خزانہ کی عبارت یہ ہے : ایك آدمی مسجد میں پہنچا امام اور لوگ نماز فجر ادا کر رہے تھے اب اگر آنے والا شخص امید رکھتا ہے کہ اسے ایك رکعت جماعت کے ساتھ مل جائے گی تو وہ مسجد کے دروازہ کے پاس دوسنتیں ادا کرے اور اگر وہاں ممکن نہ ہو مسجد شتوی (یعنی سردیوں والے حصہ) میں دو رکعات ادا کرے جب امام صیفی مسجد (یعنی گرمیوں والے حصہ) میں ہو اور اگر اس کا عکس ہو یعنی امام شتوی مسجد میں ہو تو یہ صیفی میں پڑھے ۔ اگر مسجد واحد ہی ہو تو مسجد کے ایك گوشے میں ادا کرے اور ان دو۲ رکعتوں کی ادائیگی کے لئے صف کے متصل کھڑا نہ ہو کیونکہ یہ جماعت کی مخالف ہے۔ اگر ایسا کیا تو یہ شدید مکروہ ہوگا اھ(ت)
ردالمحتارمیں ہے :
قولہ عندباب المسجد ای خارج المسجد کما صرح بہ القھستانی الخ۔
اقول : ویو ضحہ قول الھدایۃ و الھندیۃ یصلی رکعتی الفجر عند باب المسجد ثم یدخل ۔
ماتن کا قول “ مسجد کے دروازے کے پاس “ یعنی مسجد سے باہر جیسے کہ قہستانی نے اس پر تصریح کی ہے الخ (ت)
اقول : (میں کہتا ہوں ) ہدایہ اور ہندیہ کے الفاظ نے واضح کردیا ہے کہ وہ فجر کی سنتیں مسجد کے دروازے پر پڑھ کر مسجد میں داخل ہو۔ (ت)
امام ابوالبر کات حافظ الدین نسفی کافی شرح میں فرماتے ہیں :
الافضل فی السنن المنزل ثم باب المسجد
سنتوں کے ئے افضل مقام گھر ہے اور اگر امام مسجد
حوالہ / References ∞ €&خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الصّلوٰۃ الجنس فی السنن€∞ مطبوعہ نو کشور لکھنؤ ۱ / €٦١∞و€٦٢
∞ €&ردالمحتار باب ادراك الفریضہ€∞ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / €٥٦
∞ €&الھدایۃ باب ادراك الفریضۃ€∞ مطبوعہ المکتبۃ العربیہ کراچی €١∞ / ۱۳۲۷€
#10433 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
ان کان الامام یصلی فی المسجد ثم المسجد الخارج ان کان الامام یصلی فی الداخل او الداخل ان کان فی الخارج اھ ملخصا
میں جماعت کروارہا ہو تو مسجد کا دروازہ بہتر مقام ہے اگر امام داخل مسجد میں جماعت کروا رہا ہو تو پھر خارج مسجد اسی طرح امام خارج مسجد ہو تو سنتوں کے لئے داخل مسجد بہتر ہے اھ تلخیصا (ت)
۹ محقق علامہ زین بن نجیم مصری بحرالرائق پھر علامہ سیدی احمد طحطاوی حاشیہ درمختار میں فرماتے ہیں :
السنۃ فی السنن انیاتی بھا فی بیتہ او عند باب المسجد وان لم یمکنہ ففی المسجد الخارج الخ
سنتوں کے لئے سنت یہ ہے کہ انھیں گھر میں ادا کرے یا مسجد کے دروازے کے پاس اور اگر وہاں ممکن نہ ہو تو پھر صحن مسجد میں ادا کرے الخ (ت)
۱۱ منیہ و شرح صغیر منیہ للعلامہ ابراہیم الحلجی میں ہے :
(السنۃ) الموکدۃ (فی سنۃ الفجر) ھو ان لایاتی بھا مخالطاللصف ولاخلف الصف من غیر حائل و (ان یاتی بھا) اما (فی بیتہ) وھو الافضل)او عند باب المسجد) ان امکن بان کان ھناك موضع لائق للصلاۃ (وان لم یمکنہ) ذلك (ففی المسجدالخارج) ان کانوا یصلون فی الداخل و بالعکس ان کان ھناك مسجد ان صیفی شتوی اھ
(سنت) مؤکدہ ( فجر کی سنتوں میں ) یہ ہے کہ انھیں صف کے متصل اور بغیر رکاوٹ کے صف کے پھیچے بھی ادا نہ کرے (انھیں بجالائے) یا (گھر میں ) اور یہی افضل طریقہ ہے یا (مسجد کے دروازے کے پاس) اگر ممکن ہو یعنی اگر وہاں نماز ادا کی جا سکتی ہو (اور اگر ممکن نہ ہو) یہ بات (تو پھر صحن مسجد میں )اگر لوگ داخل مسجد نماز ادا کررہے ہوں اور عکس کی صورت میں عکس ہوگا اگر وہاں دومساجد صیفی اور شتوی ہیں اھ (ت)
امام محقق ۱۳ علامہ محمد محمد محمد ابن امیر الحاج حلبی حلیہ میں اسی قول منیہ کے نیچے فرماتے ہیں المسجد الخارج صحن المسجد اھ (مسجد خارج سے مراد صحن مسجد ہے اھ۔ ت)
حوالہ / References ∞ €&کافی شرح وافی€
∞ €&حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب ادراك الفریضہ€∞ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ، €١∞ / €٣٠٠
∞ €&صغیری شرح منیۃ المصلی فصل فی النوافل€∞ مطبوعہ مجتبائی دہلی بھارت €١∞ / €٢٠٤
∞ €&التعلیق المجلی لمافی منیۃ الصلی بحوالہ حلیہ امیرالحاج مع منیۃ المصلی فصل فی السنن€∞ مطبوعہ مکتبہ قادریہ لاہور ص €٣٩∞ €٤
#10434 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
دیکھو اول کی سات کتابوں میں صیفی و شتوی دونوں کو مسجد فرمایا اور آٹھ سے گیارہ تك چار کتابوں میں انھیں مسجد داخل ومسجد خارج سے تعبیر کیا ۔ صغیری نے ان عبارات شتی کا مصداق واحد ہونا ظاہر کردیا اور حلیہ میں تصریح فرمادی کہ مسجد بیرونی صحن مسجد کا نام ہے تو صاف واضح ہوگیا کہ صحن مسجد قطعا مسجد ہے جسے علماء کبھی مسجد صیفی اور کبھی مسجد الخارج سے تعبیر فرماتے ہیں والحمدﷲعلی وضوح الحق (حق کے واضح ہو جانے پر اﷲ کی حمد ہے۔ ت) ان نصوص صریحہ کے بعد ان استنبا طول کی حاجت نہ تھی مگر کیا کیجئے کہ فقیر انھیں پہلے ذکر کرچکا تھا معہذاان کے ابقا میں طالبان علم وخادمان فقہ کی منفعت کہ اقوال علماء سے ا ستنباط مسائل کا طریقہ دیکھیں وباﷲالتوفیق اب کہ بحمد اﷲکا لشمس علی نصف النہار واضح و آشکار ہوگیا کہ صحن مسجد بالیقین جزء مسجد ہے تو اس کے لئے تمام احکام مسجد آپ ہی ثابت جن کا ثبوت صحن پر نمازیں پڑھے جائے خواہ کس شرط پر اصلاموقوف نہیں کہ مسجد مذہب راجح پر واقف کے صرف اس کہنے سے کہ میں نے ا س زمین کو مسجد کیا اور دوسرے مذہب پر ایك قول مصحح ظاہر الروایہ میں دو آدمیوں کی جماعت بااذان واقامت بلکہ واقف کے سوا ایك ہی شخص کی اذان و اقامت ونماز برہیئت جماعت اور ایك قول ظاہر ا الروایہ میں سوائے واقف ایك ہی آدمی کی منفردا نماز پڑھ لینے سے بجمیع اجزاہہ مسجد ہو جاتی ہے تو ہر ہر جزء میں جدا گانہ نماز ہونے کی بالاجماع حاجت نہیں مذہب اول پر تو خود ظاہر کہ مطلقا نماز کی شرط ہی نہیں صرف قول کفایت کرتا ہے اور ثانی پر بھی واضح کہ منفرد کی نماز زیادہ دو شخصوں کی جماعت ہر پارہ مسجد کوشامل نہیں ہو سکتی کما لایخفی فوضح المقصود والحمدﷲالعلی الودود (جیسا کہ واضح ہے تمام حمد اﷲ تعالی کے لئے جو بلند اور محبت کرنے والا ہے۔ ت)
تنویر الابصار و درمختارو ردالمحتار میں ہے : یزول ملکہ عن المسجد بقولہ جعلتہ مسجد اعند الثانی(وفی الدرالمنتقی و قدم فی التنویر والدرروالوقایۃ وغیرھا قول ابی یوسف وعلمت ارجحیتہ فی الوقف والقضاء اھ ش) و شرط محمد و الامام الصلوۃ فیہ بجماعۃ(واشتراط الجماعۃ لانھا المقصودۃ من المسجد ولذاشرط ان
تکون جھرا اس کی ملکیت مسجد سے ان الفاظ سے زائل ہو جاتی ہے کہ میں نے اسے مسجد بنادیا ہے یہ ثانی امام (ابویوسف) کے نذدیك ہے (الدرالمنتقی میں ہے کہ تنویر درر اور وقایہ وغیرہ میں قول ابو یوسف کو مقدم ذکر کیا اور آپ جانتے ہیں کہ ان کا قول وقف اورقضاء میں راجح ہے اھ ش) امام محمد اور امام صاحب نے اس میں جماعت کے ساتھ نماز کو بھی لازم و شرط قراردیا ہے(جماعت کا شرط قرار دینا اس لئے ہے کہ مسجد سے مقصود ہی یہی ہے اسی لئے یہ شرط ہے
#10435 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
باذان واقامۃ والالم یصر مسجد ا قال الزیلعی : وھذہ الروایۃ ھی الصحیحۃ وقال فی الفتح : ولو اتحد الامام والمو ذن وصلی فیہ وحدہ صار مسجد االاتفاق لان الاداء علی ھذاالوجہ کا لجماعۃ لکن لوصلی الواقف وحدہ فا لصحیح انہ لا یکفی اھ ش) وقیل : یکفی واحد و جعلہ فی الخانیۃ ظاھر الروایۃ (وعلیہ امتون کا لکنز و الملتقی وغیرھما وقد علمت تصحیح الاول و صححہ فی الخانیۃ ایضا وعلیہ اقتصر فی کافی الحاکم فھو ظاھر الروایۃ ایض اھ ش) (مختصرا) واﷲسبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
کہ وہا ں اذان و اقامت بلند آواز سے ہو ں ورنہ وہ مسجد قرار ہی نہ پائے گی۔ امام زیلعی کہتے ہیں کہ یہ روایت صحیح ہے اورکہا کہ فتح میں ہے کہ اگر امام اور مؤذن ایك ہی آدمی تھا اور اس نے وہا ں تنہا نماز ادا کی تو وہ بالاتفاق مسجد ہی قرار دی جائے گی کیونکہ اس طریقہ پر ادائیگی جماعت ہی کی طرح ہے لیکن اگر وقف کرنے والے نے فقط نماز ادا کی تو صحیح یہی ہے کہ یہ کافی نہیں ا ھ ش) ایك قول یہ ہے کہ ایك آدمی کا نماز ادا کرلینا بھی کافی ہے اور اسے خانیہ نے ظاہر الروایہ قرار دیا ہے (اور متون میں یہی ہے جیسے کہ کنز ملتقی وغیرہ اور آپ اول کی تصحیح جان ہی چکے اور اسی کو خانیہ نے صحیح کہا اور حاکم نے کافی میں اسی پر اقتصار کیا پس یہی ظاہر روایت ہے ایضا اھ ش) مختصرا۔ واﷲسبحنہ و تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(ت)
مسئلہ : از بری سال مرسلہ جان محمود ساکن چاند
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں ایك مسجد مدت سے قائم ہے اور وہ خود متولی ہے اور جمعہ کی نماز بھی ہمیشہ پڑھی جاتی ہے ابھی متولی مسجد نے ایك شخص کو کسی وجہ سے منع کیا کہ وہ اس مسجد میں نہ آئے جب اس کو منع کیا تو وہ شخص اور چند مصلی مجتمع ہو کر دوسری جگہ پر ایك مسجد نئی بناکر لی اس قدر فاصلہ پر ہے کہ اگر بلند آواز سے اذان کہے تو احتمال سنائی کی ہے اس صورت میں دونو ں مسجدوں میں جمعہ کی نماز جائزہے یا ایك میں اگر ایك میں ہے تو اول یا ثانی اگر صورت مذکورہ میں منع کرنا کسی مصلی کو شرعا کوئی وجہ سے جائز ہے یا نہیں بینوابحوالۃ الکتاب توجروا یوم الحساب۔
حوالہ / References ∞ €&ردالمحتارعلی ا لدرارلمختارشرح تنویر الابصار کتاب الوقف€∞ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۴ / €٣٥٥
#10436 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
الجواب :
جو شخص موذی ہو کہ نمازیوں کو تکلیف دیتاہے برابھلا کہتا ہے شریر ہے اس سے اندیشہ رہتاہے ایسے شخص کو مسجد میں آنے سے منع کرنا جائز ہے اور اگر بد مذہب گمراہ مثلاوہابی یا رافضی یا غیر مقلد یا نیچری یا تفضیلی وغیرہا ہے اور مسجد میں آکر نمازیوں کو بہکاتا ہے اپنے مذہب ناپاك کی طرف بلاتا ہے تو اسے منع کرنا اور مسجد میں نہ آنے دینا ضرور واجب ہے۔
فقد نص فی العینی ثم المختار وغیرھما من معتمدات الاسفار باخراج کل موذ و لو بلسانہ۔
علامہ عینی نے تصریح کی ہے پھر درمختار وغیرہ معتمد کتب میں ہے کہ ہر ایذادینے والے کو مسجد سے نکال دیا جائے خواہ اس کی اذیت زبان سے ہو ۔ (ت)
یونہی جس کے بدن میں بدبو ہو کہ اس سے نمازیوں کو ایذا ہو مثلا معاذاﷲ گندا دہن یا گندا بغل یا جس نے خارش وغیرہ کے باعث گندھك ملی ہو اسے بھی مسجد میں نہ آنے دیا جائے لقولہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فلا یقربن مصلانا (رسالتمآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے کہ وہ ہرگز ہماری نماز گاہ کے قریب نہ آئے ۔ (ت)اور بلاوجہ شرعی اپنی کسی رنجش دنیوی کے باعث مسجد سے کسی مسلمان کو روکنا سخت گناہ ہے۔
لقولہ تعالی
و من اظلم ممن منع مسجد الله ان یذكر فیها اسمه و سعى فی خرابها- ۔
اﷲتعالی کا فرمان ہے : اور کون اس سے بڑھ کر ظالم ہو سکتاہے جو اﷲکے نام کے ذکر سے روکے اور ان کی بربادی میں کوشاں ہو۔ (ت)
اور مسجد جبکہ نہ نیت خالصہ بنا ئی جائے تو پہلی مسجدکے کسی قدر قریب ہو کچھ حرج نہیں ۔
لما فی الاشباہ والدر ان لاھل المحلۃ جعلوا المسجد الواحد مسجدین
اشباہ اور در میں ہے کہ اہل محلہ کے لئے جائز ہے کہ ایك مسجد کو وہ دو مساجد بنالیں ۔ (ت)
مگر جمعہ قائم کرنے کے لئے ضرور ہے کہ امام جمعہ وہ ہو جسے بادشاہ اسلام نے امام جمعہ مقررکیا یا وہ جسے اس نے اپنا نائب کیا اور یہ نہ ہو تو وہ جسے اہل اسلام جمع ہو کر امام جمعہ مقرر ومعین کریں ہر شخص جمعہ و عیدین کی امامت نہیں کرسکتا ۔
حوالہ / References ∞ €&دُرمختار آخر باب ما یفسد الصلوٰۃ€∞ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی €١∞ / €٩٤
∞ €&مجمع الزوائد کتاب الصلوٰۃ باب فیمن اکل ثوماالخ€∞ مطبوعہ دارالکتاب بیروت ۲ / ۱۷€
∞ €&القرآن€∞ €٢∞ / ۱۱۴€
∞ €&الاشباہ والنظائر القول فی احکام المسجد€∞ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی €٢∞ / €٢٣٤∞ ، €٦∞۳۵ ، €&درمختار قبیل باب الوتر و النوافل€∞ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۴€
#10437 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
کما نصوا علیۃ معتمدات المذھب
(جیساکہ اس پر معتمدات مذہب نے تصریح کی ہے ۔ ت)
اس طرح کا امام اگر اس دوسری مسجد کو میسر ہوگا تو اس میں بھی جمعہ جائز ہوگا ورنہ نہیں ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہتا۱۲۱ : از شہر پوربندر ملك کا ٹھیا واڑ محلہ ڈیڈ روڈ مسئولہ کھتری عمر ابوبکر صاحب جمادی الاولی۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل ذیل میں :
(۱) صحن مسجد داخل مسجد ہے یا خارج مسجد ہے
() اذان ثانی جمعہ جو صحن مسجد میں پڑھی جائے تو داخل مسجد قرار پائے گی یانہ
() کوئی شخص باوجود داخل مسجد ہونے کے صحن مسجد میں نماز پڑھے تو اس کو مسجدکا پورا ثواب ملے گا یا کم
() جنازہ مسجد میں یاصحن مسجد میں پڑھنا جائز ہے یانہیں
الجواب : صحن مسجد جزو مسجد ہے کما نص علیہ فی الحلیۃ(جیسا کہ حلیہ میں اس پر تصریح ہے ۔ ت) اس میں نماز مسجد ہی میں نماز ہے پٹے ہوئے درجے کو مسجد شتوی کہتے ہیں یعنی موسم سرماکی مسجد اور صحن کو مسجد صیفی یعنی موسم گرما کی مسجد ۔ اذان مسجد میں منع ہے نہ دالان میں اجازت ہے نہ صحن میں ۔ مسجد میں جنازے کے لئے اجازت نہیں ھوالصحیح (یہی صحیح ہے ۔ ت) صحن کسی حکم میں مسجد سے جدا نہیں ۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ : از پیلی بھیت محلہ بھورے خاں مرسلہ حا جی عزیز احمد صاحب ۷صفر۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ فصیل حوض خارج مسجد ہے ۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
حوض قدیم کی فصیل فنائے مسجد ہے نہ عین مسجد ورنہ اس پر وضو ناجائز ہوتا اور فنائے مسجد میں اذان جائز ہے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۱۱۲۳ : از ترپول سولول ڈاك خانہ ہرول ضلع دربھنگہ بلگرام چرسہ مرسلہ عبدالحکیم صاحب ۲۱جمادی الاولی ھ
ایك جگہ بستی میں بستی کے سارے مسلمان مل کرکے مسجد بنوایا لیکن زمین دوسرے آدمی کے نام سے جس کے نام سے زمین ہے وہ دعوی کرتاہے کہ وہ مسجد ہماری ہے ہم جس کو حکم دیں گے وہ نماز پڑھے گا اور ہم جس کو حکم دیں گے وہ امامت کرےگا۔ وہ جسے روك دیتاہے اس مسجد میں اس کی نماز جائز ہوگی یانہیں اور اس
#10438 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
مسجد کو کیا کہا جائے گا
الجواب :
اﷲ عزوجل فرماتاہے : و ان المسجد لله مساجد خاص اﷲ کی ہیں ۔ ان میں کسی کا کوئی دعوی نہ زمین والے کو نہ عملے والوں کا اور بلا وجہ شرعی کسی سنی مسلمان کو مسجد سے منع کرنا حرام ہے ۔ اﷲ عزوجل فرماتا ہے
و من اظلم ممن منع مسجد الله ان یذكر فیها اسمه و سعى فی خرابها- ۔
اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اﷲ کی مسجد کو روکے ان میں اﷲکا نام لیاجانے سے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے۔
مگر اس کے منع کرنے سے نہ مسجد میں کوئی نقصان آئے گا نہ وہ جسے منع کیا اسے مسجد میں نماز پڑھنا منع ہوجائےگا واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۲۴ : از شہر رانچی قصاب محلہ مرسلہ شیخ ولی محمد سوداگر چرسہ جمادی الاولی ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ غیر مقلد وہابی جو تقلید کو بدعت کہے ائمہ مجتہدین پر طعن کرے ختم نبوت اور کرامات اولیا کا قائل نہ ہو ۔ جناب ولی الاولیاء غوث الاعظم پر طعن کرے انعقاد مجلس میلاد اور یارسول اﷲ کہنے کو بدعت کہے آمین بالجہر و رفع الیدین کرے وغیرہ وغیرہ ایسے شخص کی اقتداء اور اس کی موانست و مکالمت صوم وصلوۃ جائز ہے یا نہیں ایسے عقیدہ والو ں کو واسطے دفع فتنہ وفساد کے جو موجب اس کا خلاف عقیدت باہمی سے مسجد میں نہ آنے دینا جائز ہے یا نہیں بحسب فرمان شرع شریف بحوالہ کتب ارشاد ہو۔
الجواب :
ایسا شخص کا فر و مر تد ہے اس کے مرتد ہونے کے لئے صرف انکار خا تمیت ہی کافی ہے۔ قال اﷲتعالی و لكن رسول الله و خاتم النبین- (اﷲتعالی کا ارشاد گرامی ہے : اور لیکن اﷲکے رسول اور نبیوں کے خاتم ہیں ۔ ت)تتمۃ الفتاوی اور الاشباہ النظائرمیں ہے :
ان لم یعرف ان محمداصلی اﷲتعالی علیہ وسلم اخر الانبیاء فلیس بمسلم لانہ من الضروریات۔
اگر کوئی شخص یہ عقیدہ نہیں رکھتا کہ حضرت محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان ہی نہیں کیونکہ یہ ضروریات دین میں سے ہے۔ (ت)
حوالہ / References ∞ €&القرآن€∞ ، €٧∞۲ / €١∞۸€
∞ €&القرآن€∞ €٢∞ / ۱۱۴€
∞ €&القرآن€∞ ، ۳۳ / €٤٠
∞ €&الاشباہ والنظائر کتاب السیروالردۃ€∞ مطبوعہ ادارۃالقرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱ / ۲۹۶€
#10439 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
تقلید کو بدعت کہنا ائمہ مجتہدین پر طعن کرنا اور بے تقلید امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ رفع یدین اور جہر سے آمین کہنا خباثات وعلامات غیر مقلدی ہیں اور کرامات اولیاء سے انکار اور حضور سید الاولیا پر طعن گمراہی و بد نصیبی اور مجلس میلاد پاك اور یارسول اﷲکہنے کو بدعت کہنا شعاروہابیت ہے اور وہابی لوگ وغیر مقلدین زمانہ پر حکم کفر ہے جس کی تفصیل الکوکبۃ الشھابیۃ اور سل السیوف الھندیۃ اور حسام الحرمین سے روشن۔ شخص مذکور کے پیچھے نماز باطل محض ہے اور اس سے مجالست وموانست حرام ۔
قال اﷲتعالی
و اما ینسینك الشیطن فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظلمین(۶۸) ۔
وقال اﷲ تعالی و لا تركنوا الى الذین ظلموا فتمسكم النار- ۔
اﷲتعالی کا فرمان ہے : اور جو کہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔ (ت)
اﷲتعالی نے فرمایا : اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمھیں آگ چھوئے گی۔ (ت)
دفع فتنہ وفساد بقدر قدرت فرض ہے اور مفسدوں موذیوں کو بشرط استطاعت مسجد سے روکا جائے گا۔
عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری شریف میں ہے پھر درمختار میں ہے : ویمنع منہ کل موذ و لو بلسانہ ۔ (اور ہرایذادینے والے کو مسجد سے روکا جائے گا اگر چہ اس کی اذیت زبان سے ہو۔ ت) واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۱۱۲۵ : از دیرم گام ضلع احمد آباد گجرات جامع مسجد مرسلہ سید غلام محی الدین صاحب رجب ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دیرمگام گجرات میں جو عیدگاہ ہے اس پر چند لوگ جن کا چار پانچ نفر سے زیادہ عدد نہیں خود بخود بلا اجازت بانی مسجد وبلا اجازت مسلمانان شہر ایسے قابض و متصرف ہو گئے ہیں کہ گویا وہ مالك ہی ہیں چنانچہ علی الاعلان اس امر کا اظہار کرتے رہتے ہیں کہ اس مسجد میں سوائے ہمارے دوسرے کا حق نہیں جس کو ہم چاہیں گے امام بنائیں گے اور امام جو بناتے ہیں توایسا کہ جس کے پیچھے نماز پڑھنے میں تمام مسلمانان شہر اور اہل علم حضرات کراہت کرتے ہیں اور یہ کراہت شرعی ہوئی نہ مخالفت ذاتی پر قابضین کی قلیل جماعت کے عقائد کی یہ کیفیت ہے کہ نکاح ثانی کو حرام قطعی سمجھتے ہیں اور مسجد پرتصرفات میں سے یہ بھی ہے کہ اہل شہر کے ساتھ نماز پڑھنے میں مزاحمت کرتے ہیں آیا اہل شہر کو اس مسجد میں نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں اور دوسری عیدگاہ قرار دیکراہل شہر نماز پڑھ سکتے ہیں یا نہیں
حوالہ / References ∞ €&القرآن€∞ €٦∞ / €٦٨
∞ €&القرآن€∞ €١١∞ / €١١٣
∞ €&درمختار آخرباب مایفسدالصلوٰۃ€∞ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی €١∞ / €٩٤
#10440 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
الجواب :
اہل شھر کواس مسجد میں نماز پڑھنا جائز ہے اور ان لوگوں کو مزاحمت کا کوئی حق نہیں اگر وہ مانع آئیں گے سخت ظالم ہوں گے۔
قال اﷲتعالی
و من اظلم ممن منع مسجد الله ان یذكر فیها اسمه و سعى فی خرابها- ۔
اﷲتعالی نے فرمایا : اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوسکتا ہے جو اﷲکی مساجد میں اﷲ کے نام کے ذکر سے روکے اور ان کی ویرانی کی کوشش کرے۔ (ت)
اور ایسا امام کہ وہ مقرر کریں معتبر نہ ہوگا امام وہی مانا جائے گا جسے عام مسلمانان شہر حسب شرائط شرعیہ مقرر کریں گے اس کے سوا وہ امام جسے وہ پانچ چھ برخلاف شہر مقرر کریں نماز عید باطل محض ہوگی اہل شہر اگر کسی وجہ سے اس عیدگاہ میں نماز نہ پڑھ سکیں دوسری جگہ پڑھیں اگر چہ کسی میدان میں کہ عیدگاہ میں عمارت کی حاجت نہیں اور اگر دوسری عیدگاہ ہی تعمیر کرنی مناسب ہو تو انھیں اس کا بھی اختیار ہے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : ازمرادآباد مرسلہ مولوی عبدالباری صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر امام بعد فراغت نماز جمعہ کے مقتدیوں کو اپنے پیچھے قطعی نماز نہ پڑھنے دے اور خود اذکار وغیرہ سے مشغول رہے اور مصلی سے لے کر مسجد کے دروازے تك سیدھ میں کوئی نمازی نماز نہ پڑھنے پائے بلکہ اگر کسی نے نیت بھی باندھ لی تو وہ نیت جبرا تڑوادے اس لئے کہ اس کے نکلنے میں حرج ہوگا کیونکہ اس کی عادت ہے بعد فراغت جمعہ بہت دیر کے بعد وہ اپنے حجرہ میں جاتاہے تو اتنی دیر تك کوئی مصلی اس کے محاذاور عقب میں نماز نہ پڑھے اگر کسی ناواقف نے ایسا کر بھی لیا تو اس پر نہایت تشدد کرتاہے یہ کہا ں تك روا ہے
الجواب :
اﷲ عزوجل فرماتاہے :
و ان المسجد لله ۔
مسجدیں خالص اﷲ کےلئے ہیں
ان میں کسی کا ذاتی دعوی نہیں پہنچتا۔ اور فرماتاہے :
و من اظلم ممن منع مسجد الله ان یذكر فیها اسمه ۔
اس سے بڑھ کر ظالم کو ن جو اﷲ کی مسجدوں کو ان میں نام الہی لیئے جانے سے روکے یہ سب ظلم شدید ہے اور بندھی ہوئی
حوالہ / References ∞ €&القرآن€∞ €٢∞ / €١١٤
∞ €&القرآن€∞ €٧٢∞ / €١٨
∞ €&القرآن€∞ €٢∞ / €١١٤
#10441 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
نیت تڑوا دینا اشد ظلم و لا تبطلوا اعمالكم ( اور اپنے اعمال باطل نہ کرو۔ ت) واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۱۱۲۷ : از شہر کہنہ محلہ بخار پورہ مسئولہ عبدالرحمان بیگ صاحب صفر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد جو قدیمی تعمیر کردہ اہلسنت وجماعت کی ہے اور زمانہ قدیم سے آج تك مسجد مذکورہ پر قبضہ بھی اہلسنت والجماعت کا ایسی مسجد میں شیعہ وسنی ہر دو فریق کا باہم نماز پڑھنا اور اذان واقامت بھی ہر دو فریق کی ہونا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
اہل سنت کی مسجد میں روافض کا کوئی حق نہیں اہل سنت کی معتمد کتابوں خلاصہ وفتح القدیر و علمگیری و تنویرالابصار و درمختار میں تصریح ہے کہ روافض کافر ہیں اور کافر کا مسجد میں کوئی حق نہیں ۔ عبارت یہ ہے :
الرافضی اذاکان یسب الشیخین ویلعنھما و العیاذ باﷲ تعالی فھوکافر ۔ واﷲتعالی اعلم
رافحی جب شیخین کریمین کو گالی دے یا ان پر لعنت کرے (والعیاذباﷲتعالی) تو وہ کافر ہوگا (ت)واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : از ملك بنگالہ قصبہ گوری پور ضلع میمن سنگھ مرسلہ میاں عبدالجلیل ذی القعدہھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کوئی شخص بڑا فتان ومفسد ہے جماعت المسلمین بوجہ اس کے افتراق ہوگیا ہے لوگ دوسری مسجد میں نماز پڑھتے ہیں اور وہ مفسد امام اس قوم باغین کا ہے اور یہ بغاوت دینی نہیں بلکہ محض نفسانیت ہے اس صورت میں اس مسجد کھنہ کو مسجد ضرار کہہ سکتے ہیں یا نہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
مسجد کہنہ ان کے جانے اور نماز پڑھنے پڑھانے سے مسجد ضرار نہیں ہوسکتی ضرار وہ مسجد ہے جو ابتداء افسادفی الدین وتفریق بین المومنین کے لئے بنائی گئی ہو۔
قال تعالی
و الذین اتخذوا مسجدا ضرارا و كفرا و تفریقا بین المؤمنینالی قولہ تعالی
افمن اسس بنیانه على تقوى من الله و رضوان خیر ام من اسس بنیانه على شفا
اﷲ تعالی نے فرمایا : “ وہ لوگ جنھوں نے مسجد بنائی نقصان پہنچانے کو اور کفر کے سبب اور مسلمانوں مین تفرقہ ڈالنے کو “ (اﷲتعالی کے اس قول تک) “
حوالہ / References ∞ €&القرآن€∞ €٤٧∞ / €٣٣
∞ €&خلاصہ الفتوی کتاب الفاظ الکفر€∞ مطبوعہ حبیبیہ کوئٹہ ۴ / ۳۸۱€
#10442 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
جرف هار الایۃ
یا وہ جس نے اپنی نیوچنی ایك گراؤ گڑھے کے کنارے “ الآیۃ (ت)
تعمیر شدہ مسجد میں مفسدین کا جانا خواہ ان کا قبضہ وتسلط ہو جانا اسے مسجد ضرار نہیں کرسکتا جیسے واقعہ حرہ میں لشکریان یزید یا حادثہ نجد میں مبتعان نجدی بلید کا مساجد طیبہ حرمین محترمین میں مفسدانہ دخل والعیاذباﷲ تعالی واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۱۱۲۹ : از گوہالباڑی ضلع مالوہ انگریز آبا د ڈاکخانہ بھولاہاٹ مرسلہ شیخ غریب اﷲ صاحب ۴ رجب ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك بستی میں مسلمانان ہم قوم ہم مذہب قریب دواڑھائی سو گھر کے رہتے ہیں اور ایك مسجد پختہ عرصہ دس بارہ برس سے کہ بنوائی ہوئی انھیں مسلمانان کی ہے اور ایك دل ایك رائے ہو کر اسی مسجد میں نماز پنجگانہ جمیع مسلمانان باشندہ بستی مذکورہ اداکرتے ہیں اتفاق وقت کہ بعد چند سال کے دو مسلمان رئیس میں جو رہنے والے اسی بستی کے ہیں جھگڑا وتکرار دنیاوی دربارہ زمین خواہ کسی امر دنیاوی کے برپا ہوا اور ہنوز ہے یا نہیں ہے کہ منجملہ دو کے ایك نے بلا سبب اپنے زورنفسانی وضد میں آکر چالیس پچاس گھر مسلمانوں کو شامل اپنے لے کر اس مسجد مذکورہ سے روگرداں ہوا اور ہوکر ایك مسجد گیا ہی جسے پھو س کہتے ہیں اپنے مکان کے قریب تعمیر کرا کر نماز پنجگانہ مع ہمراہیان خود اداکرتا ہے تو کیا رہتے ہوئے مسجد پختہ کے کہ مسجد ہذا سے مسجد گیااندازی دوسو قدم پر واقع ہے اور ان دونو ں کے راستہ درمیان کسی طرح کا خوف جان ومال کا نہیں ہے نماز پنج وقتی مسجد گیاہ میں اداہوسکتی ہے کہ نہیں اس کے جواز ولاجواز سے جہاں تك تعمیل فرماکر ممتاز فرمایا جائے گا عین نوازش واکرام ہے اور ان دونوں رئیسوں کا بلکہ سائرمسلمانان کا فیصلہ ہے مکرر آنکہ ان لوگوں نے جتنے روز تك اس مسجد گیاہ میں جان بوجھ کر نماز پڑھی تو ان سبھوں کی نماز ہوئی یا نہیں اور بصورت نکلنے حکم جواز آمناصدقناو بصورت نکلنے ناجواز ان مسلمانوں روگردانوں پر ازروئے شرع شریف کے کیا لازم آسکتا ہے اور ان لوگوں کو جماعت میں پھوٹ ڈالنے والا کہہ سکتے ہیں یا نہیں اور جماعت میں پھوٹ ڈالنے والے پر کیا حکم مطابق شرع کے جاری کیا جائےگا اور وہ لوگ کیا کہے جاسکتے ہیں آگاہ فرمایا جائے۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
جتنی نمازیں ان لوگوں نے اس نئی مسجد میں پڑھیں ان کی صحت اور ان سے ادائے فرض میں تو اصلا شبہہ نہیں اگر چہ یہ مسجد انھوں نے کسی نیت سے بنائی ہو
حوالہ / References ∞ € &القرآن€∞ €٩∞ / €١٠٧∞ و €١٠٨∞ و €١٠٩
#10443 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
لقول رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جعلت لی الارض مسجد اوطھورا فایمارجل من امتی ادرکتہ الصلوۃ فلیصل ۔
کیونکہ نبی اکرم نے فرمایا : میری خاطر ساری زمین مسجد اور پاك کردی گئی ہے میرا امتی جہاں نماز کا وقت پائے وہاں ہی ادا کرلے(ت)
ہاں یہ کہ وہ مسجد شرعا مسجد ہوئی یا نہیں اور اس میں نماز پڑھنے کی اجازت ہے یا نہیں اور یہ لوگ جماعت میں پھوٹ ڈالنے والے ہوئے یا نہیں ۔ یہ امور ان لوگوں کی نیت پر موقوف ہیں اگر یہ مسجد انھوں نے بغرض نماز خالص اﷲ عزوجل ہی کے لئے بنائی اگر چہ اس پر باعث باہمی رنجش ہوئی کہ بسبب رنج ایك جگہ جمع ہونا مناسب نہ جانا اور نماز بمسجد ادا کرنی نہ چاہی لہذا یہ مسجد بہ نیت بجا آوری نماز ہی بنائی تو اس کے مسجد ہونے اور اس میں نماز جائز و ثواب ہونے میں کوئی شبہ نہیں لانہ وقف صدرعن اھلہ فی محلہ علی وجھہ( کیونکہ یہ وقف ہے اہل وقف سے محل وقف میں طریق کے بمطابق وقف ہوئی ہے۔ ت) اوراس نیت کی حالت میں یہ لوگ جماعت میں پھوٹ ڈالنے والے بھی نہیں ٹھہرسکتے کہ ان کا مقصود اپنی نماز با جماعت ادا کرنا ہے نہ دوسروں کی جماعت میں تفرقہ ڈالنا یہاں تك کہ علماء تصریح فرماتے ہیں کہ اہل محلہ کو جائز ہے کہ بغرض نماز ایك مسجد کی دو مسجدیں کرلیں ۔ درمختارمیں ہے :
لاھل المحلۃ جعل المسجدین واحد او عکسہ لصلوۃ لالدرس اوذکر ۔
اہل محلہ دو مساجد کو ایك یا اس کا عکس کرسکتے ہیں مگر نماز کے لئے درس یا ذکر کے لئے ایسا نہیں کرسکتے(ت)
اشباہ میں ہے :
لاھل المحلۃ جعل المسجد الواحد مسجدین والاولی ان یکون لکل طائفۃ مؤذن ۔
اہل محلہ ایك مسجد کو دو مساجد بناسکتے ہیں اور بہتر یہ ہے کہ ہر گروہ کے لئے الگ مؤذن ہو۔ (ت)
اور ا گر یہ نیت نہ تھی مسجداﷲ کے لئے نہ بنائی بلکہ اس سے مقصود اگلی مسجد کو ضرر پہنچانا اور اس کی جماعت کا متفرق کردینا تھا تو بیشك یہ مسجد نہ ہوئی نہ اس میں نماز کی اجازت بلکہ نہ اس کے قائم رکھنے کی اجازت اور اس صورت میں یہ لوگ ضرور تفریق جماعت مومنین کے وبال میں مبتلاہوئے کہ حرام قطعی وگناہ عظیم ہے۔
قال اﷲتعالی و الذین اتخذوا مسجدا
اﷲتعالی کا فرمان ہے : اور وہ لوگ جنھوں نے مسجد
حوالہ / References ∞ €&صحیح البخاری€∞ ، €&کتاب الصّلٰوۃ€∞ ، ب€&اب قول النبی جعلت لی الارض مسجداالخ€∞ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ، €١∞ / €٦٢
∞ €&درمختار آخر باب مایفسدالصلٰوۃ الخ€∞ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت €١∞ / €٩٤
∞ €&الاشباہ والنظائر القول فی احکام المسجد€∞ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی €٢∞ / €٢٣٤∞ / ۶۳۵€
#10444 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
نقصان کا ذریعہ کفر اور مسلمانوں کے درمیان تفریق پیدا کرنے کا ذریعہ بنایا ۔ (ت)
ضرارا و كفرا و تفریقا بین المؤمنین الایۃ
مگر نیت امر باطن ہے اور مسلمان پر بد گمانی حرام وکبیرہ اور ہر گز مسلمان سے متوقع نہیں کہ اس نے ایسی فاسد ملعون نیت سے مسجد بنائی۔
قال اﷲ تعالی
و لا تقف ما لیس لك به علم-ان السمع و البصر و الفؤاد كل اولىك كان عنه مسـٴـولا (۳۶) ۔
اﷲ تعالی کا فرمان ہے : نہ پیچھے لگ اس چیز کے جس کا تجھے علم نہیں کیونکہ سمع بصر اور دل ہر ایك کے بارے میں سوال کیا جائے گا ۔ (ت)
تو بے ثبوت کافی شرعی ہرگز اس بری نیت کا گمان کرنا جائز نہیں بلکہ اسی پہلی نیت پر محمول کریں گے اور مسجد کو مسجد اور اس میں نماز کو جائز ثواب اور اس کی آبادی کو بھی ضرور سمجھیں گے۔
مسئلہ ۱۱۳۰ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجدصغیر و کبیر میں کیا فرق ہے بینواتوجروا
الجواب :
اقول : وباﷲ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق( اﷲتعالی کی توفیق سے اور اس کے ذریعے تحقیق تك وصول ہوتا ہے۔ ت)تحقیق یہ ہے کہ علمائے کرام ۱۱مسئلوں میں مسجد صغیر وکبیر میں فرماتے ہیں : ایك مسئلہ صحت اقتداواتصال صفوف کہ مسجد بقعہ واحدہ ہے اس میں امام ومقتدی کا فصل مائع صحت اقتدا نہیں اگر چہ امام محراب میں اورمقتدی یا صف قریب باب ہو مگر مسجد کبیر میں حکم مثل صحرا ہے کہ اگر امام وصف میں اتنا فاصلہ ہو جس میں دو صفیں ہوسکتیں تو اقتدا صحیح نہ ہوگی۔ دوسرے مسئلہ اثم مرورپیش مصلی کہ مسجد میں دیوار قبلہ تك جائز نہیں جب تك بیچ میں حائل نہ ہو ہاں مسجد کبیر مثل صحراہے کہ مصلی جب خاشعین کی سی نماز پڑھے کہ نگاہ موضع سجود پر جمائے رہے تو اسں حالت میں جہاں تك اس کی نظر پہنچے کہ نظر کا قاعدہ ہے جھاں جمائئ جاے اس سے کچھ آگے بڑھتی ہے وہاں تك گزرنا ممنوع وناجائز ہے اس سے آگے روا ان دونوں مسئلوں میں مسجد کبیر سے ایك ہی مراد ہے یعنی نہایت درجہ عظیم ووسیع مسجد جیسی جامع خوارزم کہ سولہ ہزار ستون پر تھی یا جامع قدس شریف کہ تین مسجدوں کا مجموعہ ہے باقی عام مساجد جس طرح عامہ بلاد میں ہوتی ہیں سب ان دونوں حکموں میں متحد ہیں اگر چہ طول وعرض میں سو سو گز ہوں
حوالہ / References ∞ €&القرآن€∞ €٩∞ / €١٠٧
∞ €&القرآن€∞ €١٧∞ / €٣٦
#10445 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
امام وقع فی القھستانیۃ عندذکرالمسجد الصغیر ھواقل من ستین ذراعا وقیل من اربعین وھو المختار کمااشارالیہ فی الجواھر وفی الطحطاوی قولہ اوبمسجد کبیر ھو ماکان اربعین ذراعافاکثر و الصغیر ماکان اقل من ذلك وھوالمختار قھستانی عن الجواھو وفی الشامیۃ ۔ بمثلہ بالسند المذکور فرأیتنی کتبت علیہ فیما علقت علی رد المحتار مانصہ
اقول : وباﷲ التوفیق یظھرلی ان ھذاخطاء بل الحاصل ھھنا فی الصغیر والکبیر ماتقدم فی الکتاب (اعنی ردالمحتار عن الامداد) فی مسئلۃ الفصل ا لمانع عن الاقتداء انہ لایمنع الافی مسجد کبیر جدا کمسجد القدس وذلك لانھم عللو کراھۃ المرور بین یدیہ فی المسجد الصغیر الی جدارالقبلۃ بان المسجد بقعۃ واحۃ کما فی شرح الوقایۃ وفی شرحنا ھذاوقد ذکر محشینا فی تقریرہ مسألۃ الفصل لمانع فقال بخلاف المسجد الکبیر فانہ جعل فیہ مانعا الخ فانظر ای کبیر ذلك ماھو الا الکبیر جدا
قہستانیہ میں مسجد صغیر کے تذکرہ میں جو ہے کہ وہ ساٹھ گز سے کم ہوتی ہے بعض کے نزدیك چالیس گز یہی مختارہے ۔ اسی کی طرف جواہر میں اشارہ ہے۔ طحطاوی میں ہے کہ اس کا قول “ یا مسجد کبیر جو چالیس گز یا اس سے زائد ہو اور صغیر وہ ہے جو اس سے چھوٹی ہو یہی مختاہے “ ۔ قہستانی عن الجواہر اور شامیہ میں سند مذکور کے ساتھ اسی طرح ہے مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے ردالمختار کے حاشیہ میں لکھا
اقول : (میں کہتا ہو) اﷲکی توفیق سے مجھ پر یہ واضح ہوا کہ یہ خطاوغلط ہے بلکہ صغیر وکبیر مسجد میں حاصل وہی چیز ہے جو کتاب (یعنی ردالمختار میں امداد کے حوالے سے )اس فصل کے تحت گزرا جو “ اقتدا سے مانع کے بیان “ میں ہے اس مسجد میں مانع ہے جو بہت ہی بڑی ہو مثلا مسجد قدس کیونکہ فقہاء نے مسجد صغیر میں قبلہ کی جانب نمازی کے آگے سے گزرنے سے منع پر جو علت بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ مسجد ایك ہی ٹکڑا کی طرح ہے جیسا کہ شرح الوقایہ اور ہماری اس شرح میں ہے اور ہمارے محشی نے فاصل مانع کو بیان کرتے ہوے کہا بخلاف مسجد کبیر کے کیونکہ اس میں مانع بنایا گیا ہے الخ غور کرو بڑی کونسی مسجد ہے وہ وہی ہو گی جو بہت ہی بڑی ہو مثلا
حوالہ / References ∞ €&جامع الرموز فصل مایفسد الصلوٰۃ€∞ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قامو س ایران €١∞ / €٢٠١
∞ €&حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختارباب مایفسدالصلوٰۃ€∞ مطبوعہ دارالمعرفۃبیروت €١∞ / €٢٦٨
∞ €&ردالمحتار باب یفسد الصلوة€∞ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی €١∞ / €٦٣٤
#10446 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
کمسجد القدس وما ذکر القھستانی عن الجواھر فانما کان فی الدار فی مسئلۃ الفصل لافی المسجد کما مرت عمارۃ الجواھر (حیث قال العلامۃ المحشی ) فی القھستانی ف : البیت کا لصحراء والاصح انہ کالمسجد ولھذا یجوز الاقتداء فیہ بلا اتصال الصفوف کما فی المنیۃ اھ ولم یذکر حکم الدارفلیراجع لکن ظاھر التقیید بالصحراء والمسجد لکبیر جداان الدار کالبیت تامل ثم رأیت فی حاشیۃ المدنی عن جواھر الفتاوی ان قاضی خاں سئل عن ذلك فقال اختلفوا فیہ فقدرہ بعضھم بستین ذراعاوبعضھم قال ان کانت اربعین ذراعافھی کبیرۃ والا فصغیرۃ ھذاھوالمختار اھ وحاصلہ ان الدار الکبیرۃ کالصحراء والصغیرۃ کا لمسجد وان المختار فی تقدیر الکبیرۃ اربعون ذراعا اقول : وبھذا تلتئم کلماتھم وﷲالحمد ۔ فان منھم من قید ھذہ المسئلۃ با لمسجد الصغیر کمتنا ھذا و
مسجد قدس جو کچھ قہستانی نے جواہر سے نقل کیا ہے وہ گھر میں مسئلہ فصل کے بارے میں ہے نہ کہ مسجد کے بارے میں جیسے کہ عبارت جواہر سے گزرا (کیونکہ اسکے الفاظ یہ ہیں کہ علامہ محشی نے قہستانی میں کہا کہ گھر کھلے میدان کی طرح ہے اور اصح یہ ہے کہ بیت مسجد کی طرح ہوتا ہے اسی لئے اس میں بلا اتصال صفوف بھی اقتداجائز ہوتی ہے جیساکہ منیہ میں ہے اھ اور دار کا حکم بیان نہیں کیا چاہے کہ غور کیا جائے لیکن ظاہراصحرا یا مسجد کبیر کو بہت بڑا قرار دینا اگاہ کررہا ہے کہ دار کا حکم گھروالا ہے تامل پھر میں نے حاشیہ مدنی میں جواہر الفتاوی سے دیکھا کہ قاضی خاں سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا اس میں اختلاف ہے بعض نے ساٹھ گز کہا ہے بعض نے کہا کہ اگر چالیس گز ہوتو بڑی مسجد ورنہ چھوٹی اور یہی مختار ہے اھ حاصل یہ ہے کہ بڑی دار صحرا کی طرح اور چھوٹی دار مسجد کی طرح ہے اگرچہ مختار بڑی مسجد کیلئے چالیس گز ہوناہی ہو۔
اقول : اس سے فقہاء کی تمام عبارات میں تطبیق ہوگئی وﷲالحمد کیونکہ بعض نے اس مسئلہ کو مسجدصغیر کے ساتھ مقید کیا ہے جیسے کہ ہمارے
حوالہ / References ∞ €&جدالممتار علی ردالمحتار باب مایفسدالصلوٰۃ الخ المجمع الاسلامی€∞ مبارکپور ، انڈیا €١∞ / €٣٠٠∞ و €٣٠١
∞ €&ردالمختار باب الا مامۃ€∞ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی €١∞ / €٥٨٥
∞ف : اعلٰیحضرت نے یہا ں سے اقول تك شامی کی عبارت نقل کی ہے پھر €&اقول وبھذاتلتئم€ سے آخر تك اعلٰیحضرت کا اپنا حاشیہ ہے۔ نذیر احمد
#10447 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
الغرر و النقا یۃ والکافی والبر جندی عن المنصوریۃ عن الامام قاضی خاں وظھیرالدین المرغینانی ومنھم من اطلق کالخلاصۃ و جوامع الفقہ کما فی الفتح و المراد واحد فان الصغیر احتراز عن الکبیر جدا فعامۃ المساجد فی حکم الصغیر فساغ الاطلاق لمن اطلق بل اوضحہ جدا کلام العلامۃ الشلبی علی التبیین عن الداریۃ عن شیخ الاسلام ان ھذا اعتبار موضع السجود اذاکان فی الصحراء اوفی الجامع الذی لہ حکم الصحراء امافی المسجد فالحد ھوالمسجد اھ فانظر کیف اطلق المسجد واراد بہ مقابل ذلك الکبیر جدا وایضا تلتئم کلمات الذخیرۃ فانہ ذکر فی الفصل الرابع من کتاب الصلوۃ فی مسئلہ المرور الاصح ان بقاء المسجد فی ذلك کلہ علی السواء الخ ۔ واستشھد علیہ بکلام محمد المطلق فی المساجد غیرالمختص قطعا بما دون اربعین ثم اعاد المسئلۃ فی الفصل التاسع فقال ان کان المسجد صغیرا یکرہ فی ای موضع یمر و الی ھذا اشار محمد فی الاصل فذکر ذلك لکلام لمحمد بعینہ فعلم وﷲ الحمد ان المزاد بالمطلق والمقید واحد وھی المساجد کلھا سوی ما یمنع فیہ الفصل بصفین الاقتداء ولاینا فیہ اطلاق من اطلق و قال انما یأثم بالمرور فی موضع السجود کفخر الاسلام وصاحب الھدایۃ والوقایۃ وغیرھم و ذلك لان المساجد
اس متن وغرر نقایہ بحر کافی اور برجندی میں منصوریہ سے قاضی خاں اور ظہیر الدین مرغینانی کے حوالے سے کہا اور بعض نے اس کو مطلق رکھا مثلا خلاصہ اور جامع الفقہ جیسا کہ فتح میں ہے اور مراد ایك ہی ہے کیونکہ صغیر ایسی کبیر سے احتراز ہے جو بہت ہی بڑی ہو تو اکثر مساجد صغیر کا حکم رکھتی ہیں تو جس نے مطلق رکھا اس کا اطلاق جائز ہوگیا بلکہ علامہ الشلبی نے تبیین پردرایہ سے شیخ الاسلام کے حوالے سے خوب واضح کیا ہے کہ موضع سجدہ کا اعتبار تب ہوتا ہے جب صحرا ہو یا ایسی جامع مسجد ہو جو حکم صحرا رکھتی ہو رہا دیگر مسجد کا معاملہ تو وہاں یہ حد مسجدہی ہے اھ آپ غور کریں انھوں نے مسجد کو مطلق رکھا اور اس سے مراد ایسی مسجد لی جو بہت ہی بڑی کے مقابل ہو اور کلمات ذخیرہ بھی جمع ہوگئے کیونکہ انھوں نے کتا ب الصلوۃ کی فصل رابع میں نمازی کے آگے سے گزرنے کا مسئلہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اصح یہ ہے کہ مسجد کے تمام مقامات اس میں برابر ہیں الخ اور اس پرا ستشہاد امام محمد کے کلام سے کیا جو مساجد کے معاملہ میں مطلق ہے اور چالیس گز سے کم مسجد کے ساتھ ہر گز مخصوص نہیں پھر نویں فصل میں دہرایا اورکہا اگر مسجد چھوٹی ہو تو ہر جگہ سے گزرنا مکروہ ہے اور اسی کی طرف امام محمد نے اصل میں اشارہ فرمایا اور امام محمد کی عبارت بعینہ نقل کی ﷲالحمد اس سے واضح ہوگیا کہ یہاں مطلق اور مقید دونوں سے مراد ایك ہی ہے اور تمام مساجد کا معاملہ مساوی ہے سوا ان کے جن میں دوصفوں کا فاصلہ اقتداء کے لئے مانع ہے اور مطلق کہنے والے کا اطلاق جس نے یوں کہا ہے
#10448 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
کبقعۃ واحدۃ فالی جدارالقبلۃ کلہ موضع السجود کما قالہ فی شرح الوقایۃ بل اشارالیہ محمد فی الاصل کما فی الذخیرۃ فتحصل وﷲ الحمد ان لاخلاف بینھم وان الممنوع فی المسجدالمرور مطلقا الی جدار القبلۃ و فی الجامع الکبیر جدا والصحراء الی موضع نظرالمصلی الخاشع وبہ ظھر ان بحث المحقق فے الفتح وقع مخالفاللمذھب لمااطبقوا علیہ فاغتنمہ فان ھذا التحریر من فیض القدیر فاغتنمہ فان ھذااتحریر من فیض القدیر علی العاجزالفقیر وﷲالحمد حمدا کثیرا طیبا مبارکافیہ اھ ماکتبت علیہ واﷲتعالی اعلم
کہ نمازی کے آگے سے جائے سجدہ پر گزرنے والا گنہگار ہوگا اس کا یہ اطلاق فخرالاسلام صاحب ہدایہ اور وقاریہ وغیرہ کے منافی نہیں ہے یہ اس لئے کہ مساجد ایك ٹکڑا کی مانند ہوتی ہیں پس وہ قبلہ کی دیوار تك تمام کی تمام موضع سجدہ کا حکم رکھتی ہیں جیسا کہ شرح وقایہ میں ہے بلکہ اس کی طرف امام محمد نے اصل میں اشارہ فرمایا جیسا کہ ذخیرہ میں ہے ﷲالحمد واضح ہوگیا کہ ان کے درمیان اختلاف نہیں اور گزرنا مسجد میں دیوار قبلہ تك مطلقا ممنوع ہے اور بہت بڑی جامع مسجد ہو یا صحرا ہو تو پھر خشوع کے ساتھ نماز پڑھنے والے نمازی کی نظر کے پھیلاؤ تك آگے سے گزرنا ممنوع ہے اسی سے یہ بھی واضح ہوگیاکہ فتح میں محقق کی بحث مذہب متعلق علیہ کے خلاف ہے ۔ اس تقریر کو غنیمت جان لو کیونکہ اس عاجز فقیر پر رب قدیر کاعطیہ ہے اﷲ ہی کے لئے حمد کثیر مبارك اور طیب ہے وہ ختم ہوا جو میں نے وہاں لکھا تھا ۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۱۳۱ : ازشہر محلہ جسولی مسئولہ مولوی غلام جان پنجابی طالب علم مدرسہ اہلسنت وجماعت شعبانھ
زید نے دس برس ہوئے مسجد کے پیچھے جوزید کا مکان مسجد کے متصل بلاخلا تھا اور مسجد کی بنا سے اس کی بنا جداگانہ تھی اور زمین بھی زید کی اپنی موروثی تھی اس مکا ن پر زید نے ایك بالاخانہ بنایا اور زید کے نیچے مکان کا چھت مسجد کی چھت کے برابر ہے صرف بالا خانہ مسجد سے اونچا ہے بلکہ بالاخانہ مسجد کے برابر بھی نہیں ہے مسجد کے بائیں جانب طالب علم کے حجرے کے برابر ہے ہاں کچھ تھوڑا ساکونا بالاخانے کا مسجد کے کونے کے برابر ہے لیکن زید بالاخانہ بنانے کے بعد دل میں نادم ہوا اور چونکہ روپیہ خرچ ہو چکا تھا اس وجہ سے اس نے بالاخانے کو اکھیڑا نہیں لیکن مسجد کی عزت کی وجہ سے زید مع آل وعیال بالاخانہ میں نہیں رہتا نیچے مکان میں رہتا ہے اب اس بالاخانے کو اکھیڑنا چاہے یا نہیں
الجواب :
جبکہ مسجد کی کسی چیز میں تصرف نہ ہو تو اس کا اکھیڑنا کچھ ضرور نہیں ۔ واﷲتعالی اعلم
حوالہ / References &جدالمحتارعلٰی ردالمحتار باب یفسدالصلوٰۃ الخ المجمع الاسلامی بیروت€ ١ / ۰٢۔ ٣٠١
#10449 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
مسئلہ : ازسیرام پور ضلع ہوگلی مرسلہ محمد عبدالحکیم بیڑی مرچنٹ ربیع الآخرشریف ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد قبل سے ہے اور نماز پنجگانہ ہوا کرتی ہے اور متولی مسجد کا سہ منزلہ مکان مسجد کے متصل ہے بعد انتقال متولی کے لوگوں نے مسجد میں نماز پڑھنا چھوڑ دیا اور عزر یہ ہے کہ جس مسجد کے قریب کوئی اونچی عمارت ہو اس مسجد میں نماز نہیں جائز ہے لہذا لوگوں نے دوسری مسجد متصل پہلی مسجد کے پندرہ قدم کے فاصلہ میں بناتے ہیں اور منع کرنے سے نہیں مانتے حالانکہ اس مسجد کے بنانے سے سابق مسجد کے ویران ہونے کا احتمال ہے لہذا حکم خدا و رسول جل و علا و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کیا ہے
الجواب :
یہ محض جاہلانہ باطل خیال ہے شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں کعبہ معظمہ کے گرد مکہ مکرمہ میں بہت بلند بلند کئی کئی منزل کے مکان ہیں کہ بظاہر کعبہ معظمہ سے اونچے معلوم ہوتے ہیں حالانکہ نہ کوئی مکان کعبہ معظمہ سے اونچا ہوسکتا ہے نہ کسی مسجد سے کعبہ و مسجد ان ظاہری دیواروں کانام نہیں بلکہ اتنی جگہ کے محاذی ساتوں آسمان تك سب مسجد ہے اس سے اونچا کیا اس کے کروڑویں حصے برابر کوئی مکان بلند نہیں ہوسکتا اگرچہ سو منزلہ ہو درمختارمیں ہے : انہ مسجد الی عنان السماء ۔ (یہ آسمان تك مسجد ہے۔ ت) ردالمحتار میں ہے :
وکذا الی تحت الثری کمافی البیری عن الا سبیجابی ۔
اور اسی طرح تحت الثری تک جیسا کہ بیری میں اسبیجابی سے ہے۔ ت)
اس بیہودہ خیال کی بنا پر دوسری مسجد پندرہ بیس قدم کے فاصلہ پر بنانا جس سے پہلی مسجد کی جماعت کو نقصان پہنچے خود ہی ممنوع تھا ایك تو وہ خیال باطل دوسرے جماعت میں تفریق کہ مسجد ضرار کے اغراض فاسدہ سے ایك غرض ہے۔ قال تعالی و تفریقا بین المؤمنین (اﷲ تعالی نے فرما یا : اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کو۔ ت) یہاں تك کہ اس سے مقصود مسجد اول کا باطل ومعطل کردینا ہے یہ سخت حرام اشد ظلم ہے۔
قال اﷲتعالی
و من اظلم ممن منع مسجد الله ان یذكر فیها اسمه و سعى فی خرابها- ۔ واﷲتعالی اعلم۔
اﷲتعالی نے فرمایا : اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون جو اﷲتعالی کی مساجد سے اس کے نام کے ذکر کو روکتا ہے اور انھیں خراب کرنے کی کوشش کرتاہے ۔ (ت) واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۱۱۳۲ : از موضع بیرا ڈاکخانہ سٹرا گنج ضلع ڈھاکہ ملك بنگال مرسلہ مولوی خواجہ شمش الدین محمد فریدی جمادی الاولی ھ
حوالہ / References &درمختار باب مایفسد الصلوٰۃ €مطبوعی مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٩٣
&ردالمحتار باب مطب فی احکام المسجد €مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ٦٥٦
&القرآن € ، ۹ / ۱۰۷
&القرآن€ ، ۲ / ۱۱۴
#10450 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اطراف ضلع فرید پور ضلع کھونـڈا میں قدیم سے ایك مسجد ہے جس میں اہل محلہ پنجگانہ نماز جمعہ پڑھتے چلے آئے ہیں ان دنوں دنیاوی کسی لین دین کے جھگڑے میں بعض مصلی وغیر مصلی اس مسجد قدیم کے مقابل چارپانچ سو ہاتھ کے فاصلہ میں محض ضد و مخالف سے دوسری ایك مسجد بنائی ہے اور اس مسجد قدیم کے باقی مصلی صاحبوں کو یہاں سے بھگا کر لے جانے کی پوری کوشش کررہا ہے تاکہ یہ مسجد ویران ہوجائے اور یہاں پڑھنے والے لوگ اچھی طرح سے ضبط ہو جائیں مسجد قدیم میں امام و متولی صاحب و دیگر مصلی صاحبان کبھی کسی کو پڑھنے سے مانع مزاحم نہ ہوا اور نہ اس لین دین کے جھگڑے میں شامل ہے تاہم چند قدیمی مصلی صاحبوں کو بوجہ عداوت مخالفت یہاں سے بھگالے گیا ہے پس اس صورت میں مسجد جدید میں نماز جائز ہوگی یاحکم میں مسجد ضرار کے ہوگا اگر شرعامسجد ضرار قرار پائے بوجہ مخالفت وعداوت وتفریق جماعت تو اس مسجد کو کیا کرنا ہوگا اگر شرعا مسجد جدید ضرار ثابت ہوجائے تو جن مولوی صاحبان نے جدید مسجد نماز عدم جواز ومسجد ضرار فرمایا تھا ان عالمو کو گالی دینے و برا کہنے وعداوت رکھنے حقیر جاننے والے پر شرعا کیا حکم ہے
الجواب :
اگر واقع میں ایسا ہی ہے کہ یہ لوگ یہ مسجد اﷲ کےلئے نہیں بناتے محض ضداور نفسانیت اور مسجد قدیم کی جماعت متفرق کرنے کے لیئے بناتے ہیں تو ضرور وہ مسجد ضرار کے حکم میں ہے اور اس حالت میں ان لوگوں کو جو اسے مسجد ضرار کہتے ہیں براکہنا اور گالی دینا سخت حرام اور موجب عذاب شدید ہے اور اگر واقعی کسی جھگڑے کے سبب وہ مسجد قدیم میں نہیں آسکتے اور وہاں نماز پڑھنے میں صحیح اندیشہ اپنی آبرو وغیرہ کا رکھتے ہیں اس مجبوری سے اس میں آنا ترك کرکے اور اپنی جماعت کے لئے دوسری مسجد بوجہ اﷲ بناتے ہیں تو وہ ہر گز مسجد ضرار نہیں ہوسکتی جو اسے ضرار کہتے ہیں برا کرتے ہیں ۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : از موضع سیسی تحصیل و ڈاکخانہ کچھا ضلع نینی تال مرسلہ عبدرلرحمن پدھان صفر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میرے گاؤں کی مسجد پرانی خام تھی وہ شکستہ بھی ہے دوسرے آبادی کم ہوجانے سے ایك کنارے پر آبادی کے ہوگئی ہے جو بہت بے موقع ہے اس لئے مسجد اندر آبادی جدید تعمیرکرانے کی خواہش ہے اس واسطے مطابق حکم شرع شریف دوسری جگہ میں مسجد جدید تعمیر ہوسکتی ہے یا نہیں اگر ہوسکتی ہے تو کس طرح خلاصہ حکم سے آگاہی بخشے۔
#10451 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
الجواب :
مسجد بیچ آبادی میں تعمیر کریں ثواب عظیم پائیں گے اور اس پہلی مسجد کا بھی آبادرکھنا فرض ہے اس کنارے والے پانچوں وقت اس میں نماز پڑھیں واﷲتعالی اعلم
مسئلہ تا : از شہر محلہ گڑھیا موصولہ از شیخ ولایت حسین
ایك مسجد متصل کتب خانہ دومنزلہ پر واقع تھی دیوار زینہ مسجد پر اہل ہنود سے بحق ملکیت تنازعہ ہوکر کل مکانات مع جائے تنازعہ کے اہل اسلام صاحبان بریلی نے بحق مسجد وزیارت مع ایك قطعہ دیگر اراضی ہنود سے خرید لیا مسجد نہایت چھوٹی ہونے کے سبب توسیع اس کی ہونا تجویز کیا گیا انجمن اسلامیہ بریلی نے تمام تعمیر وغیرہ کا انتظام اپنے ذمہ یعنی سپردگی میں لیا اور تو سیع مسجد مذکورہ قطعہ اراضی دیگر تجویز کرکے کام تعمیر شروع کیا مسجد کہنہ کو چھوڑکر متصل اس کے دوسری مسجد جدید تعمیر کی اور مسجد کہنہ کو ایسا منہدم کیا کہ نشان تك اس کا باقی نہ رہا اور جائے مسجد کہنہ کو دیگر دکانات میں بغرض حصول زر شامل کرلیا جاتاہے سوالات ذیل برائے جواب پیش ہیں :
() بجائے توسیع مسجد کہنہ کے دوسری جگہ جدید مسجد تعمیر ہونا کیا مسجد اول کا حکم بموجب شرع شریف رکھے گی
() جگہ مسجد کہنہ منہدمہ کو دیگر تعمیر دنیوی میں شامل کرکے کام میں لانا جائز ہے یا نہیں
()جن اہل اسلام صاحبان سے یہ فعل مذکورہ بالاظہور میں آیا حکما یا عملا مشیر ان کے ہے شرعا کیا حکم ہے
() بقیہ اہل اسلام کو فاعل مذکوربالا سے کیاعمل درآمد کرنا چاہئے
الجواب :
جبکھ اس مسجد جدید کو مسلمانوں نے مسجد کرلیا یہ بھی مسجدہوگئی مسجد اول کی اور اس کی دونوں کی حفاظت و آبادی فرض ہے مسجد اول کو منہدم کرکے تعمیر دنیاوی تعمیر دینی میں ہی میں شامل کر دینا حرام حرام سخت حرام ہے جنھوں نے ایسا کیا ہو اور جو اس میں مشیر ہوں اور جو اسے جائز رکھیں سب اس آیہ کریمہ کے تحت میں ہیں :
و من اظلم ممن منع مسجد الله ان یذكر فیها اسمه و سعى فی خرابها-اولىك ما كان لهم ان یدخلوها الا خآىفین۬-لهم فی الدنیا خزی و لهم فی الاخرة عذاب عظیم(۱۱۴)
ان سے بڑھ کر ظالم کون جو اﷲ کی مسجدوں کو ان میں اﷲ کا نام لئے جانے سے روکیں اور ان کی ویرانی میں کوشاں ہو انھیں تو مسجدوں میں قدم رکھنا روانہ تھامگر ڈرتے ہوئے ان کے لئے دنیا میں رسوائی اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب ہے۔
حوالہ / References &القرآن€ ٢ / ١١٤ و ١١٥
#10452 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
فرض فرض فرض قطعی فرض ہے کہ مسجد اول کو بھی بدستور مسجد رکھیں اور اگر اس کی دکانیں کرلی گئی ہوں فرض قطعی ہے کہ فورا فورا ان دکانوں کو منہدم کرکے بدستور مسجد کا اعادہ کریں ورنہ عذاب عظیم کے مستحق ہوں گے جو نہ مانیں اور قرآن عظیم کی مخالفت پر اڑے رہیں مسلمانوں کو ان سے اجنتاب لازم ہے ان کے پاس بیٹھنا منع ہے۔
قال اﷲ تعالی و اما ینسینك الشیطن فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظلمین(۶۸) ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا : اگر کبھی شیطان بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھو۔
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو مسجد ویران کر کے اس کا دکانیں کرلے وہ لوگ اگر مخالف خدا سے باز نہ آئیں تو مسلمانوں پر فرض ہے کہ کوشش کرکے مسجد منہدم کو پھر مسجد کرلیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از چھاونی بنمچہ توپ خانہ ٹین نزد مسجد حافظ محمد عبدالرؤف خاں پیش امام مسجد
مسجد بنانا فرض ہے یاواجب یامستحب اور برا ہے وہ پیسہ جو خرچ ہو گارے پتھر میں اس واسطے کہ امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی خدمت میں چند آدمی حاضر ہوئے عرض کیا یا امام ! ہم ایك مسجد بنواتے ہیں کچھ آپ تبرکات عنایت فرمائے کہ برکت ہو امام صاحب نے پہلے چہرہ سائلین کی طرف سے پھیر کر خراب منہ بنایا اور ایك درہم نکال کر دے دیا دوسرے روز وہ شخص آئے اور درہم واپس دے کر کہنے لگے کہ حضرت ! لیجئے یہ درہم کوٹھا ہے اس کو بازار قبول نہیں کرتا ۔ امام صاحب نے وہ درہم لے کر رکھ لیا اور فرمایا خوش ہوکر کہ : خراب ہے وہ پیسہ جو گارے پتھر میں خرچ ہووے۔
الجواب :
یہ شیطانی خیال ہیں اور سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے جو حکایت نقل کی وہ محض کذب دروغ اور شیطانی گھڑت ہے ۔ ہر شہر میں ایك مسجد جامع بنانا واجب ہے اور ہر محلہ می ایك مسجد بنانے کا حکم ہے۔ حدیث شریف میں ہے :
امر رسول اﷲ ببناء المساجد فی الدور و ان تنظف ۔
رسول اﷲ ( صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ) نے فرمایا کہ ہر محلے میں مسجدیں بنوائی جائیں اور یہ کہ وہ ستھری رکھی جائیں ۔
بنائے مسجد میں جو مال صرف ہوتا ہے وہ گارے پتھر میں صرف نہیں ہوتا بلکہ رضائے رب اکبر میں ۔ اﷲعزوجل
حوالہ / References &القرآن€ ۶ / ۶۸
&سنن ابوداؤد باب اتخاذلمساجد فی الدور€ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہو ص٦٦ ، &سنن ابن ماجہ باب تطہیرالمساجد وتطییبہا€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵۵
#10453 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
فرماتاہے : فی بیوت اذن الله ان ترفع محلوں میں مسجدیں بلند کرنے کا اﷲ نے اذن دیا ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من بنی اﷲ مسجدا بنی اﷲ لہ بیتا فی الجنۃ زاد فی روایۃ من در ویاقوت ۔ واﷲتعالی اعلم ۔
جو اﷲکے لئے مسجد بنائے اﷲاس کے لئے جنت میں موتیوں اور یاقوت کاگھر بنائے گا۔

مسئلہ : از قطب پور ڈاکخانہ پیر گنج ضلع رنگ پور مسئو لہ رحمت اﷲ صاحب رمضان ھ
چہ می فرمایند علمائے دین کہ ایك مسجد قدیم کو از مال حلال تیارکیا گیا تھا اوروقف بھی کیا گیا اس وقت ایك سود خور کے سود کا مال اور حلال مال دونوں مخلوط ہوگئے دونوں میں تمیز نہیں ہو سکتی کہ کون حرام کو ن حلال ہے مسجد قدیم کو تعمیر کیا یعنی گھر کو ٹین دیا در صحن مسجد کو اینٹ سے پختہ کیا اور مصلیوں کے وضو کے واسطے کنواں بنوادیا۔ اب عرض یہ ہے کہ ایسی مسجد میں نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں بینو اتواجروا
الجواب :
صورت مذکور میں اس مسجد میں نماز پڑھنا فقط جائز نہیں بلکہ اس کا آباد رکھنا فرض ہے اور سود کی مخلوط آدمی سے ٹین اور فرش اور کنواں بنانے میں مسجد میں کوئی حرج نہیں آتا بلکہ اس فرش پر نماز جائز ہے اور اس کنویں سے پینا اور وضو کرنا حلال ۔ امام محمد فرماتے ہیں : بہ ناخذ مالم تعرف شیأ حراما بعینہ ۔ (اسی پر ہمارا عمل ہے جب تك ہم کسی شیء کو حرام نہ جان لیں ۔ ت) واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۱۱۴۰ : از کیس اسٹریٹ صاحب بگانی مرسلہ حکیم سید محمد اسمعیل صاحب جمادی الاخری ھ
حضرت مولانا مولوی محمد احمد رضا خاں صاحب قبلہ مدظلہ العالی : السلام علیکم ورحمۃاﷲ وبرکاتہ حضور کو ایك امر کی تکلیف دی جاتی ہے اور چونکہ یہ خدا کا کام ہے اور حضور ہم لوگوں کے آقا ہیں حضور سے دریافت کرنا
حوالہ / References &القرآن€ ، ٢٤ / ۳۶
&الصحیح للمسلم کتاب المساجد€ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ١ / ٦٠١ ، کتاب الزہد ٢ / ٤١١ ، &مجمع الزوائد ومنبع الفوائد باب بناء المساجد€ مطبوعہ دارالکتاب بیروت ٢ / ٧
&فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ ظہیریۃ الباب لثانی عشرفی الہدایا واضیافات€ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ٥ / ٣٤٢
#10454 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
میرا فرض منصبی ہے ایك مسجد بنانے کی خواہش صرف حضور سے اجازت اس امر کی لینی ہے یہاں اکثر پرانی اینٹ ملتی ہے اور وہ اینٹ پاك عمدہ ملتی تو اس اینٹ سے مسجد بناسکتے ہیں یا نہیں حضور کی جیسی رائے عالی ہو اس سے بہت جلد بواپسی ڈاك مطلع فرمائیں خداوند کریم حضور کو اجر عظیم عطافرمائے گا۔
الجواب :
جناب سید صاحب مکرم اکر مکم وعلیکم اسلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ ! فقیر جبل پور آیا ہوا ہے آپ کا عنایت نامہ بریلی سے یہاں آیا ایسے سوالوں کا خیال ادب والے دلوں میں پیدا ہوتا ہے مولی تعالی توفیق وبرکات زاید دے اینٹ اگر چہ پرانی استعمال شدہ ہے مگر جبکہ پاك ہے مسجد میں لگا سکتے ہیں جیسے زمین مسجد کہ اصل مسجد وہی ہے پہلے کوئی مکان معبد کفار ہو اور اسے توڑ کر مسجد کیا جاتا ہے مسجد اقدس مدینہ طیبہ کی زمین میں مشرکین کا قبرستان تھا ان کی قبریں کھدواکر ان کی ہڈیوں وغیرہا کی نجاستوں سے صاف فرماکر حضور انور علیہ افضل الصلوۃ والسلام نے اسے مسجد فرمایا۔ و ھو تعالی اعلم
مسئلہ : از ہلدوانی ضلع نینی تال مرسلہ حافظ اسرارالحق صاحب صفرھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے ایك مکان پختہ وقف کردیا تھوڑے عرصہ کے بعد وہ مکان گورنمنٹ نے اٹھادیا اس مکان کے بدلے دوسری جگہ زمین دے دی جو زمین مکان کے عوض میں ملی تھی وہ چند شخص جمع ہو کر کے مبلغ پچاس روپے کو فروخت کردی گئی آیا زمین کا بیع کرنا جائز ہے یا ناجائز ہے
الجواب :
وہ زمین اگر مسلمان نے مسجد کردی تو اسے بیچنا جائز نہیں اور اگر ہنوز ابھی مسجد نہ کی تھی اور وہ مناسب نہیں اسے بیچ کر دوسری مناسب جگہ مسجد بنانا چاہتے ہیں تو حرج نہیں واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ : از قصبہ ڈبھوئی ریاست بڑودہ مر سلہ حاجی شرف الدین عمرمیاں متولی جامع مسجد صفر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
() اس قصبہ ڈبھوئی ریاست بڑودہ میں ایك عید گاہ قدیم زمانے کی بنی ہوئی ہے اس کے نزدیك ریل کا احاطہ ہے اب رہلوے کمپنی والے اس ریل کے احاطے کو بڑھانے کی غرض سے عیدگاہ کو گراکر اور جاپر بنا دینا چاہتے ہیں آیا یہ شرع شریف میں درست ہے یا نہیں اگر مسلمان ڈبھوئی اس عیدگاہ کو نہ دیں تو ریاست کی جانب سے جبرا گرادینے کا اندیشہ ہے اس حالت میں کیا کیا جائے
() ریاست بڑودہ تعلقہ سنگھیڑا موضع ماکنی کے قریب جنگل میں ایك مسجد قدیم شاہی زمانے کی بنی ہوئی اس
#10455 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
وقت مسمار حالت میں ہے اس مسجد میں چند قیمتی پتھر محرابیں کھمبے وغیرہ جو نقشی کام کئے ہوئے ہیں زمین پر گرے ہوئے ہیں اس موضع کے ہنود وغیرہ جن کی حالت اچہی ہے اٹہا کر لے جاتے ہیں اور اس موضع کے مسلمانوں کی حالت ایسی نہیں کہ اس مسجد کو پھر تعمیر کر سکیں لہذا ان پتھروں کو لے جاکر کسی اور قصبہ کی مسجد میں لگانا جائز ہے یا نہیں اگر مسلمان ان پتھروں کو نہ لے جائیں گے تو ہنود لوگوں کا ان پتھروں کو اٹھاکر لے جا نے کا اندیشہ ہے۔
الجواب :
() محض اندیشہ کا لحاظ نہیں واقعی جبر ہو تو اس کے عوض دوسری زمین لے کر چھوڑ سکتے ہیں واﷲ تعالی اعلم۔
صورت مستفسرہ واقعی ہے تو مسلمان ان پتھروں کو دوسری مسجد میں لگا سکتے ہیں کما بینہ فی ردالمحتار( جیسا کہ اسے ردالمحتار میں بیان کیا ہے ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ : از بمبئی بھنڈی بازار مرسلہ محمد فضل الرحمن سادہ کار ۵ ربیع الاول ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سوائے معتکف اور مسافر کے مقیم یا اہل شہر کو مطلقا مسجد میں سونا حرام ہے یا مکروہ تحریمی ہے یا تنزیہی اگر بیرونی شہری نہ نیت اس کے کہ نماز صبح با جماعت ملے یا تہجد بھی نصیب ہو کیونکہ اگر گھر میں رہ کر نماز صبح با جماعت یا نماز تہجد نہیں ملتی ہے مسجد میں سوئے تو یہ سونا حرام ہے یا مکروہ یا تحریمی یا تنزیہی نیز مسجد میں کھانا یا پینا سوائے معتکف اور مسافر کے شرعا حرام ہے یا مباح بظاھر ابن ماجہ ف کی کتاب الاطعمہ کی روایت سے اباحت معلوم ہوتی ہے :
عن عبداﷲ بن حارث بن جزء قال اتی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بخبز و لحم وھو فی المسجد فاکل واکلنا معہ ثم
حضرت عبداﷲ بن حارث بن جزء سے مرعہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں روٹی اور گوشت لایا گیا اس وقت
حوالہ / References ف : ____سائل نے ابن ماجہ کے حوالے سے جو حدیث ذکر کی ہے وہ دراصل دو حدیثوں کا مجموعہ ہے ، اصل عبارتیں یوں ہیں :
(€١∞) ص €٢٤٥∞ : €&کنا نا کل علی عھد رسول اﷲ علیہ وسلم فی المسجد الخبز واللحم€∞۔
(€٢∞) ص€٢٤٦∞ : €&اکلنا مع رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم طعًا ما فی المسجد قد شوی فمسحنا ایدینا بالحصباء ثم قمنا نصلی ولم نتوضأ€∞__ ابواب الا طعمہ میں دونوں حدیثیں انہی الفاظ کے ساتھ ملی ہیں €١٢∞۔ نذیر احمد
#10456 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
قام فصلی وصلینا معہ ولم نزد علی ان مسحنا ایدینا بالحصباء بینواتوجوا۔
آپ مسجد میں تشریف فرماتھے آپ نے اسے تناول فرمایا اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ گوشت روٹی کھائی پھر کھڑے ہوئے نماز پڑھی اور ہم نے آپ کے ساتھ نماز ادا کی اور ہم نے سوائے اس کے کچھ نہ کیا کہ اپنے ہاتھ پتھروں کے ساتھ صاف کئے ۔ ت) بینواتوجروا۔
الجواب :
مسجد میں معتکف کو سونا تو بالاتفاق بلاکراہت جائز ہے اور اس کے غیر کے لئے ہمارے علماء کے تین قول ہیں : اول یہ کہ مطلقا صرف خلاف اولی ہے :
صححہ فی الھندیۃ عن خزانۃ الفتاوی ومشی علیہ فی جامع الاسبیجابی کما نقلہ ابن کمال باشا والکافی فی معراج الدرایۃ والیہ یمیل کلام الدرفی الاعتکاف قلت وفیہ حدیث ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما۔
اس کی ہندیہ میں خزانۃ الفتاوی کے حوالے سے تصحیح کی ہے اور جامع الاسبیجابی نے اسی کو اختیار کیا جیسا کہ اسے ابن کمال باشا نے نقل کیا اور کافی نے معراج الدارایہ میں اعتکاف میں درکا کلام بھی اسی طرف مائل ہے میں کہتا ہوں اس میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کی حدیث ہے۔ (ت)
دوم مسافر کو جائز ہے اس کے غیر کو منع
وبہ جزم فی الاشباہ وعلیہ مشی فی الدر قبیل باب الوتر۔
اسی پر اشباہ میں جزم ہے در میں باب الوتر سے تھوڑا پہلے اسی کو اختیار کیا ہے۔ (ت)
سوم معتکف کے سوا کسی کو جائز نہیں :
وبہ جزم فی السراجیۃ وفی جامع الفتاوی ومنیۃ المفتی وغمزالعیون ومتن الوقایۃ وغیرھا من المعتمدات۔
سراجیہ جامع الفتاوی منیۃ المفتی غمزالعیون متن الوقایہ اور دیگر کتب میں اسی پر جزم کی گیا ہے ۔ (ت)
اور یہ کراہت کراہت تحریم ہے
لقولہ یمنع منہ وانما المنع عن المکروہ
کیونکہ اس کا قول ہے : اس سے منع کیا گیا ہے اور
حوالہ / References &سُنن ابنِ ماجہ ابواب الاطعمہ€ مطبوعہ ایچ ایم کمپنی کراچی ص ٢٤٥ و ٢٤٦
#10457 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
تحریما واماکراھۃ التنزیہ فتجامع الاباحۃ کمافی ردالمحتار وغیرہ۔
منع مکروہ تحریمی سے ہوتا ہے کراہت تنزیہی تو اباحت کے ساتھ جمع ہوجاتی ہے جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ میں ہے۔ (ت)
اقول : تحقیق امر یہ ہے کہ مرخص وحاظر جب جمع ہوں حاظر کو ترجیح ہوگی اور احکام تبدل زمان سے متبدل ہوتے ہیں ومن لم یعرف اھل زمانہ فھو جاھل ( جو شخص اپنے زمانے کو لوگو ں کے احوال سے اگاہ نہیں وہ جاہل ہے۔ ت) اور ہمیں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے یہاں ایك ضابطہ کلیہ فرمایا ہے جس سے ان سب جزئیات کا حکم صاف ہوجاتاہے فرماتے ہیں رسول اﷲ تعالی علیہ وسلم :
من سمع رجلا ینشد ضالۃ فی المسجد فلیقل لاردھا اﷲ علیك فان المساجد لم تبن لھذا ۔ رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
جو کسی شخص کو سنے کہ مسجد میں اپنی گم شدہ چیز دریافت کرتا ہے تو اس پر واجب ہے کہ اس سے کہے اﷲ تیری گمی چیز تحجھے نہ ملائیے مسجدیں اس لئے نہیں بنیں اسے مسلم نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ۔ (ت)
اسی حدیث کی دوسری روایت میں ہے :
اذارأیتم من یتباع فی المسجد فقولوا لااربح اﷲ تجارتک رو الترمذی وصححہ والحا کم عنہ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
جب تم کسی کو مسجد میں خرید وفروخت کرتے دیکھوتو کہو اﷲ تیرے سودے میں فائدہ نہ دے ۔ اسے ترمذی نے روایت کیا اور اسے صحیح کہا اور حاکم نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ۔ (ت)
اور ظاہر ہے کہ مسجدیں سونے۔ کھانے پینے کو نہیں بنیں تو غیر معتکف کو ان میں ان افعال کی اجازت نہیں اور بلاشبہ اگر ان افعال کا دروازہ کھولا جائے تو زمانہ فاسد ہے اور قلوب ادب وہیبت سے عاری مسجدیں چو پال ہوجائیں گی اور ان کی بے حرمتی ہوگی وکل ماادی الی محظور محظور (ہر وہ شخص جو ممنوع تك پہنچائے ممنوع ہوجاتی ہے۔ ت) جو بخیال تہجد یا جماعت صبح مسجد میں سونا چاہے تو اسے کیا مشکل ہے
حوالہ / References &صحیح مسلم باب النہی عن نشدالضالۃ فی المسجد الخ€ مطبوعہ نور محمد اصح ا لمطابع کراچی ١ / ٢١٠
&جامع الترمذی ابواب البیوع باب النہی عن البیع فی المسجد€ مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ١ / ١٥٨
#10458 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
اعتکاف کی نیت کرلے کچھ حرج نہیں کچھ تکلیف نہیں ایك عبارت بڑھتی ہے۔ اور سونا بالاتفاق جائز ہوا جاتاہے منیۃا لمفتی پھر غمز العیون اور سراجیہ پھر ہندیہ پھر ردالمحتار میں ہے :
واذا اراد ذلك ینبغی ان ینو ی الاعتکاف فیدخل فیذکراﷲ تعالی بقدر مانوی اویصلی ثم یفعل ماشاء ۔ واﷲ تعالی اعلم
جب ارداہ کرے کھانے پینے کا تو اعتکاف کی نیت کرے پھر مسجد میں داخل ہوجائے ۔ پس اﷲ تعالی کا ذکر نیت کے مطابق کرے یا نماز پڑھے پھر وہاں جو چاہے کرے واﷲتعالی اعلم(ت)
مسجد میں ایسا اکل وشرب جس سے اس کی تلویث ہو مطلقانا جائز ہے اگر چہ معتکف ہو ردالمحتار باب الاعتکاف میں ہے :
الظاھر ان مثل النوم الاکل والشرب اذا لم یشغل المسجدولم یلوثہ لان تنظیفہ واجب کما امر ۔
ظاہر یہی ہے کہ کھانا پینا جبکہ مسجد کو ملوث نہ کرے اور نہ مسجد کو مشغول رہے تو یہ سونے کی طرح ہے کیونکہ مسجد کی نظافت کا خیال نہایت ہی ضروری ہے جیسا کہ گزرا۔ (ت)
اسی طرح اتنا کثیر کھانا مسجد میں لانا کہ نماز کی جگہ گھیرے مطلقا ممنوع ہے اور جب ان دونوں باتوں سے خالی ہو تو معتکف کو بالاتفاق بلاکراہت جائز ہے اور غیر معتکف میں وہی مباحث و اختلاف عائد ہوں گے اور ہمیں ارشاد اقدس کا وہ ضابطہ کلیہ کافی ہے کہ ان المساجد لم تبن لھذا(مساجد اس خاطر نہیں بنائی جاتیں ۔ ت) اعتکاف نفل کے لئے نہ روزہ شرط ہے نہ طول مدت درکار صرف نیت کافی ہے جتنی دیر بھی ٹھرے بہ یفتی(اسی پر فتوی ہے۔ ت) تو اختلاف میں پڑنے کی کیا حاجت وماکان اقرب الی الادب فھوالاحب فھوالا حب الاوجب نسأل اﷲ حسن التوفیق( جوادب کے زیادہ قریب ہو وہی زیادہ پسندیدہ اور واجب ہوتا ہے اﷲتعالی سے حسن توفیق کا سوال ہے۔ ت)
رہی حدیث ابن ماجہ وہ ایك واقعہ عین ہے اور علماء بالاتفاق تصریح فرماتے ہیں کہ وقائع عین کے لئے عموم نہیں ہوتا ممکن کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وصحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اس وقت معتکف ہوں اور صحابی کو یہاں مسئلہ اکل بیان کرنا مقصود نہیں بلکہ یہ کہ مامستہ النار (وہ چیز جسے آگ چھولے ۔ ت)
حوالہ / References &ردالمحتار باب الاعتکاف €مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ٢٤٦
&ردالمحتار باب الاعتکاف €مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ٢٤٦
#10459 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
سے وضونہیں علاوہ بریں فعل وتقریر سے قول اور بیح سے خاطرار جح ہے ۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : از فیض آباد مسجد منوپورہ مرسلہ شیخ اکبر علی مؤذن ومولوی عبدالعلی ربیع الاخر ھ
جو لوگ عرس میں آئیں وہ مسجد ہی میں قیام کریں اور جائے نماز وغیرہ استعمال کریں کھانا وہاں کھائیں دنیا کی بات کریں اشعار پڑھیں جائز ہے
الجواب :
مسجد کو چوپال بنانا جائز نہیں ۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۱۱۴۶ : از گونڈل کاٹھیاواڑ مرسلہ سیٹھ عبدالستار صاحب رضوی جمادی الاولی ھ
امام مسجد اور عوام مسلمین جن کے پاس رہنے سونے کو مکان ہیں وہ مسجد میں کسی وقت سو سکتے ہیں یا نہیں نیز ایسے مسلمان مسافر جو آج کل شہروں میں آیا جایا کرتے ہیں اور چندے لے کر گزارہ کرتے ہیں انھیں مسجدوں میں رکھنا اور وہ وہاں پر بطور گھروں کے رہیں سوئیں کھائیں پئیں جائز ہے
الجواب :
صحیح ومعتمد یہ ہے کہ مسجد میں کھانا پینا سونا سوا معتکف کے کسی کو جائز نہیں مسافر یا حضری اگر چاہتا ہے تو اعتکاف کی نیت کیا دشوار ہے اور اس کے لئے نہ روزہ شرط نہ کوئی مدت مقرر ہے اعتکاف نفل ایك ساعت کا ہوسکتا ہے۔ مسجد کو گھر بنانا کسی کے لئے جائز نہیں وہ لوگ بھی بہ نیت اعتکاف رہ سکتے ہیں واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : از بھو ساول ضلع خاندیس محلہ ستارہ مسئولہ حافظ ایس محبوب رمضان ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ مسجد خاص میں یا صحن میں اگر واہیات لغویات اور گالی گلوچ ایك دوسرا آپس میں جمع خاص وعام کے روبرو کرے تو ان لوگوں کے لئے کیا حکم ہے بینوا توجروا
الجواب :
ایسے لوگ گنہگار ہیں اور شرعا مستحق تعزیز مگر تعزیر یہاں کون دے سکتاہے اتنا کریں کہ انھیں مسجد سے باہر کردیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۱۴۸ : از شہر عقب کوتوالی مسئولہ مولوی بدیع الزمان صاحب بنگالی شوال ھ
مسجد کا ایك امام جو شب وروز مسجد کے حجرہ میں رہتا ہے اور عملیات تعویز گنڈا وغیرہ آیات قرآنی سے کرتا ہے اس کو بصورت قیام مسجد ایسا روزگار کرنا اور اس سے اجرت لینا جائز ہے یا نہیں
الجواب :
عوض مالی پر تعویز دینا بیع ہے اور مسجد میں بیع وشرا ناجائز ہے اور حجرہ فنائے مسجد ہے اور
#10460 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
فنائے مسجد کے لئے حکم مسجد علمگیریہ میں ہے :
یبیع التعویذ فی المسجد الجامع ویکتب فی التعویذ التوراۃ والانجیل والفرقان و یاخذ علیھا المال ادفع الی الھدیۃ لایحل لہ ذلك کذا فی لکبری ۔
ایك آدمی مسجد جامع میں تعویذ بیچتا ہے اس تعویذ میں تورات انجیل اور قرآن لکھتا ہے اور اس پر رقم لیتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ اس کا ہدیہ مجھے دے تو یہ جائز نہیں ۔ الکبری میں اسی طرح ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
قیم المسجد لا یجوزلہ ان یبنی حوانیت فی حدالمسجد أوفی فنائہ لان المسجد اذا جعل حانوتا ومسکنا تسقط حرمتہ وھذا لا یجوز و الفناء تبع المسجد فیکون حکمہ حکم المسجد کذافی محیط السرخسی ۔
مسجد کے منتظم کے لئے جائز نہیں کہ وہ مسجد یا فنائے مسجد میں دکانیں یا رہائش گاہ بنائے کیونکہ جب مسجد دکان یا رہائش گاہ بن جائے تو اس کا احترام برقرار نہیں رہتا اور یہ جائز نہیں ۔ فنا مسجد کے تابع ہے لہذااس کا حکم مسجد والاہی ہوتا ہے۔ محیط سرخسی میں یو نہی ہے ۔ (ت) واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : یکم ذیقعدہ ھ
ایك شخص کچہری میں ملازم ہے فرصت کے وقت دن ورات میں مسجد میں قیام کرکے سوتا ہے اور کھانا وغیرہ کھاتاہے بہت عرصہ سے اب منع کرنے پر جواب دیا کہ میں نیت اعتکاف کرلیتا ہوں کوئی حرج میرے قیام اور کھانے سونے میں نہیں ہے۔
الجواب :
اگر واقعی وہ ہربار نیت اعتکاف کرتا اور کچھ دیر ذکر الہی کرکے کھاتا سوتا ہے تو حرج نہیں ۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : از بریلی ربیع الاول ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی عالم اور کوئی شخص مسجد میں سوئے اور مسند تکیہ مسجد میں اندر مسجد کے لگائے اور کھانا مسجد میں ایك جماعت کے ساتھ کھائے اور اگالدان مسجد میں رکھے اور گھوڑے کی زین اور اوراسباب وغیرہ مسجد میں رکھے یہ سب شرع سے درست ہے نہیں بینواتوجروا
حوالہ / References &فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الخامس فی آداب المسجد€ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ٥ / ٣٢١
&فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الفصل الثانی فی الوقف فی المسجد€ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ٢ / ٤٦٢
#10461 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
الجواب :
مسجد میں سونا۔ کھانا بحالت اعتکاف جائز ہے اگر جماعت معتکف ہو تو مل کر کھا سکتے ہیں بہر حال یہ لازم ہے کہ کوئی چیز شوربایا شیر وغیرہ کی چھینٹ مسجد مین نہ گرے اور سوائے حالت اعتکاف مسجد میں سونا یا کھانا دونوں مکروہ ہیں خاص کر ایك جماعت کے ساتھ کہ مکروہ فعل کا اور لوگوں کو بھی اس میں مرتکب بناتاہے۔ عالمگیری میں ہے :
یکرہ النوم والاکل فیہ الغیر المعتکف ۔
مسجد میں سونا اور کھانا غیر معتکف کے لئے مکروہ ہے (ت)
مسند لگانا اگر براہ تکبر ہے تو یہ خارج مسجد بھی حرام ہے۔
قال اﷲتعالی الیس فی جهنم مثوى للمتكبرین(۶۰)
اﷲتعالی کا فرمان ہے : کیا نہیں ہے جہنم میں ٹھکانہ متکبرین کا۔ (ت)
اور اگر براہ تکبر نہیں کسی دوسرے نے اس کے لئے رکھ دی یہ اس کی خاطر سے بدیں لحاظ کہ امیرالمومنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم فرما ئے ہیں :
لایابی الکرامۃ الاحمار ۔
عزت واحترام کا انکارکوئی گدھا ہی کرسکتاہے (ت)
ٹیك لگا کر بیٹھ گیا تو بھی یہ مسجد میں نہ ہونا چاہئے کہ ادب مسجد کے خلاف ہے ہاں ضعف یا درد کے سبب مجبور ہو تو معذور ہے اگالدان اگر پیك کے لئے رکھا ہے تو غیر معتکف کو مسجد میں پان کھانا خود مکروہ ہے اور اگر کھانسی ہے بلغم باربار آتا ہے اس غرض کے لئے رکھا تو حرج نہیں ۔ اور گھوڑے کا زین وغیرہ اسباب بھی بلاضرورت شرعیہ مسجد میں رکھنا نہ چاہئے مسجدکو گھر کے مشابہ بھی کرنا نہ چاہئے ۔ رسول اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں : ان المساجد لم تبن لھذا (مساجد ان چیزوں کی خاطر نہیں بنائی جاتی ۔ ت) خصوصا اگر چیزیں رکھے جن سے نماز کی جگہ رکے تو سخت ناجائز و گناہ ہے۔
قال اﷲتعالی
و من اظلم ممن منع مسجد الله ان یذكر فیها اسمه۔
حوالہ / References &فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب الخامس فی آداب المسجد €مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ٥ / ٣٢١
&القرآن€ ، ٣٩ / ۶۰
&کنز€ &العمال بحوالہ الدیلمی عن ابن عمر رضی اﷲ عنہ حدیث €۲۵۴۹۲ مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ بیروت ٩ / ١٥٥
&صحیح مسلم کتاب المساجد باب النہی عن نشد الضالۃ فی المسجد €مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ١ / ٢١٠
&القرآن€ ٢ / ١١٤
#10462 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
با ایں ہمہ یہ بھی یاد رکھنا فرض ہے کہ حقیقۃ عالم دین ہا دی خلق سنی صحیح العقیدہ ہو عوام کو اس پر اعتراض اس کے افعال میں نکتہ چینی اس کی عیب بینی حرام حرام حرام اور باعث سخت محرومی اور بدنصیبی ہے اول تو لاکھوں مسائل و احکام فرق نیت سے متبدل ہوجاتے ہیں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
انماالاعمال بالنیات وانما لکل امری مانوی ۔
اعمال کا مدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔ (ت)
علم نیت ایك عظیم واسع علم ہے جسے علمائے ماہرین ہی جانتے ہیں عوام بیچارے فرق پر مطلع نہ ہو کر ان کے افعال کو اپنی حرکات پر قیاس کرتے اورحکم لگادیتے اور “ کار پاکاں راقیاس از خود مگیر “ کے مورد بنتے ہیں اسی مسئلہ میں دیکھئے شرعا اعتکاف کے لئے نہ روزہ شرط ہے نہ کسی قدر مدت کی خصوصیت ۔ ولہذا مستحب ہے کہ آدمی جب مسجد میں جائے اعتکاف کی نیت کرلے۔ جب تك مسجد میں رہے گااعتکاف کا ثواب بھی پائے گا۔ علما اعتکاف ہی کی نیت سے مسجد میں داخل ہوتے ہیں اور اب ان کو سونا کھانا پیك کےلئے اگالدان رکھنا روا ہوگا اور اس سے قطع نظر بھی ہو تو جاہل کو سنی عالم پر اعتراض نہیں پہنچتا رسول اﷲ کی حدیث میں عالم بے علم کی مثال شمع سے دی ہے کہ آپ جلے اور تمھیں روشنی و نفع پہنچائے احمق وہ جو اس کے جلنے کے باعث اسے بجھادینا چاہے اس سے یہ خودہی اندھیرے میں رہ جائےگا علماء کو چاہئے کہ اگر چہ خود نیت صحیحہ رکھتے ہوں عوام کے سامنے ایسے افعال جن سے ان کا خیال پریشان ہو نہ کریں کہ اس سے دوفتنے ہیں جو معتقد نہیں ان کا معترض ہونا غیبت کی بلا میں پڑنا عالم کے فیض سے محروم رہنا اور جو معتقد ہیں ان کا اس کے افعال کو دستاویز بناکر بے علم نیت خود مرتکب ہونا عالم فرقہ ملامتیہ سے نہیں کہ عوام کو نفرت دلانے میں اس کا فائدہ ہو مسند ہدایت پر ہے عوام کو اپنی طرف رغبت دلانے میں ان کا نفع ہے حدیث میں ہے :
راس العقل بعدالایمان باﷲ التوددالی الناس ۔
ایمان باﷲ کے بعد سب سے بڑی عقلمندی لوگوں کے ساتھ محبت کرنا ہے۔ (ت)
دوسری حدیث صحیح میں ہے رسول اﷲ فرماتے ہیں : بشرواولاتنفروا ____ (محبت پھیلاؤ
حوالہ / References &صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی الخ€ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٢
&شعب الایمان فصل طلاقۃ الوجہ وحسن البشر الخ حدیث€ ٨٠٦١ مطبوعہ دارالکتب العربیہ بیروت ٦ / ٢٥٥
&صحیح البخاری کتاب العلم€ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۶ ، &صحیح مسلم کتاب الجہاد باب تامیرالامراء علی البعوث الخ€ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ٢ / ٨٢
#10463 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
نفرت نہ پھیلاؤ۔ ت) احیانا ایسے افعال کی حاجت ہو تو اعلان کے ساتھ اپنی نیت اور مسئلہ شریعت عوام کو بتادے ۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۱۱۵۱ : الہ آباد مسجد صدر مرسلہ حافظ عبدالمحمید صاحب فتحپوری ۱۶جمادی الاولی ۱۳۳۱ھ
اگر کوئی مسجد میں بآواز بلند درود و وظائف خواہ تلاوت کررہاہو اس سے علیحدہ ہو کر نماز پڑھنے میں بھی آواز کانوں میں پہنچتی ہے لوگ بھو ل جاتے ہیں خیال بہك جاتا ہے ایسے موقع پر ذکر بالجہر تلاوت کرنے والے کو منع کرنا جائز ہے یا نہیں یعنی آہستہ پڑھنے کو کہنا بالجہر سے منع کرنا اگر نہ مانے تو کہاں تك ممانعت کرناجائز ہے اس کے متعلق کیا ارشاد فرماتے ہیں علمائے دین
الجواب :
بیشك ایسی صورت میں اسے جہر سے منع کرنا فقط جائز نہیں بلکہ واجب ہے کہ نہی عن المنکر ہے اور کہاں تك کا جواب یہ کہ تا حد قدرت جس کا بیان اس ارشاد اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں ہے :
من رأی منکم منکر افلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ وذلك اضعف الایمان ۔
جو تم میں کوئی ناجائز بات دیکھے اس پر لازم ہے کہ اپنے ہاتھ سے اسے مٹادے بند کردے اور اس کی طاقت نہ پائے تو زبان سے منع کرے اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل سے اسے براجانے اور یہ سب میں کمتردرجہ ایمان کا ہے ۔ (ت)
اور جہاں لوگ اپنے کاموں مشغول ہوں اور قرآن عظیم کے استماع کے لئے کوئی فارغ نہ ہو وہاں جہرا تلاوت کرنے والے پر اس صورت میں دوہرا وبال ہے ایك تو وہی خلل اندازی نماز وغیرہ کہ ذکر جہر میں تھا دوسرے قرآن عظیم کو بے حرمتی کے لئے پیش کرنا ۔ ردالمحتار میں ہے :
فی الفتح عن الخلاصۃ رجل یکتب الفقہ وبجنبہ رجل یقرأ القران فلا یمکن استماع القران فالاثم علی القاری وعلی ھذا الوقرأ علی
فتح میں خلاصہ سے ہے ایك آدمی فقہ لکھ رہاہے اور اس کے پاس دوسرا شخص قرآن کی تلاوت کررہاہے جبکہ قرآن کا سننا ممکن نہیں تو اب گناہ تلاوت کرنے والے پر ہے۔ اسی طرح اگر اونچی
حوالہ / References &صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان کون النہی عن المنکر من الایمان€ مطبوعہ نورمحمد اصح امطا بع کراچی ١ / ٥١
&ردالمحتار فصل فی القراءۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٤٠٣
#10464 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
السطح والناس نیام یأثم اھ ای لانہ یکون سببا لاعراضھم عن استماعہ الانہ یوذیھم بایقاظھم
جگہ پڑھتا ہے حالانکہ لوگ سوئے ہوئے تھے تو پڑھنے والا گنہگار ہوگا اس لئے کہ یہ شخص ان کے قرآن سننے سے اعراض کا سبب بنایا اس وجہ سے کہ ان کی نیند میں خلل واقع ہوگا۔ (ت)
اسی میں غینہ سے ہے :
یجب علی القاری احترامہ بان لا یقرأہ فی الاسواق ومواضع الاشتغال فاذا قرأہ فیھا کان ھوالمضیع لحرمتہ فیکون الا ثم علیہ دون اھل الاشتغال دفعا للحرج ۔ واﷲتعالی اعلم
تلاوت کرنے والے پر یہ احترام لازم ہے کہ وہ بازار میں اور ایسے مقامات پر نہ پڑھے جہاں لوگ مشغول ہوں اگر وہ ایسے مقام پر پڑھتاہے تو وہ قرآن کا احترام ختم کرنے والا ہے لہذا دفع حرج کے پیش نظر یہ پڑھنے والا گنہگار ہوگا مشغول ہونے والے لوگ گنہگار نہ ہونگے۔ (ت) واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرح متین اس مسئلہ میں کہ ایك یا زیادہ شخص نماز پڑھ رہے ہیں یا بعد جماعت نماز پڑھنے آئے ہیں اور ایك یا کئی لوگ بآواز بلند قرآن یا وظیفہ یعنی کوئی قرآن کوئی وظیفہ پڑھ رہے ہیں یہاں تك کہ مسجد بھی گونج رہی ہے تو اس حالت میں کیا حکم ہونا چاہئے کیونکہ بعض دفعہ آدمی کا خیال بدل جاتا ہے اور نماز بھول جاتاہے۔
الجواب :
جہاں کوئی نماز پڑھتا ہو یا سوتا ہو کہ بآواز پڑھنے سے اس کی نماز یا نیند میں خلل آئے گا وہاں قرآن مجید و وظیفہ ایسی آواز سے پڑھنا منع ہے مسجد میں جب اکیلا تھا اور بآواز پڑھ رہاتھا جس وقت کوئی شخص نماز کے لئے آئے فورا آہستہ ہوجائے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : از ریاست نانپارہ ضلع بہرائچ محلہ توپ خانہ مرسلہ منشی حامد علی خان صاحب ۲۷ رمضان المبارك ۱۳۳۶ھ
زید اگر مسافرانہ طورپر کسی مقام پر واردہوا اور وہاں اس کا کوئی ایسا شخص شناسہ نہ ہو کہ جس کے
حوالہ / References &ردالمحتار فصل فی القراءۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٤٠٣
&ردالمحتار فصل فی القراءۃ€ مطبوعہ مصطفٰی البابی مصر ١ / ٤٠٣
#10465 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
مکان میں قیام کرسکے اور بسبب پابندی نماز جماعت ووضو وغیرہ کسی مسجد میں ٹھہر جائے تو جائز ہے یا نہیں اور اس کا سلف سے ثبوت ہے یانہیں اور جو شخص زید کو بصورت مذکورہ جبرا مسجد سے نکالے اور کہے کہ یہ مسجد خالد کی ملك ہے اور میں چونکہ ملازم خالد ہو لہذا مجھے حکم خالد ہے کہ بے اذن ہمارے کسی کو ہماری مسجد میں نہ رہنے دو اور اس پر برسر پیکار ہو تو زید کا اخراج عن المسجد بصورت فتنہ وفساد جائز ہے یا نہیں اور مسجد کی ملك کی نسبت خالد جانب جائز ہے یانہیں اور مسجد مذکورہ میں اس صورت میں نماز کا کیا حکم ہے اور ایسی مسجد پر مسجد ضرار کی تعریف صادق ہے یا نہیں
الجواب :
ایسے مسافر کو مسجد میں ٹھہرنا بیشك جائز ہے خود مسجد اقدس میں حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے عہد اقدس میں حکم انور سے اصحاب صفہ رضی اللہ تعالی عنہم قیام پذیر تھے مسجد سے بالجبر اس کا اخراج ظلم ہے والظلمات یوم القیمۃ( ظلم قیامت کے روز تاریکیاں ہوگا۔ ت) ہاں نظر بحالات زمانہ بعض مساجد میں اجنبی غیر معروف کا قیام نامناسب ووجہ اندیشہ ہوتاہے جیسے صدہا سال مسجد مدینہ طیبہ کے دروازے بعد عشابند کردیتے ہیں اور سوا خدام کے سب لوگ باہر کردئے جاتے ہیں اگر واقعی ایسی صورت تھی تو بزمی کہنا چاہئے تھا اور مسجد کو خالد کی ملك کہنا ظلم ہے اﷲ عزوجل فرماتا ہے :  و ان المسجد للہمسجدیں خالص اﷲ کے لئے ہیں ۔ بہر حال اس مسجد میں نماز ناجائز ہونے کی کوئی وجہ نہیں نہ وہ مسجد ضرار ہوسکتی ہے یہ جہل محض ہے۔ پھر اگر یہ مسجد اموال وغیرہ سے محل احتیاط مذکور نہیں یا زید مشتبہ نہیں تو اسے جبرا نکال دینے والے پر لازم ہے کہ ا س سے معافی چاہے کہ مسلمان کو بلاوجہ شرعی ایذادینا بہت سخت ہے۔
من اذی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ ۔ (الحدیث)
جس نے کسی مسلمان کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی اور جس نے مجھے اذیت دی اس نے بلاشبہ اﷲ تعالی کو اذیت دی۔ (الحدیث ۔ ت)
حوالہ / References &الجامع الصفیر مع فیض القدیر بحوالہ طبرانی اوسط€ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ٦ / ٩ ، &کنز العمال حدیث€ ٤٣٧٠٣ ، مطبوعہ مؤ سسۃ الرسالۃ بیروت ١٦ / ١٠ ، &مجمع الزوائد باب فیمن یتخطی رقاب الناس یوم الجمعۃ€ مطبوعہ دارالکتاب بیروت ٢ / ١٧٩
#10466 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
زید کو چاہئے کہ اگر مسجد میں قیام کرے سونے اور کھانے سے کچھ پہلے اعتکاف کی نیت کرکے کچھ ذکر الہی کرکے کھائے سوئے کہ مسجد میں کھانا سونا معتکف کو بلاخلاف جائز ہے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : از شہر کمولا مسئولہ منیرالدین صاحب ذی الحجہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مٹی کا تیل مسجد میں جلانا جائز ہے یا نہیں بعض لوگ جائز کہتے ہیں اور عدم جواز کی دلیل چاہتے ہیں ۔ بینوا توجروا
الجواب :
مٹی کے تیل میں سخت بد بو ہے اور مسجد میں بدبو کا لے جانا کسی طرح جائز نہیں ۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من اکل من ھذہ الشجرۃ المنتنۃ فلا یقربن مسجد نا فان الملئکۃ تتاذی ممایتاذی منہ الانس ۔ رواہ الشیخان عن جابر رضی اﷲ تعالی عنہ۔
جس شخص نے اس بدبودار پودے کو کھایا وہ ہماری مساجد کے قریب نہ آئے کیونکہ ملائکہ کو بھی ہراس شئی سے تکلیف ہوتی ہے جس سے انسانوں کو ہوتی ہے۔ اسے بخاری ومسلم نے حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ (ت )
امام عینی عمدۃالقاری شرح صحیح بخاری پھر علامہ سید شامی ردالمحتار میں فرماتے ہیں :
ویلحق بما نص علیہ فی الحدیث کل مالہ رائحۃ کریھۃ ماکولا اوغیرہ ۔
حدیث کے مطابق ہر اس شی کا یہی حکم ہے جس کی بو اچھی نہ خواہ وہ شی کھائی جاتی ہو یا نہ۔ (ت)
ہاں مٹی کے تیل میں بعض انگریزی عطر جن کو لونڈر کہتے ہیں ملانےسے اس کی بدبو جاتی رہتی ہے اس صورت میں جائز ہوجائے گا بشر طیکہ اس لونڈر میں اسپرٹ وغیرہ کوئی ناپاك شئی نہ ہو ورنہ ناپاك تیل کا بھی مسجد میں جلانا جائز نہیں ہے ۔ درمختار میں ہے :
کرہ تحریما ادخال نجاسۃ فیہ فلایجوز الاستصباح بدھن نجس فیہ ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسجد میں نجاست داخل کرنا مکروہ تحریمی ہے لہذا ناپاك تیل کے ساتھ وہاں چراغ جلانا درست نہیں ۔ واﷲتعالی اعلم (ت)
حوالہ / References &صحیح مسلم کتاب المساجد باب من اکل ثومًا الخ€ مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ١ / ٢٠٩ ، &صحیح البخاری کتاب الاذان باب ماجاء فی الثوم الخ€ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ۱۱۸
&ردالمحتار€ ، &باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیھا€ مطبوعہ مصطفے البابی مصر ، ١ / ٤٨٩
&درمحتار باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیھا€ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٩٣
#10467 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
مسئلہ ۱۱۵۵ : از شہر بریلی مدرسہ منظر الاسلام مسئولہ مولوی رحیم بخش بنگالی صفر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد میں روغن مٹی کا جلانا جائز ہے یا نہیں
الجواب :
مسجد میں مٹی کا تیل جلانا حرام ہے مگر جبکہ اس کی بو بالکل دور کردی جائے ۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : از داناپور محلہ سگونہ مسئولہ محمد حنیف خاں ۸ شعبان ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد ہے جس میں تین د ر و ازے لگے ہیں صبح کی نماز میں بوجہ سردی کے تنیوں دربند کرکے اورچراغ جلاکر لوگ نماز پڑھاکرتے ہیں او رنماز صبح اپنے وقت پر ادا کرتے ہیں ایك شخص کہتا ہے کہ چراغ جلاکر نماز نہ پڑھنا چاہئے منع ہے مگر کو ئی ثبوت اس کا نہیں دیتا ہے اس لئے دریافت طلب ہے کہ ایسا کرنے میں شرعا کوئی قباحت ہے یا نہیں اور کہاں تك اس کا کہنا صحیح ہے مہربانی فرماکر جوا ب مع حوالہ کتب فقہ شریف عنایت ہو۔
الجواب :
وقت حاجت چراغ جلاکر نماز پڑھنے میں تو کوئی حرج نہیں
وفیہ حدیث تمیم الداری رضی اﷲتعالی عنہ وایقادہ القنادیل فی المجسد الشریف و استحسانہ من النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و حدیث علی رضی اﷲتعالی عنہ لما رأی المسجدین ھو قال نوراﷲ قبر عمر کما نور مساجدنا ۔
اس بارے میں حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی حدیث ہے مسجد نبوی میں قندیلوں کا جلانا اور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا انھیں پسند کرنا ثابت ہے اور وہ حدیث جس میں منقول ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے دونوں مساجد کو روشن دیکھا تو کہا : اﷲتعالی عمر ( رضی اللہ تعالی عنہ ) کی قبر کو اسی طرح روشن کرے جیسے انھوں نے مساجد کو روشن کیا۔ (ت)
مگر نماز کے وقت مسجد کے کواڑ بند کرنا ضرور ممنوع وبدعت سیئہ ہے درمختار میں ہے :
کرہ غلق باب المسجد الالخوف علی متاعہ بہ یفتی اھ
مسجد کا دروازہ بند کرنا مکروہ ہے البتہ اس صورت میں جائز ہے جب مسجد کا سامان چوری ہونے کا اندیشہ ہو
حوالہ / References &تاریخ الخلفاء فصل فی اولیاتِ عمر€ & رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ €مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص ٩٧
&درمختار باب مایفسد الصلوٰہ وماکرہ فیھا€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٩٣
#10468 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
اقول : ھذا فی غیروقت الصلوۃ لقول الشامی الافی اوقات الصلوۃ فکیف عند نفس قیام الصلوۃ ھذا مردودباجماع اھل الصلوۃ۔
فتوی بھی اسی پر ہے اھ۔ میں کہتا ہوں یہ وقت نماز کے علاوہ میں ہے کیونکہ شامی نے کہا مگر اوقات نماز میں دروازہ بند کرنا مکروہ ہے تو نماز کی جماعت ہورہی ہو تو اس وقت منع کیوں نہ ہوگا! اور اس کے مردود ہونے پر تمام اہل نماز کا اجماع ہے۔ (ت)
اس وقت چراغ روشن کرنا بھی اگر اسی کو اڑبند کرنے کی بنا پر ہو اگر بند نہ کریں چراغ کی حاجت نہ ہو تو یہ چراغ بھی بے حاجت کہ وہ حاجت بروجہ باطل ہے اور اگر اتنے اندھیرے سے پڑھتے ہیں کہ کھلے کو اڑوں میں بھی حاجت چراغ ہو تو یہ خلاف افضل ہے مذہب حنفی میں نماز فجر جس قدر وقت روشن کرکے پڑھی جائے زیادہ اجر ہے۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۱۱۵۷ : از شہر بریلی محلہ گھیر جعفر خاں محمود علی خاں ۲۸ ذی القعدہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اندرون مسجد مرزائی یعنی ٹین کے دالان کے دروں میں بغرض زیبائش مسجد گملے درختاں پھول وغیرہ لٹکائے جانے کےلئے تیار کئے گئے ہین جن مین کہ کھادوغیرہ پاك مٹی کی دی گئی ہے۔ اب چند حضرات کو اعتراض ہے کہ نئی بات مسجد میں نہیں ہونا چاہئے۔ ازروئے شرع شریف کیا حکم ہے
الجواب :
اگر نمازی نگاہ کے سامنے ہوں تو مکروہ ہیں اور زیادہ بلند ہوں تو حرج نہیں ۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۱۱۵۸ : از منصور پور متصل ڈاکخانہ شیش گڑھ تحصیل بہیڑی ضلع بریلی مسئولہ محمد شاہ خان محرم ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس باب میں مسجد میں اکثر کاپیاں عربی کی ونقشجات وغیرہ چہار جانب دیواروں پر مسجد کی نصب کئے جاتے ہیں منجملہ ان کے منبر کے قریب دیوار پر عربی مناجات ایسے موقع پر نصب یعنی چسپاں کئے جاتے ہیں کہ بروقت پڑھنے کے امام کے پس پشت یا اس سے کسی قدر اونچے یعنی قریب پس گردن عربی مناجات ہوتے ہیں ایسی صورت میں کیا حکم ہے
الجواب :
ایسی چیزوں کا دیوار قبلہ میں نصب کرنا نہ چاہئے جس سے لوگوں کا نماز میں دھیان بٹے اور اتنی نیچی ہونا کہ خطبہ میں امام کی پشت اس کی طرف ہو یہ اور بھی نامناسب ہے۔ ہاں اگر اس سے بلند رہے تو یہ حرج اس میں نہ ہوگا ۔ واﷲتعالی اعلم
حوالہ / References ∞ &ردالمحتار باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیھا€ مطبوعہ مصطفے البابی مصر ۱ / ۴۵۸
#10469 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
مسئلہ۱۱۵۹ : از علی گڑھ کالج مسئو لہ حضرت مولانہ محمد سیلمان اشرف صاحب بہاری( رحمۃ اللہ تعالی علیہ ) پروفیسر دینیات خلیفہ اعلیحضرت رضی اللہ تعالی عنہ ھ
مسجد مین طلائی نقش ونگار جائز ہے یا نہیں کیا نمازیوں کے پیش نظر گل بوٹے چمکتے دمکتے مخل صلوۃ نہیں کیا اس طرح کی زیبائش مسجد کی من جہت معبد ہونے کے شایان شان نہیں محض مختصر جواب اس کا تحریر فرماکر فقیر کو ممنون فرمائیں یہاں مسئلہ درپیش ہے کالج کی مسجد منقش ومطلا کی جارہی ہے۔ فقط
الجواب :
مساجد میں زینت ظاہری زمانہ سلف صالحین میں فضول وناپسند تھی کہ ان کے قلوب تعظیم شعائر اﷲ سے مملوتھے ولہذا حدیث میں مباہاۃ فی المساجد کو اشراط ساعت سے شمار فرمایا اور عبداﷲ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا :
لتزخر فنھا کما زخرفت الیھود والنصاری ۔
تم مساجد کو اسی طرح مزین کروگے جس طرح یہود ونصاری نے مزین کیں ۔ (ت)
تبدل زمان سے علماء نے تزیین مساجد کی اجازت فرمائی کہ اب تعظیم ظاہر مورث عظمت فی العیون ووقعت فی القلوب ہوتی ہے فکان کتحلیۃ المصحف فیہ من تعظیمہ( یہ ایسے ہی ہے جیسے تعظیم کی خاطر قرآن حکیم کو طلا کی صورت میں لکھا جائے۔ ت) مگر اب بھی دیوار قبلہ عموما اور محراب کو خصوصا شاغلات قلوب سے بچانے کا حکم ہے بلکہ اولی یہ ہے کہ دیوار یمین وشمال بھی ملہیات سے خالی رہے کہ اس کے پاس جو مصلی ہو اس کی نظر کو پریشان نہ کرے۔ ہاں گنبدوں میناروں سقف اور دیواروں کی سطح کہ مصلیوں کے پس پشت رہے گی ان میں مضائقہ نہیں اگر چہ سونے کے پانی سے نقش ونگارہوں بشرطیکہ اپنے مال حلال سے ہوں مسجد کا مال اس میں صرف نہ کیا جائے مگر جبکہ اصل بانی مسجد نے نقش ونگار کئے ہوں یا واقف نے اس کی اجازت دی ہو یا مال مسجد کا فاضل بچاہو اور اگر صرف نہ کیا جائے تو ظالموں کے خوردبرد میں جائے گا پھر جہاں جہاں نقش ونگار اپنے مال سے کرسکتا ہے اس میں بھی دقائق نقوش سے تکلف مکروہ ہے سادگی ومیانہ روی کا پہلو ملحوظ رہے۔ امام ابن المنیرشرح جامع صحیح میں فرماتے ہیں :
استنبط منہ کراھۃ زخرفۃ المساجد لاشتغال قلب المصلی بذلك اولصرف المال
اس سے مساجد کا مزین کرنا مکروہ ثابت ہوتاہے کیونکہ اس میں نمازی کے دل مشغول یا مال کا
حوالہ / References &الصحیح البخاری کتاب الصّلوٰۃ باب بنیان المسجد€ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٦٤
#10470 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
فی غیر وجھہ نعم اذاوقع ذلك علی سبیل تعظیم المساجد ولم یقع الصرف علیہ من بیت المال فلا باس بہ ولو اوصی بتشیید مسجد وتحمیرہ وتصفیرہ ونفذت وصیتہ لانہ قد حدث الناس فتاوی بقدرمااحد ثوا وقد احدث الناس مؤ منھم وکافرھم تشیید بیوتھم و تزیینھا ولو بنینا مساجدنا باللبن وجعلنا ھا متطامنۃ بین الدورالشا ھقۃ وربما کانت لاھل الذمۃ لکانت مستھانۃ
غلط طور پر استعمال لازم آتا ہے ہاں جب یہ تزیین مساجد کی تعظیم کی خاطر ہو اور بیت المال سے نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔ اگر کسی شخص نے مسجد کو پختہ کرنے اور اسے سرخ وسفید کرنے کی وصیت کی تو اس کی وصیت نا فذ ہوگی کیونکہ لوگوں میں فتوی ان کے حال کے مطابق ہوتاہے اب لوگ خواہ مومن ہیں یا کافر ہرکوئی اپنے گھر کو مزین کررہاہے اب اگر ہم اپنی مساجد کو کچی اینٹوں سے بنائیں گے اور انھیں بلند عمارات کے درمیان چھوٹا بنائیں تو ان کی توہین ہوگی جبکہ یہ مکانات اہل الذمہ کے بھی ہوسکتے ہیں (ت)
درمختار میں ہے :
(ولا باس بنقشہ خلامحرابہ) فانہ یکرہ لانہ یلھی المصلی ویکرہ التکلف بدقائق النقوش ونحوھا خصوصا فی جدارالقبلۃ قال الحلبی وفی حظر الجتبی وقیل یکرہ فی المحراب د ون السقف والمؤخر انتہی وظاھرہ ان المراد بالمحراب جدارالقبلۃ فلیحفظ (بجص وماء ذھب) لو(بمالہ)الحلال )لامن مال الوقت) فانہ حرام (وضمن متولیہ لو فعل) النقش اوالبیاض الا اذا خیف طمع الظلمۃ فلا باس بہ کافی والا اذاکان لاحکام البناء اوالواقف
(مسجد کو محراب کے علاوہ منقش کرنے مین کوئی حرج نہیں ) کیونکہ محراب کا نقش ونگارنمازی کو مشغول کردیتا ہے البتہ بہت زیادہ نقش ونگار کے لئے تکلف کرناخصوصا دیوار قبلہ میں مکروہ ہے ۔ حلبی اور مجتبی کے باب الخطر میں ہے کہ محراب کا منقش کرنا مکروہ ہے چھت یا پچھلی دیوار کا منقش کرنا مکروہ نہیں اھ اور ظاہر یہی ہے کہ محراب سے مراد دیوار قبلہ ہے پس اسے محفوظ کرلو (چونے اور سونے کے پانی سے) اگر (اپنے مال) حلال سے ہو (مال وقف سے نھیں )کیونکہ وہ حرام ہے( متولی نے اگر کیا تو وہ ضامن ہوگا) نقش یا سفیدی البتہ جب ظالموں سے مال وقف کو خطرہ ہو تو کوئی حرج نہیں کافی اور اس صورت میں
حوالہ / References &ارشاد الساری بحوالہ ابن المنیر باب بنیان المسجد€ مطبوعہ دارالکتاب العربی بیروت ١ / ٤٤٠
#10471 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
فعل مثلہ لقولھم انہ یعمر الوقف کما کان وتمامہ فی البحر ۔
جب یہ بنا کی پختگی کے لئے یا واقف نے خود ایسے کیا ہو کیونکہ فقہاء نے فرمایا کہ وقف کی مرمت حسب سابق کرنا ہے۔ اس کی تفصیل بحر میں ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں بحر سے ہے :
واراد وا من المسجد داخلہ فیفید ان تزیین خارجہ مکروہ اھ رایتنی کتبت علیہ مانصہ اقول : فی ھذہ الاستفادۃ نظر ظاھر بل الظاھر منہ جوازہ بلاکراھۃ بالشروط الثلثۃ ان یکون بمالہ الحلال ولا یتکلف دقائق النقوش لان خارج المسجد لیس محل الھاء المصلی وفیہ تعظیمہ فی العیون وزیادۃ وقعتہ فی القلوب و تغیب الناس فی حضورہ تعمیرہ و کل ذلك مطلوب محبوب وانما الامور بمقاصدھا وانھا لکل امرئ مانوی واﷲ تعالی اعلم
یہاں انھوں نے داخل مسجد مراد لیا ہے جو واضح کررہا ہے کہ باہر مسجد کی تزیین مکروہ ہے اھ میں نے اس پر جو لکھا وہ یہ ہے کہ اس استفادہ میں نظر ظاہر ہے بلکہ ظاہریہ ہے کہ شروط ثلثہ کے ساتھ بلاکراہت جائز ہے یہ کہ اپنا مال حلال کا ہو اور نقوش میں تکلف نہ ہوکیونکہ خارج مسجد نمازی کو مشغول نہیں کرتا اس میں دیکھنے میں تعظیم اور دلوں میں وقعت کا اضافہ اور لوگو ں کا حضور وآبادی میں شوق کا سبب ہے اور ان میں سے ہر شئی مطلوب محبوب ہے اور امور کا اعتبار ان کے مقاصد پر ہوتا ہے ہر آدمی کے لئے وہی کچھ ہے جو اس نے نیت کی۔ واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ۱۱۶۰ : از فیض آباد مسجد مغلپورہ مرسلہ شیخ اکبر علی موذن و مولوی عبدالعلی رییع الآخر ھ
مسجد کے کنارے کسی بزرگ کی قبر ہو اور وہاں گانا مع آلات ڈھولکی وغیرہ ہو اور تماشائی لوگ اندر مسجد کے بلالحاظ پاکی اور ادب کے اور گاگر کے وقت ہجوم ہو لوگ اندر مسجد داخل ہوں جائز ہے یا نہیں
الجواب :
مزامیر کے ساتھ گانا اور اس کا سننا دونوں حرام ہیں اور حرام فعل کا مسجد میں کرنا اور سخت اور گاگر کا ہجوم اگر کسی
حوالہ / References &درمختار باب مایفسدالصلوٰۃ ومایکرہ فیھا€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ۹۳
&ردالمحتار باب مایفسدالصلوٰۃ ومایکرہ فیھا€ مطبوعہ مصطفےٰ البابی مصر ١ / ٤٨٧
&جدالممتار علی ردالمحتار باب احکام المسجد المجمع الاسلامی€ مبارکپور ، انڈیا ١ / ٣١٥
#10472 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
منکر شرعی پر مشتمل نہیں نہ یہ وقت نماز کا ہو جس سے نمازیوں پر تنگی ہو نہ یہ لوگ مسجد کی بے حرمتی کریں تو حرج نہیں اور بے ثبوت شرعی مسلمانوں کو سمجھ لینا کہ ناپاکی کی حالت میں مسجد میں داخل ہوئے بدگمانی ہے اور بدگمانی حرام ۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۱۱۶۱ : از لال پور ضلع پیڑا بنگال مرسلہ مولوی ابو سعید محمد عارف مورخہ جمادی الثانی ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جمعہ کی مسجد میں کرسی پر بیٹھ کر وعظ کہنے کو بعض لوگ عدم سنت کہتے ہیں سنت ہونے کی دلیل چا ہتے ہیں ۔ بینوا توجروا
الجواب :
واعظ کا کرسی پر مسجد میں بیٹھنا جائز ہے جبکہ نماز اور نمازیوں کا حرج نہ ہو ایك آدھ بار حدیث سے یہ ثابت ہے مگر ایك آدھ بار سے فعل سنت نہیں بن جاتا۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از چوہڑ کوٹ بارکھاں ملك بلوچستان محرم ھ
مجموعہ فتاوی عبدالحی صفحہ ومجموعہ فتاوی ہمایونی تصنیف مولینا مفتی عبدالغفور نے چارپائی والے مسئلہ مسجد میں جواز لکھا ہے وہ حدیث پیش کرتے ہیں جو آنحضرت اعتکاف کے موقع میں سریر پر سوئے تھے۔
الجواب :
حدیث قولی اور فعلی جب متعارض ہوں تو عمل حدیث قولی پر ہے ان المسجد لم تبن لھذا ( مساجد کی بنا ان چیزوں کے لئے نہیں ۔ ت) نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اونٹ پر سوار مسجد الحرام شریف میں داخل ہوئے اور یونہی کعبہ معظمہ کا طواف فرمایا۔ سعد بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ زخمی ہوئے خون ان کے زخموں سے جاری تھا ان کے لئے مسجد اقدس میں خیمہ نصب فرمایا کہ قریب سے عیادت فرمائیں کہ سوا مسجد شریف کے کوئی مکان نشست کا حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے پاس نہ تھا۔ کیا ان احادیث سے استناد کرکے کوئی ایسی جرأت کرسکتا ہے واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۱۱۶۳ ۱۱۶۴ : از شہر بریلی مسئولہ کفایت اﷲ یکم رمضان المبارك ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید دریافت کرتا ہے کہ :
() مسجد میں استعمالی جوتا رکھنا چاہئے یا نہیں چونکہ زید نے ایك مولوی صاحب کی زبان مبارك سے سنا ہے کہ جوتا مسجد کے اند رکھنا حرام ہے اس وجہ سے منع کیا تو جواب ہوا کہ ہر مسجد میں جوتا رکھتے دیکھتے ہیں اور
حوالہ / References &سنن ابن ماجہ باب النہی عن انشاد الضوال فی المسجد€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ٥٦ ، &صحیح مسلم باب النہی عن نشدالضالۃ فی المسجد€ نور محمد اصح المطابع& €کراچی ١ / ٢١٠
#10473 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
کہتے ہیں کہ عید گاہ اور جامع مسجد میں بھی دیھا اور یہاں تك کہا کہ شرع کی کتابوں میں بھی دیکھا ہے تو جوتا خشك پاك ہے اور مسجد میں کوئی حرج نہیں آیا اس میں کیا حکم ہے
() اگر غسل خانہ مسجد کے فرش سے جدا ہے اور غسل خانہ اتنا تر رہتا ہے کہ پاؤں پر تری لگ جاتی ہے تو جوتا پہن کر جانا چاہئے یا ویسے ہی
الجواب :
() اگر مسجد سے باہر کوئی جگہ جوتا رکھنے کی ہو تو وہیں رکھے جائیں مسجد میں نہ رکھیں اور اگر باہر کوئی جگہ نہیں تو باہر جھاڑ کر تلے ملا کر ایسی جگہ رکھیں کہ نماز میں نہ اپنے سجدے کے سامنے ہو نہ دوسرے نماز ہی کے نہ اپنے دہنے ہاتھ کو ہوں نہ دوسرے نمازی کے نہ ان سے قطع صف ہو اور ان سب پر قادر نہ ہوں تو سامنے رکھ کر رومان ڈال دیں ۔
() جوتا پہن کر جانا چاہئے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : یکم ذی قعدہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر نمازی مسجد میں جوتا سامنے رکھتے ہیں منع کرنے پر کہتے ہیں کہ کہاں منع ہے کس قول سے منع ہے
الجواب :
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
ان احدکم اذا قام فی الصلوۃ فانما ینا جی ربہ وان ربہ بینہ وبین القبلۃ فلا یبزقن احدکم قبل قبلتۃ ولکن عن یسارہ او تحت قدمہ ۔ رواہ البخاری عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ
تم مین سے جب کوئی شخص نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجات کرتاہے اور رب تعالی کو نمازی اپنے اور قبلہ کے درمیان پاتا ہے توکوئی قبلہ کی جانب نہ تھوکے البتہ بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوك دے۔ اسے بخاری نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے ۔ (ت)
اور فرمایا :
اذاقام احدکم الی الصلوۃ فلا یبصق
جب تم میں سے کوئی نماز شروع کرے تو
حوالہ / References &صحیح البخاری کتاب الصلوٰۃ باب حك البزاق بالید من المسجد€ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ۵۸
#10474 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
امامہ فانما ینا جی اﷲ ما دام فی مصلاہ ولا عن یمینہ فان عن یمینہ ملکا ولیبصق عن یسارہ اوتحت قدمہ فید فنھا ۔ رواہ الشیخان عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
سامنےنہ تھو کے کیونکہ جب تك وہ نماز میں ہے اپنے رب سے ہم کلام ہے نہ ہی دائیں طرف تھوکے کیونکہ اس کے دائیں طرف فرشتہ ہوتا ہے البتہ بائیں طرف یا قدم کے نیچے تھوك لے اور اسے دفن کر دے۔ اسے بخاری ومسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
اور فرمایا :
اذا صلی احدکم فلا یضع نعلیہ عن یمینہ ولا عن یسارہ فتکون عن یمین غیرہ الا ان لا یکون علی یسارہ احد ولیضعھما بین رجلیہ ۔ رواہ ابوداؤدعن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ واﷲ تعالی اعلم
جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو جو تے نہ دائیں طرف رکھے نہ بائیں طرف کیونکہ وہ کسی کی دائیں جانب ہوگی البتہ اس صورت میں جب بائیں جانب کوئی نہ ہو اور انھیں اپنے دونوں پاؤں کے درمیان رکھ لے ۔ اسے ابوداؤد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ : از سرائے چھبیلہ ضلع بلند شہر مرسلہ راحت اﷲ امام مسجد جامع رمضان ھ
مسجد کے چاہ سے عموما پانی بھرنا اپنے گھروں کو اور ننگے پیروں سے آنا اور رسی سے بھی وہ خراب پیر لگتے ہیں پھر اس کی چھینٹیں کنویں میں ضرورجاتی ہیں منع کرنے پر کہتے ہیں کہ پہلے سے یونہی بھر تے آتے ہیں ۔ ان کا کیا حکم ہے
الجواب :
کنویں کی ممانعت نہیں ہوسکتی رسی ڈول اگر مسجد کا ہے اس کی حفاظت کریں غیر نماز کے لئے اس سے نہ بھرنے دیں دربارہ طہارت اوہام کو شریعت نے دخل نہیں دیا ورنہ عافیت تنگ ہوجائے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از شہر کہنہ مسئولہ محمد ظہور صاحب شوال ھ
کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ مسجد میں درخت پھلدار مثلا جامن مولسری کھنی وغیرہ کے ہو اور پھل اس مقدار پر آیاجس کو فروخت کیا جائے ایسی صورت میں وہ پھل نمازی یا غیر نمازی بلا کچھ قیمت ادا کئے ہوئے
حوالہ / References &صحیح البخاری کتاب الصلوٰۃ باب دفن النخامۃ فی ا لمسجد€ مطبو عہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٥٩
&سنن ابوداؤد کتاب الصلوٰۃ باب المصلی اذاخلع نعلیہ الخ€ مطبو عہ آفتاب عالم پریس لاہور ١ / ٦٩
#10475 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
کھا سکتے ہیں یا نہیں دیگر یہ کہ مسجد میں درخت بیلہ۔ چنبیلی۔ مولسری کا ہےاس کے پھول نمازی لوگ بلا کوئی قیمت ادا کئے ہوئے گھر کو لاسکتے ہیں یا نہیں
الجواب :
مسجد میں بے ضرورت شدید درخت بونا منع ہے اور اس کے پھل پھول بے قیمت نہیں لے سکتے۔ ہندیہ میں ہے :
اذاغرس شجرا فی المسجد فالشجر للمسجد کذافی الظھیر یہ ۔
جب کسی نے مسجد میں پودا لگایا تو وہ مسجد ہی کا ہوگا جیسا کہ ظہیریہ میں ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
فی فتاوی اھل سمر قند مسجد فیہ شجرۃ تفاح یباح للقوم ان یفطر وابھذا التفاح قال الصدر الشھید رحمہ اﷲ تعالی المختار انہ لایباح کذافی الذخیرۃ اھ
اقول : وھذاتصحیح صریح من امام جلیل ولا شك انہ ھو قضیۃ الوقفیۃ فان الوقف کما لا یملك لا یباح فیقدم علی مافی صلح الخانیۃ قبیل فصل المھاباۃ۔ طریق غرس فیہ رجل شجرۃ الفرصاد قالو ا لاباس بہ اذاکان لا یضر بالطریق ویطیب للغارس ورقھا واکل فرصا دھا وان کانت الشجرۃ فی المسجد قال الفقیہ ابو جعفر رحمۃ اﷲ تعالی
فتاوی اہل سمر قند میں ہے : ایك مسجد میں ناشپاتی کا درخت ہے لوگوں کا اسکی ناشپاتی کے ساتھ روزہ افطار کرنا مباح ہے صدرالشہید کہتے ہیں کہ مختاریہ ہے کہ یہ جائز نہیں جیسا کہ ذخیرہ میں ہے اھ
اقول : (میں کہتا ہوں ) یہ ایك عظیم امام کی صراحۃ تصحیح ہے اور بلاشبہ یہ معا ملہ وقف سے متعلق ہے اور وقف جس طرح کسی کی ملکیت نہیں ہوتا اسی طرح وہ کسی کے لئے مباح نہیں ہوتا۔ اور جو کچھ خانیہ میں مہابات کی فصل سے تھوڑا سا پہلے ہے اس پر اس قول کو تقدیم حاصل ہے کہ راستہ میں ایك شخص نے توت کا درخت لگادیا تو فقہاء نے فرمایا : جب وہ راستہ کے لئے ضرر ساں نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں اور درخت لگانے والے کے لئےاس کے پتے اور پھل کا استعمال مباح ہوگا اور اگر
حوالہ / References &فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الثانی عشرفی الرباطات€ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ٢ / ٤٧٤
&فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الثانی عشرفی الرباطات€ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ٢ / ٤٧٤
#10476 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
لا باس باکل توتھا ولایجوز اخذ ورقھا اھ واﷲ تعالی اعلم
درخت مسجد میں ہے تو فقیہ ابو جعفر رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا : اسے اپنے توت کا پھل کھانا جائز اور پتوں کا لینا ناجائز ہے۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ : از بسولی ضلع بدایوں مرسلہ خلیل الرحمان صاحب شعبان المعظم ھ
کیا فرماتے ہیں علما ئے دین اس مسئلہ میں کہ مساجد میں معاملات دنیا کی باتیں کرنے والوں پر کیا مما نعت ہے اور بروز حشر کیا مواخذہ ہوگا
الجواب :
دنیا کی باتوں کے لئے مسجدمیں جاکر بیٹھنا حرام ہے۔ اشباہ ونظائر میں فتح القدیر سے نقل فرمایا : “ مسجد میں دنیا کی کلام نیکیوں کو ایسا کھاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو۔ “ یہ مباح باتوں کا حکم ہے پھر اگر باتیں خود بری ہوئیں تو اس کا کیا ذکر ہے دونوں سخت حرام در حرام موجب عذاب شدید ہے ۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : از غازی پور محلہ میاں پورہ مرسلہ منشی علی بخش محرر دفتر ججی غازی پور ۱۷ذیقعدہ۱۳۲۲ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسجد میں شور وشرکرنا اور دنیا کی باتیں کرنا اور اسی طرح وضو میں درست ہے یا نہیں اور اپنے پاس سے غیبت کرنے والوں اور تہمت رکھنے والوں اور جن میں شیوہ منافقت کا مفسدہ کا انداز پایا جائے نکلوادینا جائز ہے یا نہیں
الجواب :
مسجد میں شور وشر کرنا حرام ہے اور دنیوی بات کے لئے مسجد می بیٹھنا حرام اور نماز کے لئے جاکر دنیوی تذکرہ مسجد میں مکروہ اور وضو میں بے ضرورت دنیوی کلام نہ چاہئے۔ اور غیبت کرنے والوں اور تہمت اٹھانے والوں منافقوں مفسدوں کو نکلوادینے پر قادر ہو تو نکلوا دے جبکہ فتنہ نہ اٹھے ورنہ خود ان کے پاس سے اٹھ جائے ۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : از شہر بریلی مدرسہ منظر الاسلام مسئولہ غلام جان صاحب طالبعلم شوال۱۳۳۷ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد ویران شدہ یعنی چھت وغیرہ اس کا گرگیا صرف دیواریں و دیگر آثار اس کے سب نمودار ہیں اس مسجد کے متعلق جو دکان ہو اس کا کرایہ دوسری مسجد پر
حوالہ / References &فتاوٰی قاضی خاں کتاب الصلح فیما یجوز لاحدالشریکین€ مطبوعہ نو لکشور لکھنؤ ۳ / ۶۱۱
#10477 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
خرچ ہوسکتا ہے یا نہ اور اس کرایہ میں سے دوسری مسجد کے پیش امام کو دینا جائز ہے یا نہیں
الجواب :
نہیں جائز بلکہ اس کے کرایہ سے اسی مسجد کی تعمیر کریں ۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۱۱۷۱ : از مراد آباد محلہ اصالت پورہ مسئولہ کاردعلی صاحب ۱۵ محرم ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ صحن مسجد میں کچھ قبریں آگئی ہیں اور ان قبروں میں فرش پختہ بنادیا گیا ہے اب کوئی نشا ن قبر کا صحن مسجد میں معلوم نہیں ہوتا البتہ یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ یہاں فلاں فلاں کی قبریں ہیں لہذا یہ معلوم کرنا ہے کہ اس صحن مسجد میں کہ جہاں قبریں تھیں نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں اور جو نمازیں پڑھی ہیں وہ نمازیں ہوگئیں یا نہیں سوال کا جوب بحوالہ کتب احادیث ارقام فرمائیں ۔
الجواب :
مسلمانوں کی قبریں ہموار کرکے صحن مسجد میں شامل کرلینا حرام ہوا اور ان قبروں پر نماز حرام ہے اور ان کی طرف نماز حرام ہے قبر اوپر کے نشان کا نام نہیں کہ اس کے مٹنے سے قبر جاتی رہے بلکہ اس جگہ کا نام ہے جہاں میت دفن ہے جتنی نمازیں اس طرح پڑھی گئیں سب پھیری جائیں اور قبروں کے نشان بدستور بنادئے جائیں کہ مسلمان ان پر پاؤں رکھنے اور چلنے اور ان پر اور ان کی طرف نماز پڑھنے کی آفتوں سے محفوظ رہیں ۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : از شاہی علاقہ رام پور مرسلہ نادر شاہ خاں وانعام اﷲ خاں ۶ جمادی الآخری ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں جامع مسجد کے یمین ویسار قبرستان خام ہے نشان قبور موجود ہیں قبرستان کونئی مٹی سے یا پختہ چبوترہ باندھ کر فرش مسجد کا بڑھا لیا جائے ایسا کہ بلکل نشان قبر بالکل ظاہر نہ رہے تو اس پر نماز پڑھنا درست ہے یا ناجائز بینواتواجروا
الجواب :
ناجائز و حرام ہے مسلمان کی قبر پر پاؤں رکھنا بھی حرام اور قبر پر نماز پڑھنی حرام اور حرام تو اس ناجائز فعل میں قبروں کی بھی بے عزتی ہے اور نماز کا بھی نقصان۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۱۷۳ : منشی مردان علی از بجنور محلہ قاضی خاں :
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جامع مسجد بجنور جو محلہ قاضیان میں واقع ہے اس کا فرش موجودہ شرقا وغربا یعنی عرض میں بہت کم ہے کہ جو بعض جمعہ کو نمازیوں کے لئے کافی نہیں ہوتا لہذا اس کے فرش بڑھانے کی تدبیر درپیش ہے درصورت بڑھانے فرش کے کما نطقت بہ احادیث جمۃ وقد صرح علمائنا ان المرور فی سکۃ حادثہ فی المقابر حرامکما فی فتح القدیر وردالمحتار وغیرھما۔
ایك قبر پختہ جس کا حضیرہ زمین سے قریب بارہ گرہ کے اونچا بناہوا ہے بیچ فرش میں پڑگئی صاحب قبر کے انتقال کو قریب سو سال کے گزری ہوں گی
#10478 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
لہذا علمائے دین کی خدمت میں التماس ہے کہ اس قبر کو کیا کیا جائے تاکہ نماز میں کچھ حرج نہ ہو یا فرش کے براب کردی جائے یا اونچی رہنے دی جائے درصورت بحالت موجودہ رکھنے قبر کے نماز میں کچھ حرج ہوگا یا نہیں ورثائے صاحب قبر سوائے ایك شخص کے قبر کو برابر کرنے کے لئے راضی ہیں اگر برابر کرنا درست ہو تو یہ بھی مع حوالہ کتب فقہ تحریر کیا جائے کہ کتنے میعاد کے بعد برابر کرنا درست ہے بینوا تواجروا
الجواب :
صورت مستفسرہ میں قبر مسلمان کو برابر کردینا کہ لوگ اس پر چلیں پھریں اٹھیں بیٹھیں نماز پڑھیں محض حرام ہے۔
کما نطقت بہ احادیث جمۃ وقد صرح علمائنا ان المرور فی سکۃ حادثہ فی المقابر حرام کما فی فتح القدیر وردالمحتار وغیرھما۔
جیسے کہ اس پر تمام احادیث شاہد عادل ہیں اور ہمارے علماء نے یہ تصریح کی ہے کہ قبرستان میں نئے بنائے گئے رستے پر چلنا حرام ہے جیسا کہ فتح القدیر اور ردالمحتار وغیرہ میں ہے ۔ (ت)
پھر اس برابر کرنے سے نماز کا بھی کچھ آرام نہیں بلکہ نقصان ہے کہ قبر پر نماز پڑھنا حرام اور قبر کی طرف بے حائل نماز پڑھنا بھی مسجد صغیر میں مطلقا حرام اور کبیر میں اتنے فاصلے تك حرام کہ جب نماز خاشعین کی پڑھی اور قیام میں موضع سجود پر نطر جمائے تو قبر تك نگاہ پہنچے اور عام مساجد صغیر ہیں مسجد کبیر ایسی ہے جیسے جامع خوارزم کہ سولہ ہزار ستون پر ہے اور قبر اس جگہ کا نام ہے جہاں میت دفن ہے اوپر کا بلند نشان حقیقت قبر میں داخل نہیں تو اس کے برابر کردینے سے قبر قبر ہی رہے گی غیر قبر نہ ہوجائے گی۔ ردالمحتار میں ہے :
تکرہ الصلوۃ علیہ والیہ لو رودالنھی عن ذلک ۔
قبر پر اور قبر کی طرف نماز مکروہ ہے کیونکہ رسول اﷲ نے منع فرمایا ہے (ت)
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم واسلم فرماتے ہیں :
لعنۃ اﷲ علی الیھود النصاری اتخذوا قبورا انبیاء ھم مساجد ۔ رواہ الشیخان وغیرھما عن ام المؤ منین الصدیقۃ
اﷲ تعالی کی لعنت ہو یہود و نصاری پر جنھوں نے اپنے انبیاء کی قبور کو سجدہ گاہ بنالیا۔ اسے بخاری ومسلم نے ام المومنین حضرت عائشہ صایقہ
حوالہ / References &ردالمحتار فصل الاستنجاء€ ، داراحیاء التراث العربی بیروت ، ١ / ٢٢٩
&ردالمحتار باب صلوٰۃ الجنائز€ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ١ / ٦٦٧
&صحیح البخاری کتاب الصلوٰۃ€ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٦٢ ، صحیح &مسلم کتاب المساجد باب النہی عن بناء المسجد علی القبور€ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ، ۱ / ٢٠١
#10479 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
وعبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنھم ۔
اور حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہم سے روایت کیا ہے۔ (ت)
بلکہ اس کا طریق یہ ہے کہ قبر کو فرش کے برابر کریں اور اگر فرش اونچا ہوکر آئے گا تو قبر جس قدر نیچی ہو رہنے دیں اور اس کے گرداگرد ایك ایك بالشت کے فاصلے سے ایك چار دیواری اٹھائیں کہ سطح قبر سے پاؤ گز یا زیادہ اونچی ہو ان دیواروں پر پتھر ڈال دیں یا لکڑیاں چن کر پاٹ دیں کہ چھت ہوجائے ۔ اب یہ ایك مکان ہوگیا جس کے اندر قبر ہے اب اس کی چھت پر اور اسی کی دیوار کی طرف ہر طرح نماز جائز ہوگئی کہ یہ نماز قبر پر یا قبر کی طرف نہ رہی بلکہ ایك مکان کی چھت پر یا اس کی دیوار کی جانب ہوئی اور اس میں حرج نہیں ۔ مسلك متقسط( ف )میں ہے :
ان کان بین القبر والمصلی حجاب فلا تکرہ الصلوۃ ۔
اگر قبر اور جائے نماز کے درمیان پردہ ہو تو نماز مکروہ نہ ہوگی۔ (ت)
خلاصہ و ذخیرہ وغیرہما میں ہے :
ھذا اذالم یکن بین المصلی وھذہ المواضع حائل کا لحائط وان کان حائطا لا تکرہ ۔
یہ اس وقت ہے جب جائے نماز اور ان مقامات کے درمیان پردہ مثلا دیوار وغیرہ حائل نہ ہو اور اگر دیوار ہے تو کراہت نہیں ۔ (ت)
اور بہتر یہ ہے کہ ان مختصر دیواروں میں جنوبا شمالا دیوار جانب قبلہ میں بھی باریك جالیاں رکھیں اس سے دو(۲) فائدے ہوں گے : اولا میت کی قبر تك ہواؤں کا آنا جانا کہ بحکم حدیث موجب نزول رحمت ہے۔ دوم جالیاں دیکھ کر ہر شخص سمجھ لے گا کہ یہ قبر نہیں اور اس پر یا اس کی طرف نماز پڑھنے میں اندیشہ نہ کرے گا ورنہ ناواقف اسے بھی قبر جان کر احتراز کرے گا اور صحن مسجد کے اندر اتنی جگہ تین چار گرہ بلندی رہنے کو جاہل نادانوں کی طرح ناگوار نہ جانیں کہ اس میں میت واحیا ومسجد وقبر کی بھلائی ہے کما اشرنا الیہ( جیسا کہ ہم نے اسکی طرف اشارہ کیا ہے) واﷲ تعالی اعلم
ف : کتاب مذکور کے الفاظ یوں ہیں : بل لایکون بینہ وبینہ من جدارہ والا فلا تکرہ الصلوۃ۔ نذیر احمد
حوالہ / References &مسلك متقسط فی المنسك المتوسط مع ارشاد الساری فصل ولیغتنم الخ€ مطبوعہ دارلکتاب العربی بیروت ص٣٤٢
&خلاصۃ الفتاوی کتاب الصلوٰۃ€ مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ١ / ٦٠
#10480 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
مسئلہ۱۱۷ : از شہر الہ آباد زیر جامع مسجد چوك مرسلہ مرزا واحد علی خوشبوساز شوال ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد میں مدرسہ ہے جس میں تعلیم کلام مجید وتفسیر وفقہ وحدیث کی ہوتی ہے بعض متظمین نے چاہا کہ تعلیم مسجد سے اٹھادی جائے بعد گفتگو بسیارکے یہ طے پایا کہ دونوں طرف سے تحریریں ہوجائیں اور رجسٹری کردی جائے منتظمان مسجد لکھ دیں کہ ہم مدرسہ نہ اٹھائیں گے جب تك مدرسہ تین شرائط پر قائم رہے گا۔ ایك یہ کہ سات آٹھ برس کے لڑکے نہ داخل ہوں دوسرے مدرسہ میں تعلیم ہندی ناگری انگریزی غیر مذہب کی تعلیم نہ داخل ہو مدرسہ مسجد کی کسی چیز پر قبضہ نہ کرے۔ مہتمم مدرسہ نے اس کو تسلیم کیا اور تحریر کردیا کہ ہم اس کے پابند رہیں گے بکر کہتا ہے کہ یہ تحریر کرنا اور رجسٹری کرانا جائز نہیں ہے منتظمین کو شرعا یہ حق حاصل نہیں کہ اس قسم کی تحریر کرائیں اور رجسٹری کرائیں ۔ زید کہتا ہے کہ یہ سب جائز ہے جو کام مسجد میں جائز ہیں اس کی مزاحمت کسی کو جائز نہیں لہذا عدم مزاحمت کی توثیق کرانا شرعا کوئی مضائقہ نہیں جیسا کہ کوئی متولی کسی نمازی سے كہہ دے یا لکھ دے کہ ہم تم کو نماز سے کبھی نہ روکھیں گے جب تك تم کسی کو ایذا نہ پہنچاؤ گے اور مسجد میں فساد کی بات نہ کروگے لہذا کس کا قول صحیح ہے زید کا یا بکر کابینوا تواجروا
الجواب :
مسجد میں تعلیم بشرائط جائز ہے :
() تعلیم دین ہو۔
() معلم سنی صحیح العقیدہ ہو نہ وہابی وغیرہ بددین کہ وہ تعلیم کفر و ضلال کرےگا۔
() معلم بلا اجرت تعلیم کرے کہ اجرت سے کار دنیا ہوجائے گی۔
() ناسمجھ بچے نہ ہوں کہ مسجد کی بے ادبی کریں ۔
() جماعت پر جگہ تنگ نہ ہو کہ اصل مقصد مسجد جماعت ہے۔
() غل شور سے نمازی کو ایذا نہ پہنچے۔
() معلم خواہ طالب علم کسی کے بیٹھے سے قطع صف نہ ہو۔
ان شرائط کا اگر وثیقہ لکھا جائے کیا مضائقہ ہے بلکہ بہتر ہے وہ تحریر کہ لکھانا چاہتے ہیں اس کی پہلی شرط ان میں کی چوتھی اور دوسری ان میں کی پہلی ہے اور تیسری کوئی خاص تعلیم کی نہیں مطلقا ہے اس کا لکھا لینا بھی اچھا ہے گرمی کی شدت وغیرہ کے وقت جبکہ اور جگہ نہ ہو بضرورت معلم باجرت کو اجازت ہے مگر نہ مطلقا یونہی سلائی پر سینے والا درزی اگر حفاظت اور اس میں بچوں کو نہ آنے دینے کے لئے مسجد میں بیٹھے اور اپنا سیتا بھی رہے تو اجازت دی ہے یوں ہی غیر نماز کے وقت متعلمان علم دین کو تکرار علم میں رفع صوت کی حدیث میں فرمایا :
#10481 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
جنبوا مساجد کم صبیا نکم ومجانینکم ۔
اپنی مساجد کو اپنے بچوں اور دیوانوں سے بچاؤ۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
قالو ا ولایجوز ان تعمل فیہ (ای فی المسجد) الصنائع لانہ مخلص ﷲ تعالی فلا یکون محلا لغیر العبادۃ غیر انھم قالوا فی الخیاط اذا جلس فیہ لمصلحتہ من دفع الصبیان و صیانۃ المسجد لاباس بہ للضرورۃ ولایدق الثوب عند طیہ دقا عنیفا والذی یکتب ان کان باجر یکرہ وانکان بغیر اجرلایکرہ قال فی فتح القدیر ھذا اذاکتب القران والعلم لانہ فی عبادۃ اماھو لاء المکتبون الذین یجتمع عند ھم الصبیان واللغط فلا ولولم یکن لغط لانھم فی صنا عۃ لاعبادۃ اذھم یقصدون الاجارۃ لیس ھوﷲ تعالی بل للارتزاق ومعم الصیان القرآن کا لکتاب ان کان لاجرلا وحسبۃ لاباس بہ اھ
فقہاء نے فرمایا کہ مسجد میں کوئی عمل جائز نہیں یعنی مسجد میں کوئی کاروبار جائز نہیں کیونکہ وہ خالصۃ اﷲ تعالی کے لئے بنائی گئی ہوتی ہے تو اب وہ عبادت كے علاوہ کسی دوسری شے کا محل نہیں بن سکتی البتہ اس صورت میں مثلاکوئی درزی وہاں اس لئے بیٹھ کر کام کرتا ہے کہ بچے داخل نہ ہوں اور مسجد کی حفاظت ہو تو چونکہ یہ ضرورت کی وجہ سے ہے اس لئے اس میں کوئی حرج نہیں لیکن وہ بھی کپڑے کو لپیٹتے وقت سخت آواز سے کپڑے کو نہ جھاڑے اسی طرح اگر وہاں کوئی لکھتا ہے اور اس کا معاوضہ لیتاہے تو مکروہ ہے اور اگر معاوضہ نہیں لیتا تو مکروہ نہیں ۔ فتح القدیر میں ہے کہ یہ اس وقت ہے جب قرآن اور علم لکھ رہا ہو کیونکہ یہ عبادت ہے لیکن یہ کتابت سکھانے والے لوگ جن کے پاس بچے اکٹھے ہوں اور شور ہوتاہو وہ جائز نہیں اگر چہ عملا شورنہ ہو کیونکہ یہ کاروبار ہے نہ کہ عبادت کیونکہ وہ تو معاوضہ واجر کی خاطر ہوتا ہے نہ کہ اﷲ تعالی کی رضا کے حصول کی خاطر بلکہ یہ رزق کمانے کے لئے ہے اور بچوں کو قرآن کی تعلم دینے والے کا حکم بھی کاتب کی طرح اگر معاوضہ کی خاطر ہے تو جائز نہیں اور اگر رضائے الہی کے لئے ہے تو کوئی حرج نہیں اھ (ت)
فتاوی خلاصہ میں قبیل کتاب الحیض ہے :
المعلم الذی یعلم الصیان باجر اذا جلس
وہ استاد جو بچوں کو معاوضہ کے لئے پڑھاتا ہے اگر گرمی
حوالہ / References &سنن ابن ماجہ باب ما یکرہ فی المساجد€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص٥٥ ، &المعجم الکبیر حدیث€ ٦٧٠١ مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ٨ / ١٥٨
&بحرالرائق باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ٣٥
#10482 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
فی المسجد یعلم الصیان لضرورۃ الحر وغیرہ لایکرہ وفی نسخۃ القاضی الامام رحمہ اﷲ وفی اقرار العیون جعل مسئلۃ المعلم کمسألۃ الکابت والخیاط فان کان یعلم حسبۃ لاباس بہ وان کان باجریکرہ الا اذا وقع ضرورۃ ۔
وغیرہ کی وجہ سے مسجد میں بیٹھ کر تعلیم دے تو مکروہ نہیں اور قاضی امام رحمہ اﷲ کے نسخہ اور اقرا رالعیون میں مسئلہ معلم کو مسئلہ کاتب اور مسئلہ درزی کی طرح ہی قراردیاگیا ہے کہ اگر وہ رضائے الہی کے لئے تعلیم دیتا ہے تو کوئی حرج نہیں اور اگر معاوضہ لیتا ہے تو مکروہ ہے البتہ اس صورت میں جائز جب ضرورت ہو۔ (ت)
درمختار میں ہے :
اذا ضاق فللمصلی ازعاج القاعد ولم مشتغلا بقراء ۃ او درس ۔
جب نمازی کے لئے جگہ تنگ ہو تو بیٹھے ہوئے آدمی کو اٹھا سکتا ہے خواہ وہ تلاوت میں مصروف ہو یا تعلیم دے رہا ہو۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
اقول وکذا اذالم یضق ولکم من قعودہ قطع للصف ۔
میں کہتا ہوں اسی طرح اس کا حکم ہے جس کے بیٹھنے کی وجہ سے صف منقطع ہورہی ہو اگر چہ تنگی نہ ہو (ت)
درمختار مکروہات وممنوعات مسجد میں ہے :
و رفع صوت بذکرالا للمتفقھۃ ۔
ذکر بلند آواز سے کرنا منع ہے مگر اس شخص کے لئے جو فقہ کی تعلیم دے رہا ہو۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
الاان یشوش جھر ھم علی نائم اومصلی اوقارئ الخ ۔
البتہ اس صورت میں بھی جائز نہیں جب ذکر بالجہر سے کسی سونے والے کی نیند کسی نمازی کی نمازیا تلاوت کرنے والے کی تلاوت میں خلل کا ندیشہ ہو۔ (ت)
حوالہ / References &خلاصۃ الفتاوٰی قبیل کتاب الحیض€ مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ١ / ٢٢٩
&درمختار قبیل باب الوتر والنوافل€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٩٤
&ردالمحتار قبیل باب الوتر والنوافل€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٤٩٠
&درمختار€ ، &قبیل باب الوتر والنوافل€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٩٣
&ردالمحتار قبیل باب الوتر والنوافل€ مطبوعہ مصطفٰی البابی مصر ١ / ٤٨٨
#10483 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
مناقب کردری میں ہے :
عن ابن عیینۃ قال مررت بہ (ای بالا مام رضی اﷲ تعالی عنہ) وھو مع اصحابہ فی المسجد قد ارتفعت اصواتھم فقلت یا ابا حنیفۃ ھذا المسجد والصوت لایرفع فیہ فقال دعھم فانھم لایفقھون الابہ ۔ واﷲ تعالی اعلم
ابن عیینہ سے ہے کہ میں ان ( امام رضی اﷲ تعالی عنہ) کے پاس سے گزرا آپ شاگردوں کے ساتھ مسجد میں تھے لیکن ان کی آواز ببلند تھی میں نے کہا : اے ابو حنیفہ! یہ مسجد ہے اس میں آواز بلند نہیں ہونی چاہئے۔ فرمایا : ان کو چھوڑدو کیونکہ دینی علوم کو اس آواز کے بغیر حاصل نہیں کرسکتے ۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ : سائل مذکور الصدر : ایك مسجد قدیم چندہ کے روپیہ سے ازسرنو تعمیر کی گئی اس کی مغربی دیوار پر عبارت ذیل تین پتھر میں کندہ کرکے ہر سہ محراب کے اوپر چسپاں کی گئی عبارت یہ ہے : “ یہ جامع مسجد مع دکانات جنوبی وشرقی وحمام شاہی عہد کے بنے ہوئے ایك عرصہ تك متولیوں کے اہتمام میں رہی آخری متولی کی بے ایمانیوں سے حمام مسجد سے نکل گیا اور مسجد کی مغربی دیوار پر ایك شخص کا دومنزلہ مکان بن گیا مغربی دیوار اور گنبد کی دیوار شق ہو گئی مکانات مسجد کی نسبت متولی مذکور نے اپنی خانگی جائداد ہونے کا دعوی کیا بلآخر متولی بحکم کچہری تولیت سے خارج کردیا گیا اور مسجد دکانات کاا نتظام کچہری کی طرف سے کمیٹی کو سپرد ہوا اس کمیٹی نے حمام کو واپس لے کر جزو مسجد قراردیا اور اس وقت سے مسجد کی زینت و آبادی میں روزافزوں ترقی ہوتی رہی مسجد کی مغربی دیوار اور گنبد کی ڈاٹ شق ہوجانے سے مسجد کے گر جانے کا اندیشہ تھا لہذا مسجد کی کل موجودہ عمارت بنیاد سے از سرنو کمیٹی کے زیر اہتمام تعمیر کی گئی تعمیر کا کامھ میں شروع ہوا ھ میں ختم ہوا تعمیر میں چالیس ہزار روپیہ خرچ ہوا جس میں سے ایك ہزار نو سو دکانات کے کرایہ سے ملا باقی چندہ جمع کیا گیا ضلع الہ آباد کے علاوہ دیگر اضلاع کے مسلمانوں اور والیان ملك نے بھی چندہ عطافرمایا دکانات زیریں مسجد مع حمام وقف ہیں ان کی آمدنی اخراجات مسجد میں صرف ہوئی ہے اﷲ تعالی اس مسجد کو حوادث زمانہ سے محفوظ رکھے اور جملہ مسلمانان معاونین مسجد کو جزائے خیر عطا فرمائے ناظرین ارکان کمیٹی وسیکریٹری و دیگر کارکنان کے حق میں دعائے مغفرت کریں ۔ سید امیرالدین احمد غفر لہ ا لمخاطب بہ خان بہادر سیکریٹری
حوالہ / References &المناقب للکردری الامام ابو حنیفہ واصحابہ قاسواعلی السنۃ€ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ٢ / ٧٣
#10484 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
کمیٹی انتظام جامع مسجد چوك الہ آباد ساکن دائرہ شاہ رفیع الزمان رحمۃ
اللہ تعالی علیہ واقع محلہ یحیی پور شہر الہ آباد “
زید کہتا ہے کہ بچند وجوہ یہ عبارت چسپاں کرانا مغربی دیوار پر درست نہیں ہے اول یہ کہ درمختار میں لکھا ہے کہ مغربی دیوار پر نقش کرنا درست نہیں ہے
وھو ھذا( ولا باس بنقشہ خلا محرابہ) فانہ یکرہ لانہ یلھی المصلی ویکرہ التکلف بد قائق النقوش ونحوھا خصوصا فی جدارالقبلۃ قالہ الحلبی وفی حظر المجتبی وقیل یکرہ فی المحراب دون السقف والمؤخر اھ وظاھرہ ان المراد بالمحراب جدارالقبلہ فلیحفظ ۔
اور وہ یہ ہے ( مسجد کو محراب کے علاوہ منقش کرنے میں کوئی حرج نہیں ) کیونکہ محراب کا منقش کرنا مکروہ ہے وہ نمازی کو مشغول کردیتا ہے اور باریك نقش ونگار کے لئے تکلف کرنا خصوصا دیوار قبلہ میں مکروہ ہے حلبی نے کہا کہ المجتبے کے باب الحظر میں ہے کہ بعض کے نزدیك محراب میں نقش ونگار مکروہ مگر چھت یا پچھلی دیوار پر مکروہ نہیں ۔ اور اس سے ظاہر ہورہاہے کہ محراب سے مراد قبلہ کی دیوار ہے اسے محفوظ کرلو۔ (ت)
اور یہاں نحوھا کا لفظ بھی ہے کہ جوہر ایك ایسی چیز کو شامل ہے کہ جس سے دل بٹنے کا اندیشہ ہو۔
دوم یہ کہ اس میں متولی سابق کی خیانت لکھی ہے جن کو اس لقب سے یہاں ہر شخص جانتاہے وہ اپنے کردار کو پہنچ بھی چکے اور کچہری نے بھی ان کو تولیت سے علیحدہ کردیا لیکن وہ جب دنیا سے رحلت فرمائیں گے تو ان کی برائی ہمیشہ کے لئے کندہ رہے گی اور لوگ برائی سے ان کو یاد کریں گے اور حدیث شریف میں منع ہے
سوم یہ کہ ایسے موقع پر کسی کا نام ہونا شہرت اور ریا سے خالی نہیں اور یہ غیر مستحسن ہے جیسا کہ مرقاۃ شرح مشکوۃ میں لکھا ہے :
وعن عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ واسلم من بنی ﷲ مسجدا ای معبد افیتناول معبد الکفرۃ فیکون ﷲ لاخراج ما بنی معبدالغیر اﷲ قالہ ابن الملك والاظھر ان یکون المسجد علی
حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : جس نے اﷲ کے لئے مسجد (عبادت گاہ) بنائی یہ کافروں کے عبادت خانے کو بھی شامل ہے۔ اب “ اﷲ کی خاطر “ سے وہ عبادت گاہ خارج ہو جائے گی جو
حوالہ / References &درمختار باب مایفسد الصلوٰۃ€ مطبو عہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٣٩
#10485 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
بابہ ویکون ﷲ لا خراج ما بنی للریا والسمعۃ ولذاقیل من کتب اسمہ علی بنا ئہ دل ذلك منہ علی عدم اخلاصہ قال ابن حجر وھو ظاھر مالم یقصد بکتابۃ اسمہ نحو الدعا والترحم وفیہ ان الدعاء والترحم یحصل مجملاومبہما فلا یحتاج الی تعیین الاسم ۔
غیر اﷲ کی خاطر ہو۔ یہ ابن الملك کا قول ہے۔ اور اظہر یہی ہے کہ مسجد کا یہی حکم ہے اب “ اﷲ کی خاطر “ سے وہ مسجد نکل جائے گی جو ریا اور دکھاوے کی خاطر ہو اسی لئے کہا گیا ہے کہ جس نے مسجد پر اپنانام لکھا تو یہ عدم اخلاص پر دلیل ہے۔ ابن حجر کہتے ہیں یہی ظاہر ہے جب تك نام لکھنے سے مقصود د عا ورحمت نہ ہو اس پر اعتراض یہ ہے کہ دعا ورحمت مجملا ہو جاتی ہے لہذا نام کی تعیین کی ضرورت نہیں ۔ (ت)
چہارم یہ کہ ایك خاص ایسے شخص کے نام ہونے سے اس کا اور اس کے خاندان کا ایك قسم کا استحقاق ثابت ہوتا ہے اور آئندہ یہ مسجد کی آمدنی کے حق میں نہایت مضر ہوگا جیسا کہ تمام اوقاف میں ہورہا ہے بہر حال اگر اس میں کو ئی اختلاف بھی کرے تو اختلافی بات مسجدمیں رہنا اچھا نہیں احتیاط کا یہی منشا ہے کہ یہ پتھر نہ رہے ۔ بکر کہتا ہے کہ یہ پتھر چسپاں کرنا درست ہے بہت مساجد میں ایسے کتبے لگے ہوئے ہیں اور نماز میں وہاں نظر لے جانے کی ضرورت کیا ہے اور نام کندہ کرانا دعا کے واسطے ہے اور اس خیال سے کہ کسی منتظم ذمہ دار کے نام ہونے کی ضرورت ہے بہر حال زیدکا قول صحیح ہے یا بکر کابینوا توجروا
الجواب :
اس سوال کا جواب رمضان ھ میں دیا جاچکا ہے اس کی نقل مرسل ہے وہی جواب ہے اس میں دیوار قبلہ پر نام کا سوال زائد ہے بیشك دیوار قبلہ میں عام مصلیوں کے موضع نظر تك کوئی ایسی چیز نہ چاہئے جس سے دل بٹے اور ہو تو کپڑے سے چھپا دی جائے۔ احمد و ابوداؤد عثمان بن طلحہ رضی ا ﷲ تعالی عنہ سے راوی :
ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دعاہ بعد دخولہ الکعبۃ فقال انی کنت رأیت قرنی الکبش حین دخلت البیت فنسیت ان آمرك ان تخمرھا فخمرھما فانہ لاینبغی ان یکون فی قبلۃ البیت شئ
رسالتمآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے دخول کعبہ کے بعد انھیں بلایا اور فرمایا جب میں بیت اﷲ میں داخل ہو تو میں نے دنبے کے دو سینگ دیکھے مجھے تجھ سے یہ کہنا یاد نہ رہا کہ انھیں ڈھانپ دو کیونکہ قبلہ بیت اﷲ میں ایسی کسی
حوالہ / References &مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب المساجد ومواضع الصلوٰۃ €مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ٢ / ١٩٣
#10486 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
یلھی المصلی ۔
شئی کا ہونا مناسب نہیں جو نمازی کو مشغول کردے ۔ (ت)
حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کعبہ معظمہ میں تشریف فرماہوئے عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ کلید بردار کعبہ کو طلب فرماکر ارشاد فرمایا : ہم نے کعبہ میں دنبے کے سینگ ملاحظہ فرمائے تھے ( دنبہ کہ سید نا سمعیل علیہ الصلوۃ والسلام کا فدیہ ہوا اس کے سینگ کعبہ معظمہ کی دیوار غربی میں لگے ہوئے تھے) ہمیں تم سے یہ فرمانا یا دنہ رہا کہ ان کو ڈھانك دو اب ڈھانکو کہ نمازی کے سامنے کوئی چیز ایسی نہ چاہئے جس سے دل بٹے ۔ ہاں اگر اتنی بلند ی پر ہو کہ سر اٹھا کر دیکھنے سے نظر آئے تو یہ نمازی کا قصور ہے اسے آسمان کی طرف نگاہ اٹھا نا کب جائز ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لینتھین اقوام یرفعون ابصار ھم الی السماء فی الصلوۃ اولتخطفن ابصارھم ۔ رواہ احمد و مسلم والنسائی عن ا بی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
وہ جو نماز میں آسمان کی طرف نگاہ اٹھاتے ہیں یا تو اس سے باز آئیں گے یا ان کی نگاہ اچك لی جائیگی یعنی واپس نہ آئے گی اندھے ہوجائیں گے۔ اسے امام احمد مسلم اور نسانی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔
نام کندہ کرانا نیت پر ہے اگر بہ نیت دعا ہے بے شبہہ رواہے اور مبہم دعا کا فی ہونا بالتعیین دعا چاہنے کا نافی نہیں اور اگر مقصود نام بیشك حرام ہے مگر مسلمان پر بدگمانی کس نے جائز کی یہ امر قلب ہے وہ جانے اور اس کا رب ۔ پہلی جمادی الآخر ھ میں بھی اس کا جواب جا چکا تھا یہی حکم تھا وہ مجمل ہے یہ قدرے مفصل ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از شہر دفتر انجمن خادم المسلمین مسئولہ گوہر علی حسینی معتمد انجمن محرم ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے كرام اس مسئلہ میں کہ سقف مساجد پر بخیال شوکت اسلام اسلامی سیاہ جھنڈا یعنی لوائے اسلام نصب کرنا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
شوکت اسلام اطاعت اسلام میں ہے مسجد پر جھنڈا ایك نئی بات ہے اور کوئی مزاحمت ہو تو سبکی و خفت اور اس کا اندیشہ نہ ہو تو فی نفسہ کوئی حرج نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References &مسند امام احمد بن حنبل مروی ازامرأۃ ام عثمان بن طلحہ€ مطبوعہ دارالفکر بیروت ٥ / ٣٨٠
&صحیح مسلم کتاب الصلوٰۃ باب النہی عن رفع البصر الی السماء الخ€ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ١ / ١٨١
#10487 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
مسئلہ ۷ : از بھیرہ شاہ پور ملك پنجاب دروازہ ملتانی مسئولہ فضل حق صاحب چشتی رمضان ھ
بخدمت جناب سلطان العلماء المتبحرین برہاں الفضلاء والمتصدرین کنز الہدایۃ و الیقین شیخ الاسلام و المسلمین مولینا مفتی العلامہ شاہ احمد رضا خان صاحب مدظلہ العالی السلام علیکم :
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مولود خوانی مسجد میں جائز ہے یا نہیں کیونکہ مرزائی وغیرہ اعتراض کرتے ہیں کہ مسجد میں راگ منع ہیں اور حتی الامکان منع ہیں چونکہ مولود بھی راگ ہیں اس لئے یہ قطعا جائز ہیں ۔ بینوا توجروا
الجواب :
مجلس میلاد مبارك کہ روایات صحیحہ سے ہو اور اشعار کہ پڑھے جائیں مطابق شرع مطہر ہوں اور الحان سے پڑھنے والے مرد غیر امرد ہوں مسجد میں بھی جائز ہے کہ مساجد ذکر الہی کے لئے بنیں اور نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ذکر بھی ذکر الہی ہے حدیث میں ہے رب عز وجل نے کریمہ ورفعنا لك ذکرك كے نزول کے بعد کہ ہم نے بلند کیا تمھارے لئے تمھارا ذکر جبریل امین علیہ الصلوۃ والسلام کو خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں بھیج کر ارشاد فرمایا : اتدری کیف رفعت لك ذکرک جانتے ہو میں نے تمھارا ذکر تمھارے لئے کیونکر بلند فرمایا حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے عرض کی : تو خوب جانتاہے ۔ فرمایا : جعلتك ذکر امن ذکری فمن ذکرك فقد ذکرنی میں تمھیں اپنے ذکر میں سے ایك ذکر بنایا تو جو نے تمھارا ذکر کیا اس نے میرا ذکر کیا۔ قادیانی مرتدین ہیں ان کی بات پر کان لگانا جائز نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : مسجد میں مسائل کا بطور وعظ کے قبل نماز کے کوئی نفل پڑھتا ہو کوئی سنتیں بیان کرنا چاہئے یا نہیں یا بعد نماز کے
الجواب :
مسائل قبل نماز خواہ بعد نماز ایسے وقت بیان كئے جائے كہ لوگ سننے كے لئے فارغ ہو نمازیوں كی نماز میں خلل نہ آئے ۔ واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References &کتاب الشفاء لاباب الاول فی ثناء اﷲ تعالٰی فصل اول€ مطبوعہ شرکت صحافیۃ ترکی ١ / ١٥ ، &تفسیر درمنشور آیۃ ورفعنا لك ذکرك€ کے تحت مذکور ہے منشورات مکتبہ آیۃ العظمی قم ایران ٦ / ٣٦٤
&کتاب الشفاء الباب الاول فی ثناء اﷲ تعالٰی فصل اول€ مطبوعہ شرکت صحافیہ فی البلاد العثمانہ ترکی ١ / ١٥
#10488 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
مسئلہ : از جاورہ مرسلہ مولوی حافط مصاحب علی صاحب یکم رجب ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد میں اگر نماز کے واسطے صفیں باندھ کر منتظر جماعت یا خطبہ بیٹھے ہوں اور مشغول ذکر الہی ہوں اس صورت میں کسی حاکم یا مشائخ یا رئیس یا بادشاہ یا خود امام مسجد کے آجانے پر کسی شخص کو یا عام لوگوں کو تعظیم کے لئے کھڑا ہونا یا استقبال کو بڑھنا جائز ہے یا نہیں
الجوا ب :
جبکہ لوگ جماعت یا خطبہ کے انتظار میں نہ ہوں اور ابھی امام خطبہ کے ہئے نہیں گیا تو باپ یا پیر یا استاذ علم دین کے لئے ہر شخص قیام کرسکتا ہے اور اگر عالم دین کا تشریف لانا ہو تو تمام مسجد قیام کرے ان کی تعظیم بعینہ اﷲ و رسول کی تعظیم ہے جل و علاو صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم باقی صرف دینوی عزت یا تو انگر رکھنے والے کے لئے بلا ضرورت و مجبور جائز نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : غرہ محرم الحرام ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس مقام پر بہت قبریں ہوں اس مقام کو پاٹ کر اس پر مسجد بنائی جائے اس میں نماز پڑھنا کیسا ہے
الجواب :
سائل مظہر ہے کہ قبرستان عامہ مسلمین کے خاص موضع قبور پر مٹی ڈال کر چبوترہ بنایا اور اس پر عمارت قائم کرکے اسے مسجد ٹھہرایا یہ قطعا نا جائز وباطل ہے نہ وہ مسجد مسجد ہوسکتی ہے فان الوقف لایملك فلا یوقف مرۃ اخری علی جھۃ اخر ی ( کیونکہ وقف کسی کی ملکیت نہیں رہتا لہذا دوبارہ کسی دوسرے پر وقف نہیں کیا جاسکتا۔ ت) نہ اس میں نماز مباح لان القبر لا یخرج عن القبریۃ باضافۃ تراب علیہ فھی صلوۃ علی القبر ثم ھو تصرف فی الوقف بما لیس لہ و تغییرلہ عما قد کان لہ فلا یجوز (کیو نکہ قبر پر مٹی زیادہ ڈالنے سے قبر قبریت سے خارج نہیں ہوسکتی لہذا یہ نماز قبر پر ہوگی پھر یہ وقف میں ایسا تصرف و تبدیلی ہے جو اس کے لئے جائز نہیں ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ تا : از میٹرتا علاقہ جودھپور متصل مسجد جامع چوٹھ کی گلی مرسلہ مولوی عبدالرحمان صاحب وکیل کچامن ذی الحجہ یوم چہار شنبہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کثر اﷲ جما عتہم سوالات مستفسرۃ ذیل کے جوابات میں :
() ہمارے ادھر ایك قوم ہے جس کا پیشہ شراب کشید کرنے کا ہے اور مذہبا مسلمان ہے اس قوم میں کچھ آدمیوں نے دوچار پشت سے شراب کی کشید موقف کردی ہے اور دوسرے پیشے مثلا پیشہ بساطی
#10489 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
اور معماری وغیرہ وغیرہ جن سے اکل حلال میسر ہوسکتا ہے اختیار کر لئے ہیں ان لوگوں نے ایك مسجد بنائی ہے اس میں ہم لوگوں کی نماز ہوسکتی ہے یا نہیں
() مذکورہ بالاقوم کے بعض مسلمان ابھی تك شراب کشید کرتے ہیں مگر وہ نماز اور روزہ کے پابند ہیں یہ لوگ اس مسجد میں نماز پڑھنے آتے ہیں اسی میں وضو بناتے ہیں مگر مسجد میں جب داخل ہوتے ہیں اس وقت شراب سے بدن کو ملوث نہیں رکھتے بلکہ کپڑوں سے اور بدن کی طہارت سے داخل ہوتے ہیں اس صورت میں ان کو مسجد میں آنے دینا چاہئے یا نہیں اور وضو کرنے دیں یا منع کیا جائے اور جماعت مین شریك کریں یا نہ کریں
() وہ مسلمان جنھوں نے شراب ترك کردی ہے ان کے یہاں کی دعوت قبول کی جائے یا نہیں اور ان کی بنا کردہ مسجد میں امامت کرنے والے کے حق میں شریعت سے کیا حکم ہے
() قوال یعنی بڑھ مچھے اور طوائف بڑھیا کو مسجد میں آنے دینا چاہئے یا نہیں اور ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں بینوا توجروا
الجواب :
وہ مسجد کہ ان لوگوں نے بعد توبہ مال حلال سے بنائی ہے بیشك مسجد شرعی ہے اور اس میں نماز فقط ہوسکتی ہی نہیں بلکہ اس کے قرب وجوار والوں اہل محلہ پر اس کا آباد رکھنا واجب ہے اس میں اذان و اقامت و جماعت و امامت کرنا ضرور ہے اگر ایسا نہ کریں گے گنہگار ہوں گے اور جو اس میں نماز سے روکے گا وہ ان سخت ظالموں میں داخل ہوگا جن کی نسبت اﷲ عزوجل فرماتا ہے :
و من اظلم ممن منع مسجد الله ان یذكر فیها اسمه و سعى فی خرابها-
اس سے بڑھ کر كون ظالم جو اﷲ کی مسجد وں سے روکے ان میں خدا کا ذکر ہونے سے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے۔
اور ان تائبوں کی دعوت بھی قبول کی جائے کہ اب اس کا مال بھی حلال ہے اور توبہ سے گناہ بھی زائل رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہے :
التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ ۔ رواہ ابن ماجۃ بسند حسن والبیھقی
جس نے گناہ سے توبہ کرلی وہ ایسے ہے جیسے گناہ کیا ہی نہیں ۔
اسے ابن ماجہ نے بسند حسن بہیقی نے سنن
حوالہ / References &القرآن€ ٢ / ١١٤
&سنن ابن ماجہ ابواب الزہد باب ذکر التوبہ€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص٣٢٣ ، &السنن الکبرٰی کتاب الشہادات باب شہادت القاذف€ مطبوعہ دار صادر بیروت ١٠ / ١٥٤
#10490 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
فی السنن والطبرابی فی لکبیرعن عبداﷲ بن مسعود والحکیم الترمذی عن ابی سعید الخدری والبیھقی فی الشعب والسنن وابن عساکر عن ابن عباس وفی السنن عن عقبۃ الخولا نی والاستاذ القشیری فی رسالتہ والدیلمی و ابن النجار عن انس رضی اﷲ تعالی عنھم
میں اور طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے حکیم ترمذی نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے بہیقی نے شعب الایمان میں اور ابن عسا کر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے اور سنن میں عقبہ خولانی سے اورا ستاد القشیری نے اپنے رسالہ میں اور دیلمی اور ابن نجار نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔
اور ان میں جو لوگ اب تك اس فسق عظیم میں مبتلا ہیں اگر چہ مستحق لعنت خدا ہیں مگر جبکہ پاك بدن پاك کپڑوں سے مسجد میں آتے ہیں تو انھیں وضو و مسجد و جماعت سے نہیں روك سکتے اگر ان کے آنے سے فتنہ نہ ہو یو نہی قو ال کو بھی اور عورتیں اگر چہ پارسااور بڑھیا ہوں مسجد سے ممنوع ہیں خصوصا زنا پیشہ فاحشات کہ ان کے باہمی وہ رسوم سنے گئے ہیں جن کا بعد ایمان قائم رہنا سخت دشوار ہے قوال وغیرہ جو مسلمان مرے کہ زمین میں فساد نہ پھیلاتا ہو چند صور استثنائی مذکورہ فقہیہ کے سوا سب جنازہ کی نماز پڑھی جائے گی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
الصلوۃ واجبۃ علیکم علی کل مسلم یموت برا کان او فاجر و ان ھو عمل الکبائر ۔ رواہ ابوداؤد و ابو یعلی والبیھقی بسند حسن صحیح عن ابی ھریرۃ ومعناہ لابن ماجۃ عن واثلثۃ بن الاسقع وللطبرانی فی الکبیری وابی نعیم فی الحیلۃ عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھم اجمعین۔ واﷲ سبحنہ و تعالی اعلم
ہر مسلمان کے جنازہ کی نماز تم پر فرض ہے وہ نیك ہو یا بد اگر چہ اس نے کبیرہ گناہ کئے ہوں ۔ اسے ابوداؤد ۔ ابو یعلی اور بہقی نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے اور معنا اسے ابن ماجہ نے حضرت واثلہ بن الاسقع رضی اللہ تعالی عنہ سے اور طبرانی نے المعجم الکبیر میں اور ابو نعیم نے حلیہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین سے روایت کیا ہے واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ : از بریلی مسئولہ شیخ العزیز بسطامی دوم ذوالقعدہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے ایك مسجد میں جمعہ کی نماز کے واسطے دریاں وغیرہ
حوالہ / References &سنن ابوداؤد کتاب الجہاد باب فی الغز مع ائمہ الجور€ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ١ / ٣٤٣ ، &سنن الکبرٰی کتاب الصلوٰۃ باب الصلوٰۃ خلف من لایحمد فعلہ€ مطبوعہ دار صادر بیروت ٣ / ١١٢ و ٨ / ١٨٥
#10491 · التبصیرالمنجد بان صحن المسجدمسجد ١٣٠٧ھ (اس بارے میں عمدہ رہنمائی کہ مسجد کا صحن مسجد ہی ہو تا ہے)
بنوائیں مگر کچھ دنوں وہاں جمعہ ہوکر رہ گیا اب وہ چاہتا ہے کہ یہ دریاں کسی دوسری مسجد میں دے دوں پس یہ جائز ہے یا نہیں بینوا تواجروا
الجواب :

جب دریاں سپرد کردیں ملك مسجد ہوگئیں جب تك ناقابل استعمال نہ ہوجائیں واپس نہیں لے سکتا نہ دوسری مسجد میں دے سکتا ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
_______________
#10492 · باب ادراك الفریضۃ (نماز فرض کو پانے کا بیان)
مسئلہ : از او جین علاقہ گوالیار مرسلہ محمد یعقوب علی خاں ازمکان میر خادم علی صاحب اسسٹنٹ یکم ربیع الآخر ھ
چہ می فرماین علمائے دیندار و مفتیان ورع شعار دریں مسئلہ کہ مردے نیت چہار رکعت نماز سنت خواہ نفل نمودہ یك رکعت نماز با تمام رسانیدہ بادائے رکعت دوم برخاست دراں وقت کسے تکبیر نماز فرض گفت اداکندہ نفل وسنت بر چہار رکعت تمام نماید یا بردو رکعت اکتفا ساز دو رکعت باقیہ رانجواند یا نہ بینوا تواجروا
علماء شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ ایك شخص نے چار رکعت نماز سنت یا نفل کی نیت کرکے شروع کی ابھی دوسری رکعت کی طرف اٹھا تھا کہ نماز فرض کی جماعت کے لئے تکبیر ہوگئی نفل و سنت ادا کرنے والا چار رکعت پوری کرے یا دو پر اکتفاء کرلے باقی دو رکعات ادا کرے یا نہ بینوا تواجروا
الجواب :
مصلی نفل از آغا ز ثنا تا انجام تشہد در ہر چہ کہ باشد چوں ہنوز در شفع اول ست وبہر شفع دوم یعنی رکعت ثالثہ قیام نکر دہ کہ جماعت فرض قائم شد لاجرم بر ہمیں دو رکعات پیشیں اکتفا نماید و بجماعت در آید نفل ادا کرنے والا نمازی ثنا سے تشہد کے آخر تك جو پہلی دو رکعت میں ہے ابھی تیسری رکعت کی طرف اس نے قیام نہیں کیا تھا کہ جماعت فرض کھڑی ہو گئی تو ایسے شخص پر لازم ہے کہ وہ انھیں دو رکعات پر اکتفا کرے
#10493 · باب ادراك الفریضۃ (نماز فرض کو پانے کا بیان)
فی الد رالمختار الشارع فی نفل لایقطع مطلقا ویتمہ رکعتین ۔
و دو رکعت کہ باقی ماند قضائے آنہا برزمہ اش نیست زیر اکہ ہر شفع نفل نماز جدا گانہ است تا در شفع دوم آغاز تکرد واجب نشد و چوں واجب نشد قضا نیامد ۔
فی الدرالمختار لاقضاء لونوی اربعا و قعد قدرالتشھد ثم نقض ۔ و ہمیں سب حکم سنن غیر راتبہ مانند چار رکعت قبلیہ عصر و عشاء کہ آنہم نافلہ بیش نیست اما سنن راتبہ رباعیہ کہ قبلیہ ظہر و جمعہ است و ہمچو سائر رواتبہ حکمہا دارد فائق بر احکام نفل مطلق ایں جاعلما را معر کے عظیم ست بسیاری آنہارا نیز در حکم مذکور ہمرنگ نوافل داشتہ اند پس اگر جماعت ظہر قائم شد یا امام بخطبہ جمعہ رفت ہر كہ در شفع اول سنت است ہمیں بر دو ركعت سلام وہداین ست روایت نوادر از امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ کما فی الھدایۃ و از امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نیز کما فی فتح القدیر وبہ میں قول رجوع فرمود امام شیخ الاسلام علی سغدی کما فیہ ایضا و قاضی نسفی نیز کما فی الشامی عن الوجیز و فی غنیۃ الحلبی من الاوقاف المکروھۃ عن قاضی خاں
اور جماعت میں شریك ہو جائےدرمختار میں ہے نوافل میں شروع ہونے والا انھیں مطلقا قطع نہیں کرسکتا بلکہ دو رکعات پوری کرے۔ اور جو دو رکعات باقی تھیں ان کی قضا اس کے ذمہ نہیں کیونکہ نوافل کی ہر دو رکعت الگ نماز ہے جب تك دوسرے شفع کا آغاز نہیں کیا جاتا وہ لازم نہیں ہوگا۔ درمختار میں ہے قضا لازم نہیں اگر چہ نمازی نے چارکی نیت کی تھی اور اس نے مقدار تشہدبیٹھ کر نماز توڑی دی۔ اور غیر مؤکدہ سنن کا حکم بھی یہی ہے مثلا عصر اور عشاء کی پہلی سنتیں ان کا درجہ بھی نوافل کا ہے لیکن وہ چار سنن موکدہ جو مثلا ظہر اور جمعہ سے پہلے ہیں تو ان کا حکم نوافل سے فائق ہوتا ہے اس جگہ علماء کا بہت زیادہ اختلاف ہے اکثر نے ان سنن موکدہ کو نوافل کا درجہ دیا ہے اب اگر جماعت ظہر کھڑی ہوگئی یا امام نے خطبہ شروع کردیا تو جو شخص سنن کی پہلی دورکعات میں ہے وہ دو رکعت پر سلام کہ دے۔ یہ روایت نوادرامام ابویوسف سے ہے جیسا کہ ہدایہ میں ہے اور امام اعظم سے بھی مروی ہے جیسا کہ فتح القدیر میں ہے اور اس قول کی طرف امام شیخ الاسلام علی سغدی نے رجوع کیا جیسا کہ فتح القدیر میں ہے اورقاضی نسفی نے بھی یہی کہا ہے جیسا کہ شامی میں وجیز سے اور حلبی کی غنیہ کے اوقاف مکروہہ
حوالہ / References &درمختار باب ادراك الفریضہ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٩٩
&درمختار باب الوتر والنوافل€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٩٧
#10494 · باب ادراك الفریضۃ (نماز فرض کو پانے کا بیان)
وامام بقالی رانیز ہمیں سو میل ست کما قالہ الکمال وشمس الائمہ سرخسی راہم کماذکر ایضا وتبعہ فی الغنیۃ وفی مراقی الفلاح واقرہ فی ردالمحتار وللعبد الضعیف فیہ وقفۃ واﷲ تعالی اعلم ۔ وظاہر ہدایہ اختیاراوست کما فی الشامی وظاہرکافی شرح وافی للامام النسفی نیز کما رأیتہ فیہ وبرہمیں جزم کردہ است علامہ طرابلسی درہربان و مواہب الرحمن و مولی خسرو در درر و علامہ کرکی درفیض وظاہر اعلامہ علی مقدسی رانیز ہمیں سو میلان ست کما فی ردالمحتار و علامہ ابراہیم حلبی در متن ملتقی ہمبریں اعتماد کرد وقول دیگر رابلفظ قیل آورد و درخانیہ اول الصلوۃ فصل معرفۃ الاوقات فرمود بہ اخذ المشائخ و در فتح انہ او جہ تلمیذ محقق علامہ محمد حلبی در حلیہ پس از نقلش فرماید ھو کما قال در نور الا یضاح علامہ شر نبلالی و نیز در ادراك الفریضہ از حاشیہ اوبر درر الحکام است ھو ا لاو جہ خاتمہ المحققین علامہ شامی نیز ہمیں را تایید وتشیید کرد بریں قول ایں دو رکعت کہ گزار دہ است نفل محض گرد دو و دو باقی راقضا نیست علی ما ھو ظاھر الروایۃ و ارجع التصحیحین کما حققہ فی ردالمحتار باز بعد از فرض بلکہ علی اولی الترجیحین عندی کما حققتہ علی ھامش حاشیۃ الشامی پس از سنت بعدیہ ایں سنن قبلیہ را ادا کند تاہم سنت ادا شود و ہم فضل جماعت و استماع خطبہ ازدست نرود میں قاضی خاں سے ہے اور امام بقالی نے بھی اسی طرف میلان کیا ہے جیسا کہ شیخ کمال نے فرمایا اور شمس الائمہ سرخسی نے بھی یہی فرمایا جیسا کہ یہ بھی مذکو ر ہے اور اسی کی اتباع غنیہ اور مراقی الفلاح ا ور ردالمحتارمیں اس کو ثابت رکھا ہے۔ لیکن اس عبد ضعیف کو اس میں توقف ہے ظاہرا ہدایہ نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے جیسا کہ شامی میں ہے اور کافی شر ح وافی للامام نسفی سے بھی یہی ظاہر ہے جیسا کہ میں نے اسے دیکھا ہے اور اسی پر علامہ طرابلسی نے برہان اور مواہب الرحمن میں جزم کیا ملا خسرو نے درر علامہ کرکی نے فیض اور علامہ علی مقدسی نے بھی ظاہرا اسی کی طرف میلان کیا ہے جیسا کہ ردالمحتار میں ہے اور دوسرے قول کو لفظ “ قیل “ کے ساتھ بیان کیا خانیہ نے باب الصلوۃ کی فصل فی معرفۃ الاوقات میں فرمایا کہ مشائخ نے اسی پر عمل کیا ہے۔ فتح میں ہے کہ یہی مختار ہے تلمیذ محقق علامہ محمد حلبی نے حلیہ میں اسے نقل کر کے کہا وہ اسی طرح ہے جو انھوں نے فرمادیا ہے نورالایضاح میں علامہ شرنبلالی اور اس کے ادراك الفریضہ کے حاشیہ میں دررالحکام سے ہے کہ یہی مختار ہے خاتمہ المحققین علامہ شامی نے بھی اسی قول کی تائید کی ہے اس قول پر یہ جو رکعات اداکی گئی ہیں محض نفل ہیں اور باقی دونوں كی قضا نہیں جیسا کہ ظاہرالروایت سے واضح ہے اور دونوں اقوال کی تصحیح میں یہی راجح ہے جیسا کہ ردالمحتار میں اس کی تفصیل ہے پھر فرض کے بعد
#10495 · باب ادراك الفریضۃ (نماز فرض کو پانے کا بیان)
فی نور الایضاح وشرحہ مرافی الفلاح العلامۃ الشرنبلالی ان کان فی سنۃ الجمعۃ فخرج الخطیب او فی السنۃ الظھر فاقیمت الجماعۃ سلم علی رأس رکعتین وھوالاوجہ لجمعہ بین المصلحتین ثم قضی السنۃ اربعا بعدالفرض مع مابعدہ فلا یفوت الاستماع ولاداء علی وجہ اکمل اھ مخلصا۔
قول دیگر آنکہ مصلی ایں دو سنت ہر چہار رکعت اتمام کند اگر چہ ہنوز تحریمہ بستہ است کہ جماعت ظہر یا خطبہ جمعہ آغاز نہادند زیر اکہ ایں ہمہ رکعات ہمچو نماز واحد ست لہذا درقعدہ اولی در ودنخواند نہ در شروع ثالثہ ثنا وتعوذ آرد و چوں درشفع اولیں خبر بیع شنود و بشفع دوم انتقال نمود شفعہ ساقط نشود و ہمچناں زن مخیرہ را اختیار از دست نرود و کذلك تا از ہر چہار فراغ نیابد خلوت بازن صحیح نشود وکمال مہرلازم نیاید کل ذلك فی تبین الحقائق شرح کنزالدقائق للامام العلامۃ الزیلعی امہ مشائخ بترجیح وتصحیح ایں قول تصریح نمودہ اند امام ولوالجی و صاحب مبتغی
بلکہ میرے نزدیك دونوں ترجیحات میں سے پہلی ہے جیسا کہ میں نے شامی کے حاشیہ میں تحقیق کی ہے ان میں پہلی سنتوں کو بعد کی سنتوں کے بعد ادا کرلے تاکہ سنت ادا ہوجائے اور فضیلت جماعت اور خطبہ کی سماعت کا ثواب بھی ہاتھ سے نہیں جائیگا۔ نورالا یضاح اور اس کی شرح مراقی الفلاح میں ہے اگر نمازی جمعہ کی سنتیں ادا کر رہا ہے اور خطیب آگیا یا ظہر کی سنتیں ادا کر رہا ہے تو تکبیر جماعت کہی گئی تو دو رکعات پر سلام پھیر دے کیونکہ دونو ں مصلحتوں کو جمع کرلینا ہی مختار ہے پھر فرائض کے بعد ان پہلی چار سنتوں قضا کرلے تو اب خطبہ کا سننا (جو فرض تھا) فروت نہ ہوا اور ادائیگی بھی وجہ کامل پر ہوگی اھ تلخیصا
دوسرا قول یہ ہے کہ ان دونوں سنتوں (قبل ازظہر و جمعہ) کی چار چار رکعت پوری کرلے اگر چہ خطبہ جمعہ یا ظہر کی جماعت کھڑی ہوجائے کیونکہ یہ تمام نماز واحد کی طرح ہیں یہی وجہ ہے کہ پہلے قعدہ میں درود اور تیسری رکعت میں ثنا اور تعوذ نہیں پڑھا جاتا جب کسی نے پہلی دو رکعات میں خرید وفروخت کی خبر سنی اور وہ دوسری دو رکعات میں شروع ہوگیا تو اس سے حق شفعہ ساقط نہیں ہوجاتا ۔ اسی طرح صاحب اختیار عورت کا اختیار بھی ساقط نہیں ہوتا _______اسی طرح جب تك وہ چار رکعات سے فارغ نہیں ہوجاتا عورت کے ساتھ خلوت صحیحہ نہیں پائی جائیگی
حوالہ / References &مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب ادراك الفریضۃ€ مطبوعہ نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی ص ٢٤٥
#10496 · باب ادراك الفریضۃ (نماز فرض کو پانے کا بیان)
و صاحب محیط و علامہ شمنی فرموند الصحیح انہ یتمھا اربعا کما فی البحر من ادزاك الفریضۃ خود علامہ زین دربحر بعد نقلش فرمود الظاھر ما صحح المشائخ لانہ لاشك ان فی التسلیم علی رأس الرکعتین ابطال وصف السنیۃ لا لا کمالھا وتقدم انہ لا یجوز الخ برادر شعلامہ عمر بن نجیم در نہر ادرامقرر داشت کما فی ردالمحتار درفتاوی صغریفرمود علیہ الفتوی علامہ شرنبلالی درجمعہ غنیہ ذوی الاحکام فرمایدقولہ وان کانت سنۃ الجمعۃ یسلم علی راس الرکعتین اقول : الصحیح خلافہ وھو انہ یتم سنۃ الجمعۃ اربعا وعلیہ الفتوی کما فی الصغیری وھو الصحیحح کما فی البحر عن الو لوالجیۃ والمبتغی لانھا بمنزلۃ صلوۃ واحدۃ واجبۃ اھ امام ظہیر الدین مرغینانی در ظہیریۃ فرمود ھوا لصحیح امام ظہیرالدین مرغینانی ظہیریہ میں فرماتے ہیں یہی صحیح ہے کما فی القھستانی والغنیۃ شرح المنیۃ من الاوقات المکروھۃ و ہمچناں در سراج وہاج ست جیسا کہ قہستانی اور غنیہ شرح منیہ کے اوقات مکروہہ میں ہے اسی طرح سراج وہاج میں ہے کما فی الھندیۃامام سرخسی فرماید ھو
مہر کامل لازم نہ ہوگا ۔ یہ تمام گفتگو امام علامہ زیلعی کی تبیین حقائق شرح کنز الدقائق میں ہے۔ عام مشائخ نے اسی قول کو ترجیح اور اسی کی تصحیح پر تصریح کی ہے۔ امام ولوالجی صاحب مبتغی صاحب محیط اور علامہ شمنی فرماتے ہیں کہ صحیح یہی ہے کہ نمازی چار رکعات پوری کرے جیسا کہ بحرکے ادراك الفریضہ میں ہے خود علامہ زین بحرمیں اس عبارت کو نقل کرنےكے بعد لکھتے ہیں ظاہر یہی ہے جس کی تصحیح مشائخ نے فرمائی ہے کیونکہ اس میں کوئی شك نہیں کہ دورکعات کے بعد سلام وصف سنیت کے ابطال کے لئے ہے نہ کہ ان کے اکمال کے لئے اور پیچھے گزر چکا ہے کہ یہ جائز نہیں الخ ان کے بھائی۶ علامہ عمر بن نجیم نے نہر میں اسی کو ثابت رکھا ہے جیسا کہ ردالمحتار میں ہے فتاوی صغری میں فرمایا “ فتوی اسی پر ہے “ علامہ شرنبلالی نے غنیہ ذوی الاحکام کے جمعہ میں فرمایا ماتن کا قولاگر نماز جمعہ کی سنتیں ادا کر رہا ہے تو دو رکعتوں پر سلام پھیرلے میں کہتا ہوں کہ صحیح اس کے خلاف ہے اور وہ یہ ہے کہ جمعہ کی چار رکعتیں ادا کرے اسی پر فتوی ہے جیسا کہ صغری میں ہے اور یہی صحیح ہے
حوالہ / References &بحر الرائق باب ادراك الفریضہ€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ٧١
&بحر الرائق باب ادراك الفریضہ€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ٧١
&غنیۃ ذوی الاحکام علی الدرالحکام باب الجمعہ مطبعہ احمد کامل دارسعادت بیروت€ ١ / ١٤١
&غنیۃ المستملی بحلوالہ المرغینانی الشرط الخامس ھوالوقت€ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ٢٤٢
&فتاوٰی ہندیہ بحوالہ السراج الوہاج الباب العاشرفی الدراك الفریضہ€ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ١٢٠
#10497 · باب ادراك الفریضۃ (نماز فرض کو پانے کا بیان)
الاصح کمافیھا ایضا علامہ غزی در متن تنویر الابصار فرمود علی الراجح علامہ دمشق در در مختار تقریر ش کرد و گفت خلافا لما رجحہ الکمال و در جمعۃ تبعا للبحر فر مود یتم فی الاصح در مجمع الانہر گفت صححہ اکثر المشائخ ھم در آنست الصحیح انہ یتم تا آنکہ محرر مذہب حضرت امام محمد ظاھر الروایۃ ست بایں معنی ایما فرمود ناھیك بحجۃ وقدوۃ محقق علی الاطلاق در فتح فرماید الیہ اشارفی الاصل ۔
جیسے بحر میں ولوالجیہ اور المبتغے سے ہے کیونکہ یہ بمنزل ایك نماز واجبہ کے ہے اھجیسے فتاوی ہندیہ میں ہے امام سرخسی فرماتے ہیں کہ یہی اصح ہے اور اسی میں یہ بھی ہے علامہ غزی نے متن تنویرالابصار میں فرمایا کہ راجح یہی ہے علامہ دمشقی نے درمختار میں اس پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایاہے یہ مخالف ہے اس بات کے جس کو کمال نے ترجیح دی اور باب جمعہ میں بحر کی اتباع میں فرمایا اصح قول یہی ہے مجمع الانہر میں فرمایا اکثر مشائخ نے اسی کو صحیح کہا ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ صحیح یہی ہے کہ نمازی چار رکعات ادا کرے حتی کہ محرر مذہب حضرت امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے مبسوط جو کتب ظاہرالروایہ میں سے ہے میں اسی کی طرف اشارہ کیا اور یہی حجت کافی ہے قدوۃ محقق علی الاطلاق نے فتح میں فرمایا اسی کی طرف (امام محمد نے) اصل میں اشارہ فرمایا ہے۔
حوالہ / References &فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ محیط السرخسی الباب العاشر فی ادراك الفریضہ€ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ١٢٠
&درمختار€ ، &باب ادراك ا لفریضہ€ ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٩٩
&درمختار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٣
&مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب ادراك الفریضہ داراحیاء التراث العربی بیروت€ ١ / ١٤١
&مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب ادراك الفریضہ داراحیاء التراث العربی بیروت€ ١ / ١٤١
&فتح القدیر€ ، &باب ادراك الفریضہ€ ، مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ١ / ٤١١
#10498 · باب ادراك الفریضۃ (نماز فرض کو پانے کا بیان)
اقول : دیدی کہ ہر جانب قوتے ست بس علیہ و رفعتے شامخہ جلیلہ امام دلیل قول اول کہ امام ابن الہمام قدس سرہ ذکر فرمود گوبدل چسپندہ ترباش لکن عامہ تصحیحات صریحہ ایں طرف ہجوم آور دہ ولفظ ھو الصحیح کہ از جمہور ائمہ طراز دامن قول شد برلفظ ھو ا وجہ کہ از امام محقق علی اطلاق نصیبہ قول اول ست گراں سنگیہا دار دہم ازروئے مادہ وہم ازرا ہ ہیئت وہم ازجہت زوائد کما لایخفی علی الفقیہ النبیہ العارف باسالیب الکلام آں طرف اگر بہ اخذالمشائخ ست کہ بظاہر مراد بایشاں مشائخ خود امام قاضی خان ست ایں طرف صححہ اکثر المشائخ ست و نیز آنکہ از عامہ الفاظ اکد ست واقوی اعنی لفظ علیہ الفتوی باز آں طرف اگر از حضرات شیخیں مذہب رضی اللہ تعالی عنہما روایت نوادر ست ایں جانب اشارہ اصل نہ چیزے ست سہل علماء سپید گفتہ اند کہ مفہوم متون بر منطوق فتاوی تقدم دار د علامہ سیدی احمد حموی در غمز العیون نگار و غیر خاف ان مافی المتون والشروح ولوکان بطریق المفھوم مقدم علی مافی الفتاوی وان لم یکن فی عبارتھا اضطراب وپیدا ست کہ نسبت انوادر بہ اصول ہمچو نسبت فتاوی ست بمتون و بالآخر مسئلہ ازاں قبیل ست کہ انسان ہر دو قول
اقول : (میں کہتا ہو) آپ نے دیكہ لیا کہ ہر طرف قوت ہے تو نہایت بلند اور جلیل رفعت دونوں میں ہے پس قول اول پر جو دلیل امام ابن ہمام قدس سرہ نے ذکر کی ہے وہ اگرچہ دل کو پسند ہے لیکن عام تصحیحات صریحہ کا ہجوم اس طرف زیادہ ہے کہ جہاں لفظ “ ھو الصحیح “ ہے جو کہ جمہور ائمہ کا خاص انداز جس کو دسرے قول نے اپنے دامن میں لے رکھا ہے اور لفظ “ ھو ا وجہ “ جو کہ محقق علی الاطلاق کی طرف سے قول اول کے لئے مزید وزنی ہے ہیت مادہ اور زائدامور ہر لحاظ سے جیسا کہ کلام کے اسلوب سے واقف فقیہ اور ماہر پر مخفی نہیں اس طرف اگر مشائخ کی پسند ہے جو کہ بظاہر خود امام قاضی خاں سے مراد ہے تو دوسری طرف بھی “ صححہ اکثر المشائخ “ اور “ صححہ المشائخ “ کے الفاظ ہیں نیز وہاں “ علیہ الفتوی “ كے الفا ظ بہی ہے جو كہ عام الفاظ كی نسبت زیادہ تاكید اور قوت پر دال ہے اگر وہاں (پہلے قول) کی طرف نوادر روایت کے مطابق شیخین (امام اعظم وامام ابویوسف) رضی اللہ تعالی عنہما کا مذہب مذکور ہے تو یہاں (دوسرے قول) کے لئے اصل (مبسوط امام محمد) کا اشارہ موجود ہے جبکہ اصل کا اشارہ کوئی معمولی بات نہیں ہے مشہور علماء کا قول ہے کہ “ متون “ کا مفہوم بھی فتاوی کے “ منطوق “ (ظاہر عبارت) پر مقدم ہے ۔ علامہ سیدی احمد حموی نے غمزالعیون میں لکھا ہے کہ مخفی نہیں کہ
حوالہ / References ∞ &غمز عیون البصائرشرح الاشباہ والنظائر کتاب الحجر ولمأذون€ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ٢٢ / ٧٩
#10499 · باب ادراك الفریضۃ (نماز فرض کو پانے کا بیان)
بر ہر خواہد عملی نماید ہیچ جائے ملامت نیست ومن فقیر بقول اخیر خود رامائل ترمی بینم بوجو ہے کہ شنیدی ومی شنوی
فاقول : بر دلیل قول اول می تواں گفت کہ سنت چوں از وقت خود برگشت نقصان پذیرفت وسنت بروجہ سنت ادانشدو سنن مکملات فرائض ست وشك نیست کہ تکمیل کامل اکمل از تکمیل ناقص ست پس نقصان سنن بنقصان فرائض منجر شود پس در تسلیم بر رکعتین ہم ابطال وصف سنیت ست بے آنکہ بروجہ سنت انجبار یا بدوہم انعدام تکمیل فرض ست علی الوجہ الاکمل بخلاف اتمام کہ سنت از نقصان محفوظ مطلق ماند و درفرض اگر جہتے از اکملیت فوت شود جہتے دیگر بدست آید ھذا ماوردعلی قلبی والعلم بالحق عند ربی ان ربی بکل شیئ علیم۔
متون اور شروح میں جوبات بطور مفہوم ہے وہ فتاوی واضح اقوال پر مقدم ہے حاصل یہ کہ نوادر کا مقابلہ اصول سے ایسے ہے جیسا کہ فتاوی کا متون سے ہے یعنی اصول کے اشارہ کو نوادر کی تصریحات پر ترجیح ہے غرضیکہ یہ مسئلہ اس قبیل سے ہے کہ اس کے دونوں اقوال میں سے جس پر انسان چاہے عمل کرے تو کوئی اعتراض نہیں ہے اور میں خود دوسرے قول کی طرف اپنے آپ کو مائل پاتاہوں اس کے وجوہ کچھ تو آپ نے سن لئے اور کچھ کو سنیں گے فاقول : پہلے قول کی دلیل پر کہا جاسکتا ہے کہ جب سنت اپنے وقت سے مؤخر ہوجائے تو وہ ناقص ہوجاتی ہے اور یہ سنت بطریق سنت ادا نہ ہوگی جبکہ سنتیں فرائض کو کامل بناتی ہیں اور یہ بات ظاہر ہے کہ کامل چیز کا مکمل کرنا زیادہ کامل ہوتا ہے ناقص چیز کی تکمیل کے مقابلہ میں تویوں سنت کا نقصان فرض کے نقصان کا باعث ہوتا ہے توجب دو رکعتوں پر سلام سنت کے وصف میں نقصان ہے جو کہ پورا نہیں ہوتا تو اس سے فرض کی تکمیل میں عدم لازم آئے گا کہ فرض اکمل نہ ہوسکے گا برخلاف اس بات کے کہ جب سنت کو تام کیا جائے تو وہ نقصان سے مطلقا محفوظ رہے گی تو اس سے اگر چہ فرض کے اکمل ہونے میں فرق آیا مگر دوسری وجہ (سنتوں کی تکمیل) سے متبادل کمال حاصل ہوجائے گا۔ یہ ہے وہ جومیرے دل میں ڈالا گیا اور حقیقی علم میرے رب کو ہے میرا رب ہر چیز کا عالم ہے۔ (ت)
مسئلہ : از ا وجین مکان میر خادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ حاجی یعقوب علی خاں صاحب شعبان ھ
اس مسئلہ میں کیا حکم ہے کہ بکر وضو نماز فجر کا کر کے ایسے وقت میں آیا کہ امام قعدہ اخیرہ میں ہے جو سنت پڑھتا ہے تو جماعت جاتی ہے اور جماعت میں ملتا ہے تو سنتیں فوت ہوتی ہے اس صور ت میں سنتیں پڑھے یا قعدہ میں مل جائے۔ بینوا تواجروا
الجواب :
اس صورت میں بالاتفاق جماعت میں شریك ہوجائے کہ جماعت میں ملنا سنتیں پڑھنے سے اہم و
#10500 · باب ادراك الفریضۃ (نماز فرض کو پانے کا بیان)
آکد ہے جب یہ جانے کہ سنتیں پڑھوں گا تو جماعت ہوچکے گی بالاتفاق جماعت میں مل جانے کا حکم ہے اگر چہ ابھی امام رکعت ثانیہ کے شروع میں ہو قعدہ تو ختم نماز ہے اس میں کیونکہ امید ہوسکتی ہے کہ امام کے سلام سے پہلے یہ سنتیں پڑھ کر جماعت میں مل سکے گا
فی الدرالمختار اذاخاف فوت رکعتی الفجر لاشتغالہ بسنتھا ترکہا الجماعۃ اکمل الخ واﷲ تعالی اعلم۔
درمختار میں ہے جب کسی کو یہ خطرہ ہو کہ اگر فجر کی سنتیں ادا کیں تو جماعت فوت ہوجائے گی تو وہ سنتیں ترك کردے کیونکہ جماعت اکمل ہے الخ واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ : رمضان المبارک
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص فرض تنہا پڑھ چکا تھا اب مسجد میں جماعت قائم ہوئی اور یہ اس وقت مسجد میں موجود ہے تو اب اسے کیا حکم ہے بینو توجروا
الجواب :
ظہر و عشاء میں ضرور شریك ہو جائے کہ اگر تکبیر سن کر باہر چلاگیا یا وہیں بیٹھا رہا تو دونوں صورت میں مبتلائے کراہت وتہمت ترك جماعت ہوا اور فجر و عصر و مغرب میں شریك نہ ہو کہ قول جمہور پر تین رکعت نفل نہیں ہوتے اور چوتھی ملائے گا تو بسبب مخالفت امام کراہت لازم آئے گی اور فجر وعصر کے بعد تو نوافل مکروہ ہی ہیں اور ویسے بیٹھا رہے گا تو کراہت اور اشد ہوگی لہذا ان نمازوں میں ضرور ہوا کہ باہر چلاجائے
قال العلامۃ الشرنبلالی رحمۃ اﷲ علیہ فی نورالایضاح وشرحہ مراقی الفلاح ان خرج بعد صلوۃ منفردالایکرہ لانہ قد اجاب داعی اﷲ مرۃ فلا تجب علیہ .ثانیا الا انہ یکرہ خروجہ اذا اقیمت الجماعۃ قیل خروجہ فی الظھر و فی العشاء لانہ یجوز النفل فیہما مع الامام یتھم بمخالفۃ الجماعۃ کالخوارج و الشیعۃ وقد قال
علامہ شرنبلالی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے نورالیضاح اوراس کی شرح مراقی الفلاح میں فرمایا جب تنہا نماز ادا کرکے کوئی مسجد سے باہر نکلا تو کراہت نہیں کیونکہ اس نے ایك دفعہ اﷲ تعالی کی طرف بلانے والے کی آواز پر لبیك کہا ہے لہذا دوبارہ اس پر واجب نہیں البتہ اس صورت میں کراہت ہوگی جب اس کے نکلنے سے پہلے ظہر اورعشا کی جماعت کے لئے تکبیر کہہ دی گئی کیونکہ ان میں امام کے ساتھ نوافل ادا کرسکتا ہے تا کہ
حوالہ / References &درمختار باب ادراك الفریضہ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٩٩
&مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب ادراك ا لفریضہ€ مطبوعہ نور محمد کا رخانہ تجارت کتب کراچی ص٢٤٩
#10501 · باب ادراك الفریضۃ (نماز فرض کو پانے کا بیان)
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من کان یومن باﷲ والیوم الاخر فلا یقفن مواقف التھم فیقتدی فیھما ای الظہر والعشاء متنفلا لدفع التھمۃ عنہ یکرہ جلوسہ من غیر اقتداء لمخالفۃ الجماعۃ بخلاف الصبح العصر والمغرب لکراھۃ النفل والمخالفۃ فی المغرب الی آخرہ قال العلامۃ الطحطاوی رحمۃ اﷲ علیہ فی الحاشیۃ المراقی قولہ لکراھۃ النفل ای بعد الصبح العصر و فی النھر ینبغی ان یجب خروجہ لان کراھۃ مکثہ بلاصلوۃ اشد واﷲ تعالی اعلم سبحنہ اتم واحکم
جماعت کی مخالفت کی تہمت اس پر نہ لگے مثلا خوارج اور شیعہ وغیرہ سے نہ کہا جائے۔ رسالتمآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : جو شخص اﷲ تعالی اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ تہمت کے مقامات پر نہ کھڑا ہو لہذا وہ شخص ظہر و عشاء میں نفل کی نیت سے اقتدا کرے تاکہ اس پر تہمت نہ لگے ۔ اور اقتداء نہ کرتے ہوئے بیٹھنا مکروہ ہے کیونکہ جماعت کی مخالفت ہے بخلاف صبح عصر اور مغرب کے کیونکہ یہاں نفل مکروہ ہیں اور مغرب میں ( امام ) کی مخالفت لازم آئے گی الخ علامہ طحطاوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے حاشیہ المراقی میں کہا ماتن کا قول نفل مکروہ ہونے کی وجہ سے یعنی صبح اور عصر کے بعد نہر میں ہے کہ ان اوقات میں مسجد سے چلے جانا واجب ہے کیونکہ بغیر نماز کے وہاں ٹھرنا یہ زیادہ ناپسند ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم وعلمہ سبحنہ اتم واحکم (ت)
مسئلہ : از ریاست جادرہ مکان عبد المجید خاں صاحب سرشتہ دار ھ
فجر کی سنت وقت قائم ہوجانے جماعت کے کب تك ادا ہوجانا چاہئے اور جو ر ہ جاتی ہیں تو کیا بعد فرضوں کے بھی ادا کرسکتے ہیں یا نہیں
الجواب :
اگر جانے کہ سنتیں پڑھ کر جماعت میں شریك ہوجاؤں گا تو سنیتں پڑھ لے اگر چہ التحیات ہی ملتی سمجھے ورنہ فرضوں میں شریك ہوجائے اور اول سنتوں کو قضا کرنا چاہے تو بعد بلندیآفتابکرے فرضوں کے بعد طلوع سے پہلے جائز نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References &مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب ادراك ا لفریضہ€ مطبوعہ نور محمد کا رخانہ تجارت کتب کراچی ص٢٤٩
&حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب ادراك ا لفریضہ€ مطبوعہ نور محمد کا رخانہ تجارت کتب کراچی ص ٢٤٩
#10502 · باب ادراك الفریضۃ (نماز فرض کو پانے کا بیان)
مسئلہ : از چمن سرائے سنبھل مرسلہ احمد خاں صاحب جمادی الاولی ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نزدیك علمائے حنفیہ اہلسنت وجماعت کے صبح کی سنت اگر فرض جماعت سے ہوتے ہوں تو پڑھے یا نہیں بعض یہ کہتے ہیں کہ اگر فرض نماز کی دوسری رکعت کا رکوع بھی مل جانے کا یقین ہو تو سنتیں پڑھ لے ورنہ سورج نکلنے پر ادا کرے بعض کا قول ہے قاعدہ اخیرہ کی شرکت بھی کافی ہے سنت کو پہلے پڑھے بعض کہتے ہیں کہ جس وقت تکبیر اولی فرضوں کی ہو ترك سنت کرے فرضوں میں فورا شریك ہوجائے اور پھر نماز سنت نہ بعد سلام پڑھے وقت ہونے پر نہ بعد طلوع آفتاب۔
الجواب :
تیسرے شخص کا قول محض باطل ہے اور پہلے دو قول صحیح ہیں اور ان میں دوسرا اصح ہے اگر تشہد تك بھی جماعت میں ملنا دیکھے تو صبح کی سنتیں صف سے دور ادا کرکے شامل ہوجائے اور جو یہ سمجھتا ہے کہ سنتیں پڑھنے میں جماعت بلکل فوت ہوجائے گی تو اس وقت نہ پڑھے اور جماعت میں شریك ہوجائے پھر فرض نہیں پڑھ سکتا جب تکآفتابلند نہ ہو اگر پڑھے گا گنہ گار ہوگا ہاں بعد بلندی پڑھے تو مستحب ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم
#10503 · باب قضاء الفوائت ( فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا بیان)
مسئلہ : محرم ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے فوت جماعت کے خوف سے سنتیں فجر کی ترك کیں اور جماعت میں شامل ہوگیا اب وہ ان سنتوں کو فرضوں کے بعد سورج نکلنے سے پیشتر پڑھے یا بعد بینوا توجروا
الجواب :
جبکہ فرض فجر پڑھ چکا تو سنتیں سورج بلند ہونے سے پہلے ہرگز نہ پڑھے ہمارے سب ائمہ رضی اللہ تعالی عنہم کا اس پر اجماع ہے بلکہ پڑھے تو سورج بلند ہونے کے بعد دوپہر سے پہلے پڑھ لے نہ اس کے بعد پڑھے نہ اس سے پہلے ۔ ردالمحتار میں ہے :
اذا فاتت وحدھا فلا تقضی قبل طلوع الشمس بالاجماع الکراھۃ النفل بعدا لصبح وامابعد طلوع الشمس فکذلك عندھما وقال محمد احب الی ان یقضیھا الی ز وال کما فی الدرر ۔
جب فجر کی سنتیں تنہا فوت ہوجائیں تو بالاتفاق طلوعآفتابسے پہلے ادا نہ کی جائیں کیونکہ نماز فجر کے بعد نوافل مکروہ ہیں رہا معاملہ طلوع فجر کے بعد کا تو شیخین کے نزدیك قضا نہیں اور امام محمد نے فرمایا کہ زوال تك سنتیں قضا کر لینا میرے نزدیك پسندیدہ ہیں جیسا کہ درر میں ہے۔ (ت)
حوالہ / References &ردالمحتار باب ادراك الفریضہ€ مطبوعہ مصطفے البابی مصر ١ / ٥٣٠
#10504 · باب قضاء الفوائت ( فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا بیان)
اور یہ خیال کہ اس میں قصدا وقت قضا کردینا ناواقفی سے ناشئ یہ سنتیں جب فرضوں سے پہلے نہ پڑھی گیئں خود ہی قضاء ہوگیئں کہ ان کا وقت یہی تھا کہ فرضوں سے پیشتر پڑھی جائیں اب اگر فرضوں کے بعد سورج نکلنے سے پیشتر پڑھے گا جب بھی قضا ہی ہوں گی اور ہر گز نہ ہوں گی الا تری الی قولہ لا تقضی قبل طلوع الشمس بالاجماع فقد سمی صلوتھا قبل الطلوع بعد الفرض قضاء ( کیا آپ نے ان کے یہ الفاظ نہیں دیکھے کہ بالاتفاق طلوعآفتابسے پہلے سنتیں قضانہ کی جائیں تو انھوں نے فرائض کے بعد طلوع سے پہلے ان کی ادائیگی کو قضا کا نام دیا ہے۔ ت) لیکن طلوع سے پہلے قضا کرنے میں فرض فجر کے بعد نوافل کا پڑھنا ہے اور جائز نہیں لہذا ہمارے اماموں نے اس سے منع فرمایا اور بعد طلوع وہ حرج نہ رہا لہذا اجازت دی واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از کلکتہ ٹارنب براہ ڈاکخانہ ویلزلی اسٹریٹ مرسلہ رشید احمد خاں جمادی الاخری۱۳۰۹ھ
جناب مولوی صاحب بعد آداب کے عرض خدمت میں یہ ہے کہ اگر زید برابر نماز پڑھتا رہے لیکن یکم جنوری سے تك قضا ہوگئی سے پھر پڑھی اور قضا بھی ترتیب وار ادا کرنے لگا تك برابر پڑھتا رہا پھر پانچ روز کی قضا ہوگئیں سے شروع کی تو قضا کس طرح ادا کرے یعنی ترتیب وار جیسی یکم جنوری کی صبح پھر ظہر ومغرب وعشا پھر یاایسے ہی تاریخ تك رفتہ رفتہ دو چار یوم میں ادا کرچکا اب سے تك تو پہلے ہی پڑھ چکا ہے سے تك کے قضا پھر اسی طور پر ادا کرے یا کیا حکم ہے باقی آداب!
الجواب :
السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ زید پر نہ ان دن کی قضا میں ترتیب ضرور تھی نہ ان پانچ دن کی قضا میں ضرور ہے اسے اختیا ر ہے ان میں جو نماز چاہے پہلے ادا کرے جو چاہے پیچھے کہ قضا نمازیں جب پانچ فرضوں سے زائد ہوجاتی ہں ترتیب ساقط ہوجاتی ہے یعنی باہم ان میں بھی ہر ایك کی تقدیم وتاخیر کا اختیار ہوتا ہے اور ان میں اور وقتی نماز میں بھی رعایت ترتیب کی حاجت نہیں رہتی پھر ان نمازوں کے حق میں ترتیب نہ باہمی نہ بلحاظ وقتی کوئی کبھی عود نہیں کرتی اگر چہ ادا کرتے کرتے چھ سے کم رہ جائیں مثلا اب اسی صورت میں زید پر پانچ دن کی پچیس نمازیں ہیں جب دو ہی رہ جائیں گی تو بھی اسے اختیار ہے کہ اس کی ادا سے پہلے وقتیہ نماز پڑھ لے ہاں اصح مذہب پر اتنا لحاظ ضرور ہے کہ نماز نیت میں معین مشخص ہو جائے ھوا لاحوط من تصحیحین( دونوں تصحیحوں میں احوط یہ ہے ۔ ت) مثلا دس فجریں قضا ہیں تو یوں گول نیت نہ کرے کہ فجر کی نماز کہ اس پر ایك فجر تو نہیں جو اسی قدر بس ہو بلکہ تعیین کرے کہ فلاں تاریخ کی فجر مگر یہ کیسے یاد رہتا ہے اور ہو بھی تو اس کا خیال حرج سے خالی نہیں لہذا اس کی سہل تدبیر یہ نیت ہے کہ پہلی فجر جس کی قضا مجھ پر ہے جب ایك پڑھ چکے پھر یوں ہی پہلی فجر کی نیت کرے کہ ایك تو پڑھ لی اس کی قضا اس پر نہ رہی نو کی ہے اب ان میں کی پہلی نیت میں آئے گی یونہی اخیر تك نیت کی جائے اسی طرح باقی سب نمازوں
#10505 · باب قضاء الفوائت ( فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا بیان)
میں کہے اور جس سے ترتیب ساقط ہو جیسے یہی دس یا چھ فجر کی قضا والا پہلی کی جگہ پچھلی بھی کہہ سکتا ہے نیچے سے اوپر کو ادا ہوتی چلی جائے گی ردالمحتار میں ہے :
لایلزم الترتیب بین الفائتۃ والوقتیۃ ولابین الفوائت اذا کانت الفوائت ستاکذا فی النھر ۔
جب فوت شدہ نمازیں چھ ہوجائیں تو فوت شدہ نمازوں کے درمیان اور فوت شدہ اور وقتی نمازوں کے درمیاں ترتیب لازم نہیں رہتی جیسا کہ نہر میں ہے (ت)
درمختار میں ہے :
ولایعود لزوم الترتیب بعد سقوطہ بکثرتھا ای الفوائت بعود الفوائت الی القلۃ بسبب القضاء لبعضھا علی المعتمد لان الساقط لا یعود ۔
اکثر فوت شدہ نمازوں کو قضا کرلینے پر ترتیب لوٹ نہیں آتی یعنی اگر فوت شدہ نمازیں کثیر تھیں ان میں سے اکثر قضا کرلیں اور باقی تھوڑی رہ گئیں تو معتمد قول کے مطابق ترتیب نہیں لوٹتی کیونکہ ساقط لوٹ کر نہیں آتا۔ (ت)
اسی میں ہے :
یعین ظھر یوم کذاعلی المعتمد والا سھل نیتہ اول ظھر علیہ اواخر ظھر الخ وتمامہ فی رد المحتار ۔ واﷲ تعالی اعلم ۔
معتمد قول کے مطابق اس بات کا تعین کیا جائے کہ فلاں دن کی ظہر ہے اور سب سے آسان یہ ہے کہ اول ظہر یا آخر ظہر کی نیت کرلی جائے۔ اس کی تمام تفصیل ردالمحتار میں ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ : صفر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ فجر کی سنتیں بعد جماعت فرض کے مسبوق ادا کرے درست ہے یانہیں بینوا تواجروا
الجواب :
سنت فجر کہ تنہا فوت ہوئیں یعنی فرض پڑھ لئے سنیتں رہ گئیں ان کی قضا کرے تو بعد بلندی آفتاب
حوالہ / References &ردالمحتار باب قضاء الفوائت€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٣٨
&درمختار باب قضاء الفوائت€ مطبوعہ مجتبائی دہلی ١ / ١٠١
&درمختار باب شروط الصلوٰۃ€ مطبوعہ مجتبائی دہلی ١ / ٦٧
#10506 · باب قضاء الفوائت ( فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا بیان)
پیش از نصف النہار شرعی کرے طلوع شمس سے پہلے ان کی قضا ہمارے ائمہ کرام کے نزدیك ممنوع ومکروہ ہے ۔
لقول رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاصلوۃ بعد الصبح حتی ترتفع الشمس ۔ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم ۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا فرمان مبارك ہے “ صبح کے بعد سورج کے بلند ہونے تك نماز نہیں “ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم و احکم۔ (ت)
مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے کہ صبح کی نماز بوقت خطبہ کے جائز ہے اور عمروکہتا ہے بوقت خطبہ کے جائز نہیں اس واسطے کہ حدیث شریف میں وارد ہے لا صلوۃ و لاکلام (اس وقت نہ نماز ہے نہ گفتگو ۔ ت) ان دونوں میں کون حق پر ہے اور کون مطابق حدیث شریف کے عمل کرتا ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
جو صاحب ترتیب نہیں اسے قضانماز بھی خطبہ کے وقت ادا کرنی جائز نہیں کہ بعد کو بھی پڑھ سکتا ہے اور صاحب ترتیب کو وقتی نماز سے پہلے قضا کا ادا کرنا ضرور ورنہ وقتی بھی نہ ہوگی ایسے شخص نے اگر ابھی قضائے فجر ادا نہ کی اور خطبہ شروع ہوگیا تو اسے قضا پڑھنے سے ممانعت نہیں بلکہ ضرور و لازم ہے ورنہ جمعہ بھی نہ ہوگا ہاں بلاعذر شرعی اتنی دیر لگانی کہ خاص خطبہ کے وقت پڑھنی پڑے اسے بھی جائز نہیں ۔
لتادیہ الی ترك الاستماع وھوفی نفسہ محظور و کل ماادی الی محظور محظور۔
کیونکہ اس میں خطبہ کا عدم سماع لازم آرہا ہے جو فی نفسہ ممنوع ہے اور ہر وہ شیئ جو ممنوع تك پہنچائے ممنوع ہوتی ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
اذا اخرج الامام فلا صلوۃ ولاکلام الی تمامھا خلا قضا فائتۃ لم یسقط الترتیب بینھا وبین الوقتیۃ فانھا لا تکرہ ۔
جب امام جمعہ آجائے تو اتمام جمعہ تك نہ نماز ہے نہ کلام البتہ فوت شدہ نماز کی قضا مکروہ نہیں کیونکہ فوت شدہ اور وقتی نماز کے درمیان ترتیب ساقط نہیں ہوئی تھی ۔ (ت)
حوالہ / References &صحیح البخاری کتاب مواقیت الصلوٰۃ باب لاتتحری الصلوٰۃ ابل غروب الشمس €مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٨٢ و ٨٣
&درمختار€ ، &باب الجمعہ € ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٣
#10507 · باب قضاء الفوائت ( فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا بیان)
سراج وغیرہ میں ہے :
لضرورۃ صحۃ الجمعۃ والا لا
( جمعہ کی صحت کے پیش نظر ہے ورنہ نہیں ۔ ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ فانھا لاتکرہ( بل یجب فعلھا قولہ والا لا) ای وان سقط الترتیب تکرہ ۔ انتھی واﷲ تعالی اعلم۔
ماتن کا قول “ کیونکہ اس میں کراہت نہیں “ بلکہ اس کا کرنا واجب ہے (ورنہ نہیں ) یعنی اگر ترتیب ساقط ہوچکی ہو تو کراہت لازم آئے گی انتہی۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کی سنت فجر کی قضا ہوگئیں اب وہ قضا کرے یا نہیں اور اگر قضاکرے تو کس وقت اور یہ سنتیں بیٹھ کر بھی بلا عذر پڑھ سکتے ہیں یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
سنت فجر بلامجبوری ومعذوری بیٹھ کر نہیں ہوسکتیں اور اگر مع فرض قضا ہوئی ہوں تو ضحوہ کبری آنے تك ان کی قضا ہے اس کے بعد نہیں اور اگر فرض پڑھ لئے سنتیں رہ گئی ہیں تو بعد بلندی آفتاب ان کا پڑھ لینا مستحب ہے قبل طلوع روا نہیں ۔ علمگیریہ میں ہے :
سنۃ الفجر لا یجوزان یصلیھا قاعدامع القدرۃ علی القیام ولذاقیل انھا قریبۃ من الواجب کذا فی التاتار خانیۃ ناقلا عن النافع ولا یجوز اداءھا راکبا من غیر عذرکذا فی السراج الوھاب والسنۃ اذافاتت عن وقتھا لم یقضھا الارکعتی الفجر اذافاتتا مع الفرض یقضیھما بعد طلوع الشمس الی وقت الزوال ثم یسقط ھکذا فی محیط السرخسی وھوالصحیح ھکذا فی البحر الرائق و اذافاتتابدون الفرض
فجر کی سنتیں قیام پر قدرت کے باوجود بیٹھ کر ادا کرنا جائز نہیں اسی لئے کہا گیا ہے کہ یہ واجب کے قریب ہیں ۔ تاتار خانیہ میں نافع سے اسی طرح منقول ہے بغیر عذر کے سواری کی حالت میں بھی انھیں ادا کرنا جائز نہیں جیسا کہ سراج الوہاج میں ہے ۔ اور سنتیں اگر اپنے وقت سے قضا ہوجائیں توان کی قضا نہیں البتہ اگر فجر کی سنتیں فرائض کے ساتھ رہ جائیں تو طلوع شمس کے بعد زوال سے پہلے پہلے قضاکی جائیں اس کے بعد ساقط ہو جائیں گی۔ اسی طرح محیط سرخسی میں ہے کہ یہی صحیح ہے اسی طرح البحرالرائق میں ہے
#10508 · باب قضاء الفوائت ( فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا بیان)
لایقضی عندھما خلا فالمحمد رحمۃ اﷲ تعالی کذافی المحیط السرخسی ۔ واﷲ تعالی اعلم
جب یہ سنیتں فرض کے بغیر رہ جائیں تو شیخین کے نزدیك ان کی قضا نہیں امام محمد کی رائے اس کے خلاف ہے ( کہ قضا کی جائیں ) جیسا کہ محیط سرخسی میں ہے ۔ (ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : شعبان ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کی چار سنتیں قبل عشا کے فوت ہوگئیں مثلا جماعت قائم ہوگئی نہ پڑھنے پایا شریك ہوگیا اب بعد نماز ان کی قضا جائز ہے یا نہیں علمائے عصر سے بعض مولویوں نے فرمایا قضا کرے اور ان کے خلاف بعض عالموں نے فتوی لکھا کہ ان کی قضا نہیں وہ مستحب ہیں اورقضا سنت مؤکدہ کی ہے نہ مستحب کی۔ جب اس کا محل جاتارہا پڑھنا بھی دورہوا اور بعض اجلہ فضلا نے یہ تحریر فرمایا کہ ان کی قضا خلاف قیاس وخلاف اجماع فقہا ہے اور اگر لازم سمجھے گا تو بدعت مذمومہ ہوگا اس صورت میں قول فیصل کیا ہے بینوا تؤجروا ۔
الجواب :
الھم ھدایۃ الحق والصواب قول فیصل اس مسئلہ میں یہ ہے کہ یہ سنتیں اگر فوت ہوجائیں تو ان کی قضا نہیں علامہ علائی درمختار میں فرماتے ہیں :
اماماقبل العشاء فمندوب لایقضی اصلا ۔
عشا کے فرائض سے پہلے جو رکعتیں ہیں وہ مستحب ہیں ان کی قضا نہیں ۔ (ت)
لیکن اگر کوئی بعد دو سنت بعدیہ کے پڑھے تو کچھ ممانعت نہیں علامہ طحطاوی حاشیہ شرح نورالایضاح میں فرماتے ہیں :
لامانع من قضاء التی قبل العشاء بعدھا ۔
عشا کی پہلی سنتوں کو عشا کے بعد ادا کرلینے میں کوئی رکاوٹ نہیں ۔ (ت)
ہاں اس شخص سے وہ سنن مستحبہ ادا نہ ہوں گی جو عشا سے پہلے پڑھی جاتی تھیں بلکہ ایك نفل نماز مستحب ہوگی جیسے تراویح
حوالہ / References &فتاوی ہندیہ باب فی النوافل€ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۱۲
&درمختار€ ، &باب ادراك الفریضہ€ ، مطبوعہ مجتبائی دہلی ، ١ / ١٠٠
&حشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب ادراك الفریضہ€ مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ٢٤٦
#10509 · باب قضاء الفوائت ( فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا بیان)
وسنت مغرب و دو۲ سنت عشا کہ ان کی قضا نہیں پھر اگر کوئیآجکی فوت شدہ تراویح کل پڑھے تو نفل ہوں گے نہ سنن و تراویح نہ شرعا مکروہ و قبیح ۔ علامہ امین الدین محمد ردالمحتار میں انہی سنن عشا کی نسبت فرماتے ہیں :
لو قضا ھا لاتکون مکروھۃ بل تقع نفلا مستحبا لا علی انھاھی التی فاتت عن محلہا کما قالوہ فی سنۃ التراویح ۔
اگر انھیں قضا کرلیا جائے تو کراہت نہیں بلکہ نفل مستحبہ ہوجائیں گی اور یہ اپنے محل سے فوت ہونے والی نماز نہیں بلکہ (یہ نئی نماز ہوگی) جیسا کہ فقہاء نے تراویح کے بارے میں فرمایا ہے۔ (ت)
تنویر الابصار و درمختار کی مبحث تراویح میں ہے :
لا تقضی اذافاتت اصلا ولا وحدہ فی الاصح فان قضاھا کانت نفلا مستحبا ولیس بتراویح کسنۃ مغرب و عشا ۔
جب تراویح فوت ہوجائیں تو ان کی قضا نہیں نہ جماعت سے نہ اکیلے اصح قول کے مطابق ۔ اور اگر کوئی قضا کرلیتا ہے تو نفل مستحب بن جائیں گی اور یہ نماز تراویح نہ ہوگی جیسا کہ مغرب و عشا کی سنتوں کا حکم ہے۔ (ت)
اقول : وباﷲ التوفیق ( میں اﷲ کی توفیق سے کہتا ہوں ۔ ت) تحقیق مقام و تنفیح مرام یہ ہے کہ حقیقۃ قضانہیں مگر فرض یا واجب کی
الاداء فی محل اداء النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم داخل فی مطلق السنۃ فما ادی فی غیر المحل لا یکون سنۃ فلا یکون قضاء اذا القضاء مثل الفائت بل عینہ عندالمحققین نعم ما عین لہ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم محلا بعد فوتہ فیقع سنۃ فیکون قضاء حقیقۃ
حضور علیہ الصلوۃو السلام کی ادائیگی کے محل میں ادا مطلق سنت میں شامل ہے لہذا جو اس کے علاوہ وقت میں ادا ہوں گے وہ سنت ہی نہیں ہوں گے لہذا قضا کہاں ! کیونکہ قضاء فوت شدہ کی مثل بلکہ محققین علماء کے ہاں عین نماز ہوتی ہے ہاں فوت ہونے کے بعد جس کا وقت خود رسالتمآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے معین فرمادیا وہ ادائیگی سنت ہوگی اور قضا بھی حقیقی ہوگی ۔ (ت)
حوالہ / References &ردالمحتار باب ادراك الفریضہ€ مطبوعہ مصطفےٰ البابی مصر ١ / ٥٣١
&درمحتار باب الوتر€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٩٨
#10510 · باب قضاء الفوائت ( فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا بیان)
باقی نوافل وسنن اگرچہ موکدہ ہوں مستحق قضا نہیں کہ شرعا لازم ہی نہ تھی جو بعد فوت ذمہ پرباقی ر ہیں
فی الھدایۃ الاصل فی السنۃ ان لاتقضی الاختصاص القضاء بالواجب اھ وتمام تحقیقہ فی الفتح ۔
ہدایہ میں ہے سنت میں اصل یہ ہے کہ اس کی قضا نہیں کیونکہ قضا واجب کے ساتھ مخصوص ہے اھ اور اس پر تمام گفتگو فتح میں ہے ۔ (ت)
مگر بعض جگہ بر خلاف قیاس نص وارد ہوگیا وہی سنتیں جو ایك محل میں ادا کی جاتی تھیں بعد فوت دوسری جگہ ادا فرمائی گئیں جیسے فجر کی ستنیں جبکہ فرض کے ساتھ فوت ہوں بشرطیکہ بعد بلندیآفتابوقبل از زوال ادا کی جائیں یا ظہر کی پہلی چار سنتیں جو فرض سے پہلے نہ پڑھی ہو تو بعد فرض بلکہ مذہب ارجح پر بعد سنت بعد یہ کے پڑھیں بشرطیکہ ہنوز وقت ظہر باقی ہو نص علی کل ذلك فی غیر ما کتاب کردالمحتار( اس پر متعدد کتب مثلا ردالمحتار میں تصریح ہے ۔ ت) ان شرائط کےساتھ جب یہ دونوں سنتیں بعد فوت پڑھی جائیں گی تو بعنیہا وہی سنتیں ادا ہوں گی جو فوت ہوئی تھیں اور ان کے سوا اور فوت شدہ سنتیں یا یہی سنتیں بے مراعات ان شرائط کے پڑھی جائیں گی تو صرف نفل ہوں گی نہ سنت فائۃ۔ بالجملہ جو یہ کہے کہ ان کی قضا کا حکم ہے وہ خطا پر ہے اور جو کہے ان کی قضا ممنوع ہے وہ بھی غلطی پر ہے اور جوکہے ان کی قضا نہیں مگر بعد کو پڑھ لے تو کچھ حرج نہیں وہ حق پر ہے واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : مسؤلہ حافظ مولوی عبدالوحید صاحب جمادی الاولی ۱۳۱۸ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے کہ صبح کی سنتیں قضا قبل طلوع شمس کے پڑھنا بہتر ہے اور عمر کہتا ہے بعد کو بہتر ہے اول حدیث پر عمل کرنا چاہئے اور عمر کہتا ہے دوسری حدیث پر عمل کرنا چاہئے ۔ بینوا توجروا
الجواب :
اگر صبح کی نماز اور سنتیں بسبب خوف جماعت خواہ کسی اور وجہ سے رہ گئیں تو ان کی قضا اگر کرے تو بعد بلندآفتابپڑھے قبل طلوع نہ صرف خلاف اولی بلکہ ناجائز و گناہ وممنوع ہے۔ صحیح بخاری وصحیح مسلم وغیر ہما صحاح وسنن ومسانید میں امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے :
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن الصلوۃ بعد الصبح حتی تطلع الشمس وبعد العصر حتی
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے طلوع سحر کے بعد طلوع آفتاب تك اور عصر کے بعد غروب آفتاب تك نماز سے
حوالہ / References &الہدایۃ باب ادراك الفریضہ€ مطبوعہ المکتبہ العربیہ دستگیر کالونی کراچی ١ / ۱۳۳
#10511 · باب قضاء الفوائت ( فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا بیان)
تغرب ۔
منع کیا ہے ۔ (ت)
صحیح بخاری و صحیح مسلم وغیرہمامیں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لاصلوۃ بعد الصبح حتی تر تفع الشمس ولابعد العصر حتی تغرب الشمس ۔
صبح کے سورج کے بلند ہونے تك نماز نہیں اور عصر کے بعد غروب آفتاب تك نماز نہیں ۔ (ت)
صحیح بخاری وصحیح مسلم وغیرہما میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے :
ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نھی عن الصلوۃ بعد العصر حتی تغرب الشمس وعن الصلوۃ بعد الصبح حتی تطلع الشمس ۔
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے عصر کے بعد غروبآفتابتك اور صبح کے بعد طلوع آفتابتك نماز سے منع فرمایا ہے ۔ (ت)
علما فرماتے ہیں اس مضمون کی حدیثیں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے متواتر ہیں ذکرہ المناوی فی التیسیر فی شرح الجامع الصغیر (اسے امام مناوی نے التیسیرفی شرح الجامع الصغیر میں ذکر کیا ہے ۔ ت)درمختار میں ہے :
کرہ نفل قصدا و لو تحیۃ مسجد وکل ماکان واجب لغیرہ کمنذور ورکعتی طواف والذی شرع فیہ ثم افسدہ ولوسنۃ فجر بعدصلوۃ فجر و عصر اھ ملخصا
نماز فجر اور عصر کے بعد وہ تمام نوافل ادا کرنے مکروہ ہیں جو قصدا ہوں اگر چہ تحیۃ المسجد ہوں اور ہر وہ نماز جو غیر کی وجہ سے لازم ہو مثلا نذر اور طواف کے نوافل اور ہر نفل نماز جس میں شروع ہوا پھر اسے توڑ ڈالا اگر چہ وہ فجر اور عصر کی سنتیں ہی کیو ں ہوں اہ ملخصا (ت)
ردالمحتار میں ہے :
الکراھۃ ھنا تحریمیۃ ایضا کما صرح بہ فی الحلیۃ ولذا عبرفی الخانیۃ و
یہ کراہت تحریمہ ہے جیسا کہ اس کی تصریح حلیہ میں ہے اسی لئے خانیہ اور خلاصہ میں عدم جواز سے تعبیر کیا گیا
حوالہ / References &صحیح البخاری کتاب مواقیت الصلوٰۃ باب الصلوٰۃ بعد الفجر€ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٨٢
&صحیح البخاری کتاب مواقیت الصلوة باب لاتتحرالصلوٰۃ الخ€ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٨٣
&صحیح البخاری کتاب الصلوٰۃ بعد الفجر باب الصلوٰۃ بعد الفجر€ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٨٢ و٨٣
&درمختار کتاب الصلوٰۃ€ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٦١
#10512 · باب قضاء الفوائت ( فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا بیان)
الخلاصۃ بعدم الجوازوالمراد عدم الحل ۔
اور اس سے مراد یہ ہے کہ حلال نہیں ۔ (ت)
امام احمد وترمذی وحاکم بسند صحیح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من لم یصل رکعتی الفجر فلیصلھا بعد ماتطلع الشمس ۔ قال الحاکم صحیح و اقرہ الذھبی فی التلخیص۔
جس نے صبح کی سنت نہ پڑھی ہوں وہ بعد طلوعآفتابپڑھے امام حاکم نے اس روایت کو صحیح قراردیا اور امام ذہبی نے تلخیص میں اس کی صحت کو برقرار رکھا ۔ (ت)
رہی حدیث ابوداؤد :
حدثنا عثمن بن ابی شیبۃ نا ابن نمیر عن سعد بن سعید ثنی محمد بن ابراھیم عن قیس بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہ قال رأی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم رجلا صلی بعد صلوۃ الصبح رکعتیں فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم صلوۃ الصبح رکعتان فقال الرجل انی لم اکن صلیت الرکعتین اللتین قبلھما فصلیتھما الان فسکت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ و رواہ ابن ماجۃ حد ثنا ابوبکر بن ابی شیبۃ ثنا عبداﷲ بن نمیر الخ سندا و متنا نحوہ غیر انہ قال قال النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الصلوۃ الصبح مرتین ۔
عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابن نمیر نے سعد بن سعید سے کہ محمد بن ابراہیم نے قیس بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ سے بیان کیا کہ انھوں نے فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ایك شخص کو بعد صلوۃ صبح دو رکعتیں پڑھتے دیکھا فرمایا صبح کی دو ہی رکعتیں ہیں اس شخص نے عرض کی سنتیں میں نے نہ پڑھی تھیں وہ اب پڑھ لیں اس پر نبی اکر م صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے سکوت فرمایا۔ اسے ابن ماجہ نے سندا و متنا روایت کیا ہے اور کہا ہمیں ابوبکر بن ابی شیبہ نے عبداﷲ بن نمیر سے بیان کیا الخ البتہ ان الفاظ کے علاوہ کہ رسالتماب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : کیا صبح کی نماز دو دفعہ ہے (ت)
حوالہ / References &درالمحتار کتاب الصلوٰۃ€ ، مطبوعہ مصطفے البابی مصر ١ / ٢٧٦
&جامع الترمذی ابواب الصلوٰۃ باب ماجاء فی اعادتہا بعد طلوع الشمس€ مطبوعہ امین کمپنی دہلی ١ / ٥٧
&سنن ابوداؤد کتاب الصلوٰۃ باب من فاتتہ متی یقضیہا€ ، مطبوعہ آفتابعالم پریس لاہور ١ / ١٨٠
&سنن ابن ماجہ€ ، &باب فی ماجاء فیمن فاتتہ الرکعتان الخ€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ٨٢
#10513 · باب قضاء الفوائت ( فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا بیان)
اور اسی حدیث میں ترمذی کی روایت یوں ہے :
حد ثنا محمد بن عمر و السواق نا عبدالعزیز بن محمد عن سعد بن سعید عن محمد بن ابرھیم عن جدہ قیس قال خرج رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فا قیمت الصلوہ فصلیت معہ الصبح ثم انصرف النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فوجدنی اصلی فقال مہلا یاقیس اصلاتان معا قلت یارسول اﷲ انی لم اکن رکعت رکعتی الفجر قال فلا اذا ۔
محمد بن عمر والسواق نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز بن محمد نے سعد بن سعید سے انھوں نے محمد بن ابراہیم سے انھوں نے اپنے دادا حضرت قیس سے بیان کیا کہ انھوں نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تشریف لائے جماعت کے لئے تکبیر کہی گئی میں نے آپ کی اقتدا میں نماز صبح ادا کی پھر رسالتمآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے چہرہ اقدس پھیرا تو آپ نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے پایا فرمایا : اے قیس ! ٹھر جا کیا دو نمازیں اکٹھی ہوگئی ہیں عرض کیا : یا رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ! میں فجر کی سنتیں ادا نہیں کرسکا۔ فرمایا تو اب حرج نہیں ۔ (ت)
جس میں بیان ہے کہ وہ شخص خود یہی قیس تھے ان کا وہ عذر سن کر نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا تو اب حرج نہیں یہ حدیث ان احادیث جلیلہ صحیحہ کے مقابل لانے کے قابل نہیں
اولا : اس کی سند منقطع ہے خود امام ترمذی نے بعد روایت حدیث فرمایا :
اسناد ھذا الحدیث لیس بمتصل محمد بن ابراھیم التیمی لم یسمع من قیس ۔
اس حدیث کی سند متصل نہیں کیونکہ محمد بن ابراہیم التیمی نے حضرت قیس سے سماع نہیں کیا۔ (ت)
ثانیا : خود سعد بن سعید پر اس کی سند میں اختلاف کیا گیا بعض نے صحابی کو ذکر ہی نہ کیا جامع ترمذی میں ہے :
وروی بعضھم ھذا الحدیث عن سعد بن سعید عن محمد بن ابراھیم ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خرج فرأی قیسا۔
بعض نے یہ حدیث اس سند سے بیان کی ہے سعد بن سعید محمد بن ابراہیم سے کہ بنی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تشریف لائے اور قیس کو دیکھا ۔ (ت)
حوالہ / References &جامع الترمذی ابواب الصلوٰۃ باب ماجا فی من تفوتہ الرکعتان الخ€ مطبوعہ امین کمپنی کراچی ١ / ٥٧
&جامع الترمذی ابواب الصلوٰۃ باب ماجا فی من تفوتہ الرکعتان الخ€ مطبوعہ امین کمپنی کراچی ١ / ٥٧
&جامع الترمذی ابواب الصلوٰۃ باب ماجا فی من تفوتہ الرکعتان الخ€ مطبوعہ امین کمپنی کراچی ١ / ٥٧
#10514 · باب قضاء الفوائت ( فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا بیان)
ثالثا : عامہ رواۃ نے اسے مرسلا روایت کیا خود انھیں سعید کے دونوں بہائی عبد ربہ بن سعید و یحیی بن سعید کہ دونوں سعد سے اوثق واحفظ ہیں مرسلا روایت کرتے جامع ترمذی میں ہے : انما یروی ھذا الحدیث مرسلا ۔ ( یہ حدیث مرسلا مروی ہے ۔ ت) سنن ابی داؤد میں ہے :
روی عبد ر بہ و یحیی ابنا سعید ھذا الحدیث مرسلاان جدھم عــــہ زید ا صلی مع النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔
سعید کے بیٹے عبدربہ اور یحیی دونوں نے اس حدیث کو مرسلا روایت کیا کہ ان کے دادا زید نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی ۔ (ت)
رابعا : مدار اس روایت کا سعد بن سعید پر ہے جامع ترمذی میں ہے :
حدیث محمد بن ابرھیم لانعرفہ مثل ھذا الامن حدیث سعد بن سعید ۔
ہم محمد بن ابرہیم سے مروی اس حدیث کو سعد بن سعیدکے علاوہ کسی سے نہیں جانتے ۔ (ت)
اور سعد باوصف توثیق مقال سے خالی نہیں ان کا حافظہ ناقص تھا امام احمد نے انھیں ضعیف کہا امام نسائی نے فرمایا قوی نہیں امام ترمذی نے فرمایا تکلموافیہ من قبل حفظہ یعنی ائمہ حدیث نے ان سعد میں ان کے حافظہ کی طرف سے کلام فرمایا ۔ لاجرم تقریب میں ہے : صدوق سئ الحفظ آدمی سچے ہیں حافظہ براہے ۔
عــــہ وقع فی نسخ السنن الثلث التی عندی ان جدھم زید وھو مشکل فان جد یحیی قیس لازید وقد انکرہ الحافظ فی الاصابۃ فقال بعد ذکر الروایۃ ھکذا قرأتمنہ (م)
میرے پاس تینوں سنن کے نسخوں میں یہ ہے کہ ان کے جد کا نام زید ہے لیکن یہ محل اشکال ہے کیو نکہ یحیی کے جد کا نام قیس ہے زید نہیں ۔ حافظ ابن حجر نے اصابہ میں اس کا انکار کیا اورروایت ذکر کرنے کے بعد کہا میں نے اسی طرح پڑھا ہے منہ (ت)
حوالہ / References &جامع الترمذی ابواب الصلوٰۃ باب ماجاء فی من تفوتہ الرکعتان الخ€ مطبوعہ امین کمپنی دہلی ، ١ / ٥
&سنن ابوداؤد کتاب الصلوٰۃ باب من فاتتہ متی یقضیہا€ مطبوعہ آفتابعالم پریس لاہور ١ / ١٨٠
&جامع الترمذی ابواب ماجاء فی من تفوتہ الرکعتان الخ€ مطبوعہ امین کمپنی دہلی ١ / ٥٧
&تہذیب التہذیب ترجمعہ سعد بن سعید نمبر€ ٨٧٦مطبوعہ دائرۃ المعارف حیدرآباد دکن ہند ٣ / ٤٧١
&تقریب التہذیب ترجمعہ سعد بن سعید نمبر€ ٢٢٤٤ حرف &السین المہملۃ€ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ١ / ٣٤٣
#10515 · باب قضاء الفوائت ( فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا بیان)
ان وجوہ کی نظر سے یہ حدیث واحد خود ان احادیث صحیحہ کثیرہ کے مقابل نہ ہو سکتی خصوصا اس حالت میں كہ وہ مثبت ممانعت ہیں اور یہ ناقل اجازت اور قاعدہ مسلمہ ہے کہ جب دلائل حلت وحرمت متعارض ہوں حرمت وممانعت کو ترجیح دی جائے گی۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : صفرھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ سنن اربعہ جو بروز جمعہ قبل از خطبہ پڑھی جاتی ہیں اگر وہ کسی عذر سے ترك ہوجائیں تو بعد خطبہ اور فرضوں کے ان کی ادا ہے یا نہیں بینوا بحوالۃ الکتاب وتوجروا عند اﷲ الوھاب
الجواب :
ہے اور سنتوں ہی کی نیت کرے وہ سنت ہی واقع ہوں گی
فی الدرالمختار بخلاف سنہ الظھر وکذا الجمعۃ فانہ ان خاف فوت رکعۃ یترکھا ویقتدی ثم یأتی بھا علی انھا سنۃ فی وقتہ ای الظھر ۔
درمختار میں ہے کہ بخلاف ظہر کی سنتوں کے او ر اسی طرح جمعہ کی سنتوں کے اگر ایك رکعت کے فوت ہونے کا خطرہ ہے تو سنتیں چھوڑ کر امام کی اقتداء کرے پھر ان کو وقت ظہر میں ادا کرے۔ (ت)
ہاں اگر وقت ظہر نکل گیا توا ب قضا نہیں لما قد منا ( جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کردیا ہے ۔ ت) واﷲ تعا لی اعلم
مسئلہ : ربیع الآخر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے فرض فجر کی جماعت سے پڑھے اور سنت اس کی فوت ہوئیں بوجہ ادائے فرض کے اب ان سنتوں کو بعد ادائے فرض پڑھے یا بعد طلوع آفتاب اور وقت بھی ادائے سنت کا باقی ہو اور کسی کے فرض وسنت دونوں فوت ہوئے ہوں تو ان سنت وفرض کو بعد طلوع آفتاب کے پڑھے اور سنت کی قضا کس وقت تك چاہئے
الجواب :
جب فجر کے فرض پڑھ لئے توآفتاب بلند ہونے سے پہلے سنتیں پڑھنے کی اجازت نہیں اگر چہ فجر کا ابھی ایك گھنٹا وقت باقی ہو ہاں بعدبلندیآفتاب پڑھے اور جس کے فرض وسنت دونوں فوت ہوئے ہوں وہ طلوع کے بعد استواء سے پہلے فرض وسنت دونوں کی قضا کرے اور اگر یہ وقت بھی گزر گیا بعد زوال فرضوں کی قضا
حوالہ / References &درمختار باب ادراك الفریضہ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٠٠
#10516 · باب قضاء الفوائت ( فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا بیان)
پڑھے تو اب سنتوں کی قضا نہیں والمسائل مبسوطۃ فی الدر وغیر عامۃ الاسفار الالغر ( ان مسائل کی تفصیل در اور دیگر کتب مبارکہ میں ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از ملك بنگال ضلع نواکھالی ڈاکخانہ چندراگنج موضع ودالیا مرسلہ محمد ابراہیم شوال ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کوئی شخص عمر بھر نماز کبھی نہیں پڑھی اب یہ شخص مرگیاتو اس وقت اس کی قضائے عمری کی کیا صورت ہے اس کا اگر کوئی تدارك ہوسکے تو کیا ہے بینوا توجروا
اگر وقت بلوغ معلوم نہ ہو تو مرد کے لئے اس عمر سے بارہ برس اور عورت کے لئے برس کم کریں اور باقی تمام برسوں کے دن کرکے ہردن کی نماز کے لئے آٹھ سو دس تولے گیہوں کہ سو روپے بھر کے سیر سے کچھ کم نو سیر ہوئے یا سولہ سو بیس تولہ جو یاان کی قیمت ادا کریں کل کے ادا کی طاقت نہ ہو توجس قدر پر قدرت ہو محتاج کو دے کر قابض کردیں محتاج اپنی طرف سے پھر ان کو ہبہ کردے یہ قبضہ کرکے پھر کفارہ میں محتاج کودیں وہ بعد قبضہ پھر ان کو ہبہ کردے یہ پھر قبضہ کرکے کفارہ میں دیں یونہی دورکرتے رہیں یہاں تك کہ اداہوجائے۔ عورت کی عادت حیض اگر معلوم ہو تو اس قدر دن اور نہ معلوم ہو تو ہر مہینے سے تین دن نو برس کی عمر سے پچاس برس کی عمر تك مستثنی کریں مگر جتنی بار حمل رہا ہو مدت حمل کے مہینوں سے ایام حیض کا استثناء نہ کریں عورت کی عادت دربارہ نفاس اگر معلوم ہو تو ہر حمل کے بعد اتنے دن مستثنی کرے اور نہ معلوم ہو تو کچھ نہیں کہ نفاس کے لئے جانب اقل میں شرعا کچھ تقدیر نہیں ممکن ہے کہ ایك ہی منٹ آکر فورا پاك ہوجائے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از اوجین علاقہ گوالیار مکان میر خام علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ محمد یعقوب علی خان رمضان المبارك ھ
چہ می فرمایند علمائے محقق دین ومفتیان مدقق پابند شرع متین دریں مسئلہ کہ اکثر عوام الناس درآخرر جمعہ رمضان المبارك نماز قضائے عمری پنجوقتہ متخلف امام می خوانند درست است یا ممنوع زیرا کہ نماز قضا بدون ادا ساقط و دورنمی شوداگرکسے بروز جمعہ آخری رمضاب شریف قضائے نماز تمام عمر بہ نیت قضائے عمری بخواہد کہ اداشود تعجب ست انتہی و نیز صورت نماز قضائے روز متفرقہ چیست یعنی
علمائے دین ومفتیان شرع میتن اس مسئلہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ رمضان المبارك کے آخری جمعہ میں عوام الناس امام کی اقتداء میں پانچ وقتی نماز قضا عمری پڑھتے ہیں یہ درست ہے یا ممنوع کیونکہ قضا نماز جب تك ادا نہ کی جائے ساقط نہیں ہو سکتی اور اگر کوئی شخص رمضان کے آخری جمعہ کو تمام عمر کی قضا نمازوں کی نیت سے قضا عمری پڑھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ تمام عمر کی نمازیں ساقط ہوجائیں گی اس پر
#10517 · باب قضاء الفوائت ( فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا بیان)
قضائے عصریکے روز سہ شنبہ ونماز قضائے عصر دوم چہارشنبہ اگر ایں ہر دومردم نماز قضائے عصر جداگانہ بجماعت ادا نماز ینددرست ست یا منع چراکہ نماز ہر دومردم روز یکے نیست علاوہ بریں امام صاحب ترتیب ست و مقتدیان ازیں خوبی عاری پس چنیں امام قضائے یقینی مقتدیان کہ اکثر قضائے نماز ذمہ اوست فارغ الذمہ میشوند یا حکم آں چہ ۔ اعنی پس ادا کنندہ نفل نماز فرض بچہ طور ادامی شودبشرح بسیط بیان فرمایند بحوالہ عبارت کتب رحمۃ ﷲ علیکم اجمعین۔
تعجب ہے انتہی مختلف دنوں کی نمازوں کی قضاء کی صورت کیا ہے مثلاایك آدمی کی منگل کی عصر اور دوسرے کی بدھ کی عصر قضا ہوگئی ہے اگر دونوں عصر کی قضا آپس میں باجماعت ادا کرتے ہیں تو یہ درست ہے یا ممنوع کیونکہ دونوں کی نماز ایك دن کی نہیں ۔ علاوہ ازیں امام صاحب ترتیب ہے لیکن مقتدی صاحب ترتیب نہیں اس طرح کے امام کے پیچھے مقتدیوں کی قضا نمازیں ساقط ہوجائینگی یا ان کا حکم کیا ہے یعنی نفل ادا کرنے سے فرض کس طرح ساقط ہوسکتے ہیں عبارت کتب کے حوالہ جات سے تفصیلا بیان فرمائیں تم پر اﷲ کی رحمت ہو۔ (ت)
الجواب :
ایں طریقہ کہ بہر تکفیر صلوات فائتہ احداث کردہ اند بدعت شنیعہ دردین نہادہ اند حدثیش موضوع و فعلش ممنوع وایں نیت واعتقاد باطل ومدفوع اجماع مسلمین بربطلان ایں جہالت شنیعہ وضلالت فظیعہ قائم ست حضور پر نور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرمودہ اند : من نسی صلوۃ فلیصلہا اذا ذکرھا لا کفارۃ لھا الا ذلک ہر کہ نمازے فراموش کردچوں یادآید آں نماز بازگزا ردجزایں مر اورا کفارہ نیست اخرجہ احمد والبخاری ومسلم واللفظ لہ والتر مذی
فوت شدہ نمازوں کے کفارہ کے طور پر یہ جو طریقہ ( قضائے عمری) ایجاد کرلیا گیا ہے یہ بد ترین بدعت ہے اس بارے میں جو روایت ہے وہ موضوع ( گھڑی ہوئی) ہے یہ عمل سخت ممنوع ہے ایسی نیت و اعتقاد باطل و مردود اس جہالت قبیحہ اور واضح گمراہی کے بطلان پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے حضور پر نور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا رشاد گرامی ہے : جو شخص نماز بھول گیا تو جب اسے یاد آئے اسے ادا کرلے اس کا کفارہ سوائے اس کی ادائیگی کے کچھ نہیں اسے امام احمد بخاری مسلم ( مذکورہ الفاظ بھی اس کے ہیں ) ترمذی نسائی اور دیگر محدثین نے حضرت
حوالہ / References &صحیح البخاری کتاب موقیت الصلوٰۃ باب من نسی صلوٰۃ الخ€ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٨٤ ، &صحیح مسلم باب قضاء الصلوٰۃ الفائتہ نور محمد اصح المطابع€ کراچی ١ / ٢٤١
#10518 · باب قضاء الفوائت ( فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا بیان)
والنسائی وغیر ھم عن انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ ۔ علامہ علی قاری رحمۃ الباری در موضوعات کبیر گوید :
حدیث “ من قضی صلوۃ من الفرائض فی اخر جمعۃ من رمضان کان ذلك جابرا لکل صلوۃ فائتۃ فی عمرہ الی سبعین سنۃ “ باطل قطعا لانہ مناقض للاجماع علی ان شیأ من العبادات لاتقوم مقام فائتۃ سنوات الخ امام ابن حجر مکی درتحفہ شرح منہاج الامام النووی باز علامہ زرقانی درشرح مواہب امام قسطلانی رحمہم اللہ تعالی فرمایند :
اقبح من ذلك مااعتید فی بعض البلاد من صلوۃ الخمس فی ھذہ الجمعۃ عقب صلوتھا زاعمین انھا تکفر صلوۃ العام اوالعمر المتروکۃ و ذلك حرام لوجوہ لا تخفی ۔
واقتدائے قاضی عصر امروز بقاضی عصر دیرروز نارواست زیر اكہ اتحاد نماز شرط صحت اقتدا ست وہمچناں اقتدائے مفترض بمتنفل نیز کہ زنہار درست نباشدپس بدیں صورتہاذمہ از نماز فارغ نشود۔ فی نور الایضاح وشرحہ مراقی الفلاح
انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ علامہ قاری علیہ رحمۃ الباری موضوعات کبیر میں کہتے ہیں : حدیث “ جس نے رمضان کے آخری جمعہ میں ایك فرض نماز ادا کرلی اس سے اس کی ستر سال کی فوت شدہ نمازوں کا ازالہ ہوجاتا ہے “ یقینی طور پر باطل ہے کیونکہ اس اجماع کے مخالف ہے کہ عبادات میں سے کوئی شئی سابقہ سالوں کی فوت شدہ عبادات کے قائم مقام نہیں ہوسکتی الخ امام ابن حجر کی تحفہ شرح منہاج للامام النووی میں پھر علامہ زرقانی شرح مواہب امام قسطلانی رحمہم اللہ تعالی میں فرماتے ہیں : اس سے بھی بدتر وہ طریقہ ہے جو بعض شہروں میں ایجاد کر لیا گیا ہے کہ جمعہ کے بعد پانچ نمازیں اس گمان سے ادا کرلی جائیں کہ اس سے سال یا سابقہ تمام عمر کی نمازوں کا کفارہ ہے اور یہ عمل ایسی وجوہ کی بنا پر حرام ہے جو نہایت ہی واضح ہیں ۔ باقی آج کی عصر قضا کرنے والے کی اقتداء میں کل کی عصر قضا کرنے والا نماز ادا نہیں کرسکتا کیونکہ اقتداء کے لئے نماز کاایك ہونا شرط ہے اور اسی طرح فرض پڑھنے والے کا نفل پڑھنے والے کی اقتداء کرنا ہر گز درست نہیں لہذا اس صورت میں نمازوں کا ذمہ ساقط نہیں ہوگا۔ نورالایضاح اور اس کی شرحہ مراقی الفلاح میں
حوالہ / References &الاسرار الموضوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ حدیث€ ٩٥٣ مطبوعہ دارالکتب العربیۃ بیروت ص ٢٤٢
&شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ واما حفیظۃ رمضان دارالمعرفۃ بیروت€ ٧ / ١١٠
#10519 · باب قضاء الفوائت ( فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا بیان)
شرط صحۃ الاقتداء ان لایکون الا مام مصلیا فرضا غیرفرض الماموم کظھر وعصر وظھر ین من یومین اھ ملخصا وفی تنویر الابصار والدرالمختار وردالمحتار لا مفترض بمتنفل ومفترض فرضا آخر کمصلی ظھر أ مس بمصلی ظھر الیوم لان اتحاد الصلوتین شرط انتھت ملخصۃ واﷲ تعالی اعلم
ہے اقتدا کے لئے یہ شرط ہے کہ امام اور مقتدی کے فرائض الگ الگ نہ ہوں مثلا ایك ظہر اور دوسرا عصر یا دونوں دو دنوں کی ظہر ادا کر رہے ہوں (تو پھر اقتداء جائز نہ ہوگی ) تلخیصا تنویر الابصار درمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ فرض ادا کرنے والا نفل پڑھنے والے کی اقتدا نہیں کرسکتا اسی طرح ایك اور فرض پڑھنے والا ہے دوسرا دوسرے فرض والا ہے ان کا ایك دوسرے کی اقتداء کرنا بھی جائز نہیں مثلا کل کی ظہر پڑھنے والے کی آج کی ظہر پڑھنے والا اقتدا کرے کیونکہ دونوں کی نمازوں کا ایك ہونا شرط ہے انتہت تلخیصا واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۱۲۰۲ : کیا فرماے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس پر قضا نماز زیادہ ہوں وہ ان کی نیت کیونکر کرے اور قضا میں کیا کیا نماز پھیری جاتی ہے اور جس کے ذمہ قضائیں بہت کثیر ہیں جن کی ادا سخت دشوار ہے تو آیا اس کے لئے کوئی تخفیف نکل سکتی ہے جس سے ادا میں آسانی ہوجائے کہ ادا میں جلدی منظور ہے کہ موت کا وقت معلوم نہیں ۔ بینوا توجروا
الجواب :
قضا ہر روز کی نماز کی فقط بیس رکعتوں کی ہوتی ہے دو فرض فجر کے چارظہر چار عصر تین مغرب چار عشاء کے تین وتر۔ اور قضا میں یوں نیت کرنی ضرور ہے کہ نیت کی میں نے پہلی فجر جو مجھ سے قضا ہوئی یا پہلی ظہر جو مجھ سے قضا ہوئی اسی طرح ہمیشہ ہر نماز میں کیا کرے اور جس پر قضا نماز میں بہت کثرت سے ہیں وہ آسانی کے لئے اگریوں بھی ادا کرے تو جائز ہے کہ ہر رکوع اور ہر سجدہ میں تین تین بار سبحان ربی العظیم سبحان ربی الاعلی کی جگہ صرف ایك بار کہے مگر یہ ہمیشہ ہر طرح کی نماز میں یاد رکھنا چاہئے کہ جب آدمی رکوع میں پورا پہنچ جائے اس وقت سبحان کا سین شروع کرے اور جب عظیم کا میم ختم کرے اس وقت رکوع سے سر اٹھائے اسی طرح جب سجدوں میں پورا پہنچ لے اس وقت تسبیح شروع کرے اور جب پوری تسبیح ختم کرلے اس وقت سجدہ سے
حوالہ / References &مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب الا مامۃ€ مطبوعہ نور محمد کا رخانہ تجارت کتب کراچی ص ١٥٨
&ردالمحتار معہ الدرلمختار باب الا مامۃ€ مطبوعہ مصطفے البابی مصر ١ / ٤٢٩
#10520 · باب قضاء الفوائت ( فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا بیان)
سر اٹھائے۔ بہت سے لوگ جو رکوع سجدہ میں آتے جاتے یہ تسبیح پڑھتے ہیں بہت غلطی کرتے ہیں ایك تخفیف کثرت قضا والوں کی یہ ہوسکتی ہے دوسری تخفیف یہ کہ فرضوں کی تیسر ی ور چوتھی رکعت میں الحمد شریف کی جگہ سبحان اﷲ سبحان اﷲ سبحان اﷲ تین بار کہہ کر رکوع میں چلے جائیں مگر وہی خیال یہاں بھی ضرور ہے کہ سیدھے کھڑے ہو کر سبحان اﷲ شروع کریں اور سبحان اﷲ پورے کھڑے کھڑے کہہ کر رکوع کے لئے سر جھکائیں یہ تخفیف فقط فرضوں کی تیسری چوتھی رکعت میں ہے وتروں کی تینوں رکعتوں میں الحمد اور سورت دونوں ضرور پڑھی جائیں تیسری تخفیف پہلی التحیات کے بعد دونوں درودوں اور دعا کی جگہ صرف اللھم صلی علی محمد والہ کہہ کر سلام پھیردیں چوتھی تخفیف وتروں کی تیسری رکعت میں دعائے قنوت کی جگہ اﷲ اکبر کہہ کر فقط ایك یا تین بار رب اغفر لی کہے واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از مولوی عبد اﷲ صاحب مدرس منظرالاسلام محلہ سوداگران بریلی صفر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ قضائے عمری نماز ادا کرنے کی حالت میں جو نفل ہر وقت کی نماز میں پڑھے جاتے ہیں وہ قبول ہوں گے یا نہیں
الجواب :
خالی نفلوں کی جگہ بھی قضائے عمری پڑھے واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : کتاب ترکیب الصلوۃ میں لکھا ہے کہ ایك شخص تین بجے رات سے جاگتا رہا اور وقت نماز صبح صادق سوگیا اورآفتاب نکل آیا تو وہ وقت کی نماز پڑھے ثواب اس کو ادا کا ملے گا وقت میں قضا کا لفظ نہ کہے۔
الجواب :
اس نماز کے قضا ہوجانے میں شك نہیں کہ نماز کے لئے شرعا اوقات معین ہیں
قال اﷲ تعالی ان الصلوة كانت على المؤمنین كتبا موقوتا(۱۰۳)
اﷲ تعالی نے فرمایا : بیشك نماز مسلمانوں پر وقت باندھا ہوا فرض ہے
اور قضا ہوجانے کے یہی معنی ہیں کہ شرعا جو وقت مقرر فرمایا گیا تھا وہ جاتارہے رسول اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ان اللصلوۃ اولا واخرا و ان اول وقت الفجر حین یطلع الفجر و ان اخر وقتھا
بیشك ہر نماز کے لئے اول واخر ہے اور بیشك نماز صبح کا اول وقت طلوع فجر کے وقت ہے اور اس کا
حوالہ / References القرآن ٤ / ١٠٣
#10521 · باب قضاء الفوائت ( فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا بیان)
حین تطلع الشمس ۔ رواہ الترمذی والامام الطحاوی بسند صحیح عن الاعمش عن ابی صالح عن ابی ھریرۃ مطولا وھذا مختصر
آخر طلوع شمس پر ہے اسے امام ترمذی اور امام طحاوی نے بسند صحیح اعمش سے انھوں نے ابوصالح سے اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے تفصیلا روایت کیا ہے اور یہ مختصر ہے
امام طحاوی فرماتے ہیں :
ھذا اتفاق المسلمین ان اول وقت الفجر حین تطلع الفجر واخر وقتھا حین تطلع الشمس ۔ اما ما ذکر فی بعض کتب الفقۃ مرفوعا من نام عن صلوۃ اونسیھا فلیصلھا اذااذکرھا فان ذلك وقتھا فاقول : الحدیث فی الصحیحین بلفظ من نسی صلوۃ فلیصلھا اذ اذکرھا لاکفارۃ لھا الا ذلك اخرجاہ عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وفی لفظ لمسلم عنہ من نسی صلوۃ او نام عنھا فکفارتھا ان یصلھا اذاذکرھا وفی اخر لہ انہ فلیصلھا اذاذکرھا فان اﷲ عزو جل یقول اقم الصلوۃ لذکری ولہ عن ابی قتادہ رضی اﷲ تعالی عنہ بلفظ فلیصلھا
یعنی اس پر تمام مسلمانوں کا اجمع ہے کہ نماز صبح کا وقت طلوع فجر سے شروع ہوتا ہے اور طلوع شمس پر جاتا رہتا ہے۔ جو بعض کتب فقہ میں مرفوعا روایت مروی ہے کہ جو شخص نماز سے سوگیا اسے بھول گیا تو وہ جب یاد آجائے اسی وقت نماز ادا کرے کیونکہ یہی اس کا وقت ہے ۔ فاقول : (میں کہتا ہوں ) اس حدیث کو بخاری ومسلم نے حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے ان الفاظ میں روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : جو نماز بھول گیا وہ یاد آنے پر ادا کرے اس نماز کا کفارہ سوائے اس کے کچھ نہیں
مسلم شریف میں انہی سے یہ روایت ان الفاظ میں ہے جو شخص نماز ادا کرنا بھول گیا یا سو گیا نماز رہ گئی تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب یاد آئے اسے ادا کرے ۔ مسلم کی دوسری روایت جو اسی صحابی سے مروی ہے یہ الفاظ ہیں کہ جب نماز
حوالہ / References &جامع الترمذی ابواب الصلوٰۃ باب منہ€ مطبوعہ امین کمپنی دہلی ١ / ٢٢
&شرح معانی الآثار باب مواقیت الصلوٰۃ€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ١٠٣
&صحیح البخاری باب من نسی صلوٰۃ فلیصل اذاذکر الخ€ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٨٤ ، &صحیح مسلم باب قضاء الصلوٰۃ الفائتۃ€ نور محمد اصح المطابع کراچی ١ / ٢٤١
&صحیح مسلم€ ، &باب قضاء الصلوٰۃ الفائتۃ€ ، نور محمد اصح المطابع کراچی ، ١ / ٢٤١
&صحیح مسلم€ ، &باب قضاء الصلوٰۃ الفائتۃ€ ، نور محمد اصح المطابع کراچی ، ١ / ٢٤١
#10522 · باب قضاء الفوائت ( فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا بیان)
حین ینتبہ لھا فاذاکان الغد فلیصلہا عند وقتھا ولہ کالستۃ الا البخاری والترمذی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ کا خر الفاظہ عن انس رضی اﷲ تعالیی عنہ وللتر مذی وصححہ والنسائی فی حدیث ابی قتادہ رضی اﷲ تعالی عنہ فلیصلھا اذا ذکرھا ومثلہ لابی یعلی والطبرانی فی الکبیر عن ابی حنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ ونحوہ لھذا فی الاوسط عن ابی سعید الخدری رضی اﷲ تعالی عنہ ولمالك فی موطاہ عن زید بن اسلم عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا رقد احد کم عن الصلوۃ اونسیھا ثم فزع الیھا فلیصلھا کما کان یصلیھا لوقتھا وللطبرانی عن میمونۃ بنت سعد رضی اﷲ تعالی عنھا اذا ذکرھا فلیصلھا ولیحسن صلوتہ ولیتوضا فلیحسن وضوئہ فذلك کفارتہ و لیس فی شی من ذلك “ فان ذلك وقتھا “ بل قد ارشد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
یاد آئے تو اسے ادا کر ے کیونکہ اﷲ تعالی کا فرمان ہے نماز میری یاد کے لئے قائم کرو۔ اور مسلم نے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ سے یہ الفاظ روایت کئے ہیں کہ وہ شخص جب بیدار ہو تو ادا کرے اور جب دوسرا دن آئے تو اسے وقت پر ادا کرے ۔ بخاری کے سوا صحاح ستہ میں ایسے ہی ہے ۔ ترمذی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے حدیث کے آخر ی الفاظ اس طرح نقل کئے ہیں جو حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی مروی ہیں ترمذی اور نسائی میں حضرت ابو قتاوہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی حدیث میں ہے پس اسے پڑھ لے جب اسے یاد ائے ترمذی نے اس روایت کو صحیح کہا ہے ابویعلی اور المعجم الکبیر للطبرانی میں یہ حدیث امام ابی حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے اسی کی مثل مروی ہے اسی طرح اوسط میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے اور امام مالك کے موطا میں زید بن اسلم سے مروی ہے کہ نبی اکرم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز سے سو جائے یا ا سے بھو ل جائے پھر اسے نماز کے ( قضا) ہونے کا خوف لاحق ہوا تو اسے اسی طرح ادا رکہے جس طرح وقتی نماز
حوالہ / References &صحیح مسلم کتاب المساجد باب قضاء الصلوٰۃ الفائتۃ€ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ١ / ٢٣٩
&جامع الترمذی ابواب الصلوٰۃ باب ماجاء فی النوم عن الصلوٰۃ€ مطبوعہ امین کمپنی کراچی ١ / ٢٥ ، سنن النسائی کتاب المواقیت فیمن نام عن صلوٰۃ مطبوعہ المکتبۃ السلفیہ لاہور ١ / ٧١
&موطا امام مالك کتاب وقوت الصلوٰۃ باب النوم عن الصلوٰۃ€ مطبوعہ میر محمد کتب خانہ کراچی ص ١٠
&المعجم الکبیر مروی ازمیمونہ بنت سعد€ & رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا € مطبوعہ المکتبۃ بیروت ٢٥ / ٣٥
#10523 · باب قضاء الفوائت ( فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا بیان)
فی حدیث ابی قتادۃ رضی اﷲ تعالی عنہ بقولہ فاذاکان الغد فلیصلھا عند وقتھا ان الذی یصلی الیوم لیس لوقتہ والیہ یومی حدیث زید فلیصلھا کما کان یصلیھا لوقتھا نعم للطبرانی فی الاسط و البیھقی فی السنن من نسی صلوۃ فوقتھا اذا ذکرھا وقد نص البیھقی علی تضعیفہ فانی تقوم بہ الحجۃ بل ولئن صح لم یقادح الاجماع علی انہ یقبل التاویل ای انہ یطالب بھا الان کما یطالب بہا فی وقتھا۔
ادا کرتاہے۔ طبرانی میں حضرت میمونہ بنت سعد رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ جب اسے یاد آئے ادا کرے اور اچھی طرح وضو کرے پس یہی اس کاکفارہ ہے ۔ ان تمام روایات میں یہ الفاظ کہ “ یہی اس کا وقت ہے “ ہرگز نہیں ہیں بلکہ رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حدیث ابو قتادہ کے الفاظ “ دوسرے دن کی نماز اپنے وقت پر ادا کرے “ کے ذریعے یہ رہنمائی عطا فرمائی ہے کہ آج اس نے جو نماز پڑھی وہ وقت پر نہ تھی حدیث زید کے الفاظ اسے اسی طرح ادا کرے جیسے وقتی ادا کرتا ہے “ بھی اسی طرف اشارہ کر رہے ہیں ہاں طبرانی نے اوسط اور بہیقی نے سنن میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مرفوعا روایت کیا ہے کہ جو نماز بھول گیا اس کا وقت وہی ہے جب اسے یاد ائے
لیکن امام بیہقی نے اس کے ضعیف ہونے کی تصریح کردی ہے تو یہ روایت دلیل كیسے بن سکتی ہے بلکہ اگر یہ روایت صحیح بھی ہو تو اجماع کو توڑ نہیں سکتی علاوہ ازیں اس کی تاویل کرنا درست ہے کہ جب نماز یاد آ ئی ہے تو اس سے اس کی ادائیگی کاا سی طرح مطالبہ ہے جیسے کہ اس کے وقت میں تھا۔ (ت)
وقت میں قضا کا لفظ کہنے کی تو کوئی حاجت اس میں بھی نہیں جبکہ جیتے جاگتے قصدا معاذ اﷲ قضا کردی ہو بلکہ ہمارے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ قضا بہ نیت ادا اور ادا بہ نیت قضا دونوں صحیح ہیں مگر اس سے ممانعت کی کوئی وجہ نہیں جبکہ وہ یقینا قضا ہے تو قضا کہنے میں کیا مضائقہ رکھا ہے رہا ادا کا ثواب ملنا یہ اﷲ عزوجل کے اختیار میں ہے اگر وہ جانے گا کہ اس نے اپنی جانب سے کوئی تقصیر نہ کی صبح تك جاگنے کے قصہ سے بیٹھا تھا اور بے اختیار آنکھ لگ گئی تو ضرور اس پر گنا ہ نہیں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اما انہ لیس فی النوم تفریط انما التفریط علی من لم یصلی الصلوۃ حتی یجئ وقت الصلوۃ الاخری ۔ رواہ مسلم عن
سو جانے کی وجہ سے نماز رہ گئی تو گناہ نہیں لیکن جس شخص نے جان بوجھ کر نماز نہ پڑھی حتی کہ دوسری نماز کا وقت آگیا تو یقینا گنہ گار ہوگا ۔ اسے مسلم نے حضرت ابو قتادہ
حوالہ / References &مجمع الزوائد نحوالہ معجم اوسط باب فیمن نام عن الصلوٰۃ€ مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ١ / ٣٢٢ ، &سنن الکبرٰی کتاب الصلوٰۃ باب لاتفریطہ علی من نام عن صلوٰۃ€ مطبوعہ دار صادر بیروت ٢ / ٢١٩
&صحیح مسلم کتاب المساجد باب قضاء الصلوٰۃ الفائتۃ€ مطبوعہ نور محمد اصح لمطابع کراچی ١ / ٢٣٩
#10524 · باب قضاء الفوائت ( فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا بیان)
ابی قتادۃرضی اﷲ تعالی عنہ وللنسانی وا لترمذی وصححہ عنہ رضی اﷲ تعالی عنہ بلفظ انہ لیس فی النوم تفریط انما التفریط فی الیقظۃ ۔
رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ نسائی اور ترمذی نے اسی صحابی سے ان الفاظ میں روایت کی ہے سو جانے کی صورت میں گناہ نہیں البتہ بیداری میں گناہ ہے۔ (ت)
اور جب اس کی جانب سے کوئی تقصیر نہیں تو امید یہی ہے کہ ثواب نماز کامل عطاہو مگر اس سے وہ نماز قضا سے خارج نہ ہو جائے گی ثواب کا مدار نیت پر ہے بے کئے ثواب محض نیت پر مل جاتاہے ۔ صحیح حدیث میں ارشاد ہے کہ جو نماز کے قصد پر چلا اور جماعت ہو چکی جماعت کا ثواب پائے گالیکن اس سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ جماعت فوت نہ ہوئی وھذ اظاھر جدا ( یہ بلکل واضح ہے ۔ ت ) واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ : از نجیب اباد ضلع بجنور محلہ مجید گنج مرسلہ کریم بخش صاحب ٹھکیدار جمادی الاول ھ
قضا نماز کی جماعت ہوسکتی ہے یا نہیں تنہا پڑھنا افضل ہے یا باجماعت اور مسجد میں یا مکان پر اگر جماعت ہوسکتی ہے تو صبح و عشا و مغرب کی نماز خاموش پڑھنا چاہیئے یا با آواز اور ہر ایك قضا عین وقت ہی پر پڑھی جائے مثلا عشاء کی عشاء کے وقت اور ظہر کی ظہر کے وقت علی ہذالقیاس یا حتی الامکان جلد بلا تعین وقت
الجواب :
اگر کسی امر عام کی وجہ سے جماعت بھر کی نماز قضا ہوگئی تو جماعت سے پڑھیں یہی افضل ومسنون ہے اور مسجد میں بھی پڑھ سکتے ہیں اور جہر ی نمازوں میں امام پر جہر واجب ہے اگر چہ قضا ہو۔ اور اگر بوجہ خاص بعض اشخاص کی نماز جاتی رہی تو گھر میں تنہا پڑھیں کہ معصیت کا اظہار بھی معصیت ہے قضا حتی الامکان جلد ہو تعیین وقت کچھ نہیں ایك وقت میں سب وقتوں کی پڑھ سکتا ہے درمختار میں ہے :
یکرہ قضاء ھا فیہ ( ای فی المسجد) لان التاخیر معصیۃ فلا یظھر ھا ۔ بزازیۃ ۔
مسجد میں نماز کی قضا مکروہ ہے کیونکہ تاخیر معصیت ہے جس کا اظہار نہیں ہونا چاہئے بزازیہ ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
وفی الامداد انہ اذاکان التفویت الامر عام فالاذان فی المسجد لایکرہ لانتفاء العلۃ
امداد میں ہے جب نماز کا فوت ہونا کسی عام امر کی وجہ سے ہو تو اب مسجد میں قضا کے لئے اذان مکروہ نہیں
حوالہ / References &سنن النسائی کتاب المواقیت فیمن نام عن صلوٰۃ€ مطبوعہ المکتبہ السلفیہ لاہور ١ / ٧١ ، &جامع الترمذی ابواب الصلوٰۃ ماجاء فی النوم عن الصلوٰۃ€ مطبوعہ امین کمپنی دہلی ١ / ٢٥
&درمختار باب الاذان€ ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٧٩
#10525 · باب قضاء الفوائت ( فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا بیان)
کفعلہ صلی اﷲ تعلایی علیہ وسلم لیلۃ التعریس ۔
کیونکہ وہ علت معدوم ہے جیسے کہ سرور علام صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے لیلۃ التعریس میں کیا تھا ۔ (ت)
درمختار میں ہے :
یجھر الامام وجو با فی الفجر و او لی العشائین اداء وقضاء واﷲ تعالی اعلم
امام فجر اور مغرب وعشاء کی پہلی دو رکعات میں جہرا قرأت کرے خواہ نماز ادا پڑھائے یا قضا ۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ : از نواب گنج ضلع بریلی مرسلہ امانت علی شاہ رمضان ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کسی شخص کی بہت نمازیں قضا ہوگئی ہیں یا اس نے دیر سے نماز شروع کی تو اس کو کیا کرنا چاہئے کہ اس کی پچھلی نمازیں پوری ہو جائیں
الجواب :
ان نمازوں کی قضا کرے جس قدر روز پڑھ سکے اسی قدر بہتر ہے مثلا دس دن کی روز پڑھے یا آٹھ کی یا سات کی اور چاہے ایك وقت میں پڑھے یا متفرق اوقات میں اور ہر بار یوں نیت کرے کہ سب میں پہلی وہ نماز مجھ سے قضا ہوئی جب ایك پڑھ لی پھر یوں نیت کرے یعنی اب جو باقیوں میں پہلی ہے اخیر تك اتنی پڑھے کہ اب اس پر قضا باقی رہنے کا گمان نہ رہے قضا ہر روز کی صرف بیس رکعت ہے واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۷و ۸ : دبیر انجمن نعمانیہ لاہور محرم ھ
() ایك شخص جس نے اپنی چالیس سال کی عمر تك باوجود مسلمان کہلانے کے نماز ر وزہ حج زکوۃ ادا نہ کی ہو یا کبھی کچھ کر لیا اور کبھی کچھ نہیں اور بعد ازاں وہ تائب ہوا اور تجدید ایمان کی اور کسی اہل اﷲ کے ہاتھ پر بیعت کی کہ اس شخص کو بھی ان عبادات کا اعادہ فرض ہو گا یا تجدید ایمان کی کافی ہوگی کیونکہ اسلام قبول کرنے سے پہلے تمام نقائص کو رفع کردیتا ہے اور کسی کبائر وغیرہ کا بھی وہ جواب دہ نہیں رہتا۔
() اگر اس کی عمر ایس مدت تك پہنچ گئی ہے کہ وہ سب قضا نمازیں کھڑے ہوکر ادا نہیں کرسکتا تو بیٹھ کر ادا کرنے سے ادا ہو جائے گی یا نہیں ۔
الجواب :
() نماز روزہ و حج زکوۃ ادانہ کرنے سے آدمی کافر نہیں ہوتا جتنے دنوں ادا نہ کرے گا اس کی قضا اس پر
حوالہ / References &ردالمحتار باب الاذان€ مطبوعہ مصطفیاالبابی مصر ١ / ٢٨٨
&درمحتار فصل ویجہرالامام€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٧٩
#10526 · باب قضاء الفوائت ( فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا بیان)
فرض رہے گی کا فر کا اسلام لانا اس کے اگلے کبائر کو محور کردیتا ہے مسلمان صرف تجدید اسلام سے اپنے گناہوں عہدہ برآنہیں ہوسکتا جب تك توبہ نہ کرے فرائض ترك کئے ہیں اس سے توبہ میں یہ بھی شرط ہے کہ ان کی قضا کرے صرف زبانی توبہ توبہ نہیں ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم
() جب تك کھڑے ہونے کی طاقت ہے کھڑا ہونا فرض ہے اگر چہ لکڑی یا آدمی یا دیوار کے سہارے سے جتنی اس طور سے پڑھ سکے کھڑے ہو کر پڑھے جب تك تھك جائے تھم جائے اس طرح ادا میں اگر قصور کرے گا اور موت آگئی توامید ہے کہ مولی تعالی باقی نمازیں معاف فرمائے گا واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : جس شخص نے نماز صبح نہ پڑھی ہو تو اس کی جمعہ اور عید کی نماز ہوسکتی ہے یا نہیں واﷲ تعالی اعلم
الجواب :
عید کی نماز تو مطلقا ہوجائے گی اور جمعہ کی بھی اگر صاحب ترتیب نہ ہو یعنی اس کے ذمہ پانچ نمازوں سے زیادہ قضا جمع ہوگئی ہوں اگر چہ ادا کرتے کرتے اب کم باقی ہوں اگر صاحب ترتیب ہے تو جب تك صبح کی نماز نہ پڑھ لے جمعہ نہ ہوگا اگر صبح کی نماز اسے یاد ہے اور وقت اتنا تنگ ہوگیا کہ صبح کی نماز پڑھے تو ظہر کا وقت ہی نکل جائے اور یہ جمعہ میں ہونا متوقع نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از بنگالہ ضلع سلہٹ ڈاکخانہ کمال گنج موضع پھول ٹولی مرسلہ عبدالغنی صاحب شوال ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے انتقال کیا اس پر کفارہ صوم وصلوۃ کا واجب تھا بسبب غربت کے حیات میں ادانہ کیا اب اس کے وارثوں نے قرض لے کر اس کی جانب سے ایك قرآن شریف ہدیہ مسکین کو دے دیا اس صورت میں کفارہ مذکورہ ذمہ زید سے ساقط ہوایا نہیں ۔ بینوا توجروا
الجواب :
بازار کے بھاؤ سے وہ نسخہ مصحف شریف جس قیمت کا تھا بقدر اس کے کفارہ ادا ہونے کی امید ہے مثلا دو روپیہ ہدیہ کا تھا تو دو روپے کے گیہو جتنے کفارے کو کافی ہوں وہی ادا ہوسکتا ہے باقی نماز روزے زید کے ذمے بدستور رہے قرآن مجیدبیشك بے بہاہے اس کے ایك کلمے ایك حرف کی برابر ساتوں آسماں وزمین اور جو کچھ ان میں ہے برابر نہیں ہوسکتے مگر ان امور میں اعتبار مالیت کا ہے قرآن عظیم مال نہیں ۔ ہاں یہ کاغذ و جلد جو متضمن نقوش ہیں یہ مال انھیں کی قیمت ملحوظ ہوگی و بس ورنہی یوں تو جس پر دس کروڑ روپے کسی کے قرض آتے ہوں ایك کلمہ اﷲ پر چہ پر لکھ کردے دے اور دین سے ادا ہو کر بے شمار اس کا اس پر فاضل رہے وھذا کلہ ظاھر جدا ( اوریہ سارا اچھی طرح واضح ہے۔ ت) واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
#10527 · باب قضاء الفوائت ( فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا بیان)
اس کے ورثا ان کافطرہ ادا کرنا چاہتے ہیں اور اس مقام پر آبادی اہل ہنود رعیت ومسلمان رعیت وسادات کی ہے جوبوجہ قحط سال انتہا درجہ کے محتاج ہیں اور ذو القربی اورہمسایہ بھی احتیاج رکھتے ہیں تو اس فطرہ کو ان سب پر تقسیم کر نا جائز یا نا جائز اور دینا اولی اس میں سے کس گروہ کو ہے متوفی کی سکونت سے دور مقامات میں طلباء دین کو دینا اولی ہے یا مذکورین سابقین جو اسی آبادی میں اور قرب وجوار میں محتاج ہیں اور ایك نماز و روزہ کے فطرہ کو پورا ایك شخص کو دینا جائز ہے یا اس کی قیمت کر کے نقد دینا جائز ہے یا نہیں اگر نماز وروزہ کا غلہ یا قیمت حساب لگا کر مسا کین پر کم وبیش تقسیم کردے تو جائز ہے یا نہیں یعنی ایك سو نمازیں اور پچاس روزہ کا فطرہ پیمائش کرکے انبار کیا یا اس کی قیمت جمع کی اور پانچسو مساکین پر تقسیم کرنا منظور ہے تو کیا کرنا چاہئے
الجواب :
یہ صدقہ حضرات سادات کرام کے لائق نہیں اور ہنود و غیر ہم کفار ہند اس صدقے کے لائق نہیں ان دونوں کو دینے کی اصلا اجازت نہیں نہ ان کے دیے ادا ہوں ۔ مسلمین مساکین ذوالقربی غیر ہاشمین کو دینا دونا اجر ہے مدرسہ دینیہ کے طلبہ علم دین کے صحیح العقیدہ کو بھیجنے کی اجازت ہے اگر چہ وہ دوسرے شہر میں ہوں حتی کہ زکوۃ بھی ۔ درمختار میں ہے :
کرہ نقلھاالا الی قرابۃ او احوج اواصلح وانفع للمسلمین او الی طالب علم ۔
زکوۃ کی رقم کا دوسری جگہ منتقل کرنا مکروہ ہے مگر اس صورت میں جب دوسرے مقام پر رشتہ دار یا زیادہ محتاج یا زیادہ صالح یا مسلمانوں کا زیادہ نفع ہے یا طالب علم ہو۔ (ت)
اقارب وجیران اور دور کے طلبہ علم دونوں میں ایك ایك وجہ اولیت کی ہے جو اسے انفع معلوم ہو اس پر عمل کرے چاہے اناج دے یا اس کی قیمت ایك فقیر کو متعد دنماز وں روزوں کا فدیہ دے سکتا ہے جب تك وہ اس کے دینے سے مالك نصاب نہ ہو جائے ہاں مدیون ہو تو بقدر دین ہزار نصابوں کی مقدار ایك کو دے سکتا ہے کسی فقیر کو ایك کفارہ کی مقدار سے کم نہ دے بلکہ پوری مقدار یا مقادیر یا اس کی یا ان کی پوری قیمت ہو احتیاط اس میں ہے خروجا عن الخلاف ( اختلاف سے بچنے کے لئے ۔ ت) درمختار میں اسی کفارہ کے بارے میں ہے :
لوادی للفقیر اقل من نصف صاع لم یجز
اگر فقیركو نصف صاع سے کم دیا تو یہ جائز نہیں اور اگر اسے
حوالہ / References &درمختار کتاب الزکوٰۃ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٤١
#10528 · باب قضاء الفوائت ( فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا بیان)
ولو اعطاہ الکل جاز ۔
تمام دے دیا تو جائز ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
ھذا ثانی قولین حکاھما فی التتار خانیۃ بدون ترجیع وظاھر البحر اعتمادہ والاول منھما انہ یجوز کما یجوز فی صدقۃ الفطر ۔
یہ ان دو اقوال میں سے دوسرا ہے جنھیں تتارخانیہ میں بغیر ترجیع کے نقل کیا اور بحر سے اسی پر اعتماد کا اظہار ہورہا ہے اور پہلا قول یہ ہے کہ یہ اسی طرح جائز ہے جس طرح صدقۃ الفطر میں جائز ہے ۔ (ت)
یہاں یہ ظاہر ہو ا کہ سو نمازوں اور پچاس کا فدیہ ڈیڑھ سومساکین سے زائد کو نہ دیا جائے گا ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از موضع بکہ جیبی والا علاقہ جاگل تھانہ ہری پور ڈاکخانہ کوٹ نجیب اﷲ خاں مرسلہ مولوی شیر محمد صاحب رمضان المبارك ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ملك پنجاب میں رواج ہے کہ میت کے جنازہ کے وقت اسقاط کرتے ہیں یہ درست ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
اسقاط کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ اگر میت پر نماز روزہ قضا ہیں اور اس نے اتنا مال نہ چھوڑا جس کے ثلث سے بحالت وصیت اس کا فدیہ ادا ہو سکے یا وصیت نہ کی اور سب ورثا ادائے فدیہ پر راضی نہیں تو پہلی صورت میں اس کے تہائی مال کا حساب لگائیں کہ اس سے کس قدر کا فدیہ ادا ہو سکتا ہے مثلا فرض کرو کہ چہارم کی قدر ہے تو ثلث مال فقیر کو بہ نیت فدیہ دیں فقیر اس سے لے کر پھر وارث کو ہبہ کردے یہ پھر بہ نیت فدیہ دے فقیر پھر لے کر ہبہ کردے اور ہر بارفقیر و وارث قبضہ کرتے جائیں یہاں تك کہ فدیہ ادا ہوجائے یا مال بالکل نہیں ہے تو وارث مثلا ڈیڑھ سیر گیہوں یا اس کی قیمت کسی سے قرض لے کر اس کا الٹ پھیر کرلے اگر چہ ہزار بار یا زائد میں فدیہ کی حد تك پہنچے ۔
فی الدرلمختار لومات وعلیہ صلوت فائتۃ واوصی بالکفارۃ یعطی لکل صلوۃ نصف صاع من برکا لفطرۃ وکذاحکم الوترو
درمختار میں ہے اگر کوئی شخص فوت ہوجاتا ہے اور اس پر نمازیں ہیں اور وہ اپنے کفارہ کی وصیت کر جاتا ہے تو ہر نماز کے عوض فطرہ کی طرح گندم کا نصف صاع دیا جائےگا
حوالہ / References &درمختار باب قضاء الفوائت€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٠١
&ردالمحتار باب قضاء الفوائت€ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٤٣
#10529 · باب قضاء الفوائت ( فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا بیان)
الصوم وانما یعطی من ثلث مالہ ولولم یترك مالا یستقرض وارثہ نصف صاع مثلا وید فعہ الفقیر ثم ید فعہ الفقیر للوارث ثم وثم حتی یتم
وتر اور تراویح کا بھی یہی حکم ہے اور یہ اس کے تہائی مال سے دیا جائے گا اور اگر میت نے مال ہی نہیں چھوڑا تو وارث نصف صاع قرض لے کر کسی فقیر کو دے اور پھر فقیر نصف وارث کودے اسی طرح دیتے رہیں یہاں تك کہ تمام نمازوں کا عوض ہوجائے ۔ (ت)
اس کے سوا یہ جو عوام میں رائج ہے کہ سارے فدیہ کے عوض ایك قرآن دے دیا کہ وہ تو بے بہا ہے یوں ادا نہیں ہوتا قرآن مجید بیشك بے بہا ہے مگر جو بے بہا یعنی کلام الہی کہ ورقوں میں لکھا ہے وہ مال نہیں نہ وہ دینے کی چیز ہے تو جو مال ہے یعنی کاغذ اور پٹھے اسی طرح قیمت معتبر ہوگی اور جب مقدار فدیہ کو نہ پہنچے گی فدیہ کیونکہ ادا ہوگا وھذا ظاھر جدا ( یہ نہایت ہی واضح ہے ۔ ت) واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ : از دھولقہ ضلع احمد آباد گجرات مسئولہ محمد یوسف صاحب ذی القعدہ ھ
بخدمت ہادی برحق مولینا مولوی احمد رضا خان صاحب دام برکاتہ گزارش یہ ہے کہ ہم قصبہ دھولقہ کے رہنے والے ہیں ہم لوگ بالکل سیدھے سادھے لوگ اورصرف راہ حق کے تلاش کرنے والے ہیں کسی فریق پارٹی سے ہمیں کوئی لگاؤ یا تعلق نہیں آپ کے حکم پر ہمیشہ گردن جھکانے کو تیار ہیں مگر ہم لوگوں اردو کی معمولی لیاقت کے اور علم نہیں ہے آپ کا ایك فتوی اول گجراتی کتاب میں چھپا ہے اور دوسری ایك تحریر مولوی علاء الدین صاحب پر آئی ہوئی چھپی ہے ان دونوں تحریروں کو سمجھنے کی ہم لوگ لیاقت نہیں رکھتے اس لئے خدمت والا میں عرض کرتے ہیں کہ ہمارے اس قصبہ میں چھبیس سیر گیہوں فی سیر روپیہ کے حساب سے اور نقد سوا روپیہ اور ایك کلام اﷲ شریف اتنی چیزوں کا حیلہ اس طرح کرتے ہیں کہ جنازہ کا امام کچھ پڑھتا ہے کیا پڑھتا ہے وہ ہمیں معلوم نہیں بعد پڑھنے کے حاضر فقیروں میں تین دور کرا دیتا ہے اور پھر وہ چیزیں امام وغیرہ بانٹ لیتے ہیں یہ حیلہ شریعت کے مطابق ہے اور جائز ہے یا نہیں صرف مختصر جواب اردو آسان لفظوں میں ہوگا تو بھی ہماری کافی تسلی ہوگی۔
الجواب :
امام جنازہ جو کچھ پڑھتا ہے اگر اس میں کوئی بات خلاف شرع نہ ہو ( مثلا یہ نہ ہو کہ اس میت کے گناہ ہم نے اپنے سر لئے یا اس کا عذاب و ثواب ہمارے اوپر کہ ایسا کہنا شریعت میں حرام ہے) اور وہ لوگ جن پر ان چیزوں کا دور کراتاہے فقیر محتاج زکوۃ لینے کے قابل ہوں تو اس چھبیس سیر گیہوں کی جو قیمت وہاں اس وقت
حوالہ / References &درمختار باب قضاء الفوائت€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٠١
#10530 · باب قضاء الفوائت ( فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا بیان)
بازار کے بھاؤ سے ہو اور اس مصحف شریف کا جو ہدیہ وہاں اس وقت ہو اور وہ سوا روپیہ ان کے مجموعہ کو ان دور والے محتاجوں مصرف زکوۃ کے سہ چند میں ضرب دینے سے جو حاصل ہو یہ مال جتنے نمازوں کا کفارہ ہو اس قدر کا ہوگیا اگر میت پر زیادہ کفارہ تھا تو باقی اس کے ذمہ پر رہا مثلا وہ گیہوں تین روپے کے ہوں اور وہ مصحف پونے تین روپے ہدیہ کا ہو تو یہ اور وہ سوا روپیہ مل کر سات روپیہ کا مال ہوا اب اگر دور میں اس فقیر میں اور ان پر تین بار دور ہوا توگویا تیس۳۰ فقیروں کو سات سات روپے دئے گئے مجموع دو سو دس۲۱۰ روپے ہوئے میت پر نماز روزے وغیرہ کا مطالبہ اگر اس قدر یا اس سے کم تھا تو سب ادا ہوگیا اور زیادہ کا تھا تو جتنا زائد تھا باقی رہا مثلا اس کے نماز روزوں کے حساب سے جتنے گیہوں کفارہ کے ہوتے ان کی قیمت وہاں سے وقت کے بھاؤ سے ہزار روپے تھی اور یہ دو سو دس۲۱۰ روپے ہوئے تو سات سو نو۷۰۹ روپے کا مطالبہ میت پر رہا اور اگر دور والوں میں بعض وہ ہوں کہ اگر چہ فقیر بنتے ہیں مگر مالدار ہیں حاجت اصلیہ کے علاوہ چھپن۵۶ روپے کے مال کے مالك ہیں تو ان کے شامل ہونے سے دور میں حرج نہ آئے گا فقط اتنا ہو گا کہ دور میں ان کا شمار نہ ہوگا مثلا دس فقیروں پر دور کیا اور ان میں تین۳ غنی تھے سات ہی پر دور سمجھا جائے گا صورت مذکورہ میں تیس۳۰ فقیروں کی جگہ اکیس۲۱ ہی رکھے جائیں گے اور دو سو دس۲۱۰ رو پے کی جگہ ایك سو سنتالیس۱۴۷ روپے کا کفارہ ادا ہوگا ہاں اگر ان میں کوئی بھی محتاج نہ ہوا سب غنی تھے تو بیشك کفارہ بالکل ادا نہ ہوگا غرض یہ حیلہ یاتو بالکل کافی ہے جبکہ میت پر مطالبہ اسی قدر یا اس سے کم ہو ورنہ نافع ضرور ہے جبکہ ان دور والوں میں ایك بھی فقیر ہو کہ آخر کچھ نہ کچھ مطالبہ تو میت پر سے کم ہوا ہاں جیسے بہت عوام دور ہی نہیں کرتے ایك مصحف شریف دے دیا اور سمجھ لئے کہ عمر بھر کا کفارہ ادا ہوگیا یہ محض مہمل وباطل ہے یونہی یہاں جب پورے مطالبہ کے قدر نہ تو اس سے بالکل ادا سمجھ لینا غلط و باطل ہے پھر بھی اس سے اس حیلہ کا جتنا فائدہ ہے زائل نہیں ہوتا بعض کو کل سمجھ لینا ان کی غلطی ہے جیسے کسی کے ہزار روپے زید پر قرض ہوں اور زید سو۱۰۰ روپے ادا کرے اور سمجھ لے کہ سب ادا ہوگیا تو یہ اس کی غلطی ہے مگر اس غلطی کے سبب وہ سو۱۰۰ روپیہ جو ادا کئے باطل نہ ہوجائیں گے وہ فائدہ اسے حاصل رہے گا کہ اب ہزار کی جگہ نو سو کا مطالبہ اس پر رہا بہر حال اس میں فائدہ ضرور ہے مگر اس طرح کی کوئی خلاف شرع بات نہ کہی جاتی ہو جس کی مثال اوپر گزری بغیر اس کے اسے مطلقا ناجائز بتانے والا محض غلطی پر ہے البتہ مسلمانوں کے مناسب یہ ہے کہ وہ طریقہ دور کا کریں جس سے میت پر سے باذنہ تعالی سب مطالبہ ادا ہوجائے اس کا بیان ہمارے فتوی میں مفصل موجود ہے اور اس پر یہ اعتراض کہ قرآن مجید کا صدقہ حرام بلکہ کفر ہے جہل وحماقت ہے ورنہ ۱ مسکین طالب علم کو قرآن مجید دینا حرام وکفر ہو اسے صدقہ کہہ کر نہ دے ہبہ رکہے جب بھی تو صدقہ ہی ہوگا جیسا کہ فقہاء تصریح فرماتے ہیں ۔ درمختار میں ہے :
#10531 · باب قضاء الفوائت ( فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا بیان)
الھبۃ للفقیر صدقۃ علی الغنی ھبۃ ۔
ہبہ فقیر کے لئے صدقہ اور صدقہ غنی کے لئے ہبہ ہوجاتا ہے ۔ (ت)
اور محقیقین کے نزدیك یہاں نفس قربت مؤ ثر وان کان الاثر اشد مع الا سقاط ( اگر چہ اثر اسقاط کے ساتھ اشد ہے ۔ ت) فتح القدیر میں ہے :
الذی نعقلہ ان کلامن التقرب و الاسقاط موثر ۔
ہم یہ سمجھے کہ تقرب اور اسقاط دونوں ہی مؤثر ہیں ۔ ( ت)
پھر۲ قرآن مجید وقف کرنے کا جواز کتب مذہب میں مصرح ہے ۔ درمختار میں ہے :
وفی الدرر وقف مصحفا علی اھل مسجد للقرأۃ ان یحصون جاز وان وقف علی المسجد جاز ویقرأ فیہ ۔
درر میں ہے اگر کسی نے برائے تلاوت اہل مسجد کے لئے قرآن وقف کیا تو وہ اسے محفوظ رکھیں تو جائز ہے اور اگر مسجد کے لئے وقف کیا تو بھی جائز ہے اور اس سے تلاوت بھی جائز ہوگی ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ ان یحصون جاز ھذ االشرط مبنی علی ما ذکرہ شمس ا لائمۃ من الضابط و ھو انہ اذا ذکر للوقف مصرفا لا بد ان یکون فیھم تنصیص علی الحاجۃ حقیقۃ کا لفقراء اواستعمالا بین الناس کا لیتا می والزمنی لان الغالب فیھم الفقر فیصح للاغنیاء والفقراء منھم ان کانو ایحصون والا فلفقرائھم فقط ۔
ماتن کا قول “ اگر اسے وہ محفوظ رکھیں “ یہ اس ضابطہ پر مبنی ہے جس کا تذکرہ شمس الائمہ نے کیا کہ جب واقف وقف کے لیے کوئی مصرف بیان کرے تو ضرور ہے کہ لوگوں میں اس کی حاجت و ضرورت بیان کرے خواہ وہ ضرورت حقیقۃ ہو مثلا یتامی اور بے دست و پا لوگ کیونکہ ان میں اغلب طور پر فقر ہوتا ہے پس اغنیاء و فقراء کے لئے یہ صحیح ہوگا جبکہ وہ اسے محفوظ رکھنے والے ہوں ورنہ فقط فقراء کیلئے ہوگا ۔ (ت)
حوالہ / References &درمختار کتاب الھبۃ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ٢ / ١٦١
&فتح القدیر€ نوریہ رضویہ سکھر
&درمختار کتاب ا لوقف€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٣٨٠
&ردالمحتار کتاب ا لوقف€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ٣ / ٤١١
#10532 · باب قضاء الفوائت ( فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا بیان)
وقف بھی صدقہ ہی ہے بلکہ صدقہ جاریہ مستمرہ حتی کہ اگر خاص چند اغنیاء پر ہو جب بھی اس کا آخر فقراء کےلئے ہونا لازم صحیح بخاری وصحیح مسلم میں عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی :
ان عمر رضی اﷲ تعالی عنہ اصاب ارضا بخیبر فاتی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یستا مرہ فیھا فقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان شئت حبست اصلھا وتصدقت بھا قال فتصدق بھا عمر انہ لایباع ولا یوھب ولا یورث و تصدق بھا فی الفقراء و فی القربی وفی الرقاب وفی سبیل اﷲ وابن السبیل والضیف ۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے خیبر میں کچھ زمین حاصل کی تورسالتمآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ اس کے بارے میں آپ سے رہنمائی حاصل کی جائے تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : اگر آپ چاہیں تو اسے ( منتقل ہونے سے ) روك لیں اور صدقہ کردیں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسے صدقہ کردیا اسی طرح کہ نہ اسے بیچا جائے گا نہ ہبہ کیا جائے گا ۔ اس میں وراثت جاری نہ ہوگی اور اسے فقرإ قریبی رشتہ دار غلاموں کی آزادی راہ خدا میں مسافروں اور مہمانوں کے لئے صدقہ کردیا ۔ (ت)
یہ حدیث محرر المذہب سید نا امام محمد نے مبسوط میں یوں روایت فرمائی :
اخبر نا صخر بن جویرۃ مولی عبد اﷲ بن عمران عمر بن الخطاب کان لہ ارض تدعی ثمغا وکان نخلا نفیسا فقال یا رسو ل اﷲ انی استفدت مالا ھو عندی نفیس افاصدق بہ فقال رسول اﷲ صلی علیہ وسلم تصدق با صلہ لایباع ولا یوھب ولا یورث ولکن تنفق ثمرتہ فتصدق بہ عمر فی سبیل اﷲ وفی الر قاب وللضیف وللمسافر و
ہمیں صخر بن جویرہ جو کہ عبداﷲ بن عمر کے آزاد کردہ غلام تھے نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس ایك ثمغ نامی زمین کا ٹکڑا تھا اور وہاں نہایت اچھا کھجوروں کا باغ تھا انھوں نے حضور اکرم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر عرض کیا میں نے ایسا مال حاصل کیا ہے جو میرے نزدیك نہایت ہی قیمتی ہے کیا میں اسے صدقہ کردوں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا اصل صدقہ کردو اس طرح کہ نہ اسے بیچا جائے نہ ہبہ کیا جائے اور نہ ہی اس کا وارث بنایا جائے لیکن اس کا پھل خرچ کیا جائے
حوالہ / References &صحیح مسلم باب الوقف€ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ٢ / ٤١
#10533 · باب قضاء الفوائت ( فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا بیان)
لابن السبیل ولذی القربی الحدیث۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسے راہ خدا غلاموں کی آزادی مہمان نوازی مسافر ابن سبیل اور قریبی رشتہ داروں پر صدقہ کردیا ۔ (ت)
صحیح بخاری کے بھی بعض طرق میں بالفاظ امام محمد ہے : تصدق باصلہ لایباع ۔ الحدیث (اس کا اصل صدقہ کردو اسے فروخت نہ کیا جائے الحدیث۔ ت)
مانعین کیا کہتے ہیں اس صورت میں جبکہ مثلا کوئی اہل خیر سو مصحف شریف ان کے مدرسہ یا یتیم خانے میں بھیجے کہ ان میں غربا کے بچے اور یتامی پڑھاکریں اس کا یہ فعل حسن وباعث ثواب ہے یا حرام وموجب عذاب بلکہ معاذ اﷲ کفر اوراگر اس نے نذرمانی ہوکہ اﷲ تعالی کےلئے دس مصحف شریف فقرائے مسلمین کو دوں گا تو یہ نذر حلال ہے یا حرام وکفر اور اگر وصیت کی ہو کہ میری ملك کے مصاحف سب میرے بعد فقرائے مسلمین کے دے دئیے جائیں اور وہ ثلث مال سے زائد نہ ہوں تو یہ وصیت صحیح یا باطل اور یہ دینا وصی پر واجب ہے یا حرام پھر یہ حکم صرف مصحف شریف کے لئے یا کتب حدیث وفقہ کے لئے بھی طرفہ یہ کہ مانعین کے امام الطائفہ گنگوہی کے فتاوی حصہ میں ہے :
سوال : خرید کر قرآن دینا درست ہے یا نہیں
جواب : زکوۃ کے روپے سے قرآن کتاب کپڑا وغیرہ جو کچھ خرید کر دے دیا جائے زکوۃ ادا ہوجاتی ہے اھ اور بات یہ ہے مانعین حقیقت امر سے غافل ہیں جو اس کی تحقیق بازغ کا طالب ہو ہمارے فتاوی کی طرف رجوع کرے وباﷲ التوفیق واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از ریاست رام پور مرسلہ حبیب اﷲ بیگ جماعت مولوی فاضل اورنٹیل کالج صفر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ طریقہ اسقاط جو ملك افغانستان میں مروج ہے وہ شرعا ثابت اور مستحسن ہے یا نہیں اگر ثابت ہے تو اس کی کیا دلیل ہے اور فدیہ صوم اگرچہ منصوص ہے لیکن فدیہ صلوۃ پر کون سی نص ہے اور یہ یعنی دوران قرآن کیوں متروك العمل ہے اور یہ ہندوستان میں کیوں مروج نہیں بر تقدیر ثانی یہ عبارت فتاوی سمرقندیہ کی بالکل غلط ثابت ہوئی ہے وہ یہ ہے :
لما صنف الامام الربانی محمد بن حسن الشیبانی فی کتاب الحیل فی کل باب انکر
جب امام ربانی محمد بن حسن الشیبانی نے ہر معاملہ کے بارے میں کتاب الحیل لکھی تو اس پر علماء بغداد نے
حوالہ / References &سنن الدارقطنی باب کیف یکتب الحبس€ مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان ٤ / ١٩٣
&صحیح البخاری باب الوقف وکیف یکتب€ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١١ / ٣٨٩
#10534 · باب قضاء الفوائت ( فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا بیان)
علیہ علماء البغداد بلغوا تلك القصۃ الی خلیفۃ البغداد فقال الخلیفۃ ارسل الی ذلك فان کان موافقا للاصول فبھا والا فنخرقہ فقال ان العلماء احساد واوانکر و ا حسدا فجاء الامام بذلك الكتاب الی الخلیفۃ فنظر فیہ فتعجب فطلب العلماء و قال انظروا فیہ بدقۃ النظرمن غیر حسد فلما رأوہ قالوا فقد احسن محمد ضاعف اﷲ اجرہ الی الابد ثم سئل الخلیفہ عن الامام ای اصل اخرجت تلك المسائل قال اخرجت من قصۃ ایوب ویوسف وسنۃ حیلۃ الرباء والحد فقال الخلیفۃ للعلماء من انکرالحیلۃ فقد انکر القران والحدیث واجماع العلماء فالتعزیز واجب علیہ فلما حول ورقۃ وقع النظر علی حیلۃ الاسقاط فقال الامام اسھل طریقتہ ان یبیع الوارث علی الفقیر مصحفا قابل القراء ۃ ثم یھب الفقیر للوارث ثم فثم حتی یتم لعل اﷲ یجعل فدیۃ الصوم والصلوۃ والزکوۃ وغیرھا فقال العلماء قلت قولا حسنا بارك اﷲ فی عمرك فاکتب فی کتابك فکتب الامام تلك الحیلۃ فی کتابہ فشاع فی زمان الخلیفۃ (الدرالبرر للامام الغز الی) قال الشارح السمر قندی
اعتراض کیا یہ بات خلیفہ بغداد کو پہنچی تو اس نے کہا وہ کتاب مجھے لاکر دو اگر اس کی عبارات اصول کے موافق ہیں تو ٹھیك ورنہ ہم اسے جلادیں گے اور علماء نے اعتراض حسدا کیا تھا امام نے کتاب خلیفہ وقت کو دی اس نے جب اسے پڑھا تو بہت متعجب ہوا علماء کو طلب کیا اور کہا حسد سے بالاتر ہو کر دقت نظر سے اس کا مطالعہ کرو جب انھوں نے اس کتاب کو پڑھا تو سب کہنے لگے کہ امام محمد نے بہت خوب کام کیا ہے اﷲ تعالی تا قیامت ان کو اجر عطا فرمائے پھر خلیفہ نے امام سے پوچھا ان مسائل کا استنباط کرتے وقت کونسی اصل آپ کے پیش نظر تھی تو انہوں نے فرمایا میں نے حضرت ایوب حضرت یوسف علیہم السلام کے واقعات اور حیلہ ربا کی سنت اور حد سے انہیں مستنبط کیا ہے خلیفہ نے علماء سے کہا جو شخص حیلہ کا انکار کرتاہے اس نے تو قرآن حدیث اور اجماع کا انکار کیا تو اس پر تعزیر لازم ہے ۔ جب خلیفہ نے کتاب کا ایك ورق اٹھایا تو اس کی نظر حیلہ اسقاط پر پڑی امام نے کہا کہ حیلہ کا آسان طریقہ یہ ہے کہ وارث محتاج کو قابل قرأت قرآن بیچ دے پھر وہ فقیر اس وارث کو ہبہ کردے پھر اسی طرح مسلسل کیا جائے حتی کہ پورا ہوجائے شاید اﷲ تعالی اسے روزہ نماز اور زکوۃ وغیرہ کا فدیہ بنادے۔ علما نے کہا کہ آپ نے بہت خوب بات فرمائی ہے اﷲ تعالی تمھاری عمر میں برکت دے پس اسے اپنی کتاب میں تحریر فرمادو اور یہ طریقہ خلیفہ کے دور میں مروج رہا الدر البرر للامام غزالی۔ شارح سمر قندی نے فرمایا ہمیں
#10535 · باب قضاء الفوائت ( فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا بیان)
حدثنا عباس بن سفیان عن ابن عتبہ عن ابن عوف عن محمد عن عبداﷲ قال قال عمر ایھاالمؤمنون اجعلوا القران وسیلۃ لنجاۃ الموتی فتحلقوا وقولوا اللھم اغفرلھذا المیت بعزۃ القران وتناولوا بایدیکم وفعل عمر فی اخر خلافتہ فی وفاۃ امرأۃ ملقبۃ الحبیبۃ بنت عربد زوجۃ ملاب لجزء من القران فمالوا الی عمر ولم یشتھر فی خلافۃ عثمان ثم اشتھر فی خلافۃ ھارون الرشید من غیر انکار دوران القران بحیلۃ الاسقاط فاصلہ ثابت عن عمر وھذا وان لم یذکر فی کتب المشھورۃ من الاحادیث ولکنہ مشھور فی بعض الکتب من التواریخ بسند قوی کما قال المورخ اللبیب صاحب الفتوح اخبرنا ابوعاصم عن ابن جریج عن ابن شھاب عن ابن سلمۃ عن ابن موسی قال فعل عمر دوران القران لجزء منہ بحلقۃ عشرین رجلا بعد صلوۃ الجنازہ لامرأۃ ملقبہ بحبیبۃ بنت عربد زوجۃ ملاب لرجل من الانصار ما حفظنا اسمہ فانکار مطلقۃ الحیلۃ وعن حیلۃ الاسقاط فسق لانہ ثبت عن عمر اخبرنا سعید بن ایوب عن جمیع عن عبداﷲ بن ابی بکر انہ اوجد عمر بدورالقران
عباس بن سفیان نے ابن عتبہ سے انہوں نے ابن عوف سے انہوں نے محمد انہوں نے عبداﷲ بن عمر سے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا : اے اہل ایمان! قرآن کو مردوں کی نجات کے لئے وسیلہ بناؤ اور حلقہ بناکر یوں عرض کرو اے اﷲ! اس میت کو عزت قرآن کی برکت بخش دے اور اسے ایك دوسرے کے ہاتھ میں دو۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی خلافت کے آخری دور میں حبیبہ بنت عربد زوجہ ملاب کی وفات کے موقعہ پر قرآن کے ایك حصہ سے ایسا کیا لیکن یہ عمل خلافت عثمان میں مشہور نہ ہوا پھر ہارون الرشید کے زمانہ میں قرآن کا دور حیلہ اسقاط کے لئے بغیر کسی اعتراض کے مشہور ہوا تو اس حیلہ کی اصل حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے ثابت اور یہ بات اگر چہ مشہور کتب احادیث میں نہیں لیکن کتب تاریخ میں سند قوی کے ساتھ مشہور ہے جیسا کہ عظیم مورخ صاحب الفتوح نے بیان کیا کہ ہمیں ابو عاصم نے ابن جریج سے انہوں نے ابن شہاب انہوں نے ابن سلمہ انہوں نے ابن موسی سے بتایا کہ حضرت عمر نے بیس آدمیوں كے حلقہ میں قران كے ایك جز كو لیا دیا اور یہ اس خاتون كے جنازہ کے بعد کیا جو ملاب انصاری کی بیوی اور حبیبہ بنت عربد کے لقب سے مشہور تھی اس کا نام محفوظ نہیں تو مطلقا حیلہ کا انکار کفر اور حیلہ اسقاط کا انکار فسق ہے کیونکہ یہ حضرت عمر سے ثابت ہے ہمیں سعید نے ایوب سے انہوں نے جمیع سے انہوں نے عبداﷲ بن ابی بکر سے بتایا کہ نماز جنازہ کے بعد قرآن کا دور حضرت عمر رضی اللہ
#10536 · باب قضاء الفوائت ( فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا بیان)
بعدصلوۃ الجنازہ انتھی فتاوی سمر قندی من عتبہ۔
تعالی عنہ نے ایجاد کیا انتہی فتاوی سمرقندی میں عتبہ کے حوالے سے منقول ہے ۔ (ت)
نیز اس میں دوران قرآن کی نسبت حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف ہے وہ صحیح ہے یا نہیں اور اس کی سند کیسی ہے
الجواب :
امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے سوا اور حضرات سے جو کچھ روایات بے سروپا اس عبارت میں مذکور ہیں سب باطل وافتراء ہیں نہ یہ عبارت فتاوی سمرقندیہ میں ہے اس پر بھی افترا ہے اور بے چارہ افتراء کرنے والا عربی عبارت بھی باقاعدہ نہ بنا سکا اپنی ٹوٹی پھوٹی جاہلانہ خرافات کو صحابہ وائمہ کی طرف منسوب کیا مسئلہ دور عامہ کتب متداولہ مذہب میں مصرح ہے خود مصحف شریف سے یا کسی مال سے مگر ہر بار کے دینے میں اتنا ہی مجرا ہوگا کہ بازاری نرخ سے وہ مصحف شریف جتنے ہدیہ کا ہے یہ جاہلانہ خیال کہ یہ توبے بہا ہے ایك ہی دفعہ میں اگلے پچھلے بلکہ سات پشت کے سب کفارے ادا ہوجائیں گے محض جاہلانہ خیال باطل ہے کما بیناہ فی فتاونا بمالا مزید علیہ (جیساکہ ہم نے اپنے فتاوی میں اتنی تفصیل سے بیان کیا ہے جس پر اضافہ نہیں کیا جاسکتا ۔ ت) فدیہ صلوۃ پر اگر چہ نص شارع علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم نہ آیا نص مجتہد مذہب ہے وکفی بہ حجۃ ( یہ دلیل کے لئے کافی ہے ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
_______________
#10537 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
مسئلہ : ربیع الآخر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص الحمد شریف پڑھ کر سوچتا رہا کہ کون سی سورت پڑھوں اور اس میں کچھ دیر لگ گئی تو کیا حکم ہے بینوا توجروا
الجواب :
اگر بقدر ادائے رکن ای مع سنتہ کما فی الغنیۃ( یعنی سنت کے مطابق جیسے غنیـہ میں ہے۔ ت) یعنی مثلاجتنی دیر میں تین بار سبحان اﷲ کہہ لیتا اتنے وقت تك سوچتا رہا تو سجدہ سہو لازم ہے ورنہ نہیں ۔ ردالمحتار میں ہے :
التفکر الموجب للسھو مالزم منہ تاخیر الواجب اوالرکن عن محلہ بان قطع الاشتغال بالرکن اوالواجب قدر اداء رکن و ھوالاصح اھ ملخصا۔ واﷲ تعالی اعلم
ایسا سوچنا جو سہو کا سبب ہے وہ ہوگا جو واجب یا رکن کو اپنے مقام سے مؤخر کردے مثلا اداء رکن کی مقدار کسی رکن یا واجب سے اعراض کر لیا جائے یہی اصح ہے اھ ملخصا ۔ واﷲ تعالی اعلم
#10538 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
مسئلہ : جمادی الاخری ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام جمعہ کی نماز میں دوسری رکعت میں بعد فاتحہ کے واذکر فی الکتب موسی سے ووھبنالہ تك کہ تین آیات قصار ہوگئیں پڑھ کر بند ہوگیا کسی قدر تامل کرکے پھر دوبارہ واذکر سے ووھبنالہ تك پڑھا پھر سہ بارہ یہی تك پڑھ کر کچھ تامل کیا جب آگے نہ چلا رکوع کردیا اس صورت میں امام پر سجدہ سہوہ آیا یا نہیں اگر آیا اور نہ کیا تو فاسد ہوئی یا کیسی بینوا تو جروا
الجواب :
اگر ایك بار بھی بقدرادائے رکن مع سنت یعنی تین بار سبحان اﷲ کہنے کی مقدار تك تامل کیا سجدہ سہو واجب ہوا ردالمحتار میں ہے :
التفکرالموجب للسھو مالزم منہ تاخیرالواجب اوالرکن عن محلہ بان قطع الاشتغال بالرکن اوالواجب قدر اداء رکن وھو الاصح ۔
ہر وہ تفکر سہوکا موجب ہے جو واجب یا رکن کو اپنے مقام سے مؤخر کردے مثلا اداء رکن کی مقدار کسی رکن یا واجب سے اعراض کرلیا جائے یہی اصح ہے۔ (ت)
اگر نہ کیا نماز مکروہ تحریمی ہوئی جس کا اعادہ واجب درمختار میں ہے :
تعاد وجوبا فی العمد والسھو ان لم یسجد لہ ۔
دانستہ یا نادانستہ سجدہ سہو نہ کیا تو نماز کا لوٹانا واجب ہے ۔ (ت)
اصل حکم یہ ہے مگر علماء نے جمعہ وعیدین میں جبکہ جمع عظیم کے ساتھ اداکئے جائیں بخوف فتنہ سجدہ سہو کا ترك اولی رکھا ہے ۔
درمختار میں ہے :
السھو فی صلوۃ العید والجمعۃ والمکتوبۃ التطوع سواء والمختار عند المتاخرین عدمہ فی الاولیین لدفع الفتنۃ کما فی جمعۃ البحر واقرہ المصنف وبہ جزم فی الدرر ۔
سہو نماز عید جمعہ فرض اور نوافل میں برابر ہے متاخرین کے نزدیك پہلی دو نماز ( نماز جمعہ وعید) میں دفع فتنہ کی وجہ سے سجدہ سہو نہ کرنا مختار ہے جیسا کہ بحر کے باب الجمعہ میں ہے۔ مصنف نے اسے ثابت رکھا اور درر میں اسی پر جزم ہے۔ (ت)
حوالہ / References &ردالمحتار باب سجودالسہو€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٥٨
&درمختار باب صفۃ الصلوٰۃ€ مطبوعہ مجتبائی دہلی ١ / ٧١
&درمختار باب سجود السہو€ مطبوعہ مجتبائی دہلی ١ / ١٠٣
#10539 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
ردالمحتار میں ہے :
فی جمعۃ حاشیۃ ابی السعود عن العزمیۃ انہ لیس المراد عدم جوازہ بل الاولی ترکہ لئلا یقع الناس فی فتنہ۔
حاشیۃ ابوالسعود کے باب الجمعہ میں عزمیہ کے حوالے سے ہے کہ اس سے مراد سجدہ سہو کا عدم جواز نہیں بلکہ اس لئے اولی ہے تاکہ لوگ فتنہ میں مبتلا نہ ہوں ۔ (ت)
بس جہاں جمعہ بھی جماعت عظیم سے نہ ہوتا ہو بلاشبہ سجدہ کرے اگر نہ کیا اعادہ کرے اگر وقت نکل گیا ظہر پڑھ لیں ۔ ردالمحتار میں ہے :
قیدہ الوافی بما اذا حضر جمع کثیرو الا فلا داعی الی الترک۔
وافی نے اس بات کے ساتھ مقید کردیا ہے کہ یہ اس وقت ہے جب حاضرین کثرت کے ساتھ ہوں اور اگر اتنا کثیر اجتماع نہیں تو پھر سجدہ سہو کے ترك کی ضرورت نہیں ۔ (ت)
اسی میں ہے :
المرجح وجوب الاعادۃ فی الوقت وبعدہ ۔
ترجیح یہی ہے کہ وقت کے اندر یا وقت کے بعد نماز کو لوٹایا جائے۔ (ت)
مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نماز جمعہ رکعت اول میں بقدر ما یجوز بہ الصلوۃ کے پڑھ کر ایك منٹ سے زیادہ ساکت رہا اور تمام کرنے نماز کے سجدہ بھی نہ کیا جب لوگوں نے کہا تم نے سجدہ سہو نہیں کہا تو جواب دیا کہ مسئلہ اسی طرح ہے جیسا کہ میں نے کیا آیا یہ قول زید صحیح ہے یا غلط اور وہ نماز کامل ہوئی یا ناقص بینوا توجروا
الجوا ب :
ایك منٹ تو بہت ہوتا ہے اگر بقدر تین تسبیح کے بھی ساکت رہا تو سجدہ سہو لازم ہے اصل حکم یہی ہے ردالمحتار میں خاص اس کی تصریح ہے مگر نماز جمعہ میں جبکہ ہجوم نمازیاں کثیر ہو سجدہ سہو ساقط کردیاگیا ہے کما فی ردالمحتار ایضا (جیسا کہ ردالمحتار میں بھی ہے۔ ت) پس اس نماز میں ہجوم کثیر تھا زید نے سجدہ سہو کا
حوالہ / References &ردالمحتار باب سجود السہو€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٥٦
&ردالمحتار باب سجود السہو€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٥٦
&ردالمحتار باب صفۃ الصلوٰۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٣٦
#10540 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
ترك بجا کیا اور اگر تھوڑے آدمی تھے تو بے جا اور سخت بے جا اور وہ ناقص نماز ہوئی ظہرکا اعادہ کریں ۔ واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واکرم
مسئلہ : دو رکعت تراویح کی نیت کی قعدہ اولی بھول گیا تین پڑھ کر بیٹھا اور سجدہ کیا تو نماز ہوئی یا نہیں اور ان رکعتوں میں جو قرآن شریف پڑھا اس کا اعادہ ہوا یا نہیں اور چار پڑھ لیں تو یہ چاروں تراویح ہوئیں یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
صورت اولی میں مذہب اصح پر نماز نہ ہوئی اور قرآن عظیم جس قدر اس میں پڑھا گیا اعادہ کیا جائے
فی ردالمحتار لو تطوع بثلاث بقعدۃ واحدۃ کان ینبغی الجواز اعتبار ابصلوۃ المغرب لکن الاصح عدمہ لانہ قد فسدما اتصلت بہ القعدۃ و ھوا لرکعۃ الاخیرۃ لان التنفل بالرکعۃ الواحدۃ غیرمشروع فیفسد ماقبلھا۔
ردالمحتار میں ہے اگر کسی نے تین نوافل ایك قعدہ كے ساتھ ادا کئے تو مغرب کی نماز پر قیاس کرتے ہوئے ان کو جائز کہنا چاہئے مگر اصح یہ ہے کہ یہ صحیح نہیں کیونکہ وہ رکعت ( آخری) باطل ہوجائے گی جس کے ساتھ قعدہ نہیں کیونکہ ایك نفل مشروع نہیں لہذا پہلے بھی فاسد ہوں گے۔ (ت)
اور چار پڑھ لیں اور قعدہ اولی نہ کیا تو مذہب مفتی بہ پر یہ چاروں دو ہی رکعت کے قائم مقام گنی جائیں گی باقی اور پڑھ لے کما صرح بہ فی ردالمحتار عن النھر الفائق عن الزاھدی ( جیسا کہ ردالمحتار میں نہر الفائق سے زاہدی کے حوالے سے ہے۔ ت) اور دونوں قعدے کئے تو قطعا چاروں رکعتیں ہوگئیں ولاکراھۃ ایضا کمایفیدہ التعلیل المذکور فی ردالمحتار نعم الافضل فیھا مثنی مثنی کما لایخفی ( اب بھی کراہت نہیں جیسے کہ ردالمحتار میں مذکور علت اسی کا فائدہ دیتی ہے البتہ دو رکعات افضل ہیں جیسا کہ واضح ہے ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : اگر امام پر سہوا ہوا اور سجدہ نہ کرے تو مقتدیوں کی نماز صحیح اور ان پر سے سجدہ سہو ساقط ہوجائیگا یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
بیشك ۔ فی التنویر یجب ( ای سجدۃ السھو) علی منفرد و مقتد بسھو امام ان
تنویر میں ہے ( سجدہ سہو) تنہا نماز والے پر بھی واجب اور امام کی سہو کی وجہ سے مقتدی پر بھی
حوالہ / References &ردالمحتار باب الوتر والنوافل€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٥١٢
#10541 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
سجد امامہ اھ ملتقطا قلت فالشرط یفید انہ ان لم یسجد الامام لم یجب علی المقتدی وبالسقوط صرح فی البحر الرائق نعم بقی نقصان یظھر ان یعید لانجبارہ ان اطلع علیہ وھذا لاینافی فی الصحۃ اذ الصحیح یقابل الفاسد والفاسد ھوالباطل فی العبادات کما صرح بہ ائمتنا فی غیر ماکتاب۔ واﷲ تعالی اعلم
لازم ہوتاہے بشرطیکہ امام سجدہ کرے اھ تلخیصا میں کہتا ہوں یہ شرط بتارہی ہے کہ اگر امام نے سجدہ نہیں کیا تو مقتدی پر لازم نہ ہوگا بحرالرائق میں ہے اس کے ساقط ہونے کی تصریح ہے وہاں نقص باقی رہ جائے گا اور اگر امام کی غلطی پر مطلع ہوجائے تو کمی کے ازالے کی خاطر نماز لوٹا لی جائے لیکن یہ صحت ہے اور عبادات میں فاسد باطل ہی ہوتا ہے جیساکہ مختلف کتب میں ہمارے ائمہ نے تصریح کی ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : جمادی الاولی ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نماز فرض یا وتر میں پہلا قعدہ بھول کر کھڑا ہوگیا یا کھڑا ہونے لگا تو اس صورت میں کیا حکم ہے لوٹ آئے یا نہ لوٹے اور اگر کھڑا ہوگیا یا کھڑا ہونے کے قریب تھا اس کے بعد لوٹ آیا تو نماز ہوجائے گی یا نہیں اگر ہوجائے گی تو سجدہ سہو واجب ہوگا یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
اگر ابھی قعود سے قریب ہےکہ نیچے کا آدھا بدن ہنوز سیدھا نہ ہونے پایا جب تو بالاتفاق لوٹ آئے اور مذہب اصح میں اس پر سجدہ سہو نہیں اور اگر قیام سے قریب ہوگیا یعنی بدن کا نصف زیریں سیدھا اور پیٹھ میں خم باقی ہے تو بھی مذہب اصح وارجح میں پلٹ آنے ہی کا حکم ہے مگر اب اس پر سجدہ سہو واجب اور اگر سیدھا کھڑا ہوگیا تو پلٹنے کا اصلا حکم نہیں بلکہ ختم نماز پر سجدہ سہو کرلے پھر بھی اگر پلٹ آیا بہت برا کیا گناہگار ہوا یہاں تك کہ حکم ہے کہ فورا كھڑا ہوجائے اور امام ایسا کرے تو مقتدی اس کی پیروی نہ کریں کھڑے رہیں یہاں تك کہ وہ پھر قیام میں آئے مگر مذہب اصح میں نماز یوں بھی نہ جائے گی صرف سجدہ سہو لازم رہے گا۔
فی تنویر الابصار والدرالمختار وردالمحتار (سھوا عن القعود الا ول من الفرض) ولو عملیا اماالنفل فیعود مالم یقید بالسجدۃ
تنویر الابصار ردالمحتاراور درمختار میں ہے کہ ( اگر فرض کا قعدہ اول بھول گیا) اگر چہ وہ فرض عملی ہو رہا معاملہ نفل کا تو لوٹ آئے جب تك رکعت کا سجدہ نہیں کیا
حوالہ / References &درمختار باب سجود السہو€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٠٢
#10542 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
(ثم تذکرہ عادالیہ) وتشھد ولا سھو علیہ فی الاصح ( مالم یستقم قائما) فی ظاھر المذھب وھوالاصح فتح یعنی اذاعادہ قبل ان یستقیم قائما وکان الی القعود اقرب فانہ لاسجود علیہ فی الاصح وعلیہ الاکثر امااذا عاد وھو ا لی القیام اقرب فعلیہ سجود السھو کما فی نورالایضاح و شرحہ بلا حکایۃ خلاف فیہ وصحح اعتبار ذلك فی الفتح بما فی الکافی ان استوی النصف الاسفل وظھرہ بعد منحن فھو اقرب الی القیام وان لم یستو فہو اقرب الی القعود وان استقام قائما لایعود وسجدہ للسھو فلو عادالی القعود لا تفسد لکنہ یکون مسیئا ای یاثم کما فی الفتح فلوکان اماما لا یعود معہ القوم تحقیقا للمخالفۃ ویلزمہ القیام للحال شرح المنیۃ عن القنیۃ ۔ ویسجد لتاخیر الواجب وھوا الحق بحر اھ ملخصا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
(پھر اسے یاد آیا تو اس کی طرف لوٹ آئے) اور تشہد پڑھے اور اصح قول کے مطابق اس پر سجدہ سہو نہیں (جب تك وہ سیدھا کھڑا نہیں ہوا) ظاہر مذہب کے مطابق اور یہی اصح ہے فتح ۔ یعنی سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے لوٹا حالانکہ قعود کے قریب تھا تو اب اصح قول کے مطابق اس پر سجدہ سہو نہیں اور اکثریت کی یہی رائے ہے اور اگر لوٹا لیکن قیام کے قریب تھا تو اس پر سجدہ سہو لازم ہو جائے گا جیسا کہ نورالایضاح اور شرح میں اسے بلااختلاف ذکر کیا ہے اور کافی کی اس عبارت کو فتح میں صحیح اعتبار کیا ہے کہ اگر نصف سیدھا مگر پشت ابھی ٹیڑھی تھی تو نمازی قیام کے قریب اور اگر برابر نہیں تو نمازی قعود کے قریب ہوگا اور اگر کھڑا ہوگیا نہ لوٹا تو سجدہ سہو کرے اور اگر اب بھی واپس لوٹ آتا ہے تو نماز فاسد نہ ہوگی البتہ گناہگار ہوگا جیسا كہ فتح میں ہے اگر و ہ امام ہے اور کھڑا ہوکر واپس لوٹے تو مقتدی اس کی موافقت میں واپس نہ لوٹیں تاکہ مخالفت ظاہر کریں تو اس امام پر اس وقت قیام لازم ہے شرح المنیۃ میں قنیہ سے ہے اورتاخیر واجب کی وجہ سے سجدہ سہو کرنے اور یہی حق ہے بحر اھ تلخیصا ۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
حوالہ / References &درمختار باب سجود السہو€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٠٢
&ردالمحتار باب سجود السہو€ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٥٠
&درمختار باب سجود السہو€ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٠٢
&ردالمحتار باب سجود السہو€ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٥٠
&درمختار باب سجود السہو€ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٠٢
#10600 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
مسئلہ : ربیع الآخر شریف ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قعدہ اخیرہ کے بعد گمان ہو اکہ یہ قعدہ اولی تھا کھڑا ہو گیااور قبل سجدہ کے یاد آگیا تو اب عود کرکے دوبارہ التحیات پڑھ کر سجدہ سہو میں جائے یا ویسے سجدہ کو چلاجائے بینوا توجروا
الجواب :
عود کرکے بیٹھنا چاہئے اور معاسجدہ سہو میں چلاجائے دوبارہ التحیات نہ پڑھے۔
فی الدرالمختار وان قعد فی الرابعۃ مثلا قدر التشھد ثم قام عاد وسلم ولوسلم قائما صح ۔
درمختار میں ہے کہ اگر چوتھی رکعت میں مثلا تشہد کی مقدار بیٹھ گیا پھر کھڑا ہوا تو لوٹ آئے اور سلام پھیر دے اگر کھڑے کھڑے سلام پھیردے تب بھی صحیح ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ ثم قام ای ولم یسجد قولہ عاد وسلم ای عاد للجلوس وفیہ اشارۃ الی انہ لا یعید التشھد وبہ صرح فی البحر قال فی الامداد والعود للتسلیم جالسا سنۃ لان السنۃ التسلیم جالسا الخ۔ ملخصا واﷲ تعالی اعلم
ماتن کاقول “ پھر کھڑا ہوا “ یعنی پھر سجدہ نہ کیا ماتن کا قول “ لوٹے او ر سلام کہے “ یعنی بیٹھنے کے لئے لوٹے۔ پس اس میں اشارہ ہے کہ تشہد نہ لوٹائے۔ اور بحر میں اس کی تصریح ہے امداد میں ہے سلام بیٹھ کر پھیر نے کے لئے لوٹنا سنت ہے کیونکہ سنت یہی ہے کہ سلام بیٹھ کر پھیرا جائے ۔ (ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از شہر کہنہ بریلی جمادی الآخر ۱ھ
چہ می فرمایند علمائے دین دریں مسئلہ کہ ترك آرد قعدہ اولی را لیکن باستادن نزدیك ترشد آں گاہ نشست بازباقی نماز گزارد دریں حال نماز او جائز است یا نے بینوا توجروا
علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ نمازی نے پہلا قعدہ ترك کردیا وہ سیدھا کھڑا ہونے کے قریب تھا وہاں سے لوٹ آیا اور باقی نماز ادا کی اس صورت میں نماز جائز ہوگی یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
ہر کہ در فرض یا وتر قعدہ اولی فراموش کردہ استادہ
جو شخص فرض یا وتر کا قعدہ اولی بھول کر کھڑا ہوجائے
حوالہ / References &درمختار باب سجود السہو€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٠٢
&ردمحتار باب سجود السہو€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ٨٧
#10601 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
تابتمام ایستادہ نشود بسوئے قعود رجو عش باید پس اگر ہنوز بقعود اقرب بود سجدہ سہو نیست و اگر بقیام نزدیك ترشدہ باشد سجدہ سہو لازم آید تانیمہ زیریں ازبدن انسان راست نشدہ است بہ نشستن نزدیك است وچوں ایں نصف راست شدوپشت ہنوز خمیدہ است با ستادن قریب است واگر بتمامہ راست ایستاد آنگاہ نشستن روا نیست اگر بقعدہ اولی بازمیگر د د گناہگار شود اما راجح آنست کہ نماز دریں صورت ہم از دست نرود وسجدہ سہو واجب شود۔
فی الدرالمختار سھا عن القعود الاول ولو عملیا ثم تذکرہ عادالیہ ولا سھو علیہ فی الاصح مالم یستقم قائما فی ظاھر المذھب وھوالاصح فتح وان استقام قائما لا یعود فلو عاد لاتفسد لکنہ یکون مسیئا ویسجد لتاخیر الواجب وھوالا شبہ کما حققہ الکمال وھوالحق بحر اھ مختصرا وفی ردالمحتار قولہ ولا سھو علیہ فی الاصح یعنی اذاعادقبل ان یستقیم قائما وکان الی القعود اقرب فانہ لاسجود علیہ فی الاصح وعلیہ الاکثر اما اذا عاد و ھو الی القیام اقرب فعلیہ
اگر سیدھا کھڑا نہیں ہوا تھا تو اسے قعدہ کی طرف لوٹ آنا چاہئے اب اگر بیٹھنے کے قریب تھا تو اس پر سجدہ سہو لازم نہیں اور اگر قیام کے قریب تھا تو سجدہ سہو لازم ہوگا جب بدن کا پچھلا حصہ سیدھا نہیں ہوا تو وہ بیٹھنے کے قریب ہوگا اور اگر نصف حصہ سیدھا ہوگیا مگر پشت ابھی ٹیڑھی تھی تو وہ کھڑے ہونے کے قریب ہے اور اگر سیدھا کھڑا ہوگیا تو اس وقت بیٹھنا جائز نہیں اب اگر قعدہ اولی کی طرف لوٹتا ہے تو گناہگار ہوگا لیکن راجح یہی ہے کہ اس صورت میں بھی نماز باطل نہ ہوگی سجدہ سہو لازم ہوگا۔ درمختار میں ہے (اگر نمازی فرض کے قعدہ اولی میں بھول گیا) اگر چہ فرض عملی ہو پھر یاد آگیا تو اس کی طرف لوٹ آئے اور اصح قول کے مطابق سجدہ سہو نہ ہوگا جب تك وہ سیدھا کھڑا نہ ہوجائے ظاہر مذہب یہی ہے اور یہی اصح ہے فتح اور اگر سیدھا کھڑا ہوگیا تو نہ لوٹے اگر لوٹ آیا تو نماز فاسد نہ ہوگی البتہ گناہگار ہوگا تاخیر واجب کی وجہ سے سجدہ سہو کرے یہی مختار ہے جیسا کہ اس کی تحقیق کمال نے کی اور یہی حق ہے بحر اھ اختصارا ردالمحتار میں ہے کہ ماتن کا قول کہ “ اس پر اصح قول کے سجدہ نہیں یعنی جب وہ سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے پہلے لوٹا اور وہ بیٹھنے کے قریب تھا تو اب اس پر سجدہ نہیں یہی اصح ہے اور اکثر کا قول ہے جب وہ لوٹا حالانکہ قیام کے قریب تھا تو اب اس پر
حوالہ / References &درمختار باب سجودالسہو€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٠٢
#10602 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
سجود السھو کما فی نورالایضاح وشرحہ بلاحکایۃ خلاف فیہ وصحح اعتبار ذلك فی الفتح بما فی الکافی ان استوی النصف الاسفل وظھرہ بعد منحن فھو اقرب الی القیام وان لم یستو فھو اقرب الی القعود قولہ لکنہ یکون مسیئا ای ویاثم کما فی الفتح فلوکان اماما لا یعود معہ القوم تحقیقا للمخالفۃ ویلزمہ القیام للحال شرح المنیۃ عن القنیۃ اھ ملتقطا۔ واﷲ تعالی اعلم
سجدہ سہو لازم ہوگا جیسا کہ نورالایضاح اور اس کی شرح میں اس مسئلہ کو بغیر کسی اختلاف کے ذکر کیا ہے اور کافی کی عبارت کو فتح میں صحیح کہا ہے کہ اگر نمازی کا نصف سیدھا ہوگیا حالانکہ پشت ابھی ٹیڑھی تھی تو یہ قیام کے قریب ہوگا اور اگر نصف اسفل سیدھا نہیں تو وہ قعود کے قریب ہے۔ ماتن کے قول “ یکون مسیئا “ کا معنی یہ ہے کہ وہ گناہگار ہے فتح اوراگر وہ امام ہے تو وہ نہ لوٹے اور لوٹ گیا تو نماز فاسد نہ ہوگی لیکن گناہگار ہوگا۔ اور واجب کی تاخیر کی وجہ سے سجدہ سہو کرے یہی اشبہ بالحق ہے جیسا کہ کمال نے اس کی تحقیق کی اور یہی حق ہے بحر اھ مختصرا۔ اس پر فی الحال قیام لازم ہے شرح منیہ میں قنیہ کے حوالے سے ہے اھ ملتقطا واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ : شوال ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام بھول گیا سجدہ سہو کرلے تو اس صورت میں نماز امام و مقتدین اور بعد سجدہ سہو کے جو مقتدی ملے ان سب کی نماز کیسی ہوگی اور حقیقت میں سہو نہیں تھا بینوا توجروا
الجواب :
امام و مقتدیان سابق کی نماز ہوگئی جو مقتدی اس سجدہ سہو میں جانے کے بعد ملے ان کی نماز نہیں ہوئی کہ جب واقع میں سہونہ تھا دہنا سلام کہ امام نے پھیرا ختم نماز کا موجب ہوا یہ سجدہ بلا سبب لغو تھا تو اس سے تحریمہ نماز کی طرف عودنہ ہوا اور مقتدیان مابعد کو کسی جزء امام میں شرکت امام نہ ملی لہذا ان کی نماز نہ ہوئی ولہذا اگر سجدہ سہو میں مسبوق اتباع امام کے بعد کو معلوم ہو کہ یہ سجدہ بے سبب تھا اس کی نماز فاسد ہوجائے گی کہ ظاہر ہوا کہ محل انفراد میں اقتدا کیا تھا ہاں اگر معلوم نہ ہوا تو اس کےلئے حکم فساد نہیں کہ وہ حال امام کو صلاح وصواب پر حمل کرناہی چاہۓ در مختار میں ہے :
حوالہ / References &ردالمحتار باب سجود السہو€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٥٠
#10603 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
سلام من علیہ سجود سھویخرجہ من الصلوۃ خروجاموقوفا ان سجد عادالیھا والالا ۔
اس کا سلام جس پر سجدہ سہو تھا نماز سے موقوف خروج ہے اگر سجدہ کرلیا تو وہ نماز کی طرف لوٹ آیا ورنہ نہیں ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
انہ اذاسجدوقع لغوا فکانہ لم یسجد فلم یعد الی حرمۃ الصلوۃ ۔
جب اس نے سجدہ کیا تو یہ لغو ہوگا گویا اس نے سجدہ سہو کیا ہی نہیں لہذا وہ حرمت نماز کی طرف نہیں لوٹا۔ (ت)
خزانۃ المفتین میں فتاوی قاضی خاں سے ہے :
اذاظن الامام ان علیہ سہوا فسجد للسہو و تابعہ المسبوق فی ذلك ثم علم ان صلوتہ تفسدو ان لم یعلم انہ لم یکن علی الامام سھو لم تفسد صلوۃ المسبوق ۔
جب امام کو یہ گمان ہو کہ اس پر سجدہ سہو ہے اور اس نے سجدہ سہو کیا اور مسبوق نے بھی اس کی اتباع میں سجدہ کیا پھر اس نے جانا کہ امام پر سجدہ سہو نہ تھا تو مشہور یہی ہے کہ اس کی نماز فاسد ہوگی اور اگر اسے اس بات کا علم نہیں کہ امام پر سجدہ سہونہیں تھا تو مسبوق کی نماز فاسد نہ ہوگی ۔ (ت)
طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے : ھوالمختار کذافی المحیط ( یہی مختار ہے جیسا کہ محیط میں ہے ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از رامپور سررشتہ پولیس مرسلہ جعفر حسین صاحب محرر سہ شنبہ محرم الحرام ھ
زید نماز مغرب میں اخیر رکعت میں آکر جماعت میں شریك ہوا خالد جو امام تھا ایك طرف سلام پھیر کر سجدہ سہو میں چلا گیا اب زید ایك طرف سالم پھیر کر سجدہ سہو میں جائے یا بدوں سلام کے سجدہ کرے بعض علماء کہتے ہیں کہ اگر اس نے بھی قصدا سلام پھیرا تو نماز مسبوق کی فاسد ہوگئی ورنہ نہیں اور شامی اور بحرالرائق وغیر ہما میں جو
حوالہ / References &درمختار باب سجودالہسو€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٠٣
&ردالمحتار باب سجودالسھو€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٥٥
&فتاوٰی قاضی خاں فصل فی المسبوق€ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ١ / ٤٨
&طحطاوی علی مراقی الفلاح باب سجود السہو€ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ٢٥٣
#10604 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
روایت لکھی ہے وہ درباب اخیر سلام ہے نہ درباب سلام سہو۔ اور فریقین کی دلیل یہی دونوں کتاب کی روایت ہے اس کا فیصلہ چاہئے رامپور کے علماء سے بخوبی فیصلہ جس سے تسلی ہو نہ ہوسکا۔ بینوا توجروا
الجواب :
حکم مسئلہ میں قول اول صحیح ہے فی الواقع مسبوق سلام سے مطلقا ممنوع وعاجز ہے جب تك فوت شدہ رکعات ادا نہ کرلے امام سجدہ سہو سے قبل یا بعد سلام پھیرتا ہے اس میں اگر قصدا اس نے شرکت کی تو اس کی نماز جاتی رہے گی کہ یہ سلام عمدی اس کے خلال نماز میں واقع ہوا ہاں اگر سہوا پھیرا تو نماز نہ جائے گی۔
لکونہ ذکر امن وجہ فلا یجعل کلاما من غیر قصد وان کان العمد والخطاء والسھو کل ذلك فی الکلام سواء کما حققہ علماءنا رحمھم اﷲتعالی
کیونکہ یہ من وجہ ذکر ہے لہذا اسے بغیر قصد کے کلام قرار نہ دیا جائے اور اگر چہ عمد خطا اور سہو کلام میں برابر ہیں جیسا کہ ہمارے علماء رحمہم اللہ تعالی نے اس کی تحقیق کی ہے ۔ (ت)
بلکہ وہ سلام جو امام نے سجدہ سہو سے پہلے کیا اگر مسبوق نے سہوا امام سے پہلے یا معا بلاوقفہ اس کے ساتھ پھیرا تو ان صورتوں میں مسبوق پر سہو بھی لازم نہ ہوا کہ وہ ہنوز مقتدی ہے اور مقتدی پر اس کے سہو کے سبب سجدہ لازم نہیں ہاں یہ سلام اخیر اگر امام کے بعد پھیرا تو اس پر سجدہ اگر چہ کرچکا ہو دوبارہ لازم آیا کہ اپنی آخر نماز میں کرے گا اس لئے اب یہ منفرد ہوچکا تھا۔ خزانۃ المفیتن میں شرح مختصر امام طحاوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے ہے :
علیہ سجدۃ من صلب الصلوۃ سلم وھو ناس لھا ثم تذکر بعد ذلك فانہ بھذاالسلام لا یخرج عن حرمۃ الصلوۃ بالاجماع حتی صح الاقتداء وان عاد الامام و سجد یسجد ھذا المقتدی معہ علی طریق المتابعۃ ولایعتد بھذہ السجدۃ لانہ لم یدرك الرکوع ویتشھد مع الامام ولایسلم اذاسلم الامام ویسجد سجدتی السھو مع الامام فاذاسلم الامام ثانیا لایسلم ھوایضا بل یقوم الی قضاء ماسبق اھ باختصار
اگر کسی شخص پر نما ز کا سجدہ تھا اس نے بھول کر سلام پھیر دیا اسے پھر سجدہ یاد آگیا تو وہ اس سلام کی وجہ سے بالاتفاق حرمت نماز سے خارج نہیں ہوا حتی کہ اس کی اقتداء درست ہے اور اگر امام لوٹا اور سجدہ کیا اور مقتدی نے امام کی متابعت میں سجدہ کرلیا تو یہ اس کا یہ سجدہ معتبر نہ ہوگا کیونکہ اس نے امام کو رکوع میں نہیں پایا امام کے ساتھ تشہد پڑھے لیکن جب امام سلام کہے تو یہ سلام نہ کہے البتہ امام کے ساتھ دونوں سجود سہو کرے جب امام دوبارہ سلام پھیرے تو وہ اب بھی سلام نہ کہے بلکہ گزشتہ رکعات کی قضا کیلئے کھڑا ہوجائے
حوالہ / References &خزانۃ المفتین فصل فیما یوجب السہو و ما لایوجب قلمی نسخہ€ ١ / ٣٩
#10605 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
دیکھو مسبوق کو سجدہ سہو سے قبل وبعد دونوں وقت سلام سے منع فرمایا حلیہ شرح منیہ للامام ابن امیر الحاج میں ہےـ :
موافقۃ المقتدی المدرك للامام فی سجود السھو ظاھر واماالمسبوق فلا یتابعہ بالسلام للخروج عن الصلوۃ وقد بقی علیہ ارکان الصلوۃ ویتابعہ فی سجود السھو وعن ابراھیم النخعی انہ لایسجد بسھوہ اصلا لان محل السھو بعد السلام وانہ لایتابعہ فیہ فلا یتصور المتابعۃ فی السھو ولنا ان سجود السہو یؤدی فی تحریمۃ الصلوۃ فکانت الصلوۃ باقیۃ واذا بقیت التبعیۃ فیتابعہ فیما یؤدی من الافعال ۔
مدرك مقتدی کی امام کے ساتھ سجدہ سہو میں موافقت واضح ہے ۔ رہا مسبوق کا معاملہ تو وہ امام کے اس سلام میں اتباع نہ کرے جو نماز سے خارج ہونے کے لئے تھا کیونکہ اس پرنماز کے ارکان کی ادائیگی رہتی ہے البتہ سجدہ سہو میں اتباع کرے۔ امام ابراہیم نخعی سے منقول ہے کہ مسبوق امام کے سہو کی وجہ سے ہرگز سجدہ سہو نہ کرے کیونکہ سجدہ سہو سلام کے بعد ہوتا ہے اور جب وہ سلام میں امام کی اتباع نہیں کررہا تو سجدہ میں متابعت کیسے متصور ہوسکتی ہے ہماری رائے یہ ہے کہ سجدہ سہو نماز کی حرمت میں ادا ہوتا ہے تو ابھی نماز باقی ہے اور جب تابعیت امام باقی ہے تو ان افعال میں امام کی اتباع کی جائے جو اداہورہے ہیں (ت)
محقق علی اطلاق فتح میں فرماتے ہیں :
لوسبق الامام الساھی الحدث بعد سلامہ استخلف لیسجد الخلیفہ کما لوبقی علیہ التسلیم ولیس للمسبوق ان یتقدم فی ھذا الاستخلاف لا نہ لایقدر علیہ اذمحلہ بعد السلام وھو غیر قادر علی السلام وانما یسجد قبل السلام حالۃ الاقتداء بمن یسجد قبلہ وھو ھنا
اگربھول جانے والے امام کو حدث لاحق ہوگیااور اس نے کسی کو خلیفہ بنایا تاکہ سجدہ سہو کرائے جیسا کہ امام پر سلام کہنا باقی ہو تو حدث لاحق ہوجائے تو خلیفہ یہ کام سرانجام دے اور مسبوق کے لئے جائز نہیں کہ وہ ایسی صورت میں خلیفہ بنے کیونکہ وہ سجدہ سہو پر قادرنہیں ہوتا کیونکہ یہ سجدہ سلام کے بعد ہوگا اور مسبوق سلام پر قادر نہیں البتہ وہ شافعی کی اقتدامیں
حوالہ / References &حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی€
#10606 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
قد صار اماما للمستخلف ومع ھذالو تقدم لم تفسد لانہ یقدر علی الاتمام فی الجملۃ بان یتاخر ویقدم مدرکالیسلم بھم و یسجد ویسجد الخلیفۃ المسبوق معھم لانہ الان مقتد ثم یقوم الی قضاء ماسبق بہ الخ
سلام سے پہلے امام کی سجدہ سہو میں اقتدا کرسکتا ہے اور مذکور صورت میں تو مسبوق امام کا امام بن جائیگا اس کے باوجود اگر مسبوق آگے ہوگیا تونماز فاسد نہ ہوگی کیونکہ نماز کے اتمام پر قادر تو ہے ہی مثلا یوں کہ خود پہلے ہٹ جائے اور کسی مدرك مقتدی کو آگے کردے جو نمازیوں کو سلام پھرائے اور سجدہ سہو کرائے اور خلیفہ مسبوق بھی ان کے ساتھ سجدہ کرے کیونکہ اب یہ مقتدی ہے پھر گزشتہ نماز کیلئے قیام کرے (ت)
رہی عبارت بحرالرائق کہ بعد بیان اس امر کے کہ مسبوق سجدہ سہو میں امام کی متابعت کرے گا ۔ فرمایاـ :
ثم المسبوق انما یتابع الامام فی السھو لا فی السلام فیسجد معہ ویتشھد فاذا سلم الامام قام الی القضاء فان سلم فان کان عامد افسدت والا فلا ولاسجود علیہ ان سلم قبل الامام اومعہ وان سلم بعدہ لزمہ لکونہ منفرداحینئذ ۔
پھر مسبوق امام کی سجدہ سہومیں اتباع کرے مگر سلام میں نہیں پس مسبوق امام کے ساتھ سجدہ کرے تشہد پڑھے اور امام سلام پھیرے تو یہ گزشتہ نماز کےلئے کھڑاہو جائے اور اگر مسبوق سلام پھیرتا ہے تو اگر عمدا کیا تو نماز فاسد ورنہ نہیں اگر مسبوق نے امام سے پہلے یا اس کے ساتھ سلام سہوا پھیردیا تو اب اس پر سجدہ سہو نہیں اور اگر امام کے بعد سلام پھیرا تو اب سجدہ سہولازم ہوگا کیونکہ اب وہ منفرد ہے (ت)
اسی طرح اس سے ردالمحتار میں ہے :
حیث قال قولہ والمسبوق یسجد مع امامہ قید بالسجود لانہ لایتابعوہ فی السلام بل یسجد معہ یتشھد الخ
ماتن کا قول “ مسبوق اپنے امام کے ساتھ سجدہ سہو کرے “ یہاں سجدہ کے ساتھ مقید ہے کیونکہ سلام میں اتباع نہیں بلكہ سجدہ کرے اور تشہد پڑھے الخ (ت)
حوالہ / References &فتح القدیر باب سجود السہو€ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ٤٤٤
&بحرالرائق باب سجود السہو€ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ١٠٠
&ردالمحتار سجود السہو€ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٤٩
#10607 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
اس میں تحقیق وقول فیصل یہ ہے کہ ان سلم بعدہ ( اگرمسبوق نے امام کے بعد سلام پھیرا ۔ ت) سے یقینا سلام اخیر مراد ہے جس کے بعد سمجھ نہیں کہ اس سے پہلا سلام جس کے بعد امام نے سجدہ سہو کیا اگر مسبوق سہوا امام کے بعد بھی پھیرے گا اس پر سہو لازم نہیں ہوسکتا کہ وہ اب بھی مقتدی ہے تو لکونہ منفرداحینئذ (کیونکہ اب وہ منفرد ہے ۔ ت) وہاں قول صادق نہیں اور قول بحر لافی سلام ( سلام میں نہیں ۔ ت) وقول شامی قید بالسجود لانہ لایتابعہ فی السلام (ماتن نے سجدہ کی قید لگائی ہے کیونکہ سلام میں اتباع نہیں کی جائیگی ۔ ت) میں یا تو نظر باطلاق لفظ و عموم حکم مطلق سلام مراد ہے خواہ سجدہ سہو سے پہلے ہو یا بعد یا بقرینہ مقام سلام قبل سجدہ سہو مراد لیجئے یعنی سجدہ سہو میں مسبوق بھی اگر چہ متابعت امام کرے گا مگر فقط سجدے میں شریك ہوگا ولہذا متابعت میں سجود کی قید لگادی کہ پیروی اسی پر مقصود ہے سلام میں مسبوق متابعت نہیں کرسکتا۔
و ھذا معنی واضح جلی یسبق الی الذھن اول مایسمع ھذا الکلام اذا صفت القریحۃ عن ظلام الاوھام۔
یہ حقیقت اتنی واضح ہے کہ مذکورہ کلام سنتے ہی انسان کا ذہن اس طرف چلاجاتا ہے بشرطیکہ اوہام کی تاریکیوں سے ذہن صاف ہو۔ (ت)
اور اسے خاص سلام اخیر بعد سجود سہو پر حمل کر نا بے دلیل ہے جس پر اصلا قرینہ نہیں بطلکہ ظاہرا قرینہ اس کے خلاف کی طرف مشیر کما لا یخفی علی العارف البصیر ( جیسا کہ عارف بصیر پر مخفی نہیں ۔ ت) باقی دوجگہ جو لفظ ان سلم ( اگر سلام پھیرا ۔ ت) واقع ہے اگر سیاق سخن ونظم کلام دیکھئے تو وہ بھی مثل ان سلم بعدہ ( اگر مسبوق نے امام کے بعد سلام پھیرا ۔ ت) سلام بعد سجود سہو میں ہیں کہ اذا سلم الامام ( جب امام نے سلام پھیرا۔ ت) سے یقینا یہی سلام اخیرمراد ہے جو یسجد معہ ویتشھد (امام کے ساتھ سجدہ کرے اور تشہد پڑھے ۔ ت) کے بعد اور قام الی القضاء ( گزشتہ نماز کے لئے کھڑا ہوجائے ۔ ت) اس سے متصل ہے تو کلام آتی اسی صورت کی طرف ناظر ہونا زیادہ متبادر ہے خصوصا ان تشقیقوں میں ایك شق ان سلم بعدہ (اگر امام کے بعد سلام پھیرے ۔ ت) بلاشبہہ مختص بسلام آخر ہے اور حکم پر نظر کیجئے تو دونوں ان سلم ( اگر سلام پھیرے ۔ ت) متوسط میں جو بیان ہے سلام قبل سجدہ و بعد سجدہ دونوں کو عام ہے کما اشرنا الی کل ذلك ( جیسا کہ ہم نے ان تمام شقوں کی طرف اشارہ کیا ۔ ت) علامہ سید طحطاوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے حاشیہ مراقی الفلاح میں قول شارح :
ان سلم مع الامام مقار نالہ اوقبلہ ساھیا فلا سہو علیہ لانہ فی حال اقتدائہ وان سلم بعدہ یلزمہ السھو لانہ منفرد ۔
اگر مسبوق نے امام کے ساتھ یا پہلے بھول کر سلام پھیرا تو اب اس پر سجدہ سہو نہیں کیونکہ وہ حالت اقتداء میں ہے اور اگر امام کے بعد سلام پھیرا تو اب سجدہ سہو لازم ہوگا کیونکہ وہ اب تنہا نماز ادا کررہا ہے ۔ (ت)
حوالہ / References &مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب سجود السہو€ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص٢٣٥
#10608 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
کی یہی شرح فرمائی :
حیث قال قولہ وان سلم مع الامام الخ سواء فی ذلك تسلیمۃ التحلیل الاولی وتسلیم سجود السھو لظھور العلۃ فی ذلك وقولہ وان سلم بعدہ ای بعد سلام الامام من سجود السھو فقط اماسلامہ بعد سلام الامام الاول من الصلوۃ فلا یلزم بہ السھو لانہ لما سجد للسھو معہ عادالی الاقتداء ولا سھو علی المقتدی فتامل فیہ کلہ اھ
ان کے الفاظ یہ ہیں قول “ اگر مسبوق نے امام کے ساتھ سلام کہا الخ “ میں نماز سے فارغ ہونے کے لئے سلام یا سجدہ سہو کے لئے سلام دونوں برابر ہیں کیونکہ علت ایك ہے قولہ اگر مسبوق نے اس کے بعد سلام پھیرا یعنی امام کے فقط سجود سہو کے سلام کے بعد پھیر ا اگر امام کے پہلے سلام کے بعد پھیرا تو بھی مسبوق پر سجدہ سہو نہیں کیونکہ جب وہ امام کے ساتھ سجدہ سہو کرے گا تو وہ اقتداء کی طرف لوٹ آیا اور مقتدی پر سجدہ سہو نہیں ہوتا اس تمام گفتگو میں خوب غور فکر سے کام لو اھ (ت)
بالجملہ بحر وشامی کی ان عبارات سے فریق ثانی کا مسئلہ نزاعیہ پر استدلال محض باطل اور فریق اول کا ان سے استناد بوجہ تطرق احتمال گونہ ناکامل اور حکم مسئلہ میں حق فریق اور کے ساتھ ہے ۔ واﷲ سبحنہ و تعالی اعلم
مسئلہ : ذیقعدہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
() چار رکعت نماز میں درمیانی قعدے میں تشہد کے بعد سہو ہے اللھم صل کہاں تك پڑھے کہ سجدہ سہو واجب ہوجائے۔
()جماعت میں سجدہ سہو کے قبل كا سلام اس شخص کو جس کی ایك دورکعت باقی ہے اور اس کو یہ معلوم نہ ہو کہ یہ سلام اختتام نماز کا ہے یا سجدہ سہو کا ہے چاہئے یا نہیں
الجواب :
() اللھم صل علی محمد وبہ یفتی( اللھم صل علی محمد اور اس پر ہی فتوی ہے ۔ ت) واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
() جائز نہیں اور اگر صدا پھیرے گا تو نماز جاتی رہے گی لوقوعہ خلال صلوتہ ( کیونکہ یہ سلام
حوالہ / References &حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب سجود السہو€ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۲۵۳
#10609 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
نماز کے درمیان ہے ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : جمادی الاولی ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قعدہ اول میں شك ہوا مگر یقین نہیں اور سجدہ سہو کا کیا اب نماز جائز ہے یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
جائز ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : : ربیع الاول شریف ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام نے جہری نماز میں بعد الحمد قبل سورۃ اتنی دیر سکوت کیا کہ چھوٹی سورت پڑھ لیتا ا س صورت میں کیا حکم ہے
الجواب :
الحمد شریف کے بعد امام نے سانس لیا اور آمین کہی اور شروع سورت کے لئے بسم اﷲ الرحمن الرحیم پڑھی اور بسم اﷲ کو خوب ترتیل سے اداکیا تو اس قدر میں ایك سورت چھوٹی پڑھنے کی ضرور دیر ہوجائے گی مگراس میں حرج نہیں بلکہ یہ سب باتیں مطابق سنت ہیں ہاں اگر ان کے علاوہ محض سکوت اتنی دیر کیا کہ تین بار سبحان اﷲ کہہ لیتا تو یہ سکوت اگر بربنائے تفکر تھا کہ سوچتا رہا کہ کیا پڑھوں تو سجدہ سہو واجب ہے اگر نہ کیا تو اعادہ نماز کا واجب ہے اور اگر وہ سکوت عمدا بلاوجہ تھا جب بھی اعادہ واجب ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : ربیع الآخر شریف ھ
چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین اندریں صورت ( کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صورت میں ۔ ت) کہ ایك شخص نماز فرض پڑھتا ہے اور اس نے سہوا پچھلی دورکعت میں بھی بعد الحمد کے ایك ایك سورت پڑھی بعدہ سلام پھیر ا اب اس کی نماز فرض ہوئی یا سنت جیسا ہو ویسا ہی ارقام فرمائے اور اگر وہ سجدہ سہو کرلیتا تو کیا اس کی نماز فرض ہوجاتی یا نہیں بینوا بتوجروا
الجواب :
فرض ہوئی اور نماز میں کچھ خلل نہ آیا نہ اس پر سجدہ سہو تھا بلکہ اگر قصدا بھی فرض کی پچھلی رکعتوں میں سورت ملائی تو کچھ مضائقہ نہیں صرف خلاف اولی ہے بلکہ بعض ائمہ نے اس کے مستحب ہونے کی تصریح فرمائی۔ فقیر کے نزدیك ظاہرا یہ استحباب تنہا پڑھنے والے کے حق میں ہے امام کے لئے ضرور مکروہ ہے بلکہ مقتدیوں پر گراں گذرے تو حرام ۔ درمختار میں ہے :
#10610 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
ضم سورۃ فی الاولیین من الفرض وھل یکرہ فی الاخر یین المختارلا ۔ ملخصا
فرض کی پہلی دو رکعات میں سورت کا ملانا کیا آخری دو رکعتوں میں سورۃ ملانا مکروہ ہے مختار قول کے مطابق مکروہ نہیں ۔ ملخصا (ت)
ردالمحتار میں ہے
ای لایکرہ تحریما بل تنزیھا لا نہ خلاف السنۃ قال فی المنیۃ وشرحھا فان ضم السورۃ الی الفاتحۃ ساھیا یجب علیہ سجدتا السھو فی قولك ابی یوسف لتاخیر الرکوع عن محلہ وفی اظھر الروایات لایجب لان القرأۃفیھا مشروعۃ من غیر تقدیر والاقتصار علی الفاتحۃ مسنو ن لا واجب اھ وفی البحر عن فخر الاسلام ان السورۃ مشروعۃ فی الاخریین نفلا وفی الذخیرہ انہ المختار وفی المحیط وھو الاصح اھ والظاھران المراد بقولہ نفلا الجواز ولامشروعۃ بمعنی عدم الحرمۃ فلا ینا فی کونہ خلاف الاولی کما افادہ فی الحلیۃ اھ ما فی ردالمحتار
اقول : لفظ الحلیۃ ثم الظاھر ابا حتھا کیف لاوقد تقدم من حدیث ابی سعید الخدری رضی اﷲ تعالی عنہ فی صحیح مسلم وغیرہ انہ
یعنی مکروہ تحریمی نہیں بلکہ تنزیہی ہے کیونکہ خلاف سنت ہے۔ منیہ اوراس کی شرح میں ہے اگر بھول کر فاتحہ کے ساتھ سورۃ ملائی تو امام ابویوسف کے قول کے مطابق اس پر سجدہ سہو ہوگا کیونکہ رکوع اپنے مقام سے مؤخر ہوگیا ہے اورا ظہر روایات کے مطابق اس پر سجدہ سہو لازم نہیں کیونکہ ان آخری رکعتوں میں بغیر مقرر کرنے کے قرأت مشروع ہے اور فاتحہ پر اکتفا سنت ہے واجب نہیں اھ اور بحر میں فخر الاسلام سے ہے کہ آخری رکعات میں سورۃ ملانا نفلی طور پر مشروع ہے۔ اور ذخیرہ میں ہے کہ مختار ہے۔ اور محیط میں اسی کو اصح کہا ہے اھ اور نفل سے واضح طور پر یہاں مراد جواز و مشروعیت بمعنی عدم حرمت ہے پس یہ اس کے خلاف اولی ہونے کے منافی نہیں جیسا کہ حلیہ میں ہے ردالمحتار کی عبارت ختم ہوگئی۔
اقول : ( میں کہتا ہوں ) کہ حلیہ کے الفاظ کہ پھر ظاہر سورت کا مباح ہونا ہے اور یہ کیسے نہ ہو کہ پیچھے صحیح مسلم وغیرہ کے حوالے سے گزرا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ
حوالہ / References &درمختار باب صضۃ الصلوٰۃ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٧١
&ردالمحتار باب صضۃ الصلوٰۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٣٣٨
#10611 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یقرافی صلوۃ الظھر فی الرکعتین الاولین قدر ثلثین ایۃ وفی الآخریین قدر خمسۃ عشرۃ ایۃ اوقال نصف ذلك فلا جرم ان قال فخر الاسلام فی شرح الجامع الصغیر واما السورۃ فانھا مشروعۃ نفلا فی الاخریین حتی قلنا فی من قرأفی الاخریین لم یلزمہ سجدۃ سھو انتھی ثم یمکن ان یقال الاولی عدم الزیادۃ ویحمل علی الخروج مخرج البیان لذلك حدیث ابی قتادۃ رضی اﷲ تعالی عنہ ( یرید ما قدم بروایۃ الصحیحین ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یقرأ فی الظھر فی الاولیین بام القران وسورتین وفی الرکعتین الاخریین بام الکتاب الحدیث) وقول المصنف المذکور ( ای ولایزید علیھا شیأ) وقول غیر واحد من المشائخ کما فی الکافی وغیرہ ویقرأ فیھما بعدالاولیین الفاتحۃ فقط ویحمل علی بیان مجرد الجواز حدیث ابی سعید رضی اﷲ تعالی عنہ وقول فخر الاسلام فان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یفعل الجائز فقط فی بعض الاحیان تعلیما للجواز وغیرہ من غیر کراھۃ فی حقہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کما یفعل الجائز الاولی فی غالب الاحوال والفعل لاینا فی عدم الاولویۃ فیند فع بھذا ماعساہ یخال من المخالفۃ بین الحدیثین المذکورین و
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ظہرکی پہلی دورکعات میں تیس آیات اور آخری دو میں پندرہ آیات ( یا نصف) تلاوت فرماتے۔ فخرالاسلام نے شرح الجامع الصغیر میں فرمایا آخری دورکعات میں سورت بطور نفل مشروع ہے حتی کہ اگر کسی نے سورت پڑھی تو ہم کہتے ہیں کہ اس پر سجدہ سہو لازم نہیں ہوگا انتہی پھر یہ کہنا ممکن ہے کہ عدم اضافہ (سورت) اولی ہے اور اس پر دلیل حدیث ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ ہے ( اس سے مراد وہ حدیث ہے جو بخاری و مسلم کے حوالے سے گزری کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعات میں سورۃ فاتحہ اور دو سورتیں پڑھتے اورآخری دورکعتوں میں صرف فاتحہ پڑھتے ۔ الحدیث) اور مصنف کا قول مذکورہ ( یعنی اس (فاتحہ) پر اضافہ نہ کیا جائے) اور متعدد مشائخ کا قول جس طرح کافی وغیرہ میں ہے کہ پہلی دو رکعات کے بعد صرف فاتحہ پڑھی جائے اور حدیث ابو سعید رضی اللہ تعالی عنہ کو محض جواز بیان پر محمول کیا جائے اورفخر الاسلام کاقول کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بعض جائز افعال کو تعلیم جواز وغیرہ کے لئے بجا لائے جبکہ یہ آپ کے حق میں مکروہ نہیں جس طرح آپ جائز کو غالب اوقات بجالاتے تھے اور فعل عدم اولی کے منافی نہیں ہوتا اس گفتگو سے وہ تمام معاملہ ختم ہوجاتا ہے جو خیال کیا گیا تھا کہ ان مذکورہ دونوں احادیث اور اقوال مشائخ میں مخالفت ہے اھ شاید آپ پر یہ بات مخفی نہیں رہی کہ نفل مشروع کو مکروہ تنزیہی پر محمول کرنا نہایت ہی بعید ہے اور آخری رکعتوں
#10612 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
وبین اقوال المشائخ واﷲ سبحنہ اعلم اھ ولعلك لایخفی علیك ان حمل المشروع نفلا علی مکروہ تنزیھا مستبعد جدا وقر أۃالسورۃ فی الاخر یین لیست فعلا مستحبا مستقلا یعتریہ عدم الاولویۃ بعارض کصلوۃ نافلۃ مع بعض المکروھات وانما المستفاد من العلۃ ھھنا ھو استحباب فعلھا فکیف یجامع عدم الاولویۃ والذی یظھر للعبد الضعیف ان سنیۃ الاقتصار علی الفاتحۃ انما تثبت عن المصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی الامامۃ فانہ لم یعھد منہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم صلوۃ مکتوبۃ الا اماما الانادرا فی غایۃ الندرۃ فیکرہ للامام الزیادۃ علیھا لا طالتہ علی مقتدین فوق السنۃ بل لو اطال الی حد الاستثقال کرہ تحریما اما المنفرد فقد قال فیہ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فلیطول ماشاء وزیادۃ خیر ولم یعرضہ مایعارض خیریتہ فلا یبعد ان یکون نفلا فی حقہ فان حملنا کلام المشائخ علی الامام وکلام الا مام فخر الاسلام تصحیح الذخیرۃ والمحیط علی المنفرد حصل التوفیق وباﷲ التوفیق ھذا ماعندی واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
میں سورت کا پڑھنا مستقل فعل مستحب نہیں کہ اسے کسی عارضہ کی وجہ سے عدم اولویت لاحق ہو جیسے کہ نفل نماز کسی مکروہ پر مشتمل ہو اور یہاں علت سے قرأت سورت کا استحباب ثابت ہو رہا ہے تو اب یہ عدم اولویت کے ساتھ کیسے جمع ہوسکتا ہے۔ اس عبد ضعیف پر یہ چیز واضح ہوئی ہے کہ فاتحہ پر اکتفا کرنا نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے امامت کی صورت میں منقول ہے کیونکہ آپ کی فرض نماز جو بھی منقول ہے وہ امام ہونے کی صورت میں ہی ہے البتہ شاذونادر ہی کوئی فرض نماز اس کے علاوہ ہوگی لہذا امام کے لئے فاتحہ پر اضافہ مکروہ ہوگا کیونکہ یہاں مقتدیوں پر سنت سے بڑھ کر طوالت کی کہ مقتدیوں پر گراں گزری تویہ کراہت تحریمی ہوگی۔ اگر آدمی تنہا نماز ادا کررہا ہے تواس میں رسالتمآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی ہے کہ نماز جتنی لمبی کرنا چاہے کرے اور فاتحہ پر اضافہ خیر ہے اور اس کے خیر ہونے کے خلاف کوئی دلیل بھی نہیں تو منفرد کے حق میں اس اضافہ کا نفل ہونابعید نہیں اگر ہم کلام مشائخ کو امام پر اور امام فخر الاسلام اور تصحیح ذخیرہ اور محیط کو منفردپر محمول کرلیں تو موافقت پیدا ہوجائے گی اورتوفیق دینے والا اﷲ ہی ہے اور یہ میرے نزدیك ہے ۔ اﷲ تعالی ہی خوب جاننے والا ہے
حوالہ / References &حلیہ المحلی شرح منیہ المصلی€
#10613 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
مسئلہ : از اترولی ضلع علی گڑھ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ حافظ عبدالکریم صاحب مدرس جمادی الآخرہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام کے ساتھ اکیلا بعد التحیات کے سجدہ سہو کا ایك سلام بعد کرنا چاہئے یا کہ دونوں طرف سلام پھیر کے
الجواب :
ایك سلام کے بعد چاہئے دوسرا سلام پھیر نا منع ہے یہاں تك کہ اگر دونوں قصدا پھیر دے گا سجدہ سہو نہ ہوسکے گا اور نماز پھیرنا واجب رہے گا۔ درمختار میں ہے :
یجب بعد سلام واحد عن یمینہ فقط وھو الاصح بحر وعلیہ لو اتی بتسلیمتین سقط عنہ السجود الخ
فقط دائیں جانب سلام کے بعد واجب ہے اور یہی اصح ہے بحر۔ اور اگر سجدہ سہو لازم تھا اور اس نے دونوں طرف سلام پھیردیا تو سجود ساقط ہو جائیگا الخ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
وعلیہ فیجب ترك التسلیمۃ الثانیۃ الخ۔ واﷲ تعالی اعلم وعلمہ وجل مجدہ اتم واحکم
اگر سجدہ سہو لازم ہو تو دوسرے سلام کا ترك ضروری ہوتا ہے الخ۔ واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم (ت)
مسئلہ : مرسلہ حافظ عبداﷲ خاں موضع ٹھریا ضلع بریلی جمادی الآخرہ ھ
نمازی کسی رکعت میں صرف الحمد پڑھے اور سہوا سورت نہ ملائے اور پھر سہو کا سجدہ کرے تو نماز ہوجائیگی یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
جو سورت ملانا بھول گیا اگر اسے رکوع میں یاد آیا تو فورا کھڑے ہوکر سورت پڑھے پھر رکوع دوبارہ کرے پھر نماز تمام کرے اور اگر رکوع كے بعد سجدہ میں یاد آیا تو صرف اخیر میں سجدہ سہو کرلے نماز ہوجائے گی اورپھیرنی نہ ہوگی ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از تونسہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خاں مسئولہ مولنا مولوی احمد بخش ساکن ڈیرہ غازی خاں مہتمم مدرسہ محمودہ محمودیہ ذیقعدہ ھ
سیدی سندی اعتضادی وعلیہ اعتمادی البحرالبحر العلامۃ الفہامۃ الالمعی اللوذعی حضرت مجدد المائۃ الحاضرہ
حوالہ / References &درمختار باب سجود السہو€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ١٠١
&ردالمحتار باب سجود السہو€ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ٧٨
#10614 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
ادام اﷲ برکاتہم والقابہم الی یوم الدین آداب عجز و نیاز بے انداز بجا لاکر عرض کرتا ہوں کہ خاکسار کو ہر لحظہ عافیت مزاج شریف و قضائے حاجات ذات مستجمع الصفات اہم مأرب واعظم مطالب ہے ان ایام میں ایك واقعہ پیش آیا جس میں بعض ابناء الزمان مخالف ہیں اور مفصل طور پر میری اس تحریر ناقص سے جو بغرض است صواب ابلاغ خدمت اقدس ہے واضح ہوگا چونکہ جناب کے بغیر خاکسار کا کوئی محل اعتماد نہیں اس لئے تکلیف دی ہے کہ براہ بندہ نوازی جواب باصواب سے جو مدلل و مفصل ہو خاکسار کو معزز وممتاز فرمائیں عین عنایت ہوگی اور اس تقریر کے اخیر میں اپنی رائے صائب سے آگاہ فرماکربدستخط خاص مزین فرمادیں ۔
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
یارب بك الاعتصام ومنك التوفیق
ویا شفیق یارفیق نجنی من کل ضیق
( اے میرے رب کریم ! تو ہی میرا آسر ا ہے اور تجھ ہی سے توفیق ہے۔ اے شفیق ورفیق! مجھے تکلیف سے نجات عطافرما)
مسئلہ : اگرمو تم سے سہو ہو تو اعادہ صلوۃ اس پر واجب نہیں کیونکہ جمیع فقہاء نے متون اور شروح میں تصریح فرمائی ہے کہ موتم پر اپنے سہو سے سجدہ سہو لازم نہیں کیونکہ اگر وہ اکیلہ سجدہ سہو ادا کرے تو مخالفت امام لازم ہے اور اگر امام بھی اس کے ساتھ سجدہ کرے تو معاملہ برعکس ہوجاتا ہے یعنی اصل تابع اور تابع اصل بن جاتاہے اس بیان سے یہ مستفاد کیا جائے گا کہ گویا مقتدی کی نماز میں کوئی ایسا نقص واقع نہیں ہوا یا کراہت جس کے جبر کےلئے سجدہ سہو واجب ہو پس اس بناء پر اعادہ لازم نہیں کیونکہ اعادہ وجود کراہت پر متفرع ہے واذلیس فلیس( جب کراہت نہیں تو اعادہ نہیں ۔ ت)علامہ شامی نے نہر فائق سے نقل کیا ہے کہ :
ثم مقتضی کلامھم انہ یعیدھا بثبوت الکراھۃ مع تعذرالجابر انتھی۔
کلام فقہاء سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز ثبوت کراہت کی وجہ سے لوٹائی جائے گی جبکہ نقصان کو پورا کرنا دشوار ہو انتھی۔ (ت)
جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عدم لزوم سجدہ سہو اس امر پر مبنی ہے کہ اس کا ادا کرنا ناممکن ہے نہ یہ کہ اس کی نماز میں کوئی نقص یا کراہت واقع نہیں بلکہ نماز مکروہ ہے اور حسب کلیہ مسلمہ فقہاء کہ “ جو نماز کراہت سے ادا ہو اس کا اعادہ لازم ہے “ اعادہ لازم ہے
حوالہ / References &ردالمحتار باب سجود السہو€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ٨٢
#10615 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
جواب : اگر ایسا ہو تو لازم آتا ہے کہ فقہاء نے احادیث کی مخالفت کی جس سے یہ مفہوم ہے کہ امام مقتدی سے سجدہ سہو کو اٹھالیتا ہے جیسا کہ قرأءت کو ۔ حدیث اول : مشکوۃ شریف میں ہے :
عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الامام ضامن (الحدیث)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : امام ضامن ہوتا ہے ( الحدیث) (ت)
جس سے ثابت ہوتا ہے کہ امام مقتدی کی نماز کا متکفل ہے اگر مخالف سجود سہو کی اس کفالت سے خارج ہونے کا دعوی کرے تو اس کے لئے مولاناعلی قاری رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا قول اپنی شرح مرقاۃ میں ای متکفل لصلوۃ المؤتمین بالاتمام ( یعنی امام مقتدیوں کی نماز کے اتمام کے لئے کفیل ہوتا ہے ۔ ت) اور ناقلا عن ابن حجر رضی اللہ تعالی عنہ :
والضمانۃ امالحملھم نحوا القرأۃ عن المسبوق اوالسہو عن الساھی ۔
امام کے ضامن ہونے کا یہ معنی ہے کہ وہ مسبوق کی طرف سے قرأت اور بھول جانے والے کے سہو کا ضامن ہوتا ہے ۔ (ت)
اور علامہ عینی کا قول شرح صحیح بخاری میں :
یعنی ان صلوتھم فی ضمن صلوۃ الامام صحۃ و فسادا
یعنی مقتدیوں کی نماز صحت اور فساد کے لحاظ سے امام کی نماز کے تابع ہے ۔ (ت)
ونیزان کا قول :
ونستدل بما فی صحیح ابن حبان الامام ضامن بمعنی یضمنھا صحۃ و فسادا ۔
اور ہم صحیح ابن حبان کی اس روایت سے استدلال کرتے ہیں کہ امام ضامن ہے یعنی وہ نماز کی صحت اور فساد کا ضامن ہوتا ہے (ت)
اور نیز ان کا قول :
وقال ابن الملك لانھم المتکفلون ای الائمۃ ۱۲لھم
اور ابن الملك نے کہا کہ اگر اپنے مقتدیوں کی نماز کے فساد و صحت اور نماز کے
حوالہ / References &مشکوٰۃ المصابیح باب فضل الاذان واجابت المؤذن فصل ثانی€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ص٦٥
&مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب فضل الاذان واجابت المؤذن فصل ثانی€ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ٢ / ١٦٥
&مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب فضل الاذان واجابت المؤذن فصل ثانی€ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ٢ / ١٦٥
&عمدۃ القاری شرح بخاری باب اذالم یتم الامام واتم من خلفہ€ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ منیر بیروت ٥ / ٢٢٩
&عمدۃ القاری شرح بخاری باب اذا طول الامام وکان للرجل حاجۃ الخ€ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ منیر بیروت ٥ / ٢٣٩
#10616 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
صحۃ صلوتھم وفسادھا وکمالھا ونقصانھا بحکم المتبوعیۃ والتابعیۃ ۔
کامل وناقص ہونے کے ضامن ہوتے ہیں متبوع اور تابع کے اعتبار سے یہ حکم ہوگا (ت)
کفایت نہ کریں تو گو سروخشت ۔ حدیث دوم : مراقی الفلاح میں ہے :
قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الامام لکم ضامن یرفع عنکم سھوکم وقراء تکم
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : امام تمھارے لئے ضامن ہے اور تمھاری سہو اور قرأت کو اٹھا لیتا ہے ۔ (ت)
اسی حدیث کے مطابق حضرت ابن حجر رضی اللہ تعالی عنہ نے حدیث اول کی تفسیر فرمائی ہے جو پہلے ذکر ہوچکی ہے اور جس کا ترجمہ كب سے نام حق میں “ سہو اور امام برگیرد “ (اس کے سہو کو امام اٹھا لیتا ہے ۔ ت) سے کیا گیا نیز اس حدیث کے متعلق حضرت امام طحطاوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ رفع سہو کے ساتھ رفع قرأۃ کا ذکر کرنے سے یہ اشارہ ہے کہ جیسا کہ مقتدی پر ترك قرأۃ سے کوئی گناہ نہیں اسی طرف سہو کے ترك کرنے سے بھی کوئی گناہ نہیں اس کے بعد نہر فائق کی عبارت متقدمۃ الذکر نقل کرکے فرماتے ہیں : وقد علمت مفاد الحدیث افادہ بعض الافاضل ( آپ حدیث کا وہ معنی جان چکے جو بعض افاضل نے بیان کیا ۔ ت) یعنی کہ مفاد حدیث کے مخالف ہے جو نہر سے منقول ہوا۔
حدیث سوم : علامہ شامی نے معراج الدرایہ سے نقل کیا ہے کہ عدم لزوم سجدہ سہو کے ثابت کرنے کےلئے بہتر یہ ہے کہ اس حدیث سے استدلال کیا جائے جو حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کی : لیس علی من خلف الامام سھو ( جو امام کے پیچھے ہو اس پر (سجدہ ) سہو نہیں ۔ ت)
حدیث چہارم : حضرت قطب شعرانی رضی اللہ تعالی عنہ کشف الغمہ میں بہ صفحہ ع وع فرماتے ہیں :
وکانو الا یسجدون لسھو ھم خلف الامام ویقولون الامام یحمل اوھام من خلفہ
صحابہ اپنے سہو کی وجہ سے امام کے پیچھے سجدہ نہیں کرتے تھے اور یہ کہتے کہ امام اپنے مقتدیوں کے وہموں کو
حوالہ / References &عمدۃ القاری€
&مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب سجود السہو €مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ٢٥٢
&حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب سجود السہو €مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ٢٥٢
&ردالمحتار€۔ &باب سجود السہو €مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ٨٢
#10617 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
من المامومین وکذلك کان یقول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من سھا خلف الامام فلیس علیہ سھو و امامہ کافیہ فان سھا الامام فعلیہ وعلی من خلفہ السھو انتھی
اٹھا لیتا ہے اور اسی طرح رسالتمآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا جو امام کے پیچھے بھول گیا اس پر (سجدہ) سہو نہیں اور اس کا امام کافی ہے اور اگر امام بھول گیا تو امام اور اس کے مقتدی دونوں پر سجدہ سہو لازم ہوگا انتہی (ت)
جس سے حضرت رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا فرمان مبارك وامامہ کافیہ ( اور اس کا امام کافی ہے ۔ ت) اور پھر اسی پر عمل صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم مخالف کے بر خلاف کافی حجۃ ہے اگر مخالف ان احادیث متذکرہ بالا کے متعلق کہے کہ سوائے حدیث اول کے باقی احادیث کسی کتاب حدیث سے منقول نہیں اور نہ کوئی سند ذکر کی گئی ہے اور ان کے ناقلین حضرت قطب شعرانی رضی اللہ تعالی عنہ اور طحطاوی اور صاحب مراقی الفلاح اور صاحب معراج الدرایہ نقاد حدیث میں سے نہیں لہذا یہ احادیث قابل اعتبار نہیں تو اس کے جواب میں مجھے مختصر طور پر یہ کہنا ضروری ہے کہ حدیث اول کے متعلق مولانا علی قاری اور ابن حجر رضی اللہ تعالی عنہ اور علامہ عینی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے اقوال اگر اتمام حجت کے لئے کافی سمجھے گئے تو دوسروں کے مناقب بیان کرنے اور حفظ مراتب کے لئے موعظۃ سے چنداں کوئی حاصل نظر نہیں آتا دوسرے یہ کشف الغمہ کے متعلق اس قسم کا خیال اس کتاب کے مقدمہ سے ناواقف ہونے کی دلیل ہے جس میں فرماتے ہیں کہ کتب صحاح فلان وفلان سے یہ سب احادیث ماخوذومنقول ہیں تیسرے یہ کہ ایسے عذرات اہل تحقیق کے نزدیك قابل وقعت نہیں
قال بعض الاذکیاء فالمختار عندی جواز نقل الحدیث من الکتب الصحاح والحسان بلاشرط ومن غیرھا بشرط التنقیح علی اھل العلم ومؤ لفاتھم وفی الاشباہ من الفقہ الحنفی نقل السیوطی عن ابی اسحق الاسفرائی الاجماع علی جواز النقل من الکتب المعتمدۃ ولا یشترط اتصال السندالی مصنفیھا انتھی
بعض اذکیاء نے فرمایا کہ میرے نزدیك کتب صحاح اور حسان سے حدیث کا بلا شرط نقل کرنا جائز ہے اور ان کے علاوہ دیگر کتب سے اہل علم اور ان کی تصانیف سے بشرط تحقیق نقل کرنا جائز ہے فقہ حنفی کی اشباہ میں ہے کہ امام سیوطی نے ابو اسحاق اسفرائی سے نقل کیا ہے کہ معتمد کتب سے ان کے مصنفین تك اتصال سند کے بغیر بھی نقل حدیث کے جواز پر اجماع ہے انتہی (ت)
حوالہ / References &کشف الغمہ باب سجود السہو€ مطبوعہ دارالفکر بیروت ١ / ١٥٩
&الاشباہ والنظائر احکام الکتابۃ€ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ٢ / ١٩٨
#10618 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
الغرض ان احادیث کے ہوتے ہی فقہاء کے اس قول سے سجدہ سہو لازم نہیں ایسے معنی کا ارادہ کرنا جو احادیث کے برخلاف ہے تمام فقہاء پر حملہ کرنے کے علاوہ عمدا ترك عمل بالحدیث نہیں تو اور کیا ہے پس بہتر ہے کہ فقہاء کے کلام سے بھی وہی مراد ہو جو احادیث سے ثابت ہو۔
سوال : صاحب النہر الفائق ثقات حنفیہ سے ہے پس یہ کس طرح گوارا ہوسکتا ہے کہ اس کی رائے کے برخلاف حکم کیا جائے کہ کلام فقہاء کا مقتضی نہ کراہت ہے اور نہ اعادہ۔
جواب : من ابتلی بلیتین فلیخترا ھونھما ( جو شخص دو مشکلات میں گھر جائے وہ ان میں سے آسان کو اختیار کرے۔ ت) صرف صاحب نہر فائق كا خلاف بمقابلہ اس کے کہ سب فقہاء کے کلام احادیث کے برخلاف ہو اور احادیث نبوی علی صاحبہا الصلوۃ والسلام پر عمل نہ ہو نہایت ہی آسان ہے ولعل اﷲ یحدث بعد ذلك امرا ( شاید اس کے بعد اﷲ کوئی امر پیدا فرمادے ۔ ت) اس کے بعد ان چند مسائل اور روایت فقہاء کا ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں جس سے صاف ثابت ہے کہ مقتدی پر سجدہ سہو کے نہ کرنے کی وجہ سے اعادہ لازم نہیں :
() سجود تلاوت کے باب میں فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر موتم نے آیت سجدہ تلاوت کی تو سجدہ تلاوت لازم نہیں نہ موتم پر اور نہ امام پر اور نہ کسی دوسرے مقتدی پر اور اس کی دلیل صاحب شرح منیہ نے بعینہ وہی لکھی ہے جو سجود سہو کے لازم ہونے کی ہے یعنی ان سجد الامام یلزم انقلاب المتبوع تابعا والالزم مخالفتھم لہ انتھی ( اگر امام سجدہ کرے گا تو یہ متبوع کا تابع ہونا لازم آئے گا ورنہ یہ اس کی مخالفت لازم آتی ہے انتہی ۔ ت)اگر اس دلیل کا مقتضی ثبوت کراہت اور اعادہ صلوۃ ہو تو لازم آتا ہے کہ سجود تلاوت کے متعلق بھی ایسا حکم ہو حالانکہ یہاں نہ اعادہ سجدہ تلاوت ہے اور نہ اعادہ صلوۃ۔
() فتاوی قائدی کی روایت مندرجہ ذیل سے مدعا ثابت ہے اور وہ یہ ہے :
اذا سہا المقتدی لایلزمہ سجود السہو انما یجب بالسھو و السبب انما یعمل عملہ اذا امکن اعتبارہ فی حق الحکم فاما اذالم یمکن اعتبارہ فی حق الحکم کان ملحقا بالعدم کما قال ابو حنیفۃ وابویوسف فی تلاوۃ المقتدی و کما فی بیع المحجور
جب کوئی مقتدی بھول جائے تو اس پر سجدہ سہو لازم نہیں ہوتا کہ سجدہ سہو اس وقت لازم ہوتا ہے جب حق حکم میں نمازی کا اعتبار ممکن ہو اور جب حق حکم میں نمازی کا اعتبار ممکن نہ ہو تو سجدہ سہو کالعدم تصور ہوتا ہے جیسا کہ امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف
حوالہ / References &ردالمحتار بحوالہ شرح منیہ وغیرہ باب سجود التلاوۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٦٦
#10619 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
وشرائہ وھھنا لایمکن اعتبار سھو المقتدی فی حق الحکم و ھو وجوب سجدۃ السھو انتھی
نے مقتدی کی تلاوت کے بارے میں فرمایا اور محجور کی بیع وشراء میں ہے اور یہاں حق حکم یعنی وجوب سہو میں مقتدی کی سہو کا اعتبار ممکن ہی نہیں انتہی (ت)
() علامہ شامی صفحہ میں فرماتے ہیں اس مسئلہ کے متعلق کہ جہاں سجود ساقط ہوجائے اعادہ لازم ہوتا ہے یا نہیں
والذی ینبغی انہ ان سقط بصنعہ کحدث عمد مثلا یلزم والا فلا تامل انتھی
اور وہ صورت جس میں نماز سے خروج بالا رادہ ہو مثلا عمدا وضو توڑدیا تو اب سجدہ سہو ساقط مگر اعادہ نماز لازم اور اگر ایسی صورت نہیں تو اعادہ لازم نہ ہوگا غور کیجئے انتہی (ت)
جس سے صاف ظاہر ہے کہ مانحن فیہ میں اس لئے کہ سقوط سجدہ سہو مقتدی کے اپنے فعل اختیار ی سے نہیں ہوا بلکہ اس لئے کہ امام کے پیچھے وہ ادا نہیں کرسکتا نہ قبل السلام نہ بعد السلام اعادہ واجب نہیں
() علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ صفحہ پر فرماتے ہیں :
وینبغی تقیید وجوب الاعادۃ بما اذالم یکن الترك لعذر کالامی اومن اسلم فی اخر الوقت فصلی قبل ان یتعلم الفاتحۃ فلا تلزم الاعادۃ انتہی
وجوب اعادہ کو اس قید کے ساتھ مقید کیا جانا چاہئے کہ یہ اس صورت میں ہے جب ترك (واجب)کسی عذر کی بنا پر نہ ہو مثلا امی کا ترك فاتحہ یا وہ شخص جو نماز کے آخری وقت میں اسلام لایا اور اس نے فاتحہ سیکھنے سے پہلے نماز ادا کی تو اب اعادہ نماز لازم نہیں ہوگا (ت)
جس سے عیاں ہے مانحن فیہ میں بوجہ اس کے کہ ترك سجود بوجہ تعذر ہوا کل صرح بہ الفقہا ( ان تمام کی فقہاء نے تصریح کی ہے ۔ ت) اعادہ لازم نہیں ۔
() فی الدرالمختار یجب علی منفرد ومقتد بسھو امامہ ان سجد امام لوجوب المتابعۃ انتھی فی ردالمحتار
درمختار میں ہے کہ تنہا نمازی پر سجدہ سہو لازم ہوتا ہے اور امام کی بھول کی وجہ سے مقتدی پر بشرطیکہ امام سجدہ کرے کیونکہ مقتدی پر امام کی متابعت لازم
حوالہ / References &فتاوٰی قائدی€
&ردالمحتار باب السجود السہو€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ٧٩
&ردالمحتار باب صفۃ الصلوٰۃ€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ٤٥٦
&درمختار باب سجود السہو€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ١ / ١٠٢
#10620 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
قولہ ان سجد امامہ امالو سقط عن الامام بسبب من الاسباب بان تکلم اواحدث معتمد ا اوخرج من المسجد فانہ یسقط عن المقتدی بحر والظاھر ان المقتدی تجب علیہ الاعادۃ کالامام ان کان السقوط بفعلہ العمد لتقرر النقصان بلاجابر من غیر عذر تامل انتھی
ہے۔ انتہی قولہ “ اگر امام نے سجدہ کیا “ اور اگر امام سے کسی وجہ سے سجدہ ساقط ہوگیا مثلا اس نے کلام کیا یا جان بوجھ کر حادث ہوگیا یا مسجد سے نکل گیا تو اب مقتدی سے بھی سجدہ سہو ساقط ہو جائے گا بحر اور ظاہر یہی ہے کہ اگر سقوط سجدہ عمدا ہو تو امام کی طرح مقتدی پر بھی اعادہ لازم ہوگا کیونکہ اب بغیر کسی عذر کے ایسے نقصان کا ثبوت ہوا جس کا کوئی ازالہ نہ ہوا غور کرو انتہی (ت)
مانحن فیہ میں اگر چہ مقتدی کا اپنا سہو ہے نہ کہ سہو امام لیکن جبکہ سجدہ سہو کے ساقط ہونے میں عمد کو دخل نہیں لہذا اعادہ بھی واجب نہیں ۔
() آج تك اعادہ صلوۃ کا عمل نا مسموع ہے اگر وجوب اعادہ سے حکم کیا جائے لکھو كھہا نمازیوں کی نمازیں ناجائز وتباہ ہوجاتی ہیں اور نمازی تارك صلوۃ اور آثم ٹھہرتے ہیں حالانکہ حضرت رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : الدین یسر (دین میں آسانی ہے ۔ ت)ونیز فرماتے ہیں : یسروا ولا تعسروا بشروا ولا تنفروا ( آسانی کرو تنگی نہ کرو اور اچھی خبر دو نفرت نہ پھیلاؤ۔ ت)
یہاں تك کہ فقہاء کے نزدیك مختار یہ ہے کہ صلوۃ عید وجمعہ میں سجود سہوادانہ کئے جائیں دفعا للفتنۃ( فتنہ کے دفع کےلئے ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم بالصواب وانا العبد العاصی لمدعو باحمد بخش عفی عنہ
الجواب :
اقول : وباﷲ التوفیق مؤید المسائل الفاضل دام بالفضائل ( میں اﷲ کی توفیق سے سائل فاضل ( جن کے فضائل ہمیشہ رہیں ) کی تائید کرتے ہوئے میں کہتا ہوں : )
() بزار مسند اور بیہقی سنن میں امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
حوالہ / References &ردالمحتار باب سجود السہو€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ٨٢
&صحیح بخاری باب الدین یسر€ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ، ١ / ١٠
&صحیح بخاری باب کان النبی یتخولہم بالموعظۃ الخ€ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ١٦
#10621 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
لیس علی من خلف الامام سھو فان سھا الامام فعلیہ وعلی من خلفہ ف
امام کے پیچھے نماز پڑھنے والے پر سہو نہیں ا گر امام بھول گیا تو اس پر اور اس کے مقتدیوں پر سجدہ سہو ہے۔ (ت)
مقتدی پر سہو کی نفی فرمائی اور وہ نفی وقوع نہیں لاجرم نفی حکم ہے کما دلت علیہ کلمۃ علی ( جیسا کہ اس پر “ علی “ کا حکم دلالت کر رہا ہے ۔ ت) تو ثابت ہوا کہ سہو مقتدی کوئی حکم نہیں رکھتا() طبرانی معجم کبیر میں عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : لایؤم عبد قوما الا تولی ماکان علیھم فی صلوتھم ۔ کوئی آدمی کسی قوم کی امامت نہیں کرتا مگر وہ ہر اس شئی کا ذمہ دار ہوتا ہے جو قوم کی نماز میں ہوتا ہے (ت)پر ظاہر کہ تولی ما علیھم یو نہی ہے کہ علیھم نہ رہے اگرمقتدی کو اپنے سہو کے سبب حکم اعادہ ہو تو امام سے ان سے تحمل نہیں بلکہ ان پر اثقل کی تحمیل کہ بے اس کے دو سجدوں ہی سے کام چل جاتا اب ساری نماز کا اعادہ کرنا پڑا۔ () بدائع امام ملك العلماء جلد اول صفحہ میں ہے : المقتدی اذاسھا فی صلوتہ فلا سہو علیہ ( اگر مقتدی نماز میں بھول جائے تو اس پر سجدہ سہو لازم نہیں ۔ ت) () محیط پھر ہندیہ جلد اول صفحہ مصری میں ہے : لو ترك الامام سجود السھو فلا سھو علی الماموم ( اگر امام نے سجدہ سہو ترك کردیا تو مقتدی پر سجدہ سہو نہیں ۔ ت)() تبیین الحقائق امام زیلعی جلد اول صفحہ :
لو سلم المسبوق مع الامام ینظر فان سلم مقارنا لسلام الامام او قبلہ فلا سھو علیہ لانہ مقتدبہ وان سلم بعدہ یلزم السھو لانہ منفرد ۔ اگر مسبوق نے امام کے ساتھ سلام کہہ دیا تو اب دیکھیں گے اگر اس نے امام کے ساتھ یا اس سے پہلے سلام کہہ دیا تو اب مقتدی ہونے کی وجہ سے سجدہ سہو لازم نہ ہوگا اور اگر امام کے بعد سلام کیا تو اب منفرد ہونے کی وجہ سے سجدہ سہو لازم ہوگا۔ (ت)
حوالہ / References &سنن الکبری للبیہقی باب من سھا خلف الامام الخ دارصادر بیروت€ ٢ / ٣٥٢
&المعجم الكبیر للطبرانی مسند عقبہ بن عامر€ مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ١٧ / ٣٢٩
&بدائع الصنائع فصل من یجب علیہ سجود السہو€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ١٧٥
&فتاوٰی ہندیۃ الباب الثانی عشر فی السجود€ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ١٢٨
&تبیین الحقائق باب السجود€ مطبوعہ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ بولاق مصر ١ / ١٩٥
ف : سنن کبرٰی کے الفاظ یوں ہیں &ان الامام یکفی من ورائہ فان سھا الامام فعلیہ سجدتا السھو و علی من وراء ہ فان یسجدوا معہ وان سھا احد من خلفہ فلیس علیہ ان یسجد وا لامام یکفیہ€۔
#10622 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
() بحرالرائق جلد دوم صفحہ :
المسبوق فیما یقضیہ کالمنفرد کما تقدم و علیہ یفرع ما اذاسلم ساھیا فان کان قبل الامام او معہ فلا سھو وان کان بعدہ فعلیہ کما ذکرناہ
مسبوق باقی رکعات ادا کرنے میں منفرد کی طرح ہوتا ہے جیسے گزرا اس پر یہ صورت متفرع ہے کہ جب مقتدی نے بھول کر سلام کہہ دیا تو اگر امام سے پہلے ساتھ ہے تو سجدہ سہو لازم نہیں اور اگر بعد میں ہے تو اس پر سجدہ لازم ہوگا جیسا کہ پیچھے گزرا۔ (ت)
ان چاروں عبارتوں میں مثل حدیث اول سہو مقتدی کی مطلقا نفی فرمائی ہے یعنی اس کے لئے کوئی حکم نہیں کما قررناہ( جیسا کہ ہم نے اس کی تقریر کردی ہے ۔ ت)() امام اجل ابو جعفر طحاوی شرح معانی الآثار جلد اول صفحہ : اقتدی مفترض بمتنفل ( فرض پڑھنے والا نفل پڑھنے والے امام کی اقتداء کرے ۔ ت) میں فرماتے ہیں :
اماحکمہ بطریق النظر فانا قدرأینا صلوۃ المامومین مضمنۃ بصلوۃ امامھم بصحتھا اوفسادھا یوجب ذلك النظر الصحیح من ذلك انا رأینا الامام اذاسھا وجب علی من خلفہ لسھو ما وجب علیہ ولو سھوا ھم و لم یسہ ھولم یجب علیھم مایجب علی الامام اذاسھا ۔
لیکن اس کا حکم بطریق نظر ہے ہم دیکھتے ہیں کہ مقتدیوں کی نماز صحت و فساد كے اعتبار سے امام كی نماز كے تابع ہے یہ نظر صحیح لازم کرتی ہے کہ جب امام بھول گیا تو اس کی بھول کی بنا پر جو کچھ امام پر لازم ہوا وہ اس کے پیچھے والوں پر بھی لازم ہوگا۔ اور اگر مقتدی بھول جائیں اور امام نہ بھولے تو مقتدیوں پر وہ چیز لازم نہیں ہوتی جو امام کے بھولنے پر اس پر لازم ہوتی ہے ۔ (ت)
امام ( طحاوی) نے لم یجب علیھم السجود ( مقتدیوں پر سجدہ واجب نہیں ۔ ت) نہ فرمایا بلکہ مایجب علی الامام ( جو امام پر لازم ( وہ مقتدیوں پر لازم ہے) ۔ ت) کہ سجدہ واعادہ دونوں كو شامل ۔ () ذخیرہ پھر ہندیہ جلد اول صفحہ میں ہے :
لوسھا الاول بعد الاستخلاف لا یوجب سھوہ شیئا ۔
اگر پہلا امام خلیفہ بنانے کے بعد بھولتا ہے تو اس کی بھول کوئی شئ لازم نہیں کرتی (ت)
حوالہ / References &بحرالرائق باب سجود السہو€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ١٠٠
&الطحاوی شرح معانی الآثار باب الرجل یصلی الفریضۃ خلف من یصلی تطوعاْ€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ٢٨٠
&فتاوٰی ہندیہ باب الثانی عشرفی سجود السہو€ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ١٣٠
#10623 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
() کافی امام اجل حاکم شہید جس میں جمیع کتب ظاہر الروایہ کو جمع فرمایا ہے ضمناشرح امام سرخسی جلد اول صفحہ میں ہے :
اذا احدث الامام فی خلال صلوتہ وقد سھا فاستخلف رجلا یسجد للسھو بعد السلام وان لم یکن الامام الاول سھا لزمہ سجود السھو لسھو الثانی ولو سھا الاول بعد الاستخلاف لا یوجب سھوہ شیئا ۔
اگر بھولے ہوئے امام نے دوران نماز کسی کو اپنا خلیفہ بنایا تو سلام کے بعد خلیفہ سجدہ سہو کرے اور اگر پہلا امام بھولا نہیں تھا اور دوسرا امام ( خلیفہ) بھول گیا تو پہلا امام واپس آیا تو وہ بھی خلیفہ کی بھول کی وجہ سے سجدہ کرے اور اگر پہلا امام خلیفہ بنانے کے بعد بھولا تو اس بھول سے سجدہ سہو لازم نہ آئے گا (ت)
امام سرخسی نے فرمایا : لانہ صار فی حکم المقتدی ( کیونکہ وہ مقتدی کے حکم میں ہوگیا ہے ۔ ت)یہ خود محرر المذہب امام محمد رضی اللہ تعالی عنہ کا نص جلی ہے جو بوجہ عدم ذکر خلاف خود امام اعظم وامام ابو یوسف سب کا نص ہے رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین ان عبارات سے روشن بین سالبہ کلیہ ہے کہ مقتدی کا سہو اصلا کسی چیز کو واجب نہیں کرتا اور عام کا حکم اس کے ہر فرد میں قطعی ہوتا ہے خود نص ائمہ ثلثہ ابو حنیفہ و ابویوسف و محمد رضی اللہ تعالی عنہم سے ثابت کہ مقتدی پر اپنے سہو کے ہر گز نہ سجدہ ہے نہ اعادہ ۔ () لایؤم امام اجل طحاوی نے بعد عبارت مذکورہ صریح تر فرمایا :
ثبت ان المأمومین یجب علیھم حکم السھو لسھو الامام وینتفی عنھم حکم السھو بانتفائہ عن الامام ۔
یہ بات ثابت ہوگئی کہ امام کے سہو کی وجہ سے مقتدیوں پر سجدہ سہو واجب ہے اور امام سے نفی کی صورت میں مقتدیوں سے بھی اس کی نفی ہوگی ۔ (ت)
(۱) امام جلیل شمس الائمہ سرخسی مبسوط جلد اول صفحہ میں فرماتے ہیں :
اللاحق فی حکم المقتدی فیما یتم وسھو المقتدی متعطل ۔
لاحق اپنی بقیہ رکعتوں میں مقتدی کے حکم میں ہوتا اور مقتدی پر سجدہ سہو نہیں ہوتا ۔ (ت)
() امام ملك العلما ابوبکر مسعودبدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع جلد اول صفحہ میں فرماتے ہیں :
حوالہ / References &المبسوط للسرخسی€ ، &باب سجود السہو€ ، مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ١ / ٢٢٥
&المبسوط للسرخسی€ ، &باب سجود السہو€ ، مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ١ / ٢٢٥
&الطحاوی شرح معانی الآثار باب الرجل یصلی الفریضۃ خلف من یصلی تطوعا€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ٢٨٠
&المبسوط للسرخسی باب سجود السہو€ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ٢٢٩
#10624 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
المسبوق انما یتابع الامام فی سجود السھو لا فی سلامہ وان سلم فان کان عامدا تفسد صلوتہ وان ساھیا لا تفسدو ولا سھو علیہ لانہ مقتد وسھو المقتدی باطل ۔
مسبوق سجدہ سہو میں امام کی اتباع کرے لیکن سلام نہ کرے اور اگر اس نے سلام پھیر دیا تو اگر دانستہ تھا تو مسبوق کی نماز فاسد ہوجائے گی اور اگر بھول کرتھا تو نماز فاسد نہ ہوگی اور اس پر سجدہ سہو بھی نہیں کیونکہ وہ مقتدی ہے اور مقتدی کا سہو باطل ہوتا ہے ۔ (ت)
وہیں فرمایا :
ان سلم قبل تسلیم الامام اوسلما معا لایلزمہ لان سھوہ سھوالمقتدی و سھو المقتدی متعطل ۔
اگر مسبوق نے امام کے سلام سے پہلے سلام کیا یا دونوں نے اکٹھے سلام کیا تو مسبوق پر سجدہ سہو لازم نہیں کیونکہ اس کا سہو مقتدی کا سہو ہے اور مقتدی کا سہو قابل اعتنا نہیں ۔ (ت)
کیسے نصوص جلیلہ ہیں کہ مقتدی کا سہو معطل ہے باطل ہے اس کا کچھ حکم نہیں اگر اعادہ واجب کرے تو یہ احکام ہی باطل معطل ہوں گے نہ کہ اس کا سہو۔
() اقول : مسئلہ مسبوق نے حکم کو آفتاب سے زیادہ روشن کردیا یہ تو تمام کتب میں تصریح ہے کہ مسبوق اگر سہوا امام کے ساتھ سلام پھیر دے اس پر سجدہ سہو نہیں اگر سہو مقتدی کچھ مؤثر ہوتا تو واجب تھا کہ مسبوق پر سجدہ واجب ہوتا کہ اپنی فائت رکعت پوری کرکے آخرمیں بجالاتا اور اب نہ امام کی مخالفت لازم آتی نہ قلب موضوع مگر تصریح کرتے ہیں کہ اس پر سے یہ سہو بوجہ اقتداء ساقط ہے تو ثابت ہوا کہ سہو مقتدی اصلا معتبر وملحوظ ہی نہیں ورنہ باوصف امکان جابر قصدا ترك جابر کرائیں پھر خود ہی اعادہ کا حکم فرمائیں یہ محال ہے کہ بلاعذر صحیح ترك جابر گناہ ہے متون میں ہے : تجب سجدتان( دو سجدے واجب ہیں ۔ ت) اور شریعت گناہ کا حکم نہیں دیتی۔
فان قلت انما لایسجد بعد قضاء مافاتہ لانھما صلوتان حکما وان اتحدت التحریمۃ وسھو صلوتہ لا یسجد لہ فی اخری قال فی البدائع صفحۃ ۱۷۶ فان قیل ینبغی ان لا یسجد المسبوق مع الامام
اگر آپ سے سوال کریں کہ فوت شدہ رکعات کے بعد سجدہ نہیں کیا جائے گا کیونکہ اب اگر چہ تحریمہ کی وجہ نماز ایك ہے مگر حکما دو نمازیں ہیں اور ایك نماز کا سجدہ دوسری نماز میں نہیں کیا جاتا بدائع ص میں فرمایا اگر یہ سوال کیا جائے کہ مسبوق کو امام کے ساتھ سجدہ نہیں
حوالہ / References &بدائع الصنائع فصل بیان من یجب علیہ سجود السہو€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی / ١٧٦
&بدائع الصنائع فصل بیان من یجب علیہ سجود السہو€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی / ١٧٦
#10625 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
لانہ ربما یسھو فیما یقضی فیلزمہ السجود ایضا فیؤدی الی التکرار وانہ غیر مشروع فالجواب ان التکرار فی صلوۃ واحدۃ غیر مشروع وھما صلوتان حکما وان کانت التحریمۃ واحدۃ لان المسبوق فیما یقضی کالمنفرد ونظیرہ المقیم اذا اقتدی بالمسافر فسھا الامام یتابعہ المقیم فی السھو وان کان المقتدی ربما یسھو فی اتمام صلوتہ اھ وفی الکافی شرح الوافی للامام النسفی الورقۃ فیمن قعد للرابعۃ ثم صلی خامسۃ ساھیا فضم سادسۃ مانصہ لا یسجد للسھو قیا سا لان ھذا سھو وقع فی الفرائض وقد انتقل منہ الی النفل من سھا عن صلوۃ لایسجد لہ فی صلوۃ اخری اھ اقول : ھما کصلوہ واحدۃ فی حق الجبر لا تحاد التحریمۃ الا تری الی ماقالہ فی الکافی متصلا بالعبارۃ المذکورۃ ویسجد للسھو استحسانا لان النقصان دخل
کرنا چاہئے کیونکہ بعض اوقات بقیہ رکعتوں میں مسبوق بھول جاتا ہے جس کی وجہ سے اس پر سجدہ سہو لازم آجاتا ہے تواب سجدہ سہو میں تکرار ہوجائے گا اور یہ مشروع نہیں توجواب یہ ہے کہ سجدہ سہو کا تکرار ایك نماز میں نامشروع ہے اور اس صورت میں نماز اگر چہ تحریمہ کے لحاظ سے ایك ہے مگر حکم کے اعتبار سے دو نمازیں ہیں کیونکہ مسبوق بقیہ رکعات میں منفرد کی طرح ہوتا ہے اس کی نظیریہ ہے کہ مقیم جب مسافر کی اقتداء کرے اور امام بھول جائے تو سجدہ سہو میں مقیم امام کی اتباع کرے گا اگر چہ بعض اوقات مقتدی بقیہ رکعتوں میں بھول جاتا ہے اھ اورامام نسفی کی کافی شرح الوافی ص پر ہے ایسا شخص جس نے چوتھی رکعت کا قعدہ کیا پھر بھول کر پانچویں رکعت ادا کی تو وہ چھٹی رکعت بھی ساتھ ملالے کے بارے میں الفاظ ہیں کہ وہ قیاسا سجدہ سہونہ کرے کیونکہ یہ ایك سہو تھا جو فرائض میں واقع ہوا حالانکہ اب وہ نمازی نوافل کی طرف منتقل ہوچکا ہے اور جو شخص ایك نماز میں بھولا وہ اس کا سجدہ دوسری نماز میں نہیں کرسکتا اھ
اقول : اتحاد تحریمہ کی وجہ سے نقصان کو پورا کرنے کے لئے یہ دونوں ایك نماز کی طرح ہیں آپ نے کافی کی وہ عبارت نہیں دیکھی جو مذکورہ عبارت کے متصل ہے کہ( قیاسا تو نہیں ) مگر بطور استحسان سجدہ کرے کیونکہ امام محمد کے نزدیك نقصان فرائض میں ہوا ہے کیونکہ
حوالہ / References &بدائع الصنائع فصل بیان من یجب علیہ سجود السہو€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ٧٦
&کافی شرح وافی€ ص ٨٥
#10626 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
فی فرضہ عند محمد بترك السلام الذی ھو واجب وھذا النفل بناء علی التحریمۃ الاولی فیجعل فی حق وجوب السھو کانھا صلوۃ واحدۃ کمن صلی ست رکعات تطوعا بتسلیمۃ سھا فی الشفع الاول یسجد للسھو فی اخر الصلوۃ وان کان کل شفع صلوۃ علی حدۃ اھ فاذا کان ھذا فی صلوتین مستقلتین بل مختلفتین فرضیۃ و تنفلا فلان یکون فی اجزاء صلوۃ واحدۃ اولی وان اختلفت اقتداء وانفراد ویقطع النزاع مانصوا علیہ ان المسبوق ان لم یسجد لسھو الامام مع الامام یجب علیہ ان یسجد لہ فی اخرما یقضیہ قال فی البدائع صف ۱۷۶ و لوقام المسبوق الی قضاء ماسبق بہ ولم یتابع الامام فی السھو سجد فی اخر صلوتہ فان المسبوق یبنی ما یقضی علی تلك التحریمۃ فجعل الکل کانہا صلوہ واحدۃ لاتحاد التحریمۃ واذاکان الکل صلوۃ واحدۃ وقد تمکن فیھا النقصان بسھو الامام لم یجز ذلك بالسجدتین فوجب جبرۃ اھ فاذاکان ھذا علیہ بسھو امامہ فلوکان لسھو نفسہ حالۃ الاقتداء حکم
نمازی نے واجب سلام کو ترك کردیا ہے اور یہ ( دو رکعتیں ) پہلی تحریمہ کی ہی وجہ سے نفل بن رہی ہیں لہذا وجوب سجدہ سہو میں یہ دونوں ایك ہی نماز ہیں جس طرح کہ وہ شخص جس نے چھ نوافل ایك سلام سے پڑھے اور پہلی دورکعت میں بھول گیا تو اب اگر چہ یہاں ہر شفع مستقل نماز ہے مگر سجدہ سہو آخر میں کرے گا اھ جب دو الگ الگ نمازوں بلکہ وہ فرض ونفل کے اعتبار سے مختلف بھی ہیں کا حال یہ ہے تو ایك ہی نماز کے اجزا میں بطریق اولی ہونا چاہئے اگر چہ وہ اقتدا وانفراد کے لحاظ سے مختلف ہیں اور اب نزاع ختم ہوگیا جس پر فقہاء نے تصریح کی ہے کہ مسبوق نے سہو امام کی وجہ سے اگر امام کے ساتھ سجدہ نہیں کیا تو اپنی نماز کے آخرمیں سجدہ کرنا واجب ہوگا۔ بدائع کے صفحہ پر فرمایا کہ اگر مسبوق اپنی بقیہ نماز کی ادائیگی کے لئے کھڑا ہوگیا اور سہو میں امام کی اتباع نہ کی تو اپنی نماز کے اخر میں سجدہ سہو کرے کیونکہ مسبوق نے بقیہ نماز کی بنا اسی سابقہ تحریمہ پر کی ہے تو اب اتحاد تحریمہ کی وجہ سے مسبوق نے نماز کو ایك بنالیا ہیے اور جب یہ تمام نماز ایك ہے اور اس میں سہو امام کی وجہ سے ایسا نقصان ہوچکا ہے جس کا ازالہ دوسجدوں سے نہیں ہوسکتا تو اس کا ازالہ واجب ہوگا اھ جب یہ بات امام کے سہو کی وجہ سے ہے تو اب اگر حالت اقتداء میں خود اس سے غلطی
حوالہ / References &کافی شرح وافی€ ص ٨٥
&بدائع الصنائع فصل بیان من یجب علیہ سجو السہو€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ٧٧
#10627 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
لوجب علیہ ان یسجد لہ فی اخر صلوتہ لکن نصوا قاطبۃ انہ لیس علیہ فثبت باجماعھم ان سھو المقتدی لا حکم لہ ۔
ہوجانے پر حکم لاگو ہو تو اس پر نماز کے آخر میں لازم ہوجانا چاہئے لیکن فقہاء نے قطعی تصریح کی ہے کہ اس پر اس صورت میں سجدہ سہو نہیں کیونکہ فقہاء کا اس پر اجماع ہے کہ مقتدی کی سہو پر کوئی حکم نافذ نہیں ہوسکتا ۔ (ت)
() یہیں سے روشن ہوا کہ بحث نہر اصلا قابل التفات نہیں اگرچہ سید ابوالسعود نے اس کا اتباع کیا اور علامہ شامی نے ردالمحتار ومنحۃ الخالق میں اسے مقرر رکھا حدیث ہی کے مقابل ان کی بحث معتبر نہ ہوتی طحطاوی علی الدرالمختار جلد اول صفحہ “ مسئلہ دو رکعت نفل قبل نماز مغرب “ میں ہے :
فی البخاری انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال صلوا قبل المغرب رکعتین و ھو امر ندب و منع صاحب النھر لایظھر لوجود الدلیل المروی فی الصحیح ۔
بخاری میں ہے کہ رسالتمآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : مغرب سے پہلے دورکعات ادا کرو۔ اور یہ حکم برائے ندب ہے صاحب نہر نے اس سے منع کیا لیکن یہ منع واضح نہیں کیونکہ امر ندب صحیح حدیث سے ثابت ہے ۔ (ت)
اسی طرف علامہ نے حاشیہ مراقی الفلاح میں اس مسئلہ دائرۃ صفحہ میں اشارہ کیا ہے کلام نہر نقل کرکے فرمایا :
وقد علمت مفاد الحدیث افادہ بعض الافاضل ۔
آپ حدیث کا وہ معنی جان چکے جو بعض افاضل نے بیان کیا ۔ (ت)
بلکہ ہم ثابت کرچکے کہ نص صریح امام اعظم وامام ابویوسف وامام محمد رضی اللہ تعالی عنہم واطباق جملہ کتب مذہب کے خلاف ہے تو مقتضی کلامہم نہیں بلکہ نقیض کلامہم ہے ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالی ولی التوفیق والحمد ﷲ رب العلمین۔ واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ : از رامپور مسئولہ محمد سعید صاحب
اگر امام پر سہو واجب ہو تو امام کے ساتھ لاحق کو سجدہ کرنا چاہئے یا نہیں اور جو مصلی بعد اس سجدہ سہو امام کے ساتھ شریك ہووے ان کی نماز کا بنا صحیح ہے یا نہیں
حوالہ / References &طحطاوی علی الدرالمختار کتاب الصلوٰۃ€ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ٨١
&حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب سجود السہو€ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ٢٥٢
#10628 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
الجواب :
امام کے سہو سے لاحق پر بھی سجدہ سہو واجب ہوتا ہے مگر امام کے ساتھ نہ کرے بلکہ نماز پوری کرکے ہاں اگر سلام امام سے پہلے فوت شدہ نماز پوری کرکے پھر شامل ہوگیا کہ امام کے ساتھ سلام پھیرا تو امام کے ساتھ ہی سجدہ سہو کرے ورنہ بعد اتمام ۔ اگر قبل اتمام کے سجدہ سہو کرلے گا نماز تو نہ جائے گی مگر یہ سجدہ بےکار جائے گا اور خلاف حکم کا مرتکب ہوگا اور بعد اتمام پھر سجدہ سہو کرنا ہوگا درمختار میں ہے :
اللاحق یسجد فی اخر صلوتہ ولو سجد مع امامہ اعادہ ۔
لاحق اپنی نماز کے آخرمیں سجدہ کرے اور اس نے امام کے ساتھ سجدہ کرلیا تو پھر دوبارہ لوٹا ئے ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
لانہ فی غیرا وانہ ولا تفسد صلوتہ لانہ مازادالا سجدتین ۔
کیونکہ یہ اپنے وقت پر نہیں البتہ نماز فاسد نہ ہوگی کیونکہ اس نے دو سجدوں کے علاوہ کسی شی کا اضافہ نہیں کیا ۔ (ت)
جو مصلی سجدہ سہو کے بعد قعدہ میں شریك امام ہوئے شریك جماعت ہوگئے ان کی بنا صحیح ہے با تفاق ائمہ
وانماا لخلاف فی الجمعۃ والمذھب فیہ ایضا الصحۃ۔
اختلاف فقط جمعہ میں ہے اور اس میں بھی مذہب یہی ہے کہ یہ صحیح ہے ۔ (ت)
درمختار میں ہے :
ادرکھا فی تشھد او سجود سھو ( ولو فی تشھدہ ش عن ط) یتمھا جمعۃ خلافا لمحمد کما یتم فی العید اتفاقا کما فی عید الفتح ۔ واﷲ تعالی اعلم
اگر کسی نے امام کو تشہد یا سجود سہو میں پالیا ( اگر چہ تشہد جمعہ ہو ش از ط) تو جمعہ ادا کرے البتہ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا اس میں اختلاف ہے جیسا کہ عید کو اگر تشہد میں پالیتا ہے تو بالاتفاق عید ہی ادا کرے (فتح القدیر باب العید) واﷲ تعالی اعلم (ت)
حوالہ / References &درمختار باب سجود السہو€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ١٠٢
&ردالمحتار باب سجود السہو€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٤٩
&درمختار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ١١٣
#10629 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
مسئلہ : از چوہر کوٹ بارکھان ملك بلوچستان مرسلہ قادربخش صاحب ربیع الاول شریف ھ
چہ می فرمایند علمائے دین دریں مسئلہ کہ در سجدہ سہو سلام بہر دوجانب گوید یا یکے جانب اگر امام باشد یا مفرد بکدام روایت فتوی است۔
علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ سجدہ سہو کے لئے دونوں جانب سلام کہنا ہوتا ہے یا فقط ایك جانب امام ہو یا منفرد کس روایت پر فتوی ہے (ت)
الجواب :
سلام ہمیں جانب راست دہد امام باشد خواہ منفرد تا آنکہ گفتہ اند کہ اگر سلام دیگر دہد سجدہ سہو ساقط شو د وبزہ کارگردد۔ واﷲ تعالی اعلم
فقط دائیں جانب سلام کہنا ہوتا ہے خواہ امام ہو یا منفرد حتی کہ فقہاء نے فرمایا ہے کہ اگر دوسری جانب سلام کہتا ہے تو سجدہ سہو ساقط اور ایسے عمل سے گنہگار ہوگا ۔ (ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از جڑدہ ضلع میرٹھ مسئولہ سید سراج احمد صاحب شعبان ھ
چار رکعت والی نماز میں امام دو رکعات کے بعد بیٹھا اور التحیات کے بعد درود شریف شروع کردیا مقتدی کو معلوم ہوگیا ایسی حالت میں مقتدی امام کو اشارہ کرسکتا ہے یا نہیں اور اگر کرسکتا ہے تو کس طرح سے
الجواب :
اس کا معلوم ہونا دشوار ہے کہ امام آہستہ پڑھے گا ہاں اگر یہ اتنا قریب ہے کہ اس کی آواز اس نے سنی کہ التحیات کے بعد اس نے درود شریف شروع کیا تو جب تك امام اللھم صل علی سے آگے نہیں بڑھا ہے یہ سبحان اﷲ کہہ کربتائے اور اگر اللھم صل علی سیدنا یا صل علی محمد کہہ لیا ہے تو اب بتانا جائز نہیں بلکہ انتظار کرے اگر امام کو خود یاد آئے اور کھڑا ہوجائے فبہا اور اگر سلام پھیرنے لگے تو اس وقت بتائے اس سے پہلے بتائے گا تو بتانے والے کی نماز جاتی رہے گی اور اس کے بتانے سے امام لے گا تو اس کی اور سب کی جائے گی۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱ : از بریلی مدرسہ منظر الاسلام مسئولہ مولوی احسان علی صاحب طالبعلم شوال ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وتر میں قبل دعائے قنوت کے سہوا رکوع کیا اور دو ایك تسبیح بھی پڑھ چکا اب خیال ہوا کھڑے ہوکر قنوت پڑھی تو اس صورت میں سجدہ سہو لازم ہے یا نہیں
الجواب :
تسبیح پڑھ چکا ہو یا ابھی کچھ نہ پڑھنے پایا اسے قنوت پڑھنے کے لئے رکوع چھوڑنے کی اجازت نہیں اگر قنوت کے لئے قیام کی طرف عود کیا گناہ کیا پھر قنوت پڑھے یا نہ پڑھے اس پر سجدہ سہو ہے۔ درمختار میں ہے :
#10630 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
ولونسیہ القنوت ثم تذکرہ فی الرکوع لا یقنت فیہ لفوات محلہ ولا یعود الی القیام فان عادالیہ وقنت ولم یعد الرکوع لم تفسد صلوتہ وسجد للسھو قنت اولا لزوالہ عن محلہ اھ ( ملخصا)
اقول : وقولہ ولم یعد الرکوع ای ولم یرتفض بالعود للقنوت لا ان لو اعادہ فسدت لان زیادۃ مادون رکعۃ لاتفسد نعم لا یکفیہ اذن سجود السھو لانہ اخرالسجدۃ بھذا الرکوع عمدا فعلیہ الاعادۃ سجد للسھو او لم یسجد ۔ واﷲ تعالی اعلم
اگر نمازی قنوت پڑھنا بھول گیا پھر اسے رکوع میں یاد آیا وہ اب قنوت نہ پڑھے کیونکہ اپنے محل سے فوت ہوگئی ہے اور نہ اب قیام کی طرف لوٹے اگر لوٹ کر قنوت پڑھی اور رکوع دوبارہ نہ کیا تو اس کی نماز فاسد نہ ہوگی وہ سجدہ سہو کرے خواہ اس نے قنوت پڑھی یا نہ پڑھی کیونکہ قنوت اپنے مقام سے ہٹ گئی اھ (تلخیصا) اقول : قولہ اور اس نے رکوع دوبارہ نہ کیا یعنی اس نے قنوت کی خاطر لوٹنے میں رکوع ترك نہ کیا ہو یہ معنی نہیں کہ اگر اس نے رکوع لوٹا لیا تو نماز فاسد ہوجائیگی کیونکہ رکعت سے کم کا اضافہ فاسدنہیں کرتا ہاں اب سجدہ سہو کافی نہیں کیونکہ اس نے عمدا سجدہ کو رکوع کی وجہ سے مؤخر کیا پس اب اس نماز کا اعادہ لازم ہے خواہ اس نے سجدہ سہو کیا یانہ کیا۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ : ازمانیا والا ڈاك خانہ قاسم پور گڈھی ضلع بجنور مرسلہ سید کفایت علی صاحب ربیع الاول شریف ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
() امام کی نیت چار فرضوں کی تھی دو رکعت اولی ختم کرچکا تھا بیچ میں التحیات بھول گیا اور اﷲ اکبر کہہ کر کھڑا ہوگیا بعد کو مقتدی نے بتایا وہ بیٹھ گیا التحیات پڑھی اور آخر میں سجدہ سہو کیا آیا مقتدی کی امام کی نماز ہوئی یا نہیں
() ایك شخص وتر پڑھ رہاتھا تیسری رکعت میں اﷲ اکبر کہہ کر دعائے قنوت کا ارادہ تھا وہ بھول گیا اور بیٹھ کر سجدہ سہو کیا پھر دوبارہ وتر پڑھے پھر وہیں آکر اﷲ اکبر کہنا بھول گیا دعائے قنوت پڑھی سجدہ سہو کیا آیا ہوا یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
() اگر امام ابھی پورا سیدھا کھڑا نہ ہونے پایا تھا کہ مقتدی نے بتایا اور وہ بیٹھ گیا تو سب کی نماز ہوگئی
حوالہ / References &درمختار باب الوتر والنوافل€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٩٤
#10631 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
اور سجدہ سہو کی حاجت نہ تھی اور اگر امام پورا کھڑا ہوگیا تھا اس کے بعد مقتدی نے بتایا تو مقتدی کی نماز اسی وقت جاتی رہی اور جب اس کے کہنے سے امام لوٹا تو اس کی بھی گئی اور سب کی گئی۔ اور اگر مقتدی نے اس وقت بتایا تھا کہ امام ابھی پورا سیدھا نہ کھڑا ہوا تھا کہ اتنے میں پورا سیدھا ہوگیا اس کے بعد لوٹا تومذہب اصح میں نماز ہو تو سب کی گئی مگر مخالف حکم کے سبب مکروہ ہوئی کہ سیدھا کھڑا ہونے کے بعد قعدہ اولی کے لئے لوٹنا جائز نہیں نماز کا اعادہ کریں خصوصا ایك مذہب قوی پر نماز ہوئی ہی نہیں تواعادہ فرض ہے اسی کی امام زیلعی نے تصریح کی ہے اور یہی مشاہیر کتب میں ہے۔
وما بحث المحقق فی الفتح وتبعہ فی البحر ففیہ بحث بیناہ فیما علقناہ علی ردالمحتار صف۷۷۹۔ واﷲ تعالی اعلم
محقق نے فتح میں بحث کی ہے بحر میں اس کی اتباع ہے اور اس میں بحث ہے جو ہم نے ردالمحتار صف پر حاشیہ میں تحریر کی ہے۔ (ت) واﷲ تعالی اعلم
() پہلی بار کہ دعا قنوت پڑھنا بھول گیا تھا اور سجدہ سہو کرلیا وتر ہوگئے دوبارہ پڑھنا گناہ ہوا حدیث میں ہے : لاوتران فی لیلۃ (ایك رات میں دو وتر نہیں ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : ربیع الاول شریف ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اما م کو سہو ہوا یعنی کھڑا ہونا تھا بیٹھ گیا یا برعکس اس کے تو کوئی مقتدی بجائے تسبیح (سبحان اﷲ ) كے تکبیر ( اﷲ اکبر) کہہ دے تو نماز میں اس کی کچھ قباحت و خرابی نہیں آئے گی اور جو شخص یہ کہے کہ امام کو اگر قعدہ کرنا ہے تو لفظ التحیات کہنا چاہئے اور جو قیام کرنا ہے تو اﷲ اکبر یعنی جونسا رکن کرنا ہے اس میں کا پہلا لفظ کہنا چاہئے ۔ صحیح ہے یا غلط
الجواب :
نماز میں اﷲ اکبر یا التحیات کہنے سے خرابی نہیں اور سنت سبحان اﷲ کہنا ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱ : از پنڈول بزرگ ڈاك خانہ رائے پور ضلع مظفر پور مسئولہ نعمت شاہ خاکی بوراہا محرم الحرام ۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین شرع متین کثر ھم اﷲ ابقاہم کا اس مسئلہ میں کہ کوئی شخص انتہائی سہو و نسیان کی وجہ سے کوئی بات ٹھکانے سے یاد نہیں رکھتاہے یہاں تك کہ نماز کے لئے جب وضو کرتا ہے تو ایك ایك اعضاء کو دس دس مرتبہ دھوتا ہے اور پھر بھی اس کو خیال ہوتا ہے کہ دو ہی مرتبہ یا ایك مرتبہ دھویا ہے نماز کے لئے
حوالہ / References &مسند احمد بن حنبل حدیث طلق بن علی€ مطبوعہ دارالفکر بیروت ٤ / ٢٣
#10632 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
کھڑا ہوا تو تکبیر تحریمہ پانچ پانچ مرتبہ کہی چار رکعت پڑھیں دورکعت خیال کیں علی ھذا القیاس تسبیح رکوع وسجود میں غرضیکہ دنیوی کاموں میں بھی مثلا کوئی چیز کہیں رکھ دی یا کسی کو دے دی پھر خیال جو کیا اس کے خلاف ہوا ایسی حالت میں اس شخص نے ایك آدمی اس کے ارکان و تسبیح و رکعت وغیرہ شمار کرنے کے لئے مقرر کیا تاکہ وہ گن کر بتادے آیا یہ جائز ہے یا نہیں اور وہ شخص ایسے سہو ونسیان کی حالت میں ان سب باروں میں کیاکرے
الجواب :
آدمی مقرر کرنا جائز نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : وکیل الدین طالب علم مدرسہ منظر الاسلام بریلی محرم الحرام ھ
اگر امام نے رکعت ثانیہ میں سہو سے تین سجدے کئے اور اس کو ظن غالب دو سجدوں کا تھا و تاخروج عن الصلوۃ امام کو بالکل یاد نہ ہوا مقتدیان بہت تھے یعنی تین صف میں سے ہر صف میں اشخاص تھے لیکن امام کو کسی نے یاد کرایا نہیں اب نماز امام و قوم کی صحت وعدم صحت کی وجہ کیا ہے
الجواب : فرض ادا ہوگیا واجب ترك ہوا سجدہ سہو لازم تھا نمازیں پھیریں اتنے آدمی ایسی کثیر جماعت نہیں جس کے سبب سجدہ سہو ساقط ہو۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : ضلع سکھر سندھ اسٹیشن ڈھرکی ڈاکخانہ خیر پور ڈھرکی خاص دربار معلی قادریہ چونڈے شریف از طرف ابوالنصر فقیر سرور شاہ جمادی الآخر
ما قولکم رحمکم اﷲ تعالی کہ شخصے رادرنماز مغرب سجدہ سہو لازم بودنہ داد جبر نقصان گزارد یانہ اگر گزرد چگونہ نیت بندد و چند رکعت گزارد وہمیں جبر نقصان حکم نفل دارد یا واجب یا فرض
اس بارے میں آپ ( اﷲ تعالی آپ پر رحمتیں نازل فرمائے) کا کیا فرمان ہے کہ ایك شخص پر نماز مغرب میں سجدہ سہو لازم ہوگیا مگر اس نے نہ کیا اب نقصان کا ازالہ کرے یا نہ اگر کرنا ہے تو کس نیت سے کتنی رکعات اداکرے اور یہ ازالہ نفل کا حکم رکھتا ہے یا واجب و فرض کا (ت)
الجواب :
جبر نقصان واجب است سہ رکعت بہ نیت اعادہ ہماں نماز مغرب برائے تلافی مافات کند ۔ واﷲ تعالی اعلم نقصان کا اعادہ لازم ہے پھر دوبارہ تین رکعت اس نیت سے ادا کرے کہ میں کمی کا ازالہ کررہا ہوں واﷲ تعالی اعلم (ت)
#10633 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
مسئلہ تا : از مدرسہ اہلسنت منظرالاسلام بریلی مسئولہ مولوی عبداﷲ بہاری شوال۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
() فرضوں کی تیسری یا چوتھی رکعت میں بعد الحمد شریف کے کسی آیت کا پورا یا نصف لفظ زبان سے نکل گیا یا رکوع میں سہوا ایك بار سبحان ربی الاعلی کہہ دیا اسی طرح سجدہ میں اور اسی طرح فرضوں کی پہلی رکعت میں جبکہ مقتدی ہے سبحنك کے بعد اعوذباﷲ شریف پڑھ لی تو کیا الحمد شریف کا پڑھنا بھی ضرور ہوگا اور اوپر کی صورتوں میں سجدہ سہو ہوگا یا نہیں
() جماعت میں امام نے سمع اﷲ لمن حمدہ کی جگہ اﷲ اکبر کہا اور سجدہ سہو نہیں کیا کیا نماز ہوئی یا نہیں
() فجرکے فرضوں میں دوسری رکعت کے بعد اور دیگر وقتوں میں چوتھی رکعت کے بعد امام یا منفرد التحیات پڑھنی بھول کر کھڑا ہوگیا اب اس کو کیا کرنا چاہئے بینوا توجروا
الجواب :
() ان میں سے کسی صورت میں سجدہ سہو نہیں اور مقتدی کو الحمد شریف پڑھنا حرام ہے۔ واﷲتعالی اعلم
() نماز ہوگئی اور سجدہ سہو کی اصلا حاجت نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
() جبکہ قعدہ اخیرہ بھول کر زائد رکعت کے لئے کھڑا ہوا تو جب تك اس رکعت زائدہ کا سجدہ نہیں کیا ہے بیٹھ جائے اور التحیات پڑھ کر سجدہ سہو کرے اور اگر اس نے رکعت زائد ہ کا سجدہ کرلیا تو اب فرض باطل ہوگئے پھرسے پڑھے ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱ : ا زپنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفر پور مسئولہ نعمت شاہ خاکی بوراہا محرم الحرام
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کمال درجہ کا بھول رکھتا ہے نماز کے اندر وضو و تکبیر و رکوع وسجود وقیام بلکہ ہر رکعت نماز پنجوقتی میں بھول کے خوف سے بلند قرأت کے ساتھ پڑھتا ہے تاکہ ہم بھول نہ جائیں کتنا ہی وہ شخص دل میں خیال وغور کرکے پڑھتاہے تاہم بھول جاتا ہے کچھ بھی خیال نہیں رہتا ہے اور وہ شخص جب نماز پڑھنے لگتا ہے تو ایك شخص کو اس غرض سے بٹھاتا ہے کہ جو کچھ سہو واقع ہو اس کوبتلاتا جائے اس شخص کو نماز کے اندر بہت پریشانی ہوتی ہے اس کے علاوہ وہ کہتا ہے کہ نماز چھوڑدوں پھر کہتا ہے کہ نماز کس طرح چھوڑوں اور وہ شخص بہت تندرست اور مستقل مزاج ہے ایسی حالت میں اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے بینوا توجروا۔
#10634 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
الجواب :
کسی شخص کو پاس بٹھا لینا اور اس کے بتانے پر نماز پڑھنا نماز باطل کرے گا فجر و مغرب وعشاء میں منفرد کو بآواز پڑھنے کی اجازت ہے ظہر و عصر میں صحیح مذہب پر اجازت نہیں چارہ کار یہ ہے کہ وہ شخص جماعت میں مقتدی ہو کر پڑھے تو مقتدی کو قرا ت کرنی نہ ہوگی اور امام کے افعال اسے بتانے اور یاد دلانے والے ہوں گے جماعت ویسے بھی واجب ہے اور ایسے شخص پر تو نہایت اہم واجب ہے کہ بغیر اس کے اس کی نماز ٹھیك ہی نہیں سنتیں اور نفل جو پڑھے ان میں کسی شخص کو امام کرلے کہ نفل محض میں تین تك جماعت جائز ہے اور جب کوئی شخص امامت کو نہ ملے اپنی یاد پر پڑھے رکعتوں میں اگر شبہہ ہو تو کم سمجھے مثلا ایك اور دو میں شبہہ ہو تو ایك سمجھے اور دو اور تین میں ہو تو دو اور جہاں جہاں قعدہ اخیرہ کا شبہہ ہو تو وہاں بیٹھتا جائے اور اخیر میں سجدہ سہو کرے اور اگر کسی طرح اپنی یاد سے نماز ادا کرنے پر قادر ہی نہ ہو تو معاف ہے درمختار میں ہے :
(ولو اشتبہ علی مریض اعداد الرکعات والسجدات لنعاس یلحقہ لایلزمہ الادا ) و لواداھا بتلقین غیرہ ینبغی ان یجزیہ کذافی القنیۃ قال العلامۃ ط قد یقال انہ تعلیم وتعلم وھو مفسد کما اذا قرأمن المصحف او علمہ انسان القرأۃ و ھو فی الصلاۃ قال العلامۃ ش قالت وقد یقال انہ لیس بتعلیم وتعلم بل ھو تذکیر او اعلام فھوکا علام المبلغ بانتقالا ت الامام فتأمل اھ و رأیتنی کتبت علیہ مانصہ اقول فیہ ان الفتح
(اگر کسی مریض پر بسبب اونگھ کے جو اسے لاحق ہوتی ہے رکعات وسجدوں کی تعداد میں اشتباہ پیدا ہوگیا تو اس پر ادائے نماز لازم نہیں ) اور اگر غیر کی تلقین کی بنا پر انھیں ادا کرلیا تو چاہئے کہ یہ اسے کافی ہو جیسا کہ قنیہ میں ہے علامہ طحطاوی نے فرمایا اس پر یہی اعتراض کیا گیا ہے کہ یہ تعلیم وتعلم ہے جو کہ مفسد نماز ہوتا ہے جیسے کہ کسی آدمی نے مصحف سے پڑھا یا اسے دوسرے آدمی نے قرأت سکھادی حالانکہ وہ نماز میں تھا علامہ شامی نے فرمایا میں کہتا ہوں کہ کہا گیا ہے کہ تعلیم و تعلم نہیں بلکہ یاد دلانا اور اطلاع کرنا ہے پس یہ اسی طرح ہے جس طرح بڑے مجمع میں امام کے انتقالات کی اطلاع دینے والا ہوتا ہے فتامل اھ میں نے وہاں یہ حاشیہ
حوالہ / References &درمختار باب صلوٰۃ المریض€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٠٤
&حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار باب صلوٰۃ المریض€ مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت ١ / ٣١٩
&ردالمحتار باب صلوٰۃ المریض€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٦٢
#10635 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
لایزید علی التذکیر بشیئ وقد قال قوم وصح ان المقتدی اذا فتح علی امام بعد ما قرأ قدرالواجب تفسد صلوتہ لانہ تعلیم من دون ضرورۃ فان اخذبہ الامام فسدت صلوۃ الکل لانہ تعلم من دون ضرورۃ والقائلون بالجواز ( وھو المعتمد) انما اعتمد واعلی انہ للحاجۃ کما بینہ فی الحلیۃ مع الا اعتراف بانہ تعلیم وتعلم انی استشھد بخلافہ الیسوا قد اجمعوا أن لو فتح علی المصلی غیرہ فاخذ فسدت صلوتہ وقد مرالتنصیص علی کل ذلك والاستشھادبالمبلغ لم یصادف محلہ فانھم جمیعا حینئذ فی صلوۃ واحدۃ فالصواب عندی الجواب بان ھذا لضرورۃ وھی تجلب التیسیر وبعد فیہ بعد کیف ولوجاز ( ھذا ) کان ینبغی ان یلزمہ الاداء کما یلزمہ التوجہ اذا وجد من یوجھہ ففی تجویزہ ابطال اصل المسئلۃ المنقولۃ فلا عبرۃ ببحث القنیۃ وقد یقال عن ھذا الاخیرانہ قادر بقدرۃ غیرہ فلا یلزمہ وان فعل صح فلیتأمل حق التأمل۔ واﷲ تعالی اعلم
تحریر کیا ہے اقول اس میں لقمہ دینا یاد دلانے سے زائد نہیں ہوتا اور ایك جماعت نے کہا کہ صحیح یہ ہے کہ مقتدی جب اپنے امام کو قدر واجب قرأت کے بعد لقمہ دے تو اس مقتدی کی نماز فاسد ہوجاتی ہے کیونکہ یہ بغیر ضرورت کے تعلیم ہے ایسی صورت میں اگر امام نے لقمہ لے لیا تو سب کی نماز فاسد ہوگی کیونکہ یہ بغیر ضرورت کے تعلم ہے اور جو جواز ( اور معتمد بھی یہی ہے ) کے قائل ہیں انھوں نے اعتماد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ضرورت کی وجہ سے ہے جیسا کہ حلیہ میں بیان کیا گیا ہے باوجود اس اعتراف کے کہ تعلیم وتعلم ہے میں اس کے خلاف شہادت پیش کرتاہوں کیا فقہاء کا اس پر اجماع نہیں کہ اگر غیر نمازی نے نمازی کو لقمہ دیا اور اس نے قبول کرلیا تو نماز فاسد ہوجائیگی اور اس تمام گفتگو پر پہلے تصریحات گزر چکی ہیں اور مقتدی مکبر کو بطور استشہاد پیش کرتا ہے اپنے محل پر نہیں کیونکہ مذکور صورت میں تمام کی نماز ایك ہے لہذا میرے نزدیك درست جواب یہ ہے کہ یہ ضرورت ہے جو آسانی کا تقاضا کرتی ہے اور ابھی اس میں بعد ہے کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ یہ جائز ہو تو مناسب تھا کہ اس پر ادا لازم ہو جس طرح تو جہ دلانے والے کی موجودگی میں توجہ کرنا لازم ہے لہذا اس کے جواز میں اصل منقول مسئلہ کا ابطال لازم آتا ہے اس لئے قنیہ کی بحث کا اعتبار نہیں ہوگا اور اس آخری مسئلہ ( جو اپنے آپ نماز درست نہیں کرسکتا ) کے بارے میں کہا گیا ہے کہ چونکہ یہ دوسرے کی قدرت سے قادر ہوتا ہے اس لئے اس پر نماز کی صحت لازم نہیں اور اگر اس نے غیر سے اصلاح لے لی تو صحیح ہے اس میں مکمل غور کرو (ت) واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References &جدالممتار علٰی ردالمحتار باب صلوٰۃ المریض المجمع الاسلامی€ مبارك پور ١ / ٣٥٤
#10636 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وتروں میں رکعت ثالث میں امام بجائے قنوت پڑھنے کے تکبیر قنوت کہہ کر رکوع کو چلا گیا اور مقتدیان کی تکبیر کہنے سے واپس ہو کر قنوت پڑھا اور پھر دوبارہ رکوع کیا اور سجدہ سہو کیا نماز ادا ہوگئی یا وتر فاسد ہوئے رکوع میں پورا جھك گیا تھا جب قنوت کی طرف رجوع کی ۔ بینوا توجروا
الجوا ب : جو شخص قنوت بھول کر رکوع میں چلاجائے اسے جائز نہیں کہ پھر قنوت کی طرف پلٹے بلکہ حکم ہے کہ نماز ختم کرکے اخیر میں سجدہ سہو کرلے پھر اگر کسی نے اس حکم کا خلاف کیا تو بعض ائمہ کے نزدیك اس کی نماز باطل ہوجائے گی اور اصح یہ ہے کہ برا کیا گنہگار ہوا مگر نماز نہ جائے گی ۔ ردالمحتار میں مبتغی سے ہے :
لوسھا عن القنوت فرکع فانہ لوعاد وقنت لاتفسد علی الاصح اھ وفیہ عن الفتح فی مسئلہ العود الی التشھد بعد القیام للثالثۃ لایحل ولکنہ بالصحۃ لایخل اھ
اگر قنوت بھول گئی اور رکوع کیا اب اگر لوٹ کر قنوت پڑھی تو اصح قول کے مطابق نماز فاسد نہ ہوگی اھ اور اسی میں مسئلہ تیسری رکعت کی طرف قیام کے بعد تشہد کی طرف لوٹنا کے تحت ہے کہ یہ جائز نہیں البتہ صحت نماز میں مخل نہیں اھ (ت)
بہر حال اس عود کو جائز کوئی نہیں بتاتا تو جن مقتدیوں نے اسے اس عود ناجائز کی طرف بلانے کے لئے تکبیر کہی ان کی نماز فاسد ہوئی امام ان کے کہنے کی بنا پر نہ لوٹتا نہ ان کے بتائے سے اسے یاد آتابلکہ اسے خود ہی یاد آتا اور لوٹتا اگر چہ اس کا یاد کرنا اور ان کا تکبیر کہنا برابر واقع ہوتا تو اس صورت میں مذہب اصح پر امام اور باقی مقتدیوں کی نماز ہوجاتی یعنی واجب اترجاتا اگر چہ اس کراہت تحریم کے باعث اعادہ واجب ہوتا اب کہ وہ ان مقتدیوں کے بتانے سے پلٹا اور یہ نماز سے خارج تھے تو خود اس کی بھی نماز جاتی رہی اور اس کے سبب سب کی گئی لانہ امتثل امرھم اوتذکر بتکبیرھم فعادبرائ نفسہ فقد تعلم ممن ھو خارج الصلوۃ کما افادہ فی البحر ( کیونکہ اس نے ان کی بات مانی یا اسے ان کی تکبیر سے یاد دہانی ہوئی اور وہ اپنی رائے سے لوٹا تو اب اس نے نماز سے خارج آدمی سے سیکھا یا جانا ہے ۔ جیسا کہ بحر میں اس کا افادہ کیا۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱ : از شہر کہنہ جمادی الآخرہ ھ
ترك آرد قعدہ اولی لیکن باستادن نزدیك ترشد آنگاہ
اگر پہلا قعدہ ترك کرکے تیسری رکعت کے لئے نمازی
حوالہ / References &ردالمحتار باب سجود السہو€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ٥٥١
&ردالمحتار باب سجود السہو€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٥٠
#10637 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
نشست بازباقی نماز گزارد دریں حال نماز اوجائز است یا نے بینوا توجروا
سیدھا کھڑا ہوگیا پھر واپس لوٹا اور باقی نماز ا دا کی اس کی نماز ہوئی یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
ہرکہ درفرض یا وتر قعدہ اولی فراموش کردہ استادہ تابتمامہ استادہ نشود بسوئے قعود رجوعش باید پس اگر ہنوز بقعود اقرب بودسجدہ سہو نیست واگر بقیام نزدیك ترشدہ باشد سجدہ سہو لازم آید تانیم زیریں ازبدن انسان راست نشدہ است نہ نشستن نزدیك ست وچوں ایں نصف راست شدہ پشت ہنوز خمیدہ است بہ استادن قریب ست اگر بتمام راست استاد آنگاہ نشستن روانیست اگر بقعدہ اولی بازمیگر دوگنا ہگار شود اما راجح آنست کہ نماز دریں صورت ہم از دست نرود سجدہ سہو واجب شود فی الدرالمختار سھا عن القعود الاولی من الفرض ولو عملیاثم تذکرہ عادالیہ ولاسہو علیہ فی الاصح مالم یستقم قائما فی ظاھر المذھب وھو الاصح فتح وان استقام قائما لایعود فلو عاد لا تفسد لکنہ یکون مسیئا ا ویسجد لتاخیر الواجب وھوالاشبہ کما حققہ الکمال وھوالحق بحر اھ مختصرا وفی ردالمحتار قولہ ولاسھو علیہ فی الاصح یعنی اذا عاد قبل ان یستتم قائما وکان
جو شخص فرض یا وتر میں پہلا قعدہ بھول کر کھڑا ہونے لگے اگر وہ سیدھا کھڑا نہیں ہوا تو واپس لوٹ آئے اب اگر وہ قعود کے قریب تھا تو سجدہ سہو لازم نہ ہوگا اور اگر قیام کے قریب تھا توسجدہ سہو لازم ہوگا کہ جب تك انسان کا نیچے والا حصہ سیدھا نہ ہو وہ بیٹھنے کے قریب ہوتا ہے اور اگر نیچے والا نصف حصہ سیدھا ہوجائے خواہ ابھی پشت ٹیڑھی ہو وہ کھڑا ہونے کے قریب ہوگا اگر سیدھا کھڑا ہوگیا تو اب بیٹھنا جائز نہیں اب اگر پہلے قعدے کی طرف لوٹ آتا ہے تو گنہگار ہوگا اور راجح یہ ہے کہ اس کی نماز ختم نہ ہوئی اس پر سجدہ سہو لازم ہوگا درمختار میں ہے اگر فرض ( اگر چہ عملی ہوں ) کے پہلے قعدے کو بھول گیا پھر اسے یاد آیا اور لوٹ آیا تو اب اصح قول کے مطابق اس پر سجدہ سہو نہیں بشرطیکہ وہ سیدھا کھڑا نہ ہوا یہی ظاہر مذہب ہے اور یہی اصح ہے فتح۔ اور اگر سیدھا کھڑا ہوگیا تو نہ لوٹے اگر لوٹ آیا تو نماز فاسد نہ ہوگی لیکن گناہگار ہوگا اور تاخیر واجب کی وجہ سے سجدہ کرے اور یہی مختار ہے جیسا کہ اس کی تحقیق کمال نے کی ہے اوریہی حق ہے بحر اھ مختصر۔ رد المحتار میں ہے قولہ اصح
حوالہ / References &درمختار باب سجودالسہو€ مطبوعہ مجتبائی دہلی ١ / ۱٠٢
#10638 · باب سجود السھو (سجدۂ سہو کا بیان)
الی القعود اقرب فانہ لاسجود علیہ فی الاصح وعلیہ الاکثر ۔ واﷲ تعالی اعلم
قول کے مطابق اس پر سجدہ سہو نہیں یعنی جب کہ وہ سیدھا کھڑے ہونے سے پہلے لوٹا حالانکہ وہ قعود کے قریب تھا تو اب اس پر اصح قول کے مطا بق سجدہ نہیں اور اکثر فقہاء کی یہی رائے ہے۔ (ت) واﷲ تعالی اعلم
_________________
حوالہ / References &ردالمحتار باب سجود السہو€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ٥٥٠
#10639 · باب سجود التلاوۃ (سجدۂ تلاوت کا بیان )
مسئلہ : از مارہرہ مطہرہ باغ پختہ مرسلہ جناب سيد محمد ابراہیم صاحب ہشتم ربیع الاول ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر کتب نظم ونثر میں آیات سجدہ لکھی ہوتی ہےان کا کیا حکم ہے آیا سجدہ کرنا چاہئے یا نہیں جیسے منقبت میں جناب مولوی عبدالقادر صاحب خصصہم اﷲ بالمواہب کا شعر ہے :
راہ حق میں کردیا سجدہ میں قربان اپنا سر
ایسی واسجد واقترب کی کس نے کی تفسیر ہے
بینوا توجروا۔
الجواب :
وجوب سجدہ تلاوت تلاوت کلمات معینہ قرآن مجید سے منوط ہے۔ وہ کلمات جب تلاوت کئے جائیں گے سجدہ تالی وسامع پر واجب ہوگا کسی نظم یا نثر کے ضمن میں آنے سے غایت یہ ہے کہ اول وآخر کچھ غیر عبارت مذکور ہوئی جسے ایجاب سجدہ میں دخل نہ تھا نہ یہ کہ حکم سجدہ کی رافع ومزیل ہو اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہوا جس طرح حرف اسی قدر کلمات تلاوت کریں اور اول وآخر کچھ نہ کہیں سجدہ تلاوت واجب ہوگا ایسے ہی یہاں بھی کہ جس عبارت کا عدم وجودیکساں ہے وہ نظر سے ساقط اور حکم سکوت میں ہے وھذا ظاھر جدا (اور یہ نہایت واضح ہے ۔ ت) ہاں قابل غور یہ بات ہے کہ سجدہ تلاوت کس قدر قرأت سے ہوتا ہے اصل مذہب وظاہرالروایہ میں ہے کہ ساری آیت بتما مہااس کا سبب ہے یہاں تك کہ اگر ایك حرف باقی رہ جائے گا سجدہ نہ آئے گا مثلا اگر حج میں الم تر ان اﷲ سے ان اﷲ
#10640 · باب سجود التلاوۃ (سجدۂ تلاوت کا بیان )
یفعل ما تك پڑھ گیا سجدہ نہ ہوا جب تك یشاء بھی نہ پڑھے اور یہی مذہب آثار صحابہ عظام وتابعین کرام سے مستقاد اور ایسا ہی امام مالك وامام شافعی وغیرہما ائمہ کا ارشاد بلکہ ائمہ متقدین سے اس بارے میں اصلا خلاف معلوم نہیں کتب اصحاب سے متون کہ نقل مذہب کے لئے موضوع ہیں قاطبۃ اسی طرف گئے اور دلائل وکلمات عامہ شروح کہ تحقیق وتنقیح کی متکفل ہیں اسی پر مبنی ومتبنی ہوئے اور اکابر اصحاب فتاوی بھی ان کے ساتھ ہیں ۔ ۱وقایہ و۲نقایہ و۳ ملتقی الابحر میں ہے : تجب علی من تلا آیۃ ۔ ( سجدہ آیت کی تلاوت کی وجہ سےواجب ہوتا ہے۔ ت)۴کنز و ۵وافی میں ہے : تجب باربع عشر آیۃ ( سجدہ تلاوت چودہ۱۴ ایات کی وجہ سے لازم ہوتا ہے ۔ ت) ۶تنویر میں ہے : تجب سبب تلاوۃ آیۃ (سجدہ آیات کی تلاوت کی وجہ سے واجب ہوجاتا ہے ۔ ت)۷غنیہ میں ہے :
اذاقرأ ایۃ السجدۃیجب علیہ ان یسجد اھ ملخصا
جب کسی نے آیت سجدہ پڑھی تو اس پر سجدہ تلاوت کرنا لازم ہے اھ ملخصا (ت)
۸خانیہ میں ہے :
سجدۃ التلاوۃ تجب علی من تجب علیہ الصلوۃ اذا قرأ السجدۃ اوسمعھا ۔
سجدہ تلاوت اس شخص پر واجب ہوتا ہے جس پر نماز واجب ہے جبکہ اس نے آیت سجدہ پڑھی یا سنی ۔ (ت)
۹برجندی شرح نقایہ ۱۰فتاوی ظہیریہ امام ظہیر الملہ والدین مرغینانی سے ہے :
المرادبالایۃ ایۃ تامۃ حتی لوقرأ ایۃ السجدۃ کلھا الا الحرف الذی فی اخرھا لا یسجد الخ
آیت سے مراد پوری آیت ہے حتی کہ کسی نے آیت پڑھی مگر اس کا اخری حرف نہ پڑھا تو سجدہ لازم نہیں الخ (ت)
۱۱ہدایہ میں ہے :
موضع السجدۃ فی حم السجدہ عند قولہ تعالی لایسأ مون فی قول عمر رضی اﷲ تعالی
حم السجدۃ میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے فرمان کے مطابق لایسأمون پر سجدہ ہے ۔ احتیاط کی
حوالہ / References &شرح الوقایۃ باب سجود التلاوۃ€ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ دہلی ١ / ٢٢٩
&کنز الدقائق باب سجود التلاوۃ€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ٢٥
&درمختار€ ، & با€ب سجود التلاوۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٠٤
&غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی باب سجود التلاوۃ€ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ٤٩٨
&فتاوٰی قاضی خاں فصل فی قرأۃ القرآن خطأ€ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ١ / ٧٥
&شرح نقایہ برجندی€ ، &فصل فی سجدۃ التلاوۃ€ ، مطبوعہ نولکشور ، ١ / ١٥٥
#10641 · باب سجود التلاوۃ (سجدۂ تلاوت کا بیان )
عنہ وھوالماخوذ للاحتیاط ۔
بناء پر اسی پر عمل ہے۔ (ت)
۱۲فتح القدیر میں ہے :
وجہہ انہ ان کان السجود عند تعبدون لایضرہ التاخیر الی الایۃ بعدہ وان کان عند لایسامون ٭ لم یکن السجود قبل مجز ئا۔
اس کی وجہ یہ ہے اگر سجدہ تعبدون پر لازم ہوجاتا ہے تو اس کے بعد آیت اسے نقصان دہ نہیں اور اگر سجدہ لایسأمون پر ہو تو اب پہلے ہونے کی وجہ سے کافی نہ ہوگا۔ (ت)(
۱۳کافی میں ہے :
موضع السجدۃ فی حم عند قولہ لایسأمون وھو مذھب ابن عباس وقال الشافعی عند قولہ ان کنتم ایاہ تعبدون٭وھو مذھب علی رضی اﷲ تعالی عنہم لان الامر بالسجود فیھا والاحتیاط فیما قلنا لیخرج عن الواجب بیقین فانھا ان کانت عند الایۃ الثانیۃ والسجود قبلھا غیر جائز فلو سجد عند تعبدون٭لایخرج عن العھدۃ الخ
سورہ حم میں سجدہ لایسأمون کے الفاظ پر ہے اور یہ حضرت ابن عباس کا مذہب ہے امام شافعی کے مطابق سجدہ ان کنتم ایاہ تعبدون کے الفاظ پر ہے اور حضرت علی رضی اﷲعنہ کا یہی مذہب ہے کیونکہ سجدہ کاحکم اسی میں ہے اور احتیاط ہمارے قول میں ہے تاکہ مکلف سے واجب کی ادائیگی بالیقین ہوجائے کیونکہ اگر سجدہ دوسری آیت پر ہے تو اس سے پہلے سجدہ جائزنہیں لہذا اگرسجدہ تعبدون پر کیا تو مکلف اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآنہ ہوگا الخ (ت)
۱۴ردالمحتار میں ۱۵امداد الفتاح اس میں ۱۶بحرالرائق اس میں ۱۷بدائع سے ہے :
رجحنا الاول للاحتیاط عند اختلاف مذاہب الصحابۃ لانھا لو وجبت عند تعبدون ٭فالتاخیر الی لایسأمون٭لایضر بخلاف العکس
ہم نے صحابہ میں اختلاف کی وجہ سے احتیاطا پہلے کو ترجیح دی ہے کیونکہ اگر سجدہ تعبدون پر لازم ہو تو لاسیأمون تك تاخیر نقصان دہ نہیں اور اس کے عکس میں نقصان ہے کیونکہ ایسی صورت میں وجوب
حوالہ / References &الہدایہ فصل فی سجدۃ التلاوۃ€ مطبوعہ نو لکشور لکھنؤ ١ / ١٤٣
&فتح القدیر فصل فی سجدۃ التلاوۃ€ مطبوعہ نوریہ رضوریہ سکھر ١ / ٤٦٥
&کافی شرح وافی€
#10642 · باب سجود التلاوۃ (سجدۂ تلاوت کا بیان )
لانھا تکون قبل وجود سبب الوجوب الخ
سب سے پہلے ہوگا۔ الخ (ت)
اسی طرح شرح وقایہ ومجمع الانہر ومستخلص وغیرہا میں ہے :
فقد نصوا علی ان سبب الوجوب الایۃ بتمامھا حتی جعلوا التقدیم علیھا کتقدیم الصلوۃ علی وقتھا۔
فقہاء نے تصریح کی ہے کہ وجوب سجدہ کا سبب پوری آیت ہوتی ہے حتی کہ پوری آیت سے پہلے سجدہ کرنا ایسے ہی ہےجیسے نماز وقت سے پہلے ادا کرلی ہو۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
سجدۃ التلاوۃ واجبۃ فی الاعراف عقب اخرھا وفی الرعد عقب قولہ وظلالھم بالغدووالاصال٭ وفی النحل عقب قولہ ویفعلون مایؤمرون٭وفی بنی اسرائیل عقب قولہ ویزیدھم خشوعا٭وفی مریم عقب قولہ خروا سجد اوبکیا٭وفی الحج عقب قولہ ان اﷲ یفعل مایشاء٭وفی الفرقان عقب قولہ وزادھم نفورا٭وفی النمل عقب قولہ ویعلم ما تخفون وما تعلنون٭وھو معز والی اکثر الفقھاء وقال مالك عند قولہ رب العرش العظیم ووذکر النووی انہ الصوب وانہ مذھب الشافعی کما صرحت بہ اصحابہ وفی الم السجدۃ عقب قولہ وھم لا یستکبرون٭وفی ص عقب قولہ واناب٭وفی قولہ عند المالکیۃ وھو روایۃ عن مالك عقب
سجدہ تلاوت اعراف میں آخری آیت کے بعد ہے رعد میں ظلالھم بالغدوو الاصال کے بعد ہے۔ نحل میں ویفعلون ما یومرون پر بنی اسرائیل میں ویزیدھم خشوعا پر مریم میں خرواسجدہ وبکیا پر حج میں ان اﷲ یفعل مایشاء پر فرقان میں وزادھم نفورا کے بعد نمل میں ویعلم ماتخفون وماتعلنون پر اور یہ اکثر فقہاء کی طرف منسوب ہے امام مالك رب العرش العظیم پر سجدہ کے قائل ہیں امام نووی نے کہا یہی صواب اور مذہب شافعی ہے جیسا کہ ان کے اصحاب نے تصریح کی ہے۔ الم السجدۃ میں وھم لایستکبیرون پر ص میں واناب کے بعد اور مالکیہ کے نزدیك ماب کے بعد اور یہی امام مالك رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے مروی ہے
حوالہ / References &ردالمحتار باب سجود التلاوۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٦٥
#10643 · باب سجود التلاوۃ (سجدۂ تلاوت کا بیان )
ماب وفی حم السجدۃ عقب قولہ والایسأمون ومشہور مذہب مالك عقب تعبدون وفی النجم عقب اخرھا و فی الانشقاق عقب قولہ لا یسجدون مشہور مذہب مالك عقب اخرھا وفی العلق عقب اخرھا ثم لم یحك عن احد ممن قال بالسجود فی ھذاالمواضع الاربعۃ عشرخلاف فی شیئ من محالھا المذکورۃ فیما عدالمواضع الاربعۃ التی بینت الخلاف فیھا نعم فی ذخیرۃالذکر فی الرقیات الخ وذکر ھھنا روایۃ غریبۃ عن الامام محمد رحمۃ اﷲ تعا لی اھ ملتقطا
اقول : فانظر الی قولہ واجبۃ عقب کذا وعقب کذا فان عقب ظرف للوجوب فلا وجوب قبل تمام الایۃ وانظرع ماذکر من اقوال المالکیۃ والشافعۃ تستقید بھا انھم ایضا معنا فی ذلك ثم النظر الی قولہ لم یحك من احد الخ تشعربہ ان لاخلاف فہی لائمہ السلف اللھم الاروایۃ نادرۃ عن امامنا الثالث رحمہ اﷲ تعالی۔
حم السجدۃ میں ولایسأمون کے بعد اور مذہب مالك میں مشہور تعبدون کے بعد ہے النجم میں آخری آیت کے بعد انشقاق میں لایسجدون کے بعد اور مذہب مالك مشہور اس کی آخری آیت پر علق میں آخری آیت کے بعد لازم ہے ان چودہ مقامات میں کوئی اختلاف مروی نہیں ماسوائے ان چار مقامات کے جن میں اختلاف ذکر کردیاگیا ہے ہاں ذخیرہ میں ہے کہ الرقیات میں ہے الخ اور وہاں امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے روایت عزیبہ ذکر کی گئی ہے اھ ملتقطا (ت)
اقول : آپ نے انکے الفاظ فلاں لفظ کے بعد فلاں کے بعد واجب ہے ملاحظہ کئے لفظ عقب وجوب کے لئے جگہ کا بیان ہے پس تمام آیت سے پہلے سجدہ کا وجوب نہ ہوگا مالکیہ اور شوافع جو اقوال ذکر کرتے ہیں انھیں دیکھیں ان سے مستفاد کہ اس معاملہ میں ہمارے ساتھ ہیں پھر یہ الفاظ دیکھو کہ کسی سے اختلاف مروی نہیں الخ جس سے واضح ہورہا ہے کہ ائمہ سلف کو اس میں کوئی اختلاف نہیں مگر وہ روایت جو ہمائے تیسرے امام رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے مروی ہے ۔ (ت)
اسی طرح شرح معانی الآثار امام طحطاوی میں تصریح فرمائی کہ اواخر آیات موضع سجود ہے اور رحم السجدہ میں اختلاف محل یوں نقل کیا :
حوالہ / References &حلیۃ المحل یشرح منیۃ المصلی€
#10644 · باب سجود التلاوۃ (سجدۂ تلاوت کا بیان )
قال بعضھم موضعہ تعبدون ہ وقال بعضھم موضعہ لا یسأمون ہ وکان ابوحنیفۃ و ابویوسف ومحمد یذھبون الی المذھب الاخیر واختلف المقتدمون فی ذلك ۔ ثم اسند عن ابن عباس وابی وائل وابن سیرین ومجاھد وقتادۃ مثل مذھب اصحابنا وعن ابن مسعود وابن عمر مثل مذھب المالکیۃ واسند عن مجاھد قال سألت ابن عباس ون السجدۃ التی فی حم قال اسجد باخرالایتین اھ
قلت والباء للسبیبۃ ثم اخرج عنہ بطریق اخر قال سجدہ رجل فی الایۃ الالی من حم فقال ابن عباس عجل ھذا بالسجود ۔
بعض نے فرمایا کہ سجدہ کامقام تعبدون ہے بعض نے فرمایا لایسأمون ہے امام ابو حنیفہ امام ابویوسف اور امام محمد تینوں آخری کی طرف گئے ہیں مقتدین نے اس میں اختلاف کیا ہے
پھر انھوں نے سندا بتایا کہ ابن عباس ابو وائل ابن سیرین مجاہد اور قتادہ کا مذہب ہمارے اصحاب کی طرح ہے ابن مسعود اور ابن عمر کا مسلك مالکیہ والا ہے اور مجاہد سے سندا بیان کیا ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہا سے حم میں سجدہ کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا دونوں آیات کے آخر میں سجدہ کرو اھ ۔
قلت : ( میں کہتا ہوں کہ ) باء سببیہ ہے پھر دوسری سند سے ابن عباس سے روایت کیا ایك آدمی نے حم کی پہلی آیت پر سجدہ کیا اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا : سجدہ میں جلدی کردی ۔ (ت)
پھر فرمایا :
فکانت ھذہ السجدۃ التی فی حم مماقد اتفق علیہ واختلف فی موضعھا وما ذکرنا قبل ھذامن السجود فی السور الاخر فقد اتفقواق علیھا وعلی مواضعھا التی ذکرناھا الخ
حم کے سجدہ پر اتفاق ہے لیکن اس کے مقام میں اختلاف ہے اور جو اس سے پہلے سورتوں کے آخر میں سجدوں کا ذکر آیا ان پر اور ان کے مذکور مقامات پر اتفاق ہے الخ (ت)
امام احمد قسطلانی ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں :
لو سجد قبل تمام الایۃ ولو بحرف لم یصح
اگر کسی نے آیت سے ایك حرف بھی پہلے سجدہ کیا
حوالہ / References &شرح معانی الآثار باب سجود التلاوۃ فی الفصل€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ٢٤٧
&شرح معانی الآثار باب سجود التلاوۃ فی الفصل€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ٢٤٧
&شرح معانی الآثار باب سجود التلاوۃ فی الفصل€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ٢٤٧
&شرح معانی الآثار باب سجود التلاوۃ فی الفصل€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ٢٤٧
#10645 · باب سجود التلاوۃ (سجدۂ تلاوت کا بیان )
لان وقتھا انما یدخل بتمامھا ۔
تو صحیح نہ ہوگا کیونکہ اس کو وقت تمام آیت پر شروع ہوتا ہے (ت)
اس مذہب جلیل الشان مشید الارکان پر شعر مذکور کے پڑھنے سننے سے سجدہ نہیں آسکتا کہ اس میں آیت سجدہ بتمامہا نہیں اسی طرح ہر وہ نظم جس میں پوری آیت سجدہ نہ ہو اور یہیں سے ظاہر ہوگیا کہ قرأت وسماعت نظم مطلقا موجب سجدہ نہیں کہ آیات چار دو گانہ عــــہ سے کوئی آیت وزن عروضی کی مساعدت نہیں فرماتی جسے نظم میں لانا چاہیں گے یا پوری نہ آئے گی یا ترتیب کلمات بدل جائے گی بہر حال آیت بحالہا باقی نہ رہے گی
اللھم الاایتی النجم والعن فلعل الوزن یسعھما فی بعض الشطور النا درۃ اوالزحافات البعیدۃ اولابنیۃ الغریبۃ ولو بضم بعض الکمات فی الاول اولاخر فلیعمل الفکر۔
ہاں صرف سورہ نجم اور علق کی دو آیتوں میں وزن شعری کی گنجائش شاید بعض نادر وجوہ اور بعید تبدیلیوں اور اجنبی وزنوں میں وہ بھی اول یا آخر میں بعض کلمات ملانے کی وجہ سے پیدا ہوجائے لہذا غور وفکر کو عمل میں لانا چاہئے ۔ (ت)
ہاں بعض علمائے متاخرین کا یہ مذہب ہے کہ آیت سجدہ سے سرف کو کلمے پڑھنا موجب سجدہ ہے جن میں ایك وہ لفظ جس میں ذکر سجود ہے جیسے آیت سوال میں لفظ واسجد اور دوسرا اس کے قبل یا بعد کا جیسے اس میں واقترب٭ یہ مذہب اگر چہ ظاہر الروایہ بلکہ روایات نوادر سے بھی جدا اور مسلك ائمہ سلف وتصریح وتلویح متون و شروح کے بالکل خلاف ہے مگر سراج وہاج وجوہرہ نیرہ ومراقی الفلاح میں اس کی تصحیح واقع ہوئی شرح نور الایضاح میں ہے :
قراء ۃ حرف السجدہ مع کلمۃ قبلہ اوبعدہ من ایتھا توجب السجود کالایۃ المقروءۃ بتمامھا فی الصحیح ۔
صحیح قول کے مطابق اگر ایت سجدہ میں صرف حرف سجدہ کو اس کے ماقبل یا مابعد کلمہ کے ساتھ پڑھ لیا تو سجدہ لازم ہوجائے گا جیسے کہ تمام آیت کی تلاوت سے لازم ہوتا ہے ۔ (ت)
علامہ طحطاوی اس کے حاشیہ میں فرماتے ہیں :
فی الجوھرۃ الصحیح فادہ انہ اذاقرأ حرف السجدۃ وقبلہ کلمۃ وبعد کلمۃ
جوہرہ میں ہے کہ صحیح یہ ہے کہ جب حرف سجدہ پڑھا اور اس کے ساتھ اس سے پہلے کا کلمہ بھی پڑھا

عــــہ : سجدے والی چودہ آیتیں ۔
حوالہ / References &ارشاد الساری شرح البخاری ابواب سجود القرآن€ مطبوعہ دارالکتاب العربی بیروت ٢ / ٢٨١
&مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب سجود التلاوۃ€ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص٢٦١
#10646 · باب سجود التلاوۃ (سجدۂ تلاوت کا بیان )
وجب السجود والافلا
تو سجدہ لازم ہوگا اگر پہلے یا بعد کا کلمہ نہ پـڑھا تو سجدہ لازم نہ ہوگا۔ (ت)
دالمحتار میں ہے :
فی السراج وھل تجب السجدۃ بشرط قرائۃ جمیع الآیۃ ام بعضھا فیہی اختلاف والصحیح انہ ذاقرأحرف السجدۃ وقبلہ کلمۃ او بعدہ کلمۃ وجب السجود والافلا ۔
سراج میں ہے کہ کیا سجدہ لازم ہونے کے لئے تمام آیت کی تلاوت ضروری ہے یا بعض کی اس میں اختلاف ہے اور صحیح یہی ہے کہ جب کسی نے حرف سجدہ کو اس سے پہلے یا بعد کے کلمہ کے ساتھ ملاکر پڑھا تو سجدہ سہو لازم ہوجائے گاورنہ نہیں (ت)
علامہ ابن امیر الحاج نے ائمہ متقدمین کا مذہب بیان فرماکر روایت نادرہ رقیات ذکر کی جس کی نسبت فرمایا :
ذکر فی تتمۃ الفتاوی الصغری ان الفقیہ اباجعفر ذکرہ فی غریب الروایۃ عن محمد ۔
فتاوی صغری کے تتمہ میں ہے کہ فقیہ ابو جعفر نے امام محمد سے ایك غریب روایت کے حوالے سے ذکر کیا ہے ۔ (ت)
پھر فرمایا :
وقال الفقیہ ابوجعفر اذاقرأ حرف السجدۃ ومعھا غیرھا قبلھا اوبعدھا امر بالسجود وسجدو ان کان دون ذلك لایسجد ۔
فقیہ ابوجعفر نے فرمایا اگر کسی نے حرف سجدہ کو پڑھا اور غیر یعنی ماقبل اور مابعد کو بھی پڑھا تو اسے سجدہ کاحکم دیا جائے گا اور وہ سجدہ کرے اور اس کے بغیر پڑھا تو سجدہ تلاوت لازم نہ ہوگا (ت)
اس سے ظاہر کہ یہ مذہب صرف فقیہ ابوجعفر ہندوانی کا ہے ائمہ سے نوادر میں بھی منقول نہیں ۔ اقول رہیں تصحیحیں وہ تعدد کتب سے متکثر نہیں ہوتیں کہ جسے منصب اجتہاد فتوی نہیں اس کا ھوالصحیح (یہی صحیح ہے ۔ ت) کہنا نقل محض وتقلید مجرد ہے پھر خادم فقہ جانتا ہے کہ اجماع متون کی شان عظیم ہے خصوصا جبکہ
حوالہ / References &حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب سجود التلاوۃ€ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۲۶۱
&ردا لمحتار باب سجود التلاوۃ€ مطبوعہ مصطفٰی البابی مصر ۱ / ۵۶۵
&حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی€
&حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی€
#10647 · باب سجود التلاوۃ (سجدۂ تلاوت کا بیان )
جماہیر شراح وکبری فتاوی بھی ان کے ساتھ ہوں یہاں تك بعض صریح تصحیحوں کو اسی وجہ سے نہ مانا گیا کہ مخالف متون میں کما بیناہ فی کتاب النکاح من العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ علی الخصوص ( جیسا کہ ہم نے اس کا تفصیلی بیان '' العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویہ '' کے کتاب النکاح میں خصوصی طور پر کیا ہے ۔ ت) بلکہ وہ مذہب ائمہ مذہب سے منقول بھی نہیں صرف بعض مشائخ کا مسلك ہے اور حکم اس قبیل سے نہیں جو اختلاف زمانہ سے بدل جائے ایسی حالت میں اس تصحیح پر تعویل واعتماد ضروری ہونا بغاوت خیر منع وانکار میں ہے لاجرم محقق ابن عابدین شامی نے عبارت مذکورہ سراج کے بعد حم السجدہ میں تعبدون٭ ولایسامون ٭کا اختلاف اور اس میں ہمارے علماء کا استدلال مذکور عن الامداد عن البحر عن البدائع نقل کرکے فرمایا :
الظاہر ان ھذا الاختلاف مبنی علی ان السبب تلاوۃ ایۃ تامۃ کما ھو ظاہر اطلاق لمتون وان المراد بالایۃ مایشمل الایۃ والایتین اذاکانت الثانیۃ متعلقۃ بالایۃ التی ذکر فیھا حرف السجدۃ وھذاینا فی مامرعن السراج من تصحیح وجوب السجود بقرائۃ حرف السجدۃ مع کلمۃ قبلہ اوبعدہ لایقال مافی السراج بیان لموضع اصل الوجوب وما مرعن الامداد بیان لموضع وجوب الاداء اوبیان لموضع السنۃ فیہ لانا نقول ان الاداء لایجب فورالقرائۃ کماسیأتی ومامرفی ترجیح مذھبنا من قولھم لانھا تکون قبل وجود سبب الوجوب وقد ذکر مثلہ ایضا فی الفتح وغیرہ یدل علی ان الخلاف بیننا وبین الشافعی فی موضع اصل الوجوب
ظاہر یہی ہے کہ اس اختلاف کی بنیاد اس پر ہے کہ سجدہ کا سبب پوری آیت کی تلاوت ہے جیسا کہ متون کے اطلاق سے ظاہر ہے اور آیت سے مراد وہ حصہ ہے جو ایك آیت یا دو آیات پرمشتمل ہو جبکہ دوسری آیت اس پہلی سے متعلق ہو جس میں حرف سجدہ ہے لیکن یہ بات سراج کی اس سابقہ تصریح کے منافی ہے کہ حرف سجدہ کو پہلے یا بعد کے کلمہ کے ساتھ ملاکر پڑھنے سے سجدہ لازم ہوجاتا ہے (جوابا) یہ نہیں کہا جاسکتا کہ سراج میں اصل وجوب کے مقام کا بیان ہے اور امداد کے حوالے سے جو گزرا اس سے مراد وجوب ادا کے مقام یا اس میں سنت طریقے کا بیان متصور ہے اس لئے کہ ہم کہتے ہیں کہ اداء قرأت پر فی الفور لازم نہیں ہوتی جیسا کہ عنقریب آرہاہے ۔ ہمارے مذہب کی ترجیح میں فقہا کا جو قول گزرا کہ اختتام آیت سے قبل سجدہ سبب وجوب سے پہلے ہونا لازم آئے گا اور اسی کی مثل فتح وغیرہ میں جو مذکور ہے وہ دلالت کرتا ہے کہ ہمارے او رشوافع کے درمیان اصل وجوب کے مقام میں اختلاف ہے
#10648 · باب سجود التلاوۃ (سجدۂ تلاوت کا بیان )
وانہ لایجب السجود فی سورۃ حم السجدہ الاعندانتھاء الآیۃ الثانیۃ احتیاطا کما صرح بہ فی الہدایۃ وغیرھا لان الوجوب لایکون الابعد وجود سببہ فلو سجدھا بعد الایۃ الاولی لا یکفی لانہ یکون قبلك سببہ ونہ ظھران مافی السراج خلاف المذھب الذی مشی علیہ الشراح ولمتون تامل انتھی
اقول : تاملناہ فوجدناہ حقا واماقولکم الظاھر ان ھذا الاختلاف الخ فلیس ھذا محل الظاہر بطل ھوا لمتعین قطعا کما لایخفی ثم العجب من علامۃ الشرنبلالی حیث جزم فی متنہ بما صحح السراج وعول فی شرحہ علی کلام البدائع مع تنافیھا صریحا وللعبد الضعیف غفراﷲ تعالی لہ فی تحقیق ھذا الرام رسالۃ مستقلۃ الفتھا بعد ورودھذ السؤال و اوضحت فیھا المرام بتوفیق الملك المتعال۔
او ر سورہ حم السجدہ میں وہ سجدہ احتیاط کے پیش نظر دوسری آیت کے اختتام پر لازم کرتے ہیں جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں تصریح ہے کیونکہ وجوب اپنے سبب کے بعد ہوتا ہے اگر کسی نے پہلی آیت کے بعد سجدہ کرلیا تو کافی نہیں ہوگا کیونیکہ یہ اس کے سبب سے پہلے ہوگا اور اس سے ظاہر ہوگیا کہ سراج میں جوکچھ ہے وہ اس مذہب کے خلاف ہے جس پر متون اور شروحات ہیں انتہی اقول ہم نے اس پر غور کیا تو اسے حق پایا باقی رہا معاملہ تمھارے اس قول کا کہ ظاہر یہ ہے کہ یہ اختلاف الخ تو یہ محل ظاہر یہ نہیں بلکہ قطعی طور پر متعین ہے جیسا کہ واضح ہے پھر علامہ شرنبلالی پر تعجب ہے کہ انھوں نے متن میں اس پر جزم کیا ہے جسے سراج نے صحیح قرادیا اور شرح میں کلام بدائع پر اعتماد کیا حالانکہ ان دونوں کے درمیان صراحۃ منافات ہے عبد ضعیف (اﷲتعالی ا س کی مغفرت فرمائے) نے اسو سوال کے بعد اس مسئلہ کی تحقیق پر مستقل رسالہ لکھا ہے جس میں اﷲ تعالی کی توفیق سے مقصد کو واضح کیا ہے ۔ (ت)
بالجملہ اصل مذہب معلوم ہے تاہم محل وہ ہے کہ سجود میں ضررنہیں اور برتقدیر وجوب ترك معیوب اور صریح تصحیح جاذب قلوب لہذا انسب یہی ہے کہ اسی مذہب مصحح پر کاربند ہو کر شعر مذکور کی سماعت وقرائت پر سجدہ کرلیں اسی طرح ہر نظم ونثر میں جہاں آیت سجدہ سے صرف سجدہ مع کلمہ مقارنہ پڑھا جائے سجدہ بجالائیں
وﷲ الموقق واعلم ان فی المسئلۃ ثلثۃ مذاھب اخراجلھا ما فی الرقیات وھو الوجوب باکثر الآیۃ مع حرف السجدۃ
اور اﷲ تعالی توفیق دینے والا ہے واضح رہے کہ مسئلہ میں تین اور (بھی) مذاہب ہیں ان میں سے اجل وہ ہے جو رقیات میں ہے کہ اگر کسی نے حرف
حوالہ / References &ردالمحتار باب سجود التلاوۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٦٥
#10649 · باب سجود التلاوۃ (سجدۂ تلاوت کا بیان )
مشی علیہ مائنون کالتبیین والخلاصۃ والدرالمختار وغیرھا ولکن لم یذل بالتصحیح والباقیان انزل درجۃ فلا یعرج علی شیئ منھا فی مخالفۃ المتون و عامۃ الشروح و قد ذکرنا الکلام علی کل ذلك فی رسالتنا المذکورۃ بتوفیق اﷲ سبحنہ وتعالی ۔ واﷲ تعالی اعلم
سجدہ اکثر آیت کے ساتھ پڑھ لیا تو اس پر سجدہ واجب ہوجائے گا ارت اسی کو بعض ماتنین نے اختیار کیا مثلا صاحب تبیین خلاصہ اور درمختار وغیرہ لیکن اس کی تصحیح نہیں کی اور بقیہ دو درجہ کے لحاظ سے اتنے نیچے ہیں کہ وہ متون اور اکثر شروحات کے مقابل نہیں آسکتے ہم نے اﷲ تعالی کی توفیق سے اس پر اپنے مذکورہ رسالے میں تفصیلا گفتگو کی ہے۔ (ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ : از ماہرہ منورہ باغ پختہ مرسلہ سید محمد ابراہیم صاحب ربیع الاول ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سجدات کلام اﷲ شریف وقت تلاوت معا ادا کرے یا جس وقت چاہے بینوا توجروا
الجواب :
سجدہ صلوتیہ جس کا اداکرنا نماز میں واجب ہو اس کا وجوب علی الفور ہے یہاں تك کہ دوتین آیت سے زیادہ خیر گناہ ہے اور غیر صلوتیہ میں بھی افضل واسلم یہی ہے کہ فورا اداکرے جبکہ کوئی عذر نہ ہو کہ اٹھارکھتے ہیں بھول پڑتی ہے وفی التاخیر افات ( دیر کرنے میں آفات ہیں ۔ ت) ولہذا علماء نے اس کی تاخیر کو مکروہ تنزیہی فرمایا مگر ناجائز نہیں ۔
فی الدرلمختار ھی علی التراخی علی المختار ویکرہ تاخیرھا تنزیھا ان لم تکم صلویۃ فعلی الفور لصیرورتھا جزء منھا فیاثم بتأخیرھا اھ ملخصا
درمختار میں ہے مختار یہی ہے کہ سجدہ تلاوت فی الفور لازم نہیں ہوتا اور اس کا مؤخر کرنا مکروہ تنزیہی ہے بشرطیکہ وہ نماز میں لازم نہ ہوا ہو اور اگر نماز میں لازم ہوا تو فی الفور لازم ہوگا کیونکہ اب وہ نماز کا حصہ بن جائیگا اب اس کی تاخیر سے گناہ ہوگا اھ ملخصا
ردالمحتار میں ہے :
تفسیر الفور عدم طول المدۃ بین
فی لفور کی تفسیر یہ ہے کہ تلاوت اور سجدہ کے درمیان
حوالہ / References &درمختار باب سجود التلاوۃ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٠٥
#10650 · باب سجود التلاوۃ (سجدۂ تلاوت کا بیان )
التلاوۃ والسجدۃ اکثر من ایتین اوثلاث علی ماسیأتی حلیۃ انتھی واﷲ تعالی اعلم
دویا تین آیات کی قرائت کی مقدار کا فاصلہ نہ ہوجائے جیسا کہ عنقریب آرہاہے حلیہ انتہی ۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ : از بریلی محلہ ملوکپور مسئولہ مولوی حکیم حافظ امیر اﷲ صاحب مدرس اول عربیہ اکبریہ جمادی الاولی ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص اقرأ پڑھے فرضوں میں اور ضم دوسورتوں کا آیا نہیں او رسجدہ سورت کے آخر میں ہے اور امام ہے اگر رکوع میں نیت کرے تو مقتدی کا سجدہ تلاوت ادا نہ ہوگا آیا یوں جائز ہوگا کہ سورت ختم کرکے سجدہ کرے پھر کھڑا ہوکر رکوع کرے یا تین سجدے کرے مطلع فرمائے۔ بینوا توجروا
الجواب :
فی الواقع اگر صورت مستفسرہ میں امام نے فورا رکوع کیا اور رکوع میں نیت سجدہ تلاوت کرلی تو اس کا سجدہ و ادا ہوگیا مگر جن مقتدیوں نے نیت نہ کی ان کا سجدہ ایك مذہب علماء پر ادا نہ ہوگا۔
عنی عند من لا یتجزئ للماموم بنیۃ الامام وھما قولان حکاھما القھستانی
میری مراد وہ علماء ہیں جو امام کی نیت کو مقتدی کے لئے کافی نہیں سمجھتے اور یہ دو قول ہیں جنھیں قہستانی نے نقل کیا ہے (ت)
نہ وہ آپ جداگانہ سجدہ کرسکیں گے للزوم خلاف الامام ( کیونکہ اس میں امام کی مخالفت لازم آرہی ہے ۔ ت) نہ سجدہ نماز انھیں سجدہ تلاوت سے کافی ہوگا اگر چہ وہ اس میں سجدہ تلاوت کی نیت بھی کرلیں لانہ لما نواھا الامام فی رکوعہ تعین لھا افادہ ح قالہ ش ( کیونکہ جب امام نے اس کی ادائیگی کی رکوع میں نیت کی تو وہی اس کے لئے متعیین ہوگیا اسے 'ح'نے بیان کیا اور'ش' نے نقل کیا۔ ت) بلکہ اس کی سبیل ہوگی کہ بعد سلام امام سجدہ تلاوت کریں پھر یہ سجدہ رافع ہوگا کما تقرر فی مقررہ ( جیسا کہ اپنے مقام پر ثابت شدہ ہے ۔ ت) تو فرض ہوگا کہ قعدہ کا اعادہ کریں نہ کریں گے تونماز فاسد ہوجاءے گی ۔
فی الدرالمختار عن القنیۃ لونواھا فی رکوعہ ولم ینوھا المؤتم لم تجزہ و
درمختار میں قنیہ سے ہے اگر امام نے سجدہ تلاوت کی نیت رکوع میں کرلی اور مقتدی نے نیت نہیں کی تو
حوالہ / References &ردالمحتار باب سجود التلاوۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٦٩
&ردالمحتار باب سجود التلاوۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٧١
#10651 · باب سجود التلاوۃ (سجدۂ تلاوت کا بیان )
یسجد اذاسلم الامام ویعید القعدۃ ولو ترکہا فسدت صلوتہ
مقتدی کے لئے کافی نہ ہوگا لہذا جب امام سلام کہے تو مقتدی سجدہ کرے او رقعدہ کو لوٹائے اور اگر مقتدی نے سجدہ کو ترك کردیا تو اس کی نماز فاسد ہوجائے گی۔ (ت)
جب یہ دقتیں ہیں تو ایسی حالت خصوصا اس زمانہ جہالت میں رکوع نماز سجدہ تلاوت ادا کرلینا مقتدیوں کو فتنے میں ڈالنا ہے لہذا امام کو اس سے بچنا چاہئے۔
فی ردالمحتار ینبغی للامام ان لاینوبھا فی الرکوع ۔
ردالمحتار میں ہے کہ امام کا رکوع میں سجدہ (تلاوت) کی نیت کرنا مناسب نہیں ۔ (ت)
اور اگر یہ کرتاہے کہ سورت ختم کرکے فورا سجدہ تلاوت کرے اور اس کے بعد کھڑا ہوکر معا رکوع میں سجدہ چلاجائے تو سجدہ تو سب کا ادا ہوجائے گا مگر یہ فعل مکروہ ہوگا کہ سجود تلاوت ورکوع میں فصل نہ کیا۔
فی مراقی الفلاح لورکع بمجرد قیامہ منھاکرہ ۔
مراقی الفلاح میں ہے کہ اگر سجدہ تلاوت کے بعد محض قیا م کرکے رکوع کرلیا تو مکروہ ہوگا۔ (ت)
بس اگر تلاوت کے لئے سجدہ مستقلہ ہی کرنا چاہے تو اس کا یہ طریقہ اسلم کہ سجدہ سے اٹھ کر دوسری سورت مثلا سور مستفسرہ میں سورہ قدر یا تلاوت والنجم میں سورہئ قمر کے اول سے تین آیتیں خواہ زیادہ پڑھ کر رکوع کرے اس میں اگر چہ ایك رکعت میں دوسورتوں سے پڑھنا ہوگا اور فرضوں میں اس کا ترك اولی مگر سورتوں میں فصل نہ ہو تو مکروہ نہیں شرح صغیر منیہ میں ہے :
لوجمع بین السورتین فی رکعۃ واحدۃ الاولی ان لایفعل فی الفرض ولو فعل لایکرہ الا ان یترك بینھا سورۃ اواکثر ۔
اگر دوسورتیں ایك رکعت میں جمع کرلیں اور بہتر یہ ہے کہ فرائض میں ایسا نہ کیا جائے اور اگر ایسا کربھی لیا تو کراہت نہیں مگر اس صورت میں جب ان کے درمیان ایك سورۃ یا اکثر سور ہوں ۔ (ت)
حوالہ / References &درمختار باب سجود التلاوۃ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٠٥
&ردالمحتار باب سجود التلاوۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٧١
&مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب سجود التلاوۃ€مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ٢٦
&صغیری شرح منیۃ المصلی تتمات فیما یکرہ فعلہ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص٢٥٦
#10652 · باب سجود التلاوۃ (سجدۂ تلاوت کا بیان )
بخلاف بعد سجودہ تلاوت بلافصل رکوع میں جانے کے کہ یہ مکروہ ہے کما قدمنا (جیسا کہ ہم نے پیچھے بیان کردیا ۔ ت) تو اس کے دفع کر اسے گوارا کیا جائے گا۔ مراقی الفلاح میں ہے :
اذاکانت اخرتلاوتہ ینبغی ان یقول أولو ایتین من سورۃ اخری بعد قیامہ منھا حتی لایصیر بانیا للرکوع علی السجود ۔
جب یہ آخری تلاوت ہو تو سجدہ تلاوت سے قیام کے بعد قرأت مناسب ہے اگر چہ وہ کسی دوسری سورت کی آیات ہوں تاکہ رکوع کی سجدہ پر بنا رکھنے والا نہ ہوجائے ۔ (ت)
ایك طریقہ تو یہ تھا اور ان سب سے بہتر وخوش تر اور ہر خدشہ سے سالم ومحفوظ تر یہ ہے کہ صورت مستفسرہ میں تلاوت کے لئے مستقل سجدہ اصلا نہ کرے بلکہ آیت سجدہ پڑھنے ہی معا نماز کا رکوع بجالائے اور اس میں نیت سجدہ نہ کرے پھر قومہ کے بعد فورا نماز کے سجدہ اولی میں جائے اور اس میں نیت سجدہ کرے اب نہ کوئی قباحت یا کراہت یا تفویت فضیلت لازم ہوئی نہ مقتدیوں پر کچھ دقت آئی اگر چہ انھوں نے کہیں نیت سجدہ تلاوت کی نہ کی ہو کہ سجدہ نماز جب فی الفور کیا جائے تو اس سے سجدہ تلاوت خودبخود ادا ہوجاتا ہے اگر چہ نیت نہ ہو۔
فی ردالمحتار لو رکع وسجد لھا ای للصلوۃ فور اناب ای سجود المقتدی عن سجود التلاوۃ بلانیۃ تبعا لسجود امامہ لما مر انفا انھا تودی بسجود الصلوۃ فورا وان لم ینو ۔
ردالمحتارمیں ہے اگر امام نے نماز کا رکوع او رسجدہ فورا کرلیا تو مقتدی کا سجدہ تلاوت بلانیت امام کی اتباع میں سجدہ کے ساتھ ادا ہوجائے گا جیسا کہ ابھی پیچھے گزرا کہ سجدہ تلاوت فورا سجدہ نماز سے ادا ہوجاتا ہے اگر چہ نیت نہ کی ہو۔ (ت)
اور یہیں سے ظاہر کہ اس محمود ومحفوظ صورت میں اگر خود امام بھی اصلا نیت سجدہ تلاوت نہ کرے تاہم سب کا سجدہ ادا ہوجائے گا اور امام ومقتدی ہر وقت سے امان میں رہیں گے بلکہ ہمارے علماء بحالت کثرت جماعت یا اخفائے قرأت اسی طریقہ کو مطلقا افضل ٹھہراتے ہیں کہ آیت سجدہ پڑھ کر فورا نماز کے رکوع وسجود کرلے تاکہ تلاوت کے لئے جداسجدے کی حاجت نہ پڑھے جس کے باعث جہال کو اکثر التباس ہوجاتا ہے ۔ مراقی الفلاح میں ہے
ینبغی ذلك للامام مع کثرۃ القوم اوحال المخالفۃ حتی لایؤدی الی التخلیط ۔
لوگوں کی کثرت اور مخالفت حال میں امام کے لئے یہی مناسب ہے تاکہ اختلاط کا سبب نہ بنے۔ (ت)
حوالہ / References &مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب سجود التلاوۃ€ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ٦٤
&ردالمحتار باب سجوع التلاوۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٧١
&مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب سجود التلاوۃ€ مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ٦٤
#10653 · باب سجود التلاوۃ (سجدۂ تلاوت کا بیان )
علامہ طحطاوی اس کے حاشیہ میں فرماتے ہیں :
ای ولا یجعل لھا رکوعا وسجودا مستقلا خوف الفساد من غیرہ ۔
یعنی امام سجدہ تلاوت کے لئے مستقل رکوع وسجود نہ کرے کیونکہ دوسروں کی نماز میں فساد آئے گا ۔ (ت)
میں کہتا ہوں کثرت جماعت کی قید اس نظر سے ہے کہ جب ہجوم ہوگا تو عوام بھی ضرور ہوں گے اب ہمارے زمانہ میں کہ عام لوگ عوام ہی عوام ہیں کثرت و قلت سب یکساں تو سجود مستقل سے مطلقا یہی صورت انسب و اولی مگر یہ کہ امام جانتا ہو کہ اس وقت میرے پیچھے صرف وہی لوگ ہیں جو دینی مسائل کاعلم رکھتے ہیں لیکن اس قدر ضرور یادرکھنا چاہئے کہ یہ صورت اسی حالت میں بن پڑے گی کہ آیت سجدہ کے بعد رکوع وسجود نماز میں دیر نہ کی فورا بجالایا ورنہ اگر آیت سجدہ پڑھ کر تین چار آیتیں اور پڑھ لیں تو اب سجدہ تلاوت ہرگز بے خاص مستقل سجدے ہی کے ادا نہ ہوگا اور تاخیر کا گناہ ہوا وہ علاوہ درمختار میں ہے :
ان لم تکن صلویۃ فعلی الفور لصیرورتھا جزء منھا فیأثم بتاخیرھا ۔
نماز میں لازم آنے والا سجدہ اگر علیحدہ نہ کیا تو فی الفور رکوع وسجدہ کرے کیونکہ یہ سجدہ جزء نماز ہونے کی وجہ سے فی الفور واجب ہوتا ہے تاخیر کی وجہ سے آدمی گنہ گار ہوتا ہے (ت)
ردالمحتار میں ہے :
فلوانقطع الفورلا بدلھا من سجود خاص بھا مادام فی حرمۃ الصلوۃ وع ﷲ فی البدائع بانھا صارت دینا والدین یقضی بمالہ لا بما علیہ والرکوع والسجود علیہ فلایتأدی بہ الدین اھ
اگر فی الفور نہ ہوا تو الگ سجدہ تلاوت کرنا لازم ہوگا جب تك نمازی حرمت نمازمیں ہے اور اس کی علت بدائع میں بیان ہوءی ہے کہ سجدہ تلاوت قرض ہے اور قرض اس سے ادا ہوگا جو اس کا اپنا حق ہے نہ کہ اس سے جو اس پر لازم ہے اور رکوع وسجود تو نمازی پر لازم لہذا ان سے دین کیسے ادا ہوسکتا ہے اھ (ت)
اسی میں ہے :
ان فات الفور لا یصح ان یرکع لھا ولو
اگرفی الفور سجدہ تلاوت نہ ہوسکا تو اب حرمت نماز میں رہتے
حوالہ / References &حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب سجود التلاوۃ€ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ٢٦٤
&درمختار باب سجود التلاوۃ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٠٥
&ردالمحتار باب سجود التلاوۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٧١
#10654 · باب سجود التلاوۃ (سجدۂ تلاوت کا بیان )
فی حرمۃ الصلوۃ بدائع ای فلا بدمن سجود خاص بھا الخ ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
ہوئے بھی اس کے لئے رکوع نہیں کیا جاسکتا بدائع یعنی اب اس کے لئے الگ مستقل سجدہ کرنا ہوگا الخ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم (ت)
مسئلہ : مسئلہ نواب سلطان احمد خاں صاحب بریلی ( سوال منظوم )
عالمان شرح سے ہے اس طرح میراسوال دیں جواب اس کا برائے حق مجھے وہ خوشخصال
گرکسی نے ترجمہ سجدہ آیت کی پڑھا تب بھی سجدہ کرنا کیا اس شخص پر واجب ہوا
او ر ہوں سجدے تلاوت کے ادا کرنے جسے پھر ادا کرنے سے ان سجدوں کے پہلے وہ مرے
پس سبکدوشی کی اس کے شکل کیا ہوگی جناب! چاہئے ہے آپ کو دینا جواب باصواب
الجواب منظوم
ترجمہ بھی اصلی یہاں ہے وجہ سجدہ بالیقین فرق یہ ہے فہم معنی اس میں شرط اس میں نہیں
آیت سجدہ سنی جاناکہ ہے سجدہ کی جا اب زباں سمجھے نہ سمجھے سجدہ واجب ہوگیا
ترجمہ میں اس زباں کا جاننا بھی چاہئے نظم ومعنی دوہیں ان میں ایك تو باقی رہے
تاکہ من وجہ تو صادق ہو سنا قرآن کو ورنہ اك موج ہوا تھی چھو گئی جو کان کو
ہے یہی مذہب بہ يفتی عليہ الاعتماد شامی از فیض ونہر واﷲ اعلم بالرشاد
سجدہ کا فدیہ نہیں اشباہ میں تصریح کی صیرفیہ میں اسی انکار کی تصحیح کی
کہتے ہیں واجب نہیں اس پر وصیت وقت موت فدیہ گرہوتا تو کیوں واجب نہ ہوتا جبر فوت
یعنی اس کا شرع میں کوئی بدل ٹھہر انہیں جز ادایا توبہ دقت عجز کچھ چارہ نہیں
یہ نہیں معنی کہ جائز ہے یا بیکار ہے آخراك نیکی ہے نیکی ماحی اوزار ہے
قلتہ اخذا من التعلیل فی امرالصلوہ وھو بحث ظاھر والعلم حقا للالہ
مسئلہ تا : امانت علی شاہ قصبہ نواب گنج ضلع بریلی رمضان شریف ھ
() اگر بے وضو تلاوت میں لفظ سجدہ آجائے تو بعد کو سجدہ کس طرح کرے کیا بعد کو سجدہ کی نیت کرنا ہوگی یا اور کسی طرح سے بینوا توجروا
حوالہ / References &ردالمحتار باب سجود التلاوۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٧٠
#10655 · باب سجود التلاوۃ (سجدۂ تلاوت کا بیان )
() اگر باوضو مصلے پر تلاوت کرتا ہو اور کلام مجید سامنے رکھا ہو اس وقت لفظ سجدہ آئے تو کلام مجید علیحدہ رکھ کر سجدہ کرنا چاہئے یا اور کسی طرح سے اور اگر علیحدہ رکھا جائے تو بند کرکے یا کھلا ہوا بینوا توجروا
الجواب :
() بعد کو بھی سجدہ اسی طرح کرنا ہوگا جیسا اس وقت کیا جاتا یہ نیت ہر وقت کرنی ہوتی ہے کہ تلاوت کے سبب جو سجدہ مجھ پر واجب ہوا اسے ادا کرتا ہوں یہ سمجھ کر اﷲ اکبر کہتا ہوا کھڑے سے سجدہ میں جائے پھر اﷲ اکبر کہہ کر سجدہ سے سر اٹھائے اس کے سوا اور کوئی نیت زبان سے نہیں کہی جاتی۔ واﷲ تعالی اعلم
() اس کے لئے کوئی خاص حکم نہیں جو آسان ہو اور قرآن عظیم کے ادب کا لحاظ ضرور ہے اور سجدہ میں اس کا سامنے ہونا کوئی حرج نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر تراویح پڑھنے میں مقام سجدہ آگیا تو کیا امام سجدہ کر سکتا ہے یا نہیں
الجواب :
تراویح خواہ کسی نماز میں اگر آیت سجدہ پڑھے تو فورا سجدہ واجب ہے تین آیت سے زیادہ دیر لگانہ گناہ ہے واﷲ تعالی اعلم
_________________
#10656 · باب صلٰوۃ المسافر (مسافر کی نماز کا بیان)
مسئلہ : خلیل پور تحصیل گنور اسٹیشن ببرالہ لشکر سید محمد حسن صاحب ڈپٹی کلکٹر مرسلہ عظیم اﷲ خاں صاحب جمادی
الآخرہ ھ
بندہ نے بتقریب ملازمت انگریزی دورہ شروع کیاہے دو۲ ماہ دورہ ہوگا اور اصلی مقام سے کو س کے فاصلہ تك جانے کا ارادہ ہے ليكن اب تك کوس سے کم فاصلہ پر رہا اورہمیشہ درمیان میں مقام اصلی کی واپسی کا ارادہ رہا اور واپس ہوتا رہا اب اصلی مقام سے چل کر ریل کی سواری میں کوس سے زیادہ پہنچنے کا ارادہ ہے اور دورہ کے طورپر کہیں دو روز کہیں چار روز ٹھہرنا ہوگا ایسی حالت میں باعتبار مسافت سفر نماز میں قصر کرنا چاہئے یا اہل خبا کی طرح پوری نماز پڑھنا چاہئے جناب دورہ وغیرہ کے حال سے واقف ہیں اگر سوال میں کچھ اجمال اطلاق رہا ہو تو اس کو جواب میں رفع فرمادیں اور مفصل عام فہم جواب بواپسی ڈاك ارشاد ہو منزل دس۱۰ کوس کی شمار ہوتی ہے یا نہیں بارہ ۱۲ کوس کی اب تك جو پوری نماز پڑھی یہ صحیح کیا ياغلط والسلام خیر ختام
الجواب :
دورہ غالبا جس طور پر ہوتا ہے کہ آٹھ آٹھ دس دس کوس نیت سے چلتے اور ایك جگہ پہنچ کر پھر دوسرے کو روانہ ہوتے ہیں یہ حالت سفر نہیں اگر چہ اس میں سوکوس کا فاصلہ ہوجاتے یونہی اگر اس موضع بعید سے واپسی بھی اسی طریق دورہ ہو کہ یکے بعد دیگرے قریب قریب مقامات کے قصدسے چلتے ہوئے محل اقامت کے نزدیك آکر پلٹ آئیں تو اس رجوع میں بھی قصر نہیں ہاں اگر جانے خواه آنے کیسی محل اقامت بالخصوص ایسی جگہ
#10657 · باب صلٰوۃ المسافر (مسافر کی نماز کا بیان)
کے عزم پر چلیں جو وہاں سے مدت سفر پر ہو تو سفر متحقق اور قصر واجب ہوگا اسی طرح اگر دورہ کسی ایسے مقام پر ختم ہوا جہاں سے محل اقامت تین منزل ہے اب بخط مستقیم وہاں کو پلٹے تو بھی وہاں سے یہاں تك حلات سفر ہے فتح القدیر میں ہے :
الخلیفۃ ان کان انما قصدالطواف فی ولایتہ فالاظھرانہ حینئذ غیر مسافر حتی لایقصر الصلوۃ فی طوافہ کالسائح اھ ملخصا ذکرہ فی باب الجمعۃ مسئلۃ تمصر منی فی الموسم ۔
حاکم وقت اپنی مملکت میں دورہ کرنے کی نیت سے سفر کرے تو وہ مسافر نہ ہوگا حتی کہ وہ سیاحت کرنے والے کی طرح نماز میں قصر نہیں کرسکتا اھ ملخصا اے صاحب فتح القدیر نے باب الجمعہ مسئلہ “ منی موسم حج میں شہربن جاتا ہے “ کے تحت ذکر کیا ہے( ت)
اختیار شرح مختار وخزانۃ المفتین میں ہے :
الخلیفۃ اذا سافر یقصر الصلوۃ الا اذا طاف فی ولایتہ ۔
حاکم جب سفر کرے تو وہ قصر کرے گا مگر اس صورت میں جب و ہ دورہ کررہا ہو تو پھر قصر نہیں کرسکتا (ت)
فتاوی بزازیہ میں ہے :
خرج الامیر مع الجیش الطلب العد ولایقصر وان طال سیرہ وکذا اذا خرج لقصد مصردون مدۃ سفر ثم منہ الی اخ کذلك لعدم نیۃ السفر ۔
امیر لشکر کے ساتھ دشمن کی طلب کے لئے نکلا تو قصر نہ کرے اگر چہ اس کا سفر کتنا ہی طویل ہو اور اس طرح اس صورت میں بھی قصر نہیں جب وہ مدت سفر سے شہر کے ارادے سے نکلاپھر وہاں سے درسے ایسے شہر کی طرف چلا جو مدت سفر سے کم مسافت تھا کیونکہ اس میں نیت سفر نہ تھی۔ (ت)
اسی میں ہے :
وفی الرضوع لومن مدۃ سفر قصروا ۔
اور رجو ع کی صورت میں اگر مدت سفر ہے تو نما ز میں قصر کرلیں (ت)
حوالہ / References &فتح القدیر باب صلوۃ الجمعہ€ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھرسندھ ٢ / ٢٦
&خزانۃ المفتین€
&فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ الثانی والعشرون فی السفر€ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ٤ / ٧٢
&فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ الثانی والعشرون فی السفر€ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ٤ / ٧٢
#10658 · باب صلٰوۃ المسافر (مسافر کی نماز کا بیان)
اقول : وباﷲ التوفیق ( میں اﷲ تعالی کی مدد سے کہتا ہوں ۔ ت) تحقیق مقام یہ ہے کہ تحقیق سفر شرعی کے لئے نہ مجرد سیر بے قصد کا فی نہ تنہا قصد بے سیر بلکہ دونوں کا اجتماع ضرور کما تفیدہ الا سفارقا طبۃ وبینہ فی خزانۃ المفیتن وغیرھا ( جیسا کہ اس پر عبارات کتب شاہد ہیں اور اسے خزانۃ المفتین وغیرہ میں بیان کیا ہے۔ ت) اور قصدسے مراد فی الحال مستبع فعل مقارن سیر ہے جسے عزم کہتے ہیں
کما یدل علیہ تعبیرھم جیمعا بلفظۃ الحال فی حد المسافر بمن جاوز عمران موطنہ قاصدا مسیرۃ ثلاثۃ ایام۔
جیسے کہ تمام فقہاء کا لفظ حال سے تعبیر کرنا اس پر دال ہے لہذا مسافر کی تعریف یوں کی گئی ہے ہر وہ شخص جو تین دن کے سفر کے ارادے سے اپنی آبادی سے نکل جائے (ت)
نہ قصدفی الاستقبال کہ بالاجماع کافی نہیں
کمن خرج قاصدا قریۃ قریبۃ ومن بیتہ ان ینشئی بعدھا سفرا الی بعید فانہ لایکون فی مسیرہ الیھا مسافر اقطعال۔
مثلا وہ شخص جو کسی قریبی قریہ کے ارادے سے نکلا اور اس کی نیت یہ تھی کہ اس قریہ کے بعد وہ کسی بعید شہر کا سفر کرے گا تو اب وہ اس نکلنے میں قطعا مسافر نہ ہوگا۔ (ت)
اور نیت اپنی غایت مقصودہ بالذات پر پہنچ کرمنتہی ہوجاتی ہے کہ غایت ماھی غایۃ لہ( غایت جس کے لئے غایت بن رہی ہے ۔ ت) سے متاخر فی الوجود ہے اور حرکت کے لئے بعد وجود بقا نہیں تو اس کے بعد اگر دوسرے مقصود کی طرف نہضت ہو تو وہ سیر آخر وقصد آخر ہے اور قبل وصول منتہی نہیں ہوتی اگر چہ سکون ونزول متخلل ہو ولہذا اگر کسی منزل میں کوئی شخص ملے نازل کہے گا میں فلاں جگہ جاتا تھا کہ وہ ملایا جاتے ہیں اس سے ملاقات ہوئی یا جاتے ہوئے راہ میں مل گیا تو وہ نہایات مختلفہ کا قصہ مقارن اول توجہ جزئی مہتعدد بمبدء معین ومنتہائے معین میں کہ ان کا تعین ا سکے تشخص کو لازم ہے ہر گز نہ ہوگا بلکہ صرف غایت اولی ہی کا قصد فی الحال اور ثانیہ کا ہو تو فی المال و الاستقبال اگر چہ باعث علی الخروج لحاظ امرین ہو اس سیر خاص میں کسی طرف توجہ اور چیز اور دل میں کہیں جانے کا خیال اور چیز ثانی قصد مستقبل کو بھی شامل جسے یوں تعبیر کریں گے وہاں بھی جاؤں گا یا یہاں ہوکر وہاں جانا ہے اور اول خاص اسی کےلئے ہے جو اس سیر جزئی مخصوص کا منتہی ہے جس کے حصول پر یہ منتہی ہوجائے گی اس پر دلیل واضح مسئلہ آفاتی ہے جو بقعد حاضری مکہ معظمہ چلابے احرام باندھے میقات سے تجاوزاسے حرام ہے اگر حلت چاہے تو علماء فرماتے ہیں حیلہ یہ ہے کہ بین الحرم والمیقات کسی مقام مثلا جدہ وغیرہ کا قصدکرے کہ وہاں پہنچ کر اس کے اہل سے ملتحق ہوجائے گا اور اب مکہ معظمہ کو جانا داخل میقات سے ہوگا نہ کہ گھر سے اب اس میقات نسك کے لئے ہے تنویر الابصارو درمختار میں ہے :
دخل افاقی البستان ای مکانا من الحل
اگر غیر ملکی کسی حاجت کی وجہ سے بستان( میقات کے
#10659 · باب صلٰوۃ المسافر (مسافر کی نماز کا بیان)
داخل لمیقات لحاجۃ قصدھا ونیۃ مدۃ الاقامۃ لیست بشرط علی المذھب بلہ دخول مکۃ غیر محرم ووقتہ البستان ولاشیئی علیہ لانہ التحق باھلہ وھذہ حیلۃ لافاقی یرید دخول مکۃ بلااحرام ۔
اندر حل میں ایك جگہ ہے) میں قصدا داخل ہوا تو وہاں مذہب کے مطابق مدت اقامت کی بھی نیت شرط نہیں اب اس کے لئے بغیر احرم مکہ کا داخلہ جائز ہے اور اس کا میقات وہ بستان ہے اور اس پر کوئی شے لازم نہ ہوگی کیونکہ و ہ وہاں کے اہل کے ساتھ ملا ہے اور یہ اس غیر ملکی کے لئے حیلہ ہے جو بغیر احرام کے مکہ میں داخل ہونے کا اراداہ رکھتا ہو۔ (ت)
نیز اسی میں قبیل فصل احرام ہے :
لو قصد موضعا من الحل کخلیص وحدۃ حل لہ مجاوزتہ بلا احرام فاذا حل بہ التحقق باھلہ فلہ دخول مکۃ بلا احرام وھو الحیلۃ لمرید ذلك الالمامور بالحج المخالفۃ ۔
اگر حل میں کسی جگہ مثلا خلیص کا ارادہ رکھتا کیا تواب بغیر احرام داخلہ جائز ہے اور وہ جب وہاں پہنچ گیا تو وہاں اہل سے لاحق ہوگیا تو اب مکہ میں بغیر احرام داخلہ جائز ہوگا اور یہ حیلہ ہر اس شخص کے لئے جو مکہ کا ارادہ بغیر احرام کے کرے البتہ اگر حج فرض کا ارادہ ہو پھر جائز نہیں اس صورت میں احکام شرع کی مخالفت لازم آئے گی۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قصد موضعا من الحل ای قصد اولیا کما اذا قصدہ لبیع اوشراء وانہ اذا فرغ منہ یدخل مکۃ ثانیا ۔
“ حل میں کسی مقام کا ارداہ کیا “ یعنی قصد اولی مثلا خرید یا فروخت کا رادہ کیا جب اس عمل سے فارغ ہوگیا تو اب مکہ میں قصد ثانی سے داخل ہوسکتا ہے۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
لانہ لم یقصد اولادخول مکۃ وانما قصد البستان قالوا واھذہ حیلۃ حیلۃ الافاقی اذا ارادان یدخل مکۃ بغیراحرام
کیونکہ اس نے اولا دخول مکہ کا ارادہ ہی نہیں کیا تھا اس کا ارادہ توبستان تھا فقہاء نے کہاہے یہ اس آفاقی کے لئے حیلہ ہے جو مکہ میں بغیر احرام داخل
حوالہ / References &درمختار باب الجنایات€ مطبوعہ مجتبائی دہلی ١ / ١٨٠
&درمختار کتاب الحج€ مطبوعہ مجتبائی دہلی ١ / ١٦٢
&ردالمحتار کتاب الحج€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ٢ / ١٦٧
#10660 · باب صلٰوۃ المسافر (مسافر کی نماز کا بیان)
فینوی ان یدخل خلیصا مثلا فلہ مجاوزۃ رابع الذی ھومیقات الشامی والمصری المحاذی للجحفۃ الخ
ہونے کا اراداہ رکھتا ہو پس وہ مثلا خلیص میں داخل ہونے کی نیت کرے تو اس کےلئے بغیر احرام رابغ سے گزرنا جائز ہے جو شامی او رمصری لوگوں کامیقات اور جحفہ کے مقابل ہے الخ (ت)
اسی میں قبیل باب الاحرم ہے :
الافاقی اذا قصد موضعا من الحل کخلیص یجوزلہ ان یتجاوز المیقات غیر محرم وھی الحیلۃ لمن ارادان یدخل مکۃ بغیر احرام وینبغی ان لا تجوز ھذہ الحیلۃ للمامور بالحج لانہ حینئذ لم یکن سفرہ للحج ۔
آفاقی جب حل میں خلیص وغیرہ کا ارادہ کرے تو اس کے لئے میقات سے بغیر احرام کے گزرنا جائز ہے اور یہ ہرشخص کے لئے حیلہ ہے جو میقات سے مکہ بغیر احرام جانا چاہتا ہو لیکن یہ حیلہ اس شخص کے لئے جائز نہیں جس پر حج فرض ہے کیونکہ اب کا سفر حج نہ رہے گا۔ (ت)
ا شباہ میں ہے :
اذا ارادالافاقی دخول مکۃ بغیر احرام من المیقات قصد مکانا اخر داخل المواقیت کبستان بنی عامر ۔
اگر کوئی غیر مکی بغیر احرام دخول مکہ چاہتا ہے تو وہ میقات کے اند کسی اور جگہ کا ارادہ کئے مثلا بنی عامر کے بستان ۔ (ت)
ذخیرہ وہندیہ میں ہے :
الحیلۃللافاقی اذااراد دخول مکۃ من غیر احرام من المیقات ان لا یقصد دخول مکۃ وانما یقصد مکانا اخر وراء المیقات خارج الحرم نحوبستان بنی عامر ثم اذا وصل ذلك الموضع ید خل مکۃ بغیر احرام ۔ (ملخصا)
اس آفاقی کے لئے جو دخول مکہ بغیر احرام کے چاہتاہے حیلہ یہ ہے کہ وہ دخول مکہ کا ارادہ نہ کرے ب لکہ میقات کے اندر کسی اور جگہ اکا ارادہ کرے جو خارج حرم ہو مثلا بنی عامر کے بستان (ت) تو جب وہاں پہنچ جائے تواب مکہ میں بغیر احرام داخل ہوجائے۔ (ت)
حوالہ / References &بحرالرائق باب مجاوزۃ المیقات بغیر احرام€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی٣ / ٤٩
&بحرالرائق کتاب حج€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ٣١٨
&الاشباہ والنظائر الفن الخامس من الاشباہ والنظائر€ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ٢ / ٢٩٣
&فتاوٰی ہندیۃ کتاب الحیل الفصل الخامس فی الحج€ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ٦ / ٣٩٣
#10661 · باب صلٰوۃ المسافر (مسافر کی نماز کا بیان)
مسلك متقسط میں ہے :
ذکر الفقھاء فی حیلۃ دخول الحرم بغیر احرام ان یقصد بستان بنی عامر ثم یدخل مکۃ فالوجہ فی الجملۃ ان یقصد البستان قصد الولیاولا یضرۃ قصدہ دخول الحرم بعدہ قصد اضمنیا اوعارضیا کما اذا قصد ھندی جدۃ لبیع وشراء ولایکون فی خاطرہ انہ اذا فرغ منہ ان یدخل مکۃ ثانیا بخلاف من جاء من الھند مثلا بقصد الحج اولاوانہ یقصد دخول جدۃ تبعا ولو قصد بیعاوشراء اھ تلك النقول باختصار۔
فقہاء نے بغیر احرام حرم میں داخل ہونے کے لئے یہ حیلہ بیان کیا ہے کہ وہ شخص بستان بنی عامر کا ارادہ کرے پھر وہاں سے مکہ میں داخل ہوجائے اور فی الجملہ وجہ یہ ہے کہ اس نے اولا بستان کا ارادہ کیا تھا تو اس کے بعد حرم میں داخل ہونا ضمنا اور عارضی ہونے کی وجہ سے تقصان دہ نہیں ہوسکتا جیسے کہ ہندی شخص اولا بیع وشر کے لئے جدہ کی نیت کرکے آیا ہے اور ذہن میں تھا کہ فارض ہوکر ثانیا مکہ چلاجائے گا بخلاف اس شخص کے جو ہندوستان سے اولا حج کے ارادے سے آتا ہے اور وہ جدہ میں دخول کا ارادہ تبعا رکھتا ہے اگر چہ وہ بیع وشر اء کا ارادہ رکھتا ہو اھ اختصار کے ساتھ نقول ختم ہو گئیں (ت)
ظاہر ہے کہ جب اس کی نیت حاضری مکہ معظمہ ہے تو جدہ کا ارادہ کرلینے سے دل کا وہ خیال ہرگز منتفی نہ ہواو لہذا علماء اسے بلفظ حیلہ تعبیر اور خود ارادہ دخول مکہ بغیر احرام سے تصویر فرماتے ہیں اگر قصد مکہ منتفی ہوجاتا تو ان عبارات کا اصلا کوئی محل ومحمل نہ تھا ہاں یہ ہوا کہ قصد مکہ باعتبار مآل واستقبال رہا قصدااول جدہ کےلئے قرار پایا جیسا کہ بحرالرائق وردالمحتار و شرح لباب سے گزرا اسی بنا پر علمائے کرام نے مجاوزت میقات بلا احرام جائز فرمائی ہے حالانکہ خیال مکہ یقینا اول سے موجود ہے تو ثابت ہوا کہ جب وہ نہایت مختلف مقصود بالذات ہوں تو قصد مقارن خاص حصہ اولی ہے اور ثانیہ کے لئے وہی مآل واستقبال کا خیال جیسا کہ عبارت مولا نا علی قاری ویکون فی خاطرہ انہ اذا فرغ منہ ان یدخل مکۃ ثانیا ( اس کے ذہن میں ہوکہ وہ فارغ ہوکر ثانیا مکہ چلا جائے گا۔ ت) نے روشن کردیا یہ قصد حقیقۃ قصد بالفعل نہیں ۔ ولہذا اسی کو ذخیرہ وہندیہ میں با آنکہ شروع تصویر مسئلہ بلفظ اراد دخول مکۃ من غیر احرام ( بغیر احرام دخول مکہ کا ارادہ رکھتا ہے ت) بلفظ ان لا یقصد دخول مکۃ
حوالہ / References &المسلك المتقسط فی المنسك المتوسط مع ارشاد الساری€ ، &فصل فی مجاوزۃ المیقات الخ€ مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ص ٦٠
&المسلك المتقسط فی المنسك المتوسط مع ارشاد الساری€ ، &فصل فی مجاوزۃ المیقات بغیر احرام€ ، مطبوعہ دارالکتاب لعربیہ بیروت ص ٦٠١٦
#10662 · باب صلٰوۃ المسافر (مسافر کی نماز کا بیان)
دخول مکہ کا اردہ نہ کرے ۔ ت) تعبیر فرمایا۔
وبھذا التحقیق الشریف الفائض علی قلب العبد الضعیف من فیض الفتاح العلیم الخبیر اللطیف وﷲ الحمدطاح وزاح ماکان یورد علی ھذا الاحتیال من الاشکال الذی اضطربت فیہ الاقوال وکثر فیہ القیل والقال واختلف فی حلہ افھام الرجال وکان اقرب من جنح الی ماجنحت الیہ العلامۃ القارئ الجلی الافضال ولقد احسن اذا استشکل بتظافر العلما علی ذکر ھذہ الحیلۃ کلام الباب الموھم لاختصاص المسألۃ بمن حث لہ قصد مکۃ بعد دخول البستان ولم یکن فی خاطرہ دخول الحرم من قبل اصلا وعکس العلامۃ الفاضل الشامی فی ردالمحتارومنحۃ الخالق فاستشکل بظاہر الباب ماتظافرت علیۃ کلمات الائمۃ اولی الالباب بما وقفنا لامولی سبحانه وتعالی طھران قصد الحرم مطلقا اوقصد اولیا اوعصر القصد فی البستان مع الاحتیال لمن یرید الحرم بلا احرام والحمدﷲ علی ابانۃ الصواب واصابۃالمرام۔
اس مبارك تحقیق ( جو اس عبد ضعیف کے دل میں فتاح علیم خبیر اور لطیف ذات اقدس نے فیض کے طور پر فرمائی) سے ﷲالحمد اس حیلہ پر واردہونے والا وہ اعتراض رد ہوگیا جس میں اقوال مضطرب اور کثرت قیل وقال تھی اور اس کے جواب میں لوگوں کے ذہن مختلف تھے اور جس کی طرف میرا ذہن گیا اس کے قریب تر علامہ علی قاری ہیں اور انھوں نے لباب میں نہایت ہی احسن بات کی جب کثرت کے ساتھ حیلہ بیان کرنے والے علما کے کلام سے اشکال ظاہر کیا تو لباب کے کلام سے یہ وہم ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ فقط اس شخص کیلئے ہے جسے دخول بستان کے بعد دخول مکہ کا شوق ہوا اور اس سے پہلے دخول حرم کا قطعا اس کے ذہن میں نہ تھا علامہ شامی نے ردالمحتار اور منتحۃ الخالق میں اس کا عکس کیا تو لباب کی ظاہر عبارت سے ائمہ کے مجموعی کلام پر اشکال پیدا ہوگیا اﷲ تعالی کی توفیق ومہربانی واضح ہوگیا کہ اس میں کوئی صعوبت اور اشکال نہيں اور کوئی مخالفت نہیں خواہ حرم کا قصد بالکل نہ ہو یا قصد اولی نہ ہو یا قصد بستان کا ہی ہو اس کے لئے جو حیلہ کے ساتھ حرم میں بغیر احرام کے داخل ہونا چاہتا ہو صواب کے ظہور اور مقصد کے حصول پر اﷲ تعالی کی حمد ہے۔ (ت)
جب بتوفیق اﷲ تعالی یہ مقدمات ممہد ہولئے حکم مسئلہ واضح ومنکشف ہوگیا آدمی اگر کسی مقام اقامت سے خاص ایسی جگہ کے قصد پر چلے جو وہاں سے تین منزل ہو تو اس کے مسافر ہونے میں کلام نہیں اگر چہ راہ میں ضمنی طور پر اور موضع میں بھی وہ ایك روز ٹھہرنے کی بیت رکھے
#10663 · باب صلٰوۃ المسافر (مسافر کی نماز کا بیان)
کما افادہ المولی علی القاری بقولہ بخلاف من جاء من الھند مثلا بقصد الحج اولا الخ
جیسا کہ ملا علی قاری نے اپنے الفاظ میں بیان کیا بخلاف اس شخص کے جو ہندستان سے قصد اولی کے ساتھ حج کے لئے آیا الخ (ت)
مگر غالبا دورہ کی یہ حالت نہیں ہوتی اس میں بالخصوص مقصود اصلی وہ موضع بعید ہی نہیں ہوتا نہ خاص اس کے قصد پر چلتا بلکہ سب مواضع میں گشت کا ارادہ اور ہر موضع مقصود بالذات ہوتا ہے تو اگر چہ باعث سیر لحاظ جمیع ہے مگر ہر مقصود اپنی سیر خاص جزئی پر محدود موضع قریب کو جاتے ہوئے قصد مقارن اسی کےلئے ہے اور قصد بعید صرف بمعنی خیال وارادہ مآل تو جب کسی موضع سے دوسرے تك مسیرت سفر نہیں اصلا کوئی سیر بقصد مسیرت سفر متحقق نہ ہوئی ہاں وہ چند قصد وں سے چند سیریں ہیں جن کا مجموعہ مسیرت سفر سے زائد سہی آخرنہ دیکھا کہ علامہ بحر صاحب بحر رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے مامور بالحج کے لئے دخول مکہ بغیر احرام میں اس حیلہ کا جواز نہ مانا کہ جب وہ بایں قصد چلے گا کہ یہاں سے بستان بنی عامر جاتاہوں پھر وہاں سے مکہ معظمہ چلوں گا تو اس کا یہ سفر حج کے لئے نہ ہوا معلوم ہوا کہ مقصود سیر وہی مقصو داولی ہوتا ہے وبس ولہذا ذخیرہ وہ ہندیہ میں ان لا یقصد مکۃ ( وہ مکہ کا ارادہ نہ کرے۔ ت) فرمایا تو روشن ہوا کہ بالمآل مسیرت سفر کی دوری پر جانے کا خیال سیر بقصد مسیرت سفر نہیں اورموجب سفرشرعی یہی تھی کہ متحقق نہ ہوئی۔
وبہ تبیین وﷲ الحمد ان ماذکر المولی الفاضل ابراھیم الحلبی فی الغنیۃ بما نصہ قدیفھم من التمثیل بالخلی فی اول مسئلۃ التبع ان الخلیفۃ والسلطان کغیرہ فی انہ اذا نوی السفر یصیر مسافرا یقصر فقیل ھذا اذالم یکن فی ولایتہ اما اذاطاف فی ولایتہ فلا یقصر ولاصح انہ لا فرق لما تقدم من فعل النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم والخلفاء الراشدین انھم قصروا حین سافروامن المدینۃ الی مکۃ وغیر ذلک ومرادمن قال
ﷲ الحمد اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ فاضل ابراہیم حلبی نے غنیـہ میں یہ جو کہا کہ مسئلہ تبع کی ابتداء میں خلیفہ کومثال بنانے سے سمجھ آرہاہے کہ اس معاملہ ( کہ جب وہ سفر کی نیت کرے تو وہ مسافر ہو جاتا ہے اور قصر کرسکتاہے) میں خلیفہ اور سلطان دوسرے لوگوں کی طرح ہی ہیں کہا گیا ہے کہ یہ اس وقت ہے جب وہ اپنی ولایت میں نہ ہو اور اگر اپنی ولایت میں دورہ کررہا ہو تو پھر قصر نہ کرے اور اصح یہ ہے کہ کوئی فرق نہیں کیونکہ پیچھے گزرا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور خلفاء راشدین رضی اللہ تعالی عنہم جب مدینہ سے مکہ وغیرہ کا سفر فرماتے تو نماز میں قصر کرتے اور جس نے کہا “ خلیفہ اپنی
حوالہ / References &المسلك المتقسط فی المنسك المتوسط فصل فی مجاوزۃ المیقات بغیر احرام€ مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ص٦٠
#10664 · باب صلٰوۃ المسافر (مسافر کی نماز کا بیان)
اذا اطاف فی ولایتہ لا یقصرھو ماصرح بہ حافظ الدین البزازی فی فتاوہ انہ اذاخرج لتفحص احوال الرعیۃ وقصد الرجوع متی حصل مقصودہ ولم یقصد مسیرۃ سفر حتی انہ فی الرجوع یقصر لوکان من مدۃ سفر ولااعتبار بمن علل بان جمیع الولایۃ بمنزلۃ مصرہ لان ھذا تعلیل فی مقابلۃ النص مع عدم الروایۃ عن احد من الائمۃ الثلثۃ فلا یسمع فمع ان ماذکر من قصد الرجوع متی حصل مقصودہ انما ذکرہ البزازی فی مسألۃ اخری غیرالتی نقلنا عنھا وھی ماقال بعدھا وکذا الامام والخلیفۃ والامیر والکاشف لیفحص الرعیۃ وقصد کل الرجوع متی حصل مقصودہ ولم یقصد وامسیرۃ سفر قصرأتموا ۔ الخ لایخالف مانحن نریدہ فی شیئ فانما مقصودہ کما ھوصریح سوق کلامہ الرد علی من زعم ان الخلیفۃ لا یصیر مسافرافی ولایتہ وان قصد مسیرۃ سفر وھوامربین البطلان اما مانحن فیہ فقد بینا انہ لایصدق
ولایت میں دورہ کرے تو قصرنہ کرے “ اس کی مرادہی ہے جس کی تصریح حافظ الدین البزازی نے اپنے فتاوی میں کی کہ جب خلیفہ رعیت کے احوال کی خیر کے لئے نکلے اور حصول مقصود کے بعد واپس لوٹے لیکن اس نے سفر کی نیت نہ کی کہ ______ وہ وجوع میں قصر کرسکتا تھا بشرطیکہ مدت سفر ہو اوراس شخص کا اعتبار نہیں کیا جائیگا جس نے علت بیان کرتے ہوئے کہا کہ تمام ولایت خلیفہ کے لئے اپنے شہر کی طرح ہے کیونکہ یہ علت نص کے مقابل ہے اور پھر ائمہ ثلثہ میں سے کسی سے بھی یہ مروی نہیں ہے لہذا یہ بات قابل سماعت نہیں اھ باوجود یکہ مذکورہ عبارت “ خلیفہ نے حصول مقصود کے بعد رجوع کا اردہ کیا “ کو بزازی نے اس مسئلہ کے علاوہ کے تحت ذکر کیا ہے جسے ہم نے نقل کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ امام خلیفہ امیر اور محتسب دورہ کریں تاکہ لوگوں کے احوال کا علم ہو اور حصول مقصود کے بعد رجوع کریں لیکن وہ سفر قصر کا ارادہ نہ کریں تو وہ پوری نماز ادا کریں گے۔ یہ تمام اس کے منافی نہیں جو ہم نے مراد لیا کیونکہ شیخ حلبی کا مقصود ( جیسا کہ ان کے سیاق کلام سے واضح ہے اس شخص کا رد ہے جس نے کہا کہ خلیفہ اپنی ولایت میں مسافر نہیں ہوسکتا خواہ وہ مسافت سفر کا ارادہ کرلے اور یہ امر واضح طور پر باطل ہے باقی ہم نے جو کچھ بیان کیا اس پرمسافت سفر
حوالہ / References &غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی صلٰوۃ المسافر€ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ٤١
&فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی باب الثانی والعشرون فی السفر€ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ٤ / ٧٢
#10665 · باب صلٰوۃ المسافر (مسافر کی نماز کا بیان)
فیہ قصد مسیرۃ سفر فھذامما لایخالف فیہ الحلبی ولا احد فلاغبار علی ما افادہ المحقق علی الاطلاق فی الفتح والامام البزازی فی فتاوی والعلامۃابن الساعاتی فی الاختیار والامام ابن السمعانی فی الخزانۃ وﷲ الحمد واﷲ علی حسن الابانۃ ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالی ولی التوفیق۔
کا ارادہ کرنا صادق نہیں آتا اور اس میں حلبی اور کوئی شخص بھی اختلاف نہیں کرسکتا پس محقق علی الاطلاق نے فتح امام بزازی نے فتاوی علامہ ابن ساعاتی نے اختیار اورامام ابن سمعانی نے خزانہ میں جو کہا اس پراب کوئی غبار نہیں رہی اس حسن وضاحت پر اﷲ تعالی کی حمد ہے تحقیق اس طرح ہونی چاہئے اور توفیق کا مالك اﷲ تعالی ہے۔ ( ت)
یہ تحقیق انیق کہ فقیر نے بتوفیق رب قدیر ذکر کی مطقا ہر صورت کو شامل ہے اگر چہ مقصود اصلی قریب مقصود اصلی بعید کی راہ میں واقع ہو اور اگر اس کی راہ سے بالکل جداہو اور دورہ رائجہ میں اکثر ایسا واقع ہوتاہے

مثلا اس شکل میں ب محل اقامت ہے اور نقاط باقیہ مواضع مقصودہ ان میں کوئی ایك دوسرے سے مسیرت سفر پر نہیں مگر ب سے درورہ کرنے والا جس وقت ب سے ج کی طرف چلا کوئی نہ کہے گا کہ اس وقت یے کی طرف متوجہ ہے یے کو جاتا ہے یے کے قصد پر چلا ہے بلکہ بالیقین اس سیر میں ج مقصودہے اگر چہ خیال یہ بھی ہے کہ ان نقطوں پر ہوتا ہوا یے کو بھی جاتا ہے تو کسی سیر میں قصہ مقارن مسیرت کا سفر نہ پایاگیا
بالجملہ یہ دورے سفر نہیں ہوتے اگر چہ کتنے ہی دور تك ہوں اب تك کہ نمازیں پوری پڑھیں بہت بجاکیا۔
تنبیہ : یہاں سے سیاحین وواعظین کا حکم بھی واضح ہوگیا جنھیں کوئی مقام محل اقامت سے مدت سفر پر خاص مقصود بالذات نہیں بلکہ شہر قریہ بہ قریہ چندچند کوس کے فاصلوں پر گشت کرنا سیر دیکھنا یا ہر جگہ وعظ وغیرہ کے ذریعہ سے کمانا مقصود ہے جب تك کسی محل اقامت سے مسیرت سفر کا قصد اولی نہی ہو مسافر نہ ہوں گے اگر چہ سارے ملك میں پھر آئیں جس طرح سیاح کی نسبت خود فتح القدیر میں مصرعا ارشادہوا یہ مسئلہ کثیر الوقوع ہے اور لوگ اس سے غافل منزل ہمارے بلاد میں تقریبا بارہ کوس کی ہے یہی قول مفتی بہ کے قریب تر ہے جسے ظہیریہ ومحیط برہانی ونہایہ وکفایہ شروح ہدایہ وخزانۃ المفتین وغیرہا میں علیہ المفتوی(فتوی اسی پر ہے ۔ ت) کہا کہ منزل اٹھارہ میل ہے کے سوا گیارہ کوس ہوتے ہیں یہ قول اصل مذہب ظاہر الروایہ کے خلاف نہیں بلکہ ان بلاد کے مناسب اسی کی تقدیر وشرح ہے کمانبہ علیہ العلامۃ اسمعیل مفتی دمشق الشام کمانقلہ فی منحۃ الخالق( جیسا کہ مفتی دمشق شام
yahan aik image hai
#10666 · باب صلٰوۃ المسافر (مسافر کی نماز کا بیان)
علامہ ا سمعیل نے اس پر تنبیہ کی ہے اور وہ منحۃ الخالق میں منقول ہے۔ ت) ہمارے بلاد میں دس کوس کا اندازہ قابل قبول نہیں کہ یہاں اقصر ایام یعنی تحویل جدی کے دن میں فجر سے زوال تك سات ساعت کے قریب ہوتا ہےاور شك نہیں کہ پیادہ اپنی معتدل چال سے سات گھنٹہ میں بارہ کوس بے تکلف چل لیتا ہے جس پر بارہا کاتجربہ شاہد واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ : ازالہ آباد کوٹھی حشمت اﷲ خاں جنٹ مجسٹریٹ مرسلہ علی محمد خاں جمادی الاولی ھ
میں آج کل ا لہ آباد میں ہوں توالہ آباد میرے واسطے سفر خیال کیا جائے گا یا نہیں لیکن جنٹ صاحب کی کوٹھی میں رہتا ہوں اور الہ آباد ایك ہفتہ سے زیادہ رہنا نہیں ہوتا لیکن پھر اسی روز واپس آنا پڑتا ہے الہ آباد میں نماز سفر کی پڑھی جائے گی یا نہیں اور الہ آباد سے کرنا ایك مقام ہے جو قریب دس میل کے ہے وہاں پر بھی سفر کی نما زپڑھی جائے گی یا نہیں وہ الہ آباد ہی کے ضلع میں ہے جواب جلد مرحمت فرمائے۔
الجواب :
الہ آباد تمھارا وطن اصلی نہیں نہ جنٹ صاحب کی کوٹھی ٹھہرنا اسے کسی کا وطن کردے گا جبکہ جنٹ خود آج کل وہاں نہیں بلکہ پندرہ دن قیام کی نیت دیکھی جائے گی اگر اس سے کم مدت قیام کی نیت ہے یا مقدر قیام کچھ معلوم نہیں کسی کا م کےلئے گئے ہوں اس کے ہو جانے کا انتظار ہوجائے تو آج چلے جاؤ بیس دن بعد ہو تو اس صورت میں الہ آباد کا رہنا تمھارے لئے سفر ہی سمجھا جائے گا نماز سفر کی پڑھو اگر چہ انتظار انتظار میں مہینے گزرجائیں یونہی اطراف میں جہاں چاہوں چار رکعت کی دوہی پڑھو جب تك کسی خاص جگہ پندرہ دن ٹھہر نے کی نیت الہ آباد میں کرلی ہے تو اب الہ آباد وطن اقامت ہوگیا نماز پوری پڑھی جائے گی جب تك وہاں سے تین منزل کے ارادہ پر نہ جاؤ اگر چہ ہر ہفتہ پر بلکہ ہرروز الہ آباد سے کہیں تھوڑی تھوڑی دور یعنی چھتیس کوس سے کم باہر جانا اور دن کے دن واپس آنا ہو جبکہ نیت کرتے وقت اس پندرہ دن میں کسی رات دوسری جگہ شب باشی کا ارادہ نہ ہو ورنہ وہ نیت پورے پندرہ دن کی نہ ہوگی مثلا الہ آباد میں پندرہ روز ٹھہر نے کی نیت کی او رساتھ ہی یہ معلوم تھاکہ ان میں ایك شب دوسری جگہ ٹھہرنا ہوگا تو یہ پورے پندرہ دن کی نیت نہ ہوئی اور سفر ہی رہا اگر چہ دوسری جگہ الہ آباد کے ضلع میں بلکہ اس سے تین چار ہی کوس کے فاصلہ پر ہو اور اگر پندرہ راتوں کی نیت پوری یہیں ٹھہرنے کی تھی اگر چہ دن میں کہیں اور جانے اور واپس آنے کا خیال تھا تو اقامت صحیح ہوگئی نماز پوری پڑھی جائے گی جبکہ وہ دوسری جگہ الہ آباد سے چھتیس کوس یعنی ستاون اٹھاون میل کے فاصلے پر نہ ہو غرض قیام کی نیت کرتے وقت ان خیالوں کا اعتبار ہے بعد کو جوپیش ائے اس کا لحاظ نہیں مثلا پندرہ رات پورے کا قیام ٹھہرالیا اور اس کے بعد اتفاقا چندراتوں کے لئے اورجگہ جانا ہوا جو الہ آباد سے
#10667 · باب صلٰوۃ المسافر (مسافر کی نماز کا بیان)
تین منزل کے فاصلہ پر نہیں اگر چہ دس بیس بلکہ چھپن میل تك ہو سفر نہ ہوگا اس مقام دیگر میں بھی نماز پری پڑھنی ہوگی اور الہ آباد میں بھی ان سب صورتوں کو خوب غور سے سمجھ لو۔
فی الدر المختار لودخل الحاج مکۃ ایام العشر لم تصح نیتہ لانہ یخرج الی منی وعرفۃ فصارکنیۃ الاقامۃ فی غیرموضعھا وبعد عودہ من منی تصح کما لونوی مبیتہ باحدھما الخ ۔
وفی ردالمحتار قیل ھذہ المسالۃ کانت سبب لتفقہ عیسی بن ابان وذلك انہ کان مشغولا لطلب الحدیث قال فدخلت مکۃ فی اول العشر من ذی الحجۃ مع صاحب لی وعزمت علی الاقامۃ شھرا فجعلت اتم الصلوۃ فلقینی بعض اصحاب ابی حنیفۃ فقال لی اخطأت فانك تخرج الی منی وعرفات فلما رجعت من منی بدالصاحبی ان یخرج و عزمت علی ان أصاحبہ وجعلت اقصر الصلوۃ فقال لی صاحب ابی حنیفۃ اخطأت فانك مقیم بمکۃ فمالم تخرج منھا لا تصیر مسافرا فقلت
درمختار میں ہے کہ اگر کوئی حاجی مکہ میں ذوالحج کے عشرہ میں داخل ہوا تو اس کی نیت ( برائے اقامت) درست نہیں کیو نکہ اس نے منی او رعرفات کی طرف انہی دنوں میں جانا ہے اس نیت اقامت کی طرح ہی ہے جو مقام اقامت نہ ہو اور منی سے لوٹ کرنیت کرنا درست ہے جیساکہ ان دونوں میں سے ایك میں رات بسر کرنے کی نیت کرے الخ ۔ ردالمحتار میں ہے کہ منقول یہ ہے کہ یہ مسئلہ امام عیسی بن ابان رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے فقہ سیکھنے کا سبب بناتھا ان کا اپنا بیان ہے کہ میں طلب حدیث میں مشغول تھا ذوالحجہ کے عشرہ میں میں مکہ گیا میرے ساتھ میرے دوست بھی تھے میں نے وہاں ایك ماہ اقامت کی نیت کی اور پوری نماز ادا کرنا شروع کردی مجھے امام ابوحنیفہ کے ایك ساتھی ملے انھوں نے کہا کہ تو نے غلط کیا ہے کیونکہ تو تو منی اور عرفات کی طرف چلاجائے گا پس جب میں منی سے لوٹا تو میرے ساتھی کو مکہ سے نکلنے کی حاجت پیش آگئی اور میں نے ارادہ کیا تھا کہ میں ان کے ساتھ رہوں تو میں نے نماز قصر شروع کردی تو مجھے امام ابو حنیفہ کے ساتھی نے کہا تو نے غلط کیا کیونکہ تو مکہ میں مقیم ہے تو جب تو اس سے نکلے گا نہیں تو مسافر نہیں ہوسکتا تو میں نے سوچا کہ میں نے
حوالہ / References &الدرالمختار باب صلوۃ المسافر€ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۰۷
#10668 · باب صلٰوۃ المسافر (مسافر کی نماز کا بیان)
اخطات فی مسالۃ فی موضعین فرحلت الی مجلس محمد واشتغلت بالفقہ قال فی البدائع وانما اوردنا ھذا لحکایۃ لیعلم مبلغ العلم فیصیر مبعثۃ للطلبۃ علی طلبہ اھ بحر ویظھر من ھذہ الحکایۃ ان نیتہ الاقامۃ لم تعمل عملھا الابعد رجوعہ لوجود خمسۃ عشریوما بلا نیۃ خروج فی اثنائھا بخلاف ماقبل خروجہ الی عرفات لانہ لماکان عازما علی الخروج قبل تمام نصف شھر لم یصر مقیدو یحتمل ان یکون جددنیۃ الاقامۃ بعد رجوعہ وبھذا سقط ما اوردہ العلامۃ القاری فی شرح اللباب من ان کان فی کلام صاحب الامام تعارضا حیث حکم اولا بانہ مسافر وثانیابانہ مقیم مع ان المسئلۃ بحالھا والمفھوم من المتون انہ لونوی فی احدھما نصف شھر صح فح لایضرہ خروجہ الی عرفات اذلایشترط کونہ نصف شھر متوالیا بحیث لایخرج فیہ اھ ملخصا و وجہ السقوط ان لتوالی لایشترط اذالم یکم من عزمہ الخروج الی موضع اخرلا نہ یکون ناویا الاقامۃ فی موضعین نعم بعد رجوعہ من منی صحت نیتہ لعزمہ علی
ایك مسئلہ میں دو جگہ خطا کی ہے تو میں امام محمد کی خدمت میں گیا اور فقہ سیکھنا شروع کی بدائع میں ہے کہ یہ حکایت ہم نے اس لئے وارد کی ہے کہ علم کی قدر معلوم ہوسکے اور طلباء کے لئے طلب علم کا باعث بن سکے اھ بحر اس حکایت سے واضح ہوگیا کہ ان کی نیت اقامت رجوع کے بعد موثر ہوئی کیونکہ اب ایسے پندرہ دنوں کا قیام ہوگا جن کے درمیان نیت خروج نہیں بخلاف عرفات کی طرف نکلنے سے پہلے کے کیونکہ جب نصف ماہ کے اتمام سے پہلے نکلنے کا ارادہ ہے تو اب مقیم نہیں ہوسکتا اور ممکن ہے کہ انھوں نے رجوع کے بعد تجدید نیت کی ہے اس سے وہ اعتراض ساقط ہوجاتا ہے جو علامہ قاری نے شرح للباب میں اٹھایا کہ امام صاحب کے ساتھی کے کلام میں تعارض ہے کیونکہ پہلے انھوں نے مسافر ہونے کا حکم لگایا اور دوبارہ مقیم کی حالانکہ معاملہ اپنی جگہ پر تھا متون سے مفہوم یہ ہوتا ہے کہ اگر دونوں میں سے کسی ایك میں نصف ماہ تك کی نیت کی تو درست ہے تو اب عرفات کی طرف نکلنا مضر نہیں کیونکہ نصف ماہ کا مسلسل اس طرح ہونا شرط نہیں کہ اس میں خروج نہ ہو انتہی وجہ سقوط یہ ہے کہ تسلسل اس وقت شرط نہیں جب آدمی کا عزم دوسری جگہ جانے کانہ ہو کیونکہ اس وقت وہ دومقامات کی نیت کئے ہوئے ہے ہاں منی سے رجوع کے بعد سنت صحیح ہوگی کیونکہ اب ایك جگہ میں
حوالہ / References &ردالمحتار باب صلٰوۃ المسافر€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٨٢
#10669 · باب صلٰوۃ المسافر (مسافر کی نماز کا بیان)
الاقامۃ نصف شھر فی مکان واحد واﷲ تعالی اعلم ۔ قولہ کما لونوی مبیتہ باحدھما فان دخل اولا الموضع الذی نوی المقام فیہ نھار الایصیر مقیما وان دخل اولامانوی المبیت فیہ یصیر مقیما ثم بالخروج الی الموضع الاخر لا یصیر مسافر الان موضع اقامۃ الرجل حیث یبیت بہ حلیۃ اھ وبہ ظھر کل ماذکرناہ واﷲ تعالی اعلم
نصف ماہ اقامت کا عزم ہے واﷲ تعالی اعلم قولہ “ اس نے دومقامات میں سے کسی ایك میں رات بسر کرنے کی نیت کی “ پس اگر تو وہ شخص پہلے اس مقام پر گیا جس پر دن کو ٹھہرنا تھا تو وہ مقیم نہ ہوگا اور پہلے اس جگہ گیا جہاں رات ٹھہرنا تھا تو مقیم ہوجائیگا اس کے بعد دوسری جگہ کے ارادے سے مسافر نہں بنے گا کیونکہ آدمی کی اقامت کا مقام ہوتاہے جہاں وہ رات بسر کرتا ہے اھ حلیہ اس کے ساتھ وہ تمام واضح ہوگا جس کا تذکرہ ہم نے کیا واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ : شعبان المعظم ھ از تلہر مسئولہ خلیل الدین صاحب
زید کے وطن سے ایك مقام تیس کوس کے فاصلے پر واقع ہے اور زید نے ایسی راہ سے سفر کیا کہ اس مقام تك چالیس کوس مسافت طے کرنی ہوئی تو زید پر نماز کا قصر ہے یا نہیں
الجواب :
ہے جبکہ قصدا دو جگہ پر منقسم نہ ہو مثلا اس راہ میں بیس کوس پر ایك شہر ہے ارادہ یوں کیا کہ پہلے وہاں جاؤں گا وہاں سے فارغ ہوکر دوسرے مقام پر کہ وہاں سے بیس کوس ہے جاؤں گا یوں چالیس کوس ہوں جائیں گے تو قصر نہیں مکان سے بیس ہی کوس کے مقصد کو چلاہے اگر چہ وہاں سے دوسرا قصد دوسری جگہ کا ہونے والا ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہتا۱۲ : ازبریلی مسئولہ شیخ عبدالعزیز بساطی دوم ذوالقعدہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسائل ذیل کے جواب میں :
() منزل کتنے فرسنگ کی ہوتی ہے
() کے (کتنے) منزل پر قصر ہوگا
() طے منزل میں راہ راست کا اعتبار ہے یا جس راستے پر چلے
حوالہ / References &ردالمحتار باب صلٰوۃ المسافر€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٨٢
&ردالمحتار باب صلٰوۃ المسافر€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٨٢
#10670 · باب صلٰوۃ المسافر (مسافر کی نماز کا بیان)
() یہاں سے بیسلپور کوس براہ سواری گاڑی اور براہ ریل گاڑی چھتیس کوس ہوجاتی ہے وہاں جانے میں قصر کب ہوگا
() ایك شخص نے ایك مسجد میں جمعہ کی نماز کے واسطے دریاں وغیرہ بنوائیں مگر کچھ دنوں وہاں جمعہ ہوکر رہ گیا اب وہ چاہتا ہے کہ یہ دریاں کسی دوسری مسجد میں دے دوں پس یہ جائز ہے یا نہیں بنیوا توجروا
الجواب :
() عرف میں منزل بارہ۱۲ کوس ہے اور ان بلاد میں ہر کوس / میل یعنی اور میل کے تین خمس اور تین میل کا ایك فرسنگ تو ایك منزل چھ فرسنگ اوردو خمس فرسنگ کی ہوئی۔
() تین منزل پر قصر ہے۔
() جس راستے سے جائے اس کا اعتبار ہے۔
() ریل میں جائے تو قصر کرے ورنہ نہیں ۔
() جب دریاں سپرد مسجد کردیں ملك مسجد ہوگئیں جب تك ناقابل استعمال نہ ہوجائیں واپس نہیں لے سکتا نہ دوسری مسجد میں دے سکتا ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از درؤ ضلع نینی تال ڈاك خانہ کچھا مرسلہ عبدالعزیز خاں رمضان المبارك ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص دو آدمیوں کا غلام تھا ہر دو مع غلام کے سفر کے گئے راستے میں دونوں نے قیام کیا ایك نے نیت اقامت کی دوسری نے نہ کی اب وہ عبدمشترك نماز قصری ادا کرے یا حضری بینوا تو جروا
الجواب :
اگر وہ ان دونوں سے صرف ایك کے قبضہ میں ہے تو جس کے قبضہ میں ہے اسی کی نیت کا اعتبار ہے
لانہ ح لیس تابعا الالہ وسیاتیك مایفیدہ۔
کیونکہ وہ جس کا ہے اسی کا تابع ہوگا اور عنقریب اس پر مقید گفتگو آرہی ہے ۔ (ت)
اور اگر دونوں کے قبضہ میں ہے تو اگر ان میں اس کی خدمت نوبت بہ نوبت قرار پائی ہے مثلا ایك دن اس کی خدمت کرے اور دوسرے دن اس کی تو ہر ایك کی نوبت میں اس کی نیت پر عمل کرے یعنی جس دن خدمت کی باری ہو غلام بھی اپنے آپ کو مقیم سمجھے اور جس دن خدمت مسافر کی باری ہو اپنے آپ کو مسافر جانے اور اگر باہم نوبت نہ قرار دی بلکہ یوں ہی دونوں کی خدمت میں ہے وہ من وجہ مقیم او رمن وجہ مسافر ہے قصر اصلا نہ کرے اس لحاظ سے کہ اس کے ایك مولی نے نیت اقامت کی اور قعدہ اولی بھی اپنے اوپر فرض جانے اس نظر سے کہ دوسرے مولی
#10671 · باب صلٰوۃ المسافر (مسافر کی نماز کا بیان)
کی نیت سفر ہے اور اس کے حق میں افضل یہ ہے کہ جہاں تك مل سکے کسی مقیم کی اقتداء وقت میں کرے درمختار میں ہے :
عبد مشترك بین مقیم ومسافران تھايأ قصر فی نوبۃ المسافر والا یفرض علیہ القعود الاول ویتم احتیاطا ولا یأتم بمقیم اصلا وھو مما یلغز ۔
ایك غلام مقیم مسافر کے درمیان مشترك ہے او ردونوں کی خدمت نوبت بہ نوبت قراردی گئی ہے تو مسافر کی نوبت میں قصر کرے ورنہ ( اگر باری نہ ٹھہرائی ہو) تو قعدہ اولی اس پر فرض ہوگا اور وہ نماز کا اتمام احتیاطا کرے ( کیونکہ جب اس کے مالك دو ہیں تو وہ ایك لحاظ سے مقیم اور دوسرے کے اعتبار سے مسافر ) اور وہ کسی مقیم کے ساتھ اقتداء بالکل نہ کرے یہ غلام کے مسائل میں سے پیچیده مسئلہ ہے (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ ولایأتم الخ فی شرح المنیۃ وعلی ھذا فلا یجوزلہ الاقتداء بالمقیم مطلقا فلیعلم ھذا اھ ای لا فی الوقت ولابعدہ ولا فی الشفع الاول ولافی الثانی ولعل وجھہ کما افادہ شیخنا ان القعدۃ الاولی فرض علیہ ایضا الحاقہ بالمسافر فاذا اقتدی بمقیم یلزم اقتداء المفترض بالمتنفل فی حق القعدۃ الاولی اھ ۔
اقول : لكن قول شارح المنیۃ و علی ھذا الخ يظہر منہ انہ تفریع من قولہ “ اور نہ اقتداء کرے الخ “ شرح المنيہ میں ہے اور اس بنا پر لازم آتا ہے کہ اس کے لئے مقیم کی اقتداء کسی حال میں جائز نہ ہو پس اسے اچھی طرح جان لینا چاہئے اھ یعنی نہ وقت میں اورنہ وقت کے بعد نہ شفع اول میں نہ ثانی میں شاید اس کی وجہ وہ ہی ہو جو ہمارے شیخ نے فرمائی کہ قعدہ اولی الحاق مسافر کی وجہ سے اس پر فرض تھا پس جب اس نے مقیم کی اقتداء کی تواب قعدہ اولی کے لحاظ سے لازم آئے گا کہ ایك فرض ادا کرنے والا نفل ادا کرنے والے کی اقتداء کررہا ہے۔
اقول : ( میں کہتا ہوں ) شارح المنیہ کے قول “ اور اس بنا پر الخ “ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بطور
حوالہ / References &درمختار باب صلٰوۃ المسافر€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٠٨
&ردالمحتار باب صلٰوۃ المسافر€ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٨٩
#10672 · باب صلٰوۃ المسافر (مسافر کی نماز کا بیان)
عندہ علی وجہ البحث والافالذی رأیتہ فی التاتر خانیۃ عن الحجۃ انہ ان لم یکن بالمھا یاۃ وھو فی ایدیھما فکل صلوۃ یصلیھا وحدہ یصلی اربعا و یقعد علی راس الرکعتین ویقرأ فی الاخريین وکذا اذا اقتدی بمسافر یصلی معہ رکعتین وفی قرأتہ فی الرکعتین اختلاف واما اذا اقتدی بمقیم فانہ یصلی اربعا بالا تفاق اھ مافی ردالمحتار ۔
بحث یہ ان کی اپنی طرف سے تفریع ہے ورنہ میں نے جو تارتار خانیہ میں حجہ کے حوالے سے دیکھا ہے اگر وہ باری باری پابند نہیں اور وہ دونوں کے قبضہ ہے تو وہ ہر نماز تنہا چار رکعات ادا کرے اور ہر دو کے بعد بیٹھے اور آخری دورکعتوں میں قرأت کرے او راسی طرح جب کسی مسافر کی اقتداء کرے تو اس کے ساتھ دو رکعات اداکرے اور اس کے بعد دو رکعات میں قرأت کرنے میں اختلاف ہے لیکن جب وہ کسی مقیم کی اقتداء کرے تو وہ بالاتفاق چار رکعتیں ادا کرے گا ( ردالمحتار کی عبارت ختم ہوئی)
فقیر کہتا ہے :
غفر اﷲ تعالی لہ رأیتنی کتبت علی ھامش قولہ فاذا اقتدی بمقیم یلزم اقتداء المفترض الخ مانصہ اقول ھذا مما لست احصلہ فان المسافر من کل وجہ القعدۃ الاولی فریضۃ علیہ من کل وجہ مع ذلك یجوز لہ الاقتداء بالمقیم اجماعا ولا یعد بذلك مفترضا خلف متنفل اذا اقتدی فی الوقت بل یقال ان فرضہ تحول بالقدوۃ رباعیا فلم تبق للقعدۃ الاولی فریضۃ علیہ لمصادفۃ المغیر محلہ القابل لہ حیث اتصل
اﷲ تعالی ان کی بخشش فرمائے مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے ان کی اس عبارت “ جب اس نے کسی مقیم کی اقتداء کی تو فرض والے کی اقتداء لازم آئیگی “ الخ پر حاشیہ تحریر کیا اقول یہ ایسی چیز ہے جس سے مجھے کچھ اتفاق نہیں ہورہا ہے کیونکہ جو شخص ہر لحاظ سے فرض سے مسافر ہے اس پر بھی قعده اولی ہر لحاظ سے فرض ہے حالانکہ وہ بالاتفاق مقیم کی اقتداء کرسکتا ہے جب وقت میں ادا کرے تو اسے فرض والے کا نفل والے کی اقتداء کرنا شمار نہیں کیا جاتا بلکہ یہ کہا جائے گا کہ اقتدا کی وجہ سے اس پر فرض دو کے بجائے چارہوگئے ہیں تو اب قعدہ اولی اس پر فرض نہیں رہا کیونکہ یہاں تبدیلی کے قابل محل میں تبدیلی پیدا کرنے والا پایا گیا ہے
حوالہ / References &ردالمحتار باب صلٰوۃ المسافر€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٨٩
#10673 · باب صلٰوۃ المسافر (مسافر کی نماز کا بیان)
بالسبب اعنی الوقت بخلاف مااذا اقتدی بعد انقضا ءہ فاذاکان ھذا فی حقہ فکیف بمن لیس مسافرا من کل وجہ ولا القعدۃ فریضۃ علیہ وجھا واحد ا فھذا ینبغی ان یومرباقتداء المقیم فی الوقت مھما وجد کی یخرج عن احتمال الاتمام فی السفر اھ ماحررتہ ولشدۃ وضوحہ و ثبوت الروایۃ بل نقل الاتفاق علی جواز اقتدائہ با لمقیم جزمت بہ فان کان صوابا فمن ربی اﷲ وارجوان لایکون الا ایاہ۔ واﷲ تعالی اعلم
وہ ایسے کہ یہاں سبب ( وقت سے) متصل ہے بخلاف اس صورت کے کہ جب اقتداء وقت گزرنے کے بعد ہو جب یہ معاملہ ہر لحاظ سے مسافر کا ہے تو اس کا حال کیا ہوگا جو ہر لحاظ سے مسافر نہیں اور اس پر قعدہ کے فرض ہونے کی ایك وجہ متعین نہیں لہذا اسے حکم دیا جائے کہ وہ مقیم کا ساتھ جب بھی پائے اس کی اقتداء کرے تاکہ سفرمیں احتمال اتمام سے خارج ہو جائے ( جو میں نے وہاں لکھا ختم ہوا) شدت وضوح ثبوت روایت بلکہ مقیم کی اقتدا کے جواز پر اتفاق منقول ہونے کی وجہ سے میں نے اسی پر جزم اختیار کیا ہے پس اگر صواب ہے تو اﷲ تعالی کی طرف سے ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ صواب ہی ہوگا۔ (ت)
مسئلہ : بریلی صندل خاں کی بزریہ ذی القعدہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اپنے وطن سے ستر یا اسی کو س کے فاصلے پر کسی شہر میں ملازم ہے وہاں سے سال دو سال کے بعد آٹھ دس روز کے واسطے اپنے مکان پر آیا اور پھر چلا گیا اس آمد ورفت میں اس کو نماز قصر پڑھنا چاہئے یا نہیں ۔ بینوا توجروا
الجواب :
جب وہاں سے بقصد وطن چلے اور وہاں کی آبادی سے باہر نکل آئے اس وقت سے جب تك اپنے شہر کی آبادی میں داخل نہ ہو قصر کرے گا جب اپنے وطن کی آبادی میں آگیا قصر جاتا رہا جب تك یہاں رہے گا اگر چہ ایك ہی ساعت قصر نہ کرسکے گا کہ وطن میں کچھ پندرہ روز ٹھہر نے کی نیت ضرور نہیں پھر جب وطن سے اس شہر کے قصد پرچلا اور وطن کی آبادی سے باہر نکل گیا اس وقت سے قصر واجب ہوگیا راستے بھر تو قصر کرے گا ہی اور اگر اس شہر میں پہنچ کر اس بار پندرہ روز یا زیاداہ قیام کا ارادہ نہیں بلکہ پندرہ دن سے کم میں واپس آنے یا وہاں سےء اور کہیں جانے کا قصہ ہے تووہاں جب تك ٹھہرے گا اس قیام میں بھی قصر ہی کرے گا اور اگر وہاں اقامت کا ارادہ ہے تو صرف راستہ بھر قصر کرے جب اس شہر کی آبادی میں داخل ہوگا قصر جاتا رہے گا۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : ازپیلی بھیت مرسلہ حبیب احمد صاحب رضوی برکاتی ذی الحجۃ الحرام ھ
ایك شخص جنگل یا اسٹیشن پر جو جنگل میں واقع ہو ملازم ہے اور اس کو آقا جب بھیجتے ہیں تو کم از کم ایك ماہ
حوالہ / References &جدالممتار علی ردالمحتار باب صلٰوۃ المسافر المجمع الاسلامی بیروت€ ١ / ٣٦٦
#10674 · باب صلٰوۃ المسافر (مسافر کی نماز کا بیان)
کے ارادہ سے بھیجتے ہیں تو اس ملازم پر نماز قصر ہے یا پوری اور مندرجہ ذیل دلیلوں میں زید حق پر ہے یا عمرو
زید کا قول ہے کہ ملازم کو ہر حالت میں نماز قصر کرنی چاہئے اگر چہ آقا ایك ماہ کے ارادے سے بھیجے کیونکہ اگر آقا چاہے تو آٹھ روز میں دوسری جگہ منتقل کردے دوسرے جنگل ہونے کی وجہ سے ہر حالت میں قصر واجب ہے کیونکہ واہاں آبادی نہیں ہے جو اقامت کی جگہ ہے عمرو کی دلیل ہے کہ کل کام ارادے کے لحاظ پر ہوتے ہیں یعنی جس وقت آقا بھیجتا ہے تو ایك ماہ کے ارادے سے بھیجتا ہے پر وہ چاہے ایك روز میں بلالے اس حالت میں ارادے کی وجہ سے نماز قصر نہیں ہوئی دوسرے جس جنگل میں اقامت نہیں ہوتی وہ دوسرے جنگل ہیں اور ایسے جنگل یا اسٹیشن جو جنگل میں ہوں جہاں بیس پچیس انسان ہر وقت ہوں نیز ریلوے کے ملازم بھی اسٹیشن پر کام کرتے ہوں ( اگر آبادی گاؤں وہاں سے دوچار کوس پر ہوں ) اقامت کو باطل نہیں کرتی ایسی جگہ ان میں قول کس کا درست ہے
الجواب :
یہاں چند امور پر اطلاع لازم جن سے بعونہ تعالی انکشاف حکم ہو :
اول : اسٹیشن اگر چہ آبادی سے کچھ فاصلے پر ہوں وہاں عمارت ہوتی ہے سامان اقامت مہیا ہوتا ہے ہاں اگر آبادی سے کوسوں دوری ہے جنگل میں متعین ہوں جیسے بن کی لکڑی لینے والے تو وہ محل اقامت نہیں اگر چہ خیمے ڈیرے ساتھ ہوں مگر ان کے لئے جن کی طرز معیشت ہی یہ ہو جیسے سانسیے درمختار میں ہے :
اوینوی اقامۃ نصف شھر بموضع صالح لھا اوقریۃ اوصحراء دارناوھو من اھل الاخبیۃ ۔
یا وہ نصف ماہ اقامت کی نیت کسی ایسی جگہ کرے جو اقامت کی صلاحیت رکھتی ہو یا قریہ ہو یا ہمارے ملك کا صحرا ہو او رنیت کرنے والا خانہ بدوش ہو (ت)
علمگیری میں ہے :
قال شمس الائمۃ الحلوانی عسکرالمسلمین اذا قصدوا موضعا ومعھم اخبیتھم وخیامھم و فساطیطھم فنزلوا مفازۃ فی الطریق ونصبوا الاخبیۃ والفساطیط وعزموا فیھا علی اقامۃ خمسۃ عشر
شمس الائمہ حلوانی نے فرمایا کہ مسلمانوں کالشکر اگر کسی جگہ جائے او ران کے خیمے کا سامان ان کے ساتھ ہو انھوں نے راہ جنگل میں پڑاؤ ڈالا اور وہاں خیمے وغیرہ نصب کئے او رپندرہ دن ٹھہرنے کا ارادہ کرلیا تو وہ مقیم نہیں ہوں گے
حوالہ / References &درمختار باب صلٰوۃ المسافر€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٠٧
#10675 · باب صلٰوۃ المسافر (مسافر کی نماز کا بیان)
یوما لم یصیروا مقیمین لانھا حمولۃ ولیست بمساکن کذافی المحیط
کیونکہ وہ سامان اٹھانے والے ہیں وہاں ان کے گھر نہیں المحیط ۔ (ت)
دوم : نرے جنگل میں کہ نیت اقامت صحیح نہیں مدت سفر چل لینے کے بعد ہے کہ تین منزل قطع کرچکا ہو اب کسی جنگل میں دن یا زائد قیام کی نیت کرے تو مسافر رہے گا لیکن مدت سفر پوری ہونے سے پہلے جنگل میں بھی نیت اقامت صحیح ہے مثلا تین منزل کے ارادے پر چلا تھا ایك یا دو منزل چل کر نیت سفر قطع کی اور وہاں اقامت کی نیت کرلی مسافر نہ رہا نماز پوری پڑھے گا اگر چہ بن میں ہو درمختارمیں ہے :
صلی الفرض الرباعی رکعتین حتی یدخل موضع مقامہ ان سار مدۃ السفروالا فیتم بمجرد نیۃ العود لعدم استحکام السفر ۔
(مسافر) اپنے مقام پر واپسی تك چار فرض کے دو فرض اداکرے او رجب مدت سفر ہو ورنہ محض رجوع کی نیت سے پوری نماز ادا کرے کیونکہ سفر کا اثبات نہ ہوا ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
ینوی بموضع صالح لھا ان سار ثلثۃ ایام والا فیتم ولوفی المفازۃ والحاصل ان نیۃ الا قامۃ قبل تمام المدۃ تکون نقضا للسفر کنیۃ العود الی بلدہ والسفر قبل استحکامہ یقبل النقض اھ ملتقطا
اگر ایسی جگہ نیت اقامت کی جو اقامت کی صالح تھی بشرطیکہ تین دن کا سفر طے کیا ہو ورنہ پوری نماز پڑھے اگر چہ جنگل میں ہو حاصل یہ ہے کہ تمام مدت سے پہلے اقامت کی نیت سفر کو ختم کردیتی ہے جس طرح اپنے شہر کی طرف لوٹنے کی نیت سے سفر ختم ہوجاتا ہے جبکہ سفر اپنی مدت مکمل ہونے سے قبل کالعدم ہوسکتا ہے اھ ملتقطا (ت)
معراج الدرایہ پھر علمگیریہ میں ہے :
اذالم یسر ثلثۃ ایام فعزم علی الرجوع اونوی الاقامۃ یصیر مقیما وان کان فی المفازہ ۔
جب تین دن کا سفر طے نہ کیا اور رجوع کا عزم کرلیا یا اقامت کی نیت کرلی تو مقیم ہوجائے گا اگر چہ جنگل میں ہو۔ (ت)
حوالہ / References &فتاوٰی ہندیۃ باب الخامس عشر فی صلٰوۃ السافر€ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ١٣٩
&درمختار€ ، &باب صلٰوۃ المسافر€ ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ١ / ١٠٧
&ردالمحتار باب صلٰوۃ المسافر€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٨١
&فتاوی ہندیۃ باب الخامس عشر فی صلٰوۃ المسافر€ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ١٣٩
#10676 · باب صلٰوۃ المسافر (مسافر کی نماز کا بیان)
سوم : نوکر کی اپنی نیت معتبر نہ ہونی بلکہ نیت آقا کا تابع ہونا اس حالت میں ہے کہ آقا کے ساتھ ہو ورنہ خود اس کی نیت معتبر ہے تنویر الابصار وردالمحتار میں ہے :
المعتبر نیۃ المتبوع لاالتابع کامرأۃ وفاھا مھرھا المعجل وعبد وجندی اذاکان یرتزق من الامیر اوبیت المال واجیر مشاھرۃ اومسانھۃ تارتار خانیہ واسیر و غریم وتلمیذ مع زوج ومولی وامیرو مستاجرو اسر ودائن واستاذ فقید المعیۃ ملاحظ فی تحقیق التبعیۃ اھ ملتقطا
سربراہ کی نیت کا اعتبار ہے تابع کا نہیں جیسا کہ وہ خاتوں جس کا مہر معجل ادا کردیا گیا اور غلام سپاہی اس وقت جب امیر سے یا بیت المال سے روزی لیتا ہویا ماہانا یا سالانہ مزدوری پر ہو تار تار خانیۃ۔ قیدی مقروض اور شاگرد جب یہ لوگ اپنے متبوع خاوند مولی مستاجر قید کرنے والا قرض خواہ او راستاذ کے ساتھ ہوں او رتابع ہونے کے اثبات کے لئے معیت کی قید ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا اھ ملتقطا (ت)
چہارم : مجرد احتمال کہ شاید آج چلاجانا ہو منافی اقامت نہیں اور اپنے وطن کے سوا آدمی کبھی کہیں مقیم نہ ہو اگر چہ سال بھر اقامت کی نیت کرے کہ کیا معلوم شاید آج ہی کوئی ضرورت سفر کی پیش آئے بلکہ اس کے لئے غلب گمان درکار ہے یقین کی حاجت نہیں کہ بے اعلام بنی غیب پر یقین کی کوئی صورت نہیں تبیین الحقائق امام یلعی پھر ہندیہ میں ہے :
لابد للمسافر من قصد مسافۃ ثلثۃ ایام ویکفی غلبۃ الظن یعنی اذا غلب علی ظنہ انی یسافر قصرو لایشترط فیہ التیقن ۔
مسافر کے لئے تین دن کی مسافت کا ارادہ ضروری ہے او رغلبہ ظن کافی ہوگا یعنی جب اس کا ظن غالب یہ ہو کہ سفر کرے گا تو قصر کرے کیونکہ یقین شرط نہیں ۔ (ت)
پنجم : نیت سچے عزم قلب کا نام ہے پندرہ دن ٹھہر نے کا ارادہ کرلے اور جانتا ہے کہ اس سے پہلے چلے جانا ہے تو یہ نیت نہ ہوئی محض تخیل ہوا یوں ہی دل میں عزم دوہی منزل کا ہے اور گھر سے تین منزل کا ارادہ کرلیا کہ آبادی سے نکل کر راہ میں قصر کی اجازت مل جائے ہر گز اجازت نہ ہوگی کہ یہ نیت نہیں وہی خیال بندی ہے البتہ اگر دو۲ ہی منزل پر جاتا ہے اور سچا ارادہ تین منزل کا کرلیا اورتین منزل جاکر ایك منزل اپنے محل مقصود کو
حوالہ / References &ردالمحتار شرح الدرالمختار باب صلٰوۃ المسافر€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٨٧
&فتاوٰی ہندیۃ باب الخامس عشرفی صلٰوۃ المسافر€ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ١٣٩
#10677 · باب صلٰوۃ المسافر (مسافر کی نماز کا بیان)
واپس آیا اور یہاں پندرہ دن سے کم ٹھہر نا ہے تو جانے اور آنے اور ٹھہرتے قصر کرے گا کہ یہ سچی نیت ہوئی اگر چہ وہاں جانے سے کوئی کام نہ تھا درمختار میں ہے :
لودخل الحاج مکۃ ایام العشر لم تصح نیتۃ لانہ یخرج الی منی وعرفۃ ۔
اگر حاجی مکہ میں ذوالحج کے عشرہ میں داخل ہوا تو اس کی نیت اقامت درست نہ ہوگی کیونکہ اس نے منی اور عرفہ کی طرف نکلنا ہے ۔ (ت)
معراج الدرایہ پھر علمگیریہ میں ہے :
قال اصحا بنا رحمھم اﷲ تعالی فی تاجردخل مدینۃ لحاجۃ نوی ان یقیم خمسۃ عشریوما لقضاء تلك الحاجۃ لایصیر مقیما لانہ متردد بینا ان یقضی حاجتہ فیرجع وبین ان لا یقضی فیقیم فلا تکون نیتہ مستقرۃ وھذا الفصل حجۃ علی من یقول من اراد الخروج الی مکان ویرید ان یترخص برخص السفرینوی مکانا ابعد منہ وھذاغلط ۔
ہمارے اصحاب رحمہم اللہ تعالی نے فرمایا کہ وہ تاجرجوکسی شہرمیں کسی ضرورت کے لئے گیا اس نے حصول حاجت کے لئے پندرہ دن اقامت کی نیت کرلی تو وہ مقیم نہ ہوگا کیونکہ وہ متردد ہے اس بارے میں کہ اگر ابھی کام ہوجاتا ہے تو لوٹ جائے اور اگر نہیں ہوگا تو اقامت کرے تواس کی پختہ نیت نہ ہوئی یہ صورت اس شخص کے خلاف حجت ہے جو کہتا ہے کہ جو کوئی کسی جگہ کی طرف نکلنا چاہتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اسے سفر کی سہولت میسر ہو( حالانکہ وہ جگہ اتنی دور نہیں ) تو وہ کسی دور جگہ کی نیت کرکے نکل پڑتا ہے تاکہ رخصت حاصل ہوجائے تو یہ غلط ہے ۔ (ت)
ششم : وطن اقامت یعنی جہاں پندرہ دن یا زیادہ قیام کی نیت صحیحہ کرلی ہو آدمی کو مقیم کردیتا ہے اور اقامت وسفر میں واسطہ نہیں تو وہاں سے بے ارادہ مدت سفر اگر ہزار کوس دورہ کرے مثلا دس کوس کے ارادے پر وہاں سے چلے پھر وہاں سے پندرہ کوس کا ارادہ کرے وہاں سے بیس کوس کا قصد ہو مسافر نہ ہوگا اور قصد نہ کرسکے گا جیسے وطن اصلی سے یوں دور ہ کرنےمیں حکم ہے یہاں تك کہ اگر مثلا وطن اقامت سے بیس کوس گیا اور وہاں سے وہاں سے چھبیس کوس کا ارادہ کرکے چلا اور بیچ میں وطن اقامت آکر پڑے گا تو سفر جاتا رہے گا ہاں اگر تین منزل چلنے کے بعد یہ وطن بیچ میں نہ آئے گا تو قصد کرے گا اور یہ وطن وطن اقامت نہ رہے گا ردالمحتار میں ہے :
حوالہ / References &درمختار باب صلٰوۃ المسافر€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٠٧
&فتاوٰی ہندیۃ باب الخامس عشر فی صلٰوۃ المسافر€ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ١٤٠
#10678 · باب صلٰوۃ المسافر (مسافر کی نماز کا بیان)
والحاصل ان انشاء السفر یبطل وطن الاقامۃ اذاکان منہ امالوانشأہ من غیرہ فان لم یکن فیہ مرورعلی وطن الاقامۃ اوکان ولکن بعد سیر ثلثۃ ایام فکذلك ولو قبلہ لم یبطل الوطن بل یبطل السفر لان قیام الوطن مانع من صحتہ ۔
حاصل یہ ہے کہ سفر شروع کرنے سے وطن اقامت باطل ہوجاتا ہے جبکہ سفر وہاں سے ہوا اور اگر سفر کسی اور جگہ سے ہو تواب وطن اقامت سے گزر نہیں ہوا یا ہوا لیکن تین دن بعد تو حکم یہی ہے اور اگر اس سے پہلے ہوا تو وطن بالکل باطل نہ ہوگا بلکہ سفر باطل ہوجائے گا کیونکہ قیام وطن صحت سفر سے مانع ہوتا ہے (ت)
ہفتم : نوکری ملازمت ہے اس میں قصد استدامت ہوتا ہے تو جو جہاں نوکر ہو کر رہنا اختیار کرے مقیم ہوجائیگا اگرچہ عــــہ بلخصوص پندرہ دن کی نیت نہ ہو لان نیتہ الاستد امۃ فوق ذلك ( کیونکہ دوام کی نیت اقامت کی نیت سے فائق ہے ۔ ت)
عــــہ : فتح القدیر باب الحج عن الغیر میں ہے : لوتوطن مکۃ بعد الفراغ خمسۃ عشر یوما بطلت نفقتہ فی مال المیت لانہ توطن ح لحاجۃ نفسہ بخلاف مااذا اقامہ اقل فانہ مسافر علی حالہ فان بدالہ بعد ذلك ان یرجع رجعت نفقتہ فی مال المیت وقد روی عن ابی یوسف انہ لا تعود لانہ فی الرجوع عامل لنفسہ لا للمیت لکنھا قلنا ان اصل سفرہ کان للمیت فما بقی ذلك السفر بقیتہ النفقۃ کذافی المبسوط وذکر غیر واحد من غیر ذکر خلاف انہ ان نوی الاقامۃ خمسۃ عشریوما
اگر (حج بدل کرنے والے نے) فراغت کے بعد مکہ معظمہ میں پندرہ روز ٹھہرنے کی نیت کرلی تو اب مال میت سے خرچ نہیں کرسکتا کیونکہ یہ اب اپنے ذاتی کام کے لئے ٹھہر اہے بخلاف اس صورت کے کہ جس میں پندرہ دن سے کم ہو کیونکہ اب وہ حالت سفر میں ہی ہے پس اگر پندرہ کے بعد لوٹ آئے گا امام ابویوسف سے مروی ہے کہ مال میت کی طرف نہیں لوٹے گا کیونکہ رجوع اپنی ذات کے لئے ہے نہ کہ میت کے لئے لیکن ہم کہتے ہیں کہ سفر میت کے لئے ہے تو جب تك سفر میں رہے گا اس کا نفقہ میت کی طرف سے ہی ہوگا مبسوط میں اسی طرح ہے اور متعدد فقہاء نے اسے بغیر اختلاف کے بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس نے پندرہ دن کی نیت کر لی تو(باقی اگلے صفحہ پر)
حوالہ / References &ردالمحتار باب صلٰوۃ المسافر€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٨٦
#10679 · باب صلٰوۃ المسافر (مسافر کی نماز کا بیان)
ہاں اگر مدت سفر سے یہاں نوکر ہو کر آیا اور معلوم ہے کہ پندرہ دن ٹھہرنا نہ ہوگا تو البتہ مقیم نہ ہوگا جب اس درسری جگہ سے فارغ ہوکر آئے گا اور یہاں ملازمانہ قیام کرے گا اس وقت سے مقیم ہوگا
کما قال فی ردالمحتار فی واقعۃ عیسی بن ابان رحمہ اﷲ تعالی ان نیۃ الا قامۃ لم تعمل عملھا الا بعد رجوعہ لو جود خمسۃ عشر یوما بلانیۃ خروج فی اثنائھا بخلاف ماقبل خروجہ الی عرفات لانہ لما کان عازما علی الخروج قبل تمام نصف شہر لم یصر مقیما ۔
جیسا کہ ردالمحتار میں شیخ عیسی بن ابان رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے واقعہ میں ہے کہ نیت اقامت موثر نہیں مگر رجوع کے بعد کیونکہ پندرہ دنوں کی نیت ہے اور اس میں نکلنے کی نیت بھی نہیں بخلاف عرفات کی طرف نکلنے سے پہلے کے کیونکہ جب نصف ماہ کے اتمام سے پہلے نکلنے کا ارادہ رکھتا ہے تو وہ مقیم نہیں ہوگا ۔ (ت)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ان سقطت فان عادت وان توطنھا سواء قل اوکثر لا تعود وھذا یفید ان التوطن غیر مجرد نیۃ الا قامۃ خمسۃ عشریوما والظاھر ان معناہ ان یتخذھا وطنا ولا یحد فی ذلك حد افتسقط النفقۃ ثم العود انشاء سفر لحاجۃ نفسہ ولو بعد یومین فلا یستحق بہ النفقۃ علی المیت واﷲ سبحنہ اعلم اھ فافھم منہ (م)
نفقہ ساقط ہوجائے گا اگر سفر سے لوٹاہے تو نفقہ لوٹ آئے گا اور اگر مکہ کو ابنا وطن بتاتا ہے خواہ تھوڑے دن یا زیادہ تو نفقہ نہیں ہوٹے گا اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ پندرہ دن کی نیت کے بغیر بھی اگر وہ رہا تو وہ متوطن ہوگا ظاہرا اس کا مفہوم یہی ہے کہ وہ اگر مکہ کو اپنا وطن بتاتا ہے تو اس میں دنوں وغیرہ کی کوئی حد نہیں لہذا اس کا نفقہ ساقط ہوجائے گااب اس کے بعد رجوع اپنی ذات کے لئے نیا سفر ہوگا اگر چہ وہ سفر دو دن کے بعد ہی کیونہ ہو لہذا وہ میت کی طرف سے نفقہ کا مستحق نہ ہوگا واﷲ سبحنہ اعلم اھ فافھم منہ (ت)
حوالہ / References &ردالمحتار باب صلٰوۃ المسافر€ مطبوعہ دارالکتب العربیہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۸۲
&فتح القدیر باب الحج عن الغیر€ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ٣ / ٦٩
#10680 · باب صلٰوۃ المسافر (مسافر کی نماز کا بیان)
اور جبکہ ایك جگہ نوکر ہوکررہے اور پندرہ دن کے اندر وہاں سے درسری جگہ جانا معلوم نہ ہو تو صرف احتمال قاطع اقامت نہ ہوگا ورنہ کوئی وطن اقامت نہ ہوسکے اور اپنے وطن سے مدت سفر پر جولاکھوں آدمی نوکر ہوتے اور برسوں وہاں رہتے ہیں کبھی مقیم نہ ہوں کہ بدلی یا کسی کام پر بھیجے جانے کااحتمال ہر وقت ہے ھذا ما عندی واﷲ تعالی اعلم ( یہ تو میرے نزدیك ہے اور اﷲ تعالی بہتر جاننے والا ہے ۔ ت) جب یہ امور سبعہ معلوم ہولئے اب مسئلہ مسئولہ کی طرف چلئے۔
فاقول : وباﷲا لتوفیق ( پس میں اﷲ تعالی کی توفیق سے کہتا ہوں ۔ ت) اوپر معلوم ہو کہ یہاں دو صورتیں ہیں : ایك یہ کہ جہاں متعین ہوا وہ نرا جنگل ہے جائے اقامت نہیں ۔ دوسرے یہ کہ محل اقامت ہے جیسے اسٹیشن۔ اور ہر تقدیر پر دوصورتوں ہیں : ایك یہ کہ یہ شخص متعین ہوتے وقت مسافر ہے یعنی تین منزل چل کر آیا اور ہنوز کہیں مقیم نہ ہوا دوسرے یہ کہ مقیم ہے مثلا اسی شہر یا اور قریب جگہ کا ساکن ہے اور یہاں شہر سے دو چار کوس کے فاصلے پر متعین ہوا یا ایا تو تین منزل طے کرکے مگر شہر میں پندرہ دن کی نیت کے ساتھ ٹھہر اکہ مقیم ہوگیا۔ اوراب یہاں متعین ہو تو چار صورتیں آگئیں :
صورت اولی : مسافر بمعنی مذکور ہے اور یہ جگہ محل اقامت نہیں اس میں :
(۱) اس میں ابتدائے تعین سے بلافصل جب تك یہاں رہے گاقصرکرے گااگرچہ دس برس یہی رہنے کی نسبت اس کے آقانے کہہ دیا اور اس نے بھی ارادہ کرلیا کہ جب وہ مدت سفر سے آیا اورکہیں مقیم نہ ہوااور یہ محل اقامت نہیں تو جب تك بھی یہاں رہے گا مسافرہی رہے گا۔
(۲) اگر یہاں سے حکما خواہ صرف بارادہ خودکسی دوسری جگہ جائے گا راہ میں قصر ہی کرے گا اگر چہ وہ جگہ یہاں سے مدت سفر پر نہ ہو۔
(۳) اس دوسری جگہ پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت نہ ہو تو وہاں بھی قصر ہی پڑھے اور وہاں سے واپسی میں اور اس مقام پر واپس آکر بھی اگر چہ یہاں کتنا ہی ٹھہرنے کا ارادہ ہو کہ ہنوز اس کا سفر بوجہ عدم اقامت ختم نہ ہوا۔
(۴) اگر وہاں پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت حکما خواہ فقط اپنے ارادے سے کی تو وہاں پوری پڑھے گا۔
(۵) جب وہاں سے واپس ہوگا اگر اس جگہ اور مقام تعین میں تین منزل کا فاصلہ ہے تو واپسی میں بھی قصر کرے گا اوریہاں پہنچ کر بھی اگر چہ یہاں کتنے ہی دن ٹھہرنے کا ارادہ ہو کہ مدت سفر سے یہاں پہنچ کر اس کی پھر حالت اولی عود کر آئی اور انشائے سفر کے سبب اس اقامت جائے دیگر کا کوئی اثر نہ رہا۔
(۶) اگر بعد اقامت پانزدہ روزہ وہاں سے واپس ہوا اور بیچ میں مدت سفر نہیں تو اب راہ میں بھی پوری
#10681 · باب صلٰوۃ المسافر (مسافر کی نماز کا بیان)
پڑھے گا اور یہاں پہنچ کر بھی کہ قبل سیر سہ روزہ جنگل میں نیت اقامت صحیح ہے اور بوجہ عدم انشائے سفر اس کی وہ اقامت باطل نہ ہوئی نہ وہ وطن اقامت باطل ہوا اس صورت ششم میں اس کا حکم شقوق صورت ثانیہ آئندہ کی طرف عود کا جائے گا۔
صورت ثانیہ : مقیم ہے اور یہ جگہ محل اقامت نہیں اس میں :
(۱) جب تك بعد تعین بلافصل یہاں رہے گا پوری پڑھے گا کہ مقیم کا بن میں ٹھہرنا سفر نہیں ۔
(۲) اگر یہاں سے کہیں مدت سفر سے کم کی نیت سے جائے گا جاتے اور آتے اور وہاں ٹھہرتے ہر حال میں اتمام کرے گا اگر چہ وہاں ایك ہی دن ٹھہرے کہ ہنوز سفر متحقق نہ ہوا۔
(۳) اگر مدت سفر کی نیت سے جائے گا راہ میں قصر کرے گا اور وہاں بھی اگر پندرہ دن نیت نہ کرے ورنہ وہاں پوری پڑھے گا۔
(۴) یہی واپسی میں جب وہاں سے اس مقام کو بقصد واحد واپس آئے گا راہ میں قصر کرے گا۔
(۵) جب یہاں پہنچے گا ازانجا کہ مدت سفرسے آیا ہے اور یہ محل اقامت نہیں اب اس کا حکم شقوق صورت اولی گزشتہ کی طرف عائد ہوگا کہ ابتدائے واپسی سے بلافصل جب تك یہاں رہے گا قصر کرے گا اس آخرہ کہ اب یہاں مسافر بمعنی مذکور ہو کر آیا بالجملہ جب یہاں بعد سفرا ئے گا صورت اولی ہوگی اور مقیم ہو کر صورت ثانیہ یہی دورہ رہے گا
صورت ثالثہ : مسافر بمعنی مذکور ہے اور یہ جگہ محل اقامت جیسے اسٹیشن اس میں :
(۱) اگر ابتدائے تعین میں معلوم تھا کہ پندرہ دن کے اندر یہاں سے جانا ہے تو مقیم نہ ہوگا قصر ہی پڑھے گا
(۲) یہاں سے کہیں قبل اقامت جائے راہ میں قصر ہی کرے اور واپسی میں بھی۔
(۳) جب وہاں سے واپس آئے اور اب بھی پندرہ دن کے اندر کہیں جانے کا ارادہ ہے تو یہی شقوق و احکام ہیں ۔
(۴) اب وہ ارادہ نہیں یا ابتدائے تعین ہی میں ۱۵ روز کے اندر کہیں جانے کی نیت نہ تھی تو جبھی سے یا اب یہاں آکر مقیم ہوجائے گا پوری پڑھے اس صورت چہارم میں اس کا حکم شقوق اربعہ آئندہ کی طرف رجوع کرے گا۔
صورت رابعہ : مقیم ہے اور یہ جگہ محل اقامت اس میں :
(۱) جب تك یہاں رہے گا اتمام کرے گا اگر چہ ایك ہی دن ٹھہرنے کا رادہ ہو۔
(۲) یہاں سے کہیں جائے اور جاتے اور آتے اور ٹھہرتے اور واپس آکر ہمیشہ پوری پڑھے گا جبکہ وہ جگہ
#10682 · باب صلٰوۃ المسافر (مسافر کی نماز کا بیان)
مدت سفر پر نہ ہو۔
(۳) اگر مدت سفر پر جائے راہ میں قصر کرے اور وہاں پوری پڑھے اگر پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت ہو ورنہ وہاں بھی قصر کرے۔
(۴) جب وہاں سے واپس آئے راہ میں قصر کرے یہاں پہنچ کر یہی شقوق واحکام ہیں جبکہ پندرہ دن کے اندر جانے کا ارادہ نہ ہو۔
(۵) اگر بعد واپسی یہاں پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کا اردہ ہے تو یہاں آکر بھی مقیم نہ ہوگا کہ یہ وطن اقامت بوجہ سفر باطل ہوگیا اور اب قصد اقامت نہیں اس صورت پنجم میں اس کا حکم شقوق صورت ثالثہ کی طرف راجع ہوگا واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از اسٹیشن دودھواگھاٹ ضلع کھیری لکھیم پور کارخانہ عبداللطیف خاں صاحب ٹھیکہ دار مرسلہ فرخ شاہ خاں ۱۸جمادی اولی ۱۳۳۷ ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اسٹیشن دودھواگھاٹ ایك جنگل کا مقام ہے اور یہاں پر نہ آبادی ہے نہ زراعت ہوتی ہے اور میں ایك ٹھیکہ دار کا ملازم ہوں اور بظاہر مجھ کو امید ہے کہ اس جگہ میراقیام جب تك کہ ملازمت قائم ہے برابر رہے گا اسی خیال سے میں پوری نماز ادا کرتا تھا اب ایك شخص سکنہ پیلی بھیت نے کہا کہ تم کو یہاں پر قصر پڑھنا چاہئے خواہ تم ایك سال رہو یا زائدرہو لہذا آپ کی خدمت میں یہ تحریر ارسال کرتا ہیں کہ اس مسئلہ کا جو حکم ہو اس سے مطلع فرمائے تاکہ شك رفع ہو اور اس کے مطابق نماز ادا کی جائے۔
الجواب :
جبکہ وہاں نہ آبادی ہے نہ جائے قیام ہے تو اگر یہ وہاں مسافر ہو کر پہنچا یعنی تین منزل سے ارادہ کر کے بیچ میں بغیر سفر توڑے وہاں پہنچا تو جب تك وہاں رہے گا قصر کرے گا اگر چہ کتنی ہی مدت گزرے اور اگر وہاں مقیم ہو کر پہنچا یعنی تین دن کی راہ سے کم فاصلہ وہاں تك تھا یا زیادہ تھا مگر بیچ میں دوسری جگہ ٹھہرتا ہوا آیا کہ پچھلے قصد سے یہاں تك مدت سفر نہ تھی تو جب تك رہے گا پوری پڑھے گا اگر چہ ایك ہی دن رہے قیام کا اصلا قصدنہ ہو واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از بریلی مدرسہ منظرالاسلام مسئولہ غلام جان صاحب طالب علم شوال ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص جس پر نماز قصر ہو وہ سفر میں اگر دیدہ و دانستہ بہ نیت زیادہ ثواب پوری نماز پڑھے گا تو گنہگار ہو گا یا نہیں
#10683 · باب صلٰوۃ المسافر (مسافر کی نماز کا بیان)
الجواب :
بیشك گنہگار و مستحق عذاب ہوگا نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
صدقۃ تصدق اﷲ بھا علیکم فاقبلوا صدقتہ ۔ واﷲ تعالی اعلم
یہ قصر صدقہ ہے اﷲ تعالی نے تم پر صدقہ کیا ہے ا سکے صدقہ کو قبول کرو ۔ (ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : ازا دلدن ضلع جھانسی مرسلہ محمد تقی خاں سب انسپکٹر پولیس اسٹیشن ذی الحجہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میں ضلع جھانسی میں ملازم ہوں جو کہ ضلع بدایوں سے قریب۲۰۰ میل کے فاصلے پر ہے اور مقام جھانسی میں تھانہ ادلدن میں تعیناتی ہے پندرہ روز تك کبھی تھانہ میں ٹھہر نا نہیں ہوتا علاقے کے دیہات میں برابر بسلسلہ کار گورنمنٹ تفتیش وغیرہ کے گشت رہتا ہے لہذا التماس ہے کہ ایسی صورت میں نماز قصر پڑھنا چاہئے یا پوری نماز پڑھنا ۔
الجواب :
جو مقیم ہو اور وہ دس دس پانچ پانچ بیس بیس تیس تیس کو س کے ارادے پر جائے کبھی مسافر نہ ہوگا ہمیشہ پوری نماز پڑھے گا اگر چہ اس طرح دنیا بھر کا گشت کر آئے جب تك ایك نیت سے پورے چھتیس کوس یعنی ساڑھے ستاون میل انگریزی کے ارادے سے نہ چلے یعنی نہ بیچ میں کہیں ٹھہرنے کی نیت ہو اور اگر دوسو میل کے ارادے پر چلا مگر ٹکڑے کرکے یعنی بیس میل جاکر یہ کام کروں گا وہاں سے تیس میل جاؤں گا وہاں سے پچیس میل وعلی ہذا لقیاس مجموعہ دو سومیل تو وہ مسافر نہ ہوا کہ ایك لخت ارادہ ۵۷ میل کا نہ ہوا ہاں جو مسافر ہے مقیم نہیں وہ جہاں ہے وہاں بھی قصر پڑھے گا اور وہاں سے ایك ہی میل یا کم کو جائے خواہ زیادہ کو وہاں بھی قصر ہی کرے گا اور وہاں سے ایك ہی میل یا کم کو جائے خواہ زیادہ کو وہاں بھی قصر ہی کرے گا جب پورے پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت کسی محل اقامت میں نہ کرے واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از پیلی بھیت محلہ شیر محمد خاں مسئولہ حبیب احمد بریلوی ۲۵ ذی الحجہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص علاقہ نیپال کے جنگل میں منجانب تاجران لٹھ ملازم ہے اور ایسی جگہ رہنا ہوتا ہے جہاں سے ایك یا دہ میل یا کم وزیادہ کے فاصلے پر آبادی اور زراعت ہوتی ہے تا انگریزی عملداری کے جنگلات میں ملازم ہے جو بصورت متذکررہ بالا ہے یا اسٹیشن ریلوے جنگل میں ہے وہاں سے بھی دو یاتین میل کے فاصلہ پر آبادی اور زراعت ہے اور آقا جب بھیجتا ہے تو کچھ مدت مقرر نہیں کرتا تو ان صورتوں میں ملازم کو نماز قصر ادا کرنا واجب ہے یا پوری اور اگر خود مختار ہے تو اس کو قصر پڑھنا چاہئے یا پوری زید کا قول کہ نماز قصر ادا کرنا واجب ہے کیونکہ اول عملداری ہندو کی ہے یعنی نیپال دوسرے جگہ اقامت پر نہ آبادی ہے نہ زراعت ہوتی ہے یعنی کچھ فاصلے
حوالہ / References &سنن ابی داؤد باب صلٰوۃ المسافر€ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۷۰
#10684 · باب صلٰوۃ المسافر (مسافر کی نماز کا بیان)
پر ہے تیسرے یہ صورت اول میں خود مختار نہیں آقا جب چاہے منتقل یا علیحدہ کرسکتا ہے اور علمداری انگریزی میں بھی اگر چہ اسٹیشن ہے مگر زراعت نہیں ہوتی ہے نوکری پر بوجہ مذکورہ خود مختار پر بوجہ نہ ہونے زراعت کے قصر واجب ہے اقامت کی شرائط میں زراعت بھی ہے عمر کی دلیل یہ ہے کہ صورت مذکورہ بالاجن مقامات اقامت سے ایك میل یا کم یا زیادہ پر زراعت ہوتی ہے مگر فراہمی غلہ وغیرہ میں کوئی دقت پیش نہیں آتی ہے دوسرے مقام اقامت گو جنگل میں ہے مگر دس بیس پچاس آدمی ہمراہ ہوتے ہیں جو عرصہ تك ایك جگہ مقیم رہتے ہیں جانور درندہ وغیرہ کا بالکل خوف نہیں ہوتا ہے تیسرے یہ کہ کوئی آقا ملازم کو جب بھیجتا ہے تو کام ختم کرکے آنے تك کے لئے درمیان میں اگر ضرورت ہوئی تو وہاں سے منتقل یا علیحدہ کردیا یہ معتبر نہیں اس صورت میں ارادہ ملازم کا معتبر ہے اگر پندرہ یوم کا ارادہ ہے تو پوری اداکرے تو دونوں کی اقتداء درست ہے یا نہیں بینوا تو جروا
الجواب :
جو مسافر نہ تھا اور اس جنگل تك جانے میں بھی اسے سفر کرنا نہ پڑا کہ فاصلہ تین منزل سے کم تھا وہ تو ظاہر ہے کہ مقیم تھا اور مقیم رہا اسے قصر حرام ہے اور پوری پڑھنی فرض ہے اگر چہ وہ جگہ نرا بن ہو۔ بحر الرائق و ردالمحتار میں ہے :
ھذا ان سارثلثۃ ایام والا فتصح ولو فی المفازۃ ۔
یہ اس وقت ہے جب تین دن کاسفر طے کرلیا ہو ورنہ وہ مقیم ہوگا اگر چہ وہ جنگل میں ہو ۔ ت)
اور جو مسافر تھا وہاں تك جانے سے مسافر ہوا کہ فاصلہ تین منزل یا زائد کا تھا وہ ضرور مسافر ہے اگر عادت معلوم ہے کہ جس کام کے لئے بھیجا گیا وہ پندرہ دن یا زائد میں ہوگا اور جگہ ایسی ہو جہاں اقامت ممکن ہے اگر چہ آبادی وہاں سے دوتین میل فاصلہ پر ہو اور زراعت نہ ہو وہاں پہنچ کر مقیم ہوجائے گا اور پوری پڑھنی لازم ہوگی خاص وہاں زراعت ہونا کچھ ضرور نہیں نہ ہندو کی علمداری ہونا کچھ مانع کہ یہ آمدورفت امان کے ساتھ ہے اس سے تعرض نہیں کیا جاتا۔ درمختار میں ہے : من دخلھا بامان فانہ یتم ( جو امان کی بنا پر داخل ہوا وہ نمازی پوری پڑھے ۔ ت) اور یہ احتمال کہ شاید کوئی ضرورت پیش آئے اور جس کا نوکر ہے وہ دوسری جگہ بھیجے معتبر نہیں ایسا احتمال ہر شخص کو ہر حال میں ہے اور جب نوکر کا یہ حکم ہے تو خود مختار تو بدرجہ اولی جبکہ پندرہ دن یا زائد کی نیت کی ہو۔ واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References &ردالمحتار باب صلوۃ المسافر€ مطبوع مصطفی البابی مصر / ۵۸۱
&دُرمختار باب صلٰوۃ المسافر€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۰۷
#10685 · باب صلٰوۃ المسافر (مسافر کی نماز کا بیان)
مسئلہ : از اٹاوہ محلہ ثابت گنج مرسلہ محمد ابراہیم خاں صا بری مارہروی شوال ھ
زید کی سسرال ا سکے مکان مسکونہ سے بسفر ریل میل کے فاصلے پر ہے او بیوی بچے اس کے سب سسرال میں رہتے ہیں مگر زید اپنے کاروبار کی وجہ سے زیادہ تر اپنے مسکن پر رہتا ہے اور بال بچے جو اس کے سسرال میں رہتے ہیں بلکہ ضرورۃ عرصہ ماہ سے ان کو وہاں چھوڑ رکھا ہے ایسی صورت میں جب زید اپنے مسکن سے اپنے بال بچوں میں ہونے کے واسطے بایں ارادہ گیا کہ میں چوتھے روز یا پندرہ دن کے بعد یا مہینہ بھر کے بعد واپس آؤں گا توا س پر قصر واجب ہے یا نہیں اور اگر کسی موقع سے اس نے قصر نماز ادانہ کی ہو جس کو کہ وہ اپنے علم کے موافق قصر نہیں جانتا مگر شرعی اصول کے موافق اس پر قصر واجب ہو تو اس کے ذمہ کچھ مواخذہ ہے یا نہیں
الجواب :
جبکہ مسکن زید کا دوسری جگہ ہے اور بال بچوں کا یہاں رکھنا عارضی ہے تو جب یہاں آئے گا اور پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت کرے گا قصر کرے گا اور پندرہ دن یا زیادہ کی نیت سے مقیم ہوجائے گا پوری نماز پڑھے گا جس پر شرعا قصر ہے اور اس نے جہلا پڑھی اس پر مواخذہ ہے اور اس نماز کا پھیرنا واجب ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۱۲۷۲ : از ریاست فرید کوٹ ضلع فیروز پور پنجاب مرسلہ منشی محمد علی ارم ۶ رجب المرجب ھ
کیافرماتے ہیں علماے دین اس مسلہ میں کہ ریل میں ایك کثیرعملہ ریلیونگ رہتاہے جسکایہی کام کہ ہفتہ عشرہ ایك دن دودن زیادہ کم کسی ملازم ریلوے کے بیمارہوجانے تخفیف میں اجانے رخصت جانے پراس کی جگہ رہتے ہیں جس سے کہیں بیس دن مہینہ اورزیادہ دودوچارچاردن ہی رہناپڑتاہے ان کےلیے نمازمیں قصر کاحکم ہے یانہیں
الجواب : اگراپنے مقام سے ساڑھے ستاون (۲ / ۱ ۵۷) میل کے فاصلے پر علی الاتصال جاناہوکہ وہیں جانامقصود ہے بیچ میں جانامقصودنہیں اوروہاں پندرہ دن کامل ٹہھرنے کاقصد نہ ہوتوقصرکریں گے ورنہ پوری پڑھیں گے ہاں یہ جوبھیجا گیا اگراس وقت حالت سفرمیں ہے مقیم نہیں توکم وبیش جتنی دوربھی بھیجاجائےگا مسافرہی رہے گاجب تك پندرہ کامل ٹہھرنے کی نیت نہ کرے یا اپنے وطن نہ پہنچے ۔ واﷲ تعالی اعلم ۔
مسئلہ ۱۲۷۳ : از شھرمحلہ بہاری پور مسئولہ نواب وزیر احمد خاں صاحب ۲۰محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ آج قصد تلہر اس وقت دس بجے کی گاڑی سے ہے تلہر تك قصر نہیں تلہر سے قصد رامپورکاہے تلھرسے رام پورتك قصر ہے لیکن درمیا ن میں بریلی پڑھے گی اترنا نہیں ہوگا اس صورت میں قصر کا کیا حکم ہے ۔ تلہر میں بھی قصر پڑھا جائے یا نہیں اوراگر تلہر میں قصد رامپور کا فسخ ہوجائے توقصر کوقصر کیا جائے یا نہیں بینوا توجروا
#10686 · باب صلٰوۃ المسافر (مسافر کی نماز کا بیان)
الجواب : یہاں سے تلہر تك اور تلہر کے قیام تك قصر نہ کریں جب تلہر سے بخط مستقیم رامپور کا ارادہ ہو تو راہ میں بھی اور رامپور میں بھی اور بریلی تك واپس آنے میں بھی قصر کریں رامپور جانے میں اگر چہ بریلی کے اسٹیشن پر گزرہو گا مگر وہ بریلی میں گزر نہیں کہ قصر کا قصر کردیں اس لئے کہ یہاں اسٹیشن خارج شہر ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۲۷۴ : از سنبھل مراد آباد محلہ دیپاسرائے مسئولہ مولوی محمد ایوب صاحب جمادی الاولی ھ
مسافر اگر نمازی پوری چار رکعت پڑھادے تو مقیمین کی نماز ہوگی یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
مسافر اگر بے نیت اقامت چار رکعت پوری پڑھے گنہ گار ہوگا اور مقیمین کی نماز اس کے پیچھے باطل ہوجائیگی اگر دو رکعت اولی کے بعد اس کی اقتداء باقی رکھیں گے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۲۷۵ : از پیلی بھیت محلہ پنجا بیاں مرسلہ شیخ عبدالعزیز صاحب ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کوئی شخص اپنے وطن اصلی سے سفر کر کے دوسری جگہ میں جو سفر شرعی تین منزل سے زائد ہے بضرورت تعلقات تجارت یا نوکری وغیرہ کے جارہا ہو مگر اہل وعیال اس کے وطن اصلی میں ہوں اور اکثر قیام اس کا وطن ثانی میں رہنا ہوگا ہی سال بھر میں مہینہ دو مہینہ کے واسطے اہل و عیال میں بھی رہ جاتا ہو یا بعض اہل کو ہمراہ لے جائے اور بعض کو وطن چھوڑ جائے یا کل متعلقین ہمراہ لے جائے صرف مکانات وغیرہ کا تعلق وطن اصلی میں باقی ہو اور ان سب صورتوں میں ان کا زیادہ تر اور اکثر قیام وطن ثانی میں رہتا ہے اور کم اتفاق رہنے کا وطن اصلی میں ہوتا ہے اور بظاہر وجہ قیام ثانی کے وہی تعلقات جدید ہیں اور درصورت قطع تعلقات جدیدہ کے وطن اصلی میں واپس آجانے کا بھی قصدرکھتا ہے ایسی صورت میں یہ شخص کہیں سے سفر کرتا ہوا وطن ثانی میں آئے اور ۱۵ روز قیام کا قصد نہ رکھتا ہو تو صلاۃ رباعیہ کو پورا پڑھے مثل وطن اصلی کے یا قصر کرے مثل مسافروں کے بینوا توجروا
الجواب :
جبکہ وہ دوسری جگہ نہ اس کا مولد ہے نہ وہاں اس نے شادی کی نہ اسے اپنا وطن بنالیا یعنی یہ عزم نہ کرلیا کہ اب یہیں رہوں گا اور یہاں کی سکونت نہ چھوڑوں گا بلکہ وہاں کا قیام صرف عارضی بر بنائے تعلق تجارت یا نوکری ہے تو وہ جگہ وطن اصلی نہ ہوئی اگر چہ وہاں بضرورت معلومہ قیام زیادہ اگر چہ وہاں برائے چندے یا تا حاجت اقامت بعض یا کل اہل وعیال کو بھی لے جائے کہ بہر حال یہ قیام بیك وجہ خاص سے ہے نہ مستقل ومستقر تو جب وہاں سفر سے آئے گا جب تك ۱۵ دن کی نیت نہ کرے گا قصر ہی پڑھے گا کہ وطن اقامت سفر کرنے سے باطل ہوجاتا ہے۔
فی الدرالمختار الوطن الاصلی وھو موطن
در مختا ر میں ہے وطن اصلی آدمی کی جائے ولادت ہے
#10687 · باب صلٰوۃ المسافر (مسافر کی نماز کا بیان)
ولادتہ اوتأھلہ اوتوطنہ ۔
یا وہاں اس نے شادی کی ہو یا اس نے وہاں اسے اپنا وطن بنایا ہو ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ اوتأھلہ ای تزوجہ قال فی شرح المنیۃ ولو تزوج المسافر بلد ولم ینوا لاقامۃ بہ فقیل لا یصیر مقیما وقیل یصیر مقیما وھو الاوجہ قولہ أوتوطنہ ای عزم علی القرارفیہ وعدم الارتحال وان لم یتأھل فلو کان لہ ابوان بلد غیر مولدہ وھوبالغ ولم یتأھل بہ فلیس ذلك وطنا الا اذاعزم علی القرارفیہ وترك الوطن الذی کانہ لہ قبلہ ۔ شرح المنیۃ۔
قولہ “ تاھلہ “ یعنی اس نے وہاں شادی کی شرح المنیہ میں ہے کہ اگر مسافر نے کسی شہر میں شادی کرلی اور وہاں اقامت نہ کی تو قول یہ ہے کہ وہ مقیم نہیں ہوگا اور ایك قول میں مقیم ہو جائے گا یہی مختار ہے۔ اس کا قول “ او توطنہ “ یعنی اگر چہ وہاں شادی نہیں کی مگر ٹھہرنے اور کوچ نہ کرنے کا عزم کرلیا اگر آدمی کے ایك شہر میں والدین ہیں لیکن وہ جگہ اس کی جائے ولادت نہیں اور نہ ہی اس نے وہاں شادی کی ہے تو وہ شہر اس کا وطن نہ ہوگا البتہ اس صورت میں کہ وہاں ٹھہرنے کا ارادہ کرے اورسابقہ وطن ترك کردے ۔ شرح المنیۃ۔ (ت)
تنویر میں ہے :
ویبطل وطن الا قامۃ بمثلہ والاصلی والسفر ۔ واﷲ تعالی اعلم
وطن اقامت وطن اقامت وطن اصلی او ر سفر سے باطل ہو جاتا ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
_________________
حوالہ / References &درمختار باب صلٰوۃ المسافر€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٠٨
&ردالمحتار باب صلٰوۃ المسافر€ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٨٦
&درمختار باب صلٰوۃ المسافر€ ، مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٠٨
#10688 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
مسئلہ : مرسلہ مولوی حافظ امیر اﷲ صاحب مدرس اول مدرسہ عربیہ اکبریہ محرم ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دیہات میں جمعہ جائز ہے یا نہیں اور وہ آبادی جس کی مسجد میں اس کے ساکن نہ سماسکیں شہر ہے یا گاؤں بینوا توجروا
الجواب :
دیہات میں جمعہ ناجائز ہے اگر پڑھیں گے گنہگار ہوں گے او رظہر ذمہ سے ساقط نہ ہوگا۔
فی الدرالمختار فی القنیۃ صلوۃ العید فی القری تکرہ تحریما ای لانہ اشتغال بما لایصح لان المصر شرط الصحۃ انتھی
اقول : فالجمعۃ اولی لانہ فیھا مع ذلك اما ترك الظھر وھوفرض اوترك جماعتہ وھی واجبۃ ثم الصلوۃ فرادی مع الاجتماع وعدم المانع شنیعۃ اخری غیر ترك الجماعۃ فان من صلی فی بیتہ منعز لاعن الجماعۃ فقدترك الجماعۃ وان صلوا
درمختار میں ہے کہ قنیہ میں ہے کہ عید کی نماز دیہاتوں میں مکروہ تحریمی ہے یعنی نہ ایسی شیئ میں مصروف ہونا ہے جو صحیح نہیں کیونکہ شہر کا ہونا صحت عید کے لئے شرط ہے انتہی
اقول : جمعہ بطریق اولی مکروہ تحریمی ہوگا کیونکہ اس جمعہ کی صورت میں ترك ظہر ہوگا جو فرض ہے یا ترك جماعت ہوگا حالانکہ وہ واجب ہے باوجود اجتماع اور عدم مانع کے تنہا نماز ادا کرنا ترك جماعت سے الگ خرابی ہے کیونکہ جو جماعت سے الگ گھر میں نماز ادا کرے گا اس نے جماعت ترك کردی اور ایك وقت میں مسجد میں حاضر
حوالہ / References &درمختار باب العیدین€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۱٤
#10689 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
فرادی حاضرین فی المسجد فی وقت واحد فقد ترکوا الجماعۃ واتوا بھذہ الشنیعہ زیادۃ علیہ فیؤدی الی ثلث مخطورات بل اربع بل خمس لان مایصلونہ لما لم یکن مفترضا علیھم کان نفلا واداء النفل بالجماعۃ والتداعی مکروہ ثم ھم یعتقد ونھا فریضۃ علیھم و لیس کذلك فھذہ خامسۃ وھذان مشترکان بین الجمعۃ والعیدین۔
لوگ تنہا نماز ادا کرتے ہیں تو انھوں نے جماعت ترك کردی اور انھوں نے ایسا عمل کیا جو اس خرابی پر اضافہ ہے پس اب تین بلکہ چار نہیں بلکہ پانچ ممنوعات لازم آجاتے ہیں کیو نکہ جو نماز انھوں نے ادا کی وہ ان پر فرض نہ تھی بلکہ وہ ان پر نفل تھی اور نفل کو جماعت اور تداعی کے ساتھ اداکرنا مکروہ ہے پھر ان کا اسے اپنے فرض ماننا حالانکہ وہ فرض نہیں یہ پانچویں خرابی ہے اوریہ دونوں چیزیں جمعہ اور عیدین کے درمیان مشترك ہیں ۔
صحت جمعہ کے لئے شہر شرط ہے اور شہر کی یہ تعریف کہ جس کی اکبر مساجد میں اس کے سکان جن پر جمعہ فرض ہے یعنی مرد عاقل بالغ تندرست نہ سماسکیں ہمارے ائمہ ثلثہ رحمہم اللہ تعالی سے ظاہر الروایہ کے خلاف ہے اور جو کچھ ظاہر الروایہ کے خلاف ہے مرجوع عنہ اور متروك ہے کما فی البحرالرائق والخیریۃ وردالمحتار وغیرھا ( جیساکہ بحرالرائق خیریہ اور ردالمحتار وغیرہ میں ہے ۔ ت) اور فتوی جب مختلف ہو تو ظاہر الروایہ پر عمل واجب ہے کما فی البحر والدر وغیرھما( جیساکہ بحر اور در وغیرہ میں ہے ۔ ت)
اقول : محقیقین تصریح فرماتے ہیں کہ قول امام پر فتوی واجب ہے اس سے عدول نہ کیاجائے اگر چہ صاحبین خلاف پر ہوں اگر چہ مشائخ مذہب قول صاحبین پر افتا کریں
اللھم الالضعف دلیل اوتعامل مخلافہ نص علی ذلك العلامۃ زین بن نجیم فی البحر و العلامۃ خیرالدین الرملی فی فتاواہ وشیخ الاسلام صاحب الھدایۃ فی التجنیس والمحقق حیث اطلق فی الفتح والسید احمد الطحطاوی والسید الشامی فی حواشی الدر وغیرھم من اجلۃ العلماء الکرام الغرکما بیناہ فی کتاب النکاح من عطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ۔
اے اﷲ ! مگر یہ دلیل کمزور ہو یا عمل اس کے خلاف ہو اس پر علامہ زین بن نجیم نے بحر میں علامہ خیر الدین رملی نے اپنے فتاوی میں شیخ السلام صاحب الہدایہ نے تجینس میں محقق نے فتح میں شریف طحطاوی اور سید شامی نے حواشی در میں اور دیگر علماء اجلہ نے اس پر تصریح کی ہے جیسا کہ ہم نے اسے “ العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ “ کے کتاب النکاح میں بیان کیا ہے ۔ (ت)
تو جہاں قول صاحبین بھی امام ہی کے ساتھ ہے ایك روایت نوادر صرف بوجہ اختلاف فتاوی متأخرین کیونکہ معمول و مقبول اور ائمہ ثلثہ کا ظاہر الروایہ میں جو ارشاد ہے متروك ولائق عدول ہو لاجرم شرح نقایہ و مجمع الانہر میں
#10690 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
تصریح فرمائی ہے کہ شہر کی یہ تعریف محققین کے نزدیك صحیح نہیں کما ستسمع نصہ( جیسا کہ عنقریب اس پر آپ نص سنیں گے۔ ت)
اقول : معہذا ہمارے ائمہ کرام رحمۃ اللہ تعالی علیہ م نے جو اقامت جمعہ کے لئے مصر کی شرط لگائی اس کا ماخذ حضرت مولی علی کرم اﷲ تعالی کی حدیث صحیح ہے جسے ابوبکر بن ابی شیبہ وعبدالرزاق نے اپنی مصنفات میں روایت کیا :
لاجمعۃ ولا تشریق ولا صلوۃ فطر ولا اضحی الافی مصر جامع اومدینۃ عظیمۃ ۔
جمعہ تکبیرات تشریق عیدالفطر اور عید الاضحی خارج شہر یا بڑے شہر میں ہوسکتے ہیں (ت)
ظاہر ہے کہ اس روایت غریبہ کی تعریف بہت سے چھوٹے چھوٹے مزرعوں پر صادق جنھیں کوئی مصر جامع یا مدینہ نہ کہے گا کما ارشار الیہ العلامۃ الطحطاوی فی حاشیۃ العلائی( جیسا کہ علامہ طحطاوی نے حاشیۃ العلائی میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ ت)تو اس کا اختیار اصل مذہب سے عدول اور ماخذ کا صریح خلاف ہے اور گویا مخالفوں کے اس اعتراض کا پورا کرلینا ہے کہ حنفیہ نے یہ شرط بے توقیف شارع اپنی رائے سے لگالی اس کے سوا عند لتحقیق ا سپر بہت اشکال وارد ہیں جن کی تفصیل کو دفتر درکار ہے۔ طرفہ یہ ہے کہ وہ پاك مبارك دو شہر جس کی مصریت پر اتفاق ہے اور ان میں زمانہ اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے جمعہ قائم یعنی مدینہ ومکہ زاد ہما اﷲ تعالی شرفا وتکریما اس تعریف کی بنا پر وہی شہر ہونے سے خارج ہوئے جاتے ہیں ماصرح بہ العلامۃ ابراھیم الحلبی فی الغنیۃ والعلامۃ السید احمد الطحطاوی فی حاشیۃ مراقی الفلاح شرح نور الایضاح ( جس طرح کہ علامہ ابراہیم حلبی نے غنیـہ میں اور علامہ السید احمد طحطاوی نے حاشیہ مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں تصریح کی ہے۔ ت) تو اس کی بے اعتباری میں کیا شبہ ہے ۔ صحیح تعریف شہر کی یہ ہےکہ وہ آبادی جس میں متعدد کوچے ہوں دوامی بازارہوں نہ وہ جسے پیٹھ کہتے ہیں اور وہ پر گنہ ہے کہ اس کے متعلق دیہات گنے جاتے ہوں او ر اس میں کوئی حاکم مقدمات رعایا فیصل کرنے پر مقرر ہو جس کی حشمت وشوکت اس قابل ہو کہ مظلوم کا انصاف ظالم سے لے سکے۔ جہاں یہ تعریف صادق ہو وہی شہر ہے اور وہیں جمعہ جائز ہے۔ ہمارے ائمہ ثلثہ رضی اللہ تعالی عنہم سے یہی ظاہر الروایہ ہے
کما فی الھدایۃ والخانیۃ والظھیریۃ والخلاصۃ والعنایۃ والدرالمختار والھندیۃ وغیرھا۔
جیسا کہ ہدایہ خانیہ ظہریہ خلاصہ عنایہ حلیہ غنیہ درمختار اور فتاوی ہندیہ وغیرہ میں ہے ۔ (ت)
حوالہ / References &مصّنف ابن ابی شیبہ کتاب الصلٰوۃ من قال لاجمعہ الخ€ مطبوعہ داراۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ٢ / ١٠١ ، &مصنف لعبدالرزاق باب القری الصغار€ مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ٣ / ١٦٧
#10691 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
اور یہی مذہب ہمارے امام اعظم کے استاذ اور حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کے شاگرد خاص حضرت امام عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا ہے
کما فی مصنف عبدالرزاق حمد ثنا بن جریج عن عطاء بن ابی رباح قال اذاکنت فی قریۃ جامعۃ فتودی بالصلوۃ من یوم الجمعۃ فحق علیك ان تشھدھا سمعت النداء اولم تسمعہ قال قلت لعطاء مالقریۃ الجامعۃ قال ذات الجماعۃ والامیر والقاضی والدورالمجتمۃ غیرالمفترقۃ الاخذ بعضھا ببعض مثل جدۃ ۔
جیسا کہ مصنف عبدالرزاق میں ہے کہ ہمیں ابن جریج نے حضرت عطاء بن ابی رباح سے بیان کیا کہ جب تم کسی جامع قریہ میں ہوں تو وہاں جمعہ کے لئے اذان ہو تو تم پر جمعہ کے لئے جانا فرض ہے خواہ اذان سنی ہو یا نہ کہتے ہیں میں نے عطا سے پوچھا کہ جامعہ قریہ کون سا ہوتا ہے انہوں نے فرمایا جس میں جماعت امیر قاضی اور متعدد کوچے اس میں ملے جلے ہوں جس طرح جدہ ہے ۔ (ت)
اور یہی قول ۱امام ابوالقاسم صفارتلمیذ التلمیذ امام محمد کا مختار ہے کما فی الغنیۃ( جیسا کہ غنیہ میں ہے ۔ ت) اسی کو ۲امام کرخی نے اختیار فرمایا کما فی الھدایۃ( جیسا کہ ہدایہ میں ہے۔ ت) اسی پر ۳امام قدوری نے اعتماد کی کما فی مجمع الانھر (جیسا کہ مجمع الانہر میں ہے۔ ت) اسی کو ۴امام شمس الائمہ سرخسی نے ظاھر المذھب عندنا ( ہمارے نزدیك ظاہر مذہب یہی ہے ۔ ت) فرمایا کما فی الخلاصۃ( جیسا کہ خلاصہ میں ہے ۔ ت) اسی پر۵ امام علاء الدین سمرقندی نے تحفہ الفقہاء اور ان کے تلمیذ ۶امام ملك العلماء ابوبکر مسعود نے بدائع شرح تحفہ میں فتوی دیا کما فی الحلیۃ( جیسا کہ حلیہ میں ہے ۔ ت) اسی پر ۷امام فقیہ النفس قاضی خاں نے جزم واقتصار کیا کما فی فتاواہ ( جیسا کہ ان کے فتاوی میں ہے۔ ت) اور اسی کو ۸شرح جامع صغیر میں قولك معتمد فرمایا کما فی الحلیۃ والغنیۃ( جیسا کہ حلیہ اور غنیہ میں ہے ۔ ت) اسی کو ۹امام شیخ الاسلام برہان الدین علی فرغانی نے مرجح رکھا کما فی شرح المنیۃ( جیسا کہ شرح منیہ میں ہے۔ ت) اسی کو ۱۰مضمرات میں اصح ٹھہر ایا کما فی جامع الرموز ( جیسا کہ جامع الرموز میں ہے۔ ت) ایسا ہی ۱۱جواہر الاخلاطی میں لکھ کر ھذا اقرب الا قاویل الی الصواب ( اقوال میں سے یہ قول صواب کے زیادہ قریب ہے ۔ ت) کہا کما رأیتہ فیھا ( جیساکہ اس میں مرو ی دیکھا ہے ۔ ت) ایسا ہی ۱۲غیاثیہ میں لکھا کما فی الغنیۃ( جیسا کہ غنیہ میں ہے ۔ ت) اسی کو ۱۳تارتار خانیہ میں
حوالہ / References &المصنف لعبدالرزاق باب القری الصغار€ مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ / ۱۶۸
&غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ€ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص٥٥٠
#10692 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
علیہ الاعتماد ( اسی پر اعتماد ہے ۔ ت) فرمایا کما فی الھندیۃ ( جیسا کہ ہندیہ میں ہے ۔ ت) اسی کا ۱۴غایہ شرح ہدایہ و غنیہ ۱۵شرح منیہ و۱۶مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر ۱۷جواہر و۱۸شرح نقایہ قہستانی میں صحیح کہا اخیر میں ہے یہی قول معمول علیہ ہے اسی کو ۱۹ملتقی الابحر میں مقدم وماخوذ بہ ٹھہرایا اسی پر ۲۰کنز الدقائق و۲۱کافی شرح وافی و۲۲نور الایضاح و۲۳علمگیریہ میں جزم واقتصار کیا قول دیگر کا نام بھی لیا اسی کو ۲۴عنایہ شرح ہدایہ میں علیہ اکثر الفقھاء ( اکثر فقہاء اسی پر ہیں ۔ ت) فرمایا کما فی حاشیۃ المراقی للعلامۃ الطحطاوی ( جیسا کہ علامہ طحطاوی کی مراقی الفلاح کے حاشیہ میں ہے ت) اسی کو ۲۵علامہ حسن شرنبلالی نے شرح نورالایضاح میں اصح وعلیہ الاعتماد( اسی پر اعتماد ہے۔ ت) فرمایا اسی پر ۲۶علامہ سید احمد مصری نے حاشیہ شرنبلالیہ میں اعتماد او رقول آخر کا ردبلیغ کیا اسی پر ۲۷امام ابن الہمام محمد و۲۸علامہ اسمعیل نابلسی و۲۹علامہ نوح آفندی و۳۰علامہ سید احمد حموی وغیر ہم کبرائے اعلام نے بنائے کلام فرمائی شرح کل ذلك یطول ( ہر ایك کی شرح طویل ہے ۔ ت) علامہ ابراہیم حلبی شرح منیہ میں فرماتے ہیں :
الحد الصحیح ما اختارہ صاحب الھدایۃ انہ الذی لہ امیر وقاض ینفذ الاحکام ویقیم الحدود تزییف صدرالشریعۃ لہ عند اعتذارہ عن صاحب الوقایۃ حیث اختار الحد المتقدم ذکرہ بظھور التوانی احکام الشرع سیما فی اقامۃ الحدود فی الامصار مزیف بان المراد القدرۃ علی اقامۃ الحدود علی ماصرح بہ فی التحفۃ الفقھاء عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ انہ بلدۃ کبیرۃ فیھا سکك واسواق ولھا رساتیق وفیہا وال یقدر علی انصاف المظلوم من الظالم بحشمتہ وعلمہ او علم غیرہ یرجع الناس الیہ فیما تقع من الحوادث وھذا ھوالاصح اھ
شہر کی وہ صحیح تعریف جسے صاحب ہدایہ نے پسند کیا ہے یہ ہے کہ وہاں امیر اور قاضی ہو جو احکام نافذ اور حدود قائم کرسکیں اور صاحب وقایہ کے پہلی تعریف کو اختیار کرنے پر ان کی طرف سے صدر الشریعۃ کایہ عذر کرنا کہ احکام شرع خصوصا حدود کے نفاذ میں سستی کا ظہور ہورہا ہے کمزور ہے کیونکہ مراد اقامت حدود پر قادر ہونا ہے جیسے کہ تحفہ الفقہاء میں امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے تصریح ہے کہ وہ شہر کبیر ہو اس میں شاہراہیں بازار اور وہاں سرائے ہوں اور اس میں کوئی نہ کوئی ایسا والی ہو جو ظالم سے مظلوم کو انصاف دلانے پر قادر ہو خواہ اپنے دبدبہ اور علم کی بنا پر یا غیر کے علم کی وجہ سے تاکہ حوادثات میں اس کی طرف رجوع کرسکیں اور یہی اصح ہے اھ (ت)
حوالہ / References &غنیۃالمستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی صلٰوۃ الجمعہ€ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۵۰
#10693 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
ملتقی الابحر ومجمع الانہر میں ہے :
ھوظاہر المذہب علی مانص علیۃ السرخسی وھواختیار الکرخی القدوری وقیل قائلہ صاحب الوقایۃوصدرالشریعۃ وغیرھما مالو اجتمع اھلہ فی اکبر مساجدہ لا یسعھم و ھواختیار الثلجی وانما اوردبصیغۃ التمریض لانھم قالوا ان ھذا الحد غیر صحیح عند المحققین مع ان الاول یکون ملا یما بشرط وجودالسطان ونائبہ ومناسبا لما قالہ الامام رحمہ اﷲ تعالی وفی الغایۃ ھو الصحیح اھ ملخصا ھذا جملۃ الکلام وللتفصیل محل اخر واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
امام سرخسی کے بقول یہی ظاہر مذہب ہے امام کرخی و قدوری کا بھی یہی مختار ہے۔ بعض کے نزدیك یہ صاحب وقایہ اور صدرالشریعۃ وغیرہ کا قول ہے اور شہر کی یہ تعریف ) کہ اگر اس کی بڑی مسجد میں اہل شہر جمع ہوں تو وہ ان کی گنجائش نہ رکھے یہ امام ثلجی کا مختار ہے صیغہ تمریض کے ساتھ وارد کرنے کی وجہ یہ ہے کہ فقہاء نے فرمایا کہ یہ تعریف محققین کے ہاں صحیح نہیں باوجود یکہ پہلی تعریف وجود سلطان اور نائب سلطان کے موافق اور امام نے جو کچھ فرمایا اس کے مناسب ہے اورغایہ میں ہے کہ یہی صحیح ہے اھ ملخصا یہ فی الجملہ گفتگو ہے تفصیل کے لئے دوسرا مقام ہے واﷲ سبحنہ و تعالی اعلم (ت)
مسئلہ : از کلا نور ضلع گورداسپور مرسلہ شیخ مراد علی صاحب صفر ھ
بشرف خدمت باعظمت من مولانہ فیاض دارین حضرت مولوی احمد رضا خاں صاحب مقیم بریلی زاداﷲ فیضانہ بعد السلام علیکم وتمنائے زیارت خدمت شریف میں عرض یہ ہے کہ نماز جمعہ کی فرضیت میں اختلاف چلا آتا ہے اس سے اطمینان حال نہیں بعض عالم فاضل قابل فتوی کے فرماتے ہیں کہ نماز جمعہ کی عین فرض ہے کوئی کوئی امر حالات موجودہ سلطنت سے اس کی فرضیت کا مانع نہیں خالصا بلاشك وشبہ عین فرض یقینا نماز جمعہ پر آمنا وصدقنا سے یقین رکھنا چاہئے اور جو بعد نماز جمعہ کے احتیاطی فرض نماز پیش کے پڑھے جاتے ہیں یہ نہیں پڑھنے چاہئیں اور بعض بعض عالم فاضل لائق فتوی کے بنظر حالات سلطنت دقت کے فرماتے ہیں کہ نماز جمعہ عین فرض تھی مگر اس وقت بوجہ نہ ہونے سلطنت اسلام کے وہ فرضیت جو دراصل تھی اب وہ نہیں رہی نماز جمعہ کی بجائے فرضیت کے بمنزلہ مستحب کے فرماتے ہیں اور فتوی دیتے ہیں کہ نماز جمعہ کی ایك بڑا بھاری رکن اسلام کاہے اس کا ترك اور ان کا مطلقا چھوڑنا اچھا نہیں بہر حال پڑھنا نماز جمعہ ثواب اور اچھا ہے اور ساتھ اس کے
حوالہ / References &مجمع الانہرشرح ملتقی الابحر باب الجمعہ€ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۶۶و۱۶۷
#10694 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
یہ بھی فتوی فرماتے ہیں کہ بعد نماز جمعہ کے احتیاطا نماز سب پیشیں کی معہ فرضوں کے پڑھ لینا ضرور چاہئے اس واسطے جناب میں التماس پیش کیا جاتا ہے کہ جناب اس میں کس طرح فرماتے ہیں آیا مطابق فرقہ علمائے اول کے جو عین فرضیت کافتوی فرماتے ہیں یا برخلاف اس کے اور مطابق فرقہ علمائے گروہ ثانی کے جومستحب فرماتے ہیں اور پیچھے نماز جمعہ کے جملہ نماز پیشیں معہ فرضوں کے احتیاطا پڑھ لینا فرماتے ہیں جناب بالتشریح اسے درخواست کے محاذ پر مفصل حال جو جناب کے فتوی سے بہتر اور اولی ہو تحریر فرمادیں تاکہ ان دونوں فریق کی بحث مختلف سے یك سو اطمینان حاصل ہو فقط ۲۲ ماہ ستمبر ۱۸۹۱ء
الجواب :
اللھم ھدایۃ الحق والصوا ب( اے اﷲ ! حق اور درستی کی رہنمائی فرما۔ ت) اصل فرضیت جمعہ میں کسی کو کلام نہیں کہ وہ نہ صرف مجمع علیہا یا نص قطعی سے ثابت بلکہ اعلی واجل ضروریات دین سے ہے مگر جمعہ باجماع امت مشروط ہے ہماے ائمہ کرام رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین نے جو شرائط اس کے لئے معین فرمائے شك نہیں کہ ان بلاد میں ان کا پورا پورا اجتماع قدرے محل اشتباہ ونزاع معہذا یہا ں عائمہ بلاد میں جماعات جمعہ متعدد ہوتی ہیں اور اگر چہ مذہب مفتی بہ میں تعد دجمعہ مثل عیدین مطلقا جائز اسی پر ۱کنز و۲وافی و۳کافی و۴ ملتقی و۵تنویر و ۶ہندیہ و۷طحاوی و ۸شامی وغیرہا میں اعتماد فرمایا ۹امام اجل مفتی الجن وانس نجم الدین نسفی پھر ۱۰علامہ ابن وہبان نے اپنے منظومہ اور۱۱علامہ یوسف چلپی نے ذخیرۃ العقبی اور۱۲علامہ شرنبلالی نےمراقی الفلاح میں اسی کو قول صحیح امام اعظم وامام محمد رضی اللہ تعالی عنہما بتایا ۱۳شرح وقایہ میں ہے بہ یفتی ( اسی پر فتوی ہے۔ ت) ۱۴شرح المجمع للعلامہ البدر العینی میں ہے : علیہ الفتوی( اسی پر فتوی ہے ۔ ت) ۱۵فتح القدیر میں ہے : علی المفتی بہ ( مفتی بہ قول پر ۔ ت) ۱۶محیط شمس الائمہ سرخسی میں ہے۔ ت) الصحیح وبہ ناخذ ( صحیح ہے اور ہم اسی پر عمل پیر اہیں ت)۱۷تبیین الحقائق و۱۸بحر و فتح و۱۹شرح وہبانیۃ و۲۰منح الغفار و۲۱عقود الدریہ وغیرہا میں ہے : الاصح ( زیادہ صحیح ہے ۔ ت) بحر الرائق و ۲۲درمختار میں ہے : علی المذھب ( مذہب پر ۔ ت) حتی کہ علامہ حسن شرنبلالی و علامہ محمد بن علی علائی وغیر ہما نے قول آخر کے ضعیف ہونے کی تصریح فرمائی مگر عند التحقیق روایت عدم جواز تعدد بھی ساقط نہیں بلکہ مذہب کا باقوت قول ہے ۱امام طحطاوی و ۲تمرتاشی و۳صاحب مختار نے اسی کو اختیار فرمایا ۴امام فقیہ النفس قا ضی خاں نے خانیہ میں اسی کو مقدم رکھا ۵خزانۃ المفتین میں اسی پر اقتصار کیا ۶عتابی و۷ اخلاطی نے اسی کواظہر اور ۸جوامع فقہ میں اظہر الروایتین اور ۹امام ملك العلماء ابوبکر مسعود نے ظاہر الروایہ کہا ۱۰تکملہ رازی میں ہے : بہ ناخذ ( ہم اسی پر عمل پیرا ہیں ۔ ت)۱۱حاوی القدسی میں ہے علیہ الفتوی ( فتوی ایسی پر ہے ۔ ت) بدائع امام ملك العلماء میں ہے ۔ علیہ الاعتماد ( اعتماد اسی پر ہے ۔ ت)۱۲جواہر الاخلاطی
#10695 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
میں ہے ھوالصحیح وھو الاصح وعلیہ الفتوی( یہی صحیح اور یہی اصح اور اسی پر فتوی ہے ۔ ت) آفندی شامی فرماتے ہیں فھوح قول معتمد فی المذھب لا قول ضعیف ( پس یہی یہاں معتمد قول اور مذہب ہے ضعیف قول نہیں ہے ) ان وجوہ کی نظر سے ۱ائمہ مروو ۲اکثر مشائخ بخارا و۳اصحاب امام عبد اﷲ حکم شہید و۴اصحاب امام شیخ ابی عمرو و۵اساتذہ صاحب مختار الفتاوی وغیر ہم جمہور ائمہ دین وعلمائے معتمدین نے ایسی جگہ ان چا رکعت احتیاطی کا حکم دیا اور اسی کی ۶محیط برہانی و ۷فتاوی ظہریہ و ۸فتاوی حجہ و۹واقعات و۱۰مطلب و۱۱مختار الفتاوی و۱۲نہار و۱۳کافی و ۱۴جامع المضمرات و۱۵خزنۃ المفتین و۱۶فتح القدیر و۱۷شرح المجمع و۱۸فتاوی سراجیہ و ۱۹تارتار خانیہ و۲۰حلیہ و۲۱غنیہ و۲۲صغیری و ۲۳مجمع الانہر و۲۴ تیسیر المقاصد و۲۵نہر الفائق و۲۶عالمگیریہ و ۲۷فتاوی صوفیہ و۲۸ خزانۃ الروایات و ۲۹قنیہ و۳۰حاوی و۳۱غرائب و ۳۲فتاوی رحمانیہ و۳۳طحطاوی حاشیہ مراقی الفلاح وغیرہا میں تصریح کی اسی کو ۳۴امام الحسن و۳۵امام تمرتاشی و ۳۶قاضی بدیع الدین و ۳۷محقق ابن جرباش و۳۸ابن الشحنہ و۳۹شیخ الاسلام جد ابن الشحنہ و۴۰علامہ باقانی۴۱ مقدسی و۴۲علامہ ابوسعود و ۴۳محقق شامی و۴۴ جماعت کثیرہ شراح ہدایا و۴۵غیرہا وغیرہم ائمہ وعلماء نے اختیار فرمایا علامہ ابراہیم حلبی نے اسی کو اولی اور امام محمود عینی نے احسن واحوط اور علامہ باقانی نے ھوالصحیح ( یہی صحیح ہے ۔ ت) اور سراجیہ میں ھو حسن ( یہ حسن ہے ۔ ت) اور حجہ ومضمرات وغیرہما میں الصحیح المختار ( صحیح مختار ۔ ت) رکھا ان سب کتب وعلماء کے نصوص فقیر غفر اﷲ تعالی نے اپنے فتاوی میں ذکر کئے یہاں بقدر حاجت صرف دو تین عبارت پر اقتصار ہوتا ہے امام محقق علامہ محمد بن امیر الحاج حلبی حلیہ شرح منیہ میں فرماتے ہیں :
قدیقع الشك فی صحۃ الجمعۃ بسبب فقد بعض شروطھا ومن ذلك مااذا تعدت فی المصر وھی واقعۃ اھل مروفیفعل ما فعلوہ قال المحسن لما ابتلی اھل مرو باقامۃ الجمعۃ فی موضعین مع اختلاف العلماء فی جوازھا امرائمتھم باداء الاربع بعد الجمعۃ حتما احتیاطا ۔
بعض شرائط جمعہ کے فقد ان کی وجہ سے بعض اوقات صحت جمعہ میں شك واقع ہوجاتا ہے ان میں سے ایك یہ ہے کہ شہر میں متعدد جگہ جمعہ ہو اور یہ واقعہ اہل مرو کا ہے لہذا وہی کیا جائے جو اہل مرو نے کیا تھا محسن کہتے ہیں کہ جب جوازجمعہ میں علما کے اختلاف کے باوجود جب اہل مرو نے دو جگہ جمعہ شروع کیا تو ا نھیں ائمہ نے حکم دیاکہ وہ جمعہ کے بعد ضروری طور پر چار رکعت فرض ظہر احتیاطا ادا کریں ۔ (ت)
علامہ ابراہیم حلبی غنیہ شرح منیہ میں فرماتے ہیں :
حوالہ / References &حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی فصل فی صلٰوۃ الجمع € ، & غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی صلٰوۃ الجمعہ€ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص٥٥٢
#10696 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
عن ھذا وعن الا ختلاف فی المصر قالوا فی کل موضع وقع الشك فی جواز الجمعۃ ینبغی ان یصلی اربع رکعات ینوی بھا الظھر فا لا ولی ھوا لاحتیاط لان الخلاف فیہ قوی وکون الصحیح جواز التعدد للضرورۃ للفتوی لایمنع شرعیۃ الاحتیاط للتقوی (ملخصا)
اس اختلاف اور تعریف شہر میں اختلاف کی وجہ سے فقہاء نے فرمایا ہے کہ جس جگہ جواز جمعہ میں شك ہو وہاں ظہر کی نیت سے چار رکعات ادا کرنی چاہئیں تو احتیاط ہی بہتر ہے کیونکہ یہاں بڑا سخت اختلاف ہے او رجمعہ کا ضرورت کے پیش نظر متعدد جگہ پر جواز کے فتوی کا صحیح ہو نا شرعا تقوی کے طور پر احتیاط کے منافی نہیں ۔ (ملخصا) (ت)
امام اجل ظہیر الملۃ والدین مرغینانی اپنے فتاوی میں فرماتے ہیں :
اکثر مشائخ بخارا علیہ للیخرج عن العھدۃ بیقین ۔
مشائخ بخارا کی اکثر یت کی یہی رائے ہے تاکہ ذمہ داری سے عہدہ برآہو جائے ۔ ( ت)
فتاوی سراجیہ میں ہے :
احتاطت الائمۃ فی اکثر البلاد فانھم یصلون الظھر بعد مایؤدون الجمعۃ خلف ثواب ھؤلا ء ھوحسن ۔
اکثر شہروں میں ائمہ احتیاط کرتے ہیں کہ جمعہ کی ادائیگی کے بعد ظہر پڑھتے ہیں ناءبین کے پیچھے جمعہ کی ادائیگی کے بعد اور یہ اچھا ہے ۔ (ت)
ہاں وہ نرے جاہل عامی لوگ کہ تصحیح نیت پر قادر نہ ہوں یا ان رکعات کے باعث راسا جمعہ کو غیر فرض یا جمعہ کے دن دو نمازیں فرض سمجھنے لگیں انھیں ان رکعات کا حکم نہ دیا جائے بلکہ ان کی ادا پر مطلع نہ کیا جائے کہ مفسدہ اشد واعظم کا دفع آکدواہم ان کے لئے اسی قدر بس ہے کہ بعض روایات واقوال ائمہ مذہب پر ان کی نماز صحیح ہوجائے لہذا سیدی نورالدین مقدسی نورالشمعہ میں فرماتے ہیں :
نحن لا نأ مربذلك امثال ھذہ العوام بل ندل علیہ الخواص ولو بالنسبۃ الیھم ۔
ہم اس طرح کے معاملات کا حکم عوام کو نہیں دیتے بلکہ ہم خواص کو اس پر آگاہ کرتے ہیں اگر چہ وہ ان کی نسبت سے ہو ۔
حوالہ / References &غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی صلٰوۃ الجمعہ€ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۵۲
&فتاوٰی امام اجل ظہیر الدین المرغینانی€
&فتاوی سراجیہ باب الجمعۃ€ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ص ۱۷
&نور الشمعۃ€
#10697 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
اس تحقیق سے ظاہر کہ ان بلاد میں مطلقا صحت جمعہ کو قطعی یقینی بلا اشتباہ ماننا افراط اور اقاویل مذہب وخلافیات مشائخ سے غفلت وذہول ہے اور جمعہ کو صرف درجہ مستحب میں جاننا محض باطل وتفریط وقواعہ شرح مقاصد ائمہ سے عدول اگراول حق ہوتا تو احتیاط کی کیا حاجت تھی کہ خروج عنالعہدہ بالیقین ہو لیا او رثانی صحیح ہوتا تو صرف احتیاط ماننے کے کیا معنی تھے بلکہ یقیناظہر فرض قطعی ہوتا ور ایك مستحب کے سبب جماعت ظہر کو کہ علی المعتمد واجب ہے ترك کرنا مکروہ تحریمی معہذا جمعہ مستحبہ نہ شرع سے معمہود نہ کلمات علماء اس کے مساعد پس قول وسط وانصاف یہ ہے ان شہروں میں جمعہ ضرور لازم ہے اور اس کا ترك معاذ اﷲ ایك شعار عظیم اسلام سے اعراض اور ان چار رکعت احتیاطی کا خواص کو حکم اور نافہم عامیوں کے حق میں اغماض ۔ واﷲ سبحنہ تعالی اعلم
مسئلہ : مرسلہ مولوی الہ یار خاں صاحب ذی الحجہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہ جو فتاوی ابوالبرکات میں لکھا ہے لا تجوز الجمعۃ حتی یعلم الخطیب معناہ( جب خطیب خطبہ کے معانی اگاہ نہ ہو جمعہ جائز نہیں ۔ ت) یہ صحیح ہے یا کیا : بینوا توجروا
الجواب :
خطیب کا معنی عبارت خطبہ سمجھنا شرط کیا معنی ہر گز واجب بھی نہیں کہ آثم کہہ سکیں جمعہ ناجائز ہونا تو درکنار اگریہ قول صحیح ہوتا واجب تھا کہ کتب مشہور ہ متداولہ اس کی تصریحوں سے مالا مال ہوتیں ایسا نہایت ضروری مسئلہ جس پر نماز فرض کے صحت وبطلان کا مدار ہو اور متون وشروح وفتاوی کہیں اس کا پتا نہ دیں ہر گز عقل سلیم اسے قبول نہیں کرسکتی ولہذا مجتبی میں جو بہت سی شرائط نیت نمازفرض و نفل میں ذکر کیں جب کا تصانیف معتمدہ میں وجود نہ تھا علماء نے اسی وجہ سے ان کی طرف اصلا التفات نہ فرمایا اشباہ میں ہے :
من الغریب مافی المجتبی لابد من نیۃ العبادۃ والطاعۃ والقربۃ وانہ یفعلھا مصلحۃ لہ فی دینہ وان یکون اقرب الی ماوجب عندہ عقلا عــــہ من الفعل واداء الا مانۃ وابعد
عجیب ہے وہ چیزیں جس کا تذکرہ مجتبی میں ہے کہ نیت عبادت طاعت اورثواب کا ہونا ضروری ہے اوریہ بھی ضروری ہے کہ وہ اسے اپنے دین کی مصلحت کی اور عقلا واجب شدہ عمل اور ادائیگی امانت سے قریب اور حرام شدہ ظلم اور

عــــہ : قلت افصح الذاھدی ھھنا عن اعتزالہ فان الوجوب عنداھل الحق شرعی لاعقلی ۱۲منہ (م)
میں کہتا ہو ں زاہدی نے یہاں اپنے معتزلہ ہونے کا اظہار کیا ہے کیونکہ اہل حق کے نزدیك فعل شرعی ہوتا ہے عقلی نہیں ہوتا ۱۲ منہ (ت)
#10698 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
عما حرم علیہ من الظلم وکفران النعمۃ ثم ھذہ النیات من اول الصلوۃ الی اخرھا خصوصا عند الانتقال من رکن الی رکن ولا بد من نیۃ العبادۃ فی کل رکن والنفل کالفرض فیھا الافی وجہ واحد وھو ان ینوی فی النوافل انھا لطف فی الفرائض و تسھیل لھا اھ ملخصا
کفران نعمت سے بعد کی خاطر کررہا ہے _______ پھر یہ نیت اول نماز سے لے کر آخرتك خصوصا جب ایك رکن سے دوسرے رکن کی طرف انتقال ہو اور ہر رکن میں عبادت کی نیت ضروری ہے اور اس معاملہ میں نفل بھی فرض کی طرح ہے مگر ایك صورت میں اور وہ یہ ہے نوافل میں یہ ارادہ کرے کہ یہ فرائض میں لطف اور ان میں آسانی کے لئے ہیں اھ ملخصا (ت)
غمز العیون میں ہے :
اما الغرابۃ فی کون ھذہ الاشیاء لابدمن نیتھا فان الفقھاء لم یذکروا ذلك فی کتبھم متونا وشروحا وفتاوی اھ
ان اشیاء کی غرابت یہ ہے کہ اس کی نیت کا ہونا ضروری قراردیا گیا ہے حالانکہ فقہاء نے یہ بات اپنی کتب کے متون وشروح اور فتاوی میں کہیں نہیں لکھی اھ (ت)
اور مجتبی اگر چہ مثل سائر تصانیف زاہدی کتب معتمدہ سے نہیں تاہم مشہور مصنف کی مشہور تصنیف ہے جس سے علماء مابعد نے صدہا مسائل نقل فرمائے مگر ایسے ہی نوادر غرائب کے باعث پایہ اعتماد سے ساقط ہوئی پھر بالفرض اگر فتاوی ابوالبرکات کا یہ مطلب ہو بھی تو اس قسم کے فتاوی ایك بات اور وہ بھی اتنی بے ثبات جس پر شروع سے اصلا دلیل نہیں کیونکر ادنی التفات کے قابل ہوسکتی ہے اس میں شك نہیں کہ تدبرمعنی جمال محمود وکمال مقصود ہے مگر فقہائے کرام نے عموما عبادات کے کسی ذکر میں نفس نیت کے سواقلب کاکوئی حصہ ایسا نہیں رکھا جس پر فساد و صحت کی بنا ہو یہاں تك کہ اصل حضور قلب جس کے معنی یہ ہیں کہ صدور فعل وقول پر متنبہ ہو اگر چہ معنی کلام نہ سمجھے یہ بھی صحت نماز کے لئے ضروری نہیں ملتقط وخزانہ وسراجیہ وشرح قیدانی للقہستانی وغمز العیون وردالمحتار وغیرہا میں ہے :
لا یعتبر قول من قال لا قیمۃ لصلوۃ من لم یکن قلبہ فیھا معہ ۔
اس کا قول معتبر نہیں جس نے کہا کہ اس شخص کی نماز کی کوئی قیمت نہیں جس کے ساتھ اس کا دل نہ تھا (ت)
علامہ شامی نے فرمایا :
حوالہ / References &الاشباہ والنظائر الفن الاول قاعدہ ثانیہ€ مطبوعہ ادارۃ القرآن وعلوم اسلامیہ کراچی ١ / ٧٠۔ ٦٩
&غمز عیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر قاعدہ ثانیہ€ مطبوعہ ادارۃ القرآن وعلوم اسلامیہ کراچی ١ / ٧٠
&ردالمحتار باب شروط الصلٰوۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٣٠٧
#10699 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
حضور القلب ھوا لعلم بالعمل بالفعل والقول الصادرین من المصلی وھو غیر التفھم فان العلم بنفس اللفظ غیر العلم بمعنی اللفظ ۔ (ملخصا)
حضور قلب صادر ہونے والے فعل وقول کا علم ہے اور تفہم کا غیر ہے کیونکہ نفس لفظ کاعلم اور اس علم کا غیر ہوتا ہے جو لفظ کے معنی کا علم ہو ۔ (ت)
اور خطبہ جمعہ کا ذکر تذکیر کے لئے مشروع ہونا کما قال تعالی فاسعوا الى ذكر الله ( جیسا کہ اﷲ تعالی نے فرمایا پس اﷲ کے ذکر کی طرف جلدی چلو۔ ت) ہر گز اس دعوی کا مثبت نہیں ہوسکتا جب الفاظ الفاظ ذکر ہں اور اس نے بالقصد انھیں ادا کیا قطعا ذکر متحقق ہوا تدبر معنی پر توقف نہیں ورنہ واجب کہ نماز میں بھی فہم معنی قال تعالی اقم الصلوة لذكری(۱۴) ۔ ( اﷲ تعالی نے فرمایا میرےذکر کے لئے نمازقائم کروں ۔ ت) علاوہ بریں تذکیر سے تذکر زیادہ محتاج فہم وتدبر
مردباید کہ گیرد اندر گوش
ورنوشت ست پند بر دیوار
( انسان کو چاہئے کہ وہ محفوظ کرے اگر چہ نصیحت لکھی ہو دیوار پر )
حالانکہ علماء تصریح فرماتے ہیں کہ مقتدی اگر بہرے یاسوتے یا اس قدر دورہوں کہ آواز نہ جائے مگر وقت خطبہ حاضر ہوں کافی ہے شرط ادا ہوگئی فہم معنی جدا نفس سماع کی بھی ضرورت نہیں ردالمحتار میں ہے :
لا یشترط لصحتھا کونھا مسموعۃ لھم بل یکفی حضورھم حتی لو بعدوا عنہ اونا موا اجزأت۔ ۔
صحت خطبہ کے لئے تمام لوگوں کا سننا ضروری نہیں بلکہ لوگوں کا حاضر ہوجانا کافی ہوگا حتی کہ اگر وہ خطیب سے دور رہے او رسوگئے تب بھی خطبہ ادا ہوجائے گا (ت)
تنویر میں ہے :
ولوصما
( اگر چہ نہ سننے والا ہو۔ ت)
اقول : وباﷲ التوفیق حقیقت امر یہ ہے کہ ہر چندا حکام شرعیہ عموما حکم ومصالح سے ناشی ہوتے ہیں اور مشروعیت خطبہ کی حکمت یہی تذکیر وتذکر ہے مگر حکمت نہیں ہوتی کہ اس کے فقدان سے فساد و بطلان لازم
حوالہ / References &ردالمحتار باب شررط الصلٰوۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۰۷
&القرآن€ ٦٢ / ٩
&القرآن€ ۲۰ / ۱۴
&ردالمحتار باب الجمعہ€ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٩٨
&درمختار باب الجمعہ€ ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۱۱
#10700 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
آئے مثلا شرع نکاح کی حکمت تکثیر امت اور نفس کی عفت کہ مرد عنین وزن رتقا وقرنا میں دونوں اور بحالت عقم اول منقی مگر پھر بھی صحت نکاح میں شہہ نہیں صوم کی حکمت کسر شہوت اور نفس کی ریاضت پھر اگر کسی شخص کے مزاج پر رطوبت غالب اور اس کی وجہ سے شہوتین میں ضعف ہو کہ روزہ اسے نافع و موجب قوت پڑے تو کیا اسے روزے کا حکم دیں گے یا اس کے صوم کا فاسد مانیں گے وقس علی ھذا ( او راس پر قیاس کر ۔ ت) یہ سب کلام اس تقدیر پر ہے کہ عبارت مذکورہ سوال کا وہ مطلب ہو یہ فتاوی فقیر کی نظر سے نہ گزرا کہ سیاق وسباق دیکھ کر تعین مراد کی جاتی مگر جتنے لفظ سائل نے نقل کئے فقیر غفراﷲ تعالی لہ کی رائے میں ان کی عمدہ توجیہ یوں ممکن کہ نیت نام قصد قلبی کا ہے او رقصد شے اس کے علم پر موقوف آدمی جس چیز کو جانتا ہی نہ ہو اس کا قصد محض بے معنی اور کسی شے کا جاننا اسے نہیں کہتے کہ صرف اس کا نام معلوم ہو جس کے معنی ومراد سے ذہن بالکل خالی ہو بلکہ اس کے مفہوم سے اگاہی ضروری ہے مثلا طوطے کو زید کا نام سکھا دیں تو یہ نہ کہیں گے کہ وہ زید کو جانتا ہے اسی لئے علماء فرماتے ہیں اگر کوئی شخص نماز فرض میں فرض کی نیت توکرے مگر یہ نہ جانے کہ فرض کسے کہتے ہیں نماز نہ ہوگی کہ صلوۃ فریضہ میں نیت فرض بھی ضروری تھی جب وہ معنی فرض سے غافل ہے تو لفظ فرض کا خیال ہوا نہ نیت فرض کہ فرض تھی
فی الاشباہ عن العنایۃ انہ ینوی الفریضۃ فی الفرض الخ ثم نقل عن القنیۃ ینوی الفرض ولا یعلم معناہ لا یجزیہ ۔
اشباہ میں عنایہ سے ہے کہ فرض میں فرض ہونے کی نیت کی جائے الخ پھر قنیہ سے منقول ہے کہ اگر فرضوں کی نیت کی لیکن اس کا معنی نہ جانتا تھا تو اب یہ اس کے لئے کافی نہیں ۔ (ت)
جب یہ واضح ہولیا اور معلوم ہے کہ صحت خطبہ کے لئے نیت خطبہ شرط ہے یہاں تك کہ اگر منبر پر جاکر چھینك آئی اور چھینك پر الحمد اﷲ کہا خطبہ ادا نہ ہوا اشباہ میں ہے :
ما النیۃ للخطبۃ فی الجمعۃ فشرط صحتھا حتی لو عطس بعد صعود المنبر فقال الحمد ﷲ للعطاس غیر قاصد لھا لم تصح کما فی فتح القدیر وغیرہ الخ (ملخصا)
خطبہ جمعہ کی نیت صحت خطبہ کے لئے شرط ہے حتی کہ اگر خطیب کو منبر پر چڑھنے کے بعد چھینك آئی اور اس نے الحمداﷲ کہا لیکن خطبہ کی نیت نہ تھی تو یہ خطبہ نہ ہوگا جیسا کہ فتح القدیر میں ہے الخ (ت)
تو لازم ہو اکہ خطیب معنی خطبہ سے آگاہ ہو یعنی یہ جانتا ہو کہ خطبہ ایك ذکر الہی کا نام ہے تاکہ اس کی نیت کرسکے ورنہ
حوالہ / References &الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدہ الثانیہ€ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱ / ۵۹
&الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدہ الاول€ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱ / ۲۹
#10701 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
نام خطبہ جانا بھی اور یہ نہ جانا کہ خطبہ کسے کہتے ہیں بلکہ لوگوں کے دیکھا دیکھی بے سمجھے ایك فعل کردیا تو بیشك نماز جمعہ ادا نہ ہوگی کہ یہ وہی نام خطبہ کا خیال ہوا نہ نیت خطبہ
وقد منا عن الشامی العلم بنفس اللفظ غیر العلم بمعنی اللفظ والشرط انما ھوانیۃ مایعنی من الخطبۃ لا نیۃ لفظ الخطبۃ وھذا ظاھر جدا۔
ہم نے پہلےشامی سے بیان کیا ہے کہ لفظ کا علم اس کے معنی کے علم سے الگ ہے تو شرط اس کی نیت ہے جو خطبہ سے مراد ہے نہ کہ الفاظ خطبہ کی نیت اور یہ نہایت ہی واضح ہے ۔ (ت)
اور جب نیت نہ ہوئی کہ شرط صحت خطبہ تھی خطبہ نہ ہوا اور جب خطبہ نہ ہوا کہ شرط صحت جمعہ تھا جمعہ نہ ہوا جس طرح کوئی شخص لوگوں کو نماز پڑھتے دیکھ کر خود بھی ان کے سے افعال کرے اور معنی نماز سے جاہل ہو یعنی نہ جانے کہ نماز خدا کا ایك فرض ہے کہ بفرض امتثال امر اداکیا جاتا ہے ہر گز نماز نہ ہوگی ۔ اشباہ میں ہے :
لا یعلم ان ﷲ تعالی علی عبادہ صلوۃ مفروضۃ ولکنہ کان یصلیھا لا وقاتھا لم یجزہ ۔
اگرکوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ اﷲ تعالی کیلئے بندوں پر نماز فرض ہے ____ لیکن وہ اوقات نماز میں نماز ادا کرتا ہے تو یہ کافی نہیں ۔ (ت)
یہ معنی ہیں معنی خطبہ نہ جاننے کے نہ یہ کہ جو عبارت پڑھے اس کا ترجمہ سمجھنا ضروری ہے یہ کسی اك بھی مذہب نہیں ھکذا ینبغی التوجیھہ ( عبار ت کی توجہ اسی طرح ہونی چاہئے ۔ ت) واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ۱۲۷۹ : از افضل گڈھ ضلع بجنور مرسلہ یوسف خاں وغیرہ رمضان المبارك ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زید جمعہ کے دن جب خطبہ پڑھتا ہے تو اس کے بعد ترجمہ بھی پڑھتا ہے اس لئے خطبہ ثانیہ میں توقف ہوتا ہے اور خطبہ ثانیہ کے بعد ترجمہ پڑھنے سے نماز میں تاخیر ہوتی ہے تو یہ خطبہ مع ترجمہ بزبان غیر عربی جمعہ یا عیدن کا جائز ہے یا نہیں اور توقف مابین ہر دو خطبہ شرعا جائز ہے اور خطبہ ثانیہ کے بعد تاخیر نماز جمعہ میں ہوگی وہ بھی شرعا جائز ہے بینوا توجروا
الجواب :
ترجمہ کے سبب خطبہ ثانیہ یا نماز جمعہ میں تاخیر فصل اجنبی تو نہیں ہے کہ ترجمہ خطبہ بھی خطبہ ہے اذفیھا ما فیھا من الذکر والتذکیر ( کیونکہ اس میں ذکر و نصیحت ہے ۔ ت) ہاں خطبہ کی تطویل ہوگی اور یہ
حوالہ / References &ردالمحتار€ ، &باب شروط الصلٰوۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٣٠٧
&الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الثانیۃ€ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ١ / ٥٩
#10702 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
خلاف سنت ہے خصوصا اگر مقتدیوں پر ثقیل ہو کہ اب سخت ممانعت ہے۔
لحدیث قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم : افتان انت یا معاذ ! قالہ فی الصلوۃ فکیف فی الخطبۃ ۔
حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ارشاد مبارك ہے اے معاذ! تو فتنہ پیدا کرنا چاہتا ہے یہ آپ نے نماز کے بارے میں فرمایا تھا تو خطبہ میں کیا حال ہوگا۔ (ت)
اور نہ بھی ہو تو خطبہ میں غیر زبان عربی کا خلط خود مکروہ اور سنت متوارثہ کے خلاف ہے کمابیناہ فی فتاونا ( جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں اسے خوب بیان کیا ہے ۔ ت) ہاں عیدین میں خطبہ ثانیہ اگرلوگ راضی ومتوجہ ہوں بہ نیت وعـظ نہ بہ نیت خطبہ عید پند و نصیحت کر سکتا ہے اگر چہ وہی خطبہ میں بزبان عربی مذکور ہوئی۔
فقداتی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بعد خطبۃ العید الی النساء فوعظھن وذکر ھن ۔ واﷲ تعالی اعلم
آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم خطبہ عید کے بعد خواتین کے اجتماع میں تشریف لے جاکر انھیں وعظ ونصیحت فرماتے ۔ (ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۲۸۰ و ۱۲۸۱ : از کلکتہ دھرم تلہ نمبر۶ مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب صفر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
(۱) قلعہ کلکتہ میں دروازوں پر پہرہ چوکی رہتا ہے اور دس پانچ کیا سو پچاس آدمی بغرض سیر جائیں یا دوسری غرض سے مثلا کسی کے ملاقات کو تو کوئی مانع ومزاحم نہیں ہوتا تین چار ہزار مزدور اندر کام کرتے ہیں جو صبح کو بے روك ٹوك اندر جاتے اور باہر آتے ہیں ہاں شب کے ساڑھے نو بجے سے عام لوگ پانچ بجے تك اندر نہیں جاسکتے اند ربازار بھی ہے جوچاہے باہر سے اشیاء خریدنے کو جائے کچھ ممانعت نہیں انگریزی جو تا قلعہ میں عمدہ بنتا ہے اکثر لوگ اس کے خرید نے کو جاتے اور خرید کرلاتے ہیں ہاں یہ قاعدہ ہے کہ باہر سے جو چاہے جو چیز چاہے اند رلے جائے مگر اند رسے بغیر پاس کے کوئی چیز باہر نہیں لاسکتا مسجد اندر نہیں ہے جماعت اذان کے ساتھ ہوتی ہے پیشترکی پلٹن میں مسلمان بکثرت تھے نماز باجماعت ہوتی تھی اب جو پلٹن ہے اس میں ہندو بہت ہیں مسلمان قریب ستر کے ہوں گے انھوں نے کرنیل سے درخواست کی کہ ہم اپنا مولوی نماز پڑھانے کی غرض سے رکھنا چاہتے ہیں اس نےاجازت دی اور انھوں نے رکھ لیا ایك وقت میں ایك مسلمان صاحب نے جو پلٹن کے سپاہیوں میں نہیں بلکہ ایك جرنیل کے ملازم ہیں بعض مسائل میں دوسرے مسلمان سے
حوالہ / References &مسند احمد بن حنبل€ ، &مروی از جابر بن عبداﷲ€ ، مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ / ٢٩
&مشکوٰۃ المصابیح باب صلٰوۃ العیدین الفصل الثانی€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص١٢٦
#10703 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
حجت کی اور مارپیٹ ہوئی کرنیل نے ان تنہا مسلمان کو ان کی جماعت میں شریك ہونے سے ممانعت کردی اور ان سب سے کہہ دیا اگر یہ شخص تمھاری نماز کی جگہ آئے تو اس کو قید کرلو اور ہمارے پاس پہنچادو ایسی حالت میں نماز جمعہ قلعہ کے اندر اداہوجائے گی یا نہیں
() جمعہ کے دو رکعت فرضوں کے سوا کے(کتنے) رکعت نماز سنت پڑھنا چاہئے فرضوں سے پہلے کے رکعت اور بعد فرضوں کے کے رکعت اور احتیاطی ظہر پڑھنے کی ضرورت ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
اللھم ھدایۃ الحق والصواب( اے اﷲ! حق اور صواب کی ہدایت دے ۔ ت) اذن عام کہ صحت جمعہ کے لئے شرط ہے اس کے یہ معنی کہ جمعہ قائم کرنے والوں کی طرف سے اس شہر کے تمام اہل جمعہ کے لئے وقت جمعہ حاضری جمعہ کی اجازت عام ہو تووقت جمعہ کے سوا باقی اوقات نماز میں بھی بندش ہو تو کچھ مضرنہیں نہ کہ صرف رات کے ساڑھے نو بجے سے صبح پانچ بجے تك کتب مذہب میں تصریح ہے کہ بادشاہ اپنے قلعہ یا مکان میں حاضری جمعہ کا اذن عام دے کر جمعہ پڑھے تو صحیح ہے حالانکہ قصرو قلعہ شاہی عام اوقات میں گزرگاہ عام نہیں ہوسکتے کافی شرح وافی میں ہے :
السلطان اذا اراد ان یصلی بحشمہ فی دارہ فان فتح بابھا واذن للناس اذنا عاماجازت صلوتہ شھدتھا العامۃ اولا ۔
بادشاہ اپنے دبدبہ کی وجہ سے اپنے دار میں نماز ادا کرنا چاہتاہو اگر اس دار کا دروازہ کھول دیا جائے اور لوگوں کو وہاں داخل ہونے کا اذن عام ہوگیا تو اس کی نماز درست ہوجائے گی خواہ عوام شریك ہوں یا نہ ہوں (ت)
اور بے پاس کسی چیز کی باہر لانے کی ممانعت تو یہاں سے کچھ علاقہ ہی رکھتی ہے کہ وہ خروج سے منع ہے نہ دخول سے یونہی مزدوروں یا سیر والوں یا خریداروں کو اجازت عام ہونا کچھ مفید نہیں کہ وقت نماز بہر نماز اہل نماز کو اجازت چاہیے اوروں کو ہونے نہ ہونے سے کیا کام اور اذن اگر چہ انھیں لوگوں کا شرط ہے جو اس جمعہ کی اقامت کرتے ہیں ردالمحتار میں ہے : المراد الا ذن من مقیمھا ( جمعہ قائم کرنے کی اجازت مراد ہے ۔ ت)مگر پر ظاہر کہ تحقق معنی اذن کے لئے ا س مکان کا صالح اذن عام ہونا بھی ضرور ورنہ اگر کچھ لوگ قصر شاہی یاکسی امیر کے گھر میں جمع ہو کر اذان واعلان جمعہ پڑھیں اور اپنی طرف سے تمام اہل شہر کو آنے کی اجازت عامہ دے دیں
حوالہ / References &ردالمحتاار بحوالہ الکافی باب الجمعۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٦٠١
&ردالمحتاار بحوالہ الکافی باب الجمعۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٦٠١
#10704 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
مگر بادشاہ امیر کی طرف سے دروازہ پر پہرے بیٹھے ہوں عام حاضری کی مزاحمت ہو تو مقیمین کا وہ اذن عام محض لفظ بے بمعنی ہوگا وہ زبان سے اذن عام کہتے اور دل میں خود جانتے ہوں گے کہ یہاں اذن عام نہیں ہوسکتا ۔ پس مانحن فیہ میں دو باتیں محل نظر رہیں :
اولا اس قلعہ کا صالح اذن عام ہونا یعنی اگرتمام اہل شہر اسی قلعہ میں جمعہ پڑھنا چاہیں تو کوئی ممانعت نہ کرے طحطاوی میں ہے :
لوارادا الصلوۃ داخلھا ودخلوھا جمیعا لم یمنعوا ۔
اگر لوگوں نے قلعہ کے اندر نماز کا ارادہ کرلیا اورتمام اس کے اندر داخل ہوگئے تو انھیں منع نہ کیا جائے ۔ (ت)
اگر ایسا ہے تو بیشك وہ قلعہ صالح اذن عام ہے اور ایسی حالت میں دروازہ پر چوکی پہرہ ہونا کچھ مضر نہ ہوگا کہ پہرا وہی مانع ہے جو مانع دخول ہو ولہذا کافی میں بصورت عدم جواز صرف اجلس البوابین( پہرے دار بیٹھا دیئے۔ ت) نہ فرمایا بلکہ لیمنعوا عن الدخول ( تاکہ دخول سے منع کریں ۔ ت) بڑھایا یونہی رحمانیہ میں محیط سے منقول :
ان اجلس البوابین علیھا لیمنوا عن الدخول لم یجزھم الجمعۃ ۔
اس نے پہرے داروں کو دروازوں پر داخلے سے منع کرنے کے لئے بٹھا دیا تو اب جمعہ جائز نہ ہوگا ۔ (ت)
تو صرف شوکت شاہی یا اس قانون کی رعایت کو کہ بے پاس کوئی اندر سے باہر نہ جائے پہرا ہونا مکان کو صلاحیت اذن عام سے خارج نہیں کرتا اور اگر اجازت سو پچاس یا ہزار دوہزار کسی حدتك محدود ہے جیسا کہ بعض الفاظ سوال سے مستفادہ اگر تمام جماعات شہر جانا چاہیں نہیں جانے دیں گے تو وہ مکان بندش کا ہے اس میں جمعہ نہیں ہوسکتا بدائع میں اشتراط اذن عام کی دلیل میں فرمایا :
یسمی جمعۃ لاجتماع الجماعات فیھا فاقتض ان تکون الجماعات کلھا مأذونین بالحضور اذنا عاما تحقیقا لہ معنی الاسم ۔
جمعہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں تمام جماعتوں کا اجتماع ہوتا ہے اس کا تقاضاہے کہ اس میں تمام جماعتوں کو انے کی اجازت ہو تا کہ نام کے معنی کاثبوت ہو ۔ (ت)
حوالہ / References &طحطاوی علی الدرالمختار باب الجمعۃ€ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ١ / ٣٤٤
&ردالمحتاار بحوالہ الکافی باب الجمعۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۶۰۱
&رحمانیۃ عن المحیط€
&بدائع الصنائع فصل شرائط الجمعۃ€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ١ / ٢٦٩
#10705 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
ثانیا اگر ثابت ہوجائے کہ یہ قلعہ اذن عام کا مکان ہے تو جب تك کسی شخص خاص کو حاضری نماز سے ممانعت نہ تھی جمعہ بیشك صحیح ہوجاتاتھا اب کہ اس ملازم جرنیل کو منع کیا گیا تو محل نظر ہے کہ یہ ممانعت ان مقیمان جمعہ کی طرف سے بھی ہے یا نہیں ۔ اگر یہ اسے جمعہ میں آنے سے منع نہیں کرتے اگر چہ اور نمازوں میں مانع ہوں اگر چہ کرنیل نے اسے جمعہ سے بھی جبرا روکا ہو یا وہ خود بخوف کرنیل نہ آتا ہو تو ان صوتوں میں بھی صحت جمعہ میں شك نہیں کہ جب مقیمین جمعہ کی طرف سے اذن عام اور وہ مکان بھی اذن عام کا صالح تو کسی شخص کو غیرجمعہ سے توروکنا یا جمعہ میں اس کا خود آنا یا کسی کا جبرا اسے بازرکھنا قاطع اذن عام نہیں ہوسکتا جیسے زندانی لوگ کہ ہمیشہ حضوری مساجد سے ممنوع ہوتے ہیں یا اگر کوئی شخص بعض نمازیوں کو خاص وقت نماز اس لئے مقید کرلے کہ مسجد میں نہ جانے پائیں تو نہ یہ قادح اذن عام نہ مقمان جمعہ پر اس کا الزام بلکہ ظاہرا ممانعت کرنیل بھی کوئی اپنی طرف سے حکم جبری نہیں انھیں پلٹن والوں کی خاطر سے ہے اور انھیں کی مرضی پر رکھا ہے جب یہ مزاحمت نہیں کرتے تو کرنیل کو پر خاش سے کیا مطلب اور اگر یہ خود اسے حاضری جمعہ سے بازرکھتے ہیں تو دیکھنا چاہئے کہ وہ شخص فی الواقع شریر ومفسد و موذی ہے کہ اس کے آنے سے اندیشہ فتنہ ہے جب تو ایسی ممانعت بھی مانع صحت جمعہ نہ ہوگی کہ قادح اذن عام سے روکنا ہے۔
کما فی الطحطاوی عن الحلبی لا بدمن حملہ علی مااذامنع الناس من الصلوۃ ۔
جیساکہ طحطاوی میں حلبی سے ہے کہ اسے اس صورت پر محمول کرنا ضروری ہے جب وہ لوگوں کو نماز سے منع کرے۔ (ت)
شرح عیون المذاہب پھر مجمع الانہر پھردر مختار پھر فتح العین علامہ ابو السعود ازہری میں ہے :
واللفظ لہ الجمعۃ بالقلعۃ صحیحۃ وان غلق بابھا لان الاذن العام مقرر لاھلھا وغلقہ لمنع عدو اوعادۃ قدیمۃ لا للمصلی
اس کے الفاظ یہ ہیں کہ قلعہ کے اندر جمعہ درست ہے اگر چہ اس کا دروازہ بند ہو کیونکہ اذن عام اہل قلعہ کےلئے ثابت ہے اور اس کا بند ہونا دشمنوں کے عدم وخول کے لئے ہے یا عادت قدیمہ ہے نمازی کو روکنے کے لئے نہیں ۔ (ت)
اور یہ روکنا درحقیقت نماز سے رکنا نہیں بلکہ فتنہ سے بندش ہے
حوالہ / References &طحطاوی علی الدرالمختار باب الجمعۃ€ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ١ / ٣٤٤
&فتح المعین باب صلٰوۃ الجمعۃ€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ٣١٦
#10706 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
کما فی الشامی عن الطحطاوی لا یضر منع نحو النساء لخوف الفتنہ انتھی۔
اقول : وتعلیلہ بعدم التکلیف معلول بما فی الشامی عن العلامۃ اسمعیل مفتی دمشق الشام تلمیذ المحقق العلائی صاحب الدرالمختار عن العلامۃ عبدا العلی البرجندی شارح النقایۃ ان الاذن العام ان لایمنع احدا ممن تصح منہ الجمعۃ کما لا یخفی فافھم۔
جیسا کہ شامی میں طحطاوی سے ہے کہ عوتوں وغیرہ کو روکنا مضر نہیں کیونکہ ان کے آنے میں فتنہ کا ڈر ہے ۔ انتہی
اقول : یہ علت بیان کرنا کہ وہ مکلف نہیں اس کا تعلق اس بیان سے ہے جو شامی میں مفتی شام جو اسمعیل دمشقی جو محقق علائی صاحب درمختار کے شاگرد ہیں سے شارح نقایہ علامہ عبدالعلی برجندی کے حوالے سے کہا کہ اذن عام یہ ہے کہ ہر اس شخص کو نہ روکا جائے جن سے جمعہ کی ادائیگی صحیح ہو جیسا کہ یہ مخفی نہیں ہے۔ (ت)
علماء خود فرماتے ہیں کہ موذیوں کو مساجد سے روکا جائے ۔
کما فی عمدۃ القاری للامام البدر محمود العینی وفی الرسائل الزینیۃ للعلامۃ زین بن نجیم المصری وفی الدرالمختار یمنع منہ ( ای من المسجد) کل موذولو بلسانہ ۔
جیسا کہ امام بدر محمود عینی کی عمدۃ القاری علامہ زین بن نجیم المصری کے رسائل زینیہ اور درمختار میں ہے کہ (مسجد سے) ہر اذیت دینے والے کو منع کیا جائے اگر چہ وہ زبان سے اذیت دینے والا ہو۔ (ت)
تو یہ روکنا کہ مطابق شرع ہے منافی اذن نہیں اور اگر ایسا نہیں بلکہ یہ لوگ محض ظلما بلاوجہ یا براہ تعصب روکتے ہیں تو بلاشبہ ان کا جمعہ باطل کہ ایك شخص کی ممانعت بھی اذن عام کی مبطل
فقد مرعن الشامی عن اسمعیل عن البرجندی ان لا یمنع احدا۔
پہلے شامی نے شیخ اسمعیل سے برجندی کے حوالے سے لکھا کہ کسی کو منع نہ کیا جائے ۔ (ت)
جامع الرموز میں ہے :
الاذن العام بالصلوۃ بان یفتح باب الجامع اودارلسطان بلا مانع لاحد من
نماز کے لئے اذن عام یہ ہے کہ داخلہ کے لئے بلا رکاوٹ جامع مسجد یا دار سلطان کا دروازہ
حوالہ / References &ردالمحتار باب الجمعۃ€ مطبوعہ دارالکتب العربیہ مصطفی البابی مصر ١ / ٦٠١
&ردالمحتار باب الجمعۃ€ مطبوعہ دارالکتب العربیہ مصطفی البابی مصر ١ / ٦٠٠
&درمختار باب مایفسد الصلٰوۃ الخ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۴
#10707 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
الدخول فیہ اھ ھذا کلہ مما اخذتہ تفقھا من کلما تھم وارجو ان یکون صوابا ان شاء اﷲ تعالی ۔
کھول دیا جائے اھ اور یہ تمام فقہاء کی عبارات سے میں نے سمجھا ہے اور ان شاء اﷲامید ہے کہ یہ صواب ہے۔ (ت)
دس سنتیں ہیں چار پہلے چار بعد ہی منصوص علیھن فی المتون قاطبۃ وقد صح بھن الحدیث فی صحیح مسلم ( ان کے چار ہونے پر متون میں قطعا تصریح ہے اور صحیح مسلم میں ان کے بارے میں صحیح حدیث بھی وارد ہے ۔ ت)اور دو بعد کو اور کہ بعد جمعہ چھ سنتیں ہونا ہی حدیثا وفقھا اثبت واحوط (مختارومحتاط حدیث وفقہ کے اعتبار سے ۔ ت) مختار ہے اگر چہ چار کہ ہمارے ائمہ میں متفق علیہ ہیں ان دو سے مؤکد تر ہیں ۔
لحدیث ابوداؤ دبسند صحیح والحاکم وصححہ علی شرط الشیخین عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما انہ کان اذاکان بمکۃ فصلی الجمعۃ تقدم فصلی رکعتین ثم تقدم فصلی اربعا( وفیہ) فقال کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یفعل ذلک ھذا مختصر وتمام الکلام علیہ فی الفتح والامام الطحطاوی فی شرح معانی الاثار عن ابی عبدالرحمن السلمی قال قدم علینا عبد اﷲ (یعنی ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ) فکان یصلی بعد الجمعۃ اربعا فقدم بعدہ علی رضی اﷲ تعالی عنہ فکان اذا صلی الجمعۃ صلی بعدھا رکعتین واربعا فاعجبنا فعل علی رضی اﷲ تعالی عنہ فاخترناہ ۔ فی فتح ابوالسعود الازھر تحت قول مسکین قال ابویوسف رحمہ اﷲ
ابو داؤد میں سند صحیح کے ساتھ حدیث ہے حاکم نے تخریج کرکے کہا کہ بخاری و مسلم کے شرائط پر ہے ______ کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کے بارے میں ہے کہ جب مکہ میں تھے جمعہ ادا فرمایا تو آگے بڑھے دو رکعات ادا کیں پھر آگے بڑھے تو چار رکعت ادا کیں ( اور اسی میں ہے) فرمایا رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اسی طرح کیا کرتے تھے۔ یہ مختصر ہے اور اس پر تمام گفتگو فتح میں ہے امام طحطاوی شرح معانی الآثار میں ابو عبدالرحمان السلمی کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداﷲ ( ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ ) ہمارے ہاں تشریف لائے توآپ نے جمعہ کے بعد چار رکعات ادا کیں اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ تشریف لائے اور آپ کا طریقہ تھا کہ جمعہ بعد پہلے دو رکعات پھر چار رکعات اداکرتے ہمیں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کافعل نہایت ہی پسند آیا
حوالہ / References &جامع الرموز فصل صلٰوۃ الجمعۃ€ مطبوعہ مکتبہ السلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۲۶۵
&سنن ابوداؤد باب الصلٰوۃ بعد الجمعۃ€ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ١ / ١٦٠
&شرح معانی الآثار باب التطوع بعد الجمعۃ€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ٢٣٣
#10708 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
تعالی السنۃ بعد صلوۃ الجمعۃ ست رکعات اھ وبہ اخذ الطحطاوی واکثر المشائخ نھر عن عیون المذاھب التجنیس اھ فی الجواھر الاخلاطی ھو ما خوذ عن القاضی واخذ بہ اکثر المشائخ وھوا المختار اھ فی مجمع الانھر بہ اخذ الطحطاوی واکثر المشائخ منا وبہ یعمل الیوم اھ فی البحر الرائق فی الذخیرۃ والتجنیس وکثیرمن مشائخنا علی قول ابی یوسف وفی منیۃ المصلی والا فضل عندنا ان یصلی اربعا ثم رکعتین اھ فی الغنیۃ الافضل ان یصلی اربعا ثم رکعتین للخروج عن الخلاف اھ
تو ہم نے اسی کو اختیار کرلیا فتح ابوسعود ازہری میں مسکین کے قول کے تحت ہے امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا : جمعہ کے بعد چھ رکعات ہیں اھ اسے طحاوی اور اکثر مشائخ نے مختار کہا ہے۔ نہر نے عیون المذاہب اور تجنیس کے حوالے سے بیان کیا ہے۔ جواہر اخلاطی میں ہے کہ یہ قاضی سے ماخوذ ہے اھ اکثر مشائخ نے اسی پر عمل کیا اور یہی مختار ہے اھ مجمع الانہر میں ہے کہ طحاوی اور اکثر مشائخ نے اسی پر عمل کیا اور آج اسی پر عمل کیا جاتا ہے اھ بحر الرائق میں ہے کہ ذخیرہ اور تجنیس میں ہے کہ مشائخ کی اکثریت امام ابویوسف کے قول پر ہے منیۃ المصلی میں ہے کہ ہمارے نزدیك کے قول پر ہے ۔ منیۃ المصلی میں ہے کہ ہمارے نزدیك افضل یہی ہے کہ پہلے چار اور پھر دو رکعات ادا کی جائیں اھ غنیہ میں ہے کہ اختلاف سے بچنے کے لئے افضل یہی ہے کہ پہلے چار اور پھر دو رکعات ادا کی جائیں اھ (ت)
اور عام لوگوں کو احتیاطی ظہر کی کچھ ضرورت نہیں کما فصلنا فی فتاونا ( جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں اسےتفصیلا بیان کیا ہے ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از بٹھورہ کلاں پر گنہ ضلع پیلی بھیت مرسلہ شیخ سالار بخش جمادی الاولی ھ
کیا فرما تے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعد نمازجمعہ چار رکعت فرض ظہر مثل نفل یعنی چاروں رکعتوں میں سورت ملا کر پڑھنا چاہئے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
وہ شہر وقصبات جن میں شرائط جمعہ کے اجتماع میں اشباہ واقع ہو یا جمعہ متعدد جگہ ہوتا ہو اور آج کل
حوالہ / References &فتح المعین باب الوتر والنوافل€ مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۲۵۳
&جواہر الاخلاطی فصل فی الجماعت غیر€ مطبوعہ قلمی نسخہ ص۴۲
&مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب الوتر والنوافل€ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١ / ١٣٠
&بحرالرائق باب الوتر والنوافل€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۴۹
&غنیہ المستمل فصل فی النوافل€ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۸۹
#10709 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
ہندوستان کے عام بلاد ایسے ہی ہیں ایسی جگہ ہمارے علمائے کرام نے حکم دیا ہے کہ بعد جمعہ چار رکعت فرض احتیاطی اس نیت سے ادا کرے کہ پچھلی وہ ظہر جس کا وقت میں نے پایا اور اب تك ادا نہ کی یہ چار رکعتیں چاروں سنت بعد یہ جمعہ کے بعد پڑھے اور جس پر ظہر کی قضائے عمری نہ ہو وہ چاروں میں سورت بھی ملائے پھر جمعہ کی دو سنتیں ان رکعتوں کے بعد بہ نیت سنت وقت ادا کرے جمعہ پڑھتے وقت نیت صحیح وثابت رکھے جمعہ کو صحیح سمجھ کر خاص فرض جمعہ کی نیت کرے اگر بہ نیت فرض ادا نہ کیا تو جمعہ یقینا نہ ہوگا اور اب یہ چار رکعتیں نری احتیاطی نہ رہیں گی بلکہ ظہر پڑھنی فرض ہوجائے گی اور جب یوں نیت صحیحہ سے ادا کرچکا تو ان چار رکعتوں میں یہ نیت نہ کرے کہ آج کی ظہر پڑھتا ہوں بلکہ وہی گول نیت رکھے کہ جو پچھلی ظہر میں نے پائی اور ادا نہ کی اسے اداکرتا ہوں خواہ وہ کسی دن کی ہو اس سے زیادہ خیالات پریشان نہ کرے یوں پڑھنے میں یہ نفع پائے گا کہ اگر شاید علم الہی میں بوجہ فوت بعض شرائط جمعہ صحیح نہ ہوا ہوگا تو یہ رکعتیں آج ہی کی ظہر ہوجائیں گی کہ اس صورت میں یہی ظہر وہ پچھلی ہے جس کا وقت اسے ملا اور ابھی ذمہ سے ساقط نہ ہوئی اور اگر جمعہ صحیح واقع ہوا تو آج سے پہلے کی جو ظہر اس کے ذمہ رہی ہوگی (خواہ یوں کہ سرے سے پڑھی ہی نہ تھی یا کسی وجہ سے فاسد ہوگئی ) وہ ادا ہوجائے گی اور اگر کوئی ظہر نہ رہی ہوگی تو یہ رکعتیں نفل ہوجائیں گی اسی لحاظ سے جس پر قضائے عمری ظہر کی نہ ہو یہ چاروں رکعتیں بھری پڑھیں کہ اگر نفل ہوئیں اور سورت نہ ملائی تو واجب چھوٹ کر نماز مکروہ تحریمی ہوگی ہاں جس پر قضائے عمری ہے اسے پچھلی دو میں سورت ملانے کی حاجت نہیں کہ اس کے ہرطرح فرض ہی ادا ہوں گے جمعہ نہ ہوا تو آج کے اور ہواتو آج سے پہلے کے یہ سب تفصیل واقع کے اعتبار سے ہے نمازی کو نیت میں اس شك وتردد کا حکم نہیں کہ نیت وتردد باہم منافی ہیں اگر یونہی مذبذب نیت کی تو وہ مقصود واحتیاط ہر گز حاصل نہ ہوگا لہذا اسی طرح گول نیت سے بے خیال تردد بجالائے اور واقع کا معاملہ علم الہی پر چھوڑدے پھر ایسی تصحیح نیت نرے جاہلوں کو ذرا دشوار ہے اور ان سے یہ بھی اندیشہ کہ اس کے سبب کہیں یہ نہ جاننے لگیں کہ جمعہ سرے سے خدا کے فرضوں میں ہی نہیں سمجھنے لگیں کہ جمعہ کے دن دوہرے فرض ہیں دو رکعتیں الگ چار الگ اسی لئے علماء نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کو ان رکعتوں کا حکم نہ دیا جائے ان کے حق میں یہی بہت ہے کہ بعض روایات پر ان کی نماز ٹھیك ہوجائے انھیں ایسی احتیاط کی حاجت نہیں ہاں خواص یعنی جو لوگ اس طرح کی نیت کرسکتے ہوں اور ان سے وہ اندیشے نہ ہوں وہ یہ احتیاط بجالائیں تا کہ یقینا فرض خدا ادا ہوجائے اور شبہ و احتمال کی گنجائش نہ رہے فقیر اپنے فتاوی میں یہ مسئلہ مفصل ومدلل لکھ چکا ہے یہاں صرف دوتین عبارات پر اقتصار ہوتا ہے فتاوی علمگیری میں ہے :
فی کل موضع وقع الشك فی جواز الجمعۃ لوقوع الشك فی المصرا وغیرہ واقام اھلہ
ہر وہ مقام جہاں پر جمعہ ہونے یا نہ ہونے میں شك کی وجہ سے جواز جمعہ میں شك ہوجائے وہاں جمعہ کے بعد
#10710 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
الجمعۃ ینبغی ان یصلوا بعد الجمعۃ اربع رکعات وینووا بھا الظھر حتی لو لم تقع الجمعۃ موقعھا یخرج عن عھدۃ فرض الوقت بیقین کذافی الکافی وھکذافی المحیط ثم اختلفوا فی نیتھا قیل ینوی اخرظھر علیہ وھو الاحسن والاحوط ان یقول نویت اخرظھر ادرکت وقتہ ولم اصلہ بعد کذا فی القنیۃ وفی فتاوی آھ و ینبغی ان یقرء الفاتحہ والسورۃ فی الاربع التی تصلی بعد الجمعۃ فی دیارنا کذا فی التاتار خانیۃ ۔
چار رکعات بہ نیت ظہر ادا کی جائیں تاکہ اگر جمعہ نہ ہوا تو وقتی فرض کی ادائیگی بالیقین ہوسکے الکافی اور محیط میں بھی اسی طرح ہے پھر ان رکعات کی نیت کے بارے میں اختلاف ہے بعض نے کہا کہ وہ ارادہ کرے کہ وہ اپنے ذمے آخری ظہر ادا کررہا ہے اور یہی احسن ہے اور احوط یہ ہے کہ یوں ارادہ کرے میں آخری ظہر پڑھ رہا ہوں جس کا وقت میں نے پایا اور اسے ابھی تك ادا نہیں کیا جیسا کہ قنیہ میں ہے اور فتاوی آہو میں ہے کہ ہمارے علاقے میں جمعہ کے بعد جو چار رکعات پڑھی جاتی ہے ان میں فاتحہ اور سورت پڑھنی چاہئے جیساکہ تاتار خانیہ میں ہے۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
قد یقع الشك فی صحۃ الجمعۃ بسبب فقد بعض شروطھا ومن ذلك مااذا تعددت فی المصروھی واقعۃ اھل مروفیفعل ما فعلوہ وقال المحسن امرائمتھم باداء الاربع بعد الجمعۃ حتما احتیاطا ۔
بعض شرائط جمعہ کے فقدان کی وجہ سے بعض اوقات صحت جمعہ میں شك ہوجاتا ہے ان میں سے ایك یہ ہے کہ جب شہر میں متعدد جگہ جمعہ ہو اور اہل مرو کا واقعہ ہے پس وہاں وہی کچھ کیا جائے گا جو انھوں نے کہا محسن نے کہا کہ انھیں ائمہ نے احتیاطا حتمی طور پر جمعہ کے بعد چار رکعات ادا کرنے کا حکم دیا۔ (ت)
طحطاوی میں ہے :
قال الحلبی الاولی ان یصلی بعد الجمعۃ سنتھا ثم الاربع بھذہ النیۃ ثم رکعتین سنۃ الوقت فان صحت الجمعۃ
حلبی کہتے ہیں کہ اولی یہ ہے کہ جمعہ کے بعد اس کی سنن ادا کرے پھر اس نیت سے چار رکعات پھر وقتی سنتیں دو کعات ادا کرے پس اگر اب جمعہ صحیح ہوا تو اس
حوالہ / References &فتاوٰی ہندیۃ الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعہ€ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ۱۴۵
&حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی€
#10711 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
کان قد ادی سنتھا علی وجھہا والا فقد صلی الظھر مع سنتہ ابوالسعود
کی سنن اپنے طریقے پر ہوئیں اور اگر جمعہ نہ ہوا تو اس نے ظہر سنن کے ساتھ ادا کرلی ابوالسعود ۔ (ت)
مراقی الفلاح میں ہے :
بفعل الاربع مفسدۃ اعتقادالجھلۃ عدم فرض الجمعۃ اوتعدد المفروض فی وقتھا ولایفتی بالاربع الا الخواص یکون فعلھم ایاھا فی منازلھم اھ وبمثلہ صرح المحققون الآمرون کالمقدسی وغیرہ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ان چار رکعات کی ادائیگی جاہل لوگوں کے اعتقاد میں فساد برپا کرے گی کہ جمعہ فرض ہے یا نہیں یا ایك ہی وقت میں متعدد فرائض ہوسکتے ہیں لہذا چار رکعات ظہر کا فتوی صرف خواص کے لئے ہے اور ان کا فعل ( رکعات کی ادائیگی) بھی اپنے گھروں میں ہوگی اھ اسی کی مثل اس کا حکم دینے والے محققین مثلا امام مقدسی وغیرہ نے کہا ہے (ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۲۸۳ تا۱۲۸۹ : از فیروز پور ڈاکخانہ شاہی ضلع بریلی مرسلہ شیخ فضل حسین صاحب رجب ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
() حنفی اگر بعض اقوال امام شافعی رحمۃ اﷲعلیہ کے اختیار کرلیں جو دربارہ ترقی عبادت ہوں جائز ہے یا نہیں مثلا اگر دیہات میں جمعہ پڑھنا بقول امام شافعی جائز ہو وے اور بدیں حکم حنفی پڑھیں تو جائز ہوگا یا ناجائز اور ناجائز ہونے کی صورت میں لائق مواخذہ کے ہوں گے یا صرف فرض ظہر ان کے ذمہ باقی رہے گا
() اگربنظر شبہ ناجواز بعد پڑھنے جمعہ کے چار رکعات دیگر بدیں نیت کہ اگر جمعہ ناجائز ہو ایہ رکعتیں فرض ظہر میں شمار ہوجائیں ورنہ نفل رہیں بدیں خیال کہ روز قیامت فرائض میں جو کمی ہوگی سنا ہے کہ وہ سنن ونوافل سے پوری کی جائے گی پڑھنا کفایت کرے گا یا نہیں اور یہ بات اکثر جگہ رواج میں ہے یہ رواج جائز ہے یا نہیں
() یہ بات مشہور ہے کہ نہ پڑھنے سے پڑھنا اولی ہے کہ ضعف اسلام کا وقت ہے جمعہ پڑھنے کے واسطے
حوالہ / References &حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار باب الجمعۃ€ مطبوعہ دارالفکر بیروت ١ / ٣٤١
&مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب الجمعۃ€ مطبوعہ نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی ص ٧٦۔ ۲۷۵
#10712 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
لائق کہنے کے ہے یا نہیں
() حاکم یا قاضی یابادشاہ یا نائب کا موجود ہونا جومشروط ہے اور وہ شرط ہندوستان میں کہیں میسر نہیں پھر آخر جمعہ پڑھا جاتا ہے اور ایك شرط پر لحاظ نہیں کیا جاتا ایساہی اگر بعض شرائط “ حوالی شہر یا آبادی مساوی منی “ نہ لحاظ کیا جائے تو گنجائش ہے یا نہیں
(۵) جن دیہات میں جمعہ پڑھا جاتا ہے اور وہاں کی ابادی کم ہے کہ شہریت ا س کو حاصل نہیں وہاں کے لوگوں کو اگر جمعہ پڑھنے سے باز رکھا جائے اور کہا جائے کہ فرض ظہر تمھارے ذمہ سے ساقط نہیں ہوتا جائز ہوگا یا ناجائز درحالیکہ وہ جمعہ پڑھنے دوسری جائز جگہ پر جانے والے نہ ہوں ۔
(۶) یہ جو علماء لکھتے ہیں کہ جس بستی کے مسلمان مکلف وہاں کی بڑی مسجد میں نہ سماویں وہاں جمعہ جائز
ہے یہ مردم شماری دیہہ سے مراد ہے یا تعداد نمازیوں سے اندرون مسجد سے یا مع صحن مسجد
() جماعت میں بقول بعض ائمہ علاوہ دو آدمی اور بقول بعض چالیس آدمی لکھے ہیں مالا بدمنہ میں اگر موجب اس کے چالیس آدمی سے کم میں جمعہ پڑھا جائے تو جائز ہوگا یا ناجائز بینوا توجروا۔
الجواب :
() حتی الامکان چاروں مذہب بلکہ جمیع مذاہب ائمہ مجتہدین کی رعایت ہمارے علماء بلکہ سب علماء مستحب لکھتے ہیں مگر اس کے ساتھ ہی علمائے کرام تصریح فرماتے ہیں کہ یہ اسی وقت تك ہے کہ اپنے مذہب کے کسی مکروہ کا ارتکاب نہ ہو ورنہ ایسی رعایت کی اجازت نہیں ۔
فی ردالحتار فـــ لیس لہ ان یرتکب مکروہ مذھبہ لیراعی مذھب غیرہ کما مر تقریرہ اول الکتاب ۔
ردالمحتار میں ہے کہ غیر کے مذہب کی رعایت کرتے ہوئے اپنے مذہب کے مکروہ کا ارتکاب جائز نہیں جیسا کہ اس پر کتاب کی ابتداء میں تفصیلا گزر چکا ہے ۔ (ت)
جب مکروہ کے سبب یہ حکم تو امر حرام وناجائز کے لئے کیونکر اجازت ہوسکتی ہے دیہات میں جمعہ پڑھنا خود ناجائز ہے۔
فی الدرالمختار تکرہ تحریما ای لانہ اشتغال بما لا یصح لان المصر شرط الصحۃ ۔
درمختار میں ہے کہ یہ مکروہ تحریمی ہے کیونکہ یہ ایسے کام میں مشغول ہوناہے جو صحیح نہیں کیونکہ شہر کا ہونا شرط صحت ہے۔ (ت)
حوالہ / References &ردالمحتار مطلب فی ندب مراعاۃ الخلاف الخ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۰۹
&درمختار باب العیدین€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٤
&فـــ€ : ردالمحتار میں یہ عبارت بالمعنی مذکور ہے بالفاظہ مذکور نہیں ۔
#10713 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
پھر اس کے سبب جماعت ظہر ترك ہونا دوسرا گناہ اور ہر گناہ قابل مواخذہ اور اگر ظہر نہ پڑھی جب تو خود نماز فرض معاذ اﷲ عمدا ترك کی فرض کا ذمہ پر رہ جانا کیا کوئی ہلکی بات ہے والعیاذ باﷲ تعالی ( اﷲ تعالی کے دامن رحمت میں پناہ لیتا ہوں ۔ ت)
() یہ نیت کہ اگر جمعہ نہ ہوا تو فرض ورنہ نفل ہر گز کفایت نہ کرے گی کہ جمعہ نہ ہوا تو فرض ظہر ذمہ پر باقی ہے اور فرض کی نیت میں تعیین شرط ہے شك وتردد کافی نہیں
فی التنویر لابد من التعیین عندالنیۃ لفرض ولو قضاء وواجب ۔
تنویر میں ہے کہ نیت کے وقت فرض وواجب کی تعیین ضروری ہے خواہ وہ قضا ہو۔ (ت)
بلکہ اشباہ کی جگہ یہ کرے کہ جمعہ پڑھتے وقت عزم وجزم کے ساتھ جمعہ کی نیت کرے پھر چار سنت بعد یہ بہ نیت سنت وقت پڑھے پھر یہ چار رکعت احتیاطی اس نیت سے ادا رکرے کہ پچھلی وہ ظہر جس کا وقت میں نے پایا اور ادا نہ کی پھر دو سنتیں بہ نیت سنت وقت پڑھے اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ جمعہ صحیح ہوگیا تو چار فرض جو اس نے پڑھے پہلے کسی ظہر کی قضا دانستہ یا نا دانستہ جو اس کے ذمہ رہ گئی تھی اس میں محسوب ہوجائیں گی اور کوئی قضا نہ تھی تو نفل ہوں گی اور اگر جمعہ نہ ہوا تو یہ فرض خود آج ہی کی ظہر کے مع سنت قبلیہ وبعدیہ بترتیب ادا ہوجائیں گے یہ اس طریقہ کی منفعت ہے نہ یہ کہ نیت میں یوں شك وتردد کرے یوں ہرگز فرض ادا نہیں ہوسکتے تو وہ مقصود احتیاط کہاں حاصل ہوا ان رکعتوں کا رواج جواز کیا بلکہ ایسے مواقع میں علماء نے حکم دیا ہے مگر ان جاہلوں کونہیں جو نیت صحیح نہ کرسکیں یا ان کے باعث جمعہ کے دن دوہرے فرض سمجھنے لگیں ولہذا علماء فرماتے ہیں عوام جاہلوں کو ان کا حکم نہ دیا جائے علمگیری میں ہے :
ینوی اخرظھر علیہ وھوا لاحسن
(جو اس پر آخری ظہر ہے اس کی نیت کرے اور یہی احسن ہے۔ ت)
مراقی الفلاح میں ہے :
لا یفتی بالاربع الا الخواص
( چار رکعت ظہر کا فتوی صرف اور صرف خواص کے لئے ہے ۔ ت)
حوالہ / References &درمختار باب شروط الصلٰوۃ€ ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ٦٧
&فتاوی ہندیۃ الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعۃ€ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ١٤٥
&مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب الجمعۃ€ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۲۷۶
#10714 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
مگر یہ اس جگہ کے لئے ہے جو شہر یا فناء شہر ہو اور تعددجمعہ وغیرہ وجوہ کے سبب صحت جمعہ میں اشتباہ ہو گاؤں میں جمعہ اصلا جائز نہیں تو وہاں اس کی اجازت نہیں ہوسکتی کہ ایك ناجائز کام کریں اور ان چار رکعت احتیاطی سے اس کی تلافی چاہیں ۔
() اور ضعف اسلام کا عذر قابل سماعت نہیں ضعف تو یوں ہی ہے کہ اکثر اہل اسلام کو جائز نا جائز کی چنداں پروا نہ رہی نہ کہ وہ ناجائز جسے عبادت سمجھ کر بجا لائیں رونق اسلام اتباع احکام میں ہے نہ بے قیدی میں ۔
والذنب یجرالی الذنب والقلیل یدعو الی الکثیر ومالنا الافتاء الابالمذھب وقد قال العلماء فی عدۃ مسائل فی المذھب لا یفتی بھا کیلا یتوصل العوام الی ھدم المذھب فکیف بما لیس من المذھب فی شیئ وباﷲ العصمۃ۔
گناہ دوسرے گناہ کی طرف کھینچتا ہے قلیل کثرت کی دعوت دیتا ہے اور ہم جو مذہب ہے اسی پر فتوی دیتے ہیں متعدد ایسے مسائل جو مذہب پرہیں لیکن علماء نے فرمایا کہ ان پر فتوی نہ دیا جائے تاکہ عوام مذہب کو ختم کرنے پرنہ تل جائیں تو اس مسئلہ کا کیا معاملہ ہے جو مذہب سے تعلق نہ رکھتا ہے اور عصمت اﷲ تعالی ہی کے لئے ہے۔ (ت)
(۴ ۵ ) اور سلطان یا اس کے مامور وماذون کا اقامت جمعہ کرنا اگر چہ ایسی شرط ہے کہ ہنگام ضرورت ساقط ہوجاتی ہے مگر شرط مصر کا اس پر قیاس نہیں کہ غیر مصر میں اقامت جمعہ خود شرع مطہر نے ضرور نہ ٹھہرائی بلکہ وہاں عدم اقامت ہی ضرور ہے تو اس شرط کے سقاط میں ضرورت کے کیا معنی غرض دیہات میں جمعہ کی ہر گز اجازت نہیں ہوسکتی فرض ظہر ذمہ سے ساقط نہ ہوگا
فی الشامی عن القہستانی عن الجواھر لو صلوا فی القری لزمھم اداء الظھر ۔
شامی نے قہستانی سے انہوں نے جواہر سے نقل کیا کہ اگر لوگوں نے دیہاتوں میں جمعہ ادا کیا تو وہاں ظہر کی ادائیگی لازم ہوگی۔ (ت)
(۶) بعض علماء نے جویہ روایت اختیار کی ہے اس میں بستی کی مردم شماری مقصود نہیں بلکہ خاص وہ لوگ جن پر جمعہ فرض ہے یعنی مرد عاقل بالغ آزاد مقیم کہ اندھے لنجھے لولے یا ایسے ضعیف یا مریض نہ ہوں کہ جمعہ کی حاضری سے معذور ہوں ایسے معذوروں یا بچوں عورتوں غلاموں مسافروں کی گنتی نہیں اور
حوالہ / References &ردالمحتار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۹۰
#10715 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
پوری مسجد مع صحن مراد ہے نہ کہ فقط اندر کا درجہ
فی التنویر ھو مالا یسع اکبر مساجدہ اھلہ المکلفین بھا فی الشامی عن الطحطاوی عن القھستانی احترزبہ عن اصحاب الاعذار مثل النساء و الصبیان والمسافرین ۔
تنویر میں ہے شہر وہ ہے جس کی سب سے بڑی مسجد شہر کے مکلفین کے لئے ناکافی ہو شامی میں طحطاوی سے اور وہاں قہستانی سے ہے کہ لفظ مکلفین سے معذورین کو خارج کیا ہے مثلا خواتین بچے اور مسافر ۔ (ت)
() ہمارے امام رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیك صحت نماز جمعہ کے لئے امام کے سوا تین مرد عاقل بالغ درکار ہیں اس سے کم میں جائز نہیں زیادہ کی ضرورت نہیں ۔
فی التنویر والجماعۃ اقلھا ثلثۃ رجال سوی الامام ۔ واﷲ تعالی اعلم
تنویر میں ہے جماعت کے لئے امام کے علاوہ کم از کم تین مردوں کا ہونا ضروری ہے ۔ (ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۲۹۰ : ۶ رمضان المعظم ۱۳۱۱ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خطیب کے سامنے جو اذان ہوتی ہے متقدیوں کو اس کا جواب دینا اور جب دو خطبوں کے درمیان جلسہ کرے مقتدیوں کو دعا کرنا چاہئے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
ہر گز نہ چاہئے یہی احوط ہے ۔ ردالمحتار میں ہے :
اجابۃ الاذان ح مکروھۃ نھر الفائق ۔
اس وقت اذان کا جواب دینا مکروہ ہے ۔ نہر الرائق (ت)
پھر درمختار میں ہے :
ینبغی ان لا یجیب بلسانہ اتفاقا فی الاذان بین یدی الخطیب ۔
خطیب کے سامنے دی جانے والی اذان کا جواب بالاتفاق نہیں دینا چاہئے۔ (ت)
حوالہ / References &درمختار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ١ / ١٠٩
&ردالمحتار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۹۰
&درمختار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ١ / ١١١
&ردالمحتار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٦٠٧
&درمختار باب الاذان€ مطبوعہ مجتبائی دہلی بھارت ١ / ٦٥
#10716 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
اسی میں ہے :
اذا خرج الامام من الحجرۃ ان کان والا فقیامہ للصعود فلا صلوۃ ولا کلام الی تمامھا وقالا لاباس بالکلام قبل الخطبۃ وبعدھا واذاجلس عند الثانی والخلاف فی کلام یتعلق بالاخرۃ اماغیرہ فیکرہ اجماعا وعلی ھذا فالتر قیۃ المتعارفۃ فی زماننا تکرہ عندہ والعجب ان المرقی ینہی عن الامر بالمعروف بمقتضی حدیثہ ثم یقول انصتوا رحمکم اﷲ اھ ملخصا
جب امام حجرہ سے نکلے اگر حجرہ ہو ورنہ جب و ہ منبر پر چڑھنے کے لئے کھڑا ہو تو تمام خطبہ تك نہ نماز ہے اور نہ ہی کلام صاحبین کہتے ہیں کہ خطبہ سے پہلے اوراس کے بعد گفتگو میں حرج نہیں اور امام ابویوسف کے نزدیك جب امام بیٹھے اس وقت بھی کلام میں کوئی حرج نہیں اور اختلاف اس گفتگو میں ہے جو آخرت سے متعلق ہو لیکن اس کے علاوہ گفتگو تو بالاتفاق مکروہ ہے اس بناء پر ہمارے زمانہ میں متعارف ترقیہ ( ان اﷲ وملئکتہ یصلون علی النبی الخ) ( خطیب کے منبر پر بیٹھتے وقت پڑھنا) امام اعظم کے نزدیك مکروہ ہے اور تعجب ہے کہ ترقیہ پڑھنے والا امر بالمعروف سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی حدیث کی وجہ سے روکتا ہے اور پھر خود کہتا ہے خاموش رہو اﷲ تعالی تم پررحم کرے اھ ملخصا (ت)
ہاں یہ جواب اذن یا دعا اگر صرف دل سے کریں زبان سے تلفظ اصلا نہ ہو کوئی حرج نہیں کما افادہ کلام علی القاری وفروع فی کتب المذھب( جیسا کہ علی قاری نے تحریر فرمایا اور اس کی تفصیلات کتب مذہب میں ہیں ۔ ت) اور امام یعنی خطیب تو اگر زبان سے بھی جواب اذن دے یا دعا کرے بلا شبہ جائز ہے ۔
وقد صح کلام الامر ین عن سید الکونین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی صحیح البخاری وغیرہ۔
صحیح البخاری وغیرہ میں سیدالکونین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے دونوں معمول ملتے ہیں ۔ (ت)
یہ قول مجمل ہے وتفصیل المقام مع نھایۃ الغایۃ وازالۃ الاوھام فی فتاونا بتوفیق الملك العلام(ا س مقام کی تفصیل ہم نے بتوفیق ملك العلام نہایت تحقیق کے ساتھ اپنے فتاوی میں بیان کردی ہے ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از بلگرام ضلع ہردوئی محلہ میدانپورہ مرسلہ حضرت سید ابراہیم صاحب رمضان المبارك ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خطبہ جمعہ میں بسم اﷲ الرحمن الرحیم بآواز بلند کہنا چاہئے یا باخفا اور اگر بآواز بلند کہے تو کچھ حرج تو نہیں بینوا تو جروا
حوالہ / References &درمختار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مجتبائی دہلی بھارت ١ / ١١٣
#10717 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
الجواب :
نہ بآواز نہ باخفا بلکہ تنہا اعوذ آہستہ پڑھ کر حمد الہی سے شروع کرے
فی الدر المختار یبدأ بالتعوذ سرا فی ردالمحتار قولہ یبدأ ای قبل الخطبۃ الاولی بالتعوذ سرا ثم بحمد اﷲ تعالی والثناء علیہ۔ واﷲ تعالی اعلم
درمختار میں ہے کہ آہستہ تعوذ پڑھ کر خطبہ شروع کرے ردالمحتارمیں ہے ماتن کا قول یبدأ یہ ہے کہ پہلے خطبہ سے پہلے آہستہ اعوذ باﷲ کہے اس کے بعد اﷲ تعالی کی حمد وثنا کرے۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ : از کلکتہ دھرم تلہ نمبر۶ مرسلہ جناب غلام قادر بیگ صاحب رمضان المبارك ھ
کیا فرما تے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خطبہ جمعہ میں جو اردو قصائد متضمن وعظ و نصیحت پڑھے جاتے ہیں یہ شرعا کیسا ہے اور عوام کا یہ عذر کہ عربی ہماری سمجھ میں نہیں آتی لہذا اردو کی ضرورت ہے قابل قبول ہے یا نہیں بینوا تو جروا۔
الجواب :
یہ امر خلاف سنت متوارثہ مسلمین ہے اور سنت متوارثہ کا خلاف مکروہ قرنا فقرنا اہل اسلام میں ہمیشہ خالص عربی میں خطبہ معمول ومتوارث رہا ہے اور متوارث کا اتباع ضرور ہے۔ درمختار میں ہے : لان المسلمین توارثوہ فوجب اتباعھم ( یہ مسلمانوں کا توارث ہے جس کی اتباع لازم ہے۔ ت) زمانہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم میں بحمد اﷲ ہزار ہا بلاد عجم فتح ہوئے۔ ہزاروں عجمی حاضر ہوئے مگر کبھی منقول نہیں کہ انھوں نے ان کی غرض سے خطبہ غیر عربی میں پڑھا یا اس میں دوسری زبان کا خلط کیا ہو
وکل ماوجد مقتضیہ عینا مع عدم المانع ثم ترکوہ دل علی انھم کفواعنہ فکان الدناہ الکراھۃ۔
ہر وہ شیئ جس کا مقتضی پایا جائے اور کوئی مانع بھی نہیں پھر اس کو ترك کردینا اس پر دال ہے کہ اسے چھوڑا گیا ہے تو کم از کم یہ عمل مکروہ ضرور ہوگا ۔ (ت)
عوام کا یہ عذر جب صحابہ کرام کے نزدیك لائق لحاظ نہ تھا اب کیوں مسموع ہونے لگا بات یہ ہے کہ شریعت مطہرہ
حوالہ / References &درمختار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١١
&ردالمحتار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۹۸
&درمختار باب العیدین€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٧
#10718 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
نے علم سیکھنا سب پر واجب کیا ہے۔ عوام کہ نہیں سمجھتے سبب یہ ہے کہ سیکھتے تو قصور ان کا ہے نہ کہ خطیب کا آخری عوام قرآن مجید بھی تو نہیں سمجھتے کیا ان کے لئے قرآن اردو میں پڑھا جائے ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۹۳ : از شہر پوربندں ملك کا ٹھیاواڑ محلہ ڈیڈروڈ مسؤلہ کھتری عمر ابوبکر صاحب ۲۰جمادی الاولی ۱۳۳۲ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں خطیب کو وقت خواندگی خطبہ عصا ہاتھ میں لینا سنت ہے یا نہیں فقط
الجواب :
خطبہ میں عصا ہاتھ میں لینابعض علماء نے سنت لکھا اور بعض نے مکروہ اور ظاہر ہے کہ اگر سنت بھی ہو تو کوئی سنت مؤکدہ نہیں تو بنظر اختلاف اس سے بچنا ہی بہتر ہے مگر جب کوئی عذر ہو
وذلك لان الفعل اذا تردد بین السنیۃ والکراھۃ کان ترکہ اولی ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
وہ اس لئے کہ جب فعل کے سنت اور مکروہ ہونے میں شك ہو تو اس کا ترك بہتر ہوتا ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ : مرسلہ مولوی الہ یار خاں صاحب ذی الحجہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جمعہ وعیدین میں پورا خطبہ اشعار عربی وفارسی و ہندی میں پڑھنا اور اشعار کا داخل کرنا درست ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
شعر کی نسبت حدیث میں فرمایا وہ ایك کلام ہے جس کا حسن حسن اور قبیح قبیح یعنی مضمون پر مدار ہے اگراچھا ذکر ہے شعر بھی محمود او ربراتذکرہ ہے تو شعر بھی مذموم بحور عروض پر موزوں ہوجانا خواہی نحواہی قبح کلام کا باعث نہیں اگر چہ اس میں انہماك واستغراق تام متکلم کے حق میں شرع کو ناپسند
اخرج البخاری فی الادب المفرد والطبرانی فی المعجم الاوسط وابو یعلی عن عبداﷲ بن عمر وبن العاص رضی اﷲ تعالی عنھما وھذا والدارقطنی عن ام المؤمنین
امام بخاری نے ادب المفرد میں طبرانی نے معجم اوسط میں اور ابویعلی نے حضرت عبداﷲ بن عمر وبن عاص رضی اللہ تعالی عنہما سے ابو یعلی اور دار قطنی نے ام المومنین حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہما اور
#10719 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنھا والامام الشافعی عن عروۃ بن الزبیر رضی اﷲ تعالی عنھما مرسلا قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم :
الشعر بمنزلۃ الکلام فحسنہ کحسن الکلام وقبیحہ کقبیح الکلام قال المناوی اسنادہ حسن ۔
امام شافعی نے حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہما سے مرسلا روایت کیاہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
شعر دوسرے کلام کی طرح ہی ہے اچھا شعر اچھے کلام اور برا شعر برے کلام کی طرح ہوتا ہے ۔ امام مناوی نے کہا کہ اس روایت کی سند حسن ہے ۔ (ت)
خود حضور پر نور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ تعالی عنہ کے لئے منبر بچھاتے وہ اس پر کھڑے ہو کر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی حمد وثنا ومفاخرت کا خطبہ بلیغہ اشعار میں پڑھتے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ارشاد فرماتے یہ جب تك اس کام میں رہتا ہے اﷲ تعالی جبرئیل سے اس کی مدد فرماتا ہے
اخرج الامام البخاری فی الجامع الصحیح عن ام المومنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنھا قالت کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یضع لحسان بن ثابت منبرا فی المسجد یقوم علیہ قائما یفاخر عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اوینا فح ویقول رسول اﷲ صلی تعالی علیہ وسلم ان اﷲ یؤید حسان بروح القدس مانافح اوفاخر عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔
امام بخاری نے الجامع الصحیح میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا کہ رسول خدا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپنے صحابی حسان بن ثابت کے لئے مسجد میں منبر بچھواتے اور وہ منبر پر کھڑے ہو کر آپ ـ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی مدح کرتے اور کفار کی طرف سے کئے ہوئے حملوں کا جواب دیتے پھر رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے کہ جب تك حسان ( رضی اللہ تعالی عنہ ) اﷲ کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تعریف اور دفاع کرتے ہیں اﷲ تعالی ان کی روح القدس کے ذریعے مدد وتائد فرماتا ہے۔ (ت)
حوالہ / References &الادب المفرد باب الشعر حسن الخ نمبر€ ٣٨٢ &حدیث€ ٨٦٥ مطبوعہ المکتبہ الاثریہ سانگلا ہل شیخوپورہ ص٢٢٣ ، &الجامع الصغیر مع فتح القدیر بحوالہ معجم اوسط وادب مفرد عن ابن عمرو ابو یعلٰی عن عائشہ€ ٤ / ١٧٥
&فیض القدیر شرح الجامع الصغیر بحوالہ الہیثمی€ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ٤ / ١٧٥
&مشکوٰۃ المصابیح بحوالہ البخاری باب البیان والشعر€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص٤١٠ ، &سنن ابوداؤد کتاب الادب€ مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ٢ / ٦٨٤
#10720 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
سیدی عارف باﷲ امام اطریقین شیخ الشیوخ شہابف الحق والدین سہروردی قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں :
ماکان منہ یعنی من الشعر فی المذھد ولمواعظ والحکم وذم الدنیا والتذکیر بالاء اﷲ ونعت الصالحین وصفۃ المتقین ونحو ذلك مما یحمل علی الطاعۃ ویبعد عن المعصیۃ محمود الخ
ہر وہ شعر اچھا ہے جو زہد وعظ حکمت ونیا کی مذمت اﷲ تعالی کی نعمتوں کو یادلانے والا یا صالحین ومتقین کی صفت وتعریف وغیرہ پر مشتمل ہو جوانسان کو اﷲ تعالی اور اس کے رسول کی اطاعت پر ابھارتا ہے ہو یا گناہ سے دور کرتا ہو الخ (ت)
تو اگر خطبہ جمعہ یا عیدین میں احیانا دو چار عربی اشعار حمد ونعت وعظ وتذکیر وذم دنیا ومدح عقبی کے پڑھے جائیں کوئی مانع نہیں بلکہ خود اشد الامۃ فی امراﷲ امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے خطبہ میں بعض اشعار پڑھنا مروی
فقد اخرج العسکری فی المواعظ عن ابی خالد الغمسانی قال حدثنی مشیخۃ من اھل الشام ادرکوا عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالی عنہ قالوا لما استخلف صعد المنبر فلما رأی الناس اسفل منہ حمد اﷲ ثم کان اول کلام تکلم بہ بعد الثناء علی اﷲ وعلی رسولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ھون علیك فان الامور : : بکف الالہ مقادیرھا ٭ فلیس باتیك منھیھا ٭ولا قاصر عنك مامورھا ٭ ذکرہ العلامۃ ابراھیم بن عبداﷲ الیمنی المدنی فی الباب اسابع عشرمن کتاب القول الصواب
شیخ عسکری نے المواعظ میں ابو خالد الغسانی سے نقل کیا کہ مجھے اہل شام کے بزرگوں نے بتایا کہ ہم نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کو دیکھا کہ جب امیر المومنین رضی اللہ تعالی عنہ خلیفہ ہوئے منبر پر تشریف لے گئے لوگوں کو اپنے سے نیچا دیکھ کر حمدالہی بجالائے پھر ثنائے خدا ونعت مصطفی جل جلالہ و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بعد پہلا کلام جو زبان پر لائے یہ اشعار تھے جن کا حاصل یہ کہ اپنے اوپر نرمی کر کہ سب کاموں کے اندازے اﷲ عزوجل کے دست قدرت میں ہیں جو مقدر نہیں وہ تیرے پاس آنے کانہیں اور جو مقدر ہے وہ تجھ سے کمی کرنے کا نہیں اسے علامہ ابراہیم بن عبداﷲ یمنی مدنی نے
حوالہ / References &کتاب عوارف المعارف ملحق احیاء لعلوم€ مطبوعہ مطبعۃ اشہدا القاہرۃ ص١٠٩
&القول الصواب فی فضل عمر بن الخطاب الباب السابع عشر€
ف : اعلٰحضرت نے شیخ کے حوالے سے عبارت نقل کی کسی کتاب کا ذکر نہیں کیا ، مجھے اصل عبارت نہیں مل سکی ، البتہ سعی بسیار کے بعد اس عبارت کی مؤید عبارت عوارف المعارف سے ان الفاظ کے ساتھ ملی ہے ، &فان کان من القصائد فی ذکر الجنۃ والنار والتشویق الی دارالقرار ووصف نعم الملک الجبار وذکر لعبادات و الترغیب فی الخیرات فلاسبیل الی الانکار€ '' ۔ نذیر احمد
#10721 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
فی فضل امیر المؤمنین عمر بن الخطاب من کتابہ الاکتفاء فی فضل الاربعۃ الخلفاء۔
اپنی کتاب القول الصواب فی فضل امیر المومنین عمر بن الخطاب کے سترھویں باب میں الاکتفاء فی فضل الاربعۃ الخلفاء سے نقل کیا ہے۔ (ت)
مگر ان خطبوں کا تمام وکمال نظم ہی میں پڑھنا نہ چاہئے کہ بلاوجہ کلمات مسنونہ سے اعراض بلکہ طریقہ متوارثہ کی تغیر ہے اور نظم خالص خطبہ میں ترك سنت تلاوت کو مستلزم جس کی کراہت کلمات علماء میں مصرح امداد الفتاح شرح نورالایضاح علامہ حسن شرنبلالی میں ہے :
فی المحیط یقرأفی الخطبۃ سورۃ من القران اوایۃ فالا خبارقد تواترت ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یقرأ القران فی خطبتہ لاتخلوعن سورۃ اوایۃ ۔
محیط میں ہے کہ خطبہ میں قرآنی سورت یا اس کی آیت پڑھی جائے کیونکہ بنی اکر م صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا خطبہ قرآنی سورت یا کسی آیت قرآنی سے خالی نہ ہوتا۔ (ت)
علامہ طحطاوی نے حاشیہ شرح تنویر میں خطبہ ثانیہ کی نسبت فرمایا :
یزید فیھا الدعا للمومنین والمومنات بدل الوعظ فی الاولی ولا یعظ فیہا ویسن قرأۃ ایۃ فیھا کذا فی البحر عــــہ ۔
پہلے خطبہ میں وعظ کے بدلے دوسرے میں مومنین اور مومنات کے لئے دعا کا اضافہ کیا جائے اس میں وعظ نہ ہو اور اس میں قرأت آیت سنت ہے جیسا کہ بحر میں ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
یسن خطبتان بجلسۃ بینھا وتارکھا
دو خطبے درمیان میں جلسہ کے ساتھ سنت ہیں اس

عــــہ : اقول : ذکرہ فی البحر استظھارا من قول التجنیس والمزید الثانیۃ کالا ولی الخ فلیتنبہ منہ (م)
میں کہتا ہوں بحر میں تجنیس والمزید کے قول کو ظاہر قرار دیتے ہوئے ذکر کیا کہ دوسرا خطبہ پہلے کی طرح ہے پس غور کرنا چاہئے منہ (ت)
حوالہ / References &ردالمحتار بحوالہ امداد الفتاح باب الجمعہ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٩٨
&حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار باب الجمعہ€ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ١ / ۳٤٣
#10722 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
مسئی علی الاصح کترکہ قرائۃ قدر ثلث ایات اھ ملخصا قلت وبقولہ قدر الخ دخل ایۃ طویلۃ تکون قدر ثلث فاند فح ما اورد فی ردالمحتار وعلیك بما علقناہ عــــہ ۔
دو خطبے درمیان میں جلسہ کے ساتھ سنت ہیں اس جلسہ کو ترك کرنا اصح قول کے مطابق گناہ ہے جیسے کہ تین آیات کی مقدار قرأت کا ترك کرنا گناہ ہے اھ ملخصا قلت ان کے قول “ قدر الخ “ سے طویل آیت بھی شامل ہو جاتی ہے جو تین آیات کے برابر ہو لہذا ردالمحتار میں جواعتراض ہوا اس کا ازالہ بھی ہوجائے گا آپ پر اس حاشیہ کا مطالعہ نہایت مفید ہے جو ہم نے اس (ردالمحتا) پر لکھا ہے ۔ (ت)

عــــہ : قال العلامۃ الشامی ای یکرہ الا قتصار فی الخطبۃ علی نحو تسبیحۃ وتھلیلۃ مما لایکون ذکر اطویل قدر ثلث ای ات او قدر التشھد الواجب ولیس المرادان ترك قرائۃ ثلث ای ات مکروہ لان المصرح بہ فی الملتقی والمواھب ونورالایضاح وغیرھا ان من السنن قرائۃ آیۃ اھ وکتب علیہ مانصہ اقول بل ہومفادصریح اللفظ ولوکان المراد ما اولتم بہ لقال کترکہ قرائۃ ثلث ایات وھذا اشبہ بالتبد یل منہ بالتاویل ولایرید الشارح ثلث ایات عینا حتی یرد علیہ ماذکر تم وانما قدرھا فادخل ایۃ او ای تین
علامہ شامی نے کہا یعنی خطبہ میں صرف ایك تسبیح اور تہلیل کے برابر جو تین آیات یا تشہد واجب کے برابر نہ ہو تو مکروہ ہے۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ تین آیات کا ترك مکروہ کیونکہ ملتقی اور مواہب اور نورالایضاح وغیرہ میں تصریح کی گئی ہے کہ ایك آیت کا پڑھنا سنت ہے اھ میں نے ا س پر حاشیہ لکھا جس کی عبارت یہ ہے اقول بلکہ یہ تو صریح لفظ کا مفاد ہے اور اگر آپ کا تاویل شدہ مقصد ہوتا تو یوں کہتے ( تین آیات کے ترك کی طرح مکروہ ہے) تاویل کے ذریعہ تبدیلی کی جائے یہ صریح مفاد بہتر ہے حالانکہ شارح کا مقصد خاص تین آیات مراد نہیں تاکہ آپ کا ذکر کردہ اعتراض وارد ہو بلکہ انھوں نے تو قدرھا کا لفظ کہا ہے اور ایك اور دو ایسی آیات کو بھی(باقی بر صفحہ ائندہ)
حوالہ / References &درمختار باب الجمعہ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١١
&ردالمحتار باب الجمعہ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٩٨
#10723 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
یوں ہی زبان عجمی کا داخل خطبہ کرنا مناسب نہیں کہ زمانہ صحابہ وتابعیں وائمہ دین سے خطبہ خاص زبان عربی میں ہونا متوارث ہے کما ذکر الشاہ ولی اﷲ الدھلوی فی شرح الموطا(جیسا کہ شاہ ولی اﷲ الدہلوی نے شرح موطا میں اس کا ذکر کیا ہے ۔ ت) عہد سلف میں بحمد اﷲ ہزارو ں بلاد عجم فتح ہوئے ۔ ہزارہا منبر نصب کئے گئے عامہ حاضرین اہل عجم ہوتے مگر کبھی منقول نہیں کہ سلف صالح نے ان کی تفہیم کے لئے خطبہ جمعہ یا عیدین غیر عربی میں پڑھا یا اس میں دوسری زبان کا خلط کیا اور سنت متوارثہ کی مخالفت بیشك مکروہ ہے ۔ درمختار میں فرمایا :
ان المسلمین ماتوارثوہ فوجب اتباعھم اھ ای ثبت وتأکد اقول : وتحقیقہ ان التذکیر بالعجمیۃ لما کان المقتضی لہ بعینہ موجودا والمانع مفقود اثم لم یفعلوا کان ذلك کفا منھم لاترکا والکف فعل والفعل یجری فیہ التوارث بخلاف الترك اذلامعنی لتوارثہ ولا مساغ للتأسی فیہ لانہ غیر مفعول بل ولا مقدور کما نص علیہ الاکابر الصدور قال فی الاشباہ والنظائر التروك لا یقترب
جو مسلمانوں میں متوارث ومنقول ہو اس کی اتباع لازم ہوتی ہے اھ یعنی وہ ثابت اور موکد ہو تا ہے اقول : اس کی تحقیق یہ ہے کہ عجمی زبان میں وعظ ونصیحت کا تقاضابنفسہ موجود تھا اور مانع مفقود پھر بھی انھوں نے ایسا نہیں کیا تو یہ ان کی طرف سے چھوڑنا ہے ترك نہیں چھوڑنا فعل ہے اور فعل میں توارث جاری ہوتاہے بخلاف ترك کے کہ اس میں توارث کا مفہوم ہی نہیں ہوسکتا اور اس میں اقتدا کا کوئی جواز ہی نہیں ہو سکتا کیونکہ اس پر عمل ہی نہیں ہوا بلکہ وہ قدرت میں

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
بقدر ثلث وھو مراد من قال ایۃ بدلیل مافی الھندیۃ عن الجوھرۃ مقدارما یقرأ فیھا من القران ثلث ایات قصار اوایۃ طویلۃ اھ فالتام الکلمات و حصحص الحق و الحمدﷲ ۔ منہ
شامل کیا جو تین آیات کے برابر ہوں اور ایك آیت کہنے والے کی بھی یہی مراد ہے اس کی دلیل یہ ہے جو ہندیہ نے جواہرہ سے نقل کیا ہے کہ خطبہ میں جو قرآن پڑھا جائے اس کی مقدار تین چھوٹی آیات یا ایك طویل آیت ہے اھ پس علماء کے کلمات موافق ہوگئےء اور حق واضح ہوگیا الحمد ﷲ منہ (ت)
حوالہ / References &درمختار باب العیدین €مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ١ / ١١٧
&فتاوٰی ہندیۃ الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعۃ €مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۴۷
#10724 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
بھا الا اذاصارا لترك کفاھو فعل وھو المکلف بہ فی النھی لا الترك بمعنی العدم لانہ لیس داخلا تحت القدرۃ للعبد کما فی التحریر اھ یعنی تحریرا لاصول للامام المحقق حیث اطلق رحمہ اﷲ تعالی اتقن ھذا فانہ من اجل المھمات۔
نہیں جیسا کہ اس پر اسلاف اکابر نے تصریح کی الاشباہ والنظائر میں ہے کہ تروك سے تقرب حاصل نہیں کیا جاسکتا البتہ اس صورت میں جب ترك چھوڑنے کی صورت میں ہو تو وہ فعل ہوگا اور نہی میں یہی مکلف بہ ہے نہ کہ ترك بمعنی عدم کیونکہ اس معنی میں وہ عبد کی قدرت کے تحت داخل نہیں ہوتا جیسا کہ تحریر میں ہے اھ ۔ تحریر سے مراد امام مطلق محقق کی کتاب تحریرالاصول ہے اسے مضبوطی سے حاصل کرو کیونکہ یہ نہایت ہی ضر وری مقام ہے (ت)
بااینہمہ اگر خطبہ عربیہ کے ساتھ کچھ اشعار پند ونصائح اردو میں پڑھے جائےں جیسا کہ آج کل ہندوستان میں اکثر جگہ معمول ہے تو غایت اس کی بس اس قدر کی خلاف اولی ومکروہ تنزیہی ہے اس سے زیادہ مکروہ تحریمی و گناہ وممنوع وبدعت سیءہ قرار دینا محض بے دلیل ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نابالغ کا خطبہ جمعہ پڑھنا اور نماز غیر خطیب کا پڑھانا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
غیر خطیب کا نماز پڑھانا اولی نہیں
فی تنویر الابصار ولا ینبغی ان یصلی بالقوم غیر الخطیب وھکذا فی الفتاوی عالمگیریۃ ناقلا عن الکافی۔
تنویر الابصار میں ہے کہ غیر خطیب کا قوم کو نماز پڑھانا مناسب نہیں اسی طرح فتاوی عالمگیری میں کافی سے منقول ہے ۔ (ت)
اور اگر نابالغ خطبہ پڑھے اور بالغ نماز پڑھائے تو اس میں اختلاف ہے عالمگیری میں ناقلا عن الزاھدی ( زاہدی سے منقول ہے ۔ ت) خطیب کا صالح امامت جمعہ ہونا شرط ٹھرایا اور نابالغ صالح امامت نہیں تو اس کا خطبہ پڑھناناجائز اور فرض اس سے ساقط نہ ہوگا
عبارتھا ھذہ واما الخطیب فیشترط فیہ ان یتاھل للامامۃ فی الجمعۃ
اس کی عبارت یہ ہے خطبہ دینے والے کے لئے یہ شرط ہے کہ جمعہ کی امامت کا اہل ہو ۔
حوالہ / References &الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الثانیۃ€ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ١ / ٤٧
&درمختار باب الجمعہ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ١ / ١١٣
#10725 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
کذا فی الزاھدی ۔
زاہدی میں اسی طرح ہے۔ (ت)
شباہ والنظائرو فتاوی خلاصہ و تنویر الابصار میں جواز کا حکم دیا ۔
حیث قال فی الاشباہ لوخطب باذن السلطان وصلی بالغ جاز وفی تنویر الابصار فان فعل بان خطب صبی باذن السلطان وصلی بالغ جاز وفی الخلاصۃ صبی خطب بامرالسلطان وصل الجمعۃ مصلی بالغ یجوز ۔
الاشباہ میں ہے کہ اگر ( نابالغ نے ) بادشاہ کی اجازت سے خطبہ دیا او ربالغ نے نماز پڑھا دی تو جائز ہے ۔ تنویر الابصار میں ہے کہ اگر ایسا ہوا یعنی بچے نے بادشاہ کی اجازت سے خطبہ دیا لیکن نماز بالغ نے پڑھالی تو جائز ہے۔ خلاصہ میں ہے کسی نابالغ بچے نے سلطان کے حکم سے خطبہ دیا اور بالغ نے نماز پڑھائی تو جائز ہے ۔ (ت)
درمختار میں اسی کو مختار قراردیا :
حیث قال بعد قولہ جازھو المختار ۔
جہاں انہوں نے ماتن کے قول “ جاز “ کے بعد کہا یہی مختا ہے (ت)
بہر حال صونا عن الخلاف ( اختلاف سے بچنے کی خاطر ۔ ت) نا بالغ کا خطبہ پڑھنا مناسب نہیں واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از لشکر گوالیار محکمہ ڈاك مرسلہ مولوی نورالدین احمد صاحب غرہ ذی الحجہ ھ
نماز جمعہ کے بعد چار رکعت فرض احتیاطی پڑھے جائیں یا نہیں یعنی اگر جمعہ کے شرائط پورے ادا ہوتے ہیں تو پھر یہ رکعتیں غیر ضروری ہیں اور اگر جمعہ بموجب مذہب حنفی ادا نہیں ہوتا تو جمعہ کیوں پڑھا جاتا ہے نماز ظہر پڑھی جائے اگر احتیاطا دونوں پڑھی جاتی ہیں تو پھر ہم مقلد اور حنفی کیا ہوئے آمین بالجہر کرنے والے اور فاتحہ خلف الامام پڑھنے والے بھی یہی عذر کرسکتے ہیں مفصل طور پر ارشاد فرمائے کہ سائل کو تسکین ہو زیادہ نیاز
حوالہ / References &فتاوٰی ہندیہ الباب السادس فی صلٰوۃ الجمعہ€ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ١٤٧
&الاشباہ والنظائر احکام الصبیان€ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ / ۱۴۳ _۵۴۴
&درمختار باب الجمعہ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ١ / ١١٣
&خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الثالث والعشرون فی صلٰوۃ الجمعہ€ مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ١ / ٢٠٥
&درمختار باب الجمعہ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ١ / ١١٣
#10726 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
الجواب :
عبادات بشدت محل احتیاط میں او رخلاف علماء سے خروج بالاجماع مستحب جب تك اپنے مذہب کے کسی مکروہ کا ارتکاب نہ لازم آئے کما نص علیہ فی ردالمحتار وغیرہ ( جیسا کہ ردالمحتار میں اس پر تصریح ہے ۔ ت) قراءت مقتدی ورفع یدین وجہر بہ آمین ہمارے مذہب میں باتفاق ائمہ ممنوع ومکروہ وخلاف سنت ہیں تو ہمیں یہاں رعایت خلاف اپنے مذہب سے خروج اور مکروہ فی المذہب کا اتکاب صاف ہے بخلاف فرض احتیاطی کہ بسبب تعدد جمعہ رکھے گئے یہ دونوں حرج سے پاك ہیں تعدد مطلقا اگر چہ علی الاصح ظاہر الروایۃ اور وہی معمول ومفتی بہ مگر منع تعدد بھی مذہب میں ایك قول قوی ومصحح ہے
فی ردالمحتار جواز التعدد وان کان ارجح واقوی دلیلا لکن فیہ شبۃ وقویۃ لان خلافہ مروی عن ابی حنیفۃ ایضا وا ختارہ الطحطاوی والتمر تاشی وصاحب المختار وجعلہ العتابی الاظھر وقد علمت قول البدائع انہ ظاھرالرویۃ وفی شرح المنیۃ عن جوامع الفقہ انہ الظھر الروایتین عن الامام قال فی النھر وفی الحاوی القدسی وعلیہ الفتوی وفی التکملۃ للزاھدی وبہ ناخذ اھ فھوحنیئذ قول متعمد فی المذھب لا قول ضعیف اھ ملخصا
ردالمحتار میں ہے کہ جمعہ کے متعدد مقامات پر ہونے کا جواز اگر چہ راجح او رقوی ہے مگر اس میں اشباہ بھی قوی ہے کیونکہ اس کے خلاف امام ابو حنیفہ سے بھی روایت ہے اور اسے طحطاوی تمرتاشی اور صاحب مختار نے اختیار کیا اور عتابی نے اسے اظہر قراردیا ہے اور صاحب بدائع کا قول آپ پڑھ چکے کہ یہ ظاہر الروایۃ ہے شرح المنیہ میں جوامع الفقہ سے ہے کہ امام صاحب سے مروی ہے دونوں روایات میں سے یہ اظہر ہے نہر میں کہا کہ حاوی القدسی میں ہے کہ اسی پر فتوی ہے اور زاہدی کے تکملہ میں کہ ہمارا عمل اسی پر ہے اھ تو اس وقت مذہب میں یہ معتمد قول ہوا ضعیف قول نہ رہا اھ ملخصا (ت)
پھر اس کی رعایت میں کوئی کراہت لازم نہیں آتی کہ یہ فرض احتیاطی بجماعت نہیں ہوتے منفردا بہ نیت آخر ظہر پڑھے جاتے ہیں وہ بھی صرف خواص کے لئے عوام کو نہ بتائے جائیں نہ انھیں حاجت تو فرق ظاہر ہوگیا اور اعتراض ساقط وتفصیل القول فی تلك الرکعات قدسبقت فی فتاونا( ان رکعات کے بارے میں تفصیلی گفتگو ہمارے فتاوی میں گزر چکی ہے ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References &ردالمحتار باب الجمعہ€ مطبوعہ مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۹۶
#10727 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
مسئلہ : از نودیا ضلع بریلی غرہ محرم ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك قصبہ میں جامع مسجد ہے کہ ہمیشہ اس میں جمعہ ہوتا ہے اب ایك مسجد بنا ہوئی اس کو جامع مسجد بنانا اور قدیم کی جامع مسجد کو ترك کردینا یا دونوں جا جمعہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں
الجواب :
قصبہ وشہر جہاں جمعہ جائز ہے وہاں نماز جمعہ متعدد جگہ ہونا بھی جائز ہے اگر چہ افضل حتی الوسع ایك جگہ ہوتا ہے اور اگلی مسجد جامع کو ترك کردینے کے اگر یہ معنی کہ اس میں نماز ہی چھوڑدی جائے تو قطعا نا جائز کہ مسجد کا ویران کرنا ہے او راگر یہ مراد کہ نماز تو وہاں ہوا کرے مگر جمعہ وہاں کے بدلے اب اس مسجد جدید میں ہو اس میں اگر وہاں کے اہل اسلام کوئی مصلحت شرعیہ قابل قبول رکھتے ہوں تو کیا مضائقہ ورنہ مسجد جامع وہی مسجد قدیم ہے او راس میں نماز جمعہ کا ثواب زائد۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از جالندھر محلہ راستہ متصل مکان ڈپٹی احمد جان صاحب مرسلہ محمد احمد خاں صاحب ۲۰شوال۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بعد نماز جعہ کے چار رکعت ظہر احتیاطی کا پڑھنا ملك پنجاب یا ہندوستان کے شہروں میں جن میں جامع مساجد بادشاہوں کے حکم سے بنی ہوئی ہیں واجب ہے یا مستحب اور ان شہروں میں نماز جمعہ میں کچھ وہم یا شبہ ہے یا نہیں بحوالہ کتاب مع عبارت لکھا جائے ۔
الجواب :
بعض شرائط صحت کی تحقیق میں یہاں ضرور اختلاف واشتباہ ہے ایسی جگہ علمائے کرام نے چار رکعت احتیاطی کا حکم دیا مگر خواص کے لئے نہ کہ ایسے عوام کو جو تصحیح نیت پر قادر نہ ہوں ان کے لئے ایك مذہب پر صحت بس ہے یہ رکعتیں بحال توہم عدم صحت تو صرف مندوب ہیں اور بحال شك واشتباہ ظاہر وجوب ردالمحتار میں ہے :
نقل مقدسی عن المحیط کل موضع وقع الشك فی کونہ مصرا ینبغی لھم ان یصلوا بعد الجمعۃ اربعابنیۃ الظھر احتیاطا ومثلہ فی الکافی والقنیۃ امرائمتھم بالاربع بعدھا حتما احتیاطا قال المقدسی ذکر ابن الشحنۃ عن جدہ
قدسی نے محیط سے نقل کیا کہ ہر وہ جگہ جس کے شہر ہونے میں شك ہو وہاں پر ان لوگوں کو جمعہ کے بعد احتیاطا چاررکعتیں بنیت ظہر ادا کرنی چاہئیں اسی کی مثل کافی اور قنیہ میں ہے کہ ائمہ نے جمعہ کے بعد لوگوں کو حتمی طور پر احتیاطا چار رکعات کا حکم دیا ہے المقدسی نے کہا کہ ابن شحنہ نے اپنے دادا سے اس کے
#10728 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
التصریح بالندب وبحث فیہ بانہ ینبغی ان یکون عند مجرد التوھم ماعند قیام الشك والاشتباہ فالظاھر الوجوب ونقل عن شیخہ ابن الھمام ما یفیدہ وقال المقدسی نحن لا نامر بذلك امثال ھذہ العوام بل ندل علیہ الخواص ولو بالنسبۃ الیھم اھ ملخصا ۔
مندوب ہونے کی تصریح کی اور اس پر اعتراض کیا کہ ایسی بات اس وقت ہے جب وہم ہو اور اگر شك و اشتباہ ہو پھر واجب ہے اور اپنے شیخ ابن ہمام سے وہ نقل کیا جو یہاں مفید تھا مقدسی نے کہا کہ ہم ایسی باتوں کا حکم عوام کو نہیں دیتے بلکہ خواص کو مطلع کرتے ہیں اگر چہ وہ ان کی نسبت سے ہوں اھ ملخصا (ت)
تحقیق مسئلہ ہمارے فتاوی اور رسالہ لوامع البھافی المصرللجمعۃ والاربع عقبیھا میں ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از رامپور متصل مراد آباد محلہ ملاظریف گھیرفرنگی محل مرسلہ مولوی ریاست حسین صاحب ۴ رمضان المبارك ۱۳۱۵ ھ
چہ می فرمایند علمائے دین دریں مسئلہ کہ جمعہ بکدام سال مفروض شد اس مسئلہ کے بارے میں علمائے دین کیا فرماتے ہیں کہ جمعہ کس سال فرض ہوا
الجواب :
ہم بسال اول از ہجرت علی الصحیح المشہور عندالجمہور فی شرح المواھب للزرقانی الایۃ مدنیۃ فتدل علی انھا فرضت بالمدینۃ وعلیہ ا لاکثر وقال الشیخ ابوحامد فرضت بمکۃ قال الحافظ وھو غریب وفی شرح الموطا لہ انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی سفر الھجرۃ لما خرج من قبایوم الجمعۃ حین ارتفع النھار ادرکتہ الجمعۃ فی بنی سالم
جمہور کے نزدیك صحیح مشہور یہی ہے کہ ہجرت کے پہلے سال فرض ہوا شرح المواہب للزرقانی میں ہے کہ آیت (جمعہ) مدنی ہے جو دال ہے کہ جمعہ کی فرضیت مدینہ منورہ علی صاحبہا الصلوۃ میں ہوئی اور اکثر علماء کی یہی رائے ہے شیخ ابوحامد کہتے ہیں کہ جمعہ مکہ مکرمہ میں فرض ہوا تھا حافظ کہتے ہیں کہ یہ قول غریب ہے۔ زرقانی کی شرح موطا میں ہے کہ رسالتمآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وسم جب سفر حجرت کے
حوالہ / References &ردالمحتار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۹۶
&شرح المواہب اللدنیہ للزرقانی الباب الثانی فی ذکر صلوۃ الجمعۃ€ مطبوعہ مطبعہ عامرہ مصر ۷ / ۴۳۳
#10729 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
بن عوف فصلاھا بمسجد ھم فسمی مسجد الجمعۃ وھی اول جمعۃ صلاھا صلی اﷲ تعالی وسلم ذکرہ ابن اسحق اھ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
موقعہ پر جمعہ کے دن قبا سے مدینہ طیبہ کی طرف چلے تو دن خوب بلند ہوچکا تھا محلہ بنوسالم بن عوف میں جمعہ کا وقت ہوگیا تو آپ نے ان کی مسجدمیں جمعہ ادا فرمایا اسی وجہ سے اس مسجد کا نام مسجد الجمعہ قرار پاگیا یہ پہلا جمعہ تھا جو حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ادا فرمایا ابن اسحاق نے اسی طرح ذکر کیا ہے اھ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم (ت)
مسئلہ : از درؤ ضلع نینی تال ڈاکخانہ کچھا مرسلہ عبدالعزیز خاں رمضان المبارك ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز عیدین یا جمعہ میں آدمیوں کی کثرت سے سجدہ سہو امام کو ترك کرنا جائز ہے یا نہیں
الجواب :
ہاں علمائے کرام نے بحالت جماعت جبکہ سجدہ سہو کے باعث مقتدیوں کے خبط وافتنان کا اندیشہ ہو اس کے ترك کی اجازت دی بلکہ اسی کو اولی قراردیا
فی الدرالمختار السھو فی صلوۃ العید والجمعۃ والمکتوبۃ والتطوع سواء والمختار عند المتاخرین عدمہ فی الاولیین لد فع الفتنۃ کما فی جمعۃ البحر واقرہ لاالمصنف وبہ جزم فی الدر ۔
درمختار میں ہے کہ نماز عید جموہ اور فرض ونفل نماز میں سہو برابر ہے متاخرین کے ہاں عید وجمعہ میں دفع فتنہ کی وجہ سے سجدہ سہو کانہ ہونا مختار ہے جیسا کہ بحر کے باب جمعہ میں ہے مصنف نے اسے ثابت رکھا اور در میں اسی کے ساتھ جزم کیا۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
الظاھر ان الجمع الکثیر فیما سواھما کذلك کما بحثہ بعضھم ط وکذا بحثہ الرحمتی وقال خصوصا فی زماننا وفی جمعۃ حاشیۃ
ظاہر یہ ہے کہ ان ( نماز عید وجمعہ) کے علاوہ میں جہاں بھی کثیر اجتماع ہو اس کاحکم بھی یہی ہے جیسا کہ بعض نے بیان کیا ہے ط اور اسی طرح رحمتی نے بحث کرتے ہوئے کہا اور کہا کہ خصوصا ہمارے دور میں (سجدہ سہو نہ کرنا
حوالہ / References &شرح الزرقانی علی المؤطا باب ماجاء فی الامام ینزل بقریۃ الخ€ مطبوعہ المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ١ / ٢٢٠
&درمختار باب سجود السہو€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٠٣
#10730 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
ابی السعود عن العزمیۃ انہ لیس المراد عدم جوازہ بل الاولی ترکہ لئلا یقع الناس فی فتنۃ اھ قولہ وبہ جزم فی الدر لکنہ قیدہ محشیہا الوافی بما اذا حضر جمع کثیروالا فلاداعی الی الترك ط ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
چاہے) حاشیہ ابوالسعود کے جمعہ میں عزمیہ سے ہے کہ اس سے مراد یہ نہیں کہ سجدہ سہو جائز نہیں بلکہ اس کا ترك اولی ہے تاکہ لوگ فتنہ میں نہ پڑیں اھ قولہ اس پر در میں جزم ہے لیکن اس کے محشی الوانی ہے اس قید کا اضافہ کیا ہے کہ یہ اس صورت میں ہے جب وہاں کثیر لوگ جمع ہوں ورنہ نہیں کیونکہ اس وقت ترك سجدہ کا داعی نہیں ہوگا ط ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم (ت)
مسئلہ : از ریاست رامپو ر محلہ ملا ظریف گھیر منشی عبدالرحمن خاں مرحوم مرسلہ مولوی عبدالرؤف صاحب ذیقعدہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد میں آج جمعہ کے دن امام صاحب جمعہ مع خطبہ پڑھا کہ فارغ ہوئے اب اس وقت پندرہ سولہ آدمی اسی مسجد میں بعد نماز جمعہ آگئے اب یہ آیندگان اسی مسجد میں پھر جمعہ پڑھیں یا ظہر برتقدیر ثانی جماعت سے پڑھیں یا منفرد عبدالحی صاحب مرحوم نے اپنے مجموعہ فتاوی میں لکھا ہے کہ وہ لوگ جمعہ پڑھیں گے دوسری مسجد میں افضل لکھا ہے اگر اسی مسجد میں پڑھیں کچھ حرج نہیں کرکے تحریر کیا ہے مگر عالمگیری کی عبارت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دوسرا جمعہ جائز نہیں بلکہ وہ لوگ فرادی فرادی نماز پڑھیں اس کی تحقیق کیا ہے بینوا توجروا
الجواب :
عالمگیری میں یہ مسئلہ خانیہ سے ماثور ہے اور اسی کی مثل فتاوی ظہیریہ وبحرالرائق و درمختار وغیرہا میں مذکور
قال فی البحر قال فی الظھیریۃ جماعۃ فاتتھم الجمعۃ فی المصر فانھم یصلون الظھر بغیر اذان و لااقامۃ ولاجماعۃ ۔
بحر میں ہے کہ ظہیریہ میں فرمایا کہ اگر کسی شہر میں سے جماعت فوت ہوگئی تو بغیر اذان تکبیر اور جماعت کے ظہر ادا کریں ۔ (ت)
تصویر مسئلہ فوت جمعہ سے ہے اور وہ قول تو حد پر تو ظاہر
وعلیہ یبتنی تعلیل الھدایۃ لمسألۃ
اور ہدایہ میں مسئلہ معذورین کی ان الفاظ میں علت
حوالہ / References &ردالمحتار باب سجود السہو€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۵۶
&بحرالرائق شرح کنز الدقائق€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ١٥٤
#10731 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
المعذورین بقولہ لما فیہ من الاخلال بالجملۃ اذھی جامعۃ الجماعات اھ قال فی الفتح وتبع فی البحر ھذا الوجہ مبنی علی عدم جواز تعدد الجمعۃ فی المصر الواحد الخ زاد فی البحر وھو خلاف المنصوص علیہ روایۃ ودرایۃ اھ اقول : عﷲ فی لھدایۃ بتعلیلین الاول ماذکر والثانی ماعولتم علیہ حیث قال بعدہ والمعذور قد یقتدی بہ غیرہ اھ ولا غر وتعلیل المسأالۃ علی کل من القولین علی ان قول التوحد ایضا قول قول فی المذھب کما یظھر مما علقنا علی ردالمحتار وقد اور دناہ فی فتاونا والاعتراض بمثل ھذا علی مثل ھذا الامام من مثل ھذا الفاضل العلام مما بقضی الی العجب وقد تبع فیہ الفتح ولکن الفتح انما اقتصر علی ما قدمت ثم قال وعلی الروایۃ المختارۃ عند السرخسی وغیرہ من جواز تعدد ھا فوجھہ انہ ربما یتطرف غیر المعذور الی الاقتداء بھم الخ ولم یذکر ماذکر ھذا البحر فھو لیس بجرح بل شرح بتوزیع الدلیلین علی القولین واﷲ الموفق۔
بیان کرنا بھی اسی پر مبنی ہے کہ اس صورت میں جمعہ میں خلل آتا ہے حالانکہ وہ تمام جماعتوں کا جامع ہے اھ فتح میں کہا اور اسی کی اتباع بحر میں ہے کہ یہ وجہ ایك شہر میں متعدد جگہ جمعہ کے عدم جواز پر مبنی ہے الخ بحر میں اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ روایت ودرایت کے لحاظ سے یہ نص کے خلاف ہے اھ ______ اقول : ہدایہ میں اس کی دو علتیں بیان ہوئی ہیں ایك یہ جو مذکور ہے اور دوسری وہ جس پر تم نے اعتماد کیا وہاں اس کے بعد انھوں نے کہا کہ کبھی معذور کی غیر اقتداء کرلیتا ہے اھ اور کوئی حرج نہیں کیونکہ مسئلہ کی علت دونوں قولوں پر ہے ____ علاوہ ازیں قول توحد بھی مذہب میں قوی قول ہے جیسا کہ ہمارے حاشیہ ردالمحتار کی تحریر سے ظاہر ہوجاتا ہے اور ہم نے اسے اپنے فتاوی میں ذکر کیا ہے اس طرح کا اعتراض ایسے امام پر اس طرح کے فاضل علام سے تعجب دارد اورانہوں نے اس میں فتح کی اتباع کی ہے لیکن فتح نے اسی پر اکتفاء کیا ہے جو پچھے گزر چکا ہے پھر کہا سرخسی وغیرہ کے نزدیك مختار روایت پر تعدد جمعہ کا جواز ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض اوقات معذور کو غیر معذور کی اقتداء لاحق ہوجاتی ہے اھ اور انہوں نے ذکر نہیں کیا جو بحر نے کیا ہے پس وہ جرح نہیں بلکہ دو اقوال کی دلیلوں کی تقسیم طور شرح ہے اور اﷲ ہی توفیق دینے والا ہے ۔ (ت)
حوالہ / References &الہدایۃ باب صلٰوۃالجمعۃ€ ۱ / ۱۵۰
&فتح القدیر شرح الہدایۃ باب صلٰوۃ الجمعۃ€ ٢ / ٣٥
&بحرالرائق شرح کنز الداقائق باب صلٰوۃ الجمعۃ€ ١ / ١٥٤
&الہدایۃ باب صلٰوۃ الجمعۃ€ ۱ / ۱۵۰
&فتح القدیر باب صلٰوۃ الجمعۃ€ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۳۵
#10732 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
اور قول معتمد تعدد پر بھی اس میں صور متصور ازانجملہ یہ کہ سب جگہ نماز ہوچکی اور باقی صرف تین آدمی ہیں اور جمعہ کے لئے کم سے کم چار درکار بہر حال یہ مسئلہ عدم جواز تعدد جمعہ بمسجد واحد میں نص نہیں اب سوال پر نظر کیجئے فتاوئے لکھنؤ بعض احباب سے منگا کر دیکھا گیا اسی حکم پر نہ کوئی سند پیش کی ہے نہ کسی کتاب کا حوالہ دیا صرف صحت تعدد فرضیت جمعہ پر بنائے کار کرکے لکھ دیا کہ اس وجہ سے لازم ہے ان لوگو کو کہ جماعت سے خطبہ اور جمعہ ادا کریں مگر دوسری مسجد میں ہو تو اولی ہے اور اگر اسی مسجد میں ہو تو بھی کچھ حرج نہیں ۔
اقول : وباﷲ التوفیق ( میں اﷲ تعالی کی توفیق سے کہتا ہوں ۔ ت) صحت جمعہ کے لئے صرف جواز تعدد ہی کافی نہیں ع
ہزار نکتہ باریك ترز مو اینجاست
( یہاں ہزار تکتہ ہے جو بال سے بھی زیادہ باریك ہے )
ہر شخص اقامت وامامت جمعہ کا اختیار نہیں رکھتا بلکہ سلطان اسلام یا اس کا مامور یا علی الخلاف مامور کا نائب بنایا ہوا بضرورت یا بلاضرورت اور جہاں استیذان سلطان متعذرہو تو جسے عامہ مومنین خطیب وامام جمعہ مقرر کرلیں تنویر الابصار و درمختار میں ہے :
یشترط لصحتھا السلطان اومامورہ باقامتھا واختلف فی الخطیب المقرر من جہۃ الامام الاعظم اونائبہ ھل یملك الاستنابۃ فی الخطبۃ فقیل لامطلقا وقیل ان لضرورۃ جاز والا لاوقیل یجوز مطلقا وھوالظاھر من عبار اتھم ففی البدائع کل من ملك الجمعۃ ملك اقامۃ غیرہ ونصب العامۃ الخطبیب غیر معتبر مع وجود من ذکرا مامع عدمھم فیجوز للضرورۃ اھ ملتقطا۔
صحت جمعہ کے لئے سلطان یا اس کی طرف سے اقامت جمعہ پر مامور شخص کا ہونا ضروری ہے اس میں اختلاف ہے کہ امام اعظم ی اس کے نائب کی طرف سے مقرر کردہ خطیب خطبہ میں نائب بنا سکتا ہے یا نہیں بعض نے کہا ہر حال میں جائز ورنہ جائز نہیں اور بعض کے نزدیك ہر حال میں نائب بنا سکتا ہے فقہا کی عبارت سے یہی ظاہر ہے بدائع میں ہے کہ ہر وہ شخص جسے جمعہ کا مالك بنادیا گیا وہ اپنے علاوہ کسی کو اقامت جمعہ کے لئے تقرر کا بھی مالك ہوگا اور عام لوگوں کا خطیب مقرر کرنا معتبر نہیں جبکہ مذکور لوگ موجود ہوں ہاں اگر مذکورہ بالا لوگ نہ ہوں تو ضرورت کی وجہ سے جائز ہوگا اھ ملتقطا (ت)
حوالہ / References &درمختار باب الجمعہ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۱۰۹۔ ۔ ۱۱۰
#10733 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
سراجیہ میں ہے :
والی مصر مات فصلی بھم خلیفۃ المیت او صاحب الشرطۃ او القاضی جازفان لم یکن ثمہ واحد منھم الناس علی رجل فصل بھم جاز ۔
والی مصر فوت ہوگیا تو جمعہ وارث میت پڑھائے یا محاسب یا قاضی تو جائز ہے اور اگر ان میں سے وہاں کوئی موجود نہیں اور لوگوں نے کسی شخص کو امام بنالیا تو تب بھی جائز ہے ۔ (ت)
خانیہ میں ہے :
ان لم یکن ثم قاض ولا خلیفۃ المیت فاجتمع العامۃ علی تقدیم رجل جاز لمکان الضرورۃ ۔
اگر وہاں قاضی اور خلیفہ میت نہ ہو اور لوگ کسی ایك شخص کو امام بنالیں تو یہ ضرورت کے موقعہ پر جائز ہوگا (ت)
تہذیب وہندیہ میں ہے :
لو تعذر الاستیذان من الامام فاجتمع الناس علی رجل یصلی بھم الجمعۃ جاز ۔
اگر امام سے اجازت متعذر ہو اور لوگ کسی ایك آدمی کو امام بنالیں تو جائز ہے۔ (ت)
اور پر ظاہر کہ کلام اسی صورت میں ہے جبکہ پہلا جمعہ صحیح ادا ہو لیا ورنہ مسجد واحد میں تعدد جمعہ کہا اور دوسری مسجد میں اولویت کا کیا منشاء تو ضرور ہے کہ پہلی نماز اسی نے پڑھائی جو اس مسجد میں اقامت جمعہ کا مالك تھا اب یہ دوبارہ وہیں جمعہ پڑھانے والا دو۲حال سے خالی نہیں عــــہ یا اس مالك اقامت کے اذن سے پڑھائے گا یا بے اذن اول کی طرف راہ ممنوع کہ یہاں اذن مالك نہیں مگر انابت اور بعد اس کے کہ آج کا جمعہ خود اصل پڑھا چکا اقامت شعار ہوچکی جمعہ امروز میں انابت کے کوئی معنی نہیں کہ انابت تحصیل نا حاصل کے لئے ہوتی ہے نہ تحصیل حاصل کے واسطے نہ نائب ومنیب ایك امر میں جمع ہوسکیں اور آیندہ جمعہ کے لئے اذن جمعہ امروز کا اذن نہیں تو شق ثانی ہی متعین ہوئی اور جمعہ میں غیر امام جمعہ کی امامت بے اذن امام جمعہ باطل ہےسراجیہ میں بعد عبارت
عــــہ : بقی ان لووجد واماما معینا ماذونا ح (م)
(یہ احتمال باقی رہ گیا کہ عام لوگ کسی مقررہ اذن والے شخص کوپائیں ۔ ت)
#10734 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
مذکور ہ ہے :
لوصلی احد بغیر اذن الخطیب لایجوز الا اذا اقتدی بہ من لہ ولایۃا لجمعۃ ۔
اگر بغیر اذن خطیب نماز پڑھائی تو جائز نہیں البتہ اس صورت میں جائز ہوگی جب اس کی اقتداء کسی ایسے شخص نے کی جو ولایت جمعہ رکھتا تھا۔ (ت)
درمختار میں ہے :
واقرہ شیخ الاسلام
( اسے شیخ الاسلام نے ثابت رکھا ۔ ت)
خانیہ وہندیہ و ردالمحتار میں ہے :
رجل خطب یوم الجمعۃ بغیر اذن الامام والامام حاضر لایجوز ذلك الاان یکون لامام امرہ بذلك ۔
کسی شخص نے اذن امام کے بغیر خطبہ دیا حالانکہ امام موجود تھا تویہ جائز نہیں مگر اس صورت میں جب امام نے اسے اس کا حکم دیا ہو۔ (ت)
نہ اس مسجد میں آج کے جمعہ کو امام کی ضرو ت نہ معدودے چند عامہ ناس ہیں ورنہ جمعہ سے بڑھ کر عیدین کبھی کسی شخص کو فوت نہ ہوں جبکہ اپنے ساتھ ایك ہی پاسکے کہ انھیں نماز مل جانی ضرورت قرار پائے اور ان میں ایك کا دوسرے کو امام عید مقرر کرلینا قائم مقام امامت سلطان اسلام ٹھہرے اور تمام مسائل کہ فوت جمعہ وہ عیدین پر مبتنی ہیں باطل ہوجائیں وھذا الا یقول بہ عاقل فضلا عن فاضل ( یہ بات تو کوئی معمولی عقل والا بھی نہیں کہہ سکتا چہ جائیکہ کوئی فاضل کہے ۔ ت) تو حق یہ ہے کہ اس مسجد میں درکنار کسی دوسری مسجد میں بھی جہاں جمعہ نہ ہوتا ہو خواہ مکان یا میدان میں کسی جگہ یہ لوگ جمعہ پڑھ سکتے بلکہ اپنی ظہر تنہا تنہا پڑھیں تنویرالابصار و درمختار میں ہے :
کرہ تحریما لمعذور ومسبحون ومسافر اداء ظھر بجماعۃ فی مصر قبل الجمعۃ وبعدھا لتقلیل الجماعۃ وصورۃ المعارضۃ ۔
جمعہ سے پہلے اور اس کے بعد شہر میں معذور قیدی اور مسافر کا جماعت کے ساتھ ظہر ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے کیونکہ اس میں قلت جماعت اور صورت تعارض لازم آتی ہے ۔ (ت)
حوالہ / References &فتاوٰی سراجیہ باب الجمعہ€ مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ بھارت ص ۱۷
&درمختار باب الجمعہ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۱۱۰
&فتاوٰی ہندیۃ الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعۃ€ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۴۵
&درمختار الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعۃ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۱۱۲
#10735 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
ردالمحتار میں ہے :
قولہ لمعذور وکذا غیرہ بالا ولی اھ فانت تعلم انھم انما احوجہم الی اداء الظھر انھم لا یقدرون علی اقامۃ الجمعۃ فارشدوا الی صلوتھا فرادی کما لایخفی علی من رزق العقل سلیم والفھم المستقیم واﷲ تعالی اعلم۔
قولہ معذور غیر معذور کا بطریق اولی یہی حکم ہے اھ در آب جانتے ہیں کہ یہ لوگ اداء ظہر کے زیادہ محتاج ہیں کیونکہ وہ اقامت جمعہ پر قادر ہی نہیں لہذا علماء نے تنہا نماز ظہر ادا کرنے کی تلقین کی جیسا کہ ہر شخص پر مخفی نہیں جسے اﷲ تعالی نے اعقل سلیم اور فہم مستقیم عطا فرمایا ہے۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد میں دو امام درمیان میں پردہ ڈال کر جمعہ پڑھانا جائز ہوگا یا نہیں
(۲) ایك مسجد میں دو دفعہ جمعہ پڑھنا جائز ہوگا یانہیں بینوا توجروا
الجواب : عدم جواز بمعنی گناہ تو جمیع فرائض میں ہے صورت سوال سے ظاہر کہ دیدہ ودانستہ دو جماعتیں بالقصد اس طرح کیں اور کسی فرض کی دوجماعتیں ایك مسجد ایك وقت میں بالقصد قائم کرنا ہر گز جائز نہیں دونوں فریق یالاقل دونوں میں سے ایك ضرور گنہگار ہوگا کہ جماعت فرائض کی ایسی تفریق صراحۃ بدعت سئیہ شنیعہ ہے اگر دونوں امام میں صرف ایك صالح امامت بلا کراہت ہے مثلا دوسرا فاسق معلن یا بد مذہب ہے جب تو کراہت صرف اس دوسرے پر ہے اور اگر دونوں صالح تو جس کی نیت پہلے بندھ گئی اس پر الزام نہیں دوسرے پر ہے اور معا باندھیں تو دونوں پر ۔ خلاصہ و ہندیہ میں ہے :
قوم جلوس فی المسجد الداخل وقوم فی المسجد الخارج اقام المؤذن فقام امام من اھل الخارج وأمھم وقام امام من اھل الداخل فأمھم من یسبق بالشروع فھو والمقتدون بہ لاکراھۃ فی حقھم۔
کچھ لوگ مسجد داخل میں اور کچھ لوگ مسجد خارج میں بیٹھے تھے مؤذن نے تکبیر کہی اہل خارج میں سے امام نے اور اہل داخل میں سے بھی امام نے جماعت کرائی ان میں سے جس نے پہلے شروع کی وہ امام اور اسی کے لوگ مقتدی ہوں گے اور ان کے حق میں کوئی کراہت نہیں ۔ (ت)
حوالہ / References &ردالمحتار€ ، &باب الجمعۃ€ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۶۰۴
&فتاوٰی ہندیۃ الباب الخامس فی الامامت فصل ثانی€ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ٨٤
#10736 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
ردالمحتار باب ادراك الفریضہ میں ہے :
لوکان مقتد ئابمن یکرہ الاقتداء بہ ثم شرع من لا کراھۃ فیہ ھل یقطع ویقتدی بہ استظھر ط ان الاول لوفاسقا لا یقطع ولو مخالفا وشك فی مراعاتہ یقطع اقول والاظھر العکس لان الثانی فی کراھۃ تنزیھیۃ کالاعمی والاعرابی بخلاف الفاسق الخ
اگر کسی نے ایسے شخص کی اقتداء کی جس کی اقتدامکروہ تھی پھر ایسے امام نے جماعت شروع کی جس میں کراہت نہ تھی تو کیا وہ مقتدی قطع کر کے دوسرے کی اقتداء کرئے ط نے اس کو ظاہر کہا کہ اول اگر فاسق ہے تو قطع نہ کرے اور اگر مخالف مسلك رکھتا ہے اور اس سے دوسرے مسلك کی رعایت مشکوك ہے تو پھر قطع کرے اقول اس کا عکس اظہر ہے کیونکہ دوسرے میں کراہت تنزیہی ہے جیسا کہ نابینا یا اعرابی میں ہے بخلاف فاسق کے الخ۔ (ت)
اور جمعہ میں تو جواز بمعنی صحت ہی نہیں کم سے کم ایك فریق کا جمعہ سرے سے ادا ہی نہ ہوگا صحت جمعہ کی شرائط سے ایك یہ بھی ہے کہ بادشاہ اسلام یا اس کامامور اقامت کرے یعنی سلطان خود یا اس کا ماذون خطبہ پڑھے امامت کرے اور جہاں یہ صورت متعذر ہو جیسے ان بلاد ہندوستان میں کہ ہنوز دارالاسلام ہے وہاں بضرورت نصب عامہ کی اجازت یعنی عام مسلمین جسے امام مقرر کرلیں ۔
فی التویر والدر یشترط لصحتھا السلطان او مامورہ باقامتھا وقالوا یقیمھا امیر البدر ثم الشرطی ثم القاضی ثم من ولاہ قاضی القضاۃ ونصب العامۃ غیر معتبرمع وجود من ذکر امامع عدمھم فیجوز للضرورۃ اھ ملتقطا
تنویر اور در میں ہے کہ صحت جمعہ کے لئے سلطان یا اس کی اقامت کے لئے سلطان کا مامور ہونا شرط ہونا ضروری ہے فقہا نے فرمایا ہے کہ جمعہ شہر کا امیر پھر محاسب پھر قاضی پھر وہ شخص قائم کرسکتا ہے جس کو قاضی القضاۃ نے مقرر کیا ہو ان لوگوں کی موجودگی میں عوام کا تقرر معتبر نہیں البتہ جب ان میں سے کوئی نہ ہو تو ضرورت کی وجہ سے جائز ہوگا اھ ملتقطا (ت)
پر ظاہر کہ کسی مسجد کے لئے دواما جمعہ علی وجہ الاجتماع کہ دونوں امامت جمعہ واحدہ کریں مقرر نہیں ہوتے خصوصا ہمارے بلاد میں امر اور بھی اظہر کہ نصب عامہ صرف بضرورت اقامت شعار معتبر اور یہ ضرورت امام واحد سے مرتفع تو ایك جمعہ میں ایك مسجد میں دو امام کا جمع باطل ومتدفع پس صورت مستفسرہ میں ان دونوں میں جو اس مسجد کا امام معین جمعہ نہ تھا اس کا اور اس کے مقتدیوں کا جمعہ ادا نہ ہوا اور اگر دونوں نہ تھے تو کسی کا
حوالہ / References &ردالمحتار باب ادراک الفریضہ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۲۵
&درمختار باب الجمعہ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۱۱۰۔ ۱۰۹
#11140 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
نہ ہوا یہیں سے صورت اخیرہ کا جواب بھی ظاہر اور اگر بفرض باطل صورت صحت تسلیم بھی ہو جو ہرگز لائق تسلیم نہیں تو اس کے سخت مخالف مقصود شرع وبدعت شنیعہ سیسہ ہونے میں کلام نہیں جمعہ میں ایك مذہب قوی یہ ہے کہ شہر بھر میں ایك ہی جگہ ہوسکتا ہے اور بعض نے دوجگہ اجازت دی اور بعض نے بیچ میں نہر فاصل ہونے کی شرط کی مفتی بہ جواز تعدد ہے مگر یہ تعدد کہ ایك ہی دن ہی مسجد میں دس بار امامت جمعہ ہو کہ جیسے دو۲ ویسی ہی سو ۱۰۰ یہ بلاشبہ ابتداع فی الدین ہے واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از کانپور محلہ جرنیل گنج مسجد حاجی فرحت مرسلہ شیخ محمد سہول محرم الحرام ھ
ماقولکم ایھا العلماء لکرام ( اے علمائے کرام ! تمھارا قول کیا ہے ۔ ت) اس مسئلہ میں کہ خطبہ یا عیدین کو عربی میں پڑھ کر اردو ترجمہ کرنا یا صرف اردو میں بطور وعظ کے خطبہ ادا کرنا یا بعض حصہ عربی و بعض اردو میں پڑھنا یا چند اشعار ترغیبا و ترہیبا عربی یا غیر عربی میں پڑھنا مع النثراولاجائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
یہ سوال چند امور پر مشتمل :
اول : جمعہ یا عیدین کا خطبہ پڑھ کر اردو ترجمہ کرنا۔ اقول : وباﷲ التوفیق( میں اﷲ کی توفیق سے کہتا ہوں ۔ ت) قضیئہ نظر فقہی یہ ہے کہ یہ امر عیدین میں بہ نیت خطبہ ہو تو ناپسند اور اس کا ترك احسن اور بعد ختم خطبہ نہ بنیت خطبہ بلکہ قصدپند و نصیحت جداگانہ ہو تو جائز وحسن اور جمعہ میں مطلقا مکروہ ونامستحسن دلیل حکم ووجہ فرق یہ کہ زبان برکت نشان رسالت سے عہد صحابہ کرام وتابعین عظام وائمہ اعلام تك تمام قرون و طبقات میں جمعہ وعیدین کے خطبے ہمیشہ خالص زبان عربی مذکور وماثور اور با آنکہ زمانہ صحابہ میں بحمد اﷲ تعالی اسلام صدہا بلاد عجم میں شائع ہوا جوامع بنیں منابر نصب ہوئے باوصف تحقیق حاجت کبھی کسی عجمی زبان میں خطبہ فرمانا یا دونوں زبانیں ملانا مروی نہ ہوا تو خطبے میں دوسری زبان کا خلط سنت متوارثہ کا مخالف ومغیر ہے اور وہ مکروہ
کما بیناہ فی فتاونا وذکرنا ثم الفرق بین الکف والترك فتثبت ولاتتخبط۔
جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں بیان کیااور وہاں ہم نے کف اور ترك کے درمیان فرق واضح کردیا ہے اس پر ثابت رہو اور انتشار کا شکار نہ ہوں ۔ (ت)
مگر عیدین میں خطبہ بعد نماز ہے تو وہ مستوعد وقت نہیں ہوسکتا نیت قطع اپنا عمل کرے گی اور بعد فراغ خطبہ کہ تمام امور متعلقہ نما ز عید منتہی ہوگئے مسلمان کو تذکیر وتفہیم ممنوع نہیں بلکہ مندوب اور خود سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ثابت ہے بخاری و مسلم و دارمی و ابوداؤد ونسائی وابن ماجہ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی
#11141 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
سے راوی :
قال خرجت مع النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یوم فطر اواضحی فصلی ثم خطب ثم اتی النساء فوعظھن وذکرھن وامرھن بالصدقۃ ۔
میں حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ عید الفطر یا عید الاضحی کے دن نکلا آپ نے نماز پڑھائی پھر خطبہ ارشاد فرمایا اس کے بعد آپ خواتین کے اجتماع میں تشریف لے گئے انھیں وعظ ونصیحت فرمائی اور صدقہ کرنے کا حکم دیا۔ (ت)
صحیحین میں حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اللہ تعالی عنہما سے ہے :
ثم خطب الناس بعد فلما فرغ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نزل فاتی النساء فذکرھن ۔
پھر اس کے بعد آپ نے خطبہ دیا جب بنی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فارغ ہوئے تو آپ منبر سے نیچے تشریف لائے اس کےبعد خواتین کے اجتماع میں تشریف لاکر انھیں نصیحت و تلقین فرمائی۔ (ت)
امام نووی منہاج میں فرماتے ہیں : انما نزل الیھن بعد فراغ خطبۃ العید ( آپ خواتین کے اجتماع میں خطبہ عید سے فراغت کے بعد تشریف لے گئے۔ ت) بخلاف جمعہ کہ اس میں خطبہ قبل نماز ہے اور شروع تذکیر سے اغاز تکبیر تك اسی تکبیر تك اسی کا وقت ہے ولہذا فصل بہ اجنبی ناجائز یہاں تك کہ اگر فصل طویل حاصل ہوخطبہ زائل اور اعادہ لازم ورنہ نماز باطل ہو اور غیر اجنبی سے بھی فصل پسندیدہ نہیں اور اعادہ خطبہ اولی۔
فی الدرالمختار لو خطب جنبا ثم اغتسل وصلی جاز ( ای ولا یعد الغسل فاصلا لانہ من اعمال الصلوۃ ولکن الاولی اعادتھا کما لو تطوع بعد ھا کما فی البحر ش)ولو فصل باجنبی فان طال بان رجع لبیتہ فتغدی
درمختار میں ہے اگر کسی نے جنبی حالت میں خطبہ دیا پھر غسل کیا اور نماز پڑھائی تو جائز ہے ( یعنی غسل کو( خطبہ اور نماز کے درمیان ) فاصل نہ شمار کیا جائے گا کیونکہ وہ بھی نماز کے اعمال میں سے ہے لیکن اعادہ خطبہ بہتر ہے جیسا کہ اگر خطبہ کے بعد نوافل ادا کئے جیسا کہ بحر
حوالہ / References &صحیح البخاری کتاب العیدین باب خروج الصیبان الی المصلی€ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۳۳
&صحیح البخاری کتاب العیدین باب المشی والرکوب الخ€ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۳۱
&شرح مسلم للنووی مع مسلم کتاب صلٰوۃ العیدین باب المشی والرکوب الخ€ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٢٨٩
&درمختار باب الجمعہ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۱۱۱
&ردالمحتار باب الجمعہ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۶۰۰
#11143 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
او جامع واغتسل استقبل خلاصۃ ای لزوما لبطلان الخطبۃ سراج اھ مزید امن الشامی
میں ہے ش)اور اگر کسی جنبی کا فاصلہ ہوگیا پس اگر وہ طویل تھا مثلا گھر آیا اور کھانا کھایا باجماع کیا اور غسل کرکے واپس لوٹا تو نئے سرے سے خطبہ دے خلاصہ یعنی اب خطبہ دوبارہ دینا لازمی ہے کیونکہ پہلا ختم ہو چکا ہے سراج اھ یہ اضافہ شامی سے ہے ۔ (ت)
اور شك نہیں کہ خطبہ خواندہ کا ترجمہ یااور مواعظ و نصائح جو اس وقت میں واقع ہوں گے انھیں مقاصد ومظامین خطبہ پر مشتمل ہوں گے _________ تو وقت خطبہ میں ایقاع تذکیر بہ نیت تذکیر قطعا اسے داخل خطبہ کرے گا اور نیت قطع بے معنی رہے گی کہ عمل وواقع صراحۃ اس کا مکذب ہوگا
کمن نوی ان لا یاکل وھوا کل اولا یشرب وھو شارب بالجملۃ فنیۃ التذکیر فی ھذا الوقت عین نیۃ الخطبۃ لیست الخطبۃ الاھذا ولذ اصرحوا ان الخطیب کلما تکلم بکلام یامرفیہ بمعروف او ینھی عن منکر فانہ یعد من الخطبۃ وان خاطب بہ رجلا معینا لحاجۃ مخصوصۃ کما سیأتی۔
جیسے کہ کسی شخص نے نیت کی کہ وہ نہیں کھائے گا یا نہیں پئے گا اور درانحا لیکہ وہ کھا رہا ہے یا پی رہاہے الغرض اس موقعہ پر تذکیر کی نیت بعینہ نیت خطبہ ہے کیونکہ خطبہ تذکیر ہی ہوتا ہے اسی لئے فقہاء نے تصریح کی ہے کہ خطبہ دینے والا کوئی ایسا کلام کرے جس میں نیکی کا حکم اور برائی سے ممانعت ہو تو اسے خطبہ ہی کہا جائے گا اگر چہ وہ کسی مخصوص حاجت کی وجہ سے کسی سے مخاطب ہو رہا ہو جیسا کہ عنقریب آرہا ہے ۔ (ت)
اور اگر بالفرض قطع ہی مانیے تو خطبہ و نماز میں فصل لازم آئے گا اگر چہ غیر اجنبی سے تو سنت مستمرہ وصل کے خلاف ہوگا بہر حال خالی ازکراہت نہیں ھذا ماظھرلی وباﷲ التوفیق
دوم : صرف اردو خطبہ اس کی کراہت بیان بالا سے اظہر وازہر خصوصا جبکہ یہ صرف اپنی صرافتہ محضہ پر ہو کہ اب تو اس کا مکروہ و شنیع ہونا صراحۃ منصوص کہ خطبہ میں تلاوت قرآن عظیم کا ترك برا ہے ۔
فی الھندیۃ فی ذکر سنن الخطبۃ الحاوی عشر قرائۃ القران وتارکھا مسیئی ھکذا فی البحر الرائق ومقدار ما یقرأ فیھا من القران ثلث ای ات قصار اوای ۃ طویلۃ کذا
فتاوی ہندیہ میں سنن خطبہ کے بیان میں ہے کہ گیارھویں سنت خطبہ میں قرآن پڑھنا ہے اور اس کا ترك گناہ ہے اسی طرح بحرالرائق میں ہے اوراس کی تعداد تین چھوٹی آیات یا ایك بڑی آیت ہے
حوالہ / References &درمختار باب الجمعہ€ مطبوعہ مجتبائی دہلی بھارت ١ / ١١١
#11144 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
فی الجوھرۃ النیرۃ ۔
جیسا کہ جوہرہ نیرہ میں ہے (ت)
سوم : کچھ عربی کچھ اردو اس کا حال بھی بیان سابق سے واضح ہوچکا مگر جب امام بحالت خطبہ کوئی امر منکر دیکھے تو اس سے نہی کیا ہی چاہئے اور جب وہ عربی سمجھتا یا امام خود عربی میں کلام کرنا نہیں جانتا تو ناچار زبان مقدور و مفہوم کی طرف رجوع ہوگی یہ کلام جو خطبہ میں ہوگا خطبہ ہی ہوگا کہ امر بالمعروف بھی اس کے مقاصد حسنہ سے ہے
فی الدرالمختار یکرہ تکلمہ فیھا الا لا مر بمعروف لانہ منہا ۔
درمختار میں ہے خطبہ میں گفتگو مکروہ ہے البتہ نیکی کا حکم جائز ہے کیونکہ یہ خطبہ کا حصہ ہے ۔ (ت)
یوں ایك حصہ خطبہ اردو میں ہونا البتہ مکروہ نہیں بلکہ واجب تك ہو سکتا ہے جبکہ ازالہ منکر اسی میں منحصر ہو۔
چہارم : محض اشعار پر قناعت یہ ضرور مکروہ واسائت وخلاف سنت وموجب ترك تلاوت اور اگر ایك آیت طویلہ یا تین آیت قصیرہ کو نظم کرکے لائیں تو اول تو غالبا یہ بلا تغییر نظم قرآن نا متیسر اور بعد تغییر نظم تلاوت نہ رہے گی اگر چہ اقتباس ہو اور اگر بن بھی پڑے تو ادائے سنت تلاوت کے لئے قرآن مجید کو منظوم کرکے پڑھنا ترك قرائت سے اشد واشنع ہے قرآن عظیم شعر سے پاك و منزہ اور اپنے شعر بننے کی گوارش سے متعالی وارفع ہے۔ و ما علمنه الشعر و ما ینبغی له- ( اور ہم نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو شعر کی تعلیم ہی نہیں دی اور نہ ہی یہ آپ کی شان کے لائق ہے ۔ ت تو اس طور پر قصد لاوت صریح اساءت ادب ہے۔
وبہ فارق الاقتباس الذی لا یرادفیہ تلاوۃ القران فانہ شائع سائغ علی الاصح۔
اس سے وہ اقتباس الگ ہوگیا جس سے مقصد تلاوت قرآن نہیں کیونکہ اصح قول کے مطابق یہ مشہور اور مروج ہے ۔ (ت)
اور یوں بھی نظم پر اقتصار میں بلاوجہ کلمات ماثورہ وطریقہ متوارثہ سے اعراض ہے تو اس سے اعراض ہی چاہئے ۔
پنجم : بعض اشعار محمودہ ملائمہ داخل کرنا یہ اگر زبان عجم ہوں تو وہی امر سوم ہے ورنہ کچھ حرج نہیں خصوصا جبکہ احیانا ہو کہ امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے خطبہ میں بعض اشعار پڑھنا مروی ۔
کما رواہ العسکری فی کتاب المواعظ وقد ذکرنا حدیثہ فی فتاونا ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
جیساکہ عسکری نے کتاب المواعظ میں ذکر کیا ہے اور ہم نے اس کے بارے میں اپنے فتاوی میں بھی گفتگو کی ہے واﷲ تعالی اعلم (ت)
حوالہ / References &فتاوٰی ہندیہ الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعہ €مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۴۷
&درمختار € ، &باب الجمعۃ € ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ١ / ١١١
&القرآن€ ۳۶ / ۶۹
#11153 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
مسئلہ : از کانپور محلہ جرنیل گنج مسجد حاجی فرحت مرسلہ شیخ محمد سہول محرم الحرام ھ
ماقولکم ایھا العلماء الکرام( اے علماء کرام تمھارا کیا قول ہے ) اس مسئلہ میں کہ جمعہ کی نماز میں جو اخیر میں دورکعت ظہر کی سنت پڑھتے ہیں اس کی ضرورت ہے یا نہیں بینوا توجرو
الجواب :
جمعہ کے بعد ظہر کی سنت کا کوئی محل ہی نہیں نہ ضرورت بمعنی وجوب سنن میں محمل ۔ ہاں جمعہ کی سنت بعد یہ میں اختلاف ہے اصل مذہب میں چار ہیں وعلیہ المتون ( متون میں اس بات کا تذکرہ ہے ۔ ت) اور احوط و افضل چھ ہیں ۔
وھو قول الامام ابی یوسف وبہ اخذ اکثر المشائخ کما فی فتح اﷲ المعین عن النھر عن العیون والتجنیس وھو المختار کما فی جواھر الاخلاطی وھوا لثابت بالحدیث کما بیناہ فی فتاونا۔
امام ابو یوسف کا یہی قول ہے اور اسی پر اکثر مشائخ کا عمل ہے جیسا کہ فتح اﷲ المعین میں نہر سے اور وہاں عیون اور تجنیس سے ہے اور یہی مختار ہے جیسا کہ جواہر الاخلاطی میں ہے اور یہ حدیث سے ثابت ہے جیسا کہ ہمارے فتاوی میں اس کی تفصیل ہے (ت)
مگر جب صحت جمعہ میں نزاع واشتباہ کے باعث خواص چار رکعت احتیاطی بہ نیت آخر ظہر پڑھیں تو انھیں چاہئے بعد جمعہ چار سنتیں پھر وہ چار رکعتیں پڑھ کر ان کے بعد یہ دو سنتیں نہ نیت سنت وقت پڑھیں جمعہ یا ظہر کی تعیین نہ کریں کہ نیت ہر احتمال کو اشتمال رکھے اور ہر طرح یہ سنتیں اپنے موقع پر بالاتفاق واقع ہوں ۔
فی ردالمحتار عن شرح المنیۃ الصغیر والاولی ان یصلی بعد الجمعۃ سنتھا ثم الاربع بھذہ النیۃ ای نیت اخرظھر ادرکتہ ولم اصلہ ثم رکعتین سنۃ الوقت فان صحت الجمعۃ یکون قد ادی سنتھا علی وجھہا والا فقد صلی الظھر مع سنتہ ۔ واﷲ سبحنہ و تعالی اعلم
ردالمحتار میں شرح منیۃ الصغیر کے حوالے سے ہے کہ بہتر یہ ہے کہ جمعہ کے بعد اس کی سنن ادا کی جائے پھر چار رکعات اس نیت سے یعنی آخری ظہر کی نیت سے کہ سے میں نے پایا مگر ادا نہ کیا پھر دقتی دو سنتیں ادا کرے اب اگر جمہ صحیح ہو گیا تھا تو اس کی سنن اپنے اپنے وقت پر ادا ہوئیں اور اگر جمعہ صحیح نہیں تو ظہر کی سنتوں کے ساتھ ادا ہوگی ۔ واﷲ سبحنہ و تعالی اعلم (ت)
حوالہ / References &ردالمحتار باب الجمعہ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٩٧
#11154 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
مسئلہ : از چھاونی فیروز پور صدر پنجاب محلہ لال ڈگی مرسلہ مولوی فضل الرحمان صاحب ربیع الآخر شریف ھ
بخدمت حضرت مخدوم ومعظم مقبول السبحان حضرت مولینا مولوی احمد رضا خاں صاحب ادام اﷲ فیضہ القوی السلام علیکم وعلی لدیکم مصدع خدمت خدام والا ہوں کہ ایك مسئلہ کی دو۲صورتیں ارسال خدمت شریف کرکے گزارش کہ بتفضلات کریما نہ جوا ب باصواب سے معزز وممتاز فرمائیں جزاکم اﷲ خیر الجزاء ( اﷲ تعالی آپ کو بہتر جزا عطا فرمائے۔ ت) نیازمند قدیمی فقیرمحمد فضل الرحمن۔
مبسلا وحامد اومصلیا ومسلما اما بعد پس واضح رہے کہ بحدیث آمدہ بخطبہ جمعہ ہر کہ دیگرے رامی گوید کہ خاموش باش یاسنگریزہ رامس کرو اور اثواب جمعہ نباشد کہ اوعبث ولغو کرد۔
حدیث شریف میں ہے کہ خطبہ جمعہ میں اگر ایك دوسرے کو کہے خاموش ہوجا یا سنگریزے کو مس کر دیا تو اسے جمعہ کا ثواب حاصل نہ ہوگا کیونکہ اس نے ایك عبث ولغو کام کیا ہے ۔ (ت)
نیز خطبہ جمعہ میں حاضرین نے آپ سے کہا کہ بارش کی دعا کیجئے آپ نے ہاتھ اٹھا کے دعا کی تھی اور تمام حاضرین نے بھی ہاتھ اٹھائے تھے تو آئندہ جمعہ کو تمام حاضرین نے کہا کہ بند ہونے بارش کی دعا کیجئے آپ کے دعا کرنے سے فورا مینہ بند ہوگیا تھا بخاری ومسلم عــــہ۱ تو دونوں مقاموں سے معلوم ہوا کہ عبث کام کےلئے بولنا ہاتھ کا ہلانا جمعہ کےخطبہ میں مکروہ ہے اور نیك کار کے لئے مکروہ ہرگز نہیں اس استدلال کی اگر سمجھ نہ آئے تو بفتاوی علمگیریہ نقلا عن المحیط وغیرہ موجود ہیے کہ بخطبہ جمعہ :
اذالم یتکلم بلسانہ لکنہ اشار بیدہ او برأسہ اوبعینہ نحوان رأی منکرا من انسان فنھاہ بیدہ عــــہ۲ اواخبر بخبر فاشار برأسہ الصحیح انہ
اگر اس نے زبان سے کلام نہیں کیا لیکن ہاتھ یا سر آنکھ سے اشارہ کیا مثلا کوئی برا کام دیکھا اور اسے ہاتھ سے روکا یا اسے کسی نے خبردی تو اس نے سر سے

عــــہ۱ : باب خطبہ جمعہ وباب استسقاء کے دیکھنے سے یہی حاصل ہے ۔ (م)
عــــہ۲ : مثلا اگر دیکھے کسی کو کہ دوسرے کو کہتا ہے چپ کر یا سنگریزہ کو مس کر تاہے تردیکھنے والا اس کو ہاتھ یا سر یا آنکھ کے اشارے سے منع کرے کہ یوں نہ کر تو منع کنندہ لاباس بہ میں داخل ہے اور جس کو اس نے منع کیا ہو لغو و عبث کنند گان سے شمار کیا جائے گا ۔ فتدبر (م)
#11155 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
لاباس بہ اما دراسۃ الفقہ وکتابتہ عند البعض مکروہ وقال البعض لاباس بہ ( ملخصا تقدما وتاخرا ) انتھی۔
اشارہ کیا تو صحیح یہی ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں لیکن فقہ کی تدریس وکتابت بعض کے ہاں مکروہ ہے اور بعض کے نزدیك اس میں کوئی حرج نہیں انتہی (ت)
پس ان سب روایتوں کے استدلال سے جو کوئی خطبہ اولی بقدر سنت سن کے باقی کو سنتا رہے اور حاضرین کو جوگرمی میں ہوا کی حاجت وضرورت ہوتی ہے سب کو ہوا کرنے لگے تاکہ اطمینان سے خطبہ سنیں لا باس بہ ( اس میں کوئی حرج نہیں ۔ ت) بیشك یہ شخص ثواب جمعہ سے محروم نہ رہے گا۔
اذا المقصود من الانصات ملا حظۃ معنی الخطبۃ واشتغال قلوب السامعین بالحر یفوت ذلك کذا یستفاد من فتاوی حموی۔
کیونکہ خطبہ کی طرف کان لگانے سے مقصود یہی ہے کہ معانی خطبہ سے اگاہی ہو لیکن سامعین کے دلوں کا گرمی کی وجہ سے پریشان ہونا اسے فوت کرنے کا ذریعہ ہے فتاوی حموی سے یہی مستفاد ہے ۔ (ت)
دیکھو جنت میں بروز جمعہ سب مومنوں کو ایك مکان میں جمع کرکے باری تعالی بھی ہوا شمالی چلائے گا تاکہ باطمینان دیدار حق سبحانہ تعالی سے مشرف ہواکریں گے اس ہو اکا نام میثرہ ہے کہ کستوری کی خوشبوئی کا اثر رکھتی ہوگی کما فی مسلم(جیساکہ مسلم شریف میں ہے۔ ت)
ثانیا اس ہواکنندہ قوم کو بخطبہ جمعہ گرمی کے مارے خود ہوا کی سخت حاجت وضرورت ہوتی ہے تو اس نے اپنی اس راحت پر راحت کو مقدم کیا و یؤثرون على انفسهم و لو كان بهم خصاصة ﳴ ( وہ اپنی ذاتوں پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اگر چہ وہ خود بھوکے ہوتے ہیں ۔ ت)کے گرد میں داخل ہوکے درجہ مفلحون کا پایا یہ آیت سورہ حشر کی بخاری و اشباہ وفتاوی حموی میں موجود ہے اور کتاب وسنت کا حکم عام ہے۔
لان العبرۃ لعموم اللفظ لالخصوص المورد کما قرر فی الاصول۔
کیونکہ اعتبار عموم لفظ کا ہو تا ہے مخصوص واقعہ کا اعتبار نہیں کیا جاتا جیسا کہ اصول میں مسلمہ ہے ۔ (ت)
خطبہ جمعہ بقدر ایك تسبیح کے فرض اور تین آیات قصیرہ یا ایك آیت طویلہ پڑھنا وشہادتین و درود پڑھنا اور پند و نصیحت قوم کو کرنا خطیب پر سنت اور خطبہ ثانیہ نیز سنت ہے اور بعضوں کے نزدیك خطبہ اولی بقدر تمام التحیات کے فرض ہے فتدبر۔ راقم دعاگوخیر خواہ فقیر غلام البنی عنہ باسمہ سبحنہ وتعالی شانہ ۔
حوالہ / References &فتاوی ہندیہ الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعۃ €مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۴۷
&القرآن€ ٥٩ / ٩
#11156 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
الجواب :
ھو الموفق بالحق والصواب ( وہ حق اور درستی کے ساتھ توفیق دینے والا ہے ۔ ت) برضمائر ارباب صدق و صفاد اصحاب فطنت وذکا مخفی ومحتجب نہ رہے کہ جو افعال اثنائے نماز میں حرام ہیں وہی خطبہ میں بحالت استماع خطبہ گفتگو کرنا یابادکشی کرنا جو مضر اور مخالف استماع خطبہ ہے ممنوع اور غیر مشروع ہے ہرگز درست نہیں مرتکب اس کا خاطی وسخت گناہ گار ہے علمگیریہ میں ہے :
ویحرم فی الخطبۃ مایحرم فی الصلوۃ حتی لا ینبغی ان یاکل او یشرب والامام فی الخطبۃ ھکذا فی الخلاصۃ ص ۵۳۔
خطبہ کے دوران ہر وہ شیئ حرام ہے جو نماز میں حرام حتی کہ امام کے خطبہ کے وقت کھانا وپینا مناسب نہیں اسی طرح خلاص ص ۵۳ میں ہے ۔ (ت)
درمختار میں ہے :
(وکل ماحرم فی الصلوۃ حرم فیھا) ای فی الخطبۃ خلاصۃ وغیرھا فیحرم اکل وشرب وکلام ولو تسبیحا اوردسلام او امرا بمعروف بل یجب علیہ ان یستمع ویسکت ۔
( جو کچھ نماز میں حرام ہے اس ( خطبہ ) کے دوران بھی حرام ہے) خلاصہ وغیرہ پس کھانا پینا کلام کرنا اگر چہ سبحان اﷲ کہنا سلام کا جواب دینا یا نیکی کا حکم ہو اس دوران ناجائز ہے بلکہ واجب ہے کہ خطبہ سنا جائے اور خاموشی اختیار کی جائے ۔ (ت)
شامی میں ہے :
قولہ بل یجب علیہ ان یستمع ظاھرہ انہ یکرہ الاشتعال بما یفوت السماع وان لم یکن کلاما وبہ صرح القھستانی حیث قال اذا الاستماع فرض کما فی المحیط اوواجب کما فی صلوۃ المسعودیۃ اوسنۃ الخ۔
قولہ “ بلکہ خطبہ کا سننا واجب ہے “ کا ظاہر واضح کررہا ہے ہر وہی شیئ پڑھنا جس سے سماع خطبہ فوت ہو وہ مکروہ ہے اگر چہ وہ کلام نہ ہو اسی کی تصریح کرتے ہوئے قہستانی نے کہا کیونکہ خطبہ کا سننا فرض ہے جیسا کہ محیط میں یا واجب ہے جیسے کہ صلوۃ المسعودیہ میں یا سنت ہے الخ (ت)
حوالہ / References &فتاوی ہندیہ الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعۃ €مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۴۷
&درمختار باب الجمعۃ €مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ١ / ١١٣
&ردالمحتار € ، &باب الجمعۃ € ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٦٠٦
#11157 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
شرح وقایہ میں ہے :
واذا خرج الامام محرم الصلوۃ والکلام حتی یتم خطبتہ ۔
جب امام (خطبہ کے لئے نکل آئے تو نماز و کلام حرام ہوجاتی ہے یہاں تك کہ خطبہ مکمل ہوجائے ۔ (ت)
شرح نووی میں ہے :
قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ومن مس الحصا فقد لغافیہ النھی عن مس الحصا وغیرہ من انواع العیث فی حال الخطبۃ و فیہ اشارۃ الی اقبال القلب والجوارح علی الخطبۃ ۔
حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے : اور جس نے سنگریزے کو مس کیا اس نے لغو کام کیا اس فرمان میں سنگریزے وغیرہ کومس کرنا جیسے کاموں سے حالت خطبہ میں آپ نے منع فرمایا ہے اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دل اور اعضاء کو خطبہ کی طرف لگا یا جائے۔ (ت)
لب اور خلاصہ عبارات متذکرہ بالا کا یہ ہے کہ اثنائے خطبہ میں بادکشی وغیرہ لغو افعال جو مانع استماع خطبہ وتوجہ قلب اور اعضائے انسانی کے ہیں ناجائز ہیں اور فاعل اس کا بجائے اس کے کہ مستحق ثواب کا ہو مرتکب گناہ کا ہوگا۔ المجیب محمد فضل الرحمن ساکن صدر بازار کیمپ فیروز پنجاب۔
الجواب :
تحریر ثانی صحیح ہے اور رائے نجیح فی الواقع فعل مذکور گناہ وحرام او راس کا فاعل مرتکب آثار اور اس میں ثواب طمع خام او رتحریر اول سراسر اوہام خلاصہ وبزازیہ وخزانۃ المفتین و مجتبی وجلابی وحلیہ و جامع الرموز وبحرالرائق ونہر الفائق ومراقی الفلاح وتنویر الابصار ودرمختار وطحطاوی علی المراقی ومنحۃ و ہندیہ ومنحۃ الخالق وغیرہا عامہ کتب مذہیب میں صاف تصریح ہے کہ جو فعل نماز میں حرام ہے خطبہ ہونے کی حالت میں بھی حرام ہے خلاصہ و علمگیریہ ومتن و شرح تنویر کی عبارات کلام مجیب میں گزریں اورعبارت خزانۃ المفتین بعینہا عبارت خلاصہ ہے اور اسی سے بحر و حاشیہ البحر للعلامۃ الشامی میں بہ نقل نہر ماثور۔ وجیز امام کردری میں ہے :
مایحرم فی الصلوۃ یحرم فی الخطبۃ کالا کل والشرب حال الخطبۃ ۔
جو کچھ نماز میں حرام ہے خطبہ میں بھی حرام ہے مثلا خطبہ کے دوران کھانا پینا۔ (ت)
حوالہ / References &شرح وقایہ€ ، &باب€ &ا لجمعۃ€ ، مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ دہلی بھارت ۱ / ۲۴۴
&شرح مسلم مع مسلم کتاب الجمعۃ€ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۸۳
&فتاوی بزازیہ علٰی ہامش الفتاوٰی الہندیہ الثالث والعشرون فی الجمعۃ€ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ٤ / ٧٤
#11158 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
شرح منیہ امام محمد محمد ابن امیر الحاج حلبی میں ہے :
کما یکرہ الکلام بانواعہ یکرہ مایجراہ من کتابۃ ونحوھا مما یشغل عن ساعھا حتی ان فی شرح الزاھدی ویکرہ لمستمع لخطبۃ مایکرہ فی الصلوۃ کالا کل والشوب والعبث والا لتفات ۔
جیسے ہر طرح کی گفتگو منع ہے ویسے ہی اس کے قائم مقام مثلا کتابت وغیرہ جو خطبہ کے سماع میں خلل ڈالے حتی کہ شرح الزاہدی میں ہے کہ خطبہ کے سامع کے لئے ہو وہ شیئ مکروہ ہے جو نماز میں مکروہ ہے مثلا کھانا پینا عبث فعل اور کسی طرف متوجہ ہونا وغیرہ (ت)
اسی طرح علامہ سید احمد مصری نے حاشیہ شرح نورالایضاح میں بحوالہ شرح الکنزللعلامۃ عمر بن نجیم وشرح القدوری لمختار بن محمود سے نقل کیا ۔ شرح نقایا علامہ محمد قہستانی میں ہے :
کما منع الکلام منع الاکل والشرب العبث والالتفات والتخطی وغیرھا مما منع فی الصلوۃ کما فی جلابی ۔
جس طرح گفتگو منع ہے اسی طرح کھانا پینا عبث کام کسی اور طرف متوجہ ہونا اور خط وغیرہ کھینچنا جو کہ نماز میں ممنوع ہیں منع ہیں جیسا کہ جلابی میں ہے ۔ (ت)
متن وشرح علامہ حسن شرنبلالی میں ہے :
(کرھہ لحاضر الخطبۃ الاکل والشرب)وقال الکمال یحرم ( والعبث والالتفات) فیجتنب ما یحتنبہ فی الصلوۃ اھ باختصار۔
(خطبہ میں حاضر شخص کے لئے کھانا پینا مکروہ ہے ) کمال نے کہا حرام ہے ( بے فائدہ کام کسی اور طرف متوجہ ہونا) پس ہر شے سے اجتناب کرنا چاہئے جس سے نماز میں اجتناب کیا جاتا ہے اھ اختصارا (ت)
غنیہ شرح منیہ للعلام ابراہیم الحلبی میں ہے :
الاستماع والانصات واجب عندنا وعند الجمہور حتی انہ یکرہ قراء ۃ القران ونحوھا وردالسلام تشمیت العاطس وکذاالاکل والشرب وکل عمل ۔
خطبہ سننا اور اس کی طرف متوجہ ہونا ہمارے اور جمہور کے نزدیك واجب ہے حتی کہ اس کے دوران قراءت قران وغیرہ سلام کا جواب چھینك کا جواب مکروہ ہے اور اسی طرح کھانا پینا اور ہر عمل کا یہی حکم ہے (ت)
حوالہ / References حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح بحوالہ النہر عن البدائع مفہومًا باب الجمعہ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۲۸۲
جانع الرموز فصل فی صلٰوۃ جمعہ مطبوعہ گنبدقاموس ایران ۱ / ۲۶۸
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ٢٨٣
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی صلٰوۃ الجمعہ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ٥٦٠
#11159 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
کیا کوئی عاقل کہہ سکتا ہے کہ بادکشی مذکور نمازی کو بحالت نماز حلال ہے حاشا قطعا حرام ہے تو حسب تصریحات متوافرہ ائمہ وعلمائے معتمدین بحالت خطبہ بھی حرام وموجب آثام ہے یہیں سے اس روایت اشارہ بچشم وسرو دست کا بھی جواب ظاہر ہوگیا کہاں کسی منکر یا اور کسی حاجت کے لئے ایك اشارہ کردینا اور کہاں حالت خطبہ میں حاضرین کو پنکھا جھلتے پھرنا یہ قیاس فاسد اگر صحیح ہو تو یہ حرکت نماز میں بھی جائز ٹھہرے کہ ایسا اشارہ تو عین نماز میں بھی حرام نہیں مثلا کوئی شخص نمازی کو سلام کرے یا نمازی سر یا ہاتھ کے اشارے سے جواب دے دے یا کوئی کچھ مانگے یہ ہاں یا نہ کا اشارہ کردے یا کوئی پوچھے کے رکعتیں ہوئیں یہ انگلیوں کے اشارہ سے بتادے یا کوئی روپیہ دکھا کر کھوٹا کھرا پوچھے یہ ایما سے جواب دے دے تو یہ سب صورتیں اگر چہ مکروہ ہیں مگر حرام و مفسد نماز نہیں درمختار باب مفسدات الصلوۃ میں ہے :
( وردالسلام ) ولو سھوا ( بلسانہ ) لا بیدہ بل یکرہ علی المعتمد ۔
( سلام کا جواب دینا) اگر چہ بھول کر ہو ( زبان کے ساتھ) نہ کہ ہاتھ کے ساتھ بلکہ یہ معتمد قول کے مطابق مکروہ ہے ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
ای لایفسدھا ردالسلام بیدہ خلافہ لمن عزا الی ابی حنیفۃ انیہ مفسد فانہ لہم یعرف نقلہ من احد من اھل المذب وانما یذکرون عدم الفساد بلا حکایۃ خلاف بل صریح کلام الطحطاوی انہ قول ائمتنا الثلثۃ کذافی الحیلۃ وفی البحرالرائق ان الفساد ولیس بثابت فی المذھب ویدل لعدم الفسساد انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فعلہ کما رواہ ابوداؤد وصححہ فی الترمذی وصرح فی المنیۃ بانہ مکروہ ای تنزیھا اھ مختصرا
یعنی ہاتھ کے ساتھ سلام کا جواب دینا نماز کے لئے فاسد نہیں بخلاف اس کے جس نے امام ابوحنیفہ کی طرف منسوب کیا ہے کہ یہ فاسد نماز ہے کیونکہ اس کا یہ کسی اہل مذہب سے منقول ہونا معروف نہیں علماء نے بغیر اختلاف ذکر کئے عدم فساد بیان کیا ہے بلکہ کلام طحطاوی میں تصریح ہے کہ یہ تینوں ائمہ کا قول ہے جیسا کہ حلیہ میں ہے اور بحرالرائق میں ہے کہ فساد مذہب میں ثابت نہیں اور اس کے عدم فساد پر نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا عمل دلالت کرتا ہے جیسا کہ ابوداؤد میں ہے ترمذی نے اس کی تصحیح فرمائی اور منیہ میں اس کے مکروہ ( تنزیہی ) ہونے کی تصریح ہے اھ مختصرا (ت)
حوالہ / References &درمختار باب مایفسد الصلٰوۃ€ مطبوعہ مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۸۹
&ردالمحتار باب مایفسد الصلٰوۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۵۵
#11160 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
اسی ( درمختار )کے مکروہات میں ہے :
لاباس بتکلم المصلی واجابتہ براسہ کما لو طلب منہ شیئ اواری درھما قیل اجید فا وما بنعم اولا اوقیل کم صلیتم فاشاربیدہ انھم صلوا رکعتین ۔
نماز اگر سر کے اشارے کے ساتھ کلام یا جواب دے تو اس میں کوئی حرج نہیں مثلا اس سے کوئی شے طلب کی گئی یا اس سے دراہم کے بارے دریافت کیا گیا کہ کیا یہ کھرا ہے ۔ تو اس نے اشارے سے ہاں یا نہ کہا یا یہ پوچھا گیا کہ تم نے کتنی رکعات پڑھی ہیں تو وہ ہاتھ کے اشارے سے بتلاتا ہے کہ اس نے دو رکعات ادا کی ہیں ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ واجبتہ برأسہ قال فی الامداد وبہ ورد الاثر عن عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہا وکذا فی تکلیم الرجل المصلی قال تعالی فنادتہ الملئکۃ وھو اقائم یصلی فی المحراب ۔
ماتن کا قول “ نماز کا سر کے اشارے سے جواب دینا “ اس بارے میں الامداد میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا اس پر فرمان بھی منقول ہے اسی طرح کسی کا نمازی سے کلام کرنا تو اس سلسلہ میں اﷲ تعالی کا فرمان ہے ملائکہ نے انھیں آوازدی حالانکہ وہ محراب میں نماز ادا کررہے تھے۔ (ت)
انھیں عبارات ائمہ میں تصریح گزری کہ بحالت خطبہ چلنا حرام ہے یہاں تك کہ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر ایسے وقت آیا کہ خطبہ شروع ہوگیا مسجد میں جہاں تك پہنچا وہیں رك جائے اگے نہ بڑھے کہ عمل ہوگا اور حال خطبہ میں کوئی عمل روا نہیں حالانکہ امام سے قرب شرعا مطلوب اور حدیث وفقہ میں اس کا فضل مکتوب اور وہیں بیٹھ جانے میں آئندہ آنے والوں کے لئے بھی جگہ کی تنگی ہے ان امور پر لحاظ نہ کریں گے اور آگے بڑھنے کی اجازت نہ دیں گے مگر پنکھا جھلتے پھرنا ضرور جائز بنا ہی لیا جائے گا خانیہ و ہندیہ وغیر ہما میں ہے :
ذکر الفقیہ ابو جعفر قالا اصحابنا رضی اﷲؤ تعالی عنھم انہ لا باس با لتخطی مالم یا خذ الامام فی الخطبتۃ ویکرہ اذا اخذ للمسلم ان
فقیہ ابوجعفر کہتے ہیں کہ ہمارے اصحاب رضی اللہ تعالی عنہم کا فرمان ہے کہ جب تك امام نے خطبہ شروع نہیں کیا اس وقت تك چلنے میں کوئی حرج نہیں جب
حوالہ / References &درمختار باب مایفسد الصلٰوۃ الخ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۹۱
&ردالمحتار باب مایفسد الصلٰوۃ الخ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۷۶
#11161 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
یتقدم ویدنوامن المحراب اذالم یکن الامام فی الخطبۃ لیتسع المکان علی من یجی بعدہ وینال فضل القرب من الامام فاذالم یفعل الاول فقد ضیع ذلك المکان من غیر عذر فکان للذی جاء بعدہ ان یاخذ ذلك المکان وامامن جاء والامام یخطب فعلیہ ان یستقرفی موضعہ من المسجد لان مشیہ فتقدمہ عمل فی حالۃ لخطبۃ ۔
امام نے خطبہ شروع کردیا تو اب کراہت ہے کیونکہ امام خطبہ نہیں دے رہا تو مسلمان کو چاہئے کہ وہ محراب کے قریب ہوجائے تاکہ بعد میں آنے والے لوگوں کے لئے جگہ بن جائے اور اس کے ذریعے امام کی قربت کی فضیلت بھی حاصل ہوگی جب اس نے پہل نہ کی تو اس نے بغیر عذر وہ جگہ ضائع کردی اب بعد میں آنے والا شخص وہ جگہ حاصل کرسکتا ہے لیکن جو شخص اس وقت آیا جب امام خطبہ دے رہا تھا تو وہ مسجد میں اپنی جگہ پر ہی بیٹھ جائے کیونکہ اب اس کا چلنا اور آگے بڑھنا حالت خطبہ میں عمل ہوگا۔ (ت)
چلنا تو بڑی چیز ہے انھیں عبارات علماء میں تصریح گزری کہ خطبہ ہوتے میں ایك گھونٹ پانی پینا حرام کسی طرف گردن پھیر کر دیکھنا حرام تو وہ حرکت مذکورہ کس درجہ سخت حرام ہوگی انھیں وجوہ زاہرہ سے اس کے نیك کام اور یؤثرون علی انفسھم میں داخل ہونے کا جواب روشن ہوگیا نیکی وایثار تو جب دیکھیں کہ فعل وہاں جائز بھی ہو جب سرے سے نفس فعل حرام تو اس کے فضائل گننے کا کیا محل مسلمانوں کو پنکھا جھلنا تو جہاں جائز ہو وہاں غایت درجہ مستحب ہوگا جواب سلام دینا امر بالمعروف کرنا تو واجب تھے اور بحالت خطبہ حاضرین پر حرام ہوئے اب کیا یہاں ان کے فضائل ووجوب سے استدلال کی گنجائش ہے غنیہ میں ہے :
لایقال ردالسلام فرض فلا یمنع منہ لانا نقول ذلك اذاکان السلام فاذونا فیہ شرعا ولیس کذلك فی حالۃ الخطبۃ بل یرتکب فاعلہ اثما ۔
یہ اعتراض نہیں کیا جاسکتا کہ سلام کا جواب دینا فرض ہے لہذا اس سے منع نہ کیا جائے کیونکہ جوابا کہیں گے فرض وہاں ہے یہاں شرعا سلام کرنے کی اجازت ہو حالانکہ حالت خطبہ میں اس کی اجازت نہیں بلکہ ایسا عمل کرنے والا گنہگار ہوگا۔ (ت)
اوروں کے اطمینان کو آپ صریح بے اطمینانی و یؤثرون على انفسهم ۔ ( وہ اپنی ذات پردوسروں کوترجیح
حوالہ / References &فتاوٰی ہندیہ الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعۃ €مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ٤٨۔ ١٤٧
&غنیہ المستملی شرح منیہ المصلی فصل فی صلٰوۃ الجمعہ €مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۵۶۰
&القرآن€ ٥٩ / ٩
#11162 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
دیتے ہیں ۔ ت) میں شمول نہیں اتامرون الناس بالبر وتنسون انفسکم ۔ ( تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو ۔ ت)میں دخول ہے یعنی دیگراں رانصیحت وخود رافضیحت ( اوروں کو تو اچھے کام کی نصیحت کرنا اور خود برے کام کرنا۔ ت) علمائے کرام توایثار قربت میں کلام رکھتے ہیں نہ کہ اوروں کی قربت کے لئے خود حرام کا ارتکاب یہ ایثار نہیں صراحتہ اپنے دین کو اضرار ہے کما لا یخفی ( جیسا کہ مخفی نہیں ۔ ت) یہیں سے واضح کہ ممانعت کو صرف فعل عبث وبے فائدہ سے خاص کرنا محض غلط ہے بلکہ اس قسم کا ہر عمل اگر چہ کیسا ہی مفید ہووقت خطبہ شرعا لغو میں داخل اور اس کے فائدے پر نظر باطل بلکہ نفع درکنار اس سے ضرر حاصل آخر دیکھا کہ شرع مطہر نے اس وقت امر بالمعروف کو کہ اعلی درجہ کی مفید و مہم چیز ہے حرام ٹھہرایا اور دو حرف (چپ ) کہنے کو لغو میں داخل فرمایا صحاح ستہ میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں
اذا قلت لصاحبك یوم الجمعۃ انصت والامام یخطب فقد لغوت ۔
جب روز جمعہ خطبہ امام کے وقت تو دوسرے سے کہے چب تو تو نے خود لغو کیا
مسند احمد سنن ابی داؤد میں امیر المومنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ سے ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من قال لصاحبہ یوم الجمعۃ صہ فقدلغاومن لغا فلیس فی جمعتہ تلك شیئ ۔
جو جمعہ کے دن اپنے ساتھی سے چپ کہے اس نے لغو کیا اور جس نے لغو کیا اس کے لئے اس جمعہ میں کچھ اجر نہیں ۔
امام احمد حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من یتکلم یوم الجمعۃ والامام یخطب فھو کمثل الحمار یحمل اسفارا والذی یقول لہ انصت لیس لہ جمعۃ ۔
جمعہ کے دن جب امام خطبہ میں ہو بولنے والا ایسا ہے جیسے گدھا جس پر کتابیں لدی ہوں اور جو اس سے چپ کہے اس کا جمعہ نہیں
یہیں سے منجلی ہوا کہ حدیث استسقائے مذکور صحیحین سے استدلال صحیح نہیں اس سے اگر ثابت ہوگا تو وقت خطبہ امام جواز کلام اور اس کی حرمت پرائمہ مذہب کا اجماع اور احادیث صریحہ صحیحہ جن کی بعض مذکور ہوئیں مثبت تحریم قاطع نزاع فان الحاظر مقدم وتمام الکلام فی الفتح وغیرہ ( کیونکہ منع کرنے والی مقدم ہے اور اس پر تفصیلی
حوالہ / References &القرآن€ ۲ / ۴۴
&صحیح البخاری باب الانصاف یوم الجمعۃ الخ€ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ١٢٨
&سنن ابوداؤد باب فضل الجمعۃ€ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۵۱
&مسند احمد بن حنبل مروی از عبداﷲ بن عباس€ & رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ €مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ٢٣٠
#11163 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
گفتگو فتح وغیرہ میں ہے ۔ ت) باقی رہا یہ کہ حاضرین نے کہا بارش کی دعا کیجئے اور یہ کہ تمام حاضرین نے بھی ہاتھ اٹھائے اور یہ کہ آئندہ جمعہ کو تمام حاضرین نے کہا یہ سب غلط دعوے ہیں اور صحیحین میں ان کا کہیں پتا نہیں رہی فرع کتابت مذکورہ علمگیریہ۔
اولاجو بعض اسے جائز رکھتے ہیں وہ بھی اس کے لئے جو امام سے اس قدر دور ہو کہ خطبے کی آواز اس تك نہ جاتی ہو تو قریب کے لئے جو از باد کشی پر اس سے استدلال کہ سنتا رہے اور حاضرین کو ہوا کرے استدلال بالمخالف ہے غنیہ و بزازیہ و شرنبلالیہ میں ہے :
واللفظ للحلبی الختلف المتاخرون فی البعید عن الامام فمحمدبن سلمۃ اختار السکوت فی حقہ ایضا ونصیر بن یحیی اجازا القرأۃ ونحوھا وعن ابی یوسف اختیارالسکوت و حکی عنہ انہ کان ینظر فی کتابہ ویصلحہ بالقلم ۔
حلبی کی عبارت یہ ہے امام سے دور شخص کے بارے میں متاخرین کا اختلاف ہے محمد بن سلمہ کے ہاں اس کے حق میں بھی سکوت ہے نصیر بن یحی قرائت وغیرہ کی اجازت دیتے ہیں امام ابویوسف سے سکوت کامختار ہونا منقول ہے اور آپ ہی کے بارے میں منقول ہے کہ وہ اس حالت میں اپنی کتاب پڑھ رہے تھے اور قلم سے اس کی اصلاح فرمارہے تھے۔ (ت)
خانیہ و خزانۃ المفتین میں ہے :
اما درسہ الفقہ والنظر فی کتب الفقہ وکتابتہ من اصحابنا رحمھم اﷲ من کرہ ذلك ومنھم من قال لاباس بہ اذاکان لایسمع صوت الخطیب ( زادہ فی الخانیۃ) وھکذا روی عن ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالی ۔
فقہ کی تدریس کتب فقہ کا مطالعہ اور کتابت ہمارے بعض علماء کے نزدیك مکروہ ہے اور بعض اس تك امام کی آواز نہ پہنچ رہی ہو ( خانیہ میں یہ اضافہ ہے ) اور امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے اسی طرح مروی ہے ۔ (ت)
مراقی الفلاح میں ہے :
فی الینا بیع یکرہ التسبیح وفرائۃ القران اذاکان یسمع الخطبۃ وروی عن نصیر بن یحیی انکان
ینابیع میں ہے کہ امام کا خطبہ سنتے وقت تسبیح او رقرأت قرآن مکروہ ہے نصیر بن یحیی سے مروی ہے کہ اگر
حوالہ / References &غنیہ المستملی شرح منیہ المصلی فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ€ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ٥٦١
&فتاوٰی قاضی خاں باب صلٰوۃ الجمعۃ€ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ١ / ٨٧
#11164 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
بعید امن الامام یقرأ القران فمن فعل مثلہ ولایشغل غیرہ بسماع تلاوتہ لاباس بہ کالنظر فی الکتابۃ وفیہ خلاف وعن ابی یوسف لاباس بہ والحکم بن زھیر کان یجلس مع ابی یوسف و ینظر فی کتابہ ویصحح بالقلم وقت الخطبہ وقال الکمال یحرم الاکل والشرب والکتابۃ انتھی یعنی اذا کان یسمع لما قد مناہ ان کتابۃ من لایسمع الخطبۃ غیر ممتنعہ انتھی ملتقطا۔
وہ آدمی امام سے دور ہو توقرآن پڑھ سکتا ہے جس نے ایسے کیا اور اپنی تلاوت کے سماع میں دوسرے کو مشغول نہ کیا تو کوئی حرج نہیں حکم بن زہیر بوقت خطبہ امام ابویوسف کے ساتھ بیٹھ جاتے کتاب دیکھتے اور قلم سے اصلاح کرتے کمال نے فرمایا کھانا پینا اور کتابت اس موقعہ پر حرام ہے انتہی یعنی جب خطبہ سن رہا ہو جیسا کہ پیچھے گزر چکا کیونکہ نہ سننے والے کے لئے کتابت منع نہیں انتہی ملتقطا (ت)
ثانیا یہ قول بعض ونامعتمد ہے صحیح یہی ہے کہ دور نزدیك سب پر سکوت واجب او کتابت وقرأت جمیع اعمال ناجائز طحطاویہ میں زیر قول مذکور مراقی ہے :
قولہ غیر ممتنعہ المعتمد المنع اھ اقول وحملہ کلام الکمال علی القریب بعید کل البعد فان ا لکمال صرح بخلافہ کما سنسمعك نصہ۔
ان کا قول “ منع نہیں “ منع معتمد ہے اھ اقول کلام کمال کو قریبی شخص پر محمول کرنا نہایت ہی بعید ہے کیونکہ کمال نے اس کے خلاف تصریح کی ہے جیسے کہ عنقریب ہم ان کی عبارت پیش کردیں گے (ت)
ردالمحتار میں فیض علامہ کرکی سے ہے :
لوکان بعید الایسمع الخطبۃ ففی حرمۃ الکلام خلاف وکذا فی قرأۃ القران والنظر فی الکتب وعن ابی یوسف انہ کان ینظر فی کتابہ ویصححہ بالقلم والاحوط السکوت وبہ یفتی ۔
اگر وہ امام سے دور ہے خطبہ نہیں سن رہا تو وہاں کلام کے حرام ہونے میں اختلاف ہے اسی طرح قرأت قرآن اور مطالعہ کتاب کے بارے میں بھی اختلاف ہے امام ابو یوسف کے بارے میں ہے کہ کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے قلم سے اصلاح کررہے تھے احوط سکو ت ہے اور اسی پر فتوی ہے ۔ (ت)
حوالہ / References &مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب الجمعہ€ مطبوعہ نور محمد کُتب خانہ کراچی ص ٢٨٣
&حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب الجمعہ€ مطبوعہ نور محمد کُتب خانہ کراچی ص۲۸۳
&ردالمحتار€ ، &باب الجمعہ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٦۰٦
#11165 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
جواہر الاخلاطی میں ہے :
النائی عن الامام فی استماع الخطبۃ کالقریب والانصات فی حقہ ھو المختار ۔
امام سے دور شخص خطبہ سننے میں قریبی کی طرح ہوتا ہے اوراس کے حق میں بھی خاموش ہے یہی مختار ہے ۔ (ت)
ہندیہ میں تبیین الحقائق امام زیلعی سے ہے : ھوالا حوط ( یہی احوط ہے ۔ ت) محیط امام شمس الائمہ سرخسی سے ہے : ھوا لاصح ( یہی اصح ہے۔ ت)شرح نقایہ برجندی میں خزانہ سے ہے : ھوا لاولی ( یہی اولی ہے ۔ ت) ہدایہ وایضاح الاصلاح میں ہے :
اختلفوا فی النائی عن المنبر والا حوط السکوت ( زادفی الہدایۃ) اقامۃ الفرض الانصات ۔
منبر سے دور والے کے بارے میں اختلاف ہے۔ سکوت احوط ہے ( ہدایہ میں اضافہ ہے کہ) خاموشی کے فریضہ کو قائم کرتے ہوئے۔ (ت)
کافی شرح وافی میں ہے :
الاحوط السکوت لانہ مامور بالاستماع والانصات اذاقرب من الامام و عند بعد ان لم یقدر علی الاستماع فقد قدر علی الانصات فیجب عیلہ ۔
سکوت احوط ہے کیونکہ خطبہ سننے اور اس کی طرف متوجہ ہونے کاحکم ہے جبکہ امام کے قریب ہو اور اگر دور ہو تو وہ اگر چہ سننے پر قادر نہیں مگر متوجہ ہونے پر قادر ہے لہذا اس پر یہ واجب ہوگا۔ (ت)
فتح القدیر فصل القراءۃ میں ہے :
ھذا اذاکان بحیث یستمع فاما النائی فلا روایۃ فیہ عن المتقدمین واختلف
یہ اس وقت ہے جب خطبہ سن رہا ہو دور والے کے بارے میں متقدمین سے کوئی روایت نہیں متاخرین
حوالہ / References &جواہر الاخلاطی فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ غیر€ مطبوعہ نسخہ ص ٤٩
&فتاوٰی ہندیۃ الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعۃ€ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۴۷
&فتاوی ہندیہ بحوالہ محیط السرخسی الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعۃ€ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۴۷
&شرح نقایہ للبرجندی فصل یجہر الامام فی الجمعۃ الخ€ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۱۵
&الہدایۃ باب صفۃ الصلٰوۃ€ مطبوعہ المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ / ۱۰۱
&کافی شرح وافی€
#11166 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
المتاخرون والاحوط السکوت یعنی عدم القراءۃ والکتابۃ ونحوھا لاا لکلام المباح فانہ مکروہ فی المسجد فی غیر حال الخطبۃ فکیف فی حالھا ۔
کا اختلاف ہے سکوت احوط ہے یعنی عدم قرات اور عدم کتابت وغیرہ نہ کہ کلام مباح کیونکہ یہ تو مسجد میں حالت خطبہ کے علاوہ بھی مکروہ ہے تو حالت خطبہ کے دوران یہ کیسے جائز ہوگی (ت)
ملتقی الابحر ومجمع الانہر میں ہے :
(النائی) ای البعید الذی لایسمع الخطبۃ (والدانی) ای القریب (سواء)فی وجوب الاستماع والانصات امتثا لاللامر ۔
(النائی) یعنی دور والا شخص جو خطبہ نہیں سن سکتا ( والدانی) یعنی قریبی شخص حکم کی بجاآوری کی بنا پر سننے اور متوجہ ہونے کے وجوب میں ( دونوں برابر ہیں ) (ت)
غرر ودرر میں ہے :
(البعید) عن الخطیب ( کالقریب) فی وجوب الاستماع والا نصات ۔
بعید خطیب سے خطبہ سننے اور متوجہ ہونے میں قریبی کی طرح ہی ہوتا ہے۔ (ت)
تنویر و در میں ہے :
(البعید) عن الخطییب( والقریب سیان) فی افتراض الانصات ۔
متوجہ ہوکر سننے میں خطیب کا قریبی اور دور والا برابر ہوتے ہیں ۔ (ت)
انھیں میں ہے :
یجب علیہ ون یستمع ویسکت( بلافرق بین قریب وبعید فی الاصح ۔
اصح قول کے مطابق خطبہ کا سننا اور خاموش رہنا لازم ہے بلاتفریق کہ وہ قریب ہے یا دور ۔ (ت)
کنزالدقائق و بحر الرائق میں ہے :
(النائی کا لقریب )ھو الاحوط۔
( دور والا قریب کی طرح ہے) یہی احتیاط ہے (ت)
حوالہ / References &فتح القدیر فصل فی القرائۃ€ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ١ / ٢٩٨
&مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر فصل فی احکام القراءۃ€ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۷
&دررالحکام شرح غرر الاحکام فصل فیما یجہر الامام€ مطبوعہ مکتبہ احمدکامل کائنہ ، دارسعادت مصر ١ / ٨٤
&درمختار فصل ویجہر الامام الخ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ١ / ٨١
&درمختار€ ، &فصل ویجہر الامام الخ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۱۱۳
&البحرالرائق باب صلٰوۃ الجمعۃ€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۱۵۵
#11167 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
عبارات سابقہ سے تو واضح تھا ہی کہ سننا جو فرض ہے اس کے یہ معنی نہیں کہ کان میں آواز پہنچے اگر چہ آپ دوسرے کام میں مشغول ہو ورنہ کھانا پینا چلنا گردن پھیر کر دیکھنا کیوں حرام ہوتا کہ ان میں کون سا کام کان میں آواز جانے کے منافی ہے بلکہ اس کے یہ معنی کہ ہمہ تن اسی طرف متوجہ ہو اور دوسرے کسی کام میں مشغول نہ ہو مگر ان عبارات لاحقہ نے اور بھی تر کردیا کہ سراپا تمام اعضاء سے اسی طرف متوجہ رہنا خود واجب ہے کہ بعید کے لئے تو کان میں آواز آنا بھی نہیں مگر قول صحیح ومعتمد ومفتی بہ یہی ہے کہ اسے بھی اور اعمال میں مشغولی حرام تو یہ زعم کہ خطبہ بقدر سنت سن کر باقی کو سنتا رہے اور ہو اکرے۔
اولا صاف قول بالتنا فیین ہے اور استماع وانصات کے معنی نہ سمجھنے سے ناشیئ۔
ثانیا یہ فعل مخل استماع ہے یا نہیں اگر ہے تو مطقا حرام ہونا واجب نہ یہ کہ قدر سنت کے بعد اجازت ہو اور اگر نہیں تو مطلقا جائز ہونا چا ئیے قدر سنت کا استثناء کس لئے
ثالثا دونوں خطبے مسنون ہیں نہ کہ ہر خطبے یاصرف اولی سے اس کا ایك جز تو قدر سنت سن چکنا بعد تمامی خطبتین صادق ہوگا اب کیا نماز پڑھتے میں پنکھا جھلتا پھرے گا شاید ادعا کیا جائے کہ اگر کوئی امام خطبہ کبیرہ طویلہ بطول فاحش مخالف سنت پڑھے تو قدرسنت کے بعد مقدار زیا دت میں یہ حرکت جائز اول تو اس کا ارادہ کلام قائل سے بعید و ہ مطلق ہے نہ کہ اس صورت نادرہ مکروہہ سے خاص اور ہو بھی تو یہ بھی غلط وباطل ہے مقدار میں بڑھا دینا درکنار خطبے میں ذکرو مدح ظالمین بھی ہو قطعا خلاف سنت کیا حرام شدید اور یقینا مقاصد خطبہ سے جدا وبعید ہے جب بھی صحیح یہی ہے کہ استماع وانصات واجب مجتبی شرح قدروی پھر نہرالفائق پھر فتح اﷲ المعین علامہ سید البوالسعود ازہری میں ہے
: استماع الخطبۃ من اولھا الی اخرھا واجب وان کان فیھا ذکر الولاۃ وھوالاصح ۔
خطبہ کا اول تا آخر سننا لازم ہے اگر چہ اس میں امراء کا ذکر ہو یہی اصح ہے (ت)
محیط برہانی پھر عالمگیریہ میں ہے :
واللفظ لھا الذی علیہ عامۃ مشائخنا ان علی القوم ان یسمعوا الخطبۃ من اولھا الی اخرھا والدنومن الامام افضل من التباعد عنہ وھو الصحیح من الجواب مشائخنا رحمہم اﷲ تعالی ۔
وہ الفاظ جن پر اکثر مشائخ ہیں وہ یہ ہے کہ قوم پر اول تا آکر خطبے کا سننا لا زم ہے امام کا قرب دوری سے افضل ہے اور مشائخ کے جواب میں سے یہی صحیح ہے ۔ (ت)
حوالہ / References &فتح المعین باب صلٰوۃ الجمعۃ€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۲۱
&فتاوٰی ہندیۃ الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعۃ€ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۴۷
#11168 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
تنویر الابصار و درمختار میں ہے :
(لاصلوۃ ولا کلام الی تمامھا) وان کان فیھا ذکر الظلمۃ فی الاصح ۔
(خطبہ مکمل ہونے تك کوئی نماز اور کوئی کلام نہیں ) اگر چہ اس میں ظالم حکمرانوں کا ذکر ہو یہی اصح ہے ۔ (ت)
علامہ حموی کا کوئی فتاوی مسموع نہیں نہ ان کی کسی کتاب سے حرکت مذکورہ کا جواز مستفاد ملاحظہ معنی جس طرح خطبے میں مقصود یوں ہی نماز میں کیا نماز میں بھی اسی نیك نیت سے پنکھا جھلتے پھرنے کی اجازت ہوگی جنت میں اس ہواکی یہ غایت تاکہ باطمینان دیدار سے مشرف ہوں سخت ابعدو واجب الرد ہے جنت میں معاذ اﷲ گرمی و حبس کا کون سا وقت ہوگا جس کے ازالے کو ہوا کی حاجت ہو اہل جنت کے لئے معاذاﷲ بے اطمینانی کا سامان کس وقت ہوگا کہ تحصیل اطمینان کی ضرورت ہو وہاں کے جتنے امور ہیں سب محض لذت وزیادت نعمت ہیں ولہذا محققین فرماتے ہیں دنیا میں حقیقۃ کوئی لذت نہیں جسے لذت گمان کیا جاتا ہے واقع میں دفع الم ہے پانی یاشربت کیسا ہی سر دوشریں وخوشبو وخوشگوار ہو پیاس نہیں تو کچھ لذت نہیں دیتا کھانا کیسا ہی لذیذ وعمدہ و خوشبو وخوش مزہ ہو بھوك نہیں تو کچھ لطف نہیں آتا تو حقیقۃ بھوك پیاس کا الم دفع ہوتا ہے نہ لذت خالصہ وعلی ہذا القیاس باقی تمام ملاذ بخلاف بہشت کہ وہاں اصلا نہیں نہ بھوك نہ پیاس نہ گرمی نہ احتباس تو وہاں جو کچھ ہے خالص و حقیقی لذت ہے۔
رزقنا اﷲ تعالی بمنہ وکرمہ فضل رحمتہ بصالحی عبادہ امین بجاہ محمد نبی الرحمۃشفیع الامۃ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و علیحم اجمعین امین۔
اﷲ تعالی اپنے کرم احسان فضل اور پیارے نبی رحمۃ شفیع امت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور صالحین بندوں کے طفیل یہ جنتی لذت ہمیں عطا فرمائے۔ آمین ! (ت)
اور بفرض باطل ایسا ہو بھی تو وہاں کون ساخطبہ ہے اور باری عزوجل پر کس چیز کا استماع واجب اور کس وقت اپنے کسی فعل سے باز رہنا لازم اور اسے کون سا فعل درسرے سے مشغول کرسکتاہے پھر افعال الہیہ سے استناد عجب تماشا ہے معبودو عابد کی کیا ریس ہمیں اتباع احکام سے کام ہے وبس۔ وقفنااﷲ تعالی لہ امین واﷲ وسبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ تا : از بنگالہ ضلع پابنہ ڈاکخانہ سراج گنج موضع بھنگا باڑی مرسلہ منشی عنایت اﷲ صاحب شوال ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی ( اﷲ تعالی آپ پر رحم فرمائے آپ کا کیا فرمان ہے ) اس مسئلہ میں کہ :
حوالہ / References &د رمختار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۱۱۳
#11169 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
(۱) بعض خطبہ میں جولکھا ہے کہ فرود آید بالا رود بدست راست خواند بدست چپ خواند( نیچے آئے اوپر جائے دائیں طرف اور بائیں طرف متوجہ ہو کر پڑھے) اس کا اصل کیا اور مبنی کہاں سے ہے اور اس پر عمل کرنا جائز ہے یا نہیں
() بعض خطبہ کے درمیان جو اردو اشعار لکھا ہے خطبہ مع اس کے پڑھنا یا صرف فارسی یا اردو یا اور کوئی زبان میں سوائے عربی کے پڑھنا اول سے اخیر تك چاہے عید ہو یا جمعہ جائز ہے یا نہیں
() منبر کتنی سیڑھی کا ہونا چاہئے اور کس پر کھڑے ہو کر خطبہ چاہئے اور منبر کس زمانہ سے شروع ہوا ہے
الجواب :
(۱) دہنے بائیں منہ پھیرنا بے اصل ہے اس پر عمل نہ کیا جائے اور ذکر سلطان کے وقت ایك پایہ نیچے اتر نے کو بھی بعض شافعیہ نے قبیح بتایا اور واقعی اگر مصلحت شرعیہ سے خالی ہوتو عبث ہے اور عبث کا درجہ مکروہ
فی ردالمحتار قال ابن حجر فی التحفۃ وبحث بعضھم ان ما اعتید الان من النزول فی الخطبۃ الثانیۃ الی درجۃ سفلی ثم العود بدعۃ قبیحۃ شنیعۃ ۔
ردالمحتار میں ہے کہ ابن حجر نے تحفہ میں فرمایا کہ بعض علماء نے فرمایا کہ یہ جو معمول بن گیا ہے کہ دوسرے خطبہ کے وقت نیچے درجہ پر آنا پھر اوپر والے درجہ کی طرف لوٹنا بدترین بدعت ہے ۔ (ت)
ہندیہ میں سنن خطبہ میں ہے : استقبال القوم بوجھہ ( قوم کی طرف منہ کرنا ۔ ت)ردالمحتار میں ہے :
مایفعلہ بعض الخطباء من تحویل الوجہ جھۃ الیمین وجھۃ الیسار عند الصلوۃ علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی الخطبۃ الثانیۃ لم ارمن ذکرہ والظاھرانہ بدعۃ ینبغی ترکہ لئلا یتوھم انہ سنۃ ثم رأیت فی منہاج النووی قال ولا یلتفت یمینا وشمالا فی
بعض خطباء درسرے خطبہ کے دوران نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر درود پڑھتے ہوئے دائیں بائیں چہرہ پھیرتے ہیں اس کاذکر میرے مطالعہ میں نہیں آیا اور ظاہر یہی ہے کہ اسے ترك کردینا چاہئے تا کہ کوئی اسے سنت نہ بنالے پھر میں نے منہاج النووی میں دیکھا انھوں نے فرمایا کہ کسی شیئ میں دائیں بائیں
حوالہ / References &ردالمحتار باب الجمعہ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٦٠٨
&فتاوی ہندیہ الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعہ€ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۴۶
#11170 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
شیئ منھا قال ابن حجر فی شرحہ لان ذلك بدعۃ انتھی ویؤخذ ذلك عندنا من قول البدائع ومن السنۃ ان یستقبل الناس بوجہہ و یستدبر القبلۃ لان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یخطب ھکذا اھ واﷲ تعالی اعلم
التفات نہ کرے ابن حجر نے شرح میں فرمایا اس لئے کہ یہ بدعت ہے انتہی او رہمارے نزدیك بدائع کے اس قول سے اخذ کیا جاسکتا ہے کہ سنت یہ ہے کہ امام لوگوں کی طرف منہ کرے اور قبلہ کی طرف پشت کرے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اسی طرح خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے اھ واﷲ تعالی اعلم (ت)
() خطبہ میں کوئی شعر اردو فارسی نہ پڑھنا چاہئے نہ خطبہ عربی کے سوا کسی زبان میں پڑھا جائے کہ یہ سنت متوارثہ کی خلاف ہے کما حققناہ فی فتاونا ( جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی تحقیق کی ہے ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
(۳) منبر خود رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے بنوایا اور اس پر خطبہ فرمایا کما ثبت فی الصحیحین وغیر ھما حدیث سھل بن سعد رضی اﷲ تعالی عنہ ( بخاری و مسلم وغیرہ میں حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے ۔ ت) منبر اقدس کے تین زینے تھے علاوہ اوپر کے تختے کے جس پر بیٹھتے ہیں
وقد وقع ذکر ھن فی غیرما حدیث کحدیث وعید من ذکر عندہ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فلم یصل صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
ان کا ذکر متعد د احادیث میں ہے جیسے وہ حدیث جس میں ذکر ہے کہ جس شخص کے پاس حضور علیہ السلام کانام مبارك لیا اور اس نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر درود شریف نہ پڑھا تو اس کے لئے وعید ہے (ت)
ردالمحتار میں ہے :
منبرہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان ثلث درج غیر المسماۃ بالمستراح ۔
حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے مقدس منبر کے تین زینے اس تخت کے علاوہ تھے جس پر بیٹھا جاتا ہے۔ (ت)
حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم درجہ بالا پر خطبہ فرمایا کرتے صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے دوسرے پر پڑھا فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے تیسرے پر جب زمانہ ذوالنورین رضی اللہ تعالی عنہ کا آیا پھر اول پر خطبہ فرمایا سبب پوچھا گیا فرمایا اگر دوسرے پر پڑھتا لوگ گمان کرتے کہ میں صدیق کا ہمسر ہوں اور تیسرے پر تو ہم ہو تا کہ
حوالہ / References &ردالحتار باب الجمعہ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ٥٩٨
&صحیح بخاری باب الخطبۃ علی المنبر€ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ا / ۱۲۵
&الترغیب والترہیب€ &کتاب الصوم€ ص٩٣ ۔ کتا ب الذکروالد عاء مصطفی البابی مصر ٢ / ٨ ۔ ٥٠٧
&ردالمحتار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٦٠٨
#11171 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
فاروق کے برابر ہوں ۔ لہذا وہاں پڑھا جہاں یہ احتمال متصور ہی نہیں اصل سنت اول درجہ پر قیام ہے
ومافعلہ الصدیق فکان تأدبامنہ مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ومافعل الفاروق فکان تأدبامع الصدیق رضی اﷲ تعالی عنھما
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ادب کی بنا پر ایسا کیا اور حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے ادب کی خاطر ۔ (ت)
بلندی منبر سے اصل مقصد یہ ہے کہ سب حاضرین خطیب کو دیکھیں او راس کی آواز سنیں جہا ں یہ حاجت بسبب کثرت حضار و دوری صفوف تین زینوں میں پوری نہ ہو تو زینے زیادہ کرنے کا خود ہی اختیار ہے اور بہتر عدد طاق کی مراعات فان اﷲ وتریحب الوتر( اﷲ تعالی وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از موضع کڑہ ڈاك خانہ اوبرہ ضلع گیا مرسلہ مولوی سید کریم رضا صاحب غرہ جمادی الآخرہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں چار رکعت احتیاطی ظہر کا ادا کرنا مستحب ہے یا واجب یا فرض قطعی بصورت اولی وثانیہ یہ نماز احتیاطی قائم مقام فرض کے ہوسکتی ہے یا نہیں اور صورت ثانیہ میں صلوۃ ظہر وجمعہ کا لزوم بطریق اجتماع لازم آتا ہے یا نہیں اور ایسی صورت میں تارك احتیاطی تارك فرض ہوگا یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
جہاں جمعہ بحسب مذہب بلا شبہہ ناجائز باطل ہے جیسے وہ کو ردہ جو کسی روایت مذہب پر مصر نہیں ہوسکتے وہاں ظہر آپ ہی عینا فرض ہے اور جمعہ پڑھوانے اور چار رکعت احتیاطی بتانے کی اصلا گنجائش نہیں فان الشرع لا یأمر بارتکاب الاثم والاشتغال بما لا یصح اصلا( شریعت کسی ایسی چیز کا حکم نہیں دیتی جس پر گناہ ہو اور نہ ہی ایسی شیئ میں مشغول ہونے کی اجازت دیتی ہے جو بالکل صحیح نہ ہو ۔ ت) ان کا محل وہاں ہے کہ صحت جمعہ میں اشتباہ وتردد قوی ہو مثلا وہ مواضع جن کی مصریت میں شك ہے یا با وصف اطمینان صحت جانب خلاف کچھ وقعت رکھتی ہو مثلا جہاں جمعہ متعدد جگہ ہوتا ہواور سبقت نامعلوم ہو کہ اگر چہ دربارہ تعدد قول جواز ہی معتمد وماخوذ ومفتی بہ ہے مگر عدم جواز بھی ساقط وناقابل التفات نہیں کما بینہ فی ردالمحتار ( جیسا کہ ردالمحتار میں بیان کیا گیا ہے ۔ ت) صورت اولی میں ان چار رکعت کا حکم ایجابا وتاکیدا ہوگا لوقوع الشبۃ فی برائۃ لعھدۃ( ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے میں شبہہ ہوگیا ہے ۔ ت) اور ثانیہ میں استحبابا وترغیبا لان الخروج عن الخلاف مستحب اجماعا مالم یلزم محذور( بالاتفاق اختلاف سے نکلنا مستحب ہے بشرطیکہ وہاں کسی ممنوع کاارتکاب نہ ہو۔ ت)
#11172 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
ردالمحتار میں ہے :
نقل عن المقدسی عن المحیط کل موضع وقع الشك فی کونہ مصرا ینبغی لھم ان یصلوا بعد الجمعۃ اربعا بنیۃ الظھر احتیاطا ومثلہ فی الکافی وفی القنیۃ امرأئمتھم بالاربع بعدھا حتما احتیاطا اھ ونقلہ کثیر من شراح الہدایۃ وغیرھا وتد اولوہ وفی الظھریۃ واکثر مشائخ بخارا علیہ لیخرج عن العھدۃ بیقین ثم نقل المقدسی عن الفتح انہ ینبغی ان یصلی اربعا ینوی بھا اخرفرض ادرکت وقتہ ولم أودئہ ان تردد فی کونہ مصرا اوتعددت الجمعۃ وذکر مثلہ عن ا لمحقق ابن جرباش قال ثم قال وفائدتہ الخروج عن الخلاف المتوھم اوالمحقق وذکر فی النھر انہ لا ینبغی التردد فی ندبھا علی القول بجواز التعدد خروجا عن الخلاف اھ وفی شرح الباقانی ھوالصحیح بقی الکلام فی تحقیق انہ واجب اومندوب قال المقدسی ذکر ابن شحنۃ عن جدہ التصریح بالندب وبحث فیہ بانہ ینبغی ان یکون عند مجرد التوھم اما عند قیام الشك والاشتباہ فی صحۃ الجمعۃ فالظاھر الوجوب ونقل عن شیخہ ابن الھمام مایفیدہ ویؤید التفصیل تعبیر التمرتاشی بلابد وکلام القنیۃ المذکور اھ مختصرا۔
مقدسی نے محیط سے نقل کیا کہ ہر وہ مقام جس کے شہر ہونے میں اختلاف ہو وہاں جمعہ کے بعد احتیاطا نیت ظہر سے چار رکعت ادا کی جائے کافی میں بھی اسی طرح ہے۔ قنیہ میں ہے کہ ائمہ نے جمعہ کے بعد لوگوں کو حتما چار رکعات احتیاطا بجالانے کا حکم دیا ہے اھ اسے اکثر شارحین ہدایہ وغیرہ نے نقل کیا ہے اور اسی کو متد اول کیا ۔ ظیہریہ میں ہے کہ مشائخ بخارا کی اکثریت کا عمل اسی پر ہے تاکہ بالیقین ذمہ داری سے عہدہ برآہوسکیں پھر فتح سے منقول ہے کہ جب شہر ہونے میں شك ہو یا جمعہ متعدد جگہ ہورہا ہو تو چاہئے کہ چاررکعات اس نیت سے ادا کی جائیں کہ میں آخری فرض ادا کررہا ہوں جن کا وقت میں نے پایا مگر انھیں ادا نہیں کیا اسی طرح محقق ابن جرباش سے نقل کرکے کہا اس کا فائدہ ثابت یا متوہم اختلاف سے نکلنا ہے۔ نہر میں مذکور ہے کہ اختلاف سے نکلنے کے لئے جواز تعدد جمعہ کے قول پر بھی احتیاطا ظہر کے مستحب ہونے میں تردد نہیں کرنا چاہئے اھ شرح الباقانی میں ہے کہ یہی صحیح ہے اس تحقیق میں گفتگو کہ یہ واجب ہے یا مستحب ابھی باقی ہے مقدسی کہتے ہیں کہ ابن شحنہ نے اپنے دادا سے ندب پر تصریح نقل کی اور اس پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس وقت ہے جب محض توہم ہو۔ مگر اس صورت میں جب صحت جمعہ میں شك واشتباہ ہو تو پھر اس کا واجب ہو نا ظاہر ہے اور اپنے شیخ ابن ہمام کی عبارت کو اپنی تائید میں نقل کیا اور اس کی تفصیل کی تائید تمرتاشی کے الفاظ “ لابد “ اور قنیہ کے مذکور کلام سے بھی ہوتی اھ مختصرا (ت)
حوالہ / References &ردالمحتار باب الجمعہ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۹۶
#11173 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
رہایہ اشتباہ کہ مستحب یا واجب قائم مقام فرض کیونکر ہوں گے ان رکعات کی نیت پر نظر کی جائے تو بنگاہ اولین اندفاع پائے ابھی فتح القدیر وغیرہ سے گزرا کہ یہ رکعات بہ نیت آخریں فرض ہی پڑھی جاتی ہیں نہ کہ بہ نیت مستحب یا واجب مصطلح توفرض بہ نیت فرض ادا ہوجانے میں کیا تردد ہے یعنی عنداﷲ اگر صحت نہ تھی تو نفس الامر میں ظہر فرض تھا جب اس نے اس پچھلے فرض ظہر کی نیت کی جس کا وقت پایا اور ابھی ادا نہ کی تو یہی ظہر ادا ہوجائے گا ورنہ اگر پہلے کوئی ظہر ذمہ پر تھا وہ ادا ہوگا ورنہ یہ رکعات نفل ہوجائیں گی اور نفل بہ نیت فرض ادا ہونا خود واضح ہے واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ : از مخدوم پور ڈاکخانہ نرہٹ ضلع گیا مرسلہ مولوی سید رضی الدین صاحب غرہ جمادی الآخرہ ۱۳۱۷ھ جناب مستطاب مخدومنا مولنا مولوی احمد رضا خاں صاحب زاد مجد ہم بعد ہدیہ السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ کے مکلف خدمت ہوں کہ اس موضع مخدوم پور قاضی چك میں اورنیز قرب وجوار میں اس کے نماز جمعہ و عیدین ہم لوگ مقلدین حنفی پڑھا کرتے ہیں اور جماعت جمعہ کی خاص اس موضع میں پندرہ بیس آدمی او ر کبھی کم بھی ہوا کرتی ہے اب بعض معترض ہیں کہ جمعہ دیہات میں نزدامام ابو حنیفہ صاحب جائز نہیں ہے پڑھنا بھی نہ چاہئے مخدومنا پڑھا کروں یا ترك کردوں حضور کے نزدیك جو جائز ہو مطع فرمائیں تا مطابق اس کے کار بند ہوں اور نماز عیدین بھی دیہات میں ہویا نہ ہو شہر صاحب گنج یہاں سے کوس پر ہے۔ زیادہ حد نیاز۔ احقر رضی الدین حسین عفی عنہ
الجواب :
جناب مکرم ذی المجد والکرم اکرمکم اﷲ تعالی السلام علیکم وحمۃ اﷲ وبرکاتہ فی الواقع دیہات میں جمعہ وعیدین باتفاق ائمہ حنفیہ رضی اللہ تعالی عنہم ممنوع وناجائز ہے کہ جونماز شرعا صحیح نہیں اس سے اشتغال روا نہیں
فی الدرالمختار وفی القنیۃ صلوۃ العید فی القری تکرہ تحریما ای لانہ اشتغال بما لایصح اھ فی ردالمحتار ومثلہ الجمعۃ ح ۔
درمختار میں ہے کہ قنیہ میں ہے دیہاتوں میں عید کی نماز مکروہ تحریمی ہے یعنی یہ ایسے کا م میں مشغول ہونا ہے جو درست نہیں اھ ردالمحتار میں ہے اور اسی کی مثل جمعہ ہے ح ۔ (ت)
جمعہ میں اس کے سوا اور بھی عدم جواز کی وجہ ہے کما بیناہ فی فتاونا( جیسا کہ ہم نے اسے اپنے فتاوی میں بیان
حوالہ / References &درمختار باب العیدین€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۱۴
&ردالمحتار باب العیدین€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۶۱۱
#11174 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
کیا ہے ۔ ت) ہاں ایك روایت نادرہ امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے یہ آئی ہےکہ جس آبادی میں اتنے مسلمان مرد عاقل بالغ ایسے تندرست جن پر جمعہ فرض ہوسکے آباد ہوں کہ اگر وہ وہاں کی بڑی سے بڑی مسجد میں جمع ہوں تو نہ سما سکیں یہاں تك کہ انھیں جمعہ کے لئے مسجد جامع بنانی پڑے وہ صحت جمعہ کےلئے شہر سمجھی جائے گی امام اکمل الدین بابرتی عنایہ شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں :
(وعنہ) ای عن ابی یوسف ( انھم اذا اجتمعوا) ای اجتمع من تجب علیھم الجمعۃ لاکل من یسکن فی ذلك الموضع من الصبیان والنساء والعید لان من تجب علیھم مجتمعون فیہ عادۃ قال ابن شجاع احسن ماقیل فیہ اذاکان اھلھا بحیث لو اجتمعوا ( فی اکبر مساجد لم یسعھم ذلك)حتی احتاجوا الی بناء مسجد اخر للجمعۃ الخ
( اور ان سے ) یعنی امام ابویوسف سے ہے ( جب وہ جمع ہوں ) یعنی وہ لوگ جن پر جمعہ لازم ہے نہ کہ تمام وہ لوگ جو وہاں سکونت پذیر ہیں مثلا بچے خواتین اور غلام ابن شجاع نے کہا کہ اس بارے میں سب سے بہتر قول یہ ہے کہ جب جمعہ کے اہل وہاں جمع ہوں ( سب سے بڑی مسجد میں اور اس میں ان کی گنجائش نہ ہو) حتی کہ وہ جمعہ کے لئے ایك اور مسجد بنانے پر مجبور ہوں الخ (ت)
جس گاؤں میں یہ حالت پائی جائے اس میں اس روایت نوادر کی بنا پر جمعہ وعیدین ہو سکتے ہیں اگر چہ اصل مذہب کے خلاف ہے مگر اسے بھی ایك جماعت متاخرین نے اختیار فرمایا اور جہاں یہ بھی نہیں وہاں ہر گز جمعہ خواہ عید مذہب حنفی میں جائز نہیں ہو سکتا بلکہ گناہ ہے واﷲ یقول الحق وھویھدی السبیل واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
اﷲ تعالی کا فرمان حق ہے اور وہی راستہ کی ہدایت دیتا ہے اور اﷲکی ذات پاك بلند اور خوب جاننے والی ہے ۔ (ت)
مسئلہ۱۳۱۱تا۱۳۱۵ : از کٹرہ ڈاکخانہ اوبرہ ضلع گیا مرسلہ سید عبدالمجید صاحب قادری ۲ جمادی الآخرہ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
(۱) ہندوستان میں جمعہ جائز ہے یانہیں
(۲) جائز ہے تو کیوں اور اس کے دلائل کیا ہیں
(۳) جمعہ شہر ہی میں جائز ہے یا دیہات میں بھی
حوالہ / References &عنایہ شرح ہدایہ علی ہامش فتح القدیر باب صلٰوۃالجمعۃ€ مطبوعہ نوریہ رضوریہ سکھر ٢ / ٢٤
#11175 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
() تعریف شہر اور قصبہ اوردیہات کی کیاہے
() دیہات سے نیچے بھی کوئی حد بستی کی ہے کیونکہ دیہات دو قسم کے ہوتے ہیں : ایك محض کوردہ دوسرا وہ جس میں اشیاء اشد ضروری جیسے معمولی کپڑے ملتے ہوں اوردرزی اور لوہار اور بڑھیئ اور بنیا اور بقال وغیرہم ہوں اور ساکنان اسی کے ہندو مع مسلمان قریب بارہ سو مردمع عورت کے ہوں اور غالب درجہ مسلمان زمیندارہوں اور مسلمانوں کی تعداد قریب پانچ سو عوتوں کے ہو اور مسجد قدیم سے ہو اور جب سے مسجد بنی ہمیشہ سے برابر جمعہ ہوتا رہا ہو تو ان دونوں قسموں میں دیہات کے جمعہ جائز ہوگا یا صرف قسم اخیر میں یا کسی میں نہیں اور ہم قسم اخیر کے دیہات کے رہنے والے ہیں اب بعض لوگ کہتے ہیں کہ دیہات میں جمعہ جائز نہیں تو آیا ہم لوگ پڑھیں یا نہیں بہت صاف جواب بالتفصیل تحریر ہو۔
الجواب :
ہندوستان اصلح اﷲ حالہا بحمد اﷲ تعالی ہنوز دارالاسلام ہے :
کما حققناہ فی رسالتنا اعلام الاعلام بان ھندوستان دارالاسلام۔
جیسا کہ ہم نے اپنے رسالہ “ اعلام الاعلام بان ہندوستان دارالاسلام “ میں اس کی تحقیق کی ہے ۔ (ت)
اس میں اقامت جعہ وعیدین مسلمانوں کو ضرور جائز ۔ جامع الفصولین میں ہے :
قال ح ( ای الامام الاعظم ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ) لا تصیر دارلاحرب الاباجراء احکام الشرك فیھا واتصالھا بدارالحرب بان لایکون بینھا وبین دارالحرب مصر للمسلمین وان لایبقی فیھا مسلم اوذمی امنا علی نفسہ بالامان الاول ای لایبقی امنا الابامان المشرکین ان الحکم اذاثبت بعلۃ فما بقی شیئ من العلۃ یبقی الحکم ببقائہ فلما صارت البلدۃ دارالاسلام باجراء احکامہ فما بقی شیئ من احکامہ واثارہ تبقی دارالاسلام وکل مصرفیہ وال مسلم من جھۃ الکفارتجوز فیہ اقامۃ الجمع والاعیاد
امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا دارالحرب کے لئے ضروری ہے کہ وہاں احکام شرك کا اجراء ہو اور اس ملك کا اتصال دارالحرب سے طرح ہوکہ اس ملك اوردارالحر ب کے درمیان کوئی مسلمان یاذمی امان اول کی وجہ سے امان میں نہ ہو یعنی اب مشرکین کی امان کے بغیر ا من والا نہ ہو کیونکہ جب حکم کسی علت سے ثابت ہے تو جب تك وہ علت باقی ہے حکم بھی باقی ہو گا جب کوئی علاقہ اجرا احکام اسلامی کی وجہ سے دارالاسلام بنتاہے تو جب تك وہاں کچھ احکام وآثار باقی ہوں گے وہ دارالاسلام ہی ہوگا اور ہر وہ شہر جس کا کفار کی طرف سے کوئی مسلمان والی ہو وہاں جمعہ وعیدین کی اقامت
#11176 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
واخذ الخراج وتقلید القضاء وتزویج الایامی لا ستیلاء المسلم علیھم وامافی بلاد علیھا ولاۃ کفار فیجوز للمسلمین اقامۃ الجمعۃ والا عیاد اھ مختصرا۔
خراج لینا قضاء اسلامی کی پابندی اور بیوگان کا نکاح کروانا جائز ہے کیونکہ وہاں مسلمان غالب ہیں لیکن وہ علاقے جہاں کا فروالی ہیں وہاں مسلمانوں کے لئے جمعہ اور عیدین کا قیام جائز ہے اھ اختصارا (ت)
ردالمحتار میں ہے :
فی معراج الدرایۃ عن المبسوط البلاد التی فی ایدی الکفار بلاد الاسلام لا بلادالحرب وکل مصر فیہ وال من جھتھم یجوزلہ اقامۃ الجمعۃ والاعیاد فلوالو لاۃ کفارایجوز للمسلمین اقامۃ الجمعۃ اھ ملخصا
معراج الدرایہ میں مبسوط سے ہے وہ علاقہ جات جو کفار کے قبضہ میں ہیں وہ بلاد اسلام ہی ہیں بلاد حرب نہیں اور ہر وہ شہر جس میں کفار کی طرف سے والی ہو تو وہ جمعہ اور عیدین کا قیام کرسکتا ہے اور اگر والی کافرہوں تو بھی مسلمانوں کے جمعہ کا قیام جائز ہے اھ تلخیصا (ت)
جمعہ وعیدین کے نہ فقط مامور بہ بلکہ خود جائز وصحیح ہونے کے لئے بھی باجماع ائمہ مذہب رضی اللہ تعالی عنہم مصر شرط ہے کتب المذہب عن اخرھا طافحۃ بذلک( تمام کتب مذہب اس سے پر ہیں ۔ ت) گاؤں میں جمعہ وعیدین نہ صحیح نہ جائز بلکہ گناہ ہے
کما نص علیہ فی الدرالمختار عن القنیۃ وفی جامع الرموز عن جامع المضمرات وقد بیناہ فی فتاونا۔
جیسا کہ اس پر درمختار میں قنیہ اور جامع الرموز میں جامع المضمرات کے حوالے سے تصریح ہے اور اسے ہم نے اپنے فتاوی میں بیان کیا ہے ۔ (ت)
دیہات سے بھی کم درجہ بستی جنگلوں میدانوں پہاڑوں میں اہل خیمہ کے مقام ہیں جن میں مکانات کچے پکے اصلا نہیں ہوتے انھوں نے جہاں آب ومرغزار دیکھے ڈیرے ڈال دئے خیمے تان دئیے وہیں اقامت کرلی یہ بستیاں نظر شرع میں بھی دیہات سے ادنی ہیں امصار وعمرانات کے سکان اگر گاؤں میں پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت کریں مقیم ہوجائیں گے قصر نہ کریں گے اور ان خیمہ گاہوں میں انھیں اہل خیمہ کی نیت اقامت صحیح ہے جن کی طرز تعیش ہی یہ ہے عمرانات والے بعد تحقق سفر وطے مراحل اگر چہ وہاں پندرہ دن قیام کا قصد کریں مقیم نہ ہوں گے ھوالاصح فی الفصلین( دونوں فصلوں میں یہی اصح ہے ۔ ت) درمختار میں ہے :
حوالہ / References &جامع الفصولین الفصل الاول فی القضاء وما یتصل بہ €مطبوعہ اسلامی کتب خانہ کرچی ١ / ۱۳و۱۴
&ردالمحتار€ ، &باب الجمعہ € ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ١ / ٥٩٥
#11177 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
اھل اخبیۃ کترکمان نووھافی المفازۃ فانھا تصح فی الاصح وبہ یفتی اذاکان عندھم من الماء والکلاء مایکفیھم مدتھا ولونوی غیرھم الاقامۃ معھم لم یصح فی الاصح اھ مختصرا۔
خانہ بدوش مثلا ترکمان قوم اگر جنگل میں اقامت کی نیت کرلیں تو یہ اصح قول کے مطابق صحیح ہے اور اسی پر فتوی ہے بشرطیکہ وہاں ان کے لئے اتنی مدت کیلئے پانی اور چارہ ہو اور ان کے علاوہ کسی نے ان کے ساتھ نیت کرلی تو یہ اصح قول کے مطابق درست نہیں اھ مختصرا (ت)
قصبہ عرفا مصرو دہ میں متوسط ہے چھوٹے شہر کو کہتے ہیں جس میں آبادی کم مرافق قلیل ہوں بازارو پختہ عمارات ہوں نہ مثل امصار دہ پر گنہ ہوتاہے ضلع نہیں اس میں چھوٹے چھوٹے حکام ہوتے ہیں جن کی سماعت ایك حد تك محدود بڑے حکام کوکہ ہر گونہ مقدمات دیوانی وجرائم فیصل کرسکیں نہیں ہوتے اس عرف حادث پر قسمیں تین ۳ ہوتی ہیں مگر زبان عربی میں وہ دو ہی چیزیں ہیں : مصر یا قریہ قصبہ ان سے باہر کوئی شے ثالث نہیں قاموس ومصباح المنیر وغیرہما میں قصبۃ البلاد مدینتھا وقصبۃ القریۃ وسطھا ( شہری قصبہ شہر ہوتا ہے اور دیہاتی قصبہ دیہات اور شہرکادرمیان ہوتا ہے۔ ت) یونہی شرع مطہرنے قصبات کو کسی حکم خاص سے مخصوص نہ فرمایا مصروقریہ کی تقسیم حاضر ہے آبادی پر حدمصرصادق ہوتو مصر ہے ورنہ قریہ لا ثالث لھما ( ان دونوں کے لئے تیسرا نہیں ۔ ت) اب تعریف مصرمیں ہمارے علماء سے اقوال کثیرہ آئے جن میں مصحح ومختار ومعتمد ائمہ کبار دو ہیں :
اول ظاہر الروایہ واصل مذہب وارشاد امام مذہب سید نا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کہ شہر وہ آبادی عمارت والی ہے جس میں متعدد کوچے ہوں دوامی بازار ہوں وہ ضلع یا پرگندہ ہو کہ اس کے متعلق دیہات ہوں اس میں کوئی حاکم مقدمات رعایا فصیل کرنے پر مقرر ہو جس کے یہاں قضا یا پیش ہوتے ہوں اور اس کی شوکت وحشمت مظلوم کا انصاف ظالم سے لینے کے قابل ہو اگرچہ کبھی نہ لیا جائے پہ تعریف کتب کثیرہ میں با لفظ عدیدہ ومعانی متقاربہ ادا کی گئی ۔
مسئلہ ۱۳۱۶ : از عظیم آباد پٹنہ شاہ کی املی متصل مسجد تراہہ مطب حکیم صاحب مرسلہ مولوی نورالہدی صاحب ربیع الآخر شریف ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایسے قریہ میں جس پرکسی طرح حد مصر صادق نہیں اگر وہاں کے حنفی المذہب بخیال شوکت اسلامی نماز جمعہ مع ظہر احتیا طی وصلوۃ العیدین پڑھتے ہوں تو گنہگار ہوں گے یا نہیں اور اگر گنہگار ہوں تو اس کی وجہ کیا ہے بینوا توجروا
الجواب :
ایسی جگہ جمعہ یا عیدین پڑھنا مذہب حنفی میں گناہ ہے ۔ نہ ایك گناہ بلکہ چند گناہ :
حوالہ / References &درمختار باب صلٰوۃ المسافر€ مطبوعہ مجتبائی دہلی ١ / ۷-٨
#11178 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
اولا جب نماز جمعہ وعیدین وہاں صحیح نہیں تو یہ امر غیر صحیح میں مشغول ہوئی اور وہ ناجائز ہے
فی الدرالمختار تکرہ تحریما ای لانہ اشتغال بمالایصح لان المصر شرط الصحۃ ۔
درمختار میں ہے کہ یہ مکروہ تحریمی ہے اس لئے کہ یہ غیر صحیح کام میں مشغول ہوناہے کیونکہ شہر جمعہ کی صحت کے لئے شرط ہے ۔ (ت)
ثانیا اقول : فقط مشغولی نہیں بلکہ اس امر ناجائز کو موجب شوکت اسلام جانا بلکہ بہ قصد ونیت فرض و واجب ادا کیا یہ مفسدہ عقیدہ ہے جس سے علماء نے تحذیر شدید فرمائی۔
اوصوا بترك التزام مستحب اذا خیف ان یظنہ العوام واجبا وفی اخف منہ قال سید نا عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ لا یجعل احدکم للشیطان شیئ من صلوتہ یری ان حقا علیہ ان لاینصرف الاعن یمینہ لقدرأیت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کثیرا ینصرف عن یسارہ رواہ الشیخان فاذا کان ھذا فیما ھو مشروع باصلہ فما ظنك بمالم یجزمن رأسہ ۔
جب یہ خطرہ ہوکہ عوام اسے ضروری سمجھ لیں گے تو علماء مستحب پرپابندی ترك کرائیں اور اس سے کم درجہ عمل کے بارے میں سید نا عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کا فرمان ہے کہ تم میں سے کوئی بھی اپنی نماز سے شیطان کا حصہ اس طرح نہ بنائے کہ نماز کے بعد دائیں طرف ہی پھر نا اپنے اوپر لازم کرلے کیونکہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو بہت دفعہ بائیں طرف پھرتے ہوئے دیکھا اسے بخاری و مسلم نے روایت کیا جب اس عمل کا معاملہ ہے جو اصلا مشروع ہے تو اس میں تمھار کیا خیال ہے جو اصلا جائز ہی نہ ہو۔ (ت)
ثالثا جبکہ واقع میں نماز جمعہ وعید نہ تھی تو ایك نماز نفل ہوئی کہ باجماعت واعلان وتداعی ادا کی گئی یہ ناجائز ہوا
فی ردالمحتار عن العلامہ الحلبی محشی الدر فہو نفل مکروہ لادائہ بالجماعۃ ۔
ردالمحتار میں محشی در علامہ حلبی سے ہے یہ نوافل مکروہ ہیں کیونکہ جماعت کے ساتھ ادا ہوئے ۔ (ت)
یہ تینوں وجہیں جمعہ وعیدین سب کو شامل ہیں ۔
حوالہ / References &درمختار باب العیدین€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ۱۱۴
&صحیح البخاری باب الا نفتال والا نصراف€ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۱۸
&ردالمحتار باب العیدین€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۶۱۱
#11179 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
رابعا اقول : جمعہ میں اس کے سبب جو ظہر نہ پڑھیں ا ن پر فرض ہی رہ گیا ترك فرض اگر چہ ایك ہی بارہو خود کبیرہ ہے اور جو بزعم خود احتیاطی رکعات پڑھیں وہ بھی تارك جماعت تو ضرور ہوئے اور جماعت مذہب معتمد میں واجب ہے جس کا ایك بار ترك بھی گناہ اور متعدد بار ہوکروہ بھی کبیرہ۔ کما نصوا علیہ ولامراوضح من ان یوضح (جیسا کہ فقہا ءنے اس پر تصریح کی ہے اور یہ امر اتنا واضح ہے کہ وضاحت کی ضرورت نہیں ۔ ت)
خامسا اقول : وہ احتیاطی رکعات والے کہ حقیقتہ مذہب حنفی میں آج کی ظہر پڑھ رہے ہیں
فانھا اذالم تصح الجمعۃ بقیت فریضۃ الظھر فی اعناقھم فاذا انووا اخرظہر ادرکوھا ولم یؤدوھا وجب انصر افھا الی ظھر الیوم۔
اس لئے کہ جب جمعہ صحیح نہیں تو ان کے ذمے ظہر کا فریضہ باقی ہے توجب یہ ارادہ کرتے ہوئے کہ آخری ظہر کا وقت پایا مگر اسے ادا نہ کیا تو اس کا آج کی ظہر پر محمول کرنا واجب ہے۔ (ت)
بآنکہ مسجد میں جمع ہیں جماعت پر قادر ہیں تنہا پڑھتے ہیں یہ دوسری شناعت ہے کہ مجتمع ہوکر ابطال جماعت ہے جسے شارع نے مسجد خوف جیسی حالت ضرورت شدیدہ میں بھی روا نہ رکھا بلکہ ابطال درکنار موجودین میں بلاوجہ شرعی تفریق جماعت کو ناجائز رکھ کر ایك ہی جماعت کرنے کا طریقہ تعلیم فرمایا کما نطق بہ القران العظیم و باﷲ الہدایۃ الی صراط مستقیم ( جیسا کہ اس پر قرآن عظیم ناطق ہے اﷲ ہی صراط مستقیم کی ہدایت دینے والا ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : ذیقعدہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس حالت میں امام خطبہ پڑھتا ہو اس وقت کوئی وظیفہ یا سنن یا نوافل یا فرض قضائے فجر پڑھنا چاہئیے یا نہیں اور ٹھیك ہوں گے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
اس وقت وظیفہ مطلقا نا جائز ہے اور نوافل بھی اگر پڑھے گنہگار ہوگا اگر چہ نماز ہوجائے گی رہی قضا اگر صاحب ترتیب نہیں تو اس کا بھی یہی حکم ہے ورنہ وہ ضرور پہلے قضا اداکرے اور جہاں تك دوری ممکن ہو اختیار کرے کہ صورت مخالفت سے بچے ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از بنگالہ ضلع پترا موضع مرادنگر مرسلہ قاضی اشرف الدین صاحب جمادی الاولی ھ
چہ می فرمایند علمائے دین اندریں مسئلہ کہ چند اشخاص برائے ادائے جمعہ بمسجدے رفتندو دیدنہ کہ جمعہ ادا شدہ است اکنوں ایشاں دزآں مسجد مذکور صلوۃ جمعہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چند اشخاص جمعہ کی ادائیگی کے لئے مسجد میں گئے انھوں نے دیکھا جمعہ ادا ہوگیا ہے اب وہ لوگ اس مسجد میں جمعہ
#11180 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
ادا رتو انند کردیا ادائے ظہر واجب ست برتقدیر ثانی باجماعت یا فرادی شخصے میگوید کہ جماعتے راکہ نماز جمعہ فوت شدہ شود اوشاں درخارج مسجد بہ بعد مقدار یك صدگز یا صدوبست وپنج گز مروجہ انگریزی رفتہ نماز جمعہ ادا توند کرد ودرانجا مسجدے نیست وقول اوصحیح ست یا نہ واگر چنیں ادا کرد جائز خواہدشد یا نہ بینوا توجروا
اداکریں گے یا ظہر کی ادائیگی ان پر لازم ہوگی اگر ظہر لازم ہے تو وہ جماعت کے ساتھ اداکریں یا تنہا ایك شخص کا کہنا ہے کہ اگر کسی گروہ کی جماعت جمعہ فوت ہوگئی تومسجد سے دور انگریزی سوگز یا ایك سو پچیس گز کے فاصلے پر چلے جائیں اور وہاں جمعہ ادا کریں اگر چہ وہاں مسجد نہیں اس کا قول صحیح ہے یا نہ اگر اس طرح انھوں نے ادا کرلیا ہے تو جائز ہے یا نہ بینوا توجروا
الجواب :
امامت جمعہ وعیدین ہر کس نتواں کرد بلکہ واجب ست کہ سلطان اسلام یا ماذون اوباشد و بضرورت آنکہ مسلمان اور امام جمعہ مقرر کردہ باشند وشك نیست کہ یك مسجد را دو امام جمعہ کہ اقامت جمعہ واحدہ کنند نباشند پس در مسجد واحد دوبار جمعہ نتواں شد چوں بعض مرد ماں ایں جاجمعہ نیابند بمسجدے دیگر اگریابند ر وند کہ تعدد جمعہ درشہر مذہب مفتی بہ رواست ہمچناں اگر امامے معین برائے امامت جمعہ یابندو درغیر مسجد درشہر یا فنائےشہر ادا کنند نیز روا باشد زیراکہ مسجد شرط جمعہ نیست واگر نیا بند فرض ست کہ ظہر ادا کنند و روا نسیت کہ جماعت نمایند بلکہ فرادی خوانند کل ذلك مصرح بہ فی کتاب المذہب و قد بیناہ فی فتاونا وآنکہ شخص مذکور تحدید فصل ذرعان کرد اصلے ندارد۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
جمعہ وعیدین کی امامت ہر کوئی نہیں کرواسکتا بلکہ واجب ہے کہ وہ سلطان اسلام یا اس طرف سے مامورہو البتہ ضرورت کے پیش نظر مسلمان امام جمعہ مقرر کرسکتے ہیں اور اس میں کوئی شك نہیں کہ ایك مسجد میں ایك جمعہ کی اقامت کے لئے دوامام نہیں ہوسکتے لہذا ایك مسجد میں دوبار جمعہ نہیں ہوسکتا جب کچھ لوگ اس مسجد میں جمعہ نہ پاسکتیں تو وہ دوسری مسجد میں چلے جائیں کیونکہ مفتی بہ مذہب کے مطابق شہر میں متعدد جگہ جمعہ ہوسکتا ہے اسی طرح اگر مقرر امام جمعہ کو شہر یا فنائے شہر میں مسجد کے علاوہ پالیتے ہیں تو وہاں بھی جمعہ جائز ہوگا کیونکہ جمعہ کے لئے مسجد شرط نہیں اور اگر ایسی کوئی صورت نہیں تو ظہر کی ادائیگی فرض ہوگی لیکن جماعت جائز نہ ہوگی بلکہ الگ الگ ادا کریں یہ تمام کتب مذہب میں صراحۃ موجود ہے اور ہم نے اپنے فتاوی میں اسے بیان کیا ہے اور مذکور شخص نے جوگزوں کی مقدار کا تعین کیا ہے اس کی کوئی اصل نہیں واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
#11181 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
مسئلہ : از شاہی علاقہ رامپور مرسلہ نادر شاہ خاں وانعام اﷲ خاں ۶ جمادی الآخرہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اس قصبہ شاہی میں صرف ایك مسجد وہی جامع مسجد ہے قدیم الایام سے اس میں نماز جمعہ ہوتی ہے اور ایك عیدگاہ قریب آبادی کے ہے اس میں نماز عید پڑھی جاتی ہے فی الحال بوجہ کثرت نمازیا گنجائش سب نمازیوں کی نہیں اس لئے عیدگاہ میں جمعہ پڑھتے ہیں اس روز جامع مسجد نماز جمعہ سےبالکل خالی رہتی ہے ایسی حالت میں کوئی بازپرس تو اہل قصبہ سے خداوند کریم بوجہ خالی رہنے مسجد کے بروز حساب نہ فرمائے گا اور پڑھنے نماز جمعہ سے عیدگاہ میں کچھ نقصان عنداﷲ وعند الرسول ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
جائز ہے ۔ کچھ نقصان نہیں نہ کوئی مواخذہ ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از نبگالہ ضلع میمن سنگھ موضع مرزا پور مرسلہ منشی آدم غرہ ربیع الاول ۲ھ
ماتقولون یا ارباب العقول فی تبلیغ احکام الرسول فی ھذا الباب ھل یجب علی المصلین ان یصلوا اخرالظھر مع الجمعۃ ام لا وان صلوا فماذا ینوونھا فریضۃ ام نافلۃ بینوا بالدلیل تو جروا اجرا جزیلا۔
تعلیمات رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تبلیغ کرنے والے اہل فہم کی اس بارے میں کیا رائے ہے کہ جمعہ کے ساتھ نمازیوں پر ظہر ادا کرنا لازم ہے یا نہ اگر وہ ادا کرتے ہیں تو کس نیت سے فرض یا نفل دلیل کے ساتھ واضح فرمائیں اﷲ تعالی آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے ۔ (ت)
الجواب :
ان وقع الشك فی صحۃ الجمعۃ لوقوع الشبھۃ فی شرط کالمصریۃ اوکون الدار دارالاسلام فالظاھر الوجوب وان کان ھناك تو ھم لاجل خلاف ضعیف فالندب ویفتی بہ الخواص لا العوام وعلی کل ینوی الفریضۃ ای اخرفرض ظھر ادرکتہ ولم اود لان النفل یتأدی بنیۃ الفرض ولاعکس فلا یحصل الاحتیاط الابنیۃ الفریضۃ کما لا یخفی قال فی ردالمحتار فی
اگر شرائط جمعہ میں اشتباہ کی وجہ سے صحت جمعہ میں شك ہوجائے تو ظاہر یہی ہے کہ وہاں ظہر کا ادا کرنا لازم ہے اور اگر وہاں صحت جمعہ وہم ہے تو ضعیف اختلاف کی وجہ سے ظہر کی ادائیگی مستحب ہوگی البتہ اس کے ساتھ خواص کے لئے فتوی ہے عوام کے لئے نہیں ہر صورت میں فرض کی نیت ہوگی یعنی وہ آخری ظہر جسے میں پایا مگر ادا نہ کی کیونکہ نوافل فرض کی نیت سے ادا ہوجاتے ہیں مگر فرض نفل کی نیت سے ادا نہیں ہوتے تو احتیاط نیت فرض میں ہی ہے جیساکہ مخفی
#11182 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
القنیۃ لما ابتلی اھل مروباقامۃ الجمعتین فیھا مع اختلاف العلماء فی جوازھما امر أئمتھم بالا ربع بعدھا حتما احتیاطا اھ ونقلہ کثیر من شراح الھدایۃ وغیرھا وتداولہ ثم نقل المقدسی عن الفتح انہ ینبغی ان یصلی اربعا ینوی بھا اخر فرض ادرکت وقتہ ولم أ ؤدہ ان تردد فی کونہ مصرا اوتعددت الجمعۃ قال و فائدتہ الخروج عن الخلاف المتوھم اوالمحقق وذکر فی النھرانہ لاینبغی التردد فی ندبھا علی القول بجواز التعدد خروجا عن الخلاف اھ قال المقدسی ذکر ابن الشحنۃ عن جدہ التصریح بالندب وبحث فیہ بانہ ینبغی ان یکون عند مجرد التوھم اماعند قیام الشك والاشتباہ فی صحۃ الجمعۃ فالظاھر الوجوب ونقل عن شیخہ ابن الھمام مایفیدہ اھ مختصرا واﷲ تعالی اعلم۔
نہیں ردالمحتار میں فرمایا کہ قنیہ میں ہے کہ جب اہل مرو کو دو جمعوں کا قیام پیش آیا علماء نے متعدد جمعہ میں ختلاف کیا تو ائمہ نے لوگو پر جمعہ کے بعد احتیاطا چار رکعات ظہر ادا کرنا لازمی قرار دے دیا اھ اکثر شارحین ہدایہ وغیرہ نے اسے نقل کیا اور اسے ہی متد اول قرادیا پھر مقدسی نے فتح سے نقل کیا کہ اگر شہر ہونے میں تردد ہو یا جمعہ کے متعدد ہونے کی وجہ سے تردد ہو تو جمعہ کے بعد چار رکعات اس نیت سے ادا کی جائیں کہ میں نے آخری ظہر کا وقت پایا اسے ادا نہ کیا تھا اور فرمایا فائدہ اس کا یہ ہے کہ خلاف متوہم یا متحقق سے خروج ہوجائے گا نہر میں مذکور ہے کہ اختلاف سے بچنے کی خاطر جواز تعدد جمعہ کے قول پر بھی ظہر کی ادائیگی کے مستحب ہونے میں تردد نہیں کرنا چاہئے اھ مقدسی کہتے ہیں کہ ابن شحنہ نے اپنے دادا سے ندب پر یہ تصریح نقل کرکے اس میں بحث کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس وقت ہے جہاں محض وہم ہو لیکن جب صحت جمعہ میں شك واشتباہ ہوتو ظہر کا وجوب ظاہر اور اس پر اپنے شیخ ابن ہمام کی وہ عبارت نقل کی جو اسے مفید ہے اھ اختصارا (ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از ضلع کمرلہ موضع پانسیر مرسلہ مولوی عبدالغفور صاحب غرہ ربیع الاول ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعد نماز جمعہ انحراف قبلہ یعنی جانب ایمن وایسر کو پھر کر مناجات کرنا جائز ہے یا نہیں باوجود یکہ فقہ کی کتابوں میں بھی یہ ہے کہ جس نماز کے بعد سنت موکدہ ہو نہ پھرے بالدلائل تحریر فامائیے۔ بینوا توجروا
حوالہ / References &ردالمحتار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ا / ۵۹۶
#11183 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
الجواب :
امام کا بعد سلام قبلہ سے انحراف تو مطلقا سنت ہے اور اس کا ترك یعنی بعد سلام رو بقبلہ بیٹھا رہنا امام کے لئے بالاجماع مکروہ ہے جمعہ وغیرہ سب نمازیں اس حکم میں برابر ہیں اور بعد سلام دعا ومناجات بھی بالاجماع جائز ہے مگر جس نماز کے بعد سنت ہے یعنی ظہر وجمعہ ومغرب وعشاء اس کے بعد تاخیر طویل کسی کو بہتر نہیں اور اگر کرے تو منع بھی نہیں مگر اس قدر نہ ہو کہ مقتدیوں پر گراں گزرے عادت مسلمین یوں جاری ہے کہ امام بعد سلام جب تك دعا سے فارغ نہ ہو مقتدی شریك دعا رہتے ہیں اور اس سے قبل اسے چھوڑ کر نہیں اٹھتے اوریہ اگر چہ شرعا واجب نہیں مگر حسن ادب سے ہے۔
اقول : ویمکن الاستناس لہ بقولہ عزوجل “ واذاکانوا معہ علی امرجامع لم یذھبوا حتی یسأذنوہ “ فان فراغہ من الدعاء یعد اذنامنہ دلالۃ بذلك العرف جار۔
اقول : اس پر اﷲ تعالی کے اس ارشاد گرامی سے استدلال ممکن ہے “ اور جب وہ حضورعلیہ السلام کے ساتھ کسی معاملہ میں جمع ہوتے ہیں تو آپ کی اجازت کے بغیر جاتے نہیں “ کیونکہ دعا سے فراغت اذن ہی تصور ہوتا ہے اور اس پر عرف جاری ہے ۔ (ت)
تو ایسی حالت میں اتنی دعائے طویل کہ بعض مقتدیوں پر ثقیل ہو مطلقا نہ کرنی چاہئے اگر چہ اس کے بعد سنت نہ ہو جیسے فجر وعصر۔
ھذا ماظہرلی تفقھا وارجو ان یکون صوابا ان شاء اﷲ تعالی واذا امر الامام بالتخفیف فی الصلوۃ ای عدم الزیادہ علی القدر المسنون اجمعوا علی انہ لا یمکث فی مکانہ مستقبل القبلۃ سائر الصلوات فی ذلك علی السواء۔
غور وفکر میں یہ مجھ پر واضح ہوا اور میں امید کرتا ہوں کہ یہ ان شاء اﷲ درست ہوگا اور جب امام کو نماز میں تخفیف کا حکم ہے یعنی قدرمسنون پر اضافہ کرے تو اس پر اجماع ہے کہ امام اپنی جگہ پر قبلہ رخ ہو کر نہ ٹہرے تمام نمازیں اس حکم میں برابر ہیں (ت)

حلیہ میں ہے :
وقد صرح غیر واحد بانہ یکرہ لہ ذلك ۔
متعدد علماء نے اس کے مکروہ ہونے کی تصریح کی ہے ۔ (ت)
درمختار میں ہے :
یکرہ تاخیر السنۃ الابقدر اللھم انت السلام الخ سنتوں میں تاخیر اللھم انت السلام الخ کی مقدار سے
حوالہ / References &حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی€
#11184 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
قال الحلوانی لاباس بالفصل بالاوراد واختار ہ الکمال قال الحلبی ان ارید باالکراھۃ التنزیھیۃ ارتفع الخلاف قلت فی حفظی حملہ علی القلیلۃ اھ
زیادہ مکروہ ہے حلوانی نے فرمایا اذکار کے ساتھ فرائض وسنن میں فاصلے میں کوئی حرج نہیں کمال نے اسی کو اختیار کیا ہے حلبی کہتے ہیں کہ اگر کراہت سے کراہت تنزیہی ہے تو اختلاف ختم ہوجاتا ہے قلت اور مجھے یہاں تك یاد ہے کہ یہ ( تنزیہی) قلیل فصل پر محمول ہے اھ (ت)
حلیہ میں ہے :
تحمل الکراھۃ علی التنزیھیۃ بعد دلیل التحریمیۃ ۔
جب تحریمی پر دلیل نہ ہو تو مکروہ کو تنزیہی پر محمول کیا جاتا ہے۔ (ت)
غنیہ میں ہے :
قول عائشہ رضی اﷲ تعالی عنھا مقدار مایقول الھم انت السلا الخ یفید ان لیس المراد انہ کان یقول ذلك بعینہ بل کان یقعد زمانا یسع ذلك المقدار ونحوہ من القول تقریبا فلا ینافی ماروی مسلم وغیرہ عن عبداﷲ بن الزبیر رضی اﷲ تعالی عنہما کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا سلم من صلوتہ قال بصوتہ الا علی لاالہ الا اﷲ وحدہ لاشریك لہ لہ الملك ولہ الحمد وھو علی کل شیئ قدیر ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ ولا نعبد ولہ الثناء الحسن لا الہ الا اﷲ مخلصین لہ الدین ولوکرہ لاالکفرون لان
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا یہ فرمان کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اللھم انت السلام الخ کی مقدار پڑھتے فائدہ دے رہاہے کہ ان کی مراد بعینہ یہی الفاظ نہیں بلکہ اتنی دیر بیٹھنا جس میں یہ یا اس کی مقدار تقریبا پڑھا جائے ۔ لہذا یہ روایت مسلم وغیرہ کی اس روایت کے منافی نہیں جو حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تو بلند آواز سے کہتے “ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اس کا کوئی شریك نہیں ملك اسی کا ہے اسی کی حمد ہے اور وہ ہر شیئ پر قادر ہے برائی سے پھرنے اور نیکی کی طرف آنے کی طاقت وتوفیق اﷲ تعالی ہی عطا فرماتاہے ہم اسی کی عبادت کرتے ہیں نعمت اسی کی ہے اور اسی کا فضل
حوالہ / References &درمختار فصل واذا ارادالشروع فی الصلٰوۃ€مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ١ / ١٦٦
&حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی€
#11185 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
المقدار المذکور من حیث التقریب دون التحدید قدیسع کلو احد من نحو ھذہ الاذکار لعدم التفات الکثیر بینھا اھ مختصرا۔
ہے اعلی تعریف اسی کی ہے۔ اﷲ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں ہماری تابعداری اسی کے لئے خالص ہے اگر چہ کافر اسے ناپسند کریں “ کیونکہ مقدار مذکور تقریبا ہے تحدیدا نہیں وہ وقت ان تمام اذکار کی گنجائش رکھتا ہے کیونکہ ان میں بہت زیادہ تفاوت نہیں ہے اھ مختصرا (ت)
بلکہ شیخ محقق مولنا عبدالحق قدس سرہ اشعۃ اللمعات شرح مشکوۃ شریف میں فرماتے ہیں :
تعجیل قیام بہ سنت مغرب منافی نیست مرخواندن آیۃ الکرسی وامثال آنرا چنانکہ درحدیث وارد شدہ است کہ بخواند بعد از نماز فجر و مغرب دہ بار لا الہ الا اﷲ وحدہ لاشریك بلہ لہ الملك ولہ الحمد وھو علی علی کل شیئ قدیر ۔
مغرب کی سنتوں کے لئے جلدی قیام آیۃ الکرسی وغیرہ پڑھنے کے منافی نہیں کیونکہ حدیث صحیح میں وارد ہے کہ نماز فجر و مغرب کے بعد دس مرتبہ یہ پڑھا جائے لا الہ الا اﷲ وحدہ لاشریك لہ لہ الملك لہ الحمد وھو علی کل شیئ قدیر۔ (ت)
فقہ کی کسی کتاب معتمد میں یہ نہیں کہ جس نماز کے بعد سنت ہے اس کے امام کو قبلہ سے پھرنا ہی منع ہاں فصل طویل کو ناپسند فرماتے ہیں اور اس کے معنی ان کلمات علماء سے کہ فقیر نے نقل کئے ظاہر ہوگئے واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از کھاتہ ضلع رامپور مرسلہ قاضی ضیاء الدین احمد صاحب محرم ۱
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك موضع میں عرصہ کثیر گزرا زمانہء پادشاہت اسلام میں قاضی شرع نے جو قاضی بااختیار تھے جامع مسجد قائم کی اور وہ مقام شرائط جمعہ کے موافق مناسب سمجھ کر نماز جمعہ ونماز عیدین اسی مسجد میں ہوتی رہی اور مسلسل اسی وقت سے حسب اجازت وہدایت اصل قاضی یا حاکم وقت مذکور کے اسی خاندان میں امامت رہی اب ایك شخص نے بوجہ مخالفت چندامور دنیاوی کے امام سے رنج کرکے ایك دوسری مسجد میں جو تھوڑے زمانے سے تیار ہوئی ہے نماز عید ادا کی اور باشندگان دیہ کو جامع مسجد قدیم کو آنے سے روك کر بہکا کر بہت سے اشخاص کو اس نماز میں شریك کیا اور نماز پڑھائی اور جامع مسجد قدیم میں بھی مثل قدیم نماز پڑھی گئی اور جماعت ہوئی تو اب دریافت طلب ہے کہ اس مسجد جدید میں امام قدیم سے مخالفت کرکے نماز عید ہوئی یا نہیں اور ایسے نماز پڑھوانے والے کے واسطے جو تفریق جماعت کا مرتکب ہوا
حوالہ / References &غنیۃالمستملی شرح منیۃ المصلی بیان صفۃ الصلٰوۃ€ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۳۴۲
&اشعۃ اللمعات باب الذکر بعد الصلٰوۃ€ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ١ / ٤١٨
#11186 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
کیا حکم ہے اور آئندہ اس طریقہ سے نماز ہوگی یا نہیں
الجواب :
جمعہ وعیدین وکسوف میں ہر شخص امامت نہیں کرسکتا بلکہ لازم ہے کہ سلطان اسلام کا مقرر کردہ یا اس کا ماذون ہو ہاں جہاں یہ نہ مل سکیں تو بضرورت عام اہل اسلام کسی کو امام مقرر کرلیں صورت سوال میں جبکہ سلطنت اسلام سقی اﷲ تعالی عھدھا ( اﷲ تعالی اس کی مدت کودراز فرمائے۔ ت) سے بحکم حاکم شرع وہاں جمعہ قائم اور امامت خاندان ایام قدیم میں مستمر ودائم ہے تو امام خود ماذون من جانب السلطان ہے اس کے ہوتے بلامجبوری شرعی عام مسلمانوں کو بھی امام جدید قائم کرنے کا اختیار نہیں ۔
لان الخیرۃ لھم انما یکون عند الضرورۃ لفقد الماذون فاذا وجد فلا ضرورۃ فلا خیرۃ ۔
انھیں اختیار ضرورت کے وقت ہے جب مامور نہ ہو اور جب مامور ہے تو اب ضرورت نہیں لہذا اختیار بھی نہ ہوگا ۔ (ت)
یہاں مجبوری شرعی یہ کہ امام ماذون خود نہ رہے یا اس میں مذہب وغیرہ کے فساد پیدا ہونے سے قابلیت امامت معدوم ہوجائے اور اس خاندان ماذون میں کوئی اور بھی صالح امامت نہ ہو جب ان صورتوں میں سے کچھ نہ تھا اس دوسرے شخص کی امامت نہ ہوئی اس کے پیچھے نماز عید وجمعہ محض باطل ہوں گی وہ سخت گناہوں کا خود بھی مرتکب ہوگا اور اتنے مسلمانوں کو بھی شدید معصیتوں میں مبتلا کردے گا وہ دوسری مسجد کا جمعہ حرام ہوگا اور ظہر کا فرض سر پر رہے گا اور عیدین میں نماز عید باطل ہوگی ۔ اس کا پڑھنا گناہ ہوگا واجب عید سر پر رہ جائے گا تفریق جماعت تو وہاں کہی جائے کہ نماز جمعہ یا عیدین اس کے پیچھے بھی صحیح ہوجائیں جب یہاں سرے سے ہوئی ہی نہیں تو تفریق کیسی بلکہ ابطال نماز ہے کہ سب سے سخت تر ہے اﷲ تعالی توفیق توبہ بخشے یہ مسئلہ نہایت واجب الحفظ ہے آج کل جہال میں یہ بلا بہت پھیلی ہوئی ہے کہ جمعہ یا نماز عید نہ ملی کسی مسجد میں ڈھائی آدمی جمع ہوئے اور ایك شخص کو امام ٹہرا کر نماز پڑھ لی وہ نماز نہیں ہوتی اور اس کے پڑھنے کا گناہ الگ ہوتا ہے عوام کے خیال میں یہ نمازیں بھی پنجگانہ کی طرح ہیں کہ جس نے چاہا امامت کرلی حالانکہ شرعا یہاں امام خاص اس طریق معین کا درکار ہے اس کے بغیر یہ نمازیں ہو نہیں سکتیں تنویر الابصار میں ہے :
یشترط لصحتھا السلطان اومامورہ باقامتھا ۔
سلطان یااس کے مامورکاجمعہ کوقائم کرناصحت جمعہ کے لیے شرط ہے ۔ (ت)
حوالہ / References &درمختار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۰-۱۰۹
#11187 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
درمختار میں ہے :
فی السراجیۃ لوصلی احد بغیر اذن الخطیب لایجوز الخ
سراجیہ میں ہے اگر اجازت خطیب کے بغیر کسی نے جمعہ پڑھا یا توجائز نہیں ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
حاصلہ انہ لاتصح اقامتھا الا لمن اذن لہ السلطان بواسطۃ اوبدونھا امابدون ذلك فلا ۔
اس کا حاصل یہ ہے کہ اقامت جمعہ درست نہیں مگر اس شخص کے لئے جسے سلطان نے اجازت دی خواہ یہ اجازت بالواسطہ ہو یا بلاواسطہ اگر بغیر اجازت کسی نے جمعہ قائم کیا تو درست نہیں (ت)
تنویر ودر میں ہے :
( ونصب العامۃ) الخطیب ( غیر معتبر مع وجود من ذکر) امامع عد مھم فیجوز للضرورۃ ۔
خطیب کو ( عوام کا مقرر کرنا) ( معتبر نہیں بشرطیکہ جب مذکورہ لوگ ہوں ) لیکن اس صورت میں جب یہ لوگ نہ ہوں تو ضرورت کے لئے امام کا تقرر درست ہوگا (ت)
انھیں کے باب العیدین میں ہے :
( تجب صلوتھما علی من تجب علیہ الجمعۃ بشرائطھا) فانھا سنۃ بعدھا وفی القنیۃ صلوۃ العید فی القری تکرہ تحریما ای لانہ اشتغال بما لایصح لان المصر شرط الصحۃ ملخصا ۔ واﷲ تعالی اعلم
( عیدین کی نماز شرائط جمعہ کے ساتھ ہر اس شخص پر واجب ہے جس پر جمعہ واجب ہے) کیونکہ نماز عید ان شرائط کے بعد سنت ہے ۔ قنیہ میں ہے کہ دیہاتوں میں عید مکروہ تحریمی ہے یعنی یہ ایسے کام مشغول ہونا ہے جو صحیح نہیں کیونکہ شہر ہونا صحت کے لئے شرط ہے۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
حوالہ / References &درمختار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٠
&درمختار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۵۹۲
&درمختار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۱۰
&درمختار باب العیدین€ ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۱۴
#11188 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
مسئلہ : از ملك بنگالہ ضلع میمن سنگھ قصبہ بنیازان ڈاك خانہ لکھی گنج مرسلہ منشی طالب حسین خاں ۲۳ صفر۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك قصبہ میں ایك مسجد ہے جہاں لوگ بہت دنوں سے جمعہ پڑھا کرتے ہیں اگرامام مع چند لوگوں کے نماز جمعہ پڑھ لے تو بعدہ دوسرے لوگوں کو تکرار نماز جمعہ جائز ہے یانہیں اور اگر پڑھ لیا تو نماز ان کی ہوگئی یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
ایك مسجد میں تکرار نماز جمعہ ہرگز جائز نہیں ۔
وقد اخطأ بعض العصریین من لکھنؤ فی تجویز ذلك مغترا بجواز التعدد کما بیناہ فی فتاونا۔
بعض معاصرین لکھنؤ نے اسے جائز کہہ کر غلطی کی ہے انھیں تعدد جمعہ کے جواز سے دھوکا ہوا ہے جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں بیان کردیا ۔ (ت)
جمعہ وعیدین کی امامت مثل نماز پنجگانہ نہیں کہ جسے چاہئے امام کردیجئے بلکہ اس کے لئے شرط لازم ہے کہ امام ماذون من جہتہ سلطان الاسلام ہو بلاوسطہ یا بالواسطہ کہ ماذون کا ماذون ہو یا ماذون الماذون کا ماذون ہو۔
وھلم جرابضرورۃ اوبدونھا ایضا علی اختلاف القیلین مع شرط المعلوم المبین فی کلمات العلماء الکرام۔
اور اسی طرح آگے ضرورت کی وجہ سے یااس کے بغیر بھی اختلاف قولین کی بناپر باوجود یکہ علماء کرام کی عبارات میں شرط معلوم اور واضح ہے ۔ (ت)
یہاں تك کہ اگر بغیر اس کی اجازت کے دوسرا شخص امامت جمعہ کرے نماز نہ ہوگی سراجیہ میں ہے :
لوصلی احد بغیر اذن الخطیب لایجوز الا اذااقتدی بہ من لہ ولایۃ الجمعۃ اھ اقول ولااستثناء فان الاذن یعم الاذن دلالۃ۔
اگر خطیب کی اجازت کے بغیر نماز پڑھائی تو جائز نہیں البتہ اس صورت میں جب اس کی اقتداء کسی ایسے شخص نے کی جو جمعہ قائم کرسکتا تھا اھ اقول : یہاں استثناء کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اجازت اس اجازت کو بھی شامل ہے جو دلالۃ ہو ۔ (ت)
درمختار میں ہے : واقرہ شیخ الاسلام( اسے شیخ الاسلام نے ثابت رکھا ہے ۔ ت) ہاں جہاں ماذون سلطان نہ باقی ہو وہاں بضرورت اقامت شعار اجتماع مسلمین کو قائم اذن سلطان قراردیا ہے۔
حوالہ / References &فتاوٰی سراجیہ باب الجمعۃ نولکشور لکھنؤ€ ص ۱۷
#11189 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
یعنی مسلمان متفق ہوکر جسے امام جمعہ مقرر کرلیں وہ مثل امام ماذون من السلطان ہو جائے گا۔ درمختار میں ہے :
نصب العامۃ الخطیب غیر معتبر مع وجود من ذکر امامع عد مھم فیجوز للضرورۃ ۔
مذکورہ اشخاص کے ہوتے ہوئے عوام کا خطیب مقرر کرنا معتبر نہیں البتہ اگر مذکورہ افراد نہ ہو تو ضرورت کی وجہ سے جائز ہوگا۔ (ت)
اور شك نہیں کہ جو امر ضرورۃ جائزرکھا گیا وہ حدضرورت سے تجاوز نہیں کرسکتا۔
لما عرف من القاعدۃ المطردۃ الفقھیۃ بل والعقلیۃ ان ماکان بضرورۃ فقدر بقدرھا
کیونکہ فقہ بلکہ عقلا قاعدہ مسلمہ ہے کہ جو کچھ ضرورت کی وجہ سے ہوتا ہے وہ ضرورت کی مقدار کے برابر ہی ہوتا ہے ۔ (ت)
اور مسجد واحد کے لئے وقت واحد میں دو امام کی ہرگز ضرورت نہیں تو جب پہلا امام معین جمعہ ہے دوسرا ضرور اس کی لیاقت سے دور ومہجور تو اس کے پیچھے نماز جمعہ باطل ومحذور البتہ اگر امام معین نے براہ شرارت خواہ اپنی کسی خاص حاجت کے سبب جلدی کی اور وقت معہود سے پہلے معدودے چند کے ساتھ نماز پڑھ لی عامہ جماعت مسلمین وقت معین پر حاضر ہوئی تو اب ظاہرا مقتضائے نظر فقہی یہ ہے کہ انھیں جائز ہو کہ دوسرے شخص کو باتفاق عام مسلمین امام مقرر کریں اور نماز جمعہ پڑھیں ۔
لحصول الضرورۃ بالضرورۃ ولم تند فع بما فعل الامام بل لم یحصل من فعلہ ماکان نصبہ فما نصب الاللعامۃ لالعدۃ نفر کما لایخفی ولیحرر۔ واﷲ تعالی اعلم۔
واضح ضرورت پائے جانے کی وجہ سے اور یہ ضرورت امام کے فعل سے پوری نہیں ہوئی بلکہ جس مقصد کے لئے اس کا تقرر ہواوہ حاصل نہ ہوا وہ تو عام لوگوں کے لئے مقرر تھا نہ کہ چند لوگوں کے لئے جیسا کہ مخفی نہیں اسے واضح کرلینا چاہئے۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ : مرسلہ ظہور احمد از بیتھو ڈاك خانہ چاکند ضلع گیا
جس موضع میں تین مسجد ہوں اور بڑی مسجد میں اس جگہ کی سب لوگ گنجائش نہ کرسکیں اور اس جگہ سے تین میل شہر متصل ہو اس موضع میں جمعہ واجب ہے یا نہیں اور اس جگہ کے لوگوں کو جمعہ پڑھنا اس شہر میں واجب ہے یا نہیں بینوا توجروا۔ یہ جوعبارت وقایہ کی ہے کہ : مالایسع اکبر مساجدہ اھلہ مصر ( ایسی جگہ کہ بڑی مسجد میں اس جگہ کی سب مسلمان گنجائش نہ کرسکیں جمعہ واجب ہے یا نہیں
حوالہ / References &درمختار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٠
&شرح الوقایۃ باب الجمعۃ€ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۲۴۰
#11190 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
یعنی مسلمان عاقل بالغ جس پر نماز جمعہ واجب ہے ۔
الجواب :
جو جگہ خود شہر نہ ہو اس میں صحت جمعہ کےلئے فنائے مصر ہونا ضرور ہے فنائے مصر حوالی شہر کے ان مقامات کو کہتے ہیں جو مصالح شہر کے لئے رکھے گئے ہوں مثلا وہاں شہر کی عیدگاہ یا شہر کے مقابر ہوں یا حفاظت شہر کے لئے جو فوج رکھی جاتی ہے اس کی چھاونی یا شہر کی گھوڑ دوڑ یا چاند ماری کا میدان یا کچہریاں اگر چہ مواضع شہر سے کتنے ہی میل ہوں اگر چہ بیچ میں کچھ کھیت حائل ہوں اور جو نہ شہر ہے نہ فنائے شہر اس میں جمعہ پڑھنا حرام ہے اور نہ صرف حرام بلکہ باطل کہ فرض ظہر ذمہ سے ساقط نہ ہوگا۔
فی تتویر الابصار والدرالمختار یشترط لصحتھا المصر اوفنائہ وھو ماحولہ اتصل بہ اولا کما حررہ ابن الکمال وغیرہ لاجل مصالحہ کدفن الموتی ورکض الخیل اھ ملخصا فی ردالمحتار قد نص الائمۃ علی ان الفناء مااعد لد فن الموتی وحوائج المصر کرکض الخیل والدواب وجمع العساکر والخروج للرمی وغیرذلك اھ وفی درالمختار عن القنیۃ صلوۃ العید فی القری تکرہ تحریما ای لانہ اشتغال بما لا یصح لان المصر شرط الصحۃ
تنویر الابصار اور درمختار میں ہے کہ صحت جمعہ کے لئے شہر یا فنائے شہر کا ہونا ضروری ہے اور فنا سے مراد وہ جگہ ہے جو شہر کے پاس شہریوں کی ضرورت کے لئے ہو خواہ متصل ہو یانہ ہو جیسا کہ ابن الکمال وغیرہ نے تحریر کیا ہے مثلا قبرستان گھوڑدوڑ کا میدان اھ ملخصا تنویر الابصار اور درمختار میں ہے کہ صحت جمعہ کے لئے شہر یا فنائے شہر کا ہونا ضروری ہے اور فنا سے مراد وہ جگہ ہے جو شہر کے پاس شہریوں کی ضرورت کے لئے ہو خواہ متصل ہو یانہ ہو جیسا کہ ابن الکمال وغیرہ نے تحریر کیا ہے مثلا قبرستان گھوڑدوڑ کا میدان اھ ملخصا ردالمحتار میں ہے کہ ائمہ نے اس بات پر تصریح کی ہے کہ فناسے مراد وہ میدان ہے جودفن موتی اورشہر کی ضروریات کے لئے بنائی گئی ہو مثلا گھوڑ دوڑ اور چوپایوں کے لئے لشکر کے اجتماع کے لئے یا نشانہ بازی وغیرہ کے لئے ہو اھ درمختار میں قنیہ سے ہے کہ دیہاتوں میں نماز عید مکروہ تحریمی ہے یعنی ایسے عمل مشغول ہونا ہے جو صحیح نہیں کیونکہ صحت عید کے لئے شہر کا ونا شرط ہے (ت)
مصر کی یہ تعریف کہ جس کی اکبر مساجد میں وہاں کے اہل جمعہ نہ سمائیں اپنے ظاہر معنی پر ہمارے ائمہ کے مذہب متواتر کے خلاف ہے ولہذا محققین نے اسے رد فرمایا اور تصریح کی کہ اس تصریح پر خود مکہ معظمہ و مدینہ طیبہ
حوالہ / References &درمختار باب الجمعہ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٠٩
&ردالمحتار باب الجمعہ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۹۱
&درمختار با ب العیدین€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۱۴
#11191 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
شہر سے خارج ہوئے جاتے ہیں اور ان میں جمعہ باطل ٹھہرتا ہے کہ ان کی مساجد کریمہ اپنے اہل کی ہمیشہ سے وسعت رکھتی ہےں غنیہ شرح منیہ علامہ ابراہیم حلبی میں ہے :
اختلفوا فی تفسیر المصر اختلافاکثیرا والفصل فی ذلك ان مکۃ والمدینہ مصران تقام بھما الجمع من زمنہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الی الیوم فکل موضع کان مثل احدھما فھو مصر وکل تفسیر لایصدق علی احدھما فھو غیر معتبر حتی التعریف الذی اختارہ جماعۃ من المتاخرین کصاحب المختار والوقایۃ وغیرھما وھو مالو اجتمع اھلہ فی اکبر مساجدہ لایسعھم فانہ منقوض بھما اذمسجد کل منھما یسع اھلہ وزیادۃ فلا یعتبر ھذا التعریف وبالاولی ان لایعتبر تعریفہ بما یعیش فہ کل محترف بحرفتہ اویوجد فیہ کلہ محترف فان مصر وقسطنطنیۃ من اعظم امصار الاسلام فی زماننا ومع ھذا فی کل منھما حرف لا توجد فی الاخری فضلا عن مکۃ والمدینۃ انتھی باختصار
تعریف شہر میں بہت زیادہ اختلاف ہے اور فیصلہ ا س میں یہ ہےکہ مکۃ المکرمہ اور مدنیۃ المنورہ میں حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ظاہری حیات سے لے کر آج تك جمعہ ادا کیا جاتا ہے تو ہر وہ مقام جو ان دونوں میں سے کسی ایك کی طرح ہوگا وہ شہر کہلائے گا اور جو تفسیر شہر ان دونوں میں سے کسی ایك پر صادق نہ آئے گی وہ غیر معتبر ہوگی حتی کہ وہ تعریف جیسے متاخرین کی ایك جماعت مثلا صاحب مختار اور صاحب وقایہ وغیرہ نے اختیار کی کہ ( وہ مقام شہر ہوگا) اگر وہاں کی سب سے بڑی مسجد میں وہاں کے لوگ جمع ہوجائیں اور مسجد میں ان کی گنجائش نہ رہے ان دونوں ( مکہ ومدینہ) کی وجہ سے قابل اعتراض ہے کیونکہ ان دونوں کی مساجدوہاں کے مقیم بلکہ اس سے زائد لوگوں کی گنجائش رکھتی تھیں لہذا یہ تعریف معتبر نہیں او ربطریق اولی شہر کی یہ تعریف غیر معتبر ہے کہ ہر وہ مقام جس میں ہو کاریگر اپنی صنعت کے ساتھ ہو یا وہاں ہر قسم کا کاریگر موجود ہوں کیونکہ ہمارے دور میں مصر اور قسطنطنیہ مسلمانوں کے سب سے بڑے شہروں میں سے ہیں باوجود اس کے دونوں میں سے ایك میں مخصوص صنعت ہے جو دوسرے میں نہیں چہ جائیکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں ہو غنیہ کی عبارت اختصارا ختم ہوئی ۔ (ت)
ملتقی الابحر میں ہے :
وقیل مالو اجتمع اھلہ فی اکبر مساجدہ لایسعھم ۔
ایك قول یہ ہے کہ اگر وہاں کے لوگ سب سے بڑی مسجد میں جمع ہوں تو ان کے لئے کافی نہ ہو(ت)
حوالہ / References &غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی صلٰوۃ الجمۃ€ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۵۵۰
&ملتقی الابحر باب الجمعۃ€ مطبوعہ مؤ سستہ رسالہ بیروت ١ / ١٤٣
#11192 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
مجمع الانہر میں ہے :
اوردبصیغۃ التمریض لانھم قالوا ن ھذا الحد غیر صحیح عند المحققین ۔ واﷲ تعالی اعلم
صیغہ تمریض لایا گیا ہے کیونکہ فقہاء نے فرمایا یہ تعریف محققین کے نزدیك صحیح نہیں ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۱۳۲۵ تا ۱۳۲۶ : از غازی پور محلہ میاں پورہ مرسلہ علی بخش صاحب محرر دفتر ججی غازی پور ۱۷ ذی قعدہ ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ :
(۱) بعد نماز جمعہ احتیاطا ظہر پڑھنا کیسا ہے چاہئے یا نہیں
(۲) خطبہ جمعہ میں جب نام پاك محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا آوے اس وقت سامعین کو درود شریف پڑھنا کیسا ہے چاہئے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
( ۱) احتیاطی ظہر کی عام لوگوں کو حاجت نہیں ۔
() خطبے میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا نام پاك سن کر دل میں درود پڑھیں زبان سے سکوت فرض ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از بنگالہ ضلع ڈھاکہ ڈاك خانہ بلابو قصبہ نیلو کھیا مرسلہ محمد نیاز حسین محرم الحرام ھ
اگر قری میں جہاں مسلمان کثرت سے ہوں اور مکانات آپس میں متصل بلا فاصلہ ہیں اگر ہے تو پندرہ یا بیس گز اور نماز پنجگانہ کے لئے مقرر ہے اذان و جماعت ہوتی ہے وہاں کے لوگ متفق ہو کر ایك شخص کوامام جمعہ مقرر کرکے نماز جمعہ ادا کرلیں تو علیہ ماوجب لہ ( جوان پر لازم ہے ۔ ت) سے بری ہوں گے یا نہیں اور موافق مذہب امام اعظم وحمۃ اﷲ تعالی علیہ صحیح ہوگا یا نہیں اور بعد نماز جمعہ ظہر احتیاطی پڑھنا کیسا ہے او روہ لوگ بسبب اس جمعہ پڑھنے کے مستحق ثواب یا اثم اور اگر اثم ہے تو کیسا بینوا بالتفصیل مع الدلیل توجروا یوم الاخر والحساب امین یا رب العلمین ( تفصیلا دلائل کے ساتھ بیان فرمادیجئے اﷲ تعالی آخرت میں آپ کو اجر عطا فرمائے۔ اے رب العلمین ! دعا قبول فرما ۔ ت) صحت جمعہ کے لئے مصر شرط ہے پس مصر کی تعریف صحیح موافق مذہب امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہ کہا ہے اور تعریف قری جس میں جمعہ واجب نہیں اور نہ وہاں جمعہ پڑھنا جائز کیا ہے قری اور دیہات
حوالہ / References &مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب الجمعہ€ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۶
#11193 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
میں فرق ہے یا نہیں اگر فرق ہے تو کس میں جمعہ جائز اور کس میں ناجائز
الجواب :
مذہب حنفی میں فرضیت جمعہ وصحت جمعہ وجواز جمعہ سب کے لئے مصر شرط ہے دیہات میں نہ جمعہ فرض نہ وہاں اس کی ادا جائز و صحیح اگر پڑھیں گے ایك نفل نماز ہوگی کہ برخلاف شرح جماعت سے پڑھی ظہر کا فرض سرسے نہ اترے گا پڑھنے والے متعدد گناہ کے مرتکب ہوں گے
للاشتغال بما لایصح کما فی الدرالمختار وللتنفل بجماعۃ بالتداعی ولترك جماعۃ الظھر وان ترکوا الظھر فاشنع واخنع۔
یہ ایسے کام میں مشغول ہونا ہے جو صحیح نہیں جیسا کہ درمختار میں ہے۔ اور تداعی کے ساتھ نوافل کا جماعت کے ساتھ اداکرنا اور جماعت ظہر کا ترك لازم آتا ہے اور اگر وہ ظہر ترك کردیتے ہیں تو یہ نہایت ہی برا و قبیح عمل ہے۔ (ت)
قریہ زبان عرب میں شہر کوبھی کہتے ہیں
قال تعالی و ما ارسلنا من قبلك الا رجالا نوحی الیهم من اهل القرى- ای الامصار لعلمھم وحلمھم دون البوادی لغلظھم وجفائھم وقال تعالی على رجل من القریتین عظیم(۳۱) ای مکۃ و الطائف وقال تعالی من قریتك التی اخرجتك- ۔
اﷲ تعالی کا فرمان ہے “ اور ہم نے نہیں بھیجا آپ سے پہلے مگر مردوں کو جن پر ہم نے وحی کی اہل قری میں سے “ یعنی شہروں سے کیونکہ شہر ی لوگ صاحب علم وحلم ہوتے ہیں ۔ ( دوسرے مقام پر ) اﷲ تعالی کا ارشاد ہے “ ان دو قریوں میں سے بڑے آدمی پر “ یعنی مکہ وطائف ۔ ( تیسرے مقام پر) اﷲ تعالی نے فرمایا “ تیرے اس قریہ سے جس سے تجھے نکالا “ (ت)
اور جب اسے مصر کے مقابل بولیں تو اس میں اور دہ میں کچھ فرق نہیں ثم اقول : وبہ التوفیق( پھر میں اﷲ تعالی کی توفیق سے کہتا ہوں ۔ ت) حق ناصع یہ ہے کہ مصر وقریہ کوئی منقولات شرعیہ مثل صلوۃ وزکوۃ نہیں
حوالہ / References &درمختار باب العیدین €مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۱۴
&القرآن€ ١٢ / ١٠٩
&القرآن€ ٤٣ / ٣١
&القرآن€ ٤٧ / ١٣
#11194 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
جس کو شرع مطہر نے معنی متعارف سے جدا فرماکر اپنی وضع خاص میں کسی نئے معنی کے لئے مقرر کیا ہو ورنہ شارع صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے اس میں نقل ضرور تھی کہ وضع شارع بے بیان شارع معلوم نہیں ہوسکتی اور شك نہیں کہ یہاں شارع صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے اصلا کوئی نقل ثابت ومنقول نہیں تو ضرور عرف شرع میں دہ انھیں معانی معروفہ متعارفہ پر باقی ہیں اور ان سے پھیر کر کسی دوسرے معنی کے لئے قرار دینا دہ قرار دہندہ کی اپنی اصطلاح خاص ہوگی جو مناط ومدار احکام ومقصود ومراد شرع نہیں ہوسکتی۔ محقق علی الاطلاق رحمۃ اللہ تعالی علیہ فتح القدیر میں فرماتے ہیں :
واعلم ان من الشارحین من یعبر عن ھذا بتفسیرہ شرعا ویجب ان یراد عرف اھل الشرع وھو معنی الاصطلاح الذی عبرنابہ لاان الشارع صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نقلہ فانہ لم یثبت وانما تکلم بہ الشارع علی وفق اللغۃ ۔
واضح رہے کہ بعض شارحین نے اس تفسیر کو شرعی کہا ہے اور اس سے اہل شرع کا عرف مراد لینا واجب ہے اور اس اصطلاح کایہی معنی ہے جس کے ساتھ ہم نے اسے تعبیر کیا اس کایہ معنی نہیں کہ شارع صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے نقل کیا ہے کیونکہ یہ ثابت نہیں شارع نے اس میں لغت کے مطابق تکلم فرمایا ہے ۔ (ت)
اور ظاہر کہ معنی متعارف میں شہر و مصر ومدینہ اسی آبادی کو کہتے ہیں جس میں متعدد کوچے محلے متعدد ودائمی بازار ہوتے ہیں وہ پرگنہ ہوتا ہے اس کے متعلق دیہات گنے جاتے ہیں عادۃ اس میں کوئی حاکم مقرر ہوتا ہے کہ فیصلہ مقدمات کرے اپنی شوکت کے سبب مظلوم کا انصاف ظالم سے لے سکے۔ اور جو بستیاں ایسی نہیں وہ قریہ و دہ وموضع وگاؤں کہلاتی ہیں شرعا بھی یہی معنی متعارفہ مراد ومدار احکام جمعہ وغیرہا ہیں ولہذا ہمارے امام اعظم وہمام اقدم رضی اللہ تعالی عنہ نے شہر کی یہی تعریف ارشاد فرمائی علامہ ابراہیم حلبی غنیہ شرح منیہ میں فرماتے ہیں :
فی تحفۃ الفقہاء عن ابی حنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ انہ بلدۃ کبیرۃ فیھا سکك واسواق ولھا رساتیق وفیھا وال یقدر علی انصاف المظلوم من الظالم بحشمتہ وعلمہ او علم غیرہ یرجع الناس الیہ فیما تقع
تحفہ میں امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے شہر وہ ہوگا جو بڑا ہو اس میں سڑکیں بازار سرائے ہوں وہاں کوئی ایسا والی ہو جو اپنے دبدبہ اپنے علم یا غیر کے علم کی وجہ سے ظالم سے مظلوم کو انصاف دلاسکیں حوادثات میں لوگ
حوالہ / References &فتح القدیر باب الجمعۃ€ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ٢ /
#11195 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
من الحوادث وھذا ھو الاصح ۔
اس کی طرف رجوع کریں اور یہی اصح ہے ۔ (ت)
ہاں اتنا ضرور ہے کہ جمعہ اسلامی حکم ہے اس کے لئے اسلامی شہر کا ہو نا ضروری ہے ولہذا دارالحرب میں اصلا جمعہ نہیں اگر چہ کتنے ہی بڑے امصار عظام کبار ہوں جس میں دس دس لاکھ آدمیوں کی آبادی ہو نہ اس وجہ سے کہ وہ شرعا شہر نہیں اصطلاح شرع میں وہ گاؤں ہیں حاشایہ محض غلط ہے قیامت تك کوئی ثبوت نہیں دے سکتا کہ شرع مطہر نے کفار کے امصار کبار کو مصر و مدینہ سے خارج اور دہ گاؤں بتایا ہو اس بنا پرکہ وہاں اقامت حدود وتنفیذ احکام شرع نہیں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی جب بیثت ہوئی مکمہ معظمہ بلکہ تمام دنیا میں جیسا کہ کفر و کا فرین کا تسلط وغلبہ تھا ظاہر وعیاں ہے اور اکثر مرسلین کرام اصحاب شرائع جدیدہ علیہم الصلوۃ والسلام ایسے ہی شہروں میں پیدا ہوتے ہیں اور وہیں کے ساکن ہوکر انھیں پر مبعوث ہوتے اب کیا معاذ اﷲ یہ کہا جائے گا کہ شرعا ی مرسلین صلوات اﷲ تعالی وسلامہ علیہم اجمعین دیہاتی تھے حالانکہ اﷲ عزوجل فرماتا ہے : و ما ارسلنا من قبلك الا رجالا نوحی الیهم من اهل القرى- ۔ ہم نےتم سے پہلے جتنے رسول بھیجے وہ سب مرد اور شہر ی ہی تہے۔ ان میں کوئی عورت نہ تھی نہ کو ئی گنوار بھی خود حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو جس وقت غلبہ کفار کے سبب مکہ معظمہ سے ہجرت کی ضرورت ہوئی اس وقت بھی قرآن عظیم نے مکہ مکرمہ کو شہر ہی فرمایا و كاین من قریة هی اشد قوة من قریتك التی اخرجتك-اهلكنهم فلا ناصر لهم(۱۳) ۔ بہتیرےشہرکو تمھارے اس شہر سے جس نے تم کو نکالا زیادہ قوت والے تھے ہم نے ہلاك کردئے تو ان کا کوئی مدد گار نہیں بلکہ وجہ صرف یہ ہے کہ دارالحرب کے شہر کفر کے شہر ہیں اور اقامت جمعہ کو اسلامیہ شہر درکار اسی طرف نظرکرم فرماکر کلام قدماء میں جبکہ اسلام کا دوردورہ تھا اور اسلامی شہر اسلامی احکام کے پابند تھے لہ امیر وقاض ینفذ الاحکام ویقیم الحدود ( وہاں کوئی امیر یا قاضی ہو جو احکام نافذ اور جاری کر سکے۔ ت) واقع ہو اس سے مقصود وہی تھا کہ اسلامی شہر کہ اس وقت اسلامی شہر ایسے ہی ہوتے تھے یہ معنی نہ تھے کہ تنفیذ احکام واقامت حدود سنخ حقیقت شہر میں داخل ہے یہ نہ ہو شہرشرعا شہر ہی نہ رہے گا گاؤں ہو جائے گا حالانکہ فتنہ بلوائیان مصر میں خاص زمانہ خلافت راشدہ میں چند روز تنفید احکام نہ ہوئی کیا اس وقت مدینہ طیبہ گاؤں ہوگیا تھا اور اس میں جمعہ پڑھنا حرام باطل ہوا تھا حاشا ہر گز ایسا نہیں خودیہی علماء تصریح فرماتے ہیں کہ ایام فتنہ میں اقامت جمعہ ہوگی اور شہر شہریت سے خارج نہ ہوگا ولہذا رد المحتار میں ہے :
حوالہ / References &غنیۃ المستملی شرح منیۃ الصلی فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ €مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۵۵۰
&القرآن€ ۱۲ / ۱۰۹
&القرآن€ ۴۷ / ۱۳
#11196 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
لومات الوالی اولم یحضر الفتنۃ ولم یوجد احد ممن لہ حق اقامۃ الجمعۃ نصب العامۃ لھم خطیبا للضرورۃ کما سیأتی مع انہ لا امیر والا قاض ثمہ اصلا وبھذا ظھر جھل من یقول لاتصح الجمعۃ فی ایام الفتنۃ مع انھا تصح فی البلاد التی استولی علیہا الکفار کما سنذکرہ فتامل ۔
اگروالی فوت ہوگیا یا فتنہ کی وجہ سے آنہیں سکتا اور وہاں کوئی ایسا شخص بھی نہ ہو جو جمعہ کی امامت کا حقدار ہے تو پھر ضرورت کی وجہ سے خطیب مقرر کرسکتے ہیں جیسا کہ عنقریب آرہا ہے ا س کے ساتھ ساتھ کہ وہاں کبھی قاضی یا امیر نہ ہو اس سے اس شخص کی جہالت بھی واضح ہوگئی جو کہتاہے کہ فتتہ کے دنوں میں جمعہ صحیح نہیں حالانکہ جمعہ ان شہروں میں درست ہے جن پر کفار کی ولایت ہو جیسا کہ ہم عنقریب بیان کریں گے پس غور کیجئے ۔ (ت)
اس تعریف میں الفاظ ینفذ ویقیم ( نافذ کرے اور قائم کرے ۔ ت) موہم فعلیت تھے جس سے بعض کبراء کو دھوکا ہو جسے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے ارشاد یقدر علی الانصاف ( وہ انصاف پر قادرہو۔ ت)نے زائل کردیا کما بینہ فی الغنیۃ وردالمحتار وغیرھما من الاسفار ( جیسے کہ یہ بات غنیہ اور ردلمحتار وغیرہ جیسی کتب میں ہے ۔ ت) اورحقیقۃ غور کیجئے تو ارشاد امام میں علمہ اوعلم غیرہ ( اپنے یاغیر کے علم کی بناء پر ۔ ت )کہ مفید تقیید اسلام والی ہے یہ بھی اس زمانے کی حالت کے مطابق تھا اس وقت میں اور اس کے بعد صدہا سال تك اس کی نظیر قائم نہ ہوئی تھی کہ شہر دارالاسلام ہو اور حاکم کافر ولہذا نظر بحالت موجودہ اسلامیت شہر واسلام شہریار میں تلازم تھا ان بندگان خدا کے خواب میں بھی یہ خیال نہ گزرتا ہوگا جو آج آنکھوں کے سامنے ہے کہ شہر دارالاسلام اور اس پر کفار حکام ورنہ حقیقۃ صرف اسی قدر درکا ہے کہ اسلامی شہر ہو اگر چہ والی کافرہی ہو ولہذا جامع الرموز میں زیر قول ماتن شرط الادئھا المصر والسلطان ( ادائے جمعہ کے لئے شہر او سلطان کاہونا شرط ہے ۔ ت) فرمایا :
الاطلاق مشعر بان الاسلام لیس بشرط ۔
اطلاق بتاتاہے کہ اسلام شرط نہیں ۔ (ت)
مبسوط ومعراج الدرایہ وجامع الفصولین وہندیہ وردالمحتار وغیرہا میں ہے :
فلو الولاۃ کفارا یجوز للمسلمین اقامۃ الجمعۃ ۔
اگر چہ والی شہر کافرہو مسلمانوں کےلئے جمعہ کا
حوالہ / References &ردالمحتار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٥۹٠
&جامع الرموز فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ€ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ١ / ٢٦٣
#11197 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
الجمعۃ ۔
قیام جائز ہے۔ (ت)
تو افتاب کی طرح روشن ہوا کہ صرف اسلامی شہر ہونا درکار ہے تنفیذ احکام یا اقامت حدودیا اسلام والی کچھ شرط نہیں اور بحمد اﷲ تعالی ہم نے اپنے فتاوی میں دلایل قاہرہ سے ثابت کیا ہے کہ تمام ہندوستان سرحد کابل سے منتہائے بنگالہ تك سب دارالاسلام ہے تو یہاں جتنے شہر وقصبات میں (جن کو شہر کہتے ہیں اور وہ نہ ضرور ایسے ہی ہوتے ہیں جن میں متعدد محلے متعدد ودائمی بازار ہیں وہ پرگنہ ہیں ان کے متعلق دیہات ہیں ان میں ضرور کوئی حاکم فصل مقدمات کےلئے مقرر ہوتا ہے جسے ڈگری ڈسمس کا اختیار ہے نہ فقط تھانہ دار کہ وہ کوئی حاکم نہیں صرف حفاظت اور تحقیقات یا چالان کا مختار ہے) وہ ضرور سب اسلامی شہر ہیں اور ان میں جمعہ فرض ہے اور انھیں میں جمعہ صحیح ہے ان کے علاوہ جتنی ابادیاں ہیں گاؤں ہیں اگر چہ مکانات پختہ اور مسلمان ومساجد بکثرت ہوں ان میں نہ جمعہ فرض نہ جائز نہ صحیح یہ حق تحقیق وتحقیق حق ہے جس سے سرموحق متجاوز نہیں یہ تعریف کہ جس کی سب سے بڑی مسجد میں اس کے سکان اہل جمعہ نہ سمائیں اگر بطور تعریف مانی جائے تو صریح باطل ہے جس پر وہ اعتراضات قاہرہ وارد ہیں جن کا جواب اصلا ممکن نہیں اور اگرکچھ اور نہ ہو تویہی کیا کم ہے کہ اس تعریف پر خود مکہ معظمہ و مدینہ منورہ گاؤں ٹھرے جاتے ہیں اور ان میں جمعہ معاذ اﷲ حرام وباطل قرار پاتا ہے اکبر مساجدہ ( وہاں کی سب سے بڑی مسجد ۔ ت) کو اپنے ظاہر پر رکھیں اور ان میں متعدد مساجد صغیرہ وکبیرہ اور ان سب میں اکبر ہونا شرط کریں جب تو مکہ معظمہ کا شہر نہ ہونا صراحۃ واضح کہ مکہ معظمہ میں سوا مسجد الحرام کے کوئی مسجد صدہاسال تك نہ تھی اور عجب نہیں کہ اب بھی نہ ہو۔ نورالعین وردالمحتار کتاب الوقف میں ہے :
لامسجد فی مکۃ سوی المسجد الحرام ۔
(مکہ میں مسجد حرام کے علاوہ کوئی مسجد نہیں ۔ ت)
اوراگر ایك مسجد پر قناعت کریں اور مجازا ٹھہرالیں کہ جب یہی ایك مسج تو یہی اکبر مساجد ہے تو اول تو یہ اکس قدر مقاصد شرع مطہرسے دور مہجور ہے ایك عظیم اسلامی شہر جس میں لاکھ مسلمان مرد ومقاقل رہتے ہیں اس میں ایك مسجد فرض کیجئے جس میں لاکھ سے زائد یا صرف لاکھ آدمی آسکیں اور ایك گمنام پہاڑی کی نلی میں بن کے کنارے دو جھونپڑیاں وحشی جنگلیوں کی ہو جن میں آٹھ دس مرد رہتے ہیں اور انھوں نے ایك چبوترہ چند گز کا بنالیا ہے جس میں سات آدمیوں کی گنجائش ہے آگے امام اور پیچھے تین تین آدمیوں کی دوصفیں رو لازم ہے کہ وہ شہر عظیم الشان گاؤں ہو اور اس میں جمعہ حرام اور یہ کوردہ مصر جامع ومدینہ عظیمہ ہو او ر اس میں جمعہ فرض کیا ارشاد حدیث :
حوالہ / References &ردلمحتار€ ، &باب الجمعہ€ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ١ / ٥٩٥
&ردالمحتار کتاب الوقف€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۳ / ۴۲۱
#11198 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
لاجمعۃ ولاتشریق ولاصلوۃ فطر ولااضحی الافی مصر جامع اومدینۃ عظیمۃ
مصر جامع اور بڑے شہر کے علاوہ کسی جگہ نہ جمعہ ہوسکتا ہے نہ تکبیرات تشریق نہ نمازعیدلفطر اور نہ نماز عیدالاضحی۔ (ت)
کا یہی منشا ہے حاشا وکلا معہذا ایسا ہو تو دن میں چھ چھ بار مصریت وقرویت پلٹا کھائے ایك بستی میں سو اہل جمعہ رہتے ہیں اور اس کی اکبر مساجد میں اتنے آدمیوں کی وسعت ہے تو گاؤں ہے پھر دن چڑھے ان میں ایك لڑکا بالغ ہوا تووہ شہر ہوگیا کہ اب اس مسجد میں وہاں کے اہل جمعہ کی وسعت نہ رہی دوپہر کو ایك شخص وہاں سے سکونت چھوڑ کی چلا گیا تو پھر گاؤں ہوگیا اب پھر وسعت ہوگئی پھر دن رہے ایك غلام آزاد ہو ا تو پھر شہر ہوگیا کہ وسعت نہ رہی شام کوا یك شخص مرگیا توپھر گاؤں ہوگیا عشاء کو ایك مجنون ہوش میں آگیا تو پھر شہر ہوگیا آدھی رات ایك شخص کی آنکھیں جاتی رہیں توپھر گاؤں کا گاؤں رہا وعلی ہذا القیاس بلکہ فرض کیجئے کہ ابھی وہ شہر تھا اور جمعہ فرض تھا مسلمان جمعہ کے لئے جمع ہوئے امام خطبہ پڑھ رہاہے کہ خبر آئی فلاں مرگیا اب جمعہ حرام ہو گیا خطبہ بے کار گیا کہ شہر گاؤں ہوگیا امام نے خطبہ چھوڑا اور اعلان ہوا کہ بھائیوں ظہر کی نیت باندھو تکبیر ہوتی ہی تھی کہ ایك لڑکے نے کہا میری انکھ لگ گئی تھی احتلام ہوگیا وہ نہانے کوگیا یہاں امام پھر خطبہ کو جائے کہ اب یہ پھر شہر ہے اور پہلا خطبہ کہ بوجہ زوال محلیت بیکار ہوگیا تھا پھر اعادہ کرے ابھی دوسرے خطبہ تك نہ پہنچا تھا کہ خبر آئی فلاں کی آنکھیں جاتی رہیں اب امام پھر اترے اور ظہر کا اعلان دے تکبیر ہورہی ہے کہ صف میں سے ایك مسافر نے اٹھ کر کہا صاحبو! کیوں جمعہ کھوتے ہو میں یہاں چندروز کے لئے آیا تھا مگر اب یہیں کا ساکن ہوگیا امام سے کہئے پھر سہ بارہ خطبے کو جائے اس الٹ پھیر میں معلوم نہیں کہ عصر کا وقت آنے تك جماعت کہ جمعہ نصیب ہو یا ظہر یہ سب خوبیاں اس تعریف کی ہیں اور ان سب سے قطع نظر کیجئے تو دونوں بلد کریم مکہ مکرمہ ومدینہ منورہ کی مساجد طیبہ قطعا وہاں کے اہل جمعہ بلکہ ان سے بدر جہا زائد کی وسعت رکھتی ہیں جیسا کہ بحمد اﷲ تعالی آنکھوں سے مشاہدہ ہے تو وہ دونوں شہر کریم معاذ اﷲ گاؤں ہوئے اور ان میں جمعہ حرام ٹھہرا اس سے زیادہ شناعت اور کیا ہوگی اور یہ وسعت آج کی نہیں زمانہ اقدس حضور ـسید عالم ـ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں بھی تھی۔ تو معاذاﷲ زمانہ اقدس سے وہ گاؤں ہی تھے او ران میں جمعہ حرام تھا مگر ہوتاتھا اب یہ منتہائے شناعت کبری ہے جس سے مافوق متصور نہیں جامع ترمذی شریف میں امیر المومنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم سے مروی ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : رحم اﷲ عثمن زاد فی مسجدنا حتی وسعنا ھذا مختصر اﷲ تعالی عثمان پر رحمت فرمائے اس نے ہماری مسجد شریف بڑھادی یہاں تك کہ اس میں ہم سب نمازیوں کی وسعت ہوگئی۔ ظاہر ہے کہ سب نمازیوں کی وسعت ہوجانا صرف اہل جمعہ کی وسعت سے کہیں زیادہ ہوگی تو معاذاﷲ اس تعریف پر حاصل حدیث یہ ہوگا کہ اﷲ تعالی عثمان کا بھلا کرے ا س نے ہماری
حوالہ / References &مصنف ابن ابی شیبۃ من قال لاجمعہ الخ€ مطبوعہ ادارہ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ / ۱۰۱
#11199 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
مسجد بڑھا کر مدینہ کو گاؤں کردیا اور اس میں جمعہ حرام ہوگیا لاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم ۔ طحطاوی علی مراقی الفلاح باب الاستسقاء میں ہے :
من ھو مقیم بالمدینۃ لا یبلغ قدر الحاجۃ وعند اجتماع جملتھم یشاھد اتساع المسجد الشریف فی اطرافہ وانما شدۃ الزحام فی الروضۃ الشریفۃ وماقاربھا للرغبۃ فی زیادۃ الفضل والقرب من المصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کذا فی الشرح ۔
جو مدینہ منورہ میں مقیم ہیں ان کی تعداد جمعہ کے لئے مذکورہ ضرورت کو پورا نہیں کرتی تمام اہل مدینہ کے اجتماع کے باوجود مسجد نبوی شریف کی اطراف کو خالی دیکھا جاتا ہے ریاض الجنۃ اور اس کے آس پاس کی جگہ پر لوگوں کا ازدحام اس لئے ہوتا ہے کہ اس سے مصطفی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا قرب اور مزید فضل نصیب ہوتا ہے اسی طرح شرح میں ہے (ت)
غنیہ میں ہے :
الفصل فی ذلك ان مکۃ والمدینۃ مصر ان تقام بھما الجمع من زمنہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الی الیوم فکل موضع کان مثل احدھما فھو مصر وکل تفسیر لا یصدق علی احدھما فھو غیر معتبر حتی التعریف الذی اختارہ جماعۃ من المتأ خرین کصاحب المختار روالو قایۃ وغیرھما وھو مالو اجتمع اھلہ فی اکبر مساجدہ لایسعھم فانہ منقوض بھما اذا مسجد کل منھما یسع اھلہ وزیادۃ ۔
فیصلہ اس میں یہ ہے کہ مکۃ المکرمہ اور مدینہ طیبہ میں حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ظاہر ی حیات سے لے کرآج تك جمعہ ادا کیا جاتا ہے تو ہر وہ مقام جوان دونوں میں سے کسی ایك کی طرح ہوگا وہ شہر کہلائے گا اور جو تعریف شہر ان دونوں میں سے کسی ایك پر صادق نہ آئے گی وہ غیر معتبر ہوگی حتی کہ وہ تعریف جیسے متاخرین کی ایك جماعت مثلا صاحب مختار او رصاحب وقایہ وغیرہ نے اختیار کی کہ ( ہر مقام شہر ہوگا) “ اگر وہاں کی سب سے بڑی مسجد میں وہاں کے لوگ جمع ہوجائیں او رمسجد میں ان کے لئے گنجائش نہ رہے “ ان دونوں مکہ ومدینہ کی وجہ سے محل اعتراض ہیں کیونکہ ان کی مساجد وہاں کے مقیم بلکہ اس سے زائد لوگوں کی گنجائش رکھتی ہیں ۔ (ت)
حوالہ / References &حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح با ب الاستسقاء€ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۳۰۱
&غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی صلٰوۃ الجمعہ€ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۵۵۰
#11200 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
لاجرم علمانے تصریح کی فرمائی کہ یہ تعریف محققین کے نزدیك صحیح نہیں ۔ ملتقی الابحر میں ہے :
وقیل مالواجتمع اھلہ فی اکبر مساجدہ لایسعھم ۔
بعض نے شہر کی یہ تعریف ہے کہ وہاں کے تمام لوگ اگر جمع ہوں تو وہاں کی سب سے بڑی مسجد ان کے لئے کافی نہیں ۔ (ت)
مجمع الانہر میں ہے :
انما اورد بصیغۃ التمریض لانھم قالوا ان ھذا الحد غیر صحیح عند المحققین ۔
“ قیل “ لایا گیا ہے اس لئے کہ فقہاء نے فرمایا کہ یہ تعریف محققین کے ہاں صحیح نہیں ۔ (ت)
اسی طرح شرح نقایہ وغیرہ میں ہے معہذا معلوم ہے او رخود اس تعریف کے اختیار کرنے والوں کو اقرار ہے کہ وہ روایت نادرہ خلاف ظاہر الروایۃ ہے اور علما تصریح فرماتے ہیں کہ جو کچھ ظاہرا لروایہ کے خلاف ہے وہ ہمارے ائمہ کا قول نہیں وہ سب مرجوع عنہ اور متروك ہے بحر الرائق میں ہے :
ماخرج عن ظاھر الرویۃ فھو مرجوع عنہ والمرجوع عنہ لم یبق قولا لہ ۔ ملخصا۔
جو ظاہرالروایہ سے نکل جائے وہ مرجوع عنہ ہے اور مرجوع عنہ امام کا قول نہیں رہے گا ۔ ملخصا (ت)
فتاوی خیریہ میں ہے :
صرحوابہ ان ماخرج عن ظاھرالروایۃ لیس مذھبا لابی حنیفۃ ولا قولا لہ ۔
فقہا ءنے تصریح کی ہے کہ جو ظاہرالروایہ سے نکل جائے وہ نہ امام صاحب کا مذہب ہوتا ہے اور نہ قول (ت)
ردالمحتارمیں ہے :
ما خلف ظاھر الروایۃ لیس مذھبا لاصحابنا ۔
جو ظاہر الروایہ کے خلاف ہو وہ ہمارے اصحاب ( احناف) کا مذہب نہیں ہوتا ۔ (ت)
حوالہ / References &ملتقی الابحر باب الجمعۃ €مطبوعہ مؤسستہ الرسالہ بیروت ١ / ١٤٣
&مجمع الانہر شرح ملتقی لابحر € ، &باب الجمعۃ € ، مطبوعہ مؤسستہ الرسالہ بیروت ١ / ١٤٣
&بحرالرائق€ ، &فصل یجوز تقلید من شاء الخ €مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۲۷۰
&فتاوٰی خیریۃ € ، &کتاب الطلاق €مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت ، ١ / ٥٢
&ردالمحتار€ ، &کتاب احیاء الموات € ، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۲۷۸
#11201 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
تو ظاہر الروایہ مصح معتمد معمول علیہ مختار جمہور مؤید ومنصور کے خلاف ایك روایت نادرہ پر عمل وفتوی کیونکر روا۔ درمختار میں ہے :
الحکم والفتیا بالقول المرجوح جھل و خرق للاجماع ۔
جو قول مرجوح ہو اس پر حکم وفتوی جاری کرنا جہالت اور اجماع کی مخالفت ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
کقول محمد مع وجود قول ابی یوسف اذالم یصحح اویقو وجہہ واولی من ھذا بالبطلان الافتاء بخلاف ظاھر الروایۃ اذالم یصحح والافتاء بالقول الموجوع عنہ انتھی ۔
جیسا کہ امام ابویوسف کے قول کے موجودگی میں امام محمد کے اس قول پرفتوی جائز نہیں جس کی تصحیح نہ ہوئی ہو یا اس قول کی وجہ قوی نہ ہو اور اس کی نسبت ظاہر روایت کے خلاف فتوی دینا اور بھی باطل ہے جبکہ اس خلاف کی تصحیح نہ ہو اور یوں ہی اس قول پرجس سے رجوع کرلیا گیا ہو فتوی ناجائز ہے انتہی ح ۔ (ت)
یہ تحقیق مسئلہ ہے اور بحمد اﷲ اہل انصاف وعلم صاف جانیں گے کہ حق اس سے متجاوز نہیں ہم نہ اس کے خلاف عمل کرسکتے ہیں نہ زنہار زنہار مذہب ائمہ چھوڑ کر دوسری پر فتوی دے سکتے ہیں مگر دربارہ عوام فقیر کا طریق عمل یہ ہے کہ ابتداء خود انھیں منع نہیں کرتا نہ انھیں نماز سے باز رکھنے کی کوشش پسند رکھتا ہے ایك روایت پر صحت ان کے لئے بس ہے وہ جس طرح خدا اوررسول کا نام پاك لیں غنیمت ہے مشاہدہ ہے کہ اس سے روکیے تو وہ وقتی چھوڑ بیٹھتے ہیں اﷲ عز وجل فرماتا ہے :
ارءیت الذی ینهى(۹) عبدا اذا صلى(۱۰)
کیا تم نے اسے نہیں دیکھا جو منع کرتا ہے بندے کو جب وہ نماز ادا کرتا ہے۔ (ت )
سید نا ابوداؤد رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :
شیئ خیر من لا شیئ ۔
(کچھ ہونا بالکل نہ ہونے سے بہتر ہے)
حوالہ / References &درمختار مقدمۃ الکتاب€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۵
&ردالمحتار€ ، &مطلب فی حکم التقلید€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۵
&القرآن€ ۹۶ / ۱۰
&کنز العمال ذیل ادب الصلٰوۃ حدیث€ ٢٢٥٥٠ مطبوعہ مکتبۃ التراث بیروت ٨ / ٢٠٢
#11202 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
رواہ عنہ عبدالرزاق فی مصنفہ انہ رضی اﷲ تعالی عنہ مربرجل لایتم رکوعا ولاسجودافقال شیئ خیر من لاشیئ ۔
حضرت ابوداؤد رضی اللہ تعالی عنہ سے امام عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں روایت کیاکہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ ایك ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو نہ نماز کا رکوع صحیح اداکررہا تھا نہ سجود تو آپ نے فرمایا : کچھ ہونا بالکل نہ ہونے سے بہتر ہوتا ہے۔ (ت)
امیر المومنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم نے ایك شخص کو بعد نماز عید نفل پڑھتے دیکھا حالانکہ بعد عید نفل مکروہ ہیں کسی نے عرض کیا : یا امیر المومنین ! آپ نہیں منع کرتے ۔ فرمایا :
اخاف ان ادخل تحت الوعید قال اﷲ تعالی ارءیت الذی ینهى(۹) عبدا اذا صلى(۱۰) ۔ ذکرہ فی الدر المختار۔
میں وعید میں داخل ہونے سے ڈرتا ہوں اﷲ تعالی فرماتاہے : کیاتونے اسے نہیں دیکھا جو منع کرتا ہے بندہ کو جب وہ نماز پڑھے اسے درمختار میں ذکر کیا گیا۔
اسی سے بحرالرائق میں ہے :
(ھذاللخواص) اما العوام فلا یمنعون من تکبیر ولاتنفل اصلا لقلۃ رغبتھم فی الخیرات ۔
یہ خواص کامعاملہ ہے باقی عوام کو تکبیرات کہنے اور نوافل پڑھنے سے بالکل منع نہیں کیا کرتے کیونکہ انھیں نیکیوں کا بہت کم شوق ہوتاہے ۔ (ت)
کتاب التجنیس والمزید پھر بحرالرائق پھر ردالمحتار میں ہے :
سئل شمس الائمۃ الحلوانی ان کسالی العوام یصلون الفجر عند طلوع الشمس افتز جرھم عن ذلك قال لا لانھم اذامنعوا عن ذلك ترکوھا اصلا واداؤھا مع تجویز اھل الحدیث لھا اولی من ترکھا اصلا ۔
مس الائمہ حلوانی سے سوال ہوا کہ عوام سستی کرتے ہوئے طلوع شمس کے وقت نماز فجر ادا کرتے ہیں کیا ہم انھیں زجرو توبیخ کریں فرمایا : ایسا نہ کرو کیونکہ اگر تم اس سے ان کو روکو گے تو نماز بالکل ترك کردیں گے نمازکا ادا کرلینا چھوڑ دینے سے بہتر ہے اور محدثین اسے جائز بھی سمجھتے ہیں ۔ (ت)
حوالہ / References &کنز العمال بحوالہ عبدالرزاق ذیل الصلٰوۃ حدیث€ ۲۲۵۵۰ مطبوعہ مکتبۃ التراث ۸ / ۲۰۲
&درمختار€ ، &باب العیدین€ ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۱۵
&بحرالرائق باب العیدین€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۱۶۰
&بحرالرائق باب العیدین€ ، مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۱۶۰
#11203 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
درمختارمیں ہے :
لایجوز صلوۃ مطلقا مع شروق الاالعوام فلا یمنعون من فعلھا لانھم یترکونھا والاداء الجائز عند البعض اولی من الترك کما فی القنیۃ وغیرھا ۔ (ملخصا)
طلوع آفتاب کے وقت کوئی نماز جائز نہیں مگر عوام کو نماز پڑھنے سے فقہا ءنے نہیں روکا ورنہ وہ بالکل ترك کردیں گے ہر وہ عمل جس کی ادا بعض کے نزدیك جائز ہو اس کا بجا لانا ترك سے بہتر ہے جیسا کہ قنیہ وغیرہ میں ہے ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ فلا یمنعون افادان المستثنی المنع لا الحکم بعدم الصحۃ عند نا قولہ کما فی القنیۃ وعزاہ صاحب المصفی الی الامام حمید الدین عن شیخہ الامام المحبوبی والی شمس الائمۃ الحلوانی وعزاہ فی القنیۃ الی الحلوانی والنسفی ۔ (ملخصا)
قولہ “ عوام کو منع نہ کیا جائے “ بتلا رہا ہے کہ استثناء “ نہ روکنے کا “ ہے نہ یہ کہ ہمارے نزدیك عدم صحت کا حکم نہیں ہے قولہ “ جیسا کہ قنیہ میں ہے “ صاحب مصفی نے اس کی نسبت امام حمید الدین کی طرف کی ہے ا ورنھوں نے اپنے شیخ امام محبوبی سے بیا ن کیاہے اور اس کی نسبت شمس الائمہ حلوانی کی طرف کی ہے اور قنیہ میں اس کی نسبت حلوانی اور نسفی دونوں کی طرف کی ہے ۔ (ت)
ہاں جب سوال کیا جائے تو جواب میں وہی کہا جائے گا جوا پنا مذہب ہے وﷲ الحمدیہ عوام کالانعام کے لئے ہے البتہ وہ عالم کہلانے والے کہ مذہب امام بلکہ مذہب جملہ ائمہ حنفیہ کو پس پشت ڈالتے تصحیحات جماہیر ائمہ ترجیح وفتوی کو پیٹھ دیتے اور ایك روایت نادرہ مرجوعہ عنہا غیر صحیح کی بنا پر ان جہال کوردہ میں جمعہ قائم کرنے کا فتوی دیتے ہیں یہ ضرور مخالفت مذہب کے مرتکب او ران جہلا ءکے گناہ کے ذمہ دار ہیں نسال اﷲ العفووالعافیۃ ( ہم اﷲ تعالی سے عفو وعافیت کا سوال کرتے ہیں ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۳۲۸ : از مدرسہ اسلامیہ امروہہ مرسلہ مولوی عبدالشکور صاحب ارکانی ۱۳محرم ۱۳۲۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك بستی میں قریب تین چار سو مسلمان مرد مکلف اور اس کے
حوالہ / References &درمختار کتاب الصلٰوۃ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۶۱
&ردالمحتار کتاب الصلوۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۷۳
#11204 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
قریب قریب بھی اتنے مرد مقیم ہیں اس بستی میں منصفی تھانہ ڈاك خانہ شفاخانہ بازار بھی ہیں اب یہ مصر ہے یا قریہ اس بستی والے پر جمعہ واجب ہے یا نہیں اگر واجب نہیں تو یہاں جمعہ ادا کرنے سے صلوۃظہر ذمہ سے ساقط ہوگی یا نہیں ہمارے ملك برہما کی آبادی میں کہیں کہیں تومسلمان مرد مکلف ہزار دوہزار تلك مقیم ہیں ایسی بستی کم ہے اور ادنی درجے میں بعض بستیوں میں دس بیس مرد مسلمان مکلف مقیم ہیں البتہ جن بستیوں میں سو دوسو چار پانچ سو مرد مکلف ہیں بہت ساری ہیں بعض بسیتوں میں سات آٹھ سو مکلف مقیم ہیں اب ان آبادیوں میں سے کوئی شہر کہلا سکتی ہے یا نہیں اور اگر سب کو گاؤں مانیں گے تو کوئی بڑے گاؤں میں بھی جمعہ اورعیدین فرض یا واجب ہے یا نہیں اور اگر واجب نہیں تو ان بستیوں میں سے کسی میں جمعہ ادا کرے تو صلوۃ ظہرذمہ سے ساقط ہوگی یا نہیں اگر آپ بڑے گاؤں میں جمعہ درست بتائیں تو ان بستیوں میں کون سی بستی بڑی کہلائے گی اس کی تشریح فرمادیں جن آبادیوں میں کئی ایك حصے ہیں فقط زراعت وغیرہ کی میل ڈیڑھ میل کے فاصلے پر ایك دوسرے سے بسا ہے ہر ایك کانام بھی آپس میں جداگانہ ہے مگر اطراف میں ایك ہی نام مشہور ہے اب کیا سب کو ملا کر ایك بڑی بستی ماننا پڑے گی یا ہر ایك کا حکم جداگانہ ہے حتی الامکان جواب مفصل اور مدلل سے ہم نابیناؤں کو ہدایت فرمائیں ۔
الجواب :
فرضیت وصحت وجواز جمعہ سب کے لئے اسلامی شہر ہونا شرط ہے جوجگہ بستی نہیں جیسے بن سمندر یا پہاڑ یا بستی ہے مگر شہر نہیں جیسے دیہات یا شہر ہے مگر اسلامی نہیں جیسے روس فرانس کے بلاد ان میں جمعہ فرض ہے نہ صحیح نہ جائز بلکہ ممنوع وباطل وگناہ ہے اس کے پڑھنے سے فرض ظہر ذمہ سے ساقط نہ ہوگا شہر ہونے کے لئے یہ چاہئے کہ اس میں متعدد کوچے متعدد دائمی بازار ہوں وہ پرگنہ ہو کہ اس کے متعلق دیہات گنے جاتے ہوں کہ موضع فلاں فلاں وفلاں پرگنہ شہر فلاں اور اس میں کوئی حاکم یا فیصلہ مقدمات کا اختیار من جانب سلطنت رکھتا ہو دونوں باتیں عادۃ متلازم ہیں سلطنت جسے پر گنہ قرار دیتی ہے ضرور اس میں کوئی حاکم لااقل منصف یا تحصیلدار رکھتی ہے اور جہاں سلطنت کوئی کچہری قائم کرتی ہے اسے ضرور ضلع یا کم از کم پرگنہ بتاتی ہے اور عادۃ پہلی دو باتیں بھی ان دو کو لازم ہیں جو پر گنہ ہوتا ہے جہاں کچہری مقرر ہوتی ہے وہاں ضرور متعدد بازار متعدد کوچے ہوتے ہیں
ولاعکس فقد تتعدد ولاحاکم ولا رساتیق فذکر الاولین لایغنی عن الاخیرین بخلاف الاخیرین ففیھما الکفایۃ ولذا انما بنی الامر علیھما فی اقرب الاقاویل الی الصواب۔
اس کا عکس نہیں ( یعنی جہاں بازار ہوں وہاں کچہری کا ہونا ضروری نہیں ) اور کبھی کوچے بازار متعدد ہوتے ہیں مگر حاکم اور متعلقہ دیہات نہیں ہوتے تو پہلے دو کاذکرآخری دو کے ذکر سے کفایت نہیں کرتا برخلاف آخری دونوں کا ذکر وہ کفایت کرتا ہے اسی لئے صحت کے قریب ترین قول میں معاملہ کی بنا ان دونوں پر کی گئی ہے ۔ (ت)
#11205 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
فتاوی غیاثیہ پھر غنیہ شرح منیہ میں ہے :
لوصلی الجمعۃ فی قریۃ بغیر مسجد جامع و القریۃ کبیرۃ لھا قری وفیھا وال حاکم جازت الجمعۃ بنواالمسجد اولم یبنوا و ھوقول ابی القاسم الصفار وھذا اقرب الاقاویل الی الصواب ۔
اگر جمعہ بغیر جامع مسجد کے قریہ میں پڑھ لیا حالانکہ وہ قریہ بڑا تھا او راس کے اردگرد متعدد دیہات تھے اور وہاں والی وحاکم بھی تھا تو جمعہ جائز ہے خواہ وہ مسجد بنائیں یا نہ بنائیں شیخ ابوالقاسم الصفا ر کا یہی قول ہے اور یہ تمام اقوال میں سے صواب کے زیادہ قریب ہے ۔ (ت)
غنیہ میں اسے نقل کرکے فرمایا :
وھو لیس ببعید مماقبلہ والمسجد الجامع لیس بشرط انتھی واراد بما قبلہ ما قدم عن تحفۃ الفقھاء للامام علاء الدین السمرقندی عن الامام الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہ انہ بلدۃ کبیرۃ فیھا سکك واسواق ولھا رساتیق وفیھا وال قال فی التحفۃ ھذا ھو الاصح اھ وانما لم یکن بعیدامنہ لما قدمنا ان السکك والا سواق تلزم عادۃ للامرین المذکورین کما قال فی الغنیۃ ایضا بعد نقل مافی التحفۃ الاان صاحب الھدایۃ ترك ذکر السکك والرسایتق بناء علی الغالب ان الامیر والقاضی شانہ القدرۃ علی تنفیذ الاحکام واقامۃ الحدود ولایکون الا فی بلد
یہ قول اپنے ماقبل قول سے دور نہیں اور مسجد جامع ہونا جمعہ کے لئے شرط نہیں انتہی اور ماقبل قول سے وہی مراد ہے جو امام علاء الدین سمرقندی نے تحفۃا لفقہاء میں امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالے سے لکھا کہ وہ مقام شہر ہے جو نہایت بڑا ہو اس میں کوچے بازار ہوں او راس سے متعلقہ دیہات ہوں او راس میں کوئی والی ہو تحفہ میں کہا یہی اصح ہے اھ اس قول کی ماقبل قول سے بعید نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ عادۃ کوچے اوربازار مذکورہ دونوں امور کو لازم ہوتے ہیں جیسا کہ غنیہ میں بھی قنیہ کی عبارت نقل کرنے کے بعد کہا البتہ صاحب ہدایہ نے کوچے اور دیہات کے ذکرکو ترك کردیا اس بناء پر کہ اکثر یہی ہوتا ہے کہ وہ امیر اور قاضی جو احکام کے نفاذ اور اقامت حدود کی شان
حوالہ / References &غنیہ المستملی فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ€ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۵۱
&غنیہ المستملی فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ€ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۵۱
&غنیہ المستملی فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ€ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۵۰
#11206 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
کذلك قال فالحاصل ان اصح الحدود ماذکر فی التحفۃ لصدقہ علی مکۃ والمدینۃ و ھما الاصل فی اعتبار المصریۃ اھ
رکھتے ہیں وہ اسی طرح کے شہر میں ہی ہوتے ہیں پھر کہا اصح تعریف وہی ہے جو تحفہ میں ہے کیونکہ مکۃ المکرمہ اورمدینہ طیبہ میں سے ہر ایك پر صادق آرہی ہے اور وہ دونوں شہر کے حوالے سے اصل کا درجہ رکھتے ہیں اھ (ت)
اور شہر کے اسلامی ہونے کے لئے یہ ضرور ہے کہ یا تو فی الحال اس میں سلطنت اسلام ہو خود مختار جیسے بحمد اﷲ تعالی سلطنت علیہ عالیہ عثمانیہ ودولت خداد اد افغانستان حفظہما اﷲ تعالی عن شہر ورالزمان یا کسی سلطنت کفر کی تابع جیسے اب چند روز سے سلطنت بخارا وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل ( ہمیں اﷲ تعالی کافی ہے اور وہی سب سے بہتر کارساز ہے ۔ ت) اور اگر فی الحال نہ ہو تو دو باتیں ضرور ہیں : ایك یہ کہ پہلے اس میں سلطنت اسلامی رہی ہو دوسرے یہ کہ جب سے قبضہ کافر میں آئی شعاراسلام مثل جمعہ وجماعت واذان وقامت وغیرہا کلا یا بعضا برابر اس میں اب تك جاری رہی ہوں جہاں سلطنت اسلامی کبھی نہ تھی نہ اب ہے وہ اسلامی شہر نہیں ہوسکتے نہ وہاں جمعہ وعیدین جائز ہوں اگر چہ وہاں کے کافر سلاطین شعائر اسلامیہ کونہ روکتے ہوں اگر چہ وہاں مساجد بکثرت ہوں اذان واقامت جماعت علی الاعلان ہوتی ہو اگر چہ عوام اپنے جہل کے باعث جمعہ و عیدین بلامزاحمت اداکرتے ہوں جیسے کہ روس فرانس وجرمن وپرتگال وغیرہا اکثر بلکہ شاید کل سلطنت ہائے یورپ کا یہی حال ہے یونہی اگر پہلے سلطنت اسلامی تھی پھر کافر نے غلبہ کیا اور شعائر کفر جاری کر کے تمام شعائر اسلام یکسر اٹھا دئے تو اب وہ شہر بھی اسلامی نہ رہے اور جب تك پھر از سر نو ان میں سلطنت اسلامی نہ ہو وہاں جمعہ و عیدین جائز نہیں ہوسکتے اگر چہ کفار غلبہ یا فتہ ممانعت کے بعد پھر بطور خود شعائر اسلام کی اجازت دے دیں خواہ ان کافروں سے دوسرے کافر چھین کراجرائے شعائر اسلام کردیں کہ کوئی غیر اسلامی شہر مجرد جریان شعائر اسلام سے اسلامی نہیں ہوجاتا ہاں اگر اسلامی سلطنت کے کسی کافر صوبہ نے بغاوت کرکے کسی اسلامی شہر پر تسلط کیا اور شعائر اسلام بالکل اٹھا دئیے مگر وہ صوبہ سے سلطنت اسلامیہ میں محصور ہے تو وہ شہر شہر اسلامی ہی رہے گا کہ اگر چہ کافرنے شعائر اسلام یکسر اٹھادئے مگر چارسمت سے سلطنت اسلامیہ میں محصور ہونے کے ا س کی یہ تاریك حالت محض عارضی ہے۔
وھذہ بحمدہ تعالی فوائد نفیسۃ سمح
بحمد اﷲ تعالی یہ نہایت ہی قیمتی فوائد ہیں جیسے ہر صاحب فہم
حوالہ / References &غنیۃ المستملی فصل فی صلوۃ الجمعۃ€ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ، ص۵۵۱
#11207 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
بھا البراع لو استرسلنا فی الکلام علی دلیلھا و تفاصیلھا لخرجنا عن القصد مع ان اکثرھا جلیلۃ عند من لہ اجالۃ نظر فی الکتب الفرعیۃ واجادۃ فکر فی الاصول الشرعیۃ فلنقتصر علی نقل بعض نصوص فقھیۃ۔
عزت کی نظر سے دیکھے گا اور اگر دلائل اور تفاصیل میں جائیں تو مقصود سے دور چلے جائیں گے ۔ علاوہ ازیں ان لوگوں پر آشکار ہیں جو کتب نفیسہ میں نظر اور اصوال شرعیہ میں عمدہ فکر رکھتے ہیں ہم یہاں چند مخصوص فقہیہ کے نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں ۔ (ت)
جامع الفصولین ومبسوط ومعراج الدرایہ وہندیہ وردالمحتار وغیرہا معتمدات اسفار میں ہے :
الحکم اذا ثبت بعلۃ فما بقی شیئ من العلۃ یبقی الحکم ببقائہ فلما صارت بلدۃ دارالاسلام باجراء احکامہ فما بقی شیئ من احکام و اثارہ تبقی دارالاسلام وکل مصرفیہ وال مسلم من جہۃ الکفار تجوز فیہ اقامۃ الجمع والاعیاد واخذ الخراج وتقلید القضاء وتزویج الایامی لاستیلاء المسلم علیھم واماطاعۃ الکفرۃ فھی موادعۃ ومخادعۃ واما فی بلاد علیھا ولادۃ کفار فیجوز للمسلمین اقامۃ الجمع والاعیاد الخ
جب کوئی حکم کسی علت کی بناء پر ہوتو جب تك علت رہتی ہے حکم بھی باقی رہے گا تو جب کوئی شہر احکام اسلامی کے اجراء سے دارالاسلام بن گیا تو جب تك احکام و آثار میں سے کچھ نہ کچھ باقی ہوگا وہ شہر دارالاسلام ہی رہے گا اور ہروہ شہر جس میں کفار کی طرف سے مسلمان والی ہو وہاں جمعہ اور عیدین کا قیام خراج لینا قضا کے نفاذ اور بیوگان کا نکاح جائز ہوگا کیونکہ وہاں مسلمان غالب ہیں لیکن کفا ر کی طاعت غلط اور دھوکا ہے وہ نشہرجہاں کفار والی ہیں وہاں جمعہ اور عیدوں کا قیام مسلمانوں کے لئے جائز ہے الخ (ت)
شرح نقایہ میں کافی سے ہے :
دارالاسلام مایجری فیہ حکم امام المسلمین ۔
دارالاسلام وہ ہوتا ہے جس میں امام المسلمین کا حکم جاری ہو ۔ (ت)
فصول عمادی میں ہے :
ان دارالاسلام لا تصیر دارالحرب اذابقی شیئ من احکام الاسلام وان زال
جب احکام اسلامی کچھ نہ کچھ باقی ہوں دارالاسلام دارالحرب نہیں بن سکتا اگر چہ اہل اسلام کا وہاں
حوالہ / References &جامع الفصولین€ ، &فصل فی القضا€ ، مطبوعہ اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۱۳
&شرح نقایہ المعروف جامع الرموز کتاب الجہاد€ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ ، ایران ۴ / ۵۵۶
#11208 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
غلبۃ اھل الاسلام ۔
غلبہ حاصل نہ رہے ۔ (ت)
اسی طرح کتب کثیرہ سے مستفاد ہے :
وبالجملۃ یشترط لدار الاسلام ابتداء اعنی صیرورۃ دارالحرب دارالاسلام جریان حکم سلطان الاسلام فیھا وبقاء مجرد ظہور شعائر الاسلام ولو بعضا وان لم یبق الحکم والاسلطان واﷲ المستعان وعلیہ التکلان ۔
الغرض دارالاسلام ابتداء بننے کے لئے یہ شرط ہے یعنی دارالحرب کا دارالاسلام بننے کے لئے یہ شرط ہے کہ وہاں سلطان اسلام کا حکم جاری ہو اور دارالاسلام کو باقی رہنے کے لئے شعائر اسلامی کا باقی رہنا ضروری ہے خواہ وہ کچھ ہی کیوں نہ ہو ں اگر چہ وہاں حکم اور سلطان باقی نہ ہوں اور اﷲ تعالی ہی مددگار ہے اور اسی پر بھروسہ ہے ۔ (ت)
درر وغرر میں ہے :
تصیر دارالاسلامی دارالحرب باجراء احکام الشرك واتصال بدارالحرب بحیث لایکون بینہما مصرللمسلمین الخ
دارالاسلام اس وقت دارالحرب بن جاتا ہے جب وہاں احکام شرك جاری ہوجائیں اور اس کا اتصال کسی دارالحرب سے ایسا ہو کہ ان کے درمیان مسلمانوں کا کوئی شہر نہ ہو۔ (ت)
درمنتقی میں ہے : البحر المالح ملحق بدارالحرب ( نمکین سمندر دارالحرب کا حکم رکھتا ہے ۔ ت) ردالمحتار میں ہے :
یلحق بھا البحر الملح ونحوہ کمفارۃ لیس ورائھا بلاد اسلام نقلہ بعضھم عن ا لحمو وفی حاشیۃ ابی السعود عن شرح النظم الھاملی سطح البحرلہ حکم درالحرب ۔
نمکین سمندر دارالحرب کے ساتھ ملحق ہے اور ہر وہ جنگل بھی جس سے آگے مسلمانوں کا شہر نہ ہو یہ بات بعض نے حموی کے حوالے سے نقل کی ہے اور حاشیہ ابی سعود میں شرح النظم الہاملی کے حوالے سے ہے کہ سطح سمندر کا حکم دارالحرب کا ہے۔ (ت)
حوالہ / References &فصول عمادی€
&دررالحکام فی شرح غررالحکام باب المستامن€ مطبوعہ مطبعۃ کامل الکاملیہ فی دارسعادت مصر ۱ / ۲۹۵
&درمنتقی علی ہامش مجمع الانہر فصل فی مابقی من احکام المستامن€ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۵۹
&رد المحتار کتاب الجھاد باب استیلاء الکفار€۔ ۔ الخ مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت ۶ / ۲۵۵
#11209 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
اس تحقیق سے تمام صور مستفسرہ کا حکم واضح ہوگیا جو آبادیاں پر گنہ ہے اور ان میں کوئی کچہری ہے ( نہ فقط تھانہ یا ڈاك خانہ یا شفا خانہ فصل مقدمات کے لئے نہیں ہوتے) اور وہاں سلطنت اسلام ہے یا پہلے تھی اور جب سے غیر مسلم کا قبضہ ہو بعض شعائر اسلام بلامزاحمت اب تك جاری ہیں جیسے تمام بلاد ہندوستان وبنگالہ ایسے ہی ہیں وہ سب اسلامی شہر ہیں ان میں جمعہ فرض ہے اور جو آبادی پر گنہ ہیں اس میں کوئی کچہری نہیں یا کچہریاں ہیں پرگنہ ہے مگر اس میں سلطنت کبھی نہ ہوئی یاتھی مگر اس کے بعد کفار نے شعائر اسلام یکسر بند کردئے گوبعد کو پھر اجازت بھی دے دی ہو وہ سب یا گاؤں ہیں غیر اسلامی شہر ان میں جمعہ وعیدین جائزنہیں پڑھنے سے گناہ ہوگا اور جمعہ سے ظہر کافرض ساقط نہ ہوگا اب فقط یہ سوال رہا کہ ایك آدمی کے چند حصے ہیں اور ان میں باہم بوجہ زراعت فاصلہ ہے آیا وہ ایك ہی آبادی متصور ہوگی یا متعدد ظاہر ا اس سوال سے سائل کا مقصود مردم شماری کا لحاظ ہے کہ ان سب کے ساکنین ملاکر اس بستی کی مردم شماری سمجھی جائے گی یا جداجدا جیسا کہ تمام سوال میں اس نے تعداد ساکنان کا ذکر کیاہے مگر تحقیق جواب سے واضح ہوگیا کہ مردم شماری وتعداد سکان پر اصلا نظر نہیں جو بستی پر گنہ نہیں اس میں فیصلہ مقدمات کا کوئی حاکم نہیں مطلقا گاؤں ہے اس کی مردم شماری کسی قدر ہو اور جو پرگنہ ہے اس میں کچہری مقرر ہے وہ شہر ہے اگر چہ مردم شماری میں کم ہو ہاں جو آبادی شرعا شہر قرار پائے اور اس میں جمعہ فرض صحیح ٹھہرے اور اس کے گرد اور آبادیاں میل ڈیڑھ میل کی مسافت پر واقع ہوں بیچ میں زراعت ہوتی ہوں وہاں ایك یہ سوال متوجہ ہوتا ہے کہ ان ساکنان حوالی پر بھی جمعہ فرض اور ان مواضع میں اس کی ادا صحیح ہے یا نہیں اس کا جواب قول محقق پر یہ ہے کہ شہرکے گردا گرد جہاں تك کوئی موضع مصالح شہر کے لئے معین کیا گیا ہو مثلا کیمپ یا عیدگاہ یا شہر کا قبرستان وہاں وہ سب فنائے مصر ہے اس میں جمعہ صحیح اور اس کے اہل پر جمعہ فرض اگر چہ بیچ میں زراعت کا فاصلہ ہو اور اگر مصالح شہر سے اسے تعلق نہیں اور بیچ میں فصل ہے تو وہ توابع شہر سے نہیں نہ اس میں جمعہ صحیح نہ اس کے ساکنوں پر فرض۔ ردالمحتار میں ہے :
قدنص الائمۃ علی ان الفناء مااعد لدفن الموتی وحوائج المصرکرکض الخیل ولدواب وجمع العساکر والخروج للرمی وغیر ذلك وبہ ظھر صحتھا فی تکیۃ السلطان سلیم بمرجۃ دمشق وکذافی مسجدہ بصالحیۃ دمشق فانھا من فناء دمشق وان انفصلت عن
ائمہ نے تصریح کی ہے کہ فناء سے مراد وہ جگہ ہے جو اموات کی تدفین او رشہری ضروریات کے لئے بنائی گئی ہو مثلا گھوڑے اور چارپایوں کے دوڑانے کی جگہ لشکر گاہ اور نشانہ بازی سیکھنے کے لئے جگہ وغیرہ۔ اس سے یہ ظاہر ہوگیا کہ مقام مرجہ دمشق میں سلطان سلیم کے تکیہ میں جمعہ صحیح ہے اس طرح مقام صالحیہ دمشق پر ان کی مسجد میں بھی کیونکہ وہ فنائے دمشق ہے اگرچہ
#11210 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
دمشق بمزارع اھ مختصرا
دمشق سے کاشتی زمینوں کی وجہ سے الگ ہے ۔ اھ مختصرا (ت)
نیز دوسرا سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ وہ بستی شہر ہو یا نہ ہو جب اس کا ساکن تین منزلہ کے ارادے سے سفر کو چلا تو آیا جب اپنی خاص آبادی سے نکل جائے گا اس وقت سے مسافر ٹھہرائے گا اور قصر کرے گا اگر چہ وہ دوسری آبادیاں ہنوز راہ میں آنے والی ہوں یا جب ان سب ابادیوں سے نکل جائے گا اس وقت سے مسافر ہوگا اس کا جواب یہ ہے کہ جب بیچ میں فاصلہ ہے زراعتیں ہوتی ہیں تو ان سے گزرجانے کا لحاظ نہ ہوگا اگر چہ وہ مصالح شہر ہی کے لئے مقرر کی گئی ہوں جب اپنی آبادی سے نکل جائے گا مسافر ہوجائے گا ہاں جہاں تك آبادی متصل چلی گئی ہو وہ موضع واحد ہے اس سے تجاوز ضرور ہوگا دالمحتار میں ہے :
امام الفناء وھوالمکان المعد لمصالح البلد کرکض الدواب ودفن الموتی والقاء التراب فان اتصل بالمصرا عتبر مجاوزتہ وان انفصل بغلوۃ اومزرعۃ مجاوزتہ وان انفصل بغلوۃ اومزرعۃ فلا کما یاتی بخلاف الجمعۃ فتصح اقامتھا فی الفناء ولو منفصلا بمزارع ۔
فناء وہ جگہ ہے جو شہر کی ضروریات کے لئے بنائی گئی ہو مثلا چوپایوں کے دوڑنے اموات کی تدفین اور مٹی وغیرہ پھینکنے کےلئے ہو اگر شہر کے ساتھ متصل ہو تو پھر مسافر کا اسی سے گزر جانا معتبر ہے اور اگر بمقدار غلوۃ( تیرمارنے کا انتہائی فاصلہ) یا مزرعہ ( کھیت) جدا ہے تواس کا گزرنا ضروری نہیں جیسا کہ آرہا ہے بخلاف جمعہ کے اس کا قیام فناء میں جائز ہوتا ہے خواہ وہ مزارع کی مقدار جدا ہو ۔ (ت)
نیز تیسرا سوال یہ نکلتا ہے کہ اگر کسی شخص نے قسم کھائی کہ فلاں آبادی میں نہ رہوں گا پھر اپنی خاص آبادی جس میں رہتا تھا چھوڑ کر گرد کی کسی آبادی میں سکونت اختیار کی تو آیا قسم سچی ہوئی یا نہیں اس کا جواب یہ ہے کہ جب ان آبادیوں کے خاص خاص نام جدا ہیں اور سب ملاکر ایك جدا نام سے تعبیر کی جاتی ہیں تو اگر اس نے وہ نام لے کر قسم کھائی جو خاص اس کی آبادی کا تھا اور اسے چھوڑ کر دوسری آبادی میں جارہا جس پر وہ نام اطلاق نہیں کیا جاتا اور اس کا ساکن عرف میں اس آبادی کا ساکن نہیں ٹھہرتاتو قسم پوری ہوئی اور اگر وہ نام لیا تھا جس میں یہ سب داخل ہیں جس ابادی میں اب آیا وہ اسی پہلی آبادی کا حصہ سمجھی جاتی ہے اور اس کے ساکن کو اسی کا ساکن تصور کیا جاتا ہے تو قسم پوری نہ ہوئی کفارہ دے۔
وذلك لان مبنی الایمان علی المعنی المتفاھم فی العرف فعلیہ یدارالحکم ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم ۔
یہ اس لئے ہے کہ اقسام کا مدار اس معنی پر ہوتا ہے جو عرفی ہولہذا حکم کا مدرار اسی پر ہوگا ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم ۔ (ت)
حوالہ / References &ردالمحتار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۹۱
&ردالمحتار باب صلٰوۃ المسافر€ ۱ / ٥٧٨
#11211 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
مسئلہ۱۳۲۹ : از گوالیار ضلع مندسور قصبہ جادو مرسلہ عبدالملك خاں ۷ ربیع الاول شریف۱۳۲۳ ھ
کیا حکم ہے شرع شریف کا اس مسئلہ میں کہ جادو ایك قصبہ ہے جہاں تین مسجدیں اباد ایك ہی محلہ میں قریب قریب واقع ہیں جمعہ کے روز ہر مسجد والے اپنی اپنی مسجد میں مانند صلوۃ خمسہ کے جمعہ پڑھا کر تے ہیں ایك مولوی صاحب کہتے ہیں کہ اس طرح جمعہ پڑھنا صحیح نہیں کیونکہ جمعہ کی شرائط سے حضور سلطان ہے یا نائب یا ماذون باقامۃ جمعہ تو یہ شرط یہاں پر مفقود ہے اور ایسے مقام پر مسلمانوں کو چاہئے کہ ایك شخص کو اپنا قاضی و سردار بنا کر اس کے پیچھے جمعہ پڑھا کریں دوسرے مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ جمعہ کی اقامت کے واسطے سلطان یا اس کے نائب مامور کا ہونا شرط نہیں اگر ان سے ایك بھی نہ ہو تو بھی جمعہ صحیح ہے اور مسلمانوں کو قاضی بنانا اور اس کے پیچھے نماز پڑھنے کی کچھ ضرورت نہیں اسی طرح اپنی اپنی مسجدوں میں بھی جمعہ پڑھنا کچھ حرج نہیں بلکہ ایك جگہ جمع ہونے میں حرج ہے امید وار قول فیصل ہوں بینوا توجروا۔
الجواب :
فی الواقع ادائے جمعہ کے لئے سلطان یا اس کا نائب یا ماذون یا ماذون الماذون وھلم جرا ( اسی طرح اگے چلے چلو۔ ت) کا اقامت کرنا باتفاق ائمہ حنفیہ شرط ہے کتب المذھب طافحۃ بذلك ( کب مذہب اس سے مامور ہیں ۔ ت) مگر یہ ان شرائط سے ہے کہ محل ضرورت میں بخلفیت بدل ساقط ہوجاتی ہیں جیسے صحت نماز کے لئے وضو شرط ہے اور پانی پر قدرت نہ ہو تو تیمم اس کا خلیفہ وبدل ہے اور اس سے واضح ترا ستقبال خطبہ ہے کہ قطعا شرط ہے اور بحال تعذر جہت تحری اس کی نائب یوں ہی اقامت سلطان بمعنی مذکور ضرور شرط جمعہ ہے اور یہاں بوجہ تعین مسلمین قائم مقام تعین سلطان ہے تو اسے شرط نہ کہنا بھی غلط اور اس کے نہ ہونے کے سبب یہاں جمعہ صحیح نہ ماننا اس سے زیادہ باطل وغلط اورمذہب صحیح ومعتمد ومفتی بہ میں تعدد جمعہ مطلقا جائز ہے ۔ کما نص فی غیر ماکتاب واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم بالصواب ۔
مسئلہ۱۳۳۰ : از پیلی بھیت مولانا وصی احمد صاحب محدث سورتی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امامت پنجگانہ وامامت جمعہ وعیدین کا ایك ہی حکم ہے کیا فقط
الجواب :
جمعہ وعیدین وکسوف امامت نماز پنجگانہ سے بہت تنگ تر ہے پنجگانہ میں ہر شخص صحیح الایمان صحیح القرائۃ صحیح الطہارۃ مرد عاقل بالغ غیر معذور امامت کرسکتا ہے یعنی اس کے پیچھے نماز ہوجائے گی
#11212 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
اگر چہ بوجہ فسق وغیرہ مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہو تجوز الصلوۃ خلف کل بروفاجر( ہر نیك وبد کے پیچھے نماز جائز ہے۔ ت) کے یہی معنی ہیں مگر جمعہ وعیدین وکسوف میں کوئی امامت نہیں کرسکتا اگر چہ حافظ قاری متقی وغیرہ وغیرہ فضائل کا جامع ہو مگر وہ جو بحکم شرع عام مسلمانوں کا خود امام ہوکہ بالعموم ان پر استحقاق امامت رکھتا ہو یا ایسے امام کا ماذون ومقرر کردہ ہو اور یہ استحقاق علی الترتیب صرف تین طور پر ثابت ہوتا ہے :
اولا : وہ سلطان اسلام ہو۔
ثانیا : جہاں سلطنت اسلام نہیں وہاں یہ امامت عامہ اس شہر کے اعلم علمائے دین کو ہے۔
ثالثا : جہاں یہ بھی نہ ہو وہاں بمجبوری عام مسلمان جسے مقرر کرلیں بغیر ان صورتوں کے جو شخص نہ خود ایسا امام نہ ایسے امام کا نائب وماذون ومقرر کردہ اس کی امامت ان نمازوں میں اصلا صحیح نہیں اگر امامت کرے گا نماز باطل محض ہوگی جمعہ کا فرض سرپر رہ جائے گا ان شہروں میں کہ سلطان اسلام موجود نہیں اور تمام ملك کا ایك عالم پر اتفاق دشوار ہے اعلم علمائے بلد کہ اس شہر کے سنی عالموں میں سب سے زیادہ فقیہ ہو نماز کے مثل مسلمانوں کے کاموں میں ان کا امام عام ہے اور بحکم قرآن ان پر اس کی طرف رجوع اور اس کے ارشاد پر عمل فرض ہے جمعہ وعیدین وکسوف کی امامت وہ خود کرے یا جسے مناسب جانے مقرر کرے اس کے خلاف پر عوام بطور خود اگر کسی کو امام بنالیں گے صحیح نہ ہوگا کہ عوام کا تقرر بمجبوری اس حالت میں روارکھا گیا ہے جب امام عام موجود نہ ہو اس کے ہوتے ہوئے ان کی اقرار داد کوئی چیز نہیں تنویر الابصار و درمختار باب الجمعہ میں ہے :
یشترط لصحتھا سبعۃ اشیاء الاول المصر وفناء والثانی السلطان اومامورہ باقامتھا ۔
صحت جمعہ کے لئے سات چیزیں شرط ہیں : ایك یہ شہر اور فناء شہر دوسری سلطان یا اقامت جمعہ پر اس کی طرف سے کوئی مامور ہو(ت)
فتاوی امام عتابی پھر حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ مطبوعہ مصر جلد اول صفحہ ۲۴۰میں ہے :
اذاخلا الزمان من سلطان ذی کفایۃ فالامور موکلۃ الی العلماء ویلزم الامۃ الرجوع الیھم و یصیرون ولاۃ فاذا عسر جمعھم علی واحد استقل کل قطر
جب کامل سلطان سے زمانہ خالی ہو تو معاملات علماء کے سپرد ہوں گے اور امت پر لازم ہے کہ وہ علماء کی طرف رجوع کرے اور اس وقت علماء ہی والی ہوجائیں گے اور جب ان کا کسی معاملہ پر
حوالہ / References &درمختار باب الجمعہ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۰۹
#11213 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
باتباع علمائہ فان کثروا فالمتبع اعلمھم فان استووا اقرع بینھم ۔
جمع ہونا مشکل ہوجائے تو ہر علاقہ کے لوگ اپنی طرف کے علماء کی اتباع کرلیں اور اگر اس علاقہ میں علماء زیادہ ہوں تو ان میں زیادہ علم والے کی اتباع کریں اور اگر وہ برابر ہوں توقرعہ ڈال لیا جائے (ت)
اﷲ عزوجل فرماتا ہے :
اطیعوا الله و اطیعوا الرسول و اولی الامر منكم- ۔
اﷲ کی اطاعت کرو رسول اﷲ کی اطاعت کرو اور تم میں سے جو صاحب امر ہیں (ت)
ائمہ دین فرماتے ہیں صحیح یہ ہے کہ آیہ کریمہ میں اولی الامر سے مراد علمائے دین ہیں نص علیہ العلامۃ الزرقانی فی شرح المواھب وغیرہ فی غیرہ (علامہ زرقانی نے شرح المواہب میں اور دیگر علماء نے اپنی کتب میں اس پر تصریح کی ہے ۔ ت) درمختار میں ہے :
نصب العامۃ الخطیب غیر معتبر مع وجود من ذکر امامع عدمھم فیجوز للضرورۃ ۔
مذکورہ لوگ( سلطان وغیرہ) ہوں تو لوگوں کا خطیب کو مقرر کرنا درست نہ ہوگا اور ان کی عدم موجودگی میں ضرورت کی وجہ سے جائز ہوگا۔ (ت)
فتاوی قاضی خاں وردالمحتار میں ہے :
خطب بلا اذن الامام والامام حاضر لم یجز الا ان یکون الامام امرہ بذالک ۔ واﷲ تعالی اعلم
اگر کسی نے امام کی اجازت کے بغیر خطبہ دیا حالانکہ امام موجود تھا تو یہ جائز نہیں مگر اس صورت میں جب امام نے اسے اجازت دی ہو ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ۱۳۳۱ : از ریاست جادرہ مکان عبدالمجید خاں صاحب سر رشتہ دار تاریخ ۱۸ ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جمعہ گاؤں میں درست ہے یا نہیں
حوالہ / References &الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریۃ المحمدیۃالنوع الثالث من انواع العلوم الثلثۃ الخ€ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ / ۳۵۱
&القرآن€ ٤ / ۵۹
&درمختار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱٠
&ردالمحتار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ٥٩٤
#11214 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
الجواب :
جمعہ وعیدین دیہات میں ناجائز ہیں اور ان کا پڑھنا گناہ مگر جاہل عوام اگر پڑھتے ہوں تو ان کو منع کرنے کی ضرورت نہیں کہ عوام جس طرح اﷲ ورسول کا نام لے لیں غنیمت کما فی البحرالرائق والدر المختار میں والحدیقۃ الندیۃ وغیرھا( جیسا کہ بحرالرائق درمختار اور حدیقۃ ندیہ وغیرہ میں ہے ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم ۔
مسئلہ ۱۳۳۲تا۱۳۳۳ : ازخیر آباد ضلع سیتاپور محلہ میاں سرائے مدرسہ عربیہ قدیم مرسلہ مولوی سید فخر الحسن صاحب ذیقعدہ ھ
خطبہ جمعہ واعیاد کا سوائے زبان عربی خواو فارسی ہو یا دیگر زبان ہو پڑھنے کی نسبت جناب مفتی سعداﷲ صاحب مرحوم اپنے فتاوی سعدیہ میں فرماتے ہیں :
نزد امام ابوحنیفہ جائز ومکروہ بکراہت تنزیہی است۔
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے نزدیك یہ جائز مگر مکروہ تنزیہی ہے ۔ (ت)
اور اسی جواب میں اختتام عبارت میں ہے :
اگر کسے خطبہ بقدر واجب کہ نذد صاحبین بقدر تشہد است بعربی اداکردہ باشد خواندن ماورایش درفارسی وغیر آں نزد ایشان مضائقہ ندارد کما فی منح الغفار شرح تنویر الابصار۔
اگر کوئی شخص خطبہ بمقدار واجب جوصاحبین کے نزدیك تشہد کی مقدار عربی میں پڑھ لے اور اس کے علاوہ خطبہ کسی اور زبان میں پڑھ لے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں جیسا کہ منح الغفار شرح تنویر الابصار میں ہے۔ (ت)
جناب مولوی عبدالحی صاحب اپنے مجموعہ فتاوی کے جلد دوم میں بہت شد ومد کے ساتھ خطبہ کو عربی زبان عربی میں سنت مؤکدہ اور غیر زبان میں پڑھنے کو مکروہ تریمی وبدعت ضالہ تحریر فرماتے ہیں مگر اسی فتاوی کے جلد سوم میں مکروہ تنزیہی تحریر فرماتے ہیں لہذا جو خطبہ کلا غیر زبان میں ہو یا بعضا مخلوط بزبان عربی وزبان دیگر میں ہو پڑھنا مکروہ تحریمی ہے اور بدعت ضالہ یا مکروہ تنزیہی یا جائز بلاکراہت جو حکم ہو اس سے ہدایت فرمائی جائے بینواتو جروا
() خطبہ جمعہ مصنفہ حضرت مخدوم سعد الدین عرف مخدوم شیخ سعد قدس سرہ خیر اباد ی خلیفہ حضرت مخدوم شاہ مینا لکھنوی قدس سرہ اﷲ العزیز جو منسلکہ ہذا ہے منجملہ عبارت خطبہ مذکور کے :
چوں گفتہ حضرت محمد مصطفے صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے
#11215 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
بار خدا اگر گلیم برسر کشم کوئی
یایها المزمل(۱) قم الیل الا قلیلا(۲) نصفه واگر بیروں آرم گوئی و اهجرهم هجرا جمیلا مراچہ باید کرد فرمان آمد اے توراحت می طلبی وما ازتوسر گردانی میخواہم تومیخواہی کہ بامن حساب حسنات بسر بری بوگوشہ نشینی ومامی خواہم کہ مرا با تو وترا بامن صدہزار گونہ حساب بود تو کیستی کہ خاص جمع میخواہی حکم برانبیا ہائے اولین کردیم بپریشانی اگر شادت بینم گویم ان الله لا یحب الفرحین(۷۶) واگر دل تنگت بینم گویم و لقد نعلم انك یضیق صدرك بما یقولون(۹۷) زہے مسر گردانی کہ مشت خاك راست کیست کہ دریں ماتم ومصیت وقوف دارد فریادداز محمد برخاست یالیت رب محمد لم یخلق محمدا وفریاد عاشقاں بریں نوع ست اے کاش نزادے پسرے مادر عالم ÷ خودنہ بدی نام ونشان پدرمن ÷ عاقبت ایں دینائے مکارہ وغدارہ پابستہ نداری کہ سلطان مرسلاں ایں معاملہ بودہ است۔
بار گاہ خداوندی میں عرض کیا اے اﷲ ! اگر میں کملی سر پر لیتا ہوں تو آپ فرماتے ہیں “ اے چادر اوڑھنے والے رات کو تھوڑا قیام کرنصف رات “ اگر میں باہر آتا ہوں توآپ فرماتے ہیں “ ان کو احسن طریقے سے چھوڑدے “ مجھے کیاکرنا چاہئے ا ﷲ تعالی کی طرف سے ارشاد ہوا کہ اے محمد! آپ راحت کے طلبگار ہیں اور ہم آپ سے محنت وپریشانی چاہتے ہیں آپ جانتے ہیں کہ میری نیکیوں کا حساب ہو اور گوشہ نشین رہوں اور ہم چاہتے ہیں کہ ہم تیرے ساتھ اور آپ میرے ساتھ سوہزار قسم کا حساب رکھیں آپ کو ن ہیں جو دل کا اطمینان چاہتے ہیں ہم نے تو سابقہ انبیاء کو پریشانی کاحکم دیا اگر میں تجھے خوش دیکھوں گا تو کہوں گا “ یقینا اﷲ تعالی خوش ہونے والوں کو پسند نہیں کرتا “ اور اگر تیرے دل کو تنگ پاؤں تو کہوں گا “ ہم جانتے ہیں اس بات کو کہ آپ کا سینہ ان کی باتوں سے تنگ ہے “ وہ پریشانی کتنی اچھی ہے جو مشت خاك کو حاصل ہوئی ہے کون ہے جو اس معاملہ میں ماتم مصیبت کا اظہار کرے محمد کی طرف سے یہ فریاد ہوئی اے رب محمد ! کاش محمد کو پیدا ہی نہ کرتا عشاق کی فریاد اسی طرح کی ہوتی ہے کاش اس کائنات میں کوئی ماں بیٹا ہی نہ جنتی یا خود میرے باپ کا نام ونشان تك نہ ہوتا اس مکار و غدار دنیا کے پاؤں تو نہیں باند ھ سکتا جبکہ رسولوں کے سربراہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا یہ معاملہ تھا۔ (ت)
اس عبارت پر ایك صاحب کو جو بنظر حالت زمانہ حال ذی علم خیال کئے جاتے ہیں یہ اعتراض ہے کہ اس عبارت میں اہانت وبے حرمتی حضرت نبی کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم ہے جو باعث تکفیر قاری وسامعین خطبہ ہے کیونکہ اس مضمون کا استنباط نہ کیسی آیت قرآنی سے ہے نہ کسی حدیث سے یہ اعتراض معترض کا صحیح ہے یا غلط اور اگر غلط ہے تو معترض کے اعتراض کا کیا جواب ہے بینوا توجروا
حوالہ / References & القرآن€ ۲۸ / ۷۶
&القرآن€ ۱۵ / ۹۷
#11216 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
الجواب :
خطبہ میں غیر عربی زبان کا خلط کرنا ضرور مکروہ تنزیہی وخلاف سنت رسول متوارثہ ہے اور بالکل خطبہ غیر عربی زبان میں ہونا اور زیادہ مکروہ کما حققناہ فی فتاونا( جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی تحقیق کی ہے۔ ت) مگر اسے مکروہ تحریمی وبدعت ضلالت کہنا محض غلط وباطل وبے دلیل ہے واﷲ تعالی اعلم
(۲) یہ خطبہ پڑھنا حرام اور محض بدخواہی عوام الاسلام ہے یہ مخاطبہ ہائلہ کہ اس میں مذکور ہوا اصلا کسی آیت یاحدیث یا اثر یا کسی کتاب معتمد معتبر میں اس کا پتانہیں نہ حضرت سید نا مخدوم شیخ سعد بدھن رضی اللہ تعالی عنہ سے بروجہ صحیح اس کا ثابت ہونا معلوم اگر ایسی ہی حکایت بے سروپا ہے جب تو اس کا واجب الرد ہونا خود ظاہر اور اگر خطائے نساخ نہ ہو تو اس کی بے ربطی عبارت خود اس کے بطلان نسبت پر دلیل زاہر مثلا صدر خطبہ میں افمن شرح اﷲ صدرہ للاسلام ومن تاب توبۃ نصوحامن التابعین ( کیا وہ شخص جس کا سینہ اﷲ تعالی اسلام کے لئے کھول دیتا ہے اور وہ شخص جس نے خالص توبہ کرلی وہ تابعی ہے۔ ت) خطبہ ثانیہ میں نشھدان محمد اعبدہ ورسولہ خصوصا علی افضل الصحابۃ وافضلھم بالتحقیق ( ہم گواہی دیتے ہیں کہ حضرت محمد اﷲ کے بندے اور اس کے رسول ہیں خصوصا صحابہ سے افضل اور بالیقین ان سے صاحب فضیلت پر ۔ ت) پھر اصل مقصود خطبہ کہ لوگوں کو امر بالمعروف ونہی عن المنکر ہے یعنی اعمال صالحہ کی ترغیب دینا معاصی سے روکنا یہ خطبہ اس سے اصلا بحث نہیں رکھتا بلکہ صراحۃ اس کے خلاف ہے جب ہر جمعہ جاہل لو گ سنیں گے کہ اﷲ عزوجل فرماچکا ہے کہ ہر کہ گواہی د ہد مرابوحدانیت ومرترابرسالت درآید بہ بہشت برہر کاریکہ اوباشد ( جو میری وحدانیت اور آپ کی رسالت کی گواہی دے دے وہ جنت میں داخل ہوگا اسکے عمل جیسے بھی ہوں ) اس کا کیسا برا اثر ان پر پڑے گا وہ سمجھ لیں گے کہ بس کلمہ پڑھ لینا کافی ہے اعمال فضول ومہمل ہیں پھر عوام کے سامنے یہ تین مصلحات خاصہ صوفیائے کرام مثل قمار بازی وقلندری وچاك دامنی وعیاری کا تذکرہ کس قدر خلاف مقاصد خطبہ ہے اور ان سب سے بدتر اور کروروں درجہ بدتر وہ تذکرہ کہ مصطفی سید المرسلین اکرم الاولین والآخرین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے خطاب ہو تو کیستی کہ خاطر جمع می خواہی حکم برانبیائے اولین کہ دیم بہ پریشانی ( آپ کون ہیں جو دل کا اطمینان چاہتے ہیں ہم نے تو سابقہ انبیاء کو پریشانی کا حکم دیا ۔ ت) اس سے صاف صاف انبیائے سابقین علیہم الصلوۃ والتسلیم کی معاذ اﷲ حضور پر نورسید یوم النشور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے افضلیت ٹپکتی ہے ایسے محاورات میں اعلی ہی سے استشہاد کیا کرتے ہیں مثلا کسی امیر سے کہیں تیری کیا حقیقت ہے سلاطین تو اس سے محفوظ نہ رہے اور اگر تنزل بھی کیجئے تو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا اگلے انبیاء علیہم الصلوۃ والثناء سے افضل نہ ہونا تواس کا صاف کہنا ہے یہ کیا گمراہی نہیں پھر سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف راحت کی نسبت اور وہ بھی
#11217 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
یوں مرضی الہی کے خلاف اور حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف اس فریاد کا انتساب کہ یالیت رب محمد لم یخلق محمدا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم (اے رب محمد! کاش محمد کو پیدا ہی نہ کرتال ت) جہال کی نگاہ سے معازاﷲ سقوط عظمت کا باعث ہوگا اور عیاذا باﷲ یہ عقیدہ ہو تو ایمان ہی گیا کہ ایمان تو صرف ان کی تعظیم و محبت کا نام ہے۔
قال اﷲ تعالی لتؤمنوا بالله و رسوله و تعزروه و توقروه-
اﷲ تعالی نے فرمایا اﷲ تعالی پرایمان لاؤ اوراس کے رسول پر اور ان کی خوب تعظیم وتوقیر کرو (ت)
غرض کسی طرح گمان نہیں کیا جاتا کہ حضرت مخدوم قدس سرہ الکریم نے یہ خطبہ تصنیف فرمایا ہو اور اگر بالفرض حضرت ممدوح سے اس کا ثبوت صحیح بروجہ معتمد ہو کہ حضرت نے یہ مخاطبہ کہیں ذکر فرمایا تواب نظر اس میں ہوگی کہ آیا برسبیل نقل وحکایۃ ہے یا بربنائے کشف والہام برتقدیر اول جبکہ مدار روایت پر رہا تو مسئلہ علوم ظاہرہ کے دائرہ میں آگیا صحت سند درکار ہوگی اور کسی ولی معتمد کا کوئی نا معتمد حکایت کسی سے نقل فرمانا اس کی روایت کو صحیح و واجب الاعتماد نہ کردے گا
وھذا مااعتذ روابہ عن الامام محمد الغزالی قدس سرہ العالی فی ایرادہ الاحادیث الواھیۃ فی الاحیاء مع جلالۃ قدرہ فی العلوم الظاہرۃ الباطنۃ
یہ وہ چیز ہے جس کے ساتھ اہل علم نے امام محمد غزالی کی طرف سے اس بات پر عذر کے طورپر پیش کیا جو انھوں نے باوجود علوم ظاہری وباطنی میں عظیم ماہر ہونے کے اپنی کتاب “ احیاء علوم الدین “ میں احادیث موضوعہ ذکر کی ہیں (ت)
مولی بحر العلوم ملك العلماء قدس سرہ فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت میں فرماتے ہیں :
(قیل کثیرا مایوجد عدول فی غیر الائمۃ علم من عادتھم انھم لایروون الاعن عدل) فارسالھم ایضا یقتضی تعدیل من روواعنہم فیکون حجۃ کارساکل الائمۃ فلا فوق اقول لانسلم وجود العدول بالصفۃ المذکورۃ فی غیرالائمہ بل العدول من غیرھم لایبالون عمن أخذ وا و رووا ألاتری) ان الشیخ علاء الدولۃ السمنانی قدس سرہ
(کہا گیا ہے کہ غیر ائمہ میں جو اکثر عادل پائے جاتے تو ان کے معمول سے معلوم ہے کہ وہ کسی عادل ہی سے روایت کرتے ہیں ) لہذا ان کا ارسال بھی ا س کا مقتضی ہے کہ جن سے انھوں نے روایت کی ہے وہ عادل ہیں لہذا ان کی روایت مرسلہ ائمہ کے ارسال کی طرح ہی حجت ہوگی اور ان میں کوئی فرق نہ ہوگا (اقول) ہم غیر ائمہ میں صفت مذکورہ کے ساتھ عدل تسلیم نہیں کرسکتے بلکہ غیر ائمہ میں جو عادل ہیں وہ اس بات کی پرواہ نہیں
حوالہ / References &القرآن€ ٤٨ / ٩
#11218 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
کیف اعتمد علی الرتن الھندی وأی رجل یکون مثلہ فی العدالۃ ( ولو سلم فذلك بزعمھم وکثیرامایخطؤن) فیظنون غیر العدل عدلا (ملخصا)
کرتے کہ وہ کس سے روایت لے رہے ہیں کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ شیخ علاؤالدولہ سمنانی قدس سرہ نے رتن ہندی پر کیسے اعتماد کرلیا حالانکہ ان کی مثل عدالت میں کون ہے ( اور اگر یہ تسلیم کرلیا جائے تو یہ ان کے زعم کے مطابق ہے حالانکہ عام طور پر وہ خطا کرتے ہیں ) پس وہ غیر عادل گمان کرلیتے ہیں (ملخصا)(ت)
مخاطبہ ذکر فرمایا بحمد اﷲ ہم غلامان بارگاہ اولیاء ان میں نہیں کہ کشف والہام باطل یا نا معتبر ٹھہرائیں احتمال خطا کشف مبتدین واوساط میں ہوتا ہے اکا برواصلین نفعنا اﷲ تعالی ببر کاتہم فی الدنیا والآخرۃ والدین کاکشف متین والہام مبین حق وصحیح ہوتا ہے مولی بحر العلوم ملك العلماء قدس سرہ فواتح میں فرماتے ہیں :
ان تاملت فی مقامات الاولیاء وموجیدھم واذوا قھم کمقامات الشیخ محی الدین وقطب الوقت السیدمحی الملۃ والدین الیسد عبدالقادر الجیلانی الذی قدمہ علی رکا ب کل ولی والشیخ سھل بن عبداﷲ التستری والشیخ ابن مدین المغربی و الشیخ ابی یزید البسطامی وسید الطائفۃ جنید البغدادی والشیخ ابی بکر الشبلی والشیخ عبداﷲ الانصاری والشیخ احمد التامقی الجامی وغیرھم قدس اسرارھم علمت ان ما یلھمون بہ لا یتطرق الیہ احتمال وشبہۃ بل ھوحق حق حق مطابق لما فی نفس الا مرویکون مع علی خلق علم ضروری انہ من اﷲ تعالی لکن لاینالون
اگر آپ اولیاء کے مقامات وجدان اور اذواق میں غورو فکر کریں مثلا مقامات شیخ محی الدین قطب وقت السید محی الملۃ والدین السید عبدالقادر جیلانی جن کا مبارك قدم ہر ولی کی گردن پر ہے شیخ سہل بن عبداﷲ تستری شیخ ابومدین المغربی شیخ ابویزید بسطامی سید الطائفہ جنید بغدادی شیخ ابوبکر شبلی شیخ عبداﷲ انصاری اور شیخ احمدا لنامقی الجامی وغیرہ تو آپ بالیقین جان لیں گے کہ جو کچھ انھیں الہام کیا جاتا ہے اس میں کسی قسم کا احتمال وشبہ راہ نہیں پاسکتا بلکہ وہ حق حق حق اور نفس الامر کے مطابق ہوتا ہے اور اس میں انھیں اس بات کا بھی علم یقینی ہوتا کہ یہ اﷲ تعالی ہی کی طرف سے ہے اور وہ یہ علمی مقام حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی مدد وتائید سے پاتے ہیں بغیر واسطہ اور وسیلہ کے
حوالہ / References &فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفی € ، & مسئلہ فی الکلام علی المرسل€ مطبوعہ مطبعۃ امیر قم ایران ٢ / ۱۷۵
#11219 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
ھذا لوعاء من العلم الابالمدد المحمدی و تأییدہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لا بالذات من غیر وسیلۃ اصلا الی اخرما افاد و اجاد علیہ رحمۃ الملك الجواد۔
نہیں پاتے الی آخرہ جیسا کہ انھوں نے خوب بیان کیا اور ان پر مالك وجواد اﷲ کی رحمت ہو ۔ (ت)
اب یہ مخاطبہ ان مقامات رازونیاز سے ہوگا مولی وعبد ومحبوب میں ہوتے ہیں جن میں دوسرے کو دخل دینا حرام انھیں نقل مجلس بنانا حرام بلکہ بحال فسادنیت کفر صریح بلاکلام بھلا یہ تو ایك مخاطئہ کشفیہ ہوگا امیر المؤمنین ایك شخص کو کہ سورہ عبس شریف کی تلاوت بکثرت کرتا زجر شدید فرمایا امام ابن الحاج مکی مدخل میں فرماتے ہیں :
قدقال علمائنا رحمۃ اﷲ تعالی علیھم ان من قال عن نبی من الانبیا علیہم الصلوۃ والسلام فی غیر التلاوۃ والحدیث انہ عص اوخالف فقد کفر نعوذ باﷲ من ذلک وقد قال الامام ابوعبداﷲ القرطبی رحمہ اﷲ تعالی فی کتاب التفسیر لہ حین تکلم علی قولہ وطفقا یخصفان علیھا من ورق الجنۃ الایۃ فی سورۃ طہ قال القاض ابوبکر ابن العربی رضی اﷲ تعالی عنہ لایجوز لاحدمنا الیوم ان یخبر بذلك عن ادم علیہ الصلاۃ والسلام الا اذا ذکرناہ فی اثناء قولہ تعالی عنہ اوقول نبیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فاما ان نبتدی ذلك من نفسنا فلیس بجائز لنا فی ابائنا
ہمارے علماء رحمہم اللہ تعالی نے فرمایا : ہر وہ شخص جو تلاوت قرآن وحدیث رسول پڑھنے کے علاوہ کہے کہ فلاں نبی نے نافرمانی کی یا شریعت کی مخالفت کی وہ کافر ہوجائے گا ہم اس سے اﷲ کی پناہ چاہتے ہیں امام ابو عبداﷲ قرطبی نے اپنی تفسیر میں سورہ طہ میں “ وہ دونوں اپنے اوپر جنت کے پتے چپکانے لگے “ کے تحت لکھا کہ قاضی ابوبکر ابن العربی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا : ہم میں سے کسی کو اجازت نہیں کہ اج وہ حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں ایسی بات کی اطلاع دے البتہ اس صورت میں جب وہ اﷲ تعالی کا یہ فرمان پڑھ رہا ہو یا نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی حدیث مبارک ہم اپنی طرف سے ایسے واقعات کو بیان کرنا شروع کردیں تو یہ ہم اپنے قریب اپنی مثل پہلے آباء کے بارے میں نہیں کہہ سکتے
حوالہ / References &فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بزیل المستصفی ھل کان یجوزلہ علیہ السلام الاجتہاد الخ€ مطبوعہ مطبعۃ امیر قم ایران ٢ / ٣٧٢
&المدخل لابن الحاج فصل فی مولد النبی€ مطبوعہ دارالکتاب العربی بیروت ۲ / ۱۵
#11220 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
الادنین الیناالمماثلین لنا فکیف بابیناالاقدم الاعظم الاکبر النبی المقدم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وعلی جمیع الانبیاء والمرسلین انتہی
اس ہستی کے بارے میں یہ کیسے جائز ہوگا جو ہمارے باپ سب سے اقدم اعظم اکبر اور مقدم نبی ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وعلی جمیع الانبیاء والمرسلین انتہی (ت)
علامہ شہاب خفاجی نسیم الریاض شرح شفائے قاضی عیاض میں فرماتے ہیں :
الدعا بھا ( ای بالمغفرۃ) لہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من امتہ لاینبغی لا یھامہ القصور من المدعو لہ کالدعاء لہ بالرحمۃ واماقول اﷲ تعالی لیغفرلك اﷲ ماتقدم من ذنبك وماتأخرو دعاؤہ لنفسہ بالمغفرۃ فلا یقاس علیہ ۔
امت کی طرف سے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے لئے دعا ( برائے مغفرت) جائز نہیں کیونکہ اس میں آپ سے کوتاہی کا وہم ہوتا ہے جیسے کہ آپ کے لیے رحمت کی دعا کرنا بھی مناسب نہیں رہا معاملہ اﷲ تعالی کے اس ارشاد گرامی کا کہ “ اﷲ تعالی نے معاف فرمادئے آپ کے معاملات سابقہ اور آنے والے “ اور آپ کا اپنے لئے مغفرت کی دعا کرنا تو اس پر دیگر کو قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ (ت)
حضرت شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ مدارج النبوۃ شریف میں فرماتے ہیں :
بدانکہ ایجا ادبے وقاعدہ ایست کہ بعضے از صفیا و ازاہل تحقیق ذکر کردہ اندو شناخت آں ورعایت آں موجب حل اشکال وسبب سلامت حال ست و آں اپنست کہ اگر از جناب ربوبیت جل وتعالی خطابے و عتابے وسطوتے وسلطنتے واستغنائے واقع شود مثل انك لا تھدی ولیحبطن عملک ولیس لك من الامر شیئ وترید زینۃ الحیوۃ الدنیا وامثال آں یا ازجا نب نبوت عبودیتے یاانکسارے وافتقارے وعجزے ومسکنتے بوجود آید مثل انما انا بشر مثلکم اغضب کما یغضب العبد ولا اعلم
واضح رہے کہ یہاں ادب او رقاعدہ ہے جسے بعض اصفیا اور اہل تحقیق نے بیان کیا ہے اور اس کا جان لینا اور اس پر عمل پیرا ہونا مشکلات سے نکلنے کا حل اور سلامت رہنے کا سبب ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر کسی مقام پر اﷲ رب العزت جل وعلا کی طرف سے کوئی خطاب عتاب رعب ودبدبہ کا اظہار یا بے نیازی کا وقوع ہو مثلا آپ ہدایت نہیں دے سکتے آپ کے اعمال ختم ہوجائیں گے آپ کے لئے کوئی شیئ نہیں آپ حیات دنیوی کی زینت چاہتے ہیں اوراس کی مثل دیگر مقامات یا کسی جگہ نبی کی طرف سے
حوالہ / References &المدخل لابن الحاج فصل فی مولدالنبی€ مطبوعہ دارالکتاب العربی بیروت ٣ / ١٦
&نسیم الریاض شرح الشفاء فصل فی کیفیۃ الصلٰوۃ علیہ€ مطبوعہ دارالفکر بیروت ٣ / ٤٨٥
#11221 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
ماوراء ھذا الجدار ما ادری ما یفعل بی ولا بکم ومانند آن مارا نباید دراں دخل کنیم اواشتراك جوئیم وانسباط نمائیم بلکہ برحدا دب وسکوت وتحاشی توقف نمائم خواجہ رامی رسد کہ بابندہ خود ھرچہ خواہد بگوید وبکند واستعلاء واستیلا نماید وبندہ نیز باخواجہ بندگی وفروتنی کند دیگرے راچہ مجال یارائے آنکہ دریں مقام درآید ودخل کند وحد ادب بیروں رود ایں مقام پالغز بسیارے از ضعفا وجہلا وسبب تضررایشاں است ومن اﷲ العصمۃ والعون ۔ واﷲ تعالی اعلم
عبدیت انکساری محتاجی و عاجزی اور مسکینی کا ذکر آئے مثلا میں تمھاری طرح بشر ہوں مجھے اسی طرح غصہ آتا ہے جیسے عبد کو آتا ہے اور میں نہیں جانتا اس دیوار کے ادھر کیا ہے میں نہیں جانتا میرے ساتھ اور تمھارے ساتھ کیا کیا جائے گا اور اس کی مثل دیگر مقامات ہم امتیوں اورغلاموں کو جائز نہیں کہ ان معاملات میں مداخلت کریں ان میں اشتراك کریں اور اسے کھیل بنائیں بلکہ ہمیں پاس ادب کرتے ہوئے خاموشی وسکوت اور توقف کرنا لازم ہے مالك کا حق ہے کہ وہ اپنے بندے سے جو چاہے فرمائے اس پر اپنی بلندی کا غلبہ کا اظہار کرے بندے کا بھی یہ حق کہ وہ اپنے مالك کے سامنے بندگی اور عاجزی کا اظہار کرے دوسرے کی کیا مجال کہ وہ اس میں دخل اندازی کرے اور حد ادب سے باہر نکلنے کی کوشش کرے اس مقام پر بہت سے کمزور اور جاہل لوگوں کے پاؤں پھسل جاتے ہیں جس سے وہ تباہ و برباد ہوجاتے ہیں اﷲ تعالی محفوظ رکھنے والا اور مدد کرنے والا ہے۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ : از افریقہ جوہانس برگ مرسلہ محمد ابراہیم صاحب شافعی شعبان ھ
امام حنفی ہے اور مقتدی شوافع بھی ہيں اگر خطبہ اولی جمعہ میں امام اوصیکم بتقوی اﷲ نہ پڑھے اور درود شریف نہ پڑھے توشوافع کی نماز ہوگی یا نہیں
الجواب :
مذہب شافعی پر شافعی کی نماز نه ہوگی کہ وصیت و درود ان کے نزدیك ارکان خطبہ سے ہیں اور خطبہ بالاتفاق شرط صحت نماز جمعہ جب رکن فوت ہوئے خطبہ نہ ہوا جب خطبہ نہ ہوا نماز نہ ہو ئی۔ کتاب الانوار میں ہے :
لصحۃ الجمعۃ وراء الشروط العامۃ شروط الی ان قال السابع خطبتان قبل الصلوۃ وارکانھما خمسۃ حمداﷲ تعالی الثانی
صحت جمعہ کے لئے شروط عامہ کے علاوہ ساتویں شرط یہ ہے کہ نماز سے پہلے دو خطبے ہوں اور اس کے ارکان پانچ ہیں ایك اﷲ تعالی کی حمد دوسرا
حوالہ / References &مدارج النبوۃوصل در ازالہٗ شبہات از بعضے آیات€ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر١ / ۸۳
#11222 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
الصلوۃ علی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الثالث الوصیۃ بالطاعۃ والتقوی اھ ملتقطا
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں درود و سلام تیسرا اطاعت وتقوی کی نصیحت اھ ملتقطا (ت)
اسی میں ہے :
لصحۃ الاقتداء شروط الاول ان یکون الامام مظھر مسلما الثانی ان تصح صلوتہ باعتقاد الماموم فلو اقتدی الشافعی بالحنفی وقد مس فرجہ اوترك البسملۃ او الحنفی بالشافعی الذی افتصدا اواحتجم ولم یتوضأ بطلت صلوتہ اھ مختصرا۔
صحت جمعہ اقتداء کے لئے شروط ہیں اول یہ کہ امام مسلمان طاہر ہو دوسرا یہ کہ اس کی نماز مقتدی کے اعتقاد کے مطابق درست ہو اگر شافعی نے کسی حنفی کی اقتداء کی تو امام نے شرمگاہ کو چھولیا یا اس نے بسم اﷲ ترك کردی یاحنفی نے ایسے شافعی کی اقتداء کی جس نے رگ کٹوائی یاپچھنے لگوائے اور وضو نہ کیا توا قتداء کرنے والے کی نماز باطل ہوجائے گی اھ اختصارا (ت)
فتاوی امام ابن حجر مکی شافعی میں ہے :
ان علم انھم یترکون بعض الارکان او الشروط لم تصح منھم جمعۃ فلا یجوز لاحد ان یصلی معھم (ملخصا)
اگریہ جان لیا گیا ہو کہ انھوں نے بعض ارکان یا شرائط کو ترك کردیا ہے توان کا جمعہ صحیح نہ ہوگا لہذا ان کے ساتھ جمعہ کی ادائیگی درست نہ ہوگی اھ (ملخصا)
ترك درود تو سخت تر ہے درود خطبہ میں اگر نام اقدس نہ لیا ضمیر پر اکتفا کی مثلا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تو امام مذکور نےبطلان خطبہ ونماز ثابت کیا اسی طرح ان کے شیخ الاسلام زکریا انصاری قدس سرہ نے شرح بہجہ وشرح روض وشرح منہج میں فرمایا : کما ہو مذکور کلہ فی فتاواہ الکبری( جیسا کہ یہ تمام ان کے فتاوی الکبری میں مذکور ہے ۔ ت) آدمی کہ تنہا نماز پڑھے اسے بالاجماع مستحب ہے کہ جملہ ائمہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے مذاہب کی حتی الامکان رعایت رکھے اور حتی الامکان کے یہ معنی کہ جہاں تك اس کی رعایت میں اپنے مذہب کا مکروہ لازم نہ آئے کما نص علیہ فی غیر ماموضع فی ردالمحتار وفی المسلك المتقسط للملا علی القاری وغیرھما (جیسے کہ اس پر ردالمحتار اور المسلك المتقسط للملاعلی قاری وغیرہ میں متعدد مقامات پر
حوالہ / References &الانوار لاعمال الابرار فصل الصحتہ الجمعۃ الخ€ مطبعۃ جمالیۃ مصر ١ / ١٠٠
&الانوار لاعمال الابرار فصل الوالی فی محل ولایۃ€ مطبعۃ جمالیۃ مصر ١ / ۸۵
&فتاوٰی کبرٰی فقہیہ ابن حجر مکی باب الصلٰوۃ الجمعہ€ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃبیروت ١ / ٢٣۹
#11223 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
تصریح ہے ۔ ت) نہ کہ وہ امور جو اپنے مذہب میں مسنون اور دوسرے مذہب ائمہ حق میں فرض ہوں کہ ا ب تواس کی ترك سخت جہالت نہ کہ امام کہ دوسرے مذہب کے اہل سنت بھی اس کے مقتدی ہوں اسے تو حتی الوسع اس مذہب کی رعایت کمال مہم ومؤکدہے ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از بریلی محلہ بہاری پور مسئولہ جناب نواب مولوی سلطان خاں صاحب صفر المظفر ھ
جمعہ کے دن چند آدمیوں نے مل کر مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کی بعدہ اور دس بارہ آدمی آگئے انھوں نے بھی اذان و اقامت خطبہ کے ساتھ اسی مسجد میں نماز جمعہ ادا کی پھر دس بارہ آدمی آگئے انھوں نے بھی ایسا کیا تو دوسری تیسری جماعت والوں کا جمعہ ادا ہولیا یانہیں فقط بینوا توجروا
الجواب :
نماز جمعہ و عیدین مثل عام نمازوں کے نہیں کہ جسے امام کر دیا نماز ہوگئی ان کے لئے ضرور ہے کہ اما خود سلطان اسلام ہو یا اس کا مقرر کردہ اور یہ نہ ہوں تو بضرورت وہا ں کے عام مسلمانو ں نے جسے امامت جمعہ کے لئیے معین ومقرر ہو توان تینوں جماعتوں میں جس کا امام امام معین ومقرر کردہ جمعہ تھا اس کی اور اس کے مقتدیوں کی نماز ہوگئی باقیوں کی نہیں اور اگر کسی کا امام ایسا نہ تھا تو کسی کی نہ ہوئی مثلا سر راہ مسجد ہے دس بارہ راہگیر گزرے ایك نے آگے ہوکر نماز جمعہ پڑھائی پھر کچھ اور آئے انھوں نے بھی ایسا ہی کیا یوں ہی دس بیس جماعتیں ہوئیں جمعہ ایك کا بھی نہ ہوا اور فرض ظہر سب کے ذمہ رہا درمختار میں ہے :
الجمعۃ یشترط لصحتھا السلطان اومامورہ باقامتھا ونصب العامۃ غیر معتبر مع وجود من ذکر اما مع عدمہ فیجوز للضرورۃ اھ ملتقطا واﷲ تعالی اعلم
صحت جمعہ کے لئے سلطان یا اس کا مقرر کردہ برائے اقامت جمعہ کا ہونا ضروری ہے مذکورہ افراد کے ہوتے ہوئے عوام کا مقرر کرنا معتبر نہیں اور اگر مذکور اشخاص نہیں تو ضرورت کے لئے عوام کا تقرر جائز ہوگا اھ مختصرا ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از گنور تحصیل سونی تپ ضلع رہتك مرسلہ حافظ احمد حسین صاحب امام مسجد ذی الحجہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جمعہ کے روز امام اول کا خطبہ پڑھ کے جلسہ کرنا ہے اس جلسہ میں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا مذہب حنفی میں جائز ہے یا نہیں اور اگر ناجائز ہے تو کس درجہ کا مکروہ تنزیہی یا مکروہ تحریمی زید درمیان خطبین کے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا بدعت او رحرام بتاتا ہے۔ یہ عقیدہ
حوالہ / References &درمختار باب الجمعہ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٠٩ و ١١٠
#11224 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
زید کا موافق شرع شریف کے ہے یا نہیں
الجواب :
زید کا قول باطل ہے دونوں خطبوں کے بیچ میں امام کو دعا مانگنا تو بالاتفاق جائز ہے بلکہ خود عین خطبہ میں حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا مینہ کے لئے دونوں دست انور بلند فرما کر دعا مانگنا کتب صحاح میں موجود ہے مقتدیوں کے بارہ میں مذہب حنفی میں اختلاف ہے امام ابو یوسف وامام محمد رحمہ اﷲ تعالی علیہما بلا شبہ ان کے لئے بھی جائز فرماتے ہیں اور امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے دو روایتیں آئیں ایك مطابق قول صاحبین کے امام کے نزدیك بھی مقتدیوں کو بین الخطبتین دعا مانگنا جائز ہے امام سغناقی نے نہایہ وامام اکمل الدین بابرتی نے عنایہ شروح ہدایہ میں فرمایا : ھوالصحیح یہی صحیح ہے۔
سنتھاخمسۃ عشرۃ رابعتھا التعوذ فی نفسہ قیل الخطبۃ سادستھا البدایۃ بحمد اﷲ تعالی الخ ملخصا
اس کی پندرہ سنتیں ہیں چوتھی یہ کہ خطبہ سے پہلے دل میں تعوذ کا پڑھنا چٹھی یہ کہ اﷲ تعالی کی حمد وثنا سے ابتداء کرنا الخ ملخصا (ت)
پھر یہ کوئی ایسا امر نہیں جس پر تشدد ضروری ہو بہ نرمی سمجھایا جائے اگر نہ مانے تو گروہ بندی واثارت فتنہ کی حاجت نہیں والفتنۃ اکبر من القتل(فتنہ قتل سے بڑا ہے ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از جیل کان پور مرسلہ کلن خاں جمعدار شوال ھ
حضرت اقدس مدظلہ العالی بعد عرض تسلیم بصد تعظیم گزارش ہے کہ جیل میں جہاں پانچ چھ سو آدمی قیدی و حوالاتی اور ملازمین رہتے ہیں نماز جمعہ ادا کی جاسکتی ہے یا نہیں جہاں پرصوم صلوۃ کی جماعت کو عام اجازت ہے اس میں روك ٹوك نہیں مگر باہر کے لوگ بغیر اجازت اندر نہیں اسکتے نہ اندر کے باہر جاسکتے ہیں پس جو مسلمان اندر جیل کے ہیں اور جن کی تعداد سو سے زائد ہے جمعہ کے روز جماعت سے نماز جمعہ ادا کریں یا نماز ظہر کی امید کہ بواپسی ڈاك جواب سے سرفرازی بخشی جائے زیادہ حد آداب!
الجواب :
جمعہ کی ایك شرط اذن عام ہے جیل میں کوئی نہیں جاسکتا توا س میں نماز جمعہ ناممکن وباطل ہے اور ظہر کی جماعت بھی ان کو جمعہ کے دن جائز نہیں جبکہ جیل حدود شہر میں ہو بلکہ ہر شخص تنہا ظہر پڑھے ملازم ہو یا ماخوذ ہاں جیل بیرون شہر ہو تو ظہر بجماعت پڑھیں تنویر الابصار میں ہے :
حوالہ / References &بحرالرائق باب صلٰوۃ الجمعۃ€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ١٤٧
#11225 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
یشترط لصحتھا الاذن العام فلو دخل امیر حصنا واغلق بابہ وصلی باصحابہ لم تنعقد ۔
صحت جمعہ کے لئے اذن عام شرط ہے اگر کسی امیر نے قلعہ میں داخل ہوکر دوازہ بند کرلیا اور اپنے ساتھیوں کو جمعہ پڑھا یا تو یہ جمعہ منعقد نہ ہوگا۔ (ت)
درمختار میں ہے :
کرہ تحریما لمعذور ومسجون ومسافر اداء ظہر بجماعتہ فی مصر قبل الجعۃ وبعدھا ۔ وھو سبحنہ وتعالی اعلم
شہر میں معذور قیدی اور مسافر کے لئے جمعہ سے پہلے اور بعد نماز ظہر جماعت کے ساتھ ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے ۔ وہو سبحنہ وتعالی اعلم (ت)
مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جہاں پر حکم مصر رکھتا ہے اور بنا بر قول معتبر کے وہاں جمعہ ہوتا ہو ان میں احتیاط ظہر پڑھنا چاہئے یا نہیں اور جو لوگ اس کو نہیں پڑھتے ہیں جمعہ پڑھنے سے ظہر ساقط ہوتے ہیں یا نہیں اور اگر اس کا ثبوت شرع میں ہو تو اس کو کس نیت سے پڑھنا چاہئے اور جو اس کا مانع ہو ازروئے شرع شریف کے کیا حکم ہے بینوا بالدلائل الشرعیۃ وتوجروا بالبراھین العقلیۃ (دلائل شرعیہ سے بیان کرو اور براہین عقلیہ سے اجر پاؤ ت)
الجواب :
بلاشبہ جو اسلامی مصر ہو اور وہاں ایك ہی جگہ جمعہ ہوتا ہو اور امام میں کوئی شبہہ نا جوازی امامت کا نہ ہو وہاں احتیاطی ظہر پڑھنا ممنوع وبدعت ہے مگر یہ بات آج عامہ بلاد میں کہیں نہیں سوا حرمین شریفین وغیرہما بعض بلاد کے یونہی جہاں جمعہ متعدد جگہ ہوتا ہو جس نے سب سے اول جماعت میں پڑھا اسے احتیاطی ظہر کی اجازت نہیں اور جہاں مصریت میں شبہہ ہو یا امام یا اس کی ماذونیت میں یا جمعہ متعدد جگہ ہوتا ہو اور اپنی جماعت سب سے پہلے ہو نا معلوم نہیں وہاں اگر شبہہ ضعیف ہے احتیاطی ظہر مستحب ہے اور قوی ہے تو واجب مگر اس کا حکم خواص کے لئے ہے عوام کو حاجت نہیں تحملا للضرر الادنی مخافۃ الاقوی( بڑے ضرر سے ڈرتے ہوئے ادنی ضرر کو برداشت کرتے ہوئے ۔ ت) خواص یہ نیت کریں کہ پچھلی وہ ظہر جو میں نے پائی اور ادا نہ کی اور یہ خطرہ بھی نہ آنے پائے کہ جمعہ ہوگیا تو یہ میرے نفل ہیں ورنہ فرض نہ جمعہ کی نیت کے وقت تردد ہو کہ تردد منافی نیت ہے جو منع کی جگہ منع کرتا ہے حرج نہیں اور جو استحباب کی جگہ منع کرتا ہے احمق ہے اور وجوب کے
حوالہ / References &تنویر الابصار مع درمختار باب الجمعہ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٢
&درمختار باب الجمعہ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٢
#11226 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
محل پرمنع کرتا ہے تو گنہگار ہے وتفصیل المسألۃ فی فتاونا وباﷲ التوفیق( مسئلہ کی تفصیل ہمارے فتاوی میں ہے اور یہ اﷲ تعالی کی توفیق سے ہے۔ ت) واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ : نیٹھور ضلع بجنور مرسلہ محمد عبدالحی سوداگر جفت محرم ھ
جس جامع مسجدمیں ایسا امام نماز پڑھاتا ہو جو صاحب جائداد ہے اور دوسری جائداد سودی روپیہ لے کر خریدی اور اس کے بدلنے کو چند اشخاص اہل شہر جن کا زور زیادہ ہے پسند نہیں کرتے بلکہ اگر کوئی اس بابت ذکر بھی کرے توخوف فتنہ کا ہے ایسی صورت میں شہر میں سے کسی محلہ کے آدمیوں کو متفق ہو کر کسی دوسری مسجد میں جمعہ کا ادا کرنا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
اگر اس امام کے بدلنے پر قدرت نہ ہو تو شہر میں دوسری جگہ جہاں کوئی امام صالح امامت جمعہ پڑھاتا ہو وہاں جاناواجب ہے اور اگر شہر میں دوسری جگہ جمعہ ہوتا ہی نہ ہو یا اور امام بھی ایسا ناقابل امامت ہوں تو نیا امام سنی صحیح العقیدہ صحیح خواں صحیح الطہارۃ مسائل داں کہ فاسق معلن نہ ہو مقرر کریں اور اس کے پیچھے جمعہ وعیدین پڑھیں واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از حیدر اباددکن محلہ سلطان پورہ مکان نمبر / مرسلہ مولوی محمد عبدالجلیل صاحب نعمانی مہتمم امور مذہبی صفر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ خطبہ جمعہ وعیدین عربی عوام نہیں سمجھ سکتے ہیں کیا ان کے لحاظ سے اردو زبان ہی میں پڑھا جاسکتا ہے بینوا توجروا ان اجر کم علی اﷲ تعالی( بیان کرکے اجر پاؤ کہ تمھارا اجر اﷲ تعالی کے پاس ہے ۔ ت)
الجواب :
زمان برکت نشان حضور پر نور سید الانس والجان علیہ علی الہ افضل الصلوۃ والسلام سے عہد صحابہ کرام و تابعین عظام وائمہ اعلام تك تمام قرون وطبقات میں جمعہ وعیدین کے خطبے ہمیشہ خالص زبان عربی میں مذکور وماثور اور بآنکہ صحابہ ومن بعدہم من ائمۃا لکرام کے زمانوں میں ہزارہا بلاد عجم فتح ہوئے ہزارہا جوامع بنیں ہزارہا منبر نصب ہوئے عامہ حاضرین اہل عجم ہوئے اور ان حضرات میں بہت وہ تھے کہ مفتوحین کی زبان جانتے اس میں ان سے کلام فرماتے باانیہمہ کبھی مروی نہ ہوا کہ خطبہ غیر عربی زبان میں فرمایا یا دونوں زبانوں کا ملایا ہو کما ذکرہ الشاہ ولی اﷲ الدھلوی فی شرح الموطا ( جیسا کہ شاہ ولی اﷲ دہلوی نے شرح موطا میں ذکر کیا ہے۔ ت) سنت متوارثہ کا خلاف ناپسند ہے
#11227 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
فی الدرلمختار ان لمسلمین توارثوہ فوجب اتباعھم اھ ای ثبت وتاکد
درمختار میں ہے کہ یہ مسلمانوں میں توارث کے ساتھ ثابت ہے لہذا ان کی اتباع واجب ہے اھ یعنی ثابت اور مؤکد ہے ۔ (ت)
نہ کہ ایسی سنت جہاں باوصف تحقق حاجت جانب خلاف رخ نہ فرمایا ہو کہ اب تو اس کا خلاف ضرور مکروہ واساءت ہوگا ۔
اقول : وتحقیقہ ان التذکیر بالعجمیۃ کان المقتضی لہ بعینہ موجودا والمانع مفقودا ثم لم یفعلوہ فکان ذلك کفامنھم لاترکا والکف فعل والفعل یجری فیہ التوارث بخلاف الترك اذا لامعنی لتوارثہ ولامساغ للتأسی فیہ لانہ غیرمفعول ولا مقدور کما نص علیہ الاکابرا لصدور قال فی الاشباہ والنظائر التروك لا یتقرب بھا الااذاصار الترك کفا وہو فعل وہ المکلف بہ فی النھی لا الترك بمعنی العدم لانہ لیس داخلا تحت القدرۃ للعبد کما فی التحریر اھ ای تحریر الاصول للامام المحقق حیث اطلق رحمہ اﷲ تعالی اتقن ھذا فانہ من اجل المھمات۔
اقول : اس کی تفصیل یہ ہے کہ عجمی زبان میں وعظ و نصیحت کا تقاضا بعینہ موجود تھا اور مانع بھی کوئی نہیں تھا پھر انھوں نے ایسا نہیں کیا تو یہ ان کا رکنا ہے ترك نہیں اور رکنا فعل ہے اور فعل میں توارث جاری ہوتا ہے بخلاف ترك کے کیونکہ اس کے نقل ہونے کامعنی نہیں اور نہ ہی اس میں اقتداء جائز ہے کیونکہ وہ معمول سے نہیں اور نہ ہی قدرت میں جیسے کہ اس پرہمارے اسلاف اکابر نے تصریح کی ہے الاشباہ والنظائر میں ہے کہ تروك کے ساتھ تقرب نہیں ہوسکتا مگر اس صورت میں جب ترك کف کی صورت میں ہو اور وہ فعل ہوگا اور نہی میں یہی مکلف بہ ہے نہ کہ ترك بمعنی عدم کیونکہ معدوم قدرت عبد کے تحت نہیں ہوتا جیسا کہ تحریر میں ہے اھ۔ اس سے مراد تحریر الاصول للامام المحقق المطلق نے ذکر کیا ہے اسے اچھی طرح یاد کرلو کیونکہ یہ نہایت اہم معاملہ میں سے ہے۔ (ت)
اذان ضرور بلانے اور ان لوگوں کو اطلاع وقت دینے کے لئے ہے مگر غیر عربی میں ہو تو ہرگز اذان ہی نہ ہوگی اگرچہ مقصود اعلام حاصل ہوجائے کہ اذان صرف سنت تھی جب فی نفسہ برخلاف سنت ہوئی راسا
حوالہ / References &درمختار باب العیدین€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٧
&الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الثانیۃ€ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ١ / ٤٧
#11228 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
فوت ہوگئی تنویر میں ہے :
الاذان علامہ مخصوص علی وجہ مخصوص بالفاظ کذلك ۔
اذان الفاظ مخصوص میں بطریق مخصوص اطلاع دینا ہے۔ (ت)
ردالمحتا ر میں ہے :
اشار الی انہ لا یصح بالفارسیۃ وان علم انہ اذان وھو الاظھر والاصح کما فی السراج ۔
اس میں اشارہ ہے کہ یہ فارسی میں جائز نہیں اگر یہ معروف یہ کہ اذان ہے اور یہی اظہر واصح ہے جیساکہ سراج میں ہے ۔ (ت)
خطبہ ضرور وعظ وتذکیر کے لئے ہے جیسے نماز کہ ذکر کے لئے ہے خطبہ ضرور وعظ وتذکیر کے لئے ہے جیسے نماز کہ ذکر کے لئے ہے قال اﷲ تعالی اقم الصلوة لذكری(۱۴) (اﷲ تعالی کا ارشاد ہے میری یاد کے لئے نماز قائم کرو۔ ت) اور خود قرآن عظیم کہ اس کا تو نام ہی ذکر حکیم ہے اور اس کے نہ سمجھنے پر سخت انکار فرماتا ہے افلا یتدبرون القران ام على قلوب اقفالها(۲۴) (کیا وہ قرآن میں تدبر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہیں ۔ ت) پھر جس کی سمجھ میں عربی نہ آئے نہ اس کے لئے نماز و قرآن اردو یا بنگلہ یا انگریزی کردئے جائیں گے نہ خطبہ واذان یہ اس کا اپنا قصور ہے اس کا دین عربی نبی عربی کتاب عربی پھر عربی اتنی بھی نہ سیکھی کہ اپنا دین سمجھ سکتا.انگریزی کی حالت دیکھئے اس پر کیسے اندھے باولے ہو کر گرتے ہیں کہ دوپیسے کمانے کی امید ہے اور عربی جس میں دین ہے ایمان ہے اس سے کچھ غرض نہیں اﷲ تعالی توفیق دے و ہدایت بخشے امین واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ تا ۱۳۴۳ : ازپیلی بھیت محلہ بھورے خاں مرسلہ حاجی عزیز احمد صاحب صفر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ :
() اذان ثانی جمعہ کے دن امام کے قریب اندر مسجد کے جو مروج ہے اس میں کراہت یعنی کراہت تحریمی ہے یا تنزیہی
()فصیل حوض خارج مسجد ہیے یا داخل مسجد
() ابوداؤد کی حدیث میں جو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور شیخین رضی اللہ تعالی عنہما کے وقت میں
حوالہ / References &درمختار باب ا لاذان €مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٦٢
&ردالمحتار باب الاذان €مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٢٨٢
&القرآن € ٢٠ / ١٤
&القرآن€ ٤٧ / ٢٤
#11229 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
باب مسجد پر اذان کاذکر ہے اس وقت تك اذان اول شروع تھی یا نہیں اگر ا س وقت میں صرف ایك اذان تھی تو جب سے دوسری اذان شروع ہوئی اس وقت بھی بقیہ خلفائے راشدین کے وقت میں اذان ثانی باب مسجد پر ہوتی تھی یا امام کے متصل منبر کے پاس بینواتوجروا
الجواب :
() علمائے کرام نے کراہت لکھی اور اسے مطلق رکھا اور مطلق کراہت غالبا کراہت تحریم پر محمول ہوتی ہے سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے زمانہ اقدس میں اذان دروازہ مسجد پر ہوا کی اور کبھی نہ حضور سے منقول نہ خلفائے رشدین سے کہ مسجد کے اندر اذان کہلوائی ہو اور عادت کریمہ تھی کہ مکروہ تزیہی کو بیان جواز کے لئے کبھی اختیار فرماتے پھر اس میں ترك ادب بارگاہ الہی ہے والعلم بالحق عند اﷲ۔
() حوض قدیم کی فصیل فنائے مسجد ہے نہ عین مسجد ورنہ اس پر وضو ناجائز ہوتا اور فنائے مسجد میں اذان جائز ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم
() صدر خلافت امیر المومنین عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ تك وہی ایك اذان خطبہ تھی انھوں نے اذان اول زائد فرمائی مگر اذان خطبہ میں کوئی تبدیلی نہ کی نہ کسی خلیفہ راشد سے اس میں کوئی تغییر منقول ہاں امام ابن الحاج مکی نے مدخل میں ہشام بن عبدالملك بادشاہ مروانی کی نسبت لکھا کہ اس نے سنت کو بدلا اس کا زمانہ امیر المومنین عثمان رضی اللہ تعالی عنہ سے اسی برس بعد ہوا ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : مسئولہ مولوی فضل الرحمان صاحب از چھاؤ نی صدر بازار فیروز پور پنجاب صفر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ مرقومۃ الذیل میں کہ ایك قلعہ میں جہاں عام لوگوں کو جانے کی اجازت نہیں اور نہ ملازمان کو باہر بجز وقت معینہ کے منجملہ پانچ صد مرد مان مسلمان ملازمان کے ایك جماعت وہاں نماز جمعہ باجازت مشتہرہ گورنمنٹ قائم کرتی ہے وہاں بنائے مسجد نہیں ہے نیز متصل قلعہ مذکور کے شہر اور چھاؤنی صدر بازار میں چند جگہ دیگر مساجد میں جمعہ پڑھا جاتا ہے کیا اس جماعت کا جمعہ ادا ہوجاتا ہے بعض علمائے دین نے بحوالہ فتاوی علمگیری ودرمختار بباعث عدم اذن عام او جماعت مذکور کو محبوسین وغیرہ کا مقیس علیہ قرار دے کر عدم جوازاور نادرست ہونے نماز جمعہ کا فتوی دیا ہے اور بعض نے بحوالہ عبارت شامی کہ
قلت وینبغی ان یکون محل النزاع ما اذا کانت لاتقام الافی محل واحد اما لو تعددت فلا لانہ لایتحقق التفویت کما افادہ التعلیل تامل۔
میں کہتا ہوں کہ مناسب یہ ہے کہ محل نزاع وہ صورت ہے جب ایك ہی مقام پر جمعہ کا قیام ہو اور اگر متعدد جگہ جب ایك ہی مقام پر جمعہ کا قیام ہو اور اگر متعدد جگہ ہو تو پھر محل نزاع نہیں کیونکہ پھر تفویت متحقق نہیں جیسا کہ علت کے بیان نے فائدہ دیا ہے غور کرو ۔ (ت)
#11230 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
درست ہونے نماز جمعہ کا فتوی دیا ہے۔ بیتنوا بالدلیل توجرابالاجر جزیل ( دلیل سے بیان کرکے اجر عظیم پائیں ۔ ت)
الجواب :
صورت مستفسرہ میں جبکہ قلعہ کی بندش ہے باہر کا کوئی شخص نما زکے لئے اس میں نہیں جاسکتا تو اذن عام نہ ہوا اور اذن عام فی نفسہ شرط جمعہ ہے علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہ نے یہ قول کسی سے نقل نہ فرمایا بلکہ یہ ان کا اپنا خیال ہے جسے وہ قلت سے شروع فرماتے ہیں اور خود ان کو بھی ا س پر وثوق نہیں کہ آخر میں تامل کا حکم فرماتے ہیں علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہ اہل بحث نہیں ان کی بحث کا اگر مسئلہ منصوصہ کے خلاف ہو نا معلوم نہ بھی ہو تاہم وہ ایك بحث ہے جو حجت نہیں ہوسکتی نہ کہ جب ان کی بحث مخالف منقول ومنصوص واقع ہے کہ ایسی بحث تو امام ابن الہمام کے بھی منقول نہیں ہوتی جس کی خود علامہ شامی نے جابجا تصریح فرمائی کما بیناہ فی کتابنا فصل القضاء فی رسم الافتاء ( جیسا کہ ہم نے اپنی کتاب “ فصل القضاء فی رسم الافتاء “ میں بیان کیا ہے ۔ ت) براہ بشریت یہ بحث اسی طرح واقع ہوئی فقیر نے ردالمحتار پر اپنی تعلیقات میں اس مسئلہ کی بحث تما م کردی ہے اس میں سے یہاں صرف یہ چند کلمات کافی ہیں کہ امام ملك العلماء ابوبکر مسعود کاشانی کتاب مستطاب بدائع اور ان کے سوا اور ائمہ اپنی تصانیف میں اور ان سب سے امام ابن امیر الحاج حلیہ میں نقل فرماتے ہیں :
السلطان اذاصلی فی دارہ والقوم مع امراء السطان فی المسجد الجامع قال ان فتح باب دارہ جاز وتکون الصلوۃ فی موضعین ولو لم یاذن للعامۃ وصلی مع جیسشہ لاتجوز صلوۃ السلطان وتجوز صلوۃ العامۃ ۔
جب سلطان نے اپنی دار میں اور قوم نے اس کے حکم سے جامع مسجد میں جمعہ ادا کیا تو انھوں نے فرمایااگر دارکا دروازہ کھولا تھا تو جائز اور نماز دونوں جگہ ہوجائے گی اور اگر عوام کو اذن عام نہ تھا اور بادشاہ نے اپنے لشکر کے ساتھ جمعہ ادا کیا تو سلطان کی نماز جائز نہیں البتہ عوام کی نماز جائز ہوگی۔ (ت)
دیکھو یہ نص صریح ہے اجلہ ائمہ کی نقل اور محرر مذہب امام محمد سے بلاخلاف منقول کہ قلعہ سے باہر بھی جمعہ ہوا اور قلعہ میں بھی سلطان نے پڑھا اگر قلعہ میں آنے کا اذن عام دیا تھا تو دونوں جمعے صحیح ہوگئے ورنہ باہر کا جمعہ صحیح ہوا اور قلعہ کا باطل صاف ثابت ہوا کہ اذن عام فی نفسہ شرط صحت جمعہ ہے اگر چہ جمعہ متعدد جگہ پایا جائے اور تقویت لازم نہ آئے ولیس بعد النص الاالرجوع الیہ ( نص پائے جانے کے بعد اس کی طرف رجوع کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ ت)
حوالہ / References &بدائع الصنائع مفہومًا فصل فی بیان شرائط الجمعۃ€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ٢٦٩
#11231 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
مسئلہ : مسئولہ محمود حسن صاحب از بمبئی پوسٹ بائی کھلا صفر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جمعہ میں اسی اشخاص حنفیہ اور بیس اشخاص شافعیہ ہر دومذہب کے درمیان شافعی امام جمعہ میں خطبہ کے دو رکعت فرض پڑھاکے حنفیوں نے نماز سے فارغ ہوئے بعدہ مذکور امام نے اپنے مذہب والوں کو لے کر پھر دوبارہ چار رکعت فرض نماز پڑھواتا ہے لیکن ہر دو مذہب والوں کے ساتھ دو رکعت فرض پڑھنے سے شافعیہ مذہب کی نماز جائز ہوتی ہے یا نہیں
الجواب :
اگر ہو امام شافعی المذہب نیت جمعہ میں شك وتردد کو راہ نہیں دیتا خالص صحیح نیت فرض جمعہ کی کرتا ہے تو اس کے پیچھے نماز ہوجاتی ہے جبکہ فرائض مذہب حنفی کا پابند ہو مثلا فصدلے کر یازخم خواہ پھوڑیا سے پیپ یا پانی بہہ کر ضرور وضو کرلیتا ہو دہ در دہ سے کم پانی میں اگر نجاست پڑجائے اس سے طہارت نہ کرتا ہو وضو میں چہارم سر سے کم کے مسح پر قناعت نہ کرتا ہو وضو کئے ہوئے پانی سے دوبارہ وضو نہ کرتا ہو وعلی ہذا لقیاس اگر ان باتوں کی رعایت کرتا ہے تو اس کے پیچھے نماز جائز ہے اگر چہ اولی حنفی کے پیچھے ہے اگر رعایت نہ کرتاہو تواس کے پیچھے حنفی کی نماز باطل ہے اور اگر نہ معلوم ہو تو مکروہ ہے کما حقق کل ذلك فی البحر والدر وغیرھما (جیسا کہ ا س تمام کی بحر اور در وغیرہ میں تحقیق ہے۔ ت) اور جمعہ کی نیت کے ساتھ شك کرتا ہو تواس کے پیچھے نماز باطل ہے کہ لانیۃ الابالعزم ولا عزم مع الشک(عزم کے بغیر نیت نہیں اور شك کی صورت میں عزم نہیں ہوتا ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از پیلی بھیت محلہ محمدشیرخاں مسئولہ عبداللطیف خاں صاحب صفر المظفر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك جامع مسجد کے امام معین کے بغیر اذن دوسرے شخص نے خطبہ پڑھا اور نماز جمعہ بھی امام معین کے بے اذن پڑھائی اور امام مذکور اس میں شریك نہ ہوا اس صورت میں وہ نماز ہوئی یا نہیں اگر نہ ہوئی تو ظہر کی قضا فرض ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
ہمارے ائمہ تصریح فرماتے ہیں کہ بے اجازت خطیب معین دوسرا شخص خطبہ نہیں پڑھ سکتا اگرپڑھے گاخطبہ جائز نہ ہوگا اور خطبہ شرط نماز جمعہ ہے جب خطبہ نہ ہوا نماز بھی نہ ہوئی ۔ علمگیری میں ہے :
رجل خطب یوم الجمعۃ بغیر اذن الامام والامام حاضر لا یجوز ذلك الا ان یکون الامام امرہ بذلك کذا
کسی شخص نے اذن امام کے بغیر خطبہ جمعہ دیا حالانکہ امام موجود تھا تو یہ جائز نہیں البتہ اس صورت میں جب امام نے اسے حکم دیا ہو جیسا کہ
#11232 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
فی فتاوی قاضی خاں ۔
فتاوی قاضی خاں میں ہے (ت)
اور تصریح فرماتے ہیں کہ امام معین کے بغیر اذن اگر کوئی شخص نماز جمعہ پڑھا ئے تو نماز نہ ہوگی مگر اس صورت میں کہ امام اس نماز میں شریك ہوجائے۔ فتاوی سراجیہ و درمختار میں ہے :
لوصلی احد بغیر اذن الخطیب لا یجوز الااذا اقتدی بہ من لہ ولایۃ الجمعۃ ۔
اگر کسی نے اذن خطیب کے بغیر نماز پڑھائی تو جائز نہیں البتہ اس صورت میں جب مقتدی ایسا شخص ہو جو جمعہ کا والی تھا ۔ (ت)
یہاں کہ خطبہ بھی بے اجازت امام پڑھا گیا اور نماز بھی بے اس کی اجازت کے پڑھائی گئی اور امام اس میں شریك نہ ہوا تو دو وجہ سے وہ نماز ناجائز ہوئی ان پر ظہر کی قضا لازم ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم و احکم
مسئلہ : مولوی نعیم الدین صاحب ازمراد آباد صفر ھ
حضور عالی سلام نیاز میں جمعہ کی نماز قلعہ کی مسجد میں پڑھاتا ہوں اس مسجد کا وسیع صحن ہے مسجد سے باہر راستہ ہے جو ایك بانس کے قریب مسجد کے فرش سے نیچا ہے کوئی جگہ ہی نہیں جہاں مؤذن کھڑا ہو سکے سخت حیرانی ہے یا بعض ایسی مسجدیں ہیں کہ ان میں بعد صحن کے کسی دوسرے شخص ہندو وغیرہ کی دیواریں ہیں کہ ان دیواروں پر میذنہ نہیں بنایا جاسکتا اسی صورت میں کیا کیا جائے بینوا توجروا
الجواب :
اللھم ھدایۃ الحق والصواب (اے اﷲ!حق اور صواب کی ہدایت عطا فرما ۔ ت) یہاں دو سنتیں ہیں ایك محاذات خطیب دوسرے اذان کا مسجد سے باہر ہونا جب ان میں تعارض ہو اور جمع ناممکن ہو تو ارجح کو اختیار کیا جائے گا کما ھوا لضابطۃ المستتمرۃ الغیر المنخرمۃ( جیسا کہ دائمی اور نہ ٹوٹنے والا ضابطہ ہے ۔ ت) یہاں ارجح واقوی سنت ثانیہ بوجوہ اولا مسجد میں اذان سے نہی ہے قاضی خاں وخلاصہ وخزانۃ المفتین وفتح القدیر وبحرالرائق وبرجندی وعلمگیری میں ہے : لایو ذن فی المسجد ۔ (مسجدمیں اذن نہ دی جائے ۔ ت)نیز فتح القدیر ونظم وطحطاوی علی المراقی وغیرہا میں
حوالہ / References &فتاوٰی ہندیۃ الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعۃ€ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ١٤٥
&درمختار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٠
&فتاوٰی ہندیۃ فصل فی کلمات الاذان والاقامۃ€ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ٥٥
#11233 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
مسجد کے اندر اذان مکروہ ہونے کی تصریح ہے اور ہر مکروہ منہی عنہ ہے ردالمحتار میں قبیل احکام مسجد ہے :
لا یلزم منہ ان یکون مکروہا الابنہی خاص لان الکراھۃ حکم شرعی فلا بدلہ من دلیل ۔
اس سے مکروہ ہونا لازم نہیں آتا مگر یہ کہ نہی خاص وارد ہو کیونکہ کراہت حکم شرعی ہے لہذا اس کے لئے دلیل کا ہونا ضروری ہے (ت)
اور اجتناب ممنوع ایتان مطوب سے اہم واعظم ہے اشباہ میں ہے :
اعتناء الشرع بالمنھیات اشد من اعتنائہ بالمامورات ولذا قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا امرتکم یشیئ فاتوا منہ مااستطعتم وان نھیتکم عن شیئ فاجتنبوہ وروی فی الکشف حدیثا لترك ذرۃ مما نھی اﷲتعالی عنہ افضل من عبادۃ الثقلین ومن ثم جاز ترك الواجب دفعا للمشقۃ ولم یسامح فی الاقدام علی المنھیات ۔
شریعت کے ممنوعات کا اہتمام اس کے مامورات سے زیادہ ہے اسی لئے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : جب کسی شیئ کا حکم دوں تو اس کو استطاعت کے مطابق بجالاؤ او ر اگر میں تمھیں کسی شیئ سے منع کرو ں تو اس سے بچو۔ الکشف میں یہ حدیث منقول سے ایك ذرہ کے برابر اس کام سے رك جانا جس سے اﷲ تعالی نے منع فرمایا جن وانس کی عبادت سے بہتر ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ رفع مشقت کے لئے واجب کا ترك جائز ہوتا ہے لیکن ممنوعات پر عمل کی اجازت نہیں ۔ (ت)
ثانیا محاذات خطیب ایك مصلحت ہے اور مسجد کے اندر اذان کہنا مفسدت اور جلب مصلحت سے سلب مفسدت اہم ہے ۔ اشباہ میں ہے :
درء المفاسد اولی من جلب المصالح ۔
مفاسد کا دفع کرنا مصالح کے حصول سے بہتر ہے ۔ (ت)
وجہ مفسدت ظاہر ہے کہ دربار ملك الملوك جل جلالہ کی بے ادبی ہے شاہد اس کا شاہد ہے دربارشاہی میں اگر چوب دارعین مکان اجلاس میں کھڑا ہوا چلائے کہ درباریو چلو سلام کو حاضر ہو ضرور گستاخی بے ادب ٹھہرے گا جس نے شاہی دربار نہ دیکھے ہوں وہ انھیں کچہریوں کو دیکھ لے کہ مدعی مدعا علیہ گواہوں کی حاضری
حوالہ / References &ردالمحتار باب مایفسد الصلٰوۃ وما یکرہ فیہا€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٤٨٣
&الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الخامسۃ€ مطبوعہ ا دارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ١ / ١٢٥
&الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الخامسۃ€ مطبوعہ ا دارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ١ / ١٢٥
#11234 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
کمرہ سے باہر پکاری جاتی ہے چپراسی خود کمرہ کچہری میں کھڑا ہوکر چلائے او رحاضریاں پکارے تو ضرور مستحق سزا ہو اور ایسے امور ادب میں شرعا عرف معہود فی الشاہدہی کا لحاظ ہوتا ہے محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں :
یحال علی المعھود من وضعھا حال قصد التعظیم فی القیام والمعھود فی الشاھد منہ تحت السرۃ ۔
حالت قیام میں بقصد تعظیم جو معروف ہو اس کے مطابق ہاتھ باندھے جائیں گے اور جس معروف کا مشاہدہ ہے وہ یہی ہے کہ ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا ہے ۔ (ت)
اسی بناء پر علماء نے تصریح فرمائی کہ مسجد میں جوتا پہنے جانا بے ادبی ہے حالانکہ صدر اول میں یہ حکم نہ تھا فتاوی سراجیہ و فتاوی عالمگیری میں ہے : دخول المسجد متنعلا مکروہ ( مسجد میں جوتا پہن کر داخل ہونا مکروہ ہے ۔ ت) عمدۃ المفتین و ردالمحتار میں ہے : دخول المسجد متنعلا من سوء الادب ( مسجد میں جوتا پہن کر داخل ہونا بے اد بی ہے۔ ت) مسئلہ اولی یعنی ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے میں کوئی حدیث موافق نہ تھی اور ثانیہ میں حدیث برخلاف تھی با یہنمہ امور ادب میں عرف شاہد کا اعتبار فرمایا تو جہاں خود حدیث بھی موافق ہی موجود ہے ادب معروف کا لحاظ نہ کرنا کس درجہ گستاخی وبیباکی ہے معہذا حدیث نے مسجد میں چلا نے سے بھی منع فرمایا ہے بحرالرائق وردالمحتار میں ہے :
اخرج المنذری مرفوعا جنبوا مساجد کم صبیانکم ومجانینکم وبیعکم وشرائکم ورفع اصولاتکم ۔ قلت رواہ ابن ماجۃ عن واثلۃ ابن الاسقع رضی اﷲ تعالی عنہ وعبدالرازاق فی مصنفہ بسند اسلم عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ
امام منذری نے مرفوعا روایت کیاہے کہ ( رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا) اپنی مسجدوں کو اپنے بچوں اور دیوانو اور خرید وفروخت اور آواز بلند کرنے سے بچاؤ میں کہتا ہوں اسے ابن ماجہ نے حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالی عنہ اور امام عبدالرزاق نے مصنف میں محفوظ سند سے
حوالہ / References &فتح القدیر باب صفۃ الصلٰوۃ€ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ١ / ٢٤٩
&فتاوٰی سراجیہ باب المسجد ازکتاب الکراہیۃ€ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ص ۷۱
&ردالمحتار مطلب فی احکام المساجد€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٤٨٦
&ردالمحتار مطلب فی احکام المساجد€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٤٨٦
#11235 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
حضرت معاذبن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کیا ہے (ت)
تو اس ادب کی طرف خود حدیث میں ارشاد موجود ہے اور علماء نے اس ممانعت کوذکر کے لئے بھی عام ہونے کی تصریح فرمائی درمختار میں ہے :
یحرم فیہ ( ای فی المسجد) السوال ویکرہ الاعطاء ورفع صورت بذکر الاللمتفقھۃ ۔
( مسجد میں ) سوال کرنا حرام ہے اور دینا مکروہ ہے اور ذکر کے لئے آوازکو بلند کرنا بھی البتہ دین پڑھانے اور سمجھا نے والا آواز بلند کرسکتا ہے۔ (ت)
تو اصل منع ہے جب تك ثبوت نہ ہو جیسے اقامت وقرائت نماز لیکن یہاں شارع علیہ الصلوۃ والسلام سے اندرون مسجد اذان کا ہرگز ثبوت نہیں تو اگر کچھ اور دلیل نہ ہوتی اسی قدر اس کے بے ادبی وممنوع ہونے کو بس تھا بلکہ شرع مطہر نے مسجد کو ہر ایسی آواز سے بچانے کا حکم فرمایا ہے جس کے لئے مساجد کی بنا نہ ہو صحیح مسلم شریف میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من سمع رجلا ینشد ضالۃ فی المسجد فلیقل لاردھا اﷲ علیك فان المساجد لم تبن لھذا ۔
جو گمی ہوئی چیز کو مسجد میں دریافت کرے اس سے کہو اﷲ تیری گمی چیز تجھے نہ ملائے مسجدیں اس لئے نہیں بنیں ۔ (ت)
حدیث میں حکم عام ہے اور فقہ نے بھی عام رکھا درمختار وغیرہ میں ہے : کرہ انشاد ضالۃ( گمشدہ شئ کا (مسجد میں )اعلان کرنا مکروہ ہے ۔ ت) تو اگر کسی کا مصحف شریف گم گیا اور وہ تلاوت کے لئے مسجد میں پوچھتا ہے اسے بھی یہی جواب ہوگا کہ مسجدیں اس لئے نہ بنیں اگر اذان دینے کے لئے اس کی بنا ہوئی تو ضرور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مسجد کے اندر ہی اذان دلواتے یا کبھی کبھی تواس کا حکم فرماتے مسجد جس کےلئے بنی زمانہ اقدس میں اسی کا مسجد میں ہونا کبھی ثابت نہ ہو یہ کیونکر معقول تووجہ وہی ہے کہ اذان حاضری دربار پکارنے کو ہے اور خود دربار حاضری پکارنے کو نہیں بنتا ہمارے بھائی اگر گردنیں عظمت الہی کے حضور جھکا کر آنکھیں بند کرکے براہ انصاف نظر فرمائیں تو جو بات ایك منصف یا جنٹ کی کچہری میں نہیں کر سکتے
حوالہ / References &درمختار باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۳
&صحیح مسلم باب نہی من اکل ثوما الخ€ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۱۰
#11236 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
احکم الحاکمین عزجلالہ کے دربار کو اس سے محفوظ رکھنا لازم جانیں نہ کہ حدیث کا وہ ارشاد پھر کتب معتمدہ فقہ کی یہ صریح تصریحات کہ مسجد میں اذان منع ہے سب کچھ دیکھیں اور ایك رواج پراڑے رہے ہیں ذی انصاف بھائیو! یہ آپ کی شان نہیں ۔
ثالثا محاذات خطیب ایك اختلافی سنت ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے یہاں نقل مختلف ہے بکثرت ائمہ مالکیہ اذان ثانی جمعہ کے روئےبروئے خطیب ہونے ہی کو بدعت بتاتے ہیں وہ فرماتے ہیں یہ اذان بھی منارہ ہی پر ہوتی تھی جیسے پنجگانہ کی اذان علامہ خلیل ابن اسحق مالکی توضیح فرماتے ہیں :
اختلف النقل ھل کان یؤذون بین یدیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اوعلی المنار الذی نقلہ اصحابنا انہ کان علی المنار ۔ نقلہ ابن القاسم عن مالك فی المجموعۃ ونقل ابن عبدالبر فی کافیہ عن مالك ان الاذان بین یدی الامام لیس من الامر القدیم ۔
نقل میں اختلاف ہے کہ کیا اذان نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے سامنے دی جاتی تھی یا اس منار پر جس کے بارے میں ہمارے اصحاب نے نقل کیا کہ اذان منار پر ہوتی تھی اسے ابن القاسم نے “ مجموعہ “ میں امام مالك سے نقل کیا اور شیخ ابن عبدالبر نے کافی میں امام مالك سے نقل کیا کہ امام کے سامنے اذان دینا امر قدیم نہیں ہے۔ ت)
امام ابن الحاج مکی مالکی مدخل میں فرماتے ہیں :
ان السنۃ فی اذان الجمعۃ اذاصعد الامام علی المنبر ان یکون المؤذن علی المنار کذلك کان علی عھد النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وابی بکر و عمر و صدرامن خلافۃ عثمن رضی اﷲ تعالی عنہم ثم زاد عثمن رضی اﷲ تعالی عنہ اذانا اخر بالزوراء وھو موضع بالسوق وابقی الاذان الذی کان علی عھد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی
جمعہ کی اذان میں سنت یہ ہے کہ جب امام منبر پر بیٹھ جائے تو مؤذن منار پر اذان دے یہی طریقہ جناب رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ظاہری حیات اور حضرت ابوبکر و حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہم کے ابتدائی دور میں تھا پھر حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے ایك اور اذان کا اضافہ فرمایا جوبازار میں مقام زوراء پر دی جاتی تھی اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم والی اذان کومنار پر
حوالہ / References &المختصر فی فروع المالکیۃ€
&کافی فروع المالکیۃ€
#11237 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
علیہ وسلم علی المنار والخطیب علی المنبر اذ ذاك ثم لما تولی ھشام نقل الاذان الذی کان علی المنار حین صعود الامام علی المنبر بین یدیہ ۔ (ملخصا)
ہی باقی رکھا اور اس وقت خطیب منبر پر ہوتا پھر جب ہشام والی بنے تو جو اذان منار پر ہوتی تھی اسے منبر پر چڑھنے کے وقت منبر کے سامنے کردیا ۔ (ت)

یہاں تك کہ فرمایا :
فقد بان ان فعل ذلك فی المسجد بین یدی الخطیب بدعۃ فیتمسك بعض الناس بھاتین البدعتین ثم صارکانہ سنۃ معمول بھا ولیس لہ اصل فی الشرع وانماھی عوائد وقع الاستئناس بھا فصار المنکر لھا کانہ یاتی ببدعۃ علی زعمھم فاناﷲ وانا الیہ راجعون علی قلب الحقائق اھ مختصرا ۔
یعنی روشن ہوا کہ اس اذان کا مسجد میں خطیب کے سامنے کہنا بدعت ہے جسے ابتداء بعض لوگوں نے اختیار کیا پھر اس کا ایسا رواج پڑگیا گویا وہ سنت ہے حالانکہ شرع مطہر میں اس کی کچھ اصل نہیں وہ تو یہی ایك عادت ہے کہ لوگوں کے جی اس میں لگ گئے تو جو اس پر انکار کرے ان کے زعم میں گویا وہی بدعت نکالتا ہے تو اناﷲ وانا الیہ راجعون حق لوگوں میں کیسا الٹا ہوگیا کہ حق کو باطل باطل کو حق سمجھنے لگے اھ مختصرا علامہ یوسف بن سعید سفطی مالکی حاشیہ جواہر زکیہ شرح عشماویہ میں فرماتے ہیں :
الاذان الثانی کان علی المنار فی الزمن القدیم وعلیہ اھل المغرب الی الان وفعلہ بین یدی الامام مکروہ کما نص علیہ البرزلی وقد نھی عنہ مالك وفعلہ علی المنار والامام جالس ھوالمشروع اھ سکندری اھ باختصار۔
دوسری اذان زمانہ قدیم میں منار پر ہوتی تھی اہل مغرب کا اب تك اسی پر عمل ہے امام کے سامنے اذان دینا مکروہ ہے جیسا کہ اس پر برزلی نے تصریح کی اور امام مالك نے اس سے منع فرمایا اذان کا اس وقت منار پر دینا جب امام منبر پر ہو یہی مشروع ہے اھ سکندری اھ اختصارا (ت)
حوالہ / References &المدخل لابن الحاج فصل فی ذکر البدع التی احدث فی المساجد€ مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ٢ / ٢١٢
&المدخل لابن الحاج فصل فی ذکر البدع التی احدث فی المساجد€ مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ۲ / ۲۱۲
&حاشیہ جواہر زکیۃ شرح لمقدمۃ العشماویۃ€
#11238 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
بخلاف اذان مسجد کہ مالکیہ بھی اسے ممنوع جانتے ہیں ۔ مدخل میں ہے :
فصل فی النھی عن الاذان فی المسجد فیمنع من الا ذان فی جوف المسجد لوجوہ احدھا انہ لم یکن من فعل من مضی الخ
مسجد میں اذان ممنوع ہونے کے بیان میں فصل مسجد میں اذان کئی وجہ سے منع ہے ان میں سے ایك وجہ یہ ہے کہ اسلاف کا طریقہ نہیں رہا الخ (ت)
تو ثابت ہوا کہ اذان بیرون مسجد ہونا ہی محاذات خطیب سے اہم واعظم واکد والزم ہے تو جہاں دونوں نہ پڑیں محاذات خطیب سے درگزر یں اور منارہ یا فصیل وغیرہ پر یہ اذان بھی مسجد سے باہر ہی دیں ھذا کلہ ماظھر لی والعلم بالحق عند ربی ( یہ تمام مجھ پر واضح ہوا اور حق کا علم میرے رب کے پاس ہے ۔ ت) واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم
مسئلہ ۱۳۴۸ : مسئولہ اقبال حسین از قصبہ سرولی ضلع بریلی صفر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین بیچ اس مسئلہ کے کہ خطبہ جمعہ کا ایك فرض ہے دوسرا سنت یا دونوں فرض ہیں بینوا توجروا
الجواب :
خطبہ امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیك صرف بقدر الحمد فرض ہے اور صاحبین رحمہم اﷲ کے نزدیك ذکر طویل جیسے عرف میں خطبہ کہیں تو نفس فرض اگر چہ اولی بلکہ اس کے بعض سے ادا ہوجاتا ہے مگر جب کوئی مطلق مامور بہ ہوتو قاعدہ شرع یہ نہیں کہ اس کے ایك حصے کو جو ادنی درجہ کا اطلاق مطلق کا ہو ماموربہ ٹھرائیں باقی کو خارج بلکہ جس قدر واقع ہو سب اسی مطلق کا فرد ہے تو سب اسی صفت سے متصف ہوگا جیسے فرض قراءت نماز میں ایك آیت سے ادا ہوجاتا ہے اب یہ نہ کہیں گے کہ الحمد شریف کی پہلی آیت فرض تھی باقی اس کا غیر بلکہ الحمد اور سورت بلکہ سارا قرآن مجید اگر ایك رکعت میں ختم کرے سب زیر فرض داخل ہوں گے کہ فاقرءوا ما تیسر من القران- (پس قرآن میں سے جتنا تم پر آسان ہو اتنا پڑھو۔ ت) کافرد ہے ولہذا اگر سورہ فاتحہ پڑھ کر سورت ملانا بھول گیا اور وہاں یا د آیا تو حکم ہے رکوع کو چھوڑے اور قیام کی طرف عود کرکے سورت پڑھے اور رکوع میں جائے حالانکہ واجب کے لئے فرض کا چھوڑنا جائز نہیں ولہذا اگر پہلی التحیات بھول کر پورا کھڑا ہوگیا اب عود کی اجازت نہیں مگر سورت کے لئے خود شرع نے عود کا حکم دیا کہ جتنا قرآن مجید پڑھا جائے گا سب فرض ہی میں واقع ہوگا تو یہ واجب کی طرف عود نہیں بلکہ فرض کی طرف ولہذا اگر دوبارہ رکوع نہ کرے گا نماز نہ ہوگی کہ
حوالہ / References &المدخل لابن الحاج فصل فی النہی عن الاذان€ مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ٢ / ٢٥١
#11239 · باب الجُمعۃ (نماز جمعہ کا بیان )
پہلا رکوع عود الی الفرض کے سبب زائل ہوگیا تو جس طرح الحمد اور سورت دونوں سے فرض ہی ادا ہوتا ہے یوں ہی دونوں خطبوں سے بھی کہ سب مطلق فاسعوا الى ذكر الله ( اﷲکے ذکر کی طرف دوڑ کرآؤ۔ ت) کے تحت میں داخل ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
___________________
#11240 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
مسئلہ : از احمد آباد گجرات محلہ چکلہ کا لوپور متصل پل گلیارہ مرسلہ مولوی عبدالرحیم صاحب ربیع الاول شریف ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ان دونوں جوابوں میں کون سا جواب احق بالقبول ہے :
سوال : علمائے دین متین اس مسئلہ میں کیا ارشاد فرماتے ہیں بحوالہ کتب معتبرہ تحریر فرمائیں خطیب کو خطبہ ثانی میں منبر سے ایك سیڑھی اترنا اور پھر چڑھ جانا یہ شرع شریف میں جائز ہے یا نہیں بینوا بالسند الکتاب و توجروا فی یوم الحساب۔
الجواب ھوا لصواب : صورت مسئولہ میں خطیب کو سیڑھی اترنا اور چڑھنا جائز نہیں بدعت شنیع ہے جیسا کہ شامی جلد اول صفحہ ۸۶۰میں مذکور ہے :
قال ابن حجرفی التحفۃ وبحث بعضھم ان ما اعتید الان من النزول فی الخطبۃ الثانیۃ الی درجۃ سفلی ثم العود بدعۃقبیحۃ
ابن حجر نے تحفہ میں فرمایا کہ بعض لوگوں نے یہ بحث کی ہے کہ یہ جو عادت بنالی گئی ہے کہ دوسرے خطبہ کے وقت منبر کی نچلی سیڑھی اور پھر دوبارہ اوپر والی سیڑھی پر
#11241 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
شنیعۃ ۔ واﷲ تعالی اعلم بالصواب۔
چلاجانا بدترین بدعت ہے واﷲ تعالی اعلم بالصواب
محمد عیسی عفی عنہ المجیب مصیب عنداﷲ عبدالرحمن ولد مولوی محمد عیسی عفی عنہ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ٭ اللھم ارنا الحق وارزقنا اتباع وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ۔
اﷲ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو نہایت ہی مہربان اور رحم والا ہے اے اﷲ ! ہمیں حق دکھا اور اس پر چلنے کی توفیق دے اور ہمیں باطل دکھا اور اس سے بچنے کی توفیق دے ۔ (ت)
مجیب لبیب نے زینہ اترنے کا ناجائز ہونا بلکہ بدعت شنیعہ ہونا جوعلامہ شامی نے ابن حجر شافعی کے قول سے جوان کی کتاب تحفہ میں نقل کیا ہے ثابت کیا ہے ہر گز ناجائز ہونا اس سے ثابت ہوتا ہے نہ بدعت شنیعہ ہونا اس سے ثابت ہوتا ہے
طریقہ محمدیہ کی شرح میں لکھا ہے :
ان المسئلۃ الواقعۃ متی امکن تخریجھا علی قول من الاقوال فی مذھبنا اومذھب غیرنا فلیست بمنکر یجب انکارہ والنھی عنہ وانما المنکر ماوقع الاجماع علی حرمتہ والنھی عنہ خصوصا انتھی مختصرا۔
یعنی اگر کوئی مسئلہ ایسا واقع ہو کہ اس کی تخریج ہمارے حنفی مذہب کے کسی قول کے موافق ممکن ہو شافعیوں یا حنبلیوں یا مالکیوں کے مذہب کے موافق اس کی تصریح ممکن ہو تو وہ ایسا منکر نہیں کہ اس کا انکار کرنا اور اس سے منع کرنا واجب ہو بلکہ ایسا اس منکر کیلئے ہے جس کی حرمت اجماعی ہو اور شارع علیہ السلام نے اس سے بالخصوص منع کیا ہو انتہی مختصرا (ت)
اب اہل انصاف بغور ملاحظہ فرمائیں کہی اس زینہ اترنے کی وجہ کیا ہے امام ربانی حضرت مجد دالف ثانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہ اپنے مکتوبات کی جلد ثانی کے صفحہ ۱۶۲ مطبوعہ نولکشور میں تحریر فرماتے ہیں : میدانیہ کہ درخطبہ روز جمعہ نام سلاطین کہ
درزینہ پایہ سہ فرود آمدہ می خوانند وجہش چیست ایں تواضعیست کہ سلاطین عظام نسبت بآں سرور وبخلفائے راشدین علیہ وعلیہم الصلوات والتسلیمات نمودہ اند و جائز نداشتہ اند کہ اسامی ایشاں بااسامی اکابردین دریك درجہ مذکور شود شکراﷲ سعیھم انتھی علامہ حسین کاشفی مؤلف تفسیر حسینی اپنی کتاب “ ترغیب الصلوۃ “ میں فرماتے ہیں :
حوالہ / References &ردالمحتار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٦٠٨
&طریقہ محمدیہ شرح طریقہ محمدیہ النوع الثالث الثلاثون€ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۳۰۹
&مکتوبات امام ربانی مکتوب نود ودوم€ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ٢ / ١٦٢
#11242 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
ازاں پایہ منبر کہ حمد وثنا ودرود گفتہ ذکر خلفائے کرام کردہ نشیب آید و ذکر کر و دعائے سلطان چوں تمام کند باز بالا رفتہ خطبہ باقیہ تمام کند انتہی مطلب عبارت مکتوب کایہ ہے کہ تمام مسلمان بھائی جان لیں کہ جمعہ کے دن خطبہ میں نام بادشاہوں کو نیچے کے زینے منبر پر اتر کر پڑھتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے آنجناب اس کی یہ وجہ بیان فرماتے ہیں کہ یہ تواضع وفروتنی ہے کہ بڑے بڑے مسلمان بادشاہوں نے بہ نسبت نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام وخلفائے راشدین آں سرور کائنات علیہم الصلوۃ والتسلیمات کے کی ہے اور ان بادشاہوں نے یہ بات جائز نہیں رکھی ہے کہ بادشاہوں کے نام ساتھ اسامی اکابردین کے ایك درجہ میں مذکور ہوں حضرت مجدد الف ثانی علیہ رحمۃ الباری ان نیك بخت بادشاہوں کے حق میں دعا کرتے ہیں کہ اﷲ تعالی ان بادشاہوں کی کوشش کو قبول کرے اور ان کو جزائے خیر عطافرمائے۔ اور مطلب عبارت “ ترغیب الصلوۃ “ کا یہ ہے کہ منبر کے اس زینہ معلومہ پر حمد وثناء ودرود پڑھ کر اورذکر خلفائے راشدین رضی اللہ تعالی عنہم کرکے نیچے کے زینہ پر خطیب آئے اور ذکر و دعائے سلطان کرکے جب دعائے سلطان تمام ہوجائے پھر اوپر کے زینہ پر چڑھ کر خطبہ باقیہ تمام کرے۔ اب منصفین غور فرمائیں کہ ہمارے حنفی مذہب کی کتاب میں بھی اس زینہ اترنے کے لئےملاحسین کاشفی حنفی مصنف تفسیر حسینی نے تحریر فرمایا ہے اور حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہ نے اس کی وجہ بھی بیان کردی ہے کہ بوجہ مذکور الصدر کے یہ زینہ اترنا جاری ہوا ہے اب جوعلماء اس کو بدعت قبیحہ شنیعہ فرماتے ہیں بغور ملاحظہ فرمائیں کہ بدعت قبیحہ ومنکر مطابق عبارت شرح طریقہ محمدیہ کے جب ہوتی ہے کہ اس کی تخریج ہمارے مذہب کے کسی قول کے موافق ممکن نہ ہو اور مانحن فیہ میں خود ہمارے حنفی مذہب کی کتابوں میں اس زینہ اترنے کو تحریر فرمایا ہے اور اس کی وجہ بھی بیان کی ہے اب یہ زینہ اترنا بدعت کیسے ہوا ہاں جو علماء اس کو بدعت قرار دیتے ہیں حنفی مذہب کی اور کتابوں سے اس کا بدعت قبیحہ ہونا ثابت کریں یا کسی کتاب میں یہ لکھا ہو کہ زینہ اترنا حرام اجماعا ہے یا شارع علیہ السلام نے صراحۃ منع فرمایا ہے جب اس کا منکر ہونا ثابت ہو تو اس سے منع کرنا واجب ہوگا ودونہ خرط القتاد (جبکہ اس کے آگے مضبوط رکاوٹ ہے ۔ ت) اور جو علماء اس زینہ اترنے کو بدعت قبیحہ شنیعہ قول علامہ ابن حجر شافعی سے ثابت کرتے ہیں ان پر یہ بات ضرور ہے کہ اس کا بدعت قبیحہ شنیعہ ہونا ثابت کریں مرقاۃ شرح مشکوۃ جلد اول صفحہ ۱۷۹میں ہے :
حوالہ / References &ترغیب الصلٰوۃ لعلامہ حسین کاشفی€
#11243 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
قال الشافعی رحمہ اﷲ تعالی ما احدث مما یخالف الکتاب اوالسنۃ اوالاثر اوالاجماع فہو ضلالۃ وما احدث من الخیر مما لا یخالف شیئا من ذلك فلیس بمذموم انتہی۔
یعنی حضرت امام شافعی ( جن کے علامہ ابن حجر مقلد ہیں ) فرماتے ہیں جو ایسی چیز نکالی جائے کہ وہ کتاب اﷲ یا سنت رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم یا اقوال اصحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم یا اجماع امت کے مخالف ہو وہ بدعت ضلالت وبدعت قبیحہ شنیعہ ہے اور جو چیز نیکی سے ایسی نکالی جائے کہ وہ اشیائے ار بعہ مذکورہ میں سے کسی چیز کے مخالف نہ ہو وہ ہرگز مذموم نہیں ہے انتہی
بلکہ وہ بدعت حسنہ ہے بالجملہ فعل بدعت غیر مذکور میں جن کے اقسام ثلثہ مشہورہ اعنی واجبہ مندوبہ ومباحہ ہیں ان میں سے ایك میں داخل ہے۔ اب اہل انصاف بغور ملاحظہ فرمائیں کہ زینہ اترنا کون سی قرآن مجید کی آیت کے خلاف ہے یا رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی کون سی حدیث شریف کے خلاف ہے یا کون سے اقوال صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے خلاف ہے۔ جب ان ادلہ مذکورہ کے خلاف نہ ہوا تو مطابق فرمانے حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہ کے اس کا بدعت قبیحہ ہونا ثابت نہ ہوا اور امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہ کے اس قول “ وما احدث من الخیر مما لا یخالف شیئا من ذلك فلیس بمذموم “ (جو ایسی نیکی ایجاد کی جائے جو مذکورہ اشیاء ( کتاب اﷲ سنت رسول اﷲ اقول صحابہ اور اجماع امت) کے خلاف نہ ہو وہ ہرگز مذموم نہیں ہوتی ۔ ت) میں داخل ہوا اور امام شافعی کے قول کے برخلاف علامہ ابن حجر شافعی کا قول دیکھ کر اس زینہ اترنے کو بدعت قبیحہ شنیعہ کہنا مردود ومطرود ہوگیا عاقل منصف کے لئے اشارہ کافی ہے
ھذا ما عندی واﷲ اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
یہ میرے نزدیك ہے اور اﷲ سب سے خوب جاننے والا ہے اور اس کا علم اتم اور کامل ہے ۔ (ت) حررہ الفقیر الی ربہ القدیم عبدالرحیم عفی عنہ
الحمد ﷲ المنزل القران المبین ÷ علی عارج معارج التقریب المکین صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وصحبہ اجمعین ÷ الیہ یصعد الکلم الطیب والحمدﷲ رب العلمین ÷
سب تعریف اﷲ کے لئے جس نے قرآن مبین اس ذات اقدس پر نازل فرمایا جو لامکان کی بلندیوں پر فائز ہوئی صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وصحبہ اجمعین اور اسی کی طرف مبارك کلمات بلند ہوئے ہیں الحمدﷲ رب العالمین ۔ (ت)
حوالہ / References &مرقاۃ المفا تیح شرح مشکوٰۃ المصابیح باب الاعتصام فصل اول€ مطبوعہ مکتبہ امدایہ ملتان ١ / ٢١٦
#11244 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
الجواب :
اقول : وباﷲ التوفیق کسی فعل مسلمین کو بدعت شنیعہ وناجائز کہنا ایك حکم اﷲ ورسول جل جلالہ و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر لگانا ہے اور ایك حکم مسلمانوں پر ۔ اﷲ ورسول جل وعلا و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر تو یہ حکم کہ ان کے نزدیك یہ فعل ناروا ہے انھوں نے اس سے منع فرمادیا ہے اور مسلمانوں پر یہ کہ وہ اس کے باعث گنہگار و مستحق عذاب وناراضی رب الارباب ہیں ہر خدا ترس مسلمان جس کے دل میں اﷲ ورسول جل وعلاو صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی کامل عزت وعظمت اور کلمہ اسلام کی پوری توقیر ووقعت اور اپنے بھایؤں کی سچی خیر خواہی ومحبت ہے کبھی ایسے حکم پر جرأت رو ا نہ رکھے جب تك دلیل شرعی واضح سے ثبوت کا فی و وافی نہ مل جائے۔
قال اﷲ تعالی : ام تقولون على الله ما لا تعلمون(۸۰)
اﷲ تعالی کاارشاد گرامی ہے : یا تم ایسی بات اﷲ تعالی کی طرف سے کہتے ہو جس کا تمھیں علم نہیں (ت)
کیا اﷲ عزوجل پربے علم حکم لگائے دیتے ہو دلیل شرعی مجتہد کے لئے اصول اربعہ ہیں اورہمارے لئے قول مجتہد صرف ایسی ہی جگہ علمائے کرام حکم بالجزم لکھتے ہیں اس کے سوا اگر کسی عالم غیر مجتہد نے کسی امر کی بحث کی تو ہر گز اس مسئلے کو یونہی نہیں لکھ جاتے کہ حکم یہ ہے بلکہ صراحۃ بتاتے ہیں کہ یہ فلاں یا بعض کی بحث ہے تاکہ منقول فی المذہب نہ معلوم ہو اور جس کا خیال ہے اسی کے ذمہ رہے ول حار ھا من تولی قارھا ( معاملہ کے گرم حال کو بھی اس کے سپرد کردو جو سرد حال کا مالك ہے یعنی اچھا پہلو جس کے سپرد کیاہے برا پہلو بھی اسی کے سپرد کردویا جو نفع اٹھاتا رہا وہی بوجھ اور نقصان بھی اٹھائے ۔ اہل عرب کے نزدیك گرم چیز بری اور ٹھنڈی چیز اچھی سمجھی جاتی ہے ۔ حار العمل سخت اور کٹھن کام اور قار العمل آسان کام ۔ ت) اگراحیانا کوئی اسے بطور جزم لکھ جاتا ہے تو اس پر گرفت ہوتی ہے کہ ساقہا مساق المنقول فی المذھب یہ اس مسئلے کو ایسا لکھ گیا گویا مذہب میں منقول ہے خود اسی ردالمحتار وغیرہ کے مواضع عدیدہ سے نظر کرنے والوں کو یہ بیان عیاں ہوجائے گا یہاں بھی علامہ شامی نے وہی طریق برتا یہ نہ فرمایا کہ نزول وصعود ممنوع یا بدعت شنیعہ ہے بلکہ ابن حجر شافعی کا کلام نقل فرمادیا کہ ماخذ مسئلہ متمیزر ہے منقول فی الذہب ہونا درکنار اپنے کسی عالم مذہب کا مذکور نہ سمجھا جائے وہی تحفظ امام ابن حجر رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے ملحوظ رکھا مسئلے کاحکم خود نہ لکھا جس سے جزم مفہوم ہو بلکہ فرمایا بحث بعضعھم بعض نے یوں بحث کی ہے بحث وہیں کہیں گے جہاں مسئلہ نہ منقول ہو نہ صراحۃ کسی کلیہ نامخصوصہ مذہب کے
حوالہ / References &القرآن €٢ / ٨٠
#11245 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
تحت میں داخل ہو کہ ایسے کلیات سے استناد بحث ونظر پر موقوف نہیں مثلا سوال کیا جائے کہ ایك لڑکے نے چھ مہینے پانچ دن چار گھڑی تین منٹ کی عمر میں ایك عورت کا دودھ پیا اس کی دختر اس پر حرام ہوئی یا نہیں جواب ہوگا کہ حرام یہ صورت خاصہ اگر چہ اصلا کسی کتاب میں منقول نہیں مگر اسے ہرگز بحث فلاں نہ کہا جائے گا کہ کتب مذہب میں اس کلیہ عامہ کی تصریح ہے کہ مدت رضاعت کے اندر جو ارتضاع ہو موجب تحریم ہے تو ثابت ہوا کہ علامہ شامی یا امام ابن حجراسے کسی کلیہ مذہب کے نیچے بھی صراحۃ داخل ہو نا نہیں مانتے ورنہ یہ قال ابن حجر و بحث بعضھم ( ابن حجر نے کہا اور اس میں بعض نے بحث کی ہے ۔ ت) پر اکتفا نہ کرتے پھر بعضھم(کم از کم ۔ ت)کے لفظ نے اور بھی اشعار کیا کہ یہ خیال صرف بعض کا ہے اکثر علماء اس کے مخالف ہیں لااقل ان کی موافقت ثابت نہیں خود علامہ شامی نے اسی ردالمحتار میں اس اشارہ واشعار کی جابجا تصریح کی درمختار میں نظم الفرائد سے نقل کیا : ع
واعتاقہ بعض الائمۃ ینکر
( بعض ائمہ کا اسے آزاد اقراردینا ناپسند ہے ۔ ت)
اس پر علامہ شامی نے اعتراض فرمایا ہے :
مفھوم قول بعض الائمۃ ینکر انہ یجوزہ اکثرھم ولم ینقل ذلك الخ
قولہ “ بعض الائمۃ ینکر “ کا مطلب یہ ہے کہ اکثر نے اس نے اسے جائز قرار دیا ہے الخ (ت)
بلکہ تصریح فرمائی کہ ایسی تعبیر اس قول کی بے اعتمادی پر دلیل ہوتی ہے درمختار کتاب الغصب میں تھا :
اختار بعضھم الفتوی علی قول الکرخی فی زماننا ۔
ہمارے زمانے میں بعض نے امام کرخی کے قول پرفتوی دیا ہے۔ (ت)
شامی نے کہا :
ھذامن کلام الزیلعی اتی بہ لاشعار ھذا التعبیر بعدم اعتمادہ (ملخصا)
یہ امام زیلعی کا کلام ہے ان کی یہ تعبیر واضح کررہی ہے کہ یہ معتمد نہیں ( ملخصا) ۔ (ت)

ردالمحتار فصل صفۃ الصلوۃ میں تھا :
حوالہ / References &درمختار کتاب الصید€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۲۶۴
&ردالمحتار کتاب الصید€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵ / ۳۳۹
&درمختار کتاب الغصب€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۲۰۶
&ردالمحتار کتاب الغصب€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵ / ۱۳۳
#11246 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
لوبقی حرف اوکلمۃ فاتمہ حال الانحناء لاباس بہ عند البعض منیۃ المصلی ۔
اگر ایك حرف یا کلمہ رہ گیا تھا جو نماز میں جھکنے کی حالت میں پوراگیا تو بعض کے نزدیك اس میں کوئی حرج نہیں منیۃ المصلی ۔ (ت)
شامی نے لکھا :
قولہ لاباس بہ عند البعض اشار بھذا الی ان ھذا القول خلاف العتمد الخ
قولہ “ بعض کے نزدیك کوئی حرج نہیں “ اس بات کی طرف اشارہ کررہا ہے کہ یہ قول معتمد کے خلاف ہے الخ (ت)
اس تقریر منیر سے بحمد اﷲ تعالی روشن ہوگیا کہ علامہ شامی خواہ امام ابن حجر کی تحریر اس دعوے جزم بحکم عدم جواز کے اصلا مساعد نہیں بلکہ ہے تومخالف ہے اب رہی بعض کی بحث
اقول : اولا وہ بعض مجہول ہیں اور مجہول الحال کی بحث مجہول الماخذ کیا قابل استناد بھی نہیں اسی ردالمحتار کتا ب النکاح باب الولی میں ہے :
قول المعراج رأیت فی موضع الخ لایکفی فی النفل لجہالتہ ۔
صاحب معراج کا قول کہ میں نے کسی جگہ پڑھا ہے الخ ان کے عدم علم کی وجہ سے نقل کے لئے کافی نہیں ۔ (ت)
ثانیا محتمل بلکہ ظاہر کہ وہ بعض ائمہ مجتہدین سے نہیں اور مقلدین صرف کہ کسی طبقہ اجتہاد میں نہ ہوں نہ خود اپنی بحث پر حکم لگا سکتے ہیں نہ دوسرے پر ان کی بحث حجت ہو سکتی ہے والا لکان تقلید مقلد وھو باطل اجماعا ( ورنہ یہ مقلد کی تقلید ہوجائے گی اور وہ بالاتفاق باطل ہے ۔ (ت)
ثالثا اس پر کوئی دلیل ظاہر نہیں اگر کہیے حادث ہے اقول مجرد حدوث اصلا نہ شرعا دلیل منع نہ اس کی حجیت علامہ شامی نہ امام ابن حجر نہ ان بعض کسی کو تسلیم ردالمحتار میں ہے :
صاحب بدعۃ ای محرمۃ والا فقد تکون
صاحب بدعت محرمہ ہوگاورنہ کبھی بدعت واجبہ
حوالہ / References &درمختار واذا اراد الشروع فی الصلٰوۃ €مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٧٥
&ردالمحتار واذا اراد الشروع فی الصلٰوۃ €مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٣٢٤
&رد المحتار کتاب النکاح € ، &باب الولی €مطبوعہ مصطفی البابی مصر ٢ / ٣٩
#11247 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
واجبۃ کنصب الادلۃ للردعلی اھل الفرق الضالۃ وتعلم لنحو المفھم للکتاب والسنۃ ومندوبۃ کاحداث نحو رباط ومدرسۃ و کل احسان لم یکن فی الصدر الاول ومکروہۃ کزخرفۃ المساجد ومباحۃ کالتوسع بلذیذ المأکل والمشارب الصیاد کمافی شرح جامع الصغیر للمناوی عن تھذیب النوی ومثلہ فی الطریقۃ المحمدیۃ للبرکوی ا ۔
ہوتی ہے جیسے کہ گمراہ فرقوں کی گمراہی کا ردکرنے کے لئے دلائل قائم کرنا اور علم نحو کا سیکھنا جو کتاب وسنت کی تفہیم کے لئے ضروری ہے اور کبھی مستحب ہوگی جیسے کہ سرائے اور مدرسہ اور ہر نیکی کا کام جوپہلے دور میں نہ تھا اور کبھی مکروہ ہوگی جیسے مساجد کو مزین کرنا اور مباح ہوگی جیسے کھانے پینے اور لباس میں وسعت اختیار کرنا جیساکہ امام مناوی نے شرح جامع صغیر میں تہذیب نوی سے بیان کیا اور برکوی کی طریقہ محمدیہ میں بھی اسی طرح ہے۔ (ت)
امام ابن حجر فتح المبین میں فرماتے ہیں :
الحاصل ان البدعۃ الحسنۃ متفق علی ندبھا وعمل المولد واجتماع الناس لہ کذلك ۔
حاصل یہ ہے کہ بدعت حسنہ کے مندوب ہونے پر اہل علم کا اتفاق ہے میلاد شریف کرنا اور اس کے لئے لوگوں کا اجتماع بھی بدعت حسنہ ہی ہے ۔ (ت)
خود اسی قول میں بدعت کو قبیحہ شنیعہ سے مقید کرنا مشعر ہے کہ نفس بدعیت مستلزم قبیح وشناعت نہیں معہذایوں تووہ محل جس پر یہ نزول وصعود ہوتا ہے یعنی ذکر سلاطین خودہی بدعت تھا تو اس نزول وصعود کے ساتھ تخصیص کلام کی وجہ نہ تھی اسی ردالمحتار میں بعدنقل عبارت جامع الرموز :
ثم یدعو لسلطان الزمان بالعدل والاحسان متجنبا فی مدحہ عما قالوا انہ کفر وخسران کما فی الترغیب وغیرہ اھ۔
پھر بادشاہ وقت کےلئے یہ دعا کی جائے کہ اﷲ تعالی اسے عدل واحسان کی توفیق دے لیکن بادشاہ کی مدح سرائی سے اجتناب کرے کیونکہ علماء نے کہا ہے کہ ایسا کرنا کفر اور خسارہ ہے جیسا کہ ترغیب وغیرہ میں ہے(ت)
فرمایا :
اشارالشارح بقولہ وجوز الی حمل قولہ
شارح نے “ یہ جائز ہے “ کہہ کر اس طرف اشارہ
حوالہ / References &ردالمحتار باب الامامۃ مطلب البدعۃ خمسۃ اقسام€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۴
&فتح المبین€
&ردالمحتار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۹۹
#11248 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
ثم ید عوعلی الجواز لاالندب لانہ حکم شرعی لابدلہ من دلیل وقد قال فی البحر انہ لا یستحب لماروی عن عطاء رضی اﷲ تعالی عنہ حین سئل عن ذلك فقال انہ محدث وانماکانت الخطبۃ تذکیر اھ ولامانع من استحبابہ فیھا کما یدعی لعموم المسلمین فان فی صلاحہ صلاح العالم وما فی البحر من انہ محدث لاینافیہ فان سلطان ھذا الزمان احوج الی الدعاء لہ ولامراءہ بالصلاح والنصر علی الاعداء وقد تکون البدعۃ واجبۃ اومندوبۃ اھ مختصرا۔
کیا ہے کہ “ پھر دعا کرے “ کے الفاظ جواز پر محمول ہیں ندب پر نہیں کیونکہ ندب حکم شرعی ہے اس کے لئے دلیل کا ہونا ضروری ہے اور بحر میں ہے کہ یہ مستحب نہیں کیونکہ حضرت عطاء رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ جب آپ سے اس بارے میں پوچھا گیا توفرمایا یہ نئی ایجاد ہے اور خطبہ تو محض نصیحت کے لئے ہوتا ہے اھ تو خطبہ میں سلطان کےلئے دعا کرنا مستحب ہونے میں کوئی امر مانع نہیں جیسے کہ تمام مسلمانوں کے لئے اس میں دعا کی جاتی ہے کیونکہ سلطان کی اصلاح تمام جہاں کی اصلاح ہوتی ہے اور جو بحر میں ہے کہ یہ نئی چیز ہے وہ اس کے منافی نہیں کیونکہ اس دور میں بادشاہ اور اس کے رفقاء اس دعا کے زیادہ محتاج ہیں کہ ان کی اصلاح ہو اور وہ دشمن پر غالب آئے اور بعض اوقات بدعت واجب یا مندوب ہوتی ہے اھ مختصرا (ت)
اگر کہئے زیادت علی السنۃ ہے اقول : یوں تو ذکر سلاطین بلکہ ذکر عمین کریمین وبتول زہرا و ریحانتین مصطفی وستہ باقیہ من العشرۃ المبشرۃ بلکہ ذکر خلفائے اربعہ بھی صلی اﷲتعالی علی الحبیب وعلیہم جمیعا وبارك وسلم سب سے زیادہ علی سنۃ المصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ٹھہریں گے زیادہ علی السنۃ وہ مکروہ ہے کہ باعتقاد سنت ہو ورنہ باعتقاد اباحت یاندب زیادت نہیں ۔ درمختار بیان سنن الوضوءمیں ہے :
لوزاد لطمانینۃ القلب اولقصدالوضوء علی الوضوء لاباس بہ وحدیث فقدتعدی محمول علی الاعتقاد ۔
اگر کسی نے (تین سے) زائد باراعضاء کو دھویا اور مقصد اطمینان قلب یا وضو پر وضو تھا تو اس میں کوئی حرج نہیں باقی فرمان نبوی “ ایسا کرنے والے نے زیادتی کی “ اعتقاد ( کہ اس کے بغیر وضو نہیں ہوتا ) پر محمول ہے ۔ (ت)
حوالہ / References &ردالمحتار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۹۹
&درمختار کتاب الطہارۃ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ۲۲
#11249 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
اسی ردالمحتار میں بدائع امام ملك العلماء سے ہے :
الصحیح انہ محمول علی الاعتقاد دون نفس الفعل حتی لو زاد او نقص واعتقد ان الثلاث سنۃ لایلحقہ الوعید ۔
صحیح یہ ہے کہ یہ اعتقاد پر محمول ہے نفس فعل پر نہیں حتی کہ اگر کسی نے اضافہ کیا یا کمی کی مگر عقیدہ یہ تھا کہ سنت تین دفعہ ہی ہے تو اسے وعید لاحق نہ ہوگی ۔ (ت)
خود علامہ شامی فرماتے ہیں :
اقول قد تقدم ان المنھی عنہ فی حدیث قدتعدی محمول علی الاعتقاد عندنا کما صرح بہ فی الھدایۃ وغیرہ وقال فی البدائع انہ الصحیح حتی لوزاد اونقص واعتقدان الثلاث سنۃ لایلحقۃ الوعید ( الی ان قال) ان من اسرف فی الوضوء بماء النھر مثلا مع عدم اعتقاد سنۃ ذلك نظیر من ملاء اناء من النھر ثم افرغہ فیہ ولیس فی ذلك محذور سوی انہ عبث لا فائدۃ فیہ وھو فی الوضوء زائد علی المامور بہ فلذاسمی فی الحدیث اسرافا قال فی القاموس الاسراف التبذیر اوما انفق فی غیر طاعۃ ولا یلزم من کونہ زائداعلی المامور بہ وغیر طاعۃ ان یکون حراما نعم اذا اعتقد سنیتہ یکون قد تعدی وظلم لا عتقادہ مالیس بقریۃ قربۃ فاذاحمل علماؤنا النھی علی ذلك ۔
میں کہتا ہوں کہ پہلے گزرا کہ ہمارے نزدیك فرمان نبوی “ اس نے زیادتی کی “ میں ممنوع اعتقاد ہے جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں تصریح ہے اور بدائع میں ہے کہ صحیح یہ ہے کہ اگر کسی نے اضافہ کیا یا کمی کی اور اعتقاد یہ رکھا کہ سنت تین دفعہ ہی ہے تو وہ گنہگار نہ ہوگا ( اگے چل کر کہا کہ) وہ شخص جو نہر کے پانی میں وضو کرتے ہوئے اسراف کرتاہے لیکن اس کے سخت ہونے کا اعتقادنہیں کرتا لیکن اس کے سنت ہونے کا اعتقاد نہیں رکھتا یہ اس شخص کی طرح ہے جس نے نہر سے برتن بھرا پھر اس میں واپس ڈال دیا تو اس میں کوئی قباحت نہیں سوائے اس کے یہ عمل عبث ہے اس میں کوئی فائدہ نہیں اور یہ مامور بہ وضو میں زائد شیئ ہے پس اسی لئے حدیث میں ایسے کو اسراف کا نام دیا گیا ہے۔ قاموس میں ہے اسراف فضول خرچی یا ایسی جگہ خرچ کرنا ہے جو مقام طاعت کے علاوہ ہو مامور بہ سے زائد یا مقام طاعت کے علاوہ خرچ کرنے سے اس کا حرام ہونا لازم نہیں آتا البتہ
حوالہ / References &ردالمحتار کتاب الطہارۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۸۹
&ردالمحتار کتاب الطہارۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۹۸
#11250 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
اگر کہئے اس میں اندیشہ ہے کہ عوام سنت سمجھ لیں گے
اقول : اولا وہی نقوض ہیں کہ یہ نفس اذکار بھی سنت نہیں تو اندیشہ یہاں بھی حاصل ۔ اور تحقیق یہ ہے کہ اندیشہ مذکورہ نہ فعل کو بدعت قبیحہ شنیعہ کردیتا ہے نہ اس کے ترك کو واجب بلکہ جہاں اندیشہ ہو صرف اتنا چاہئے کہ علماء کبھی کبھی اسے بھی ترك کردیں تاکہ عوام سنت نہ سمجھ لیں اسے ناجائز وبدعت قبیحہ ہونے سے کیا علاقہ ! فقیر غفرالمولی القدیر نے اپنی کتاب رشاقۃ الکلام حاشیۃ اذاقۃ الاثام میں اس کی بکثرت تصریحات ائمہ دین علمائے معتمدین حنفیہ وشافعیہ ومالکیہ رحمۃ اﷲ علیھم اجمعین سے نقل کیں اسی ردالمحتار میں فتح القدیر سے ہے :
مقتضی الدلیل عدم المداومۃ لاالمداومۃ علی الترك فان لزوم الایھام ینتفی بالترك احیانا اھ اختصار
دلیل کا تقاضا عدم مداومت ہے نہ کہ ترك پر مداومت کیونکہ کبھی کبھار ترك سے لازم و واجب ہونے کی نفی ہوجاتی ہے اھ باختصار (ت)
اب نہ رہا مگر ادعائے عبث کہ اس میں کوئی فائدہ نہیں اور عبث ہر جگہ مکروہ ہے نہ کہ خود عبادت میں ۔ اس کا جواب الف ثانی کے مکتوبات سے فاضل مجیب دوم سلمہ نے بروجہ کافی نقل کردیا جس سے اس کی مصلحت ظاہر ہوگئی اور توہم عبث زائل ہولیا۔
وانا اقول : وباﷲ التوفیق ( اور میں اﷲ تعالی کی توفیق سے کہتا ہوں ۔ ت) جن اعصار وامصار میں بعض نے یہ بحث کی وہاں اس فعل پر ایك نکتہ جمیلہ ودقیقہ جلیلہ اصول شرعی سے ناشیئ ہوسکتا ہے جس سے یہ فعل شرعا نہایت مفید ومہم قرار پاتا اور بحث باحث کا اصلا پتا نہیں رہتا ہے خطبے میں ذکر سلاطین اگر چہ محدث ہے مگر شعار سلطنت قرار پاچکا یہاں تك کہ کسی ملك میں کسی کی سلطنت ہونے کو یوں تعبیر کرتے ہیں کہ وہاں اس کا سکہ وخطبہ جاری ہے سلطنت اسلامی میں اگر خطیب ذکر سلطان ترك کرے مورد عتاب ہوگا مصر ہو تو گویا باغی اور سلطنت کامنکر ٹھہرے گا اور ایسی حالت میں مباح بلکہ مکروہ بھی بقدر اندیشہ فتنہ موکد بلکہ واجب تك مترقی ہوتا ہے اسی ردالمحتارمیں اسی مسئلہ ذکر سلطان میں ہے :
وایضا فان الدعاء للسلطان علی المنابر قد صار الان من شعار السلطنۃ فمن ترکہ یخشی علیہ ولذا قال بعض العلماء لوقیل ان الدعاء لہ واجب لما فی ترکہ
سلطان کے لئے منبر پر دعاکرنا بھی اب سلطنت کے شعار میں سے ہوگیا ہے جو اسے ترك کرے گا اس پر نقصان کا خدشہ ہے اس لئے بعض علماء نے فرمایا کہ اس میں کوئی بعد نہیں اگر یہ کہہ دیا جائے
#11251 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
من الفتۃ غالبا لم یبعد کما قیل بہ فی قیام الناس بعضھم لبعض ۔
کہ سلطان کے لئے دعا کرنا واجب ہے کیونکہ اس کے ترك پر غالبا فتنہ اٹھنے کا اندیشہ ہوتا ہے جیسا کہ بعض لوگوں کے بعض کے لئے قیام کے بارے میں کہا گیا ہے۔ (ت)
اور شك نہیں کہ صدہا سال سے اکثر سلاطین زماں فساق ہیں اس کا فسق اور کچھ نہ ہو تو حدود شرعیہ یك لخت اٹھا دینا اور خلاف شریعت مطہرہ طرح طرح کے ٹیکس اور جرمانے لگانا کیا تھوڑا ہے اسی ردالمحتارآخر کتاب الاشربہ میں سیدی عارف باﷲ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی سے ہے :
قد قالوا من قال سلطان زماننا عادل کفر ۔
علماء نے فرمایا جو ہمارے دور کے سلطان کو عادل کہے گا وہ کافر ہے ۔ (ت)
اورشك نہیں کہ جس طرح وہ خطبہ میں اپنا نام نہ لانے پر ناراض ہوں گے یوں ہی اگر نام بے کلمات مدح وتعظیم لایا جائے تو اس سے زیادہ موجب افروختگی ہوگا اور فاسق کی مدح شرعا حرام ہے حدیث میں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اذا مدح الفاسق غضب الرب واھتزلہ العرش ۔ رواہ ابن ابی الدنیا فی ذم الغیبۃ وابویعلی فی مسندہ و البیھقی فی شعب الایمان عن انس بن مالك وابن عدی فی الکامل عن ابی ھریرۃ رضی اﷲتعالی عنہما۔
جب فاسق کی مدح کی جاتی ہے رب عزوجل غضب فرماتا ہے اور اس کے سبب عرش الہی ہل جاتا ہے اسے امام ابن ابی الدنیا نے ذم الغیبۃ ابویعلی نے مسند اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے اورا بن عدی نے الکامل میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔
خطباء جب کہ مجبورا نہ اس میں مبتلا ہوئے ان بندگان خدا نے چاہا کہ اس ذکر کو خطبے سے علیحدہ بھی کردیں کہ نفس عبادت اسی امر پر مشتمل ہے اور بالکل خطبے سے جدائی بھی نہ معلوم ہو کہ اتش فتنہ مشتعل نہ رہے اس
حوالہ / References &ردالمحتار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۹۹
&ردالمحتار کتاب الاشربہ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵ / ۳۲۷
&شعب الایمان حدیث€ ٤٨٨٦ &باب فی حفظ اللسان€ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۴ / ۲۳۰
#11252 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
کے لئے اگر یوں کرتے کہ خطبہ پڑھتے پڑھتے کچھ دیر خاموش رہتے اس کے بعدذکر سلاطین کرکے بقیہ تمام کرتے تو یہ ہرگز کافی نہ تھا کہ مجلس واحدرہی اور مجلس واحد حسب تصریح کا فہ ائمہ جامع کلمات ہوتی ہے جو کچھ ایك مجلس میں کہا گیا گویا سب الفاظ دفعۃ واحدۃ معا صادر ہوئے۔
وعن ھذایتم ارتباط الایجاب بالقبول اذا لحقۃ فی المجلس والا فی الایجاب انما کان لفظاصدر فعدم والقبول کم یوجد بعد و اذا وجد لم یکن الایجاب موجودا و الموجود لایرتبط بالمعدوم کما افادہ فی الھدایۃ وغیرھا۔
اور اس سے ایجاب کا قبول سے ربط تمام ہوگا بشرطیکہ وہ مجلس کے اندر ہی ہو ورنہ جب ایجاب لفظا صادر ہوا اور ابھی تك قبول معرض وجود میں نہیں آیا اور جب وہ معرض وجود میں آیا تو ایجاب نہ تھا اور موجود کسی معدوم سے مرتبط نہیں ہوسکتا ہدایہ وغیرہ میں ایسے ہی تحریر ہے (ت)
لہذا یہ تدبیر نکالی کہ اس ذکر کے لئے زینہ زیریں تك اتر ائیں اور بقدر امکان مجلس بدل دیں کہ خطبہ پڑھتے پڑھتے نیچے اترنا شرعا اس کے قطع ہی کے لئے معہود ہے تو عموما اجنبی خصوصا بہ نیت قطع تبدل مجلس و انفصال ذکر کا باعث ہوگا جس طرح تلاوت آیت سجدہ میں ایك شاخ سے دوسری پر جانے کو علماء نے تبدیل مجلس گنا ہے اسی ردالمحتار میں ہے :
لعل وجہہ ان الانتقال من غصن الی غصن و التسدیۃ ونحوذلك اعمال اجنبیۃ کثیرۃ یختلف بھا المجلس حکما کا لکلام والا کل الکثیرلما مر من ان لمجلس اوالبیت یختلف حکما بمباشرۃ عمل یعد فی العرف قطعا لما قبلہ ولاشك ان ھذہ الافعال کذلك وان کانت فی المسجد اوالبیت بل یختلف بھا حقیقۃ لان المسجد مکان واحد حکما وبھذہ الافعال المشتملۃ علی الانتقال یختلف
شاید وجہ یہ ہے کہ ایك شاخ سے دوسری شاخ کی طرف منتقل ہونا اور کپڑا بنانے کے لئے تانا لگانا اعمال اجنبی اور کثیرہیں جن کی وجہ سے مجلس حکما مختلف ہوجاتی ہے جیسے کثیر کلام اور طعام سے مجلس بدل جاتی ہے جیساکہ پیچھے گزرا کہ مجلس اور گھر ہر ایسے کام سے حکما تبدیل ہوجاتے ہیں جنھیں عرف میں ماقبل کام کو ختم کرنے والا کہا جاتا ہو اور ان افعال کے ایسا ہونے میں شك ہی نہیں اگر چہ یہ مسجد یا گھر میں سرزد ہوں بلکہ ان میں حقیقۃ تبدیلی آجائے گی کیونکہ مسجد حکما ایك جگہ کی طرح ہوتی ہے
#11253 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
حقیقۃ بخلاف الاکل فان الاختلاف فیہ حکمی ۔
اور ان افعال جو انتقال پرمشتمل ہیں کی وجہ سے حکما مختلف ہوجائے گی بخلاف کھانے کے کیونکہ اس میں اختلاف حکما ہوگا۔ (ت)
اس میں اس قدر ہوگا کہ بیچ میں خطبہ قطع کرنا ہوا اس محظور کے دفعہ کو اس میں کیا محذور جب خود حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے صحیح حدیث شاہزادوں کے لینے کے لئے خطبہ قطع فرماکر نیچے اترنا پھراوپر تشریف لے جانا ثابت تو بعضہم کی بحث اصلا متجر نہ تھی۔ غرض نقل مذکور میں مدعی عدم جواز کے لئے کوئی محل احتجاج نہیں جہاں صورت یہ ہو جو فقیر نے ذکر کی وہاں اس نزول وصعود سے یہی نیت کریں اور جب ذکر ومدح سلطان ترك نہ کرسکیں اس مصلح کے ترك کی کوئی وجہ نہیں اور جہاں ایسا نہ ہو جیسا ہمارے بلاد میں وہاں مدح میں الفاظ باطلہ ومخالفہ شرع ذکر کرنا خود حرام خالص ہے خصوصا کذب وشنائع کو عبادت میں ملانا تو اس کےلئے یہ نزول عذر نہیں ہوسکتا اور جب مخالفات شرع سے پاك تو بہ نیت اظہار مراتب جس طرح شیخ مجدد رحمہ اﷲتعالی کے مکتوبات میں ہے : نزول وصعود ایك وجہ موجہ رکھتا ہے اس صورت میں اس پر نکیر لازم نہیں ہاں عوام سے اندیشہ اعتقاد سنیت کے سبب علماء کو مناسب کہ گاہ گاہ اس نزول صعود ببلکہ خود ذکر سلطان اعز اﷲ نصرہ کو بھی ترك کریں ورنہ دعائے سلطان اسلام محبوب ومندوب ہے اور اس نیت کے لئے نزول وصعود میں بھی حرج نہیں اور بے دلیل شرعی مسلمانوں پر الزام گناہ وارتکاب بدعت شنیعہ باطل مبین پس احق بالقبول حکم مجیب ثانی ہے ھذا ماظھر لی ( یہ مجھ پر واضح ہوا ہے ۔ ت) واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ : از ڈاك خانہ مہر گنج چڑنکی ضلع بریسال مکان منشی عبدالکریم مرسلہ محمدحسین صاحب ۱۷جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
یك فریق اسمہ دودمیاں متواطن فورید فوری اندصلوۃ جمعہ را بملك بنگالہ بلکہ ہند را حرام گویند چراینجا شہریست بمصداق قول امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہ وینفذ الاحکام ویقیم الحدودایں تعریف نیست مگر اجرت تسبیح وتہلیل وغیر ذلك اخذمی کند ویك جماعت صلوۃ جمعہ رامی خوانند وایں دیار را
ایك فریق جو فورید فوری میں رہائش پذیر ہیں ان کو دودمیاں کہا جاتا ہے ان کے نزدیك بنگالہ بلکہ تمام ہندوستان میں جمعہ حرام ہے کیونکہ یہاں جو شہر ہیں امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہ کے قول کہ (وہاں حاکم احکام نافذ کرے اور حدود جاری کرے)کی تعریف پر پورے نہیں اترتے حالانکہ
حوالہ / References &ردالمحتار باب سجود التلاوۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٧٤
#11254 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
شہر گویند بمطابق قول صاحبین وہو قول البعض وہوموضع اذا اجمتع اہلہ فی اکبر مساجدہ لم یسعھم فہو مصر بمصداق ایں کہ ملك بنگالہ وہند را شہر بگویند ونماز مذکور درو ادامی کنند مگر اجرت تسبیح تہلیل را حرام گویند وایں گو یندبمطابق قول امام اعظم حرام است و نزد صاحبین جائزست مگر قول متقدمین را اتباع می کنم ومتاخرین درپائے نشدم علی ہذا القیاس ایں ہرجماعت تنازع می کنند۔
وہ تسبیح وتہلیل پر اجرت لیتے ہیں ایك جماعت________ جمعہ ادا کرتی ہے اور اس علاقہ کو صاحبین کے قول کے مطابق شہر قرار دیتی ہے اور بعض کا قول ہے کہ شہر کی اس تعریف “ ہر جگہ جس کی سب سے بڑی مسجد میں وہاں کے تمام لوگ جمع ہوں تو وہ ان کی گنجائش نہ رکھتی ہو “ کے مطابق ملك بنگالہ اور تمام ہندوستان کو شہر کہتے ہیں اور نماز ادا کرتے ہیں تسبیح و تہلیل پر اجرت حرام کہتے ہیں کہ امام اعظم کے قول کے مطابق حرام اور صاحبین کے نزدیك جائز ہے مگرمیں مقتدمین کے قول کی اتباع کرونگا نہ کہ متاخرین کی علی ہذالقیاس یہ دونوں جماعتیں آپس میں تنازع کررہی ہیں ۔ (ت)

الجواب :
آنکہ گویند المصر مالا یسع اکبر مساجدہ اھلہ نہ مذہب امام ست نہ قول صاحبین بلکہ روایت نادرہ مرجوحہ است و حاجت باونیست امصار دیار ہند وبنگالہ بلا شبہہ شہر ہائے دارالاسلام ست و جمعہ در انہا فرض وترك اومعصیت شدیدہ و انکار او ضلالت بعیدہ درمذہب امام وسائر ائمہ مامصر آنست کہ کوچہاوبازار ہائے دائمہ داشتہ باشد ومرا ورا روستاہا باشد چنانکہ اورا در اصلاح حال ضلع یا پرگنہ خوانند ودر و حاکمے باشد کہ بہ حشمت و سطوت خود دا دستم زدہ از ستمگراں تواں گرفت اگر چہ نہ گیرد ہمین ست معنی ینفذا لاحکام ویقیم الحدود الا ازہند و بنگالہ چہ گوئی خود حرمین محترمین بیز از مصریت خارج شوند واقامت جمعہ انجا
یہ جو شہر کی تعریف کررہے ہیں کہ وہ مقام جس کی سب سے بڑی مسجد وہاں کے لوگوں کے لئے گنجائش و وسعت نہ رکھتی ہو یہ مذہب امام ہے نہ صاحبین کا قول بلکہ روایت نادرہ مرجوعہ ہے اور اس کی حاجت بھی نہیں ہندوستان اور بنگالہ بلاشبہہ شہر دارالاسلام ہیں ان میں جمعہ فرض ہے اس کاترك سخت گناہ اور اس کا انکار شدید گمراہی ہے امام اعظم اورباقی ائمہ کے ہاں شہر وہ ہوتا ہے جس کے کوچے ہوں اور دائمی بازار ہوں اور اس کے لئے دیہات ہوں جنھیں موجودہ اصطلاح میں ضلع یا پرگنہ کہا جاتا ہے اور وہاں کوئی نہ کوئی ایسا حاکم ہو جو اتنے اختیارات رکھتا ہو کہ مظلوم کو ظالم سے انصاف دلاسکے اگر چہ وہ عملا ایسا نہ کررہا ہو “ وہ احکام کو نافذ کرسکے اور
#11255 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
حدود قائم کرسکے “ کایہی معنی ہے ورنہ ہند اور بنگلہ کی کیا بات ہوئی خود حر مین شریفین بھی شہر کی تعریف سے خارج ہوجائیں گے اور وہاں جمعہ حرام ہوگا کیونکہ حدود کا قیام صدیوں سے ختم اور بند ہوگیا ہے اور تسبیح و تہلیل پر اجرت لینا جائز نہیں کیونکہ کرایہ واجرت امور مباحہ میں ہوتی ہے نہ کہ امور طاعت ومعصیت میں جیساکہ ابن عابدین شامی ردالمحتار عقود الدریۃ اور شفاء العلیل میں اس کی تحقیق کی ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
حرام زیراکہ حدود ازصدہا سال مفقود مسدود شدہ است وبر تسبیح وتہلیل اجرت خواند گرفتن روا نیست اجارہ در امور مباحہ باشد نہ درطاعت ومعصیت کما حققہ المولی بن عابدین الشامی فی ردالمحتار والعقود الدریۃ وشفاء العلیل واﷲ تعالی اعلم۔

مسئلہ : از کلکتہ دھرم تلہ اسٹریٹ مرسلہ مولوی عبدالمطلب صاحب ۳جمادی الآخرہ ۱۳۳۶ھ
حامدا ومصلیا ماقولکم ایھا العلماء الکرام من الاحناف العظام فی ھذہ المسئلۃ ان صلوۃ الجمعۃ واجبۃ علی اھل القری ام لا بینوابجواب شاف توجروا بثواب واف۔
اﷲ تعالی کی حمد اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں سلام عرض کرتے ہوئے حنفی علماء کرام کا اس مسئلہ میں کیا فرمان ہے کہ اہل دیہات پر جمعہ لازم ہے یا نہیں جواب کافی سے نواز رثواب کامل حاصل کریں ۔ (ت)
الجواب :
الجمعۃ علی اھل القری لیست بواجبۃ لقولہ علیہ الصلوۃ ف والسلام لا جمعۃ ولاتشریق ولا صلوۃ فطر ولااضحی الا فی مصر جامع اوفی مدینۃ عظیمۃ ۔ وفی فتح القدیر ان قولہ تعالی
فاسعوا الى ذكر الله لیس علی اطلاقہ اتفاقا بین الامۃ اذلا یجوز اقامتھا فی البراری اجماعا ولا فی کل قریۃ عندہ فکان خصوص المکان مرادا
جمعہ اہل دیہات پر لازم نہیں کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے : جمعہ تکبیرات تشریق عید الفطر عید الاضحی کی نماز صرف جامع شہر یا بہت بڑے شہر میں ہی ہوسکتی ہے فتح القدیر میں ہے اﷲ تعالی کا فرمان “ پس تم اﷲ تعالی کے ذکر کی طرف بھاگو “ ائمہ کے ہاں بالاتفاق مطلق نہیں کیونکہ جمعہ کا قیام جنگلوں میں بالاتفاق جائز نہیں اورامام شافعی کے نزدیك دیہات میں جمعہ نہیں ہوسکتا تو یہاں
حوالہ / References &مصنف ابن ابی شیبہکتاب الصلٰوۃ€ مطبوعہ اداراۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ راچی ٢ / ١٠١
ف : مصنف ابن شیبہ میں یہ حدیث حضرت علی & رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ €سے موقوفاً منقول ہے ۔ نذیراحمد
#11256 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
فیھا اجماعا فقدر الشافعی القریۃ الخاصۃ وقدرنا المصر وھو اولی لحدیث علی رضی اﷲ تعالی عنہ ولو عورض بفعل غیرہ کان علی رضی اﷲ تعالی عنہ مقدما علیہ فکیف ولم یتحقق معارضۃ ماذکرنا ایاہ ولھذا لم ینقل عن الصحابۃ انھم حین فتحوا البلاد اشتغلوا بنصب المنابر و الجمع الافی الامصار دون القری ولوکان النقل ولواحادا ایضا ان الجمعۃ فرضت علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وھو بمکۃ قبل الھجرۃ کما اخرجہ الطبرانی عن ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہ فلم یکن اقامتھا من اجل الکفار فلما ھاجرالنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ومن ھاجرمعہ من اصحابہ الی المدینۃ لبث رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم فی بنی عمر وبن عوف اربعہ عشر ایام ولم یصل الجمعۃ فھذا دلیل علی عدم الجمعۃ فی القری والا لصلی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الجمعۃ ومع ان البخاری روی فی صحیحہ کان الناس یتنابون وفی روایۃ یتناولون الجمعۃ من منازلھم والعو الی فیأتون فی
بالاتفاق جگہ کہ تخصیص کرنا ہوگی امام شافعی نے دیہات کی تحقیق کی اور ہم نے شہر کی اور شہر حدیث علی رضی اللہ تعالی عنہ کی وجہ سے اولی ہے اور اس کا معاوضہ اگر دوسرے کے عمل سے ہے تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو اس پر تقدیم ہوگی اور یہ تقدیم کیوں نہ ہو کہ ہمارے مـذکور معنی کے خلاف معارضہ ثابت ہی نہیں اسی لئے صحابہ سے یہی منقول ہے کہ جب انھوں نے علاقے فتح کئے تو فقط شہروں میں جامع مسجد اور منبر بنائے نہ کہ دیہاتوں میں اور اگر وہ دیہاتوں میں بناتے تو ان کا یہ عمل منقول ہوتا خواہ کوئی ایك ہی روایت ہوتی اور یہ بھی مسلم ہے کہ جمعہ حضور علیہ السلام پر مکہ میں قبل از ہجرت فرض ہوا جیساکہ امام طبرانی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے نقل کیا ہے لیکن وہاں کفار کی وجہ سے آپ نے جمعہ قائم نہ فرمایا جب آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے مدینہ طیبہ ہجرت کی تو رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم چودہ دن تك قبیلہ بنو عمر وبن عوف کے ہاں ٹھہرے رہے مگر آپ نے وہاں جمعہ قائم نہ فرمایا یہ دلیل ہے اس پر کہ دیہات میں جمعہ نہیں ورنہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وہاں جمعہ قائم فرماتے اور باوجود یکہ امام بخاری نے صحیح روایت کیا کہ لوگ جمعہ پاتے تھے اور ایك روایت میں ہے کہ لوگ اپنے اپنے گھر اور عوالی سے جمعہ کے لئے آتے پس وہ غبار میں آتے تو انھیں غبار پہنچتی
حوالہ / References &فتح القدیر باب صلٰوۃ الجمعۃ€ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ٢ / ٢٣
&فتح القدیر باب صلٰوۃ الجمعۃ€ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ٢ / ٢٣
#11257 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
الغبار فیصیبھم الغبار والعرق ویخرج منھم العرق الحدیث وفی القدوری ولاتصح الجمعۃ الافی مصر جامع اوفی مصلی المصر ولاتجوز فی القری قال مولنا بحرالعلوم فی ارکانہ تحت قولہ تعالی یایھا الذین امنوا اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ فاسعوا الی ذکر اﷲ وذروا البیع (ای یحرم البیع ویجب السعی الی الجمعۃ بعد سماع الندأ) ثم ان البیع قد یطول الکلام فیہ فیفوت الخطبۃ اوالجمعۃ لان التجار یترکون صفقا تھم فی ھذا الزمان ولذامنع من النداء الاول فالبیع والشراء فی المصر ظاہر وقال ایضا فیہ ویکرہ للمریض وغیرہ من المعذورین ان یصلوا الظھر یوم الجمعۃ بجماعۃ والاباس بالجماعۃ للظھر للقروی لان الجمعۃ جامعۃ للجماعت فی المصر ۔ فعلم ان شرط المصر لوجوب الجمعۃ مشروع لا نہ جری التوارث من لدن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الی ھذا الان ان لایصلی الجمعۃ
اور پسینہ آتا اور قدوری میں ہے کہ جمعہ کے لئے شہر کی جامع یاشہر کی عیدگاہ کا ہونا ضروری ہے دیہاتوں میں جمعہ جائز نہیں مولنا بحرالعلوم “ ارکان الاسلام “ میں اﷲ تعالی کے اس ارشاد گرامی “ اے ایمان والو ! جب جمعہ کے دن نماز کے لئے ندادی جائے تو اﷲ کے ذکر کی طرف دوڑ کر آؤ اور بیع ترك کردو “ کے تحت لکھتے ہیں یعنی اذان کے بعد بیع حرام ہے اور جمعہ کی طرف سعی لازم ہے پھر بیع میں گفتگو طویل ہوجانے کی وجہ سے جمعہ اور خطبہ فوت ہوجاتا ہے کیونکہ ایسے وقت تاجر سودا ختم نہیں کرتے اور اسی لئے ندا اول کے وقت ہی سے اس سے منع کردیاگیا پس بیع وشراء کا شہر میں ہونا ظاہر ہے اور وہاں یہ بھی فرمایا کہ مریض اور دیگر معذور لوگوں کے لئے جمعہ کے دن جماعت کے ساتھ ظہر ادا کرنا مکروہ ہے البتہ دیہاتی لوگوں کے لئے ظہر کی جماعت میں کوئی حرج نہیں کیونکہ شہر میں جمعہ تمات جماعتوں کا جامع ہوتاہے اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ وجوب جمعہ کے لئے شہر کا شرط ہونا مشروع ہے کیونکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی ظاہری حیات سے لے آج تك یہی متوارث ہے کہ اہل دیہات جمعہ نہیں پڑھتے
حوالہ / References &صحیح البخاری با ب من این تؤتی الجمعۃ الخ€ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ١٢٣
&المختصر للقدوری باب صلٰوۃ الجمعۃ€ مطبوعہ مطبع مجیدی کانپور ص ٣٩
&رسائل الارکان فصل فی الجمعۃ€ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص١١٨
&رسائل الارکان فصل فی الجمعۃ€ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص١١٨
#11258 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
اھل البدو والقری فالعمل علی قول صاحب القدوری لازم علی المقلدین لانہ قولہ مطابق لمذہب الحنفی واتبعوہ ورجحوہ جمہور فقہاء المحققین ولم ینکرہ احد من علماء الحنفیین کما فی الدرالمختار فعلینا اتباع مارجحوہ وما صححوہ کما لو افتونا فی حی وتھم الحق احق بالاتباع والمقلد الذی یخالفہ فحکم غیر جائز کما فی الدرالمختار واما المقلد فلا ینفذ قضائہ بخلاف مذھبہ اصلا فشرط المصر لصحۃ الجمعۃ محقق عند الجمھو ر الحنفیۃ بلاانکار احدلکن البتتۃ فقال الامام الشافعی موضع فیہ بنیان غیر منتقلۃ ویکون المقیمون اربعون رجلا من اصحاب المکلفین فاذا کان کذلك لزمت الجمعۃ واختلف الروایات فی مذہبنا ففی ظاھر الروایات بلدۃ لہا امام اوقاضی یصلح الاقامۃ الحدود ۔ و فی فتح القدیر قال الامام ابوحنیفۃ المصر کل بلدۃ فیھا سكك واسواق وبھا رساتیق ووال ینصف المظلوم من الظالم وعالم یرجع الیہ
تو صاحب قدوری کے قول پر مقلدین کے لئے عمل لازم ہے کیونکہ ان کا قول مذہب حنفی کے مطابق ہے اور جمہور فقہاء محققین نے اسی کی اتباع کرتے ہوئے اسے ہی راجح قراردیا ہے اور علماء احناف میں سے کسی نے اس کا انکار نہیں کیا جیسا کہ درمختار میں ہے تو ہم پر اس کی اتباع لازم ہے جسے انھوں نے راجح کہا اور اس کی تصحیح کی جیسا کہ وہ اپنی زندگی میں اس پر ہمیں فتوی دیتے تو اسی کی اتباع کی جاتی اور حق ہی اتباع کے لائق ہےاور وہ مقلد جو اس کی مخالفت کرے اس کاحکم جائز نہیں جیسا کہ درمختا ر میں ہے بہر حال اپنے مذہب کے خلاف مقلد کی قضاء اصلا نافذ ہوگی صحت جمعہ کے لئے شہر کا شرط ہونا جمہور احناف کے ہاں ثابت ہے اور اس میں کسی کوانکار نہیں ہاں تعریف شہر میں ان کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے امام شافعی فرماتے ہیں کہ ہروہ جگہ جہاں نہ منتقل ہونے والی آبادی ہو اور وہاں چالیس مکلف آدمی مقیم ہوں تو وہاں جمعہ لازم ہوجاتاہے ہمارے مذہب میں اس بارے میں روایات مختلف ہیں ظاہرالروایت میں ہے کہ ایسا شہر ہو جس میں کوئی ایسا امام یا قاضی ہو جواقامت حدود کی طاقت رکھتا ہو فتح القدیرمیں ہے کہ امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں شہر وہ ہوگا جس میں محلے اور بازار ہوں اور ایسا والی ہو جو مظلوم کی
حوالہ / References &درمختار مقدمۃ الکتاب€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٥
&درمختار مقدمۃ الکتاب€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٥
#11259 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
من الحوادث وروایۃ عن الامام ابی یوسف المصر موضع یبلغ المقیمون فیہ عدد الایسع اکبر مساجد ایاھم فی الھدایۃ وھوا ختار البلخی وبہ افتی اکثر المشائخ لما رأوا فساد اھل الزمان والولاۃ وعنہ ایضا کل موضع فیہ یسکن عشرۃ الاف رجل و عنہ ایضا ان کل موضع لہ امیر وقاض ینفذ الاحکام ویقیم الحدود وھو اختیار الکرخی کذافی الھدایۃ وقال بعضھم ھو ان یعیش کل محترف بحرفتہ من سنۃ الی سنۃ من غیر ان یحتاج الی حرفۃ اخری وقال بعضھم ھوان یکون بحال لوقصد ھم عدو یمکنھم دفعہ وقال بعضھم ان یولد فیہ کل یوم ویموت فیہ انسان وقال بعضھم ھو ان لا یعرف عدد اھلہ الابکلفۃ ومشقۃ فمختار اکثر الفقھاء مراعۃ لضرورۃ زماننا والمفتی بہ عند جمھور المتاخرین فی تعریف المصر الروایۃ المختارۃ للبخی ای
فریاد رسی کر سکے اور ايسا عالم ہو جس کی طرف لوگ مختلف پیش آنے والے واقعات میں رجوع کرسکیں امام ابویوسف سے روایت ہے کہ شہر وہ جگہ ہے جہاں کے رہائشی اتنے ہو ں کہ وہاں کی سب سے بڑی مسجد ان کے لئے ناکافی ہو ہدایہ میں ہے یہ امام بلخی کا مختار ہے اور فساد زمانہ اور امراء کافتنہ دیکھتے ہوئے اکثر مشائخ نے اسی پرفتوی دیا اور امام ابویوسف سے یہ روایت بھی ہے کہ ہر وہ جگہ شہر ہے جہاں دس ہزار مرد مقیم ہوں یہ بھی روایت ہے کہ ہروہ مقام جہاں ایسا امیر یا قاضی ہو جواحکام کو نافذ اور اقامت حدود کا اختیار رکھتا ہو امام کرخی نے اسی کو اختیار فرمایاہدایہ بعض کی رائے یہ ہے کہ وہاں ہر صاحب صنعت سالہاسال سے اس طرح رہتاہو کہ اسے دوسری صنعت کی محتاجی نہ ہو بعض کی رائے یہ ہے کہ اگر وہاں دشمن حملہ آور ہوتو ان سے دفاع ممکن ہوبعض نے کہا کہ وہاں ہر روز کوئی نہ کوئی پیدا ہو اور کوئی نہ کوئی مرے بعض نے کہا کہ وہاں کے رہائشی لوگوں کی تعداد کا علم بغیر مشقت کے نہ ہو سکے ہمارے زمانے کی ضرورت کے پیش نظر تعریف شہر میں اکثر فقہاء کا مختار اور متاخرین کا مفتی بہ قول وہی روایت ہے جو امام بلخی کی مختار ہے وہ مقام شہر ہے جس کی سب سے
حوالہ / References &فتح القدیر باب الجمعۃ€ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٢ / ٢٤
&الہدایۃ باب الجمعۃ€ مطبوعہ مکتبہ عربیہ کراچی ١ / ١٤٨
&الہدایۃ باب الجمعۃ€ مطبوعہ مکتبہ عربیہ کراچی ١ / ١٤٨
#11260 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
مالا یسع اکبر مساجدہ اھلہ المکلفون بھا وقال ابوشجاع ھذا حسن ماقیل فیہ وفی الولوالجیہ وھو صحیح بحر وعلیہ مشی فی الوقایۃ ومتن المختار وشرحہ وقدمہ فی متن الدرر علی قول الاخر وظاہرہ ترجیحہ وایدہ صدر الشریعۃ بقولہ لظھور التوانی فی احکام الشرع لاسیما فی اقامۃ الحدود فی الامصار وکل موضع يصدق علیہ التعریف المذکور فھو مصر تجب الجمعۃ علی اھلہ والافلا تجب سواء ذلك الموضع یتعارف بلفظ القریۃ اودونھا غیر المصر فالان ھو لاحق فی حکم المصر شرعا لا عرفا لتطبیق تعریف المتاخرین وھذا احسن ومالایصدق عیہ التعریف المذکور فھو لیس بمصر شرعا وعرفا ففی لفظ القریۃ اعتبار ان شرعا بحیث ترسم بہ وبحیث لاترسم بہ ففی الاول تصح الجمعۃ وھی مدینۃ عظمۃ اوقریۃ کبیرۃ وفی الثانی لا تصح الجمعۃ وھی قریۃ صغیرۃ ومفازۃ ومثلھا کما یدل علیہ عبارۃ القھستانی وتقع فرضا فی القصبات والقری الکبیرۃ فیھا اسواق ۔ وفی البحر لاتصح فی قریۃ ولامفازۃ لقول
بڑی مسجد وہاں کے مکلف لوگوں کی گنجائش نہ رکھتی ہو شیخ ابوشجاع کہتے ہیں کہ ان تعریفات میں یہ حسن ہے ولو الجیۃ میں ہے کہ یہی صحیح ہے بحر وقایہ متن مختار اور اس کی شرح میں اسی کو اختیار کیا گیا ہے اور متن درر میں اسے ہی دوسری قول پر مقدم کیا اور ظاہرا ترجیح اسی کو ہے صدر الشریعۃ نے اپنے اس قول سے تائید کی ہے کہ کیونکہ احکام شرع خصوصا اقامت حدود میں سستی واقع ہو چکی ہے ہر وہ جگہ جس پر تعریف صادق آرہی ہو وہ شہر ہے اور وہاں کے رہنے والوں پر جمعہ لازم ہوگا اور اگرتعریف صادق نہ آئے تووہاں جمعہ نہیں ہوگاخواہ وہ قریہ کے نام سے متعارف ہو یا کسی اور نام سے تو اب وہ مقام متاخرین کی تعریف کے مطابق حکم مصر میں شرعا ہوگا نہ کہ عرفا اور یہی احسن ہے اورجس پر تعریف مذکور صادق نہ ہو وہ شرعا شہر ہے نہ عرفا لفظ قریہ میں شرعا دو۲ اعتبار ہیں ایك وہ جس کی یہ تعریف کی گئی دوسری وہ جس کی یہ تعریف نہ ہوسکے پس پہلے میں جمعہ صحیح ہے اور بڑا شہر یا قصبہ ہے اور درسرے میں جمعہ صحیح نہیں اور یہ دیہات ہے اور جنگل کا بھی یہی حکم ہے جیسا کہ اس پر قہستاتی کی عبارت دال ہے کہ قصبات اور بڑے دیہاتوں جن میں بازار ہوں جمعہ فرض ہوتا ہے اور بحر میں ہے کہ قریہ اور جنگل میں جمعہ نہیں ہوسکتا
حوالہ / References &بحرالرائق باب صلٰوۃ الجمعۃ€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ١٤٠
&شرح الوقایۃ باب الجمعۃ€ مطبوعہ المکتبہ الرشید یہ دہلی ١ / ٢٤٠
&جامع الرموز فصل صلٰوۃ الجمعۃ€ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ١ / ٢٦١
#11261 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
علی رضی اﷲ تعالی عنہ لا جمعۃ ولا تشریق ولاصلوۃ فطر ولااضحی الا فی مصر جامع او مدینۃ عظیمۃ ثم قال فلا تجب علی غیر اھل المصر کذا فی الطحطاوی فبینھما عموم وخصوص فثبت بالد لائل المذکورہ فرضیۃ الجمعۃ مخصصۃ بالاجماع فان صلی الجمعۃ اھل قریۃ لایقال لھا مصرشرعا لایسقط الظھر عن ذمتہ وان صلی الظھر فرادی یعصو بکبیرۃ لترك الواجب ای الجماعۃ الظھر باداء جماعۃ النفل وھذا من قباحۃ عظیمۃ اعلم ان الجمعۃ جامعۃ للجماعات وفی اداء الظھر بالجماعۃ تفریق الجماعۃ عن الجمعۃ وتقلیلھا فیھا بخلاف اھل القری اذلا جمعۃ علیھم ولا یفضی اداء الظھر بالجماعۃ الی تفریق الجمعۃ و تقلیلھا فیکون ذلك فی حقھم کسائرالایام فی جواز اداء الظھر بالجماعۃ من غیر کراہۃ مجالس الابرابر فقول من یقول ما الفرق بین الجمعۃ والظھر غیر الخطبتین وصحت الجمعۃ بلاکراھۃ فی کل موضع مثل الظھر سواء کان ذلك الموضع مصرا اوقریۃ اوغیر ہ وتارکھا بلاعذر فاسق و عاص مردود وقائلہ ضال مضل
کیونکہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا قول ہے کہ جمعہ تکبیرات تشریق نماز عیدالفطر اور اضحی مصر جامع یا بڑے شہر کے سوا نہیں ہوسکتیں پھر کہا اہل شہر کے علاوہ یہ کسی پر لازم نہیں طحطاوی میں اس طرح ہے تو ان دونوں کے درمیان عموم وخصوص کی نسبت ہے تو دلائل مذکورہ سے واضح ہوگیا کہ بالاتفاق فرضیت جمعہ مخصوص ہے تو اگر ایسے اہل دیہات جمعہ قائم کریں جسے شرعا شہر نہیں کہا جاسکتا تو ان کے ذمے سے ظہر ساقط نہ ہوگی اور اگروہ تنہا ادا کریں گے تو انھوں نے کبیرہ کا اتکاب کیا کیونکہ واجب کا ترك ہوا یہی نوافل جماعت کے ساتھ ادا کرنے کی وجہ سے ظہر کی جماعت ترك کردی اور یہ عظیم قباحت ہے۔ واضح رہے کہ جمعہ تمام جماعتوں کا جامع ہے ظہر کو جماعت کے ساتھ ادا کرنا جمعہ کی جماعت کو متفرق اور کم کرنا ہے بخلاف اہل دیہات کے کہ وہاں جمعہ لازم نہیں تو وہاں ظہر کو جماعت کے ساتھ ادا کرنا جمعہ کے لئے تفریق وتقلیل کا سبب نہیں ان کے لئے تو یہ دن جماعت کے ساتھ بلاکراہت ظہر ادا کرنے کے لحاظ سے دیگر دنوں کی طرح ہی ہے مجالس الابرار تو وہ شخص جو کہتا ہے کہ جمعہ اور ظہر کے درمیان خطبوں کے علاوہ کوئی فرق نہیں جمعہ ہرجگہ ظہرکی طرح ادا ہوجاتا ہے خواہ شہر ہو یا دیہات یا اور کوئی مقام ہو اس کا تارك فاسق اور مردود ہے تو ایسے قول کا قائل گمراہ ہے اور گمراہ کرنے والا ہے اور اس کا تعلق مقلدین سے
حوالہ / References &بحرالرائق باب صلٰوۃ الجمعۃ€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ١٤٠
#11262 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
لیس منا المقلدین وعلی المقلدین اجتناب عن اقوالہ وافعالہ واحتراز عن مصاحبتہ ومخالطتہ واﷲ اعلم وعلمہ احکم کتبہ احقرالوری ابوالفیض محمد حبیب الرحمن عفا اﷲ عنہ۔
نہیں اس کے اقوال وافعال اس کی محبت و مخالطت سے مقلدین کو احتراز کرنا لازم ہے اﷲ تعالی کا علم کامل واکمل ہے کتبہ احقرالوری ابوالفیض محمد گحبیب الرحمن عفا اﷲ عنہ ۔ (ت)
الجواب :
الذی یدعي عموم الجمعۃ کل محل ولا یخصہ بمصر ولاقریۃ فقد خالف الاجماع وھو ضلال بلاتزاع وقد اجتمع ائمتنا علی اشتراط المصرلھا وان الاشتغال بہ فی القری تکرہ تحریما لکونہ اشتغالا بمالا یصح کما فی الدر وغیرہ وقد حققنا المسئلۃ فی رسالتنا لوامع البھا وغیر ما موضع من فتاونا واما المصر فالصحیح فی تعریفہ ماھو ظاہر الروایۃ عن امامنا الاعظم رضی اﷲ تعالی کما بیناہ فی فتاونا بمالا مزید علیہ واماما لایسع اکبر مساجدہ اھلہ فغیر صحیح عند المحقیقن کما نص علیہ فی الغنیۃ و کفی قاضیا علیہ بالبطلان ان مکۃ والمدینۃ تخرجان علیہ من المصر وتمنع الجمعۃ فیھما لان اتساع مسجدیھما لایوف مؤفۃ من یرد الیھما من الافاق مشاھد مرئی فضلا عن اھلھما خاصۃ۔ واﷲ تعالی اعلم
جو شخص یہ دعوی کرتا ہے کہ جمعہ ہر مقام پرہوجاتاہے اس کے لئے کسی شہر اور دیہات کی تخصیص نہیں وہ بالاتفاق اجماع کے مخالف اورگمراہ ہے ہمارے ائمہ کااس پراتفاق ہے کہ جمعہ کے لئے شہر کا ہونا شرط ہے دیہاتوں میں جمعہ کا قیام مکروہ تحریمی ہے کیونکہ یہ نادرست کام میں مشغول ہونا ہے جیسا کہ درر وغیرہ میں ہے اس کی تحقیق ہم نے اپنے رسالہ لوامع البہا اور اپنے فتاوی میں متعدد جگہ کی ہے شہر کی صحیح تعریف جو امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے ظاہر الروایت میں منقول ہے اور ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی وہ تفصیل دی جس پر اضافہ دشوار ہے رہی یہ تعریف کہ “ جس جگہ کی سب سے بڑی سے بڑی مسجد اس کے باشندوں کی گنجائش نہ رکھتی ہو “ محققین علماء کے ہاں درست نہیں جیسا کہ اس پر غنیہ میں تصریح ہے اور اس تعریف کے بطلان پر یہی دلیل کافی ہے کہ اس صورت میں مکۃ المکرمہ اور مدینہ طیبہ دونوں ہی شہر نہ ہوں اور ان میں جمعہ کی نماز منع ہو کیونکہ یہ مشاہدہ ہے کہ وہ تو مشرق تا مغرب آنے والے زائرین سے نہیں پر ہوتیں چہ جائیکہ وہاں کے لوگوں کے لئے کافی نہ ہوں واﷲ تعالی اعلم (ت)
حوالہ / References &درمختار باب العیدین€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٤
#11263 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
مسئلہ : از بنگال
کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ جمعہ کی اذان ثانی میں مقتدیوں کو بھی مناجات کرنا اور جمعہ و عیدین کے خطبہ کو بسم اﷲ شریف سے شروع کرنا جائز ہے یا نہیں بعض لوگ جواز کہتے ہیں عدم جواز کی دلیل چاہتے ہیں ۔
الجواب :
اذان ثانی کا جواب ا مام دے مقتدیوں کو ہمارے امام کے نزدیك جائز نہیں صاحبین اجازت دیتے ہیں تبیین الحقائق میں اول کو احوط کہا اور نہایہ اور عنایہ میں ثانی کو واضح تو عمل اول ہی پر ہے کہ وہی قول امام ہے اور اگر کوئی ثانی پر عمل کرے تو اس سے بھی نزاع نہ چاہئے کہ تصحیح اس طرف بھی ہے ابتدائے خطبہ میں بسم اﷲ کہنے کے جواز میں توشك نہیں کہ منع شرعی نہیں مگر آہستہ کہے کتابوں میں جس قدر لکھا ہے وہ یہ ہے کہ اعوذ آہستہ پڑھ کر خطبہ شروع کرے کما فی الھندیۃ وغیرھا ( جیسا کہ ہندیہ وغیرہ میں ہے ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از نصیر آباد محلہ تیلیان مرسلہ محمد عمر صاحب شوال ھ
داود ولد محمد علی عرف پیر جی پیش امام مسجد دودھیان نصیر آباد مورخہ جولائی ء بروزجمعہ خطبہ پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے اور جب خطبہ اول ختم کر کے دعا کے لئے بیٹھے اس وقت دو شخصوں نے کھڑے ہو کر سنت پڑھنا شروع کی تب مسمی داود مذکور بالا نے کچھ خطبہ ثانی پڑھ کر فرمایا کہ سنتوں کا خطبہ اول وثانی میں پڑھنا ناجائز ہے اور جب خطبہ میں نام محمد مقتدی سنیں تو صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کہنا ناجائز ہے آیا یہ مسئلہ جو مسمی داود نے بیان کیا قرآن شریف و حدیث کے مطابق ہے یا نہیں اور ایسے شخص کی نسبت جو خطبہ میں محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کانام پاك سن کر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کہنا جائزنہ جانتا ہو اس کے حق میں ازروئے شرع شریف میں کیا حکم ہے آیا خارج اسلام ہے یا نہیں اور مسلمانوں کو ایسے عقیدہ والے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا جس کا ذکر اوپر ہوا ہے جائز ہے یا نہیں شیخ محمد عمر نصیر آباد رسول بخش اوو رسیر محمد اکبر خان قمرالدین کلر ک۔ نور محمد مستری۔ لعل محمد
الجواب :
اطراف واقطار سے ہمارے معزز اہلسنت بھائی حفظہم اﷲتعالی بعض سوالات بعض مسائل فقہیہ کی نسبت بھیجتے ہیں ان سوالوں میں جوقول کسی کانقل کرتے ہیں اسے وہابیت وغیرہ ضلالتوں سے کچھ علاقہ نہیں ہوتا خط میں تحریر فرماتے ہیں کہ یہ شخص چنین وچناں ہے جواب استفتا ءمیں یہاں خط ملحوظ نہیں ہوتا خصوصا بارہا وہ بات جو اس شخص کی طرف نسبت کی فی نفسہ صحیح ہوتی ہے اب اس کی تصحیح کیوں نہ کیجئے کہ بات صحیح ہے اور تصحیح کیجئے تو عوام ذہن میں وہابی وغیرہ ضالین کی باتوں کا صحیح ہونا آتا ہے جس سے اندیشہ ہے کہ وہ اس کی اور باتوں
#11264 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
کو بھی صحیح یا مشکوك ہی سمجھنے لگیں اور یہ ان کے دین کا نقصان ہے وہابی ہویا کوئی کافر یہودی مجوسی بت پرست وغیرہم کسی کی سب باتیں جھوٹی نہیں ہوتیں کوئی نہ کوئی بات ہر شخص سچ کہتاہے فقہ حنفی تو متعدد اشخاص مثل زمخشری وزاہدی ومطرزی معتزلہ گزرے ہیں ان کے اقوال فروع فقہ میں نقل ومسلم ہوتے ہیں اور عقائد میں وہ لوگ گمراہ بددین ہیں یہ نکتہ ہمیشہ ملحوظ رکھنا چاہئے بلاشبہ صحیح مذہب یہی ہے کہ دونو ں خطبوں کا سننا فرض ہے اور کسی خطبے کے وقت نہ سنتیں پڑھنے کی اجازت نہ اﷲ عزوجل کا نام پاك سن کر عز شانہ وغیرہ نہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا نام پاك سن کر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وغیرہ زبان سے کہنے کی اجازت کہ بحالت خطبہ سلام وکلام مطلقا حرام ہے ہاں دل میں جل جلالہ و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کہیں درمختار میں ہے :
اذا خرج الامام فلا صلوۃ ولاکلام الی تمامھا خلاقضاء فائتۃ لم یسقط الترتیب بینھا و بین الوقتیۃ فانھا لاتکرہ سراج وغیرہ لضرورۃ صحۃ الجمعۃ والا لا فیحرم کلام ولو تسبیحا اوامر بمعروف بل یجب علیہ ان یسمع ویسکت ۔ ( ملخصا)
جب امام آجائے تو اب اتمام تك نہ کلام نہ نماز جو فوت شدہ نمازکی قضاء کے علاوہ ہوجبکہ اس میں اور وقتی نماز میں ترتیب ساقط نہ ہوئی ہو لہذا قضاء میں کراہت نہیں تاکہ جمعہ صحیح ہو سراج وغیرہ اور اگر ایسی صورت نہیں توکلام حرام خواہ ایك تسبیح ہی کیونہ ہو اسی طرح امر بالمعروف بھی بلکہ اس پرلازم ہے کہ خطبہ سنے اور خاموش رہے ۔ (ت)
اسی میں ہے :
ینصت ان قرأ الامام آیۃ ترغیب اوترھیب کذا الخطبۃ فلا یاتی بمایفوت الاستماع لو کتابۃ اوردسلام وان صلی الخطیب علی البنی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الااذاقرأ ایۃ صلوا علیہ فیصلی علیہ المستمع سرا بنفسہ وینصت بلسانہ عملا بامری صلوا وانصتوا ۔ ملخصا واﷲ تعالی اعلم
جب امام کوئی آیت ترغیب یا ترہیب پڑھے تو مقتدی خاموش رہے اسی طرح خطبہ کا معاملہ ہے پس ایسا کام نہ کرے جس سے سماع فوت ہوتا ہو اگر چہ کتابت ہی کیونہ ہو یا سلام کا جواب دینا ہو اگر چہ خطیب نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر درود شریف پڑھ رہا ہو البتہ جب خطیب آیت صلوا علیہ کہے تو سننے والا دل میں آہستہ درود شریف پڑھ لے اور زباں سے خاموش رہے تاکہ دونوں حکموں درود شریف پڑھو اور خاموش رہو پر عمل ہوجائے۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
حوالہ / References &درمختار باب الجمعہ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٣
&درمختار فصل ویجہر الامام الخ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٨١
#11265 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
مسئلہ : از اودیپور میواڑ راجپوتانہ مہارانا اسکول مرسلہ مولوی وزیر احمد صاحب مدرس ذی ا لحجہ ھ
جمعہ کے دن جب خطیب خطبہ پڑھتا ہے تو کتاب میں دیکھ کر پڑھتا ہے اور ایك شخص یہاں بے دیکھے کتاب پڑھتا ہے لہذا فرمائیں دونوں میں کس کا عمل موافق سنت ہے
الجواب :
دیکھ کر اور زبانی نفس ادائے حکم میں یکساں ہیں مگر زبانی اوفق بالسنۃ ہے واﷲ تعالی اعلم ۔
مسئلہ : از بنبی اسٹیشن باندرہ محلہ نواپارہ مسجد مرسلہ محمد جہانگیر صاحب اما م مسجد مذکور محرم الحرامھ
جناب مولاناصاحب حجۃ قاہرہ مجد دمائۃ حاضرہ السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکتہ گزارش یہ ہے کہ یہ رسالہ آپ کی خدمت میں روانہ کرکے عرض کیا جاتا ہے کہ اس میں آپ کی مہر ہے اور آج کل یہاں دعاء بین الخطبتین میں تنازع ہے تو ہم لوگ اس رسالہ پر آپ کی مہر دیکھ کر عمل کرلیا ہے کیونکہ آپ کی دستخط تحریر ہیں اور چند علمائے ہند نامی کی بھی دستخطیں تحریر اس وجہ سے لوگوں نے بے دغدغہ عمل کر لیا ہے تو اسی واسطے آپ کی خدمت میں ارسال کرکے عرض ہے کہ دستخط آپ کے موجود ہيں اور دیگر علمائے ہند نامی گرامی کی تحریر ہے تو عمل کریں یا نہ کریں اور اس رسالہ میں جودلیلیں تحریر ہیں صحیح ہیں یا نہیں جیسا آپ تحریر فرمائیں آمنا کیاجائے۔
الجواب :
وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ دعابین الخطبتین ہر گز ایسی چیز نہیں ہے جس سے ممانعت پر کچھ بھی زور دیا جائے ایسے مسائل میں تفرقہ اندازی فتنہ پردازی جدال پسندی فریق بندی وہی لوگ کیا کرتے ہیں جواس کے ذریعہ شہرت چاہتے ہیں فقیر کی عبارت کہ اس رسالہ میں منقول ہوئی ہے کہ اس میں بہت قطع وبریدہ کمی کی گئی ہے میرا مسلك اس میں ہمیشہ یہ رہا ہے کہ خود میرے سامنے مقتدین دعاکرتے ہیں اور میں کبھی منع نہیں کرتا اور یہی مسلك میرے آبائے کرام اورمحققین اعلام کا رہا ہے رحمۃ اللہ تعالی علیہ اجمعین خود بنبی میں بھی میں نے جمعہ پڑھایا اور حاضرین نے بین الخطبتین دعائیں مانگیں اور میں نے نہ اس وقت منع کیا نہ بعد کو اس رسالہ میں بہت اغلاط فاحشہ ہیں اور بہت اکاذیب باطلہ ہیں یہاں تك کہ صحیح حوالوں کو جھٹلایا ہے اور خود محض جھوٹا حوالہ کتاب پر گھڑ کردیا ہے ان امور کي تفصیل اور مسئلہ کی تحقیق جمیل ایك رسالہ ہوسکتی ہے مسلمانوں کو سمجھ لینے کواتنا کافی ہے کہ یہ شخص اور اس کے استاذ دیوبندی ہيں گنگو ہی کے شاگرد اور گنگوہی وتھانوی کے مداح اوریہ وہ ہیں کہ علماء کرام حرمین شریفین نے بالاتفاق نام بنام ان کے کفرکا فتوی دیا اور فرمادیا کہ من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر
#11266 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
جو ان کے کافر ہونے میں شك کرے خود کافر ہے نہ کہ وہ جو انھیں عالم دین جانے اور چنان وچنیں مانے والعیاذ باﷲ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : ہادی حسن خاں از کانپور نئی سڑك صفر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك دیہات ہے جس کی آبادی تقریبا پانچسو کے ہے اور اس میں ایك ایسی مسجد ہے کہ اگر اس گاؤں کے مکلفین اس میں جمع ہوں تو مسجد پر نہ ہوگی اور اس کے قریب دودو کوس پر کئی قصبے ہیں تو اس گاؤں میں ازروئے مذہب حنفی نماز جمعہ وعیدین جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
باجماع جملہ ائمہ حنفیہ اس میں جمعہ وعیدین باطل ہیں اور پڑھنا گناہ تمام متون وشروح وفتاوی میں ہے : شرط صحتھا المصر ( جمعہ کی صحت کے لئے شہر کا ہونا شرط ہے۔ ت) درمختار میں ہے :
صلوۃ العید فی القری تکرۃ تحریما لانہ اشتغال بمالا یصح لان المصر شرط الصحۃ ۔
دیہاتوں میں عید کی نماز مکروہ تحریمی ہے کیونکہ یہ ایسے عمل میں مشغول ہونا ہے جو درست نہیں کونکہ اس کی صحت کے لئے شہرکا ہونا شرط ہے ۔ (ت)
خود نہ پڑھیں گے حکم پوچھا جائے گا تو فتوی یہ دیں گے جہاں نہیں ہوتے قائم نہ کریں گے باایں ہمہ اگر عوام پڑھتے ہوں منع نہ کریں گے ۔ درمختار :
کرہ تحریما صلوۃ مطلقا اونفلا مع شروق الاالعوام فلا یمنعون من فعلھا لانھم یترکونھا والاداء الجائز عند البعض اولی من الترك ۔ (ملخصا)
طلوع آفتاب کے وقت ہر نماز مکروہ تحریمی ہے خواہ نفل ہو لیکن عوام کو نماز پڑھنے سے روکا نہیں جائے گا کیونکہ وہ بالکل ترك کردیں گے اور جو بعض کے نزدیك جائز ہو اس کا بجالانا ترك سے اولی ہوتا ہے (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ فلایمنعون افادان المستثنی المنع
قولہ “ فلایمنعون “ واضح کررہا ہے کہ استثنا
حوالہ / References &درمختار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٠٩
&درمختار باب العیدین€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٤
&درمختار کتاب الصلوۃ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٦١
#11267 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
لاالحکم بعدم الصحۃ عند ناقولہ عندالبعض ای بعض المجتھدین کالامام الشافعی ھنا ۔ واﷲ تعالی اعلم
منع کا ہے نہ کہ عدم صحت کے حکم کا ہمارے نزدیك قولہ عند البعض یعنی بعض مجتہدین مثلا امام شافعی کے نزدیك اس مقام پر جواز کا قول ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ : عبدالستار ابن اسمعیل از رنگون ربیع الاول ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس شہر میں جمعہ کی نماز پڑھا نے والا دیوبندی یا بد عقیدہ اور دوسری کسی مسجد میں بھی جمعہ نہ ہوتا ہو یا تمام مساجد جہاں جمعہ کی نماز ہوتی ہے ان کے امام بد مذہب ہوں تو ایسی صورت میں اہل سنت جمعہ کو ترك کرے یا کوئی اور حکم ہے نیز ایسا ہی عیدین کی نماز کا کیا حکم ہے
الجواب :
جب صور ت ایسی ہو تو مسلمانوں پر فرض ہے کہ کسی مسلمان صالح امامت کو اپنا امام مقرر کریں اس کے پیچھے جمعہ و عیدین پڑھیں جمعہ قائم کرنے کے لئے اگر کوئی مسجد بنائیں تو اذن عام مسلمین واشتہار کے ساتھ کسی میدان خواہ مکان میں پڑھیں اور اگر اس پر قدرت نہ ہو اور سب مساجد کے امام دیوبندی یا وہابی یا غیرمقلد یا نیچری یا مرزائی وغیر ہم مرتدین ہیں تو فرض ہے کہ ظہر تنہا تنھا پڑھیں ان لوگوں کے پیچھے نماز باطل محض ہے جیسے کسی بت پرست یا آریہ کے پیچھے یہ ترك جمعہ نہ ہوا کہ وہ جو پڑھ رہے ہیں لغو و باطل حرکت ہے نمازہی نہیں اور ان کی اقتداء بوجوہ حرام قطعی ہے بلکہ ان کے عقائد پر مطلع ہو کر پھر بھی انھیں قابل امامت جانے تو کافر ہوجائے من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ( جس نے اس کے کفر اور عذاب میں شك کیا اس نے کفر کیا ۔ ت) ہاں اگر کہیں ایسا بدمذہب ہو جس پر حکم کفر نہیں جیسے تفضیلیہ اور سنی کی امامت نہ مل سکے تو اس کے پیچھے جمعہ و عیدین پڑھ لے ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از پنڈول بزرگ ڈاك خانہ رائے پور ضلع مظفر پور مرسلہ نعمت علی صاحب ربیع الاول شریف ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك دوسری بستی میں جمعہ ہوتا ہے لوگ وہاں جاکر جمعہ پڑھتے ہیں اب وباء یعنی ہیضہ وغیرہ آگیا ہو تو ایسی حالت میں اس ہیضہ والی بستی میں جاکر جمعہ پڑھنا جائزہے یا نہیں
الجواب :
اگر یہ جگہ حوالی شہر ہے تو دوسری جگہ نہیں اسی کا حصہ ہے ورنہ اگر خود شہر ہے تو بغیر وبا بھی یہیں جمعہ
حوالہ / References &ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ۲٣
#11268 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
قائم کیا جائے نہ کہ دوسری جگہ پڑھنے جائیں اور اگر گاؤں ہے تو ان پر جمعہ نہیں بحالت وباء وہاں نہ جائیں واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از بمنی بنجر ضلع منڈلا مسئولہ عبدالستار صاحب پیلی بھیتی رجب ھ
کیا خطبہ جمعہ کھڑے ہو کر سننا جائز ہے
الجواب :
خطبہ سننے کی حالت میں حرکت منع ہے اور خطبہ بلاضرورت کھڑے ہو کر سننا خلاف سنت ہے عوام میں یہ معمول ہے کہ خطیب آخر خطبہ میں ان لفظوں پر پہنچتا ہے ولذکراﷲ تعالی اعلی تو اس کے سنتے ہی نماز کے لئے کھڑے ہوجاتے ہیں یہ حرام ہے کہ ہنوز ختم نہ ہوا چند الفاظ باقی ہیں اورخطبہ کی حالت میں کوئی عمل حرام ہے واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : از ریاست فریدکوٹ ضلع فیروز پور پنجاب مطبع سرکاری مرسلہ منشی محمد علی ارم رجب المرجب ھ : کیافر
ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے ایك مسجد میں جمعہ بامامت خود پڑھایا دوسری مسجد میں ایك ضرورت کی وجہ آجانے سے خود مقتدی ہوکر بھی جمعہ پڑھا اس کا کیا حکم ہے
الجواب :
کوئی حرج نہیں جبکہ امامت پہلے کرچکا ہو فان التنفل بالجمعۃ غیر ممنوع ( جمعہ کو نقل بنانا منع نہیں ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۱ : از شہر مسئولہ شوکت علی صاحب شعبان ھ
کیا قول ہے علمائے اہلسنت وجماعت کا اس مسئلہ میں کہ شہر میں بہت جگہ نماز ہوتی ہے تو ہر وہ مسجد جس میں جمعہ ہوتا ہے جامع مسجد ہے اور جامع مسجد کی فضیلت رکھتی ہے یا وہی ایك مسجد جو متصل قلعہ کے جامع مسجد مشہور ہے اور شہر میں بہت جگہ جمعہ ہونے میں کچھ ممانعت تو نہیں ہے اور جمعہ میں کم از کم کے آدمی ہوں جو نہ ہوسکے اور زیادہ ثواب شہر کس مسجد میں ہے
الجواب :
جامع مسجد وہی ایك مسجد ہے شہر میں متعدد جگہ جمع ہونے کی ممانعت نہیں جمعہ کے لئے کم سے کم امام کے
#11269 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
سواتین آدمی ہوں مگر جمعہ وعیدین کا امام ہر شخص نہیں ہوسکتا وہی ہوگا جو سلطان اسلام ہو یا اس کا نائب یا اس کا ماذون اور ان میں کوئی نہ ہو تو بضرورت جسے عام نمازی امام جمعہ مقرر کرلیں جمعہ کا زیادہ ثواب جامع مسجد میں ہے مگر جبکہ دوسری جگہ کا امام اعلم وافضل ہو ۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : ازجرودہ ضلع میرٹھ مرسلہ سید الطاف حسین صاحب زمیندار و گورنمنٹ پنشز رمضان المبارك ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہماری بستی میں تین مسجدیں ہیں اور تینوں میں پنجوقتہ باجماعت نماز ہوتی ہے آٹھ سات حافظ قرآن ہیں دو تین حاجی الحرمین الشرفین ہیں دس پندرہ اچھی فارسی اور دوتین کچھ عربی فارسی پڑھے ہوئے ہیں ایك صاحب مدرسہ طیبہ دہلی کے سند یافتہ اور تین چار عطائی طبیب ہيں ایك شخص آنکھیں بناتا ہے ایك قرآن مکتب ہے جس میں دس بارہ طالب علم قرآن شریف حفظ کرتے ہیں اس کے علاوہ ایك گورنمنٹی مدرسہ ہے ڈاك خانہ بھی موجود ہے پانچ چھ آدمی انگریزی داں ہیں جن میں بی اے اور ایف اے بھی ہیں پندرہ سولہ آدمی گورنمنٹی ملازم ہیں جو دس روپیہ سے تین سوروپیہ تك تنخواہ پاتے ہیں ایك شخص گورنمنٹ سے تیس روپیہ پنشن پاتاہے تین چار دکانیں ہیں جن میں ضرورت کی تمامی اشیاء ہمہ وقت دستیاب ہوتی ہيں تین چار بزاز ہیں دو پنواڑی کی ایك عطاء کی دکان ہے تین چار گھر قصابوں کے ہیں پانچ چھ پختہ مکانات ہیں سات پختہ کنویں بستی میں آبنوشی کے ہیں سوائے گڑ ڑیوں اور چماروں کے ہندو کوئی آباد نہیں قربانی وغیرہ آزادی سے ہوتی ہے زمیندار مسلمانوں کی ہے بھنگی سقہ بڑھئی لوہار حجام وغیرہ پیشہ ور سب آباد ہیں قریبا بارہ سو کی مردم شماری ہے ہمیشہ سے جمعہ کی نماز ہوتی رہی ہے جس میں کبھی کبھی تین تین سو آدمیوں کا مجمع ہوجاتا ہے اب بعض بعض حضرات معترض ہیں کہ اس بستی میں جمعہ وعیدین کی نماز جائز نہیں اور چند اشخاص نے جمعہ کی نماز ترك بھی کردی ہے حالانکہ موجودہ مذکورہ کی موجودگی میں نماز جمعہ و عیدین ترك کی جائے یا بدستور پڑھی جائیں ۔
الجواب :
اگر وہ پر گنہ ہے اس کے متعلق دیہات ہیں اور ایسی حالت میں ضرور جانب سلطنت سے کوئی حاکم وہاں فصل خصومات و فیصلہ مقدمات کے لئے ہوتا ہے مثلا تحصیلدار وغیرہ جب تو وہ شہر ہے اور اس میں ادائے جمعہ وعیدین ضرور لازم اور ان کا تارك گنہگار وآثم۔
فقد صدق علیہا حد المصر الصحیح المروی فی ظاھر الروایۃ عن الامام الاعظم
اس پر شہر کی وہ صحیح تعریف صادق آرہی ہے جو ظاہر الروایۃ میں امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے
#11270 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
رضی اﷲ تعالی عنہ انھا بلدۃ فیھا سکك واسواق ورساتیق وفیھا وال الخ
مروی ہے کہ وہ بڑا شہر جس میں کوچے اور بازار ہوں اور کوئی نہ کوئی والی ہو الخ (ت)
اور اگر وہ پر گنہ نہیں یا وہاں کوئی حاکم فصل مقدمات پر مقرر نہیں مگر زمانہ سلطنت اسلام ميں وہ ایسا تھا اور جب سے اس میں جمعہ ہوتا تھا تو اب بھی پڑھا جائے گا۔ صلوۃ مسعودی باب میں ہے :
جائے راکہ حکم شہر د ادند بعد ازاں خرابی پذیرد آں حکم شہر باقی ماندتا اگر ایشا نائب سلطان باجمع درانجا نماز آدینہ گزارند روابود ۔
وہ جگہ جسے شہر قرار دیا گیا خرابی کے بعد بھی وہ حکم شہر رکھتا ہے اگر نائب سلطان نماز جمعہ باجماعت ادا کرے تو اب بھی ادا ہوگا۔ (ت)
اور اگر ی دونوں صورتیں نہیں تو مذہب حنفی میں وہاں جمعہ وعیدین نہیں پھر بھی جبکہ مدت سے قائم ہے اسے اکھاڑا نہ جائے گا نہ لوگوں کوا س سے روکے گا مگر شہرت طلب
قال اﷲ تعالی ارءیت الذی ینهى(۹) عبدا اذا صلى(۱۰) وفیہ عن امیر المؤمنین علی کرم اﷲ وجہہ۔ واﷲ تعالی اعلم.
اﷲ تعالی نے فرمایا : “ بھلا دیکھو تو جومنع کرتا ہے بندے کو جب وہ نماز پڑھے “ اور اسی آیت کے تحت حضرت امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ سے بھی ایك روایت ہے واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ : از کراچی صدر بازار دفتر انجمن جمعيۃ الاحناف مرسلہ ابوالرجا غلام رسول صاحب رمضان المبارك ھ
جناب تقدس مآب مجمع مکارم اخلاق منبع محاس اشفاق سراپا اخلاق نبوی مظہر اسرار مصطفوی۔ سلطان العلماء اہلسنت برہان الفضلاء الملۃ قدوۃ شیوخ الزمان مولنا المخدوم بحرالعلوم اعلحضرت امام الشریعت والطریقت مجدد مائۃ حاضرۃ متع اﷲ المسلمین بطول بقائہم ودامت علی روس المسترشیدین فیوضاتکم وبرکاتکم بعد سلام مسنون واشتیاق روز افزوں آنکہ بحکم شاوروا ( مشورہ طلب کرو۔ ت) حضرت سے التماس ہے ایك عرصہ ہواغربائے اہلسنت کراچی کی صدائے محزون نے تاحال کوئی اثر پیدا نہیں کیا جمعہ وعیدین جماعت کی جیسی کچھ تکلیف ہے ناقابل بیان ہے لہذا دعا فرمائے اس وقت حضور پرنور وارث سجاد رسالتمآب
حوالہ / References &فتح القدیر باب الجمعۃ €مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٢ / ٢٤
&صلٰوۃ مسعودی باب €٣٣ &دربیان نماز آدینہ €مطبع احمدی بمبئی ، انڈیا ٢ / ١٧٤
&القرآن€ ٩٦ / ١٠-٩
#11271 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہیں اﷲ تعالی جناب کی دعا کی برکت سے ہم فقیروں کے لئے جامع اہلسنت پیدا کردے کہ صدر کے مسلمانان اہلسنت فریضہ جمعہ ادا کرسکیں صدر میں دومسجدیں ہیں اس وقت دونوں پر تصرف ایسی طاقتوں کا ہے کہ جن کے نزدیك دینداری اور مذہب معاذ اﷲ جنون ہے یا اہلسنت کی موجودہ مشہور ومتعارف صورت کہ جس پر ہم اور ہمارے شیوخ کرام ہیں والعیاذ باﷲ تعالی شر ك وبدعت ہے لہذا جامع احباب ومتعلقین تراویح وفرائض ایك کرایہ کے مکان میں جو وسیع اور قابل انعقاد محافل ہے ادا کرلیا کرتے ہیں جمعہ جاکر ایك مسجد جو صدر سے قریبا میل بھر کے فاصل پرہو گی یا کم وبیش پہنچ کرادا کرلیتے ہیں لیکن بعض کو یہ مسجد قریب پڑجاتی ہے اور بعض کو دقت ہوتی کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ ایك ایسے مکان میں جو کرایہ کا مکان ہو جمع ہو کر جمعہ وعیدین ادا کرسکتے ہیں جناب مجددیہ سے جو فرمان ہو خواہ ہاں یا نہ قوم کو اور میری تسلی ہوجائے گی۔
الجواب :
جناب محترم ذی المجد والکرم اکر اﷲ تعالی السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ جمعہ کے لئے شہر کا یا فنائے شہر کے سوا نہ مسجد شرط ہے نہ بنا مکان میں بھی ہوسکتا ہے میدان میں بھی ہوسکتا ہے اذن عام درکار ہے بدائع امام ملك العلماء میں ہے :
السلطان اذاصلی فی دارہ ان فتح باب دارہ جاز وان لم یاذن للعامۃ لاتجوز ۔ ( ملخصا)
سلطان نے اگر اپنی دار میں نماز جمعہ پڑھی اگر دروازہ کھلا تھا توجائزاور اگر عوام کو شرکت کی اجازت نہ تھی تو جائز نہیں ۔ (ت)
درمختار میں ہے :
یشترط لصحتھا المصر اوفنائہ وھو ماحولہ لاجل مصالحہ کدفن ا لموتی ورکض الخیل (ملخصا) واﷲ تعالی اعلم۔
صحت جمعہ کے لئے شہر یا فنائے شہر کا ہونا ضروری ہے فنائے مراد شہر کے اردگرد جگہ ہے جو شہر کی ضروریات کے لئے بنائی گئی ہو مثلا قبرستان اور گھڑ دوڑ کے لئے جگہ ۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ : از حبیب والا ضلع بجنور تحصیل دھامپور مرسلہ منظور صاحب شوالھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك بستی ہے جس کی کل آبادی قریب كے ہے اور اس میں
حوالہ / References &بدائع الصنائع فصل فی بیان شرائط ا لجمعہ€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ٢٦٩
&درمختار باب الجمعہ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٠٩
#11272 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
ہر چیز بھی وقت پرنہیں مل سکتیں لہذا ایسی بستی میں جمعہ جائز ہے یانہیں وجوب صلوۃ کے لئے کیا کیاشرائط ہيں مدلل بیان ہوں ۔
الجواب :
جمعہ صرف شہر فنائے شہر میں جائز ہے ورنہ نہیں ۔ شہر وہ بستی ہے جس میں متعدد کوچے دائم بازار ہوں اور وہ ضلع یا پرگنہ ہو کہ اس کے متعلق دیہات ہوں اور اس میں فیصلہ مقدمات پر کوئی حاکم مقرر ہو وجوب جمعہ کی سات شرطیں ہیں :
() حریت () ذکورت () عقل () بلوغ () شہر میں اقامت () اتنی صحت کہ حاضر جماعت ہو کرپڑھ سکے
() عدم مانع مثل حبس وخوف دشمن وباران شدید وغیرہ
ان کی تفاصیل اور بعض استشہاد درمختار وغیرہ میں وقد ادخلنا البصر وقدرۃ المشی فی الصحۃ ( ہم نے صحت میں بینائی اور چلنے کی قدرت کو شامل کیا ہے ) اور اس کے صحیح ہونے کی سات شرطیں ہیں :
() شہر یا فنائے شہر
() سلطان اسلام یا اس کا نائب یاماذون یا بضرورت جسے عام مسلمین نے امام جمعہ بنایا ہو
() وقت ظہر ختم تك باقی رہنا۔
() خطبہ وقت ظہر میں
() قبل نماز کم از کم تین مسلمان مرد عاقلوں کے سامنے خطبہ ہونا۔
() جماعت سے ہونا جس میں کم از کم تین ایسے مرد ہوں ۔
() جمعہ کے اذن عام ہونا بلاوجہ شرعی کسی کی روك نہ ہو۔
بیان دلائل سے کتب لبریز ہيں واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از مولیں پور برہما مرسلہ محمد واحد خطیب مسجد قبرستان نئی بستی شوال ھ
کیا فر ماتے ہیں علمائے احناف رحمکم اﷲ تعالی کہ ائمہ مساجد احناف کو نواب صدیق حسن خاں کی تصنیف کا خطبہ ہر جمعہ وعیدین میں پڑھنا جائز ہے یا نہیں اور حنفیہ کے نزدیك کون سا خطبہ معتبر ہے
الجواب :
صدیق حسن خاں غیر مقلد لامذہب تھا اس کی تصنیف کا خطبہ اہلسنت کو پڑھنا نہ چاہئے لان فیہ تنویہا بذکرہ
#11273 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
وترو یجا لمکرہ وذلك لایجوز ( کیونکہ اس میں اس کے ذکر کا احترام اور اس کے مکر کی ترویح ہے اور یہ جائز نہیں ۔ ت) خصوصا اگر اس میں اپنے مذہب کی خباثت درج کی ہو جب توقطعا حرام ہے خطب ابن نباز مصری اچھے ہیں اور اب ہند میں علمی کے خطبے مگر اردو اشعار خطبہ میں پڑھنا مناسب نہیں واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از مراد آباد مرسلہ مولوی محمد عبدالباری صاحب صفر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص خطبہ میں آیہ قرآنی میں تعوذ و تسمیہ پڑھتا ہے حالانکہ سلف سے کہیں یہ بدعت ثابت نہیں اگر یہ مسنون ہوتا تو کہیں بھی علمائے کرام سے ثابت ہوتا خصوصا ہمارے ہادی مرشد حضرت مولاناصاحب مجد ملت حاضرہ یعنی آپ خود ایسا تجویز فرماتے اب یہ تجدید خلاف ائمہ سلف کے ہوئی کہا ں تك ناجائز ہے
الجواب :
خطبہ میں آیہ قرآنی سے پہلے اعوذ پڑھنا چاہئے اور اگر وہ آیت ابتدائے سورہ ہے تو بسم اﷲ شریف بھی فقیر کا ہمیشہ اسی پر عمل ہے اور اگر سر آیت پر بھی بسم اﷲ پڑھ لے گا حرج نہیں ردالمحتار میں ہے :
فی الامداد و فی المحیط یقرأ فی الخطبۃ سورۃ اوايۃ فاذ اقرا سورۃ تامۃ یتعوذ ثم یسمی قبلھا وان قرأ ایۃ قیل یتعوذ ثم یسمی و اکثر ھم قالوا یتعوذ ولا یسمی ۔ ( ملخصا) واﷲ تعالی اعلم
امداد اور محیط میں ہے کہ خطبہ میں سورت یا آیت پڑھی جائے جب سورۃ پڑھے تو تعوذ پڑھے پھر بسم اﷲ اگر ایك ایت ہی پڑھنی ہو بعض نے کہا تعوذ پڑھے پھر تسمیہ اور اکثر کی رائے یہ ہے کہ تعوذ پڑھے اور تسمیہ نہ پڑھے۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ : از بریلی مدرسہ منظرالاسلام مسئولہ مولوی رمضان علی صاحب بنگالی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز جمعہ میں خطبہ نہیں ملا اور وقت بھی تنگ ہوگیا جواور مسجد سے تلاش کرکے لاسکے اور امام صاحب کہ کوئی خطبہ نہیں دیا تھا تو اس صورت میں کس طرح نماز ادا کی جائے گی اور اگر بغیر خطبہ نماز پڑھ لی تو نماز ہوجائے گی یا نہیں
الجواب :
نماز جمعہ بے خطبہ باطل ہے خطبہ مختصر کافی ہے ایسا شخص امام جمعہ نہیں ہوسکتا جو خطبہ نہ پڑھ سکے ۔ واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References &ردالمحتار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٩٨
#11274 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
مسئلہ : از شہر کانپور توپ خانہ بازار قدیم مسجد صوبیدار مرحوم معرفت مولانہ مولوی حافظ عبید اﷲ صاحب مرسلہ محمد جعفر ربیع الاولھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مجموعہ خطب علمی کا پڑھنا نماز جمعہ و عیدین میں جائزہے یا نہیں چونکہ اس خطبہ میں کچھ اشعار اردو کے بھی شامل ہیں اسی وجہ سے تمام ہندوستان کے لوگ جن کی زبان اردو ہے اس کو بہت شوق سے سنتے ہیں اور اکثر بزرگ اس خطبہ کو بکثرت نماز جمعہ وعیدین میں پڑھا کرتے ہیں سید محبوب علی شاہ صاحب سکندریہ حیدر آباد دکھن جومرید بھی کرتے ہیں اور وعظ بھی فرماتے ہیں انھوں نے بمبئی محلہ کماٹی پورہ گلی نمبر میں بآواز بلند بعد نماز جمعہ یہ فرمایا کہ مجموعہ خطب علمی کا پڑھنا اور سننا نماز جمعہ وعیدین میں ناجائز ہے اس سے نماز نہیں ہوتی ہے کیونکہ علمی کا مذہب رافضی تھا لہذا بکمال ادب مستدعی ہوں کہ اس مسئلہ میں شرعا کیا حکم ہے آیا مجموعہ خطب علمی کا پڑھنا اور سننا نماز جمعہ و عیدین میں ناجائز ہے یا نہیں اور علمی کا مذہب کیا تھا علمی نے خطبہ میں صحابہ کرام کی تعریف اور مدح بھی کی ہے مع حوالہ کتاب مطلع فرمائے کہ نماز جمعہ وعیدین مجموعہ خطب مذکور بالا پڑھنے سے جائز ہوگی یا نہیں اور درحقیقت اگر علمی کا مذہب اہلسنت والجماعت تھا تو جو شخص علمی کو رافضی کہے اس کے حق میں کیا حکم ہے اوراس کے پیچھے نمازپڑھنا جائز ہے یا نہیں اور اس کا مرید ہونا کیساہے بینوا توجروا۔
الجواب :
مولنا محمد حسن علمی بریلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ سنی صحیح العقیدہ اور واعظ وناصح اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے مداح اور میرے حضرت جد امجد قدس سرہ العزیز کے شاگرد تھے انھیں رافضی نہ کہے گا مگر کوئی ناصبی یا خارجی دکھنی صاحب نے اگر کسی کی سنی سنائی بے تحقیق کہہ دی تویہ آیۃ کریمہ :
فتبینوا ان تصیبوا قوما بجهالة فتصبحوا على ما فعلتم ندمین(۶)
تحقیق کرلو کہیں جہالت کی وجہ سے کسی قوم پر حملہ آور نہ ہوجاؤ تو پھر تم اپنے کئے پر نادم ہوجاؤ۔ (ت)کاخلاف کیا
صحیح حدیث :
لاتذکروا موتاکم الابخیر رواہ البخاری وغیرہ۔
اپنے فوت شدگان کو اچھائی سے یاد کیا کرو اسے بخاری وغیرہ نے روایت کیا ۔ (ت)
حوالہ / References &القرآن€ ٤٩ / ٦
&اتحاف السادۃ المتقین کتاب آفات اللسان الافۃ الثامنۃ€ مطبوعہ دارالفکر بیروت ٧ / ٩١ ─٤٩٠
#11275 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
اور حدیث صحیح :
کفا بالمرء کذابا ان یحدث بکل ماسمع رواہ مسلم وغیرہ۔
کسی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ سنی سنائی بیان کردیتا ہے اسے مسلم وغیرہ نے روایت کیا۔ (ت)
آیت کا ارشادیہ ہے کہ غیر ثقہ کی خبر خوب كی تحقیق کرلو کہیں کسی کو جہالت سے آزاردے بیھٹو پھر اپنے کئے پر پچھتاتے ہو اور حدیث اول کا کہ اپنے اموات کو خیر ہی سے یاد کرو اور دوم یہ کہ آدمی کے جھوٹا ہونے کو یہ بہت ہے کہ جو کچھ سنے اس پر اعتبار کرکے لوگوں سے بیان کردے اور اگر اپنی طرف سے کہا تو آفت سخت تر ہے : رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من ذکر امرأ بما لیس فیہ لیعیبہ بہ حبسہ اﷲ فی نارجھنم حتی یاتی بنفاذ ماقال فیہ ۔
جو کسی کے عیب لگالے کو وہ بات بیان کرے جو اس میں نہیں اﷲ اسے نار جہنم میں قید کرے گا یہاں تك کہ اپنے کئے کی سند لائے۔
دوسری روایت میں ہے :
کان حقا علی اﷲ ان یذیبہ یوم القیمۃ فی النار حتی یاتی بانفاذ ماقال ۔ رواہ طبرانی بسند صحیح عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالی عنہ۔
اﷲ پر حق ہے کہ جب تك اپنی اس بات کا ثبوت پیش نہ کرے اسے اتش دوذخ میں پگھلائے اسے طبرانی نے صحیح سند کے ساتھ ابی درداء رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔
اور بفرض غلط اگر معاذ اﷲ کوئی بد مذہب ہی خطبہ تصنیف کرے اور وہ صحیح ہو اس میں کوئی بد مذہبی نہ ہو تواس کے پڑھنے سے نماز کیوں ناجائز ہونے لگی۔ یہ دل سے مسئلہ گھڑنا اور شریعت مطہرہ پر افتراء کرنا ہے ہاں اردو زبان خطبہ میں ملانا نہ چاہئے کہ خلاف سنت متوارثہ ہے یہ دوسری بات ہے اسے عدم جواز نماز سے کیا علاقہ شخص مذکور اگراپنی ان حرکات پر مصر رہے اور تائب نہ ہو تو اس کے پیچھے نماز نہ چاہئے نہ اس کے ہاتھ پر بیعت ویتوب اﷲ علی من تاب ( اﷲ تعالی ہر تو بہ قبول کرنے والے پر کرم فرماتا ہے ت) واﷲ تعالی اعلم بالصواب
حوالہ / References &صحیح مسلم النہی عن الحدیث بکل ماسمع€ مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ١ / ٨
&معجم اوسط حدیث€ ٨٩٣١ مکتبۃ المعارف الریاض ٩ / ٤٣٢
&معجم الاوسط بحوالہ الطبرانی ا لکبیر باب فی الشہود دارالکتاب بیروت€ ٤ / ٢٠١
#11276 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
مسئلہ : از سرکوں تحصیل کھٹیما ڈاك خانہ ٹنك پور مرسلہ ننھے خاں صاحب جمادی الآخرہھ
جمعہ کی نماز ہر شخص پر فرض ہے سوا ان کے جن کو رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے مستثنی فرمادیا مشکوۃ شریف صفحہ باب وجوب الجمعہ میں طارق ابن شہاب سے مرفوعا روایت ہے کہ فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کہ جمعہ حق ہے اور واجب ہے مگر چار پر ۱غلام اور۲عورت اور ۳نابالغ اور ۴بیمار یعنی ان چار کے سوا سب پر واجب ہے خود کسی کا نوکر ہو یا سودا گر یا کھیتی والا یا مزدورہو بعض روایت میں مسافر کا بھی ذکر ہے اور اسی کتاب کے اسی صفحہ میں عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے مرفوعا روایت ہے فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کہ باز آئیں لوگ جمعہ کا ناغہ کرنے سے ورنہ اﷲ تعالی ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا پھر وہ منافقوں میں سے ہوجائیں گے یعنی ان کا نام منافقوں کے دفتر میں لکھا جائے گا ہاں اتنی قید اور شرط تو حدیث میں آئی ہے کہ جماعت کے ساتھ پڑھو سوجماعت کا مسئلہ یہ ہے کہ جب ایك سے زیادہ ہوئے خواہ دو ہوں یا زیادہ ان کو جماعت کہتے ہیں چنانچہ مشکوۃ شریف باب الجماعۃ وفضلہا ف ابو موسی اشعری سے مرفوعا روایت ہے اور مشکوۃ شریف کے باب الجمعہ میں روایت ہے کہ حضرت رسو ل اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے : جو شخص تین جمعے بلا ضرورت نہ پڑھے تو لکھا جاتا ہے منافق اس کتاب میں جو نہ مٹتی ہے نہ بدلتی ہے لہذا نماز جمعہ ہر جگہ پڑھنا چاہئے خواہ شہر ہو یا گاؤں ہو یا جنگل ہو یا بن ہو کیونکہ حدیث شریف میں کوئی خصوصیت نہیں آتی ہے۔ فقط حررہ محمد اشرف خاں عفی عنہ۔
الجواب :
جمعہ بن میں حرام ہے اور گاؤں میں ناجائز ہے اور عمومات اپنے شروط سے مشروط ہوتے ہیں احادیث سے جو جاہلانہ استناد کسی جاہل نے کیا ہے وہ اگر دامن ائمہ چھوڑے تو یہی بتائے کہ یہ حدیثیں اس نے شروع میں کیونکر حجت قراردیں اﷲ تعالی نے سورہ جمعہ میں یایها الذین امنوا ( اے ایمان والو) مطلق ارشاد فرمایا ہے اس میں عورت یا بچے یا غلام یا مریض یا مسافر کسی کا استثنا نہیں تو کیوں نہیں کہتا کہ چار برس کے بچے پر بھی جمعہ فرض ہے وہ احادیث سب خبر آحاد ہیں اور خبر احاد موجب ظن تو ان سے استدلال کرنا اس کو حرام اور قرآن مجید کے خلاف ہے۔ اﷲ تعالی فرماتا ہے : ان یتبعون الا الظن ( وہ نہیں اتباع کرتے مگر طن کی ۔ ت)اور فرماتا ہے : ان الظن
حوالہ / References &القرآن€ ٦٢ / ٩
&القرآن€ ١٠ / ٦٦
#11277 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
لا یغنی من الحق شیــٴـا- ( بلا شبہہ ظن حق سے بے نیاز نہیں کرسکتا ۔ ت) تو ان پر عمل خصوصا عموم قرآن مجید کے خلاف کیونکر اس نے حلال کرلیا اور یہ بھی اس وقت ہے کہ ان احادیث آحاد کی صحت ثابت کرلے ائمہ مجتہدین کا اجتہاد نہ ماننا اور بخاری و مسلم کی تصحیح یا نسائی و دارقطنی کی تعدیل وتخریج پر اعتماد کر نا ظلم شدید وجہل بعید ہے کون سی آیت یا حدیث میں آیا ہے کہ بخاری جس حدیث کو صحیح کہہ دیں اسے مانو اور جسے ضعیف کہہ دیں اسے نہ مانو يا یحی وشعبہ جسے ثقہ کہہ دیں اسے معتمد جانو اور ضعیف کہہ دیں تو ضعیف جانو قرآن و حدیث متواترہ اجماع امت کو حجت بتاتے ہیں اور اجماع امت ہے کہ جمعہ کا حکم مطلق وعام نہیں مقید بقیود مشروط بشرائط ہے اور جو اجماع کا خلاف کرتا ہے قرآن عظیم فرماتا ہے :
نصله جهنم-و سآءت مصیرا(۱۱۵) ہم اسے جہنم میں ڈالیں گے وہ بہت بری پھرنے کی جگہ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : مرسلہ جناب جد الحسین از فرید پور مورخہ جمادی الآخرہھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں معہ چند اشخاص اپنے محلے کی مسجد کوچھوڑ کردوسرے محلہ کی مسجد جاکر نماز جمعہ کو ادا کرنا باوجود اس کے کوئی طریقہ فضیلت نہیں رکھتی ہے نہ مسجد بڑی نہ جماعت کثیر نہ امام افقہ ہاں اتنا ہے کہ دوسرے محلہ کی مسجدربع میل اور اپنے محلہ کی مسجد ثلث میل فاصلہ پر ہے جائز یا نہیں اور ان لوگوں کے جانے کی وجہ سے اپنے محلہ کی مسجد میں جماعت کم ہوتی ہے اکنوں ان لوگوں کو منع کیا جاسکتا ہے یا نہیں اور برتقدیر منع نہ کرنے کے ان لوگوں کے ساتھ اور لوگوں کے بھی جانے کا احتما ل ہے اور بصورت جائز ہونے کے کون سی مسجد میں افضل ہے بینواتوجروا
الجواب :
جمعہ مسجد جامع میں افضل ہے مسجد محلہ کا حق نماز پنجگانہ میں ہے جب ہو جامع نہیں اور دوسری جگہ جانے میں ان کو آسانی ہے تو ممانعت کی کوئی وجہ نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از شہر ر وہیلی ٹولہ مسئولہ طالب علم بنگالی شعبانھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس گاؤں میں تعریف شہر کی صادق آئے مثلا بڑی سے بڑی مسجد میں اس کے اہل نہ جمع ہوسکیں اور گلیاں اور بازار ہوں اور اس میں چند مولوی ہوں مسئلہ دین کا جاری کرتے ہوں اور قاضی ہوکر انصاف مظلوم کاکرتے ہوں اس گاؤں کے متصل اور گاؤں بھی ہے ایسے
حوالہ / References &القرآن€ ١٠ / ٣٦
&القرآن€ ٤ / ١١٥
#11278 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
گاؤں میں جمعہ جائز ہے یا نہیں
الجواب :
گاؤں متصل ہونے سے کچھ نہیں ہوتا بلکہ دیہات اس کے متعلق ہوں یہ ضلع یا پرگنہ ہو اپنے اپنے طور پر فیصلہ کرنے سے شہر نہیں ہوجاتا بلکہ والی ملك یا اس کا مقرر کردہ حاکم ہو اگر یہ دونوں باتیں ہیں تو اس میں جمعہ جائز و صحیح ہے ورنہ باطل وناجائز ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہتا : مسئولہ مکرم احمد اﷲ صاحب صدر بازار ہردوئی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں :
() جمعہ الوداع رمضان المبارك کو نبی کریم احمد مجتبی محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے خطبۃ الوداع پڑھا ہے یانہیں
() اگرحضور محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے نہیں پڑھا ہے تو سب سے پہلے خطبہ الوداع کس نے پڑھا ہے اور اس کا موجد ومخترع کون ہے صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین یا ائمہ مجتہدین فقہاء ومحدثین رحمہم اللہ تعالی ۔
() شریعت مقدسہ مطہرہ منورہ محمدیہ حنفیہ اہلسنت وجماعت میں خطبہ الوداع کا کیا درجہ ہے فرض واجب سنت مستحب مباح صاف صاف مدلل تحریر فرمائیں ۔
() جس جمعہ الوداع کو خطبہ الوداع نہ پڑھا جائے وہ جمعہ صحیح ہوگا یا نہیں اور تارك خطبۃ الوداع کس درجہ کا خاطی وگنہگار ہے قابل ملامت وزجر ہے یا نہیں ملامت وزجر کرنے والے توگنہگار نہ ہوں گے امامت اس کی جائز ہے یا نا جائز
() کتاب شبیہ الانسان کے ص ۲ میں لکھا ہے :
اما خواند کلمات حسرت وافسوس درخطبہء آخر رمضان مباح است فاما ازسلف منقول نیست وافضل ترك ست تا عوام راگمان وجوب و سنتش نگردد دریں شرط ست کہ روایت دروغ وبہتان برسول مقبول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم دراں نباشد والاحرام ہمچنانکہ این ست
رمضان کے آخری جمعہ میں حسرت وافسوس کے کلمات پڑھنا مباح ہے لیکن اسلاف سے منقول نہیں ترك افضل ہے تاکہ عوام اسے واجب یاسنت نہ بنالیں شرط یہ ہے کہ اس میں رسالتمآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نسبت جھوٹ شامل نہ ہو ورنہ حرام ہے اور وہ یہ ہے
#11279 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
اکثر محمد مصطفی محبوب ومطلوب خدا خدا کے محبوب ومطلوب محمد عربی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
گفتے دریں حسرتا ای ماہ رمضان الوداع حسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہتے اے ماہ رمضان ! الوداع۔ (ت)
یہ فتوی مفتی سعد اﷲ نامی کسی بزرگ کا ہے جوھ میں مطبع نولکشور کا نپور میں چھپا ہے جناب اس فتوی کے متعلق کیا فرماتے ہیں آیا صحیح قابل عمل ہے یا واجب الرد جو کچھ ہو صاف تحریر فرمائے بینوا توجروا
الجواب :
() الوداع جس طرح رائج ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ثابت نہیں ۔
() نہ صحابہ کرام ومجتہدین عظام رضی اللہ تعالی عنہم سے نہ اس کا موجد معلوم
() وہ اپنی حد ذات میں مباح ہے ہر مباح نیت حسن سے مستحب ہوجاتا ہے اور عروض وعوارض خلاف سے مکروہ سے حرام تک۔
() جمعہ کے لئے خطبہ شرط ہے خاص خطبہ الوداع کوئی چیز نہیں ان کے ترك سے نماز پر کچھ اثر نہیں پڑسکتا اس کے ترك میں کچھ خلل نہیں نہ تارك پر نہ زجروملامت روا جبکہ ترك بر بنائے وہابیت نہ ہو ہاں اگر وہابیت ہے تو وہابی کے پیچھے نماز بیشك ناجائز محض باطل اور وہ زجر و ملامت سے بھی سخت ترکا مستحق ہے۔
() اس فتوے میں جو کچھ لکھا حرف بحرف صحیح ہے سوائے اس لفظ کے کہ “ افضل ترك است “ اس کی جگہ یوں چاہئے التزامش نہ شاید گا ہے ترك ہم کنند تا عوام گمان وجوب وامتنان (اس کا الترام نہیں کرنا چاہئے کبھی اسے ترك کردیں تاکہ عوام کو وجوب یا سنت ہونے کا وہم نہ ہو ت) فقد صرح العلماء الکرام ان الترك احیانا یزیل الایھام ( علماء کرام نے تصریح کی ہے کہ بعض اوقات ترك کردینا عوام کے وہم کو زائل کردیتا ہے ۔ ت) واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ : از ضلع ڈھاکہ ڈاکخانہ نہروی مدرسہ حافظ پور مخلص الرحمان
بخدمت شریف جناب مولانہ مولوی احمد رضا خاں صاحب دام ظلہ السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ عرض یہ ہے کہ ہمارے ملك بنگالہ میں ایسی بستیاں ہوا کرتی ہیں کہ ہر ایك میں متعدد پارہ یعنی حصے ہوتے ہیں اور ہر ایك پارہ جدا جدا نام سے موسوم ہے ایك پارہ سے دوسرے پارہ علیحدہ اور اس قدر فاصلہ سے بسا ہے کہ گویا قریہ صغیرہ مستقلہ کے درمیان مواضع منفصلہ میں مزارع اور میدان اور کہیں کہیں
#11280 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
بانس اور دیگر ادنی جنگل ہوا کرتے ہیں موسم برسات میں ایك پارہ سے دوسرے پارہ میں جانے کے لئے کشتی کی ضرورت کم ہوتی ہے مگر جوتی پہن کر نہیں جاسکتے کہیں کہیں درمیانی فاصلہ میں زانوں تك پانی ہوتا ہے اور اکثر جگہ میں اس سے کچھ کم ایك پارہ سے دوسرے پارہ میں جانے کےلئے سوائے کھیتوں کی حدبندی اور چھوٹے چھوٹے راستوں کے اور کوئی بڑا راستہ نہیں ہے یعنی دو آدمی محاذی ہو کر ایسے راستہ سے چلنا دشوار ہے ہاں کہیں کہیں مواشی کے چلنے کے لئے “ گوپاٹ “ یعنی کچھ زمین افتادہ مثل بڑے راستے کے فراخ چھوٹی ہوئی ہے وہ بھی مثل سڑك کے اونچے نہیں ہر ایك پارہ کے ابنیہ بھی متصل نہیں بالکل غیر منظم حالت پر ہیں ان پاروں کاایك بڑا نام ہواکرتا ہے جس سے وہ خط وکتابت وتمسك وقبالہ وگورنمنٹی کاغذات میں مشہور ہوتا ہے اکثر ان گاؤں میں ڈاکخانہ ہے نہ تھانہ وسکك واسواق روزانہ بالکل نہیں ہاں ہفتہ میں دو ایك مرتبہ بعض گاؤں کے کنارے میں بازار (ہاٹ) لگتا ہے جس میں لوگ اشیائے خوردنی بیچتے اور خریدتے ہیں مگر بازار کے معین وقت کے سوا وہاں شاذو نادر ہی کچھ ملتا ہے مگر ایسے دکان دو ایك سے زیادہ نہیں ہوتا ایسے گاؤں کے پاروں میں نماز جمعہ کے لئے مسجدیں بنی ہیں ان مسجدوں میں جو نہایت بڑی ہوتی ہے اس میں بمشکل چالیس آدمی سما سکتے ہیں ہر ایك گاؤں یعنی( مجموعہ چندپاروں میں ) دو ڈھائی ہزار لوگ ہند ومسلمان بستے ہیں اس تعداد میں بالغ نابالغ مردو زن سب شامل ہیں الحاصل سوائے کثرت مردم کے شہر محکمے کی دوسری کوئی علامت ان پاروں میں نہیں ہے نماز پنجگانہ کی جماعت نہیں ہوتی اتفاقیہ دو چار آدمی کہیں جمع ہوتے ہیں تو جماعت پڑھتے ہیں ورنہ کچھ جماعت راتبہ نہیں اب سوال یہ ہے کہ ایسے گاؤں میں نماز جمعہ پڑھنی مطابق مذہب حنفی کے درست ہے یانہیں بر تقدیر ثانی پڑھنے والے گنہگار ہوں گے یا نہیں ایسے گاؤں کو جو متعدد پار ہائے منفصلہ سے بنا ہے اور جس میں دو ڈھائی ہزار لوگ بستے ہیں قریہ کبیرہ کہہ سکتے ہیں یانہیں بینوا توجروا عند اﷲ اجرا حسنا۔ زیادہ والسلام
الجواب :
صورت مذکور میں وہ چھوٹے پارے اور ان کا مجموعہ سب گاؤں ہیں اور ان میں جمعہ ناجائز ہے اور پڑھنا گناہ ۔ درمختار میں ہے :
صلوۃ العید فی القری تکرہ تحریما ای لانہ اشتغال بمالا یصح ۔
دیہاتوں میں نماز عید مکروہ تحریمی ہے کیونکہ یہ ایسے کام میں مشغول ہونا ہے جودرست ہی نہیں ۔ (ت)
اور اگراس کے سبب ظہر ترك کریں گے تو تارك فرض ہوں گے اور ظہر احتیاطا تنہا پڑھی تو تارك واجب
حوالہ / References &درمختار باب العیدین€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٤
#11281 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
ہوں گے بہر حال متعدد گناہ ان پر لازم ہیں باینہمہ جہاں لوگ پڑھتے ہوں انھیں نہ روکا جائے کما افادہ فی الدرالمختار فی الصلوۃ عند الشروق (جیسا کہ در مختار میں طلوع آفتاب کے وقت نماز کے بارے میں بیان کیا ہے ۔ ت) اور خود ہر گز نہ پڑھیں نہ نئی جگہ قائم کریں گناہ سے بچنا لازم ہے اور پاروں کے مجموعے کو اگر چہ مجموعی طور پر قریہ کبیرہ کہہ سکیں مگر قریہ کبیرہ بمعنی بلدہ صغیرہ ہر گز نہیں جس میں جمعہ جائز ہوسکے واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ تا : از قصبہ جہاں آماد خاص ضلع پیلی بھیت مرسلہ عاشق حسین بخشی قصبہ مذکور مورخہ ذی الحجۃ الحرامھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع مسائل ذیل میں :
() جمعہ کے خطبوں میں عربی عبارت پڑھ کر بعد کو ترجمہ اردو زبان میں محض بہ نیت اگاہی قوم امام جمعہ پڑھے تو کیا نقص یا فضل ہے
() خطبہ دراز یاقراءت طویل کا پڑھنا کوئی فضل رکھتا ہے یا نقصان
() قبل اور بعد جمعہ سنتوں میں سنت رسول اﷲ کہنا کوئی نقصان ہے
() مکرر الوداع شریف کوئی عمل شرعی میں نقص رکھتا ہے اوریہ عمل درست ہے یا نا درست بشریعت بینوا توجروا
الجواب :
() خطبہ میں عربی کے سوا دوسری زبان ملانا مکروہ وخلاف سنت ہے واﷲ تعالی اعلم۔
() قراءت بقدر سنت سے زائد نہ ہو اور اتنی زیادت کہ کسی مقتدی کو ثقیل ہو حرام ہے اور خطبہ كی نسبت ارشاد فرمایا کہ ادمی کی فقاہت کی یہ نشانی ہے کہ اسکا خطبہ کوتاہ ہو اور نماز متوسط زیادہ طویل خطبہ خلاف سنت ہے واﷲ تعالی اعلم۔
() سنتیں جمعہ کی ہوں یا اور وقت کی ان کی سنتوں میں نام اقدس کی طرف اضافت کہ حضور کی سنت ہے اس میں کوئی حرج نہیں اس سے وہابیہ منع کرتے ہیں جو نام اقدس سے جلتے ہیں واﷲ تعالی اعلم
() الوداع کہ رائج ہے نہ کوئی شرعی حکم ہے نہ اس سے منع شرعی ہاں علماء اس کا التزام نہ کریں کبھی
حوالہ / References &در مختار کتاب الصلوۃ€ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۶۱
#11282 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
ترك بھی کریں کہ عوام واجب نہ سمجھنے لگیں او ر سچی الوداع قلب سے ہے کہ رمضان شریف کے آنے سے خوش ہو اور جانے سے غمگین اور اگر یہ حالت ہو کہ آنا بار تھا اور جا نے کے لئے گھڑیاں گنیں تو جو جھوٹی الوداع ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از جانب انجمن اہلسنت وجماعت سہسوانی ٹولہ بریلی محرم الحرام ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك فرد یا ایك گروہ حنفی المذہب اہلسنت والجماعت کا جو کہ حتی الامکان مشرکوں بدعتیوں وہابیوں اور خصوصا رافضیوں سے مجتنب ہے اور ان سے عمل ترك موالات جائز رکھتا ہے لیکن شرکت نماز جماعت اور خـصوصا نمازجماعت کثیرکا شائق ہے اس جانکاہ وجگر خراش ہنگامہ محرم الحرام کے موقع پر یہ دیکھتے ہوئے کہ جمعہ کا روزعشرہ کا دن نماز جماعت اور عیدگاہ کا موقع ہے جس کا انتظام بریلی کے حنفی المذہب اہل سنت والجماعت انجمنوں کی مشترکہ کوششوں سے ہوا ہے مگر اس ہنگامہ میں تعزیہ دار بدعتی وغیر ہم شامل ہیں نیز اس گروہ کثیر کا اجتماع محض تعزیہ داری وتخت بینی کی وجہ سے ہواہے کیا اس نماز جماعت میں شریك ہوسکتا ہے اور اس کو نماز کا اس قدر ثواب جتنا کہ اتنی بڑی جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے سے حاصل ہونا چاہئے حاصل ہوگا اور یہ بھی کہ آمد وشد میں اس کی نظر تخت و تعزیہ وغیرہ اور ان اشخاص پر پڑے کہ جو خوشی ومیلہ سمجھ کر اس موقع پر جمع ہوئے ہیں تو اس کے مطمح نظر کو دیکھتے ہوئے اس کے ثواب نماز جماعت وجمعہ میں فرق آتا یا اس کا گناہگار ہونا تو لازم نہ ہوگا۔
الجواب :
جبکہ جماعت کا انتظام سنی حنفی اصحاب نے کیا اور امام سنی حنفی جامع شرائط امامت ہوگا تو اس میں بلاشبہہ جماعت کثیر کا ثواب ملنے کی امید واثق ہے تعزیہ داری ایك بدعت عملی ہے وہ اس حد تك نہیں کہ اس کے مرتکب معاذاﷲ رافضی وہابی وغیر ہم خبثاء کی مثل ہوں یا معاذ اﷲ ان کی جماعت جماعت نہ ہو یا ان سے اجتناب ایسا ہی فرض ہو جیسا ان خبیثوں سے ضروریات دین بالائے سر وہ عقائد ضروریہ اہلسنت کے بھی منکر نہیں نہ محبوبان خدا کی معاذ اﷲ تو ہین کرتے ہیں نہ کسی محبوب بارگاہ سے معاذاﷲ دشمنی رکھتے ہیں پھر ان خبیثوں کوان سے کیا نسبت یہ عقیدۃ ہم میں سے ہیں اور جو کچھ کرتے ہیں پیش خود محبت محبوبان خدا کی نیت سے کرتے ہیں براہ جہالت ونادانی اس میں لہو ولعب وافعال ناجائز شامل کرتے ہیں لہذا ان کی جماعت پر حکم جماعت نہ ماننا محض ظلم ہے اور جب اس کی نیت تماشا دیکھنے کی نہیں نماز باجماعت کثیر کی نیت ہے تو راستے میں ان چیزوں پر نگاہ پڑنے کا اس پر الزام نہیں جیسا کہ زمانہ عرس میں آج کل مزارات طیبہ کی حاضری۔ واﷲ تعالی اعلم
#11283 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
مسئلہ : ازعیش آرا ضلع میمن سنگھ پوسٹ کالوہا خندہ کار معظم علی صاحب محرم الحرام ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اندریں مسئلہ رحمکم اﷲ تعالی فی الدارین کہ اس دیار میں چند علماء جاہلوں کو یہ دھوکا دے رہے ہیں کہ گاؤں میں جمعہ درست نہیں اور پڑھنے والاگنہگار ہوگا کیونکہ جمعہ جبکہ درست نہیں تو اس سے فرض ظہر کا ساقط نہیں ہوا بہت جگہ کے جمعہ کو ایسے ویران کردیا اور عیدین کی نماز بھی منع کرتا ہے اور خود بھی نہیں پڑھتا ہے اور یہ بھی کہا کرتا ہے کہ جو شخص گاؤں میں نماز جمعہ و نماز عید ادا کرتا ہے وہ گناہ کبیرہ کا اصرار کرتا ہے اور گناہ کبیرہ کا اصراركرنے والا کافر ہے آیا ایسے عالم جو نمازین مومنین کو کافر کہتا ہے کے لئے کیا حکم ہے
الجواب :
دیہات میں نماز جمعہ وعیدین مذہب حنفی میں جائز نہیں مگر جہاں ہوتا ہے اسے بند کرنا جاہل کا کام ہے
قال اﷲ تعالی ارءیت الذی ینہی ﴿۹﴾ عبدا اذا صلی ﴿۱۰﴾ اﷲ تعالی کا فرمان ہے : کیا آپ نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو نماز پڑھنے سے روکتا ہے (ت)
اور جو انھیں کافر کہتا ہے گمراہ وبددین ہے نہ وہ کبیرہ ہے لاختلاف الائمۃ (ائمہ کے درمیان اختلاف کی وجہ سے ۔ ت) نہ کبیرہ پر اصرار اہلسنت کے نزدیك کفر۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ تا : جملہ اہل اسلام قصبہ بیرہٹہ ریاست سوامی جے پور معرفت حامد محمد مدرس فارسی اسکول بیراہٹہ بذریعہ ڈاك خانہ تھانہ غازی ریاست الور۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ :
() ایك قصبہ میں قاضی اور خطیب مسجد جامع سندی پادشاہی رہتے ہیں اور وہ دونوں حسب ونسب میں برابر اور برادر ہیں اور علم فارسی ومسائل میں حسب لیاقت خود ہیں الا قاضی کہ بزعم قضایت ونفسانیت ونقیض باہمی یہ کہتا ہے کہ نماز جمعہ پڑھانے کا میرا حق ہے اور خطیب مسجد جامع کہتا ہے کہ میں قاضی نہیں الا خطیب سندی پادشاہی ہوں میں نماز جمعہ پڑھانے کا مستحق ہوں یا مجھ سے اجازت لے کر اپ قاضی صاحب یا دیگر جوافضل ہوں وہ پڑھائیں لیکن قاضی صاحب بوجوہات مندرجہ بالا کے اجازت ناگوار سمجھتے ہیں اور اسی چھوٹے قصبہ میں جامع مسجد پادشاہی کو چھوڑ کر دوتین آدمیوں میں سے دیگر مسجد میں علیحدہ جمعہ پڑھتے ہیں اور مسجد جامع درمیان قصبہ کہ جہاں گردنواح میں قوم ہنود آباد ہے ایسے مقام پر اہل اسلام کی جماعت
حوالہ / References &القرآن € ٩٦ / ١٠ و ٩
#11284 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
کی نماز ہونا زینت وشوکت اسلام میں داخل ہے پھر جماعت اسلام میں خلل انداز ہوکر جامع مسجد کو چھوڑ کر دیگر مسجد میں علیحدہ جمعہ پڑھتے ہیں اس حالت میں جمعہ کون پڑھا نے کا مستحق ہے خطیب مسجد جامع یا قاضی صاحب یا دیگر اور جازت بھی خطیب سے لینا واجب ہے یانہیں اور جمعہ کون سی مسجد میں ہونا واجب ہے اور اس چھوٹے قصبہ میں دو جمعہ بوجوہات مندرجہ بالا جائز یا ناجائز از روئے شرع شریف مع تشریح کے جواب سے مطلع فرمائیں ۔
() ایك قصبہ میں زید نامی شخص کہ جو نابینا اور مرض بھگندر یعنی ناسور دائمی میں مبتلا ہے کہ جس کی وجہ سے جسم وجامہ کی پاکی وناپاکی مشتبہ رہتی ہے کہ جن کا پاك ہونافرائض نماز میں سے ہے او زید بھی کہتا ہے کہ مجھ پر سے جمعہ ساقط ہوچکا پھر کیا وجہ ہے کہ عید و جمعہ کی امامت بخواہش نفسانی خود کرتا ہے اگر اس سے کہا جاتا ھے کہ بقول آپ کے جمعہ ساقط آپ پر ہوچکا ہے اور آپ معذور ہیں پھرامامت آپ کی کس طرح جائز اور درست ہوسکتی ہے زید نے کوئی ثبوت اس بارہ میں نہیں دیا آیا زید کی امامت جائز ہے یا ناجائز اس لئے مکلف خدمت بابرکت میں ہیں کہ دونوں سوالات کے جواب بالتشریع حوالہ کتب ائمہ مجتہدین وآیات شریف واحادیث شریف تحریر فرمائیں ۔
الجواب :
() صورت مذکورہ میں وہ خطیب ہی قابل امامت جمعہ ہے قاضی کوکوئی حق نہیں یہ قاضی قاضی نکاح خوانی ہوتے ہیں نہ والی قاضی کہ دوتین آدمیوں کے ساتھ الگ جمعہ پڑھتا ہے اس کا اور اس کے ساتھیوں کا جمعہ باطل محض ہے خطیب ہی بوقت ضرورت جبکہ خود بوجہ مرض یاسفر حاضری مسجد سے معذور ہو اپنی جگہ دوسرے کو نائب کرسکتا ہے نہ یہ کہ صرف اس کی اجازت سے دوسری جگہ جمعہ قائم ہوسکے اس کا اسے بھی اختیار نہیں
فان نصب امام الجمعۃ لوالی الاسلام فان لم یکن فللعامۃ لاللخطیب وحدہ۔
امام جمعہ کامقرر کرنا والی اسلام کا کام ہے اوراگر والی نہ ہو تو عوام خطیب تنہا نہیں کرسکتا ۔ (ت)
جمعہ اسی مسجد میں ہوگا اوروہاں دوسری جگہ بلاضرورت جمعہ قائم نہ ہوگا فان بقیۃ العامۃ مقید بالضرورۃ (کیونکہ باقی عوام کا تقرر ضرورت کے ساتھ مقید ہے۔ ت) ہاں اگر وہاں کوئی عالم دین فقیہ معتمد افقہ اہل بلد ہو تو وہ حسب مصلحت اپنے حکم سے دوسری جگہ بھی جمعہ قائم کرسکتا ہے واﷲ تعالی اعلم
#11285 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
() زیداگر واقعی معذور ہے تو جمعہ وغیر جمعہ کسی نماز میں غیر معذورین کی امامت نہیں کرسکتا اور اگر معذور نہیں اورکپڑوں کی نجاست ثابت نہیں توا ور نمازوں کی امامت کرسکتا ہے اور جمعہ وعیدین کی بھی اگر جانب سلطان اسلام سے ماذون ہو یا عام مسلمانوں نے اسے جمعہ وعیدین کا امام مقرر کیا ہواور بوجہ نابینائی اس پر جمعہ فرض نہ ہونا جمعہ میں اس کی صحت امامت کا مانع نہیں جیسے غلام ومسافر. واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از نوشہرہ تحصیل جام پور ضلع ڈیرہ غازی خاں مسئولہ عبدا لغفور صاحب محرم الحرام ھ
ایك اولیاء اﷲ کا مجالس خانہ مقرر ہے وہاں عرس شریف کے دن مجلس ہوتی ہے اس مجلس خانہ میں عید نماز یا جمعہ نماز یا مطلق نماز پڑھنا جائز ہے یا نہ بینوا توجروا
الجواب : مجلس خانہ میں نماز ناجائز ہونے کی كیا وجہ ہے ہاں مسجد کا ثواب نہ ملے گا او ربلا عذر ترك مسجد ہو تو گناہ ہوگا مگر نماز ہوجائے گی یونہی جمعہ وعیدین بھی اگر عام شہرت واذن ہو کہ یہاں جمعہ یا عیدپڑھیں گے جوچاہے ائے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از ایرایان محلہ سادات ضلع فتح پور مسئولہ حکیم سید نعمت اﷲ صاحب محر م ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دھوپ کی شدت سے اگر خطبہ سنتے وقت چھاتا لگا لے تو حرج تو نہیں
الجواب : بہتر نہیں حاضری دربار کے خلاف ہے اور یہ ضعیف یامریض ہے اور دھوپ ناقابل برداشت تو لگالے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ : از مقام درگر ممالك متوسطہ مرسلہ جنا ب ڈاکٹر حسین بیگ صاحب معرفت جناب عبدالمجید صاحب مورخہ ربیع الآخره ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ایك شخص فجر کی نماز پڑھ کر جمعہ کے روز بازار کرنے کو ایك مقام پر جو کہ سکونت سے نو میل کے فاصلے پر چلاجاتا ہے اور جمعہ کی نماز میں شریك نہیں ہوتا جس کو عرصہ دراز ہوگیا ایك مولوی صاحب کہتے ہیں کہ وہ منافق ہوگیا اور اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں نہیں دفن کرنا چاہئے اوراس سے میل ومحبت وغیرہ سب ترك کردئے جائیں وہ کہتا ہے کہ اپنے بچوں کی پرورش کرنے کی وجہ سے جاتا ہوں اس پر شرعی فتوی کی ضرورت ہے۔ وبینوا توجروا
#11286 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
الجواب :
اگر وہ ٹھیك دوپہر ہونے سے پہلے شہر کی آبادی سے نکل جاتا ہے تو اس پر اس اصلا کچھ الزام نہیں اور اگر اسے شہر ہی میں وقت جمعہ ہوجاتا ہے اس کے بعد بے پڑھے چلاجاتا ہے تو ضرور گنہگار ہے مگر یہ باطل ہے کہ اسے قبرستان مسلمین میں دفن نہ کرسکیں اسے نفاق عملی کہہ سکتے ہیں نہ کہ حقیقی۔ ہاں اس جرم پر مسلمان اس سے میل جول ترك کر سکتے ہیں اور پہلی تقدیر پر تو جتنے احکام اس پر لگائے گئے سب غلط ہیں ۔ فتاوی ظہریہ وغیرہ شروح و درمختار وغیرہما میں ہے :
الصحیح انہ یکرہ السفر بعد الزوال قبل ان یصلیھاولا یکرہ ان یصلیھا قبل الزوال ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
صحیح یہ ہے کہ زوال کے بعد جمعہ ادا کرنے سے پہلے سفر پر نکلنا مکروہ ہے البتہ قبل از ز وال نکلنا مکروہ نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
( درمختار باب الجمعہ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی / )
مسئلہ : مسئلہ از کشن گنج ضلع پورنیہ مسئولہ ماسٹر محمدطاہر علی صاحب ہیڈ ماسٹر مدرسہ انجمن اسلامیہ جمادی الاولی ھ
کیا فر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اس جوار کا دستور ہے کہ اکثر لوگ احاطہ مکان میں ایك چار چھ ہا تھ کا مربع مکان دیوار یا ٹٹی کا بنام اﷲ گھر یا مسجد كے بلا لحاظ پابندی نماز بتاتے ہیں یہ مکان ضرورتا ادھر ادھر ہٹا بھی دیاجاتا ہے اور کبھی کھود بھی ڈالتے ہیں غرض ایسی عرفی مسجدوں میں جو بڑی سے بڑی مسجدتھی اس میں لوگوں نے جمعہ جماعت تیار کرلی اور چلتے پھرتے واعظ لوگ آتے انھوں نے ان لوگوں کی شامل جمعہ بھی پڑھا اور پڑھتے ہیں تو ایسی حالت میں بتحقیق مقلدین احناف یہ خوانندہ جمعہ مصیب ٹھہریں گے یا خاطی جواب مدلل بادلہ حنیفہ ہو۔
الجواب :
یہ مکانات مساجد البیوت کہتے ہیں یہ حقیقۃ مسجد نہیں ہوتے نہ ان کے لئے حکم مسجد ہے درمختا ر میں ہے :
کرہ غلق باب المسجد والوطء فوقہ والبول والتغوط ولایکرہ ماذکر فوق بیت جعل فیہ مسجد بل ولا فیہ لانہ لیس
مسجد کا دروازہ بند رکھنا مسجد کی چھت پر وطی اور بول و براز مکروہ ہے لیکن یہ اس گھر کے اوپر مکروہ نہیں جس گھر میں مسجد ہو بلکہ اس کے اندر بھی مکروہ نہیں کیونکہ
حوالہ / References &درمختار باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٩٣
#11287 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
بمسجد شرعا ۔ ( ملخصا)
وہ شرعی مسجد نہیں ۔ (ت)
مگر جمعہ کے لئے مسجد شرط نہیں مکان میں بھی ہوسکتا ہے جبکہ شرائط جمعہ پائے جائیں اور اذن عام دے دیا جائے لوگوں کو اطلاع عام ہو کہ یہاں جمعہ ہوگا اور کسی کے آنے کی ممانعت نہ ہو کافی امام نسفی میں ہے :
السلطان اذا اراد ان یصلی بحشمہ فی دارہ فان فتح بابھا و اذن للناس اذنا عاما جازت ۔
اگر سلطان چاہتا ہے کہ وہ اپنے گھر میں نماز جمعہ ادا کرے تو اگر اس نے دروازہ کھلا رکھا اور لوگوں کو اذن عام تھا تو جائز ہے۔ (ت)
تو اگر صورت یہ تھی وہ لوگ مصیب ہوئے ہاں اگر وہاں مسجد جمعہ موجود تھی اس میں نماز نہ ہوئی اور گھر میں قائم کی تو کراہت ہوئی درمختار میں ہے :
لودخل الامیر قصرہ واغلق بابہ وصلی باصحابہ لم تنعقد ولوفتحہ واذن للناس بالدخول جاز وکرہ ۔
اگر امیر نے اپنے محل میں داخل ہوکر دروازہ بند کرکے اپنے ساتھیوں کے ساتھ نماز ادا کی تو جمعہ نہ ہوا اور اگر دروازہ کھلا رکھا اور لوگوں کے لئے اجازت عام تھی تو جائز ہوئی البتہ کراہت ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
لانہ لم یقض حق المسجد الجامع زیلعی و درر ۔
مکروہ اس لئے ہے کہ اس نے جامع مسجد کا حق ادا نہ کیا زیلعی درر (ت)
اور اگر کوئی شرط جمعہ مفقود تھی مثلا وہ جگہ مصر وفنائے مصر نہ تھی یا امام امام جمعہ نہ تھا یا بعض نمازیوں کو بلا وجہ شرعی وہاں نماز کے آنے سے ممانعت تھی یا نمازیوں میں وہاں اقامت جمعہ مشہور نہ تھی بطور خود ان لوگوں نے پڑھ لی اور عام اطلاع نہ ہوئی اگر چہ لوگوں نے اور مسجدوں میں پڑھی تو ان صورتوں میں ان کی نماز نہ ہوئی خلاصہ میں شرح جامع صغیر امام صدر شہید سے ہے :
من جملۃ ذلك الاذن العام یعنی الاداء علی
ان سے ایك اذن عام بھی ہے یعنی اعلانیہ
حوالہ / References &در مختار باب مایفسد الصلٰوۃ و مایکرہ فیھا€ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۹۳
&ردالمحتار بحوالہ الکافی باب الجمعۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٦٠١
&درمختار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٢
&ردالمحتار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٦٠١
#11288 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
سبیل الاشتہار ۔
ادا کیا جائے ۔ (ت)
بدائع وحلیہ وغیرہما میں ہے :
السلطان اذا صلی فی دارہ و القوم مع امراء السلطان فی المسجد الجامع ان فتح باب دارہ واذن للعامۃ جاز وتکون الصلوۃ فی موضعین ولو لم یأذن للعامۃ وصلی مع جیش لا تجوز صلوۃ السلطان وتجوز صلوۃ العامۃ اھ و تمامہ فیما علقناہ علی ردالمحتار ۔ واﷲ تعالی اعلم
سلطان نے اپنی دار میں جمعہ پڑھا باقی لوگوں نے بمع امراء سلطان جامع مسجد میں جمع پڑھا تواب اگر دار کا دروازہ کھلا تھا تو جائز ہے اور نماز دونوں مقام پر ہوجائے گی اور اگر وہاں عام لوگوں کو اجازت نہ تھی بادشاہ نے صرف اپنے لشکر کے ساتھ نماز ادا کی تو اب سلطان کی نماز نہ ہوئی ہاں عام کی ہوجائی گی اھ اسکی تفصیل ہمارے حاشیہ ردالمحتار میں ملاحظہ کیجئے۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہتا : حافظ مولوی حشمت علی صاحب طالب علم مدرسہ منظر الاسلام بریلی محلہ سوداگران محرم ھ
() کیا ارشاد ہے حماۃ سنت سنیہ بیضاء ومحاۃ بدعت قبیحہ ظلماء کا اس مسئلہ میں کہ خطبہ میں رغما لانوف الوہابیہ والرافضیہ سرکار حضور سید نا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کا نام اقدس لے کر بہ تبعیت حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم درود شریف پڑھنا کیسا ہے
() اولی الامرمنکم سے حقیقتا علمائے دین مراد ہیں یا نہیں اگر ہیں تو جو عالم اہلسنت دل وجان سے دین وسنت پر فدا ہو اور اس کی ذات سے اسلام کو بڑی تقویت پہنچتی ہو اس زمانہ کے علمائے اہلسنت کے اتفاق سے وہ پیشوائے علمائے سید الفقہاء ہو اس نے اپنی زندگی محض حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے مقدس قدموں پر تصدق کردینے کے لئے وقف کردی ہو جہاں کوئی دین میں نیا فتنہ اٹھتے دیکھے حتی الوسع اس کے مٹانے میں اپنے قلم وزبان وجان سے کوشش کرے اس کی مبارك زندگی زیادہ ہو غیب سے اس کی مدد نصرت فرمائی جائے تمام اعداء اﷲ واعداء الرسول جل وعلا و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر اس کے غالب رہنے کی خطبہ میں دعا کرنا جائز ہے یا نہیں بینوا بالتفصیل توجروا عند الملك الجلیل ثم لدی الحبیب
حوالہ / References &خلاصتہ الفتاوٰی بحوالہ شرح الجامع الصغیر لصدر شہید ومنہا الجماعۃ€ مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ١ / ٢١٠
&بدائع الصنائع بحوالہ النوادر فصل فی بیان شرائط الجمعۃ€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ٢٦٩
#11289 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
الجمیل جل علاو صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم (تفصیل کے ساتھ بیان کرکے اﷲ جل جلالہ مالك وجلیل اور اس کے حبیب جمیل صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے اجر پائے ۔ ت)
الجواب :
جائز ہے واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ تا : از آگرہ ابوالعلائی اسٹیم پریس مسئولہ وحید الدین صاحب شوال ھ
علمائے دین اس مسئلہ میں کیا ارشادفرماتے ہیں :
() ہندوستان کے شہروں میں جمعہ ادا ہوتاہے یا نہیں اور جمعہ ادا کرنے کے بعدظہر احتیاطی واجب ہے یا مستحب یا مکروہ
() کیا ایك وقت میں دو نمازیں فرض ہیں اور کیا جمعہ ادا کرنے سے ظہر ساقط نہیں ہوتی۔
() ہندوستان کے جن شہروں میں جامع مسجد کا امام باتفاق مقرر کیا گیا ہے کیا وہ اقامت وادائیگی جمعہ کے لئے کافی ہے یا بادشاہ اسلام یا نائب بادشاہ کی ضرورت ۔ مختصر اولہ حوالہ کتب کے ساتھ جواب مرحمت ہو۔
الجواب :
() ہندوستان کے شہروں میں جمعہ صحیح ہے اور ظہر احتیاطی صرف خواص کو مناسب ہے۔ درمختارمیں ہے :
نصب العامۃ غیم معتبر مع وجود من ذکر۔ امامع عدمھم فیجوز للضرورۃ ۔
جب مذکور اشخاص موجود ہوں تو عوام کا مقرر کرنا معتبر نہیں اور مذکورہ افراد نہ ہوں تو ضرورت کے پیش نظر تقرر جائز ہوگا ۔ (ت)
اس مسئلہ کی تحقیق وتفصیل ہمارے فتاوی اور ہمارے رسالہ لوامع البھا میں ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
() ایك وقت میں دو فرض ہر گز نہیں اور جمعہ جب ادا ہوجائے گا ظہر ساقط ہوجائے گی ایسے ہی خیالوں سے بچنے کو علماء نے عوام کو ظہر احتیاطی کا حکم نہ دیا۔ ردالمحتار میں ہے :
ولذا قال المقدسی نحن لا نامر بذلك امثال ھذہ العوام بل ندل
ہم ایسی اشیاء کا حکم عوام کو نہیں دیتے بلکہ خواص کو بتاتے ہیں اگر چہ خواص عوام کی
حوالہ / References &درمختار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٠
#11290 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
عليہ خواص ولو بالنسیۃ الیھم ۔ واﷲ تعالی اعلم
نسبت سے ہوں ۔ (ت) واﷲ تعالی اعلم
() وہ امام کافی ہے اگر صحیح العقیدہ صحیح القرائۃ صحیح الطہارۃ جامع شرائط صحت ہو ابھی درمختار سے گزرا : یجوز للضرورۃ ( ضرورت کے لئے جائز ہے ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از پیلی بھیت محلہ پنجابیاں مسئولہ محمد یونس صاحب شعبانھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مقام پر دریا شہر میں واقع ہے اور ایك آگبوٹ یہاں مدام کھڑا رہتا ہے اور جہاز والے چند جہازوں کو اس آگبوٹ میں لاکر جوڑ تے ہیں مال اور سواریاں جہازوں کی آگبوٹ اتارتے ہیں اور آگبوٹ کے اگے ایك پل لوہے کا بنا ہوا ہے سواریاں شہر کواسی پل سے پار ہوکر جاتی ہيں اور اس آگبوٹ اور جہازوں میں تین گز کا فاصلہ ہے اور جہازوں والے بوجہ خوف چوری کے شہر میں جاکر نماز ادا کرنے سے منع کرتے ہیں توازروئے شرع نماز ان کی جائز ہوتی ہے یا نہیں
الجواب :
دریا میں نماز جمعہ وعیدین نہیں ہوسکتی اگر سمندر ہے جب تو ظاہر ہے کہ وہ حکم دارالحرب میں ہے اور دارالحرب میں جمعہ وعیدین باطل ۔ ردالمحتار میں ہے :
فی حاشیۃ بی السعود عن شرح النظم الھاملی سطح البحرلہ حکم دارالحرب ۔
حاشیہ ابوسعود میں شرح النظم الہاملی کے حوالے سے ہے کہ سطح سمندر کا حکم دارالحرب کا ہے (ت)
اسی میں درمنتقی شرح الملتقی سے ہے : البحر الملح ملحق بدارالحرب ( نمکین سمندر دارالحرب سے ملحق ہے ۔ ت)) اور اگر دریا ہو تو دریا نہ مصر ہے نہ فنائے مصر یہاں تك کہ شہر کے دوحصے کہ اس کے دو پہلوں پر آباد ہوں دوشہر کے مثل ہیں کہ دریا ایك جداومستقل چیز بیچ میں فاصل ہے۔ فتح القدیر میں ہے :
اصلہ عندابی حنیفہ لایجوز تعدد ھافی
اس کی اصل امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیك یہی ہے
حوالہ / References &ردالمحتار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٩٧ ۔ ٥٩٦
&ردالمحتار باب استیلاء الکفار€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ٢ / ٦٧ ۔ ٢٦٦
&ردالمحتار باب استیلاء الکفار€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ٢ / ٦٧ ٢
#11291 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
فی مصر وکذاروی اصحاب الاملاء عن ابی یوسف انہ لا یجوز فی مسجد ین فی مصر الا ان یکون بینھا نھر کبیر حی یکون کمصرین وکان یامر بقطع الجسر ببغداد کذلك ۔
کہ ایك شہرمیں متعدد جگہ جمعہ نہیں ہوتا۔ اسی طرح اصحاب الاملاء نے امام ابویوسف سے روایت کیا کہ شہر میں دومساجد میں جمعہ نہیں ہوتا ہاں جب ان کے درمیان بڑی نہر ہو تو وہ اس وقت دوشہروں کی طرح ہوجائیں گے اسی لئے انھوں نے بغداد میں پل ختم کرنے کا حکم جاری فرمایا تھا ۔ (ت)
ظاہر ہے کہ فنا تابع ہے نہ کہ قاطع اور جمعہ وعیدین نہیں ہوسکتے مگر مصر یا فنائے مصر میں یہ سب اس صورت میں ہے کہ خوف صحیح ہو اترنا متعذر ہو ورنہ نماز پنجگانہ ووتر وسنت فجر بھی ان جہازوں میں نہیں ہوسکتے کہ ان کا استقراء پانی پر ہے اور ان نمازکی شرط صحت استقرار علی الارض مگر بحال تعذر فتح القدیر میں ہے :
فی الایضاح ان کانت موقوفہ فی الشط وھی علی قرار الارض فصلی قائما جاز لانھا اذا استقرت علی الارض فحکمھا حکم الارض فان کات مربوطۃ ویمکنہ الخروج لم تجز الصلوۃ فیھا لانہا اذا لم تستقم فھی کالدابۃ انتھی بخلاف مااذا استقرت فانھا حنیئذ کالسریر
ایضاح میں ہے اگر وہ کشتی کنارے پر کھڑی ہے اور زمین پر برقرار ہے تو نماز کھڑے ہو کر ادا کرے تونماز جائز ہے کیونکہ اب زمین پر قرار پکڑنے کی وجہ سے زمین کے حکم میں ہی ہے اور اگر کشتی باندھی ہوئی تھی اور اس سے نکلنا ممکن تھا تو اب اس پر نماز نہ ہوگی کیونکہ جب وہ مستقر نہیں تو وہ چارپایہ کے حکم میں ہے بخلاف اس صورت کے جب وہ مستقر ہے تواس وقت وہ چار پائی کی طرح ہوتی ہے ۔ (ت)
اسی صورت میں اگر جبرا نہ اترنے دیتے ہوں پنجگانہ پڑھیں اور اترنے کے بعد سب کا اعادہ کریں لان المانع من جھۃ العباد ( کیونکہ رکاوٹ بندوں کی طرف سے ہے ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از کاٹھیا واڑ ضلع راجکوٹ شہر پور بندرپنج ہسٹری مسئولہ سید غلام محمد صاحب قادری رضوی امام مسجد میٹھی رمضان ھ
امام العلماء المحققین مقدام الفضلاء المدققین حضرت سیدنا مخدومنا ومولنا ومولوی حاجی قاری
حوالہ / References &فتح القدیر باب صلٰوۃالجمعہ€ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ٢ / ٢٥
&فتح القدير باب صلٰوۃ المریض€ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ١ / ٤٦٢
#11292 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
احمد رضا خاں صاحب قبلہ قادری برکاتی مدظلہ ودام فیضہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ یہاں ملك کاٹھیا واڑ میں اکثر مقامات پر یہ رواج ہے کہ جمعہ کے روز خطبہ میں سلطان المسلمین کے واسطے دعا مانگی جاتی ہے تو خطیب بروقت دعا مانگنے کے منبر پر سے ایك سیڑھی نیچے اترتاہے اور بعد دعا مانگ کر ایك سیڑھی اوپر چڑھتا ہے اور بعض مقامات پر اس طرح نہیں کیا جاتا ہے یعنی خطیب ایك سیڑیھی نیچے اترتا تو زید اس سے اعتراض کرتا ہے اور کہتا ہے کہ سلطان کے لئے دعامانگنے کے وقت ایك سیڑھی اترنا چاہئے عرض یہ ہے کہ یہ فعل کیسا ہے
الجواب :
خطیب کا ایك سیڑھی نیچے آنا اور پھر اوپر جانا بعض علمانے بمجبوری ایك مصلحت شرعی کے لئے رکھاتھا جس کاذکر مکتوبات شیخ مجدد اور تفصیل ہمارے فتاوی میں ہے یہاں وہ مجبوری نہیں نہ سلاطین کے نام کے ساتھ مبالغہ امیز غلط الفاظ ملانے کی حاجت لہذا یہ فعل عبث محض ہے ردالمحتار میں اس کا بدعت ہونا نقل کیا وھو تعالی اعلم
مسئلہ : از بھوساول ضلع خاندیس محلہ ستارہ مسئولہ حافظ ایس محبوب صاحب رمضان ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ جمعہ کی نماز باجماعت کس وقت سے لے کر اور کب تك اداکرسکتے ہیں بینوا توجروا
الجواب :
جمعہ اور ظہر کا ایك وقت ہے زوال شمس کے بعد اذان اول ہوپھر سنتیں پھر اذان ثانی پھر خطبہ پھر نماز یہ اس کا اول وقت ہے اور ایسے وقت اذان وخطبہ ونماز ہوں کہ سایہ دو مثل ہونے سے پہلے اخیر سنتیں ہوجائیں یہ اس کا آخر وقت ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از جے پور بیرون اجمیری دروازہ کوٹھی عبدالواجد علی خاں مسئولہ حامد حسن قادری رمضانھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ خطبہ جمعہ میں بعد جلسہ استراحت درمیانی کس قدر خطبہ پڑھنا چاہئے اور اس میں کیا کیا مضامین ہوں کیا صرف چند کلمات حمد اور ایك آیت قرآنی سے خطبہ ثانیہ پورا ہوجائے گا اور کیا نعت حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم و درود شریف وذکر خلفائے کبار و اہلبیت کرام رضوان اﷲ تعالی اعلیہم اجمعین ودعابرائے مومنین کے تر ك سے کچھ نقصان نہ ہوگا بینوا توجروا
الجواب :
خطبہ ثانیہ پورا ہونا بایں معنی کہ فرض ادا ہوجائے یہ تو پہلے ہی خطبہ سے حاصل ہوگیا مگر بلاضرورت
#11293 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
سنت متوارثہ قدیمہ دائمہ کو چھوڑنا ا ور مسلمانوں کی تنفیر کا باعث ہونا اور اپنے اوپر فتح باب غیبت کرنا اور ارشاد اقدس بشروا والاتنفروا ( خوشخبری دو نفرت نہ دلاؤ ۔ ت) کی مخالفت کرنا دیندار عاقل کا کام نہیں نعت اقدس سے دعا برائے مومنین تك جتنی باتیں سوال میں مذکور ہیں سب محمود ومعمول وماثور ہیں انھیں ضرور بجا لانا چاہئے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از شاہجہان پور محلہ خلیل مسئولہ امیر خاں مختار عامر شوالھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ شاہجہان پور میں ایك مسجد ہے اس میں یہ قرار پایا کہ اول ہر وقت یہاں تك کہ جمعہ کی نماز قادیانی پڑھیں بعد کو اہلسنت مع خطبہ جمعہ کے توحضور فرمائے کہ ہماری نماز ہوگی یا نہیں پہلے قادیانی خطبہ پڑھ چکے ہم دوبارہ پڑھ سکتے ہیں یا نہیں بینوا توجروا
الجواب : نہ قادیانیوں کی نماز ہے نہ ان کا خطبہ خطبہ کہ وہ مسلمان ہی نہیں اہلسنت اپنی اذان کہہ کر اسی مسجد میں اپنی خطبہ پڑھیں اپنی جماعت کریں یہی اذان وخطبہ وجماعت شرعا معتبر ہوں گے اور اس سے پہلے جو کچھ قادیانی کر گئے باطل ومردود محض تھا ۔ وھوتعالی اعلم
مسئلہ : از جگندل ضلع چوبیس پرگنہ نیا بازار نئی مسجد مسئولہ عبدالستار ہاشمی شوال ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جمعہ کے خطبہ اولی کے بجائے وعظ وپند عوام کو احکام شرعیہ بتانے اور سمجھانے کے لئے جائز ہے یانہیں یا قطعی حرام ہے اردو کلام کرنا اندر خطبہ کے یا خطبوں کا ترجمہ یا آیات واحادیث جو خطبوں میں ہیں ان کا ترجمہ کرنا درست ہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
خطبہ خود وعظ وپند ہے مگر اس میں غیر عربی زبان کا خلط مکروہ وخلاف سنت متوارثہ ہے اگر چہ نفس فرض خطبہ خالص دوسری زبان سے ادا ہوجائے گا صحابہ کرام نے عجم کے ہزاروں شہر فتح فرمائے اور ان میں منبر نصب کئے اور خطبے پڑھے اور ان کی زبانیں جانتے تھے ان سے گفتگو کرتے تھے مگر کبھی منقول نہیں کہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں خطبہ فرمایا یا غیر زبان کو ملایا :
فھو کف والکف متبع قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ فھورد ۔
یہ فعل سے رکنا ہے اور رکنے میں اتباع کی جائے گی حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا جس نے ہمارے کسی معاملہ میں اختراع کی حالانکہ وہ اس میں سے نہ تھی تو وہ مردہ ہوگی ۔ ت)
حوالہ / References &صحیح البخاری باب اذا اصطلحوا علی صلحٍ جورٍ فہو مردود €مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٣٧١
#11294 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
درمختار میں ہے :
صح لو شرع بغیر عربیہ وشرطا عجزہ وعلی ھذا الخلاف الخطبۃ ۔
صحیح ہے اگر اس نے نماز کی تکبیر غیر عربی میں شروع کی اور صاحبین کے نزدیك بشرطیکہ وہ عاجز ہو یہی اختلاف خطبہ کے بارے میں ہے ۔ (ت)
ردالمحتار میں غرر الافکار شرح دررالبحار سے ہے :
کرہ الدعاء بالعجمیۃ لان عمر رضی اﷲ تعالی عنہ نھی عن اطاعۃ الاعاجم ۔
دعا عجمی زبان میں مکروہ ہے کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے عجمی لوگوں کی پیروی سے منع فرمایا ہے ۔ (ت)
اسی میں ولوالجیہ سے ہے :
التکبیر عبادۃ اﷲ تعالی لایحب غیر العربیۃ ۔
تکبیر اﷲ تعالی کی عبادت ہے اور اﷲ تعالی غیر عربی کو پسند نہیں کرتا ۔ (ت)
ہاں اگر اثنائے خطبہ میں مثلا کسی ہندی کو کوئی فعل ناجائز کرتے دیکھا جیسے خطبہ ہونے کی حالت میں چلنا یا پنکھا جھلنا اور وہ عربی نہیں سمجھتا تو اردو میں اسے منع کرے کہ یہ حاجت یونہی رفع ہوگی ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ تا : از بھاجی بازار شہر مسئولہ مظہر حسین صاحب آزادپرائیویٹ سیکریٹری شوالھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسائل ذیل میں :
() قاضی وخطیب شہر گورنمنٹ کا خطاب یافتہ ہے اور اس کے متعلق اس کو معاش زمانہ شاہی سے ملی ہوئی ہے اس نے ذاتی رنجشوں عداوتوں کی وجہ سے خطا ب وغیرہ ترك موالات کے سلسلہ میں واپس نہیں کئے ویسے خلافت کاہمدرد اور قولا فعلا امداد کی اور کرنے کو تیار ہے بوجہ خطیب ہونے کے عیدیں میں خطبہ پڑھتا ہے کیا شرعا ایسے شخص کا خطبہ سننا جائز ہے
() جامع مسجد اور عیدگاہ میں ایك شخص حافظ قاری جو دو حج بھی کرچکا ہے اور خطاب یافتہ نہیں ہے منجانب قاضی وخطیب مذکور امامت کے لئے عرصہ دراز سے مقرر ہے اس کی امامت میں نماز جائز ہے یا نہیں
حوالہ / References &درمختار فصل واذا ارادالشروع فی الصلٰوۃ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٧٤
&ردالمحتار مطلب فی الدعاء بغیر العربیۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٣٨٥
&ردالمحتار مطلب فی الدعاء بغیر العربیۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٣٨٥
#11295 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
() ایك شہر میں دو خطاب یافتہ مسلمان ہیں خلافت کمیٹی بھی قائم ہے اس کمیٹی نے ایك خطاب یافتہ کی جانبداری اختیار کر رکھی ہے اس کو خطاب وغیرہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کرتی اور اس کی تولیت میں جو مسجد ہے اور اس میں اسی خطاب یافتہ کی جانب سے امام مقرر ہے اس کا خطبہ سننا اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز قرار دیا ہے اور دوسرے خطاب یافتہ کا خطبہ سننا اور اس کے مقرر کردہ امام کے پیچھے نماز پڑھنا ناجائز قراردیا ہے کیا کمیٹی کا یہ فعل فتاوی علمائے کرام احکام خدا ورسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہے اور احکام شرعیہ میں کوئی تفرقہ ہے یا سب مسلمانوں کے لئے یکساں اور عام ہیں بینوا توجروا
الجواب :
() جو زمانہ شاہی سے منصب خطبہ وامامت پر منصوب ہے بلاوجہ شرعی اس کے خطبہ سننے کو ناجائز بتانے والا شریعت مطہرہ پرا فتراء کرتا ہے خطاب واپس نہ کرنا کوئی ایسا جرم نہیں جس کے سبب اس کا خطبہ سننا منع ہوجائے ان الذین یفترون على الله الكذب لا یفلحون(۱۱۶) ( بلاشبہ وہ لوگ جو اﷲ تعالی پر افتراء باندھتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہ ہوں گے ۔ ت)
() جائز ہے اگر اس میں کوئی مانع شرعی نہ ہو اگر چہ خطاب یافتہ ہو.
() یہ تفرقہ محض جہالت اور افتراء بر شریعت ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از ایرایان ضلع فتحپور سادات مسئولہ سید صغیر حسین صاحب نائب مدرس مڈل اسکول شوال ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جمعہ کے روز جب امام منبر پر خطبہ پڑھنے کو آجائے اور اذان کہی جائے تو کلمات اذان کا جواب دینا اور بعد ازاں دعائے اذان پڑھنی چاہئے یا نہیں اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے نام پاك پر اذان میں انگوٹھا چومنا یا خطبہ میں آں حضرت کے نام پر انگوٹھا چومنا چاہئے یا نہیں
الجواب :
اذان خطبہ کے جواب اور اس کے بعد دعا میں امام وصاحبین رضی اللہ تعالی عنہم کا اختلاف ہے بچنا اولی اور کریں تو حرج نہیں یوں ہی اذان خطبہ میں نام پاك سن کر انگوٹھے چومنا اس کا بھی یہی حکم ہے لیکن خطبہ میں محض سکوت وسکون کا حکم ہے خطبہ میں نام پاك سن کر صرف دل میں درود شریف پڑھیں اور کچھ نہ کریں زبان کو جنبش بھی نہ دیں واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References &القرآن€ ١٦ / ١١٦
#11296 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
مسئلہ : از قصبہ سرسی محلہ بوچڑ خانہ کلاں پرگنہ سنبھل ضلع مرا دآباد مسئولہ حافظ خدا بخش وشیخ عبدالعزیز یکم ذی القعدہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ فرقہ نجدیہ کے اشخاص جابجا گشت کرتے ہیں اور مومنین مومنات کو بہکاتے پھرتے ہیں ان کا بیان سننے کو کوئی نہیں ٹھہرتا تو انھوں نے اب یہ کید کیا ہے کہ بوقت خطبہ جمعہ اغوا شروع کرتے ہیں اور اس کا نام خطبہ رکھتے ہیں یہ فرقہ کیا حکم رکھتا ہے ار خطبہ جمعہ دراصل اردو میں جائز بھی ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب :
وہابیہ کفار مرتدین ہیں جیسا کہ علمائے حرمین شریفین کے فتوے “ حسام الحرمین “ سے ظاہر ہے ان کا خطبہ باطل ان کی نماز باطل ان کے پیچھے نماز باطل محض جیسے کسی ہندو یا نصرانی کے پیچھے اور اردو میں خطبہ پڑھنا سنت متوارثہ کا خلاف اور بہت برا ہے اور وہابیہ کے طور پرتو اصل ایمان میں خلل انداز ہے کہ بدعت ہے اور ان کے نزدیك ہر بدعت اصل ایمان میں خلل انداز اگر چہ ان کے پاس سرے ہی سے نہیں واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : ازاوجین گوالیار مرسلہ مولوی یعقوب علی خاں جمادی الآخرہھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید ایك قصبہ میں نسلا بعد نسل مسند قضا پر بحکم حاکم واتفاق جماعت مسلمانان مامور ہے اور امامت وخطابت اور نماز عیدین بلکہ تمام کاروبار متعلقہ عہدہ قضا کرتا ہے اور سوائے زید کے شوہر ہندہ نے تمام عمر امامت وخطیبی نہ کی باوجود ان وجوہات کے ہندہ نے بعد وفات شوہر اپنے کے بشرارت چند کس زید کو بلاوجہ خدمت مذکور سے علیحدہ کرکے عمر و داماد اپنے کر بحکم حاکم قائم مقام زید کیا چاہتی ہے ہندہ چچی زید ہے تو باجازت واعانت عورت بلا استرضا کے اقوام اہل اسلام عمر وامامت وخطابت کرسکتا ہے یا نہیں بسند کتاب بیان فرمائیں .
الجواب :
عورت کہ سلطنت نہ رکھتی ہو اورا سی طرح سلطان اسلام یا اس کے نائب ماذون کے سواکسی حاکم کا کسی شخص کو خطیب یا امام جمعہ مقرر کرنا اصلا معتبر نہیں نہ ایسے شخص کے خطبہ پڑھتے یا نماز پڑھانے سے جمعہ ادا ہوسکے کہ اس میں اذن سلطان اسلام شرط ہے جسے اس نے مقرر کیایا اس کے مقرر کئے ہوئے نے اذن دیا وہی خطیب وامام ہو سکتا ہے دوسرا نہیں درمختار میں ہے :
الجمعۃ شرط لصحتھا السلطان اومامورہ باقامتھا قالوا یقیمھا امیر البلد ثم الشرطی ثم
صحت جمعہ کے لئے سلطان یا اس کے مامور برائے اقامت جمعہ کا ہونا ضروری ہے فقہاء نے فرمایا
#11297 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
القاضی ثم من ولاہ قاضی القضاۃ اھ ملتقطا
کہ جمعہ امیر یا شہر قائم کرے اس کے بعد محاسبہ پھر قاضی پھر وہ شخص جسے قاضی القضاۃ نے مقرر کیا ہو اھ اختصارا (ت)
پس اگر آباء واجداد زید سلطنت اسلام سے اس عہدہ پر از جانب سلاطین اسلام مقرر تھے اور وہ خطباء و ائمہ یکے بعد دیگرے اپنی اولاد میں ایك دوسرے کو نائب کرتے آئے یہاں تك کہ یہ نہایت زید تك پہنچی تو زید خود سلاطین اسلام کی طرف سے اس عہدہ پر مامور گناجائے گا اوراس کے ہوتے ہوئے اگر تمام اہل شہر بے اس کے اذن کے دوسرے کوامام یا خطیب مقرر کرنا چاہیں گے ہرگز جائز نہ ہوگا نہ بغیر اس کی اجازت کے کسی کی خطبہ خوانی یا امامت صحیح ہوگی ردالمحتار میں ہے :
الاذن من السلطان انما یشترط فی اول مرۃ فاذا اذن باقامتھا لشخص کان لہ ان یأذن لغیرہ وذلك الغیرلہ ان یأذن لاخر وھلم جرا ولاتصح اقامتھا الا لمن اذن لہ السلطان بواسطۃ او بدونھا اما بدون ذلك فلا اھ ملخصا
سلطان کا اذن پہلی دفعہ شرط ہے جب سلطان کسی شخص کو اقامت جمعہ کا اذن جاری کر دے تو وہ شخص کسی دوسرے کو اجازت دے سکتا ہے اسی طرح وہ آگے ایسا کرسکتا ہے اقامت جمعہ وہ قائم کرسکتا ہے جس کو اذن سلطان حاصل ہو خواہ بلاواسطہ اذن ہو یا بالواسطہ ۔ لیکن اگر اذن نہیں تو جمعہ قائم نہیں کرسکتا اھ تلخیصا (ت)
اور اگر ایسا نہیں یعنی اس کے اجداد جانب سلاطین اسلام سے مامور نہ تھے یا س کی انھوں نے نائب نہ کیا تاہم جبکہ یہ خود باتفاق مسلمین امامت وخطابت پر مامور ہے تو ہمارے اعصار وامصار میں بلاریب امام وخطیب صحیح شرعی ہے کہ جہاں سلطان نہ ہو اس امر کا اختیار عامہ مسلمین کے ہاتھ ہوتا ہے وہ جسے مقرر کردیں اسی کا تقرر ٹھیك ہے درمختار میں ہے :
نصب العامۃ الخطیب غیر معتبر مع وجود من ذکر امامع عدمعھم فیجوز للضرورۃ ۔
عوام کا خطیب کو مقرر کرنا مذکورہ افراد کے ہوتے ہوئے معتبر نہیں اور اگر ان میں سے کوئی نہ ہو تو ضرورت کی وجہ سے جائز ہوگا (ت)
تواس صورت میں بھی دوسرا کوئی شخص بغیر اذن زید کے امامت وخطابت کا مجازنہیں کہ آخر یہ خطیب شرعی ہے
حوالہ / References &درمختار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٠۔ ١٠٩
&ردالمحتار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٩٢
&درمختار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٠
#11298 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
اور خطیب شرعی کے بے اجازت دوسرا امامت یا خطابت نہیں کرسکتا ردالمحتار میں ہے :
قولہ لوصلی احد بغیر اذن الخطیب لایجوز ظاہرہ ان لاخطیب خطب بنفسہ والاخر صلی بلا اذنہ ومثلہ مالو خطب بلااذنہ لما فی الخانیۃ وغیرھا خطب بلا اذن الامام والامام حاضر لم یجز اھ
قولہ “ اگرکسی نے اذن خطیب کے بغیر نماز پڑھائی تو جائزنہیں “ اس کا ظاہر بتارہا ہے کہ خطیب نے خود خطبہ دیا مگر نماز اس کی اجازت کے بغیر دوسرے نے پڑھادی اور اسی کی مثل وہ صورت ہے جب بلااجازت خطیب کسی نے خطبہ دے دیا کیونکہ خانیہ وغیرہ میں ہے کہ اگر کسی نے بغیر اجازت امام خطبہ دیا اور امام حاضر تھا تویہ جائزنہیں اھ (ت)
ہاں اس صورت میں اگر عامہ مسلمین جیسے آج تك تقرر زید پر متفق رہے اب بوجہ شرعی معزولی زید پر متفق ہوجائیں اور دوسرے شخص کو قائم کردیں تو اس صورت زید معزول اور دوسرے کا تعین صحیح ومقبول ہوگا صرف عورت کی جاہلانہ حرکت یا حاکم سلطنت غیر اسلامی کی شرکت واعانت محض بیکار وبے سود ہے کہ کسی منصب سے معزول کرنے کا اسی کو اختیار ہوتا ہے جسے مقرر کرنے کا اختیار تھا وہ اصالۃ سلطان اسلام ہے اور ضرورۃ جماعات مسلمین نہ کہ عورت یا حکام سلطنت غیر اسلام کما لایخفی علی من لہ بالفقہ ادنی الالمام ( جیسا کہ یہ ہر اس شخص پر واضح ہو جو فقہ میں ادنی سا درك رکھتا ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ : از بنارس محلہ کندی گڈھ ٹولہ مسجد بی بی راجی شفاخانہ مرسلہ مولوی عبدالغفور صاحب جمادی الاولی ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے بروز جمعہ نیت چار رکعت سنت کی باندھی بعدہ امام نے خطبہ شروع کیا اب وہ دورکعت پڑھ کر سلام کرے یا چار رکعت پوری پڑھے اس میں جو کچھ اختلاف درمیان علمائے حنفیہ سے ہے وہ جناب پر ظاہر ہے لیکن بطور نمونہ قدرے درج ذیل ہے :
فی الدرالمختار فی باب الجمعۃ ولو خرج و ھو فی السنۃ اوبعد قیامہ لثالثۃ النفل یتم فی الاصح ویخفف القراءۃ وایضا فیہ فی باب ادراك الفریضۃ وکذا سنۃ الظھر
درمختار کے باب الجمعہ میں ہے کہ اگرامام آگیا اور نمازی سنن اداکررہا تھا یا نفل کی تیسری رکعت کی طرف کھڑا ہو تو اصح قول کے مطابق اسے مکمل کرلے اورقراءت میں تخفیف کرے اس کے باب ادراك الفریضہ میں بھی یہی ہے
حوالہ / References &ردالمحتار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٩٤ ۔ ٥٩٣
&درمختار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٣
#11299 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
وسنۃ الجمعۃ اذا اقیمت اما خطب الامام یتمھا اربعا علی القول الراجع لانہا صلوۃ واحد لیس القطع للاکمال بل للا بطال خلا فالما رجحہ الکمال ۔ وفی العلمگیریۃ ولوکان فی السنۃ قبل الظھر والجمعۃ فاقیم اوخطب یقطع علی راس الرکعتین یروی ذلك عنہ ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالی وقد قیل یتمھا کذافی الھدایۃ وھو الاصح کذافی محیط السرخسی وھو الصحیح ھکذا فی السراج الوھاج ۔ فی الصغیری شرح منیۃ اذا صعدالامام المنبر یجب علی الناس ترك الصلوۃ الی اخرہ فی حاشیۃ ردالمحتار علی الدرالمختار متعلق لمارجحہ الکمال حیث قال وقیلك یقطع علی رأس الرکعتین وھوالراجح لانہ یتمکن فی قضائھا بعدالفرض ولا ابطال فی التسلیم علی الرکعتین فلا یفوت فرض الاستماع والاداء علی الوجہ الاکمل بلاسبب اھ۔ اقول : وظاھر الھدایۃ اختیارہ و علیہ مشی فی الملتقی ونور الایضاح والمواھب و
اور اسی طرح سنت ظہر اور سنت جمعہ میں اگر تکبیر کہی جائے یا امام خطبہ شروع کردے تو قول راجح کے مطابق وہ چار رکعت مکمل کرے کیونکہ یہ ایك ہی نماز کے حکم میں ہے یہاں انقطاع اکمال نہیں بلکہ ابطال ہوگا اس کے خلاف ہے جسے کمال نے ترجیح دی۔ اور عالمگیری میں ہے اگر کوئی شخص ظہر اور جمعہ کی پہلی سنتوں میں تھا تکبیر کہی گئی یا خطبہ شروع ہوگیا تو دو رکعات ادا کرکے ختم کردے یہ امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے مروی ہے اور بعض نے کہا کہ تمام کرے اسی طرح ہدایہ میں ہے اور یہی اصح ہے محیط سرخسی میں یہی ہے اور یہی صحیح ہے اسی طرح سراج الوہاج میں ہے صغیری شرح منیہ میں ہے جب امام منبر پر چڑھے تو لوگوں میں نماز کا ترك کردینا لازم ہے الخ حاشیہ ردالمحتار علی الدرالمختار میں کمال کی ترجیح کے بارے میں ہے کہ بعض نے کہا دو رکعتوں پر اختتا م کردے یہی راجح ہے کیونکہ فرائض کے بعد ان کی قضا ممکن ہے اور دو رکعات پر سلام ان کا ابطال بھی نہیں پس اب خطبہ کا سننا جو فرض ہے وہ بھی فوت نہ ہوگا اور کامل طریقہ پر سنن کی ادائیگی بھی ہوجائے گی۔ اقول : ہدایہ کا ظاہر یہی کہ یہ ان کامختار ہے اس پر ملتقی نورالایضاح المواہب جمعۃ الدرر اور فیض میں ہے شرنبلالیہ میں
حوالہ / References &درمختار باب ادراک الفریضۃ€ مطبوعہ مجتبائی دہلی ١ / ٩٩
&فتاوٰی ہندیۃ الباب العاشرفی ادراک الفریضۃ€ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ١٢٠
&صغیری شرح منیۃ المصلی فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص ٢٨۰
#11300 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
جمعۃ الدرر والفیض وعزاہ فی الشرنبلالیۃ الی البرھان وذکر فی الفتح انہ حکی عن السغدی انہ رجع الیہ لما راہ فی النوادر عن ابی حنیفۃ وانہ مال الیہ السرخسی والبقالی وفی البزازیۃ انہ رجع الیہ القاضی النسفی و ظاھر کلام المقدسی المیل الیہ ونقل فی الحلیۃ کلام شیخہ الکمال ثم قال وھو کما قال ھذا الخ فی شرح الوقایۃ اذا خرج الامام حرم الصلوۃ وفی عمدۃ الرعایۃ حاشیۃ شرح الوقایۃ لمولنا واستاذنا مولوی عبدالحی صاحب مرحوم ومغفور واخرج اسحق بن راھویۃ فی مسندہ عن السائب کنا نصلی فی زمن عمر یوم الجمعۃ فاذا خرج عمر وجلس علی المنبر قطعنا الصلوۃ الخ
اسے برہان کی طرف منسوب کیا گیا ہے فتح میں ہے سغدی سے منقول ہے کہ اس کی طرف رجوع اس لئے کیا کہ نوادر میں امام ابوحنیفہ سے اسی طرح مروی ہے اوراسی کی طرف سرخسی اور بقالی نے میلان کیا ہے او ربزازیہ میں ہے کہ اس کی طرف قاضی نسفی نے رجوع کیا کلام مقدسی سے ظاہرا اسی طرف میلان معلوم ہوتا ہے حلیہ میں کمال کا کلام نقل کر کے کہا کہ وہ اسی طرح ہے جو یہ کہا گیا ہے الخ شرح وقایہ میں ہے جب امام آجائے تو نماز حرام ہوجاتی ہے. عمدۃ الرعایہ حاشیہ شرح وقایہ جو ہمارے استاذ مولوی عبدالحی کا ہے میں لکھا ہے کہ اسحاق بن راہویہ نے مسند میں حضرت سائب سے روایت کیا کہ ہم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں نماز پڑھتے تھے توجب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ منبر پر بیٹھتے تو ہم نماز ختم کردیتے تھے الخ (ت)
الجواب :
دونوں قول قوی و نجیح ہیں اور دونوں طرف جزم و ترجیح اورمختارفقیر قول اخیر کہ اول روایت نوادر ہے اور ثانی مفاد ظاہرالروایہ والفتوی متی اختلفت فالمصیر الی ظاھر الروایۃ (جب روایات مختلف ہوں توظاہر الروایت کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ محرر المذہب سیدنا امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے مبسوط میں اسی کی طرف اشارہ فرمایا وناھیك بہ حجۃ وقدوۃ (اس میں وہی مقتدا کافی ہیں ت) فتح القدیر میں ہے : الیہ اشارفی الاصل ( اسی کی طرف اصل میں اشارہ ہے۔ ت) معہذا کثرت تصحیح وافتائے صریح بھی اسی
حوالہ / References &ردالمحتار باب ادراک الفریضہ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٢٧
&شرح الوقایہ باب الجمعۃ€ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ دہلی ١١ / ٢٤٤
&عمدۃ الرعایۃ حاشیۃ شرح الوقایۃ باب الجمعۃ€ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ دہلی ١ / ٢٤٤
&فتح القدیر باب ادراک الفریضۃ€ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ١ / ٣٩٣
#11301 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
طر ف ہے :
والقاعدۃ ان ا لعمل بما علیہ الاکثر کما نصوا علیہ فی غیر ماکتاب وبیناہ فی رسالتنا بذل الجوائز علی الدعاء بعد صلوۃ الجنائز۔
اور یہ قاعدہ ہے کہ عمل اس پر کیا جائے جس پر اکثریت ہو جیسا کہ فقہاء نے کتب میں متعدد جگہ اس کی تصریح کی ہے اور ہم نے اس کی تفصیل اپنے رسالے “ بذل الجوائز علی الدعاء بعد صلوۃالجنائز “ میں دی ہے۔ (ت)
قول اول کی ترجیح صریح کتب معتمدہ مرجحین میں کہ اس وقت فقیر کے پاس ہیں خانیہ وفتح کے سوا کسی میں نظر سے نہ گزری
اما الحلیۃ فقد تبعت الفتح واما المراقی فانما تبع البرھان شرح مواہب الرحمن بشھادۃ غنیۃ ذوی الاحکام واما الطرابلسی فانما اقتفی اثر الکمال کما ھودابہ فی کل مقال قال الکلام الی الکمال مع ان الشرنبلالی خالف نفسہ فی جمعۃ غنیۃ کما یأتی۔
حلیہ نے فتح کی اتباع کی ہے مراقی نے غنیہ ذوی الاحکام کے بیان کے مطابق برہان شرح مواہب الرحمن کی اتباع کی ہے طرابلسی نے کمال کی اقتداء کی جیسا کہ ان کا ہر جگہ یہی طریقہ ہے اور کہا کہ کلام کمال کی طرف ہی ہے باوجود یکہ شرنبلالی نے جمعہ غنیہ میں خود اپنی مخالفت کی ہے جیسا کہ آرہا ہے ۔ (ت)
اور قول اخیر کوصاحب محیط وامام عبدالرشید وامام ابوحنیفہ ولوالجی وامام عی سی بن محمد قرہ شہری صاحب مبتغی وامام ظہیر الدین مرغینانی صاحب ظہیر یہ وعلامہ شمسی وصاحب سراج وہاج نے فرمایا : ھو الصحیح (صحیح قول یہی ہے ۔ ت) امام شمس الائمہ سرخسی نے فرمایا : ھوا لاصح ( اصح قول یہی ہے ۔ ت ) درمختار میں ہے : فی الاصح (اصح قول میں یہی ہے ۔ ت )متن تنویر میں ہے : علی الراجح ( یہ راجح قول کے مطابق ہے۔ ت ) بحرالرائق میں ہے : صحح المشائخ ( مشائخ نے اس کی تصحیح کی ہے ۔ ت) مجمع الانہر میں ہے : صححہ اکثر المشائخ ( اکثر مشائخ نے اس کی تصحیح کی ہے۔ ت)اسی طرح جامع الرموز وہندیہ ونہر وغیرہا میں اس کی تصحیح وترجیح
حوالہ / References &فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ السراج الوہاج الباب العاشر فی ادراک الفریضۃ€ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ١٢٠
&فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ محیط السرخسی الباب العاشر فی ادراک الفریضۃ€ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ١٢٠
&درمختار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٣
&درمختار باب ادراک الفریضۃ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٩٩
&بحرالرائق باب صلٰوۃ الجمعۃ€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ١٤٨
&مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب ادراک الفریضۃ€ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١ / ١٤١
#11302 · مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ (تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
مذکور یہاں تك کہ امام اجل مجہتد الفتوی حسام الدین عمر صدر شہید قدس سرہ نے فتاوی صغری میں فرمایا : علیہ الفتوی ( فتوی اسی پر ہے ۔ ت) شرنبلالیہ میں ہے :
اقول : الصحیح خلافہ وھوانہ یتم سنۃ الجمعۃ اربعاوعلیہ الفتوی کما فی الصغری وھو الصحیح کما فی البحر عن الولوالجیۃ والمبتغی الخ۔
میں کہتا ہوں صحیح اس کے خلاف ہے اور وہ یہ ہے کہ جمعہ کی چار سنتیں مکمل کرے اور اسی پر فتوی ہے جیسا کہ صغری میں ہے اور یہی صحیح ہے جیسا کہ بحر میں ولوالجیہ اور مبتغی سے ہے الخ ۔ (ت)
لاجرم بحر میں قول اول کی نسبت فرمایا : ھو قول ضعیف وعزاہ قاضی خاں الی النوادر ( یہ ضعیف قول ہے اور قاضی خاں نے اس کی نسبت نوادر کی طرف کی ہے ۔ ت) رہیں روایات قطع وترك وتحریم نماز بخروج امام للخطبہ انھیں اس مبحث سے علاقہ نہیں وہ فریقین کی منصوصہ ومتفق علیہا ہیں ان کے معنی یہ ہیں کہ خروج امام کے بعد کوئی نماز (سوائے فائتہ واجب الترتیب کے ) شروع نہ کرے پہلے سے جو انتظار امام میں نوافل وغیرہا پڑھ رہاہے اس کا سلسلہ قطع کردے متمادی نہ رہے نہ یہ کہ جو نمازپڑھ رہاہے وہ حرام ہوگئی اسے قطع کردے نیت توڑدے یہ قطعا باطل ہے ورنہ اگر ہنوز نیت ہی باندھی یاایك ہی رکعت پڑھی کہ امام خطبہ کے لئے خارج ہوا تو فورا نیت توڑدینا واجب ہو یہ کسی کا قول نہیں نصوص عامہ کتب مذہب اس کے بطلان پر متظافر و متواتر ہیں کما لا یخفی ( جیسا کہ مخفی نہیں ہے ۔ ت ) واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
_________________
#11303 · رِعَایۃ المَذھَبَین فی الدّعاءِ بین الخُطبتین ١٣١٠ ھ (دو خطبوں کے درمیان دُعا کرنے کا بیان)
مسئلہ : از کٹھور اسٹیشن سائن ضلع سورت مر سلہ مولوی عبدالحق صاحب مدرس مدرسہ عربیہجمادی الآخرہ ھ
اس جائے پر بروز جمعہ بین الخطبتین کے جلسہ میں ہاتھ اٹھا کر دعا آہستہ مانگی جاتی ہے اور بعض لوگ اس کو مکروہ شدید وحرام وبدعت سیئہ وشرك قرار دے کر اس فعل کو منع کرتے ہیں لہذا التماس یہ ہے کہ اس کے جواب باصواب سے جو دافع جدال ہو تحریر فرماکر رفع خصومت بین المسلمین فرمائیں ۔
الجواب :
امام کے لئے تو اس دعا کے جواز میں اصلا کلام نہیں جس کے لئے نہی شارع نہ ہونا ہی سند کافی ممنوع وہی ہے جسے خدا رسول منع فرمائیں جل جلالہ و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بے ان کی نہی کے ہر گز کوئی شے ممنوع نہیں ہوسکتی خصوصا دعا سی چیز جس کی طرف خود قرآن عظیم نے بکمال ترغیب وتاکید علی الاطلاق بے تحدید وتقیید بلایا اور احادیث شریفہ نے اسے عبادت ومغز عبادت فرمایا پھر یہاں صحیح حدیث کافحوی الخطاب اس کی اجازت پر دلیل صواب کہ خود حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا عین خطبہ میں دست مبارك بلند فرماکر ایك جمعہ کو مینہ برسنے اور دوسرے کو مدینہ طیبہ پر سے کھل جانے کی دعا مانگنا صحیح بخاری ومسلم وغیرہا میں حدیث انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی حالانکہ وہ قطع خطبہ کو مستلزم تو بین الخطبیتن بدرجہ اولی جواز ثالث لاجرم علمائے کرام نے شروح حدیث وغیرہ کتب میں صاف اس کا جواز افادہ فرمایا مولنا علی قاری مکی حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ مرقاۃ شرح
#11304 · رِعَایۃ المَذھَبَین فی الدّعاءِ بین الخُطبتین ١٣١٠ ھ (دو خطبوں کے درمیان دُعا کرنے کا بیان)
مشکوۃ میں زیر حدیث یخطب ثم یجلس فلا یتکلم ( امام خطبہ پڑھے پھر بلا گفتگو بیٹھ جائے۔ ت) فرماتے ہیں :
لایتکلم ای حال جلوسہ بغیر الذکر اوالدعاء اوالقراءۃ سرا و الاولی القراءۃ لروایۃ ابن حبان کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یقرأ فی جلوسہ کتاب اﷲ الخ
نہ گفتگو کرے یعنی بیٹھنے کی حالت میں آہستہ ذکر یا قراءۃ کے علاوہ بات نہ کرے قراءت اولی ہے کیونکہ ابن حبان کی روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بیٹھنے کی حالت میں کتاب اﷲ کی تلاوت فرماتے تھے الخ (ت)
حافظ الشان شہاب الدین احمد ابن حجر عسقلانی شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فتح الباری شرح صحیح بخاری شریف میں اسی حدیث کی نسبت فرماتے ہیں :
واستفید من ھذ ان حال الجلوس بین الخطبتین لاکلام فیہ لکن لیس فیہ نفی ان یذکر اﷲ او یدعوہ سرا ۔
اس کا مفاد یہ ہے کہ دونوں خطبوں کے درمیان بلاکلام بیٹھنا ہے لیکن اس سے اس بات کی نفی نہیں کہ آہستہ آہستہ اﷲ کا ذکر اور دعا بھی کی جائے ۔ (ت)
علامہ زرقانی مالکی رحمۃ اللہ تعالی علیہ شرح مواہب لدنيہ ومنح محمدیہ میں فرماتے ہیں :
ثم یجلس فلا یتکلم ( جھرافلا ینافی روایۃ ابن حبان انہ کان یقرأفیہ ای الجلوس وقال الحافظ مفاده ) الی اخرمامر۔
پھر خطیب گفتگو کے بغیر بیٹھ جائے ( یعنی بلند آواز سے گفتگو نہ کرے یہ بات روایت ابن حبان کے منافی نہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اس ( جلوس) میں قراءت فرماتے ہے اور حافظ نے کہا اس کا مفاد وہ جو پہلے بیان ہوچکا ہے ۔ (ت)
بلکہ صحیح حدیث حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ومتعدد اقوال صحابہ وتابعین کی رو سے یہ جلسہ ان اوقات میں ہے جن میں ساعت اجابت جمعہ کی امید ہے صحیح مسلم شریف میں بروایت حضرت ابی موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے دربارہ ساعت جمعہ فرمایا :
حوالہ / References &مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب الخطبہ والصلٰوۃ الخ €مطبوعہ مکتبہ امداد یہ ملتان ٣٣ / ٢٧٠
&فتح الباری شرح البخاری باب القعدۃ بین الخطبتین یوم الجمعۃ €مطبوعہ مصطفی البابی مصر ٣ / ٥٧
&شرح الزرقانی علی المواہب الباب الثانی فی ذکر صلوتہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم € &الجمعۃ €مطبوعہ دارالمعرفت بیروت ۷ / ۳۸۵
#11305 · رِعَایۃ المَذھَبَین فی الدّعاءِ بین الخُطبتین ١٣١٠ ھ (دو خطبوں کے درمیان دُعا کرنے کا بیان)
ھی مابین ان یجلس الامام الی ان تقضی الصلوۃ ۔
امام کے جلوس سے نماز ختم ہونے تك ساعت جمعہ ہے ۔ (ت)
دوسری حدیث میں آیا حضور پرنور صلوات اﷲ وسلامہ علیہ نے فرمایا : شروع خطبہ سے ختم خطبہ تك ہے رواہ ابن عبدالبرعن ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما (اسے ابن عبدالبر نے حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے ۔ ت) انہی ابن عمر و ابو موسی رضی اللہ تعالی عنہم سے مروی کہ خروج امام سے ختم نماز تك ہے ۔ یونہی امام عامر شعبی تابعی سے منقول رواہ ابن جریر الطبری (اسے ابن جریر طبری نے روایت کیا ہے ۔ ت) انھی شعبی سے دوسری روایت میں خروج امام سے ختم خطبہ تك اس کا وقت بتایا رواہ المروزی (اسے امام مروزی نے روایت کیا ۔ ت) اسی طرح امام حسن بصری سے مروی ہوا رواہ ابن المنذر (اسے ابن المنذر نے روایت کیا ۔ ت) ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے اذان سے نماز تك رکھا رواہ حمید بن زنجویہ ( اسے حمید بن زنجویہ نے روایت کیا ۔ ت) بہر حال یہ وقت بھی ان میں داخل تو یہاں دعا ایك خاص ترغیب شرح کی مورد خصوصا حدیث دوم پر جبکہ کسی مطلب خاص کے لئے دعا کرنی ہو جسے خطبہ سے مناسبت نہ ہو تواس کے لئے یہی جلسہ بین الخطبتین کا وقت متعین بلکہ علامہ طیبی شارح مشکوۃ نے بالتعیین اسی وقت کو ساعت اجابت بتایا اور اسے بعض شراح مصابیح سے نقل فرمایا بلکہ خود ارشاد اقدس مابین ان یجلس الامام ( امام کے بیٹھنے سے لے کر ۔ ت) سے یہی جسلہ مراد رکھا اشعۃ اللمعات شرح مشکوۃ میں ہے :
می گفت آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم درشان ساعۃ الجمعۃ کہ آں ساعت میان نشستن امام ست برمنبر تا گزاردن نماز طیبی ازجلوس نشستن میان دو خطبہ مراد داشتہ الخ
حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے جمعہ کی ساعت کے بارے میں فرمایاکہ وہ گھڑی امام کے منبرپر بیٹھنے سے لے کر نماز ادا کرنے تك ہوتی ہے علامہ طیبی نے جلوس سے مراد دو خطبوں کے درمیان بیٹھنا لیا ہے الخ (ت)
اس قول پر تو بالخصوص اسی وقت کی دعا شرعا اجل المندوبات واجب مرغوبات سے ہے پھر اس قدر میں اصلا شك نہیں کہ جب بغرض تقویت رجاء جمع احادیث واقوال علماء چاہئے جو امثال باب مثل لیلۃ القدر
حوالہ / References &صحیح مسلم شریف کتاب الجمعۃ€ مطبوعہ نورمحمد اصح المطا بع کراچی ١ / ٢٨۱
&اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ کتاب الجمعۃ€ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۵۷۱
#11306 · رِعَایۃ المَذھَبَین فی الدّعاءِ بین الخُطبتین ١٣١٠ ھ (دو خطبوں کے درمیان دُعا کرنے کا بیان)
وغیرہا میں ہمیشہ مسلك محققین رہا ہے تو بقیہ اوقات کے ساتھ اس وقت بھی دعا ضرور درکار ہوگی اور اس کے نیك ومستحسن ماننے سے چارہ نہ ہوگا لاجرم صاحب عین العلم نے کہا جواکابر علمائے حنفیہ سے ہیں صاف تصریح فرمائی کہ اس جلسہ میں مستحب ہے اسی طرح امام ابن المنیر نے افادہ استحسان جمع فرمایا طرہ یہ کہ یہ قول امام مدوح حضرات منکرین کے امام شوکانی نے نیل الاوطار شرح ملتقی الاخبار میں نقل کیا اور مقرر ومسلم رکھا
حیث قال فی عدالا قوال الثلاثون عند الجلوس بین الخطبتین حکاہ الطیبی الخ ثم قال قال ابن المنیر یحسن جمع الاقوال فتکون ساعۃ الاجابۃ واحدۃ منھا لابعینھا فیصادفھا من اجتھد فی الدعاء فی جمعیھا اھ
یہاں انھوں نے تیسواں قول شمار کرتے ہوئے کہاکہ دوخطبوں کے درمیان بیٹھنے کے وقت اسے طیبی نے نقل کیا ہے الخ پھر کہا کہ ابن منیر نے کہا تمام اقوال احسن ہے ساعت قبولیت تو ایك ہی ہے اسے وہی پائے گا جو تمام وقت دعا میں رہے گا۔ (ت)
یہ حکم امام کاہے رہے مقتدی ان کے بارے میں ہمارے ائمہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم مختلف امام ثانی عالم ربانی قاضی الشرق والغرب حضرت امام ابویوسف رحمۃ ا ﷲ تعالی علیہ کے نزدیك انھیں صرف بحالت خطبہ سکوت واجب قبل شروع وبعد ختم وبین الخطبیتن دعا وغیرہ کلام دینی کی اجازت دیتے ہیں اور امام الائمہ مالك الازمہ حضرت امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ خروج امام سے ختم نماز تك عند التحقیق دینی ودنیوی ہر طرح کے کلام یہاں تك کہ امر بالمعروف وجواب سلام بلکہ مخل استماع ہر قسم کے کام سے منع فرماتے ہیں اگر چہ کلام آہستہ ہو اگر چہ خطیب سے دوربیٹھاہو کہ خطبہ سننے میں نہ آتا ہو امام ثالث محررالمذہب محمد بن الحسن رحمۃ اللہ تعالی علیہ بین الخطبتین میں امام اعظم اورقبل وبعد میں امام ابو یوسف کے ساتھ ہیں درمختار میں ہے :
اذاخرج الامام من الحجرۃ والافقیامہ للصعود شرح المجمع فلا صلوۃ ولا کلام الی تمامہا ولو تسبیحا او رد سلام اوامرا بمعروف بلا فرق بین قریب وبعید وقالا لاباس بالکلام قبل الخطبۃ وبعدھا واذاجلس عند الثانی والخلاف فی کلام
جب امام حجرہ سے نکلے ورنہ وہ جب منبر پر چڑھنے کے لئےکھڑا ہو شرح المجمع تو اس وقت سے اختتام تك نہ نماز ہے نہ کلام اگرچہ وہ ایك تسبیح یا سلام کا جواب یا امر بالمعروف ہو قریب اور بعید بیٹھنے والے میں کوئی فرق نہیں صاحبین کے نزدیك خطبہ سے پہلے اور بعد اور امام ابویوسف کے ہاں جب خطیب درمیان میں بیٹھے
حوالہ / References &نیل الاوطار شرح منتقی الاخبار باب فضل الجمعۃ وذکر ساعۃ الاجابۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ٣ / ٢٧٥
&نیل الاوطار شرح منتقی الاخبار باب فضل الجمعۃ وذکر ساعۃ الاجابۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ٣ / ٢٧٧
#11307 · رِعَایۃ المَذھَبَین فی الدّعاءِ بین الخُطبتین ١٣١٠ ھ (دو خطبوں کے درمیان دُعا کرنے کا بیان)
یتلق بالاخرۃ اماغیرہ فیکرہ اجماعا اھ ملتقطا
گفتگو میں کوئی حرج نہیں لیکن یہ اختلاف اس گفتگو کے بارے میں ہے جو آخرت سے متعلقہ ہو اس کے علاوہ گفتگو بالاتفاق مکروہ ہے ۔ (ت)
تحقیق یہی ہے اگر چہ یہاں اختلاف نقول حداضطراب پر ہے کہ سب کو مع ترجیح وتنقیح ذکر کیجئے تو کلام طویل ہو اس تحقیق کی بنا پر حاصل اس قدر کہ مقتدی دل میں دعا مانگیں کہ زبان کو حرکت نہ ہو توبلاشبہ جائز کہ جب عین حالت خطبہ میں وقت ذکر شریف حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم دل سے حضور پردرود بھیجنامطلوب توبین الخطبتین کہ اما م ساکت ہے دل سے دعابدرجہ اولی روا ردالمحتار میں ہے :
اذا ذکر النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لایجوز ان یصلوا علیہ بالجھربل بالقلب وعلیہ الفتوی رملی ۔
جب سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا مبارك ذکر آئے تو بالجہر کی بجائے دل میں درود شریف پڑھ لیا جائے اسی پر فتوی ہے ۔ رملی (ت)
اور زبان سے مانگنا امام کے نزدیك مکروہ اور امام ابی یوسف کے نزدیك جائز اور مختار قول امام ہے تو بیشك مذہب منقح حنفی میں مقتدیوں کو اس سے احتراز کا حکم ہے نہ کہ اس بنائے فاسد پر جو مبنائے جہالات وہابیہ ہے کہ عدم ورود خصوص ورود عدم خصوص ہے وہ بھی خاص حق جواز میں منع کے لئے ممانعت خاصہ خدا ورسول کی کچھ حاجت نہیں کہ یہ تو محض جہل وسفہ وتحکم ہے بلکہ اس لئے کہ اذا خرج الامام فلا صلوۃ ولاکلام ( جب امام نکل آئے تو نہ کوئی نماز ہے نہ کلام ۔ ت) پس غایت یہ کہ جو لوگ اس مسئلہ سے ناواقف ہوں انھیں بتادیا جائے نہ کہ معاذا ﷲ بدعتی گمراہ حتی کہ بلاوجہ مسلمانوں کو مشرك ٹھہر ایا جائے کیا ظلم ہےجب ان اشقاء کے نزدیك اﷲ عزوجل کو پکارنا بھی شرك ہوا تو مگر شیخ نجدی یعنی ابلیس لعین کا پکارنا توحید ہوگا حاش ﷲ( اﷲ ہی کے لئے پاکیزگی ہے ۔ ت) یہ ان بدعقلوں کی بدزبانیاں ہیں جن کا مزہ آخرت میں کھلے گا جب لا الہ الا اﷲ مسلمانوں کی طرف سے ان بیباکان پر سرف سے جھگڑنے آئے گا
و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون(۲۲۷)
اور اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے ۔ (ت)
حوالہ / References &درمختار باب الجمعۃ €مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١۳
&ردالمحتار باب الجمعۃ €مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۶۰۶
&القرآن €۲۶ / ۲۲۷
#11308 · رِعَایۃ المَذھَبَین فی الدّعاءِ بین الخُطبتین ١٣١٠ ھ (دو خطبوں کے درمیان دُعا کرنے کا بیان)
قول ارجح ممانعت سہی پھر بھی ان دعا کرنے والوں کے لئے خود ہمارے مذہب وکتب مذہب میں متعدد راہیں تجویز واجازت کی ہیں :
اولا یہی قول اما م ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ جو اس تر خیص کے ساتھ اس جہالت نجدیہ کا بھی علاج کافی ہے کہ وہ اس وقت تسبیح بالتصریح جائز بتاتے ہیں حالانکہ بہ لحاظ خصوص وقت ورود اس کابھی نہیں ۔
ثانیا بعض کے نذدیك مقتدیوں کو صرف جہر ممنوع ہے آہستہ میں حرج نہیں ۔ اور اس کی تائید اس قول سے بھی مستفاد کہ عین حالت خطبہ میں ذکر اقدس سن اہستہ کر درود پڑھنے کا حکم دیا گیا اگر چہ تحقیق وہی ہے کہ دل سے پڑھے
کما قدمنا عن الرملی وھومعنی مافی الدرالمختار من قولہ والصواب انہ یصلی علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عند سماع اسمہ فی نفسہ اھ وان مال القہستانی الی التاویل بالاخفاء خلافالما فی الجوھرۃ وغیرھا من الکتب المعتبرۃ قال الشامی ای بان یسمع نفسہ اویصحح الحروف فانھم فسروہ بہ وعن ابی یوسف قلبا کما فی الکرمافی قھستانی واقتصر فی الجوھرۃ علی الاخیر حیث قال ولم ینطق بہ لانھا تدرك فی غیرھذا لحال والسماع یفوت اھ مختصرا واما قول القھستانی انھم فسروہ بہ فانما ارادبہ دفع الاستبعاد عما اختارہ من التاویل فان ظاہر اللفظ ھوارادۃ القلب ومع ذلك ربما اطلقوہ وفسروہ بی ای بالاسرار
جیسا کہ رملی کے حوالے سے ذکر کر آئے ہیں درمختار کے ان الفاظ سے بھی وہی مرادہے کہ صواب یہ ہے کہ حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا اسم گرامی سن کر دل میں درود شریف پڑھاجائے اھ اگر چہ قہستانی کا میلان اخفاء کی طرف ہے مگر جوہرہ اور دیگر کتب معتبرہ اس کے خلاف ہیں شامی کہتے ہیں کہ اس کا اپنا نفس سن لے یا حروف کی تصحیح ہو کیونکہ علماء نے اس کی تفسیر یوں ہی کی ہے امام ابو یوسف سے مروی ہے کہ دل میں پڑھے جیسا کہ کرمانی میں ہے قہستانی نے جوہرہ میں آخری پر ہی اکتفا کیاہے ان کے الفاظ میں اس کے ساتھ نطق نہ کرے کیونکہ اس حال کے علاوہ میں اسے پایا جاسکتا ہے مگر اس کے ساتھ سماع فوت ہوجائیگا اھ اختصار ا ۔ رہا قہستانی کا قول کہ فقہاء نے اس کی تفسیر یہی کی ہے اس سے ان کی مراد اس بعد کو دور کرنا ہے جو ان کی اختیار کردہ تاویل
حوالہ / References &درمختار باب الجمعہ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۱۳
&ردالمحتار باب الجمعہ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۶۰۶
#11309 · رِعَایۃ المَذھَبَین فی الدّعاءِ بین الخُطبتین ١٣١٠ ھ (دو خطبوں کے درمیان دُعا کرنے کا بیان)
علی القولین فی تحدیدہ۔
میں تھا کیونکہ '' فی نفسہ '' ظاہرا الفاظ تو ارادہ قلب پر دال ہیں حالانکہ اس کے باوجود اس کا اطلاق کرکے اس کی تفسیر مخفی ہونے کے ساتھ کرتے ہیں ان دونوں اقوال پر جو اس کی تعریف کے بارے میں ہیں ۔ (ت)
ثالثا امام نصیر بن یحی وامام محمد بن الفضل وغیرہما عین حالت خطبہ میں بعید کو کہ خطبہ کی آواز اس تك نہ پہنچے انصات واجب نہیں جانتے ا ورامام محمد بن سلمہ بھی صرف اولی کہتے ہیں اگر چہ مفتی بہ اس پر بھی وجوب تو اس جلسہ میں کہ آواز ہی نہیں بدرجہ اولی واجب نہ کہیں گے۔ حدیقہ ندیہ میں ہے :
قال فی النھایۃ اذا کان بحیث لایسمعھا لاروایۃ فیہ عن اصحابنا فی المبسوط وقد اختلف المشائخ المتاخرون فیہ فعن محمد بن سلمۃ الانصات اولی وعن نصیر بن یحی انہ کان بعیدا وکان یحرك شفتیہ بالقران وفی العنایۃ ان الانصات مختار الکرخی و صاحب الھدایۃ وقال بعضھم قراءۃ القران اولی وھو اختیار الفضلاء ۔
نہایہ میں ہے اس وقت جب ایسے مقام پر ہو کہ وہ خطبہ نہیں سن رہا مبسوط میں ہمارے اصحاب (احناف) سے کوئی ایك روایت نہ ہے متاخرین مشائخ کا اس میں اختلاف ہے محمد بن سلمہ کے نزدیك خاموشی اولی ہے نصر بن یحی کے بارے میں ہے کہ جب ہو خطیب سے دور ہوتے تو ان کے ہونٹ تلاوت قرآن سے حرکت کررہے ہوتے تھے عنایہ میں ہے خاموشی کرخی اور صاحب ہدایہ کا مختار ہے بعض نے فرمایا : تلاوت قرآن اولی ہے فضلاء کے ہاں یہی مختار ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں فیض سے ہے : الاحوط السکوت وبہ یفتی (سکوت ہی احوط ہے اور اسی پر فتوی دیا جائے گا ۔ ت)
رابعا بعض علماء کا گمان ہے کہ ہمارے امام کے نزدیك بھی صرف کلام دنیوی ممنوع ہے دعاء و ذکر مطلقا جائز حتی کہ عین حالت خطبہ میں بھی اگر چہ صواب اس کے خلاف ہے کما تقدم عن الدر ( جیسا کہ در کے حوالے سے گزرا ۔ ت ) عبدالغنی نابلسی حدیقہ میں فرماتے ہیں :
اما تامین المؤذنین علی دعاء الخطیب والترضی عن الصحابۃ والدعاء للسلطان بالنصر
خطیب کی دعاء پر مؤذنین کا آمین کہنا صحابہ کے نام سن کر رضی اللہ تعالی عنہ کہنا بادشاہ کے لئے دعا
حوالہ / References &الحدیقۃ الندیۃ نوع€ ٣٣۳۳ &الکلام فی حال الخطبۃ€ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضوریہ فیصل آباد ٢۲ / ٣٠۳۰۷
&ردالمحتار باب الجمعۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١۱ / ٦٠۶۰۶
#11310 · رِعَایۃ المَذھَبَین فی الدّعاءِ بین الخُطبتین ١٣١٠ ھ (دو خطبوں کے درمیان دُعا کرنے کا بیان)
فلیس ھذا من الکلام العرفی بل ھو من قبیل التسبیح ونحوہ فلا یکرہ فی الاصح الخ وبینا علی ھامشھا ان ھذا من اشتباہ عرض لہ رحمہ اﷲ تعالی من تصحیح النھایۃ والعنایۃ بلفظ لتجویز الکلام الاخروی وانما کلامھا فیما قبل شروع الخطبۃ و بعدھا لاحالھا ثم ھو ایضالا یخلو عن نظر کما یظھر بمراجعۃ ماعلقنا علی ھامش ردالمحتار والاصح الاحوط اطلاق المنع کم افادہ الزیلعی لذالم یمش علیہ فی عامۃ الکتب المعتمدہ کالبحر والنھر والدر ورد المحتار۔
یہ کلام عرفی نہیں بلکہ ازقبیل تسبیحات وغیرہ ہے لہذا اصح قول کے مطابق یہ مکروہ نہیں الخ ہم نے اس کے حاشیہ میں تحریر کیا کہ علامہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کو یہ اشتباہ نہایہ اور عنایہ کی تصحیح سے عارض ہوا کیونکہ انھوں نے کلام اخروی پر محمول کیا ہےحالانکہ ان کا کلام خطبہ سے پہلے یا بعد پر محمول ہے نہ کہ درمیان میں پھر وہ بھی محل نظر ہے جیسا کہ حاشیہ ردالمحتار کی طرف مراجعت سے ظاہرہوگا اصح اور احوط مطلقا منع ہے جیسا کہ زیلعی نے فرمایا ہے یہی وجہ ہے کہ عامہ کتب معتمدہ میں اس مسلك کو اختیار نہیں کیاگیا مثلا بحر نہر در اور ردالمحتار (ت)
اور مذاہب دیگر پر نظر کیجئے تو حد درجہ کی توسیعیں ہیں حتی کہ محیط میں تو یہاں تك منقول کہ :
من العلماء من قال السکوت علی القوم کان لازما فی زمن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اما الیوم فغیر لازم اھ ونقلہ عنہ القھستانی۔
بعض علماء نے کہا کہ لوگوں پر سکوت رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ظاہری حیات میں لازم تھا اب لازم نہیں رہا اھ اسے قہستانی نے نقل کیاہے ۔ (ت)
علمائے محتاطین تو ایسے مسائل اجتہادیہ میں انکار بھی ضروری و واجب نہیں جانتے نہ کہ عیاذا باﷲ نوبت تا بہ تضلیل واکفار۔ سیدی عارف باﷲ محقق نابلسی کتاب مذکور میں فرماتے ہیں :
ان المسئلۃ الواقعۃ کما ھی الان فی جوامع بلادنا وغیرہ یوم الجمعۃ من الموذنین متی امکن تخریجھا علی قول من الاقوال
مسئلہ درپیش جیسا کہ اب ہمارے شہر کی جامع مساجد میں مؤذنین جمعہ کے دن ( امام کی دعا پر آمین )کہتے ہیں اس کی تخریج وثبوت ہمارےمذہب
حوالہ / References &حدیقۃ الندیۃنوع€ ۳۳٣ &الکلام فی حال الخطبۃ€ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲٢ / ٣٠۳۰۹
&جامع الرموز بحوالہ المحیط فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ€ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبدقاموس ایران ١۱ / ٢٦۲۶۷٧
#11311 · رِعَایۃ المَذھَبَین فی الدّعاءِ بین الخُطبتین ١٣١٠ ھ (دو خطبوں کے درمیان دُعا کرنے کا بیان)
فی مذہبنا او مذہب غیرنا فلیست بمنکریجب انکارہ والنھی عنہ وانما المنکر ماوقع الاجماع علی حرمتہ والنھی عنہ ۔
یا دوسرے مسلك میں ممکن ہے تو یہ ایسا ناجائز نہیں کہ اس کا انکار اور اس سے منع لازم ہو منکر تو وہ ہوتا ہے جس کی حرمت اور ممانعت پر اجماع ہو۔ (ت)
بالجملہ مقتدیوں کا یہ فعل تو علی الاختلاف ممنوع مگر مسلمانوں کو بلاوجہ مشرك بدعتی کہنا بالاجماع حرام قطعی تو یہ حضرات مانعین خود اپنی خبر لیں اور امام کے لئے تو اس کے جواز میں اصلا کلام نہیں ہاں خوف مفسدہ اعتقاد عوام ہو تو التزام نہ کرے فقیر غفر اﷲ تعالی اس جلسہ میں اکثر سکوت کرتا اور کبھی اخلاص کبھی درود پڑھتا ہے اور رفع یدین کبھی نہیں کرتا کہ مقتدی دیکھ کر خود بھی مشغول بدعا نہ ہوں مگر معاذ اﷲ ایسا نا پاك تشدد شرع کبھی روا نہیں فرماتی مولی تعالی ہدایت بخشے آمین واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم
مسئلہ ۱۰۹ : از ہیل کتور ضلع اوٹکنڈ مکان سومار سیٹھ صاحب مرسلہ سید حیدر شاہ صاحب ۲۸ربیع الاول شریف ۱۳۱۵ھ
جناب فیض مآب جامع علوم نقلیہ وحاوی فنون عقلیہ علامہ دہر فہامہ عصر مولانا مولوی احمد رضاخاں صاحب ادام اﷲ فیوضہ ادائے آداب کے بعد بندہ حیدرشاہ عرض رساں ہے کہ ایك مسئلہ کی ضرورت ہے چونکہ آپ مشاہیر علمائے انام سے ہیں اور آپ کے اخلاق و اوصاف بے نہایت ہیں اور بہت لوگوں سے سنا ہے کہ آپ حنفی المذہب سنی المشرب ہیں ونیز جواب سوال جلد ترسیل فرماتے ہیں لہذا التماس خدمت فیض درجت میں یہ ہے کہ احقر کو جواب سے سرفراز فرمائیں مذہب حنفی وشافعی میں بین الخطبتین ہاتھ اٹھا کے دعا مانگنی مشروع ومسنون ہے یا نہیں مترجم اردو الدرالمختار ایك جگہ لکھتا ہے کہ ایك مرتبہ بریلی کے علماء سے اسی مسئلہ میں استفتا ء طلب کیا گیا تھا چنانچہ وہاں علماء کافتوی یہی ہوا کہ ہاتھ اٹھا کے دعامانگنی بین الخظبتین بدعت سیئہ وغیر مشروع ہے پس آیا یہ بات صحیح ہے یا غلط چونکہ آپ متوطن بریلی کے ہیں آپ کو حقیقت اس کی کما ینبغی معلوم ہوگی پس آپ اطلاع دیجئے کہ مترجم نے ٹھیك لکھا ہے یا محض دھوکا دہی عوام الناس ہے ۔ بینواتوجروا
الجواب :
مسنونیت مصطلحہ کہ تارک مستوجب عتاب الہی یا آثم ومستحق عذاب الہی ہو والعیاذ باﷲ یہ نہ کسی کا
حوالہ / References &الحدیقۃ الندیۃ نوع€ ۳۳ &الکلام فی حال الخطبۃ€ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ٢۲ / ۳۰۹
#11312 · رِعَایۃ المَذھَبَین فی الدّعاءِ بین الخُطبتین ١٣١٠ ھ (دو خطبوں کے درمیان دُعا کرنے کا بیان)
مذہب نہ دعا کرنے والوں میں کوئی ذی فہم اس کا قائل بلکہ وقت مرجوالاجابۃ جان کر دعا کرتے ہیں اور بیشك وہ ایسا ہی ہے اور دعا مغز عبادت وانحائے ذکر الہی عزوجل سے ہے جس کی تکثیر پر بلا تقیید وتحدید نصوص قرآن عظیم و احادیث متواترہ نبی رؤف رحیم علیہ وعلی آلہ افضل الصلوۃ والتسلیم ناطق اورہاتھ اٹھانا حسب تصریح احادیث و تظافر ارشادات علمائے قدیم وحدیث سنن و آداب دعا سے ہے خطیب کے لئے اس کی اجازت ومشروعیت تو باتفاق مذہبین حنفی وشافعی ہے یونہی سامعین کے لئے جبکہ دعا دل سے ہو نہ زبان سے اور سامعین کا اس وقت زبان سے دعا مانگنا جس طرح ان بلادمیں مروج ومعمولی ہے مذہب شافعیہ میں تو اس کی اجازت و مشروعیت ظاہر کہ ائمہ شافعیہ رحمہم اللہ تعالی میں خطبہ ہوتے وقت بھی کلام سامعین ناجائز وحرام نہیں جانتے صرف مکروہ مانتے ہیں اور کراہت کلام شافعیہ میں جب مطلق بولی جاتی ہے اس سے کراہت تنزیہی مراد ہوتی ہے بخلاف کلمات ائمتنا الحنفیہ رحمھم اﷲ تعالی فان غالب محملھا بھا مطلقۃ فیھا کراھۃ التحریم( بخلاف ہمارے ائمہ احناف رحمہم اللہ تعالی کی عبارات کے کیونکہ ان میں غالب یہی ہے کہ مطلقا کراہت مکروہ تحریمی ہے ۔ ت) علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ اذات الید مسئلۃ الشطرنج میں فرماتے ہیں :
الکراہۃ عند الشافعیۃ اذا اطلقت تنصرف الی التنزیھیۃ لا التحریمیۃ بخلاف مذہبنا ۔
شوافع کے نزدیك مطلقا کراہت کااطلاق مکروہ تنزیہی پر ہوتا ہے نہ کہ تحریمی پر بخلاف ہمارے مذہب کے (اس میں تحریمی پر ہے )۔ (ت)
اور سکوت خطیب کے وقت جیسے قبل و بعد خطبہ وبین الخطبتین اصلا کراہت بھی نہیں مانتے۔ امام ابویوسف اردبیلی شافعی کتاب الانوار میں فرماتے ہیں :
لایجب الاستماع وھو شغل السمع بالسماع ۔
استماع واجب نہیں اور استماع سے مراد کانوں کو سماع میں مشغول کرنا ہے ۔ (ت)
اسی میں ہے :
لایحرم الکلام حال الخطبۃ لاعلی الخطیب ولا علی المامومین السامعین وغیر ھم
خطبہ کے دوران کلام حرام نہیں نہ خطبہ پر نہ مقتدیوں پر ہاں بغیر غرض کے مکروہ ہے مثلا
حوالہ / References &الحدیقۃ الندیۃ الصنف الخامس من الاصناف التسعۃ فی بیان آفات الید€ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۴۴۰
&الانوارلاعمال الابرار فصل لصحۃ الجمعۃ الخ€ مطبعۃ جمالیہ مصر ۱ / ۱۰۱
#11313 · رِعَایۃ المَذھَبَین فی الدّعاءِ بین الخُطبتین ١٣١٠ ھ (دو خطبوں کے درمیان دُعا کرنے کا بیان)
لکن یکرہ الا لغرض مھم کاندارمن یقع فی بئراو عقرب ویتعلم خیرا اونھی عن شیئ ۔
کنویں میں گرنے والے کو متنبہ کرنا یا بچھو سے بچانا یا خیر کا حکم دینا اور برائی سے روکنا جائز ہے (ت)
اسی میں ہے :
لایکرہ الکلام حال الاذان ولابین الخطبتین ولابین الخطبۃ والصلوۃ ۔
اذان دونوں خطبوں کے درمیان اور خطبہ اور نماز کے درمیان کلام مکروہ نہیں ۔ (ت)
علامہ زین الدین شافعی تلمیذ امام ابن حجر مکی فتح المعین بشرح قرۃ العین میں فرماتے ہیں :
یکرہ الکلام ولایحرم حالۃ الخطبۃلا قبلھا ولو بعد الجلوس علی المنبر ولابعدھا ولابین الخطبتین ویسن تشمیت العاطس والردعلیہ ورفع الصوت من غیر مبالغۃ بالصلوۃ والسلام علیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عند ذکر الخطیب اسمہ او وصفہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال شیخنا ولا یبعد ندب الترضی عن الصحابۃ بلارفع صوت وکذا التامین لدعاء الخطیب اھ مختصرا۔
دوران خطبہ کلام مکروہ ہے خطبہ سے پہلے اگر چہ خطیب منبر پر بیٹھ چکاہو اور دو خطبوں کے درمیان کلام حرام نہیں ہے چھینك مارنے والے کا جواب دینا اور اس کے بدلہ میں دعا دینا سنت ہے اور جب خطیب نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا اسم یا وصف ذکر کرے تو صلوۃ وسلام عرض کیا جاسکتا ہے البتہ اواز بلند نہ کی جائے ہمارے شیخ نے فرمایا کہ صحابہ کے نام پر رضی اللہ تعالی عنہ اور دعاء خطیب کے وقت آمین آواز بلندکئے بغیر کہنا مستحب ہونا بعید نہیں اھ اختصارا (ت)
یونہی مذہب حنفی میں امام ثانی قاضی ربانی سید نا امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے نزدیك بھی مطقا جواز ہے اوقات ثلثہ غیر حال خطبہ یعنی قبل وبعد دعابین خطبتین میں اگرچہ کلام دنیوی منع فرماتے ہیں مگر کلام دینی مثل ذکر وتسبیح مطلقا جائز رکھتے ہیں اور پر ظاہر دعا خاص کلام دینی عبادت الہی ہے۔ مراقی الفلاح میں ہے :
اذا خرج الامام فلاصلوۃ ولاکلام وھو قول
جب امام آجائے تو کوئی کلام ونماز نہیں اور یہی
حوالہ / References &الانوار لاعمال الابرار فصل لصحۃ الجمعۃ الخ€ مطبعۃ جمالیۃ مصر ۱ / ۱۰۱
&الانوار لاعمال الابرار فصل لصحۃ الجمعۃ الخ€ مطبعۃ جمالیۃ مصر ۱ / ۱۰۱
&فتح المعین شرح قرۃ العین فصل فی صلوۃ الجمعۃ€ عامر الاسلام پورپرس ترونگاری انڈیا ص ۱۴۶
#11314 · رِعَایۃ المَذھَبَین فی الدّعاءِ بین الخُطبتین ١٣١٠ ھ (دو خطبوں کے درمیان دُعا کرنے کا بیان)
الامام وقال ابویوسف ومحمد لا باس بالکلام اذاخرج قبل یخطب واذانزل قبل ان یکبر واختلفا فی جلوسہ اذا سکت فعند ابی یوسف یباح لان الکراھۃ للاخلال بغرض الاستماع ولااستماع ولہ اطلاق الامر اھ ببعض اختصار۔
امام کا قول ہے امام ابویوسف اور امام محمد رحمہما اﷲ تعالی کہتے ہیں خطبہ شروع ہونے سے پہلے کلام میں کوئی حرج نہیں اسی طرح جب امام منبر سے اترے اورتکبیر سے پہلے بھی گفتگو میں کوئی حرج نہیں جب منبر پر خطیب خاموش بیٹھا ہوتو اس وقت ان میں اختلاف ہے امام ابویوسف کے نزدیك مباح ہے کیونکہ کراہت کی وجہ خطبہ سننے میں خلل کا واقع ہونا ہے اور یہاں استماع نہیں ہے ان کی دلیل امر کا اطلاق ہے اھ مختصرا (ت)
صاحب مذہب امام الائمہ سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے کہ خروج امام سے فراغ نماز تك کلام سے ممانعت فرمائی مشائخ مذہب اس سے مراد میں مختلف ہوئے اور تصحیح بھی مختلف آئی بعض فرماتے ہیں مراد امام صرف دنیوی کلام ہے اوقات ثلثہ میں دینی کی اجازت عام ہے نہایہ و عنایہ میں اسی کو اصح کہا ایسا ہی فخر الاسلام نے مبسوط میں فرمایا مشائخ کرام نے مطلق مراد لیا امام زیلعی نے تبیین الحقائق میں اسی کو احوط کہا۔
قلت واطلاقات المتون واکثر الکتب علیہ ماشیۃ وعامۃ التفاریع عنہ ناشیۃ کما یظھر بمراجعۃ ما علقنا علی ردالمحتار فھو اصح التصحیحین فیما اعلم کیف لاوقد صرح المحققون ان الدنیوی مکروہ اجماعا فلو لم ینھی الامام الاعنہ لارتفع الخلاف مع ان الکتب المعتمدۃ عن اخرھا متظافرۃ علی اثباتہ۔
میں کہتا ہوں کہ متون کے اطلاقات پر اور اکثر کتب اسی پر جاری ہیں اور عام تفریعات اس سے مستخرج ہیں جیسا کہ ہمارے حاشیہ ردالمحتار سے ظاہر ہے اور میرے علم کے مطابق دونوں تصحیحوں میں یہ اصح ہے اور یہ کیسے نہ ہو حالانکہ محققین نے تصریح کی ہے کہ کلام دنیوی بالاتفاق مکروہ ہے اور اگر امام نے اس سے ہی منع کیا ہے تواب اختلاف مرتفع ہوجائے گا حالانکہ تمام کتب اس اختلاف کے ثبوت سے مالا مال ہیں ۔ (ت)
بحرالرائق میں زیر قول مصنف اذاخرج الامام فلاصلوۃ ولاکلام (جب امام آجائے تو
حوالہ / References &مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب الجمعۃ€ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۲۸۲
#11315 · رِعَایۃ المَذھَبَین فی الدّعاءِ بین الخُطبتین ١٣١٠ ھ (دو خطبوں کے درمیان دُعا کرنے کا بیان)
کوئی نماز اور کلام نہیں ۔ ت ) ہے :
اطلق فی منع الکلام فشمل التسبیح والذکر والقراءۃ وفی النھایۃ اختلف المشائخ علی قول ابی حنیفہ قال بعضھم انما کان یکرہ ماکان من کلام الناس اما التسبیح ونحوہ فلاوقال بعضھم کل ذلك مکروہ والا ول اصح اھ وکذا فی العنایۃ وذکر الشارح ان الاحوط الانصات اھ ویجب ان یکون محل الاختلف قبل شروعہ فی الخطبۃ ویدل علیہ قولہ '' علی قول ابی حنیفۃ '' و اماوقت الخطبۃ فالکلام مکروہ تحریما ولوکان امرا بمعروف اوتسبیحا اوغیرہ کما صرح بہ فی الخلاصۃ وغیرھا انتھی باختصار
منع کلام مطلقا کہا لہذا یہ تسبیح ذکر اور قراءت کوبھی شامل ہوگا نہایہ میں ہے کہ مشائخ نے امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے قول پر اختلاف کیا ہے بعض نے کہا یہاں وہی گفتگو مکروہ ہے جو لوگوں کی ( دنیوی گفتگو ) ہو رہی تسبیح وغیرہ تو وہ مکروہ نہیں بعض نے کہا کہ یہ تمام مکروہ ہے اور پہلا اصح ہے اھ عنایہ میں بھی اسی طرح ہے شارح نے ذکرکیا کہ احوط خاموش ہونا ہے اور یہ ضروری ہے کہ محل اختلاف خطبہ میں شروع ہونے سے پہلے ہو اور اس پر اس کے یہ الفاظ کہ '' ابو حنیفہ کے قول پر'' دلالت کررہے اور خطبہ کے وقت کلام مکروہ تحریمی ہے خواہ امربالمعروف یا تسبیح یا اس کی مثل ہو جیسا کہ خلاصہ وغیرہ میں اس پر تصریح ہے انتہی باختصار (ت)
طحطاوی وردالمحتار مبحث الفاظ افتا میں ہے :
قولہ وغیرھا کالاحوط والاظہر ۔
اس کا قول '' اس کے علاوہ الفاظ'' مثلا احوط واظہر ہیں ۔ (ت)
درمختار میں فتاوی خیریہ سے ہے :
بعض الالفاظ اکد من بعض فلفظ الفتوی اکد من لفظ الصحیح والاحوط ا کدمن الاحتیاط اھ مختصرا۔
بعض الفاظ بعض کی نسبت زیادہ موکد ہوتے ہیں لفظ فتوی لفظ صحیح سے اور احوط احتیاط سے زیادہ مؤکد ہے اھ مختصرا (ت)
حوالہ / References &بحرالرائق باب صلٰوۃ الجمعۃ€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۱۴۸
&ردالمحتار خطبۃ الکتاب€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۴
&درمختار خطبۃ الکتاب€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۵
#11316 · رِعَایۃ المَذھَبَین فی الدّعاءِ بین الخُطبتین ١٣١٠ ھ (دو خطبوں کے درمیان دُعا کرنے کا بیان)
بالجملہ خلاصہ کلام یہ کہ دعائے مذکور خطیب کے لئے مطلقا او رسامعین کے لئے دل میں بالاتفاق جائز مذہب امام شافعی وقول امام ابی یوسف پر ان کے لئے زبان سے بھی قطعا اجازت اور ارشاد امام کی ایك تخریج پر مکروہ دوسری پر جائز ائمہ فتوی نے دونوں کی تصحیح کی تو احد الصحیحین پر دعائے مذکور امام و مقتدین سب کو دل وزبان ہر طرح سے باتفاق مذہبین حنفی وشافعی مطلقا جائز و مشروع اور علماء تصریح فرماتے ہیں کہ جب ترجیح مختلف متکافی ہو تو مکلف کو اخیتار ہے کہ ان میں سے جس پر چاہے عمل کرے اصلا محل اعتراض وانکار نہیں بحرالرائق ودرمختار وغیرہما میں ہے :
متی کان فی المسئلۃ قولان مصححان جاز القضاء والافتاء باحدھما ۔
جب مسئلہ میں دو اقوال صحیحہ ہوں تو ان میں سے ایك پر فتوی اور قضاء جائز ہوتی ہے ۔ (ت)
ولہذافقیر غفرا ﷲ تعالی بآنکہ یہاں تصحیح تبیین کوارجح جانتا ہے ہمیشہ سامعین کو بین الخطبتین دعا کرتے دیکھا اور کبھی منع وانکار نہیں کرتا ہے ھذا جملۃ القول فی ھذا الباب والتفصیل فی فتاونا بعون الوھاب (اس مسئلہ میں یہ گفتگو کا خلاصہ ہے اور اس کی تفصیل اﷲ تعالی کی اعانت سے ہمارے فتاو ی میں ہے ۔ ت)رہی مترجم درمختار کی علمائے بریلی سے وہ نقل معلوم نہیں کہ اس نے اپنے زعم میں علمائے بریلی سے کون لوگ مراد لئے اس کے زمانے میں ان اقطار کے اعلم علماء کہ اپنے عصر و مصر میں حقیقۃ صرف وہی عالم دین کے مصداق تھے یعنی خاتمۃالمحققین سیدنا الوالدقدس سرہ الماجد فقیر برسوں جمعات میں اقتدائے حضرت والا سے مشرف ہوا حضرت ممدوح قدس سرہ جلسہ بین الخطبتین میں دعا فرمایا کرتے اور سامعین کو دعا کرتے دیکھ کر کبھی انکار نہ فرماتے اور مترجم کے زمانے سے پہلے بریلی میں اس امر کا استفتا ہوا مولنا احمد حسین مرحوم تلمیذ اعلحضرت سید العلماسند العرفا مولنا الجد قدس سرہ الامجد نے جواز مشروعیت پر فتوی دیااعلحضرت نوراﷲ مرقدہ الشریف وفاضل اجل مولنا سیدیعقوب علی صاحب رضوی بریلوی ومولوی سید محمود علی صاحب بریلوی وغیر ہم علمائے کرام نے ا س پر مہریں فرمائیں یہ فتوی مولوی صاحب مرحوم کے مجموعہ فتاوی مسمی بمفید المسلمین میں مندرج ومشمول اوراطمینان سائل کے لئے یہاں منقول :
سوال : چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین بیچ اس مسئلہ کے کہ بیٹھنا امام کو بعد قراءت خطبہ پہلے کے سنت ہے یا نہیں اور خطیب کس قدر جلسہ میں توقف کرے اور یہ اوقاتوں
حوالہ / References &درمختار خطبۃالکتاب€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۴
#11317 · رِعَایۃ المَذھَبَین فی الدّعاءِ بین الخُطبتین ١٣١٠ ھ (دو خطبوں کے درمیان دُعا کرنے کا بیان)
قبولیت دعا سے ہے یا نہیں اور دعا مانگنا ہاتھ اٹھا کے مستحسن ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب : بیٹھنا خطیب کا درمیان دونوں خطبوں کے سنت ہے چنانچہ صحیح بخاری شریف میں باب القعدہ بین الخطبتین یوم الجمعہ میں مرقوم ہے :
حدثنا مسددثنا بشر بن المفضل ثنا عبید اﷲ عن نافع عن عبد اﷲ بن عمر قال کان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یخطب خطبتین یقعدبینہما ۔
مسدد نے ہمیں اور انھیں بشر بن مفضل نے انھیں نافع نے انھیں عبداﷲ بن عمر نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جب خطبہ ارشاد فرماتے تودو خطبوں کے درمیان بیٹھتے ۔ (ت)
اور اس بیٹھنے کو سنت بمقدار تین آیات علمگیری میں بالتصریح بیان کیا ہے :
والخامس عشر الجلوس بین الخطبتین ھکذا فی البحرالرائق ومقدار الجلوس بینھما مقدار ثلث ایات فی ظاہر الروایۃ ھکذا فی السراج الوھاج ۔
پندرھویں سنت دو خطبوں کے درمیان بیٹھنا ہے اسی طرح بحرالرائق میں ہے ان کے درمیان بیٹھنے کی مقدار ظاہر الروایۃ کے مطابق تین آیات کی تلاوت کی مقدار ہے ۔ ایسے ہی سراج الوہاج میں ہے ۔ (ت)
اور بیچ حصن حصین کے ایك اوقات قبول دعا سے مابین الخطبتین ہے اور بیچ ظفر جلیل شرح حصن حصین کے اس وقت مانگنا دعا کا طیبی سے نقل کیا :
وساعۃ الجمعۃ ارجی ذلك و وقتھا مابین ان یجلس الامام فی الخطبۃ الی ان تقضی الصلوۃ م د۔
اور ساعت جمعہ کی بہت امید والی ان وقتوں کی ہے یعنی سب وقتوں میں سے ساعت جمعہ میں امید قوی ہے قبولیت کی اور وقت ساعت جمعہ کا ہے مابین بیٹھنے امام کے سے منبر پر خطبہ کے لئے تمام ہونے نماز تک نقل کی یہ مسلم اور ابوداؤد نے۔ (ت)
ظاہر تر یہ ہے کہ مراد بیٹھنے امام کے سے بیٹھنا امام کاہے اول شروع خطبہ کے اور وہی وقت حرمت کلام کا ہے غیر امام کو کذا قال العلی (جیسا کہ علی نے بیان کیا ۔ ت) اور طیبی نے بیٹھنے سے
حوالہ / References &صحیح البخاری باب القعدہ بین الخطبتین€ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۲۷
&فتاوی ہندیۃ الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعۃ€ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۴۷
&حصن حصین اوقات الاجابۃ€ مطبوعہ افضل المطابع لکھنؤ ص ۲۱
#11318 · رِعَایۃ المَذھَبَین فی الدّعاءِ بین الخُطبتین ١٣١٠ ھ (دو خطبوں کے درمیان دُعا کرنے کا بیان)
بیٹھنا درمیان دونوں خطبوں کے مراد رکھا ہے اور ایك روایت میں ساعت جمعہ کی یہ ہے انتہی اوربھی صاحب فتح الباری نے ان تمام اوقات اجابت دعا سے ایك جلسہ امام کو درمیان خطبتین فرمایا ہے :
حیث قال الثلثون عند الجلوس بین الخطبتین حکاہ الطیبی عن بعض شراح المصابیح ۔
ان کے الفاظ میں تیسواں مقام دو خطبوں کے درمیان بیٹھنے کا وقت ہے اسی طیبی نے بعض شارحین مصابیح سے نقل کیا ہے ۔ (ت)
اور بھی شیخ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہ نے کتنے اوقات اجابت دعا سے شمار فرمائے ہیں ایك ان میں سے جلسہ کرنے خطیب کو درمیان خطبتین تحریر کیا
العاشر ما بین خروج الامام الی ان تقام الصلوۃ الحادی عشر مابین ان یجلس الامام علی المنبر الی ان تقضی الصلوۃ الثانی عشرمابین اول الخطبۃ والفراغ منھا الثالث عشر عند الجلوس بین الخطبتین ۔
دسواں امام کے نکلنے اور اقامت نماز تك ہے گیارھواں امام کے منبر پر بیٹھنے سے لے کر اختتام نماز تك ہے بارھواں شروع خطبہ سے لے کر اس سے فراغت تك ہے تیرھواں دونوں خطبوں کے درمیان بیٹھنے کے وقت ہے۔ (ت)
اور وقت جلسہ خطیب کے کلام کرنا نزدیك امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے درست ہے تاتارخانیہ میں نقلا عن العتابیہ مرقوم ہے :
ولوسکت الخطیب حین جلس ساعۃ قال ابو یوسف یباح لہ التکلم فی تلك الساعۃ ۔
امام منبر پر بیٹھ کر ایك ساعت خاموش رہا تو امام ابویوسف فرماتے ہیں کہ اس وقت گفتگو مباح ہے ۔ (ت)
اور درمختار میں مثل ا سکے مرقوم ہے اور صحیح بخاری شریف میں کہ اصح الکتب بعد کتاب اﷲ کے ہے بیچ باب رفع الیدین فی الخطبہ کے عین حالت خطبہ میں دعا مانگنا آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے منقول اور ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم روز جمعہ کے خطبہ فرماتے تھے کہ ایك شخص آیا پس کہا اے
حوالہ / References &فتح الباری باب الساعۃ التی فی یوم الجمعۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ٣ / ۷۱
&حرز ثمین شرح حصن حصین للسیوطی€
&فتاوٰی تاتار خانیۃ کتاب الصلٰوۃ € ، & شرائط الجمعۃ€ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیۃ کراچی ۲ / ۶۹
#11319 · رِعَایۃ المَذھَبَین فی الدّعاءِ بین الخُطبتین ١٣١٠ ھ (دو خطبوں کے درمیان دُعا کرنے کا بیان)
رسول اﷲ کے ! ہلاك ہوئے جاتے ہیں چارپائے اور ہلاك ہوئے جاتے ہیں شاۃ (بکریاں ) پس دعا فرماؤ اﷲ سے یہ کہ تر کرے ہم کو پس دراز کئے اپ نے ہاتھ مبارك اپنے اور درخواست دعا کی کی :
حدثنا مسدد ثنا حماد بن زید عن عبدالعزیز عن انس وعن یونس عن ثابت عن انس قال بینما النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یخطب یوم الجمعۃ اذقام رجل فقال یارسول اﷲ ھلك الکراع وھلك الشاۃ فادع اﷲ ان یسقینا فمد یدیہ ودعا ۔
ہمیں مسدد نے انھیں حماد بن زید نے انھیں عبد العزیز نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے اور یونس سے ثابت نے اور انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ ہم حاضر تھے رسالتمآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جمعہ کا خطبہ ارشاد فرمارہے تھے کہ ایك شخص نے کھڑے ہوکر عرض کیا : یا رسول اﷲ ! چارپائے ہلاك ہورہے ہیں بکریاں ہلاك ہورہی ہیں اﷲ تعالی سے دعا کیجئے کہ اﷲ تعالی ہمیں بارش عطافرمائے تو آپ نے اﷲ تعالی کے حضور ہاتھ پھیلادئے اور دعا کی ۔ (ت)
جبکہ کلام کرنا اس وقت میں کلام مجتہدسے ثابت ہو اور دعا مانگنا دعا کا عین حالت خطبہ میں آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ثابت اور متحقق ہے پس مانگنا دعا کا افضل العبادات سے ہے نزدیك حق تعالی جل وعلاکے اوروہ وقت قبولیت دعا کا ہے موافق مرقومہ بالا کے اور اکثر روایات معتبرہ کے اور مانع کلام وغیرہ کا پڑھنا خطیب کا تھاوہ بھی اس وقت میں نہیں ہے کمال مستحسن ہوگا اور بھی بیچ مفتاح الصلوۃ کے دعامانگنا ہاتھ اٹھا کے درست فرمایا اور مقدار جلسہ کی بقدر سہ(۳) آیات کے مجتبی سے اور سند اجابت دعا کی صحیح مسلم وشارح صحیح مسلم امام نووی رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہ سے ساتھ لفظ صواب کے نقل کی مفتاح الصلوۃ میں مرقوم ہے :
درمیان دوخطبہ کہ امام بنشیند دعا بطریق اولی جائز خواہد بودعلی الخصوص دراحادیث آمدہ کہ ساعۃ الاجابۃ مابین ان یجلس الامام فی الخطبۃ الی ان تقضی الصلوۃ کما صح فی صحیح مسلم وجزم الامام النووی فی شرح مسلم وقال ھو الصواب پس باید
دو خطبوں کے درمیان جب امام بیٹھتا ہے تو اس وقت دعا کرنا خصوصا بطریق اولی جائز ہونی چاہئے کیونکہ احادیث میں آیاہے کہ قبولیت کی ساعت اما م کے منبر پر بیٹھنے سے لے کر اختتام نماز تك ہوتی ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے اور امام نووی نے شرح مسلم میں اسی پر جزم کرتے ہوئے فرمایا یہی
حوالہ / References &صحیح البخاری باب رفع الیدین فی الخطبۃ€ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۲۷
#11320 · رِعَایۃ المَذھَبَین فی الدّعاءِ بین الخُطبتین ١٣١٠ ھ (دو خطبوں کے درمیان دُعا کرنے کا بیان)
کہ دروق جلوس کہ درظاہر الروایۃ مقدار سہ۳ آیت وارد ست کما فی المجتبی وغیرہ ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار خواند کہ عمل بر ظاہر الروایہ واحادیث صحیحہ واقع گردد واگر دست برداشتہ بخواند موافق طریقہ دعا کہ دراحادیث ست واقع گردد وعمل بزرگان نیز ہست ۔
صواب ہے لہذا امام کے بیٹھنے کے وقت جو ظاہر الروایۃ کے مطابق تین۳ آیات کی مقدار ہے جیسا کہ مجتبی وغیرہ میں ہے یہ دعا پڑھ لی جائے اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بہتری اور نیکی عطافرما اور آخرت میں بھی بہتری عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچالے تاکہ ظاہر الروایت اور احادیث صحیحہ پر عمل ہوجائے اور اگر دعامیں ہاتھ اٹھائے تویہ بھی اس طریقہ دعا کے موافق ہے جو احادیث میں آیا ہے اور اسلاف کا بھی عمل ہے ۔ (ت)
اور ایسا ہی بیچ فتوح الارواد کے مرقوم ہے اور بیچ حصن حصین کے ایك آداب دعامیں رفع یدین کو بسند حدیث تحریر کیا ہے ورفعھما ع وان یکون رفعھما حذوالمنکیبین دامس یعنی آداب دعاسے ہے اٹھانادونوں ہاتھوں کا طرف آسمان کے نقل کی یہ صحاح ستہ میں اور یہ کہ ہووے ہاتھ اٹھانا برابر مونڈھوں کے نقل کی سنن ابوداؤد و احمد وحاکم نے اس سے خوب واضح ہو اکہ دعا مانگنا ساتھ رفع یدین کے چاہئے البتہ خالی ہاتھ اٹھانا بغیر دعا کے عبث اور بے فائدہ ہے اور یہ بھی واضح و لائح ہوا کہ د'عا مانگنا اور ہاتھ نہ اٹھانا آداب دعا کے سے دور ہونا ہے واﷲ اعلم بالصواب و الیہ المرجع الماب۔
احمد حسین بیگ غفر اﷲ لہ۔ محمد رضاعلی خاں ۔ سید یعقوب علی رضوی خویدیم اطلبہ سید محمود علی سید محمد ذاکر عفی عنہ علمائے بریلی رحمہم اللہ تعالی کا فتوی یہ ہے اور عمل وہ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم
مسئلہ : اصغر علی خاں بریلی بانس منڈی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ نماز جمعہ میں کوئی سورہ کلام مجید کی
حوالہ / References &مفتاح الصلٰوۃ€
&حصن حصین آداب الدعاء€ مطبوعہ افضل المطابع لکھنؤ ص۱۷
#11321 · رِعَایۃ المَذھَبَین فی الدّعاءِ بین الخُطبتین ١٣١٠ ھ (دو خطبوں کے درمیان دُعا کرنے کا بیان)
چھوٹی پڑھی جائے یا بڑی اور چھوٹی پڑھی جائے تو کس قدر اور بڑی پڑھی جائے تو کس قدر بدیں وجہ کہ مسجد کی یہ حالت ہے کہ کچھ نمازی اندر سایہ کے اور کچھ باہر فرش پر جہاں بالکل دھوپ اور فرش بھی گرم ہوتا ہے۔
الجواب :
جمعہ میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے پہلی رکعت میں سورہ جمعہ دوسری رکعت میں سورہ منافقون اور کبھی پہلی میں سبح اسم ربك الاعلى(۱) اوردوسری میں هل اتىك حدیث الغاشیة(۱) ثابت ہے اور حسب حاجت ومصلحت کمی بیشی کا اختیار ہے اور اگر مقتدیوں پر تکلیف وناگواری ہو تو اختصار لازم ہے مگر حتی الامکان قدر مسنون سے کمی نہ کرے کہ قدر مسنون کا محض کسل کی وجہ سے ناگوار ہو نا ان کا قصور ہے جس میں نہ وہ مستحق رعایت نہ اس کے سبب ترك سنت کی اجازت ہاں اگر مثلا کوئی مریض یا ضعیف ایسا ہوکہ بقدر سنت پڑھنابھی اس کے لئے باعث تکلیف ہوگا تو ا س کی رعایت واجب ہے اگر چہ نماز جمعہ کوثرو اخلاص سے پڑھانا ہو واﷲ تعالی اعلم
_________________
حوالہ / References &القرآن€ ۸۷ / ۱
&القرآن€ ۸۸ / ۱
#11322 · اوفی اللمعۃ فی اذان یوم الجمعۃ ١٣٢٠ھ (اذانِ جمعہ کے بارے میں کامل رہنمائی)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
مسئلہ ۱۴۱۱ : از ملك بنگالہ موضع شاکو چپل ضلع سہلٹ ڈاکخانہ جگدیش پور مرسلہ مولوی ممتاز الدین صاحب ۱۱ ذی الحجہھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اذان مسجد کے اندر دینا کیسا ہے جمعہ کی اذان ثانی خطیب کے منبر پر بیٹھنے کے بعد جو دی جاتی ہے آیا وہ اذان مسجد کے اندر خطیب کے سامنے کھڑا ہوکر کہے یا مسجد کے اوربرتقدیر اول بلاکراہت جائز ہے یا نہیں بعض لوگ کہتے ہیں یہ بلاکراہت سب علماء کے نزدیك جائز ہے اور سلف صالحین سے لے کر اس زمانہ تك کل امصار ودیار میں اسی طریقہ مسنون پر باتفاق علمائے کرام جاری ودائر ہے شامی میں ہے کہ مؤذن اذان خطیب کے سامنے کہے ہدایہ میں ہے منبر کے سامنے کہے اور اسی پر علما کا عمل ہے اور رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے زمانے میں نہیں تھا مگر یہ اذان اور درمختار میں ہے خطیب کے سامنے کہے ان عبارات سے ہویدا ہواکہ روبروخطیب کے مسجد کے اندر کہے اور باہر مسجد یاصحن مسجد میں کھڑا ہوکر اذان کہنا خلاف کتب فقہ وسلف صالحین کا ہے انتہی اور بعض لوگ کہتے ہیں جمعے کی اذان ثانی مسجد کےاندر منبر کے سامنے کھڑے ہوکر مکروہ نہیں ہے اگرچہ جہاں تك اطلاق بین یدیہ آتا ہے
#11323 · اوفی اللمعۃ فی اذان یوم الجمعۃ ١٣٢٠ھ (اذانِ جمعہ کے بارے میں کامل رہنمائی)
سب جگہ درست ہے انتہی ان میں کون سا قول صحیح ہے بینوا توجروا
الجواب :
ہمارے علمائے کرام نےفتاوی قاضی خان وفتاوی خلاصہ و فتح القدیر و نظم و شرح نقایہ برجندی وبحرالرائق و فتاوی ہندیہ وطحطاوی وعلی مراقی الفلاح وغیرہا میں تصریح فرمائی کہ مسجد میں اذان دینی مکروہ ہے فتاوی خانیہ میں ہے :
ینبغی ان یؤذن علی المئذنۃ اوخارج المسجد ولایؤذن فی المسجد ۔
یعنی اذان منارے پر یا مسجد کے باہر چاہئے مسجد میں اذان نہ کہی جائے ۔
بعینہ یہی عبارت فتاوی خلاصہ و فتاوی عالمگیریہ میں ہے۔ فتح القدیر میں ہے :
الاقامۃ فی المسجد لابد واماالاذان فعلی المئذنۃ فان لم یکن ففی فناء المسجد وقالولایؤذن فی المسجد ۔
یعنی تکبیر تو ضرور مسجد میں ہوگی رہی اذان وہ منارے پر ہو۔ منارہ نہ ہو تو بیرون مسجد زمین متعلق مسجد میں ہو ۔ علمافرماتے ہیں مسجد میں اذان نہ ہو۔
نیز خودباب الجمعہ میں فرمایا :
ھوذکراﷲ فی المسجد ای فی حدودہ لکراھۃ الاذان فی داخلہ ۔
وہ اﷲ تعالی کاذکر ہے مسجد میں یعنی حوالی مسجد کے اندر اس لئے کہ خود مسجد کے اندر اذان دینی مکروہ ہے۔
شرح مختصرالوقایہ للعلامۃ عبدالعلی میں ہے :
فی ایرادالمئذنۃ اشعاربان السنۃ فی الاذان ان یکون فی موضع عال بخلاف الاقامۃ فان السنۃ فیھا ان تکون فی الارض وایضافیہ اشعاربانہ لایؤذن فی المسجد فقد ذکرفی الخلاصۃ انہ ینبغی الخ ۔ اھ
یعنی صدر الشریعۃ قدس سرہ نے اذان کےلئے منارے کا جو ذکر فرمایا اس میں تنبیہ ہے اس پر کہ اذان میں سنت یہ ہے کہ بلند جگہ پر ہو بخلاف تکبیر کہ اس میں سنت یہ ہے کہ زمین پر ہو نیز اس میں تنبیہ ہے کہ اس مسجد میں نہ دی جائے خلاصہ میں اس کی ممانعت کی تصریح ہے الخ اھ باختصار۔
حوالہ / References &فتاوٰی قاضی خاں مسائل الاذان€ مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ ١ / ٣٧
&فتح القدیر باب الاذان€ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۱۵
&فتح القدیر باب الجمعۃ€ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۲۹
&شرح النقایہ للبرجندی باب الاذان€ مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ ١ / ٨٤
#11324 · اوفی اللمعۃ فی اذان یوم الجمعۃ ١٣٢٠ھ (اذانِ جمعہ کے بارے میں کامل رہنمائی)
بحرالرائق میں ہے :
فی القنیۃ یسن الاذان فی موضع عال والاقامۃ علی الارض وفی المغرب اختلاف المشائخ اھ والظاھر انہ یسن المکان العالی فی اذان المغرب کما سیأتی وفی السراج الوھاج ینبغی ان یؤذن فی موضع یکون اسمع للجیران وفی الخلاصۃ ولایؤذن فی المسجد اھ مختصرا۔
یعنی قنیہ میں ہے کہ اذان بلندی پر اور تکبیر زمین پر ہونا سنت ہے اور مغرب کی اذان میں مشائخ کا اختلاف ہے وہ بھی بلندی پر ہونا مسنون ہے یا نہیں اورظاہر یہ ہے کہ مغرب میں بھی اذان بلندی پر ہونا سنت ہے اور سراج الوہاج میں ہے اذان وہاں ہونی چاہئے جہاں سے ہمسایوں کو خوب آواز پہنچے اور خلاصہ میں فرمایا کہ مسجد میں اذان نہ دےاھ مختصرا۔
اسی میں بعدچند ورق کے ہے :
السنۃ ان یکون الاذان فی المنارۃ والاقامۃ فی المسجد ۔
سنت یہ ہے کہ اذان منارے پر ہو اورتکبیر مسجد میں ۔
حاشیہ طحطاوی میں ہے :
یکرہ ان یؤذن فی المسجد کما فی القھستانی عن النظم فان لم یکن ثمہ مکان مرتفع للاذان یؤذن فی فناء المسجد کما فی الفتح ۔
یعنی مسجد میں اذان دینی مکروہ ہے جیسا کہ قہستانی میں نظم سے منقول ہے تو اگر وہاں اذان کے لئے کوئی بلند مکان نہ بنا ہوتومسجد کے آس پاس اس کے متعلق زمین میں اذان دے جیسا کہ فتح القدیر میں ہے۔
یہ تمام ارشادات صاف صاف مطلق بلا قید ہیں جن میں جمعہ وغیرہا کسی کی تخصیص نہیں مدعی تخصیص پر لازم کہ ایسے ہی کلمات صریحہ معتمدہ میں اذان ثانی جمعہ کا استثناء دکھائے مگر ہرگز نہ دکھا سکے گا رہا لفظ بین یدی الامام(امام کے سامنے۔ ت) یا بین یدی المنبر(منبر کے سامنے۔ ت)سے استدلال مذکور فی السوال وہ محض ناواقفی ہے ان عبارات کا حاصل صرف اس قدر کہ اذان ثانی خطیب کے سامنے منبرکے آگے مواجہہ میں ہو اس سے یہ کہاں کہ امام کی گودمیں منبر کی کگر پر ہو جس سے داخل مسجد ہونا استنباط
حوالہ / References &بحرالرائق باب الاذان€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۵۵
&بحرالرائق باب الاذان€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۶۱
&حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب الاذان€ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۰۷
#11325 · اوفی اللمعۃ فی اذان یوم الجمعۃ ١٣٢٠ھ (اذانِ جمعہ کے بارے میں کامل رہنمائی)
کیا جائے بین یدی(یعنی سامنے۔ ت) سمت مقابل میں منتہائے جہت تك صادق ہے جو وقت طلوع مواجہہ مشرق یا ہنگام غروب مستقبل مغرب کھڑاہو وہ ضرور کہے گاکہ آفتاب میرے سامنے ہے۔ یا فارسی میں مہر روبروئے من است(سورج میرے چہرے کے سامنے ہے۔ ت)یا عربی میں الشمس بین یدی(سورج میرے سامنے ہے۔ ت) حالانکہ آفتاب اس سے تین ہزار برس کی راہ سے زیادہ دور ہے اﷲعزوجل فرماتا ہے : یعلم ما بین ایدیهم و ما خلفهم اﷲ سبحانہ جانتا ہے جو کچھ اس کے سامنے ہے یعنی آگے آنے والا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے گزر گیا۔ یہ ہرگز ماضی ومستقبل سے مخصوص نہیں بلکہ ازل تا ابدسب اس میں داخل ہے۔ یونہی ملائکہ کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا قول کہ قرآن عظیم نے ذکرفرمایا :
له ما بین ایدینا و ما خلفنا و ما بین ذلك- ۔ باﷲ ہی کاہے جو کچھ ہمارے آگے ہے اور جوکچھ ہمارے پیچھے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔
تمام ماضی ومستقبل وحال سب کو شامل ہے ہاں ایسی جگہ عرفا بنظر قرآن حالیہ ایك نوع قرب ہرشے کے لائق مستفاد ہوتا ہے نہ اتصال حقیقی کہ خواہی نخواہی وقوع فی المسجد پر دلیل ہو قال اﷲ تعالی :
و هو الذی یرسل الریح بشرا بین یدی رحمته-حتى اذا اقلت سحابا ثقالا سقنه لبلد میت فانزلنا به المآء الآیۃ۔
اﷲ ہے کہ بھیجتا ہے ہوائیں خوشی کی خبر لاتیں باران رحمت کے آگے یہاں تك کہ جب انہوں نے ابھارے بوجھل بادل ہم نے اس رواں کیا کسی مردہ شہر کی طرف تواتارا اس سے پانی۔
بین یدی(یعنی آگے۔ ت) نے قرب مطر کی طرف اشارہ فرمایا مگر یہ نہیں کہ ہوا میں چلتے ہی پانی معا اترے بلکہ چلیں اوربادل اٹھے اور بوجھل پڑے اور کسی شہر کو چلے وہاں پہنچ کر برسے۔ وقال اﷲ تعالی (اور اﷲ تعالی نے فرمایا) :
ان هو الا نذیر لكم بین یدی عذاب شدید(۴۶) ۔
محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ایسے نہیں جیسا کہ اے کافرو! تم گمان کرتے ہو وہ تو نہیں مگر تمہیں ڈر سنانے والے ایك سخت عذاب کے آگے۔
آیت نے قرب قیامت کا اشارہ فرمایا نہ یہ کہ بعثت کے برابر ہی قیامت ہے پھر اس کا قرب اسکے لائق ہے۔
حوالہ / References &القرآن€ ۲۰ / ۱۱۰
&القرآن€ ١٩ / ٦٤
&القرآن€ ٧ / ٥٧
&القرآن€ ۳۴ / ۴۶
#11326 · اوفی اللمعۃ فی اذان یوم الجمعۃ ١٣٢٠ھ (اذانِ جمعہ کے بارے میں کامل رہنمائی)
تیرہ سو تینتالیس۱۳۴۳ برس گزر گئے ہنوز وقت باقی ہے پس جو اذان در مسجد پر یا فنائے مسجدکی کسی زمین میں جہاں تك حائل نہ ہو محاذات امام میں دی جائے اس پر ضرور بین یدیہ(اس کے روبرو۔ ت) صادق ہے بلاشبہ کہا جائے گا کہ امام کے سامنے خطیب کے روبرو منبر کے آگے اذان ہوئی اور اسی قدر درکار ہے غالبا خود مستدلین کو معلوم تھا کہ قریب مسجد بیرون مسجد مواجہہ امام ك وبھی بین یدیہ شامل ہے ولہذا روبرخطیب کہنے کے بعد ان لفظوں کی حاجت ہوئی کہ مسجد کے اندر مگر خاص یہی لفظ کہ اصل مدعا تھے صرف اپنی طرف سے اضافہ ہوئے۔ شامی وہدایہ ودرمختاروغیرہوغیرہا میں کہیں اس کی بو بھی نہیں ۔ اب ہم ایك حدیث صحیح ذکر کریں جس سے اس بین یدیہ کے معنی بھی آفتاب کی روشن ہوجائیں اور اس ادعائے توارث کا حال بھی کھل جائے سنن ابی داؤد شریف میں بسند حسن مروی ہے :
حدثنا النفیلی ثنامحمد بن سلمۃ عن محمد بن اسحق عن الزھری عن السائب بن یزید رضی اﷲ تعالی عنہ قال کان یؤذن بین یدی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا جلس علی المنبر یوم الجمعۃ علی باب المسجد وابی بکر وعمر ۔
نفیلی نے بیان کیا کہ محمد بن سلمہ نے محمدبن اسحق سے انہوں نے زہری سے انہوں نے سائب بن یزید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جب روز جمعہ منبر پر تشریف فرما ہوتے تو حضور کے روبرو اذان مسجد کے دروازے پر دی جاتی اور یونہی ابوبکر صدیق و عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہما کے زمانے میں ۔
اس حدیث جلیل نے واضح کردیا کہ اس روبروئے امام پیش منبر کے کیا معنی ہیں اور یہ کہ زمانہ رسالت وخلفائے راشدین کے کیا متوارث ہے ہاں یہ کہئے کہ اب ہندوستان میں یہ اذان متصل منبر کہنی شائع ہورہی ہے مگر نص حدیث سے جدا تصریحات فقہ کے خلاف کسی بات کا ہندیوں میں رواج ہوجانا کوئی حجت نہیں ۔ ہندیوں میں یہی کیا اور وقت کی اذانیں بھی بہت لوگ مسجد میں دے لیتے ہیں حالانکہ وہاں تو ان تصریحات ائمہ کے مقابل بین یدیہوغیرہ کا بھی دھوکا نہیں پھر ایسوں کا فعل کیاحجت ہوسکتاہے ۔ الحمدﷲ یہاں اس سنت کریمہ کا احیاء رب عزوجل نے اس فقیر کے ہاتھ پر کیا میرے یہاں مؤذنوں کی مسجد میں اذان دینے سے ممانعت ہے جمعہ کی اذان ثانی بحمداﷲ تعالی منبر کے سامنے دروازہ مسجد پر ہوتی ہے جس طرح زمانہ اقدس حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم و خلفائے راشدین رضی اللہ تعالی عنہم میں ہوا کرتی تھی ذلك فضل اﷲ یوتیہ من
حوالہ / References &سنن ابی داؤد باب وقت الجمعہ€ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۵۵
#11327 · اوفی اللمعۃ فی اذان یوم الجمعۃ ١٣٢٠ھ (اذانِ جمعہ کے بارے میں کامل رہنمائی)
یشاء واﷲ ذوالفضل العظیم والحمدﷲ رب العلمین (یہ اﷲ تعالی کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اوراللہ بڑے فضل والا ہےاور اﷲ تعالی ہی کے لئے سب تعریف ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ ت)بعض دیگر جن سے سائل نے دوسراقول نقل کیا اگر چہ اتنا سمجھے بین یدیہ سے داخل مسجد ہونا اصلا مفہوم نہیں ہوتامگر کتابوں پرنظر ہوتی تو خلاف تصریحات علماء یہ ادعاء نہ ہوتاکہ مسجد کے اندر مکروہ نہیں ہجری میں فقیر بہ نیت خاکبوسی آستانہ عالیاحضرت سلطان الاولیاء محبوب الہی نظام الحق والدین رضی اللہ تعالی عنہ بریلی سے شدالرحال کرکے حاضر بارگاہ غیاث پور شریف ہوا تھا دہلی کی ایك مسجد میں نماز کو جانا ہوا اذان کہنے والے نے مسجد میں اذان کہی فقیر نے حسب عادت کہ جو امرخلاف شرع مطہر پایا مسئلہ گزارش کردیا اگرچہ ان صاحب سے اصلا تعارف نہ ہو ا ان مؤذن صاحب سے بھی بہ نرمی کہا کہ مسجد میں اذان مکروہ ہے کہا کہاں لکھا ہے میں نےقاضی خان خلاصہ عالمگیری فتح القدیر کے نام لئے کہا ہم ان کو نہیں مانتے فقیر سمجھا کہ حضرت طائفہ غیر مقلدین سے ہیں گزارش کی کہ آپ کیا کام کرتے ہیں معلوم ہوا کہ کسی کچہری میں نوکر ہیں ۔ فقیر نے کہا احکم الحاکمین جل جلا لہ کا سچا حقیقی دربار تو ارفع واعلی ہے آپ انہی کچہریوں میں روز دیکھتے ہوں گے چپراسی مدعی مدعاعلیہ گواہوں کی حاضری کچہری کے کمرے کے اندر کھڑے ہوکر پکارتا ہے یا باہر کہا باہر کہا اگر اندر ہی چلانا شروع کرے تو بے ادب ٹھہرے گا یا نہیں بولے اب میں سمجھ گیا ۔ غرض کتابوں کونہ مانا جب ان کی سمجھ کے لائق کلام پیش کیا تسلیم کرلیا ع
فکر ہر کس بقدر ہمت اوست
(ہرشخص کی فکراس کی ہمت کے مطابق ہے)
الحمد ﷲ حق واضح ہوگیا ۔
اقول : وباﷲ التوفیق یہاں دو نکتے اور قابل لحاظ وغور ہیں :
اول اگر بانی مسجد نے مسجد بناتے وقت تمام مسجدیت سے پہلے مسجد کے اندر اذان کے لئے منارہ خواہ کوئی محل مرتفع بنایا تو یہ جائز ہے اور اتنا ٹکڑااذان کے لئے جدا سمجھاجائے گا اور مسجد میں اذان دینے کی کراہت یہاں عارض نہ ہوگی جیسے مسجد میں وضو کرنا اصلا جائز نہیں مگر پہلے سے اگر کوئی محل معین بانی نے وضو کے لئے بنوا دیا ہوتو اس میں وضو جائز کہ اس قدر مستثنی قرار بائے گا۔ اشباہ میں ہے :
تکرہ المضمضۃ والوضوء فیہ الا ان یکون ثمہ موضع اعدلذلك لا یصلی فیہ
مسجد میں کلی اور وضوکرنا مکروہ ہے مگر اس صورت میں جب وہاں اس کے لئے جگہ بنائی گئی ہو اور اس میں نماز ادا نہ کی جاتی ہو یاکسی برتن میں وضو
#11328 · اوفی اللمعۃ فی اذان یوم الجمعۃ ١٣٢٠ھ (اذانِ جمعہ کے بارے میں کامل رہنمائی)
اوفی اناء ۔
کر لیا جائے۔ (ت)
در مختار میں ہے :
یکرہ الوضوء الا فیما اعدذلک ملخصا ۔
وضومکروہ ہے مگر اس جگہ میں جو اس کے لئے تیار کی گئی ہو ملخصا(ت)
ردالمحتار میں ہے :
لان ماء ہ مستقذر طبعا فیجب تنزیہ المسجد عنہ کمایجب تنزیھہاعن المخاط والبلغم بدائع ۔
کیونکہ وضو کا پانی طبعا ناپسند ہے لہذا اس سے مسجد کو بچانا ضروری ہے جیسے مسجد کو ناك اور بلغم سے محفوظ رکھنا ضروری ہے بدائع ۔ (ت)
فقیر نے اس پر تعلیق کی :
ھذا تعلیل علی مذھب محمد ن المفتی بہ اماعلی قول الامام بنجاسۃ الماء المستعمل فظاھر ۔
یہ امام محمد کے مفتی بہ قول کی دلیل ہے۔ رہا معاملہ امام اعظم کے قول کا ۔ وہ ظاہر ہے کیونکہ وہ ماء مستعمل کو ناپاك کہتے ہیں ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ الا فیما اعدلذلك انظر ھل یشترط اعداد ذلك من الواقف ام لا
ان کا قول “ مگر اس جگہ جو وضو کے لئے تیار کردہ ہو “ دیکھئے کیا اس جگہ کا وضو کے لئے بنانا واقف سے شرط ہے یا نہیں (ت)
فقیر نے اس پر تعلیق کی :
اقول : نعم وشئ اخرفوق ذلك وھی ان یکون الاعداد قبل تمام المسجدیۃفان بعدہ لیس لہ ولا لغیرہ تعریضہ للمستقذرات
اقول : ہاں ایك اور شئ اس کے اوپر ہے وہ یہ کہ یہ وضو کے لئے رکھنا تمام مسجدیت سے پہلے ہو کیونکہ اگراس کے بعد ہو تو اب واقف اور دوسروں
حوالہ / References &الاشباہ والنظائر القول فی احکام المسجد€ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ٢ / ٢٣٠
&درمختار باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ٩٤
&ردالمحتار باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٤٨٨
&جدالممتار علی ردالمحتار باب احکام المساجد€ مطبوعہ المجمع الاسلامی مبارکپور ، انڈیا ١ / ٣١٦
&ردالمحتار باب مایفسد الصلٰوۃ مایکروفیہا€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٩٤
#11329 · اوفی اللمعۃ فی اذان یوم الجمعۃ ١٣٢٠ھ (اذانِ جمعہ کے بارے میں کامل رہنمائی)
ولا فعل شئ یخل بحرمتہ اخذتہ مما یاتی فی الوقف من ان الواقف لوبنی فوق سطح المسجد بیتاسکنی الامام قبل تمام المسجدیۃ جازلانہ من مصالحہ امابعد فلا یجوز ویجب الھدم۔
کے لئے یہ جائز نہیں کہ مسجد کے کسی حصہ کو گندگی کے لئے بنائیں بلکہ ہر وہ فعل جائزنہیں جو مسجد کی عزت کے منافی ہو یہ اصول اس مسئلہ سے مستنبط ہے جو وقف میں آتاہے کہ مسجد کے اوپر واقف نے تمام مسجدیت سے پہلے رہائش بنادی تو یہ جائز ہے کیونکہ یہ مصالح مسجد سے ہے البتہ تمام مسجد کے بعد یہ جائز نہیں اور اسکا گرانا ضروری ہے(ت)
اسی طرح اگر منارہ یا مئذنہ بیرون مسجد فنائے مسجد میں تھا بعدہ مسجد بڑھا ئی گئی ہو اور زمین متعلق مسجد مسجد میں لے لی کہ اب مئذنہ اندرون مسجد ہوگیا اس پر بھی اذان میں حرج نہ ہو گا کہ یہ بھی وہی صورت ہے کہ اس زمین کی مسجدیت سے پہلے اس میں یہ محل اذان کے لئے مصنوع ہوچکا تھاکما لا یخفی(جیسا کہ مخفی نہیں ۔ ت)ہاں اگر داخل مسجد کوئی شخص اگر چہ خود بانی مسجد نیا مکان اذان کے لئے مستثنی کرنا چاہے تواس کی اجازت نہ ہونی چاہئے کہ بعد تمامی مسجد کسی کو اس سے استثناء یا فعل مکروہ کے لئے بناکا اختیار نہیں درمختار میں ہے :
لو بنی فوقہ بیتاللامام لا یضرلانہ من المصالح امالو تمت المسجدیت ثم اراداالبناء منع ولوقال عنیت ذلك لم یصدق تاتارخانیہ فاذاکان ھذافی الواقف فکیف بغیرہ فیجب ھدمہ ولو علی جدارالمسجد ۔
اگر مسجدکے اوپر امام کے لئے جگہ بنائی تو ضرر نہیں کیونکہ یہ ضروریات مسجد میں سے ہے اگر مسجد مکمل ہوگئی اور پھر رہائش بنانا چا ہتے تو اب منع ہے اور اگر واقف کہے کہ میرا ارادہ یہی تھا تواس کی تصدیق نہیں کی جائے گی تاتارخانیہ جب واقف کا یہ حال ہے تو غیر کیسے بناسکتا ہے لہذا اس کا گرانا ضروری ہے اگر چہ وہ دیوار مسجد پر ہو۔ (ت)
دوم متعلقات مسجد میں مسجد کے لئے اذان ہونے کو عرف میں یونہی تعبیر کرتے ہیں کہ فلاں مسجد میں اذان ہوئی مثلا منارہ بیرون مسجد زمین خاص مسجدسے کئی گزکے فاصلے پر ہو اوراس پر اذان کہی جائے تو ہرشخص یہی کہے گا مسجد میں اذان ہوگئی نماز کو چلو یوں کوئی نہیں کہتا کہ مسجد کے باہر اذان ہوئی نماز کواٹھویہ عرف عام شائع ہے جس سے کسی کو مجال انکار نہیں و لہذا امام محقق علی الاطلاق نے ھوذکراﷲ فی المسجد ۔ (یہ مسجد میں ذکر الہی ہے۔ ت)کی وہ تفسیر فرمادی کہ ای فی حدودہ(یعنی مسجد
حوالہ / References &درمختار کتاب الوقف€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۷۹
&فتح القدیر باب صلٰوۃ الجمعۃ€ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ٢ / ٢٩
#11330 · اوفی اللمعۃ فی اذان یوم الجمعۃ ١٣٢٠ھ (اذانِ جمعہ کے بارے میں کامل رہنمائی)
کے حدود میں ۔ ت) اور اس کی دلیل وہی ارشاد فرمائی کہ لکراہۃ الاذان فی داخلہ (کیونکہ مسجد کے اندر اذان مکروہ ہے۔ ت)یہ نکتہ خوب یاد رکھنے کا ہے کہ کوئی سخن ناشناس نظائرحدیث مسلم :
عن ابن مسعودرضی اﷲ تعالی عنہ وقفاان من سنن الھدی الصلوۃ فی المسجد الذی یؤذن فیہ ۔
حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے موقوفا مروی ہے کہ سنن ہدی میں سے ہے کہ اس مسجد میں نماز پڑھی جائے جس میں اذان ہو۔ (ت)
وامثال عبارت کرہ خروج من لم یصل من مسجداذن فیہ (اس مسجد سے نکلنا مکروہ جس میں اذان دی گئی ہو۔ ت)ہے دھوکا نہ کھائے اوراشباہ حدیث ابن ماجہ :
عن امیرالمؤمنین عثمن الغنی رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من ادرك الاذان فی المسجد ثم خرج لم یخرج لحاجتہ وھولایرید الرجعۃ فھومنافق ۔
امیرالمومنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے بیان کرتے ہیں جس نے مسجد میں اذان کو پایا اور بغیر مجبوری کے مسجد سے نکلا اورواپسی کا ارادہ بھی نہ تھا تو وہ منافق ہے۔ (ت)
سے دھوکا اور بھی ضعیف تر ہے فان المسجد ظرف الادراك دون الاذان(کیونکہ مسجد ادراك کے لئے ظرف ہے اذان کے لئے نہیں ۔ ت)ولہذا علامہ منادی نے تیسیر میں اس حدیث کی یوں تشریح فرمائی :
(من ادرك الاذان) وھو(فی المسجد) الخ
(جس نے اذان کو پایا)یعنی اذان کو سنا حالانکہ وہ (مسجد میں تھا) الخ (ت)
بلکہ خود حدیث شرح حدیث کوبس ہے :
احمد بسند صحیح عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ قال امرنا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذاکنتم فی المسجد فنودی بالصلوۃ فلا یخرج
امام احمد نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ ہمیں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حکم دیاکہ جب تم مسجد میں ہو اور اذان دی جائے تو نماز ادا کئے بغیر
حوالہ / References &صحیح مسلم باب فضلِ جماعۃ€ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٢٣٢
&سُنن بن ماجہ باب اذا اذان وانت فی المسجد€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص٥٤
&التیسیر شرح الجامع الصغیر حدیث من ادرک الاذان€ کے تحت مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ٢ / ٣٩٢
#11331 · اوفی اللمعۃ فی اذان یوم الجمعۃ ١٣٢٠ھ (اذانِ جمعہ کے بارے میں کامل رہنمائی)
احدکم حتی یصلی ۔
کوئی مسجد سے نہ نکلے۔ (ت)
بالجملہ جہاں ایسے الفاظ واقع ہوں انہیں دو نکتوں سے ایك پر محمول ہیں ۔
اقول وبہ ینجلی مافی الجلابی انہ یؤذن فی المسجد اومافی حکمہ لا فی البعید منہ اھ ای یؤذن فی حدود المسجد وفنائہ کما فسربہ الامام المحقق علی الاطلاق اوفی نفس المسجد ان کان ثمہ موضع اعدلہ من قبل اویؤذن فیما ھو حکمہ لقربہ منہ بحیث یعدالاذان فیہ اذاناللمسجد کما فعل عثمن رضی اﷲ تعالی عنہ حدیث احدث الاذان الاول علی الزوراء دار فی السوق ولایؤذن للمسجد اذاکان غربی البلد مثلا واذن شرقیہ بل اذن لمسجد حی اخر لایعدذلك اذانالہ کمالایخفی فلااستدراك بکلام الجلابی علی کلام النظم کمازعم القھستانی وباﷲ التوفیق وبماقدمنامن تحقیق مفادبین یدیہ وانہ یستدعی بقرینۃ الحال قربانیاسب المقام لاالاتصال وضح بحمداﷲ ماقال القھستانی تحت قول النقایہ اذاجلس علی المنبر اذن ثانیا بین یدیہ مانصہ ای
اقول : اس سے جلابی کی یہ عبارت بھی واضح ہوگئی کہ مسجد میں یا اس جگہ میں اذان دی جائے جوحکم مسجد میں ہو مسجد سے دور اور جگہ میں نہ دی جائے اھ یعنی مسجد کے حدود اور فنائے مسجد میں اذان دی جائے جیسا کہ اس کی تفسیر امام محقق علی الاطلاق نے کی ہے یا مسجد کے اندر بشرطیکہ وہاں پہلے سے جگہ بنائی گئی ہو یا اس جگہ دی جائے جو قرب کی وجہ سے مسجد کا حکم رکھتی ہو کیونکہ وہاں کی اذان کو مسجد کی ہی اذان شمار کیا جائے گاجیسا کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے کیا کہ اذان اول بازار میں مقام زوراء پر دینے کاحکم دیا مسجد سے دور اذان نہ دی جائے مثلا جب مسجد غربی البلاد ہو اور اذان شرقی میں دی جائے تو اب یہ اذان دوسرے محلہ کی ہوگی اس مسجد کی اذان اسے شمار نہیں کیا جائیگا جیسا کہ واضح ہے کلام جلابی کلام نظم پر استدراك نہیں جیسا کہ قہستانی نے گمان کیا۔ اﷲ تعالی کی توفیق سے جو کچھ ہم نے گفتگو کی اور “ سامنے امام “ کا معنی بیان کیا اس سے واضح ہوگیا کہ “ بین یدیہ “ کے الفاظ مقام کے مناسب قرب کا تقاضا کرتے ہیں نہ کہ اتصال کا بحمد اﷲنقایہ کی عبارت “ جب امام منبرپر بیٹھے تواس کے سامنے دوسری اذان
حوالہ / References &مسنداحمد بن حنبل مروی ازابوہریرہ€ & رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ €مطبوعہ دارالفکر بیروت ٢ / ٥٣٧
&جامع الرموز بحوالہ الجلابی فصل فی الاذان€ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ١ / ۱۲۳
#11332 · اوفی اللمعۃ فی اذان یوم الجمعۃ ١٣٢٠ھ (اذانِ جمعہ کے بارے میں کامل رہنمائی)
بین الجھتین المسامتین لیمین المنبر والامام ویسارہ قریبا منہ ووسطھما بالسکون فیشتمل ما اذا اذن فی زاویۃ قائمۃ اوحادۃ اومنفرجۃ حادثہ من خطین خارجین من ھا تین الجھتین فلیس القرب منکرا ولابالاتصال مشعرا وانما اراد بہ اخراج البعد الذی لایعد بہ الاذان اذانافی ذلك المسجد کما ذکرناہ فی کلام الجلابی۔ اھ
دی جائے “ کہ تحت قہستانی نے جو کہا وہ بھی واضح ہوگیا کہ اذان یمین منبر وامام اس کے بائیں جانب اس کے قریب ہو یا ان دونوں کے وسط میں ہو یہ ان صورتوں کو شامل ہے جب اذان زاویہ قائمہ یا حادہ یا منفرجہ میں ہوئی جو ان دوخطوط مذکورہ کی دو جہات سے پیداہوا اھ تو یہاں قرب کا انکار نہیں اوراتصال پر دلالت نہیں اس سے ان کا مقصد اس بعد کا دور کرنا ہے جس میں اذان کو اس مسجد کی اذان تصور نہ کیا جائے جیساکہ ہم نے اسے جلابی کے کلام میں ذکر کیا۔ (ت)
غرض عامہ کتب معتمدہ مذہب کے خلاف اگر ایك ادھ غریب ونامتداول کتاب میں کوئی تصریح بھی ہوتی عقلا و عرفا وشرعا قبول نہ ہوتی۔
الا تری ان العلامۃ الطحطاوی کیف اقتصر فی الحکم علی حکایۃ مافی القھستانی عن النطم ولم یعرج علی استدراکہ اصلاعلما منہ ان الاستدرك مستدرك لاینبغی نقلا۔
کیا آپ نے نہ دیکھا علامہ طحطاوی نے کس طرح اکتفا کیا اس حکم پر جوقہستانی نے نظم سے نقل کیا تھا اوراس کے استدراك کے بالکل درپے نہ ہوئے انہیں علم تھا کہ استدراك فالتو ہے لہذا اس کا نقل کرنا مناسب نہیں ۔ (ت)
نہ کہ کوئی لفظ محتمل نہ صریح صاف صاف لائق توجیہ وتصحیح ہو
کما لایخفی علی ذی عقل نجیح ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ سبحانہ ولی التوفیق والحمدﷲ رب العلمین وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولنا محمد والہ وصحبہ اجمعین ۔ امین ۔ واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
جیسا کہ ہر عاقل پر مخفی نہیں تحقیق کا حق یہی تھا اﷲ سبحنہ توفیق کا مالك ہے الحمدﷲرب العالمین وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولنا محمد وآلہ وصحبہ اجمعین ۔ آمین۔ واﷲاعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت)
________________
حوالہ / References &جامع الرموز فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ€ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ١ / ٢٦٨
#11333 · باب العیدین (عیدین کا بیان)
مسئلہ نمبر ۱۴۱۲ : ازسہسرام محلہ پرتلہ ضلع آرہ مسئولہ قدرت اﷲ صاحب ۵شوال ۱۳۳۹ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیداعلم بالسنۃ پابند صلوۃ متقی نے اول خطبہ عیدالاضحی پڑھ کر لبیك اور صلوۃ والسلام نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور تکبیر بآواز بلند خود کہا اور مصلیوں سے کہلایا پھر بارك اﷲلنا ولکم پڑھ کر بیٹھا پھر دوسراخطبہ پڑھا بعد فراغ سوال کیا گیا یہ غیر مشروع فعل کیوں کیا اس نے جواب دیا میرا یہ فعل غیر مشروع نہیں حالت کیف میں صادر ہوا مثل قول مبارك حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ یاساریۃ الجبل ہے یہ دعوی مدعی کا کہاں تك صحیح ہے اور ایسے فعل کا مرتکب لائق ملامت ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
لبیك ودرود کہ اس نے خود کہا حرج نہیں البتہ مقتدیوں سے کہلانا بے محل وہ خطبہ میں مامور بالسکوت ہیں اگر حالت وجد میں ایسا ہواجیسا کہ اس کا بیان ہے تو معذور ہے اور جب سائل اسے عالم سنی متقدی کہتا ہے تو اس کا بیان کیوں نہ تسلیم کیا جائے معہذا مسئلہ شرعیہ معلوم کرلینا دوسری بات
#11334 · باب العیدین (عیدین کا بیان)
وہ ضرور چاہئے مگر عوام کو سنی عالم متقی پر اس کی لغزش کے سبب ملامت کی اجازت نہیں ہوسکتی کما نص علیہ الائمۃ واشارت الیہ الاحادیث (جیساکہ ائمہ نے اس کی تصریح کی ہے اور احادیث میں بھی اس پر رہنمائی ہے۔ ت) یہ اس کے حق میں ہے جو سنی عالم ہو ورنہ آجکل بہت گمرہ بددین بلکہ مرتدین مثلا وہابیہ دیوبندیہ اپنے آپ کو سنی عالم کہتے ہیں وہ ملامت کیا اس سے ہزاروں درجہ سخت تر کہ مستحق ہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
___________________
#11335 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
مسئلہ نمبر : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مولوی عبدالحی صاحب لکھنوی نے اپنے فتاوی کی جلد ثانی میں یہ امر تحریر فرمایا کہ بعد دوگانہ عیدین یا بعد خطبہ عیدین دعا مانگناحضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم و صحابہ وتابعین رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین سے کسی طرح ثابت نہیں اب وہابیہ نے اس پر بڑا غل شور کیا ہے دعائے مذکور کو ناجائز کہتے اور مسلمانوں کواس سے منع کرتے اور تحریر مذکور سے سند لاتے ہیں کہ مولوی عبدالحی صاحب فتوی دے گئے ہیں ان کی ممانعتوں نے یہاں تك اثر ڈالا کہ لوگوں نے بعد فرائض پنجگانہ بھی دعا چھوڑ دی اس بارے میں حق کیا ہےبینو توجروا۔
الجواب :
بسم اﷲ الرحمن الرحیم۵ الحمدﷲ الذی حببنا العید وجعلہ مقر با لکل بعید و امرنا بالدعاء فی الیوم السعید ووعدنا بالاجابۃ فی الکلام الحمید والصلوۃ والسلام علی من وجہہ عید ولقاؤہ عید ومولدہ عید وای عیدوعلی الہ الکرام وصحبہ
اﷲ کے نام سے شروع جو رحمن ورحیم ہے سب تعریف اﷲ تعالی کے لئے جس نے ہمارے لئے عید کو محبوب بنایا اور اسے ہربعید کوقریب کرنیوالا بنایا یوم سعید میں دعاکا حکم دیا کلام حمید میں قبولیت کا وعدہ فرمایا اور صلوۃ وسلام ہواس ذات اقدس پر جس کا چہرہ عید دیدار عید میلاد عید آپ کی آل محترم اورصحابہ عظام
#11336 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
العظام مادعااﷲ فی العید عبدسعید وتعانق النور والسرور غداۃ العید واشھدان لاالہ الااﷲ وحدہ لاشریك لہ وان محمد عبدہ ورسولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وعلی الہ وصحبہ من یوم ابدأ الی یوم یعید امین امین یا عزیز یامجید۵۔
پر بھی جب تك کوئی عبدسعید عید کے موقع پر دعا کرنے والا ہے اورجب تك عید کی صبح کو نوروسرور باہم پائے جائیں میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ وحدہ لاشریك ہے اورحضرت محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اﷲ کے برگزیدہ بندے اور رسول ہیں آپ کی ذات آل اورصحابہ پر درود وسلام ابتدائی دن سے لے کر آخری دن تك ہو۔ اے غالب اے صاحب مجد ! دعاقبول فرما دعاقبول فرما ۔ (ت)
اللھم ھدایۃ الحق والصواب(اے اﷲ حق اور صواب کی ہدایت عطا فرمادے۔ ت) نماز عیدین کے بعد دعا حضرات عالیہ تابعین عظام ومجتہدین اعلام رضی اللہ تعالی عنہم سے ثابت
قال الفقیر عبدالمصطفی احمد رضاالمحمدی السنی الحنفی القادری البرکاتی البریلوی غفراﷲ لہ وحقق املہ انبانا المولی ۱عبد الرحمن السراج المکی مفتی بلد اﷲ الحرام ببیتہ عندباب الصفالثمان بقین من ذی الحجۃ سنۃ خمس وتسعین بعد الالف والمائتین فی سائر مرویاتہ الحدیثیۃ والفقھیۃ وغیرذلك ۲عن حجۃ زمانۃ جمال بن عبداﷲ بن عمر المکی ۳عن الشیخ الاجل عابد السندی عن ۴عمہ محمد حسین الانصاری ۵اجازنی بہ الشیخ عبد الخالق بن علی المزجاجی ۶قراءۃ علی الشیخ محمد بن علاء الدین المزجاجی ۷عن احمد النخلی عن۸محمد الباھلی عن۹سالم السنوری۱۰عن النجم الغیطی ۱۱عن الحافظ زکریاالانصاری ۱۲عن الحافظ ابن حجر العسقلانی ۱۳انابہ ابو عبد اﷲ الجریری ۱۴انا قوام الدین الاتقانی انا
فقیر عبدالمصطفی احمد رضا محمدی سنی حنفی قادری برکاتی بریلوی(اﷲ تعالی اس کو بخش دے اوراسکی امید بر لائے) کہتا ہے کہ ہمیں ۱شیخ عبدالرحمن السراجی مکی مفتی بلداﷲ الحرام نے باب صفا کے پاس اپنے گھر ذوالحجہ ھ کو اپنی تمام مرویات کی اجازت دی خواہ وہ حدیث کی صورت میں تھیں یا فقہ کی صورت میں یااس کے علاوہ تھیں انھیں مرویات کی اجازت حجت زمانہ ۲جمال بن عبداﷲ بن عمر مکی نے دی انہیں ۳شیخ اجل عابد سندی نے انہیں ان کے چچا۴محمد حسین انصاری نے دی اس نے کہا مجھے ان کی اجازت شیخ ۵عبد الخالق بن مزجاجی نے انھیں ۶شیخ محمد بن علاء الدین مزجاجی سے قرأۃ کے طور انہیں ۷احمد نخلی نے انہیں ۸محمد باہلی نے انھیں ۹سالم سنوری نے انھیں ۱۰نجم غیطی نے انھیں ۱۱حافظ زکریا انصاری نے انہیں ۱۲حافظ ابن حجر عسقلانی نے انہیں ۱۳ابوعبداﷲجریری نے انہیں ۱۴قوام الدین اتقانی نے انہیں ۱۵برہان احمدبن
#11337 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
۱۵البرھان احمد بن سعد بن محمد البخاری و الحاکم السفتاقی ۱۶قالاابنانا حافظ الدین محمد بن محمد بن نصر البخاری ھوحافظ الدین الکبیر ۱۷ابنانا الامام محمد بن عبدالستار الکردری ۱۸ابنانا عمر بن عبد الکریم الورسکی ۱۹انا عبد الرحمن بن محمد الکرمانی ۲۰انا بوبکر محمد بن الحسین من محمد ھوالامام مخر القضاۃ الارشا بندی ۲۱انا عبداﷲ الزوزنی انا ۲۲ابو زید الدبوسی انا ابو جعفر الا ستروشنی ح وابنأنا عالیا عــــہ باربع درج شیخی وبرکتی وولی نعمتی ومولائی وسیدی و ذخری و سندی لیومی وغدی سیدناالانام الھمام العارف الاجل العالم الاکمل السید ال الرسول الاحمدی المارھری رضی اﷲ تعالی عنہ وارضاہ وجعل الفردوس متقلبہ ومشواہ لخمس خلت من جمادی الاولی سنۃ اربع وتسعین بدارہ المطھرۃ بمارھرۃ المنورۃ فی سائر یجوزلہ روایتہ ۲عن استاذہ
سعدبن محمد البخاری اورحسام السفتاقی نے انہیں حافظ الدین محمد بن محمد بن نصر بخاری نے ۱۶یہی حافظ الدین الکبیر ہیں انہیں ۱۷محمد بن عبدالستار الکروری نے انہیں ۱۸عمر بن عبد الکریم الورسکی نے انہیں عبدالرحمن بن محمد الکرمانی نے ۱۹ انہیں ۲۰ابوبکر محمد بن الحسین بن محمد نے جو فخرالقضاۃ الاشار بندی نے انہیں ۲۱عبداﷲ الزورتی نے انہیں ۲۲ابو زید الدبوسی نے انہیں ۲۳ابوجعفرا لاستروشی نے “ دوسری سند “ جو چار درجے عالی ہے میرے شیخ میری برکت میرے دل سیدی ذخری آج وکل کے لئے میر ا اعتماد سیدنا امام ہمام عارف اجل اصل العالم الاکمل السید آل الرسول الاحمدی المارہری رضی اللہ تعالی عنہ و ارضاہ اﷲ تعالی (اﷲ ان کا ٹھکانہ جنت الفردوس میں بنائے ) نے مارھرہ منورہ میں اپنے آستانے پر ۵ جمادی الاولی ۱۲۹۴ھ کو تمام روایات کی اجازت دی جو انہیں ان کے استاد شیخ ۲عبدالعزیز محدث دہلوی انہیں اپنے ۳والد گرامی سے انہیں شیخ ۴تاج الدین القلعی مفتی حنفیہ نے انہیں شیخ ۵حسن عجمی نے انہیں ۶شیخ خیرالدین رملی نے انہیں

عــــہ : انظر الی لطافۃ ھذاالسند الجلیل وجلالۃ شأنہ فان رجالہ کلمھم من سیدنا الشیخ الی صاحب المذہب الامام الاعظم جمیعا من اجلۃ اعلام الحنفیۃ ومشاہیر واکثرھم اصحاب تالیفات فی المذھب۱۲منہ (م)
اس سند جلیل کی لطافت اور شان جلالت مین غور کرو کہ اس کے رجال سیدنا شیخ سے صاحب مذہب امام اعظم تك سارے کے سارے معروف و مشہور حنفی ہیں اوران میں سے اکثر اصحاب کی مذہب میں تالیفات موجود ہیں منہ (م)
#11338 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
عبدالعزیز المحدث الدھلوی ۳عن ابیہ ۴عن الشیخ الدین القلعی مفتی الحنفیۃ ۵عن الشیخ حسن العجمی ۶عن الشیخ خیرالدین الرملی ۷عن الشیخ محمد بن سراج الدین الخانوتی ۸عن احمد بن الشبلی ۹عن ابراہیم الکرکی یعنی صاحب کتاب الفیض ۱۰عن امین الدین یحی ی بن محمد الاقصرائی ۱۱عن الشیخ محمد بن محمد البخاری الحنفی یعنی سیدی محمد پارسا صاحب فصل الخطاب ۱۲عن الشیخ حافظ الدین محمد بن محمد بن علی البخاری الطاھری ۱۳عن الامام صدر الشریعۃ یعنی شارح الوقایہ ۱۴عن جدہ تاج الشریعۃ ۱۵عن والدہ صدرالشریعۃ ۱۶عن والدہ جمال الدین المحبوبی ۱۷عن محمد بن ابی بکر البخاری عرف بامام زادہ ۱۸عن شمس الائمۃ الزرتجی ۱۹شمس ائمۃ الحلوانی کلاھما ۲۰عن الامام الاجل ابی علی النسفی امام حلوانی فقالا عن ابی علی وذلك عنعن الی نھایۃ الاسناد واما لاستروشنی فقال انا ابوعلی الحسین بن خضر النسفی ۲۱انا ابوبکر محمد بن الفضل البخاری ھو الامام الشہیربالفضل ۲۲انا ابومحمد بن عبداﷲ بن محمد بن یعقوب الحارثی یعنی استاذ السند مونی ۲۳انا عبداﷲ محمد بن ابی حفص الکبیر ۲۴انا ابی ۲۵انا محمد بن الحسن الشیبانی اخبرنا ابوحنیفۃ عن حماد عن ابراھیم قال کانت
شیخ ۷محمد بن سراج الدین الخانوتی نے انہیں ۸احمد بن شبلی نے انہیں ۹ابراہیم الکرکی صاحب کتاب الفیض نے انہیں ۱۰امین الدین یحیی بن محمد قصرائی نے انہیں ۱۱شیخ محمد بن محمد البخاری الحنفی یعنی سیدی محمد پارسا صاحب فصل الخطاب نے انہیں شیخ ۱۲حافظ الدین محمد بن محمدبن علی بخاری طاھری نے انہیں ۱۳امام صدرالشریعۃ یعنی شارح الوقایہ نے انہیں ان کے جد ۱۴تاج الشریعۃ نے اپنے والد ۱۵صدر الشریعۃ سے انہیں ان کے والد۱۶جمال الدین محبوبی نے انہیں ۱۷محمد بن ابی بکر بخاری المعروف امام زادہ نے انہیں ۱۸شمس الائمہ الزر تجری نے انہیں ۱۹شمس الائمہ حلوانی نے اوران دونوں کے امام ۲۰اجل ابوعلی نسفی سےان دونوں نے کہا عن ابی علی اسی طرح انہوں نے تمام سند کو عن کےساتھ بیان کیا استروشنی نے کہا ہمیں ابوعلی الحسین بن خضرالنسفی انہیں ۲۱ابوبکر محمد بن الفضل بخاری اوریہ امام فضل کے ساتھ مشہور ہیں انہیں ۲۲ابو محمد عبداﷲ بن محمد یعقوب الحارثی یعنی الاستاذ السند مونی انہیں ۲۳عبداﷲ محمد بن ابی حفص الکبیر انہیں ان کے ۲۴والد نے انہیں ۲۵محمد بن حسن الشیبانی نے انہیں امام ابو حنیفہ نے انھیں حماد نے انھیں ابراہیم نے بیان کیا کہ عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے ادا ہوتی پھر نماز کے بعد امام سواری پر کھڑے ہوکر دعا کرتا تھا۔
#11339 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
الصلوۃ فی العیدین قبل الخطبۃ ثم یقیف الامام علی راحلیہ بعد الصلوۃ فید عوویصلی بغیر اذان ولا اقامۃ ۔
نماز اذان واقامت کے بغیر ہوتی تھی۔ (ت)
یعنی سیدنا امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں مجھےامام اعظم الائمہ ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے امام اجل حماد بن ابی سلیمان رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے خبر دی کہ امام المجتہدین امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا نماز عیدین خطبہ سے پہلے ہوتی تھی پھرا مام اپنے راحلہ پروقوف کرکے نماز کے بعد دعا مانگتا اور نماز بے اذان واقامت ہوتی یہ امام ابراہیم نخعی قدس سرہ خود اجلہ تابعین سے ہیں تو یہ طریقہ کہ انہوں روایت فرمایا لاقل اکابرتابعین کا معمول تھا تو نماز عیدین کے بعد دعا مانگنا ائمہ تابعین کی سنت ہوا اور پر ظاہر کہ راحلہ پر وقوف وعدم وقوف سنت دعاکی نفی نہیں کرسکتا کمالایخفی پھر ہمارے امام مجتہد امام محمد اعلی اﷲ درجاتہ فی دارالابدنے کتاب الآثار شریف میں اس حدیث کو روایت فرما کر مقرر رکھا اوران کی عادت کریمہ ہے جواثر اپنے خلاف مذہب ہوتا اس پر تقریر نہیں فرماتے تو حنفیہ اہل عقیدہ مضمون ووہابیہ اہل تثلیث قرون دونوں کے حق میں جواب مسئلہ اسی قدر بس ہے مگر فقیر غفرلہ الولی القدیر ایضاح مرام واتمام کلام کے لئے اس مسئلہ میں مقال کو دو عید پر منقسم کرتا ہے۔
عید اول میں قرآن وحدیث سے اس دعا کی اجازت اور ادعائے مانعین کی غلطی و شناعت۔
عیددوم فتوائے مولوی لکھنوی سے اسناد پر کلام اور اوہام مانعین کا ازالہ تام والعون من اﷲ ولی الانعام(مدد اﷲ کی جو انعام عطا کرنے والا ہے۔ ت)العید الاول وعلی فضل اﷲ المعول(عید اول اﷲ ہی کے فضل پر بھروساہے۔ ت) ظاہر ہے کہ شرع مطہر سے اس دعا کی کہیں ممانعت نہیں اور جس امر سے شرع نے منع نہ فرمایا ہرگز ممنوع نہیں ہوسکتا جو ادعائے منع کرے اثبات ممانعت اس کے ذمہ ہے جس سے ان شاء اﷲ تعالی کبھی عہدہ برا نہ ہوسکے گا بقاعدہ مناظرہ ہمیں اسی قدر کہنا کافی اور اسانید سائل کامژدہ لیجئے تو جو کچھ قرآن وحدیث سے قلب فقیر پر فائز ہوابگوش ہوش استماع کیجئے۔
فاقول : وباﷲ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق(اﷲ ہی کی توفیق ہے اور اس سے تحقیق تك وصول ہوتا ہے۔ ت)اولا قال المولی سبحنہ وتعالی :
حوالہ / References &کتاب الآثار للامام محمد باب صلٰوۃ العیدین€ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ص٤١
#11340 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
فاذا فرغت فانصب(۷) و الى ربك فارغب(۸)
جب تو فراغت پائے تو مشقت کر اور اپنے رب کی طرف راغب ہو ۔
اس آیہ کریمہ کی تفسیر میں اصح الاقوال قول حضرت امام مجاہد تلمیذ رشید سلطان المفسرین جرالامۃ عالم القرآن حضرت سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہم ہے کہ فراغ سے مراد نماز سے فارغ ہونا اورنصب دعامیں جدجہد کرنا ہے یعنی باری عزوجل حکم فرماتا ہے جب تو نماز پرھ چکے تو اچھی طرح دعامیں مشغول ہو اور اپنے رب کے حضور الحاح وزاری کر۔ تفسیر شریف جلالین میں ہے :
فاذافرغت من الصلوۃ فانصب “ تعب فی الدعاء والی ربك فارغب “ تضرع “ ۔
جب تو نماز سے فارغ ہو تو دعا میں تعب اور مشقت کر اور اپنے رب کے سامنے تضرع وزاری بجالا۔
خطبہ جلالین میں ہے :
ھذا تکلمۃ تفسیرالامام جلال الدین المحلی علی نمطہ من الاعتماد علی ارجح الاقول وترك التطویل بذکر اقول غیر مرضیۃ اھ ملخصا
یہ تفسیر امام جلال الدین محلی کاتکملہ ہے جو انہیں کے طریقہ پر ہے یعنی راجح اقول پر اعتماد اور اقوال ضعیفہ کے ذکر سے بچتے اھ ملخصا(ت)
علامہ زرقانی شرح مواہب لدنیہ میں فرماتے ہیں ۔
ھوالصحیح فقد اقتصرعلیہ الجلال وقد التزم الاقتصار علی ارجح الاقوال ۔
یہی صحیح ہے اسی جلال نے اکتفاء کیا ہے حالانکہ انہوں نے یہ التزام کر رکھا کہ راجح اقوال ذکر کریں گے۔ (ت)
اور پرظاہر کہ آیہ کریمہ مطلق ہے اورباطلاقہا نماز فرض وواجب ونفل سب کو شامل تو بلاشبہہ نماز عیدین بھی اس پاك مبارك حکم میں داخل یونہی احادیث سے بھی ادبار صلوات کا مطلقا محل دعا ہونا مستفاد و لہذا علماء بشہادت حدیث نماز مطلق کے بعد دعا مانگنے کو آداب سے گنتے ہیں امام شمس الدین محمد ابن الجرزی حصن حصین اورمولانا علی قاری اس کی شرح حزرثمین میں فرماتے ہیں :
حوالہ / References &القرآن€ ٩٤ / ۷و۸
&جلالین کلاں€ سورہ الم نشرح میں مذکور ہے مطبوعہ اصح المطابع دہلی ہند ۲ / ۵۰۲
&جلالین کلاں خطبۃ الکتاب€ مطبوعہ اصح المطابع دہلی ہند ١ / ٤
&شرح الزرقانی علی مواہب اللدنیہ المقصد الثانی فی اسمائہٖ€ مطبوعہ مصر ۳ / ۱۹۵
#11341 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
والصلوۃ ای ذات الرکوع والسجود والمراد ان یقع الدعاء المطلوب بعدھا ۔
یعنی آداب سے ہے کہ مطلب کی دعا بعد نماز ذات رکوع وسجود واقع ہو۔
پھر فرمایا :
حب مس ای رواہ الاربعۃ وابن حبان و الحاکم کلھم من حدیث الصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ ۔
یعنی یہ ادب حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اس حدیث سے ثابت ہے جسے ابوداؤد ونسائی و ترمذی وابن ماجہ وابن حبان و حاکم نے صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔
اقول یونہی یہ حدیث ابن السنی وبیہقی کے یہاں مروی اور صحیح ابن خزیمہ میں بھی مذکور امام ترمذی نے اسکی تحسین کی۔ ظاہر ہے کہ نماز ذات رکوع
وسجود نماز جنازہ کے سوا ہر فرض وواجب ونافلہ کو شامل جن میں نمازعیدین بھی داخل ۔
ثم اقول : وباﷲ التوفیق(پھر میں اﷲ کی توفیق سے کہتا ہوں ۔ ت) اصل یہ ہے کہ اعمال صالحہ وجہ رضائے مولی جل وعلاہوتے ہیں اور رضائے مولی تبارك وتعالی موجب اجابت دعااور اس کا محل عمل صالح سے فراغ پاکر کما قال تعالی فاذا فرغت فانصب(۷) (جیسا کہ اﷲ تعالی کا فرمان ہے : پس جب آپ فارغ ہوں تو مشقت کرو۔ ت)ولہذا حدیث میں آیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
الم تر الی العمال یعملون فاذافرغوامن اعمالھم وفوا اجورھم ۔ رواہ البیھقی عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما فی حدیث طویل۔
کیا تو نے نہ دیکھا کہ مزدور کام کرتے ہیں جب اپنے عمل سے فارغ ہوتے ہیں اس وقت پوری مزدوری پاتے ہیں ۔ اسے بیہقی نے احادیث طویل کی صورت میں حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔
دوسری حدیث میں ہے :
حوالہ / References &حواشی حصن حصین آداب الدعاء حاشیہ €۲۱٢ مطبوعہ افضل المطابع لکھنؤ ص٩
&حواشی حصن حصین آداب الدعاء حاشیہ€۲۲ مطبوعہ افضل المطابع لکھنؤ ص۹
&القرآن€ ٩٤ / ٧
&شعب الایمان باب فی الصیام€۔ &حدیث€ ٣۳۶۰۳٦٠٣ مطبوعہ دارالفکر یروت ٢ / ٣٠٣
#11342 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
العامل انما یوفی اجرہ اذا قضی عملہ ۔ رواہ احمد والبزار والبیھقی وابوشیخ فی الثواب عن ابی ہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ فی حدیث۔
عامل کو اسی وقت اجرکامل دیا جاتا ہے جب عمل تمام کرلیتاہے۔ اسے امام احمد بزار بیہقی اور ابولشیخ نے ثواب میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔
تو سائل کے لئے بیشك بہت بڑا موقع دعا ہے کہ مولی کی خدمت وطاعت کے بعد اپنی حاجات عرض کرے ولہذواردہوا کہ ہر ختم قرآن پر ایك دعامقبول ہےبیہقی وخطیب و ابونعیم وابن عساکر انس رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : مع کل ختمۃ دعوۃ مستجابۃ ۔ ہر ختم کےساتھ ایك دعا مستجاب ہے۔ طبرانی معجم کبیر میں عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روای حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : من ختم القران فلہ دعوۃ مستجابۃ ۔ جو قرآن ختم کرے اس کے لئے ایك دعامقبولہ ہے۔ اسی لئے روزہ دار کے حق میں ارشاد ہوا کہ افطار کے اس وقت اس کی ایك دعا رد نہیں ہوتی۔ امام احمد مسنداورترمذی بافادہ تحسین جامع اور ابنائےماجہ و حبان و خزیمہ اپنی صحاح اوربزاز مسند میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ثلثۃ لاترد دعوتھم الصائم حین یفطر الحدیث۔
تین شخصوں کی دعا رد نہیں ہوتی ایك ان میں روزہ دار جب افطار کرے۔الحدیث
ابن ماجہ وحاکم حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
ان للصائم عند قطرہ لدعوۃ ماترد ۔
بیشك روزہ دار کے لئے وقت افطار بالیقین ایك دعا ہے کہ رد نہ ہوگی۔
امام حکیم ترمذی حضر ت عبداﷲ بن عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی حضور پرنور
حوالہ / References &مسند احمد بن حنبل مروی ازابوہریرہ€ & رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ €مطبوعہ دارالفکربیروت ۲ / ۲۹۲
&شعب الایمان باب فی تعظیم القرآن حدیث€۲۰۸۶مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ٢ / ٣٧٤
&المعجم الکبیر مروی از عرباض بن ساریہ حدیث€ ٦٤٧ مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ١٨ / ٢٥٩
&سنن ابن ماجہ باب فی الصائم لاترددعوتہ الخ€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۲۶
&سنن ابن ماجہ باب فی الصائم لاترددعوتہ الخ€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۲۶
#11343 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے :
لکل عبد صائم دعوۃ مستجابۃ عندافطارہ اعطیہا فی الدنیا اوذخرلہ فی الآخرۃ ۔
ہر روزہ دار بندے کے لئے افطار کے وقت ایك دعامقبول ہے خواہ دنیا میں دی جائے یا آخرت میں اس کے لئے ذخیرہ رکھی جائے۔
وفی الباب احادیث اخراوربالیقین یہ فضیلت روزہ فرض واجب ونفل سب کوعام کہ نصوص میں قید و خصوص نہیں ۔ ولہذاامام عبدالعظیم منذری نے دو حدیث پیشین کو الترغیب فی الصوم مطلقا میں ایراد فرمایا اورعلامہ منادی نے تیسیر شرح جامع صغیر میں زیر حدیث باب مروی عقیلی و بیہقی عن ابی ہریرۃ عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بعد لفظ دعوۃ الصائم(روزہ دار کی دعا۔ ت) کے ولو نفلا (اگر چہ وہ نفلی روزہ ہو۔ ت) تحریر کیا تو بلاشبہہ نماز بھی کہ افضل اعمال واعظم ارکان اسلام اور روزے سے زائد موجب رضائے ذوالجلال والاکرام ہے یونہی اپنے عموم واطلاق پر رہے گی اور بعد فراغ محلیت دعاصرف فرائض سے خاص نہ ہوگی اور کیونکر خاص ہو حالانکہ خودحضور پرنور سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ہر دورکعت نفل کے بعد ہاتھ اٹھاکر دعا مانگنے کاحکم دیااور فرمایا : جو ایسا نہ کرے اس کی نماز ناقص ہے۔ ترمذی ونسائی و ابن خزیمہ حضرت فضیل ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما اوراحمد وابوداؤد و ابن ماجہ حضرت مطلب بن ابی وداء رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
الصلوۃ مثنی مثنی تشھدفی کل رکعتین وتخشع وتضرع وتمسکن وتفنع یدیك یقول ترفعھا الی ربك مستقبلا ببطونھما وجھك وتقول یارب یارب من لم یفعل ذلك فھی کذاوکذا ۔
یعنی نماز نفل دودو رکعت ہے ہر دو رکعت پر التحیات اورخضوع وزاری وتذلل پھر بعدسلام دونوں ہاتھ اپنے رب کی طرف اٹھا اور ہتھیلیاں چہرے کے مقابل رکھ کر عرض کر اے میرے رب اے رب میرے جوایسا نہ کرے تووہ نماز چنیں وچناں یعنی ناقص ہے۔
مطلب رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت میں مصرحا آیا ـ :
فمن لم یفعل ذلك فھوخداج
جو ایسانہ کرے اس کی نماز میں نقصان ہے۔
حوالہ / References &نوادرالاصول الاصل الستون فی ان للصائم دعوۃ الخ€ مطبوعہ دارصادر بیروت ص۸۳
&تیسیر شرح الجامع صغیر حدیث ثلاث دعوات مستجابات€ مطبوعہ مکتبۃ الامام الشافعی الریاض ۱ / ۴۶۷
&جامع الترمذی باب ماجاء فی التخشع فی الصلٰوۃ€ مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ا / ۵۰و۵۱
&مسند احمد بن حنبل حدیث مطلب€ & رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ €مطبوعہ دارالفکر بیروت ٤ / ١٦٧
#11344 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
علامہ طاہرتکملہ مجمع بحا رالانوار میں فرماتے ہیں :
فیہ ثم تقنع یدیك وھوعطف علی محذوف ای اذافرغت منھا فسلم ثم ارفع یدیك سائلا فوضع الخبر موضع الامر ۔
پھر ہتھیلیاں چہرے کے مقابل کرے اس کا عطف محذوف پر ہے یعنی جب ان دو رکعتوں سے فارغ ہو اور سلام کہے تو دعا کے لئے ہاتھ بلند کرے یہاں خبر امرکی جگہ مذکور ہے۔ (ت)
تیسیر میں ہے :
ای اذافرغت منھما فسلم ارفع یدیك فوضع الخبر موضع الطلب الخ۔
یعنی جب ان دو رکعات سے فارغ ہوں پس سلام کہے پھر ہاتھ اٹھائے یہاں خبرطلب کی جگہ ہے الخ(ت)۔
لاجرم جبکہ حصن حصین میں اس حدیث ابی اما مہ رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف برمز ترمذی ونسائی نے اشارہ کیا کہ قلنا یارسول اﷲ ای الدعاء اسمع قال جوف الیل الاخروبرالصلوات المکتوبات (ہم نے عرض کی یارسول اﷲ! کون سی دعا زیادہ سنی جاتی ہے فرمایا رات کے نصف اخیر میں اور فرض نمازوں کے بعد)مولناعلی قاری علیہ رحمۃ الباری نے اس کی شرح میں لکھا :
دبرالصلوات المکتوبات ای عقیب الصلوات المفروضات والتقییدبھالکونھاافضل الحالات فھی ارجی لاجابۃ الدعوات ۔
دبرالصلوات المکتوبات کے معنی کہ فرض نمازوں کے بعد اور ان کی تخصیص اس لئے فرمائی کہ وہ سب حالتوں سے افضل ہیں توان میں امید اجابت زیادہ ہے۔
دیکھو صاف صریح ہے کہ نماز کے بعد محلیت دعاکچھ فرضوں ہی سے خاص نہیں بلکہ ان میں بوجہ افضلیت زیادہ خصوصیت ہے اور سائلین نے خود یہی پوچھا تھا کہ سب میں زیادہ کون سی دعامقبول ہے لہذا ان کی تقیید فرمائی گئی بالجملہ جب تخصیص فرائض باطل ہوچکی تواخراج واجبات پر کوئی دلیل نہیں بلکہ ان پر دلائل مطلقہ
حوالہ / References &تکلمہ بحارالانوار ملحق بمع البحار تحت لفظ قنع €مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ ص۱۴۷
&تیسیر شرح الجامع الصغیر حدیث صلٰوۃ الیل مثنی مثنی الخ €مکتبہ الامام الشافعی الریاض ۲ / ۹۹
&حصن حصین اوقات الاجابۃ €مطبوعہ افضل المطابع لکھنؤ ہند ص۲۲ ، &جامع الترمذی ابواب الدعوات €مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ٢ / ١۸۸
&حواشی حصن حصین صفحہ مذکورہ کا حاشیہ€١٦ مطبوعہ افضل المطابع لکھنؤ ہند ص١٤
#11345 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
کے سوا حدیث نافلہ برسبیل اولویت ناطق کہ جب ادبار نوافل تك محل دعا مظنہ اجابت ہیں تو واجبات کہ ان سے اعلی واعظم اور ارضائے الہی میں اوفر و اتم ہیں کیونکر اس فضل سےخارج ہوں گے ھل ھذا الاترجیح المرجوح(یہ ترجیح موجوع کے سوا کچھ نہیں ۔ ت)
ثم اقول : بلکہ واقع نفس الامر کو لحاظ کیجئے تو فریضہ ونافلہ کے لئے ثبوت خاص بعینہ واجبات کے لئے ثبوت خاص ہے کہ واجب حقیقۃ کوئی تیسری چیز نہیں بلکہ انہیں دو طرفوں سے ایك میں ہے جسے شبہہ فی الثبوت نے مجتہد کے نزدیك ایك امر متوسط کردیاصاحب شرع صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جس کے حضور روایۃ ودرایۃ ظنون وشبہات کو بار نہیں اگر اس کے نزدیك شیئ مطلوب فی الشرع حقیقۃ مامور بہ ہے قطعا فرض ورنہ یقینانافلہ لاثالث لھما(ان دو کے علاوہ کوئی تیسری صورت نہیں ۔ ت) تلویح میں زیر قول تنقیح فصل فی افعالہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فمنھما مایقتدی بہ وھومباح مستحب و واجب وفرض (آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے کچھ افعال قابل اقتداء مباح کچھ مستحب کچھ واجب اور کچھ فرض ہیں ۔ ت) تحریر فرمایا :
ان فعلہ علیہ الصلوۃ والسلام بالنسبۃ الینا یتصف بذلك بان جعل الوتر واجبا علیہ لامستحبا اوفرضا والافالثابت عندہ بدلیل یکون قطعیا لا محالۃ حتی قیاسہ واجتہادہ ایضاقطعی الخ
یعنی آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے افعال ہماری نسبت ان سے متصف ہیں مثلاوتر آپ پر واجب تھے نہ کہ مستحب یا فرض ورنہ آپ کے ہاں دلیل ثابت شدہ امر یقینا قطعی ہوگا حتی کہ آپ کا قیاس واجتہاد بھی قطعی ہے الخ(ت)
امام محقق علی الاطلاق امامۃالفتح میں فرماتے ہیں :
اللزوم یلاحظ باعتبار ین باعتبار صدورہ من الشارع وباعتبار ثبوتہ فی حقنافملاحظۃ باعتبار الثانی ان کان طریق ثبوتہ عن الشارع قطعیا کان متعلقہ الفرض وان کان ظنیاکان الوجوب ولذا لا یثبت ہذا القسم اعنی الواجب فی حق من سمع من النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مشافھۃ
لزوم میں دو اعتبار ہیں ایك یہ کہ وہ شارع علیہ السلام سے صادر ہوا اور دوسرا یہ کہ اس کا ثبوت ہمارے حق میں ہوا تو دوسرے اعتبار سے اگراس کا ثبوت شارع سے قطعی ہے تو اس کا تقاضا فرضیت ہے اور اگر ثبوت ظنی ہے تو وجوب ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ قسم (وجوب) اس شخص کے حق میں ثابت نہیں ہوسکتی جس نے براہ راست حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے
حوالہ / References &التوضیح والتویح فصل فی افعالہ€ & صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم €مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشارو ص ۴۹۱
#11346 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
مع قطعیۃ دلالۃ المسموع فلیس فی حقہ الا الفرض اوغیر اللازم من السنۃ فمابعدھا وظھربھذا ان ملاحظۃ باعتبار الاول لیس فیہ وجوب بل الفرضیۃ اوعدم اللزوم اصلا اھ ملخصا
سنا حالانکہ مسموع کی دلالت قطعی تھی تو اس کے حق میں وہ فرض ہی ہوگا یا لازم نہ ہوگا سنت ہوگا یا اس سے نچلا درجہ اس سے طاہر ہوگیاکہ اول کے اعتبار سے وہاں وجوب نہیں بلکہ فرضیت ہے یا بالکل لزوم ہی نہیں اھ ملخصا(ت)
پس بحمداﷲ لشہادت قرآن وحدیث واقول علماء ثابت ہوا کہ نمازپنجگانہ و عیدین وتہجد وغیرہا ہرگونہ نماز کے بعد دعا مانگنا شرعا جائز بلکہ مندوب ومرغوب ہے وہوالمطلوب۔
ثانیااقول : وباﷲالتوفیق دعابنص قرآن وحدیث واجماع ائمہ قدیم وحدیث اعظم مندوبات شرع سے ہے اوراس کے مظان اجابت کی تحری مسنون ومحبوب قال جل ذکرہ : هنالك دعا زكریا ربه- (حضرت زکریا علیہ السلام نے وہاں اپنے رب سے دعا کی ۔ ت)حدیث میں ہےحضور پرنورسید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ان لربکم فی ایام دھرکم نفحات فتعرضوا لہ لعلہ ان یصیبکم نفخۃ منھا فلاتشقون بعدھا ابدا ۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن محمد بن مسلمۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
بیشك تمہارے رب کے لئے تمھارے زمانے کے دنوں میں کچھ وقت عطا وبخشش وتجلی وکرم وجود کے ہیں تو انہیں پانے کی تدبیر کرو شاید ان میں سے کوئی وقت تمہیں مل جائے تو پھر کبھی بدبختی تمہارے پاس نہ آئے۔ اسے طبرانی نے کبیر میں محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔
اور خود حدیث نے ان اوقات سے ایك وقت اجتماع مسلمین کا نشان دیا کہ ایك گروہ مسلمانان جمع ہوکر دعا مانگے کچھ عرض کریں کچھ آمین کہیں ۔ کتاب المستدرك علی البخاری ومسلم میں ہے :
عن حبیب بن مسلمۃ الفھری رضی اﷲ تعالی عنہ وکان مجاب الدعوۃ قال سمعت رسول اﷲ
یعنی حبیب بن مسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کہ مستجاب الدعوات تھے فرماتے ہیں کہ میں نے حضور پرنورسید عالم
حوالہ / References &فتح القدیر باب الامامۃ €مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۰۱
&القرآن € ٣ / ۳۸
&المعجم الکبیر مروی ازمحمد بن مسلمہ حدیث€٥١٩ مطبوعہ مکتبۃ فیصلیہ بیروت ١٩ / ٢٣٤
#11347 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
یقول لایجتمع ملؤ فیدعوبعضھم یؤمن بعضعم الا اجابھم اﷲ ۔
صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو فرماتے سنا کہ کوئی گروہ جمع نہ ہوگاکہ ان بعض دعا کریں بعض آمین کہیں مگر یہ کہ اﷲ عزوجل ان کی دعا قبول فرمائےگا۔
علماء نے مجمع مسلمان کو اوقات اجابت سے شمار کیا۔ حصن حصین میں ہے : واجتماع المسلمین ع یعنی مسلمین کا اوقات اجابت سے ہونا حدیث صحاح ستہ سے مستفاد ہے۔ علی قاری شرح میں فرماتے ہیں :
ثم کل مایکون الاجتماع فیہ اکثر کالجمعۃ والعیدین وعرفۃ یتوقع فیہ رجاء الاجابۃ اظھر ۔
یعنی جس قدر مجمع کثیر ہوگا جیسے جمع وعیدین و عرفات میں اسی قدر امید اجابت ظاہرتر ہوگی۔
فقیر غفراﷲ کہتا ہے پھر دعائے نماز پر اقتصار ہرگز شرعا مطلوب نہیں بلکہ اس کے خلاف کی طلب ثابت خود حدیث سے گزراحضور پرنور سیدیوم النشور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ہر دو رکعت نفل کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعامانگنے کا حکم دیا اورجو ایسا نہ کرے اس کی نماز کو ناقص بتایا حالانکہ نماز میں دعائیں ہوچکیں اوروہ وقت چاربار آیا جو انتہائی درجہ قرب الہی کا ہے یعنی سجود جس میں بالتخصیص حکم دعا تھا حضور پرنور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں ۔
اقرب مایکون العبد من ربہ وھوساجد فاکثروا الدعاء ۔ رواہ مسلم وابوداؤد والنسائی عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
سب سے زیادہ قرب بندے کو اپنے رب سے حالت سجودمیں ہوتاہے تو اس میں دعا کی کثرت کرو۔ اسےمسلم ابوداؤد اور نسائی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔
بلکہ اگر سوال نہ بھی ہوں تو تسبیح کہ سجود میں ہوتی ہے خود دعاہے کہ وہ ذکر ہے اور ہر ذکردعا۔ مولانا علی قاری مرقاۃ شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں : کل ذکردعاء (ہر ذکر دعاہے۔ ت) امام حافظ الدین النسفی
حوالہ / References &المستدرك علی الصحیحین کتاب الدعاء حبیب بن مسلمہ کان مجیب الدعوات€ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ / ۳۴۷
&حصن حصین اوقات الاجابۃ€ مطبوعہ افضل المطابع لکھنؤ ہند ص٢٣
&حرزثمین شرح حصن حصین€
&سنن النسائی اقرب مایکون العبد من اﷲ عزوجل€ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ١ / ۷۱۔ ۱۷۰
&مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب ثواب التسبیح فصل ثانی€ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ٥ / ١١٢
#11348 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
کافی شرح وافی کی فصل فی تکبیر التشریق میں فرماتے ہیں :
قال تعالی ادعوا ربكم تضرعا و خفیة- ۔
اﷲ تعالی کافرمان مبارك ہے : تم اپنے رب کو پکارو گڑ گڑا کر اور آہستہ (ت)
کل ذکردعاء (ہرذکر دعاہے۔ ت) اس معنی پر فقیر نے اپنے رسالہ “ ایذان الاجرفی اذان القبر “ (دفن کرنے کے بعد قبر پراذان کے جواز پر نادر تحقیق۔ ت)میں دلائل واضحہ ذکر کئے اور اس سے زیادہ کلام مستوفی فقیر کے رسالہ “ نسیم الصبا فی ان الاذان یحول الوباء “ (صبح کی ہوا اس بارے میں کہ اذان سے وباء ٹل جاتی ہے۔ ت) میں ہے امام بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب الدعوات میں باب الدعا اذاھبط وادیا(جب کسی نچلی جگہ اترے تو دعا کرے۔ ت) وضع کیا اوراس میں فرمایا : فیہ حدیث جابر رضی اﷲ تعالی عنہ (اس بارے میں حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے حدیث مروی ہے۔ ت) ارشاد الساری میں ہے :
فیہ ای فی الباب حدیث جابر الانصاری رضی اﷲ تعالی عنہ السابق فی باب التسبیح اذاھبط وادیا من کتاب الجھاد بلفظ کنا اذا صعدنا کبرنا و انزلنا سبحناھذا اخرالحدیث اھ بحذف السند۔
اس میں یعنی اس مسئلہ میں حضرت جابر انصاری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی حدیث ہے جو کتاب الجہاد کے باب التسبیح اذا ھبط وادیا میں گزری ہے الفاظ یہ ہیں : جب ہم بلند جگہ چڑھتے تو تکبیر کہتے اور جب اترتے تو سبحان اﷲ کہتے ۔ یہ حدیث کے آخری الفاظ ہیں اھ سند محذوف ہے۔ (ت)
دیکھو امام بخاری علیہ رحمۃ الباری نے صرف تسبیح کو دعا ٹھہرایا اور التسبیح اذاھبط وادیا والدعاء اذاھبط وادیا(جب نیچے اترے تو تسبیح پڑھے اور جب نیچے اترے تو دعا کرے۔ ت)کا ایك مصداق بتایا تو بآنکہ ایسے قرب اتم کے وقت میں نماز میں دعائیں ہوچکیں پھر بھی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ان پر قناعت پسند نہ فرمائی اور بعد سلام پھر دعا کی تاکید شدید کی۔ علاوہ بریں نماز میں آدمی ہر قسم کی دعا نہیں مانگ سکتا کما بسط الائمۃ فی کتب الفقھیۃ(جیسا کہ ائمہ کرام نے کتب فقہیہ میں اس کی تفصیل بیان
حوالہ / References &کافی شرح وافی فصل فی تکبیر التشریق€
&صحیح€ &البخاری کتاب الدعوات €مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ٢ / ٩٤٤
&ارشاد الساری باب الدعاء اذا ھبط وادیا الخ €مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ٩ / ۲۱۸
#11349 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
کی ہے۔ ت) اور حاجت ہرقسم کی اپنے رب جل وعلا سے مانگا چاہے اور طلب میں مظنہ اجابت کی تحری کا حکم اور یہ وقت بحکم احادیث اعلی مظان اجابت سے تو بلا شبہہ مجمع عیدین میں نماز دعا خاص اذن حدیث وارشاد شرع سے ثابت ہوئی اورحکم فتعرضوا لھاکی تعمیل ٹھہری وہو المقصود۔ ثم اقول : اگرمجمع عیدین کے لئے شرع میں کوئی خصوصیت نہ آتی تو اس عموم میں دخول ثابت تھا نہ کہ احادیث نے اس کی خصوصیت عظیم ارشاد فرمائی اوراس میں دعا پر نہایت تحریص وترغیب آئی یہاں تك کہ حضور پرنور سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اس زمانہ خیر و صلاح میں کہ فتنہ وفساد سے یکسر پاك و منزہ تھا حکم دیتے کہ عیدین میں کنواریاں اور پردہ نشین خاتونیں باہر نکلیں اورمسلمانوں کی دعا میں شریك ہوں حتی کہ حائض عورتوں کو حکم ہوتا مصلے سے الگ بیٹھیں اور اس دن کی دعا میں شریك ہوجائیں امام احمد واصحاب صحاح ستہ حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالی عنہا سے راوی حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
تخرج العواتق وذوات الخدور والحیض ویعتزل الحیض المصلی ویشھدن الخیر ودعوۃ المسلمین ۔
نوجوان کنواریاں اور پردہ والیاں اور حائض سب عید گاہ کو جائیں اورحیض والیاں عید گاہ سے الگ بیٹھیں اور اس بھلائی اور مسلمانوں کی دعا میں حاضر ہوں ۔
صحیح بخاری کی دوسری روایت ان لفظوں سے ہے :
قالت کنا نومر ان نخرج یوم العید حتی تخرج البکرمن خدرھا حتی تخرج الحیض فیکن خلف الناس فیکبرن بتکبیرھم ویدعون بدعائھم یرجون برکۃ ذلك الیوم وطھرتہ ۔
یعنی ام عطیہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ ہم عورتوں کوحکم دیا جاتا تھا کہ عید کے دن باہر جائیں یہاں تك کہ کنواری اپنے پردے سے باہر نکلے یہاں تك کہ حیض والیاں باہر آئیں صفوں کے پیچھے بیٹھیں مسلمانوں کی تکبیر پر تکبیر کہیں اورا ن کی دعا کے ساتھ دعا مانگیں اس دن کی برکت پاکیزگی کی امیدیں ۔
امام بیہقی اور ابو الشیخ ابن حبان کتاب الثواب میں حضرت عبداﷲ بن عباس عــــہ رضی اللہ تعالی عنہما
عــــہ : اقول : اس حدیث نفیس کا شاہد بروایت امام عقیلی حدیث انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے مرویات فقیر میں بندہ ضعیف سےحضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تك سند موجود ہے الحمد ﷲ ۱۲منہ(م)
حوالہ / References &صحیح البخاری باب شہود الحائض العیدین الخ€ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ۴۷ و ۱۳۴
&صحیح البخاری باب شہود الحائض العیدین الخ€ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۳۲
#11350 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
سے راوی :
انہ سمع رسول ﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یقول اذاکانت غداۃ الفطربعث اﷲعزوجل الملئکۃ فی کل بلد(وذکر الحدیث الی ان قال)فاذابرزوا الی مصلاھم فیقول اﷲ عزوجل (وساق الحدیث الی ان قال) ویقول یاعبادی سلونی فوعزتی وجلالی لاتسئلونی الیوم شیئا فی جمعکم لاخرتکم الااعطیتکم ولا لدنیاکم الانظرت لکم فوعزتی لاسترن علیکم عثراتکم مار اقبتمونی وعزتی وجلالی لااخزیکم ولاافضحکم بین اصحاب الحدود وانصرفوا مغفورا لکم قد ارضیتمونی ورضیت عنکم (مختصرمن حدیث طویل)
یعنی حضور پر نور سید یوم النشور علیہ افضل الصلوۃ والسلام نے فرمایا : جب عید کی صبح ہوتی ہے مولی سبحنہ تعالی ہر شہر میں فرشتے بھیجتا ہے(اس کے بعد حدیث میں فرشتوں کا شہر کے ہر ناکہ پر کھڑا ہونا اور مسلمانو ں کو عیدگاہ کی طرف بلانا بیان فرمایا پھر ارشاد ہوا جب مسلمان عیدگاہ کی طرف میدان میں آتے ہیں (مولی سبحنہ تعالی فرشتوں سے یوں فرماتا ہے اور ملائکہ اس سے یوں عرض کرتے ہیں ) پھر فرمایارب تبارك وتعالی مسلمانوں سے ارشاد فرماتا ہے اے میرے بندو!مانگو کہ قسم مجھے اپنی عزت وجلال کی آج اس مجمع میں جو چیز اپنی آخرت کے لئے مانگو گے میں تمہیں عطافرماؤں گااورجو کچھ دنیا کا سوال کروگے اس میں تمہارے لئے نظر کروں گا(یعنی دنیا کی چیز میں خیر و شر دونوں کومتحمل ہیں اورآدمی اکثر اپنی نادانی سے خیر کو شر شرکوخیر سمجھ لیتا ہے اور اﷲ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے لہذا دنیا کے لئے جو کچھ مانگو گے اس میں بکمال رحمت نظر فرمائی جائے گی اگر وہ چیز تمہارے حق میں بہتر ہوئی عطاہوگی ورنہ اس کے برابر بلا دفع کریں گے یادعاروزقیامت کے لئے ذخیرہ رکھیں گے اور یہ بندے کے لئے ہر صورت سے بہتر ہے مجھے اپنی عزت کی قسم ہے جب تك تم میرا مراقبہ رکھوگے میں تمہاری لغزشوں کی ستاری فرماؤں گا مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم میں تمہیں اہل کبائر میں فضیحت و رسوا نہ کروں گا پلٹ جاؤ مغفرت پائے ہوئے بیشك تم نے مجھے راضی کیا اور میں تم سے خوشنود ہوا۔
فقیر غفر لہ الغنی القدیر کہتا ہے اس کلام مبارك کا اول یاعبادی سلونی ہے یعنی میرے بندو! مجھ سے دعا کرو اور آخر انصرفوا مغفورا لکم گھروں کو پلٹ جاؤ تمہاری مغفرت ہوئی۔
حوالہ / References &شعب الایمان ٢٣باب فی الصیام فصل فی لیلۃ القدر€ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳ / ۳۷۔ ۳۳۶
#11351 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
توظاہر ہوا کہ یہ ارشاد بعد ختم نماز ہوتا ہے ختم نماز سے پہلے گھروں کو واپس جانے کاحکم ہرگز نہ ہوگا تواس حدیث سے مستفاد کہ خود رب العزت جل وعلا بعد نماز عید مسلمانوں سے دعا کا تقاضا فرماتا ہے پھر وائے بدبختی اس کی جو ایسے وقت مسلمانوں کو اپنے رب کے حضور دعا سے روکے نسأل اﷲ العفو والعافیۃ امین(ہم اﷲ سے فضل وبخشش طلب کرتے ہیں ۔ آمین ۔ ت) ثالثا اقول : وباﷲالتوفیق ۱ابوداؤد و ترمذی ونسائی وابن حبان وحاکم باسانید صحیحہ جیدہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ اور ۲ابو داؤد و دارمی و ابوبکر بن ابی شیبہ استادبخاری ومسلم حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ تعالی عنہ اور ۳نسائی و طبرانی بسند صحیح و ابن ابی الدنیا اورحاکم بافادہ تصحیح حضرت جبیر بن معطم رضی اللہ تعالی عنہ اور۴نسائی و ابن ابی الدنیا و حاکم وبیہقی حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کرتے ہیں حضور پرنور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اذاجلس احدکم فی مجلس فلایبرحن منہ حتی یقول ثلث مرات سبحنك اللھم ربنا وبحمدك لاالہ الا انت اغفرلی وتب علی فان کان اتی خیرا کان کالطابع علیہ وان کان مجلس لغو کان کفارۃ لماکان فی ذلك المجلس ۔
جب تم میں کوئی کسی جلسے میں بیٹھے تو زنہار وہاں سے نہ ہٹے جب تك تینبار یہ دعا نہ کرلے “ پاکی ہے تجھے اے رب ہمارے اور تیری تعریف بجالاتا ہوں تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں میرے گناہ بخش اور مجھے توبہ دے “ کہ اگراس جلسے میں اس نے کوئی نیك بات کہی ہے تو یہ دعا اس پر مہر ہوجائے گی اور اگر وہ جلسہ لغو تھا جوکچھ اس میں گزرایہ دعا اس کا کفارہ ہوجائےگی۔
یہ لفظ بہ روایت امام ابو بکر ابن ابی الدنیا حدیث جبیر رضی اللہ تعالی عنہ کے ہیں اور ابو برزہ رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث میں یوں ہے :
کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جب کوئی
حوالہ / References &الترغیب والتراہیب بحوالۂ ابن ابی الدنیا کتاب الذکر والدعاء€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۲ / ۴۱۱ ، &المعجم الکبیر مروی از جبیر بن مطعم€ مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۲ / ۱۳۹ ، &المستدرك علی الصحیحین کتاب الدعاء€ مطبوعہ دارالفکر بیروت ١ / ٥٣٧
#11352 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
اذاجلس یقول فی اخرہ اذا اراد ان یقوم من المجلس سبحنك اللھم وبحمدك اشھد ان لا الہ الاانت استغفرك واتوب الیک ۔
جلسہ فرماتے تو ختم اٹھتے وقت یہ دعا کرتے “ تیری پاکی بولتا اور تیری حمد وثنا میں مشغول ہوتا ہوں اے اﷲ! میں گواہی دیتا ہوں تیرے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں میں تیری مغفرت مانگتا اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں “ ۔
اسی طرح رافع بن خدیج رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث میں لفظ اراد ان ینھض ہے یعنی جب اٹھنا چاہتے یہ دعا فرماتے۔ اور انہوں نے بعد الفاظ مذکورہ دعا میں اتنے الفاظ اور زائدکئے :
عملت سوء وظلمت نفسی انہ لا یغفر الذنوب الاانت۔
میں نے برا کیا اور اپنی ہی جان کو آزار پہنچایا اب میری مغفرت فرمادے بیشك تیرے سوا کوئی گناہ معاف کرنے والا نہیں ۔
حدیث ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ دعا میں مثل حدیث ابو برزہ ہے اس میں بھی ارشاد ہوا : قبل ان یقوم من مجلسہ کھڑے ہونے سے پہلے دعا کرتے۔ غرض اس حدیث صحیح مشہور علی اصول المحدثین میں جسے امام ترمذی نے حسن صحیح اور حاکم نے برشرط مسلم صحیح اورمنذری نےجیدالاسانیدکہا حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم عام ارشاد وہدایت قولی وفعلی فرماتے ہیں کہ آدمی کوئی جلسہ کرے اس سے اٹھتے وقت یہ دعا ضرور کرنی چاہئے کہ اگر جلسہ خیر کا تھا تو وہ نیکی قیامت تك سر بمہر محفوظ رہے گی اور لغو تھا تو وہ لغو باذن اﷲ محو ہوجائے گا تو لفظ ومعنی دونوں کی رو سے ثابت ہوا کہ ہرمسلمان کو ہرنماز کے بعد بھی اس دعا کی طرف اشارہ فرمایا گیا جہت لفظ
حوالہ / References &الترغیب والترہیب بحوالہ سنن ابی داؤد کتاب الذکر والدعاء€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۲ / ۴۱۱ ، سنن الدارمی ۲۹۔ &باب فی کفارۃ المجلس€ مطبوعہ مدینہ منورہ (حجاز) ۲ / ۱۹۵
&المستدرك علی الصحیحین کتاب الدعاء دعاء کفارۃ المجالس€ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۵۳۷ ، &الترغیب والترہیب بحوالہ سنن نسائی وحاکم وابوداؤد وابن حبان€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۲ / ۴۱۱
&الترغیب والترہیب بحوالہ سنن نسائی وحاکم وابوداؤد وابن حبان€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ٢ / ٤١۱
&الترغیب والترہیب بحوالہ سنن نسائی وحاکم وابوداؤد وابن حبان€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ٢ / ٤١۱ ، &جامع الترمذی ابواب الدعوات€ مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۱۸۱
#11353 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
سے تو یوں کہ مجلس نکرہ سیاق شرط میں واقع ہے عام ہوا تلخیص الجامع الکبیر میں ہے :
النکرۃ فی الشرط تعم وفی الجزاء تخص کھی فی النفی والاثبات ۔
نکرہ مقام شرط میں عموم اور مقام جزا میں خصوص کا فائدہ دیتا ہے جیسا کہ نفی و اثبات میں ہے۔ (ت)
جامع صغیر میں ہے :
انہ نکرۃ فی موضع الشرط وموضع الشرط نفی والنکرۃ فی النفی تعم ۔
یہ موضع شرط میں نکرہ ہے اور مقام شرط نفی ہے اور نکرہ مقام نفی میں عموم کا مفید ہوتا ہے۔ (ت)
معہذا اسمائے شروط سب صورتوں کو عام ہوتے ہیں امام محقق علی الاطلاق فتح میں فرماتے ہیں :
اذا عام فی الصورعلی ماھوحال اسماء الشرط ۔
ذا تمام صورتوں میں عام ہے جیسا کہ اسماء شرط کا حال ہوتا ہے۔ (ت)
تو قطعا تمام صلوات فریضہ و واجبہ ونافلہ کے جلسے اس حکم میں داخل اورادعائے تخصیص بے مخصص محض مردود وباطل اور جہت معنی سے یوں کہ جلسہ خیر سے اٹھتے وقت یہ دعاکرنا اس خیرکے نگاہداشت کے لئے ہے تو خیر جس قدر اکبر واعظم اسی قدر اس کا حفظ ضروری و اہم اور بلاشبہہ خیر نماز سے سب چیزوں سے افضل واعلی تو ہر نماز کے بعد اس دعاکا مانگنا مؤکد تر ہوا یارب مگر نمازعیدین نماز نہیں یا اس کے حفظ کے جانب نیاز نہیں یاحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے بنفس نفیس جلسہ نماز کو اس حکم میں داخل فرمایا تخریج حدیث تو اوپر سن چکے کہ نسائی وابن ابی الدنیا نے وحاکم وبیہقی نے روایت کی اب لفظ سنئے سنن نسائی کی نوع من الذکر بعد التسلیم میں ہے :
عن عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنہا قالت ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
یعنی ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جب
حوالہ / References &تلخیص الجامع الکبیر€
&الجامع الصغیر€
&فتح القدیر€
#11354 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
کان اذا جلس مجلسا او صلی تکلم بکلمات و سالتہ عائشۃ عن الکلمات فقال ای تکلم بخیر کان تابعا علیھن یوم القی مۃ وان تکلم بشر کان کفارۃ لہ سبحنك اللہم و بحمدك استغفرك و اتوب الیک۔
کسی مجلس میں بیٹھتے یا نماز پڑھتے کچھ کلمات فرماتے ام المومنین نے وہ کلمات پوچھے فرمایا وہ ایسے ہیں کہ اگر اس جلسہ میں کوئی نیك بات کہی ہے تو یہ قیامت تك اس پر مہر ہوجائیں گے اور بری کہی ہے تو کفارہ۔ الہی! میں تیری تسبیح وحمد بجالاتا ہوں اور تجھ سے استغفار و توبہ کرتا ہوں ۔
پس بحمد اﷲ احادیث صحیحہ سے ثابت ہوگیا کہ نماز عیدین کے بعد دعا مانگنے کی خودحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے تاکید فرمائی لفظ لا یبرحن بنون تاکید ارشاد ہوا بلکہ انصاف کیجئے توحدیث ام المومنین صلی اﷲ تعالی علی زوجہاالکریم وعلیہا وسلم خودحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا بعد نماز عیدین دعا مانگنا بتا رہی ہے کہ صلی زیر اذا داخل تو ہر صورت نماز کو عام وشامل اور منجملہ صور نماز عیدین توحکم مذکور انہیں بھی متناول پس یہ حدیث جلیل بحمد اﷲ خاص جزئیہ کی تصریح کامل۔ رابعا اقول : وباﷲ التوفیق ان سب سے قطع نظر کیجئے تو دعا مطلقا اعظم مندوبات دینیہ واجل مطلوبات شرعیہ سے ہے کہ شارع صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ہمیں بے تقیید وقت وتخصیص ہیأت مطلقا اس کی اجازت دی اور اس کی طرف دعوت فرمائی اور اسکی تکثیر کی رغبت دلائی اور اس کے ترك پر وعید آئی مولی سبحنہ وتعالی فرماتا ہے :
و قال ربكم ادعونی استجب لكم- ۔
اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعاکرو میں قبول کروں گا۔
اور فرماتا ہے :
اجیب دعوة الداع اذا دعان- ۔
قبول کرتا ہوں دعا کرنے والے کی دعا جب مجھے پکارے۔
حدیث قدسی میں فرماتا ہے :
حوالہ / References &سنن النسائی کتاب السہو نوع من الذکر بعد التسلیم€ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۱۹۷
&القرآن€ ۴۰ / ۶۰
& القرآن€ ۲ / ۱۸۶
#11355 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
انا عند ظن عبدی بی وانا معہ اذا دعانی ۔ رواہ البخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن ربہ۔
میں اپنے بندے کے گمان کے پاس ہوں اور میں اس کے ساتھ ہوں جب مجھ سے دعا کرے۔ اسے بخاری مسلم ترمذی نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے انہوں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے آپ نے اپنے رب عزوجل سے روایت کیا۔
اور فرماتاہے :
یاابن ادم انك مادعوتنی غفرت لك علی ماکان منك ولاابالی ۔ رواہ الترمذی وحسنہ عن انس بن مالك عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن ربہ تبارك وتعالی۔
اے فرزندآدم! تو جب تك مجھ سے دعامانگے جائےگا اور امیدرکھے گا تیرے کیسے ہی گناہ ہوں بخشتارہوں گااور مجھے کچھ پرواہ نہیں ۔ ترمذی نے روایت کرکے اسے حسن قراردیاہے اور اسے حضرت انس بن مالك سے انہوں نے حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے آپ نے اپنے رب تبارك وتعالی سے بیان فرمایا۔
اور فرماتاہے عزوجل :
من لایدعونی اغضب علیہ ۔ رواہ العسکری فی المواعظ بسند حسن عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن ربہ تعالی و تقدس۔
جومجھ سے دعانہ کرے گا میں اس پرغضب فرماؤں گا اسے عسکری نے مواعظ میں سندحسن کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے انہوں نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سےاور آپ نے رب تعالی وتقدس سے بیان فرمایا۔
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب التوحید مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ٢ / ١۱٠١ ، صحیح مسلم کتاب الذکروالدعاء مطبوعہ نورمحمداصح المطابع کراچی ۲ / ۳۴۱و ۳۴۳ و۳۵۴
جامع الترمذی ابواب الزہد مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ٢ / ٦٢
کنزالعمال بحوالہ العسکری فی المواعظ حدیث ۳۱۲۷ مطبوعہ مکتبۃ التراث الاسلامی بیروت ۲ / ۶۳ ، سنن ابن ماجہ باب فضل الدعاء مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص٢٨٠
#11356 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
احادیث مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اس باب میں سرحد تواتر پرخیمہ زن ایك جملہ صالحہ ان سے حضرت ختام المحققین سنام المدققین سیدنا الوالد قدس سرہ الماجد نے رسالہ مستطابہ “ احسن الوعا لاداب الدعا “ میں ذکرفرمایا اور فقیر غفرلہ المولی القدیر نے اس کی شرح مسمی بہ “ ذیل المدعا لاحسن الوعا “ میں ان کی تخریجات کاپتابتایا باقی کتاب الترغیب امام منذری وحصن حصین امام ابن الجزری وغیرہما تصانیف علما ان احادیث کی کفیل ہیں میں بخوف اطالت احادیث فضائل سے عطف عنان کرکے صرف ان بعض حدیثوں پراقتصارکرتاہوں جن میں دعا کی تاکید یا اس کے ترك پرتہدید یا اس کی تکثیر کاحکم اکیدہے۔
حدیث۱ : عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کی حدیث میں ہے حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
علیکم عباداﷲ بالدعاء ۔ رواہ الترمذی مستغربا والحاکم وصححہ۔
خدا کے بندو! دعا کولازم پکڑو۔ اسے ترمذی نے روایت کرکے غریب کہا اور حاکم نے روایت کرکے صحیح کہا۔
حدیث۲ : زیدبن خارجہ رضی اللہ تعالی عنہما کی حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
صلوا علی واجتھدوافی الدعاء ۔ رواہ الامام احمد والنسائی والطبرانی فی الکبیر وابن سعدوسمویہ والبغوی والباوردی و ابن قانع۔
مجھ پردرودبھیجو اور دعامیں کوشش کرو۔ اسے امام احمد نسائی اور طبرانی نے کبیرمیں ابن سعد سمویہ بغوی باوردی اور ابن قانع نے روایت کیا۔
حدیث : انس رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث میں ہے سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لاتعجزوا فی الدعاء فانہ لن یھلك مع الدعاء احد ۔ رواہ ابن حبان فی صحیحہ والحاکم وصححہ۔
دعامیں تقصیرنہ کرو جو دعاکرتارہے گا ہرگزہلاك نہ ہوگا۔ اسے ابن حبان نے صحیح میں اور حاکم نے روایت کرکے صحیح قراردیا۔
حدیث : جابربن عبداﷲ رضی اللہ تعالی عنہما کی حدیث میں ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
تدعون اﷲ لیلکم ونھارکم فان الدعاء
رواہ ابویعلی۔ رات دن خدا سے دعامانگو کہ دعا مسلمان کا
حوالہ / References &جامع الترمذی ابواب الدعوات€ مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ٢ / ١٩۳
&سنن النسائی باب الصلٰوۃ علی النبی€ & صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم € مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ١ / ١٩٠
&المستدرك علی الصحیحین کتاب الدعاء€ مطبوعہ دارالکتب بیروت ۱ / ۴۹۴
#11357 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
سلاح المؤمن ۔
ہتھیار ہے۔ اسے ابویعلی نے روایت کیاہے۔
حدیث۵ : عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کی حدیث میں ہے رحمت عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اکثروالدعاء بالعافیۃ ۔ رواہ الحاکم بسند حسن۔
عافیت کی دعا اکثر مانگ۔ امام حاکم نے اسے سندحسن کے ساتھ روایت کیاہے۔
حدیث۶ : انس رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث میں ہے سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اکثر من الدعاء فان الدعاء یرد القضاء المبرم ۔ اخرج ابوالشیخ فی الثواب۔
دعا کی کثرت کرو کہ دعا قضائے مبرم کو رد کرتی ہے۔ اسے ابوالشیخ نے ثواب میں نقل کیاہے۔
اس حدیث کی شرح فقیر کے رسالہ ذیل المدعامیں دیکھئے۔
حدیث۷و۸ : عبادہ صامت وابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہما کی حدیثوں میں ہے ایك بار حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے دعا کی فضیلت ارشاد فرمائی صحابہ نے عرض کی : اذا نکثر ایسا ہے تو ہم دعا کی کثرت کریں گے فرمایا : اﷲ اکثر اﷲ عزوجل کا کرم بہت کثیرہے وفی الروایۃ الاخری (دوسری روایت میں ہے۔ ت) اﷲ اکبراﷲ بہت بڑاہے
رواہ الترمذی والحاکم عن عبادۃ وصححاہ واحمد والبزار وابویعلی باسانید جیدۃ والحاکم وقال صحیح الاسناد عن ابی سعید رضی اﷲ تعالی عنہما۔
اسے امام ترمذی اور حاکم نے حضرت عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرکے صحیح قراردیا امام احمد بزار اور ابویعلی نے اسانید جیدہ کے ساتھ روایت کیاہے اور حاکم نے حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کرکے فرمایا کہ اس کی سند صحیح ہے۔ (ت)
حدیث ۹و۱۰ : سلمان فارسی و ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہما کی حدیثوں میں ہے حضور والا صلی اللہ
حوالہ / References &مسند ابی یعلٰی مروی ازجابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حدیث€ ١٨٠٦ مطبوعہ موسسۃ علوم القرآن بیروت ٢ / ۳۲۹
&المستدرك علی الصحیحین کتاب الدعاء €مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۵۲۹
&کنزالعمال بحوالہ ابی الشیخ عن انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حدیث€۳۱۲۰ مطبوعہ مکتبۃ التراث الاسلامی بیروت ۲ / ۶۳
&جامع الترمذی ابواب الدعوات €مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۱۷۳
&مسنداحمدبن حنبل مروی ازابوسعید الخدری €مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ / ۱۸
#11358 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من سرہ ان یستجیب اﷲ لہ عند الشدائد فلیکثرمن الدعا عندالرخاء ۔ رواہ الترمذی عن ابی ھریرۃ والحاکم عنہ وعن سلمان وقال صحیح واقروہ۔
جسے خوش آئے کہ اﷲ تعالی سختیوں میں اس کی دعاقبول فرمائے وہ نرمی میں دعا کی کثرت رکھے۔ اسے ترمذی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے اور حاکم نے ان سے اور حضرت سلمان رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کرکے فرمایا کہ یہ صحیح ہے اور محدثین نے اس کی صحت کو برقرار رکھا۔
حدیث : ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث میں ہے حضورپرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من لم یسأل اﷲ یغضب علیہ ۔ رواہ احمد وابن ابی شیبۃ والبخاری فی الادب المفرد والترمذی وابن ماجۃ والبزار وابن حبان والحاکم وصححاہ۔
جو اﷲ تعالی سے دعانہ کرے گا اﷲ تعالی اس پر غضب فرمائے گا۔ اسے امام احمد ابن ابی شیبہ اور بخاری نے ادب المفرد میں ترمذی ابن ماجہ بزار ابن حبان اور حاکم نے روایت کرکے صحیح کہا۔
ایہاالمسلمون تم نے اپنے مولا جل وعلا اور اپنے رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ارشادات سنے ان میں کہیں بھی تخصیص وتقیید کی بوہے یہ تو بارہا فرمایا کہ دعاکرو کہیں یہ بھی فرمایاکہ فلاں نمازکے بعدنہ کرو یہ تو صاف ارشاد ہوا ہے کہ جس وقت دعاکروگے میں سنوں گا کہیں یہ بھی فرمایا کہ فلاں وقت کروگے تو سنوں گا یہ تو بتاکید باربار حکم آیا ہے کہ دعا سے عاجزنہ ہو دعامیں کوشش کرو دعا کو لازم پکڑو دعا کی کثرت رکھو رات دن دعامانگو کہیں یہ بھی فرمایا ہے کہ فلاں نماز کے بعد نہ مانگو یہ توڈر سناگیاہے کہ جو دعانہ مانگے گا اس پرغضب ہوگا کہیں یہ بھی فرمایا ہے کہ فلاں نماز کے بعد جومانگے گا اس سے اﷲ تعالی ناراض ہوگاـ اور جب کہیں نہیں تو خداورسول جل جلالہ و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے جس چیز کو عام ومطلق رکھا دوسرا اسے
حوالہ / References &جامع الترمذی ابواب الدعوات€ مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ٢ / ١٧٤
&جامع الترمذی ابواب الدعوات€ مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ٢ / ١٧٤ ، &ادب المفرد باب€ ٢٨٦ &حدیث€ ۶۵۸مطبوعہ المکتبۃ الاثریۃ سانگلہ ہل ص١٧١ ، &مسنداحمدبن حنبل مروی ازابوہریرہ€ & رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ €مطبوعہ دارالفکر بیروت ٢ / ٤٤٣ ، &مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الدعاء حدیث€ ۹۲١٨مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ١٠ / ٢٠٠
#11359 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
مخصوص ومقیدکرنے والاکون خداورسول عزمجدہ و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے جس چیزسے منع نہ فرمایادوسرا اسے منع کرنے والا کون قال تعالی :
و لا تقولوا لما تصف السنتكم الكذب هذا حلل و هذا حرام لتفتروا على الله الكذب-ان الذین یفترون على الله الكذب لا یفلحون(۱۱۶)
اور نہ کہو اسے جو تمہاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اﷲ پر جھوٹ باندھو بیشك جو اﷲ پرجھوٹ باندھتے ہیں ان کابھلا نہ ہوگا۔
اصل یہ ہے کہ ان الحكم الا لله- حکم صرف خداہی کے لئے ہے۔ جس چیز کو اس نے کسی ہیأت خاصہ محل معین سے مخصوص اور اس پر مقصورومحصور فرمایا اس سے تجاوز جائزنہیں جو تجاوزکرے گا دین میں بدعت نکالے گا اور جس چیز کو اس نے ارسال واطلاق پررکھا ہرگز کسی ہیأت ومحل پرمقتصرنہ ہوگی اورہمیشہ اپنے اطلاق ہی پررہے گی جو اس سے بعض صور کو جداکرے گا دین میں بدعت پیداکرے گا ذکرودعا اسی قبیل سے ہیں کہ زنہار شرع مطہر نے انہیں کسی قیدوخصوصیت پرمحصورنہ فرمایابلکہ عموما ومطلقا ان کی تکثیر کاحکم دیا۔ دعا کے بارے میں آیات وحدیث سن ہی چکے اور دلائل مطلقہ تکثیر ذکرجنہیں اس سلسلہ شمارمیں (خامسا) کہئے کہ ہر دعا بالبداہۃ ذکرالہی ہے اور اس پرعلما نے تنصیص بھی فرمائی مولانا قاری شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں : کلہ دعاء ذکر (ہردعاذکرہے۔ ت) تو اجازت عامہ ذکرکے دلائل بعینہا اجازت عامہ کے دلائل ہیں کہ تعمیم افراد اعم عــــہ یامساوی لاجرم تعمیم افراد اخص ومساوی ہے کمالایخفی (جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔ ت) ان دلائل جلائل کاوفور کامل حداحصاکا طرف مقابل فقیرغفرلہ المولی القدیر نے اپنے رسالہ نسیم الصبا فی ان الاذان یحول الوباء میں اس مدعا پر بکثرت آیات وحادیث لکھیں ازانجملہ حدیث حسن ابوسعیدخدری رضی اللہ تعالی عنہ حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
عــــہ : ذکر اعم صرف بنظرکلیہ حاضرہ ہے ورنہ سابق گزرا کہ دوسری طرف سے یہی کلیہ ہے تو دعا وذکرقطعا متساوی اور اب اتحاد ادلہ اوریہی واضح وجلی ۱۲منہ (م)
حوالہ / References &القرآن€ ١٦ / ١١٦
&القرآن€ ۶ / ۵۷
#11360 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
اکثرواذکراﷲ حتی یقولوامجنون ۔
ذکرالہی کی یہاں تك کثرت کرو کہ لوگ مجنون بتائیں ۔
وحدیث حسن عبداﷲ بن بسر رضی اللہ تعالی عنہ سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : لایزال لسانك رطبا من ذکراﷲ ہمیشہ ذکرالہی میں ترزبان رہ۔
حدیث جیدالاسناد ام انس رضی اللہ تعالی عنہا حضوروالا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
اکثری من ذکراﷲ فانك لاتاتین بشیئ احب الیہ من کثرۃ ذکرہ ۔
اﷲ کاذکر بکثرت کرکہ تو کوئی چیزایسی نہ لائے جو خدا کو اپنی کثرت ذکرسے زیادہ پیاری ہو۔
وحدیث ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سرورعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من لم یکثر ذکراﷲ فقد برئ من الایمان
جو ذکرالہی کی کثرت نہ کرے وہ ایمان سے بیزارہوگیا۔
وحدیث صحیح ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا :
کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یذکر اﷲ تعالی علی کل احیانہ ۔
حضورپرنورسیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہروقت ذکرخدا فرمایاکرتے۔
الی غیرذلك من الاحادیث والاثار(ان کے علاوہ متعدد احادیث وآثار ہیں ۔ ت) یہاں صرف بعض آیات اور ان کی تفسیروں پراقتصارہوتاہے جوعموم تمامی اوقات واحوال میں نص ہیں : آیت : قال جل ذکرہ :
فاذكروا الله قیما و قعودا و على جنوبكم-
اﷲ کاذکر کروکھڑے اوربیٹھے اور اپنی کروٹوں پر۔
علمائے کرام اس آیت کی تفسیرمیں لکھتے ہیں کہ جمیع احوال میں ذکرالہی ودعاکی مداومت کرو۔ بیضاوی
حوالہ / References &المستدرك علی الصحیحین کتاب الدعاء €مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۴۹۹
&جامع الترمذی ابواب الدعوات €مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ١٧٣
&دُرمنثوربحوالہ الطبرانی ذکرًاکثیرًا €کے تحت مذکورہے مطبوعہ آیۃ &اﷲ€ العظمی قم ایران ۵ / ۲۰۵
&دُرمنثور بحوالہ المعجم الاوسط ذکرًاکثیرًا €کے تحت مذکورہے مطبوعہ آیۃ &اﷲ€ العظمی قم ایران ۵ / ۲۰۵ ، &الترغیب والترہیب کتاب الذکروالدعاء €مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۲ / ۴۰۱
&سنن ابی داؤد باب فی الرجل یذکراﷲ تعالٰی علٰی غیروضوء €مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۴
&القرآن€ ٤ / ١٠٣
#11361 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
میں ہے :
داوموا علی الذکر فی جمیع الاحوال ای داوموا علی ذکراﷲ تعالی فی جمیع الاحوال
تمام احوال میں ذکرپرمدامت کرو۔ (ت) یعنی تمام احوال میں اﷲ تعالی کے ذکرپر دوام اختیارکرو۔ (ت)
ارشاد العقل السلیم میں ہے :
داوموا علی الذکراﷲ تعالی۔ حافظوا علی مراقبتہ ومناجتہ ودعائہ فی جمیع الاحوال۔
تمام احوال میں اﷲ تعالی کے ذکر پرمداومت کرو اور مراقبہ مناجات اور رب سے دعاکی محافظت کرو۔ (ت)
آیت : قال عزاسمہ :
یایها الذین امنوا اذكروا الله ذكرا كثیرا(۴۱)
اے ایمان والو! اﷲ کاذکر بکثرت کرو۔
علامۃ الوجود مفتی ابوالسعودارشادمیں ارشادفرماتے ہیں : یعم الاوقات والاحوال یہ آیت تمام اوقات واحوال کوعام ہے۔
آیت : قال تعالی شانہ :
فاذكروا الله كذكركم ابآءكم او اشد ذكرا-
اﷲ کاذکرکرو جیسے اپنے باپ دادا کویادکرتے ہوبلکہ اس سے بھی زیادہ ۔
امام نسفی کافی شرح وافی میں فرماتے ہیں : ارید بہ ذکر اﷲ تعالی فی الاوقات کلہا اس
حوالہ / References &انوارالتنزیل المعروف بتفسیر البیضاوی آیہ مذکورہ کے تحت€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٢٠٤
&تفسیر النسفی المعروف بتفسیر المدارك آیہ مذکورہ کے تحت€ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ١ / ٢٤٨
&تفسیر ارشاد العقل السلیم آیہ مذکورہ کے تحت€ مطبوعہ احیاء التراث الاسلامی بیروت ۲ / ۲۲۸
&القرآن€ ٣٣ / ۴۱
&تفسیر ارشاد العقل السلیم آیہ€ مذکورہ کے تحت مطبوعہ احیاء التراث الاسلامی بیروت ٧ / ١٠٦
&القرآن€ ۲ / ۲۰۰
&کافی شرح وافی€
#11362 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
آیت سے یہ مراد کہ ذکرالہی جمیع اوقات میں کرو۔
آیت : قال تبارك مجدہ : و اذكروا الله كثیرا اور بکثرت خدا کاذکرکرو۔ معالم میں ہے : فی جمیع المواطن علی السراء والضراء تمام مواضع میں خوشی وتکلیف میں ۔
آیت۵ : قال تقدس اوصافہ :
و الذكرین الله كثیرا و الذكرت-اعد الله لهم مغفرة و اجرا عظیما(۳۵)
خدا کو بکثرت یادکرنے والے مرد اور بکثرت یاد کرنے والی عورتوں کے لئے اﷲ نے مغفرت اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔
مولنا شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ ماثبت بالسنۃ میں لکھتے ہیں :
لایخفی ان الذکر والتسبیح والتھلیل والدعاء لاباس بہ لانھا مشروعۃ فی کل الامکنۃ و الازمان ۔
پوشیدہ نہیں کہ ذکروتسبیح وتہلیل ودعا میں کچھ مضائقہ نہیں کہ یہ چیزیں وہرجگہ اور ہروقت مشروع ہیں ۔
اﷲاﷲ کیاستم جری ہیں وہ لوگ کہ قرآن وحدیث کی ایسی عام مطلق اجازتوں کے بعد خواہی نخواہی بندگان خدا کو اس کی یادودعا سے روکتے ہیں حالانکہ اس نے ہرگز اس دعا سے ممانعت نہ فرمائی
ﰰ لله اذن لكم ام على الله تفترون(۵۹)
اے حبیب! ان سے پوچھئے کہ اﷲ نے اس کی تمہیں اجازت دی ہے یااﷲ پرجھوٹ باندھتے ہو۔ (ت)
ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔ پس بحمداﷲ آفتاب روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ دعائے مذکور فی السوال قطعا جائزو مندوب اور اس سے ممانعت محض بے اصل و باطل ومعیوب
حوالہ / References &القرآن€ ٨ / ٤٥ و ۶۲ / ۱۰
& € &معالم التنزیل علی ھامش خازن €پ٢١ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵ / ۲۴۵
&القرآن€ ۳۳ / ۳۵
&ماثبت بالسنۃ خاتمہ €کتاب ادارہ نعیمیہ رضویہ لاہور ص٣٢٦
&القرآن€ ۱۰ / ۵۹
#11363 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
والحمدﷲ ھادی القلوب والصلوۃ والسلام علی شفیع الذنوب والہ وصحبہ عدیمی العیوب ماتناوب للشمس الطلوع والغروب امین!
سب تعریف اﷲ کے لئے ہے جو دل کو رہنمائی عطاکرنے والا ہے اور صلوۃ وسلام ہوگناہوں کی شفاعت کرنے والے پر آپ کی آل و اصحاب پرجن کے عیوب معدوم ہیں جب تلك شمس کے لئے طلوع وغروب ہے آمین!(ت)
العیدالثانی وبجودالحبیب حصول الامانی (اﷲ تعالی کی توفیق ہی سے مقاصد کا حصول ہے۔ ت) پہلے وہ فتوی پیش نظررکھ لیجئے کہ مستندین کا حاصل سعی ومبلغ وہم ظاہرہوحاشا اس فتوے میں جواز وعدم جواز کی اصلا بحث نہیں نہ سائل نے اس سے پوچھا نہ مجیب نے ناجائز لکھا بلکہ سوال یوں ہے ماقولھم رحمھم اﷲ تعالی (ان رحمہم اللہ تعالی کاکیاقول ہے۔ ت) اس مسئلہ میں کہ جناب رسول مقبول علیہ الصلوۃ والسلام اور اصحاب وتابعین و تبع تابعین و ائمہ اربعہ رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین بعدنماز عیدین کے دعا مانگتے تھے یا بعد پڑھنے خطبہ عیدین کے کھڑے کھڑے یابیٹھ کریابدون ہاتھ اٹھائے بینوا و افتوا بسند الکتاب توجرواعنداﷲ یحسن الماب(کتاب کی سند کے ساتھ اسے بیان کرکے اﷲ تعالی کے ہاں سے بہتر اجروجزاپاؤ۔ ت)اور جواب یہ ھوالمصوب روایات حدیث سے اس قدر معلوم ہوتاہے کہ آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نمازعید سے فراغت کرکے خطبہ پڑھتے تھے اور بعد اس کے معاودت فرماتے دعامانگنا بعد نمازیاخطبہ کے آپ سے ثابت نہیں اسی طرح صحابہ کرام و تابعین عظام سے ثبوت اس امرکانظرسے نہیں گزرا۔ واﷲ اعلم
حررہ الراجی عفو ربہ القوی ابوالحسنات محمد عبدالحی تجاوزاﷲ عن ذنبہ الجلی والخفی
محمدعبدالحی ابوالحسنات
اقول : وباﷲ التوفیق وبہ العروج علی اوج التحقیق (اﷲ کی توفیق اور تحقیق کی بلندی پراسی سے عروج ہے۔ ت) قطع نظر اس سے محل احتجاج میں کہاں تك پیش ہوسکتاہے حضرات مانعین کو ہرگزمفید نہ ہمیں مضر جواز و عدم کا تو اس میں ذکر ہی نہیں سائل ومجیب دونوں کاکلام ورود وعدم ورود میں ہے پھرمجیب نے صحابہ کرام و تابعین عظام رضی اللہ تعالی عنہم سے ثابت نہ ہونے پرجزم بھی نہ کیا صرف اپنی نظر سے نہ گزرنا لکھا اور ہرعاقل جانتاہے کہ نہیں اور نہ دیکھا میں زمین وآسمان کافرق ہے یہ ان کے جو اکابر ماہران فن حدیث ہیں بارہا فرماتے ہیں ہم نے نہ دیکھی اور دوسرے محدثین اس کا پتادیتے ہیں فقیرنے اس کی متعدد مثالیں اپنے رسالہ صفائح اللجین فی کون التصافح بکفی الیدین میں ذکرکیں پھریہ نہ دیکھنا بھی مجیب خاص اپنابیان کررہے ہیں نہ کہ ائمہ شان نے اس طرح کی تصریح فرمائی کہ ایساہوتاتو نظرسے نہ گزرا کے
#11364 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
عوض اس امام کا ارشاد نقل کرتے خصوصا جبکہ سائل درخواست کرچکاتھا کہ بینوا و افتوابسندالکتاب(کتاب کی سند کے ساتھ بیان کرو اور فتوی دو۔ ت) تو آج کل کے ہندی علماء کانہ دیکھنا نہ ہونے کی دلیل کیونکرہوسکتاہے آخرنہ دیکھا کہ فقیرغفرلہ المولی القدیر نے حدیث صحیح سے اس کا نص صریح ائمہ تابعین قدست اسرارہم سے واضح کردیا والحمدﷲ رب العلمین پھر خصوص جزئیہ سے قطع نظرکیجئے جس کا التزام عقلا ونقلا کسی طرح ضرور نہیں جب تو فقیرنے خود حضور پر نور سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے جس جس طرح اس کا ثبوت روشن کیا منصف غیرمتعسف اس کی قدرجانے گا والحمدﷲ والمنۃ پھر سوال میں تبع تابعین وائمہ اربعہ سے استفسار تھا مجیب نے ان کی نسبت اس قدربھی نہ لکھا کہ نظرسے نہ گزرا اب خواہ ان سے ثبوت نہ دیکھا یاپوری بات کاجواب نہ ہوا بہرحال محل نظر واسناد مستند صرف اس قدر کہ مجیب حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے نفی ثبوت کرتے ہیں اور تقریب یہ کہ حدیثوں میں یہی وارد ہے کہ نماز کے متصل خطبہ اور خطبہ کے متصل معاودت فرماتے تو دعا کا وقت کون سارہا اس تقدیر پرثبوت عدم کا ادعاہوگا دوسرے یہ کہ حدیثوں میں صرف نماز وخطبہ ومعاودت کاذکرہے دعامذکور نہیں یہ عدم ثبوت کادعوی ہوگا اور کلام مجیب سے یہی ظاہرہے کہ ثابت نہیں کہتے ہیں نہ کہ نہ کرنا ہی ثابت ہے اور لفظ “ اسی قدرمعلوم ہوتاہے “ بھی اسی طرف ناظر کہ اگر اس سے اثبات عدم مقصود ہوتا توطرزادا یہ تھی کہ حدیثوں سے صاف ثابت کہ نماز وخطبہ ومعاودت میں فصل نہ تھا پس دعانہ مانگنا ثابت ہوا باینہمہ شاید حضرات مانعین اپنے نفع کے گمان سے کلام مجیب کو خواہ مخواہ محمل اول پرحمل کریں لہذا فقیرغفرلہ المولی القدیر دونوں محمل پرکلام کرتاہے وباﷲ التوفیق۔
محمل اول پریہ کلام خود ہی بوجوہ کثیر باطل :
اولا یہ تو اصلا کسی حدیث میں نہیں کہ حضورپرنورسیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سلام پھیرتے ہی بفورحقیقی معا خطبہ فرماتے تھے اور خطبہ ختم فرماتے ہی بے فصل فورا واپس تشریف لاتے غایت یہ کہ کسی حدیث میں فائے تعقیب آنے سے استدلال کیاجائے گا مگر وہ ہرگز اتصال حقیقی پردال نہیں کہ دو حرف دعا سے فصل کی مانع ہو فواتح شرح مسلم میں فرمایا :
الفاء للترتیب علی سبیل التعقیب من غیر مھلۃ وتراخ یعد فی العرف مھلۃ وتراخیا ۔
فاء ترتیب کے لئے ہے یہ بغیر مہلت وتراخی کے تعاقب کے لئے ہے عرف میں اسے مہلت شمار کیاجاتاہے اور تراخی بھی صحیح ہے۔ (ت)
حوالہ / References &فواتح الرحموت بذیل المستصفی مسئلہ الفاء للترتیب€ مطبوعہ مطبعۃ امیریہ قم ایران ١ / ۲٣٤
#11365 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
یاہذا یہ تدقیقات ضیفہ فلسفیہ نہیں محاورات صافیہ عرفیہ ہیں اگر زید وعدہ کرلے نماز پڑھ کر فورا آتاہوں تونماز کے بعد معمولی دوحرفی دعاہرگز عرفا یاشرعا مبطل فور وموجب خلاف وعدہ نہ ہوگی مسئلہ سجود تلاوت صلاتیہ میں سناہی ہوگا کہ دو آیتیں بالاتفاق اور تین علی الاختلاف قاطع فورنہیں ۔
ثانیا دعاتابع ہے اور توابع فاصل نہیں ہوتے واجبات میں ضم سورت سناہوگا مگرآمین فاصل نہیں کہ تابع فاتحہ ہے حضورپرنورسیدیوم النشور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے تسبیح حضرت بتول زہرا صلوات اﷲ وسلامہ علی ابیہا الکریم وعلیہا کی نسبت فرمایا :
معقبات لایخیب قائلھن ۔ رواہ احمدومسلم والترمذی والنسائی عن کعب بن عجرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
کچھ کلمات نماز کے ابعد بلافاصلہ کہنے کے ہیں جن کا کہنے والا نامرادنہیں رہتا۔ اسے امام احمد مسلم ترمذی اور نسائی نے حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔
بااینہمہ علمافرماتے ہیں اگرسنن بعدیہ کے بعد پڑھے تعقیب میں فرق نہ آئے گا کہ سنن توابع فرائض سے ہیں درمختار میں ہے :
یکرہ تاخیرالسنۃ الابقدر اللھم انت السلام الخ
سنتوں میں اللھم انت السلام الخ کی مقدار سے زائد تاخیرمکروہ ہے۔ (ت)
ردالمحتارمیں ہے :
لما رواہ مسلم والترمذی عن عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنھا قالت کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لایقعد الابمقدار مایقول اللھم انت السلام ومنك السلام تبارکت یاذا الجلال والاکرام واما ماورد من الاحادیث فی الاذکار عقیب الصلوۃ فلا دلالۃ فیہ علی الاتیان بھا قبل السنۃ
کیونکہ مسلم اور ترمذی نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کیاہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم صرف اللھم انت السلام ومنك السلام تبارکت یاذاالجلال والاکرام کی مقدار ہی بیٹھتے تھے اور دیگر روایات میں جونماز کے بعد اذکار کا ذکرہے اس میں یہ دلالت نہیں کہ وہ اذکار سنن سے پہلے ہوتے تھے بلکہ بعد میں بھی بجالائے جاسکتے ہیں
حوالہ / References &سنن النسائی نوع آخر من عددالتسبیح€ مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۱۹۸
&درمختار فصل واذا ارادوا الشروع الخ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۷۹
#11366 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
بل یحمل علی الاتیان بھا بعدھا لان السنۃ من لواحق الفریضۃ وتوابعھا ومکملاتھا فلن تکن اجنبیۃ عنہا فمایفعل بعدھا یطلق علیہ انہ عقیب الفریضۃ ۔
کیونکہ سنتیں فرائض کے لواحقات توابع اور ان کی تکمیل کاسبب ہیں لہذا یہ فرائض سے اجنبی نہیں ہیں جو ان سنن کے بعد ہو اس پریہ اطلاق کیاجاسکتاہے کہ وہ فرائض کے بعد ہوا۔ (ت)
ثالثا مانا کہ مفاد “ فا “ اتصال حقیقی ہے تاہم خوب متنبہ رہناچاہئے کہ حضورپرنورسیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے نوبرس عید کی نمازیں پڑھی ہیں تو احادیث متعددہ کا وقائع متعددہ پرمحمول ہوناممکن پس اگرایك حدیث صلوۃ وخطبہ اوردوسری خطبہ وانصراف میں وقوع اتصال پردلالت کرے اصلا بکارآمدنہیں کہ ایك بار بعد خطبہ دوبارہ بعدنماز دعا کا عدم ثابت نہ ہوگا تو (یوں وہ) مقصود سے منزلوں دورہے کما لایخفی۔
رابعا مسلم کہ ایك ہی حدیث میں دونوں اتصال مصرح ہوں تاہم بلفظ دوام تواصلا کوئی حدیث نہ آئی ومن ادعی فعلیہ البیان (اور جو اس کادعوی کرتاہے وہ دلیل لائے۔ ت) اور ایك آدھ جگہ صلی فخطب فعاد (نمازپڑھائی پس خطبہ دیا اور لوٹ گئے۔ ت) ہوبھی تو واقعہ حال ہے اور وقائع حال کے لئے عموم نہیں کمانصواعلیہ (جیسا کہ علماء نے اس پرتصریح کی ہے۔ ت) اور ہم قائل وجوب ولزوم نہیں کہ ترك مرۃ ہمارے منافی ہو اور اگر لفظ کان یصلی فیخطب فیعود(آپ نماز پڑھاتے خطبہ دیتے اور لوٹ جاتے۔ ت) بھی فرض کرلیں توہنوز اس کاتکرار پردلیل ہونا محل نزاع نہ کہ دوام خود مجیب اپنے رسالہ غایۃ المقال میں کلام حافظ ابوزرعہ عراقی :
ان فی الصحیحین وغیرھما عن سعید بن یزید قال سألت انس بن مالك کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یصلی فی نعلیہ فقال نعم وظاھرہ ان ھذاکان شانہ وعادتہ المستمرۃ دائما الخ
بخاری و مسلم وغیرہما میں حضرت سعیدبن یزید رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا کہ رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نعلین کے اندرنماز ادافرماتے تھے انہوں نے فرمایا : ہاں اس کے ظاہرسے یہی محسوس ہوتاہے کہ آپ کا دائمی معمول تھا الخ(ت)
نقل کرکے لکھتے ہیں :
حوالہ / References &ردالمحتار فصل واذا ارادوا الشروع الخ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۹۱
&رسالہ غایۃ المقال من مجموعہ رسائل عبدالحی فصل فی الصلٰوۃ€ مطبع چشمۂ فیض لکھنؤ ص١٠٩
#11367 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
ماذکرہ من دلالۃ حدیث انس علی کون العادۃ النبویۃ مستمرۃ بالصلوۃ فی النعال منظورفیہ لعدم وجود مایدل علیہ فیہ ولعلہ استخرجہ من لفظ کان وھو استخراج ضعیف لما نص علیہ الامام النووی فی کتاب صلوۃ اللیل من شرح صحیح مسلم من ان لفظ کان لایدل علی الاستمرار والدوام فی عرفھم اصلا ۔
حدیث انس سے ان کا اس پراستدلال کہ نعلین میں نماز اداکرنا حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کی عادت دائمی تھی محل نظر ہے کیونکہ الفاظ حدیث میں ایسی کوئی شئ موجودنہیں شاید انہوں نے لفظ کان سے استنباط کیاہو حالانکہ یہ استنباط ضعیف ہے کیونکہ امام نووی نے شرح مسلم کے کتاب صلوۃ اللیل میں تصریح کی ہے کہ لفظ کان محدثین کے عرف میں ہرگز دوام و استمرار پردلالت نہیں کرتا۔ (ت)
اس مسئلہ کی تمام تحقیق فقیرکے رسالہ التاج۱۳۰۵ھ المکلل فی انارۃ مدلول کان یفعل میں ہے۔
خامسا یہ سب تو بالائی کلام تھا احادیث پرنظرکیجئے تو وہ اور ہی کچھ اظہارفرماتی ہیں صحاح ستہ وغیرہا خصوصا صحیحین میں روایات کثیرہ بلفظ ثم وارد ثم فاصلہ ومہلت چاہتاہے تو ادعاکہ احادیث میں اتصال ہی آیا محض غلط بلکہ حرف اتصال اگردو ایك حدیث میں ہے تو کلمہ انفصال آٹھ دس میں اب روایات سنئے :
حدیث۱ : صحیحین میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے ہے :
واللفظ لمسلم قال شھدت صلوۃ الفطر مع نبی اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و ابی بکر وعمر و عثمن رضی اﷲ تعالی عنھم فکلھم یصلیھا قبل الخطبۃ ثم یخطب ۔
مسلم کے الفاظ یہ ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم حضرت ابوبکرصدیق حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہم کی معیت میں نمازعیدالفطر اداکی ان سب نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا۔ (ت)
حدیث۲ : صحیح بخاری میں حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے ہے :
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یصلی فی الاضحی والفطر ثم یخطب بعد الصلوۃ ۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم عیدالاضحی اور عیدالفطر کی نمازپڑھاتے پھرنماز کے بعد خطبہ ارشادفرماتے۔ (ت)
حوالہ / References &رسالہ غایۃ المقال من مجموعہ رسائل عبدالحی فصل فی الصلٰوۃ€ مطبع چشمۂ فیض لکھنؤ ص۱۰٩
&صحیح مسلم کتاب العیدین€ مطبوعہ نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ٢۸۹
&صحیح البخاری کتاب العیدین€ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ١٣۱
#11368 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
حدیث۳ : اسی کے باب استقبال الامام الناس فی خطبۃ العید میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے :
خرج النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یوم اضحی فصلی العید رکعتین ثم اقبل علینا بوجھہ وقال الحدیث ۔
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اضحی کے دن تشریف لائے پھر عیدکی دورکعات پڑھائیں پھر آپ نے ہماری طرف رخ انورکیا اور خطبہ ارشاد فرمایا۔ (ت)
حدیث : اسی میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے :
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یصلی یوم النحر ثم خطب الحدیث ۔
بلاشبہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے عیدالاضحی کے روز نمازپڑھائی پھرخطبہ دیا۔ (ت)
حدیث۵ : اسی میں حضرت جندب بن عبداﷲ بجلی رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے :
صلی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یوم النحر ثم خطب ثم ذبح ۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے قربانی کے دن نماز پڑھائی پھرخطبہ دیا پھرقربانی کی(ت)
حدیث : جامع ترمذی میں بافادہ تحسین وتصحیح حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے ہے :
کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و ابو بکر وعمریصلون فی العیدین قبل الخطبۃ ثم یخطبون ۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم حضرت ابوبکراور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہما عیدین کی نمازخطبہ سے پہلے پڑھاتے تھے پھرخطبہ دیتے۔ (ت)
حدیث۷ : سنن نسائی میں حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے :
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یخرج یوم العید فیصلی رکعتین ثم یخطب ۔
بلاشبہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم عیدکے دن باہرتشریف لاتے آپ دو رکعتیں پڑھاتے پھرخطبہ دیتے (ت)
حوالہ / References &صحیح البخاری کتاب العیدین€ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ١٣۳
&صحیح البخاری کتاب العیدین€ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ١۳٤
&صحیح البخاری کتاب العیدین€ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ١۳٤
&جامع الترمذی باب فی صلٰوۃ العیدین€ مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ١ / ٧۰
&سنن نسائی کتاب صلٰوۃ العیدین€ مطبوعہ نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ١ / ۲۳٤
#11369 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
یہ سات۷ حدیثیں ظاہرکرتی ہیں کہ حضورپرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور صدیق وفاروق وعثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہم نمازعیدین کاسلام پھیرکرکچھ دیرکے بعد خطبہ شروع فرماتے۔
حدیث۸ : صحیحین میں حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے :
واللفظ للبخاری کان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یخرج یوم الفطر والاضحی الی المصلی فاول شیئ یبدؤ بہ الصلوۃ ثم ینصرف فیقوم مقابل الناس والناس جلوس علی صفوفھم فیعظھم ویوصیھم فان کان یرید ان یقطع بعثا قطعہ اویامربشیئ امر بہ ثم ینصرف ۔
الفاظ بخاری یہ ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم عیدالفطر اور اضحی کے دن باہرعیدگاہ میں تشریف لاتے سب سے پہلے آپ نماز پڑھاتے پھرلوگوں کی طرف متوجہ ہوتے لوگ اپنی اپنی صفوں میں بیٹھے رہتے آپ انہیں وعظ ونصیحت فرماتے اگرآپ نے کسی لشکر کو بھیجنا ہوتاتو روانہ فرماتے اور کسی کاحکم دینا ہوتا توحکم فرمادیتے پھرآپ واپس تشریف لاتے۔ (ت)
یہ حدیث خطبہ ومعاودت میں فصل بتاتی ہے۔
حدیث۹ : بخاری و مسلم ودارمی و ابوداؤد ونسائی وابن ماجہ حضرت حبرالامۃ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی :
قال خرجت مع النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یوم فطر او اضحی فصلی ثم خطب ثم اتی النساء فوعظھن وذکرھن وامرھن بالصدقۃ ۔
فرمایا میں فطر اور اضحی کے روز نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ نکلا آپ نے نمازپڑھائی پھرخطبہ دیاپھرخواتین کے اجتماع میں تشریف لے گئے انہیں وعظ ونصیحت فرمائی اور انہیں صدقہ کاحکم دیا۔ (ت)
یہ حدیث دونوں جگہ فصل کااظہار کرتی ہے سبحن اﷲ! پھرکیونکرادعاکرسکتے ہیں کہ نماز وخطبہ وخطبہ ومعاودت میں ایسااتصال رہا جو عدم دعاپر دلیل ہوا اگرکہئے ثم کبھی مجازا بحالت عدم مہلت بھی آتاہے قال الشاعر :
کھزالردینی تحت العجاج
جری فی الانابیب ثم اضطرب
(اس کی حرکت اس ردینی نیزے کی طرح ہے جو میدان کارزارمیں اڑنے والے غبارمیں حرکت کرتے ہوئے پوروں پرلگتاہے توجنبش کرتاہے)
حوالہ / References &صحیح البخاری کتاب العیدین باب خروج الصبیان€ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ١۳۱
&صحیح البخاری کتاب العیدین باب خروج الصبیان€ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ١۳۳
&اوضح المسالك الی الفیہ ابن مالك بحث لفظ ثمّ€ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ٤۳ ، &شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ فرع سادس من الفصل الثانی€ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۸ / ۲٩
#11370 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
اقول : تم مستدل ہو اور مستدل کو احتمال کافی نہیں خصوصا خلاف اصل کمالایخفی علی ذی عقل (یہ کسی صاحب عقل پر پوشیدہ نہیں ۔ ت) معہذا ف بارہا مجرد ترتیب بے معنی اتصال وتعقیب کے لئے آتی ہے امام جلال الدین سیوطی اتقان میں زیربیان ف فرماتے ہیں :
قدتجئ لمجرد الترتیب نحو فراغ الی اھلہ فجاء بعجل سمین٭ فقربہ الیھم فاقبلت امرأتہ فی صرۃ فصکت وجھھا۔ فالزاجرات زجرا٭ فالتالیات ۔
کبھی کبھی فاء محض ترتیب کے لئے آتی ہے مثلا ان آیات میں (ترجمہ آیات) پھراپنے گھرگیا توایك فربہ بچھڑا لے آیا پھر اسے ان کے پاس رکھا۔ اس پراس کی بیوی چلاتی آئی پھراپناماتھا ٹھونکا۔ پھرقسم ان کی کہ جھڑك کرچلائیں ۔ پھران جماعتوں کی کہ قرآن پڑھیں ۔ (ت)
بلکہ مسلم الثبوت میں ہے :
الفاء للترتیب علی سبیل التعقیب ولوفی الذکر ۔
فاء بطریق تعقیب ترتیب کے لئے آتی ہے خواہ وہاں ترتیب ذکری ہو۔
توایك ف کامجرد ترتیب یاترتیب فی الذکر مجازپرحمل اولی ہے یادس ثم کامجازپر۔
سادسا یہ عدم فصل بطور سلب عموم لیتے ہو توہمیں کیامضراور تمہیں کیامفید کہ ہمیں ایجاب کلی کی ضرورت نہیں کہ سلب جزئی ہمارے خلاف ہو اور بطورعموم سلب تودونوں جگہ اس کابطلان ثابت و واضح۔ صحیح حدیثیں تنصیص کررہی ہیں کہ بالیقین دونوں جگہ فصل واقع ہوا نمازوخطبہ میں وہ حدیث عــــہ () کہ ابوداؤد و
عــــہ اقول : یہ حدیث صحیح ہے
رواہ ابوداؤد عن محمد بن الصباح البزار صدوق والنسائی عن محمد بن یحیی بن ایوب ثقۃ وابن ماجۃ عن ھدیۃ بن عبدالوھاب صدوق وعمربن رافع البجلی
اس کو ابوداؤدنے محمدبن الصباح البزارسے (جوصادق ہیں )اور نسائی نے محمد بن یحیی بن ایوب سے (جوثقہ ہیں ) اور ابن ماجہ نے ہدیہ بن عبدالوہاب سے(جوکہ صدوق ہیں ) اور عمربن رافع البجلی (جوکہ ثقہ ہیں ) تمام نے(باقی اگلے صفحہ پر)
حوالہ / References &الاتقان النوع الاربعون فی معرفۃ معانی الادوات الخ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ۱٦٦
&مسلم الثبوت مسئلہ الفاء للترتیب€ مطبوعہ مطبع انصاری دہلی ص٦١
#11371 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
نسائی وابن ماجہ نے حضرت عبداﷲ بن سائب رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی :
واللفظ لابن ماجۃ قال حضرت العید مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فصلی بنا العید ثم قال قدقضینا الصلوۃ فمن احب ان یجلس للخطبۃ فلیجلس ومن احب ان یذھب فلیذھب ۔
ابن ماجہ کے الفاظ یہ ہیں میں عید میں حضورپرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ حاضرہوا حضور نے نمازعید پڑھائی پھرفرمایا ہم نماز توپڑھ چکے اب جوسننے کے لئے بیٹھنا چاہے بیٹھے اور جوجاناچاہے چلاجائے۔
اگرثم کاخیال نہ بھی کیجئے تویہ کلام نماز وخطبہ کے درمیان فاصل تھا توہمیشہ اتصال حقیقی ہوناباطل ہوا اور خطبہ ومعاودت میں تو فصل کثیر اسی حدیث نہم سے ثابت جوعنقریب گزری جس کی ایك روایت بخاری و مسلم وابوداؤدو نسائی کے یہاں یوں ہے :
صلی (یعنی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم) ثم خطب ثم اتی النساء ومعہ بلال فوعظہن وذکرھن وامرھن بالصدقۃ فرایتھن یھوین بایدیھن یقذفنھن فی ثوب بلال ثم انطلق ھو وبلال الی بیتہ ۔
یعنی حضورسیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے نمازعید پڑھی پھربعدہ خطبہ فرمایا پھربعدازاں صفوف زنان پرتشریف لاکرانہیں وعظ و ارشادکیااور صدقہ کا حکم دیا تو میں نے دیکھا کہ بیبیاں اپنے ہاتھوں سے گہنا اتاراتارکربلال رضی اللہ تعالی عنہ کے کپڑے میں ڈالتی تھیں
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ثقۃ ثبت کلھم قالوا ثنا الفضل بن موسی ثقۃ ثبت ثنا ابن جریح عن عطاء وھما ماھما عن عبداﷲ بن السائب رضی اﷲ تعالی عنھما لہ ولابیہ صحبتہ فتصویب دس وابن معین ارسالہ غیرمتاثر عندنا بعد ثقۃ الرجال فالحدیث صحیح علی اصولنامنہ(م)
کہاکہ ہمیں فضل بن موسی (جوثقہ اور مضبوط ہیں ) انہوں نے کہا ہمیں ابن جریج نے عطاء سے (یہ دونوں مقام میں مسلم ہیں ) نے عبداﷲ بن السائب رضی اللہ تعالی عنہ (ان کو اور ان کے باپ کو صحبت ہے) پس ابوداؤد اور نسائی کی تصویب ہوئی اور ابن معین کارجال کے ثقہ ہونے کے بعد اس کومرسل بنانامتاثر نہیں کرے گا پس ہمارے ہاں یہ حدیث صحیح ہے منہ(ت)
حوالہ / References &السنن لابن ماجہ ماجاء فی صلٰوۃ العیدین€ مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص٩۳
&صحیح البخاری کتاب العیدین ، باب العلم بالمصلی€ مطبوعہ نورمحمدقدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ١٣۳
#11372 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
پھرحضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور بلال رضی اللہ تعالی عنہ کاشانہ نبوت کوتشریف فرماہوئے۔ دیکھو خطبہ کے کتنی دیربعد معاودت ہوئی یہ وعظ وارشاد کہ بیبیوں کوفرمایاگیا جزء خطبہ نہیں بلکہ اس سے جداہے صحیحین میں روایت جابربن عبداﷲ رضی اللہ تعالی عنہما صاف فرماتے ہیں کہ :
ثم خطب الناس بعد فلما فرغ نبی اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نزل فاتی النساء فذکرھن الحدیث۔ یعنی پھربعد نماز حضورپرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے خطبہ فرمایا جب نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم خطبہ سے فارغ ہوئے اترکربیبیوں کے پاس تشریف لائے اور انہیں تذکیرفرمائی الحدیث۔
علامہ زرقانی شرح مواہب میں ناقل :
ھذہ الروایۃ مصرحۃ بان ذلك کان بعد الخطبۃ ۔
یہ روایت اس پرتصریح ہے یہ عمل خطبہ کے بعد تھا۔ (ت)
امام نووی منہاج میں فرماتے ہیں :
انما نزل الیھن بعد فراغ خطبۃ العید ۔
آپ خواتین کے اجتماع میں خطبہ عیدکے بعد تشریف لے گئے تھے۔ (ت)
پس بحمداﷲ تعالی ماہ نیم ماہ مھر نیم روز کی طرح روشن ہوا کہ اس تقریر سے عدم دعا کا ثبوت چاہنا محض ہوس خام اور اس محمل پریہ کلام خود باطل وبے نظام والحمدﷲ ولی الانعام (سب تعریف اﷲ کے لئے جوانعام کامالك ہے۔ ت)
اب محمل دوم کی طرف چلئے جس کا یہ حاصل کہ حدیثوں میں صرف نماز وخطبہ کاذکرہے ان کے بعد نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کادعا مانگنا مذکورنہ ہوا۔
اقول : یہ حضرات مانعین کے لئے نام کوبھی مفیدنہیں سائل نے اس فعل خاص بخصوصیت خاصہ کا سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے صدورپوچھاتھا کہ کس طور پرہوا اس کا جواب یہی تھا کہ حضوراقدس
حوالہ / References &صحیح مسلم کتاب العیدین€ مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ٢۸۹
&شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ فرع سادس€ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۸ / ٢۹
&منہاج نووی شرح مسلم مع مسلم کتاب صلٰوۃ العیدین€ مطبوعہ نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ٢٨۹
#11373 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے اس فعل خاص کی نقل جزئی نظر سے نہ گزری مگر اسے عدم جواز کافتوی جان لینا محض جہالت بے مزہ۔
اولا عیداول میں گزراکہ حدیث ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا اپنے عموم میں حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے اس دعا کاثبوت فعلی بتارہی ہے۔
ثانیا ثبوت فعلی نہ ہو تو قولی کیاکم ہے بلکہ من وجہ قول فعل سے اعلی واتم ہے۔ اب عید اول کی تقریریں پھریادکیجئے اور حدیث ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما تو بعد نمازعید خود رب مجید جل وعلا کا اپنے بندوں سے تقاضائے دعافرمانا بتارہی ہے اس کے بعد اور کسی ثبوت کی حاجت کیاہے اگرکہئے وہ حدیث ضعیف ہے اقول : فضائل اعمال میں حدیث ضعیف بالاجماع مقبول اور اثبات استحباب میں کافی ووافی ہے کما نص علیہ العلماء الفحول (جیسا کہ اکابرعلماء نے اس پرتصریح فرمائی ہے۔ ت) خود مجیب کے آخرجلددوم کے فتاوی میں ہے :
حدیث ضعیف برائے استحباب کافی ست چنانچہ امام ہمام درفتح القدیر درکتاب الجنائز می نویسند والاستحباب یثبت بالضعیف غیرالموضوع انتھی ۔
حدیث ضعیف استحباب کے لئے کافی ہوتی ہے جیسا کہ ابن ہمام نے فتح القدیر کے باب الجنائز میں لکھا ہے کہ حدیث ضعیف غیرموضوع سے مستحب ہوناثابت ہوجاتاہے انتہی (ت)
ثالثا جب شرع مطہر سے حکم مطلق معلوم کہ جواز واستحباب ہے توہرفرد کے لئے جداگانہ ثبوت قولی یافعلی کی اصلا حاجت نہیں کہ باجماع واطباق عقل ونقل حکم مطلق اپنی تمام خصوصیات میں جاری وساری اطلاق حکم کے معنی ہی یہ ہیں کہ اس ماہیت کلیہ یافرد منتشر کاجہاں وجود ہو حکم کاورود ہو اور فردیت بے خصوصیت محال اور وجود عینی وتعین متساوق تو جس قدر خصوصیات وتعینات معقول ہوں سب بالیقین اسی حکم مطلق میں داخل جب تك کسی خاص کا استثناء شرع مطہر سے ثابت نہ ہو اس قاعدہ جلیلہ کی تحقیق مبین حضرت ختام المحققین امام المدققین حجۃ اﷲ فی الارضین سیدنا الوالد قدس سرہ الماجد نے کتاب مستطاب اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد میں افادہ فرمائی من شاء فلیتشرف بمطالعتہ(جوچاہے اس کے مطالعہ کا شرف حاصل کرے۔ ت) یہاں اسی قدر کافی کہ خود حضرات وہابیہ کے امام ثانی ومعلم اول میاں اسمعیل دہلوی رسالہ بدعت میں لکھتے ہیں :
حوالہ / References &مجموعہ فتاوٰی محمدعبدالحی کتاب الصلٰوۃ€ مطبوعہ مطبع یوسفی لاہور ۱ / ٢٤۸
#11374 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
درباب مناظرہ درتحقیق حکم صورت خاصہ کسے کہ دعوے جریان حکم مطلق درصورت خاصہ مبحوث عنہا می نماید ہمانست متمسك باصل کہ دراثبات دعوے خود حاجت بدلیلے ندارد ودلیل اوہماں حکم مطلق ست وبس ۔
مناظرہ میں کسی صورت خاصہ کے ثبوت کے لئے یہ دعوی کہ حکم مطلق ہے اور اس کا اطلاق صورت خاصہ پر بھی ہوتاہے اصل کے ساتھ استدلال ہے کیونکہ اصل کے ساتھ استدلال میں دلیل کی حاجت نہیں ہوتی یہی دلیل کافی ہے کہ حکم مطلق ہے۔ (ت)
رابعا ہم صدرجواب میں حضرت ائمہ تابعین سے اس دعا کا ثبوت روایت کرآئے پھر حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ثبوت نہ ہونے کومانعین کس منہ سے منع ٹھہراسکتے ہیں کہ ان کے نزدیك تشریح احکام تابعین تك باقی رہتی اور ان کے بعد منقطع ہوتی ہے پھر قرن اول سے عدم ثبوت کیامضرومنافی ہے۔
خامسا ہرعاقل جانتاہے کہ ادعائے ثبوت میں قابل جزم وتصدیق صرف عدم وجدان قائل ہے اور عدم وجدان عدم وجود کومستلزم نہیں خصوصا ابنائے زماں میں ۔ اور امر واضح ہے اور سبرفاضح۔ اورگزرا اشارہ اور آئےگا دوبارہ۔ ہم نے اس کاکچھ بیان اپنے رسالہ صفائح اللجین وغیرہا میں لکھا یہاں اتناہی بس ہے کہ خودمجیب اپنی کتاب السعی المشکورفی ردالمذھب الماثور میں لکھتے ہیں : “ نفی رؤیت سے نفی وجود لازم نہیں نظائر اس کے بکثرت ہیں کم نہیں منجملہ ان کے حدیث عائشہ ہے جو صحیح بخاری وغیرہ میں مروی ہے :
مارأیت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یسبح سبحۃ الضحی وانی لاسبحھا انتھی۔
میں نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کونماز چاشت اداکرتے نہیں دیکھا اور میں اداکرتی ہوں انتہی(ت)
جب ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کے نزدیك عدم ثبوت عدم ثبوت واقعی کومستلزم نہ ہوا توزید وعمر و من وتوکس شمار وقطارمیں ہیں ۔
سادسا عدم ثبوت مان بھی لیں تو اس کاصرف یہ حاصل کہ منقول نہ ہوا پھر عقلاء کے نزدیك عدم نقل نقل عدم نہیں یعنی اگرکوئی فعل بخصوصہ حضورپرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے منقول نہ ہوتو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کیابھی نہ ہو امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں :
حوالہ / References &رسالہ بدعت میاں اسمعیل دہلوی€
&کتاب السعی المشکور لعبدالحی بحث €اسکی کہ نفی رؤیت سے نفی وجود لازم نہیں مطبع چشمۂ فیض لکھنؤ ص۱۱۳
#11375 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
عدم النقل لاینفی الوجود (عدم نقل نفی وجود کومستلزم نہیں ۔ ت)خود مجیب اپنی سعی مشکورمیں تنزیہہ الشریعۃ امام ابن عراق سے نقل کرتے ہیں : عدم الثبوت لایلزم منہ اثبات العدم (عدم ثبوت سے اثبات عدم لازم نہیں آتا۔ ت)
سابعا خادم حدیث جانتاہے کہ بارہا رواۃ حدیث امورمشہورہ معروفہ کوچھوڑجاتے ہیں اور ان کا وہ ترک دلیل عدم نہیں ہوتا ممکن کہ یہاں بھی بربنائے اشتہار حاجت ذکرنہ جانی ہو اس اشتہار کاپتا اس حدیث صحیح سے چلے گا جوہم نے صدرکلام میں روایت کی کہ جب تابعین عظام میں بعدنمازعیدین دعاکارواج تھا توظاہرا انہوں نے یہ طریقہ انیقہ صحابہ کرام اور صحابہ کرام نے حضورسیدالانام علیہ علیہم الصلوۃ والسلام سے اخذکیا حضرات مانعین اگردیانت پرآئیں تو سچ سچ بتادیں گے کہ عیدین کے قعدہ اخیرہ میں خود بھی دعا و درود پڑھتے اور اسے جائز و مستحب جانتے ہیں اس کی خاص نقل حضورپرنور سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے دکھادیں یااپنے بدعتی ہونے کااقرارکریں اور اگرفرائض پرقیاس یااطلاقات سے تمسك کرتے ہیں تو یہاں کیوں یہ طرق نامقبول ٹھہرتے ہیں واﷲ الموفق۔
ثامنا نقل عدم بھی سہی پر وہ نقل منع نہیں ۔ اﷲ عزوجل نے فرمایاہے کہ و ما اتىكم الرسول فخذوه-و ما نهىكم عنه فانتهوا- جورسول دے وہ لو اور جس سے منع فرمائے باز رہو۔ یہ نہیں فرمایا کہ مافعل الرسول فخذوہ ومالم یفعل فانتھوا رسول جوکرے کرو اور جونہ کرے اس سے بچو کہ شرعا یہ دونوں قاعدے منقوض ہیں ۔ امام الوہابیہ کے عم نسب وپدر علم وجدطریقت شاہ عبدالعزیزصاحب دہلوی تحفہ اثناعشریہ میں فرماتے ہیں :
نکردن چیزے دیگرست ومنع فرمودن چیزے دیگر ۔
کسی چیزکانہ کرنا اورشئ ہے اور منع کرنا اور شئ ہے۔ (ت)
تاسعا اگرمجرد عدم نقل یاعدم فعل مستلزم ممانعت ہو توکیاجواب ہوگا شاہ ولی اﷲ اور ان کے والد شاہ عبدالرحیم صاحب اور صاحب زادے شاہ عبدالعزیزصاحب اور امام الطائفہ میاں اسمعیل اور ان کے
حوالہ / References &فتح القدیر کتاب الطہارۃ€ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ١ / ٢۰
&کتاب السعی المشکور فی رد المذہب المشہور لعبدالحی ضعیف روات و جہالت الخ€ مطبع چشمۂ فیض لکھنؤ ص١۹۷
& القرآن€ ٥۹ /۷
&تحفہ اثناعشریہ باب دہم مطاعن ابوبکر€ & رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ €سہیل اکیڈمی لاہور ص٢٦٩
#11376 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
پیرسید احمد اور شیخ السلسلہ جناب شیخ مجددصاحب اور عمائد سلسلہ مرزا مظہر صاحب وقاضی ثناء اﷲ صاحب وغیرہم سے جنھوں نے اذکار و اشغال و اوراد و غیرہا کے صدہا طریقے احداث وایجاد کئے اور ان کے محدث و مخترع ہونے کے خود اقرار لکھے پھر انھیں سبب قرب الہی و رضائے ربانی جانا کئے اور خود عمل میں لاتے اوروں کو ان کی ہدایت وتلقین کرتے رہے۔ شاولی اﷲ قول الجمیل میں لکھتے ہیں :
لم یثبت تعین الاداب ولاتلك الاشغال ۔
نہ یہ تعین آداب ثابت ہے اور نہ یہ اشغال ۔ (ت)
مرزا جان جاناں صاحب مکتوب اا میں فرماتے ہیں :
ذکر جہر یا کیفیات مخصوصہ ونیز مراقبات نہ اطوار معمولہ کہ درقرون متأخرہ رواج یا فتہ از کتاب و سنن ماخوذ نیست بلکہ حضرات مشائخ بطریق الہام واعلام ازمبد ءفیاض اخذ نمودہ اند و شرع ازاں ساکت است وداخل دائرہ اباحت وفائدہ دراں متحقق وانکار آں ضرورتے ۔
ذکر بالجہر مخصوص کیفیات کے ساتھ اس طرح اطوار معمول کے ساتھ مراقبات جو متاخرین کے دور میں رواج پاچکے ہیں یہ کتاب وسنت سے ماخوذ نہیں بلکہ حضرات مشائخ نے بطریق الہام واعلام مبدء فیاض سے حاصل کئے ہیں اور شریعت ان کے بارے میں خاموش ہے اور یہ دائرہ اباحت میں داخل اور ان کے فوائد ہیں نقصان کوئی نہیں ۔ (ت)
فقیر غفراﷲ تعالی لہ نے اس کی قدر ے تفصیل اپنے رسالہ انھار الانوار من یم صلوۃ الاسرار ( ھ) ذکر کی وباﷲ التوفیق۔
عاشرا ان سب صاحبوں سے درگزر یے خود وہ عالم جن کا فتوی اس مسئلہ میں تمھارا مبلغ استناد و منتہائے استمداد ہے یعنی مولوی لکھنوی مرحوم انھیں کے فتاوی کی تصریحات جلیہ تنصیصات قویہ دیکھئے کہ ان کے اصول فروع کس درجہ تمھارے فروع واصول کے قاطع و قامع ہیں پھر ان مسائل میں ان کا دامن تھامنا چراغ خرد کا صرصرجہل سے سامنا عقل وہوش سے لڑائی ٹھاننا نافع ومضر میں فرق نہ جاننا نہیں تو کیا ہے۔ میں یہاں ان کی صرف دو عبارتیں نقل کروں گا جو حضرات وہابیہ کے اسی مغالطہ عامۃ الورود یعنی حدوث خصوص اور قرون ثلثہ سے عدم ورود کو دلیل منع جاننے کی قاطع و فاضح ہیں اور وہ بھی صرف اسی مجموعہ فتاوی نہ ان کے دیگر رسائل سے تاکہ سب پر ظاہر ہو ع
حوالہ / References &القول الجمیل مع شفاء العلیل فصل€١١ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص١٧٣
&مکتوبات مرزا مظہر جانجاناں از کلمات طیبات مکتوب€١١ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص ٢٣
#11377 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
کہ باکہ باختہ عشق درشب دیجور
( تونے اندھیری رات میں کس سے عشق بازی کی )
پھر ان میں بھی قصد استیعاب نہیں بلکہ صرف چند عبارتیں پیش کروں گا بعض مفید ضوابط و اصول اور بعض میں فروع قاطعہ اصول فضول واﷲ المستعان علی کل جہول۔
الاصول ___ عبارت : مجموعہ فتاوی جلد اول کے صفحہ پر علامہ سید شریف کے حواشی مشکوۃ سے استنادا نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے حدیث :
من احدث فی امرنا ھذا مالیس منہ فھو رد ۔
جس نے ہمارے امر میں نئی ایجاد کی وہ اس میں سے نہ تھی وہ مردود ہوگی ۔ (ت)
کی شرح میں فرمایا :
المعنی ان من احدث فی الاسلام رأیا لم یکن لہ من الکتاب والسنۃ سند ظاھر اوخفی ملفوظ او مستنبط فھو مردود علیہ انتھی ۔
یعنی حدیث کے یہ معنی ہیں کہ جو شخص دین میں ایسی رائے پیدا کرے جس کے لئے قرآن وسنت میں ظاہر یا پوشیدہ صراحۃ یا استنباطا کسی طرح کی سندنہ ہو وہ مردود ہے انتہی ۔
تو صاف ثابت ہوا کہ قرون ثلثہ سے ورود خصوصیت زنہار ضرور نہیں بلکہ عوام واطلاق اباحت میں دخول بسند کافی ہے کما ھو مذھب اھل الحق ( جیسا کہ اہل حق کا مذہب ہے ۔ ت)
عبارت : اسی كے صفحہ پر امام ابن حجر مکی کی فتح مبین شرح اربعین سے ناقل :
المرادمن قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وعلی الہ وسلم من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ ماینا فیہ اولا یشھدلہ قواعد الشرع والادلۃ العامۃ انتھی ۔
یعنی حدیث کی مراد یہ ہے کہ وہی نو پیدا چیز بدعت سیئہ ہے جو دین وسنت کا رد کرے یا شریعت کے قواعد اطلاق ودلائل عموم تك اس کی گواہی نہ دیں ۔
عبارت : اسی صفحہ میں خود لکھتے ہیں :
گمان نبری کہ استحسان شرعی صفت آن ماموربہ
یہ گمان نہ ہو کہ استحسان شرعی ایسے مامور بہ کی
حوالہ / References &مجموعہ فتاوٰی کتاب الحظروالاباحۃ€ مطبوعہ یوسفی فرنگی محلی لکھنؤ ٢ / ٨
&مجموعہ فتاوٰی کتاب الحظروالاباحۃ€ مطبوعی یوسفی فرنگی محلی لکھنؤ ٢ / ٩
#11378 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
است کہ صراحۃ درد لیلے از دلائل ا ربعہ امرباو وارد شدہ باشد بلکہ استحسان صفت ہر مامور بہ است خواہ صراحۃ امر باو واردشدہ باشد یا از قواعد کلیہ شرعیہ سندش یافتہ شدہ باشد ۔
صفت ہوگا جس پر دلائل اربعہ میں سے صراحۃ کوئی دلیل وارد ہوگی بلکہ استحسان ہر اس مامور بہ کی صفت بن سکتا ہے خواوہ صراحۃ اس پر امروارد ہو یا قواعد کلیہ شرعیہ سےاس پر سند ہے ۔ (ت)
عبارت : صفحہ پر لکھا :
ہر محدثیکہ وجودش بخصوصہ درزمانے از ازمنہ ثلثہ نباشد لیکن سندش در دلیلے ازادلہ اربعہ یافتہ شود ہم مستحسن خواہد شد نمی بینی کہ بنائے مدارس الخ۔
ہر وہ نئی شی جس کا وجو د تین زمانوں میں سے کسی زمانہ میں نہ ہو لیکن اس پر ادلہ اربعہ سے سند موجود ہو تو وہ بھی مستحسن ہوگی آپ مدارس وغیرہ کی ایجاد نہیں دیکھتے الخ (ت)
عبارت : صفحہ :
کتب فقہ میں نظائراس کے بہت موجود ہیں کہ ازمنہ سابقہ میں ان کا وجود نہ تھا مگر بہ سبب اغراض صالحہ کے حکم اس کے جواز کا دیا گیا ۔
الفروع ___ عبارت : صفحہ :
اگر تسلیم کنم کہ ذکر مولد درازمنہ ثلثہ نبود ونہ ازمجتہدین حکم او منقول شد لیکن چوں درشرع ایں قاعدہ ممہد شدہ است کل فرد من افراد نشر العلم فھو مندوب وذکر مولد نیز زیر آنست لابدحکم مند وبیت اودادہ خواہدشد ۔
اگر میں تسلیم کرلوں کہ ذکر مولد تین زمانوں میں سے کسی میں نہیں اور مجتہدین سے اس کا حکم منقول نہیں ہے لیکن شرع میں جب یہ بنیادی قاعدہ ہے کہ ہر وہ فرد جس سے علم کی اشاعت ہو وہ مندوب ہوتا ہے تو ذکر مولد بھی اسی میں شامل ہے تو ضروری ہے اسے بھی مندوب کہا جائے ۔ (ت)
عبارت : صفحہ :
بعد دو رکعت سنت ظہر و مغرب و عشاکے دو رکعت نفل پڑھنا آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا
حوالہ / References &مجموعہ فتاوی کتاب الحظر والاباحۃ€ مطبوعہ مطبع یوسفی فرنگی محلی لکھنؤ ٢ / ٩
&مجموعہ فتاوی کتاب الحظر والاباحۃ€ مطبوعہ مطبع یوسفی فرنگی محلی لکھنؤ ٢ / ٩
&مجموعہ فتاوی کتاب المساجد€ مطبوعہ مطبع یوسفی فرنگی محلی لکھنؤ ١ / ٩١٣
&مجموعہ فتاوی کتاب المساجد€ مطبوعہ مطبع یوسفی فرنگی محلی لکھنؤ ٢ / ٩١٣
#11379 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
اب تك نظر سے نہیں گزرا لیکن جو شخص بقصد ثواب بدون اعتقاد سنیت پڑھے گا ثواب پائیگا کیونکہ حدیث میں وارد ہے :
الصلوۃ خیر موضوع فمن شاء فلیقلل ومن شاء فلیکثر ۔
نماز سب سے بہتر عمل ہے جو چاہتا ہے کم کرے اورجو چاہتا ہے زیادہ کرے ۔ (ت)
اقول : سائل سے پوچھا تھا اصل اس کی سنت واجماع وقیاس سے ثابت ہے یا نہیں اور ان میں بعض کے لئے ثبوت خاص احادیث سے نظر فقیر میں حاضر مگر کلام رد خیالات وہابیت میں ہے وھو حاصل ( اور یہی حاصل ہے ۔ ت)
عبارت : صفحہ :
الوداع یا الفراق کا خطبہ آخر رمضان میں پڑھنا اور کلمات حسرت ورخصت کے ادا کرنا فی نفسہ امر مباح ہے بلکہ اگر یہ کلمات باعث ندامت وتوبہ سامعان ہوئے تو امید ثواب ہے مگر اس طریقہ کا ثبوت قرون ثلثہ میں نہیں الخ
عبارت : مجموعہ فتاوی جلد دوم صفحہ :
کسیکہ می گوید وجودیہ وشہودیہ ازاہل بدعت اند قولش قابل اعتبار نیست ومنشاء قولش جہل و ناواقفیت است ازاحوال اولیاء از معنے توحید وجودی وشہودی وشاعری کہ ذم ہر دوفرقہ ساختہ قابل ملامت است واﷲ اعلم ۔
جو شخص یہ کہتا ہے کہ وحدت الوجود اور وحدت الشہود والے اہل بدعت ہیں اس کے قول کاکوئی اعتبار نہیں اور اس کی وجہ اس کا احوال اولیاء اور معنی توحید وجودی اور شہودی سے جہالت و ناواقفیت ہے اور وہ شاعر جو ان دونوں طبقات پر طعن کرتا ہے وہ قابل مذمت ہے واﷲ اعلم ۔ (ت)
ذرا تقویۃ الایمان کی بالا خوانیاں یادکیجئے ۔
عبارت : صفحہ :
فی الواقع شغل برزخ اس طور پر کہ حضرات صوفیہ صافیہ نے لکھا ہے نہ شرك ہے نہ ضلالت
حوالہ / References &مجموعہ فتاوی کتاب الصلوة€ مطبوعہ مطبع یوسفی فرنگی محلی لکھنؤ ١ / ١٥٣
&مجموعہ فتاوٰی کتاب الحظر والاباحۃ€ مطبوعہ مطبع یوسفی فرنگی محلی لکھنؤ ٢ / ٢٤ ، ٢٥
&مجموعہ فتاوٰی کتاب الحظر والاباحۃ€ مطبوعہ مطبع یوسفی فرنگی محلی لکھنؤ ٢ / ٥٨
#11380 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
ہاں افراط وتفریط اس میں منجر ضلالت کی طرف ہے تصریح اس کی مکتوب مجدد الف ثانی میں جابجا موجود ہے واﷲ اعلم
سبحن اﷲ وہ عالم کہ تمھارے مذہب نامہذب پرمعاذاﷲ صراحۃ مشرك ومجوز شرك ہوچکا اس پر اعتماد اور اس کے فتوے سے استناد کس دین ودیانت میں روا۔
عبارت : اسی کی جلد سوم صفحہ میں ہے :
سوال : وقت ختم قرآن درتراویح سہ بار سورہ اخلاص می خوانند مستحسن است یا نہ۔
جواب : مستحسن است ۔
سوال : تراویح میں ختم قرآن کے وقت تین بار سورہ اخلاص پڑھنا مستحسن ہے یا نہیں
جواب : مستحسن ہے ۔
عبارت : صفحہ :
اماجمیع میان تکلم بالفاظ سلام ودست برداشتن و برسر یا سینہ نہادن پس ظاہر الاباس بہ است ۔
لفظ سلام کہتے ہوئے سر یا سینہ پر ہاتھ رکھنے میں ظاہرا کوئی حرج نہیں ۔ (ت)
عبارت : صفحہ :
سوال : بسم اﷲ نوشتن برپیشانی میت ازانگشت درست یا نہ
جواب : درست است ۔
سوال : میت کی پیشانی پر انگلی سے بسم اﷲ لکھنا درست ہے یا نہیں
جواب : درست ہے ۔ (ت)
عبارت : صفحہ :
سوال : قیام وقت ذکر ولادت باسعادت کے جواب میں قیام بالقصد کا قرون ثلثہ سے منقول نہ ہونا اور بعض احوال میں صحابہ کرام کا حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے لئے قیام نہ کرنا نقل و تحریر کرکے لکھتے ہیں :
لیکن علمائے حرمین شریفین زاد ہمااﷲ شرفا قیام می فرمایند امام برزنجی رحمۃ اللہ تعالی علیہ در رسالہ مولد لیکن حرمین شریفین ( اﷲ تعالی ان کواور شرف عطا فرمائے ) کے علماء قیام کرتے ہیں امام برزنجی رحمۃ اﷲ
حوالہ / References &مجموعہ فتاوٰی€
&مجموعہ فتاوٰی باب التراویح€ مطبوعہ مطبع یوسفی فرنگی محلی لکھنؤ ٣ / ٥٧)
&مجموعہ فتاوٰی باب المصافحہ والمعانقہ€ مطبوعہ مطبع یوسفی فرنگی محلی لکھنؤ ٣ / ١٢١
&مجموعہ فتاوٰی باب مایتعلق بالموتی€ مطبوعہ مطبع یوسفی فرنگی محلی لکھنؤ ٣ / ١٢٣
#11381 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
می نویسند وقد استحسن القیام عند ذکر مولدہ الشریف ائمۃ ذو روایۃ ودرایۃ فطوبی لمن کان تعظیمہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم غایۃ مرامہ ومرماہ انتھی ۔
رسالہ مولد میں لکھتے ہیں صاحب روایۃ ودرایۃ ائمہ ذکر مولد شریف کے وقت قیام مستحسن تصور کرتے ہیں مبارك ہے ان علمائے کے لئے جس کا مقصد ومنزل نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں تعظیم ہے انتہی (ت)
یعنی ذکر ولادت شریف کے وقت قیام کرنے کو ان اماموں نے مستحسن فرمایا ہے جو صاحب روایت و درایت تھے تو خوشی وشادمانی ہو اسے جس کی نہایت مراد و مقصد حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تعظیم ہے اور خود مجیب لکھنؤ ی حرمین طیبین کی مجالس متبرکہ میں اپنا حاضرو شریك ہونا بیان کرتے اور انھیں مجالس متبرکہ لکھتے ہیں حالانکہ بشہادت مجیب ومشاہدہ تواتر ان مجالس ملائك مآنس کا قیام پر مشتمل ہونا یقینی مجیب موصوف اسی جلد فتاوی صفحہ میں لکھتے ہیں :
درمجالس مولد شریف کہ ازسورہ والضحی تا آخر می خوانند البتہ بعد ختم ہر سورہ تکبیر می گویند راقم شریك مجالس متبرکہ بودہ ایں امر را مشاہد کر دہ ام ہم درمکہ معظمہ وہم درمدینہ منورہ وہم درجدہ ۔
مولد شریف کی مجالس میں سورہ والضحی سے لے کر آخر تك پڑھتے ہیں ہر سورت کے اختتام پر تکبیر کہتے ہیں راقم الحروف مکہ معظمہ مدینہ منورہ اور جدہ میں ان مجالس مبارکہ میں شریك ہوا ہے ۔ (ت)
عبارت : طرفہ یہ کہ صفحہ پر لکھتے ہیں :
سوال : پارچہ جھنڈا سالار مسعود غازی ودر مصرف خود آردیا تصدق نماید
جواب : ظاہرا دراستعمال پارچہ مذکور بصرف خود و جہی کہ موجب ہزہ کاری باشد نیست واولے آنست کہ بمساکین وفقراء دہد
سوال : سالار مسعود غازی کے جھنڈے کا کپڑا اپنے مصرف میں لایا جاسکتا ہے یا اسے صدقہ کردیا جائے
جواب : ظاہرا اپنے استعمال میں لانے میں کوئی گناہ نہیں ہاں بہتر یہ ہے کہ مساکین وفقراء پر خرچ کردیا جائے ۔ (ت)
ذرا حضرات مخالفین اس اولی آنست ( بہتر یہ ہے ۔ ت) کی وجہ بتائیں اور اسے اپنے اصول پر منطبق
حوالہ / References &مجموعہ فتاوٰی باب قیامِ میلاد شریف€ مطبوعہ مطبع یُوسفی فرنگی محلی لکھنؤ ٣ / ١٣٠
&مجموعہ فتاوٰی باب القراءۃ فی الصلوٰۃ قراءۃ فاتحہ خلف الامام €مطبوعہ مطبع یُوسفی فرنگی محلی لکھنؤ ٣ / ٥٢
&مجموعہ فتاوٰی باب مایحل استعمالہ ومالایحل€ مطبوعہ مطبع یُوسفی فرنگی محلی لکھنؤ ٣ / ١١٦
#11382 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
فرمائیں ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم اس قسم کے کلام رسائل ومسائل مجیب میں بکثرت ملیں گے وفیما ذکرنا کفایۃ اﷲ واﷲ سبحنہ ولی الھدایۃ( جو کچھ ہم نے ذکر کیا یہ کافی ہے۔ اور اﷲ تعالی کی ذات پاك ہے اور وہی ہدایت کا مالك ہے ۔ ت)بحمد اﷲ جواب اپنے منتہی کو پہنچا اور تحقیق حق تا دزدہ علیا اب نہ رہا مگر سعی مانعین کا وہ پہلا رونما یعنی عوام کا بعد نماز فرائض بھی دعا سے دست کش ہونا یہاں اگر میں نقل احادیث پر اتروں تو ایك مستقل رسالہ املا کروں مگر بحکم ضرورت صرف مولوی عبدالحی صاحب کاایك فتوی ملخصا نقل کرتا ہوں جس پر غیر مقلدین زمانہ کے امام اعظم نذیر حسین دہلوی کی بھی مہر ہے مجموعہ فتاوی جلد دوم صفحہ :
چہ می فرمایند علمائے دین اندریں مسئلہ کہ رفع یدین در دعا بعد نماز چنانکہ معمول ائمہ ایں دیارست ہر چند فقہا مستحسن می نویسند واحادیث درمطلق رفع یدین دردعا نیز وارد دریں خصوص ہم حدیثے وارد ست یانہ بینوا توجروا۔
ھوالمصوب دریں خصوص نیز حدیثے وارد ست حافظ ابوبکر احمد بن محمد بن اسحق بن السنی درعمل الیوم واللیلہ می نویسند حدثنی احمد بن الحسن حدثنا ابواسحق یعقوب بن خالد بن یزید الیالسی حدثنا عبدالعزیز بن عبدا لرحمن القرشی عن خصیف عن انس عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ قال مامن عبد بسط کفیہ فی دبر کل صلوۃثم یقول اللھم الھی والہ ابراھیم واسحق ویعقوب والہ جبرئیل و میکائیل واسرافیل اسئلك ان تستجیب دعوتی فانی مضطر و تعصمنی فی دینی فانی مبتلی وتنالنی
اس بارے میں علماء کیا فرماتے ہیں کہ نماز کے بعد دعا میں ہاتھ اٹھا ناجیسا کہ اس علاقے کے ائمہ کا طریقہ ہے کیسا ہے فقہاء نے اسے مستحسن لکھا ہے احادیث میں مطلقا دعا میں ہاتھ اٹھانے کا تذکرہ بھی آیا ہے کیا اس سلسلہ میں کوئی حدیث ہے یا نہیں بیان کرکے اجر پاؤ۔
ھوالمصوب اس بارے میں خصوصا حدیث بھی وارد ہے حافظ ابوبکر احمد بن محمد بن اسحق بن السنی اپنی کتاب عمل الیوم واللیلہ میں لکھتے ہیں کہ مجھے احمد بن حسن انھیں ابواسحق یعقوب بن خالد بن یزید الیالسی نے انھیں عبدالعزیز بن عبدالرحمن القرشی نے انھیں خصیف نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے بھی ہر نماز کے بعد اپنے ہاتھوں کو پھیلایا اور پھر عرض کیا : اے اﷲ میرے معبود سیدنا ابراہیم و اسحق اور یعقوب کے معبود جبرائیل میکائیل اور اسرافیل کے الہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میری دعا قبول کیجئے میں مضطر مجھے میرے دین میں محفوظ رکھئے میں مبتلا ہوں مجھے
#11383 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
برحمتك فانی مذنب وتنفی عنی الفقر فانی متمسکن الا کان حقا علی اﷲ عزوجل ان لایرد ید یہ خائبتین واﷲ تعالی اعلم
اپنی رحمت عطا کیجئے میں نہایت گنہگار ہوں میرے فقر کو دور کر دیجئے میں نہایت مسکین ہوں تو اﷲ تعالی پر حق ہے کہ اس کے ہاتھوں کو خالی نہ لوٹائے۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)

محمد عبد الحی ابوالحسنات

الجواب صحیح : ویؤ یدہ ما رواہ ابوبکر ابن ابی شیبۃ فی المصنف عن الاسود العامری عن ابیہ قال صلیت مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الفجر فلما سلم انصرف ورفع یدیہ و دعاالحدیث فثبت بعد الصلوۃ المفروضۃ رفع الیدین فی الدعاء عن سید الانبیاء اسوۃ الاتقیاء صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کما لا یخفی علی العلماء الاذکیا ء۔
جواب صحیح ہے : اور اس کی تائید وہ روایت بھی کرتی ہے جو ابوبکر بن ابی شیبہ نے مصنف میں اسود عامری سے انھوں نے اپنے والد سے بیان کی کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ نماز فجر ادا کی آپ نے سلام پھیرا ہاتھ اٹھائے اور دعا کی الحدیث لہذا نماز فرض کے بعد سید الانبیاء اسوۃ الاتقیاء صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا ثابت ہے جیسا کہ علماء اذکیاء پر مخفی نہیں ۔ (ت)

محمد سید نذیر حسین
لطیفہ : فقیرغفر لہ المولی القدیر نے وہابیہ کے اس خیال ضلال کے ر د و ابطال کو کہ جو کچھ بخصوصہ قرون ثلثہ سے منقول نہیں ممنوع ہے مجیب کی پندرہ عبارتیں نقل کیں مگر لطف یہ ہے کہ خود ہی فتوے جس سے یہاں انھوں نے استناد کیا اس خیال کے ابطال کو بس ہے مجیب کی عادت ہے کہ شروع جواب میں ھوا لمصوب( وہی درست کرنے والا ہے ۔ ت) یہی لفظ اس فتوے کی ابتداء میں بھی لکھا کما سمعت نصہ ( جیسا کہ اس کے الفاظ آپ پیچھے پڑھ چکے ۔ ت) اب حضرات مخالفین ثابت کر دکھا ئیں کہ حضور
حوالہ / References &مجموعہ فتاوٰی کتاب الصلوٰۃ رفع یدین در دعا بعد ادائے نماز پنجگانہ€ مطبوعہ مطبع یوسفی فرنگی محلی لکھنؤ ١ / ٢٤٨
#11384 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم یا صحابہ کرام وتابعین عظام علیہم الرضوان اﷲ جل وعلا کو مصوب کہا کرتے ہوں خصوصا بحالیکہ اسمائے الہیہ توقیفی ہیں
واذ قد بلغنا الی ذکر التوقیف وقف القلم و کان ذلك اللیلۃ بقیت من اوسط عشرات شعبان المعظم سنۃ الف(ھ) وثلثمائۃ و سبع من ھجرۃ سید العالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم والحمد اﷲ علی ما الھم والصلوۃ والسلام علی المولی الاعظم والہ وصحبہ سادات الامم واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
جب ہم لفظ توقیف پر پہنچ چکے قلم رك گیا اس کا اختتام ھ میں شعبان المعظم کے وسط میں ہوا سب تعریف اﷲ کے لئے ہے جو رہنمائی کرتا ہے صلوۃ وسلام مولی اعظم پر آپ کی آل پر اور اصحاب پر جو کہ امت کے سربراہ ہیں ۔
واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت)
مسئلہ تا : بنارس محلہ کنڈی گڑ تولہ مسجد بی بی راجی شفا خانہ از مولوی عبدالغفور صاحب جمادی الآخر ھ
بخدمت لازم البرکۃ جامع معقول ومنقول حاوی فروع واصول جناب مولانا مولوی احمد رضا خاں صاحب مداﷲ فیضانہ از جانب خادم الطلبہ عبدالغفور سلام علیك قبول باد کچھ مسائل میں یہاں درمیان علما کے اختلاف ہے لہذا مسئلہ ارسال خدمت لازم البر کۃ ہے امید ہے کہ جواب سے مطلع فرمائیں
() زید کہتا ہے نماز عیدین صحرا میں پڑھنی سنت ہے لیکن شہر میں بھی جائز ہے جس شخص نے نماز مذکور شہر میں پڑھی نماز اس کی ضرور ادا ہوئی البتہ ترك سنت اس نے کیا اور ثواب سنت سے محروم رہا عمرو کچھ روز تك قائل تھا نماز عیدین شہر میں جائز نہیں مگر چند روز سے بذات خود یا بوجہ تعلم کسی غیر کے کہتاہے گو نماز مذکور شہر میں جائز ہے لیکن پڑھنے والے گنہگار ہوں گے۔
() زید کہتاہے نماز عیدین مسجد پختہ چھت دار کے اندر جو صحرا میں واقع ہے پڑھنے سے ثواب صحرا میں پڑھنے کا نہ ملے گا عمرو کہتا ہے گو مسجد پختہ چھت دار ہے مگر چونکہ صحرا میں واقع ہے لہذا ثواب صحرا میں پڑھنے کا ملے گا ان سب مسائل میں قول زید کا صحیح ہے یا عمرو کا بینوا توجروا
الجواب :
() قول زید صحیح ہے عامہ کتب مذ ہب متون وشروح وفتاوی میں تصریح ہے کہ نماز عیدین بیرون شہر مصلی یعنی عیدگاہ میں پڑھنی مندوب ہے مستحب ہے افضل ہے مسنون ہے فرض نہیں کہ شہر میں ادا ہی
#11385 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
نہ ہو واجب نہیں کہ شہر میں پڑھنا مطلقا گناہ ہو نقایہ وکنز و وافی و غرر واصلاح و ملتقی وغیرہا متون میں بلفظ ندب وقایہ بکلمہ حبب ہدایہ میں بلفظ یستحب تعبیر فرمایا۔ مرقاۃ شرح مشکوۃ میں علامہ ابن ملك سے ہے :
الافضل اداؤھا فی الصحراء فی سائر البلدان وفی مکۃ خلاف ۔
تمام شہرو ں میں میدان میں عید ادا کرنا افضل ہے لیکن مکہ میں اختلاف ہے ۔ (ت)
متن تنویر و فتح القدیر و درر و ہندیہ و مضمرات وبزازیہ و غنیہ و خانیہ و خلاصہ وخزانۃ المفتین و فتاوی ظہیریہ وغیرہا میں ہے :
الخروج الیھا سنۃ ( عیدگاہ کی طرف نکلناسنت ہے ۔ ت)۔ بحرمیں ہے :
التوجہ الی المصلی مندوب کما افادہ فی التجنیس وان کانت صلوۃ العید واجبۃ حتی لوصلی العید فی الجامع ولم یتوجہ الی المصلی فقد ترك السنۃ ۔
عید گاہ کی طرف جانا مندوب ہے جیساکہ تجنیس میں ہے اگر چہ نماز عید واجب ہے حتی کہ اگر کسی نے جامع مسجد میں عید پڑھی اور عیدگاہ کی طرف نہیں گیا تو اس نے سنت کو ترك کیا ۔ (ت)
شرح نقایہ قہستانی میں ہے :
الخروج الیہ یندب وان کان الجامع یسعھم فالخروج لیس بواجب ۔
عید گاہ کی طرف نکلنا مندوب ہے اگر جامع مسجد میں لوگوں کی گنجائش ہو البتہ نکلنا واجب نہیں ۔ (ت)
حوالہ / References &کنز الدقائق باب العیدین€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص٤٩
&شرح وقایہ باب العیدین€ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ دہلی ١ / ٢٤٥
&الہدایہ باب العیدین€ مطبوعہ المکتبہ العربیہ کراچی ١ / ١٥١
&مرقاۃ شرح المشکوٰۃباب صلوٰۃ العیدین€ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ٣ / ٢٩٨
&تنویر الابصار مع الدرالمختار باب العیدین€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ۱۱٤
&بحرالرائق باب العیدین€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ١٥٩
&جامع الرموز فصل صلوٰۃ العیدین€ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ١ / ٢٧١
#11386 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
غنیہ میں جامع الفقہ ومنیہ المفتی وذخیرہ سے ہے :
یجوز اقامتھا فی المصر و فنائہ و موضعین فاکثرو بہ قال الشافعی واحمد ۔
شہر اور فنائے شہر میں عید دو یا زیادہ مقامات پر ادا کی جاسکتی ہے امام شافعی اور امام احمد کی یہی رائے ہے ۔ (ت)
ہاں جو سنت مؤکدہ ہو اور کوئی شخص بلاضرورت بے عذر براہ تہاون وبے پروائی اس کے ترك کی عادت کرے اسے ایك قسم اثم لاحق ہوگی نہ ترك سنت بلکہ اس کی کم قدری وقلت مبالات کے باعث
فی شرح المنیۃ للعلامۃ ابراھیم الحلبی لا یترك رفع الیدین عند التکبیر لانہ سنۃ مؤکدۃ ولو ا عتاد ترکہ یا ثم لالنفس الترك بل لانہ استخفاف و عدم مبالاۃ بسنۃ واظب علیھا النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مدۃ عمرہ امالو ترکہ بعض الاحیان من غیر اعتداد لا یا ثم وھذا مطرد فی جمیع السنن المؤکدۃ اھ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
شرح منیۃ میں علامہ ابراھیم حلبی کہتے ہیں کہ تکبیر کے وقت ہاتھ اٹھانا ترك نہ کیا جائے کیونکہ یہ سنت مؤکدہ ہے اور اگر ترك کو عادت بنا لیتا ہے تو گناہ گار ہوگا مگر نفس ترك کی وجہ سے نہیں بلکہ ایسی سنت کو ہلکا سمجھنے اوراس سے لاپروائی کی وجہ سے ہوگا جس پر نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے تمام عمر ہمیشگی فرمائی ہا ں بغیر عادت کے بعض اوقات ترك کردے تو گنہگار نہ ہوگا اور یہی اصول تمام سنن مؤکدہ میں جاری ہوتا ہے اھ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم (ت)
() عمرو کا قول صحیح ہے اور زید کا دعوی بھی وجہ صحت رکھتا ہے اگر صحرا سے اس کی مراد فضائے خالی ہو۔
اقول : وبا ﷲ التوفیق تحقیق یہ ہے کہ یہاں دو چیزیں ہیں ایك اصل سنت کہ نمازی عیدین بیرون شہر جنگل میں ہو شارع علیہ الصلاۃ والسلام نے اس میں حکمت اظہار شعار اسلام وشوکت وکثرت مسلمین رکھی ہے یہ بات نفس خروج واجتماع سے حاصل اگر چہ صحرا میں کوئی عمارت بنالیں پس قول عمرو کہ جب مسجد صحرا میں ہے تو بیرون شہر جانے جنگل میں پڑھنے کا ثواب حاصل بلاشبہ صحیح ہے۔ دوم سنت سنت کہ تکمیل و تاکید اصل سنت کے لئے ہے یعنی فضائے خالی بے عمارت میں پڑھنا کہ اس میں زیادت اظہار شعار و شوکت ہے مسجد عیدگاہ واقع صحرا میں پڑھنے سے اگر چہ اصل اظہار شعار و صلوۃ فی الصحرا کا ثواب حاصل مگر صلوۃ فی الفضا میں اتباع اتم پر جو ثواب ازید ملتا وہ نہ ہوا جبکہ جانب تعمیر کسی مصلحت شرعیہ سے مترجح نہ ہوا اس معنی پر
حوالہ / References &غنیۃ المستملی شرح منیہ المصلی فروع خروج الی المصلی€ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ٥٧٢
&غنیۃ المستملی شرح منیہ المصلی باب صفۃ الصلوٰۃ€ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ٣٠٠
#11387 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
قول زید بھی روبصحت ہے زمانہ اکرم حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں مصلائے عید کف دست میدان تھا جس میں اصلا تعمیر نہ تھی مدینہ طیبہ کے شرقی دروازے پر کما فی المقصد التاسع من المواھب (جیسا کہ مواہب اللدنیہ کے نویں مقصد میں ہے ۔ ت) مسجد اطہر کے باب السلام سے ہزار قدم کے فاصلے پر کما فی الزرقانی عن فتح الباری عن عمر بن شبھۃ فی الاخبار المدینۃ عن ابن غسان الکتانی صاحب مالك رضی اﷲ تعالی عنہ (جیسا کہ زرقانی میں فتح الباری سے ہے کہ عمر بن شبہ نے اخبار المدینہ میں ابوغسان الکتانی جو صاحب مالك رضی اللہ تعالی عنہ ہیں سے روایت کیا ہے ۔ ت) سنن ابن ماجہ و صحیح ابن خزیمہ و مستخرج اسمعیل میں عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے ہے :
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یغد والی المصلی فی یوم عید والعنزۃ تحمل بین یدیہ فاذا بلغ المصلی نصبت بین یدیہ فصلی الیھا وذلك ان المصلی کان فضاء لیس فیہ ما یستربہ ۔
بلا شبہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم عید کے دن صبح سویرے عیدگاہ کی طرف نکلتے آپ کے آگے آگے کسی کے ہاتھ میں نیزہ اٹھایا ہوتا جب آپ عیدگاہ میں تشریف فرما ہوتے تو آپ کے سامنے نیزہ گاڑ دیا جاتا آپ اس کے سامنے ہو کر نماز پڑھاتے اور یہ عیدگاہ میدان میں تھی وہاں کوئی دیوار وغیرہ نہ تھی (ت)
اب صدہا سال سے اس کا احاطہ بن گیا علامہ سید نورالدین سمہودی قدس سرہ استظہار فرماتے ہیں کہ یہ عمارت زمانہ امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ میں تعمیر ہوئی کما فی کتابہ قدس سرہ فی تاریخ طیبہ الطیبۃ صلی اﷲ تعالی علی طیب اطیب طیبہا بطیبہ والہ الطائب وبارك وسلم (جیسا کہ ان کی کتاب تاریخ طیبہ میں ہے تمام پاکوں سے پاك پر صلوۃ وسلام ہو ان کی آل پاك پر ہو اور برکات و سلام ہو ت) اور واقعی جب امیر المومنین ممدوح نے مسجد اقدس حضور پر نور صلوات اﷲ وسلامہ علیہ کی تجدید تعمیر فرمائی ہے جہاں جہاں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا نماز پڑھنا معلوم ہو ان سب کی بھی تعمیر جدید خواہ تجدید فرمائی کما یستفاد من عمدۃ القاری للعلامۃ الامام البدر محمود العینی عن عمر بن شبہۃ عن ابی غسان عن غیر واحد من اھل العلم (جیسا کہ عمدۃ القاری علامہ بدرالدین محمود العینی نے عمر بن شبہہ سے انھوں نے ابو غسان سے اور انھوں نے متعدد اہل علم سے بیان کیا ہے۔ ت) علمائے کرام کو عیدین کے لئے مصلی کو جانا مسنون ومستحب بتاتے ہیں وہی یہ بھی
حوالہ / References &السنن لابن ماجہ باب ماجاء فی الحربۃ یوم العید€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ٩٣
#11388 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
بحث فرماتے ہیں کہ مصلائے عید جمیع احکام میں مسجد ہے یا صرف بعض میں اور اس میں بول وبراز و وطی جائز ہیں یا نہیں کہ اگر چہ وہ سب احکام میں مسجد نہ سہی مگر بانی نے یہ عمارت اس لئے نہ بنائی بحرالرائق میں ہے :
اختلفوا فی مصلی الجنازۃ والعید فصحح فی المحیط فی مصلی الجنائز انہ لیس لہ حکم المسجد اصلا وصحح فی مصلی العید کذلك الا فی حق جواز الاقتداء وان لم تتصل الصفوف وفی النھایۃ وغیرھا والمختار للفتوی فی المسجد الذی اتخذ لصلوۃ الجنازۃ والعید انہ مسجد فی حق جواز الاقتداء وان انفصل الصفوف رفقا بالناس وفیما عد اذلك لیس لہ حکم المسجد اھ وظاھر ما فی النھایۃ انہ یجوز الوطئ والبول والتخلی فی مصلی الجنائز و العید ولا یخفی ما فیہ فان البانی لم یعدہ لذلك فینبغی ان لا تجوز ھذہ الثلثۃ وان حکمنا بکونہ غیر مسجد وانما تظھر فائدتہ فی بقیۃ الاحکام التی ذکرناھا وفی حل دخول للجنب والحائض اھ
جنازہ گاہ اور عیدگاہ میں اختلاف ہے محیط میں اسے صحیح کہا کہ جنازہ گاہ کا حکم بالکل مسجد والا نہیں اور عیدگاہ کے بارے میں یہی صحیح ہے مگر جو از اقتدا کے حق میں مسجد والا ہے اگر چہ صفیں متصل نہ ہوں عنایہ وغیرہ میں ہے کہ لوگوں کی رعایت کی وجہ سے فتوی میں مختار یہ ہے کہ عیدگاہ اور جنازہ گاہ جواز اقتدا کے حوالے سے مسجد کے حکم میں ہیں اگر چہ صفیں متصل نہ ہوں اورا ن کے علاوہ میں مسجد کا حکم نہیں اھ نہایہ کی عبارت سے یہی ظاہر ہے کہ عیدگاہ اور جنازہ گاہ کے اوپر وطی اور بول وبراز جائز ہے اور یہ محل نظر ہے کیونکہ بانی نے اسے اس لئے نہیں بنایا لہذا اگر چہ انھیں ہم مسجد کا حکم نہیں دیتے مگر یہ تینوں چیزیں ( وطی بول و براز ) اس کے اوپر جائز نہیں اور اس کا فائدہ بقیہ احکام میں ظاہر ہوگا جو ہم ذکر کر رہے ہیں اور جنبی وحائضہ کا داخلہ بھی ہوسکتا ہے اھ (ت)
جواہر الاخلاطی فصل فی العیدین میں ہے :
لوکان محراب المصلی عشرۃ اذرع وصف القوم مائۃ ذراع ولایتصل الصفوف جازت صلوۃ الکل ۔
اگر عید گاہ کا محراب دس ذراع تھا اور لوگوں کی صف سو ذراع صفیں متصل نہ ہوں تو تب بھی تمام کی نماز جائز ہوگی ۔ (ت)
حوالہ / References &بحرالرائق باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ٣٦
&جواہر الاخلا طی فصل فی العیدین غیر€ مطبوعہ نسخہ ص ٥١
#11389 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
جامع الرموز میں ہے : المصلی محوط بالفناء ( عیدگاہ وہ ہے جو میدان میں احاطہ بنا ہو ۔ ت) صحیح بخاری شریف میں ایك باب وضع فرمایا : باب العلم بالمصلی یعنی مصلائے عید میں شناخت کے لئے کوئی علامت امام بدر محمودنے اس علامت میں عمارت مصلے کو بھی داخل فرمایا : عمدۃ القاری میں ہے :
ص باب العلم الذی بالمصلی ش ای ھذا باب فی بیان العلم الذی ھو بمصلی العید والعلم بفتحتین ھو الشیئ الذی عمل من بناء او وضع حجر او نصب عمود ونحو ذلك یعرف بہ المصلی ۔
باب عیدگاہ کی علامت کے بیان میں ہے ش یعنی یہ باب اس علامت کے بیان میں ہے کہ یہ جگہ عیدگاہ ہے العلم عین اور لام دونوں پر زبر ہے اس سے مراد علامت ہے خواہ بنا کی صورت میں ہو یا پتھر ولکڑی وغیرہ نصب کرنے سے ہو جس سے اس کے عیدگاہ ہونے کا پتا چل سکے ۔ (ت)
بالجملہ تعمیر عیدگاہ جواز ظاہر اگر افضل فضائے خالی ہوبلکہ امام تاج الشریعۃ کی تصحیح پر نظر کیجئے ( کہ انھوں نے فرمایا صحیح یہ ہے کہ مصلائے عید جمیع احکام میں مسجد ہے ) جب تو اس کی تعمیر ضروری ہوگی خصوصا بلاد ہندوستان میں جہاں کفار کا غلبہ ہے کہ یوں ہی رکھیں تو آدمی جانور جنب حائض سب اس میں چلیں گے پیشاب کریں گے مسجد کی بے حرمتی ہوگی علامہ شرنبلالی غنیہ ذوی الاحکام میں فرماتے ہیں :
ذکر الصدر الشھید المختار للفتوی فی الموضع الذی یتخذ لصلوۃ الجنازۃ و العیدانہ مسجد فی حق جواز الاقتداء و ان انفصل الصفوف رفقا بالناس و فیما عدا ذلك لیس لہ حکم المسجد کذا ذکرہ الامام المحبوبی اھ ذکرہ الکاکی و مثلہ فی فتح القدیر ویخالفہ ماقالہ
صدر الشہید نے فرمایا کہ لوگوں کی رعایت کی وجہ سے فتوی کے لئے مختار یہ کہ وہ جگہ جو جنازہ یا عید کی نماز کے لئے بنائی گئی ہو اسے جواز اقتدا میں مسجدکا حکم دیا جائے گا اگر چہ صفیں متصل نہ ہوں اور اس کے علاوہ اس کا حکم مسجد والا نہ ہوگا امام محبوبی نے بھی اسی طرح بیان کیا ہے اھ اسے کاکی نے ذکر کیا اور اسی کی مثل فتح القدیر میں ہے
حوالہ / References &جامع الرموز فصل صلوٰۃ العیدین€ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ١ / ٢٧١
&صحیح بخاری کتاب العیدین€ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ١٣٣
&عمدۃ القاری شرح البخاری باب العلم بالمصلی€ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ٦ / ٢٩٨
#11390 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
تاج الشریعۃ والاصح انہ ای مصلی العید یاخذ حکمھا ای المساجد لانہ اعد لاقامۃ الصلوۃ فیہ بالجماعۃ لاعظم الجموع علی وجہ الاعلان الا انہ ابیح ادخال الدواب فیھا ضرورۃ الخشیۃ علی ضیا عھا وقد یجوز ادخال الد واب فی بقعۃ المساجد لمكان العذر والضرورة اھ فقد اختلف التصحیح فی مصلی العید واتفق فی مصلی الجنازۃ ۔
اور تاج الشریعۃ نے اس کی مخالفت کی ہے اور اصح یہ ہے کہ عیدگاہ مسجد والا حکم رکھتی ہے کیونکہ عیدگاہ جماعت اعظم کے ساتھ اجتماعی صورت میں بطور اعلان اقامت نماز کے لئے بنائی گئی ہوتی ہے البتہ اس میں چار پایوں کا داخلہ مباح اس لئے قرار دیا گیا ہے تاکہ ان کا ضیاع نہ ہو اور عذر وضرورت کے پیش نظر مساجد کی جگہ میں چوپایوں کا داخلہ جائز ہوتاہے عیدگاہ میں تصحیح اقوال میں اختلاف ہے مگر جنازہ گاہ میں اتفاق ہے ۔ (ت)
اس قول پر زمانہ اقدس میں عمارت نہ ہونا وارد نہ ہوگا کہ مدینہ طیبہ میں رو ز اول سے بحمد اﷲ تعالی اسلام ہی حاکم اسلام ہی غالب ہے عہد اطہر کے حضرات میں آداب شریعت کا جو تحفظ تھا روشن ہے ۔ جمہور ائمہ ترجیح اگر چہ اس تصحیح کے خلاف پر ہیں تاہم قول مصحح ہے اور خلاف علماء کا لحاظ بالاجماع مستحب اگر چہ غیر مذہب میں ہو نہ کہ خود اپنے مذہب میں خلاف قوی باختلاف تصحیح بہر حال اس قدر میں شك نہیں کہ اس تعمیر سے وہ جگہ صحرا سے نکل کر آبادی نہ ہوجائے گی اور اس میں نماز صحرا ہی میں نماز رہے گی اور نماز صحرا کا ثواب ہاتھ سے نہ جائے گا تو قول عمرو واضح الصحۃ ہے ھذا کلہ ماظھر لی والعلم بالحق عند العلیم العلی ( مجھ پر یہی واضح ہوا ہے اور حقیقت کا علم اﷲ تعالی کے پاس ہے ۔ ت) واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم ۔
مسئلہ تا : مسئولہ مولوی رحیم بخش صاحب ازآرہ شاہ آباد مدرسہ فیض الغربار محرم ھ
علمائے دین ان سوالوں میں کیا فرماتے ہیں :
() نماز عید اور خطبہ کے درمیان یا خطبہ اول و دوم کے درمیان تحریك چندہ اور کسی ( مسلمان جج ) کی مدح وثناء خوشامد وغیرہ ( مثلا امام نے جج کو قاضی وقت وقاضی شرع کہا او ریہ بھی کہا کہ قاضی (جج ) صاحب کے ہوتے مجھے نماز پڑھانے کا حق نہ تھا لہذا ان کی اجازت سے نماز پڑھاتا ہوں
قرآن و حدیث اجماع مجتہد و تعامل علمائے ثقہ کسی سے ثابت ہے یا نہیں
() ثابت نہ ہونے کی صورت میں نماز اور خطبہ میں کسی قسم کی کراہت پیدا ہوئی یا نہیں
حوالہ / References &غنیہ ذوی الاحکام حاشیہ دررغرر باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا€ مطبوعہ احمد کامل الکائنہ دارسعادت بیروت ١ / ١١٠
#11391 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
() امامت جمعہ وعیدین وامامت نماز پنجگانہ کا حکم ایك ہی ہے یا فرق ہے
() قاضی شرع کسے کہتے ہیں قاضی کے شرائط کیا ہیں جج شرعی قاضی ہے یا نہیں اگرہے تو ہر جج یا صرف مسلمان جج اگر
صرف مسلمان جج تو کیوں بینوا توجروا
الجواب:
چندہ کی تحریك اگر کسی امر دینی کے لئے ہو تو عین خطبہ میں اس کی اجازت اور خود حدیث میں ثابت ہے ایك بار خطبہ فرماتے ایك صاحب کو ملا حظہ فرمایا کہ بہت حالت فقر ومسکنت میں تھے حاضرین سے ارشاد فرمایا : تصدقوا صدقہ دو ایك صاحب نے ایك کپڑا دوسرے صاحب نے دوسرا کپڑا دیا پھر ارشاد فرمایا : تصدقوا صدقہ دو ۔ یہ مسکین جن کو ابھی دو کپڑے ملے تھے اٹھے اور ان دو کپڑوں میں سے ایك حاضر کیا یعنی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا حکم کہ تصدقوا حاضرین کے لئے عام ہے اور میں بھی حاضر ہوں اور اس وقت دو کپڑے رکھتا ہوں ایك حاضر کرسکتا ہوں ان کو اس سے باز رکھا گیا تو تمھارے ہی لئے تصدق کا حکم فرمایا جاتا ہے نہ کہ تم کو مگر ہندوستان میں تحریك چندہ اگر چہ کیسے ہی ضروری کام کے لئے ہو زبان اردو میں ہوگی اور خطبہ میں غیر عربی کا خلط مکروہ و خلاف سنت ہے لہذا اس وقت نہ چاہئے بلکہ بعد ختم خطبہ عید جس طرح صحیحین میں ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم خطبہ عید تمام فرما کر گروہ نساء پر تشریف لے گئے اور ان کو تصدق کا حکم فرمایا وہ اپنے زیور اتار اتار کر حاضر کرتی تھیں اور بلال رضی اﷲ تعالی اپنے دامن میں لئے تھے واﷲ تعالی اعلم۔
جو قاضی خلاف احکام شرعیہ حکم کرتا ہو اگر چہ مسلمان ہو اگر چہ سلطنت اسلامیہ کا قاضی ہو ہرگز اس کی مدح جائز نہیں خصوصا منبرپر خصوصا خطبہ جمعہ یا عیدین میں اس کے سبب خطبہ میں تو کراہت یقینی ہے لاشتما لھا علی المحرم ( کیونکہ یہ حرام پر مشتمل ہے ۔ ت) اوراگر خطبہ جمعہ میں ہو تو اس کی کراہت نماز کی طرف بھی سرایت کرے گی کہ جمعہ میں خطبہ شرائط نماز سے ہے اور نماز سے قبل ہوتا ہے ہاں عیدین میں کہ نماز ہوچکی اور خطبہ نہ اس کی شرائط نہ اس میں فرض نہ واجب بلکہ ایك سنت مستقلہ ہے خطبہ کی کراہت نماز کی طرف سرایت نہ کرے گی یہ تو خطبہ ہے کہ خاص امردین ہے اور منبر کہ خاص مسند سید المرسلین ہے صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مطلقا مدح فاسق کی نسبت میں ارشاد ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اذامدح الفاسق غضب الرب واھتزلہ عرش الرحمن ۔ واﷲ تعالی اعلم
جب فاسق کی مدح کی جاتی ہے رب عزوجل غضب فرماتا ہے اور اس کے سبب رحمن کا عرش ہل جاتا ہے۔
حوالہ / References &الکامل لابن عدی تحت اسم سابق عبداﷲ€ مطبوعہ المکتبہ الاثریۃ سانگلہ ہل ٣ / ١٣٠٧
#11392 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
شرعی احکام اور عرفی خیالات میں بہت تفاوت ہے شریعت کا حکم تو یہ ہے کہ ہر حاکم پر فرض ہے کہ مطابق احکام الہیہ کے حکم کرے اگر خلاف حکم الہی کرے تو اس کی دو صورتیں ہیں : ایك عمدا اور ایك خطا۔ عمدا کے لئے قرآن عظیم میں تین ارشاد ہوئے کہ :
و من لم یحكم بما انزل الله فاولىك هم الفسقون(۴۷)
فاولىك هم الظلمون(۴۵) فاولىك هم الكفرون(۴۴)
جو لوگ اﷲ تعالی کی نازل کردہ تعلیمات کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ فاسق ہیں وہ ظالم ہیں وہ کافر ہیں (ت)
قرآن مجید ایسے حکم کو فسق وظلم وکفر فرماتا ہے یعنی اگر عنادا ہو کہ حکم کو حق نہیں مانتا تو کافر ہے ورنہ ظالم وفاسق اور اگر خطأ ہو تو اس کی پھر دو صورتیں ہیں : ایك یہ کہ خطا بوجہ جہل ہو یعنی علم نہ رکھتا تھا کہ صحیح احکام سے واقف ہوتا یہ صورت بھی حرام وفسق ہے صحیح حدیث میں قاضی کی تین قسمیں فرمائیں : قاضی فی الجنۃ وقاضیان فی النار۔ ایك قاضی جنت میں ہے اور دو قاضی دوزخ میں وہ کہ عالم و عادل ہو جنت میں ہے اور وہ کہ قصدا خلاف حکم کرے یا بوجہ جہل یہ دونوں نارمیں ہیں بوجہ جہل پر ناری ہونے کایہ سبب ہے کہ اس نے ایسی بات پر اقدام کیا جس کی قدرت نہ رکھتا تھا وہ جانتا تھا کہ میں عالم نہیں اور بے علم مطابقت احکام ممکن نہیں تو مخالفت احکام پر قصدا راضی ہوا بلکہ اس سے اگر کوئی حکم مطابق شرع بھی صادر ہو جب بھی وہ مخالفت شرع کر رہا ہے کہ اس اتفاقی مطابقت کا اعتبار نہیں ولہذا حدیث میں فرمایا :
من قال فی القران برأیہ فاصاب فقد اخطأ ۔
جس نے قرآن میں اپنی رائے سے کچھ کہا اگر ٹھیك کہا تو بھی غلط کہا ۔
دوسری صورت خطا کی یہ ہے کہ عالم ہے احکام شرعیہ سے آگاہ ہے قابلیت قضا رکھتا ہے احکام الہیہ کے مطابق ہی فیصلہ کرنا چاہا اور براہ بشریت غلط فہمی ہوئی۔ اس کی پھر دو صورتیں ہیں : اگر وہ مجتہد ہے اور اس کے اجتہاد نے خطا کی تو اس پر اس کے لئے اجر ہے اور وہ فیصلہ جو اس نے
حوالہ / References &القرآن€ ٥ / ٤٧
&القرآن€ ٥ / ٤٥
&القرآن€ ٥ / ٤٤
&السنن لابی داؤد کتاب العلم€ مطبوعہ آفتاب پریس لاہور ٢ / ١٥٨
#11393 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
کیا نافذ ہے اور اگر مقلد ہے جیسے عمو ما قاضیان زمانہ اور جدوجہد میں اس نے کمی نہ کی اور فہم حکم میں اس سے غلطی واقع ہوئی اور ہے پورا عالم اور اس عہدہ جلیلہ کے قابل تو اس کی یہ خطا معاف ہے مگر وہ فیصلہ نافذ نہیں یہ سب احکام قاضیان سلطنت اسلامیہ سابقہ کے لئے ہیں جو اسی کا م کے لئے مقرر ہوئے تھے کہ مطابق احکام الہیہ فیصلہ کریں بخلاف حال کہ اکثر اسلامی سلطنتوں کے جن میں خود سلاطین نے احکام شرعیہ کے ساتھ اپنے گھڑے ہوئے باطل قانون بھی خلط کئے ہیں اور قاضیوں کو ان پر فیصلہ کرنے کا حکم ہے ان کی شناخت کا کیا اندازہ ہوسکتا ہے کہ وہ اﷲ و رسول کے خلاف حکم کرنے ہی پرمقرر ہوئے ان اسلامی سلطنتوں کے ایسے قاضیوں کوبھی قاضی شرع کہنا حلال نہیں ہوسکتا بلکہ اس کلمہ کی تہہ میں جو خباثت ہے قائل اگر اس پر آگاہ ہو اور اس کا ارادہ کرے تو قطعا خارج از اسلام ہو جائے کہ اس نے باطل کا نام شرع رکھا ولہذا ائمہ کرام نے اپنے زمانہ کے سلا طین اسلام کی نسبت فرمایا کہ :
من قال لسلطان زماننا عادل فقد کفر ۔
ہمارے زمانے کے سلطان کو عادل کہنا کفر ہے ۔
کہ وہ خلاف احکام الہیہ حکم کرتے ہیں اور خلاف احکام الہیہ عدل نہیں ہوسکتا عدل حق ہے تو اسے عدل کہنے کے یہ معنی ہوئے کہ خلاف احکام الہیہ حق ہے تو معاذاﷲ احکام الہیہ ناحق ہوئے اوریہ کفر ہے بہر حال جوقاضی خلاف احکام الہیہ حکم کرتا ہو ہر گز قاضی شرع نہیں ہوسکتا جب قاضیان سلطنت اسلامیہ کی نسبت یہ احکام ہیں تو سلطنت غیر اسلامیہ کے حکام تو مقرر ہی اس لئے کئے جاتے ہیں کہ مطابق قانون فیصلہ کریں رہی رجسٹراری اس میں اگر چہ کوئی حکم نہیں مگر وہ دستاویزوں پر شہادت ہے اور انھیں رجسٹر پر چڑھانا اور ان میں بہت دستاویزیں سود کی بھی ہوتی ہیں اور صحیح حدیث میں ہے :
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اکل الربو ومؤکلہ وکاتبہ وشاھدیہ و قال ھم سواء ۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے لعنت فرمائی سود کھانے والے اور سود دینے والے اور سود کا کاغذ لکھنے والے اور اس پر گواہیاں کرنے والوں پر ۔ اور فرمایا سب برابرہیں ۔
جمعہ وعیدین کی امامت پنجگانہ کی امامت سے بہت خاص ہے امامت پنجگانہ میں صرف اتنا
حوالہ / References &ردالمحتار کتاب الاشربہ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ٥ / ٣٢٧
&سنن ابوداؤد باب فی آکل الربا ٕ€ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ٢ / ١١٧
#11394 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
ضرور ہے کہ امام کی طہارت ونماز صحیح ہو قرآن عظیم صحیح پڑھتاہو بد مذہب نہ ہو فاسق معلن نہ ہو پھر جو کوئی پڑھائے گا نماز بلاخلل ہوجائے گی بخلاف نماز جمعہ وعیدین کہ ان کے لئے شرط ہے کہ امام خود سلطان اسلام ہویا اس کا ماذون اور جہاں یہ نہ ہوں تو بضرورت جسے عام مسلمانوں نے جمعہ وعیدین کا امام مقرر کیا ہو کما فی الدر المختار وغیرہ ( جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے ۔ ت) دوسرا شخص اگر ایسا ہی عالم وصالح ہو ان نمازوں کی امامت نہیں کرسکتا اگر کرے گا نماز نہ ہوگی۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از ملك بنگالہ ضلع میمن سنگھ مرسلہ عبد الحکیم جمادی الاولی ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و شرع متین اس بارہ میں کہ جمعہ مسجد میں نماز عید پڑھنا جائز ہے یا نہیں بینو اتوجروا
الجواب :
جائز ہے مگرسنت یہ ہے کہ نماز عیدین عیدگاہ میں چاہئے جبکہ کوئی عذر شرعی مانع نہ ہو واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ : از گلگت مرسلہ سر دار امیر خاں ملازم کپتان اسٹوٹ ذی الحجہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس شخص کو نماز عید کی خبر دی جائے اہل اسلام کو اور وہ دعوی کرتا ہے اسلام کا اور اس کو فرصت بہت ہے اگر وہ قصدا نہ آئے تو اس کو کیا کیا جائے بینوا توجروا
الجواب :
نماز عید شہروں میں ہر مرد آزاد تندرست عاقل بالغ قادر پر واجب ہے قادر کے یہ معنی کہ نہ اندھا ہو نہ لولا ہو نہ لنجھا نہ قیدی نہ کسی ایسے مریض کا تیماردار ہو کہ یہ اسے چھوڑ کر گھر سے جائے تو مریض ضائع رہ جائے نہ ایسا بوڑھا کہ چل پھرنہ سکے نہ اسے نماز کو جانے میں حاکم یا چور یا دشمن کی طرف سے جان یا مال یا عزت کا سچا خوف ہو نہ اس وقت مینہ یا برف یا کیچڑ یا سردی ا س قدر شدت سے ہو کہ نماز کو جانا سخت مشقت کا موجب ہو
فی التنویر تجب صلوتھما ای العیدین علی من تجب علیہ الجمعۃ بشرائطھا سوی الخطبۃ اھ و فی جمعۃ الدرالمختار
تنویر میں ہے عیدین کی نماز ان پر لازم ہے جن پر جمعہ لازم ہے خطبہ کے علاوہ شرائط بھی وہی ہیں اھ تنویر میں ہے عیدین کی نماز ان پر لازم ہے جن پر جمعہ لازم ہے خطبہ کے علاوہ شرائط بھی وہی ہیں اھ درمختار کے باب جمعہ میں ہے کہ
حوالہ / References &درمختار باب العیدین€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٤
#11395 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
شرط لافتراضھا اقامۃ بمصر و صحۃ و الحق بالمریض الممرض والشیخ الفانی وحریۃ وذکورۃ وبلوغ وعقل ووجود بصروقدرتہ علی المشی وعدم حبس و خوف ومطر شدید ودحل وثلج و نحوھما اھ ملخصا فی ردالمحتار قولہ الممرض ھذا ان بقی المریض ضائعا بخروجہ فی الاصح حلیۃ وجوھرۃ قولہ وعدم خوف ای من السلطان اولص منح قال فی الامداد ویلحق بہ المفلس اذاخاف الحبس کما جاز التیمم بہ قولہ ونحوھما ای کبرد شدید اھ ملتقطا
اس کی فرضیت کے لئے شہر میں مقیم ہونا اور صحتمند ہونا شرط ہے اور مریض کے ساتھ ممرض ( مریض کا تیمار دار کہ یہ اسے چھوڑ کر گھر سے جائے تو مریض ضائع رہ جائے ) شیخ فانی ملحق ہے حریت ذکورت بلوغ عقل نظر کا ہونا چلنے پر قدرت نہ قیدی نہ خوف نہ شدید بارش نہ کیچڑ نہ برف وغیرہ ہو اھ ملخصا ردالمحتار میں ہے کہ ماتن کا قول کہ ممرض یعنی مریض کا تیماردار وہ کہ اسے چھوڑ کر گھر سے چلا جائے تو مریض ضائع رہ جائے حلیہ و جوہر ہ اور ماتن کا قول عدم خوف سلطان کا یا چور کا منح امداد میں ہے اس کے ساتھ مفلس بھی لاحق ہے جب اسے حبس کا خوف ہو جیسا کہ اس کے لئے تیمم جائز ہے ماتن کا قول ونحوہما یعنی دونوں کی مثل یعنی شدید سردی اھ ملتقطا ۔ (ت)
جو شخص شہر میں ان صفات كا جامع اور ان موانع سے خالی ہو اور وہاں عید بروجہ شرعی ہو پھر نہ پڑھے تو گنہگار اور شرعا مستحق سزا وتعزیر ہوگا لارتکابہ
معصیۃ لا حد فیھا ( کیونکہ یہ ایسی معصیت کا ارتکاب ہے جس میں حد نہیں ہے ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از رام پور متصل مراد آباد محلہ ملا ظریف گھیرفرنگن محل مرسلہ مولوی ریاست حسین صاحب رمضان المبارك ھ
چہ می فرمایند علمائے دین دریں مسئلہ کہ تکبیرات زوائد عیدین بکدام سال مشروع شدہ اندو علتش چہ بود اس بارے میں علمائے کرام کیا فرماتے ہیں کہ عیدین کی تکبیرات زائد کس سال شروع ہوئیں اور ان کی علت کیا ہے
حوالہ / References &درمختار باب الجمعہ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٢
&ردالمحتار مطلب فی شروط الجمعۃ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٦٠٢
&ردالمحتار مطلب فی شروط الجمعۃ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٦٠٣
#11396 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
الجواب :
تشریع نماز عید درسال اول از ہجرت ست فی الدر شرع فی الاولی من الھجرۃ واو معروف نہ شد درشرع مگر بہمیں نہج و وضع وحکمت در تکبیرات اظہار سرور دینی وامتثال قول اوتعالی ست عز جلا لہ
و لتكملوا العدة و لتكبروا الله على ما هدىكم ھذا فی عید الفطر وقولہ عزو جل و بشر المحسنین(۳۷) فی عید الاضحی۔ واﷲ تعالی اعلم
نماز عید ہجرت کے سال اول میں شروع ہوئی در میں ہے کہ نماز عید ہجرت کے پہلے سال شروع ہوئی اور وہ شرع میں معروف نہ ہوئی تھی مگر اسی سلوب وطریقہ پر اور تکبیرات میں حکمت دینی سرور کا اظہار اور اﷲ تعالی کے اس فرمان پر عمل ہے کہ تم اس مدت ( رمضان ) کو مکمل کرو اور اﷲ کی عطا کردہ ہدایت پر اﷲ کی بڑائی بیان کرو یہ عید الفطر میں ہے اور اﷲ تعالی کا فرمان ہے تم اﷲ تعالی کی عطاکردہ ہدایت پر تکبیر کہو اور محسنین کو بشارت دو یہ عید الاضحی کے بارے میں ہے واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ : سائل مذکورہ بالا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر بلاعذر عید روز اول نہ پڑھیں تو روز دوم مع الکراہت جائزہے جیسا کہ بعض خطبوں میں لکھا ہے یا اصلا صحیح نہیں بینوا توجروا
الجواب :
نماز عید الفطر میں جو بوجہ عذر ایك دن کی تاخیر روا رکھی ہے وہاں شرط عذر صرف نفی کراہت کے لئے نہیں بلکہ اصل صحت کے لئے ہے یعنی اگر بلا عذر روز اول نہ پڑھے تو روز دوم اصلا صحیح نہیں نہ یہ کہ مع الکراہت جائز ہو عامہ معتبرات میں اس کی تصریح ہے مصنف خطبہ کہ شخص مجہول ہے قابل اعتماد نہیں اسے نماز عیدالاضحی سے اشتباہ گزرا کہ وہاں دو روز کی تاخیر بوجہ عذر بلاکراہت اور بلا عذر بروجہ کراہت روا ہے ۔
فی الدرلمختار وتأخر کمطر الی الزوال من الغد فقط واحکامھا احکام الاضحی لکن یجوز تاخیرھا الی اخرثالث ایام النحر
درمختار میں ہے کہ عذر مثلا بارش کی وجہ سے فقط دوسرے دن زوال تك مؤخر کی جا سکتی ہے اور عید الفطر کے احکام عید الاضحی کی طرح ہیں لیکن عید الاضحی
حوالہ / References &القرآن€ ٢ / ١٨٥
&القرآن€ ٢٢ / ٣٧
#11397 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
بلا عذر مع الکراھۃ وبہ ای بالعذر بدونھا فالعذر ھنا النفی الکراھۃ وفی الفطر للصحۃ اھ ملخصا وفی نورالایضاح وشرحہ مراقی الفلاح کلاھما للعلامۃ الشرنبلالی تؤخر صلوۃ عید الفطر بعذر الی الغد فقط و قید العذر للجواز لالنفی الکراھۃ فاذا لم یکن عذر لاتصح فی الغد اھ ملتقطا وفی مجمع الانھر للفاضل شیخی زادہ العذر فی الاضحی لنفی الکراھۃ وفی الفطر للجواز وفی شرح النقایۃ للشمس القھستانی لوترکت بغیر عذر سقطت کما فی الخزانۃ اھففی شرح المنیۃ الکبیر للعلامۃ الحلبی صلوۃ عید الاضحی تجوز فی الیوم الثانی والثالث سواء اخرت بعذر اوبدونہ اماصلوۃ الفطر فلاتجوز الافی الثانی بشرط حصول العذر فی الاول اھ وفی الفتاوی الخانیۃ ان فاتت صلوۃ الفطر فی الیوم الاول بعذر یصلی فی الیوم الثانی وان فاتت بغیر عذر لا یصلی فی الیوم الثانی
کو بلا عذر ایام نحر کے تیسرے دن تك مؤخر کیا جاسکتا ہے ہاں کراہت ہے اور عذر ہوگا تو کراہت نہیں ہوگی یہاں عذر کا ہونا نفی کراہت کے لئے ہے اور عید الفطر میں صحت کے لئے اھ تلخیصا نورالایضاح اور اس کی شرح مراقی الفلاح میں علامہ شرنبلالی فرماتے ہیں کہ عذر کی وجہ سے عید الفطر کو دوسرے دن تك مؤخر کیا جاسکتا ہے عذر کی قید جواز کے لئے ہے نفی کراہت کے لئے نہیں تو جب عذر نہ ہو تو دوسرے دن میں نماز صحیح نہ ہوگی اھ ملتقطا مجمع الانہر میں فاضل شیخی زادہ کہتے ہیں کہ اضحی میں عذر نفی کراہت اور فطر میں جوا ز کے لئے ہے شرح نقایہ للشمس قہستانی میں ہے کہ اگر نماز عید بغیر عذر کے چھوڑدی تو ساقط ہوجائے گی خزانہ میں بھی اسی طرح ہے اھ شرح منیہ کبیر للعلامہ حلبی میں ہے کہ عید الاضحی کی نماز دوسرے اور تیسرے دن بھی جائز ہے خواہ عذر کی وجہ سے موخر ہوئی یا بلاعذر لیکن نماز عید الفطر اگر پہلے دن کسی عذر کی وجہ سے ادا نہ کی جاسکی تو فقط دوسرے دن پڑھی جاسکتی ہے اھ فتاوی خانیہ میں ہے کہ اگر کسی عذر کی وجہ سے عید الفطر پہلے دن رہ گئی تو دوسرے دن
حوالہ / References &درمختار باب العیدین€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٦
&مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب احکام العیدین€ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ٣٩٣
&مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب صلوٰۃ العیدین€ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١ / ١٧٥)
&جامع الرموز فصل فی العیدین€ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ١ / ١٧٥
&غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی باب العیدین€ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ٥٧١
#11398 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
فان فاتت فی الیوم الثانی بعذر اوبغیر عذر لایصلی بعد ذلك واماعید الاضحی ان فاتت فی الیوم الاول بعذر او بغیر عذر یصلی فی الیوم الثانی فان فاتت فی الیوم الثانی بعذر او بغیر عذر یصلی فی الیوم الثالث فان فاتت فی الیوم الثالث بعذر او بغیر عذر لایصلی بعد ذلك وفی الھندیۃ عن تبیین الامام الزیلعی العذر ھھنا لنفی الکراھۃ حتی لواخروھا الی ثلاثہ ایام من غیر عذرجازت الصلوۃ وقد اساؤ اوفی الفطر للجواز حتی لو اخروھا الی الغد من غیر عذر لا یجوز انتھی ومثلہ فی رمزالحقائق للعلامۃ العینی۔
ادا کی جائے اور اگر عذر نہ تھا تو دوسرے دن نہیں پڑھی جاسکتی اور اگر دوسرے دن بھی نہ پڑھی جاسکی خواہ عذر تھا یا نہیں تو اس کے بعد نہیں پڑھی جاسکتی باقی نماز عید الاضحی اگر عذر یا بغیر عذر پہلے دن رہ گئی تو دوسرے دن پڑھ لی جائے اگر دوسرے دن فوت ہوگئی عذرتہا یا نہ تھا تو تیسرے دن پرھ لی جائے اور اگر تیسرے دن بھی رہ گئی خواہ عذر تھا یا نہ تھا تو اس کے بعد ادا نہیں کی جاسکتی ہندیہ میں امام زیلعی کی تبیین سے ہے کہ یہاں عذر نفی کراہت کے لئے ہے حتی کہ اگر بغیر عذر کے تین دن نماز موخر کردی تو اب بھی نماز جائز البتہ تاخیر کرکے برا کیا اور فطر میں عذر جواز کے لئے ہے حتی کہ اگر بغیر عذر کے نماز دوسرے دن تك مؤخر کی تو اب اس کی ادائیگی جائز نہ ہوگی انتہی علامہ عینی کی رمز الحقائق میں اسی طرح ہے ۔ (ت)
بالجملہ اس کا خلاف کتب متداولہ میں فقیر کی نظر سے کسی روایت ضعیفہ میں بھی نہ گزرا۔
اللھم الا ما رأیت فی جواھر الاخلاطی من قولہ اذافاتت صلوۃ عید الفطر فی الیوم الاول بعذر اوبغیرہ صلی فی یوم الثانی و لم یصل بعدہ اھ
فیظن ان یکون خلطا من الاخلاطی فانی رأیت لہ غیر ما مسئلۃ خالف فیھا الکتب المعتمدۃ والاسفار المعتبرۃ اویکون من خطأ الناسخ ۔ واﷲ تعالی اعلم
مگر یہ کہ میں نے جواہر اخلاطی میں یہ عبارت دیکھی کہ جب نماز عید الفطر پہلے دن فوت ہو خواہ عذر تھا یا نہ تھا دوسرے دن ادا کی جائے اور اس کے بعد نہیں پڑھی جاسکتی اھ تو گمان یہ ہے کہ اخلاطی کا خلط ہے کیونکہ میں نے متعدد مسائل میں دیکھا ہے کہ وہ کتب معتمدہ اور اسفار معتبرہ کے خلاف لکھتے ہیں یا یہ کاتب کی غلطی ہوسکتی ہے واﷲ تعالی اعلم (ت)
حوالہ / References &فتاوٰی قاضی خاں باب صلوٰۃ العیدین€ مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ ١ / ٨٨
&فتاوٰی ہندیہ باب صلوٰۃ العیدین€ نوری کتب خانہ پشاور ١ / ١٥٣
#11399 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عیدگاہ میں ایك دن ایك ہی خطبہ ہے دو امام نے دو جماعت نماز پڑھائی ان میں سے پہلے امام نے مع خطبہ نماز پڑھائی اور ثانی امام نے بدون خطبہ کے نماز ادا کی اب ان دونوں جماعتوں کی نماز ہوئی یا نہیں اگر جائز ہے تو دونوں کی جائز ہوئی یا ایك کی اور اگر ایك جائز ہوئی تو پہلے کی یا ثانی کی اور اگر ناجائز ہے تو دونوں کی ناجائز ہے یا ایك کی اگر ایك ہے تو پہلے کی یا ثانی کی بینوا بحوالۃ الکتاب وتؤجروا یوم الحساب ( کتاب کے حوالے کے ساتھ بیان کرو اور حساب کے دن اجر پاؤ۔ ت)
الجواب :
اگر دونوں امام ماذون باقامت نماز عید تھے دونوں جائز ہوگئیں اگر چہ امام دوم نے ترك سنت کیا کہ عیدین میں خطبہ ہے فرض وشرط نہیں تو اس کا ترك موجب ناجوازی نہ ہوگا البتہ موجب اساءت و کراہت ہے ۔
فی الدرالمختار تجب صلوتھما علی من تجب علیہ الجمعۃ بشرائطھا المتقدمۃ سوی الخطبۃ فانھا سنۃ بعدھا فی ردالمحتار قال فی البحر حتی لو لم یخطب اصلاصح واساء لترك السنۃ فی التنویر تؤدی بمصر بمواضع اتفاقا ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
درمختار میں ہے کہ عیدین کی نماز ان لوگوں پر لازم ہے جن پر جمعہ لازم اور خطبہ کے علاوہ تمام شرائط بھی جمعہ والی ہی ہیں کیونکہ عید کے بعد خطبہ سنت ہے ردالمحتار میں ہے کہ بحر میں ہے حتی کہ اگر بالکل خطبہ دیا ہی نہیں تو نماز صحیح ہوگی لیکن ترك سنت کی وجہ سے براکیا۔ تنویر میں ہے کہ شہر میں بالاتفاق متعدد مقامات پر عید ادا کی جا سکتی ہے۔ واﷲ تعالی اعلم ۔ (ت)
مسئلہ تا : از ملك بنگالہ ضلع ڈھاکہ ڈاك خانہ بدیعار بازار موضع قاضیہ گاؤں
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین ان مسائل مندرجہ ذیل میں :
() جس جگہ میں عید کی نماز کے واسطے احتیاط نہیں بلکہ پنج یا چھ ماہ تك پانی کے نیچے ڈوبا ہوا رہتا ہے
حوالہ / References &درمختار باب العیدین€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٤
&ردالمحتار باب العیدین€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٦١١
&تنویرالابصار باب العیدین€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٤
#11400 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
اور باقی چھ ماہ بیل بکریاں اسی جگہ میں چرتی ہیں اور وہ جگہ خراجی ہے وقفی نہیں تواس جگہ کو شرع میں عیدگاہ کہتے ہیں یا نہیں اور اس میں نماز عید درست ہے یا نہیں
() عید کے دن بعد نماز عید کے مصافحہ کرنا درست ہے یا نہیں اگر مصافحہ کریں تو حرام ہے یانہیں اور معانقہ کرنابھی درست ہے یا نہیں
الجواب :
() اگر وہ زمین کسی شخص کی ملك ہے اور اس نے نماز عید کے لئے وقف نہ کی تو وہ عید گاہ نہ ہوگی
فان مصلی العید عرفاھو عادی الارض المقرر من جھۃ سلطان الاسلام او جماعۃ مسلمی البلد لصلوۃ العید او للمملوك الموقوف لھا من جہۃ المالک۔
کیونکہ عیدگاہ عرفا زمین کاوہ ٹکڑا ہے جسے بادشاہ اسلام یا مسلمانوں کی ایك جماعت نے نماز عید کے لئے چھوڑا ہو یا وہ مالك کی طرف سے نماز عید کے لئے وقف ہو ۔ (ت)
ہاں باجازت مالك اس میں نماز درست ہے
فانہ لیس المسجد ولاالوقف من جھۃ شرائط صحۃ صلوۃ اصلا صلوۃ العید کانت او الجمعۃ اوغیر ذلك کما نصوا علیہ فی کتب المذھب ۔ واﷲ تعالی اعلم
کیونکہ نہ مسجد اور نہ صحت صلوۃ کے لئے شرائط وقف کا پایا جانا ضروری ہوتا ہے خواہ وہ نماز عید ہویا جمعہ یاا س کے علاوہ کوئی نماز ہو جیسا کہ کتب میں فقہاء نے تصریح کی ہے ۔ (ت) واﷲ تعالی اعلم
() بعد نماز عید مصافحہ ومعانقہ دونوں درست ہیں جبکہ کسی منکر شرعی پر مشتمل یا اس کی طر ف منجر نہ ہوں جیسے خوبصورت امرد اجنبی محل فتنہ سے معانقہ بلکہ مصافحہ بھی کہ بحالت خوف فتنہ اس کی طرف نظر بھی مکروہ ہے نہ كہ مصافحہ نہ کہ مضانقہ
کما فی الدرالمختار وغیرہ من معتمدات الاسفار وتفصیل المسائل موکول الی رسالتنا وشاح الجید فی تحلیل معانقہ العید۔ واﷲ تعالی اعلم۔
جیسا کہ درمختار جیسی معتبر کتب میں ہے اوراس کی تفصیل ہمارے رسالہ “ وشاح الجید فی معانقۃ العید “ میں خوب ہے ۔ (ت)
مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں اگر ہلال شوال دن چڑھے تحقیق ہو اور بارش شدید ہو بعض اہل شہر نماز عید پڑھیں بعض بسبب بارش نہ پڑھیں توجماعت باقیما ندہ دوسرے دن
#11401 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
اداکریں یا اب انھیں اجازت نہ دی جائے گی کہ نماز ہوچکی اور قہستانی میں ہے :
اذا صلی الامام صلوتہ مع بعض القوم لایقضی من فاتت تلك الصلوۃ عنہ لافی الیوم الاول ولامن الغد انتھی بینوا توجروا۔
جب امام نے کچھ لوگوں کو نماز پڑھادی تو جن کی نماز فوت ہوگئی وہ اسے قضا نہیں کرسکتے نہ پہلے دن اور نہ دوسرے دن ۔ انتہی ( ت) بینوا توجروا
الجواب :
اللھم ھدایۃ الحق والصواب ( اے اﷲ !حق اور صواب کی توفیق عطا فرما ۔ ت) صورۃ مستفسرہ میں جماعت باقیماندہ بیشك دوسرے دن ادا کرے عید الفطر میں بوجہ عذر ایك دن کی تاخیر جائز ہے اور بارش عذر شرعا مسموع
فی الدرالمختار و توخربعذر کمطرالی الزوال من الغد فقط انتہی
درمختار میں ہے عذر کی وجہ سے نماز فطر فقط دوسرے دن تك مؤخر کی جائے گی جیسے بارش۔ انتہی (ت)
اور صلوۃ عید میں جواز تعدد متفق علیہ ہے بخلاف جمعہ کہ اس میں خلاف ہے اور راجح جواز
فی الدرلمختار تؤدی بمصر واحد بمواضع کثیرۃ اتفاقا اھ
درمختار میں ہے کہ ایك شہر میں بالاتفاق متعدد مقامات پرنماز عید ادا کی جاسکتی ہے اھ (ت)
تو ادائے بعض اہل شہر سے بعض دیگر کو دوسرے روز پڑھنا کیونکر ممنوع ہوسکتا ہے کلام قہستانی وغیرہ اس صورت میں ہے جب عامہ اہل بلد پڑھ لیں اور ایك آدمی باقی رہ جائے کہ نماز عید بے جماعت مشروع نہیں ناچار پڑھنے سے باز رہے گا ہدایہ کی تعلیل اس پر صاف دلیل
قال من فاتتہ صلوۃ العید مع الامام لم یقضہا لان الصلوۃ بھذہ الصفۃ لم تعرف قربۃ الا بشرائط لا تتم بالمنفرد اھ
فرمایا جس کی نماز عید امام کے ساتھ فوت ہوگئی وہ اسے قضا نہیں کرسکتا کیونکہ اس طرح کی نماز شرائط کے ساتھ مشروع ہے اور وہ شرائط تنہا ہونے کی صورت میں پوری نہیں ہوتیں اھ (ت)
حوالہ / References &جامع الرموز فصل فی صلوٰۃ العیدین€ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ١ / ٢٧٤
&درمختار باب العیدین€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٦
&درمختار باب العیدین€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٦
&الہدایۃ باب العیدین€ المکتبہ العربیۃ کراچی ١ / ١٥٤
#11402 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
اور عبارت تنویر الابصار مورث تنویر الابصار امام ابو عبداﷲ محمد بن عبداﷲ غزی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے ابتداء اس مسئلہ کو ایسے پیرا میں ادا فرمایا وہم واہم راہ نہ پائے
حیث یقول ولایصلیھا وحدہ ان فاتت مع الامام اھ
یہاں انھوں نے کہا تنہا نماز نہ پڑھے جب امام کے ساتھ فوت ہوگئی اھ (ت)
یونہی امام حافظ الدین ابوالبرکات نسفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا اپنے متن و شرح وافی و کافی میں ارشاد ازالہ اوہام ایقاظ افہام کے لئے کافی ووافی
لم یقض ان فاتت مع الامام ای صلی الامام العید وفاتت من شخص فانھا لاتقضی لانھا ماعرفت قربۃ الابفعلہ علیہ الصلوۃ و السلام وما فعلھا الابالجماعۃ فلا تؤدی الابتلك الصفۃ اھ ملخصا
نہ قضا کی جائے اگر امام کے ساتھ رہ گئی ہو یعنی امام نے نماز عید پڑھادی اور ایك شخص کی فوت ہوگئی تو وہ اسے قضا نہ کرے کیونکہ یہ نماز حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے معمول کے مطابق ہی مشروع ہے اور آپ نے اسے جماعت ہی سے ادا فرمایا لہذا اب اس صفت کے علاوہ اسے ادا نہیں کیا جاسکتا اھ ملخصا (ت)
علامہ بدرالدین محمود عینی رمز الحقائق میں فرماتے ہیں :
صلاھا الامام مع الجماعۃ ولم یصلھا ھو لایقضیھا الا فی الوقت ولابعدہ لانھا شرعت بشرائط لاتتم بالمنفرد اھ
امام نے جماعت کروادی لیکن اس شخص نے نہیں پڑھی تو اب وہ قضا نہ کرے نہ وقت کے اندر نہ بعد میں کیونکہ یہ کچھ شرائط کے ساتھ مشروع تھی اور وہ اکیلا ہونے کی صورت میں پوری نہیں ہوتیں اھ (ت)
مستخلص میں زیر قول کنز لم تقض ان فاتت مع الامام ( قضا نہ کی جائے اگر امام کے ساتھ رہ گئی ہو ۔ ت) لکھتے ہیں :
معناہ لو لم یصل رجل مع الامام لم یقضھا منفردا ۔
معنی اس کا یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے امام کے ساتھ نماز عید نہیں پڑھی تو وہ اب تنہا قضا نہ کرے (ت)
حوالہ / References &درمختار باب العیدین€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٦
&کافی شرح وافی€
&رمزا لحقائق باب فی احکام صلوٰۃ العیدین€ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ١ / ٥٨
&مستخلص الحقائق باب فی احکام صلوٰۃ العیدین€ کانشی رام پر نٹنگ پریس ، لاہور ١ / ٢٩٩
#11403 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
یا تویہ معنی ہیں کہ امام معین ماذون من السلطان ادا کرچکا اور ان باقیما ندہ میں کوئی مامور نہیں اقامت کون کرے فاضل محقق حسن شرنبلالی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا کلام مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں اس طرف ناظر
اذ قال من فاتتہ الصلوۃ فلم ید رکھا مع الامام لا یقضیھا لانھا لم تعرف قربۃ الابشرائط لاتتم بدون الامام ای السلطان اومامورہ ۔
کیونکہ انھوں نے کہا ہے کہ جو نماز امام کے ساتھ نہ پڑھ سکا وہ اب قضا نہ کرے کیونکہ یہ نماز شرائط کے ساتھ مشروع ہے اور وہ اما م یعنی سلطان یا اس کے نائب کے بغیر پوری نہیں ہوسکتیں (ت)
اس لئے فاضل سید احمد مصری اس کے حاشیہ میں فرماتے ہیں :
ای وقد صلاھا الامام اومامورہ فان کان مامور ا باقامتھا لہ ان یقیمھا اھ اقول : وقد یشیر الیہ تعریف الامام فی عبارۃ النقایۃ المذکورۃ وغیرھا کما لا یخفی علی العارف باسالیب الکلام۔
یعنی امام یا اس کے نائب نے نماز پڑھادی پس اگر وہ امامت عید کے لئے مامور تھا تو وہ اسے پڑھا سکتا ہے (ت)اقول : اس کی طرف عبارت نقایہ وغیرہ میں ہیں جو امام نے تعریف کی ہے وہ بھی اشارہ کرتی ہے جیسا کہ کلام کے اسالیب کے ماہر پر مخفی نہیں ۔ (ت)
بہر طور عبارت جامع الرموز سے بدیں وجہ کہ نماز ایك بار ہوچکی باقیماندہ لوگوں کے لئے ممانعت تصور کرنا محض خطا اقول بلکہ اگر نظر سلیم ہو تو وہی عبارت بعینہا مانحن فیہ میں جواز پر دال کہ اس میں صرف دوسرے ہی دن کی نسبت ممانعت نہیں بلکہ جب امام جماعت کر چکے تو اس روز بھی نہ پانے والے كو منع کرتے ہیں حیث قال لافی الیوم الاول ولا من الغد ( نہ پہلے اور دوسرے دن ۔ ت) اور اول بیان ہوچکا کہ تعدد جماعت عیدین میں بالاتفاق جائز اور معلوم ہے کہ یہ تعدد تاخر سے خالی نہیں ہوتا اگر عبارت مفرح نقایہ کے یہ معنی ہوتے کہ جب ایك جماعت پڑھ لے تو دوسروں کو مطلقا اجازت نہیں تو یہ تعدد کیونکر روا ہوتا اور نماز عیدکا بھی حکم اس امر میں اس کے مذہب پر جو تعدد جمعہ روا نہیں رکھتا مانند نماز جمعہ ہوجاتا یعنی جماعت سابقہ کی تو نماز ہوگئی باقی سب کی ناجائز کما فی الدرالمختار علی المرجوح فی الجمعۃ لمن سبق تحریمتہ ( جیسا کہ درمختار میں مرجوح قول کے مطابق ہے کہ جمعہ ان لوگوں کا ہے جن کی تحریمہ پہلے ہو ۔ ت) تو بالیقین معنی کلام وہی ہیں جو ہم نے
حوالہ / References &مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب احکام العیدین€ مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص٢٩٢
&حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب احکام العیدین€ مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ٢٩٢
#11404 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
بیان کئے اور قاطع شغب یہ ہے کہ درمختار میں درصورت فوات مع الامام تصریح کی :
لو امکنہ الذھاب الی الامام الاخر فعل لانھا تؤدی بمصر واحد بمواضع کثیرۃ اتفاقا ۔
اگر دوسرے امام کی طرف جانا ممکن ہو تو چلا جائے کیونکہ ایك شہر میں بالاتفاق متعدد جگہوں پر نماز عید ادا کی جاسکتی ہے (ت)
حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے :
لوقدر بعد الفوات مع الامام علی ادراکھا مع غیر فعل للاتفاق علی جواز تعددھا اھ
اگر ایك امام کے ساتھ فوت ہونے کے بعد دوسرے امام کے ساتھ نماز ادا کی جاسکتی ہے تو نمازی وہاں چلاجائے کیونکہ متعدد مقامات پر عید کے جواز پر اتفاق ہے اھ (ت)
دیکھو نص فرماتے ہیں کہ امام کے پیچھے نہ پڑھے تو دوسرے اما م کے پیچھے پڑھے اور حال عذر میں روز اول و دوم یکساں آج پڑھے تو کل کون مانع مگر یہ ضرور ہے کہ جوامام عیدین وجمعہ کے لئے مقرر ہو اسے بھی فوت ہوئی ہو کہ امامت کے لئے امام معین مل سکے اور اگر مقرر کردہ امام سب پڑھ چکے اور بعض لوگ رہ گئے تو یہ بیشك نہیں پڑھ سکتے نہ آج نہ کل واﷲ تعالی اعلم بالصواب والیہ المرجع والماب۔
مسئلہ تا : از پیلی بھیت مدرسۃ الحدیث جناب مولانا وصی احمد صاحب محدث سورتی رحمۃ اللہ تعالی علیہ ذی الحجہ ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مسائل ذیل میں :
() اگر حاکم وقت نے عام طور پر اجازت دے دی کہ تم لوگ فلاں زمیں پر اپنی عیدگاہ بنالو یا بلااجازت عیدگاہ بنانے کے فقط دوگانہ اداکرنے کی اجازت دی تو ان دونوں صورتوں میں نماز کا ثواب اسی قدر ملے گا جس قدر مسلمان کی وقف کردہ عیدگاہ میں ملتا ہے یا اس سے کم
() اور صورت اولی میں اگر مسلمانوں نے عیدگاہ بنالی تو وہ وقف سمجھی جائے گی اور احکام عیدگاہ اس کے لئے ثابت ہوں گے یا وہ زمین ملك حاکم پر باقی ہے اور وقف کے احکام جاری نہ ہوں گے
() اگر بے اجازت گورنمنٹ گورنمنٹ كی زمین پر نماز عید پڑھی گئی تو نماز بلاکراہت ہوگئی یا نہیں
() مصلی اعنی عیدگاہ کے مفہوم میں اس کا محاط ہونا داخل ہے جیسے کہ جامع الرموز کی عبارت سے واضح
حوالہ / References &درمختار باب العیدین€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٦
&مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب احکام العیدین€ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص٢٩٢
#11405 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
ہے یا نہیں بلکہ جس جگہ نماز ہو محاط ہو یا نہ ہو وہ عیدگاہ ہے ۔ بینوا توجروا
الجواب :
( ) ہاں اتنا ہی ثواب ہے زمین وقف کردہ میں پڑھنا نہ عیدین کے سنن سے ہے نہ مستحبات سے سنت اس قدر ہے کہ صحرا میں ہو
وقد کان المصلی فی زمنہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و زمن الخلفاء الراشدین رضی اﷲ تعالی عنھم من عادی الارض بغیر وقف ولابناء ۔
کیونکہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ظاہری حیات اور خلفاء راشدین رضی اللہ تعالی عنہم کے دور میں عیدگاہ افتادہ زمین تھی نہ وقف تھی اورنہ تعمیر شدہ تھی ۔ (ت)
() صحراؤں جنگلوں کی افتادہ زمینیں بادشاہ کی ملك نہیں ہوتیں وہ اصل ملك خدا ور رسول پر ہیں جل جلالہ و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم حدیث میں ہے :
عادی الارض ﷲ ورسولہ رواہ البیھقی فی الشعب عن طاؤس عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وعن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما وقفا۔
افتادہ زمینیں اﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ہیں اسے بیہقی نے شعب الایمان میں طاؤس سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کیا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہم سے یہ موقوفا روایت ہے (ت)
حاکم وقت نے جب اجازت دے دی اور استر داد کا خوف نہ رہا اور مسلمانوں نے وقف کردی وقف صحیح لازم ہوگئی احکام مصلی اس پر جاری ہوں گے۔ () نماز بلاکراہت صحیح ہے
لما مر ان الارض ﷲ ورسولہ جل وعلاوصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔
جیسا کہ گزرا کہ زمین اﷲ جل وعلا اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ہے ۔ (ت)
() محاط ہونا مفہوم مصلی میں داخل نہیں
لما قد منا ان الصلوۃ فی زمنہ و زمن الخلفاء کانت فی ارض بیضاء بدون بناء وما
پیچھے ہم نے بیان کیا کہ نماز عید سرور دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ظاہری حیات اور خلفاء کے دور
حوالہ / References &الجامع الرموز مع فیض القدیر بحوالہ بیہقی حدیث€ ۵۳۶۳ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ٤ / ٢٩٨
#11406 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
فی القھستانی فلہ علی العادۃ الحادثۃ بناء قصد بہ التعریف لااشتراط بنا ء ۔ واﷲ تعالی اعلم
میں چٹیل میدان میں بغیر کسی عمارت کے ہوتی تھی اور قہستانی میں جو کچھ ہے وہ عادت معروفہ پر مبنی ہے یہ نہیں کہ بناء کو بطور شرط بیان کیاگیا ہے۔ واﷲ تعالی اعلم ۔ (ت)
مسئلہ : قاضی عبدالحمید صاحب از قصبہ کیکڑی ضلع اجمیر شریف محرم ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وفضلائے شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسجد عیدگاہ میں جبکہ مسلمانوں میں رنج ہو اور مذہب غیر ہو تواس صورت میں نماز عید کی دونوں گروہ اپنے اپنے امام کے ساتھ علیحدہ علیحدہ نماز و خطبہ ایك مسجد میں ادا کرسکتے ہیں یا نہیں جواب دو پروردگار اجر دے گا۔
الجواب :
نماز عید مثل نماز جمعہ ہے نماز پنجگانہ کی طرح نہیں جن میں ہر شخص صالح امامت کرسکتا ہے عیدین اور جمعہ کے لئے شرط ہے کہ امام خود سلطان اسلام ہو یا اس کا نائب یا اس کا ماذون اور نہ ہو تو بضرورت جسے عام مسلمانوں نے امامت جمعہ وعیدین کے لئے مقرر کیا ہو ظاہر ہے کہ ایك مسجد میں ایك نماز کے لئے دو شخص امام مقرر نہیں ہوتے تو جوان میں مقرر نہیں ہے اسکی اور اس کے پیچھے والوں کی نماز نہ ہوگی اور یہاں اختلاف مذہب حنفیت وشافعیت عذر نہیں ہوسکتا ہاں اگر ایسا اختلاف مذہب ہے کہ ان میں ایك گروہ سنی اور دوسرا وہابی یا غیر مقلد تو اس صورت میں اس امام اور اس کے مقتدیوں کی نما ز باطل محض ہے اور سنیوں پر لازم ہے کہ اپنا امام اپنے میں سے مقرر کریں ا نھیں کی نماز نماز ہوگی وبس واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ : از شہر محلہ بازار صندل خاں مرسلہ ہدایت اﷲ صاحب ذی الحجہ ھ
زید عید کی نماز سے پہلے درزی کا کام کرتا رہا بکر نے کہا کہ زید نے نماز سے پہلے جتنی مزدوری کی وہ حرام ہے اس لئے کہ اس نے جتنا کام قبل از نمازکیا وہ ناجائز تھا آیا یہ صحیح ہے یا نہیں
الجواب :
بکر محض غلط کہتا ہے جبکہ زید نے ادائے نماز میں قصور نہ کیا تو نہ قبل نماز کام کرنا حرام تھا نہ بعد نماز نہ اس اجرت میں کوئی حرج ہے ہاں اگر کام کے سبب نمازنہ پڑھتا تو وہ کام حرام ہوتا اجرت پھر بھی حرام نہ تھی یہ تو حلت وحرمت کا حکم ہے البتہ مستحب ہے کہ ضرورت نہ ہو تو عید کے دن نماز سے پہلے متعلقات عید کے سوا کوئی دنیوی کام نہ کرے کہ خوشی کا دن ہے نہ کہ محنت کا اس دن کا اور دنوں سے امتیاز چاہئے اسی واسطے ہر گروہ میں اپنی اپنی عیدوں کے دن تعطیل کا معمول ہے پھر بھی یہ کوئی واجب نہیں اور
#11407 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
ضرورت ہو جب تو کوئی گنجائش کلام ہی نہیں واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : نماز عید میں امام نے تکبیر تحریمہ کے بعد سورہ فاتحہ شروع الحمد اﷲ رب العلمین کہنے کے بعد مقتدی کے یاد دلانے پر تکبیر ثلثہ کہیں اور بعد تکبیرات دوبارہ قرات شروع کی اس شکل میں نماز ہوئی یا نہیں
الجواب :
پہلی صورت میں نماز نہ ہوئی دوسری میں ہوگئی ایسا شخص احق بالا مۃ نہیں ہو سکتا۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از پیلی بھیت محلہ شیر مرسلہ حاجی حامد حسین صاحب و عزیز الدین صاحب شوال ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین زید نے ایك مسجد میں جو شہر میں واقع ہے مقتدی بن کر نماز عید الفطر پڑھی بعد اس کے زید عیدگاہ کو گیا اور وہاں بکر امام تھا اس سے نماز پڑھاتے وقت اخیر رکعت میں تکبیریں چھوٹ گئی تھیں جس سے نماز فاسد ہوگئی تب زید نے دوبارہ امام بن کر نماز عید الفطر پڑھائی حالانکہ وہ نماز مقتدی کی حالت میں پڑھ کر گیا تھا ایسی حالت میں زید کو نماز پڑھانا چاہئے تھا یا نہیں آیا زید کی نماز جو اس نے پیشتر مقتدی ہو کر پڑھی تھی صحیح ہے یاامام کی حالت میں ہے اور دیگر مقتدیان کی نماز جنھوں نے زید کے پیچھے کہ جس نے دوبارہ حالت امام میں نماز پڑھائی ان کی نماز درست ہوئی یا نہیں
الجواب :
زید کو امامت ہر گز جائز نہ تھی جن لوگوں نے اس کے پیچھے نماز پڑھی ان کی نماز باطل ہوئی ان میں جو ناواقف تھے ان کی نماز رہ جانے کا وبال بھی زید کے سر رہا درمختار میں ہے :
لایصح اقتداء مفترض بمتنفل ولاناذر بمتنفل ۔
فرض پڑھنے والے کی نفل پڑھنے والے کی اقتداء درست نہیں اور نہ نذر پوری کرنیوالے کی متنفل کی اقتدا ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
لان النذر واجب فیلزم بناء القوی علی الضعیف ح۔ واﷲ تعالی اعلم ۔
کیونکہ نذر واجب ہے لہذا قوی کی ضعیف پر بنا لازم آئے گی ۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
حوالہ / References &درمختار باب الامامۃ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٨٤
&ردالمحتار باب الامامۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٤٢٩
#11408 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
مسئلہ : از سلہٹ شوال ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چند محلے کے لوگ مسجد میں جمعہ وعید کی نماز پڑھتے ہیں اور ہر شخص ازروئے تغافل وتکاسل وقت معین میں حاضر نہیں ہوتے لہذا بعض لوگوں کی نماز فوت ہوتی ہے اس لئے جھگڑا فساد لڑائی برپا کرتے ہیں اب سب محلہ والے مل کر ایك صاحب علم سے مشورہ کیا اس نے یہ امر کیا کہ تین بنگلولہ جلانا مناسب ہے یکے بعد دیگرے اگر تیسرے بنگولے کے متصل کوئی حاضر نہ ہوتو جھگڑا لڑائی نہیں سب لوگوں نے اس بات پر متفق ہو کر یہ عمل شروع کیا کہ عید کے دن تین بنگولہ جلاتے ہیں اور کہتا ہے کہ یہ واسطے اعلام اور اعلان مصلیوں کے کرتے ہیں اب یہ بات جب دوسرے کسی صاحب علم نے سنا تو کہا یہ آتشبازی فعل بدعت سیئہ محرمہ ہنود کا کام ہے وہ لوگ اپنے عیدوں تہواروں میں کیا کرتے ہیں ہر گز جائز نہیں ۔
الجواب :
فی الواقع یہ بدعت سیئہ ہے اور مشابہت کفار ہے اس سے بچنا واجب حدیث اذان میں اس کا فیصلہ ہوچکا نارونا قوس سب رد کردئے گئے اور اذان مقرر فرمائی گئی جس سے اعلائے کلمۃ اﷲ ہے اور عیدین کے لئے تو اذان کا بھی حکم نہیں احادیث صحیحہ میں ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے عیدین میں نہ اذان دلوائی نہ اقامت کہلوائی صرف الصلوۃ جامعۃ دوبار پکارا جاتا ہے اسی پر اختصار کریں اوراس سے زائد ہر گز کچھ نہ ہو تغافل والوں کا وبال ان پر ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از بریلی مدرسہ منظر اسلام مسئولہ مولوی رحیم بخش صاحب بنگالی صفر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عیدگاہ میں مسجد کے بستر وغیرہ لے جانا جائز ہے یا نہیں
الجواب :
عیدگاہ میں مسجد کا مال لے جانا ممنوع ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از تارا کاندی مدرسہ اسلامیہ پوسٹ پاکند یہ ضلع میمن سنگھ مسئولہ محمد عبدالحافظ صاحب مدرس اول تارا کاندی محرم ھ
چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین اندریں مسئلہ ذیل کہ بعد نماز عیدین قبل الخطبہ یابعد الخطبہ دعا خواستن جائز است یا نہ بر تقدیر اول دلیلش چہ بحوالہ کتب حنفیہ باظہار دلائل متعدد بیان فرمایند دربہشتی گوہر مصنفہ مولوی اشرف علی مرقوم است
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیا ن شرع متین اس مسئلہ میں کہ عیدین کی نماز کے بعد قبل از خطبہ یا بعد از خطبہ دعا مانگنا جائز ہے یا نہیں اگر جائز ہے تو حنفی کتب سے متعدد حوالہ جات سے بیان فرمائیں مولوی اشرف علی کی کتاب بہشتی گوہر میں لکھا ہے
#11409 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
کہ باتباع سنت دعا مانگنے سے دعا نہ مانگنا بہتر ہے۔
کہ اس صورت میں سنت کی پیروی کرتے ہوئے دعا نہ مانگنا بہتر ہے۔
الجواب :
بہشتی گوہروبہشتی زیور ہر دو تصنیف ہمچوکسے ست کہ ہمہ علمائے کرام حرمین شریفین زاد ہما اﷲ شرفا و تعظیما بالاتفاق تحریر فرمودہ اند کہ اومرتدست و آنکہ ہر کہ براقوال ملعونہ اومطلع شدہ در کفر او شك آرد خود کافراست وایں کتابہا بر بسیاری از مسائل فاسدہ واغلاط کاسدہ مشتمل ست دیدن آنہا حرام وموجب ضلالت عوام ودعا بعد نماز عید باتباع سنت عامہ وآثار خاصہ جائز و مستحب است والتفصیل فی رسالتنا سرور العید فی حل الدعاء بعد صلوۃ العید واﷲ تعالی اعلم۔
بہشتی گوہر اور بہشتی زیور دونوں کتابیں اس شخص کی ہیں جس کے بارے میں علمائے حرمین ( حرمین کو اﷲ تعالی زیادہ شرف وتعظیم عطا فرمائے) نے تحریر فرمایا ہے کہ وہ شخص ( اپنے کفریہ الفاظ کی وجہ سے) مرتد ہے اور جو شخص اس کے کفریات پر مطلع ہو کر اس کے کافر ہونے میں شك کرے وہ کافر ہوگا یہ بہت سے غلط اور فاسد مسائل پر مشتمل ہے اس کا پڑھنا حرام ہے اور عوام کی گمراہی کا سبب ہے جبکہ عید کی نماز کے بعد سنت معروفہ اور آثار مخصوصہ کی اتباع میں جائز اور مستحب ہے اور اس کی تفصیل ہمارے رسالہ “ سرور العید فی حل الدعاء بعد صلوۃ العید “ میں ہے واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از تین سوکیا ڈاك خانہ خاص ضلع ڈبر و گڑھ ملك آسام مسئولہ عبداللطیف شوال ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں :
() اگر تار کی خبر پر افطار کرنا جائز ہو تو عید کی نماز پانے کے سبب دور دراز کے آدمی کی خبر گیری کے لئے ایسے موقع پرایك روز کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں
() اور مسلم جماعت کے سردار پر ہیز گار نے کہا آج تار کی خبر سے افطار تو کرلیں گے اگر شرعا جائز ہو لیکن ایسے تنگ وقت پڑھنے سے دور دراز کے آدمی سب نماز سے محروم رہیں گے لہذا بہتر ہے کہ دوسرے روز نماز پڑھی جائے تاکہ سب لوگ شامل ہوں اور کوئی محروم نہ رہے اب بغیر رضا سردار کے نماز پڑھنی جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
#11410 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
الجواب :
() تار کی تو خبر معتبر ہی نہیں اگر شہادت شرعیہ ایسے وقت گزری کہ وقت تنگ ہے شہر میں اطلاع اور لوگوں کا اجتماع متعذر ہے تو دوسرے دن پڑھیں لانھا تؤ خربعذر الی الغد کما نصوا علیہ ( کیونکہ عذر کی وجہ سے نماز عید کو دوسرے دن تك موخر کیا جاسکتا ہے جیسا کہ اس پر نص ہے ۔ ت) اور اگر شہر کے لئے وقت کافی ہے مگر دور دراز کے دیہات کو خبر جانا اور ان لوگوں کا آنا نہیں ہوسکتا تو واجب ہے کہ عید آج کرلیں دیہاتوں کے لحاظ سے کل کے لئے تاخیر جائز نہیں کہ نماز عید الفطر کی تاخیر بلاعذر گناہ و ممنوع ہے اور دیہاتوں کا نہ آسکنا کوئی عذر ہی نہیں ۔ درمختا ر میں ہے :
تؤخر بعذر کمطر الی الزوال من الغد فقط و الاضحی یجوز تاخیرھا الی آخر ایام النحر بلاعذر مع الکراھۃ وبالعذر بدونھا فالعذرھنا لنفی الکراھۃ وفی الفطر للصحۃ ۔
عذ رکی وجہ سے فقط دوسرے دن تك مؤخر کیا جاسکتا ہے مثلا بارش اور نماز عید الاضحی کو بغیر عذر کے ایام نحر کے آخری دن تك مؤخر کیا جاسکتا ہے البتہ کراہت ہوگی اور اگر عذر ہو تو کراہت بھی نہیں تو یہاں عذر نفی کراہت کے لئے اور فطر میں عذر صحت کے لئے ہے ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ بعذر کمطر دخل فیہ مااذا لم یخرج الامام وما اذاغم الھلال فشھدوا بہ بعد الزوال اوقبلہ بحیث لایمکن جمع الناس ۔
ماتن کا قول کہ عذر ہو مثلا بارش تواس میں وہ صورت بھی شامل ہے جب امام نہ آیا ہو اور وہ صورت بھی جب چاند مخفی رہا اور اس کے نظر آنے پر زوال کے بعد گواہی ملی یا اتنی پہلے کہ لوگو ں کا جمع ہوناممکن نہ تھا۔ (ت)
درمختار میں ہے :
تجب صلوتھما (ای العیدین ) علی من تجب علیہ الجمعۃ ۔
عیدین کی نماز انھیں لوگوں پر لازم ہے جن پر جمعہ لازم ہے ۔ (ت)
حوالہ / References &درمختار باب العیدین€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٦
&ردالمحتار باب العیدین€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٦١٨
&درمختار باب العیدین€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٤
#11411 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
ردالمحتار میں برہان شرح مواہب الرحمن سے ہے :
وجوبہا مختص باھل المصر واﷲ تعالی اعلم ۔
اس کا وجوب اہل شہر کے لئے مخصوص ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم
() اوپر معلوم ہوا کہ تار پر افطار حرام ہے اور اس پر عید کرکے نماز پڑھنا بھی گناہ اور وہ نماز نہ ہوگی کہ سردار درکنار شریعت ہی کی رضا نہیں کہ پیش از وقت ہے ہاں اگر شرعی ثبوت ہوجاتا تو دیہاتوں کے لئے تاخیرنا جائز تھی اور دوسرے دن پڑھتے تو نماز ہی نہ ہوتی ایسی حالت میں سردار کے قول پر عمل ناجائز تھا اسی روز نماز عید پڑھ لینی واجب ہوتی ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از اوجین مکان میر خادم علی اسسٹنٹ مرسلہ یعقوب علی خاں صاحب محرم الحرام ھ
الحمد ﷲ رب العلمین والعاقبہ للمتقین والصلوۃ والسلام علی رسولہ محمد والہ و اصحابہ اجمعین چہ می فرمایند علما وفضلائے دین دریں مسئلہ کہ نماز عید ین درقصبہ خواہ شہر باشد بجز عیدگاہ بشرط تکرار یا ہمیں درمساجد دیگر بگزارد درست ست یا ممنوع وبرتقدیر قاضی فاسق نماز را ملك خود قراردادہ نماز عید دیگر مساجد شہر را بجماعت حکام بند کنانیدہ دہدبدیں سبب کہ مرد مان شہر پس من نماز ادا نما یند پس باقتدائے فاسق نماز درست ست یا نہ وحکم قضائے قاضی فاسق پیر وان او چیست بیان فرمایند بالتشریح بحوالہ کتب رحمہ اﷲ اجمعین۔
سب تعریف اﷲ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے اور آخرت متقین کی ہے اور صلوۃ وسلام ناز ل ہو اﷲ کے رسول محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر اور آپ کی آل واصحاب تمام پر علماء و فضلائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ عید ین کی نماز قصبہ یا شہر میں عیدگاہ کے علاوہ بشرط تکرار یا انھیں دیگر مساجد میں ادا کی جاسکتی ہے یا ممنوع ہے اگر قاضی فاسق نماز کو اپنی ملك سمجھتے ہوئے شہر کی دوسری مساجد میں حکام کو جماعت سے منع کردیتا ہے تاکہ تمام لوگ میرے پیچھے ہی نماز ادا کریں تو فاسق کی اقتداء میں نماز درست ہوگی یا نہ قاضی فاسق کی قضا کا حکم اور اس کی پیروی کرنے والوں کا کیا حکم ہے بحوالہ کتب تفصیلا جواب عطا کریں رحمہ اﷲ اجمعین۔ (ت)
الجواب :
رفتن عیدگاہ سنت ست فی الدرالمختار الخروج
عید گاہ كی جانب جانا سنت ہے در مختار میں ہے
حوالہ / References &رد المحتار€ ، &باب العیدین€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٦١١
#11412 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
الیھا ای الجبانۃ لصلوۃ العید سنۃ وان وسعھم المسجد الجامع ھوا لصحیح اما واجب نیست اگربہ مسجد شہرنمازگزارند قطعادرست وبے خلل باشد اگر چہ ترك سنت کردہ باشند فی ردالمحتار الواجب مطلق التوجہ لاالتوجہ الی خصوص الجبانۃ وتکرار نماز عید درمصر واحد بمواضع کثیرہ بالاتفاق جائز ست فی الدرالمختار تؤدی بمصر واحد بمواضع کثیرۃ اتفاقا واقتداء بفاسق معلن مکروہ تحریمی قریب بحرام ست وھو الذی یقتضیہ الدلیل ولایعدل عن درایۃ ما وافقتہا روایۃ علامہ ابراھیم حلبی درغنیہ فرمودہ یکرہ تقدیم الفاسق کراھۃ تحریم وکذا المبتدع پس تاوقتیکہ نماز پس مصالحے صحیح القراء ۃ سلیم العقیدہ زنہار اقتدا بانکنند اما اگر ظلما نماز دیگر مساجد بند کردہ شود وجز باقتدائے اور اہے نیابند مجبورباشند ومعذو ر و وبال ایں ظلم و جبر برگردن آں فاسق مغرور لا یكلف الله نفسا الا وسعها- نماز عید از اعظم شعائر اسلام ست بایں علت عارضہ ترکش نتواں گفت فی
جماعت عید کے لئے جبانہ ( نماز کی وہ جگہ جو جنگل میں بنائی جائے )کی طرف نکلنا سنت ہے اگر چہ جامع مسجد میں لوگوں کی گنجائش ہو اور یہی صحیح ہے لیکن نکلنا واجب نہیں اگر چہ شہر کی مسجد میں نماز پڑھ لی تو یقینا درست ہے اس میں کوئی کمی نہیں اگر چہ سنت کا ترك ہوا ہے ردالمحتار میں ہے کہ واجب مطلق نکلنا ہے نہ کہ مخصوص عیدگاہ کی طرف نکلنا
اور ایك شہر میں تکرار نماز عید بالا تفاق جائز ہے درمختار میں ہے کہ ایك شہر میں بالاتفاق متعدد مقامات پر عید ادا کی جاسکتی ہے فاسق معلن کی اقتداء مکروہ تحریمی حرام کے قریب ہے اور دلیل کا تقاضا بھی یہی ہے اور اس درایت سے عدول مناسب نہیں جو روایت کے موافق ہو علامہ ابراہیم حلبی غنیہ میں فرماتے ہیں فاسق کی تقدیم مکروہ تحریمی ہے اور اسی طرح بدعتی کی جب تك کسی صالح صحیح القرأۃ سلیم العقیدہ کی اقتداء میسر ہو ہر گز کسی فاسق کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے اگر ظلما دیگر مساجد نماز کے لئے بند کردی گئی ہیں اور اس کی اقتداء کے علاوہ اورکوئی راستہ نہیں تو اب مجبوری اور معذوری ہے اس کا
حوالہ / References &درمختار باب العیدین €مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٤
&ردالمحتار باب العیدین €مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٦١٢
&درمختار باب العیدین €مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٦
&غنیہ المستملی شرح منیہ المصلی فصل الامامۃ €سہیل اکیڈمی لاہور ١ / ٥١٣
&القرآن€ ٢ / ٢٨٦
#11413 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
ردالمحتار عن المعراج قال اصحابنا لا ینبغی ان یقتدی بالفاسق الا فی الجمعۃ لانہ فی غیرھا یجد اماما غیرہ اھ قال فی الفتح وعلیہ فیکرہ فی الجمعۃ اذا تعددت اقامتھا فی المصر علی قول محمد المفتی بہ لانہ بسبیل الی التحول وایناکہ برنکاح وامامت جمعہ واعیاد ازجانب نصاری وغیرہم حکام زمانہ مقرر باشند از عہدہ قضا جز اسم بے مسمی ولفظ بے معنی بہرہ ندارند پس حکم قضائے ایشاں چہ گفتہ آید حکم برموجود باشد و قضائے ایشاں خود معدوم ست کہ حقیقت درکنار صورت قضاہم ندار دآرے اگر مراد آنست کہ فساق رابایں کار ہا معین کر دن جواب آنست کہ ہر گز نشاید حال امامت خود حالے شدو غرض از تولیت انکحہ توثیق و اشہاد ست وآں خود از فاسق حاصل نباشد۔ واﷲ تعالی اعلم
وبال بھی اس فاسق پر ہی ہوگا اور اﷲ تعالی کسی نفس کو اس کی طاقت سے بڑھ کر حکم نہیں دیتا نماز عید اسلام کے عظیم شعائر میں سے ہے اس عارضہ کی وجہ سے اسے ترك نہ کیا جائے ردالمحتار میں معراج کے حوالے سے ہے کہ ہمارے اصحاب نے فرمایا جمعہ کے علاوہ فاسق کی اقتداء نہ کی جائے کیونکہ دوسری نمازوں میں کسی دوسرے کی اقتداء ہوسکتی ہے اھ فتح میں ہے کہ اس بنا پر جمعہ میں بھی اقتداء مکروہ ہے کیونکہ امام محمد کے مفتی بہ قول کے مطابق شہر میں متعدد جگہ جمعہ ہوسکتا ہے تو دوسرے مقام کی طرف چلے جانا ممکن ہوا اور یہ جو نصاری کی طرف سے نکاح امامت جمعہ واعیاد کے لئے عہدہ قضاء پر مقرر لوگ ہیں یہ اسم بے مسمی اور لفظ بے معنی ہیں ان کی قضا کیا حقیقت رکھتی ہے حکم موجود پر ہوگا اور ان کی قضا خود معدوم ہے جو درحققیت قضا ہی نہیں اگر سوال یہ ہے کہ ایسے فاسق لوگوں کو اس عہدہ پر مقرر کرنا کیسا ہے تو جواب یہ ہے کہ ہرگز جائز نہیں اور امامت کا معاملہ خود اہم ہے والی بنانے سے مقصد ان کی توثیق واشہاد ہے جو فاسق سے حاصل نہیں ہوتی۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از دمن خرد ملك پرتگال محلہ کھارا موڑ مرسلہ مولوی محمد ضیاء الدین صاحب محرم الحرام ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عید گاہ ایك چھوٹی سی بستی میں ھ سے بنی ہوئی ہے بعض مسلمان اہل شہر کو اپنے محلہ سے ربع میل کے قریب مسافت طے کر کے جانا پڑتا ہے اور بعض اہل محلہ ربع میل سے بھی کم چل کر داخل عیدگاہ ہوجاتے ہیں سال مذکور سے جملہ اہل شہر اسی عیدگاہ میں برابر
حوالہ / References &ردالمحتار باب الامامۃ€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٤١٤
#11414 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
نماز عید ادا کرتے رہے حال میں ان اشخاص نے جن سے بہت نزدیك عیدگاہ تھی بباعث نفسانیت دنیوی کے عیدگاہ میں نماز عید پڑھنا ترك کردیا حالانکہ ان کو کسی نے عیدگاہ سے ممانعت بھی نہیں کی آخر صرف اسی نفسانیت کی بنا پر یا کسی مفسد کے بہکانے سے یہ بات اپنی طبیعت سے گھڑلی کہ ہم بانیان عیدگاہ کی طرف والے عیدگاہ میں داخل ہونے سے منع کرتے ہیں بایں وجہ ہم نے عیدگاہ میں دوگانہ ادا کرنا ترك کردیا دو تین سال سے میدان میں جو عیدگاہ کے قریب ہے نماز عید پڑھتے تھے امسال ان کا ارادہ اسی میدان میں دوسری عیدگاہ کی تعمیر کا ہے تو آیا ان چند اشخاص کو صورت مذکورہ بالا میں اپنی جدید گاہ کا ایسے مختصر شہر میں تعمیر کرنا ازروئے شرع شریف درست ہے یا نا درست اگر درست ہے تو اب دو عیدگاہوں کے ہوجانے سے قلت جماعت عیدگاہ سابق موجب کمی ثواب ہے یانہیں اور باعث قلت ثواب کے ایسی حالت میں بانیان عیدگاہ جدید ٹھہریں گے یا نہیں اگر یہ لوگ ٹھہرے تو عیدگاہ سابق کو محض نفسانیت دنیوی کے سبب ترك کردینے والوں کی نیت اور ثواب کثیرکو قلیل کرنے والوں کی بابت ہماری شریعت مطہرہ کیا حکم کرتی ہے بینوا توجروا
الجواب :
نماز عید ایك شہر میں متعدد جگہ اگر چہ بالاتفاق روا ہے مگر ایك شہر کے لئے دو عیدگاہ بیرون شہر مقرر کرنا زمان برکت نشان حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے اب تك معہود نہیں نہ زنہار اس میں شرع مطہر ودین منور کی کوئی مصلحت خصوصا ایسی چھوٹی بستی میں تو اگر اس میں اس کے سوا کوئی حرج نہ ہوتا تو اسی قدر اس فعل کی کراہت کو بس تھا کہ محض بے ضرورت شرعی ومصلحت دینی خلاف متوارث مسلمین ہے اور ایسا فعل ہمیشہ مکروہ ہوتا ہے درمختار باب العیدین میں ہے : لان المسلمین توارثوہ فوجب اتباعھم ( کیونکہ یہ مسلمانوں کے ہاں متوارث ہے لہذا ان کی اتباع لازم ہے ۔ ت) ردالمحتار کتاب الذبائح میں غایۃ البیان سے ہے : توارثہ الناس فیکرہ ترکہ بلا عذر ( لوگوں کے ہاں متوارث ہے لہذا اس کا ترك بلاعذر مکروہ ہوگا ۔ ت)اور یہیں سے ظاہر کہ تعدد مساجد پنجگانہ پر اس کا قیاس نہیں ہوسکتا کہ وہ خود متوارث ومطلوب فی الشرع ہے سنن ابوداؤد و ترمذی وابن ماجہ میں ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے ہے :
حوالہ / References &درمختار باب العیدین€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٧
&ردالمحتار کتاب الذبائح€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٢٠٨
#11415 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
امر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ببناء مساجد فی الدور وان تنظف و تطیب ۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ہر علاقے میں مسجد کی تعمیر اور ان کی نظافت وطہارت کا حکم دیا ۔ (ت)
جب یہ تعمیر مصلحت دینی سے خالی ہوئی اور اس میں کوئی مصلحت دنیوی نہ ہونا بدیہی تومحض عبث ہوئی اور ایسا ہر عبث ناجائز و ممنوع ہے ہدایہ میں ہے :
العبث خارج الصلوۃ حرام فما ظنك فی الصلوۃ ۔
عبث کام نماز سے باہر حرام تو نماز میں کیا حال ہوگا ۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
الفرق بین العبث والسفہ علی ماذکرہ بدر الدین الکردی ان السفہ مالا غرض فیہ اصلا والعبث فعل فیہ غرض لکن لیس بشرعی وعبارۃ غیرہ العبث مالیس فیہ غرض صحیح لفاعلہ ۔
عبث اور سفہ میں فرق بقول علامہ بدرالدین الکردی کے یہ ہے کہ سفہ وہ عمل جس میں کوئی غرض نہ ہو اور عبث وہ فعل جس میں غرض ہو لیکن شرعی نہ ہو دیگر لوگوں کے الفاظ میں عبث وہ فعل ہے جس کے فاعل کی غرض صحیح نہ ہو ۔ (ت)
یہ عمارت بے حاجت کی تعمیر ہوئی اور ہر عمارت بے حاجت اپنے بنانے والے پر روز قیامت وبال ہے ۔
کما وردت بہ احادیث عند البیھقی عن انس والطبرانی عن واثلۃ وفیہ عن غیرھما رضی اﷲ تعالی عنہم ۔
جیسا کہ اس پر بیہقی نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے طبرانی نے حضرت واثلہ رضی اللہ تعالی عنہ سے اور اس سلسلہ میں ان کے علاوہ صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم سے مرویات ہیں ۔ (ت)
جنگل میں بے حاجت شرعی ایك عمارت بنا کر کھڑی کردینا اسراف ہوا ا ور اسراف حرام ہے قال اﷲ : و لا تسرفوا-انه لا یحب المسرفین(۱۴۱) ( اﷲ تعالی کا فرمان ہے : اور اسراف نہ کرو کہ اﷲ تعالی اسراف
حوالہ / References &سنن ابن ماجہ اتخاذ المساجد فی الدو ر €مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ٦٦
&الھدایۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا €مطبوعہ المکتبہ العربیۃ کراچی ١ / ١١٩
&حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی€
&القرآن€ ، ٦ / ١٤١ و ٧ / ٣١
#11416 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ ت) صورت مستفسرہ میں یہ سب شناعتیں خود اس فعل بے معنی میں موجود تھیں اگر چہ اس کی تعمیر براہ نفسانیت نہ ہو اور جبکہ یہ بناء براہ نفسانیت ہے جیسا کہ بیان سوال سے ظاہر تواس کا مذموم و مردود ہونا خود واضح و روشن ہے کما لا یخفی واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ : از موضع مہچندی ضلع پیلی بھیت مرسلہ حاجی نصیر الدین صاحب محرم الحرام ھ کیا فرماتے ہیں علمائے
دین اس مسئلہ میں کہ فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کہ عید قرباں میں مستحب ہے کہ جب تك نماز نہ پڑھی جائے کھانا نہ کھائے یعنی جو کہ نگاہ رکھے اپنے آپ کو کھانے اور پینے سے اور جماع کرنے سے دن قربانی کے یہاں تك کہ پڑھی جائے نماز عید کی اب مرد مان اہل اسلام دن قربان کے دس ذی الحجہ کو اپنے مکان سے کھانا کھا کر اور حقہ پانی پی کر واسطے نماز عید کے عیدگاہ کو جاتے ہیں یہ حکم نہیں مانتے اور رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی حکم عدولی کرتے ہیں توان کے واسطے شرع شریف سے کیا ہے پس اس امر میں اس سے کیا کہا جائے گا اور نماز ان کی صحیح طور پر ہوگی و یا کوئی نقصان ان کی نماز میں عائد ہوگا۔ بینوا توجروا
الجواب :
اس باب میں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے کوئی حدیث قولی جس طرح سائل نے ذکر کی وارد نہیں ہاں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا فعل ثابت ہوا ہے کہ عید قرباں میں نماز سے پہلے کچھ نہ کھاتے بعد نماز گوشت قربانی سے تناول فرماتے ۔
الترمذی وابن ماجۃ عن بریدۃ رضی اﷲ تعالی عنہ ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان لا یخرج یوم الفطر حتی یأکل وکان لا یأکل یوما النحر حتی یصلی ورواہ الدار قطنی فی سننہ حتی یرجع فیأکل من اضحیتہ صححہ ابن قطان ۔ وفی اوسط الطبرانی عن ابن عباس رضی اﷲ
ترمذی اورابن ماجہ نے حضرت بریدہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم عیدالفطر کو کوئی چیز کھائے بغیر تشریف نہ لاتے اور یوم النحر کو نماز ادا کرکے تناول فرماتے اسے دارقطنی نے سنن میں ذکر کیا اور اس سلسلہ میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ یہاں تك کہ نماز سے واپس لوٹتے اور اپنی قربانی سے تناول فرماتے اسے
حوالہ / References &جامع الترمذی باب فی صلوٰۃ العیدین€ مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ١ / ٧١
&سنن الدارقطنی كتاب العیدین حدیث€ ٧ مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان ٢ / ٤٥
#11417 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
تعالی عنہما من السنۃ ان لایخرج یوم الفطر حتی یطعم ولایأکل یوم النحر حتی یرجع ۔
ابن قطان نے صحیح قراردیا طبرا نی کی اوسط میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے ہے کہ سنت یہ ہے کہ یوم الفطر کو کھانے کے بغیر نہ نکلا جائے اور یوم النحر کو نماز سے واپسی پر کھا یا جائے۔ (ت)
بہر حال یہ امر استحبابی ہے یعنی کرے ثواب نہ کرے تو حرج نہیں ایسے امر کے ترك کو حکم عدولی نہیں کہہ سکتے اور نماز میں نقص کا تو کوئی احتمال ہی نہیں درمختار میں ہے :
یندب تاخیر اکلہ عنھا وان لم یضح ولو اکل لم یکرہ اھ باختصار
یوم النحر میں کھانا مؤخر کرنا مندوب ہے اگر چہ قر بانی نہ دینی ہو اور اگر کھایا تو اس میں کراہت نہیں اھ اختصارا (ت)
ردالمحتار میں ہے :
ای یندب الامساك عما یفطر الصائم من صبحہ الی ان یصلی قال فی البحر وھم مستحب ولا یلزم من ترك المستحب ثبوت الکراھۃ اذ لا بدلھا من دلیل خاص اھ وفی البدائع ان شاء ذاق وان شاء لم یزق والادب ان لایذوق شیأ الی وقت الفراغ من الصلوۃ حتی یکون تناولہ من القرابین اھ اھ مختصرا واﷲ تعالی اعلم
یعنی نماز کی ادائیگی تك ہر اس شی سے رکنا مندوب ہے جس سے صائم کا روزہ افطار ہوتا ہے بحر میں فرمایا : یہ مستحب ہے اور ترك مستحب سے کراہت لاز م نہیں آتی کیونکہ ا س کے لئے مستقل دلیل ضروری ہے اھ بدائع میں ہے اگر چاہے تو چکھ لے اور نہ چاہے نہ چکھے اور ادب یہی ہے کہ نماز سے فارغ ہونے سے پہلے کوئی شے نہ کھائے یہاں تك کہ اس کا تناول قربانی کے جانور سے ہو ۔ اھ مختصرا واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : زید بغیر کچھ اپنی رائے ظاہر کرے علمائے حاضرہ کی تحقیق وثبوت شہادت صحیح جان کر سہ شنبہ کو دس ذی الحجہ یقینی جان کر عید الاضحی کی امامت کراتا ہے لیکن شب سہ شنبہ کو ایك بڑے متدین مستند عالم
حوالہ / References &مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی والاوسط باب الاکل یوم الفطر الخ€ مطبوعہ دارالکتاب بیروت ٢ / ١٩٩
&درمختار باب العیدین€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ۱۱۶
&ردالمحتار باب العیدین€ مصطفی البابی مصر ١ / ٦١٨
#11418 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
تشریف لائے اور انھوں نے ثبوت رؤیت صحیح نہ جان کر سہ شنبہ کو عید نہیں کی لوگوں سے کوشش کرائی گئی کہ کسی صورت سے مجھ کو ثبوت رؤیت معلوم ہو جائے تو میں بھی عید کروں مگر کسی سے پتا نہیں چلا جن کے پاس ثبوت گزرا وہ اس قدر فرماکر گئے کہ مجھے سچا جانتے ہیں تو عیدکریں ورنہ جواب کچھ نہیں ا س وجہ سے ایك عالم صاحب نے عیدنہیں کی ان کے موافق موجود علماء میں سے ایك عالم اور ہوگئے زید امامت وخطبہ سے فارغ ہو کر یوں کہتا ہے کہ دینی بھایؤ! آج عید ہے اور نماز بھی پڑھئے مگر قربانی جو دس گیارہ بارہ کو جائز ہے بجائے سہ شنبہ کے چہار شنبہ کو کرو احتیاطا تو بہتر ہو اس آخری فقرہ پر سوال ہوتا ہے لوگوں کی جانب سے کہ کیا مطلب احتیاط کا تو زید جواب دیتا ہے کہ اگر آج قربانی کرو تو جن علماء نے عید نہیں وہ فرمائیں گے کہ قربانی نہیں ہوئی اور اگر چہار شنبہ کو کرو گے تو سب بالاتفاق فرمائیں گے کہ صحیح ہے اور اختلاف سے بچنا اولی زید کا اس فقرہ کے تلفظ سے مجرم شرعی ہے یا نہیں اور جو لوگ مشورہ کرکے اور لوگوں کو فراہم کر کے اپنے زعم میں زید کو ذلیل کر نا چاہتے ہیں کوشش بلیغ کرتے ہیں کہ جرم ثابت ہو یہ لوگ اچھا کام کرتے ہیں یا نا محمود
الجواب :
زید اس فقرہ کے سبب مجرم شرعی نہیں کہ احتیاط کرنے اور اختلاف معتبر شرعی سے بچنے کا حکم شرع مطہر میں ہے اتنی بات پر جو اسے ذلیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اچھا کام نہیں کرتے بلکہ گناہ کے ساعی ہیں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
کل المسلم علی المسلم حرام مالہ وعرضہ ودمہ حسب امرئ من الشرع ان یحقر اخاہ المسلم ۔ رواہ ابوداؤد و ابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
مسلمان کا سب کچھ دوسرے مسلمان پر حرام ہے ا سکا مال اس کا آبرو اس کا خون آدمی کے بد ہونے کو یہ بہت ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے۔ اسے ابوداؤد اور ابن ماجہ نے حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔
البتہ وہ نماز کہ پڑھی اس میں بہت شقوق ہیں جن میں سے ملخص یہ کہ اگر وہ جن کو علمائے حاضرہ کہا رسمی علماء ہیں نہ کہ فقیہ ماہر جن کے فتوے پر اعتماد جائز ہو ان کی تحقیق پر وثوق جائز نہ تھا اور اگر اس وقت تك ان کی بات زید کے حق میں لائق وثوق تھی اور جب دوسرے عالم جن کو بڑے متدین مستند عالم کہا ہے انھوں نے وہ ثبوت صحیح نہ جانا تو زید کو اگلوں کے بیان پر وثوق نہ رہا اور سہ شنبہ کو دسویں ہونا بے ثبوت ہوگیا پھر نماز پڑھی تو نماز ہی نہ ہوئی کہ نماز کے لئے جس طرح وقت شرط ہے یونہی اعتقاد مصلی میں وقت آجانا شرط ہے مثلا اگر صبح کی نماز پڑھی اور اسے طلوع صبح میں شبہ تھا نماز نہ ہوئی اگر چہ واقع میں صبح ہوگئی ہو۔ ردالمحتار میں ہے :
حوالہ / References &سنن ابن ماجہ باب حرمۃ المومن ومالہ€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ٢٩٠
#11419 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
وکذا یشترط اعتقاد دخول فلو شك لم تصح صلوتہ وان ظھر انہ قد دخل ۔
اسی طرح اس کے دخول کا اعتقاد بھی شرط ہے لہذا اگر شك ہوا تو نماز صحیح نہ ہوگی اگر چہ ظاہر یہی ہو کہ وقت شروع ہوچکا ہے ۔ (ت)
اور اگر وہ قابل وثوق تھے اور اسے وثوق ہی رہا تو قربانی میں احتیاط کی کیا حاجت تھی اور تھی تو کیا نماز میں احتیاط درکار نہ تھی عید الاضحی کی نماز بھی بارھویں تك ہوسکتی ہے اگر چہ بلاعذر تاخیر مکروہ ہے تنویرا لابصار میں ہے :
یجوز تاخیرھا الی ثالث ایام النحر بلا عذر مع الکراھۃ وبہ بدونھا ۔ واﷲ تعالی اعلم
عذ ر کے بغیر نماز عید الاضحی کو ایام نحر کے آخر تك مؤخر کرنا کراہت کے ساتھ جائز ہے اور عذرکی صورت میں بغیر کراہت کے جائز ہے۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ : از کانپور محلہ نئی سڑك مرسلہ حاجی فہیم بخش عرف چھٹن صفر المظفر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں عمرو نے نماز عید الاضحی اپنی امامت سے کثیرالتعداد مقتدیوں کے ساتھ ادا کی نماز خطبہ کے بعد عمرو نے بوجہ اختلاف رؤیت قربانی کے لئے بخیال مزید احتیاط ممانعت کی بکر نے دوسرے روز نماز عید الاضحی مع قلیل التعداد مقتدیوں کے شہر کی ایك مسجد میں پڑھی عمرو نے جو ہنگام ادائے نماز وہاں موجود تہا بکر کی اقتداء میں تکرار نماز کی پس ایسی صورت میں عمرو کی کون سی نماز واجب اور کون سی نفل ہوگیبینوا توجروا
الجواب : پہلے دن اگر عمر کو روز عید ہونے میں شك تھا یا بلاثبوت شرعی عید مان کر نماز عید پڑھی تھی تو وہ نماز ہی نہ ہوئی یہ دوسری ہی واجب واقع ہوئی اور اگریہ ثبوت شرعی بلا تردد پہلے دن پڑھی تو وہی واجب تھی دوسری بلاوجہ رہی۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از ملك بنگالہ ضلع کمرلہ موضع چاند پور مرسلہ مولوی عبدالحمید صاحب غرہ صفر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص نماز عید الاضحی کی نیت میں عیدالاضحی کہے یعنی یوں کہے نویت ان اصلیﷲ تعالی رکعتی صلوۃ العید الاضحی الخ (میں نے نیت کی کہ میں اﷲ تعالی کو ر اضی کرنے کے لئے نماز عید الاضحی پڑھ رہا ہوں الخ ۔ ت) تو نماز اس کی صحیح ہوگی یانہیں
حوالہ / References &ردالمحتار با ب شروط الصلوٰۃ€ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ ١ / ٢٩٦
&درمختار باب العیدین€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٦
#11420 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
بینوا توجروا عند اﷲ۔
الجواب :
اگر چہ یہ لفظ غلط ہے صحیح صلوۃ عید الاضحی ہے مگر نہ نیت زبانی کی نماز میں حاجت ہے نہ وہ نماز کے اندر ہے نہ اس میں فساد معنی ہے تو اس غلطی کاصحت نماز پر اصلا اثر نہیں ہوسکتا دل میں عیدالاضحی ہی کا قصد ہے اگرچہ نام میں غلطی کی بلکہ دل میں نماز عید الاضحی کا ارادہ کرتا اور زبان سے عید الفطر بلکہ مثلا نماز تروایح کا نام نکلتا جسے اس نما زسے کوئی مناسبت ہی نہیں جب بھی صحت نماز میں شبہ نہ تھا کہ نیت فعل قلب ہے۔ جب قلب کا ارادہ ہے زبان کا کچھ اعتبار نہیں درمختار میں ہے :
المعتبر فیھا عمل القلب اللازم للارادۃ فلا عبرۃ للذکر باللسان ان خالف القلب لانہ کلام لانیۃ ۔
یہاں اعتبار فعل دل کا ہے جو ارادہ کو لازم ہے لہذا زبان کے ذکر کا کوئی اعتبار نہیں اگر چہ اس نے دل کی مخالفت کردی ہو کیونکہ وہ تو کلام والفاظ ہیں نیت نہیں ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
فلو قصد الظھر وتلفظ بالعصر سھوا اجزأہ کما فی الزاھدی قھستانی ۔ واﷲ تعالی اعلم ۔
اگر ارادہ ظہر کا تھا مگر سہوا عصر کہہ دیا تو نماز ہوجائیگی جیسا کہ زاہدی میں ہے قہستانی واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ : از شہر بریلی محلہ ملوکپور مسئولہ منشی ہدایت یا رخاں صاحب قیس محرم الحرامھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عیدگاہ مثل مساجد قابل حرمت و وقعت ہے یانہیں اس کا حکم حکم مسجد ہے یا نہیں اس احاطہ کے اند رغیر قومیں جوتے پہنے ہوئے جاسکتی ہے یا نہیں ا ور اس چاردیواری کے اندر خرید وفروخت ہوسکتی ہے خطبہ کے وقت دکانداروں یا خوانچہ والوں کا گشت اس میں جائز ہوسکتا ہے یانہیں بالتشریع اس کا جواب مرحمت فرمایا جائے۔
الجواب :
عیدگاہ ایك زمین ہے کہ مسلمانوں نے نماز عید کے لئے خاص کی امام تاج الشریعۃ نے فرمایا صحیح یہ ہے
حوالہ / References &درمختار باب شروط الصلوٰۃ€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٦
&ردالمحتار باب شروط الصلوٰۃ€ مصطفی البابی مصر ١ / ٣٠٥
#11421 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
کہ وہ مسجد ہے اس پر تمام احکام احکام مسجد ہیں نہایہ میں اگر چہ مختار للفتوی یہ رکھا کہ وہ عین مسجد نہیں مگر اس کے یہ معنی نہیں ہوسکتے کہ اس کی تنظیف وتطہیر ضروری نہیں غیر وقت نماز و خطبہ میں اس میں خرید وفروخت قول اول پر مطلقا حرام ہے اور خرید فروخت کے لئے اس متعین کرنا بالاتفاق حرام ہے۔
اذ لا یجوز تغییر الوقف عن ھیأتہ فضلا عن ضیعتہ کما فی الھندیۃ وغیرھا ۔
وقف کی ہیئت وحالت میں تبدیلی جائز نہیں چہ جائیکہ اسے ضائع کرنا جائز ہو ہندیہ وغیرہ ۔ (ت)
اور یوں کہ اتفاقا غیر وقت نماز خطبہ میں ایك کے پاس کوئی شے ہو وہ دوسرے کے ہاتھ بیع کرے قول دوم پر اس میں حرج نہیں وقت نماز یا خطبہ میں خوانچہ والوں کا گشت بلا شبہ ممنوع و واجب الانسداد ہے کہ مخل استماع وناقض ہے اور ان کے غیر اوقات میں وہی اختلاف قولین یونہی کفار کی آمد و رفت خصوصا جوتا پہنے کہ یہ نجاست سے خالی نہیں ہوتے نہ وہ جنابت سے کما حققہ فی الحلیۃ و بیناہ فی فتاونا ( جیساکہ اس کی تحقیق حلیہ میں ہے اور ہم نے اپنے فتاوی میں اسے تفصیلا بیان کیا ہے ۔ ت) درمختار میں ہے :
اماالمتخذ لصلوۃ جنازۃ اوعید فھو مسجد فی حق جوا زالاقتداء وان انفصل الصفوف رفقا بالناس لا فی حق غیرہ بہ یفتی نھایۃ
لوگوں کی سہولت کی وجہ سے عیدگاہ او رجنازہ گاہ جواز اقتداء کے حق میں مسجد ہے اگر چہ صفیں متصل نہ ہوں ہا ں اس کے علاوہ میں یہ حکم نہیں اسی پر فتوی ہے ۔ نہایہ ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قال فی البحر ظاھرہ انہ یجوز الوطئ والبول والتخلی فیہ ولا یخفی مافیہ فان البانی لم یعدہ لذلك فینبغی ان لایجوز وان حکمنا بکونہ غیر مسجد وانما تظھر فائدتہ فی حق بقیۃ الاحکام و حل دخولہ للجنب والحائض انتھی
بحر میں ظاہر عبارت بتا رہی ہے کہ وطی اور بول وبراز جائز ہے لیکن یہ واضح رہنا چاہئے کہ بانی نے اس کے لئے نہیں بنائی لہذایہ جائز نہیں ہونا چاہیے اگر چہ ہم اسے مسجد کا حکم نہیں دیتے اس کا فائدہ بقیہ احکام میں ظاہر ہوتا ہے اور اس میں جنبی اور حائضہ کے دخول کا جواز بھی انتہی (ت)
حوالہ / References &فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الرابع عشرفی المتفرقات€ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ٢ / ٤٩٠
&درمختار باب مایفسد الصلوٰۃ وما یکرہ فیہا€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٩٣
&ردالمحتار باب مایفسد الصلوٰۃ وما یکرہ فیہا€ مصطفی البابی مصر ١ / ٤٨٦
#11422 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
اسی میں ہے :
صحح تاج الشریعۃ ان مصلی العید لہ حکم المساجد ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
تاج الشریعۃ نے عید گاہ کے لئے مسجدکے حکم کی تصحیح کی ہے ۔ (ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز عید کو امام نے اس طور ادا کیا کہ پہلی رکعت میں بعد ثناء کے اول قرأت سے چار تکبیریں کہیں دوسری رکعت میں قبل از قرأت کے چار تکبیریں کہیں اور قرأت کر کے نماز تمام کی پہلی رکعت میں بعد ثناء کے تین تکبیریں کہیں بعد کو قرأت اور دوسری رکعت میں اول میں تین تکبیریں کہیں اور قرأت ادا کرکے نماز تمام کی تو اس صورت سے نماز عید ہوگئی یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
پہلی صورت میں دو باتیں خلاف اولی کیں چار چار تکبیریں کہنی اور دوسری رکعت قبل قرأت تکبیر ہونی اور دوسری صورت میں یہی بات خلاف اولی ہوئی مگر دونوں صورتوں میں نہ نماز میں نقصان آیا نہ کسی امر ناجائز وگناہ کا ارتکاب ہوا ہاں بہتر نہ کیا درمختار میں ہے :
ھی ثلات تکبیرات فی کل رکعۃ ولو زاد تابعہ الی ستۃ عشر لانہ ماثور ۔
یہ ہر رکعات میں تین تکبیرات ہیں اگر امام اضافہ کردے تو سولہ تك اس کی اتباع کی جائے کیونکہ یہاں تك منقول ہیں (ت)
ردالمحتار میں ہے :
ذکر فی البحران الخلاف فی الاولویۃ ونحوہ فی الحلیۃ ۔
بحر میں ہے کہ اختلاف اولی ہونے میں ہے اور اسی طرح حلیہ میں ہے (ت)
درمختار میں ہے : یوالی ندبابین القرأتین
( دونوں رکعتوں کی قرأت کو تکبیرات زائدہ کے فصل کے بغیر ادا کرنا مستحب ہے ۔ ت)
حوالہ / References &ردالمحتار باب مایفسد الصلوٰۃ وما یکرہ فیہا€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٤٨٦
&درمختار باب العیدین€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٥
&ردالمحتار باب العیدین€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٦١٥
&درمختار باب العیدین€ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٥
#11423 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
ردالمحتار میں ہے :
اشار الی انہ لوکبر فی اول رکعتہ جاز لان الخلاف فی الاولویۃ ۔
اس میں اشارہ ہے کہ اگر چہ رکعت کی ابتداء میں تکبیر کہہ لی تو جائز ہے کیونکہ اختلاف اولی ہونے میں ہے ۔ (ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از اورنگ آباد ضلع گیا مرسلہ محمد اسمعیل مدرس مدرسہ اسلامیہ صفر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید عید الاضحی میں بعد اختتام نماز منبر پر گیا اور خطبہ شروع کیا اثنائے خطبہ اولی میں مستمعین سے ہی آپ لوگ ذرا زور سے سبحان اﷲ پڑھیں ۔ سب چپ رہے پھر دوبارہ سہ بارہ کہہ کر لوگوں کو مجبورکیا کہ کیوں نہیں پڑھتے تم لوگوں کا منہ کیوں بند ہوگیا تب لوگوں نے بآواز بلند سبحان اﷲ پڑھنا شروع کیا پھر لبیك واﷲ اکبر کہلوایا پھر لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ پڑھوایا پھر نعتیہ خطبہ پڑھ کر منبر پر بیٹھا اور اٹھ کر خطبہ شروع کیا ابھی خطبہ ثانیہ تمام ہونے نہ پایا تھا کہ لوگو ں کو کھڑے ہوکر یا نبی سلام علیك یا رسول سلام علیك پڑھنے کو کہا چناچہ لوگوں نے اٹھ کر زور زور سے یا نبی سلام علیك مع اشعار اردو کتب میلاد مروجہ ترنم سے پڑھا اورزید نے پھر کچھ اردو میں دعا مانگی اور خطبہ ثانیہ کو اسی طرح نا تمام چھوڑدیا آیا یہ فعل موافق سنت متوارثہ ہو ا یا خلاف سنت سراسر عبث اور ایسا کرنے والے پر عند الشرع کیا حکم لگا یا جائے گا بینوا توجروا
الجواب :
حالت خطبہ میں کلام اگرچہ ذکر ہو مطلقا حرام ہے اذا خرج الامام فلا صلوۃ ولاکلام ( جب امام آجائے تو صلوۃ وکلام نہیں ت) امام نے جو کچھ کیا سب بدعت شنیعہ سیئہ ہے ان جاہلوں کا وبال بھی اس پر بغیر اس کے کہ ان کے وبال میں کمی ہو رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من دعا الی ھدی کان لہ من الاجر مثل اجور من تبعہ لا ینقص ذلك من
جس نے کسی اچھی بات کی طرف بلایا اس کو اتباع کرنے کے اجر کی مثل اجر ملے گا اور ان کے اجر میں کوئی کمی
حوالہ / References &ردالمحتار باب العیدین€ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٦١٦
&نصب الرایۃ کتاب الصلوٰۃ باب صلوٰۃ الجمعۃ€ مطبوعہ المکتبہ الاسلامیہ الریاض ٢ / ٢٠١ ، &فتح الباری کتاب الجمعۃ€ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ٢ / ٣٣٨
#11424 · سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
اجورھم شیئا ومن دعا الی ضلالۃ کان علیہ من الاثم مثل اثام من تبعہ لاینقص ذلك من اثامھم شیئا رواہ الائمۃ احمد ومسلم والاربعۃ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ واﷲ تعالی اعلم
نہ ہوگی اور جس نے برائی کی طرف بلایا اس پر گناہ ہوگا اتباع کرنے والوں کی مثل ا ور ان کے گناہ میں بھی کمی نہ ہوگی اسے امام احمد مسلم اور چار ائمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
____________________
حوالہ / References &صحیح مسلم باب من سن سنۃحسنۃ او سیئۃ الخ€ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ٢ / ٣٤١
#11425 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمد ﷲ الذی عید رحمتہ وسع کل قریب و بعید وجعل اعیاد المؤمنین معانقۃ بصفر الوعد وعفو الوعید وافضل الصلوۃ واکمل السلام علی من تعانق عید جمالہ بعید نوالہ فوجھہ عید ویدہ عید یسعد بھما کل سعید وعلی حزبی الال والا صحاب الذین ھما العید ان لایام الایمان وعلی کل من عانق جیدہ وشاح الشہادتین بجمان الایقان ماتعانق الملوان وتوارد العیدان ھنأھم اﷲ باعیاد الاسلام وعیدالرویۃ فی دارالسلام ولد یہ مزید وانہ یبدئ ویعید
تمام تعریف اﷲ کے لئے جس کی عید رحمت ہر دور نزدیك کو محیط ہے اور جس نے اہل ایمان کی عیدوں کو صفائی وعدہ اور معافی وعید سے بغلگیر کیا اور بہتر درود اور کامل ترین سلام ہو ان پر جن کی عید جمال ( ان کی) عید جود ونوال سے ہم آغوش ہے جن کا چہرہ زیبا بھی عید اور دست عطابھی عید ہر خوش نصیب ان دونوں سے فیروز مند ہے ان کی آل واصحاب دونوں جماعتوں پر جو ایام ایمان کی دو عیدیں ہیں اور ہر اس شخص پر جس کی گردن گوہر یقین سے آراستہ قلادہ شہادتین سے ہمکنار ہے ( یہ درود سلام ہوں ) جب تك روزو شب باہم بغلگیر اور دونوں عیدیں یکے بعد دیگرے ورود پذیر رہیں اﷲ انھیں عید ہائے اسلام اور جنت میں عید دیدار کی مبار کباد سے نوازے ۔ (ت)
#11426 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
اما بعد چند سال ہوئے کہ روز عید الفطر بعض تلامذہ مولوی گنگوہی نے بعض اہلسنت پر دربارہ معانقہ طعن وانکار کیا کہ : “ شرع میں معانقہ صرف قادم ف سفر کے لئے وراد ہوا بے سفر بدعت ناروا میں نے اپنے اساتذہ سے یوں ہی سنا “ ۔ ان سنیوں نے اس باب میں فقیر حقیر عبدالمصطفی احمد رضا محمدی سنی حنفی قادری برکاتی بریلوی غفراﷲ لہ وحقق املہ سے سوال کیا فقیر نے ایك مختصر فتوی لکھ دیا کہ احادیث میں معانقہ سفر و بے سفر دونوں کا اثبات اور تخصیص سفر تراشیدہ حضرات ف۔ بحمد اﷲ اس تحریر کا یہ نفع ہوا کہ ان صاحب نے اپنے دعوی سے انکار کردیا کہ : “ نہ میں اس تخصیص کا مدعی تھا نہ اپنے اساتذہ سے نقل کیا “ ۔
خیر یہ بھی ایك طریقہ توبہ و رجوع ہے اور الزام کذب بھی زائل و مدفوع ہے کہ جب اپنے معبود کا کذب ممکن جانیں کیا عجب کہ اپنے واسطے فرض و واجب مانیں ف۔
ف قادم سفر : سفر سے آنے والا۔ ( مترجم)
ف یعنی میں نے اپنے فتوے میں لکھا کہ سفر سے آنے کی حالت اور اس کے علاوہ احوال میں بھی احادیث سے معانقہ کا جائز ہونا ثابت ہے۔ اور معانقہ کا جواز محض آمد سفر کی حالت سے خاص کرنا ان حضرات کی اپنی گھڑی ہوئی بات ہے حدیث فقہ سے اس پر کوئی معتبر دلیل ہر گز نہیں ۔ (مترجم)
ف جب انھوں نے اپنے دعوے سے انکار کردیا تو اتنا ظاہر ہوگیا کہ وہ اپنے پہلے قول پر نہ رہے اور جواز معانقہ بلا تخصیص تسلیم کرلیا__ البتہ ان پر یہ الزام عائد ہوتا ہے کہ انھوں نے دروغ گوئی سے کام لیا کہ پہلے ایك بات کہی پھر کہنے سے انکار کرڈالا ___ مگر دیوبندی حضرات جب اپنے معبود کے لئے جھوٹ بولنا ممکن مانتے ہیں تو خود ان پر جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا جاسکتا ہے بعید نہیں کہ و ہ اسے اپنے لئے فرض و واجب مانتے ہوں استاد محترم حافظ ملت مولانا عبدالعزیز صاحب مراد آبادی علیہ رحمۃ بانی الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور فرمایا کرتے تھے کہ علمائے دیوبند اور ان کے متبعین کا عقیدہ ہے کہ “ خدا جھوٹ بول سکتا ہے مگر بولتا نہیں “ اگر خو د ا ن کابھی یہی حال ہو کہ “ جھوٹ بول سکتے ہیں مگر بولتے نہیں “ تو ان کے عقیدے کی رو سے شرك اور خدا کے ساتھ اس وصف میں برابری لازم آجائے گی اس لئے ان کے اپنے عقیدہ و قاعدہ پر “ فرض اور ضروری ہے کہ وہ جھوٹ بولیں “ ۔ اگر “ جھوٹ بول سکتے ہیں مگر بولتے نہیں “ کی منزل میں رہ گئے تو مشرك ٹہریں گے۔ (مترجم)
#11427 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
اب اس عید الاضحی ھ میں بعض علمائے شہر کے ایك شاگرد بعض اہلسنت سے پھر الجھے انھوں نے پھر وہی فتوائے فقیر پیش کیا خیالات کے پکے تھے ہر گز نہ سلجھے انھوں نے ان کے استاذکو فتوی دکھایا تصدیق نہ فرمائیں تو جواب چاہا مدت تك انکار پھر بعد اصرار وعدہ واقرار بالآخر مجموعہ فتاوی مولوی عبدالحی صاحب صفحہ جلد اول پر نشانی رکھ کر ارسا ل فرمایا اور بعض عبارات ردالمحتار ومرقاۃ شرح مشکوۃ شریف سے حاشیہ چڑھایا سائل مصر ہوئے کہ “ جواب ضرور ہے آخر تحقیق حق نا منظور ہے “ فقیر نے چند ورق لکھ کر بھیج دیے اور رسالہ میں فتوی سابقہ کے ساتھ جمع کئے کہ ناظر دیکھیں نفع پائیں فقیر کو دعائے خیر سے یا د فرمائیں وباﷲ التوفیق وھدایۃ الطریق۔
اس رسالہ کا بلحاظ فتوی سابق وتحر یر لاحق دو عید پر انقسام۔ اور بنظر تاریخ کہ بستم محرم ھ لکھا گیا “ وشاح الجید فی تحلیل معانقۃ العید “ نام ف والحمد ﷲ ولی الانعام ( اور تمام تعریف اﷲ تعالی کے لئے جو احسان کا مالك ہے ۔ ت)
عید اول میں فتوی اول
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ معانقہ حالت سفر کا بھی جائز ہے یا نہیں اور یہ کہ جو اسے قدوم مسافر کے ساتھ خاص اور اس کے غیر میں ناجائز بتاتا ہے قول اس کا شرعا کیسا ہے
الجواب :
کپڑوں کے اوپر سے معانقہ بطور بروکرامت و اظہار محبت۔ بے فساد نیت ومواد شہوت بالاجماع جائز جس کے جواز پر احادیث کثیرہ وروایات شہیرہ ناطق اور تخصیص سفر کا دعوی محض بے دلیل احادیث نبویہ و تصریحات فقہیہ اس بارے میں بروجہ اطلاق وارد اور قاعدہ شرعیہ ہے کہ مطلق کو اپنے اطلاق پر رکھنا واجب اور بے مدرك شرعی تقیید وتخصیص مردود باطل ورنہ نصوص شرعیہ سے امان اٹھ جائے کما لا یخفی ف ( جیسا کہ مخفی نہیں ۔ ت)
ف : معانقہ کی تائے مدورہ حسب قاعدہ “ ہ “ مانی گئی ہے اس لئے اس کا عدد نہیں بلکہ ہوگا اور پور ے نام کاعدد نہیں بلکہ ہوگا۔ (مترجم)
ف : ان ہی سطور میں اعلیحضرت نے پورے فتوے کا ماحصل اور تمام اعتراضات کا جواب ذکر کردیا ان جامع سطور کی قدرے تشریح درج ذیل ہے (باقی برصفحہ ائندہ)
#11428 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
ا بن ف ابی الدنیا کتاب الاخوان اوردیلمی مسند الفردوس اور ابوجعفر عقیلی حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی واللفظ للعقیلی :
انہ قال سألت رسول اﷲ صلی تعالی علیہ وسلم عن المعانقۃ فقال تحیۃ الامم و
میں نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے معانقہ کو پوچھا فرمایا : تحیت ہے امتوں کی اور ان

جواز معانقہ کی مندرجہ ذیل شرطیں ہیں :
() معانقہ کپڑوں کے اوپر سے ہو ۔
() نیکی اعزاز اور اظہار محبت کے طور پر ہو۔
() خرابی نیت اور شہوت کا کوئی دخل نہ ہو۔
مذکورہ بالاشرطوں کے ساتھ معانقہ سفر غیر سفر ہر حال میں جائز ہے۔
دلیل : اس کا ماخذوہ روایات واحادیث ہیں جن میں قید سفر کے بغیر معانقہ کا ثبوت ہے جو لوگ صرف آمد سفر کے بعد معانقہ جائز بتاتے ہیں ان کا جواب یہ ہے :
تمام احادیث وروایات میں مطلق طور پر جواز معانقہ کا ثبوت ہے یہ کسی حدیث میں نہیں کہ بس سفر سے آنے کے بعد معانقہ جائزہے باقی حالات میں ناجائز __ بلکہ بعض احادیث سے صراحۃ آمد سفر کے علاوہ حالات میں بھی معانقہ کا ثبوت فراہم ہوتا ہے۔
() شریعت کا قاعدہ ہے کہ جو حکم مطلق او رکسی قید کے بغیر ہو اسے مطلق ہی رکھنا واجب وضروی ہے
() معانقہ کے بارے میں جب یہ حکم مطلق او رقید سفر کے بغیر ہے تو اسے مطلق رکھتے ہوئے سفر غیر سفر ہر حال میں
معانقہ جائز ہوگا۔
() ہاں اگر کسی حکم میں خود شریعت کی جانب سے تخصیص اور تقیید کا ثبوت ہو تو اس حکم کو مخصوص او رمقید ضرور مانا جائے گا__ مگر معانقہ کے بارے میں سوا ان شرائط کے جو ابتدا میں ذکر کی گئیں آمد وسفر وغیرہ کی کوئی قید نہیں ۔
لہذا جواز معانقہ کے بارے میں بے دلیل شرعی آمد سفر کی قید لگانا محض باطل اور نا مقبول ہے۔ ( مترجم)
ف : یہاں سے دلیل کی تفصیل فرمائی سب سے پہلے ایك حدیث ذکر کی جس سے معانقہ کی تاریخ آغاز معلوم ہوتی ہے پھر فقہ حنفی کے مستند مآخذ سے وہ نصوص تحریر فرمائے جن کا حاصل ابتداء رقم فرماچکے۔ ( مترجم)
#11429 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
صالح ودھم وان اول من عانق خلیل اﷲ ابراھیم ۔
کی اچھی دوستی او بیشك پہلے معانقہ کرنے والے ابراہیم خلیل اﷲ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام۔
خانیہ میں ہے :
ان کانت المعانقۃ من فوق قمیص او جبۃ جاز عند الکل اھ ملخصا۔
اگر معانقہ کرتے یا جبے کے اوپر سے ہو تو سب کے نزدیك جائز ہے اھ ملخصا (ت)
مجمع الانہر میں ہے :
اذا کان علیھما قمیص اوجبۃ جاز بالاجماع اھ ملخصا۔
گر معانقہ کرنے والے دونوں مردوں پر کرتا یا جبہ ہو تو یہ معانقہ بالاجماع جائز ہے اھ ملخصا (ت)
ہدایہ میں ہے :
قالوا الخلاف فی المعانقۃ فی ازار واحد واما اذا کان علیہ قمیص اوجبۃ فلا باس بھا بالاجماع وھو الصحیح ۔
طرفین ( امام اعظم وا مام محمد) اور ابو یوسف میں اختلاف ایك تہمد کے اندر معانقہ کے بارے میں ہے لیکن جب معانقہ کرنے والا کرتا یا جبہ پہنے ہو تو بالاجماع اس میں کوئی حرج نہیں اور یہی صحیح ہے۔ (ت)
در مختار میں ہے :
لوکان علیہ قمیص او جبۃ جاز بلاکراھۃ بالاجماع وصححہ فی الھدایہ وعلیہ المتون ۔
اگر اس کے جسم پر کرتا یا جبہ ہو تو بلا کراہت بالاجماع جائز ہے ہدایہ میں اسی کو صحیح قراردیا متون فقہ میں یہی ہے ۔ (ت)
شرح نقایہ میں ہے :
عناقہ اذاکان معہ قمیص او جبۃ
اس کا معانقہ جب اسی طرح ہو کہ کرتا یا جبہ
حوالہ / References &کتا ب الضعفاء الکبیر€ ترجمہ نمبر١١٤١ &عمر بن حفص بن محبر€ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ٣ / ١٥٥
&فتاوٰی خانیہ کتاب الحظروالاباحۃ€ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ٤ / ٧٨٣
&مجمع الانہر کتاب الکراھیۃ€ مطبوعہ بیروت ٢ / ٥٤١
&ہدایہ کتاب الکراہیۃ€ مطبوعہ مطبع یوسفی لکھنؤ ٤ / ٤٦٦
&درمختار کتاب الحظر والاباحۃ€ مطبوعہ مجتبائی دہلی ٢ / ٢٤٤
#11430 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
او غیرہ لم یکرہ بالاجماع وھو الصحیح اھ ملخصا۔
یا کچھ حائل ہو تو بالاجماع مکروہ نہیں اور یہی صحیح ہے اھ ملخصا (ت)
اسی طرح امام نسفی نے کافی پھر علامہ اسمعیل نابلسی نے حاشیہ درر مولی خسرو وغیرہا میں جزم کیا اور یہ وقایہ و نقایہ و اصلاح وغیرہا متون کا مفاد اور شروح ہدایہ وحواشی درمختار وغیرہا میں مقرر ان سب میں کلام مطلق ہے کہیں تخصیص سفر کی بو نہیں ۔
ا شعۃ اللمعات میں فرماتے ہیں :
اما معانقہ اگر خوف فتنہ نباشد مشروع ست خصوصا نزد قدوم از سفر ۔
معانقہ میں اگر فتنے کا خوف نہ ہو تو جائز و مشروع ہے خصوصا جب سفر سے آرہا ہو۔ (ت)
یہ “ خصوصا “ بطلان تخصیص پر نص صریح __ رہیں احادیث نہی ان میں زید کے لئے حجت نہیں کہ ان سے اگر ثابت ہے تو نہی مطلق۔ پھر اطلاق پر رکھے تو حالت سفر بھی گئی حالانکہ اس میں زید بھی ہم سے موافق ۔ اور توفیق پر چلئے تو علماء كرام فرماتے ہیں وہاں معانقہ بروجہ شہوت مراد۔ اور او پر ظاہر کہ ایسی صورت میں تو بحالت سفربھی مصافحہ بھی ممنوع تابمعا نقہ چہ رسد ف ۔
ف : یہ ان احادیث سے استدلال کا جواب ہے جن میں معانقہ سے ممانعت آئی ہے۔ تو ضیح جواب یہ ہے کہ احادیث میں ممانعت مذکور ہے۔ اب اگر ان سے مطلقا ہر حال میں ممانعت مراد لیں تو سفر غیر سفر ہر جگہ معانقہ ناجائز ہوگا جب کہ سفر سےآنے کے وقت مانعین بھی معانقہ جائز مانتے ہیں ۔ اس لئے وہ اگر احادیث نہی ہمارے خلاف پیش کریں تو خود ان کے بھی خلاف ہوں گی ___ لامحالہ جواز معانقہ اور ممانعت جواز دونوں قسم کی حدیثوں میں تطبیق کرنا ہوگی اور دونوں کے ایسے معنی لینے ہوں گے جن سے تمام احادیث پر عمل ہوسکے ___ اور تطبیق یوں ہے کہ جہاں معانقہ سے ممانعت ہے وہاں معانقہ بطور شہوت مراد ہے __ اور جہاں جواز معانقہ کا ثبوت ہے وہاں معانقہ بے شہوت وفساد نیت مراد ہے جیسا کہ ہم نے ابتداء ذکر کیا __ او رظاہر ہے کہ معانقہ بطور شہوت تو سفر سے آنے کے بعد بھی ناجائز ہے بلکہ اس طرح تو معانقہ کیا مصافحہ بھی ناجائزہے۔ احادیث جواز منع کے درمیان تطبیق مختلف فقہاء کرام نے فرمائی ہے اعلیحضرت رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے ان کا حوالہ کتاب میں پیش کردیا ہے ۔ (مترجم)
حوالہ / References &شرح نقایہ €( &ملاّ غازی€) &کتاب الکراہیۃ €مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ٢٢٩
&اشعۃ اللمعات باب المصافحۃ والمعانقہ €مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ٤ / ٢٠
#11431 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
امام فخرالدین زیلعی تبیین الحقائق اور اکمل الدین بابرتی عنایہ اور شمس الدین قہستانی جامع الرموز اور آفندی شیخی زادہ شرح ملتقی الابحر اور شیخ محقق دہلوی شرح مشکوۃ او رامام حافظ الدین شرح وافی اور سیدی امین الدین آفندی حاشیہ شرح تنویر اور مولی عبدالغنی نابلسی شرح طریقہ محمدیہ میں اور ان کے سوا اور علماء ارشاد فرماتے ہیں :
وھذا لفظ الاکمل قال وفق الشیخ ابو منصور ( یعنی الماتریدی امام اھل السنۃ وسید الحنفیۃ ) بین الاحادیث فقال المکروہ من المعانقہ ماکان علی وجہ الشھوۃ وعبر عنہ المصنف ( یعنی الامام برھان الدین الفرغانی) بقولہ ازارواحد فانہ سبب یفضی الیھا فاما علی وجہ البر والکرامۃ اذاکان علیہ قمیص او جبۃ فلا باس بہ ۔
( یہ اکمل الدین بابرتی کے الفاظ ہیں ) انھوں نے فرمایا شیخ ابو منصور ( ماتریدی اہل سنت کے امام اور حنفیہ کے سردار) نے( معانقہ کے جواز و منع دونوں طرح کی) حدیثوں میں تطبیق دی ہے انہوں نے فر مایا مکروہ وہ معانقہ ہے جو بطور شہوت ہو ۔ اور مصنف ( یعنی امام برہان الدین فرغانی صاحب ہدایہ) نے اسی کو ایك تمہید میں معانقہ کرنے سے تعبیرکیا ہے اس لئے کہ یہ سبب شہوت ہو سکتا ہے لیکن نیکی او راعزاز کے طور پر کرتا یا جبہ پہنے ہوئے معانقہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔ (ت)
اور کیونکر روا ہوگا کہ بے حالت سفرمعانقہ کو مطلقا ممنوع ٹھہرائے حالانکہ احادیث کثیر میں سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے بارہا بے صورت مذکورہ بھی معانقہ فرمایاف ۔
ف : یہاں سے استدلال نے ایك دوسرا رنگ اختیار کیا اعلیحضرت رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے سولہ احادیث ان کے حوالوں کے ساتھ پیش فرمائی ہیں جن میں اسی معانقہ کا ذکر ہے جو نیکی اعزاز اور اظہار کے طور پر ہے___ خرابی نیت اور مواد شہوت سے ہر طرح دور ہے ___ مگر بے حالت سفر ہے ___ لہذا احادیث سے صراحۃ یہ ثبوت فراہم ہوجاتا ہے کہ صرف قدوم سفر کے بعد ہی نہیں بلکہ دیگر حالات میں بھی معانقہ بلاشبہ جائز درست ہے ۔ اور جب خود سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ان تمام احوال میں معانقہ کا ثبوت حاصل ہوجاتاہے تو کوئی دوسرا اسے “ بدعت و ناروا “ کہنے کا کیا حق رکھتا ہے ! (مترجم)
حوالہ / References &العنایۃ مع فتح القدیر شرح ہدایہ کتاب الکراھیۃ€ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۸ / ٤٥٨
#11432 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
حدیث اول۱ : بخاری و مسلم ونسائی وابن ماجہ بطرق عدیدہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی وھذا لفظ مؤلف منھا دخل حدیث بعضھم فی بعض ( آئندہ الفاظ ان متعدد روایات کا مجموعہ ہے بعض کی احادیث بعض میں داخل ہیں ۔ ت)
قال خرج النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فجلس بفناء بیت فاطمۃ رضی اﷲ تعالی عنہا فقال ادعی الحسن بن علی فحبستہ شیئافظننت انھا تلبسہ سخابا او تغسلہ فجاء یشتد وفی عنقہ السخاب فقال النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بیدہ ھکذا فقال الحسن بیدہ ھکذا حتی اعتنق کل منھما صاحبہ فقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اللھم انی احبہ فاحبہ واحب من یحبہ ۔
یعنی ایك بارسید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم حضرت بتول زہرا رضی اللہ تعالی عنہا کے مکان پر تشریف لے گئے اور سید نا امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ کو بلایا حضرت زہرا نے بھیجنے میں کچھ دیر کی میں سمجھا انھیں ہار پہناتی ہوں گی یا نہلا ررہی ہوں گی اتنے میں دوڑتے ہوئے حاضر آئے گلے میں ہار پڑا تھا سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے دست مبارك بڑھائے حضور کو دیکھ کر امام حسن نے بھی ہاتھ پھیلائے یہاں تك کہ ایك دوسرے کو لپٹ گئے حضور نے “ گلے لگا کر “ دعا کی : الہی! میں اسے دوست رکھتا ہوں تو اسے دوست رکھ اور جو اسے دوست رکھے اسے دوست رکھ۔ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وعلی حبہ وبارك وسلم۔
حدیث دوم۲ : صحیح بخاری میں امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی :
کان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یا خذ بیدی فیقعدنی علی فخذہ ویقعد الحسین علی فخذہ الاخری ویضمنا ثم یقول رب انی ارحمھما فار حمھما ۔
نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر ایك ران پر مجھے بٹھا لیتے اور دوسری ران پر امام حسین کو اورہمیں “ لپٹا لیتے “ پھر دعا فرماتے : الہی! میں ان پر رحم کرتا ہوں تو ان پر رحم فرما۔
حدیث سوم۳ : اسی میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے :
حوالہ / References &الصحیح للمسلم باب فضل الحسن والحسین€ مطبوعہ راولپنڈی ٢ / ٢٨٢
&الصحیح البخاری باب وضع الصبی فی الحجر€ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ٢ / ٨٨٨
#11433 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
ضمنی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الی صدرہ ۔ فقال اللھم علمہ الحکمۃ ۔
سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے مجھے “ سینے سے لپٹایا “ پھر دعا فرمائی : الہی! اسے حکمت سکھا دے۔
حدیث چہارم۴ : امام احمد اپنی مسند میں یعلی رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی :
ان حسنا وحسینا رضی اﷲ تعالی عنہما یستبقا الی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فضمھما الیہ ۔
ایك بار دونوں صاحبزادے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے پاس آپس میں دوڑ کرتے ہوئے آئے حضور نے دونوں کو “ لپٹالیا “
حدیث پنجم۵ : جامع ترمذی میں انس رضی اللہ تعالی عنہ سے حدیث ہے :
سئل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ای اھل بیتك احب الیك قال الحسن والحسین وکان یقول لفاطمۃ ادعی لی ابنی فیشمھما ویضمھما ۔
سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے پوچھا گیا حضور کو اپنے اہل بیت میں زیادہ پیارا کون ہے فرمایا : حسن اور حسین۔ اور حضور دونوں صاحبزادوں کو حضرت زہرا سےبلوا کر “ سینے سے لگالیتے “ اور ان کی خوشبو سونگھتے صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وعلیہم و بارك وسلم۔
حدیث ششم۶ : امام ابوداؤد اپنی سنن میں حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ تعالی عنہ سے روای :
بینما ھو یحدث القوم وکان فیہ مزاح بینما یضحکھم فطعنہ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی خاصرتہ بعود فقال اصبرنی قال اصطبر قال ان علیك قمیصا ولیس علی قمیص فوضع النبی صلی اﷲ تعالی عیہ وسلم عن قمیصہ
اس اثنا میں کہ وہ باتیں کررہے تھے اور ان کے مزاج میں مزاح تھا لوگوں کو ہنسارہے تھے کہ سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے لکڑی ان کے پہلو میں چبھوئی انھوں نے عرض کی مجھے بدلہ دیجئے فرمایا : لے۔ عرض کی : حضور تو کرتا پہنے ہیں اور میں ننگا تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کرتا اٹھایا
حوالہ / References &الصیح البخاری مناقب ابن عباس€ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ۵۳۱
&مسند احمد بن حنبل مناقب ابن عباس€ مطبوعہ دارالفکر بیروت ٤ / ١٧٢
&جامع ترمذی مناقب الحسن والحسین€ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۴۰ ۔ ۵۳۹
#11434 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
فا حتضنہ و جعل یقبل کشعہ قال انما اردت ھذا یارسول اﷲ ۔
انھوں نے حضور کو اپنی “ کنار میں لیا “ اور تہیگاہ اقدس کو چومناشروع کیا پھر عرض کی : یا رسول اﷲ! میرا یہی مقصود تھا۔
ع دل عشاق حیلہ گر باشد
( عاشقو ں کے دل بہانہ تلاش کرنے والے ہوتے ہیں )
صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وعلی کل من احبہ وبارك وسلم۔
حدیث ہفتم۷ : اسی میں حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے :
مالقیتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قط الاصافحنی وبعث الی ذات یوم ولم اکن فی اھلی فلما جئت اخبرت بہ فاتیتہ وھو علی سریر فالتزمنی فکانت تلك اجود واجود ۔
میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تو حضور ہمیشہ مصافحہ فرماتے۔ ایك دن میرے بلانے کو آدمی بھیجا میں گھرمیں نہ تھا آیا تو خبر پائی حاضر ہوا حضور تخت پر جلوہ فرماتھے “ گلے سے لگالیا “ تو زیادہ جید اور نفیس ترتھا۔
حدیث ہشتم ۸ : ابو یعلی ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے راوی :
قالت رأیت النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم التزم علیا وقبلہ وھو یقول بابی الوحید الشھید ۔
میں نے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو دیکھا حضور نے مولی علی کو “ گلے لگایا “ اور پیار کیا اور فرماتے تھے میرا باپ نثار اس وحید شہید پر۔
حدیث نہم۹ : طبرانی کبیر اور ابن شاہین کتاب السنۃ میں عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کرتے ہیں :
دخل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واصحابہ غدیرا فقال لیسبح کل رجل الی صاحبہ فسبح کل رجل منھم
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور حضور کے صحابہ ایك تالاب میں تشریف لے گئے حضور نے ارشاد فرمایا : ہر شخص اپنے یار کی طرف پیرے۔ سب نے
حوالہ / References &سنن ابوداؤد باب قُبلۃ الجسد€ ( &کتاب الادب€) مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ٣٩٣
&سنن ابوداؤد باب فی المعانقۃ€ (&کتاب الادب€) مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ٢ / ۳٥٢
&مسند ابو یعلٰی مسند عائشہ€ مطبوعہ موسسہ علوم القرآن بیروت ٤ / ٣١٨
#11435 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
الی صاحبہ حتی بقی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وابوبکر فسبح رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الی ابی بکر حتی اعتنقہ فقال لو کنت متخذا خلیلا لا اتخذت ابا بکر خلیلا ولکنہ صاحبی
ایسا ہی کیا یہاں تك کہ صرف رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور ابو بکر صدیق باقی رہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم صدیق کی طرف پپر کے تشریف لے گئے اور انھیں گلے لگا کر فرمایا : میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکرکو بناتا لیکن وہ میرا یار ہے۔ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وعلی صاحبہ وبارك وسلم۔
حدیث دہم ۱۰ : خطیب بغدادی حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی :
قال کنا عند النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال یطلع علیکم رجل لم یخلق اﷲ بعدی احدا خیرا منہ ولا افضل ولہ شفاعۃ مثل شفاعۃ النبیین فما برحنا حتی طلع ابوبکر فقام النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقبلہ والتزمہ ۔
ہم خدمت اقدس حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں حاضر تھے ارشاد فرمایا : اس وقت تم پر وہ شخص چمکے گا کہ اﷲ تعالی نے میرے بعد اس سے بہتر وبزرگ تر کسی کو نہ بنایا اور اس کی شفاعت شفاعت انبیاء کے مانند ہوگی ہم حاضر ہی تھے کہ ابو بکر صدیق نظر آئے سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے قیام فرمایا اور صدیق کو پیار کیا اور “ گلے لگایا “
حدیث یازدہم۱۱ : حافظ عمر بن محمد ملا اپنی سیرت میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی :
قال رأیت رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واقفا مع علی بن ابی طالب اذااقبل ابوبکر فصافحہ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وعانقہ و قبل فاہ فقال علی اتقبل فاابی بکر فقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یا ابا الحسن منزلۃ
میں نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالی وجہہ کے ساتھ کھڑے دیکھا اتنے میں ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ حاضر ہوئے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ان سے مصافحہ فرمایا اور “ گلے لگایا “ او ران کے دہن پر بوسہ دیا ۔ مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ نے عرض کی : کیا حضور
حوالہ / References &طبرانی کبیر حدیث€ ١١٦٧٦ و ١١٩٣٨ مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ١١ / ٢٦١ و ٣٣٩
&تاریخ بغداد ترجمہ€ ١١٤١ &محمد بن عباس ابوبکر القاص€ مطبوعہ دارالکتب العربیہ بیروت ٣ / ٢٤ ۔ ١٢٣
#11436 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
ابی بکر عندی کمنزلتی عند ربی ۔
ابو بکر کا منہ چومتے ہیں فرمایا : اے ابوالحسن ! ابوبکر کا مرتبہ میرے یہاں ایسا ہے جیسا میرا مرتبہ میرے رب کے حضور۔
حدیث دوازدہم ۱۲ : ابن عبد ربہ کتاب بہجۃ المجالس میں مختصرا اور ریاض نضرہ میں ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مطولا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کا ابتدائے اسلام میں اظہار اسلام اورکفار سے حرب وقتال فرمانا اور ان کے چہرہ مبارك پر ضرب شدید آنا اس سخت صدمے میں بھی حضور اقدس سید المحبوبین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا خیا ل رہنا حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم دارالارقم میں تشریف فرما تھے اپنی ماں سے خدمت اقدس میں لے چلنے کی درخواست کرنا مفصلا مروی یہ حدیث ہماری کتاب مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین ( ۱۲۹۷ھ ) میں مذکور اس کے آخر میں ہے :
حتی اذا ھدأت الرجل وسکن الناس خرجتابہ یتکی علیھا حتی ادخلتاہ علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فانکب علیہ فقبلہ وانکب علیہ المسلمون ورق لہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رقۃ شدیدۃ ۔ الحدیث۔
یعنی جب پہچل موقوف ہوئی اور لوگ سورہے ان کی والدہ ام الخیر اور حضرت فاروق اعظم کی بہن ام جمیل رضی اللہ تعالی عنہما انھیں لے کر چلیں بوجہ ضعف دونوں پر تکیہ لگائے تھے یہاں تك کہ خدمت اقدس میں حاضر کیا دیکھتے ہی “ پروانہ وارشمع رسالت پر گر پڑے “ ( پھر حضور کو بوسہ دیا) اور صحابہ غایت محبت سے ان پر گرے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ان کے لئے نہایت رقت فرمائی۔
حدیث سیز دہم۱۳ : حافظ ابو سعید شرف المصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں انس رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی :
قال صعد رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم المنبر ثم قال این عثمان بن عفان فوثب وقال انا
حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے پھر فرمایا : عثمان کہاں ہیں عثمان رضی اللہ تعالی عنہ بے تابانہ اٹھے اور عرض کی : حضور ! میں یہ
حوالہ / References &سیرت حافظ عمر بن محمد ملاّ€
&الریاض النضرۃ ذکرام الخیر€ مطبوعہ چشتی کتب خانہ فیصل آباد ١ / ۷۶
#11437 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
ذایارسول اﷲ فقال ادن منی فدنا منہ فضمہ الی صدرہ وقبل بین عینیہ الخ حاضر ہوں ۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : میرے پاس آؤ۔ پاس حاضر ہوئے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے “ سینہ سے لگایا “ اور آنکھوں کے بیچ میں بوسہ دیا۔
حدیث چہاردہم۱۴ : حاکم صحیح مستدرك میں بافادہ تصحیح اور ابویعلی اپنی مسند اور ابو نعیم فضائل صحابہ میں اور برہان خجندی کتاب اربعین مسمی بالماء المعین اور عمر بن محمد ملا سیرت میں جابر بن عبداﷲ رضی اللہ تعالی عنہ سے روای :
قال بینا نحن مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی نفر من المھاجرین منھم ابوبکروعمر و عثمان وعلی و طلحۃ والزبیر و عبدالرحمن بن عوف وسعدبن ابی وقاص فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لینھض کل رجل الی کفوہ ونھض النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الی عثمان فاعتنقہ وقال انت ولیی فی الدنیا والاخرۃ ۔
ہم چند مہاجرین کے ساتھ خدمت اقدس حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں حاضر تھے حاضرین میں خلفائے اربعہ و طلحہ و زبیر و عبدالرحمن بن عوف وسعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہم تھے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں ہر شخص اپنے جوڑ کی طرف اٹھ کر جائے اور خود حضور والا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف اٹھ کر تشریف لائے ان سے “ معانقہ “ کیا اور فرمایا : تو میرا دوست ہے دنیا و آخرت میں ۔
حدیث پانزدہم ۱۵ : ابن عساکر تاریخ میں حضرت امام حسن مجتبی وہ اپنے والد ماجد مولی علی مرتضی کرم اﷲ تعالی وجوہما سے راوی :
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عانق عثمان بن عفان وقال قد عانقت اخی عثمان فمن کان لہ اخ فلیعانقہ۔
حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ سے معانقہ کیا اور فرمایا : میں نے اپنے بھائی عثمان سے معانقہ کیا جس کے کوئی بھائی ہو اسے چاہئے اپنے بھائی سے “ معانقہ کرے “
اس حدیث میں علاوہ فعل کے مطلقا حکم بھی ارشادہوا کہ ہر شخص کو اپنے بھائیوں سے معانقہ کرنا چاہئے۔
حوالہ / References &شرح المصطفی €( &شرف النبی€) باب بیست ونہم میدان انقلاب تہران ص ٢٩۰
&المستدرك باب فضائل عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ €مطبوعہ بیروت ٣ / ۹۷
&کنز العمال بحوالہ ابن عساکر حدیث €۳۶۲۴۰ مطبوعہ دارالکتب الاسلامی حلب ۱۳ / ۵۷
#11438 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
حدیث شانزدہم ۱۶ : کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حضرت بتول زہرا سے فرمایا کہ عورت کے حق میں سب سے بہتر کیا ہے عرض کی کہ نامحرم شخص اسے نہ دیکھے۔ حضور نے “ گلے لگالیا اور فرمایا : ذریة بعضها من بعض- ( یہ ایك نسل ہے ایك دوسرے سے ۔ ت)اوکما ورد عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وبارك وسلم ( یا جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے وارد ہے۔ ت)بالجملہ احادیث اس بارے میں بکثرت وارداور تخصیص سفر محض بے اصل وفاسد۔ بلکہ سفر وبے سفر ہر صورت میں معانقہ سنت او رسنت جب ادا کی جائے گی سنت ہی ہوگی تاوقتیکہ خاص کسی خصوصیت پر شرع سے تصریحا نہی ثابت نہ ہو یہاں تك کہ خود امام الطائفہ مانعین اسمعیل دہلوی رسالہ نذور میں کہ مجموعہ زبدۃ النصائح میں مطبوع ہوا صاف مقر کہ معانقہ روز عید گو بدعت ہو بدعت حسنہ ہے۔ حیث قال ( یوں کہا ۔ ت) ف :
ہمہ وقت از قرآن خوانی فاتحہ خوانی وخورانیدن طعام سوائے کندن چاہ وامثال دعاواستغفار واضحیہ بدعت ست
کنواں کھود نے ۔ اور اسی طرح حدیث میں سے ثابت دوسری چیزوں اور دعا استغفار قربانی کے سوا تمام طریقے قرآن خوانی فاتحہ خوانی کھانا کھلانا

ف۱ : مولوی اسمعیل دہلوی پیشو یان علماء دیوبندی کی اس عبارت میں چند باتیں قابل غور ہیں :
(۱) ایصال ثواب کے لئے کنواں کھدوانا دعا استغفار قربانی اور اسی طرح کی دوسری چیزیں بدعت نہیں بلکہ سنت سے ثابت ہیں ۔
() قرآن خوانی فاتحہ خوانی کھانا کھلانا اوراس طرح کے دوسرے طریقے بدعت ہیں مگر بدعت حسنہ ہیں ۔
(۳) اس سے بدعت کی دو قسمیں معلوم ہوئیں : ۱ بدعت حسنہ۔ ۲ بدعت سیئہ۔ لہذا ہر بدعت بری نہیں ۔ او رہر نیا کام صرف بدعت ہونے کے باعث ناجائز و حرام نہیں ہوسکتا بلکہ بعض کام بدعت ہوتے ہوئے بھی حسن اور اچھے ہوتے ہیں
(۴) روز عید کا معانقہ اور ہر روز فجر وعصر کے بعد مصافحہ بدعت حسنہ جائز اور اچھا ہے ع
مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تیری
منکرین اعلیحضرت کا پورا رسالہ نہ مانیں تمام احادیث وفقہی نصوص سے آنکھیں بند کرلیں مگر انھیں اپنے “ پیشوائے اعظم “ کے اقرار صریح اور کلام واضح سے ہر گز مفرنہ ہونا چاہئے ۔ (مترجم)
حوالہ / References &القرآن€ ۳ / ۳۴
#11439 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
بدعت حسنہ بالخصوص است مثل معانقہ روز عید ومصافحہ بعد نماز صبح یا عصر ۔
سب بدعت ہیں ۔ مگر خاص بدعت حسنہ ہیں جیسے عید کے دن معانقہ ۔ اور نماز فجر یا عصر کے بعد مصافحہ کرنا (بدعت حسنہ ہے )۔ (ت)
واﷲ تعالی اعلم
کتبہ عبدہ المذنب احمد رضاالبریلوی عفی عنہ بمحدن المصطفی النبی الامی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
سنی حنفی قادری عبدالمصطفی احمد رضاخاں ۱۳۰۱ھ
اس کے معارضے میں جو فتوی مولوی عبدالحی صاحب کا پیش کیا گیا اس کی عبارت یہ ہے : “ کیا فرما تے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعد خطبہ عیدین کے جو مصافحہ ومعانقہ لوگوں میں مروج ہے وہ مسنون ہے یا بدعت بینوا توجروا ( بیان کرو اور اجر پاؤ ۔ ت)
ھوالمصوب ( وہی درستی تك پہنچانے والاہے ۔ ت) بعد عید مصافحہ و معانقہ مسنون نہیں اور علماء اس باب میں مختلف ہیں بعض بدعت مباحہ کہتے ہیں اور بعض بدعت مکروہہ۔ علی کل تقدیر ترك عــــہ اس کا
عــــہ : اس کے بعد فتوی مذکور میں چار۴ عبارتیں نقل کیں :
(۱) عبارت اذکار کہ اس مصافحہ میں کوئی حرج نہیں ۔
(۲) عبارت درمختار کہ یہ بدعت مباحہ بلکہ حسنہ ہے کما ھو موجود فی الدر وان اقتصر المجیب فی النقل ( یہ درمختار میں موجود ہے اگر چہ مجیب نے صرف نام پر کفایت کی ہے ۔ ت)
(۳) عبارت ردالمحتار کہ کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ ہمیشہ بعد نماز کئے جاؤ تو جاہل سنت سمجھ لیں گے۔ اورابن حجر شافعی نے اسے مکروہ کہا ہے۔
(۴) عبارت مدخل ابن حاج مالکی المذہب کہ غیبت کے بعد ابن عیینہ نے جائز رکھا اور عیدمیں ان لوگوں سے جو اپنے ساتھ حاضر ہیں نہیں ف۱۔ اور مصافحہ بعد عید مجھے معروف نہیں مگر(باقی برصفحہ ایندہ)
ف۱ : یعنی عید میں ان لوگوں سے معانقہ جائزنہیں جو اپنے ساتھ حاضر ہیں ۔ ( مترجم)
حوالہ / References &مجموعہ زبدۃ النصائح€
#11440 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
اولی ہے( ف۱)الخ۔ ابوالحسنات محمد عبدالحی عبارات کہ حاشیہ پر لکھ کر پیش کی گئیں بحروفہ یہ ہیں :
اذا تردد الحکم بین سنۃ وبدعۃ کان ترك السنۃ راجحا علی فعل البدعۃ ۱۲ردالمحتار
جب حکم سنت و بدعت کے درمیان متردد ہو تو ارتکاب بدعت پر ترك سنت کو ترجیح دی جائیگی۔ ف

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
عبداﷲ بن نعمان فرماتے ہیں میں نے مدینہ خاص میں جبکہ وہاں علماء صالحین بکثرت موجود تھے دیکھا کہ وہ نماز عید سے فارغ ہوکر آپس میں مصافحہ کرتے تو اگر سلف سے نقل مساعد ہوتو کیا کہنا ورنہ ترك اولی ہے۔ منہ رضی اللہ تعالی عنہ (م)
ف۱ : مولانا عبدالحی صاحب فرنگی کے اس فتوے کا حاصل یہ ہے کہ بعد عید مصافحہ ومعانقہ حدیث سے ثابت نہیں __ رہے علماء وفقہاء___ توان میں اختلاف ہے کچھ بدعت مباحہ کہتے ہیں کچھ بدعت مکروہہ۔ بہر تقدیر اسے نہ کرنابہتر ہے۔ ( “ نہ کرنا بہتر ہے “ سے اتنا ضرور ثابت ہوجاتا ہے کہ کرلیا تو جائز ہے ) مولانا فرنگی محلی کا یہی فتوی( جو ان کے مجموعہ فتاوی طبع اول کے ج اص ۵۲۸پر ہے )بریلی کے ان عالم نے بھیجا جن سے اعلیحضرت اپنے جواب میں خطاب کررہے تھے ساتھ ہی انھوں نے اس مجموعہ فتاوی کے حاشیہ پر معانقہ عید کی ممانعت کے ثبوت میں وہ عبارتیں بھی لکھ دیں جنھیں کتاب “ وشاح الجید فی تحلیل معانقۃ العید “ میں اعلیحضرت نے بعینہ نقل فرمایا اور التماس چہارم سے ان پر بحث کی ۔ (مترجم)
ف : یعنی جب معاملہ ایسا ہوکہ کرے توکسی بدعت کامرتکب ہوتا ہے نہ کرے تو کوئی سنت چھوٹتی ہے ایسی صورت میں یہی حکم ہے کہ نہ کرے اس سے سنت اگر چہ چھوٹ جائے گی مگر بدعت کامرتکب تو نہ ہوگا۔ معانقہ عید کا بھی یہی حال ہے لہذا اس سے بھی ممانعت ہی کا حکم دیا جائے گا۔ اعلیحضرت نے التماس نعم میں اس استدلال کا جواب دیا ہے کہ یہاں بدعت سے مراد بری بدعت ہے اور معانقہ عید ایسا ہرگز نہیں بلکہ اپنی اصلیت کے لحاظ سے سنت اور خصوصیت بعد عید کے لحاظ سے مباح اور قصد حسن کے ساتھ ہو تو مستحسن ہے۔ لہذا آپ کی عبارت مذکورہ معانقہ عید پر منطبق(فٹ) ہوہی نہیں سکتی (مترجم)
حوالہ / References &ردالمحتار مطلب اذاتردد الحکم€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۸۲
#11441 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
نقل فی تبیین المحارم عن الملتقط انہ تکرہ المصافحۃ بعد اداء الصلوۃ بکل حال لان الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنہم ماصافحوا بعد اداء الصلوۃ ولانھا من سنن الروافض اھ ثم نقل عن ابن حجر من الشافعیۃ انھا بدعۃ مکروھۃ لااصل لھا فی الشرع وانہ ینبہ فاعلھا اولا و یعزر ثانیا ثم قال وقال ابن الحاج من المالکیۃ فی المدخل انھا من البدع وموضع المصافحۃ فی الشرع انما ھو عند لقاء المسلم لاخیہ لافی ادبار الصلوات فحیث وضعھا الشرع یضعھا فینھی عن ذلك و یزجرفا علہ لمااتی بہ من خلاف السنۃ اھ ردالمحتار قولہ عــــہ لایخرج الخ
ولا یخفی ان فی کلام الامام نوع تناقض لان
ردالمحتار میں ہے کہ تبیین المحارم میں ملتقط سے منقول ہے کہ ادائے نماز کے بعد مصافحہ بہر حال مکروہ ہے (۱)اس لئے صحابہ نے بعد نماز مصافحہ نہیں کیا (۲) اس لئے کہ یہ رافضیوں کا طریقہ ہے اھ پھر علامہ ابن حجر شافعی سے منقول ہے کہ یہ مصافحہ بدعت مکروہہ ہے جس کی شریعت میں کوئی اصل نہیں اس کے مرتکب کو اولا متنبہ کیا جائے گا۔ نہ مانے تو سرزنش کی جائے گی پھر فرمایا کہ ابن الحاج مالکی مدخل میں لکھتے ہیں کہ یہ مصافحہ بدعت ہے (۳) اور شریعت میں مصافحہ کا محل مسلمان کی اپنے مسلمان بھائی سے ملاقات کا وقت ہے۔ نمازوں کے بعد اوقات مصافحہ کا شرعی محل نہیں شریعت نے جو محل مقرر کیا ہے اسے وہیں رکھے تو نمازوں کے بعد مصافحہ کرنے والے کو روکا اور زجر کیا جائے گا اس لئے کہ وہ خلاف سنت فعل کا مرتکب ہے اھ ردالمحتار (حاشیہ ذیل میں مندرج امام نووی کی عبارت اذکار پر
عــــہ : کتبہ المعترض حاشیۃ علی مانقل فی الفتاوی المکنویۃ فی عبارۃ الاذکار للامام النووی رحمہ اﷲ تعالی من قولہ “ لابأس بہ فان اصل المصافحۃ سنۃ وکونھم حافظوا علیہا فی بعض الاحوال وفرطوا فی کثیر من الاحوال اواکثرھا لایخرج ذلك البعض عن کونہ من المصافحۃ التی ورد الشرع باصلھا “ اھ منہ رضی اﷲ تعالی عنہ (م)
فتاوی مولوی عبدالحی لکھنو ی میں امام نووی کی کتاب اذکار سے منقولہ عبارت پر بریلی کے معترض مولوی صاحب نے یہ حاشیہ لکھا ہے امام نووی کی عبارت یہ ہے : “ اس مصافحہ میں کوئی حرج نہیں اس لئے کہ اصل مصافحہ سنت ہے اور اکثر حالات میں لوگ مصافحہ کے اندر کوتاہی کرنے کے ساتھ صرف بعض حالات میں اگر مصافحہ کی پابندی کرتے ہیں تو اس سے بعض حالات والا مصافحہ (مثلا مصافحہ بعد نماز) اس مصافحہ جائزہ کے دائرے سے خارج نہ ہوگا جس کی اصلیت شرع سےثابت ہے۔ (ت)
#11442 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
اتیان السنۃ فی بعض الاوقات لایسمی بدعۃ مع ان عمل الناس فی الوقتین المذکورین لیس علی وجہ الاستحباب المشروع لان محل المصافحۃ المذکورۃ اول الملاقاۃ وقد یکون جماعۃ یتلاقون من غیر مصافحۃ ویتصاحبون بالکلام وبمذاکرۃ العلم وغیرہ مدۃ مدیدۃ ثم اذا صلوا یتصافحون فاین ھذا من السنۃ المشروعۃ وبھذا صرح بعض العلماء بانھا مکروھۃ عہ و ح انھا من البدع المذمومۃ کذافی المرقاۃ۔
اعتراض کرتے ہوئے مولوی صاحب مذکور نے حاشیہ لکھاہے)ظاہر ہے کہ امام نووی کے کلام میں ایك طرح کا تعارض ہے ۔ اس لئے کہ اگر لوگ بعض اوقات “ سنت کے مطابق “ مصافحہ کرتے ہیں تواسے بدعت نہیں کہا جائے گا ۔ لیکن فجر وعصر کے بعد کا عمل استحباب مشروع کے طور پر نہیں ہے اس لئے کہ جائز مشروع مصافحہ کا محل بس اول ملاقات ہے اور یہاں تو بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کچھ لوگ ملاقات بلامصافحہ کرتے ہیں اور دیر تك گفتگو و علمی بحث وغیرہ میں ایك ساتھ رہتے ہیں پھر جب نماز پڑھ لیتے ہیں تو مصافحہ کرتے ہیں یہ سنت مشروعہ کہاں ! اسی لئے تو بعض علماء نے صراحۃ فرمایا ہے کہ یہ مکروہ ہے اور اس کا شمار مذموم بدعتوں میں ہے یہی عبارت مرقاۃ میں ہے ۔ (ت)
عیدثانی میں
تحریر جواب وتقریر صواب وازالہ اوہام وکشف حجاب___ یعنی اس تحریر کی نقل جو برسم جواب مولوی معترض کے پاس مرسل ہوئی۔
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
جناب مولانا ! دام مجد کم بعد ماھو المسنون ملتمس فتوی فقیر دربارہ معانقہ کے جواب میں مجموعہ فتاوی مولوی عبدالحی صاحب لکھنوی جناب نے ارسال فرمایا اور اس کی جلد اول صفحہ ۵۲۸طبع اول میں جوفتوی معانقہ
عــــہ : ھکذا بخطہ ولیست بھذہ الحاء فی عبارۃ المرقاۃ ولا لہا محل فی العبارۃ کما لا یخفی ۱۲منہ رضی اﷲ تعالی عنہ (م)
صاحب موصوف کی تحریر میں اسی طرح یہ “ ح “ بنی ہوئی ہے مگر یہ عبارۃ مرقاۃ میں نہیں ہے عبارت میں اس کا موقع بھی نہیں جیسا کہ ظاہر ہے ۔ (ت)
#11443 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
مندرجہ ہے پیش کیااور اس کے حاشئے پر تائید کچھ عبارت ردالمحتار مرقاۃ بھی تحریر فرمادی سائل مظہر کہ جب جناب سے یہ گزارش ہوئی کہ آیا یہ مجموعہ آپ کے نزدیك مستند ہے تو فرمایا : “ ہمارے نزدیك مستند نہ ہوتا تو ہم پیش کیوں کرتے “ ۔ اور واقعی یہ فرمانا ظاہر وبجا ہے فقیر کو اگر چہ ایسے معارضہ کا جواب دینا ضرور نہ تھا مگر حسب اصرار سائل محض بغرض احقاق حق وازہاق باطل چند التماس ہیں معاذاﷲ کسی دوسری وجہ پر حمل نہ فرمائیے فقیر ہر محسن مسلمان کو مستحق ادب جانتا ہے خصوصا جناب تو اہل علم سادات سے ہیں مقصود صرف اتنا ہے کہ جناب بھی بمقتضائے بزرگی حسب و نسب وعمر وعلم ان گزارشوں کو بنظر غور تحقیق حق استماع فرمائیں اگر حق واضح ہو تو قبول مرجوح ومامول کہ علماء کے لئے رجوع الی الحق عارض نہیں بلکہ معاذاﷲ اصرار علی الباطل____ قال تعالی :
فبشر عباد ﴿۱۷﴾ الذین یستمعون القول فیتبعون احسنہ ف۱۔
تو خوشی سناؤ ان بندوں کو جو کان لگا کر بات سنیں پھراس کے بہتر پر چلیں ۔ (ت)
التماس اول : اس مجموعہ فتاوی سے استناد الزاما ہے یا تحقیقا علی الاول فقیر نے کب کہاتھا کہ کسی معاصر کی تحریر مجھ پر حجت ہے علی الثانی پہلے دلیل سے ثابت کرنا تھا کہ یہ کتاب خادمان علم پر احتجاجا پیش کرنے کے قابل ہے ف۲۔

ف۱ : حاصل یہ ہے کہ ہم نے معانقہ عید کا جواز احادیث کریمہ سے ثابت کیا مستند فقہی عبارتیں پیش کیں اس احادیث اور نصوص سے مدلل فتوے کے جواب میں آپ مولوی عبدالحی صاحب کا فتوی مستند بناکر پیش کررہے ہیں ایسی مخالف دلیل کا جواب تو کوئی ضروری نہ تھا مگر سائل کے اصرار پر حق کو حق دکھانے اور باطل و ناحق کو مٹانے کی خاطر آپ کی خدمت میں چند التماس ہیں ان التماسوں کا مقصد صرف یہ ہے کہ آپ بنگاہ غور دیکھیں اگر حق واضح ہوتو آپ سےاسے قبول کرلینے کی امید ہے اس لئے کہ حق کی طرف رجوع اور اسے قبول کرلینا علماء کے لئے عار نہیں بلکہ معاذاﷲ باطل وناحق بات پر اڑے رہنا شان علماء کے خلاف ہے ۔ (ت)
ف۲ : توضیح : آپ نے میرے فتوے کے جواب میں مولوی عبدالحی صاحب کا مجموعہ فتاوی مستند بناکر پیش کیا ہے اس کی دو ہی صورتیں ہوسکتی ہیں :
(۱) یا تو مجھے الزام دینا مقصود ہے کہ دیکھئے آپ کی مستند اور مانی ہوئی کتاب میں (باقی اگلے صفحہ پر)
حوالہ / References &القرآن€ ٣٩ / ۱۷ / ١٨
#11444 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
دوم : شاید جناب نے اس مجموعہ کو استیعابا ملاحظہ نہ فرمایا اس میں بہت جگہ وہ مسائل وکلمات ہیں جو آج کل کے فرقہ مانعین کے بالکل مخالف و قالع اصل مذہب ہیں ۔ تمثیلا ان میں سے چند کا نشان دوں ۔
جلد اول صفحہ ۵۳۱ پر لکھتے ہیں : “ کتب فقہیہ میں نظائر اس کے بہت موجو دہیں کہ ا زمنہ سابقہ میں ان کاو جود نہ تھا مگر بسبب اغراض صالحہ کے حکم اس کے جواز کا دیا گیا “ ۔
صفحۃ پر ہے : “ الوداع یا الفراق کا خطبہ آخر رمضان میں پڑھنا اور کلمات حسرت ورخصت کے ادا کرنا فی نفسہ امر مباح ہے بلکہ اگر یہ کلمات باعث ندا مت وتوبہ سامعان ہوئے تو امید ثواب ہے مگر اس طریقہ کا ثبوت قرون ثلثہ میں نہیں
جلددوم صفحہ میں ہے :
کسے کہ می گوید کہ وجودیہ وشہودیہ از اہل بدعت اند قولش قابل اعتبار نیست ومنشاء قولش جہل وناواقفیت است ازاحوال اولیاء واز معنی توحید وجودی وشہودی وشاعرے کہ ذم ہر دوفرقہ ساخت قابل ملامت ست ۔
جو کہتاہے کہ وجودیہ اور شہودیہ اہل بدعت سے ہیں اس کاقول قابل اعتبار نہیں اور اس کے قول کی بیناد یہ ہے کہ وہ اولیاء کے احوال اور توحید وجودی و شہودی کے معنی سے جاہل وبے خبر ہے اور جس شاعر نے دونوں فرقوں ( وجود یہ وشہودیہ ) کی مذمت کی ہے وہ قابل ملامت ہے ۔ (ت)
صفحہ ۴۲۱ پر ہے : شغل برزخ اس طورپر کہ حضرات صوفیہ صافیہ نے لکھا ہے نہ شرك ہے نہ ضلالت۔ ہاں افراط وتفریط اس میں منجر ضلالت کی طرف ہے۔ تصریح اس کی مکتوبات مجدد الف ثانی
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
آپ کے خلاف ہے مگر میں نے کب کہا کہ ا س زمانے کے کسی عالم کی تحریر مجھ پر حجت ہے۔
(۲) یا یہ کہ آپ نے خود تحقیقی طور پر اسے سب کے لئے معتمد اور مستند جان کر پیش کیا ہے۔ تو آپ کو پہلے دلیل سے ثابت کرناتھا کہ یہ کتاب قابل استدلال اور علماء پر حجت وسند بنا کر پیش کرنے کے لائق ہے۔ اور جب یہ دونوں صورتیں صحیح نہیں تواس مجموعہ فتاوی کو یہاں پیش کرنا ہی بے محل ہے ۔ (مترجم)
حوالہ / References &مجموعہ فتاوٰی عبد الحی€
&مجموعہ فتاوٰی عبدالحی کتاب الحظر والاباحۃ€ مطبوعہ مطبع یوسفی لکھنؤ ٢ / ٢٤ ۔ ٢٥
&مجموعہ فتاوٰی عبدالحی کتاب الحظروالاباحۃ€ مطبوعہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۲ / ۵۸
#11445 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
میں جابجا موجود ہے ف۱ جلد سوم صفحہ۸۵ میں ہے :
سوال : وقت ختم قرآن در تراویح سہ بار سورہ اخلاص می خوانند مستحسن است یا نہ
جواب : مستحسن ست ۔
سوال : تراویح میں ختم قرآن کے وقت تین بار سورہ اخلاص پڑھتے ہیں یہ مستحسن ہے یا نہیں
جواب : مستحسن ہے۔ (ت)
صفحہ پر ہے :
سوال : بسم اﷲ نوشتن برپیشانی میت ازانگشت درست ست یا نہ جواب : درست ست ۔
سوال : انگلی سے میت کی پیشانی پر بسم اﷲ لکھنا درست ہے یا نہیں جواب : درست ہے ۔ (ت)
صفحہ میں ہے :
درمجالس مولد شریف کہ از سورہ والضحی تا آخر می خوانند البتہ بعد ختم ہر سورۃ تکبیر می گویند راقم شریك مجالس متبرك بودہ ایں امررامشاہدہ کردم ہم درمکہ معظمہ وہم درمدینہ منورہ وہم درجدہ ۔
میلاد شریف کی محفلوں میں سورہ والضحی سے آخر قرآن تك پڑھتے ہیں ہر سورۃ ختم کرنے کے بعد تکبیر کہتے ہیں راقم نے ان متبرك محفلوں میں شریك ہوکر اس امر کامشاہدہ کیا ہے مکہ معظمہ میں بھی مدینہ منورہ میں بھی اور جدہ میں بھی ۔ (ت)
طرفہ یہ کہ صفحہ پر لکھتے ہیں :
ف : ارواح سے توجہ طلبی تصور شیخ شغل برزخ وغیرہ سے متعلق اعلیحضرت قدس سرہ ایك مدلل رسالہ ہے الیاقوت الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ (ھ) جس میں نصوص علماء اور مستند ین مانعین کی عبارتوں سے اس کا جواز ثابت فرمایا ہے۔ قابل مطالعہ ہے ۔ (مترجم)
حوالہ / References &مجموعہ فتاوٰ ی عبدالحی€
&مجموعہ فتاوٰ ی عبدالحی باب التراویح €مطبوعہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ / ۵۷
&مجموعہ فتاوٰ ی عبدالحی باب مایعلق بالموتی €مطبوعہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ / ۱۲۳
&مجموعہ فتاوٰ ی عبدالحی باب القرأۃ فی الصلوٰۃ €مطبوعہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ / ۵۲
#11446 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
سوال : پارچہ جھنڈا سالار مسعود غازی درمصرف خود آرد یا تصدق نماید :
جواب : ظاہرا دراستعمال پارچہ مذکور بصرف خودوجہے موجب بزہ کاری باشد نیست و اولی آنست کہ بمساکین وفقرادہد ۔
سوال : سید سالار مسعود غازی کے جھنڈے کا کپڑا اپنے مصرف میں لائے یا صدقہ کردے
جواب : مذکورہ کپڑا اپنے مصرف میں لانے کے اند ر بظاہر گناہ کی کوئی وجہ نہیں اور بہتر یہ ہے کہ مساکین وفقراء کو دے دے ۔ (ت)
جناب سے سوال ہے کہ مولوی صاحب کے یہ اقوال کیسے اور ان کے قائل ومعتقد کا حکم کیا ہے خصوصا شغل برزخ کو جائز جاننے والا معاذاﷲ مشرك یا گمراہ ہے یا نہیں اور جس کتاب میں ایسے اقوال مندرج ہوں مستند و معتمد ٹھہرے گی یا پایہ احتجاج سے ساقط ہوگی بینوا توجروا
سوم : مولوی صاحب نے اس فتوی میں معانقہ عید کی نسبت صرف اتنا حکم دیا ہے کہ “ ترك اس کا اولی ہے “ اس سے ممانعت درکنار اصلا کراہت بھی ثابت نہیں ہوتی “ او لویت ترکہ نہ مشروعیت واباحت کے منافی نہ کراہت کو مستلزم “ ف۱۔ ردالمحتار میں ہے :
الا قتصاد علی الفاتحۃ مسنون لاواجب فکان الضم خلاف الاولی وذلك لاینافی المشروعیۃ والاباحۃ بمعنی عدم الاثم فی الفعل والترك ۔
نماز فرض کی تیسری چوتھی رکعتوں میں سورہ فاتحہ پر اکتفا کرنا صرف مسنون ہے واجب نہیں تو ان رکعتوں میں سورہ ملانا خلاف اولی ہوگا اور یہ اس کے جائز ومباح ہونے کے منافی نہیں اباحت بایں معنی کہ کرنے نہ کرنے دونوں میں کوئی گناہ نہیں ۔ (ت)

ف : فقہاء اگر یہ حکم کریں کہ فلاں امر کا ترك بہتر ہے تواس سے ہرگز یہ نہیں ثابت ہوتاکہ وہ چیز ناجائز ہے بلکہ مکروہ ہونا بھی لازم نہیں آتا۔ یہ ایك عظیم قاعدہ ہے جو حفظ کرلینے کے قابل اور بہت سےمقامات میں مفید ہے۔ اس قاعدے کے پیش نظر مولانا عبدالحی صاحب نے معانقہ عیدکے متعلق جب صرف اتنا لکھا کہ اس کا نہ کرنا بہتر ہے تو اس سے معانقہ مذکورہ کا ناجائز یا مکروہ ہونا بالکل ثابت نہیں ہوتا بلکہ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ کر لے تو کوئی حرج نہیں ۔ پھر ممانعت معانقہ کے بارے میں فتوی مذکور سے استدلال ہی بالکل بیکار اور اپنے خلاف استدلال ہے ۔ (ت)
حوالہ / References &مجموعہ فتاوٰی باب مایحل استعمالہ ومالا یحل€ مطبوعہ مطبع یوسفی لکھنؤ ٣ / ١١٦
&ردالمحتار مطلب کل صلوٰۃ مکروھۃ تجب اعادتہا€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ٤٥٩
#11447 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
اسی میں ہے :
صرح فی البحر فی صلوۃ العید عند مسئلۃ الاکل بانہ لایلزم من ترك المستحب ثبوت الکراھۃ “ اذلا بدلھا من دلیل خاص “ اھ واشار الی ذلك فی التحریر الاصولی بان خلاف الاولی مالیس فیہ صیغۃ نھی کترك صلوۃ الضحی بخلاف المکروہ تنزیھا ۔
بحرالرائق میں جہاں یہ مسئلہ کہ نماز عید سے پہلے کچھ کھا لینا مستحب ہے وہیں ہے کہ اس مستحب کو اگر کسی نے ترك کردیا تو وہ فعل مکروہ کا مرتکب نہ ہوگا کیونکہ ترك مستحب سے کراہت کا ثبوت لازم نہیں اس لئے کہ مکروہ ہونے کے لئے کوئی خاص دلیل ضروری ہے اور اس کی طرف تحریر اصولی میں بھی اشارہ کیا ہے کہ “ خلاف اولی وہ ہے جس میں ممانعت اور نہی کا صیغہ نہ ہو “ جیسے نماز چاشت کا ترك بخلاف مکروہ تنزیہی کے کہ اس میں نہی وممانعت کا صیغہ ہوتا ہے ۔ (ت)
پھر اگر جناب کے نزدیك بھی حکم وہی ہے جو مولوی صاحب نے اپنے فتوی میں لکھا تو تصریح فرمادیجئے کہ عید کا معانقہ شرعا ممنوع نہیں نہ اس میں اصلا کوئی حرج ہے ہاں نہ کرنا بہتر ہے کرلے تو مضائقہ نہیں
چہارم : آپ نے جو عبارات ردالمحتار ومرقات نقل فرمائیں ان میں معانقہ عید کی ممانعت کا کہیں ذکر نہیں ان میں تو مصافحہ بعد نماز فجر و عصر یا نماز پنجگانہ کا بیان ہے اور جناب کو منصب اجتہاد حاصل نہیں کہ ایك مسئلہ کو دوسرے پر قیاس فرماسکیں اگر فر مائے کہ “ جو دلائل اس میں لکھے ہیں یہاں بھی جاری “
اقول : یہ محض ہو س ہے ان عبارتوں میں تین دلیلیں مذکور ہوئیں :
() محل مصافحہ ابتدائے ملاقات ہے نہ بعد صلوات۔
() یہ مصافحہ مخصوصہ سنت روافض ہے۔
(۳) صحابہ کرام نے یہ خاص مصافحہ نہ کیا۔
یہ تینوں تعلیلیں اگرچہ فی انفسہا خود ہی علیل اور ناقابل قبول ہیں کما حققناہ بتوفیق اﷲ تعالی فی فتاونا ( جیسا کہ
حوالہ / References &ردالمحتار مطلب لایلزم من ترك المستحب ثبوت الکراھۃ€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۱۷۷
#11448 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
ہم نے اﷲ تعالی کی مدد سے اپنے فتوی میں اس کی تحقیق کی ہے ۔ ت) ولہذا قول اصح یہی ٹھہرا کہ وہ مصافحہ مخصوصہ بھی جائز ومباح ہے کما سنذکر ان شاء اﷲ تعالی ( جیسا کہ ہم ان شاء اﷲ تعالی آگے ذکر کریں گے ۔ ت) مگر ہمارے مسئلہ دائرہ یعنی معانقہ عید سے دو دلیل پیشیں کو تو اصلا علاقہ نہیں ۔ محل “ مصافحہ “ خاص ابتدائے لقا ہو تو بھی “ معانقہ “ کی اس وقت سے تخصیص ہر گز مسلم نہیں ومن ادعی فعلیہ البیان ( جو مدعی ہوبیان اس کے ذمہ ۔ ت)
مولوی صاحب لکھنوی کا بے دلیل وسند لکھنا ممسوع نہیں ہوسکتا ۔ بلکہ معانقہ مثل تقبیل اظہار سرور وبشاشت و وداد و محبت ہے جیسے تقبیل خاص ابتدائے لقا سے مخصوص نہیں یوں ہی معانقہ۔
جناب نے فتوی فقیر میں حدیث عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما مروی کتاب السنۃ ابن شاہین ومعجم کبیر امام طبرانی ملاحظہ فرمائی ہوگی کہ حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے تالاب پیرنے میں امیر المومنین صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کو گلے لگایا___ ونیز حدیث اسیدبن حضیر رضی اللہ تعالی عنہ مروی سنن ابی داؤد کہ انھوں نے باتیں کرتے کرتے حضور والا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے کرتا اٹھانے کی درخواست کی حضور نے قبول فرمائی وہ حضور کے بدن اقدس سے لپٹ گئے اور تہی گاہ مبارکہ پر بوسہ دیا ___ ونیز حدیث صحیح مستدرك کہ اثنائے مجلس میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حضرت ذی النورین سے معانقہ فرمایا __ ونیز حضرت بتول زہرا رضی اللہ تعالی عنہا کہ حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ان سے پوچھا : عورت کے لئے سب سے بہتر کیا ہے عرض کی : یہ کہ کوئی نامحرم اسے نہ دیکھے۔ حضور نے گلے سے لگالیا___ ان سب صورتوں میں ابتدائے لقا کا وقت کہاں تھا کہ معانقہ فرمایا گیا ___ یوں ہی پیار سے اپنے بچوں ۔ بھائیوں زوجہ کو گلے لگانا شاید اول ملاقات ہی پر جائز ہوگا۔ پھر ممانعت کی جائے گی
یوں ہی مصافحہ بعد نماز فجر وعصر اگر کسی وقت کے روافض نے ایجاد کیا اور خاص ان کا شعار رہا ہو اور بدیں وجہ اس وقت علماء نے اہلسنت کے لئے اسے ناپسند رکھا ہو تو معانقہ عید کا زبردستی اسی پر قیاس کیونکر ہو جائے گا پہلے ثبوت دیجئے کہ یہ “ رافضیوں کا نکالا اور انھیں کا شعار خاص ہے “ ورنہ کوئی امر جائز کسی بدمذہب کے کرنے سے ناجائز یا مکروہ نہیں ہوسکتا ۔ لاکھوں باتیں ہیں جن کے کرنے میں اہلسنت وروافض بلکہ مسلمین وکفار سب شریك ہیں ۔ کیا وہ اس وجہ سے ممنوع ہوجائیں گی
بحرالرائق ودرمختار و ردالمحتار وغیرہا ملاحظہ ہوں کہ “ بد مذہبوں سے مشابہت اسی امر میں ممنوع ہے جو ۱فی نفسہ شرعا مذموم یا ۲اس قوم کا شعار خاص یا ۳خود فاعل کو ان سے مشابہت پیدا کرنا مقصود ہو ورنہ زنہار وجہ ممانعت نہیں “
#11449 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
رہا صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کا نہ کرنا یہ دلیل منع نہیں ہوسکتا آپ تینوں کتب مستندہ اعنی مجموعہ فتاوی وردالمحتار ومرقاۃ شریف اور ان کے سوا صد ہا کتب معتمدہ ا سکے بطلان پر گواہ ہیں فقہاء کرام سیکڑوں چیزوں کو یہ تصریح فرماکر کہ نو پیدا ہیں جائز بلکہ مستحب ومستحسن بلکہ واجب بتاتے اور محدثات کو اقسام خمسہ کی طرف تقسیم فرماتے ہیں ۔ مجموعہ فتاوی کی عبارتیں گزریں ۔ ردالمحتار میں ہے :
قولہ ای صاحب بدعۃ ای محرمۃ والا فقد تکون واجبۃ کنصب الادلۃ للردعلی اھل الفرق الضالۃ وتعلم النحو المفھم الکتاب والسنۃ ومندوبۃ کا حداث نحو رباط ومدرسۃ وکل احسان لم یکن فی الصدر الاول ومکروھۃ کزخرفۃ المساجد ومباحۃ کالتوسع بلذ یذالمآکل والمشارب و الثیاب کما فی شرح الجامع الصغیر للمناوی عن تھذیب النووی ومثلہ فی الطریق المحمدیۃ للبرکوی ۔
شارح کا قول “ جو صاحب بدعت “ یہاں بدعت سے مراد حرام بدعت ہے ورنہ بدعت واجب بھی ہوتی ہے جیسے گمراہ فرقوں کا رد کرنے کے لئے دلائل قائم کرنا علم نحو سیکھنا جس سے کتاب وسنت سمجھ سکیں مستحب بھی جیسے سرائے اور مدرسہ جیسی چیزیں تعمیر کرنا اور ہر وہ نیك کام جو زمانہ اول میں نہ رہا ہو مکروہ بھی جیسے مسجدوں کو آراستہ ومنقش کرنا۔ مباح بھی جیسے کھانے پینے کی لذیذ چیزوں اور کپڑوں میں وسعت وفراخی کی راہ اختیار کرنا جیسا کہ علامہ مناوی کی شرح جامع صغیری میں علامہ نووی کی کتاب تہذیب سے منقول ہے اور اسی طرح علامہ برکوی کی کتاب “ الطریق المحمدیہ “ میں مذکور ہے ۔ (ت)
مرقاۃ شریف میں ہے :
احداث مالاینازع الکتاب والسنۃ کما سنقررہ بعدلیس بمذموم ۔
ایسا فعل ایجاد کرنا جو کتاب وسنت کے مخالف نہ ہو برا نہیں جیسا کہ ہم آگے ثابت کریں گے ۔ (ت)
پھر ایك صفحہ کے بعد بدعت کا واجب وحرام ومندوب ومکروہ ومباح ہونا مفصلا ذکر فرمایا۔ عالمگیری میں ہے :
لاباس بکتابۃ اسامی السور وعدد الآی
مصحف شریف میں سورتوں کے نام اور آیتوں کی
حوالہ / References &ردالمحتار باب الامامت€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۶۰
&مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ€ مطبوعہ امدادیہ ملتان ۱ / ۲۱۵
#11450 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
وھوان کان احد اثا فھو بدعۃ حسنۃ وکم من شیئ کان احداثا وھو بدعۃ حسنۃ ۔
تعداد لکھنے میں کوئی حرج نہیں اور وہ اگر چہ نئی ایجاد اور بدعت ہے مگر بدعت حسنہ ہے اوربہت سی چیزیں ایسی ہیں جو نو ایجاد تو ہیں مگر بدعت حسنہ ہیں ۔ (ت)
امام ابن الہمام فتح القدیر میں رکعتیں قبل مغرب کا حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وصحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے ثا بت نہ ہونا ثابت کر کے بتاتے ہیں :
ثم الثابت بعد ھذا ھو نفی المندوبیۃ اما ثبوت الکراھۃ فلا الاان یدل دلیل اخر ۔
پھر اس ساری بحث کے بعد صرف یہ ثابت ہوا کہ نماز مغرب سے پہلے دو رکعتیں مندوب ومستحب نہیں لیکن مکروہ ہونا ثا بت نہیں ہاں اگر ثبوت کراہت پر کوئی اور دلیل ہو تو البتہ ۔ (ت)
مع ہذا حضرات مانعین زمانہ تین قرن تك اختیار تشریع مانتے اور محدثات تابعین کو بھی غیر مذموم جانتے ہیں تو صرف فعل صحابہ سے استدلال ان کے طور پر بھی ناقص وناتمام ہے ف۔ کلام ان مباحث میں طویل ہے کہ ہم نے اپنے رسائل عدیدہ میں ذکر کیا یہاں بھی دوحرف مجمل کافی ہیں وباﷲ التوفیق۔
پنجم : ردالمحتار ومرقات کی یہ عبارتیں اگرجناب نے دیکھیں تو درر وغرر و کنزالدقائق و وقایہ و نقایہ و مجمع و منتقی واصلاح وایضاح وتنویر وغیرہا عامہ متون مذہب کے اطلاق ملاحظہ فرمائے ہوتے جنھوں نے مطلقا بلاتقیید وتخصیص مصافحہ کی اجازت دی درمختار وحاشیہ علامہ طحطاوی وشرح علامہ شہاب شلبی و
ف۱ : مانعین کسی چیز کی ایجاد اور جائز ومشروع قراردینے کا اختیار صرف تین زمانوں تك محدود مانتے ہیں :
(۱) زمانہ رسالت (۲) زمانہ صحابہ () زمانہ تابعین
ان کے اس نظریہ سے اتنا ثابت ہے کہ زمانہ تابعین کی ایجادات بھی بری نہیں تو مصافحہ مذکورہ کی ممانعت کے ثبوت میں صرف صحابہ کرام کے نہ کرنے سے استدلال ناقص وناتمام ہے اپنے ہی نظریہ کے مطابق یہ بھی ثابت کرنا تھا کہ زمانہ تابعین میں بھی اس کا وجود وثبوت نہیں ۔ (ت)
حوالہ / References &عالمگیری€ ( &فتاوٰی ہندیہ€) &باب آداب المسجد€ مطبوعہ پشاور ٥ / ٣٢٣
&فتح القدیر با ب النوافل€ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۸۹
#11451 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
فتح اﷲ المعین حاشیہ کنز وغنیہ ذوی الاحکام حاشیہ درر و حاشیہ مراقی الفلاح ونسیم الریاض شرح شفائے امام قاضی عیاض ومجمع بحارا لانوار ومطالب المومنین ومسوی شرح مؤطا وتکملہ شرح اربعین علامہ برکوئی للعلامہ محمد آفندی وحدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ للعلامۃ النابلسی وفتوی امام شمس الدین بن امام سراج الدین حا نوتی وغیرہم علمائے حنفیہ کی تصریحات جلیلہ بھی دیکھی ہوتیں کہ صاف صاف مصافحہ مذکورہ اور اسی طرح مصافحہ عید کو بھی جائز بلکہ مستحسن بلکہ سنت بتاتے ہیں ۔ درمختار میں ہے :
اطلاق المصنف تبعاللدرر والکنز والوقایۃ و المجمع والملتقی وغیرھا یفید جوازھا مطلقا ولو بعد العصر وقولھم انہ بدعۃ ای مباحۃ حسنۃ کما افادہ النووی فی اذکارہ وغیرہ فی غیرہ ۔
درر کنز وقایہ مجمع ملتقی وغیرہا کے اتباع میں مصنف نے بھی یہاں مصافحہ کا ذکر مطلق رکھا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مصافحہ مطلقا جائز ہے خواہ بعد عصرہی کیوں نہ ہو اور لوگو ں کا یہ کہنا کہ وہ بدعت ہے تو اس سے مراد بدعت مباحہ حسنہ ہے جیسا کہ امام نووی نے اذکار میں اوردوسرے علماء نے دوسری کتابوں میں افادہ فرمایا ہے ۔ (ت)
اصلاح وایضاح میں ہے :
کرہ تقبیل الرجل وعناقہ فی ازار واحد وجاز مع قمیص کمصافحتہ ۔
آدمی کابوسہ دینا اور معانقہ کرنا ایك ازار میں مکروہ ہے اور کرتا پہن کر ہو تو جائز ہے۔ جیسے مصافحہ جائز ہے ۔ (ت)
حدیقہ ندیہ میں ہے :
بعض المتاخرین من الحنفیۃ صرح بالکراھۃ فی ذلك ادعاء بانہ بدعۃ مع انہ داخل فی عموم سنۃ المصافحۃ مطلقا۔
بعض متاخرین حنفیہ نے اس مصافحہ کے بدعت ہونے کا دعوی کرتے ہوئے اسے صراحۃ مکروہ بتایا ہے باجود یکہ وہ مطلق مصافحہ کے عموم میں داخل ہو کر مسنون ہے۔ (ت)
حوالہ / References &درمختار کتاب الحظروالا باحۃ€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٦ / ٣٨١
&اصلاح وایضاح€
&الحدیقۃ الندیہ الخلق الثامن والاربعون الخ€ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ٢ / ١٥٠
#11452 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
مجمع البحارمیں ہے : ھی من البدع المباحۃ ( یہ مصافحہ ان بدعتوں سے ہے جو مباح ہیں ۔ ت)آپ کی اسی ردالمحتارمیں بعد نقل عبارت امام نووی ہے :
قال الشیخ ابوالحسن البکری وتقییدہ بما بعد الصبح والعصر علی عادۃ کانت فی زمنہ والافعقب الصلوات کلھا کذلک کذافی رسالۃ الشرنبلالی فی المصافحۃ ونقل مثلہ عن الشمس الحانوتی وانہ افتی بہ مستدلا بعموم النصوص الواردۃ فی مشروعیتھا وھو الموافق لما ذکرہ الشارح من اطلاق المتون ۔
شیخ ابوالحسن بکری فرماتے ہیں امام نووی نے بعد فجر و عصر کی قید کے ساتھ مصافحہ کا ذکر اس لئے فرمایا کہ ان کے زمانے میں یہی رائج تھا ورنہ بعد فجر وعصر کی طرح تمام نمازوں کے بعد مصافحہ جائز ہے۔ یہی علامہ شرنبلالی کے اس رسالہ میں ہے جو انھوں نے مصافحہ کے بارے میں لکھا ہے اور اسی کے مثل علامہ شمس الدین حانوتی سے منقول ہے۔ انھوں نے جواز مصافحہ کے بارے میں وارد شدہ احادیث اور نصوص سے استدلال فرماتے ہوئے اس مصافحہ کے بھی جائز ہونے کا فتوی دیا ہے۔ اور یہی اس کے موافق ہے جو شارح ( صاحب درمختار علاء الدین حصکفی ) نے متون فقہ کا اطلاق ذکر کیا ہے ۔ (ت)
شاہ ولی اﷲ دہلوی مسوی میں کلام امام نووی نقل کرکے کہتے ہیں :
اقول : وھکذا ینبغی ان یقال فی المصافحۃ یوم العید ۔
میں کہتا ہوں جس طرح امام نووی نے مصافحہ بعد فجر وعصر کے جواز میں استدلال کیا ہے یہی استدلال مصافحہ روز عید میں بھی جاری ہونا چاہئے۔ (ت)
اوربعض نسخ مسوی میں “ والمعانقۃ یوم العید ایضا “ ( اور روزعید کے “ معانقہ “ میں بھی ۔ ت) بھی ہے۔
حوالہ / References &مجمع البحار الانوار تحت لفظ صفح€ مطبوعہ نو ل کشور لکھنؤ ٢ / ٢٥٠
&ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃ€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٦ / ٣٨١
&مسوّٰی باب استحباب المصافحۃ€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ٢٢١
#11453 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
“ مناصحۃ فی تحقیق مسائل المصافحۃ “ میں تکملہ شرح اربعین سے ہے :
لاوجہ لجواب ابن حجر الشافعی وقد سئل عن المصافحۃ بعد الصلوۃ فقال ھی بدعۃ انتھی لان حالۃ السلام حالۃ اللقاء لان المصلی لما احرم صار غائبا عن الناس مقبلا علی اﷲ تعالی فلما ادی حقہ قیل لہ ارجع الی مصالحك وسلم علی اخوانك لقد ومك عن غیبتک و لذلك ینوی القوم بسلام کما ینوی الحفظۃ واذاسلم یندب المصافحۃ اوتسن کالسلام کما اجاب شیخ الاسلام شیخ مشائخنا شمس الدین محمد بن سراج الدین الحانوتی وقد رفع لہ ھذا السؤال فقال نص العلماء علی ان المصافحۃ للمسلم لا للکافر مسنونۃ من غیر ان یقیدوھا بوقت دون وقت لقولہ علیہ الصلوۃ والسلام من صافح اخاہ والمسلم وحرك یدہ تناثرت ذنوبہ و نزلت علیھا مأۃ رحمۃ تسعۃ وتسعون منھا لاسبقھما وواحدۃ لصاحبہ
علامہ ابن حجر شافعی نے مصافحہ بعدنماز سے متعلق جواب دیتے ہوئے اسے بدعت کہا ہے ان کے اس جواب کی کوئی قابل قبول وجہ نہیں اس لئے کہ مصافحہ بعد نماز بھی مصافحہ اول ملاقات ہے کیونکہ سلام نماز کی حالت حالت ملاقات ہے ۔ اس لئے کہ جب مصلی نے تحریمہ باندھ لیا تو انسانوں سے غیر حاضر اور خدا کی طرف متوجہ ہوگیا پھر جب حق اﷲ کی ادائیگی سے فارغ ہوا تو اس سے کہا گیاکہ اب اپنے کاموں اور مصالح کی طرف واپس ہو اور اپنے مسلمان بھائیوں کو سلام کر کیونکہ تو اپنی غیر حاضری اور غیبت سے آرہا ہے اسی لئے تو اپنے سلام میں لوگو ں کی بھی نیت کرے گا جیسے محافظ فرشتوں کی نیت کرے گا اور جب سلام کیا تو مصافحہ اس کے لئے مندوب یا مسنون ہے جیسے سلام اسی طرح شیخ الاسلام ہمارے مشائخ کے شیخ شمس الدین محمد بن سراج الدین حانوتی نے جواب دیا ہے ان کے سامنے یہ سوال پیش کیا گیا تھا توانھوں نے فرمایا علماء نے کافر سے تو نہیں مگر مسلمان سے مصافحہ کو کسی خاص وقت کی کوئی قید لگائے بغیر مسنون ہونے پر نص فرمایا ہے اسی لئے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے : “ جس نے اپنے مسلمان بھائی سے مصافحہ کیا اور اپنے ہاتھ کو حرکت دی تو اس کے گناہ جھڑتے ہیں اور دونوں پر کل سو رحمتیں نازل ہوتی ہیں نناوے اس کے لئے جس نے مصافحہ میں سبقت وپیش قدمی کی اور
#11454 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
وقال ایضا مامن مسلمین یلتقیان فیتصافحان الا غفر لھما قبل ان یتفرقا فالحدیث الاول یقتضی مشروعیۃ المصافحۃ مطلقا اعم من ان تکون عقب الصلوات الخمس والجمعۃ و العیدین او غیر ذلک ۔ لان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لم یقیدھا بوقت دون وقت والدلیل العام عند الحنفیۃ اذا لم یقع فیہ تخصیص من الادلۃ الموجبۃ للحکم قطعا کالدلیل الخامس وقالوا لدلیل العام یعارض الخاص لقوتہ۔ والدلیل ھھنا عام لان صیغۃ “ من “ من صیغ العموم وکذانقل عن شیخ مشائخنا العلامۃ المقدسی حدیث “ من صافح مسلما وقال عند المصافحۃ اللھم صل علی محمد وعلی آل محمد لم یبق من ذنوبہ شیئ “ فصیغتہ ایضا من صیغ العموم ذکرہ الشرنبلالی فی رسالتہ المسماۃ “ بسعادۃ اھل الاسلام “
ایك اس کے دوسرے ساتھی کے لئے “ اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ “ جب دو مسلمان ایك دوسرے سے ملتے پھر مصافحہ کرتے ہیں تو جدا ہونے سے پہلے ان کی مغفرت ہو جاتی ہے “ پہلی حدیث کامقتضی ہے کہ مصافحہ مطلقا جائز ومشروع ہو خواہ نماز پنجگانہ جمعہ وعیدین کے بعد ہو یاکسی اور وقت اس لئے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے مصافحہ کو کسی خاص وقت سے مقید نہ فرمایا اور حنفیہ کے نزدیك دلیل عام کا بھی وہی رتبہ ہے جو دلیل خاص کا ہے جبکہ دلیل عام کا حکم کو قطعی طور پر لازم کرنے والی دلیلوں سے کوئی تخصیص نہ ہوئی ہو بلکہ وہ تو اس کے قائل ہیں کہ دلیل عام اتنی قوی ہوتی ہے کہ دلیل خاص کے معارض اور اس پر ترجیح یافتہ ہوا کرتی ہے اور یہاں دلیل مصافحہ بھی عام ہے اس لئے کہ حدیث میں کلمہ “ من “ ہے جو صیغ عموم سے ہے یوں ہی ہمارے شیخ المشائخ علامہ مقدسی سے یہ حدیث منقول ہے “ جس نے کسی مسلمان سے مصافحہ کیا اور بوقت مصافحہ ( درود شریف) اللھم صل علی محمد وعلی آل محمد “ پـڑھا تو اس کے گناہوں سے کچھ باقی نہیں رہ جاتا “ اس حدیث کا صیغہ بھی عموم کا صیغہ ہے۔ اسے علامہ شرنبلالی نے اپنے رسالہ “ سعادۃ الاسلام “ میں ذکر کیا ہے ۔ (ت)
علامہ سید ابو السعود ازہری حا شیہ کنز میں فرماتے ہیں
حوالہ / References &مناصحۃ فی تحقیق مسألۃ المصافحہ€
#11455 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
فی شرح لشھاب الشلبی وما اعتادہ الناس بعد صلوۃ الصبح والعصر فلا اصل لہ لکن لابأس بہ الخ۔
شہاب الدین شلبی کی شرح میں ہے : نماز فجر وعصر کے بعد جو مصافحہ را ئج ہے اس کی کوئی اصل نہیں مگر اس میں کوئی حرج بھی نہیں ۔ (ت)
غنیہ حاشیہ غرر ودرر باب صلوۃ العیدین میں ہے :
المستحب الخروج ماشیا والرجوع من طریق اخر والتھنئۃ بتقبل اﷲ منا و منکم لاننکر کما فی البحر وکذا المصافحۃ بل ھی سنۃ عقب الصلوات کلھا عند کل لقی ولنا فیھا رسالۃ سمیتھا سعادۃ اھل الاسلام بالمصافحۃ عقب الصلوۃ والسلام “ ۔
عیدکے دن عیدگاہ کو پیادہ جانا اور دوسرے راستے سے واپس آنا یہی مستحب ہے ۔ اور بالفاظ تقبل اﷲ منا و منکم ( اﷲ ہمارے تمھارے عمل قبول فرمائے) مبارکباد پیش کرنا کوئی منکر اور برا نہیں جیسا کہ بحرالرائق میں ہے اسی طرح مصافحہ بھی بلکہ وہ تو تمام نمازوں کے بعد ہر ملاقات کے وقت سنت ہے اور اس بارے میں “ سعادۃ اھل الاسلام بالمصافحۃ عقب الصلوۃ والسلام “ نامی ہمارا ایك رسالہ ہے ۔ (ت)
فتح اﷲ المعین علی شرح العلامۃ الملامسکین میں ہے :
من المستحب اظھار الفرح والبشاشۃ ( الی قولہ) والتھنئۃبتقبل اﷲ منا ومنکم وکذا المصافحۃ بل ھی سنۃ عقب الصلوۃ کلھا و عند کل لقی۔ شرنبلالیۃ ۔
عید کے دن مسرت و خندہ روئی ظاہر کرنا اور تقبل اﷲ منا ومنکم ( اﷲ ہم سے اور تم سے قبول فرمائے) کے ذریعہ مبارك باد دینا مستحب ہے اسی طرح مصافحہ بھی بکہ یہ تو تمام نمازوں کے بعد اور ہر ملاقات کے وقت سنت ہے شرنبلالیہ ۔ (ت)
علامہ سید احمد طحطاوی حاشیہ نورالایضاح میں فرماتے ہیں :
کذا تطلب المصافحۃ فھی سنۃ
اسی طرح مصافحہ بھی مطلوب ہے بلکہ یہ تو تمام نمازوں
حوالہ / References &فتح المعین حاشیہ علی شرح ملا مسکین کتاب الکراھیۃ فصل فی الاستبراء€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۴۰۲
&غنیۃ ذوی الاحکام حاشیہ غرر باب صلوٰۃ العیدین€ مطبوعہ احمد مصر ١ / ١٤٢
&فتح المعین علی شرح العلامہ الملامسکین باب صلوٰۃ العیدین€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ۳۲۵
#11456 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
عقب الصلوات کلھا
کے بعد سنت ہے۔ (ت )
حاشیہ درمختار میں ہے :
تستحب المصافحۃ بل ھی سنۃ عقب الصلوات کلھا وعند کل لقی ابوالسعود عن الشرنبلالیۃ ۔
مستحب ہے مصافحہ بلکہ یہ تو نمازوں کے بعد اور ہر ملاقات کے وقت سنت ہے۔ ابوا لسعود عن الشرنبلالیہ ۔ (ت)
افسوس کہ دو۲ عبارتیں جناب نے دیکھیں اور اتنی عبارات کثیرہ جو کہ جناب کے خلاف تھیں نظر سے رہ گئیں ۔ خیر مانا کہ اس میں اکثر کتب مطالعہ سامی میں نہ آئی ہوں آخر درمختار اور ردالمحتار تو پیش نظر تھیں درمختار کی وہ عبارت ملاحظہ فرمائی ہوگی کہ مصافحہ مذکورہ بدعت حسنہ ہے۔ ردالمحتار میں رسالہ علامہ شرنبلالی کا کلام اور علامہ شمس الدین حانوتی کا فتوی دیکھا ہی ہوگا سب جانے دیجئے یہ فتاوی لکھنؤ جوا ستنادا پیش فرمایا اسی میں یہیں یہیں یہ الفاظ موجود کہ علماء اس باب میں مختلف ہیں بعض بدعت مباحہ کہتے ہیں اور بعض بدعت مکروہہ۔ مسئلہ مصافحہ کا اختلافی ہونا پایا نہیں بہت واضح راہ تھی کہ ترجیح تلاش فرمائی جاتی جو قول مرجح نکلتا اسی پر عمل کرنا تھا اگر جناب کی نظر ترجیح تك نہ پہنچتی تو فقیر سے سنئے علامہ شہاب الدین خفاجی حنفی نسیم الریاض شرح شفائے امام قاضی عیاض میں فرماتے ہیں :
ھی بعد الصلوۃ بدعۃ عندنا والا صح انھا مباحۃ لما فیھا من الاشارۃ الی انہ کان قدم من غیبۃ لانہ کان عند ربہ ینا جیہ فافھم ۔
یہ مصافحہ نماز کے بعد ہمارے نزدیك بدعت ہے اور صحیح تریہ ہے کہ مباح ہے کیونکہ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ غیبت اور غیر حاضری سے آیا ہے اس لئے کہ وہ اپنے رب کے حضور مصروف مناجات تھا۔ اسے سمجھو۔ (ت)
ملاحظہ فرمائیے کیسی صاف تصریح ہےکہ مصافحہ مذکورہ کی اباحت ہی قول اصح ہے پھر اگر بالفرض دوسری طرف بھی تصحیح پائی جاتی تاہم یہی قول مرجح رہتاکہ خود باقرار ردالمحتار “ مذہب اباحت ہی موافق اطلاق متون ہے “ ۔ اور خود انھیں کی تصریح ہے کہ “ اختلاف فتوی کے وقت اسی قول پر عمل اولی جو
حوالہ / References &حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح باب العیدین€ مطبوعہ نور محمد کراچی ص ۲۸۸
&حاشیہ طحطاوی علی الدرالمختار باب العیدین دارالمعرفۃ بیروت€ ١ / ٣٥٣
&نسیم الریاض شرح شفاء€
#11457 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
اطلاق متون کے موافق ہو “ ۔
حیث قال قد اختلف التصحیح والفتوی کما رأیت والعمل بما وافق اطلاق المتون اولی ۔ بحر ۔
انھوں نے یوں فرمایا کہ جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو تصحیح اور فتوی میں اختلاف ہوگیا اور عمل اسی پر اولی ہے جو اطلاق متون کے موافق ہو بحر (ت)
درمختار میں ہے :
علی المعتمد لانہ متی اختلف الترجیح رجح اطلاق المتون بحر ۔
یہ حکم بربنائے معتمد ہے اس لئے کہ اختلاف ترجیح کے وقت اطلاق متون ہی کو تر جیح ہے بحر (ت)
اور جب کہ ترجیح صرف اسی طرف ہے تو اب اس قول کا اختیار فقاہت سے بالکل برطرف ہے درمختار میں ہے :
امانحن فعلینا اتباع مارجحوہ و صححوہ۔
ہم عام مقلدین پر تو بس اسی کی پیروی کرنا ہے جسے ان بزگوں نے راجح وصحیح قرار دے دیا ۔ (ت)
اسی میں ہے :
الحکم والفتیا بالقول المرجوح جھل و خرق للاجماع ۔
مرجوح قول پر حکم اور فتوی دینا جہالت اور اجماع کی مخالفت ہے۔ (ت)
الحمد ﷲ اب حق باحسن وجوہ واضح ہوگیا امید کرتا ہوں کہ جناب بھی اب تو مصافحہ مذکورہ ومعانقہ عید کے جواز واباحت پر فتوی دیں گے اور اپنے تلامذہ کو ان امور جائزہ کے طعن وانکار سے باز رہنے کی ہدایت کریں گے واﷲ الھادی وولی الا یادی۔
ششم : الحمدﷲ کہ ضمن تقریر میں مسئلہ مصافحہ بعد صلوۃ بھی صاف ہوگیا اور تعلیلات ثلثہ کا علیل ہونا بھی منکشف ہولیا ثالث پر کلام تو صراحۃ گزرا اور اول کا جواب عبارت تکملہ شرح اربعین ونسیم الریاض سے واضح ہوا کہ بعد ختم نماز ملنا بھی ابتدائے لقاہے ولہذا اس وقت سلام مشروع ہوا تو مصافحہ کیوں
حوالہ / References &ردالمحتار مطلب رسم المفتی€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ۷۲
&ردالمحتار مطلب رسم المفتی€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۷
&ردالمحتار مطلب رسم المفتی€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ٧٤
&ردالمحتار مطلب رسم المفتی€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۴
#11458 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
نامشروع ہونے لگا۔ رہی تعلیل ثانی اس کے جواب کا اشارہ کلام فقیر میں گزرا مشابہت صرف ان تین صورتوں میں مذموم ہے ورنہ نہیں ۔
تکمیل کلام : اتنا اور سن لیجئے کہ کسی طائفہ باطلہ کی سنت جبھی تك لائق احتراز رہتی ہے کہ وہ ان کی سنت رہے اور جب ان میں سے رواج اٹھ گیا توا ن کی سنت ہونا ہی جاتا رہا احتراز کیوں مطلوب ہوگا مصافحہ بعد نماز اگر سنت روافض تھا تو اب ان میں رواج نہیں نہ وہ جماعت سے نماز پڑھتے ہیں نہ بعد نماز مصافحہ کرتے ہیں بلکہ شاید اول لقاء پر بھی مصافحہ ان کے یہاں نہ ہوکہ ان اعدائے سنن کو سنن سے کچھ کام ہی نہ رہا توایسی حالت میں وہ علت سرے سے مرتفع ہے۔ درمختار میں ہے :
یجعلہ لبطن کفہ فی یدہ الیسری وقیل الیمنی الاانہ من شعارالروافض فیجب التحرزعنہ قھستانی وغیرہ قلت ولعلہ کان وبان فتبصر ۔
( مرد) انگوٹھی بائیں ہاتھ میں ہتھیلی کی طرف کرے اور کہا گیا دائیں ہاتھ میں پہنے مگر یہ رافضیوں کا شعارہے تواس سے بچنا ضروری ہے (قہستانی وغیرہ) میں نے کہا یہ کسی زمانے میں رہاہوگا پھر ختم ہوگیا تو اس پر غور کرلو ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
ای کان ذلك من شعار ھم فی الزمن السابق ثم انفصل وانقطع فی ھذہ الازمان فلا ینھی عنہ کیفما کان ۔
یعنی وہ گزشتہ زمانے میں ان کا شعار تھا پھر ان زمانوں میں نہ رہا اور ختم ہوگیا تواب اس سے ممانعت نہ ہوگی جیسے بھی ہو ۔ (ت)
اب تو بحمد اﷲ سب شکوك کا ازالہ ہوگیا فاحفظ واحمد وکن من الشاکرین والحمد ﷲ رب العلمین ( تو اسے یاد رکھو اور حمد کرو اور شکر گزار بنو اور ساری تعریف اﷲ کے لئے ہے جو سارے جہانو ں کا پروردگار ہے۔ ت)
ہفتم : سخت افسوس کامقام ہے کہ عبارت مرقات کی نقل میں بہت تقصیر واقع ہوئی مرقاۃ شریف میں اس عبارت کے بعد یہ الفاظ تھے :
حوالہ / References &درمختار کتاب الحظرو الاباحۃ€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٦ / ٣٦١
&ردالمحتار کتاب الحظرو الاباحۃ€ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٦ / ٣٦١
#11459 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
نعم لو دخل احد فی المسجد والناس فی الصلوۃ اوعلی ارادۃ الشروع فیھا فبعد الفراغ لوصافحھم لکن بشرف سبق السلام علی المصافحۃ فھذا من جملۃ المصافحۃ المسنونۃ بلاشبھۃ ۔
ہاں اگر کوئی مسجد میں داخل ہو اور لوگ نماز میں یا نماز شروع کرنے والے ہیں تو فارغ ہونے کے بعد اگران سے مصافحہ کرے بشرطیکہ مصافحہ سے پہلے سلام ہولے تو بلاشبہہ مصافحہ مسنونہ ہی کے مجموعہ میں شامل ہوگا۔ (ت)
ان میں صاف تصریح تھی کہ وہ کراہت صرف اس صورت میں ہے کہ نماز سے پہلے مل لئے باتیں کرچکے ملاقات ہوئی اس وقت مصافحہ نہ ہوا نہ کچھ اور اب بعد سلام آپس میں مصافحہ کرنے لگے اور اگر ایسا نہ ہو بلکہ یہی وقت ابتدائے لقاکا ہو کہ یہ اس وقت آیا کہ نماز شروع ہوگئی تھی یا شروع کا ارادہ تھا اب بعد سلام مصافحہ کرے تو یہ یقینا مصافحہ مسنونہ ہے کہ خاص اول لقا پرواقع ہوا ظاہر ہے کہ جماعات عید میں اکثر لوگوں کی باہم یہی حالت ہوتی ہے کہ بعد سلام ان کی لقا اول ہوتی ہے تو مرقاۃ کے طور پر بھی انھیں معانقہ سے اصلا ممانعت نہیں ہوسکتی پھر معانقہ عید شرکائے جماعت واحدہ ہی سے خاص نہیں بلکہ تمام احباب جنھوں نے مختلف مساجد میں نمازیں پڑھیں اس دن بلکہ اس دن بکہ دوسرے دن تك اول ملاقات بعد الصلوۃپر باہم معانقہ کرتے ہیں یہ معانقے تو یقنا ابتدائے پر ہوتے ہیں جو عبارت مرقات سے برسبیل قیاس جناب اور عبارت فتاوی لکھنؤ سے صراحۃ ٹھیك موقع پر درست وبجا واقع ہیں حالانکہ مانعین زمانہ کا منع مصافحہ بعد نماز اور معانقہ عید دونوں میں سب صورتوں کوعام ومطلق اوروہ آپ ہی کی عبارات مستندہ کی رو سے باطل وناحق پس اگر انھیں عبارتوں پر عمل فرمادیجئے کہ نماز عید سے پہلے جو لوگ مل لیتے ہیں صرف وہ بعد نماز معانقہ نہ کریں اور جو ہنوز نہیں ملے انھیں معانقہ بلاکراہت جائز و مباح ہے یوں ہی ایك دوسرے کے پاس جو ملنے جاتے یا راہ میں ملتے ہیں وہ بھی بلا تامل معانقہ کریں خواہ پیش از نماز یا بعد از نماز مل لئے ہوں یا نہ ملے ہوں کہ اس وقت تو ابتدائے لقا ہے ان سب صورتوں کا جواز آپ ہی کے مستندات سے ثابت ۔ لاجرم آپ کو اس کی تصریح کر نا ہوگی اس کے بعد دیکھئے کہ حضرات مانعین آپ کو کیا کہتے ہیں واﷲ المستعان علی جھالات الزمان ( اور اﷲ ہی وہ ہے جس سے زمانے کی جہالتوں کے خلاف مدد طلبی ہے۔ ت)
ہشتم : ا س سے زیادہ عجیب تر یہ ہے کہ ان لفظوں کے متصل ہی مرقات میں اور تحقیق جلیل ونافع
حوالہ / References &مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب المصافحۃ والمعانقہ€ مطبوعہ امدادیہ ملتان ۹ / ۷۴
#11460 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
خیالات مانعین پر سیف قاطع تھی وہ بھی نقل میں نہ آئی فرماتے ہیں :
ومع ھذا اذا مدمسلم یدہ للمصافحۃ فلاینبغی الاعراض عنہ بجذب الیدلما یترتب علیہ من اذی یزید علی مراعاۃ الادب فحاصلہ ان لاابتداء بالمصافحۃ حینئذ علی الوجہ المشروع مکروہ لا المجاذبۃ وان کان قدیقال فیہ نوع معاونہ علی البدعۃ ۔ واﷲ تعالی اعلم
یعنی بآنکہ اس صورت خاصہ میں کہ ملاقات پیش از نماز کرچکیں اور مصافحہ تحیت بعد نماز کریں کراہت مانی جاتی ہے پھر بھی اگر کوئی مسلمان مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھاتے تو ہاتھ نہ کھینچنا چا ہئے بلکہ مصافحہ کرلیا جائے اگر چہ اسے معاونت بدعت کہا جائے کہ اس حالت میں مصافحہ نہ کرنا صرف ایك ادب و اولی تھا اور اب اس کے ترك میں مسلمان کی ایذا ہے کہ وہ تو ہاتھ بڑھائے اور ہم ہاتھ کھینچ لیں مسلمان کی خاطر داری اس ادب کی مراعات پر مقدم ہے ف لہذا اس صورت میں کراہت نہیں بلکہ مصافحہ کرنا ہی چاہئے (ت)
ﷲانصاف ! اس منصفانہ کلام کو مانعین زمانہ کے خیالات سے کتنا بعد ہے یہ حضرات تو خواہی نخواہی اپنی مشیخت بنانے اور شہرت پیداکرنے کے لئے جماعات کی مخالفت کو ذریعہ فخر اور غایت تشرع سمجھے ہوئے ہیں مگر علمائے محققین مسلمان کا دل رکھنے کو رعایت آداب اور ترك مکروہات پر بھی مقدم جانتے اور ان کے رسوم وعادات میں مخالفت کو مکروہ وباعث شہرت مانتے ہیں ولہذا تصریح فرماتے ہیں کہ جب تك کوئی نہی صریح غیر قابل تاویل نہ آئی ہو عادات اناس میں موافقت ہی کرکے ان کا دل خوش کیا چاہے اگر چہ وہ فعل بدعت ہو عین العلم میں ارشاد ہوا :
الاسرار بالمساعدۃ فیما لم ینہ وصار معتادا فی عصرھم ان امور میں لوگوں کی موافقت کرکے انھیں خوش کرنا اچھا ہے جن ( امور) سے شریعت میں ممانعت نہیں ہے ۔

ف : یعنی ادب و اولی چھوڑنے سے مسلمانوں کی خاطرداری ہوتی ہے تو ادب واولی کی رعایت نہ کرے دل مسلم کی رعایت کرے دل مسلم کو تکلیف پہنچانا اور اسے شکستہ کرنا ترك اولی ومخالف ادب سے زیادہ برا ہے البتہ جہاں رعایت ادب و اولی اور مومن کا پاس خاطر دونوں جمع ہوسکتے ہیں وہاں بلاشبہہ ترك ادب کا حکم نہیں ہاں ا گر کسی امر سے صراحۃ ممانعت آئی ہے تو محض مسلمان کی خاطر داری کے لئے اس امر ممنوع کاارتکاب نہ کرے۔ ( مترجم)
حوالہ / References &مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب المصافحہ والمعانقۃ€ مکتبہ امدادیہ ملتان ٩ / ٧٤
#11461 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
حسن وان کان بدعۃ ۔
اور لوگوں کے عہد میں وہ رائج ہو چکے ہیں خواہ بدعت اور نوایجاد ہی ہوں ۔ (ت)
اما حجۃ الاسلام محمد غزالی قدس سرہ العالی احیاء العلوم شریف میں فرماتے ہیں :
الموافقۃ فی ھذا الامور من حسن الصحبۃ والعشرۃ اذ المخالفۃ موحشۃ و لکل قوم رسم لا بدمن مخالقۃ الناس باخلاقھم کما وردفی الخبر لاسیما اذاکانت اخلاقافیھا حسن العشرۃ و لمجاملۃ وتطییب القلب بالمساعدۃ وقول القائل ان ذلك بدعۃلم یکن فی الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنہم وانما المحذور بدعۃ تراغم سنۃ مامورا بھا ولم ینقل النھی عن شیئ من ھذا ( الی قولہ) وکذلك سائر انواع المساعدات اذقصدبھا تطییب القلب واصطلح علیھا جماعۃ فلابأس بمساعدۃ الافیما ورد فیہ نھی لایقبل التاویل ۔
یعنی ان امور میں لوگوں کی موافقت کرنا حسن صحبت اور معاشرت سے ہے اس لئے کہ مخالفت وحشت دلاتی ہے اور ہر قوم کی کچھ رسمیں ہوتی ہیں کہ ان میں ان کا حکم آیا خصوصا وہ عادتیں جن میں حسن معاشرت اور باہم اچھا برتاؤ اور موافقت کرکے دل خوش کرنا ہو اور کہنے والے کا کہنا یہ بدعت ہے صحابہ کے زمانے میں ہی نہ تھا تو کیا جو کچھ مباح کہا جائے سب صحابہ سے ہی منقول ہوتا ہے بری تو وہ عادت ہے جو کسی سنت مامور بہا کا رد کرے اور اس فعل سے شرع میں کہیں ممانعت نہ آئی ۔ اس طرح تمام مساعدت کی باتیں جبکہ ان سے دل خوش کرنا مقصود ہو ایك گروہ کی رسم ہوگئی تو ان کی موافق کرنا کچھ حرج نہیں بلکہ موافقت ہی بہتر ہے مگر اس صورت میں کہ صاف نہی وارد ہو جو قابل تاویل نہ ہو۔ (ت)
دیکھئے اطبائے قلوب رضی اللہ تعالی عنہم کے ارشاد یہ ہیں اﷲ عزوجل جسے نیك توفیق دے وہی ان نفیس الہی ہدایتوں پر عمل کرے۔ حضرات مانعین ان سے منزلوں دورہیں ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم
بالجملہ اگر آپ کو مرقات پر عمل ہے تو صاف تصریح فرمادیجئے کہ بعد عید جو شخص معانقے کو ہاتھ بڑھائے
حوالہ / References &عین العلم الباب التاسع فی الصمت الخ€ مطبوعہ امرت پریس ، لاہور ص٤١٢
&احیاء العلوم آداب السماع والوجد€ مطبوعہ قاہرہ ، مصر٢ / ٣٠٥
#11462 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
اس سے انکار ہر گز نہ کیا جائے بلکہ فورا معانقہ کرلیں افسوس کہ مرقاۃ سے سند لانا تو بالکل الٹاپڑا۔ مجھے جناب کی بزرگی سے امید ہے کہ شاید مرقاۃ شریف خود ملاحظہ نہ فرمائی ہو بلکہ مانعین زمانہ عبارات میں قطع وبرید وسرقہ کے عادی ہیں کسی سارق نے آدھی عبارت کہیں نقل کردی ہے آپ کے اعتماد پر اسناد کرلیا اب کہ پوری عبارت پر مطلع ہوئے ضرور حق کی طرف رجوع فرمائے گا واﷲ الموفق۔
نہم : بحمد اﷲ تعالی ہماری تحقیقات رائقہ سے آفتاب روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ معانقہ عید کو بدعت مذمومہ سے کچھ علاقہ نہیں بلکہ وہ سنت مباح کے اندر دائر ہے یعنی من حیث الاصل سنت اور من حیث الخصوص مباح اور بقصد حسن محمود مستحسن تو ظاہر ہواکہ عبارت ردالمحتار :
اذاتردد الحکم بین سنۃ و بدعۃ الخ
جب حکم کسی سنت وبدعت کے درمیان دائر ہو تو ترك سنت کو ارتکاب بدعت پر ترجیح حاصل ہے ۔ (ت)
کو اسی مسئلہ سے اصلا تعلق نہیں کہ وہاں بدعت سے مراد بدعت مذمومہ ہے۔ جب تو اس سے بچنے کے لئے سنت کا چھوڑنا تك گوارا کیا ورنہ بدعت مباحہ سے بچنا خودہی مطلب نہیں نہ کہ اس کے لئے سنت چھوڑ دینے کا حکم دیا جائے وھذا ظاھر علی کل من لہ حظا من عقل صفی ( یہ ہر اس شخص یر عیار ہے جسے پسندیدہ اور خالص عقل سے کچھ حصہ ملا ہے ۔ ت)
دہم : فتوی فقیر میں میاں اسمعیل دہلوی کی بھی عبارت تھی جس میں معانقہ عید کے مستحسن ہونے کی صاف تصریح ہے اس سے جناب نے کچھ تعرض نہ فرمایا بلکہ مجموعہ فتاوی وعبارات ردالمحتار و مرقاۃ پیش فرمائیں ۔ اس میں دو احتمال ہیں : ایك وہ طائفہ مانعین جس کے خوگر ہیں یعنی ہفوات باطلہ وخرافات عاطلہ میں دہلوی مذکور کا امام اکبر مانتے ہیں اور جو باتیں وہ بعلت مناقضت جس کا اس کے یہاں حد سے زائد جوش و خروش ہے اصول و فروع طائفہ کے خلاف لکھتا ہے دیوار سے مارتے ہیں ۔
دوم یہ کہ جناب کو اس سے کچھ کام نہیں جو کلام اس کا تصریحات امثال مرقات وردالمحتار حتی کہ مولوی صاحب لکھنوی کے خلاف ہو قابل قبول نہیں ۔ اگر شق اخیر مختار ہے اور جناب کی انصاف پسندی سے یہی مامول توصراحۃ اس کی تصریح فرمادیجئے کہ جو مسائل تقویۃ الایمان وصراط مسقیم وایضاح الحق وغیرہا تصانیف شخص مذکور مولانا علی قاری وعلامہ شامی یہاں تك کہ مولوی صاحب لکھنوی او ران کے امثال کی
حوالہ / References &ردالمحتار مطلب اذاتردّد الحکم€ مطبوعی ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ٦٨٢
#11463 · وِشاحُ الجید فی تحلیل معانقۃ العید ١٣١٢ ھ ( نمازِ عید کے بعد معانقہ کے جائز ہونے کا ثبوت)
تصریحات سے رد ہوتے ہیں ان کا بطلان تسلیم فرماتے جائیے امید کرتا ہوں کہ بہت مسائل نزاعیہ جن میں جہلائے مانعین کو بے حد شور وشغب ہے یوں باحسن وجوہ انفصال پائیں گے اور ہم آپ بتوفیقہ تعالی شخص مذکور کی ضلالت عقائد وبطالت مکائد پر متفق ہو کر حق ناصح کے اعلان میں باہم ممد ومعاون یك دیگر ہوجائیں گے۔
وباﷲ التوفیق والوصول الی سواء الطریق واخردعونا ان الحمد ﷲ رب العلمین والصلوۃ و السلام علی سیدن المرسلین محمد والہ وصحبہ اجمعین امین!
اور اﷲ ہی کی طرف سے توفیق اور سیدھی راہ تك رسائی ہے اور ہماری آخری پکار یہ ہے کہ ساری تعریف اﷲ کے لئے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے اور درود وسلام ہو رسولوں کے سردار محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور ان کی آل واصحاب سب پر ۔ خدا وند قبول فرما۔ (ت)
کتبہ عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عفی عنہ بمحمد المصطفی النبی الامی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
_____________________
#11464 · باب الاستسقاء (نمازِ استسقاء کا بیان)
مسئلہ : از محلہ کوٹ پرگنہ سنبھل ضلع مراد آباد مکان مولوی لئیق احمد صاحب مرسلہ مظہر حسین صاحب ذیقعدہ
ھ
نماز استسقاء نماز ہے یا دعا اور استسقاء کیسے وقت میں ہونا چاہئے بینوا توجروا
الجواب :
نماز استسقاء صاحبین کے نزدیک سنت ہے اور اسی پر عمل ہے اور اس وقت ہونا چاہیے جبکہ حاجت شدید ہو اور امید منقطع ہوچکی ہو اور لوگ اس کے آداب کے طور پر اسے بجالائیں خشیت وخشوع اس کی اصل ہے اور وہ آج کل اکثر قلوب سے مرتفع الا ماشاء اﷲ اس ملک میں ہمسایہ کفار ہیں ہماری بے طور یوں کے باعث کہ نہ دعا کے طور پر کرتے ہیں نہ نماز کے طور پر نماز پـڑھتے اگر اجابت نہ فرمائی جائے تو کفار کے مضحکہ کا اندیشہ ہے اس لئے یہاں کی حالت کے مناسب تر اس عمل پر اقتصار رہے جو قرآن عظیم میں نزول باران رحمت کے لئے ارشاد ہوا یعنی کثرت استغفار و توجہ عزیز غفار فقلت استغفروا ربكم-انه كان غفارا(۱۰) یرسل السمآء علیكم مدرارا(۱۱) ( تو میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو وہ بڑا معاف کرنے والا ہے تم پر شراٹے کا مینہ بھیجے گا ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
___________
حوالہ / References &ا لقرآن€ ٧۱ / ۱۰ و ۱۱
#11465 · مآخذومراجع
نام کتاب مصنف سن وفات ہجری
ا
۔ الاجزاء فی الحدیث عبدالرحمن بن عمربن محمد البغدادی المعروف بالنحاس
۔ الاجناس فی الفروع ابوالعباس احمد بن محمد الناطفی الحنفی
۔ الاختیارشرح المختار عبداللہ بن محمود (بن مودود) الحنفی
۔ الادب المفرد للبخاری محمد بن اسمعیل البخاری
۔ ارشاد الساری شرح البخاری شہاب الدین احمد بن محمد القسطلانی
۔ ارشاد العقل السلیم ابوسعود محمد بن محمد العمادی
۔ الارکان الاربع مولانا عبدالعلی بحرالعلوم
۔ الاشباہ والنظائر شیخ زین الدین بن ابراہیم بابن نجیم
۔ اشعۃ اللمعات شرح المشکوۃ شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی
۔ اصول البزدوی علی بن محمد البزدوی
۔ الاصلاح والایضاح للوقایۃ فی الفروع احمد بن سلیمان بن کمال باشا
۔ آکام المرجان فی احکام الجان قاضی بدرالدین محمد بن عبداللہ الشبلی
۔ انفع الوسائل الی تحریرالمسائل قاضی برہان الدین ابراہیم بن علی الطرسوسی الحنفی
۔ امداد الفتاح شرح نورالایضاح حسن بن عمار الشرنبلالی
۔ الانوارلعمل الابرار امام یوسف الاردبیلی الشافعی
#16965 · مآخذومراجع
مآخذومراجع
نام کتاب مصنف سن وفات ہجری
ا
۔ الاجزاء فی الحدیث عبدالرحمن بن عمربن محمد البغدادی المعروف بالنحاس
۔ الاجناس فی الفروع ابوالعباس احمد بن محمد الناطفی الحنفی
۔ الاختیارشرح المختار عبداللہ بن محمود (بن مودود) الحنفی
۔ الادب المفرد للبخاری محمد بن اسمعیل البخاری
۔ ارشاد الساری شرح البخاری شہاب الدین احمد بن محمد القسطلانی
۔ ارشاد العقل السلیم ابوسعود محمد بن محمد العمادی
۔ الارکان الاربع مولانا عبدالعلی بحرالعلوم
۔ الاشباہ والنظائر شیخ زین الدین بن ابراہیم بابن نجیم
۔ اشعۃ اللمعات شرح المشکوۃ شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی
۔ اصول البزدوی علی بن محمد البزدوی
۔ الاصلاح والایضاح للوقایۃ فی الفروع احمد بن سلیمان بن کمال باشا
۔ آکام المرجان فی احکام الجان قاضی بدرالدین محمد بن عبداللہ الشبلی
۔ انفع الوسائل الی تحریرالمسائل قاضی برہان الدین ابراہیم بن علی الطرسوسی الحنفی
۔ امداد الفتاح شرح نورالایضاح حسن بن عمار الشرنبلالی
۔ الانوارلعمل الابرار امام یوسف الاردبیلی الشافعی
#16966 · مآخذومراجع
۔ امالی فی الحدیث عبدالملك بن محمد بن محمد بشران
۔ الایجاز فی الحدیث احمد بن محمد المعروف بابن السنی
۔ القاب الروات احمدبن عبدالرحمن الشیرازی
۔ الاصل (مبسوط) ابوعبداﷲمحمدبن حسن الشیبانی
۔ اخبار مدینہ محمدبن حسن المدنی ابن زبالہ
الام محمدبن ادریس الشافعی
۔ اخبار مدینہ زبیرابن بکار الزبیری
۔ امثال النبی صلی اﷲ علیہ وسلم الحسن بن عبدالرحمن الرامہرمزی
۔ اربعین للحاکم ابوعبداﷲ محمدبن عبداﷲ نیشاپوری
۔ احیاء العلوم امام محمد بن محمدالغزالی
۔ اربعین نووی محی الدین یحیی بن شرف النووی الشافعی
۔ الاذکار المنتخبہ من کلام سیدالابرار ابوزکریایحیی شرف النووی
۔ اسدالغابۃ فی معرفۃالصحابۃ علی بن محمد ابن اثیرالشیبانی
۔ الفیۃ العراقی فی اصول الحدیث امام زین الدین عبدالرحیم بن الحسین العراقی
۔ الاصابۃ فی تمییزالصحابہ شہاب الدین احمد بن علی بن حجرعسقلانی
۔ انموذج العلوم علامہ جلال الدین محمد بن اسعدالدوانی
۔ الاتقان جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی
۔ اعلام بقواطع الاسلام احمدبن حجرالھیتمی المکی
۔ الاسرار المرفوعہ فی الاخبارالموضوعہ نورالدین علی بن سلطان محمدالقاری (ملاعلی القاری)
۔ الانتباہ فی سلاسل اولیاء شاہ ولی اﷲ بن عبدالرحیم
۔ اتحاف السادۃ المتقین سیدمحمد بن محمد مرتضی الزبیدی
۔ انجاح الحاجۃ حاشیۃ سنن ابن ماجہ عبدالغنی الدہلوی المدنی
۔ اعانۃ الطالبین سیدمحمد شطاالدمیاطی
۔ الاشارات ابن سینا ابوعلی حسن بن عبداﷲ الشہیربابن سینا
#16967 · مآخذومراجع
ب
۔ بدائع الصنائع علاء الدین ابی بکربن مسعود الکاسانی
۔ البدایۃ (بدایۃ المبتدی) علی بن ابی بکر المرغینانی
۔ البحرالرائق شیخ زین الدین بن ابراہیم بابن نجیم
۔ البرہان شرح مواہب الرحمان ابراہیم بن موسی الطرابلسی
۔ بستان العارفین فقیہ ابواللیث نصربن محمد السمرقندی
۔ البسیط فی الفروع حجۃ الاسلام محمد بن محمد الغزالی
۔ البنایۃ شرح الہدایۃ امام بدرالدین ابومحمد العینی
۔ بہجۃ الاسرار یوسف بن جریراللخمی الشطنوفی
۔ بلوغ المرام احمدبن علی ابن حجرعسقلانی
۔ بستان المحدثین شاہ عبدالعزیز بن شاہ ولی اﷲ
۔ براہین قاطعہ رشیداحمدگنگوہی ء
ت
۔ تاج العروس سیدمحمدمرتضی الزبیدی
۔ تاریخ ابن عساکر علی بن الحسن الدمشقی بابن عساکر
۔ تاریخ البخاری محمدبن اسمعیل البخاری
۔ التجنیس والمزید برہان الدین علی بن ابی بکر المرغینانی
۔ تحریرالاصول کمال الدین محمد بن عبدالواحدبن الہمام
۔ تحفۃ الفقہاء امام علاء الدین محمد بن احمد السمرقندی
۔ تحقیق الحسامی عبدالعزیز بن احمد البخاری
۔ الترجیح والتصحیح علی القدوری علامہ قاسم بن قطلوبغاالحنفی
۔ التعریفات لسیدشریف سید شریف علی بن محمد الجرجانی
۔ التمہیدلمافی المؤطا من المعانی والاسانید یوسف بن عبداﷲابن عبدالبرالاندلسی
#16968 · مآخذومراجع
۔ تنبیہ الانام فی آداب الصیام
۔ تفسیر الجلالین علامہ جلال الدین المحلی وجلال الدین السیوطی ۔
۔ تہذیب التہذیب ابوالفضل احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی
۔ تنزیہ الشرعیۃ المرفوعہ عن اخبارالشنیعۃ الموضوعۃ ابوالحسن علی بن محمد بن عراق الکنانی
۔ تفسیرابن ابی حاتم عبدالرحمن بن محمدالرازی (حافظ)
۔ تہذیب الاثار ابوجعفرمحمدبن محمدبن جریر
۔ تقریب القریب ابوزکریا یحیی بن شرف النووی
۔ التقریر والتحبیر محمد بن محمد ابن امیر الحاج الحلبی
۔ التیسیرشرح الجامع الصغیر عبدالرؤف بن تاج العارفین بن علی المناوی
۔ تبیین الحقائق فخرالدین عثمان بن علی الزیلعی
۔ تقریب التہذیب شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی
۔ تنویرالمقیاس ابوطاہر محمد بن یعقوب الفیروزآبادی
۔ تنویرالابصار شمس الدین محمد بن عبداللہ بن احمد التمرتاشی
۔ تعظیم الصلوۃ محمدبن نصرالمروزی
۔ تاریخ بغداد ابوبکراحمد بن علی الخطیب البغدادی
۔ التوشیح فی شرح الہدایۃ عمربن اسحق السراج الہندی
۔ تاریخ الطبری محمد بن جریرالطبری
۔ تنبیہ الغافلین نصربن محمد بن ابراہیم سمرقندی ۳
۔ تاریخ ابن نجار محمد بن محمود بن حسن بغدادی ابن نجار
۔ الترغیب والترہیب زکی الدین عبدالعظیم بن عبدالقوی المنذری
۔ التوضیح شرح التنقیح فی اصول الفقہ عبیداﷲ بن مسعود بن تاج الشریعۃ
۔ تذکرۃ الحفاظ شمس الدین ابوعبداﷲ محمدبن احمدالذہبی
۔ تذہیب تہذیب الکمال شمس الدین محمدبن احمدالذہبی
۔ التلویح شرح توضیح سعدالدین مسعود بن عمربن عبداﷲ تفتازانی
۔ تدریب الراوی جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر السیوطی
#16969 · مآخذومراجع
۔ التعقبات علی الموضوعات جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکرالسیوطی
۸۷۔ تاریخ الخمیس شیخ حسین بن محمد بن الحسن دیاربکری ۹۶۶
۔ تذکرہ اولی الالباب انطاکی داؤدبن عمرانطاکی ۰۸
۔ التبیان فی بیان مافی لیلۃ النصف من شعبان علی بن سلطان محمدالقاری
۔ تفسیرات احمدیہ احمدبن ابوسعید المعروف ملاجیون
۔ التفسیرالمظہری قاضی ثناء اﷲ پانی پتی
۔ تحفہ اثناء عشریہ الشاہ عبدالعزیزدہلوی
۔ تنبیہ ذوی الافہام محمدامین ابن عابدین
۔ التحریرالمختار(تقریرات الرافعی) عبدالقادرالرافعی الفاروقی
۔ تذکرۃ الموضوعات للفتنی محمدبن طاہرالفتنی
۔ تجنیس الملتقط
۔ تحفۃ المومنین فی الطب محمدمومن بن محمدزمان الحسینی
۔ تحفۃ الصلوۃ(فارسی) حسین بن علی الکاشفی الواعظ
ث
۔ الثمانون فی الحدیث ابوبکرمحمدبن الحسین الآجری
۔ ثبت ابومحمدبن امیرالمکی المصری
ج
۔ جامع الترمذی ابوعیسی محمدبن عیسی الترمذی
۔ جامع الرموز شمس الدین محمد الخراسانی
۔ الجامع الصحیح للبخاری امام محمد بن اسمعیل البخاری
۔ الجامع الصغیر فی الفقہ امام محمد بن حسن الشیبانی
۔ الجامع الصحیح للمسلم مسلم بن حجاج القشیری
۔ جامع الفقہ(جوامع الفقہ) ابونصراحمد بن محمد العتابی
#16970 · مآخذومراجع
۔ جامع الفصولین شیخ بدرالدین محمود بن اسرائیل بابن قاضی
۔ الجامع الکبیرفی فروع الحنفیۃ ابی الحسن عبیداللہ بن حسین الکرخی
۔ جواہرالاخلاطی برہان الدین ابراہیم بن ابوبکر الاخلاطی
۔ الجواہرالزکیۃ احمد بن ترکی بن احمد المالکی
۔ جواہرالفتاوی رکن الدین ابوبکر بن محمد بن ابی المفاخر
۔ الجوہرۃ النیرۃ ابوبکربن علی بن محمد الحداد الیمنی
۔ الجرح والتعدیل فی رجال الحدیث یحیی بن معین البغدادی
۔ الجامع الصغیرفی الحدیث علامہ جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر السیوطی
۔ جامع البیان فی تفسیرالقرآن(تفسیرطبری) محمدبن جریرالطبری
۔ جزء حدیثی حسن بن عرفہ ابوعلی حسن بن عرفہ بعداز
۔ الجامع لاخلاق الراوی والسامع ابوبکراحمدبن علی خطیب بغدادی
۔ جامع احکام الصغار فی الفروع محمدبن محمودالاستروشنی
۔ جامع الادویہ والاغذیہ ضیاء الدین عبداﷲ بن احمدالمالقی
۔ جواہرالعقدین فی فضل الشرفین نورالدین علی بن احمدالسمہودی والمصری
۔ جواہرخمسہ محمدغوث بن عبداﷲ گوالیاری
۔ جمع الجوامع فی الحدیث ابوبکرجلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین سیوطی
۔ جوہرمنظم فی زیارت قبرالنبی المکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم شہاب الدین احمدبن محمدابن حجرالمکی
۔ جذب القلوب الی دیارالمحبوب عبدالحق بن سیف الدین محدث دہلوی
۔ الجامع الکبیر فی الفتاوی امام ناصراالدین محمدبن یوسف السمرقندی
ح
۔ حاشیۃ علی الدرر محمدبن مصطفی ابوسعید الخادمی
۔ حاشیۃ ابن شلبی علی التبیین احمدبن محمدالشلبی
۔ حاشیۃ علی الدرر عبدالحلیم بن محمد الرومی
۔ حاشیۃ علی الدرر لملاخسرو قاضی محمد بن فراموزملاخسرو
#16971 · مآخذومراجع
۔ حاشیۃ علی المقدمۃ العشماویۃ علامہ سفطی
۔ الحاشیۃ لسعدی آفندی علی العنایۃ سعداللہ بن عیسی الآفندی
۔ الحدیقۃ الندیۃ شرح طریقہ محمدیۃ عبدالغنی النابلسی
۔ الحاوی القدسی قاضی جمال الدین احمدبن محمد نوح القابسی الحنفی
۔ حصرالمسائل فی الفروع امام ابواللیث نصربن محمد السمرقندی الحنفی
۔ حلیۃ الاولیاء فی الحدیث ابونعیم احمدبن عبداللہ الاصبہانی
۔ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی محمدبن محمد ابن امیر الحاج
۔ حرزالامانی ووجہ التہانی ابومحمدقاسم بن فیرہ الشاطبی المالکی
۔ حیوۃ الحیوان الکبری للدمیری زکریابن محمدبن محمودالفروینی
۔ الحصن الحصین من کلام سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم شمس الدین محمد بن محمد ابن الجزری
۔ حاشیۃ التلویح ملاخسرو محمدبن فراموزملاخسرو
۔ حاشیۃ التلویح حسین چلپی حسن بن محمدشاہ الفناری چلپی
۔ حرزثمین شرح حصن حصین نورالدین علی بن سلطان محمدالقاری
۔ حجۃ اﷲ البالغہ شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ حاشیۃ مکتوبات شاہ ولی اﷲ شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ حصرالشاردفی اسانیدالشیخ محمدعابدالسندی
۔ حاشیۃ الکمثری علی الانوار
۔ حاشیۃ کفایۃ الطالب الربانی
۔ حاشیۃ الحفنی علی الجامع الصغیر علامہ الحفنی
۔ الحاوی للفتاوی جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی
۔ حسن المقصد فی عمل المولد جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی
خ
۔ خزانۃ الروایات قاضی جکن الحنفی
۔ خزانۃ الفتاوی طاہربن احمد عبدالرشید البخاری
#16972 · مآخذومراجع
۔ خزانۃ المفتین حسین بن محمد السمعانی السمیقانی کے بعد
۔ خلاصۃ الدلائل حسام الدین علی بن احمد المکی الرازی
۔ خلاصۃ الفتاوی طاہربن احمد عبدالرشید البخاری
۔ خیرات الحسان شہاب الدین احمد بن حجرالمکی
۔ الخصائص الکبری جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی
۔ خلاصۃ الوفا علی بن احمدالسمہودی
۔ خزائن الاسرارفی شرح تنویرالابصار علاء الدین محمد بن علی الحصکفی
د
۔ الدرایۃ شرح الہدایۃ شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی
۔ الدرر(دررالحکام) قاضی محمد بن فراموز ملاخسرو
۔ الدرالمختارفی شرح تنویرالابصار علاء الدین الحصکفی
۔ الدرالنثیر علامہ جلال الدین عبدالرحمن السیوطی
۔ الدرالمنثورفی التفسیربالمأثور علامہ جلال الدین عبدالرحمن السیوطی
ذ
۔ ذخیرۃ العقبی یوسف بن جنید الجلبی(چلپی)
۔ ذخیرۃ الفتاوی برہان الدین محمود بن احمد
۔ ذم الغیبۃ عبداللہ بن محمد ابن ابی الدنیا القرشی
ر
۔ الرحمانیۃ
۔ ردالمحتار محمدامین ابن عابدین الشامی
۔ رحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ ابوعبداللہ محمد بن عبدالرحمن الدمشقی
۔ رغائب القرآن ابومروان عبدالملك بن حبیب السلمی(القرطبی)
#16973 · مآخذومراجع
۔ رفع الغشاء فی وقت العصر والعشاء شیخ زین الدین بابن نجیم
۔ ردعلی الجہمیۃ عثمان بن سعید الدارمی
۔ رسالہ نذور مولوی اسمعیل دہلوی ء
۔ رسالہ قشیریہ عبدالکریم بن ہوازن القشیری
۔ رمزالحقائق شرح کنزالدقائق بدرالدین ابومحمدمحمودبن احمدالعینی
۔ رفع الاشتباہ عن سبل المیاہ قاسم بن قطلوبغاالمصری
۔ رسالہ طلوع ثریا جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی
۔ رسالہ اتحاف الغرفہ جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی
۔ رسائل ابن نجیم زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم
۔ رسالہ اہتداء علی بن سلطان محمد القاری
۔ رسالہ القول البلیغ فی حکم التبلیغ احمد بن سیدمحمد مکی الحموی
۔ رسالہ انصاف شاہ ولی اﷲ الدہلوی
۔ رسائل ابن عابدین محمدامین آفندی ابن عابدین
۔ رسالہ میلاد مبارك (الکوکب الانوارعلی عقدالجوہر) جعفراسمعیل البرزنجی
۔ الریاض النضرہ فی فضائل العشرہ ابوجعفر احمد بن احمدالشہیربالمحب الطبری المکی
۔ رسالہ بدعت میاں اسمعیل بن شاہ عبدالغنی الدہلوی ء
۔ رسالہ دعائیہ مولوی خرم علی
۔ رسالہ غایۃ المقال ابوالحسنات محمدعبدالحی
ز
۔ زادالفقہاء شیخ الاسلام محمد بن احمد الاسبیجابی المتوفی اواخرالقرن السادس
۔ زادالفقیر کمال الدین محمد بن عبدالواحد المعروف بابن الہمام
۔ زواہرالجواہر محمدبن محمد التمرتاشی تقریبا
۔ زیادات امام محمد بن حسن الشیبانی
۔ زہرالنسرین فی حدیث المعمرین محمدبن علی الشوکانی
#16974 · مآخذومراجع
۔ زہرالربی علی المجتبی جلال الدین عبدالرحمن السیوطی
۔ زہرالروض فی مسئلۃ الحوض محمدبن عبداﷲ ابن شحنہ
۔ الزواجرعن الکبائر شہاب الدین احمد بن محمد ابن حجرالمکی
۔ زبدۃ الآثارفی اخبارقطب الاخبار شیخ عبدالحق محدث دہلوی
۔ زبدۃ الاسرارفی مناقب غوث الابرار شیخ عبدالحق محدث دہلوی
س
۔ السراج الوہاج ابوبکربن علی بن محمد الحداد الیمنی
۔ السنن لابن ماجۃ ابوعبداللہ محمد بن یزید ابن ماجۃ
۔ السنن لابن منصور سعیدبن منصورالخراسانی
۔ السنن لابی داؤد ابوداؤد سلیمان بن اشعث
۔ السنن للنسائی ابوعبدالرحمن احمد بن شعیب النسائی
۔ السنن للبیہقی ابوبکراحمد بن حسین بن علی البیہقی
۔ السنن لدارقطنی علی عمرالدارقطنی
۔ السنن لدارمی عبداللہ بن عبدالرحمن الدارمی
۔ سیرت ابن ہشام ابومحمدعبدالملك بن ہشام
۔ سیرت عیون الاثر محمدبن عبداﷲ ابن سیدالناس
۔ سراجی فی المیراث سراج الدین سجاوندی ساتویں صدی ہجری
۔ سیراعلام النبلاء شمس الدین محمداحمدالذہبی
۔ السعایہ فی کشف مافی شرح الوقایہ محمدبن عبدالحی لکھنوی
۔ سیرت عمربن محمدملا عمربن محمدملا
۔ سیرت ابن اسحاق محمدبن اسحاق بن یسار
۔ سراج القاری
۔ السعدیہ
۔ السعی المشکورفی ردالمذہب الماثور محمدبن عبدالحی لکھنوی ہندی
#16975 · مآخذومراجع
ش
۔ الشافی شمس الائمۃ عبداللہ بن محمود الکردری
۔ شرح الاربعین للنووی شہاب الدین احمدبن حجرالمکی
۔ شرح الاربعین للنوی ابراہیم ابن عطیہ المالکی
۔ شرح الاربعین للنووی علامہ احمد بن الحجازی
۔ شرح الاشباہ والنظائر ابراہیم بن حسین بن احمد بن محمد ابن البیری
۔ شرح الجامع الصغیر امام قاضی خان حسین بن منصور
۔ شرح الدرر شیخ اسمعیل بن عبدالغنی النابلسی
۔ شرح سفرالسعادۃ شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی
۔ شرح السنۃ حسین بن منصور البغوی
۔ شرح شرعۃ الاسلام یعقوب بن سیدی علی زادہ
۔ شرح مختصرالطحاوی للاسبیجابی ابونصراحمد بن منصورالحنفی الاسبیجابی
۔ شرح الغریبین
۔ شرح المسلم للنووی شیخ ابوزکریا یحیی بن شرف النووی
۔ شرح معانی الآثار ابوجعفر احمد بن محمد الطحاوی
۔ شرح المنظومۃ لابن وہبان عبدالبربن محمد ابن شحنۃ
۔ شرح المنظومۃ فی رسم المفتی محمدامین ابن عابدین الشامی
۔ شرح الصدوربشرح حال الموتی والقبور علامہ جلال الدین عبدالرحمن السیوطی
۔ شرح مواہب اللدنیۃ علامۃ محمد بن عبدالباقی الزرقانی
۔ شرح مؤطاامام مالك علامۃ محمدبن عبدالباقی الزرقانی
۔ شرح المہذب للنووی شیخ ابوزکریایحیی بن شرف النووی
۔ شرح النقایۃ مولانا عبدالعلی البرجندی
۔ شرح الوقایۃ صدرالشریعۃ عبیداللہ بن مسعود
۔ شرح الہدایۃ محمد بن محمدبن محمدابن شحنۃ
#16976 · مآخذومراجع
۔ شرح الہدایۃ محمد بن محمدبن محمدابن شحنۃ
۔ شرعۃ الاسلام امام الاسلام محمدبن ابی بکر
۔ شعب الایمان ابوبکراحمد بن حسین بن علی البیہقی
۔ شرح الجامع الصغیر احمدبن منصور الحنفی الاسبیجابی
۔ شرح الجامع الصغیر عمربن عبدالعزیزالحنفی
۔ الشفاء فی تعریف حقوق المصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ابوالفضل عیاض بن موسی قاضی
۔ شرح شافیہ ابن حاجب رضی الدین محمد بن الحسن الاستراباذی
۔ شرح کافیہ ابن حاجب رضی الدین محمد بن الحسن الاستراباذی
۔ شرح طوالع الانوار محمود بن عبدالرحمان الاصفہانی
۔ شفاء السقام فی زیارۃ خیرالانام تقی الدین علی بن عبدالکافی السبکی
۔ شرح عقائدالنسفی سعدالدین مسعود بن عمرتفتازانی
۔ شرح المقاصد سعدالدین مسعود بن عمرتفتازانی
۔ شرح المواقف سیدشریف علی بن محمدالجرجانی
۔ شرح السراجی سیدشریف علی بن محمدالجرجانی
۔ شرح چغمینی موسی پاشابن محمدالرومی
۔ شرح حاشیۃالکنزملامسکین معین الدین الہروی ملامسکین
۔ شرح فقہ اکبر علی بن سلطان محمدالقاری
۔ شرح عین العلم علی بن سلطان محمدالقاری
۔ شرح قصیدہ اطیب النغم شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ شرح قصیدہ ہمزیہ شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ شرح رباعیات شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ شرح فواتح الرحموت شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ شفاء العلیل شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ شرح النقایہ لابی المکارم ابوالمکارم بن عبداﷲ بن محمد بعداز
۔ شرف المصطفی حافظ عبدالملك بن محمدنیشاپوری
۔ شرح مقدمہ عشماویہ احمدبن ترکی المالکی
#16977 · مآخذومراجع
۔ شرف المصطفی حافظ عبدالملك بن محمدنیشاپوری
۔ شرح جامع الاصول للمضیف مبارك بن محمدالمعروف بابن الاثیرالجزری
۔ شرح الملتقی للبہنسی محمدبن محمدالمعروف بابن البھنسی
۔ شرح دررالبحار عبدالوہاب ابن احمدالشہیربابن وہبان
ص
۔ صحاح الجوہری اسمعیل بن حماد الجوہری
۔ صحیح ابن حبان(کتاب التقاسیم والانواع) محمدبن حبان
۔ صحیح ابن خزیمۃ محمدبن اسحاق ابن خزیمۃ
۔ الصراح ابوفضل محمدبن عمربن خالدالقرشی تقریبا
۔ صغیری شرح منیہ ابراہیم الحلبی
۔ صراط مستقیم سیداحمدشہیدبریلوی
۔ الصواعق المحرقۃ شہاب الدین احمد بن حجرالمکی
ط
۔ الطحطاوی علی الدر سیداحمدالطحطاوی
۔ الطحطاوی علی المراقی سیداحمدالطحطاوی
۔ طبقات المقرئین محمدبن احمدالذہبی
۔ طبقات القراء محمدبن محمدالجزری
۔ الطریقۃ المحمدیۃ محمدبن ببرعلی المعروف ببرکلی
۔ طلبۃ الطلبۃ نجم الدین عمربن محمدالنسفی
ع
۔ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری علامہ بدرالدین ابی محمد محمودبن احمد العینی
۔ العنایۃ شرح الہدایۃ اکمل الدین محمدبن محمدالبابرتی
۔ عنایۃ القاضی حاشیۃ علی تفسیرالبیضاوی شہاب الدین الخفاجی
#16978 · مآخذومراجع
۔ عیون المسائل ابواللیث نصربن محمدالسمرقندی
۔ عقودالدریۃ محمدامین ابن عابدین الشامی
۔ عدۃ کمال الدین محمدبن احمد الشہیر بطاشکبری
۔ عمل الیوم واللیلۃ ابوبکراحمدبن محمدابن السنی
۔ عوارف المعارف شہاب الدین سہروردی
۔ عقدالفرید ابوعبداﷲمحمدبن عبدالقوی المقدسی
۔ عین العلم محمدبن عثمان بن عمرالحنفی البلخی
۔ عقدالجید شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ عقودالدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ محمدامین آفندی ابن عابدین
۔ عمدۃ الرعایہ فی حل شرح الوقایہ محمدبن عبدالحی اللکھنوی
غ
۔ غایۃ البیان شیخ قوام الدین امیرکاتب ابن امیرالاتقانی
۔ غررالاحکام قاضی محمدبن فراموزملاخسرو
۔ غریب الحدیث ابوالحسن علی بن مغیرۃ البغدادی المعروف باثرم
۔ غمزعیون البصائر احمدبن محمدالحموی المکی
۔ غنیۃ ذوالاحکام حسن بن عمار بن علی الشرنبلالی
۔ غنیۃ المستملی محمدابراہیم بن محمدالحلبی
۔ غیث النفع فی القراء السبع یحیی بن شرف النووی
ف
۔ فتح الباری شرح البخاری شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی
۔ فتح القدیر کمال الدین محمد بن عبدالواحدبابن الہمام
۔ فتاوی النسفی امام نجم الدین النسفی
۔ فتاوی بزازیۃ محمدبن محمدبن شہاب ابن بزاز
#16979 · مآخذومراجع
۔ فتاوی حجہ
۔ فتاوی خیریۃ علامہ خیرالدین بن احمد بن علی الرملی
۔ فتاوی سراجیۃ سراج الدین علی بن عثمان الاوشی
۔ فتاوی عطاء بن حمزہ عطاء بن حمزہ السغدی
۔ فتاوی غیاثیہ داؤدبن یوسف الخطیب الحنفی
۔ فتاوی قاضی خان حسن بن منصورقاضی خان
۔ فتاوی ہندیہ جمعیت علماء اورنگ زیب عالمگیر
۔ فتاوی ظہیریۃ ظہرالدین ابوبکر محمدبن احمد
۔ فتاوی ولوالجیۃ عبدالرشیدبن ابی حنیفۃ الولوالجی
۔ فتاوی الکبری امام صدرالشہید حسام الدین عمربن عبدالعزیز
۔ فقہ الاکبر الامام الاعظم ابی حنیفۃ نعمان بن ثابت الکوفی
۔ فتح المعین سیدمحمد ابی السعود الحنفی
۔ فتح المعین شرح قرۃ العین زین الدین بن علی بن احمد الشافعی
۔ الفتوحات المکیۃ محی الدین محمد بن علی ابن عربی
۔ فواتح الرحموت عبدالعلی محمد بن نظام الدین الکندی
۔ الفوائد تمام بن محمد بن عبداللہ البجلی
۔ فوائد المخصصۃ محمد امین ابن عابدین الشامی
۔ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر عبدالرؤف المناوی
۔ فوائدسمویۃ اسمعیل بن عبداللہ الملقب بسمویۃ
۔ فضائل القرآن لابن ضریس ابوعبداﷲ محمدبن ایوب ابن ضریس البجلی
۔ فوائدالخلعی ابوالحسن علی بن الحسین الموصلی
۔ فصول العمادی محمدبن محمود استروشنی
۔ فتاوی تاتارخانیہ عالم بن العلاء الانصاری الدہلوی
۔ فتح المغیث امام محمدبن عبدالرحمن السخاوی
۔ فتاوی زینیہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم
#16980 · مآخذومراجع
۔ فتح المعین شرح اربعین شہاب الدین احمدبن محمدابن حجرالمکی
۔ فتح الالہ شرح المشکاۃ شہاب الدین احمدبن محمدابن حجرالمکی
۔ فتاوی الفقہیہ ابن حجرمکی شہاب الدین احمدبن محمدابن حجرالمکی
۔ فتاوی انقرویہ محمدبن حسین الانقروی
۔ فتاوی اسعدیہ سیداسعد ابن ابی بکرالمدنی الحسینی
۔ فوائدمجموعہ شوکانی محمد بن علی بن محمودالشوکانی
۔ فتاوی جمال بن عمرالمکی جمال بن عمرالمکی ۱
۔ فضل لباس العمائم ابوعبداﷲ محمدبن وضاح
۔ فتاوی قاعدیہ ابوعبداﷲ محمدبن علی القاعدی
۔ فتاوی غزی محمد بن عبداللہ التمر تاشی ۱۰۰۴
۳۴۱۔ فتاوی شمس الدین الرملی
۔ فتح الملك المجید
۔ فتح العزیز(تفسیرعزیزی) عبدالعزیزبن ولی اﷲالدہلوی
ق
۔ القاموس المحیط محمدبن یعقوب الفیروزآبادی
۔ قرۃ العین علامہ زین الدین بن علی الملیباری
۔ القنیۃ نجم الدین مختاربن محمدالزاہدی
۔ القرآن الکریم
۔ قوت القلوب فی معاملۃ المحبوب ابوطالب محمدبن علی المکی
۔ القول المسدد شہاب الدین احمد بن علی القسطلانی
۔ قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ القول الجمیل شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ قمرالاقمار حاشیہ نورالانوار محمدبن عبدالحی لکھنوی انصاری
۔ القول الصواب فی فضل عمربن الخطاب ابراہیم بن عبداﷲ الیمنی
#16981 · مآخذومراجع
ک
۔ الکافی فی الفروع حاکم شہید محمدبن محمد
۔ الکامل لابن عدی ابواحمد عبداللہ بن عدی
۔ الکبریت الاحمر سیدعبدالوہاب الشعرانی
۔ کتاب الآثار امام محمد بن حسن الشیبانی
۔ کتاب الآثار امام ابویوسف یعقوب بن ابراہیم الانصاری
۔ کتاب الالمام فی آداب دخول الحمام ابوالمحاس محمدبن علی
۔ کتاب السواك ابونعیم احمدبن عبداللہ
۔ کتاب الہدیۃ لابن عماد عبدالرحمن بن محمد عماد الدین بن محمدالعمادی
۔ کتاب الطہور لابی عبید
۔ کتاب العلل علی ابواب الفقہ ابومحمدعبدالرحمن ابن ابی حاتم محمدالرازی
۔ کتاب الاصل امام محمد بن حسن الشیبانی
۔ کتاب الوسوسۃ ابوبکربن ابی داؤد
۔ کشف الاسرار علاء الدین عبدالعزیز بن احمدالبخاری ۷۳۰
۔ کشف الرمز علامۃ المقدسی
۔ کشف الاستارعن زوائدالبزار امین الدین عبدالوہاب بن وہبان الدمشقی
۔ کنزالعمال علاء الدین علی المتقی بن حسام الدین
۔ الکفایۃ جلال الدین بن شمس الدین الخوارزمی تقریبا
۔ کف الرعاع شہاب الدین احمدبن حجرالمکی
۔ کنزالدقائق عبداللہ بن احمدبن محمود
۔ الکنی للحاکم ابوعبداللہ الحاکم
۔ الکواکب الدراری شمس الدین محمدبن یوسف الشافعی الکرمانی
۔ کتاب الجرح والتعدیل محمدبن حبان التمیمی
۔ کتاب المغازی یحیی بن سعید القطان
#16982 · مآخذومراجع
۔ کتاب الصمت عبداللہ بن محمدابن ابی الدنیاالقرشی
۔ کتاب الزہد عبداللہ بن مبارك
۔ الکشاف عن حقائق التنزیل جاراللہ محمود بن عمرالزمحشری
۔ کتاب الحجہ امام محمدرحمہ اﷲ تعالی ابوعبداﷲ محمدبن حسن الشیبانی
۔ کتاب المشیخۃ امام محمد ابوعبداﷲ محمدبن حسن الشیبانی
۔ کتاب المراسیل سلیمان بن اشعث السجستانی
۔ کتاب البعث والنشور عبداﷲبن محمدابن ابی الدنیا
۔ کتاب الاخوان ابوبکرعبداﷲ بن محمد ابن ابی الدنیا
۔ کتاب الضعفاء الکبیر ابوجعفرمحمدبن عمروالعقیلی المکی
۔ کتاب الزہدالکبیرللبیہقی احمدبن حسن البیہقی
۔ کتاب الرواۃ عن مالك ابن انس ابوبکراحمدبن علی خطیب بغدادی
۔ کتاب الحجہ علی تارك الحجہ نصربن ابراہیم المقدسی
۔ کیمیائے سعادت امام محمدبن محمدالغزالی
۔ کفایۃ الطالب الربانی شرح لرسالہ ابوالحسن علی بن ناصرالدین الشاذلی
ابن ابی زہرالقہروانی
۔ کشف الظنون مصطفی بن عبداﷲ حاجی خلیفہ
۔ کشف الغمہ شیخ عبدالوہاب بن احمدالشعرانی
۔ کتاب الصفین یحیی بن سلیمان الجعفی (استادامام بخاری)
۔ کتاب المصاحف ابن الانباری
۔ کمالین حاشیہ جلالین شیخ سلام اﷲ بن محمدشیخ الاسلام محدث رامپوری
۔ کتاب المغازی محمدبن عمربن واقدالواقدی
ل
۔ لمعات التنقیح علامہ شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی
۔ لقط المرجان فی اخبارالجان علامہ جلال الدین عبدالرحمن بن محمدالسیوطی
#16983 · مآخذومراجع
۔ لسان العرب جمال الدین محمدبن مکرم ابن منظورالمصری
۔ الآلی المصنوعہ فی الاحادیث الموضوعہ ابوبکرعبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی
۔ لواقع الانوار القدسیہ سیدالمنتخب من الفتوحات المکیہ عبدالوہاب بن احمدالشعرانی
م
۔ مبارق الازہار الشیخ عبداللطیف بن عبدالعزیز ابن الملك
۔ مبسوط خواہرزادہ بکرخواہرزادہ محمد بن حسن البخاری الحنفی
۔ مبسوط السرخسی شمس الائمۃ محمد بن احمد السرخسی
۔ مجری الانہر شرح ملتقی الابحر نورالدین علی الباقانی
۔ مجمع بحارالانوار محمدطاہرالصدیقی
۔ مجموع النوازل احمدبن موسی بن عیسی
۔ مجمع الانہرفی شرح ملتقی الابحر عبدالرحمن بن محمد بن سلیمان المعروف بدامادآفندی شیخی زادہ
۔ المحیط البرہانی امام برہان الدین محمود بن تاج الدین
۔ المحیط الرضوی رضی الدین محمد بن محمد السرخسی
۔ مختارات النوازل برہان الدین علی بن ابی بکرالمرغینانی
۔ مختارالصحاح محمدبن ابی بکر عبدالقادرالرازی
۔ المختارۃ فی الحدیث ضیاء الدین محمد بن عبدالواحد
۔ المختصر علامہ جلال الدین السیوطی
۔ مدخل الشرع الشریف ابن الحاج ابی عبداللہ محمد بن محمد العبدری
۔ مراقی الفلاح بامدادالفتاح شرح نورالایضاح حسن بن عماربن علی الشرنبلالی
۔ مرقات شرح مشکوۃ علی بن سلطان ملاعلی قاری
۔ مرقات الصعود علامہ جلال الدین السیوطی
۔ مستخلص الحقائق ابراہیم بن محمد الحنفی
۔ المستدرك للحاکم ابوعبداللہ الحاکم
۔ المستصفی شرح الفقہ النافع حافظ الدین عبداللہ بن احمد النسفی
#16984 · مآخذومراجع
۔ مسلم الثبوت محب اللہ البہاری
۔ مسند ابی داؤد سلیمان بن داؤد الطیالسی
۔ مسند ابی یعلی احمد بن علی الموصلی
۔ مسند اسحق ابن راہویۃ حافظ اسحق ابن راہویۃ
۔ مسند الامام احمد بن حنبل امام احمد بن محمد بن حنبل
۔ مسندالکبیرفی الحدیث ابوبکراحمد بن عمروبن عبدالخالق البزار
۔ مسند الکبیرفی الحدیث ابومحمد عبدبن محمد حمید الکشی
۔ مسند الفردوس شہرداربن شیرویہ الدیلمی
۔ مصباح المنیر احمد بن محمدبن علی
۔ المصفی حافظ الدین عبداللہ بن احمدالنسفی
۔ مصنف ابن ابی شیبۃ ابوبکرعبداللہ بن محمداحمدالنسفی
۔ مصنف عبدالرزاق ابوبکرعبدالرزاق بن ہمام الصنعانی
۔ مصباح الدجی امام حسن بن محمد الصغانی الہندی
۔ معرفۃ الصحابۃ ابونعیم احمدبن عبداللہ الاصبہانی
۔ المعجم الاوسط سلیمان بن احمد الطبرانی
۔ المعجم الصغیر سلیمان بن احمد الطبرانی
۔ المعجم الکبیر سلیمان بن احمد الطبرانی
۔ معراج الدرایۃ قوام الدین محمد بن محمد البخاری
۔ مشکوۃ المصابیح شیخ ولی الدین العراقی
۔ المغنی فی الاصول شیخ عمربن محمدالخبازی الحنفی
۔ المغرب ابوالفتح ناصربن عبدالسید المطرزی
۔ مختصرالقدوری ابوالحسین احمد بن محمد القدوری الحنفی
۔ مفاتیح الجنان یعقوب بن سیدعلی
۔ المفردات للامام راغب حسین بن محمد بن مفضل الاصفہانی
۔ المقدمۃ العشماویۃفی الفقہ المالکیۃ ابوالعباس عبدالباری العشماوی المالکی
#16985 · مآخذومراجع
۔ الملتقط(فی فتاوی ناصری) ناصرالدین محمد بن یوسف الحسینی
۔ مجمع الزوائد نورالدین علی بن ابی بکرالہیتمی
۔ مناقب الکردری محمد بن محمدبن شہاب ابن بزاز
۔ المنتقی(فی الحدیث) عبداللہ بن علی ابن جارود
۔ المنتقی فی فروع الحنیفہ الحاکم الشہیرمحمدبن محمدبن احمد
۔ منحۃ الخالق حاشیہ بحرالرائق محمد امین ابن عابدین الشامی
۔ منح الغفار محمد بن عبداللہ التمرتاشی
۔ ملتقی الابحر امام ابراہیم بن محمد الحلبی
۔ منہاج النووی (شرح صحیح مسلم) شیخ ابوزکریا یحیی بن شرف النووی
۔ مجمع البحرین مظفرالدین احمدبن علی بن ثعلب الحنفی
۔ المبتغی شیخ عیسی بن محمد ابن ایناج الحنفی
۔ المبسوط عبدالعزیز بن احمد الحلوانی
۔ مسند فی الحدیث الحافظ ابوالفتح نصربن ابراہیم الہروی
۔ المسند الکبیر یعقوب بن شیبۃ السدوسی
۔ منیۃ المصلی سدید الدین محمد بن محمد الکاشغری
۔ موطاامام مالك امام مالك بن انس المدنی
۔ مواردالظمان نورالدین علی بن ابی بکرالہیثمی
۔ مشکلات احمدبن مظفرالرازی
۔ مہذب ابی اسحق ابن محمد الشافعی
۔ میزان الشریعۃ الکبری عبدالوہاب الشعرانی
۔ میزان الاعتدال محمدبن احمدالذہبی
۔ المستخرج عل الصحیح البخاری احمدبن موسی ابن مردویۃ
۔ مکارم اخلاق محمدبن جعفر الخرائطی
۔ مسندالامام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت
۔ مؤطاالامام محمد ابوعبداﷲمحمدبن الحسن الشیبانی
#16986 · مآخذومراجع
۔ المسندفی الحدیث حسن بن سفیان النسوی
۔ معالم السنن لابی سلیمان الخطابی احمدبن محمدبن ابراہیم الخطابی
۔ مقامات حریری قاسم ابن علی الحریری
۔ معالم التنزیل تفسیرالبغوی ابومحمدالحسین بن مسعود البغوی
۔ الملل والنحل ابوالفتح محمدبن عبدالکریم الشہرستانی
۔ موضوعات ابن جوزی ابوالفرج عبدالرحمن بن علی بن الجوزی
۔ مقدمہ ابن الصلاح فی علوم الحدیث ابوعمروعثمان بن عبدالرحمن ابن الصلاح
۔ مختصرسنن ابی داؤدللحافظ المنذری عبدالعظیم بن عبدالقوی المنذری
۔ مدارك التنزیل تفسیرالنسفی ابوالبرکات عبداﷲ بن احمدالنسفی
۔ المواقف السطانیہ فی علم الکلام عضدالدین عبدالرحمن بن رکن الدین احمد
۔ مقدمہ جزریہ محمدبن محمدالجزری
۔ مقاصدحسنہ شمس الدین محمدبن عبدالرحمن السخاوی
۔ المواہب اللدنیہ احمدبن محمدالقسطلانی
۔ المنح الفکریہ شرح مقدمہ جزریہ علی بن سلطان محمدالقاری
۔ المسلك المتقسط فی المنسك المتوسط علی بن سلطان محمدالقاری
۔ ماثبت بالسنۃ شیخ عبدالحق بن سیف الدین الدہلوی
۔ المیبذی قاضی میرحسین بن معین الدین
۔ مسوی مصفی شرح موطاامام مالك شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ مکتوبات شاہ ولی اﷲ شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ مکتوبات مرزامظہرجان جاناں
۔ ملفوظات مرزامظہرجان جاناں
۔ معمولات مرزامظہرجان جاناں
۔ مخزن ادویہ فی الطب محمدحسین بن محمد الہادی بہادرخاں
۔ مجموعہ فتاوی ابوالحسنات محمدعبدالحی
۔ معیارالحق سیدنذیرحسین الدہلوی
#16987 · مآخذومراجع
۔ مظاہرحق مولوی نذیرالحق میرٹھی
۔ مکتوبات امام ربانی شیخ احمدسرہندی
۔ مناصحہ فی تحقیق مسئلۃ المصافحہ
۔ مفتاح الصلوۃ
۔ مجتبی شرح قدوری
۔ مشیخہ ابن شاذان
۔ معرفۃ الصحابہ لابی نعیم احمدبن عبداﷲ اصبہانی
۔ مفاتیح الغیب(تفسیرکبیر) امام فخرالدین رازی
ن
۔ النقایۃ مختصرالوقایۃ عبداللہ بن مسعود
۔ نصب الرایۃ ابومحمد عبداللہ بن یوسف الحنفی الزیلعی
۔ نورالایضاح حسن بن عماربن علی الشرنبلالی
۔ النہایۃ حسام الدین حسین بن علی السغناقی
۔ النہایۃ لابن اثیر مجدالدین مبارك بن محمدالجزری ابن اثیر
۔ النہرالفائق عمربن نجیم المصری
۔ نوادرفی الفقہ ہشام بن عبیداللہ المازنی الحنفی
۔ نورالعین محمدبن احمدالمعروف بنشانجی زادہ
۔ النوازل فی الفروع ابواللیث نصربن محمدبن ابراہیم السمرقندی
۔ نوادرالاصول فی معرفۃ اخبارالرسول ابوعبداللہ محمدبن علی الحکیم الترمذی
و
۔ الوافی فی الفروع عبداللہ بن احمدالنسفی
۔ الوجیزفی الفروع ابوحامد محمدبن محمدالغزالی
۔ الوقایۃ محمودبن صدرالشریعۃ


۔ الوسیط فی الفروع ابی حامد محمد بن محمدالغزالی
ھ
۔ الہدایۃ فی شرح البدایۃ برہان الدین علی بن ابی بکر المرغینانی
ی
۔ الیواقیت والجواہر سیدعبدالوہاب الشعرانی
۔ ینابیع فی معرفۃ الاصول ابی عبداللہ محمدابن رمضان الرومی
_______________________
#16988 · ضمیمہ مآخذومراجع
نمبر شمار نام کتاب مصنف سن وفات ہجری
ا
۔ انوار التنزیل فی اسرار التاویل ناصرالدین ابوسعیدعبداﷲبن عمرالبیضاوی / /
(تفسیر البیضاوی) ھدیۃ العارفین /
۔ الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب ابوعمریوسف بن عبداﷲ النمری القرطبی
۔ اوضح رمزعلی شرح نظم الکنز علی بن محمدابن غانم المقدسی
۔ الاستذکار یوسف بن عبداﷲ ابن عبدالبرالاندلسی
۔ الافراد علی بن عمرالدارقطنی
۔ الایضاح فی شرح التجرید امام ابوالفضل عبدالرحمن بن احمدالکرمانی
۔ اسباب النزول ابوالحسن علی بن احمد الواحدی
۔ ایضاح الحق الصریح فی احکام المیت والضریح شاہ محمداسمعیل بن شاہ عبدالغنی دہلوی
۔ انفاس العارفین شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم
۔ انسان العین شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم
۔ انسان العیون فی سیرۃ الامین المامون علی بن برہان الدین حلبی
۔ ارشاد الطالبین قاضی محمدثناء اﷲ پانی پتی
۔ الاعلام باعلام بلداﷲ الحرام قطب الدین محمدبن احمدالحنفی
#16989 · ضمیمہ مآخذومراجع
۔ ارشادالساری الی مناسك الملاعلی القاری حسین بن محمدسعیدعبدالغنی المکی الحنفی
۔ الآداب الحمیدہ والاخلاق محمدبن جریرالطبری
۔ الاربعین طائیہ ابوالفتح محمدبن محمدالطائی الھمدانی
۔ انیس الغریب جلال الدین عبداﷲ بن ابی بکرالسیوطی
۔ الارشادفی الکلام امام ابوالمعالی عبدالملك ابن عبداﷲ الجوینی الشہیربامام الحرمین
۔ افضل القراء بقراء ام القراء احمدبن محمدابن حجرمکی
۔ الاعتبارفی بیان الناسخ والمنسوخ من الاخبار محمدبن موسی الحازمی الشافعی
ت
۔ تلخیص الجامع الکبیر کمال الدین محمدبن عبادالحنفی
۔ تحفۃ الحریص فی شرح التلخیص علی بن بلبان الفارسی المصری الحنفی
۔ تقویۃ الایمان شاہ محمداسمعیل بن شاہ عبدالغنی دہلوی
۔ تعلیم المتعلم امام برہان الدین الزرنوجی
۔ الترغیب والترھیب ابوالقاسم اسمعیل بن محمدالاصبہانی
۔ تذکرۃ الموتی والقبور قاضی محمدثناء اﷲ پانی پتی
۔ التثبیت عندالتبییت جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی
۔ تلخیص الادلہ لقواعدالتوحید ابواسحق ابراہیم بن اسمعیل الصفارالبخاری
۔ تفہیم المسائل
۔ تنبیہ الغافل والاسنان محمدامین ابن عابدین الشامی
ث
۔ ثقفیات ابوعبداﷲ قاسم بن الفضل الثقفی الاصفہانی
۔ ثواب الاعمال لابن حبان محمدبن حبان
ج
۔ الجامع لاحکام القرآن(تفسیرطبی) ابوعبداﷲمحمدابن احمدالقرطبی
#16990 · ضمیمہ مآخذومراجع
۔ الجامع لاحکام القرآن(تفسیرطبی) ابوعبداﷲمحمدابن احمدالقرطبی
۔ جامع المضمرات والمشکلات(شرح قدوری) یوسف بن عمرالصوفی
۔ جدالممتارعلی ردالمتحتار امام احمدرضابن نقی علی خاں
ح
۔ الحسامی محمدبن محمدبن عمرحسام الدین الحنفی
۔ حاشیہ درغررنابلسی اسمعیل بن عبدالغنی نابلسی
۔ حسن التوسل فی زیارۃ افضل الرسل عبدالقادرالفاکہی
۔ حواشی علی معالم التنزیل امام احمدرضاخاں بن نقی علی خاں
۔ حسام الحرمین علی منحرالکفروالمین امام احمدرضاخاں بن نقی علی خاں
خ
۔ خلاصۃ خلاصۃ الوفاء نورالدین علی بن احمدالسمہودی
د
۔ دلائل النبوۃ ابوبکربن احمد بن حسین البیہقی
۔ درثمین فی مبشرات النبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم
۔ درمنظم فی مولدالنبی المعظم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ابوالقاسم محمدبن عثمان الؤلؤی الدمشقی
۔ کتاب الدعوات احمدبن حسین البیہقی
۔ الدرۃ المغیبۃ فی زیارۃ المصطفویۃ نورالدین علی بن سلطان محمدالقاری
۔ الدرۃ الثمنیہ فی اخبارالمدنیۃ حافظ محب الدین محمد بن محمودبن نجار
۔ الدررالسنیۃ فی الرد علی الوہابیۃ مفتی احمدبن السید زینی دحلان
ذ
۔ ذکرالموت عبداﷲ بن محمدابن ابی الدنیا البغدادی
#16991 · ضمیمہ مآخذومراجع
ر
۔ رفع الانتقاض ودفع الاعتراض الخ محمدامین ابن عابدین الشہیربابن عابدین
س
۔ سلفیات من اجزاء الحدیث حافظ ابوالطاہراحمدبن محمدالسلفی
۔ السراج المنیرفی شرح جامع الصغیر علی بن محمدبن ابراہیم المعری العزیزی
۔ سنن الہدی عبدالغنی بن احمد بن شاہ عبدالقدوس گنگوہی
۔ سنن فی الحدیث حافظ ابوعلی سعید بن عثمان ابن السکن البغدادی
ش
۔ شرح رسالہ فضالیہ علامہ ابراہیم بن محمدالباجوری
۔ شرح الصغری علامہ محمدیوسف السنوسی
۔ الشامل فی فروع الحنفیہ ابوالقاسم اسمعیل بن حسین البیہقی الحنفی
۔ شرح صحیح بخاری الکواکب الدراری محمدبن یوسف الکرمانی
۔ شفاء العلیل شرح القول الجمیل مولوی خرم علی بلہوری غالبا
۔ شرح صحیح بخاری ناصرالدین علی بن محمدابن منیر
۔ شرح زیج سلطانی عبدالعلی بن محمدبن حسین
۔ شفاء العلیل وبل الغلیل ابن عابدبن محمدامین آفندی ۲۵
ص
۔ الصحاح الماثورہ عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
۔ صغری شرح منیۃ المصلی شیخ ابراہیم بن محمدالحلبی
۔ صراط مستقیم شاہ محمداسمعیل بن عبدالغنی دہلوی
#16992 · ضمیمہ مآخذومراجع
۔ صراط مستقیم شاہ محمداسمعیل بن عبدالغنی دہلوی
ط
۔ الطبقات الکبری محمدبن سعدالزہری
غ
۔ غرائب القرآن ورغائب الفرقان(تفسیرنیشاپوری) نظام الدین حسن بن محمدنیشاپوری
۔ غریب الحدیث قاسم بن سلام البغدادی
۔ غریب الحدیث ابراہیم بن اسحق الحربی
۔ غایۃ الاوطار ترجمہ درمختار مولوی خرم علی بلہوری غالبا
ف
۔ الفتوحات الالہیۃ (تفسیرجمل) سلیمان بن عمرالشافعی الشہیربالجمل
۔ الفرج بعدالشدۃ عبداﷲ بن محمدابن ابی الدنیاالبغدادی
۔ فاتح شرح قدوری
۔ فوائدحاکم وخلاص
۔ فیض القدیرشرح الجامع الصغیر عبدالرؤف المناوی
۔ فیوض الحرمین شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم
۔ فتاوی شاہ رفیع الدین شاہ رفیع الدین
۔ الفتح المبین شرح اربعین نووی احمدبن محمد ابن حجرمکی
۔ فصل الخطاب فی ردضلالات ابن عبدالوہاب
۔ فتوح الغیب سیدشیخ عبدالقادرگیلانی
۔ فتاوی عزیزی عبدالعزیزبن ولی اﷲ الدہلوی
ق
۔ قرۃ عیون الاخبار محمدامین ابن عابدین الشہیربابن عابدین
#16993 · ضمیمہ مآخذومراجع
ک
۔ کشف الغطاء مالزم لموتی علی الاحیاء محمدشیخ الاسلام بن محمدفخرالدین
۔ کتاب اتباع الاموات ابراہیم بن اسحاق الحربی
۔ کتاب الدعوات سلیمان بن احمدالطبرانی
۔ کتاب الثواب فی الحدیث ابوالشیخ عبداﷲ بن محمدبن جعفر
۔ کشف النورعن اصحاب القبور عبدالغنی نابلسی
۔ کتاب الزہد امام احمدبن محمد بن حنبل
۔ کتاب القبور عبداﷲ بن محمدابن ابی الدنیا
۔ کتاب الروضہ ابوالحسن بن براء
۔ کتاب الزہد حافظ ہنادبن السری التمیمی الدارمی
۔ کتاب ذکرالموت
۔ کتاب ادعیۃ الحج والعمرہ قطب الدین الدہلوی
۔ کنوزالحقائق فی حدیث خیرالخلائق عبدالرؤف بن تاج الدین بن علی المناوی
۔ کتاب الخروج قاضی امام ابویوسف یعقوب بن ابراہیم حنفی
۔ کف الرعاع عن المحرمات اللہود السماع ابوالعباس احمد بن محمدابن حجرمکی
ل
۔ لباب المناسك شیخ رحمۃ اﷲ بن قاضی عبداﷲ السندی
م
۔ منح الروض الازہرفی شرح الفقہ الاکبر علی بن سلطان محمدالقاری
مجموعہ خانی (فارسی)
۔ مقامات مظہروضمیمہ مقامات مظہر مرزامظہرجان جاناں
۔ مشارق الانوارالقدسیہ فی بیان العہودالمحمدیہ عبدالوہاب بن احمدالشعرانی
#16994 · ضمیمہ مآخذومراجع
۔ مقامات مظہروضمیمہ مقامات مظہر مرزامظہرجان جاناں
۔ مسندالکبیرفی الحدیث ابومحمدعبیدبن حمید الکشی
۔ المنتقی فی احادیث الاحکام عن خیرالانام احمدبن عبدالحلیم ابن تیمیہ
۔ منظومۃ النسفی فی الخلاف نجم الدین عمربن محمدالنسفی
۔ معراج الدرایۃ فی شرح ہدایۃ امام قوام الدین بن محمدالکاکی
۔ المسندالصحیح فی الحدیث ابوعوانہ یعقوب بن اسحق الاسفرائنی
۔ مسندالشامیین
۔ مدارج النبوۃ شیخ عبدالحق محدث الدہلوی
۔ مجمع البرکات شیخ عبدالحق محدث الدہلوی
۔ مناھل الصفافی تخریج احادیث الشفاء جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکرالسیوطی
۔ مختصرتاریخ ابن عساکر امام محمدبن مکرم المعروف بابن منظور
۔ مائۃ مسائل محمداسحق محدث دہلوی
۔ مسائل اربعین محمداسحق محدث دہلوی
۔ مالابدمنہ قاضی محمدثناء اﷲ پانی پتی
۔ مشکوۃ المصابیح ابوعبداﷲ محمدبن عبداﷲ الخطیب
۔ متشق یادرمنتقی فی شرح الملتقی علاء الدین الحصکفی
۔ موضح القرآن ترجمۃ القرآن شاہ عبدالقادربن شاہ ولی اﷲ الدہلوی
۔ مثنوی شریف فارسی منظوم ملاجلال الدین محمدبن محمدبن محمد الرومی البلخی القونوی
۔ مصطلحات الحدیث علی بن السیدمحمدبن علی الجرجانی سیدشریف
۔ المقاصدفی علم الکلام علامہ سعدالدین مسعود بن عمرالتفتازانی
۔ مغنی المستفتی عن سوال المفتی علامہ حامدآفندی
۔ مظاہرتی ترجمہ مشکوۃ المصابیح قطب الدین دہلوی ۱۲۸۹
۔ منۃ الجلیل ابن عابدبن محمدامین آفندی ۲
۔ مفتاح الغیب فی شرح فتوح الغیب عبدالحق بن سیف الدین محدث دہلوی
ن
۔ نافع فی الفروع امام ناصرالدین محمدبن یوسف السمرقندی
#16995 · ضمیمہ مآخذومراجع
۔ نیل الاوطارشرح منتقی الاخبار محمدبن علی الشوکانی
۔ نصیحۃ المسلمین خرم علی بلہوری
۔ نفحات الانس من حضرات القد س عبدالرحمن بن احمدالجامی
۔ نسیم الریاض فی شرح شفاء قاضی عیاض قاضی عیاض احمد بن محمدالخفاجی
۔ النشرفی قراۃ العشر شمس الدین محمدبن محمدابن الجزری
۔ نزہۃ النظرفی توضیح نخبۃ الفکر احمدبن علی حجرالقسطلانی
۔ نفع المفتی والمسائل مولوی عبدالعلی مدراسی
۔ نوادرالاصول ابوعبداﷲ محمدبن علی حکیم الترمذی
۔ نصاب الاحتساب فی الفتاوی عمربن محمد بن عوف الشامی
۔ نورالشمعہ فی ظفرالجمعہ علی بن غانم المقدسی
۔ نظم الفرائدوجمع الفوائدفی الاصول عبدالرحیم بن علی الرومی المعروف شیخ زادہ
۔ نافع شرح قدوری
۔ نام حق شرف الدین بخاری
۔ نتائج الافکار فی کشف الرموزوالاسرار شمس الدین احمدبن قوردالمعروف بقاضی زادہ
و
۔ وفیات الاعیان شمس الدین احمدبن محمدابن خلکان
۔ واقعات المفتیین
۔ وفاء الوفا نورالدین علی بن احمدالسمہودی
ھ
۔ ہوامع شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ ہمعات شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
_____________________
#19693 · باب قضاء الفوائت ( فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا بیان)
مسئلہ : ذیقعدہھ
کیا فرما تے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ ایك شخص مرگیا اس نے عمر بھر نماز نہ پڑھی یا کبھی پڑھی اس کی عمر ستر پچھتر برس کی ہوئی کفارہ نماز کے بہت سے گیہوں یا جو ہوں گے اور اس قدر مال نہیں تو اس کے ادا ہونے کا کیا طریقہ ہے بینوا توجروا
الجواب :
اس کا طریقہ یہ ہے کہ مثلا بارہ برس ادنی مدت بلوغ کی نکال کر ساٹھ برس کی نمازیں اس کے ذمہ تھیں سال کے دن تین سو پچپن ہیں تو ایك سال کی نمازوں کے فدیے دوہزار ایك سوتیس ہوئے اور ساٹھ برس کے ایك لاکھ ستائیس ہزار آٹھ سو ایك نماز کا فدیہ گیہوں سے نصف صاع یعنی بریلی کی تول سے ایك سیر سات چٹھانك دو ماشےساڑہے چہہ رتی اور انگریزی سیر سے کہ اسی روپیہ بھر کا ہے پونے دوسیر اور پون چٹھانك اور بیسواں حصہ چھٹانك کا یعنی ایك سیرتیرہ چھٹانك پانچواں حصہ چھٹانك کا کم اس مقدار كو میں ضرب دیں تو سال بھر کی نمازوں کا کفارہ ہو اور میں ضرب دیں تو ساٹھ سال کا یہ تقریبا پونے پانچ ہزار من گیہوں ہوئے اس قدر دینے کی طاقت نہی ں تو جتنے کی قدرت ہو اس قدر فقیر کو دے کر مالك کردے قبضہ دلا دیں پھر فقیر اپنی طرف سے انھیں ہبہ کردے یہ پھر دوبارہ نیت کفارہ اسے دے کر قبضہ دلادیں وہ پھر انھیں ہبہ کردے یہ سہ بارہ ایسا ہی کریں یہاں تك کہ یہ الٹ پھیر اس مقدار کو پہنچ جائے جتنے بڑی مقدار سے دور کریں گے جلد ختم ہوگا دور کے لئے یہ بھی کرسکتے ہیں کہ کسی سے مثلا سوروپیہ کی تھیلی قرض لے کر وہ کفارے میں فقیر کو دیں اور یوں ہی الٹ پھیر کریں کہ روپے سے دو ر آسان ہوگا اخیر میں فقیر کو کچھ دے کر راضی کریں ۔ فتاوی بزازیہ میں ہے :
ان لم یکن لہ مال یستقرض نصف صاع ویعطیہ المسکین علی الوارث ثم الوارث علی المسکین ثم وثم حتی یتم لکل صلوۃ نصف صاع کما ذکرنا اھ وتفصیل الکلام فی فتاونا۔ واﷲ تعالی اعلم
اگر میت کا مال نہیں تو نصف صاع قرض لے کر مسکین کو دیا جائے پھر وہ مسکین اسے وارث پر صدقہ کرتے جائیں یہاں تك کہ ہر نماز عوض نصف صاع ہوجائے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا اھ ۔ اور تفصیلی گفتگو ہمارے فتاوی میں ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ ہندہ کا انتقال ہوا اور اس کی نمازیں و روزہ قضا ہیں
حوالہ / References &فتاوٰی بزازیہ علٰی ھامش الفتاوی الہندیۃ التاسع عشرفی الفوائت€ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ٤ / ٦٩€
Scroll to Top