اصل شعر
واہ کیا جود و کرم ہے شہِ بطحا تیرا
نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا
Roman Transliteration
Wah kya jood-o-karam hai shah-e-Batha tera
Nahi sunta hi nahi mangne wala tera
ترجمہ
ترجمہ: اے مکہ کے تاجدار (حضور سیدِ عالم ﷺ)! آپ کی سخاوت اور کرم نوازی کس قدر عظیم اور بے مثال ہے کہ آپ کے دربارِ اقدس سے کوئی بھی مانگنے والا (سائل) کبھی ‘نا’ (انکار کا لفظ) نہیں سنتا، بلکہ ہمیشہ مرادیں پا کر لوٹتا ہے۔
شرح
مذکورہ بالا شعر میں اس روایت کی طرف اشارہ ہے: حضرت سیّدُنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مَا سُئِلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ شَیْءٍ قَطُّ فَقَالَ”لَا“ یعنی کبھی ایسا نہیں ہوا کہ سرکارِ دوعالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے کوئی چیز مانگی گئی ہو اور آپ نے جواب میں ”لَا“ (یعنی نہیں) فرمایا ہو۔(بخاری،ج 4،ص109، حدیث:6034) مراد یہ ہے کہ حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ وسلَّم سے دنیا کے مال میں سے کچھ طلب کیا گیا تو کبھی یہ نہیں فرمایا کہ نہیں دوں گا۔ دینا منظور ہوتا تو عطا فرما دیتے، نہ دینا منظور ہوتا تو خاموش رہتے اور رُخِ انور پھیر لیتے۔(نزہۃ القاری،ج 5،ص573)
مانگیں گے مانگے جائیں گے مُنھ مانگی پائیں گے
سرکا ر میں نہ”لا“ ہے نہ حاجت ”اگر“ کی ہے
(حدائقِ بخشش،ص225)
حضرت سیّدُنا اَنس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ نامدار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوکر ایک شخص نے وہ بکریاں مانگیں جنہوں نے اپنی کثرت کی وجہ سے دو پہاڑوں کے درمیانی میدان کو بھردیا تھا۔ اللہ کے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اسے وہ بکریاں عطا فرمائیں تو وہ اپنی قوم کے پاس آکر کہنے لگا: اے میری قوم!اِسلام لے آؤ کیونکہ اللہ کی قسم!محمد(صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) اتنا عطا فرماتے ہیں کہ فَقْر (یعنی تنگدستی) کا اندیشہ نہیں رہتا۔(مسلم، ص973، حدیث:6021، زرقانی علی المواھب،ج6،ص109)
زمانے نے زمانے میں سخی ایسا کہیں دیکھا
لبوں پر جس کے سائل نے ”نہیں“ آتا نہیں دیکھا
(دیوان سالک ،ص5)
