فیض ہے یا شہِ تسنیم نرالا تیرا

اصل شعر

فیض ہے یا شہِ تسنیم نرالا تیرا
آپ پیاسوں کے تجسس میں ہے دریا تیرا

Roman Transliteration

Faiz hai ya shah-e-Tasneem nirala tera
Aap piyason ke tajassus mein hai darya tera

ترجمہ

ترجمہ: اے جنت کی نہر ‘تسنیم’ کے مالک (حضور سیدِ عالم ﷺ)! آپ کی سخاوت اور فیض کس قدر انوکھا اور نرالا ہے کہ یہاں معاملہ عام دنیا سے بالکل الٹ ہے؛ عام طور پر پیاسا دریا کو تلاش کرتا ہے، لیکن آپ کی رحمت کا دریا خود پیاسوں کی تلاش (تجسس) میں رہتا ہے تاکہ ان کی پیاس بجھائے اور ان کی حاجت روائی کر سکے۔

شرح

 حل لغات🌹
فیض : فائدہ ہونا
تسنیم : جنت میں واقع ایک نہر کا نام
نرالا : انوکھا، عجیب تر
تجسس : تلاش، جستجو

🌹 شرح🌹
امام اہل سنت سیدی اعلی حضرت بارگاہ رسالت میں عرض گزار ہیں کہ اے حوض کوثر کے مالک اے بہشتی نہر تسنیم کے مالک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم آپ کی عطاء و بخشش بالکل انوکھی ہے کہ آپ کا سمندر بیکراں خود پیاسوں کو تلاش کرتا پھرتا ہے حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پیاسے تجسس و جستجو میں ہوتے اپنی تشنگی لیے خود آپ کے پاس آتے لیکن یہاں معاملہ برعکس ہے
تسنیم کے بہمہ وجوہ منجانب اللہ مالک و متصرف ہمارے آقا و مولیٰ محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا
*انا اعطینک الکوثر*
کوثر سے احادیث و تفاسیر میں جنت کی نہر مراد لی گئی ہے جو قیامت میں حضور کے زیر قبضہ ہو گی اور پیاسوں کو وہاں پہنچنے کا پتا بتایا کہ
*فاطلبنی عند الحوض*
*مشکوٰۃ شریف*
مجھے حوض کوثر کے پاس ڈھونڈنا

جنت کی اس نہر کا قرآن پاک میں سورہ المطففین میں اس طرح سے ذکر ہے:
ترجمہ:
” اور اس کی ملونی تسنیم سے ہے یہ وہ چشمہ ہے جس سے مقربان بارگاہ پیتے ہیں “

جنت میں پلائی جانے والی شراب تین قسم کی ہو گی
🌹 شراب طہور، جس کی نہر ہر گھر میں پہنچے گی یہ شراب دنیاوی شراب چھوڑنے کے بدلے ہو گی

🌹رحیق مختوم، جو بوتلوں میں پیک ہو گی اس میں خوشبو کے لیئے تسنیم کے چند قطرے ملائے جائیں گے یہ شراب ابراروں کے لیئے ہو گی

🌹خالص تسنیم، مقربین ہمیشہ خالص تسنیم پئیں گے ان کے گھروں میں تسنیم کے چشمے جاری ہوں گے ان کی مہک و لذت خواب و خیال سے بڑھ کر ہو گی

🌹حدیث شریف میں تسنیم کے بارے میں مذکور ہے کہ یہ جنت کی ایک نہر ہے جس کی لمبائی ایک ماہ کی مسافت کے برابر ہے اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے زیادہ خوشبو والا ہے اس کے کناروں پر رکھے گئے کٹورے آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہیں جو ستاروں کی مانند ہی چمکدار ہیں، جو شخص اس نہر سے ایک بار پی لے گا وہ پھر کبھی پیاسا نہ ہو گا
مطلب یہ ہوا کہ اے تسنیم پر اختیار رکھنے والے۔۔۔ آپ کی کرم نوازی سب سے جداگانہ ہے دنیا کا دستور ہے کہ جسے طلب ہوتی ہے وہ خود چل کر مطلوب کے پاس آتا ہے۔ جسے پیاس ہوتی ہے وہ خود پانی کی تلاش و جستجو کرتا ہے لیکن آپ کا نوازنے کا انداز منفرد ہے کہ آپ کے فیض کا دریا خود پیاسوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کی تشنگی کا سامان کرتا ہے

🌹تضامین🌹

کھاتا ہے سارا جَہاں روز نَوَالا تیرا
شَمْس ہے یا شہِ کَونین اُجالا تیرا
نُور ہے یا شہِ دارین حَوالا تیرا
فیَض ہے یا شَہِ تَسْنِیْم نرالا تیرا
آپ پیاسوں کے تَجَسُّسْ میں ہے دَریا تیرا
(ابوالحسنین محمد فضلِ رسول رضوی)

تشنہ لب بہر زیارت ہے یہ شیدا تیرا
العطش اے سخی کہتا ہے یہ پیاسا تیرا
دیکھ لیتا کبھی یہ بھی رخ زیبا تیرا
فیض ہے یا شہ تسنیم نرالا تیرا
آپ پیاسوں کے تجسس میں ہے دریا تیرا
( کوکبہ تضمین جمیل)


            

Topics

Scroll to Top