(ف3)یعنی عبداللہ بن اُمِّ مکتوم ۔ شانِ نزول : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم عتبہ بن ربیعہ ابوجہل بن ہشام اور عبا س بن عبدالمطلب اور اُ بَی بن خلف اور اُمیّہ بن خلف اشرافِ قریش کو اسلام کی دعوت فرمارہے تھے ۔ اس درمیان میں عبداللہ ابنِ اُمِّ مکتوم نابینا حاضر ہوئے اورانہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بار بار ندا کرکے عرض کیا کہ جو اللہ تعالٰی نے آپ کو سکھایا ہے مجھے تعلیم فرمائیے ، ابنِ اُمِّ مکتوم نے یہ نہ سمجھا کہ حضوردوسروں سے گفتگو فرمارہے ہیں اس سے قطعِ کلام ہوگا یہ بات حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو گراں گذری اور آثارِ ناگواری چہرۂِ اقدس پر نمایاں ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنی دولت سرائے اقدس کی طرف واپس ہوئے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں ۔ اور نابینا فرمانے میں عبداللہ بن اُمِّ مکتوم کی معذوری کی طرف اشارہ ہے کہ قطعِ کلام ان سے اس وجہ سے واقع ہوا ، اس آیت کے نزول کے بعد سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم عبداللہ بن اُمِّ مکتوم کا اکرام فرماتے تھے ۔
وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّهٗ يَزَّكّٰٓىۙ ﴿3﴾
۔(۳) اور تمہیں کیا معلوم شاید وہ ستھرا ہو (ف٤)
(ف4)گناہوں سے آپ کا ارشاد سن کر ۔
اَوۡ يَذَّكَّرُ فَتَنۡفَعَهُ الذِّكۡرٰىؕ ﴿4﴾
۔(٤) یا نصیحت لے تو اسے نصیحت فائدہ دے،
اَمَّا مَنِ اسۡتَغۡنٰىۙ ﴿5﴾
۔(۵) وہ جو بےپرواہ بنتا ہے (ف۵)
(ف5)اللہ تعالٰی سے اور ایمان لانے سے بسبب اپنے مال کے ۔
فَاَنۡتَ لَهٗ تَصَدّٰىؕ ﴿6﴾
۔(٦) تم اس کے تو پیچھے پڑتے ہو (ف٦)
(ف6)اور اس کے ایمان لانے کی طمع میں اس کے درپے ہوتے ہو ۔
وَمَا عَلَيۡكَ اَلَّا يَزَّكّٰٓىؕ ﴿7﴾
۔(۷) اور تمہارا کچھ زیاں نہیں اس میں کہ وہ ستھرا نہ ہو (ف۷)
(ف7)ایمان لا کر اور ہدایت پا کر کیونکہ آپ کے ذمّہ دعوت دینا اور پیامِ الٰہی پہنچادینا ہے ۔
وَاَمَّا مَنۡ جَآءَكَ يَسۡعٰىۙ ﴿8﴾
۔(۸) اور وہ جو تمہارے حضور ملکتا (ناز سے دوڑتا ہوا) آتا (ف۸)
(ف8)یعنی ابنِ اُمِّ مکتوم ۔
وَهُوَ يَخۡشٰىۙ ﴿9﴾
۔(۹) اور وہ ڈر رہا ہے (ف۹)
(ف9)اللہ عزَّوجلَّ سے ۔
فَاَنۡتَ عَنۡهُ تَلَهّٰىۚ ﴿10﴾
۔(۱۰) تو اسے چھوڑ کر اور طرف مشغول ہوتے ہو،
كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ ۚ ﴿11﴾
(۱۱) یوں نہیں (ف۱۰) یہ تو سمجھانا ہے (ف۱۱)
(ف10)ایسا نہ کیجئے ۔(ف11)یعنی آیاتِ قرآن مخلوق کے لئے نصیحت ہیں ۔
فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗۘ ﴿12﴾
(۱۲) تو جو چاہے اسے یاد کرے (ف۱۲)
(ف12)اور اس سے پندپذیر ہو ۔
فِىۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ ﴿13﴾
(۱۳) ان صحیفوں میں کہ عزت والے ہیں (ف۱۳)
(ف13)اللہ تعالٰی کے نزدیک ۔
مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ ۭۙ ﴿14﴾
(۱٤) بلندی والے (ف۱٤) پاکی والے (ف۱۵)
(ف14)رفیعُ القدر ۔(ف15)کہ انہیں پاکوں کے سوا کوئی نہ چھوئے ۔
بِاَيۡدِىۡ سَفَرَةٍۙ ﴿15﴾
(۱۵) ایسوں کے ہاتھ لکھے ہوئے،
كِرَامٍۢ بَرَرَةٍؕ ﴿16﴾
(۱٦) جو کرم والے نکوئی والے (ف۱٦)
(ف16)اللہ تعالٰی کے فرمانبردار ، اور وہ فرشتے ہیں جو اس کو لوحِ محفوظ سے نقل کرتے ہیں ۔
قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗؕ ﴿17﴾
(۱۷) آدمی مارا جائیو کیا ناشکر ہے (ف۱۷)
(ف17)کہ اللہ تعالٰی کی کثیر نعمتوں اور بے نہایت احسانوں کے باوجود کفر کرتا ہے ۔
مِنۡ اَىِّ شَىۡءٍ خَلَقَهٗؕ ﴿18﴾
(۱۸) اسے کاہے سے بنایا،
مِنۡ نُّطۡفَةٍؕ خَلَقَهٗ فَقَدَّرَهٗ ۙ ﴿19﴾
(۱۹) پانی کی بوند سے اسے پیدا فرمایا، پھر اسے طرح طرح کے اندازوں پر رکھا (ف۱۸)
(ف18)کبھی نطفہ کی شکل میں ، کبھی علقہ کی صورت میں ، کبھی مضغہ کی شان میں ، تکمیلِ آفرینش تک ۔
ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗۙ ﴿20﴾
(۲۰) پھر اسے راستہ آسان کیا (ف۱۹)
(ف19)ماں کے پیٹ سے برآمد ہونے کا ۔
ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗۙ ﴿21﴾
(۲۱) پھر اسے موت دی پھر قبر میں رکھوایا (ف۲۰)
(ف20)کہ بعدِ موت بے عزّت نہ ہو ۔
ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗؕ ﴿22﴾
(۲۲) پھر جب چاہا اسے باہر نکالا (ف۲۱)
(ف21)یعنی بعدِ موت حساب و جزا کے لئے پھر اس کے واسطے زندگانی مقرّر کی ۔
كَلَّا لَـمَّا يَقۡضِ مَاۤ اَمَرَهٗؕ ﴿23﴾
(۲۳) کوئی نہیں، اس نے اب تک پورا نہ کیا جو اسے حکم ہوا تھا (ف۲۲)
(ف22)اس کے رب کا یعنی کافر ایمان لا کر حکمِ الٰہی کو بجانہ لایا ۔
فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ ﴿24﴾
(۲٤) تو آدمی کو چاہیے اپنے کھانوں کو دیکھے (ف۲۳)
(ف23)جنہیں کھاتا ہے اور جو اسکی حیات کا سبب ہیں کہ انمیں اس کے رب کی قدرت ظاہر ہے کس طرح جزوِ بدن ہوتے ہیں اور کس نظامِ عجیب سے کام میں آتے ہیں اور کس طرح رب عزَّوجلَّ عطا فرماتا ہے ان حکمتوں کا بیان فرمایا جاتا ہے ۔
اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا ۙ ﴿25﴾
(۲۵) کہ ہم نے اچھی طرح پانی ڈالا (ف۲٤)
(ف24)بادل سے ۔
ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا ۙ ﴿26﴾
(۲٦) پھر زمین کو خوب چیرا،
فَاَنۡۢبَتۡنَا فِيۡهَا حَبًّا ۙ ﴿27﴾
(۲۷) تو اس میں اُگایا اناج،
وَّ عِنَبًا وَّقَضۡبًا ۙ ﴿28﴾
(۲۸) اور انگور اور چارہ،
وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا ؕ ﴿29﴾
(۲۹) اور زیتون اور کھجور،
وَحَدَآٮِٕقَ غُلۡبًا ۙ ﴿30﴾
(۳۰) اور گھنے باغیچے،
وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا ۙ ﴿31﴾
(۳۱) اور میوے اور دُوب ( گھاس)
مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡؕ ﴿32﴾
(۳۲) تمہارے فائدے کو اور تمہارے چوپایوں کے،
فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ ﴿33﴾
(۳۳) پھر جب آئے گی وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑ (ف۲۵)
(ف25)یعنی قیامت کے نفخۂِ ثانیہ کی ہولناک آواز جو مخلوق کو بہرا کردے گی ۔
يَوۡمَ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ مِنۡ اَخِيۡهِۙ ﴿34﴾
(۳٤) اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی،
وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ ﴿35﴾
(۳۵) اور ماں اور باپ ،
وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيۡهِؕ ﴿36﴾
(۳٦) اور جُورو اور بیٹوں سے (ف۲٦)
(ف26)ان میں سے کسی کی طرف ملتفت نہ ہوگا ، اپنی ہی پڑی ہوگی ۔
(۳۷) ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایک فکر ہے کہ وہی اسے بس ہے (ف۲۷)
(ف27)قیامت کا حال اوراس کے اہوال بیان فرمانے کے بعد مکلّفین کا ذکر فرمایا جاتا ہے کہ وہ دو قِسم ہیں سعید اور شقی ، جو سعید ہیں ان کا حال ارشاد ہوتا ہے ۔
وُجُوۡهٌ يَّوۡمَٮِٕذٍ مُّسۡفِرَةٌ ۙ ﴿38﴾
(۳۸) کتنے منہ اس دن روشن ہوں گے (ف۲۸)
(ف28)نورِ ایمان سے یا شب کی عبادتوں سے یا وضو کے آثارسے ۔
ضَاحِكَةٌ مُّسۡتَبۡشِرَةٌ ۚ ﴿39﴾
(۳۹) ہنستے خوشیاں مناتے (ف۲۹)
(ف29)اللہ تعالٰی کے نعمت و کرم اور اس کی رضا پر ۔ اس کے بعد اشقیا کا حال بیان فرمایا جاتا ہے ۔