بیشک ہم نے اسے برکت والی رات میں اتارا (ف۳) بیشک ہم ڈر سنانے والے ہیں (ف٤)
We have indeed sent it down in a blessed night – indeed it is We Who warn.
बेशक हम ने उसे बरकत वाली रात में उतारा बेशक हम डर सुनाने वाले हैं
Beshak hum ne ise barkat wali raat mein utaara beshak hum dar sunaane wale hain
(ف3)اس رات سے یا شبِ قدر مراد ہے یا شبِ براء ۃ ۔ اس شب میں قرآنِ پاک بِتمامہ لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا کی طرف اتارا گیا ، پھر وہاں سے حضرت جبرئیل بیس۲۰ سال کے عرصہ میں تھوڑا تھوڑا لے کر نازل ہوئے ، اس شب کو شبِ مبارکہ اس لئے فرمایا گیا کہ اس میں قرآنِ پاک نازل ہوا اور ہمیشہ اس شب میں خیر و برکت نازل ہوتی ہے دعائیں قبول کی جاتی ہیں ۔(ف4)اپنے عذاب کا ۔
فِيۡهَا يُفۡرَقُ كُلُّ اَمۡرٍ حَكِيۡمٍۙ ﴿4﴾
اس میں بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکمت والا کام (ف۵)
During it are distributed all the works of wisdom.
اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں وہ جِلائے اور مارے، تمہارا رب اور تمہارے اگلے باپ دادا کا رب،
There is no worship except for Him – He gives life and causes death; your Lord and the Lord of your forefathers.
उसके सिवा किसी की बंदगी नहीं वह जिलाए और मारे, तुम्हारा रब और तुम्हारे अगले बाप दादा का रब,
Uske siwa kisi ki bandagi nahi woh jilaaye aur maare, tumhara Rab aur tumhare agle baap dada ka Rab,
بَلۡ هُمۡ فِىۡ شَكٍّ يَّلۡعَبُوۡنَ ﴿9﴾
بلکہ وہ شک میں پڑے کھیل رہے ہیں (ف۸)
Rather they are in doubt, playing.
बल्के वह शक में पड़े खेल रहे हैं
Balke woh shak mein pare khel rahe hain
(ف8)ان کا قرار علم و یقین سے نہیں بلکہ ان کی بات میں ہنسی اور تمسخر شامل ہے اور وہ آپ کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان پر دعا کی کہ یارب انہیں ایسی ہفت سالہ قحط کی مصیبت میں مبتلا کر جیسے سات سال کا قحط حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں بھیجا تھا ، یہ دعا مستجاب ہوئی اور حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ارشاد فرمایا گیا ۔
تو تم اس دن کے منتظر رہو جب آسمان ایک ظاہر دھواں لائے گا،
So you await the day when the sky will bring forth a visible smoke. –
तो तुम उस दिन के मुन्तज़िर रहो जब आसमान एक ज़ाहिर धुआँ लाएगा,
To tum us din ke muntazir raho jab aasmaan ek zaahir dhuan laayega,
يَغۡشَى النَّاسَؕ هٰذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴿11﴾
کہ لوگوں کو ڈھانپ لے گا (ف۹) یہ ہے دردناک عذاب،
Which will envelop the people; this is a painful punishment.
कि लोगों को ढाँप लेगा यह है दर्दनाक अज़ाब,
Ke logon ko dhaanp lega yeh hai dardnaak azaab,
(ف9)چنانچہ قریش پر قحط سالی آئی اور یہاں تک اس کی شدّت ہوئی کہ وہ لوگ مردار کھا گئے اور بھوک سے اس حال کو پہنچ گئے کہ جب اوپر کو نظر اٹھاتے ، آسمان کی طرف دیکھتے تو ان کو دھواں ہی دھواں معلوم ہوتا یعنی ضعف سے نگاہوں میں خیر گی آگئی تھی اور قحط سے زمین سے خشک ہوگئی ، خاک اڑنے لگی ، غبار نے ہوا کو مکدر کردیا ۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ دھوئیں سے مراد وہ دھواں ہے جو علاماتِ قیامت میں سے ہے اور قریبِ قیامت ظاہر ہوگا ، مشرق و مغرب اس سے بھر جائیں گے ، چالیس روز و شب رہے گا ، مومن کی حالت تو اس سے ایسی ہوجائے گی جیسے زکام ہوجائے اور کافر مدہوش ہوں گے ، ان کے نتھنوں اور کانوں اور بدن کے سوراخوں سے دھواں نکلے گا ۔
اور اللہ کے مقابل سرکشی نہ کرو، میں تمہارے پاس ایک روشن سند لاتا ہوں (ف۱۸)
And saying, “And do not rebel against Allah; I have brought a clear proof to you.”
और अल्लाह के मुक़ाबिल सरकशी न करो, मैं तुम्हारे पास एक रोशन सन्द लाता हूँ
Aur Allah ke muqabil sarkashi na karo, main tumhare paas ek roshan sanad laata hoon
(ف18)اپنے صدقِ نبوّت و رسالت کی ، جب حضرت موسٰی علیہ السلام نے یہ فرمایا تو فرعونیوں نے آپ کو قتل کی دھمکی دی اور کہا کہ ہم تمہیں سنگسار کردیں گے تو آپ نے فرمایا ۔
ہم نے حکم فرمایا کہ میرے بندوں (ف۲۱) کو راتوں رات لے نکل ضرور تمہارا پیچھا کیا جائے گا (ف۲۲)
We commanded him, “Journey with My bondmen in a part of the night – you will be pursued.”
हम ने हुक्म फ़रमाया कि मेरे बंदों को रातों रात ले निकल ज़रूर तुम्हारा पीछा किया जाएगा
Hum ne hukm farmaaya ke mere bandon ko raaton raat le nikal zaroor tumhara peecha kiya jaayega
(ف21)یعنی بنی اسرائیل ۔(ف22)یعنی فرعون مع اپنے لشکروں کے تمہارے درپے ہوگا ، چنانچہ حضرت موسٰی علیہ السلام روانہ ہوئے اور دریا پر پہنچ کر آپ نے عصا مارا ، اس میں بارہ رستے خشک پیدا ہوگئے ، آپ مع بنی اسرائیل کے دریا میں سے گزر گئے ، پیچھے فرعون اور اس کا لشکر آرہا تھا ، آپ نے چاہا کہ پھرعصا مار کر دریا کو ملادیں تاکہ فرعون اس میں سے گزر نہ سکے تو آپ کو حکم ہوا ۔
اور دریا کو یونہی جگہ جگہ سے چھوڑ دے (ف۲۳) بیشک وہ لشکر ڈبو دیا جائے گا (ف۲٤)
“And leave the sea as it is, parted in several places; indeed that army will be drowned.”
और दरिया को यूँही जगह जगह से छोड़ दे बेशक वह लश्कर डुबो दिया जाएगा
Aur dariya ko yunhi jagah jagah se chhod de beshak woh lashkar dubo diya jaayega
(ف23)تاکہ فرعونی ان راستوں سے دریا میں داخل ہوجائیں ۔(ف24)حضرت موسٰی علیہ السلام کو اطمینان ہوگیا اور فرعون اور اس کے لشکر دریامیں غرق ہوگئے اور ان کا تمام مال و متاع اور سامان یہیں رہ گیا ۔
كَمۡ تَرَكُوۡا مِنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ﴿25﴾
کتنے چھوڑ گئے باغ اور چشمے ،
How many gardens and water-springs they left behind!
تو ان پر آسمان اور زمین نہ روئے (ف۲۸) اور انہیں مہلت نہ دی گئی (ف۲۹)
So the heavens and the earth did not weep for them, and they were not given respite.
तो उन पर आसमान और ज़मीन न रोए और उन्हें मोहलत न दी गई
To unpar aasmaan aur zameen na roye aur unhein mohlat na di gayi
(ف28)کیونکہ وہ ایماندار نہ تھے اور ایماندار جب مرتا تو اس پر آسمان و زمین چالیس روز تک روتے ہیں ، جیسا کہ ترمذی کی حدیث میں ہے مجاہد سے کہا گیا کہ مومن کی موت پر آسمان و زمین روتے ہیں ، فرمایا زمین کیوں نہ روئے اس بندے پر جو زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا اور آسمان کیوں نہ روئے اس بندے پر جس کی تسبیح و تکبیر آسمان میں پہنچتی تھی ۔ حسن کا قول ہے کہ مومن کی موت پر آسمان والے اور زمین والے روتے ہیں ۔(ف29)توبہ وغیرہ کے لئے عذاب میں گرفتار کرنے کے بعد ۔
وہ تو نہیں مگر ہمارا ایک دفعہ کا مرنا (ف۳٤) اور ہم اٹھائے نہ جائیں گے (ف۳۵)
“There is nothing except our dying just once, and we will not be raised.”
वह तो नहीं मगर हमारा एक दफ़ा का मरना और हम उठाए न जाएँगे
Woh to nahi magar humara ek dafa ka marna aur hum uthaye na jaayenge
(ف34)یعنی اس زندگانی کے بعد سوائے ایک موت کے ہمارے لئے اور کوئی حال باقی نہیں ، اس سے ان کا مقصود بعث یعنی موت کے بعد زندہ کئے جانے کا انکار کرنا تھا جس کو اگلے جملے میں واضح کردیا ۔ (کبیر)(ف35)بعدِ موت زندہ کرکے ۔
“Therefore bring back our forefathers, if you are truthful!”
तो हमारे बाप दादा को ले आओ अगर तुम सच्चे हो
To humare baap dada ko le aao agar tum sachche ho
(ف36)اس بات میں کہ ہم بعد مرنے کے زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے ، کفّارِ مکّہ نے یہ سوال کیا تھا کہ قُصَیْ بِن کلاب کو زندہ کردو ، اگر موت کے بعد کسی کا زندہ ہونا ممکن ہو ، اور یہ ان کی جاہلانہ بات تھی کیونکہ جس کام کے لئے وقت معیّن ہو اس کا اس وقت سے قبل وجود میں نہ آنا اس کے ناممکن ہونے کی دلیل نہیں ہوتا اور نہ اس کا انکار صحیح ہوتا ہے ، اگر کوئی شخص کسی نئے جمے ہوئے درخت یا پودے کو کہے کہ اس میں سے اب پھل نکالو ورنہ ہم نہیں مانیں گے کہ اس درخت سے پھل نکل سکتا ہے تو اس کو جاہل قرار دیا جائے گا اور اس کا انکار محض حُمُق یا مکابرہ ہوگا ۔
کیا وہ بہتر ہیں (ف۳۷) یا تبع کی قوم (ف۳۸) اور جو ان سے پہلے تھے (ف۳۹) ہم نے انہیں ہلاک کردیا (ف٤۰) بیشک وہ مجرم لوگ تھے (ف٤۱)
Are they better, or the people of Tubba? And those who were before them? We destroyed them; they were indeed criminals.
क्या वह बेहतर हैं या तुब्बा की कौम और जो उन से पहले थे हम ने उन्हें हलाक कर दिया बेशक वह मुजरिम लोग थे
Kya woh behtar hain ya Tubba ki qaum aur jo unse pehle the hum ne unhein halaak kar diya beshak woh mujrim log the
(ف37)یعنی کفّارِ مکّہ زور و قوّت میں ۔ (ف38)تُبَّع حمِیْری بادشاہِ یمن صاحبِ ایمان تھے اور ان کی قوم کافر تھی جو نہایت قوی ، زور آور اور کثیرُ التعداد تھی ۔(ف39)کافر امّتوں میں سے ۔(ف40)ان کے کفر کے باعث ۔(ف41)کافر ، منکِرِ بعث ۔
اور ہم نے نہ بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیل کے طور پر (ف٤۲)
And We did not create the heavens and the earth, and all that is between them, just for play.
और हम ने न बनाए आसमान और ज़मीन और जो कुछ उनके दरमियान है खेल के तौर पर
Aur hum ne na banaye aasmaan aur zameen aur jo kuch unke darmiyan hai khel ke taur par
(ف42)اگر مرنے کے بعد اٹھنا اور حساب و ثواب نہ ہو تو خَلق کی پیدائش محض فنا کے لئے ہوگی اور یہ عبث و لعب ہے ۔ تو اس دلیل سے ثابت ہوا کہ اس دنیوی زندگی کے بعد اخروی زندگی ضرور ہے جس میں حساب و جزا ہو ۔
مگر جس پر اللہ رحم کرے (ف٤۸) بیشک وہی عزت والا مہربان ہے،
Except those upon whom Allah has mercy; indeed He only is the Most Honourable, the Most Merciful.
मगर जिस पर अल्लाह रहम करे बेशक वही इज़्ज़त वाला मेहरबान है,
Magar jis par Allah rahm kare beshak wahi izzat wala mehrbaan hai,
(ف48)یعنی سوائے مومنین کے ، کہ وہ باذنِ الٰہی ایک دوسرے کی شفاعت کریں گے ۔ (جمل)
اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوۡمِۙ ﴿43﴾
بیشک تھوہڑ کا پیڑ (ف٤۹)
Indeed the tree of Zaqqum, –
बेशक थोहड़ का पेड़
Beshak Thohar ka paid
(ف49)تھوہڑ ایک خبیث ، نہایت کڑوا درخت ہے جو اہلِ جہنّم کی خوراک ہوگا ۔ حدیث شریف میں ہے کہ اگر ایک قطرہ اس تھوہڑ کا دنیا میں ٹپکا دیا جائے تو اہلِ دنیا کی زندگانی خراب ہوجائے ۔
طَعَامُ الۡاَثِيۡمِ ۛۚ ۖ ﴿44﴾
گنہگاروں کی خوراک ہے (ف۵۰)
Is the food of the sinners.
गुनहगारों की ख़ुराक है
Gunahgaaron ki khuraak hai
(ف50)ابوجہل کی اور اس کے ساتھیوں کی جو بڑے گنہگار ہیں ۔
كَالۡمُهۡلِ ۛۚ يَغۡلِىۡ فِى الۡبُطُوۡنِۙ ﴿45﴾
گلے ہوئے تانبے کی طرح پیٹوں میں جوش مارتا ہے ،
Like molten copper; it churns in their bellies.
गले हुए ताँबे की तरह पेटों में जोश मारता है,
Galay hue taambe ki tarah peton mein josh maarta hai,
چکھ، (ف۵٤) ہاں ہاں تو ہی بڑا عزت والا کرم والا ہے (ف۵۵)
Saying “Taste it! Indeed you only are the most honourable, the dignified!”
चख, हाँ हाँ तू ही बड़ा इज़्ज़त वाला करम वाला है
Chakh, haan haan tu hi bada izzat wala karam wala hai
(ف54)اس عذاب کو ۔(ف55)ملائکہ یہ کلمہ اہانت اور تذلیل کے لئے کہیں گے کیونکہ ابوجہل کہا کرتا تھا کہ بطحاء میں میں بڑا عزّت والا کرم والا ہوں ، اس کو عذاب کے وقت یہ طعنہ دیا جائے گا اور کفّار سے یہ بھی کہا جائے گا کہ ۔
اِنَّ هٰذَا مَا كُنۡتُمۡ بِهٖ تَمۡتَرُوۡنَ ﴿50﴾
بیشک یہ ہے وہ (ف۵٦) جس میں تم شبہہ کرتے تھے (ف۵۷)
“Indeed this is what you used to doubt about.”
बेशक यह है वह जिस में तुम शुब्हा करते थे
Beshak yeh hai woh jismein tum shubha karte the
(ف56)عذاب جو تم دیکھتے ہو ۔(ف57)اور اس پر ایمان نہیں لاتے تھے اس کے بعد پرہیزگاروں کا ذکر فرمایا جاتا ہے ۔
اس میں ہر قسم کا میوہ مانگیں گے (ف٦۱) امن و امان سے (ف٦۲)
In it they will ask for all kinds of fruit, with safety.
उस में हर क़िस्म का मेवा माँगेंगे अम्न व अमान से
Us mein har qism ka mewa maangen ge amn-o-amaan se
(ف61)یعنی جنّت میں اپنے جنّتی خادموں کو میوے حاضر کرنے کا حکم دیں گے ۔(ف62)کہ کسی قِسم کا اندیشہ ہی نہ ہوگا ، نہ میوے کے کم ہونےکا ، نہ ختم ہوجانےکا ، نہ ضرر کرنےکا ، نہ اور کوئی ۔
تو ہم نے اس قرآن کو تمہاری زبان میں (ف٦۵) آسان کیا کہ وہ سمجھیں (ف٦٦)
And We have made this Qur’an easy in your language, for them to understand.
तो हम ने इस क़ुरआन को तुम्हारी ज़बान में आसान किया कि वह समझें
To hum ne is Qur’an ko tumhari zabaan mein aasan kiya ke woh samjhen
(ف65)یعنی عربی میں ۔(ف66)اور نصیحت قبول کریں اور ایمان لائیں ، لیکن لائیں گے نہیں ۔
فَارۡتَقِبۡ اِنَّهُمۡ مُّرۡتَقِبُوۡنَ ﴿59﴾
تو تم انتظار کرو (ف٦۷) وہ بھی کسی انتظار میں ہیں (ف٦۸)
Therefore wait (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) – they too are waiting.
तो तुम इंतज़ार करो वह भी किसी इंतज़ार में हैं
To tum intezaar karo woh bhi kisi intezaar mein hain
(ف67)ان کے ہلاک و عذاب کا ۔(ف68)تمہاری موت کے ۔ (قیل ہذہ الایۃ منسوخۃ بآیۃ السیف)
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page