ہم نے نہ بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے مگر حق کے ساتھ (ف۳) اور ایک مقرر میعاد پر (ف٤) اور کافر اس چیز سے کہ ڈرائے گئے (ف۵) منہ پھیرے ہیں (ف٦)
We did not create the heavens and the earth and all that is between them except with the truth, and for a fixed term; and the disbelievers have turned away from what they are warned!
हम ने न बनाये आसमान और ज़मीन और जो कुछ उनके दरमियान है मगर हक़ के साथ और एक मुक़र्रर मीयाद पर और काफ़िर उस चीज़ से कि डराये गये मुँह फेरे हैं
Hum ne na banaye aasman aur zameen aur jo kuchh un ke darmiyan hai magar haq ke sath aur ek muqarrar miyaad par aur kaafir us cheez se ke daraaye gaye munh phere hain
(ف3)کہ ہماری قدرت ووحدانیّت پر دلالت کریں ۔(ف4)وہ مقرر میعاد روزِ قیامت ہے جس کے آجانے پر آسمان و زمین فنا ہوجائیں گے ۔(ف5)اس چیز سے مراد یا عذاب ہے یا روزِ قیامت کی وحشت یا قرآنِ پاک جو بعث و حساب کا خوف دلاتا ہے ۔(ف6)کہ اس پر ایمان نہیں لاتے ۔
تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو وہ جو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (ف۷) مجھے دکھاؤ انہوں نے زمین کا کون سا ذرہ بنایا یا آسمان میں ان کا کوئی حصہ ہے، میرے پاس لاؤ اس سے پہلی کوئی کتاب (ف۸) یا کچھ بچا کھچا علم (ف۹) اگر تم سچے ہو (ف۱۰)
Proclaim, (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “What is your opinion – regarding those whom you worship other than Allah – show me which part of the earth they have created, or do they own any portion of the heavens? Bring to me a Book preceding this (Qur’an), or some remnants of knowledge, if you are truthful.”
तुम फ़रमाओ भला बताओ तो वह जो तुम अल्लाह के सिवा पूजते हो मुझे दिखाओ उन्होंने ज़मीन का कौन सा ज़र्रा बनाया या आसमान में उनका कोई हिस्सा है, मेरे पास लाओ उस से पहली कोई किताब या कुछ बचा खुचा इल्म अगर तुम सच्चे हो
Tum farmao bhala batao to woh jo tum Allah ke siwa poojte ho mujhe dikhao unhon ne zameen ka kaun sa zarra banaya ya aasman mein un ka koi hissa hai, mere paas lao us se pehli koi kitaab ya kuchh bacha kucha ilm agar tum sachche ho
(ف7)یعنی بت جنہیں معبود ٹھہراتے ہو ۔(ف8)جو اللہ تعالٰی نے قرآن سے پہلے اتاری ہو ، مراد یہ ہے کہ یہ کتاب یعنی قرآنِ مجید توحید اور ابطالِ شرک پر ناطق ہے اور جو کتاب بھی اس سے پہلے اللہ تعالٰی کی طرف سے آئی اس میں یہی بیان ہے تم کُتُبِ ا لٰہیہ میں سے کوئی ایک کتاب تو ایسی لے آؤجس میں تمہارے دِین(بت پرستی)کی شہادت ہو ۔(ف9)پہلوں کا ۔(ف10)اپنے اس دعوے میں کہ خدا کا کوئی شریک ہے جس کی عبادت کا اس نے تمہیں حکم دیا ہے ۔
اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو اللہ کے سوا ایسوں کو پوجے (ف۱۱) جو قیامت تک اس کی نہ سنیں اور انہیں ان کی پوجا کی خبر تک نہیں (ف۱۲)
And who is more astray than one who worships those, instead of Allah, who cannot listen to their prayer until* the Day of Resurrection, and who do not even know of their worship! (Will never listen.)
और उस से बढ़ कर गुमराह कौन जो अल्लाह के सिवा ऐसों को पूजे जो क़यामत तक उसकी न सुनें और उन्हें उनकी पूजा की ख़बर तक नहीं
Aur us se barh kar gumrah kaun jo Allah ke siwa aisun ko pooje jo qayamat tak us ki na sunein aur unhein un ki pooja ki khabar tak nahin
(ف11)یعنی بتوں کو ۔(ف12)کیونکہ وہ جماد بے جان ہیں ۔
اور جب لوگوں کا حشر ہوگا وہ ان کے دشمن ہوں گے (ف۱۳) اور ان سے منکر ہوجائیں گے (ف۱٤)
And on the day when people are gathered, they will become their enemies, and will reject their worshippers. (The idols will give testimony against the polytheists.)
और जब लोगों का हश्र होगा वह उनके दुश्मन होंगे और उन से मुनकिर हो जायेंगे
Aur jab logon ka hashr hoga woh un ke dushman honge aur un se munkir ho jaayenge
(ف13)یعنی بت اپنے پجاریوں کے ۔(ف14)اور کہیں گے کہ ہم نے انہیں اپنی عبادت کی دعوت نہیں دی ، درحقیقت یہ اپنی خواہشوں کے پرستار تھے ۔
اور جب ان پر (ف۱۵) پڑھی جائیں ہماری روشن آیتیں تو کافر اپنے پاس آئے ہوئے حق کو (ف۱٦) کہتے ہیں یہ کھلا جادو ہے (ف۱۷)
And when Our clear verses are recited to them, the disbelievers say regarding the Truth that has come to them, “This is an obvious magic!”
और जब उन पर पढ़ी जायें हमारी रोशन आयतें तो काफ़िर अपने पास आये हुए हक़ को कहते हैं ये खुला जादू है
Aur jab un par padhi jaayen hamari roshan aayatein to kaafir apne paas aaye hue haq ko kehte hain ye khula jadoo hai
(ف15)یعنی اہلِ مکّہ پر ۔(ف16)یعنی قرآن شریف کو بغیر غور وفکر کئے اور اچھی طرح سنے ۔(ف17)کہ اس کے جادو ہونے میں شبہہ نہیں اور اس سے بھی بدتر بات کہتے ہیں ، جس کا آ گے ذکر ہے ۔
کیا کہتے ہیں انہوں نے اسے جی سے بنایا (ف۱۸) تم فرماؤ اگر میں نے اسے جی سے بنالیا ہوگا تو تم اللہ کے سامنے میرا کچھ اختیار نہیں رکھتے (ف۱۹) وہ خوب جانتا ہے جن باتوں میں تم مشغول ہو (ف۲۰) اور وہ کافی ہے میرے اور تمہارے درمیان گواہ، اور وہی بخشنے والا مہربان ہے (ف۲۱)
What! They dare say, “He has fabricated it”? Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “If I have fabricated it, then (I know that) you have no power to support me against Allah; He well knows the matters you are involved in; He is Sufficient as a Witness between me and you; and He only is the Oft Forgiving, the Most Merciful.”
क्या कहते हैं उन्होंने उसे जी से बनाया तुम फ़रमाओ अगर मैं ने उसे जी से बना लिया होगा तो तुम अल्लाह के सामने मेरा कुछ इख़्तियार नहीं रखते वह ख़ूब जानता है जिन बातों में तुम मशग़ूल हो और वह काफ़ी है मेरे और तुम्हारे दरमियान गवाह, और वही बख़्शने वाला मेहरबान है
Kya kehte hain unhon ne use ji se banaya? Tum farmao agar maine use ji se bana liya hoga to tum Allah ke samne mera kuchh ikhtiyar nahin rakhte, woh khoob jaanta hai jin baton mein tum mashghool ho aur woh kafi hai mere aur tumhare darmiyan gawah, aur wahi bakhshne wala mehrban hai
(ف18)یعنی سیدِ عالَم محمّد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ۔(ف19)یعنی اگر بالفرض میں دل سے بناتا اور اس کو اللہ تعالٰی کا کلام بتاتا تو وہ اللہ تعالٰی پر افتراء ہوتا اور اللہ تبارک و تعالٰی ایسے افتراء کرنے والے کو جلد عقوبت میں گرفتار کرتا ہے ، تمہیں تو یہ قدرت نہیں کہ تم اس کی عقوبت سے بچاسکو یا اس کے عذاب کو دفع کرسکو تو کس طرح ہوسکتا ہے کہ میں تمہاری وجہ سے اللہ تعالٰی پر افتراء کرتا ۔(ف20)اور جو کچھ قرآنِ پاک کی نسبت کہتے ہو ۔(ف21)یعنی اگر تم کفر سے توبہ کرکے ایمان لاؤ تو اللہ تعالٰی تمہاری مغفرت فرمائے گا ، اور تم پر رحمت کرے گا ۔
تم فرماؤ میں کوئی انوکھا رسول نہیں (ف۲۲) اور میں نہیں جانتا میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا (ف۲۳) میں تو اسی کا تابع ہوں جو مجھے وحی ہوتی ہے (ف۲٤) اور میں نہیں مگر صاف ڈر سنانے والا،
Say, “I am not something new* among the Noble Messengers, nor do I know (on my own) what will happen to me** or with you; I only follow that which is divinely revealed to me, and I am purely a Herald of clear warning. (* I am like the earlier ones. ** My knowledge comes due to divine revelations.)
तुम फ़रमाओ मैं कोई अनोखा रसूल नहीं और मैं नहीं जानता मेरे साथ क्या क्या किया जायेगा और तुम्हारे साथ क्या मैं तो उसी का ताबे हूँ जो मुझे वही होती है और मैं नहीं मगर साफ़ डर सुनाने वाला,
Tum farmao main koi anokha rasool nahin aur main nahin jaanta mere sath kya kya kiya jaayega aur tumhare sath kya, main to usi ka taabe hoon jo mujhe wahi hoti hai aur main nahin magar saaf dar sunane wala,
(ف22)مجھ سے پہلے بھی رسول آچکے ہیں تو تم کیوں نبوّت کا انکار کرتے ہو ۔(ف23)اس کے معنی میں مفسّرین کی چند قول ہیں ، ایک تو یہ کہ قیامت میں جو میرے اور تمہارے ساتھ کیا جائے گا ؟ وہ مجھے معلوم نہیں ، یہ معنی ہوں تو یہ آیت منسوخ ہے ، مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو مشرک خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ لات و عزّٰی کی قَسم اللہ تعالٰی کے نزدیک ہمارا اور محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کا یکساں حال ہے ، انہیں ہم پر کچھ بھی فضیلت نہیں ، اگر یہ قرآن انکا اپنا بنایا ہوا نہ ہوتا تو ان کا بھیجنے والا انہیں ضرور خبر دیتا کہ ان کے ساتھ کیا کرے گا تو اللہ تعالٰی نے آیت ' لِیَغْفِرَلَکَ اللہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ 'نازل فرمائی ، صحابہ نے عرض کیا یا نبی اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حضور کو مبارک ہو آپ کو تو معلوم ہوگیا کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جائے گا ، یہ انتظار ہے کہ ہمارے ساتھ کیا کرے گا ، اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی ' لِیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ' اور یہ آیت نازل ہوئی ' بَشِّرِالْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَھُمْ مِّنَ اﷲِ فَضْلاً کَبِیْراً ' تو اللہ تعالٰی نے بیان فرما دیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ کیا کرے گا اور مومنین کے ساتھ کیا ، دوسرا قول آیت کی تفسیر میں یہ ہے کہ آخرت کا حال تو حضور کو اپنا بھی معلوم ہے ، مومنین کا بھی ، مکذّبین کا بھی ، معنٰی یہ ہیں کہ دنیا میں کیا کیا جائے گا ؟ یہ معلوم نہیں ، اگر یہ معنٰی لئے جائیں تو بھی آیت منسوخ ہے ، اللہ تعالٰی نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو یہ بھی بتادیا ' لِیُظْہِرَہ عَلیَ الدِّیْنِ کُلِّہٖ ' اور ' مَاکَانَ اللہُ لِیُعَذِّبَھُمْ وَاَنْتَ فِیْھِمْ'بہرحال اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو حضور کے ساتھ اور حضور کی امّت کے ساتھ پیش آنے والے امور پر مطلع فرمادیا خواہ وہ دنیا کے ہوں یا آخرت کے اور اگر درایت بمعنٰی ادراک بالقیاس یعنی عقل سے جاننے کے معنٰی میں لیا جائے تو مضمون اور بھی زیادہ صاف ہے اور آیت کا اس کے بعد والا جملہ اس کا مؤیِّد ہے ، علامہ نیشا پوری نے اس آیت کے تحت میں فرمایا کہ اس میں نفی اپنی ذات سے جاننے کی ہے ، من جہت الوحی جاننے کی نفی نہیں ۔(ف24)یعنی میں جو کچھ جانتا ہوں اللہ تعالٰی کی تعلیم سے جانتا ہوں ۔
تم فرماؤ بھلا دیکھو تو اگر وہ قرآن اللہ کے پاس سے ہو اور تم نے اس کا انکار کیا اور بنی اسرائیل کا ایک گواہ (ف۲۵) اس پر گواہی دے چکا (ف۲٦) تو وہ ایمان لایا اور تم نے تکبر کیا (ف۲۷) بیشک اللہ راہ نہیں دیتا ظالموں کو،
Say, “What is your opinion – if the Qur’an is from Allah and you have rejected faith in it, and a witness among the Descendants of Israel has already testified upon this and accepted faith, while you became arrogant? Indeed Allah does not guide the unjust.”
तुम फ़रमाओ भला देखो तो अगर वह कुरआन अल्लाह के पास से हो और तुम ने उसका इंकार किया और बनी इस्राईल का एक गवाह उस पर गवाही दे चुका तो वह ईमान लाया और तुम ने तकब्बुर किया बेशक अल्लाह राह नहीं देता ज़ालिमों को,
Tum farmao bhala dekho to agar woh Quran Allah ke paas se ho aur tum ne us ka inkaar kiya aur Bani Israeel ka ek gawah us par gawahi de chuka to woh imaan laya aur tum ne takabbur kiya, beshak Allah raah nahin deta zaalimoon ko,
(ف25)وہ حضرت عبداللہ بن سلام ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لائے اور آپ کی صحتِ نبوّت کی شہادت دی ۔(ف26)کہ وہ قرآن اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے ۔(ف27)اور ایمان سے محروم رہے تو اس کا نتیجہ کیا ہونا ہے ۔
اور کافروں نے مسلمانوں کو کہا اگر اس میں (ف۲۸) کچھ بھلائی ہو تو یہ (ف۲۹) ہم سے آگے اس تک نہ پہنچ جاتے (ف۳۰) اور جب انہیں اس کی ہدایت نہ ہوئی تو اب (ف۳۱) کہیں گے کہ یہ پرانا بہتان ہے،
And the disbelievers said regarding the Muslims, “If there were any good in it, the Muslims would not have surpassed us in achieving it!”; and since they did not receive guidance with it, they will now say, “This is an old slander.”
और काफ़िरों ने मुसलमानों को कहा अगर इस में कुछ भलाई हो तो ये हम से आगे इस तक न पहुँच जाते और जब उन्हें इसकी हिदायत न हुई तो अब कहेंगे कि ये पुराना बहुतान है,
Aur kaafiron ne musalmanon ko kaha agar is mein kuchh bhalai hoti to ye hum se aage is tak na pahunch jaate aur jab unhein us ki hidaayat na hui to ab kahenge ki ye purana buhtaan hai,
(ف28)یعنی دِینِ محمّد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں ۔(ف29)غریب لوگ ۔(ف30)شانِ نزول : یہ آیت مشرکینِ مکّہ کے حق میں نازل ہوئی جو کہتے تھے کہ اگر دِینِ محمّدی حق ہوتا تو فلاں و فلاں اس کو ہم سے پہلے کیسے قبول کرلیتے ۔(ف31)عناد سے قرآن شریف کی نسبت ۔
اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب (ف۳۲) سے پیشوا اور مہربانی، اور یہ کتاب ہے تصدیق فرماتی (ف۳۳) عربی زبان میں کہ ظالموں کو ڈر سنائے ، اور نیکوں کو بشارت،
And whereas before this exists the Book of Moosa, a guide and a mercy; and this is a Book giving testimony, in the Arabic language, to warn the unjust; and to give glad tidings to the virtuous.
और उस से पहले मूसा की किताब से पेशवा और मेहरबानी, और ये किताब है तस्दीक़ फ़रमाती अरबी ज़बान में कि ज़ालिमों को डर सुनाये, और नेक़ों को बशारत,
Aur us se pehle Moosa ki kitaab se peshwa aur mehrbaani, aur ye kitaab hai tasdeeq farmaati Arabi zaban mein ke zaalimoon ko dar sunaye, aur nekon ko bashaarat,
اور ہم نے آدمی کو حکم کیا اپنے ماں باپ سے بھلائی کرے، اس کی ماں نے اسے پیٹ میں رکھا تکلیف سے اور جنا اس کو تکلیف سے، اور اسے اٹھائے پھرنا اور اس کا دودھ چھڑانا تیس مہینے میں ہے (ف۳۷) یہاں تک کہ جب اپنے زور کو پہنچا (ف۳۸) اور چالیس برس کا ہوا (ف۳۹) عرض کی اے میرے رب! میرے دل میں ڈال کہ میں تیری نعمت کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کی (ف٤۰) اور میں وہ کام کروں جو تجھے پسند آئے (ف٤۱) اور میرے لیے میری اولاد میں صلاح (نیکی) رکھ (ف٤۲) میں تیری طرف رجوع لایا (ف٤۳) اور میں مسلمان ہوں (ف٤٤)
And We have commanded man to be good towards parents; his mother bore him with hardship, and delivered him with hardship; and carrying him and weaning him is for thirty months; until when he* reached maturity and became forty years of age, he said, “My Lord! Inspire me to be thankful for the favours you bestowed upon me and my parents, and that I may perform the deeds pleasing to You, and keep merit among my offspring; I have inclined towards you and I am a Muslim.” (* This verse was revealed concerning S. Abu Bakr – the first caliph, R. A. A)
और हम ने आदमी को हुक्म किया अपने माँ बाप से भलाई करे, उसकी माँ ने उसे पेट में रखा तक्लीफ़ से और जना उसको तक्लीफ़ से, और उसे उठाये फिरना और उसका दूध छुड़ाना तीस महीने में है यहाँ तक कि जब अपने ज़ोर को पहुँचा और चालिस बरस का हुआ अर्ज़ की ऐ मेरे रब! मेरे दिल में डाल कि मैं तेरी नेमत का शुक्र करूँ जो तू ने मुझ पर और मेरे माँ बाप पर की और मैं वह काम करूँ जो तुझे पसन्द आये और मेरे लिये मेरी औलाद में सलाह (नेकी) रख मैं तेरी तरफ़ रुजू लाया और मैं मुसलमान हूँ
Aur hum ne aadmi ko hukm kiya apne maa baap se bhalai kare, us ki maa ne use pait mein rakha takleef se aur jana us ko takleef se, aur use uthaye phirna aur us ka doodh chhudana tees mahine mein hai yahan tak ke jab apne zor ko pohoncha aur chalis baras ka hua arz ki “ai mere Rab! mere dil mein daal ke main teri ne’mat ka shukr karoon jo tu ne mujh par aur mere maa baap par ki aur main woh kaam karoon jo tujhe pasand aaye aur mere liye meri aulaad mein salah (neki) rakh, main teri taraf rujoo laaya aur main musalman hoon”
(ف37)مسئلہ :اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ اقل مدّتِ حمل چھ ماہ ہے کیونکہ جب دودھ چھڑانے کی مدّت دو سال ہوئی جیسا کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا ' حَوْ لَیْنِ کَامِلَیْنِ' تو حمل کے لئے چھ ماہ باقی رہے ، یہی قول ہے امام ابویوسف و امام محمّد رحمہما اللہ تعالٰی کا اور حضرت امام صاحب رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک اس آیت سے رضاع کی مدّت ڈھائی سال ثابت ہوتی ہے ۔ مسئلہ کی تفاصیل مع دلائل کُتُبِ اصول میں مذکور ہیں ۔(ف38)اور عقل وقوّت مستحکم ہوئی اور یہ بات تیس سے چالیس سال تک کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ۔(ف39)یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حق میں نازل ہوئی ، آپ کی عمر سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے دو سال کم تھی ، جب حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی عمر اٹھارہ سال کی ہوئی تو آپ نے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صحبت اختیار کی ، اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عمر شریف بیس سال کی تھی ، حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی ہمراہی میں بغرضِ تجارت ملکِ شام کا سفر کیا ، ایک منزل پر ٹھہرے ، وہاں ایک بیری کا درخت تھا ، حضور سیدِ عالَم علیہ الصٰلوۃوالسلام اس کے سایہ میں تشریف فرما ہوئے ، قریب ہی ایک راہب رہتا تھا ، حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ اس کے پاس چلے گئے ، راہب نے آپ سے کہا یہ کون صاحب ہیں جو اس بیری کے سایہ میں جلوہ فرما ہیں ، حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ یہ محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)ا بنِ عبداللہ ہیں ، عبدالمطلب کے پوتے ، راہب نے کہا خدا کی قَسم یہ نبی ہیں ، اس بیری کے سایہ میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بعد سے آج تک ان کے سوا کوئی نہیں بیٹھا ، یہی نبی آخرُ الزّماں ہیں ، راہب کی یہ بات حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دل میں اثر کر گئی اور نبوّت کا یقین آپ کے دل میں جم گیا اور آپ نے صحبت شریف کی ملازمت اختیار کی ، سفر و حضر میں آپ سے جدا نہ ہوتے ، جب سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عمر شریف چالیس سال کی ہوئی اور اللہ تعالٰی نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اپنی نبوّت و رسالت کے ساتھ سرفراز فرمایا تو حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ آپ پر ایمان لائے اس وقت حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی عمر اڑتیس سال کی تھی ، جب حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی عمر چالیس سال کی ہوئی تو انہوں نے اللہ تعالٰی سے یہ دعا کی ۔(ف40)کہ ہم سب کو ہدایت فرمائی اور اسلام سے مشرف کیا ، حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے والد کا نام ابوقحافہ اور والدہ کا نام امّ الخیر ہے ۔(ف41)آپ کی یہ دعا بھی مستجاب ہوئی اور اللہ تعالٰی نے آپ کو حسنِ عمل کی وہ دولت عطا فرمائی کہ تمام امّت کے اعمال آپ کے ایک عمل کے برابر نہیں ہوسکتے ، آپ کی نیکیوں میں سے ایک یہ ہے کہ نو مومن جو ایمان کی وجہ سے سخت ایذاؤں اور تکلیفوں میں مبتلا تھے ان کو آپ نے آزاد کیا ، انہیں میں سے ہیں حضرت بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ اور آپ نے یہ دعا کی ۔(ف42)یہ دعا بھی مستجاب ہوئی ، اللہ تعالٰی نے آپ کی اولاد میں صلاح رکھی ، آپ کی تمام اولاد مومن ہے اور ان میں حضرت امّ المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا مرتبہ کس قدر بلند و بالا ہے کہ تمام عورتوں پر اللہ تعالٰی نے انہیں فضیلت دی ہے ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے والدین بھی مسلمان اور آپ کے صاحبزادے محمّد اور عبداللہ اور عبدالرحمٰن اور آپ کی صاحبزادیاں حضرت عائشہ اور حضرت اسماء اور آپ کے پوتے محمّد بن عبدالرحمٰن یہ سب مومن اور سب شرفِ صحابیّت سے مشرف صحابہ ہیں ، آپ کے سوا کوئی ایسا نہیں ہے جس کو یہ فضیلت حاصل ہو کہ اس کے والدین بھی صحابی ہوں ، خود بھی صحابی ، اولاد بھی صحابی ، پوتے بھی صحابی ، چارپشتیں شرفِ صحابیّت سے مشرّف ۔(ف43)ہر امر میں جس میں تیری رضا ہو ۔(ف44)دل سے بھی اور زبان سے بھی ۔
یہ ہیں وہ جن کی نیکیاں ہم قبول فرمائیں گے (ف٤۵) اور ان کی تقصیروں سے درگزر فرمائیں گے جنت والوں میں، سچا وعدہ جو انہیں دیا جاتا تھا (ف٤٦)
These are the ones whose good deeds We will accept, and overlook their shortfalls – among the People of Paradise; a true promise which is being given to them.
ये हैं वह जिनकी नेक़ियाँ हम क़बूल फ़रमायेंगे और उनकी तक़सीरों से दरगुज़र फ़रमायेंगे जन्नत वालों में, सच्चा वादा जो उन्हें दिया जाता था
Ye hain woh jin ki nekian hum qabool farmaayenge aur un ki taqseerun se darguzar farmaayenge jannat walon mein, sachcha wada jo unhein diya jaata tha
(ف45)ان پر ثواب دیں گے ۔(ف46)دنیا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زبان مبارک سے ۔
اور وہ جس نے اپنے ماں باپ سے کہا (ف٤۷) اُف تم سے دل پک گیا (بیزار ہے) کیا مجھے یہ وعدہ دیتے ہو کہ پھر زندہ کیا جاؤں گا حالانکہ مجھ پر سے پہلے سنگتیں گزر چکیں (ف٤۸) اور وہ دونوں (ف٤۹) اللہ سے فریاد کرتے ہیں تیری خرابی ہو ایمان لا، بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے (ف۵۰) تو کہتا ہے یہ تو نہیں مگر اگلوں کی کہانیاں
And the one who said to his parents, “Uff – I am fed up with both of you! What! You promise me that I will be raised again whereas generations have passed away before me?” And they both seek Allah’s help and say to him, “May you be ruined, accept faith! Indeed Allah’s promise is true”; he therefore answers, “This is nothing except stories of former people.”
और वह जिसने अपने माँ बाप से कहा उफ़ तुम से दिल पक गया (बेज़ार है) क्या मुझे ये वादा देते हो कि फिर ज़िन्दा किया जाऊँगा हालाँकि मुझ पर से पहले संगतें गुज़र चुकीं और वह दोनों अल्लाह से फ़रियाद करते हैं तेरी ख़राबी हो ईमान ला, बेशक अल्लाह का वादा सच्चा है तो कहता है ये तो नहीं मगर अगलों की कहानियाँ
Aur woh jis ne apne maa baap se kaha “uff tum se dil pak gaya (bezaar hai) kya mujhe ye wada dete ho ke phir zinda kiya jaaunga” halanke mujh par se pehle sangatein guzar chuki aur woh dono Allah se faryaad karte hain “teri kharabi ho imaan la, beshak Allah ka wada sachcha hai” to kehta hai “ye to nahin magar aglon ki kahaniyan”
(ف47)مراد اس سے کوئی خاص شخص نہیں ہے بلکہ ہر کافر جو بعث کا منکِر ہو اور والدین کا نافرمان اور اس کے والدین اس کو دِینِ حق کی دعوت دیتے ہوں اور وہ انکار کرتا ہو ۔(ف48)ان میں سے کوئی مر کر زندہ نہ ہوا ۔(ف49)ماں باپ ۔(ف50)مردے زندہ فرمانے کا ۔
اور ہر ایک کے لیے (ف۵۲) اپنے اپنے عمل کے درجے ہیں (ف۵۳) اور تاکہ اللہ ان کے کام انہیں پورے بھردے (ف۵٤)
And for all persons are ranks according to their deeds; and so that He may repay them in full for their deeds, and they will not be wronged.
और हर एक के लिये अपने अपने अमल के दर्ज़े हैं और ताकि अल्लाह उनके काम उन्हें पूरे भर दे
Aur har ek ke liye apne apne amal ke darje hain aur taake Allah un ke kaam unhein poore bhar de
(ف52)مومن ہو یا کافر ۔(ف53)یعنی منازل و مراتب ہیں ، اللہ تعالٰی کے نزدیک روزِ قیامت جنّت کے درجات بلند ہوتے چلے جاتے ہیں اور جہنّم کے درجات پست ہوتے چلے جاتے ہیں تو جن کے عمل اچھے ہوں وہ جنّت کے اونچے درجے میں ہوں گے اور جو کفر و معصیّت میں انتہا کو پہنچ گئے ہوں وہ جہنّم کے سب سے نیچے درجے میں ہوں گے ۔(ف54)یعنی مومنوں اور کافروں کو فرمانبرداری اور نافرمانی کی پوری جزا دے ۔
اور ان پر ظلم نہ ہوگا، اور جس دن کافر آگ پر پیش کیے جائیں گے، ان سے فرمایا جائے گا تم اپنے حصہ کی پاک چیزیں اپنی دنیا ہی کی زندگی میں فنا کرچکے اور انہیں برت چکے (ف۵۵) تو آج تمہیں ذلت کا عذاب بدلہ دیا جائے گا سزا اس کی کہ تم زمین میں ناحق تکبر کرتے تھے اور سزا اس کی کہ حکم عدولی کرتے تھے (ف۵٦)
And on the day when the disbelievers will be presented upon the fire; it will be said to them, “You have wasted your portion of the good things in the life of this world and enjoyed them; so this day you will be repaid with the disgraceful punishment, the recompense of your wrongfully priding yourself in the land, and because you used to disobey.”
और उन पर ज़ुल्म न होगा, और जिस दिन काफ़िर आग पर पेश किये जायेंगे, उन से फ़रमाया जायेगा तुम अपने हिस्सा की पाक चीज़ें अपनी दुनिया ही की ज़िन्दगी में फ़ना कर चुके और उन्हें बरत चुके तो आज तुम्हें ज़िल्लत का अज़ाब बदला दिया जायेगा सज़ा उसकी कि तुम ज़मीन में नाहक तकब्बुर करते थे और सज़ा उसकी कि हुक्म अदूली करते थे
Aur un par zulm na hoga, aur jis din kaafir aag par pesh kiye jaayenge, un se farmaaya jaayega “tum apne hissa ki paak cheezen apni duniya hi ki zindagi mein fana kar chuke aur unhein barat chuke to aaj tumhein zillat ka azaab badla diya jaayega, saza us ki ke tum zameen mein nahaq takabbur karte the aur saza us ki ke hukm adooli karte the”
(ف55)یعنی لذّت و عیش جو تمہیں پانا تھا وہ سب دنیا میں تم نے ختم کردیا ، اب تمہارے لئے آخرت میں کچھ بھی باقی نہ رہا ۔ اور بعض مفسّرین کا قول ہے کہ طیّبات سے قُوائے جسمانیہ اور جوانی مراد ہے اور معنٰی یہ ہیں کہ تم نے اپنی جوانی اور اپنی قوّتوں کو دنیا کے اندر کفر و معصیّت میں خرچ کردیا۔(ف56)اس آیت میں اللہ تعالٰی نے دنیوی لذّات اختیارکرنے پر کفّار کو توبیخ فرمائی تو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور حضور کے اصحاب نے لذّاتِ دنیویہ سے کنارہ کشی اختیار فرمائی ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وفات تک حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اہلِ بیت نے کبھی جَو کی روٹی بھی دو روز بَرابر نہ کھائی ، یہ بھی حدیث میں ہے کہ پورا پور امہینہ گزر جاتا تھا دولت سرائے اقدس میں آ گ نہ جلتی تھی ، چند کھجوروں اورپانی پر گزر کی جاتی تھی ، حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے آپ فرماتے تھے کہ میں چاہتا تو تم سے اچھا کھانا کھاتا اور تم سے بہتر لباس پہنتا لیکن میں اپنا عیش و راحت اپنی آخر ت کے لئے باقی رکھنا چاہتا ہوں ۔
اور یاد کرو عاد کے ہم قوم (ف۵۷) کو جب اس نے ان کو سرزمین احقاف میں ڈرایا (ف۵۸) اور بیشک اس سے پہلے ڈر سنانے والے گزر چکے اور اس کے بعد آئے کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پُوجو، بیشک مجھے تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے،
And remember the fellowman of the tribe of A’ad; when he warned his nation in the Ahqaf* – and indeed Heralds of warning passed away before and after him – that, “Do not worship anyone except Allah; indeed I fear the punishment of a Great Day upon you. (* A country among sand dunes.)
और याद करो आद के हम क़ौम को जब उस ने उनको सरज़मीन-ए-अहक़ाफ़ में डराया और बेशक उस से पहले डर सुनाने वाले गुज़र चुके और उसके बाद आये कि अल्लाह के सिवा किसी को न पूजो, बेशक मुझे तुम पर एक बड़े दिन के अज़ाब का अन्देशा है,
Aur yaad karo Aad ke ham qawm ko jab us ne un ko sarzameen-e-Ahqaaf mein daraya aur beshak us se pehle dar sunane wale guzar chuke aur us ke baad aaye ke Allah ke siwa kisi ko na poojo, beshak mujhe tum par ek bade din ke azaab ka andesha hai,
(ف57)حضرت ہود علیہ السلام ۔(ف58)شرک سے ۔ اور احقاف ایک ریگستانی وادی ہے جہاں قومِ عاد کے لوگ رہتے تھے ۔
اس نے فرمایا (ف٦۱) اس کی خبر تو اللہ ہی کے پاس ہے (ف٦۲) میں تو تمہیں اپنے رب کے پیام پہنچاتا ہوں ہاں میری دانست میں تم نرے جاہل لوگ ہو (ف٦۳)
He said, “Its knowledge is only with Allah; and I convey to you the messages of my Lord, but I perceive that you are an ignorant nation.”
उस ने फ़रमाया उसकी ख़बर तो अल्लाह ही के पास है मैं तो तुम्हें अपने रब के पैग़ाम पहुँचाता हूँ हाँ मेरी दानिस्त में तुम निरे जाहिल लोग हो
Us ne farmaaya “us ki khabar to Allah hi ke paas hai, main to tumhein apne Rab ke paighaam pohonchata hoon, haan meri danist mein tum nire jaahil log ho”
(ف61)یعنی ہود علیہ السلام نے ۔(ف62)کہ عذاب کب آئے گا ۔(ف63)جو عذاب میں جلدی کرتے ہو اور عذاب کو جانتے نہیں ہو کہ کیا چیز ہے ۔
پھر جب انہوں نے عذاب کو دیکھا بادل کی طرح آسمان کے کنارے میں پھیلا ہوا ان کی وادیوں کی طرف آتا
So when they saw the punishment coming towards their valleys, spread like a cloud on the horizon, they said, “That is a cloud which will shower rain upon us”; said Hud “In fact this is what you were being impatient for; a windstorm carrying a painful punishment.”
फिर जब उन्होंने अज़ाब को देखा बादल की तरह आसमान के किनारे में फैला हुआ उनकी वादियों की तरफ़ आता बोले ये बादल है कि हम पर बरसेगा बल्कि ये तो वह है जिसकी तुम जल्दी मचाते थे, एक आँधी है जिस में दर्दनाक अज़ाब,
Phir jab unhon ne azaab ko dekha baadal ki tarah aasman ke kinaare mein phaila hua un ki waadiyon ki taraf aata, bole “ye baadal hai ke hum par barsega” balki ye to woh hai jis ki tum jaldi machate the, ek aandhi hai jis mein dardnaak azaab
(ف64)اور مدّتِ دراز سے ان کی سرزمین میں بارش نہ ہوئی تھی ، اس کالے بادل کو دیکھ کر خوش ہوئے ۔(ف65)حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا ۔
ہر چیز کو تباہ کر ڈالتی ہے اپنے رب کے حکم سے (ف٦٦) تو صبح رہ گئے کہ نظر نہ آتے تھے مگر ان کے سُونے مکان، ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں مجرموں کو،
“That destroys all things by the command of its Lord” – so at morning none could be seen except their empty houses; this is the sort of punishment We mete out to the guilty.
हर चीज़ को तबाह कर डालती है अपने रब के हुक्म से तो सुबह रह गये कि नज़र न आते थे मगर उनके सूने मकान, हम ऐसी ही सज़ा देते हैं मुजरिमों को,
Har cheez ko tabah kar daalti hai apne Rab ke hukm se to subah reh gaye ke nazar na aate the magar un ke soonay makan, hum aisi hi saza dete hain mujrimoon ko,
(ف66)چنانچہ اس آندھی کے عذاب نے ان کے مَردوں ، عورتوں ، چھوٹوں ، بڑوں کو ہلاک کردیا ، ان کے اموال آسمان وز مین کے درمیان اڑتے پھرتے تھے ، چیزیں پارہ پارہ ہوگئیں ، حضر ت ہود علیہ السلام نے اپنے اور اپنے اوپر ایمان لانے والوں کے گرد ایک خط کھینچ دیا تھا ہوا ، جب اس خط کے اندر آتی تو نہایت نرم ، پاکیزہ ، فرحت انگیز ، سرد ۔ اور وہی ہَوا قوم پر شدید ، سخت ، مہلِک ، اوریہ حضرت ہود علیہ السلام کا ایک معجزۂِ عظیمہ تھا ۔
اور بیشک ہم نے انہیں وہ مقدور دیے تھے جو تم کو نہ دیے (ف٦۷) اور ان کے لیے کان اور آنکھ اور دل بنائے (ف٦۸) تو ان کے کام کان اور آنکھیں اور دل کچھ کام نہ آئے جبکہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور انہیں گھیرلیا اس عذاب نے جس کی ہنسی بناتے تھے،
And We had indeed given them the means which We have not given you, and made ears and eyes and hearts for them; so their ears and eyes and hearts did not benefit them at all because they used to deny the signs of Allah, and the punishment they used to mock at encompassed them.
और बेशक हम ने उन्हें वह मक़दूर दिये थे जो तुम को न दिये और उनके लिये कान और आँख और दिल बनाये तो उनके काम कान और आँखें और दिल कुछ काम न आये जबकि वह अल्लाह की आयतों का इंकार करते थे और उन्हें घेर लिया उस अज़ाब ने जिस की हँसी बनाते थे,
Aur beshak hum ne unhein woh maqdoor diye the jo tum ko na diye aur un ke liye kaan aur aankh aur dil banaye to un ke kaam kaan aur aankhen aur dil kuchh kaam na aaye jabke woh Allah ki aayaton ka inkaar karte the aur unhein ghere liya us azaab ne jis ki hansi banate the,
(ف67)اے اہلِ مکّہ وہ قوّت و مال اور طولِ عمر میں تم سے زیادہ تھے ۔(ف68)تاکہ دِین کے کام میں لائیں مگر انہوں نے سوائے دنیا کی طلب کے ان خدادا د نعمتوں سے دِین کا کام ہی نہیں لیا ۔
تو کیوں نہ مدد کی ان کی (ف۷۲) جن کو انہوں نے اللہ کے سوا قرب حاصل کرنے کو خدا ٹھہرا رکھا تھا (ف۷۳) بلکہ وہ ان سے گم گئے (ف۷٤) اور یہ ان کا بہتان و افتراء ہے (ف۷۵)
So why did they – the ones whom they had chosen as Gods as a means of attaining Allah’s proximity – not help them? In fact the disbelievers lost them; and this is just their slander and fabrication.
तो क्यों न मदद की उनकी जिन को उन्होंने अल्लाह के सिवा क़ुर्ब हासिल करने को ख़ुदा ठहरा रखा था बल्कि वह उन से गुम गये और ये उनका बहुतान व इफ़्तिरा है
To kyon na madad ki un ki jin ko unhon ne Allah ke siwa qurb haasil karne ko khuda thehra rakha tha balki woh un se gum gaye aur ye un ka buhtaan o iftira hai
(ف72)ان کفّار کی ان بتوں نے ۔(ف73)اور جن کی نسبت یہ کہا کرتے تھے کہ ان بتوں کے پوجنے سے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے ۔ (ف74)اور نزولِ عذاب کے وقت کام نہ آئے ۔(ف75)کہ وہ بتوں کو معبود کہتے ہیں اور بت پرستی کو قربِ الٰہی کا ذریعہ ٹھہراتے ہیں ۔
اور جبکہ ہم نے تمہاری طرف کتنے جن پھیرے (ف۷٦) کان لگا کر قرآن سنتے، پھر جب وہاں حاضر ہوئے آپس میں بولے خاموش رہو (ف۷۷) پھر جب پڑھنا ہوچکا اپنی قوم کی طرف ڈر سناتے پلٹے (ف۷۸)
And when We sent a number of jinns towards you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), listening attentively to the Qur’an; so when they presented themselves there, they said to each other, “Listen quietly!”; and when the recitation finished, they turned back to their people, giving them warning.
और जबकि हम ने तुम्हारी तरफ़ कितने जिन फेरे कान लगा कर कुरआन सुनते, फिर जब वहाँ हाज़िर हुए आपस में बोले ख़ामोश रहो फिर जब पढ़ना हो चुका अपनी क़ौम की तरफ़ डर सुनाते पलटे
Aur jabke hum ne tumhari taraf kitne jinn phere kaan laga kar Quran sunte, phir jab wahan haazir hue aapas mein bole “khamosh raho” phir jab padhna ho chuka apni qawm ki taraf dar sunate palte
(ف76)یعنی اےسیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس وقت کو یاد کیجئے جب ہم نے آپ کی طرف جنّوں کی ایک جماعت کو بھیجا ، اس جماعت کی تعداد میں اختلاف ہے ، حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ سات جن تھے جنہیں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان کی قوم کی طرف پیام رساں بنایا ۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ نو تھے علماءِ محقّقین کا اس پر اتفاق ہے کہ جن سب کے سب مکلّف ہیں ۔ اب ان جنّوں کا حال ارشاد ہوتا ہے کہ جب آپ نخلہ میں مکّہ مکرّمہ اور طائف کے درمیان مکّہ مکرّمہ کو آتے ہوئے اپنے اصحاب کے ساتھ نمازِ فجر پڑھ رہے تھے اس وقت جن ۔(ف77)تاکہ اچھی طرح حضرت کی قرأت سن لیں ۔(ف78)یعنی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لا کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حکم سے اپنی قوم کی طرف ایمان کی دعوت دینے گئے اور انہیں ایمان نہ لانے اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مخالفت سے ڈرایا ۔
بولے اے ہماری قوم ہم نے ایک کتاب سنی (ف۷۹) کہ موسیٰ کے بعد اتاری گئی (ف۸۰) اگلی کتابوں کی تصدیق فرمائی حق اور سیدھی راہ دکھائی،
They said, “O our people! We have indeed heard a Book, sent down after Moosa, which confirms the Books preceding it, and guides towards the Truth and the Straight Path.”
बोले ऐ हमारी क़ौम हम ने एक किताब सुनी कि मूसा के बाद उतारी गयी अगली किताबों की तस्दीक़ फ़रमायी हक़ और सीधी राह दिखायी,
Bole “ai hamari qawm hum ne ek kitaab suni ke Moosa ke baad utaari gayi agali kitaabon ki tasdeeq farmaayi, haq aur seedhi raah dikhayi”
(ف79)یعنی قرآن شریف ۔(ف80)عطاء نے کہا چونکہ وہ جن دِینِ یہودیّت پر تھے اس لئے انہوں نے حضرت موسٰی علیہ السلام کا ذکر کیا اور حضرتٰ علیہ السلام کی کتاب کا نام نہ لیا ۔ بعض مفسّرین نے کہا حضرت عیسٰی علیہ السلام کی کتاب کا نام نہ لینے کا باعث یہ ہے کہ اس میں صرف مواعظ ہیں ، احکام بہت ہی کم ہیں ۔
اے ہماری قوم! اللہ کے منادی (ف۸۱) کی بات مانو اور اس پر ایمان لاؤ کہ وہ تمہارے کچھ گناہ بخش دے (ف۸۲) اور تمہیں دردناک عذاب سے بچالے،
“O our people! Listen to Allah’s caller and accept faith in Him, so that He may forgive you some of your sins and save you from the painful punishment.”
ऐ हमारी क़ौम! अल्लाह के मुनादी की बात मानो और उस पर ईमान लाओ कि वह तुम्हारे कुछ गुनाह बख़्श दे और तुम्हें दर्दनाक अज़ाब से बचा ले,
“Ai hamari qawm! Allah ke munaadi ki baat maano aur us par imaan lao ke woh tumhare kuchh gunaah bakhsh de aur tumhein dardnaak azaab se bacha le”
(ف81)سیّدِ عالَم حضرت محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔(ف82)جو اسلام سے پہلے ہوئے اور جن میں حق العباد نہیں ۔
اور جو اللہ کے منادی کی بات نہ مانے وہ زمین میں قابو سے نکل کر جانے والا نہیں (ف۸۳) اور اللہ کے سامنے اس کا کوئی مددگار نہیں (ف۸٤) وہ (ف۸۵) کھلی گمراہی میں ہیں،
“And whoever does not listen to Allah’s caller cannot escape in the earth, and he has no supporters against Allah; they are in open error.”
और जो अल्लाह के मुनादी की बात न माने वह ज़मीन में क़ाबू से निकल कर जाने वाला नहीं और अल्लाह के सामने उसका कोई मददगार नहीं वह खुली गुमराही में हैं,
Aur jo Allah ke munaadi ki baat na maane woh zameen mein qaabu se nikal kar jaane wala nahin aur Allah ke samne us ka koi madadgaar nahin, woh khuli gumraahi mein hain,
(ف83)اللہ تعالٰی سے کہیں بھاگ نہیں سکتا اور اس کے عذاب سے بچ نہیں سکتا ۔(ف84)جو اسے عذاب سے بچاسکے ۔(ف85)جو اللہ تعالٰی کے منادی حضرت محمّد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بات نہ مانیں ۔
کیا انہوں نے (ف۸٦) نہ جانا کہ وہ اللہ جس نے آسمان اور زمین بنائے اور ان کے بنانے میں نہ تھکا قادر ہے کہ مردے جِلائے، کیوں نہیں بیشک وہ سب کچھ کرسکتا ہے
Have they not realised that Allah, Who did not tire in creating the heavens and the earth and in creating them, is Able to revive the dead? Surely yes, why not? Indeed He is Able to do all things.
क्या उन्होंने न जाना कि वह अल्लाह जिसने आसमान और ज़मीन बनाये और उनके बनाने में न थका क़ादिर है कि मुर्दे जिलाये, क्यों नहीं बेशक वह सब कुछ कर सकता है,
Kya unhon ne na jaana ke woh Allah jis ne aasman aur zameen banaye aur un ke banane mein na thaka, qadir hai ke murde jilaaye, kyon nahin beshak woh sab kuchh kar sakta hai,
اور جس دن کافر آگ پر پیش کیے جائیں گے، ان سے فرمایا جائے گا کیا یہ حق نہیں کہیں گے کیوں نہیں ہمارے رب کی قسم، فرمایا جائے گا تو عذاب چکھو بدلہ اپنے کفر کا (ف۸۷)
And on the day when the disbelievers are presented upon the fire; it will be said, “Is this not a reality?” They will answer, “By oath of our Lord, surely yes, why not?”; it will be said, “Therefore taste the punishment, the recompense of your disbelief.”
और जिस दिन काफ़िर आग पर पेश किये जायेंगे, उन से फ़रमाया जायेगा क्या ये हक़ नहीं कहेंगे क्यों नहीं हमारे रब की क़सम, फ़रमाया जायेगा तो अज़ाब चखो बदला अपने कुफ़्र का
Aur jis din kaafir aag par pesh kiye jaayenge, un se farmaaya jaayega “kya ye haq nahin” kahenge “kyon nahin hamare Rab ki qasam”, farmaaya jaayega “to azaab chakho badla apne kufr ka”
(ف87)جس کے تم دنیا میں مرتکب ہوئے تھے ۔ اس کے بعد اللہ تعالٰی اپنے حبیبِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے خطاب فرماتا ہے ۔
تو تم صبر کرو جیسا ہمت والے رسولوں نے صبر کیا (ف۸۸) اور ان کے لیے جلدی نہ کرو (ف۸۹) گویا وہ جس دن دیکھیں گے (ف۹۰) جو انہیں وعدہ دیا جاتا ہے (ف۹۱) دنیا میں نہ ٹھہرے تھے مگر دن کی ایک گھڑی بھر یہ پہنچانا ہے (ف۹۲) تو کون ہلاک کیے جائیں گے مگر بےحکم لوگ (ف۹۳)
Therefore patiently endure (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) like the courageous Noble Messengers had endured, and do not be impatient for them; on the day when they see what they are promised, it will be as if they had not stayed on earth except part of a day; this is to be conveyed; will anyone be destroyed, except the disobedient?
तो तुम सब्र करो जैसा हिम्मत वाले रसूलों ने सब्र किया और उनके लिये जल्दी न करो गोया वह जिस दिन देखेंगे जो उन्हें वादा दिया जाता है दुनिया में न ठहरे थे मगर दिन की एक घड़ी भर ये पहुँचाना है तो कौन हलाक किये जायेंगे मगर बे हुक्म लोग
To tum sabr karo jaisa himmat wale rasoolon ne sabr kiya aur un ke liye jaldi na karo, goya woh jis din dekhenge jo unhein wada diya jaata hai, duniya mein na thahre the magar din ki ek ghadi bhar, ye pahunchana hai, to kaun halaak kiye jaayenge magar behukm log.
(ف88)اپنی قوم کی ایذا پر ۔(ف89)عذاب طلب کرنے میں ، کیونکہ عذاب ان پر ضرور نازل ہونے والاہے ۔(ف90)عذابِ آخرت کو ۔(ف91) تو اس کی درازی اور دوام کے سامنے دنیا میں ٹھہرنے کی مدّت کو بہت قلیل سمجھیں گے اور خیال کریں گے کہ ۔(ف92)یعنی یہ قرآن اور وہ ہدایت و بیّنات جو اس میں ہیں یہ اللہ تعالٰی کی طرف سے تبلیغ ہے ۔(ف93)جو ایمان و طاعت سے خارج ہیں ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page