اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) (ف۲) اللہ کا یوں ہی خوف رکھنا اور کافروں اور منافقوں کی نہ سننا (ف۳) بیشک اللہ علم و حکمت والا ہے،
(ف2)یعنی ہماری طرف سے خبریں دینے والے ، ہمارے اسرار کے امین ، ہمارا خطاب ہمارے پیارے بندوں کو پہنچانے والے ، اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو' یٰآ اَیُّہَا النَّبِیُّ ' کے ساتھ خِطاب فرمایا جس کے یہ معنٰی ہیں جو ذکر کئے گئے نامِ پاک کے ساتھ ، یَا مُحَمَّدُ ذکر فرما کر خِطاب نہ کیا جیسا کہ دوسرے انبیاء علیہم السلام کو خِطاب فرمایا ہے اس سے مقصود آپ کی تکریم اور آپ کا احترام اور آپ کی فضیلت کا ظاہر کرنا ہے ۔ (مدارک)(ف3)شانِ نُزول : ابوسفیان بن حرب اور عکرمہ بن ابی جہل اور ابوالاعور سلمی جنگِ اُحد کے بعد مدینہ طیّبہ میں آئے اور منافقین کے سردار عبداللہ بن اُ بَی بن سلول کے یہاں مقیم ہوئے ، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے گفتگو کے لئے امان حاصل کر کے انہوں نے یہ کہا کہ آپ لات ، عزّٰی ، منات وغیرہ بُتوں کو جنہیں مشرکین اپنا معبود سمجھتے ہیں کچھ نہ فرمائیے اور یہ فرما دیجئے کہ ان کی شفاعت ان کے پجاریوں کے لئے ہے اور ہم لوگ آپ کو اور آپ کے ربّ کو کچھ نہ کہیں گے ، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ان کی یہ گفتگو بہت ناگوار ہوئی اور مسلمانوں نے ان کے قتل کا ارادہ کیا ، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے قتل کی اجازت نہ دی اور فرمایا کہ میں انہیں امان دے چکا ہوں اس لئے قتل نہ کرو ، مدینہ شریف سے نکال دو چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے نکال دیا ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اس میں خِطاب تو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ ہے اور مقصود ہے آپ کی اُمّت سے فرمانا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے امان دی تو تم اس کے پابند رہو اور نقضِ عہد کا ارادہ نہ کرو اور کُفّار و منافقین کی خلافِ شرع بات نہ مانو ۔
اللہ نے کسی آدمی کے اندر دو دل نہ رکھے (ف٤) اور تمہاری ان عورتوں کو جنہیں تم کے برابر کہہ دو تمہاری ماں نہ بنایا (ف۵) اور نہ تمہارے لے پالکوں کو تمہارا بیٹا بنایا (ف٦) یہ تمہارے اپنے منہ کا کہنا ہے (ف۷) اور اللہ حق فرماتا ہے اور وہی راہ دکھاتا ہے (ف۸)
(ف4)کہ ایک میں اللہ کا خوف ہو دوسرے میں کسی اور کا ، جب ایک ہی دل ہے تو اللہ ہی سے ڈرے ۔شانِ نُزول : ابو معمر حمید فہری کی یاد داشت اچھی تھی جو سنتا تھا یاد کر لیتا تھا ، قریش نے کہا کہ اس کے دو دل ہیں جبھی تو اس کا حافظہ اتنا قوی ہے وہ خود ہی کہتا تھاکہ اس کے دو دل ہیں اور ہر ایک میں حضرت سیدِ (عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) سے زیادہ دانش ہے ۔ جب بدر میں مشرک بھاگے تو ابو معمر اس شان سے بھاگا کہ ایک جوتی ہاتھ میں ایک پاؤں میں ، ابوسفیان سے ملاقات ہوئی تو ابوسفیان نے پوچھا کیا حال ہے ؟ کہا لوگ بھاگ گئے تو ابوسفیان نے پوچھا ایک جوتی ہاتھ میں ایک پاؤں میں کیوں ہے ؟ کہا اس کی مجھے خبر ہی نہیں میں تو یہی سمجھ رہا ہوں کہ دونوں جوتیاں پاؤں میں ہیں ۔ اس وقت قریش کو معلوم ہوا کہ دو ۲ دل ہوتے تو جوتی جو ہاتھ میں لئے ہوئے تھا بھول نہ جاتا اور ایک قول یہ بھی ہے کہ منافقین سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لئے دو ۲ دل بتاتے تھے اور کہتے تھے کہ ان کا ایک دل ہمارے ساتھ ہے اور ایک اپنے اصحاب کے ساتھ نیز زمانۂ جاہلیت میں جب کوئی اپنی عورت سے ظِہار کرتا تھا تو وہ لوگ اس ظِہار کو طلاق کہتے اور اس عورت کو اس کی ماں قرار دیتے تھے اور جب کوئی شخص کسی کو بیٹا کہہ دیتا تھا تو اس کو حقیقی بیٹا قرار دے کر شریکِ میراث ٹھہراتے اور اس کی زوجہ کو بیٹا کہنے والے کے لئے صُلبی بیٹے کی بی بی کی طرح حرام جانتے ۔ ان سب کی رد میں یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف5)یعنی ظِہار سے عورت ماں کے مثل حرام نہیں ہو جاتی ۔ ظِہار : منکوحہ کو ایسی عورت سے تشبیہ دینا جو ہمیشہ کے لئے حرام ہو اور یہ تشبیہ ایسے عضو میں ہو جس کو دیکھنا اور چھونا جائز نہیں ہے مثلاً کسی نے اپنی بی بی سے یہ کہا کہ تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ یا پیٹ کے مثل ہے تو وہ مظاہر ہو گیا ۔مسئلہ : ظِہار سے نکاح باطل نہیں ہوتا لیکن کَفّارہ ادا کرنا لازم ہو جاتا ہے اور کَفّارہ ادا کرنے سے پہلے عورت سے علٰیحدہ رہنا اور اس سے تمتع نہ کرنا لازم ہے ۔مسئلہ: ظِہار کا کَفّارہ ایک غلام کا آزاد کرنا اور یہ میسّر نہ ہو تو متواتر دو مہینے کے روزے اور یہ بھی نہ ہو سکے تو ساٹھ مسکینوں کا کھلانا ہے ۔مسئلہ : کَفّارہ ادا کرنے کے بعد عورت سے قربت اور تمتُّع حلال ہو جاتا ہے ۔ (ہدایہ)(ف6)خواہ انہیں لوگ تمہارا بیٹا کہتے ہوں ۔(ف7)یعنی بی بی کو ماں کے مثل کہنا اور لے پالک کو بیٹا کہنا بے حقیقت بات ہے ، نہ بی بی ماں ہو سکتی ہے نہ دوسرے کا فر زند اپنا بیٹا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جب حضرت زینب بنتِ حجش سے نکاح کیا تو یہود و منافقین نے زبانِ طعن کھولی اور کہا کہ (حضرت) محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے بیٹے زید کی بی بی سے شادی کر لی کیونکہ پہلے حضرت زینب زید کے نکاح میں تھیں اور حضرت زید اُمُّ المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے زر خرید تھے انہوں نے حضرت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں انہیں ہبہ کر دیا ، حضور نے انہیں آزاد کر دیا تب بھی وہ اپنے باپ کے پاس نہ گئے حضور ہی کی خدمت میں رہے ، حضور ان پر شفقت و کرم فرماتے تھے اس لئے لوگ انہیں حضور کا فرزند کہنے لگے ، اس سے وہ حقیقتہً حضور کے بیٹے نہ ہو گئے اور یہود و منافقین کا طعنہ مَحض غلط اور بیجا ہو ا ۔ اللہ تعالٰی نے یہاں ان طاعنین کی تکذیب فرمائی اور انہیں جھوٹا قرار دیا ۔(ف8)حق کی لہٰذا لے پالکوں کو ان کے پالنے والوں کا بیٹا نہ ٹھہراؤ بلکہ ۔
انہیں ان کے باپ ہی کا کہہ کر پکارو (ف۹) یہ اللہ کے نزدیک زیادہ ٹھیک ہے پھر اگر تمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں (ف۱۰) تو دین میں تمہارے بھائی ہیں اور بشریت میں تمہارے چچا زاد (ف۱۱) اور تم پر اس میں کچھ گناہ نہیں جو نادانستہ تم سے صادر ہوا (ف۱۲) ہاں وہ گناہ ہے جو دل کے قصد سے کرو (ف۱۳) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
(ف9)جن سے وہ پیدا ہوئے ۔(ف10)اور اس وجہ سے تم انہیں ان کے باپوں کی طرف نسبت نہ کر سکو ۔(ف11)تو تم انہیں بھائی کہو اور جس کے لے پالک ہیں اس کا بیٹا نہ کہو ۔(ف12)ممانعت سے پہلے یا یہ معنٰی ہیں کہ اگر تم نے لے پالکوں کو خطأً بے ارادہ ان کے پرورش کرنے والوں کا بیٹا کہہ دیا یا کسی غیر کی اولاد کو مَحض زبان کی سبقت سے بیٹا کہا تو ان صورتوں میں گناہ نہیں ۔(ف13)ممانعت کے بعد ۔
یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے (ف۱٤) اور اس کی بیبیاں ان کی مائیں ہیں (ف۱۵) اور رشتہ والے اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے سے زیادہ قریب ہیں (ف۱٦) بہ نسبت اور مسلمانوں اور مہاجروں کے (ف۱۷) مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں پر احسان کرو (ف۱۸) یہ کتاب میں لکھا ہے (ف۱۹)
(ف14)دنیا و دین کے تمام امور میں اور نبی کا حکم ان پر نافذ اور نبی کی طاعت واجب اور نبی کے حکم کے مقابل نفس کی خواہش واجب الترک یا یہ معنٰی ہیں کہ نبی مومنین پر ان کی جانوں سے زیادہ رافت و رحمت اور لطف و کرم فرماتے ہیں اور نافع تر ہیں ۔ بخاری و مسلم کی حدیث ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ہر مومن کے لئے دنیا و آخرت میں سب سے زیادہ اولٰی ہوں اگر چاہو تو یہ آیت پڑھو ' اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ 'حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کی قراءت میں 'مِنْ اَنْفُسِھِمْ ' کے بعد ' وَ ھُوَ اَبُ لَّھُمْ 'بھی ہے ۔ مجاہد نے کہا کہ تمام انبیاء اپنی اُمّت کے باپ ہوتے ہیں او ر اسی رشتہ سے مسلمان آپس میں بھائی کہلاتے ہیں کہ وہ اپنے نبی کی دینی اولاد ہیں ۔(ف15)تعظیم و حرمت میں اور نکاح کے ہمیشہ کے لئے حرام ہونے میں اور اس کے علاوہ دوسرے احکام میں مثل وراثت اور پردہ وغیرہ کے ان کا وہی حکم ہے جو اجنبی عورتوں کا اور ان کی بیٹیوں کو مومنین کی بہنیں اور ان کے بھائیوں اور بہنوں کو مومنین کے ماموں خالہ نہ کہا جائے گا ۔(ف16)توارث میں ۔(ف17)مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ اُو لِی الاَرحام ایک دوسرے کے وارث ہوتے ہیں ، کوئی اجنبی دینی برادری کے ذریعہ سے وارث نہیں ہوتا ۔(ف18)اس طرح کہ جس کے لئے چاہو کچھ وصیّت کرو تو وصیّت ثُلُث مال کے قدر میں توارث پر مقدم کی جائے گی ۔ خلاصہ یہ ہے کہ اوّل مال ذوِی الفروض کو دیا جائے گا پھر عصبات کو پھر نسبی ذوِی الفروض پر رد کیا جائے گا پھر ذوِی الارحام کو دیا جاوے گا پھر مولٰی الموالاۃ کو ۔ (تفسیرِ احمدی)(ف19)یعنی لوحِ محفوظ میں ۔
اور اے محبوب! یاد کرو جب ہم نے نبیوں سے عہد لیا (ف۲۰) اور تم سے (ف۲۱) اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ ٰ اور عیسیٰ بن مریم سے اور ہم نے ان سے گاڑھا عہد لیا،
(ف20)رسالت کی تبلیغ اور دینِ حق کی دعو ت دینے کا ۔(ف21)خصوصیت کے ساتھ ۔مسئلہ : سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ذکر دوسرے انبیاء پر مقدم کرنا ان سب پر آپ کی افضلیت کے اظہار کے لئے ہے ۔
تاکہ سچوں سے (ف۲۲) ان کے سچ کا سوال کرے (ف۲۳) اور اس نے کافروں کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے،
(ف22)یعنی انبیاء سے یا ان کے تصدیق کرنے والوں سے ۔(ف23)یعنی جو انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا اور انہیں تبلیغ کی وہ دریافت فرمائے یا مومنین سے ان کی تصدیق کا سوال کر یا یہ معنٰی ہیں کہ انبیاء کو جو ان کی اُمّتوں نے جواب دیئے وہ دریافت فرمائے اور اس سوال سے مقصود کُفّار کی تذلیل و تبکیت ہے ۔
اے ایمان والو! اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو (ف۲٤) جب تم پر کچھ لشکر آئے (ف۲۵) تو ہم نے ان پر آندھی اور وہ لشکر بھیجے جو تمہیں نظر نہ آئے (ف۲٦) اور اللہ تمہارے کام دیکھتا ہے (ف۲۷)
(ف24)جو اس نے جنگِ احزاب کے دن فرمایا جس کو غزوۂ خندق کہتے ہیں جو جنگِ اُحد سے ایک سال بعد تھا جب کہ مسلمانوں کا نبیٌٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ مدینۂ طیّبہ میں محاصرہ کر لیا گیا تھا ۔(ف25)قریش اور غطفان اور یہود قُرَیظہ و نُضَیر کے ۔(ف26)یعنی ملائکہ کے لشکر ۔ غزوۂ احزاب کا مختصر بیان یہ غزوہ شوال ۴ یا ۵ ہجری میں پیش آیا جب یہودِ بنی نُضَیر کو جِلاوطن کیا گیا تو ان کے اکابر مکّہ مکرّمہ میں قریش کے پاس پہنچے اور انہیں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ جنگ کی ترغیب دلائی اور وعدہ کیا کہ ہم تمہارا ساتھ دیں گے یہاں تک کہ مسلمان نیست و نابود ہو جائیں ، ابوسفیان نے اس تحریک کی بہت قدر کی اور کہا کہ ہمیں دنیا میں وہ سب سے پیارا ہے جو (محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) کی عداوت میں ہمارا ساتھ دے پھر قریش نے ان یہودیوں سے کہا کہ تم پہلی کتاب والے ہو بتاؤ تو ہم حق پر ہیں یا محمّدِ (مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) ؟ یہود نے کہا تمہی حق پر ہو ، اس پر قریش خوش ہوئے اسی پر آیت ' اَ لَمْ تَرَ اِلیَ الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْباً مِّنَ الْکِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوْتِ ' نازل ہوئی پھر یہودی قبائلِ غطفان و قیس و غیلان وغیرہ میں گئے ، وہاں بھی یہی تحریک کی وہ سب ان کے موافق ہو گئے اس طرح انہوں نے جابجا دورے کئے اور عرب کے قبیلہ قبیلہ کو مسلمانوں کے خلاف تیار کر لیا ، جب سب لوگ تیار ہو گئے تو قبیلۂ خزاعہ کے چند لوگوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو کُفّار کی ان زبردست طیّاریوں کی اطلاع دی ، یہ اطلاع پاتے ہی حضور نے بمشورۂ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالٰی عنہ خندق کھدوانی شروع کر دی ، اس خندق میں مسلمانوں کے ساتھ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے خود بھی کام کیا ، مسلمان خندق تیار کر کے فارغ ہوئے ہی تھے کہ مشرکین بارہ ہزار کا لشکرِ گراں لے کر ان پر ٹوٹ پڑے اور مدینہ طیّبہ کا محاصرہ کر لیا ، خندق مسلمانوں کے اور ان کے درمیان حائل تھی اس کو دیکھ کر متحیّر ہوئے اور کہنے لگے کہ یہ ایسی تدبیر ہے جس سے عرب لوگ اب تک واقف نہ تھے ، اب انہوں نے مسلمانوں پر تیر اندازی شروع کی اور اس محاصرہ کو پندرہ روز یا چوبیس روز گزرے ، مسلمانوں پر خوف غالب ہوا اور وہ بہت گھبرائے اور پریشان ہوئے تو اللہ تعالٰی نے مدد فرمائی اور ان پر تیز ہوا بھیجی نہایت سرد اور اندھیری رات میں اس ہوا نے ان کے خیمے گرا دیئے ، طنابیں توڑ دیں ، کھونٹے اکھاڑ دیئے ، ہانڈیاں الٹ دیں ، آدمی زمین پر گرنے لگے اور اللہ تعالٰی نے فرشتے بھیج دیئے جنہوں نے کُفّار کو لرزا دیا ، ان کے دلوں میں دہشت ڈال دی مگر اس جنگ میں ملائکہ نے قتال نہیں کیا پھر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حذیفہ بن یمان کو خبر لینے کے لئے بھیجا وقت نہایت سرد تھا یہ ہتھیار لگا کر روانہ ہوئے ، حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روانہ ہوتے وقت ان کے چہرے اور بدن پر دستِ مبارک پھیرا جس سے ان پر سردی اثر نہ کر سکی اور یہ دشمن کے لشکر میں پہنچ گئے ، وہاں تیز ہوا چل رہی تھی اور سنگریزے اڑ اڑ کر لوگوں کے لگ رہے تھے ، آنکھوں میں گرد پڑ رہی تھی ، عجب پریشانی کا عالَم تھا ، لشکرِ کُفّار کے سردار ابوسفیان ہوا کا یہ عالَم دیکھ کر اٹھے اور انہوں نے قریش کو پکار کر کہا کہ جاسوسوں سے ہوشیار رہنا ، ہر شخص اپنے برابر والے کو دیکھ لے ، یہ اعلان ہونے کے بعد ہر ایک شخص نے اپنے برابر والے کو ٹٹولنا شروع کیا ، حضرت حذیفہ نے دانائی سے اپنے داہنے شخص کا ہاتھ پکڑ کر پوچھا تو کون ہے ؟ اس نے کہا میں فلاں بن فلاں ہوں ، اس کے بعد ابوسفیان نے کہا اے گروہِ قریش تم ٹھہرنے کے مقام پر نہیں ہو ، گھوڑے اور اونٹ ہلاک ہو چکے ، بنی قُرَیظہ اپنے عہد سے پھر گئے اور ہمیں ان کی طرف سے اندیشہ ناک خبریں پہنچی ہیں ، ہوا نے جو حال کیا ہے وہ تم دیکھ ہی رہے ہو ، بس اب یہاں سے کوچ کر دو ، میں کوچ کرتا ہوں ابوسفیان یہ کہہ کر اپنی اونٹنی پر سوار ہو گئے اور لشکر میں الرحیل الرحیل یعنی کو چ کوچ کا شور مچ گیا ، ہوا ہر چیز کو اُلٹے ڈالتی تھی مگر یہ ہوا اس لشکر سے باہر نہ تھی ، اب یہ لشکر بھاگ نکلا اور سامان کا بار کر کے لے جانا اس کو شاق ہو گیا اس لئے کثیر سامان چھوڑ گیا ۔ (جمل)(ف27)یعنی تمہارا خندق کھودنا اور نبی کر یم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی فرمانبرداری میں ثابت قدم رہنا ۔
جب کافر تم پر آئے تمہارے اوپر سے اور تمہارے نیچے سے (ف۲۸) اور جبکہ ٹھٹک کر رہ گئیں نگاہیں (ف۲۹) اور دل گلوں کے پاس آگئے (ف۳۰) اور تم اللہ پر طرح طرح کے گمان کرنے لگے امید و یاس کے (ف۳۱)
(ف28)یعنی وادی کی بالائی جانب مشرق سے قبیلۂ اسد و غطفان کے لوگ مالک بن عوف نصری وعُیَیۡنہ بن حسن فزاری کی سرکردگی میں ایک ہزار کی جمعیت لے کر اور ان کے ساتھ طلیحہ بن خویلد اسدی بنی اسد کی جمعیت لے کر اور حُیَیْ بن اخطب ، یہودِ بنی قریظہ کی جمعیت لے کر اور وادی کی زیریں جانب مغرب سے قریش اور کنانہ بَسَرکردگی ابو سفیان بن حرب ۔(ف29)اور شدّتِ رعب و ہیبت سے حیرت میں آ گئیں ۔(ف30)خوف و اضطراب انتہا کو پہنچ گیا ۔(ف31)منافق تویہ گمان کرنے لگے کہ مسلمانوں کا نام و نشان باقی نہ رہے گا ، کُفّار کی اتنی بڑی جمعیت سب کو فنا کر ڈالے گی اور مسلمانوں کو اللہ تعالٰی کی طرف سے مدد آنے اور اپنے فتحیاب ہونے کی امید تھی ۔
اور جب کہنے لگے منافق اور جن کے دلوں میں روگ تھا (ف۳۳) ہمیں اللہ و رسول نے وعدہ نہ دیا تھا مگر فریب کا (ف۳٤)
(ف33)یعنی ضعفِ اعتقاد ۔(ف34)یہ بات معتب بن قشیر نے کُفّار کے لشکر دیکھ کر کہی تھی کہ محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تو ہمیں فارس و روم کی فتح کا وعدہ دیتے ہیں اور حال یہ ہے کہ ہم میں سے کسی کی یہ مجال بھی نہیں کہ اپنے ڈیرے سے باہر نکل سکے تو یہ وعدہ نِرا دھوکا ہے ۔
اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا (ف۳۵) اے مدینہ والو! (ف۳٦) یہاں تمہارے ٹھہرنے کی جگہ نہیں (ف۳۷) تم گھروں کو واپس چلو اور ان میں سے ایک گروہ (ف۳۸) نبی سے اذن مانگتا تھا یہ کہہ کر ہمارے گھر بےحفاظت ہیں، اور وہ بےحفاظت نہ تھے، وہ تو نہ چاہتے تھے مگر بھاگنا،
(ف35)یعنی منافقین کے ایک گروہ نے ۔(ف36)یہ مقولہ منافقین کا ہے انہوں نے مدینہ طیّبہ کو یثرب کہا ۔ مسئلہ : مسلمانوں کو یثرب نہ کہنا چاہئے حدیث شریف میں مدینہ طیّبہ کو یثرب کہنے کی ممانعت آئی ہے ، حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ناگوار تھا کہ مدینہ پاک کو یثرب کہا جائے کیونکہ یثرب کے معنٰی اچھے نہیں ہیں ۔(ف37)یعنی رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لشکر میں ۔(ف38)یعنی بنی حارثہ و بنی سلمہ ۔
تم فرماؤ ہرگز تمہیں بھاگنا نفع نہ دے گا اگر موت یا قتل سے بھاگو (ف٤۱) اور جب بھی دنیا نہ برتنے دیے جاؤ گے مگر تھوڑی (ف٤۲)
(ف41)کیونکہ جو مقدر ہے وہ ضرور ہو کر رہے گا ۔(ف42)یعنی اگر وقت نہیں آیا ہے تو بھی بھاگ کر تھوڑے ہی دن جتنی عمر باقی ہے اتنے ہی دنیا کو برتو گے اور یہ ایک قلیل مدّت ہے ۔
تم فرماؤ وہ کون ہے جو اللہ کا حکم تم پر سے ٹال دے اگر وہ تمہارا برا چاہے (ف٤۳) یا تم پر مہر (رحم) فرمانا چاہے (ف٤٤) اور وہ اللہ کے سوا کوئی حامی نہ پائیں گے نہ مددگار،
(ف43)یعنی اس کو تمہار ا قتل و ہلاک منظور ہو تو اس کو کوئی دفع نہیں کر سکتا ۔(ف44)امن و عافیت عطا فرما کر ۔
بیشک اللہ جانتا ہے تمہارے ان کو جو اوروں کو جہاد سے روکتے ہیں اور اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں ہماری طرف چلے آؤ (ف٤۵) اور لڑائی میں نہیں آتے مگر تھوڑے (ف٤٦)
(ف45)اور سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو چھوڑ دو ، ان کے ساتھ جہاد میں نہ رہو اس میں جان کا خطرہ ہے ۔ شانِ نُزول : یہ آیت منافقین کے حق میں نازل ہوئی ان کے پاس یہود نے پیام بھیجا تھا کہ تم کیوں اپنی جانیں ابوسفیان کے ہاتھوں سے ہلاک کرانا چاہتے ہو ، اس کے لشکری اس مرتبہ اگر تمہیں پا گئے تو تم میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑیں گے ، ہمیں تمہارا اندیشہ ہے تم ہمارے بھائی اور ہمسایہ ہو ہمارے پاس آ جاؤ ، یہ خبر پا کر عبداللہ بن اُ بَی بن سلول منافق اور اس کے ساتھی مومنین کو ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں سے ڈرا کر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھ دینے سے روکنے لگے اور اس میں انہوں نے بہت کوشش کی لیکن جس قدر انہوں نے کوشش کی مومنین کا ثباتِ استقلال اور بڑھتا گیا ۔(ف46)ریاکاری اور دکھاوٹ کے لئے ۔
تمہاری مدد میں گئی کرتے (کمی کرتے) ہیں پھر جب ڈر کا وقت آئے تم انھیں دیکھو گے تمہاری طرف یوں نظر کرتے ہیں کہ ان کی آنکھیں گھوم رہی ہیں جیسے کسی پر موت چھائی ہو پھر جب ڈر کا وقت نکل جائے (ف٤۷) تمہیں طعنے دینے لگیں تیز زبانوں سے مال غنیمت کے لالچ میں (ف٤۸) یہ لوگ ایمان لائے ہی نہیں (ف٤۹) تو اللہ نے ان کے عمل اکارت کردیے (ف۵۰) اور یہ اللہ کو آسان ہے،
(ف47)اور امن و غنیمت حاصل ہو ۔(ف48)اور یہ کہیں ہمیں زیادہ حصّہ دو ہماری ہی وجہ سے تم غالب ہوئے ہو ۔(ف49)حقیقت میں اگر چہ انہوں نے زبانوں سے ایمان کا اظہار کیا ۔(ف50)یعنی چونکہ حقیقت میں وہ مومن نہ تھے اس لئے ان کے تمام ظاہری عمل جہاد وغیرہ سب باطل کر دیئے ۔
وہ سمجھ رہے ہیں کہ کافروں کے لشکر ابھی نہ گئے (ف۵۱) اور اگر لشکر دوبارہ آئیں تو ان کی (ف۵۲) خواہش ہوگی کہ کسی طرح گا نؤں میں نکل کر (ف۵۳) تمہاری خبریں پوچھتے (ف۵٤) اور اگر وہ تم میں رہتے جب بھی نہ لڑتے مگر تھوڑے (ف۵۵)
(ف51)یعنی منافقین اپنی بزدلی و نامردی سے ابھی تک یہ سمجھ رہے ہیں کہ کُفّارِ قریش و غطفان و یہود و غیرہ ابھی تک میدان چھوڑ کر بھاگے نہیں ہیں اگرچہ حقیقت حال یہ ہے کہ وہ بھاگ چکے ۔(ف52)یعنی منافقین کی اپنی نامردی کی باعث یہی آرزو اور ۔(ف53)مدینہ طیّبہ کے آنے جانے والوں سے ۔(ف54)کہ مسلمانوں کا کیا انجام ہوا ، کُفّار کے مقابلہ میں ان کی کیا حالت رہی ۔(ف55)ریاکاری اور عذر رکھنے کے لئے تاکہ یہ کہنے کا موقع مل جائے کہ ہم بھی تو تمہارے ساتھ جنگ میں شریک تھے ۔
بیشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے (ف۵٦) اس کے لیے کہ اللہ اور پچھلے دن کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بہت یاد کرے (ف۵۷)
(ف56)ان کا اچھی طرح اِتّباع کرو اور دینِ الٰہی کی مدد کرو اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ساتھ نہ چھوڑو اور مصائب پر صبر کرو اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سنّتوں پر چلو یہ بہتر ہے ۔(ف57)ہر موقع پر اس کا ذکر کرے خوشی میں بھی رنج میں بھی ، تنگی میں بھی فراخی میں بھی ۔
اور جب مسلمانوں نے کافروں کے لشکر دیکھے بولے یہ ہے وہ جو ہمیں وعدہ دیا تھا اللہ اور اس کے رسول نے (ف۵۸) اور سچ فرمایا اللہ اور اس کے رسول نے (ف۵۹) اور اس سے انھیں نہ بڑھا مگر ایمان اور اللہ کی رضا پر راضی ہونا
(ف58)کہ تمہیں شدّت و بَلا پہنچے گی اور تم آزمائش میں ڈالے جاؤ گے اور پہلوں کی طرح تم پر سختیاں آئیں گی اور لشکر جمع ہو ہو کر تم پر ٹوٹیں گے اور انجام کار تم غالب ہو گے اور تمہاری مدد فرمائی جائے گی جیسا کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے' اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَاْتِکُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ 'اَلآ یَۃَ اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ پچھلی نو یا دس راتوں میں لشکر تمہاری طرف آنے والے ہیں ، جب انہوں نے دیکھا کہ اس میعاد پر لشکر آ گئے تو کہا یہ ہے وہ جو ہمیں اللہ اور اس کے رسول نے وعدہ دیا تھا ۔(ف59)یعنی جو اس کے وعدے ہیں سب سچّے ہیں سب یقیناً واقع ہوں گے ، ہماری مدد بھی ہو گی ، ہمیں غلبہ بھی دیا جائے گا اور مکّہ مکرّمہ اور روم و فارس بھی فتح ہوں گے ۔
مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے سچا کردیا جو عہد اللہ سے کیا تھا (ف٦۰) تو ان میں کوئی اپنی منت پوری کرچکا (ف٦۱) اور کوئی راہ دیکھ رہا ہے (ف٦۲) اور وہ ذرا نہ بدلے (ف٦۳)
(ف60)حضرت عثمانِ غنی اور حضرت طلحہ اور حضرت سعید بن زید اور حضرت حمزہ اور حضرت مصعب وغیرہم رضی اللہ تعالٰی عنہم نے نذر کی تھی کہ وہ جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ جہاد کا موقع پائیں گے تو ثابت رہیں گے یہاں تک کہ شہید ہو جائیں ، ان کی نسبت اس آیت میں ارشاد ہوا کہ انہو ں نے اپنا وعدہ سچّا کر دیا ۔(ف61)جہاد پر ثابت رہا یہاں تک کہ شہید ہو گیا جیسے کہ حضرت حمزہ و مصعب رضی اللہ تعالٰی عنہما ۔(ف62)اور شہادت کا انتظار کر رہا ہے جیسے کہ حضرت عثمان اور حضرت طلحہ رضی اللہ تعالٰی عنہما ۔(ف63)اپنے عہد پر ویسے ہی ثابت قدم رہے شہید ہو جانے والے بھی اور شہادت کا انتظار کرنے والے بھی ، ان منافقین اور مریض القلب لوگوں پر تعریض ہے جو اپنے عہد پر قائم نہ رہے ۔
اور اللہ نے کافروں کو (ف٦٤) ان کے دلوں کی جلن کے ساتھ پلٹایا کہ کچھ بھلا نہ پایا (ف٦۵) اور اللہ نے مسلمانوں کو لڑائی کی کفایت فرمادی (ف٦٦) اور اللہ زبردست عزت والا ہے،
(ف64)یعنی قریش و غطفان وغیرہ کے لشکروں کو جن کا اوپر ذکر ہو چکا ہے ۔(ف65)ناکام و نامراد واپس ہوئے ۔(ف66)دشمن فرشتوں کی تکبیروں اور ہوا کی سختیوں سے بھاگ نکلے ۔
اور جن اہل کتاب نے ان کی مدد کی تھی (ف٦۷) انھیں ان کے قلعوں سے اتارا (ف٦۸) اور ان کے دلوں میں رعب ڈالا ان میں ایک گروہ کو تم قتل کرتے ہو (ف٦۹) اور ایک گروہ کو قید (ف۷۰)
(ف67)یعنی بنی قُرَیظہ نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مقابل قریش و غطفان وغیرہ احزاب کی مدد کی تھی ۔(ف68)اس میں غزوۂ بنی قُرَیظہ کا بیان ہے ، یہ آخِرِ ذی قعدہ ۴ ھ یا ۵ھ میں ہوا جب غزوۂ خندق میں شب کو مخالفین کے لشکر بھاگ گئے جس کا اوپر کی آیات میں ذکر ہو چکا ہے اس شب کی صبح کو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور صحابۂ کرام مدینہ طیّبہ میں تشریف لائے اور ہتھیار اتار دیئے ، اس روز ظہر کے وقت جب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا سر مبارک دھویا جا رہا تھا ، جبریلِ امین حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا کہ حضور نے ہتھیار رکھ دیئے ، فرشتوں نے چالیس روز سے ہتھیار نہیں رکھے ہیں ، اللہ تعالٰی آپ کو بنی قُرَیظہ کی طرف جانے کا حکم فرماتا ہے ، حضور نے حکم فرمایا کہ ندا کر دی جائے کہ جو فرمانبردار ہو وہ عصر کی نماز نہ پڑھے مگر بنی قُرَیظہ میں جا کر حضور یہ فرما کر روانہ ہو گئے اور مسلمان چلنے شروع ہوئے اور یکے بعد دیگرے حضور کی خدمت میں پہنچتے رہے یہاں تک کہ بعضے حضرات نمازِ عشا کے بعد پہنچے لیکن انہوں نے اس وقت تک عصر کی نماز نہیں پڑھی تھی کیونکہ حضور نے بنی قُرَیظہ میں پہنچ کر عصر کی نماز پڑھنے کا حکم دیا تھا اس لئے اس روز انہوں نے عصر بعدِ عشا پڑھی اور اس پر نہ اللہ تعالٰی نے ان کی گرفت فرمائی نہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ، لشکرِ اسلام نے پچیس روز تک بنی قُرَیظہ کا محاصرہ رکھا اس سے وہ تنگ آ گئے اور اللہ تعالٰی نے ان کے دلوں میں رعب ڈالا ، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم میرے حکم پر قلعوں سے اُتروگے ؟ انہوں نے انکار کیا تو فرمایا کیا قبیلۂ اوس کے سردار سعد بن معاذ کے حکم پر اُترو گے ؟ اس پر وہ راضی ہوئے اور سعد بن معاذ کو ان کے بارے میں حکم دینے پر مامور فرمایا ، حضرت سعد نے حکم دیاکہ مرد قتل کر دیئے جائیں ، عورتیں اور بچّے قید کئے جائیں پھر بازارِ مدینہ میں خندق کھودی گئی اور وہاں لا کر ان سب کی گردنیں ماری گئیں ، ان لوگوں میں قبیلۂ بنی نُضَیر کا سردار حُیَی بن اخطب اور بنی قُرَیظہ کا سردار کعب بن اسد بھی تھا اور یہ لوگ چھ سو یا سات سو جوان تھے جو گردنیں کاٹ کر خندق میں ڈال دیئے گئے ۔ (مدارک و جمل)(ف69)یعنی مقاتلین کو ۔(ف70)عورتوں اور بچّوں کو ۔
اور ہم نے تمہارے ہاتھ لگائے ان کی زمین اور ان کی زمین اور ان کے مکان اور ان کے مال (ف۷۱) اور وہ زمین جس پر تم نے ابھی قدم نہیں رکھا ہے (ف۷۲) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے،
(ف71)نقد اور سامان اور مویشی سب مسلمان کے قبضہ میں آئیں ۔(ف72)اس زمین سے مراد خیبر ہے جو فتحِ قُرَیظہ کے بعد مسلمانوں کے قبضہ میں آیا یا وہ ہر زمین مراد ہے جو قیامت تک فتح ہو کر مسلمانوں کے قبضہ میں آنے والی ہے ۔
اے غیب بتانے والے (نبی)! اپنی بیبیوں سے فرمادے اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش چاہتی ہو (ف۷۳) تو آؤ میں تمہیں مال دُوں (ف۷٤) اور اچھی طرح چھوڑ دُوں (ف۷۵)
(ف73)یعنی اگر تمہیں مالِ کثیر او ر اسبابِ عیش در کار ہے ۔ شانِ نُزول : سیدِ عالَم صلی اللہ تعالٰی علیہ والہٖ وسلم کی ازواجِ مطہرات نے آپ سے دنیوی سامان طلب کئے اور نفقہ میں زیادتی کی درخواست کی یہاں تو کمالِ زہد تھا سامانِ دنیا اور اس کا جمع کرنا گوارا ہی نہ تھا ، اس لئے یہ خاطرِ اقدس پر گراں ہوا اور یہ آیت نازل ہوئی اور ازواجِ مطہرات کو تخییر دی گئی ، اس وقت حضور کی نو بیبیاں تھیں ، پانچ قریشیہ (۱) حضرت عائشہ بنتِ ابی بکر صدیق (رضی اللہ تعالٰی عنہا) (۲) حفصہ بنتِ فاروق (۳) اُمِّ حبیبہ بنتِ ابی سفیان (۴) اُمِّ سلمٰی بنتِ امیہ (۵) سودہ بنتِ زَمْعَہ اور چار غیر قریشیہ (۶) زینب بنتِ جحش اسدیہ (۷) میمونہ بنتِ حارث ہلالیہ (۸) صفیہ بنتِ حُیَی بن اخطب خیبریہ (۹) جویریہ بنتِ حارث مصطلقیہ رضی اللہ تعالٰی عنھنّ ۔ سیدِ عالَم صلی اللہ تعالٰی علیہ والہٖ وسلم نے سب سے پہلے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا کو یہ آیت سنا کر اختیا ر دیا اور فرمایا کہ جلدی نہ کرو اپنے والدین سے مشورہ کر کے جو رائے ہو اس پر عمل کرو ، انھوں نے عرض کیا حضور کے معا ملہ میں مشورہ کیسا ، میں اللہ کو اور اس کے رسول کو اور دارِ آخرت کو چاہتی ہو ں اور باقی از واج نے بھی یہی جواب دیا ۔ مسئلہ : جس عورت کو اختیار دیا جائے وہ اگر اپنے زوج کو اختیا ر کرے تو طلاق واقع نہیں ہوتی اور اگر اپنے نفس کو اختیار کرے تو ہمارے نزدیک طلاقِ بائن واقع ہو تی ہے ۔(ف74)جس عورت کے ساتھ بعدِ نکاح دخول یا خلوتِ صحیحہ ہوئی اس کو طلاق دی جائے تو کچھ سامان دینا مستحب ہے اور وہ سامان تین کپڑوں کا جوڑا ہو تا ہے ، یہا ں مال سے وہی مراد ہے ۔ مسئلہ : جس عورت کا مَہر مقرر نہ کیا گیا ہو اس کو قبلِ دخول طلاق دی تو یہ جوڑا دینا واجب ہے ۔(ف75)بغیر کسی ضرر کے ۔
اے نبی کی بیبیو! جو تم میں صریح حیا کے خلاف کوئی جرأت کرے (ف۷٦) اس پر اوروں سے دُونا عذاب ہوگا (ف۷۷) اور یہ اللہ کو آسان ہے،
(ف76)جیسے کہ شوہر کی ا طاعت میں کوتاہی کرنا اور اس کے ساتھ کج خُلقی سے پیش آنا کیونکہ بدکاری سے تو اللہ تعالٰی انبیاء کی بیبیوں کو پاک رکھتا ہے ۔(ف77)کیونکہ جس شخص کی فضیلت زیادہ ہوتی ہے اس سے اگر قصور واقع ہو تو وہ قصور بھی دوسروں کے قصور سے زیادہ سخت قرار دیا جاتا ہے ۔مسئلہ : اسی لئے عالِم کا گناہ جاہل کے گناہ سے زیادہ قبیح ہوتا ہے اور اسی لئے آزادوں کی سزا شریعت میں غلاموں سے زیادہ مقرر ہے اور نبی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی بیبیاں تمام جہان کی عورتوں سے زیادہ فضیلت رکھتی ہیں اس لئے ان کی اَدنٰی بات سخت گرفت کے قابل ہے ۔فائدہ : لفظِ فاحشہ جب معرفہ ہو کر وارد ہو تو اس سے زنا و لواطت مراد ہوتی ہے اور اگر نکرہ غیرِ موصو فہ ہو کر لایا جائے تو اس سے تمام گناہ مراد ہوتے ہیں اور جب موصو ف ہو کر وارد ہو تو اس سے شو ہر کی نافرمانی اور فسادِ معشرت مراد ہوتا ہے ، اس آیت میں نکرہ موصو فہ ہے اسی لئے اس سے شوہر کی اطاعت میں کوتاہی اور کج خُلقی مراد ہے جیسا کہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنھما سے منقول ہے ۔ (جمل وغیرہ)
اور (ف۷۸) جو تم میں فرمانبردار رہے اللہ اور رسول کی اور اچھا کام کرے ہم اسے اوروں سے دُونا ثواب دیں گے (ف۷۹) اور ہم نے اس کے لیے عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے (ف۸۰)
(ف78)اے نبی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی بیبیو ۔ (ف79)یعنی اگر اوروں کو ایک نیکی پر دس گنا ثواب دیں گے تو تمہیں بیس گنا کیونکہ تمام جہان کی عورتوں میں تمہیں شرف و فضیلت ہے اور تمہارے عمل میں بھی دو جہتیں ہیں ایک ادائے اطاعت دوسرے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رضا جوئی اور قناعت و حُسنِ معاشرت کے ساتھ حضور کو خوشنود کرنا ۔(ف80)جنّت میں ۔
اے نبی کی بیبیو! تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو (ف۸۱) اگر اللہ سے ڈرو تو بات میں ایسی نرمی نہ کرو کہ دل کا روگی کچھ لالچ کرے (ف۸۲) ہاں اچھی بات کہو (ف۸۳)
(ف81)تمہارا مرتبہ سب سے زیادہ ہے اور تمہارا اجر سب سے بڑھ کر جہان کی عورتوں میں کوئی تمہاری ہمسر نہیں ۔(ف82)اس میں تعلیمِ آداب ہے کہ اگر بہ ضرورت غیر مرد سے پسِ پردہ گفتگو کرنی پڑے تو قصد کرو کہ لہجہ میں نزاکت نہ آنے پائے اور بات میں لوچ نہ ہو ، بات نہایت سادگی سے کی جائے ، عِفّت مآب خواتین کے لئے یہی شایاں ہے ۔(ف83)دین و اسلام کی اور نیکی کی تعلیم اور پند و نصیحت کی اگر ضرورت پیش آئے مگر بے لوچ لہجہ سے ۔
اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بےپردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بےپردگی (ف۸٤) اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اللہ تو یہی چاہتا ہے، اے نبی کے گھر والو! کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے (ف۸۵)
(ف84)اگلی جاہلیّت سے مراد قبلِ اسلام کا زمانہ ہے اس زمانہ میں عورتیں اتراتی نکلتی تھیں ، اپنی زینت و محاسن کا اظہار کرتی تھیں کہ غیر مرد دیکھیں ، لباس ایسے پہنتی تھیں جن سے جسم کے اعضاء اچھی طرح نہ ڈھکیں اور پچھلی جاہلیّت سے اخیرِ زمانہ مراد ہے جس میں لوگوں کے افعال پہلوں کی مثل ہو جائیں گے ۔(ف85)یعنی گناہوں کی نجاست سے تم آلودہ نہ ہو ۔ اس آیت سے اہلِ بیت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اوراہلِ بیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ازواجِ مطہرات اور حضرت خاتونِ جنّت فاطمہ زہرا اور علیِ مرتضٰی اور حسنینِ کریمین رضی اللہ تعالٰی عنہم سب داخل ہیں ، آیات و احادیث کو جمع کرنے سے یہی نتیجہ نکلتا ہے اور یہی حضرت امام ابو منصور ماتریدی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے منقول ہے ، ان آیات میں اہلِ بیتِ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو نصیحت فرمائی گئی ہے تاکہ وہ گناہوں سے بچیں اور تقوٰی وپرہیزگاری کے پابند رہیں ، گناہوں کو ناپاکی سے اور پرہیزگاری کو پاکی سے استعارہ فرمایا گیا کیونکہ گناہوں کا مرتکب ان سے ایسا ہی ملوّث ہوتا ہے جیسا جسم نجاستوں سے ۔ اس طرزِ کلام سے مقصود یہ ہے کہ اربابِ عقول کو گناہوں سے نفرت دلائی جائے اور تقوٰی و پرہیزگاری کی ترغیب دی جائے ۔
بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں (ف۸۷) اور ایمان والے اور ایمان والیاں اور فرمانبردار اور فرمانبرداریں اور سچے اور سچیاں (ف۸۸) اور صبر والے اور صبر والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے والے اور روزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اس نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے،
(ف87)شانِ نُزول : اسماء بنتِ عمیس جب اپنے شوہر جعفر بن ابی طالب کے ساتھ حبشہ سے واپس آئیں تو ازواجِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے مل کر انہوں نے دریافت کیا کہ کیا عورتوں کے باب میں بھی کوئی آیت نازل ہوئی ہے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں تو اسماء نے حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عرض کیا کہ حضور عورتیں بڑے ٹوٹے میں ہیں فرمایا کیوں ؟ عرض کیا کہ ان کا ذکر خیر کے ساتھ ہوتا ہی نہیں جیسا کہ مَردوں کا ہوتا ہے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور ان کے دس مراتب مَردوں کے ساتھ ذکر کئے گئے اور ان کے ساتھ ان کی مدح فرمائی گئی اور مراتب میں سے پہلا مرتبہ اسلام ہے جو خدا اور رسول کی فرمانبرداری ہے ، دوسرا ایمان کہ وہ اعتقادِ صحیح اور ظاہر و باطن کا موافق ہونا ہے ، تیسرا مرتبہ قنوت یعنی طاعت ہے ۔(ف88)اس میں چوتھے مرتبہ کا بیان ہے کہ وہ صدقِ نیّات و صدقِ اقوال و افعال ہے ، اس کے بعد پانچویں مرتبہ صبر کا بیان ہے کہ طاعتوں کی پابندی کرنا اور ممنوعات سے احتراز رکھنا خواہ نفس پر کتنا ہی شاق اور گراں ہو رضائے الٰہی کے لئے اختیار کیا جائے ، اس کے بعد پھرچھٹے مرتبہ خشوع کا بیان ہے جو طاعتوں اور عبادتوں میں قلوب و جوارح کے ساتھ متواضع ہونا ہے ، اس کے بعد ساتویں مرتبہ صدقہ کا بیان ہے جو اللہ تعالٰی کے عطا کئے ہوئے مال میں سے اس کی راہ میں بطریقِ فرض و نفل دینا ہے پھر آٹھویں مرتبہ صوم کا بیان ہے یہ بھی فرض و نفل دونوں کو شامل ہے ۔ منقول ہے کہ جس نے ہر ہفتہ ایک درم صدقہ کیا وہ متصدّقین میں اور جس نے ہر مہینہ ایامِ بیض کے تین روزے رکھے وہ صائمین میں شمار کیا جاتا ہے ۔ اس کے بعد نویں مرتبہ عِفّت کا بیان ہے اور وہ یہ ہے کہ اپنی پارسائی کو محفوظ رکھے اور جو حلال نہیں ہے اس سے بچے ، سب سے آخر میں دسویں مرتبہ کثرتِ ذکر کا بیان ہے ذکر میں تسبیح ، تحمید ، تہلیل ، تکبیر ، قراءتِ قرآن ، علمِ دِین کا پڑھنا پڑھانا ، نماز ، وعظ ، نصیحت ، میلاد شریف ، نعت شریف پڑھنا سب داخل ہیں ۔ کہا گیا ہے کہ بندہ ذاکرین میں جب شمار ہوتا ہے جب کہ وہ کھڑے ، بیٹھے ، لیٹے ہر حال میں اللہ کا ذکر کرے ۔
اور نہ کسی مسلمان مرد نہ مسلمان عورت کو پہنچتا ہے کہ جب اللہ و رسول کچھ حکم فرمادیں تو انھیں اپنے معاملہ کا کچھ اختیار رہے (ف۸۹) اور جو حکم نہ مانے اللہ اور اس کے رسول کا وہ بیشک صریح گمراہی بہکا،
(ف89)شانِ نُزول : یہ آیت زینب بنتِ جحش اسدیہ اور ان کے بھائی عبداللہ بن حجش اور ان کی والدہ اُمیمہ بنتِ عبدالمطلب کے حق میں نازل ہوئی ، اُمیمہ حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پھوپھی تھیں ۔ واقعہ یہ تھا کہ زید بن حارثہ جن کو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے آزاد کیا تھا اور وہ حضور ہی کی خدمت میں رہتے تھے حضور نے زینب کے لئے ان کا پیام دیا ، اس کو زینب نے اور ان کے بھائی نے منظور نہیں کیا ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور حضرت زینب اور ان کے بھائی اس حکم کو سن کر راضی ہو گئے اور حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت زید کا نکاح ان کے ساتھ کر دیا اور حضور نے ان کا مَہر دس دینار ساٹھ درھم ، ایک جوڑا کپڑا ، پچاس مُد (ایک پیمانہ ہے) کھانا ، تیس صاع کھجوریں دیں ۔مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ آدمی کو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طاعت ہر امر میں واجب ہے اور نبی علیہ السلام کے مقابلہ میں کوئی اپنے نفس کا بھی خود مختار نہیں ۔ مسئلہ : اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ امر وجوب کے لئے ہوتا ہے ۔فائدہ : بعض تفاسیر میں حضرت زید کو غلام کہا گیا ہے مگر یہ خالی از تسامح نہیں کیونکہ وہ حُر تھے گرفتاری سے بالخصوص قبلِ بعثت شرعاً کوئی شخص مرقوق یعنی مملوک نہیں ہو جاتا اور وہ زمانہ فَترت کا تھا اور اہلِ فَترت کو حربی نہیں کہا جاتا ۔ (کَذَافِی الْجُمل)
اور اے محبوب! یاد کرو جب تم فرماتے تھے اس سے جسے اللہ نے اسے نعمت دی (ف۹۰) اور تم نے اسے نعمت دی (ف۹۱) کہ اپنی بی بی اپنے پاس رہنے دے (ف۹۲) اور اللہ سے ڈر (ف۹۳) اور تم اپنے دل میں رکھتے تھے وہ جسے اللہ کو ظاہر کرنا منظور تھا (ف۹٤) اور تمہیں لوگوں کے طعنہ کا اندیشہ تھا (ف۹۵) اور اللہ زیادہ سزاوار ہے کہ اس کا خوف رکھو (ف۹٦) پھر جب زید کی غرض اس سے نکل گئی (ف۹۷) تو ہم نے وہ تمہارے نکاح میں دے دی (ف۹۸) کہ مسلمانوں پر کچھ حرج نہ رہے ان کے لے پالکوں (منہ بولے بیٹوں) کی بیبیوں میں جب ان سے ان کا کام ختم ہوجائے (ف۹۹) اور اللہ کا حکم ہو کر رہنا،
(ف90)اسلام کی جو بڑی جلیل نعمت ہے ۔(ف91)آزاد فرما کر ، مراد اس سے حضرت زید بن حارثہ ہیں کہ حضور نے انہیں آزاد کیا اور ان کی پرورش فرمائی ۔(ف92)شانِ نُزول : جب حضرت زید کا نکاح حضرت زینب سے ہو چکا تو حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس اللہ تعالٰی کی طرف سے وحی آئی کہ زینب آپ کے ازواجِ طاہرات میں داخل ہوں گی اللہ تعالٰی کو یہی منظور ہے ، اس کی صورت یہ ہوئی کہ حضرت زید اور زینب کے درمیان موافقت نہ ہوئی اور حضرت زید نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے حضرت زینب کی سخت گفتاری ، تیز زبانی ، عدمِ اطاعت اور اپنے آپ کو بڑا سمجھنے کی شکایت کی ، ایسا بار بار اتفاق ہوا ، حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حضرت زید کو سمجھا دیتے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(ف93)زینب پر کِبَر و ایذائے شوہر کے الزام لگانے میں ۔(ف94)یعنی آپ پر یہ ظاہر نہیں فرماتے تھے کہ زینب سے تمہارا نباہ نہیں ہو سکے گا اور طلاق ضرور واقع ہو گی اور اللہ تعالٰی انہیں ازواجِ مطہرات میں داخل کرے گا اور اللہ تعالٰی کو اس کا ظاہر کرنا منظور تھا ۔(ف95)یعنی جب حضرت زید نے زینب کو طلاق دے دی تو آپ کو لوگوں کے طعن کا اندیشہ ہوا کہ اللہ تعالٰی کا حکم تو ہے حضرت زینب کے ساتھ نکاح کرنے کا اور ایسا کرنے سے لوگ طعنہ دیں گے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایسی عورت کے ساتھ نکاح کر لیا جو ان کے منہ بولے بیٹے کے نکاح میں رہی تھی ۔ مقصود یہ ہے کہ امرِ مباح میں بے جا طعن کرنے والوں کا کچھ اندیشہ نہ کرنا چاہئے ۔(ف96)اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سب سے زیادہ اللہ کا خوف رکھنے والے اور سب سے زیادہ تقوٰی والے ہیں جیسا کہ حدیث شریف میں ہے ۔(ف97)اور حضر ت زید نے حضرت زینب کو طلاق دے دی اور عدّت گزر گئی ۔(ف98)حضرت زینب کی عدّت گزرنے کے بعد ان کے پاس حضرت زید رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا پیام لے کر گئے اور انہوں نے سر جھکا کر کمالِ شرم و ادب سے انہیں یہ پیام پہنچایا ، انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں اپنی رائے کو کچھ بھی دخل نہیں دیتی جو میرے ربّ کو منظور ہو اس پر راضی ہوں یہ کہہ کر وہ بارگاہِ الٰہی میں متوجّہ ہوئیں اور انہوں نے نماز شروع کر دی اور یہ آیت نازل ہوئی حضرت زینب کو اس نکاح سے بہت خوشی اور فخر ہوا ، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس شادی کا ولیمہ بہت وسعت کے ساتھ کیا ۔(ف99)یعنی تاکہ یہ معلوم ہو جائے کہ لے پالک کی بی بی سے نکاح جائز ہے ۔
نبی پر کوئی حرج نہیں اس بات میں جو اللہ نے اس کے لیے مقرر فرمائی (ف۱۰۰) اللہ کا دستور چلا آرہا ہے اس میں جو پہلے گزر چکے (ف۱۰۱) اور اللہ کا کام مقرر تقدیر ہے
(ف100)یعنی اللہ تعالٰی نے جو ان کے لئے مباح کیا اور بابِ نکاح میں جو و سعت انہیں عطا فرمائی اس پر اقدام کرنے میں کچھ حرج نہیں ۔(ف101)یعنی انبیاء علیہم السلام کو بابِ نکاح میں وسعتیں دی گئیں کہ دوسروں سے زیادہ عورتیں ان کے لئے حلال فرمائیں جیسا کہ حضرت داؤد علیہ السلام کی سو بیبیاں اورحضرت سلیمٰن علیہ السلام کی تین سو بیبیاں تھیں یہ ان کے خاص احکام ہیں ان کے سوا دوسروں کو روا نہیں ، نہ کوئی اس پر معترض ہو سکتا ہے ۔ اللہ تعالٰی اپنے بندوں میں جس کے لئے جو حکم فرمائے اس پر کسی کو اعتراض کی کیا مجال ۔ اس میں یہود کا رد ہے جنہوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم پر چار سے زیادہ نکاح کرنے پر طعن کیا تھا اس میں انہیں بتایا گیا کہ یہ حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لئے خاص ہے جیسا کہ پہلے انبیاء کے لئے تعدادِ ازواج میں خاص احکام تھے ۔
محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں (ف۱۰۳) ہاں اللہ کے رسول ہیں (ف۱۰٤) اور سب نبیوں کے پچھلے (ف۱۰۵) اور اللہ سب کچھ جانتا ہے،
(ف103)تو حضرت زید کے بھی آپ حقیقت میں باپ نہیں کہ ان کی منکوحہ آپ کے لئے حلال نہ ہوتی ، قاسم و طیّب و طاہر و ابراہیم حضور کے فرزند تھے مگر وہ اس عمر کو نہ پہنچے کہ انہیں مرد کہا جائے ، انہوں نے بچپن میں وفات پائی ۔(ف104)اور سب رسول ناصح شفیق اور واجب التوقیر و لازم الطاعۃ ہونے کے لحاظ سے اپنی اُمّت کے باپ کہلاتے ہیں بلکہ ان کے حقوق حقیقی باپ کے حقوق سے بہت زیادہ ہیں لیکن اس سے اُمّت حقیقی اولاد نہیں ہو جاتی اور حقیقی اولاد کے تمام احکام وراثت وغیرہ اس کے لئے ثابت نہیں ہوتے ۔(ف105)یعنی آخر الانبیاء کہ نبوّت آپ پر ختم ہو گئی آپ کی نبوّت کے بعد کسی کو نبوّت نہیں مل سکتی حتّٰی کہ جب حضرت عیسٰی علیہ السلام نازل ہو ں گے تو اگرچہ نبوّت پہلے پا چکے ہیں مگر نُزول کے بعد شریعتِ محمّدیہ پر عامل ہوں گے اور اسی شریعت پر حکم کریں گے اور آپ ہی کے قبلہ یعنی کعبہ معظّمہ کی طرف نماز پڑھیں گے ، حضور کا آخر الانبیاء ہونا قطعی ہے ، نصِّ قرآنی بھی اس میں وارد ہے اور صحاح کی بکثرت احادیثِ تو حدِّ تواتر تک پہنچتی ہیں ۔ ان سب سے ثابت ہے کہ حضور سب سے پچھلے نبی ہیں آپ کے بعد کوئی نبی ہونے والا نہیں جو حضور کی نبوّت کے بعد کسی اور کو نبوّت ملنا ممکن جانے ، وہ ختمِ نبوّت کا منکِر اور کافِر خارج از اسلام ہے ۔
(ف106)کیونکہ صبح اور شام کے اوقات ملائکۂ روز و شب کے جمع ہونے کے وقت ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اطرافِ لیل و نہار کا ذکر کرنے سے ذکر کی مداومت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے ۔
وہی ہے کہ درود بھیجتا ہے تم پر وہ اور اس کے فرشتے (ف۱۰۷) کہ تمہیں اندھیریوں سے اجالے کی طرف نکالے (ف۱۰۸) اور وہ مسلمانوں پر مہربان ہے،
(ف107)شانِ نُزول : حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ جب آیت ' اِنَّ اللہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ ' نازل ہوئی تو حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کیا یارسولَ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جب آپ کو اللہ تعالٰی کوئی فضل و شرف عطا فرماتا ہے تو ہم نیاز مندوں کو بھی آپ کے طفیل میں نوازتا ہے ۔ اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی ۔(ف108)یعنی کُفر و معصیت اور ناخدا شناسی کی اندھیریوں سے حق و ہدایت اور معرفت و خدا شناسی کی روشنی کی طرف ہدایت فرمائے ۔
ان کے لیے ملتے وقت کی دعا سلام ہے (ف۱۰۹) اور ان کے لیے عزت کا ثواب تیار کر رکھا ہے،
(ف109)ملتے وقت سے مراد یا موت کا وقت ہے یا قبروں سے نکلنے کا یا جنّت میں داخل ہونے کا ۔ مروی ہے کہ حضرت مَلَک الموت علیہ السلام کسی مومن کی روح اس کو سلام کئے بغیر قبض نہیں فرماتے ۔ حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ جب مَلَک الموت مومن کی روح قبض کرنے آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ تیرا ربّ تجھے سلام فرماتا ہے اور یہ بھی وارد ہوا ہے کہ مومنین جب قبروں سے نکلیں گے تو ملائکہ سلامتی کی بشارت کے طور پر انہیں سلام کریں گے ۔ (جمل وخازن)
۔ ( اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) بیشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر ناظر (ف۱۱۰) اور خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا (ف۱۱۱)
(ف110)شاہد کا ترجمہ حاضر و ناظر بہت بہترین ترجمہ ہے ، مفرداتِ راغب میں ہے ' اَلشُّھُوْدُ وَ الشَّھَادَۃُ الْحُضُوْرُ مَعَ الْمُشَاھَدَۃِ اِمَّا بِالْبَصَرِ اَوْ بِالْبَصِیْرَۃِ ' یعنی شہود اور شہادت کے معنٰی ہیں حاضر ہونا مع ناظر ہونے کے بصر کے ساتھ ہو یا بصیرت کے ساتھ اور گواہ کو بھی اسی لئے شاہد کہتے ہیں کہ وہ مشاہدہ کے ساتھ جو علم رکھتا ہے اس کو بیان کرتا ہے ۔ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تمام عالَم کی طرف مبعوث ہیں ، آپ کی رسالت عامّہ ہے جیسا کہ سورۂ فرقان کی پہلی آیت میں بیان ہوا تو حضور پُرنور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم قیامت تک ہونے والی ساری خَلق کے شاہد ہیں اور ان کے اعمال و افعال و احوال ، تصدیق ، تکذیب ، ہدایت ، ضلال سب کا مشاہدہ فرماتے ہیں ۔ (ابوالسعود وجمل)(ف111)یعنی ایمانداروں کو جنّت کی خوشخبری اور کافِروں کو عذابِ جہنّم کا ڈر سناتا ۔
اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا (ف۱۱۲) اور چمکا دینے دینے والا آفتاب (ف۱۱۳)
(ف112)یعنی خَلق کو طاقتِ الٰہی کی دعوت دیتا ۔(ف113)سراج کا ترجمہ آفتاب قرآنِ کریم کے بالکل مطابق ہے کہ اس میں آفتاب کو سراج فرمایا گیا ہے جیسا کہ سورۂ نوح میں ' وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِراَجاً 'اور آخِرِ پارہ کی پہلی سورۃ میں ہے' وَجَعَلْنَا سِرَاجاً وَّھَّاجاً ' اور درحقیقت ہزاروں آفتابوں سے زیادہ روشنی آپ کے نورِ نبوّت نے پہنچائی اور کُفر و شرک کے ظلماتِ شدیدہ کو اپنے نُورِ حقیقت افروز سے دور کر دیا اور خَلق کے لئے معرفت و توحیدِ الٰہی تک پہنچنے کی راہیں روشن اور واضح کر دیں اور ضلالت کے وادیٔ تاریک میں راہ گم کرنے والوں کو اپنے انوارِ ہدایت سے راہ یاب فرمایا اور اپنے نورِ نبوّت سے ضمائر وبصائر اور قلوب و ارواح کو منوّر کیا ، حقیقت میں آپ کا وجود مبارک ایسا آفتابِ عالَم تاب ہے جس نے ہزارہا آفتاب بنا دیئے اسی لئے اس کی صفت میں منیر ارشاد فرمایا گیا ۔
اے ایمان والو! جب تم مسلمان عورتوں سے نکاح کرو پھر انھیں بےہاتھ لگائے چھوڑ دو تو تمہارے لیے کچھ عدت نہیں جسے گنو (ف۱۱۵) تو انھیں کچھ فائدہ دو (ف۱۱٦) اور اچھی طرح سے چھوڑ دو (ف۱۱۷)
(ف115)مسئلہ: اس آیت سے معلوم ہوا کہ اگر عورت کو قبلِ قربت طلاق دی تو اس پر عدّت واجب نہیں ۔مسئلہ : خلوتِ صحیحہ قربت کے حکم میں ہے تو اگر خلوتِ صحیحہ کے بعد طلاق واقع ہو تو عدّت واجب ہوگی اگرچہ مباشرت نہ ہوئی ہو ۔مسئلہ : یہ حکم مومنہ اور کتابیہ دونوں کو عام ہے لیکن آیت میں مومنات کا ذکر فرمانا اس طرف مشیر ہے کہ نکاح کرنا مومنہ سے اَولٰی ہے ۔(ف116)مسئلہ : یعنی اگر ان کا مَہر مقرر ہو چکا تھا تو قبلِ خلوت طلاق دینے سے شوہر پر نصف مَہر واجب ہو گا اور اگر مَہر مقرر نہیں ہوا تھا تو ایک جوڑا دینا واجب ہے جس میں تین کپڑے ہوتے ہیں ۔(ف117)اچھی طرح چھوڑنا یہ ہے کہ ان کے حقوق ادا کر دیئے جائیں اور ان کو کوئی ضرر نہ دیا جائے اور انہیں روکا نہ جائے کیونکہ ان پر عدّت نہیں ہے ۔
اے غیب بتانے والے (نبی)! ہم نے تمہارے لیے حلال فرمائیں تمہاری وہ بیبیاں جن کو تم مہر دو (ف۱۱۸) اور تمہارے ہاتھ کا مال کنیزیں جو اللہ نے تمہیں غنیمت میں دیں (ف۱۱۹) اور تمہارے چچا کی بیٹیاں اور پھپیوں کی بیٹیاں اور ماموں کی بیٹیاں اور خالاؤں کی بیٹیاں جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی (ف۱۲۰) اور ایمان والی عورت اگر وہ اپنی جان نبی کی نذر کرے اگر نبی اسے نکاح میں لانا چاہے (ف۱۲۱) یہ خاص تمہارے لیے ہہے امت کے لیے نہیں (ف۱۲۲) ہمیں معلوم ہے جو ہم نے مسلمانوں پر مقرر کیا ہے ان کی بیبیوں اور ان کے ہاتھ کی مال کنیزوں میں (ف۱۲۳) یہ خصوصیت تمہاری (ف۱۲٤) اس لیے کہ تم پر کوئی تنگی نہ ہو، اور اللہ بخشنے والا مہربان،
(ف118)مَہر کی تعجیل اور عقد میں تعیُّن افضل ہےشرطِ حلت نہیں کیونکہ مَہر کو مُعَجَّل طریقہ پر دینا یا اس کو مقرر کرنا اَولٰی اور بہتر ہے واجب نہیں ۔ (تفسیرِ احمدی)(ف119)مثل حضرت صفیہ و حضرت جویریہ کے جن کو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے آزاد فرمایا اور ان سے نکاح کیا ۔مسئلہ : غنیمت میں ملنے کا ذکر بھی فضیلت کے لئے ہے کیونکہ مملوکات بمِلکِ یمین خواہ خرید سے مِلک میں آئی ہوں یا ہبہ سے یا وارثت سے یا وصیّت سے وہ سب حلال ہیں ۔(ف120)ساتھ ہجرت کرنے کی قید بھی افضل کا بیان ہے کیونکہ بغیر ساتھ ہجرت کرنے کے بھی ان میں سے ہر ایک حلال ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خاص حضور کے حق میں ان عورتوں کی حِلّت اس قید کے ساتھ مقیّد ہو جیسا کہ اُمِّ ہانی بنتِ ابی طالب کی روایت اس طرف مشیر ہے ۔(ف121)معنٰی یہ ہیں کہ ہم نے آپ کے لئے اس مومنہ عورت کو حلال کیا جو بغیر مَہر اور بغیر شروطِ نکاح اپنی جان آپ کو ہبہ کرے بشرطیکہ آپ اسے نکاح میں لانے کا ارادہ فرمائیں ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اس میں آئندہ کے حکم کابیان ہے کیونکہ وقتِ نُزولِ آیت حضور کے ازواج میں سے کوئی بھی ایسی نہ تھیں جو ہبہ کے ذریعہ سے مشرف بَزوجیّت ہوئی ہوں اور جن مومنہ بیبیوں نے اپنی جانیں حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو نذر کر دیں وہ میمونہ بنتِ حارث اور خولہ بنتِ حکیم اور اُمِّ شریک اور زینب بنتِ خزیمہ ہیں ۔ (تفسیرِ احمدی)(ف122)یعنی نکاح بے مَہرِ خاص آ پ کے لئے جائز ہے اُمّت کے لئے نہیں ، امّت پر بہرحال مَہر واجب ہے خواہ وہ مَہر معیّن نہ کریں یا قصداً مَہر کی نفی کریں ۔ مسئلہ : نکاح بلفظِ ہبہ جائز ہے ۔(ف123)یعنی بیبیوں کے حق میں جو کچھ مقرر فرمایا ہے مَہر اور گواہ اور باری کا واجب ہونا اور چار حُرّہ عورتوں تک کو نکاح میں لانا ۔مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ شرعاً مَہر کی مقدار اللہ تعالٰی کے نزدیک مقرر ہے اور وہ دس درہم ہیں جس سے کم کرنا ممنوع ہےجیسا کہ حدیث شریف میں ہے ۔(ف124)جو اوپر ذکر ہوئی کہ عورتیں آپ کے لئے مَحض ہبہ سے بغیر مَہر کے حلال کی گئیں ۔
پیچھے ہٹاؤ ان میں سے جسے چاہو اور اپنے پاس جگہ دو جسے چاہو (ف۱۲۵) اور جسے تم نے کنارے کردیا تھا اسے تمہارا جی چاہے تو اس میں بھی تم پر کچھ گناہ نہیں (ف۱۲٦) یہ امر اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور غم نہ کریں اور تم انھیں جو کچھ عطا فرماؤ اس پر وہ سب کی سب راضی رہیں (ف۱۲۷) اور اللہ جانتا ہے جو تم سب کے دلوں میں ہے، اور اللہ علم و حلم والا ہے،
(ف125)یعنی آپ کو اختیار دیا گیا ہے کہ جس بی بی کو چاہیں پاس رکھیں اور بیبیوں میں باری مقرر کریں یا نہ کریں لیکن باوجود اس اختیار کے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تمام ازواجِ مطہرات کے ساتھ عدل فرماتے اور ان کی باریاں برابر رکھتے بَجُز حضرت سودہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے جنہوں نے اپنی باری کا دن حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو دے دیا تھا اور بارگاہِ رسالت میں عرض کیا تھا کہ میرے لئے یہی کافی ہے کہ میرا حشر آپ کے ازواج میں ہو ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مروی ہے کہ یہ آیت ان عورتوں کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے اپنی جانیں حضور کو نذر کیں اور حضور کو اختیار دیا گیا کہ ان میں سے جس کو چاہیں قبول کریں اس کے ساتھ تزوُّج فرمائیں اور جس کو چاہیں انکار فرما دیں ۔(ف126)یعنی ازواج میں سے آپ نے جس کو معزول یا ساقط القسمۃ کر دیا ہو آپ جب چاہیں اس کی طرف التفات فرمائیں اور اس کو نوازیں اس کا آپ کو اختیار دیا گیا ہے ۔(ف127)کیونکہ جب وہ یہ جانیں گی کہ یہ تفویض اور یہ اختیار آپ کو اللہ تعالٰی کی طرف سے عطا ہوا ہے تو ان کے قلوب مطمئن ہو جائیں گے ۔
ان کے بعد (۱۲۸) اور عورتیں تمہیں حلال نہیں (ف۱۲۹) اور نہ یہ کہ ان کے عوض اور بیبیاں بدلو (ف۱۳۰) اگرچہ تمہیں ان کا حسن بھائے مگر کنیز تمہارے ہاتھ کا مالک (ف۱۳۱) اور اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے،
(ف128)یعنی ان نو بیبیوں کے بعد جو آپ کے نکاح میں ہیں جہنیں آپ نے اختیار دیا تو انہوں نے اللہ تعالٰی اور رسول کو اختیار کیا ۔(ف129)کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ازواج کا نصاب نو ہے جیسے کہ اُمّت کے لئے چار ۔(ف130)یعنی انہیں طلاق دے کر ان کی جگہ دوسری عورتوں سے نکاح کر لو ایسا بھی نہ کرو ، یہ احترام ان ازواج کا اس لئے ہے کہ جب حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انہیں اختیار دیا تھا تو انہوں نے اللہ و رسول کو اختیار کیا اور آسائشِ دنیا کو ٹھکرا دیا چنانچہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انہیں پر اکتفا فرمایا اور اخیر تک یہی بیبیاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں رہیں ، حضرت عائشہ و اُمِّ سلمہ رضی اللہ تعالٰی عہنما سے مروی ہے کہ آخِر میں حضور کے لئے حلال کر دیا گیا تھا کہ جتنی عورتوں سے چاہیں نکاح فرمائیں ، اس تقدیر پر آیت منسوخ ہے اور اس کا ناسخ آیۂ ' اِنَّآ اَحْلَلَنَا لَکَ اَزْوَاجَکَ ' اَلآیۃَ ہے ۔(ف131)وہ تمہارے لئے حلال ہے اور اس کے بعد حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مِلک میں آئیں اور ان سے حضورکے فرزند حضرت ابراہیم پیدا ہوئے جنہوں نے چھوٹی عمر میں وفات پائی ۔
اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں (ف۱۳۲) نہ حاضر ہو جب تک اذن نہ پاؤ (ف۱۳۳) مثلاً کھانے کے لیے بلائے جاؤ نہ یوں کہ خود اس کے پکنے کی راہ تکو (ف۱۳٤) ہاں جب بلائے جاؤ تو حاضر ہو اور جب کھا چکو تو متفرق ہوجاؤ نہ یہ کہ بیٹھے باتوں میں دل بہلاؤ (ف۱۳۵) بیشک اس میں نبی کو ایذا ہوتی تھی تو وہ تمہارا لحاظ فرماتے تھے (ف۱۳٦) اور اللہ حق فرمانے میں نہیں شرماتا، اور جب تم ان سے (ف۱۳۷) برتنے کی کوئی چیز مانگو تو پردے کے باہر مانگو ، اس میں زیادہ ستھرائی ہے تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کی (ف۱۳۸) اور تمہیں نہیں پہنچتا کہ رسول اللہ کو ایذا دو (ف۱۳۹) اور نہ یہ کہ ان کے بعد کبھی ان کی بیبیوں سے نکاح کرو (ف۱٤۰) بیشک یہ اللہ کے نزدیک بڑی سخت بات ہے (ف۱٤۱)
(ف132)مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ گھر مرد کا ہوتا ہے اور اسی لئے اس سے اجازت حاصل کرنا مناسب ہے ، شوہر کے گھر کو عورت کا گھر بھی کہا جاتا ہے اس لحاظ سے کہ وہ اس میں سکونت کا حق رکھتی ہے اسی وجہ سے آیت 'وَ اذْکُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیْ بُیُوْ تِکُنَّ 'میں گھروں کی نسبت عورتوں کی طرف کی گئی ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مکانات جن میں حضورکے ازواجِ مطہرات کی سکونت تھی اور حضورکے پردہ فرمانے کے بعد بھی وہ اپنی حیات تک انہی میں رہیں وہ حضورکی مِلک تھے اور حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ازواجِ طاہرات کو ہبہ نہ فرمائے تھے بلکہ سکونت کی اجازت دی تھی اسی لئے ازواجِ مطہرات کی وفات کے بعد ان کے وارثوں کو نہ ملے بلکہ مسجد شریف میں داخل کر دیئے گئے جو وقف ہے اور جس کا نفع تمام مسلمانوں کے لئے عام ہے ۔(ف133)اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں پر پردہ لازم ہے اور غیر مَردوں کو کسی گھر میں بے اجازت داخل ہونا جائز نہیں ۔ آیت اگرچہ خاص ازواجِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حق میں وارد ہے لیکن حکم اس کا تمام مسلمان عورتوں کے لئے عام ہے ۔شانِ نُزول : جب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت زینب سے نکاح کیا اور ولیمہ کی عام دعوت فرمائی تو جماعتیں کی جماعتیں آتی تھیں اور کھانے سے فارغ ہو کر چلی جاتی تھیں ، آخر میں تین صاحب ایسے تھے جو کھانے سے فارغ ہو کر بیٹھے رہ گئے اور انہوں نے گفتگو کا طویل سلسلہ شروع کر دیا اور بہت دیر تک ٹھہرے رہے ، مکان تنگ تھا اس سے گھر والوں کو تکلیف ہوئی اور حرج ہوا کہ وہ ان کی وجہ سے اپنا کام کاج کچھ نہ کر سکے ، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اٹھے اور ازواجِ مطہرات کے حجروں میں تشریف لے گئے اور دورہ فرما کر تشریف لائے ، اس وقت تک یہ لوگ اپنی باتوں میں لگے ہوئے تھے حضورپھر واپس ہو گئے یہ دیکھ کر وہ لوگ روانہ ہوئے تب حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دولت سرائے میں داخل ہوئے اور دروازہ پرپردہ ڈال دیا ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اس سے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی کمالِ حیا اور شانِ کرم و حسنِ اخلاق معلوم ہوتی ہے کہ باوجود ضرورت کے اصحاب سے یہ نہ فرمایا کہ اب آپ چلے جائیے بلکہ جو طریقہ اختیار فرمایا وہ حسنِ آداب کا اعلٰی ترین معلِّم ہے ۔(ف134)مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ بغیر دعوت کسی کے یہاں کھانے نہ جائے ۔(ف135)کہ یہ اہلِ خانہ کی تکلیف اور ان کے حرج کاباعث ہے ۔(ف136)اور ان سے چلے جانے کے لئے نہیں فرماتے تھے ۔(ف137)یعنی ازواجِ مطہرات سے ۔(ف138)کہ وساوس اور خطرات سے امن رہتی ہے ۔(ف139)اور کوئی کام ایسا کرو جو خاطرِ اقدس پر گراں ہو ۔(ف140)کیونکہ جس عورت سے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے عقد فرمایا وہ حضورکے سوا ہر شخص پر ہمیشہ کے لئے حرام ہو گئی اسی طرح وہ کنیزیں جو باریابِ خدمت ہوئیں اور قربت سے سرفراز فرمائی گئیں وہ بھی اسی طرح سب کے لئے حرام ہیں ۔(ف141)اس میں اعلام ہے کہ اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بہت بڑی عظمت عطا فرمائی اور آپ کی حرمت ہر حال میں واجب کی ۔
ان پر مضائقہ نہیں (ف۱٤۲) ان کے باپ اور بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجوں اور بھانجوں اور اپنے دین کی عورتوں (ف۱٤٤) اور اپنی کنیزوں میں (ف۱٤۵) اور اللہ سے ڈرتی ہو، بیشک اللہ ہر چیز اللہ کے سامنے ہے،
(ف142)یعنی ان بیبیوں پر کچھ گناہ نہیں اس میں کہ وہ ان لوگوں سے پردہ نہ کریں جن کا آیت میں آگے ذکر فرمایا جاتا ہے ۔شانِ نُزول : جب پردہ کا حکم نازل ہوا تو عورتوں کے باپ بیٹوں اور قریب کے رشتہ داروں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا یارسولَ اللہ صلی اللہ علیک وسلم کیا ہم اپنی ماؤں بیٹیوں کے ساتھ پردہ کے باہر سے گفتگو کریں ، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(ف143)یعنی ان اقارب کے سامنے آنے اور ان سے کلام کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔(ف144)یعنی مسلمان بیبیوں کے سامنے آنا جائز ہے اور کافِرہ عورتوں سے پردہ کرنا اور اپنے جسم چُھپانا لازم ہے سوائے جسم کے ان حصّوں کے جو گھر کے کام کاج کے لئے کھولنے ضروری ہوتے ہیں ۔ (جمل)(ف145)یہاں چچا اور ماموں کا صراحتہً ذکر نہیں کیا گیا کیونکہ وہ والدین کے حکم میں ہیں ۔
بیشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر، اے ایمان والو! ان پر درود اور خوب سلام بھیجو (ف۱٤٦)
(ف146)سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درود و سلام بھیجنا واجب ہے ہر ایک مجلس میں آپ کا ذکر کرنے والے پر بھی اور سننے والے پر بھی ایک مرتبہ اور اس سے زیادہ مستحب ہے ، یہی قول معتمد ہے اور اس پر جمہور ہیں اور نماز کے قعدۂ اخیرہ میں بعدِ تشہد درود شریف پڑھنا سنّت ہے اور آپ کے تابع کر کے آپ کے آل و اصحاب و دوسرے مومنین پر بھی درود بھیجا جا سکتا ہے یعنی درود شریف میں آپ کے نامِ اقدس کے بعد ان کو شامل کیا جا سکتا ہے اور مستقل طور پر حضورکے سوا ان میں سے کسی پر درود بھیجنا مکرو ہ ہے ۔ مسئلہ : درود شریف میں آل و اصحاب کا ذکر متوارث ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آل کے ذکر کے بغیر مقبول نہیں ۔ درود شریف اللہ تعالٰی کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تکریم ہے عُلَماء نے اللہم صل علٰی محمّد کے معنٰی یہ بیان کئے ہیں کہ یا ربّ محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو عظمت عطا فرما ، دنیا میں ان کا دین بلند ان کی دعوت غالب فرما کر اور ان کی شریعت کو بقا عنایت کر کے اور آخرت میں ان کی شفاعت قبول فرما کر اور ان کا ثواب زیادہ کر کے اور اوّلین و آخِرین پر ان کی فضیلت کا اظہار فرما کر اور انبیاء ، مرسلین و ملائکہ اور تمام خَلق پر ان کی شان بلند کر کے ۔مسئلہ : درود شریف کی بہت برکتیں اور فضیلتیں ہیں حدیث شریف میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ جب درود بھیجنے والا مجھ پر درود بھیجتا ہے تو فرشتے اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں ۔ مسلم کی حدیث شریف میں ہے جو مجھ پر ایک بار درود بھیجتا ہے اللہ تعالٰی اس پر دس بار بھیجتا ہے ۔ ترمذی کی حدیث شریف میں ہے بخیل وہ ہے جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ درود نہ بھیجے ۔
بیشک جو ایذا دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو ان پر اللہ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں (ف۱٤۷) اور اللہ نے ان کے لیے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے (ف۱٤۸)
(ف147)وہ ایذا دینے والے کُفّار ہیں جو شانِ الٰہی میں ایسی باتیں کہتے ہیں جن سے وہ منزّہ اور پاک ہے اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تکذیب کرتے ہیں ان پر دارین میں لعنت ۔(ف148)آخرت میں ۔
اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بےکئے ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا (ف۱٤۹)
(ف149)شانِ نُزول : یہ آیت ان منافقین کے حق میں نازل ہوئی جو حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو ایذا دیتے تھے اور ان کے حق میں بدگوئی کرتے تھے ۔ حضرت فضیل نے فرمایا کہ کتّے اور سور کو بھی ناحق ایذا دینا حلال نہیں تو مومنین و مومنات کو ایذا دینا کس قدر بدترین جُرم ہے ۔
اے نبی! اپنی بیبیوں اور صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں (ف۱۵۰) یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہو (ف۱۵۱) تو ستائی نہ جائیں (ف۱۵۲) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
(ف150)اور سر اور چہرے کو چُھپائیں جب کسی حاجت کے لئے ان کو نکلنا ہو ۔(ف151)کہ یہ حُرَّہ ہیں ۔(ف152)اور منافقین ان کے درپے نہ ہوں ، منافقین کی عادت تھی کہ وہ باندیوں کو چھیڑا کرتے تھے اس لئے حُرَّہ عورتوں کو حکم دیا کہ وہ چادر سے جسم ڈھانک کر سر اور منہ چُھپا کر باندیوں سے اپنی وضع ممتاز کر دیں ۔
اگر باز نہ آئے منافق (ف۱۵۳) اور جن کے دلوں میں روگ ہے (ف۱۵٤) اور مدینہ میں جھوٹ اڑانے والے (ف۱۵۵) تو ضرور ہم تمہیں ان پر شہ دیں گے (ف۱۵٦) پھر وہ مدینہ میں تمہارے پاس نہ رہیں گے مگر تھوڑے دن (ف۱۵۷)
(ف153)اپنے نفاق سے ۔(ف154)اور جو بُرے خیال رکھتے ہیں یعنی فاجر بدکار ہیں وہ اگر اپنی بدکاری سے باز نہ آئے ۔(ف155)جو اسلامی لشکروں کے متعلق جھوٹی خبریں اڑایا کرتے تھے اور یہ مشہور کیا کرتے تھے کہ مسلمانوں کو ہزیمت ہو گئی وہ قتل کر ڈالے گئے ، دشمن چڑھا چلا آ رہا ہے اور اس سے ان کا مقصد مسلمانوں کی دل شکنی اور ان کا پریشانی میں ڈالنا ہوتا تھا ، ان لوگوں کے متعلق ارشاد فرمایا جاتا ہے کہ اگر وہ ان حرکات سے باز نہ آئے ۔(ف156)اور تمہیں ان پر مسلّط کریں گے ۔(ف157)پھر مدینہ طیّبہ ان سے خالی کرا لیا جائے گا اور وہاں سے نکال دیئے جائیں گے ۔
لوگ تم سے قیامت کا پوچھتے ہیں (ف۱۵۹) تم فرماؤ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، اور تم کیا جانو شاید قیامت پاس ہی ہو (ف۱٦۰)
(ف159)کہ کب قائم ہو گی ۔شانِ نُزول : مشرکین تو تمسخُر و استہزاء کے طور پر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے قیامت کا وقت دریافت کیا کرتے تھے گویا کہ ان کو بہت جلدی ہے اور یہود اس کو امتحاناً پوچھتے تھے کیونکہ توریت میں اس کا علم مخفی رکھا گیا تھا تو اللہ تعالٰی نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو حکم فرمایا ۔(ف160)اس میں جلد کرنے والوں کو تہدید اور امتحاناً سوال کرنے والوں کا اسکات اور ان کی دہن دوزی ہے ۔
اے ایمان والو! ان جیسے نہ ہونا جنہوں نے موسیٰ کو ستایا (ف۱٦٦) تو اللہ نے اسے بَری فرمادیا اس بات سے جو انہوں نے کہی (ف۱٦۷) اور موسیٰ اللہ کے یہاں آبرو والا ہے (ف۱٦۸)
(ف165)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ادب و احترام بجا لاؤ اور کوئی کام ایسا نہ کرنا جو ان کے رنج و ملال کا باعث ہو اور ۔(ف166)یعنی ان بنی اسرائیل کی طرح نہ ہونا جو ننگے نہاتے تھے اور حضرت موسٰی علیہ السلام پر طعن کرتے تھے کہ حضرت ہمارے ساتھ کیوں نہیں نہاتے انہیں برص وغیرہ کی کوئی بیماری ہے ۔(ف167)اس طرح کہ جب ایک روز حضرت موسٰی علیہ السلام نے غسل کے لئے ایک تنہائی کی جگہ میں پتّھر پر کپڑے اتار کر رکھے اور غسل شروع کیا تو پتّھر آپ کے کپڑے لے کر بھاگا ، آپ کپڑے لینے کے لئے اس کی طرف بڑھے تو بنی اسرائیل نے دیکھ لیا کہ جسمِ مبارک پر کوئی داغ اور کوئی عیب نہیں ہے ۔(ف168)صاحبِ جاہ اور صاحبِ منزلت اور مستجاب الدعوات ۔
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو (ف۱٦۹)
(ف169)یعنی سچّی اور درست حق و انصاف کی اور اپنی زبان اور کلام کی حفاظت رکھو یہ بَھلائیوں کی اصل ہے ایسا کرو گے تو اللہ تعالٰی تم پر کرم فرمائے گا اور ۔
بیشک ہم نے امانت پیش فرمائی (ف۱۷۱) آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے (ف۱۷۲) اور آدمی نے اٹھالی، بیشک وہ اپنی جان کو مشقت میں ڈالنے والا بڑا نادان ہے، (
(ف171)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ امانت سے مراد طاعت و فرائض ہیں جنہیں اللہ تعالٰی نے اپنے بندوں پر پیش کیا ، انہیں کو آسمانوں ، زمینوں ، پہاڑوں پر پیش کیا تھا کہ اگر وہ انہیں ادا کریں گے تو ثواب دیئے جائیں گے نہ ادا کریں گے تو عذاب کئے جائیں گے ۔ حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ امانت نمازیں ادا کرنا ، زکوٰۃ دینا ، رمضان کے روزے رکھنا ، خانہ کعبہ کا حج ، سچ بولنا ، ناپ اور تول میں اور لوگوں کی ودیعتوں میں عدل کرنا ہے ۔ بعضوں نے کہا کہ امانت سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جن کا حکم دیا گیا اور جن کی ممانعت کی گئی ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر و بن عاص نے فرمایا کہ تمام اعضاء کان ، ہاتھ ، پاؤں وغیرہ سب امانت ہیں اس کا ایمان ہی کیا جو امانت دار نہ ہو ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ امانت سے مراد لوگوں کی ودیعتیں اور عہدوں کا پورا کرنا ہے تو ہر مومن پر فرض ہے کہ نہ کسی مومن کی خیانت کرے نہ کافِر معاہد کی ، نہ قلیل میں نہ کثیر میں ، اللہ تعالٰی نے یہ امانت اعیانِ سمٰوٰت و ارض و جبال پر پیش فرمائی پھر ان سے فرمایا کیا تم ان امانتوں کو مع اس کی ذمّہ داری کے اٹھاؤ گے ؟ انہوں نے عرض کیا ذمّہ داری کیا ہے ؟ فرمایا یہ کہ اگر تم انہیں اچھی طرح ادا کرو تو تمہیں جزا دی جائے گی اور اگر نافرمانی کرو تو تمہیں عذاب کیا جائے گا ، انہوں نے عرض کیا نہیں اے ربّ ہم تیرے حکم کے مطیع ہیں نہ ثواب چاہیں نہ عذاب اور ان کا یہ عرض کرنا براہِ خوف و خشیت تھا اور امانت بطورِ تخییر پیش کی گئی تھی یعنی انہیں اختیار دیا گیا تھا کہ اپنے میں قوّت و ہمّت پائیں تو اٹھائیں ورنہ معذرت کر دیں ، اس کا اٹھانا لازم نہیں کیا گیا تھا اور اگر لازم کیا جاتا تو وہ انکار نہ کرتے ۔(ف172)کہ اگر ادا نہ کر سکے تو عذاب کئے جائیں گے تو اللہ عزوجل نے وہ امانت آدم علیہ السلام کے سامنے پیش کی اور فرمایا کہ میں نے آسمانوں اور زمینوں اور پہاڑوں پر پیش کی تھی وہ نہ اٹھا سکے کیا تو مع اس کی ذمّہ داری کے اٹھا سکے گا ؟ حضرت آدم علیہ السلام نے اقرار کیا ۔
تاکہ اللہ عذاب منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو (ف۱۷۳) اور اللہ توبہ قبول فرمائے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کی، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
(ف173)کہا گیا کہ معنٰی یہ ہیں کہ ہم نے امانت پیش کی تاکہ منافقین کا نفاق اور مشرکین کا شرک ظاہر ہو اور اللہ تعالٰی انہیں عذاب فرمائے اور مومنین جو امانت کے ادا کرنے والے ہیں ان کے ایمان کا اظہار ہو اور تبارک و تعالٰی ان کی توبہ قبول فرمائے اور ان پر رحمت و مغفرت کرے اگرچہ ان سے بعض طاعات میں کچھ تقصیر بھی ہوئی ہو ۔ (خازن)