اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) (ف۲) اللہ کا یوں ہی خوف رکھنا اور کافروں اور منافقوں کی نہ سننا (ف۳) بیشک اللہ علم و حکمت والا ہے،
O Herald of the Hidden (the Prophet), continue to fear Allah and never listen to the disbelievers and the hypocrites; indeed Allah is All Knowing, Wise.
ए ग़ैब की खबरें बताने वाले (नबी) अल्लाह का यूँ ही ख़ौफ़ रखना और काफ़िरों और मुनाफ़िकों की न सुनना बेशक अल्लाह इल्म व हिकमत वाला है,
Aur uski pairwi rakho jo tumhare Rab ki taraf se tumhe wahi wahi hoti hai, Ae logo! Allah tumhare kaam dekh raha hai,
(ف2)یعنی ہماری طرف سے خبریں دینے والے ، ہمارے اسرار کے امین ، ہمارا خطاب ہمارے پیارے بندوں کو پہنچانے والے ، اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو' یٰآ اَیُّہَا النَّبِیُّ ' کے ساتھ خِطاب فرمایا جس کے یہ معنٰی ہیں جو ذکر کئے گئے نامِ پاک کے ساتھ ، یَا مُحَمَّدُ ذکر فرما کر خِطاب نہ کیا جیسا کہ دوسرے انبیاء علیہم السلام کو خِطاب فرمایا ہے اس سے مقصود آپ کی تکریم اور آپ کا احترام اور آپ کی فضیلت کا ظاہر کرنا ہے ۔ (مدارک)(ف3)شانِ نُزول : ابوسفیان بن حرب اور عکرمہ بن ابی جہل اور ابوالاعور سلمی جنگِ اُحد کے بعد مدینہ طیّبہ میں آئے اور منافقین کے سردار عبداللہ بن اُ بَی بن سلول کے یہاں مقیم ہوئے ، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے گفتگو کے لئے امان حاصل کر کے انہوں نے یہ کہا کہ آپ لات ، عزّٰی ، منات وغیرہ بُتوں کو جنہیں مشرکین اپنا معبود سمجھتے ہیں کچھ نہ فرمائیے اور یہ فرما دیجئے کہ ان کی شفاعت ان کے پجاریوں کے لئے ہے اور ہم لوگ آپ کو اور آپ کے ربّ کو کچھ نہ کہیں گے ، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ان کی یہ گفتگو بہت ناگوار ہوئی اور مسلمانوں نے ان کے قتل کا ارادہ کیا ، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے قتل کی اجازت نہ دی اور فرمایا کہ میں انہیں امان دے چکا ہوں اس لئے قتل نہ کرو ، مدینہ شریف سے نکال دو چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے نکال دیا ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اس میں خِطاب تو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ ہے اور مقصود ہے آپ کی اُمّت سے فرمانا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے امان دی تو تم اس کے پابند رہو اور نقضِ عہد کا ارادہ نہ کرو اور کُفّار و منافقین کی خلافِ شرع بات نہ مانو ۔
اور اے محبوب! تم اللہ پر بھروسہ رکھو، اور اللہ بس ہے کام بنانے والا،
And trust Allah; and Allah is Sufficient as a Trustee.
और ए महबूब! तुम अल्लाह पर भरोसा रखो, और अल्लाह बस है काम बनाने वाला,
Allah ne kisi aadmi ke andar do dil na rakhe aur tumhari un auraton ko jinhen tum ke barabar kaho tumhari maa na banaya aur na tumhare lepalakon ko tumhara beta banaya, ye tumhare apne munh ka kehna hai aur Allah haq farmata hai aur wahi raah dikhata hai,
اللہ نے کسی آدمی کے اندر دو دل نہ رکھے (ف٤) اور تمہاری ان عورتوں کو جنہیں تم کے برابر کہہ دو تمہاری ماں نہ بنایا (ف۵) اور نہ تمہارے لے پالکوں کو تمہارا بیٹا بنایا (ف٦) یہ تمہارے اپنے منہ کا کہنا ہے (ف۷) اور اللہ حق فرماتا ہے اور وہی راہ دکھاتا ہے (ف۸)
Allah has not kept two hearts in the body of any man; nor has He made them your mothers those wives of yours, whom you declare to be your mothers; nor has He made them your sons, whom you have adopted; this is the statement of your mouths; and Allah proclaims the truth and it is He Who shows the path.
अल्लाह ने किसी आदमी के अंदर दो दिल न रखे और तुम्हारी उन औरतों को जिन्हें तुम के बराबर कह दो तुम्हारी माँ न बनाया और न तुम्हारे लेपालकों को तुम्हारा बेटा बनाया यह तुम्हारे अपने मुँह का कहना है और अल्लाह हक़ फ़रमाता है और वही राह दिखाता है
Unhein unke baap hi ka keh kar pukaro, ye Allah ke nazdeek zyada theek hai, phir agar tumhein unke baap maloom na hon to deen mein tumhare bhai hain aur bashriyat mein tumhare chacha zad, aur tum par is mein kuch gunah nahi jo na-danista tum se sadar hua, haan woh gunah hai jo dil ke qasd se karo aur Allah bakshne wala meherban hai,
(ف4)کہ ایک میں اللہ کا خوف ہو دوسرے میں کسی اور کا ، جب ایک ہی دل ہے تو اللہ ہی سے ڈرے ۔شانِ نُزول : ابو معمر حمید فہری کی یاد داشت اچھی تھی جو سنتا تھا یاد کر لیتا تھا ، قریش نے کہا کہ اس کے دو دل ہیں جبھی تو اس کا حافظہ اتنا قوی ہے وہ خود ہی کہتا تھاکہ اس کے دو دل ہیں اور ہر ایک میں حضرت سیدِ (عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) سے زیادہ دانش ہے ۔ جب بدر میں مشرک بھاگے تو ابو معمر اس شان سے بھاگا کہ ایک جوتی ہاتھ میں ایک پاؤں میں ، ابوسفیان سے ملاقات ہوئی تو ابوسفیان نے پوچھا کیا حال ہے ؟ کہا لوگ بھاگ گئے تو ابوسفیان نے پوچھا ایک جوتی ہاتھ میں ایک پاؤں میں کیوں ہے ؟ کہا اس کی مجھے خبر ہی نہیں میں تو یہی سمجھ رہا ہوں کہ دونوں جوتیاں پاؤں میں ہیں ۔ اس وقت قریش کو معلوم ہوا کہ دو ۲ دل ہوتے تو جوتی جو ہاتھ میں لئے ہوئے تھا بھول نہ جاتا اور ایک قول یہ بھی ہے کہ منافقین سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لئے دو ۲ دل بتاتے تھے اور کہتے تھے کہ ان کا ایک دل ہمارے ساتھ ہے اور ایک اپنے اصحاب کے ساتھ نیز زمانۂ جاہلیت میں جب کوئی اپنی عورت سے ظِہار کرتا تھا تو وہ لوگ اس ظِہار کو طلاق کہتے اور اس عورت کو اس کی ماں قرار دیتے تھے اور جب کوئی شخص کسی کو بیٹا کہہ دیتا تھا تو اس کو حقیقی بیٹا قرار دے کر شریکِ میراث ٹھہراتے اور اس کی زوجہ کو بیٹا کہنے والے کے لئے صُلبی بیٹے کی بی بی کی طرح حرام جانتے ۔ ان سب کی رد میں یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف5)یعنی ظِہار سے عورت ماں کے مثل حرام نہیں ہو جاتی ۔ ظِہار : منکوحہ کو ایسی عورت سے تشبیہ دینا جو ہمیشہ کے لئے حرام ہو اور یہ تشبیہ ایسے عضو میں ہو جس کو دیکھنا اور چھونا جائز نہیں ہے مثلاً کسی نے اپنی بی بی سے یہ کہا کہ تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ یا پیٹ کے مثل ہے تو وہ مظاہر ہو گیا ۔مسئلہ : ظِہار سے نکاح باطل نہیں ہوتا لیکن کَفّارہ ادا کرنا لازم ہو جاتا ہے اور کَفّارہ ادا کرنے سے پہلے عورت سے علٰیحدہ رہنا اور اس سے تمتع نہ کرنا لازم ہے ۔مسئلہ: ظِہار کا کَفّارہ ایک غلام کا آزاد کرنا اور یہ میسّر نہ ہو تو متواتر دو مہینے کے روزے اور یہ بھی نہ ہو سکے تو ساٹھ مسکینوں کا کھلانا ہے ۔مسئلہ : کَفّارہ ادا کرنے کے بعد عورت سے قربت اور تمتُّع حلال ہو جاتا ہے ۔ (ہدایہ)(ف6)خواہ انہیں لوگ تمہارا بیٹا کہتے ہوں ۔(ف7)یعنی بی بی کو ماں کے مثل کہنا اور لے پالک کو بیٹا کہنا بے حقیقت بات ہے ، نہ بی بی ماں ہو سکتی ہے نہ دوسرے کا فر زند اپنا بیٹا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جب حضرت زینب بنتِ حجش سے نکاح کیا تو یہود و منافقین نے زبانِ طعن کھولی اور کہا کہ (حضرت) محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے بیٹے زید کی بی بی سے شادی کر لی کیونکہ پہلے حضرت زینب زید کے نکاح میں تھیں اور حضرت زید اُمُّ المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے زر خرید تھے انہوں نے حضرت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں انہیں ہبہ کر دیا ، حضور نے انہیں آزاد کر دیا تب بھی وہ اپنے باپ کے پاس نہ گئے حضور ہی کی خدمت میں رہے ، حضور ان پر شفقت و کرم فرماتے تھے اس لئے لوگ انہیں حضور کا فرزند کہنے لگے ، اس سے وہ حقیقتہً حضور کے بیٹے نہ ہو گئے اور یہود و منافقین کا طعنہ مَحض غلط اور بیجا ہو ا ۔ اللہ تعالٰی نے یہاں ان طاعنین کی تکذیب فرمائی اور انہیں جھوٹا قرار دیا ۔(ف8)حق کی لہٰذا لے پالکوں کو ان کے پالنے والوں کا بیٹا نہ ٹھہراؤ بلکہ ۔
انہیں ان کے باپ ہی کا کہہ کر پکارو (ف۹) یہ اللہ کے نزدیک زیادہ ٹھیک ہے پھر اگر تمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں (ف۱۰) تو دین میں تمہارے بھائی ہیں اور بشریت میں تمہارے چچا زاد (ف۱۱) اور تم پر اس میں کچھ گناہ نہیں جو نادانستہ تم سے صادر ہوا (ف۱۲) ہاں وہ گناہ ہے جو دل کے قصد سے کرو (ف۱۳) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
Call them with their fathers’ names – this is more suitable in the sight of Allah; and if you do not know their fathers, then they are your brothers in the faith, (and your cousins as humans) and your friends; and there is no sin upon you for what you did unknowingly in the past – however it is a sin what you do with your heart’s intention; and Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
उन्हें उनके बाप ही का कह कर पुकारो यह अल्लाह के नज़दीक ज़्यादा ठीक है फिर अगर तुम्हें उनके बाप मालूम न हों तो दीन में तुम्हारे भाई हैं और बशरियत में तुम्हारे चाचा ज़ाद और तुम पर इस में कुछ गुनाह नहीं जो ना जाने तुमसे जारी हुआ हाँ वह गुनाह है जो दिल के क़सद से करो और अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है,
Ye Nabi musalmanon ka unki jaan se zyada malik hai aur uski bibiyan unki maen hain aur rishta wale Allah ki kitaab mein ek doosre se zyada qareeb hain bahut aur musalmanon aur muhajiron ke, magar ye ke tum apne doston par ehsaan karo ye kitaab mein likha hai,
(ف9)جن سے وہ پیدا ہوئے ۔(ف10)اور اس وجہ سے تم انہیں ان کے باپوں کی طرف نسبت نہ کر سکو ۔(ف11)تو تم انہیں بھائی کہو اور جس کے لے پالک ہیں اس کا بیٹا نہ کہو ۔(ف12)ممانعت سے پہلے یا یہ معنٰی ہیں کہ اگر تم نے لے پالکوں کو خطأً بے ارادہ ان کے پرورش کرنے والوں کا بیٹا کہہ دیا یا کسی غیر کی اولاد کو مَحض زبان کی سبقت سے بیٹا کہا تو ان صورتوں میں گناہ نہیں ۔(ف13)ممانعت کے بعد ۔
یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے (ف۱٤) اور اس کی بیبیاں ان کی مائیں ہیں (ف۱۵) اور رشتہ والے اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے سے زیادہ قریب ہیں (ف۱٦) بہ نسبت اور مسلمانوں اور مہاجروں کے (ف۱۷) مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں پر احسان کرو (ف۱۸) یہ کتاب میں لکھا ہے (ف۱۹)
The Prophet is closer to the Muslims than their own lives, and his wives are their mothers; and the relatives are closer to each other in the Book of Allah, than other Muslims and immigrants, except that you may be kind towards your friends; this is written in the Book.
यह नबी मुसलमानों का उनकी जान से ज़्यादा मालिक है और उसकी बीबियां उनकी मां हैं और रिश्ते वाले अल्लाह की किताब में एक दूसरे से ज़्यादा क़रीब हैं बहरहाल और मुसलमानों और मुहाजिरों के मगर यह कि तुम अपने दोस्तों पर एहसान करो यह किताब में लिखा है
Aur Ae mehboob! Yaad karo jab humne nabiyon se ahad liya aur tum se aur Nuh aur Ibrahim aur Musa aur Isa bin Maryam se, aur humne un se gahra ahad liya,
(ف14)دنیا و دین کے تمام امور میں اور نبی کا حکم ان پر نافذ اور نبی کی طاعت واجب اور نبی کے حکم کے مقابل نفس کی خواہش واجب الترک یا یہ معنٰی ہیں کہ نبی مومنین پر ان کی جانوں سے زیادہ رافت و رحمت اور لطف و کرم فرماتے ہیں اور نافع تر ہیں ۔ بخاری و مسلم کی حدیث ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ہر مومن کے لئے دنیا و آخرت میں سب سے زیادہ اولٰی ہوں اگر چاہو تو یہ آیت پڑھو ' اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ 'حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کی قراءت میں 'مِنْ اَنْفُسِھِمْ ' کے بعد ' وَ ھُوَ اَبُ لَّھُمْ 'بھی ہے ۔ مجاہد نے کہا کہ تمام انبیاء اپنی اُمّت کے باپ ہوتے ہیں او ر اسی رشتہ سے مسلمان آپس میں بھائی کہلاتے ہیں کہ وہ اپنے نبی کی دینی اولاد ہیں ۔(ف15)تعظیم و حرمت میں اور نکاح کے ہمیشہ کے لئے حرام ہونے میں اور اس کے علاوہ دوسرے احکام میں مثل وراثت اور پردہ وغیرہ کے ان کا وہی حکم ہے جو اجنبی عورتوں کا اور ان کی بیٹیوں کو مومنین کی بہنیں اور ان کے بھائیوں اور بہنوں کو مومنین کے ماموں خالہ نہ کہا جائے گا ۔(ف16)توارث میں ۔(ف17)مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ اُو لِی الاَرحام ایک دوسرے کے وارث ہوتے ہیں ، کوئی اجنبی دینی برادری کے ذریعہ سے وارث نہیں ہوتا ۔(ف18)اس طرح کہ جس کے لئے چاہو کچھ وصیّت کرو تو وصیّت ثُلُث مال کے قدر میں توارث پر مقدم کی جائے گی ۔ خلاصہ یہ ہے کہ اوّل مال ذوِی الفروض کو دیا جائے گا پھر عصبات کو پھر نسبی ذوِی الفروض پر رد کیا جائے گا پھر ذوِی الارحام کو دیا جاوے گا پھر مولٰی الموالاۃ کو ۔ (تفسیرِ احمدی)(ف19)یعنی لوحِ محفوظ میں ۔
اور اے محبوب! یاد کرو جب ہم نے نبیوں سے عہد لیا (ف۲۰) اور تم سے (ف۲۱) اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ ٰ اور عیسیٰ بن مریم سے اور ہم نے ان سے گاڑھا عہد لیا،
And remember O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) when We took a covenant from the Prophets – and from you – and from Nooh, and Ibrahim, and Moosa, and Eisa the son of Maryam; and We took a firm covenant from them.
और ए महबूब! याद करो जब हमने नबियों से अहद लिया और तुमसे और नूह और इब्राहिम और मूसा और ईसा बिन मरियम से और हमने उनसे गाढ़ा अहद लिया,
Taake sachon se unke sach ka sawal kare aur usne kafiron ke liye dardnaak azaab tayar kar rakha hai,
(ف20)رسالت کی تبلیغ اور دینِ حق کی دعو ت دینے کا ۔(ف21)خصوصیت کے ساتھ ۔مسئلہ : سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ذکر دوسرے انبیاء پر مقدم کرنا ان سب پر آپ کی افضلیت کے اظہار کے لئے ہے ۔
تاکہ سچوں سے (ف۲۲) ان کے سچ کا سوال کرے (ف۲۳) اور اس نے کافروں کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے،
So that He may question the truthful regarding their truth; and He has kept prepared a painful punishment for the disbelievers.
ताकि सचों से उनके सच का सवाल करे और उसने काफ़िरों के लिए दर्दनाक आज़ाब तैयार कर रखा है,
Ae iman walo! Allah ka ehsaan apne upar yaad karo, jab tum par kuch lashkar aaye to humne un par aandi aur woh lashkar bheje jo tumhe nazar na aaye aur Allah tumhare kaam dekhta hai,
(ف22)یعنی انبیاء سے یا ان کے تصدیق کرنے والوں سے ۔(ف23)یعنی جو انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا اور انہیں تبلیغ کی وہ دریافت فرمائے یا مومنین سے ان کی تصدیق کا سوال کر یا یہ معنٰی ہیں کہ انبیاء کو جو ان کی اُمّتوں نے جواب دیئے وہ دریافت فرمائے اور اس سوال سے مقصود کُفّار کی تذلیل و تبکیت ہے ۔
اے ایمان والو! اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو (ف۲٤) جب تم پر کچھ لشکر آئے (ف۲۵) تو ہم نے ان پر آندھی اور وہ لشکر بھیجے جو تمہیں نظر نہ آئے (ف۲٦) اور اللہ تمہارے کام دیکھتا ہے (ف۲۷)
O People who believe! Remember the favour of Allah upon you when some armies came against you, so We sent against them a windstorm and the armies you could not see; and Allah sees your deeds.
ए ईमान वालो! अल्लाह का एहसान अपने ऊपर याद करो जब तुम पर कुछ लश्कर आए तो हमने उन पर आँधी और वो लश्कर भेजे जो तुम्हें नजर न आए और अल्लाह तुम्हारे काम देखता है
Jab kafir tum par aaye tumhare upar se aur tumhare neeche se aur jab thtak kar reh gayi nigahen aur dil gulo ke paas aa gaye aur tum Allah par tarah tarah ke gumaan karne lage umeed o yaas ke,
(ف24)جو اس نے جنگِ احزاب کے دن فرمایا جس کو غزوۂ خندق کہتے ہیں جو جنگِ اُحد سے ایک سال بعد تھا جب کہ مسلمانوں کا نبیٌٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ مدینۂ طیّبہ میں محاصرہ کر لیا گیا تھا ۔(ف25)قریش اور غطفان اور یہود قُرَیظہ و نُضَیر کے ۔(ف26)یعنی ملائکہ کے لشکر ۔ غزوۂ احزاب کا مختصر بیان یہ غزوہ شوال ۴ یا ۵ ہجری میں پیش آیا جب یہودِ بنی نُضَیر کو جِلاوطن کیا گیا تو ان کے اکابر مکّہ مکرّمہ میں قریش کے پاس پہنچے اور انہیں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ جنگ کی ترغیب دلائی اور وعدہ کیا کہ ہم تمہارا ساتھ دیں گے یہاں تک کہ مسلمان نیست و نابود ہو جائیں ، ابوسفیان نے اس تحریک کی بہت قدر کی اور کہا کہ ہمیں دنیا میں وہ سب سے پیارا ہے جو (محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) کی عداوت میں ہمارا ساتھ دے پھر قریش نے ان یہودیوں سے کہا کہ تم پہلی کتاب والے ہو بتاؤ تو ہم حق پر ہیں یا محمّدِ (مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) ؟ یہود نے کہا تمہی حق پر ہو ، اس پر قریش خوش ہوئے اسی پر آیت ' اَ لَمْ تَرَ اِلیَ الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْباً مِّنَ الْکِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوْتِ ' نازل ہوئی پھر یہودی قبائلِ غطفان و قیس و غیلان وغیرہ میں گئے ، وہاں بھی یہی تحریک کی وہ سب ان کے موافق ہو گئے اس طرح انہوں نے جابجا دورے کئے اور عرب کے قبیلہ قبیلہ کو مسلمانوں کے خلاف تیار کر لیا ، جب سب لوگ تیار ہو گئے تو قبیلۂ خزاعہ کے چند لوگوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو کُفّار کی ان زبردست طیّاریوں کی اطلاع دی ، یہ اطلاع پاتے ہی حضور نے بمشورۂ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالٰی عنہ خندق کھدوانی شروع کر دی ، اس خندق میں مسلمانوں کے ساتھ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے خود بھی کام کیا ، مسلمان خندق تیار کر کے فارغ ہوئے ہی تھے کہ مشرکین بارہ ہزار کا لشکرِ گراں لے کر ان پر ٹوٹ پڑے اور مدینہ طیّبہ کا محاصرہ کر لیا ، خندق مسلمانوں کے اور ان کے درمیان حائل تھی اس کو دیکھ کر متحیّر ہوئے اور کہنے لگے کہ یہ ایسی تدبیر ہے جس سے عرب لوگ اب تک واقف نہ تھے ، اب انہوں نے مسلمانوں پر تیر اندازی شروع کی اور اس محاصرہ کو پندرہ روز یا چوبیس روز گزرے ، مسلمانوں پر خوف غالب ہوا اور وہ بہت گھبرائے اور پریشان ہوئے تو اللہ تعالٰی نے مدد فرمائی اور ان پر تیز ہوا بھیجی نہایت سرد اور اندھیری رات میں اس ہوا نے ان کے خیمے گرا دیئے ، طنابیں توڑ دیں ، کھونٹے اکھاڑ دیئے ، ہانڈیاں الٹ دیں ، آدمی زمین پر گرنے لگے اور اللہ تعالٰی نے فرشتے بھیج دیئے جنہوں نے کُفّار کو لرزا دیا ، ان کے دلوں میں دہشت ڈال دی مگر اس جنگ میں ملائکہ نے قتال نہیں کیا پھر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حذیفہ بن یمان کو خبر لینے کے لئے بھیجا وقت نہایت سرد تھا یہ ہتھیار لگا کر روانہ ہوئے ، حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روانہ ہوتے وقت ان کے چہرے اور بدن پر دستِ مبارک پھیرا جس سے ان پر سردی اثر نہ کر سکی اور یہ دشمن کے لشکر میں پہنچ گئے ، وہاں تیز ہوا چل رہی تھی اور سنگریزے اڑ اڑ کر لوگوں کے لگ رہے تھے ، آنکھوں میں گرد پڑ رہی تھی ، عجب پریشانی کا عالَم تھا ، لشکرِ کُفّار کے سردار ابوسفیان ہوا کا یہ عالَم دیکھ کر اٹھے اور انہوں نے قریش کو پکار کر کہا کہ جاسوسوں سے ہوشیار رہنا ، ہر شخص اپنے برابر والے کو دیکھ لے ، یہ اعلان ہونے کے بعد ہر ایک شخص نے اپنے برابر والے کو ٹٹولنا شروع کیا ، حضرت حذیفہ نے دانائی سے اپنے داہنے شخص کا ہاتھ پکڑ کر پوچھا تو کون ہے ؟ اس نے کہا میں فلاں بن فلاں ہوں ، اس کے بعد ابوسفیان نے کہا اے گروہِ قریش تم ٹھہرنے کے مقام پر نہیں ہو ، گھوڑے اور اونٹ ہلاک ہو چکے ، بنی قُرَیظہ اپنے عہد سے پھر گئے اور ہمیں ان کی طرف سے اندیشہ ناک خبریں پہنچی ہیں ، ہوا نے جو حال کیا ہے وہ تم دیکھ ہی رہے ہو ، بس اب یہاں سے کوچ کر دو ، میں کوچ کرتا ہوں ابوسفیان یہ کہہ کر اپنی اونٹنی پر سوار ہو گئے اور لشکر میں الرحیل الرحیل یعنی کو چ کوچ کا شور مچ گیا ، ہوا ہر چیز کو اُلٹے ڈالتی تھی مگر یہ ہوا اس لشکر سے باہر نہ تھی ، اب یہ لشکر بھاگ نکلا اور سامان کا بار کر کے لے جانا اس کو شاق ہو گیا اس لئے کثیر سامان چھوڑ گیا ۔ (جمل)(ف27)یعنی تمہارا خندق کھودنا اور نبی کر یم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی فرمانبرداری میں ثابت قدم رہنا ۔
جب کافر تم پر آئے تمہارے اوپر سے اور تمہارے نیچے سے (ف۲۸) اور جبکہ ٹھٹک کر رہ گئیں نگاہیں (ف۲۹) اور دل گلوں کے پاس آگئے (ف۳۰) اور تم اللہ پر طرح طرح کے گمان کرنے لگے امید و یاس کے (ف۳۱)
When the disbelievers came upon you from above you and from below you, and when the eyes became fixed in stare and the hearts came up to the throats, and you were imagining matters regarding Allah.
जब काफ़िर तुम्हारे ऊपर आए तुम्हारे ऊपर से और तुम्हारे नीचे से और जबकि ठटक कर रह गईं निगाहें और दिल गुलों के पास आ गए और तुम अल्लाह पर तरह-तरह के गुमान करने लगे उम्मीद व यास के
Woh jagah thi ke musalmanon ki jaanch hui aur khoob sakhti se jhanjhoda gaye,
(ف28)یعنی وادی کی بالائی جانب مشرق سے قبیلۂ اسد و غطفان کے لوگ مالک بن عوف نصری وعُیَیۡنہ بن حسن فزاری کی سرکردگی میں ایک ہزار کی جمعیت لے کر اور ان کے ساتھ طلیحہ بن خویلد اسدی بنی اسد کی جمعیت لے کر اور حُیَیْ بن اخطب ، یہودِ بنی قریظہ کی جمعیت لے کر اور وادی کی زیریں جانب مغرب سے قریش اور کنانہ بَسَرکردگی ابو سفیان بن حرب ۔(ف29)اور شدّتِ رعب و ہیبت سے حیرت میں آ گئیں ۔(ف30)خوف و اضطراب انتہا کو پہنچ گیا ۔(ف31)منافق تویہ گمان کرنے لگے کہ مسلمانوں کا نام و نشان باقی نہ رہے گا ، کُفّار کی اتنی بڑی جمعیت سب کو فنا کر ڈالے گی اور مسلمانوں کو اللہ تعالٰی کی طرف سے مدد آنے اور اپنے فتحیاب ہونے کی امید تھی ۔
اور جب کہنے لگے منافق اور جن کے دلوں میں روگ تھا (ف۳۳) ہمیں اللہ و رسول نے وعدہ نہ دیا تھا مگر فریب کا (ف۳٤)
And when the hypocrites, and those in whose hearts is a disease, began saying, “Allah and His Noble Messenger have not given us a promise except one of deceit.”
और जब कहने लगे मुनाफ़िक और जिनके दिलों में रोग था हमें अल्लाह व रसूल ने वादा न दिया था मगर फ़ریب का
Aur jab un mein se ek group ne kaha, Ae Madina walo! Yahan tumhare thehrne ki jagah nahi, tum gharon ko wapas chalo, aur un mein se ek group Nabi se izn mangta tha ye keh kar ke hamare ghar be-hifazat hain, aur woh be-hifazat na the, woh to na chahte the magar bhagna,
(ف33)یعنی ضعفِ اعتقاد ۔(ف34)یہ بات معتب بن قشیر نے کُفّار کے لشکر دیکھ کر کہی تھی کہ محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تو ہمیں فارس و روم کی فتح کا وعدہ دیتے ہیں اور حال یہ ہے کہ ہم میں سے کسی کی یہ مجال بھی نہیں کہ اپنے ڈیرے سے باہر نکل سکے تو یہ وعدہ نِرا دھوکا ہے ۔
اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا (ف۳۵) اے مدینہ والو! (ف۳٦) یہاں تمہارے ٹھہرنے کی جگہ نہیں (ف۳۷) تم گھروں کو واپس چلو اور ان میں سے ایک گروہ (ف۳۸) نبی سے اذن مانگتا تھا یہ کہہ کر ہمارے گھر بےحفاظت ہیں، اور وہ بےحفاظت نہ تھے، وہ تو نہ چاہتے تھے مگر بھاگنا،
And when a group among said, “O people of Medinah! This is no place of stay for you, therefore go back to your homes”; and a group among them sought exemption from the Prophet by saying, “Our homes are unprotected” whereas their homes were not unprotected; they willed nothing except to flee.
और जब उनमें से एक ग्रुप ने कहा ए मदीना वालो! यहाँ तुम्हारे ठहरने की जगह नहीं तुम घरों को वापस चलो और उनमें से एक ग्रुप नबी से इज़न मांगता था यह कह कर हमारे घर बे-हिफाज़त हैं, और वो बे-हिफाज़त न थे, वो तो न चाहते थे मगर भागना,
Aur agar un par foujain Madina ke itraaf se aayein phir un se kufr chahte to zaroor unka manga de baithe aur is mein der na karte magar thodi,
(ف35)یعنی منافقین کے ایک گروہ نے ۔(ف36)یہ مقولہ منافقین کا ہے انہوں نے مدینہ طیّبہ کو یثرب کہا ۔ مسئلہ : مسلمانوں کو یثرب نہ کہنا چاہئے حدیث شریف میں مدینہ طیّبہ کو یثرب کہنے کی ممانعت آئی ہے ، حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ناگوار تھا کہ مدینہ پاک کو یثرب کہا جائے کیونکہ یثرب کے معنٰی اچھے نہیں ہیں ۔(ف37)یعنی رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لشکر میں ۔(ف38)یعنی بنی حارثہ و بنی سلمہ ۔
اور اگر ان پر فوجیں مدینہ کے اطراف سے آئیں پھر ان سے کفر چاہتیں تو ضرور ان کا مانگا دے بیٹھتے (ف۳۹) اور اس میں دیر نہ کرتے مگر تھوڑی
And if the armies had come upon them from the outskirts of Medinah and demanded disbelief from them, they would certainly have given them their demand and would not have hesitated in it except a little.
और अगर उन पर फ़ौजें मदीना के इर्द-गिर्द आएँ फिर उनसे क़फ़र चाहतें तो जरूर उनका माँगा दे बैठते और इस में देर न करते मगर थोड़ी
Aur beshak us se pehle woh Allah se ahad kar chuke the ke peeth na pherenge, aur Allah ka wada poocha jaega,
تم فرماؤ ہرگز تمہیں بھاگنا نفع نہ دے گا اگر موت یا قتل سے بھاگو (ف٤۱) اور جب بھی دنیا نہ برتنے دیے جاؤ گے مگر تھوڑی (ف٤۲)
Proclaim, “Fleeing will never benefit you if you flee from death or killing, and even then you will not be given the usage of this world except a little.”
तुम फ़रमाओ हरगज़ तुम्हें भागना नफ़ा न देगा अगर मौत या कत्ल से भागो और जब भी दुनिया न बरतने दी जाएँगे मगर थोड़ी
Tum farmaao, woh kaun hai jo Allah ka hukum tum par se taal de, agar woh tumhara bura chahe ya tum par mehr (rehm) farmaana chahe, aur woh Allah ke siwa koi haami na paayenge na madadgar,
(ف41)کیونکہ جو مقدر ہے وہ ضرور ہو کر رہے گا ۔(ف42)یعنی اگر وقت نہیں آیا ہے تو بھی بھاگ کر تھوڑے ہی دن جتنی عمر باقی ہے اتنے ہی دنیا کو برتو گے اور یہ ایک قلیل مدّت ہے ۔
تم فرماؤ وہ کون ہے جو اللہ کا حکم تم پر سے ٹال دے اگر وہ تمہارا برا چاہے (ف٤۳) یا تم پر مہر (رحم) فرمانا چاہے (ف٤٤) اور وہ اللہ کے سوا کوئی حامی نہ پائیں گے نہ مددگار،
Say, “Who is he who can avert the command of Allah from you, if He wills harm for you or wills to have mercy upon you?” And other than Allah, they will not find any friend or supporter.
तुम फ़रमाओ वह कौन है जो अल्लाह का हुक़्म तुम पर से टाल दे अगर वह तुम्हारा बुरा चाहे या तुम पर मेहर (रह्म) फ़रमाना चाहे और वह अल्लाह के सिवा कोई हामी न पाएँगे न मददगार,
Beshak Allah jaanta hai tumhare un ko jo auron ko jihad se rokte hain aur apne bhaiyon se kehte hain hamari taraf chale aao aur ladai mein nahi aate magar thode,
(ف43)یعنی اس کو تمہار ا قتل و ہلاک منظور ہو تو اس کو کوئی دفع نہیں کر سکتا ۔(ف44)امن و عافیت عطا فرما کر ۔
بیشک اللہ جانتا ہے تمہارے ان کو جو اوروں کو جہاد سے روکتے ہیں اور اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں ہماری طرف چلے آؤ (ف٤۵) اور لڑائی میں نہیں آتے مگر تھوڑے (ف٤٦)
Indeed Allah knows those among you who prevent others from the holy war, and those who say to their brothers, “Come towards us”; and they do not come to fight, except a few.
बेशक अल्लाह जानता है तुम्हारे उन को जो औरों को जिहाद से रोकते हैं और अपने भाइयों से कहते हैं हमारी तरफ़ चले आओ और लड़ाई में नहीं आते मगर थोड़े
Tumhari madad mein gayi karte hain, phir jab dar ka waqt aaye tum unhein dekho ge, tumhari taraf yun nazar karte hain ke unki aankhen ghoom rahi hain jaise kisi par maut chhaayi ho, phir jab dar ka waqt nikal jaaye tumhein taane dene lage tez zubano se maal e ghanimat ke lalach mein, ye log iman laaye hi nahi, to Allah ne unke amal akaarat kar diye aur ye Allah ko aasan hai,
(ف45)اور سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو چھوڑ دو ، ان کے ساتھ جہاد میں نہ رہو اس میں جان کا خطرہ ہے ۔ شانِ نُزول : یہ آیت منافقین کے حق میں نازل ہوئی ان کے پاس یہود نے پیام بھیجا تھا کہ تم کیوں اپنی جانیں ابوسفیان کے ہاتھوں سے ہلاک کرانا چاہتے ہو ، اس کے لشکری اس مرتبہ اگر تمہیں پا گئے تو تم میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑیں گے ، ہمیں تمہارا اندیشہ ہے تم ہمارے بھائی اور ہمسایہ ہو ہمارے پاس آ جاؤ ، یہ خبر پا کر عبداللہ بن اُ بَی بن سلول منافق اور اس کے ساتھی مومنین کو ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں سے ڈرا کر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھ دینے سے روکنے لگے اور اس میں انہوں نے بہت کوشش کی لیکن جس قدر انہوں نے کوشش کی مومنین کا ثباتِ استقلال اور بڑھتا گیا ۔(ف46)ریاکاری اور دکھاوٹ کے لئے ۔
تمہاری مدد میں گئی کرتے (کمی کرتے) ہیں پھر جب ڈر کا وقت آئے تم انھیں دیکھو گے تمہاری طرف یوں نظر کرتے ہیں کہ ان کی آنکھیں گھوم رہی ہیں جیسے کسی پر موت چھائی ہو پھر جب ڈر کا وقت نکل جائے (ف٤۷) تمہیں طعنے دینے لگیں تیز زبانوں سے مال غنیمت کے لالچ میں (ف٤۸) یہ لوگ ایمان لائے ہی نہیں (ف٤۹) تو اللہ نے ان کے عمل اکارت کردیے (ف۵۰) اور یہ اللہ کو آسان ہے،
They reduce the help towards you; so when a fearful time comes, you will observe them looking at you with eyes rolling like one enveloped by death; then when the time of fear is over, they begin slandering you with sharp tongues in their greed for the war booty; they have not accepted faith, therefore Allah has nullified their deeds; and this is easy for Allah.
तुम्हारी मदद में गई करते हैं फिर जब डर का वक्त आए तुम्हें उन्हें देखोगे तुम्हारी तरफ़ यूँ नजर करते हैं कि उनकी आँखें घूम रही हैं जैसे किसी पर मौत छाई हो फिर जब डर का वक्त निकल जाए तुम्हें ताने देने लगें तेज़ ज़ुबानों से माल-ए-ग़नीमत के लालच में ये लोग ईमान लाए ही नहीं तो अल्लाह ने उनके अमल अकारत कर दिए और यह अल्लाह को आसान है,
Woh samajh rahe hain ke kafiron ke lashkar abhi na gaye aur agar lashkar dobara aaye to unki khwahish hogi ke kisi tarah gaon mein nikal kar tumhari khabrein poochte aur agar woh tum mein rahte jab bhi na ladte magar thode,
(ف47)اور امن و غنیمت حاصل ہو ۔(ف48)اور یہ کہیں ہمیں زیادہ حصّہ دو ہماری ہی وجہ سے تم غالب ہوئے ہو ۔(ف49)حقیقت میں اگر چہ انہوں نے زبانوں سے ایمان کا اظہار کیا ۔(ف50)یعنی چونکہ حقیقت میں وہ مومن نہ تھے اس لئے ان کے تمام ظاہری عمل جہاد وغیرہ سب باطل کر دیئے ۔
وہ سمجھ رہے ہیں کہ کافروں کے لشکر ابھی نہ گئے (ف۵۱) اور اگر لشکر دوبارہ آئیں تو ان کی (ف۵۲) خواہش ہوگی کہ کسی طرح گا نؤں میں نکل کر (ف۵۳) تمہاری خبریں پوچھتے (ف۵٤) اور اگر وہ تم میں رہتے جب بھی نہ لڑتے مگر تھوڑے (ف۵۵)
They assume that the armies of the disbelievers have not gone away; and were the armies to come again, their wish would be to go out to the villages seeking information about you; and were they to stay among you even then they would not fight, except a few.
वह समझ रहे हैं कि काफ़िरों के लश्कर अभी न गए और अगर लश्कर दुबारा आएँ तो उनकी ख्वाहिश होगी कि किसी तरह गाँव में निकल कर तुम्हारी खबरें पूछते और अगर वे तुम में रहते जब भी न लड़ते मगर थोड़े
Beshak tumhein Rasool Allah ki pairwi behtar hai is ke liye ke Allah aur pichle din ki umeed rakhta ho aur Allah ko bohot yaad kare,
(ف51)یعنی منافقین اپنی بزدلی و نامردی سے ابھی تک یہ سمجھ رہے ہیں کہ کُفّارِ قریش و غطفان و یہود و غیرہ ابھی تک میدان چھوڑ کر بھاگے نہیں ہیں اگرچہ حقیقت حال یہ ہے کہ وہ بھاگ چکے ۔(ف52)یعنی منافقین کی اپنی نامردی کی باعث یہی آرزو اور ۔(ف53)مدینہ طیّبہ کے آنے جانے والوں سے ۔(ف54)کہ مسلمانوں کا کیا انجام ہوا ، کُفّار کے مقابلہ میں ان کی کیا حالت رہی ۔(ف55)ریاکاری اور عذر رکھنے کے لئے تاکہ یہ کہنے کا موقع مل جائے کہ ہم بھی تو تمہارے ساتھ جنگ میں شریک تھے ۔
بیشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے (ف۵٦) اس کے لیے کہ اللہ اور پچھلے دن کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بہت یاد کرے (ف۵۷)
Indeed following the Noble Messenger of Allah is better for you – for one who is confident of Allah and the Last Day, and remembers Allah much.
बेशक तुम्हें रसूल अल्लाह की पीरवी बेहतर है इसके लिए कि अल्लाह और पिछले दिन की उम्मीद रखता हो और अल्लाह को बहुत याद करे
Aur jab musalmanon ne kafiron ke lashkar dekhe bole, ye hai woh jo humein wada diya tha Allah aur uske Rasool ne aur sach farmaaya Allah aur uske Rasool ne, aur is se unhein na badha magar iman aur Allah ki raza par razi hona,
(ف56)ان کا اچھی طرح اِتّباع کرو اور دینِ الٰہی کی مدد کرو اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ساتھ نہ چھوڑو اور مصائب پر صبر کرو اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سنّتوں پر چلو یہ بہتر ہے ۔(ف57)ہر موقع پر اس کا ذکر کرے خوشی میں بھی رنج میں بھی ، تنگی میں بھی فراخی میں بھی ۔
اور جب مسلمانوں نے کافروں کے لشکر دیکھے بولے یہ ہے وہ جو ہمیں وعدہ دیا تھا اللہ اور اس کے رسول نے (ف۵۸) اور سچ فرمایا اللہ اور اس کے رسول نے (ف۵۹) اور اس سے انھیں نہ بڑھا مگر ایمان اور اللہ کی رضا پر راضی ہونا
And when the Muslims saw the armies, they said, “This is what Allah and His Noble Messenger promised us, and Allah and His Noble Messenger have spoken the truth”; and it did not increase anything for them but faith and acceptance of Allah’s will.
और जब मुसलमानों ने काफ़िरों के लश्कर देखे बोले यह है वह जो हमें वादा दिया था अल्लाह और उसके रसूल ने और सच फ़रमाया अल्लाह और उसके रसूल ने और इस से उन्हें न बढ़ा मगर ईमान और अल्लाह की रज़ा पर रज़ी होना,
Musalmanon mein kuch woh mard hain jinhon ne sachha kar diya jo ahad Allah se kiya tha, to un mein koi apni manat poori kar chuka aur koi raah dekh raha hai aur woh zara na badle,
(ف58)کہ تمہیں شدّت و بَلا پہنچے گی اور تم آزمائش میں ڈالے جاؤ گے اور پہلوں کی طرح تم پر سختیاں آئیں گی اور لشکر جمع ہو ہو کر تم پر ٹوٹیں گے اور انجام کار تم غالب ہو گے اور تمہاری مدد فرمائی جائے گی جیسا کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے' اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَاْتِکُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ 'اَلآ یَۃَ اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ پچھلی نو یا دس راتوں میں لشکر تمہاری طرف آنے والے ہیں ، جب انہوں نے دیکھا کہ اس میعاد پر لشکر آ گئے تو کہا یہ ہے وہ جو ہمیں اللہ اور اس کے رسول نے وعدہ دیا تھا ۔(ف59)یعنی جو اس کے وعدے ہیں سب سچّے ہیں سب یقیناً واقع ہوں گے ، ہماری مدد بھی ہو گی ، ہمیں غلبہ بھی دیا جائے گا اور مکّہ مکرّمہ اور روم و فارس بھی فتح ہوں گے ۔
مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے سچا کردیا جو عہد اللہ سے کیا تھا (ف٦۰) تو ان میں کوئی اپنی منت پوری کرچکا (ف٦۱) اور کوئی راہ دیکھ رہا ہے (ف٦۲) اور وہ ذرا نہ بدلے (ف٦۳)
Among the Muslims are the men who have proved true what they had covenanted with Allah; so among them is one who has already fulfilled his vow, and among them is one still waiting; and they have not changed a bit.
मुसलमानों में कुछ वह मर्द हैं जिन्होंने सच्चा कर दिया जो अहद अल्लाह से किया था तो उनमें कोई अपनी मन्नत पूरी कर चुका और कोई राह देख रहा है और वह ज़रा न बदले
Taake Allah sachon ko unke sach ka sila de aur munafiqon ko azaab kare agar chahe, ya unhein tawba de, beshak Allah bakshne wala meherban hai,
(ف60)حضرت عثمانِ غنی اور حضرت طلحہ اور حضرت سعید بن زید اور حضرت حمزہ اور حضرت مصعب وغیرہم رضی اللہ تعالٰی عنہم نے نذر کی تھی کہ وہ جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ جہاد کا موقع پائیں گے تو ثابت رہیں گے یہاں تک کہ شہید ہو جائیں ، ان کی نسبت اس آیت میں ارشاد ہوا کہ انہو ں نے اپنا وعدہ سچّا کر دیا ۔(ف61)جہاد پر ثابت رہا یہاں تک کہ شہید ہو گیا جیسے کہ حضرت حمزہ و مصعب رضی اللہ تعالٰی عنہما ۔(ف62)اور شہادت کا انتظار کر رہا ہے جیسے کہ حضرت عثمان اور حضرت طلحہ رضی اللہ تعالٰی عنہما ۔(ف63)اپنے عہد پر ویسے ہی ثابت قدم رہے شہید ہو جانے والے بھی اور شہادت کا انتظار کرنے والے بھی ، ان منافقین اور مریض القلب لوگوں پر تعریض ہے جو اپنے عہد پر قائم نہ رہے ۔
تاکہ اللہ سچوں کو ان کے سچ کا صلہ دے اور منافقوں کو عذاب کرے اگر چاہے ، یا انھیں توبہ دے، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
In order that Allah may reward the truthful for their truthfulness, and punish the hypocrites if He wills, or give them repentance; indeed Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
ताकि अल्लाह सच्चों को उनके सच का सला दे और मुनाफ़िकों को आज़ाब करे अगर चाहे, या उन्हें तौबा दे, बेशक अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है,
Aur Allah ne kafiron ko unke dilon ki jalan ke sath palat diya ke kuch bhala na paaya aur Allah ne musalmanon ko ladai ki kifayat farma di aur Allah zabardast izzat wala hai,
اور اللہ نے کافروں کو (ف٦٤) ان کے دلوں کی جلن کے ساتھ پلٹایا کہ کچھ بھلا نہ پایا (ف٦۵) اور اللہ نے مسلمانوں کو لڑائی کی کفایت فرمادی (ف٦٦) اور اللہ زبردست عزت والا ہے،
And Allah turned back the disbelievers in their hearts’ jealousy, gaining no good; and Allah sufficed the Muslims in their fight; and Allah is Almighty, Most Honourable.
और अल्लाह ने काफ़िरों को उनके दिलों की जलन के साथ पलटा कि कुछ भला न पाया और अल्लाह ने मुसलमानों को लड़ाई की किफ़ायत फरमा दी और अल्लाह ज़बरदस्त इज़्ज़त वाला है,
Aur jin Ahl e Kitab ne unki madad ki thi unhein unke qilon se utara aur unke dilon mein rub dalaa, un mein ek group ko tum qatl karte ho aur ek group ko qaid,
(ف64)یعنی قریش و غطفان وغیرہ کے لشکروں کو جن کا اوپر ذکر ہو چکا ہے ۔(ف65)ناکام و نامراد واپس ہوئے ۔(ف66)دشمن فرشتوں کی تکبیروں اور ہوا کی سختیوں سے بھاگ نکلے ۔
اور جن اہل کتاب نے ان کی مدد کی تھی (ف٦۷) انھیں ان کے قلعوں سے اتارا (ف٦۸) اور ان کے دلوں میں رعب ڈالا ان میں ایک گروہ کو تم قتل کرتے ہو (ف٦۹) اور ایک گروہ کو قید (ف۷۰)
And He brought down from their forts, the People given the Book(s) who had supported them, and instilled awe into their hearts – you slay a group among them and another group you make captive.
और जिन अहल-ए-किताब ने उनकी मदद की थी उन्हें उनके क़िलों से उतारा और उनके दिलों में रूअब डाला उनमें एक ग्रुप को तुम क़त्ल करते हो और एक ग्रुप को क़ैद
Aur humne tumhare haath lagaye unki zameen aur unki zameen aur unke makan aur unke maal aur woh zameen jis par tumne abhi qadam nahi rakha hai aur Allah har cheez par qadir hai,
(ف67)یعنی بنی قُرَیظہ نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مقابل قریش و غطفان وغیرہ احزاب کی مدد کی تھی ۔(ف68)اس میں غزوۂ بنی قُرَیظہ کا بیان ہے ، یہ آخِرِ ذی قعدہ ۴ ھ یا ۵ھ میں ہوا جب غزوۂ خندق میں شب کو مخالفین کے لشکر بھاگ گئے جس کا اوپر کی آیات میں ذکر ہو چکا ہے اس شب کی صبح کو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور صحابۂ کرام مدینہ طیّبہ میں تشریف لائے اور ہتھیار اتار دیئے ، اس روز ظہر کے وقت جب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا سر مبارک دھویا جا رہا تھا ، جبریلِ امین حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا کہ حضور نے ہتھیار رکھ دیئے ، فرشتوں نے چالیس روز سے ہتھیار نہیں رکھے ہیں ، اللہ تعالٰی آپ کو بنی قُرَیظہ کی طرف جانے کا حکم فرماتا ہے ، حضور نے حکم فرمایا کہ ندا کر دی جائے کہ جو فرمانبردار ہو وہ عصر کی نماز نہ پڑھے مگر بنی قُرَیظہ میں جا کر حضور یہ فرما کر روانہ ہو گئے اور مسلمان چلنے شروع ہوئے اور یکے بعد دیگرے حضور کی خدمت میں پہنچتے رہے یہاں تک کہ بعضے حضرات نمازِ عشا کے بعد پہنچے لیکن انہوں نے اس وقت تک عصر کی نماز نہیں پڑھی تھی کیونکہ حضور نے بنی قُرَیظہ میں پہنچ کر عصر کی نماز پڑھنے کا حکم دیا تھا اس لئے اس روز انہوں نے عصر بعدِ عشا پڑھی اور اس پر نہ اللہ تعالٰی نے ان کی گرفت فرمائی نہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ، لشکرِ اسلام نے پچیس روز تک بنی قُرَیظہ کا محاصرہ رکھا اس سے وہ تنگ آ گئے اور اللہ تعالٰی نے ان کے دلوں میں رعب ڈالا ، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم میرے حکم پر قلعوں سے اُتروگے ؟ انہوں نے انکار کیا تو فرمایا کیا قبیلۂ اوس کے سردار سعد بن معاذ کے حکم پر اُترو گے ؟ اس پر وہ راضی ہوئے اور سعد بن معاذ کو ان کے بارے میں حکم دینے پر مامور فرمایا ، حضرت سعد نے حکم دیاکہ مرد قتل کر دیئے جائیں ، عورتیں اور بچّے قید کئے جائیں پھر بازارِ مدینہ میں خندق کھودی گئی اور وہاں لا کر ان سب کی گردنیں ماری گئیں ، ان لوگوں میں قبیلۂ بنی نُضَیر کا سردار حُیَی بن اخطب اور بنی قُرَیظہ کا سردار کعب بن اسد بھی تھا اور یہ لوگ چھ سو یا سات سو جوان تھے جو گردنیں کاٹ کر خندق میں ڈال دیئے گئے ۔ (مدارک و جمل)(ف69)یعنی مقاتلین کو ۔(ف70)عورتوں اور بچّوں کو ۔
اور ہم نے تمہارے ہاتھ لگائے ان کی زمین اور ان کی زمین اور ان کے مکان اور ان کے مال (ف۷۱) اور وہ زمین جس پر تم نے ابھی قدم نہیں رکھا ہے (ف۷۲) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے،
And He bequeathed you their lands and their houses and their wealth, and land that you have not yet set foot upon; and Allah is Able to do all things.
और हमने तुम्हारे हाथ लगाए उनकी ज़मीन और उनकी ज़मीन और उनके मकान और उनके माल और वह ज़मीन जिस पर तुमने अभी कदम नहीं रखा है और अल्लाह हर चीज़ पर क़ादिर है,
Ae ghaib batane wale (Nabi)! Apni bibiyon se farma de agar tum duniya ki zindagi aur uski aaraish chahti ho to aao main tumhein maal doon aur achhi tarah chhod doon,
(ف71)نقد اور سامان اور مویشی سب مسلمان کے قبضہ میں آئیں ۔(ف72)اس زمین سے مراد خیبر ہے جو فتحِ قُرَیظہ کے بعد مسلمانوں کے قبضہ میں آیا یا وہ ہر زمین مراد ہے جو قیامت تک فتح ہو کر مسلمانوں کے قبضہ میں آنے والی ہے ۔
اے غیب بتانے والے (نبی)! اپنی بیبیوں سے فرمادے اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش چاہتی ہو (ف۷۳) تو آؤ میں تمہیں مال دُوں (ف۷٤) اور اچھی طرح چھوڑ دُوں (ف۷۵)
O Herald of the Hidden! Say to your wives, “If you desire the worldly life and its adornment – therefore come, I shall give you wealth and a befitting release!”
ए ग़ैब बताने वाले (नबी)! अपनी बीबियों से फ़रमा दे अगर तुम दुनिया की ज़िंदगी और उसकी आरीश चाहती हो तो आओ मैं तुम्हें माल दूँ और अच्छी तरह छोड़ दूँ
Aur agar tum Allah aur uske Rasool aur aakhirat ka ghar chahti ho to beshak Allah ne tumhari neki walion ke liye bada ajr tayar kar rakha hai,
(ف73)یعنی اگر تمہیں مالِ کثیر او ر اسبابِ عیش در کار ہے ۔ شانِ نُزول : سیدِ عالَم صلی اللہ تعالٰی علیہ والہٖ وسلم کی ازواجِ مطہرات نے آپ سے دنیوی سامان طلب کئے اور نفقہ میں زیادتی کی درخواست کی یہاں تو کمالِ زہد تھا سامانِ دنیا اور اس کا جمع کرنا گوارا ہی نہ تھا ، اس لئے یہ خاطرِ اقدس پر گراں ہوا اور یہ آیت نازل ہوئی اور ازواجِ مطہرات کو تخییر دی گئی ، اس وقت حضور کی نو بیبیاں تھیں ، پانچ قریشیہ (۱) حضرت عائشہ بنتِ ابی بکر صدیق (رضی اللہ تعالٰی عنہا) (۲) حفصہ بنتِ فاروق (۳) اُمِّ حبیبہ بنتِ ابی سفیان (۴) اُمِّ سلمٰی بنتِ امیہ (۵) سودہ بنتِ زَمْعَہ اور چار غیر قریشیہ (۶) زینب بنتِ جحش اسدیہ (۷) میمونہ بنتِ حارث ہلالیہ (۸) صفیہ بنتِ حُیَی بن اخطب خیبریہ (۹) جویریہ بنتِ حارث مصطلقیہ رضی اللہ تعالٰی عنھنّ ۔ سیدِ عالَم صلی اللہ تعالٰی علیہ والہٖ وسلم نے سب سے پہلے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا کو یہ آیت سنا کر اختیا ر دیا اور فرمایا کہ جلدی نہ کرو اپنے والدین سے مشورہ کر کے جو رائے ہو اس پر عمل کرو ، انھوں نے عرض کیا حضور کے معا ملہ میں مشورہ کیسا ، میں اللہ کو اور اس کے رسول کو اور دارِ آخرت کو چاہتی ہو ں اور باقی از واج نے بھی یہی جواب دیا ۔ مسئلہ : جس عورت کو اختیار دیا جائے وہ اگر اپنے زوج کو اختیا ر کرے تو طلاق واقع نہیں ہوتی اور اگر اپنے نفس کو اختیار کرے تو ہمارے نزدیک طلاقِ بائن واقع ہو تی ہے ۔(ف74)جس عورت کے ساتھ بعدِ نکاح دخول یا خلوتِ صحیحہ ہوئی اس کو طلاق دی جائے تو کچھ سامان دینا مستحب ہے اور وہ سامان تین کپڑوں کا جوڑا ہو تا ہے ، یہا ں مال سے وہی مراد ہے ۔ مسئلہ : جس عورت کا مَہر مقرر نہ کیا گیا ہو اس کو قبلِ دخول طلاق دی تو یہ جوڑا دینا واجب ہے ۔(ف75)بغیر کسی ضرر کے ۔
اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کا گھر چاہتی ہو تو بیشک اللہ نے تمہاری نیکی والیوں کے لیے بڑا اجر تیار کر رکھا ہے،
“And if you desire Allah and His Noble Messenger and the abode of the Hereafter – then indeed Allah has kept prepared an immense reward for the virtuous among you.”
और अगर तुम अल्लाह और उसके रसूल और आख़िरत का घर चाहती हो तो बेशक अल्लाह ने तुम्हारी नیکی वालों के लिए बड़ा अज्र तैयार कर रखा है,
Ae Nabi ki bibiyo! Jo tum mein sareeh haya ke khilaf koi jurrat kare us par auron se doona azaab hoga aur ye Allah ko aasan hai,
اے نبی کی بیبیو! جو تم میں صریح حیا کے خلاف کوئی جرأت کرے (ف۷٦) اس پر اوروں سے دُونا عذاب ہوگا (ف۷۷) اور یہ اللہ کو آسان ہے،
O the wives of the Prophet! If any among you dares to commit an act contrary to decency, for her will be double the punishment of others; and this is easy for Allah.
ए नबी की बीबियों! जो तुम में सरीह हया के ख़िलाफ़ कोई जुर्रत करे उस पर औरों से दुना आज़ाब होगा और यह अल्लाह को आसान है,
Aur jo tum mein farmanbardar rahe Allah aur Rasool ki aur acha kaam kare hum use auron se doona sawab denge aur humne uske liye izzat ki rozi tayar kar rakhi hai,
(ف76)جیسے کہ شوہر کی ا طاعت میں کوتاہی کرنا اور اس کے ساتھ کج خُلقی سے پیش آنا کیونکہ بدکاری سے تو اللہ تعالٰی انبیاء کی بیبیوں کو پاک رکھتا ہے ۔(ف77)کیونکہ جس شخص کی فضیلت زیادہ ہوتی ہے اس سے اگر قصور واقع ہو تو وہ قصور بھی دوسروں کے قصور سے زیادہ سخت قرار دیا جاتا ہے ۔مسئلہ : اسی لئے عالِم کا گناہ جاہل کے گناہ سے زیادہ قبیح ہوتا ہے اور اسی لئے آزادوں کی سزا شریعت میں غلاموں سے زیادہ مقرر ہے اور نبی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی بیبیاں تمام جہان کی عورتوں سے زیادہ فضیلت رکھتی ہیں اس لئے ان کی اَدنٰی بات سخت گرفت کے قابل ہے ۔فائدہ : لفظِ فاحشہ جب معرفہ ہو کر وارد ہو تو اس سے زنا و لواطت مراد ہوتی ہے اور اگر نکرہ غیرِ موصو فہ ہو کر لایا جائے تو اس سے تمام گناہ مراد ہوتے ہیں اور جب موصو ف ہو کر وارد ہو تو اس سے شو ہر کی نافرمانی اور فسادِ معشرت مراد ہوتا ہے ، اس آیت میں نکرہ موصو فہ ہے اسی لئے اس سے شوہر کی اطاعت میں کوتاہی اور کج خُلقی مراد ہے جیسا کہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنھما سے منقول ہے ۔ (جمل وغیرہ)
اور (ف۷۸) جو تم میں فرمانبردار رہے اللہ اور رسول کی اور اچھا کام کرے ہم اسے اوروں سے دُونا ثواب دیں گے (ف۷۹) اور ہم نے اس کے لیے عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے (ف۸۰)
And whoever among you remains obedient towards Allah and His Noble Messenger and does good deeds – We shall give her double the reward of others, and have kept prepared for her an honourable sustenance.
और जो तुम में फ़रमानबरदार रहे अल्लाह और रसूल की और अच्छा काम करे हम उसे औरों से दुना सवाब देंगे और हमने उसके लिए इज़्ज़त की रोज़ी तैयार कर रखी है
Ae Nabi ki bibiyo! Tum aur auraton ki tarah nahi ho agar Allah se daro to baat mein aisi narmi na karo ke dil ka rogi kuch lalach kare, haan achhi baat kaho,
(ف78)اے نبی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی بیبیو ۔ (ف79)یعنی اگر اوروں کو ایک نیکی پر دس گنا ثواب دیں گے تو تمہیں بیس گنا کیونکہ تمام جہان کی عورتوں میں تمہیں شرف و فضیلت ہے اور تمہارے عمل میں بھی دو جہتیں ہیں ایک ادائے اطاعت دوسرے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رضا جوئی اور قناعت و حُسنِ معاشرت کے ساتھ حضور کو خوشنود کرنا ۔(ف80)جنّت میں ۔
اے نبی کی بیبیو! تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو (ف۸۱) اگر اللہ سے ڈرو تو بات میں ایسی نرمی نہ کرو کہ دل کا روگی کچھ لالچ کرے (ف۸۲) ہاں اچھی بات کہو (ف۸۳)
O the wives of the Prophet! You are not like any other women – if you really fear Allah, do not speak softly lest the one in whose heart is a disease have any inclination, and speak fairly.
ए नबी की बीबियों! तुम और औरतों की तरह नहीं हो अगर अल्लाह से डरो तो बात में ऐसी नरमी न करो कि दिल का रोगी कुछ लालच करे हाँ अच्छी बात कहो
Aur apne gharon mein thehri raho aur be-parda na raho jaise agli jahiliyat ki be-pardagi aur namaz qaim rakho aur zakat do aur Allah aur uske Rasool ka hukum mano, Allah to yehi chahta hai, Ae Nabi ke ghar walo! ke tumse har napakii door farma de aur tumhein pak kar ke khoob suthra kar de,
(ف81)تمہارا مرتبہ سب سے زیادہ ہے اور تمہارا اجر سب سے بڑھ کر جہان کی عورتوں میں کوئی تمہاری ہمسر نہیں ۔(ف82)اس میں تعلیمِ آداب ہے کہ اگر بہ ضرورت غیر مرد سے پسِ پردہ گفتگو کرنی پڑے تو قصد کرو کہ لہجہ میں نزاکت نہ آنے پائے اور بات میں لوچ نہ ہو ، بات نہایت سادگی سے کی جائے ، عِفّت مآب خواتین کے لئے یہی شایاں ہے ۔(ف83)دین و اسلام کی اور نیکی کی تعلیم اور پند و نصیحت کی اگر ضرورت پیش آئے مگر بے لوچ لہجہ سے ۔
اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بےپردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بےپردگی (ف۸٤) اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اللہ تو یہی چاہتا ہے، اے نبی کے گھر والو! کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے (ف۸۵)
And remain in your houses and do not unveil yourselves like the unveiling prevalent in the times of ignorance, and keep the prayer established, and pay the charity, and obey Allah and His Noble Messenger; Allah only wills to remove all impurity from you, O the People of the Household, and by cleansing you make you utterly pure. (*The Holy Prophet’s household.)
और अपने घरों में ठहरी रहो और बे पर्दा न रहो जैसे अगली जाहिलियत की बे पर्दगी और नमाज़ कायम रखो और ज़क़ात दो और अल्लाह और उसके रसूल का हुक़्म मानो अल्लाह तो यही चाहता है, ए नबी के घर वालो! कि तुमसे हर नापाकी दूर फ़रमा दे और तुम्हें पाक कर के खूब सुथरा कर दे
Aur yaad karo jo tumhare gharon mein padhi jaati hain Allah ki aayatein aur hikmat, beshak Allah har bareeki jaanta khabardar hai,
(ف84)اگلی جاہلیّت سے مراد قبلِ اسلام کا زمانہ ہے اس زمانہ میں عورتیں اتراتی نکلتی تھیں ، اپنی زینت و محاسن کا اظہار کرتی تھیں کہ غیر مرد دیکھیں ، لباس ایسے پہنتی تھیں جن سے جسم کے اعضاء اچھی طرح نہ ڈھکیں اور پچھلی جاہلیّت سے اخیرِ زمانہ مراد ہے جس میں لوگوں کے افعال پہلوں کی مثل ہو جائیں گے ۔(ف85)یعنی گناہوں کی نجاست سے تم آلودہ نہ ہو ۔ اس آیت سے اہلِ بیت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اوراہلِ بیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ازواجِ مطہرات اور حضرت خاتونِ جنّت فاطمہ زہرا اور علیِ مرتضٰی اور حسنینِ کریمین رضی اللہ تعالٰی عنہم سب داخل ہیں ، آیات و احادیث کو جمع کرنے سے یہی نتیجہ نکلتا ہے اور یہی حضرت امام ابو منصور ماتریدی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے منقول ہے ، ان آیات میں اہلِ بیتِ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو نصیحت فرمائی گئی ہے تاکہ وہ گناہوں سے بچیں اور تقوٰی وپرہیزگاری کے پابند رہیں ، گناہوں کو ناپاکی سے اور پرہیزگاری کو پاکی سے استعارہ فرمایا گیا کیونکہ گناہوں کا مرتکب ان سے ایسا ہی ملوّث ہوتا ہے جیسا جسم نجاستوں سے ۔ اس طرزِ کلام سے مقصود یہ ہے کہ اربابِ عقول کو گناہوں سے نفرت دلائی جائے اور تقوٰی و پرہیزگاری کی ترغیب دی جائے ۔
اور یاد کرو جو تمہارے گھروں میں پڑھی جاتی ہیں اللہ کی آیتیں اور حکمت (ف۸٦) بیشک اللہ ہر باریکی جانتا خبردار ہے،
And remember what is recited in your houses, from Allah’s verses and wisdom*; indeed Allah knows the minutest things, is All Aware. (The Holy Qur’an and the sayings- hadith – of the Holy Prophet.)
और याद करो जो तुम्हारे घरों में पढ़ी जाती हैं अल्लाह की आयतें और हिकमत बेशक अल्लाह हर बारिकी जानता ख़बरदार है,
Beshak musalman mard aur musalman aurat aur iman wale aur iman wali aur farmanbardar aur farmanbardar aur sachche aur sachchi aur sabr wale aur sabr wali aur aajzi karne wale aur aajzi karne wali aur khairaat karne wale aur khairaat karne wali aur roza rakhne wale aur roza rakhne wali aur apni parsaai nigah rakhne wale aur nigah rakhne wali aur Allah ko bohot yaad karne wale aur yaad karne wali, in sab ke liye usne bakhshish aur bada sawab tayar kar rakha hai,
بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں (ف۸۷) اور ایمان والے اور ایمان والیاں اور فرمانبردار اور فرمانبرداریں اور سچے اور سچیاں (ف۸۸) اور صبر والے اور صبر والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے والے اور روزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اس نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے،
Indeed the Muslim men and Muslim women, and the believing men and the believing women, and the men who obey and the women who obey, and the truthful men and the truthful women, and the patient men and the patient women, and the humble men and the humble women, and charitable men and the charitable women, and the fasting men and the fasting women, and the men who guard their chastity and the women who guard their chastity, and the men who profusely remember Allah and the women who profusely remember Allah – for all of them, Allah has kept prepared forgiveness and an immense reward.
बेशक मुसलमान मर्द और मुसलमान औरतें और ईमान वाले और ईमान वाली और फ़रमानबरदार और फ़रमानबरदार और सच्चे और सच्चियाँ और सब्र वाले और सब्र वाली और عاجज़ी करने वाले और عاجज़ी करने वाली और ख़ैरात करने वाले और ख़ैरात करने वाली और रोज़े वाले और रोज़े वाली और अपनी पारसाई नज़र रखने वाले और नज़र रखने वाली और अल्लाह को बहुत याद करने वाले और याद करने वाली इन सब के लिए उसने बख़्शिश और बड़ा सवाब तैयार कर रखा है,
Aur na kisi musalman mard na musalman aurat ko pohanchta hai ke jab Allah o Rasool kuch hukum farma dein to unhein apne maamla ka kuch ikhtiyar rahe, aur jo hukum na maane Allah aur uske Rasool ka woh beshak sareeh gumrahi bahka,
(ف87)شانِ نُزول : اسماء بنتِ عمیس جب اپنے شوہر جعفر بن ابی طالب کے ساتھ حبشہ سے واپس آئیں تو ازواجِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے مل کر انہوں نے دریافت کیا کہ کیا عورتوں کے باب میں بھی کوئی آیت نازل ہوئی ہے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں تو اسماء نے حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عرض کیا کہ حضور عورتیں بڑے ٹوٹے میں ہیں فرمایا کیوں ؟ عرض کیا کہ ان کا ذکر خیر کے ساتھ ہوتا ہی نہیں جیسا کہ مَردوں کا ہوتا ہے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور ان کے دس مراتب مَردوں کے ساتھ ذکر کئے گئے اور ان کے ساتھ ان کی مدح فرمائی گئی اور مراتب میں سے پہلا مرتبہ اسلام ہے جو خدا اور رسول کی فرمانبرداری ہے ، دوسرا ایمان کہ وہ اعتقادِ صحیح اور ظاہر و باطن کا موافق ہونا ہے ، تیسرا مرتبہ قنوت یعنی طاعت ہے ۔(ف88)اس میں چوتھے مرتبہ کا بیان ہے کہ وہ صدقِ نیّات و صدقِ اقوال و افعال ہے ، اس کے بعد پانچویں مرتبہ صبر کا بیان ہے کہ طاعتوں کی پابندی کرنا اور ممنوعات سے احتراز رکھنا خواہ نفس پر کتنا ہی شاق اور گراں ہو رضائے الٰہی کے لئے اختیار کیا جائے ، اس کے بعد پھرچھٹے مرتبہ خشوع کا بیان ہے جو طاعتوں اور عبادتوں میں قلوب و جوارح کے ساتھ متواضع ہونا ہے ، اس کے بعد ساتویں مرتبہ صدقہ کا بیان ہے جو اللہ تعالٰی کے عطا کئے ہوئے مال میں سے اس کی راہ میں بطریقِ فرض و نفل دینا ہے پھر آٹھویں مرتبہ صوم کا بیان ہے یہ بھی فرض و نفل دونوں کو شامل ہے ۔ منقول ہے کہ جس نے ہر ہفتہ ایک درم صدقہ کیا وہ متصدّقین میں اور جس نے ہر مہینہ ایامِ بیض کے تین روزے رکھے وہ صائمین میں شمار کیا جاتا ہے ۔ اس کے بعد نویں مرتبہ عِفّت کا بیان ہے اور وہ یہ ہے کہ اپنی پارسائی کو محفوظ رکھے اور جو حلال نہیں ہے اس سے بچے ، سب سے آخر میں دسویں مرتبہ کثرتِ ذکر کا بیان ہے ذکر میں تسبیح ، تحمید ، تہلیل ، تکبیر ، قراءتِ قرآن ، علمِ دِین کا پڑھنا پڑھانا ، نماز ، وعظ ، نصیحت ، میلاد شریف ، نعت شریف پڑھنا سب داخل ہیں ۔ کہا گیا ہے کہ بندہ ذاکرین میں جب شمار ہوتا ہے جب کہ وہ کھڑے ، بیٹھے ، لیٹے ہر حال میں اللہ کا ذکر کرے ۔
اور نہ کسی مسلمان مرد نہ مسلمان عورت کو پہنچتا ہے کہ جب اللہ و رسول کچھ حکم فرمادیں تو انھیں اپنے معاملہ کا کچھ اختیار رہے (ف۸۹) اور جو حکم نہ مانے اللہ اور اس کے رسول کا وہ بیشک صریح گمراہی بہکا،
And no Muslim man or woman has any right in the affair, when Allah and His Noble Messenger have decreed a command regarding it; and whoever does not obey the command of Allah and His Noble Messenger, has indeed clearly gone very astray.
और न किसी मुसलमान मर्द न मुसलमान औरत को पहुँचता है कि जब अल्लाह व रसूल कुछ हुक़्म फ़रमा दें तो उन्हें अपने मुआमला का कुछ इख़्तियार रहे और जो हुक़्म न माने अल्लाह और उसके रसूल का वह बेशक सरीह ग़ुमराही बहका,
Aur Ae mehboob! Yaad karo jab tum farmaate the us se jise Allah ne nimat di aur tumne use nimat di ke apni biwi apne paas rehne de aur Allah se dar aur tum apne dil mein rakhte the woh jise Allah ko zahir karna manzoor tha aur tumhein logon ke taznah ka andesha tha aur Allah zyada saza war hai ke uska khauf rakho, phir jab Zaid ki gharz us se nikal gayi to humne woh tumhare nikah mein de di ke musalmanon par kuch harj na rahe unke lepalakon (munh bole beton) ki bibiyon mein jab un se unka kaam khatam ho jaaye aur Allah ka hukum ho kar rehna,
(ف89)شانِ نُزول : یہ آیت زینب بنتِ جحش اسدیہ اور ان کے بھائی عبداللہ بن حجش اور ان کی والدہ اُمیمہ بنتِ عبدالمطلب کے حق میں نازل ہوئی ، اُمیمہ حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پھوپھی تھیں ۔ واقعہ یہ تھا کہ زید بن حارثہ جن کو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے آزاد کیا تھا اور وہ حضور ہی کی خدمت میں رہتے تھے حضور نے زینب کے لئے ان کا پیام دیا ، اس کو زینب نے اور ان کے بھائی نے منظور نہیں کیا ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور حضرت زینب اور ان کے بھائی اس حکم کو سن کر راضی ہو گئے اور حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت زید کا نکاح ان کے ساتھ کر دیا اور حضور نے ان کا مَہر دس دینار ساٹھ درھم ، ایک جوڑا کپڑا ، پچاس مُد (ایک پیمانہ ہے) کھانا ، تیس صاع کھجوریں دیں ۔مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ آدمی کو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طاعت ہر امر میں واجب ہے اور نبی علیہ السلام کے مقابلہ میں کوئی اپنے نفس کا بھی خود مختار نہیں ۔ مسئلہ : اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ امر وجوب کے لئے ہوتا ہے ۔فائدہ : بعض تفاسیر میں حضرت زید کو غلام کہا گیا ہے مگر یہ خالی از تسامح نہیں کیونکہ وہ حُر تھے گرفتاری سے بالخصوص قبلِ بعثت شرعاً کوئی شخص مرقوق یعنی مملوک نہیں ہو جاتا اور وہ زمانہ فَترت کا تھا اور اہلِ فَترت کو حربی نہیں کہا جاتا ۔ (کَذَافِی الْجُمل)
اور اے محبوب! یاد کرو جب تم فرماتے تھے اس سے جسے اللہ نے اسے نعمت دی (ف۹۰) اور تم نے اسے نعمت دی (ف۹۱) کہ اپنی بی بی اپنے پاس رہنے دے (ف۹۲) اور اللہ سے ڈر (ف۹۳) اور تم اپنے دل میں رکھتے تھے وہ جسے اللہ کو ظاہر کرنا منظور تھا (ف۹٤) اور تمہیں لوگوں کے طعنہ کا اندیشہ تھا (ف۹۵) اور اللہ زیادہ سزاوار ہے کہ اس کا خوف رکھو (ف۹٦) پھر جب زید کی غرض اس سے نکل گئی (ف۹۷) تو ہم نے وہ تمہارے نکاح میں دے دی (ف۹۸) کہ مسلمانوں پر کچھ حرج نہ رہے ان کے لے پالکوں (منہ بولے بیٹوں) کی بیبیوں میں جب ان سے ان کا کام ختم ہوجائے (ف۹۹) اور اللہ کا حکم ہو کر رہنا،
And O dear Prophet, remember when you said to him upon whom Allah has bestowed favour and you had bestowed favour, “Keep your wife with you, and fear Allah”, and you kept in your heart what Allah willed to make known, and you feared criticism from the people; and Allah has more right that you should fear Him; so when Zaid became unconcerned with her, We gave her to you in marriage, so that there may be no sin upon believers in respect of the wives of their adopted sons when they have become unconcerned with them; and the command of Allah must be carried out.
और ए महबूब! याद करो जब तुम फ़रमाते थे उससे जिसे अल्लाह ने उसे नेमत दी और तुमने उसे नेमत दी कि अपनी बीबी अपने पास रहने दे और अल्लाह से डर और तुम अपने दिल में रखते थे वह जिसे अल्लाह को ज़ाहिर करना मंजूर था और तुम्हें लोगों के तज़न का अंदेशा था और अल्लाह ज़्यादा सज़ावार है कि उसका ख़ौफ़ रखो फिर जब ज़ैद की ग़रज़ उससे निकल गई तो हमने वह तुम्हारे निकाह में दे दी कि मुसलमानों पर कुछ हरज न रहे उनके लेपालकों (मुँह बोले बेटों) की बीबियों में जब उनसे उनका काम ख़त्म हो जाए और अल्लाह का हुक़्म हो कर रहना,
Nabi par koi harj nahi is baat mein jo Allah ne uske liye muqarar farmayi, Allah ka dastoor chala aa raha hai is mein jo pehle guzre, aur Allah ka kaam muqarar taqdeer hai,
(ف90)اسلام کی جو بڑی جلیل نعمت ہے ۔(ف91)آزاد فرما کر ، مراد اس سے حضرت زید بن حارثہ ہیں کہ حضور نے انہیں آزاد کیا اور ان کی پرورش فرمائی ۔(ف92)شانِ نُزول : جب حضرت زید کا نکاح حضرت زینب سے ہو چکا تو حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس اللہ تعالٰی کی طرف سے وحی آئی کہ زینب آپ کے ازواجِ طاہرات میں داخل ہوں گی اللہ تعالٰی کو یہی منظور ہے ، اس کی صورت یہ ہوئی کہ حضرت زید اور زینب کے درمیان موافقت نہ ہوئی اور حضرت زید نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے حضرت زینب کی سخت گفتاری ، تیز زبانی ، عدمِ اطاعت اور اپنے آپ کو بڑا سمجھنے کی شکایت کی ، ایسا بار بار اتفاق ہوا ، حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حضرت زید کو سمجھا دیتے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(ف93)زینب پر کِبَر و ایذائے شوہر کے الزام لگانے میں ۔(ف94)یعنی آپ پر یہ ظاہر نہیں فرماتے تھے کہ زینب سے تمہارا نباہ نہیں ہو سکے گا اور طلاق ضرور واقع ہو گی اور اللہ تعالٰی انہیں ازواجِ مطہرات میں داخل کرے گا اور اللہ تعالٰی کو اس کا ظاہر کرنا منظور تھا ۔(ف95)یعنی جب حضرت زید نے زینب کو طلاق دے دی تو آپ کو لوگوں کے طعن کا اندیشہ ہوا کہ اللہ تعالٰی کا حکم تو ہے حضرت زینب کے ساتھ نکاح کرنے کا اور ایسا کرنے سے لوگ طعنہ دیں گے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایسی عورت کے ساتھ نکاح کر لیا جو ان کے منہ بولے بیٹے کے نکاح میں رہی تھی ۔ مقصود یہ ہے کہ امرِ مباح میں بے جا طعن کرنے والوں کا کچھ اندیشہ نہ کرنا چاہئے ۔(ف96)اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سب سے زیادہ اللہ کا خوف رکھنے والے اور سب سے زیادہ تقوٰی والے ہیں جیسا کہ حدیث شریف میں ہے ۔(ف97)اور حضر ت زید نے حضرت زینب کو طلاق دے دی اور عدّت گزر گئی ۔(ف98)حضرت زینب کی عدّت گزرنے کے بعد ان کے پاس حضرت زید رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا پیام لے کر گئے اور انہوں نے سر جھکا کر کمالِ شرم و ادب سے انہیں یہ پیام پہنچایا ، انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں اپنی رائے کو کچھ بھی دخل نہیں دیتی جو میرے ربّ کو منظور ہو اس پر راضی ہوں یہ کہہ کر وہ بارگاہِ الٰہی میں متوجّہ ہوئیں اور انہوں نے نماز شروع کر دی اور یہ آیت نازل ہوئی حضرت زینب کو اس نکاح سے بہت خوشی اور فخر ہوا ، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس شادی کا ولیمہ بہت وسعت کے ساتھ کیا ۔(ف99)یعنی تاکہ یہ معلوم ہو جائے کہ لے پالک کی بی بی سے نکاح جائز ہے ۔
نبی پر کوئی حرج نہیں اس بات میں جو اللہ نے اس کے لیے مقرر فرمائی (ف۱۰۰) اللہ کا دستور چلا آرہا ہے اس میں جو پہلے گزر چکے (ف۱۰۱) اور اللہ کا کام مقرر تقدیر ہے
There is no blame upon the Prophet regarding the matter that Allah has decreed for him; it has been Allah’s tradition in those who passed before; and the command of Allah is a certain destiny.
नबी पर कोई हरज नहीं उस बात में जो अल्लाह ने उसके लिए मुअय्यर फ़रमाई अल्लाह का दस्तूर चला आ रहा है इसमें जो पहले गुजर चुके और अल्लाह का काम मुअय्यर तक़दीर है
Woh jo Allah ke paigham pohanchate aur us se darte aur Allah ke siwa kisi ka khauf na kare, aur Allah bas hai hisaab lene wala,
(ف100)یعنی اللہ تعالٰی نے جو ان کے لئے مباح کیا اور بابِ نکاح میں جو و سعت انہیں عطا فرمائی اس پر اقدام کرنے میں کچھ حرج نہیں ۔(ف101)یعنی انبیاء علیہم السلام کو بابِ نکاح میں وسعتیں دی گئیں کہ دوسروں سے زیادہ عورتیں ان کے لئے حلال فرمائیں جیسا کہ حضرت داؤد علیہ السلام کی سو بیبیاں اورحضرت سلیمٰن علیہ السلام کی تین سو بیبیاں تھیں یہ ان کے خاص احکام ہیں ان کے سوا دوسروں کو روا نہیں ، نہ کوئی اس پر معترض ہو سکتا ہے ۔ اللہ تعالٰی اپنے بندوں میں جس کے لئے جو حکم فرمائے اس پر کسی کو اعتراض کی کیا مجال ۔ اس میں یہود کا رد ہے جنہوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم پر چار سے زیادہ نکاح کرنے پر طعن کیا تھا اس میں انہیں بتایا گیا کہ یہ حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لئے خاص ہے جیسا کہ پہلے انبیاء کے لئے تعدادِ ازواج میں خاص احکام تھے ۔
محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں (ف۱۰۳) ہاں اللہ کے رسول ہیں (ف۱۰٤) اور سب نبیوں کے پچھلے (ف۱۰۵) اور اللہ سب کچھ جانتا ہے،
Mohammed (peace and blessings be upon him) is not the father of any man among you – but he is the Noble Messenger of Allah and the Last of the Prophets*; and Allah knows all things. (* Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him – is the Last Prophet. There can be no new Prophet after him).
मुहम्मद तुम्हारे मर्दों में किसी के बाप नहीं हाँ अल्लाह के रसूल हैं और सब नबियों के पिछले और अल्लाह सब कुछ जानता है,
Ae iman walo! Allah ko bohot zyada yaad karo,
(ف103)تو حضرت زید کے بھی آپ حقیقت میں باپ نہیں کہ ان کی منکوحہ آپ کے لئے حلال نہ ہوتی ، قاسم و طیّب و طاہر و ابراہیم حضور کے فرزند تھے مگر وہ اس عمر کو نہ پہنچے کہ انہیں مرد کہا جائے ، انہوں نے بچپن میں وفات پائی ۔(ف104)اور سب رسول ناصح شفیق اور واجب التوقیر و لازم الطاعۃ ہونے کے لحاظ سے اپنی اُمّت کے باپ کہلاتے ہیں بلکہ ان کے حقوق حقیقی باپ کے حقوق سے بہت زیادہ ہیں لیکن اس سے اُمّت حقیقی اولاد نہیں ہو جاتی اور حقیقی اولاد کے تمام احکام وراثت وغیرہ اس کے لئے ثابت نہیں ہوتے ۔(ف105)یعنی آخر الانبیاء کہ نبوّت آپ پر ختم ہو گئی آپ کی نبوّت کے بعد کسی کو نبوّت نہیں مل سکتی حتّٰی کہ جب حضرت عیسٰی علیہ السلام نازل ہو ں گے تو اگرچہ نبوّت پہلے پا چکے ہیں مگر نُزول کے بعد شریعتِ محمّدیہ پر عامل ہوں گے اور اسی شریعت پر حکم کریں گے اور آپ ہی کے قبلہ یعنی کعبہ معظّمہ کی طرف نماز پڑھیں گے ، حضور کا آخر الانبیاء ہونا قطعی ہے ، نصِّ قرآنی بھی اس میں وارد ہے اور صحاح کی بکثرت احادیثِ تو حدِّ تواتر تک پہنچتی ہیں ۔ ان سب سے ثابت ہے کہ حضور سب سے پچھلے نبی ہیں آپ کے بعد کوئی نبی ہونے والا نہیں جو حضور کی نبوّت کے بعد کسی اور کو نبوّت ملنا ممکن جانے ، وہ ختمِ نبوّت کا منکِر اور کافِر خارج از اسلام ہے ۔
Wahi hai ke durood bhejta hai tum par, woh aur uske farishte ke tumhein andheriyon se ujale ki taraf nikale aur woh musalmanon par meherban hai,
(ف106)کیونکہ صبح اور شام کے اوقات ملائکۂ روز و شب کے جمع ہونے کے وقت ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اطرافِ لیل و نہار کا ذکر کرنے سے ذکر کی مداومت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے ۔
وہی ہے کہ درود بھیجتا ہے تم پر وہ اور اس کے فرشتے (ف۱۰۷) کہ تمہیں اندھیریوں سے اجالے کی طرف نکالے (ف۱۰۸) اور وہ مسلمانوں پر مہربان ہے،
It is He Who sends blessings upon you*, and so do His angels, so that He may bring you out from darkness into light; and He is Most Merciful upon the Muslims. (* Upon the companions of the Holy Prophet).
वही है कि दरूद भीजता है तुम पर वह और उसके फ़रिश्ते कि तुम्हें अंधेरियों से उजाले की तरफ़ निकालें और वह मुसलमानों पर मेहरबान है,
Unke liye milte waqt ki dua salaam hai aur unke liye izzat ka sawab tayar kar rakha hai,
(ف107)شانِ نُزول : حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ جب آیت ' اِنَّ اللہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ ' نازل ہوئی تو حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کیا یارسولَ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جب آپ کو اللہ تعالٰی کوئی فضل و شرف عطا فرماتا ہے تو ہم نیاز مندوں کو بھی آپ کے طفیل میں نوازتا ہے ۔ اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی ۔(ف108)یعنی کُفر و معصیت اور ناخدا شناسی کی اندھیریوں سے حق و ہدایت اور معرفت و خدا شناسی کی روشنی کی طرف ہدایت فرمائے ۔
ان کے لیے ملتے وقت کی دعا سلام ہے (ف۱۰۹) اور ان کے لیے عزت کا ثواب تیار کر رکھا ہے،
For them the salutation upon their meeting* is “Peace”; and an honourable reward is kept prepared for them. (* Upon death / while entering Paradise / meeting with Allah).
उनके लिए मिलते वक्त की दुआ सलाम है और उनके लिए इज़्ज़त का सवाब तैयार कर रखा है,
Ae ghaib ki khabrein batane wale (Nabi)! Beshak humne tumhe bheja hazir naazir aur khushkhbari deta aur dar sunata,
(ف109)ملتے وقت سے مراد یا موت کا وقت ہے یا قبروں سے نکلنے کا یا جنّت میں داخل ہونے کا ۔ مروی ہے کہ حضرت مَلَک الموت علیہ السلام کسی مومن کی روح اس کو سلام کئے بغیر قبض نہیں فرماتے ۔ حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ جب مَلَک الموت مومن کی روح قبض کرنے آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ تیرا ربّ تجھے سلام فرماتا ہے اور یہ بھی وارد ہوا ہے کہ مومنین جب قبروں سے نکلیں گے تو ملائکہ سلامتی کی بشارت کے طور پر انہیں سلام کریں گے ۔ (جمل وخازن)
۔ ( اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) بیشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر ناظر (ف۱۱۰) اور خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا (ف۱۱۱)
O Herald of the Hidden! We have indeed sent you as an observing present witness and a Herald of glad tidings and warning.
ए ग़ैब की खबरें बताने वाले (नबी) बेशक हमने तुम्हें भेजा हाज़िर नाज़िर और खुशख़बरी देता और डर सुनाता
Aur Allah ki taraf uske hukum se bulata aur chamka dene wala aftab,
(ف110)شاہد کا ترجمہ حاضر و ناظر بہت بہترین ترجمہ ہے ، مفرداتِ راغب میں ہے ' اَلشُّھُوْدُ وَ الشَّھَادَۃُ الْحُضُوْرُ مَعَ الْمُشَاھَدَۃِ اِمَّا بِالْبَصَرِ اَوْ بِالْبَصِیْرَۃِ ' یعنی شہود اور شہادت کے معنٰی ہیں حاضر ہونا مع ناظر ہونے کے بصر کے ساتھ ہو یا بصیرت کے ساتھ اور گواہ کو بھی اسی لئے شاہد کہتے ہیں کہ وہ مشاہدہ کے ساتھ جو علم رکھتا ہے اس کو بیان کرتا ہے ۔ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تمام عالَم کی طرف مبعوث ہیں ، آپ کی رسالت عامّہ ہے جیسا کہ سورۂ فرقان کی پہلی آیت میں بیان ہوا تو حضور پُرنور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم قیامت تک ہونے والی ساری خَلق کے شاہد ہیں اور ان کے اعمال و افعال و احوال ، تصدیق ، تکذیب ، ہدایت ، ضلال سب کا مشاہدہ فرماتے ہیں ۔ (ابوالسعود وجمل)(ف111)یعنی ایمانداروں کو جنّت کی خوشخبری اور کافِروں کو عذابِ جہنّم کا ڈر سناتا ۔
اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا (ف۱۱۲) اور چمکا دینے دینے والا آفتاب (ف۱۱۳)
And as a caller towards Allah, by His command, and as a sun that enlightens. (The Holy Prophet is a light from Allah.)
और अल्लाह की तरफ़ उसके हुक़्म से बुलाता और चमका देने वाला आफ़ताब
Aur iman walon ko khushkhbari do ke unke liye Allah ka bada fazl hai,
(ف112)یعنی خَلق کو طاقتِ الٰہی کی دعوت دیتا ۔(ف113)سراج کا ترجمہ آفتاب قرآنِ کریم کے بالکل مطابق ہے کہ اس میں آفتاب کو سراج فرمایا گیا ہے جیسا کہ سورۂ نوح میں ' وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِراَجاً 'اور آخِرِ پارہ کی پہلی سورۃ میں ہے' وَجَعَلْنَا سِرَاجاً وَّھَّاجاً ' اور درحقیقت ہزاروں آفتابوں سے زیادہ روشنی آپ کے نورِ نبوّت نے پہنچائی اور کُفر و شرک کے ظلماتِ شدیدہ کو اپنے نُورِ حقیقت افروز سے دور کر دیا اور خَلق کے لئے معرفت و توحیدِ الٰہی تک پہنچنے کی راہیں روشن اور واضح کر دیں اور ضلالت کے وادیٔ تاریک میں راہ گم کرنے والوں کو اپنے انوارِ ہدایت سے راہ یاب فرمایا اور اپنے نورِ نبوّت سے ضمائر وبصائر اور قلوب و ارواح کو منوّر کیا ، حقیقت میں آپ کا وجود مبارک ایسا آفتابِ عالَم تاب ہے جس نے ہزارہا آفتاب بنا دیئے اسی لئے اس کی صفت میں منیر ارشاد فرمایا گیا ۔
اور کافروں اور منافقوں کی خوشی نہ کرو اور ان کی ایذا پر درگزر فرماؤ (ف۱۱٤) اور اللہ پر بھروسہ رکھو، اور اللہ بس ہے کارساز،
And do not please the disbelievers and the hypocrites, and overlook the pain they cause and rely upon Allah; and Allah suffices as a Trustee.
और काफ़िरों और मुनाफ़िकों की खुशी न करो और उनकी एज़ा पर दरगुज़र फ़रमाओ और अल्लाह पर भरोसा रखो, और अल्लाह बस है क़ारसाज़,
Ae iman walo! Jab tum musalman auraton se nikah karo phir unhein be-haath lagae chhod do to tumhare liye kuch iddat nahi, jise gino to unhein kuch faida do aur achhi tarah se chhod do,
(ف114)جب تک کہ اس بارے میں اللہ تعالٰی کی طرف سے کوئی حکم دیا جائے ۔
اے ایمان والو! جب تم مسلمان عورتوں سے نکاح کرو پھر انھیں بےہاتھ لگائے چھوڑ دو تو تمہارے لیے کچھ عدت نہیں جسے گنو (ف۱۱۵) تو انھیں کچھ فائدہ دو (ف۱۱٦) اور اچھی طرح سے چھوڑ دو (ف۱۱۷)
O People who Believe! If you marry Muslim women and divorce them without having touched them, so for you there is no waiting period for the women, which you may count; therefore give them some benefit and release them with a proper release.
ए ईमान वालो! जब तुम मुसलमान औरतों से निकाह करो फिर उन्हें बे हाथ लगाएँ छोड़ दो तो तुम्हारे लिए कुछ अद्दत नहीं जिसे गिनो तो उन्हें कुछ फ़ायदा दो और अच्छी तरह से छोड़ दो
Ae ghaib batane wale (Nabi)! Humne tumhare liye halal farmaaye tumhari woh bibiyan jin ko tum mehr do aur tumhare haath ka maal kaneezain jo Allah ne tumhe ghaneemat mein di aur tumhare chacha ki betiyan aur phuphiyon ki betiyan aur mamoon ki betiyan aur khalo ki betiyan jinhone tumhare saath hijrat ki aur iman wali aurat agar woh apni jaan Nabi ki nazar kare agar Nabi use nikah mein lana chahe, ye khaas tumhare liye hai, ummat ke liye nahi, humein maaloom hai jo humne musalmanon par muqarar kiya hai unki bibiyon aur unke haath ki maal kaneezon mein, ye khusoosiyat tumhari isliye ke tum par koi tangi na ho, aur Allah bakshne wala meherban,
(ف115)مسئلہ: اس آیت سے معلوم ہوا کہ اگر عورت کو قبلِ قربت طلاق دی تو اس پر عدّت واجب نہیں ۔مسئلہ : خلوتِ صحیحہ قربت کے حکم میں ہے تو اگر خلوتِ صحیحہ کے بعد طلاق واقع ہو تو عدّت واجب ہوگی اگرچہ مباشرت نہ ہوئی ہو ۔مسئلہ : یہ حکم مومنہ اور کتابیہ دونوں کو عام ہے لیکن آیت میں مومنات کا ذکر فرمانا اس طرف مشیر ہے کہ نکاح کرنا مومنہ سے اَولٰی ہے ۔(ف116)مسئلہ : یعنی اگر ان کا مَہر مقرر ہو چکا تھا تو قبلِ خلوت طلاق دینے سے شوہر پر نصف مَہر واجب ہو گا اور اگر مَہر مقرر نہیں ہوا تھا تو ایک جوڑا دینا واجب ہے جس میں تین کپڑے ہوتے ہیں ۔(ف117)اچھی طرح چھوڑنا یہ ہے کہ ان کے حقوق ادا کر دیئے جائیں اور ان کو کوئی ضرر نہ دیا جائے اور انہیں روکا نہ جائے کیونکہ ان پر عدّت نہیں ہے ۔
اے غیب بتانے والے (نبی)! ہم نے تمہارے لیے حلال فرمائیں تمہاری وہ بیبیاں جن کو تم مہر دو (ف۱۱۸) اور تمہارے ہاتھ کا مال کنیزیں جو اللہ نے تمہیں غنیمت میں دیں (ف۱۱۹) اور تمہارے چچا کی بیٹیاں اور پھپیوں کی بیٹیاں اور ماموں کی بیٹیاں اور خالاؤں کی بیٹیاں جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی (ف۱۲۰) اور ایمان والی عورت اگر وہ اپنی جان نبی کی نذر کرے اگر نبی اسے نکاح میں لانا چاہے (ف۱۲۱) یہ خاص تمہارے لیے ہہے امت کے لیے نہیں (ف۱۲۲) ہمیں معلوم ہے جو ہم نے مسلمانوں پر مقرر کیا ہے ان کی بیبیوں اور ان کے ہاتھ کی مال کنیزوں میں (ف۱۲۳) یہ خصوصیت تمہاری (ف۱۲٤) اس لیے کہ تم پر کوئی تنگی نہ ہو، اور اللہ بخشنے والا مہربان،
O Herald of the Hidden! We have indeed made lawful for you the wives to whom you have paid their bridal money, and the bondwomen you possess whom Allah gave you as war booty, and the daughters of your paternal uncles, and the daughters of your paternal aunts, and the daughters of your maternal uncles, and the daughters of your maternal aunts, those who migrated with you; and the believing woman if she gifts her life to the Prophet, if the Prophet desires to take her in marriage; this is exclusively for you, not for your followers; We indeed know what We have enjoined upon the Muslims concerning their wives and the bondwomen they possess – this exclusivity for you is so that you may not have constraints; and Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
ए ग़ैब बताने वाले (नबी)! हमने तुम्हारे लिए हलाल फ़रमाई तुम्हारी वह बीबियां जिन्हें तुम मेहर दो और तुम्हारे हाथ का माल क़नीज़ें जो अल्लाह ने तुम्हें घ़नीमत में दीं और तुम्हारे चाचा की बेटियाँ और फूफियों की बेटियाँ और मामूँ की बेटियाँ और खालाओं की बेटियाँ जिन्होंने तुम्हारे साथ हिजरत की और ईमान वाली औरत अगर वह अपनी जान नबी की नज़र करे अगर नबी उसे निकाह में लाना चाहे यह ख़ास तुम्हारे लिए है उम्मत के लिए नहीं हमें मालूम है जो हमने मुसलमानों पर मुअय्यर किया है उनकी बीबियों और उनके हाथ की माल क़नीज़ों में यह ख़ुसूसियत तुम्हारी इस लिए कि तुम पर कोई तंगी न हो, और अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान,
Peechay hatao un mein se jise chaho aur apne paas jagah do jise chaho aur jise tumne kinara kar diya tha use tumhara ji chahe to is mein bhi tum par kuch gunah nahi, ye amr us se nazdeek tar hai ke unki aankhen thandi hoon aur gham na karein aur tum unhein jo kuch ata farmaao us par woh sab ki sab razi rahen aur Allah jaanta hai jo tum sab ke dilon mein hai, aur Allah ilm o hulm wala hai,
(ف118)مَہر کی تعجیل اور عقد میں تعیُّن افضل ہےشرطِ حلت نہیں کیونکہ مَہر کو مُعَجَّل طریقہ پر دینا یا اس کو مقرر کرنا اَولٰی اور بہتر ہے واجب نہیں ۔ (تفسیرِ احمدی)(ف119)مثل حضرت صفیہ و حضرت جویریہ کے جن کو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے آزاد فرمایا اور ان سے نکاح کیا ۔مسئلہ : غنیمت میں ملنے کا ذکر بھی فضیلت کے لئے ہے کیونکہ مملوکات بمِلکِ یمین خواہ خرید سے مِلک میں آئی ہوں یا ہبہ سے یا وارثت سے یا وصیّت سے وہ سب حلال ہیں ۔(ف120)ساتھ ہجرت کرنے کی قید بھی افضل کا بیان ہے کیونکہ بغیر ساتھ ہجرت کرنے کے بھی ان میں سے ہر ایک حلال ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خاص حضور کے حق میں ان عورتوں کی حِلّت اس قید کے ساتھ مقیّد ہو جیسا کہ اُمِّ ہانی بنتِ ابی طالب کی روایت اس طرف مشیر ہے ۔(ف121)معنٰی یہ ہیں کہ ہم نے آپ کے لئے اس مومنہ عورت کو حلال کیا جو بغیر مَہر اور بغیر شروطِ نکاح اپنی جان آپ کو ہبہ کرے بشرطیکہ آپ اسے نکاح میں لانے کا ارادہ فرمائیں ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اس میں آئندہ کے حکم کابیان ہے کیونکہ وقتِ نُزولِ آیت حضور کے ازواج میں سے کوئی بھی ایسی نہ تھیں جو ہبہ کے ذریعہ سے مشرف بَزوجیّت ہوئی ہوں اور جن مومنہ بیبیوں نے اپنی جانیں حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو نذر کر دیں وہ میمونہ بنتِ حارث اور خولہ بنتِ حکیم اور اُمِّ شریک اور زینب بنتِ خزیمہ ہیں ۔ (تفسیرِ احمدی)(ف122)یعنی نکاح بے مَہرِ خاص آ پ کے لئے جائز ہے اُمّت کے لئے نہیں ، امّت پر بہرحال مَہر واجب ہے خواہ وہ مَہر معیّن نہ کریں یا قصداً مَہر کی نفی کریں ۔ مسئلہ : نکاح بلفظِ ہبہ جائز ہے ۔(ف123)یعنی بیبیوں کے حق میں جو کچھ مقرر فرمایا ہے مَہر اور گواہ اور باری کا واجب ہونا اور چار حُرّہ عورتوں تک کو نکاح میں لانا ۔مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ شرعاً مَہر کی مقدار اللہ تعالٰی کے نزدیک مقرر ہے اور وہ دس درہم ہیں جس سے کم کرنا ممنوع ہےجیسا کہ حدیث شریف میں ہے ۔(ف124)جو اوپر ذکر ہوئی کہ عورتیں آپ کے لئے مَحض ہبہ سے بغیر مَہر کے حلال کی گئیں ۔
پیچھے ہٹاؤ ان میں سے جسے چاہو اور اپنے پاس جگہ دو جسے چاہو (ف۱۲۵) اور جسے تم نے کنارے کردیا تھا اسے تمہارا جی چاہے تو اس میں بھی تم پر کچھ گناہ نہیں (ف۱۲٦) یہ امر اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور غم نہ کریں اور تم انھیں جو کچھ عطا فرماؤ اس پر وہ سب کی سب راضی رہیں (ف۱۲۷) اور اللہ جانتا ہے جو تم سب کے دلوں میں ہے، اور اللہ علم و حلم والا ہے،
Put back in the order whom you wish among them and give your proximity to whomever you wish; and if you incline towards one whom you had set aside, there is no sin upon you in it; this command is closer to their eyes remaining soothed and not grieving, and all of them remaining happy with whatever you give them; and Allah knows what is in the hearts of you all; and Allah is All Knowing, Most Forbearing.
पीछे हटाओ उनमें से जिसे चाहो और अपने पास जगह दो जिसे चाहो और जिसे तुमने किनारे कर दिया था उसे तुम्हारा जी चाहे तो इस में भी तुम पर कुछ गुनाह नहीं यह अमर इससे नज़दीकतर है कि उनकी आँखें ठंडी हों और ग़म न करें और तुम उन्हें जो कुछ अता फ़रमाओ उस पर वे सब की सब रज़ी रहें और अल्लाह जानता है जो तुम सब के दिलों में है, और अल्लाह इल्म व हिल्म वाला है,
Unke baad aur auratein tumhein halal nahi aur na ye ke unke avaz aur bibiyan badlo agarche tumhein unka husn bhaye, magar kaneez tumhare haath ka malik aur Allah har cheez par nigehban hai,
(ف125)یعنی آپ کو اختیار دیا گیا ہے کہ جس بی بی کو چاہیں پاس رکھیں اور بیبیوں میں باری مقرر کریں یا نہ کریں لیکن باوجود اس اختیار کے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تمام ازواجِ مطہرات کے ساتھ عدل فرماتے اور ان کی باریاں برابر رکھتے بَجُز حضرت سودہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے جنہوں نے اپنی باری کا دن حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو دے دیا تھا اور بارگاہِ رسالت میں عرض کیا تھا کہ میرے لئے یہی کافی ہے کہ میرا حشر آپ کے ازواج میں ہو ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مروی ہے کہ یہ آیت ان عورتوں کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے اپنی جانیں حضور کو نذر کیں اور حضور کو اختیار دیا گیا کہ ان میں سے جس کو چاہیں قبول کریں اس کے ساتھ تزوُّج فرمائیں اور جس کو چاہیں انکار فرما دیں ۔(ف126)یعنی ازواج میں سے آپ نے جس کو معزول یا ساقط القسمۃ کر دیا ہو آپ جب چاہیں اس کی طرف التفات فرمائیں اور اس کو نوازیں اس کا آپ کو اختیار دیا گیا ہے ۔(ف127)کیونکہ جب وہ یہ جانیں گی کہ یہ تفویض اور یہ اختیار آپ کو اللہ تعالٰی کی طرف سے عطا ہوا ہے تو ان کے قلوب مطمئن ہو جائیں گے ۔
ان کے بعد (۱۲۸) اور عورتیں تمہیں حلال نہیں (ف۱۲۹) اور نہ یہ کہ ان کے عوض اور بیبیاں بدلو (ف۱۳۰) اگرچہ تمہیں ان کا حسن بھائے مگر کنیز تمہارے ہاتھ کا مالک (ف۱۳۱) اور اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے،
Other women are not permitted for you after these, nor that you change them for other wives even if their beauty pleases you except the bondwomen whom you possess; and Allah is the Guardian over all things.
उनके बाद औरतें तुम्हें हलाल नहीं और न यह कि उनके बदले और बीबियां बदलो भले तुम्हें उनका हुस्न भाए मगर क़नीज़ तुम्हारे हाथ का मालिक और अल्लाह हर चीज़ पर निग़हबान है,
Ae iman walo! Nabi ke gharon mein na hazir ho jab tak izn na pao, maslan khane ke liye bulaye jao, na yun ke khud uske pakne ki raah tako, haan jab bulaye jao to hazir ho aur jab kha chuko to mutafarriq ho jao, na ye ke baithe baaton mein dil behlao, beshak is mein Nabi ko eza hoti thi to woh tumhara lihaaz farmaate the aur Allah haq farmane mein nahi sharmata, aur jab tum un se bartne ki koi cheez mango to parde ke bahar mango, is mein zyada suthrai hai tumhare dilon aur unke dilon ki aur tumhein nahi pohanchta ke Rasool Allah ko eza do aur na ye ke unke baad kabhi unki bibiyon se nikah karo, beshak ye Allah ke nazdeek bari sakht baat hai,
(ف128)یعنی ان نو بیبیوں کے بعد جو آپ کے نکاح میں ہیں جہنیں آپ نے اختیار دیا تو انہوں نے اللہ تعالٰی اور رسول کو اختیار کیا ۔(ف129)کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ازواج کا نصاب نو ہے جیسے کہ اُمّت کے لئے چار ۔(ف130)یعنی انہیں طلاق دے کر ان کی جگہ دوسری عورتوں سے نکاح کر لو ایسا بھی نہ کرو ، یہ احترام ان ازواج کا اس لئے ہے کہ جب حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انہیں اختیار دیا تھا تو انہوں نے اللہ و رسول کو اختیار کیا اور آسائشِ دنیا کو ٹھکرا دیا چنانچہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انہیں پر اکتفا فرمایا اور اخیر تک یہی بیبیاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں رہیں ، حضرت عائشہ و اُمِّ سلمہ رضی اللہ تعالٰی عہنما سے مروی ہے کہ آخِر میں حضور کے لئے حلال کر دیا گیا تھا کہ جتنی عورتوں سے چاہیں نکاح فرمائیں ، اس تقدیر پر آیت منسوخ ہے اور اس کا ناسخ آیۂ ' اِنَّآ اَحْلَلَنَا لَکَ اَزْوَاجَکَ ' اَلآیۃَ ہے ۔(ف131)وہ تمہارے لئے حلال ہے اور اس کے بعد حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مِلک میں آئیں اور ان سے حضورکے فرزند حضرت ابراہیم پیدا ہوئے جنہوں نے چھوٹی عمر میں وفات پائی ۔
اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں (ف۱۳۲) نہ حاضر ہو جب تک اذن نہ پاؤ (ف۱۳۳) مثلاً کھانے کے لیے بلائے جاؤ نہ یوں کہ خود اس کے پکنے کی راہ تکو (ف۱۳٤) ہاں جب بلائے جاؤ تو حاضر ہو اور جب کھا چکو تو متفرق ہوجاؤ نہ یہ کہ بیٹھے باتوں میں دل بہلاؤ (ف۱۳۵) بیشک اس میں نبی کو ایذا ہوتی تھی تو وہ تمہارا لحاظ فرماتے تھے (ف۱۳٦) اور اللہ حق فرمانے میں نہیں شرماتا، اور جب تم ان سے (ف۱۳۷) برتنے کی کوئی چیز مانگو تو پردے کے باہر مانگو ، اس میں زیادہ ستھرائی ہے تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کی (ف۱۳۸) اور تمہیں نہیں پہنچتا کہ رسول اللہ کو ایذا دو (ف۱۳۹) اور نہ یہ کہ ان کے بعد کبھی ان کی بیبیوں سے نکاح کرو (ف۱٤۰) بیشک یہ اللہ کے نزدیک بڑی سخت بات ہے (ف۱٤۱)
O People who Believe! Do not enter the houses of the Prophet without permission, as when called for a meal but not to linger around waiting for it – and if you are invited then certainly present yourself and when you have eaten, disperse – not staying around delighting in conversation; indeed that was causing harassment to the Prophet, and he was having regard for you; and Allah does not shy in proclaiming the truth; and when you ask the wives of the Prophet for anything to use, ask for it from behind a curtain; this is purer for your hearts and for their hearts; and you have no right to trouble the Noble Messenger of Allah, nor ever marry any of his wives after him; indeed that is a very severe matter in the sight of Allah. (To honour the Holy Prophet – peace and blessings be upon him – is part of faith. To disrespect him is blasphemy.)
ए ईमान वालो! नबी के घरों में न हाज़िर हो जब तक इज़न न पाओ उदाहरण के लिए खाने के लिए बुलाए जाओ न यूँ कि खुद उसके पकने की राह टको हाँ जब बुलाए जाओ तो हाज़िर हो और जब खा चुके तो म़ुतफ़र्रक हो जाओ न यह कि बैठे बातों में दिल बहलाओ बेशक इस में नबी को एज़ा होती थी तो वह तुम्हारा लिहाज़ फ़रमाते थे और अल्लाह हक़ फ़रमाने में नहीं शर्माता, और जब तुम उनसे बर्तने की कोई चीज़ मांगो तो पर्दे के बाहर मांगो, इस में ज़्यादा सुथराई है तुम्हारे दिलों और उनके दिलों की और तुम्हें नहीं पहुँचता कि रसूल अल्लाह को एज़ा दो और न यह कि उनके बाद कभी उनकी बीबियों से निकाह करो बेशक यह अल्लाह के नज़दीक बड़ी सख़्त बात है
Agar tum koi baat zahir karo ya chhupao to beshak sab kuch jaanta hai,
(ف132)مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ گھر مرد کا ہوتا ہے اور اسی لئے اس سے اجازت حاصل کرنا مناسب ہے ، شوہر کے گھر کو عورت کا گھر بھی کہا جاتا ہے اس لحاظ سے کہ وہ اس میں سکونت کا حق رکھتی ہے اسی وجہ سے آیت 'وَ اذْکُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیْ بُیُوْ تِکُنَّ 'میں گھروں کی نسبت عورتوں کی طرف کی گئی ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مکانات جن میں حضورکے ازواجِ مطہرات کی سکونت تھی اور حضورکے پردہ فرمانے کے بعد بھی وہ اپنی حیات تک انہی میں رہیں وہ حضورکی مِلک تھے اور حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ازواجِ طاہرات کو ہبہ نہ فرمائے تھے بلکہ سکونت کی اجازت دی تھی اسی لئے ازواجِ مطہرات کی وفات کے بعد ان کے وارثوں کو نہ ملے بلکہ مسجد شریف میں داخل کر دیئے گئے جو وقف ہے اور جس کا نفع تمام مسلمانوں کے لئے عام ہے ۔(ف133)اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں پر پردہ لازم ہے اور غیر مَردوں کو کسی گھر میں بے اجازت داخل ہونا جائز نہیں ۔ آیت اگرچہ خاص ازواجِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حق میں وارد ہے لیکن حکم اس کا تمام مسلمان عورتوں کے لئے عام ہے ۔شانِ نُزول : جب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت زینب سے نکاح کیا اور ولیمہ کی عام دعوت فرمائی تو جماعتیں کی جماعتیں آتی تھیں اور کھانے سے فارغ ہو کر چلی جاتی تھیں ، آخر میں تین صاحب ایسے تھے جو کھانے سے فارغ ہو کر بیٹھے رہ گئے اور انہوں نے گفتگو کا طویل سلسلہ شروع کر دیا اور بہت دیر تک ٹھہرے رہے ، مکان تنگ تھا اس سے گھر والوں کو تکلیف ہوئی اور حرج ہوا کہ وہ ان کی وجہ سے اپنا کام کاج کچھ نہ کر سکے ، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اٹھے اور ازواجِ مطہرات کے حجروں میں تشریف لے گئے اور دورہ فرما کر تشریف لائے ، اس وقت تک یہ لوگ اپنی باتوں میں لگے ہوئے تھے حضورپھر واپس ہو گئے یہ دیکھ کر وہ لوگ روانہ ہوئے تب حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دولت سرائے میں داخل ہوئے اور دروازہ پرپردہ ڈال دیا ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اس سے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی کمالِ حیا اور شانِ کرم و حسنِ اخلاق معلوم ہوتی ہے کہ باوجود ضرورت کے اصحاب سے یہ نہ فرمایا کہ اب آپ چلے جائیے بلکہ جو طریقہ اختیار فرمایا وہ حسنِ آداب کا اعلٰی ترین معلِّم ہے ۔(ف134)مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ بغیر دعوت کسی کے یہاں کھانے نہ جائے ۔(ف135)کہ یہ اہلِ خانہ کی تکلیف اور ان کے حرج کاباعث ہے ۔(ف136)اور ان سے چلے جانے کے لئے نہیں فرماتے تھے ۔(ف137)یعنی ازواجِ مطہرات سے ۔(ف138)کہ وساوس اور خطرات سے امن رہتی ہے ۔(ف139)اور کوئی کام ایسا کرو جو خاطرِ اقدس پر گراں ہو ۔(ف140)کیونکہ جس عورت سے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے عقد فرمایا وہ حضورکے سوا ہر شخص پر ہمیشہ کے لئے حرام ہو گئی اسی طرح وہ کنیزیں جو باریابِ خدمت ہوئیں اور قربت سے سرفراز فرمائی گئیں وہ بھی اسی طرح سب کے لئے حرام ہیں ۔(ف141)اس میں اعلام ہے کہ اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بہت بڑی عظمت عطا فرمائی اور آپ کی حرمت ہر حال میں واجب کی ۔
اگر تم کوئی بات ظاہر کرو یا چھپاؤ تو بیشک سب کچھ جانتا ہے،
Whether you disclose a thing or keep it hidden – then indeed Allah knows all things.
अगर तुम कोई बात ज़ाहिर करो या छुपाओ तो बेशक सब कुछ जानता है,
Un par muzaiqa nahi unke baap aur beton aur bhaiyon aur bhatijo aur bhanjon aur apne deen ki auratoun aur apni kaneezon mein aur Allah se darti ho, beshak Allah har cheez Allah ke samne hai,
ان پر مضائقہ نہیں (ف۱٤۲) ان کے باپ اور بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجوں اور بھانجوں اور اپنے دین کی عورتوں (ف۱٤٤) اور اپنی کنیزوں میں (ف۱٤۵) اور اللہ سے ڈرتی ہو، بیشک اللہ ہر چیز اللہ کے سامنے ہے،
There is no sin upon your wives in (dealing with) their fathers, or their sons, or their brothers, or their brothers’ sons, or their sisters’ sons or women of their own religion, or their bondwomen; and O women, keep fearing Allah; indeed all things are present in front of Allah.
उन पर म़ुज़ाईक़ा नहीं उनके बाप और बेटों और भाइयों और भतीजों और भान्ज़ों और अपने दीन की औरतों और अपनी क़नीज़ों में और अल्लाह से डरती हो, बेशक अल्लाह हर चीज़ अल्लाह के सामने है,
Beshak Allah aur uske farishte durood bhejte hain is ghaib batane wale (Nabi) par, Ae iman walo! Un par durood aur khoob salaam bhejo,
(ف142)یعنی ان بیبیوں پر کچھ گناہ نہیں اس میں کہ وہ ان لوگوں سے پردہ نہ کریں جن کا آیت میں آگے ذکر فرمایا جاتا ہے ۔شانِ نُزول : جب پردہ کا حکم نازل ہوا تو عورتوں کے باپ بیٹوں اور قریب کے رشتہ داروں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا یارسولَ اللہ صلی اللہ علیک وسلم کیا ہم اپنی ماؤں بیٹیوں کے ساتھ پردہ کے باہر سے گفتگو کریں ، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(ف143)یعنی ان اقارب کے سامنے آنے اور ان سے کلام کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔(ف144)یعنی مسلمان بیبیوں کے سامنے آنا جائز ہے اور کافِرہ عورتوں سے پردہ کرنا اور اپنے جسم چُھپانا لازم ہے سوائے جسم کے ان حصّوں کے جو گھر کے کام کاج کے لئے کھولنے ضروری ہوتے ہیں ۔ (جمل)(ف145)یہاں چچا اور ماموں کا صراحتہً ذکر نہیں کیا گیا کیونکہ وہ والدین کے حکم میں ہیں ۔
بیشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر، اے ایمان والو! ان پر درود اور خوب سلام بھیجو (ف۱٤٦)
Indeed Allah and His angels send blessings on the Prophet; O People who Believe! Send blessings and abundant salutations upon him. (Everlasting peace and unlimited blessings be upon the Holy Prophet Mohammed.)
बेशक अल्लाह और उसके फ़रिश्ते दरूद भेजते हैं इस ग़ैब बताने वाले (नबी) पर, ए ईमान वालो! उन पर दरूद और खूब सलाम भेजो
Beshak jo eza dete hain Allah aur uske Rasool ko, un par Allah ki laanat hai dunya aur aakhirat mein aur Allah ne unke liye zilat ka azaab tayar kar rakha hai,
(ف146)سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درود و سلام بھیجنا واجب ہے ہر ایک مجلس میں آپ کا ذکر کرنے والے پر بھی اور سننے والے پر بھی ایک مرتبہ اور اس سے زیادہ مستحب ہے ، یہی قول معتمد ہے اور اس پر جمہور ہیں اور نماز کے قعدۂ اخیرہ میں بعدِ تشہد درود شریف پڑھنا سنّت ہے اور آپ کے تابع کر کے آپ کے آل و اصحاب و دوسرے مومنین پر بھی درود بھیجا جا سکتا ہے یعنی درود شریف میں آپ کے نامِ اقدس کے بعد ان کو شامل کیا جا سکتا ہے اور مستقل طور پر حضورکے سوا ان میں سے کسی پر درود بھیجنا مکرو ہ ہے ۔ مسئلہ : درود شریف میں آل و اصحاب کا ذکر متوارث ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آل کے ذکر کے بغیر مقبول نہیں ۔ درود شریف اللہ تعالٰی کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تکریم ہے عُلَماء نے اللہم صل علٰی محمّد کے معنٰی یہ بیان کئے ہیں کہ یا ربّ محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو عظمت عطا فرما ، دنیا میں ان کا دین بلند ان کی دعوت غالب فرما کر اور ان کی شریعت کو بقا عنایت کر کے اور آخرت میں ان کی شفاعت قبول فرما کر اور ان کا ثواب زیادہ کر کے اور اوّلین و آخِرین پر ان کی فضیلت کا اظہار فرما کر اور انبیاء ، مرسلین و ملائکہ اور تمام خَلق پر ان کی شان بلند کر کے ۔مسئلہ : درود شریف کی بہت برکتیں اور فضیلتیں ہیں حدیث شریف میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ جب درود بھیجنے والا مجھ پر درود بھیجتا ہے تو فرشتے اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں ۔ مسلم کی حدیث شریف میں ہے جو مجھ پر ایک بار درود بھیجتا ہے اللہ تعالٰی اس پر دس بار بھیجتا ہے ۔ ترمذی کی حدیث شریف میں ہے بخیل وہ ہے جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ درود نہ بھیجے ۔
بیشک جو ایذا دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو ان پر اللہ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں (ف۱٤۷) اور اللہ نے ان کے لیے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے (ف۱٤۸)
Indeed those who trouble Allah and His Noble Messenger – upon them is Allah’s curse in the world and in the Hereafter, and Allah has kept prepared a disgraceful punishment for them. (To disrespect / trouble the Holy Prophet – peace and blessings be upon him – is blasphemy.)
बेशक जो एज़ा देते हैं अल्लाह और उसके रसूल को उन पर अल्लाह की लानत है दुनिया और आख़िरत में और अल्लाह ने उनके लिए ज़िल्लत का आज़ाब तैयार कर रखा है
Aur jo iman wale mardon aur auraton ko be kiye sataate hain unhone bohotan aur khula gunah apne sar liya,
(ف147)وہ ایذا دینے والے کُفّار ہیں جو شانِ الٰہی میں ایسی باتیں کہتے ہیں جن سے وہ منزّہ اور پاک ہے اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تکذیب کرتے ہیں ان پر دارین میں لعنت ۔(ف148)آخرت میں ۔
اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بےکئے ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا (ف۱٤۹)
And those who unnecessarily harass Muslim men and women, have burdened themselves with slander and open sin.
और जो ईमान वाले मर्दों और औरतों को बे किए सताते हैं उन्होंने बहुतान और खुला गुनाह अपने सर लिया
Ae Nabi! Apni bibiyon aur sahabzadiyon aur musalman auraton se farma do ke apni chadron ka ek hissa apne munh par daale rahen, ye us se nazdeek tar hai ke unki pehchaan ho to satayi na jaayein aur Allah bakshne wala meherban hai,
(ف149)شانِ نُزول : یہ آیت ان منافقین کے حق میں نازل ہوئی جو حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو ایذا دیتے تھے اور ان کے حق میں بدگوئی کرتے تھے ۔ حضرت فضیل نے فرمایا کہ کتّے اور سور کو بھی ناحق ایذا دینا حلال نہیں تو مومنین و مومنات کو ایذا دینا کس قدر بدترین جُرم ہے ۔
اے نبی! اپنی بیبیوں اور صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں (ف۱۵۰) یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہو (ف۱۵۱) تو ستائی نہ جائیں (ف۱۵۲) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
O Prophet! Command your wives and your daughters and the women of the Muslims to cover their faces with a part of their cloaks; this is closer to their being recognised and not being harassed; and Allah is Oft Forgiving, Most Merciful. (It is incumbent upon women to cover themselves properly.)
ए नबी! अपनी बीबियों और साहिबज़ादियों और मुसलमानों की औरतों से फ़रमा दो कि अपनी चादरों का एक हिस्सा अपने मुँह पर डालें रहें यह इससे नज़दीकतर है कि उनकी पहचान हो तो सताई न जाएँ और अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है,
Agar baaz na aaye munafiq aur jin ke dilon mein rog hai aur Madina mein jhoot urhane wale to zaroor hum tumhein un par shah denge, phir woh Madina mein tumhare paas na rahenge magar thode din,
(ف150)اور سر اور چہرے کو چُھپائیں جب کسی حاجت کے لئے ان کو نکلنا ہو ۔(ف151)کہ یہ حُرَّہ ہیں ۔(ف152)اور منافقین ان کے درپے نہ ہوں ، منافقین کی عادت تھی کہ وہ باندیوں کو چھیڑا کرتے تھے اس لئے حُرَّہ عورتوں کو حکم دیا کہ وہ چادر سے جسم ڈھانک کر سر اور منہ چُھپا کر باندیوں سے اپنی وضع ممتاز کر دیں ۔
اگر باز نہ آئے منافق (ف۱۵۳) اور جن کے دلوں میں روگ ہے (ف۱۵٤) اور مدینہ میں جھوٹ اڑانے والے (ف۱۵۵) تو ضرور ہم تمہیں ان پر شہ دیں گے (ف۱۵٦) پھر وہ مدینہ میں تمہارے پاس نہ رہیں گے مگر تھوڑے دن (ف۱۵۷)
If the hypocrites, and those in whose hearts is a disease, and the rumour mongers in Medinah do not desist, We shall then surely impel you against them, so then they will not remain your neighbours in Medinah except for a few days.
अगर वापस न आए मुनाफ़िक और जिनके दिल में रोग है और मदीना में झूठ उड़ाने वाले तो जरूर हम तुम्हें उन पर शह देंगे फिर वे मदीना में तुम्हारे पास न रहेंगे मगर थोड़े दिन
Phatkaare hue, jahan kahin milein pakde jaayein aur gan gan kar qatl kiye jaayein,
(ف153)اپنے نفاق سے ۔(ف154)اور جو بُرے خیال رکھتے ہیں یعنی فاجر بدکار ہیں وہ اگر اپنی بدکاری سے باز نہ آئے ۔(ف155)جو اسلامی لشکروں کے متعلق جھوٹی خبریں اڑایا کرتے تھے اور یہ مشہور کیا کرتے تھے کہ مسلمانوں کو ہزیمت ہو گئی وہ قتل کر ڈالے گئے ، دشمن چڑھا چلا آ رہا ہے اور اس سے ان کا مقصد مسلمانوں کی دل شکنی اور ان کا پریشانی میں ڈالنا ہوتا تھا ، ان لوگوں کے متعلق ارشاد فرمایا جاتا ہے کہ اگر وہ ان حرکات سے باز نہ آئے ۔(ف156)اور تمہیں ان پر مسلّط کریں گے ۔(ف157)پھر مدینہ طیّبہ ان سے خالی کرا لیا جائے گا اور وہاں سے نکال دیئے جائیں گے ۔
لوگ تم سے قیامت کا پوچھتے ہیں (ف۱۵۹) تم فرماؤ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، اور تم کیا جانو شاید قیامت پاس ہی ہو (ف۱٦۰)
People ask you regarding the Last Day; proclaim, “Its knowledge is only with Allah; and what do you know, the Last Day may really be near!”
लोग तुमसे क़यामत का पूछते हैं तुम फ़रमाओ इसका इल्म तो अल्लाह ही के पास है, और तुम क्या जानो शायद क़यामत पास ही हो
Beshak Allah ne kafiron par laanat farmaai aur unke liye bhadakti aag tayar kar rakhi hai,
(ف159)کہ کب قائم ہو گی ۔شانِ نُزول : مشرکین تو تمسخُر و استہزاء کے طور پر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے قیامت کا وقت دریافت کیا کرتے تھے گویا کہ ان کو بہت جلدی ہے اور یہود اس کو امتحاناً پوچھتے تھے کیونکہ توریت میں اس کا علم مخفی رکھا گیا تھا تو اللہ تعالٰی نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو حکم فرمایا ۔(ف160)اس میں جلد کرنے والوں کو تہدید اور امتحاناً سوال کرنے والوں کا اسکات اور ان کی دہن دوزی ہے ۔
جس دن ان کے منہ الٹ الٹ کر آگ میں تلے جائیں گے کہتے ہوں گے ہائے کسی طرح ہم نے اللہ کا حکم مانا ہوتا اور رسول کا حکم مانا (ف۱٦۲)
On the day when their faces will be overturned being roasted inside the fire, they will say, “Alas – if only we had obeyed Allah and obeyed His Noble Messenger!”
जिस दिन उनके मुँह उलट-उलट कर आग में तले जाएँगे कहेंगे हाय किसी तरह हमने अल्लाह का हुक़्म माना होता और रसूल का हुक़्म माना
Aur kahenge, Ae humare Rab! Hum apne sardaroon aur apne bado ke kehne par chale to unhone humein raah se bhadka diya,
اے ہمارے رب! انھیں آگ کا دُونا عذاب دے (ف۱٦٤) اور ان پر بڑی لعنت کر،
“Our Lord! Give them double the punishment of the fire and send upon them a mighty curse!”
ए हमारे रब! उन्हें आग का दुना आज़ाब दे और उन पर बड़ी लानत कर,
Ae iman walo! Un jaise na hona jin hon ne Musa ko sataya to Allah ne use bari farma diya, is baat se jo unhone kahi aur Musa Allah ke yahan aabroo wala hai,
(ف164)کیونکہ وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور انہوں نے دوسروں کو بھی گمراہ کیا ۔
اے ایمان والو! ان جیسے نہ ہونا جنہوں نے موسیٰ کو ستایا (ف۱٦٦) تو اللہ نے اسے بَری فرمادیا اس بات سے جو انہوں نے کہی (ف۱٦۷) اور موسیٰ اللہ کے یہاں آبرو والا ہے (ف۱٦۸)
O People who Believe! Do not be like the people who troubled Moosa – so Allah freed him from the allegations they had uttered; and Moosa is honourable in the sight of Allah.
ए ईमान वालो! उन जैसे न होना जिन्होंने मूसा को सताया तो अल्लाह ने उसे बरी फ़रमाया इस बात से जो उन्होंने कही और मूसा अल्लाह के यहाँ आब्रू वाला है
Ae iman walo! Allah se daro aur seedhi baat kaho,
(ف165)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ادب و احترام بجا لاؤ اور کوئی کام ایسا نہ کرنا جو ان کے رنج و ملال کا باعث ہو اور ۔(ف166)یعنی ان بنی اسرائیل کی طرح نہ ہونا جو ننگے نہاتے تھے اور حضرت موسٰی علیہ السلام پر طعن کرتے تھے کہ حضرت ہمارے ساتھ کیوں نہیں نہاتے انہیں برص وغیرہ کی کوئی بیماری ہے ۔(ف167)اس طرح کہ جب ایک روز حضرت موسٰی علیہ السلام نے غسل کے لئے ایک تنہائی کی جگہ میں پتّھر پر کپڑے اتار کر رکھے اور غسل شروع کیا تو پتّھر آپ کے کپڑے لے کر بھاگا ، آپ کپڑے لینے کے لئے اس کی طرف بڑھے تو بنی اسرائیل نے دیکھ لیا کہ جسمِ مبارک پر کوئی داغ اور کوئی عیب نہیں ہے ۔(ف168)صاحبِ جاہ اور صاحبِ منزلت اور مستجاب الدعوات ۔
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو (ف۱٦۹)
O People who Believe! Fear Allah, and speak rightly.
ए ईमान वालो! अल्लाह से डरो और सीधी बात कहो
Tumhare aamaal tumhare liye sanwaar dega aur tumhare gunah bakhsh dega, aur jo Allah aur uske Rasool ki farmanbardari kare usne bari kaamyaabi pai,
(ف169)یعنی سچّی اور درست حق و انصاف کی اور اپنی زبان اور کلام کی حفاظت رکھو یہ بَھلائیوں کی اصل ہے ایسا کرو گے تو اللہ تعالٰی تم پر کرم فرمائے گا اور ۔
بیشک ہم نے امانت پیش فرمائی (ف۱۷۱) آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے (ف۱۷۲) اور آدمی نے اٹھالی، بیشک وہ اپنی جان کو مشقت میں ڈالنے والا بڑا نادان ہے، (
We indeed offered the trust to the heavens and the earth and the mountains, but they refused it and were afraid of it – and man accepted it; indeed he is one who puts himself into hardship, is extremely unwise.
बेशक हमने अमानत पेश फ़रमाई आसमानों और ज़मीन और पहाड़ों पर तो उन्होंने इसके उठाने से इनकार किया और इससे डर गए और आदमी ने उठा ली, बेशक वह अपनी जान को मुश्किल में डालने वाला बड़ा नादान है,
Taake Allah azaab munafiq mardon aur munafiq auraton aur mushrik mardon aur mushrik auraton ko, aur Allah tawba qubool farmaaye musalman mardon aur musalman auraton ki, aur Allah bakshne wala meherban hai.",
(ف171)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ امانت سے مراد طاعت و فرائض ہیں جنہیں اللہ تعالٰی نے اپنے بندوں پر پیش کیا ، انہیں کو آسمانوں ، زمینوں ، پہاڑوں پر پیش کیا تھا کہ اگر وہ انہیں ادا کریں گے تو ثواب دیئے جائیں گے نہ ادا کریں گے تو عذاب کئے جائیں گے ۔ حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ امانت نمازیں ادا کرنا ، زکوٰۃ دینا ، رمضان کے روزے رکھنا ، خانہ کعبہ کا حج ، سچ بولنا ، ناپ اور تول میں اور لوگوں کی ودیعتوں میں عدل کرنا ہے ۔ بعضوں نے کہا کہ امانت سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جن کا حکم دیا گیا اور جن کی ممانعت کی گئی ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر و بن عاص نے فرمایا کہ تمام اعضاء کان ، ہاتھ ، پاؤں وغیرہ سب امانت ہیں اس کا ایمان ہی کیا جو امانت دار نہ ہو ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ امانت سے مراد لوگوں کی ودیعتیں اور عہدوں کا پورا کرنا ہے تو ہر مومن پر فرض ہے کہ نہ کسی مومن کی خیانت کرے نہ کافِر معاہد کی ، نہ قلیل میں نہ کثیر میں ، اللہ تعالٰی نے یہ امانت اعیانِ سمٰوٰت و ارض و جبال پر پیش فرمائی پھر ان سے فرمایا کیا تم ان امانتوں کو مع اس کی ذمّہ داری کے اٹھاؤ گے ؟ انہوں نے عرض کیا ذمّہ داری کیا ہے ؟ فرمایا یہ کہ اگر تم انہیں اچھی طرح ادا کرو تو تمہیں جزا دی جائے گی اور اگر نافرمانی کرو تو تمہیں عذاب کیا جائے گا ، انہوں نے عرض کیا نہیں اے ربّ ہم تیرے حکم کے مطیع ہیں نہ ثواب چاہیں نہ عذاب اور ان کا یہ عرض کرنا براہِ خوف و خشیت تھا اور امانت بطورِ تخییر پیش کی گئی تھی یعنی انہیں اختیار دیا گیا تھا کہ اپنے میں قوّت و ہمّت پائیں تو اٹھائیں ورنہ معذرت کر دیں ، اس کا اٹھانا لازم نہیں کیا گیا تھا اور اگر لازم کیا جاتا تو وہ انکار نہ کرتے ۔(ف172)کہ اگر ادا نہ کر سکے تو عذاب کئے جائیں گے تو اللہ عزوجل نے وہ امانت آدم علیہ السلام کے سامنے پیش کی اور فرمایا کہ میں نے آسمانوں اور زمینوں اور پہاڑوں پر پیش کی تھی وہ نہ اٹھا سکے کیا تو مع اس کی ذمّہ داری کے اٹھا سکے گا ؟ حضرت آدم علیہ السلام نے اقرار کیا ۔
تاکہ اللہ عذاب منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو (ف۱۷۳) اور اللہ توبہ قبول فرمائے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کی، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
In order that Allah may punish the hypocrite men, and the hypocrite women, and the polytheist men, and the polytheist women – and accept the repentance of believing men and believing women; and Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
ताकि अल्लाह आज़ाब मुनाफ़िक मर्दों और मुनाफ़िक औरतों और मुशरिक मर्दों और मुशरिक औरतों को और अल्लाह तौबा क़बूल फ़रमाए मुसलमान मर्दों और मुसलमान औरतों की, और अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है,
"
(ف173)کہا گیا کہ معنٰی یہ ہیں کہ ہم نے امانت پیش کی تاکہ منافقین کا نفاق اور مشرکین کا شرک ظاہر ہو اور اللہ تعالٰی انہیں عذاب فرمائے اور مومنین جو امانت کے ادا کرنے والے ہیں ان کے ایمان کا اظہار ہو اور تبارک و تعالٰی ان کی توبہ قبول فرمائے اور ان پر رحمت و مغفرت کرے اگرچہ ان سے بعض طاعات میں کچھ تقصیر بھی ہوئی ہو ۔ (خازن)
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page