سب خوبیاں اللہ کو جس نے آسمان اور زمین بنائے (ف۲) اور اندھیریاں اور روشنی پیدا کی (ف۳) اس پر (ف٤) کافر لوگ اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں (ف۵)
(ف2)حضرت کعب احبار رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا توریت میں سب سے اول یہی آیت ہے اس آیت میں بندوں کو شانِ استغناء کے ساتھ حمد کی تعلیم فرمائی گئی اور پیدائشِ آسمان و زمین کا ذکر اس لئے ہے کہ ان میں ناظرین کے لئے بہت عجائبِ قدرت و غرائبِ حکمت اور عبرتیں و منافع ہیں ۔(ف3)یعنی ہر ایک اندھیری اور روشنی خواہ وہ اندھیری شب کی ہو یا کُفر کی یا جہل کی یا جہنّم کی اور روشنی خواہ دن کی ہو یا ایمان و ہدایت و علم و جنّت کی ۔ ظلمات کو جمع اور نور کو واحد کے صیغہ سے ذکر فرمانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ باطل کی راہیں بہت کثیر ہیں اور راہِ حق صرف ایک دینِ اسلام ۔(ف4)یعنی باوجود ایسے دلائل پر مطلِع ہونے اور ایسے نشانہائے قدرت دیکھنے کے ۔(ف5)دوسروں کو حتّٰی کہ پتّھروں کو پُوجتے ہیں باوجود یکہ اس کے مُقِر ہیں کہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا اللہ ہے ۔
وہی ہے جس نے تمہیں (ف٦) مٹی سے پیدا کیا پھر ایک میعاد کا حکم رکھا (ف۷) اور ایک مقررہ وعدہ اس کے یہاں ہے (ف۸) پھر تم لوگ شک کرتے ہو،
(ف6)یعنی تمہاری اصل حضرت آدم کو جن کی نسل سے تم پیدا ہوئے ۔فائدہ : اس میں مشرکین کا رد ہے جو کہتے تھے کہ ہم جب گَل کر مٹی ہو جائیں گے پھر کیسے زندہ کئے جائیں گے ؟ انہیں بتایا گیا کہ تمہاری اصل مٹی ہی سے ہے تو پھر دوبارہ پیدا کئے جانے پر کیا تعجب ، جس قادر نے پہلے پیداکیا اس کی قدرت سے بعد موت زندہ فرمانے کو بعید جاننا نادانی ہے ۔(ف7)جس کے پورا ہو جانے پر تم مر جاؤ گے ۔(ف8)مرنے کے بعد اُٹھانے کا ۔
تو بیشک انہوں نے حق کو جھٹلایا (ف۱۰) جب ان کے پاس آیا، تو اب انہیں خبر ہوا چاہتی ہے اس چیز کی جس پر ہنس رہے تھے (ف۱۱)
(ف10)یہاں حق سے یا قرآن مجیدکی آیات مراد ہیں یا سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے معجزات ۔(ف11)کہ وہ کیسی عظمت والی ہے اور اس کی ہنسی بنانے کا اَنجام کیسا وبال و عذاب ۔
کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے (ف۱۲) کتنی سنگتیں کھپا دیں انہیں ہم نے زمین میں وہ جماؤ دیا (ف۱۳) جو تم کو نہ دیا اور ان پر موسلا دھار پانی بھیجا (ف۱٤) اور ان کے نیچے نہریں بہائیں (ف۱۵) تو انہیں ہم نے ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کیا (ف۱٦) اور ان کے بعد اور سنگت اٹھائی (ف۱۷)
(ف12)پچھلی اُمّتوں میں سے ۔(ف13)قوّت و مال اور دنیا کے کثیر سامان دے کر ۔(ف14)جس سے کھیتیاں شاداب ہوں ۔(ف15)جس سے باغ پرورش پائے اور دنیا کی زندگانی کے لئے عیش و راحت کے اسباب بہم پہنچے ۔(ف16)کہ انہوں نے انبیاء کی تکذیب کی اور ان کا یہ سر و سامان انہیں ہلاک سے نہ بچا سکا ۔(ف17)اور دوسرے قَرن والوں کو ان کا جانشین کیا ، مدعا یہ ہے کہ گزری ہوئی اُمّتوں کے حال سے عبرت و نصیحت حاصل کرنا چاہئے کہ وہ لوگ باوجود قوّت و دولت و کثرتِ مال و عیال کے کُفر و طُغیان کی وجہ سے ہلاک کر دیئے گئے تو چاہئے کہ ان کے حال سے عبرت حاصل کر کے خوابِ غفلت سے بیدار ہوں ۔
اور اگر ہم تم پر کاغذ میں کچھ لکھا ہوا اتارتے (ف۱۸) کہ وہ اسے اپنے ہاتھوں سے چھوتے جب بھی کافر کہتے کہ یہ نہیں مگر کھلا جادو ،
(ف18)شانِ نُزول : یہ آیت نضربن حارث اور عبداللہ بن اُمیّہ اور نَوفَل بن خُوَیلَد کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے کہا تھا کہ محمّد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک تم ہمارے پاس اللہ کی طرف سے کتاب نہ لاؤ جس کے ساتھ چار فرشتے ہوں ، وہ گواہی دیں کہ یہ اللہ کی کتاب ہے اور تم اس کے رسول ہو ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ یہ سب حیلے بہانے ہیں اگر کاغذ پر لکھی ہوئی کتاب اُتار دی جاتی وہ اسے اپنے ہاتھوں سے چھو کر اور ٹٹول کر دیکھ لیتے اور یہ کہنے کا موقع بھی نہ ہوتا کہ نظر بندی کر دی گئی تھی کتاب اُترتی نظر آئی ، تھا کچھ بھی نہیں تو بھی یہ بدنصیب ایمان لانے والے نہ تھے ، اس کو جادو بتاتے اور جس طرح شَقُ القمر کو جادو بتایا اور اس معجِزہ کو دیکھ کر ایمان نہ لائے اس طرح اس پر بھی ایمان نہ لاتے کیونکہ جو لوگ عنادًا انکار کرتے ہیں وہ آیات و معجزات سے منتفِع نہیں ہو سکتے ۔
اور بولے (ف۱۹) ان پر (ف۲۰) کوئی فرشتہ کیوں نہ اتارا گیا، اور اگر ہم فرشتہ اتارتے (ف۲۱) تو کام تمام ہوگیا ہوتا (ف۲۲) پھر انہیں مہلت نہ دی جاتی (ف۲۳)
(ف19)مشرکین ۔(ف20)یعنی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم پر ۔(ف21)اور پھر بھی یہ ایمان نہ لاتے ۔(ف22)یعنی عذاب واجب ہو جاتا اور یہ سُنّتِ الٰہیہ ہے کہ جب کُفّار کوئی نشانی طلب کریں اور اس کے بعد بھی ایمان نہ لائیں تو عذاب واجب ہو جاتا ہے اور وہ ہلاک کر دیئے جاتے ہیں ۔(ف23)ایک لمحہ کی بھی اور عذاب مؤخَّر نہ کیا جاتا تو فرشتہ کا اُتارنا جس کو وہ طلب کرتے ہیں انہیں کیا نافع ہوتا ۔
اور اگر ہم نبی کو فرشتہ کرتے (ف۲٤) جب بھی اسے مرد ہی بناتے (ف۲۵) اور ان پر وہی شبہ رکھتے جس میں اب پڑے ہیں،
(ف24)یہ ان کُفّار کا جواب ہے جو نبی علیہ السلام کو کہا کرتے تھے یہ ہماری طرح بشر ہیں اور اسی خَبط میں وہ ایمان سے محروم رہتے تھے ، انہیں انسانوں میں سے رسول مبعوث فرمانے کی حکمت بتائی جاتی ہے کہ ان کے منتفِع ہونے اور تعلیمِ نبی سے فیض اٹھانے کی یہی صورت ہے کہ نبی صورتِ بشری میں جلوہ گر ہو کیونکہ فرشتہ کو اس کی اصلی صورت میں دیکھنے کی تو یہ لوگ تاب نہ لا سکتے ، دیکھتے ہی ہیبت سے بے ہوش ہو جاتے یا مر جاتے اس لئے اگر بالفرض رسول فرشتہ ہی بنایا جاتا ۔(ف25)اور صورتِ انسانی ہی میں بھیجتے تاکہ یہ لوگ اس کو دیکھ سکیں ، اس کا کلام سُن سکیں ، اس سے دین کے اَحکام معلوم کر سکیں لیکن اگر فرشتہ صورتِ بشری میں آتا تو انہیں پھر وہی کہنے کا موقع رہتا کہ یہ بشر ہے تو فرشتہ کو نبی بنانے کا کیا فائدہ ہوتا ۔
اور ضرور اے محبوب تم سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی ٹھٹھا کیا گیا تو وہ جو ان سے ہنستے تھے ان کی ہنسی انہیں کو لے بیٹھی (ف۲٦)
(ف26)وہ مبتلائے عذاب ہوئے ۔ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلّی و تسکینِ خاطر ہے کہ آپ رنجِیدہ و مَلُول نہ ہوں ، کُفّار کا پہلے انبیاء کے ساتھ بھی یہی دستور رہا ہے اور اس کا وبال ان کُفّار کو اٹھانا پڑا ہے نیز مشرکین کو تنبیہ ہے کہ پچھلی اُمّتوں کے حال سے عبرت حاصل کریں اور انبیاء کے ساتھ طریقِ ادب ملحوظ رکھیں تاکہ پہلوں کی طرح مبتلائے عذاب نہ ہوں ۔
تم فرماؤ کس کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں (ف۲۹) تم فرماؤ اللہ کا ہے (ف۳۰) اس نے اپنے کرم کے ذمہ پر رحمت لکھ لی ہے (ف ۳۱) بیشک ضرور تمہیں قیامت کے دن جمع کرے گا (ف۳۲) اس میں کچھ شک نہیں، وہ جنہوں نے اپنی جان نقصان میں ڈالی (ف۳۳) ایمان نہیں لاتے،
(ف29)اگر وہ اس کا جواب نہ دیں تو ۔(ف30)کیونکہ اس کے سوا اور کوئی جواب ہی نہیں ہے اور وہ اس کے خلاف نہیں کر سکتے کیونکہ بُت جن کو مشرکین پُوجتے ہیں وہ بے جان ہیں ، کسی چیز کے مالک ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتے ، خود دوسرے کے مملوک ہیں ، آسمان و زمین کا وہی مالک ہو سکتا ہے جو حَیّ و قَیوم ، ازلی و ابدی ، قادرِ مطلق ہر شئے پر متصرِّف و حکمران ہو ، تمام چیزیں اس کے پیدا کرنے سے وجود میں آئی ہوں ، ایسا سوائے اللہ کے کوئی نہیں اس لئے تمام سَمَاوی و اَرضی کائنات کا مالک اس کے سوا کوئی نہیں ہو سکتا ۔(ف31)یعنی اس نے رحمت کا وعدہ کیا اور اس کا وعدہ خلاف نہیں ہو سکتا کیونکہ وعدہ خلافی و کذب اس کے لئے محال ہے اور رحمت عام ہے دینی ہو یا دنیوی اپنی معرفت اور توحید اور علم کی طرف ہدایت فرمانا بھی رحمت میں داخل ہے اور کُفّار کو مہلت دینا اور عقوبت میں تعجیل نہ فرمانا بھی کہ اس سے انہیں توبہ اور انابت کا موقع ملتا ہے ۔ (جمل وغیرہ)(ف32)اور اعمال کا بدلہ دے گا ۔(ف33)کُفر اختیار کر کے ۔
تم فرماؤ کیا اللہ کے سوا کسی اور کو والی بناؤں (ف۳٦) وہ اللہ جس نے آسمان اور زمین پیدا کیے اور وہ کھلاتا ہے اور کھانے سے پاک ہے (ف۳۷) تم فرماؤ مجھے حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلے گردن رکھوں (ف۳۸) اور ہرگز شرک والوں میں سے نہ ہونا،
(ف36)شانِ نُزول : جب کُفّار نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے باپ دادا کے دین کی دعوت دی تو یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف37)یعنی خَلق سب اس کی محتاج ہے وہ سب سے بے نیاز ۔(ف38)کیونکہ نبی اپنی اُمّت سے دین میں سابق ہوتے ہیں ۔
اور اگر تجھے اللہ کوئی برائی (ف٤۱) پہنچائے تو اس کے سوا اس کا کوئی دور کرنے والا نہیں، اور اگر تجھے بھلائی پہنچائے (ف٤۲) تو وہ سب کچھ کرسکتا ہے (ف٤۳)
(ف41)بیماری یا تنگ دستی یا اور کوئی بلا ۔(ف42)مثل صحت و دولت وغیرہ کے ۔(ف43)قادرِ مطلق ہے ہر شے پر ذاتی قدرت رکھتا ہے ، کوئی اس کی مشیّت کے خلاف کچھ نہیں کر سکتا تو کوئی اس کے سوا مستحقِ عبادت کیسے ہو سکتا ہے ، یہ ردِ شرک کی دل میں اثر کرنے والی دلیل ہے ۔
تم فرماؤ سب سے بڑی گواہی کس کی (ف٤٤) تم فرماؤ کہ اللہ گواہ ہے مجھ میں اور تم میں (ف٤۵) اور میری طرف اس قرآن کی وحی ہوئی ہے کہ میں اس سے تمھیں ڈراؤں (ف٤٦) اور جن جن کو پہنچے (ف٤۷) تو کیا تم (ف٤۸) یہ گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ اور خدا ہیں، تم فرماؤ (ف٤۹) کہ میں یہ گواہی نہیں دیتا (ف۵۰) تم فرماؤ کہ وہ تو ایک ہی معبود ہے (ف۵۱) اور میں بیزار ہوں ان سے جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو (ف۵۲)
(ف44)شانِ نُزول : اہلِ مکّہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگے کہ اے محمّد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہمیں کوئی ایسا دکھائیے جو آپ کی رسالت کی گواہی دیتا ہو ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(ف45)اور اتنی بڑی اور قابلِ قبول گواہی اور کس کی ہو سکتی ہے ۔(ف46)یعنی اللہ تعالٰی میری نبوّت کی شہادت دیتا ہے اس لئے کہ اس نے میری طرف اس قرآن کی وحی فرمائی اور یہ ایسا معجِزہ ہے کہ تم باوجود فصیح بلیغ صاحبِ زبان ہونے کے اس کے مقابلہ سے عاجز رہے تو اس کتاب کا مجھ پر نازل ہونا اللہ کی طرف سے میرے رسول ہونے کی شہادت ہے ، جب یہ قرآن اللہ تعالٰی کی طرف سے یقینی شہادت ہے اور میری طرف وحی فرمایا گیا تاکہ میں تمہیں ڈراؤں کہ تم حکمِ الٰہی کی مخالفت نہ کرو ۔(ف47)یعنی میرے بعد قیامت تک آنے والے جنہیں یہ قرآن پاک پہنچے خواہ وہ انسان ہوں یا جن ان سب کو میں حکمِ الٰہی کی مخالفت سے ڈراؤں ۔ حدیث شریف میں ہے کہ جس شخص کو قرآنِ پاک پہنچا گویا کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ کا کلام مبارک سنا ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کِسرٰی اور قیصر وغیرہ سلاطین کو دعوتِ اسلام کے مکتوب بھیجے (مدارک و خازن) اس کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ کہ مَنْ بَلَغَ میں مَنْ مرفوعُ المحل ہے اور معنٰی یہ ہیں کہ اس قرآن سے میں تم کو ڈراؤں اور وہ ڈرائیں جنہیں یہ قرآن پہنچے ۔ ترمذی کی حدیث میں ہے کہ اللہ تر و تازہ کرے اس کو جس نے ہمارا کلام سنا اور جیسا سنا ویسا پہنچایا بہت سے پہنچائے ہوئے سننے والے سے زیادہ اہل ہوتے ہیں اور ایک روایت میں ہے سننے والے سے زیادہ اَفۡقَہ ہوتے ہیں اس سے فقہا کی منزلت معلوم ہوتی ہے ۔(ف48)اے مشرکین ۔(ف49)اے حبیبِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ۔(ف50)جو گواہی تم دیتے ہو اور اللہ کے ساتھ دوسرے معبود ٹھہراتے ہو ۔(ف51)اس کا کوئی شریک نہیں ۔(ف52)مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ جو شخص اسلام لائے اس کو چاہئے کہ توحید و رسالت کی شہادت کے ساتھ اسلام کے ہر مخالف عقیدہ و دین سے بیزاری کا اظہار کرے ۔
جن کو ہم نے کتاب دی (ف۵۳) اس نبی کو پہچانتے ہیں (ف۵٤) جیسا اپنے بیٹے کو پہچانتے ہیں (ف۵۵) جنہوں نے اپنی جان نقصان میں ڈالی وہ ایمان نہیں لاتے،
(ف53)یعنی عُلَمائے یہود و نصارٰی جنہوں نے توریت و انجیل پائی ۔(ف54)آپ کے حُلیہ شریف اور آپ کے نعت و صفت سے جو ان کتابوں میں مذکور ہے ۔(ف55)یعنی بغیر کسی شک و شبہ کے ۔
اور ان میں کوئی وہ ہے جو تمہاری طرف کان لگاتا ہے (ف۵۹) اور ہم نے ان کے دلوں پر غلاف کردیے ہیں کہ اسے نہ سمجھیں اور ان کے کانٹ میں ٹینٹ (روئی) اور اگر ساری نشانیاں دیکھیں تو ان پر ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ جب تمہارے حضور تم سے جھگڑتے حاضر ہوں تو کافر کہیں یہ تو نہیں مگر اگلوں کی داستانیں (ف٦۰)
(ف59)ابوسفیان ، ولید و نضر اور ابوجہل وغیرہ جمع ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوتِ قرآنِ پاک سننے لگے تو نضر سے اس کے ساتھیوں نے کہا کہ محمّد (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا کہتے ہیں ؟ کہنے لگا میں نہیں جانتا زبان کو حرکت دیتے ہیں اور پہلوں کے قِصّہ کہتے ہیں جیسے میں تمہیں سُنایا کرتا ہوں ، ابوسفیان نے کہا کہ ان کی باتیں مجھے حق معلوم ہوتی ہیں ابوجہل نے کہا کہ اس کا اقرار کرنے سے مر جانا بہتر ہے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(ف60)اس سے ان کا مطلب کلامِ پاک کی وحیٔ الٰہی ہونے کا انکار کرنا ہے ۔
اور وہ اس سے روکتے (ف٦۱) اور اس سے دور بھاگتے ہیں اور بلاک نہیں کرتے مگر اپنی جانیں (ف٦۲) اور انہیں شعور نہیں،
(ف61)یعنی مشرکین لوگوں کو قرآنِ شریف سے یا رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ پر ایمان لانے اور آپ کا اِتّباع کرنے سے روکتے ہیں ۔شانِ نُزول : یہ آیت کہ کُفّارِ مکہ کے حق میں نازل ہوئی جو لوگوں کو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور آپ کی مجلس میں حاضر ہونے اور قرآن کریم سننے سے روکتے تھے اور خود بھی دور رہتے تھے کہ کہیں کلام مبارک ان کے دل میں اثر نہ کر جائے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ آیت حضور کے چچا ابوطالب کے حق میں نازل ہوئی جو مشرکین کو تو حضور کی ایذا رسانی سے روکتے تھے اور خود ایمان لانے سے بچتے تھے ۔(ف62)یعنی اس کا ضرر خود انہیں کو پہنچتا ہے ۔
بلکہ ان پر کھل گیا جو پہلے چھپاتے تھے (ف٦٤) اور اگر واپس بھیجے جائیں تو پھر وہی کریں جس سے منع کیے گئے تھے اور بیشک وہ ضرور جھوٹے ہیں،
(ف64)جیسا کہ اوپر اسی رکوع میں مذکور ہو چکا کہ مشرکین سے جب فرمایا جائے گا کہ تمھارے شریک کہاں ہیں تو وہ اپنے کُفر کو چھپا جائیں گے اور اللہ کی قَسم کھا کر کہیں گے کہ ہم مشرک نہ تھے ۔ اس آیت میں بتایا گیاکہ پھر جب انہیں ظاہر ہو جائے گا جو وہ چھپاتے تھے یعنی ان کا کُفر اس طرح ظاہر ہو گا کہ ان کے اعضا و جوارح ان کے کُفر و شرک کی گواہیاں دیں گے تب وہ دنیا میں واپس جانے کی تمنّا کریں گے ۔
اور بولے (ف٦۵) وہ تو یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے اور ہمیں اٹھنا نہیں (ف٦٦)
(ف65)یعنی کُفّار جو بَعث و آخرت کے منکِر ہیں اور اس کا واقعہ یہ تھا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کُفّارکو قیامت کے احوال اور آخرت کی زندگانی ، ایمانداروں اور فرمانبرداروں کے ثواب ، کافِروں اور نافرمانوں پر عذاب کا ذکر فرمایا تو کافِر کہنے لگے کہ زندگی تو بس دنیا ہی کی ہے ۔(ف66)یعنی مرنے کے بعد ۔
اور کبھی تم دیکھو جب اپنے رب کے حضور کھڑے کیے جائیں گے، فرمائے گا کیا یہ حق نہیں (ف٦۷) کہیں گے کیوں نہیں، ہمیں اپنے رب کی قسم ، فرمائے گا تو اب عذاب چکھو بدلہ اپنے کفر کا،
بیشک ہار میں رہے وہ جنہوں نے اپنے رب سے ملنے کا انکار کیا، یہاں تک کہ جب ان پر قیامت اچانک آگئی بولے ہائے افسوس ہمارا اس پر کہ اس کے ماننے میں ہم نے تقصیر کی، اور وہ اپنے (ف٦۸) بوجھ اپنی پیٹھ پر لادے ہوئے ہیں ارے کتنا برُا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں (ف٦۹)
(ف68)گناہوں کے ۔(ف69)حدیث شریف میں ہے کہ کافِر جب اپنی قبر سے نکلے گا تو اس کے سامنے نہایت قبیح بھیانک اور بہت بدبودار صورت آئے گی ، وہ کافِر سے کہے گی تو مجھے پہچانتا ہے ؟ کافِر کہے گا نہیں تو وہ کافِر سے کہے گی میں تیرا خبیث عمل ہوں دنیا میں تو مجھ پر سوار رہا تھا آج میں تجھ پر سوار ہوں گا اور تجھے تمام خَلق میں رُسوا کروں گا ۔ پھر وہ اس پر سوار ہو جاتا ہے ۔
اور دنیا کی زندگی نہیں مگر کھیل کود (ف۷۰) اور بیشک پچھلا گھر بھلا ان کے لئے جو ڈرتے ہیں (ف۷۱) تو کیا تمہیں سمجھ نہیں،
(ف70)جسے بقا نہیں جلد گزر جاتی ہے اور نیکیاں اور طاعتیں اگرچہ مؤمنین سے دنیا ہی میں واقع ہوں لیکن وہ امورِ آخرت میں سے ہیں ۔(ف71)اس سے ثابت ہوا کہ اعمالِ متّقِین کے سوا دنیا میں جو کچھ ہے سب لہو و لعب ہے ۔
ہمیں معلوم ہے کہ تمہیں رنج دیتی ہے وہ بات جو یہ کہہ رہے ہیں (ف۷۲) تو وہ تمہیں نہیں جھٹلاتے (ف۷۳) بلکہ ظالم اللہ کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں (ف۷٤)
(ف72)شانِ نُزول : اَخنَس بن شریق او ر ابوجہل کی باہم ملاقات ہوئی تو اخنس نے ابوجہل سے کہا اے ابوالحَکَم (کُفّارابوجہل کو ابوالحَکَم کہتے تھے) یہ تنہائی کی جگہ ہے اور یہاں کوئی ایسا نہیں جو میری تیری بات پر مطلِع ہو سکے اب تو مجھے ٹھیک ٹھیک بتا کہ محمّد (صلی اللہ علیہ وسلم) سچّے ہیں یا نہیں ؟ ابوجہل نے کہا کہ اللہ کی قسم محمّد (صلی اللہ علیہ وسلم) بے شک سچّے ہیں کبھی کوئی جھوٹا حرف ان کی زبان پر نہ آیا مگر بات یہ ہے کہ یہ قُصَی کی اولاد ہیں اور لِوَا ، سقایت ، حجابت ، ندوہ وغیرہ تو سارے اعزاز انہیں حاصل ہی ہیں ، نبوّت بھی انہیں میں ہو جائے تو باقی قریشیوں کے لئے اعزاز کیا رہ گیا ۔ ترمذی نے حضرت علی مرتضٰی سے روایت کی کہ ابوجہل نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ہم آپ کی تکذیب نہیں کرتے ہم تو اس کتاب کی تکذیب کرتے ہیں جوآپ لائے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(ف73)اس میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی تسکینِ خاطر ہے کہ قوم حضور کے صدق کا اعتقاد رکھتی ہے لیکن ان کی ظاہری تکذیب کا باعث ان کا حسد و عناد ہے ۔(ف74)آیت کے یہ معنٰی بھی ہوتے ہیں کہ اے حبیبِ اکرم آپ کی تکذیب آیاتِ الٰہیہ کی تکذیب ہے اور تکذیب کرنے والے ظالم ۔
اور تم سے پہلے رسول جھٹلائے گئے تو انہوں نے صبر کیا اس جھٹلانے اور ایذائیں پانے پر یہاں تک کہ انہیں ہماری مدد آئی (ف۷۵) اور اللہ کی باتیں بدلنے والا کوئی نہیں (ف۷٦) اور تمہارے پاس رسولوں کی خبریں آ ہی چکیں ہیں (ف۷۷)
(ف75)اور تکذیب کرنے والے ہلاک کئے گئے ۔(ف76)اس کے حکم کو کوئی پلٹ نہیں سکتا ، رسولوں کی نُصرت اور ان کے تکذیب کرنے والوں کا ہلاک اس نے جس وقت مقدر فرمایا ہے ضرور ہو گا ۔(ف77)اور آپ جانتے ہیں کہ انہیں کُفّار سے کیسی ایذائیں پہنچیں ، یہ پیشِ نظر رکھ کر آپ دل مطمئن رکھیں ۔
اور اگر ان کا منہ پھیرنا تم پر شاق گزرا ہے (ف۷۸) تو اگر تم سے ہوسکے تو زمین میں کوئی سرنگ تلاش کرلو یا آسمان میں زینہ پھر ان کے لیے نشانی لے آؤ (ف۷۹) اور اللہ چاہتا تو انہیں ہدایت پر اکٹھا کردیتا تو اے سننے والے تو ہرگز نادان نہ بن،
(ف78)سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت خواہش تھی کہ سب لوگ اسلام لے آئیں جو اسلام سے محروم رہتے ہیں ان کی محرومی آپ پر بہت شاق رہتی ۔(ف79)مقصود ان کے ایمان کی طرف سے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی امید منقطع کرنا ہے تاکہ آپ کو ان کے اِعراض کرنے اور ایمان نہ لانے سے رنج و تکلیف نہ ہو ۔
مانتے تو وہی ہیں جو سنتے ہیں (ف۸۰) اور ان مردہ دلوں (ف۸۱) کو اللہ اٹھائے گا (ف۸۲) پھر اس کی طرف ہانکے جائیں گے (ف۸۳)
(ف80)دل لگا کر سمجھنے کے لئے وہی پَنۡدپذیر ہوتے ہیں اور دینِ حق کی دعوت قبول کرتے ہیں ۔(ف81)یعنی کُفّار ۔(ف82)روزِ قیامت ۔(ف83)اور اپنے اعمال کی جزا پائیں گے ۔
اور بولے (ف۸٤) ان پر کوئی نشانی کیوں نہ اتری ان کے رب کی طرف سے (ف۸۵) تم فرماؤ کہ اللہ قادر ہے کہ کوئی نشانی اتارے لیکن ان میں بہت نرے (بالکل) جاہل ہیں (ف۸٦)
(ف84)کُفّارِ مکہ ۔(ف85)کُفّار کی گمراہی اور ان کی سرکشی اس حد تک پہنچ گئی کہ وہ کثیر آیات و معجزات جو انہوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشاہدہ کئے تھے ان پر قناعت نہ کی اور سب سے مُکر گئے اور ایسی آیت طلب کرنے لگے جس کے ساتھ عذابِ الٰہی ہو جیسا کہ انہوں نے کہا تھا ۔ اَللّٰھُمَّ اِنْ کَانَ ھٰذَا ھُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآءِ یا ربّ اگر یہ حق ہے تیرے پاس سے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا (تفسیر ابوالسعود)(ف86)نہیں جانتے کہ اس کا نُزول ان کے لئے بَلا ہے کہ انکار کرتے ہی ہلاک کر دیئے جائیں گے ۔
اور نہیں کوئی زمین میں چلنے والا اور نہ کوئی پرند کہ اپنے پروں پر اڑتا ہے مگر تم جیسی امتیں (ف۸۷) ہم نے اس کتاب میں کچھ اٹھا نہ رکھا (ف۸۸) پھر اپنے رب کی طرف اٹھائے جائیں گے (ف۸۹)
(ف87)یعنی تمام جاندار خواہ وہ بہائم ہو یا درندے یا پرند ، تمہاری مثل اُمّتیں ہیں ۔ یہ مماثلت جمیع وجوہ سے تو ہے نہیں بعض سے ہے ، ان وجوہ کے بیان میں بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ حیوانات تمھاری طرح اللہ کو پہچانتے ، واحد جانتے ، اس کی تسبیح پڑھتے ، عبادت کرتے ہیں ۔ بعض کا قول ہے کہ وہ مخلوق ہونے میں تمہاری مثل ہیں ۔ بعض نے کہا کہ وہ انسان کی طرح باہمی الفت رکھتے اور ایک دوسرے سے تفہیم و تَفَہُّم کرتے ہیں ۔ بعض کا قول ہے کہ روزی طلب کرنے ، ہلاکت سے بچنے ، نر مادہ کی امتیاز رکھنے میں تمہاری مثل ہیں ۔ بعض نے کہا کہ پیدا ہونے ، مرنے ، مرنے کے بعد حساب کے لئے اٹھنے میں تمہاری مثل ہیں ۔(ف88)یعنی جملہ علوم اور تمام مَاکَانَ وَ مَا یَکُوْنُ کا اس میں بیان ہے اور جمیع اشیاء کا علم اس میں ہے ، اس کتاب سے یا قرآنِ کریم مراد ہے یا لوحِ محفوظ ۔ (جمل وغیرہ)(ف89)اور تمام دَوَابّ و طیور کا حساب ہو گا ، اس کے بعد وہ خاک کر دیئے جائیں گے ۔
تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو اگر تم پر اللہ کا عذاب آئے یا قیامت قائم ہو کیا اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے (ف۹۳) اگر سچے ہو (ف۹٤)
(ف93)اور جن کو دنیا میں معبود مانتے تھے ان سے حاجت روائی چاہو گے ۔(ف94)اپنے اس دعوٰی میں کہ معاذ اللہ بُت معبود ہیں تو اس وقت انہیں پکارو مگر ایسا نہ کرو گے ۔
بلکہ اسی کو پکارو گے تو وہ اگر چاہے (ف۹۵) جس پر اسے پکارتے ہو اسے اٹھالے اور شریکوں کو بھول جاؤ گے (ف۹٦)
(ف95)تو اس مصیبت کو ۔(ف96)جنہیں اپنے اعتقادِ باطل میں معبود جانتے تھے اور ان کی طرف التفات بھی نہ کرو گے کیونکہ تمہیں معلوم ہے کہ وہ تمہارے کام نہیں آ سکتے ۔
پھر جب انہوں نے بھلا دیا جو نصیحتیں ان کو کی گئیں تھیں (ف۱۰۰) ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے (ف۱۰۱) یہاں تک کہ جب خوش ہوئے اس پر جو انہیں ملا (ف۱۰۲) تو ہم نے اچانک انہیں پکڑلیا (ف۱۰۳) اب وہ آس ٹوٹے رہ گئے،
(ف100)اور وہ کسی طرح پَند پذیر نہ ہوئے ، نہ پیش آئی ہوئی مصیبتوں سے ، نہ انبیاء کی نصیحتوں سے ۔(ف101)صحت و سلامت اور وسعتِ رزق و عیش وغیرہ کے ۔(ف102)اور اپنے آپ کو اس کا مستحق سمجھے اور قارون کی طرح تکبُّر کرنے لگے ۔(ف103)اور مبتلائے عذاب کیا ۔
تو جڑ کاٹ دی گئی ظالموں کی (ف۱۰٤) اور سب خوبیاں سراہا اللہ رب سارے جہاں کا (ف۱۰۵)
(ف104)اور سب کے سب ہلاک کر دیئے گئے کوئی باقی نہ چھوڑا گیا ۔(ف105)اس سے معلوم ہوا کہ گمراہوں ، بے دینوں ، ظالموں کی ہلاکت اللہ تعالٰی کی نعمت ہے اس پر شکر کرنا چاہئے ۔
تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو اگر اللہ تمہارے کان آنکھ لے لے اور تمہارے دلوں پر مہر کردے (ف۱۰٦) تو اللہ سوا کون خدا ہے کہ تمہیں یہ چیزیں لادے (ف۱۰۷) دیکھو ہم کس کس رنگ سے آیتیں بیان کرتے ہیں پھر وہ منہ پھیر لیتے ہیں،
(ف106)اور علم و معرفت کا تمام نظام درہم برہم ہو جائے ۔(ف107)اس کا جواب یہی ہے کہ کوئی نہیں تو اب توحید پر قوی دلیل قائم ہو گئی کہ جب اللہ کے سوا کوئی اتنی قدرت و اختیار والا نہیں تو عبادت کا مستحق صرف وہی ہے اور شرک بدترین ظلم و جُرم ہے ۔
تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو اگر تم پر اللہ کا عذاب آئے اچانک (ف۱۰۸) یا کھلم کھلا (ف۱۰۹) تو کون تباہ ہوگا سوا ظالموں کے (ف۱۱۰)
(ف108)جس کے آثار و علامات پہلے سے معلوم نہ ہوں ۔(ف109)آنکھوں دیکھتے ۔(ف110)یعنی کافِروں کے کہ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور یہ ہلاکت ان کے حق میں عذاب ہے ۔
تم فرمادو میں تم سے نہیں کہتا میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہوں کہ میں آپ غیب جان لیتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہوں کہ میں فرشتہ ہوں (ف۱۱۳) میں تو اسی کا تابع ہوں جو مجھے وحی آتی ہے (ف۱۱٤) تم فرماؤ کیا برابر ہو جائیں گے اندھے اور انکھیارے (ف۱۱۵) تو کیا تم غور نہیں کرتے،
(ف113)کُفّار کا طریقہ تھا کہ وہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم سے طرح طرح کے سُوال کیا کرتے تھے ، کبھی کہتے کہ آپ رسول ہیں تو ہمیں بہت سی دولت اور مال دیجئے کہ ہم کبھی محتاج نہ ہوں ، ہمارے لئے پہاڑوں کو سونا کر دیجئے ، کبھی کہتے کہ گزشۃ اور آیٔندہ کی خبریں سنائیے اور ہمیں ہمارے مستقبل کی خبر دیجئے کیا کیا پیش آئے گا تاکہ ہم منافِع حاصل کر لیں اور نقصانوں سے بچنے کے پہلے سے انتظام کر لیں ، کبھی کہتے ہمیں قیامت کا وقت بتائیے کب آئے گی ، کبھی کہتے آپ کیسے رسول ہیں جو کھاتے پیتے بھی ہیں نکاح بھی کرتے ہیں ، ان کے ان تمام باتوں کا اس آیت میں جواب دیا گیا کہ یہ کلام نہایت بے مَحل اور جاہلانہ ہے کیونکہ جو شخص کسی امر کا مُدعی ہو اس سے وہی باتیں دریافت کی جا سکتی ہیں جو اس کے دعوٰی سے تعلق رکھتی ہوں ، غیر متعلق باتوں کا دریافت کرنا اور ان کو اس دعوٰی کے خلاف حُجّت بنانا انتہا درجہ کا جَہل ہے اس لئے ارشاد ہوا کہ آپ فرما دیجئے کہ میرا دعوٰی یہ تو نہیں کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں جو تم مجھ سے مال دولت کا سوال کرو اور میں اس کی طرف التفات نہ کروں تو رسالت سے منکِر ہو جاؤ ، نہ میرا دعوٰی ذاتی غیب دانی کا ہے کہ اگر میں تمہیں گزشۃ یا آیٔندہ کی خبریں نہ بتاؤں تو میری نبوّت ماننے میں عُذر کر سکو ، نہ میں نے فرشتہ ہونے کا دعوٰی کیا ہے کہ کھانا پینا ، نکاح کرنا قابلِ اعتراض ہو تو جن چیزوں کا دعوٰی ہی نہیں کیا ان کا سوال بے مَحل ہے اور اس کی اجابت مجھ پر لازم نہیں ، میرا دعوٰی نبوّت و رسالت کا ہے اور جب اس پر زبردست دلیلیں اور قوی برہانیں قائم ہو چکیں تو غیر متعلق باتیں پیش کرنا کیا معنٰی رکھتا ہے ۔ فائدہ : اس سے صاف واضح ہو گیا کہ اس آیتِ کریمہ کو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کے غیب پر مطلِع کئے جانے کی نفی کے لئے سند بنانا ایسا ہی بے محل ہے جیسا کُفّار کا ان سوالات کو انکارِ نبوّت کی دستاویز بنانا بے محل تھا علاوہ بریں اس آیت سے حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کےعلمِ عطائی کی نفی کسی طرح مراد ہی نہیں ہو سکتی کیونکہ اس صورت میں تعارُض بینَ الآیات کا قائِل ہونا پڑے گا وَ ہُوَ بَاطِل ۔ مفسِّرین کا یہ بھی قول ہے کہ حضور کا لَۤا اَقُوْلُ لَکُمْ الآیہ فرمانا بطریقِ تواضع ہے ۔ (خازن و مدارک و جمل وغیرہ)(ف114)اور یہی نبی کا کام ہے تو میں تمہیں وہی دوں گا جس کا مجھے اِذن ہو گا ، وہی بتاؤں گا جس کی اجازت ہوگی ، وہی کروں گا جس کا مجھے حکم ملا ہو ۔(ف115)مؤمن و کافِر عالِم و جاہل ۔
اور اس قرآن سے انہیں ڈراؤ جنہیں خوف ہو کہ اپنے رب کی طرف یوں اٹھائے جائیں کہ اللہ کے سوا نہ ان کا کوئی حمایتی ہو نہ کوئی سفارشی اس امید پر کہ وہ پرہیزگار ہوجائیں
اور دور نہ کرو انہیں جو اپنے رب کو پکارتے ہیں صبح اور شام اس کی رضا چاہتے (ف۱۱٦) تم پر ان کے حساب سے کچھ نہیں اور ان پر تمہارے حساب سے کچھ نہیں (ف۱۱۷) پھر انہیں تم دور کرو تو یہ کام انصاف سے بعید ہے
(ف116)شانِ نُزول : کُفّار کی ایک جماعت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی انہوں نے دیکھا کہ حضور کے گرد غریب صحابہ کی ایک جماعت حاضر ہے جو ادنٰی درجہ کے لباس پہنے ہوئے ہیں ، یہ دیکھ کر وہ کہنے لگے کہ ہمیں ان لوگوں کے پاس بیٹھتے شرم آتی ہے ، اگر آپ انہیں اپنی مجلس سے نکال دیں تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں اور آپ کی خدمت میں حاضر رہیں ، حضور نے اس کو منظور نہ فرمایا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف117)سب کا حِساب اللہ پر ہے ، وہی تمام خَلق کو روزی دینے والا ہے ، اس کے سوا کسی کے ذمّہ کسی کا حساب نہیں ۔ حاصل معنٰی یہ کہ وہ ضعیف فُقَراء جن کا اوپر ذکر ہوا آپ کے دربار میں قرب پانے کے مستحق ہیں انہیں دور نہ کرنا ہی بجا ہے ۔
اور یونہی ہم نے ان میں ایک دوسرے کے لئے فتنہ بنایا کہ مالدار کافر محتاج مسلمانوں کو دیکھ کر (ف۱۱۸) کہیں کیا یہ ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا ہم میں سے (ف۱۱۹) کیا اللہ خوب نہیں جانتا حق ماننے والوں کو،
(ف118)بطریقِ حسد ۔(ف119)کہ انہیں ایمان و ہدایت نصیب کی باوجودیکہ وہ لوگ فقیر غریب ہیں اور ہم رئیس سردار ہیں ، اس سے ان کا مطلب اللہ تعالٰی پر اعتراض کرنا ہے کہ غُرَباء اُمراء پر سبقت کا حق نہیں رکھتے تو اگر وہ حق ہوتا جس پر یہ غُرَباء ہیں تو وہ ہم پر سابق نہ ہوتے ۔
اور جب تمہارے حضور وہ حاضر ہوں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے فرماؤ تم پر سلام تمہارے رب نے اپنے ذمہ کرم پر رحمت لازم کر لی ہے (ف۱۲۰) کہ تم میں جو کوئی نادانی سے کچھ برائی کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرے اور سنور جائے تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
تم فرماؤ مجھے منع کیا گیا ہے کہ انہیں پوجوں جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (ف۱۲۳) تم فرماؤ میں تمہاری خواہشوں پر نہیں چلتا (ف۱۲٤) یوں ہو تو میں بہک جاؤں اور راہ پر نہ رہوں،
(ف123)کیونکہ یہ عقل و نقل دونوں کے خلاف ہے ۔(ف124)یعنی تمہارا طریقہ اِتّباعِ نفس و خواہشِ ہَوا ہے نہ کہ اِتّباعِ دلیل اس لئے اختیار کرنے کے قابل نہیں ۔
تم فرماؤ مجھے منع کیا گیا ہے کہ انہیں پوجوں جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (ف۱۲۳) تم فرماؤ میں تمہاری خواہشوں پر نہیں چلتا (ف۱۲٤) یوں ہو تو میں بہک جاؤں اور راہ پر نہ رہوں،
(ف125)اور مجھے اس کی معرفت حاصل ہے ، میں جانتا ہوں کہ اس کے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں ، روشن دلیل قرآن شریف اور معجزات اور توحید کے براہینِ واضحہ سب کو شامل ہے ۔(ف126)کُفّار اِستِہزاءً حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کرتے تھے کہ ہم پر جلدی عذاب نازل کرائیے ۔ اس آیت میں انہیں جواب دیا گیا اور ظاہر کر دیا گیا کہ حضور سے یہ سوال کرنا نہایت بے جا ہے ۔
تم فرماؤ اگر میرے پاس ہوتی وہ چیز جس کی تم جلدی کررہے ہو (ف۱۲۷) تو مجھ میں تم میں کام ختم ہوچکا ہوتا (ف۱۲۸) اور اللہ خوب جانتا ہے ستمگاروں کو،
(ف127)یعنی عذاب ۔(ف128)میں تمہیں ایک ساعت کی مہلت نہ دیتا اور تمہیں ربّ کا مخالف دیکھ کر بے دَرَنگ ہلاک کر ڈالتا لیکن اللہ تعالٰی حلیم ہے عَقوبت میں جلدی نہیں فرماتا ۔
اور اسی کے پاس ہیں کنجیاں غیب کی انہیں وہی جانتا ہے (ف۱۲۹) اور جانتا ہے جو کچھ خشکی اور تری میں ہے، اور جو پتّا گرتا ہے وہ اسے جانتا ہے اور کوئی دانہ نہیں زمین کی اندھیریوں میں اور نہ کوئی تر اور نہ خشک جو ایک روشن کتاب میں لکھا نہ ہو (ف۱۳۰)
(ف129)تو جسے وہ چاہے وہی غیب پر مطلع ہو سکتا ہے بغیر اس کے بتائے کوئی غیب نہیں جان سکتا ۔ (واحدی)(ف130)کتابِ مبین سے لوحِ محفوظ مراد ہے ، اللہ تعالٰی نے ماَکَانَ وَ مَایَکُوْنُ کے علوم اس میں مکتوب فرمائے ۔
اور وہی ہے جو رات کو تمہاری روحیں قبض کرتا ہے (ف۱۳۱) اور جانتا ہے جو کچھ دن میں کماؤ پھر تمہیں دن میں اٹھاتا ہے کہ ٹھہرائی ہوئی میعاد پوری ہو (ف۱۳۲) پھر اسی کی طرف پھرنا ہے (ف۱۳۳) پھر وہ بتادے گا جو کچھ تم کرتے تھے،
(ف131)تو تم پر نیند مسلَّط ہوتی ہے اور تمہارے تصرُّفات اپنے حال پر باقی نہیں رہتے ۔(ف132)اور عمر اپنی انتہا کو پہنچے ۔(ف133)آخرت میں ۔ اس آیت میں بَعث بعدَ الموت یعنی مرنے کے بعد زندہ ہونے پر دلیل ذکر فرمائی گئی جس طرح روزمرّہ سونے کے وقت ایک طرح کی موت تم پر وارد کی جاتی ہے جس سے تمہارے حواس معطل ہو جاتے ہیں اور چلنا پھرنا پکڑنا اور بیداری کے افعال سب معطل ہوتے ہیں ، اس کے بعد پھر بیداری کے وقت اللہ تعالٰی تمام قُوٰی کو ان کے تصرّفات عطا فرماتا ہے یہ دلیل بَیِّن ہے اس بات کی کہ وہ زندگانی کے تصرُّفات بعدِ موت عطا کرنے پر اسی طرح قادر ہے ۔
اور وہی غالب ہے اپنے بندوں پر اور تم پر نگہبان بھیجتا ہے (ف۱۳٤) یہاں تک کہ جب تم میں کسی کو موت آتی ہے ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کرتے ہیں (ف۱۳۵) اور وہ قصور نہیں کرتے (ف۱۳٦)
(ف134)فرشتے جن کو کِراماً کاتبین کہتے ہیں وہ بنی آدم کی نیکی اور بدی لکھتے رہتے ہیں ، ہر آدمی کے ساتھ دو فرشتے ہیں ایک داہنے ایک بائیں ، نیکیاں داہنی طرف کا فرشتہ لکھتا ہے اور بدیاں بائیں طرف کا ، بندوں کو چاہئے ہوشیار رہیں اور بدیوں اور گناہوں سے بچیں کیونکہ ہر ایک عمل لکھا جاتا ہے اور روزِ قیامت وہ نامۂ اعمال تمام خَلق کے سامنے پڑھا جائے گا تو گناہ کتنی رسوائی کا سبب ہوں گے اللہ پناہ دے ۔ ( آمین ثم آمین )(ف135)ان فرشتوں سے مراد یا تو تنہا مَلَکُ الموت ہیں ، اس صورت میں صیغۂ جمع تعظیم کے لئے ہے یا مَلَکُ الموت مع ان فرشتوں کے مراد ہیں جو ان کے اَعوان ہیں جب کسی کی موت کا وقت آتا ہے مَلَکُ الموت بحکمِ الٰہی اپنے اَعوان کو اس کی روح قبض کرنے کا حکم دیتے ہیں جب روح حلق تک پہنچتی ہے تو خود قبض فرماتے ہیں ۔ (خازن)(ف136)اور تعمیلِ حکم میں ان سے کوتاہی واقع نہیں ہوتی اور ان کے عمل میں سُستی اور تاخیر راہ نہیں پاتی ، اپنے فرائض ٹھیک وقت پر ادا کرتے ہیں ۔
تم فرماؤ وہ کون ہے جو تمہیں نجات دیتا ہے جنگل اور دریا کی آفتوں سے جسے پکارتے ہو گِڑ گِڑا کر اور آہستہ کہ اگر وہ ہمیں اس سے بچاوے تو ہم ضرور احسان مانیں گے (ف۱۳۹)
(ف139)اس آیت میں کُفّار کو تنبیہ کی گئی کہ خشکی اور تری کے سفروں میں جب وہ مبتلائے آفات ہو کر پریشان ہوتے ہیں اور ایسے شدائد و اَہوال پیش آتے ہیں جن سے دل کانپ جاتے ہیں اور خطرات قلوب کو مضطرِب اور بے چین کر دیتے ہیں اس وقت بُت پرست بھی بُتوں کو بھول جاتا ہے اور اللہ تعالٰی ہی سے دعا کرتا ہے اسی کی جناب میں تضرُّع و زاری کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس مصیبت سے اگر تو نے نجات دی تو میں شکر گزار ہوں گا اور تیرا حقِ نعمت بجا لاؤں گا ۔
تم فرماؤ اللہ تمہیں نجات دیتا ہے اس سے اور ہر بےچینی سے پھر تم شریک ٹھہراتے ہو (ف۱٤۰)
(ف140)اور بجائے شکر گزاری کے ایسی بڑی ناشکری کرتے ہو اور یہ جانتے ہوئے کہ بُت نِکمے ہیں ، کسی کام کے نہیں پھر انہیں اللہ کا شریک کرتے ہو ، کتنی بڑی گمراہی ہے ۔
تم فرماؤ وہ قادر ہے کہ تم پر عذاب بھیجے تمہارے اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے تلے (نیچے) سے یا تمہیں بھڑا دے مختلف گروہ کرکے اور ایک کو دوسرے کی سختی چکھائے، دیکھو ہم کیونکر طرح طرح سے آیتیں بیان کرتے ہیں کہ کہیں ان کو سمجھ ہو (ف۱٤۱)
(ف141)مفسِّرین کا اس میں اختلاف ہے کہ اس آیت سے کون لوگ مراد ہیں ، ایک جماعت نے کہا کہ اس سے اُمّتِ محمّدیہ مراد ہے اور آیت انہیں کے حق میں نازل ہوئی ۔ بخاری کی حدیث میں ہے کہ جب یہ نازل ہوا کہ وہ قادر ہے تم پر عذاب بھیجے تمہارے اوپر سے ، تو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تیری ہی پناہ مانگتا ہوں اور جب یہ نازل ہوا کہ یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے تو فرمایا میں تیری ہی پناہ مانگتا ہوں اور جب یہ نازل ہوا یا تمہیں بھڑاوے مختلف گروہ کر کے اور ایک کو دوسرے کی سختی چکھائے تو فرمایا یہ آسان ہے ۔ مسلم کی حدیث شریف میں ہے کہ ایک روز سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجدِ بنی معاویہ میں دو رکعت نماز ادا فرمائی اور اس کے بعد طویل دعا کی پھر صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا میں نے اپنے ربّ سے تین سوال کئے ان میں سے صرف دو قبول فرمائے گئے ، ایک سوال تو یہ تھا کہ میری اُمّت کو قحطِ عام سے ہلاک نہ فرمائے یہ قبول ہوا ، ایک یہ تھا کہ انہیں غرق سے عذاب نہ فرمائے یہ بھی قبول ہوا ، تیسرا سوال یہ تھا کہ ان میں باہَم جنگ و جدال نہ ہو یہ قبول نہیں ہوا ۔
اور اے سننے والے! جب تو انہیں دیکھے جو ہماری آیتوں میں پڑتے ہیں (ف۱٤۵) تو ان سے منہ پھیر لے (ف۱٤٦) جب تک اور بات میں پڑیں، اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ،
(ف145)طعن تَشنیع اِستِہزاء کے ساتھ ۔(ف146)اور ان کی ہم نشینی ترک کر ۔مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ بے دینوں کی جس مجلس میں دین کا احترام نہ کیا جاتا ہو مسلمان کو وہاں بیٹھنا جائز نہیں ، اس سے ثابت ہو گیا کہ کُفّار اور بے دینوں کے جلسے جن میں وہ دین کے خلاف تقریریں کرتے ہیں ان میں جانا ، سننے کے لئے شرکت کرنا جائز نہیں اور رد و جواب کے لئے جانا مُجالَست نہیں بلکہ اظہارِ حق ہے ممنوع نہیں جیسا کہ اگلی آیت سے ظاہر ہے ۔
اور پرہیز گاروں پر ان کے حساب سے کچھ نہیں (ف۱٤۷) ہاں نصیحت دینا شاید وہ باز آئیں (ف۱٤۸)
(ف147)یعنی طعن و اِستِہزاء کرنے والوں کے گناہ انہیں پر ہیں ، انہیں سے اس کا حساب ہوگا ، پرہیزگاروں پر نہیں شانِ نُزول : مسلمانوں نے کہا تھا کہ ہمیں گناہ کا اندیشہ ہے جب کہ ہم انہیں چھوڑ دیں اور منع نہ کریں اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف148)مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ پند و نصیحت اور اظہارِ حق کے لئے ان کے پاس بیٹھنا جائز ہے ۔
اور چھوڑ دے ان کو جنہوں نے اپنا دین ہنسی کھیل بنا لیا اور انہیں دنیا کی زندگانی نے فریب دیا اور قرآن سے نصیحت دو (ف۱٤۹) کہ کہیں کوئی جان اپنے کئے پر پکڑی نہ جائے اللہ کے سوا نہ اس کا کوئی حمایتی ہو نہ سفارشی اور اگر اپنے عوض سارے بدلے دے تو اس سے نہ لیے جائیں یہ ہیں (ف۱۵۱) وہ جو اپنے کیے پر پکڑے گئے انہیں پینے کا کھولتا پانی اور درد ناک عذاب بدلہ ان کے کفر کا،
(ف149)اور احکامِ شرعیہ بتاؤ ۔(ف150)اور اپنے جرائم کے سبب عذابِ جہنّم میں گرفتار نہ ہو ۔(ف151)دین کو ہنسی اور کھیل بنانے والے اور دنیا کے مفتون ۔
تم فرماؤ (ف۱۵۲) کیا ہم اللہ کے سوا اس کو پوجیں جو ہمارا نہ بھلا کرے نہ برُا (ف۱۵۳) اور الٹے پاؤں پلٹا دیے جائیں بعد اس کے کہ اللہ نے ہمیں راہ دکھائی (ف۱۵٤) اس کی طرح جسے شیطان نے زمین میں راہ بھلادی (ف۱۵۵) حیران ہے اس کے رفیق اسے راہ کی طرف بلا رہے ہیں کہ ادھر آ، تم فرماؤ کہ اللہ ہی کی ہدایت ہدایت ہے (ف۱۵٦) اور ہمیں حکم ہے کہ ہم اس کے لیے گردن رکھ دیں (ف۱۵۷) جو رب ہے سارے جہان
(ف152)اے مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم ان مشرکین سے جو اپنے باپ دادا کے دین کی دعوت دیتے ہیں ۔(ف153)اور اس میں کوئی قدرت نہیں ۔(ف154)اور اسلام اور توحید کی نعمت عطا فرمائی اور بُت پرستی کے بدترین وبال سے بچایا ۔(ف155)اس آیت میں حق و باطل کے دعوت دینے والوں کی ایک تمثیل بیان فرمائی گئی کہ جس طرح مسافر اپنے رفیقوں کے ساتھ تھا جنگل میں بُھوتوں اور شیطانوں نے اس کو رستہ بہکا دیا اور کہا منزلِ مقصود کی یہی راہ ہے اور اس کے رفیق اس کو راہِ راست کی طرف بلانے لگے وہ حیران رہ گیا کدھر جائے ، انجام اس کا یہی ہو گا کہ اگر وہ بُھوتوں کی راہ پر چل دے تو ہلاک ہو جائے گا اور رفیقوں کا کہا مانے تو سلامت رہے گا اور منزل پر پہنچ جائے گا ۔ یہی حال اس شخص کا ہے جو طریقۂ اسلام سے بہکا اور شیطان کی راہ چلا ، مسلمان اس کو راہِ راست کی طرف بلاتے ہیں اگر ان کی بات مانے گا راہ پائے گا ورنہ ہلاک ہو جائے گا ۔(ف156)یعنی جو طریق اللہ تعالٰی نے اپنے بندوں کے لئے واضح فرمایا اور جو دین (اسلام) ان کے لئے مقرر کیا وہی ہدایت و نور ہے اور جو اس کے سوا ہے وہ دین باطل ہے ۔(ف157)اور اسی کی اطاعت و فرمانبرداری کریں اور خاص اسی کی عبادت کریں ۔
اور وہی ہے جس نے آسمان و زمین ٹھیک بنائے (ف۱۵۸) اور جس دن فنا ہوئی ہر چیز کو کہے گا ہو جا وہ فوراً ہوجائے گی، اس کی بات سچی ہے، اور اسی کی سلطنت ہے جس دن صور پھونکا جائے گا (ف۱۵۹) ہر چھپے اور ظاہر کو جاننے والا، اور وہی حکمت والا خبردار،
(ف158)جن سے اس کی قدرتِ کاملہ اور اس کا علم محیط اور اس کی حکمت و صنعت ظاہر ہے ۔(ف159)کہ نام کو بھی کوئی سلطنت کا دعوٰی کرنے والا نہ ہو گا ، تمام جبابرہ ، فراعنہ اور سب دنیا کی سلطنت کا غرور کرنے والے دیکھیں گے کہ دنیا میں جو وہ سلطنت کا دعوٰی رکھتے تھے وہ باطل تھا ۔
اور یاد کرو جب ابراہیم نے اپنے باپ (ف۱٦۰) آزر سے کہا، کیا تم بتوں کو خدا بناتے ہو، بیشک میں تمہیں اور تمہاری قوم کو کھلی گمراہی میں پاتا ہوں (ف۱٦۱)
(ف160)قاموس میں ہے کہ آزر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے چچا کا نام ہے ۔ امام علامہ جلال الدین سیوطی نے مسالک الحُنَفاء میں بھی ایسا ہی لکھا ہے ، چچا کو باپ کہنا تمام ممالک میں معمول ہے بالخصوص عرب میں ، قرآنِ کریم میں ہے نَعْبُدُ اِلٰھَکَ وَ اِلہٰ اٰبَآ ئِکَ اِبْرَاھِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰھًا وَّاحِدًا ۔ اس میں حضرت اسمٰعیل کو حضرت یعقوب کے آباء میں ذکر کیا گیا ہے باوجودیکہ آپ عَم ہیں ۔ حدیث شریف میں بھی حضرت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نےحضرت عباس رضی اللہ عنہ کو اَب فرمایا چنانچہ ارشاد کیا رُدُّوْا عَلَیَّ اَبِیْ اور یہاں اَبِی سے حضرت عباس مراد ہیں ۔ (مفرداتِ راغب وکبیر وغیرہ)(ف161)یہ آیت مشرکینِ عرب پر حُجَّت ہے جو حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کو معظَّم جانتے تھے اور ان کی فضیلت کے معترف تھے ، انہیں دکھایا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام بُت پرستی کو کتنا بڑا عیب اور گمراہی بتاتے ہیں اگر تم انہیں مانتے ہو تو بُت پرستی تم بھی چھوڑ دو ۔
اور اسی طرح ہم ابراہیم کو دکھاتے ہیں ساری بادشاہی آسمانوں اور زمین کی (ف۱٦۲) اور اس لیے کہ وہ عین الیقین والوں میں ہوجائے (ف۱٦۳)
(ف162)یعنی جس طرح حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کو دین میں بِینائی عطا فرمائی ایسے ہی انہیں آسمانوں اور زمین کے مُلک دکھاتے ہیں ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا اس سے آسمانوں اور زمین کی خَلق مراد ہے ۔ مجاہد اور سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ آیاتِ سمٰوات و ارض مراد ہیں ، یہ اس طرح کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کو صَخرہ (پتھر) پر کھڑا کیا گیا اور آپ کے لئے سماوات مکشوف کئے گئے یہاں تک کہ آپ نے عرش و کرسی اور آسمانوں کے تمام عجائب اور جنّت میں اپنے مقام کو معائنہ فرمایا ، آپ کے لئے زمین کشف فرما دی گئی یہاں تک کہ آپ نے سب سے نیچے کی زمین تک نظر کی اور زمینوں کے تمام عجائب دیکھے ۔ مفسِّرین کا اس میں اختلاف ہے کہ یہ رویت بچشمِ باطن تھی یا بچشمِ سر ۔ (درِّ منثور و خازن وغیرہ)(ف163)کیونکہ ہر ظاہر و مخفی چیز ان کے سامنے کر دی گئی اور خَلق کے اعمال میں سے کچھ بھی ان سے نہ چُھپا رہا ۔
پھر جب ان پر رات کا اندھیرا آیا ایک تارا دیکھا (ف۱٦٤) بولے اسے میرا رب ٹھہراتے ہو پھر جب وہ ڈوب گیا بولے مجھے خوش نہیں آتے ڈوبنے والے،
(ف164)عُلَماءِ تفسیر اور اصحابِ اَخبار و سِیَر کا بیان ہے کہ نَمرود ابنِ کنعان بڑا جابر بادشاہ تھا ، سب سے پہلے اسی نے تاج سر پر رکھا ، یہ بادشاہ لوگوں سے اپنی پرستِش کراتا تھا ، کاہِن اور مُنجِم کثرت سے اس کے دربار میں حاضر رہتے تھے ۔ نمرود نے خواب دیکھا کہ ایک ستارہ طلوع ہوا ہے اس کی روشنی کے سامنے آفتاب ماہتاب بالکل بے نور ہو گئے اس سے وہ بہت خوف زدہ ہوا ، کاہنوں سے تعبیر دریافت کی ، انہوں نے کہا اس سال تیری قلمرو میں ایک فرزند پیدا ہو گا جو تیرے زَوالِ مُلک کا باعث ہو گا اور تیرے دین والے اس کے ہاتھ سے ہلاک ہوں گے ، یہ خبر سن کر وہ پریشان ہوا اور اس نے حکم دے دیا کہ جو بچہ پیدا ہو قتل کر ڈالا جائے اور مرد عورتوں سے علیٰحدہ رہیں اور اس کی نگہبانی کے لئے ایک محکمہ قائم کر دیا گیا ۔ تقدیراتِ الٰہیہ کو کون ٹال سکتا ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حاملہ ہوئیں اور کاہنوں نے نمرود کو اس کی بھی خبر دی کہ وہ بچہ حمل میں آ گیا لیکن چونکہ حضرت کی والدہ صاحبہ کی عمر کم تھی ان کا حمل کسی طرح پہچانا ہی نہ گیا جب زمانۂ ولادت قریب ہوا تو آپ کی والدہ اس تہ خانے میں چلی گئیں جو آپ کے والد نے شہر سے دور کھود کر تیار کیا تھا ، وہاں آپ کی ولادت ہوئی اور وہیں آپ رہے ، پتھروں سے اس تہ خانہ کا دروازہ بند کر دیا جاتا تھا ، روزانہ والدہ صاحبہ دودھ پلا آتی تھیں اور جب وہاں پہنچتی تھیں تو دیکھتی تھیں کہ آپ اپنی سَرِ اَنگُشت چُوس رہے ہیں اور اس سے دودھ برآمد ہوتا ہے ، آپ بہت جلد بڑھتے تھے ، ایک مہینہ میں اتنا جتنے دوسرے بچے ایک سال میں ، اس میں اختلاف ہے کہ آپ تہ خانہ میں کتنے عرصہ رہے ۔ بعض کہتے ہیں سات برس ، بعض تیرہ برس ، بعض سترہ برس ، یہ مسئلہ یقینی ہے کہ انبیاء ہرحال میں معصوم ہوتے ہیں اور وہ اپنی ابتداءِ ہستی سے تمام اوقاتِ وجود میں عارف ہوتے ہیں ، ایک روز حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی والدہ سے دریافت فرمایا میرا ربّ (پالنے والا) کون ہے ؟ انہوں نے کہا میں ، فرمایا تمہارا ربّ کون ہے ؟ انہوں نے کہا تمہارے والد ، فرمایا ان کا ربّ کون ہے ؟ اس پر والدہ نے کہا خاموش رہو اور اپنے شوہر سے جا کر کہا کہ جس لڑکے کی نسبت یہ مشہور ہے کہ وہ زمین والوں کا دین بدل دے گا وہ تمہارا فرزند ہی ہے اور یہ گفتگو بیان کی ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ابتدا ہی سے توحید کی حمایت اور عقائدِ کُفریہ کا اِبطال شروع فرما دیا اور جب ایک سوراخ کی راہ سے شب کے وقت آپ نے زُہرہ یا مُشتری ستارہ کو دیکھا تو اِقامتِ حُجَّت شروع کر دی کیونکہ اس زمانہ کے لوگ بُت اور کواکب کی پرستش کرتے تھے تو آپ نے ایک نہایت نفیس اور دل نشیں پیرایہ میں انہیں نظر و استدلال کی طرف رہنمائی کی جس سے وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ عالَم بتمامہٖ حادِث ہے ، اِلٰہ نہیں ہو سکتا ، وہ خود مُوجِد و مُدَبِّر کا محتاج ہے جس کے قدرت و اختیار سے اس میں تغیُّر ہوتے رہتے ہیں ۔
پھر جب سورج جگمگاتا دیکھا بولے اسے میرا رب کہتے ہو (ف۱٦٦) یہ تو ان سب سے بڑا ہے، پھر جب وہ ڈوب گیا کہا اے قوم میں بیزار ہوں ان چیزوں سے جنہیں تم شریک ٹھہراتے ہو (ف۱٦۷)
(ف166)شمس مؤنث غیر حقیقی ہے اس کے لئے مذکر و مؤنث کے دونوں صیغے استعمال کئے جا سکتے ہیں ، یہاں ہذا مذکر لایا گیا اس میں تعلیمِ ادب ہے کہ لفظِ ربّ کی رعایت کے لئے لفظِ تانیث نہ لایا گیا اسی لحاظ سے اللہ تعالٰی کی صفت میں عَلّام آتا ہے نہ کہ علامہ ۔(ف167)حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ثابت کر دیا کہ ستاروں میں چھوٹے سے بڑے تک کوئی بھی ربّ ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا ، ان کا اِلٰہ ہونا باطل ہے اور قوم جس شرک میں مبتلا ہے آپ نے اس سے بیزاری کا اظہار کیا اور اس کے بعد دینِ حق کا بیان فرمایا جو آگے آتا ہے ۔
میں نے اپنا منہ اس کی طرف کیا جس نے آسمان اور زمین بنائے ایک اسی کا ہو کر (ف۱٦۸) اور میں مشرکین میں نہیں،
(ف168)یعنی اسلام کے سوا باقی تمام اَدیان سے جُدا رہ کر ۔مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ دینِ حق کا قیام و استحکام جب ہی ہو سکتا ہے جب کہ تمام اَدیانِ باطلہ سے بیزاری ہو ۔
اور ان کی قوم ان سے جھگڑے لگی کہا کیا اللہ کے بارے میں مجھ سے جھگڑتے ہو تو وہ مجھے راہ بتا چکا (ف۱٦۹) اور مجھے ان کا ڈر نہیں جنہیں تم شریک بتاتے ہو (ف۱۷۰) ہاں جو میرا ہی رب کوئی بات چاہے (ف۱۷۱) میرے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے، تو کیا تم نصیحت نہیں مانتے
(ف169)اپنی توحید و معرفت کی ۔(ف170)کیونکہ وہ بے جان بُت ہیں نہ ضرر دے سکتے ہیں نہ نفع پہنچا سکتے ہیں ، ان سے کیا ڈرنا ، یہ آپ نے مشرکین سے جواب میں فرمایا تھا جنہوں نے آپ سے کہا تھا کہ بُتوں سے ڈرو ان کے بُرا کہنے سے کہیں آپ کو کچھ نقصان نہ پہنچ جائے ۔(ف171)وہ ہو گی کیونکہ میرا ربّ قادرِ مطلق ہے ۔
اور میں تمہارے شریکوں سے کیونکر ڈروں (ف۱۷۲) اور تم نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ کا شریک اس کو ٹھہرایا جس کی تم پر اس نے کوئی سند نہ اتاری، تو دونوں گروہوں میں امان کا زیادہ سزا وار کون ہے (ف۱۷۳) اگر تم جانتے ہو،
(ف172)جو بے جان جَماد اور عاجزِ مَحض ہیں ۔(ف173)مُوحِّد یا مشرک ۔
اور یہ ہماری دلیل ہے کہ ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم پر عطا فرمائی، ہم جسے چاہیں درجوں بلند کریں (ف۱۷٤) بیشک تمہارا رب علم و حکمت والا ہے
(ف174)علم و عقل و فہم و فضیلت کے ساتھ جیسے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے درجے بلند فرمائے ، دنیا میں علم و حکمت و نبوّت کے ساتھ اور آخرت میں قرب و ثواب کے ساتھ ۔
اور ہم نے انہیں اسحاق اور یعقوب عطا کیے، ان سب کو ہم نے راہ دکھائی اور ان سے پہلے نوح کو راہ دکھائی اور میں اس کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو، اور ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں نیکوکاروں کو،
اور اسماعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو، اور ہم نے ہر ایک کو اس کے وقت میں سب پر
(ف175)نبوّت و رسالت کے ساتھ ۔مسئلہ : اس آیت سے اس پر سند لائی جاتی ہے کہ انبیاء ملائکہ سے افضل ہیں کیونکہ عالَم اللہ کے سوا تمام موجودات کو شامل ہے ، فرشتے بھی اس میں داخل ہیں تو جب تمام جہان والوں پر فضیلت دی تو ملائکہ پر بھی فضیلت ثابت ہو گئی ، یہاں اللہ تعالٰی نے اٹھارہ انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کا ذکر فرمایا اور اس ذکر میں ترتیب نہ زمانہ کے اعتبار سے ہے نہ فضیلت کے ، نہ واو ترتیب کا مقتضی لیکن جس شان سے کہ انبیاء علیہم السلام کے اسماء ذکر فرمائے گئے اس میں ایک عجیب لطیفہ ہے وہ یہ کہ اللہ تعالٰی نے انبیاء کی ہر ایک جماعت کو ایک خاص طرح کی کرامت و فضیلت کے ساتھ ممتاز فرمایا تو حضرت نوح و ابراہیم و اسحٰق و یعقوب کا اوّل ذکر کیا کیونکہ یہ انبیاء کے اُصول ہیں یعنی ان کی اولاد میں بکثرت انبیاء ہوئے جن کے اَنساب انہیں کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ نبوّت کے بعد مراتبِ معتبرہ میں سے مُلک و اختیار و سلطنت و اقتدار ہے ۔ اللہ تعالٰی نے حضرت داؤد و سلیمان کو اس کا حَظِّ وافر دیا اور مراتبِ رفیعہ میں سے مصیبت و بلاء پر صابر رہنا ہے ۔ اللہ تعالٰی نے حضرت ایوب کو اس کے ساتھ ممتاز فرمایا پھر مُلک و صبر کے دونوں مرتبے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام کو عنایت کئے کہ آپ نے شدّت و بلاء پر مدتوں صبر فرمایا پھر اللہ تعالٰی نے نبوّت کے ساتھ مُلکِ مِصر عطا کیا ۔ کثرتِ معجزات و قوتِ بَراہین بھی مراتبِ معتبرہ میں سے ہیں ۔ اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی و ہارون کو اس کے ساتھ مشرف کیا ۔ زُہد و ترکِ دنیا بھی مراتبِ معتبرہ میں سے ہے ۔ حضرت زکریا و یحیٰی و عیسٰی و الیاس کو اس کے ساتھ مخصوص فرمایا ، ان حضرات کے بعد اللہ تعالٰی نے ان انبیاء کا ذکر فرمایا کہ جن کے نہ مُتّبِعین باقی رہے نہ ان کی شریعت جیسے کہ حضرت اسمٰعیل ، یسع ، یونس ، لوط علیہم الصلٰوۃ والسلام ۔ اس شان سے انبیاء کا ذکر فرمانے میں ان کی کرامتوں اور خصوصیتوں کا ایک عجیب لطیفہ نظر آتا ہے ۔
یہ ہیں جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تو اگر یہ لوگ (ف۱۷۷) اس سے منکر ہوں تو ہم نے اس کیلئے ایک ایسی قوم لگا رکھی ہے جو انکار والی نہیں (ف۱۷۸)
(ف177)یعنی اہلِ مکّہ ۔(ف178)اس قوم سے یا انصار مراد ہیں یا مہاجرین یا تمام اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا حضور پر ایمان لانے والے سب لوگ ۔فائدہ : اس آیت میں دلالت ہے کہ اللہ تعالٰی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نُصرت فرمائے گا اور آپ کی دین کو قوت دے گا اور اس کو تمام اَدیان پر غالب کرے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا اور یہ غیبی خبر واقع ہو گئی ۔
یہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت کی تو تم انہیں کی راہ چلو (ف۱۷۹) تم فرماؤ میں قرآن پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا وہ تو نہیں مگر نصیحت سارے جہان کو (ف۱۸۰)
(ف179)مسئلہ : عُلَمائے دین نے اس آیت سے یہ مسئلہ ثابت کیا ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء سے افضل ہیں کیونکہ خِصالِ کمال و اوصافِ شرف جو جُدا جُدا انبیاء کو عطا فرمائے گئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے سب کو جمع فرما دیا اور آپ کو حکم دیا فَبِھُدٰھُمُ اقْتَدِہْ تو جب آپ تمام ا نبیاء کے اوصافِ کمالیہ کے جامع ہیں تو بے شک سب سے افضل ہوئے ۔(ف180)اس آیت سے ثابت ہوا کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم تمام خَلق کی طرف مبعوث ہیں اور آپ کی دعوت تمام خَلق کو عام اور کل جہان آپ کی اُمّت ۔ (خازن)
اور یہود نے اللہ کی قدر نہ جانی جیسی چاہیے تھی (ف۱۸۱) جب بولے اللہ نے کسی آدمی پر کچھ نہیں اتارا، تم فرماؤ کس نے اتاری وہ کتاب جو موسیٰ لائے تھے روشنی اور لوگوں کے لیے ہدایت جس کے تم نے الگ الگ کاغذ بنالیے ظاہر کرتے ہو (ف۱۸۲) اور بہت سے چھپالیتے ہو (ف۱۸۳) اور تمہیں وہ سکھایا جاتا ہے (ف۱۸٤) جو نہ تم کو معلوم تھا نہ تمہارے باپ دادا کو، اللہ کہو (ف۱۸۵) پھر انہیں چھوڑ دو ان کی بیہودگی میں انہیں کھیلتا (ف۱۸٦)
(ف181)اور اس کی معرفت سے محروم رہے اور اپنے بندوں پر اس کو جو رحمت و کرم ہے اس کو نہ جانا ۔شانِ نُزول : یہود کی ایک جمات اپنے حِبرُ الاَحبار مالک ابنِ صیف کو لے کر سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم سےمجادلہ کرنے آئی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا میں تجھے اس پروردگار کی قسم دیتا ہوں جس نے حضرت موسٰی علیہ السلام پر توریت نازل فرمائی ، کیا توریت میں تو نے یہ دیکھا ہے اِنَّ اللَّٰہَ یَبْغَضُ الْحِبْرَ السَّمِیْنَ یعنی اللہ کو موٹا عالِم مبغوض ہے ؟ کہنے لگا ہاں یہ توریت میں ہے ، حضور نے فرمایا تو موٹا عالِم ہی تو ہے اس پر غضبناک ہو کر کہنے لگا کہ اللہ نے کسی آدمی پر کچھ نہیں اُتارا ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور اس میں فرمایا گیا کس نے اُتاری وہ کتاب جو موسٰی لائے تھے تو وہ لاجواب ہوا اور یہود اس سے برہم ہوئے اور اس کو جھڑکنے لگے اور اس کو حِبْر کے عہدہ سے معزول کر دیا ۔ (مدارک و خازن)(ف182)ان میں سے بعض کو جس کا اظہار اپنی خواہش کے مطابق سمجھتے ہو ۔(ف183)جو تمہاری خواہش کے خلاف کرتے ہیں جیسے کہ توریت کے وہ مضامین جن میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت و صفت مذکور ہے ۔(ف184)سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور قرآنِ کریم سے ۔(ف185)یعنی جب وہ اس کا جواب نہ دے سکیں کہ وہ کتاب کس نے اُتاری تو آپ فرما دیجئے اللہ نے ۔(ف186)کیونکہ جب آپ نے حُجّت قائم کر دی اور انداز و نصیحت نہایت کو پہنچا دی اور ان کے لئے جائے عذر نہ چھوڑی ، اس پر بھی وہ باز نہ آئیں تو انہیں ان کی بے ہودگی میں چھوڑ دیجئے ۔ یہ کُفّار کے حق میں وعید و تہدید ہے ۔
اور یہ ہے برکت والی کتاب کہ ہم نے اتاری (ف۱۸۷) تصدیق فرماتی ان کتابوں کی جو آگے تھیں اور اس لیے کہ تم ڈر سناؤ سب بستیوں کے سردار کو (ف۱۸۸) اور جو کوئی سارے جہاں میں اس کے گرد ہیں اور جو آخرت پر ایمان لاتے ہیں (ف۱۸۹) اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں اور اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں،
(ف187)یعنی قرآن شریف ۔(ف188)اُمُّ القُرٰی مکّہ مکرّمہ ہے کیونکہ وہ تمام زمین والوں کا قبلہ ہے ۔(ف189)اور قیامت و آخرت اور مرنے کے بعد اُٹھنے کا یقین رکھتے ہیں اور اپنے انجام سے غافل و بے خبر نہیں ہیں ۔
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۱۹۰) یا کہے مجھے وحی ہوئی اور اسے کچھ وحی نہ ہوئی (ف۱۹۱) اور جو کہے ابھی میں اتارتا ہوں ایسا جیسا اللہ نے اتارا (ف۱۹۲) اور کبھی تم دیکھوں جس وقت ظالم موت کی سختیوں میں ہیں اور فرشتے ہاتھ پھیلاتے ہوئے ہیں (ف۱۹۳) کہ نکالو اپنی جانیں، آج تمہیں خواری کا عذاب دیا جائے گا بدلہ اس کا کہ اللہ پر جھوٹ لگاتے تھے (ف۱۹٤) اور اس کی آیتوں سے تکبر کرتے،
(ف190)اور نبوّت کا جھوٹا دعوٰی کرے ۔(ف191)شانِ نُزول : یہ آیت مُسَیلمہ کَذّاب کے بارے میں نازل ہوئی جس نے یَمامہ عَلاقۂ یمن میں نبوّت کا جھوٹا دعوٰی کیا تھا ۔ قبیلۂ بنی حنیفہ کے چند لوگ اس کے فریب میں آ گئے تھے یہ کذّاب زمانۂ خلافتِ حضرت ابو بکر صدیق میں وحشی قاتلِ امیرِ حمزہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے قتل ہوا ۔(ف192)شانِ نُزول : یہ عبداللہ بن ابی سرح کاتِبِ وحی کے حق میں نازل ہوئی ۔ جب آیت وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ نازل ہوئی اس نے اس کو لکھا اور آخر تک پہنچتے پہنچتے پیدائشِ انسان کی تفصیل پر مطلع ہو کر متعجب ہوا اور اس حالت میں آیت کا آخر فَتَبَارَکَ اللّٰہ ُاَحْسَنُ الْخَالِقِیْن بے اختیار اس کی زبان پر جاری ہو گیا ، اس پر اس کو یہ گھمنڈ ہوا کہ مجھ پر وحی آنے لگی اور مرتد ہو گیا ، یہ نہ سمجھا کہ نورِ وحی اور قوت و حُسنِ کلام سے آیت کا آخر کلمہ زبان پر آ گیا ، اس میں اس کی قابلیت کا کوئی دخل نہ تھا زورِ کلام خود اپنے آخر کو بتا دیا کرتا ہے جیسے کبھی کوئی شاعر نفیس مضمون پڑھے وہ مضمون خود قافیہ بتا دیتا ہے اور سننے والے شاعر سے پہلے قافیہ پڑھ دیتے ہیں ، ان میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو ہرگز ویسا شعر کہنے پر قادر نہیں تو قافیہ بتانا ان کی قابلیّت نہیں کلام کی قوت ہے اور یہاں تو نورِ وحی اور نورِ نبی سے سینہ میں روشنی آتی تھی چنانچہ مجلس شریف سے جُدا ہونے اور مرتد ہو جانے کے بعد پھر وہ ایک جملہ بھی ایسا بنانے پر قادر نہ ہوا جو نظمِ قرآنی سے مل سکتا ، آخر کار زمانۂ اقدس ہی میں قبل فتحِ مکّہ پھر اسلام سے مشرف ہوا ۔(ف193)اَرواح قبض کرنے کے لئے جھڑکتے جاتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں ۔(ف194)نبوّت اور وحی کے جھوٹے دعوے کر کے اور اللہ کے لئے شریک اور بی بی بچے بتا کر ۔
اور بیشک تم ہمارے پاس اکیلے آئے جیسا ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا (ف۱۹۵) اور پیٹھ پیچھے چھوڑ آئے جو مال و متاع ہم نے تمہیں دیا تھا اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے ان سفارشیوں کو نہیں دیکھتے جن کا تم اپنے میں ساجھا بتاتے تھے (ف۱۹٦) بیشک تمہارے آپس کی ڈور کٹ گئی (ف۱۹۷) اور تم سے گئے جو دعوے کرتے تھے (ف۱۹۸)
(ف195)نہ تمہارے ساتھ مال ہے نہ جاہ ، نہ اولاد جن کی مَحبت میں تم عمر بھر گرفتار رہے ، نہ وہ بُت جنہیں پُوجا کئے ، آج ان میں سے کوئی تمہارے کام نہ آیا ، یہ کُفّار سے روزِ قیامت فرمایا جاو ے گا ۔(ف196)کہ وہ عبادت کے حقدار ہونے میں اللہ کے شریک ہیں ۔ (معاذ اللّٰہ)(ف197)اور علاقے ٹوٹ گئے ، جماعت منتشر ہو گئی ۔(ف198)تمہارے وہ تمام جُھوٹے دعوے جو تم دنیا میں کیا کرتے تھے باطل ہو گئے ۔
بیشک اللہ دانے اور گٹھلی کو چیر نے والا ہے (ف۱۹۹) زندہ کو مردہ سے نکالنے (ف۲۰۰) اور مردہ کو زندہ سے نکالنے والا (ف۲۰۱) یہ ہے اللہ تم کہاں اوندھے جاتے ہو (ف۲۰۲)
(ف199)توحید و نبوّت کے بیان کے بعد اللہ تعالٰی نے اپنے کمالِ قدرت و علم و حکمت کے دلائل ذکر فرمائے کیونکہ مقصودِ اعظم اللہ سبحانہ اور اس کے تمام صفات و افعال کی معرفت ہے اور یہ جاننا کہ وہی تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا ہے اور جو ایسا ہو وہی مستحقِ عبادت ہو سکتا ہے ، نہ کہ وہ بُت جنہیں مشرکین پُوجتے ہیں ۔ خشک دانہ اور گٹھلی کو چیر کر ان سے سبزہ اور درخت پیدا کرنا اور ایسی سنگلاخ زمینوں میں ان کے نرم ریشوں کو رواں کرنا جہاں آہنی میخ بھی کام نہ کر سکے اس کی قدرت کے کیسے عجائبات ہیں ۔(ف200)جاندار سبزہ کو بے جان دانے اور گٹھلی سے اور انسان و حیوان کو نُطفہ سے اور پرند کو انڈے سے ۔(ف201)جاندار درخت سے بے جان گُٹھلی اور دانہ کو اور انسان و حیوان سے نُطفہ کو اور پرندے سے انڈے کو یہ اس کے عجائبِ قدرت و حکمت ہیں ۔(ف202)اور ایسے براہین قائم ہونے کے بعد کیوں ایمان نہیں لا تے اور موت کے بعد اٹھنے کا یقین نہیں کرتے ، جو بے جان نُطفہ سے جاندار حیوان پیدا کرتا ہے اس کی قدرت سے مُردہ کو زندہ کرنا کیا بعید ہے ۔
تاریکی چاک کرکے صبح نکالنے والا اور اس نے رات کو چین بنایا (ف۲۰۳) اور سورج اور چاند کو حساب (ف۲۰٤) یہ سادھا (سدھایا ہوا) ہے زبردست جاننے والے کا،
(ف203)کہ خَلق اس میں چین پا تی ہے اور دن کی تَکان و ماندگی کو استراحت سے دور کرتی ہے اور شب بیدار زاہد تنہائی میں اپنے ربّ کی عبادت سے چین پا تے ہیں ۔(ف204)کہ ان کے دورے اور سیر سے عبادات و معاملات کے اوقات معلوم ہوں ۔
اور وہی ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا (ف۲۰۵) پھر کہیں تمہیں ٹھہرنا ہے (ف۲۰٦) اور کہیں امانت رہنا (ف۲۰۷) بیشک ہم نے مفصل آیتیں بیان کردیں سمجھ والوں کے لیے،
(ف205)یعنی حضرت آدم سے ۔(ف206)ماں کے رِحم میں یا زمین کے اوپر ۔(ف207)باپ کی پُشت میں یا قبر کے اندر ۔
اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا، تو ہم نے اس سے ہر اُگنے والی چیز نکالی (ف۲۰۸) تو ہم نے اس سے نکالی سبزی جس میں سے دانے نکالتے ہیں ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے اور کھجور کے گابھے سے پاس پاس گچھے اور انگور کے باغ اور زیتون اور انار کسی بات میں ملتے اور کسی بات میں الگ، اس کا پھل دیکھو جب پھلے اور اس کا پکنا بیشک اس میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے ،
(ف208)پانی ایک اور اس سے جو چیزیں اُگائیں وہ قِسم قِسم اور رنگارنگ ۔
اور (ف۲۰۹) اللہ کا شریک ٹھہرایا جنوں کو (ف۲۱۰) حالانکہ اسی نے ان کو بنایا اور اس کے لیے بیٹے اور بیٹیاں گڑھ لیں جہالت سے، پاکی اور برتری ہے اس کو ان کی باتوں سے،
(ف209)باوجودیکہ ان دلائلِ قدرت و عجائبِ حکمت اور اس انعام و اکرام اور ان نعمتوں کے پیدا کرنے اور عطا فرمانے کا اِقتضاء تھا کہ اس کریم کارساز پر ایمان لاتے بجائے اس کے بُت پرستوں نے یہ ستم کیا (جو آیت میں آگے مذکور ہے)کہ ۔(ف210)کہ ان کی اطاعت کر کے بُت پرست ہو گئے ۔
بےکسی نمو نہ کے آسمانوں اور زمین کا بنانے والا، اسکے بچہ کہاں سے ہو حالانکہ اس کی عورت نہیں (ف۲۱۱) اور اس نے ہر چیز پیدا کی (ف۲۱۲) اور وہ سب کچھ جانتا ہے،
(ف211)اور بے عورت اولاد نہیں ہوتی اور زوجہ اس کی شان کے لائق نہیں کیونکہ کوئی شے اس کی مثل نہیں ۔(ف212)تو جو ہے وہ اس کی مخلوق ہے اور مخلوق اولاد نہیں ہو سکتی تو کسی مخلوق کو اولاد بتانا باطل ہے ۔
آنکھیں اسے احاطہ نہیں کرتیں (ف۲۱۵) اور سب آنکھیں اس کے احاطہ میں ہیں اور وہی ہے پورا باطن پورا خبردار،
(ف215)مسائل : اِدراک کے معنٰی ہیں مَرئی کے جوانِب و حدود پر واقف ہونا اسی کو اِحاطہ کہتے ہیں ۔ ادراک کی یہی تفسیر حضرت سعید ابنِ مسیّب اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے منقول ہے اور جمہور مفسِّرین ادراک کی تفسیر احاطہ سے فرماتے ہیں اور احاطہ اسی چیز کا ہو سکتا ہے جس کے حدود و جہات ہوں ، اللہ تعالٰی کے لئے حد و جِہت محال ہے تو اس کا ادراک و احاطہ بھی ناممکن ، یہی مذہب ہے اہلِ سُنّت کا ، خوارج و معتزِلہ وغیرہ گمراہ فرقے ادراک اور رویت میں فرق نہیں کرتے اس لئے وہ اس گمراہی میں مبتلا ہو گئے کہ انہوں نے دیدارِ الٰہی کو محالِ عقلی قرار دے دیا باوجودیکہ نفیٔ رویت نفیٔ علم کو مستلزم ہے ورنہ جیسا کہ باری تعالٰی بخلاف تمام موجودات کے بلا کیفیت و جِہت جانا جا سکتا ہے ایسے ہی دیکھا بھی جا سکتا ہے کیونکہ اگر دوسری موجودات بغیر کیفیت و جِہت کے دیکھی نہیں جا سکتی تو جانی بھی نہیں جا سکتی ، راز اس کا یہ ہے کہ رویت و دید کے معنٰی یہ ہیں کہ بصر کسی شئے کو جیسی کہ وہ ہو ویسا جانے تو جو شئے جِہت والی ہو گی اس کی رویت و دید جِہت میں ہو گی اور جس کے لئے جِہت نہ ہو گی اس کی دید بے جہت ہو گی ۔دیدارِ الٰہی : آخرت میں اللہ تعالٰی کا دیدار مومنین کے لئے اہلِ سُنّت کا عقیدہ اور قرآن و حدیث و اِجماعِ صحابہ و سلفِ اُمّت کے دلائلِ کثیرہ سے ثابت ہے ۔ قرآنِ کریم میں فرمایا وُجُوہ ُ یَّوْمَئِذٍ نَاضِرَۃٌ اِلٰی رَبِّھَا نَاظِرَۃٌ اس سے ثابت ہے کہ مومنین کو روزِ قیامت ان کے ربّ کا دیدار میسّر ہو گا ، اس کے علاوہ اور بہت آیات اور صحاح کی کثیر احادیث سے ثابت ہے ۔ اگر دیدارِ الٰہی ناممکن ہوتا تو حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام دیدار کا سوال نہ فرماتے ۔ رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرُ اِلَیْکَ ارشاد نہ کرتے اور ان کے جواب میں اِنِ اسۡتقَرَّ مَکَانَہ فَسَوْفَ تَرَانِیْ نہ فرمایا جاتا ۔ ان دلائل سے ثابت ہو گیا کہ آخرت میں مؤمنین کے لئے دیدارِ الٰہی شرع میں ثابت ہے اور اس کا انکار گمراہی ۔
اس پر چلو جو تمہیں تمہارے رب کی طرف سے وحی ہوتی ہے (ف۲۱۷) اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور مشرکوں سے منہ پھیر لو
(ف217)اور کُفّار کی بے ہودہ گوئیوں کی طرف التفات نہ کرو ، اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تسکینِ خاطر ہے کہ آپ کُفّار کی یاوَہ گوئیوں سے رنجیدہ نہ ہوں ، یہ ان کی بدنصیبی ہے کہ وہ ایسی واضح برہانوں سے فائدہ نہ اٹھائیں ۔
اور انہیں گالی نہ دو وہ جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں کہ وہ اللہ کی شان میں بے ادبی کریں گے زیادتی اور جہالت سے (ف۲۱۸) یونہی ہم نے ہر امت کی نگاہ میں اس کے عمل بھلے کردیے ہیں پھر انہیں اپنے رب کی طرف پھرنا ہے اور وہ انہیں بتادے گا جو کرتے تھے،
(ف218)قتادہ کا قول ہے کہ مسلمان کُفّار کے بُتوں کی بُرائی کیا کرتے تھے تاکہ کُفّار کو نصیحت ہو اور وہ بُت پرستی کے عیب سے باخبر ہوں مگر ان ناخدا شَناس جاہلوں نے بجائے پند پذیر ہونے کے شانِ الٰہی میں بے ادبی کے ساتھ زبان کھولنی شروع کی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اگرچہ بُتوں کو برا کہنا اور ان کی حقیقت کا اظہار طاعت و ثواب ہے لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کُفّار کی بدگوئیوں کو روکنے کے لئے اس کو منع فرمایا گیا ۔ ابنِ اَنباری کا قول ہے کہ یہ حکم اول زمانہ میں تھا جب اللہ تعالٰی نے اسلام کو قوت عطا فرمائی منسوخ ہو گیا ۔
اور انہوں نے اللہ کی قسم کھائی اپنے حلف میں پوری کوشش سے کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئی تو ضرور اس پر ایمان لائیں گے، تم فرما دو کہ نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں (ف۲۱۹) اور تمہیں (ف۲۲۰) کیا خبر کہ جب وہ آئیں تو یہ ایمان نہ لائینگے
(ف219)وہ جب چاہتا ہے حسبِ اقتضائے حکمت نازل فرماتا ہے ۔(ف220)اے مسلمانو ۔
اور ہم پھیردیتے ہیں ان کے دلوں اور آنکھوں کو (ف۲۲۱) جیسا وہ پہلی بار ایمان نہ لائے تھے (ف۲۲۲) اور انہیں چھوڑ دیتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بھٹکا کریں،
(ف221)حق کے ماننے اور دیکھنے سے ۔(ف222)ان آیات پر جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر ظاہر ہوئی تھیں مثل شقُ القمر وغیرہ معجزاتِ باہِرات کے ۔
اور اگر ہم ان کی طرف فرشتے اتارتے (ف۲۲۳) اور ان سے مردے باتیں کرتے اور ہم ہر چیز ان کے سامنے اٹھا لاتے جب بھی وہ ایمان لانے والے نہ تھے (ف۲۲٤) مگر یہ کہ خدا چاہتا (ف۲۲۵) و لیکن ان میں بہت نرے جاہل ہیں (ف۲۲٦)
(ف223)شا نِ نُزول : ابنِ جریر کا قول ہے کہ یہ آیت اِستِہزاء کرنے والے قریش کی شان میں نازل ہوئی جنہوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ اے محمّد (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ ہمارے مُردوں کو اُٹھا لایئے ہم ان سے دریافت کر لیں کہ آپ جو فرماتے ہیں یہ حق ہے یا نہیں اور ہمیں فرشتے دکھائیے جو آپ کے رسول ہونے کی گواہی دیں یا اللہ اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لائیے ۔ اس کے جواب میں یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(ف224)وہ اہلِ شَقاوت ہیں ۔(ف225)اس کی مشیّت جو ہوتی ہے وہی ہوتا ہے ، جو اس کے علم میں اہلِ سعادت ہیں وہ ایمان سے مشّرف ہوتے ہیں ۔(ف226)نہیں جانتے کہ یہ لوگ وہ نشانیاں بلکہ اس سے زیادہ دیکھ کر بھی ایمان لانے والے نہیں ۔ (جمل و مدراک)
اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن کیے ہیں آدمیوں اور جنوں میں کے شیطان کہ ان میں ایک دوسرے پر خفیہ ڈالتا ہے بناوٹ کی بات (ف۲۲۷) دھوکے کو، اور تمہارا رب چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے (ف۲۲۸) تو انہیں ان کی بناوٹوں پر چھوڑ دو (ف۲۲۹)
(ف227)یعنی وسوسے اور فریب کی باتیں اِغوا کرنے کے لئے ۔(ف228)لیکن اللہ تعالٰی اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے امتحان میں ڈالتا ہے تاکہ اس کے محنت پر صابر رہنے سے ظاہر ہو جائے کہ یہ جَزیلِ ثواب پانے والا ہے ۔(ف229)اللہ انہیں بدلہ دے گا ، رسوا کرے گا اور آپ کی مدد فرمائے گا ۔
تو کیا اللہ کے سوا میں کسی اور کا فیصلہ چاہوں اور وہی ہے جس نے تمہاری طرف مفصل کتاب اتاری (ف۲۳۱) اور جنکو ہم نے کتاب دی وہ جانتے ہیں کہ یہ تیرے رب کی طرف سے سچ اترا ہے (ف۲۳۲) تو اے سننے والے تو ہرگز شک والوں میں نہ ہو،
(ف231)یعنی قرآن شریف جس میں امر و نہی ، وعدہ و وعید اور حق و باطل کا فیصلہ اور میرے صدق کی شہادت اور تمہارے اِفتراء کا بیان ہے ۔ شا نِ نُزول : سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کہا کرتے تھے کہ آپ ہمارے اور اپنے درمیان ایک حَکَمْ مقرر کیجئے ان کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف232)کیونکہ ان کے پاس اس کی دلیلیں ہیں ۔
اور پوری ہے تیرے رب کی بات سچ اور انصاف میں اس کی باتوں کا کوئی بدلنے والا نہیں (ف۲۳۳) اور وہی ہے سنتا جانتا،
(ف233)نہ کوئی اس کی قَضا کا تبدیل کرنے والا ، نہ حُکم کا رد کرنے والا ، نہ اس کا وعدہ خلاف ہو سکے ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ کلام جب تامّ ہے تو وہ قابلِ نقص و تغییر نہیں اور وہ قیامت تک تحریف و تغییر سے محفوظ ہے ۔ بعض مفسِّرین فرماتے ہیں معنٰی یہ ہیں کہ کسی کی قدرت نہیں کہ قرآنِ پاک کی تحریف کر سکے کیونکہ اللہ تعالٰی اس کی حفاظت کا ضامن ہے ۔ (تفسیر ابوالسعود)
اور اے سننے والے زمین میں اکثر وہ ہیں کہ تو ان کے کہے پر چلے تو تجھے اللہ کی راہ سے بہکا دیں، وہ صرف گمان کے پیچھے ہیں (ف۲۳٤) اور نری اٹکلیں (فضول اندازے) دوڑاتے ہیں (ف۲۳۵)
(ف234)اپنے جاہل اور گمراہ باپ دادا کی تقلید کرتے ہیں ، بصیرت و حق شَناسی سے محروم ہیں ۔(ف235)کہ یہ حلال ہے یہ حرام اور اٹکل سے کوئی چیز حلال حرام نہیں ہوتی جسے اللہ اور اس کے رسول نے حلال کیا وہ حلال اور جسے حرام کیا وہ حرام ۔
تو کھاؤ اسمیں سے جس پر اللہ کا نام لیا گیا (ف۲۳٦) اگر تم اسکی آیتیں مانتے ہو،
(ف236)یعنی جو اللہ تعالٰی کے نام پر ذَبح کیا گیا ، نہ وہ جو اپنی موت مَرا یا بُتوں کے نام پر ذَبح کیا گیا وہ حرام ہے، حِلّت اللہ کے نام پر ذَبح ہونے سے متعلق ہے ۔ یہ مشرکین کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ جو انہوں نے مسلمانوں پر کیا تھا کہ تم اپنا قتل کیا ہوا تو کھاتے ہو اور اللہ کا مارا ہوا یعنی جو اپنی موت مرے اس کو حرام جانتے ہو ۔
اور تمہیں کیا ہوا کہ اس میں سے نہ کھاؤ جس (ف۲۳۷) پر اللہ کا نام لیا گیا وہ تم سے مفصل بیان کرچکا جو کچھ تم پر حرام ہوا (ف۲۳۸) مگر جب تمہیں اس سے مجبوری ہو (ف۲۳۹) اور بیشک بہتیرے اپنی خواہشوں سے گمراہ کرتے ہیں بےجانے بیشک تیرا رب حد سے بڑھنے والوں کو خوب جانتا ہے،
(ف237)ذبیحہ ۔(ف238)مسئلہ : اس سے ثابت ہوا کہ حرام چیزوں کا مفصّل ذکر ہوتا ہے اور ثبوتِ حُرمت کے لئے حکمِ حُرمت درکار ہے اور جس چیز پر شریعت میں حُرمت کا حکم نہ ہو وہ مباح ہے ۔(ف239)تو عندَ الاِضطرار قدرِ ضرورت روا ہے ۔
اور اسے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا (ف۲٤۰) اور وہ بیشک حکم عدولی ہے، اور بیشک شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑیں اور اگر تم ان کا کہنا مانو (ف۲٤۱) تو اس وقت تم مشرک ہو (ف۲٤۲)
(ف240)وقتِ ذَبح نہ تحقیقًا نہ تقدیراً ، خواہ اس طرح کہ وہ جانور اپنی موت مر گیا ہو یا اس طرح کہ اس کو بغیر تسمیہ کے یا غیرِ خدا کے نام پر ذبح کیا گیا ہو ، یہ سب حرام ہیں لیکن جہاں مسلمان ذَبح کرنے والا وقتِ ذَبح بسم اللّٰہِ اللّٰہُ اکبرکہنا بھول گیا وہ ذبح جائز ہے ، وہاں ذکر تقدیری ہے جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہوا ۔(ف241)اور اللہ کے حرام کئے ہوئے کو حلال جانو ۔(ف242)کیونکہ دین میں حکمِ الٰہی کو چھوڑنا اور دوسرے کے حکم کو ماننا ، اللہ کے سوا اورکو حاکم قرار دینا شرک ہے ۔
اور کیا وہ کہ مردہ تھا تو ہم نے اسے زندہ کیا (ف۲٤۳) اور اس کے لیے ایک نور کردیا (ف۲٤٤) جس سے لوگوں میں چلتا ہے (ف۲٤۵) وہ اس جیسا ہوجائے گا جو اندھیریوں میں ہے (ف۲٤٦) ان سے نکلنے والا نہیں، یونہی کافروں کی آنکھ میں ان کے اعمال بھلے کردیے گئے ہیں،
(ف243)مُردہ سے کافِر اور زندہ سے مومن مراد ہے کیونکہ کُفر قلوب کے لئے موت ہے اور ایمان حیات ۔(ف244)نور سے ایمان مراد ہے جس کی بدولت آدمی کُفر کی تاریکیوں سے نجات پاتا ہے ۔ قتادہ کا قول ہے کہ نور سے کتاب اللہ یعنی قرآن مراد ہے ۔(ف245)اور بینائی حاصل کر کے راہِ حق کا امتیاز کر لیتا ہے ۔(ف246)کُفر و جَہل و تِیرہ باطنی کی ۔ یہ ایک مثال ہے جس میں مومن و کافِر کا حال بیان فرمایا گیا ہے کہ ہدایت پانے والا مومن اس مُردہ کی طرح ہے جس نے زندگانی پائی اور اس کو نور ملا جس سے وہ مقصود کی راہ پاتا ہے اور کافِر اس کی مثل ہے جو طرح طرح کی اندھیریوں میں گرفتار ہوا اور ان سے نکل نہ سکے ، ہمیشہ حیرت میں مُبتَلا رہے ۔ یہ دونوں مثالیں ہر مومن و کافِر کے لئےعام ہیں اگر چہ بقول حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما ان کا شا نِ نُزول یہ ہے کہ ابوجہل نے ایک روز سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی نَجَس چیز پھینکی تھی اس روز حضرت امیرِ حمزہ رضی اللہ عنہ شکار کو گئے ہوئے تھے ، جس وقت وہ ہاتھ میں کمان لئے ہوئے شکار سے واپس آئے تو انہیں اس واقعہ کی خبر دی گئی گو ابھی تک وہ ایمان سے مشرف نہ ہوئے تھے مگر یہ خبر سُن کر ان کو نہایت طیش آیا اور وہ ابوجہل پر چڑھ گئے اور اس کو کمان سے مارنے لگے اور ابوجہل عاجزی و خوشامد کرنے لگا اور کہنے لگا اے ابویعلٰی (حضرت امیر حمزہ کی کُنیت ہے) کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ محمّد (مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم ) کیسا دین لائے اور انہوں نے ہمارے معبودوں کو بُرا کہا اور ہمارے باپ دادا کی مخالفت کی اور ہمیں بدعقل بتایا ، اس پر حضرت امیرِ حمزہ نے فرمایا تمہارے برابر بدعقل کون ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر پتھروں کو پُوجتے ہو ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمّد مصطفٰے (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں ، اسی وقت حضرت امیرِ حمزہ اسلام لے آئے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی تو حضرت امیرِ حمزہ کا حال اس کے مشابہ ہے جو مُردہ تھا ، ایمان نہ رکھتا تھا ، اللہ تعالٰی نے اس کو زندہ کیا اور نورِ باطن عطا فرمایا اور ابوجہل کی شان یہی ہے کہ وہ کُفر و جَہل کی تاریکیوں میں گرفتار ہے اور ۔
اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آئے تو کہتے ہی ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک ہمیں بھی ویسا ہی نہ ملے جیسا اللہ کے رسولوں کو ملا (ف۲٤۹) اللہ خوب جانتا ہے جہاں اپنی رسالت رکھے (ف۲۵۰) عنقریب مجرموں کو اللہ کے یہاں ذلت پہنچے گی اور سخت عذاب بدلہ ان کے مکر کا،
(ف249)یعنی جب تک ہمارے پاس وحی نہ آئے اور ہمیں نبی نہ بنایا جائے ۔شانِ نُزول : ولید بن مغیرہ نے کہا تھا کہ اگر نبوّت حق ہو تو اس کا زیادہ مستحق میں ہوں کیونکہ میری عمرسیدِ عالَم (صلی اللہ علیہ وسلم) سے زیادہ ہے اورمال بھی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف250)یعنی اللہ جانتا ہے کہ نبوّت کی اہلیت اور اس کا استحقاق کس کو ہے کس کو نہیں ، عمر و مال سے کوئی مستحقِ نبوّت نہیں ہو سکتا اور یہ نبوّت کے طلب گار تو حسد ، مکر ، بدعہدی وغیرہ قبائح افعال اور رذائل خِصال میں مبتلا ہیں ، یہ کہاں اور نبوّت کا منصبِ عالی کہاں ۔
اور جسے اللہ راہ دکھانا چاہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے (ف۲۵۱) اور جسے گمراہ کرنا چاہے اس کا سینہ تنگ خوب رکا ہوا کر دیتا ہے (ف۲۵۲) گویا کسی کی زبردستی سے آسمان پر چڑھ رہا ہے، اللہ یونہی عذاب ڈالتا ہے ایمان نہ لانے والوں کو،
(ف251)اس کو ایمان کی توفیق دیتا ہے اور اس کے دل میں روشنی پیدا کرتا ہے ۔(ف252)کہ اس میں علم اور دلائلِ توحید و ایمان کی گنجائش نہ ہو تو اس کی ایسی حالت ہوتی ہے کہ جب اس کو ایمان کی دعوت دی جاتی ہے اور اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے تو وہ اس پر نہایت شاق ہوتا ہے اور اس کو بہت دشوار معلوم ہوتا ہے ۔
اور جس دن ان سب کو اٹھانے گا اور فرمائے گا، اے جن کے گروہ! تم نے بہت آدمی گھیرلیے (ف۲۵٤) اور ان کے دوست آدمی عرض کریں گے اے ہمارے رب! ہم میں ایک نے دوسرے سے فائدہ اٹھایا (ف۲۵۵) اور ہم اپنی اس میعاد کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر فرمائی تھی (ف۲۵٦) فرمائے گا آگ تمہارا ٹھکانا ہے ہمیشہ اس میں رہو مگر جسے خدا چاہے (ف۲۵۷) اے محبوب! بیشک تمہارا رب حکمت والا علم والا ہے،
(ف254)ان کو بہکایا اور اغوا کیا ۔(ف255)اس طرح کہ انسانوں نے شہوات و مَعاصی میں ان سے مدد پائی اور جِنّوں نے انسانوں کو اپنا مطیع بنایا ، آخر کار اس کا نتیجہ پایا ۔(ف256)وقت گزر گیا ، قیامت کا دن آ گیا ، حسرت و ندامت باقی رہ گئی ۔(ف257)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ اِستثناء اس قوم کی طرف راجع ہے جس کی نسبت علمِ الٰہی میں ہے کہ وہ اسلام لائیں گے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کریں گے اور جہنّم سے نکالے جائیں گے ۔
اور یونہی ہم ظالموں میں ایک کو دوسرے پر مسلط کرتے ہیں بدلہ ان کے کیے کا (ف۲۵۸)
(ف258)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اللہ جب کسی قوم کی بھلائی چاہتا ہے تو اچھوں کو ان پر مسلّط کرتا ہے ، بُرائی چاہتا ہے تو بُروں کو ۔ اس سے یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ جو قوم ظالم ہوتی ہے اس پر ظالم بادشاہ مسلّط کیا جاتا ہے تو جو اس ظالم کے پنجۂ ظلم سے رہائی چاہیں انہیں چاہئے کہ ظلم ترک کریں ۔
اے جنوں اور آدمیوں کے گروہ! کیا تمہارے پاس تم میں کے رسول نہ آئے تھے تم پر میری آیتیں پڑھتے اور تمہیں یہ دن (ف۲۵۹) دیکھنے سے ڈراتے (ف۲٦۰) کہیں گے ہم نے اپنی جانوں پر گواہی دی (ف۲٦۱) اور انہیں دنیا کی زندگی نے فریب دیا اور خود اپنی جانوں پر گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے (ف۲٦۲)
(ف259)یعنی روزِ قیامت ۔(ف260)اور عذابِ الٰہی کا خوف دلاتے ۔(ف261)کافِر جن اور انسان اقرار کریں گے رسول ان کے پاس آئے اور انہوں نے زبانی پیام پہنچائے اور اس دن کے پیش آنے والے حالات کا خوف دلایا لیکن کافِروں نے ان کی تکذیب کی اور ان پر ایمان نہ لائے ۔ کفّار کا یہ اقرار اس وقت ہو گا جب کہ ان کے اعضاء و جوارِح ان کے شرک و کُفر کی شہادت دیں گے ۔(ف262)قیامت کا دن بہت طویل ہو گا اور اس میں حالات بہت مختلف پیش آئیں گے ۔ جب کُفّار مومنین کے انعام و اکرام اور عزّت و منزلت کو دیکھیں گے تو اپنے کُفر و شرک سے منکر ہو جائیں گے اور اس خیال سے کہ شاید مُکر جانے سے کچھ کام بنے یہ کہیں گے وَاللّٰہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ یعنی خدا کی قَسم ہم مشرک نہ تھے ، اس وقت ان کے مونہوں پر مُہریں لگا دی جائیں گی اور ان کے اعضاء ان کے کُفر و شرک کی گواہی دیں گے ۔ اسی کی نسبت اس آیت میں ارشاد ہوا وَشَھِدُوْا عَلٰی اَنْفُسِھِمْ اَنَّھُمْ کَانُوْ کَافِرِیْنَ ۔
یہ (ف۲٦۳) اس لیے کہ تیرا رب بستیوں کو (ف۲٦٤) ظلم سے تباہ نہیں کرتا کہ ان کے لوگ بےخبر ہوں (ف۲٦۵)
(ف263)یعنی رسولوں کی بعثت ۔(ف264)ان کی معصیت اور ۔(ف265)بلکہ رسول بھیجے جاتے ہیں وہ انہیں ہدایتیں فرماتے ہیں ، حُجّتیں قائم کرتے ہیں ، اس پر بھی وہ سرکشی کرتے ہیں تب ہلاک کئے جاتے ہیں ۔
اور اے محبوب! تمہارا رب بےپروا ہے رحمت والا، اے لوگو! وہ چاہے تو تمہیں لے جائے (ف۲٦۷) اور جسے چاہے تمہاری جگہ لادے جیسے تمہیں اوروں کی اولاد سے پیدا کیا (ف۲٦۸)
(ف267)یعنی ہلاک کر دے ۔(ف268)اور ان کا جانشین بنایا ۔
اور (ف۲۷۰) اللہ نے جو کھیتی اور مویشی پیدا کیے ان میں اسے ایک حصہ دار ٹھہرایا تو بولے یہ اللہ کا ہے ان کے خیال میں اور یہ ہمارے شریکوں کا (ف۲۷۱) تو وہ جو ان کے شریکوں کا ہے وہ تو خدا کو نہیں پہنچتا، اور جو خدا کا ہے وہ ان کے شریکوں کو پہنچتا ہے، کیا ہی برا حکم لگاتے ہیں (ف۲۷۲)
(ف270)زمانۂ جاہلیت میں مشرکین کا طریقہ تھا کہ وہ اپنی کھیتیوں اور درختوں کے پھلوں اور چوپایوں اور تمام مالوں میں سے ایک حصّہ تو اللہ کا مقرر کرتے تھے اور ایک حصہ بُتوں کا ، تو جو حصّہ اللہ کے لئے مقرر کرتے تھے اس کو تو مہمانوں اور مسکینوں پر صَرف کر دیتے تھے اور جو بُتوں کے لئے مقرر کرتے تھے وہ خاص ان پر اور ان کے خادموں پر صرف کرتے اور جو حصّہ اللہ کے لئے مقرر کرتے اگر اس میں سے کچھ بُتوں والے حصہ میں مل جاتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر بُتوں والے حصّہ میں سے کچھ اس میں سے ملتا تو اس کو نکال کر پھر بُتوں ہی کے حصّہ میں شامل کر دیتے ۔ اس آیت میں ان کی اس جہالت اور بدعقلی کا ذکر فرما کر ان پر تنبیہ فرمائی گئی ۔(ف271)یعنی بُتوں کا ۔(ف272)اور انتہا درجہ کے جَہل میں گرفتار ہیں ، خالِق مُنعِم کے عزت و جلال کی انہیں ذرا بھی معرفت نہیں اور فسادِ عقل اس حد تک پہنچ گیا کہ انہوں نے بے جان بُتوں پتّھر کی تصویروں کو کارسازِ عالَم کے برابر کر دیا اور جیسا اس کے لئے حصّہ مقرر کیا ایسا ہی بُتوں کے لئے بھی کیا ، بے شک یہ بہت ہی بُرا فعل اور انتہا کا جہل اور عظیم خَطا و ضلال ہے ، اس کے بعد ان کے جہل اور ضلالت کی ایک اور حالت ذکر فرمائی جاتی ہے ۔
اور یوں ہی بہت مشرکوں کی نگاہ میں ان کے شریکوں نے اولاد کا قتل بھلا کر دکھایا ہے (ف۲۷۳) کہ انہیں ہلاک کریں اور ان کا دین ان پر مشتبہ کردیں (ف۲۷٤) اور اللہ چاہتا تو ایسا نہ کرتے تو تم انہیں چھوڑ دو وہ ہیں اور ان کے افتراء،
(ف273)یہاں شریکوں سے مراد وہ شیاطین ہیں جن کی اطاعت کے شوق میں مشرکین اللہ تعالٰی کی نافرمانی اور اس کی معصیت گوارا کرتے تھے اور ایسے قبائح افعال اور جاہلانہ افعال کے مرتکب ہوتے تھے جن کو عقلِ صحیح کبھی گوارا نہ کر سکے اور جن کی قباحت میں ادنٰی سمجھ کے آدمی کو بھی تردُّد نہ ہو ، بُت پرستی کی شامت سے وہ ایسے فسادِ عقل میں مبتلا ہوئے کہ حیوانوں سے بدتر ہو گئے اور اولاد جس کے ساتھ ہر جاندار کو فطرۃً مَحبت ہوتی ہے شیاطین کے اِتّباع میں اس کا بے گناہ خون کرنا انہوں نے گوارا کیا اور اس کو اچھا سمجھنے لگے ۔(ف274)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ لوگ پہلے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے دین پر تھے شیاطین نے ان کو اغوا کر کے ان گمراہیوں میں ڈالا تاکہ انہیں دینِ اسمٰعیلی سے منحرف کرے ۔
اور بولے (ف۲۷۵) یہ مویشی اور کھیتی روکی ہوئی (ف۲۷٦) ہے اسے وہی کھائے جسے ہم چاہیں اپنے جھوٹے خیال سے (ف۲۷۷) اور کچھ مویشی ہیں جن پر چڑھنا حرام ٹھہرایا (ف۲۷۸) اور کچھ مویشی کے ذبح پر اللہ کا نام نہیں لیتے (ف۲۷۹) یہ سب اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے ، عنقریب وہ انہیں بدلے دے گا ان کے افتراؤں کا،
(ف275)مشرکین اپنے بعض مویشیوں اور کھیتیوں کو اپنے باطل معبودوں کے ساتھ نامزد کر کے کہ ۔(ف276)ممنوع الاِنتِفاع ۔(ف277)یعنی بُتوں کی خدمت کرنے والے وغیرہ ۔(ف278)جن کو بحیرہ ، سائبہ ، حامی کہتے ہیں ۔(ف279)بلکہ ان بُتوں کے نام پر ذَبح کرتے ہیں اور ان تمام افعال کی نسبت یہ خیال کرتے ہیں کہ انہیں اللہ نے اس کا حکم دیا ہے ۔
اور بولے جو ان مویشیوں کے پیٹ میں ہے وہ نرا (خالص) ہمارے مردوں کا ہے (ف۲۸۰) اور ہماری عورتوں پر حرام ہے، اور مرا ہوا نکلے تو وہ سب (ف۲۸۱) اس میں شریک ہیں، قریب ہے کہ اللہ انہیں ان کی ان باتوں کا بدلہ دے گا، بیشک وہ حکمت و علم والا ہے،
(ف280)صرف انہیں کے لئے حلال ہے اگر زندہ پیدا ہو ۔(ف281)مرد و عورت ۔
بیشک تباہ ہوئے وہ جو اپنی اولاد کو قتل کرتے ہیں احمقانہ جہالت سے (ف۲۸۲) اور حرام ٹھہراتے ہیں وہ جو اللہ نے انہیں روزی دی (ف۲۸۳) اللہ پر جھوٹ باندھنے کو (ف۲۸٤) بیشک وہ بہکے اور راہ نہ پائی (ف۲۸۵)
(ف282)شا نِ نُزول : یہ آیت زمانۂ جاہلیت کے ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جو اپنی لڑکیوں کو نہایت سنگ دلی اور بے رحمی کے ساتھ زندہ درگور کر دیا کرتے تھے ، ربیعہ و مُضَر وغیرہ قبائل میں اس کا بہت رواج تھا اور جاہلیت کے بعض لوگ لڑکوں کو بھی قتل کرتے تھے اور بے رحمی کا یہ عالَم تھا کہ کتّوں کی پرورش کرتے اور اولاد کو قتل کرتے تھے ، ان کی نسبت یہ ارشاد ہوا کہ تباہ ہوئے ۔ اس میں شک نہیں کہ اولاد اللہ تعالٰی کی نعمت ہے اور اس کی ہلاکت سے اپنی تعداد کم ہوتی ہے ، اپنی نسل مٹتی ہے ، یہ دنیا کا خسارہ ہے ، گھر کی تباہی ہے اور آخرت میں اس پر عذابِ عظیم ہے تو یہ عمل دنیا اور آخرت میں تباہی کا باعث ہوا اور اپنی دنیا اور آخرت دونوں کو تباہ کر لینا اور اولاد جیسی عزیز اور پیاری چیز کے ساتھ اس قسم کی سَفّاکی اور بے دردی گوارا کرنا انتہا درجہ کی حَماقت اور جَہالت ہے ۔(ف283)یعنی بحیرے ، سائبہ ، حامی وغیرہ جو مذکور ہو چکے ۔(ف284)کیونکہ وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ ایسے مذموم افعال کا اللہ نے حکم دیا ہے ان کا یہ خیال اللہ پر اِفتراء ہے ۔(ف285)حق و صواب کی ۔
اور وہی ہے جس نے پیدا کیے باغ کچھ زمین پر چھئے (چھائے) ہوئے (ف۲۸٦) اور کچھ بےچھئے (پھیلے) اور کھجور اور کھیتی جس میں رنگ رنگ کے کھانے (ف۲۸۷) اور زیتون اور انار کسی بات میں ملتے (ف۲۸۸) اور کسی میں الگ (ف۲۸۹) کھاؤ اس کا پھل جب پھل لائے اور اس کا حق دو جس دن کٹے (ف۲۹۰) اور بےجا نہ خرچو (ف۲۹۱) بیشک بےجا خرچنے والے اسے پسند نہیں،
(ف286)یعنی ٹٹیوں پر قائم کئے ہوئے مثل انگور وغیرہ کے ۔(ف287)رنگ اور مزے اور مقدار اور خوشبو میں باہَم مختلف ۔(ف288)مثلاً رنگ میں یا پتوں میں ۔(ف289)مثلاً ذائقہ اور تاثیر میں ۔(ف290)معنٰی یہ ہیں کہ یہ چیزیں جب پھلیں کھانا تو اسی وقت سے تمہارے لئے مباح ہے اور اس کی زکوٰۃ یعنی عُشر اس کے کامل ہونے کے بعد واجب ہوتا ہے جب کھیتی کاٹی جائے یا پھل توڑے جائیں ۔مسئلہ : لکڑی ، بانس ، گھانس کے سوا زمین کی باقی پیداوار میں اگر یہ پیداوار بارش سے ہو تو اس میں عُشر واجب ہوتا ہے اور اگر رہٹ وغیرہ سے ہو تو نصف عُشر ۔(ف291)حضرت مُترجِم قُدِّسَ سرُّہ نے اِسراف کا ترجمہ بے جا خرچ کرنا فرمایا ، نہایت ہی نفیس ترجمہ ہے ۔ اگر کُل مال خرچ کر ڈالا اور اپنے عیال کو کچھ نہ دیا اور خود فقیر بن بیٹھا تو سدی کا قول ہے کہ یہ خرچ بے جا ہے اور اگر صدقہ دینے ہی سے ہاتھ روک لیا تو یہ بھی بے جا اور داخلِ اِسراف ہے جیسا کہ سعید بن مُسیّب رضی اللہ عنہ نے فرمایا ۔ سفیان کا قول ہے کہ اللہ کی طاعت کے سوا اور کام میں جو مال خرچ کیا جاوے وہ قلیل بھی ہو تو اِسراف ہے ۔ زُہری کا قول ہے کہ اس کے معنٰی یہ ہیں کہ معصیت میں خرچ نہ کرو ۔ مجاہد نے کہا کہ حق اللہ میں کوتاہی کرنا اسراف ہے اور اگر ابو قُبَیس پہاڑ سونا ہو اور اس تمام کو راہِ خدا میں خرچ کر دو تو اسراف نہ ہو اور ایک درہم معصیت میں خرچ کرو تو اِسراف ۔
اور مویشی میں سے کچھ بوجھ اٹھانے والے اور کچھ زمین پر بچھے (ف۲۹۲) کھاؤ اس میں سے جو اللہ نے تمہیں روزی دی اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو، بیشک وہ تمہارا صریح دشمن ہے،
(ف292)چوپائے دو قسم کے ہوتے ہیں کچھ بڑے جو لادھنے کے کام میں آتے ہیں ، کچھ چھوٹے مثل بکری وغیرہ کے جو اس قابل نہیں ، ان میں سے جو اللہ تعالٰی نے حلال کئے انہیں کھاؤ اور اہلِ جاہلیت کی طرح اللہ کی حلال فرمائی ہوئی چیزوں کو حرام نہ ٹھہراؤ ۔
آٹھ نر و مادہ ایک جوڑا بھیڑ کا اور ایک جوڑا بکری کا، تم فرماؤ کیا اس نے دونوں نر حرام کیے یا دونوں مادہ یا وہ جسے دنوں مادہ پیٹ میں لیے ہیں (ف۲۹۳) کسی علم سے بتاؤ اگر تم سچے ہو
(ف293)یعنی اللہ تعالٰی نے نہ بھیڑ بکری کے نَر حرام کئے نہ ان کی مادائیں حرام کیں ، نہ ان کی اولاد ، ان میں سے تمہارا یہ فعل کہ کبھی نَر حرام ٹھہراؤ کبھی مادہ ، کبھی ان کے بچّے ، یہ سب تمہارا اِختراع ہے اور ہوائے نفس کا اِتّباع ، کوئی حلال چیز کسی کے حرام کرنے سے حرام نہیں ہوتی ۔
اور ایک جوڑا اونٹ کا اور ایک جوڑا گائے کا، تم فرماؤ کیا اس نے دونوں نر حرام کیے یا دونوں مادہ یا وہ جسے دونوں مادہ پیٹ میں لیے ہیں (ف۲۹٤) کیا تم موجود تھے جب اللہ نے تمہیں یہ حکم دیا (ف۲۹۵) تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے کہ لوگوں کو اپنی جہالت سے گمراہ کرے، بیشک اللہ ظالموں کو راہ نہیں دکھاتا،
(ف294)اس آیت میں اہلِ جاہلیت کو توبیخ کی گئی جو اپنی طرف سے حلال چیزوں کو حرام ٹھہرا لیا کرتے تھے جن کا ذکر اوپر کی آیات میں آ چکا ہے ، جب اسلام میں احکام کا بیان ہوا تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جدال کیا اور ان کا خطیب مالک بن عوف جشمی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا کہ یا محمّد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم نے سُنا ہے آپ ان چیزوں کو حرام کرتے ہیں جو ہمارے باپ دادا کرتے چلے آئے ہیں حضور نے فرمایا تم نے بغیر کسی اصل کے چند قِسمیں چوپایوں کی حرام کر لیں اور اللہ تعالٰی نے آٹھ نَر و مادہ اپنے بندوں کے کھانے اور ان کے نفع اٹھانے کے لئے پیدا کئے ، تم نے کہاں سے انہیں حرام کیا ، ان میں حُرمت نَر کی طرف سے آئی یا مادہ کی طرف سے ؟ مالک بن عوف یہ سن کر ساکِت اور متحیّر رہ گیا اور کچھ نہ بول سکا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بولتا کیوں نہیں ، کہنے لگا آپ فرمائیے میں سنوں گا سبحان اللہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کی قوت اور زور نے اہلِ جاہلیت کے خطیب کو ساکت و حیران کر دیا اور وہ بول ہی کیا سکتا تھا ، اگر کہتا کہ نَر کی طرف سے حُرمت آئی تو لازم ہوتا کہ تمام نَر حرام ہوں ، اگر کہتا کہ مادہ کی طرف سے تو ضروری ہوتا کہ ہر ایک مادہ حرام ہو اور اگر کہتا جو پیٹ میں ہے وہ حرام ہے تو پھر سب ہی حرام ہو جاتے کیونکہ جو پیٹ میں رہتا ہے وہ نَر ہوتا ہے یا مادہ ۔ وہ جو تخصیصیں قائم کرتے تھے اور بعض کو حلال اوربعض کو حرام قرار دیتے تھے اس حُجّت نے ان کے اس دعوٰیٔ تحریم کو باطل کر دیا علاوہ بریں ان سے یہ دریافت کرنا کہ اللہ نے نر حرام کئے ہیں یا مادہ یا ان کے بچے ، یہ منکِرِ نبوّت مخالف کو اِقرارِ نبوّت پر مجبور کرتا تھا کیونکہ جب تک نبوّت کا واسطہ نہ ہو تو اللہ تعالٰی کی مرضی اور اس کا کسی چیز کو حرام فرمانا کیسے جانا جا سکتا ہے چنانچہ اگلے جملہ نے اس کو صاف کیا ہے ۔(ف295)جب یہ نہیں ہے اور نبوّت کا تو اقرار نہیں کرتے تو ان احکامِ حُرمت کو اللہ کی طرف نسبت کرنا کِذب و باطل و افترائے خالص ہے ۔
تم فرماؤ (ف۲۹٦) میں نہیں پاتا اس میں جو میری طرف وحی ہوئی کسی کھانے والے پر کوئی کھانا حرام (ف۲۹۷) مگر یہ کہ مردار ہو یا رگوں کا بہتا خون (ف۲۹۸) یا بد جانور کا گوشت وہ نجاست ہے یا وہ بےحکمی کا جانور جس کے ذبح میں غیر خدا کا نام پکارا گیا تو جو ناچار ہوا (ف۲۹۹) نہ یوں کہ آپ خواہش کرے اور نہ یوں کہ ضرورت سے بڑھے تو بےشیک اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۳۰۰)
(ف296)ان جاہل مشرکوں سے جو حلال چیزوں کو اپنی خواہشِ نفس سے حرام کر لیتے ہیں ۔(ف297)اس میں تنبیہ ہے کہ حُرمت جہتِ شرع سے ثابت ہوتی ہے نہ ہَوائے نفس سے ۔مسئلہ : تو جس چیز کی حُرمت شرع میں وارد نہ ہو اس کو ناجائز و حرام کہنا باطل ، ثبوتِ حُرمت خواہ وحیٔ قرآنی سے ہو یا وحیٔ حدیث سے ، یہی معتبر ہے ۔(ف298)تو جو خون بہتا نہ ہو مثلاً جگر و تِلی کے وہ حرام نہیں ۔(ف299)اور ضرورت نے اسے ان چیزوں میں سے کسی کے کھانے پر مجبور کیا ایسی حالت میں مضطَر ہو کر اس نے کچھ کھایا ۔(ف300)اس پر مؤاخذہ نہ فرمائے گا ۔
اور یہودیوں پر ہم نے حرام کیا ہر ناخن والا جانور (ف۳۰۱) اور گائے اور بکری کی چربی ان پر حرام کی مگر جو ان کی پیٹھ میں لگی ہو یا آنت یا ہڈی سے ملی ہو، ہم نے یہ ان کی سرکشی کا بدلہ دیا (ف۳۰۲) اور بیشک ہم ضرور سچے ہیں،
(ف301)جو انگلی رکھتا ہو خواہ چوپایہ ہو یا پرند ، اس میں اُونٹ اور شُتر مرغ داخل ہیں ۔ (مدارک) بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ یہاں شُتر مرغ اور بط اور اونٹ خاص طور پر مراد ہیں ۔(ف302)یہود اپنی سرکشی کے باعث ان چیزوں سے محروم کئے گئے لہذا یہ چیزیں ان پر حرام ر ہیں اور ہماری شریعت میں گائے بکری کی چربی اور اُونٹ اور بط اور شتر مرغ حلال ہیں ، اسی پر صحابہ اور تابعین کا اِجماع ہے ۔ (تفسیرِ احمدی)
اب کہیں گے مشرک کہ (ف۳۰۵) اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے نہ ہمارے باپ دادا نہ ہم کچھ حرام ٹھہراتے (ف۳۰٦) ایسا ہی ان کے اگلوں نے جھٹلایا تھا یہاں تک کہ ہمارا عذاب چکھا (ف۳۰۷) تم فرماؤ کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے کہ اسے ہمارے لیے نکالو، تم تو نرے گمان (خام خیال) کے پیچھے ہو اور تم یونہی تخمینے کرتے ہو (ف۳۰۸)
(ف305)یہ خبر غیب ہے کہ جو بات وہ کہنے والے تھے وہ بات پہلے سے بیان فرما دی ۔(ف306)ہم نے جو کچھ کیا یہ سب اللہ کی مشیّت سے ہوا ، یہ دلیل ہے اس کی کہ وہ اس سے راضی ہے ۔(ف307)اور یہ عذرِ باطل ان کے کچھ کام نہ آیا کیونکہ کسی امر کا مشیّت میں ہونا اس کی مرضی و مامور ہونے کو مستلزم نہیں ، مرضی وہی ہے جو انبیاء کے واسطے سے بتائی گئی اور اس کا امر فرمایا گیا ۔(ف308)اور غلط اٹکلیں چلاتے ہو ۔
تم فرماؤ لاؤ اپنے وہ گواہ جو گواہی دیں کہ اللہ نے اسے حرام کیا (ف۳۱۰) پھر اگر وہ گواہی دے بیٹھیں (ف۳۱۱) تو تو اے سننے والے! ان کے ساتھ گواہی نہ دینا اور ان کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلنا جو ہماری آیتیں جھٹلاتے ہیں اور جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور اپنے رب کا برابر والا ٹھہراتے ہیں (ف۳۱۲)
(ف310)جسے تم اپنے لئے حرام قرار دیتے ہو اور کہتے ہو کہ اللہ تعالٰی نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے ، یہ گواہی اس لئے طلب کی گئی کہ ظاہر ہو جائے کہ کُفّار کے پاس کوئی شاہد نہیں ہے اور جو وہ کہتے ہیں وہ ان کی تراشیدہ بات ہے ۔(ف311)اس میں تنبیہ ہے کہ اگر یہ شہادت واقع ہو بھی تو وہ مَحض اِتّباعِ ہَوا اور کِذب و باطل ہو گی ۔(ف312)بُتوں کو معبود مانتے ہیں اور شرک میں گرفتار ہیں ۔
تم فرماؤ آؤ میں تمہیں پڑھ کر سناؤں جو تم پر تمہارے رب نے حرام کیا (ف۳۱۳) یہ کہ اس کا کوئی شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو (ف۳۱٤) اور اپنی اولاد قتل نہ کرو مفلسی کے باعث، ہم تمہیں اور انہیں سب کو رزق دیں گے (ف۲۱۵) اور بےحیائیوں کے پاس نہ جاؤ جو ان میں کھلی ہیں اور جو چھپی (ف۳۱٦) اور جس جان کی اللہ نے حرمت رکھی اسے ناحق نہ مارو (ف۳۱۷) یہ تمہیں حکم فرمایا ہے کہ تمہیں عقل ہو
(ف313)اس کا بیان یہ ہے ۔(ف314)کیونکہ تم پر ان کے بہت حقوق ہیں انہوں نے تمہاری پرورش کی ، تمہارے ساتھ شفقت اور مہربانی کا سلوک کیا ، تمہاری ہر خطرے سے نگہبانی کی ، ان کے حقوق کا لحاظ نہ کرنا اور ان کے ساتھ حُسنِ سلوک کا ترک کرنا حرام ہے ۔(ف315)اس میں اولاد کو زندہ درگور کرنے اور مار ڈالنے کی حُرمت بیان فرمائی گئی جس کا اہلِ جاہلیت میں دستور تھا کہ وہ اکثر ناداری کے اندیشہ سے اولاد کو ہلاک کرتے تھے ، انہیں بتایا گیا کہ روزی دینے والا تمہارا ، ان کا سب کا اللہ ہے پھر تم کیوں قتل جیسے شدید جُرم کا اِرتکاب کرتے ہو ۔(ف316)کیونکہ انسان جب کُھلے اور ظاہر گناہ سے بچے اور چُھپے گناہ سے پرہیز نہ کرے تو اس کا ظاہر گناہ سے بچنا بھی لِلّٰہِیَّت سے نہیں ، لوگوں کے دکھانے اور ان کی بدگوئی سے بچنے کے لئے ہے اور اللہ کی رضا و ثواب کا مستحق وہ ہے جو اس کے خوف سے گناہ ترک کرے ۔(ف317)وہ امور جن سے قتل مباح ہوتا ہے یہ ہیں مُرتَد ہونا یا قِصاص یا بیاہے ہوئے کا زنا ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی مسلمان جو لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دیتا ہو ، اس کا خون حلال نہیں مگر ان تین سببوں میں سے کسی ایک سبب سے یا تو بیاہے ہونے کے باوجود اس سے زنا سرزد ہوا ہو یا اس نے کسی کو ناحق قتل کیا ہو اور اس کا قصاص اس پر آتا ہو یا وہ دین چھوڑ کر مرتَد ہو گیا ہو ۔
اور یتیموں کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر بہت اچھے طریقہ سے (ف۳۱۸) جب تک وہ اپنی جوانی کو پہنچے (ف۳۱۹) اور ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری کرو، ہم کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتے مگر اس کے مقدور بھر، اور جب بات کہو تو انصاف کی کہو اگرچہ تمہارے رشتہ دار کا معاملہ ہو اور اللہ ہی کا عہد پورا کرو، یہ تمہیں تاکید فرمائی کہ کہیں تم نصیحت مانو،
(ف318)جس سے اس کا فائدہ ہو ۔(ف319)اس وقت اس کا مال اس کے سپرد کر دو ۔
اور یہ کہ (ف۳۲۰) یہ ہے میرا سیدھا راستہ تو اس پر چلو اور اور راہیں نہ چلو (ف۳۲۱) کہ تمہیں اس کی راہ سے جدا کردیں گی ، یہ تمہیں حکم فرمایا کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے،
(ف320)ان دونوں آیتوں میں جو حکم دیا ۔(ف321)جو اسلام کے خلاف ہوں ، یہودیت ہو یا نصرانیت یا اور کوئی ملّت ۔
پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی (ف۳۲۲) پورا احسان کرنے کو اس پر جو نیکوکار ہے اور ہر چیز کی تفصیل اور ہدایت اور رحمت کہ کہیں وہ (ف۳۲۳) اپنے رب سے ملنے پر ایمان لائیں (ف۳۲٤)
(ف322)توریت ۔(ف323)یعنی بنی اسرائیل ۔(ف324)اور بَعث و حساب اور ثواب و عذاب اور دیدارِ الٰہی کی تصدیق کریں ۔
اور یہ برکت والی کتاب (ف۳۲۵) ہم نے اتاری تو اس کی پیروی کرو اور پرہیزگاری کرو کہ تم پر رحم ہو،(۱۵٦) کبھی کہو کہ کتاب تو ہم سے پہلے دو گروہوں پر اتری تھی (ف۳۲٦) اور ہمیں ان کے پڑھنے پڑھانے کی کچھ خبر نہ تھی (ف۳۲۷)
(ف325)یعنی قرآن شریف جو کثیرُ الخیر اور کثیرُ النفع اور کثیرُ البرکۃ ہے اور قیامت تک باقی رہے گا اور تحریف و تبدیل و نَسخ سے محفوظ رہے گا ۔
کبھی کہو کہ کتاب تو ہم سے پہلے دو گروہوں پر اتری تھی (ف۳۲٦) اور ہمیں ان کے پڑھنے پڑھانے کی کچھ خبر نہ تھی (ف۳۲۷)
(ف326)یعنی یہود و نصارٰی پر توریت اور انجیل ۔(ف327)کیونکہ وہ ہماری زبان ہی میں نہ تھی نہ ہمیں کسی نے اس کے معنٰی بتائے ، اللہ تعالٰی نے قرآنِ کریم نازل فرما کر ان کے اس عُذر کو قطع فرما دیا ۔
یا کہو کہ اگر ہم پر کتاب اترتی تو ہم ان سے زیادہ ٹھیک راہ پر ہوتے (ف۳۲۸) تو تمہارے پاس تمہارے رب کی روشن دلیل اور ہدایت اور رحمت آئی (ف۳۲۹) تو اس سے زیادہ ظالم کون جو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے اور ان سے منہ پھیرے عنقریب وہ جو ہماری آیتوں سے منہ پھیرتے ہیں ہم انہیں بڑے عذاب کی سزا دیں گے بدلہ ان کے منہ پھیرنے کا،
(ف328)کُفّار کی ایک جماعت نے کہا تھا کہ یہود و نصارٰی پر کتابیں نازل ہوئیں مگر وہ بدعقلی میں گرفتار رہے ، ان کتابوں سے منتفِع نہ ہوئے ، ہم ان کی طرح خفیفُ العقل اور نادان نہیں ہیں ، ہماری عقلیں صحیح ہیں ، ہماری عقل و ذہانت اور فہم و فراست ایسی ہے کہ اگر ہم پر کتاب اُترتی تو ہم ٹھیک راہ پر ہوتے ، قرآن نازل فرما کر ان کا یہ عُذر بھی قطع فرما دیا چنانچہ آگے ارشاد ہوتا ہے ۔(ف329)یعنی یہ قرآنِ پاک جس میں حُجّتِ واضحہ اور بیان صاف اور ہدایت و رحمت ہے ۔
کاہے کے انتظار میں ہیں (ف۳۳۰) مگر یہ کہ آئیں ان کے پاس فرشتے (ف۳۳۱) یا تمہارے رب کا عذاب یا تمہارے رب کی ایک نشانی آئے (ف۳۳۲) جس دن تمہارے رب کی وہ ایک نشانی آئے گی کسی جان کو ایمان لانا کام نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لائی تھی یا اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہ کمائی تھی (ف۳۳۳) تم فرماؤ رستہ دیکھو (ف۳۳٤) ہم بھی دیکھتے ہیں،
(ف330)جب وحدانیت و رسالت پر زبردست حُجّتیں قائم ہو چُکیں اور اعتقاداتِ کُفر و ضلال کا بُطلان ظاہر کر دیا گیا تو اب ایمان لانے میں کیوں تَوقُّف ہے ، کیا انتِظار باقی ہے ۔(ف331)ان کی اَرواح قبض کرنے کے لئے ۔(ف332)قیامت کی نشانیوں میں سے ۔ جمہور مفسِّرین کے نزدیک اس نشانی سے آفتاب کا مغرب سے طُلوع ہونا مراد ہے ۔ ترمذی کی حدیث میں بھی ایسا ہی وارد ہے ، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ قیامت قائم نہ ہو گی جب تک آفتاب مغرب سے طلوع نہ کرے اور جب وہ مغرب سے طلوع کرے گا اور اسے لوگ دیکھیں گے تو سب ایمان لائیں گے اور یہ ایمان نفع نہ دے گا ۔(ف333)یعنی طاعت نہ کی تھی ، معنٰی یہ ہیں کہ نشانی آنے سے پہلے جو ایمان نہ لائے نشانی کے بعد اس کا ایمان قبول نہیں ، اسی طرح جو نشانی سے پہلے توبہ نہ کرے بعد نشانی کے اس کی توبہ قبول نہیں لیکن جو ایمان دار پہلے سے نیک عمل کرتے ہوں گے نشانی کے بعد بھی ان کے عمل مقبول ہوں گے ۔(ف334)ان میں سے کسی ایک کا یعنی موت کے فرشتوں کی آمد یا عذاب یا نشانی آنے کا ۔
وہ جنہوں نے اپنے دین میں جُدا جُدا راہیں نکالیں اور کئی گروہ ہوگئے (ف۳۳۵) اے محبوب ! تمہیں ان سے کچھ علاقہ نہیں ان کا معاملہ اللہ ہی کے حوالے ہے پھر وہ انہیں بتادے گا جو کچھ وہ کرتے تھے (ف۳۳٦)
(ف335)مثل یہود و نصارٰی کے ۔ حدیث شریف میں ہے یہود اکہتر ۷۱ فرقے ہو گئے ، ان سے صرف ایک ناجی ہے باقی سب ناری اور نصارٰی بہتر ۷۲ فرقے ہو گئے ایک ناجی باقی سب ناری اور میری اُمّت تہتر ۷۳ فرقے ہو جائے گی وہ سب کے سب ناری ہوں گے سوائے ایک کے جو سَوادِ اعظم یعنی بڑی جماعت ہے اور ایک روایت میں ہے کہ جو میری اور میرے اصحاب کی راہ پر ہے ۔(ف336)اور آخرت میں انہیں اپنے کردار کا انجام معلوم ہو جائے گا ۔
جو ایک نیکی لائے تو اس کے لیے اس جیسی دس ہیں (ف۳۳۷) اور جو برائی لائے تو اسے بدلہ نہ ملے گا مگر اس کے برابر اور ان پر ظلم نہ ہوگا،
(ف337)یعنی ایک نیکی کرنے والے کو دس نیکیوں کی جزا اور یہ بھی حد و نہایت کے طریقہ پر نہیں بلکہ اللہ تعالٰی جس کے لئے جتنا چاہے اس کی نیکیوں کو بڑھائے ، ایک کے سات سو کرے یا بے حساب عطا فرمائے ۔ اصل یہ ہے کہ نیکیوں کا ثواب مَحض فضل ہے ، یہی مذہب ہے اہلِ سُنّت کا اور بدی کی اُتنی ہی جزا ، یہ عدل ہے ۔
تم فرماؤ بیشک مجھے میرے رب نے سیدھی راہ دکھائی (ف۳۳۸) ٹھیک دین ابراہیم کی ملّت جو ہر باطل سے جُدا تھے، اور مشرک نہ تھے (ف۳۳۹)
(ف338)یعنی دینِ اسلام جو اللہ کو مقبول ہے ۔(ف339)اس میں کفّارِ قُریش کا رد ہے جو گمان کرتے تھے کہ وہ دینِ ابراہیمی پر ہیں ، اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام مشرک و بُت پرست نہ تھے تو بُت پرستی کرنے والے مشرکین کا یہ دعوٰی کہ وہ ابراہیمی ملّت پر ہیں باطل ہے ۔
اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے یہی حکم ہوا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں (ف۳٤۰)
(ف340)اوّلیّت یا تو اس اعتبار سے ہے کہ انبیاء کا اسلام ان کی اُمّت پر مقدّم ہوتا ہے یا اس اعتبار سے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم اوّل مخلوقات ہیں تو ضرور اوّل المسلمین ہوئے ۔
تم فرماؤ کیا اللہ کے سوا اور رب چاہوں حالانکہ وہ ہر چیز کا رب ہے (ف۳٤۱) اور جو کوئی کچھ کمائے وہ اسی کے ذمہ ہے، اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی (ف۳٤۲) پھر تمہیں اپنے رب کی طرف پھرنا ہے (ف۳٤۳) وہ تمہیں بتادے گا جس میں اختلاف کرتے تھے،
(ف341)شا نِ نُزول : کُفّار نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ آپ ہمارے دین کی طرف لوٹ آئیے اور ہمارے معبودوں کی عبادت کیجئے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ولید بن مغیرہ کہتا تھا کہ میرا رستہ اختیار کرو اس میں اگر کچھ گناہ ہے تو میری گردن پر ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ وہ رستہ باطل ہے ، خدا شَناس کس طرح گوارا کر سکتا ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو ربّ بتائے اور یہ بھی باطل ہے کہ کسی کا گناہ دوسرا اٹھا سکے ۔(ف342)ہر شخص اپنے گناہ میں ماخوذ ہو گا دوسرے کے گناہ میں نہیں ۔(ف343)روزِ قیامت ۔
اور وہی ہے جس نے زمین میں تمہیں نائب کیا (ف۳٤٤) اور تم میں ایک کو دوسرے پر درجوں بلندی دی (ف۳٤۵) کہ تمہیں آزمائے (ف۳٤٦) اس چیز میں جو تمہیں عطا کی بیشک تمہارے رب کو عذاب کرتے دیر نہیں لگتی اور بیشک وہ ضرور بخشنے والا مہربان ہے،
(ف344)کیونکہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم خاتَم النبّیِین ہیں آپ کے بعد کوئی نبی نہیں اور آپ کی اُمّت آخرُ الاُمَم ہے اس لئے ان کو زمین میں پہلوں کا خلیفہ کیا کہ اس کے مالک ہوں اور اس میں تصرُّف کریں ۔(ف345)شکل و صورت میں ، حسن و جمال میں ، رزق و مال میں ، علم و عقل میں ، قوّت و کمال میں ۔(ف346)یعنی آزمائش میں ڈالے کہ تم نعمت و جاہ و مال پا کر کیسے شکر گزار رہتے ہو اور باہم ایک دوسرے کے ساتھ کس قسم کے سلوک کرتے ہو ۔