سب خوبیاں اللہ کو جس نے آسمان اور زمین بنائے (ف۲) اور اندھیریاں اور روشنی پیدا کی (ف۳) اس پر (ف٤) کافر لوگ اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں (ف۵)
All praise is to Allah, Who has created the heavens and the earth, and has created darkness and light; yet the disbelievers appoint equals (false deities) to their Lord!
सब खूबियां अल्लाह को जिस ने आसमान और जमीन बनाए और अंधेरियां और रोशनी पैदा की उस पर काफ़िर लोग अपने रब के बराबर ठहराते हैं
Sab khoobiyaan Allah ko jis ne aasman aur zameen banaye aur andheriyan aur roshni paida ki, us par kafir log apne Rab ke barabar thehrate hain.
(ف2)حضرت کعب احبار رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا توریت میں سب سے اول یہی آیت ہے اس آیت میں بندوں کو شانِ استغناء کے ساتھ حمد کی تعلیم فرمائی گئی اور پیدائشِ آسمان و زمین کا ذکر اس لئے ہے کہ ان میں ناظرین کے لئے بہت عجائبِ قدرت و غرائبِ حکمت اور عبرتیں و منافع ہیں ۔(ف3)یعنی ہر ایک اندھیری اور روشنی خواہ وہ اندھیری شب کی ہو یا کُفر کی یا جہل کی یا جہنّم کی اور روشنی خواہ دن کی ہو یا ایمان و ہدایت و علم و جنّت کی ۔ ظلمات کو جمع اور نور کو واحد کے صیغہ سے ذکر فرمانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ باطل کی راہیں بہت کثیر ہیں اور راہِ حق صرف ایک دینِ اسلام ۔(ف4)یعنی باوجود ایسے دلائل پر مطلِع ہونے اور ایسے نشانہائے قدرت دیکھنے کے ۔(ف5)دوسروں کو حتّٰی کہ پتّھروں کو پُوجتے ہیں باوجود یکہ اس کے مُقِر ہیں کہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا اللہ ہے ۔
وہی ہے جس نے تمہیں (ف٦) مٹی سے پیدا کیا پھر ایک میعاد کا حکم رکھا (ف۷) اور ایک مقررہ وعدہ اس کے یہاں ہے (ف۸) پھر تم لوگ شک کرتے ہو،
It is He Who has created you from clay, and then decreed a term for you; and it is a fixed promise before Him, yet you still doubt!
वही है जिस ने तुम्हें मिट्टी से पैदा किया फिर एक मियाद का हुक्म रखा और एक मुक़र्रर वादा उस के यहाँ है फिर तुम लोग शक करते हो,
Wohi hai jis ne tumhein mitti se paida kiya phir ek miyaad ka hukm rakha aur ek muqarrar wada us ke yahan hai phir tum log shak karte ho.
(ف6)یعنی تمہاری اصل حضرت آدم کو جن کی نسل سے تم پیدا ہوئے ۔فائدہ : اس میں مشرکین کا رد ہے جو کہتے تھے کہ ہم جب گَل کر مٹی ہو جائیں گے پھر کیسے زندہ کئے جائیں گے ؟ انہیں بتایا گیا کہ تمہاری اصل مٹی ہی سے ہے تو پھر دوبارہ پیدا کئے جانے پر کیا تعجب ، جس قادر نے پہلے پیداکیا اس کی قدرت سے بعد موت زندہ فرمانے کو بعید جاننا نادانی ہے ۔(ف7)جس کے پورا ہو جانے پر تم مر جاؤ گے ۔(ف8)مرنے کے بعد اُٹھانے کا ۔
تو بیشک انہوں نے حق کو جھٹلایا (ف۱۰) جب ان کے پاس آیا، تو اب انہیں خبر ہوا چاہتی ہے اس چیز کی جس پر ہنس رہے تھے (ف۱۱)
So indeed they denied the truth* when it came to them; so now the tidings of the thing they used to mock at, will come to them. (Prophet Mohammed -peace and blessings be upon him, or the Holy Qur’an).
तो बेशक उन्होंने हक़ को झटलाया जब उनके पास आया, तो अब उन्हें खबर हुआ चाहती है उस चीज़ की जिस पर हंस रहे थे
To beshak unhon ne haqq ko jhutlaya jab unke paas aaya, to ab unhein khabar hua chahti hai us cheez ki jis par hans rahe the.
(ف10)یہاں حق سے یا قرآن مجیدکی آیات مراد ہیں یا سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے معجزات ۔(ف11)کہ وہ کیسی عظمت والی ہے اور اس کی ہنسی بنانے کا اَنجام کیسا وبال و عذاب ۔
کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے (ف۱۲) کتنی سنگتیں کھپا دیں انہیں ہم نے زمین میں وہ جماؤ دیا (ف۱۳) جو تم کو نہ دیا اور ان پر موسلا دھار پانی بھیجا (ف۱٤) اور ان کے نیچے نہریں بہائیں (ف۱۵) تو انہیں ہم نے ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کیا (ف۱٦) اور ان کے بعد اور سنگت اٹھائی (ف۱۷)
Do they not see how many civilisations We destroyed before them, whom We had established more firmly in the earth than We have established you, and We sent on them abundant rain from the sky, and made the rivers flow beneath them? So we destroyed them because of their sins, and created another civilisation after them.
क्या उन्होंने न देखा कि हम ने उनसे पहले कितनी संगतें खपा दीं उन्हें हम ने जमीन में वह जमाऊ दिया जो तुम को न दिया और उन पर मुसलाधार पानी भेजा और उनके नीचे नहरें बहाईं तो उन्हें हम ने उनके गुनाहों के सबब हलाक किया और उनके बाद और संगत उठाई
Kya unhon ne na dekha ke hum ne un se pehle kitni sangatein khapa dein, unhein hum ne zameen mein woh jamaao diya jo tumko na diya aur un par mousla-dhaar paani bheja aur unke neeche nahrein bahayin to unhein hum ne unke gunahon ke sabab halaak kiya aur unke baad aur sangat uthayi.
(ف12)پچھلی اُمّتوں میں سے ۔(ف13)قوّت و مال اور دنیا کے کثیر سامان دے کر ۔(ف14)جس سے کھیتیاں شاداب ہوں ۔(ف15)جس سے باغ پرورش پائے اور دنیا کی زندگانی کے لئے عیش و راحت کے اسباب بہم پہنچے ۔(ف16)کہ انہوں نے انبیاء کی تکذیب کی اور ان کا یہ سر و سامان انہیں ہلاک سے نہ بچا سکا ۔(ف17)اور دوسرے قَرن والوں کو ان کا جانشین کیا ، مدعا یہ ہے کہ گزری ہوئی اُمّتوں کے حال سے عبرت و نصیحت حاصل کرنا چاہئے کہ وہ لوگ باوجود قوّت و دولت و کثرتِ مال و عیال کے کُفر و طُغیان کی وجہ سے ہلاک کر دیئے گئے تو چاہئے کہ ان کے حال سے عبرت حاصل کر کے خوابِ غفلت سے بیدار ہوں ۔
اور اگر ہم تم پر کاغذ میں کچھ لکھا ہوا اتارتے (ف۱۸) کہ وہ اسے اپنے ہاتھوں سے چھوتے جب بھی کافر کہتے کہ یہ نہیں مگر کھلا جادو ،
And had We sent down to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) something written on paper so that they could feel it with their hands, even then the disbelievers would have said, “This is nothing but clear magic.”
और अगर हम तुम पर काग़ज़ में कुछ लिखा हुआ उतारते कि वह उसे अपने हाथों से छूते जब भी काफ़िर कहते कि यह नहीं मगर खुला जादू ,
Aur agar hum tum par kagaz mein kuchh likha hua utaarte ke woh use apne haathon se chhoote jab bhi kafir kehte ke yeh nahin magar khula jadoo.
(ف18)شانِ نُزول : یہ آیت نضربن حارث اور عبداللہ بن اُمیّہ اور نَوفَل بن خُوَیلَد کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے کہا تھا کہ محمّد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک تم ہمارے پاس اللہ کی طرف سے کتاب نہ لاؤ جس کے ساتھ چار فرشتے ہوں ، وہ گواہی دیں کہ یہ اللہ کی کتاب ہے اور تم اس کے رسول ہو ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ یہ سب حیلے بہانے ہیں اگر کاغذ پر لکھی ہوئی کتاب اُتار دی جاتی وہ اسے اپنے ہاتھوں سے چھو کر اور ٹٹول کر دیکھ لیتے اور یہ کہنے کا موقع بھی نہ ہوتا کہ نظر بندی کر دی گئی تھی کتاب اُترتی نظر آئی ، تھا کچھ بھی نہیں تو بھی یہ بدنصیب ایمان لانے والے نہ تھے ، اس کو جادو بتاتے اور جس طرح شَقُ القمر کو جادو بتایا اور اس معجِزہ کو دیکھ کر ایمان نہ لائے اس طرح اس پر بھی ایمان نہ لاتے کیونکہ جو لوگ عنادًا انکار کرتے ہیں وہ آیات و معجزات سے منتفِع نہیں ہو سکتے ۔
اور بولے (ف۱۹) ان پر (ف۲۰) کوئی فرشتہ کیوں نہ اتارا گیا، اور اگر ہم فرشتہ اتارتے (ف۲۱) تو کام تمام ہوگیا ہوتا (ف۲۲) پھر انہیں مہلت نہ دی جاتی (ف۲۳)
And they said, “Why has not an angel been sent down to him?” And had We sent down an angel, then the matter would have been finished, and they would not get any respite.
और बोले उन पर कोई फरिश्ता क्यों न उतारा गया, और अगर हम फरिश्ता उतारते तो काम तमाम हो गया होता फिर उन्हें मोहलत न दी जाती
Aur bole un par koi farishta kyun na utaara gaya, aur agar hum farishta utaarte to kaam tamaam ho gaya hota phir unhein mohlat na di jaati.
(ف19)مشرکین ۔(ف20)یعنی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم پر ۔(ف21)اور پھر بھی یہ ایمان نہ لاتے ۔(ف22)یعنی عذاب واجب ہو جاتا اور یہ سُنّتِ الٰہیہ ہے کہ جب کُفّار کوئی نشانی طلب کریں اور اس کے بعد بھی ایمان نہ لائیں تو عذاب واجب ہو جاتا ہے اور وہ ہلاک کر دیئے جاتے ہیں ۔(ف23)ایک لمحہ کی بھی اور عذاب مؤخَّر نہ کیا جاتا تو فرشتہ کا اُتارنا جس کو وہ طلب کرتے ہیں انہیں کیا نافع ہوتا ۔
اور اگر ہم نبی کو فرشتہ کرتے (ف۲٤) جب بھی اسے مرد ہی بناتے (ف۲۵) اور ان پر وہی شبہ رکھتے جس میں اب پڑے ہیں،
And had we appointed an angel as a Prophet, We would still have made him as a man and would keep them in the same doubt, as they are now in.
और अगर हम नबी को फरिश्ता करते जब भी उसे मर्द ही बनाते और उन पर वही शुब्हा रखते जिस में अब पड़े हैं ,
Aur agar hum Nabi ko farishta karte jab bhi use mard hi banate aur un par wohi shubhah rakhte jis mein ab pade hain.
(ف24)یہ ان کُفّار کا جواب ہے جو نبی علیہ السلام کو کہا کرتے تھے یہ ہماری طرح بشر ہیں اور اسی خَبط میں وہ ایمان سے محروم رہتے تھے ، انہیں انسانوں میں سے رسول مبعوث فرمانے کی حکمت بتائی جاتی ہے کہ ان کے منتفِع ہونے اور تعلیمِ نبی سے فیض اٹھانے کی یہی صورت ہے کہ نبی صورتِ بشری میں جلوہ گر ہو کیونکہ فرشتہ کو اس کی اصلی صورت میں دیکھنے کی تو یہ لوگ تاب نہ لا سکتے ، دیکھتے ہی ہیبت سے بے ہوش ہو جاتے یا مر جاتے اس لئے اگر بالفرض رسول فرشتہ ہی بنایا جاتا ۔(ف25)اور صورتِ انسانی ہی میں بھیجتے تاکہ یہ لوگ اس کو دیکھ سکیں ، اس کا کلام سُن سکیں ، اس سے دین کے اَحکام معلوم کر سکیں لیکن اگر فرشتہ صورتِ بشری میں آتا تو انہیں پھر وہی کہنے کا موقع رہتا کہ یہ بشر ہے تو فرشتہ کو نبی بنانے کا کیا فائدہ ہوتا ۔
اور ضرور اے محبوب تم سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی ٹھٹھا کیا گیا تو وہ جو ان سے ہنستے تھے ان کی ہنسی انہیں کو لے بیٹھی (ف۲٦)
And certainly, O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) the Noble Messengers before you have also been mocked at, so those who laughed at them were themselves ruined by their own mocking.
और ज़रूर ऐ महबूब तुम से पहले रसूलों के साथ भी ठठ्ठा किया गया तो वह जो उनसे हँसते थे उनकी हंसी उन्हें को ले बैठी
Aur zaroor ae mehboob tum se pehle Rasoolon ke saath bhi thutha kiya gaya to woh jo un se hanste the unki hansi unhein ko le baithi.
(ف26)وہ مبتلائے عذاب ہوئے ۔ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلّی و تسکینِ خاطر ہے کہ آپ رنجِیدہ و مَلُول نہ ہوں ، کُفّار کا پہلے انبیاء کے ساتھ بھی یہی دستور رہا ہے اور اس کا وبال ان کُفّار کو اٹھانا پڑا ہے نیز مشرکین کو تنبیہ ہے کہ پچھلی اُمّتوں کے حال سے عبرت حاصل کریں اور انبیاء کے ساتھ طریقِ ادب ملحوظ رکھیں تاکہ پہلوں کی طرح مبتلائے عذاب نہ ہوں ۔
تم فرماؤ کس کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں (ف۲۹) تم فرماؤ اللہ کا ہے (ف۳۰) اس نے اپنے کرم کے ذمہ پر رحمت لکھ لی ہے (ف ۳۱) بیشک ضرور تمہیں قیامت کے دن جمع کرے گا (ف۳۲) اس میں کچھ شک نہیں، وہ جنہوں نے اپنی جان نقصان میں ڈالی (ف۳۳) ایمان نہیں لاتے،
Say, “To Whom does all whatever is in the heavens and the earth, belong?” Proclaim, “To Allah”; He has made mercy obligatory upon His grace; undoubtedly, He will surely gather you all together on the Day of Resurrection in which there is no doubt; those who put their souls to ruin, do not accept faith.
तुम फ़रमाओ किस का है जो कुछ आसमानों और जमीन में तुम फ़रमाओ अल्लाह का है उस ने अपने करम के जिम्मे पर रहमत लिख ली है बेशक ज़रूर तुम्हें क़यामत के दिन जमा करेगा उस में कुछ शक नहीं , वह जिन्होंने अपनी जान नुक़सान में डाली ईमान नहीं लाते ,
Tum farmao kis ka hai jo kuchh aasmanon aur zameen mein? Tum farmao Allah ka hai, us ne apne karam ke zimmah par rehmat likh li hai, beshak zaroor tumhein qayamat ke din jama karega, is mein kuchh shak nahin. Woh jinhon ne apni jaan nuqsan mein daali imaan nahin laate.
(ف29)اگر وہ اس کا جواب نہ دیں تو ۔(ف30)کیونکہ اس کے سوا اور کوئی جواب ہی نہیں ہے اور وہ اس کے خلاف نہیں کر سکتے کیونکہ بُت جن کو مشرکین پُوجتے ہیں وہ بے جان ہیں ، کسی چیز کے مالک ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتے ، خود دوسرے کے مملوک ہیں ، آسمان و زمین کا وہی مالک ہو سکتا ہے جو حَیّ و قَیوم ، ازلی و ابدی ، قادرِ مطلق ہر شئے پر متصرِّف و حکمران ہو ، تمام چیزیں اس کے پیدا کرنے سے وجود میں آئی ہوں ، ایسا سوائے اللہ کے کوئی نہیں اس لئے تمام سَمَاوی و اَرضی کائنات کا مالک اس کے سوا کوئی نہیں ہو سکتا ۔(ف31)یعنی اس نے رحمت کا وعدہ کیا اور اس کا وعدہ خلاف نہیں ہو سکتا کیونکہ وعدہ خلافی و کذب اس کے لئے محال ہے اور رحمت عام ہے دینی ہو یا دنیوی اپنی معرفت اور توحید اور علم کی طرف ہدایت فرمانا بھی رحمت میں داخل ہے اور کُفّار کو مہلت دینا اور عقوبت میں تعجیل نہ فرمانا بھی کہ اس سے انہیں توبہ اور انابت کا موقع ملتا ہے ۔ (جمل وغیرہ)(ف32)اور اعمال کا بدلہ دے گا ۔(ف33)کُفر اختیار کر کے ۔
تم فرماؤ کیا اللہ کے سوا کسی اور کو والی بناؤں (ف۳٦) وہ اللہ جس نے آسمان اور زمین پیدا کیے اور وہ کھلاتا ہے اور کھانے سے پاک ہے (ف۳۷) تم فرماؤ مجھے حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلے گردن رکھوں (ف۳۸) اور ہرگز شرک والوں میں سے نہ ہونا،
Say, “Shall I choose as a supporter someone other than Allah, Who is the Originator of the heavens and the earth and Who feeds and does not need to eat?” Say, “I have been ordered to be the first to submit myself (to Him), and O people, do not be of the polytheists.”
तुम फ़रमाओ क्या अल्लाह के सिवा किसी और को वाली बनाऊँ वह अल्लाह जिस ने आसमान और जमीन पैदा किए और वह खिलाता है और खाने से पाक है तुम फ़रमाओ मुझे हुक्म हुआ है कि सब से पहले गर्दन रखूँ और हरगिज़ शिर्क वालों में से न होना,
Tum farmao kya Allah ke siwa kisi aur ko wali banao? Woh Allah jis ne aasman aur zameen paida kiye aur woh khilata hai aur khanay se paak hai. Tum farmao mujhe hukm hua hai ke sab se pehle gardan rakhun aur hargiz shirk walon mein se na hona.
(ف36)شانِ نُزول : جب کُفّار نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے باپ دادا کے دین کی دعوت دی تو یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف37)یعنی خَلق سب اس کی محتاج ہے وہ سب سے بے نیاز ۔(ف38)کیونکہ نبی اپنی اُمّت سے دین میں سابق ہوتے ہیں ۔
اور اگر تجھے اللہ کوئی برائی (ف٤۱) پہنچائے تو اس کے سوا اس کا کوئی دور کرنے والا نہیں، اور اگر تجھے بھلائی پہنچائے (ف٤۲) تو وہ سب کچھ کرسکتا ہے (ف٤۳)
And if Allah afflicts you with some misfortune, then there is none who can remove it, except Him; and if He sends you some good fortune, then (know that) He is Able to do all things.
और अगर तुझे अल्लाह कोई बुराई पहुँचाए तो उसके सिवा उसका कोई दूर करने वाला नहीं , और अगर तुझे भलाई पहुँचाए तो वह सब कुछ कर सकता है
Aur agar tujhe Allah koi burai pahunchaye to us ke siwa us ka koi door karne wala nahin, aur agar tujhe bhalai pahunchaye to woh sab kuchh kar sakta hai.
(ف41)بیماری یا تنگ دستی یا اور کوئی بلا ۔(ف42)مثل صحت و دولت وغیرہ کے ۔(ف43)قادرِ مطلق ہے ہر شے پر ذاتی قدرت رکھتا ہے ، کوئی اس کی مشیّت کے خلاف کچھ نہیں کر سکتا تو کوئی اس کے سوا مستحقِ عبادت کیسے ہو سکتا ہے ، یہ ردِ شرک کی دل میں اثر کرنے والی دلیل ہے ۔
تم فرماؤ سب سے بڑی گواہی کس کی (ف٤٤) تم فرماؤ کہ اللہ گواہ ہے مجھ میں اور تم میں (ف٤۵) اور میری طرف اس قرآن کی وحی ہوئی ہے کہ میں اس سے تمھیں ڈراؤں (ف٤٦) اور جن جن کو پہنچے (ف٤۷) تو کیا تم (ف٤۸) یہ گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ اور خدا ہیں، تم فرماؤ (ف٤۹) کہ میں یہ گواہی نہیں دیتا (ف۵۰) تم فرماؤ کہ وہ تو ایک ہی معبود ہے (ف۵۱) اور میں بیزار ہوں ان سے جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو (ف۵۲)
Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Whose testimony is the greatest?” Say, “Allah is the Witness between me and you; and this Qur’an has been sent down upon me, so I may warn you with it and whomever it may reach; so do you bear witness that there are other Gods along with Allah?” Say, “I do not bear witness to it”; Say, “He is the only One God and I do not have any relation with whatever you ascribe as partners (to Him).”
तुम फ़रमाओ सब से बड़ी गवाही किस की तुम फ़रमाओ कि अल्लाह गवाह है मुझ में और तुम में और मेरी तरफ़ इस कुरआन की वही हुई है कि मैं इस से तुम्हें डराऊँ और जिन जिन को पहुँचे तो क्या तुम यह गवाही देते हो कि अल्लाह के साथ और खुदा हैं , तुम फ़रमाओ कि मैं यह गवाही नहीं देता तुम फ़रमाओ कि वह तो एक ही माबूद है और मैं बेज़ार हूँ उनसे जिन को तुम शरीक ठहराते हो
Tum farmao sab se badi gawahi kis ki? Tum farmao ke Allah gawah hai mujh mein aur tum mein aur meri taraf is Qur’an ki wahi hui hai ke main is se tumhein daraaun aur jin jin ko pahunche. To kya tum yeh gawahi dete ho ke Allah ke saath aur khuda hain? Tum farmao ke main yeh gawahi nahin deta. Tum farmao ke woh to ek hi ma’bood hai aur main bezaar hoon un se jin ko tum shareek thehrate ho.
(ف44)شانِ نُزول : اہلِ مکّہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگے کہ اے محمّد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہمیں کوئی ایسا دکھائیے جو آپ کی رسالت کی گواہی دیتا ہو ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(ف45)اور اتنی بڑی اور قابلِ قبول گواہی اور کس کی ہو سکتی ہے ۔(ف46)یعنی اللہ تعالٰی میری نبوّت کی شہادت دیتا ہے اس لئے کہ اس نے میری طرف اس قرآن کی وحی فرمائی اور یہ ایسا معجِزہ ہے کہ تم باوجود فصیح بلیغ صاحبِ زبان ہونے کے اس کے مقابلہ سے عاجز رہے تو اس کتاب کا مجھ پر نازل ہونا اللہ کی طرف سے میرے رسول ہونے کی شہادت ہے ، جب یہ قرآن اللہ تعالٰی کی طرف سے یقینی شہادت ہے اور میری طرف وحی فرمایا گیا تاکہ میں تمہیں ڈراؤں کہ تم حکمِ الٰہی کی مخالفت نہ کرو ۔(ف47)یعنی میرے بعد قیامت تک آنے والے جنہیں یہ قرآن پاک پہنچے خواہ وہ انسان ہوں یا جن ان سب کو میں حکمِ الٰہی کی مخالفت سے ڈراؤں ۔ حدیث شریف میں ہے کہ جس شخص کو قرآنِ پاک پہنچا گویا کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ کا کلام مبارک سنا ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کِسرٰی اور قیصر وغیرہ سلاطین کو دعوتِ اسلام کے مکتوب بھیجے (مدارک و خازن) اس کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ کہ مَنْ بَلَغَ میں مَنْ مرفوعُ المحل ہے اور معنٰی یہ ہیں کہ اس قرآن سے میں تم کو ڈراؤں اور وہ ڈرائیں جنہیں یہ قرآن پہنچے ۔ ترمذی کی حدیث میں ہے کہ اللہ تر و تازہ کرے اس کو جس نے ہمارا کلام سنا اور جیسا سنا ویسا پہنچایا بہت سے پہنچائے ہوئے سننے والے سے زیادہ اہل ہوتے ہیں اور ایک روایت میں ہے سننے والے سے زیادہ اَفۡقَہ ہوتے ہیں اس سے فقہا کی منزلت معلوم ہوتی ہے ۔(ف48)اے مشرکین ۔(ف49)اے حبیبِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ۔(ف50)جو گواہی تم دیتے ہو اور اللہ کے ساتھ دوسرے معبود ٹھہراتے ہو ۔(ف51)اس کا کوئی شریک نہیں ۔(ف52)مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ جو شخص اسلام لائے اس کو چاہئے کہ توحید و رسالت کی شہادت کے ساتھ اسلام کے ہر مخالف عقیدہ و دین سے بیزاری کا اظہار کرے ۔
جن کو ہم نے کتاب دی (ف۵۳) اس نبی کو پہچانتے ہیں (ف۵٤) جیسا اپنے بیٹے کو پہچانتے ہیں (ف۵۵) جنہوں نے اپنی جان نقصان میں ڈالی وہ ایمان نہیں لاتے،
The people to whom We gave the Book(s) recognise this Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) as they recognise their own sons; those who put their own souls to ruin, do not accept faith.
जिन को हम ने किताब दी इस नबी को पहचानते हैं जैसा अपने बेटे को पहचानते हैं जिन्होंने अपनी जान नुक़सान में डाली वह ईमान नहीं लाते ,
Jin ko hum ne kitaab di is Nabi ko pehchante hain jaisa apne bete ko pehchante hain, jinhon ne apni jaan nuqsan mein daali woh imaan nahin laate.
(ف53)یعنی عُلَمائے یہود و نصارٰی جنہوں نے توریت و انجیل پائی ۔(ف54)آپ کے حُلیہ شریف اور آپ کے نعت و صفت سے جو ان کتابوں میں مذکور ہے ۔(ف55)یعنی بغیر کسی شک و شبہ کے ۔
اور جس دن ہم سب کو اٹھائیں گے پھر مشرکوں سے فرمائیں گے کہاں ہیں تمہارے وہ شریک جن کا تم دعویٰ کرتے تھے،
And on the day when We will resurrect everyone together, then say to the polytheists, “Where are those partners (your false deities) whom you professed?”
और जिस दिन हम सब को उठाएँगे फिर मुश्रिकों से फ़रमाएँगे कहाँ हैं तुम्हारे वह शरीक जिन का तुम दावा करते थे ,
Aur jis din hum sab ko uthayenge phir mushrikon se farmaayenge kahan hain tumhare woh shareek jinka tum dawa karte the.
اور ان میں کوئی وہ ہے جو تمہاری طرف کان لگاتا ہے (ف۵۹) اور ہم نے ان کے دلوں پر غلاف کردیے ہیں کہ اسے نہ سمجھیں اور ان کے کانٹ میں ٹینٹ (روئی) اور اگر ساری نشانیاں دیکھیں تو ان پر ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ جب تمہارے حضور تم سے جھگڑتے حاضر ہوں تو کافر کہیں یہ تو نہیں مگر اگلوں کی داستانیں (ف٦۰)
And among them is one who listens to you; and We have put covers upon their hearts so they may not understand it, and deafness in their ears; and (even) if they see all the signs, they will not believe in them; to the extent that when they come to you to debate with you, the disbelievers say, “This is nothing but stories of former people.”
और उनमें कोई वह है जो तुम्हारी तरफ़ कान लगाता है और हम ने उनके दिलों पर ग़िलाफ़ कर दिए हैं कि उसे न समझें और उनके कान में टेन्ट (रूई) और अगर सारी निशानियाँ देखें तो उन पर ईमान न लाएँगे यहाँ तक कि जब तुम्हारे हुज़ूर तुम से झगड़ते हाज़िर हों तो काफ़िर कहें यह तो नहीं मगर अगलों की दास्तानें
Aur un mein koi woh hai jo tumhari taraf kaan lagata hai aur hum ne unke dilon par ghilaaf kar diye hain ke use na samjhen aur unke kaanon mein tent (rooi). Aur agar sari nishaniyan dekhen to un par imaan na laayenge, yahan tak ke jab tumhare huzoor tum se jhagtay haazir hon to kafir kahen yeh to nahin magar uglon ki daastanen.
(ف59)ابوسفیان ، ولید و نضر اور ابوجہل وغیرہ جمع ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوتِ قرآنِ پاک سننے لگے تو نضر سے اس کے ساتھیوں نے کہا کہ محمّد (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا کہتے ہیں ؟ کہنے لگا میں نہیں جانتا زبان کو حرکت دیتے ہیں اور پہلوں کے قِصّہ کہتے ہیں جیسے میں تمہیں سُنایا کرتا ہوں ، ابوسفیان نے کہا کہ ان کی باتیں مجھے حق معلوم ہوتی ہیں ابوجہل نے کہا کہ اس کا اقرار کرنے سے مر جانا بہتر ہے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(ف60)اس سے ان کا مطلب کلامِ پاک کی وحیٔ الٰہی ہونے کا انکار کرنا ہے ۔
اور وہ اس سے روکتے (ف٦۱) اور اس سے دور بھاگتے ہیں اور بلاک نہیں کرتے مگر اپنی جانیں (ف٦۲) اور انہیں شعور نہیں،
And they stop (others) from it and run away from it; and they ruin none except themselves, and they do not have sense.
और वह उस से रोकते और उस से दूर भागते हैं और बलाक नहीं करते मगर अपनी जानें और उन्हें शऊर नहीं ,
Aur woh is se rokte aur is se door bhaagte hain aur balaak nahin karte magar apni jaanen aur unhein shu’oor nahin.
(ف61)یعنی مشرکین لوگوں کو قرآنِ شریف سے یا رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ پر ایمان لانے اور آپ کا اِتّباع کرنے سے روکتے ہیں ۔شانِ نُزول : یہ آیت کہ کُفّارِ مکہ کے حق میں نازل ہوئی جو لوگوں کو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور آپ کی مجلس میں حاضر ہونے اور قرآن کریم سننے سے روکتے تھے اور خود بھی دور رہتے تھے کہ کہیں کلام مبارک ان کے دل میں اثر نہ کر جائے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ آیت حضور کے چچا ابوطالب کے حق میں نازل ہوئی جو مشرکین کو تو حضور کی ایذا رسانی سے روکتے تھے اور خود ایمان لانے سے بچتے تھے ۔(ف62)یعنی اس کا ضرر خود انہیں کو پہنچتا ہے ۔
اور کبھی تم دیکھو جب وہ آگ پر کھڑے کئے جائیں گے تو کہیں گے کاش کسی طرح ہم واپس بھیجے جائیں (ف٦۳) اور اپنے رب کی آیتیں نہ جھٹلائیں اور مسلمان ہوجائیں،
And if you see them when they will be placed above hell, they will say, “Alas, if only we might be sent back and not deny the signs of our Lord, and become Muslims!”
और कभी तुम देखो जब वह आग पर खड़े किए जाएँगे तो कहेंगे काश किसी तरह हम वापस भेजे जाएँ और अपने रब की आयतें न झटलाएँ और मुसलमान हो जाएँ ,
Aur kabhi tum dekho jab woh aag par khade kiye jayenge to kahenge kaash kisi tarah hum wapas bheje jaayen aur apne Rab ki aayaten na jhutlayen aur musalman ho jaayen.
بلکہ ان پر کھل گیا جو پہلے چھپاتے تھے (ف٦٤) اور اگر واپس بھیجے جائیں تو پھر وہی کریں جس سے منع کیے گئے تھے اور بیشک وہ ضرور جھوٹے ہیں،
In fact it has become clear to them what they used to hide before; and were they to be sent back, they would commit the same which they were forbidden to, and undoubtedly they are liars.
बल्कि उन पर खुल गया जो पहले छुपाते थे और अगर वापस भेजे जाएँ तो फिर वही करें जिस से मना किए गए थे और बेशक वह ज़रूर झूठे हैं ,
Balke un par khul gaya jo pehle chhupate the aur agar wapas bheje jaayen to phir wohi karen jis se mana kiye gaye the aur beshak woh zaroor jhootey hain.
(ف64)جیسا کہ اوپر اسی رکوع میں مذکور ہو چکا کہ مشرکین سے جب فرمایا جائے گا کہ تمھارے شریک کہاں ہیں تو وہ اپنے کُفر کو چھپا جائیں گے اور اللہ کی قَسم کھا کر کہیں گے کہ ہم مشرک نہ تھے ۔ اس آیت میں بتایا گیاکہ پھر جب انہیں ظاہر ہو جائے گا جو وہ چھپاتے تھے یعنی ان کا کُفر اس طرح ظاہر ہو گا کہ ان کے اعضا و جوارح ان کے کُفر و شرک کی گواہیاں دیں گے تب وہ دنیا میں واپس جانے کی تمنّا کریں گے ۔
اور بولے (ف٦۵) وہ تو یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے اور ہمیں اٹھنا نہیں (ف٦٦)
And they said, “There is no other life except our life of this world, and we are not to be raised.”
और बोले वह तो यही हमारी दुनिया की ज़िन्दगी है और हमें उठना नहीं
Aur bole woh to yahi hamari duniya ki zindagi hai aur humein uthna nahin.
(ف65)یعنی کُفّار جو بَعث و آخرت کے منکِر ہیں اور اس کا واقعہ یہ تھا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کُفّارکو قیامت کے احوال اور آخرت کی زندگانی ، ایمانداروں اور فرمانبرداروں کے ثواب ، کافِروں اور نافرمانوں پر عذاب کا ذکر فرمایا تو کافِر کہنے لگے کہ زندگی تو بس دنیا ہی کی ہے ۔(ف66)یعنی مرنے کے بعد ۔
اور کبھی تم دیکھو جب اپنے رب کے حضور کھڑے کیے جائیں گے، فرمائے گا کیا یہ حق نہیں (ف٦۷) کہیں گے کیوں نہیں، ہمیں اپنے رب کی قسم ، فرمائے گا تو اب عذاب چکھو بدلہ اپنے کفر کا،
And if you see when they are placed before their Lord, He will say, “Is this not real (the truth)? They will say, “Yes – why not, by our Lord!” He will say, “So now taste the punishment – the recompense of your disbelief.”
और कभी तुम देखो जब अपने रब के हुज़ूर खड़े किए जाएँगे , फ़रमाएगा क्या यह हक़ नहीं कहेंगे क्यों नहीं , हमें अपने रब की क़सम , फ़रमाएगा तो अब अज़ाब चखो बदला अपने कुफ़्र का,
Aur kabhi tum dekho jab apne Rab ke huzoor khade kiye jayenge, farmaayega kya yeh haqq nahin? Kahenge kyun nahin, humen apne Rab ki qasam. Farmaayega to ab azaab chakhho badla apne kufr ka.
بیشک ہار میں رہے وہ جنہوں نے اپنے رب سے ملنے کا انکار کیا، یہاں تک کہ جب ان پر قیامت اچانک آگئی بولے ہائے افسوس ہمارا اس پر کہ اس کے ماننے میں ہم نے تقصیر کی، اور وہ اپنے (ف٦۸) بوجھ اپنی پیٹھ پر لادے ہوئے ہیں ارے کتنا برُا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں (ف٦۹)
Those who denied their meeting with Allah, have indeed failed; to the extent that when the Last Day suddenly came upon them they said, “Woe to us that we failed to believe in it” – and they carry their burdens on their backs; what an evil burden they carry!
बेशक हार में रहे वह जिन्होंने अपने रब से मिलने का इन्कार किया, यहाँ तक कि जब उन पर क़यामत अचानक आ गई बोले हाय अफ़सोस हमारा उस पर कि उसके मानने में हमने तक़्सीर की, और वह अपने बोझ अपनी पीठ पर लादे हुए हैं अरे कितना बुरा बोझ उठाए हुए हैं
Beshak haar mein rahe woh jinhon ne apne Rab se milne ka inkaar kiya, yahan tak ke jab un par Qayamat achanak aa gayi, bole haaye afsos hamara is par ke is ke maanne mein hum ne taqseer ki, aur woh apne bojh apni peeth par la de huye hain. Aray kitna bura bojh uthaye huye hain.
(ف68)گناہوں کے ۔(ف69)حدیث شریف میں ہے کہ کافِر جب اپنی قبر سے نکلے گا تو اس کے سامنے نہایت قبیح بھیانک اور بہت بدبودار صورت آئے گی ، وہ کافِر سے کہے گی تو مجھے پہچانتا ہے ؟ کافِر کہے گا نہیں تو وہ کافِر سے کہے گی میں تیرا خبیث عمل ہوں دنیا میں تو مجھ پر سوار رہا تھا آج میں تجھ پر سوار ہوں گا اور تجھے تمام خَلق میں رُسوا کروں گا ۔ پھر وہ اس پر سوار ہو جاتا ہے ۔
اور دنیا کی زندگی نہیں مگر کھیل کود (ف۷۰) اور بیشک پچھلا گھر بھلا ان کے لئے جو ڈرتے ہیں (ف۷۱) تو کیا تمہیں سمجھ نہیں،
The life of this world is nothing except a pastime and sport; and undoubtedly the abode of the Hereafter is better for the pious; so do you not have sense?
और दुनिया की ज़िन्दगी नहीं मगर खेल कूद और बेशक पिछला घर भला उनके लिये जो डरते हैं तो क्या तुम्हें समझ नहीं ,
Aur duniya ki zindagi nahin magar khel kood, aur beshak pichhla ghar bhala unke liye jo darte hain, to kya tumhein samajh nahin?
(ف70)جسے بقا نہیں جلد گزر جاتی ہے اور نیکیاں اور طاعتیں اگرچہ مؤمنین سے دنیا ہی میں واقع ہوں لیکن وہ امورِ آخرت میں سے ہیں ۔(ف71)اس سے ثابت ہوا کہ اعمالِ متّقِین کے سوا دنیا میں جو کچھ ہے سب لہو و لعب ہے ۔
ہمیں معلوم ہے کہ تمہیں رنج دیتی ہے وہ بات جو یہ کہہ رہے ہیں (ف۷۲) تو وہ تمہیں نہیں جھٹلاتے (ف۷۳) بلکہ ظالم اللہ کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں (ف۷٤)
We know well that their statement grieves you – so they do not deny you (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) but in fact the unjust deny the signs of Allah.
हमें मालूम है कि तुम्हें रंज देती है वह बात जो यह कह रहे हैं तो वह तुम्हें नहीं झटلاتे बल्कि ज़ालिम अल्लाह की आयतों से इन्कार करते हैं
Humein maaloom hai ke tumhein ranj deti hai woh baat jo yeh keh rahe hain, to woh tumhein nahin jhutlate, balke zaalim Allah ki aayon se inkaar karte hain.
(ف72)شانِ نُزول : اَخنَس بن شریق او ر ابوجہل کی باہم ملاقات ہوئی تو اخنس نے ابوجہل سے کہا اے ابوالحَکَم (کُفّارابوجہل کو ابوالحَکَم کہتے تھے) یہ تنہائی کی جگہ ہے اور یہاں کوئی ایسا نہیں جو میری تیری بات پر مطلِع ہو سکے اب تو مجھے ٹھیک ٹھیک بتا کہ محمّد (صلی اللہ علیہ وسلم) سچّے ہیں یا نہیں ؟ ابوجہل نے کہا کہ اللہ کی قسم محمّد (صلی اللہ علیہ وسلم) بے شک سچّے ہیں کبھی کوئی جھوٹا حرف ان کی زبان پر نہ آیا مگر بات یہ ہے کہ یہ قُصَی کی اولاد ہیں اور لِوَا ، سقایت ، حجابت ، ندوہ وغیرہ تو سارے اعزاز انہیں حاصل ہی ہیں ، نبوّت بھی انہیں میں ہو جائے تو باقی قریشیوں کے لئے اعزاز کیا رہ گیا ۔ ترمذی نے حضرت علی مرتضٰی سے روایت کی کہ ابوجہل نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ہم آپ کی تکذیب نہیں کرتے ہم تو اس کتاب کی تکذیب کرتے ہیں جوآپ لائے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(ف73)اس میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی تسکینِ خاطر ہے کہ قوم حضور کے صدق کا اعتقاد رکھتی ہے لیکن ان کی ظاہری تکذیب کا باعث ان کا حسد و عناد ہے ۔(ف74)آیت کے یہ معنٰی بھی ہوتے ہیں کہ اے حبیبِ اکرم آپ کی تکذیب آیاتِ الٰہیہ کی تکذیب ہے اور تکذیب کرنے والے ظالم ۔
اور تم سے پہلے رسول جھٹلائے گئے تو انہوں نے صبر کیا اس جھٹلانے اور ایذائیں پانے پر یہاں تک کہ انہیں ہماری مدد آئی (ف۷۵) اور اللہ کی باتیں بدلنے والا کوئی نہیں (ف۷٦) اور تمہارے پاس رسولوں کی خبریں آ ہی چکیں ہیں (ف۷۷)
And indeed Noble Messengers have been denied before you, so they patiently bore the denial and torture till Our help reached them; and there is none to alter the decisions of Allah; and the news of the Noble Messengers have already reached you.
और तुम से पहले रसूल झट्लाए गये तो उन्होंने सब्र किया उस झटलाने और ईज़ाएँ पाने पर यहाँ तक कि उन्हें हमारी मदद आई और अल्लाह की बातें बदलने वाला कोई नहीं और तुम्हारे पास रसूलों की खबरें आ ही चुकी हैं
Aur tum se pehle Rasool jhutlaye gaye to unhon ne sabr kiya is jhutlane aur ezaaen paane par, yahan tak ke unhein hamari madad aayi. Aur Allah ki baaten badalne wala koi nahin, aur tumhare paas Rasoolon ki khabrein aa hi chuki hain.
(ف75)اور تکذیب کرنے والے ہلاک کئے گئے ۔(ف76)اس کے حکم کو کوئی پلٹ نہیں سکتا ، رسولوں کی نُصرت اور ان کے تکذیب کرنے والوں کا ہلاک اس نے جس وقت مقدر فرمایا ہے ضرور ہو گا ۔(ف77)اور آپ جانتے ہیں کہ انہیں کُفّار سے کیسی ایذائیں پہنچیں ، یہ پیشِ نظر رکھ کر آپ دل مطمئن رکھیں ۔
اور اگر ان کا منہ پھیرنا تم پر شاق گزرا ہے (ف۷۸) تو اگر تم سے ہوسکے تو زمین میں کوئی سرنگ تلاش کرلو یا آسمان میں زینہ پھر ان کے لیے نشانی لے آؤ (ف۷۹) اور اللہ چاہتا تو انہیں ہدایت پر اکٹھا کردیتا تو اے سننے والے تو ہرگز نادان نہ بن،
And if their turning away has grieved you, then if you can, seek a tunnel into the earth or a ladder into the sky to bring a sign for them; and if Allah willed, He could have brought them all together upon guidance, so O listener (followers of this Prophet) do not ever be of the ignorant.
और अगर उनका मुँह फेरना तुम पर शाक़ गुज़रा है तो अगर तुम से हो सके तो ज़मीन में कोई सुरंग तलाश कर लो या आसमान में ज़ीना फिर उनके लिये निशानी ले आओ और अल्लाह चाहता तो उन्हें हिदायत पर इकट्ठा कर देता तो ऐ सुनने वाले तू हरगिज़ नादान न बन,
Aur agar unka munh pherna tum par shaq guzra hai to agar tum se ho sake to zameen mein koi surang talaash kar lo ya aasman mein zeena, phir unke liye nishani le aao. Aur Allah chahta to unhein hidayat par akhatta kar deta, to ae sunne wale tu hargiz nadan na ban.
(ف78)سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت خواہش تھی کہ سب لوگ اسلام لے آئیں جو اسلام سے محروم رہتے ہیں ان کی محرومی آپ پر بہت شاق رہتی ۔(ف79)مقصود ان کے ایمان کی طرف سے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی امید منقطع کرنا ہے تاکہ آپ کو ان کے اِعراض کرنے اور ایمان نہ لانے سے رنج و تکلیف نہ ہو ۔
مانتے تو وہی ہیں جو سنتے ہیں (ف۸۰) اور ان مردہ دلوں (ف۸۱) کو اللہ اٹھائے گا (ف۸۲) پھر اس کی طرف ہانکے جائیں گے (ف۸۳)
It is only those who hear (with sincere hearts) that accept faith; and Allah will raise these people dead of heart, then towards Him they will be herded.
मानते तो वही हैं जो सुनते हैं और उन मुर्दा दिलों को अल्लाह उठाएगा फिर उसकी तरफ़ हाँके जाएँगे
Maante to wohi hain jo sunte hain, aur un murda dilon ko Allah uthayega, phir us ki taraf haanke jaayenge.
(ف80)دل لگا کر سمجھنے کے لئے وہی پَنۡدپذیر ہوتے ہیں اور دینِ حق کی دعوت قبول کرتے ہیں ۔(ف81)یعنی کُفّار ۔(ف82)روزِ قیامت ۔(ف83)اور اپنے اعمال کی جزا پائیں گے ۔
اور بولے (ف۸٤) ان پر کوئی نشانی کیوں نہ اتری ان کے رب کی طرف سے (ف۸۵) تم فرماؤ کہ اللہ قادر ہے کہ کوئی نشانی اتارے لیکن ان میں بہت نرے (بالکل) جاہل ہیں (ف۸٦)
And they said, “Why has no sign been sent down upon him from his Lord?” Say, “Indeed Allah is Able to send down a sign”, but most of them are totally ignorant.
और बोले उन पर कोई निशानी क्यों न उतरी उनके रब की तरफ़ से तुम फरमाओ कि अल्लाह क़ादिर है कि कोई निशानी उतारे लेकिन उनमें बहुत निरे (बिलकुल) जाहिल हैं
Aur bole un par koi nishani kyun na utri unke Rab ki taraf se? Tum farmao ke Allah qaadir hai ke koi nishani utaare, lekin in mein bohot nare (bilkul) jaahil hain.
(ف84)کُفّارِ مکہ ۔(ف85)کُفّار کی گمراہی اور ان کی سرکشی اس حد تک پہنچ گئی کہ وہ کثیر آیات و معجزات جو انہوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشاہدہ کئے تھے ان پر قناعت نہ کی اور سب سے مُکر گئے اور ایسی آیت طلب کرنے لگے جس کے ساتھ عذابِ الٰہی ہو جیسا کہ انہوں نے کہا تھا ۔ اَللّٰھُمَّ اِنْ کَانَ ھٰذَا ھُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآءِ یا ربّ اگر یہ حق ہے تیرے پاس سے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا (تفسیر ابوالسعود)(ف86)نہیں جانتے کہ اس کا نُزول ان کے لئے بَلا ہے کہ انکار کرتے ہی ہلاک کر دیئے جائیں گے ۔
اور نہیں کوئی زمین میں چلنے والا اور نہ کوئی پرند کہ اپنے پروں پر اڑتا ہے مگر تم جیسی امتیں (ف۸۷) ہم نے اس کتاب میں کچھ اٹھا نہ رکھا (ف۸۸) پھر اپنے رب کی طرف اٹھائے جائیں گے (ف۸۹)
And there is not an animal moving in the earth nor a bird flying on its wings, but they are a nation like you; We have left out nothing in this Book – then towards their Lord they will be raised.
और नहीं कोई ज़मीन में चलने वाला और न कोई परिन्द कि अपने परों पर उड़ता है मगर तुम जैसी उम्मतेँ हमने इस किताब में कुछ उठा न रखा फिर अपने रब की तरफ़ उठाए जाएँगे
Aur nahin koi zameen mein chalne wala aur na koi parind jo apne paron par urta hai magar tum jaisi ummatein. Hum ne is kitaab mein kuchh uthha na rakha, phir apne Rab ki taraf uthaye jaayenge.
(ف87)یعنی تمام جاندار خواہ وہ بہائم ہو یا درندے یا پرند ، تمہاری مثل اُمّتیں ہیں ۔ یہ مماثلت جمیع وجوہ سے تو ہے نہیں بعض سے ہے ، ان وجوہ کے بیان میں بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ حیوانات تمھاری طرح اللہ کو پہچانتے ، واحد جانتے ، اس کی تسبیح پڑھتے ، عبادت کرتے ہیں ۔ بعض کا قول ہے کہ وہ مخلوق ہونے میں تمہاری مثل ہیں ۔ بعض نے کہا کہ وہ انسان کی طرح باہمی الفت رکھتے اور ایک دوسرے سے تفہیم و تَفَہُّم کرتے ہیں ۔ بعض کا قول ہے کہ روزی طلب کرنے ، ہلاکت سے بچنے ، نر مادہ کی امتیاز رکھنے میں تمہاری مثل ہیں ۔ بعض نے کہا کہ پیدا ہونے ، مرنے ، مرنے کے بعد حساب کے لئے اٹھنے میں تمہاری مثل ہیں ۔(ف88)یعنی جملہ علوم اور تمام مَاکَانَ وَ مَا یَکُوْنُ کا اس میں بیان ہے اور جمیع اشیاء کا علم اس میں ہے ، اس کتاب سے یا قرآنِ کریم مراد ہے یا لوحِ محفوظ ۔ (جمل وغیرہ)(ف89)اور تمام دَوَابّ و طیور کا حساب ہو گا ، اس کے بعد وہ خاک کر دیئے جائیں گے ۔
اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں بہرے اور گونگے ہیں (ف۹۰) اندھیروں میں (ف۹۱) اللہ جسے چاہے گمراہ کرے اور جسے چاہے سیدھے راستہ ڈال دے (ف۹۲)
And those who deny Our signs are deaf and dumb in realms of darkness; Allah may send astray whomever He wills; and may place on the Straight Path whomever He wills.
और जिन्होंने हमारी आयतें झट्लाईं बहरे और गूँगे हैं अंधेरों में अल्लाह जिसे चाहे गुमराह करे और जिसे चाहे सीधे रास्ता डाल दे
Aur jinhon ne hamari aayaten jhutlayin, behre aur goonge hain andheron mein. Allah jise chahe gumraah kare aur jise chahe seedhe raaste daal de.
(ف90)کہ حق ماننا اور حق بولنا انہیں میسّر نہیں ۔(ف91)جَہل اور حیرت اور کُفر کے ۔(ف92)اسلام کی توفیق عطا فرمائے ۔
تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو اگر تم پر اللہ کا عذاب آئے یا قیامت قائم ہو کیا اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے (ف۹۳) اگر سچے ہو (ف۹٤)
Say, “What is your opinion – if the punishment of Allah comes upon you or the Hour arrives, will you call upon anyone (deity) besides Allah; if you are truthful?”
तुम फरमाओ भला बताओ तो अगर तुम पर अल्लाह का अज़ाब आए या क़यामत क़ायम हो क्या अल्लाह के सिवा किसी और को पुकारोगे अगर सच्चे हो
Tum farmao bhala batao to agar tum par Allah ka azaab aaye ya Qayamat qaim ho, kya Allah ke siwa kisi aur ko pukaroge agar sachche ho?
(ف93)اور جن کو دنیا میں معبود مانتے تھے ان سے حاجت روائی چاہو گے ۔(ف94)اپنے اس دعوٰی میں کہ معاذ اللہ بُت معبود ہیں تو اس وقت انہیں پکارو مگر ایسا نہ کرو گے ۔
بلکہ اسی کو پکارو گے تو وہ اگر چاہے (ف۹۵) جس پر اسے پکارتے ہو اسے اٹھالے اور شریکوں کو بھول جاؤ گے (ف۹٦)
“In fact you will only call upon Him, and if He wills, He may remove that because of which you prayed to Him, and you will forget the partners (you ascribe to Him).”
बल्कि उसी को पुकारोगे तो वह अगर चाहे जिस पर उसे पुकारते हो उसे उठा ले और शरीकों को भूल जाओगे
Balke usi ko pukaroge to woh agar chahe jis par use pukarte ho use uthaa le, aur shareekon ko bhool jaoge.
(ف95)تو اس مصیبت کو ۔(ف96)جنہیں اپنے اعتقادِ باطل میں معبود جانتے تھے اور ان کی طرف التفات بھی نہ کرو گے کیونکہ تمہیں معلوم ہے کہ وہ تمہارے کام نہیں آ سکتے ۔
اور بیشک ہم نے تم سے پہلی امتوں کی طرف رسول بھیجے تو انہیں سختی اور تکلیف سے پکڑا (ف۹۷) کہ وہ کسی طرح گڑگڑائیں (ف۹۸)
And We have indeed sent Noble Messengers towards the nations that were before you – We therefore seized them with hardship and adversity so that, in some way, they may humbly plead.
और बेशक हमने तुम से पहली उम्मतों की तरफ़ रसूल भेजे तो उन्हें सख़्ती और तकलीफ़ से पकड़ा कि वह किसी तरह गिड़गिड़ाएँ
Aur beshak hum ne tum se pehli ummaton ki taraf Rasool bheje to unhein sakhti aur takleef se pakda taake woh kisi tarah girgiraayen.
(ف97)فَقر و اِفلاس اور بیماری وغیرہ میں مبتلا کیا ۔(ف98)اللہ کی طرف رجوع کریں ، اپنے گناہوں سے باز آئیں ۔
تو کیوں نہ ہوا کہ جب ان پر ہمارا عذاب آیا تو گڑگڑائے ہوتے لیکن ان کے دل تو سخت ہوگئے (ف۹۹) اور شیطان نے ان کے کام ان کی نگاہ میں بھلے کر دکھائے،
So why did they not humbly plead when Our punishment came to them? But their hearts were hardened and the devil made all their deeds appear good to them!
तो क्यों न हुआ कि जब उन पर हमारा अज़ाब आया तो गिड़गिड़ाए होते लेकिन उनके दिल तो सख़्त हो गये और शैतान ने उनके काम उनकी निगाह में भले कर दिखाए ,
To kyun na hua ke jab un par hamara azaab aaya to girgiraaye hote? Lekin unke dil to sakht ho gaye, aur shaitaan ne unke kaam unki nigaah mein bhale kar dikhaye.
(ف99)وہ بارگاہِ الٰہی میں عاجز ی کرنے کے بجائے کُفر و تکذیب پر مُصِر رہے ۔
پھر جب انہوں نے بھلا دیا جو نصیحتیں ان کو کی گئیں تھیں (ف۱۰۰) ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے (ف۱۰۱) یہاں تک کہ جب خوش ہوئے اس پر جو انہیں ملا (ف۱۰۲) تو ہم نے اچانک انہیں پکڑلیا (ف۱۰۳) اب وہ آس ٹوٹے رہ گئے،
So when they forgot the advices made to them, We opened the gates of all things for them; to the extent that when they were rejoicing for what they had received, We seized them suddenly, hence they remained dejected.
फिर जब उन्होंने भुला दिया जो नसीहतें उनको की गईं थीं हमने उन पर हर चीज़ के दरवाज़े खोल दिये यहाँ तक कि जब खुश हुए उस पर जो उन्हें मिला तो हमने अचानक उन्हें पकड़ लिया अब वह आस टूटे रह गये ,
Phir jab unhon ne bhula diya jo naseehatein unko ki gayi thein, hum ne unpar har cheez ke darwaze khol diye, yahan tak ke jab khush hue us par jo unhein mila, to hum ne achanak unhein pakad liya, ab woh aas toote rah gaye.
(ف100)اور وہ کسی طرح پَند پذیر نہ ہوئے ، نہ پیش آئی ہوئی مصیبتوں سے ، نہ انبیاء کی نصیحتوں سے ۔(ف101)صحت و سلامت اور وسعتِ رزق و عیش وغیرہ کے ۔(ف102)اور اپنے آپ کو اس کا مستحق سمجھے اور قارون کی طرح تکبُّر کرنے لگے ۔(ف103)اور مبتلائے عذاب کیا ۔
تو جڑ کاٹ دی گئی ظالموں کی (ف۱۰٤) اور سب خوبیاں سراہا اللہ رب سارے جہاں کا (ف۱۰۵)
The origins of the unjust people were therefore cut off; and all praise is to Allah, Lord Of The Creation.
तो जड़ काट दी गई ज़ालिमों की और सब खूबियाँ सराहा अल्लाह रब सारे जहाँ का
To jarr kaat di gayi zaalimoon ki, aur sab khoobiyaan saraha Allah Rab saare jahan ka.
(ف104)اور سب کے سب ہلاک کر دیئے گئے کوئی باقی نہ چھوڑا گیا ۔(ف105)اس سے معلوم ہوا کہ گمراہوں ، بے دینوں ، ظالموں کی ہلاکت اللہ تعالٰی کی نعمت ہے اس پر شکر کرنا چاہئے ۔
تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو اگر اللہ تمہارے کان آنکھ لے لے اور تمہارے دلوں پر مہر کردے (ف۱۰٦) تو اللہ سوا کون خدا ہے کہ تمہیں یہ چیزیں لادے (ف۱۰۷) دیکھو ہم کس کس رنگ سے آیتیں بیان کرتے ہیں پھر وہ منہ پھیر لیتے ہیں،
Say, “What is your opinion – if Allah were to take away your hearing and your sight and seal your hearts, then is there a God besides Allah who could restore it for you?” Observe how We explain the verses to them, yet they turn away!
तुम फरमाओ भला बताओ तो अगर अल्लाह तुम्हारे कान आँख ले ले और तुम्हारे दिलों पर मोहर कर दे तो अल्लाह सिवा कौन ख़ुदा है कि तुम्हें यह चीज़ें ला दे देखो हम किस किस रंग से आयतें बयान करते हैं फिर वह मुँह फेर लेते हैं ,
Tum farmao bhala batao to agar Allah tumhare kaan aankh le le aur tumhare dilon par mohar kar de to Allah siwa kaun khuda hai jo tumhein yeh cheezen la de? Dekho hum kis kis rang se aayaten bayan karte hain phir woh munh pher lete hain.
(ف106)اور علم و معرفت کا تمام نظام درہم برہم ہو جائے ۔(ف107)اس کا جواب یہی ہے کہ کوئی نہیں تو اب توحید پر قوی دلیل قائم ہو گئی کہ جب اللہ کے سوا کوئی اتنی قدرت و اختیار والا نہیں تو عبادت کا مستحق صرف وہی ہے اور شرک بدترین ظلم و جُرم ہے ۔
تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو اگر تم پر اللہ کا عذاب آئے اچانک (ف۱۰۸) یا کھلم کھلا (ف۱۰۹) تو کون تباہ ہوگا سوا ظالموں کے (ف۱۱۰)
Say, “What is your opinion – if the punishment of Allah were to come upon you suddenly or openly (with forewarning), who would be destroyed except the disbelieving people?”
तुम फरमाओ भला बताओ तो अगर तुम पर अल्लाह का अज़ाब आए अचानक या खुलम खुला तो कौन तबाह होगा सिवा ज़ालिमों के
Tum farmao bhala batao to agar tum par Allah ka azaab aaye achanak ya khullam khulla, to kaun tabaah hoga siwa zaalimoon ke?
(ف108)جس کے آثار و علامات پہلے سے معلوم نہ ہوں ۔(ف109)آنکھوں دیکھتے ۔(ف110)یعنی کافِروں کے کہ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور یہ ہلاکت ان کے حق میں عذاب ہے ۔
اور ہم نہیں بھیجتے رسولوں کو مگر خوشی اور ڈر سناتے (ف۱۱۱) تو جو ایمان لائے اور سنورے (ف۱۱۲) ان کو نہ کچھ اندیشہ نہ کچھ غم،
And We did not send Noble Messengers except as Heralds of glad tidings and warnings; so upon those who accept faith and reform themselves, shall be no fear nor shall they grieve.
और हम नहीं भेजते रसूलों को मगर खुशी और डर सुनाते तो जो ईमान लाए और सँवरे उनको न कुछ अन्देशा न कुछ ग़म,
Aur hum nahin bhejte Rasoolon ko magar khushi aur darr sunaate. To jo imaan laaye aur sanware, unko na kuchh andesha na kuchh gham.
(ف111)ایمانداروں کو جنّت و ثواب کی بِشارتیں دیتے اور کافِروں کو جہنّم و عذاب سے ڈراتے ۔(ف112)نیک عمل کرے ۔
تم فرمادو میں تم سے نہیں کہتا میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہوں کہ میں آپ غیب جان لیتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہوں کہ میں فرشتہ ہوں (ف۱۱۳) میں تو اسی کا تابع ہوں جو مجھے وحی آتی ہے (ف۱۱٤) تم فرماؤ کیا برابر ہو جائیں گے اندھے اور انکھیارے (ف۱۱۵) تو کیا تم غور نہیں کرتے،
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “I do not say to you that I possess the treasures of Allah, nor do I say that I gain knowledge of the hidden on my own, nor do I say to you that I am an angel; I only follow what is divinely revealed to me”; say, “Will the blind and the sighted ever be equal? So do you not think?”
तुम फ़रमा दो मैं तुम से नहीं कहता मेरे पास अल्लाह के ख़ज़ाने हैं और न यह कहूँ कि मैं आप ग़ैब जान लेता हूँ और न तुम से यह कहूँ कि मैं फ़रिश्ता हूँ मैं तो उसी का ताबे हूँ जो मुझे वही आती है तुम फ़रमाओ क्या बराबर हो जाएँगे अंधे और अन्खियारे तो क्या तुम ग़ौर नहीं करते ,
Tum farma do main tum se nahin kehta mere paas Allah ke khazane hain, aur na yeh kahoon ke main ghaib jaan leta hoon, aur na tum se yeh kahoon ke main farishta hoon. Main to usi ka taabe hoon jo mujhe wahi aati hai. Tum farmao kya barabar ho jaayenge andhe aur ankhiyaare? To kya tum ghour nahin karte?
(ف113)کُفّار کا طریقہ تھا کہ وہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم سے طرح طرح کے سُوال کیا کرتے تھے ، کبھی کہتے کہ آپ رسول ہیں تو ہمیں بہت سی دولت اور مال دیجئے کہ ہم کبھی محتاج نہ ہوں ، ہمارے لئے پہاڑوں کو سونا کر دیجئے ، کبھی کہتے کہ گزشۃ اور آیٔندہ کی خبریں سنائیے اور ہمیں ہمارے مستقبل کی خبر دیجئے کیا کیا پیش آئے گا تاکہ ہم منافِع حاصل کر لیں اور نقصانوں سے بچنے کے پہلے سے انتظام کر لیں ، کبھی کہتے ہمیں قیامت کا وقت بتائیے کب آئے گی ، کبھی کہتے آپ کیسے رسول ہیں جو کھاتے پیتے بھی ہیں نکاح بھی کرتے ہیں ، ان کے ان تمام باتوں کا اس آیت میں جواب دیا گیا کہ یہ کلام نہایت بے مَحل اور جاہلانہ ہے کیونکہ جو شخص کسی امر کا مُدعی ہو اس سے وہی باتیں دریافت کی جا سکتی ہیں جو اس کے دعوٰی سے تعلق رکھتی ہوں ، غیر متعلق باتوں کا دریافت کرنا اور ان کو اس دعوٰی کے خلاف حُجّت بنانا انتہا درجہ کا جَہل ہے اس لئے ارشاد ہوا کہ آپ فرما دیجئے کہ میرا دعوٰی یہ تو نہیں کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں جو تم مجھ سے مال دولت کا سوال کرو اور میں اس کی طرف التفات نہ کروں تو رسالت سے منکِر ہو جاؤ ، نہ میرا دعوٰی ذاتی غیب دانی کا ہے کہ اگر میں تمہیں گزشۃ یا آیٔندہ کی خبریں نہ بتاؤں تو میری نبوّت ماننے میں عُذر کر سکو ، نہ میں نے فرشتہ ہونے کا دعوٰی کیا ہے کہ کھانا پینا ، نکاح کرنا قابلِ اعتراض ہو تو جن چیزوں کا دعوٰی ہی نہیں کیا ان کا سوال بے مَحل ہے اور اس کی اجابت مجھ پر لازم نہیں ، میرا دعوٰی نبوّت و رسالت کا ہے اور جب اس پر زبردست دلیلیں اور قوی برہانیں قائم ہو چکیں تو غیر متعلق باتیں پیش کرنا کیا معنٰی رکھتا ہے ۔ فائدہ : اس سے صاف واضح ہو گیا کہ اس آیتِ کریمہ کو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کے غیب پر مطلِع کئے جانے کی نفی کے لئے سند بنانا ایسا ہی بے محل ہے جیسا کُفّار کا ان سوالات کو انکارِ نبوّت کی دستاویز بنانا بے محل تھا علاوہ بریں اس آیت سے حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کےعلمِ عطائی کی نفی کسی طرح مراد ہی نہیں ہو سکتی کیونکہ اس صورت میں تعارُض بینَ الآیات کا قائِل ہونا پڑے گا وَ ہُوَ بَاطِل ۔ مفسِّرین کا یہ بھی قول ہے کہ حضور کا لَۤا اَقُوْلُ لَکُمْ الآیہ فرمانا بطریقِ تواضع ہے ۔ (خازن و مدارک و جمل وغیرہ)(ف114)اور یہی نبی کا کام ہے تو میں تمہیں وہی دوں گا جس کا مجھے اِذن ہو گا ، وہی بتاؤں گا جس کی اجازت ہوگی ، وہی کروں گا جس کا مجھے حکم ملا ہو ۔(ف115)مؤمن و کافِر عالِم و جاہل ۔
اور اس قرآن سے انہیں ڈراؤ جنہیں خوف ہو کہ اپنے رب کی طرف یوں اٹھائے جائیں کہ اللہ کے سوا نہ ان کا کوئی حمایتی ہو نہ کوئی سفارشی اس امید پر کہ وہ پرہیزگار ہوجائیں
And with this Qur’an warn those who fear, that they will be raised towards their Lord in a state when, except Allah, there will be no protector for them nor an intercessor, so that they may be pious.
और इस क़ुरआन से उन्हें डराओ जिन्हें ख़ौफ़ हो कि अपने रब की तरफ़ यूँ उठाए जाएँ कि अल्लाह के सिवा न उनका कोई हमायती हो न कोई सिफ़ारिशी इस उम्मीद पर कि वह परहेज़गार हो जाएँ
Aur is Qur’an se unhein darao jinhon ko khauf ho ke apne Rab ki taraf yun uthaye jaayen ke Allah ke siwa na unka koi himaayati ho na koi sifaarishi, is umeed par ke woh parhezgaar ho jaayen.
اور دور نہ کرو انہیں جو اپنے رب کو پکارتے ہیں صبح اور شام اس کی رضا چاہتے (ف۱۱٦) تم پر ان کے حساب سے کچھ نہیں اور ان پر تمہارے حساب سے کچھ نہیں (ف۱۱۷) پھر انہیں تم دور کرو تو یہ کام انصاف سے بعید ہے
And do not repel those who call upon their Lord in the morning and evening, seeking His pleasure; you are not responsible for their account nor are they responsible for your account – then your repelling them would be far from justice.
और दूर न करो उन्हें जो अपने रब को पुकारते हैं सुबह और शाम उसकी रज़ा चाहते तुम पर उनके हिसाब से कुछ नहीं और उन पर तुम्हारे हिसाब से कुछ नहीं फिर उन्हें तुम दूर करो तो यह काम इनसाफ़ से बईद है
Aur door na karo unhein jo apne Rab ko pukarte hain subah aur shaam, us ki raza chaahte. Tum par unke hisaab se kuchh nahin aur un par tumhare hisaab se kuchh nahin. Phir unhein tum door karo to yeh kaam insaaf se baeed hai.
(ف116)شانِ نُزول : کُفّار کی ایک جماعت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی انہوں نے دیکھا کہ حضور کے گرد غریب صحابہ کی ایک جماعت حاضر ہے جو ادنٰی درجہ کے لباس پہنے ہوئے ہیں ، یہ دیکھ کر وہ کہنے لگے کہ ہمیں ان لوگوں کے پاس بیٹھتے شرم آتی ہے ، اگر آپ انہیں اپنی مجلس سے نکال دیں تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں اور آپ کی خدمت میں حاضر رہیں ، حضور نے اس کو منظور نہ فرمایا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف117)سب کا حِساب اللہ پر ہے ، وہی تمام خَلق کو روزی دینے والا ہے ، اس کے سوا کسی کے ذمّہ کسی کا حساب نہیں ۔ حاصل معنٰی یہ کہ وہ ضعیف فُقَراء جن کا اوپر ذکر ہوا آپ کے دربار میں قرب پانے کے مستحق ہیں انہیں دور نہ کرنا ہی بجا ہے ۔
اور یونہی ہم نے ان میں ایک دوسرے کے لئے فتنہ بنایا کہ مالدار کافر محتاج مسلمانوں کو دیکھ کر (ف۱۱۸) کہیں کیا یہ ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا ہم میں سے (ف۱۱۹) کیا اللہ خوب نہیں جانتا حق ماننے والوں کو،
And similarly We have made some as a trial for others – that the wealthy disbelievers upon seeing the needy Muslims say, “Are these whom Allah has favoured among us?” Does not Allah recognise those who are thankful?
और यूँही हमने उनमें एक दूसरे के लिये फ़ित्ना बनाया कि मालदार काफ़िर मोहताज मुसलमानों को देख कर कहें क्या यह हैं जिन पर अल्लाह ने एहसान किया हम में से क्या अल्लाह खूब नहीं जानता हक़ मानने वालों को,
Aur yoonhi hum ne un mein ek doosre ke liye fitna banaya, ke maaldaar kafir mohtaaj musalmanon ko dekh kar kahen: kya yeh hain jin par Allah ne ehsaan kiya ham mein se? Kya Allah khoob nahin jaanta haqq maanne walon ko?
(ف118)بطریقِ حسد ۔(ف119)کہ انہیں ایمان و ہدایت نصیب کی باوجودیکہ وہ لوگ فقیر غریب ہیں اور ہم رئیس سردار ہیں ، اس سے ان کا مطلب اللہ تعالٰی پر اعتراض کرنا ہے کہ غُرَباء اُمراء پر سبقت کا حق نہیں رکھتے تو اگر وہ حق ہوتا جس پر یہ غُرَباء ہیں تو وہ ہم پر سابق نہ ہوتے ۔
اور جب تمہارے حضور وہ حاضر ہوں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے فرماؤ تم پر سلام تمہارے رب نے اپنے ذمہ کرم پر رحمت لازم کر لی ہے (ف۱۲۰) کہ تم میں جو کوئی نادانی سے کچھ برائی کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرے اور سنور جائے تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
And when those who believe in Our signs come humbly in your presence, say to them, “Peace be upon you – your Lord has prescribed mercy for Himself by His grace – that whoever among you commits a sin by folly and thereafter repents and reforms (himself), then indeed Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.”
और जब तुम्हारे हुज़ूर वह हाज़िर हों जो हमारी आयतों पर ईमान लाते हैं तो उनसे फ़रमाओ तुम पर सलाम तुम्हारे रब ने अपने ज़िम्मे करम पर रहमत लाज़िम कर ली है कि तुम में जो कोई नादानी से कुछ बुराई कर बैठे फिर उसके बाद तौबा करे और सँवर जाए तो बेशक अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है ,
Aur jab tumhare huzoor woh haazir hon jo hamari aayaton par imaan laate hain to un se farmao: tum par salaam! Tumhare Rab ne apne zimma karam par rahmat laazim kar li hai ke tum mein jo koi nadaani se kuchh burai kar baithe phir us ke baad tauba kare aur sanwar jaaye to beshak Allah bakhshne wala meherbaan hai.
تم فرماؤ مجھے منع کیا گیا ہے کہ انہیں پوجوں جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (ف۱۲۳) تم فرماؤ میں تمہاری خواہشوں پر نہیں چلتا (ف۱۲٤) یوں ہو تو میں بہک جاؤں اور راہ پر نہ رہوں،
Say, “I have been forbidden to worship those whom you worship other than Allah”; say, “I do not follow your desires – if it were, I would then go astray and not be on the right path.”
तुम फ़रमाओ मुझे मना किया गया है कि उन्हें पूजूँ जिन को तुम अल्लाह के सिवा पूजते हो तुम फ़रमाओ मैं तुम्हारी ख़्वाहिशों पर नहीं चलता यूँ हो तो मैं बहक जाऊँ और राह पर न रहूँ ,
Tum farmao mujhe mana kiya gaya hai ke unhein poojun jin ko tum Allah ke siwa poojte ho. Tum farmao main tumhari khwahishon par nahin chalta, yoon ho to main behak jaaun aur raah par na rahun.
(ف123)کیونکہ یہ عقل و نقل دونوں کے خلاف ہے ۔(ف124)یعنی تمہارا طریقہ اِتّباعِ نفس و خواہشِ ہَوا ہے نہ کہ اِتّباعِ دلیل اس لئے اختیار کرنے کے قابل نہیں ۔
تم فرماؤ مجھے منع کیا گیا ہے کہ انہیں پوجوں جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (ف۱۲۳) تم فرماؤ میں تمہاری خواہشوں پر نہیں چلتا (ف۱۲٤) یوں ہو تو میں بہک جاؤں اور راہ پر نہ رہوں،
Say, “I am on the clear proof from my Lord, whereas you deny Him; I do not have what you are impatient for; there is no command except that of Allah; He states the truth and He is the Best of Judges."
तुम फ़रमाओ मैं तो अपने रब की तरफ़ से रोशन दलील पर हूँ और तुम उसे झट्लाते हो मेरे पास नहीं जिस की तुम जल्दी मचा रहे हो हुक्म नहीं मगर अल्लाह का वह हक़ फ़रमाता है और वह सबसे बेहतर फ़ैसला करने वाला,
Tum farmao main to apne Rab ki taraf se roshan daleel par hoon aur tum use jhutlate ho. Mere paas nahin jis ki tum jaldi macha rahe ho. Hukm nahin magar Allah ka. Woh haqq farmaata hai aur woh sab se behtar faisla karne wala.
(ف125)اور مجھے اس کی معرفت حاصل ہے ، میں جانتا ہوں کہ اس کے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں ، روشن دلیل قرآن شریف اور معجزات اور توحید کے براہینِ واضحہ سب کو شامل ہے ۔(ف126)کُفّار اِستِہزاءً حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کرتے تھے کہ ہم پر جلدی عذاب نازل کرائیے ۔ اس آیت میں انہیں جواب دیا گیا اور ظاہر کر دیا گیا کہ حضور سے یہ سوال کرنا نہایت بے جا ہے ۔
تم فرماؤ اگر میرے پاس ہوتی وہ چیز جس کی تم جلدی کررہے ہو (ف۱۲۷) تو مجھ میں تم میں کام ختم ہوچکا ہوتا (ف۱۲۸) اور اللہ خوب جانتا ہے ستمگاروں کو،
Say, “If I had the thing for which you are impatient, then the matter between me and you would have already been decided”; and Allah is Well Aware of the unjust.
तुम फ़रमाओ अगर मेरे पास होती वह चीज़ जिस की तुम जल्दी कर रहे हो तो मुझ में तुम में काम ख़त्म हो चुका होता और अल्लाह खूब जानता है सितमगारों को,
Tum farmao agar mere paas hoti woh cheez jis ki tum jaldi kar rahe ho to mujh mein tum mein kaam khatam ho chuka hota, aur Allah khoob jaanta hai sitamgaron ko.
(ف127)یعنی عذاب ۔(ف128)میں تمہیں ایک ساعت کی مہلت نہ دیتا اور تمہیں ربّ کا مخالف دیکھ کر بے دَرَنگ ہلاک کر ڈالتا لیکن اللہ تعالٰی حلیم ہے عَقوبت میں جلدی نہیں فرماتا ۔
اور اسی کے پاس ہیں کنجیاں غیب کی انہیں وہی جانتا ہے (ف۱۲۹) اور جانتا ہے جو کچھ خشکی اور تری میں ہے، اور جو پتّا گرتا ہے وہ اسے جانتا ہے اور کوئی دانہ نہیں زمین کی اندھیریوں میں اور نہ کوئی تر اور نہ خشک جو ایک روشن کتاب میں لکھا نہ ہو (ف۱۳۰)
And it is He Who has the keys of the hidden – only He knows them; and He knows all that is in the land and the sea; and no leaf falls but He knows it – and there is not a grain in the darkness of the earth, nor anything wet or dry, which is not recorded in a clear Book.
और इसी के पास हैं कुंजियाँ ग़ैब की उन्हें वही जानता है और जानता है जो कुछ ख़ुश्की और तरी में है , और जो पत्ता गिरता है वह उसे जानता है और कोई दाना नहीं ज़मीन की अंधेरियों में और न कोई तर और न ख़ुश्क जो एक रोशन किताब में लिखा न हो
Aur usi ke paas hain kunjiyaan ghaib ki, unhein wohi jaanta hai, aur jaanta hai jo kuchh khushki aur tari mein hai. Aur jo patta girta hai woh use jaanta hai. Aur koi daana nahin zameen ki andheriyon mein, aur na koi tar aur na khushk jo ek roshan kitaab mein likha na ho.
(ف129)تو جسے وہ چاہے وہی غیب پر مطلع ہو سکتا ہے بغیر اس کے بتائے کوئی غیب نہیں جان سکتا ۔ (واحدی)(ف130)کتابِ مبین سے لوحِ محفوظ مراد ہے ، اللہ تعالٰی نے ماَکَانَ وَ مَایَکُوْنُ کے علوم اس میں مکتوب فرمائے ۔
اور وہی ہے جو رات کو تمہاری روحیں قبض کرتا ہے (ف۱۳۱) اور جانتا ہے جو کچھ دن میں کماؤ پھر تمہیں دن میں اٹھاتا ہے کہ ٹھہرائی ہوئی میعاد پوری ہو (ف۱۳۲) پھر اسی کی طرف پھرنا ہے (ف۱۳۳) پھر وہ بتادے گا جو کچھ تم کرتے تھے،
And it is He Who removes your souls at night (while asleep) and knows whatever you commit by day; then He raises you again during the day, to complete the term appointed (for you); then it is to Him that you are to return – He will then inform you of what you used to do.
और वही है जो रात को तुम्हारी रूहें क़ब्ज़ करता है और जानता है जो कुछ दिन में कमाओ फिर तुम्हें दिन में उठाता है कि ठहराई हुई मियाद पूरी हो फिर उसी की तरफ़ फिरना है फिर वह बता देगा जो कुछ तुम करते थे ,
Aur wohi hai jo raat ko tumhari roohen qabz karta hai aur jaanta hai jo kuchh din mein kamaao. Phir tumhein din mein uthata hai ke thehraayi hui miyaad poori ho. Phir usi ki taraf phirna hai, phir woh bata dega jo kuchh tum karte the.
(ف131)تو تم پر نیند مسلَّط ہوتی ہے اور تمہارے تصرُّفات اپنے حال پر باقی نہیں رہتے ۔(ف132)اور عمر اپنی انتہا کو پہنچے ۔(ف133)آخرت میں ۔ اس آیت میں بَعث بعدَ الموت یعنی مرنے کے بعد زندہ ہونے پر دلیل ذکر فرمائی گئی جس طرح روزمرّہ سونے کے وقت ایک طرح کی موت تم پر وارد کی جاتی ہے جس سے تمہارے حواس معطل ہو جاتے ہیں اور چلنا پھرنا پکڑنا اور بیداری کے افعال سب معطل ہوتے ہیں ، اس کے بعد پھر بیداری کے وقت اللہ تعالٰی تمام قُوٰی کو ان کے تصرّفات عطا فرماتا ہے یہ دلیل بَیِّن ہے اس بات کی کہ وہ زندگانی کے تصرُّفات بعدِ موت عطا کرنے پر اسی طرح قادر ہے ۔
اور وہی غالب ہے اپنے بندوں پر اور تم پر نگہبان بھیجتا ہے (ف۱۳٤) یہاں تک کہ جب تم میں کسی کو موت آتی ہے ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کرتے ہیں (ف۱۳۵) اور وہ قصور نہیں کرتے (ف۱۳٦)
And He is Omnipotent over His bondmen and sends guardians over you; to the extent that when death comes to one of you, Our angels remove his soul, and they do not err.
और वही ग़ालिब है अपने बन्दों पर और तुम पर निगहबान भेजता है यहाँ तक कि जब तुम में किसी को मौत आती है हमारे फ़रिश्ते उसकी रूह क़ब्ज़ करते हैं और वह क़ुसूर नहीं करते
Aur wahi ghalib hai apne bandon par aur tum par nigahban bhejta hai yahan tak ke jab tum mein kisi ko maut aati hai hamare farishte uski rooh qabz karte hain aur woh qasoor nahin karte
(ف134)فرشتے جن کو کِراماً کاتبین کہتے ہیں وہ بنی آدم کی نیکی اور بدی لکھتے رہتے ہیں ، ہر آدمی کے ساتھ دو فرشتے ہیں ایک داہنے ایک بائیں ، نیکیاں داہنی طرف کا فرشتہ لکھتا ہے اور بدیاں بائیں طرف کا ، بندوں کو چاہئے ہوشیار رہیں اور بدیوں اور گناہوں سے بچیں کیونکہ ہر ایک عمل لکھا جاتا ہے اور روزِ قیامت وہ نامۂ اعمال تمام خَلق کے سامنے پڑھا جائے گا تو گناہ کتنی رسوائی کا سبب ہوں گے اللہ پناہ دے ۔ ( آمین ثم آمین )(ف135)ان فرشتوں سے مراد یا تو تنہا مَلَکُ الموت ہیں ، اس صورت میں صیغۂ جمع تعظیم کے لئے ہے یا مَلَکُ الموت مع ان فرشتوں کے مراد ہیں جو ان کے اَعوان ہیں جب کسی کی موت کا وقت آتا ہے مَلَکُ الموت بحکمِ الٰہی اپنے اَعوان کو اس کی روح قبض کرنے کا حکم دیتے ہیں جب روح حلق تک پہنچتی ہے تو خود قبض فرماتے ہیں ۔ (خازن)(ف136)اور تعمیلِ حکم میں ان سے کوتاہی واقع نہیں ہوتی اور ان کے عمل میں سُستی اور تاخیر راہ نہیں پاتی ، اپنے فرائض ٹھیک وقت پر ادا کرتے ہیں ۔
تم فرماؤ وہ کون ہے جو تمہیں نجات دیتا ہے جنگل اور دریا کی آفتوں سے جسے پکارتے ہو گِڑ گِڑا کر اور آہستہ کہ اگر وہ ہمیں اس سے بچاوے تو ہم ضرور احسان مانیں گے (ف۱۳۹)
Say, “Who rescues you from the calamities of the land and the sea – Whom you call upon crying loudly and in whispers that, ‘If we are saved from this we will surely be grateful’?”
तुम फ़रमाओ वह कौन है जो तुम्हें नजात देता है जंगल और दरिया की आफ़तों से जिसे पुकारते हो गिड़गिड़ा कर और आहिस्ता कि अगर वह हमें उस से बचावे तो हम ज़रूर एहसान मानेंगे
Tum farmao woh kaun hai jo tumhein najat deta hai jungle aur darya ki aafaton se jise pukarte ho girgira kar aur aahista ke agar woh humein is se bachave to hum zaroor ehsaan manenge
(ف139)اس آیت میں کُفّار کو تنبیہ کی گئی کہ خشکی اور تری کے سفروں میں جب وہ مبتلائے آفات ہو کر پریشان ہوتے ہیں اور ایسے شدائد و اَہوال پیش آتے ہیں جن سے دل کانپ جاتے ہیں اور خطرات قلوب کو مضطرِب اور بے چین کر دیتے ہیں اس وقت بُت پرست بھی بُتوں کو بھول جاتا ہے اور اللہ تعالٰی ہی سے دعا کرتا ہے اسی کی جناب میں تضرُّع و زاری کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس مصیبت سے اگر تو نے نجات دی تو میں شکر گزار ہوں گا اور تیرا حقِ نعمت بجا لاؤں گا ۔
تم فرماؤ اللہ تمہیں نجات دیتا ہے اس سے اور ہر بےچینی سے پھر تم شریک ٹھہراتے ہو (ف۱٤۰)
Say, “Allah delivers you from these and from all distresses – yet you ascribe partners to Him!”
तुम फ़रमाओ अल्लाह तुम्हें नजात देता है उस से और हर बेचैनी से फिर तुम शरीक ठहराते हो
Tum farmao Allah tumhein najat deta hai is se aur har be chaini se phir tum shareek thehrate ho
(ف140)اور بجائے شکر گزاری کے ایسی بڑی ناشکری کرتے ہو اور یہ جانتے ہوئے کہ بُت نِکمے ہیں ، کسی کام کے نہیں پھر انہیں اللہ کا شریک کرتے ہو ، کتنی بڑی گمراہی ہے ۔
تم فرماؤ وہ قادر ہے کہ تم پر عذاب بھیجے تمہارے اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے تلے (نیچے) سے یا تمہیں بھڑا دے مختلف گروہ کرکے اور ایک کو دوسرے کی سختی چکھائے، دیکھو ہم کیونکر طرح طرح سے آیتیں بیان کرتے ہیں کہ کہیں ان کو سمجھ ہو (ف۱٤۱)
Say, “He is Able to send punishment upon you from above you or from beneath your feet, or to cause you to fight each other by dividing you into different groups, and make you taste the harshness of one another”; observe how We explain the verses so that they may understand.
तुम फ़रमाओ वह क़ादिर है कि तुम पर अज़ाब भेजे तुम्हारे ऊपर से या तुम्हारे पाँव के तले (नीचे ) से या तुम्हें भड़ा दे मुख़्तलिफ़ गिरोह कर के और एक को दूसरे की सख़्ती चखाए , देखो हम क्यूँकर तरह तरह से आयतें बयान करते हैं कि कहीं उनको समझ हो
Tum farmao woh qadir hai ke tum par azaab bheje tumhare ooper se ya tumhare paon ke tale (neeche) se ya tumhein bhida de mukhtalif giroh karke aur ek ko doosre ki sakhti chakhaye, dekho hum kaisay tarah tarah se aayatein bayan karte hain ke kahin unko samajh ho
(ف141)مفسِّرین کا اس میں اختلاف ہے کہ اس آیت سے کون لوگ مراد ہیں ، ایک جماعت نے کہا کہ اس سے اُمّتِ محمّدیہ مراد ہے اور آیت انہیں کے حق میں نازل ہوئی ۔ بخاری کی حدیث میں ہے کہ جب یہ نازل ہوا کہ وہ قادر ہے تم پر عذاب بھیجے تمہارے اوپر سے ، تو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تیری ہی پناہ مانگتا ہوں اور جب یہ نازل ہوا کہ یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے تو فرمایا میں تیری ہی پناہ مانگتا ہوں اور جب یہ نازل ہوا یا تمہیں بھڑاوے مختلف گروہ کر کے اور ایک کو دوسرے کی سختی چکھائے تو فرمایا یہ آسان ہے ۔ مسلم کی حدیث شریف میں ہے کہ ایک روز سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجدِ بنی معاویہ میں دو رکعت نماز ادا فرمائی اور اس کے بعد طویل دعا کی پھر صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا میں نے اپنے ربّ سے تین سوال کئے ان میں سے صرف دو قبول فرمائے گئے ، ایک سوال تو یہ تھا کہ میری اُمّت کو قحطِ عام سے ہلاک نہ فرمائے یہ قبول ہوا ، ایک یہ تھا کہ انہیں غرق سے عذاب نہ فرمائے یہ بھی قبول ہوا ، تیسرا سوال یہ تھا کہ ان میں باہَم جنگ و جدال نہ ہو یہ قبول نہیں ہوا ۔
اور اسے (ف۱٤۲) جھٹلایا تمہاری قوم نے اور یہی حق ہے، تم فرماؤ میں تم پر کچھ کڑوڑا (حاکمِ اعلیٰ) نہیں (ف۱٤۳)
And your people (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) denied it whereas this is undoubtedly the truth; say, “I am not responsible for you.”
और उसे झट्लाया तुम्हारी क़ौम ने और यही हक़ है , तुम फ़रमाओ मैं तुम पर कुछ कड़ोड़ा (हाकिम-ए-आला) नहीं
Aur ise jhutlaya tumhari qaum ne aur yahi haq hai, tum farmao main tum par kuch kroora (haakim-e-alaa) nahin
(ف142)یعنی قرآن شریف کو یا نُزولِ عذاب کو ۔(ف143)میرا کام ہدایت ہے قلوب کی ذمہ داری مجھ پر نہیں ۔
اور اے سننے والے! جب تو انہیں دیکھے جو ہماری آیتوں میں پڑتے ہیں (ف۱٤۵) تو ان سے منہ پھیر لے (ف۱٤٦) جب تک اور بات میں پڑیں، اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ،
And O listener (followers of this Prophet) when you see those who argue in Our verses, turn away from them until they engage in another topic; and if the devil causes you to forget, then do not sit with the unjust after remembering.
और ऐ सुनने वाले ! जब तू उन्हें देखे जो हमारी आयतों में पड़ते हैं तो उनसे मुँह फेर ले जब तक और बात में पड़ें , और जो कहीं तुझे शैतान भुलावे तो याद आए पर ज़ालिमों के पास न बैठ,
Aur ae sunne wale! jab tu unhein dekhe jo hamari aayaton mein parte hain to unse munh pher le jab tak aur baat mein parein, aur jo kahin tujhe shaitaan bhulave to yaad aaye par zalimon ke paas na baith
(ف145)طعن تَشنیع اِستِہزاء کے ساتھ ۔(ف146)اور ان کی ہم نشینی ترک کر ۔مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ بے دینوں کی جس مجلس میں دین کا احترام نہ کیا جاتا ہو مسلمان کو وہاں بیٹھنا جائز نہیں ، اس سے ثابت ہو گیا کہ کُفّار اور بے دینوں کے جلسے جن میں وہ دین کے خلاف تقریریں کرتے ہیں ان میں جانا ، سننے کے لئے شرکت کرنا جائز نہیں اور رد و جواب کے لئے جانا مُجالَست نہیں بلکہ اظہارِ حق ہے ممنوع نہیں جیسا کہ اگلی آیت سے ظاہر ہے ۔
اور پرہیز گاروں پر ان کے حساب سے کچھ نہیں (ف۱٤۷) ہاں نصیحت دینا شاید وہ باز آئیں (ف۱٤۸)
And the pious are not accountable for them in the least, apart from the giving of advice so that they may avoid.
और परहेज़गारों पर उनके हिसाब से कुछ नहीं हाँ नसीहत देना शायद वह बाज़ आएँ
Aur parheizgaron par unke hisaab se kuch nahin, haan naseehat dena shayad woh baaz aayen
(ف147)یعنی طعن و اِستِہزاء کرنے والوں کے گناہ انہیں پر ہیں ، انہیں سے اس کا حساب ہوگا ، پرہیزگاروں پر نہیں شانِ نُزول : مسلمانوں نے کہا تھا کہ ہمیں گناہ کا اندیشہ ہے جب کہ ہم انہیں چھوڑ دیں اور منع نہ کریں اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف148)مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ پند و نصیحت اور اظہارِ حق کے لئے ان کے پاس بیٹھنا جائز ہے ۔
اور چھوڑ دے ان کو جنہوں نے اپنا دین ہنسی کھیل بنا لیا اور انہیں دنیا کی زندگانی نے فریب دیا اور قرآن سے نصیحت دو (ف۱٤۹) کہ کہیں کوئی جان اپنے کئے پر پکڑی نہ جائے اللہ کے سوا نہ اس کا کوئی حمایتی ہو نہ سفارشی اور اگر اپنے عوض سارے بدلے دے تو اس سے نہ لیے جائیں یہ ہیں (ف۱۵۱) وہ جو اپنے کیے پر پکڑے گئے انہیں پینے کا کھولتا پانی اور درد ناک عذاب بدلہ ان کے کفر کا،
And forsake those who have made their religion a mockery and play, and whom the worldly life has deceived – and advise them with this Qur’an so that a soul may not be seized for what it earns; other than Allah it will not have a protector nor an intercessor; and if it offers every recompense in exchange for itself, it will not be accepted from it; these are the ones who are seized for their own deeds; for them is boiling water to drink and a painful punishment, as a recompense of their disbelief. (The disbelievers will not have any intercessors.)
और छोड़ दे उनको जिन्होंने अपना दीन हँसी खेल बना लिया और उन्हें दुनिया की ज़िन्दगानी ने फ़रेब दिया और क़ुरआन से नसीहत दो कि कहीं कोई जान अपने किये पर पकड़ी न जाए अल्लाह के सिवा न उसका कोई हमायती हो न सिफ़ारिशी और अगर अपने एवज़ सारे बदले दे तो उस से न लिये जाएँ यह हैं वह जो अपने किये पर पकड़े गये उन्हें पीने का खौलता पानी और दर्दनाक अज़ाब बदला उनके कुफ़्र का,
Aur chhod de unko jinhon ne apna deen hansi khel bana liya aur unhein duniya ki zindagani ne fareb diya aur Qur’an se naseehat do ke kahin koi jaan apne kiye par pakdi na jaye, Allah ke siwa na uska koi himayati ho na sifarishi aur agar apne awwaz saare badle de to us se na liye jayein, yeh hain woh jo apne kiye par pakde gaye, unhein peene ka ubalta paani aur dardnaak azaab badla unke kufr ka
(ف149)اور احکامِ شرعیہ بتاؤ ۔(ف150)اور اپنے جرائم کے سبب عذابِ جہنّم میں گرفتار نہ ہو ۔(ف151)دین کو ہنسی اور کھیل بنانے والے اور دنیا کے مفتون ۔
تم فرماؤ (ف۱۵۲) کیا ہم اللہ کے سوا اس کو پوجیں جو ہمارا نہ بھلا کرے نہ برُا (ف۱۵۳) اور الٹے پاؤں پلٹا دیے جائیں بعد اس کے کہ اللہ نے ہمیں راہ دکھائی (ف۱۵٤) اس کی طرح جسے شیطان نے زمین میں راہ بھلادی (ف۱۵۵) حیران ہے اس کے رفیق اسے راہ کی طرف بلا رہے ہیں کہ ادھر آ، تم فرماؤ کہ اللہ ہی کی ہدایت ہدایت ہے (ف۱۵٦) اور ہمیں حکم ہے کہ ہم اس کے لیے گردن رکھ دیں (ف۱۵۷) جو رب ہے سارے جہان
Say, “Shall we worship, other than Allah, that which neither benefits us nor harms us, and (therefore) be turned back after Allah has guided us, like one whom the devils have led astray in the earth – bewildered?; his companions call him to the path (saying), ‘Come here’”; say, “Indeed only the guidance of Allah is (the true) guidance; and we are commanded to submit to the Lord Of The Creation.”
तुम फ़रमाओ क्या हम अल्लाह के सिवा उस को पूजें जो हमारा न भला करे न बुरा और उल्टे पाँव पलटा दिये जाएँ बाद उस के कि अल्लाह ने हमें राह दिखाई उसकी तरह जिसे शैतान ने ज़मीन में राह भुला दी हैरान है उसके रफ़ीक़ उसे राह की तरफ़ बुला रहे हैं कि इधर आ, तुम फ़रमाओ कि अल्लाह ही की हिदायत हिदायत है और हमें हुक्म है कि हम उसके लिये गर्दन रख दें जो रब है सारे जहान
Tum farmao kya hum Allah ke siwa usko poojein jo hamara na bhala kare na bura aur ulte paon palta diye jayein baad iske ke Allah ne humein raah dikhayi, uski tarah jise shaitaan ne zameen mein raah bhula di, hairaan hai, uske rafiq use raah ki taraf bula rahe hain ke idhar aa, tum farmao ke Allah hi ki hidayat hidayat hai aur humein hukm hai ke hum uske liye gardan rakh dein jo Rab hai saare jahan
(ف152)اے مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم ان مشرکین سے جو اپنے باپ دادا کے دین کی دعوت دیتے ہیں ۔(ف153)اور اس میں کوئی قدرت نہیں ۔(ف154)اور اسلام اور توحید کی نعمت عطا فرمائی اور بُت پرستی کے بدترین وبال سے بچایا ۔(ف155)اس آیت میں حق و باطل کے دعوت دینے والوں کی ایک تمثیل بیان فرمائی گئی کہ جس طرح مسافر اپنے رفیقوں کے ساتھ تھا جنگل میں بُھوتوں اور شیطانوں نے اس کو رستہ بہکا دیا اور کہا منزلِ مقصود کی یہی راہ ہے اور اس کے رفیق اس کو راہِ راست کی طرف بلانے لگے وہ حیران رہ گیا کدھر جائے ، انجام اس کا یہی ہو گا کہ اگر وہ بُھوتوں کی راہ پر چل دے تو ہلاک ہو جائے گا اور رفیقوں کا کہا مانے تو سلامت رہے گا اور منزل پر پہنچ جائے گا ۔ یہی حال اس شخص کا ہے جو طریقۂ اسلام سے بہکا اور شیطان کی راہ چلا ، مسلمان اس کو راہِ راست کی طرف بلاتے ہیں اگر ان کی بات مانے گا راہ پائے گا ورنہ ہلاک ہو جائے گا ۔(ف156)یعنی جو طریق اللہ تعالٰی نے اپنے بندوں کے لئے واضح فرمایا اور جو دین (اسلام) ان کے لئے مقرر کیا وہی ہدایت و نور ہے اور جو اس کے سوا ہے وہ دین باطل ہے ۔(ف157)اور اسی کی اطاعت و فرمانبرداری کریں اور خاص اسی کی عبادت کریں ۔
اور وہی ہے جس نے آسمان و زمین ٹھیک بنائے (ف۱۵۸) اور جس دن فنا ہوئی ہر چیز کو کہے گا ہو جا وہ فوراً ہوجائے گی، اس کی بات سچی ہے، اور اسی کی سلطنت ہے جس دن صور پھونکا جائے گا (ف۱۵۹) ہر چھپے اور ظاہر کو جاننے والا، اور وہی حکمت والا خبردار،
And it is He Who perfectly created the heavens and the earth; and when He will say “Be” on the Day (of resurrection) to all the extinct things, it will happen immediately; His Word is true; and it will be His kingship on the day when the Trumpet is blown; All Knowing of all the hidden and the revealed; and He only is the Wise, the Aware.
और वही है जिस ने आसमान व ज़मीन ठीक बनाए और जिस दिन फ़ना हुई हर चीज़ को कहेगा हो जा वह फ़ौरन हो जाएगी, उसकी बात सच्ची है , और उसी की सल्तनत है जिस दिन सूर फूँका जाएगा हर छुपे और ज़ाहिर को जानने वाला, और वही हिकमत वाला ख़बरदार,
Aur wahi hai jisne aasman o zameen theek banaye aur jis din fana hui har cheez ko kahega ho ja, woh foran ho jayegi, uski baat sachi hai, aur usi ki saltanat hai jis din soor phoinka jayega, har chhupe aur zaahir ko jaane wala, aur wahi hikmat wala khabardaar
(ف158)جن سے اس کی قدرتِ کاملہ اور اس کا علم محیط اور اس کی حکمت و صنعت ظاہر ہے ۔(ف159)کہ نام کو بھی کوئی سلطنت کا دعوٰی کرنے والا نہ ہو گا ، تمام جبابرہ ، فراعنہ اور سب دنیا کی سلطنت کا غرور کرنے والے دیکھیں گے کہ دنیا میں جو وہ سلطنت کا دعوٰی رکھتے تھے وہ باطل تھا ۔
اور یاد کرو جب ابراہیم نے اپنے باپ (ف۱٦۰) آزر سے کہا، کیا تم بتوں کو خدا بناتے ہو، بیشک میں تمہیں اور تمہاری قوم کو کھلی گمراہی میں پاتا ہوں (ف۱٦۱)
And remember when Ibrahim said to his father (paternal uncle) Azar, “What! You appoint idols as Gods? Indeed I find you and your people in open error.” (Prophet Ibrahim was rightly guided since birth).
और याद करो जब इब्राहीम ने अपने बाप आज़र से कहा, क्या तुम बुतों को ख़ुदा बनाते हो, बेशक मैं तुम्हें और तुम्हारी क़ौम को खुली गुमराही में पाता हूँ
Aur yaad karo jab Ibraheem ne apne baap Aazar se kaha, kya tum buton ko khuda banate ho, beshak main tumhein aur tumhari qaum ko khuli gumraahi mein paata hoon
(ف160)قاموس میں ہے کہ آزر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے چچا کا نام ہے ۔ امام علامہ جلال الدین سیوطی نے مسالک الحُنَفاء میں بھی ایسا ہی لکھا ہے ، چچا کو باپ کہنا تمام ممالک میں معمول ہے بالخصوص عرب میں ، قرآنِ کریم میں ہے نَعْبُدُ اِلٰھَکَ وَ اِلہٰ اٰبَآ ئِکَ اِبْرَاھِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰھًا وَّاحِدًا ۔ اس میں حضرت اسمٰعیل کو حضرت یعقوب کے آباء میں ذکر کیا گیا ہے باوجودیکہ آپ عَم ہیں ۔ حدیث شریف میں بھی حضرت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نےحضرت عباس رضی اللہ عنہ کو اَب فرمایا چنانچہ ارشاد کیا رُدُّوْا عَلَیَّ اَبِیْ اور یہاں اَبِی سے حضرت عباس مراد ہیں ۔ (مفرداتِ راغب وکبیر وغیرہ)(ف161)یہ آیت مشرکینِ عرب پر حُجَّت ہے جو حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کو معظَّم جانتے تھے اور ان کی فضیلت کے معترف تھے ، انہیں دکھایا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام بُت پرستی کو کتنا بڑا عیب اور گمراہی بتاتے ہیں اگر تم انہیں مانتے ہو تو بُت پرستی تم بھی چھوڑ دو ۔
اور اسی طرح ہم ابراہیم کو دکھاتے ہیں ساری بادشاہی آسمانوں اور زمین کی (ف۱٦۲) اور اس لیے کہ وہ عین الیقین والوں میں ہوجائے (ف۱٦۳)
And likewise We showed Ibrahim the entire kingdom of the heavens and the earth and so that he be of those who believe as eyewitnesses.
और इसी तरह हम इब्राहीम को दिखाते हैं सारी बादशाही आसमानों और ज़मीन की और इस लिये कि वह अयनुल यक़ीन वालों में हो जाए
Aur isi tarah hum Ibraheem ko dikhate hain saari badshahi aasmanon aur zameen ki aur isliye ke woh ain-ul-yaqeen walon mein ho jaye
(ف162)یعنی جس طرح حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کو دین میں بِینائی عطا فرمائی ایسے ہی انہیں آسمانوں اور زمین کے مُلک دکھاتے ہیں ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا اس سے آسمانوں اور زمین کی خَلق مراد ہے ۔ مجاہد اور سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ آیاتِ سمٰوات و ارض مراد ہیں ، یہ اس طرح کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کو صَخرہ (پتھر) پر کھڑا کیا گیا اور آپ کے لئے سماوات مکشوف کئے گئے یہاں تک کہ آپ نے عرش و کرسی اور آسمانوں کے تمام عجائب اور جنّت میں اپنے مقام کو معائنہ فرمایا ، آپ کے لئے زمین کشف فرما دی گئی یہاں تک کہ آپ نے سب سے نیچے کی زمین تک نظر کی اور زمینوں کے تمام عجائب دیکھے ۔ مفسِّرین کا اس میں اختلاف ہے کہ یہ رویت بچشمِ باطن تھی یا بچشمِ سر ۔ (درِّ منثور و خازن وغیرہ)(ف163)کیونکہ ہر ظاہر و مخفی چیز ان کے سامنے کر دی گئی اور خَلق کے اعمال میں سے کچھ بھی ان سے نہ چُھپا رہا ۔
پھر جب ان پر رات کا اندھیرا آیا ایک تارا دیکھا (ف۱٦٤) بولے اسے میرا رب ٹھہراتے ہو پھر جب وہ ڈوب گیا بولے مجھے خوش نہیں آتے ڈوبنے والے،
So when the night became dark upon him he saw a star; he said (to Azar / the people), “(You portray that) this is my Lord?”; then when it set he said, “I do not like the things that set.”
फिर जब उन पर रात का अंधेरा आया एक तारा देखा बोले उसे मेरा रब ठहराते हो फिर जब वह डूब गया बोले मुझे खुश नहीं आते डूबने वाले ,
Phir jab un par raat ka andhera aaya ek tara dekha, bole ise mera Rab thehrate ho? Phir jab woh doob gaya bole mujhe khush nahin aate doobne wale
(ف164)عُلَماءِ تفسیر اور اصحابِ اَخبار و سِیَر کا بیان ہے کہ نَمرود ابنِ کنعان بڑا جابر بادشاہ تھا ، سب سے پہلے اسی نے تاج سر پر رکھا ، یہ بادشاہ لوگوں سے اپنی پرستِش کراتا تھا ، کاہِن اور مُنجِم کثرت سے اس کے دربار میں حاضر رہتے تھے ۔ نمرود نے خواب دیکھا کہ ایک ستارہ طلوع ہوا ہے اس کی روشنی کے سامنے آفتاب ماہتاب بالکل بے نور ہو گئے اس سے وہ بہت خوف زدہ ہوا ، کاہنوں سے تعبیر دریافت کی ، انہوں نے کہا اس سال تیری قلمرو میں ایک فرزند پیدا ہو گا جو تیرے زَوالِ مُلک کا باعث ہو گا اور تیرے دین والے اس کے ہاتھ سے ہلاک ہوں گے ، یہ خبر سن کر وہ پریشان ہوا اور اس نے حکم دے دیا کہ جو بچہ پیدا ہو قتل کر ڈالا جائے اور مرد عورتوں سے علیٰحدہ رہیں اور اس کی نگہبانی کے لئے ایک محکمہ قائم کر دیا گیا ۔ تقدیراتِ الٰہیہ کو کون ٹال سکتا ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حاملہ ہوئیں اور کاہنوں نے نمرود کو اس کی بھی خبر دی کہ وہ بچہ حمل میں آ گیا لیکن چونکہ حضرت کی والدہ صاحبہ کی عمر کم تھی ان کا حمل کسی طرح پہچانا ہی نہ گیا جب زمانۂ ولادت قریب ہوا تو آپ کی والدہ اس تہ خانے میں چلی گئیں جو آپ کے والد نے شہر سے دور کھود کر تیار کیا تھا ، وہاں آپ کی ولادت ہوئی اور وہیں آپ رہے ، پتھروں سے اس تہ خانہ کا دروازہ بند کر دیا جاتا تھا ، روزانہ والدہ صاحبہ دودھ پلا آتی تھیں اور جب وہاں پہنچتی تھیں تو دیکھتی تھیں کہ آپ اپنی سَرِ اَنگُشت چُوس رہے ہیں اور اس سے دودھ برآمد ہوتا ہے ، آپ بہت جلد بڑھتے تھے ، ایک مہینہ میں اتنا جتنے دوسرے بچے ایک سال میں ، اس میں اختلاف ہے کہ آپ تہ خانہ میں کتنے عرصہ رہے ۔ بعض کہتے ہیں سات برس ، بعض تیرہ برس ، بعض سترہ برس ، یہ مسئلہ یقینی ہے کہ انبیاء ہرحال میں معصوم ہوتے ہیں اور وہ اپنی ابتداءِ ہستی سے تمام اوقاتِ وجود میں عارف ہوتے ہیں ، ایک روز حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی والدہ سے دریافت فرمایا میرا ربّ (پالنے والا) کون ہے ؟ انہوں نے کہا میں ، فرمایا تمہارا ربّ کون ہے ؟ انہوں نے کہا تمہارے والد ، فرمایا ان کا ربّ کون ہے ؟ اس پر والدہ نے کہا خاموش رہو اور اپنے شوہر سے جا کر کہا کہ جس لڑکے کی نسبت یہ مشہور ہے کہ وہ زمین والوں کا دین بدل دے گا وہ تمہارا فرزند ہی ہے اور یہ گفتگو بیان کی ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ابتدا ہی سے توحید کی حمایت اور عقائدِ کُفریہ کا اِبطال شروع فرما دیا اور جب ایک سوراخ کی راہ سے شب کے وقت آپ نے زُہرہ یا مُشتری ستارہ کو دیکھا تو اِقامتِ حُجَّت شروع کر دی کیونکہ اس زمانہ کے لوگ بُت اور کواکب کی پرستش کرتے تھے تو آپ نے ایک نہایت نفیس اور دل نشیں پیرایہ میں انہیں نظر و استدلال کی طرف رہنمائی کی جس سے وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ عالَم بتمامہٖ حادِث ہے ، اِلٰہ نہیں ہو سکتا ، وہ خود مُوجِد و مُدَبِّر کا محتاج ہے جس کے قدرت و اختیار سے اس میں تغیُّر ہوتے رہتے ہیں ۔
پھر جب چاند چمکتا دیکھا بولے اسے میرا رب بتاتے ہو پھر جب وہ ڈوب گیا کہا اگر مجھے میرا رب ہدایت نہ کرتا تو میں بھی انہیں گمراہوں میں ہوتا (ف۱٦۵)
Then when he saw the moon shining, he said, “(You proclaim that) this is my Lord?”; then when it set, he said, “If my Lord had not guided me*, I too would be one of these astray people.” (* Prophet Ibrahim was rightly guided before this event).
फिर जब चाँद चमकता देखा बोले उसे मेरा रब बताते हो फिर जब वह डूब गया कहा अगर मुझे मेरा रब हिदायत न करता तो मैं भी उनमें गुमराहों में होता
Phir jab chaand chamakta dekha bole ise mera Rab batate ho? Phir jab woh doob gaya kaha agar mujhe mera Rab hidayat na karta to main bhi inhi gumraahon mein hota
(ف165)اس میں قوم کو تنبیہ ہے کہ جو قمر کو اِلٰہ ٹھہرائے وہ گمراہ ہے کیونکہ اس کا ایک حال سے دوسرے حال کی طرف منتقل ہونا دلیلِ حدوث و اِمکان ہے ۔
پھر جب سورج جگمگاتا دیکھا بولے اسے میرا رب کہتے ہو (ف۱٦٦) یہ تو ان سب سے بڑا ہے، پھر جب وہ ڈوب گیا کہا اے قوم میں بیزار ہوں ان چیزوں سے جنہیں تم شریک ٹھہراتے ہو (ف۱٦۷)
Then when he saw the sun shining brightly, he said, “(You say that) this is my Lord? This is the biggest of them all!”; then when it set he said, “O people! I do not have any relation with the whatever you ascribe as partners (to Him).”
फिर जब सूरज जगमगाता देखा बोले उसे मेरा रब कहते हो यह तो उन सब से बड़ा है , फिर जब वह डूब गया कहा ऐ क़ौम मैं बेज़ार हूँ उन चीज़ों से जिन्हें तुम शरीक ठहराते हो
Phir jab sooraj jagmagata dekha bole ise mera Rab kehte ho? Ye to in sab se bada hai, phir jab woh doob gaya kaha ae qaum main bezar hoon un cheezon se jinhein tum shareek thehrate ho
(ف166)شمس مؤنث غیر حقیقی ہے اس کے لئے مذکر و مؤنث کے دونوں صیغے استعمال کئے جا سکتے ہیں ، یہاں ہذا مذکر لایا گیا اس میں تعلیمِ ادب ہے کہ لفظِ ربّ کی رعایت کے لئے لفظِ تانیث نہ لایا گیا اسی لحاظ سے اللہ تعالٰی کی صفت میں عَلّام آتا ہے نہ کہ علامہ ۔(ف167)حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ثابت کر دیا کہ ستاروں میں چھوٹے سے بڑے تک کوئی بھی ربّ ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا ، ان کا اِلٰہ ہونا باطل ہے اور قوم جس شرک میں مبتلا ہے آپ نے اس سے بیزاری کا اظہار کیا اور اس کے بعد دینِ حق کا بیان فرمایا جو آگے آتا ہے ۔
میں نے اپنا منہ اس کی طرف کیا جس نے آسمان اور زمین بنائے ایک اسی کا ہو کر (ف۱٦۸) اور میں مشرکین میں نہیں،
“I have directed my attention towards Him Who has created the heavens and the earth, am devoted solely to Him, and am not of the polytheists.”
मैंने अपना मुँह उसकी तरफ़ किया जिस ने आसमान और ज़मीन बनाए एक उसी का हो कर और मैं मुश्रिकीन में नहीं ,
Maine apna munh uski taraf kiya jisne aasman aur zameen banaye, ek usi ka ho kar aur main mushrikeen mein nahin
(ف168)یعنی اسلام کے سوا باقی تمام اَدیان سے جُدا رہ کر ۔مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ دینِ حق کا قیام و استحکام جب ہی ہو سکتا ہے جب کہ تمام اَدیانِ باطلہ سے بیزاری ہو ۔
اور ان کی قوم ان سے جھگڑے لگی کہا کیا اللہ کے بارے میں مجھ سے جھگڑتے ہو تو وہ مجھے راہ بتا چکا (ف۱٦۹) اور مجھے ان کا ڈر نہیں جنہیں تم شریک بتاتے ہو (ف۱۷۰) ہاں جو میرا ہی رب کوئی بات چاہے (ف۱۷۱) میرے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے، تو کیا تم نصیحت نہیں مانتے
And his people argued with him; he said, “What! You dispute with me concerning Allah? So He has guided me; and I do not have any fear of whatever you ascribe as partners, except what my Lord wills (to happen); my Lord’s knowledge encompasses all things; so will you not accept advice?”
और उनकी क़ौम उनसे झगड़े लगी कहा क्या अल्लाह के बारे में मुझ से झगड़ते हो तो वह मुझे राह बता चुका और मुझे उनका डर नहीं जिन्हें तुम शरीक बताते हो हाँ जो मेरा ही रब कोई बात चाहे मेरा रब का इल्म हर चीज़ को मुहीत है , तो क्या तुम नसीहत नहीं मानते
81) और मैं तुम्हारे शरीकों से क्यौंकर डरूँ और तुम नहीं डरते कि तुम ने अल्लाह का शरीक उसको ठहराया जिस की तुम पर उस ने कोई सन्द न उतारी, तो दोनों गरोहों में अमान का ज्यादा सज़ा वार कौन है अगर तुम जानते हो,
Aur unki qaum unse jhagde lagi, kaha kya Allah ke baare mein mujhse jhagte ho to woh mujhe raah bata chuka aur mujhe unka darr nahin jinhain tum shareek batate ho, haan jo mera hi Rab koi baat chahe, mera Rab ka ilm har cheez ko moheet hai, to kya tum naseehat nahin maante
(ف169)اپنی توحید و معرفت کی ۔(ف170)کیونکہ وہ بے جان بُت ہیں نہ ضرر دے سکتے ہیں نہ نفع پہنچا سکتے ہیں ، ان سے کیا ڈرنا ، یہ آپ نے مشرکین سے جواب میں فرمایا تھا جنہوں نے آپ سے کہا تھا کہ بُتوں سے ڈرو ان کے بُرا کہنے سے کہیں آپ کو کچھ نقصان نہ پہنچ جائے ۔(ف171)وہ ہو گی کیونکہ میرا ربّ قادرِ مطلق ہے ۔
اور میں تمہارے شریکوں سے کیونکر ڈروں (ف۱۷۲) اور تم نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ کا شریک اس کو ٹھہرایا جس کی تم پر اس نے کوئی سند نہ اتاری، تو دونوں گروہوں میں امان کا زیادہ سزا وار کون ہے (ف۱۷۳) اگر تم جانتے ہو،
“And how should I fear whatever you ascribe as partners, whilst you do not fear that you have ascribed partners to Allah – for which He has not sent down on you any proof? So which of the two groups has more right to refuge, if you know?”
वह जो ईमान लाए और अपने ईमान में किसी नाहक़ की आमेज़िश न की उनहीं के लिए अमान है और वही राह पर हैं,
Aur main tumhare shareekon se kyun kar daroon aur tum nahin darte ke tumne Allah ka shareek usko thehraya jiski tum par usne koi sanad na utari, to dono girohon mein amaan ka zyada sazaawar kaun hai agar tum jaante ho
(ف172)جو بے جان جَماد اور عاجزِ مَحض ہیں ۔(ف173)مُوحِّد یا مشرک ۔
اور یہ ہماری دلیل ہے کہ ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم پر عطا فرمائی، ہم جسے چاہیں درجوں بلند کریں (ف۱۷٤) بیشک تمہارا رب علم و حکمت والا ہے
And this is Our argument, which We gave Ibrahim against his people; We raise to high ranks whomever We will; indeed your Lord is Wise, All Knowing.
और हम ने उन्हें इसहाक़ और याक़ूब अता किए, उन सब को हम ने राह दिखायी और उन से पहले नूह को राह दिखायी और उस की औलाद में से दाऊद और सुलेमान और अय्यूब और यूसुफ़ और मूसा और हारून को, और हम ऐसा ही बदला देते हैं नेकोकारों को,
Aur ye hamari daleel hai ke humne Ibraheem ko uski qaum par ata farmai, hum jise chahein darjon buland karein, beshak tumhara Rab ilm o hikmat wala hai
(ف174)علم و عقل و فہم و فضیلت کے ساتھ جیسے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے درجے بلند فرمائے ، دنیا میں علم و حکمت و نبوّت کے ساتھ اور آخرت میں قرب و ثواب کے ساتھ ۔
اور ہم نے انہیں اسحاق اور یعقوب عطا کیے، ان سب کو ہم نے راہ دکھائی اور ان سے پہلے نوح کو راہ دکھائی اور میں اس کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو، اور ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں نیکوکاروں کو،
And We bestowed upon him Ishaq (Isaac) and Yaqub (Jacob); We guided all of them; and We guided Nooh before them and of his descendants, Dawud and Sulaiman and Ayyub and Yusuf and Moosa and Haroon; and this is the way We reward the virtuous.
और ज़करिया और याह्या और ईसा और इलयास को यह सब हमारे क़ुर्ब के लायक़ हैं
Aur humne unhein Ishaq aur Yaqoob ata kiye, un sab ko humne raah dikhayi aur unse pehle Nooh ko raah dikhayi aur unki aulaad mein se Daood aur Sulaiman aur Ayub aur Yusuf aur Moosa aur Haroon ko, aur hum aisa hi badla dete hain nekokaron ko
اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو یہ سب ہمارے قرب کے لائق ہیں
And (We guided) Zakaria and Yahya (John) and Eisa and Elias; all these are worthy of Our proximity.
और इस्माईल और यसअ और यूनुस और लूत को, और हम ने हर एक को उस के वक्त में सब पर फ़ज़ीलत दी और कुछ उनके बाप-दादा और औलाद और भाइयों में से, और हम ने उन्हें चुन लिया और सीधी राह दिखायी,
Aur Zakariya aur Yahya aur Isa aur Ilyas ko, ye sab hamare qurb ke laayiq hain
اور اسماعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو، اور ہم نے ہر ایک کو اس کے وقت میں سب پر
And Ismael (Ishmael) and Yasa’a (Elisha) and Yunus (Jonah) and Lut (Lot); and to each one during their times, We gave excellence over all others.
यह अल्लाह की हिदायत है कि अपने बन्दों में जिसे चाहे दे, और अगर वह शिर्क करते तो ज़रूर उनका किया अकारत जाता,
Aur Ismaeel aur Yasa aur Yunus aur Loot ko, aur humne har ek ko uske waqt mein sab par fazilat di aur kuch unke baap dada aur aulaad aur bhaiyon mein se baaz ko, aur humne unhein chun liya aur seedhi raah dikhayi
(ف175)نبوّت و رسالت کے ساتھ ۔مسئلہ : اس آیت سے اس پر سند لائی جاتی ہے کہ انبیاء ملائکہ سے افضل ہیں کیونکہ عالَم اللہ کے سوا تمام موجودات کو شامل ہے ، فرشتے بھی اس میں داخل ہیں تو جب تمام جہان والوں پر فضیلت دی تو ملائکہ پر بھی فضیلت ثابت ہو گئی ، یہاں اللہ تعالٰی نے اٹھارہ انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کا ذکر فرمایا اور اس ذکر میں ترتیب نہ زمانہ کے اعتبار سے ہے نہ فضیلت کے ، نہ واو ترتیب کا مقتضی لیکن جس شان سے کہ انبیاء علیہم السلام کے اسماء ذکر فرمائے گئے اس میں ایک عجیب لطیفہ ہے وہ یہ کہ اللہ تعالٰی نے انبیاء کی ہر ایک جماعت کو ایک خاص طرح کی کرامت و فضیلت کے ساتھ ممتاز فرمایا تو حضرت نوح و ابراہیم و اسحٰق و یعقوب کا اوّل ذکر کیا کیونکہ یہ انبیاء کے اُصول ہیں یعنی ان کی اولاد میں بکثرت انبیاء ہوئے جن کے اَنساب انہیں کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ نبوّت کے بعد مراتبِ معتبرہ میں سے مُلک و اختیار و سلطنت و اقتدار ہے ۔ اللہ تعالٰی نے حضرت داؤد و سلیمان کو اس کا حَظِّ وافر دیا اور مراتبِ رفیعہ میں سے مصیبت و بلاء پر صابر رہنا ہے ۔ اللہ تعالٰی نے حضرت ایوب کو اس کے ساتھ ممتاز فرمایا پھر مُلک و صبر کے دونوں مرتبے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام کو عنایت کئے کہ آپ نے شدّت و بلاء پر مدتوں صبر فرمایا پھر اللہ تعالٰی نے نبوّت کے ساتھ مُلکِ مِصر عطا کیا ۔ کثرتِ معجزات و قوتِ بَراہین بھی مراتبِ معتبرہ میں سے ہیں ۔ اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی و ہارون کو اس کے ساتھ مشرف کیا ۔ زُہد و ترکِ دنیا بھی مراتبِ معتبرہ میں سے ہے ۔ حضرت زکریا و یحیٰی و عیسٰی و الیاس کو اس کے ساتھ مخصوص فرمایا ، ان حضرات کے بعد اللہ تعالٰی نے ان انبیاء کا ذکر فرمایا کہ جن کے نہ مُتّبِعین باقی رہے نہ ان کی شریعت جیسے کہ حضرت اسمٰعیل ، یسع ، یونس ، لوط علیہم الصلٰوۃ والسلام ۔ اس شان سے انبیاء کا ذکر فرمانے میں ان کی کرامتوں اور خصوصیتوں کا ایک عجیب لطیفہ نظر آتا ہے ۔
یہ اللہ کی ہدایت ہے کہ اپنے بندوں میں جسے چاہے دے، اور اگر وہ شرک کرتے تو ضرور ان کا کیا اکارت جاتا،
This is the guidance of Allah, which He may give to whomever He wills among His bondmen; and had they ascribed partners (to Allah), their deeds would have been wasted.
यह हैं जिन को अल्लाह ने हिदायत दी तो तुम उन्हीं की राह चलो, तुम फ़रमाओ मैं क़ुरआन पर तुम से कोई अज्र नहीं माँगता, वह तो नहीं मगर नसीहत सारे जहान को
Ye hain jinko humne kitaab aur hukm aur nubuwwat ata ki, to agar ye log is se munkir hon to humne iske liye ek aisi qaum laga rakhi hai jo inkaar wali nahin
یہ ہیں جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تو اگر یہ لوگ (ف۱۷۷) اس سے منکر ہوں تو ہم نے اس کیلئے ایک ایسی قوم لگا رکھی ہے جو انکار والی نہیں (ف۱۷۸)
These are the ones whom We gave the Book and the wisdom and the Prophethood; so if these people do not believe in it, We have then kept ready for it a nation who do not reject (the truth).
और यहूद ने अल्लाह की क़द्र न जानी जैसी चाहिए थी, जब बोले अल्लाह ने किसी आदमी पर कुछ नहीं उतारा, तुम फ़रमाओ किस ने उतारी वह किताब जो मूसा लाए थे रोशनी और लोगों के लिए हिदायत, जिस के तुम ने अलग-अलग काग़ज़ बना लिए, ज़ाहिर करते हो और बहुत-से छुपा लेते हो, और तुम्हें वह सिखाया जाता है जो न तुम को मालूम था न तुम्हारे बाप-दादा को, अल्लाह कहो फिर उन्हें छोड़ दो उनकी बे-हूदगी में उन्हें खेलता,
Ye hain jinko Allah ne hidayat ki to tum unhi ki raah chalo, tum farmao main Qur’an par tumse koi ujrat nahin mangta, woh to nahin magar naseehat saare jahan ko
(ف177)یعنی اہلِ مکّہ ۔(ف178)اس قوم سے یا انصار مراد ہیں یا مہاجرین یا تمام اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا حضور پر ایمان لانے والے سب لوگ ۔فائدہ : اس آیت میں دلالت ہے کہ اللہ تعالٰی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نُصرت فرمائے گا اور آپ کی دین کو قوت دے گا اور اس کو تمام اَدیان پر غالب کرے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا اور یہ غیبی خبر واقع ہو گئی ۔
یہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت کی تو تم انہیں کی راہ چلو (ف۱۷۹) تم فرماؤ میں قرآن پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا وہ تو نہیں مگر نصیحت سارے جہان کو (ف۱۸۰)
These are the ones whom Allah guided, so follow their guidance; say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “I do not ask from you any fee for the Qur’an; it is nothing but an advice to the entire world.”
और यह है बरकत वाली किताब कि हम ने उतारी, तसदीक़ फरमाती उन किताबों की जो आगे थीं और इस लिए कि तुम डर सुनाओ सब बस्तियों के सरदार को और जो कोई सारे जहान में उस के गर्द हैं, और जो आख़िरत पर ईमान लाते हैं उस किताब पर ईमान लाते हैं और अपनी नमाज़ की हिफ़ाज़त करते हैं,
Aur Yahood ne Allah ki qadr na jaani jaisi chahiye thi jab bole Allah ne kisi aadmi par kuch nahin utara, tum farmao kisne utari woh kitaab jo Moosa laaye the roshni aur logon ke liye
Hidayat jis ke tum ne alag alag kagaz bana liye zahir karte ho aur bohot se chhupa lete ho aur tumhe woh sikhaya jata hai jo na tum ko maloom tha na tumhare baap dada ko, Allah kaho phir unhein chhod do un ki behoodgi mein unhein khelta
(ف179)مسئلہ : عُلَمائے دین نے اس آیت سے یہ مسئلہ ثابت کیا ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء سے افضل ہیں کیونکہ خِصالِ کمال و اوصافِ شرف جو جُدا جُدا انبیاء کو عطا فرمائے گئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے سب کو جمع فرما دیا اور آپ کو حکم دیا فَبِھُدٰھُمُ اقْتَدِہْ تو جب آپ تمام ا نبیاء کے اوصافِ کمالیہ کے جامع ہیں تو بے شک سب سے افضل ہوئے ۔(ف180)اس آیت سے ثابت ہوا کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم تمام خَلق کی طرف مبعوث ہیں اور آپ کی دعوت تمام خَلق کو عام اور کل جہان آپ کی اُمّت ۔ (خازن)
اور یہود نے اللہ کی قدر نہ جانی جیسی چاہیے تھی (ف۱۸۱) جب بولے اللہ نے کسی آدمی پر کچھ نہیں اتارا، تم فرماؤ کس نے اتاری وہ کتاب جو موسیٰ لائے تھے روشنی اور لوگوں کے لیے ہدایت جس کے تم نے الگ الگ کاغذ بنالیے ظاہر کرتے ہو (ف۱۸۲) اور بہت سے چھپالیتے ہو (ف۱۸۳) اور تمہیں وہ سکھایا جاتا ہے (ف۱۸٤) جو نہ تم کو معلوم تھا نہ تمہارے باپ دادا کو، اللہ کہو (ف۱۸۵) پھر انہیں چھوڑ دو ان کی بیہودگی میں انہیں کھیلتا (ف۱۸٦)
And they (the Jews) did not realise (or appreciate) the importance of Allah as was required when they said, “Allah has not sent down anything upon any human being”; say, “Who has sent down the Book which Moosa brought, a light and guidance for mankind, which you have divided into different papers, some which you show and hide most of them? And (by which) you are taught what you did not know nor did your forefathers?” Say, “Allah” – then leave them playing in their indecency.
और उस से बढ़ कर ज़ालिम कौन जो अल्लाह पर झूट बाँधे या कहे मुझे वही हुई और उस को कुछ वही न हुई, और जो कहे अभी मैं उतारता हूँ ऐसा जैसा अल्लाह ने उतारा, और कभी तुम देखो जिस वक्त ज़ालिम मौत की सख़्तियों में हैं और फ़रिश्ते हाथ फैलाते हुए हैं कि निकालो अपनी जानें, आज तुम्हें ख़्वारी का अज़ाब दिया जाएगा बदला उस का कि अल्लाह पर झूट लगाते थे और उस की आयतों से तकब्बुर करते,
Aur yeh hai barkat wali kitaab ke hum ne utari tasdeeq farmati un kitaabon ki jo aage thin aur is liye ke tum dar sunao sab bastiyon ke sardaar ko aur jo koi sare jahan mein us ke gird hain aur jo aakhirat par imaan laate hain is kitaab par imaan laate hain aur apni namaz ki hifazat karte hain,
(ف181)اور اس کی معرفت سے محروم رہے اور اپنے بندوں پر اس کو جو رحمت و کرم ہے اس کو نہ جانا ۔شانِ نُزول : یہود کی ایک جمات اپنے حِبرُ الاَحبار مالک ابنِ صیف کو لے کر سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم سےمجادلہ کرنے آئی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا میں تجھے اس پروردگار کی قسم دیتا ہوں جس نے حضرت موسٰی علیہ السلام پر توریت نازل فرمائی ، کیا توریت میں تو نے یہ دیکھا ہے اِنَّ اللَّٰہَ یَبْغَضُ الْحِبْرَ السَّمِیْنَ یعنی اللہ کو موٹا عالِم مبغوض ہے ؟ کہنے لگا ہاں یہ توریت میں ہے ، حضور نے فرمایا تو موٹا عالِم ہی تو ہے اس پر غضبناک ہو کر کہنے لگا کہ اللہ نے کسی آدمی پر کچھ نہیں اُتارا ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور اس میں فرمایا گیا کس نے اُتاری وہ کتاب جو موسٰی لائے تھے تو وہ لاجواب ہوا اور یہود اس سے برہم ہوئے اور اس کو جھڑکنے لگے اور اس کو حِبْر کے عہدہ سے معزول کر دیا ۔ (مدارک و خازن)(ف182)ان میں سے بعض کو جس کا اظہار اپنی خواہش کے مطابق سمجھتے ہو ۔(ف183)جو تمہاری خواہش کے خلاف کرتے ہیں جیسے کہ توریت کے وہ مضامین جن میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت و صفت مذکور ہے ۔(ف184)سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور قرآنِ کریم سے ۔(ف185)یعنی جب وہ اس کا جواب نہ دے سکیں کہ وہ کتاب کس نے اُتاری تو آپ فرما دیجئے اللہ نے ۔(ف186)کیونکہ جب آپ نے حُجّت قائم کر دی اور انداز و نصیحت نہایت کو پہنچا دی اور ان کے لئے جائے عذر نہ چھوڑی ، اس پر بھی وہ باز نہ آئیں تو انہیں ان کی بے ہودگی میں چھوڑ دیجئے ۔ یہ کُفّار کے حق میں وعید و تہدید ہے ۔
اور یہ ہے برکت والی کتاب کہ ہم نے اتاری (ف۱۸۷) تصدیق فرماتی ان کتابوں کی جو آگے تھیں اور اس لیے کہ تم ڈر سناؤ سب بستیوں کے سردار کو (ف۱۸۸) اور جو کوئی سارے جہاں میں اس کے گرد ہیں اور جو آخرت پر ایمان لاتے ہیں (ف۱۸۹) اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں اور اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں،
And this is the blessed Book which We have sent down, confirming the Books preceding it, and in order that you may warn the leader of all villages and all those around it in the entire world; and those who believe in the Hereafter accept faith in this Book, and guard their prayers.
और बेशक तुम हमारे पास अकेले आए जैसा हम ने तुम्हें पहली बार पैदा किया था और पीठ पीछे छोड़ आए जो माल व मताअ हम ने तुम्हें दिया था और हम तुम्हारे साथ तुम्हारे उन सिफ़ारिशियों को नहीं देखते जिन का तुम अपने में साज़ा बताते थे, बेशक तुम्हारे आपस की डोर कट गयी और तुम से गए जो दावे करते थे
Aur is se barh kar zalim kaun jo Allah par jhoot baandhe ya kahe mujhe wahi hui aur use kuch wahi na hui aur jo kahe abhi main utarta hoon aisa jaisa Allah ne utara aur kabhi tum dekho jis waqt zalim mout ki sakhtiyon mein hain aur farishte haath phelate hue hain ke nikalo apni jaanen, aaj tumhe khwari ka azaab diya jaye ga badla is ka ke Allah par jhoot lagate the aur us ki aayaton se takabbur karte,
(ف187)یعنی قرآن شریف ۔(ف188)اُمُّ القُرٰی مکّہ مکرّمہ ہے کیونکہ وہ تمام زمین والوں کا قبلہ ہے ۔(ف189)اور قیامت و آخرت اور مرنے کے بعد اُٹھنے کا یقین رکھتے ہیں اور اپنے انجام سے غافل و بے خبر نہیں ہیں ۔
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۱۹۰) یا کہے مجھے وحی ہوئی اور اسے کچھ وحی نہ ہوئی (ف۱۹۱) اور جو کہے ابھی میں اتارتا ہوں ایسا جیسا اللہ نے اتارا (ف۱۹۲) اور کبھی تم دیکھوں جس وقت ظالم موت کی سختیوں میں ہیں اور فرشتے ہاتھ پھیلاتے ہوئے ہیں (ف۱۹۳) کہ نکالو اپنی جانیں، آج تمہیں خواری کا عذاب دیا جائے گا بدلہ اس کا کہ اللہ پر جھوٹ لگاتے تھے (ف۱۹٤) اور اس کی آیتوں سے تکبر کرتے،
Who is more unjust than one who fabricates lies against Allah or says, “I have received divine inspiration”, whereas he has not been inspired at all – and one who says, “I will now reveal something similar to what Allah has sent down”? And if you see when the unjust are in the throes of death and the angels are with their hands outstretched; (saying) “Surrender your souls; this day you shall be given a disgraceful punishment – the recompense of your fabricating lies against Allah, and your scorning His signs.”
बेशक अल्लाह दाने और गुठली को चीरने वाला है, ज़िन्दा को मुर्दा से निकालने और मुर्दा को ज़िन्दा से निकालने वाला, यह है अल्लाह, तुम कहाँ औंधे जाते हो
Aur beshak tum humare paas akele aaye jaisa hum ne tumhe pehli baar paida kiya tha aur peeth peeche chhod aaye jo maal o mataa hum ne tumhe diya tha aur hum tumhare saath tumhare un safarshiyon ko nahi dekhte jin ka tum apne mein saajha batate the beshak tumhare aapas ki door kat gayi aur tum se gaye jo daaway karte the
(ف190)اور نبوّت کا جھوٹا دعوٰی کرے ۔(ف191)شانِ نُزول : یہ آیت مُسَیلمہ کَذّاب کے بارے میں نازل ہوئی جس نے یَمامہ عَلاقۂ یمن میں نبوّت کا جھوٹا دعوٰی کیا تھا ۔ قبیلۂ بنی حنیفہ کے چند لوگ اس کے فریب میں آ گئے تھے یہ کذّاب زمانۂ خلافتِ حضرت ابو بکر صدیق میں وحشی قاتلِ امیرِ حمزہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے قتل ہوا ۔(ف192)شانِ نُزول : یہ عبداللہ بن ابی سرح کاتِبِ وحی کے حق میں نازل ہوئی ۔ جب آیت وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ نازل ہوئی اس نے اس کو لکھا اور آخر تک پہنچتے پہنچتے پیدائشِ انسان کی تفصیل پر مطلع ہو کر متعجب ہوا اور اس حالت میں آیت کا آخر فَتَبَارَکَ اللّٰہ ُاَحْسَنُ الْخَالِقِیْن بے اختیار اس کی زبان پر جاری ہو گیا ، اس پر اس کو یہ گھمنڈ ہوا کہ مجھ پر وحی آنے لگی اور مرتد ہو گیا ، یہ نہ سمجھا کہ نورِ وحی اور قوت و حُسنِ کلام سے آیت کا آخر کلمہ زبان پر آ گیا ، اس میں اس کی قابلیت کا کوئی دخل نہ تھا زورِ کلام خود اپنے آخر کو بتا دیا کرتا ہے جیسے کبھی کوئی شاعر نفیس مضمون پڑھے وہ مضمون خود قافیہ بتا دیتا ہے اور سننے والے شاعر سے پہلے قافیہ پڑھ دیتے ہیں ، ان میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو ہرگز ویسا شعر کہنے پر قادر نہیں تو قافیہ بتانا ان کی قابلیّت نہیں کلام کی قوت ہے اور یہاں تو نورِ وحی اور نورِ نبی سے سینہ میں روشنی آتی تھی چنانچہ مجلس شریف سے جُدا ہونے اور مرتد ہو جانے کے بعد پھر وہ ایک جملہ بھی ایسا بنانے پر قادر نہ ہوا جو نظمِ قرآنی سے مل سکتا ، آخر کار زمانۂ اقدس ہی میں قبل فتحِ مکّہ پھر اسلام سے مشرف ہوا ۔(ف193)اَرواح قبض کرنے کے لئے جھڑکتے جاتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں ۔(ف194)نبوّت اور وحی کے جھوٹے دعوے کر کے اور اللہ کے لئے شریک اور بی بی بچے بتا کر ۔
اور بیشک تم ہمارے پاس اکیلے آئے جیسا ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا (ف۱۹۵) اور پیٹھ پیچھے چھوڑ آئے جو مال و متاع ہم نے تمہیں دیا تھا اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے ان سفارشیوں کو نہیں دیکھتے جن کا تم اپنے میں ساجھا بتاتے تھے (ف۱۹٦) بیشک تمہارے آپس کی ڈور کٹ گئی (ف۱۹۷) اور تم سے گئے جو دعوے کرتے تھے (ف۱۹۸)
“And indeed you (the disbelievers) have now come to Us alone as We had created you at first, and you have left behind you all the wealth and riches We had bestowed upon you; and We do not see your intercessors along with you, whom you claimed to possess a share in you; indeed the link between yourselves is cut off, and you have lost all what you contended.”
तारीकी चाक कर के सुबह निकालने वाला और उस ने रात को चैन बनाया और सूरज और चाँद को हिसाब, यह सधा हुआ है ज़बरदस्त जानने वाले का,
Beshak Allah daane aur guthli ko cheerne wala hai zinda ko murda se nikalne aur murda ko zinda se nikalne wala yeh hai Allah tum kahan oondhe jaate ho
(ف195)نہ تمہارے ساتھ مال ہے نہ جاہ ، نہ اولاد جن کی مَحبت میں تم عمر بھر گرفتار رہے ، نہ وہ بُت جنہیں پُوجا کئے ، آج ان میں سے کوئی تمہارے کام نہ آیا ، یہ کُفّار سے روزِ قیامت فرمایا جاو ے گا ۔(ف196)کہ وہ عبادت کے حقدار ہونے میں اللہ کے شریک ہیں ۔ (معاذ اللّٰہ)(ف197)اور علاقے ٹوٹ گئے ، جماعت منتشر ہو گئی ۔(ف198)تمہارے وہ تمام جُھوٹے دعوے جو تم دنیا میں کیا کرتے تھے باطل ہو گئے ۔
بیشک اللہ دانے اور گٹھلی کو چیر نے والا ہے (ف۱۹۹) زندہ کو مردہ سے نکالنے (ف۲۰۰) اور مردہ کو زندہ سے نکالنے والا (ف۲۰۱) یہ ہے اللہ تم کہاں اوندھے جاتے ہو (ف۲۰۲)
Indeed it is Allah Who splits the grain and the seed; it is He Who brings forth living from the dead, and it is He Who brings forth dead from the living; such is Allah; so where are you reverting?
और वही है जिस ने तुम्हारे लिए तारे बनाए कि उन से राह पाओ ख़ुश्की और तरी के अंधेरों में, हम ने निशानियाँ मुफ़स्सल बयान कर दीं इल्म वालों के लिए,
Tareeki chaak kar ke subah nikalne wala aur us ne raat ko chain banaya aur sooraj aur chaand ko hisaab yeh saadha (sidhaya hua) hai zabardast jaan-ne wale ka,
(ف199)توحید و نبوّت کے بیان کے بعد اللہ تعالٰی نے اپنے کمالِ قدرت و علم و حکمت کے دلائل ذکر فرمائے کیونکہ مقصودِ اعظم اللہ سبحانہ اور اس کے تمام صفات و افعال کی معرفت ہے اور یہ جاننا کہ وہی تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا ہے اور جو ایسا ہو وہی مستحقِ عبادت ہو سکتا ہے ، نہ کہ وہ بُت جنہیں مشرکین پُوجتے ہیں ۔ خشک دانہ اور گٹھلی کو چیر کر ان سے سبزہ اور درخت پیدا کرنا اور ایسی سنگلاخ زمینوں میں ان کے نرم ریشوں کو رواں کرنا جہاں آہنی میخ بھی کام نہ کر سکے اس کی قدرت کے کیسے عجائبات ہیں ۔(ف200)جاندار سبزہ کو بے جان دانے اور گٹھلی سے اور انسان و حیوان کو نُطفہ سے اور پرند کو انڈے سے ۔(ف201)جاندار درخت سے بے جان گُٹھلی اور دانہ کو اور انسان و حیوان سے نُطفہ کو اور پرندے سے انڈے کو یہ اس کے عجائبِ قدرت و حکمت ہیں ۔(ف202)اور ایسے براہین قائم ہونے کے بعد کیوں ایمان نہیں لا تے اور موت کے بعد اٹھنے کا یقین نہیں کرتے ، جو بے جان نُطفہ سے جاندار حیوان پیدا کرتا ہے اس کی قدرت سے مُردہ کو زندہ کرنا کیا بعید ہے ۔
تاریکی چاک کرکے صبح نکالنے والا اور اس نے رات کو چین بنایا (ف۲۰۳) اور سورج اور چاند کو حساب (ف۲۰٤) یہ سادھا (سدھایا ہوا) ہے زبردست جاننے والے کا،
It is He Who breaks dawn (by splitting the dark); and He has made the night a calmness, and the sun and the moon a count (for time); this is the command set by the Almighty, the All Knowing.
और वही है जिस ने तुम को एक जान से पैदा किया, फिर कहीं तुम्हें ठहरना है और कहीं अमानत रहना, बेशक हम ने मुफ़स्सल आयतें बयान कर दीं समझ वालों के लिए,
Aur wahi hai jis ne tumhare liye taare banaye ke un se raah pao khushki aur tari ke andheron mein, hum ne nishaniyan mufassal bayan kar di ilmu walon ke liye,
(ف203)کہ خَلق اس میں چین پا تی ہے اور دن کی تَکان و ماندگی کو استراحت سے دور کرتی ہے اور شب بیدار زاہد تنہائی میں اپنے ربّ کی عبادت سے چین پا تے ہیں ۔(ف204)کہ ان کے دورے اور سیر سے عبادات و معاملات کے اوقات معلوم ہوں ۔
اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے تارے بنائے کہ ان سے راہ پاؤ خشکی اور تری کے اندھیروں میں، ہم نے نشانیاں مفصل بیان کردیں علم والوں کے لیے،
And it is He Who has created the stars for you, so that you may find your way by them in the darkness of the land and the sea; indeed We have explained Our verses in detail for the people of knowledge.
और वही है जिस ने आसमान से पानी उतारा, तो हम ने उस से हर उगने वाली चीज़ निकाली, तो हम ने उस से निकाली सब्ज़ी जिस में से दाने निकालते हैं एक दूसरे पर चढ़े हुए और खजूर के गाभे से पास-पास गुच्छे और अंगूर के बाग़ और ज़ैतून और अनार, किसी बात में मिलते और किसी बात में अलग, उस का फल देखो जब फले और उस का पकना, बेशक उस में निशानियाँ हैं ईमान वालों के लिए,
Aur wahi hai jis ne tum ko ek jaan se paida kiya phir kahin tumhe thehrna hai aur kahin amaanat rehna beshak hum ne mufassal aayatein bayan kar di samajh walon ke liye,
اور وہی ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا (ف۲۰۵) پھر کہیں تمہیں ٹھہرنا ہے (ف۲۰٦) اور کہیں امانت رہنا (ف۲۰۷) بیشک ہم نے مفصل آیتیں بیان کردیں سمجھ والوں کے لیے،
And it is He Who has created you from a single soul – then you have to stop over* in one place and stay entrusted** in another; indeed We have explained Our verses in detail for people of understanding. (* This earth. ** The grave.)
और अल्लाह का शरीक ठहराया जिन्नों को, हालाँकि उसी ने उन को बनाया, और उस के लिए बेटे और बेटियाँ गढ़ लीं जहालत से, पाकी और बर्तरी है उस को उनकी बातों से,
Aur wahi hai jis ne aasman se paani utara, to hum ne us se har ugne wali cheez nikali to hum ne us se nikali sabzi jis mein se daane nikalte hain ek doosre par chadhe hue aur khajoor ke gaabhe se paas paas gucche aur angoor ke baagh aur zaitoon aur anaar kisi baat mein milte aur kisi baat mein alag, us ka phal dekho jab phale aur us ka pakna beshak is mein nishaniyan hain imaan walon ke liye,
(ف205)یعنی حضرت آدم سے ۔(ف206)ماں کے رِحم میں یا زمین کے اوپر ۔(ف207)باپ کی پُشت میں یا قبر کے اندر ۔
اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا، تو ہم نے اس سے ہر اُگنے والی چیز نکالی (ف۲۰۸) تو ہم نے اس سے نکالی سبزی جس میں سے دانے نکالتے ہیں ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے اور کھجور کے گابھے سے پاس پاس گچھے اور انگور کے باغ اور زیتون اور انار کسی بات میں ملتے اور کسی بات میں الگ، اس کا پھل دیکھو جب پھلے اور اس کا پکنا بیشک اس میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے ،
And it is He Who sends down water from the sky; so with it We produced all things that grow; hence We produce from it vegetation from which We bring forth grains in clusters; and from the pollen of dates, dense bunches – and gardens of grapes and olives and pomegranates, similar in some ways and unlike in some; look at its fruit when it bears yield, and its ripening; indeed in it are signs for the people who believe.
बे-किसी नमूने के आसमानों और ज़मीन का बनाने वाला, उस का बच्चा कहाँ से हो हालाँकि उस की औरत नहीं और उस ने हर चीज़ पैदा की और वह सब कुछ जानता है,
Aur Allah ka shareek thehraya jinno ko halanke usi ne un ko banaya aur us ke liye betay aur betiyan garh li jaahalat se, paaki aur bartri hai us ko un ki baton se,
(ف208)پانی ایک اور اس سے جو چیزیں اُگائیں وہ قِسم قِسم اور رنگارنگ ۔
اور (ف۲۰۹) اللہ کا شریک ٹھہرایا جنوں کو (ف۲۱۰) حالانکہ اسی نے ان کو بنایا اور اس کے لیے بیٹے اور بیٹیاں گڑھ لیں جہالت سے، پاکی اور برتری ہے اس کو ان کی باتوں سے،
And out of sheer ignorance they have ascribed jinns as partners of Allah, whereas it is He Who created them, and they have invented sons and daughters for Him! Purity and Supremacy is to Him, from all what they ascribe.
यह है अल्लाह तुम्हारा रब और उस के सिवा किसी की बन्दगी नहीं, हर चीज़ का बनाने वाला तो उसे पूजो, वह हर चीज़ पर निगहबान है
Be kisi namoona ke aasmanon aur zameen ka banane wala, us ke bacha kahan se ho halanke us ki aurat nahi aur us ne har cheez paida ki aur woh sab kuch jaanta hai,
(ف209)باوجودیکہ ان دلائلِ قدرت و عجائبِ حکمت اور اس انعام و اکرام اور ان نعمتوں کے پیدا کرنے اور عطا فرمانے کا اِقتضاء تھا کہ اس کریم کارساز پر ایمان لاتے بجائے اس کے بُت پرستوں نے یہ ستم کیا (جو آیت میں آگے مذکور ہے)کہ ۔(ف210)کہ ان کی اطاعت کر کے بُت پرست ہو گئے ۔
بےکسی نمو نہ کے آسمانوں اور زمین کا بنانے والا، اسکے بچہ کہاں سے ہو حالانکہ اس کی عورت نہیں (ف۲۱۱) اور اس نے ہر چیز پیدا کی (ف۲۱۲) اور وہ سب کچھ جانتا ہے،
The Originator of the heavens and the earth; how can He possibly have a child when, in fact, He does not have a spouse? And He has created all things; and He knows everything.
आँखें उसे एहाता नहीं करतीं और सब आँखें उस के एहाता में हैं और वही है पूरा बातिन पूरा ख़बरदार,
Yeh hai Allah tumhara Rab aur us ke siwa kisi ki bandagi nahi har cheez ka banane wala to use poojo woh har cheez par nigehbaan hai
(ف211)اور بے عورت اولاد نہیں ہوتی اور زوجہ اس کی شان کے لائق نہیں کیونکہ کوئی شے اس کی مثل نہیں ۔(ف212)تو جو ہے وہ اس کی مخلوق ہے اور مخلوق اولاد نہیں ہو سکتی تو کسی مخلوق کو اولاد بتانا باطل ہے ۔
یہ ہے اللہ تمہارا رب (ف۲۱۳) اور اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں ہر چیز کا بنانے والا تو اسے پوجو وہ ہر چیز پر نگہبان ہے (ف۲۱٤)
Such is Allah, your Lord; and none is worthy of worship except Him; the Creator of all things – therefore worship Him; and He is the Trustee over all things.
तुम्हारे पास आँखें खोलने वाली दलीलें आयीं तुम्हारे रब की तरफ़ से, तो जिस ने देखा तो अपने भले को और जो अंधा हुआ अपने बुरे को, और मैं तुम पर निगहबान नहीं,
Aankhen use ihata nahi karteen aur sab aankhen us ke ihata mein hain aur wahi hai poora baatin poora khabardaar,
(ف213)جس کے صفات مذکور ہوئے اور جس کے یہ صفات ہوں وہی مستحقِ عبادت ہیں ۔(ف214)خواہ وہ رزق ہو یا اَجَل یا حمل ۔
آنکھیں اسے احاطہ نہیں کرتیں (ف۲۱۵) اور سب آنکھیں اس کے احاطہ میں ہیں اور وہی ہے پورا باطن پورا خبردار،
Eyes do not encompass Him – and all eyes are within His domain*; He is the Most Subtle, the Fully Aware. (* control / knowledge)
और हम इसी तरह आयतें तरह-तरह से बयान करते और इस लिए कि काफ़िर बोल उठें कि तुम तो पढ़े हो, और इस लिए कि उसे इल्म वालों पर वाज़ेह कर दें,
Tumhare paas aankhen kholne wali daleelein aayin tumhare Rab ki taraf se to jis ne dekha to apne bhale ko aur jo andha hua apne bure ko, aur main tum par nigehbaan nahi,
(ف215)مسائل : اِدراک کے معنٰی ہیں مَرئی کے جوانِب و حدود پر واقف ہونا اسی کو اِحاطہ کہتے ہیں ۔ ادراک کی یہی تفسیر حضرت سعید ابنِ مسیّب اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے منقول ہے اور جمہور مفسِّرین ادراک کی تفسیر احاطہ سے فرماتے ہیں اور احاطہ اسی چیز کا ہو سکتا ہے جس کے حدود و جہات ہوں ، اللہ تعالٰی کے لئے حد و جِہت محال ہے تو اس کا ادراک و احاطہ بھی ناممکن ، یہی مذہب ہے اہلِ سُنّت کا ، خوارج و معتزِلہ وغیرہ گمراہ فرقے ادراک اور رویت میں فرق نہیں کرتے اس لئے وہ اس گمراہی میں مبتلا ہو گئے کہ انہوں نے دیدارِ الٰہی کو محالِ عقلی قرار دے دیا باوجودیکہ نفیٔ رویت نفیٔ علم کو مستلزم ہے ورنہ جیسا کہ باری تعالٰی بخلاف تمام موجودات کے بلا کیفیت و جِہت جانا جا سکتا ہے ایسے ہی دیکھا بھی جا سکتا ہے کیونکہ اگر دوسری موجودات بغیر کیفیت و جِہت کے دیکھی نہیں جا سکتی تو جانی بھی نہیں جا سکتی ، راز اس کا یہ ہے کہ رویت و دید کے معنٰی یہ ہیں کہ بصر کسی شئے کو جیسی کہ وہ ہو ویسا جانے تو جو شئے جِہت والی ہو گی اس کی رویت و دید جِہت میں ہو گی اور جس کے لئے جِہت نہ ہو گی اس کی دید بے جہت ہو گی ۔دیدارِ الٰہی : آخرت میں اللہ تعالٰی کا دیدار مومنین کے لئے اہلِ سُنّت کا عقیدہ اور قرآن و حدیث و اِجماعِ صحابہ و سلفِ اُمّت کے دلائلِ کثیرہ سے ثابت ہے ۔ قرآنِ کریم میں فرمایا وُجُوہ ُ یَّوْمَئِذٍ نَاضِرَۃٌ اِلٰی رَبِّھَا نَاظِرَۃٌ اس سے ثابت ہے کہ مومنین کو روزِ قیامت ان کے ربّ کا دیدار میسّر ہو گا ، اس کے علاوہ اور بہت آیات اور صحاح کی کثیر احادیث سے ثابت ہے ۔ اگر دیدارِ الٰہی ناممکن ہوتا تو حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام دیدار کا سوال نہ فرماتے ۔ رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرُ اِلَیْکَ ارشاد نہ کرتے اور ان کے جواب میں اِنِ اسۡتقَرَّ مَکَانَہ فَسَوْفَ تَرَانِیْ نہ فرمایا جاتا ۔ ان دلائل سے ثابت ہو گیا کہ آخرت میں مؤمنین کے لئے دیدارِ الٰہی شرع میں ثابت ہے اور اس کا انکار گمراہی ۔
تمہارے پاس آنکھیں کھولنے والی دلیلیں آئیں تمہارے رب کی طرف سے تو جس نے دیکھا تو اپنے بھلے کو اور جو اندھا ہوا اپنے برُے کو، اور میں تم پر نگہبان نہیں،
“Enlightening proofs came to you from your Lord; so whoever observes, it is for his own good; and whoever is blind, it is for his own harm; and I am not a guardian over you.”
उस पर चलो जो तुम्हें तुम्हारे रब की तरफ़ से वही होती है, उस के सिवा कोई माबूद नहीं और मुशरिकों से मुँह फेर लो
Aur hum isi tarah aayatein tarah tarah se bayan karte aur is liye ke kafir bol uthain ke tum to padhe ho aur is liye ke use ilmu walon par wazeh kar dein,
اور ہم اسی طرح آیتیں طرح طرح سے بیان کرتے (ف۲۱٦) اور اس لیے کہ کافر بول اٹھیں کہ تم تو پڑھے ہو اور اس لیے کہ اسے علم والوں پر واضح کردیں،
And this is how We explain Our verses in different ways that they (the disbelievers) may say to you, (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “You have studied” – and to make it clear for the people of knowledge.
और अल्लाह चाहता तो वह शिर्क नहीं करते, और हम ने तुम्हें उन पर निगहबान नहीं किया और तुम उन पर कड़ौड़े (हाकिम-ए-आला) नहीं,
Is par chalo jo tumhe tumhare Rab ki taraf se wahi hoti hai us ke siwa koi maabood nahi aur mushrikon se munh pher lo
اس پر چلو جو تمہیں تمہارے رب کی طرف سے وحی ہوتی ہے (ف۲۱۷) اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور مشرکوں سے منہ پھیر لو
Follow what is divinely revealed to you from your Lord; there is none worthy of worship except Him; and turn away from the polytheists.
और उन्हें गाली न दो वह जिन को वह अल्लाह के सिवा पूजते हैं कि वह अल्लाह की शान में बे-अदबी करेंगे ज़ियादती और जहालत से, यूँही हम ने हर उम्मत की निगाह में उस के अमल भले कर दिए हैं, फिर उन्हें अपने रब की तरफ़ फिरना है और वह उन्हें बता देगा जो करते थे,
Aur Allah chahta to woh shirk nahi karte, aur hum ne tumhe un par nigehbaan nahi kiya aur tum un par karora (haakim-e-aala) nahi,
(ف217)اور کُفّار کی بے ہودہ گوئیوں کی طرف التفات نہ کرو ، اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تسکینِ خاطر ہے کہ آپ کُفّار کی یاوَہ گوئیوں سے رنجیدہ نہ ہوں ، یہ ان کی بدنصیبی ہے کہ وہ ایسی واضح برہانوں سے فائدہ نہ اٹھائیں ۔
اور اللہ چاہتا تو وہ شرک نہیں کرتے، اور ہم نے تمہیں ان پر نگہبان نہیں کیا اور تم ان پر کڑوڑے (حاکمِ اعلیٰ) نہیں،
And if Allah willed, they would not ascribe (any partner to Him); We have not made you as a guardian over them; and you are not responsible for them.
और उन्होंने अल्लाह की क़सम खायी अपने हलफ़ में पूरी कोशिश से कि अगर उनके पास कोई निशानी आयी तो ज़रूर उस पर ईमान लायेंगे, तुम फ़रमा दो कि निशानियाँ तो अल्लाह के पास हैं और तुम्हें क्या ख़बर कि जब वह आयें तो यह ईमान न लायेंगे
Aur unhein gaali na do woh jin ko woh Allah ke siwa poojte hain ke woh Allah ki shaan mein be-adbi karenge ziyaadati aur jaahalat se, yoonhi hum ne har ummat ki nigah mein us ke amal bhale kar diye hain phir unhein apne Rab ki taraf phirna hai aur woh unhein bata de ga jo karte the,
اور انہیں گالی نہ دو وہ جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں کہ وہ اللہ کی شان میں بے ادبی کریں گے زیادتی اور جہالت سے (ف۲۱۸) یونہی ہم نے ہر امت کی نگاہ میں اس کے عمل بھلے کردیے ہیں پھر انہیں اپنے رب کی طرف پھرنا ہے اور وہ انہیں بتادے گا جو کرتے تھے،
Do not abuse those whom they worship besides Allah lest they become disrespectful towards Allah’s Majesty, through injustice and ignorance; likewise, in the eyes of every nation, We have made their deeds appear good – then towards their Lord they have to return and He will inform them of what they used to do.
और हम फेर देते हैं उनके दिलों और आँखों को जैसा वह पहली बार ईमान न लाए थे और उन्हें छोड़ देते हैं कि अपनी सरकशी में भटका करें,
Aur unhon ne Allah ki qasam khai apne halaf mein poori koshish se ke agar un ke paas koi nishani aayi to zaroor us par imaan laayenge, tum farma do ke nishaniyan to Allah ke paas hain aur tumhe kya khabar ke jab woh aayen to yeh imaan na laayenge
(ف218)قتادہ کا قول ہے کہ مسلمان کُفّار کے بُتوں کی بُرائی کیا کرتے تھے تاکہ کُفّار کو نصیحت ہو اور وہ بُت پرستی کے عیب سے باخبر ہوں مگر ان ناخدا شَناس جاہلوں نے بجائے پند پذیر ہونے کے شانِ الٰہی میں بے ادبی کے ساتھ زبان کھولنی شروع کی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اگرچہ بُتوں کو برا کہنا اور ان کی حقیقت کا اظہار طاعت و ثواب ہے لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کُفّار کی بدگوئیوں کو روکنے کے لئے اس کو منع فرمایا گیا ۔ ابنِ اَنباری کا قول ہے کہ یہ حکم اول زمانہ میں تھا جب اللہ تعالٰی نے اسلام کو قوت عطا فرمائی منسوخ ہو گیا ۔
اور انہوں نے اللہ کی قسم کھائی اپنے حلف میں پوری کوشش سے کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئی تو ضرور اس پر ایمان لائیں گے، تم فرما دو کہ نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں (ف۲۱۹) اور تمہیں (ف۲۲۰) کیا خبر کہ جب وہ آئیں تو یہ ایمان نہ لائینگے
And they swore by Allah vehemently in their oaths that if any sign came to them, they will certainly believe in it; say, “The signs are with Allah, and what do you people know that if they came to them, they will not believe.”
और अगर हम उनकी तरफ़ फ़रिश्ते उतारते और उन से मुर्दे बातें करते और हम हर चीज़ उनके सामने उठा लाते, जब भी वह ईमान लाने वाले न थे मगर यह कि ख़ुदा चाहता, लेकिन उन में बहुत निरे जाहिल हैं
Aur hum pher dete hain un ke dilon aur aankhon ko jaisa woh pehli baar imaan na laaye the aur unhein chhod dete hain ke apni sarkashi mein bhatka karein,
(ف219)وہ جب چاہتا ہے حسبِ اقتضائے حکمت نازل فرماتا ہے ۔(ف220)اے مسلمانو ۔
اور ہم پھیردیتے ہیں ان کے دلوں اور آنکھوں کو (ف۲۲۱) جیسا وہ پہلی بار ایمان نہ لائے تھے (ف۲۲۲) اور انہیں چھوڑ دیتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بھٹکا کریں،
And We revert their hearts and their eyes – the way they had not believed the first time – and We leave them to keep wandering blindly in their rebellion.
और इसी तरह हम ने हर नबी के दुश्मन किए हैं आदमियों और जिन्नों में के शैतान कि उन में एक दूसरे पर ख़ुफ़िया डालता है बनावट की बात धोखे को, और तुम्हारा रब चाहता तो वह ऐसा न करते, तो उन्हें उनकी बनावटों पर छोड़ दो
Aur agar hum un ki taraf farishte utarte aur un se murde baatein karte aur hum har cheez un ke saamne utha laate jab bhi woh imaan laane wale na the magar yeh ke Khuda chahta walekin un mein bohot nire jaahil hain
(ف221)حق کے ماننے اور دیکھنے سے ۔(ف222)ان آیات پر جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر ظاہر ہوئی تھیں مثل شقُ القمر وغیرہ معجزاتِ باہِرات کے ۔
اور اگر ہم ان کی طرف فرشتے اتارتے (ف۲۲۳) اور ان سے مردے باتیں کرتے اور ہم ہر چیز ان کے سامنے اٹھا لاتے جب بھی وہ ایمان لانے والے نہ تھے (ف۲۲٤) مگر یہ کہ خدا چاہتا (ف۲۲۵) و لیکن ان میں بہت نرے جاہل ہیں (ف۲۲٦)
And had We sent down the angels towards them, and had the dead spoken to them, and had We raised all things in front of them, they would still not have believed unless Allah willed – but most of them are totally ignorant.
और इस लिए कि उस की तरफ़ उनके दिल झुकें जिन को आख़िरत पर ईमान नहीं और उसे पसन्द करें और गुनाह कमाएँ जो उन्हें कमाना है,
Aur isi tarah hum ne har Nabi ke dushman kiye hain aadmiyon aur jinno mein ke shaitaan ke un mein ek doosre par khufiya daalta hai banawat ki baat dhokey ko, aur tumhara Rab chahta to woh aisa na karte to unhein un ki banawaton par chhod do
(ف223)شا نِ نُزول : ابنِ جریر کا قول ہے کہ یہ آیت اِستِہزاء کرنے والے قریش کی شان میں نازل ہوئی جنہوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ اے محمّد (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ ہمارے مُردوں کو اُٹھا لایئے ہم ان سے دریافت کر لیں کہ آپ جو فرماتے ہیں یہ حق ہے یا نہیں اور ہمیں فرشتے دکھائیے جو آپ کے رسول ہونے کی گواہی دیں یا اللہ اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لائیے ۔ اس کے جواب میں یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(ف224)وہ اہلِ شَقاوت ہیں ۔(ف225)اس کی مشیّت جو ہوتی ہے وہی ہوتا ہے ، جو اس کے علم میں اہلِ سعادت ہیں وہ ایمان سے مشّرف ہوتے ہیں ۔(ف226)نہیں جانتے کہ یہ لوگ وہ نشانیاں بلکہ اس سے زیادہ دیکھ کر بھی ایمان لانے والے نہیں ۔ (جمل و مدراک)
اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن کیے ہیں آدمیوں اور جنوں میں کے شیطان کہ ان میں ایک دوسرے پر خفیہ ڈالتا ہے بناوٹ کی بات (ف۲۲۷) دھوکے کو، اور تمہارا رب چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے (ف۲۲۸) تو انہیں ان کی بناوٹوں پر چھوڑ دو (ف۲۲۹)
And similarly We have appointed enemies for every Prophet – devils from men and jinns – one inspires the other with fabrications to deceive; and had your Lord willed they would not do so, therefore leave them with their fabrications.
तो क्या अल्लाह के सिवा मैं किसी और का फ़ैसला चाहूँ? और वही है जिस ने तुम्हारी तरफ़ मुफ़स्सल किताब उतारी, और जिन को हम ने किताब दी वह जानते हैं कि यह तेरे रब की तरफ़ से सच उतरा है, तो ऐ सुनने वाले तू हरगिज़ शक वालों में न हो,
Aur is liye ke us ki taraf un ke dil jhukein jinhein aakhirat par imaan nahi aur use pasand karein aur gunaah kamaayen jo unhein kamaana hai,
(ف227)یعنی وسوسے اور فریب کی باتیں اِغوا کرنے کے لئے ۔(ف228)لیکن اللہ تعالٰی اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے امتحان میں ڈالتا ہے تاکہ اس کے محنت پر صابر رہنے سے ظاہر ہو جائے کہ یہ جَزیلِ ثواب پانے والا ہے ۔(ف229)اللہ انہیں بدلہ دے گا ، رسوا کرے گا اور آپ کی مدد فرمائے گا ۔
اور اس لیے کہ اس (ف۲۳۰) کی طرف ان کے دل جھکیں جنہیں آخرت پر ایمان نہیں اور اسے پسند کریں اور گناہ کمائیں جو انہیں کمانا ہے،
And in order that the hearts of those who do not believe in the Hereafter may lean towards it and that they may like it, and earn the sins which they are to earn.
और पूरी है तेरे रब की बात सच और इनसाफ़ में, उस की बातों का कोई बदलने वाला नहीं और वही है सुनता जानता,
To kya Allah ke siwa main kisi aur ka faisla chahoon aur wahi hai jis ne tumhari taraf mufassal kitaab utari aur jin ko hum ne kitaab di woh jaante hain ke yeh tere Rab ki taraf se sach utara hai to ae sunne wale tu har-giz shak walon mein na ho,
تو کیا اللہ کے سوا میں کسی اور کا فیصلہ چاہوں اور وہی ہے جس نے تمہاری طرف مفصل کتاب اتاری (ف۲۳۱) اور جنکو ہم نے کتاب دی وہ جانتے ہیں کہ یہ تیرے رب کی طرف سے سچ اترا ہے (ف۲۳۲) تو اے سننے والے تو ہرگز شک والوں میں نہ ہو،
“So shall I seek the command other than that of Allah, whereas it is He Who has sent down the detailed Book towards you?” And those whom We gave the Book know that this is the truth sent down from your Lord, so O listener, (followers of this Prophet) do not ever be of those who doubt.
और ऐ सुनने वाले, ज़मीन में अकसर वह हैं कि तू उनके कहे पर चले तो तुझे अल्लाह की राह से बहका देंगे, वह सिर्फ़ गुमान के पीछे हैं और निरे अटकलें दौड़ाते हैं
Aur poori hai tere Rab ki baat sach aur insaaf mein us ki baton ka koi badalne wala nahi aur wahi hai sunta jaanta,
(ف231)یعنی قرآن شریف جس میں امر و نہی ، وعدہ و وعید اور حق و باطل کا فیصلہ اور میرے صدق کی شہادت اور تمہارے اِفتراء کا بیان ہے ۔ شا نِ نُزول : سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کہا کرتے تھے کہ آپ ہمارے اور اپنے درمیان ایک حَکَمْ مقرر کیجئے ان کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف232)کیونکہ ان کے پاس اس کی دلیلیں ہیں ۔
اور پوری ہے تیرے رب کی بات سچ اور انصاف میں اس کی باتوں کا کوئی بدلنے والا نہیں (ف۲۳۳) اور وہی ہے سنتا جانتا،
And the Word of your Lord is complete in truth and justice; there is none to change His Words; He is the All Hearing, the All Knowing.
तेरा रब ख़ूब जानता है कि कौन बहका उस की राह से और वह ख़ूब जानता है हिदायत वालों को,
Aur ae sunne wale zameen mein aksar woh hain ke tu un ke kahe par chale to tujhe Allah ki raah se behka dein, woh sirf gumaan ke peeche hain aur nire atklein (fuzool andazey) daudate hain
(ف233)نہ کوئی اس کی قَضا کا تبدیل کرنے والا ، نہ حُکم کا رد کرنے والا ، نہ اس کا وعدہ خلاف ہو سکے ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ کلام جب تامّ ہے تو وہ قابلِ نقص و تغییر نہیں اور وہ قیامت تک تحریف و تغییر سے محفوظ ہے ۔ بعض مفسِّرین فرماتے ہیں معنٰی یہ ہیں کہ کسی کی قدرت نہیں کہ قرآنِ پاک کی تحریف کر سکے کیونکہ اللہ تعالٰی اس کی حفاظت کا ضامن ہے ۔ (تفسیر ابوالسعود)
اور اے سننے والے زمین میں اکثر وہ ہیں کہ تو ان کے کہے پر چلے تو تجھے اللہ کی راہ سے بہکا دیں، وہ صرف گمان کے پیچھے ہیں (ف۲۳٤) اور نری اٹکلیں (فضول اندازے) دوڑاتے ہیں (ف۲۳۵)
And O listener, (followers of the Prophet) most of the people on earth are such that were you to obey them, they would mislead you from Allah’s way; they follow only assumptions and they only make guesses.
तो खाओ उस में से जिस पर अल्लाह का नाम लिया गया अगर तुम उस की आयतें मानते हो,
Tera Rab khoob jaanta hai ke kaun behka us ki raah se aur woh khoob jaanta hai hidayat walon ko,
(ف234)اپنے جاہل اور گمراہ باپ دادا کی تقلید کرتے ہیں ، بصیرت و حق شَناسی سے محروم ہیں ۔(ف235)کہ یہ حلال ہے یہ حرام اور اٹکل سے کوئی چیز حلال حرام نہیں ہوتی جسے اللہ اور اس کے رسول نے حلال کیا وہ حلال اور جسے حرام کیا وہ حرام ۔
تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون بہکا اس کی راہ سے اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت والوں کو،
Your Lord well knows who has strayed from His way; and He well knows the people on guidance.
और तुम्हें क्या हुआ कि उस में से न खाओ जिस पर अल्लाह का नाम लिया गया? वह तुम से मुफ़स्सल बयान कर चुका जो कुछ तुम पर हराम हुआ, मगर जब तुम्हें उस से मजबूरी हो, और बेशक बहुत-से अपनी ख़्वाहिशों से गुमराह करते हैं बे-जाने, बेशक तेरा रब हद से बढ़ने वालों को ख़ूब जानता है,
To khao is mein se jis par Allah ka naam liya gaya agar tum us ki aayatein maante ho,
تو کھاؤ اسمیں سے جس پر اللہ کا نام لیا گیا (ف۲۳٦) اگر تم اسکی آیتیں مانتے ہو،
So eat from that over which Allah’s name has been mentioned, if you believe in His signs.
और छोड़ दो खुला और छुपा गुनाह, वह जो गुनाह कमाते हैं अनक़रीब अपनी कमाई की सज़ा पाएँगे,
Aur tumhe kya hua ke is mein se na khao jis par Allah ka naam liya gaya woh tum se mufassal bayan kar chuka jo kuch tum par haraam hua magar jab tumhein us se majboori ho aur beshak bohtaire apni khwahishon se gumrah karte hain be jaane beshak tera Rab had se barhne walon ko khoob jaanta hai,
(ف236)یعنی جو اللہ تعالٰی کے نام پر ذَبح کیا گیا ، نہ وہ جو اپنی موت مَرا یا بُتوں کے نام پر ذَبح کیا گیا وہ حرام ہے، حِلّت اللہ کے نام پر ذَبح ہونے سے متعلق ہے ۔ یہ مشرکین کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ جو انہوں نے مسلمانوں پر کیا تھا کہ تم اپنا قتل کیا ہوا تو کھاتے ہو اور اللہ کا مارا ہوا یعنی جو اپنی موت مرے اس کو حرام جانتے ہو ۔
اور تمہیں کیا ہوا کہ اس میں سے نہ کھاؤ جس (ف۲۳۷) پر اللہ کا نام لیا گیا وہ تم سے مفصل بیان کرچکا جو کچھ تم پر حرام ہوا (ف۲۳۸) مگر جب تمہیں اس سے مجبوری ہو (ف۲۳۹) اور بیشک بہتیرے اپنی خواہشوں سے گمراہ کرتے ہیں بےجانے بیشک تیرا رب حد سے بڑھنے والوں کو خوب جانتا ہے،
And what is the matter with you that you should not eat from that over which Allah’s name has been mentioned whereas He has explained in detail to you all what is forbidden to you except when you are forced (by circumstances) towards it? And indeed many lead astray by their own desires, out of ignorance; indeed your Lord well knows the transgressors.
और उसे न खाओ जिस पर अल्लाह का नाम न लिया गया और वह बेशक हुक्म-उलंग्घन है, और बेशक शैतान अपने दोस्तों के दिलों में डालते हैं कि तुम से झगड़ें, और अगर तुम उनका कहना मानो तो उस वक्त तुम मुशरिक हो
Aur chhod do khula aur chhupa gunaah, woh jo gunaah kamaate hain anqareeb apni kamai ki saza paayenge,
(ف237)ذبیحہ ۔(ف238)مسئلہ : اس سے ثابت ہوا کہ حرام چیزوں کا مفصّل ذکر ہوتا ہے اور ثبوتِ حُرمت کے لئے حکمِ حُرمت درکار ہے اور جس چیز پر شریعت میں حُرمت کا حکم نہ ہو وہ مباح ہے ۔(ف239)تو عندَ الاِضطرار قدرِ ضرورت روا ہے ۔
اور چھوڑ دو کھلا اور چھپا گناہ، وہ جو گناہ کماتے ہیں عنقریب اپنی کمائی کی سزا پائیں گے،
And give up the open and hidden sins; those who earn sins will soon receive the punishment of their earnings.
और क्या वह कि मुर्दा था तो हम ने उसे ज़िन्दा किया और उस के लिए एक नूर कर दिया जिस से लोगों में चलता है, वह उस जैसा हो जाएगा जो अंधेरियों में है, उन से निकलने वाला नहीं, यूँही काफ़िरों की आँख में उनके आमाल भले कर दिए गए हैं,
Aur use na khao jis par Allah ka naam na liya gaya aur woh beshak hukum adooli hai, aur beshak shaitaan apne doston ke dilon mein daalte hain ke tum se jhagdein aur agar tum un ka kehna maano to us waqt tum mushrik ho
اور اسے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا (ف۲٤۰) اور وہ بیشک حکم عدولی ہے، اور بیشک شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑیں اور اگر تم ان کا کہنا مانو (ف۲٤۱) تو اس وقت تم مشرک ہو (ف۲٤۲)
And do not eat that on which Allah’s name has not been mentioned, and indeed that is disobedience; and undoubtedly the devils inspire in the hearts of their friends to fight with you; and if you obey them, you are then polytheists.
और इसी तरह हम ने हर बस्ती में उस के मुजरिमों के सरग़ना किए कि उस में दाव खेलें और दाँव नहीं खेलते मगर अपनी जानों पर और उन्हें शऊर नहीं,
Aur kya woh ke murda tha to hum ne use zinda kiya aur us ke liye ek noor kar diya jis se logon mein chalta hai woh us jaisa ho jaye ga jo andheriyon mein hai un se nikalne wala nahi, yoonhi kafiron ki aankh mein un ke aamal bhale kar diye gaye hain,
(ف240)وقتِ ذَبح نہ تحقیقًا نہ تقدیراً ، خواہ اس طرح کہ وہ جانور اپنی موت مر گیا ہو یا اس طرح کہ اس کو بغیر تسمیہ کے یا غیرِ خدا کے نام پر ذبح کیا گیا ہو ، یہ سب حرام ہیں لیکن جہاں مسلمان ذَبح کرنے والا وقتِ ذَبح بسم اللّٰہِ اللّٰہُ اکبرکہنا بھول گیا وہ ذبح جائز ہے ، وہاں ذکر تقدیری ہے جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہوا ۔(ف241)اور اللہ کے حرام کئے ہوئے کو حلال جانو ۔(ف242)کیونکہ دین میں حکمِ الٰہی کو چھوڑنا اور دوسرے کے حکم کو ماننا ، اللہ کے سوا اورکو حاکم قرار دینا شرک ہے ۔
اور کیا وہ کہ مردہ تھا تو ہم نے اسے زندہ کیا (ف۲٤۳) اور اس کے لیے ایک نور کردیا (ف۲٤٤) جس سے لوگوں میں چلتا ہے (ف۲٤۵) وہ اس جیسا ہوجائے گا جو اندھیریوں میں ہے (ف۲٤٦) ان سے نکلنے والا نہیں، یونہی کافروں کی آنکھ میں ان کے اعمال بھلے کردیے گئے ہیں،
And will the one who was dead and so We raised him to life and set for him a light with which he walks among the people, ever be like the one who is in realms of darkness never to emerge from them? Similarly, the deeds of disbelievers are made to appear good to them.
और जब उनके पास कोई निशानी आये तो कहते हैं, हम हरगिज़ ईमान न लाएँगे जब तक हमें भी वैसा ही न मिले जैसा अल्लाह के रसूलों को मिला, अल्लाह ख़ूब जानता है जहाँ अपनी रिसालत रखे, अनक़रीब मुजरिमों को अल्लाह के यहाँ ज़िल्लत पहुँचेगी और सख़्त अज़ाब बदला उनके मक्र का,
Aur isi tarah hum ne har basti mein us ke mujrimoon ke sarghuna kiye ke us mein dao khelein aur daao nahi khelte magar apni jaano par aur unhein shuoor nahi
(ف243)مُردہ سے کافِر اور زندہ سے مومن مراد ہے کیونکہ کُفر قلوب کے لئے موت ہے اور ایمان حیات ۔(ف244)نور سے ایمان مراد ہے جس کی بدولت آدمی کُفر کی تاریکیوں سے نجات پاتا ہے ۔ قتادہ کا قول ہے کہ نور سے کتاب اللہ یعنی قرآن مراد ہے ۔(ف245)اور بینائی حاصل کر کے راہِ حق کا امتیاز کر لیتا ہے ۔(ف246)کُفر و جَہل و تِیرہ باطنی کی ۔ یہ ایک مثال ہے جس میں مومن و کافِر کا حال بیان فرمایا گیا ہے کہ ہدایت پانے والا مومن اس مُردہ کی طرح ہے جس نے زندگانی پائی اور اس کو نور ملا جس سے وہ مقصود کی راہ پاتا ہے اور کافِر اس کی مثل ہے جو طرح طرح کی اندھیریوں میں گرفتار ہوا اور ان سے نکل نہ سکے ، ہمیشہ حیرت میں مُبتَلا رہے ۔ یہ دونوں مثالیں ہر مومن و کافِر کے لئےعام ہیں اگر چہ بقول حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما ان کا شا نِ نُزول یہ ہے کہ ابوجہل نے ایک روز سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی نَجَس چیز پھینکی تھی اس روز حضرت امیرِ حمزہ رضی اللہ عنہ شکار کو گئے ہوئے تھے ، جس وقت وہ ہاتھ میں کمان لئے ہوئے شکار سے واپس آئے تو انہیں اس واقعہ کی خبر دی گئی گو ابھی تک وہ ایمان سے مشرف نہ ہوئے تھے مگر یہ خبر سُن کر ان کو نہایت طیش آیا اور وہ ابوجہل پر چڑھ گئے اور اس کو کمان سے مارنے لگے اور ابوجہل عاجزی و خوشامد کرنے لگا اور کہنے لگا اے ابویعلٰی (حضرت امیر حمزہ کی کُنیت ہے) کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ محمّد (مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم ) کیسا دین لائے اور انہوں نے ہمارے معبودوں کو بُرا کہا اور ہمارے باپ دادا کی مخالفت کی اور ہمیں بدعقل بتایا ، اس پر حضرت امیرِ حمزہ نے فرمایا تمہارے برابر بدعقل کون ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر پتھروں کو پُوجتے ہو ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمّد مصطفٰے (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں ، اسی وقت حضرت امیرِ حمزہ اسلام لے آئے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی تو حضرت امیرِ حمزہ کا حال اس کے مشابہ ہے جو مُردہ تھا ، ایمان نہ رکھتا تھا ، اللہ تعالٰی نے اس کو زندہ کیا اور نورِ باطن عطا فرمایا اور ابوجہل کی شان یہی ہے کہ وہ کُفر و جَہل کی تاریکیوں میں گرفتار ہے اور ۔
اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں اس کے مجرموں کے سرغنہ کیے کہ اس میں داؤ کھیلیں (ف۲٤۷) اور داؤں نہیں کھیلتے مگر اپنی جانوں پر اور انہیں شعور نہیں (ف۲٤۸)
And similarly, We have made in every town leaders among its criminals that they may conspire in it; and they do not conspire except against themselves and they do not have perception.
और जिसे अल्लाह राह दिखाना चाहे उस का सीना इस्लाम के लिए खोल देता है, और जिसे गुमराह करना चाहे उस का सीना तंग, ख़ूब रुका हुआ कर देता है, गोया किसी की ज़बरदस्ती से आसमान पर चढ़ रहा है, अल्लाह यूँही अज़ाब डालता है ईमान न लाने वालों को,
Aur jab un ke paas koi nishani aaye to kehte hi hum har-giz imaan na laayenge jab tak humein bhi waisa hi na mile jaisa Allah ke Rasoolon ko mila Allah khoob jaanta hai jahan apni Risaalat rakhe anqareeb mujrimoon ko Allah ke yahan zillat pahunche gi aur sakht azaab badla un ke makar ka,
(ف247)اور طرح طرح کے حیلوں اور فریبوں اور مکاریوں سے لوگوں کو بہکاتے اور باطل کو رواج دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔(ف248)کہ اس کا وبال انہیں پر پڑتا ہے ۔
اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آئے تو کہتے ہی ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک ہمیں بھی ویسا ہی نہ ملے جیسا اللہ کے رسولوں کو ملا (ف۲٤۹) اللہ خوب جانتا ہے جہاں اپنی رسالت رکھے (ف۲۵۰) عنقریب مجرموں کو اللہ کے یہاں ذلت پہنچے گی اور سخت عذاب بدلہ ان کے مکر کا،
And when a sign comes to them, they say, “We will not believe until we are given the same which Allah’s Noble Messengers were given”; Allah knows best where to place His message (prophethood); soon the guilty will be afflicted with disgrace before Allah and a severe punishment due to their scheming.
और यह तुम्हारे रब की सीधी राह है हमने आयतें मफस्सल बयान कर दीं नसीहत मानने वालों के लिए,
Aur jise Allah raah dikhana chahe us ka seenah Islam ke liye khol deta hai aur jise gumrah karna chahe us ka seenah tang khoob rukha hua kar deta hai goya kisi ki zabardasti se aasman par chadh raha hai, Allah yoonhi azaab daalta hai imaan na laane walon ko,
(ف249)یعنی جب تک ہمارے پاس وحی نہ آئے اور ہمیں نبی نہ بنایا جائے ۔شانِ نُزول : ولید بن مغیرہ نے کہا تھا کہ اگر نبوّت حق ہو تو اس کا زیادہ مستحق میں ہوں کیونکہ میری عمرسیدِ عالَم (صلی اللہ علیہ وسلم) سے زیادہ ہے اورمال بھی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف250)یعنی اللہ جانتا ہے کہ نبوّت کی اہلیت اور اس کا استحقاق کس کو ہے کس کو نہیں ، عمر و مال سے کوئی مستحقِ نبوّت نہیں ہو سکتا اور یہ نبوّت کے طلب گار تو حسد ، مکر ، بدعہدی وغیرہ قبائح افعال اور رذائل خِصال میں مبتلا ہیں ، یہ کہاں اور نبوّت کا منصبِ عالی کہاں ۔
اور جسے اللہ راہ دکھانا چاہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے (ف۲۵۱) اور جسے گمراہ کرنا چاہے اس کا سینہ تنگ خوب رکا ہوا کر دیتا ہے (ف۲۵۲) گویا کسی کی زبردستی سے آسمان پر چڑھ رہا ہے، اللہ یونہی عذاب ڈالتا ہے ایمان نہ لانے والوں کو،
And whomever Allah wills to guide, He opens his bosom for Islam; and whomever He wills to send astray, He makes his bosom narrow and firmly bound as if he were being forced by someone to climb the skies; this is how Allah places the punishment on those who do not believe.
उनके लिए सलामती का घर है अपने रब के यहाँ और वह उनका मौला है यह उनके कामों का फल है,
Aur ye tumhare Rab ki seedhi raah hai hum ne aayatein mufassal bayan kar dein naseehat maan’ne walon ke liye,
(ف251)اس کو ایمان کی توفیق دیتا ہے اور اس کے دل میں روشنی پیدا کرتا ہے ۔(ف252)کہ اس میں علم اور دلائلِ توحید و ایمان کی گنجائش نہ ہو تو اس کی ایسی حالت ہوتی ہے کہ جب اس کو ایمان کی دعوت دی جاتی ہے اور اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے تو وہ اس پر نہایت شاق ہوتا ہے اور اس کو بہت دشوار معلوم ہوتا ہے ۔
اور یہ (ف۲۵۳) تمہارے رب کی سیدھی راہ ہے ہم نے آیتیں مفصل بیان کردیں نصیحت ماننے والوں کے لیے،
And this is the Straight Path of your Lord; We have explained in detail Our verses for the people who accept advice.
और जिस दिन उन सब को उठानेगा और फरमाएगा, ऐ जिन के गिरोह! तुमने बहुत आदमी घेर लिए और उनके दोस्त आदमी अर्ज़ करेंगे ऐ हमारे रब! हम में एक ने दूसरे से फायदा उठाया और हम अपनी इस मियाद को पहुँच गए जो तू ने हमारे लिए मुक़र्रर फरमाई थी फरमाएगा आग तुम्हारा ठिकाना है हमेशा उस में रहो मगर जिसे खुदा चाहे ऐ महबूब! बेशक तुम्हारा रब हिकमत वाला इल्म वाला है,
Un ke liye salaamati ka ghar hai apne Rab ke yahan aur woh un ka Moula hai ye un ke kaamon ka phal hai,
ان کے لیے سلامتی کا گھر ہے اپنے رب کے یہاں اور وہ ان کا مولیٰ ہے یہ ان کے کاموں کا پھل ہے،
For them is the abode of peace with their Lord and He is their Master – the result of their deeds.
और यूंही हम ज़ालिमों में एक को दूसरे पर मुसल्त करते हैं बदला उनके किए का
Aur jis din un sab ko uthayega aur farmaayega, ae jin ke groh! Tum ne bohot aadmi gher liye aur un ke dost aadmi arz karenge ae hamare Rab! Hum mein ek ne doosre se faida uthaya aur hum apni is miyaad ko pohanch gaye jo tu ne hamare liye muqarrar farmaayi thi farmaayega aag tumhara thikana hai hamesha us mein raho magar jise Khuda chahe ae Mehboob! Beshak tumhara Rab hikmat wala ilm wala hai,
اور جس دن ان سب کو اٹھانے گا اور فرمائے گا، اے جن کے گروہ! تم نے بہت آدمی گھیرلیے (ف۲۵٤) اور ان کے دوست آدمی عرض کریں گے اے ہمارے رب! ہم میں ایک نے دوسرے سے فائدہ اٹھایا (ف۲۵۵) اور ہم اپنی اس میعاد کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر فرمائی تھی (ف۲۵٦) فرمائے گا آگ تمہارا ٹھکانا ہے ہمیشہ اس میں رہو مگر جسے خدا چاہے (ف۲۵۷) اے محبوب! بیشک تمہارا رب حکمت والا علم والا ہے،
And the Day when He will raise them all and will proclaim, “O you group of jinns, you have enticed a lot of men”; and their human friends will submit, “Our Lord, some of us have benefited from one another and have reached the appointed term which You had set for us”; He will say, “Your home is hell – remain in it for ever, except whomever Allah wills”; O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him), indeed your Lord is the Wise, the All Knowing.
ऐ जिन्नों और आदमियों के गिरोह! क्या तुम्हारे पास तुम में के रसूल न आए थे तुम पर मेरी आयतें पढ़ते और तुम्हें यह दिन देखने से डराते कहेंगे हम ने अपनी जानों पर गवाही दी और उन्हें दुनिया की ज़िन्दगी ने फरेब दिया और खुद अपनी जानों पर गवाही देंगे कि वह काफिर थे
Aur yoonhi hum zalimon mein ek ko doosre par musallat karte hain badla un ke kiye ka,
(ف254)ان کو بہکایا اور اغوا کیا ۔(ف255)اس طرح کہ انسانوں نے شہوات و مَعاصی میں ان سے مدد پائی اور جِنّوں نے انسانوں کو اپنا مطیع بنایا ، آخر کار اس کا نتیجہ پایا ۔(ف256)وقت گزر گیا ، قیامت کا دن آ گیا ، حسرت و ندامت باقی رہ گئی ۔(ف257)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ اِستثناء اس قوم کی طرف راجع ہے جس کی نسبت علمِ الٰہی میں ہے کہ وہ اسلام لائیں گے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کریں گے اور جہنّم سے نکالے جائیں گے ۔
اور یونہی ہم ظالموں میں ایک کو دوسرے پر مسلط کرتے ہیں بدلہ ان کے کیے کا (ف۲۵۸)
And similarly We empower some of the oppressors over others – the recompense of their deeds.
यह इस लिए कि तेरा रब बस्तियों को ज़ुल्म से तबाह नहीं करता कि उनके लोग बे-खबर हों
Ae jinno aur aadmiyo ke groh! Kya tumhare paas tum mein ke Rasool na aaye the tum par meri aayatein padhte aur tumhein ye din dekhne se darate? Kahenge hum ne apni jaanon par gawahi di aur unhein duniya ki zindagi ne fareb diya aur khud apni jaanon par gawahi denge ke woh kafir the,
(ف258)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اللہ جب کسی قوم کی بھلائی چاہتا ہے تو اچھوں کو ان پر مسلّط کرتا ہے ، بُرائی چاہتا ہے تو بُروں کو ۔ اس سے یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ جو قوم ظالم ہوتی ہے اس پر ظالم بادشاہ مسلّط کیا جاتا ہے تو جو اس ظالم کے پنجۂ ظلم سے رہائی چاہیں انہیں چاہئے کہ ظلم ترک کریں ۔
اے جنوں اور آدمیوں کے گروہ! کیا تمہارے پاس تم میں کے رسول نہ آئے تھے تم پر میری آیتیں پڑھتے اور تمہیں یہ دن (ف۲۵۹) دیکھنے سے ڈراتے (ف۲٦۰) کہیں گے ہم نے اپنی جانوں پر گواہی دی (ف۲٦۱) اور انہیں دنیا کی زندگی نے فریب دیا اور خود اپنی جانوں پر گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے (ف۲٦۲)
“O you groups of jinns and men! Did not the Noble Messengers amongst you come to you reciting My verses and warning you of confronting this day?” They will say, “We testify against ourselves” – and the worldly life deceived them and they will testify against themselves that they were disbelievers.
और हर एक के लिए उनके कामों से दर्जे हैं और तेरा रब उनके आमाल से बे-खबर नहीं,
Ye is liye ke tera Rab bastiyon ko zulm se tabah nahi karta ke un ke log be khabar hon,
(ف259)یعنی روزِ قیامت ۔(ف260)اور عذابِ الٰہی کا خوف دلاتے ۔(ف261)کافِر جن اور انسان اقرار کریں گے رسول ان کے پاس آئے اور انہوں نے زبانی پیام پہنچائے اور اس دن کے پیش آنے والے حالات کا خوف دلایا لیکن کافِروں نے ان کی تکذیب کی اور ان پر ایمان نہ لائے ۔ کفّار کا یہ اقرار اس وقت ہو گا جب کہ ان کے اعضاء و جوارِح ان کے شرک و کُفر کی شہادت دیں گے ۔(ف262)قیامت کا دن بہت طویل ہو گا اور اس میں حالات بہت مختلف پیش آئیں گے ۔ جب کُفّار مومنین کے انعام و اکرام اور عزّت و منزلت کو دیکھیں گے تو اپنے کُفر و شرک سے منکر ہو جائیں گے اور اس خیال سے کہ شاید مُکر جانے سے کچھ کام بنے یہ کہیں گے وَاللّٰہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ یعنی خدا کی قَسم ہم مشرک نہ تھے ، اس وقت ان کے مونہوں پر مُہریں لگا دی جائیں گی اور ان کے اعضاء ان کے کُفر و شرک کی گواہی دیں گے ۔ اسی کی نسبت اس آیت میں ارشاد ہوا وَشَھِدُوْا عَلٰی اَنْفُسِھِمْ اَنَّھُمْ کَانُوْ کَافِرِیْنَ ۔
یہ (ف۲٦۳) اس لیے کہ تیرا رب بستیوں کو (ف۲٦٤) ظلم سے تباہ نہیں کرتا کہ ان کے لوگ بےخبر ہوں (ف۲٦۵)
This is because your Lord does not unjustly destroy townships for their people may be unaware.
और ऐ महबूब! तुम्हारा रब बे-परवा है रहमत वाला, ऐ लोगो! वह चाहे तो तुम्हें ले जाए और जिसे चाहे तुम्हारी जगह ला दे जैसे तुम्हें औरों की औलाद से पैदा किया
Aur har ek ke liye un ke kaamon se darje hain aur tera Rab un ke aamaal se be khabar nahi,
(ف263)یعنی رسولوں کی بعثت ۔(ف264)ان کی معصیت اور ۔(ف265)بلکہ رسول بھیجے جاتے ہیں وہ انہیں ہدایتیں فرماتے ہیں ، حُجّتیں قائم کرتے ہیں ، اس پر بھی وہ سرکشی کرتے ہیں تب ہلاک کئے جاتے ہیں ۔
اور ہر ایک کے لیے (ف۲٦٦) ان کے کاموں سے درجے ہیں اور تیرا رب ان کے اعمال سے بےخبر نہیں،
And for everyone are ranks from what they do; and your Lord is not unaware of their deeds.
बेशक जिसका तुम्हें वादा दिया जाता है ज़रूर आने वाली है और तुम थका नहीं सकते,
Aur ae Mehboob! Tumhara Rab be parwa hai rehmat wala, ae logo! Woh chahe to tumhein le jaye aur jise chahe tumhari jagah la de jaise tumhein auron ki aulaad se paida kiya,
(ف266)خواہ وہ نیک ہو یا بد ۔ نیکی اور بدی کے درجہ ہیں انہی کے مطابق ثواب و عذاب ہو گا ۔
اور اے محبوب! تمہارا رب بےپروا ہے رحمت والا، اے لوگو! وہ چاہے تو تمہیں لے جائے (ف۲٦۷) اور جسے چاہے تمہاری جگہ لادے جیسے تمہیں اوروں کی اولاد سے پیدا کیا (ف۲٦۸)
And O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him), your Lord is the Perfect (Not needing anything), the Merciful; O people! If He wills, He can remove you and bring others in your stead – the way He created you from the descendants of others.
तुम फरमाओ ऐ मेरी क़ौम! तुम अपनी जगह पर काम किए जाओ मैं अपना काम करता हूँ तो अब जानना चाहते हो किसका रहता है आख़िरत का घर, बेशक ज़ालिम फ़लाह नहीं पाते,
Beshak jis ka tumhein wada diya jata hai zaroor aane wali hai aur tum thaka nahi sakte,
(ف267)یعنی ہلاک کر دے ۔(ف268)اور ان کا جانشین بنایا ۔
بیشک جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے (ف۲٦۹) ضرور آنے والی ہے اور تم تھکا نہیں سکتے،
Indeed the thing which you are promised will definitely come to pass, and you cannot escape.
और अल्लाह ने जो खेती और मवेशी पैदा किए उन में उसे एक हिस्सेदार ठहराया तो बोले यह अल्लाह का है उनके ख़याल में और यह हमारे शरीकों का तो वह जो उनके शरीकों का है वह तो खुदा को नहीं पहुँचता, और जो खुदा का है वह उनके शरीकों को पहुँचता है, क्या ही बुरा हुक्म लगाते हैं
Tum farmao ae meri qoum! Tum apni jagah par kaam kiye jao main apna kaam karta hoon to ab jan’na chahte ho kis ka rehta hai aakhirat ka ghar, beshak zalim falaah nahi paate,
(ف269)وہ چیز خواہ قیامت ہو یا مرنے کے بعد اٹھنا یا حساب یا ثواب و عذاب ۔
تم فرماؤ اے میری قوم! تم اپنی جگہ پر کام کیے جاؤ میں اپنا کام کرتا ہوں تو اب جاننا چاہتے ہو کس کا رہتا ہے آحرت کا گھر، بیشک ظالم فلاح نہیں پاتے،
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “O my people! Keep on with your works* in your positions, I am doing mine; soon you will come to know for whom is the abode of the Hereafter; undoubtedly the unjust are never successful.” (* This is said as a challenge)
और यूं ही बहुत मुशरिकों की निगाह में उनके शरीकों ने औलाद का क़त्ल भला कर दिखाया है कि उन्हें हलाक करें और उनका दीन उन पर मुश्तबह कर दें और अल्लाह चाहता तो ऐसा न करते तो तुम उन्हें छोड़ दो वह हैं और उनके इफ्तिरा,
Aur Allah ne jo kheti aur maveshi paida kiye un mein use ek hissa daar thehraya to bole ye Allah ka hai un ke khayaal mein aur ye hamare shareekon ka to woh jo un ke shareekon ka hai woh to Khuda ko nahi pohanchta, aur jo Khuda ka hai woh un ke shareekon ko pohanchta hai, kya hi bura hukum lagate hain,
اور (ف۲۷۰) اللہ نے جو کھیتی اور مویشی پیدا کیے ان میں اسے ایک حصہ دار ٹھہرایا تو بولے یہ اللہ کا ہے ان کے خیال میں اور یہ ہمارے شریکوں کا (ف۲۷۱) تو وہ جو ان کے شریکوں کا ہے وہ تو خدا کو نہیں پہنچتا، اور جو خدا کا ہے وہ ان کے شریکوں کو پہنچتا ہے، کیا ہی برا حکم لگاتے ہیں (ف۲۷۲)
And among the crops and animals that Allah has created, they assigned (only) a portion to Him and therefore said “This is for Allah” – in their opinion – “and this is for our partners (false deities)”; so the portion for their partners does not reach Allah; and the portion for Allah reaches their partners; what an evil judgement they impose!
और बोले यह मवेशी और खेती रोकी हुई है इसे वही खाए जिसे हम चाहें अपने झूठे ख़याल से और कुछ मवेशी हैं जिन पर चढ़ना हराम ठहराया और कुछ मवेशी के ज़बह पर अल्लाह का नाम नहीं लेते यह सब अल्लाह पर झूठ बाँधना है, क़रीब है वह उन्हें बदला देगा उनके इफ्तिराओं का,
Aur yoon hi bohot mushrikon ki nigah mein un ke shareekon ne aulaad ka qatal bhala kar dikhaya hai ke unhein halaak karein aur un ka deen un par mushtabah kar dein aur Allah chahta to aisa na karte to tum unhein chhod do woh hain aur un ke iftiraa,
(ف270)زمانۂ جاہلیت میں مشرکین کا طریقہ تھا کہ وہ اپنی کھیتیوں اور درختوں کے پھلوں اور چوپایوں اور تمام مالوں میں سے ایک حصّہ تو اللہ کا مقرر کرتے تھے اور ایک حصہ بُتوں کا ، تو جو حصّہ اللہ کے لئے مقرر کرتے تھے اس کو تو مہمانوں اور مسکینوں پر صَرف کر دیتے تھے اور جو بُتوں کے لئے مقرر کرتے تھے وہ خاص ان پر اور ان کے خادموں پر صرف کرتے اور جو حصّہ اللہ کے لئے مقرر کرتے اگر اس میں سے کچھ بُتوں والے حصہ میں مل جاتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر بُتوں والے حصّہ میں سے کچھ اس میں سے ملتا تو اس کو نکال کر پھر بُتوں ہی کے حصّہ میں شامل کر دیتے ۔ اس آیت میں ان کی اس جہالت اور بدعقلی کا ذکر فرما کر ان پر تنبیہ فرمائی گئی ۔(ف271)یعنی بُتوں کا ۔(ف272)اور انتہا درجہ کے جَہل میں گرفتار ہیں ، خالِق مُنعِم کے عزت و جلال کی انہیں ذرا بھی معرفت نہیں اور فسادِ عقل اس حد تک پہنچ گیا کہ انہوں نے بے جان بُتوں پتّھر کی تصویروں کو کارسازِ عالَم کے برابر کر دیا اور جیسا اس کے لئے حصّہ مقرر کیا ایسا ہی بُتوں کے لئے بھی کیا ، بے شک یہ بہت ہی بُرا فعل اور انتہا کا جہل اور عظیم خَطا و ضلال ہے ، اس کے بعد ان کے جہل اور ضلالت کی ایک اور حالت ذکر فرمائی جاتی ہے ۔
اور یوں ہی بہت مشرکوں کی نگاہ میں ان کے شریکوں نے اولاد کا قتل بھلا کر دکھایا ہے (ف۲۷۳) کہ انہیں ہلاک کریں اور ان کا دین ان پر مشتبہ کردیں (ف۲۷٤) اور اللہ چاہتا تو ایسا نہ کرتے تو تم انہیں چھوڑ دو وہ ہیں اور ان کے افتراء،
And similarly, their partners (the devils) have made the killing of their children seem righteous in the sight of many of the polytheists, in order to ruin them and make their religion blurred to them; and if Allah willed they would not do so, therefore leave them alone with their fabrications.
और बोले जो उन मवेशियों के पेट में है वह नरा (खालिस) हमारे मर्दों का है और हमारी औरतों पर हराम है, और मरा हुआ निकले तो वह सब उस में शरीक हैं, क़रीब है कि अल्लाह उन्हें इन की उन बातों का बदला देगा, बेशक वह हिकमत व इल्म वाला है,
Aur bole ye maveshi aur kheti roki hui hai ise wohi khaye jise hum chahein apne jhoote khayaal se aur kuch maveshi hain jin par charhna haraam thehraya aur kuch maveshi ke zabah par Allah ka naam nahi lete ye sab Allah par jhoot bandhna hai, anqareeb woh unhein badle dega un ke iftiraon ka,
(ف273)یہاں شریکوں سے مراد وہ شیاطین ہیں جن کی اطاعت کے شوق میں مشرکین اللہ تعالٰی کی نافرمانی اور اس کی معصیت گوارا کرتے تھے اور ایسے قبائح افعال اور جاہلانہ افعال کے مرتکب ہوتے تھے جن کو عقلِ صحیح کبھی گوارا نہ کر سکے اور جن کی قباحت میں ادنٰی سمجھ کے آدمی کو بھی تردُّد نہ ہو ، بُت پرستی کی شامت سے وہ ایسے فسادِ عقل میں مبتلا ہوئے کہ حیوانوں سے بدتر ہو گئے اور اولاد جس کے ساتھ ہر جاندار کو فطرۃً مَحبت ہوتی ہے شیاطین کے اِتّباع میں اس کا بے گناہ خون کرنا انہوں نے گوارا کیا اور اس کو اچھا سمجھنے لگے ۔(ف274)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ لوگ پہلے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے دین پر تھے شیاطین نے ان کو اغوا کر کے ان گمراہیوں میں ڈالا تاکہ انہیں دینِ اسمٰعیلی سے منحرف کرے ۔
اور بولے (ف۲۷۵) یہ مویشی اور کھیتی روکی ہوئی (ف۲۷٦) ہے اسے وہی کھائے جسے ہم چاہیں اپنے جھوٹے خیال سے (ف۲۷۷) اور کچھ مویشی ہیں جن پر چڑھنا حرام ٹھہرایا (ف۲۷۸) اور کچھ مویشی کے ذبح پر اللہ کا نام نہیں لیتے (ف۲۷۹) یہ سب اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے ، عنقریب وہ انہیں بدلے دے گا ان کے افتراؤں کا،
And they said, “These cattle and crops are forbidden; only those whom we wish can eat them” – in their opinion – and some cattle are those which they have forbidden riding upon, and some cattle over which they do not mention the name of Allah while slaughtering – all this is fabricating lies against Allah; He will soon repay them for their fabrications.
बेशक तबाह हुए वह जो अपनी औलाद को क़त्ल करते हैं अह्मकाना जहालत से और हराम ठहराते हैं वह जो अल्लाह ने उन्हें रोज़ी दी अल्लाह पर झूठ बाँधने को बेशक वह बहके और राह न पाई
Aur bole jo in maveshiyon ke pait mein hai woh nira (khalis) hamare mardon ka hai aur hamari auraton par haraam hai, aur mara hua nikle to woh sab is mein shareek hain, qareeb hai ke Allah unhein in ki un baton ka badla dega, beshak woh hikmat o ilm wala hai,
(ف275)مشرکین اپنے بعض مویشیوں اور کھیتیوں کو اپنے باطل معبودوں کے ساتھ نامزد کر کے کہ ۔(ف276)ممنوع الاِنتِفاع ۔(ف277)یعنی بُتوں کی خدمت کرنے والے وغیرہ ۔(ف278)جن کو بحیرہ ، سائبہ ، حامی کہتے ہیں ۔(ف279)بلکہ ان بُتوں کے نام پر ذَبح کرتے ہیں اور ان تمام افعال کی نسبت یہ خیال کرتے ہیں کہ انہیں اللہ نے اس کا حکم دیا ہے ۔
اور بولے جو ان مویشیوں کے پیٹ میں ہے وہ نرا (خالص) ہمارے مردوں کا ہے (ف۲۸۰) اور ہماری عورتوں پر حرام ہے، اور مرا ہوا نکلے تو وہ سب (ف۲۸۱) اس میں شریک ہیں، قریب ہے کہ اللہ انہیں ان کی ان باتوں کا بدلہ دے گا، بیشک وہ حکمت و علم والا ہے،
And they said, “The animals in the bellies of such cattle are purely for our males and forbidden to our women; and if the animal is stillborn, they all have a share of it”; soon Allah will repay them for their utterances; indeed He is Wise, All Knowing.
और वही है जिसने पैदा किए बाग़ कुछ ज़मीन पर छाये हुए और कुछ बे-छाये और खजूर और खेती जिस में रंग रंग के खाने और ज़ैतून और अनार किसी बात में मिलते और किसी में अलग खाओ उसका फल जब फल लाए और उसका हक दो जिस दिन कटे और बे-जा न खर्चो बेशक बे-जा खर्चने वाले उसे पसंद नहीं,
Beshak tabah hue woh jo apni aulaad ko qatal karte hain ahmaqana jahalat se aur haraam thehrate hain woh jo Allah ne unhein rozi di Allah par jhoot bandhne ko beshak woh behke aur raah na paayi,
(ف280)صرف انہیں کے لئے حلال ہے اگر زندہ پیدا ہو ۔(ف281)مرد و عورت ۔
بیشک تباہ ہوئے وہ جو اپنی اولاد کو قتل کرتے ہیں احمقانہ جہالت سے (ف۲۸۲) اور حرام ٹھہراتے ہیں وہ جو اللہ نے انہیں روزی دی (ف۲۸۳) اللہ پر جھوٹ باندھنے کو (ف۲۸٤) بیشک وہ بہکے اور راہ نہ پائی (ف۲۸۵)
Indeed ruined are those who slay their children out of senseless ignorance and forbid the sustenance which Allah has bestowed upon them, in order to fabricate lies against Allah; they have undoubtedly gone astray and not attained the path.
और मवेशी में से कुछ बोझ उठाने वाले और कुछ ज़मीन पर बिछे खाओ उस में से जो अल्लाह ने तुम्हें रोज़ी दी और शैतान के क़दमों पर न चलो, बेशक वह तुम्हारा सरीह दुश्मन है,
Aur wohi hai jis ne paida kiye baagh kuch zameen par chhaye hue aur kuch be chhaye aur khajoor aur kheti jis mein rang rang ke khane aur zaitoon aur anaar kisi baat mein milte aur kisi mein alag, khao us ka phal jab phal laaye aur us ka haq do jis din kate aur be ja na kharcho beshak be ja kharchne wale use pasand nahi,
(ف282)شا نِ نُزول : یہ آیت زمانۂ جاہلیت کے ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جو اپنی لڑکیوں کو نہایت سنگ دلی اور بے رحمی کے ساتھ زندہ درگور کر دیا کرتے تھے ، ربیعہ و مُضَر وغیرہ قبائل میں اس کا بہت رواج تھا اور جاہلیت کے بعض لوگ لڑکوں کو بھی قتل کرتے تھے اور بے رحمی کا یہ عالَم تھا کہ کتّوں کی پرورش کرتے اور اولاد کو قتل کرتے تھے ، ان کی نسبت یہ ارشاد ہوا کہ تباہ ہوئے ۔ اس میں شک نہیں کہ اولاد اللہ تعالٰی کی نعمت ہے اور اس کی ہلاکت سے اپنی تعداد کم ہوتی ہے ، اپنی نسل مٹتی ہے ، یہ دنیا کا خسارہ ہے ، گھر کی تباہی ہے اور آخرت میں اس پر عذابِ عظیم ہے تو یہ عمل دنیا اور آخرت میں تباہی کا باعث ہوا اور اپنی دنیا اور آخرت دونوں کو تباہ کر لینا اور اولاد جیسی عزیز اور پیاری چیز کے ساتھ اس قسم کی سَفّاکی اور بے دردی گوارا کرنا انتہا درجہ کی حَماقت اور جَہالت ہے ۔(ف283)یعنی بحیرے ، سائبہ ، حامی وغیرہ جو مذکور ہو چکے ۔(ف284)کیونکہ وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ ایسے مذموم افعال کا اللہ نے حکم دیا ہے ان کا یہ خیال اللہ پر اِفتراء ہے ۔(ف285)حق و صواب کی ۔
اور وہی ہے جس نے پیدا کیے باغ کچھ زمین پر چھئے (چھائے) ہوئے (ف۲۸٦) اور کچھ بےچھئے (پھیلے) اور کھجور اور کھیتی جس میں رنگ رنگ کے کھانے (ف۲۸۷) اور زیتون اور انار کسی بات میں ملتے (ف۲۸۸) اور کسی میں الگ (ف۲۸۹) کھاؤ اس کا پھل جب پھل لائے اور اس کا حق دو جس دن کٹے (ف۲۹۰) اور بےجا نہ خرچو (ف۲۹۱) بیشک بےجا خرچنے والے اسے پسند نہیں،
It is He Who produces gardens spread on the ground and above, and the date-palm, and crops of various flavours, and the olive and the pomegranate, similar in some respects and unlike in others; eat from its fruit when it bears yield, and pay the due (obligatory charity) from it on the day it is harvested; and do not be wasteful; indeed the wasteful are not liked by Allah.
आठ नर व मादा एक जोड़ा भेड़ का और एक जोड़ा बकरी का, तुम फरमाओ क्या उस ने दोनों नर हराम किए या दोनों मादा या वह जिसे दोनों मादा पेट में लिए हैं किसी इल्म से बताओ अगर तुम सच्चे हो
Aur maveshi mein se kuch bojh uthhane wale aur kuch zameen par biche, khao us mein se jo Allah ne tumhein rozi di aur shaitaan ke qadmon par na chalo, beshak woh tumhara sareeh dushman hai,
(ف286)یعنی ٹٹیوں پر قائم کئے ہوئے مثل انگور وغیرہ کے ۔(ف287)رنگ اور مزے اور مقدار اور خوشبو میں باہَم مختلف ۔(ف288)مثلاً رنگ میں یا پتوں میں ۔(ف289)مثلاً ذائقہ اور تاثیر میں ۔(ف290)معنٰی یہ ہیں کہ یہ چیزیں جب پھلیں کھانا تو اسی وقت سے تمہارے لئے مباح ہے اور اس کی زکوٰۃ یعنی عُشر اس کے کامل ہونے کے بعد واجب ہوتا ہے جب کھیتی کاٹی جائے یا پھل توڑے جائیں ۔مسئلہ : لکڑی ، بانس ، گھانس کے سوا زمین کی باقی پیداوار میں اگر یہ پیداوار بارش سے ہو تو اس میں عُشر واجب ہوتا ہے اور اگر رہٹ وغیرہ سے ہو تو نصف عُشر ۔(ف291)حضرت مُترجِم قُدِّسَ سرُّہ نے اِسراف کا ترجمہ بے جا خرچ کرنا فرمایا ، نہایت ہی نفیس ترجمہ ہے ۔ اگر کُل مال خرچ کر ڈالا اور اپنے عیال کو کچھ نہ دیا اور خود فقیر بن بیٹھا تو سدی کا قول ہے کہ یہ خرچ بے جا ہے اور اگر صدقہ دینے ہی سے ہاتھ روک لیا تو یہ بھی بے جا اور داخلِ اِسراف ہے جیسا کہ سعید بن مُسیّب رضی اللہ عنہ نے فرمایا ۔ سفیان کا قول ہے کہ اللہ کی طاعت کے سوا اور کام میں جو مال خرچ کیا جاوے وہ قلیل بھی ہو تو اِسراف ہے ۔ زُہری کا قول ہے کہ اس کے معنٰی یہ ہیں کہ معصیت میں خرچ نہ کرو ۔ مجاہد نے کہا کہ حق اللہ میں کوتاہی کرنا اسراف ہے اور اگر ابو قُبَیس پہاڑ سونا ہو اور اس تمام کو راہِ خدا میں خرچ کر دو تو اسراف نہ ہو اور ایک درہم معصیت میں خرچ کرو تو اِسراف ۔
اور مویشی میں سے کچھ بوجھ اٹھانے والے اور کچھ زمین پر بچھے (ف۲۹۲) کھاؤ اس میں سے جو اللہ نے تمہیں روزی دی اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو، بیشک وہ تمہارا صریح دشمن ہے،
And from the cattle, some for burdens, some spread on the earth; eat of the sustenance which Allah has bestowed upon you, and do not follow the footsteps of the devil; undoubtedly he is your open enemy.
और एक जोड़ा ऊँट का और एक जोड़ा गाय का, तुम फरमाओ क्या उस ने दोनों नर हराम किए या दोनों मादा या वह जिसे दोनों मादा पेट में लिए हैं क्या तुम मौजूद थे जब अल्लाह ने तुम्हें यह हुक्म दिया तो उस से बढ़ कर ज़ालिम कौन जो अल्लाह पर झूठ बाँधे कि लोगों को अपनी जहालत से गुमराह करे, बेशक अल्लाह ज़ालिमों को राह नहीं दिखाता,
Aath nar o madah ek joda bheerh ka aur ek joda bakri ka, tum farmao kya us ne dono nar haraam kiye ya dono madah ya woh jise dono madah pait mein liye hain kisi ilm se batao agar tum sachche ho,
(ف292)چوپائے دو قسم کے ہوتے ہیں کچھ بڑے جو لادھنے کے کام میں آتے ہیں ، کچھ چھوٹے مثل بکری وغیرہ کے جو اس قابل نہیں ، ان میں سے جو اللہ تعالٰی نے حلال کئے انہیں کھاؤ اور اہلِ جاہلیت کی طرح اللہ کی حلال فرمائی ہوئی چیزوں کو حرام نہ ٹھہراؤ ۔
آٹھ نر و مادہ ایک جوڑا بھیڑ کا اور ایک جوڑا بکری کا، تم فرماؤ کیا اس نے دونوں نر حرام کیے یا دونوں مادہ یا وہ جسے دنوں مادہ پیٹ میں لیے ہیں (ف۲۹۳) کسی علم سے بتاؤ اگر تم سچے ہو
“Eight males and females; one pair of sheep and one of goats”; say, “Has He forbidden the two males or the two females, or what the two females carry in their wombs? Answer with some knowledge, if you are truthful.”
तुम फरमाओ मैं नहीं पाता उस में जो मेरी तरफ वह़ी हुई किसी खाने वाले पर कोई खाना हराम मगर यह कि मुरदार हो या रगों का बहता खून या बद जानवर का गोश्त वह नजासत है या वह बे-हुक्मी का जानवर जिसके ज़बह में गैर-खुदा का नाम पुकारा गया तो जो नाच़ार हुआ न यूं कि आप ख़्वाहिश करे और न यूं कि ज़रूरत से बढ़े तो बेशक अल्लाह बख्शने वाला मेहरबान है
Aur ek joda oont ka aur ek joda gaaye ka, tum farmao kya us ne dono nar haraam kiye ya dono madah ya woh jise dono madah pait mein liye hain, kya tum maujood the jab Allah ne tumhein ye hukum diya to us se barh kar zalim kaun jo Allah par jhoot bandhe ke logon ko apni jahalat se gumrah kare, beshak Allah zalimon ko raah nahi dikhata,
(ف293)یعنی اللہ تعالٰی نے نہ بھیڑ بکری کے نَر حرام کئے نہ ان کی مادائیں حرام کیں ، نہ ان کی اولاد ، ان میں سے تمہارا یہ فعل کہ کبھی نَر حرام ٹھہراؤ کبھی مادہ ، کبھی ان کے بچّے ، یہ سب تمہارا اِختراع ہے اور ہوائے نفس کا اِتّباع ، کوئی حلال چیز کسی کے حرام کرنے سے حرام نہیں ہوتی ۔
اور ایک جوڑا اونٹ کا اور ایک جوڑا گائے کا، تم فرماؤ کیا اس نے دونوں نر حرام کیے یا دونوں مادہ یا وہ جسے دونوں مادہ پیٹ میں لیے ہیں (ف۲۹٤) کیا تم موجود تھے جب اللہ نے تمہیں یہ حکم دیا (ف۲۹۵) تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے کہ لوگوں کو اپنی جہالت سے گمراہ کرے، بیشک اللہ ظالموں کو راہ نہیں دکھاتا،
“And a pair of camels and a pair of oxen”; say, “Has He forbidden the two males or the two females, or what the two females carry in their wombs? Were you present when Allah commanded this to you?” So who is more unjust than one who fabricates a lie against Allah in order to lead mankind astray with his ignorance? Indeed Allah does not guide the unjust.
और यहूदियों पर हमने हराम किया हर नाख़ुन वाला जानवर और गाय और बकरी की चरबी उन पर हराम की मगर जो उनकी पीठ में लगी हो या आंत या हड्डी से मिली हो, हमने यह उनकी सरकशी का बदला दिया और बेशक हम ज़रूर सच्चे हैं,
Tum farmao main nahi paata is mein jo meri taraf wahi hui kisi khanay wale par koi khana haraam magar ye ke murdaar ho ya ragon ka bahta khoon ya bad janwar ka gosht woh najaasat hai ya woh be hukmi ka janwar jis ke zabah mein ghair Khuda ka naam pukara gaya to jo nachaar hua na yoon ke aap khwahish kare aur na yoon ke zaroorat se barh jaye to beshak Allah bakhshne wala meherbaan hai,
(ف294)اس آیت میں اہلِ جاہلیت کو توبیخ کی گئی جو اپنی طرف سے حلال چیزوں کو حرام ٹھہرا لیا کرتے تھے جن کا ذکر اوپر کی آیات میں آ چکا ہے ، جب اسلام میں احکام کا بیان ہوا تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جدال کیا اور ان کا خطیب مالک بن عوف جشمی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا کہ یا محمّد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم نے سُنا ہے آپ ان چیزوں کو حرام کرتے ہیں جو ہمارے باپ دادا کرتے چلے آئے ہیں حضور نے فرمایا تم نے بغیر کسی اصل کے چند قِسمیں چوپایوں کی حرام کر لیں اور اللہ تعالٰی نے آٹھ نَر و مادہ اپنے بندوں کے کھانے اور ان کے نفع اٹھانے کے لئے پیدا کئے ، تم نے کہاں سے انہیں حرام کیا ، ان میں حُرمت نَر کی طرف سے آئی یا مادہ کی طرف سے ؟ مالک بن عوف یہ سن کر ساکِت اور متحیّر رہ گیا اور کچھ نہ بول سکا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بولتا کیوں نہیں ، کہنے لگا آپ فرمائیے میں سنوں گا سبحان اللہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کی قوت اور زور نے اہلِ جاہلیت کے خطیب کو ساکت و حیران کر دیا اور وہ بول ہی کیا سکتا تھا ، اگر کہتا کہ نَر کی طرف سے حُرمت آئی تو لازم ہوتا کہ تمام نَر حرام ہوں ، اگر کہتا کہ مادہ کی طرف سے تو ضروری ہوتا کہ ہر ایک مادہ حرام ہو اور اگر کہتا جو پیٹ میں ہے وہ حرام ہے تو پھر سب ہی حرام ہو جاتے کیونکہ جو پیٹ میں رہتا ہے وہ نَر ہوتا ہے یا مادہ ۔ وہ جو تخصیصیں قائم کرتے تھے اور بعض کو حلال اوربعض کو حرام قرار دیتے تھے اس حُجّت نے ان کے اس دعوٰیٔ تحریم کو باطل کر دیا علاوہ بریں ان سے یہ دریافت کرنا کہ اللہ نے نر حرام کئے ہیں یا مادہ یا ان کے بچے ، یہ منکِرِ نبوّت مخالف کو اِقرارِ نبوّت پر مجبور کرتا تھا کیونکہ جب تک نبوّت کا واسطہ نہ ہو تو اللہ تعالٰی کی مرضی اور اس کا کسی چیز کو حرام فرمانا کیسے جانا جا سکتا ہے چنانچہ اگلے جملہ نے اس کو صاف کیا ہے ۔(ف295)جب یہ نہیں ہے اور نبوّت کا تو اقرار نہیں کرتے تو ان احکامِ حُرمت کو اللہ کی طرف نسبت کرنا کِذب و باطل و افترائے خالص ہے ۔
تم فرماؤ (ف۲۹٦) میں نہیں پاتا اس میں جو میری طرف وحی ہوئی کسی کھانے والے پر کوئی کھانا حرام (ف۲۹۷) مگر یہ کہ مردار ہو یا رگوں کا بہتا خون (ف۲۹۸) یا بد جانور کا گوشت وہ نجاست ہے یا وہ بےحکمی کا جانور جس کے ذبح میں غیر خدا کا نام پکارا گیا تو جو ناچار ہوا (ف۲۹۹) نہ یوں کہ آپ خواہش کرے اور نہ یوں کہ ضرورت سے بڑھے تو بےشیک اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۳۰۰)
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “I do not find in what is sent down to me any eatable prohibited to a consumer, except if it is carrion, or blood flowing from blood vessels, or the flesh of swine – for that is indeed foul, or the sin causing animal over which the name of any other than Allah is taken at the time of slaughtering; so for one compelled by circumstances, neither himself desiring nor eating more than necessary, indeed your Lord is Oft Forgiving, Most Merciful.”
फिर अगर वह तुम्हें झटलाएँ तो तुम फरमाओ कि तुम्हारा रब वसीअ रहमत वाला है और उसका अज़ाब मुजरिमों पर से नहीं टाला जाता
Aur yahudiyon par hum ne haraam kiya har naakhun wala janwar aur gaaye aur bakri ki charbi un par haraam ki magar jo un ki peeth mein lagi ho ya aant ya haddi se mili ho, hum ne ye un ki sarkashi ka badla diya aur beshak hum zaroor sachche hain,
(ف296)ان جاہل مشرکوں سے جو حلال چیزوں کو اپنی خواہشِ نفس سے حرام کر لیتے ہیں ۔(ف297)اس میں تنبیہ ہے کہ حُرمت جہتِ شرع سے ثابت ہوتی ہے نہ ہَوائے نفس سے ۔مسئلہ : تو جس چیز کی حُرمت شرع میں وارد نہ ہو اس کو ناجائز و حرام کہنا باطل ، ثبوتِ حُرمت خواہ وحیٔ قرآنی سے ہو یا وحیٔ حدیث سے ، یہی معتبر ہے ۔(ف298)تو جو خون بہتا نہ ہو مثلاً جگر و تِلی کے وہ حرام نہیں ۔(ف299)اور ضرورت نے اسے ان چیزوں میں سے کسی کے کھانے پر مجبور کیا ایسی حالت میں مضطَر ہو کر اس نے کچھ کھایا ۔(ف300)اس پر مؤاخذہ نہ فرمائے گا ۔
اور یہودیوں پر ہم نے حرام کیا ہر ناخن والا جانور (ف۳۰۱) اور گائے اور بکری کی چربی ان پر حرام کی مگر جو ان کی پیٹھ میں لگی ہو یا آنت یا ہڈی سے ملی ہو، ہم نے یہ ان کی سرکشی کا بدلہ دیا (ف۳۰۲) اور بیشک ہم ضرور سچے ہیں،
And for the Jews We forbade all animals with claws; and forbade them the fat of oxen and sheep except which is on their backs or joined to their intestines or to the bone; We awarded this to them for their rebellion; and indeed, surely, We are truthful.
अब कहेंगे मुशरिक कि अल्लाह चाहता तो न हम शिर्क करते न हमारे बाप-दादा न हम कुछ हराम ठहराते ऐसा ही उनके अगलों ने झुटलाया था यहाँ तक कि हमारा अज़ाब चखा तुम फरमाओ क्या तुम्हारे पास कोई इल्म है कि उसे हमारे लिए निकालो, तुम तो नरे गुमान के पीछे हो और तुम यूंही तख़मीने करते हो
Phir agar woh tumhein jhutlayein to tum farmao ke tumhara Rab waseeh rehmat wala hai aur us ka azaab mujrimoon par se nahi taala jata,
(ف301)جو انگلی رکھتا ہو خواہ چوپایہ ہو یا پرند ، اس میں اُونٹ اور شُتر مرغ داخل ہیں ۔ (مدارک) بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ یہاں شُتر مرغ اور بط اور اونٹ خاص طور پر مراد ہیں ۔(ف302)یہود اپنی سرکشی کے باعث ان چیزوں سے محروم کئے گئے لہذا یہ چیزیں ان پر حرام ر ہیں اور ہماری شریعت میں گائے بکری کی چربی اور اُونٹ اور بط اور شتر مرغ حلال ہیں ، اسی پر صحابہ اور تابعین کا اِجماع ہے ۔ (تفسیرِ احمدی)
پھر اگر وہ تمہیں جھٹلائیں تو تم فرماؤ کہ تمہارا رب وسیع رحمت والا ہے (ف۳۰۳) اور اس کا عذاب مجرموں پر سے نہیں ٹالا جاتا (ف۳۰٤)
Then if they deny you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) say, “Your Lord has boundless mercy; and His wrath is never withdrawn from the culprits.”
तुम फरमाओ तो अल्लाह ही की हुज्जत पूरी है तो वह चाहता तो सब की हिदायत फरमाता,
Ab kahenge mushrik ke Allah chahta to na hum shirk karte na hamare baap dada na hum kuch haraam thehrate, aisa hi un ke aglon ne jhutlaya tha yahan tak ke hamara azaab chakkha, tum farmao kya tumhare paas koi ilm hai ke use hamare liye nikalo, tum to nare gumaan ke peeche ho aur tum yoonhi takhmeene karte ho,
(ف303)مُکذِّبین کو مہلت دیتا ہے اور عذاب میں جلدی نہیں فرماتا تاکہ انہیں ایمان لانے کا موقع ملے ۔(ف304)اپنے وقت پر آ ہی جاتا ہے ۔
اب کہیں گے مشرک کہ (ف۳۰۵) اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے نہ ہمارے باپ دادا نہ ہم کچھ حرام ٹھہراتے (ف۳۰٦) ایسا ہی ان کے اگلوں نے جھٹلایا تھا یہاں تک کہ ہمارا عذاب چکھا (ف۳۰۷) تم فرماؤ کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے کہ اسے ہمارے لیے نکالو، تم تو نرے گمان (خام خیال) کے پیچھے ہو اور تم یونہی تخمینے کرتے ہو (ف۳۰۸)
The polytheists will now say, “Had Allah willed, we would not have ascribed partners (to Him) nor would have our forefathers, nor would we have forbidden anything”; similarly those before them had denied, till the time they tasted Our punishment; say, “Do you have any knowledge so you can offer it to us? You follow only assumptions and only make guesses.”
तुम फरमाओ लाओ अपने वह गवाह जो गवाही दें कि अल्लाह ने उसे हराम किया फिर अगर वह गवाही दे बैठें तो तू ऐ सुनने वाले! उनके साथ गवाही न देना और उनकी ख़्वाहिशों के पीछे न चलना जो हमारी आयतें झुटलाते हैं और जो आख़िरत पर ईमान नहीं लाते और अपने रब का बराबर वाला ठहराते हैं
Tum farmao to Allah hi ki hujjat poori hai to woh chahta to sab ki hidaayat farmaata,
(ف305)یہ خبر غیب ہے کہ جو بات وہ کہنے والے تھے وہ بات پہلے سے بیان فرما دی ۔(ف306)ہم نے جو کچھ کیا یہ سب اللہ کی مشیّت سے ہوا ، یہ دلیل ہے اس کی کہ وہ اس سے راضی ہے ۔(ف307)اور یہ عذرِ باطل ان کے کچھ کام نہ آیا کیونکہ کسی امر کا مشیّت میں ہونا اس کی مرضی و مامور ہونے کو مستلزم نہیں ، مرضی وہی ہے جو انبیاء کے واسطے سے بتائی گئی اور اس کا امر فرمایا گیا ۔(ف308)اور غلط اٹکلیں چلاتے ہو ۔
تم فرماؤ تو اللہ ہی کی حجت پوری ہے (ف۳۰۹) تو وہ چاہتا تو سب کی ہدایت فرماتا،
Say, “Then only Allah’s argument is the complete one; so had He willed, He would have guided you all.”
तुम फरमाओ आओ मैं तुम्हें पढ़ कर सुनाऊँ जो तुम पर तुम्हारे रब ने हराम किया यह कि उसका कोई शरीक न करो और माँ-बाप के साथ भलाई करो और अपनी औलाद क़त्ल न करो मुफलिसी के बाइस, हम तुम्हें और उन्हें सब को रिज़्क़ देंगे और बे-हयाइयों के पास न जाओ जो उन में खुली हैं और जो छुपी और जिस जान की अल्लाह ने हरमत रखी उसे नाहक न मारो यह तुम्हें हुक्म फरमाया है कि तुम्हें अक़्ल हो
Tum farmao laao apne woh gawah jo gawahi dein ke Allah ne use haraam kiya phir agar woh gawahi de baithen to tu ae sunne wale! Un ke saath gawahi na dena aur un ki khwahishon ke peeche na chalna jo hamari aayatein jhutlate hain aur jo aakhirat par imaan nahi laate aur apne Rab ka barabar wala thehrate hain,
(ف309)کہ اس نے رسول بھیجے ، کتابیں نازل فرمائیں ، راہِ حق واضح کر دی ۔
تم فرماؤ لاؤ اپنے وہ گواہ جو گواہی دیں کہ اللہ نے اسے حرام کیا (ف۳۱۰) پھر اگر وہ گواہی دے بیٹھیں (ف۳۱۱) تو تو اے سننے والے! ان کے ساتھ گواہی نہ دینا اور ان کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلنا جو ہماری آیتیں جھٹلاتے ہیں اور جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور اپنے رب کا برابر والا ٹھہراتے ہیں (ف۳۱۲)
Say, “Bring your witnesses who can testify that Allah has forbidden this”; then if they do testify, O listener (followers of this Prophet) do not bear witness along with them and do not follow the desires of those who deny Our signs, and of those who do not believe in the Hereafter and who ascribed equals to their Lord.
और यतीमों के माल के पास न जाओ मगर बहुत अच्छे तरीके से जब तक वह अपनी जवानी को पहुँचे और ना-प और तोल इंसाफ के साथ पूरी करो, हम किसी जान पर बोझ नहीं डालते मगर उसके मक़दूर भर, और जब बात कहो तो इंसाफ की कहो अगरचे तुम्हारे रिश्तेदार का मामला हो और अल्लाह ही का अहद पूरा करो, यह तुम्हें ताक़ीद फरमाई कि कहीं तुम नसीहत मानो,
Tum farmao aao main tumhein padh kar sunaao jo tum par tumhare Rab ne haraam kiya ye ke us ka koi shareek na karo aur maa baap ke saath bhalai karo aur apni aulaad qatal na karo muflisi ke bais, hum tumhein aur unhein sab ko rizq denge aur be-hayaiyon ke paas na jao jo un mein khuli hain aur jo chhupi aur jis jaan ki Allah ne hurmat rakhi use nahaq na maaro ye tumhein hukum farmaaya hai ke tumhein aql ho,
(ف310)جسے تم اپنے لئے حرام قرار دیتے ہو اور کہتے ہو کہ اللہ تعالٰی نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے ، یہ گواہی اس لئے طلب کی گئی کہ ظاہر ہو جائے کہ کُفّار کے پاس کوئی شاہد نہیں ہے اور جو وہ کہتے ہیں وہ ان کی تراشیدہ بات ہے ۔(ف311)اس میں تنبیہ ہے کہ اگر یہ شہادت واقع ہو بھی تو وہ مَحض اِتّباعِ ہَوا اور کِذب و باطل ہو گی ۔(ف312)بُتوں کو معبود مانتے ہیں اور شرک میں گرفتار ہیں ۔
تم فرماؤ آؤ میں تمہیں پڑھ کر سناؤں جو تم پر تمہارے رب نے حرام کیا (ف۳۱۳) یہ کہ اس کا کوئی شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو (ف۳۱٤) اور اپنی اولاد قتل نہ کرو مفلسی کے باعث، ہم تمہیں اور انہیں سب کو رزق دیں گے (ف۲۱۵) اور بےحیائیوں کے پاس نہ جاؤ جو ان میں کھلی ہیں اور جو چھپی (ف۳۱٦) اور جس جان کی اللہ نے حرمت رکھی اسے ناحق نہ مارو (ف۳۱۷) یہ تمہیں حکم فرمایا ہے کہ تمہیں عقل ہو
Say, “Come – so that I may recite to you what your Lord has forbidden for you that ‘Do not ascribe any partner to Him and be good to parents; and do not kill your children because of poverty; We shall provide sustenance for all – you and them; and do not approach lewd things, the open among them or concealed; and do not unjustly kill any life which Allah has made sacred; this is the command to you, so that you may have sense.’
और यह कि यह है मेरा सीधा रास्ता तो इस पर चलो और और राहें न चलो कि तुम्हें उसकी राह से जुदा कर देंगी, यह तुम्हें हुक्म फरमाया कि कहीं तुम्हें परहेज़-गारी मिले,
Aur yateemon ke maal ke paas na jao magar bohot acche tareeqe se jab tak woh apni jawani ko pohanche aur naap aur tol insaaf ke saath poori karo, hum kisi jaan par bojh nahi daalte magar us ke maqdoor bhar, aur jab baat kaho to insaaf ki kaho agarche tumhare rishtedaar ka maamla ho aur Allah hi ka ahd poora karo, ye tumhein takeed farmaayi ke kahin tum naseehat maano,
(ف313)اس کا بیان یہ ہے ۔(ف314)کیونکہ تم پر ان کے بہت حقوق ہیں انہوں نے تمہاری پرورش کی ، تمہارے ساتھ شفقت اور مہربانی کا سلوک کیا ، تمہاری ہر خطرے سے نگہبانی کی ، ان کے حقوق کا لحاظ نہ کرنا اور ان کے ساتھ حُسنِ سلوک کا ترک کرنا حرام ہے ۔(ف315)اس میں اولاد کو زندہ درگور کرنے اور مار ڈالنے کی حُرمت بیان فرمائی گئی جس کا اہلِ جاہلیت میں دستور تھا کہ وہ اکثر ناداری کے اندیشہ سے اولاد کو ہلاک کرتے تھے ، انہیں بتایا گیا کہ روزی دینے والا تمہارا ، ان کا سب کا اللہ ہے پھر تم کیوں قتل جیسے شدید جُرم کا اِرتکاب کرتے ہو ۔(ف316)کیونکہ انسان جب کُھلے اور ظاہر گناہ سے بچے اور چُھپے گناہ سے پرہیز نہ کرے تو اس کا ظاہر گناہ سے بچنا بھی لِلّٰہِیَّت سے نہیں ، لوگوں کے دکھانے اور ان کی بدگوئی سے بچنے کے لئے ہے اور اللہ کی رضا و ثواب کا مستحق وہ ہے جو اس کے خوف سے گناہ ترک کرے ۔(ف317)وہ امور جن سے قتل مباح ہوتا ہے یہ ہیں مُرتَد ہونا یا قِصاص یا بیاہے ہوئے کا زنا ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی مسلمان جو لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دیتا ہو ، اس کا خون حلال نہیں مگر ان تین سببوں میں سے کسی ایک سبب سے یا تو بیاہے ہونے کے باوجود اس سے زنا سرزد ہوا ہو یا اس نے کسی کو ناحق قتل کیا ہو اور اس کا قصاص اس پر آتا ہو یا وہ دین چھوڑ کر مرتَد ہو گیا ہو ۔
اور یتیموں کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر بہت اچھے طریقہ سے (ف۳۱۸) جب تک وہ اپنی جوانی کو پہنچے (ف۳۱۹) اور ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری کرو، ہم کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتے مگر اس کے مقدور بھر، اور جب بات کہو تو انصاف کی کہو اگرچہ تمہارے رشتہ دار کا معاملہ ہو اور اللہ ہی کا عہد پورا کرو، یہ تمہیں تاکید فرمائی کہ کہیں تم نصیحت مانو،
‘And do not approach the wealth of an orphan except in the best manner, till he reaches his adulthood; and measure and weigh in full, with justice; We do not burden any soul except within its capacity; and always speak fairly, although it may be concerning your relative; and be faithful only to Allah’s covenant; this is commanded to you, so that you may accept advice.’”
फिर हमने मूसा को किताब अता फरमाई पूरा एहसान करने को उस पर जो नेकोकार है और हर चीज़ की तफसील और हिदायत और रहमत कि कहीं वह अपने रब से मिलने पर ईमान लाएँ
Aur ye ke ye hai mera seedha raasta to us par chalo aur aur rahein na chalo ke tumhein us ki raah se juda kar dein, ye tumhein hukum farmaaya ke kahin tumhein parheiz gaari mile,
(ف318)جس سے اس کا فائدہ ہو ۔(ف319)اس وقت اس کا مال اس کے سپرد کر دو ۔
اور یہ کہ (ف۳۲۰) یہ ہے میرا سیدھا راستہ تو اس پر چلو اور اور راہیں نہ چلو (ف۳۲۱) کہ تمہیں اس کی راہ سے جدا کردیں گی ، یہ تمہیں حکم فرمایا کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے،
“And that, ‘This is My Straight Path, so follow it; and do not follow other ways for they will sever you from His way; this is commanded to you, so that you may attain piety.’”
और यह बरकत वाली किताब हमने उतारी तो उसकी पैरवी करो और परहेज़-गारी करो कि तुम पर रहम हो,
Phir hum ne Moosa ko kitaab ata farmaayi poora ehsaas karne ko us par jo nekokaar hai aur har cheez ki tafseel aur hidaayat aur rehmat ke kahin woh apne Rab se milne par imaan laayein,
(ف320)ان دونوں آیتوں میں جو حکم دیا ۔(ف321)جو اسلام کے خلاف ہوں ، یہودیت ہو یا نصرانیت یا اور کوئی ملّت ۔
پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی (ف۳۲۲) پورا احسان کرنے کو اس پر جو نیکوکار ہے اور ہر چیز کی تفصیل اور ہدایت اور رحمت کہ کہیں وہ (ف۳۲۳) اپنے رب سے ملنے پر ایمان لائیں (ف۳۲٤)
Then We gave the Book to Moosa, to complete the favour on one who is virtuous, and an explanation of all things, a guidance and a mercy, so they may believe in meeting their Lord.
कभी कहो कि किताब तो हम से पहले दो गिरोहों पर उतरी थी और हमें उनके पढ़ने पढ़ाने की कुछ खबर न थी
Aur ye barkat wali kitaab hum ne utari to us ki pairwi karo aur parheiz gaari karo ke tum par rehmat ho,
(ف322)توریت ۔(ف323)یعنی بنی اسرائیل ۔(ف324)اور بَعث و حساب اور ثواب و عذاب اور دیدارِ الٰہی کی تصدیق کریں ۔
اور یہ برکت والی کتاب (ف۳۲۵) ہم نے اتاری تو اس کی پیروی کرو اور پرہیزگاری کرو کہ تم پر رحم ہو،(۱۵٦) کبھی کہو کہ کتاب تو ہم سے پہلے دو گروہوں پر اتری تھی (ف۳۲٦) اور ہمیں ان کے پڑھنے پڑھانے کی کچھ خبر نہ تھی (ف۳۲۷)
And this (the Qur’an) is the blessed Book which We have sent down; so follow it and be pious, so there may be mercy upon you.
या कहो कि अगर हम पर किताब उतरती तो हम उन से ज़्यादा ठीक राह पर होते तो तुम्हारे पास तुम्हारे रब की रोशन दलील और हिदायत और रहमत आई तो उस से ज़्यादा ज़ालिम कौन जो अल्लाह की आयतों को झुटलाए और उन से मुँह फेरे क़रीब वह जो हमारी आयतों से मुँह फेरते हैं हम उन्हें बड़े अज़ाब की सज़ा देंगे बदला उनके मुँह फेरने का,
Kabhi kaho ke kitaab to hum se pehle do grohon par utari thi aur humein un ke parhne parhane ki kuch khabar na thi,
(ف325)یعنی قرآن شریف جو کثیرُ الخیر اور کثیرُ النفع اور کثیرُ البرکۃ ہے اور قیامت تک باقی رہے گا اور تحریف و تبدیل و نَسخ سے محفوظ رہے گا ۔
کبھی کہو کہ کتاب تو ہم سے پہلے دو گروہوں پر اتری تھی (ف۳۲٦) اور ہمیں ان کے پڑھنے پڑھانے کی کچھ خبر نہ تھی (ف۳۲۷)
For you (the disbelievers) may say, “The Book was sent down only to two groups (Jews and Christians) before us; and we were totally unaware of what they read and taught.”
काहे के इंतज़ार में हैं मगर यह कि आएँ उनके पास फ़रिश्ते या तुम्हारे रब का अज़ाब या तुम्हारे रब की एक निशानी आए जिस दिन तुम्हारे रब की वह एक निशानी आएगी किसी जान को ईमान लाना काम न देगा जो पहले ईमान न लाई थी या अपने ईमान में कोई भलाई न कमाई थी तुम फरमाओ रास्ता देखो हम भी देखते हैं,
Ya kaho ke agar hum par kitaab utarti to hum un se zyada theek raah par hote to tumhare paas tumhare Rab ki roshan daleel aur hidaayat aur rehmat aayi to us se zyada zalim kaun jo Allah ki aayaton ko jhutlata hai aur un se munh phere, anqareeb woh jo hamari aayaton se munh pherte hain hum unhein baday azaab ki saza denge badla un ke munh pherne ka,
(ف326)یعنی یہود و نصارٰی پر توریت اور انجیل ۔(ف327)کیونکہ وہ ہماری زبان ہی میں نہ تھی نہ ہمیں کسی نے اس کے معنٰی بتائے ، اللہ تعالٰی نے قرآنِ کریم نازل فرما کر ان کے اس عُذر کو قطع فرما دیا ۔
یا کہو کہ اگر ہم پر کتاب اترتی تو ہم ان سے زیادہ ٹھیک راہ پر ہوتے (ف۳۲۸) تو تمہارے پاس تمہارے رب کی روشن دلیل اور ہدایت اور رحمت آئی (ف۳۲۹) تو اس سے زیادہ ظالم کون جو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے اور ان سے منہ پھیرے عنقریب وہ جو ہماری آیتوں سے منہ پھیرتے ہیں ہم انہیں بڑے عذاب کی سزا دیں گے بدلہ ان کے منہ پھیرنے کا،
Or may say that, “If the Book had been sent down to us, we would have been more upon guidance than them”; so the clear proof and guidance and mercy has come to you, from your Lord; so who is more unjust than one who denies the signs of Allah, and turns away from them? We shall soon punish those who turn away from Our signs with a great punishment, the recompense of their turning away.
वह जिन्होंने अपने दीन में जुदा जुदा राहें निकालीं और कई गिरोह हो गए ऐ महबूब! तुम्हें उन से कुछ आलाका नहीं उनका मामला अल्लाह ही के हवाले है फिर वह उन्हें बता देगा जो कुछ वह करते थे
Kahe ke intezar mein hain magar ye ke aayein un ke paas farishte ya tumhare Rab ka azaab ya tumhare Rab ki ek nishani aaye, jis din tumhare Rab ki woh ek nishani aayegi kisi jaan ko imaan lana kaam na dega jo pehle imaan na laayi thi ya apne imaan mein koi bhalai na kamayi thi, tum farmao rasta dekho hum bhi dekhte hain,
(ف328)کُفّار کی ایک جماعت نے کہا تھا کہ یہود و نصارٰی پر کتابیں نازل ہوئیں مگر وہ بدعقلی میں گرفتار رہے ، ان کتابوں سے منتفِع نہ ہوئے ، ہم ان کی طرح خفیفُ العقل اور نادان نہیں ہیں ، ہماری عقلیں صحیح ہیں ، ہماری عقل و ذہانت اور فہم و فراست ایسی ہے کہ اگر ہم پر کتاب اُترتی تو ہم ٹھیک راہ پر ہوتے ، قرآن نازل فرما کر ان کا یہ عُذر بھی قطع فرما دیا چنانچہ آگے ارشاد ہوتا ہے ۔(ف329)یعنی یہ قرآنِ پاک جس میں حُجّتِ واضحہ اور بیان صاف اور ہدایت و رحمت ہے ۔
کاہے کے انتظار میں ہیں (ف۳۳۰) مگر یہ کہ آئیں ان کے پاس فرشتے (ف۳۳۱) یا تمہارے رب کا عذاب یا تمہارے رب کی ایک نشانی آئے (ف۳۳۲) جس دن تمہارے رب کی وہ ایک نشانی آئے گی کسی جان کو ایمان لانا کام نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لائی تھی یا اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہ کمائی تھی (ف۳۳۳) تم فرماؤ رستہ دیکھو (ف۳۳٤) ہم بھی دیکھتے ہیں،
What are they waiting for – except that the angels come to them, or the punishment from your Lord, or one of the signs of your Lord? On the day when the (foretold) sign of your Lord comes, not a single soul who had not earlier accepted faith nor earned any good from its faith, will benefit from accepting faith; say, “Wait – we too are waiting.”
जो एक नेकी लाए तो उसके लिए उस जैसी दस हैं और जो बुराई लाए तो उसे बदला न मिलेगा मगर उसके बराबर और उन पर ज़ुल्म न होगा,
Woh jin hon ne apne deen mein juda juda rahein nikaalein aur kai groh ho gaye ae Mehboob! Tumhein un se kuch alaqa nahi un ka maamla Allah hi ke hawale hai phir woh unhein bata dega jo kuch woh karte the,
(ف330)جب وحدانیت و رسالت پر زبردست حُجّتیں قائم ہو چُکیں اور اعتقاداتِ کُفر و ضلال کا بُطلان ظاہر کر دیا گیا تو اب ایمان لانے میں کیوں تَوقُّف ہے ، کیا انتِظار باقی ہے ۔(ف331)ان کی اَرواح قبض کرنے کے لئے ۔(ف332)قیامت کی نشانیوں میں سے ۔ جمہور مفسِّرین کے نزدیک اس نشانی سے آفتاب کا مغرب سے طُلوع ہونا مراد ہے ۔ ترمذی کی حدیث میں بھی ایسا ہی وارد ہے ، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ قیامت قائم نہ ہو گی جب تک آفتاب مغرب سے طلوع نہ کرے اور جب وہ مغرب سے طلوع کرے گا اور اسے لوگ دیکھیں گے تو سب ایمان لائیں گے اور یہ ایمان نفع نہ دے گا ۔(ف333)یعنی طاعت نہ کی تھی ، معنٰی یہ ہیں کہ نشانی آنے سے پہلے جو ایمان نہ لائے نشانی کے بعد اس کا ایمان قبول نہیں ، اسی طرح جو نشانی سے پہلے توبہ نہ کرے بعد نشانی کے اس کی توبہ قبول نہیں لیکن جو ایمان دار پہلے سے نیک عمل کرتے ہوں گے نشانی کے بعد بھی ان کے عمل مقبول ہوں گے ۔(ف334)ان میں سے کسی ایک کا یعنی موت کے فرشتوں کی آمد یا عذاب یا نشانی آنے کا ۔
وہ جنہوں نے اپنے دین میں جُدا جُدا راہیں نکالیں اور کئی گروہ ہوگئے (ف۳۳۵) اے محبوب ! تمہیں ان سے کچھ علاقہ نہیں ان کا معاملہ اللہ ہی کے حوالے ہے پھر وہ انہیں بتادے گا جو کچھ وہ کرتے تھے (ف۳۳٦)
You (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) have no concern with those who divided their religion and became several groups; their case is only with Allah – He will then inform them of what they used to do.
तुम फरमाओ बेशक मुझे मेरे रब ने सीधी राह दिखाई ठीक दीन इबराहीम की मिल्लत जो हर बातिल से जुदा थे, और मुशरिक न थे
Jo ek neki laaye to us ke liye us jaisi das hain aur jo burayi laaye to use badla na milega magar us ke barabar aur un par zulm na hoga,
(ف335)مثل یہود و نصارٰی کے ۔ حدیث شریف میں ہے یہود اکہتر ۷۱ فرقے ہو گئے ، ان سے صرف ایک ناجی ہے باقی سب ناری اور نصارٰی بہتر ۷۲ فرقے ہو گئے ایک ناجی باقی سب ناری اور میری اُمّت تہتر ۷۳ فرقے ہو جائے گی وہ سب کے سب ناری ہوں گے سوائے ایک کے جو سَوادِ اعظم یعنی بڑی جماعت ہے اور ایک روایت میں ہے کہ جو میری اور میرے اصحاب کی راہ پر ہے ۔(ف336)اور آخرت میں انہیں اپنے کردار کا انجام معلوم ہو جائے گا ۔
جو ایک نیکی لائے تو اس کے لیے اس جیسی دس ہیں (ف۳۳۷) اور جو برائی لائے تو اسے بدلہ نہ ملے گا مگر اس کے برابر اور ان پر ظلم نہ ہوگا،
For one who brings one good deed, are ten like it; and one who brings an ill-deed will not be repaid but with one like it, and they will not be wronged.
तुम फरमाओ बेशक मेरी नमाज और मेरी क़ुरबानियाँ और मेरा जीना और मेरा मरना सब अल्लाह के लिए है जो रब सारे जहान का
Tum farmao beshak mujhe mere Rab ne seedhi raah dikhayi theek deen Ibraheem ki millat jo har baatil se juda the, aur mushrik na the,
(ف337)یعنی ایک نیکی کرنے والے کو دس نیکیوں کی جزا اور یہ بھی حد و نہایت کے طریقہ پر نہیں بلکہ اللہ تعالٰی جس کے لئے جتنا چاہے اس کی نیکیوں کو بڑھائے ، ایک کے سات سو کرے یا بے حساب عطا فرمائے ۔ اصل یہ ہے کہ نیکیوں کا ثواب مَحض فضل ہے ، یہی مذہب ہے اہلِ سُنّت کا اور بدی کی اُتنی ہی جزا ، یہ عدل ہے ۔
تم فرماؤ بیشک مجھے میرے رب نے سیدھی راہ دکھائی (ف۳۳۸) ٹھیک دین ابراہیم کی ملّت جو ہر باطل سے جُدا تھے، اور مشرک نہ تھے (ف۳۳۹)
Say, “Indeed my Lord has guided me to the Straight Path; the right religion, (of) the community of Ibrahim who was free from all falsehood; and was not a polytheist.”
उसका कोई शरीक नहीं, मुझे यही हुक्म हुआ है और मैं सबसे पहला मुसलमान हूँ
Tum farmao beshak meri namaaz aur meri qurbaaniyaan aur mera jeena aur mera marna sab Allah ke liye hai jo Rab saare jahaan ka,
(ف338)یعنی دینِ اسلام جو اللہ کو مقبول ہے ۔(ف339)اس میں کفّارِ قُریش کا رد ہے جو گمان کرتے تھے کہ وہ دینِ ابراہیمی پر ہیں ، اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام مشرک و بُت پرست نہ تھے تو بُت پرستی کرنے والے مشرکین کا یہ دعوٰی کہ وہ ابراہیمی ملّت پر ہیں باطل ہے ۔
تم فرماؤ بیشک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو رب سارے جہان کا
Say, “Undoubtedly my prayers and my sacrifices, and my living and my dying are all for Allah, the Lord Of The Creation.”
तुम फरमाओ क्या अल्लाह के सिवा और रब चाहूँ हालाँकि वह हर चीज़ का रब है और जो कोई कुछ कमाए वह उसी के ज़िम्मे है, और कोई बोझ उठाने वाली जान दूसरे का बोझ न उठाएगी फिर तुम्हें अपने रब की तरफ फिरना है वह तुम्हें बता देगा जिस में इख्तिलाफ़ करते थे,
Us ka koi shareek nahi, mujhe yehi hukum hua hai aur main sab se pehla Musalman hoon,
اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے یہی حکم ہوا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں (ف۳٤۰)
“He has no partner; this is what I have been commanded, and I am the first Muslim.”
और वही है जिसने ज़मीन में तुम्हें नाएब किया और तुम में एक को दूसरे पर दर्जों बुलंदी दी कि तुम्हें आज़माए उस चीज़ में जो तुम्हें अता की बेशक तुम्हारा रब को अज़ाब करते देर नहीं लगती और बेशक वह ज़रूर बख्शने वाला मेहरबान है,",
Tum farmao kya Allah ke siwa aur Rab chahoon halanke woh har cheez ka Rab hai aur jo koi kuch kamaye woh usi ke zimma hai, aur koi bojh uthhane wali jaan doosre ka bojh na uthhaye gi phir tumhein apne Rab ki taraf phirna hai woh tumhein bata dega jis mein ikhtilaaf karte the,
(ف340)اوّلیّت یا تو اس اعتبار سے ہے کہ انبیاء کا اسلام ان کی اُمّت پر مقدّم ہوتا ہے یا اس اعتبار سے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم اوّل مخلوقات ہیں تو ضرور اوّل المسلمین ہوئے ۔
تم فرماؤ کیا اللہ کے سوا اور رب چاہوں حالانکہ وہ ہر چیز کا رب ہے (ف۳٤۱) اور جو کوئی کچھ کمائے وہ اسی کے ذمہ ہے، اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی (ف۳٤۲) پھر تمہیں اپنے رب کی طرف پھرنا ہے (ف۳٤۳) وہ تمہیں بتادے گا جس میں اختلاف کرتے تھے،
Say, “Shall I seek a Lord other than Allah, whereas He is Lord of all things?” And whatever a soul earns is itself responsible for it; and no load bearing soul will bear anyone else’s load; then towards your Lord you have to return and He will inform you about the matters you differed.
(ف341)شا نِ نُزول : کُفّار نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ آپ ہمارے دین کی طرف لوٹ آئیے اور ہمارے معبودوں کی عبادت کیجئے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ولید بن مغیرہ کہتا تھا کہ میرا رستہ اختیار کرو اس میں اگر کچھ گناہ ہے تو میری گردن پر ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ وہ رستہ باطل ہے ، خدا شَناس کس طرح گوارا کر سکتا ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو ربّ بتائے اور یہ بھی باطل ہے کہ کسی کا گناہ دوسرا اٹھا سکے ۔(ف342)ہر شخص اپنے گناہ میں ماخوذ ہو گا دوسرے کے گناہ میں نہیں ۔(ف343)روزِ قیامت ۔
اور وہی ہے جس نے زمین میں تمہیں نائب کیا (ف۳٤٤) اور تم میں ایک کو دوسرے پر درجوں بلندی دی (ف۳٤۵) کہ تمہیں آزمائے (ف۳٤٦) اس چیز میں جو تمہیں عطا کی بیشک تمہارے رب کو عذاب کرتے دیر نہیں لگتی اور بیشک وہ ضرور بخشنے والا مہربان ہے،
And it is He who made you caliphs (viceroys) in the earth and ranked some of you high above others, in order that He may test you with what He has bestowed upon you; indeed it does not take time for your Lord to mete out punishment; and indeed, surely, He is Oft Forgiving, Most Merciful.
(ف344)کیونکہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم خاتَم النبّیِین ہیں آپ کے بعد کوئی نبی نہیں اور آپ کی اُمّت آخرُ الاُمَم ہے اس لئے ان کو زمین میں پہلوں کا خلیفہ کیا کہ اس کے مالک ہوں اور اس میں تصرُّف کریں ۔(ف345)شکل و صورت میں ، حسن و جمال میں ، رزق و مال میں ، علم و عقل میں ، قوّت و کمال میں ۔(ف346)یعنی آزمائش میں ڈالے کہ تم نعمت و جاہ و مال پا کر کیسے شکر گزار رہتے ہو اور باہم ایک دوسرے کے ساتھ کس قسم کے سلوک کرتے ہو ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page