لوگوں کا حساب نزدیک اور وہ غفلت میں منہ پھیرے ہیں (ف۲)
(ف2)یعنی حسابِ اعمال کا وقت روزِ قیامت قریب آ گیا اور لوگ ابھی تک غفلت میں ہیں ۔شانِ نُزول : یہ آیت منکرینِ بَعث کے حق میں نازِل ہوئی جو مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کو نہیں مانتے تھے اور روزِ قیامت کو گزرے ہوئے زمانہ کے اعتبار سے قریب فرمایا گیاکیونکہ جتنے دن گزرتے جاتے ہیں آنے والا دن قریب ہوتا جاتا ہے ۔
ان کے دل کھیل میں پڑے ہیں (ف٤) اور ظالموں نے آپس میں خفیہ مشورت کی (ف۵) کہ یہ کون ہیں ایک تم ہی جیسے آدمی تو ہیں (ف٦) کیا جادو کے پاس جاتے ہو دیکھ بھال کر،
(ف4)اللہ کی یاد سے غافل ہیں ۔(ف5)اور اس کے اخفاء میں بہت مبالغہ کیا مگر اللہ تعالٰی نے ان کا راز فاش کر دیا اور بیان فرما دیا کہ وہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت یہ کہتے ہیں ۔(ف6)یہ کُفر کا ایک اصول تھا کہ جب یہ بات لوگوں کے ذہن نشین کر دی جائے گی کہ وہ تم جیسے بشر ہیں تو پھر کوئی ان پر ایمان نہ لائے گا ، حضور کے زمانہ کے کُفّار نے یہ بات کہی اور اس کو چھپایا لیکن آج کل کے بعض بے باک یہ کلمہ اعلان کے ساتھ کہتے ہیں اور نہیں شرماتے ، کُفّار یہ مقولہ کہتے وقت جانتے تھے کہ ان کی بات کسی کے دل میں جمے گی نہیں کیونکہ لوگ رات دن معجزات دیکھتے ہیں وہ کس طرح باور کر سکیں گے کہ حضور ہماری طرح بشر ہیں اس لئے انہوں نے معجزات کو جادو بتا دیا اور کہا ۔
نبی نے فرمایا میرا رب جانتا ہے آسمانوں اور زمین میں ہر بات کو، اور وہی ہے سنتا جانتا (ف۷)
(ف7)اس سے کوئی چیز چھپ نہیں سکتی خواہ کتنے ہی پردہ اور راز میں رکھی گئی ہو ، ان کا راز بھی اس میں ظاہر فرما دیا ، اس کے بعد قرآنِ کریم سے انہیں سخت پریشانی و حیرانی لاحق تھی کہ اس کا کس طرح انکار کریں ، وہ ایسا بیّن معجِزہ ہے جس نے تمام مُلک کے مایہ ناز ماہروں کو عاجز و متحیّر کر دیا ہے اور وہ اس کی دو چار آیتوں کی مثل کلام بنا کر نہیں لا سکے ، اس پریشانی میں انہوں نے قرآنِ کریم کی نسبت مختلف قسم کی باتیں کہیں جن کا بیان اگلی آیت میں ہے ۔
بلکہ بولے پریشان خوابیں ہیں (ف۸) بلکہ ان کی گڑھت (گھڑی ہوئی چیز) ہے (ف۹) بلکہ یہ شاعر ہیں (ف۱۰) تو ہمارے پاس کوئی نشانی لائیں جیسے اگلے بھیجے گئے تھے (ف۱۱)
(ف8)ان کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وحیٔ الٰہی سمجھ گئے ہیں ، کُفّار نے یہ کہہ کر سوچا کہ یہ بات چسپاں نہیں ہو سکے گی تو اب اس کو چھوڑ کر کہنے لگے ۔(ف9)یہ کہہ کر خیال ہوا کہ لوگ کہیں گے کہ اگر یہ کلام حضرت کا بنایا ہوا ہے اور تم انہیں اپنے مثل بشر بھی کہتے ہو تو تم ایسا کلام کیوں نہیں بنا سکتے ، یہ خیال کر کے اس بات کو بھی چھوڑ ا اور کہنے لگے ۔(ف10)اور یہ کلام شعر ہے اسی طرح کی باتیں بناتے رہے کسی ایک بات پر قائم نہ رہ سکے اور اہلِ باطل کذّابوں کا یہی حال ہوتا ہے ، اب انہوں نے سمجھا کہ ان باتوں میں سے کوئی بات بھی چلنے والی نہیں ہے تو کہنے لگے ۔(ف11)اس کے رد و جواب میں اللہ تبارک و تعالٰی فرماتا ہے ۔
ان سے پہلے کوئی بستی ایمان نہ لائی جسے ہم نے ہلاک کیا، تو کیا یہ ایمان لائیں گے (ف۱۲)
(ف12)معنٰی یہ ہیں کہ ان سے پہلے لوگوں کے پاس جو نشانیاں آئیں تو وہ ان پر ایمان نہ لائے اوران کی تکذیب کرنے لگے اور اس سبب سے ہلاک کر دیئے گئے تو کیا یہ لوگ نشانی دیکھ کر ایمان لے آئیں گے باوجودیکہ ان کی سرکشی ان سے بڑھی ہوئی ہے ۔
اور ہم نے تم سے پہلے نہ بھیجے مگر مرد جنہیں ہم وحی کرتے (ف۱۳) تو اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہ ہو (ف۱٤)
(ف13)یہ ان کے کلامِ سابق کا رد ہے کہ انبیاء کا صورتِ بشری میں ظہور فرمانا نبوّت کے منافی نہیں ، ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہا ہے ۔(ف14)کیونکہ ناواقف کو اس سے چارہ ہی نہیں کہ واقف سے دریافت کرے اور مرضِ جہل کا علاج یہی ہے کہ عالِم سے سوال کرے اور اس کے حکم پر عامل ہو ۔مسئلہ : اس آیت سے تقلید کا وجوب ثابت ہوتا ہے ، یہاں انہیں علم والوں سے پوچھنے کا حکم دیا گیا کہ ان سے دریافت کرو کہ اللہ کے رسول صورتِ بشری میں ظہور فرما ہوئے تھے یا نہیں ، اس سے تمہارے تردُّد کا خاتمہ ہو جائے گا ۔
اور ہم نے انھیں (ف۱۵) خالی بدن نہ بنایا کہ کھانا نہ کھائیں (ف۱٦) اور نہ وہ دنیا میں ہمیشہ رہیں،
(ف15)یعنی انبیاء کو ۔(ف16)تو ان پر کھانے پینے کا اعتراض کرنا اور یہ کہنا کہ مَا لِھٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْکُلُ الطَّعَامَ مَحض بے جا ہے ، تمام انبیاء کا یہی حال تھا وہ سب کھاتے بھی تھے پیتے بھی تھے ۔
بیشک ہم سے تمہاری طرف (ف۲۰) ایک کتاب اتاری جس میں تمہاری ناموری ہے (ف۲۱) تو کیا تمہیں عقل نہیں (ف۲۲)
(ف20)اے گروہِ قریش ۔(ف21)اگر تم اس پر عمل کرو یا یہ معنٰی ہیں کہ وہ کتاب تمہاری زبان میں ہے یا یہ کہ اس میں تمہارے لئے نصیحت ہے یا یہ کہ اس میں تمہارے دینی اور دنیوی امور اور حوائج کا بیان ہے ۔(ف22)کہ ایمان لا کر اس عزّت و کرامت اور سعادت کو حاصل کرو ۔
تو جب انہوں نے (ف۲٤) ہمارا عذاب پایا جبھی وہ اس سے بھاگنے لگے (ف۲۵)
(ف24)یعنی ان ظالموں نے ۔(ف25)شانِ نُزول : مفسِّرین نے ذکر کیا ہے کہ سرزمینِ یمن میں ایک بستی ہے جس کا نام حصور ہے وہاں کے رہنے والے عرب تھے انہوں نے اپنے نبی کی تکذیب کی اور ان کو قتل کیا تو اللہ تعالٰی نے ان پر بُخْتِ نَصَر کو مسلّط کیا ، اس نے انہیں قتل کیا اور گرفتار کیا اور اس کا یہ عمل جاری رہا تو یہ لوگ بستی چھوڑ کر بھاگے تو ملائکہ نے ان سے بطریقِ طنز کہا (جو اگلی آیت میں ہے) ۔
اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے عبث نہ بنائے (ف۲۹)
(ف29)کہ ان سے کوئی فائدہ نہ ہو بلکہ اس میں ہماری حکمتیں ہیں مِنجُملہ ان کے یہ ہے کہ ہمارے بندے ان سے ہماری قدرت و حکمت پر استدلال کریں اور انہیں ہمارے اوصاف و کمال کی معرفت ہو ۔
اگر ہم کوئی بہلاوا اختیار کرنا چاہتے (ف۳۰) تو اپنے پاس سے اختیار کرتے اگر ہمیں کرنا ہوتا (ف۳۱)
(ف30)مثل زَن و فرزند کے جیسا کہ نصارٰی کہتے ہیں اور ہمارے لئے بی بی اور بیٹیاں بتاتے ہیں اگر یہ ہمارے حق میں ممکن ہوتا ۔(ف31)کیونکہ زَن و فرزند والے زَن و فرزند اپنے پاس رکھتے ہیں مگر ہم اس سے پاک ہیں ہمارے لئے یہ ممکن ہی نہیں ۔
بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینک مارتے ہیں تو وہ اس کا بھیجہ نکال دیتا ہے تو جبھی وہ مٹ کر رہ جاتا ہے (ف۳۲) اور تمہاری خرابی ہے (ف۳۳) ان باتوں سے جو بناتے ہو (ف۳٤)
(ف32)معنٰی یہ ہیں کہ ہم اہلِ باطل کے کذب کو بیانِ حق سے مٹا دیتے ہیں ۔(ف33)اے کُفّارِ نابکار ۔(ف34)شانِ الٰہی میں کہ اس کے لئے بیوی و بچّہ ٹھہراتے ہو ۔
اور اسی کے ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں (ف۳۵) اور اس کے پاس والے (ف۳٦) اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور نہ تھکیں،
(ف35)وہ سب کا مالک ہے اور سب اس کے مملوک تو کوئی اس کی اولاد کیسے ہو سکتا ہے ، مملوک ہونے اور اولاد ہونے میں منافات ہے ۔(ف36)اس کے مقرّبین جنہیں اس کے کرم سے اس کے حضور قُرب و منزلت حاصل ہے ۔
کیا انہوں نے زمین میں سے کچھ ایسے خدا بنالیے ہیں (ف۳۸) کہ وہ کچھ پیدا کرتے ہیں (ف۳۹)
(ف38)جواہرِ ارضیہ سے مثل سونے چاندی پتھر وغیرہ کے ۔(ف39)ایسا تو نہیں ہے اور نہ یہ ہو سکتا ہے کہ جو خو د بےجان ہو وہ کسی کو جان دے سکے تو پھر اس کو معبود ٹھہرانا اور اِلٰہ قرار دینا کتنا کھلا باطل ہے ، اِلٰہ وہی ہے جو ہر ممکن پر قادر ہو جو قادر نہیں وہ اِلٰہ کیسا ۔
اگر آسمان و زمین میں اللہ کے سوا اور خدا ہوتے تو ضرور وہ (ف٤۰) تباہ ہوجاتے (ف٤۱) تو پاکی ہے اللہ عرش کے مالک کو ان باتوں سے جو یہ بناتے ہیں (ف٤۲)
(ف40)آسمان و زمین ۔(ف41)کیونکہ اگر خدا سے وہ خدا مراد لئے جائیں جن کی خدائی کے بُت پرست معتقد ہیں تو فسادِ عالَم کا لزوم ظاہر ہے کیونکہ وہ جمادات ہیں ، تدبیرِ عالَم پر اصلاً قدرت نہیں رکھتے اور اگر تعمیم کی جائے تو بھی لزومِ فساد یقینی ہے کیونکہ اگر دو خدا فرض کئے جائیں تو دو حال سے خالی نہیں یا وہ دونوں متفق ہوں گے یا مختلف ، اگر شے واحد پر متفق ہوئے تو لازم آئے گا کہ ایک چیز دونوں کی مقدور ہو اور دونوں کی قدرت سے واقع ہو یہ محال ہے اور اگر مختلف ہوئے تو ایک شے کے متعلق دونوں کے ارادے یا معاً واقع ہوں گے اور ایک ہی وقت میں وہ موجود و معدوم دونوں ہو جائے گی یا دونوں کے ارادے واقع نہ ہوں اور شے نہ موجود ہو نہ معدوم یا ایک کا ارادہ واقع ہو دوسرے کا واقع نہ ہو یہ تمام صورتیں محال ہیں تو ثابت ہوا کہ فساد ہر تقدیر پر لازم ہے ۔ توحید کی یہ نہایت قوی بُرہان ہے اور اس کی تقریریں بہت بسط کے ساتھ ائمۂ کلام کی کتابوں میں مذکور ہیں ۔ یہاں اختصاراً اسی قدر پر اکتفا کیا گیا ۔ (تفسیرِ کبیر وغیرہ)(ف42)کہ اس کے لئے اولاد و شریک ٹھہراتے ہیں ۔
اس سے نہیں پوچھا جاتا جو وہ کرے (ف٤۳) اور ان سب سے سوال ہوگا (ف٤٤)
(ف43)کیونکہ وہ مالکِ حقیقی ہے جو چاہے کرے ، جسے چاہے عزّت دے جسے چاہے ذلّت دے ، جسے چاہے سعادت دے جسے چاہے شقی کرے ، وہ سب کا حاکم ہے کوئی اس کا حاکم نہیں جو اس سے پوچھ سکے ۔(ف44)کیونکہ سب اس کے بندے ہیں مملوک ہیں ، سب پر اس کی فرمانبرداری اور اطاعت لازم ہے ۔ اس سے توحید کی ایک اور دلیل مستفاد ہوتی ہے جب سب مملوک ہیں تو ان میں سے کوئی خدا کیسے ہو سکتا ہے اس کے بعد بطریقِ استفہام تو بیخاً فرمایا ۔
کیا اللہ کے سوا اور خدا بنا رکھے ہیں، تم فرماؤ (ف٤۵) اپنی دلیل لاؤ (ف٤٦) یہ قرآن میرے ساتھ والوں کا ذکر ہے (ف٤۷) اور مجھ سے اگلوں کا تذکرہ (ف٤۸) بلکہ ان میں اکثر حق کو نہیں جانتے تو وہ رو گرداں ، ہیں (ف٤۹)
(ف45)اے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان مشرکین سے کہ تم اپنے اس باطل دعوٰی پر ۔ (ف46)اور حُجّت قائم کرو خواہ عقلی ہو یا نقلی مگر نہ کوئی دلیل عقلی لا سکتے ہو جیسا کہ براہینِ مذکورہ سے ظاہر ہو چکا اور نہ کوئی دلیل نقلی پیش کر سکتے ہو کیونکہ تمام کتبِ سماویہ میں اللہ تعالٰی کی توحید کا بیان ہے اور سب میں شرک کا ابطال کیا گیا ہے ۔(ف47)ساتھ والوں سے مراد آپ کی اُمّت ہے ، قرآنِ کریم میں اس کا ذکر ہے کہ اس کو طاعت پر کیا ثواب ملے گا اور معصیت پر کیا عذاب کیا جائے گا ۔(ف48)یعنی پہلے انبیاء کی اُمّتوں کا اور اس کا کہ دنیا میں ان کے ساتھ کیا کیا گیا اور آخرت میں کیا کیا جائے گا ۔(ف49)اور غور و تأمُّل نہیں کرتے اور نہیں سوچتے کہ توحید پر ایمان لانا ان کے لئے ضروری ہے ۔
اور بولے رحمن نے بیٹا اختیار کیا (ف۵۰) پاک ہے وہ (ف۵۱) بلکہ بندے ہیں عزت والے (ف۵۲)
(ف50)شانِ نُزول : یہ آیت خزاعہ کے حق میں نازِل ہوئی جنہوں نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا تھا ۔(ف51)اس کی ذات اس سے منزّہ ہے کہ اس کے اولاد ہو ۔(ف52)یعنی فرشتے اس کے برگزیدہ اور مکرّم بندے ہیں ۔
کیا کافروں نے یہ خیال نہ کیا کہ آسمان اور زمین بند تھے تو ہم نے انھیں کھولا (ف۵٦) اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی (ف۵۷) تو کیا وہ ایمان لائیں گے،
(ف56)بند ہونا یا تو یہ ہے کہ ایک دوسرے سے ملا ہوا تھا ان میں فصل پیدا کر کے انہیں کھولا یا یہ معنی ہیں کہ آسمان بند تھا بایں معنٰی کہ اس سے بارش نہیں ہوتی تھی ، زمین بند تھی بایں معنی کہ اس سے روئیدگی پیدا نہیں ہوتی تھی تو آسمان کا کھولنا یہ ہے کہ اس سے بارش ہونے لگی اور زمین کا کھولنا یہ ہے کہ اس سے سبزہ پیدا ہونے لگا ۔(ف57)یعنی پانی کو جاندار وں کی حیات کا سبب کیا ۔ بعض مفسِّرین نے کہا معنٰی یہ ہیں کہ ہر جاندار پانی سے پیدا کیا ہوا ہے اور بعضوں نے کہا اس سے نطفہ مراد ہے ۔
اور ہم نے آسمان کو چھت بنایا نگاہ رکھی گئی (ف٦۰) اور وہ (ف٦۱) اس کی نشانیوں سے روگرداں ہیں (ف٦۲)
(ف60)گرنے سے ۔(ف61)یعنی کُفّار ۔(ف62)یعنی آسمانی کائنات سورج ، چاند ، ستارے اور اپنے اپنے افلاک میں ان کی حرکتوں کی کیفیّت اور اپنے اپنے مطالع سے ان کے طلوع اور غروب اور ان کے عجائبِ احوال جو صانعِ عالَم کے وجود اور اس کی وحدت اور اس کے کمالِ قدرت و حکمت پر دلالت کرتے ہیں ، کُفّار ان سب سے اعراض کرتے ہیں اور ان دلائل سے فائدہ نہیں اٹھاتے ۔
اور ہم نے تم سے پہلے کسی آدمی کے لیے دنیا میں ہمیشگی نہ بنائی (ف٦٦) تو کیا اگر تم انتقال فرماؤ تو یہ ہمیشہ رہیں گے (ف٦۷)
(ف66)شانِ نُزول : رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمن اپنے ضلال و عناد سے کہتے تھے کہ ہم حوادثِ زمانہ کا انتظار کر رہے ہیں عنقریب ایسا وقت آنے والا ہے کہ حضرت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہو جائے گی ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور فرمایا گیا کہ دشمنانِ رسول کے لئے یہ کوئی خوشی کی بات نہیں ہم نے دنیا میں کسی آدمی کے لئے ہمیشگی نہیں رکھی ۔(ف67)اور انہیں موت کے پنجے سے رہائی مل جائے گی جب ایسا نہیں ہے تو پھر خوش کس بات پر ہوتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ ۔
ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور ہم تمہاری آزمائش کرتے ہیں برائی اور بھلائی سے (ف٦۸) جانچنے کو (ف٦۹) اور ہماری ہی طرف تمہیں لوٹ کر آنا ہے (ف۷۰)
(ف68)یعنی راحت و تکلیف و تندرستی و بیماری ، دولت مندی و ناداری نفع اور نقصان سے ۔(ف69)تاکہ ظاہر ہو جائے کہ صبر و شکر میں تمہارا کیا درجہ ہے ۔(ف70)ہم تمہیں تمہارے اعمال کی جزا دیں گے ۔
اور جب کافر تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہیں نہیں ٹھہراتے مگر ٹھٹھا (ف۷۱) کیا یہ ہیں وہ جو تمہارے خداؤں کو برا کہتے ہیں اور وہ (ف۷۲) رحمن ہی کی یاد سے منکر ہیں (ف۷۳)
(ف71)شانِ نُزول : یہ آیت ابوجہل کے حق میں نازِل ہوئی ، حضور تشریف لئے جاتے تھے وہ آپ کو دیکھ کر ہنسا اور کہنے لگا کہ یہ بنی عبدِ مناف کے نبی ہیں اورآپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے ۔(ف72)کُفّار ۔(ف73)کہتے ہیں کہ ہم رحمٰن کو جانتے ہی نہیں ، اس جہل و ضلال میں مبتلا ہونے کے باوجود آپ کے ساتھ تمسخُر کرتے ہیں اور نہیں دیکھتے کہ ہنسی کے قابل خود ان کا اپنا حال ہے ۔
آدمی جلد باز بنایا گیا، اب میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا مجھ سے جلدی نہ کرو (ف۷٤)
(ف74)شانِ نُزول : یہ آیت نضر بن حارث کے حق میں نازِل ہوئی جو کہتا تھا کہ جلد عذاب نازِل کرائیے ۔ اس آیت میں فرمایا گیا کہ اب میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا یعنی جو وعدے عذاب کے دیئے گئے ہیں ان کا وقت قریب آ گیا ہے چنانچہ روزِ بدر وہ منظر ان کی نظر کے سامنے آ گیا ۔
اور بیشک تم سے اگلے رسولوں کے ساتھ ٹھٹھا کیا گیا (ف۸۰) تو مسخرگی کرنے والوں کا ٹھٹھا انھیں کو لے بیٹھا (ف۸۱)
(ف80)اے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔(ف81)اور وہ اپنے اِستِہزاء اور مسخرگی کے وبال و عذاب میں گرفتار ہوئے ، اس میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تسلّی فرمائی گئی کہ آپ کے ساتھ اِستِہزاء کرنے والوں کا بھی یہی انجام ہونا ہے ۔
کیا ان کے کچھ خدا ہیں (ف۸٤) جو ان کو ہم سے بچاتے ہیں (ف۸۵) وہ اپنی ہی جانوں کو نہیں بچاسکتے (ف۸٦) اور نہ ہماری طرف سے ان کی یاری ہو،
(ف84)ہمارے سوا ان کے خیال میں ۔(ف85)اور ہمارے عذاب سے محفوظ رکھتے ہیں ایسا تو نہیں ہے اور اگر وہ اپنے بُتوں کی نسبت یہ اعتقاد رکھتے ہیں تو ان کا حال یہ ہے کہ ۔(ف86)اپنے پُوجنے والوں کو کیا بچا سکیں گے ۔
بلکہ ہم نے ان کو (ف۸۷) اور ان کے باپ دادا کو برتاوا دیا (ف۸۸) یہاں تک کہ زندگی ان پر دراز ہوئی (ف۸۹) تو کیا نہیں دیکھتے کہ ہم (ف۹۰) زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے آرہے ہیں (ف۹۱) تو کیا یہ غالب ہوں گے (ف۹۲)
(ف87)یعنی کُفّار کو ۔(ف88)اور دنیا میں انہیں نعمت و مہلت دی ۔(ف89)اور وہ اس سے اور مغرور ہوئے اور انہوں نے گمان کیا کہ وہ ہمیشہ ایسے ہی رہیں گے ۔(ف90)کُفرستان کی ۔(ف91)روز بروز مسلمانوں کو اس پر تسلّط دے رہے ہیں اور ایک شہر کے بعد دوسرا شہر فتح ہوتا چلا آ رہا ہے ، حدودِ اسلام بڑھ رہی ہیں اور سرزمینِ کُفر گھٹتی چلی آتی ہے اور حوالیٔ مکّہ مکرّمہ پر مسلمانوں کا تسلّط ہوتا جاتا ہے ، کیا مشرکین جو عذاب طلب کرنے میں جلدی کرتے ہیں اس کو نہیں دیکھتے اور عبرت حاصل نہیں کرتے ۔(ف92)جن کے قبضہ سے زمین دمبدم نکلتی جا رہی ہے یا رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اصحاب جو بفضلِ الٰہی فتح پر فتح پا رہے ہیں اور ان کے مقبوضات دم بدم بڑھتے چلے جاتے ہیں ۔
اور ہم عدل کی ترازوئیں رکھیں گے قیامت کے دن تو کسی جان پر کچھ ظلم نہ ہوگا، اور اگر کوئی چیز (ف۹٦) رائی کے دانہ کے برابر ہو تو ہم اسے لے آئیں گے، اور ہم کافی ہیں حساب کو،
اور بیشک ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فیصلہ دیا (ف۹۷) اور اجالا (ف۹۸) اور پرہیزگاروں کو نصیحت (ف۹۹)
(ف97)یعنی توریت عطا کی جو حق و باطل میں تفرقہ کرنے والی ہے ۔(ف98)یعنی روشنی ہے کہ اس سے نجات کی راہ معلوم ہوتی ہے ۔(ف99)جس سے وہ پند پذیر ہوتے ہیں اور دینی امور کا علم حاصل کرتے ہیں ۔
بولے کیا تم ہمارے پاس حق لائے ہو یا یونہی کھیلتے ہو (ف۱۰٦)
(ف106)چونکہ انہیں اپنے طریقہ کا گمراہی ہونا بہت ہی بعید معلوم ہوتا تھا اور اس کا انکار کرنا وہ بہت بڑی بات جانتے تھے اس لئے انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے یہ کہا کہ کیا آپ یہ بات واقعی طور پر ہمیں بتا رہے ہیں یا بطریق کھیل کے فرماتے ہیں ، اس کے جواب میں آپ نے حضرت مَلِکِ عَلّام کی ربوبیت کا اثبات فرما کر ظاہر فرما دیا کہ آپ کھیل کے طریقے پرکلام فرمانے والے نہیں ہیں بلکہ حق کا اظہار فرماتے ہیں چنانچہ آپ نے ۔
اور مجھے اللہ کی قسم ہے میں تمہارے بتوں کا برا چاہوں گا بعد اس کے کہ تم پھر جاؤ پیٹھ دے کر (ف۱۰۷)
(ف107)اپنے میلے کو ۔ واقعہ یہ ہے کہ اس قوم کا سالانہ ایک میلہ لگتا تھا جنگل میں جاتے تھے اور شام تک وہاں لہو و لعب میں مشغول رہتے تھے ، واپسی کے وقت بُت خانہ میں آتے تھے اور بُتوں کی پُوجا کرتے تھے اس کے بعد اپنے مکانوں کو واپس جاتے تھے ، جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کی ایک جماعت سے بُتوں کے متعلق مناظرہ کیا تو ان لوگوں نے کہا کہ کل کو ہماری عید ہے آپ وہاں چلیں دیکھیں کہ ہمارے دین اور طریقے میں کیا بہار ہے اور کیسے لطف آتے ہیں ، جب وہ میلے کا دن آیا اور آپ سے میلے میں چلنے کو کہا گیا تو آپ عذر کر کے رہ گئے ، وہ لوگ روانہ ہو گئے جب ان کے باقی ماندہ اور کمزور لوگ جو آہستہ آہستہ جا رہے تھے گزرے تو آپ نے فرمایا کہ میں تمہارے بُتوں کا بُرا چاہوں گا ، اس کو بعض لوگوں نے سُنا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام بُت خانہ کی طرف لوٹے ۔
تو ان سب کو (ف۱۰۸) چورا کردیا مگر ایک کو جو ان کا سب سے بڑا تھا (ف۱۰۹) کہ شاید وہ اس سے کچھ پوچھیں (ف۱۱۰)
(ف108)یعنی بُتوں کو توڑ کر ۔(ف109)چھوڑ دیا اور بَسُولا اس کے کاندھے پر رکھ دیا ۔(ف110)یعنی بڑے بُت سے کہ ان چھوٹے بُتوں کا کیا حال ہے یہ کیوں ٹوٹے اور بَسُولا تیری گردن پر کیسا رکھا ہے اور انہیں اس کا عجز ظاہر ہو اور انہیں ہوش آئے کہ ایسے عاجز خدا نہیں ہو سکتے یا یہ معنٰی ہیں کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے دریافت کریں اورآپ کو حُجّت قائم کرنے کا موقع ملے چنانچہ جب قوم کے لو گ شام کو واپس ہوئے اور بُت خانے میں پہنچے اور انہوں نے دیکھا کہ بُت ٹوٹے پڑے ہیں تو ۔
بولے تو اسے لوگوں کے سامنے لاؤ شاید وہ گواہی دیں (ف۱۱۲)
(ف112)کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی کا فعل ہے یا ان سے بُتوں کی نسبت ایسا کلام سُنا گیا ہے ۔ مدعا یہ تھا کہ شہادت قائم ہو تو وہ آپ کے درپے ہوں چنانچہ حضرت بلائے گئے اور وہ لوگ ۔
فرمایا بلکہ ان کے اس بڑے نے کیا ہوگا (ف۱۱٤) تو ان سے پوچھو اگر بولتے ہوں (ف۱۱۵)
(ف114)اس غصّہ سے کہ اس کے ہوتے تم اس کے چھوٹوں کو پوجتے ہو ، اس کے کندھے پر بَسُولا ہونے سے ایسا ہی قیاس کیا جا سکتا ہے ، مجھ سے کیا پوچھنا پوچھنا ہو ۔(ف115)وہ خود بتائیں کہ ان کے ساتھ یہ کس نے کیا ، مدعا یہ تھا کہ قوم غور کرے کہ جو بول نہیں سکتا جو کچھ کر نہیں سکتا وہ خدا نہیں ہو سکتا ، اس کی خدائی کا اعتقاد باطل ہے چنانچہ جب آپ نے یہ فرمایا ۔
تو اپنے جی کی طرف پلٹے (ف۱۱٦) اور بولے بیشک تمہیں ستمگار ہو (ف۱۱۷)
(ف116)اور سمجھے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام حق پر ہیں ۔(ف117)جو ایسے مجبوروں اور بے اختیاروں کو پوجتے ہو جو اپنے کاندھے سے بَسُولا نہ ہٹا سکے ، وہ اپنے پجاری کو مصیبت سے کیا بچا سکے اور اس کے کیا کام آ سکے ۔
پھر اپنے سروں کے بل اوندھائے گئے (ف۱۱۸) کہ تمہیں خوب معلوم ہے یہ بولتے نہیں (ف۱۱۹)
(ف118)اور کلمۂ حق کہنے کے بعد پھر ان کی بدبختی ان کے سروں پر سوار ہوئی اور وہ کُفر کی طرف پلٹے اور باطل مجادلہ و مکابرہ شروع کیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہنے لگے ۔(ف119)تو ہم ان سے کیسے پوچھیں اور اے ابراہیم تم ہمیں ان سے پوچھنے کا کیسے حکم دیتے ہو ۔
بولے ان کو جلادو اور اپنے خداؤں کی مدد کروں اگر تمہیں کرنا ہے (ف۱۲۳)
(ف123)نمرود اور اس کی قوم حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جلا ڈالنے پر متفق ہو گئی اور انہوں نے آپ کو ایک مکان میں قید کر دیا اور قریۂ کوثٰی میں ایک عمارت بنائی اور ایک مہینہ تک بکوششِ تمام قِسم قِسم کی لکڑیاں جمع کیں اور ایک عظیم آ گ جلائی جس کی تپش سے ہوا میں پرواز کرنے والے پرندے جل جاتے تھے اور ایک منجنیق (گوپھن) کھڑی کی اور آپ کو باندھ کر اس میں رکھ کر آ گ میں پھینکا ، اس وقت آپ کی زبانِ مبارک پر تھا حَسْبِیَ اﷲُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ ، جبریلِ امین نے آپ سے عرض کیا کہ کیا کچھ کام ہے ؟ آپ نے فرمایا تم سے نہیں ، جبرئیل نے عرض کیا تو اپنے ربّ سے سوال کیجئے ! فرمایا سوال کرنے سے اس کا میرے حال کو جاننا میرے لئے کفایت کرتا ہے ۔
اور انہوں نے اس کا برا چاہا تو ہم نے انھیں سب سے بڑھ کر زیاں کار کردیا (ف۱۲۵)
(ف125)کہ ان کی مراد پوری نہ ہوئی اور سعی ناکام رہی اور اللہ تعالٰی نے اس قوم پر مچھّر بھیجے جو ان کے گوشت کھا گئے اور خون پی گئے اور ایک مچھر نمرود کے دماغ میں گھس گیا اور اس کی ہلاکت کا سبب ہوا ۔
اور ہم اسے اور لوط کو (ف۱۲٦) نجات بخشی (ف۱۲۷) اس زمین کی طرف (ف۱۲۸) جس میں ہم نے جہاں والوں کے لیے برکت رکھی (ف۱۲۹)
(ف126)جو ان کے بھیتجے ان کے بھائی ہاران کے فرزند تھے ، نمرود اور اس کی قوم سے ۔(ف127)اور عراق سے ۔(ف128)روانہ کیا ۔(ف129)اس زمین سے زمینِ شام مراد ہے ، اس کی برکت یہ ہے کہ یہاں کثرت سے انبیاء ہوئے اور تمام جہان میں ان کے دینی برکات پہنچے اور سرسبزی و شادابی کے اعتبار سے بھی یہ خطہ دوسرے خطوں پر فائق ہے ، یہاں کثرت سے نہریں ہیں ، پانی پاکیزہ اور خوش گوار ہے ، اشجار و ثمار کی کثرت ہے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مقامِ فلسطین میں نُزول فرمایا اور حضرت لُوط علیہ السلام نے مؤتفکہ میں ۔
اور ہم نے انھیں امام کیا کہ (ف۱۳۱) ہمارے حکم سے بلاتے ہیں اور ہم نے انھیں وحی بھیجی اچھے کام کرنے اور نماز برپا رکھنے اور زکوٰة دینے کی اور وہ ہماری بندگی کرتے تھے،
اور داؤد اور سلیمان کو یاد کرو جب کھیتی کا ایک جھگڑا چکاتے تھے، جب رات کو اس میں کچھ لوگوں کی بکریاں چھوٹیں (ف۱۳۵) اور ہم ان کے حکم کے وقت حاضر تھے،
(ف135)ان کے ساتھ کوئی چَرانے والا نہ تھا ، وہ کھیتی کھا گئیں ، یہ مقدمہ حضرت داؤد علیہ السلام کے سامنے پیش ہوا آپ نے تجویز کی کہ بکریاں کھیتی والے کو دے دی جائیں ، بکریوں کی قیمت کھیتی کے نقصان کے برابر تھی ۔
ہم نے وہ معاملہ سلیمان کو سمجھا دیا (ف۱۳٦) اور دونوں کو حکومت اور علم عطا کیا (ف۱۳۷) اور داؤد کے ساتھ پہاڑ مسخر فرمادیے کہ تسبیح کرتے اور پرندے (ف۱۳۸) اور یہ ہمارے کام تھے،
(ف136)حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے جب یہ معاملہ پیش ہوا تو آپ نے فرمایا کہ فریقین کے لئے اس سے زیادہ آسانی کی شکل بھی ہو سکتی ہے ، اس وقت حضرت کی عمر شریف گیارہ سال کی تھی ، حضرت داؤد علیہ السلام نے آپ پر لازم کیا کہ وہ صورت بیا ن فرمائیں ، حضرت سلیمان علیہ السلام نے یہ تجویز پیش کی کہ بکری والا کاشت کرے اور جب تک کھیتی اس حالت کو پہنچے جس حالت میں بکریوں نے کھائی ہے اس وقت تک کھیتی والا بکریوں کے دودھ وغیرہ سے نفع اٹھائے اور کھیتی اس حالت پر پہنچ جانے کے بعد کھیتی والے کو کھیتی دے دی جائے ، بکری والے کو اس کی بکریاں واپس کر دی جاویں ۔ یہ تجویز حضرت داؤد علیہ السلام نے پسند فرمائی ، اس معاملہ میں یہ دونوں حکم اجتہادی تھے اور اس شریعت کے مطابق تھے ، ہماری شریعت میں حکم یہ ہے کہ اگر چَرانے والا ساتھ نہ ہو تو جانور جو نقصانات کرے اس کا ضمان لازم نہیں ۔ مجاہد کا قول ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام نے جو فیصلہ کیا تھا وہ اس مسئلہ کا حکم تھا اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے جو تجویز فرمائی یہ صورتِ صلح تھی ۔(ف137)وجوہِ اجتہاد و طریقِ احکام وغیرہ کا مسئلہ : جن عُلَماء کو اجتہاد کی اہلیت حاصل ہو انہیں ان امور میں اجتہاد کا حق ہے جس میں وہ کتاب و سنّت کا حکم نہ پاویں اور اگر اجتہاد میں خطا بھی ہو جاوے تو بھی ان پر مواخذہ نہیں ۔ بخاری و مسلم کی حدیث ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب حکم کرنے والا اجتہاد کے ساتھ حکم کرے اور اس حکم میں مُصِیب ہو تو اس کے لئے دو ۲ اجر ہیں اور اگر اجتہاد میں خطا واقع ہو جائے تو ایک اجر ۔(ف138)پتّھر اور پرندے آپ کے ساتھ آپ کی موافقت میں تسبیح کرتے تھے ۔
اور شیطانوں میں سے جو اس کے لیے غوطہ لگاتے (ف۱٤۱) اور اس کے سوا اور کام کرتے (ف۱٤۲) اور ہم انھیں روکے ہوئے تھے (ف۱٤۳)
(ف141)دریا کی گہرائی میں داخل ہو کر سمندر کی تہ سے آپ کے لئے جواہر نکال کر لاتے ۔(ف142)عجیب عجیب صنعتیں ، عمارتیں ، محل ، برتن ، شیشے کی چیزیں ، صابون وغیرہ بنانا ۔(ف143)کہ آپ کے حکم سے باہر نہ ہوں ۔
اور ایوب کو (یاد کرو) جب اس نے اپنے رب کو پکارا (ف۱٤٤) کہ مجھے تکلیف پہنچی اور تو سب مہر والوں سے بڑھ کر مہر والا ہے،
(ف144)یعنی اپنے ربّ سے دعا کی ۔ حضرت ایوب علیہ السلام حضرت اسحٰق علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں ، اللہ تعالٰی نے آپ کو ہر طرح کی نعمتیں عطا فرمائی ہیں حسنِ صورت بھی ، کثرتِ اولاد بھی ، کثرتِ اموال بھی اللہ تعالٰی نے آپ کو اِبتلا میں ڈالا اور آ پ کے فرزند و اولاد مکان کے گرنے سے دب کر مر گئے ، تمام جانور جس میں ہزارہا اونٹ ، ہزارہا بکریاں تھیں سب مر گئے ، تمام کھیتیاں اور باغات برباد ہو گئے ، کچھ بھی باقی نہ رہا اور جب آپ کو ان چیزوں سے ہلاک ہونے اور ضائع ہونے کی خبر دی جاتی تھی تو آپ حمدِ الٰہی بجا لاتے تھے اور فرماتے تھے میرا کیا ہے جس کا تھا اس نے لیا جب تک مجھے دیا اور میرے پاس رکھا اس کا شکر ہی ادا نہیں ہو سکتا ، میں اس کی مرضی پر راضی ہوں پھر آپ بیمار ہوئے ، تمام جسم شریف میں آبلے پڑے ، بدن مبارک سب کا سب زخموں سے بھر گیا ، سب لوگوں نے چھوڑ دیا بَجُز آپ کی بی بی صاحبہ کے کہ وہ آپ کی خدمت کرتی رہیں اور یہ حالت سالہا سال رہی ، آخر کار کوئی ایسا سبب پیش آیا کہ آپ نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی ۔
تو ہم نے اس کی دعا سن لی تو ہم نے دور کردی جو تکلیف اسے تھی (ف۱٤۵) اور ہم نے اسے اس کے گھر والے اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور عطا کیے (ف۱٤٦) اپنے پاس سے رحمت فرما کر اور بندی والوں کے لیے نصیحت (ف۱٤۷)
(ف145)اس طرح کہ حضرت ایوب علیہ السلام سے فرمایا کہ آپ زمین میں پاؤں ماریئے انہوں نے پاؤں مارا ایک چشمہ ظاہر ہوا ، حکم دیا گیا اس سے غسل کیجئے غسل کیا تو ظاہر بدن کی تمام بیماریاں دور ہو گئیں پھر آپ چالیس قدم چلے پھر دوبارہ زمین میں پاؤں مارنے کا حکم ہوا پھر آپ نے پاؤ ں مارا اس سے بھی ایک چشمہ ظاہر ہوا جس کا پانی نہایت سرد تھا ، آپ نے بحکمِ الٰہی پیا اس سے باطن کی تمام بیماریاں دور ہو گئیں اور آپ کو اعلٰی درجہ کی صحت حاصل ہوئی ۔(ف146)حضرت ابنِ مسعود و ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہم اور اکثر مفسِّرین نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے آپ کی تمام اولاد کو زندہ فرما دیا اور آپ کو اتنی ہی اولاد اور عنایت کی ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کی دوسری روایت میں ہے کہ اللہ تعالٰی نے آپ کی بی بی صاحبہ کو دوبارہ جوانی عنایت کی اور ان کے کثیر اولادیں ہوئیں ۔(ف147)کہ وہ اس واقعہ سے بلاؤں پر صبر کرنے اور اس کے ثوابِ عظیم سے باخبر ہوں اور صبر کریں اور ثواب پائیں ۔
اور ذوالنون، کو (یاد کرو) (ف۱٤۹) جب چلا غصہ میں بھرا (ف۱۵۰) تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے (ف۱۵۱) تو اندھیریوں میں پکارا (ف۱۵۲) کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو، بیشک مجھ سے بےجا ہوا (ف۱۵۳)
(ف149)یعنی حضرت یونس ابنِ متّٰی کو ۔(ف150)اپنی قوم سے جس نے ان کی دعوت نہ قبول کی تھی اور نصیحت نہ مانی تھی اور کُفر پر قائم رہی تھی ، آپ نے گمان کیا کہ یہ ہجرت آپ کے لئے جائز ہے کیونکہ اس کا سبب صرف کُفر اور اہلِ کُفر کے ساتھ بغض اور اللہ کے لئے غضب کرنا ہے لیکن آپ نے اس ہجرت میں حکمِ الٰہی کا انتظار نہ کیا ۔(ف151)تو اللہ تعالٰی نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈالا ۔(ف152)کئی قِسم کی اندھیریاں تھیں دریا کی اندھیری ، رات کی اندھیری ، مچھلی کے پیٹ کی اندھیری ، ان اندھیریوں میں حضرت یونس علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے اس طرح دعا کی کہ ۔(ف153)کہ میں اپنی قوم سے ، قبل تیرا اِذن پانے کے جُدا ہوا ۔ حدیث شریف میں ہے کہ جو کوئی مصیبت زدہ بارگاہِ الٰہی میں ان کلمات سے دعا کرے تو اللہ تعالٰی اس کی دعا قبول فرماتا ہے ۔
تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور سے غم سے نجات بخشی (ف۱۵٤) اور ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو (ف۱۵۵)
(ف154)اور مچھلی کو حکم دیا تو اس نے حضرت یونس علیہ السلام کو دریا کے کنارے پر پہنچا دیا ۔(ف155)مصیبتوں اور تکلیفوں سے جب وہ ہم سے فریاد کریں اور دعا کریں ۔
اور زکریا کو جب اس نے اپنے رب کو پکارا ، اے میرے رب مجھے اکیلا نہ چھوڑ (ف۱۵٦) اور تو سب سے بہتر اور وارث (ف۱۵۷)
(ف156)یعنی بے اولاد بلکہ وارث عطا فرما ۔(ف157)خَلق کی فنا کے بعد باقی رہنے والا ۔ مدعا یہ ہے کہ اگر تو مجھے وارث نہ دے تو بھی کچھ غم نہیں کیونکہ تو بہتر وارث ہے ۔
تو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے (ف۱۵۸) یحییٰ عطا فرمایا اور اس کے لیے اس کی بی بی سنواری (ف۱۵۹) بیشک وہ (ف۱٦۰) بھلے کاموں میں جلدی کرتے تھے اور ہمیں پکارتے تھے امید اور خوف سے، اور ہمارے حضور گڑگڑاتے ہیں،
(ف158)فرزندِ سعید ۔(ف159)جو بانجھ تھی اس کو قابلِ ولادت کیا ۔(ف160)یعنی انبیاءِ مذکورین ۔
اور اس عورت کو اس نے اپنی پارسائی نگاہ رکھی (ف۱٦۱) تو ہم نے اس میں اپنی روح پھونکی (ف۱٦۲) اور اسے اور اس کے بیٹے کو سارے جہاں کے لیے نشانی بنایا (ف۱٦۳)
(ف161)پورے طور پر کہ کسی طرح کوئی بشر اس کی پارسائی کو چھو نہ سکا ، مراد اس سے حضرت مریم ہیں ۔(ف162)اور اس کے پیٹ میں حضرت عیسٰی کوپیدا کیا ۔(ف163)اپنے کمالِ قدرت کی کہ حضرت عیسٰی کو اس کے بطن سے بغیر باپ کے پیدا کیا ۔
بیشک تمہارا یہ دین ایک ہی دین ہے (ف۱٦٤) اور میں تمہارا رب ہوں (ف۱٦۵) تو میری عبادت کرو،
(ف164)دینِ اسلام ، یہی تمام انبیاء کا دین ہے اس کے سوا جتنے ادیان ہیں سب باطل ، سب کو اسی دین پر قائم رہنا لازم ہے ۔(ف165)نہ میرے سوا کوئی دوسرا ربّ ، نہ میرے دین کے سوا اور کوئی دین ۔
اور حرام ہے اس بستی پر جسے ہم نے ہلاک کردیا کہ پھر لوٹ کر آئیں (ف۱٦۸)
(ف168)دنیا کی طرف تلافیٔ اعمال و تدارکِ احوال کے لئے یعنی اس لئے کہ ان کا واپس آنا ناممکن ہے ۔ مفسِّرین نے اس کے یہ معنی بھی بیان کئے ہیں کہ جس بستی والوں کو ہم نے ہلاک کیا ان کا شرک و کُفر سے واپس آنا محال ہے ، یہ معنی اس تقدیر پر ہیں جب کہ لا کو زائدہ قرار دیا جائے اور اگر لا زائدہ نہ ہو تو معنٰی یہ ہوں گے کہ دارِ آخرت میں ان کا حیات کی طرف نہ لوٹنا ناممکن ہے ۔ اس میں منکرینِ بَعث کا ابطال ہے اور اوپر جو کُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْن اور لَاکُفْرَانَ لِسَعْیِہٖ فرمایا گیا اس کی تاکید ہے ۔ (تفسیرِ کبیر وغیرہ)
اور قریب آیا سچا وعدہ (ف۱۷۰) تو جبھی آنکھیں پھٹ کر رہ جائیں گی کافروں کی (ف۱۷۱) کہ ہائے ہماری خرابی بیشک ہم (ف۱۷۲) اس سے غفلت میں تھے بلکہ ہم ظالم تھے (ف۱۷۳)
(ف170)یعنی قیامت ۔(ف171)اس دن کے ہول اور دہشت سے اور کہیں گے ۔(ف172)دنیا کے اندر ۔(ف173)کہ رسولوں کی بات نہ مانتے تھے اور انہیں جھٹلاتے تھے ۔
وہ اس میں رینکیں گے (ف۱۷۸) اور وہ اس میں کچھ نہ سنیں گے (ف۱۷۹)
(ف178)اور عذاب کی شدّت سے چیخیں گے اور دھاڑیں گے ۔(ف179)جہنّم کے شدّتِ جوش کی وجہ سے ۔ حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا جب جہنّم میں وہ لوگ رہ جائیں گے جنہیں اس میں ہمیشہ رہنا ہے تو وہ آ گ کے تابوتوں میں بند کئے جائیں گے ، وہ تابوت اور تابوتوں میں پھر وہ تابوت اور تابوتوں میں اور ان تابوتوں پر آ گ کی میخیں جڑ دی جائیں گی تو وہ کچھ نہ سُنیں گے اور نہ کوئی ان میں کسی کو دیکھے گا ۔
بیشک وہ جن کے لیے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہوچکا وہ جنہم سے دور رکھے گئے ہیں (ف۱۸۰)
(ف180)اس میں ایمان والوں کے لئے بشارت ہے ۔ حضرت علی مرتضٰی کرّم اللہ تعالٰی وجہَہ الکریم نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ میں انہیں میں سے ہوں اور ابوبکر اور عمر اور عثمان اورطلحٰہ اور زبیر اور سعد اور عبدالرحمٰن بن عوف ۔شانِ نُزول : رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک روز کعبۂ معظّمہ میں داخل ہوئے اس وقت قریش کے سردار حطیم میں موجود تھے اور کعبہ شریف کے گرد تین سو ساٹھ بُت تھے ، نضر بن حارث سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آیا اور آ پ سے کلام کرنے لگا حضور نے اس کو جواب دے کر ساکت کر دیا اور یہ آیت تلاوت فرمائی اِنَّکُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِ حَصَبُ جَھَنَّمَ کہ تم اور جو کچھ اللہ کے سوا پُوجتے ہو سب جہنم کے ایندھن ہیں یہ فرما کر حضور تشریف لے آئے پھر عبداللہ بن زبعری سہمی آیا اوراس کو ولید بن مغیرہ نے اس گفتگو کی خبر دی ، کہنے لگا کہ خدا کی قسم میں ہوتا تو ان سے مباحثہ کرتا اس پر لوگوں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلایا ، ابنِ زبعری یہ کہنے لگا کہ آپ نے یہ فرمایا ہے کہ تم اور جو کچھ اللہ کے سوا تم پُوجتے ہیں سب جہنّم کے ایندھن ہیں ؟ حضور نے فرمایا کہ ہاں کہنے لگا یہود تو حضرت عزیر کو پُوجتے ہیں اورنصارٰی حضرت مسیح کو پُوجتے ہیں اور بنی ملیح فرشتوں کو پُوجتے ہیں ۔ اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازِل فرمائی اور بیان فرما دیا کہ حضرت عزیر اور مسیح اور فرشتے وہ ہیں جن کے لئے بھلائی کا وعدہ ہو چکا اور وہ جہنّم سے دور رکھے گئے ہیں اور حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ درحقیقت یہود و نصارٰی وغیرہ شیطان کی پرستِش کرتے ہیں ۔ ان جوابوں کے بعد اس کو مجال دمِ زدن نہ رہی اور وہ ساکت رہ گیا اور درحقیقت اس کا اعتراض کمال عناد سے تھا کیونکہ جس آیت پر اس نے اعتراض کیا اس میں مَا تَعْبُدُوْنَ ہے اور مَا زبانِ عربی میں غیر ذوی العقول کے لئے بولا جاتا ہے ، یہ جانتے ہوئے اس نے اندھا بن کر اعتراض کیا ، یہ اعتراض تو اہلِ زبان کی نگاہوں میں کھلا ہوا باطل تھا مگر مزید بیان کے لئے اس آیت میں توضیح فرما دی گئی ۔
جس دن ہم آسمان کو لپیٹیں گے جیسے سجل فرشتہ (ف۱۸۵) نامہٴ اعمال کو لپیٹتا ہے، جیسے پہلے اسے بنایا تھا ویسے ہی پھر کردیں گے (ف۱۸٦) یہ وعدہ ہے ہمارے ذمہ، ہم کو اس کا ضرور کرنا،
(ف185)جو کاتبِ اعمال ہے آدمی کی موت کے وقت اس کے ۔(ف186)یعنی ہم نے جیسے پہلے عدم سے بنایا تھا ویسے ہی پھر معدوم کرنے کے بعد پیدا کر دیں گے یا یہ معنی ہیں کہ جیسا ماں کے پیٹ سے برہنہ غیر مختون پیدا کیا تھا ایسا ہی مرنے کے بعد اٹھائیں گے ۔
اور بیشک ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد لکھ دیا کہ اس زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے (ف۱۸۷)
(ف187)اس زمین سے مراد زمینِ جنّت ہے اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ کُفّار کی زمینیں مراد ہیں جن کو مسلمان فتح کریں گے اور ایک قول یہ ہے کہ زمینِ شام مراد ہے ۔
(ف188)کہ جو اس کا اِتّباع کرے اور اس کے مطابق عمل کرے جنّت پائے اور مراد کو پہنچے اور عبادت والوں سے مؤمنین مراد ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ اُمّتِ محمّدیہ مراد ہے جو پانچوں نمازیں پڑھتے ہیں ، رمضان کے روزے رکھتے ہیں ، حج کرتے ہیں ۔
اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے (ف۱۸۹)
(ف189)کوئی ہو جن ہو یا انس مؤمن ہو یا کافِر ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ حضور کا رحمت ہونا عام ہے ایمان والے کے لئے بھی اور اس کے لئے بھی جو ایمان نہ لایا ، مؤمن کے لئے تو آپ دنیا و آخرت دونوں میں رحمت ہیں اور جو ایمان نہ لایا اس کے لئے آپ دنیا میں رحمت ہیں کہ آپ کی بدولت تاخیرِ عذاب ہوئی اور خَسۡف و مَسۡخ اور اِستِیصال کے عذاب اٹھا دیئے گئے ۔ تفسیرِ روح البیان میں اس آیت کی تفسیر میں اکابر کا یہ قول نقل کیا ہے کہ آیت کے معنٰی یہ ہیں کہ ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر رحمتِ مطلقہ تامّہ کاملہ عامہ شاملہ جامعہ محیطہ بہ جمیع مقیدات رحمتِ غیبیہ و شہادتِ علمیہ وعینیہ و وجود یہ و شہودیہ و سابقہ و لاحقہ و غیر ذلک تمام جہانوں کے لئے ، عالَمِ ارواح ہوں یا عالَمِ اجسام ، ذوی العقول ہوں یا غیر ذوی العقول اور جو تمام عالَموں کے لئے رحمت ہو لازم ہے کہ وہ تمام جہان سے افضل ہو ۔
پھر اگر وہ منہ پھیریں (ف۱۹۰) تو فرمادو میں نے تمہیں لڑائی کا اعلان کردیا، برابری پر اور میں کیا جانوں (ف۱۹۱) کہ پاس ہے یا دور ہے وہ جو تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے (ف۱۹۲)
(ف190)اور اسلام نہ لائیں ۔(ف191)بے خدا کے بتائے یعنی یہ بات عقل و قیاس سے جاننے کی نہیں ہے ۔ یہاں درایت کی نفی فرمائی گئی درایت کہتے ہیں اندازے اور قیاس سے جاننے کو جیسا کہ مفرداتِ راغب اور ر دُّالمحتار میں ہے اسی لئے اللہ تعالٰی کے واسطے لفظِ درایت استعمال نہیں کیا جاتا اور قرآنِ کریم کے اطلاقات اس پر دلالت کرتے ہیں جیسا کہ فرمایا مَا کُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْکِتَابُ وَلَا الْاِیْمَانُ لہٰذا یہاں بے تعلیم الٰہی مَحض اپنے عقل و قیاس سے جاننے کی نفی ہے نہ کہ مطلق علم کی اور مطلق علم کی نفی کیسے ہو سکتی ہے جب کہ اسی رکوع کے اول میں آ چکا ہے وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ یعنی قریب آیا سچا وعدہ تو کیسے کہا جا سکتا ہے کہ وعدے کا قُرب و بُعد کسی طرح معلوم نہیں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ اپنے عقل و قیاس سے جاننے کی نفی ہے نہ کہ تعلیمِ الٰہی سے جاننے کی ۔(ف192)عذاب کا یا قیامت کا ۔
بیشک اللہ جانتا ہے آواز کی بات (ف۱۹۳) اور جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو (ف۱۹٤)
(ف193)جو اے کُفّار تم اعلان کے ساتھ اسلام پر بطریقِ طعن کہتے ہو ۔(ف194)اپنے دلوں میں یعنی نبی کی عداوت اور مسلمانوں سے حسد جو تمہارے دلوں میں پوشیدہ ہے اللہ اس کو بھی جانتا ہے سب کا بدلہ دے گا ۔
نبی نے عرض کی کہ اے میرے رب حق فیصلہ فرمادے (ف۱۹۸) اور ہمارے رب رحمنٰ ہی کی مدد درکار ہے ان باتوں پر جو تم بتاتے ہو، (ف۱۹۹)
(ف198)میرے اور ان کے درمیان جو مجھے جھٹلاتے ہیں اس طرح کہ میری مدد کر اور ان پر عذاب نازِل فرما ۔ یہ دعا مستجاب ہوئی اور کُفّار بدر و احزاب و حُنَین وغیرہ میں مبتلائے عذاب ہوئے ۔(ف199)شرک و کُفر اور بے ایمانی کی ۔