اے محبوب! تم سے غنیمتوں کو پوچھتے ہیں (ف۲) تم فرماؤ غنیمتوں کے مالک اللہ اور رسول ہیں (ف۳) تو اللہ ڈرو (ف٤) اور اپنے آ پس میں میل (صلح صفائی) رکھو اور اللہ اور رسول کا حکم مانو اگر ایمان رکھتے ہو،
(ف2) شانِ نزول : حضرت عُبادہ بن صامِت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ یہ آیت ہم اہلِ بدر کے حق میں نازِل ہوئی جب غنیمت کے معاملہ میں ہمارے درمیان اختلاف پیدا ہوا اور بدمزگی کی نوبت آگئی تو اللہ تعالٰی نے معاملہ ہمارے ہاتھ سے نکال کر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کیا آپ نے وہ مال برابر تقسیم کردیا ۔(ف3) جیسے چاہیں تقسیم فرمائیں ۔(ف4)اور باہم اختلاف نہ کرو ۔
ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ یاد کیا جائے (ف۵) ان کے دل ڈر جائیں اور جب ان پر اس کی آیتیں پڑھی جائیں ان کا ایمان ترقی پائے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کریں (ف٦)
(ف5)تو اس کے عظمت و جلال سے ۔(ف6)اور اپنے تمام کاموں کو اس کے سپرد کریں ۔
یہی سچے مسلمان ہیں، ان کے لیے درجے ہیں ان کے رب کے پاس (ف۷) اور بخشش ہے اور عزت کی روزی (ف۸)
(ف7) بقدر ان کے اعمال کے کیونکہ مؤمنین کے احوال ان اوصاف میں متفاوَت ہیں ۔ اس لئے ان کے مراتب بھی جُدا گانہ ہیں ۔(ف8)جو ہمیشہ اِکرام و تعظیم کے ساتھ بے محنت و مشقت عطا کی جائے ۔
جس طرح اے محبوب! تمہیں تمہارے رب نے تمہارے گھر سے حق کے ساتھ برآمد کیا (ف۹) اور بیشک مسلمانوں کا ایک گروہ اس پر ناخوش تھا (ف۱۰)
(ف9)یعنی مدینہ طیّبہ سے بدر کی طرف ۔ (ف10) کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ انکی تعداد کم ہے ، ہتھیار تھوڑے ہیں ، دشمن کی تعداد بھی زیادہ ہے اور وہ اسلحہ وغیرہ کا بڑا سامان رکھتا ہے ۔ مختصر واقعہ یہ ہے کہ ابو سفیان کے مُلکِ شام سے ایک قافلہ ساتھ آنے کی خبر پا کر سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ انکے مقابلہ کے لئے روانہ ہوئے ، مکّہ مکرّمہ سے ابو جہل قریش کا ایک لشکر گراں لے کر قافلہ امداد کے لئے روانہ ہوا ۔ ا بوسفیان تو رستہ سے کترا کر مع اپنے قافلہ کے ساحلِ بحر کی راہ چل پڑے اور ابو جہل سے اس کے رفیقوں نے کہا کہ قافلہ تو بچ گیا اب مکّۂ مکرّمہ واپس چل تو اس نے انکار کردیا اور وہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرنے کے قصد سے بدر کیطرف چل پڑا ۔ سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے مشورہ کیا اور فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالٰی کُفّار کے دونوں گروہوں میں سے ایک پر مسلمان کو فتح مند کرے گا خواہ قافلہ ہو یا قریش کا لشکر ۔ صحابہ نے اس میں موافقت کی مگر بعض کو یہ عُذر ہوا کہ ہم اس تیاری سے نہیں چلے تھے اور نہ ہماری تعداد اتنی ہے ، نہ ہمارے پاس کافی سامانِ اسلحہ ہے ۔ یہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گراں گزرا اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قافلہ تو ساحل کی طرف نکل گیا اور ابو جہل سامنے آ رہا ہے ۔ اس پر ان لوگوں نے پھر عرض کیا یارسولَ اللہ صلی اللہ علیک وسلم قافلے ہی کا تعاقُب کیجئے اور لشکرِ دشمن کو چھوڑ دیجئے ، یہ بات ناگوارِ خاطرِ اقدس ہوئی تو حضرت صدیقِ اکبر و حضرتِ عمر رضی اللہ عنہما نے کھڑے ہو کر اپنے اخلاص و فرمانبرداری اور رضا جُوئی و جاں نثاری کا اظہار کیا اور بڑی قوت و استحکام کے ساتھ عرض کی کہ وہ کسی طرح مرضیٔ مبارک کے خلاف سُستی کرنے والے نہیں ہیں پھر اور صحابہ نے بھی عرض کیا کہ اللہ تعالٰی نے حضور کو جو امر فرمایا اس کے مطابق تشریف لے چلیں ہم ساتھ ہیں ،کبھی تخلُّف نہ کریں گے ، ہم آپ پر ا یمان لائے ، ہم نے آپ کی تصدیق کی ، ہم نے آپ کے اِتِّباع کے عہد کئے ،ہمیں آپ کی اِتِّباع میں سمندر کے اندر کُود جانے سے بھی عذر نہیں ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا چلو اللہ کی برکت پر بھروسہ کرو اس نے مجھے وعدہ دیا ہے میں تمہیں بشارت دیتا ہوں ،مجھے دشمنوں کے گرنے کی جگہ نظر آ رہی ہے اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے کُفّار کے مرنے اور گرنے کی جگہ نام بنام بتا دیں اور ایک ایک کی جگہ پر نشانات لگادیئے اور یہ معجزہ دیکھا گیا کہ ان میں سے جو مر کر گرا اسی نشان پر گرا اس سے خطا نہ کی ۔
سچی بات میں تم سے جھگڑتے تھے (ف۱۱) بعد اس کے کہ ظاہر ہوچکی (ف۱۲) گویا وہ آنکھوں دیکھی موت کی طرف ہانکے جاتے ہیں (ف۱۳)
(ف11) اور کہتے تھے کہ ہمیں لشکرِ قریش کا حال ہی معلوم نہ تھا کہ ہم ان کے مقابلہ کی تیاری کرکے چلتے ۔(ف12) یہ بات کہ حضرت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ کرتے ہیں حکمِ الٰہی سے کرتے ہیں اور آپ نے اعلان فرمادیا ہے کہ مسلمانوں کو غیبی مدد پہنچے گی ۔(ف13)یعنی قریش سے مقابلہ انہیں ایسا مُہِیب معلوم ہوتا ہے ۔
اور یاد کرو جب اللہ نے تمہیں وعدہ دیا تھا کہ ان دونوں گروہوں (ف۱٤) میں ایک تمہارے لیے ہے اور تم یہ چاہتے تھے کہ تمہیں وہ ملے جس میں کانٹے کا کھٹکا نہیں (کوئی نقصان نہ ہو) (ف۱۵) اور اللہ یہ چاہتا تھا کہ اپنے کلام سے سچ کو سچ کر دکھائے (ف۱٦) اور کافروں کی جڑ کاٹ دے (ف۱۷)
(ف14)یعنی ابو سفیان کے قافلے اور ابو جہل کے لشکر ۔(ف15)یعنی ابوسفیان کا قافلہ ۔(ف16)دینِ حق کو غلبہ دے اس کو بلند و بالا کرے ۔(ف17)اور انہیں اس طرح ہلاک کرے کہ ان میں سے کوئی باقی نہ بچے ۔
جب تم اپنے رب سے فریاد کرتے تھے (ف۱۹) تو اس نے تمہاری سن لی کہ میں تمہیں مدد دینے والا ہوں ہزاروں فرشتوں کی قطار سے (ف۲۰)
(ف19)شانِ نُزُول : مسلم شریف کی حدیث ہے روزِ بدر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکین کو ملاحَظہ فرمایا کہ ہزار ہیں اور آپ کے اصحاب تین سو دس سے کچھ زیادہ تو حضور قبلے کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنے مبارک ہاتھ پھیلا کر اپنے ربّ سے یہ دعا کرنے لگے ، یا ربّ جو تو نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے پورا کر ، یاربّ جو تو نے مجھ سے وعدہ کیا عنایت فرما ، یاربّ اگر تو اہلِ اسلام کی اس جماعت کو ہلاک کردے گا تو زمین میں تیری پرستِش نہ ہوگی ۔ اسی طرح حضور دعا کرتے رہے یہاں تک کہ دوشِ مبارک سے چادر شریف اُتر گئی تو حضرت ابوبکر حاضر ہوئے اور چادر مبارک دوشِ اقدس پر ڈالی اور عرض کیا یا نبیَ اللہ آپ کی مناجات اپنے ربّ کے ساتھ کافی ہوگئی ، وہ بہت جلد اپنا وعدہ پورا فرمائے گا ۔ اس پر یہ آیتِ شریفہ نازِل ہوئی ۔(ف20)چنانچہ اوّل ہزار فرشتے آئے پھر تین ہزار پھر پانچ ہزار ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ مسلمان اس روز کافِروں کا تعاقُب کرتے تھے اور کافِر مسلمانوں کے آگے آگے بھاگتا جاتا تھا اچانک اوپر سے کوڑے کی آواز آتی تھی اور سوار کا یہ کلمہ سنا جاتا تھا اَقْدِمْ حَیْزومُ یعنی آگے بڑھ اے حیزوم ( حیزوم حضرت جبریل علیہ السلام کے گھوڑے کا نام ہے) اور نظر آتا تھا کہ کافِر گر کر مر گیا اور اس کی ناک تلوار سے اُڑا دی گئی اور چہرہ زخمی ہوگیا ۔ صحابہ نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے یہ معائنے بیان کئے تو حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ آسمان سوم کی مدد ہے ۔ ابوجہل نے حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کہاں سے ضرب آتی تھی ؟ مارنے والا تو ہم کو نظر نہیں آتا تھا آپ نے فرمایا فرشتوں کی طرف سے تو کہنے لگا پھر وہی تو غالب ہوئے تم تو غالب نہیں ہوئے ۔
جب اس نے تمہیں اونگھ سے گھیر دیا تو اس کی طرف سے چین (تسکین) تھی (ف۲۲) اور آسمان سے تم پر پانی اتارا کہ تمہیں اس سے ستھرا کردے اور شیطان کی ناپاکی تم سے دور فرمادے اور تمہارے دلوں کی ڈھارس بندھائے اور اس سے تمہارے قدم جمادے (ف۲۳)
(ف22)حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ غُنودگی اگر جنگ میں ہو تو امن ہے اور اللہ کی طرف سے ہے اور نماز میں ہو تو شیطان کی طرف سے ہے ۔ جنگ میں غُنودگی کا امن ہونا اس سے ظاہر ہے کہ جسے جان کا اندیشہ ہو اسے نیند اور اونگھ نہیں آتی ۔ وہ خطرے اور اِضطِراب میں رہتا ہے ۔ خوفِ شدید کے وقت غُنودگی آنا حصولِ امن اور زوالِ خوف کی دلیل ہے ۔ بعض مفسِّرین نے کہا ہے کہ جب مسلمانوں کو دشمنوں کی کثرت اور مسلمانوں کی قِلّت سے جانوں کا خوف ہوا اور بہت زیادہ پیاس لگی تو ان پر غُنودگی ڈال دی گئی جس سے انہیں راحت حاصل ہوئی اور تَکان اور پیاس رفع ہوئی اور وہ دُشمن سے جنگ کرنے پر قادِر ہوئے ، یہ اُونگھ ان کے حق میں نعمت تھی اور یکبارگی سب کو آئی ۔ جماعتِ کثیر کا خوفِ شدید کی حالت میں اسی طرح یکبارگی اُونگھ جانا خلافِ عادت ہے اسی لئے بعض عُلَماء نے فرمایا کہ یہ اُونگھ معجِزہ کے حکم میں ہے ۔(ف23)روزِ بدر مسلمان ریگستان میں اُترے ، ان کے اور ان کے جانوروں کے پاؤں ریت میں دھنسے جاتے تھے اور مشرکین ان سے پہلے لبِ آب قبضہ کر چکے تھے ۔ صحابہ میں بعض حضرات کو وضو کی ، بعض کو غسل کی ضرورت تھی اور پیاس کی شدّت تھی تو شیطان نے وسوسہ ڈالا کہ تم گمان کرتے ہو کہ تم حق پر ہو ، تم میں اللہ کے نبی ہیں اور تم اللہ والے ہو اور حال یہ ہے کہ مشرکین غالب ہو کر پانی پر پہنچ گئے تم بغیر وضو اور غسل کئے نمازیں پڑھتے ہو تو تمہیں دشمن پر فتح یاب ہونے کی کس طرح امید ہے ؟ تو اللہ تعالٰی نے مِیۡنہ بھیجا جس سے جنگل سیراب ہوگیا اور مسلمانوں نے اس سے پانی پیا اور غسل کئے اور وضو کئے اور اپنی سواریوں کو پلایا اور اپنے برتنوں کو بھرا اور غبار بیٹھ گیا اور زمین اس قابل ہوگئی کہ اس پر قدم جمنے لگے اور شیطان کا وسوسہ زائل ہو ا اور صحابہ کے دل خوش ہوئے اور یہ نعمت فتح و ظَفر حاصل ہونے کی دلیل ہوئی ۔
جب اے محبوب! تمہارا رب فرشتوں کو وحی بھیجتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم مسلمانوں کو ثابت رکھو (ف۲٤) عنقریب میں کافروں کے دلوں میں ہیبت ڈالوں گا تو کافروں کی گردنوں سے اوپر مارو اور ان کی ایک ایک پور (جوڑ) پر ضرب لگاؤ (ف۲۵)
(ف24)ان کی اعانت کرکے اور انہیں بشارت دے کر ۔(ف25)ابو داؤد مازنی جو بدر میں حاضر ہوئے تھے ، فرماتے ہیں کہ میں مشرک کی گردن مارنے کے لئے اس کے درپے ہوا اس کا سر میری تلوار پہنچنے سے پہلے ہی کٹ کر گر گیا تو میں نے جان لیا کہ اس کو کسی اور نے قتل کیا ۔ سہل بن حنیف فرماتے ہیں کہ روزِ بدر ہم میں سے کوئی تلوار سے اشارہ کرتا تھا تو اس کی تلوار پہنچنے سے پہلے ہی مشرک کا سر جسم سے جدا ہو کر گر جاتا تھا ۔ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یک مشت سنگریزے کُفّار پر پھینک کر مارے تو کوئی کافِر ایسا نہ بچا جس کی آنکھوں میں اس میں سے کوئی پڑا نہ ہو ۔ بدر کا یہ واقعہ صبحِ جمعہ سترہ رمضان مبارک ۲ ہجری میں پیش آیا ۔
اور جو اس دن انہیں پیٹھ دے گا مگر لڑائی کا ہنرَ کرنے یا اپنی جماعت میں جاملنے کو، تو وہ اللہ کے غضب میں پلٹا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور کیا بری جگہ ہے پلٹنے کی، (ف۲۹)
(ف29)یعنی مسلمانوں میں سے جو جنگ میں کُفّار کے مقابلہ سے بھاگا وہ غضبِ الٰہی میں گرفتار ہوا ، اس کا ٹھکانا دوزخ ہے سوائے دو حالتوں کے ، ایک تو یہ کہ لڑائی کا ہنر یا کرتب کرنے کے لئے پیچھے ہٹا ہو وہ پیٹھ دینے اور بھاگنے والا نہیں ہے ، دوسرے جو اپنی جماعت میں ملنے کے لئے پیچھے ہٹا ہو وہ بھی بھاگنے والا نہیں ہے ۔
تو تم نے انہیں قتل نہ کیا بلکہ اللہ نے (۳۰) انہیں قتل کیا، اور اے محبوب! وہ خاک جو تم نے پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی اور اس لیے کہ مسلمانوں کو اس سے اچھا انعام عطا فرمائے، بیشک اللہ سنتا جانتا ہے،
(ف30)شانِ نُزُول : جب مسلمان جنگِ بدر سے واپس ہوئے تو ان میں سے ایک کہتا تھا کہ میں نے فلاں کو قتل کیا ، دوسرا کہتا تھا میں نے فلاں کو قتل کیا اس پر یہ آیت نازِل ہوئی اور فرمایا گیا کہ اس قتل کو تم اپنے زور و قوت کی طرف نسبت نہ کرو کہ یہ درحقیقت اللہ کی امداد اور اس کی تقویت اور تائید ہے ۔
اے کافرو! اگر تم فیصلہ مانگتے ہو تو یہ فیصلہ تم پر آچکا (ف۳۲) اور اگر باز آؤ (ف۳۳) تو تمہارا بھلا ہے اور اگر تم پھر شرارت کرو تو ہم پھر نہ دیں گے اور تمہارا جتھا تمہیں کچھ کام نہ دے گا چاہے کتنا ہی بہت ہو اور اس کے ساتھ یہ ہے کہ اللہ مسلمانوں کے ساتھ ہے،
(ف32)شانِ نُزُول : یہ خِطاب مشرکین کو ہے جنہوں نے بدر میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنگ کی اور ان میں سے ابو جہل نے اپنی اور حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت یہ دعا کی کہ یاربّ ہم میں جو تیرے نزدیک اچھا ہو اسکی مدد کر اور جو بُرا ہو اسے مبتلائے مصیبت کر اور ایک روایت میں ہے کہ مشرکین نے مکّۂ مکرّمہ سے بدر کو چلتے وقت کعبۂ معظّمہ کے پردوں سے لپٹ کر یہ دعا کی تھی کہ یاربّ اگر محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) حق پر ہوں تو ان کی مدد فرما اور اگر ہم حق پر ہوں تو ہماری مدد کر اس پر یہ آیت نازِل ہوئی کہ جو فیصلہ تم نے چاہا تھا وہ کردیا گیا اور جو گروہ حق پر تھا اس کو فتح دی گئی ، یہ تمہارا مانگا ہوا فیصلہ ہے اب آسمانی فیصلہ سے بھی جو ان کا طلب کیا ہوا تھا ، اسلام کی حقانیت ثابت ہوئی ۔ ابوجہل بھی اس جنگ میں ذلّت اورسوائی کے ساتھ مارا گیا اور اس کا سر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور میں حاضر کیا گیا ۔(ف33)سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عداوت اور حضور کے ساتھ جنگ کرنے سے ۔
اور ان جیسے نہ ہونا جنہوں نے کہا ہم نے سنا اور وہ نہیں سنتے (ف۳۵)
(ف35)کیونکہ جو سن کر فائدہ نہ اُٹھائے اور نصیحت پذیر نہ ہو اس کا سُننا سُننا ہی نہیں ہے ۔ یہ منافقین و مشرکین کا حال ہے مسلمانوں کو اس سے دور رہنے کا حکم دیا جاتا ہے ۔
بیشک سب جانوروں میں بدتر اللہ کے نزدیک وہ ہیں جو بہرے گونگے ہیں جن کو عقل نہیں (ف۳٦)
(ف36)نہ وہ حق سنتے ہیں ، نہ حق بولتے ہیں ، نہ حق کو سمجھتے ہیں ۔ کان اور زبان و عقل سے فائدہ نہیں اُٹھاتے ، جانوروں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ یہ دیدۂ و دانستہ بہرے گونگے بنتے اور عقل سے دشمنی کرتے ہیں ۔ شانِ نُزُول : یہ آیت بنی عبد الدار بن قُصَیْ کے حق میں نازل ہوئی جو کہتے تھے کہ جو کچھ محمّد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لائے ہم اس سے بہرے گونگے اندھے ہیں ۔ یہ سب لوگ جنگِ اُحد میں مقتول ہوئے اور ان میں سے صرف دو شخص ا یمان لائے معصب بن عمیر اور سویبط بن حرملہ ۔
اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے بلانے پر حاضر ہو (ف٤۰) جب رسول تمہیں اس چیز کے لیے بلائیں جو تمہیں زندگی بخشے گی (ف٤۱) اور جان لو کہ اللہ کا حکم آدمی اور اس کے دلی ارادوں میں حائل ہوجاتا ہے اور یہ کہ تمہیں اس کی طرف اٹھنا ہے،
(ف40)کیونکہ رسول کا بلانا اللہ ہی کا بلانا ہے ۔ بخاری شریف میں سعید بن معلی سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں نماز پڑھتا تھا مجھے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پکارا میں نے جواب نہ دیا پھر میں نے حاضرِ خدمت ہو کر عرض کیا یارسولَ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نماز پڑھ رہا تھا حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا اللہ تعالٰی نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ اللہ اور رسول کے بلانے پر حاضر ہو ۔ ایسا ہی دوسری حدیث میں ہے کہ حضرت ابی بن کعب نماز پڑھتے تھے حضور نے انہیں پکارا ، انہوں نے جلدی نماز تمام کرکے سلام عرض کیا ، حضور نے فرمایا تمہیں جواب دینے سے کیا بات مانِع ہوئی ، عرض کیا حضورمیں نماز میں تھا ۔ حضور نے فرمایا کیا تم نے قرآنِ پاک میں یہ نہیں پایا کہ اللہ اور رسول کے بلانے پر حاضر ہو عرض کیا بے شک آئندہ ایسا نہ ہوگا ۔(ف41)اس چیز سے یا ا یمان مراد ہے کیونکہ کافِر مردہ ہوتا ہے ، ا یمان سے اس کو زندگی حاصل ہوتی ہے ۔ قتادہ نے کہا کہ وہ چیز قرآن ہے کیونکہ اس سے دلوں کی زندگی ہے اور اس میں نَجات ہے اور عِصمتِ دارین ہے ۔ محمد بن اسحاق نے کہا کہ وہ چیز جہاد ہے کیونکہ اس کی بدولت اللہ تعالٰی ذلّت کے بعد عزّت عطا فرماتا ہے ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ وہ شہادت ہے اس لئے شہداء اپنے ربّ کے نزدیک زندہ ہیں ۔
اور اس فتنہ سے ڈرتے رہو جو ہرگز تم میں خاص ظالموں کو ہی نہ پہنچے گا (ف٤۲) اور جان لو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے،
(ف42)بلکہ اگر تم اس سے نہ ڈرے اور اس کے اسباب یعنی ممنوعات کو ترک نہ کیا اور وہ فتنہ نازِل ہوا تو یہ نہ ہوگا کہ اس میں خاص ظالم اوربدکار ہی مبتلا ہوں بلکہ وہ نیک اور بد سب کو پہنچ جائے گا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے مؤمنین کو حکم فرمایا کہ وہ اپنے درمیان ممنوعات نہ ہونے دیں یعنی اپنے مقدور تک برائیوں کو روکیں اور گناہ کرنے والوں کو گناہ سے منع کریں اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو عذاب ان سب کو عام ہوگا ، خطا کار اور غیر خطا کار سب کو پہنچے گا ۔ حدیث شریف میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی مخصوص لوگوں کے عمل پر عذاب عام نہیں کرتا جب تک کہ عام طور پر لوگ ایسا نہ کریں کہ ممنوعات کو اپنے درمیان ہوتا دیکھتے رہیں اور اس کے روکنے اور منع کرنے پر قادِر ہوں باوجود اس کے نہ روکیں نہ منع کریں جب ایسا ہوتا ہے تو اللہ تعالٰی عذاب میں عام و خاص سب کو مبتلا کرتا ہے ۔ ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ جو شخص کسی قوم میں سرگرمِ معاصی ہو اور وہ لوگ باوجود قدرت کے اس کو نہ روکیں تو اللہ تعالٰی مرنے سے پہلے انہیں عذاب میں مبتلا کرتا ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو قوم نہی عنِ المنکَر ترک کرتی ہے اور لوگوں کو گناہوں سے نہیں روکتی وہ اپنے اس ترکِ فرض کی شامت میں مبتلا ئے عذاب ہوتی ہے ۔
اور یاد کرو (ف٤۳) جب تم تھوڑے تھے ملک میں دبے ہوئے (ف٤٤) ڈرتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں اچک نہ لے جائیں تو اس نے تمہیں (ف٤۵) جگہ دی اور اپنی مدد سے زور دیا اور ستھری چیزیں تمہیں روزی دیں (ف٤٦) کہ کہیں تم احسان مانو،
(ف43)اے مؤمنین مہاجرین ابتدائے اسلام میں ہجرت کرنے سے پہلے مکّۂ مکرّمہ میں ۔(ف44)قریش تم پر غالب تھے اور تم ۔(ف45)مدینہ طیّبہ میں ۔ (ف46)یعنی اموالِ غنیمت جو تم سے پہلے کسی اُمّت کے لئے حلال نہیں کئے گئے تھے ۔
اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے دغا نہ کرو (ف٤۷) اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت،
(ف47)فرائض کا چھوڑ دینا اللہ تعالٰی سے خیانت کرنا ہے اور سنّت کا ترک کرنا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ۔ شانِ نُزُول : یہ آیت ابو لبابہ ہارون بن عبد المنذر انصاری کے حق میں نازِل ہوئی ۔ واقعہ یہ تھا کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودِ بنی قُریظہ کا دو ہفتے سے زیادہ عرصہ تک محاصَرہ فرمایا ، وہ اس محاصَرہ سے تنگ آگئے اور ان کے دل خائِف ہوگئے تو ان سے ان کے سردار کعب بن اسد نے یہ کہا کہ اب تین شکلیں ہیں یا تو اس شخص یعنی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کرو اور ان کی بیعت کر لو کیونکہ قسم بخدا وہ نبیٔ مُرسَل ہیں یہ ظاہر ہوچکا اور یہ وہی رسول ہیں جن کا ذکر تمہاری کتاب میں ہے ، ان پر ا یمان لے آئے تو جان مال اہل و اولاد سب محفوظ رہیں گے مگر اس بات کو قوم نے نہ مانا تو کعب نے دوسری شکل پیش کی اور کہا کہ تم اگر اسے نہیں مانتے تو آؤ پہلے ہم اپنے بی بی بچوں کو قتل کر دیں پھر تلواریں کھینچ کر محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اصحاب کے مقابل آئیں کہ اگر ہم اس مقابلہ میں ہلاک بھی ہوجائیں تو ہمارے ساتھ اپنے اہل و اولاد کا غم تو نہ رہے ، اس پر قوم نے کہا کہ اہل و اولاد کے بعد جینا ہی کس کام کا تو کعب نے کہا یہ بھی منظور نہیں ہے تو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صلح کی درخواست کرو شایداس میں کوئی بہتری کی صورت نکلے تو انہوں نے حضور سے صلح کی درخواست کی لیکن حضور نے منظور نہ فرمایا سوائے اس کے کہ اپنے حق میں سعد بن معاذ کے فیصلہ کو منظور کریں ، اس پر انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ابو لبابہ کو بھیج دیجئے کیونکہ ابو لبابہ سے ان کے تعلقات تھے اور ابو لبابہ کا مال اور ان کی اولاد اور ان کے عیال سب بنی قُریظہ کے پاس تھے ، حضور نے ابو لبابہ کو بھیج دیا ۔ بنی قُریظہ نے ان سے رائے دریافت کی کہ کیا ہم سعد بن معاذ کا فیصلہ منظور کرلیں کہ جو کچھ وہ ہمارے حق میں فیصلہ دیں وہ ہمیں قبول ہو ۔ ابو لبابہ نے اپنی گردن پر ہاتھ پھیر کر اشارہ کیا کہ یہ توگلے کٹوانے کی بات ہے ، ابو لبابہ کہتے ہیں کہ میرے قدم اپنی جگہ سے ہٹنے نہ پائے تھے کہ میرے دل میں یہ بات جم گئی کہ مجھ سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خیانت واقع ہوئی ، یہ سوچ کر وہ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں تو نہ آئے سیدھے مسجد شریف پہنچے اور مسجد شریف کے ایک سُتون سے اپنے آپ کو بندھوا لیا اور اللہ کی قسم کھائی کہ نہ کچھ کھائیں گے نہ پئیں گے یہاں تک کہ مَرجائیں یا اللہ تعالٰی ان کی توبہ قبول کرے ۔ وقتاً فوقتاً ان کی بی بی آ کر انہیں نمازوں کے لئے اور انسانی حاجتوں کے لئے کھول دیا کرتی تھیں اور پھر باندھ دیئے جاتے تھے ۔ حضور کو جب یہ خبر پہنچی تو فرمایا کہ ابو لبابہ میرے پاس آتے تو میں ان کے لئے مغفرت کی دعا کرتا لیکن جب انہوں نے یہ کیا ہے تو میں انہیں نہ کھولوں گا جب تک اللہ ان کی توبہ قبول نہ کرے ۔ وہ سات روز بندھے رہے نہ کچھ کھایا نہ پیا یہاں تک کہ بے ہوش ہو کر گر گئے پھر اللہ تعالٰی نے ان کی توبہ قبول کی ، صحابہ نے انہیں توبہ قبول ہونے کی بشارت دی تو انہوں نے کہا میں خدا کی قسم نہ کُھلوں گا جب تک رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے خود نہ کھولیں ۔ حضرت نے انہیں اپنے دستِ مبارک سے کھول دیا ، ابو لبابہ نے کہا میری توبہ اس وقت پوری ہوگی جب میں اپنی قوم کی بستی چھوڑ دوں جس میں مجھ سے یہ خطا سرزد ہوئی اور میں اپنے کُل مال کو اپنے مِلک سے نکال دوں ۔ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تہائی مال کا صدقہ کرنا کافی ہے ، ان کے حق میں یہ آیت نازِل ہوئی ۔
اے ایمان والو! اگر اللہ سے ڈرو گے (ف۵۰) تو تمہیں وہ دیگا جس سے حق کو باطل سے جدا کرلو اور تمہاری برائیاں اتار دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے،
اور اے محبوب یاد کرو جب کافر تمہارے ساتھ مکر کرتے تھے کہ تمہیں بند کرلیں یا شہید کردیں یا نکال دیں (ف۱۵۱) اپنا سا مکر کرتے تھے اور اللہ اپنی خفیہ تدبیر فرماتا تھا اور اللہ کی خفیہ تدبیر سب سے بہتر،
(ف51) اس میں اس واقعہ کا بیان ہے جو حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے ذکر فرمایا کہ کُفّارِ قریش دارالندوہ (کمیٹی گھر) میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت مشورہ کرنے کے لئے جمع ہوئے اور ابلیسِ لعین ایک بُڈھے کی صورت میں آیا اور کہنے لگا کہ میں شیخِ نجد ہوں ، مجھے تمہارے اس اجتماع کی اطلاع ہوئی تو میں آیا مجھ سے تم کچھ نہ چھپانا ، میں تمہارا رفیق ہوں اور اس معاملہ میں بہتر رائے سے تمہاری مدد کروں گا ، انہوں نے اس کو شامل کرلیا اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق رائے زنی شروع ہوئی ، ابوالبختری نے کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پکڑ کر ایک مکان میں قید کردو اور مضبوط بندشوں سے باندھ دو ، دروازہ بند کر دو ، صرف ایک سوراخ چھوڑ دو جس سے کبھی کبھی کھانا پانی دیا جائے اور وہیں وہ ہلاک ہو کر رہ جائیں ۔ اس پر شیطانِ لعین جو شیخِ نجدی بنا ہوا تھا بہت ناخوش ہوا اور کہا نہایت ناقص رائے ہے ، یہ خبر مشہور ہوگی اور ان کے اصحاب آئیں گے اور تم سے مقابلہ کریں گے اور ان کو تمہارے ہاتھ سے چُھڑا لیں گے ۔ لوگوں نے کہا شیخِ نجدی ٹھیک کہتا ہے پھر ہشام بن عمرو کھڑا ہوا اس نے کہا میری رائے یہ ہے کہ ان کو (یعنی محمّد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو) اونٹ پر سوار کرکے اپنے شہر سے نکال دو پھر وہ جوکچھ بھی کریں اس سے تمہیں کچھ ضَرر نہیں ۔ ابلیس نے اس رائے کو بھی ناپسند کیا اور کہا جس شخص نے تمہارے ہوش اُڑا دیئے اور تمہارے دانشمندوں کو حیران بنادیا اس کو تم دوسروں کی طر ف بھیجتے ہو ، تم نے اس کی شیریں کلامی ، سیف زبانی ، دل کشی نہیں دیکھی ہے اگر تم نے ایسا کیا تو وہ دوسری قوم کے قلوب تسخیر کرکے ان لوگوں کے ساتھ تم پر چڑھائی کریں گے ۔ اہلِ مجمع نے کہا شیخِ نجدی کی رائے ٹھیک ہے اس پر ابوجہل کھڑا ہوا اور اس نے یہ رائے دی کہ قریش کے ہر ہر خاندان سے ایک ایک عالی نسب جوان منتخب کیا جائے اور ان کو تیز تلوار یں دی جائیں ، وہ سب یکبارگی حضرت پر حملہ آور ہو کر قتل کردیں تو بنی ہاشم قریش کے تمام قبائل سے نہ لڑ سکیں گے ۔ غایت یہ ہے کہ خون کا معاوضہ دینا پڑے وہ دے دیا جائے گا ۔ ابلیسِ لعین نے اس تجویز کوپسند کیا اور ابوجہل کی بہت تعریف کی اور اسی پر سب کا اتفاق ہوگیا ۔ حضرتِ جبریل علیہ السلام نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر واقعہ گزارش کیا اور عرض کیا کہ حضور اپنی خواب گاہ میں شب کو نہ رہیں ، اللہ تعالٰی نے اِذن دیا ہے مدینہ طیبہ کا عزم فرمائیں ۔ حضور نے علی مرتضٰی کو شب میں اپنی خواب گاہ میں رہنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ ہماری چادر شریف اوڑھو تمہیں کوئی ناگواربات پیش نہ آئے گی اور حضور دولت سرائے اقدس سے باہر تشریف لائے اور ایک مشتِ خاک دستِ مبارک میں لی اور آیت اِنَّا جَعَلْنَا فِیْ اَعْنَاقِھِمْ اَغْلٰلاً پڑھ کر محاصَرہ کرنے والوں پر ماری ، سب کی آنکھوں اور سروں پر پہنچی ، سب اندھے ہوگئے اور حضور کو نہ دیکھ سکے اور حضور مع ابوبکر صدیق کے غارِ ثور میں تشریف لے گئے اور حضرت علی مرتضٰی کو لوگوں کو امانتیں پہنچانے کے لئے مکّۂ مکرّمہ میں چھوڑا ۔ مشرکین رات بھر سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دولت سرائے کا پہرہ دیتے رہے ، صبح کو جب قتل کے ارادہ سے حملہ آور ہوئے تو دیکھا کہ حضرت علی ہیں ، ان سے حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دریافت کیا گیا کہ کہاں ہیں انہوں نے فرمایا کہ ہمیں معلوم نہیں تو تلاش کے لئے نکلے جب غار پر پہنچے تو مکڑی کے جالے دیکھ کر کہنے لگے کہ اگر اس میں داخل ہوتے تو یہ جالے باقی نہ رہتے ۔ حضور اس غار میں تین روز ٹھہرے پھر مدینہ طیبہ روانہ ہوئے ۔
اور جب ان پر ہماری آیتیں پڑھی جائیں تو کہتے ہیں ہاں ہم نے سنا ہم چاہتے تو ایسی ہم بھی کہہ دیتے یہ تو نہیں مگر اگلوں کے قصے (ف۵۲)
(ف52)شانِ نُزول : یہ آیت نضر بن حارث کے حق میں نازِل ہوئی جس نے سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قرآنِ پاک سُن کر کہا تھا کہ ہم چاہتے تو ہم بھی ایسی ہی کتاب کہہ لیتے ۔ اللہ تعالٰی نے ان کا یہ مقولہ نقل کیا کہ اس میں ان کی کمال بے شرمی و بے حیائی ہے کہ قرآنِ پاک کی تَحدّی فرمانے اور فُصَحائے عرب کو قرآنِ کریم کے مثل ایک سورۃ بنا لانے کی دعوتیں دینے اور ان سب کے عاجز و درماندہ رہ جانے کے بعد یہ کلمہ کہنا اور ایسا اِدّعائے باطل کرنا نہایت ذلیل حرکت ہے ۔
اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب! تم ان میں تشریف فرما ہو (ف۵٤) اور اللہ انہیں عذاب کرنے والا نہیں جب تک وہ بخشش مانگ رہے ہیں (ف۵۵)
(ف54)کیونکہ رحمۃ لِلعالمین بنا کر بھیجے گئے ہو اور سنّتِ الٰہیہ یہ ہے کہ جب تک کسی قوم میں اس کے نبی موجود ہوں ان پر عام بربادی کا عذاب نہیں بھیجتا جس سے سب کے سب ہلاک ہوجائیں اور کوئی نہ بچے ۔ ایک جماعت مفسِّرین کا قول ہے کہ یہ آیت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اس وقت نازِل ہوئی جب آپ مکّۂ مکرّمہ میں مقیم تھے پھر جب آپ نے ہجرت فرمائی اور کچھ مسلمان رہ گئے جو استغِفار کیا کرتے تھے تو وَمَاکَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَھُمْ نازِل ہوا جس میں بتایا گیا کہ جب تک استغِفار کرنے والے ایماندار موجود ہیں اس وقت تک بھی عذاب نہ آئے گا پھر جب وہ حضرات بھی مدینہ طیّبہ کو روانہ ہو گئے تو اللہ تعالٰی نے فتحِ مکّہ کا اِذن دیا اور یہ عذابِ مَوعود آگیا جس کی نسبت اس آیت میں فرمایا وَمَالَھُمْ اَلَّا یُعَذِّبَھُمُ اللّٰہُ محمد بن اسحاق نے کہا کہ مَاکَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَھُمْ بھی کُفَّار کا مقولہ ہے جو ان سے حکایۃً نقل کیا گیا ، اللہ عزوجل نے ان کی جہالت کا ذکر فرمایا کہ اس قدر احمق ہیں ، آپ ہی تو یہ کہتے ہیں کہ یاربّ اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر نازِل کر اور آپ ہی یہ کہتے ہیں کہ یا محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )جب تک آپ ہیں عذاب نازِل نہ ہوگا کیونکہ کوئی اُمّت اپنے نبی کی موجودگی میں ہلاک نہیں کی جاتی ، کس قدر مُعارِض اقوال ہیں ۔(ف55)اس آیت سے ثابت ہوا کہ استغِفار عذاب سے امن میں رہنے کا ذریعہ ہے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالٰی نے میری اُمّت کے لئے دو امانیں اتاریں ۔ ایک میرا ان میں تشریف فرماہونا ، ایک ان کا استغِفار کرنا ۔
اور انہیں کیا ہے کہ اللہ انہیں عذاب نہ کرے وہ تو مسجد حرام سے روک رہے ہیں (ف۵٦) اور وہ اس کے اہل نہیں (ف۵۷) اس کے اولیاء تو پرہیزگار ہی ہیں مگر ان میں اکثر کو علم نہیں،
(ف56)اور مؤمنین کو طوافِ کعبہ کے لئے نہیں آنے دیتے جیسا کہ واقعۂ حُدیبیہ کے سال سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو روکا ۔(ف67)ایمان لانے سے ۔
اور کعبہ کے پاس ان کی نماز نہیں مگر سیٹی اور تالی (ف۵۸) تو اب عذاب چکھو (ف۵۹) بدلہ اپنے کفر کا،
(ف58)یعنی نماز کی جگہ سیٹی اور تالی بجاتے ہیں ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا کہ قریش ننگے ہو کر خانۂ کعبہ کا طواف کرتے تھے اور سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے اور یہ فعل ان کا یا تو اس اعتقادِ باطل سے تھا کہ سیٹی اور تالی بجانا عبادت ہے اور یا اس شرارت سے کہ ان کے اس شور سے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز میں پریشانی ہو ۔(ف59)قتل و قید کا بدر میں ۔
بیشک کافر اپنے مال خرچ کرتے ہیں کہ اللہ کی راہ سے روکیں (ف٦۰) تو اب انہیں خرچ کریں گے پھر وہ ان پر پچھتاوا ہوں گے (ف٦۱) پھر مغلوب کردیے جائیں گے اور کافروں کا حشر جہنم کی طرف ہوگا،
(ف60)یعنی لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے سے مانع ہوں ۔شانِ نُزول : یہ آیت کُفّار میں سے ان بارہ قریشیوں کے حق میں نازِل ہوئی جنہوں نے لشکرِ کُفّار کا کھانا اپنے ذمّہ لیا تھا اور ہر ایک ان میں سے لشکر کوکھانا دیتا تھا ہر روز دس اونٹ ۔(ف61)کہ مال بھی گیا اور کام بھی نہ بنا ۔
تم کافروں سے فرماؤ اگر وہ باز رہے تو جو ہو گزرا وہ انہیں معاف فرمادیا جائے گا (ف٦٤) اور اگر پھر وہی کریں تو اگلوں کا دستور گزر چکا ہے (ف٦۵)
(ف64)مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ کافِر جب کُفر سے باز آئے اور اسلام لائے تو اس کا پہلا کُفر اور مَعاصی مُعاف ہوجاتے ہیں ۔(ف65)کہ اللہ تعالٰی اپنے دشمنوں کو ہلاک کرتا ہے اور اپنے انبیاء اور اولیاء کی مدد فرماتا ہے ۔
اور جان لو کہ جو کچھ غنیمت لو (ف٦۹) تو اس کا پانچواں حصہ خاص اللہ اور رسول و قرابت داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کا ہے (ف۷۰) اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر اور اس پر جو ہم نے اپنے بندے پر فیصلہ کے دن اتارا جس دن دونوں فوجیں ملیں تھیں (ف۷۱) اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
(ف69)خواہ قلیل یا کثیر ۔ غنیمت وہ مال ہے جو مسلمانوں کوکُفّار سے جنگ میں بطریقِ قَہر و غلبہ حاصل ہو ۔ مسئلہ : مالِ غنیمت پانچ حصوں پر تقسیم کیا جائے اس میں سے چار حصے غانمین کے ۔(ف70)مسئلہ : غنیمت کا پانچواں حصہ پھر پانچ حصوں پر تقسیم ہوگا ان میں سے ایک حصہ جو کُل مال کا پچیسواں حصہ ہو ا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ہے اور ایک حصہ آپ کے اہلِ قرابت کے لئے اور تین حصے یتیموں اور مسکینوں ، مسافروں کے لئے ۔ مسئلہ : رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد حضور اور آپ کے اہلِ قرابت کے حصے بھی یتیموں مسکینوں اور مسافروں کو ملیں گے اور پانچواں حصہ انہیں تین پر تقسیم ہوجائے گا ۔ یہی قول ہے امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کا ۔(ف71)اس دن سے روزِ بدر مراد ہے اور دونوں فوجوں سے مسلمانوں اور کافِروں کی فوجیں اور یہ واقعہ سترہ یا انیس رمضان کو پیش آیا ۔ اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعداد تین سو دس سے کچھ زیادہ تھی اور مشرکین ہزار کے قریب تھے ۔ اللہ تعالٰی نے انہیں ہزیمت دی ان میں سے ستّرسے زیادہ مارے گئے اور اتنے ہی گرفتار ہوئے ۔
جب تم نالے کے کنارے تھے (ف۷۲) اور کافر پرلے کنارے اور قافلہ (ف۷۳) تم سے ترائی میں (ف۷٤) اور اگر تم آپس میں کوئی وعدہ کرتے تو ضرور وقت پر برابر نہ پہنچتے (ف۷۵) لیکن یہ اس لیے کہ اللہ پورا کرے جو کام ہونا ہے (ف۷٦) کہ جو ہلاک ہو دلیل سے ہلاک ہو (ف۷۷) اور جو جئے دلیل سے جئے (ف۷۸) اور بیشک اللہ ضرور سنتا جانتا ہے،
(ف72)جو مدینہ طیّبہ کی طرف ہے ۔(ف73)قریش کا جس میں ابوسفیان وغیرہ تھے ۔(ف74)تین میل کے فاصلہ پر ساحل کی طرف ۔(ف75)یعنی اگر تم اور وہ باہم جنگ کا کوئی وقت مُعیّن کرتے پھر تمہیں اپنی قلت و بے سامانی اور ان کی کثرت و سامان کا حال معلوم ہوتا تو ضرور تم ہیبت و اندیشہ سے میعاد میں اختلاف کرتے ۔(ف76)یعنی اسلام اور مسلمین کی نصرت اور دین کا اعزاز اور دشمنانِ دین کی ہلاکت اس لئے تمہیں اس نے بے میعاد ہی جمع کردیا ۔(ف77)یعنی حجُّتِ ظاہرہ قائم ہونے اور عبرت کا معائنہ کر لینے کے بعد ۔(ف78)محمد بن اسحٰق نے کہا کہ ہلاک سے کُفر ، حیات سے ایمان مراد ہے ۔ معنی یہ ہیں کہ جو کوئی کافِر ہو اس کو چاۂے کہ پہلے حُجّت قائم کرے اور ایسے ہی جو ایمان لائے وہ یقین کے ساتھ ایمان لائے اور حُجّت و برہان سے جان لے کہ یہ دین حق ہے اور بدر کا واقعہ آیاتِ واضحہ میں سے ہے اس کے بعد جس نے کُفر اختیار کیا وہ مکابر ہے ، اپنے نفس کو مغالَطہ دیتا ہے ۔
جب کہ اے محبوب! اللہ ٹمہیں کافروں کو تمہاری خواب میں تھوڑا دکھاتا تھا (ف۷۹) اور اے مسلمانو! اگر وہ تمہیں بہت کرکے دکھاتا تو ضرور تم بزدلی کرتے اور معاملہ میں جھگڑا ڈالتے (ف۸۰) مگر اللہ نے بچا لیا (ف۸۱) بیشک وہ دلوں کی بات جانتا ہے،
(ف79) یہ اللہ تعالٰی کی نعمت تھی کہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کُفّار کی تعداد تھوڑی دکھائی گئی اور آپ نے اپنا یہ خواب اصحاب سے بیان کیا اس سے ان کی ہمتیں بڑھیں اور اپنے ضعف و کمزوری کا اندیشہ نہ رہا اور انہیں دشمن پر جرأت پیدا ہوئی اور قلب قوی ہوئے ۔ انبیاء کا خواب حق ہوتا ہے آپ کو کُفّار دکھائے گئے تھے اور ایسے کُفّار جو دنیا سے بے ایمان جائیں اور کُفر ہی پر ان کا خاتمہ ہو وہ تھوڑے ہی تھے کیونکہ جو لشکر مقابل آیا تھا اس میں کثیر لوگ وہ تھے جنہیں اپنی زندگی میں ایمان نصیب ہوا اور خواب میں قِلّت کی تعبیر ضعف سے ہے چنانچہ اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کو غالب فرما کر کُفّار کا ضعف ظاہر کردیا ۔(ف80)اور ثبات و فرار میں متردِّد رہتے ۔(ف81)تم کو بُزدلی اور تردُّد اور باہمی اختلاف سے ۔
اور جب لڑتے وقت (ف۸۲) تمہیں کافر تھوڑے کرکے دکھائے (ف۸۳) اور تمہیں ان کی نگاہوں میں تھوڑا کیا (ف۷٤) کہ اللہ پورا کرے جو کام ہونا ہے (ف۸۵) اور اللہ کی طرف سب کاموں کی رجوع ہے،
(ف82)اے مسلمانو ۔(ف83)حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ ہماری نگاہوں میں اتنے کم جچے کہ میں نے اپنے برابر والے ایک شخص سے کہا کہ تمہارے گمان میں کافِر ستّر ہوں گے اس نے کہا کہ میرے خیال میں سو ہیں اور تھے ہزار ۔(ف84)یہاں تک کہ ابو جہل نے کہا کہ انہیں رسیّوں میں باندھ لو گویا کہ وہ مسلمانوں کی جماعت کو اتنا قلیل دیکھ رہا تھا مقابلہ کرنے اور جنگ آزما ہونے کے لائق بھی خیال نہیں کرتا تھا اور مشرکین کو مسلمانوں کی تعداد تھوڑی دکھانے میں یہ حکمت تھی کہ مشرکین مقابلہ پر جم جائیں ، بھاگ نہ پڑیں اور یہ بات ابتداء میں تھی ، مقابلہ ہونے کے بعد انہیں مسلمان بہت زیادہ نظر آنے لگے ۔(ف85)یعنی اسلام کا غلبہ اور مسلمانوں کی نصرت اور شرک کا ابطال اور مشرکین کی ذلّت اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزے کا اظہار کہ جو فرمایا تھا وہ ہوا کہ جماعتِ قلیلہ لشکرِ گراں پر فتح یاب ہوئی ۔
اے ایمان والو! جب کسی فوج سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کی یاد بہت کرو (ف۸٦) کہ تم مراد کو پہنچو،
(ف86)اس سے مدد چاہو اور کُفّار پر غالب ہونے کی دعائیں کرو ۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ انسان کو ہر حال میں لازم ہے کہ وہ اپنے قلب و زبان کو ذکرِ الٰہی میں مشغول رکھے اور کسی سختی و پریشانی میں بھی اس سے غافل نہ ہو ۔
اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور آپس میں جھگڑ و نہیں کہ پھر بزدلی کرو گے اور تمہاری بندھی ہوئی ہوا جاتی رہے گی (ف۸۷) اور صبر کرو، بیشک اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے (ف۸۸)
(ف87)اس آیت سے معلوم ہوا کہ باہمی تنازع ضعف و کمزوری اور بے وقاری کا سبب ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ باہمی تنازع سے محفوظ رہنے کی تدبیر خدا اور رسول کی فرماں برداری اور دین کا اِتِّباع ہے ۔(ف88)ان کا معین و مددگار ۔
اور ان جیسے نہ ہوتا جو اپنے گھر سے نکلے اتراتے اور لوگوں کے دکھانے کو اور اللہ کی راہ سے روکتے (ف۸۹) اور ان کے سب کام اللہ کے قابو میں ہیں،
(ف89)شانِ نُزوُل : یہ آیت کُفّارِ قریش کے حق میں نازِل ہوئی جو بدر میں بہت اتراتے اور تکبّر کرتے آئے تھے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی یاربّ یہ قریش آگئے تکبّر و غُرور میں سرشار اور جنگ کے لئے تیار ، تیرے رسول کو جھٹلاتے ہیں ۔ یاربّ اب وہ مدد عنایت ہو جس کا تو نے وعدہ کیا تھا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب ابوسفیان نے دیکھا کہ قافلہ کو کوئی خطرہ نہیں رہا تو انہوں نے قریش کے پاس پیام بھیجا کہ تم قافلہ کی مدد کے لئے آئے تھے اب اس کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہے لہذا واپس جاؤ ۔ اس پر ابو جہل نے کہا کہ خدا کی قسم ہم واپس نہ ہوں گے یہاں تک کہ ہم بدر میں اُتریں ، تین روز قیام کریں ، اونٹ ذَبح کریں ، بہت سے کھانے پکائیں ، شرابیں پئیں ، کنیزوں کا گانا بجانا سنیں ، عرب میں ہماری شہرت ہو اور ہماری ہیبت ہمیشہ باقی رہے لیکن خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا جب وہ بدر میں پہنچے تو جامِ شراب کی جگہ انہیں ساغرِ موت پینا پڑا اور کنیزوں کی ساز و نوا کی جگہ رونے والیاں انہیں روئیں ۔ اللہ تعالٰی مؤمنین کو حکم فرماتا ہے کہ اس واقعہ سے عبرت حاصل کریں اور سمجھ لیں کہ فخر و ریا اور غرور تکبّر کا انجام خراب ہے ، بندے کو اخلاص اور اطاعتِ خدا اور رسول چاہئے ۔
اور جبکہ شیطان نے ان کی نگاہ میں ان کے کام بھلے کر دکھائے (ف۹۰) اور بولا آج تم پر کوئی شخص غالب آنے والا نہیں اور تم میری پناہ میں ہو تو جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے الٹے پاؤں بھاگا اور بولا میں تم سے الگ ہوں (ف۹۱) میں وہ دیکھتا ہوں جو تمہیں نظر نہیں آتا (ف۹۲) میں اللہ سے ڈرتا ہوں (ف۹۳) اور اللہ کا عذاب سخت ہے،
(ف90)اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عداوت اور مسلمانوں کی مخالفت میں جو کچھ انہوں نے کیا تھا اس پر ان کی تعریفیں کیں اور انہیں خبیث اعمال پر قائم رہنے کی رغبت دلائی اور جب قریش نے بدر میں جانے پر اتفاق کرلیا تو انہیں یاد آیا کہ ان کے اور قبیلۂ بنی بکر کے درمیان عداوت ہے ممکن تھا کہ وہ یہ خیال کرکے واپسی کا قصد کرتے ، یہ شیطان کو منظور نہ تھا اس لئے اس نے یہ فریب کیا کہ وہ سراقہ بن مالک بن جعثم بنی کنانہ کے سردار کی صورت میں نمودار ہوا اور ایک لشکر اور ایک جھنڈا ساتھ لے کرمشرکین سے آملا اور ان سے کہنے لگا کہ میں تمہارا ذمہ دار ہوں ، آج تم پر کوئی غالب آنے والا نہیں جب مسلمانوں اور کافِروں کے دونوں لشکر صف آرا ہوئے اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مشتِ خاک مشرکین کے مُنہ پر ماری اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے اور حضرت جبریل ، ابلیسِ لعین کی طرف بڑھے جوسراقہ کی شکل میں حارث بن ہشام کا ہاتھ پکڑ ے ہوئے تھا وہ ہاتھ چھٹا کر مع اپنے گروہ کے بھاگا ۔ حارث پکارتا رہ گیا سراقہ سراقہ تم تو ہمارے ضامن ہوئے تھے کہا ں جاتے ہو ، کہنے لگا مجھے وہ نظر آتا ہے جو تمہیں نظر نہیں آتا ۔ اس آیت میں اس واقعہ کا بیان ہے ۔(ف91)اور امن کی جو ذمہ داری لی تھی اس سے سبک دوش ہوتا ہوں ۔ اس پر حار ث بن ہشام نے کہا کہ ہم تیرے بھروسہ پر آئے تھے اس حالت میں ہمیں رسوا کرے گا ، کہنے لگا ۔(ف92)یعنی لشکرِ ملائکہ ۔(ف93)کہیں وہ مجھے ہلاک نہ کردے ۔ جب کُفّار کو ہزیمت ہوئی اور وہ شکست کھا کر مکّۂ مکرّمہ پہنچے تو انہوں نے یہ مشہور کیا کہ ہماری شکست و ہزیمت کا باعث سراقہ ہوا ، سراقہ کو یہ خبر پہنچی تو اسے حیرت ہوئی اور اس نے کہا یہ لوگ کیا کہتے ہیں نہ مجھے ان کے آنے کی خبر ، نہ جانے کی ، ہزیمت ہوگئی جب میں نے سنا ہے تو قریش نے کہا کہ تو فلاں فلاں روز ہمارے پاس آیا تھا اس نے قسم کھائی کہ یہ غلط ہے تب انہیں معلوم ہوا کہ وہ شیطان تھا ۔
جب کہتے تھے منافق (ف۹٤) اور وہ جن کے دلوں میں آزار ہے (ف۹۵) کہ یہ مسلمان اپنے دین پر مغرور ہیں (ف۹٦) اور جو اللہ پر بھروسہ کرے (ف۹۷) تو بیشک اللہ (ف۹۸) غالب حکمت والا ہے،
(ف94)مدینہ کے ۔(ف95)یہ مکّۂ مکرّمہ کے کچھ لوگ تھے جنہوں نے کلمۂ اسلام تو پڑھ لیا تھا مگر ابھی تک ان کے دلوں میں شک و تردُّد باقی تھا ۔ جب کُفّارِ قریش سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنگ کے لئے نکلے یہ بھی ان کے ساتھ بدر میں پہنچے ، وہاں جا کر مسلمانوں کو قلیل دیکھا تو شک اور بڑھا اور مُرتدّ ہوگئے اور کہنے لگے ۔(ف96)کہ باوجود اپنی ایسی قلیل تعداد کے ایسے لشکر گراں کے مقابل ہوگئے ۔ اللہ تعالٰی فرماتا ہے ۔(ف97)اور اپنا کام اس کے سپرد کردے اور اس کے فضل و احسان پر مطمئن ہو ۔(ف98)اس کا حافِظ و ناصر ہے ۔
جیسے فرعون والوں اور ان سے اگلوں کا دستور (ف۱۰۳) وہ اللہ کی آیتوں کے منکر ہوئے تو اللہ نے انہیں ان کے گناہوں پر پکڑا بیشک اللہ قوت والا سخت عذاب والا ہے،
(ف103)یعنی ان کافِروں کی عادت کُفر و سرکشی میں فرعونی اور ان سے پہلوں کی مثل ہے تو جس طرح وہ ہلاک کئے گئے یہ بھی روزِ بدر قتل و قید میں مبتلا کئے گئے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جس طرح فرعونیوں نے حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی نبوّت کو یہ یقین جان کر ان کی تکذیب کی یہی حال ان لوگوں کا ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کو جان پہچان کر تکذیب کرتے ہیں ۔
یہ اس لیے کہ اللہ کسی قوم سے جو نعمت انہیں دی تھی بدلتا نہیں جب تک وہ خود نہ بدل جائیں (ف۱۰٤) اور بیشک اللہ سنتا جانتا ہے
(ف104)اور زیادہ بدتر حال میں مبتلا نہ ہوں جیسے کہ اللہ تعالٰی نے کُفّارِ مکّہ کو روزی دے کر بھوک کی تکلیف رفع کی ، امن دے کر خوف سے نجات دی اور ان کی طرف اپنے حبیب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبی بنا کر مبعوث کیا ۔ انہوں نے ان نعمتوں پر شکر تو نہ کیا بجائے اس کے یہ سرکشی کی کہ نبی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی تکذیب کی ، ان کی خوں ریزی کے درپے ہوئے اور لوگوں کو راہِ حق سے روکا ۔ سدی نے کہا کہ اللہ کی نعمت حضرت سیدِ انبیاء محمّدِمصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ۔
جیسے فرعون والوں اور ان سے اگلوں کا دستور، انہوں نے اپنے رب کی آیتیں جھٹلائیں تو ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کیا اور ہم نے فرعون والوں کو ڈبو دیا (ف۱۰۵) اور وہ سب ظالم تھے،
(ف105)ایسے ہی یہ کُفّارِ قریش ہیں جنہیں بدر میں ہلاک کیا گیا ۔
وہ جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا پھر ہر بار اپنا عہد توڑ دیتے ہیں (ف۱۰٦) اور ڈرتے نہیں (ف۱۰۷)
(ف106)شانِ نزول : اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ اور اس کے بعد کی آیتیں بنی قُریظہ کے یہودیوں کے حق میں نازِل ہوئیں جن کا رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عہد تھا کہ وہ آپ سے نہ لڑیں گے ، نہ آپ کے دشمنوں کی مدد کریں گے ، انہوں نے عہد توڑا اور مشرکینِ مکّہ نے جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنگ کی تو انھوں نے ہتھیاروں سے ان کی مدد کی پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے معذرت کی کہ ہم بھول گئے تھے اور ہم سے قصور ہوا پھر دوبارہ عہد کیا اور اس کو بھی توڑا ۔ اللہ تعالٰی نے انہیں سب جانوروں سے بدتر بتایا کیونکہ کُفّار سب جانوروں سے بدتر ہیں اور باوجود کُفر کے عہد شکن بھی ہوں تو اور بھی خراب ۔(ف107)خدا سے نہ عہد شکنی کے خراب نتیجے سے اور نہ اس سے شرماتے ہیں باوجود یہ کہ عہد شکنی ہر عاقل کے نزدیک شرمناک جرم ہے اور عہد شکنی کرنے والا سب کے نزدیک بے اعتبار ہوجاتا ہے ۔ جب اس کی بے غیرتی اس درجہ پہنچ گئی تو یقینا وہ جانوروں سے بدتر ہیں ۔
اور اگر تم کسی قوم سے دغا کا اندیشہ کرو (ف۱۱۰) تو ان کا عہد ان کی طرف پھینک دو برابری پر (ف۱۱۱) بیشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں،
(ف110)اور ایسے آثار و قرائن پائے جائیں جن سے ثابت ہو کہ وہ عذر کریں گے اور عہد پر قائم نہ رہیں گے ۔(ف111) یعنی انہیں اس عہد کی مخالفت کرنے سے پہلے آگاہ کردو کہ تمہاری بدعہدی کے قرائن پائے گئے لہذا وہ عہد قابلِ اعتبار نہ رہا اس کی پابندی نہ کی جائے گی ۔
اور ان کے لیے تیار رکھو جو قوت تمہیں بن پڑے (ف۱۱٤) اور جتنے گھوڑے باندھ سکو کہ ان سے ان کے دلوں میں دھاک بٹھاؤ جو اللہ کے دشمن ہیں (ف۱۱۵) اور ان کے سوا کچھ اوروں کے دلوں میں جنہیں تم نہیں جانتے (ف۱۱٦) اللہ انہیں جانتا ہے اور اللہ کی راہ میں جو کچھ خرچ کرو گے تمہیں پورا دیا جائے گا (ف۱۱۷) اور کسی طرح گھاٹے میں نہ رہو گے،
(ف114)خواہ وہ ہتھیار ہوں یا قلعے یا تیر اندازی ۔ مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں قوت کے معنٰی رمی یعنی تیر اندازی بتائے ۔(ف115)یعنی کُفّار اہلِ مکّہ ہوں یا دوسرے ۔(ف116)ابنِ زید کا قول ہے کہ یہاں اوروں سے منافقین مراد ہیں ۔ حسن کا قول ہے کہ کافِر جن ۔(ف117)اس کی جزا وافر ملے گی ۔
اور ان کے دلوں میں میل کردیا (ف۱۲۰) اگر تم زمین میں جو کچھ ہے سب خرچ کردیتے ان کے دل نہ ملا سکتے (ف۱۲۱) لیکن اللہ نے ان کے دل ملادیئے، بیشک وہی ہے غالب حکمت والا،
(ف120)جیسا کہ قبیلۂ اوس و خزرج میں مَحبت و الفت پیدا کردی باوجود یہ کہ ان میں سو برس سے زیادہ کی عداوتیں تھیں اور بڑی بڑی لڑائیاں ہوتی رہتی تھیں ، یہ مَحض اللہ کا کرم ہے ۔(ف121) یعنی ان کی باہمی عداوت اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ انہیں ملادینے کے لئے تمام سامان بے کار ہو چکے تھے اور کوئی صورت باقی نہ رہی تھی ، ذرا ذرا سی بات میں بگڑ جاتے اور صدیوں تک جنگ باقی رہتی ، کسی طرح دو دل نہ مل سکتے جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مبعوث ہوئے اور عرب لوگ آپ پر ایمان لائے اور انہوں نے آپ کا اِتِّباع کیا تو یہ حالت بدل گئی اور دلوں سے دیرینہ عداوتیں اور کینے دور ہوئے اور ایمانی مَحبتیں پیدا ہوئیں ۔ یہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا روشن معجِزہ ہے ۔
اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) اللہ تمہیں کافی ہے اور یہ جتنے مسلمان تمہارے پیرو ہوئے، (ف۱۲۲)
(ف122)شانِ نُزُول : سعید بن جبیر حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنھما سے روایت کرتے ہیں کہ یہ آیت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کے بارے میں نازِل ہوئی ۔ ایمان سے صرف تینتیس مرد اور چھ عورتیں مشرّف ہوچکے تھے تب حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے ۔ اس قول کی بنا پر یہ آیت مکّی ہے نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے مدنی سورت میں لکھی گئی ۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت غزوۂ بدر میں قبلِ قتال نازِل ہوئی اس تقدیر پر آیت مدنی ہے اور مؤمنین سے یہاں ایک قول میں انصار ، ایک میں تمام مہاجرین و انصار مراد ہیں ۔
اے غیب کی خبریں بتانے والے! مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دو اگر تم میں کے بیس صبر والے ہوں گے دو سو پر غالب ہوں گے اور اگر تم میں کے سو ہوں تو کافروں کے ہزار پر غالب آئیں گے اس لیے کہ وہ سمجھ نہیں رکھتے، (ف۱۲۳)
(ف123)یہ اللہ تعالٰی کی طرف سے وعدہ اور بِشارت ہے کہ مسلمانوں کی جماعت صابر رہے تو بمددِ الٰہی دس گنے کافِروں پر غالب رہے گی کیونکہ کُفّار جاہل ہیں اور ان کی غرض جنگ سے نہ حصولِ ثواب ہے ، نہ خوفِ عذاب ، جانوروں کی طرح لڑتے بھڑتے ہیں تو وہ لِلّٰہِیّت کے ساتھ لڑنے والوں کے مقابل کیا ٹھہر سکیں گے ۔ بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ جب یہ آیت نازِل ہوئی تو مسلمانوں پر فرض کردیا گیا کہ مسلمانوں کا ایک ، دس کے مقابلہ سے نہ بھاگے پھر آیت اَلْاٰنَ خَفَّفَ اللّٰہُ نازِل ہوئی تو یہ لازم کیا گیا کہ ایک سو ، دو سو ۲۰۰ کے مقابل قائم رہیں یعنی دس گنے سے مقابلہ کی فرضیت منسوخ ہوئی اور دو گنے کے مقابلہ سے بھاگنا ممنوع رکھا گیا ۔
اب اللہ نے تم پر سے تخفیف فرمائی اور اسے علم کہ تم کمزور ہو تو اگر تم میں سو صبر والے ہوں دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں کے ہزار ہوں تو دو ہزار پر غالب ہوں گے اللہ کے حکم سے اور اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے،
کسی نبی کو لائئق نہیں کہ کافروں کو زندہ قید کرلے جب تک زمین میں ان کا خون خوب نہ بہائے (ف۱۲٤) تم لوگ دنیا کا مال چاہتے ہو (ف۱۲۵) اور اللہ آخرت چاہتا ہے (ف۱۲٦) اور اللہ غالب حکمت والا ہے
(ف124)اور قتلِ کُفّار میں مبالغہ کرکے کُفر کی ذلّت اور اسلام کی شوکت کا اظہار نہ کرے ۔ شانِ نُزول : مسلم شریف وغیرہ کی احادیث میں ہے کہ جنگِ بدر میں ستّر کافِر قید کرکے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور میں لائے گئے حضور نے ان کے متعلق صحابہ سے مشورہ طلب فرمایا حضرت ابوبکر صدیق نے عرض کیا کہ یہ آپ کی قوم و قبیلے کے لوگ ہیں میری رائے میں انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے اس سے مسلمانوں کو قوت بھی پہنچے گی اور کیا عجب ہے کہ اللہ تعالٰی ان لوگوں کو اسلام نصیب کرے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ان لوگوں نے آپ کی تکذیب کی آپ کو مکۂ مکرّمہ میں نہ رہنے دیا یہ کُفر کے سردار اور سرپرست ہیں ان کی گردنیں اُڑائیں ۔ اللہ تعالٰی نے آپ کو فدیہ سے غنی کیا ہے علی مرتضٰی کو عقیل پر اور حضرت حمزہ کو عباس پر اور مجھے میرے قرابتی پر مقرر کیجئے کہ ان کی گردنیں مار دیں آخرکار فدیہ ہی لینے کی رائے قرار پائی اور جب فدیہ لیا گیا تو یہ آیت نازِل ہوئی ۔(ف125)یہ خطاب مؤمنین کو ہے اور مال سے فدیہ مراد ہے ۔(ف126)یعنی تمہارے لئے آخرت کا ثواب جو قتلِ کفّار و اعزازِ اسلام پر مرتب ہے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ حکم بدر میں تھا جبکہ مسلمان تھوڑے تھے پھر جب مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہوئی اور وہ فضلِ الٰہی سے قوی ہوئے تو قیدیوں کے حق میں نازِل ہوئی فَاِمَّا مَنًّامْ بَعْدُ وَاِمَّا فِدَآئً اور اللہ تعالٰی نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مؤمنین کو اختیار دیا کہ چاہے کافِروں کو قتل کریں چاہے انہیں غلام بنائیں چاہے فدیہ لیں چاہے آزاد کریں ۔ بدر کے قیدیوں کا فدیہ چالیس اوقیہ سونا فی کس تھا جس کے سولہ سو درہم ہوئے ۔
اگر اللہ پہلے ایک بات لکھ نہ چکا ہوتا (ف۱۲۷) تو اے مسلمانو! تم نے جو کافروں سے بدلے کا مال لے لیا اس میں تم پر بڑا عذاب آتا،
(ف127)یہ کہ اجتہاد پر عمل کرنے والے سے مواخذہ نہ فرمائے گا اور یہاں صحابہ نے اجتہاد ہی کیا تھا اور انکی فکر میں یہی بات آئی تھی کہ کافِروں کو زندہ چھوڑ دینے میں ان کے اسلام لانے کی امید ہے اور فدیہ لینے میں دین کو تقویت ہوتی ہے اور اس پر نظر نہیں کی گئی کہ قتل میں عزت اسلام اور تہدیدِ کُفّار ہے ۔ مسئلہ : سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس دینی معاملہ میں صحابہ کی رائے دریافت فرمانا مشروعیتِ اجتہاد کی دلیل ہے یا کِتَابٌ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ سے وہ مراد ہے جو اس نے لوحِ محفوظ میں لکھا کہ اہلِ بدر پر عذاب نہ کیا جائے گا ۔
تو کھاؤ جو غنیمت تمہیں ملی حلال پاکیزہ (ف۱۲۸) اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
(ف128)جب اوپر کی آیت نازِل ہوئی تو اصحابِ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو فدیئے لئے تھے ان سے ہاتھ روک لئے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور بیا ن فرمایا گیا کہ تمھاری غنیمتیں حلال کی گئیں انھیں کھاؤ ۔ صحیحین کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالٰی نے ہمارے لئے غنیمتیں حلال کیں ہم سے پہلے کسی کے لئے حلال نہ کی گئی تھیں ۔
اے غیب کی خبریں بتانے والے جو قیدی تمہارے ہاتھ میں ہیں ان سے فرماؤ (ف۱۲۹) اگر اللہ نے تمہارے دل میں بھلائی جانی (ف۱۳۰) تو جو تم سے لیا گیا (ف۱۳۱) اس سے بہتر تمہیں عطا فرمائے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۱۳۲)
(ف129)شانِ نُزُول : یہ آیت حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازِل ہوئی ہے جو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ہیں ، یہ کُفّارِ قریش کے ان دس سرداروں میں سے تھے جنہوں نے جنگِ بدر میں لشکرِ کُفّار کے کھانے کی ذمہ داری لی تھی اور یہ اس خرچ کے لئے بیس اوقیہ سونا ساتھ لے کر چلے تھے (ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے) لیکن ان کے ذمے جس دن کھلانا تجویز ہوا تھا خاص اسی روز جنگ کا واقعہ پیش آیا اور قتال میں کھانے کھلانے کی فرصت و مہلت نہ ملی تو یہ بیس اوقیہ سونا ان کے پاس بچ رہا جب وہ گرفتار ہوئے اور یہ سونا ان سے لے لیا گیا تو انہوں نے درخواست کی کہ یہ سونا ان کے فدیہ میں محسوب کر لیا جائے مگر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار فرمایا ۔ ارشاد کیا جو چیز ہماری مخالفت میں صرف کرنے کے لئے لائے تھے وہ نہ چھوڑی جائے گی اور حضرت عباس پر ان کے دونوں بھتیجوں عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن حارث کے فدیئے کا بار بھی ڈالا گیا تو حضرت عباس نے عرض کیا یا محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم مجھے اس حال میں چھوڑو گے کہ میں باقی عمر قریش سے مانگ مانگ کر بسر کیا کروں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر وہ سونا کہاں ہے جس کو تمہارے مکّۂ مکرّمہ سے چلتے وقت تمہاری بی بی ام الفضل نے دفن کیا ہے اور تم ان سے کہہ کر آئے ہو کہ خبر نہیں ہے مجھے کیا حادثہ پیش آئے اگر میں جنگ میں کام آجاؤں تو یہ تیرا ہے اور عبداللہ اور عبید اللہ کا اور فضل اور قثم کا ( سب انکے بیٹے تھے ) حضرت عباس نے عرض کیا کہ آپ کو کیسے معلوم ہوا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے میرے ربّ نے خبردار کیا ہے اس پر حضرت عباس نے عرض کیا میں گواہی دیتا ہوں بے شک آپ سچے ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک آپ اس کے بندے اور رسول ہیں میرے اس راز پر اللہ کے سوا کوئی مطّلِع نہ تھا اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے بھتیجوں عقیل و نوفل کو حکم دیا وہ بھی اسلام لائے ۔(ف130)خلوصِ ایمان اور صحتِ نیّت سے ۔(ف131)یعنی فدیہ ۔(ف132)جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بحرین کا مال آیا جس کی مقدار اسّی ہزار تھی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ ظہر کے لئے وضو کیا اور نماز سے پہلے پہلے کُل کا کُل تقسیم کر دیا اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اس میں سے لے لو تو جتنا ان سے اٹھ سکا اتنا انہوں نے لے لیا وہ فرماتے تھے کہ یہ اس سے بہتر ہے کہ جو اللہ نے مجھ سے لیا اور میں اس کی مغفرت کی امید رکھتا ہوں اور ان کے تموّل کا یہ حال ہوا کہ ان کے بیس غلام تھے سب کے سب تاجر اور ان میں سب سے کم سرمایہ جس کا تھا اس کا بیس ہزار کا تھا ۔
اور اے محبوب اگر وہ (ف۱۳۳) تم سے دغا چاہیں گے (ف۱۳٤) تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دے دیے (ف۱۳۵) اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے،
(ف133)وہ قیدی ۔(ف134)تمہاری بیعت سے پھر کر اور کُفر اختیار کرکے ۔(ف135)جیسا کہ وہ بدر میں دیکھ چکے ہیں کہ قتل ہوئے ، گرفتار ہوئے ، آئندہ بھی اگر ان کے اطوار وہی رہے تو انہیں اسی کا امید وار رہنا چاہئے ۔
بیشک جو ایمان لائے اور اللہ کے لیے (ف۱۳٦) گھر بار چھوڑے اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے لڑے (ف۱۳۷) اور وہ جنہوں نے جگہ دی اور مدد کی (ف۱۳۸) وہ ایک دوسرے کے وارث ہیں (ف۱۳۹) اور وہ جو ایمان لائے (ف۱٤۰) اور ہجرت نہ کی انہیں ان کا ترکہ کچھ نہیں پہنچتا جب تک ہجرت نہ کریں اور اگر وہ دین میں تم سے مدد چاہیں تو تم پر مدد دینا واجب ہے مگر ایسی قوم پر کہ تم میں ان میں معاہدہ ہے، اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے،
(ف136)اور اسی کے رسول کی مَحبت میں انہوں نے اپنے ۔(ف137)یہ مہاجرینِ اوّلین ہیں ۔(ف138)مسلمانوں کی اور انہیں اپنے مکانوں میں ٹھرایا یہ انصار ہیں ۔ ان مہاجرین اور انصار دونوں کے لئے ارشاد ہوتا ہے ۔(ف139)مہاجر انصار کے اور انصار مہاجر کے ۔ یہ وراثت آیت وَاُولُوالْاَ رْحَامِ بَعْضُھُمْ اَولیٰ بِبَعْضِ سے منسوخ ہوگئی ۔(ف140)اور مکّۂ مکرّمہ ہی میں مقیم رہے ۔
اور کافر آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں (ف۱٤۱) ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد ہوگا (ف۱٤۲)
(ف141) ان کے اور مؤمنین کے درمیان وراثت نہیں ۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ مسلمانوں کو کُفّار کی موالات و موارثت سے منع کیا گیا اور ان سے جدا رہنے کا حکم دیا گیا اور مسلمانوں پر باہم میل جول رکھنا لازم کیا گیا ۔(ف142)یعنی اگر مسلمانوں میں باہم تعاون و تناصُر نہ ہو اور وہ ایک دوسرے کے مددگار ہو کر ایک قوت نہ بن جائیں تو کُفّار قوی ہوں گے اور مسلمان ضعیف اور یہ بڑا فتنہ و فساد ہے ۔
اور وہ جو ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں لڑے اور جنہوں نے جگہ دی اور مدد کی وہی سچے ایمان والے ہیں، ان کے لیے بخشش ہے اور عزت کی روزی (ف۱٤۳)
(ف143)پہلی آیت میں مہاجرین و انصار کے باہمی تعلقات اور ان میں سے ہر ایک کے دوسرے کے معین و ناصر ہونے کا بیان تھا ۔ اس آیت میں ان دونوں کے ایمان کی تصدیق اور ان کے مَوردِ رحمتِ الٰہی ہونے کا ذکر ہے ۔
اور جو بعد کو ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمہارے ساتھ جہاد کیا وہ بھی تمہیں میں سے ہیں (ف٤٤) اور رشتہ والے ایک دوسرے سے زیادہ نزدیک ہیں اللہ کی کتاب میں (ف۱٤۵) بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے،
(ف144)اور تمہارے ہی حکم میں ہیں اے مہاجرین و انصار ۔ مہاجرین کے کئی طبقے ہیں ایک وہ ہیں جنہوں نے پہلی مرتبہ مدینۂ طیّبہ کو ہجرت کی انہیں مہاجرینِ اوّلین کہتے ہیں ۔ کچھ وہ حضرات ہیں جنہوں نے پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کی پھر مدینۂ طیّبہ کی طرف انہیں اصحابُ الہجرتَین کہتے ہیں ۔ بعض حضرات وہ ہیں جنہوں نے صلح حُدیبیہ کے بعد فتحِ مکّہ سے قبل ہجرت کی یہ اصحابِ ہجرتِ ثانیہ کہلاتے ہیں ۔ پہلی آیت میں مہاجرینِ اوّلین کا ذکر ہے اور اس آیت میں اصحابِ ہجرتِ ثانیہ کا ۔(ف145)اس آیت سے توارُث بالہجرت منسوخ کیا گیا اور ذوِی الارحام کی وراثت ثابت ہوئی ۔