کیا لوگ اس گھمنڈ میں ہیں کہ اتنی بات پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ کہیں ہم ایمان لائے ، اور ان کی آزمائش نہ ہوگی (ف۲)
(ف2)شدائدِ تکالیف اور انواعِ مصائب اور ذوقِ طاعات و ترکِ شہوات و بدلِ جان و مال سے ان کی حقیقتِ ایمان خوب ظاہر ہو جائے اور مؤمنِ مخلص اور منافق میں امتیاز ظاہر ہو جائے ۔ شانِ نُزول : یہ آیت ان حضرات کے حق میں نازِل ہوئی جو مکّہ مکرّمہ میں تھے اور انہوں نے اسلام کا اقرار کیا تو اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں لکھاکہ مَحض اقرار کافی نہیں جب تک ہجرت نہ کرو ان صاحبوں نے ہجرت کی اور بقصدِ مدینہ روانہ ہوئے ، مشرکین ان کے درپے ہوئے اور ان سے قتال کیا بعض حضرات ان میں سے شہید ہو گئے بعض بچ آئے ان کے حق میں یہ دو آیتیں نازِل ہوئیں اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ مراد ان لوگوں سے سلمہ بن ہشّام اور عیّاش بن ابی ربیعہ اور ولید بن ولید اور عمّار بن یاسر وغیرہ ہیں جو مکّہ مکرّمہ میں ایمان لائے اور ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت حضرت عمّار کے حق میں نازِل ہوئی جو خدا پرستی کی وجہ سے ستائے جاتے تھے اور کُفّار انہیں سخت ایذائیں پہنچاتے تھے اور ایک قول یہ ہے کہ یہ آیتیں حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے غلام حضرت مہجع بن عبداللہ کے حق میں نازِل ہوئیں جو بدر میں سب سے پہلے شہید ہونے والے ہیں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی نسبت فرمایا کہ مہجع سید الشہداء ہیں اور اس اُمّت میں بابِ جنّت کی طرف پہلے وہ پکارے جائیں گے ان کے والدین اور ان کی بی بی کو ان کا بہت صدمہ ہوا تو اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازِل کی پھر ان کی تسلّی فرمائی ۔
اور بیشک ہم نے ان سے اگلوں کو جانچا (ف۳) تو ضرور اللہ سچوں کو دیکھے گا اور ضرور جھوٹوں کو دیکھے گا (ف٤)
(ف3)طرح طرح کی آزمائشوں میں ڈالا ، بعض ان میں سے وہ ہیں جو آرے سے چیر ڈالے گئے ، بعض لوہے کی کنگھیوں سے پرزے پرزے کئے گئے اور مقامِ صدق و وفا میں ثابت و قائم رہے ۔(ف4)ہر ایک کا حال ظاہر فرما دے گا ۔
جسے اللہ سے ملنے کی امید ہو (ف۷) تو بیشک اللہ کی میعاد ضرور آنے والی ہے (ف۸) اور وہی سنتا جانتا ہے (ف۹)
(ف7)بعث و حساب سے ڈرے یا ثواب کی امید رکھے ۔(ف8)اس نے ثواب و عذاب کا جو وعدہ فرمایا ہے ضرور پورا ہونے والا ہے چاہیئے کہ اس کے لئے تیار رہے اور عملِ صالح میں جلدی کرے ۔(ف9)بندوں کے اقوال و افعال کو ۔
اور جو اللہ کی راہ میں کوشش کرے (ف۱۰) تو اپنے ہی بھلے کو کوشش کرتا ہے (ف۱۱) بیشک اللہ بےپرواہ ہے سارے جہان سے (ف۱۲)
(ف10)خواہ اعداءِ دین سے محاربہ کر کے یا نفس و شیطان کی مخالفت کر کے اور طاعتِ الٰہی پر صابر و قائم رہ کر ۔(ف11)اس کا نفع و ثواب پائے گا ۔(ف12)انس و جن و ملائکہ اور ان کے اعمال و عبادات سے اس کا امر و نہی فرمانا بندوں پر رحمت و کرم کے لئے ہے ۔
اور ہم نے آدمی کو تاکید کی اپنے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کی (ف۱۵) اور اگر تو وہ تجھ سے کوشش کریں کہ تو میرا شریک ٹھہرائے جس کا تجھے علم نہیں تو تو ان کا کہا نہ مان (ف۱٦) میری ہی طرف تمہارا پھرنا ہے تو میں بتادوں گا تمہیں جو تم کرتے تھے (ف۱۷)
(ف15)احسان اور نیک سلوک کی ۔شانِ نُزول : یہ آیت اور سورۂ لقمان اور سورۂ احقاف کی آیتیں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حق میں و بقول ابنِ اسحق سعد بن مالک زہری کے حق میں نازِل ہوئیں ان کی ماں حمنہ بنتِ ابی سفیان بن امیہ بن عبدِ شمس تھی حضرت سعد سابقین اوّلین میں سے تھے اور اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرتے تھے جب آپ اسلام لائے تو آپ کی والدہ نے کہا کہ تو نے یہ کیا نیا کام کیا خدا کی قَسم اگر تو اس سے باز نہ آیا تو نہ میں کھاؤں نہ پیوں یہاں تک کہ مر جاؤں اور تیری ہمیشہ کے لئے بدنامی ہو اور تجھے ماں کا قاتل کہا جائے پھر اس بڑھیا نے فاقہ کیا اور ایک شبانہ روز نہ کھایا ، نہ پیا ، نہ سایہ میں بیٹھی اس سے ضعیف ہو گئی پھر ایک رات دن اور اسی طرح رہی تب حضرت سعد اس کے پاس آئے اور آپ نے اس سے فرمایا کہ اے ماں اگر تیری سو ۱۰۰ جانیں ہوں اور ایک ایک کر کے سب ہی نکل جائیں تو بھی میں اپنا دین چھوڑ نے والا نہیں تو چاہے کھا چاہے مت کھا ، جب وہ حضرت سعد کی طرف سے مایوس ہو گئی کہ یہ اپنا دین چھوڑنے والے نہیں تو کھانے پینے لگی اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی اور حکم دیا کہ والدین کے ساتھ نیک سلوک کیا جائے اور اگر وہ کُفر و شرک کا حکم دیں تو نہ مانا جائے ۔(ف16)کیونکہ جس چیز کا علم نہ ہو اس کو کسی کے کہے سے مان لینا تقلید ہے معنٰی یہ ہوئے کہ واقع میں میرا کوئی شریک نہیں تو علم و تحقیق سے تو کوئی بھی کسی کو میرا شریک مان ہی نہیں سکتا مَحال ہے رہا تقلیداً بغیر علم کے میرے لئے شریک مان لینا یہ نہایت قبیح ہے اس میں والدین کی ہرگز اطاعت نہ کر ۔مسئلہ: ایسی اطاعت کسی مخلوق کی جائز نہیں جس میں خدا کی نافرمانی ہو ۔(ف17)تمہارے کردار کی جزا دے کر ۔
اور بعض آدمی کہتے ہیں ہم اللہ پر ایمان لائے پھر جب اللہ کی راہ میں انھیں کوئی تکلیف دی جاتی ہے (ف۱۹) تو لوگوں کے فتنہ کو اللہ کے عذاب کے برابر سمجھتے ہیں (ف۲۰) اور اگر تمہارے رب کے پاس سے مدد آئے (ف۲۱) تو ضرور کہیں گے ہم تو تمہارے ہی ساتھ تھے (ف۲۲) کیا اللہ خوب نہیں جانتا جو کچھ جہاں بھر کے دلوں میں ہے (ف۲۳)
(ف19)یعنی دین کے سبب سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے جیسے کہ کُفّار کا ایذا پہنچانا ۔(ف20)اور جیسا اللہ کے عذاب سے ڈرنا چاہئے تھا ایسا خَلق کی ایذا سے ڈرتے ہیں حتی کہ ایمان ترک کر دیتے ہیں اور کُفر اختیار کر لیتے ہیں یہ حال منافقین کا ہے ۔(ف21)مثلاً مسلمانون کی فتح ہو یا انہیں دولت ملے ۔(ف22)ایمان و اسلام میں اور تمہاری طرح دین پر ثابت تھے تو ہمیں اس میں شریک کرو ۔(ف23)کُفر یا ایمان ۔
اور کافر مسلمانوں سے بولے ہماری راہ پر چلو اور ہم تمہارے گناہ اٹھالیں گے (ف۲٦) حالانکہ وہ ان کے گناہوں میں سے کچھ نہ اٹھائیں گے، بیشک وہ جھوٹے ہیں،
(ف26)کُفّارِ مکّہ نے مومنینِ قریش سے کہا تھا کہ تم ہمارا اور ہمارے باپ دادا کا دین اختیار کرو تمہیں اللہ کی طرف سے جو مصیبت پہنچے گی اس کے ہم کفیل ہیں اور تمہارے گناہ ہماری گردن پر یعنی اگر ہمارے طریقہ پر رہنے سے اللہ تعالٰی نے تم کو پکڑا اور عذاب کیا تو تمہارا عذاب ہم اپنے اوپر لے لیں گے اللہ تعالٰی نے ان کی تکذیب فرمائی ۔
اور بیشک ضرور اپنے (ف۲۷) بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور بوجھ (ف۲۸) اور ضرور قیامت کے دن پوچھے جائیں گے جو کچھ بہتان اٹھاتے تھے (ف۲۹)
(ف27)کُفر و معاصی کے ۔(ف28)ان کے گناہوں کے جنہیں انہوں نے گمراہ کیا اور راہِ حق سے روکا ۔ حدیث شریف میں ہے جس نے اسلام میں کوئی بُرا طریقہ نکالا اس پر اس طریقہ نکالنے کا گناہ بھی ہے اور قیامت تک جو لوگ اس پر عمل کریں ان کے گناہ بھی بغیر اس کے کہ ان پر سے ان کے بارِ گناہ میں کچھ بھی کمی ہو ۔ (مسلم شریف)(ف29)اللہ تعالٰی ان کے اعمال و افتراء سب جاننے والا ہے لیکن یہ سوال تو بیخ کے لئے ہے ۔
اور بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس سال کم ہزار برس رہا (ف۳۰) تو انھیں طوفان نے آ لیا اور وہ ظالم تھے (ف۳۱)
(ف30)اس تمام مدّت میں قوم کو توحید و ایمان کی دعوت جاری رکھی اور ان کی ایذاؤں پر صبر کیا اس پر بھی وہ قوم باز نہ آئی اور تکذیب کرتی رہی ۔(ف31)طوفان میں غرق ہو گئے ۔ اس میں نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو تسلّی دی گئی ہے کہ آپ سے پہلے انبیاء کے ساتھ ان کی قوموں نے بہت سختیاں کی ہیں ۔ حضرت نوح علیہ السلام پچاس کم ہزار برس دعوت فرماتے رہے اور اس طویل مدّت میں ان کی قوم کے بہت قلیل لوگ ایمان لائے تو آپ کچھ غم نہ کریں کیونکہ بفضلہٖ تعالٰی آپ کی قلیل مدّت کی دعوت سے خَلقِ کثیر مشرف بہ ایمان ہو چکی ہے ۔
تو ہم نے اسے (ف۳۲) اور کشتی والوں کو (ف۳۳) بچالیا اور اس کشتی کو سارے جہاں کے لیے نشانی کیا (ف۳٤)
(ف32)یعنی حضرت نوح علیہ السلام کو ۔(ف33)جو آپ کے ساتھ تھے ان کی تعداد اٹھہتّر تھی نصف مرد نصف عورت ان میں حضرت نوح علیہ السلام کے فرزند سام و حام ویافث اور ان کی بی بیاں بھی شامل ہیں ۔(ف34)کہا گیا ہے کہ وہ کَشتی جودی پہاڑ پر مدّتِ دراز تک باقی رہی ۔
تم تو اللہ کے سوا بتوں کو پوجتے ہو اور نرا جھوٹ گڑ ھتے ہو (ف۳٦) بیشک وه جنھیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو تمہاری روزی کے کچھ مالک نہیں تو اللہ کے پاس رزق ڈھونڈو (ف۳۷) اور اس کی بندگی کرو اور اس کا احسان مانو، تمہیں اسی کی طرف پھرنا ہے (ف۲۸)
(ف36)کہ بُتوں کو خدا کا شریک کہتے ہو ۔(ف37)وہی رزّاق ہے ۔(ف38)آخرت میں ۔
اور اگر تم جھٹلاؤ (ف۳۹) تو تم سے پہلے کتنے ہی گروہ جھٹلا چکے ہیں (ف٤۰) اور رسول کے ذمہ نہیں مگر صاف پہنچا دینا،
(ف39)اور مجھے نہ مانو تو اس سے میرا کوئی ضَرر نہیں ، میں نے راہ دکھا دی ، معجزات پیش کر دیئے ، میرا فرض ادا ہو گیا ، اس پر بھی اگر تم نہ مانو ۔(ف40)اپنے انبیاء کو جیسے کہ قومِ نوح و عاد و ثمود وغیرہ ان کے جھٹلانے کا انجام یہی ہوا کہ اللہ تعالٰی نے انہیں ہلاک کیا ۔
اور کیا انہوں نے نہ دیکھا اللہ کیونکر خلق کی ابتداء فرماتا ہے (ف٤۱) پھر اسے دوبارہ بنائے گا (ف٤۲) بیشک یہ اللہ کو آسان ہے (ف٤۳)
(ف41)کہ پہلے انہیں نطفہ بناتا ہے پھر خونِ بستہ کی صورت دیتا ہے پھر گوشت پارہ بناتا ہے اس طرح تدریجاً ان کی خِلقت کو مکمل کرتا ہے ۔(ف42)آخرت میں بَعث کے وقت ۔(ف43)یعنی پہلی بار پیدا کرنا اور مرنے کے بعد پھر دوبارہ بنانا ۔
تم فرماؤ زمین میں سفر کرکے دیکھو (ف٤٤) اللہ کیونکر پہلے بناتا ہے (ف٤۵) پھر اللہ دوسری اٹھان اٹھاتا ہے (ف٤٦) بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
(ف44)گزشتہ قوموں کے دیار و آثار کو کہ ۔(ف45)مخلوق کو پھر اسے موت دیتا ہے ۔(ف46)یعنی جب یہ یقین سے جان لیا کہ پہلی مرتبہ اللہ ہی نے پیدا کیا تو معلوم ہو گیا کہ اس خالِق کا مخلوق کو موت دینے کے بعد دوبارہ پیدا کرنا کچھ بھی متعذّر نہیں ۔
اور وہ جنہوں نے میری آیتوں اور میرے ملنے کو نہ مانا (ف۵۱) وہ ہیں جنہیں میری رحمت کی آس نہیں اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے (ف۵۲)
(ف51)یعنی قرآن شریف اور بَعث پر ایمان نہ لائے ۔(ف52)اس پند و موعظت کے بعد پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ کا ذکر فرمایا جاتا ہے کہ جب آپ نے اپنی قوم کو ایمان کی دعوت دی اور دلائل قائم کئے اور نصیحتیں فرمائیں ۔
تو اس کی قوم کو کچھ جواب بن نہ آیا مگر یہ بولے انھیں قتل کردو یا جلادو (ف۵۳) تو اللہ نے اسے (ف۵٤) آگ سے بچالیا (ف۵۵) بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے (ف۵٦)
(ف53)یہ انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا یا سرداوں نے اپنے متّبعین سے بہرحال کچھ کہنے والے تھے کچھ اس پر راضی ہونے والے تھے سب متفق اس لئے وہ سب قائلین کے حکم میں ہیں ۔ (ف54)یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب کہ ان کی قوم نے آ گ میں ڈالا ۔(ف55)اس آ گ کو ٹھنڈا کر کے اور حضرت ابراہیم کے لئے سلامتی بنا کر ۔(ف56)عجیب عجیب نشانیاں ، آ گ کا اس کثرت کے باوجود اثر نہ کرنا اور سرد ہو جانا اوراس کی جگہ گلشن پیدا ہو جانا اور یہ سب پل بھر سے بھی کم میں ہونا ۔
اور ابراہیم نے (ف۵۷) فرمایا تم نے تو اللہ کے سوا یہ بت بنالیے ہیں جن سے تمہاری دوستی یہی دنیا کی زندگی تک ہے (ف۵۸) پھر قیامت کے دن تم میں ایک دوسرے کے ساتھ کفر کرے گا اور ایک دوسرے پر لعنت ڈالے گا (ف۵۹) اور تم سب کا ٹھکانا جہنم ہے (ف٦۰) اور تمہارا کوئی مددگار نہیں (ف٦۱)
(ف57)اپنی قوم سے ۔(ف58)پھر منقطع ہو جائے گی اور آخرت میں کچھ کام نہ آئے گی ۔(ف59)بُت اپنے پجاریوں سے بیزار ہوں گے اور سردار اپنے ماننے والوں سے اور ماننے والے سرداروں پر لعنت کریں گے ۔(ف60)بُتوں کا بھی اور پجاریوں کا بھی ان میں سرداروں کا بھی اور ان کے فرمانبرداروں کا بھی ۔(ف61)جو تمہیں عذاب سے بچائے اور جب حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والتسلیمات آ گ سے سلامت نکلے اور اس نے آپ کو کوئی ضرر نہ پہنچایا ۔
تو لوط اس پر ایمان لایا (ف٦۲) اور ابراہیم نے کہا میں (ف٦۳) اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں (ف٦٤) بیشک وہی عزت و حکمت والا ہے،
(ف62)یعنی حضرت لوط علیہ السلام نے یہ معجِزہ دیکھ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی رسالت کی تصدیق کی آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سب سے پہلے تصدیق کرنے والے ہیں ۔ ایمان سے تصدیقِ رسالت ہی مراد ہے کیونکہ اصل توحید کا اعتقاد تو ان کو ہمیشہ سے حاصل ہے اس لئے انبیاء ہمیشہ ہی مومن ہوتے ہیں اور کُفر ان سے کسی حال میں متصور نہیں ۔(ف63)اپنی قوم کو چھوڑ کر ۔(ف64)جہاں اس کا حکم ہو چنانچہ آپ نے سوادِ عراق سے سرزمینِ شام کی طرف ہجرت فرمائی اس ہجرت میں آپ کے ساتھ آپ کی بی بی سارہ اور حضرت لوط علیہ السلام تھے ۔
اور ہم نے اسے (ف٦۵) اسحاق اور یعقوب عطا فرمائے اور ہم نے اس کی اولاد میں نبوت (ف٦٦) اور کتاب رکھی (ف٦۷) اور ہم نے دنیا میں اس کا ثواب اسے عطا فرمایا (ف٦۸) اور بیشک آخرت میں وہ ہمارے قرب خاص کے سزاواروں میں ہے (ف٦۹)
(ف65)بعد حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے ۔(ف66)کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد جتنے انبیاء ہوئے سب آپ کی نسل سے ہوئے ۔(ف67)کتاب سے توریت ، انجیل ، زبور ، قرآن شریف مراد ہیں ۔(ف68)کہ پاک ذُرِّیَّت عطا فرمائی ، پیغمبری ان کی نسل میں رکھی ، کتابیں ان پیغمبروں کو عطا کیں جو ان کی اولاد میں ہیں اور ان کو خَلق میں محبوب و مقبول کیا کہ تمام اہلِ مِلَل و اَدیان ان سے مَحبت رکھتے ہیں اور ان کی طرف نسبت فخر جانتے ہیں اور ان کے لئے اختتامِ دنیا تک درود مقرر کر دیا ، یہ تو وہ ہے جو دنیا میں عطا فرمایا ۔(ف69)جن کے لئے بڑے بلند درجے ہیں ۔
کیا تم مردوں سے بدفعلی کرتے ہو اور راہ مارتے ہو (ف۷۱) اور اپنی مجلس میں بری بات کرتے ہو (ف۷۲) تو اس کی قوم کا کچھ جواب نہ ہوا مگر یہ کہ بولے ہم پر اللہ کا عذاب لاؤ اگر تم سچے ہو (ف۷۳)
(ف71)راہ گیروں کو قتل کر کے ان کے مال لوٹ کر اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ لوگ مسافروں کے ساتھ بد فعلی کرتے تھے حتی کہ لوگوں نے اس طرف گزرنا موقوف کر دیا تھا ۔(ف72)جو عقلاً و عرفاً قبیح و ممنوع ہے جیسے گالی دینا ، فحش بکنا ، تالی اور سیٹی بجانا ، ایک دوسرے کے کنکریاں مارنا ، رستہ چلنے والوں پر کنکری وغیرہ پھینکنا ، شرا ب پینا ، تمسخُر اور گندی باتیں کرنا ، ایک دوسرے پر تھوکنا وغیرہ ذلیل افعال و حرکات جن کی قومِ لوط عادی تھی ، حضرت لوط علیہ السلام نے اس پر انہیں ملامت کی ۔(ف73)اس بات میں کہ یہ افعال قبیح ہیں اور ایسا کرنے والے پر عذاب نازِل ہو گا یہ انہوں نے براہِ استہزاء کہا جب حضرت لوط علیہ السلام کو اس قوم کے راہِ راست پر آنے کی کچھ امید نہ رہی تو آپ نے بارگاہِ الٰہی میں ۔
کہا (ف۷۸) اس میں تو لوط ہے (ف۷۹) فرشتے بولے ہمیں خوب معلوم ہے جو کوئی اس میں ہے، ضرور ہم اسے (ف۸۰) اور اس کے گھر والوں کو نجات دیں گے مگر اس کی عورت کو ، وہ رہ جانے والوں میں ہے (ف۸۱)
(ف78)حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ۔(ف79)اور لوط علیہ السلام تو اللہ کے نبی اور اس کے برگزیدہ بندے ہیں ۔(ف80)یعنی لوط علیہ السلام کو ۔(ف81)عذاب میں ۔
اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس (ف۸۲) آئے ان کا آنا اسے ناگوار ہوا اور ان کے سبب دل تنگ ہوا (ف۸۳) اور انہوں نے کہا نہ ڈریے (ف۸٤) اور نہ غم کیجئے (ف۸۵) بیشک ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو نجات دیں گے مگر آپ کی عورت وہ رہ جانے والوں میں ہے،
(ف82)خوب صورت مہمانوں کی شکل میں ۔(ف83)قوم کے افعال و حرکات اور ان کی نالائقی کا خیال کر کے اس وقت فرشتوں نے ظاہر کیا کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں ۔(ف84)قوم سے ۔(ف85)ہمارا کہ قوم کے لوگ ہمارے ساتھ کوئی بے ادبی یا گستاخی کریں ہم فرشتے ہیں ہم لوگوں کو ہلاک کریں گے اور ۔
مدین کی طرف ان کے ہم قوم شعیب کو بھیجا تو اس نے فرمایا، اے میری قوم! اللہ کی بندگی کرو اور پچھلے دن کی امید رکھو (ف۸۷) اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو،
(ف87)یعنی روزِ قیامت کی ایسے افعال بجا لا کر جو ثوابِ آخرت کا باعث ہوں ۔
اور عاد اور ثمود کو ہلاک فرمایا اور تمہیں (ف۸۹) ان کی بستیاں معلوم ہوچکی ہیں (ف۹۰) اور شیطان نے ان کے کوتک (ف۹۱) ان کی نگاہ میں بھلے کر دکھائے اور انھیں راہ سے روکا اور انھیں سوجھتا تھا (ف۹۲)
(ف89)اے اہلِ مکّہ ۔(ف90)حجر اور یمن میں جب تم اپنے سفر وں میں وہاں گزرے ہو ۔(ف91)کُفر و معاصی ۔(ف92)صاحبِ عقل تھے حق و باطل میں تمییز کر سکتے تھے لیکن انہوں نے عقل و انصاف سے کام نہ لیا ۔
اور قارون اور فرعون اور ہامان کو (ف۹۳) اور بیشک ان کے پاس موسیٰ روشن نشانیاں لے کر آیا تو انہوں نے زمین میں تکبر کیا اور وہ ہم سے نکل کر جانے والے نہ تھے (ف۹٤)
(ف93)اللہ تعالٰی نے ہلاک فرمایا ۔(ف94)کہ ہمارے عذاب سے بچ سکتے ۔
تو ان میں ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ پر پکڑا تو ان میں کسی پر ہم نے پتھراؤ بھیجا (ف۹۵) اور ان میں کسی کو چنگھاڑ نے آلیا (ف۹٦ ) اور ان میں کسی کو زمین میں دھنسادیا (ف۹۷) اور ان میں کسی کو ڈبو دیا (ف۹۸) اور اللہ کی شان نہ تھی کہ ان پر ظلم کرے (ف۹۹) ہاں وہ خود ہی (ف۱۰۰) اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے،
(ف95)اور وہ قو مِ لوط تھی جن کو چھوٹے چھوٹے سنگریزوں سے ہلاک کیا گیا جو تیز ہوا سے ان پر لگتے تھے ۔(ف96)یعنی قومِ ثمود کہ ہولناک آواز کے عذاب سے ہلاک کی گئی ۔(ف97)یعنی قارون اور اس کے ساتھیوں کو ۔(ف98)جیسے قومِ نوح کو اور فرعون کو اور اس کی قو م کو ۔(ف99)وہ کسی کو بغیر گناہ کے عذاب میں گرفتار نہیں کرتا ۔(ف100)نافرمانیاں کر کے اور کُفر و طغیان اختیار کر کے ۔
ان کی مثال جنہوں نے اللہ کے سوا اور مالک بنالیے ہیں (ف۱۰۱) مکڑی کی طرح ہے، اس نے جالے کا گھر بنایا (ف۱۰۲) اور بیشک سب گھروں میں کمزور گھر مکڑی کا گھر (ف۱۰۳) کیا اچھا ہوتا اگر جانتے (ف۱۰٤)
(ف101)یعنی بُتوں کو معبود ٹھہرایا ہے ان کے ساتھ امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں اور واقع میں ان کے عجز و بے اختیاری کی مثال یہ ہے جو آگے ذکر فرمائی جاتی ہے ۔(ف102)اپنے رہنے کے لئے نہ اس سے گرمی دور ہو نہ سردی ، نہ گرد و غبار و بارش کسی چیز سے حفاظت ایسے ہی بُت ہیں کہ اپنے پوجاریوں کو نہ دنیا میں نفع پہنچا سکیں نہ آخرت میں کوئی ضرر پہنچا سکیں ۔(ف103)ایسے ہی سب دِینوں میں کمزور اور نکمّا دین بُت پرستوں کا دین ہے ۔ فائدہ : حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے آپ نے فرمایا اپنے گھروں سے مکڑیوں کے جالے دور کرو یہ ناداری کا باعث ہوتے ہیں ۔(ف104)کہ ان کا دین اس قدر نکمّا ہے ۔
اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں، اور انھیں نہیں سمجھتے مگر علم والے (ف۱۰۷)
(ف107)یعنی ان کے حسن و خوبی اور ان کے نفع اور فائدے اور ان کی حکمت کو علم والے سمجھتے ہیں جیسا کہ اس مثال نے مشرک اور موحِّد کا حال خوب اچھی طرح ظاہر کر دیا اور فرق واضح فرما دیا ۔ قریش کے کُفّار نے طنز کے طور پر کہا تھا کہ اللہ تعالٰی مکھی اور مکڑی کی مثالیں بیان فرماتا ہے اور اس پر انہوں نے ہنسی بنائی تھی ۔ اس آیت میں ان کا رد کر دیا گیا کہ وہ جاہل ہیں تمثیل کی حکمت کو نہیں جانتے ۔ مثال سے مقصود تفہیم ہوتی ہے اور جیسی چیز ہو اس کی شان ظاہر کرنے کے لئے ویسی ہی مثال مقتضائے حکمت ہے تو باطل اور کمزور دین کے ضعف و بطلان کے اظہار کے لئے یہ مثال نہایت ہی نافع ہے جنہیں اللہ تعالٰی نے عقل و علم عطا فرمایا وہ سمجھتے ہیں ۔
اے محبوب! پڑھو جو کتاب تمہاری طرف وحی کی گئی (ف۱۰۹) اور نماز قائم فرماؤ، بیشک نماز منع کرتی ہے بےحیائی اور بری بات سے (ف۱۱۰) اور بیشک اللہ کا ذکر سب سے بڑا (ف۱۱۱) اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو،
(ف109)یعنی قرآن شریف کہ اس کی تلاوت عبادت بھی ہے اوراس میں لوگوں کے لئے پند و نصیحت بھی اور احکام و آداب و مکارمِ اخلاق کی تعلیم بھی ۔(ف110)یعنی ممنوعاتِ شرعیہ سے لہٰذا جو شخص نماز کا پابند ہوتا ہے اور اس کو اچھی طرح ادا کرتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک نہ ایک دن وہ ان برائیوں کو ترک کر دیتا ہے جن میں مبتلا تھا ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری جوان سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ نماز پڑھا کرتا تھا اور بہت سے کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرتا تھا حضور سے اس کی شکایت کی گئی فرمایا اس کی نماز کسی روز اس کو ان باتوں سے روک دے گی چنانچہ بہت ہی قریب زمانہ میں اس نے توبہ کی اور اس کا حال بہتر ہو گیا ۔ حضرت حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ جس کی نماز اس کو بے حیائی اور ممنوعات سے نہ روکے وہ نماز ہی نہیں ۔(ف111)کہ وہ افضل طاعات ہے ۔ ترمذی کی حدیث میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں نہ بتاؤں وہ عمل جو تمہارے اعمال میں بہتر اور ربّ کے نزدیک پاکیزہ تر ، نہایت بلند رتبہ اور تمہارے لئے سونے چاندی دینے سے بہتر اور جہاد میں لڑنے اور مارے جانے سے بہتر ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا بے شک یارسولَ اللہ ، فرمایا وہ اللہ تعالٰی کا ذکر ہے ۔ ترمذی ہی کی دوسری حدیث میں ہے کہ صحابہ نے حضور سے دریافت کیا تھا کہ روزِ قیامت اللہ تعالٰی کے نزدیک کن بندوں کا درجہ افضل ہے ؟ فرمایا بکثرت ذکر کرنے والوں کا صحابہ نے عرض کیا اور خدا کی راہ میں جہاد کرنے والا ؟ فرمایا اگر وہ اپنی تلوار سے کُفّار و مشرکین کو یہاں تک مارے کہ تلوار ٹوٹ جائے اور وہ خون میں رنگ جائے جب بھی ذاکرین ہی کا درجہ اس سے بلند ہے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے اس آیت کی تفسیر یہ فرمائی ہے کہ اللہ تعالٰی کا اپنے بندوں کو یاد کرنا بہت بڑا ہے اور ایک قول اس کی تفسیر میں یہ ہے کہ اللہ تعالٰی کا ذکر بڑا ہے بے حیائی اور بُری باتوں سے روکنے اور منع کرنے میں ۔
اور اے مسلمانو! کتابیوں سے نہ جھگڑو مگر بہتر طریقہ پر (ف۱۱۲) مگر وہ جنہوں نے ان میں سے ظلم کیا (ف۱۱۳) اور کہو (ف۱۱٤) ہم ایمان لائے اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو تمہاری طرف اترا اور ہمارا تمہارا ایک معبود ہے اور ہم اس کے حضور گردن رکھتے ہیں (ف۱۱۵)
(ف112)اللہ تعالٰی کی طرف اس کی آیات سے دعوت دے کر اور حُجّتوں پر آگاہ کر کے ۔(ف113)زیادتی میں حد سے گزر گئے ، عناد اختیار کیا ، نصیحت نہ مانی ، نرمی سے نفع نہ اٹھایا ان کے ساتھ غِلظت اور سختی اختیار کرو اور ایک قول یہ ہے کہ معنٰی یہ ہیں کہ جن لوگوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ایذا دی یا جنہوں نے اللہ تعالٰی کے لئے بیٹا اور شریک بتایا ان کے ساتھ سختی کرو یا یہ معنٰی ہیں کہ ذمّی جزیہ ادا کرنے والوں کے ساتھ احسن طریقہ پر مجادلہ کرو مگر جنہوں نے ظلم کیا اور ذمّہ سے نکل گئے اور جزیہ کو منع کیا ان سے مجادلہ تلوار کے ساتھ ہے ۔مسئلہ : اس آیت سے کُفّار کے ساتھ دینی امور میں مناظرہ کرنے کا جواز ثابت ہوتا ہے اور ایسے ہی علمِ کلام سیکھنے کا جواز بھی ۔(ف114)اہلِ کتاب سے جب وہ تم سے اپنی کتابوں کا کوئی مضمون بیان کریں ۔(ف115)حدیث شریف میں ہے جب اہلِ کتاب تم سے کوئی مضمون بیان کریں تو تم نہ ان کی تصدیق کرو نہ تکذیب کرو یہ کہہ دو کہ ہم اللہ تعالٰی پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے تو اگر وہ مضمون انہوں نے غلط بیان کیا ہے تو اس کی تصدیق کے گناہ سے تم بچے رہو گے اور اگر مضمون صحیح تھا تو تم اس کی تکذیب سے محفوظ رہو گے ۔
اور اے محبوب! یونہی تمہاری طرف کتاب اتاری (ف۱۱٦) تو وہ جنہیں ہم نے کتاب عطا فرمائی (ف۱۱۷) اس پر ایمان لاتے ہیں، اور کچھ ان میں سے ہیں (ف۱۱۸) جو اس پر ایمان لاتے ہیں، اور ہماری آیتوں سے منکر نہیں ہوتے مگر (ف۱۱۹)
(ف116)قرآنِ پاک ، جیسے ان کی طرف توریت وغیرہ اتاری تھیں ۔(ف117)یعنی جنہیں توریت دی جیسے کہ حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے اصحاب ۔ فائدہ : یہ سورت مکّیہ ہے اور حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے اصحاب مدینہ میں ایمان لائے اللہ تعالٰی نے اس سے پہلے ان کی خبر دی یہ غیبی خبروں میں سے ہے ۔ (جمل)(ف118)یعنی اہلِ مکّہ میں سے ۔(ف119)جو کُفر میں نہایت سخت ہیں ۔ جحود اس انکار کو کہتے ہیں جو معرفت کے بعد ہو یعنی جان بوجھ کر مُکرنا اور واقعہ بھی یہی تھا کہ یہود خوب پہچانتے تھے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ تعالٰی کے سچّے نبی ہیں اور قرآن حق ہے یہ سب کچھ جانتے ہوئے انہوں نے عناداً انکار کیا ۔
اور اس (ف۱۲۰) سے پہلے تم کوئی کتاب نہ پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتے تھے یوں ہوتا (ف۱۲۱) تو باطل ضرور شک لاتے (ف۱۲۲)
(ف120)قرآن کے نازِل ہونے ۔(ف121)یعنی آپ لکھتے پڑھتے ہوتے ۔(ف122)یعنی اہلِ کتاب کہتے کہ ہماری کتابوں میں نبیٔ آخر الزماں کی صفت یہ مذکور ہے کہ وہ اُمّی ہوں گے نہ لکھیں گے نہ پڑھیں گے مگر انہیں اس شک کا موقع ہی نہ ملا ۔
بلکہ وہ روشن آیتیں ہیں ان کے سینوں میں جن کو علم دیا گیا (۱۲۳) اور ہماری آیتوں کا انکار نہیں کرتے مگر ظالم (ف۱۲٤)
(ف123)ضمیرِ ھُوَ کا مرجع قرآن ہے اس صورت میں معنٰی یہ ہیں کہ قرآنِ کریم روشن آیتیں ہیں جو عُلَماء اور حُفّاظ کے سینوں میں محفوظ ہیں ۔ روشن آیت ہونے کے یہ معنٰی کہ وہ ظاہر الاعجاز ہیں اور یہ دونوں باتیں قرآنِ پاک کے ساتھ خاص ہیں اور کوئی ایسی کتاب نہیں جو معجِزہ ہو اور نہ ایسی کہ ہر زمانے میں سینوں میں محفوظ رہی ہو اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے ھُوَ کی ضمیر کا مرجع سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو قرار دے کر آیت کے یہ معنٰی بیان فرمائے کہ سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم صاحب ہیں ان آیاتِ بیّنات کے جو ان لوگوں کے سینوں میں محفوظ ہیں جنہیں اہلِ کتاب میں سے علم دیا گیا کیونکہ وہ اپنی کتابوں میں آپ کی نعت و صفت پاتے ہیں ۔ (خازن)(ف124)یعنی یہودِ عنود کہ بعد ظہورِ معجزات کے جان پہچان کر عناداً منکِر ہوتے ہیں ۔
اور بولے (ف۱۲۵) کیوں نہ اتریں کچھ نشانیاں ان پر ان کے رب کی طرف سے (ف۱۲٦) تم فرماؤ نشانیاں تو اللہ ہی کے پاس ہیں (ف۱۲۷) اور میں تو یہی صاف ڈر سنانے والا ہوں (ف۱۲۸)
(ف125)کُفّارِ مکّہ ۔(ف126)مثلِ ناقۂ حضرت صالح و عصائے حضرت موسٰی اور مائدۂ حضرت عیسٰی کے علیہم الصلٰوۃ والسلام ۔(ف127)حسبِ حکمت جو چاہتا ہے نازِل فرماتا ہے ۔(ف128)نافرمانی کرنے والوں کو عذاب کا اور اسی کا مکلّف ہوں اس کے بعد اللہ تعالٰی کُفّارِ مکّہ کے اس قول کا جواب ارشاد فرماتا ہے ۔
اور کیا یہ انھیں بس نہیں کہ ہم نے تم پر کتاب اتاری جو ان پر پڑھی جاتی ہے (ف۱۲۹) بیشک اس میں رحمت اور نصیحت ہے ایمان والوں کے لیے،
(ف129)معنٰی یہ ہیں کہ قرآنِ کریم معجِزہ ہے ، انبیاءِ متقدّمین کے معجزات سے اتم و اکمل اور تمام نشانیوں سے طالبِ حق کو بے نیاز کرنے والا کیونکہ جب تک زمانہ ہے قرآنِ کریم باقی و ثابت رہے گا اور دوسرے معجزات کی طرح ختم نہ ہو گا ۔
تم فرماؤ اللہ بس ہے میرے اور تمہارے درمیان گواہ (ف۱۳۰) جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اور وہ جو باطل پر یقین لائے اور اللہ کے منکر ہوئے وہی گھاٹے میں ہیں،
(ف130)میرے صدقِ رسالت اور تمہاری تکذیب کا معجزات سے میری تائید فرما کر ۔
اور تم سے عذاب کی جلدی کرتے ہیں (ف۱۳۱) اور اگر ایک ٹھہرائی مدت نہ ہوتی (ف۱۳۲) تو ضرور ان پر عذاب آجاتا (ف۱۳۳) اور ضرور ان پر اچانک آئے گا جب وہ بےخبر ہوں گے،
(ف131)یہ آیت نضر بن حارث کے حق میں نازِل ہوئی جس نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کہا تھا کہ ہمارے اوپر آسمان سے پتّھروں کی بارش کرائیے ۔(ف132)جو اللہ تعالٰی نے معیّن کی ہے اور اس مدّت تک عذاب کا مؤخّر فرمانا مقتضائے حکمت ہے ۔(ف133)اور تاخیر نہ ہوتی ۔
اے میرے بندو! جو ایمان لائے بیشک میری زمین وسیع ہے تو میری ہی بندگی کرو (ف۱۳٦)
(ف136)جس زمین میں بسہولت عبادت کر سکو معنٰی یہ ہیں کہ جب مومن کو کسی سرزمین میں اپنے دین پر قائم رہنا اور عبادت کرنا دشوار ہو تو چاہئے کہ وہ ایسی سرزمین کی طرف ہجرت کرے جہاں آسانی سے عبادت کر سکے اور دین کی پابندی میں دشواریاں درپیش نہ ہوں ۔شانِ نُزول : یہ آیت ضعفاءِ مسلمینِ مکّہ کے حق میں نازِل ہوئی جنہیں وہاں رہ کر اسلام کے اظہار میں خطرے اور تکلیفیں تھیں اور نہایت ضیق میں تھے انہیں حکم دیا گیا کہ میری بندگی تو ضرور ہے یہاں رہ کر نہ کر سکو تو مدینہ شریف کو ہجرت کر جاؤ وہ وسیع ہے وہاں امن ہے ۔
ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے (ف۱۳۷) پھر ہماری ہی طرف پھروگے (ف۱۳۸)
(ف137)اور اس دارِ فانی کو چھوڑنا ہی ہے ۔(ف138)ثواب و عذاب اور جزائے اعمال کے لئے تو لازم ہے کہ ہمارے دین پر قائم رہو اور اپنے دین کی حفاظت کے لئے ہجرت کرو ۔
اور بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ضرور ہم انھیں جنت کے بالا خانوں پر جگہ دیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ہمیشہ ان میں رہیں گے، کیا ہی اچھا اجر کام والوں کا (ف۱۳۹)
وہ جنہوں نے صبر کیا (ف۱٤۰) اور اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں (ف۱٤۱)
(ف140)سختیوں پر اور کسی شدّت میں اپنے دین کو نہ چھوڑا ، مشرکین کی ایذا سہی ، ہجرت اختیار کر کے دین کی خاطر وطن کو چھوڑنا گوارا کیا ۔(ف141)تمام امور میں ۔
اور زمین پر کتنے ہی چلنے والے ہیں کہ اپنی روزی ساتھ نہیں رکھتے (ف۱٤۲) اللہ روزی دیتا ہے انھیں اور تمہیں (ف۱٤۳) اور وہی سنتا جانتا ہے (ف۱٤٤)
(ف142)شانِ نُزول : مکّۂ مکرّمہ میں مومنین کو مشرکین شب و روز طرح طرح کی ایذائیں دیتے رہتے تھے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان سے مدینۂ طیّبہ کی طرف ہجرت کرنے کو فرمایا تو ان میں سے بعض نے کہا کہ ہم مدینہ شریف کو کیسے چلے جائیں نہ وہاں ہمارا گھر ، نہ مال ، کون ہمیں کھلائے گا ، کون پلائے گا ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور فرمایا گیا کہ بہت سے جاندار ایسے ہیں جو اپنی روزی ساتھ نہیں رکھتے اس کی انہیں قوّت نہیں اور نہ وہ اگلے دن کے لئے کوئی ذخیرہ جمع کرتے ہیں جیسے کہ بہائم ہیں طیور ہیں ۔(ف143)تو جہاں ہو گے وہی روزی دے گا تو یہ کیا پوچھنا کہ ہمیں کون کھلائے گا کون پلائے گا ساری خَلق کا اللہ رزّاق ہے ضعیف اور قوی مقیم اور مسافر سب کو وہی روزی دیتا ہے ۔(ف144)تمہارے اقوال اور تمہارے دل کی باتوں کو ۔ حدیث شریف میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا اگر تم اللہ تعالٰی پر توکُّل کرو جیسا چاہئے تو وہ تمہیں ایسی روزی دے جیسی پرندوں کو دیتا ہے کہ صبح بھوکے خالی پیٹ اٹھتے ہیں شام کو سیر واپس ہوتے ہیں ۔ (ترمذی)
اور جو تم ان سے پوچھو کس نے اتارا آسمان سے پانی تو اس کے سبب زمین زندہ کردی مَرے پیچھے ضرور کہیں گے اللہ نے (ف۱٤۷) تم فرماؤ سب خوبیاں اللہ کو، بلکہ ان میں اکثر بےعقل ہیں (ف۱٤۸)
(ف147)اس کے مقِر ہیں ۔(ف148)کہ باوجود اس اقرار کے توحید کے منکِر ہیں ۔
اور یہ دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل کود (ف۱٤۹) اور بیشک آخرت کا گھر ضرور وہی سچی زندگی ہے (ف۱۵۰) کیا اچھا تھا اگر جانتے (ف۱۵۱)
(ف149)کہ جیسے بچّے گھڑی بھر کھیلتے ہیں کھیل میں دل لگاتے ہیں پھر اس سب کو چھوڑ کر چل دیتے ہیں یہی حال دنیا کا ہے نہایت سریع الزوال ہے اور موت یہاں سے ایسا ہی جدا کر دیتی ہے جیسے کھیل والے بچّے منتشر ہو جاتے ہیں ۔(ف150)کہ وہ زندگی پائیدار ہے ، دائمی ہے ، اس میں موت نہیں ، زندگانی کہلانے کے لائق وہی ہے ۔(ف151)دنیا اور آخرت کی حقیقت ، تو دنیائے فانی کو آخرت کی جاودانی زندگی پر ترجیح نہ دیتے ۔
پھر جب کشتی میں سوار ہوتے ہیں (ف۱۵۲) اللہ کو پکارتے ہیں ایک اسی عقیدہ لاکر (ف۱۵۳) پھر جب وہ انھیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے (ف۱۵٤) جبھی شرک کرنے لگتے ہیں (ف۱۵۵)
(ف152)اور ڈوبنے کا اندیشہ ہوتا ہے تو باوجود اپنے شرک و عناد کے بُتوں کو نہیں پکارتے بلکہ ۔(ف153)کہ اس مصیبت سے نَجات وہی دے گا ۔(ف154)اور ڈوبنے کا اندیشہ اور پریشانی جاتی رہتی ہے اطمینان حاصل ہوتا ہے ۔(ف155)زمانۂ جاہلیّت کے لوگ بحری سفر کرتے وقت بُتوں کوساتھ لے جاتے تھے جب ہوا مخالف چلتی اور کَشتی خطرہ میں آتی تو بُتوں کو دریا میں پھینک دیتے اور یاربّ یاربّ پکارنے لگتے اور امن پانے کے بعد پھر اسی شرک کی طرف لوٹ جاتے ۔
کہ ناشکری کریں ہماری دی ہوئی نعمت کی (ف۱۵٦) اور برتیں ۔ (ف۱۵۷) تو اب جانا چاہتے ہیں، (ف۱۵۸)
(ف156)یعنی اس مصیبت سے نَجات کی ۔(ف157)اور اس سے فائدہ اٹھائیں بخلاف مومنینِ مخلصین کے کہ وہ اللہ تعالٰی کی نعمتوں کے اخلاص کے ساتھ شکر گزار رہتے ہیں اور جب ایسی صورت پیش آتی ہے اور اللہ تعالٰی اس سے رہائی دیتا ہے تو اس کی اطاعت میں اور زیادہ سرگرم ہو جاتے ہیں مگر کافِروں کا حال اس کے بالکل برخلاف ہے ۔(ف158)نتیجہ اپنے کردار کا ۔
اور کیا انہوں نے (ف۱۵۹) یہ نہ دیکھا کہ ہم نے (ف۱٦۰) حرمت والی زمین پناہ بنائی (ف۱٦۱) اور ان کے آس پاس والے لوگ اچک لیے جاتے ہیں (ف۱٦۲) تو کیا باطل پر یقین لاتے ہیں (ف۱٦۳) اور اللہ کی دی ہوئی نعمت سے (ف۱٦٤) ناشکری کرتے ہیں،
(ف159)یعنی اہلِ مکّہ نے ۔(ف160)ان کے شہر مکّۂ مکرّمہ کی ۔(ف161)ا ن کے لئے جو اس میں ہوں ۔(ف162)قتل کئے جاتے ہیں گرفتار کئے جاتے ہیں ۔(ف163)یعنی بُتوں پر ۔(ف164)یعنی سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے اور اسلام سے کُفر کر کے ۔
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۱٦۵) یا حق کو جھٹلائے (ف۱٦٦) جب وہ اس کے پاس آئے، کیا جہنم میں کافروں کا ٹھکانا نہیں (ف۱٦۷)
(ف165)اس کے لئے شریک ٹھہرائے ۔(ف166)سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نبوّت اور قرآن کو نہ مانے ۔(ف167)بے شک تمام کافِروں کا ٹھکانا جہنّم ہی ہے ۔
اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انھیں اپنے راستے دکھا دیں گے (ف۱٦۸) اور بیشک اللہ نیکوں کے ساتھ ہے (ف۱٦۹)
(ف168)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ معنٰی یہ ہیں کہ جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ہم انہیں ثواب کی راہ دیں گے ۔ حضرت جنید نے فرمایا جو توبہ میں کوشش کریں گے انہیں اخلاص کی راہ دیں گے ۔ حضرت فضیل بن عیاض نے فرمایا جو طلبِ علم میں کوشش کریں گے انہیں ہم عمل کی راہ دیں گے ۔ حضرت سعد بن عبداللہ نے فرمایا جو اقامتِ سنّت میں کوشش کریں گے ہم انہیں جنّت کی راہ دکھا دیں گے ۔(ف169)ان کی مدد اور نصرت فرماتا ہے ۔