Alif-Laam-Meem. (Alphabets of the Arabic language; Allah and to whomever He reveals, know their precise meanings.)
अलिफ़ लाम मीम
Alif Laam Meem
(ف2) الٓمّٓۤ سورتوں کے اول جو حروفِ مقطّعہ آتے ہیں ان کی نسبت قولِ راجح یہی ہے کہ وہ اَسرارِ الٰہی اور متشابہات سے ہیں ، ان کی مراد اللہ اور رسول جانیں ہم اس کے حق ہونے پر ایمان لاتے ہیں ۔
وہ بلند رتبہ کتاب (قرآن) کوئی شک کی جگہ نہیں، ( ف ۳ ) اس میں ہدایت ہے ڈر والوں کو (ف٤)
This is the exalted Book (the Qur’an), in which there is no place for doubt; a guidance for the pious.
वह बुलन्द रुत्बा किताब (क़ुरआन) कोई शक की जगह नहीं, इस में हिदायत है डर वालों को
Woh buland rutba kitaab (Qur’an) koi shak ki jagah nahin, is mein hidaayat hai dar walon ko
(ف3)اس لئے کہ شک اس میں ہوتا ہے جس پر دلیل نہ ہو ، قرآنِ پاک ایسی واضح اور قوی دلیلیں رکھتا ہے جو عاقلِ مُنْصِف کو اس کے کتابِ الٰہی اور حق ہونے کے یقین پر مجبور کرتی ہیں تو یہ کتاب کسی طرح قابلِ شک نہیں جس طرح اندھے کے انکار سے آفتاب کا وجود مشتبہ نہیں ہوتا ایسے ہی مُعانِدِ سیاہ دل کے شک و انکار سے یہ کتاب مشکوک نہیں ہو سکتی ۔(ف4) ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ اگرچہ قرآنِ کریم کی ہدایت ہر ناظرکے لئے عام ہے ، مومن ہو یا کافِر جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا ھُدًی لِّلنَّا سِ لیکن چونکہ اِنتفاع اس سے اہلِ تقوٰی کو ہوتا ہے اس لئے ھُدًی لِلّمُتَّقِیْنَ ارشاد ہوا جیسے کہتے ہیں بارش سبزہ کے لئے ہے یعنی منتفع ، اس سے سبزہ ہوتا ہے اگرچہ برستی کلر اور زمین بے گیاہ پر بھی ہے ۔ تقوٰی کے کئی معنٰی آتے ہیں ، نفس کو خوف کی چیز سے بچانا اور عرفِ شرع میں ممنوعات چھوڑ کر نفس کو گناہ سے بچانا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا متّقی وہ ہے جو شرک وکبائر و فواحش سے بچے ۔ بعضوں نے کہا متّقی وہ ہے جو اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر نہ سمجھے ۔ بعض کا قول ہے تقوٰی حرام چیزوں کا ترک اور فرائض کا ادا کرنا ہے ۔ بعض کے نزدیک معصیت پر اصرار اور طاعت پر غرور کا ترک تقوٰی ہے ۔ بعض نے کہا تقوٰی یہ ہے کہ تیرا مولٰی تجھے وہاں نہ پائے جہاں اس نے منع فرمایا ۔ ایک قول یہ ہے کہ تقوٰی حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام اور صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کی پیروی کا نام ہے ۔ (خازن) یہ تمام معنی باہم مناسبت رکھتے ہیں اور مآل کے اعتبار سے ان میں کچھ مخالفت نہیں ۔ تقوٰی کے مراتب بہت ہیں عوام کا تقوٰی ایمان لا کر کُفر سے بچنا ، مُتوسّطین کا اوامر و نواہی کی اطاعت ، خواص کا ہر ایسی چیز کو چھوڑنا جو اللہ تعالٰی سے غافل کرے ۔ (جمل) حضرت مترجم قدس سرہ نے فرمایا تقوٰی سات قسم کا ہے ۔(۱) کُفر سے بچنا یہ بفضلہ تعالٰی ہر مسلمان کو حاصل ہے (۲) بدمذہبی سے بچنا یہ ہر سنی کو نصیب ہے (۳) ہر کبیرہ سے بچنا (۴) صغائر سے بھی بچنا (۵) شبہات سے احتراز (۶) شہوات سے بچنا (۷) غیر کی طرف التفات سے بچنا یہ اخص الخواص کا منصب ہےاور قرآنِ عظیم ساتوں مرتبوں کا ہادی ہے ۔
وہ جو بےدیکھے ایمان لائیں (ف۵) اور نماز قائم رکھیں (ف٦) اور ہماری دی ہوئی روزی میں سے ہماری میں اٹھائیں ۔ (ف۷)
Those who believe without seeing (the hidden), and keep the (obligatory) prayer established, and spend in Our cause from what We have bestowed upon them.
वह जो बे देखे ईमान लाएँ और नमाज़ क़ायम रखें और हमारी दी हुई रोज़ी में से हमारी राह में उठाएँ -
Woh jo be dekhe imaan laayen aur namaz qayam rakhen aur hamari di hui rozi mein se hamari raah mein uthayen –
(ف5) اَلَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ یہاں سے مُفْلِحُوْنَ تک آیتیں مومنین با اخلاص کے حق میں ہیں جو ظاہراً و باطناً ایماندار ہیں ۔ اس کے بعد دو آیتیں کھلے کافِروں کے حق میں ہیں جو ظاہراً و باطناً کافِر ہیں ۔ اس کے بعد وَ مِنَ النَّاسِ سے تیرہ آیتیں منافقین کے حق میں ہیں جو باطن میں کافِر ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں ۔ (جمل) غیب مصدر یا اسمِ فاعِل کے معنی میں ہے ، اس تقدیر پر غیب وہ ہے جو حواس و عقل سے بدیہی طور پر معلوم نہ ہو سکے ، اس کی دو قسمیں ہیں ، ایک وہ جس پر کوئی دلیل نہ ہو یہ علمِ غیب ذاتی ہے اور یہی مراد ہے آیۂ عِنْدَہ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُھَآ اِلَّا ھُوَ میں اور ان تمام آیات میں جن میں علمِ غیب کی غیرِ خدا سے نفی کی گئی ہے ، اس قِسم کا علمِ غیب یعنی ذاتی جس پر کوئی دلیل نہ ہو اللہ تعالٰی کے ساتھ خاص ہے ، غیب کی دوسری قِسم وہ ہے جس پر دلیل ہو جیسے صانِعِ عالَم اور اس کی صفات اور نبوّات اور ان کے متعلقات احکام و شرائع و روزِ آخر اور اس کے احوال ، بَعث ، نشر ، حساب ، جزا وغیرہ کا علم جس پر دلیلیں قائم ہیں اور جو تعلیمِ الٰہی سے حاصل ہوتا ہے یہاں یہی مراد ہے ، اس دوسرے قسم کے غیوب جو ایمان سے علاقہ رکھتے ہیں ان کا علم و یقین ہر مومن کو حاصل ہے اگر نہ ہو آدمی مومن نہ ہو سکے اور اللہ تعالٰی اپنے مقرب بندوں انبیاء و اولیاء پر جو غیوب کے دروازے کھولتا ہے وہ اسی قسم کا غیب ہے یا غیب معنی مصدری میں رکھا جائے اور غیب کا صلہ مومن بہ قرار دیا جائے یا باء کو متلبسین محذوف کے متعلق کر کے حال قرا ر دیا جائے ، پہلی صورت میں آیت کے معنی یہ ہوں گے جو بے دیکھے ایمان لائیں جیسا حضرت مترجم قدس سرہ نے ترجمہ کیا ہے ، دوسری صورت میں معنی یہ ہوں گے جو مؤمنین کے پسِ غیب ایمان لائیں یعنی ان کا ایمان منافقوں کی طرح مومنین کے دکھانے کے لئے نہ ہو بلکہ وہ مخلص ہوں ، غائب حاضر ہر حال میں مؤمن رہیں ۔ غیب کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ غیب سے قلب یعنی دل مراد ہے ، اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ وہ دل سے ایمان لائیں ۔ (جمل) ایمان جن چیزوں کی نسبت ہدایت و یقین سے معلوم ہے کہ یہ دینِ محمّدی سے ہیں ، ان سب کو ماننے اور دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار کرنے کا نام ایمان صحیح ہے ، عمل ایمان میں داخل نہیں اسی لئے یُؤمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ تر جمۂ کنز الایمان : (جو بے دیکھے ایمان لائیں ) کے بعد یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ تر جمۂ کنز الایمان : (نماز قائم رکھیں ) فرمایا ۔(ف6)نماز کے قائم رکھنے سے یہ مراد ہے کہ اس پر مداومت کرتے ہیں اور ٹھیک وقتوں پر پابندی کے ساتھ اس کے ارکان پورے پورے ادا کرتے اور فرائض ، سُنَن ، مستحبات کی حفاظت کرتے ہیں ، کسی میں خلل نہیں آنے دیتے ، مفسدات و مکروہات سے اس کو بچاتے ہیں اور اس کے حقوق اچھی طرح ادا کرتے ہیں ۔ نماز کے حقوق دو طرح کے ہیں ایک ظاہری وہ تو یہی ہیں جو ذکر ہوئے ، دوسرے باطنی وہ خشوع اورحضوریعنی دل کو فارغ کر کے ہمہ تن بارگاہِ حق میں متوجہ ہو جانا اور عرض و نیاز و مناجات میں محویت پانا ۔(ف7)راہِ خدا میں خرچ کرنے سے یا زکٰوۃ مراد ہے جیسا دوسری جگہ فرمایا یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکوٰۃَ یا مطلق انفاق خواہ فرض و واجب ہو جیسے زکٰوۃ ، نذر ، اپنا اور اپنے اہل کا نفقہ وغیرہ ، خواہ مستحب جیسے صدقاتِ نافلہ ، اموات کا ایصالِ ثواب ۔ مسئلہ : گیارھویں ، فاتحہ، تیجہ ، چالیسواں وغیرہ بھی اس میں داخل ہیں کہ وہ سب صدقاتِ نافلہ ہیں اور قرآنِ پاک و کلمہ شریف کا پڑھنا ، نیکی کے ساتھ اور نیکی ملا کر اجر و ثواب بڑھاتا ہے ۔ مسئلہ : مِمَّا میں مِنْ تبعیضیہ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ انفاق میں اسراف ممنوع ہے یعنی انفاق خواہ اپنے نفس پر ہو یا اپنے اہل پر یا کسی اور پر ، اعتدال کے ساتھ ہو اسراف نہ ہونے پائے ۔ رَزَقْنَا ھُمْ کی تقدیم اور رزق کو اپنی طرف نسبت فرما کر ظاہر فرمایا کہ مال تمہارا پیدا کیا ہوا نہیں ، ہمارا عطا فرمایا ہوا ہے ، اس کو اگر ہمارے حکم سے ہماری راہ میں خرچ نہ کرو تو تم نہایت ہی بخیل ہو اور یہ بُخل نہایت قبیح ۔
اور وہ کہ ایمان لائیں اس پر جو اے محبوب تمہاری طرف اترا اور جو تم سے پہلے اترا (ف۸) اور آخرت پر یقین رکھیں ، (ف۹)
And who believe in this (Qur’an) which has been sent down upon you, O beloved Prophet, (Mohammed – peace and blessings be upon him) and what was sent down before you; and are certain of the Hereafter.
और वह कि ईमान लाएँ उस पर जो ऐ महबूब तुम्हारी तरफ उतरा और जो तुम से पहले उतरा और आख़िरत पर यक़ीन रखें,
Aur woh ke imaan laayen us par jo ae Mehboob tumhari taraf utara aur jo tum se pehle utara aur aakhirat par yaqeen rakhen,
(ف8)اس آیت میں اہلِ کتاب سے وہ مومنین مراد ہیں جو اپنی کتاب اور تمام پچھلی آسمانی کتابوں اور انبیاء علیہم السلام کی وحیوں پر بھی ایمان لائے اور قرآنِ پاک پر بھی اور مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ سے تمام قرآنِ پاک اور پوری شریعت مراد ہے ۔ (جمل) مسئلہ : جس طرح قرآنِ پاک پر ایمان لانا ہر مکلَّف پر فرض ہے اسی طرح کتبِ سابقہ پر ایمان لانا بھی ضروری ہے جو اللہ تعالٰی نے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سے قبل انبیاء علیہم السلام پر نازل فرمائیں البتہ ان کے جو احکام ہماری شریعت میں منسوخ ہو گئے ان پر عمل درست نہیں مگر ایمان ضروری ہے مثلاً پچھلی شریعتوں میں بیتُ الْمقد س قبلہ تھا ، اس پر ایمان لانا تو ہمارے لئے ضروری ہے مگر عمل یعنی نماز میں بیت المقدس کی طرف منہ کرنا جائز نہیں ، منسوخ ہو چکا ۔ مسئلہ : قرآنِ کریم سے پہلے جو کچھ اللہ تعالٰی کی طرف سے اس کے انبیاء پر نازل ہوا ان سب پر اجمالاً ایمان لانا فرضِ عین ہے اور قرآن شریف پر تفصیلاً فرض کفایہ ہے لہٰذا عوام پر اس کی تفصیلات کے علم کی تحصیل فرض نہیں جب کہ عُلَماء موجود ہوں جنہوں نے اس کی تحصیلِ علم میں پوری جہد صرف کی ہو ۔(ف9)یعنی دارِ آخرت اور جو کچھ اس میں ہے جزا و حساب وغیرہ سب پر ایسا یقین و اطمینان رکھتے ہیں کہ ذرا شک و شبہ نہیں ، اس میں اہلِ کتاب وغیرہ کُفّار پر تعریض ہے جن کے اعتقاد آخرت کے متعلق فاسد ہیں ۔
بیشک وہ جن کی قسمت میں کفر ہے (ف۱۰) انہیں برابر ہے، چاہے تم انہیں ڈراؤ، یا نہ ڈراؤ ، وہ ایمان لانے کے نہیں ۔
As for those whose fate is disbelief, whether you warn them or do not warn them – it is all one for them; they will not believe. (Because their hearts are sealed – see next verse).
बेशक वह जिनकी क़िस्मत में कुफ्र है उन्हें बराबर है, चाहे तुम उन्हें डराओ, या न डराओ, वह ईमान लाने के नहीं ।
Beshak woh jin ki qismat mein kufr hai unhein barabar hai, chahe tum unhein darao, ya na darao, woh imaan laane ke nahin.
(ف10)اولیاء کے بعد اعداء کا ذکر فرمانا حکمتِ ہدایت ہے کہ اس مقابلہ سے ہر ایک کو اپنے کردار کی حقیقت اور اس کے نتائج پر نظر ہو جائے ۔ شانِ نُزول : یہ آیت ابوجہل ، ابولہب وغیرہ کُفّار کے حق میں نازل ہوئی جو علمِ الٰہی میں ایمان سے محروم ہیں اسی لئے ان کے حق میں اللہ تعالٰی کی مخالفت سے ڈرانا ، نہ ڈرانا دونوں برابر ہیں ، انہیں نفع نہ ہو گا مگر حضور کی سعی بیکار نہیں کیونکہ منصبِ رسالتِ عامّہ کا فرض رہنمائی و اقامت حُجّت و تبلیغ علٰی وجہِ الکمال ہے ۔ مسئلہ : اگر قوم پندپذیر نہ ہو تب بھی ہادی کو ہدایت کا ثواب ملے گا ۔ اس آیت میں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تسکینِ خاطر ہے کہ کُفّار کے ایمان نہ لانے سے آپ مغموم نہ ہوں آپ کی سعی تبلیغِ کامل ہے اس کا اجر ملے گا ، محروم تو یہ بدنصیب ہیں جنہوں نے آپ کی اطاعت نہ کی ۔ کُفر کے معنٰی اللہ تعالٰی کے وجود یا اس کی وحدانیت یا کسی نبی کی نبوّت یا ضروریاتِ دین سے کسی امر کا انکار یا کوئی ایسا فعل جو عِنْدَ الشَّرع انکار کی دلیل ہو کُفر ہے ۔
اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر کردی اور ان کی آنکھوں پر گھٹا ٹوپ ہے، (ف۱۱) اور ان کے لئے بڑا عذاب
Allah has sealed their hearts and their ears, and on their eyes is a covering; and for them is a terrible punishment.
अल्लाह ने उनके दिलों पर और कानों पर मुहर कर दी और उनकी आँखों पर ग़ट्टा टोپ है, और उनके लिये बड़ा अज़ाब,
Allah ne unke dilon par aur kanon par mohar kar di aur unki aankhon par ghatta top hai, aur unke liye bara azaab,
(ف11)خلاصہ : مطلب یہ ہے کہ کُفّار ضلالت و گمراہی میں ایسے ڈوبے ہوئے ہیں کہ حق کے دیکھنے ، سننے ، سمجھنے سے اس طرح محروم ہو گئے جیسے کسی کے دل اور کانوں پر مُہر لگی ہو اور آنکھوں پر پردہ پڑا ہو ۔ مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ بندوں کے افعال بھی تحتِ قدرتِ الٰہی ہیں ۔
اور کچھ لوگ کہتے ہیں (ف۱۲) کہ ہم اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائے اور وہ ایمان والے نہیں
And among the people are some* that say, “We believe in Allah and the Last Day**” whereas they are not believers! (* The hypocrites ** the Day of Resurrection)
और कुछ लोग कहते हैं कि हम अल्लाह और पिछले दिन पर ईमान लाए और वह ईमान वाले नहीं,
Aur kuch log kehte hain ke hum Allah aur pichhle din par imaan laaye aur woh imaan wale nahin,
(ف12)اس سے معلوم ہوا کہ ہدایت کی راہیں ان کے لئے اول ہی سے بند نہ تھیں کہ جائے عذر ہوتی بلکہ ان کے کُفر و عناد اور سرکشی و بے دینی اور مخالفتِ حق و عداوتِ انبیاء علیہم السلام کا یہ انجام ہے جیسے کوئی شخص طبیب کی مخالفت کرے اور زہرِ قاتل کھا لے اور اس کے لئے دوا سے اِنتفاع کی صورت نہ رہے تو خود ہی مستحقِ ملامت ہے ۔
فریب دیا چاہتے ہیں اللہ اور ایمان والوں کو (ف۱۳) اور حقیقت میں فریب نہیں دیتے مگر اپنی جانوں کو اور انہیں شعور نہیں ۔
They wish to deceive Allah and the believers; and in fact they deceive none except themselves and they do not have any understanding.
फ़रेब दिया चाहते हैं अल्लाह और ईमान वालों को और हक़ीक़त में फ़रेब नहीं देते मगर अपनी जानों को और उन्हें शऊर नहीं ।
Fareb dena chahte hain Allah aur imaan walon ko aur haqeeqat mein fareb nahin dete magar apni jaanon ko aur unhein shaoor nahin.
(ف13)شانِ نُزول : یہاں سے تیرہ آیتیں منافقین کی شان میں نازل ہوئیں جو باطن میں کافِر تھے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے ، اللہ تعالٰی نے فرمایا مَا ھُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ وہ ایمان والے نہیں یعنی کلمہ پڑھنا ، اسلام کا مدعی ہونا ، نماز روزہ ادا کرنا ، مومن ہونے کے لئے کافی نہیں جب تک دل میں تصدیق نہ ہو ۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ جتنے فرقے ایمان کا دعوٰی کرتے ہیں اور کُفر کا اعتقاد رکھتے ہیں سب کا یہی حکم ہے کہ کافِر خارج از اسلام ہیں ، شرع میں ایسوں کو منافق کہتے ہیں ، ان کا ضرر کھلے کافِروں سے زیادہ ہے ۔ مِنَ النَّاسِ فرمانے میں لطیف رَمْز یہ ہے کہ یہ گروہ بہتر صفات و انسانی کمالات سے ایسا عاری ہے کہ اس کا ذکر کسی وصف و خوبی کے ساتھ نہیں کیا جاتا ، یوں کہا جاتا ہے کہ وہ بھی آدمی ہیں ۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ کسی کو بشر کہنے میں اس کے فضائل و کمالات کے اِنکار کا پہلو نکلتا ہے اس لئے قرآنِ پاک میں جا بجا انبیاء کرام کے بشر کہنے والوں کو کافِر فرمایا گیا اور درحقیقت انبیاء کی شان میں ایسا لفظ ادب سے دور اور کُفّار کا دستور ہے ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا مِنَ النَّاسِ سامعین کو تعجب دلانے کے لئے فرمایا گیا کہ ایسے فریبی مکار اور ایسے احمق بھی آدمیوں میں ہیں ۔
ان کے دلوں میں بیماری ہے (ف۱٤) تو اللہ نے ان کی بیماری اور بڑھائی اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے، بدلا ان کے جھوٹ کا ۔ (ف۱۵)
In their hearts is a disease, so Allah has increased their disease; and for them is a painful punishment, because of their lies.
उनके दिलों में बीमारी है तो अल्लाह ने उनकी बीमारी और बढ़ाई और उनके लिये दर्दनाक अज़ाब है, बदला उनके झूट का -
Unke dilon mein bimaari hai to Allah ne unki bimaari aur barhayi aur unke liye dardnaak azaab hai, badla unke jhoot ka –
(ف14)اللہ تعالٰی اس سے پاک ہے کہ اس کو کوئی دھوکا دے سکے ، وہ اسرار و مخفیات کا جاننے والا ہے ، مراد یہ ہے کہ منافق اپنے گمان میں خدا کو فریب دینا چاہتے ہیں یا یہ کہ خدا کو فریب دینا یہی ہے کہ رسول علیہ السلام کو دھوکا دینا چاہیں کیونکہ وہ اس کے خلیفہ ہیں اور اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب کو اَسرار کا علم عطا فرمایا ہے ، وہ ان منافقین کے چُھپے کُفر پر مطلع ہیں اور مسلمان ان کے اطلاع دینے سے باخبر تو ان بے دینوں کا فریب نہ خدا پر چلے ، نہ رسول پر ، نہ مؤمنین پر بلکہ درحقیقت وہ اپنی جانوں کو فریب دے رہے ہیں ۔ مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ تقیہ بڑا عیب ہے جس مذہب کی بنا تقیہ پر ہو وہ باطل ہے ، تقیہ والے کا حال قابلِ اعتماد نہیں ہوتا ، توبہ ناقابلِ اطمینان ہوتی ہے اس لئے عُلَماء نے فرمایا لَاتُقْبَلُ تَوْبَۃُ الزِّنْدِیْقِ ۔(ف15)بدعقیدگی کو قلبی مرض فرمایا گیا اس سے معلوم ہوا کہ بدعقیدگی روحانی زندگی کے لئے تباہ کُن ہے مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ جھوٹ حرام ہے اس پر عذابِ اَلیم مرتب ہوتا ہے ۔
اور ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو، (ف۱٦) تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں
And when it is said to them, “Do not cause turmoil in the earth”, they say, “We are only peacemakers!”
और उन से कहा जाए ज़मीन में फ़साद न करो, तो कहते हैं हम तो संवारने वाले हैं,
Aur un se kaha jaye zameen mein fasaad na karo, to kehte hain hum to sanwarnay walay hain,
(ف16)مسئلہ : کُفّار سے میل جول ، ان کی خاطر دین میں مُداہنت اور اہلِ باطل کے ساتھ تَمَلّق و چاپلوسی اور ان کی خوشی کے لئے صُلحِ کُل بن جانا اور اظہارِ حق سے باز رہنا شانِ منافق اور حرام ہے ، اسی کو منافقین کا فساد فرمایا گیا ۔ آج کل بہت لوگوں نے یہ شیوہ کر لیا ہے کہ جس جلسہ میں گئے ویسے ہی ہو گئے ، اسلام میں اس کی ممانعت ہے ظاہر و باطن کا یکساں نہ ہونا بڑا عیب ہے ۔
اور جب ان سے کہا جائے ایمان لاؤ جیسے اور لوگ ایمان لائے (ف۱۷) تو کہیں کیا ہم احمقوں کی طرح ایمان لے آئیں (ف۱۸) سنتا ہے وہی احمق ہیں مگر جانتے نہیں ۔ (ف۱۹)
And when it is said to them, “Believe as the others believe”, they say, “Shall we believe as the foolish believe?” It is they who are the fools, but they do not know.
और जब उन से कहा जाए ईमान लाओ जैसे और लोग ईमान लाए तो कहें क्या हम अहमक़ों की तरह ईमान ले आएँ सुनता है वही अहमक़ हैं मगर जानते नहीं -
Aur jab un se kaha jaye imaan lao jaise aur log imaan laaye to kahen kya hum ahmaqon ki tarah imaan le aayen? Sunta hai wohi ahmaq hain magar jaante nahin –
(ف17)یہاں اَلنَّاسُ سے یا صحابہ کرام مراد ہیں یا مومنین کیونکہ خدا شناسی ، فرمانبرداری و عاقبت اندیشی کی بدولت وہی انسان کہلانے کے مستحق ہیں ۔ مسئلہ : اٰمِنُوْا کَمَا اٰمَنَ سے ثابت ہوا کہ صالحین کا اِتبّاع محمود و مطلوب ہے ۔ مسئلہ : یہ بھی ثابت ہوا کہ مذہبِ اہلِ سنّت حق ہے کیونکہ اس میں صالحین کا اِتّباع ہے ۔ مسئلہ : باقی تمام فرقے صالحین سے مُنحَرِف ہیں لہذا گمراہ ہیں ۔ مسئلہ : بعض عُلَماء نے اس آیت کو زندیق کی توبہ مقبول ہونے کی دلیل قرار دیا ہے ۔ (بیضاوی) زندیق وہ ہے جو نبوّت کا مُقِرّ ہو ، شعائرِ اسلام کا اظہار کرے اور باطن میں ایسے عقیدے رکھے جو بالاتفاق کُفر ہوں ، یہ بھی منافقوں میں داخل ہے ۔(ف18)اس سے معلوم ہوا کہ صالحین کو بُرا کہنا اہلِ باطل کا قدیم طریقہ ہے ، آج کل کے باطل فرقے بھی پچھلے بزرگوں کو بُرا کہتے ہیں ، روافض خلفائے راشدین اور بہت صحابہ کو خوارج ، حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ اور ان کے رُفقاء کو ، غیر مقلِّد ائمۂ مجتہدین بالخصوص امامِ اعظم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو ، وہابیہ بکثرت اولیاء و مقبولانِ بارگاہ کو ، مرزائی انبیاءِ سابقین تک کو قرآنی (چکڑالی) صحابہ و محدثین کو ، نیچری تمام اکابرِ دین کو برا کہتے اور زبانِ طعن دراز کرتے ہیں ۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ یہ سب گمراہی میں ہیں ، اس میں دیندار عالِموں کے لئے تسلّی ہے کہ وہ گمراہوں کی بدزبانیوں سے بہت رنجیدہ نہ ہوں سمجھ لیں کہ یہ اہلِ باطل کا قدیم دستور ہے ۔ (مدارک)(ف19)منافقین کی یہ بدزبانی مسلمانوں کے سامنے نہ تھی ، ان سے تو وہ یہی کہتے تھے کہ ہم باخلاص مومن ہیں جیسا کہ اگلی آیت میں ہے اِذَالَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْآ اٰمَنَّا یہ تبرّا بازیاں اپنی خاص مجلسوں میں کرتے تھے ، اللہ تعالٰی نے ان کا پردہ فاش کر دیا ۔ (خازن) اسی طرح آج کل کے گمراہ فرقے مسلمانوں سے اپنے خیالاتِ فاسدہ کو چھپاتے ہیں مگر اللہ تعالٰی ان کی کتابوں اور تحریروں سے ان کے راز فاش کر دیتا ہے ۔ اس آیت سے مسلمانوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ بے دینوں کی فریب کاریوں سے ہوشیار رہیں دھوکا نہ کھائیں ۔
اور جب ایمان والوں سے ملیں تو کہیں ہم ایمان لائے اور جب اپنے شیطانوں کے پاس اکیلے ہوں (ف۲۰) تو کہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو یونہی ہنسی کرتے ہیں ۔ (ف۲۱)
And when they meet with the believers, they say, “We believe”; and when they are alone with their devils, they say, “We are undoubtedly with you, we were just mocking!”
और जब ईमान वालों से मिलें तो कहें हम ईमान लाए और जब अपने शैतानों के पास अकेले हों तो कहें हम तुम्हारे साथ हैं, हम तो यूँही हँसी करते हैं -
Aur jab imaan walon se milen to kahen hum imaan laaye aur jab apne shaytaanon ke paas akelay hon to kahen hum tumhare saath hain, hum to yunhi hansi karte hain –
(ف20)یہاں شیاطین سے کُفّار کے وہ سردار مراد ہیں جو اغواء میں مصروف رہتے ہیں ۔ (خازن و بیضاوی) یہ منافق جب ان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں اور مسلمانوں سے ملنا مَحض براہِ فریب و استہزاء اس لئے ہے کہ ان کے راز معلوم ہوں اور ان میں فساد انگیزی کے مواقع ملیں ۔ (خازن)(ف21)یعنی اظہارِ ایمان تمسخُر کے طور پر کیا یہ اسلام کا انکار ہوا ۔ مسئلہ : انبیاء علیہم السلام اور دین کے ساتھ استہزاء و تمسخُر کُفر ہے ۔ شانِ نُزول : یہ آیت عبداللہ بن اُبَیْ وغیرہ منافقین کے حق میں نازل ہوئی ایک روز انہوں نے صحابۂ کرام کی ایک جماعت کو آتے دیکھا تو اِبْنِ اُبَی نے اپنے یاروں سے کہا دیکھو تو میں انہیں کیسا بناتا ہوں جب وہ حضرات قریب پہنچے تو اِبْنِ اُبَی نے پہلے حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا دستِ مبارک اپنے ہاتھ میں لے کر آپ کی تعریف کی پھر اسی طرح حضرت عمر اور حضرت علی کی تعریف کی (رضی اللہ تعالٰی عنہم) حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا اے اِبْنِ اُبَی خدا سے ڈر ، نفاق سے باز آ کیونکہ منافقین بدترین خَلق ہیں ، اس پر وہ کہنے لگا کہ یہ باتیں نفاق سے نہیں کی گئیں بخدا ہم آپ کی طرح مومنِ صادق ہیں ، جب یہ حضرات تشریف لے گئے تو آپ اپنے یاروں میں اپنی چالبازی پر فخر کرنے لگا ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ منافقین مؤمنین سے ملتے وقت اظہارِ ایمان و اخلاص کرتے ہیں اور ان سے علیحدہ ہو کر اپنی خاص مجلسوں میں ان کی ہنسی اڑاتے اور استہزاء کرتے ہیں ۔ (اخرجہ الثعلبی و الواحدی و ضعفہ ابن حجر و السیوطی فی لباب النقول) مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام و پیشوایانِ دین کا تمسخُر اُڑانا کُفر ہے ۔
اللہ ان سے استہزاء فرماتا ہے (ف۲۲) ( جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے) اور انہیں ڈھیل دیتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں ۔
Allah (befitting His Majesty) mocks them, leaving them to wander blindly in their rebellion.
अल्लाह उन से इस्तिहज़ा फ़रमाता है (जैसा कि उसकी शान के लायक़ है) और उन्हें ढील देता है कि अपनी सरकशी में भटकते रहें ।
Allah unse istehza farmata hai (jaisa ke uski shaan ke laayiq hai) aur unhein dheel deta hai ke apni sarkashi mein bhatakte rahein.
(ف22)اللہ تعالٰی استہزاء اور تمام نقائص و عیوب سے منزّہ و پاک ہے ۔ یہاں جزاءِ استہزاء کو استہزاء فر مایا گیا تاکہ خوب دلنشین ہو جائے کہ یہ سزا اس ناکردنی فعل کی ہے ، ایسے موقع پر جزاء کو اسی فعل سے تعبیر کرنا آئینِ فصاحت ہے جیسے جَزَاءُ سَیِّئَۃ سَیِّئَۃ میں کمالِ حُسنِ بیان یہ ہے کہ اس جملہ کو جملۂ سابقہ پر معطوف نہ فرمایا کیونکہ وہاں استہزاء حقیقی معنی میں تھا ۔
یہ لوگ جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی (ف۲۳) تو ان کا سودا کچھ نفع نہ لایا اور وہ سودے کی راہ جانتے ہی نہ تھے ۔ (ف۲٤)
These are the people who purchased error in exchange of guidance – so their bargain did not profit them, and they did not know how to trade.
ये लोग जिन्होंने हिदायत के बदले गुमराही खरीदी तो उनका सौदा कुछ नफ़ा न लाया और वह सौदे की राह जानते ही न थे -
Ye log jin hon ne hidaayat ke badle gumraahi khareedi to unka sauda kuch nafa na laya aur woh saude ki raah jaante hi na the –
(ف23)ہدایت کے بدلے گمراہی خریدنا یعنی بجائے ایمان کے کُفر اختیار کرنا نہایت خسارہ اور ٹَوٹے کی بات ہےشانِ نُزول : یہ آیت یا ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جو ایمان لانے کے بعد کافِر ہو گئے یا یہود کے حق میں جو پہلے سے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان رکھتے تھے مگر جب حضور کی تشریف آوری ہوئی تو منکِر ہو گئے یا تمام کُفّار کے حق میں کہ اللہ تعالٰی نے انہیں فِطرتِ سلیمہ عطا فرمائی ، حق کے دلائل واضح کئے ، ہدایت کی راہیں کھولیں لیکن انہوں نے عقل و انصاف سے کام نہ لیا اور گمراہی اختیار کی ۔ مسئلہ : اس آیت سے بیع تعاطی کا جواز ثابت ہوا یعنی خرید و فروخت کے الفاظ کہے بغیر مَحض رضا مندی سے ایک چیز کے بدلے دوسری چیز لینا جائز ہے ۔(ف24)کیونکہ اگر تجارت کا طریقہ جانتے تو اصل پونجی (ہدایت) نہ کھو بیٹھتے ۔
ان کی کہاوت اس طرح ہے جس نے آگ روشن کی۔ تو جب اس سے آس پاس سب جگمگا اٹھا اللہ ان کا نور لے گیا اور انہیں اندھیریوں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں سوجھتا ۔ (ف۲۵)
Their example is like that of one who kindled a fire; and when it lit up all that was around it, Allah took away their light and left them in darkness, unable to see anything.
उनकी कहावत इस तरह है जिस ने आग रोशन की। तो जब उस से आस पास सब जगमगा उठा अल्लाह उनका नूर ले गया और उन्हें अंधेरियों में छोड़ दिया कि कुछ नहीं सूझता -
Unki kahawat is tarah hai jis ne aag roshan ki. To jab us se aas paas sab jagmaga utha Allah unka noor le gaya aur unhein andheriyon mein chhod diya ke kuch nahin soojhta –
(ف25)یہ ان کی مثال ہے جنہیں اللہ تعالٰی نے کچھ ہدایت دی یا اس پر قدرت بخشی پھر انہوں نے اس کو ضائع کر دیا اور ابدی دولت کو حاصل نہ کیا ان کا مال حسرت و افسوس اور حیرت و خوف ہے ۔ اس میں وہ منافق بھی داخل ہیں جنہوں نے اظہارِ ایمان کیا اور دل میں کُفر رکھ کر اقرار کی روشنی کو ضائع کر دیا اور وہ بھی جو مؤمن ہونے کے بعد مرتد ہو گئے اور وہ بھی جنہیں فِطرتِ سلیمہ عطا ہوئی اور دلائل کی روشنی نے حق کو واضح کیا مگر انہوں نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا اور گمراہی اختیار کی اور جب حق سننے ، ماننے ، کہنے ، راہِ حق دیکھنے سے محروم ہوئے تو کان ، زبان ، آنکھ سب بے کار ہیں ۔
یا جیسے آسمان سے اترتا پانی کہ ان میں اندھیریاں ہیں اور گرج اور چمک (ف ۲٦) اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس رہے ہیں، کڑک کے سبب، موت کے ڈر سے (ف ۲۷) اور اللہ کافروں کو، گھیرے ہوئے ہے ۔ (ف۲۸)
Or like a rainstorm from the sky, in which are darkness, thunder and lightning; they thrust their fingers in their ears due to the thunderclaps, fearing death; and Allah has the disbelievers encompassed.
या जैसे आसमान से उतरता पानी कि उनमें अंधेरियाँ हैं और गरज और चमक अपने कानों में उँगलियाँ ठूँस रहे हैं, कड़क के सबब, मौत के डर से और अल्लाह काफ़िरों को घेरे हुए है -
Ya jaise aasman se utarta paani ke un mein andheriyan hain aur garaj aur chamak – apne kanon mein ungliyan thoons rahe hain, kadak ke sabab, maut ke darr se aur Allah kaafiron ko ghere huwe hai –
(ف26)ہدایت کے بدلے گمراہی خریدنے والوں کی یہ دوسری تمثیل ہے کہ جیسے بارش زمین کی حیات کا سبب ہوتی ہے اور اس کے ساتھ خوفناک تاریکیاں اور مُہِیب گرج اور چمک ہوتی ہے اسی طرح قرآن و اسلام قلوب کی حیات کا سبب ہیں اور ذکرِ کُفر و شرک و نفاق ظلمت کے مشابہ جیسے تاریکی رَہْرَو کو منزل تک پہنچنے سے مانع ہوتی ہے ایسے ہی کُفر و نفاق راہ یابی سے مانع ہیں اور وعیدات گرج کے اور حُجَجِ بیِّنہ چمک کے مشابہ ہیں ۔ شانِ نُزول : منافقوں میں سے دو آدمی حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے مشرکین کی طرف بھاگے ، راہ میں یہی بارش آئی جس کا آیت میں ذکر ہے اس میں شدت کی گرج کڑک اور چمک تھی ، جب گرج ہوتی تو کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے کہ کہیں یہ کانوں کو پھاڑ کر مار نہ ڈالے ، جب چمک ہوتی چلنے لگتے ، جب اندھیری ہوتی اندھے رہ جاتے ، آپس میں کہنے لگے خدا خیر سے صبح کرے تو حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے ہاتھ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستِ اقدس میں دیں چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور اسلام پر ثابت قدم رہے ۔ ان کے حال کو اللہ تعالٰی نے منافقین کے لئے مثل (کہاوت) بنایا جو مجلس شریف میں حاضر ہوتے تو کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے کہ کہیں حضور کا کلام ان میں اثر نہ کرجائے جس سے مر ہی جائیں اور جب ان کے مال و اولاد زیادہ ہوتے اور فتوح و غنیمت ملتی تو بجلی کی چمک والوں کی طرح چلتے اور کہتے کہ اب تو دینِ محمّدی سچا ہے اور جب مال و اولاد ہلاک ہوتے اور کوئی بلا آتی تو بارش کی اندھیریوں میں ٹھٹک رہنے والوں کی طرح کہتے کہ یہ مصیبتیں اسی دین کی وجہ سے ہیں او راسلام سے پلٹ جاتے ۔ (لباب النقول للسیوطی)(ف27)جیسے اندھیری رات میں کالی گھٹا چھائی ہو اور بجلی کی گرج و چمک جنگل میں مسافر کو حیران کرتی ہو اور وہ کڑک کی وحشت ناک آواز سے باندیشۂ ہلاک کانوں میں انگلیاں ٹھونستا ہو ، ایسے ہی کُفّار قرآنِ پاک کے سننے سے کان بند کرتے ہیں اور انہیں یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں اس کے دلنشین مضامین اسلام و ایمان کی طرف مائل کر کے باپ دادا کا کُفری دین ترک نہ کرا دیں جو ان کے نزدیک موت کے برابر ہے ۔(ف28)لہذا یہ گریز انہیں کچھ فائدہ نہیں دے سکتی کیونکہ وہ کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر قہرِ الٰہی سے خلاص نہیں پا سکتے ۔
بجلی یوں معلوم ہوتی ہے کہ ان کی نگاہیں اچک لے جائے گی (ف۲۹) جب کچھ چمک ہوئی اس میں چلنے لگے (ف ۳۰) اور جب اندھیرا ہوا کھڑے رہ گئے اور اللہ چاہتا تو ان کے کان اور آنکھیں لے جاتا (ف۳۱) بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے ۔ (ف۳۲)
It seems the lightning may snatch away their sight from them; whenever it flashes they walk in it, and when it darkens they stand still; if Allah willed, He could take away their hearing and their sight; indeed Allah is Able to do all things.
बिजली यूँ मालूम होती है कि उनकी निगाहें उचका ले जाएगी जब कुछ चमक हुई उस में चलने लगे और जब अँधेरा हुआ खड़े रह गए और अल्लाह चाहता तो उनके कान और आँखें ले जाता बेशक अल्लाह सब कुछ कर सकता है -.
Bijli yun maloom hoti hai ke unki nigaahen uchak le jaayegi, jab kuch chamak hui us mein chalne lage aur jab andhera hua khade reh gaye aur Allah chahta to unke kan aur aankhen le jata, beshak Allah sab kuch kar sakta hai.
(ف29)جیسے بجلی کی چمک ، معلوم ہوتا ہے کہ بینائی کو زائل کر دے گی ایسے ہی دلائلِ باہرہ کے انوار ان کی بصر وبصیرت کو خیرہ کرتے ہیں ۔(ف30)جس طرح اندھیری رات اور ابر و بارش کی تاریکیوں میں مسافر مُتحیَّر ہوتا ہے ، جب بجلی چمکتی ہے توکچھ چل لیتا ہے جب اندھیرا ہوتا ہے تو کھڑا رہ جاتا ہے اسی طرح اسلام کے غلبہ اور معجزات کی روشنی اور آرام کے وقت منافق اسلام کی طرف راغب ہوتے ہیں اور جب کوئی مشقت پیش آتی ہے تو کُفر کی تاریکی میں کھڑے رہ جاتے ہیں اور اسلام سے ہٹنے لگتے ہیں ، اسی مضمون کو دوسری آیت میں اس طرح ارشاد فرمایا اِذَا دُعُوْآ اِلیَ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ لِیَحْکُمَ بَیْنَھُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ مُّعْرِضُوْنَ وَ اِنْ یَّکُنْ لَّھُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْا اِلَیْہِ مُذْعِنِیْنَ ۔ (خازن صاوی وغیرہ)(ف31)یعنی اگرچہ منافقین کا طرزِ عمل اس کا مقتضی تھا مگر اللہ تعالٰی نے ان کے سمع و بصر کو باطل نہ کیا ۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ اسباب کی تاثیر مشیت الٰہیہ کے ساتھ مشروط ہے بغیر مشیت تنہا اسباب کچھ نہیں کر سکتے ۔ مسئلہ : یہ بھی معلوم ہوا کہ مشیت اسباب کی محتاج نہیں ، وہ بے سبب جو چاہے کر سکتا ہے ۔(ف32)شئی اسی کو کہتے ہیں جسے اللہ چاہے اور جو تحتِ مشیت آ سکے ، تمام ممکنات شئی میں داخل ہیں اس لئے وہ تحتِ قدرت ہیں اور جو ممکن نہیں واجب یا ممتنع ہے اس سے قدرت و ارادہ متعلق نہیں ہوتا جیسے اللہ تعالٰی کی ذات و صفات واجب ہیں اس لئے مقدور نہیں ۔ مسئلہ : باری تعالٰی کے لئے جھوٹ اور تمام عیوب محال ہیں اسی لئے قدرت کو ان سے کچھ واسطہ نہیں ۔
اے لوگو! (ف۳۳) اپنے رب کو پوجو جس نے تمہیں اور تم سے اگلوں کو پیدا کیا، یہ امید کرتے ہوئے، کہ تمہیں پرہیزگاری ملے ۔ (ف۳٤)
O mankind! Worship your Lord, Who has created you and those before you, in the hope of attaining piety.
ऐ लोगो! अपने रब को पूजो जिस ने तुम्हें और तुम से अगलों को पैदा किया, ये उम्मीद करते हुए, कि तुम्हें परहेज़ गारी मिले -
Ae logo! Apne Rab ko pujo jis ne tumhen aur tum se aglon ko paida kiya, ye umeed karte hue, ke tumhen parhez gaari mile -
(ف33)اوّل سورہ میں کچھ بتایا گیا کہ یہ کتاب متَّقین کی ہدایت کے لئے نازل ہوئی پھر متَّقین کے اوصاف کا ذکر فرمایا ، اس کے بعد اس سے منحرف ہونے والے فرقوں کا اور ان کے حوال کا ذکر فرمایا کہ سعادت مند انسان ہدایت و تقوٰی کی طرف راغب ہو اور نافرمانی و بغاوت سے بچے ، اب طریقِ تحصیلِ تقوٰی تعلیم فرمایا جاتا ہے ۔ یٰاَ یُّھَاالنَّاسُ کا خِطاب اکثر اہلِ مکّہ کو اور یٰاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کا اہلِ مدینہ کو ہوتا ہے مگر یہاں یہ خِطاب مومن کافِر سب کو عام ہے ، اس میں اشارہ ہے کہ انسانی شرافت اسی میں ہے کہ آدمی تقوٰی حاصل کرے اور مصروفِ عبادت رہے ۔ عبادت و ہ غایت تعظیم ہے جو بندہ اپنی عبدیت اور معبودکی اُلُوہیت کے اعتقاد و اعتراف کے ساتھ بجا لائے ۔ یہاں عبادت عام ہے اپنے تمام انواع و اقسام و اصول و فروع کو شامل ہے ۔ مسئلہ : کُفّار عبادت کے مامور ہیں جس طرح بے وضو ہونا نماز کے فرض ہونے کا مانع نہیں اسی طرح کافِر ہونا وجوبِ عبادت کو منع نہیں کرتا اور جیسے بے وضو شخص پر نماز کی فرضیت رفعِ حدث لازم کرتی ہے ایسے ہی کافِرپر کہ وجوبِ عبادت سے ترکِ کُفر لازم آتا ہے ۔(ف34)اس سے معلوم ہوا کہ عبادت کا فائدہ عابد ہی کو ملتا ہے ، اللہ تعالٰی اس سے پاک ہے کہ اس کو عبادت یا اور کسی چیز سے نفع حاصل ہو ۔
جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا اور آسمان کو عمارت بنایا اور آسمان سے پانی اتارا (ف۳۵) تو اس سے کچھ پھل نکالے تمہارے کھانے کو ۔ تو اللہ کے لئے جان بوجھ کر برابر والے نہ ٹھہراؤ (ف۳٦)
The One Who has appointed the earth a base for you, and the sky a canopy – and caused water to pour down from the sky, thereby producing fruits as food for you; and do not knowingly set up rivals to Allah!
जिस ने तुम्हारे लिये ज़मीन को बिछौना और आसमान को इमारत बनाया और आसमान से पानी उतारा तो उस से कुछ फल निकाले तुम्हारे खाने को। तो अल्लाह के लिये जान बूझ कर बराबर वाले न ठहराओ -
Jis ne tumhare liye zameen ko bichhona aur aasmaan ko imaarat banaya aur aasmaan se paani utara to us se kuch phal nikaale tumhare khane ko. To Allah ke liye jaan boojh kar barabar walay na thehrao
(ف35)پہلی آیت میں نعمتِ ایجاد کا بیان فرمایا کہ تمہیں اور تمہارے آباء کو معدوم سے موجود کیا اور دوسری آیت میں اسبابِ معیشت و آسائش و آب و غذا کا بیان فرما کر ظاہر کر دیا کہ وہی ولیٔ نعمت ہے تو غیر کی پرستش مَحض باطل ہے ۔(ف36)توحیدِ الٰہی کے بعد حضور سیدِ انبیاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی نبوّت اور قرآنِ کریم کے کتابِ الٰہی و مُعجِز ہونے کی وہ قاہر دلیل بیان فرمائی جاتی ہے جو طالبِ صادق کو اطمینان بخشے اور منکِروں کو عاجز کر دے ۔
اور اگر تمہیں کچھ شک ہو اس میں جو ہم نے اپنے (اس خاص) بندے (ف۳۷) پر اتارا تو اس جیسی ایک سورت تو لے آؤ (ف ۳۸) اور اللہ کے سوا، اپنے سب حمایتیوں کو بلالو، اگر تم سچے ہو ۔
And if you are in any doubt concerning what We have sent down upon Our distinguished bondman (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), bring forth a single surah (chapter) equal to it; and call upon all your supporters, other than Allah, if you are truthful.
और अगर तुम्हें कुछ शक हो उस में जो हम ने अपने (इस ख़ास) बन्दे पर उतारा तो उस जैसी एक सूरह तो ले आओ और अल्लाह के सिवा, अपने सब हिमायतीओं को बुला लो, अगर तुम सच्चे हो।
Aur agar tumhen kuch shak ho us mein jo hum ne apne (is khaas) bande par utara to us jaisi ek soorat to le aao aur Allah ke siwa, apne sab himaaytiyon ko bula lo, agar tum sachay ho.
(ف37)بندۂ خاص سے حضور پر نور سیدِ عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم مراد ہیں ۔(ف38)یعنی ایسی سورت بنا کر لاؤ جو فصاحت و بلاغت اور حسنِ نظم و ترتیب اور غیب کی خبریں دینے میں قرآنِ پاک کی مثل ہو ۔
پھر اگر نہ لا سکو اور ہم فرمائے دیتے ہیں کہ ہرگز نہ لا سکو گے تو ڈرو اس آگ سے، جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں (ف ۳۹) تیار رکھی ہے کافروں کے لئے ۔ (ف٤۰)
And if you are unable to bring forth (one chapter) – and We declare that you can never bring one – then fear the fire (of hell), the fuel of which is men and stones; kept ready for the disbelievers.
फिर अगर न ला सको और हम फरमाये देते हैं कि हरगिज़ न ला सकोगे तो डरो उस आग से, जिस का ईंधन आदमी और पत्थर हैं तैयार रखी है काफ़िरों के लिये -
Phir agar na la sako aur hum farmaaye dete hain ke har giz na la sako ge to daro us aag se, jis ka eendhan aadmi aur pathar hain tayyar rakhi hai kaafiron ke liye -
(ف39)پتّھر سے وہ بُت مراد ہیں جنہیں کُفّار پُوجتے ہیں اور ان کی مَحبت میں قرآنِ پاک اور رسولِ کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا عناداً انکار کرتے ہیں ۔(ف40)مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ دوزخ پیدا ہو چکی ہے ۔ مسئلہ : یہ بھی اشارہ ہے کہ مومنین کے لئے بکرمہٖ تعالٰی خلودِ نار یعنی ہمیشہ جہنّم میں رہنا نہیں ۔
اور خوشخبری دے، انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے، کہ ان کے لئے باغ ہیں، جن کے نیچے نہریں رواں (ف٤۱) جب انہیں ان باغوں سے کوئی پھل کھانے کو دیا جائے گا، (صورت دیکھ کر) کہیں گے، یہ تو وہی رزق ہے جو ہمیں پہلے ملا تھا (ف٤۲) اور وہ (صورت میں) ملتا جلتا انہیں دیا گیا اور ان کے لئے ان باغوں میں ستھری بیبیاں ہیں (ف٤۳) اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ۔ (ف٤٤)
And give glad tidings to those who believe and do good deeds; that for them are Gardens beneath which rivers flow; when they are provided with a fruit of the Gardens, they will say, “This is the same food as what was given to us before” whereas it is in resemblance; and in the Gardens are pure spouses for them; and they shall abide in it forever.
और खुशखबरी दे, उन्हें जो ईमान लाये और अच्छे काम किये, कि उनके लिये बाग़ हैं, जिन के नीचे नहरें रवां। जब उन्हें उन बाग़ों से कोई फल खाने को दिया जायेगा, (सूरत देख कर) कहेंगे, ये तो वही रिज़्क़ है जो हमें पहले मिला था और वो (सूरत में) मिलता-जुलता उन्हें दिया गया और उनके लिये उन बाग़ों में सुथरी बीबियाँ हैं और वो उन में हमेशा रहेंगे -
Aur khushkhabri de, unhein jo imaan lae aur achchay kaam kiye, ke unke liye baagh hain, jin ke neeche nahrain rawaan. Jab unhein un baaghon se koi phal khanay ko diya jaye ga, (soorat dekh kar) kahein ge, ye to wahi rizq hai jo humein pehle mila tha aur woh (soorat mein) milta julta unhein diya gaya aur unke liye un baaghon mein suthri beebiyan hain aur woh un mein hamesha rahen ge -
(ف41)سنّتِ الٰہی ہے کہ کتاب میں ترہیب کے ساتھ ترغیب ذکر فرماتا ہے اسی لئے کُفّار اور ان کے اعمال و عذاب کے ذکر کے بعد مومنین اور ان کے اعمال کا ذکر فرمایا اور انہیں جنّت کی بشارت دی ۔ صالحات یعنی نیکیاں وہ عمل ہیں جو شرعاً اچھے ہوں ان میں فرائض و نوافل سب داخل ہیں ۔ (جلالین) مسئلہ : عملِ صالح کا ایمان پر عطف دلیل ہے اس کی کہ عمل جزوِ ایمان نہیں ۔ مسئلہ : یہ بشارت مومنینِ صالحین کے لئے بلا قید ہے اور گنہگاروں کو جو بشارت دی گئی ہے وہ مقیّد بمشیتِ الٰہی ہے کہ چاہے از راہِ کرم معاف فرمائے چاہے گناہوں کی سزا دے کر جنّت عطا کرے ۔ (مدارک)(ف42)جنّت کے پھل باہم مشابہ ہوں گے اور ذائقے ان کے جُدا جُدا اس لئے جنّتی کہیں گے کہ یہی پھل تو ہمیں پہلے مل چکا ہے مگر کھانے سے نئی لذت پائیں گے تو ان کا لطف بہت زیادہ ہو جائے گا ۔(ف43)جنّتی بیبیاں خواہ حوریں ہوں یا اور ، سب زنانے عوارض اور تمام ناپاکیوں اور گندگیوں سے مبرا ہوں گی ، نہ جسم پر میل ہو گا نہ بول و براز ، اس کے ساتھ ہی وہ بدمزاجی و بدخُلقی سے بھی پاک ہوں گی ۔ (مدارک و خازن)(ف44)یعنی اہلِ جنّت نہ کبھی فنا ہوں گے نہ جنّت سے نکالے جائیں گے ۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ جنّت و اہلِ جنّت کے لئے فنا نہیں ۔
بیشک اللہ اس سے حیا نہیں فرماتا کہ مثال سمجھانے کو کیسی ہی چیز کا ذکر فرمائے مچھر ہو یا اس سے بڑھ کر (ف٤۵) تو وہ جو ایمان لائے، وہ تو جانتے ہیں کہ یہ ان کے رب کی طرف سے حق ہے (ف٤٦) رہے کافر، وہ کہتے ہیں ایسی کہاوت میں اللہ کا کیا مقصود ہے، اللہ بہتیروں کو اس سے گمراہ کرتا ہے (ف٤۷) اور بہتیروں کو ہدایت فرماتا ہے اور اس سے انہیں گمراہ کرتا ہے جو بے حکم ہیں ۔ (ف ٤۸)
Indeed Allah does not, for the sake of explanation, shy to illustrate an example of anything, whether it is of a gnat or something further (inferior) than it; so the believers know it is the Truth from their Lord; as for the disbelievers, they say, “What does Allah intend by such an example?” He misleads many thereby, and He guides many thereby; and with it He misleads only those who are rebellious.
बेशक अल्लाह उस से हया नहीं फरमाता कि मिसाल समझाने को कैसी ही चीज़ का ज़िक्र फरमाये मच्छर हो या उस से बढ़ कर। तो वो जो ईमान लाये, वो तो जानते हैं कि ये उनके रब की तरफ़ से हक़ है। रहे काफ़िर, वो कहते हैं ऐसी कहावत में अल्लाह का क्या मक़सूद है? अल्लाह बहतिरों को उस से गुमराह करता है और बहतिरों को हिदायत फरमाता है और उस से उन्हें गुमराह करता है जो बे-हुक्म हैं -
Beshak Allah us se haya nahin farmaata ke misaal samjhane ko kaisi hi cheez ka zikr farmaaye – machhar ho ya us se barh kar. To woh jo imaan lae, woh to jaante hain ke ye unke Rab ki taraf se haq hai. Rahe kaafir, woh kehte hain aisi kahawat mein Allah ka kya maqsud hai. Allah bahutiron ko us se gumraah karta hai aur bahutiron ko hidaayat farmaata hai aur us se unhein gumraah karta hai jo be-hukum hain -
(ف45)شانِ نُزول : جب اللہ تعالٰی نے آیہ مَثَلُھُمْ کَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ اور آیہ اَوْکَصَیِّبٍ میں منافقوں کی دو مثالیں بیان فرمائیں تو منافقوں نے یہ اعتراض کیا کہ اللہ تعالٰی اس سے بالاتر ہے کہ ایسی مثالیں بیان فرمائے ۔ اس کے رد میں یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف46)چونکہ مثالوں کا بیان متقضائے حکمت اور مضمون کو دل نشین کرنے والا ہوتاہے اور فُصَحائے عرب کا دستور ہے اس لئے اس پر اعتراض غلط و بیجا ہے اور بیانِ امثلہ حق ہے ۔(ف47) یُضِلُّ بِہٖ کُفّار کے اس مقولہ کا جواب ہے کہ اللہ تعالٰی کا اس مثل سے کیا مقصو دہے اور اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ اور اَمَّاالَّذِیْنَ کَفَرُوْا جو دو جملے اوپر ارشاد ہوئے ان کی تفسیر ہے کہ اس مثل سے بہتوں کو گمراہ کرتا ہے جن کی عقلوں پر جَہل نے غلبہ کیا ہے اور جن کی عادت مکابرہ و عناد ہے اور جو امرِ حق اور کھلی حکمت کے انکار و مخالفت کے خوگر ہیں اور باوجود یکہ یہ مثل نہایت ہی برمَحل ہے پھر بھی انکار کرتے ہیں اور اس سے اللہ تعالٰی بہتوں کو ہدایت فرماتا ہے جو غور و تحقیق کے عادی ہیں اور انصاف کے خلاف بات نہیں کہتے وہ جانتے ہیں کہ حکمت یہی ہے کہ عظیمُ المرتبہ چیز کی تمثیل کسی قدر والی چیز سے اور حقیر چیز کی ادنٰی شے سے دی جائے جیسا کہ اوپر کی آیت میں حق کی نور سے اور باطل کی ظلمت سے تمثیل دی گئی ۔(ف48)شرع میں فاسق اس نافرمان کو کہتے ہیں جو کبیرہ کا مرتکب ہو ۔ فسق کے تین درجے ہیں ایک تغابی وہ یہ کہ آدمی اتفاقیہ کسی کبیرہ کا مرتکب ہو اور اس کو برا ہی جانتا رہا ، دوسرا انہماک کہ کبیرہ کا عادی ہوگیا اور اس سے بچنے کی پروا نہ رہی، تیسرا حجود کہ حرام کو اچھا جان کر ارتکاب کرے اس درجہ والا ایمان سے محروم ہوجاتا ہے۔ پہلے دو درجوں میں جب تک اکبر کبائر (شرک وکفر) کا ارتکاب نہ کرے اس پر مومن کا اطلاق ہوتا ہے۔ یہاں فاسقین سے وہی نافرمان مراد ہیں جو ایمان سے خارج ہوگئے قرآن کریم میں کفار پر بھی فاسق کا اطلاق ہوا ہے اِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ ھُمُ الْفَاسِقُوْنَ بعض مفسرین نے یہاں فاسق سے کافر مراد لئے بعض نے منافق بعض نے یہود ۔
وہ جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں (ف٤۹) پکا ہونے کے بعد، اور کاٹتے ہیں اس چیز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا ہے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں (ف۵۰) وہی نقصان میں ہیں ۔
Those who break the covenant of Allah after ratifying it – and sever what Allah has ordered to join, and who cause turmoil (evil / religious chaos) in the earth; it is they who are the losers.
वो जो अल्लाह के अहद को तोड़ देते हैं पक्का होने के बाद, और काटते हैं उस चीज़ को जिस के जोड़ने का ख़ुदा ने हुक्म दिया है और ज़मीन में फ़साद फैलाते हैं वही नुक़सान में हैं।
Woh jo Allah ke ahad ko tod dete hain pakka hone ke baad, aur kaat-te hain us cheez ko jis ke jorne ka Khuda ne hukum diya hai aur zameen mein fasaad phailate hain wahi nuqsaan mein hain.
(ف49)اس سے وہ عہد مراد ہے جو اللہ تعالٰی نے کتب سابقہ میں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی نسبت فرمایا ایک قول یہ ہے کہ عہد تین ہیں ۔ پہلا عہد وہ جو اللہ تعالٰی نے تمام اولاد آدم سے لیا کہ اس کی ربوبیت کا اقرار کریں اس کا بیان اس آیت میں ہے وَاِذْ اَخَذَرَبُّکَ مِنْ م بَنِیْ اٰدَمَ الایۃ دوسرا عہد انبیاء کے ساتھ مخصوص ہے کہ رسالت کی تبلیغ فرمائیں اور دین کی اقامت کریں اس کا بیان آیۂ وَاِذْ اَخَذَ مِنَ النَّبِیٖنَ مِیْثَاقَھُم میں ہے۔ تیسرا عہد علماء کے ساتھ خاص ہے کہ حق کو نہ چھپائیں اس کا بیان وَاِذاَخَذَ اللّٰہ ُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُواالْکِتابَ میں ہے۔(ف50)(الف)رشتہ و قرابت کے تعلقات مسلمانوں کی دوستی و محبت تمام انبیاء کا ماننا کتبِ الٰہی کی تصدیق حق پر جمع ہونا یہ وہ چیزیں ہیں جن کے ملانے کا حکم فرمایا گیا ان میں قطع کرنا بعض کو بعض سے ناحق جدا کرنا تفرقوں کی بنا ڈالنا ممنوع فرمایا گیا۔(ب) دلائل توحید و نبوت اور جزائے کفر و ایمان کے بعد اللہ تعالٰی نے اپنی عام و خاص نعمتوں کا اور آثار قدرت وعجائب وحکمت کا ذکر فرمایا اور قباحت کفر دلنشین کرنے کے لئے کفار کو خطاب فرمایا کہ تم کس طرح خدا کے منکر ہوتے ہو باوجود یہ کہ تمہارا اپنا حال اس پر ایمان لانے کا متقضی ہے کہ تم مردہ تھے مردہ سے جسم بے جان مراد ہے ہمارے عرف میں بھی بولتے ہیں زمین مردہ ہوگئی عربی میں بھی موت اس معنی میں آئی خود قرآن پاک میں ارشاد ہوا یُحْیِی الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا تو مطلب یہ ہے کہ تم بیجان جسم تھے عنصر کی صورت میں پھر غذا کی شکل میں پھر اخلاط کی شان میں پھر نطفہ کی حالت میں اس نے تم کو جان دی زندہ فرمایا پھر عمر کی معیار پوری ہونے پر تمہیں موت دے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا اس سے یا قبر کی زندگی مراد ہے جو سوال کے لئے ہوگی یا حشر کی پھر تم حساب و جزا کے لئے اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے اپنے اس حال کو جان کر تمہارا کفر کرنا نہایت عجیب ہے، ایک قول مفسرین کا یہ بھی ہے کہ کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ کا خطاب مؤمنین سے ہے اور مطلب یہ ہے کہ تم کس طرح کافر ہوسکتے ہو در آنحالیکہ تم جہل کی موت سے مردہ تھے اللہ تعالٰی نے تمہیں علم و ایمان کی زندگی عطافرمائی اس کے بعد تمہارے لئے وہی موت ہے جو عمر گزرنے کے بعد سب کو آیا کرتی ہے اس کے بعد وہ تمہیں حقیقی دائمی حیات عطا فرمائے گا پھر تم اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور وہ تمہیں ایسا ثواب دے گا جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا نہ کسی دل پر اس کا خطرہ گزرا ۔
بھلا تم کیونکر خدا کے منکر ہوگے، حالانکہ تم مردہ تھے اس نے تمہیں جِلایا پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں جِلائے گا پھر اسی کی طرف پلٹ کر جاؤ گے ۔ (ف۵۰ ۔ الف)
What has made you disbelieve in Allah? Whereas you were dead and He gave you life; then He will give you death, then bring you to life again, and then it is to Him you will return!
भला तुम क्योंकर ख़ुदा के मुनकिर होगे, हालाँकि तुम मुर्दा थे उस ने तुम्हें जिलाया फिर तुम्हें मारेगा फिर तुम्हें जिलायेगा फिर उसी की तरफ़ पलट कर जाओगे -
Bhala tum kyonkar Khuda ke munkir ho ge, haalaanke tum murda the us ne tumhen jilaaya phir tumhen maarega phir tumhen jilaaye ga phir usi ki taraf palat kar jao ge -
(ف50)(الف)رشتہ و قرابت کے تعلقات مسلمانوں کی دوستی و محبت تمام انبیاء کا ماننا کتبِ الٰہی کی تصدیق حق پر جمع ہونا یہ وہ چیزیں ہیں جن کے ملانے کا حکم فرمایا گیا ان میں قطع کرنا بعض کو بعض سے ناحق جدا کرنا تفرقوں کی بنا ڈالنا ممنوع فرمایا گیا۔(ب) دلائل توحید و نبوت اور جزائے کفر و ایمان کے بعد اللہ تعالٰی نے اپنی عام و خاص نعمتوں کا اور آثار قدرت وعجائب وحکمت کا ذکر فرمایا اور قباحت کفر دلنشین کرنے کے لئے کفار کو خطاب فرمایا کہ تم کس طرح خدا کے منکر ہوتے ہو باوجود یہ کہ تمہارا اپنا حال اس پر ایمان لانے کا متقضی ہے کہ تم مردہ تھے مردہ سے جسم بے جان مراد ہے ہمارے عرف میں بھی بولتے ہیں زمین مردہ ہوگئی عربی میں بھی موت اس معنی میں آئی خود قرآن پاک میں ارشاد ہوا یُحْیِی الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا تو مطلب یہ ہے کہ تم بیجان جسم تھے عنصر کی صورت میں پھر غذا کی شکل میں پھر اخلاط کی شان میں پھر نطفہ کی حالت میں اس نے تم کو جان دی زندہ فرمایا پھر عمر کی معیار پوری ہونے پر تمہیں موت دے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا اس سے یا قبر کی زندگی مراد ہے جو سوال کے لئے ہوگی یا حشر کی پھر تم حساب و جزا کے لئے اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے اپنے اس حال کو جان کر تمہارا کفر کرنا نہایت عجیب ہے، ایک قول مفسرین کا یہ بھی ہے کہ کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ کا خطاب مؤمنین سے ہے اور مطلب یہ ہے کہ تم کس طرح کافر ہوسکتے ہو در آنحالیکہ تم جہل کی موت سے مردہ تھے اللہ تعالٰی نے تمہیں علم و ایمان کی زندگی عطافرمائی اس کے بعد تمہارے لئے وہی موت ہے جو عمر گزرنے کے بعد سب کو آیا کرتی ہے اس کے بعد وہ تمہیں حقیقی دائمی حیات عطا فرمائے گا پھر تم اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور وہ تمہیں ایسا ثواب دے گا جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا نہ کسی دل پر اس کا خطرہ گزرا ۔
وہی ہے جس نے تمہارے لئے بنایا جو کچھ زمین میں ہے۔ (ف۵۱) پھر آسمان کی طرف استوا (قصد) فرمایا تو ٹھیک سات آسمان بنائے وہ سب کچھ جانتا ہے ۔ (ف۵۲)
It is He Who created for you all that is in the earth; then He inclined towards the heaven, therefore fashioning it as proper seven heavens; and He knows everything.
वही है जिस ने तुम्हारे लिये बनाया जो कुछ ज़मीन में है। फिर आसमान की तरफ़ इस्तिवा (क़स्द) फरमाया तो ठीक सात आसमान बनाये। वो सब कुछ जानता है -
Wohi hai jis ne tumhare liye banaya jo kuch zameen mein hai. Phir aasmaan ki taraf istiwa (qasd) farmaya to theek saat aasmaan banaye, woh sab kuch jaanta hai -
(ف51)یعنی کانیں سبزے جانور دریا پہاڑ جو کچھ زمین میں ہے سب اللہ تعالٰی نے تمہارے دینی و دنیوی نفع کے لئے بنائے دینی نفع اس طرح کہ زمین کے عجائبات دیکھ کر تمہیں اللہ تعالٰی کی حکمت و قدرت کی معرفت ہو اور دنیوی منافع یہ کہ کھاؤ پیوآرام کرو اپنے کاموں میں لاؤ تو ان نعمتوں کے باوجود تم کس طرح کفر کرو گے مسئلہ کرخی و ابوبکر رازی وغیرہ نے خلق لکم کو قابل انتفاع اشیاء کے مباح الاصل ہونے کی دلیل قرار دیا ہے۔(ف52)یعنی یہ خلقت و ایجاد اللہ تعالٰی کے عالم جمیع اشیاء ہونے کی دلیل ہے کیونکہ ایسی پر حکمت مخلوق کا پیدا کرنا بغیر علم محیط کے ممکن و متصور نہیں مرنے کے بعد زندہ ہونا کافر محال جانتے تھے ان آیتوں میں ان کے بطلان پر قوی برہان قائم فرمادی کہ جب اللہ تعالٰی قادر ہے علیم ہے اور ابدان کے مادے جمع و حیات کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں تو موت کے بعد حیات کیسے محال ہوسکتی ہے پیدائش آسمان و زمین کے بعد اللہ تعالٰی نے آسمان میں فرشتوں کو اور زمین میں جنات کو سکونت دی جنات نے فساد انگیزی کی تو ملائکہ کی ایک جماعت بھیجی جس نے انہیں پہاڑوں اور جزیروں میں نکال بھگایا ۔
اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا، میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں (ف۵۳) بولے کیا ایسے کو نائب کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خونریزیاں کرے گا (ف۵٤) اور ہم تجھے سراہتے ہوئے، تیری تسبیح کرتے اور تیری پاکی بولتے ہیں، فرمایا مجھے معلوم ہے جو تم نہیں جانتے ۔ (ف۵۵)
And (remember) when your Lord said to the angels, “I am about to place My Caliph in the earth”; they said, “Will You place (as a caliph) one who will spread turmoil in it and shed blood? Whereas we glorify You with praise and proclaim Your Sanctity”; He said, “I know what you do not.”
और याद करो जब तुम्हारे रब ने फ़रिश्तों से फरमाया, मैं ज़मीन में अपना नायब बनाने वाला हूँ। बोले, क्या ऐसे को नायब करेगा जो उस में फ़साद फैलायेगा और ख़ूनरेज़ियाँ करेगा? और हम तुझे सराहते हुए, तेरी तस्बीह करते और तेरी पाकी बोलते हैं। फरमाया, मुझे मालूम है जो तुम नहीं जानते -
Aur yaad karo jab tumhare Rab ne farishton se farmaya, main zameen mein apna naayab banane wala hoon. Bole: kya aise ko naayab karega jo us mein fasaad phailaayega aur khoonrezian karega? Aur hum tujhe sarahte hue, teri tasbeeh karte aur teri paaki bolte hain. Farmaya: mujhe maaloom hai jo tum nahin jaante -
(ف53)خلیفہ احکام واوامرکے اجراء و دیگر تصرفات میں اصل کا نائب ہوتا ہے یہاں خلیفہ سے حضرت آدم علیہ السلام مراد ہیں اگرچہ اور تمام انبیاء بھی اللہ تعالٰی کے خلیفہ ہیں حضرت داؤد علیہ السلام کے حق میں فرمایا یَادَاو،دُ اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَۃً فِی الْاَرْضِ فرشتوں کو خلافت آدم کی خبر اس لئے دی گئی کہ وہ ان کے خلیفہ بنائے جانے کی حکمت دریافت کرکے معلوم کرلیں اور ان پر خلیفہ کی عظمت و شان ظاہر ہو کہ اُن کو پیدائش سے قبل ہی خلیفہ کا لقب عطا ہوا اور آسمان والوں کو ان کی پیدائش کی بشارت دی گئی مسئلہ : اس میں بندوں کو تعلیم ہے کہ وہ کام سے پہلے مشورہ کیا کریں اور اللہ تعالٰی اس سے پاک ہے کہ اس کو مشورہ کی حاجت ہو ۔(ف54)ملائکہ کا مقصد اعتراض یا حضرت آدم پر طعن نہیں بلکہ حکمت خلافت دریافت کرنا ہے اور انسانوں کی طرف فساد انگیزی کی نسبت کرنا اس کا علم یا انہیں اللہ تعالٰی کی طرف سے دیا گیا ہو یا لوح محفوظ سے حاصل ہوا ہو یا خود انہوں نے جنات پر قیاس کیا ہو ۔(ف55)یعنی میری حکمتیں تم پر ظاہر نہیں بات یہ ہے کہ انسانوں میں انبیاء بھی ہوں گے اولیاء بھی علماء بھی اور وہ علمی و عملی دونوں فضیلتوں کے جامع ہوں گے۔
اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام (اشیاء کے) نام سکھائے (ف۵٦) پھر سب (اشیاء) کو ملائکہ پر پیش کرکے فرمایا سچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ (ف۵۷)
And Allah the Supreme taught Adam all the names (of things), then presented them to the angels, saying, “Tell Me the names of these, if you are truthful.”
और अल्लाह तआला ने आदम को तमाम (अश्या के) नाम सिखाये फिर सब (अश्या) को मलाइका पर पेश कर के फरमाया सच्चे हो तो उनके नाम तो बताओ।
Aur Allah Ta’ala ne Aadam ko tamaam (ashya ke) naam sikhaye phir sab (ashya) ko malaaika par pesh karke farmaya: sachay ho to unke naam to batao.
(ف56)اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام پر تمام اشیاء و جملہ مسمیات پیش فرما کر آپ کو ان کے اسماء و صفات و افعال و خواص و اصول علوم و صناعات سب کا علم بطریق الہام عطا فرمایا ۔(ف57)یعنی اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو کہ میں کوئی مخلوق تم سے زیادہ عالم پیدا نہ کروں گا اور خلافت کے تم ہی مستحق ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ کیونکہ خلیفہ کا کام تصرف و تدبیراور عدل و انصاف ہے اور یہ بغیر اس کے ممکن نہیں کہ خلیفہ کو ان تمام چیزوں کا علم ہو جن پر اس کو متصرف فرمایا گیا اور جن کا اس کو فیصلہ کرنا ہے۔ مسئلہ : اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کے ملائکہ پرافضل ہونے کا سبب علم ظاہر فرمایا اس سے ثابت ہوا کہ علمِ اسماء خلوتوں اور تنہائیوں کی عبادت سے افضل ہے مسئلہ: اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ انبیاء علیہم السلام ملائکہ سے افضل ہیں ۔
بولے پاکی ہے تجھے ہمیں کچھ علم نہیں مگر جتنا تو نے ہمیں سکھایا بیشک تو ہی علم و حکمت والا ہے ۔ (ف۵۸)
They said, “Purity is to You! We do not have any knowledge except what You have taught us! Indeed You only are the All Knowing, the Wise.”
बोले, पाकी है तुझे, हमें कुछ इल्म नहीं मगर जितना तू ने हमें सिखाया। बेशक तू ही इल्म व हिकमत वाला है -
Bole: paaki hai tujhe, humein kuch ilm nahin magar jitna tu ne humein sikhaya, beshak tu hi ilm o hikmat wala hai -
(ف58)اس میں ملائکہ کی طرف سے اپنے عجزو قصور کا اعتراف اور اس امر کا اظہار ہے کہ اُن کا سوال استفساراً تھا۔ نہ کہ اعتراضاً اور اب انہیں انسان کی فضیلت اور اُس کی پیدائش کی حکمت معلوم ہوگئی جس کو وہ پہلے نہ جانتے تھے ۔
فرمایا اے آدم بتا دے انہیں سب (اشیاء کے) نام جب اس نے (یعنی آدم نے) انہیں سب کے نام بتادیئے (ف۵۹) فرمایا میں نہ کہتا تھا کہ میں جانتا ہوں آسمانوں اور زمین کی سب چھپی چیزیں اور میں جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کرتے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو ۔ (ف٦۰)
He said “O Adam! Inform them the names”; and when Adam had informed them their names, He said, “Did I not tell you that I know all the secrets of the heavens and the earth? And I know all what you disclose and all what you hide?”
फरमाया, ऐ आदम बता दे उन्हें सब (अश्या के) नाम। जब उस ने (यानी आदम ने) उन्हें सब के नाम बता दिये, फरमाया, मैं न कहता था कि मैं जानता हूँ आसमानों और ज़मीन की सब छुपी चीज़ें और मैं जानता हूँ जो कुछ तुम ज़ाहिर करते और जो कुछ तुम छुपाते हो -
Farmaya: Ae Aadam! Bata de unhein sab (ashya ke) naam. Jab us ne (yani Aadam ne) unhein sab ke naam bata diye, farmaya: main na kehta tha ke main jaanta hoon aasmaanon aur zameen ki sab chhupi cheezen, aur main jaanta hoon jo kuch tum zaahir karte aur jo kuch tum chupate ho -
(ف59)یعنی حضرت آدم علیہ السلام نے ہر چیز کا نام اور اس کی پیدائش کی حکمت بتادی۔(ف60)ملائکہ نے جو بات ظاہر کی تھی وہ یہ تھی کہ انسان فساد انگیزی و خوں ریزی کرے گا اور وجوہات چھپائی تھی وہ یہ تھی کہ مستحق خلافت وہ خود ہیں اور اللہ تعالٰی ان سے افضل و اعلم کوئی مخلوق پیدا نہ فرمائے گا مسئلہ اس آیت سے انسان کی شرافت اور علم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اور یہ بھی کہ اللہ تعالٰی کی طرف تعلیم کی نسبت کرنا صحیح ہے اگرچہ اس کو معلم نہ کہا جائے گا، کیونکہ معلم پیشہ ور تعلیم دینے والے کو کہتے ہیں مسئلہ : اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جملہ لغات اور کل زبانیں اللہ تعالٰی کی طرف سے ہیں ۔ مسئلہ : یہ بھی ثابت ہوا کہ ملائکہ کے علوم و کمالات میں زیادتی ہوتی ہے ۔
اور (یاد کرو) جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے کہ منکر ہوا اور غرور کیا اور کافر ہوگیا ۔ (ف٦۱)
And (remember) when We ordered the angels to prostrate before Adam, so they all prostrated, except Iblis (Satan – devil); he refused and was proud – and became a disbeliever.
और (याद करो) जब हम ने फ़रिश्तों को हुक्म दिया कि आदम को सज्दा करो तो सब ने सज्दा किया सिवाय इब्लीस के कि मुनकिर हुआ और ग़ुरूर किया और काफ़िर हो गया -
Aur (yaad karo) jab hum ne farishton ko hukum diya ke Aadam ko sajda karo to sab ne sajda kiya siwaaye Iblees ke ke munkir hua aur ghuroor kiya aur kaafir ho gaya -
اور ہم نے فرمایا اے آدم تو اور تیری بیوی جنت میں رہو اور کھاؤ اس میں سے بے روک ٹوک جہاں تمہارا جی چاہے مگر اس پیڑ کے پاس نہ جانا (ف٦۲) کہ حد سے بڑھنے والوں میں ہوجاؤ گے ۔ (ف٦۳)
And We said, “O Adam! You and your wife dwell in this Garden, and eat freely from it wherever you please – but do not approach this tree for you will become of those who transgress.”
और हम ने फरमाया, ऐ आदम! तू और तेरी बीवी जन्नत में रहो और खाओ उस में से बे रोक-टोक जहाँ तुम्हारा जी चाहे मगर उस पेड़ के पास न जाना कि हद से बढ़ने वालों में हो जाओगे -
Aur hum ne farmaya: Ae Aadam! Tu aur teri biwi jannat mein raho aur khao us mein se be-rok tok jahan tumhara ji chahe magar us pair ke paas na jaana ke had se barhne walon mein ho jao ge -
(ف61)اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تمام موجودات کا نمونہ اور عالم روحانی و جسمانی کا مجموعہ بنایا اور ملائکہ کے لئے حصول کمالات کا وسیلہ کیا تو انہیں حکم فرمایا کہ حضرت آدم کو سجدہ کریں کیونکہ اس میں شکر گزاری اور حضرت آدم علیہ السلام کی فضیلت کے اعتراف اور اپنے مقولہ کی معذرت کی شان پائی جاتی ہے بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کرنے سے پہلے ہی ملائکہ کو سجدہ کا حکم دیا تھا ان کی سند یہ آیت ہے فَاِذَا اسَوَّیْتُہ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَہ سَاجِدِینَ (بیضاوی) سجدہ کا حکم تمام ملائکہ کو دیا گیا تھا یہی اصح ہے۔(خازن) مسئلہ : سجدہ دو طرح کا ہوتا ہے ایک سجدۂ عبادت جو بقصد پر ستش کیا جاتا ہے دوسرا سجدۂ تحیت جس سے مسجود کی تعظیم منظور ہوتی ہے نہ کہ عبادت۔ مسئلہ : سجدۂ عبادت اللہ تعالٰی کے لئے خاص ہے کسی اور کے لئے نہیں ہوسکتا نہ کسی شریعت میں کبھی جائز ہوا یہاں جو مفسرین سجدۂ عبادت مراد لیتے وہ فرماتے ہیں کہ سجدہ خاص اللہ تعالیٰ کے لئے تھا۔اور حضرت آدم علیہ السلام قبلہ بنائے گئے تھے تو وہ مسجود الیہ تھے نہ کہ مسجودلہ، مگر یہ قول ضعیف ہے کیونکہ اس سجدہ سے حضرت آدم علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام کا فضل و شرف ظاہر فرمانا مقصود تھا اور مسجود الیہ کا ساجد سے افضل ہونا کچھ ضرور نہیں جیسا کہ کعبہ معظمہ حضور سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قبلہ و مسجود الیہ ہے باوجودیکہ حضور اس سے افضل ہیں دوسرا قول یہ ہے کہ یہاں سجدۂ عبادت نہ تھا سجدۂ تحیت تھا اور خاص حضرت آدم علیہ السلام کے لئے تھا زمین پر پیشانی رکھ کر تھا نہ کہ صرف جھکنا یہی قول صحیح ہے اور اسی پر جمہور ہیں۔(مدارک) مسئلہ سجدۂ تحیت پہلی شریعتوں میں جائز تھا ہماری شریعت میں منسوخ کیا گیا اب کسی کے لئے جائز نہیں ہے کیونکہ جب حضرت سلیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سجدہ کرنے کا ارادہ کیا تو حضور نے فرمایا کہ مخلوق کو نہ چاہئے کہ اللہ کے سوا کسی کو سجدہ کرے۔ (مدارک) ملائکہ میں سب سے پہلا سجدہ کرنے والے حضرت جبریل ہیں پھر میکائیل پھر اسرافیل پھر عزرائیل پھر اور ملائکہ مقربین یہ سجدہ جمعہ کے روز وقتِ زوال سے عصر تک کیا گیا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ملائکہ مقربین سو برس اور ایک قول میں پانچ سو برس سجدہ میں رہے شیطان نے سجدہ نہ کیا اور براہ تکبر یہ اعتقاد کرتا رہا کہ وہ حضرت آدم سے افضل ہے اس کے لئے سجدہ کا حکم معاذ اللہ تعالیٰ خلاف حکمت ہے اس اعتقاد باطل سے وہ کافر ہوگیا۔ مسئلہ : آیت میں دلالت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام فرشتوں سے افضل ہیں کہ ان سے انہیں سجدہ کرایا گیا۔ مسئلہ : تکبر نہایت قبیح ہے اس سے کبھی متکبر کی نوبت کفر تک پہنچتی ہے۔ (بیضاوی و جمل)(ف62)اس سے گندم یا انگور وغیرہ مراد ہے (جلالین) (ف63)ظلم کے معنی ہیں کسی شے کو بے محل وضع کرنا یہ ممنوع ہے اور انبیاء معصوم ہیں ان سے گناہ سرزد نہیں ہوتا یہاں ظلم خلاف اولی کے معنی میں ہے۔ مسئلہ : انبیاء علیہم السلام کو ظالم کہنا اہانت و کفر ہے جو کہے وہ کافر ہوجائے گا اللہ تعالیٰ مالک و مولیٰ ہے جو چاہے فرمائے اس میں ان کی عزت ہے دوسرے کی کیا مجال کہ خلاف ادب کلمہ زبان پر لائے اور خطاب حضرت حق کو اپنی جرأت کے لئے سند بنائے، ہمیں تعظیم و توقیر اور ادب و طاعت کا حکم فرمایا ہم پر یہی لازم ہے۔
تو شیطان نے اس سے (یعنی جنت سے) انہیں لغزش دی اور جہاں رہتے تھے وہاں سے انہیں الگ کردیا (ف٦٤) اور ہم نے فرمایا نیچے اترو (ف٦۵) آپس میں ایک تمہارا دوسرے کا دشمن اور تمہیں ایک وقت تک زمین میں ٹھہرنا اور برتنا ہے ۔ (ف٦٦)
So the devil destabilised them in it and removed them from where they were – and We said, “Go down, one of you is an enemy to the other; and for a fixed time you shall stay on earth and feed in it.”
तो शैतान ने उस से (यानी जन्नत से) उन्हें ल़गज़िश दी और जहाँ रहते थे वहाँ से उन्हें अलग कर दिया और हम ने फरमाया नीचे उतरो, आपस में एक तुम्हारा दूसरे का दुश्मन, और तुम्हें एक वक़्त तक ज़मीन में ठहरना और बरतना है -
To Shaitaan ne us se (yani jannat se) unhein lagzish di aur jahan rehte the wahan se unhein alag kar diya aur hum ne farmaya: neeche utro, aapas mein ek tumhara doosre ka dushman aur tumhein ek waqt tak zameen mein thehrna aur baratna hai -
(ف64)شیطان نے کسی طرح حضرت آدم و حوا (علیہماالسلام) کے پاس پہنچ کر کہا کہ میں تمہیں شجر خلد بتادوں، حضرت آدم علیہ السلام نے انکار فرمایا اس نے قسم کھائی کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں ، انہیں خیال ہوا کہ اللہ پاک کی جھوٹی قسم کون کھا سکتا ہے بایں خیال حضرت حوّا نے اس میں سے کچھ کھایا پھر حضرت آدم کو دیا انہوں نے بھی تناول کیا حضرت آدم کو خیال ہوا کہ لَاتَقْرَبَا کی نہی تنزیہی ہے تحریمی نہیں کیونکہ اگر وہ تحریمی سمجھتے تو ہر گز ایسا نہ کرتے کہ انبیاء معصوم ہوتے ہیں یہاں حضرت آدم علیہ السلام سے اجتہاد میں خطا ہوئی اور خطائے اجتہادی معصیت نہیں ہوتی۔(ف65)حضرت آدم و حوا اور ان کی ذریت کو جوان کے صلب میں تھی جنت سے زمین پر جانے کا حکم ہوا حضر ت آدم زمین ہند میں سراندیپ کے پہاڑوں پر اور حضرت حوا جدّے میں اتارے گئے۔ (خازن) حضرت آدم علیہ السلام کی برکت سے زمین کے اشجار میں پاکیزہ خوشبو پید اہوئی۔(روح البیان)(ف66)اس سے اختتام عمر یعنی موت کا وقت مراد ہے اور حضرت آدم علیہ السلام کے لئے بشارت ہے کہ وہ دنیا میں صرف اتنی مدت کے لئے ہیں اس کے بعد پھر انہیں جنت کی طرف رجوع فرمانا ہے اور آپ کی اولاد کے لئے معاد پر دلالت ہے کہ دنیا کی زندگی معین وقت تک ہے عمر تمام ہونے کے بعد انہیں آخرت کی طرف رجوع کرنا ہے۔
پھر سیکھ لیے آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمے تو اللہ نے اس کی توبہ قبول کی (ف٦۷) بیشک وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان۔
Then Adam learnt from his Lord certain words (of revelation), therefore Allah accepted his repentance; indeed He only is the Most Acceptor of Repentance, the Most Merciful. (See Verse 7:23)
फिर सीख लिये आदम ने अपने रब से कुछ कलिमे तो अल्लाह ने उसकी तौबा क़बूल की। बेशक वही है बहुत तौबा क़बूल करने वाला मेहरबान।
Phir seekh liye Aadam ne apne Rab se kuch kalime to Allah ne us ki tauba qubool ki, beshak wahi hai bohot tauba qubool karne wala Meharban.
(ف67)آدم علیہ السلام نے زمین پر آنے کے بعد تین سو برس تک حیاء سے آسمان کی طرف سر نہ اٹھایا اگرچہ حضرت داؤد علیہ السلام کثیر البکاء تھے آپ کے آنسو تمام زمین والوں کے آنسوؤں سے زیادہ ہیں مگر حضرت آدم علیہ السلام اس قدر روئے کہ آپ کے آنسو حضرت داؤد علیہ السلام اورتمام اہلِ زمین کے آنسوؤں کے مجموعہ سے بڑھ گئے۔ (خازن) طبرانی و حاکم و ابو نعیم و بیہقی نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت کی کہ جب حضرت آدم علیہ السلام پر عتاب ہوا تو آپ فکر توبہ میں حیران تھے اس پریشانی کے عالم میں یاد آیا کہ وقت پیدائش میں نے سر اٹھا کر دیکھا تھا کہ عرش پر لکھا ہے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ میں سمجھا تھا کہ بارگاہِ الہٰی میں وہ رُتبہ کسی کو میسر نہیں جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام اپنے نام اقدس کے ساتھ عرش پر مکتوب فرمایا لہذا آپ نے اپنی دعا میں رَبَّنَا ظَلَمْنَا الآیہ کے ساتھ یہ عرض کیا اَسْئَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ اَنْ تَغْفِرَلِیْ ابن منذر کی روایت میں یہ کلمے ہیں۔ اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْلَکَ بِجَاہِ محمَّدٍ عَبْدِکَ وَکَرَامَتِہٖ عَلَیْکَ اَنْ تَغفِرَلِیْ خَطِیْئَتِیْ یعنی یارب میں تجھ سے تیرے بندۂ خاص محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جاہ و مرتبت کے طفیل میں اور اس کرامت کے صدقہ میں جو انہیں تیرے دربار میں حاصل ہے مغفرت چاہتا ہوں یہ دعا کرنی تھی کہ حق تعالیٰ نے ان کی مغفرت فرمائی مسئلہ اس روایت سے ثابت ہے کہ مقبولان بارگاہ کے وسیلہ سے دعا بحق فلاں اور بجاہ فلاں کہہ کر مانگنا جائز اور حضرت آدم علیہ السلام کی سنت ہے مسئلہ : اللہ تعالیٰ پر کسی کا حق واجب نہیں ہوتا لیکن وہ اپنے مقبولوں کو اپنے فضل و کرم سے حق دیتا ہے اسی تفضلی حق کے وسیلہ سے دعا کی جاتی ہے صحیح احادیث سے یہ حق ثابت ہے جیسے وارد ہوا مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہ ِ وَرَسُوْلِہٖ وَاَقَامَ الصَّلوٰۃَ وَصَامَ رَمَضَانَ کَانَ حَقاً عَلیٰ اللّٰہ ِ اَنْ یُدْخِلَ الْجَنَّۃَ حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ دسویں محرم کو قبول ہوئی جنت سے اخراج کے وقت اور نعمتوں کے ساتھ عربی زبان بھی آپ سے سلب کرلی گئی تھی بجائے اس کے زبان مبارک پر سریانی جاری کردی گئی تھی قبول توبہ کے بعد پھر زبان عربی عطا ہوئی (فتح العزیز) مسئلہ : توبہ کی اصل رجوع الی اللہ ہے اس کے تین رکن ہیں ایک اعتراف جرم دوسرے ندامت تیسرے عزم ترک اگر گناہ قابل تلافی ہو تو اس کی تلافی بھی لازم ہے مثلا تارک صلوۃ کی توبہ کے لئے پچھلی نمازوں کی قضا پڑھنا بھی ضروری ہے توبہ کے بعد حضرت جبرئیل نے زمین کے تمام جانوروں میں حضرت آدم علیہ السلام کی خلافت کا اعلان کیا اور سب پر ان کی فرماں برداری لازم ہونے کا حکم سنایا سب نے قبول طاعت کا اظہار کیا ۔(فتح العزیز)
ہم نے فرمایا تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی اندیشہ نہ کچھ غم ۔ (ف٦۸)
We said, “Go down from Paradise, all of you; then if some guidance comes to you from Me – so whoever follows My guidance, for such is neither fear nor any grief.”
हम ने फरमाया, तुम सब जन्नत से उतर जाओ, फिर अगर तुम्हारे पास मेरी तरफ़ से कोई हिदायत आये तो जो मेरी हिदायत का पैरो हुआ उसे न कोई अंदेशा न कुछ ग़म -
Hum ne farmaya: tum sab jannat se utar jao phir agar tumhare paas meri taraf se koi hidaayat aaye to jo meri hidaayat ka pairo hua usay na koi andesha na kuch gham -
(ف68)یہ مؤمنین صالحین کے لئے بشارت ہے کہ نہ انہیں فزع اکبر کے وقت خوف ہو نہ آخرت میں غم وہ بے غم جنت میں داخل ہوں گے۔
اے یعقوب کی اولاد (ف٦۹) یاد کرو میرا وہ احسان جو میں نے تم پر کیا (ف۷۰) اور میرا عہد پورا کرو میں تمہارا عہد پورا کروں گا (ف۷۱) اور خاص میرا ہی ڈر رکھو ۔ (ف۷۲)
O Descendants of Israel (Jacob)! Remember My favour which I bestowed upon you, and fulfil your covenant towards Me, I shall fulfil My covenant towards you; and fear Me alone.
ऐ याक़ूब की औलाद! याद करो मेरा वो एहसान जो मैं ने तुम पर किया और मेरा अहद पूरा करो, मैं तुम्हारा अहद पूरा करूँगा और ख़ास मेरा ही डर रखो -
Ae Yaqoob ki aulaad! Yaad karo mera woh ehsaan jo main ne tum par kiya aur mera ahad poora karo main tumhara ahad poora karoonga aur khaas mera hi darr rakho -
(ف69)اسرائیل بمعنی عبداللہ عبری زبان کا لفظ ہے یہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب ہے۔(مدارک) کلبی مفسر نے کہا اللہ تعالیٰ نے یٰۤاَیُّھَاالنَّاسُ اعْبُدُوْا فرما کر پہلے تمام انسانوں کو عموماً دعوت دی پھر اِذْ قَالَ رَبُّکَ فرما کر انکے مبدء کا ذکر کیا اس کے بعد خصوصیت کے ساتھ بنی اسرائیل کو دعوت دی یہ لوگ یہودی ہیں اور یہاں سے سیقول تک ان سے کلام جاری ہے کبھی بملاطفت انعام یاد دلا کر دعوت کی جاتی ہے کبھی خوف دلا یا جاتا ہے کبھی حجت قائم کی جاتی ہے۔ کبھی ان کی بدعملی پر توبیخ ہوتی ہے کبھی گزشتہ عقوبات کا ذکر کیا جاتا ہے۔(ف70)یہ احسان کہ تمہارے آباء کو فرعون سے نجات دلائی ، دریا کو پھاڑا ابر کو سائبان بنایا ان کے علاوہ اور احسانات جو آگے آتے ہیں ان سب کو یاد کرو اور یاد کرنا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی کرکے شکر بجالاؤ کیونکہ کسی نعمت کا شکر نہ کرنا ہی اس کا بھلانا ہے۔(ف71)یعنی تم ایمان و اطاعت بجالا کر میرا عہد پورا کرو میں جزاء و ثواب دے کر تمہارا عہد پورا کروں گا اس عہد کا بیان آیہ وَلَقَدْ اَخَذَ اللّٰہ ُ مِیْثَاقَ بَنِیْ اِسْرَآءِ یْلَ میں ہے۔(ف72)مسئلہ : اس آیت میں شکر نعمت ووفاء عہد کے واجب ہونے کا بیان ہے اور یہ بھی کہ مومن کو چاہئے کہ اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرے ۔
اور ایمان لاؤ اس پر جو میں نے اتارا اس کی تصدیق کرتا ہوا جو تمہارے ساتھ ہے اور سب سے پہلے اس کے منکر نہ بنو (ف۷۳) اور میری آیتوں کے بدلے تھوڑے دام نہ لو (ف۷٤) اور مجھی سے ڈرو ۔
And accept faith in what I have sent down (the Qur’an), which confirms what is with you (the Torah / Bible), and do not be the first to disbelieve in it – and do not exchange My verses for an abject – and fear Me alone.
और ईमान लाओ उस पर जो मैंने उतारा उसकी तस्दीक करता हुआ जो तुम्हारे साथ है और सबसे पहले उसके मुनकर न बनो और मेरी आयतों के बदले थोड़े दाम न लो और मुझी से डरो -
Aur imaan lao is par jo maine utara is ki tasdeeq karta hua jo tumhare saath hai aur sab se pehle is ke munkir na bano aur meri aayaton ke badle thore daam na lo aur mujhi se daro -
(ف73)یعنی قرآن پاک توریت وانجیل پرجو تمہارے ساتھ ہیں ایمان لاؤاور اہلِ کتاب میں پہلے کافر نہ بنوکہ جو تمہارے اتباع میں کفر اختیار کرے اس کا وبال بھی تم پر ہو ۔(ف74)ان آیات سے توریت و انجیل کی وہ آیات مراد ہیں جن میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت و صفت ہے مقصد یہ ہے کہ حضور کی نعت دولت دنیا کے لئے مت چھپاؤ کہ متاع دنیا ثمن قلیل اور نعمت آخرت کے مقابل بے حقیقت ہے ۔ شانِ نُزول : یہ آیت کعب بن اشرف اور دوسرے رؤساء و علماء یہود کے حق میں نازل ہوئی جو اپنی قوم کے جاہلوں اور کمینوں سے ٹکے وصول کرلیتے اور ان پر سالانے مقرر کرتے تھے اور انہوں نے پھلوں اور نقد مالوں میں اپنے حق معین کرلئے تھے انہیں اندیشہ ہوا کہ توریت میں جو حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت و صفت ہے اگر اس کو ظاہر کریں تو قوم حضور پر ایمان لے آئے گی اور ان کی کچھ پرسش نہ رہے گی۔ یہ تمام منافع جاتے رہیں گے اس لئے انہوں نے اپنی کتابوں میں تغییر کی اور حضور کی نعت کو بدل ڈالا جب ان سے لوگ دریافت کرتے کہ توریت میں حضور کے کیا اوصاف مذکور ہیں تو وہ چھپالیتے۔ اور ہر گز نہ بتاتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(خازن وغیرہ)
اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو ۔ (ف۷۵)
And keep the (obligatory) prayer established, and pay the charity, and bow your heads with those who bow (in prayer).
और नमाज़ क़ायम रखो और ज़कात दो और रुकू करने वालों के साथ रुकू करो-
Aur namaz qaim rakho aur zakat do aur rukoo karne walon ke saath rukoo karo -
(ف75)اس آیت میں نمازو زکوٰۃ کی فرضیت کا بیان ہے اور اس طرف بھی اشارہ ہے کہ نمازوں کو ان کے حقوق کی رعایت اور ارکان کی حفاظت کے ساتھ ادا کرو مسئلہ : جماعت کی ترغیب بھی ہے حدیث شریف میں ہے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا تنہا پڑھنے سے ستائیس درجہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔
کیا لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اور اپنی جانوں کو بھولتے ہو حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو تو کیا تمہیں عقل نہیں ۔ (ف۷٦)
What! You enjoin righteousness upon people while you forget (to practise it) yourselves, whereas you read the Book? Do you not have sense?
क्या लोगों को भलाई का हुक्म देते हो और अपनी जानों को भूलते हो हालाँकि तुम किताब पढ़ते हो तो क्या तुम्हें अक्ल नहीं -
Kya logon ko bhalai ka hukum dete ho aur apni jaano ko bhoolte ho halanke tum kitab padhte ho to kya tumhe aql nahin -
(ف76)شان نُزول : عُلَماءِ یہود سے ان کے مسلمان رشتہ داروں نے دین اسلام کی نسبت دریافت کیا تو انہوں نے کہا تم اس دین پر قائم رہو حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دین حق اور کلام سچا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ایک قول یہ ہے کہ آیت ان یہودیوں کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے مشرکین عرب کو حضور کے مبعوث ہونے کی خبر دی تھی اور حضور کے اتباع کرنے کی ہدایت کی تھی پھر جب حضور مبعوث ہوئے تو یہ ہدایت کرنے والے حسد سے خود کافر ہوگئے اس پر انہیں توبیخ کی گئی ۔(خازن و مدارک)
اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور بیشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر (نہیں) جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں ۔ (ف۷۷)
And seek help in patience and prayer; and truly it is hard except for those who prostrate before Me with sincerity.
और सब्र और नमाज़ से मदद चाहो और बेशक नमाज़ ज़रूर भारी है मगर उन पर (नहीं) जो दिल से मेरी तरफ़ झुकते हैं -
Aur sabr aur namaz se madad chaho aur beshak namaz zaroor bhaari hai magar un par (nahin) jo dil se meri taraf jhuktay hain -
(ف77)یعنی اپنی حاجتوں میں صبر اور نماز سے مدد چاہو سبحان اللہ کیا پاکیزہ تعلیم ہے صبر مصیبتوں کا اخلاقی مقابلہ ہے انسان عدل و عزم حق پرستی پر بغیر اس کے قائم نہیں رہ سکتا صبر کی تین قسمیں ہیں۔(۱) شدت و مصیبت پر نفس کو روکنا (۲)طاعت و عبادت کی مشقتوں میں مستقل رہنا(۳)معصیت کی طرف مائل ہو نے سے طبیعت کو باز رکھنا ،بعض مفسرین نے یہاں صبر سے روزہ مراد لیا ہے وہ بھی صبر کا ایک فرد ہے اس آیت میں مصیبت کے وقت نما ز کے ساتھ استعانت کی تعلیم بھی فرمائی،کیونکہ وہ عبادتِ بدنیہ ونفسانیہ کی جامع ہے اور اس میں قربِ الہٰی حاصل ہو تا ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہم امور کے پیش آنے پر مشغولِ نماز ہو جاتے تھے،اس آیت میں یہ بھی بتایا گیا کہ مومنین صادقین کے سوا اوروں پر نماز گرا ں ہے ۔
اے اولاد یعقوب یاد کرو میرا وہ احسان جو میں نے تم پر کیا اور یہ کہ اس سارے زمانہ پر تمہیں بڑائی دی ۔ (ف۷۹)
O Descendants of Israel! Remember the favour of Mine, which I bestowed upon you and gave you superiority over others of your time. (by sending the Noble Messengers to your nation)
ऐ औलादे याक़ूब याद करो मेरा वो एहसान जो मैंने तुम पर किया और ये कि इस सारे ज़माना पर तुम्हें बड़ाई दी-
Ae aulaad-e-yaqoob yaad karo mera woh ehsaan jo maine tum par kiya aur ye ke is sare zamana par tumhein barai di -
(ف79) اَلْعٰلَمِیْنَ کا استغراق حقیقی نہیں مراد یہ ہے کہ میں نے تمہارے آباء کو ان کے زمانہ والوں پر فضیلت دی یا فضل جزئی مراد ہے جو اور کسی امت کی فضیلت کا نافی نہیں ہوسکتا۔ اسی لئے امت محمدیہ کے حق میں ارشاد ہوا کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ (روح البیان جمل وغیرہ)
اور ڈرو اس دن سے جس دن کوئی جان دوسرے کا بدلہ نہ ہوسکے گی (ف۸۰) اور نہ (کافر کے لئے) کوئی سفارش مانی جائے اور نہ کچھ لے کر (اس کی) جان چھوڑی جائے اور نہ ان کی مدد ہو ۔ (ف۸۱)
And fear the Day (of Resurrection) when no soul will be exchanged for another, nor will any intercession be accepted for the disbelievers, nor will they be set free in lieu of compensation nor will they be helped.
और डरो उस दिन से जिस दिन कोई जान दूसरे का बदला न हो सकेगी और न (काफ़िर के लिए) कोई सिफारिश मानी जाएगी और न कुछ ले कर (उसकी) जान छोड़ी जाएगी और न उनकी मदद हो-
Aur daro us din se jis din koi jaan doosre ka badla na ho sakegi aur na (kafir ke liye) koi sifarish mani jaye aur na kuch le kar (us ki) jaan chhodi jaye aur na unki madad ho -
(ف80)وہ روز قیامت ہے آیت میں نفس دو مرتبہ آیا ہے پہلے سے نفس مؤمن دوسرے سے نفس کافر مراد ہے (مدارک) (ف81)یہاں سے رکوع کے آخر تک دس نعمتوں کا بیان ہے جو ان بنی اسرائیل کے آباء کو ملیں۔
اور (یاد کرو) جب ہم نے تم کو فرعون والوں سے نجات بخشی (ف۸۲) کہ وہ تم پر برا عذاب کرتے تھے (ف۸۳) تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے (ف۸٤) اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی بلا تھی (یا بڑا انعام) (ف۸۵)
(And remember) When We rescued you from Firaun’s people, for they were inflicting you with a dreadful torment, slaying your sons and sparing your daughters; that was a tremendous trial from your Lord (or a great reward).
और (याद करो) जब हमने तुम को फ़िरऔन वालों से नजात बख़्शी कि वो तुम पर बुरा अज़ाब करते थे तुम्हारे बेटों को ज़बह करते और तुम्हारी बेटियों को ज़िन्दा रखते और उसमें तुम्हारे रब की तरफ़ से बड़ी बला थी (या बड़ा इनाम)
Aur (yaad karo) jab humne tumko firaun walon se nijaat bakhshi ke woh tum par bura azaab karte the tumhare beto ko zabah karte aur tumhari betiyon ko zinda rakhte aur is mein tumhare Rab ki taraf se badi bala thi (ya bara inaam) -
(ف82)قوم قبط و عمالیق سے جو مصر کا بادشاہ ہوا اس کو فرعون کہتے ہیں حضرت موسٰی علیہ السلام کے زمانہ کے فرعون کا نام ولید بن مصعب بن ریان ہے یہاں اسی کا ذکر ہے اس کی عمر چار سو برس سے زیادہ ہوئی آل فرعون سے اس کے متبعین مراد ہیں۔ (جمل وغیرہ) (ف83)عذاب سب برے ہوتے ہیں۔ سُوْۤءَ الْعَذَابِ وہ کہلائے گا جو اور عذابوں سے شدید ہو اس لئے حضرت مترجم قُدِّ سَ سِرُّ ہ، نے ( برا عذاب) ترجمہ کیا ( کما فی الجلالین وغیرہ) فرعون نے بنی اسرائیل پر نہایت بے دردی سے محنت و مشقت کے دشوار کام لازم کیے تھے پتھروں کی چٹانیں کاٹ کر ڈھوتے ڈھوتے ان کی کمریں گردنیں زخمی ہوگئیں تھیں غریبوں پر ٹیکس مقرر کیے تھے جو غروب آفتاب سے قبل بجبر وصول کیے جاتے تھے جو نادار کسی دن ٹیکس ادا نہ کرسکا اس کے ہاتھ گردن کے ساتھ ملا کر باندھ دیئے جاتے تھے اور مہینہ بھر تک اسی مصیبت میں رکھا جاتا تھا اور طرح طرح کی بے رحمانہ سختیاں تھیں۔(خازن وغیرہ)(ف84)فرعون نے خواب دیکھا کہ بَیْتُ الْمَقْدِ سْ کی طرف سے آگ آئی اس نے مصر کو گھیر کر تمام قبطیوں کو جلا ڈالا بنی اسرائیل کو کچھ ضرر نہ پہنچایا اس سے اس کو بہت وحشت ہوئی کاہنوں نے تعبیر دی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو تیرے ہلاک اور زوال سلطنت کا باعث ہوگا۔ یہ سن کر فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل میں جو لڑکا پیدا ہو قتل کردیا جائے دائیاں تفتیش کے لئے مقرر ہوئیں بارہ ہزار وبروایتے ستر ہزار لڑکے قتل کر ڈالے گئے اور نوّے ہز ار حمل گرادیئے گئے اور مشیتِ الہٰی سے اس قوم کے بوڑھے جلد جلد مرنے لگے قوم قبط کے رؤسانے گھبرا کر فرعون سے شکایت کی کہ بنی اسرائیل میں موت کی گرم بازاری ہے اس پر ان کے بچے بھی قتل کیے جاتے ہیں تو ہمیں خدمت گار کہاں سے میسر آئیں گے فرعون نے حکم دیا کہ ایک سال بچے قتل کیے جائیں اور ایک سال چھوڑے جائیں تو جو سال چھوڑنے کا تھا اس میں حضرت ہارون پیدا ہوئے اور قتل کے سال حضرت موسٰی علیہ السلام کی ولادت ہوئی۔(ف85)بلا امتحان و آزمائش کو کہتے ہیں آزمائش نعمت سے بھی ہوتی ہے اور شدت و محنت سے بھی نعمت سے بندہ کی شکر گزاری اور محنت سے اس کے صبر کا حال ظاہر ہوتا ہے اگر ذَالِکُمْ کا اشارہ فرعون کے مظالم کی طرف ہو تو بلا سے محنت و مصیبت مراد ہوگی اور اگر ان مظالم سے نجات دینے کی طرف ہو تو نعمت
اور جب ہم نے تمہارے لئے دریا پھاڑ دیا تو تمہیں بچالیا اور فرعون والوں کو تمہاری آنکھوں کے سامنے ڈبو دیا ۔ (ف۸٦)
And when We split the sea for you thereby rescuing you, and drowned the Firaun's people in front of your eyes.
और जब हमने तुम्हारे लिए दरिया फाड़ दिया तो तुम्हें बचा लिया और फ़िरऔन वालों को तुम्हारी आँखों के सामने डुबो दिया -
Aur jab humne tumhare liye darya phaad diya to tumhein bacha liya aur firaun walon ko tumhari aankhon ke samne dooba diya -
(ف86)یہ دوسری نعمت کا بیان ہے جو بنی اسرائیل پر فرمائی کہ انہیں فرعونیوں کے ظلم و ستم سے نجات دی اور فرعون کو مع اس کی قوم کے ان کے سامنے غرق کیا یہاں آل فرعون سے فرعون مع اپنی قوم کے مراد ہے جیسے کہ کَرَّمْنَا بَنِیْ اٰدَمَ میں حضرت آدم و اولاد آدم دونوں داخل ہیں۔ (جمل) مختصر واقعہ یہ ہے کہ حضرت موسٰی علیہ السلام والسلام بحکم الہٰی شب میں بنی اسرائیل کو مصر سے لے کر روانہ ہوئے صبح کو فرعون ان کی جستجو میں لشکر گراں لے کر چلا اور انہیں دریا کے کنارے جا پایا بنی اسرائیل نے لشکر فرعون دیکھ کر حضرت موسٰی علیہ السلام سے فریاد کی آپ نے بحکم الہٰی دریا میں اپنا عصا (لاٹھی) مارااس کی برکت سے عین دریا میں بارہ خشک رستے پیدا ہوگئے پانی دیواروں کی طرح کھڑا ہوگیا ان آبی دیواروں میں جالی کی مثل روشندان بن گئے بنی اسرائیل کی ہر جماعت ان راستوں میں ایک دوسری کو دیکھتی اور باہم باتیں کرتی گزر گئی فرعون دریائی رستے دیکھ کر ان میں چل پڑا جب اس کا تمام لشکر دریا کے اندر آگیا تو دریا حالت اصلی پر آیا اور تمام فرعونی اس میں غرق ہوگئے دریا کا عرض چار فرسنگ تھا یہ واقعہ بحرِ قُلْز م کا ہے جو بحر فارس کے کنارہ پر ہے یا بحر ماورائے مصر کا جس کو اساف کہتے ہیں بنی اسرائیل لب دریافرعونیوں کے غرق کا منظر دیکھ رہے تھے یہ غرق محرم کی دسویں تاریخ ہوا حضرت موسٰی علیہ السلام نے اس دن شکر کا روزہ رکھا سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے زمانہ تک بھی یہود اس دن کا روزہ رکھتے تھے حضور نے بھی اس دن کا روزہ رکھا اور فرمایا کہ حضرت موسٰی علیہ السلام کی فتح کی خوشی منانے اور اس کی شکر گزاری کرنے کے ہم یہود سے زیادہ حق دار ہیں ۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ عا شورہ کا روزہ سنّت ہے ۔مسئلہ : یہ بھی معلوم ہوا کہ انبیاء کرام پرجوانعامِ الٰہی ہو اس کی یادگار قائم کرنا اور شکر بجا لانا مسنون ہے اگر کفار بھی قائم کرتے ہوں جب بھی اس کو چھوڑا نہ جائے گا ۔
اور جب ہم نے موسیٰ سے چالیس رات کا وعدہ فرمایا پھر اس کے پیچھے تم نے بچھڑے کی پوجا شروع کردی اور تم ظالم تھے ۔ (ف۸۷)
And when We made a commitment with Moosa (Moses) for forty nights – then behind him you started worshipping the calf, and you were unjust.
और जब हमने मूसा से चालीस रात का वादा फ़रमाया फिर उसके पीछे तुमने बछड़े की पूजा शुरू कर दी और तुम ज़ालिम थे -
Aur jab humne Musa se chalis raat ka waada farmaya phir us ke peechhe tumne bachhre ki pooja shuru kar di aur tum zalim the -
(ف87)فرعون اور فرعونیوں کے ہلاک کے بعد جب حضرت موسٰی علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر کی طرف لوٹے اور ان کی درخواست پر اللہ تعالیٰ نے عطائے توریت کا وعدہ فرمایا اور اس کے لئے میقات معین کیا جس کی مدت معہ اضافہ ایک ماہ دس روز تھی مہینہ ذوالقعدہ اور دس دن ذوالحجہ کے حضرت موسٰی علیہ السلام قوم میں اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو اپنا خلیفہ و جانشین بنا کر توریت حاصل کرنے کے لئے کوہ طور پر تشریف لے گئے چالیس شب وہاں ٹہرے اس عرصہ میں کسی سے بات نہ کی اللہ تعالیٰ نے زبر جدی الواح میں توریت آپ پر نازل فرمائی یہاں سامری نے سونے کا جواہرات سے مرصع بچھڑا بنا کر قوم سے کہا کہ یہ تمہارا معبود ہے وہ لوگ ایک ماہ حضرت کا انتظار کرکے سامری کے بہکانے سے بچھڑا پوجنے لگے سوائے حضرت ہارون علیہ السلام اور آپ کے بارہ ہزار ہمراہیوں کے تمام بنی اسرائیل نے گوسالہ کو پوجا (خازن)
پھر اس کے بعد ہم نے تمہیں معافی دی (ف۸۸) کہ کہیں تم احسان مانو ۔ (ف۸۹)
Then after that We pardoned you so that you may be grateful.
फिर उसके बाद हमने तुम्हें माफ़ी दी कि कहीं तुम एहसान मानो -
Phir us ke baad humne tumhein maafi di ke kahin tum ehsaan mano -
(ف88)عفو کی کیفیت یہ ہے کہ حضرت موسٰی علیہ السلام نے فرمایا کہ توبہ کی صورت یہ ہے کہ جنہوں نے بچھڑے کی پرستش نہیں کی ہے وہ پرستش کرنے والوں کو قتل کریں اور مجرم برضاو تسلیم سکون کے ساتھ قتل ہوجائیں وہ اس پر راضی ہوگئے صبح سے شام تک ستر ہزار قتل ہوگئے تب حضرت موسٰی و ہارون علیہما السلام بتضرع و زاری بارگاہِ حق کی طرف ملتجی ہوئے وحی آئی کہ جو قتل ہوچکے شہید ہوئے باقی مغفور فرمائے گئے۔ان میں کے قاتل و مقتول سب جنتی ہیں مسئلہ: شرک سے مسلمان مرتد ہوجاتا ہے مسئلہ : مرتد کی سزا قتل ہے کیونکہ اللہ تعالٰی سے بغاوت قتل و خونریزی سے سخت ترجرم ہے فائدہ گوسالہ بنا کر پوجنے میں بنی اسرائیل کے کئی جرم تھے ایک تصویر سازی جو حرام ہے دوسرے حضرت ہارون علیہ السلام کی نافرمانی تیسرے گوسالہ پوج کر مشرک ہوجانا یہ ظلم آل فرعون کے مظالم سے بھی زیادہ شدید ہیں کیونکہ یہ افعال ان سے بعد ایمان سرزد ہوئے اس لئے مستحق تو اس کے تھے کہ عذاب الٰہی انہیں مہلت نہ دے اور فی الفور ہلاکت سے کفر پر ان کا خاتمہ ہوجائے لیکن حضرت موسٰی وہارون علیہما السلام کی بدولت انہیں توبہ کا موقع دیا گیا یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے۔(ف89)اس میں اشارہ ہے کہ بنی اسرائیل کی استعداد فرعونیوں کی طرح باطل نہ ہوئی تھی اور اس کی نسل سے صالحین پیدا ہونے والے تھے چنانچہ ان میں ہزارہا نبی و صالح پیدا ہوئے
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم تم نے بچھڑا بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا تو اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع لاؤ تو آپس میں ایک دوسرے کو قتل کردو (ف۹۰) یہ تمہارے پیدا کرنے والے کے نزدیک تمہارے لیے بہتر ہے تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی بیشک وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ۔ (ف ۹۱)
And when Moosa said to his people, “O my people! You have wronged yourselves by taking the calf,* therefore turn in repentance to your Creator, therefore kill each other; this is better for you before your Creator”; He therefore accepted your repentance; indeed He only is the Most Acceptor of Repentance, the Most Merciful. (* as your deity for worship)
और जब मूसा ने अपनी कौम से कहा ऐ मेरी कौम तुमने बछड़ा बना कर अपनी जानों पर ज़ुल्म किया तो अपने पैदा करने वाले की तरफ़ रुजू लाओ तो आपस में एक दूसरे को क़त्ल कर दो ये तुम्हारे पैदा करने वाले के नज़दीक तुम्हारे लिए बेहतर है तो उसने तुम्हारी तौबा क़बूल की बेशक वही है बहुत तौबा क़बूल करने वाला मेहरबान -
Aur jab Musa ne apni qaum se kaha ae meri qaum tumne bachhra bana kar apni jaano par zulm kiya to apne paida karne wale ki taraf rujoo lao to aapas mein ek doosre ko qatal kar do ye tumhare paida karne wale ke nazdeek tumhare liye behtar hai to usne tumhari tauba qubool ki beshak wahi hai bohot tauba qubool karne wala meherban -
(ف90)یہ قتل ان کے لئے کفارہ تھا۔(ف91)جب بنی اسرائیل نے توبہ کی اور کفارہ میں اپنی جانیں دے دیں تو اللہ تعالٰٰی نے حکم فرمایا کہ حضرت موسٰی علیہ السلام انہیں گو سالہ پرستی کی عذر خواہی کے لئے حاضر لائیں حضرت ان میں سے ستر آدمی منتخب کرکے طور پر لے گئے وہاں وہ کہنے لگے اے موسٰی ہم آپ کا یقین نہ کریں گے جب تک خدا کو علانیہ نہ دیکھ لیں اس پر آسمان سے ایک ہولناک آواز آئی جس کی ہیبت سے وہ مر گئے حضرت موسٰی علیہ السلام نے بتضرع عرض کی کہ میں بنی اسرائیل کو کیا جواب دوں گا اس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں یکے بعد دیگرے زندہ فرمادیا مسئلہ: اس سے شان انبیاء معلوم ہوتی ہے کہ حضرت موسٰی علیہ السلام سے لَنْ نُؤْمِنَ لَکَ کہنے کی شامت میں بنی اسرائیل ہلاک کیے گئے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد والوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ انبیاء کی جناب میں ترک ادب غضب الٰہی کا باعث ہوتا ہے اس سے ڈرتے رہیں مسئلہ: یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقبولان بارگاہ کی دعا سے مردے زندہ فرماتا ہے۔
اور جب تم نے کہا اے موسیٰ ہم ہرگز تمہارا یقین نہ لائیں گے جب تک اعلانیہ خدا کو نہ دیکھ لیں تو تمہیں کڑک نے آلیا اور تم دیکھ رہے تھے ۔
And when you said “O Moosa! We will not believe you till we clearly see Allah”; so the thunder seized you while you were watching.
और जब तुमने कहा ऐ मूसा हम हरगिज़ तुम्हारा यक़ीन न लाएँगे जब तक एएलानिया ख़ुदा को न देख लें तो तुम्हें कड़क ने आ लिया और तुम देख रहे थे।
Aur jab tumne kaha ae Musa hum hargiz tumhara yaqeen na laayenge jab tak a’laniya Khuda ko na dekh lein to tumhein kadak ne a liya aur tum dekh rahe the -
اور ہم نے ابر کو تمہارا سائبان کیا (ف۹۲) اور تم پر من اور سلویٰ اتارا کھاؤ ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں (ف۹۳) اور انہوں نے کچھ ہمارا نہ بگاڑا ہاں اپنی ہی جانوں کو بگاڑ کرتے تھے ۔ (ف۹٤) اور جب ہم نے فرمایا اس بستی میں جاؤ ۔
And We made the clouds a canopy for you and sent down Manna and Salwa (birds) on you; “Eat of the pure things We have provided you”; they did not wrong Us in the least, but indeed they wronged themselves.
और हमने अब्र को तुम्हारा सायबान किया और तुम पर मन्न और सल्वा उतारा खाओ हमारी दी हुई सुथरी चीज़ें और उन्होंने कुछ हमारा न बिगाड़ा हाँ अपनी ही जानों को बिगाड़ करते थे - और जब हमने फ़रमाया इस बस्ती में जाओ -
Aur humne abr ko tumhara saayaban kiya aur tum par mann o salwa utara khao hamari di hui suthri cheezen aur unhon ne kuch hamara na bigaada haan apni hi jaano ko bigaad karte the - aur jab humne farmaya is basti mein jao -
(ف92)جب حضرت موسٰی علیہ السلام فارغ ہو کر لشکر بنی اسرائیل میں پہنچے اور آپ نے انہیں حکم الہی سنایا کہ ملک شام حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد کا مدفن ہے اسی میں بیت المقدس ہے اس کو عمالقہ سے آزاد کرانے کے لئے جہاد کرو اور مصر چھوڑ کر وہیں وطن بناؤ مصر کا چھوڑنا بنی اسرائیل پر نہایت شاق تھا اول تو انہوں نے اس میں پس و پیش کیا اور جب بجبرو اکراہ حضرت موسٰی و حضرت ہارون علیہما السلام کی رکاب سعادت میں روانہ ہوئے توراہ میں جو کوئی سختی و دشواری پیش آتی حضرت موسٰی علیہ السلام سے شکایتیں کرتے جب اس صحرا میں پہنچے جہاں نہ سبزہ تھا نہ سایہ نہ غلہ ہمراہ تھا وہاں دھوپ کی گرمی اور بھوک کی شکایت کی اللہ تعالٰی نے بدعائے حضرت موسیٰ علیہ السلام ابر سفید کو انکا سائبان بنایا جو رات دن انکے ساتھ چلتا شب کو ان کے لئے نوری ستون اترتا جس کی روشنی میں کام کرتے انکے کپڑے میلے اور پرانے نہ ہوتے ناخن اور بال نہ بڑھتے اس سفر میں جولڑکا پیدا ہوتا اس کا لباس اس کے ساتھ پیدا ہوتا جتنا وہ بڑھتا لباس بھی بڑھتا۔(ف93)مَنۡ ترنجبین کی طرح ایک شیریں چیزتھی روزانہ صبح صادق سےطلوع آفتاب تک ہرشخص کے لئےایک صاع کی قدرآسمان سے نازل ہوتی لوگ اس کو چادروں میں لے کر دن بھر کھاتے رہتے سلوٰی ایک چھوٹا پرند ہوتا ہے اس کو ہوا لاتی یہ شکار کرکے کھاتے دونوں چیزیں شنبہ کو تو مطلق نہ آتیں باقی ہر روز پہنچتیں۔ جمعہ کو اور دنوں سے دونی آتیں حکم یہ تھا کہ جمعہ کو شنبہ کے لئے بھی حسب ضرورت جمع کرلو مگر ایک دن سے زیادہ کا جمع نہ کرو بنی اسرائیل نے ان نعمتوں کی ناشکری کی ذخیرے جمع کیے وہ سڑ گئے اور ان کی آمد بند کردی گئی۔ یہ انہوں نے اپنا ہی نقصان کیا کہ دنیا میں نعمت سے محروم اور آخرت میں سزاوار عذاب کے ہوئے۔
پھر اس میں جہاں چاہو بے روک ٹوک کھاؤ اور دروازہ میں سجدہ کرتے داخل ہو (ف۹۵) اور کہو ہمارے گناہ معاف ہوں ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے اور قریب ہے کہ نیکی والوں کو اور زیادہ دیں ۔ (ف۹٦)
And when We said, “Enter this town and eat freely from what is in it, and enter the gate whilst prostrating, and say, ‘May our sins be forgiven’ – We will forgive you your sins; and We will soon increase the reward for the righteous.”
फिर उसमें जहाँ चाहो बे रोक टोक खाओ और दरवाज़ा में सज्दा करते दाख़िल हो और कहो हमारे गुनाह माफ़ हों हम तुम्हारी ख़ताएँ बख़्श देंगे और क़रीब है कि नेकी वालों को और ज़्यादा दें -
Phir is mein jahan chaho be rok tok khao aur darwaza mein sajda karte dakhil ho aur kaho hamare gunah maaf hon hum tumhari khataen bakhsh denge aur qareeb hai ke neki walon ko aur zyada dein -
(ف94)اس بستی سے بیتُ المقدِس مراد ہے یا اریحا جو بیت المقدس کے قریب ہے جس میں عمالقہ آباد تھے اور اس کو خالی کر گئے وہاں غلے میوے بکثرت تھے ۔ (ف95)یہ دروازہ ان کے لئے بمنزلہ کعبہ کے تھا کہ اس میں داخل ہونا اور اس کی طرف سجدہ کرنا سبب کفارہ ذنوب قرار دیا گیا ۔(ف96)مسئلہ :اس آیت سے معلوم ہوا کہ زبان سے استغفار کرنا اور بدنی عبادت سجدہ وغیرہ بجالانا توبہ کا متمم ہے مسئلہ : یہ بھی معلوم ہوا کہ مشہور گناہ کی توبہ باعلان ہونی چاہئے مسئلہ : یہ بھی معلوم ہوا کہ مقامات متبرکہ جو رحمت الہی کے مورد ہوں وہاں توبہ کرنا اور طاعت بجالانا ثمرات نیک اور سرعت قبول کا سبب ہوتا ہے۔ (فتح العزیز) اسی لئے صالحین کا دستور رہا ہے کہ انبیاء و اولیاء کے موالد ومزارات پر حاضر ہو کر استغفار و اطاعت بجالاتے ہیں عرس و زیارت میں بھی یہ فائدہ متصور ہے۔
تو ظالموں نے اور بات بدل دی جو فرمائی گئی تھی اس کے سوا (ف۹۷) تو ہم نے آسمان سے ان پر عذاب اتارا (ف۹۸) بدلہ ان کی بےحکمی کا۔
But the unjust changed the word that had been ordered for another one, so We sent down a punishment on them from the skies, the recompense of their disobedience.
तो ज़ालिमों ने और बात बदल दी जो फ़रमाई गई थी उसके सिवा तो हमने आसमान से उन पर अज़ाब उतारा बदला उनकी बे-हुक्मी का।
To zalimon ne aur baat badal di jo farmai gayi thi is ke siwa to humne aasman se unpar azaab utara badla unki bewakoofi ka -
(ف97)بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کہ بنی اسرائیل کو حکم ہوا تھا کہ دروازہ میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہوں اور زبان سے ( حِطّۃٌ) کلمۂ توبہ و استغفار کہتے جائیں انہوں نے دونوں حکموں کی مخالفت کی داخل تو ہوئے سرینوں کے بل گھسیٹتے اور بجائے کلمۂ توبہ کے تمسخر سے حَبَّۃٌ فِیۡ شَعۡرَۃٍ کہا جس کے معنی ہیں( بال میں دانہ)(ف98)یہ عذاب طاعون تھا جس سے ایک ساعت میں چوبیس ہزار ہلاک ہوگئے ۔ مسئلہ : صحاح کی حدیث میں ہے کہ طاعون پچھلی امتوں کے عذاب کا بقیہ ہے جب تمہارے شہر میں واقع ہو وہاں سے نہ بھاگو دوسرے شہر میں ہو تو وہاں نہ جاؤ مسئلہ: صحیح حدیث میں ہے کہ جو لوگ مقام وباء میں رضائے الہی پر صابر رہیں اگر وہ وباء سے محفوظ رہیں جب بھی انہیں شہادت کا ثواب ملے گا۔
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لئے پانی مانگا تو ہم نے فرمایا اس پتھر پر اپنا عصا مارو فوراً اس میں سے بارہ چشمے بہ نکلے (ف۹۹) ہر گروہ نے اپنا گھاٹ پہچان لیا کھاؤ اور پیؤ خدا کا دیا (ف۱۰۰) اور زمین میں فساد اٹھاتے نہ پھرو (ف۱۰۱)
And when Moosa asked for water for his people, We said, “Strike this rock with your staff”; thereupon twelve springs gushed forth from it; each group recognised its drinking-place; “Eat and drink from what Allah has provided, and do not roam about the earth making turmoil in it.”
और जब मूसा ने अपनी कौम के लिए पानी माँगा तो हमने फ़रमाया इस पत्थर पर अपना अ्सा मारो फ़ौरन उसमें से बारह चश्मे बह निकले हर गिरोह ने अपना घाट पहचान लिया खाओ और पियो ख़ुदा का दिया और ज़मीन में फ़साद उठाते न फिरो
Aur jab Musa ne apni qaum ke liye paani maanga to humne farmaya is pathar par apna asa maro foran is mein se baraah chashme beh nikle har giroh ne apna ghat pehchaan liya khao aur piyo Khuda ka diya aur zameen mein fasaad uthate na phiro -
(ف99)جب بنی اسرائیل نے سفر میں پانی نہ پایا شدت پیاس کی شکایت کی تو حضرت موسٰی علیہ السلام کو حکم ہوا کہ اپنا عصا پتھر پر مارو آپ کے پاس ایک مربع پتھر تھا جب پانی کی ضرورت ہوتی آپ اس پر عصا مارتے اس سے بارہ چشمے جاری ہوجاتے اور سب سیراب ہوتے یہ بڑا معجزہ ہے لیکن سید انبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے انگشت مبارک سے چشمے جاری فرما کر جماعت کثیرہ کو سیراب فرمانا اس سے بہت اعظم واعلیٰ ہے کیونکہ عضو انسانی سے چشمے جاری ہونا پتھر کی نسبت زیادہ اعجب ہے۔ (خازن ومدارک)(ف100)یعنی آسمانی طعام من و سلوٰی کھاؤ اور اس پتھر کے چشموں کا پانی پیو جو تمہیں فضل الٰہی سے بے محنت میسر ہے۔(ف101)نعمتوں کے ذکر کے بعد بنی اسرائیل کی نالیاقتی دوں ہمتی اور نافرمانی کے چند واقعات بیان فرمائے جاتے ہیں۔
اور جب تم نے کہا اے موسیٰ (ف۱۰۲) ہم سے تو ایک کھانے پر (ف۱۰۳) ہرگز صبر نہ ہوگا تو آپ اپنے رب سے دعا کیجئے کہ زمین کی اگائی ہوئی چیزیں ہمارے لئے نکالے کچھ ساگ اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز فرمایا کیا ادنیٰ چیز کو بہتر کے بدلے مانگتے ہو (ف۱۰٤) اچھا مصر (ف۱۰۵) یا کسی شہر میں اترو وہاں تمہیں ملے گا جو تم نے مانگا (ف۱۰٦) اور ان پر مقرر کردی گئی خواری اور ناداری (ف۱۰۷) اور خدا کے غضب میں لوٹے (ف۱۰۸) یہ بدلہ تھا اس کا کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے اور انبیاء کو ناحق شہید کرتے (ف۱۰۹) یہ بدلہ تھا ان کی نافرمانیوں اور حد سے بڑھنے کا ۔
And when you said, “O Moosa! We shall never put up with only one kind of food, so call upon your Lord to produce for us what the earth grows – some herbs, cucumbers, corn, lentils and onions”; he said, “What! You wish to exchange the better for something inferior? Therefore settle down in Egypt or any city, where you will get what you demand”; and disgrace and misery were destined for them; and they returned towards Allah’s wrath; that was because they disbelieved in Allah’s signs and wrongfully martyred the Prophets; that was for their disobedience and transgression.
और जब तुमने कहा ऐ मूसा हम से तो एक खाने पर हरगिज़ सब्र न होगा तो आप अपने रब से दुआ कीजिए कि ज़मीन की उगाई हुई चीज़ें हमारे लिए निकाले कुछ साग और ककड़ी और गेंहूँ और मसूर और प्याज़ फ़रमाया क्या अदना चीज़ को बेहतर के बदले माँगते हो अच्छा मिस्र या किसी शहर में उतरो वहाँ तुम्हें मिलेगा जो तुमने माँगा और उन पर मुक़र्रर कर दी गई ख़्वारी और नादारी और ख़ुदा के ग़ज़ब में लौटे ये बदला था उसका कि वो अल्लाह की आयतों का इनकार करते और अन्बिया को नाहक़ शहीद करते ये बदला था उनकी नाफ़रमानियों और हद से बढ़ने का-
Aur jab tumne kaha ae Musa humse to ek khane par hargiz sabr na hoga to aap apne Rab se dua kijiye ke zameen ki ugai hui cheezen hamare liye nikale kuch saag aur kukri aur gehun aur masoor aur pyaaz farmaya kya adna cheez ko behtar ke badle mangte ho acha Misr ya kisi shehar mein utro wahan tumhein milega jo tumne manga aur unpar muqarrar kar di gayi khwari aur nadari aur Khuda ke ghazab mein lote ye badla tha us ka ke woh Allah ki aayaton ka inkaar karte aur anbiya ko na-haq shaheed karte ye badla tha unki na-farmaaniyon aur had se barhne ka -
(ف102)بنی اسرائیل کی یہ ادا بھی نہایت بے ادبانہ تھی کہ پیغمبر اولوالعزم کو نام لے کر پکارا یا نبی اللہ یارسول اللہ یا اور کوئی تعظیم کا کلمہ نہ کہا( فتح العزیز) جب انبیاء کا خالی نام لینا بے ادبی ہے تو ان کو بشر اور ایلچی کہنا کس طرح گستاخی نہ ہوگا غرض انبیاء کے ذکر میں بے تعظیمی کا شائبہ بھی ٍناجائز ہے۔(ف103)( ایک کھانے ) سے ( ایک قسم کا کھانا) مراد ہے(ف104)جب وہ اس پر بھی نہ مانے تو حضرت موسٰی علیہ السلام نے بارگاہِ الہی میں دعا کی ارشاد ہوا اِھۡبِطُوۡ ا (ف105)مصر عربی میں شہر کو بھی کہتے ہیں کوئی شہر ہواور خاص شہر یعنی مصر موسٰی علیہ السلام کا نام بھی ہے یہاں دونوں میں سے ہر ایک مراد ہو سکتا ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ یہاں خاص شہر مصر مراد نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کے لئے یہ لفظ غیر منصرف ہو کر مستعمل ہوتا ہے اور اس پر تنوین نہیں آتی جیسا کہ دوسری آیت میں وارد ہے ۔ اَلَیْسَ لِیْ مُلْکُ مِصْرَ اور اُدْخُلُوْا مِصْرَ مگر یہ خیال صحیح نہیں کیونکہ سکون اوسط کی وجہ سے لفظ ہند کی طرح اس کو منصرف پڑھنا درست ہے نحو میں اس کی تصریح موجود ہے علاوہ بریں حسن وغیرہ کی قرأت میں مصر بلا تنوین آیا ہے اور بعض مصاحف حضرت عثمان اور مصحف اُبَیّ رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں بھی ایسا ہی ہے اسی لئے حضرت مترجم قدس سرہ نے ترجمہ میں دونوں احتمالوں کو اخذ فرمایا ہے اور شہر معین کے احتمال کو مقدم کیا۔(ف106)یعنی ساگ ککڑی وغیرہ کو ان چیزوں کی طلب گناہ نہ تھی لیکن مَنۡ وسَلوٰی جیسی نعمت بے محنت چھوڑ کر ان کی طرف مائل ہونا پست خیالی ہے ہمیشہ ان لوگوں کا میلان طبع پستی ہی کی طرف رہا اور حضرت موسیٰ و ہارون وغیرہ جلیل القدر بلند ہمت انبیاء (علیہم السلام) کے بعد بنی اسرائیل کی لئیمی و کم حوصلگی کا پورا ظہور ہوا اور تسلط جالوت و حادثہ بخت نصر کے بعد تو وہ بہت ہی ذلیل و خوار ہوگئے اس کا بیان ضُرِبَتْ عَلَیْھِمُ الذِّلَّۃُ میں ہے ۔(ف107)یہود کی ذلت تو یہ کہ دنیا میں کہیں نام کو ان کی سلطنت نہیں اور ناداری یہ کہ مال موجود ہوتے ہوئے بھی حرص سے محتاج ہی رہتے ہیں(ف108)انبیاء و صلحاء کی بدولت جو رتبے انہیں حاصل ہوئے تھے ان سے محروم ہوگئے اس غضب کا باعث صرف یہی نہیں کہ انہوں نے آسمانی غذاؤں کے بدلے ارضی پیداوار کی خواہش کی یا اُسی طرح کی اور خطائیں جو زمانہ حضرت موسیٰ علیہ السلام میں صادر ہوئیں بلکہ عہد نبوت سے دور ہونے اور زمانہ دراز گزرنے سے ان کی استعدادِیں باطل ہوئیں اور نہایت قبیح افعال اور عظیم جرم ان سے سرزد ہوئے۔یہ ان کی اس ذلت و خواری کا باعث ہوئے ۔(ف109)جیسا کہ انہوں نے حضرت زکریا و یحیی و شعیا علیہم السلام کو شہید کیا اور یہ قتل ایسے ناحق تھے جن کی وجہ خود یہ قاتل بھی نہیں بتاسکتے۔
بیشک ایمان والے نیز یہودیوں اور نصرانیوں اور ستارہ پرستوں میں سے وہ کہ سچے دل سے اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائیں اور نیک کام کریں ان کا ثواب ان کے رب کے پاس ہے اور نہ انہیں کچھ اندیشہ ہو اور نہ کچھ غم (ف۱۱۰)
Indeed the believers (the Muslims) and those among the Jews, the Christians, and the Sabeans who sincerely accept faith in Allah and the Last Day* and do good deeds – their reward is with their Lord; and there shall be no fear upon them nor shall they grieve. (* i.e. convert to Islam)
बेशक ईमान वाले नेज़ यहूदियों और नसरानियों और सितारा परस्तों में से वो कि सच्चे दिल से अल्लाह और पिछले दिन पर ईमान लाएँ और नेक काम करें उनका सवाब उनके रब के पास है और न उन्हें कुछ अंदेशा हो और न कुछ ग़म
Beshak imaan wale neez yahoodiyon aur nasaraon aur sitara paraston mein se woh ke sache dil se Allah aur pichle din par imaan laayen aur nek kaam karein unka sawaab unke Rab ke paas hai aur na unhein kuch andesha ho aur na kuch gham -
(ف110)شانِ نُزول : ابن جریر و ابن ابی حاتم نے سدی سے روایت کی کہ یہ آیت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے اصحاب کے حق میں نازل ہوئی۔ ( لباب النقول)
اور جب ہم نے تم سے عہد لیا (ف۱۱۱) اور تم پر طور کو اونچا کیا (ف۱۱۲) لو جو کچھ ہم تم کو دیتے ہیں زور سے (ف۱۱۳) اور اس کے مضمون یاد کرو اس امید پر کہ تمہیں پرہیزگاری ملے ۔
And when We made a covenant with you and raised the Mount above you; “Accept and hold fast to what We give you, and remember what is in it, so that you may attain piety.”
और जब हमने तुम से अहद लिया और तुम पर तूर को ऊँचा किया लो जो कुछ हम तुम को देते हैं जोर से और उसके मज़मून याद करो इस उम्मीद पर कि तुम्हें परहेज़गारी मिले -
Aur jab humne tumse ahd liya aur tum par Toor ko ooncha kiya lo jo kuch hum tumko dete hain zor se aur us ke mazmoon yaad karo is umeed par ke tumhein parhezgaari mile -
(ف111)کہ تم توریت مانو گے اور اس پر عمل کروگے پھر تم نے اس کے احکام کو شاق و گراں جان کر قبول سے انکار کردیا باوجودیکہ تم نے خود بالحاح حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ایسی آسمانی کتاب کی استدعا کی تھی جس میں قوانین شریعت اور آئین عبادت مفصل مذکور ہوں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تم سے بار بار اس کے قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کا عہد لیا تھا جب وہ کتاب عطا ہوئی تم نے اس کے قبول کرنے سے انکار کردیا اور عہد پورا نہ کیا ۔(ف112)بنی اسرائیل کی عہد شکنی کے بعد حضرت جبریل نے بحکم الہی طور پہاڑ کو اٹھا کر ان کے سروں پر قدر قامت فاصلہ پر معلق کردیا اور حضرت موسٰی علیہ السلام نے فرمایا ،یاتو تم عہد قبول کرو ورنہ پہاڑ تم پر گرا دیا جائے گا اور تم کچل ڈالے جاؤ گے اس میں صورۃً وفا عہد پر اکراہ تھا اور درحقیقت پہاڑ کا سروں پر معلق کردینا آیت الہی اور قدرت حق کی برہان قوی ہے اس سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے کہ بے شک یہ رسول مظہر قدرت الٰہی ہیں۔ یہ اطمینان ان کو ماننے اور عہد پورا کرنے کا اصل سبب ہے۔(ف113)یعنی بکوشش تمام ۔
پھر اس کے بعد تم پھر گئے تو اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم ٹوٹے والوں میں ہو جاتے ۔ (ف۱۱٤)
Then after that, you turned away; and were it not for the munificence of Allah and His mercy, you would be among the losers.
फिर उसके बाद तुम फिर गए तो अगर अल्लाह का फ़ज़्ल और उसकी रहमत तुम पर न होती तो तुम टूटे वालों में हो जाते -
Phir us ke baad tum phir gaye to agar Allah ka fazl aur us ki rehmat tum par na hoti to tum toote walon mein ho jate -
(ف114)یہاں فضل و رحمت سے یا توفیق توبہ مراد ہے یا تاخیر عذاب (مدارک وغیرہ) ایک قول یہ ہے کہ فضل الہی اور رحمت حق سے حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پاک مراد ہے معنی یہ ہیں کہ اگر تمہیں خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود کی دولت نہ ملتی اور آپ کی ہدایت نصیب نہ ہوتی تو تمہارا انجام ہلاک و خسران ہوتا۔
اور بیشک ضرور تمہیں معلوم ہے تم میں کے وہ جنہوں نے ہفتہ میں سرکشی کی (ف۱۱۵) تو ہم نے ان سے فرمایا کہ ہوجاؤ بندر دھتکارے ہوئے ۔
And you certainly know of those amongst you who transgressed in the matter of Sabth (Sabbath – Saturday) – We therefore said to them, “Become apes, despised!”
और बेशक ज़रूर तुम्हें मालूम है तुम में के वो जिन्होंने हफ़्ता में सरकशी की तो हमने उनसे फ़रमाया कि हो जाओ बंदर धुत्कारे हुए -
Aur beshak zaroor tumhein maloom hai tum mein ke woh jinhon ne haftay mein sarkashi ki to humne unse farmaya ke ho jao bandar dhatkaare hue -
(ف115)شہرایلہ میں بنی اسرائیل آباد تھے انہیں حکم تھاکہ شنبہ کادن عبادت کے لئے خاص کردیں اس روز شکار نہ کریں اوردنیاوی مشاغل ترک کردیں ان کے ایک گروہ نے یہ چال کی کہ جمعہ کو دریاکے کنارے کنارے بہت سے گڈھے کھودتے اور شنبہ کی صبح کو دریا سے ان گڈھوں تک نالیاں بناتے جن کے ذریعہ پانی کے ساتھ آکر مچھلیاں گڈھوں میں قید ہوجاتیں یکشنبہ کو انہیں نکالتے اور کہتے کہ ہم مچھلی کو پانی سے شنبہ کے روزنہیں نکالتے چالیس یا ستر سال تک یہی عمل رہاجب حضرت داؤدعلیہ الصلٰوۃ والسلام کی نبوت کاعہدآیا آپ نے انہیں اس سے منع کیا اور فرمایا قید کرناہی شکارہےجوشنبہ کوکرتےہواس سے بازآؤورنہ عذاب میں گرفتار کیے جاؤ گے وہ بازنہ آئے آپ نے دعافرمائی اللہ تعالیٰ نے انہیں بندروں کی شکل میں مسخ کردیا عقل و حواس تو ان کے باقی رہے مگر قوت گویائی زائل ہوگئی بدنوں سے بدبو نکلنے لگی اپنے اس حال پر روتے روتے تین روز میں سب ہلاک ہوگئے ان کی نسل باقی نہ رہی یہ ستر ہزار کے قریب تھے بنی اسرائیل کا دوسرا گروہ جوبارہ ہزار کے قریب تھا انہیں اس عمل سے منع کرتا رہا جب یہ نہ مانے تو انہوں نے ان کے اور اپنے محلوں کے درمیان دیوار بنا کر علیحدگی کرلی ان سب نے نجات پائی بنی اسرائیل کا تیسرا گروہ ساکت رہا اس کے حق میں حضرت ابن عباس کے سامنے عکرمہ نے کہا کہ وہ مغفور ہیں کیونکہ امر بالمعروف فرض کفایہ ہے بعض کا ادا کرنا کل کا حکم رکھتا ہے ان کے سکوت کی وجہ یہ تھی کہ یہ ان کے پندپذیر ہونے سے مایوس تھے عکرمہ کی یہ تقریر حضرت ابن عباس کو بہت پسند آئی اور آپ نے سرور سے اٹھ کر ان سے معانقہ کیا اور ان کی پیشانی کو بوسہ دیا۔(فتح العزیز) مسئلہ:اس سے معلوم ہوا کہ سرور کا معانقہ سنت صحابہ ہے اس کے لئے سفر سے آنا اور غیبت کے بعد ملنا شرط نہیں۔
تو ہم نے (اس بستی کا) یہ واقعہ اس کے آگے اور پیچھے والوں کے لیے عبرت کردیا اور پرہیزگاروں کے لیے نصیحت ۔
So We made this incident (of that town) a warning to the surrounding towns (others of their time) and to succeeding generations, and a lesson for the pious.
तो हमने (उस बस्ती का) ये वाक़िआ उसके आगे और पीछे वालों के लिए इबरत कर दिया और परहेज़गारों के लिए नसीहत-
To humne (is basti ka) ye waaqia us ke aage aur peechhe walon ke liye ibrat kar diya aur parhezgaaron ke liye naseehat -
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا خدا تمہیں حکم دیتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو (ف۱۱٦) بولے کہ آپ ہمیں مسخرہ بناتے ہیں (ف۱۱۷) فرمایا خدا کی پناہ کہ میں جاہلوں سے ہوں ۔ (ف۱۱۸)
And (remember) when Moosa said to his people, “Allah commands you to sacrifice a cow”; they said, “Are you making fun of us?” He answered, “Allah forbid that I should be of the ignorant!”
और जब मूसा ने अपनी कौम से फ़रमाया ख़ुदा तुम्हें हुक्म देता है कि एक गाय ज़बह करो बोले कि आप हमें मसख़रा बनाते हैं फ़रमाया ख़ुदा की पनाह कि मैं जाहिलों से हूँ -
Aur jab Musa ne apni qaum se farmaya Khuda tumhein hukum deta hai ke ek gaaye zabah karo bole ke aap humein maskhara banate hain farmaya Khuda ki panaah ke main jahilon se hoon -
(ف116)بنی اسرائیل میں عامیل نامی ایک مالدار تھا اس کے چچا زاد بھائی نے بطمع وراثت اس کو قتل کرکے دوسری بستی کے دروازے پر ڈال دیا اور خود صبح کو اس کے خون کا مدعی بنا وہاں کے لوگوں نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے درخواست کی کہ آپ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ حقیقت حال ظاہر فرمائے اس پر حکم صادرہوا کہ ایک گائے ذبح کرکے اس کا کوئی حصہ مقتول کے ماریں وہ زندہ ہو کر قاتل کو بتادے گا۔(ف117)کیونکہ مقتول کا حال معلوم ہونے اور گائے کے ذبح میں کوئی مناسبت معلوم نہیں ہوتی۔(ف118)ایسا جواب جو سوال سے ربط نہ رکھے جاہلوں کا کام ہے۔ یا یہ معنی ہیں کہ محاکمہ کے موقع پر استہزاء جاہلوں کا کام ہے انبیاء کی شان اس سے برتر ہے القصہ جب ہی بنی اسرائیل نے سمجھ لیا کہ گائے کا ذبح کرنا لازم ہے تو انہوں نے آپ سے اس کے اوصاف دریافت کیے حدیث شریف میں ہے کہ اگر بنی اسرائیل بحث نہ نکالتے تو جو گائے ذبح کردیتے کافی ہوجاتی۔
بولے اپنے رب سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں بتا دے گائے کیسی کہا وہ فرماتا ہے کہ وہ ایک گائے ہے نہ بوڑھی اور نہ اَدسر بلکہ ان دونوں کے بیچ میں تو کرو جس کا تمہیں حکم ہوتا ہے
They said, “Pray to your Lord that He may describe the cow”; said Moosa, “He says that it is a cow neither old nor very young but between the two conditions; so do what you are commanded.”
बोले अपने रब से दुआ कीजिए कि वो हमें बता दे गाय कैसी कहा वो फ़रमाता है कि वो एक गाय है न बूढ़ी और न अद्सर बल्कि उन दोनों के बीच में तो करो जिसका तुम्हें हुक्म होता है ,
Bole apne Rab se dua kijiye ke woh humein bata de gaaye kesi kaha woh farmata hai ke woh ek gaaye hai na boorhi aur na adasar balki un donon ke beech mein to karo jis ka tumhein hukum hota hai -
بولے اپنے رب سے دعا کیجئے ہمیں بتا دے اس کا رنگ کیا ہے کہا وہ فرماتا ہے وہ ایک پیلی گائے ہے جس کی رنگ ڈہڈہاتی دیکھنے والوں کو خوشی دیتی
They said, “Pray to your Lord that He may reveal its colour to us”; answered Moosa, “Indeed He says it is a yellow cow, of bright colour, pleasing to the beholders.”
बोले अपने रब से दुआ कीजिए हमें बता दे उसका रंग क्या है कहा वो फ़रमाता है वो एक पीली गाय है जिसकी रंगत डबडबाती देखने वालों को ख़ुशी देती,
Bole apne Rab se dua kijiye humein bata de us ka rang kya hai kaha woh farmata hai woh ek peeli gaaye hai jis ki rangat dabdabati dekhne walon ko khushi deti -
بولے اپنے رب سے دعا کیجئے کہ ہمارے لیے صاف بیان کردے وہ گائے کیسی ہے بیشک گائیوں میں ہم کو شبہ پڑگیا اور اللہ چاہے تو ہم راہ پا جائیں گے ۔ (ف۱۱۹)
They said, “Pray to your Lord that He may clearly describe the cow to us, we are really in a doubt as to which cow it is; and if Allah wills, we will attain guidance.”
बोले अपने रब से दुआ कीजिए कि हमारे लिए साफ़ बयान कर दे वो गाय कैसी है बेशक गायों में हम को शुब्हा पड़ गया और अल्लाह चाहे तो हम राह पा जाएँगे -
Bole apne Rab se dua kijiye ke hamare liye saaf bayan kar de woh gaaye kesi hai beshak gaayon mein humko shubh pad gaya aur Allah chahe to hum raah pa jayeinge -
(ف119)حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر وہ ان شاء اللہ نہ کہتے تو کبھی وہ گائے نہ پاتے مسئلہ: ہر نیک کام میں ان شاء اللہ کہنا مستحب و باعث برکت ہے
کہا وہ فرماتا ہے کہ وہ ایک گائے ہے جس سے خدمت نہیں لی جاتی کہ زمین جوتے اور نہ کھیتی کو پانی دے بے عیب ہے جس میں کوئی داغ نہیں بولے اب آپ ٹھیک بات لائے (ف ۱۲۰) تو اسے ذبح کیا اور (ذبح) کرتے معلوم نہ ہوتے تھے (ف۱۲۱)
Said Moosa, “He says, ‘She is a cow not made to work, neither ploughing the soil nor watering the fields; flawless and spotless’; they said, “You have now conveyed the proper fact”; so they sacrificed it, but seemed not to be sacrificing it (with sincerity).
कहा वो फ़रमाता है कि वो एक गाय है जिससे ख़िदमत नहीं ली जाती कि ज़मीन जोते और न खेती को पानी दे बे-ऐब है जिसमें कोई दाग़ नहीं बोले अब आप ठीक बात लाए तो उसे ज़बह किया और (ज़बह) करते मालूम न होते थे
Kaha woh farmata hai ke woh ek gaaye hai jis se khidmat nahin li jati ke zameen jote aur na kheti ko paani de be-ayb hai jis mein koi daag nahin bole ab aap theek baat laaye to use zabah kiya aur (zabah) karte maaloom na hote the -
(ف120)یعنی اب تشفی ہوئی اور پوری شان و صفت معلوم ہوئی پھر انہوں نے گائے کی تلاش شروع کی ان اطراف میں ایسی صرف ایک گائے تھی اس کا حال یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک صالح شخص تھے ان کا ایک صغیر السن بچہ تھا اور ان کے پاس سوائے ایک گائے کے بچے کے کچھ نہ رہا تھا انہوں نے اس کی گردن پر مہر لگا کر اللہ کے نام پر چھوڑ دیا اور بارگاہِ حق میں عرض کیا یارب میں اس بچھیا کو اس فرزند کے لئے تیر ے پاس ودیعت رکھتا ہوں جب یہ فرزند بڑا ہو یہ اس کے کام آئے ان کا تو انتقال ہوگیا بچھیا جنگل میں بحفظ الٰہی پرورش پاتی رہی یہ لڑکا بڑا ہوا اور بفضلہ صالح ومتقی ہوا ماں کا فرمانبردار تھا ایک روز اس کی والدہ نے کہا اے نورِ نظر تیرے باپ نے تیرے لئے فلاں جنگل میں خدا کے نام ایک بچھیا چھوڑ دی ہے وہ اب جوان ہوگئی اس کو جنگل سے لا اور اللہ سے دعا کر کہ وہ تجھے عطا فرمائے لڑکے نے گائے کو جنگل میں دیکھا اوروالدہ کی بتائی ہوئی علامتیں اس میں پائیں اور اس کو اللہ کی قسم دے کر بلایا وہ حاضر ہوئی جوان اس کو والدہ کی خدمت میں لایا والدہ نے بازار میں لے جا کر تین دینار پر فروخت کرنے کا حکم دیا اور یہ شرط کی کہ سودا ہونے پر پھر اس کی اجازت حاصل کی جائے اس زمانہ میں گائے کی قیمت ان اطراف میں تین دینار ہی تھی جوان جب اس گائے کو بازار میں لایا تو ایک فرشتہ خریدار کی صورت میں آیا اور اس نے گائے کی قیمت چھ دینار لگادی مگر اس شرط سے کہ جوان والدہ کی اجازت کا پابند نہ ہو جوان نے یہ منظور نہ کیا اور والدہ سے تمام قصہ کہا اس کی والدہ نے چھ دینار قیمت منظور کرنے کی تو اجازت دی مگر بیع میں پھر دوبارہ اپنی مرضی دریافت کرنے کی شرط کی جوان پھر بازار میں آیااس مرتبہ فرشتہ نے بارہ دینار قیمت لگائی اور کہا کہ والدہ کی اجازت پر موقوف نہ رکھو جو ان نے نہ مانا اور والدہ کو اطلاع دی وہ صاحب فراست سمجھ گئی کہ یہ خریدار نہیں کوئی فرشتہ ہے جو آزمائش کے لئے آتا ہے۔ بیٹے سے کہا کہ اب کی مرتبہ اس خریدار سے یہ کہنا کہ آپ ہمیں اس گائے کے فروخت کرنے کا حکم دیتے ہیں یا نہیں ۔ لڑکے نے یہی کہا فرشتہ نے جواب دیا کہ ابھی اس کو روکے رہو جب بنی اسرائیل خریدنے آئیں تو اس کی قیمت یہ مقرر کرنا کہ اس کی کھال میں سونا بھر دیا جائے جوان گائے کو گھر لایا اور جب بنی اسرائیل جستجو کرتے ہوئے اس کے مکان پر پہنچے تو یہی قیمت طے کی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ضمانت پر وہ گائے بنی اسرائیل کے سپرد کی مسائل اس واقعہ سے کئی مسئلے معلوم ہوئے۔(۱) جو اپنے عیال کو اللہ کے سپرد کرے اللہ تعالیٰ اس کی ایسی عمدہ پرورش فرماتا ہے۔(۲) جو اپنا مال اللہ کے بھروسہ پر اس کی امانت میں دے اللہ اس میں برکت دیتا ہے مسئلہ (۳) والدین کی فرمانبرداری اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔(۴) غیبی فیض قربانی و خیرات کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔(۵) راہ خدا میں نفیس مال دینا چاہئے ۔(۶) گائے کی قربانی افضل ہے۔(ف121)بنی اسرائیل کے مسلسل سوالات اور اپنی رسوائی کے اندیشہ اور گائے کی گرانی قیمت سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ وہ ذبح کا قصد نہیں رکھتے مگر جب ان کے سوالات شافی جوابوں سے ختم کردیئے گئے تو انہیں ذبح کرنا ہی پڑا۔
تو ہم نے فرمایا اس مقتول کو اس گائے کا ایک ٹکڑا مارو (ف۱۲۲) اللہ یونہی مردے جلائے گا۔ اور تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے کہ کہیں تمہیں عقل ہو (ف۱۲۳)
We therefore said, “Strike the dead man with a part of the sacrificed cow”; this is how Allah will bring the dead to life, and shows you His signs so that you may understand!
तो हमने फ़रमाया उस मक्तूल को उस गाय का एक टुकड़ा मारो अल्लाह यूँही मुर्दे जिलाएगा। और तुम्हें अपनी निशानियाँ दिखाता है कि कहीं तुम्हें अक़्ल हो
To humne farmaya is maqtool ko is gaaye ka ek tukra maaro Allah yunhi murde jilayega aur tumhein apni nishaniyan dikhata hai ke kahin tumhein aql ho -
(ف122)(۱۲۲) بنی اسرائیل نے گائے ذبح کرکے اس کے کسی عضو سے مردہ کو مارا وہ بحکمِ الٰہی زندہ ہوا اس کے حلق سے خون کے فوارے جاری تھے اس نے اپنے چچازاد بھائی کو بتایا کہ اس نے مجھے قتل کیا اب اس کو بھی اقرار کرنا پڑا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس پر قصاص کا حکم فرمایا اس کے بعد شرع کا حکم ہوا کہ مسئلہ: قاتل مقتول کی میراث سے محروم رہے گا مسئلہ : لیکن اگر عادل نے باغی کو قتل کیا یا کسی حملہ آور سے جان بچانے کے لئے مد افعت کی اس میں وہ قتل ہوگیا تو مقتول کی میراث سے محروم نہ ہوگا۔(ف123)اور تم سمجھو کہ بے شک اللہ تعالیٰ مردے زندہ کرنے پر قادر ہے اور روز جزا مردوں کو زندہ کرنا اور حساب لینا حق ہے۔
پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے (ف۱۲٤) تو وہ پتھروں کی مثل ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ کرّے اور پتھروں میں تو کچھ وہ ہیں جن سے ندیاں بہہ نکلتی ہیں اور کچھ وہ ہیں جو پھٹ جاتے ہیں تو ان سے پانی نکلتا ہے اور کچھ وہ ہیں جو اللہ کے ڈر سے گر پڑتے ہیں (ف۱۲۵) اور اللہ تمہارے کوتکوں سے بےخبر نہیں
Then after it, your hearts hardened – so they are like rocks, or even harder; for there are some rocks that rivers gush forth from them; and some that water flows from them when they split asunder; and there are rocks that fall down for the fear of Allah; and Allah is not unaware of your deeds.
फिर उसके बाद तुम्हारे दिल सख़्त हो गए तो वो पत्थरों की मिस्ल हैं बल्कि उनसे भी ज़्यादा क़र्रे और पत्थरों में तो कुछ वो हैं जिन से नदियाँ बह निकलती हैं और कुछ वो हैं जो फट जाते हैं तो उनसे पानी निकलता है और कुछ वो हैं जो अल्लाह के डर से गिर पड़ते हैं और अल्लाह तुम्हारे कोतक़ों से बे-ख़बर नहीं ,
Phir us ke baad tumhare dil sakht ho gaye to woh pathron ki misl hain balki unse bhi zyada karre aur pathron mein to kuch woh hain jinh se nadiyan beh nikalti hain aur kuch woh hain jo phat jate hain to unse paani nikalta hai aur kuch woh hain jo Allah ke dar se gir padte hain aur Allah tumhare kotakon se be-khabar nahin -
(ف124)اور ایسے بڑے نشانہائے قدرت سے تم نے عبرت حاصل نہ کی۔(ف125)بایں ہمہ تمہارے دل اثر پذیر نہیں پتھروں میں بھی اللہ نے ادرک وشعوردیا ہے انہیں خوف الہی ہوتا ہے وہ تسبیح کرتے ہیں۔ اِنۡ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ مسلم شریف میں حضرت جابر رضی ا للہ عنہ سے مروی ہے کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں اس پتھر کو پہچانتا ہوں جو بعثت سے پہلے مجھے سلام کیا کرتا تھا ترمذی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے میں سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اطراف مکہ میں گیا جو درخت یا پہاڑ سامنے آتا تھاالسلام علیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرض کرتا تھا۔
تو اے مسلمانو! کیا تمہیں یہ طمع ہے کہ یہ (یہودی) تمہارا یقین لائیں گے اور ان میں کا تو ایک گروہ وه تھا کہ اللہ کا کلام سنتے پھر سمجھنے کے بعد اسے دانستہ بدل دیتے، (ف۱۲٦)
So O Muslims, do you wish for the Jews to accept faith in you whereas a group of them used to listen to the Words of Allah, and then after having understood it, purposely changed it?
तो ऐ मुसलमानो! क्या तुम्हें ये तमा है कि ये (यहूदी) तुम्हारा यक़ीन लाएँगे और उनमें का तो एक गिरोह वो था कि अल्लाह का कलाम सुनते फिर समझने के बाद उसे दानिस्ता बदल देते ,
To ae Musalmano! kya tumhein ye tamaa hai ke ye (yahoodi) tumhara yaqeen laayenge aur unmein ka to ek giroh woh tha ke Allah ka kalaam sunte phir samajhne ke baad use danishta badal dete -
(ف126)جیسے انہوں نے توریت میں تحریف کی اور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت بدل ڈالی۔
اور جب مسلمانوں سے ملیں تو کہیں ہم ایمان لائے (ف۱۲۷) اور جب آپس میں اکیلے ہوں تو کہیں وہ علم جو اللہ نے تم پر کھولا مسلمانوں سے بیان کیے دیتے ہو کہ اس سے تمہارے رب کے یہاں تمہیں پر حجت لائیں کیا تمہیں عقل نہیں ۔
And when they meet the believers, they say, “We believe”; but when they are in isolation with one another they say, “You clarify to the believers from what Allah has disclosed to you, so that they may evidence it against you before your Lord? So have you no sense?”
और जब मुसलमानों से मिलें तो कहें हम ईमान लाए और जब आपस में अकेले हों तो कहें वो इल्म जो अल्लाह ने तुम पर खोला मुसलमानों से बयान किए देते हो कि इस से तुम्हारे रब के यहाँ तुम्हें पर हुज्जत लाएँ क्या तुम्हें अक़्ल नहीं -
Aur jab Musalmanon se milen to kahein hum imaan laaye aur jab aapas mein akele hon to kahein woh ilm jo Allah ne tum par khola Musalmanon se bayan kiye dete ho ke is se tumhare Rab ke yahan tum par hujjat laayen kya tumhein aql nahin -
(ف127)شان نُزول یہ آیت ان یہودیوں کی شان میں نازل ہوئی جو سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں تھے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہودی منافق جب صحابہ کرام سے ملتے تو کہتے کہ جس پر تم ایمان لائے اس پر ہم بھی ایمان لائے تم حق پر ہو اور تمہارے آقا محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سچے ہیں ان کا قول حق ہے ہم ان کی نعت و صفت اپنی کتاب توریت میں پاتے ہیں ان لوگوں پر رؤساء یہود ملامت کرتے تھے اس کا بیان وَاِذَا خَلَا بَعْضُھُمْ میں ہے۔(خازن) فائدہ اس سے معلوم ہوا کہ حق پوشی اور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوصاف کا چھپانا اور کمالات کا انکار کرنا یہود کا طریقہ ہے آج کل کے بہت سے گمراہوں کی یہی عادت ہے۔
اور ان میں کچھ اَن پڑھ ہیں کہ جو کتاب (ف۱۲۸) کو نہیں جانتے مگر زبانی پڑھ لینا (ف۱۲۹) یا کچھ اپنی من گھڑت اور وہ نرے گمان میں ہیں ۔
And among them are the unlearned that do not know anything of the Book except to recite something therefrom or parts of their own fabrications; they are in absolute illusion.
और उनमें कुछ अनपढ़ हैं कि जो किताब को नहीं जानते मगर ज़बानी पढ़ लेना या कुछ अपनी मन-गढ़त और वो नरे गुमान में हैं -
Aur un mein kuch anparh hain ke jo kitaab ko nahin jante magar zubani padh lena ya kuch apni man-ghadatt aur woh nare gumaan mein hain -
(ف128)کتاب سے توریت مراد ہے۔(ف129)امانی اُمنیہ کی جمع ہے اور اس کے معنی زبانی پڑھنے کے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آیت کے معنی یہ ہیں کہ کتاب کو نہیں جانتے مگر صرف زبانی پڑھ لینا بغیر معنی سمجھے۔(خازن) بعضے مفسرین نے یہ معنی بھی بیان کیے ہیں کہ امانی سے وہ جھوٹی گھڑی ہوئی باتیں مراد ہیں جو یہودیوں نے اپنے علماء سے سن کر بے تحقیق مان لی تھیں
تو خرابی ہے ان کے لئے جو کتاب اپنے ہاتھ سے لکھیں پھر کہہ دیں یہ خدا کے پاس سے ہے کہ اس کے عوض تھوڑے دام حاصل کریں (ف۱۳۰) تو خرابی ہے ان کے لئے ان کے ہاتھوں کے لکھے سے اور خرابی ان کے لئے اس کمائی سے ۔
Therefore woe is to those who write the Book with their hands; and they then claim, “This is from Allah” in order to gain an abject (worldly) price for it; therefore woe to them for what their hands have written, and woe to them for what they earn with it.
तो ख़राबी है उनके लिए जो किताब अपने हाथ से लिखें फिर कह दें ये ख़ुदा के पास से है कि उसके एवज़ थोड़े दाम हासिल करें तो ख़राबी है उनके लिए उनके हाथों के लिखे से और ख़राबी उनके लिए उस कमाई से -
To kharabi hai unke liye jo kitaab apne haath se likhen phir keh den ye Khuda ke paas se hai ke is ke ewaz thore daam hasil karein to kharabi hai unke liye unke haathon ke likhe se aur kharabi unke liye is kamai se -
(ف130)شان نُزول : جب سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف فرما ہوئے تو علماء توریت ورؤساء یہود کو قوی اندیشہ ہوگیا کہ ان کی روزی جاتی رہے گی اور سرداری مٹ جائے گی کیونکہ توریت میں حضورکا حلیہ اور اوصاف مذکور ہیں جب لوگ حضور کو اس کے مطابق پائیں گے فوراً ایمان لے آئیں گے اور اپنے علماء اور رؤساء کو چھوڑ دیں گے اس اندیشہ سے انہوں نے توریت میں تحریف و تغییر کر ڈالی اور حلیہ شریف بدل دیا۔ مثلاً توریت میں آپ کے اوصاف یہ لکھے تھے کہ آپ خوب روہیں بال خوب صورت آنکھیں سرمگیں قد میانہ ہے اس کو مٹا کر انہوں نے یہ بتایا کہ وہ بہت دراز قامت ہیں آنکھیں کنجی نیلی بال الجھے ہیں۔ یہی عوام کو سناتے یہی کتاب الہی کا مضمون بتاتے اور سمجھتے کہ لوگ حضور کو اس کے خلاف پائیں گے تو آپ پر ایمان نہ لائیں گے ہمارے گرویدہ رہیں گے اور ہماری کمائی میں فرق نہ آئے گا۔
اور بولے ہمیں تو آگ نہ چھوئے گی مگر گنتی کے دن (ف۱۳۱) تم فرما دو کیا خدا سے تم نے کوئی عہد لے رکھا ہے جب تو اللہ ہرگز اپنا عہد خلاف نہ کرے گا (ف۱۳۲) یا خدا پر وہ بات کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں ۔
And they said, “The fire will not touch us except for a certain number of days”; say, “Have you taken a covenant from Allah – then Allah will certainly not break His covenant – or do you say something concerning Allah what you do not know?”
और बोले हमें तो आग न छुएगी मगर गिनती के दिन तुम फ़रमा दो क्या ख़ुदा से तुमने कोई अहद ले रखा है जब तो अल्लाह हरगिज़ अपना अहद ख़िलाफ़ न करेगा या ख़ुदा पर वो बात कहते हो जिसका तुम्हें इल्म नहीं -
Aur bole humein to aag na chhuegi magar ginti ke din tum farma do kya Khuda se tumne koi ahd le rakha hai jab to Allah hargiz apna ahd khilaf na karega ya Khuda par woh baat kehte ho jis ka tumhein ilm nahin -
(ف131)شان نُزول : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہود کہتے تھے کہ وہ دوزخ میں ہرگز داخل نہ ہوں گے مگر صرف اتنی مدت کے لئے جتنے عرصے ان کے آباء و اجداد نے گو سالہ پوجا تھا اور وہ چالیس روز ہیں اس کے بعد وہ عذاب سے چھوٹ جائیں گی اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔(ف132)کیونکہ کذب بڑا عیب ہے ،اور عیب اللہ تعالیٰ پر محال لہذا اس کا کذب تو ممکن نہیں لیکن جب اللہ تعالیٰ نے تم سے صرف چالیس روز کے عذاب کے بعد چھوڑ دینے کا وعدہ ہی نہیں فرمایا تو تمہارا قول باطل ہوا۔
ہاں کیوں نہیں جو گناہ کمائے اور اس کی خطا اسے گھیر لے (ف۱۳۳) وہ دوزخ والوں میں ہے انہیں ہمیشہ اس میں رہنا ۔
Yes, why not?* The one who earns evil and his sin surrounds him; he is from the people of fire (hell); they will remain in it forever. (You will remain in the fire forever).
हाँ क्यों नहीं जो गुनाह कमाए और उसकी ख़ता उसे घेर ले वो दोज़ख वालों में है उन्हें हमेशा उसमें रहना -
Haan kyon nahin jo gunah kamaye aur us ki khata use gher le woh dozakh walon mein hai unhein hamesha us mein rehna -
(ف133)اس آیت میں گناہ سے شرک و کفر مراد ہے اور احاطہ کرنے سے یہ مراد ہے کہ نجات کی تمام راہیں بند ہوجائیں اور کفر و شرک ہی پر اس کو موت آئے کیونکہ مومن خواہ کیسا بھی گنہگار ہو گناہوں سے گھرانہیں ہوتا اس لئے کہ ایمان جو اعظم طاعت ہے وہ اس کے ساتھ ہے۔
اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو، (ف۱۳٤) اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں سے اور لوگوں سے اچھی بات کہو (ف۱۳۵) اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو پھر تم پھر گئے (ف۱۳٦) مگر تم میں کے تھوڑے (ف۱۳۷) اور تم رد گردان ہو ۔ (ف۱۳۸)
And (remember) when We took a covenant from the Descendants of Israel that, “Do not worship anyone except Allah; and be good to parents, relatives, orphans and the needy, and speak kindly to people and keep the prayer established and pay the charity”; thereafter you retracted, except some of you; and you are those who turn away.
और जब हमने बनी इस्राईल से अहद लिया कि अल्लाह के सिवा किसी को न पوجो और माँ बाप के साथ भलाई करो, और रिश्ता-दारों और यतीमों और मिस्कीनों से और लोगों से अच्छी बात कहो और नमाज़ क़ायम रखो और ज़कात दो फिर तुम फिर गए मगर तुम में के थोड़े और तुम रद गर्दान हो-
Aur jab humne bani Israeel se ahd liya ke Allah ke siwa kisi ko na pujo aur maa baap ke saath bhalai karo aur rishtedaron aur yateemon aur miskeenon se aur logon se achhi baat kaho aur namaz qaim rakho aur zakat do phir tum phir gaye magar tum mein ke thore aur tum rad gardaan ho -
(ف134)اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کا حکم فرمانے کے بعد والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین کی خدمت بہت ضروری ہے والدین کے ساتھ بھلائی کے یہ معنٰی ہے کہ ایسی کوئی بات نہ کہے اور ایسا کوئی کام نہ کرے جس سے انہیں ایذا ہو اور اپنے بدن و مال سے ان کی خدمت میں دریغ نہ کرے جب انہیں ضرورت ہو ان کے پاس حاضر رہے مسئلہ: اگر والدین اپنی خدمت کے لئے نوافل چھوڑنے کا حکم دیں تو چھوڑ دے ان کی خدمت نفل سے مقدم ہے ۔ مسئلہ: واجبات والدین کے حکم سے ترک نہیں کیے جاسکتے والدین کے ساتھ احسان کے طریقے جو احادیث سے ثابت ہیں یہ ہیں کہ تہ دل سے ان کے ساتھ محبت رکھے رفتار و گفتار میں نشست و برخاست میں ادب لازم جانے ان کی شان میں تعظیم کے لفظ کہے ان کو راضی کرنے کی سعی کرتا رہے اپنے نفیس مال کو ان سے نہ بچائے ان کے مرنے کے بعد ان کی وصیتیں جاری کرے ان کے لئے فاتحہ صدقات تلاوت قرآن سے ایصال ثواب کرے اللہ تعالیٰ سے ان کی مغفرت کی دعا کرے، ہفتہ وار ان کی قبر کی زیارت کرے۔(فتح العزیز) والدین کے ساتھ بھلائی کرنے میں یہ بھی داخل ہے کہ اگر وہ گناہوں کے عادی ہوں یا کسی بدمذہبی میں گرفتار ہوں تو ان کو بہ نرمی اصلاح و تقوٰی اور عقیدہ حقہ کی طرف لانے کی کوشش کرتا رہا۔(خازن)(ف135)اچھی بات سے مراد نیکیوں کی ترغیب اور بدیوں سے روکنا ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ معنی یہ ہیں کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں حق اور سچ بات کہو اگر کوئی دریافت کرے تو حضور کے کمالات و اوصاف سچائی کے ساتھ بیان کردو۔ آپ کی خوبیاں نہ چھپاؤ ۔(ف136)عہد کے بعد ۔(ف137)جو ایمان لے آئے مثل حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے اصحاب کے انہوں نے تو عہد پورا کیا۔(ف138)اور تمہاری قوم کی عادت ہی اعراض کرنا اور عہد سے پھر جانا ہے۔
اور جب ہم نے تم سے عہد لیا کہ اپنوں کا خون نہ کرنا اور اپنوں کو اپنی بستیوں سے نہ نکالنا پھر تم نے اس کا اقرار کیا اور تم گواہ ہو ۔
And when We took a covenant from you that, “Do not shed the blood of your own people nor turn out your own people from your colonies”; you then acknowledged it and you are witnesses.
और जब हमने तुम से अहद लिया कि अपनों का ख़ून न करना और अपनों को अपनी बस्तियों से न निकालना फिर तुमने उसका इकरार किया और तुम गवाह हो-
Aur jab humne tumse ahd liya ke apnon ka khoon na karna aur apnon ko apni bastiyon se na nikalna phir tumne is ka iqraar kiya aur tum gawah ho -
پھر یہ جو تم ہو اپنوں کو قتل کرنے لگے اور اپنے میں سے ایک گروہ کو ان کے وطن سے نکالتے ہو ان پر مدد دیتے ہو (ان کے مخالف کو) گناہ اور زیادتی میں اور اگر وہ قیدی ہو کر تمہارے پاس آئیں تو بدلا دے کر چھڑا لیتے ہو اور ان کا نکالنا تم پر حرام ہے (ف۱۳۹) تو کیا خدا کے کچھ حکموں پر ایمان لاتے ہو اور کچھ سے انکار کرتے ہو تو جو تم میں ایسا کرے اس کا بدلہ کیا ہے مگر یہ کہ دنیا میں رسوا ہو (ف۱٤۰) اور قیامت میں سخت تر عذاب کی طرف پھیرے جائیں گے اور اللہ تمہارے کوتکوں سے بےخبر نہیں ۔ (ف۱٤۱)
Then it is you who began slaying each other and you drive out a group of your people from their homeland – providing support against them (to their opponents) through sin and injustice; and if they come to you as captives you redeem them, whereas their expulsion itself is forbidden to you; so do you believe in some of Allah’s commands and disbelieve in some? So what is the reward of those who do so, except disgrace in this world? And on the Day of Resurrection they will be assigned to the most grievous punishment; and Allah is not unaware of your deeds.
फिर ये जो तुम हो अपनों को क़त्ल करने लगे और अपने में से एक गिरोह को उनके वतन से निकालते हो उन पर मदद देते हो (उनके मुख़ालिफ़ को) गुनाह और ज़्यादती में और अगर वो क़ैदी हो कर तुम्हारे पास आएँ तो बदला दे कर छुड़ा लेते हो और उनका निकालना तुम पर हराम है तो क्या ख़ुदा के कुछ हुक्मों पर ईमान लाते हो और कुछ से इनकार करते हो तो जो तुम में ऐसा करे उसका बदला क्या है मगर ये कि दुनिया में रुसवा हो और क़यामत में सख़्ततर अज़ाब की तरफ़ फेरे जाएँगे और अल्लाह तुम्हारे कोतक़ों से बे-ख़बर नहीं -
Phir ye jo tum ho apnon ko qatal karne lage aur apne mein se ek giroh ko unke watan se nikalte ho un par madad dete ho (unke mukhalif ko) gunah aur ziadti mein aur agar woh qaidi ho kar tumhare paas aayein to badla de kar chhuda lete ho aur unka nikalna tum par haram hai to kya Khuda ke kuch hukumon par imaan laate ho aur kuch se inkaar karte ho to jo tum mein aisa kare us ka badla kya hai magar ye ke duniya mein ruswa ho aur qayamat mein sakht-tar azaab ki taraf phere jaayeinge aur Allah tumhare kotakon se be-khabar nahin -
(ف139)شانِ نُزول : توریت میں بنی اسرائیل سے عہد لیا گیا تھا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو قتل نہ کریں وطن سے نہ نکالیں اور جو بنی اسرائیل کسی کی قید میں ہو اس کو مال دے کر چھڑالیں اس عہد پر انہوں نے اقرار بھی کیا اپنے نفس پر شاہد بھی ہوئے لیکن قائم نہ رہے اور اس سے پھر گئے صورت واقعہ یہ ہے کہ نواح مدینہ میں یہود کے دو فرقے بنی قُرَیْظَہ اور بنی نُضَیْر سکونت رکھتے تھے اور مدینہ شریف میں دو فرقے اَوْس و خَزْرَج ْرہتے تھے بنی قریظہ اوس کے حلیف تھے اور بنی نضیر خزرج کے یعنی ہر ایک قبیلہ نے اپنے حلیف کے ساتھ قسما قسمی کی تھی کہ اگر ہم میں سے کسی پر کوئی حملہ آور ہو تو دوسرا اس کی مدد کرے گا اوس اور خرزج باہم جنگ کرتے تھے بنی قریظہ اوس کی اور بنی نضیر خزرج کی مدد کے لئے آتے تھے اور حلیف کے ساتھ ہو کر آپس میں ایک دوسرے پر تلوار چلاتے تھے بنی قریظہ بنی نضیر کو اور وہ بنی قریظہ کو قتل کرتے تھے اور انکے گھر ویران کردیتے تھے انہیں ان کے مساکین سے نکال دیتے تھے لیکن جب انکی قوم کے لوگوں کو ان کے حلیف قید کرتے تھے تو وہ ان کو مال دے کر چھڑالیتے تھے مثلا ً اگر بنی نضیر کا کوئی شخص اوس کے ہاتھ میں گرفتار ہوتا تو بنی قریظہ اوس کو مالی معاوضہ دے کر اس کو چھڑا لیتے باوجود یکہ اگر وہی شخص لڑائی کے وقت انکے موقعہ پر آجاتا تو اس کے قتل میں ہر گز دریغ نہ کرتے اس فعل پر ملامت کی جاتی ہے کہ جب تم نے اپنوں کی خونریزی نہ کرنے ان کو بستیوں سے نہ نکالنے ان کے اسیروں کو چھڑانے کا عہد کیا تھا اس کے کیا معنی کہ قتل و اخراج میں تو درگزر نہ کرواور گرفتار ہوجائیں۔ تو چھڑاتے پھر و عہد میں سے کچھ ماننا اور کچھ نہ ماننا کیامعنی رکھتا ہے ۔ جب تم قتل و اخراج سے باز نہ رہے تو تم نے عہد شکنی کی اور حرام کے مرتکب ہوئے اور اس کو حلال جان کر کافر ہوگئے،مسئلہ: اس آیت سے معلوم ہوا کہ ظلم و حرام پر امداد کرنا بھی حرام ہے مسئلہ:یہ بھی معلوم ہوا کہ حرام قطعی کو حلال جاننا کفر ہے۔مسئلہ :یہ بھی معلوم ہوا کہ کتاب الہی کے ایک حکم کا نہ ماننا بھی ساری کتاب کا نہ ماننا اور کفر ہے فائدہ اس میں یہ تنبیہ بھی ہے کہ جب احکام الہی میں سے بعض کا ماننا بعض کا نہ ماننا کفر ہوا تو یہود کا حضرت سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انکار کرنے کے ساتھ حضرت موسٰی علیہ السلام کی نبوت کو ماننا کفر سے نہیں بچاسکتا۔(ف140)دنیا میں تو یہ رسوائی ہوئی کہ بنی قریظہ ۳ ہجری میں مارے گئے ایک روز میں ا ن کے سات سو آدمی قتل کیے گئے تھے اور بنی نضیر اس سے پہلے ہی جلا وطن کردیئے گئے حلیفوں کی خاطر عہد الہی کی مخالفت کا یہ وبال تھا مسئلہ: اس سے معلوم ہوا کہ کسی کی طرفداری میں دین کی مخالفت کرنا علاوہ اخروی عذاب کے دنیا میں بھی ذلت و رسوائی کا باعث ہوتاہے ۔(ف141)اس میں جیسی نافرمانوں کے وعید شیدید ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے افعال سے بے خبر نہیں ہے ،تمہاری نافر مانیوں پر عذاب شدید فرمائے گا ایسے ہی اس آیت میں مؤمنین و صالحین کے لئے مثرہ ہے کہ انہیں اعمال حسنہ کی بہترین جزاء ملے گی (تفسیر کبیر)
اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی (ف۱٤٦) اور اس کے بعد پے درپے رسول بھیجے (ف ۱٤۳) اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کو کھیلی نشانیاں عطا فرمائیں (ف۱٤٤) اور پاک روح سے (ف۱٤۵) اس کی مدد کی (ف۱٤٦) تو کیا جب تمہارے پاس کوئی رسول وہ لے کر آئے جو تمہارے نفس کی خواہش نہیں تکبر کرتے ہو تو ان (انبیاء) میں ایک گروہ کو تم جھٹلاتے ہو اور ایک گروہ کو شہید کرتے ہو ۔ (ف۱٤۷)
And indeed We gave Moosa (Moses) the Book and subsequent to him, sent Noble Messengers one after another – and We gave Eisa (Jesus), the son of Maryam (Mary), clear proofs and supported him with the Holy Spirit; so when a Noble Messenger from Allah comes to you bringing what you yourselves do not desire, you grow arrogant; so you disbelieve in a group of the Prophets and another group of Prophets you slay!
और बेशक हमने मूसा को किताब अता की और उसके बाद पे दर पे रसूल भेजे और हमने ईसा बिन मरियम को खेली निशानियाँ अता फ़रमाईं और पाक रूह से उसकी मदद की तो क्या जब तुम्हारे पास कोई रसूल वो ले कर आए जो तुम्हारे नफ़्स की ख़्वाहिश नहीं तकब्बुर करते हो तो उन (अनबिया) में एक गिरोह को तुम झुटलाते हो और एक गिरोह को शहीद करते हो -
Aur beshak humne Musa ko kitaab ata ki aur us ke baad pay dar pay Rasool bheje aur humne Isa bin Maryam ko khuli nishaniyan ata farmain aur paak rooh se us ki madad ki to kya jab tumhare paas koi Rasool woh le kar aaye jo tumhare nafs ki khwaish nahin takabbur karte ho to un (anbiya) mein ek giroh ko tum jhutlate ho aur ek giroh ko shaheed karte ho -
(ف142)اس کتاب سے توریت مراد ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے تمام عہد مذکور تھے سب سے اہم عہد یہ تھے کہ ہر زمانہ کے پیغمبروں کی اطاعت کرنا ان پر ایمان لانا اور ان کی تعظیم وتوقیر کرنا ۔(ف143)حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک متواتر انبیاء آتے رہے ان کی تعداد چار ہزار بیان کی گئی ہے یہ سب حضرات شریعت موسوی کے محافظ اور اس کے احکام جاری کرنے والے تھے چونکہ خاتم الانبیاء کے بعد نبوت کسی کو نہیں مل سکتی اس لئے شریعت محمدیہ کی حفاظت و اشاعت کی خدمت ربانی علماء اور مجددین ملت کو عطا ہوئی۔(ف144)ان نشانیوں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات مراد ہیں جیسے مردے زندہ کرنا ،اندھے اور برص والے کو اچھا کرنا ،پرند پیدا کرنا ،غیب کی خبر دینا وغیرہ(ف145)روح القدس سے حضرت جبریل علیہ السلام مراد ہیں کہ روحانی ہیں وحی لاتے ہیں جس سے قلوب کی حیات ہے وہ حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ رہنے پر مامور تھے۔ آپ ۳۳ سال کی عمر شریف میں آسمان پر اٹھالئے گئے اس وقت تک حضرت جبریل علیہ السلام سفر حضر میں کبھی آپ سے جدا نہ ہوئے ۔ تائید روح القدس حضرت عیسٰی علیہ السلام کی جلیل فضیلت ہے سید عالم کے صدقہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض امتیوں کو بھی تائید روح القدس میسر ہوئی صیح بخاری وغیرہ میں ہے کہ حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے منبر بچھایا جاتا وہ نعت شریف پڑھتے حضور ان کے لئے فرماتے اَللّٰھُمَّ اَیِّدْہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ (ف146)پھر بھی اے یہود تمہاری سرکشی میں فرق نہ آیا۔(ف147)یہود پیغمبروں کے احکام اپنی خواہشوں کے خلاف پا کر انہیں جھٹلاتے اور موقع پاتے تو قتل کر ڈالتے تھے ،جیسے کہ انہوں نے حضرت شعیا اوزکریا اور بہت انبیاء کو شہید کیا سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھی درپے رہے کبھی آپ پر جادو کیا کبھی زہر دیا طرح طرح کے فریب بارادہ قتل کیے۔
اور یہودی بولے ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہیں (ف۱٤۸) بلکہ اللہ نے ان پر لعنت کی ان کے کفر کے سبب تو ان میں تھوڑے ایمان لاتے ہیں ۔ (ف۱٤۹)
And the Jews said, “Our hearts are covered”; in fact Allah has cursed them because of their disbelief, so only a few of them accept faith.
और यहूदी बोले हमारे दिलों पर पर्दे पड़े हैं बल्कि अल्लाह ने उन पर लानत की उनके कुफ़्र के सबब तो उनमें थोड़े ईमान लाते हैं -
Aur yahoodi bole hamare dilon par parde pade hain balki Allah ne unpar la’nat ki unke kufr ke sabab to un mein thore imaan laate hain -
(ف148)یہود نے یہ استہزاء ً کہا تھا ان کی مراد یہ تھی کہ حضور کی ہدایت کو ان کے دلوں تک راہ نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے اس کا رد فرمایا کہ بے دین جھوٹے ہیں، قلوب اللہ تعالیٰ نے فطرت پر پیدا فرمائے ان میں قبول حق کی لیاقت رکھی انکے کفر کی شامت ہے کہ انہوں نے سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا اعتراف کرنے کے بعد انکار کیا اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی اس کا اثر ہے کہ قبول حق کی نعمت سے محروم ہوگئے۔(ف149)یہی مضمون دوسری جگہ ارشاد ہوا:۔ بَلْ طَبَعَ اللّٰہُ عَلَیْھَا بِکُفْرِھِمْ فَلاَ یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلاً
اور جب ان کے پاس اللہ کی وہ کتاب (قرآن) آئی جو ان کے ساتھ والی کتاب (توریت) کی تصدیق فرماتی ہے (ف۱۵۰) اور اس سے پہلے وہ اسی نبی کے وسیلہ سے کافروں پر فتح مانگتے تھے (ف۱۵۱) تو جب تشریف لایا انکے پاس وہ جانا پہچانا اس سے منکر ہو بیٹھے (ف۱۵۲) تو اللہ کی لعنت منکروں پر ۔
And when the Book from Allah (the Holy Qu’ran) came to them, which confirms the Book in their possession (the Taurat / Torah) – and before that they used to seek victory through the medium of this very Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) over the disbelievers; so when the one whom they fully recognised (the Holy Prophet) came to them, they turned disbelievers – therefore Allah’s curse is upon the disbelievers.
और जब उनके पास अल्लाह की वो किताब (क़ुरआन) आई जो उनके साथ वाली किताब (तौरात) की तस्दीक़ फ़रमाती है और इस से पहले वो इसी नबी के वसीला से काफ़िरों पर फ़तह माँगते थे तो जब तशरीफ़ लाया उनके पास वो जाना पहचाना उस से मुनकर हो बैठे तो अल्लाह की लानत मुनकरों पर -
Aur jab unke paas Allah ki woh kitaab (Quran) aayi jo unke saath wali kitaab (Taurat) ki tasdeeq farmati hai aur is se pehle woh isi Nabi ke waseela se kafiron par fatah maangte the to jab tashreef laya unke paas woh jana pehchana us se munkir ho baithe to Allah ki la’nat munkiron par -
(ف150)سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت اور حضور کے اوصاف کے بیان میں ( کبیر و خازن)(ف151)شانِ نُزول : سیدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور قرآن کریم کے نُزول سے قبل یہود اپنے حاجات کے لئے حضور کے نام پاک کے وسیلہ سے دعا کرتے اور کامیاب ہوتے تھے اور اس طرح دعا کیا کرتے تھے:۔ِِاَللّٰھُمَّ افْتَحْ عَلَیْنَا وَانْصُرْنَا بِالنَّبِیِّ الْاُ مِّیِّ یارب ہمیں نبی امی کے صدقہ میں فتح و نصرت عطا فرما مسئلہ: اس سے معلو م ہوا کہ مقبولان حق کے وسیلہ سے دعا قبول ہوتی ہے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور سے قبل جہان میں حضور کی تشریف آواری کا شہرہ تھا اس وقت بھی حضو ر کے وسیلہ سے خلق کی حاجت روائی ہوتی تھی۔(ف152)یہ انکار عناد و حسد اور حبِّ ریاست کی وجہ سے تھا۔
کس برے مولوں انہوں نے اپنی جانوں کو خریدا کہ اللہ کے اتارے سے منکر ہوں (ف۱۵۳) اس کی جلن سے کہ اللہ اپنے فضل سے اپنے جس بندے پر چاہے وحی اتارلے (ف۱۵٤) تو غضب پر غضب کے سزاوار ہوئے (ف۱۵۵) اور کافروں کے لیے ذلت کا عذاب ہے ۔ (ف۱۵٦)
How abject is the price for which they exchange their lives that they should disbelieve in what Allah has sent down, jealous that Allah should reveal of His grace to whomever He wills of His bondmen! So they deserved wrath upon wrath; and for the disbelievers is a disgraceful punishment.
किस बुरे मौलों उन्होंने अपनी जानों को ख़रीदा कि अल्लाह के उतारे से मुनकर हों उसकी जलन से कि अल्लाह अपने फ़ज़्ल से अपने जिस बंदे पर चाहे वही उतार ले तो ग़ज़ब पर ग़ज़ब के सज़ावार हुए और काफ़िरों के लिए ज़िल्लत का अज़ाब है -
Kis bure molon unhon ne apni jaano ko kharida ke Allah ke utare se munkir hon us ki jalan se ke Allah apne fazl se apne jis bande par chahe wahi utar le to ghazab par ghazab ke sazawaar hue aur kafiron ke liye zillat ka azaab hai -
(ف153)یعنی آدمی کو اپنی جان کی خلاصی کے لئے وہی کرنا چاہئے جس سے رہائی کی امید ہو یہود نے یہ برا سودا کیا کہ اللہ کے نبی اور اسکی کتاب کے منکر ہوگئے۔(ف154)یہود کی خواہش تھی کہ ختمِ نبوت کا منصب بنی اسرائیل میں سے کسی کو ملتا جب دیکھا کہ وہ محروم رہے بنی اسمٰعیل نوازے گئے تو حسد سے منکر ہوگئے مسئلہ: اس سے معلوم ہوا کہ حسد حرام اور محرومیوں کا باعث ہے۔(ف155)یعنی انواع و اقسام کے غضب کے سزاوار ہوئے۔(ف156)اس سے معلوم ہوا کہ ذلت واہانت والا عذاب کفار کے ساتھ خاص ہے مومنین کو گناہوں کی وجہ سے عذاب ہوا بھی تو ذلت و اہانت کے ساتھ نہ ہوگا اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُوْلِہ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ
اور جب ان سے کہا جائے کہ اللہ کے اتارے پر ایمان لاؤ (ف۱۵۷) تو کہتے ہیں وہ جو ہم پر اترا اس پر ایمان لاتے ہیں (ف۱۵۸) اور باقی سے منکر ہوتے ہیں حالانکہ وہ حق ہے ان کے پاس والے کی تصدیق فرماتا ہوا (ف۱۵۹) تم فرماؤ کہ پھر اگلے انبیاء کو کیوں شہید کیا اگر تمہیں اپنی کتاب پر ایمان تھا ۔ (ف۱٦۰)
And when it is said to them, “Believe in what Allah has sent down", they say, “We believe in what was sent down to us, and disbelieve in the rest” – whereas it is the Truth confirming what they possess! Say (to them, O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Why did you then martyr the earlier Prophets, if you believed in your Book?”
और जब उनसे कहा जाये कि अल्लाह के उतारे पर ईमान लाओ तो कहते हैं वह जो हम पर उतरा उस पर ईमान लाते हैं और बाकी से मुनकर होते हैं हालाँकि वह हक़ है उनके पास वाले की तसदीक़ फरमाता हुआ तुम फरमाओ कि फिर अगले अन्बिया को क्यों शहीद किया अगर तुम्हें अपनी किताब पर ईमान था -
Aur jab un se kaha jaye ke Allah ke utare par iman lao to kehte hain woh jo hum par utra us par iman late hain aur baaqi se munkir hote hain halanke woh Haq hai un ke paas wale ki tasdeeq farmata hua tum farmao ke phir agle Anbiya ko kyon shaheed kiya agar tumhe apni kitab par iman tha -
(ف157)اس سے قرآن پاک اور تمام وہ کتابیں اور صحائف مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائے یعنی سب پر ایمان لاؤ۔(ف158)اس سے ان کی مراد توریت ہے۔(ف159)یعنی توریت پر ایمان لانے کا دعویٰ غلط ہے چونکہ قرآن پاک جو توریت کا مصدق ہے اس کا انکار توریت کا انکار ہوگیا۔(ف160)اس میں بھی ان کی تکذیب ہے، کہ اگر توریت پر ایمان رکھتے تو انبیاء علیہم السلام کو ہر گز شہید نہ کرتے۔
اور بیشک تمہارے پاس موسیٰ کھلی نشانیاں لے کر تشریف لایا پھر تم نے اس کے بعد (ف۱٦۱) بچھڑے کو معبود بنالیا اور تم ظالم تھے ۔ (ف۱٦۲)
And indeed Moosa came to you with clear signs, and after it you worshipped the calf – and you were unjust.
और बेशक तुम्हारे पास मूसा खुली निशानियाँ ले कर तशरीफ़ लाया फिर तुमने उसके बाद बछड़े को माबूद बना लिया और तुम ज़ालिम थे -
Aur beshak tumhare paas Musa khuli nishaniyan le kar tashreef laya phir tum ne us ke baad bachhde ko ma'bood bana liya aur tum zalim the -
(ف161)یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے طور پر تشریف لے جانے کے بعد۔(ف162)اس میں بھی ان کی تکذیب ہے کہ شریعت موسوی کے ماننے کا دعویٰ جھوٹا ہے اگر تم مانتے تو حضرت موسٰی علیہ السلام کے عصا اور یدبیضا وغیرہ کھلی نشانیوں کے دیکھنے کے بعد گوسالہ پرستی نہ کرتے۔
اور (یاد کرو) جب ہم نے تم سے پیمان لیا (ف۱٦۳) اور کوہ ِ طور کو تمہارے سروں پر بلند کیا ، لو جو ہم تمہیں دیتے ہیں زور سے اور سنو بولے ہم نے سنا اور نہ مانا اور ان کے دلوں میں بچھڑا رچ رہا تھا ان کے کفر کے سبب تم فرمادو کیا برا حکم دیتا ہے تم کو تمہارا ایمان اگر ایمان رکھتے ہو ۔ (ف۱٦٤)
And remember when We made a covenant with you and raised the Mount Tur (Sinai) above you; “Accept and hold fast to what We give you, and listen”; they said, “We hear and we disobey”; and the calf was still embedded in their hearts because of their disbelief; say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “What an evil command is what your faith orders you, if you are believers!”
और (याद करो) जब हमने तुमसे पैमान लिया और कोह-ए-तूर को तुम्हारे सिरों पर बुलन्द किया, लो जो हम तुम्हें देते हैं जोर से और सुनो बोले हमने सुना और न माना और उनके दिलों में बछड़ा रच रहा था उनके कुफ़्र के सबब तुम फरमा दो क्या बुरा हुक्म देता है तुम्हें तुम्हारा ईमान अगर ईमान रखते हो -
Aur (yaad karo) jab hum ne tum se paiman liya aur Koh-e-Toor ko tumhare saron par buland kiya, lo jo hum tumhe dete hain zor se aur suno, bole hum ne suna aur na maana aur un ke dilon me bachhda rach raha tha un ke kufr ke sabab tum farma do kya bura hukm deta hai tum ko tumhara iman agar iman rakhte ho -
(ف163)توریت کے احکام پر عمل کرنے کا۔(ف164)اس میں بھی ان کے دعوائے ایمان کی تکذیب ہے۔
تم فرماؤ اگر پچھلا گھر اللہ کے نزدیک خالص تمہارے لئے ہو، نہ اوروں کے لئے تو بھلا موت کی آرزو تو کرو اگر سچے ہو ۔ (ف۱٦۵)
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “If the abode of the Hereafter in the sight of Allah is for you alone and none else, then long for death if you are truthful!”
तुम फरमाओ अगर पिछला घर अल्लाह के नज़दीक ख़ालिस तुम्हारे लिये हो, न औरों के लिये तो भला मौत की आरज़ू तो करो अगर सच्चे हो -
Tum farmao agar pichhla ghar Allah ke nazdeek khalis tumhare liye ho, na auron ke liye to bhala maut ki aarzu to karo agar sachche ho -
(ف165)یہود کے باطل دعاوی میں سے ایک یہ دعوٰی تھا کہ جنتِ خاص انہی کے لئے ہے اس کا رد فرمایا جاتا ہے کہ اگر تمہارے زعم میں جنت تمہارے لئے خاص ہے اور آخرت کی طرف سے تمہیں اطمینان ہے اعمال کی حاجت نہیں تو جنتی نعمتوں کے مقابلہ میں دنیوی مصائب کیوں برداشت کرتے ہو موت کی تمنا کرو کہ تمہارے دعویٰ کی بنا پر تمہارے لئے باعث راحت ہے اگر تم نے موت کی تمنا نہ کی تو یہ تمہارے کذب کی دلیل ہوگی حدیث شریف میں ہے کہ اگر وہ موت کی تمنا کرتے تو سب ہلاک ہوجاتے اور روئے زمین پر کوئی یہودی باقی نہ رہتا۔
اور ہرگز کبھی اس کی آرزو نہ کریں گے (ف۱٦٦) ان بد اعمالیوں کے سبب جو آگے کرچکے (ف۱٦۷) اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو ۔
And they will never long for it, because of the evil deeds they have done in the past; and Allah knows the unjust, very well.
और हरगिज़ कभी उसकी आरज़ू न करेंगे उन बद-आमालियों के सबब जो आगे कर चुके और अल्लाह खूब जानता है ज़ालिमों को -
Aur hargiz kabhi is ki aarzu na karenge in bad-a'maliyon ke sabab jo aage kar chuke aur Allah khoob janta hai zalimon ko -
(ف166)یہ غیب کی خبر اور معجزہ ہے کہ یہود باوجود نہایت ضد اور شدت مخالفت کے بھی تمنائے موت کا لفظ زبان پر نہ لاسکے۔(ف167)جیسے نبی آخر الزمان اور قرآن کے ساتھ کفر اور توریت کی تحریف وغیرہ مسئلہ : موت کی محبت اور لقائے پروردگار کا شوق اللہ کے مقبول بندوں کا طریقہ ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہر نماز کے بعد دعا فرماتے اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنِی شَھَادَۃً فِی سَبِیْلِکَ وَوَفَاۃً بِبَلَدِ رَسُولِک یارب مجھے اپنی راہ میں شہادت اور اپنے رسول کے شہر میں وفات نصیب فرما بالعموم تمام صحابہ کُبّار او ربالخصوص شہدائے بدر واحد واصحابِ بیعت رضوان موت فی سبیل اللہ کی محبت رکھتے تھے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے لشکر کفار کے سردار رستم بن فرخ زاد کے پاس جو خط بھیجا اس میں تحریر فرمایا تھا اِنَّ مَعِیَ قُوْمٌ یُّحِبُّوْنَ الْمَوْتَ کَمَا یُحِبُّ الَْاعَاجِمُ الْخَمَرََ یعنی میرے ساتھ ایسی قوم ہے جو موت کو اتنا محبوب رکھتی ہے جتنا عجمی شراب کو اس میں لطیف اشارہ تھا کہ شراب کی ناقص مستی کو محبت دنیا کے دیوانے پسند کرتے ہیں اور اہلُ اللہ موت کو محبوب حقیقی کے وصال کا ذریعہ سمجھ کر محبوب جانتے ہیں،فی الجملہ اہل ایمان آخرت کی رغبت رکھتے ہیں اور اگر طول حیات کی تمنا بھی کریں تو وہ اس لئے ہوتی ہے کہ نیکیاں کرنے کے لئے کچھ اور عرصہ مل جائے جس سے آخرت کے لئے ذخیرئہ سعادت زیادہ کرسکیں اگر گزشتہ ایام میں گناہ ہوئے ہیں تو ان سے توبہ و استغفار کرلیں مسئلہ: صحاح کی حدیث میں ہے کوئی دینوی مصیبت سے پریشان ہو کر موت کی تمنا نہ کرے اور درحقیقت حوادث دنیا سے تنگ آکر موت کی دعا کرنا صبر و رضاو تسلیم و توکل کے خلاف وناجائز ہے۔
اور بیشک تم ضرور انہیں پاؤ گے کہ سب لوگوں سے زیادہ جینے کی ہوس رکھتے ہیں اور مشرکوں سے ایک کو تمنا ہے کہ کہیں ہزار برس جئے (ف۱٦۸) اور وہ اسے عذاب سے دور نہ کرے گا اتنی عمر دیا جانا اور اللہ ان کے کاموں کو دیکھ رہا ہے،
And you will surely find them the greediest among mankind for life; and (likewise) among the polytheists (idolaters); each one of them yearns to live a thousand years; and the grant of such age will not distance him from the punishment; and Allah is seeing their misdeeds.
और बेशक तुम ज़रूर उन्हें पाओगे कि सब लोगों से ज़्यादा जीने की हस्रत रखते हैं और मुशरिकों से एक को तमन्ना है कि कहीं हज़ार बरस जिये और वह उसे अज़ाब से दूर न करेगा इतनी उमर दिया जाना और अल्लाह उनके कर्तूत देख रहा है,
Aur beshak tum zaroor unhein paoge ke sab logon se zyada jeene ki hawas rakhte hain aur mushrikon se ek ko tamanna hai ke kahin hazar baras jiye aur woh ise azaab se door na karega itni umar diya jana aur Allah un ke koutak dekh raha hai,
(ف168)مشرکین کا ایک گروہ مجوسی ہے آپس میں تحیت و سلام کے موقع پر کہتے ہیں زہ ہزار سال یعنی ہزار برس جیو مطلب یہ ہے کہ مجوسی مشرک ہزار برس جینے کی تمنا رکھتے ہیں یہودی ان سے بھی بڑھ گئے کہ انہیں حرص وزندگانی سب سے زیادہ ہے۔
تم فرمادو جو کوئی جبریل کا دشمن ہو (ف۱٦۹) تو اس (جبریل) نے تو تمہارے دل پر اللہ کے حکم سے یہ قرآن اتارا اگلی کتابوں کی تصدیق فرماتا اور ہدایت و بشارت مسلمانوں کو ۔ (ف۱۷۰)
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Whoever is an enemy to Jibreel (Gabriel)” – for it is he who has brought down this Qu’ran to your heart by Allah’s command, confirming the Books before it, and a guidance and glad tidings to Muslims. –
तुम फरमा दो जो कोई जिब्रील का दुश्मन हो तो इस (जिब्रील) ने तो तुम्हारे दिल पर अल्लाह के हुक्म से यह कुरआन उतारा अगली किताबों की तसदीक़ फरमाता और हिदायत व बशारत मुसलमानों को -
Tum farma do jo koi Jibreel ka dushman ho to is (Jibreel) ne to tumhare dil par Allah ke hukm se ye Qur’an utara agli kitabon ki tasdeeq farmata aur hidayat o basharat Musalmano ko -
(ف169)شان نُزول : یہودیوں کے عالم عبداللہ بن صوریا نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا آپ کے پاس آسمان سے کون فرشتہ آتا ہے فرمایا جبریل ابن صوریا نے کہا وہ ہمارا دشمن ہے عذاب شدت اور خسف اتارتا ہے کئی مرتبہ ہم سے عداوت کرچکا ہے اگر آپ کے پاس میکائیل آتے تو ہم آپ پر ایمان لے آتے۔(ف170)تو یہود کی عداوت جبریل کے ساتھ بے معنٰی ہے بلکہ اگر انہیں انصاف ہوتا تو وہ جبریل امین سے محبت کرتے اور ان کے شکر گزار ہوتے کہ وہ ایسی کتاب لائے جس سے ان کی کتابوں کی تصدیق ہوتی ہے ۔ اور بُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ فرمانے میں یہود کا رد ہے کہ اب تو جبریل ہدایت و بشارت لارہے ہیں پھر بھی تم عداوت سے باز نہیں آتے ۔
جو کوئی دشمن ہو اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل اور میکائیل کا تو اللہ دشمن ہے کافروں کا (ف۱۷۱)
“Whoever is an enemy to Allah, and His angels and His Noble Messengers, and Jibreel and Mikaeel (Michael) -, then (know that), Allah is an enemy of the disbelievers.”
जो कोई दुश्मन हो अल्लाह और उसके फ़रिश्तों और उसके रसूलों और जिब्रील और मीकाील का तो अल्लाह दुश्मन है काफ़िरों का -
Jo koi dushman ho Allah aur us ke farishton aur us ke Rasulon aur Jibreel aur Mika’il ka to Allah dushman hai kafiron ka -
(ف171)اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء و ملائکہ کی عداوت کفر اور غضب الٰہی کا سبب ہے، اور محبوبان حق سے دشمنی خدا سے دشمنی کرنا ہے۔
اور بیشک ہم نے تمہاری طرف روشن آیتیں اتاریں (ف۱۷٦) اور ان کے منکر نہ ہوں گے مگر فاسق لوگ ۔
We have indeed sent down to you clear signs; and none will disbelieve in them except the sinners.
और बेशक हमने तुम्हारी तरफ़ रौशन आयतें उतारीं और उनके मुनकर न होंगे मगर फ़ासिक लोग -
Aur beshak hum ne tumhari taraf roshan aayatein utari aur un ke munkir na honge magar faasiq log -
(ف172)شا نِ نُزول : یہ آیت ابن صوریا یہودی کے جواب میں نازل ہوئی جس نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا تھا کہ اے محمد آپ ہمارے پاس کوئی ایسی چیز نہ لائے جسے ہم پہچانتے اور نہ آپ پر کوئی واضح آیت نازل ہوئی جس کا ہم اتباع کرتے۔
اور کیا جب کبھی کوئی عہد کرتے ہیں ان میں کا ایک فریق اسے پھینک دیتا ہے بلکہ ان میں بہتیروں کو ایمان نہیں ۔ (ف۱۷۳)
And is it that whenever they make a covenant, only a group of them throws it aside? In fact, most of them do not have faith.
और क्या जब कभी कोई अहद करते हैं उनमें का एक फ़रीक़ उसे फेंक देता है बल्कि उनमें बहुतेरों को ईमान नहीं -
Aur kya jab kabhi koi ahad karte hain un me ka ek fareeq ise phenk deta hai balke un me bahutero ko iman nahi -
(ف173)شان نُزول : یہ آیت مالک بن صیف یہود ی کے جواب میں نازل ہوئی جب حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہود کو اللہ تعالیٰ کے وہ عہد یاد دلائے جو حضور پر ایمان لانے کے متعلق کیے تھے تو ابن صیف نے عہد ہی کا انکار کردیا۔
اور جب ان کے پاس تشریف لایا اللہ کے یہاں سے ایک رسول (ف۱۷٤) ان کی کتابوں کی تصدیق فرماتا (ف۱۷۵) تو کتاب والوں سے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب پیٹھ پیچھے پھینک دی (ف۱۷٦) گویا وہ کچھ علم ہی نہیں رکھتے ۔ (ف۱۷۷)
And when a Noble Messenger from Allah came to them, confirming the Book(s) which they possessed, a group of those who have received the Book(s) flung the Book of Allah behind their backs as if they were totally unaware!
और जब उनके पास तशरीफ़ लाया अल्लाह के यहाँ से एक रसूल उनकी किताबों की तसदीक़ फरमाता तो किताब वालों से एक गिरोह ने अल्लाह की किताब पीठ पीछे फेंक दी गोया वह कुछ इल्म ही नहीं रखते -
Aur jab un ke paas tashreef laya Allah ke yahan se ek Rasool un ki kitabon ki tasdeeq farmata to kitab walon se ek giroh ne Allah ki kitab peeth peechhe phenk di goya woh kuch ilm hi nahi rakhte -
(ف174)یعنی سید عالم محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔(ف175)سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم توریت زبور وغیرہ کی تصدیق فرماتے تھے اور خود ان کی کتابوں میں بھی حضور کی تشریف آوری کی بشارت اور آپ کے اوصاف و احوال کا بیان تھا اس لئے حضور کی تشریف آوری اور آپ کا وجود مبارک ہی ان کتابوں کی تصدیق ہے تو حال اس کا مقتضی تھا کہ حضور کی آمد پر اہل کتاب کا ایمان اپنی کتابوں کے ساتھ اور زیادہ پختہ ہوتا مگر اس کے برعکس انہوں نے اپنی کتابوں کے ساتھ بھی کفر کیا سدی کا قول ہے کہ جب حضور کی تشریف آوری ہوئی تو یہود نے توریت سے مقابلہ کرکے توریت و قرآن کو مطابق پایا تو توریت کو بھی چھوڑ دیا۔(ف176)یعنی اس کتاب کی طرف بے التفاتی کی، سفیان بن عینیہ کا قول ہے کہ یہود نے توریت کو حریر و دیبا کے ریشمی غلافوں میں زر وسیم کے ساتھ مطلّا و مزیّن کرکے رکھ لیا اور اس کے احکام کو نہ مانا۔(ف177)ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود کے چار فرقے تھے ایک توریت پر ایمان لایا اور اس نے اس کے حقوق کو بھی ادا کیا یہ مومنین اہل کتاب ہیں ان کی تعداد تھوڑ ی ہے اور اَکْثَرُ ھُمْ سے ان کا پتا چلتا ہے دوسرا فرقہ جس نے بالاعلان توریت کے عہد توڑے اس کے حدود سے باہر ہوئے سرکشی اختیار کی نَبَذَہ، فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ میں ان کا بیان ہے تیسرا فرقہ وہ جس نے عہد شکنی کا اعلان تو نہ کیا لیکن اپنی جہالت سے عہد شکنی کرتے رہے انکا ذکر بَل اَکْثَرُ ھُم لَا یُؤمِنُوْنَ میں ہے۔ چوتھے فرقے نے ظاہری طور پر تو عہد مانے اور باطن میں بغاوت و عناد سے مخالفت کرتے رہے یہ تصنع سے جاہل بنتے تھے۔ کَاَنَّھُمْ لَایَعْلَمُوْنَ میں ان پر دلالت ہے۔
اور اس کے پیرو ہوئے جو شیطان پڑھا کرتے تھے سلطنت سلیمان کے زمانہ میں (ف۱۷۸) اور سلیمان نے کفر نہ کیا (ف۱۷۹) ہاں شیطان کافر ہوئے (ف۱۸۰) لوگوں کو جادو سکھاتے ہیں اور وہ (جادو) جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت و ماروت پر اترا اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہ سکھاتے جب تک یہ نہ کہہ لیتے کہ ہم تو نری آزمائش ہیں تو اپنا ایمان نہ کھو (ف۱۸۱) تو ان سے سیکھتے وہ جس سے جدائی ڈالیں مرد اور اس کی عورت میں اور اس سے ضرر نہیں پہنچا سکتے کسی کو مگر خدا کے حکم سے (ف۱۸۲) اور وہ سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان دے گا نفع نہ دے گا اور بیشک ضرور انہیں معلوم ہے کہ جس نے یہ سودا لیا آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں اور بیشک کیا بری چیز ہے وہ جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانیں بیچیں کسی طرح انہیں علم ہوتا ۔ (ف۱۸۳)
And they followed what the devils used to read during the rule of Sulaiman (Solomon – peace and blessings be upon him); and Sulaiman did not disbelieve, but the devils disbelieved – they teach people magic; and that which was sent down to the two angels, Harut and Marut in Babylon; and the two (angels) never taught a thing to anyone until they used to say, “We are only a trial, therefore do not lose your faith” and they used to learn from them that by which they cause division between man and his wife; and they cannot harm anyone by it except by Allah’s command; and they learn what will harm them, not benefit them; and surely they know that whoever bargains for this will not have a share in the Hereafter; and for what an abject thing they have sold themselves; if only they knew!
और उसके पैरवी हुए जो शैतान पढ़ा करते थे सल्तनत सुलेमान के ज़माना में और सुलेमान ने कुफ़्र न किया हाँ शैतान काफ़िर हुए लोगों को जादू सिखाते हैं और वह (जादू) जो बाबुल में दो फ़रिश्तों हारूत व मारूत पर उतरा और वह दोनों किसी को कुछ न सिखाते जब तक यह न कह लेते कि हम तो नरी आज़माइश हैं तो अपना ईमान न खो तो उनसे सीखते वह जिससे जुदाई डालें मर्द और उसकी औरत में और उससे ज़रर नहीं पहुँचा सकते किसी को मगर ख़ुदा के हुक्म से और वह सीखते हैं जो उन्हें नुक़सान देगा नफ़ा न देगा और बेशक ज़रूर उन्हें मालूम है कि जिसने यह सौदा लिया आख़िरत में उसका कुछ हिस्सा नहीं और बेशक क्या बुरी चीज़ है वह जिसके बदले उन्होंने अपनी जानें बेच दीं क्युँ न उन्हें इल्म होता -
Aur us ke pairo hue jo shaitaan parha karte the saltanat Sulaiman ke zamane me aur Sulaiman ne kufr na kiya haan shaitaan kafir hue logon ko jadoo sikhate hain aur woh (jadoo) jo Babil me do farishton Haroot o Maroot par utra aur woh dono kisi ko kuch na sikhate jab tak ye na keh lete ke hum to niri aazmaish hain to apna iman na kho to un se seekhte woh jiss se judai daalein mard aur us ki aurat me aur us se zarar nahi pohcha sakte kisi ko magar Khuda ke hukm se aur woh seekhte hain jo unhein nuqsan dega naf’a na dega aur beshak zaroor unhein maaloom hai ke jiss ne ye sauda liya aakhirat me us ka kuch hissa nahi aur beshak kya buri cheez hai woh jiss ke badle unhon ne apni janen bechein kisi tarah unhein ilm hota -
(ف178)شان نُزول : حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ میں بنی اسرائیل جادو سیکھنے میں مشغول ہوئے تو آپ نے ان کو اس سے روکا اور ان کی کتابیں لے کر اپنی کرسی کے نیچے دفن کردیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے کی وفات کے بعد شیاطین نے وہ کتابیں نکلوا کر لوگوں سے کہا کہ سلیمان علیہ السلام اسی کے زور سے سلطنت کرتے تھے بنی اسرائیل کے صلحاء و علماء نے تو اس کا انکار کیا لیکن ان کے جہال جادو کو حضرت سلیمان علیہ السلام کا علم بتاکر اس کے سیکھنے پر ٹوٹ پڑے ۔ انبیاء کی کتابیں چھوڑ دیں اور حضرت سلیمان علیہ السلام پر ملامت شروع کی سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ تک اسی حال پر رہے اللہ تعالیٰ نے حضور پر حضرت سلیمان علیہ السلام کی براء ت میں یہ آیت نازل فرمائی۔(ف179)کیونکہ وہ نبی ہیں اور انبیاء کفر سے قطعاً معصوم ہوتے ہیں ان کی طرف سحر کی نسبت باطل وغلط ہے کیونکہ سحر کا کفریات سے خالی ہونا نادر ہے۔(ف180)جنہوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام پر جادو گری کی جھوٹی تہمت لگائی۔(ف181)جنہوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام پر جادو گری کی جھوٹی تہمت لگائی۔یعنی جادو سیکھ کر اور اس پر عمل و اعتقاد کرکے اور اس کو مباح جان کر کافر نہ بن یہ جادو فرماں بردار و نافرمان کے درمیان امتیاز و آزمائش کے لئے نازل ہوا جو اس کو سیکھ کر اس پر عمل کرے کافر ہوجائے گابشرطیکہ اس جادو میں منافی ایمان کلمات و افعال ہوں جو اس سے بچے نہ سیکھے یا سیکھے اور اس پر عمل نہ کرے اور اس کے کفریات کا معتقد نہ ہو وہ مومن رہے گا یہی امام ابومنصور ما تریدی کا قول ہے مسئلہ جو سحر کفر ہے اس کا عامل اگر مردہو قتل کردیا جائے گا مسئلہ: جو سحر کفر نہیں مگر اس سے جانیں ہلاک کی جاتی ہیں اس کا عامل قطاَّع طریق کے حکم میں ہے مردہو یا عورت مسئلہ :جادو گر کی توبہ قبول ہے (مدارک)(ف182)مسئلہ : اس سے معلوم ہوا مؤثر حقیقی اللہ تعالیٰ ہے اور تاثیر اسباب تحت مشیت ہے۔(ف183) اپنے انجام کا روشدت عذاب کا۔
اے ایمان والو! (ف۱۸۵) راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو (ف۱۸٦) اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے ۔ (ف۱۸۷)
O People who Believe, do not say (to the Prophet Mohammed- peace and blessings be upon him), “Raena (Be considerate towards us)” but say, “Unzurna (Look mercifully upon us)", and listen attentively from the start; and for the disbelievers is a painful punishment. (To disrespect the Holy Prophet – peace and blessings be upon him – is blasphemy.)
ऐ ईमान वालो! रा'ना न कहो और यूँ अर्ज़ करो कि हुज़ूर हम पर नज़र रखें और पहले ही से बग़ौर सुनो और काफ़िरों के लिये दर्दनाक अज़ाब है -
Aye iman walo! “Ra’ina” na kaho aur yun arz karo ke Huzoor hum par nazar rakhein aur pehle hi se baghor suno aur kafiron ke liye dardnaak azaab hai -
(ف185)شانِ نُزول : جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کو کچھ تعلیم و تلقین فرماتے تو وہ کبھی کبھی درمیان میں عرض کیا کرتے۔ رَاعِنَا یارسول اللہ اس کے یہ معنی تھے کہ یارسول اللہ ہمارے حال کی رعایت فرمائیے یعنی کلام اقدس کو اچھی طرح سمجھ لینے کا موقع دیجئے یہود کی لغت میں یہ کلمہ سوء ِادب کے معنی رکھتا تھا انہوں نے اس نیت سے کہنا شروع کیا حضرت سعد بن معاذ یہود کی اصطلاح سے واقف تھے آپ نے ایک روز یہ کلمہ ان کی زبان سے سن کر فرمایا اے دشمنان خدا تم پر اللہ کی لعنت اگر میں نے اب کسی کی زبان سے یہ کلمہ سنا اس کی گردن ماردوں گا یہود نے کہا ہم پر تو آپ برہم ہوتے ہیں مسلمان بھی تو یہی کہتے ہیں اس پر آپ رنجیدہ ہو کر خدمت اقدس میں حاضر ہوئے ہی تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی جس میں رَاعِنَا کہنے کی ممانعت فرمادی گئی اور اس معنی کا دوسرا لفظ اُنْظُرْناَ کہنے کا حکم ہوا مسئلہ: اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء کی تعظیم و توقیر اور ان کی جناب میں کلمات ادب عرض کرنا فرض ہے اور جس کلمہ میں ترک ادب کا شائبہ بھی ہو وہ زبان پر لانا ممنوع ۔(ف186)اور ہمہ تن گوش ہوجاؤ تاکہ یہ عرض کرنے کی ضرورت ہی نہ رہے کہ حضور توجہ فرمائیں کیونکہ دربار نبوت کا یہی ادب ہے، مسئلہ دربار انبیاء میں آدمی کو ادب کے اعلیٰ مراتب کا لحاظ لازم ہے۔(ف187)مسئلہ : لِلْکٰفِرِیْنَ میں اشارہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی جناب میں بے ادبی کفر ہے ۔
وہ جو کافر ہیں کتابی یا مشرک (ف۱۸۸) وہ نہیں چاہتے کہ تم پر کوئی بھلائی اترے تمہارے رب کے پاس سے (ف۱۸۹) اور اللہ اپنی رحمت سے خاص کرتا ہے جسے چاہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے ۔
Those who disbelieve – the People given the Book(s) or the polytheists – do not wish that any good be sent down upon you from your Lord; and Allah chooses whomever He wills by His Mercy; and Allah is the Most Munificent.
वह जो काफ़िर हैं किताबी या मुशरिक वह नहीं चाहते कि तुम पर कोई भलाई उतरे तुम्हारे रब के पास से और अल्लाह अपनी रहमत से ख़ास करता है जिसे चाहे और अल्लाह बड़े फ़ज़ल वाला है -
Woh jo kafir hain kitabi ya mushrik woh nahi chahte ke tum par koi bhalai utare tumhare Rab ke paas se aur Allah apni rehmat se khaas karta hai jise chahe aur Allah bare fazl wala hai -
(ف188)شان نُزول : یہود کی ایک جماعت مسلمانوں سے دوستی و خیر خواہی کا اظہار کرتی تھی ان کی تکذیب میں یہ آیت نازل ہوئی مسلمانوں کو بتایا گیا کہ کفار خیر خواہی کے دعوے میں جھوٹے ہیں۔(جمل) (ف189)یعنی کفار اہل کتاب اور مشرکین دونوں مسلمانوں سے بغض رکھتے ہیں اور اس رنج میں ہیں کہ ان کے نبی محمد مصطفٰےصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبوت و وحی عطا ہوئی اور مسلمانوں کو یہ نعمت عظمیٰ ملی(خازن وغیرہ)
جب کوئی آیت منسوخ فرمائیں یا بھلا دیں (ف۱۹۰) تو اس سے بہتر یا اس جیسی لے آئیں گے کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے ۔
When We abrogate a verse or cause it to be forgotten, We will bring one better than it or one similar; do you not know that Allah is Able to do all things?
जब कोई आयत मनसुख़ फरमाएँ या भुला दें तो उससे बेहतर या उस जैसी ले आयेंगे क्या तुझे ख़बर नहीं कि अल्लाह सब कुछ कर सकता है -
Jab koi ayat mansookh farmaen ya bhula dein to us se behtar ya us jaisi le aayenge kya tujhe khabar nahi ke Allah sab kuch kar sakta hai -
(ف190)شان نُزول : قرآنِ کریم نے شرائع سابقہ و کتب قدیمہ کو منسوخ فرمایا تو کفار کو بہت توحش ہوا اور انہوں نے اس پر طعن کیے اس پر یہ آیہء کریمہ نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ منسوخ بھی اللہ کی طرف سے ہے اور ناسخ بھی دونوں عین حکمت ہیں اور ناسخ کبھی منسوخ سے زیادہ سہل وانفع ہوتا ہے قدرت الہی پر یقین رکھنے والے کو اس میں جائے تردد نہیں کائنات میں مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دن سے رات کو گرما سے سرما کو جوانی سے بچپن کو بیماری سے تندرستی کو بہار سے خزاں کو منسوخ فرماتا ہے۔ یہ تمام نسخ و تبدیل اس کی قدرت کے دلائل ہیں تو ایک آیت اور ایک حکم کے منسوخ ہونے میں کیا تعجب نسخ درحقیقت حکم سابق کی مدت کا بیا ن ہو تا ہے کہ وہ حکم اس مدت کے لئے تھا اور عین حکمت تھا کفار کی نافہمی کہ نسخ پر اعتراض کرتے ہیں اور اہل کتاب کا اعتراض ان کے معتقدات کے لحاظ سے بھی غلط ہے انہیں حضرت آدم علیہ السلام کی شریعت کے احکام کی منسوخیت تسلیم کرنا پڑے گی یہ ماننا ہی پڑے گا کہ شنبہ کے روز دنیوی کام ان سے پہلے حرام نہ تھے ان پر حرام ہوئے یہ بھی اقرار ناگزیر ہوگا کہ توریت میں حضرت نوح علیہ ا لسلام کی امت کے لئے تمام چوپائے حلال ہونا بیان کیا گیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام پر بہت سے حرام کردیئے گئے ان امور کے ہوتے ہوئے نسخ کا انکار کس طرح ممکن ہے مسئلہ: جس طرح آیت دوسری آیت سے منسوخ ہوتی ہے اسی طرح حدیث متواتر سے بھی ہوتی ہے مسئلہ :نسخ کبھی صرف تلاوت کا ہوتا ہے کبھی صرف حکم کا ،کبھی تلاوت و حکم دونوں کا بیہقی نے ابو امامہ سے روایت کی کہ ایک انصاری صحابی شب کو تہجد کے لئے اٹھے اور سورہ فاتحہ کے بعد جو سورت ہمیشہ پڑھا کرتے تھے اس کو پڑھنا چاہا لیکن وہ بالکل یاد نہ آئی اور سوائے بسم اللہ کے کچھ نہ پڑھ سکے صبح کو دوسرے ا صحاب سے اس کا ذکر کیا ان حضرات نے فرمایا ہمارا بھی یہی حال ہے وہ سورت ہمیں بھی یاد تھی اور اب ہمارے حافظہ میں بھی نہ رہی سب نے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں واقعہ عرض کیا حضور اکرم نے فرمایا آج شب وہ سورت اٹھالی گئی اس کے حکم و تلاوت دونوں منسوخ ہوئے جن کاغذوں پر وہ لکھی گئی تھی ان پر نقش تک باقی نہ رہے۔
کیا یہ چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے ویسا سوال کرو جو موسیٰ سے پہلے ہوا تھا (ف۱۹۱) اور جو ایمان کے بدلے کفر لے (ف۱۹۲) وہ ٹھیک راستہ بہک گیا ۔
Do you wish to ask your Noble Messenger a question similar to what Moosa was asked before? And whoever chooses disbelief instead of faith has gone astray from the Right Path.
क्या यह चाहते हो कि अपने रसूल से वैसा सवाल करो जो मूसा से पहले हुआ था और जो ईमान के बदले कुफ़्र ले वह ठीक रास्ता बहक गया -
Kya ye chahte ho ke apne Rasool se waisa sawal karo jo Musa se pehle hua tha aur jo iman ke badle kufr le woh theek rasta behak gaya -
(ف191)شان نزول یہود نے کہا اے محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس آپ ایسی کتاب لائیے جو آسمان سے ایک با رگی نازل ہو ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔(ف192)یعنی جو آیتیں نازل ہوچکی ہیں ان کے قبول کرنے میں بے جا بحث کرے اور دوسری آیتیں طلب کرے مسئلہ اس سے معلوم ہوا کہ جس سوال میں مفسدہ ہو وہ بزرگوں کے سامنے پیش کر ناجائز نہیں اور سب سے بڑا مفسدہ یہ کہ اس سے نافرمانی ظاہر ہوتی ہو۔
بہت کتابیوں نے چاہا (ف۱۹۳) کاش تمہیں ایمان کے بعد کفر کی طرف پھیر دیں اپنے دلوں کی جلن سے (ف۱۹٤) بعد اس کے کہ حق ان پر خوب ظاہر ہوچکا ہے تو تم چھوڑو اور درگزر کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔
Many among People given the Book(s) wished to turn you to disbelief after you had accepted faith; out of hearts’ envy, after the truth has become very clear to them; so leave them and be tolerant, until Allah brings His command; indeed Allah is Able to do all things.
बहुत किताबियों ने चाहा काश तुम्हें ईमान के बाद कुफ़्र की तरफ़ फेर दें अपने दिलों की जलन से बाद इसके कि हक़ उन पर खूब ज़ाहिर हो चुका है तो तुम छोड़ो और दरगुज़र करो यहाँ तक कि अल्लाह अपना हुक्म लाये बेशक अल्लाह हर चीज़ पर क़ादिर है -
Bohat kitabiye ne chaha kaash tumhein iman ke baad kufr ki taraf pher dein apne dilon ki jalan se baad is ke ke Haq un par khoob zahir ho chuka hai to tum chhodo aur darguzar karo yahan tak ke Allah apna hukm laye beshak Allah har cheez par qadir hai -
(ف193)شان نزول جنگ احد کے بعد یہود کی جماعت نے حضرت حذیفہ بن یمان اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہماسے کہا کہ اگر تم حق پر ہوتے تو تمہیں شکست نہ ہوتی تم ہمارے دین کی طرف واپس آجاؤ حضرت عمار نے فرمایا تمہارے نزدیک عہد شکنی کیسی ہے انہوں نے کہا نہایت بری آپ نے فرمایا میں نے عہد کیا ہے کہ زندگی کے آخر لمحہ تک سید عالم محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہ پھروں گا اور کفر نہ اختیار کروں گا ،اور حضرت حذیفہ نے فرمایا میں راضی ہوا اللہ کے رب ہونے اور محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رسول ہونے اسلام کے دین ہونے قرآن کے ایمان ہونے کعبہ کے قبلہ ہونے مومنین کے بھائی ہونے سے پھر یہ دونوں صاحب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو واقعہ کی خبر دی حضور نے فرمایا تم نے بہتر کیا اور فلاح پائی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(ف194)اسلام کی حقانیت جاننے کے بعد یہود کا مسلمانوں کے کفر و ارتداد کی تمنا کرنااور یہ چاہنا کہ وہ ایمان سے محروم ہوجائیں حسداً تھا حسد بڑا ہی عیب ہے،( مسئلہ)حدیث شریف میں ہے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حسد سے بچو وہ نیکیوں کو اس طرح کھا تا ہے جیسے آگ خشک لکڑ ی کو۔ (مسئلہ)حسد حرام ہے مسئلہ: اگر کوئی شخص اپنے مال و دولت یا اثر ووجاہت سے گمراہی و بے دینی پھیلاتا ہو تو اس کے فتنہ سے محفوظ رہنے کے لئے اس کے زوال نعمت کی تمنا حسد میں داخل نہیں اور حرام بھی نہیں۔
اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو (ف۱۹۵) اور اپنی جانوں کے لئے جو بھلائی آگے بھیجو گے اسے اللہ کے یہاں پاؤ گے بیشک اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے ۔
And keep the prayer established, and pay the charity; and whatever good you send ahead for yourselves, you will find it with Allah; indeed Allah is seeing your deeds.
और नमाज़ क़ायम रखो और ज़कात दो और अपनी जानों के लिये जो भलाई आगे भेजोगे उसे अल्लाह के यहाँ पाओगे बेशक अल्लाह तुम्हारे काम देख रहा है -
Aur namaz qaim rakho aur zakat do aur apni janon ke liye jo bhalai aage bhejo ge use Allah ke yahan paoge beshak Allah tumhare kaam dekh raha hai -
(ف195)مومنین کو یہود سے در گزر کا حکم دینے کے بعد انہیں اپنے اصلاح نفس کی طرف متوجہ فرماتا ہے۔
اور اہل کتاب بولے ، ہرگز جنت میں نہ جائے گا مگر وہ جو یہودی یا نصرانی ہو (ف۱۹٦) یہ ان کی خیال بندیاں ہیں تم فرماؤ لاؤ اپنی دلیل (ف۱۹۷) اگر سچے ہو ۔
And the People given the Book(s) said, “None will enter Paradise unless he is a Jew or a Christian”; these are their own imaginations; say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Bring your proof, if you are truthful.”
और अहल-ए-किताब बोले, हरगिज़ जन्नत में न जायेगा मगर वह जो यहूदी या नसरानी हो यह उनकी ख़याल बंदियाँ हैं तुम फरमाओ लाओ अपनी दलील अगर सच्चे हो -
Aur Ahl-e-Kitab bole, hargiz jannat me na jaega magar woh jo Yahudi ya Nasrani ho ye un ki khayal bandiyan hain tum farmaon lao apni daleel agar sachche ho -
(ف196)یعنی یہود کہتے ہیں کہ جنت میں صرف یہودی داخل ہوں گے اور نصرانی کہتے ہیں کہ فقط نصرانی اور یہ مسلمانوں کو دین سے منحرف کرنے کے لئے کہتے ہیں جیسے نسخ وغیرہ کے لچر شبہات انہوں نے اس امید پر پیش کئے تھے کہ مسلمانوں کو اپنے دین میں کچھ تردد ہوجائے اسی طرح ان کو جنت سے مایوس کرکے اسلام سے پھیرنے کی کوشش کرتے ہیں چنانچہ آخر پارہ میں ان کا یہ مقولہ مذکور ہے۔ وَقَالُوْا کُوْنُوْا ھُوْدًا اَوْنَصٰرٰی تَھْتَدُوْا اللہ تعالیٰ ان کے اس خیال باطل کا ردّ فرماتا ہے۔(ف197)مسئلہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ نفی کے مدعی کو بھی دلیل لانا ضرور ہے بغیر اس کے دعوٰی باطل و نامسموع ہوگا۔
ہاں کیوں نہیں جس نے اپنا منہ جھکایا اللہ کے لئے اور وہ نیکو کار ہے (ف۱۹۸) تو اس کا نیگ اس کے رب کے پاس ہے اور انہیں کچھ اندیشہ ہو اور نہ کچھ غم ۔ (ف۱۹۹)
Yes, why not? Whoever submits his face for the sake of Allah, and is virtuous, his reward is with his Lord; and there shall be no fear upon them nor shall they grieve.
हाँ क्यों नहीं जिसने अपना मुँह झुकाया अल्लाह के लिये और वह नेकोकार है तो उसका नेग उसका रब के पास है और उन्हें कुछ अन्देशा हो और न कुछ ग़म -
Haan kyon nahi jiss ne apna munh jhukaya Allah ke liye aur woh neko kar hai to us ka neig us ke Rab ke paas hai aur unhein kuch andesha ho aur na kuch gham -
(ف198)خواہ وہ کسی زمانہ کسی نسل کسی قوم کا ہو۔(ف199)اس میں اشارہ ہے کہ یہود و نصاریٰ کا یہ دعویٰ کہ جنت کے فقط وہی مالک ہیں بالکل غلط ہے کیونکہ دخول جنت مرتب ہے ،عقیدئہ صحیحہ وعمل صالح پر اور یہ انہیں میسّر نہیں۔
اور یہودی بولے نصرانی کچھ نہیں اور نصرانی بولے یہودی کچھ نہیں (ف۲۰۰) حالانکہ وہ کتاب پڑھتے ہیں، (ف۲۰۱) اسی طرح جاہلوں نے ان کی سی بات کہی (ف۲۰۲) تو اللہ قیامت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا جس بات میں جھگڑ رہے ہیں ۔
And the Jews said, “The Christians are nothing” – and the Christians said, “The Jews are nothing” whereas they both read the Book; and the ignorant spoke similarly; so Allah will judge between them on the Day of Resurrection, concerning the matter in which they dispute.
और यहूदी बोले नसरानी कुछ नहीं और नसरानी बोले यहूदी कुछ नहीं हालाँकि वह किताब पढ़ते हैं, उसी तरह जाहिलों ने उनकी सी बात कही तो अल्लाह क़यामत के दिन उनमें फ़ैसला कर देगा जिस बात में झगड़ रहे हैं -
Aur Yahudi bole Nasrani kuch nahi aur Nasrani bole Yahudi kuch nahi halanke woh kitab padhte hain, isi tarah jahilon ne un ki si baat kahi to Allah qayamat ke din un me faisla kar dega jis baat me jhagar rahe hain -
(ف200)شان نزول: نجران کے نصارٰی کا وفد سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا تو علمائے یہود آئے اور دونوں میں مناظرہ شروع ہوگیا آوازیں بلند ہوئیں شور مچا یہود نے کہا کہ نصارٰی کا دین کچھ نہیں اور حضرت عیسی علیہ السلام اور انجیل شریف کا انکار کیا اسی طرح نصاریٰ نے یہود سے کہا کہ تمہارا دین کچھ نہیں اور توریت شریف و حضرت موسیٰ علیہ السلام کا انکار کیا اس باب میں یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف201)یعنی باوجود علم کے انہوں نے ایسی جاہلانہ گفتگو کی حالانکہ انجیل شریف جس کو نصاریٰ مانتے ہیں اس میں توریت شریف اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت کی تصدیق ہے اسی طرح توریت جس کو یہودی مانتے ہیں اس میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کی نبوت اور ان تمام احکام کی تصدیق ہے جو آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئے۔(ف202)علمائے اہل کتاب کی طرح ان جاہلوں نے جو نہ علم رکھتے تھے نہ کتاب جیسے کہ بت پرست آتش پرست وغیرہ انہوں نے ہر ایک دین والے کی تکذیب شروع کی اور کہا کہ وہ کچھ نہیں انہیں جاہلوں میں سے مشرکین عرب بھی ہیں جنہوں نے نبی کر یم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اورآپ کے دین کی شان میں ایسے ہی کلمات کہے۔
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون (ف۲۰۳) جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں نام خدا لئے جانے سے (ف۲۰٤) اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے (ف۲۰۵) ان کو نہ پہنچتا تھا کہ مسجدوں میں جائیں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے (ف۲۰٦) اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب ۔ (ف۲۰۷)
And who is more unjust than one who prevents the name of Allah being mentioned in the mosques, and strives for their ruin? It did not befit them to enter the mosques except in fear; for them is disgrace in this world, and a terrible punishment in the Hereafter.
और उससे बढ़ कर ज़ालिम कौन जो अल्लाह की मस्जिदों को रोके उनमें नाम-ए-ख़ुदा लिये जाने से और उनकी वीरानी में कोशिश करे उनको न पहुँचता था कि मस्जिदों में जायें मगर डरते हुए उनके लिये दुनिया में रुसवाई है और उनके लिये आख़िरत में बड़ा अज़ाब -
Aur is se barh kar zalim kaun jo Allah ki masajid ko roke un me naam-e-Khuda liye jane se aur un ki weerani me koshish kare unko na pohchta tha ke masajid me jayein magar darte hue un ke liye duniya me ruswai hai aur un ke liye aakhirat me bara azaab -
(ف203)شان نزول: یہ آیت بیت المَقۡدِسۡ کی بے حرمتی کے متعلق نازل ہوئی جس کا مختصر واقعہ یہ ہے کہ روم کے نصرانیوں نے بنی اسرائیل پر فوج کشی کی ان کے مردانِ کار آزما کو قتل کیا ذریت کو قید کیا توریت کو جلایا بیت المقدس کو ویران کیا اس میں نجاستیں ڈالیں خنزیر ذبح کیے معاذ اللہ بیت المقدس خلافت فاروقی تک اسی ویرانی میں رہا آپ کے عہد مبارک میں مسلمانوں نے اس کو بنا کیا ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ آیت مشرکین مکہ کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے ابتدائے اسلام میں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو کعبہ میں نماز پڑھنے سے روکا تھا اور جنگ حدیبیہ کے وقت اس میں نماز و حج سے منع کیا تھا(ف204)ذکر نماز خطبہ تسبیح وعظ نعت شریف سب کو شامل ہے اور ذکر اللہ کو منع کرنا ہر جگہ برا ہے۔ خاص کر مسجدوں میں جو اسی کام کے لئے بنائی جاتی ہیں مسئلہ: جو شخص مسجد کو ذکر و نماز سے معطل کردے وہ مسجد کا ویران کرنے وا لاا ور بہت ظالم ہے۔(ف205)مسئلہ :مسجد کی ویرانی جیسے ذکر و نماز کے روکنے سے ہوتی ہے ایسے ہی اس کی عمارت کے نقصان پہنچانے اور بے حرمتی کرنے سے بھی۔(ف206)دنیا میں انہیں یہ رسوائی پہنچی کہ قتل کئے گئے گرفتار ہوئے جلا وطن کئے گئے خلافت فاروقی و عثمانی میں ملک شام ان کے قبضہ سے نکل گیا بیت المقدس سے ذلت کے ساتھ نکالے گئے۔(ف207)شان نزول: صحابہ کرام رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک اندھیری رات سفر میں تھے جہت قبلہ معلوم نہ ہوسکی ہر ایک شخص نے جس طرف اس کا دل جما نماز پڑھی صبح کو سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حال عرض کیا تو یہ آیت نازل ہوئی مسئلہ: اس سے معلوم ہوا کہ جہت قبلہ معلوم نہ ہوسکے تو جس طرف دل جمے کہ یہ قبلہ ہے اسی طرف منہ کرکے نماز پڑھے اس آیت کے شانِ نزول میں دوسرا قول یہ ہے کہ یہ اس مسافر کے حق میں نازل ہوئی جو سواری پر نفل ادا کرے اس کی سواری جس طرف متوجہ ہوجائے اس طرف اس کی نماز درست ہے بخاری و مسلم کی احادیث سے یہ ثابت ہے ایک قول یہ ہے کہ جب تحویل قبلہ کا حکم دیا گیا تو یہود نے مسلمانوں پر طعنہ زنی کی ان کے رد میں یہ آیت نازل ہوئی بتایا گیا کہ مشرق مغرب سب اللہ کا ہے جس طرف چاہے قبلہ معین فرمائے کسی کو اعتراض کا کیا حق (خازن)ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت دعا ء کے حق میں وارد ہوئی حضور سے دریافت کیا گیا کہ کس طرف منہ کر کے دعا کی جائے اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی ، ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت حق سے گریز و فرار میں ہے اور اَیْنَمَا تُوَلُّوْا کا خطاب ان لوگوں کو ہے جو ذکر الٰہی سے روکتے اور مسجدوں کی ویرانی میں سعی کرتے ہیں کہ وہ دنیا کی رسوائی اور عذاب آخرت سے کہیں بھاگ نہیں سکتے کیونکہ مشرق و مغرب سب اللہ کا ہے جہاں بھاگیں گے وہ گرفت فرمائے گا اس تقدیر پر وجہ اللہ کے معنی خدا کا قرب و حضور ہے (فتح) ایک قول یہ بھی ہے کہ معنٰی یہ ہیں کہ اگر کفار خانہء کعبہ میں نماز سے منع کریں تو تمہارے لئے تمام زمین مسجد بنادی گئی ہے جہاں سے چاہو قبلہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھو۔
اور پورب و پچھم سب اللہ ہی کا ہے تو تم جدھر منہ کرو ادھر وجہ اللہ (خدا کی رحمت تمہاری طرف متوجہ) ہے بیشک اللہ وسعت والا علم والا ہے،
And the East and the West, all belong to Allah – so whichever direction you face, there is Allah’s Entity (Allah’s Mercy is directed towards you); indeed Allah is the All Capable, (His powers and reach are limitless), the All Knowing.
और पूरब व पछम सब अल्लाह ही का है तो तुम जिधर मुँह करो उधर वजह-ए-अल्लाह (ख़ुदा की रहमत तुम्हारी तरफ़ मुतवज्जह) है बेशक अल्लाह वुसअत वाला इल्म वाला है,
Aur Poorab o Picham sab Allah hi ka hai to tum jidhar munh karo udhar wajh Allah (Khuda ki rehmat tumhari taraf mutawajjah) hai beshak Allah wus’at wala ilm wala hai,
اور بولے خدا نے اپنے لیے اولاد رکھی پاکی ہے اسے (ف۲۰۸) بلکہ اسی کی مِلک ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (ف۲۰۹) سب اس کے حضور گردن ڈالے ہیں،
And they said, “Allah has taken an offspring for Himself” – Purity is to Him! In fact, all that is in the heavens and the earth, is His dominion; all are submissive to Him.
और बोले ख़ुदा ने अपने लिये औलाद रखी पाकी है उसे बल्कि उसी की मिल्क है जो कुछ आसमानों और ज़मीन में है सब उसके हुज़ूर गर्दन डाले हैं,
Aur bole Khuda ne apne liye aulad rakhi paaki hai usay balke usi ki milk hai jo kuch aasmanon aur zameen me hai sab us ke huzoor gardan daale hain,
(ف208)شان نزول: یہود نے حضرت عزیر کو اور نصاریٰ نے حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا کہا مشرکین عرب نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں بتایا ان کے رد میں یہ آیت نازل ہوئی فرمایا سُبْحٰنَہ، وہ پاک ہے اس سے کہ اس کے اولاد ہو اس کی طرف اولاد کی نسبت کرنا اس کو عیب لگانا اور بے ادبی ہے حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ابن آدم نے مجھے گالی دی میرے لئے اولاد بتائی میں اولاد اور بیوی سے پاک ہوں۔(ف209)اور مملوک ہونا اولاد ہونے کے منافی ہے جب تمام جہان اس کا مملوک ہے ،تو کوئی اولاد کیسے ہوسکتا ہے مسئلہ : اگر کوئی اپنی اولاد کا مالک ہوجائے وہ اسی وقت آزاد ہوجائے گی۔
اور جاہل بولے (ف۲۱۲) اللہ ہم سے کیوں نہیں کلام کرتا (ف۲۱۳) یا ہمیں کوئی نشانی ملے (ف۲۱٤) ان سے اگلوں نے بھی ایسی ہی کہی ان کی سی بات ان کے انکے دل ایک سے ہیں (ف۲۱۵) بیشک ہم نے نشانیاں کھول دیں یقین والوں کے لئے ۔ (ف۲۱٦)
And the ignorant people said, “Why does not Allah speak to us, or some sign come to us?” Those before them had also spoken in the same way as they speak; their hearts (and of those before them) are all alike; undoubtedly, We have made the signs clear for the people who have faith.
और जाहिल बोले अल्लाह हमसे क्यों नहीं कलाम करता या हमें कोई निशानी मिले उनसे अगलों ने भी ऐसी ही कही उनकी सी बात इनके उनके दिल एक से हैं बेशक हमने निशानियाँ खोल दीं यक़ीन वालों के लिये -
Aur jahil bole Allah hum se kyon nahi kalaam karta ya humein koi nishani mile in se aglon ne bhi aisi hi kahi un ki si baat, in ke un ke dil ek se hain beshak hum ne nishaniyan khol di yaqeen walon ke liye -
(ف212)یعنی اہل کتاب یا مشرکین۔(ف213)یعنی بے واسطہ خود کیوں نہیں فرماتا جیسا کہ ملائکہ و انبیاء سے کلام فرماتا ہے یہ ان کا کمال تکبر اور نہایت سرکشی تھی، انہوں نے اپنے آپ کو انبیاء و ملائکہ کے برابر سمجھا۔ شان نزول :رافع بن خزیمہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا اگر آپ اللہ کے رسول ہیں تو اللہ سے فرمایئے وہ ہم سے کلام کرے ہم خود سنیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(ف214)یہ ان آیات کا عناداً انکار ہے جو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائیں۔(ف215)کوری و نابینائی اور کفروقساوت میں اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تسکین خاطر فرمائی گئی کہ آپ ان کی سرکشی اور معاندانہ انکار سے رنجیدہ نہ ہوں پچھلے کفار بھی انبیاء کے ساتھ ایسا ہی کرتے تھے۔(ف216)یعنی آیاتِ قرآنی و معجزات باہرات انصاف والے کو سید عالم محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا یقین دلانے کے لئے کافی ہیں مگر جو طالب یقین نہ ہو وہ دلائل سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا
بیشک ہم نے تمہیں حق کے ساتھ بھیجا خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا اور تم سے دوزخ والوں کا سوال نہ ہوگا ۔ (ف۲۱۷)
Undoubtedly, We have sent you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) with the truth, giving glad tidings and conveying warning, and you will not be questioned about the people of hell.
बेशक हमने तुम्हें हक़ के साथ भेजा खुशख़बरी देता और डर सुनाता और तुमसे दोज़ख वालों का सवाल न होगा -
Beshak hum ne tumhein Haq ke sath bheja khush khabri deta aur dar sunata aur tum se dozakh walon ka sawal na hoga -
(ف217)کہ وہ کیوں ایمان نہ لائے اس لئے کہ آپ نے اپنا فرض تبلیغ پورے طور پر ادا فرمادیا۔
اور ہرگز تم سے یہود اور نصاری ٰ راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے دین کی پیروی نہ کرو (ف۲۱۸) تم فرمادو اللہ ہی کی ہدایت ہدایت ہے (ف۲۱۹) اور (اے سننے والے کسے باشد) اگر تو ان کی خواہشوں کا پیرو ہوا بعد اس کے کہ تجھے علم آچکا تو اللہ سے تیرا کوئی بچانے والا نہ ہوگا اور نہ مددگار (ف۲۲۰)
And never will the Jews or the Christians be pleased with you, until you follow their religion; say, “The guidance of Allah only is the (true) guidance”; and were you (the followers of this Prophet) to follow their desires after the knowledge has come to you, you would then not have a protector or aide against Allah.
और हरगिज़ तुमसे यहूद और नसारा राज़ी न होंगे जब तक तुम उनके दीन की पैरवी न करो तुम फरमा दो अल्लाह ही की हिदायत हिदायत है और (ऐ सुनने वाले किसी बाशद) अगर तू उनकी ख़्वाहिशों का पैरवी हुआ बाद इसके कि तुझे इल्म आ चुका तो अल्लाह से तेरा कोई बचाने वाला न होगा और न मददगार -
Aur hargiz tum se Yahood aur Nasara razi na honge jab tak tum un ke deen ki pairvi na karo tum farma do Allah hi ki hidayat hidayat hai aur (Aye sunne wale kise bashad) agar tu un ki khwahishon ka pairo hua baad is ke ke tujhe ilm aa chuka to Allah se tera koi bachane wala na hoga aur na madadgar -
(ف218)اور یہ ناممکن کیونکہ وہ باطل پر ہیں۔ (ف219)وہی قابل اتباع ہے اور اس کے سوا ہر ایک راہ باطل و ضلالت ۔(ف220)یہ خطاب امت محمدیہ کو ہے کہ جب تم نے جان لیا کہ سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہارے پاس حق و ہدایت لائے تو تم ہر گز کفار کی خواہشوں کا اتباع نہ کرنا اگر ایسا کیا تو تمہیں کوئی عذاب الہی سے بچانے والا نہیں ۔(خازن)
جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ جیسی چاہئے اس کی تلاوت کرتے ہیں وہی اس پر ایمان رکھتے ہیں اور جو اس کے منکر ہوں تو وہی زیاں کار ہیں ۔ (ف۲۲۱)
Those to whom We have given the Book, read it in the manner it should be read; it is they who believe in it; and those who deny it – it is they who are the losers.
जिन्हें हमने किताब दी है वह जैसी चाहिए उसकी तिलावत करते हैं वही उस पर ईमान रखते हैं और जो उसके मुनकर हों तो वही ज़ियाँकार हैं -
Jinhon ne hum ne kitab di hai woh jaisi chahiye us ki tilawat karte hain wohi us par iman rakhte hain aur jo us ke munkir hon to wohi ziyan kar hain -
(ف221)شان نزول :حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ آیت اہل سفینہ کے باب میں نازل ہوئی جو جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ حاضر بارگاہ رسالت ہوئے تھے ان کی تعداد چالیس تھی بتیس اہلِ حبشہ اور آٹھ شامی راہب ان میں بحیر اراہب بھی تھے۔ معنی یہ ہیں کہ درحقیقت توریت شریف پر ایمان لانے والے وہی ہیں جو اس کی تلاوت کا حق ادا کرتے ہیں اور بغیر تحریف و تبدیل پڑھتے ہیں اور اس کے معنی سمجھتے اور مانتے ہیں اور اس میں حضور سید کائنات محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت و صفت دیکھ کر حضور پر ایمان لاتے ہیں اورجو حضور کے منکر ہوتے ہیں وہ توریت پر ایمان نہیں رکھتے۔
اے اولاد یعقوب یاد کرو میرا احسان جو میں نے تم پر کیا اور وہ جو میں نے اس زمانہ کے سب لوگوں پر تمہیں بڑائی دی ۔
O Descendants of Israel! Remember the favour of Mine which I bestowed upon you and made you superior to all others of your time. (By sending Noble Messengers among you).
ऐ औलाद-ए-याक़ूब याद करो मेरा एहसान जो मैंने तुम पर किया और वह जो मैंने उस ज़माना के सब लोगों पर तुम्हें बढ़ाई दी -
Aye Aulaad-e-Yaqub yaad karo mera ehsan jo maine tum par kiya aur woh jo maine is zamane ke sab logon par tumhein barhai di -
اور ڈرو اس دن سے کہ کوئی جان دوسرے کا بدلہ نہ ہوگی اور نہ اس کو کچھ لے کر چھوڑیں اور نہ کافر کو کوئی سفارش نفع دے (ف۲۲۲) اور نہ ان کی مدد ہو ۔
And fear the day when no soul will be exchanged for another, nor will they be set free in lieu of compensation, nor will any intercession benefit the disbelievers, nor will they be helped.
और डरो उस दिन से कि कोई जान दूसरे का बदला न होगी और न उसको कुछ लेकर छोड़ें और न काफ़िर को कोई सिफ़ारिश नफ़ा दे और न उनकी मदद हो -
Aur daro us din se ke koi jaan dusre ka badla na hogi aur na us ko kuch le kar chhodein aur na kafir ko koi sifarish naf’a de aur na un ki madad ho -
(ف222)اس میں یہود کارد ہے جو کہتے تھے ہمارے باپ دادا بزرگ گزرے ہیں ہمیں شفاعت کرکے چھڑا لیں گے انہیں مایوس کیا جاتا ہے کہ شفاعت کافر کے لئے نہیں
اور جب (ف۲۲۳) ابراہیم کو اس کے رب نے کچھ باتوں سے آزمایا (ف۲۲٤) تو اس نے وہ پوری کر دکھائیں (ف۲۲۵) فرمایا میں تمہیں لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں عرض کی اور میری اولاد سے فرمایا میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا ۔ (ف۲۲٦)
And (remember) when Ibrahim’s (Abraham’s) Lord tested him in some matters and he fulfilled them; He said, “I am going to appoint you as a leader for mankind”; invoked Ibrahim, “And of my offspring”; He said, “My covenant does not include the unjust (wrong-doers).”
और जब इब्राहीम को उसके रब ने कुछ बातों से आज़माया तो उसने वह पूरी कर दिखायीं फरमाया मैं तुम्हें लोगों का पेशवा बनाने वाला हूँ अर्ज़ की और मेरी औलाद से फरमाया मेरा अहद ज़ालिमों को नहीं पहुँचता -
Aur jab Ibrahim ko us ke Rab ne kuch baton se aazmaya to us ne woh poori kar dikhai farmaaya main tumhein logon ka peshwa banane wala hoon arz ki aur meri aulaad se farmaaya mera ahad zalimon ko nahi pohchta -
(ف223)حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ولادت سرزمین اہواز میں بمقام سوس ہوئی پھر آپ کے والد آپ کو بابل ملک نمرود میں لے آئے یہود و نصاریٰ و مشرکین عرب سب آپ کے فضل و شرف کے معترف اور آپ کی نسل میں ہونے پر فخر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کے وہ حالات بیان فرمائے جن سے سب پر اسلام کا قبو ل کرنا لازم ہوجاتا ہے کیونکہ جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے آپ پر واجب کیں وہ اسلام کے خصائص میں سے ہیں۔(ف224)خدائی آزمائش یہ ہے کہ بندے پر کوئی پابندی لازم فرما کر دوسروں پر اس کے کھرے کھوٹے ہونے کا اظہار کردے۔(ف225)جو باتیں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ ا لسلام پر آزمائش کے لئے واجب کی تھیں ان میں مفسرین کے چند قول ہیں قتادہ کا قول ہے کہ وہ مناسکِ حج ہیں مجاہد نے کہا اس سے وہ دس چیزیں مراد ہیں جو اگلی آیات میں مذکور ہیں حضرت ابن عباس کا ایک قول یہ ہے کہ وہ دس چیزیں یہ ہیں۔(۱) مونچھیں کتروانا۔(۲) کلی کرنا (۳) ناک میں صفائی کے لئے پانی استعمال کرنا (۴)مسواک کرنا (۵) سر میں مانگ نکالنا (۶) ناخن ترشوانا (۷) بغل کے بال دور کرنا (۸) موئے زیر ناف کی صفائی(۹) ختنہ (۱۰) پانی سے استنجا کرنا۔ یہ سب چیزیں حضرت ابراہیم علیہ السلام پر واجب تھیں اور ہم پر ان میں سے بعض واجب ہیں بعض سنت۔(ف226)مسئلہ : یعنی آپ کی اولاد میں جو ظالم (کافر) ہیں وہ امامت کا منصب نہ پائیں گے مسئلہ اس سے معلوم ہوا کہ کافر مسلمانوں کا پیشوا نہیں ہوسکتا اور مسلمانوں کو اس کا اتباع جائز نہیں۔
اور (یاد کرو) جب ہم نے اس گھر کو (ف۲۲۷) لوگوں کے لئے مرجع اور امان بنایا (ف۲۲۸) اور ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ (ف۲۲۹) اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم و اسماعیل کو کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف کرنے والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجود والوں کے لئے ۔
And remember when We made this House (at Mecca) a recourse for mankind and a sanctuary; and take the place where Ibrahim stood, as your place of prayer; and We imposed a duty upon Ibrahim and Ismail (Ishmael), to fully purify My house for those who go around it, and those who stay in it (for worship), and those who bow down and prostrate themselves.
और (याद करो) जब हमने इस घर को लोगों के लिये मरजअ और अमान बनाया और इब्राहीम के खड़े होने की जगह को नमाज़ का मक़ाम बनाओ और हमने ताकीद फरमाई इब्राहीम व इस्माईल को कि मेरा घर खूब सुथरा करो तवाफ़ करने वालों और एतिकाफ़ वालों और रुकू व सजूद वालों के लिये -
Aur (yaad karo) jab hum ne is ghar ko logon ke liye marja’ aur amaan banaya aur Ibrahim ke khade hone ki jagah ko namaz ka maqam banao aur hum ne takeed farmayi Ibrahim o Ismail ko ke mera ghar khoob suthra karo tawaf karne walon aur aitikaaf walon aur ruku’ o sujood walon ke liye -
(ف227)بیت سے کعبہ شریف مراد ہے اور اس میں تمام حرم شریف داخل ۔ (ف228)امن بنانے سے یہ مراد ہے کہ حرم کعبہ میں قتل و غارت حرام ہے یا یہ کہ وہاں شکار تک کو امن ہے یہاں تک کہ حرم شریف میں شیر بھیڑیے بھی شکار کا پیچھا نہیں کرتے چھوڑ کر لوٹ جاتے ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ مومن اس میں داخل ہو کر عذاب سے مامون ہوجاتا ہے حرم کو حرم اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں قتل ظلم شکار حرام و ممنوع ہے۔ (احمدی) اگر کوئی مجرم بھی داخل ہوجائے تو وہاں اس سے تعرض نہ کیا جائے گا۔(مدارک) (ف229)مقام ابراہیم وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ معظمہ کی بنا فرمائی اور اس میں آپ کے قدم مبارک کا نشان تھا اس کو نماز کا مقام بنانے کا امر استحباب کے لئے ہے ایک قول یہ بھی ہے کہ اس نماز سے طواف کی دو رکعتیں مراد ہیں۔ ( احمدی وغیرہ)
اور جب عرض کی ابراہیم نے کہ اے میرے رب اس شہر کو امان والا کردے اور اس کے رہنے والوں کو طرح طرح کے پھلوں سے روزی دے جو ان میں سے اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائیں (ف۲۳۰) فرمایا اور جو کافر ہوا تھوڑا برتنے کو اسے بھی دوں گا پھر اسے عذاب دوزخ کی طرف مجبور کردوں گا اور بہت بری جگہ ہے پلٹنے کی ۔
And (remember) when Ibrahim prayed, “My Lord! Make this city a place of security and bestow upon its people various fruits as providence – for those among them who believe in Allah and the Last Day (of Resurrection)”; He answered, “And whoever disbelieves, I shall provide him also some subsistence and then compel him towards the punishment of fire (hell); and that is a wretched place to return.”
और जब अर्ज़ की इब्राहीम ने कि ऐ मेरे रब इस शहर को अमान वाला कर दे और उसके रहने वालों को तरह-तरह के फलों से रोज़ी दे जो उनमें से अल्लाह और पिछले दिन पर ईमान लायें फरमाया और जो काफ़िर हुआ थोड़ा बरतने को उसे भी दूँगा फिर उसे अज़ाब-ए-दोज़ख की तरफ़ मजबूर कर दूँगा और बहुत बुरी जगह है पलटने की -
Aur jab arz ki Ibrahim ne ke aye mere Rab is shahr ko amaan wala kar de aur is ke rehne walon ko tarah tarah ke phalon se rozi de jo un me se Allah aur pichhle din par iman laye farmaaya aur jo kafir hua thoda bartane ko use bhi doonga phir use azaab-e-dozakh ki taraf majboor kar doonga aur bohot buri jagah hai paltne ki -
(ف230)چونکہ امامت کے باب میں لَایَنَالُ عَھْدِی الظَّالِمیْنَ ارشاد ہوچکا تھا اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس دعا میں مومنین کو خاص فرمایا اور یہی شان ادب تھی اللہ تعالیٰ نے کرم کیا دعا قبول فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ رزق سب کو دیا جائے گا مومن کو بھی کافر کو بھی لیکن کافر کا رزق تھوڑا ہے یعنی صرف دنیوی زندگی میں وہ بہرہ مند ہوسکتا ہے۔
اور جب اٹھاتا تھا ابراہیم اس گھر کی نیویں اور اسماعیل یہ کہتے ہوئے اے رب ہمارے ہم سے قبول فرما (ف۲۳۱) بیشک تو ہی ہے سنتا جانتا ،
And (remember) when Ibrahim was raising the foundations of the House, along with Ismail; (saying), “Our Lord! Accept it from us; indeed You only are the All Hearing, the All Knowing.”
और जब उठाता था इब्राहीम इस घर की नींवें और इस्माईल यह कहते हुए ऐ रब हमारे हमसे क़बूल फरमा बेशक तू ही है सुनता जानता,
Aur jab uthata tha Ibrahim is ghar ki niwein aur Ismail ye kehte hue aye Rab hamare hum se qubool farma beshak tu hi hai sunta janta,
(ف231)پہلی مرتبہ کعبہ معظمہ کی بنیاد حضرت آدم علیہ السلام نے رکھی اور بعد طوفانِ نوح پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسی بنیاد پر تعمیر فرمائی یہ تعمیر خاص آپ کے دستِ مبارک سے ہوئی اس کے لئے پتھر اٹھا کر لانے کی خدمت و سعادت حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو میسر ہوئی دونوں حضرات نے اس وقت یہ دعا کی کہ یارب ہماری یہ طاعت و خدمت قبول فرما۔
اے رب ہمارے اور کر ہمیں تیرے حضور گردن رکھنے والا (ف۲۳۲) اور ہماری اولاد میں سے ایک امت تیری فرمانبردار اور ہمیں ہماری عبادت کے قاعدے بتا اور ہم پر اپنی رحمت کے ساتھ رجوع فرما (ف۲۳۳) بیشک تو ہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان۔
“Our Lord! And make us submissive towards you and from our offspring a nation obedient to You – and show us the ways of our worship, and incline towards us with Your mercy; indeed You only are the Most Acceptor of Repentance, the Most Merciful.”
ऐ रब हमारे और कर हमें तेरे हुज़ूर गर्दन रखने वाला और हमारी औलाद में से एक उम्मत तेरी फ़रमाँबरदार और हमें हमारी इबादत के क़ायदे बता और हम पर अपनी रहमत के साथ रजू फरमा बेशक तू ही है बहुत तौबा क़बूल करने वाला मेहरबान।
Aye Rab hamare aur kar humein tere huzoor gardan rakhne wala aur hamari aulaad me se ek ummat teri farmanbardaar aur humein hamari ibadat ke qaide bata aur hum par apni rehmat ke sath rujoo’ farma beshak tu hi hai bohot tauba qubool karne wala meharbaan.
(ف232)وہ حضرات اللہ تعالیٰ کے مطیع و مخلص بندے تھے پھر بھی یہ دعا اس لئے ہے کہ طاعت و اخلاص میں اور زیادہ کمال کی طلب رکھتے ہیں ذوق طاعت سیر نہیں ہوتا ۔ سبحان اللہ ؎ فکر ہر کس بقدر ہمت اوست ۔(ف233)حضرت ابراہیم واسمٰعیل علیہما السلام معصوم ہیں آپ کی طرف سے تو یہ تواضع ہے اور اللہ والوں کے لئے تعلیم ہے مسئلہ کہ یہ مقام قبول دُعا ہے اور یہاں دعا و توبہ سنت ابراہیمی ہے۔
اے رب ہمارے اور بھیج ان میں (ف۲۳٤) ایک رسول انہیں میں سے کہ ان پر تیری آیتیں تلاوت فرمائے اور انہیں تیری کتاب (ف۲۳۵) اور پختہ علم سکھائے (ف۲۳٦) اور انہیں خوب ستھرا فرمادے (ف۲۳۷) بیشک تو ہی ہے غالب حکمت والا ۔
“Our Lord! And send towards them a Noble Messenger, from amongst them, to recite to them Your verses, and to instruct them in Your Book and sound wisdom*, and to fully purify them; indeed You only are the Almighty, the Wise.” (The traditions of the Holy Prophet – sunnah and hadith – are called wisdom.)
ऐ रब हमारे और भेज उनमें एक रसूल उन्हें में से कि उन पर तेरी आयतें तिलावत फरमाये और उन्हें तेरी किताब और पुख़्ता इल्म सिखाये और उन्हें खूब सुथरा फरमा दे बेशक तू ही है ग़ालिब हिकमत वाला -
Aye Rab hamare aur bhej un me ek Rasool unhi me se ke un par teri aayatein tilawat farmaye aur unhein teri kitab aur pukhta ilm sikhaye aur unhein khoob suthra farma de beshak tu hi hai ghaalib hikmat wala -
(ف234)یعنی حضرت ابراہیم و حضرت اسمٰعیل کی ذریت میں یہ دُعا سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے تھی یعنی کعبہ معظمہ کی تعمیر کی عظیم خدمت بجالانے اور توبہ و استغفار کرنے کے بعد حضرت ابراہیم و اسمٰعیل نے یہ دعا کی کہ یارب اپنے محبو ب نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہماری نسل میں ظاہر فرما اور یہ شرف ہمیں عنایت کر یہ دعا قبول ہوئی اور ان دونوں صاحبوں کی نسل میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا کوئی نبی نہیں ہوا اولاد حضرت ابراہیم میں باقی انبیاء حضرت اسحٰق کی نسل سے ہیں۔ مسئلہ : سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا میلاد شریف خود بیان فرمایا امام بغوی نے ایک حدیث روایت کی کہ حضور نے فرمایا میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک خاتم النبیین لکھا ہوا تھا بحالیکہ حضرت آدم کے پتلہ کا خمیر ہورہا تھا میں تمہیں اپنے ابتدائے حال کی خبر دوں میں دعائے ابراہیم ہوں بشارت عیسیٰ ہوں اپنی والدہ کی اس خواب کی تعبیر ہوں جو انہوں نے میری ولادت کے وقت دیکھی اور ان کے لئے ایک نور ساطع ظاہر ہوا جس سے ملک شام کے ایوان و قصور اُن کے لئے روشن ہوگئے اس حدیث میں دعائے ابراہیم سے یہی دعا مراد ہے جو اس آیت میں مذکور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی اور آخر زمانہ میں حضور سید انبیاء محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث فرمایا الحمد للہ علیٰ احسانہ (جمل و خازن)(ف235)اس کتاب سے قرآن پاک اور اس کی تعلیم سے اس کے حقائق و معانی کا سکھانا مراد ہے۔(ف236)حکمت کے معنی میں بہت اقوال ہیں بعض کے نزدیک حکمت سے فقہ مراد ہے قتادہ کا قول ہے کہ حکمت سنت کا نام ہے بعض کہتے ہیں کہ حکمت علم احکام کو کہتے ہیں خلاصہ یہ کہ حکمت علم اسرار ہے۔(ف237)ستھرا کرنے کے یہ معنی ہیں کہ لوح نفوس وارواح کو کدورات سے پاک کرکے حجاب اٹھاویں اور آئینہ استعداد کی جلا فرما کر انہیں اس قابل کردیں کہ ان میں حقائق کی جلوہ گری ہوسکے ۔
اور ابراہیم کے دین سے کون منہ پھیرے (ف۲۳۸) سوا اس کے جو دل کا احمق ہے اور بیشک ضرور ہم نے دنیا میں اسے چن لیا (ف۲۳۹) اور بیشک وہ آخرت میں ہمارے خاص قرب کی قابلیت والوں میں ہے ۔ (ف۲٤۰)
And who will renounce the religion of Ibrahim except him who is a fool at heart? We indeed chose him (Ibrahim) in this world; and indeed in the Hereafter he is among those worthy of being closest to Us.
और इब्राहीम के दीन से कौन मुँह फेरे सिवा उसके जो दिल का अहमक़ है और बेशक ज़रूर हमने दुनिया में उसे चुन लिया और बेशक वह आख़िरत में हमारे ख़ास क़ुर्ब की क़ाबिलियत वालों में है -
Aur Ibrahim ke deen se kaun munh phere siwa us ke jo dil ka ahmaq hai aur beshak zaroor hum ne duniya me use chun liya aur beshak woh aakhirat me hamare khaas qurb ki qabiliyat walon me hai -
(ف238)شا ن نزول: علماء یہود میں سے حضرت عبداللہ بن سلام نے اسلام لانے کے بعد اپنے دو بھتیجوں مہاجر و سلمہ کو اسلام کی دعوت دی اور ان سے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے توریت میں فرمایا ہے کہ میں اولاد اسمٰعیل سے ایک نبی پیدا کروں گا جن کا نام احمد ہوگا جو ان پر ایمان لائے گا راہ یاب ہوگا اور جو ایمان نہ لائے گا ملعون ہے،یہ سن کر سلمہ ایمان لے آئے اور مہاجر نے اسلام سے انکار کردیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر ظاہر کردیا کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خود اس رسول معظم کے مبعوث ہونے کی دعا فرمائی تو جواُن کے دین سے پھرے وہ حضرت ابراہیم کے دین سے پھرا اس میں یہود و نصاری و مشرکین عرب پر تعریض ہے جو اپنے آپ کو افتخاراً حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف منسوب کرتے تھے جب ان کے دین سے پھر گئے تو شرافت کہاں رہی۔(ف239)رسالت و خلّت کے ساتھ رسول و خلیل بنایا۔(ف240)جن کے لئے بلند درجے ہیں تو جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کرامت دارین کے جامع ہیں تو ان کی طریقت و ملت سے پھرنے والا ضرور نادان و احمق ہے۔
اور اسی دین کی وصیت کی ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب نے کہ اے میرے بیٹو! بیشک اللہ نے یہ دین تمہارے لئے چن لیا تو نہ مرنا مگر مسلمان ۔
And Ibrahim willed the same religion upon his sons, and also did Yaqub (Jacob); (saying), “O my sons – indeed Allah has chosen this religion for you; therefore do not die except as Muslims (those who submit to Him).”
और उसी दीन की वसियत की इब्राहीम ने अपने बेटों को और याक़ूब ने कि ऐ मेरे बेटो! बेशक अल्लाह ने यह दीन तुम्हारे लिये चुन लिया तो न मरना मगर मुसलमान -
Aur isi deen ki wasiyyat ki Ibrahim ne apne beton ko aur Yaqub ne ke aye mere beto! beshak Allah ne ye deen tumhare liye chun liya to na marna magar Musalman -
بلکہ تم میں کے خود موجود تھے (ف۲٤۱) جب یعقوب کو موت آئی جبکہ اس اپنے بیٹوں سے فرمایا میرے بعد کس کی پوجا کرو گے بولے ہم پوجیں گے اسے جو خدا ہے آپ کا اور آپ کے آباء ابراہیم و اسماعیل (ف۲٤۲) و اسحاق کا ایک خدا اور ہم اس کے حضور گردن رکھے ہیں،
In fact, some of you yourselves were present when death approached Yaqub and when he said to his sons, “What will you worship after me?” They said, “We shall worship Him Who is your God, and is the God of your fathers, Ibrahim and Ismail and Ishaq (Isaac) – the One God; and to Him we have submitted ourselves.”
बल्कि तुम में के खुद मौजूद थे जब याक़ूब को मौत आयी जबकि उसने अपने बेटों से फरमाया मेरे बाद किसकी पूजा करोगे बोले हम पूजेंगे उसे जो ख़ुदा है आपका और आपके आंबा इब्राहीम व इस्माईल व इसहाक़ का एक ख़ुदा और हम उसके हुज़ूर गर्दन रखे हैं,
Balke tum me ke khud maujood the jab Yaqub ko maut aayi jabke us ne apne beton se farmaaya mere baad kis ki pooja karoge bole hum poojenge use jo Khuda hai aap ka aur aap ke aaba Ibrahim o Ismail o Ishaq ka ek Khuda aur hum us ke huzoor gardan rakhe hain,
(ف241)شان نزول: یہ آیت یہود کے حق میں نازل ہوئی انہوں نے کہا تھا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنی وفات کے روز اپنی اولاد کو یہودی رہنے کی وصیت کی تھی اللہ تعالیٰ نے ان کے اس بہتان کے رد میں یہ آیت نازل فرمائی ۔(خازن) معنیٰ یہ ہیں کہ اے بنی اسرائیل تمہارے پہلے لوگ حضرت یعقوب علیہ السلام کے آخر وقت ان کے پاس موجود تھے جس وقت انہوں نے اپنے بیٹوں کو بلا کر اُن سے اسلام و توحید کا اقرا رلیا تھا اور یہ اقرار لیا تھا جو آیت میں مذکور ہے۔(ف242)حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو حضرت یعقوب علیہ السلام کے آباء میں داخل کرنا تو اس لئے ہے کہ آپ ان کے چچا ہیں اور چچا بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے اور آپ کا نام حضرت اسحاق علیہ السلام سے پہلے ذکر فرمانا دووجہ سے ہے ایک تو یہ کہ آپ حضرت اسحاق علیہ السلام سے چودہ سال بڑے ہیں دوسرے اس لئے کہ آپ سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جد ہیں۔
اور کتابی بولے (ف۲٤۵) یہودی یا نصرانی ہوجاؤ راہ پاؤ گے تم فرماؤ بلکہ ہم تو ابراہیم کا دین لیتے ہیں جو ہر باطل سے جدا تھے اور مشرکوں سے نہ تھے ۔ (ف۲٤٦)
And the People given the Book(s) said, “Become Jews or Christians – you will attain the right path”; say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “No – rather we take the religion of Ibrahim, who was far removed from all falsehood; and was not of the polytheists.”
और किताबी बोले यहूदी या नसारा हो जाओ राह पाओगे तुम फरमाओ बल्कि हम तो इब्राहीम का दीन लेते हैं जो हर बातिल से जुदा थे और मुशरिकों से न थे -
Aur kitabi bole Yahudi ya Nasrani ho jao raah paoge tum farmaon balke hum to Ibrahim ka deen lete hain jo har baatil se juda the aur mushrikon se na the -
(ف245)شان نزول :حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ آیت رؤساء یہود اور نجران کے نصرانیوں کے جواب میں نازل ہوئی یہودیوں نے تو مسلمانوں سے یہ کہا تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تمام انبیاء میں سب سے افضل ہیں اور توریت تمام کتابوں سے افضل ہے اور یہودی دین تمام ادیان سے اعلیٰ ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے حضرت سید کائنات محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور انجیل شریف و قرآن شریف کے ساتھ کفر کرکے مسلمانوں سے کہا تھا کہ یہودی بن جاؤ اسی طرح نصرانیوں نے بھی اپنے ہی دین کو حق بتا کر مسلمانوں سے نصرانی ہونے کو کہا تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(ف246)اس میں یہود و نصاریٰ وغیرہ پر تعریض ہے کہ تم مشرک ہو اس لئے ملت ابراہیم پر ہونے کا دعویٰ جو تم کرتے ہو وہ باطل ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں کو خطاب فرمایا جاتا ہے۔ کہ وہ ان یہودو نصاریٰ سے یہ کہ دیں قُوْلُوْۤآ اٰمَنَّا اَ لْاٰیَۃَ ۔
یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اتارا گیا ابراہیم و اسماعیل و اسحاق و یعقوب اور ان کی اولاد پر اور جو عطا کئے گئے موسیٰ و عیسیٰ اور جو عطا کئے گئے باقی انبیاء اپنے رب کے پاس سے ہم ان پر ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے حضور گردن رکھے ہیں ۔
Say, “We believe in Allah and what is sent down to us and what was sent down to Ibrahim, and Ismael, and Ishaq, and Yaqub, and to their offspring, and what was bestowed upon Moosa and Eisa (Jesus), and what was bestowed upon other Prophets – from their Lord; we do not make any distinction, in belief, between any of them; and to Allah we have submitted ourselves.”
यूँ कहो कि हम ईमान लाये अल्लाह पर उस पर जो हमारी तरफ़ उतरा और जो उतारा गया इब्राहीम व इस्माईल व इसहाक़ व याक़ूब और उनकी औलाद पर और जो अता किये गये मूसा व ईसा और जो अता किये गये बाकी अन्बिया अपने रब के पास से हम उन पर ईमान में फ़र्क़ नहीं करते और हम अल्लाह के हुज़ूर गर्दन रखे हैं -
Yun kaho ke hum iman laye Allah par us par jo hamari taraf utra aur jo utara gaya Ibrahim o Ismail o Ishaq o Yaqub aur un ki aulaad par aur jo ata kiye gaye Musa o Isa aur jo ata kiye gaye baaqi Anbiya apne Rab ke paas se hum un par iman me farq nahi karte aur hum Allah ke huzoor gardan rakhe hain -
پھر اگر وہ بھی یونہی ایمان لائے جیسا تم لائے جب تو وہ ہدایت پاگئے اور اگر منہ پھیریں تو وہ نری ضد میں ہیں (ف۲٤۷) تو اے محبوب! عنقریب اللہ ان کی طرف سے تمہیں کفایت کرے گا اور وہی ہے سنتا جانتا ۔ (ف۲٤۸)
And if they believe in the same way you have believed, they have attained guidance; and if they turn away, they are clearly being stubborn; so Allah will soon suffice you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) against them; and He only is the All Hearing, the All Knowing.
फिर अगर वह भी यूँही ईमान लाये जैसा तुम लाये जब तो वह हिदायत पा गये और अगर मुँह फेरीं तो वह नरी ज़िद में हैं तो ऐ महबूब! अन्क़रीब अल्लाह उनकी तरफ़ से तुम्हें किफ़ायत करेगा और वही है सुनता जानता -
Phir agar woh bhi yunhi iman laye jaisa tum laye jab to woh hidayat pa gaye aur agar munh pheren to woh niri zid me hain to aye Mehboob! anqareeb Allah un ki taraf se tumhein kifayat karega aur wahi hai sunta janta -
(ف247)اور ان میں طلب حق کا شائبہ بھی نہیں۔(ف248)یہ اللہ کی طرف سے ذمہ ہے کہ وہ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غلبہ عطا فرمائے گا اور اس میں غیب کی خبر ہے کہ آئندہ حاصل ہونے والی فتح و ظفر کا پہلے سے اظہار فرمایا اس میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ذمہ پورا ہوا اور یہ غیبی خبر صادق ہو کر رہی کفار کے حسد و عناد اور ان کے مکائد سے حضور کو ضرر نہ پہنچا حضور کی فتح ہوئی بنی قُرَیْظَہ قتل ہوئے بنی نُضَیْر جلا وطن کئے گئے یہود ونصاریٰ پر جزیہ مقرر ہوا۔
ہم نے اللہ کی رینی (رنگائی) لی (ف۲٤۹) اور اللہ سے بہتر کس کی رینی؟ (رنگائی) اور ہم اسی کو پوجتے ہیں،
“We have taken the colour (religion) of Allah; and whose colour (religion) is better than that of Allah? And only Him do we worship.”
हमने अल्लाह की रेनी (रंगाई) ली और अल्लाह से बेहतर किसकी रेनी? (रंगाई) और हम उसी को पूजते हैं,
Hum ne Allah ki reeni (rangai) li aur Allah se behtar kis ki reeni? (rangai) aur hum usi ko poojte hain,
(ف249)یعنی جس طرح رنگ کپڑے کے ظاہر وباطن میں نفوذ کرتا ہے اس طرح دینِ الہٰی کے اعتقادات حقہ ہمارے رگ و پے میں سما گئے ہمارا ظاہر و باطن قلب و قالب اس کے رنگ میں رنگ گیا ہمارا رنگ ظاہری رنگ نہیں جو کچھ فائدہ نہ دے بلکہ یہ نفوس کو پاک کرتا ہے۔ ظاہر میں اس کے آثار اوضاع و افعال سے نمو دار ہوتے ہیں نصاریٰ جب اپنے دین میں کسی کو داخل کرتے یا ان کے یہا ں کوئی بچہ پیدا ہوتا تو پانی میں زرد رنگ ڈال کر اس میں اس شخص یا بچہ کو غوطہ دیتے اور کہتے کہ اب یہ سچا نصرانی ہوا اس کا اس آیت میں رد فرمایا کہ یہ ظاہری رنگ کسی کام کا نہیں ۔
تم فرماؤ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو (ف۲۵۰) حالانکہ وہ ہمارا بھی مالک ہے اور تمہارا بھی (ف۲۵۱) اور ہماری کرنی (ہمارے اعمال) ہمارے ساتھ اور تمہاری کرنی (تمہارے اعمال) تمہارے ساتھ اور ہم نرے اسی کے ہیں ۔ (ف۲۵۲)
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “What! You dispute with us concerning Allah, whereas He is our Lord and also yours? Our deeds are with us and with you are your deeds; and only to Him do we sincerely belong.”
तुम फरमाओ अल्लाह के बारे में झगड़ते हो हालाँकि वह हमारा भी मालिक है और तुम्हारा भी और हमारी करनी (हमारे आमाल) हमारे साथ और तुम्हारी करनी (तुम्हारे आमाल) तुम्हारे साथ और हम निरे उसी के हैं -
Tum farmaon Allah ke bare me jhagar rahe ho halanke woh hamara bhi Maalik hai aur tumhara bhi aur hamari karni (hamare a’maal) hamare sath aur tumhari karni (tumhare a’maal) tumhare sath aur hum nire usi ke hain -
(ف250)شان نزول :یہود نے مسلمانوں سے کہا ہم پہلی کتاب والے ہیں ہمارا قبلہ پرانا ہے ہمارا دین قدیم ہے انبیاء ہم میں سے ہوئے ہیں اگر سید عالم محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نبی ہوتے تو ہم میں سے ہی ہوتے اس پر یہ آیہ ء کریمہ نازل ہوئی۔(ف251)اسے اختیار ہے کہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے نبی بنائے عرب میں سے ہو یا دوسروں میں سے۔(ف252)کسی دوسرے کو اللہ کے ساتھ شریک نہیں کرتے اور عبادت و طاعت خالص اسی کے لئے کرتے ہیں تو ہم مستحق اکرام ہیں ۔
بلکہ تم یوں کہتے ہو کہ ابراہیم و اسمٰعیل و اسحاق و یعقوب اور ان کے بیٹے یہودی یا نصرانی تھے، تم فرماؤ کیا تمہیں علم زیادہ ہے یا اللہ کو (ف۲۵۳) اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جس کے پاس اللہ کی طرف کی گواہی ہو اور وہ اسے چھپائے (ف ۲۵٤) اور خدا تمہارے کوتکوں (برے اعمال) سے بےخبر نہیں ۔
“In fact you claim that Ibrahim, and Ismail, and Ishaq, and Yaqub, and their offspring were Jews or Christians”; say, “Do you know better, or does Allah?”; and who is more unjust than one who has the testimony from Allah and he hides it? And Allah is not unaware of your deeds.
बल्कि तुम यों कहते हो कि अब्राहीमؑ व इस्माईलؑ व इसहाकؑ व याकूबؑ और उनके बेटे यहूदी या नसरानी थे, तुम फरमाओ क्या तुम्हें इल्म ज़्यादा है या अल्लाह को और उस से बढ़ कर ज़ालिम कौन जिसके पास अल्लाह की तरफ़ की गवाही हो और वह उसे छुपाए और ख़ुदा तुम्हारे कोतकौं (बुरे आमाल) से बेख़बर नहीं -
Balki tum yun kehte ho ke Ibraheem (A.S.) o Ismaeel (A.S.) o Ishaaq (A.S.) o Yaqoob (A.S.) aur un ke betay Yahudi ya Nasrani thay, tum farmaao kya tumhein ilm zyada hai ya Allah ko aur is se barh kar zalim kaun jiske paas Allah ki taraf ki gawahi ho aur woh use chhupaye aur Khuda tumhare kotkon (bure a’maal) se be khabar nahi -
(ف253)اس کا قطعی جواب یہی ہے کہ اللہ ہی اعلم ہے تو جب اس نے فرمایا : مَاکَانَ اِبْرَاھِیْمُ یَھُوْدِیًّاوَّلَا نَصْرَانِیًّا"تو تمہارا یہ قول باطل ہوا۔(ف254)یہ یہود کا حال ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی شہادتیں چھپائیں جو توریت شریف میں مذکور تھیں کہ محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے نبی ہیں اور ان کے یہ نعت و صفات ہیں اور حضرت ابراہیم مسلمان ہیں اوردین مقبول اسلام ہے نہ یہودیّت و نصرانیت۔
اب کہیں گے (ف ۲۵۵) بیوقوف لوگ، کس نے پھیردیامسلمانوں کو، ان کے اس قبلہ سے، جس پر تھے (ف۲۵٦) تم فرمادو کہ پورب پچھم (مشرق مغرب) سب اللہ ہی کا ہے (ف۲۵۷) جسے چاہے سیدھی راہ چلاتا ہے۔
So now the foolish people will say, “What has turned the Muslims away from the qiblah (prayer direction) which they formerly observed?”; proclaim, “To Allah only belong the East and the West; He guides whomever He wills upon the Straight Path.”
अब कहेंगे बेवक़ूफ़ लोग, किस ने फेर दिया मुसलमानों को, उनके उस क़िबला से, जिस पर थे तुम फरमा दो कि पूरब पच्छिम (मशरिक मग़रिब) सब अल्लाह ही का है जिसे चाहे सीधी राह चलाता है ।
Ab kahenge baiwaqoof log, kis ne pher diya Musalmanon ko, un ke is qibla se, jis par thay tum farma do ke poorab picham (mashriq maghrib) sab Allah hi ka hai jise chahe seedhi raah chalata hai.
(ف255)شان نزول :یہ آیت یہود کے حق میں نازل ہوئی جب بجائے بیت المقدس کے کعبہ معظمہ کو قبلہ بنایا گیا اس پر انہوں نے طعن کئے کیونکہ یہ انہیں ناگوار تھا اور وہ نسخ کے قائل نہ تھے ایک قول پر یہ آیت مشرکین مکّہ کے اور ایک قول پر منافقین کے حق میں نازل ہوئی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے کفار کے یہ سب گروہ مراد ہوں کیونکہ طعن و تشنیع میں سب شریک تھے اور کفار کے طعن کرنے سے قبل قرآن پاک میں اس کی خبر دے دینا غیبی خبروں میں سے ہے طعن کرنے والوں کو بے وقوف اس لئے کہا گیا کہ وہ نہایت واضح بات پر معترض ہوئے باوجودیکہ انبیاء سابقین نے نبی آخر الزماں کے خصائص میں آپ کا لقب ذوالقبلتین ذکر فرمایا اور تحویل قبلہ اس کی دلیل ہے کہ یہ وہی نبی ہیں جن کی پہلے انبیاء خبر دیتے آئے ایسے روشن نشان سے فائدہ نہ اٹھانا اور معترض ہونا کمال حماقت ہے۔(ف256)قبلہ اس جہت کو کہتے ہیں جس طرف آدمی نماز میں منہ کرتا ہے یہاں قبلہ سے بیت المقدس مراد ہے۔(ف257)اسے اختیار ہے جسے چاہے قبلہ بنائے کسی کو کیا جائے اعتراض بندے کا کام فرماں برداری ہے۔
اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل، کہ تم لوگوں پر گواہ ہو (ف۲۵۸) اور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ (ف۲۵۹) اور اے محبوب! تم پہلے جس قبلہ پر تھے ہم نے وہ اسی لئے مقرر کیا تھا کہ دیکھیں کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ (ف۲٦۰) اور بیشک یہ بھاری تھی مگر ان پر، جنہیں اللہ نے ہدایت کی اور اللہ کی شان نہیں کہ تمہارا ایمان اکارت کرے (ف۲٦۱) بیشک اللہ آدمیوں پر بہت مہربان، رحم والا ہے۔
And so it is that We have made you the best nation* for you are witnesses** against mankind, and the Noble Messenger is your guardian and your witness; and (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) We had appointed the qiblah which you formerly observed only to see (test) who follows the Noble Messenger, and who turns away; and it was indeed hard except for those whom Allah guided; and it does not befit Allah’s Majesty to waste your faith! Indeed Allah is Most Compassionate, Most Merciful towards mankind. (* The best Ummah is that of Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him. ** The Holy Prophet is a witness from Allah.)
और बात यों ही है कि हम ने तुम्हें किया सब उम्मतों में अफ़ज़ल, कि तुम लोगों पर गवाह हो और ये रसूल तुम्हारे निगहबान व गवाह और ऐ महबूब! तुम पहले जिस क़िबला पर थे हम ने वह इसी लिये मुक़र्रर किया था कि देखें कौन रसूल की पैरवी करता है और कौन उल्टे पाँव फिर जाता है। और बेशक ये भारी थी मगर उन पर, जिन्हे अल्लाह ने हिदायत की और अल्लाह की शान नहीं कि तुम्हारा ईमान अकारत करे बेशक अल्लाह आदमियों पर बहुत मेहरबान, रहम वाला है ।
Aur baat yun hi hai ke hum ne tumhein kiya sab ummaton mein afzal, ke tum logon par gawah ho aur ye Rasool tumhare nighebaan o gawah aur aye mehboob! tum pehle jis qibla par thay hum ne woh isi liye muqarrar kiya tha ke dekhein kaun Rasool ki pairwi karta hai aur kaun ulte paon phir jata hai. Aur beshak ye bhaari thi magar un par jinhein Allah ne hidayat ki aur Allah ki shaan nahi ke tumhara imaan akarat kare beshak Allah aadmiyon par bohot meherbaan, reham wala hai.
(ف258)دنیاو آخرت میں مسئلہ: دنیا میں تو یہ کہ مسلمان کی شہادت مومن کافر سب کے حق میں شرعاً معتبر ہے اور کافر کی شہادت مسلمان پر معتبر نہیں۔ مسئلہ : اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس امت کا اجماع حجت لازم القبول ہے مسئلہ: اموات کے حق میں بھی اس امت کی شہادت معتبر ہے رحمت و عذاب کے فرشتے اس کے مطابق عمل کرتے ہیں صحاح کی حدیث میں ہے کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ایک جنازہ گزرا صحابہ نے اس کی تعریف کی حضور نے فرمایا واجب ہوئی پھر دوسرا جنازہ گزرا صحابہ نے اس کی برائی کی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: واجب ہوئی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ حضور کیا چیزواجب ہوئی ؟فرمایا: پہلے جنازہ کی تم نے تعریف کی اس کے لئے جنت واجب ہوئی دوسرے کی تم نے برائی بیان کی اس کے لئے دوزخ واجب ہوئی تم زمین میں اللہ کے شہداء (گواہ) ہو پھر حضور نے یہ آیت تلاوت فرمائی مسئلہ : یہ تمام شہادتیں صلحاء اُمت اور اہل صدق کے ساتھ خاص ہیں اور ان کے معتبر ہونے کے لئے زبان کی نگہداشت شرط ہے جو لوگ زبان کی احتیاط نہیں کرتے اور بے جا خلاف شرع کلمات ان کی زبان سے نکلتے ہیں اور ناحق لعنت کرتے ہیں صحاح کی حدیث میں ہے کہ روز قیامت نہ وہ شافع ہوں گے نہ شاہد اس اُمت کی ایک شہادت یہ بھی ہے کہ آخرت میں جب تمام اولین و آخرین جمع ہوں گے اور کفار سے فرمایا جائے گا کیا تمہارے پاس میری طرف سے ڈرانے او راحکام پہنچانے والے نہیں آئے تو وہ انکار کریں گے اور کہیں گے کوئی نہیں آیا۔ حضرات انبیاء سے دریافت فرمایا جائے گا وہ عرض کریں گے کہ یہ جھوٹے ہیں ہم نے انہیں تبلیغ کی اس پر اُن سے اِقَامَۃً لِلْحُجَّۃِ دلیل طلب کی جائے گی وہ عرض کریں گے کہ اُمت محمدیہ ہماری شاہد ہے یہ اُمت پیغمبروں کی شہادت دے گی کہ ان حضرات نے تبلیغ فرمائی اس پر گزشتہ اُمت کے کفار کہیں گے اِنہیں کیا معلوم یہ ہم سے بعد ہوئے تھے دریافت فرمایا جائے گا تم کیسے جانتے ہو یہ عرض کریں گے یارب تو نے ہماری طرف اپنے رسول محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھیجا قرآن پاک نازل فرمایا ان کے ذریعے سے ہم قطعی و یقینی طور پر جانتے ہیں کہ حضرات انبیاء نے فرضِ تبلیغ علیٰ وجہ الکمال ادا کیا پھر سید انبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے آپ کی امت کی نسبت دریافت فرمایا جائے گا حضور انکی تصدیق فرمائیں گے۔ مسئلہ:اس سے معلوم ہوا کہ اشیاء معروفہ میں شہادت تسامع کے ساتھ بھی معتبر ہے یعنی جن چیزوں کا علمِ یقینی سننے سے حاصل ہو اُس پر بھی شہادت دی جاسکتی ہے۔(ف259)امت کو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطلاع کے ذریعہ سے احوال امم و تبلیغ انبیاء کا علم قطعی و یقینی حاصل ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بکرم الہٰی نور نبوت سے ہر شخص کے حال اور اس کی حقیقت ایمان اور اعمال نیک و بد اور اخلاص و نفاق سب پر مطلع ہیں مسئلہ : اسی لئے حضور کی شہادت دنیا میں بحکم شرع امت کے حق میں مقبول ہے یہی وجہ ہے کہ حضور نے اپنے زمانہ کے حاضرین کے متعلق جو کچھ فرمایامثلاً:صحابہ و ازواج و اہل بیت کے فضائل و مناقب یا غائبوں اور بعد والوں کے لئے مثل حضرت اویس و امام مہدی وغیرہ کے اس پر اعتقاد واجب ہے مسئلہ : ہر نبی کو ان کی امت کے اعمال پر مطلع کیا جاتا ہے تاکہ روز قیامت شہادت دے سکیں چونکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شہادت عام ہوگی اس لئے حضور تمام امتوں کے احوال پر مطلع ہیں فائدہ یہاں شہید بمعنی مطلع بھی ہوسکتا ہے کیونکہ شہادت کا لفظ علم وا طلاع کے معنی میں بھی آیا ہے ۔ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی واللّٰہُ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ شَھِیْدٌ (ف260)سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمپہلے کعبہ کی طرف نماز پڑھتے تھے بعد ہجرت بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنے کا حکم ہوا سترہ مہینے کے قریب اس طرف نماز پڑھی پھر کعبہ شریف کی طرف منہ کرنے کا حکم ہوا۔ اس تحویل کی ایک یہ حکمت ارشاد ہوئی کہ اس سے مومن و کافر میں فرق و امتیاز ہوجائے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا۔(ف261)شان نزول بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنے کے زمانہ میں جن صحابہ نے وفات پائی ان کے رشتہ داروں نے تحویل قبلہ کے بعد ان کی نمازوں کا حکم دریافت کیا اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور اطمینان دلایا گیا کہ ان کی نمازیں ضائع نہیں ان پر ثواب ملے گا۔ فائدہ نماز کو ایمان سے تعبیر فرمایا گیا کیونکہ اس کی ادا اور بجماعت پڑھنا دلیل ایمان ہے۔
ہم دیکھ رہے ہیں بار بار تمہارا آسمان کی طرف منہ کرنا (ف ۲٦۲) تو ضرور ہم تمہیں پھیر دیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری خوشی ہے ابھی اپنا منہ پھیر دو مسجد حرام کی طرف اور اے مسلمانو! تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو (ف۲٦۳) اور وہ جنہیں کتاب ملی ہے ضرور جانتے کہ یہ انکے رب کی طرف سے حق ہے (ف۲٦٤) اور اللہ ان کے کوتکوں (اعمال) سے بےخبر نہیں ۔
We observe you turning your face, several times towards heaven (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him); so We will definitely make you turn (for prayer) towards a qiblah which pleases you; therefore now turn your face towards the Sacred Mosque (in Mecca); and O Muslims, wherever you may be, turn your faces (for prayer) towards it only; and those who have received the Book surely know that this is the truth from their Lord; and Allah is not unaware of their deeds. (Allah seeks to please the Holy Prophet – peace and blessings be upon him.)
हम देख रहे हैं बार बार तुम्हारा आसमान की तरफ़ मुँह करना तो ज़रूर हम तुम्हें फेर देंगे उस क़िबला की तरफ़ जिस में तुम्हारी ख़ुशी है अभी अपना मुँह फेर दो मस्जिद हराम की तरफ़ और ऐ मुसलमानो! तुम जहाँ कहीं हो अपना मुँह उसी की तरफ़ करो और वह जिन्हे किताब मिली है ज़रूर जानते कि ये उनके रब की तरफ़ से हक़ है और अल्लाह उनके कोतकौं (आमाल) से बेख़बर नहीं -
Hum dekh rahe hain baar baar tumhara aasman ki taraf munh karna to zaroor hum tumhein pher denge is qibla ki taraf jismein tumhari khushi hai abhi apna munh pher do Masjid Haraam ki taraf aur aye Muslamano! tum jahan kahin ho apna munh isi ki taraf karo aur woh jinhein kitaab mili hai zaroor jaante ke ye unke Rab ki taraf se haq hai aur Allah unke kotkon (a’maal) se be khabar nahi -
(ف262)شان نزول :سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کعبہ کا قبلہ بنایا جانا پسند خاطر تھا اور حضور اس امید میں آسمان کی طرف نظر فرماتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ آپ نماز ہی میں کعبہ کی طرف پھر گئے مسلمانوں نے بھی آپ کے ساتھ اسی طرف رُخ کیا۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو آپ کی رضا منظور ہے اور آپ ہی کی خاطر کعبہ کو قبلہ بنایا گیا ۔(ف263)اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں روبقبلہ ہونا فرض ہے۔(ف264)کیونکہ ان کی کتابوں میں حضور کے اوصاف کے سلسلہ میں یہ بھی مذکور تھا کہ آپ بیت المقدس سے کعبہ کی طرف پھریں گے اور ان کے انبیاء نے بشارتوں کے ساتھ حضور کا یہ نشان بتایا تھا کہ آپ بیت المقدس اور کعبہ دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھیں گے۔
اور اگر تم ان کتابیوں کے پاس ہر نشانی لے کر آؤ وہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہ کریں گے (ف۲٦۵) اور نہ تم ان کے قبلہ کی پیروی کرو (ف ۲٦٦) اور وہ آپس میں بھی ایک دوسرے کے قبلہ کے تابع نہیں (ف۲٦۷) اور (اے سننے والے کسے باشد) اگر تو ان کی خواہشوں پر چلا بعد اس کے کہ تجھے علم مل چکا تو اس وقت تو ضرور ستم گر ہوگا۔
And even if you were to bring all the signs to the People given the Book(s), they would not follow your qiblah; nor should you follow their qiblah; nor do they follow each others qiblah; and were you (the followers of this Prophet) to follow their desires after having received knowledge, you would then surely be unjust.
और अगर तुम उन किताबियों के पास हर निशानी ले कर आओ वह तुम्हारे क़िबला की पैरवी न करेंगे और न तुम उनके क़िबला की पैरवी करो और वह आपस में भी एक दूसरे के क़िबला के ताबे नहीं और (ऐ सुनने वाले कसे बाशद) अगर तू उनकी ख़्वाहिशों पर चला बाद इस के कि तुझे इल्म मिल चुका तो उस वक़्त तू ज़रूर सितमगर होगा।
Aur agar tum in kitaabiyon ke paas har nishani le kar aao woh tumhare qibla ki pairwi na karenge aur na tum unke qibla ki pairwi karo aur woh aapas mein bhi ek dusre ke qibla ke tabee nahi aur (aye sunne wale kise baashad) agar tu un ki khwahishon par chala baad is ke ke tujhe ilm mil chuka to us waqt tu zaroor sitamgar hoga.
(ف265)کیونکہ نشانی اس کو نافع ہوسکتی ہے جو کسی شبہ کی وجہ سے منکر ہو یہ تو حسد و عناد سے انکار کرتے ہیں انہیں اس سے کیا نفع ہوگا۔(ف266)معنی یہ ہیں کہ یہ قبلہ منسوخ نہ ہوگا تو اب اہل کتاب کو یہ طمع نہ رکھنا چاہئے کہ آپ ان میں سے کسی کے قبلہ کی طرف رخ کریں گے۔(ف267)ہر ایک کا قبلہ جدا ہے یہود تو صخرہ بیت المقدس کو اپنا قبلہ قرار دیتے ہیں اور نصاریٰ بیت المقدس کے اس مکان شرقی کو جہاں نفخِ روحِ حضرتِ مسیح واقع ہوا۔(فتح)
جنہیں ہم نے کتاب عطا فرمائی (ف۲٦۸) وہ اس نبی کو ایسا پہچانتے ہیں جیسے آدمی اپنے بیٹوں کو پہچانتا ہے (۲٦۹) اور بیشک ان میں ایک گروہ جان بوجھ کر حق چھپاتے ہیں ۔ (ف۲۷۰)
Those to whom We gave the Book(s) recognise the Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) as men (or they) recognise their own sons; and undoubtedly a group among them purposely conceals the truth.
जिन्हे हम ने किताब अता फरमाई वह उस नबी को ऐसा पहचानते हैं जैसे आदमी अपने बेटों को पहचानता है और बेशक उन में एक गिरोह जान बूझ कर हक़ छुपाते हैं -
Jinhein hum ne kitaab ata farmai woh is Nabi ko aisa pehchante hain jaise aadmi apne beton ko pehchanta hai aur beshak un mein ek groh jaan bujh kar haq chhupate hain -
(ف268)یعنی علماء یہود و نصاریٰ(ف269)مطلب یہ ہے کہ کتب سابقہ میں نبی آخر الزماں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوصاف ایسے واضح اور صاف بیان کئے گئے ہیں جن سے علماء اہل کتاب کو حضور کے خاتم الانبیاء ہونے میں کچھ شک و شبہ باقی نہیں رہ سکتا اور وہ حضور کے اس منصب عالی کو اتم یقین کے ساتھ جانتے ہیں احبار یہود میں سے عبداللہ بن سلام مشرف باسلام ہوئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا کہ آیہ ء یَعْرِفُوْنَہ میں جو معرفت بیان کی گئی ہے اس کی کیا شان ہے انہوں نے فرمایا کہ اے عمر میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو بے اشتباہ پہچان لیا اور میرا حضور کو پہچاننا اپنے بیٹوں کے پہچاننے سے بدرجہا زیادہ اتم و اکمل ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ کیسے انہوں نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ حضور اللہ کی طرف سے اس کے بھیجے رسول ہیں ان کے اوصاف اللہ تعالیٰ نے ہماری کتاب توریت میں بیان فرمائے ہیں بیٹے کی طرف سے ایسایقین کس طرح ہو عورتوں کا حال ایسا قطعی کس طرح معلوم ہوسکتا ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کا سر چوم لیا ۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ غیرِ محلِ شہوت میں دینی محبت سے پیشانی چومنا جائز ہے۔(ف270)یعنی توریت و انجیل میں جو حضور کی نعت و صفت ہے علماء اہل کتاب کا ایک گروہ اس کو حسداً و عناداً دیدہ ودانستہ چھپاتا ہے۔ مسئلہ : حق کا چھپانا معصیت و گناہ ہے۔
اور ہر ایک کے لئے توجہ ایک سمعت ہے کہ وہ اسی طرف منہ کرتا ہے تو یہ چاہو کہ نیکیوں میں اوروں سے آگے نکل جائیں تو کہیں ہو اللہ تم سب کو اکٹھا لے آئے گا (ف ۲۷۱) بیشک اللہ جو چاہے کرے ۔
And each one has a direction towards which he inclines, therefore strive to surpass others in good deeds; Allah will bring you all together, wherever you may be; indeed Allah may do as He wills.
और हर एक के लिये तवज्जो एक سمت है कि वह उसी तरफ़ मुँह करता है तो ये चाहो कि नेकियों में औरौं से आगे निकल जायें तो कहीं हो अल्लाह तुम सब को अकठ्ठा ले आयेगा बेशक अल्लाह जो चाहे करे -
Aur har ek ke liye tawajju ek simt hai ke woh isi taraf munh karta hai to ye chaho ke nekion mein auron se aage nikal jao to kahin ho Allah tum sab ko akhatta le aayega beshak Allah jo chahe kare -
(ف271)روز قیامت سب کو جمع فرمائے گا اور اعمال کی جزا دے گا۔
اور جہاں سے آؤ (ف۲۷۲) اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو اور وہ ضرور تمہارے رب کی طرف سے حق ہے اور اللہ تمہارے کاموں سے غافل نہیں ۔
And wherever you come from, turn your face towards the Sacred Mosque; and indeed it is the truth from your Lord; and Allah is not unaware of your deeds.
और जहाँ से आओ अपना मुँह मस्जिद हराम की तरफ़ करो और वह ज़रूर तुम्हारे रब की तरफ़ से हक़ है और अल्लाह तुम्हारे कामों से ग़ाफ़िल नहीं -
Aur jahan se aao apna munh Masjid Haraam ki taraf karo aur woh zaroor tumhare Rab ki taraf se haq hai aur Allah tumhare kaamon se ghaafil nahi -
(ف272)یعنی خواہ کسی شہر سے سفر کے لئے نکلو نماز میں اپنا منہ مسجد حرام (کعبہ) کی طرف کرو۔
اور اے محبوب تم جہاں سے آؤ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو اور اے مسلمانو! تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو کہ لوگوں کو تم پر کوئی حجت نہ رہے (ف۲۷۳) مگر جو ان میں ناانصافی کریں (ف۲۷٤) تو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اور یہ اس لئے ہے کہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں اور کسی طرح تم ہدایت پاؤ، (۱۵۰)
And O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) wherever you come from, turn your face towards the Sacred Mosque; and wherever you may be, O Muslims, turn your faces towards it only, so that people may not have an argument against you – except those among them who do injustice; therefore do not fear them, and fear Me; and this is in order that I complete My favour upon you and that you may attain guidance. –
और ऐ महबूब तुम जहाँ से आओ अपना मुँह मस्जिद हराम की तरफ़ करो और ऐ मुसलमानो! तुम जहाँ कहीं हो अपना मुँह उसी की तरफ़ करो कि लोगों को तुम पर कोई हुज्जत न रहे मगर जो उन में नाइंसाफ़ी करें तो उन से न डरो और मुझ से डरो और ये इस लिये है कि मैं अपनी नेमत तुम पर पूरी करूँ और किसी तरह तुम हिदायत पाओ,
Aur aye mehboob tum jahan se aao apna munh Masjid Haraam ki taraf karo aur aye Muslamano! tum jahan kahin ho apna munh isi ki taraf karo ke logon ko tum par koi hujjat na rahe magar jo un mein na-insafi karein to unse na daro aur mujhse daro aur ye is liye hai ke main apni ni’mat tum par poori karoon aur kisi tarah tum hidayat pao,
(ف273)اور کفار کو یہ طعن کرنے کا موقع نہ ملے کہ انہوں نے قریش کی مخالفت میں حضرت ابراہیم وا سمٰعیل علیہما السلام کا قبلہ بھی چھوڑ دیا باوجود یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد میں ہیں اور ان کی عظمت و بزرگی مانتے بھی ہیں۔(ف274)اور براہ عناد بیجا اعتراض کریں۔
جیسا کہ ہم نے تم میں بھیجا ایک رسول تم میں سے (ف۲۷۵) کہ تم پر ہماری آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور تمہیں پاک کرتا (ف۲۷٤) اور کتاب اور پختہ علم سکھاتا ہے (ف۲۷۷) اور تمہیں وہ تعلیم فرماتا ہے جس کا تمہیں علم نہ تھا،
The way We have sent to you a Noble Messenger from among you, who recites to you Our verses and purifies you, and teaches you the Book and sound wisdom*, and teaches you what you did not know. (The traditions / sayings of the Holy Prophet – peace and blessings be upon him).
जैसा कि हम ने तुम में भेजा एक रसूल तुम में से कि तुम पर हमारी आयतें तिलावत फरमाता है और तुम्हें पाक करता और किताब और पुख़्ता इल्म सिखाता है और तुम्हें वह तालीम फरमाता है जिस का तुम्हें इल्म न था,
Jaisa ke hum ne tum mein bheja ek Rasool tum mein se ke tum par hamari aayatein tilawat farmata hai aur tumhein paak karta aur kitaab aur pukhta ilm sikhata hai aur tumhein woh taleem farmata hai jiska tumhein ilm na tha,
(ف275)یعنی سید عالم محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔(ف276)نجاستِ شرک و ذنوب سے ۔(ف277)حکمت سے مفسرین نے فقہ مراد لی ہے۔
تو میری یاد کرو میں تمہارا چرچا کروں گا (ف۲۷۸) اور میرا حق مانو اور میری ناشکری نہ کرو ۔
Therefore remember Me, I will cause you to be spoken of and acknowledge My rights, and do not be ungrateful.
तो मेरी याद करो मैं तुम्हारा चरचा करूँगा और मेरा हक़ मानो और मेरी नाशुक्री न करो-
To meri yaad karo main tumhara charcha karoonga aur mera haq maano aur meri nashukri na karo-
(ف278)ذکر تین طرح کا ہوتا ہے۔ (۱) لسانی (۲) قلبی(۳) بالجوارح۔ ذکر لسانی تسبیح، تقدیس ،ثناء وغیرہ بیان کرنا ہے خطبہ توبہ استغفار دعا وغیرہ اس میں داخل ہیں۔ ذکر قلبی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا یاد کرنا اس کی عظمت و کبریائی اور اس کے دلائل قدرت میں غور کرنا علماء کا استنباط مسائل میں غور کرنا بھی اسی میں داخل ہیں۔ذکر بالجوارح یہ ہے کہ اعضاء طاعتِ الہٰی میں مشغول ہوں جیسے حج کے لئے سفر کرنا یہ ذکر بالجوارح میں داخل ہے نماز تینوں قسم کے ذکر پر مشتمل ہے تسبیح و تکبیر ثناء و قراء ت تو ذکر لسانی ہے اور خشوع و خضوع اخلاص ذکر قلبی اور قیام، رکوع و سجود وغیرہ ذکر بالجوارح ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم طاعت بجالا کر مجھے یاد کرو میں تمہیں اپنی امداد کے ساتھ یاد کروں گا صحیحین کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر بندہ مجھے تنہائی میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اس کو ایسے ہی یاد فرماتا ہوں اور اگر وہ مجھے جماعت میں یاد کرتا ہے تو میں اس کو اس سے بہتر جماعت میں یاد کرتا ہوں۔قرآن و حدیث میں ذکر کے بہت فضائل وارد ہیں اور یہ ہر طرح کے ذکر کو شامل ہیں ذکر بالجہر کو بھی اور بالاخفاء کو بھی۔
اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد چاہو (ف۲۷۹) بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے ۔
O People who Believe! Seek help from patience and prayer; indeed Allah is with those who patiently endure.
ऐ ईमान वालो! सब्र और नमाज़ से मदद चाहो बेशक अल्लाह साबरों के साथ है -
Aye imaan walo! sabr aur namaz se madad chaho beshak Allah sabiron ke saath hai -
(ف279)حدیث شریف میں ہے کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب کوئی سخت مہم پیش آتی نماز میں مشغول ہوجاتے اور نماز سے مدد چاہنے میں نماز استسقا و صلوۃ ِحاجت داخل ہے۔
اور جو خدا کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو (ف۲۸۰) بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبر نہیں ۔ (ف۲۸۱)
And do not utter regarding those who are slain in Allah's cause as “dead”; in fact they are alive, but it is you who are unaware.
और जो ख़ुदा की राह में मारे जायें उन्हें मुर्दा न कहो बल्कि वह ज़िंदा हैं हाँ तुम्हें ख़बर नहीं -
Aur jo Khuda ki raah mein maare jayein unhein murda na kaho balke woh zinda hain haan tumhein khabar nahi -
(ف280)شان نزول: یہ آیت شہداء بدر کے حق میں نازل ہوئی لوگ شہداء کے حق میں کہتے تھے کہ فلاں کا انتقال ہوگیا وہ دنیوی آسائش سے محروم ہوگیا ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔(ف281)موت کے بعد ہی اللہ تعالیٰ شہداء کو حیات عطا فرماتا ہے ان کی ا رواح پر رزق پیش کئے جاتے ہیں انہیں راحتیں دی جاتی ہیں ان کے عمل جاری رہتے ہیں اجرو ثواب بڑھتا رہتا ہے حدیث شریف میں ہے کہ شہداء کی روحیں سبز پرندوں کے قالب میں جنت کی سیر کرتی اور وہاں کے میوے اور نعمتیں کھاتی ہیں مسئلہ: اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندوں کو قبر میں جنتی نعمتیں ملتی ہیں شہید وہ مسلمان مکلف ظاہر ہے جو تیز ہتھیار سے ظلماً مارا گیا ہو اور اس کے قتل سے مال بھی واجب نہ ہوا ہو یا معرکہ جنگ میں مردہ یا زخمی پایا گیا اور اس نے کچھ آسائش نہ پائی اس پر دنیا میں یہ احکام ہیں کہ نہ اس کو غسل دیا جائے نہ کفن اپنے کپڑوں میں ہی رکھا جائے اسی طرح اس پر نماز پڑھی جائے اسی حالت میں دفن کیا جائے آخرت میں شہید کا بڑا رتبہ ہے بعض شہداء وہ ہیں کہ ان پر دنیا کے یہ احکام تو جاری نہیں ہوتے لیکن آخرت میں ان کے لئے شہادت کا درجہ ہے جیسے ڈوب کر یا جل کر یا دیوار کے نیچے دب کر مرنے والا،طلب علم، سفر حج غرض راہ خدا میں مرنے والا اور نفاس میں مرنے والی عورت اور پیٹ کے مرض اور طاعون اور ذات الجنب اور سل میں اور جمعہ کے روز مرنے والے وغیرہ ۔
اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے (ف۲۸۲) اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے (ف۲۸۳) اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو ۔
And We will surely test you with some fear and hunger, and with paucity of wealth and lives and crops; and give glad tidings to those who patiently endure. –
और ज़रूर हम तुम्हें आज़मायेंगे कुछ डर और भूख से और कुछ मालों और जानों और फलों की कमी से और खुशख़बरी सुना उन सब्र वालों को -
Aur zaroor hum tumhein aazmaayenge kuch darr aur bhookh se aur kuch maalon aur jaanon aur phalon ki kami se aur khushkhabri suna un sabr walon ko -
(ف282)آزمائش سے فرمانبردار و نافرمان کے حال کا ظاہر کرنا مراد ہے۔(ف283)امام شافعی علیہ الرحمۃ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا:کہ خوف سے اللہ کا ڈر، بھوک سے رمضان کے روزے مالوں کی کمی سے زکوۃ و صدقات دینا ،جانوں کی کمی سے امراض کے ذریعہ موتیں ہونا، پھلوں کی کمی سے اولاد کی موت مراد ہے اس لئے کہ اولاد دل کا پھل ہوتی ہے حدیث شریف میں ہے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب کسی بندے کا بچہ مرتا ہے اللہ تعالیٰ ملائکہ سے فرماتا ہے تم نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کی وہ عرض کرتے ہیں کہ ہاں یارب، پھر فرماتا ہے تم نے اس کے دل کا پھل لے لیا عرض کرتے ہیں ہاں یارب، فرماتا ہے اس پر میرے بندے نے کیا کہا؟ عرض کرتے ہیں اس نے تیری حمد کی اور اِنَّا ِﷲِ وَاِناَّ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا فرماتا ہے اس کے لئے جنت میں مکان بناؤ اور اس کا نام بیت الحمد رکھو۔ حکمت: مصیبت کے پیش آنے سے قبل خبر دینے میں کئی حکمتیں ہیں ایک تو یہ کہ اس سے آدمی کو وقت مصیبت صبر آسان ہوجاتا ہے، ایک یہ کہ جب کافر دیکھیں کہ مسلمان بلاد مصیبت کے وقت صابر و شاکر اور استقلال کے ساتھ اپنے دین پر قائم رہتا ہے تو انہیں دین کی خوبی معلوم ہو اور اس کی طرف رغبت ہو، ایک یہ کہ آنے والی مصیبت کی قبل و قوع اطلاع غیبی خبر اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ ہے ایک حکمت یہ کہ منافقین کے قدم ابتلاء کی خبر سے اُکھڑ جائیں اور مومن و منافق میں امتیاز ہوجائے۔
کہ جب ان پر کوئی مصیبت پڑے تو کہیں ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا ۔ (ف۲۸٤)
Those who say when calamity befalls them, “Indeed we belong to Allah and indeed it is to Him we are to return.”
कि जब उन पर कोई मुसीबत पड़े तो कहें हम अल्लाह के माल हैं और हम को उसी की तरफ़ फिरना-
Ke jab un par koi museebat pare to kahein hum Allah ke maal hain aur hum ko isi ki taraf phirna-
(ف284) حدیث شریف میں ہے کہ وقت مصیبت کے اِنّا ِﷲِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھنا رحمت الہی کا سبب ہوتا ہے یہ بھی حدیث میں ہے کہ مؤمن کی تکلیف کو اللہ تعالیٰ کفارئہ گناہ بناتا ہے ۔
بیشک صفا اور مروہ (ف۲۸۵) اللہ کے نشانوں سے ہیں (ف۲۸٦) تو جو اس گھر کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ ان دونوں کے پھیرے کرے (ف۲۸۷) اور جو کوئی بھلی بات اپنی طرف سے کرے تو اللہ نیکی کا صلہ دینے خبردار ہے ۔
Undoubtedly Safa and Marwah* are among the symbols of Allah; so there is no sin on him, for whoever performs the Hajj (pilgrimage) of this House (of Allah) or the Umrah (lesser pilgrimage), to go back and forth between them; and whoever does good of his own accord, then (know that) indeed Allah is Most Appreciative (rewards virtue), the All Knowing. (These are 2 hillocks near the Holy Ka’aba)
बेशक सफ़ा और मर्वा अल्लाह के निशानों से हैं तो जो इस घर का हज या उमरा करे उस पर कुछ गुनाह नहीं कि उन दोनों के फेरे करे और जो कोई भली बात अपनी तरफ़ से करे तो अल्लाह नेकी का सिला देने ख़बरदार है -
Beshak Safa aur Marwah Allah ke nishanon se hain to jo is ghar ka Hajj ya Umrah kare us par kuch gunah nahi ke un donon ke phere kare aur jo koi bhali baat apni taraf se kare to Allah nekion ka sila dene khabardaar hai -
(ف285)صفاو مروہ مکّہ مکرّمہ کے دو پہاڑ ہیں جو کعبہ معظمہ کے مقابل جانب شرق واقع ہیں مروہ شمال کی طرف مائل اور صفا جنوب کی طرف جبل ابی قُبَیْس کے دامن میں ہے حضرت ہاجرہ اور حضرت اسمعیل علیہ السلام نے ان دونوں پہاڑوں کے قریب اس مقام پر جہاں چاہ ِزمزم ہے بحکم الٰہی سکونت اختیار فرمائی اس وقت یہ مقام سنگلاخ بیابان تھا نہ یہاں سبزہ تھا نہ پانی نہ خوردو نوش کا کوئی سامان رضائے الہی کے لئے ان مقبول بندوں نے صبر کیا حضرت اسمٰعیل علیہ السلام بہت خرد سال تھے تشنگی سے جب ان کی جاں بلبی کی حالت ہوئی تو حضرت ہاجرہ بے تاب ہو کر کوہ صفا پر تشریف لے گئیں وہاں بھی پانی نہ پایا تواُتر کر نشیب کے میدان میں دوڑتی ہوئی مروہ تک پہنچیں اس طرح سات مرتبہ گردش ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اِنَّ اللّٰہ َ مَعَ الصَّابِرِیْنَ کا جلوہ اس طرح ظاہر فرمایا کہ غیب سے ایک چشمہ زمزم نمودار کیا اور ان کے صبر و اخلاص کی برکت سے ان کے اتباع میں ان دونوں پہاڑوں کے درمیان دوڑنے والوں کو مقبول بارگاہ کیا اور ان دونوں کو محل اجابت دعا بنایا۔(ف286)شعائر اللہ سے دین کے اعلام یعنی نشانیاں مراد ہیں خواہ وہ مکانات ہوں جیسے کعبہ عرفات مزدلفہ جمارثلثہ صفا مروہ منٰی مساجد یا ازمنہ جیسے رمضان ،اشہر حرام، عیدالفطر واضحٰی جمعہ ایاّم تشریق یا دوسرے علامات جیسے اذان، اقامت نمازِ با جماعت، نمازِ جمعہ، نماز عیدین، ختنہ یہ سب شعائر دین ہیں۔(ف287)شان نزول زمانہ جاہلیت میں صفا و مروہ پر دو بت رکھے تھے صفا پر جو بت تھا اس کا نام اساف اور جو مروہ پر تھا اس کا نام نائلہ تھا کفار جب صفاومروہ کے در میان سعی کرتے تو ان بتوں پر تعظیمًاہاتھ پھیرتے عہد اسلام میں بت تو توڑ دیئے گئے لیکن چونکہ کفار یہاں مشرکانہ فعل کرتے تھے اس لئے مسلمانوں کو صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا گراں ہوا کہ اس میں کفار کے مشرکانہ فعل کے ساتھ کچھ مشابہت ہے اس آیت میں ان کا اطمینان فرما دیا گیا کہ چونکہ تمہاری نیت خالص عبادت الٰہی کی ہے تمہیں اندیشہ مشابہت نہیں اور جس طرح کعبہ کے اندر زمانہ جاہلیت میں کفار نے بت رکھے تھے اب عہد اسلام میں بت اٹھادیئے گئے اور کعبہ شریف کا طواف درست رہا اور وہ شعائر دین میں سے رہا اسی طرح کفار کی بت پرستی سے صفا و مروہ کے شعائر دین ہونے میں کچھ فرق نہیں آیا مسئلہ: سعی (یعنی صفا و مروہ کے درمیان دوڑنا) واجب ہے حدیث سے ثابت ہے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمنے اس پر مداومت فرمائی ہے اس کے ترک سے دم دینا یعنی قربانی واجب ہوتی ہے مسئلہ : صفاو مروہ کے درمیان سعی حج و عمرہ دونوں میں لازم ہے فرق یہ ہے کہ حج کے اندر عرفات میں جانا اور وہاں سے طواف کعبہ کے لئے آنا شرط ہے اور عمرہ کے لئے عرفات میں جانا شرط نہیں۔مسئلہ : عمرہ کرنے والا اگر بیرونِ مکّہ سے آئے اس کو براہ راست مکّہ مکرّمہ میں آکر طواف کرنا چاہئے اور اگر مکہ کا ساکن ہو تو اس کو چاہئے کہ حرم سے باہر جائے وہاں سے طواف کعبہ کااحرام باندھ کر آئے حج و عمرہ میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ حج سال میں ایک ہی مرتبہ ہوسکتا ہے کیونکہ عرفات میں عرفہ کے دن یعنی نویں ذی الحجہ کو جانا جو حج میں شرط ہے سال میں ایک ہی مرتبہ ممکن ہے اور عمرہ ہر دن ہوسکتا ہے اس کے لئے کوئی وقت معین نہیں۔
بیشک وہ جو ہماری اتاری ہوئی روشن باتوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں (ف۲۸۸) بعد اس کے کہ لوگوں کے لئے ہم اسے کتاب میں واضح فرماچکے ہیں ان پر اللہ کی لعنت ہے اور لعنت کرنے والوں کی لعنت ۔ (ف۲۸۹)
Indeed those who hide the clear proofs and the guidance which We sent down, after We made it clear to mankind in the Book – upon them is the curse of Allah and the curse of those who curse.
बेशक वह जो हमारी उतारी हुई रोशन बातों और हिदायत को छुपाते हैं बाद इस के कि लोगों के लिये हम उसे किताब में वाज़ेह फरमा चुके हैं उन पर अल्लाह की लानत है और लानत करने वालों की लानत -
Beshak woh jo hamari utaari hui roshan baton aur hidayat ko chhupate hain baad is ke ke logon ke liye hum use kitaab mein wazeh farma chuke hain unpar Allah ki la’nat hai aur la’nat karne walon ki la’nat -
(ف288)یہ آیت علماء یہود کی شان میں نازل ہوئی جو سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت شریف اور آیت رجم اور توریت کے دوسرے احکام کو چھپایا کرتے تھے۔ مسئلہ : علوم دین کا اظہار فرض ہے۔(ف289)لعنت کرنے والوں سے ملائکہ و مومنین مراد ہیں ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام بندے مراد ہیں۔
مگر وہ جو توبہ کریں اور سنواریں اور ظاہر کریں تو میں ان کی توبہ قبول فرماؤں گا اور میں ہی ہوں بڑا توبہ قبول فرمانے والا مہربان،
Except those who repent and do reform and disclose (the truth) – so I will accept their repentance; and I only am the Most Acceptor of Repentance, the Most Merciful.
मगर वह जो तौबा करें और सँवारें और ज़ाहिर करें तो मैं उनकी तौबा क़बूल फरमाऊँगा और मैं ही हूँ बड़ा तौबा क़बूल फ़रमाने वाला मेहरबान,
Magar woh jo tauba karein aur sanwaarein aur zaahir karein to main unki tauba qubool farmaoon ga aur main hi hoon bada tauba qubool farmane wala meherbaan,
بیشک وہ جنہوں نے کفر کیا اور کافر ہی مرے ان پر لعنت ہے اللہ اور فرشتوں اور آدمیوں سب کی، (ف۲۹۰)
Indeed upon those who disbelieved, and died as disbelievers, is the curse of Allah and of the angels and of men combined.
बेशक वह जिन्होने कुफ़्र किया और काफ़िर ही मरे उन पर लानत है अल्लाह और फरिश्तों और आदमियों सब की,
Beshak woh jin hon ne kufr kiya aur kaafir hi mare unpar la’nat hai Allah aur farishton aur aadmiyon sab ki,
(ف290)مومن تو کافروں پر لعنت کریں گے ہی کافر بھی روز قیامت باہم ایک دوسرے پر لعنت کریں گے مسئلہ : اس آیت میں ان پر لعنت فرمائی گئی جو کفر پر مرے ا س سے معلوم ہوا کہ جس کی موت کفر پر معلوم ہو اس پر لعنت کرنی جائز ہے مسئلہ:گنہگار مسلمان پر بالتعیین لعنت کرنا جائز نہیں لیکن علی الاطلاق جائز ہے جیسا کہ حدیث شریف میں چور اور سود خوار وغیرہ پر لعنت آئی ہے۔
اور تمہارا معبود ایک معبود ہے (ف۲۹۱) اس کے سوا کوئی معبود نہیں مگر وہی بڑی رحمت والا مہربان
Your God is One God; there is no God except Him – the Most Gracious, the Most Merciful.
और तुम्हारा माबूद एक माबूद है उसके सिवा कोई माबूद नहीं मगर वही बड़ी रहमत वाला मेहरबान
Aur tumhara ma’bood ek ma’bood hai uske siwa koi ma’bood nahi magar wahi badi rehamat wala meherbaan
(ف291)شان نزول: کفار نے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا آپ اپنے رب کی شان و صفت بیان فرمائیے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں بتادیا گیا کہ معبود صرف ایک ہے نہ وہ متجزّی ہوتا ہے نہ مُنْقَسِم نہ اس کے لئے مثل نہ نظیر۔ اُلُوْہیت و ربوبیت میں کوئی اس کا شریک نہیں وہ یکتا ہے اپنے افعال میں، مصنوعات کو تنہا اسی نے بنایا۔ وہ اپنی ذات میں اکیلا ہے کوئی اس کا قسیم نہیں اپنے صفات میں یگانہ ہے کوئی اس کا شبیہ نہیں۔ ابوداؤد و ترمذی کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ان دو آیتوں میں ہے ایک یہی آیت وَاِلٰھُکُمْ دوسری آلمّ ۤ اَﷲُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَاَلْاٰیَہ
بیشک آسمانوں (ف۲۹۲) اور زمین کی پیدائش اور رات و دن کا بدلتے آنا اور کشتی کہ دریا میں لوگوں کے فائدے لے کر چلتی ہے اور وہ جو اللہ نے آسمان سے پانی اتار کر مردہ زمین کو اس سے جِلا دیا اور زمین میں ہر قسم کے جانور پھیلائے اور ہواؤں کی گردش اور وہ بادل کہ آسمان و زمین کے بیچ میں حکم کا باندھا ہے ان سب میں عقلمندوں کے لئے ضرور نشانیاں ہیں ،
Indeed in the creation of the heavens and the earth, and in the continuous alternation of night and day, and the ships which sail the seas carrying what is of use to men, and the water which Allah sends down from the sky thereby reviving the dead earth and dispersing all kinds of beasts in it, and the movement of the winds, and the obedient clouds between heaven and earth – certainly in all these are signs for the intelligent.
बेशक आसमानों और ज़मीन की पैदाइश और रात व दिन का बदलते आना और कश्ती कि दरिया में लोगों के फायदे ले कर चलती है और वह जो अल्लाह ने आसमान से पानी उतार कर मुरदा ज़मीन को उस से जि़ला दिया और ज़मीन में हर क़िस्म के जानवर फैलाए और हवाओं की गर्दिश और वह बादल कि आसमान व ज़मीन के बीच में हुक्म का बाँधा है उन सब में अक़लमंदों के लिये ज़रूर निशानियाँ हैं ,
Beshak aasmanon aur zameen ki paidaish aur raat o din ka badalte aana aur kashti ke dariya mein logon ke faide lekar chalti hai aur woh jo Allah ne aasman se paani utaar kar murda zameen ko us se jila diya aur zameen mein har qism ke janwar phailaye aur hawaon ki gardish aur woh badal ke aasman o zameen ke beech mein hukm ka bandha hai in sab mein aqalmando ke liye zaroor nishaniyan hain,
(ف292)(۲۹۲) کعبہ معظمہ کے گرد مشرکین کے تین سو ساٹھ بت تھے جنہیں وہ معبود اعتقاد کرتے تھے انہیں یہ سن کر بڑی حیرت ہوئی کہ معبود صرف ایک ہی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اس لئے انہوں نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسی آیت طلب کی جس سے وحدانیت پر استدلال صحیح ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں یہ بتایا گیا کہ آسمان اور اس کی بلندی اور اس کا بغیر کسی ستون اور علاقہ کے قائم رہنا اور جو کچھ اس میں نظر آتا ہے آفتاب مہتاب ستارے وغیرہ یہ تمام اور زمین اور اس کی درازی اور پانی پر مفروش ہونا اور پہاڑ دریا چشمے معاون جواہر درخت سبزہ پھل اور شب و روز کا آنا جانا گھٹنا بڑھنا کشتیاں اور ان کا مسخر ہونا باوجود بہت سے وزن اور بوجھ کے روئے آب پر رہنا اور آدمیوں کا ان میں سوار ہو کر دریا کے عجائب دیکھنا اور تجارتو ں میں ان سے باربرداری کا کام لینا اور بارش اور اس سے خشک ومردہ ہو جانے کے بعد زمین کا سر سبزوشاداب کرنا اور تازہ زندگی عطا فرمانا اور زمین کو انواع و اقسام کے جانوروں سے بھر دینا جس میں بیشمار عجائب حکمت و دیعت ہیں اسی طرح ہواؤں کی گردش اور ان کے خواص اور ہوا کے عجا ئبات اور اَبر اور اس کا اتنے کثیر پانی کے ساتھ آسمان و زمین کے درمیان معلق رہنا یہ آٹھ انواع ہیں جو حضرت قادر مختار کے علم و حکمت اور اس کی وحدانیت پر برہان قوی ہیں اور ان کی دلالت وحدانیت پر بے شمار وجوہ سے ہے اجمالی بیان یہ ہے کہ یہ سب امور ممکنہ ہیں اور ان کا وجود بہت سے مختلف طریقوں سے ممکن تھا مگر وہ مخصوص شان سے وجود میں آئے یہ دلالت کرتا ہے کہ ضرور ان کے لئے موجد ہے قادر و حکیم جو بمقتضائے حکمت و مشیت جیسا چاہتا ہے بناتا ہے کسی کو دخل و اعتراض کی مجال نہیں وہ معبود بالیقین واحد ویکتا ہے کیونکہ اگر اس کے ساتھ کوئی دوسرا معبود بھی فرض کیا جائے تو اس کو بھی اس مقدورات پر قادر ماننا پڑے گا اب دو حال سے خالی نہیں یا تو ایجاد و تاثیر میں دونوں متفق الارادہ ہوں گے یا نہ ہوں گے اگر ہوں تو ایک ہی شئے کے وجود میں دو موثروں کا تاثیر کرنا لازم آئے گا اور یہ محال ہے کیونکہ یہ مستلزم ہے معلول کے دونوں سے مستغنی ہونے کو اور دونوں کی طرف مفتقر ہونے کو کیونکہ علت جب مستقلہ ہو تو معلول صرف اسی کی طرف محتاج ہوتا ہے دوسرے کی طرف محتاج نہیں ہوتا اور دونوں کو علت مستقلہ فرض کیا گیا ہے تو لازم آئے گا کہ معلول دونوں میں سے ہر ایک کی طرف محتاج ہو اور ہر ایک سے غنی ہو تو نقیضین مجتمع ہوگئیں اور یہ محال ہے اور اگر یہ فرض کرو کہ تاثیر ان میں سے ایک کی ہے تو ترجیح بلا مرجح لازم آئے گی اور دوسرے کا عجز لازم آئے گا جو اِلٰہ ہونے کے منافی ہے اور اگر یہ فرض کرو کہ دونوں کے ارادے مختلف ہوتے ہیں تو تمانع و تطار دلازم آئے گا کہ ایک کسی شئے کے وجود کا ارادہ کرے اور دوسرا اسی حال میں اس کے عدم کا تو وہ شئے ایک ہی حال میں موجود و معدوم دونوں ہوگی یا دونوں نہ ہوگی یہ دونوں تقدیر یں باطل ہیں ضرور ہے کہ یا موجودگی ہوگی یا معدوم ایک ہی بات ہوگی اگر موجود ہوئی تو عدم کا چاہنے والا عاجز ہوااِلٰہ نہ رہا اور اگر معدوم ہوئی تو وجود کا ارادہ کرنے والا مجبور رہا اِلٰہ نہ رہا لہذا ثابت ہوگیا کہ الہ ایک ہی ہو سکتا ہے اور یہ تمام انواع بے نہایت وجوہ سے اس کی توحید پر دلالت کرتے ہیں۔
اور کچھ لوگ اللہ کے سوا اور معبود بنالیتے ہیں کہ انہیں اللہ کی طرح محبوب رکھتے ہیں اور ایمان والوں کو اللہ کے برابر کسی کی محبت نہیں اور کیسے ہو اگر دیکھیں ظالم وہ وقت جب کہ عذاب ان کی آنکھوں کے سامنے آئے گا اس لئے کہ سارا زور خدا کو ہے اور اس لئے کہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے،
And some people create for themselves Gods (objects of worship) other than Allah, with devotion (love) equal to the devotion of Allah; and the believers do not love anybody with love equal to the love of Allah; and what will be their state, when the punishment will be before the eyes of the unjust (disbelievers)? For all power belongs wholly to Allah, and because Allah’s punishment is very severe.
और कुछ लोग अल्लाह के सिवा और माबूद बना लेते हैं कि उन्हें अल्लाह की तरह महबूब रखते हैं और ईमान वालों को अल्लाह के बराबर किसी की मुहब्बत नहीं और कैसे हो अगर देखें ज़ालिम वह वक़्त जब कि अज़ाब उनकी आँखों के सामने आएगा इस लिये कि सारा ज़ोर ख़ुदा को है और इस लिये कि अल्लाह का अज़ाब बहुत सख़्त है ,
Aur kuch log Allah ke siwa aur ma’bood bana lete hain ke unhein Allah ki tarah mehboob rakhte hain aur imaan walon ko Allah ke barabar kisi ki mohabbat nahi aur kaise ho agar dekhein zalim woh waqt jab ke azaab unki aankhon ke samne aayega is liye ke saara zor Khuda ko hai aur is liye ke Allah ka azaab bohot sakht hai,
جب بیزار ہوں گے پیشوا اپنے پیروؤں سے (ف۲۹۳) اور دیکھیں گے عذاب اور کٹ جائیں گی ان کی سب ڈوریں (ف۲۹٤)
(The day) when the leaders will be disgusted with their followers – and they shall see their punishment, and all their links will be cut off.
जब बेज़ार होंगे पेशवा अपने पीरुओं से और देखेंगे अज़ाब और कट जाएँगी उनकी सब डोरें
Jab bezar honge peshwa apne pairo’n se aur dekhenge azaab aur kat jaayengi unki sab doorain
(ف293)یہ روز قیامت کا بیان ہے جب مشرکین اور ان کے پیشوا جنہوں نے انہیں کفر کی ترغیب دی تھی ایک جگہ جمع ہوں گے اور عذاب نازل ہوتا ہوا دیکھ کر ایک دوسرے سے بیزار ہوجائیں گے۔(ف294)یعنی وہ تمام تعلقات جو دنیا میں ان کے مابین تھے خواہ وہ دوستیاں ہوں یا رشتہ داریاں یا باہمی موافقت کے عہد
اور کہیں گے پیرو کاش ہمیں لوٹ کر جانا ہوتا (دنیا میں) تو ہم ان سے توڑ دیتے جیسے انہوں نے ہم سے توڑ دی، یونہی اللہ انہیں دکھائے گا ان کے کام ان پر حسرتیں ہو کر (ف۲۹۵) اور وہ دوزخ سے نکلنے والے نہیں
And the followers will say, “If we were to return (to earth), we would break off from them like they have broken off from us”; this is how Allah will show them their deeds as despair for them; and they will never come out from the fire (hell).
और कहेंगे पीर काश हमें लोट कर जाना होता (दुनिया में ) तो हम उनसे तोड़ देते जैसे उन्होंने हमसे तोड़ दी , यूँही अल्लाह उन्हें दिखाएगा उनके काम उन पर हसरतें हो कर और वह दोज़ख़ से निकलने वाले नहीं
Aur kahenge pairo kaash humein laut kar jaana hota (duniya mein) to hum unse tod dete jaise unhon ne humse tod di, yunhi Allah unhein dikhayega unke kaam unpar hasraton ho kar aur woh dozakh se nikalne wale nahi
(ف295)یعنی اللہ تعالیٰ ان کے برے اعمال ان کے سامنے کرے گا تو انہیں نہایت حسرت ہوگی انہوں نے یہ کام کیوں کئے تھے ایک قول یہ ہے کہ جنت کے مقامات دکھا کر ان سے کہا جائے گا کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرتے تو یہ تمہارے لئے تھے پھر وہ مساکین و منازل مؤمنین کو دیئے جائیں گے اس پر انہیں حسرت و ندامت ہوگی۔
اے لوگوں کھاؤ جو کچھ زمین میں (ف۲۹٦) حلال پاکیزہ ہے اور شیطان کے قدم پر قدم نہ رکھو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے،
O mankind! Eat from what is lawful and clean in the earth; and do not follow the footsteps of the devil; undoubtedly he is your open enemy.
ऐ लोगों खाओ जो कुछ ज़मीन में हलाल पाकीज़ा है और शैतान के क़दम पर क़दम न रखो, बेशक वह तुम्हारा खुला दुश्मन है ,
Aye logon khao jo kuch zameen mein halal pakeeza hai aur Shaitaan ke qadam par qadam na rakho, beshak woh tumhara khula dushman hai,
(ف296)یہ آیت ان اشخاص کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے بجارو غیرہ کو حرام قرار دیا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی حلال فرمائی ہوئی چیزوں کو حرام قرار دینا اس کی رزاقیت سے بغاوت ہے مسلم شریف کی حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو مال میں اپنے بندوں کو عطا فرماتا ہوں وہ ان کے لئے حلال ہے اور اسی میں ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو باطل سے بے تعلق پیدا کیا پھر ان کے پاس شیاطین آئے اور انہوں نے دین سے بہکایا اور جو میں نے ان کے لئے حلال کیا تھا اس کو حرام ٹھہرایا ایک اور حدیث میں ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا امیں نے یہ آیت سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے تلاوت کی تو حضرت سعد بن ابی وقاص نے کھڑے ہو کر عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے مستجاب الدعوۃ کردے حضور نے فرمایا: اے سعد اپنی خوراک پاک کرو مستجاب الدعوۃ ہوجاؤ گے اس ذات پاک کی قسم جس کے دستِ قدرت میں محمد مصطفٰےصلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکی جان ہے آدمی اپنے پیٹ میں حرام کا لقمہ ڈالتا ہے تو چالیس روز تک قبولیت سے محرومی رہتی ہے۔(تفسیر ابن کبیر)
اور جب ان سے کہا جائے اللہ کے اتارے پر چلو (ف۲۹۷) تو کہیں بلکہ ہم تو اس پر چلیں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ عقل رکھتے ہوں نہ ہدایت (ف۲۹۸)
And when it is said to them, “Follow what Allah has sent down”, they say, “On the contrary, we shall follow what we found our forefathers upon”; What! Even if their forefathers had no intelligence, or guidance?!
और जब उनसे कहा जाए अल्लाह के उतारे पर चलो तो कहें बल्कि हम तो उस पर चलेंगे जिस पर अपने बाप दादा को पाया क्या अगरचे उनके बाप दादा न कुछ अक़्ल रखते हों न हिदायत
Aur jab unse kaha jaye Allah ke utaare par chalo to kahein balke hum to is par chalenge jis par apne baap dada ko paaya kya agarche unke baap dada na kuch aqal rakhte hon na hidayat
(ف297)توحید و قرآن پر ایمان لاؤ اور پاک چیزوں کو حلال جانو جنہیں اللہ نے حلال کیا۔(ف298)توحید و قرآن پر ایمان لاؤ اور پاک چیزوں کو حلال جانو جنہیں اللہ نے حلال کیا۔
اور کافروں کی کہاوت اس کی سی ہے جو پکارے ایسے کو کہ خالی چیخ و پکار کے سوا کچھ نہ سنے (ف۲۹۹) بہرے، گونگے، اندھے تو انہیں سمجھ نہیں (ف۳۰۰)
And the example of the disbelievers is similar to one who calls upon one that hears nothing except screaming and yelling; deaf, dumb, blind – so they do not have sense.
और काफ़िरों की कहावत उसकी सी है जो पुकारे ऐसे को कि ख़ाली चीख पुकार के सिवा कुछ न सुने बहरे , गूँगे , अंधे तो उन्हें समझ नहीं
Aur kaafiron ki qahawat is ki si hai jo pukare aise ko ke khaali cheekh o pukaar ke siwa kuch na sune bahre, goonge, andhe to unhein samajh nahi
(ف299)یعنی جس طرح چوپائے چرنے والے کی صرف آواز ہی سنتے ہیں کلا م کے معنی نہیں سمجھتے یہی حال ان کفار کا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صدائے مبارک کو سنتے ہیں لیکن اس کے معنی دل نشین کرکے ارشادِ فیض بنیاد سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔(ف300)یہ اس لئے کہ وہ حق بات سن کر منتفع نہ ہوئے کلام حق ان کی زبان پر جاری نہ ہوا نصیحتوں سے انہوں نے فائدہ نہ اٹھایا۔
اس نے یہی تم پر حرام کئے ہیں مردار (ف۳۰۲) اور خون (ف۳۰۳) اور سُور کا گوشت (ف۳۰٤) اور وہ جانور جو غیر خدان کا نام لے کر ذبح کیا گیا (ف۳۰۵) تو جو ناچار ہو (ف۳۰٦) نہ یوں کہ خواہش سے کھائے اور نہ یوں کہ ضرورت سے آگے بڑھے تو اس پر گناہ نہیں، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
He has forbidden for you only the carrion, and blood, and flesh of swine, and the animal that has been slaughtered while proclaiming the name of anyone other than Allah; so there is no sin on him who is compelled and does not eat out of desire, nor eats more than what is necessary; indeed Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
उसने यही तुम पर हराम किये हैं मुर्दार और ख़ून और सूर का गोश्त और वह जानवर जो ग़ैर ख़ुदा का नाम ले कर ज़बह किया गया तो जो नाचर हो न यूँ कि ख़्वाहिश से खाए और न यूँ कि ज़रूरत से आगे बढ़े तो उस पर गुनाह नहीं , बेशक अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है ,
Usne yahi tum par haraam kiye hain murdar aur khoon aur soor ka gosht aur woh janwar jo ghair Khuda ka naam lekar zabah kiya gaya to jo na chaar ho na yun ke khwahish se khaye aur na yun ke zarurat se aage badhe to uspar gunah nahi, beshak Allah bakhne wala meherbaan hai,
(ف302)جو حلال جانور بغیر ذبح کئے مرجائے یا اس کو طریق شرع کے خلاف مارا گیا ہو مثلاً گلا گھونٹ کر یا لاٹھی پتھر ڈھیلے غُلّے گولی سے مار کر ہلاک کیا گیا ہو یا وہ گر کر مر گیا ہو یا کسی جانور نے سینگ سے مارا ہو یا کسی درندے نے ہلاک کیا ہو اس کو مردار کہتے ہیں اور اسی کے حکم میں داخل ہے زندہ جانور کا وہ عضو جو کاٹ لیا گیا ہو۔ مسئلہ: مردار کا کھانا حرام ہے مگر اس کا پکا ہوا چمڑا کام میں لانا اور اس کے بال سینگ ہڈی پٹھے سُم سے فائدہ اٹھانا جائز ہے۔(تفسیر احمدی)(ف303)مسئلہ خون ہر جانور کا حرام ہے اگر بہنے والا ہو دوسری آیت میں فرمایا : اَوْدَماً مَّسْفُوْحًاً (ف304)مسئلہ :خنزیر (سور) نجس العین ہے اس کا گوشت پوست بال ناخن وغیرہ تمام اجزاء نجس و حرام ہیں کسی کو کام میں لانا جائز نہیں چونکہ اُوپر سے کھانے کا بیان ہورہا ہے اس لئے یہاں گوشت کے ذکر پر اکتفا فرمایا گیا۔(ف305)مسئلہ: جس جانور پر وقت ذبح غیر خدا کا نام لیا جائے خواہ تنہا یا خدا کے نام کے ساتھ عطف سے ملا کر وہ حرام ہے مسئلہ :اور اگر نام خدا کے ساتھ غیر کا نام بغیر عطف ملایا تو مکروہ ہے مسئلہ : اگر ذبح فقط اللہ کے نام پر کیا اور اس سے قبل یا بعد غیر کا نام لیا مثلاً یہ کہا کہ عقیقہ کا بکرا ولیمہ کا دنبہ یا جس کی طرف سے وہ ذبیحہ ہے اسی کا نام لیا یا جن اولیاء کے لئے ایصال ثواب منظور ہے ان کا نام لیا تو یہ جائز ہے اس میں کچھ حرج نہیں۔(تفسیر احمدی)(ف306)مضطروہ ہے جو حرام چیز کے کھانے پر مجبور ہو اور اس کو نہ کھانے سے خوف جان ہو خواہ تو شدت کی بھوک یا ناداری کی وجہ سے جان پر بن جائے اور کوئی حلال چیز ہاتھ نہ آئے یا کوئی شخص حرام کے کھانے پر جبر کرتا ہو اور اس سے جان کااندیشہ ہو ایسی حالت میں جان بچانے کے لئے حرام چیز کا قدر ضرورت یعنی اتنا کھالینا جائز ہے کہ خوف ہلاکت نہ رہے۔
وہ جو چھپاتے ہیں (ف۳۰۸) اللہ کی کتاب اور اسکے بدلے ذلیل قیمت لیتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ ہی بھرتے ہیں (ف۳۰۹) اور اللہ قیامت کے دن ان سے بات نہ کرے گا اور نہ انہیں ستھرا کرے، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے،
Those who hide the Book sent down by Allah and exchange it for an abject price – they only fill their bellies with fire and Allah will not speak to them on the Day of Resurrection nor will He purify them; and for them is a painful punishment.
वह जो छुपाते हैं अल्लाह की किताब और उसके बदले ज़लील क़ीमत लेते हैं वह अपने पेट में आग ही भरते हैं और अल्लाह क़यामत के दिन उनसे बात न करेगा और न उन्हें सुथरा करे , और उनके लिये दर्दनाक अज़ाब है ,
Woh jo chhupate hain Allah ki kitaab aur uske badle zaleel qeemat lete hain woh apne pait mein aag hi bharte hain aur Allah qayamat ke din unse baat na karega aur na unhein suthra kare, aur unke liye dardnaak azaab hai,
(ف307)شان نزول: یہود کے علماء ورؤساء جو امید رکھتے تھے کہ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان میں سے مبعوث ہوں گے جب انہوں نے دیکھا کہ سید عالم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسری قوم میں سے مبعوث فرمائے گئے تو انہیں یہ اندیشہ ہوا کہ لوگ توریت و انجیل میں حضور کے اوصاف دیکھ کر آپ کی فرمانبرداری کی طرف جھک پڑیں گے اور ان کے نذرانے ہدیئے تحفے تحائف سب بند ہوجائیں گے حکومت جاتی رہے گی اس خیال سے انہیں حسد پیدا ہوا اور توریت و انجیل میں جو حضور کی نعت و صفت اور آپ کے وقت نبوت کا بیان تھا انہوں نے اس کو چھپایا اس پر یہ آیہ ء کریمہ نازل ہوئی مسئلہ : چھپانا یہ بھی ہے کہ کتاب کے مضمون پر کسی کو مطلع نہ ہونے دیا جائے نہ وہ کسی کو پڑھ کر سنایا جائے نہ دکھایا جائے اور یہ بھی چھپانا ہے کہ غلط تاویلیں کرکے معنی بدلنے کی کوشش کی جائے اور کتاب کے اصل معنی پر پردہ ڈالا جائے۔(ف308)یعنی دنیا کے حقیر نفع کے لئے اخفاء حق کرتے ہیں۔(ف309)کیونکہ یہ رشوتیں اور یہ مال حرام جو حق پوشی کے عوض انہوں نے لیا ہے انہیں آتش جہنم میں پہنچائے گا۔
یہ اس لئے کہ اللہ نے کتاب حق کے ساتھ اتاری، اور بیشک جو لوگ کتاب میں اختلاف ڈالنے لگے (ف۳۱۰) وہ ضرور پرلے سرے کے جھگڑالو ہیں،
This is because Allah has sent down the Book with the truth; and indeed those who caused disagreement in the Book are, surely, disputants in the extreme.
यह इस लिये कि अल्लाह ने किताब हक़ के साथ उतारी, और बेशक जो लोग किताब में इख़्तिलाफ़ डालने लगे वह ज़रूर परले सिरे के झगड़ालू हैं ,
Ye is liye ke Allah ne kitaab haq ke saath utaari, aur beshak jo log kitaab mein ikhtilaaf dalne lage woh zaroor parle sare ke jhagraalu hain,
(ف310)شان نزول :یہ آیت یہود کے حق میں نازل ہوئی کہ انہوں نے توریت میں اختلاف کیا بعض نے اس کو حق کہا بعض نے غلط تاویلیں کیں بعض نے تحریفیں ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت مشرکین کے حق میں نازل ہوئی اس صورت میں کتاب سے قرآن مراد ہے اور ان کا اختلاف یہ ہے کہ بعض ان میں سے اس کو شعر کہتے تھے بعض سحر بعض کہانت۔
کچھ اصل نیکی یہ نہیں کہ منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرو (ف۳۱۱) ہاں اصلی نیکی یہ کہ ایمان لائے اللہ اور قیامت اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پر (ف۳۱۲) اور اللہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیر اور سائلوں کو اور گردنیں چھوڑانے میں (ف ۳۱۳) اور نماز قائم رکھے اور زکوٰة دے اور اپنا قول پورا کرنے والے جب عہد کریں اور صبر والے مصیبت اور سختی میں اور جہاد کے وقت یہی ہیں جنہوں نے اپنی بات سچی کی اور یہی پرہیزگار ہیں ،
Basic virtue is not just to turn faces to the East and the West, but true righteousness is that one must believe in Allah and the Last Day and the angels and the Book and the Prophets; and out of love for Allah, to give treasured wealth to relatives and to the orphans and the needy and the traveller, and to those who ask, and to set slaves free; and to keep the prayer established and to pay the charity; and those who fulfil their obligations when they make an agreement; and the patient during times of calamity, in hardships and during holy war; it is they who have proved true to their word; it is they who are the pious.
कुछ अस्ल नेकी यह नहीं कि मुँह मशरिक़ या मग़रिब की तरफ़ करो हाँ अस्ली नेकी यह कि ईमान लाए अल्लाह और क़यामत और फ़रिश्तों और किताब और पैग़म्बरों पर और अल्लाह की मुहब्बत में अपना अज़ीज़ माल दे रिशतेदारों और यतीमों और मिस्कीनों और राहगीर और साइलों को और गर्दनें छुड़वाने में और नमाज़ क़ायम रखे और ज़कात दे और अपना क़ौल पूरा करने वाले जब अहद करें और सब्र वाले मुसीबत और सख़्ती में और जिहाद के वक़्त यही हैं जिन्होंने अपनी बात सच्ची की और यही परहेज़गार हैं ,
Kuch asal neki ye nahi ke munh mashriq ya maghrib ki taraf karo haan asli neki ye ke imaan laaye Allah aur qayamat aur farishton aur kitaab aur paighambaron par aur Allah ki mohabbat mein apna aziz maal de rishtedaron aur yateemon aur miskeenon aur raah gir aur saailon ko aur gardanen chhurwane mein aur namaz qaaim rakhe aur zakaat de aur apna qoul poora karne wale jab ahd karein aur sabr wale museebat aur sakhti mein aur jihad ke waqt yahi hain jinhon ne apni baat sachi ki aur yahi parhezgaar hain,
(ف311)شان نزول: یہ آیت یہود و نصاریٰ کے حق میں نازل ہوئی کیونکہ یہود نے بیت المقدس کے مشرق کو اور نصاریٰ نے اس کے مغرب کو قبلہ بنا رکھا تھا اور ہر فریق کا گمان تھا کہ صرف اس قبلہ ہی کی طرف منھ کرنا کافی ہے اس آیت میں ان کا رد فرمادیا گیا کہ بیت المقدس کا قبلہ ہونا منسوخ ہوگیا ۔(مدارک) مفسرین کا ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ خطاب اہل کتاب اور مؤمنین سب کو عام ہے اور معنی یہ ہیں کہ صرف روبقبلہ ہونا اصل نیکی نہیں جب تک عقائد درست نہ ہوں اور دل اخلاص کے ساتھ رب قبلہ کی طرف متوجہ نہ ہو۔(ف312)اس آیت میں نیکی کے چھ طریقے ارشاد فرمائے (۱) ایمان لانا (۲) مال دینا (۳) نماز قائم کرنا (۴) زکوۃ دینا (۵) عہد پورا کرنا (۶) صبر کرنا ایمان کی تفصیل یہ ہے کہ ایک تو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے کہ وہ حی و قیوم علیم حکیم سمیع بصیر غنی قدیر ازلی ابدی واحد لاشریک لہ ہے دوسرے قیامت پر ایمان لائے کہ وہ حق ہے اس میں بندوں کا حساب ہوگا اعمال کی جزا دی جائے گی مقبولان حق شفاعت کریں گے سید عالم صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم سعادت مندوں کو حوض کوثر پر سیراب فرمائیں گے پل صراط پر گزر ہوگا اور اس روز کے تمام احوال جو قرآن میں آئے یا سید انبیاء نے بیان فرمائے سب حق ہیں تیسرے فرشتوں پر ایمان لائے کہ وہ اللہ کی مخلوق اور فرمانبردار بندے ہیں نہ مردہیں نہ عورت ان کی تعداد اللہ جانتا ہے چار ان میں سے بہت مقرب ہیں جبرئیل میکائیکل اسرافیل عزرائیل علیہم السلام چوتھے کتب الہیہ پر ایمان لانا کہ جو کتاب اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی حق ہے ان میں چار بڑی کتابیں ہیں۔(۱) توریت جو حضرت موسٰی علیہ السلام پر (۲) انجیل جو حضرت عیسی علیہ السلام پر (۳) زبور حضرت داؤد علیہ السلام پر (۴) قرآن حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلمپر نازل ہوئیں اور پچاس صحیفے حضرت شیث پر تیس حضرت ادریس پر دس حضرت آدم پر دس حضرت ابراہیم پر نازل ہوئے علیہم الصلوۃ والسلام پانچویں تمام انبیاء پر ایمان لانا کہ وہ سب اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں اور معصوم یعنی گناہوں سے پاک ہیں ان کی صحیح تعدادا للہ جانتا ہے ان میں سے تین سو تیرہ رسول ہیں نَبِیّٖنَ بصیغہ جمع مذکر سالم ذکر فرمایا اشارہ کرتا ہے کہ انبیاء مرد ہوتے ہیں کوئی عورت کبھی نبی نہیں ہوئی جیسا کہ وَمَآاَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ اِلَّا رِجَالاً الآیہ سے ثابت ہے ایمان مجمل یہ ہے اٰمَنْتُ بِاللّٰہ ِ وَبِجَمِیْعِ مَاجَآءَ بِہِ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم یعنی میں اللہ پر ایمان لایا اور ان تمام امور پر جو سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم اللہ کے پاس سے لائے (تفسیر احمدی) (ف313)ایمان کے بعد اعمال کا اور اس سلسلہ میں مال دینے کا بیان فرمایا اس کے چھ مصرف ذکر کئے گردنیں چھڑانے سے غلاموں کا آزاد کرنا مراد ہے یہ سب مستحب طور پر مال دینے کا بیان تھا مسئلہ: اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ دینا بحالت تندرستی زیادہ اجر رکھتا ہے بہ نسبت اس کے کہ مرتے وقت زندگی سے مایوس ہو کر دے (کذافی حدیث عن ابی ہریرہ ) مسئلہ : حدیث شریف میں ہے کہ رشتہ دار کو صدقہ دینے میں دو ثواب ہیں ایک صدقہ کا ایک صلہ رحم کا (نسائی شریف)
اے ایمان والوں تم پر فرض ہے (ف۳٤۱) کہ جو ناحق مارے جائیں ان کے خون کا بدلہ لو (ف۳۱۵) آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت (ف۳۱٦) تو جس کے لئے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی ہوئی۔ (ف۳۱۷) تو بھلائی سے تقاضا ہو اور اچھی طرح ادا، یہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارا بوجھ پر ہلکا کرنا ہے اور تم پر رحمت تو اس کے بعد جو زیادتی کرے (ف۳۱۸) اس کے لئے دردناک عذاب ہے
O People who Believe! Retribution is made obligatory for you in the matter of those killed unjustly; a freeman for a freeman, and a slave for a slave, and a female for a female; and for him who is partly forgiven by his brother, seek compensation with courtesy and make payment in proper manner; this is a relief and a mercy upon you, from your Lord; so after this, a painful punishment is for whoever exceeds the limits.
ऐ ईमान वालों तुम पर फ़र्ज़ है कि जो नाहक़ मारे जाएँ उनके ख़ून का बदला लो आज़ाद के बदले आज़ाद और ग़ुलाम के बदले ग़ुलाम और औरत के बदले औरत तो जिस के लिये उसके भाई की तरफ़ से कुछ माफ़ी हुई। तो भलाई से तक़ाज़ा हो और अच्छी तरह अदा, यह तुम्हारे रब की तरफ़ से तुम्हारा बोझ पर हल्का करना है और तुम पर रहमत तो उसके बाद जो ज़्यादती करे उसके लिये दर्दनाक अज़ाब है
Aye imaan walon tum par farz hai ke jo na-haq maare jaayein unke khoon ka badla lo aazaad ke badle aazaad aur ghulaam ke badle ghulaam aur aurat ke badle aurat to jiske liye uske bhai ki taraf se kuch maafi hui. To bhalayi se taqaza ho aur achhi tarah ada, ye tumhare Rab ki taraf se tumhara bojh par halka karna hai aur tum par rahmat to iske baad jo ziyadati kare uske liye dardnaak azaab hai
(ف314)شان نزول :یہ آیت اوس و خزرج کے بارے میں نازل ہوئی ان میں سے ایک قبیلہ دوسرے سے قوت تعداد مال و شرف میں زیادہ تھا اس نے قسم کھائی تھی کہ وہ اپنے غلام کے بدلے دوسرے قبیلہ کے آزاد کو اور عورت کے بدلے مرد کو اور ایک کے بدلے دو کو قتل کرے گا زمانہ جاہلیت میں لوگ اس قسم کی تعدی کے عادی تھے عہد اسلام میں یہ معاملہ حضور سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ اور عدل و مساوات کا حکم دیا گیا اورا س پر وہ لوگ راضی ہوئے قرآن کریم میں قصاص کا مسئلہ کئی آیتوں میں بیان ہوا ہے اس آیت میں قصاص و عفو دونوں کے مسئلہ ہیں اور اللہ تعالٰی کے اس احسان کا بیان ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو قصاص وعفو میں مختار کیا چاہیں قصاص لیں یا عفو کریں آیت کے اول میں قصاص کے وجوب کا بیان ہے۔(ف315)اس سے ہر قاتل بالعمد پر قصاص کا وجوب ثابت ہوتا ہے خواہ اس نے آزاد کو قتل کیا ہو یا غلام کو مسلمان کو یا کافر کو مرد کو یا عورت کو کیونکہ قتلیٰ جو قتیل کی جمع ہے وہ سب کو شامل ہے ہاں جس کودلیلِ شرعی خاص کر ے وہ مخصوص ہوجائے گا۔ (احکام القرآن)(ف316)اس آیت میں بتایا گیا جو قتل کرے گا وہی قتل کیا جائے گا خواہ آزاد ہو یا غلام مرد ہو یا عورت اور اہل جاہلیت کا یہ طریقہ ظلم ہے جو ان میں رائج تھا کہ آزادوں میں لڑائی ہوتی تو وہ ایک کے بدلے دو کو قتل کرتے غلاموں میں ہوتی تو بجائے غلام کے آزاد کو مارتے عورتوں میں ہوتی تو عورت کے بدلے مرد کو قتل کرتے اور محض قاتل کے قتل پر اکتفا نہ کرتے اس کو منع فرمایا گیا ۔(ف317)معنی یہ ہیں کہ جس قاتل کو ولی مقتول کچھ معاف کریں اور اس کے ذمہ مال لازم کیا جائے اس پر اولیاء مقتول تقاضا کرنے میں نیک روش اختیار کریں اور قاتل خوں بہا خوش معاملگی کے ساتھ ادا کرے اس میں صلح برمال کا بیان ہے۔(تفسیر احمدی) مسئلہ : ولی مقتول کو اختیار ہے کہ خواہ قاتل کو بے عوض معاف کرے ےامال پر صلح کرے اگر وہ اس پر راضی نہ ہو اور قصاص چاہے تو قصاص ہی فرض رہے گا۔(جمل) مسئلہ : اگر مقتول کے تمام اولیاء قصاص معاف کردیں تو قاتل پر کچھ لازم نہیں رہتا مسئلہ : اگر مال پر صلح کریں تو قصاص ساقط ہوجاتا ہے اور مال واجب ہوتا ہے۔ (تفسیراحمدی) مسئلہ :ولی مقتول کو قاتل کا بھائی فرمانے میں دلالت ہے اس پر کہ قتل گرچہ بڑاگناہ ہے مگر اس سے اخوت ایمانی قطع نہیں ہوتی اس میں خوارج کا ابطال ہے جو مرتکب کبیرہ کو کافر کہتے ہیں۔(ف318)یعنی بدستور جاہلیت غیر قاتل کو قتل کرے یادیت قبول کرنے اور معاف کرنے کے بعد قتل کرے۔
تم پر فرض ہوا کہ جب تم میں کسی کو موت آئے اگر کچھ مال چھوڑے تو وصیت کرجائے اپنے ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں کے لئے موافق دستور (ف۳۲۰) یہ واجب ہے پرہیزگاروں پر،
It is ordained for you that when death approaches one of you, and he leaves behind wealth, he must bequeath it to parents and near relatives in accordance with tradition; this is a duty upon the pious.
तुम पर फ़र्ज़ हुआ कि जब तुम में किसी को मौत आए अगर कुछ माल छोड़े तो वसीयत कर जाए अपने माँ बाप और क़रीब के रिशतेदारों के लिये मुफ़िक़ दस्तूर यह वाजिब है परहेज़गारों पर,
Tum par farz huwa ke jab tum mein kisi ko maut aaye agar kuch maal chhode to wasiyat kar jaye apne maan baap aur qareeb ke rishtedaron ke liye mawafiq dastoor ye wajib hai parhezgaron par,
(ف320)یعنی موافق دستور شریعت کے عدل کرے اور ایک تہائی مال سے زیادہ کی وصیت نہ کرے اور محتاجوں پر مالداروں کو ترجیح نہ دے مسئلہ : ابتدائے اسلام میں یہ وصیت فرض تھی جب میراث کے احکام نازل ہوئے منسوخ کی گئی اب غیر وارث کے لئے تہائی سے کم میں وصیت کرنا مستحب ہے بشرطیکہ وارث محتاج نہ ہوں یا ترکہ ملنے پر محتاج نہ رہیں ورنہ ترکہ وصیت سے افضل ہے۔ (تفسیر احمدی)
تو جو وصیت کو سن سنا کر بدل دے (ف۳۲۱) اس کا گناہ انہیں بدلنے والوں پر ہے (ف۳۲۲) بیشک اللہ سنتا جانتا ہے،
So whoever changes the will after he has heard it – its sin is only upon those who change it; indeed Allah is the All Hearing, the All Knowing.
तो जो वसीयत को सुन सुना कर बदल दे उसका गुनाह उन्हें बदलने वालों पर है बेशक अल्लाह सुनता जानता है ,
To jo wasiyat ko sun suna kar badal de uska gunah unhein badalne walon par hai beshak Allah sunta jaanta hai,
(ف321)خواہ وصی ہو یا ولی شاہد اور وہ تبدیل کتابت میں کرے یا تقسیم میں یا ادائے شہادت میں اگر وہ وصیت موافق شرع ہے تو بدلنے والا گنہگار ہے۔(ف322)اور دوسرے خواہ وہ مُوْصِیْ ہوں یا مُوْصٰی لَہ، بری ہیں۔
پھر جسے اندیشہ ہوا کہ وصیت کرنے والے نے کچھ بے انصافی یا گناہ کیا تو اس نے ان میں صلح کرادی اس پر کچھ گناہ نہیں (ف۳۲۳) بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے
Then if one fears that the will maker (the deceased) has done injustice or sin, and he makes a reconciliation between the parties, there shall be no sin upon him; indeed Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
फिर जिसे अन्देशा हुआ कि वसीयत करने वाले ने कुछ बेइंसाफ़ी या गुनाह किया तो उसने उनमें सुलह करा दी उस पर कुछ गुनाह नहीं बेशक अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है
Phir jise andesha huwa ke wasiyat karne walay ne kuch be-insafi ya gunah kiya to usne un mein sulah kara di uspar kuch gunah nahi beshak Allah bakhne wala meherbaan hai
(ف323)معنی یہ ہیں کہ وارث یا وصی یا امام یا قاضی جس کو بھی موصی کی طرف سے ناانصافی یا ناحق کارروائی کا اندیشہ ہو وہ اگر موصی لہ یا وارثوں میں شرع کے موافق صلح کرادے تو گنہگار نہیں کیونکہ اس نے حق کی حمایت کے لئے باطل کو بدلا ایک قول یہ بھی ہے کہ مراد وہ شخص ہے جو وقت وصیت دیکھے کہ موصی حق سے تجاوز کرتا اور خلاف شرع طریقہ اختیار کرتا ہے تو اس کو روک دے اور حق و انصاف کا حکم کرے۔
اے ایمان والو! (ف۳۲٤) تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے ، (ف۳۲۵)
O People who Believe! Fasting is made compulsory for you, like it was ordained for those before you, so that you may attain piety.
ऐ ईमान वालो! तुम पर रोज़े फ़र्ज़ किये गये जैसे अगलों पर फ़र्ज़ हुए थे कि कहीं तुम्हें परहेज़गारी मिले ,
Aye imaan walon! tum par roze farz kiye gaye jaise uglon par farz huwe thay ke kahin tumhein parhez gaari mile,
(ف324)اس آیت میں روزوں کی فرضیت کا بیان ہے روزہ شرع میں اس کا نام ہے کہ مسلمان خواہ مرد ہو یا حیض یا نفاس سے خالی عورت صبح صادق سے غروب آفتاب تک بہ نیت عبادت خورد و نوش و مجامعت ترک کرے(عالمگیری وغیرہ) رمضان کے روزے ۱۰ شعبان ۲ ھ کو فرض کئے گئے(درمختار و خازن) اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ روزے عبادت قدیمہ ہیں۔زمانہ آدم علیہ السلام سےتمام شریعتوں میں فرض ہوتے چلے آئے اگرچہ ایام و احکام مختلف تھے مگر اصل روزے سب امتوں پر لازم رہے(ف325)اور تم گناہوں سے بچو کیونکہ یہ کسر نفس کا سبب اور متقین کا شعار ہے
گنتی کے دن ہیں (ف۳۲٦) تو تم میں جو کوئی بیمار یا سفر میں ہو (ف۳۲۷) تو اتنے روزے اور دنوں میں اور جنہیں اس کی طاقت نہ ہو وہ بدلہ دیں ایک مسکین کا کھانا (ف۳۲۸) پھر جو اپنی طرف سے نیکی زیادہ کرے (ف۳۲۹) تو وہ اس کے لئے بہتر ہے اور روزہ رکھنا تمہارے لئے زیادہ بھلا ہے اگر تم جانو (ف۳۳۰)
For a certain number of days only; so whoever is sick among you, or on a journey, the same number in other days; and those who do not have the strength for it must give a redemption by feeding a needy person; so whoever increases the good of his own accord, it is better for him; and fasting is better for you, if only you realise.
गिनती के दिन हैं तो तुम में जो कोई बीमार या सफ़र में हो तो इतने रोज़े और दिनों में और जिन्हें उसकी ताक़त न हो वह बदला दें एक मिस्कीन का खाना फिर जो अपनी तरफ़ से नेकी ज़्यादा करे तो वह उसके लिये बेहतर है और रोज़ा रखना तुम्हारे लिये ज़्यादा भला है अगर तुम जानो
Ginti ke din hain to tum mein jo koi beemar ya safar mein ho to itne roze aur dino mein aur jinhon iski taqat na ho woh badla dein ek miskeen ka khana phir jo apni taraf se neki zyada kare to woh uske liye behtar hai aur roza rakhna tumhare liye zyada bhala hai agar tum jaano
(ف326)یعنی صرف رمضان کا ایک مہینہ(ف327)سفر سے وہ مراد ہے جس کی مسافت تین دن سے کم نہ ہو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مریض و مسافر کو رخصت دی کہ اگر اس کو رمضان مبارک میں روزہ رکھنے سے مرض کی زیادتی یا ہلاک کا اندیشہ ہو یا سفر میں شدت و تکلیف کا تو وہ مرض و سفر کے ایام میں افطار کرے اور بجائے اس کے ایام منہیّہ کے سوا اور دنوں میں اس کی قضا کرے ایام منہیّہ پانچ دن ہیں جن میں روزہ رکھنا جائز نہیں۔ دونوں عیدین اور ذی الحجہ کی گیارھویں بارھویں تیرھویں تاریخیں مسئلہ : مریض کو محض وہم پر روزے کا افطار جائز نہیں جب تک دلیل یا تجربہ یا غیر ظاہرا لفسق طبیب کی خبر سے اس کا غلبہ ظن حاصل نہ ہو کہ روزہ مرض کے طول یا زیادتی کا سبب ہوگا۔ مسئلہ : جو بالفعل بیمار نہ ہو لیکن مسلمان طبیب یہ کہے کہ وہ روزے رکھنے سے بیمار ہوجائے گا وہ بھی مریض کے حکم میں ہے مسئلہ : حاملہ یا دودھ پلانے والی عورت کو اگر روزہ رکھنے سے اپنی یا بچے کی جان کا یا اس کے بیمار ہوجانے کا اندیشہ ہو تو اس کوبھی افطار جائز ہے مسئلہ :جس مسافر نے طلوع فجر سے قبل سفر شروع کیا اس کو تو روزے کا افطار جائز ہے لیکن جس نے بعد طلوع سفر کیا اس کو اس دن کا افطار جائز نہیں۔(ف328)مسئلہ: جس بوڑھے مرد یا عورت کو پیرانہ سالی کے ضعف سے روزہ رکھنے کی قدرت نہ رہے اور آئیندہ قوت حاصل ہونے کی امید بھی نہ ہو اس کو شیخ فانی کہتے ہیں اس کے لئے جائز ہے کہ افطار کرے اور ہر روزے کے بدلے نصف صاع یعنی ایک سو پچھتر روپیہ اور ایک اٹھنی بھر گیہوں یا گیہوں کا آٹا یا اس سے دو نے جو یا اس کی قیمت بطور فدیہ دے مسئلہ : اگر فدیہ دینے کے بعد روزہ رکھنے کی قوت آگئی تو روزہ واجب ہوگا۔مسئلہ : اگر شیخ فانی نادار ہواور فدیہ دینے کی قدرت نہ رکھے تو اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے اور اپنے عفوِ تقصیر کی دعا کرتا رہے۔(ف329)یعنی فدیہ کی مقدار سے زیادہ دے۔(ف330)اس سے معلوم ہوا کہ اگرچہ مسافر و مریض کو افطار کی اجازت ہے لیکن زیادہ بہتر و افضل روزہ رکھنا ہی ہے۔
رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا (ف۳۳۱) لوگوں کے لئے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے، ضرور اس کے روزے رکھے اور جو بیمار یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا اور اس لئے کہ تم گنتی پوری کرو (ف۳۳۲) اور اللہ کی بڑائی بولو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت کی اور کہیں تم حق گزار ہو،
The month of Ramadan in which was sent down the Qur’an – the guidance for mankind, the direction and the clear criteria (to judge between right and wrong); so whoever among you witnesses this month, must fast for the (whole) month; and whoever is sick or on a journey, may fast the same number in other days; Allah desires ease for you and does not desire hardship for you – so that you complete the count (of fasts), and glorify Allah’s greatness for having guided you, and so that you may be grateful.
रमज़ान का महीना जिसमें क़ुरआन उतरा लोगों के लिये हिदायत और रहनुमाई और फ़ैसले की रौशन बातें तो तुम में जो कोई यह महीना पाए , ज़रूर उसके रोज़े रखे और जो बीमार या सफ़र में हो तो इतने रोज़े और दिनों में अल्लाह तुम पर आसानी चाहता है और तुम पर दुश्वारी नहीं चाहता और इस लिये कि तुम गिनती पूरी करो और अल्लाह की बड़ाई बोलो उस पर कि उसने तुम्हें हिदायत की और कहीं तुम हक़गुज़ार हो,
Ramazan ka mahina jismein Qur’an utara logon ke liye hidayat aur rehnumai aur faisla ki roshan baatein to tum mein jo koi ye mahina paaye, zaroor uske roze rakhe aur jo beemar ya safar mein ho to itne roze aur dino mein Allah tum par aasaani chahta hai aur tum par dushwari nahi chahta aur is liye ke tum ginti poori karo aur Allah ki baddayi bolo is par ke usne tumhein hidayat ki aur kahin tum haqq guzaar ho,
(ف331)اس کے معنی میں مفسرین کے چند اقوال ہیں۔(۱) یہ کہ رمضان وہ ہے جس کی شان و شرافت میں قرآن پاک نازل ہوا۔(۲) یہ کہ قرآن کریم میں نزول کی ابتداء رمضان میں ہوئی۔(۳) یہ کہ قرآن کریم بتمامہ رمضان المبارک کی شب قدر میں لوح محفوظ سے آسمان دنیا کی طرف اتارا گیا اور بیت العزت میں رہا یہ اسی آسمان پر ایک مقام ہے یہاں سے وقتاً فوقتاً حسب اقتضائے حکمت جتنا جتنا منظور الٰہی ہوا جبریل امین لاتے رہے یہ نزول تیئیس سال کے عرصہ میں پورا ہوا۔(ف332)حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے تو چاند دیکھ کر روزے شروع کرو اور چاند دیکھ کر افطار کرو اگر ۲۹ رمضان کو چاند کی رؤیت نہ ہو تو تیس دن کی گنتی پوری کرو ۔
اور اے محبوب جب تم سے میرے بندے مجھے پوچھیں تو میں نزدیک ہوں (ف۳۳۳) دعا قبول کرتا ہوں پکارنے والے کی جب مجھے پکارے (ف۳۳٤) تو انہیں چاہئے میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں کہ کہیں راہ پائیں،
And O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him), when My bondmen question you concerning Me, then surely I am close; I answer the prayer of the supplicant when he calls on Me, so they must obey Me and believe in Me, so that they may attain guidance.
और ऐ महबूब जब तुम से मेरे बन्दे मुझे पूछें तो मैं नज़दीक हूँ दुआ क़बूल करता हूँ पुकारने वाले की जब मुझे पुकारे तो उन्हें चाहिये मेरा हुक्म मानें और मुझ पर ईमान लाएँ कि कहीं राह पायें ,
Aur aye mehboob jab tumse mere banday mujhe poochhein to main nazdeek hoon dua qubool karta hoon pukarne wale ki jab mujhe pukare to unhein chahiye mera hukm maanein aur mujhpar imaan laayein ke kahin raah paayein,
(ف333)اس میں طالبان حق کی طلب مولیٰ کا بیان ہے جنہوں نے عشق الہٰی پر اپنے حوائج کو قربان کردیا وہ اسی کے طلبگار ہیں انہیں قرب ووصال کے مژدہ سے شاد کام فرمایا شان نزول :ایک جماعت صحابہ نے جذبہ عشق الٰہی میں سید عالم صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم سے دریافت کیا کہ ہمارا رب کہاں ہے اس پر نوید قرب سے سرفراز کرکے بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ مکان سے پاک ہے جو چیز کسی سے مکانی قرب رکھتی ہے وہ اس کے دور والے سے ضرور بعد رکھتی ہے اور اللہ تعالیٰ سب بندوں سے قریب ہے مکانی کی یہ شان نہیں منازل قرب میں رسائی بندہ کو اپنی غفلت دور کرنے سے میسر آتی ہے۔ دوست نزدیک تراز من بمن ست ۔ ویں عجب ترکہ من ازوے دورم(ف334)دعا عرضِ حاجت ہے اور اجابت یہ ہے کہ پروردگار اپنے بندے کی دعا پر لَبَیْکَ عَبْدِیْ فرماتا ہے مراد عطا فرمانا دوسری چیز ہے وہ بھی کبھی اس کے کرم سے فی الفور ہوتی ہے کبھی بمقتضائے حکمت کسی تاخیر سے کبھی بندے کی حاجت دنیا میں روا فرمائی جاتی ہے کبھی آخرت میں کبھی بندے کا نفع دوسری چیز میں ہوتاہے وہ عطا کی جاتی ہے کبھی بندہ محبوب ہوتا ہے اس کی حاجت روائی میں اس لئے دیر کی جاتی ہے کہ وہ عرصہ تک دعا میں مشغول رہے۔ کبھی دعا کرنے والے میں صدق و اخلاص وغیرہ شرائط قبول نہیں ہوتے اسی لئے اللہ کے نیک اور مقبول بندوں سے دعا کرائی جاتی ہے مسئلہ : ناجائز امر کی دعا کرنا جائز نہیں دعا کے آداب میں سے ہے کہ حضور قلب کے ساتھ قبول کا یقین رکھتے ہوئے دعا کرے اور شکایت نہ کرے کہ میری دعا قبول نہ ہوئی ترمذی کی حدیث میں ہے کہ نماز کے بعد حمد و ثناء اور درود شریف پڑھے پھر دعا کرے۔
روزہ کی راتوں میں اپنی عورتوں کے پاس جانا تمہارے لئے حلال ہوا (ف۳۳۵) وہ تمہاری لباس ہیں اور تم ان کے لباس، اللہ نے جانا کہ تم اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے تھے تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی اور تمہیں معاف فرمایا (ف۳۳٦) تو اب ان سے صحبت کرو (ف۳۳۷) اور طلب کرو جو اللہ نے تمہارے نصیب میں لکھا ہو (ف۳۳۸) اور کھاؤ اور پیئو (ف۳۳۹) یہاں تک کہ تمہارے لئے ظاہر ہو جائے سفیدی کا ڈورا سیاہی کے ڈورے سے (پوپھٹ کر) (ف۳٤۰) پھر رات آنے تک روزے پورے کرو (ف۳٤۱) اور عورتوں کو ہاتھ نہ لگاؤ جب تم مسجدوں میں اعتکاف سے ہو (ف۳٤۲) یہ اللہ کی حدیں ہیں ان کے پاس نہ جاؤ اللہ یوں ہی بیان کرتا ہے لوگوں سے اپنی آیتیں کہ کہیں انہیں پرہیزگاری ملے،
Going to your wives during the nights of the fast is made lawful for you; they are coverings for you and you are coverings for them; Allah knows that you were deceiving yourselves (in this respect), so He accepted your penance and forgave you; so cohabit with them and seek what Allah has destined for you – and eat and drink until the white thread becomes distinct to you from the black thread at dawn – then complete the fast till nightfall; and do not touch women while staying in seclusion for worship in the mosques; these are the limits imposed by Allah, so do not go near them; this is how Allah explains His verses to mankind so that they may attain piety.
रोज़ा की रातों में अपनी औरतों के पास जाना तुम्हारे लिये हलाल हुआ वह तुम्हारी लिबास हैं और तुम उनके लिबास, अल्लाह ने जाना कि तुम अपनी जानों को ख़यानत में डालते थे तो उसने तुम्हारी तौबा क़बूल की और तुम्हें माफ़ फ़रमाया तो अब उनसे सुहबत करो और तलब करो जो अल्लाह ने तुम्हारे नसीब में लिखा हो और खाओ और पियो यहाँ तक कि तुम्हारे लिये ज़ाहिर हो जाए सफ़ेदी का डोरा सियाही के डोरे से (पो फट कर) फिर रात आने तक रोज़े पूरे करो और औरतों को हाथ न लगाओ जब तुम मस्जिदों में एतक़ाफ़ से हो यह अल्लाह की हदें हैं उनके पास न जाओ अल्लाह यूँ ही बयान करता है लोगों से अपनी आयतें कि कहीं उन्हें परहेज़गारी मिले ,
Roze ki raton mein apni aurton ke paas jaana tumhare liye halal huwa woh tumhari libaas hain aur tum unke libaas, Allah ne jaana ke tum apni jaano ko khayanat mein daalte thay to usne tumhari tauba qubool ki aur tumhein maaf farmaya to ab unse sohbت karo aur talab karo jo Allah ne tumhare naseeb mein likha ho aur khao aur piو yahan tak ke tumhare liye zaahir ho jaye safedi ka dora siyahi ke dore se (po phat kar) phir raat aane tak roze poore karo aur aurton ko haath na lagao jab tum masjidon mein aitkaaf se ho ye Allah ki haden hain unke paas na jao Allah yun hi bayan karta hai logon se apni aayaten ke kahin unhein parhezgaari mile,
(ف335)شان نزول: شرائع سابقہ میں افطار کے بعد کھانا پینا مجامعت کرنا نمازِ عشاء تک حلال تھا بعد نماز عشا ء یہ سب چیزیں شب میں بھی حرام ہوجاتی تھیں یہ حکم زمانہ اقدس تک باقی تھا بعض صحابہ سے رمضان کی راتوں میں بعدِعشاء مباشرت وقوع میں آئی ان میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے اس پروہ حضرات نادم ہوئے اور درگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم میں عرض حال کیا اللہ تعالیٰ نے معاف فرمایا اور یہ آیت نازل ہوئی اور بیان کردیا گیا کہ آئیندہ کے لئے رمضان کی راتوں میں مغرب سے صبح صادق تک مجامعت کرنا حلال کیا گیا(ف336)اس خیانت سے وہ مجامعت مراد ہے جو قبل اباحت رمضان کی راتوں میں مسلمانوں سے سرزد ہوئی تھی اس کی معافی کا بیان فرما کر ان کی تسکین فرمادی گئی۔(ف337)یہ امر اباحت کے لئے ہے کہ اب وہ ممانعت اٹھادی گئی اور لیالیِ رمضان میں مباشرت مباح کردی گئی۔(ف338)اس میں ہدایت ہے کہ مباشرت نسل و اولاد حاصل کرنے کی نیت سے ہونی چاہئے جس سے مسلمان بڑھیں اور دین قوی ہو مفسرین کا ایک قول یہ بھی ہے کہ معنی یہ ہیں کہ مباشرت موافق حکم شرع ہو جس محل میں جس طریقہ سے مباح فرمائی اس سے تجاوز نہ ہو۔(تفسیر احمدی) ایک قول یہ بھی ہے کہ جو اللہ نے لکھا اس کو طلب کرنے کے معنی ہیں رمضان کی راتوں میں کثرتِ عبادت اور بیدار رہ کر شب قدر کی جستجو کرنا۔(ف339)یہ آیت صرمہ بن قیس کے حق میں نازل ہوئی آپ محنتی آدمی تھے ایک دن بحالت روزہ دن بھر اپنی زمین میں کام کرکے شام کو گھر آئے بیوی سے کھانا مانگا وہ پکانے میں مصروف ہوئیں یہ تھکے ہوئے تھے آنکھ لگ گئی جب کھانا تیار کرکے انہیں بیدار کیا انہوں نے کھانے سے انکار کردیاکیونکہ اس زمانہ میں سوجانے کے بعد روزہ دار پر کھانا پینا ممنوع ہوجاتا تھا اور اسی حالت میں دوسراروزہ رکھ لیا ضعف انتہا کو پہنچ گیا تھا دوپہر کو غشی آگئی ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور رمضان کی راتوں میں ان کے سبب سے کھانا پینا مباح فرمایا گیا جیسے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی انابت و رجوع کے باعث قربت حلال ہوئی۔(ف340)رات کو سیاہ ڈورے سے اور صبح صادق کو سفید ڈورے سے تشبیہ دی گئی معنی یہ ہیں کہ تمہارے لئے کھانا پینا رمضان کی راتوں میں مغرب سے صبح صادق تک مباح فرمایا گیا(تفسیر احمدی) مسئلہ : صبح صادق تک اجازت دینے میں اشارہ ہے کہ جنابت روزے کے منافی نہیں جس شخص کو بحالت جنابت صبح ہوئی وہ غسل کرلے اس کا روزہ جائز ہے۔(تفسیر احمدی) مسئلہ : اسی سے علماء نے یہ مسئلہ نکالا کہ رمضان کے روزے کی نیت دن میں جائز ہے۔(ف341)اس سے روزے کی آخر حد معلوم ہوتی ہے اور یہ مسئلہ ثابت ہوتا ہے کہ بحالت روزہ خوردو نوش و مجامعت میں سے ہر ایک کے ارتکاب سے کفارہ لازم ہوجاتا ہے۔(مدارک) مسئلہ علماء نے اس آیت کو صومِ و صال یعنی تَہْ کے روزے کے ممنوع ہونے کی دلیل قرار دیا ہے۔(ف342)(۳۴۲) اس میں بیان ہے کہ رمضان کی راتوں میں روزہ دار کے لئے جماع حلال ہے جب کہ وہ معتکف نہ ہو مسئلہ:اعتکاف میں عورتوں سے قربت اور بوس و کنار حرام ہے مسئلہ : مردوں کے اعتکاف کے لئے مسجد ضروری ہے۔ مسئلہ : معتکف کو مسجد میں کھانا، پینا، سونا جائز ہے مسئلہ: عورتوں کا اعتکاف ان کے گھروں میں جائز ہے ۔(مسئلہ) اعتکاف ہر ایسی مسجد میں جائز ہے جس میں جماعت قائم ہو مسئلہ : اعتکاف میں روزہ شرط ہے۔
اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لئے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پر کھاؤ (ف۳٤۳) جان بوجھ کر ،
And do not unjustly devour the property of each other, nor take their cases to judges in order that you may wrongfully devour a portion of other peoples’ property on purpose.
और आपस में एक दूसरे का माल नाहक़ न खाओ और न हाकिमों के पास उनका मुक़दमा इस लिये पहुँचाओ कि लोगों का कुछ माल नाजायज़ तौर पर खाओ जान बूझ कर ,
Aur aapas mein ek dusre ka maal na-haq na khao aur na haakimon ke paas unka muqadma is liye pohnchao ke logon ka kuch maal najaayaz tor par khao jaan bujh kar,
(ف343)اس آیت میں باطل طور پر کسی کا مال کھانا حرام فرمایا گیا خواہ لوٹ کر یا چھین کر چوری سے یا جوئے سے یا حرام تماشوں یا حرام کاموں یا حرام چیزوں کے بدلے یا رشوت یا جھوٹی گواہی یا چغل خوری سے یہ سب ممنوع و حرام ہے۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ ناجائز فائدہ کے لئے کسی پر مقدمہ بنانا اور اس کو حکام تک لے جانا ناجائز و حرام ہے اسی طرح اپنے فائدہ کی غرض سے دوسرے کو ضرر پہنچانے کے لئے حکام پر اثر ڈالنا رشوتیں دینا حرام ہے جو حکام رس لوگ ہیں وہ اس آیت کے حکم کو پیش نظر رکھیں حدیث شریف میں مسلمانوں کے ضرر پہنچانے والے پر لعنت آئی ہے۔
تم سے نئے چاند کو پوچھتے ہیں (ف۳٤٤) تم فرمادو وہ وقت کی علامتیں ہیں لوگوں اور حج کے لئے (ف۳٤۵) اور یہ کچھ بھلائی نہیں کہ (ف۳٤٦) گھروں میں پچھیت (پچھلی دیوار) توڑ کر آؤ ہاں بھلائی تو پرہیزگاری ہے، اور گھروں میں دروازوں سے آؤ (ف۳٤۷) اور اللہ سے ڈرتے رہو اس امید پر کہ فلاح پاؤ
They ask you, (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), regarding the crescents; say, “They are indicators of time for mankind and for Hajj (the pilgrimage)”; and it is not a virtue at all that you enter the houses by demolishing their back portions, but in reality virtue is piety; and enter the houses using their gates – and keep fearing Allah, hoping that you achieve success.
तुम से नये चाँद को पूछते हैं तुम फ़रमा दो वह वक़्त की अलामतें हैं लोगों और हज के लिये और यह कुछ भलाई नहीं कि घरों में पुछीत (पिछली दीवार) तोड़ कर आओ हाँ भलाई तो परहेज़गारी है , और घरों में दरवाज़ों से आओ और अल्लाह से डरते रहो इस उम्मीद पर कि फ़लाह पाओ
Tumse naye chaand ko poochhte hain tum farma do woh waqt ki alamatیں hain logon aur Hajj ke liye aur ye kuch bhalayi nahi ke gharon mein picheet (pichhli deewar) tod kar aao haan bhalayi to parhezgaari hai, aur gharon mein darwazon se aao aur Allah se darte raho is umeed par ke falaah pao
(ف344)شانِ نزول:یہ آیت حضرت معاذ بن جبل اور ثعلبہ بن غنم انصاری کے جواب میں نازل ہوئی ان دونوں نے دریافت کیا کہ یارسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم چاند کا کیا حال ہے ابتداء میں بہت باریک نکلتا ہے پھر روز بروز بڑھتا ہے یہاں تک کہ پورا روشن ہوجاتا ہے پھر گھٹنے لگتا ہے اور یہاں تک گھٹتا ہے کہ پہلے کی طرح باریک ہوجاتا ہے ایک حال پر نہیں رہتا اس سوال سے مقصد چاند کے گھٹنے بڑھنے کی حکمتیں دریافت کرنا تھا۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ سوال کا مقصود چاند کے اختلافات کا سبب دریافت کرنا تھا ۔(ف345)چاند کے گھٹنے بڑھنے کے فوائد بیان فرمائے کہ وہ وقت کی علامتیں ہیں اور آدمیوں کے ہزار ہا دینی و دنیوی کام اس سے متعلق ہیں زراعت ، تجارت ،لین دین کے معاملات، روزے اور عید کے اوقات عورتوں کی عدتیں حیض کے ایّام حمل اور دودھ پلانے کی مدتیں اور دودھ چھڑانے کے وقت اور حج کے اوقات اس سے معلوم ہوتے ہیں کیونکہ اول میں جب چاند باریک ہوتا ہے تو دیکھنے والا جان لیتا ہے کہ ابتدائی تاریخیں ہیں اور جب چاند پورا روشن ہوتا ہے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ مہینے کی درمیانی تاریخ ہے اور جب چاند چھپ جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ مہینہ ختم پر ہے اسی طرح ان کی مابین ایّام میں چاند کی حالتیں دلالت کیا کرتی ہیں پھر مہینوں سے سال کا حساب ہوتا ہے یہ وہ قدرتی جنتری ہے جو آسمان کے صفحہ پر ہمیشہ کھلی رہتی ہے اور ہر ملک اور ہر زبان کے لوگ پڑھے بھی اور بے پڑھے بھی سب اس سے اپنا حساب معلوم کرلیتے ہیں۔(ف346)شان نزول :زمانہ جاہلیت میں لوگوں کی یہ عادت تھی کہ جب وہ حج کے لئے احرام باندھتے تو کسی مکان میں اس کے دروازے سے داخل نہ ہوتے اگر ضرورت ہوتی تو پچھیت توڑ کر آتے اور اس کو نیکی جانتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی (ف347)خواہ حالت احرام ہو یا غیر احرام
اور اللہ کی راہ میں لڑو (ف۳٤۸) ان سے جو تم سے لڑتے ہیں (ف۳٤۹) اور حد سے نہ بڑھو (ف۳۵۰) اللہ پسند نہیں رکھتا حد سے بڑھنے والوں کو ،
And fight in Allah's cause against those who fight you and do not exceed the limits; and Allah does not like the transgressors.
और अल्लाह की राह में लड़ो उनसे जो तुम से लड़ते हैं और हद से न बढ़ो अल्लाह पसन्द नहीं रखता हद से बढ़ने वालों को ,
Aur Allah ki raah mein lado unse jo tumse ladte hain aur hadd se na badho Allah pasand nahi rakhta hadd se badhne walon ko,
(ف348)۶ ھ میں حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا اس سال سید عالم صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم مدینہ طیبہ سے بقصد عمرہ مکہ مکرمہ روانہ ہوئے مشرکین نے حضور صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم کو مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے روکا اور اس پر صلح ہوئی کہ آپ سال آئندہ تشریف لائیں تو آپ کے لئے تین روز مکہ مکرمہ خالی کردیا جائے گا چنانچہ اگلے سال ۷ ھ میں حضور صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم عمرہ قضاء کے لئے تشریف لائے اب حضور کے ساتھ ایک ہزار چار سو کی جماعت تھی مسلمانوں کو یہ اندیشہ ہوا کہ کفار وفائے عہد نہ کریں گے اور حرم مکہ میں شہر حرام یعنی ماہ ذی القعدہ میں جنگ کریں گے اور مسلمان بحالت احرام ہیں اس حالت میں جنگ کرنا گراں ہے کیونکہ زمانہ جاہلیت سے ابتدائے اسلام تک نہ حرم میں جنگ جائز تھی نہ ماہ حرام میں نہ حالت احرام میں تو انہیں تردد ہوا کہ اس وقت جنگ کی اجازت ملتی ہے یا نہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(ف349)اس کے معنی یا تو یہ ہیں کہ جو کفار تم سے لڑیں یا جنگ کی ابتداء کریں تم ان سے دین کی حمایت اور اعزاز کے لئے لڑو یہ حکم ابتداء اسلام میں تھاپھر منسوخ کیا گیا اور کفار سے قتال کرنا واجب ہوا خواہ وہ ابتداء کریں یا نہ کریں یا یہ معنی ہیں کہ جو تم سے لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں یہ بات سارے ہی کفار میں ہے کیونکہ وہ سب دین کے مخالف اور مسلمانوں کے دشمن ہیں خواہ انہوں نے کسی وجہ سے جنگ نہ کی ہو لیکن موقع پانے پرچُوکنے والے نہیں یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ جو کافر میدان میں تمہارے مقابل آئیں اور تم سے لڑنے والے ہوں ان سے لڑو اس صورت میں ضعیف بوڑھے بچے مجنون اپاہج اندھے بیمار عورتیں وغیرہ جو جنگ کی قدرت نہیں رکھتے اس حکم میں داخل نہ ہوں گے ان کو قتل کرنا جائز نہیں۔(ف350)جو جنگ کے قابل نہیں ان سے نہ لڑو یا جن سے تم نے عہد کیا ہو یا بغیر دعوت کے جنگ نہ کرو کیونکہ طریقہ شرع یہ ہے کہ پہلے کفار کو اسلام کی دعوت دی جائے اگر ا نکار کریں تو جزیہ طلب کیاجائے اس سے بھی منکر ہوں تب جنگ کی جائے اس معنی پر آیت کا حکم باقی ہے منسوخ نہیں۔(تفسیر احمدی)
اور کافروں کو جہاں پاؤ مارو (ف۳۵۱) اور انہیں نکال دو (ف۳۵۲) جہاں سے انہوں نے تمہیں نکا لا تھا (ف۳۵۳) اور ان کا فساد تو قتل سے بھی سخت ہے (ف۳۵٤) اور مسجد حرام کے پاس ان سے نہ لڑو جب تک وہ تم سے وہاں نہ لڑیں (ف۳۵۵) اور اگر تم سے لڑیں تو انہیں قتل کرو (ف۳۵٦) کافروں کی یہی سزا ہے،
And slay the disbelievers wherever you find them, and drive them out from where they drove you out, and the turmoil they cause is worse than slaying; and do not fight them near the Sacred Mosque until they fight you there; so if they fight you, slay them; this is the punishment of the disbelievers.
और काफ़िरों को जहाँ पाओ मारो और उन्हें निकाल दो जहाँ से उन्होंने तुम्हें निकाला था और उनका फ़साद तो क़त्ल से भी सख़्त है और मस्जिदे हराम के पास उनसे न लड़ो जब तक वह तुम से वहाँ न लड़ें और अगर तुम से लड़ें तो उन्हें क़त्ल करो काफ़िरों की यही सज़ा है ,
Aur kaafiron ko jahan pao maaro aur unhein nikaal do jahan se unhon ne tumhein nikaala tha aur unka fasaad to qatl se bhi sakht hai aur Masjid Haraam ke paas unse na lado jab tak woh tumse wahan na ladein aur agar tumse ladein to unhein qatl karo kaafiron ki yahi saza hai,
(ف351)خواہ حرم ہو یا غیر حرم۔(ف352)مکہ مکرمہ سے ۔(ف353)سال گزشتہ چنانچہ روز فتح مکہ جن لوگوں نے اسلام قبول نہ کیا اُن کے ساتھ یہی کیا گیا۔(ف354)فساد سے شرک مراد ہے یا مسلمانوں کو مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے روکنا ۔(ف355)کیونکہ یہ حرمت حرم کے خلاف ہے۔(ف356)کہ انہوں نے حرم شریف کی بے حرمتی کی۔
ماہ حرام کے بدلے ماہ حرام اور ادب کے بدلے ادب ہے (ف۳۵۹) جو تم پر زیادتی کرے اس پر زیادتی کرو اتنی ہی جتنی اس نے کی اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ ڈر والوں کے ساتھ ہے،
The sacred month for the sacred month, and respect in lieu of respect; harm the one who harms you, to the extent as he did – and keep fearing Allah, and know well that Allah is with the pious.
माहे हराम के बदले माहे हराम और अदब के बदले अदब है जो तुम पर ज़्यादती करे उस पर ज़्यादती करो उतनी ही जितनी उसने की और अल्लाह से डरते रहो और जान रखो कि अल्लाह डर वालों के साथ है ,
Mah-e-Haraam ke badle Mah-e-Haraam aur adab ke badle adab hai jo tumpar ziyadati kare uspar ziyadati karo itni hi jitni usne ki aur Allah se darte raho aur jaan rakho ke Allah dar walon ke saath hai,
(ف359)جب گزشتہ سال ذی القعدہ ۶ھ میں مشرکین عرب نے ماہ حرام کی حرمت و ادب کا لحاظ نہ رکھا اور تمہیں ادائے عمرہ سے روکا تو یہ بے حرمتی ان سے واقع ہوئی اور اس کے بدلے تبوفیق الہی ۷ھ کے ذی القعدہ میں تمہیں موقع ملا کہ تم عمرئہ قضا کو ادا کرو
اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو (ف۳٦۰) اور اپنے ہاتھوں، ہلاکت میں نہ پڑو (ف۳٦۱) اور بھلائی والے ہو جاؤ بیشک بھلائی والے اللہ کے محبوب ہیں،
And spend your wealth in Allah's cause, and do not fall into ruin with your own hands; and be virtuous; undoubtedly the righteous are the beloved of Allah.
और अल्लाह की राह में खर्च करो और अपने हाथों , हलाकत में न पड़ो और भलाई वाले हो जाओ बेशक भलाई वाले अल्लाह के महबूब हैं ,
Aur Allah ki raah mein kharch karo aur apne haathon, halakat mein na pado aur bhalayi wale ho jao beshak bhalayi wale Allah ke mehboob hain,
(ف360)اس سے تمام دینی امور میں طاعت و رضائے الہی کے لئے خرچ کرنا مراد ہے خواہ جہاد ہو یا اور نیکیاں۔(ف361)راہِ خدا میں انفاق کا ترک بھی سبب ہلاک ہے اور اسراف بیجا بھی اور اس طرح اور چیز بھی جو خطرئہ ہلاک کا باعث ہو ان سب سے باز رہنے کا حکم ہے حتی کہ بے ہتھیار میدان جنگ میں جاناےا زہر کھانا یا کسی طرح خود کشی کرنا مسئلہ : علماء نے اس سے یہ مسئلہ بھی اخذ کیا ہے کہ جس شہر میں طاعون ہو وہاں نہ جائیں اگرچہ وہاں کے لوگوں کو وہاں سے بھاگنا ممنوع ہے۔
اور حج اور عمرہ اللہ کے لئے پورا کرو (ف۳٦۲) پھر اگر تم روکے جاؤ (ف۳٦۳) تو قربانی بھیجو جو میسر آئے (ف۳٦٤) اور اپنے سر نہ منڈاؤ جب تک قربانی اپنے ٹھکانے نہ پہنچ جائے (ف۳٦۵) پھر جو تم میں بیمار ہو یا اس کے سر میں کچھ تکلیف ہے (ف۳٦٦) تو بدلے دے روزے (ف۳٦۷) یا خیرات (ف۳٦۸) یا قربانی ، پھر جب تم اطمینان سے ہو تو جو حج سے عمرہ ملانے کا فائدہ اٹھائے (ف۳٦۹) اس پر قربانی ہے جیسی میسر آئے (ف۳۷۰) پھر جسے مقدور نہ ہو تو تین روزے حج کے دنوں میں رکھے (ف۳۷۱) اور سات جب اپنے گھر پلٹ کر جاؤ یہ پورے دس ہوئے یہ حکم اس کے لئے ہے جو مکہ کا رہنے والا نہ ہو (ف۳۷۲) اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے،
And perform Hajj (greater pilgrimage) and Umrah (lesser pilgrimage) for Allah; and if you are prevented, send sacrifice whatever is available; and do not shave your heads until the sacrifice reaches its destination; so whoever among you is sick or has an ailment in the head, must pay a compensation by fasting or charity or sacrifice; then when you are in peace – and whoever takes the advantage of combining the Hajj and Umrah, it is compulsory for him to sacrifice whatever is available; and whoever cannot afford it, must fast for three days while on the pilgrimage, and seven when you have returned to your homes; these are ten in all; this decree is for him who is not a resident of Mecca; and keep fearing Allah and know well that Allah’s punishment is severe.
और हज और उमरा अल्लाह के लिये पूरा करो फिर अगर तुम रोके जाओ तो क़ुर्बानी भेजो जो मयस्सर आए और अपने सर न मुँडाओ जब तक क़ुर्बानी अपने ठिकाने न पहुँच जाए फिर जो तुम में बीमार हो या उसके सर में कुछ तकलीफ़ है तो बदले दे रोज़े या खैरात या क़ुर्बानी , फिर जब तुम इत्मीनान से हो तो जो हज से उमरा मिलाने का फ़ायदा उठाए उस पर क़ुर्बानी है जैसी मयस्सर आए फिर जिसे मक़दूर न हो तो तीन रोज़े हज के दिनों में रखे और सात जब अपने घर पलट कर जाओ यह पूरे दस हुए यह हुक्म उसके लिये है जो मक्का का रहने वाला न हो और अल्लाह से डरते रहो और जान रखो कि अल्लाह का अज़ाब सख़्त है ,
Aur Hajj aur Umrah Allah ke liye poora karo phir agar tum roke jao to qurbani bhejo jo mayassar aaye aur apne sar na mandaao jab tak qurbani apne thikane na pohnch jaye phir jo tum mein beemar ho ya uske sar mein kuch takleef hai to badle de roze ya khairaat ya qurbani, phir jab tum itminan se ho to jo Hajj se Umrah milane ka faida uthaye uspar qurbani hai jaisi mayassar aaye phir jise maqdoor na ho to teen roze Hajj ke dino mein rakhe aur saat jab apne ghar palat kar jao ye poore das huwe ye hukm iske liye hai jo Makka ka rehne wala na ho aur Allah se darte raho aur jaan rakho ke Allah ka azaab sakht hai,
(ف362)اور ان دونوں کو ان کےفرائض و شرائط کے ساتھ خاص اللہ کے لئے بے سستی و نقصان کامل کرو حج نام ہے احرام باندھ کر نویں ذی الحجہ کو عرفات میں ٹھہرنے اور مکّہ معظمہ کے طواف کا اس کے لئے خاص وقت مقرر ہے جس میں یہ افعال کئے جائیں تو حج ہے مسئلہ: حج بقول راجح ۹ھ میں فرض ہو اس کے فرضیت قطعی ہے حج کے فرائض یہ ہیں۔(۱)احرام (۲) عرفہ میں وقوف (۳) طواف زیارت ۔حج کے واجبات (۱) مزدلفہ میں وقوف (۲) صفاو مروہ کے درمیان سعی(۳) رمی جمار اور (۴) آفاقی کے لئے طواف رجوع اور(۵) حلق یا تقصیر عمرہ کے رکن طواف و سعی ہیں اور اس کی شرط احرام و حلق ہے حج و عمرہ کے چار طریقے ہیں۔(۱) افراد بالحج وہ یہ ہے کہ حج کے مہینوں میں یا ان سے قبل میقات سے یا اس ے پہلے حج کا احرام باندھے اور دل سے اس کی نیت کرے خواہ زبان سے تلبیہ کے وقت اس کا نام لے یا نہ لے(۲) افراد بالعمرہ وہ یہ ہے کہ میقات سے یا اس سے پہلے اشہر حج میں یا ان سے قبل عمرہ کا احرام باندھے اور دل سے اس کا قصد کرے خواہ وقت تلبیہ زبان سے اس کا ذکر کرے یا نہ کرے اور اس کے لئے اشہر حج میں یا اس سے قبل طواف کرے خواہ اس سال میں حج کرے یا نہ کرے مگر حج و عمرہ کے درمیان المام صحیح کرے اس طرح کہ اپنے اہل کی طرف حلال ہو کر واپس ہو۔(۳) قران یہ ہے کہ حج و عمرہ دونوں کو ایک احرام میں جمع کرے وہ احرام میقات سے باندھا ہو یا اس سے پہلے اشھرحج میں یا اس سے قبل اول سے حج و عمرہ دونوں کی نیت ہو خواہ وقت تلبیہ زبان سے دونوں کا ذکر کرے یا نہ کرے پہلے عمرہ کے افعال ادا کرے پھر حج کے ۔(۴) تمتع یہ ہے کہ میقات سے یا اس سے پہلے اشہر حج میں یا اس سے قبل عمرہ کا احرام باندھے اور اشہر حج میں عمرہ کرے یا اکثر طواف اس کے اشہر حج میں ہوں اور حلال ہو کر حج کے لئے احرام باندھے اور اسی سال حج کرے اور حج وعمرہ کے درمیان اپنے اہل کے ساتھ المام صحیح نہ کرے۔(مسکین و فتح) مسئلہ : اس آیت سے علماء نے قران ثابت کیا ہے۔(ف363)حج یا عمرہ سے بعد شروع کرنے اور گھر سے نکلنے اور محرم ہوجانے کے یعنی تمہیں کوئی مانع ادائے حج یا عمرہ سے پیش آئے خواہ وہ دشمن کا خوف ہو یا مرض وغیرہ ایسی حالت میں تم احرام سے باہر آجاؤ۔(ف364)اونٹ یا گائے یا بکری اور یہ قربانی بھیجنا واجب ہے۔(ف365)یعنی حرم میں جہاں اس کے ذبح کا حکم ہے مسئلہ یہ قربانی بیرون حرم نہیں ہوسکتی۔(ف366)جس سے وہ سر منڈانے کے لئے مجبور ہو اور سرمنڈالے۔(ف367)تین دن کے (ف368)چھ مسکینوں کا کھانا ہر مسکین کے لئے پونے دو سیر گیہوں (ف369)یعنی تمتع کرے۔(ف370)یہ قربانی تمتع کی ہے حج کے شکر میں واجب ہوئی خواہ تمتع کرنے والا فقیر ہو، عید الضحٰی کی قربانی نہیں جو فقیر و مسافر پر واجب نہیں ہوتی۔(ف371)یعنی یکم شوال سے نویں ذی الحجہ تک احرام باندھنے کے بعد اس درمیان میں جب چاہے ر کھ لے خواہ ایک ساتھ یا متفرق کرکے بہتر یہ ہے کہ ۷۔۸۔۹ ذی الحجہ کو رکھے۔(ف372)مسئلہ: اہل مکہ کے لئے نہ تمتع ہے نہ قران اور حدود مواقیت کے اندر کے رہنے والے اہل مکہ میں داخل ہیں۔ مواقیت پانچ ہیں۔(۱) ذوالحلیفہ (۲) ذات عرق (۳) جحفہ (۴) قرن (۵) یلملم، ذوالحلیفہ: اہل مدینہ کے لئے ذات عرق اہل عراق کے لئے ، جحفہ اہل شام کے لئے ، قرن اہل نجد کے لئے، یلملم اہلِ یمن کے لئے ۔
حج کے کئی مہینہ ہیں جانے ہوئے (ف۳۷۳) تو جو ان میں حج کی نیت کرے (ف۳۷٤) تو نہ عورتوں کے سامنے صحبت کا تذکرہ ہو نہ کوئی گناہ، نہ کسی سے جھگڑا (ف۳۷۵) حج کے وقت تک اور تم جو بھلائی کرو اللہ اسے جانتا ہے (ف۳۷٦) اور توشہ ساتھ لو کہ سب سے بہتر توشہ پرہیزگاری ہے (ف۳۷۷) اور مجھ سے ڈرتے رہو اے عقل والو ، (ف۳۷۸)
The Hajj is during the well-known months; and for one who intends to perform the Hajj in it – neither is there to be mention of cohabitation in the presence of women, nor any sin, nor a fight with anyone till the completion of Hajj; and whatever good you do, Allah knows it; and take provision along with you for the best provision is piety; and keep fearing Me, O men of understanding!
हज के कई महीना हैं जाने हुए तो जो उनमें हज की नीयत करे तो न औरतों के सामने सुहबत का तज़किरा हो न कोई गुनाह, न किसी से झगड़ा हज के वक़्त तक और तुम जो भलाई करो अल्लाह उसे जानता है और तोशा साथ लो कि सब से बेहतर तोशा परहेज़गारी है और मुझ से डरते रहो ऐ अक़्ल वालो ,
Hajj ke kai mahine hain jaane hue to jo un mein Hajj ki niyat kare to na auraton ke samne sohbat ka tazkira ho na koi gunah, na kisi se jhagra Hajj ke waqt tak aur tum jo bhalai karo Allah use jaanta hai aur tosha saath lo ke sabse behtar tosha parhez gaari hai aur mujh se darte raho ae aql walo,
(ف373)شوال ذوالقعدہ اور دس تاریخیں ذی الحجہ کی حج کے افعال انہی ایام میں درست ہیں۔مسئلہ : اگر کسی نے ان ایام سے پہلے حج کا احرام باندھا تو جائز ہے لیکن بکراہت (ف374)یعنی حج کو اپنے اوپر لازم و واجب کرے احرام باندھ کر یاتلبیہ کہہ کریا ہدی چلا کر اس پر یہ چیزیں لازم ہیں جن کا آگے ذکر فرمایا جاتاہے ۔(ف375)رفث جماع یا عورتوں کے سامنے ذکر جماع یا کلام فحش کرنا ہے نکاح اس میں داخل نہیں۔ مسئلہ : مُحْرِمْ یا مُحْرِمَہْ کا نکاح جائز ہے مجامعت جائز نہیں۔ فسوق سے معاصی و سیأات اور جدال سے جھگڑا مراد ہے خواہ وہ اپنے رفیقوں یا خادموں کے ساتھ ہو یا غیروں کے ساتھ۔(ف376)بدیوں کی ممانعت کے بعد نیکیوں کی ترغیب فرمائی کہ بجائے فسق کے تقوٰی اور بجائے جدال کے اخلاق حمیدہ اختیار کرو۔(ف377)شان نزول: بعض یمنی حج کے لئے بے سامانی کے ساتھ روانہ ہوتے تھے اور اپنے آپ کو متوکل کہتے تھے اور مکہ مکرمہ پہنچ کر سوال شروع کرتے اور کبھی غصب و خیانت کے مرتکب ہوتے ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور حکم ہوا کہ توشہ لے کر چلو اوروں پر بار نہ ڈالو سوال نہ کرو کہ بہتر توشہ پرہیزگاری ہے ایک قول یہ ہے کہ تقویٰ کا توشہ ساتھ لو جس طرح دینوی سفر کے لئے توشہ ضروری ہے ایسے ہی سفر آخرت کے لئے پرہیز گاری کا توشہ لازم ہے۔(ف378)یعنی عقل کا متقضٰی خوفِ الٰہی ہے جو اللہ سے نہ ڈرے وہ بے عقلوں کی طرح ہے۔
تم پر کچھ گناہ نہیں (ف۳۷۹) کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو، تو جب عرفات سے پلٹو (ف۳۸۰) تو اللہ کی یاد کرو (ف۳۸۱) مشعر حرام کے پاس (ف۳۸۲) اور اس کا ذکر کرو جیسے اس نے تمہیں ہدایت فرمائی اور بیشک اس سے پہلے تم بہکے ہوئے تھے ، (ف۳۸۳)
It is no sin for you that you seek the bounty of your Lord; so when you return from Arafat, remember Allah near the Sacred Symbol (Mash’ar al Haram) – and remember Him in the manner He has guided you; and indeed, before this, you were of the astray.
तुम पर कुछ गुनाह नहीं कि अपने रब का फ़ज़्ल तलाश करो, तो जब अरफ़ात से पलटो तो अल्लाह की याद करो मशअर हराम के पास और उसका ज़िक्र करो जैसे उसने तुम्हें हिदायत फ़रमाई और बेशक उस से पहले तुम बहके हुए थे ,
Tum par kuch gunah nahin ke apne Rab ka fazl talash karo, to jab Arafaat se palto to Allah ki yaad karo Mash'ar Haraam ke paas aur uska zikr karo jaise usne tumhe hidayat farmai aur beshak us se pehle tum behke hue the,
(ف379)شان نزول :بعض مسلمانوں نے خیال کیا کہ راہِ حج میں جس نے تجارت کی یا اونٹ کرایہ پر چلائے اس کا حج ہی کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی مسئلہ : جب تک تجارت سے افعال حج کی ادا میں فرق نہ آئے اس وقت تک تجارت مباح ہے۔(ف380)عرفات ایک مقام کا نام ہے جو مَوقَف ہے ضحاک کا قول ہے کہ حضرت آدم و حوا جدائی کے بعد ۹ذی الحجہ کو عرفات کے مقام پر جمع ہوئے اور دونوں میں تعارف ہوا اس لئے اس دن کا نام عرفہ اورمقام کا نام عرفا ت ہوا ایک قول یہ ہے کہ چونکہ اس روز بندے اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں اس لئے اس دن کا نام عرفہ ہے مسئلہ :عرفات میں وقوف فرض ہے کیونکہ افاضہ بلا وقوف متصور نہیں۔(ف381)تلبیہ و تہلیل و تکبیر و ثنا و دعا کہ ساتھ یا نما ز مغرب وعشاء کے ساتھ ۔(ف382)مشعر حرا م جبل قُزَح ہے جس پر امام وقوف کرتا ہے مسئلہ :وادی مُحَسَّرکے سوا تمام مزدلفہ موقف ہے اس میں وقو ف واجب بے عذر ترک کرنے سے د م لا زم آتا ہے اور مشعر حرام کے پاس وقوف افضل ہے ۔(ف383)طریق ذکر و عبادت کچھ نہ جا نتے تھے ۔
پھر بات یہ ہے کہ اے قریشیو! تم بھی وہیں سے پلٹو جہاں سے لوگ پلٹتے ہیں (ف۳۸٤) اور اللہ سے معافی مانگو، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
Then, O people of Quraish, you too must return from the place where the people return from, and ask forgiveness from Allah; indeed Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
फिर बात यह है कि ऐ क़ुरैशियो! तुम भी वहीं से पलटो जहाँ से लोग पलटते हैं और अल्लाह से माफ़ी माँगो, बेशक अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है ,
Phir baat ye hai ke ae Quraishiyo! tum bhi waheen se palto jahan se log paltte hain aur Allah se maafi maango, beshak Allah bakhshne wala meherbaan hai,
(ف384)قریش مزدلفہ میں ٹھہرے رہتے تھے اور سب لوگوں کے ساتھ عرفات میں وقوف نہ کرتے جب لوگ عرفات سے پلٹتے تو یہ مزدلفہ سے پلٹتے اور اس میں اپنی بڑائی سمجھتے اس آیت میں انہیں حکم دیا گیا کہ سب کے ساتھ عرفات میں وقوف کریں اور ایک ساتھ پلٹیں یہی حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہماالسلام کی سنت ہے ۔
پھر جب اپنے حج کے کام پورے کرچکو (ف۳۸۵) تو اللہ کا ذکر کرو جیسے اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے تھے (ف۳۸٦) بلکہ اس سے زیادہ اور کوئی آدمی یوں کہتا ہے کہ اے رب ہمارے ہمیں دنیا میں دے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں،
So when you have completed your Hajj rites, remember Allah as you used to remember your forefathers, in fact more than that; and among the people are some that say, “Our Lord! Give us in this world” – and he does not have a portion in the Hereafter.
फिर जब अपने हज के काम पूरे कर चको तो अल्लाह का ज़िक्र करो जैसे अपने बाप दादा का ज़िक्र करते थे बल्कि उस से ज़्यादा और कोई आदमी यूँ कहता है कि ऐ रब हमारे हमें दुनिया में दे और आख़िरत में उसका कुछ हिस्सा नहीं
Phir jab apne Hajj ke kaam poore kar chuko to Allah ka zikr karo jaise apne baap dada ka zikr karte the balki us se zyada aur koi aadmi yun kehta hai ke ae Rab hamare humein duniya mein de aur aakhirat mein uska kuch hissa nahin.
(ف385)طریق حج کا مختصر بیان یہ ہے کہ حاجی ۸ذی الحجہ کی صبح کو مکہ مکرمہ سے منٰی کی طرف روانہ ہو وہاں عرفہ یعنی۹ ذی الحجہ کی فجر تک ٹھہرے اسی روز منٰی سے عرفات آئے بعد زوال امام دو خطبے پڑھے یہاں حاجی ظہر و عصر کی نما ز امام کے ساتھ ظہر کے وقت میں جمع کر کے پڑھے ان دونوں نمازوں کے لئے اذان ایک ہو گی اور تکبیریں دو اور دونوں نمازوں کے در میان سنت ظہر کے سوا کوئی نفل نہ پڑھا جائے اس جمع کے لئے امام اعظم ضرو ری ہے ۔اگر امام اعظم نہ ہو یا گمراہ بد مذہب ہو تو ہر ایک نما ز علٰیحدہ اپنے اپنے وقت میں پڑھی جائے اور عرفا ت میں غروب تک ٹھہرے پھر مزدلفہ کی طرف لوٹے اور جبل قُزَح کے قریب اترے مزدلفہ میں مغرب و عشاء کی نمازیں جمع کر کے عشاء کے وقت میں پڑھے اور فجر کی نما ز خوب اوّل وقت خوب اندھےرے میں پڑھے وادی محسّر کہ سوا تمام مزدلفہ اور بطن عُرنہ کے سوا تمام عرفات موقف ہے جب صبح خوب رو شن ہو تو روزِ نحر یعنی ۱۰ ذی الحجہ کو منٰی کی طرف آئے اور بطنِ وادی سے جمرئہ عقبہ کی ۷مر تبہ رمی کرے پھر اگر چاہے قربانی کرے پھر بال منڈائے یا کترائے پھر ایّام ِ نحر میں سے پھر طواف ِزیارت کرے پھر منٰی آکر تین روز اقامت کرے اور گیارہویں کے زوال کے بعد تینو ں جمروں کی رمی کرے اس جمرہ سے شروع کرے جو مسجد کے قریب ہے پھر جو اس کے بعدہے پھر جمرئہ عقبہ ہر ایک کی سات سات مرتبہ پھر اگلے روز ایسا ہی کرے پھر اگلے روز ایسا ہی پھر مکّہ مکرمہ کی طرف چلا آئے(تفصیل کتب فقہ میں مذکور ہے)۔(ف386)زمانہ جاہلیّت میں عر ب حج کے بعد کعبہ کے قریب اپنے باپ دادا کے فضائل بیان کیا کرتے تھے۔اسلام میں بتایا گیا کہ یہ شہرت و خود نمائی کی بیکار باتیں ہیں بجائے اس کے ذوق وشوق کے ساتھ ذکرِالٰہی کرو ۔مسئلہ :اس آےت سے ذکر ِ جہر و ذکر ِ جماعت ثابت ہوتا ہے ۔
اور کوئی یوں کہتا ہے کہ اے رب ہمارے! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور ہمیں آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں عذاب دوزخ سے بچا (ف۳۸۷)
And among them are some that say, “Our Lord! Give us good in the world and good in the Hereafter, and save us from the punishment of fire!”
और कोई यूँ कहता है कि ऐ रब हमारे ! हमें दुनिया में भलाई दे और हमें आख़िरत में भलाई दे और हमें अज़ाबे दोज़ख़ से बचा
Aur koi yun kahta hai ke aye Rab hamare! humein duniya mein bhalayi de aur humein aakhrat mein bhalayi de aur humein azaab dozakh se bacha.
(ف387)دعا کرنے والوں کی دو قسمیں بیان فرمائیں ایک وہ کا فر جن کی دعا میں صرف طلبِ دنیا ہوتی تھی آخرت پر ان کا اعتقا د نہ تھا ان کے حق میں ارشاد ہوا کہ آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں دوسرے وہ ایمان دار جو دنیا و آخرت دونوں کی بہتری کی دعا کرتے ہیں ۔مسئلہ :مؤمن دنیا کی بہتری جو طلب کرتا ہے وہ بھی امرِ جائز اور دین کی تائید و تقویت کے لئے اس لئے اس کی یہ دعا بھی امورِدین سے ہے۔
ایسوں کو ان کی کمائی سے بھاگ (خوش نصیبی) ہے (ف۳۸۸) اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے (ف۳۸۹)
For such is a portion from what they have earned; and Allah is Swift At Taking Account.
ऐसों को उनकी कमाई से भाग (ख़ुश नसीबी) है और अल्लाह जल्द हिसाब करने वाला है
Aison ko unki kamai se bhaag (khush naseebi) hai aur Allah jald hisaab karne wala hai.
(ف388)مسئلہ :اس آیت سے ثابت ہوا کہ دعا کسب و اعمال میں داخل ہے حدیث شریف میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثریہی دعا فرماتے تھے اَلّٰلھُمَّ اٰتِناَ فِی الدُّنْیاَحَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِحَسَنَۃً وَّقِناَعَذَابَ النَّارِ (ف389)عنقریب قیامت قائم کر کے بندوں کا حسا ب فرمائے گا تو چاہئے کہ بندے ذکرو دعا و طاعت میں جلدی کریں۔(مدارک وخازن)
اور اللہ کی یاد کرو گنے ہوئے دنوں میں (ف۳۹۰) تو جلدی کرکے دو دن میں چلا جائے اس پر کچھ گنا نہیں اور جو رہ جائے تو اس پر گناہ نہیں پرہیزگار کے لئے (ف۳۹۱) اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تمہیں اسی کی طرف اٹھنا ہے،
And remember Allah in the counted days; so whoever hastens by departing in two days, there is no sin on him; and whoever stays on, there is no sin for him – for the pious; and keep fearing Allah, and know well that it is to Him you will be raised.
और अल्लाह की याद करो गिने हुए दिनों में तो जल्दी करके दो दिन में चला जाए उस पर कुछ गुनाह नहीं और जो रह जाए तो उस पर गुनाह नहीं परहेज़गार के लिये और अल्लाह से डरते रहो और जान रखो कि तुम्हें उसी की तरफ़ उठना है,
Aur Allah ki yaad karo ginne hue dino mein to jaldi karke do din mein chala jaye us par kuch gunaah nahi aur jo reh jaye to us par gunaah nahi parhezgar ke liye aur Allah se darte raho aur jaan rakho ke tumhein usi ki taraf uthna hai.
(ف390)ان دنوں سے ایّام تشریق اور ذکر اللہ سے نمازوں کے بعد اور رمیِ جِمار کے وقت تکبیر کہنا مراد ہے۔(ف391)بعض مفسرین کا قول ہے کہ زمانہ جاہلیّت میں لوگ دو فریق تھے بعض جلدی کر نے والو ں کو گناہ گار بتا تے تھے،بعض رہ جانے والوں کو ،قرآنِ پاک نے بیان فرمادیا کہ ان دونوں میں کوئی گناہ گار نہیں ۔
اور بعض آدمی وہ ہیں کہ دنیا کی زندگی میں اس کی بات تجھے بھلی لگے (ف۳۹۲) اور اپنے دل کی بات پر اللہ کو گواہ لائے اور وہ سب سے بڑا جھگڑالو ہے،
And among men is one whose conversation may please you in the life of this world, and he brings Allah as witness to what is in his heart, whereas he is the biggest quarreller!
और बाअज़ आदमी वो हैं कि दुनिया की ज़िन्दगी में उसकी बात तुझे भली लगे और अपने दिल की बात पर अल्लाह को गवाह लाए और वो सबसे बड़ा झगड़ालू है,
Aur baaz aadmi woh hain ke duniya ki zindagi mein us ki baat tujhe bhali lage aur apne dil ki baat par Allah ko gawah laaye aur woh sab se bara jhagaralu hai.
(ف392)شانِ نزول: یہ ہے اور اس سے اگلی آیت اَخْنَسْ بن شَرِیْق منافق کے حق میں نازل ہوئی جو حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر بہت لجاجت سے میٹھی میٹھی باتیں کرتا تھا اور اپنے اسلام اور آپ کی محبت کا دعوٰی کرتا اوراس پر قسمیں کھاتا اور درپردہ فساد انگیزی میں مصروف رہتا تھامسلمانو ں کے مویشی کو اس نے ہلا ک کیا او ر ان کی کھیتی کو آگ لگا دی ۔
اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈرو تو اسے اور ضد چڑھے گناہ کی (ف۳۹۳) ایسے کو دوزخ کافی ہے اور وہ ضرور بہت برا بچھونا ہے،
And when it is said to him, “Fear Allah”, he becomes more resolute in committing sin – therefore hell is sufficient for such; and that is indeed, a very wretched resting place.
और जब उससे कहा जाए कि अल्लाह से डरो तो उसे और ज़िद चढ़े गुनाह की ऐसे को दोज़ख़ काफ़ी है और वो ज़रूर बहुत बुरा बिछौना है,
Aur jab us se kaha jaye ke Allah se daro to use aur zid charhe gunaah ki. Aise ko dozakh kaafi hai aur woh zaroor bohot bura bichhona hai.
(ف393)گناہ سے ظلم و سر کشی اور نصیحت کی طرف التفات نہ کرنا مراد ہے۔(خازن)
اور کوئی آدمی اپنی جان بیچتا ہے (ف۳۹٤) اللہ کی مرضی چاہنے میں اور اللہ بندوں پر مہربان ہے،
And among men is one who sells himself to seek the pleasure of Allah; and Allah is Most Compassionate towards the bondmen.
और कोई आदमी अपनी जान बेचता है अल्लाह की मर्ज़ी चाहने में और अल्लाह बन्दों पर मेहरबान है,
Aur koi aadmi apni jaan bechta hai Allah ki marzi chahne mein aur Allah bandon par meherbaan hai.
(ف394)شان نزول: حضرت صہیب ابن سنان رومی مکہ معظمہ سے ہجرت کرکے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مدینہ طیبہ کی طرف روانہ ہوئے مشرکین قریش کی ایک جماعت نے آپ کا تعاقب کیا تو آپ سواری سے اترے اور ترکش سے تیر نکال کر فرمانے لگے کہ اے قریش تم میں سے کوئی میرے پاس نہیں آسکتا جب تک کہ میں تیر مارتے مارتے تمام ترکش خالی نہ کردوں اور پھر جب تک تلوار میرے ہاتھ میں رہے اس سے ماروں اس وقت تک تمہاری جماعت کا کھیت ہوجائے گا اگر تم میرا مال چاہو جو مکہ مکرمہ میں مدفون ہے تو میں تمہیں اس کا پتا بتادوں، تم مجھ سے تعرض نہ کرو وہ اس پر راضی ہوگئے اور آپ نے اپنے تمام مال کا پتابتادیا جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو یہ آیت نازل ہوئی حضور نے تلاوت فرمائی اور ارشاد فرمایا: کہ تمہاری یہ جاں فروشی بڑی نافع تجارت ہے۔
اے ایمان والو! اسلام میں پورے داخل ہو (ف۳۹۵) اور شیطان کے قدموں پر نہ چلے (ف۳۹٦) بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے،
O People who Believe! Enter Islam in full – and do not follow the footsteps of the devil; indeed he is your open enemy.
ऐ ईमान वालो! इस्लाम में पूरे दाख़िल हो और शैतान के क़दमों पर न चले बेशक वो तुम्हारा खुला दुश्मन है,
Aye imaan walon! Islam mein poore daakhil ho aur shaitaan ke qadamoun par na chalo. Beshak woh tumhara khula dushman hai.
(ف395)شان نزول: اہل کتاب میں سے عبداللہ بن سلام اور ان کے اصحاب حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے کے بعد شریعت موسوی کے بعض احکام پر قائم رہے شنبہ کی تعظیم کرتے اس روز شکار سے اجتناب لازم جانتے اور اونٹ کے دودھ اور گوشت سے پرہیز کرتے اور یہ خیال کرتے کہ یہ چیزیں اسلام میں تو مباح ہیں ان کا کرنا ضروری نہیں اور توریت میں ان سے اجتناب لازم کیا گیا ہے تو ان کے ترک کرنے میں اسلام کی مخالفت بھی نہیں ہے اور شریعت موسوی پر عمل بھی ہوتا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیاکہ اسلام کے احکام کا پورا اتباع کرو یعنی توریت کے احکام منسوخ ہوگئے اب ان سے تمسک نہ کرو (خازن)(ف396)اس کے وساوس و شبہات میں نہ آؤ ۔
کاہے کے انتظار میں ہیں (ف۳۹۸) مگر یہی کہ اللہ کا عذاب آئے چھائے ہوئے بادلوں میں اور فرشتے اتریں (ف۳۹۹) اور کام ہوچکے اور سب کاموں کی رجوع اللہ کی طرف ہے،
What are they waiting for, except that Allah’s punishment should come through stretched clouds and the angels descend and the matter be finished? And all matters are directed only towards Allah.
काहे के इंतज़ार में हैं मगर यही कि अल्लाह का अज़ाब आए छाए हुए बादलों में और फ़रिश्ते उतरें और काम हो चुके और सब कामों की रुजूअ अल्लाह की तरफ़ है,
Kahe ke intezaar mein hain magar yehi ke Allah ka azaab aaye chhaye hue badlon mein aur farishte utrein aur kaam ho chuke aur sab kaamon ki rujoo Allah ki taraf hai.
(ف398)ملّت اسلام کے چھوڑنے اور شیطان کی فرمانبرداری کرنے والے۔(ف399)جو عذاب پر مامور ہیں۔
بنی اسرائیل سے پوچھو ہم نے کتنی روشن نشانیاں انہیں دیں (ف٤۰۰) اور جو اللہ کی آئی ہوئی نعمت کو بدل دے (ف٤۰۱) تو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے،
Ask the Descendants of Israel how many clear signs We gave them; and whoever alters Allah’s favour which came to him, then indeed Allah’s punishment is severe.
बनी इसराईल से पूछो हमने कितनी रोशन निशानियाँ उन्हें दीं और जो अल्लाह की आई हुई नेअमत को बदल दे तो बेशक अल्लाह का अज़ाब सख़्त है,
Bani Israel se poocho hum ne kitni roshan nishaniyan unhein dein aur jo Allah ki aayi hui ni‘mat ko badal de to beshak Allah ka azaab sakht hai.
(ف400)کہ ان کے انبیاء کے معجزات کو ان کے صدق نبوت کی دلیل بنایا ان کے ارشاد اور ان کی کتابوں کو دین اسلام کی حقانیت کا شاہد کیا۔(ف401)اللہ تعالیٰ کی نعمت سے آیات الہیہ مراد ہیں جو سبب رشد و ہدایت ہیں اوران کی بدولت گمراہی سے نجات حاصل ہوتی ہے انہیں میں سے وہ آیات ہیں جن میں سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت و صفت اور حضور کی نبوت و رسالت کا بیان ہے یہودونصارٰی کی تحریفیں اس نعمت کی تبدیل ہے۔
کافروں کی نگاہ میں دنیا کی زندگی آراستہ کی گئی (ف٤۰۲) اور مسلمانوں سے ہنستے ہیں (ف٤۰۳) اور ڈر والے ان سے اوپر ہوں گے قیامت کے دن (ف٤۰٤) اور خدا جسے چاہے بےگنتی دے،
The life of this world is made to appear beautiful in the sight of the disbelievers, and they make fun of the believers; and the pious will be above them on the Day of Resurrection; and Allah may give to whomever He wills, without account.
काफ़िरों की निगाह में दुनिया की ज़िन्दगी आरास्ता की गई और मुसलमानों से हँसते हैं और डर वाले उनसे ऊपर होंगे क़यामत के दिन और ख़ुदा जिसे चाहे बेकनती दे,
Kaafiron ki nigah mein duniya ki zindagi aarasta ki gayi aur Musalmanon se hanste hain aur dar walay un se upar honge qayamat ke din aur Khuda jise chahe be ginti de.
(ف402)وہ اسی کی قدر کرتے اور اسی پر مرتے ہیں۔(ف403)اور سامان دنیوی سے ان کی بے رغبتی دیکھ کر ان کی تحقیر کرتے ہیں جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود اور عمار بن یاسر اور صہیب و بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو دیکھ کر کفار تمسخر کرتے تھے اور دولت دنیا کے غرور میں اپنے آپ کو اونچا سمجھتے تھے۔(ف404)یعنی ایماندار روز قیامت جناب عالیہ میں ہوں گے اور مغرور کفار جہنم میں ذلیل و خوار ۔
لوگ ایک دین پر تھے (ف٤۰۵) پھر اللہ نے انبیاء بھیجے خوشخبری دیتے (ف٤۰٦) اور ڈر سناتے (ف٤۰۷) اور ان کے ساتھ سچی کتاب اتاری (ف٤۰۸) کہ وہ لوگوں میں ان کے اختلافوں کا فیصلہ کردے اور کتاب میں اختلاف انہیں نے ڈالا جن کو دی گئی تھی (ف٤۰۹) بعد اس کے کہ ان کے پاس روشن حکم آچکے (ف٤۱۰) آپس میں سرکشی سے تو اللہ نے ایمان والوں کو وہ حق بات سوجھا دی جس میں جھگڑ رہے تھے اپنے حکم سے، اور اللہ جسے چاہے سیدھی راہ دکھائے،
Mankind was on one religion; so Allah sent Prophets giving glad tidings and warnings – and with them sent down the true Book to judge between mankind on their differences; and only those to whom it was given created disputes regarding the Book, after clear commands had come to them, due to hostility of one another; so Allah, by His command, made the truth clear to the believers, concerning their disputes; and Allah may guide whomever He wills to the Straight Path.
लोग एक दीन पर थे फिर अल्लाह ने अन्बिया भेजे ख़ुशख़बरी देते और डर सुनाते और उनके साथ सच्ची किताब उतारी कि वो लोगों में उनके इख़्तिलाफ़ों का फ़ैसला कर दे और किताब में इख़्तिलाफ़ उन्हीं ने डाला जिनको दी गई थी बाद इसके कि उनके पास रोशन हुक्म आ चुके आपस में सरकशी से तो अल्लाह ने ईमान वालों को वो हक़ बात सुझा दी जिस में झगड़ रहे थे अपने हुक्म से, और अल्लाह जिसे चाहे सीधी राह दिखाए,
Log aik deen par the phir Allah ne anbiyah bheje khush khabri dete aur dar sunate aur un ke saath sachi kitaab utaari ke woh logon mein un ke ikhtilafon ka faisla kar de. Aur kitaab mein ikhtilaf unhon ne dala jinko di gayi thi baad is ke ke un ke paas roshan hukum aa chuke. Aapas mein sar kashi se. To Allah ne imaan walon ko woh haq baat soojha di jis mein jhagar rahe the apne hukum se, aur Allah jise chahe seedhi raah dikhaye.
(ف405)حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ سے عہد نوح تک سب لوگ ایک دین اور ایک شریعت پر تھے پھر ان میں اختلاف ہوا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ ا لسلام کو مبعوث فرمایا یہ بعثت میں پہلے رسول ہیں (خازن)(ف406)ایمانداروں اور فرمانبرداروں کو ثواب کی (مدارک وخازن) (ف407)کافروں اور نافرمانوں کو عذاب کا (خازن) (ف408)جیسا کہ حضرت آدم و شیث و ادریس پر صحائف اور حضرت موسیٰ علیہ السلام پر توریت حضرت داؤد پر زبور حضرت عیسٰی پر انجیل اور خاتم الانبیاء محمد مصطفے پر قرآن ۔(ف409)یہ اختلاف تبدیل و تحریف اور ایمان و کفر کے ساتھ تھا جیسا کہ یہود ونصارٰی سے واقع ھوا ۔(خازن) (ف410)یعنی یہ اختلاف نادانی سے نہ تھا بلکہ۔
کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی تم پر اگلوں کی سی روداد (حالت) نہ آئی (ف٤۱۱) پہنچی انہیں سختی اور شدت اور ہلا ہلا ڈالے گئے یہاں تک کہ کہہ اٹھا رسول (ف٤۱۲) اور اس کے ساتھ ایمان والے کب آئے گی اللہ کی مدد (ف٤۱۳) سن لو بیشک اللہ کی مدد قریب ہے،
Are you under the illusion that you will enter Paradise whereas the suffering, which came to those before you, has not yet come to you? Hardship and adversity befell them and they were shaken, to the extent that the Noble Messenger and the believers along with him said, “When will the help of Allah come?”; pay heed! Allah’s help is surely near.
क्या इस गुमान में हो कि जन्नत में चले जाओगे और अभी तुम पर अगलों की सी रुख़दाद (हालत) न आई पहुँची उन्हें सख़्ती और शिद्दत और हिला हिला डाले गए यहाँ तक कि कह उठे रसूल और उसके साथ ईमान वाले कब आएगी अल्लाह की मदद सुन लो बेशक अल्लाह की मदद क़रीब है,
Kya is gumaan mein ho ke jannat mein chale jaoge aur abhi tum par aglon ki si rodaad (haalat) na aayi. Pohnchi unhein sakhti aur shiddat aur hila hila daale gaye yahan tak ke keh utha Rasool aur us ke saath imaan walay – "Kab aayegi Allah ki madad?" Sun lo beshak Allah ki madad qareeb hai.
(ف411)اور جیسی سختیاں ان پر گزر چکیں ابھی تک تمہیں پیش نہ آئیں شان نزول : یہ آیت غزوۂ احزاب کے متعلق نازل ہوئی جہاں مسلمانوں کو سردی اور بھوک وغیرہ کی سخت تکلیفیں پہنچی تھیں اس میں انہیں صبر کی تلقین فرمائی گئی اور بتایا گیا کہ راہِ خدا میں تکالیف برداشت کرنا قدیم سے خاصانِ خدا کا معمول رہا ہے۔ ابھی تو تمہیں پہلوں کی سی تکلیفیں پہنچی بھی نہیں ہیں بخاری شریف میں حضرت خباب بن ارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سایہ کعبہ میں اپنی چادر مبارک سے تکیہ کئے ہوئے تشریف فرما تھے ہم نے حضور سے عرض کی کہ حضور ہمارے لئے کیوں دعا نہیں فرماتے ہماری کیوں مدد نہیں کرتے فرمایا تم سے پہلے لوگ گرفتار کئے جاتے تھے زمین میں گڑھا کھود کر اس میں دبائے جاتے تھے آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کرڈالے جاتے تھے اور لوہے کی کنگھیوں سے ان کے گوشت نوچے جاتے تھے اور ان میں کی کوئی مصیبت انہیں ان کے دین سے روک نہ سکتی تھی۔(ف412)یعنی شدت اس نہایت کو پہنچ گئی کہ ان امتوں کے رسول اور ان کے فرمانبردار مومن بھی طلب مدد میں جلدی کرنے لگے باوجود یکہ رسول بڑے صابر ہوتے ہیں اور ان کے اصحاب بھی لیکن باوجود ان انتہائی مصیبتوں کے وہ لوگ اپنے دین پر قائم رہے اور کوئی مصیبت و بلاان کے حال کو متغیر نہ کرسکی۔(ف413)اس کے جواب میں انہیں تسلی دی گئی اور یہ ارشاد ہوا ۔
تم سے پوچھتے ہیں (ف٤۱٤) کیا خرچ کریں، تم فرماؤ جو کچھ مال نیکی میں خرچ کرو تو وہ ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور راہ گیر کے لئے ہے اور جو بھلائی کرو (ف٤۱۵) بیشک اللہ اسے جانتا ہے (ف٤۱٦)
They ask you what they should spend; say, “Whatever you spend for good, is for parents and near relatives and orphans and the needy and the traveller”; and whatever good you do, indeed Allah knows it.
तुम से पूछते हैं क्या खर्च करें, तुम फ़रमाओ जो कुछ माल नेकी में खर्च करो तो वो माँ बाप और क़रीब के रिश्तेदारों और यतीमों और मुहताजों और राहगीर के लिये है और जो भलाई करो बेशक अल्लाह उसे जानता है
Tum se poochte hain kya kharch karein. Tum farmao jo kuch maal neki mein kharch karo to woh maa baap aur qareeb ke rishtedaron aur yateemon aur mohtaajon aur raah geer ke liye hai. Aur jo bhalayi karo beshak Allah use jaanta hai.
(ف414)شان نزول: یہ آیت عمرو بن جموع کے جواب میں نازل ہوئی جو بوڑھے شخص تھے اور بڑے مالدار تھے انہوں نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تھا کہ کیا خرچ کریں اور کس پر خرچ کریں اس آیت میں انہیں بتادیا گیا کہ جس قسم کا اور جس قدر مال قلیل یا کثیرخرچ کرو اس میں ثواب ہے اور مصارف اس کے یہ ہیں ۔مسئلہ:آیت میں صدقہ نافلہ کا بیان ہے ماں باپ کو زکوۃ اور صدقات واجبہ دینا جائز نہیں۔(جمل وغیرہ)(ف415)یہ ہر نیکی کو عام ہے انفاق ہو یا اور کچھ اور باقی مصارف بھی اس میں آگئے۔(ف416)اس کی جزا عطا فرمائے گا۔
تم پر فرض ہوا خدا کی راہ میں لڑنا اور وہ تمہیں ناگوار ہے (ف٤۱۷) اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں پسند آئے اور وہ تمہارے حق میں بری ہو اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے (ف٤۱۸)
Fighting in Allah's cause is ordained for you, whereas it is disliked by you; and it is possible that you hate a thing which is better for you; and it is possible that you like a thing which is bad for you; and Allah knows, and you do not know.
तुम पर फ़र्ज़ हुआ ख़ुदा की राह में लड़ना और वो तुम्हें नागवार है और क़रीब है कि कोई बात तुम्हें बुरी लगे और वो तुम्हारे हक़ में बेहतर हो और क़रीब है कि कोई बात तुम्हें पसन्द आए और वो तुम्हारे हक़ में बुरी हो और अल्लाह जानता है और तुम नहीं जानते
Tum par farz hua Khuda ki raah mein larna aur woh tumhein nagawaar hai. Aur qareeb hai ke koi baat tumhein buri lage aur woh tumhare haq mein behtar ho. Aur qareeb hai ke koi baat tumhein pasand aaye aur woh tumhare haq mein buri ho. Aur Allah jaanta hai aur tum nahi jaante.
(ف417)مسئلہ : جہاد فرض ہے جب اس کے شرائط پائے جائیں اگر کافر مسلمانوں کے ملک پر چڑھائی کریں تو جہاد فرض عین ہوتا ہے ورنہ فرض کفایہ۔(ف418)کہ تمہارے حق میں کیا بہتر ہے تو تم پر لازم ہے کہ حکم الہٰی کی اطاعت کرو اور اسی کو بہتر سمجھو چاہے وہ تمہارے نفس پر گراں ہو۔
تم سے پوچھتے ہیں ماہ حرام میں لڑنے کا حکم (ف٤۱۹) تم فرماؤ اس میں لڑنا بڑا گناہ ہے (ف٤۲۰) اور اللہ کی راہ سے روکنا اور اس پر ایمان نہ لانا اور مسجد حرام سے روکنا ، اور اس کے بسنے والوں کو نکال دینا (ف٤۲۱) اللہ کے نزدیک یہ گناہ اس سے بھی بڑے ہیں اور ان کا فساد (ف٤۲۲) قتل سے سخت تر ہے (ف٤۲۳) اور ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ تمہیں تمہارے دین سے پھیردیں اگر بن پڑے (ف۳۲٤) اور تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھرے پھر کافر ہو کر مرے تو ان لوگوں کا کیا اکارت گیا دنیا میں اور آخرت میں (ف٤۲۵) اور وہ دوزخ والے ہیں انہیں اس میں ہمیشہ رہنا ،
They ask you the decree regarding fighting in the sacred month; say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Fighting in it is a great sin; and to prevent from the way of Allah, and not to believe in Him and to prevent (people) from the Sacred Mosque and to expel its residents – these are greater sins before Allah"; and the turmoil they cause is worse than killing; and they will keep fighting you till they turn you away from your religion, if they can; and whoever among you turns renegade and dies as a disbeliever, then their deeds are wasted in this world and in the Hereafter; and they are the people of hell; they will remain in it forever.
तुम से पूछते हैं माहे हराम में लड़ने का हुक्म तुम फ़रमाओ उसमें लड़ना बड़ा गुनाह है और अल्लाह की राह से रोकना और उस पर ईमान न लाना और मस्जिदे हराम से रोकना, और उसके बसने वालों को निकाल देना अल्लाह के नज़दीक ये गुनाह उस से भी बड़े हैं और उनका फ़साद क़त्ल से सख़्ततर है और हमेशा तुम से लड़ते रहेंगे यहाँ तक कि तुम्हें तुम्हारे दीन से फेर दें अगर बन पड़े और तुम में जो कोई अपने दीन से फिरे फिर काफ़िर होकर मरे तो उन लोगों का क्या अकारत गया दुनिया में और आख़िरत में और वो दोज़ख़ वाले हैं उन्हें उसमें हमेशा रहना,
Tum se poochte hain maah-e-haraam mein larnay ka hukum. Tum farmao us mein larna bara gunaah hai. Aur Allah ki raah se rokna aur is par imaan na lana aur Masjid-e-Haraam se rokna, aur is ke basne walon ko nikal dena Allah ke nazdeek ye gunaah us se bhi baray hain. Aur un ka fasaad qatl se sakht tar hai. Aur hamesha tum se larte rahenge yahan tak ke tumhein tumhare deen se pher dein agar ban pare. Aur tum mein jo koi apne deen se phire phir kaafir hokar mare to un logon ka kya akaarat gaya duniya mein aur aakhrat mein aur woh dozakh walay hain unhein is mein hamesha rehna.
(ف419)شان نزول: سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبداللہ بن جحش کی سرکردگی میں مجاہدین کی ایک جماعت روانہ فرمائی تھی اس نے مشرکین سے قتال کیا ان کا خیال تھا کہ وہ روز جمادی الاخریٰ کا آخر دن ہے مگر درحقیقت چاند ۲۹ کو ہوگیا تھا اور رجب کی پہلی تاریخ تھی اس پر کفار نے مسلمانوں کو عار دلائی کہ تم نے ماہ حرام میں جنگ کی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے متعلق سوال ہونے لگے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(ف420)مگر صحابہ سے یہ گناہ واقع نہیں ہوا کیونکہ انہیں چاند ہونے کی خبر ہی نہ تھی ان کے نزدیک وہ دن ماہ حرام رجب کا نہ تھا ۔مسئلہ : ماہ ہائے حرام میں جنگ کی حرمت کا حکم آیہ اُقْتُلُوالْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْ تُّمُوْھُمْ سے منسوخ ہوگیا۔(ف421)جو مشرکین سے واقع ہوا کہ انہوں نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ا ور آپ کے اصحاب کو سال حدیبیہ کعبہ معظمہ سے روکا اور آپ کے زمانہ قیام مکہ معظمہ میں آپ کو اور آپ کے اصحاب کو اتنی ایذائیں دیں کہ وہاں سے ہجرت کرنا پڑی۔(ف422)یعنی مشرکین کا کہ وہ شرک کرتے ہیں او رسید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مومنین کو مسجد حرام سے روکتے اور طرح طرح کی ایذائیں دیتے ہیں۔(ف423)کیونکہ قتل تو بعض حالات میں مباح ہوتا ہے اور کفر کسی حال میں مباح نہیں اور یہاں تاریخ کا مشکوک ہونا عذر معقول ہے اور کفار کے کفر کے لئے تو کوئی عذر ہی نہیں ۔(ف424)اس میں خبر دی گئی کہ کفار مسلمانوں سے ہمیشہ عدوات رکھیں گے کبھی اس کے خلاف نہ ہوگا اور جہاں تک ان سے ممکن ہوگا وہ مسلمانوں کو دین سے منحرف کرنے کی سعی کرتے رہیں گے۔ اِنِ اسْتَطَاعُوْا سے مستفاد ہوتا ہے کہ بکرمہٖ تعالیٰ وہ اپنی مراد میں ناکام رہیں گے۔(ف425)مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ ارتداد سے تمام عمل باطل ہوجاتے ہیں آخرت میں تو اس طرح کہ ان پر کوئی اجرو ثواب نہیں اور دنیا میں اس طرح کہ شریعت مرتد کے قتل کا حکم دیتی ہے اس کی عورت اس پر حلال نہیں رہتی وہ اپنے اقارب کا ورثہ پانے کا مستحق نہیں رہتا اس کا مال معصوم نہیں رہتا اس کی مدح و ثنا و امداد جائز نہیں۔(روح البیان وغیرہ)(الف) شان نزول : عبداللہ بن جحش کی سرکردگی میں جو مجاہدین بھیجے گئے تھے ان کی نسبت بعض لوگوں نے کہا کہ چونکہ انہیں خبر نہ تھی کہ یہ دن رجب کا ہے اس لئے اس روز قتال کرنا گناہ تو نہ ہوا لیکن اس کا کچھ ثواب بھی نہ ملے گا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ ان کا یہ عمل جہاد مقبول ہے اور اس پر انہیں امیدوار رحمت الٰہی رہنا چاہئے اور یہ امید قطعاً پوری ہوگی۔(خازن) مسئلہ: یَرْجُوْنَ سے ظاہر ہوا کہ عمل سے اجر واجب نہیں ہوتا بلکہ ثواب دینا محض فضلِ الٰہی ہے۔
وه جو ایمان لائے اور وہ جنہوں نے اللہ کے لئے اپنے گھر بار چھوڑے اور اللہ کی راہ میں لڑے وہ رحمت الٰہی کے امیدوار ہیں ، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف٤۲۵ ۔ الف)
Those who believed, and those who migrated for the sake of Allah, and fought in Allah's cause – they are hopeful of gaining Allah’s mercy; and Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
वो जो ईमान लाए और वो जिन्होंने अल्लाह के लिये अपने घर बार छोड़े और अल्लाह की राह में लड़े वो रहमत इलाही के उम्मीदवार हैं, और अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है
Woh jo imaan laaye aur woh jinhon ne Allah ke liye apne ghar baar chhore aur Allah ki raah mein lade woh rahmat-e-ilahi ke ummeedwar hain. Aur Allah bakhshne wala meherbaan hai.
(ف425)مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ ارتداد سے تمام عمل باطل ہوجاتے ہیں آخرت میں تو اس طرح کہ ان پر کوئی اجرو ثواب نہیں اور دنیا میں اس طرح کہ شریعت مرتد کے قتل کا حکم دیتی ہے اس کی عورت اس پر حلال نہیں رہتی وہ اپنے اقارب کا ورثہ پانے کا مستحق نہیں رہتا اس کا مال معصوم نہیں رہتا اس کی مدح و ثنا و امداد جائز نہیں۔(روح البیان وغیرہ)(الف) شان نزول : عبداللہ بن جحش کی سرکردگی میں جو مجاہدین بھیجے گئے تھے ان کی نسبت بعض لوگوں نے کہا کہ چونکہ انہیں خبر نہ تھی کہ یہ دن رجب کا ہے اس لئے اس روز قتال کرنا گناہ تو نہ ہوا لیکن اس کا کچھ ثواب بھی نہ ملے گا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ ان کا یہ عمل جہاد مقبول ہے اور اس پر انہیں امیدوار رحمت الٰہی رہنا چاہئے اور یہ امید قطعاً پوری ہوگی۔(خازن) مسئلہ: یَرْجُوْنَ سے ظاہر ہوا کہ عمل سے اجر واجب نہیں ہوتا بلکہ ثواب دینا محض فضلِ الٰہی ہے۔
تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہیں، تم فرمادو کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ دنیوی نفع بھی اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے (ف٤۲٦) تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں (ف۳۲۷) تم فرماؤ جو فاضل بچے (ف۳۲۸) اسی طرح اللہ تم سے آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم دنیا ،
They ask you the decree regarding wine (intoxicants) and gambling; say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “In both is great sin, and some worldly benefit for men – but their sin is greater than their benefit”; and they ask you what they should spend; say, “That which remains spare (surplus)”; this is how Allah explains His verses to you, so that you may think.
तुम से शराब और जुए का हुक्म पूछते हैं, तुम फ़रमा दो कि उन दोनों में बड़ा गुनाह है और लोगों के कुछ दुनियावी नफ़अ भी और उनका गुनाह उनके नफ़अ से बड़ा है तुम से पूछते हैं क्या खर्च करें तुम फ़रमाओ जो फ़ाज़िल बचे उसी तरह अल्लाह तुम से आयतें बयान फ़रमाता है कि कहीं तुम दुनिया,
Tum se sharaab aur jue ka hukum poochte hain. Tum farma do ke in dono mein bara gunaah hai aur logon ke kuch dunyawi nafa bhi aur un ka gunaah un ke nafa se bara hai. Tum se poochte hain kya kharch karein. Tum farmao jo fazil bachay. Isi tarah Allah tum se aayatein bayan farmata hai ke kahin tum duniya,
(ف426)حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اگر شراب کا ایک قطرہ کنویں میں گر جائے پھر اس جگہ منارہ بنایا جائے تو میں اس پر اذان نہ کہوں اور اگر دریا میں شراب کا قطرہ پڑے پھر دریا خشک ہوا ور وہاں گھاس پیدا ہو اس میں اپنے جانوروں کو نہ چراؤں سبحان اللہ گناہ سے کس قدر نفرت ہے۔ رَزَقَناَ اللّٰہُ تَعَالیٰ اِتِّباَعُھُمْ شراب ۳ھ میں غزوۂ احزاب سے چند روز بعد حرام کی گئی اس سے قبل یہ بتایا گیا تھا کہ جو ئے اور شراب کا گناہ اس کے نفع سے زیادہ ہے نفع تو یہی ہے کہ شراب سے کچھ سرور پیدا ہوتا ہے یا اس کی خریدو فروخت سے تجارتی فائدہ ہوتا ہے اور جوئے میں کبھی مفت کا مال ہاتھ آتا ہے اور گناہوں اور مفسدوں کا کیا شمار عقل کا زوال غیرت و حمیت کا زوال عبادات سے محرومی لوگوں سے عداوتیں سب کی نظر میں خوار ہونا دولت و مال کی اضاعت ایک روایت میں ہے کہ جبریل امین نے حضور پر نور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور میں عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کو جعفرطیار کی چار خصلیتں پسند ہیں۔ حضور نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا انہوں نے عرض کیا کہ ایک تویہ ہے کہ میں نے شراب کبھی نہیں پی یعنی حکم حرمت سے پہلے بھی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ میں جانتا تھا کہ اس سے عقل زائل ہوتی ہے ا ور میں چاہتا تھا کہ عقل اور بھی تیز ہو، دوسری خصلت یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں بھی میں نے کبھی بت کی پوجا نہیں کی کیونکہ میں جانتا تھا کہ یہ پتھر ہے نہ نفع دے سکے نہ ضرر، تیسری خصلت یہ ہے کہ کبھی میں زنا میں مبتلا نہ ہوا کہ اس کو بے غیرتی سمجھتا تھا، چوتھی خصلت یہ تھی کہ میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا کیونکہ میں اس کو کمینہ پن خیال کرتاتھا، مسئلہ: شطرنج تاش وغیرہ ہار جیت کے کھیل اور جن پر بازی لگائی جائے سب جوئے میں داخل اور حرام ہیں۔ (روح البیان)(ف427)شان نزول :سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو صدقہ دینے کی رغبت دلائی تو آپ سے دریافت کیا گیا کہ مقدار ارشاد فرمائیں کتنا مال راہِ خدا میں دیا جائے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(خازن)(ف428)یعنی جتنا تمہاری حاجت سے زائد ہو ۔ ابتدائے اسلام میں حاجت سے زائد مال کا خرچ کرنا فرض تھا صحابہ کرام اپنے مال میں سے اپنی ضرورت کی قدر لے کر باقی سب راہ خدا میں تصدُّق کردیتے تھے۔یہ حکم آیت زکوۃ سے منسوخ ہوگیا۔
اور آخرت کے کام سوچ کر کرو (ف٤۲۹) اور تم سے یتیموں کا مسئلہ پوچھتے ہیں (ف٤۳۰) تم فرماؤ ان کا بھلا کرنا بہتر ہے اور اگر اپنا ان کا خرچ ملالو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور خدا خوب جانتا ہے بگاڑنے والے کو سنوارنے والے سے، اور اللہ چاہتا ہے تو تمہیں مشقت میں ڈالتا، بیشک اللہ زبردست حکمت والا ہے،
Before you execute your deeds of this world and of the Hereafter; and they ask you the decree regarding orphans; say, “To do good towards them is better; and if you combine your expenses with theirs, they are your brothers”; and Allah knows very well the one who spoils from him who improves; and if Allah willed, He could have put you in hardship; and Allah is Almighty, Wise.
और आख़िरत के काम सोचकर करो और तुम से यतीमों का मसअला पूछते हैं तुम फ़रमाओ उनका भला करना बेहतर है और अगर अपना उनका खर्च मिला लो तो वो तुम्हारे भाई हैं और ख़ुदा खूब जानता है बिगाड़ने वाले को सँवारने वाले से, और अल्लाह चाहता तो तुम्हें मशक्कत में डालता, बेशक अल्लाह ज़बरदस्त हिकमत वाला है,
Aur aakhrat ke kaam soch kar karo. Aur tum se yateemon ka masla poochte hain. Tum farmao un ka bhala karna behtar hai. Aur agar apna un ka kharch mila lo to woh tumhare bhai hain. Aur Khuda khoob jaanta hai bigaarnay walay ko sanwarne walay se. Aur Allah chahta to tumhein mushqqat mein daalta. Beshak Allah zabardast hikmat wala hai.
(ف429)کہ جتنا تمہاری دنیوی ضرورت کے لئے کافی ہو وہ لے کر باقی سب اپنے نفع آخرت کے لئے خیرات کردو (خازن) (ف430)کہ ان کے اموال کو اپنے مال سے ملانے کا کیا حکم ہے شان نزول آیت اِنَّ الَّذِیْنَ یَأ کُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰی ظُلْماً کے نزول کے بعد لوگوں نے یتیموں کے مال جدا کردیئے اور ان کا کھانا پینا علیحدہ کردیا اس میں یہ صورتیں بھی پیش آئیں کہ جو کھانا یتیم کے لئے پکایا اور اس میں سے کچھ بچ رہا وہ خراب ہوگیا اور کسی کے کام نہ آیا اس میں یتیموں کا نقصان ہوا یہ صورتیں دیکھ کر حضرت عبداللہ بن رواحہ نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ اگر یتیم کے مال کی حفاظت کی نظر سے اس کا کھانا اس کے اولیاء اپنے کھانے کے ساتھ ملالیں تو اس کا کیا حکم ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور یتیموں کے فائدے کے لئے ملانے کی اجازت دی گئی۔
اور شرک والی عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک مسلمان نہ ہوجائیں (ف٤۱۳) اور بیشک مسلمان لونڈی مشرکہ سے اچھی ہے (ف٤۳۲) اگرچہ وہ تمہیں بھاتی ہو اور مشرکوں کے نکاح میں نہ دو جب تک وہ ایمان نہ لائیں (ف٤۳۳) اور بیشک مسلمان غلام مشرک سے اچھا ہے اگرچہ وہ تمہیں بھاتا ہو، وہ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں (ف٤۳٤) اور اللہ جنت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے اپنے حکم سے اور اپنی آیتیں لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں،
And do not marry polytheist women until they become Muslims; for undoubtedly a Muslim bondwoman is better than a polytheist woman, although you may like her; and do not give your women in marriage to polytheist men until they accept faith; for undoubtedly a Muslim slave is better than a polytheist, although you may like him; they invite you towards the fire; and Allah invites towards Paradise and forgiveness by His command; and explains His verses to mankind so that they may accept guidance.
और शिर्क वाली औरतों से निकाह न करो जब तक मुसलमान न हो जाएँ और बेशक मुसलमान लौंडी मुशरिका से अच्छी है अगरचे वो तुम्हें भाती हो और मुशरिकों के निकाह में न दो जब तक वो ईमान न लाएँ और बेशक मुसलमान ग़ुलाम मुशरिक से अच्छा है अगरचे वो तुम्हें भाता हो, वो दोज़ख़ की तरफ़ बुलाते हैं और अल्लाह जन्नत और बख़्शिश की तरफ़ बुलाता है अपने हुक्म से और अपनी आयतें लोगों के लिये बयान करता है कि कहीं वो नसीहत मानें,
Aur shirk wali auraton se nikah na karo jab tak Musalman na ho jayein. Aur beshak Musalman londi mushrika se achhi hai agarche woh tumhein bhaati ho. Aur mushrikon ke nikah mein na do jab tak woh imaan na laayein. Aur beshak Musalman ghulaam mushrik se achha hai agarche woh tumhein bhaata ho. Woh dozakh ki taraf bulate hain aur Allah jannat aur bakhshish ki taraf bulata hai apne hukum se. Aur apni aayatein logon ke liye bayan karta hai ke kahin woh naseehat maanain.
(ف431)شانِ نزول:حضرت مرثد غَنَوِی ایک بہادر شخص تھے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں مکّہ مکرّمہ روانہ فرمایا تاکہ وہاں سے تدبیر کے ساتھ مسلمانوں کو نکال لائیں وہاں عناق نامی ایک مشرکہ عورت تھی جو زمانہ جاہلیت میں ان کے ساتھ محبت رکھتی تھی حسین اور مالدار تھی جب اس کو ان کی آمد کی خبر ہوئی تو وہ آپ کے پاس آئی اور طالب وصال ہوئی آپ نے بخوفِ الٰہی اس سے اعراض کیا اور فرمایا کہ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا تب اس نے نکاح کی درخواست کی آپ نے فرمایاکہ یہ بھی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اجازت پر موقوف ہے اپنے کام سے فارغ ہو کر جب آپ خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے تو حال عرض کرکے نکاح کی بابت دریافت کیااس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(تفسیر احمدی) بعض علماء نے فرمایا جو کوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کفر کرے وہ مشرک ہے خواہ اللہ کو واحد ہی کہتا ہو اور توحید کا مدعی ہو (خازن)(ف432)شانِ نزول: ایک روز حضرت عبداللہ بن رواحہ نے کسی خطاپر اپنی باندی کے طمانچہ مارا پھر خدمت اقدس میں حاضر ہو کر اس کاذکر کیاسید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کاحال دریافت کیاعرض کیا کہ وہ اللہ کی وحدانیت اور حضور کی رسالت کی گواہی دیتی ہے۔ رمضان کے روزے رکھتی ہے خوب وضو کرتی ہے اور نماز پڑھتی ہے حضور نے فرمایا وہ مؤمنہ ہے آپ نے عرض کیا:تو اس کی قسم جس نے آپ کو سچا نبی بنا کر مبعوث فرمایا میں اس کو آزاد کرکے اس کے ساتھ نکاح کروں گا اور آپ نے ایسا ہی کیااس پر لوگوں نے طعنہ زنی کی کہ تم نے ایک سیاہ فام باندی کے ساتھ نکاح کیاباوجوویکہ فلاں مشرکہ حرّہ عورت تمہارے لئے حاضر ہے وہ حسین بھی ہے مالدار بھی ہے اس پر نازل ہوا۔ وَلَاَمَۃٌ مُّوْئمِنَۃٌ یعنی مسلمان باندی مشرکہ سے بہتر ہے خواہ مشرکہ آزاد ہو اور حسن و مال کی وجہ سے اچھی معلوم ہوتی ہو۔(ف433)یہ عورت کے اولیاء کو خطاب ہے مسئلہ :مسلمان عورت کا نکاح مشرک و کافر کے ساتھ باطل و حرام ہے۔(ف434) تو ان سے اجتناب ضروری اور ان کے ساتھ دوستی و قرابت ناروا ۔
اور تم سے پوچھتے ہیں حیض کا حکم (ف٤۳۵) تم فرماؤ وہ ناپاکی ہے تو عورتوں سے الگ رہو حیض کے دنوں اور ان سے نزدیکی نہ کرو جب تک پاک نہ ہولیں پھر جب پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے تمہیں اللہ نے حکم دیا ، بیشک اللہ پسند کرتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتا ہے سھتروں کو،
And they ask you the decree concerning menstruation; say, “It is an impurity, so stay away from women at such times, and do not cohabit with them until they have cleansed themselves; so when they have cleansed themselves, cohabit with them the way Allah has determined for you”; indeed Allah loves those who repent profusely, and loves those who keep clean.
और तुम से पूछते हैं हाइज़ का हुक्म तुम फ़रमाओ वो नापाकी है तो औरतों से अलग रहो हाइज़ के दिनों और उनसे नज़दीकी न करो जब तक पाक न हो लें फिर जब पाक हो जाएँ तो उनके पास जाओ जहाँ से तुम्हें अल्लाह ने हुक्म दिया, बेशक अल्लाह पसन्द करता है बहुत तौबा करने वालों को और पसन्द रखता है सुथरों को,
Aur tum se poochte hain haiz ka hukum. Tum farmao woh napaaki hai to auraton se alag raho haiz ke dino mein. Aur un se nazdeeki na karo jab tak paak na holein. Phir jab paak ho jayein to un ke paas jao jahan se tumhein Allah ne hukum diya. Beshak Allah pasand karta hai bohot tauba karne walon ko aur pasand rakhta hai suthron ko.
(ف435)شانِ نزول:عرب کے لوگ یہود و مجوس کی طرح حائضہ عورتوں سے کمال نفرت کرتے تھے ساتھ کھانا پینا ایک مکان میں رہنا گوارا نہ تھا بلکہ شدت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ ان کی طرف دیکھنا اور ان سے کلام کرنابھی حرام سمجھتے تھے اور نصارٰی اس کے برعکس حیض کے ایام میں عورتوں کے ساتھ بڑی محبت سے مشغول ہوتے تھے اور اختلاط میں بہت مبالغہ کرتے تھے مسلمانوں نے حضور سے حیض کاحکم دریافت کیااس پر یہ آیت نازل ہوئی اور افراط وتفریط کی راہیں چھوڑ کر اعتدال کی تعلیم فرمائی گئی اور بتادیا گیا کہ حالتِ حیض میں عورتوں سے مجامعت ممنوع ہے۔
تمہاری عورتیں تمہارے لئے کھیتیاں ہیں، تو آؤ اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو (ف٤۳٦) اور اپنے بھلے کا کام پہلے کرو (ف٤۳۷) اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تمہیں اس سے ملنا ہے اور اے محبوب بشارت دو ایمان والوں کو،
Your women are a tillage for you; so come into your tillage as you will; and first perform the deeds that benefit you; and keep fearing Allah, and know well that you have to meet Him; and (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) give glad tidings to the Muslims.
तुम्हारी औरतें तुम्हारे लिये खेतियाँ हैं, तो आओ अपनी खेतियों में जिस तरह चाहो और अपने भले का काम पहले करो और अल्लाह से डरते रहो और जान रखो कि तुम्हें उससे मिलना है और ऐ महबूब बशारत दो ईमान वालों को,
Tumhari auratein tumhare liye khetiyan hain. To aao apni khetiyon mein jis tarah chaho aur apne bhale ka kaam pehle karo. Aur Allah se darte raho aur jaan rakho ke tumhein us se milna hai. Aur aye mehboob basharat do imaan walon ko.
(ف436)یعنی عورتوں کی قربت سے نسل کا قصد کرو نہ قضاء شہوت کا ۔(ف437)یعنی اعمال صالحہ یاجماع سے قبل بسم اللہ پڑھنا۔
اور اللہ کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بنالو (ف٤۳۸) کہ احسان اور پرہیزگاری اور لوگوں میں صلح کرنے کی قسم کرلو، اور اللہ سنتا جانتا ہے،
And do not make Allah a target of your oaths, by pledging against being virtuous and pious, and against making peace among mankind; and Allah is All Hearing, All Knowing.
और अल्लाह को अपनी क़समों का निशाना न बना लो कि एहसान और परहेज़गारी और लोगों में सुल्ह करने की क़सम कर लो, और अल्लाह सुनता जानता है,
Aur Allah ko apni qasmon ka nishana na bana lo ke ehsaaan aur parhezgari aur logon mein sulah karne ki qasam kar lo. Aur Allah sunta jaanta hai.
(ف438)حضرت عبداللہ بن رواحہ نے اپنے بہنوئی نعمان بن بشیر کے گھر جانے اور ان سے کلام کرنے اور ان کے خصوم کے ساتھ ان کی صلح کرانے سے قسم کھالی تھی جب اس کے متعلق ان سے کہا جاتا تھا تو کہہ دیتے تھے کہ میں قسم کھاچکا ہوں اس لئے یہ کام کر ہی نہیں سکتا اس باب میں یہ آیت نازل ہوئی اور نیک کام کرنے سے قسم کھالینے کی ممانعت فرمائی گئی مسئلہ :اگر کوئی شخص نیکی سے باز رہنے کی قسم کھالے تو اس کو چاہئے کہ قسم کو پورا نہ کرے بلکہ وہ نیک کام کرے اور قسم کاکفارہ دے ۔مسلم شریف کی حدیث میں ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے کسی امر پر قسم کھالی پھر معلوم ہوا کہ خیر اور بہتری اس کے خلاف میں ہے تو چاہئے کہ اس امر خیر کو کرے اور قسم کا کفارہ دے ۔مسئلہ: بعض مفسرین نے یہ بھی کہاہے کہ اس آیت سے بکثرت قسم کھانے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے۔
اور تمہیں نہیں پکڑتا ان قسموں میں جو بے ارادہ زبان سے نکل جائے ہاں اس پر گرفت فرماتا ہے جو کام تمہارے دلوں نے کئے (ف٤۳۹) اور اللہ بخشنے والا حلم والا ہے،
Allah does not take you to task for oaths which are made unintentionally but He does take you to task for deeds which your hearts have done; and Allah is Oft Forgiving, Most Forbearing.
और तुम्हें नहीं पकड़ता उन क़समों में जो बेइरादा ज़ुबान से निकल जाए हाँ उस पर गिरफ़्त फ़रमाता है जो काम तुम्हारे दिलों ने किये और अल्लाह बख़्शने वाला हलीम वाला है,
Aur tumhein nahi pakarta un qasmon mein jo be-irada zabaan se nikal jaye. Haan, us par giraft farmata hai jo kaam tumhare dilon ne kiye. Aur Allah bakhshne wala halim wala hai.
(ف439) مسئلہ : قسم تین طرح کی ہوتی ہے(۱) لغو (۲) غموس (۳) منعقدہ (۱) لغویہ ہے کہ کسی گزرے ہوئے امر پر اپنے خیال میں صحیح جان کر قسم کھائے اور درحقیقت وہ اس کے خلاف ہو یہ معاف ہے اور اس پر کفارہ نہیں۔(۲) غموس یہ ہے کہ کسی گزرے ہوئے امر پر دانستہ جھوٹی قسم کھائے اس میں گنہگار ہوگا۔(۳) منعقدہ یہ ہے کہ کسی آئندہ امر پر قصد کرکے قسم کھائے اس قسم کو اگر توڑے تو گنہگار بھی ہے اور کفارہ بھی لازم۔
اور وہ جو قسم کھا بیٹھتے ہیں اپنی عورتوں کے پاس جانے کی انہیں چار مہینے کی مہلت ہے، پس اگر اس مدت میں پھر آئے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے
Those who swear not to touch their wives have four months’ time; so if they turn back during this period, indeed Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
और वो जो क़सम खा बैठते हैं अपनी औरतों के पास जाने की उन्हें चार महीने की मोहलत है, पस अगर उस मुद्दत में फिर आएँ तो अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है
Aur woh jo qasam kha baithte hain apni aurton ke paas jaane ki unhein chaar mahinay ki mohlat hai, pas agar is muddat mein phir aaye to Allah bakhshne wala Meherban hai.
اور اگر چھوڑ دینے کا ارادہ پکا کرلیا تو اللہ سنتا جانتا ہے (ف٤٤۰)
And if they firmly decide to divorce them, Allah is All Hearing, All Knowing.
और अगर छोड़ देने का इरादा पक्का कर लिया तो अल्लाह सुनता जानता है
Aur agar chhod dene ka iraada paka kar liya to Allah sunta jaanta hai.
(ف440)شانِ نزول: زمانہ جاہلیت میں لوگوں کا یہ معمول تھا کہ اپنی عورتوں سے مال طلب کرتے اگر وہ دینے سے انکار کرتیں تو ایک سال دو سال تین سال یا اس سے زیادہ عرصہ ان کے پاس نہ جانے اور صحبت ترک کرنے کی قسم کھالیتے تھے اور انہیں پریشانی میں چھوڑ دیتے تھے نہ وہ بیوہ ہی تھیں کہ کہیں اپنا ٹھکانہ کرلیتیں نہ شوہر دار کہ شوہر سے آرام پاتیں اسلام نے اس ظلم کو مٹایااور ایسی قسم کھانے والوں کے لئے چار مہینے کی مدت معین فرمادی کہ اگر عورت سے چار مہینے یااس سے زائد عرصہ کے لئے یا غیر معین مدت کے لئے ترک صحبت کی قسم کھالے جس کو ایلا کہتے ہیں تو اس کے لئے چار ماہ انتظار کی مہلت ہے اس عرصہ میں خوب سوچ سمجھ لے کہ عورت کو چھوڑنا اس کے لئے بہتر ہے یارکھنا اگر رکھنا بہتر سمجھے اور اس مدت کے اندر رجوع کرے تو نکاح باقی رہے گا اور قسم کاکفارہ لازم ہوگا اور اگر اس مدت میں رجوع نہ کیا قسم نہ توڑی تو عورت نکاح سے باہر ہوگئی اور اس پر طلاق بائن واقع ہوگئی۔ مسئلہ :اگر مرد صحبت پر قادر ہو تو رجوع صحبت ہی سے ہوگا اور اگر کسی وجہ سے قدرت نہ ہو تو بعد قدرت صحبت کا وعدہ رجوع ہے۔(تفسیری احمدی)
اور طلاق والیاں اپنی جانوں کو روکے رہیں تین حیض تک (ف٤٤۱) اور انہیں حلال نہیں کہ چھپائیں وہ جو اللہ نے ان کے پیٹ میں پیدا کیا (ف٤٤۲) اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتی ہیں (ف٤٤۳) اور ان کے شوہروں کو اس مدت کے اندر ان کے پھیر لینے کا حق پہنچتا ہے اگر ملاپ چاہیں (ف٤٤٤) اور عورتوں کا بھی حق ایسا ہی ہے جیسا ان پر ہے شرع کے موافق (ف٤٤۵) اور مردوں کو ان پر فضیلت ہے، اور اللہ غالب حکمت والا ہے،
And divorced women shall restrain themselves for three menstrual periods; and it is not lawful for them to conceal what Allah has created in their wombs if they believe in Allah and the Last Day; and their husbands have the right to take them back, during this time, if they desire reconciliation; and the women also have rights similar to those of men over them, in accordance with Islamic law – and men have superiority over them; and Allah is Almighty, Wise.
और तलाक़ वालियाँ फ अपनी जानों को रोके रहें तीन हाइज़ तक और उन्हें हलाल नहीं कि छुपाएँ वह जो अल्लाह ने उनके पेट में पैदा किया अगर अल्लाह और क़यामत पर ईमान रखती हैं और उनके शौहरों को उस मुद्दत के अंदर उनके फेर लेने का हक़ पहुँचता है अगर मिलाप चाहें और औरतों का भी हक़ ऐसा ही है जैसा उन पर है शरअ के मुताबिक और मर्दों को उन पर फ़ज़ीलत है , और अल्लाह ग़ालिब हिकमत वाला है ,
Aur talaaq waliyan apni jaanon ko roke rahen teen haiz tak aur unhein halal nahi ke chhupayen woh jo Allah ne unke pait mein paida kiya agar Allah aur Qayamat par imaan rakhti hain aur unke shoharon ko is muddat ke andar unke pher lene ka haq pohchta hai agar milaap chahen aur aurton ka bhi haq aisa hi hai jaisa un par hai shara’ ke muwafiq aur mardon ko unpar fazilat hai, aur Allah Ghalib Hikmat wala hai.
(ف441) اس آیت میں مطلقہ عورتوں کی عدت کا بیان ہے جن عورتوں کو ان کے شوہروں نے طلاق دی اگر وہ شوہر کے پاس نہ گئی تھیں اور ان سے خلوت صحیحہ نہ ہوئی تھی جب تو ان پر طلاق کی عدت ہی نہیں ہے جیسا کہ آیہ مَالَکُمْ عَلَیْھِنَّ مِنْ عِدَّۃٍ میں ارشاد ہے اور جن عورتوں کو خورد سالی یا کبر سنی کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو یا جو حاملہ ہو ان کی عدت کا بیان سورہ طلاق میں آئے گا۔ باقی جو آزاد عورتیں ہیں یہاں ان کی عدت و طلاق کا بیان ہے کہ اُن کی عدت تین حیض ہے۔(ف442)وہ حمل ہو یاخون حیض کیونکہ اس کے چھپانے سے رجعت اور ولد میں جو شوہر کاحق ہے وہ ضائع ہوگا۔(ف443)یعنی یہی متقضائے ایمانداری ہے۔(ف444) یعنی طلاق رجعی میں عدت کے اندر شوہر عورت سے رجوع کرسکتا ہے خواہ عورت راضی ہو یانہ ہو لیکن اگر شوہر کو ملاپ منظور ہو تو ایسا کرے ضرر رسانی کا قصد نہ کرے جیسا کہ اہل جاہلیت عورت کو پریشان کرنے کے لئے کرتے تھے۔(ف445)یعنی جس طرح عورتوں پر شوہروں کے حقوق کی ادا واجب ہے اسی طرح شوہروں پر عورتوں کے حقوق کی رعایت لازم ہے۔
یہ طلاق (ف٤٤٦) دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے (ف٤٤۷) یا نکوئی (اچھے سلوک) کے ساتھ چھوڑ دینا ہے (ف٤٤۸) اور تمہیں روا نہیں کہ جو کچھ عورتوں کو دیا (ف٤٤۹) اس میں سے کچھ واپس لو (ف٤۵۰) مگر جب دونوں کو اندیشہ ہو کہ اللہ کی حدیں قائم نہ کریں گے (ف٤۵۱) پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں ٹھیک انہیں حدوں پر نہ رہیں گے تو ان پر کچھ گناہ نہیں اس میں جو بدلہ دے کر عورت چھٹی لے، (ف٤۵۲) یہ اللہ کی حدیں ہیں ان سے آگے نہ بڑھو اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھے تو وہی لوگ ظالم ہیں،
This type of divorce is up to twice; the woman must then be retained on good terms or released with kindness; and it is not lawful for you to take back from women a part of what you have given them except when both fear that they may not be able to stay within the limits established by Allah; so if you fear that they may not be able to observe the limits of Allah, then it is no sin on them if the woman pays to get her release; these are the limits set by Allah, so do not exceed them; and those who transgress Allah’s limits are the unjust.
यह तलाक़ दो बार तक है फिर भलाई के साथ रोक लेना है या नक़ोई (अच्छे सुलूक) के साथ छोड़ देना है और तुम्हें रवा नहीं कि जो कुछ औरतों को दिया उस में से कुछ वापस लो मगर जब दोनों को अन्देशा हो कि अल्लाह की हदें क़ायम न करेंगे फिर अगर तुम्हें ख़ौफ़ हो कि वह दोनों ठीक उन्हीं हदों पर न रहें गे तो उन पर कुछ गुनाह नहीं उस में जो बदला दे कर औरत छुट्टी ले , यह अल्लाह की हदें हैं उन से आगे न बढ़ो और जो अल्लाह की हदों से आगे बढ़े तो वही लोग ज़ालिम हैं ,
Ye talaaq do baar tak hai phir bhalayi ke saath rok lena hai ya niku’i (achhe sulook) ke saath chhod dena hai aur tumhein rawa nahi ke jo kuch aurton ko diya us mein se kuch wapas lo magar jab donon ko andesha ho ke Allah ki hadain qayam na karenge phir agar tumhein khauf ho ke woh dono theek unhi hadon par na rahein to unpar kuch gunaah nahi is mein jo badla de kar aurat chhutti le, ye Allah ki hadain hain in se aage na badho aur jo Allah ki hadon se aage badhe to wahi log zaalim hain.
(ف446)یعنی طلاق رجعی شانِ نزول: ایک عورت نے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اس کے شوہر نے کہاہے کہ وہ اس کو طلاق دیتااور رجعت کرتا رہے گاہر مرتبہ جب طلاق کی عدت گزرنے کے قریب ہوگی رجعت کرلے گا پھر طلاق دے دے گااسی طرح عمر بھر اس کو قید رکھے گااس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ارشاد فرمادیا کہ طلاق رجعی دو بار تک ہے اس کے بعد طلاق دینے پر رجعت کا حق نہیں۔(ف447)رجعت کرکے ۔(ف448)اس طرح کہ رجعت نہ کرے اور عدت گزر کر عورت بائنہ ہوجائے۔(ف449)یعنی مہر (ف450)طلاق دیتے وقت (ف451)جو حقوق زوجین کے متعلق ہیں۔(ف452)یعنی طلاق حاصل کرے شانِ نزول: یہ آیت جمیلہ بنت عبداللہ کے باب میں نازل ہوئی یہ جمیلہ ثابت بن قیس ابن شماس کے نکاح میں تھیں اورشوہر سے کمال نفرت رکھتی تھیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور میں اپنے شوہر کی شکایت لائیں اور کسی طرح ان کے پاس رہنے پر راضی نہ ہوئیں تب ثابت نے کہا کہ میں نے ان کو ایک باغ دیاہے اگر یہ میرے پاس رہناگوارا نہیں کرتیں اور مجھ سے علیحدگی چاہتی ہیں تو وہ باغ مجھے واپس کریں میں ان کو آزاد کردوں جمیلہ نے اس کو منظور کیا ثابت نے باغ لے لیااور طلاق دے دی اس طرح کی طلاق کو خُلَعْ کہتے ہیں مسئلہ :خُلَع طلاق بائن ہوتا ہے۔ مسئلہ : خُلَعْ میں لفظ خلع کاذکر ضروری ہے۔ مسئلہ : اگرجدائی کی طلب گار عورت ہو توخُلَع میں مقدار مہر سے زائد لینا مکروہ ہے اور اگر عورت کی طرف سے نشوز نہ ہو مرد ہی علیحدگی چاہے تو مرد کو طلاق کے عوض مال لینا مطلقاً مکروہ ہے۔
پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے، (ف٤۵۳) پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں (ف٤۵٤) اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نباہیں گے، اور یہ اللہ کی حدیں ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کے لئے،
Then if he divorces her the third time, she will not be lawful to him until she has stayed with another husband; then if the other husband divorces her, it is no sin for these two to reunite if they consider that they can keep the limits of Allah established; these are the limits set by Allah which He explains for people of intellect.
फिर अगर तीसरी तलाक़ उसे दी तो अब वह औरत उसे हलाल न होगी जब तक दूसरे ख़ावन्द के पास न रहे , फिर वह दूसरा अगर उसे तलाक़ दे दे तो उन दोनों पर गुनाह नहीं कि फिर आपस में मिल जाएँ अगर समझते हों कि अल्लाह की हदें निभाएँ गे , और यह अल्लाह की हदें हैं जिन्हे बयान करता है दानिशमन्दों के लिये ,
Phir agar teesri talaaq use di to ab woh aurat use halal na hogi jab tak dusre khawind ke paas na rahe, phir woh dusra agar use talaaq de de to in donon par gunaah nahi ke phir aapas mein mil jaayen agar samajhte hon ke Allah ki hadain nibahenge, aur ye Allah ki hadain hain jinhein bayan karta hai danishmando ke liye.
(ف453)مسئلہ:تین طلاقوں کے بعد عورت شوہر پر بحرمت مغلظہ حرام ہوجاتی ہے اب نہ اس سے رجوع ہوسکتا ہے نہ دوبارہ نکاح جب تک کہ حلالہ ہو یعنی بعد عدت دوسرے سے نکاح کرے اور وہ بعد صحبت طلاق دے پھر عدت گزرے۔(ف454)دوبارہ نکاح کرلیں۔
اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی میعاد آلگے (ف٤۵۵) تو اس وقت تک یا بھلائی کے ساتھ روک لو (ف٤۵٦) یا نکوئی (اچھے سلوک) کے ساتھ چھوڑ دو (ف٤۵۷) اور انہیں ضرر دینے کے لئے روکنا نہ ہو کہ حد سے بڑھو اور جو ایسا کرے وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے (ف٤۵۸) اور اللہ کی آیتوں کو ٹھٹھا نہ بنالو (ف٤۵۹) اور یاد کرو اللہ کا احسان جو تم پر ہے (ف٤٦۰) اور وہ جو تم پر کتاب اور حکمت (ف٤٦۱) اتاری تمہیں نصیحت دینے کو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے (ف٤٦۲)
And when you have divorced women, and their term reaches its end, either retain them on good terms within this period or release them with kindness; and do not retain them in order to hurt them, hence transgressing the limits; and he who does so harms only himself; and do not make the signs of Allah the objects of ridicule; and remember Allah’s favour that is bestowed upon you and that He has sent down to you the Book and wisdom, for your guidance; keep fearing Allah and know well that Allah knows everything. (The traditions of the Holy Prophet – sunnah and hadith – are called wisdom.)
और जब तुम औरतों को तलाक़ दो और उनकी मीयाद आ लगे तो उस वक़्त तक या भलाई के साथ रोक लो या नक़ोई (अच्छे सुलूक) के साथ छोड़ दो और उन्हें ज़रर देने के लिये रोकना न हो कि हद से बढ़ो और जो ऐसा करे वह अपना ही नुक़सान करता है और अल्लाह की आयतों को ठठा न बना लो और याद करो अल्लाह का एहसान जो तुम पर है और वह जो तुम पर किताब और हिकमत उतारी तुम्हें नसीहत देने को और अल्लाह से डरते रहो और जान रखो कि अल्लाह सब कुछ जानता है
Aur jab tum aurton ko talaaq do aur unki miyaad aa lage to is waqt tak ya bhalayi ke saath rok lo ya niku’i (achhe sulook) ke saath chhod do aur unhein zarar dene ke liye rokna na ho ke had se badho aur jo aisa kare woh apna hi nuqsaan karta hai aur Allah ki aayaton ko thhatha na banao aur yaad karo Allah ka ehsaan jo tum par hai aur woh jo tum par kitaab aur hikmat utari tumhein naseehat dene ko aur Allah se darte raho aur jaan rakho ke Allah sab kuch jaanta hai.
(ف455)یعنی عدت تمام ہونے کے قریب ہو شانِ نزول: یہ آیت ثابت بن یسار انصاری کے حق میں نازل ہوئی انہوں نے اپنی عورت کو طلاق دی تھی اور جب عدت قریب ختم ہوتی تھی رجعت کرلیا کرتے تھے تاکہ عورت قید میں پڑی رہے۔(ف456)یعنی نباہنے اور اچھا معاملہ کرنے کی نیت سے رجعت کرو ۔(ف457)اور عدت گزر جانے دو تاکہ بعد عدت وہ آزاد ہوجائیں ۔(ف458)کہ حکم الٰہی کی مخالفت کرکے گنہگار ہوتا ہے۔(ف459)کہ ان کی پرواہ نہ کرو اور انکے خلاف عمل کرو۔(ف460)کہ تمہیں مسلمان کیا اور سیدانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امتی بنایا ۔(ف461)کتاب سے قرآن اور حکمت سے احکام قرآن و سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مراد ہے۔(ف462)اس سے کچھ مخفی نہیں۔
اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی میعاد پوری ہوجائے (ف٤٦۳) تو اے عورتوں کے والِیو انہیں نہ روکو اس سے کہ اپنے شوہروں سے نکاح کرلیں (ف٤٦٤) جب کہ آپس میں موافق شرع رضامند ہوجائیں (ف٤٦۵) یہ نصیحت اسے دی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو یہ تمہارے لئے زیادہ ستھرا اور پاکیزہ ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے،
And when you have divorced women and they complete their waiting period – then O guardians of such women, do not prevent them from marrying their husbands if they agree between themselves in accordance with Islamic law; this lesson is for those among People who Believe in Allah and the Last Day; this is purer for you, and cleaner; and Allah knows and you do not know.
और जब तुम औरतों को तलाक़ दो और उनकी मीयाद पूरी हो जाये तो ऐ औरतों के वालियो उन्हें न रोको उस से कि अपने शौहरों से निकाह कर लें जब कि आपस में मुवाफिक शरअ रज़ामन्द हो जायें यह नसीहत उसे दी जाती है जो तुम में से अल्लाह और क़यामत पर ईमान रखता हो यह तुम्हारे लिये ज़्यादा सुथरा और पाकीज़ा है और अल्लाह जानता है और तुम नहीं जानते ,
Aur jab tum aurton ko talaaq do aur unki miyaad poori ho jaaye to ae aurton ke walio! unhein na roko is se ke apne shoharon se nikah kar len jab ke aapas mein muwafiq shara’ razamand ho jaayen ye naseehat use di jaati hai jo tum mein se Allah aur Qayamat par imaan rakhta ho ye tumhare liye zyada suthra aur pakeeza hai aur Allah jaanta hai aur tum nahi jaante.
(ف463)یعنی ان کی عدت گزر چکے۔(ف464)جن کو انہوں نے اپنے نکاح کے لئے تجویز کیاہو خواہ وہ نئے ہوں یایہی طلاق دینے والے یا ان سے پہلے جو طلاق دے چکے تھے۔(ف465)اپنے کفو میں مہر مثل پر کیونکہ اس کے خلاف کی صورت میں اولیاء اعتراض و تعرض کاحق رکھتے ہیں۔ شانِ نزول: معقل بن یسار مزنی کی بہن کا نکاح عاصم بن عدی کے ساتھ ہواتھا انہوں نے طلاق دی اور عدت گزرنے کے بعد پھر عاصم نے درخواست کی تو معقل بن یسار مانع ہوئے ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔(بخاری شریف)
اور مائیں دودھ پلائیں اپنے بچوں کو (ف٤٦٦) پورے دو برس اس کے لئے جو دودھ کی مدت پوری کرنی چاہئے (ف٤٦۷) اور جس کا بچہ ہے (ف٤٦۸) اس پر عورتوں کا کھانا پہننا ہے حسب دستور (ف٤٦۹) کسی جان پر بوجھ نہ رکھا جائے گا مگر اس کے مقدور بھر ماں کو ضرر نہ دیا جائے اس کے بچہ سے (ف٤۷۰) اور نہ اولاد والے کو اس کی اولاد سے (ف٤۷۱) یا ماں ضرر نہ دے اپنے بچہ کو اور نہ اولاد والا اپنی اولاد کو (ف٤۷۲) اور جو باپ کا قائم مقام ہے اس پر بھی ایسا ہی واجب ہے پھر اگر ماں باپ دونوں آپس کی رضا اور مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر گناہ نہیں اور اگر تم چاہو کہ دائیوں سے اپنے بچوں کو دودھ پلواؤ تو بھی تم پر مضائقہ نہیں جب کہ جو دینا ٹھہرا تھا بھلائی کے ساتھ انہیں ادا کردو، اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے،
And mothers shall breast-feed their children for two full years – for those who wish to complete the term of milk feeding; and the father of the child must provide for food and clothing of the mother in accordance with custom; no one will be burdened except with what he can bear; a mother should not be harmed because of her child, nor he to whom the child is born be harmed because of his child (or a mother should not harm the child nor he to whom the child is born should harm the child); and the same is incumbent on the guardian in place of the father; then if the parents desire to wean the child by mutual consent and consultation, it is no sin for them; and if you wish to give your children out to a (milk feeding) nurse, it is no sin for you, provided you pay to them what is agreed, with kindness; and keep fearing Allah, and know well that Allah is seeing what you do.
और माँएँ दूध पिलाएँ अपने बच्चों को पूरे दो बरस उस के लिये जो दूध की मुद्दत पूरी करनी चाहिये और जिस का बच्चा है उस पर औरतों का खाना पहनना है हसब दस्तूर किसी जान पर बोझ न रखा जायेगा मगर उस के मक़दूर भर माँ को ज़रर न दिया जाये उस के बच्चा से और न औलाद वाले को उस की औलाद से या माँ ज़रर न दे अपने बच्चा को और न औलाद वाला अपनी औलाद को और जो बाप का क़ायम-मक़ाम है उस पर भी ऐसा ही वाज़िब है फिर अगर माँ-बाप दोनों आपस की रज़ा और मशवरे से दूध छुड़ाना चाहें तो उन पर गुनाह नहीं और अगर तुम चाहो कि दाइयों से अपने बच्चों को दूध पिलवाओ तो भी तुम पर मज़ाएक़ा नहीं जब कि जो देना ठहरा था भलाई के साथ उन्हें अदा कर दो, और अल्लाह से डरते रहो और जान रखो कि अल्लाह तुम्हारे काम देख रहा है ,
Aur maaen doodh pilayen apne bachon ko poore do baras uske liye jo doodh ki muddat poori karni chahiye aur jiska bacha hai us par aurton ka khana pehna hai hasb dastoor kisi jaan par bojh na rakha jaayega magar uske maqdoor bhar maa ko zarar na diya jaaye uske bacha se aur na aulad wale ko uski aulad se ya maa zarar na de apne bacha ko aur na aulad wala apni aulad ko aur jo baap ka qaaim maqam hai us par bhi aisa hi wajib hai phir agar maa baap donon aapas ki raza aur mashware se doodh chhudana chahen to unpar gunaah nahi aur agar tum chaho ke daiyon se apne bachon ko doodh pilwao to bhi tum par muzaiqa nahi jab ke jo dena thehra tha bhalayi ke saath unhein ada kar do, aur Allah se darte raho aur jaan rakho ke Allah tumhare kaam dekh raha hai.
(ف466)بیان طلاق کے بعد یہ سوال طبعاً سامنے آتاہے کہ اگر طلاق والی عورت کی گود میں شیر خوار بچہ ہو تو اس جدائی کے بعد اس کی پرورش کاکیا طریقہ ہوگااس لئے یہ قرین حکمت ہے کہ بچہ کی پرورش کے متعلق ماں باپ پر جو احکام ہیں وہ اس موقع پر بیان فرمادیئے جائیں لہٰذا یہاں ان مسائل کابیان ہوا۔ مسئلہ : ماں خواہ مطلقہ ہو یا نہ ہو اس پر اپنے بچے کو دودھ پلانا واجب ہے بشرطیکہ باپ کو اجرت پر دودھ پلوانے کی قدرت و استطاعت نہ ہو یا کوئی دودھ پلانے والی میسر نہ آئے یابچہ ماں کے سوااور کسی کا دودھ قبول نہ کرے اگر یہ باتیں نہ ہوں یعنی بچہ کی پرورش خاص ماں کے دودھ پر موقوف نہ ہو تو ماں پر دودھ پلانا واجب نہیں مستحب ہے۔( تفسیر احمد ی و جمل وغیرہ)(ف467)یعنی اس مدت کاپورا کرنا لازم نہیں اگر بچہ کو ضرورت نہ رہے اور دودھ چھڑانے میں اس کے لئے خطرہ نہ ہو تو اس سے کم مدت میں بھی چھڑانا جائز ہے۔ (تفسیر احمدی خازن وغیرہ)(ف468)یعنی والد،اس انداز بیان سے معلوم ہوا کہ نسب باپ کی طرف رجوع کرتا ہے۔(ف469)مسئلہ :بچہ کی پرورش اور اس کو دودھ پلواناباپ کے ذمہ واجب ہے اس کے لئے وہ دودھ پلانے والی مقرر کرے لیکن اگر ماں اپنی رغبت سے بچہ کو دودھ پلائے تو مستحب ہے۔ مسئلہ:شوہر اپنی زوجہ پر بچہ کے دودھ پلانے کے لئے جبر نہیں کرسکتا اور نہ عورت شوہر سے بچہ کے دودھ پلانے کی اجرت طلب کرسکتی ہے جب تک کہ اس کے نکاح یا عدت میں رہے۔ مسئلہ : اگر کسی شخص نے اپنی زوجہ کو طلاق دی اور عدت گزر چکی تو وہ اس سے بچہ کے دودھ پلانے کی اجرت لے سکتی ہے۔ مسئلہ :اگر باپ نے کسی عورت کو اپنے بچہ کے دودوھ پلانے پر بہ اجرت مقرر کیا اور اس کی ماں اسی اجرت پر یابے معاوضہ دودھ پلانے پر راضی ہوئی تو ماں ہی دودھ پلانے کی زیادہ مستحق ہے اور اگر ماں نے زیادہ اجرت طلب کی تو باپ کو اس سے دودھ پلوانے پر مجبور نہ کیا جائے گا۔(تفسیر احمد ی مدارک) المعروف سے مراد یہ ہے کہ حسب حیثیت ہو بغیر تنگی اور فضول خرچی کے۔(ف470)یعنی اس کو اس کے خلاف مرضی دودھ پلانے پر مجبور نہ کیا جائے۔(ف471)زیادہ اجرت طلب کرکے ۔(ف472)ماں کا بچہ کو ضرر دینا یہ ہے کہ اس کو وقت پر دودھ نہ دے اور اس کی نگرانی نہ رکھے یااپنے ساتھ مانوس کر لینے کے بعد چھوڑ دے اور باپ کا بچہ کو ضرر دینا یہ ہے کہ مانوس بچہ کو ماں سے چھین لے یا ماں کے حق میں کوتاہی کرے جس سے بچہ کو نقصان پہنچے۔
اور تم میں جو مریں اور بیبیاں چھوڑیں وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں (ف٤۷۳) تو جب ان کی عدت پوری ہوجائے تو اے والیو! تم پر مواخذہ نہیں اس کام میں جو عورتیں اپنے معاملہ میں موافق شرع کریں ، اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے،
And those among you who die leaving wives behind them, then such widows shall restrain themselves for four months and ten days; so when their term is completed, O guardians of such women, there is no sin on you in what the women may decide for themselves in accordance with Islamic law; and Allah is Well Aware of what you do.
और तुम में जो मरें और बीबियाँ छोड़ें वह चार महीने दस दिन अपने आप को रोके रहें तो जब उनकी अद्दत पूरी हो जाए तो ऐ वालियो! तुम पर मोअख़ज़ा नहीं इस काम में जो औरतें अपने मामले में मुफ़िक़-ए-शरअ करें, और अल्लाह को तुम्हारे कामों की ख़बर है,
Aur tum mein jo maren aur beebiyan chhodien woh chaar mahinay das din apne aap ko roke rahen to jab unki iddat poori ho jaaye to ae walio! tum par moakhza nahi is kaam mein jo auratein apne maamla mein muwafiq shara’ karen, aur Allah ko tumhare kaamon ki khabar hai.
(ف473)حاملہ کی عدت تو وضع حمل ہے جیسا کہ سورہ طلاق میں مذکور ہے یہاں غیر حاملہ کابیان ہے جس کا شوہر مرجائے اس کی عدت چار ماہ دس روز ہے۔اس مد ت میں نہ وہ نکاح کرے نہ اپنا مسکن چھوڑے نہ بے عذر تیل لگائے،نہ خوشبو لگائے، نہ سنگار کرے،نہ رنگین اور ریشمیں کپڑے پہنے نہ مہندی لگائے ،نہ جدید نکاح کی بات چیت کھل کر کرے اور جو طلاق بائن کی عدت میں ہو اس کابھی یہی حکم ہے البتہ جو عورت طلاق رجعی کی عدت میں ہو اس کو زینت اور سنگار کرنا مستحب ہے۔
اور تم پر گناہ نہیں اس بات میں جو پردہ رکھ کر تم عورتوں کے نکاح کا پیام دو یا اپنے دل میں چھپا رکھو اللہ جانتا ہے کہ اب تم ان کی یاد کرو گے (ف٤۷۵) ہاں ان سے خفیہ وعدہ نہ کر رکھو مگر یہ کہ اتنی بات کہو جو شرع میں معروف ہے، اور نکاح کی گرہ پکی نہ کرو جب تک لکھا ہوا حکم اپنی میعاد کو نہ پہنچ لے (ف٤۷٦) اور جان لو کہ اللہ تمہارے دل کی جانتا ہے تو اس سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ بخشنے والا حلم والا ہے،
And there is no sin on you if you propose marriage to women while they are hidden from your view, or hide it in your hearts; Allah knows that you will now remember them, but do not make secret pacts with women except by decent words recognised by Islamic law; and do not consummate the marriage until the written command reaches its completion; know well that Allah knows what is in your hearts, therefore fear Him; and know well that Allah is Oft Forgiving, Most Forbearing.
और तुम पर गुनाह नहीं इस बात में जो पर्दा रखकर तुम औरतों का निकाह का पयाम दो या अपने दिल में छुपा रखो अल्लाह जानता है कि अब तुम उनकी याद करोगे हाँ उनसे ख़ुफ़िया वादा न कर रखो मगर यह कि इतनी बात कहो जो शरअ में मआरूफ़ है, और निकाह की गिरह पक्की न करो जब तक लिखा हुआ हुक्म अपनी मीयाद को न पहुँच ले और जान लो कि अल्लाह तुम्हारे दिल की जानता है तो उससे डरो और जान लो कि अल्लाह बख़्शने वाला हलीम वाला है,
Aur tum par gunaah nahi is baat mein jo parda rakh kar tum aurton ke nikah ka payam do ya apne dil mein chhupa rakho Allah jaanta hai ke ab tum unki yaad karoge haan unse khufiya wada na kar rakho magar ye ke itni baat kaho jo shara’ mein ma’roof hai, aur nikah ki girah paki na karo jab tak likha hua hukm apni miyaad ko na pohanch le aur jaan lo ke Allah tumhare dil ki jaanta hai to us se daro aur jaan lo ke Allah bakhshne wala Haleem wala hai.
(ف474)یعنی عدت میں نکاح اور نکاح کا کھلا ہوا پیام تو ممنوع ہے،لیکن پردہ کے ساتھ خواہش نکاح کا اظہار گناہ نہیں مثلاً یہ کہے کہ تم بہت نیک عورت ہو یااپنا ارادہ دل ہی میں رکھے اور زبان سے کسی طرح نہ کہے۔(ف475)اور تمہارے دلوں میں خواہش ہوگی اسی لئے تمہارے واسطے تعریض مباح کی گئی۔(ف476)یعنی عدت گزر چکے۔
تم پر کچھ مطالبہ نہیں (ف٤۷۷) تم عورتوں کو طلاق دو جب تک تم نے ان کو ہاتھ نہ لگایا ہو یا کوئی مہر مقرر کرلیا ہو (ف٤۷۸) اور ان کو کچھ برتنے کو دو (ف٤۷۹) مقدور والے پر اس کے لائق اور تنگدست پر اس کے لائق حسب دستور کچھ برتنے کی چیز یہ واجب ہے بھلائی والوں پر (ف٤۸۰)
There is no sin upon you if you divorce women while you have not touched them or appointed their bridal money; and give them some provision; the rich according to their means, and the poor according to their means; a fair provision according to custom; this is a duty upon the virtuous.
तुम पर कुछ मुतालिबा नहीं तुम औरतों को तलाक़ दो जब तक तुमने उनको हाथ न लगाया हो या कोई महर मुक़र्रर कर लिया हो और उनको कुछ बरतने को दो मक़दूर वाले पर उसके लायक़ और तंगदस्त पर उसके लायक़ हसब-ए-दस्तूर कुछ बरतने की चीज़ यह वाजिब है भलाई वालों पर,
Tum par kuch mutaliba nahi tum aurton ko talaaq do jab tak tumne unko haath na lagaya ho ya koi mehr muqarrar kar liya ho aur unko kuch bartane ko do maqdoor wale par uske laayak aur tangdast par uske laayak hasb dastoor kuch bartane ki cheez ye wajib hai bhalayi walon par.
(ف477)مہر کا(ف478)شانِ نزول: یہ آیت ایک انصاری کے باب میں نازل ہوئی جنہوں نے قبیلہ بنی حنیفہ کی ایک عورت سے نکاح کیا اور کوئی مہر معین نہ کیاپھر ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دی۔ مسئلہ :اس سے معلوم ہوا کہ جس عور ت کا مہر مقرر نہ کیاہو اگر اس کو ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی تو مہر لازم نہیں ہاتھ لگانے سے مجامعت مراد ہے اور خلوت صحیحہ اسی کے حکم میں ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ بے ذکر مہر بھی نکاح درست ہے مگر اس صورت میں بعد نکاح مہر معین کرناہوگااگر نہ کیا تو بعد دخول مہر مثل لازم ہوجائے گا۔(ف479)تین کپڑوں کا ایک جوڑا۔(ف480)جس عورت کا مہر مقرر نہ کیا ہو اوراس کو قبل دخول طلاق دی ہو اس کو تو جوڑا دیناواجب ہے اور اس کے سواہر مطلقہ کے لئے مستحب ہے۔(مدارک)
اور اگر تم نے عورتوں کو بے چھوئے طلاق دے دی اور ان کے لئے کچھ مہر مقرر کرچکے تھے تو جتنا ٹھہرا تھا اس کا آدھا واجب ہے مگر یہ کہ عورتیں کچھ چھوڑ دیں (ف٤۸۱) یا وہ زیادہ دے (ف٤۸۲) جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے (ف٤۸۳) اور اے مرَدو تمہارا زیادہ دینا پرہیزگاری سے نزدیک تر ہے اور آپس میں ایک دوسرے پر احسان کو بھلا نہ دو بیشک اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے (ف٤۸٤)
If you divorce them before you have touched them and have appointed the bridal money, then payment of half of what is agreed is ordained unless the women forgo some of it, or he in whose hand is the marriage tie, pays more; and O men, your paying more is closer to piety; and do not forget the favours to each other; indeed Allah is seeing what you do.
और अगर तुमने औरतों को बग़ैर छुये तलाक़ दे दी और उनके लिये कुछ महर मुक़र्रर कर चुके थे तो जितना ठहरा था उसका आधा वाजिब है मगर यह कि औरतें कुछ छोड़ दें या वह ज़्यादा दे जिसके हाथ में निकाह की गिरह है और ऐ मर्दो! तुम्हारा ज़्यादा देना परहेज़गारी से नज़दीकतर है और आपस में एक दूसरे पर एहसान को भुला न दो बेशक अल्लाह तुम्हारे काम देख रहा है,
Aur agar tumne aurton ko bechuye talaaq de di aur unke liye kuch mehr muqarrar kar chuke the to jitna thehra tha uska aadha wajib hai magar ye ke auratein kuch chhod dein ya woh zyada de jiske haath mein nikah ki girah hai aur ae mardo! tumhara zyada dena parhezgaari se nazdik tar hai aur aapas mein ek dusre par ehsaan ko bhula na do beshak Allah tumhare kaam dekh raha hai.
(ف481)اپنے اس نصف میں سے۔(ف482)نصف سے جو اس صورت میں واجب ہے۔(ف483)یعنی شوہر۔(ف484)اس میں حسن سلوک و مکارم اخلاق کی ترغیب ہے۔
نگہبانی کرو سب نمازوں کی (ف٤۸۵) اور بیچ کی نماز کی (ف٤۸٦) اور کھڑے ہو اللہ کے حضور ادب سے (ف٤۸۷)
Guard all your prayers, and the middle prayer; and stand with reverence before Allah.
निगहबानी करो सब नमाज़ों की और बीच की नमाज़ की और खड़े हो अल्लाह के हुज़ूर अदब से,
Nigahbani karo sab namazon ki aur beech ki namaz ki aur khade ho Allah ke huzoor adab se.
(ف485)یعنی پنجگانہ فرض نمازوں کو ان کے اوقات پر ارکان و شرائط کے ساتھ ادا کرتے رہو اس میں پانچوں نمازوں کی فرضیت کابیان ہے اور اولاد و ازواج کے مسائل و احکام کے درمیان میں نماز کاذکر فرمانااس نتیجہ پر پہنچاتا ہے کہ ان کوا دائے نماز سے غافل نہ ہونے دواور نماز کی پابندی سے قلب کی اصلاح ہوتی ہے جس کے بغیر معاملات کا درست ہونا متصور نہیں۔(ف486)حضرت امام ابوحنیفہ اور جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم کامذہب یہ ہے کہ اس سے نماز عصر مراد ہے اور احادیث بھی اس پر دلالت کرتی ہیں۔(ف487)اس سے نمازکے اندر قیام کا فرض ہونا ثابت ہوا۔
پھر اگر خوف میں ہو تو پیادہ یا سوار جیسے بن پڑے پھر جب اطمینان سے ہو تو اللہ کی یاد کرو جیسا اس نے سکھایا جو تم نہ جانتے تھے،
And if you are in fear, pray while on foot or while riding, as you can; when you are in peace remember Allah the way He has taught you, which you did not know.
फिर अगर ख़ौफ़ में हो तो प्यादा या सवार जैसे बन पड़े फिर जब इत्मिनान से हो तो अल्लाह की याद करो जैसा उसने सिखाया जो तुम न जानते थे,
Phir agar khauf mein ho to piyada ya sawar jaise ban pare phir jab itminan se ho to Allah ki yaad karo jaisa usne sikhaya jo tum na jaante the.
اور جو تم میں مریں اور بیبیاں چھوڑ جائیں، وہ اپنی عورتوں کے لئے وصیت کرجائیں (ف٤۸۸) سال بھر تک نان نفقہ دینے کی بے نکالے (ف٤۸۹) پھر اگر وہ خود نکل جائیں تو تم پر اس کا مؤاخذہ نہیں جو انہوں نے اپنے معاملہ میں مناسب طور پر کیا، اور اللہ غالب حکمت والا ہے،
And those among you who die leaving wives behind them – they should bequeath for their wives a complete provision for one full year without turning them out; so if they go out themselves, there is no sin on you regarding what they do of themselves in a reasonable manner; and Allah is Almighty, Wise.
और जो तुम में मरें और बीबियाँ छोड़ जाएँ, वह अपनी औरतों के लिये वसियत कर जाएँ साल भर तक नान-नफ़क़ा देने की बे निकालें फिर अगर वह ख़ुद निकल जाएँ तो तुम पर उसका मोअख़ज़ा नहीं जो उन्होंने अपने मामले में मुनासिब तौर पर किया, और अल्लाह ग़ालिब हिकमत वाला है,
Aur jo tum mein maren aur beebiyan chhod jaayen, woh apni aurton ke liye wasiyat kar jaayen saal bhar tak naan nafqa dene ki be-nikale phir agar woh khud nikal jaayen to tum par iska moakhza nahi jo unhon ne apne maamla mein munasib tor par kiya, aur Allah Ghalib Hikmat wala hai.
(ف488)اپنے اقارب کو۔(ف489)ابتدائے اسلام میں بیوہ کی عدّت ایک سال کی تھی اور ایک سال کامل وہ شوہر کے یہاں رہ کر نان و نفقہ پانے کی مستحق ہوتی تھی ۔ پھر ایک سال کی عدت تو یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْھُرٍوَّ عَشْرًا سے منسوخ ہوئی جس میں بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن مقرر فرمائی گئی اور سال بھر کانفقہ آیت میراث سے منسوخ ہوا جس میں عورت کاحصہ شوہر کے ترکہ سے مقرر کیا گیا لہٰذا اب اس وصیت کاحکم باقی نہ رہاحکمت اس کی یہ ہے کہ عرب کے لوگ اپنے مورث کی بیوہ کانکلنایاغیر سے نکاح کرنابالکل گوارا ہی نہ کرتے تھے اور اس کو عار سمجھتے تھے اس لئے اگر ایک دم چار ماہ دس روز کی عدت مقرر کی جاتی تو یہ ان پر بہت شاق ہوتی لہذا بتدریج انہیں راہ پر لایا گیا۔
اے محبوب کیا تم نے نہ دیکھا تھا انہیں جو اپنے گھروں سے نکلے اور وہ ہزاروں تھے موت کے ڈر سے، تو اللہ نے ان سے فرمایا مرجاؤ پھر انہیں زندہ فرمادیا، بیشک اللہ لوگوں پر فضل کرنے والا ہے مگر اکثر لوگ ناشکرے ہیں (ف٤۹۰)
Did you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) not see those who left their homes, whereas they numbered in thousands, fearing death? So Allah said to them, “Die”; He then brought them back to life; indeed Allah is Most Munificent towards mankind, but most men are ungrateful.
ऐ महबूब! क्या तुमने न देखा था उन्हें जो अपने घरों से निकले और वह हज़ारों थे मौत के डर से, तो अल्लाह ने उनसे फ़रमाया मर जाओ फिर उन्हें ज़िंदा फ़रमा दिया, बेशक अल्लाह लोगों पर फ़ज़ल करने वाला है मगर अक़्सर लोग नाशुक्रे हैं,
Ae Mehboob! kya tumne na dekha tha unhein jo apne gharon se nikle aur woh hazaron the maut ke dar se, to Allah ne unse farmaya mar jao phir unhein zinda farma diya, beshak Allah logon par fazl karne wala hai magar aksar log nashukre hain.
(ف490)بنی اسرائیل کی ایک جماعت تھی جس کے بلاد میں طاعون ہوا تو وہ موت کے ڈر سے اپنی بستیاں چھوڑ بھاگے اور جنگل میں جا پڑے بحکم الہی سب وہیں مر گئے کچھ عرصہ کے بعد حضرت حزقیل علیہ السلام کی دعا سے انہیں اللہ تعالٰی نے زندہ فرمایا اور وہ مدتوں زندہ رہے اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی موت کے ڈر سے بھاگ کر جان نہیں بچاسکتا تو بھاگنا بے کار ہے جو موت مقدر ہے وہ ضرور پہنچے گی بندے کو چاہئے کہ رضائے الٰہی پر راضی رہے مجاہدین کو بھی سمجھنا چاہئے کہ جہاد سے بیٹھ رہنا موت کو دفع نہیں کرسکتا لہذا دل مضبوط رکھنا چاہئے ۔
ہے کوئی جو اللہ کو قرض حسن دے (ف٤۹۲) تو اللہ اس کے لئے بہت گنُا بڑھا دے اور اللہ تنگی اور کشائش کرتا ہے (ف٤۹۳) اور تمہیں اسی کی طرف پھر جانا،
Is there someone who will lend an excellent loan to Allah, so that He may increase it for him several times over? And Allah restricts and eases (the sustenance) – and it is to Him that you will return.
है कोई जो अल्लाह को क़र्ज़-ए-हसन दे तो अल्लाह उसके लिये बहुत गुणा बढ़ा दे और अल्लाह तंगी और कुशाइश करता है और तुम्हें उसी की तरफ़ फिर जाना,
Hai koi jo Allah ko qarz-e-hasan de to Allah uske liye bohot guna barha de aur Allah tangi aur kushish karta hai aur tumhein usi ki taraf phir jaana.
(ف492)یعنی راہ خدا میں اخلاص کے ساتھ خرچ کرے راہِ خدا میں خرچ کرنے کو قرض سے تعبیر فرمایایہ کمال لطف وکرم ہے بندہ اس کابنایا ہوا اور بندے کامال اس کاعطا فرمایا ہوا حقیقی مالک وہ اور بندہ اس کی عطاسے مجازی ملک رکھتا ہے مگر قرض سے تعبیر فرمانے میں یہ دل نشین کرنامنظور ہےکہ جس طرح قرض دینے والا اطمینان رکھتا ہے کہ اس کامال ضائع نہیں ہواوہ اس کی واپسی کامستحق ہے ایسا ہی راہِ خدا میں خرچ کرنے والے کو اطمینان رکھنا چاہئے کہ وہ اس انفاق کی جزا بالیقین پائے گا اور بہت زیادہ پائے گا۔(ف493)جس کے لئے چاہے روزی تنگ کرے جس کے لئے چاہے وسیع فرمائے تنگی و فراخی اس کے قبضہ میں ہے اور وہ اپنی راہ میں خرچ کرنے والے سے وسعت کاوعدہ کرتاہے۔
اے محبوب !کیا تم نے نہ دیکھا بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو جو موسیٰ کے بعد ہوا (ف٤۹٤) جب اپنے ایک پیغمبر سے بولے ہمارے لیے کھڑا کردو ایک بادشاہ کہ ہم خدا کی راہ میں لڑیں، نبی نے فرمایا کیا تمہارے انداز ایسے ہیں کہ تم پر جہاد فرض کیا جائے تو پھر نہ کرو، بولے ہمیں کیا ہوا کہ ہم اللہ کی راہ میں نہ لڑیں حالانکہ ہم نکالے گئے ہیں اپنے وطن اور اپنی اولاد سے (ف٤۹۵) تو پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا منہ پھیر گئے مگر ان میں کے تھوڑے (ف٤۹٦) اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو،
Did you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) not see a group of the Descendants of Israel, after Moosa? When they said to one of their Prophets (Shamueel – Samuel), “Appoint a king for us so that we may fight in Allah’s way”? He said, “Do you think you would refrain from fighting if it is made obligatory for you?” They said, “What is the matter with us that we should not fight in Allah’s cause, whereas we have been driven away from our homeland and our children?” So when fighting was ordained for them, they all turned away, except a few; and Allah is Well Aware of the unjust.
ऐ महबूब! क्या तुमने न देखा बनी इस्राईल के एक गिरोह को जो मूसा के बाद हुआ जब अपने एक पैग़म्बर से बोले हमारे लिये खड़ा कर दो एक बादशाह कि हम ख़ुदा की राह में लड़ें, नबी ने फ़रमाया क्या तुम्हारे अंदाज़ ऐसे हैं कि तुम पर जिहाद फ़र्ज़ किया जाए तो फिर न करो, बोले हमें क्या हुआ कि हम अल्लाह की राह में न लड़ें हालाँकि हम निकाले गये हैं अपने वतन और अपनी औलाद से तो फिर जब उन पर जिहाद फ़र्ज़ किया गया मुँह फेर गये मगर उनमें के थोड़े और अल्लाह खूब जानता है ज़ालिमों को,
Ae Mehboob! kya tumne na dekha Bani Israel ke ek giroh ko jo Musa ke baad hua jab apne ek paighambar se bole hamare liye khada kar do ek badshah ke hum Khuda ki raah mein ladein, Nabi ne farmaya kya tumhare andaaz aise hain ke tum par jihad farz kiya jaaye to phir na karo, bole humein kya hua ke hum Allah ki raah mein na ladein halanke hum nikale gaye hain apne watan aur apni aulad se to phir jab unpar jihad farz kiya gaya munh pher gaye magar unmein ke thode aur Allah khoob jaanta hai zaalimoon ko.
(ف494)حضرت موسٰی علیہ السلام کے بعد جب بنی اسرائیل کی حالت خراب ہوئی اور انہوں نے عہد ِا لٰہی کو فراموش کیابت پرستی میں مبتلا ہوئے سرکشی اور بد افعالی انتہا کو پہنچی ان پر قوم جالوت مسلّط ہوئی جس کو عمالقہ کہتے ہیں کیونکہ جالوت عملیق بن عاد کی اولاد سے ایک نہایت جابر بادشاہ تھا اس کی قوم کے لوگ مصرو فلسطین کے درمیان بحر روم کے ساحل پر رہتے تھے انہوں نے بنی اسرائیل کے شہر چھین لئے آدمی گرفتار کئے طرح طرح کی سختیاں کیں اس زمانہ میں کوئی نبی قوم بنی اسرائیل میں موجود نہ تھے خاندانِ نبوت سے صرف ایک بی بی باقی رہی تھیں جو حاملہ تھیں ان کے فرزند تولد ہوئے ان کا نام اشمویل رکھا جب وہ بڑے ہوئے تو انہیں علم توریت حاصل کرنے کےلئے بیت المقدس میں ایک کبیر السن عالم کے سپرد کیا وہ آپ کے ساتھ کمال شفقت کرتے اور آ پ کو فرزند کہتے جب آپ سن بلوغ کو پہنچے تو ایک شب آپ اس عالم کے قریب آرام فرمارہے تھے کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے اسی عالم کی آواز میں یا اشمویل کہہ کر پکارا آپ عالم کے پاس گئے اور فرمایا کہ آپ نے مجھے پکارا ہے عالم نے بایں خیال کہ انکار کرنے سے کہیں آپ ڈر نہ جائیں یہ کہہ دیا کہ فرزند تم سوجاؤ پھر دوبارہ حضرت جبریل علیہ السلام نے اسی طرح پکارااور حضرت اشمویل علیہ السلام عالم کے پاس گئے عالم نے کہا کہ اے فرزند اب اگر میں تمہیں پھر پکاروں تو تم جواب نہ دینا تیسری مرتبہ میں حضرت جبریل علیہ السلام ظاہر ہوگئے اور انہوں نے بشارت دی کہ اللہ تعالی نے آپ کو نبوت کامنصب عطا فرمایا آپ اپنی قوم کی طرف جائیے اور اپنے رب کے احکام پہنچائیے جب آپ قوم کی طرف تشریف لائے انہوں نے تکذیب کی اور کہاکہ آپ اتنی جلدی نبی بن گئے اچھااگر آپ نبی ہیں تو ہمارے لئے ایک بادشاہ قائم کیجئے۔(خازن وغیرہ)(ف495)کہ قوم جالوت نے ہماری قوم کے لوگوں کو ان کے وطن سے نکالا ان کی اولاد کو قتل و غارت کیاچار سو چالیس شاہی خاندان کے فرزندوں کو گرفتار کیاجب حالت یہاں تک پہنچ چکی تو اب ہمیں جہاد سے کیاچیز مانع ہوسکتی ہے تب نبی اللہ کی دعاسے اللہ تعالٰی نے ان کی درخواست قبول فرمائی اور ان کے لئے ایک بادشاہ مقرر کیا اور جہاد فرض فرمایا (خازن)(ف496)جن کی تعداد اہل بدر کے برابر تین سو تیرہ تھی۔
اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا بیشک اللہ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ بنا کر بھیجا ہے (ف٤۹۷) بولے اسے ہم پر بادشاہی کیونکر ہوگی (ف٤۹۸) اور ہم اس سے زیادہ سلطنت کے مستحق ہیں اور اسے مال میں بھی وسعت نہیں دی گئی (ف٤۹۹) فرمایا اسے اللہ نے تم پر چن لیا (ف۵۰۰) اور اسے علم اور جسم میں کشادگی زیادہ دی (ف۵۰۱) اور اللہ اپنا ملک جسے چاہے دے (ف۵۰۲) اور اللہ وسعت والا علم والا ہے (ف۵۰۳)
And their Prophet said to them, “Indeed Allah has sent Talut (Saul) as your king”; they said, “Why should he have kingship over us whereas we deserve the kingship more than he, and nor has he been given enough wealth?” He said, “Indeed Allah has chosen him above you, and has bestowed him with vast knowledge and physique”; and Allah may bestow His kingdom on whomever He wills; and Allah is Most Capable, All Knowing.
और उनसे उनके नबी ने फ़रमाया बेशक अल्लाह ने तालूत को तुम्हारा बादशाह बनाकर भेजा है बोले उसे हम पर बादशाही क्योंकर होगी और हम उससे ज़्यादा सल्तनत के मुस्तहिक़ हैं और उसे माल में भी वुसअत नहीं दी गयी, फ़रमाया उसे अल्लाह ने तुम पर चुन लिया और उसे इल्म और जिस्म में कुशादगी ज़्यादा दी और अल्लाह अपना मुल्क जिसे चाहे दे और अल्लाह वुसअत वाला इल्म वाला है,
Aur unse unke Nabi ne farmaya beshak Allah ne Taloot ko tumhara badshah bana kar bheja hai bole use hum par badshahi kyun kar hogi aur hum usse zyada saltanat ke mustahiq hain aur use maal mein bhi wus’at nahi di gayi farmaya use Allah ne tum par chun liya aur use ilm aur jism mein kushadgi zyada di aur Allah apna mulk jise chahe de aur Allah wus’at wala ilm wala hai.
(ف497)طالوت بنیامین بن حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد سے ہیں آپ کا نام طول قامت کی وجہ سے طالوت ہے حضرت اشمویل علیہ السلام کو اللہ تعالٰی کی طرف سے ایک عصا ملا تھا اور بتایا گیا تھا کہ جو شخص تمہاری قوم کا بادشاہ ہوگا اس کاقد اس عصا کے برابر ہو گا۔ آپ نے اس عصا سے طالوت کا قد ناپ کر فرمایا کہ میں تم کو بحکم الٰہی بنی اسرائیل کابادشاہ مقرر کرتا ہوں اور بنی اسرائیل سے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے طالوت کو تمہارا بادشاہ بنا کر بھیجا ہے( خازن و جمل)(ف498)بنی اسرائیل کے سرداروں نے اپنے نبی حضرت اشمویل علیہ السلام سے کہا کہ نبوت تو لاوٰی بن یعقوب علیہ السلام کی اولاد میں چلی آتی ہے اور سلطنت یہود بن یعقوب کی اولاد میں اور طالوت ان دونوں خاندانوں میں سے نہیں ہیں تو بادشاہ کیسے ہوسکتے ہیں۔(ف499)وہ غریب شخص ہیں بادشاہ کو صاحب مال ہونا چاہئے ۔(ف500)یعنی سلطنت ورثہ نہیں کہ کسی نسل و خاندان کے ساتھ خاص ہو یہ محض فضل الٰہی پر ہے اس میں شیعہ کارد ہے جن کا اعتقاد یہ ہے کہ امامت وراثت ہے۔(ف501)یعنی نسل و دولت پر سلطنت کا استحقاق نہیں علم و قوت سلطنت کے لئے بڑے معین ہیں اور طالوت اس زمانہ میں تمام بنی اسرائیل سے زیادہ علم رکھتے تھے اور سب سے جسیم اور توانا تھے۔(ف502)اس میں وراثت کو کچھ دخل نہیں۔(ف503)جسے چاہے غنی کردے اور وسعت مال عطا فرمادے اس کے بعد بنی اسرائیل نے حضرت اشمویل علیہ السلام سے عرض کیا کہ اگر اللہ تعالٰی نے انہیں سلطنت کے لئے مقرر فرمایا ہے تو اس کی نشانی کیا ہے۔(خازن و مدارک)
ور ان سے ان کے نبی نے فرمایا اس کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ آئے تمہارے پاس تابوت (ف۵۰٤) جس میں تمہارے رب کی طرف سے دلوں کا چین ہے اور کچھ بچی ہوئی چیزیں معزز موسیٰ ٰ اور معزز ہارون کے ترکہ کی اٹھاتے لائیں گے اسے فرشتے ، بیشک اس میں بڑی نشانی ہے تمہارے لئے اگر ایمان رکھتے ہو،
And their Prophet said to them, “Indeed the sign of his kingdom will be the coming of a (wooden) box to you, in which from your Lord is the contentment of hearts and containing some souvenirs (remnants) left behind by the honourable Moosa and the honourable Haroon (Aaron), borne by the angels; indeed in it is a great sign* for you if you are believers.” (The remnants of pious persons are blessed by Allah.)
और उनसे उनके नबी ने फ़रमाया उसकी बादशाही की निशानी यह है कि आये तुम्हारे पास ताबूत जिसमें तुम्हारे रब की तरफ़ से दिलों का चैन है और कुछ बची हुई चीज़ें मुअज्ज़ज़ मूसा और मुअज्ज़ज़ हारून के तरक़्क़ा की उठाते लायेंगे उसे फ़रिश्ते, बेशक उसमें बड़ी निशानी है तुम्हारे लिये अगर ईमान रखते हो,
Aur unse unke Nabi ne farmaya uski badshahi ki nishani ye hai ke aaye tumhare paas taabut jismein tumhare Rab ki taraf se dilon ka chain hai aur kuch bachi hui cheezen moazzaz Musa aur moazzaz Haroon ke tarka ki uthate laayenge use farishte, beshak is mein badi nishani hai tumhare liye agar imaan rakhte ho.
(ف504)یہ تابوت شمشاد کی لکڑی کا ایک زر اندود صندوق تھا جس کا طول تین ہاتھ کا اور عرض دو ہاتھ کا تھا اس کو اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام پر نازل فرمایا تھا اس میں تمام انبیاء علیہم السلام کی تصویریں تھیں ان کے مساکن و مکانات کی تصویریں تھیں اور آخر میں حضور سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اور حضور کی دولت سرائے اقدس کی تصویر ایک یاقوت سرخ میں تھی کہ حضور بحالت نماز قیام میں ہیں اور گرد آپ کے آپ کے اصحاب حضرت آدم علیہ السلام نے ان تمام تصویروں کو دیکھا یہ صندوق وراثتاً منتقل ہوتا ہوا حضرت موسٰی علیہ السلام تک پہنچا آپ اس میں توریت بھی رکھتے تھے اور اپنا مخصوص سامان بھی ، چنانچہ اس تابوت میں الواح توریت کے ٹکڑے بھی تھے اور حضرت موسٰی علیہ السلام کا عصا اور آپ کے کپڑے اور آپ کی نعلین شریفین اور حضرت ہارون علیہ السلام کاعمامہ اور ان کی عصااور تھوڑا سا من جو بنی اسرائیل پر نازل ہوتا تھا حضرت موسی علیہ السلام جنگ کے موقعوں پر اس صندوق کو آگے رکھتے تھے اس سے بنی اسرائیل کے دلوں کو تسکین رہتی تھی آپ کے بعد یہ تابوت بنی اسرائیل میں متوارث ہوتا چلا آیا جب انہیں کوئی مشکل درپیش ہوتی وہ اس تابوت کو سامنے رکھ کر دعا ئیں کرتے اور کامیاب ہوتے دشمنوں کے مقابلہ میں اس کی برکت سے فتح پاتے جب بنی اسرائیل کی حالت خراب ہوئی اور ان کی بدعملی بہت بڑھ گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان پر عمالقہ کو مسلط کیا تو وہ ان سے تابوت چھین کر لے گئے اور اس کو نجس اور گندے مقامات میں رکھا اور اس کی بے حرمتی کی اور ان گستاخیوں کی وجہ سے وہ طرح طرح کے امراض و مصائب میں مبتلا ہوئے ان کی پانچ بستیاں ہلاک ہوئیں اور انہیں یقین ہوا کہ تابوت کی اہانت ان کی بربادی کا باعث ہے تو انہوں نے تابوت ایک بیل گاڑی پر رکھ کر بیلوں کو چھوڑ دیا اور فرشتے اس کو بنی اسرائل کے سامنے طالوت کے پاس لائے اور اس تابوت کا آنا بنی اسرائیل کے لئے طالوت کی بادشاہی کی نشانی قرار دیا گیا تھا بنی اسرائیل یہ دیکھ کر اس کی بادشاہی کے مقر ہوئے اور بے درنگ جہاد کے لئے آمادہ ہوگئے کیونکہ تابوت پا کر انہیں اپنی فتح کا یقین ہوگیا طالوت نے بنی اسرائیل میں سے ستر ہزار جوان منتخب کئے جن میں حضرت داؤد علیہ السلام بھی تھے( جلالین و جمل و خازن و مدارک وغیرہ) فائدہ : اس سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کے تبرکات کا اعزاز و احترام لازم ہے ان کی برکت سے دعائیں قبول ہوتی اور حاجتیں روا ہوتی ہیں اور تبرکات کی بے حرمتی گمراہوں کا طریقہ اور بربادی کا سبب ہے فائدہ تابوت میں انبیاء کی جو تصویریں تھیں وہ کسی آدمی کی بنائی ہوئی نہ تھیں اللہ کی طرف سے آئی تھیں۔
پھر جب طالوت لشکروں کو لے کر شہر سے جدا ہوا بولا بیشک اللہ تمہیں ایک نہر سے آزمانے والا ہے تو جو اس کا پانی پئے وہ میرا نہیں اور جو نہ پیئے وہ میرا ہے مگر وہ جو ایک چلُو اپنے ہاتھ سے لے لے (ف۵۰٦) تو سب نے اس سے پیا مگر تھوڑوں نے (ف۵۰۷) پھر جب طالوت اور اس کے ساتھ کے مسلمان نہر کے پار گئے بولے ہم میں آج طاقت نہیں جالوت اور اس کے لشکروں کی بولے وہ جنہیں اللہ سے ملنے کا یقین تھا کہ بارہا کم جماعت غالب آئی ہے زیادہ گروہ پر اللہ کے حکم سے، اور اللہ صابروں کے ساتھ ہے (ف۵۰۸)
So when Talut left the city along with the armies, he said, “Allah will surely test you with a river; so whoever drinks its water is not mine – and whoever does not drink is mine – except him who takes it in the hollow of his hand”; so they all drank it, except a few of them; thereafter when Talut and the believers with him had crossed the river, they said, “We do not have power this day to face Jalut (Goliath) and his armies”; those who were certain of meeting Allah said, “Many a times has a smaller group overcome a bigger group by Allah’s command; and Allah is with the steadfast.”
फिर जब तालूत लश्करों को लेकर शहर से जुदा हुआ बोला बेशक अल्लाह तुम्हें एक नहर से आज़माने वाला है तो जो उसका पानी पिए वह मेरा नहीं और जो न पिए वह मेरा है मगर वह जो एक चुल्लू अपने हाथ से ले ले तो सबने उससे पिया मगर थोड़े, फिर जब तालूत और उसके साथ के मुसलमान नहर के पार गये बोले हम में आज ताक़त नहीं जालूत और उसके लश्करों की, बोले वह जिन्हें अल्लाह से मिलने का यक़ीन था कि बारहा कम जमाअत ग़ालिब आयी है ज़्यादा गिरोह पर अल्लाह के हुक्म से, और अल्लाह साबिरों के साथ है,
Phir jab Taloot lashkaron ko le kar shahar se juda hua bola beshak Allah tumhein ek nahr se aazmane wala hai to jo uska paani piye woh mera nahi aur jo na piye woh mera hai magar woh jo ek chulo apne haath se le le to sab ne usse piya magar thodo ne phir jab Taloot aur uske saath ke musalman nahr ke paar gaye bole hum mein aaj taaqat nahi Jaloot aur uske lashkaron ki, bole woh jinhein Allah se milne ka yaqeen tha ke barha kam jamaat ghalib aayi hai zyada giroh par Allah ke hukm se, aur Allah sabiron ke saath hai.
(ف505)یعنی بیت المقدس سے دشمن کی طرف روانہ ہوا وہ وقت نہایت شدت کی گرمی کاتھا لشکریوں نے طالوت سے اس کی شکایت کی اور پانی کے طلبگار ہوئے۔(ف506)یہ امتحان مقرر فرمایا گیا تھا کہ شدت تشنگی کے وقت جو اطاعت حکم پر مستقل رہا وہ آئندہ بھی مستقل رہے گا اور سختیوں کامقابلہ کرسکے گا اور جو اس وقت اپنی خواہش سے مغلوب ہو اور نافرمانی کرے وہ آئندہ سختیوں کو کیا برداشت کرے گا۔(ف507)جن کی تعداد تین سو تیرہ تھی انہوں نے صبر کیا اور ایک چُلُّوان کے اور انکے جانوروں کےلئے کافی ہوگیا اور انکے قلب وایمان کو قوت ہوئی اور نہر سے سلامت گزر گئے اور جنہوں نے خوب پیا تھا ان کے ہونٹ سیاہ ہوگئے تشنگی اور بڑ ھ گئی اور ہمت ہار گئے۔(ف508)ان کی مدد فرماتا ہے اور اسی کی مدد کام آتی ہے۔
پھر جب سامنے آئے جالوت اور اس کے لشکروں کے عرض کی اے رب ہمارے ہم پر صبر انڈیل اور ہمارے پاؤں جمے رکھ کافر لوگوں پر ہماری مدد کر،
And when they confronted Jalut and his armies they invoked, “Our Lord! Pour (bestow abundantly) on us patience (fortitude), and keep our feet steady, and help us against the disbelieving people.”
फिर जब सामने आये जालूत और उसके लश्करों के, अर्ज़ की ऐ रब हमारे हम पर सब्र उंडेल और हमारे पाँव जमाए रख काफ़िर लोगों पर हमारी मदद कर,
Phir jab samne aaye Jaloot aur uske lashkaron ke arz ki: Ae Rab hamare! hum par sabr andeil aur hamare paon jame rak kafir logon par hamari madad kar.
تو انہوں نے ان کو بھگا دیا اللہ کے حکم سے ، اور قتل کیا داؤد نے جالوت کو (ف۵۰۹) اور اللہ نے اسے سلطنت اور حکمت (ف۵۱۰) عطا فرمائی اور اسے جو چاہا سکھایا (ف۵۱۱) اور اگر اللہ لوگوں میں بعض سے بعض کو دفع نہ کرے (ف۵۱۲) تو ضرور زمین تباہ ہوجائے مگر اللہ سارے جہان پر فضل کرنے والا ہے،
So they routed them by the command of Allah; and Dawud (David) slew Jalut, and Allah gave him the kingdom and wisdom, and taught him all whatever He willed; and if Allah does not ward off some men by others, the earth will be destroyed, but Allah is Most Munificent towards the entire creation.
तो उन्होंने उनको भगा दिया अल्लाह के हुक्म से, और क़त्ल किया दाऊद ने जालूत को और अल्लाह ने उसे सल्तनत और हिकमत अता फ़रमाई और उसे जो चाहा सिखाया और अगर अल्लाह लोगों में बा’ज़ से बा’ज़ को दफ़अ न करे तो ज़रूर ज़मीन तबाह हो जाए मगर अल्लाह सारे जहान पर फ़ज़ल करने वाला है,
To unhon ne unko bhaga diya Allah ke hukm se, aur qatal kiya Dawood ne Jaloot ko aur Allah ne use saltanat aur hikmat ata farmai aur use jo chaha sikhaya. Aur agar Allah logon mein baaz ko baaz se dafa na kare to zaroor zameen tabah ho jaye, magar Allah sare jahan par fazl karne wala hai.
(ف509)حضرت داؤد علیہ السلام کے والد ایشاطالوت کے لشکر میں تھے اور انکے ساتھ انکے تمام فرزند بھی حضرت داؤد علیہ السلام ان سب میں چھوٹے تھے بیمار تھے رنگ زرد تھا بکریاں چراتے تھے جب جالوت نے بنی اسرائیل سے مقابلہ طلب کیا وہ اس کی قوت جسامت دیکھ کر گھبرائے کیونکہ وہ بڑا جابر قوی شہ زور عظیم الجثہ قد آور تھا طالوت نے اپنے لشکر میں اعلان کیا کہ جو شخص جالوت کو قتل کرے میں اپنی بیٹی اس کے نکاح میں دوں گااور نصف ملک اس کو دوں گامگر کسی نے اس کاجواب نہ دیا تو طالوت نے اپنے نبی حضرت شمویل علیہ السلام سے عرض کیا کہ بارگاہ الہی میں دعا کریں آپ نے دعاکی تو بتایا گیا کہ حضرت داؤد علیہ السلام جالوت کو قتل کریں گے طالوت نے آپ سے عرض کیا کہ اگر آپ جالوت کو قتل کریں تو میں اپنی لڑکی آپ کے نکاح میں دوں اور نصف ملک پیش کروں آپ نے قبول فرمایا اور جالوت کی طرف روانہ ہوگئے صف قتال قائم ہوئی اور حضرت داؤد علیہ السلام دست مبارک میں فلاخن لے کر مقابل ہوئے جالوت کے دل میں آپ کو دیکھ کر دہشت پیدا ہوئی مگر اس نے باتیں بہت متکبرانہ کیں اور آپ کو اپنی قوت سے مرعوب کرناچاہا آپ نے فلاخن میں پتھر رکھ کر مارا وہ اس کی پیشانی توڑ کر پیچھے سے نکل گیا اور جالوت مر کر گر گیا حضرت داؤد علیہ السلام نے اس کولاکر طالوت کے سامنے ڈال دیا تمام بنی اسرائیل خوش ہوئے اور طالوت نے حضرت داؤد علیہ السلام کو حسب وعدہ نصف ملک دیااور اپنی بیٹی کا آپ کے ساتھ نکاح کردیا ایک مدت کے بعد طالوت نے وفات پائی تمام ملک پر حضرت داؤد علیہ السلام کی سلطنت ہوئی(جمل وغیرہ)(ف510)حکمت سے نبوت مراد ہے ۔(ف511)جیسے کہ زرہ بنانا اور جانوروں کا کلام سمجھنا ۔(ف512)یعنی اللہ تعا لٰی نیکو ں کے صدقہ میں دوسروں کی بلائیں بھی دفع فرماتا ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاکہ اللہ تعالٰی ایک صالح مسلمان کی برکت سے اس کے پڑوس کے سو گھر والوں کی بلا دفع فرماتاہے سبحان اللہ نیکوں کا قرب بھی فائدہ پہنچاتا ہے (خازن)
یہ اللہ کی آیتیں ہیں کہ ہم اے محبوب تم پر ٹھیک ٹھیک پڑھتے ہیں، اور تم بیشک رسولوں میں ہو ۔
These are the verses of Allah, which We recite to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) with truth; and undoubtedly you are one of the Noble Messengers.
यह अल्लाह की आयतें हैं कि हम ऐ महबूब तुम पर ठीक-ठीक पढ़ते हैं, और तुम बेशक रसूलों में हो।
Ye Allah ki ayatein hain ke hum ae Mehboob tum par theek theek parhte hain, aur tum beshak rasoolon mein ho.
(ف513)یہ حضرات جن کاذکر ما سبق میں اور خاص آیہ اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ میں فرمایا گیا ۔
یہ (ف۵۱۳) رسول ہیں کہ ہم نے ان میں ایک کو دوسرے پر افضل کیا (ف۵۱٤) ان میں کسی سے اللہ نے کلام فرمایا (ف۵۱۵) اور کوئی وہ ہے جسے سب پر درجوں بلند کیا (ف۵۱٦) اور ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ کو کھلی نشانیاں دیں (ف۵۱۷) اور پاکیزہ روح سے اس کی مدد کی (ف۵۱۸) اور اللہ چاہتا تو ان کے بعد والے آپس میں نہ لڑتے نہ اس کے کہ ان کے پاس کھلی نشانیاں آچکیں (ف۵۱۹) لیکن وہ مختلف ہوگئے ان میں کوئی ایمان پر رہا اور کوئی کافر ہوگیا (ف۵۲۰) اور اللہ چاہتا تو وہ نہ لڑتے مگر اللہ جو چاہے کرے (ف۵۲۱)
These are the Noble Messengers, to whom We gave excellence over each other; of them are some with whom Allah spoke, and some whom He exalted high above all others; and We gave Eisa (Jesus), the son of Maryam, clear signs and We aided him with the Holy Spirit; and if Allah willed, those after them would not have fought each other after the clear evidences had come to them, but they differed – some remained on faith and some turned disbelievers; and had Allah willed, they would not have fought each other; but Allah may do as He wills.
यह रसूल हैं कि हमने उनमें एक को दूसरे पर अफ़ज़ल किया उनमें किसी से अल्लाह ने कलाम फ़रमाया और कोई वह है जिसे सब पर दर्ज़ों बुलन्द किया और हमने मरयम के बेटे ईसा को खुली निशानियाँ दीं और पाकीज़ा रूह से उसकी मदद की और अल्लाह चाहता तो उनके बाद वाले आपस में न लड़ते न उसके कि उनके पास खुली निशानियाँ आ चुकीं लेकिन वह मुख़्तलिफ़ हो गये उनमें कोई ईमान पर रहा और कोई काफ़िर हो गया और अल्लाह चाहता तो वह न लड़ते मगर अल्लाह जो चाहे करे,
Ye Rasool hain ke hum ne un mein ek ko doosre par afzal kiya, in mein kisi se Allah ne kalam farmaya aur koi woh hai jise sab par darjon buland kiya. Aur hum ne Maryam ke bete Isa ko khuli nishaniyan deen aur pakeeza rooh se uski madad ki. Aur Allah chahta to unke baad wale aapas mein na ladte, na is ke ke unke paas khuli nishaniyan aa chukin, lekin woh mukhtalif ho gaye, in mein koi iman par raha aur koi kafir ho gaya. Aur Allah chahta to woh na ladte magar Allah jo chahe kare.
(ف514)اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء علیہم السلام کے مراتب جداگانہ ہیں بعض حضرات سے بعض افضل ہیں اگرچہ نبوّت میں کوئی تفرقہ نہیں وصفِ نبوّت میں سب شریک یک د گر ہیں مگر خصائص و کمالات میں درجے متفاوت ہیں یہی آیت کامضمون ہےاور اسی پر تمام امت کااجماع ہے۔ (خازن و مدارک) (ف515)یعنی بے واسطہ جیسے کہ حضرت موسٰی علیہ السلام کو طور پر کلام سے مشرف فرمایا اور سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معراج میں (جمل)(ف516)وہ حضور پر نور سیّد انبیاء محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں کہ آپ کو بدرجات کثیرہ تمام انبیاء علیہم السلام پر افضل کیا اس پر تمام امت کا اجماع ہے اور بکثرت احادیث سے ثابت ہے آیت میں حضور کی اس رفعت مرتبت کابیان فرمایا گیا اور نام مبارک کی تصریح نہ کی گئی اس سے بھی حضور اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے علوِ شان کااظہار مقصود ہے کہ ذات والا کی یہ شان ہے کہ جب تمام انبیاء پر فضیلت کابیان کیا جائے تو سوائے ذاتِ اقدس کے یہ وصف کسی پر صادق ہی نہ آئے اور کوئی اشتباہ راہ نہ پاسکے حضور علیہ اللصلوٰ ۃ و السلام کے وہ خصائص وکمالات جن میں آپ تمام انبیاء پر فائق و افضل ہیں اور آپ کا کوئی شریک نہیں بے شمار ہیں کہ قرآن کریم میں یہ ارشاد ہوا، درجوں بلند کیا ان درجوں کی کوئی شمار قرآن کریم میں ذکر نہیں فرمائی تو اب کون حد لگاسکتا ہے ان بے شمار خصائص میں سے بعض کا اجمالی و مختصر بیان یہ ہے کہ آپ کی رسالت عامّہ ہے تمام کائنات آپ کی امت ہے اللہ تعالٰی نے فرمایا: وَمَآاَرْسَلْنَاکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلْنَّاسِ بَشِیْراً وَّنَذِیْراً دوسری آیت میں فرمایا لِیَکُوْنَ لِلْعَالَمِیْنَ نَذِیْرًا مسلم شریف کی حدیث میں ارشاد ہوا اُرْسِلْتُ اِلیَ الْخَلَائِقِ کَآفَّۃً اور آپ پر نبوت ختم کی گئی قرآن پاک میں آپ کو خا تم النّبیّین فرمایا حدیث شریف میں ارشاد ہوا خُتِمَ بِےَ النَّبِیُّوْنَ آیات بیّنات و معجزات باہرات میں آپ کو تمام انبیاء پر افضل فرمایا گیا، آپ کی امت کو تمام امتوں پر افضل کیا گیا، شفاعتِ کُبرٰی آپ کو مرحمت ہوئی ،قرب خاص معراج آپ کو ملا، علمی و عملی کمالات میں آپ کو سب سے اعلیٰ کیا اور اس کے علاوہ بے انتہا خصائص آپ کو عطا ہوئے۔(مدارک جمل خازن بیضاوی وغیرہ)(ف517) جیسے مردے کو زندہ کرنا ،بیماروں کو تندرست کرنا، مٹی سے پرند بنانا، غیب کی خبریں دینا وغیرہ۔(ف518)یعنی جبریل علیہ السلام سے جو ہمیشہ آ پ کے ساتھ رہتے تھے۔(ف519)یعنی انبیاء کے معجزات ۔(ف520)یعنی انبیاء سابقین کی امتیں بھی ایمان و کفر میں مختلف رہیں یہ نہ ہوا کہ تمام امت مطیع ہوجاتی۔(ف521)اس کے ملک میں اس کی مشیت کے خلاف کچھ نہیں ہوسکتا اور یہی خدا کی شان ہے۔
اے ایمان والو! اللہ کی راہ میں ہمارے دیئے میں سے خرچ کرو وہ دن آنے سے پہلے جس میں نہ خرید و فروخت ہے اور نہ کافروں کے لئے دوستی اور نہ شفاعت، اور کافر خود ہی ظالم ہیں (ف۵۲۲)
O People who Believe! Spend in Allah's cause, from what We have provided you, before the advent of a day in which there is no trade, and for the disbelievers neither any friendship nor intercession; and the disbelievers themselves are the unjust.
ऐ ईमान वालो! अल्लाह की राह में हमारे दिये में से ख़र्च करो वह दिन आने से पहले जिसमें न ख़रीद-ओ-फ़रोख़्त है और न काफ़िरों के लिये दोस्ती और न शफ़ाअत, और काफ़िर ख़ुद ही ज़ालिम हैं,
Ae iman walo! Allah ki rah mein hamare diye mein se kharch karo woh din aane se pehle jisme na kharid o farokht hai aur na kafiron ke liye dosti aur na shafaat, aur kafir khud hi zalim hain.
(ف522)کہ انہوں نے زندگانی دنیا میں روز حاجت یعنی قیامت کے لئے کچھ نہ کیا ۔
اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں (ف۵۲۳) وہ آپ زندہ اور اوروں کا قائم رکھنے والا (ف۵۲٤) اسے نہ اونگھ آئے نہ نیند (ف۵۲۵) اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں (ف۵۲٦) وہ کون ہے جو اس کے یہاں سفارش کرے بغیر اس کے حکم کے (ف۵۲۷) جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے (ف۵۲۹) اور وہ نہیں پاتے اس کے علم میں سے مگر جتنا وہ چاہے (ف۵۲۹) اس کی کرسی میں سمائے ہوئے آسمان اور زمین (ف۵۳۰) اور اسے بھاری نہیں ان کی نگہبانی اور وہی ہے بلند بڑائی والا (ف۵۳۱)
Allah – there is no God except Him; He is Alive (eternally, on His own) and the Upholder (keeps others established); He never feels drowsy nor does He sleep; to Him only belongs all whatever is in the heavens and all whatever is in the earth; who is he that can intercede* with Him except by His command? He knows what is in front of them and what is behind them; and they do not achieve anything of His knowledge except what He wills; His Throne (of Sovereignty) encompasses the heavens and the earth; and it is not difficult for Him to guard them; and He is the Supreme, the Greatest. (This Verse is popularly known as Ayat Al-Kursi. It has a special status and reciting it carries great reward. *Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him – will be the first one to be granted the permission to intercede, others will follow.)
अल्लाह है जिसके सिवा कोई माबूद नहीं वह आप ज़िंदा और औरों का क़ायम रखने वाला उसे न ऊँघ आये न नींद, उसी का है जो कुछ आसमानों में है और जो कुछ ज़मीन में, वह कौन है जो उसके यहाँ सिफ़ारिश करे बग़ैर उसके हुक्म के, जानता है जो कुछ उनके आगे है और जो कुछ उनके पीछे, और वह नहीं पाते उसके इल्म में से मगर जितना वह चाहे, उसकी कुर्सी में समाए हुए आसमान और ज़मीन और उसे भारी नहीं उनकी निगहबानी और वही है बुलन्द बड़ाई वाला,
Allah hai jiske siwa koi ma’bood nahi, woh aap zinda aur auron ka qayam rakhne wala. Use na oongh aaye na neend. Usi ka hai jo kuch aasmanon mein hai aur jo kuch zameen mein. Woh kaun hai jo uske yahan sifarish kare baghair uske hukm ke. Jaanta hai jo kuch unke aage hai aur jo kuch unke peeche. Aur woh nahi pate uske ilm mein se magar jitna woh chahe. Uski kursi mein samae hue hain aasman aur zameen, aur use bhaari nahi unki nigahbani. Aur wahi hai buland baraai wala.
(ف523)اس میں اللہ تعالٰی کی الوہیت اور اس کی توحید کا بیان ہے اس آیت کو آیت الکرسی کہتے ہیں احادیث میں اس کی بہت فضیلتیں وارد ہیں۔(ف524)یعنی واجب الوجود اور عالم کا ایجاد کرنے اور تدبیر فرمانے والا ۔(ف525)کیونکہ یہ نقص ہے اور وہ نقص و عیب سے پاک۔(ف526)اس میں اس کی مالکیت اور نفاذ امرو تصرف کا بیان ہے اور نہایت لطیف پیرایہ میں ردّ شرک ہے کہ جب سارا جہان اس کی ملک ہے تو شریک کون ہوسکتا ہے مشرکین یا تو کواکب کو پوجتے ہیں جو آسمانوں میں ہیں یا دریاؤں پہاڑوں، پتھروں ،درختوں،جانوروں، آگ وغیرہ کو جو زمین میں ہیں جب آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ کی ملک ہے تو یہ کیسے پوجنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔(ف527)اس میں مشرکین کارد ہے جن کا گمان تھا کہ بت شفاعت کریں گے انہیں بتادیا گیا کہ کفار کے لئے شفاعت نہیں اللہ کے حضور مَأ ذُوْنِیۡن کے سوا کوئی شفاعت نہیں کرسکتااور اذن والے انبیاء و ملائکہ و مؤمنین ہیں۔(ف528)یعنی ماقبل و مابعد یا امور دنیا و آخرت۔ (ف529)اور جن کو وہ مطلع فرمائے وہ انبیاء و رسل ہیں جن کو غیب پر مطلع فرمانا ان کی نبوّت کی دلیل ہے دوسری آبت میں ارشاد فرمایا لَایُظْھِرُ عَلیٰ غَیْبِہٖۤ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ (خازن)(ف530)اس میں اس کی عظمتِ شان کا اظہار ہے اور کرسی سے یا علم و قدرت مراد ہے یا عرش یا وہ جو عرش کے نیچے اور ساتوں آسمانوں کے اوپر ہے اور ممکن ہے کہ یہ وہی ہو جو فلک البروج کے نام سے مشہور ہے۔(ف531)اس آیت میں الہیّات کے اعلٰی مسائل کا بیان ہے اور اس سے ثابت ہے کہ اللہ تعالٰی موجود ہے الہٰیت میں واحد ہے حیات کے ساتھ متصف ہے واجب الوجود اپنے ماسوا کا موجد ہے تحیز و حلول سے منزّہ اور تغیر اور فتور سے مبرّا ہے نہ کسی کو اس سے مشابہت نہ عوارض مخلوق کو اس تک رسائی ملک و ملکوت کا مالک اصول و فروع کا مُبدِع قوی گرفت والا جس کے حضور سوائے ماذون کے کوئی شفاعت کے لئے لب نہ ہلاسکے تمام اشیاء کاجاننے والا جلی کا بھی اور خفی کا بھی کلّی کا بھی اور جزئی کا بھی واسع الملک و القدرۃ ادراک و وہم و فہم سے برتر و بالا
کچھ زبردستی نہیں (ف۵۳۲) دین میں بیشک خوب جدا ہوگئی ہے نیک راہ گمراہی سے تو جو شیطان کو نہ مانے اور اللہ پر ایمان لائے (ف۵۳۳) اس نے بڑی محکم گرہ تھامی جسے کبھی کھلنا نہیں، اور اللہ سنتا جانتا ہے،
There is no compulsion at all in religion; undoubtedly the right path has become very distinct from error; and whoever rejects faith in the devil (false deities) and believes in Allah has grasped a very firm handhold; it will never loosen; and Allah is All Hearing, All Knowing.
कुछ ज़बरदस्ती नहीं दीन में, बेशक खूब जुदा हो गयी है नेक राह गुमराही से, तो जो शैतान को न माने और अल्लाह पर ईमान लाये उसने बड़ी मुहकम गिरह थामी जिसे कभी खुलना नहीं, और अल्लाह सुनता जानता है,
Kuch zabardasti nahi deen mein. Beshak khoob juda ho gayi hai nek raah gumraahi se. To jo shaitan ko na maane aur Allah par iman laaye, usne badi muhkam girah thaami jise kabhi khulna nahi. Aur Allah sunta jaanta hai.
(ف532)صفات الٰہیہ کے بعد لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ فرمانے میں یہ اشعار ہے کہ اب عاقل کے لئے قبول حق میں تامل کی کوئی وجہ باقی نہ رہی۔(ف533)اس میں اشارہ ہے کہ کافر کے لئے اول اپنے کفر سے توبہ و بیزاری ضرور ہے اس کے بعد ایمان لانا صحیح ہوتا ہے۔
اللہ والی ہے مسلمانوں کا انہیں اندھیریوں سے (ف۵۳٤) نور کی طرف نکلتا ہے، اور کافروں کے حمایتی شیطان ہیں وہ انہیں نور سے اندھیریوں کی طرف نکالتے ہیں یہی لوگ دوزخ والے ہیں انہیں ہمیشہ اس میں رہنا،
Allah is the Guardian of the Muslims – He removes them from realms of darkness towards light; and the supporters of disbelievers are the devils – they remove them from light towards the realms of darkness; it is they who are the people of fire; they will remain in it forever.
अल्लाह वाली है मुसलमानों का, उन्हें अन्धेरियों से नूर की तरफ़ निकालता है, और काफ़िरों के हिमायती शैतान हैं वह उन्हें नूर से अन्धेरियों की तरफ़ निकालते हैं यही लोग दोज़ख़ वाले हैं, उन्हें हमेशा उसमें रहना,
Allah wali hai Musalmanon ka, unhe andheriyon se noor ki taraf nikalta hai. Aur kafiron ke himayati shaitan hain, woh unhe noor se andheriyon ki taraf nikalte hain. Yehi log dozakh wale hain, unhe hamesha usmein rehna.
اے محبوب! کیا تم نے نہ دیکھا تھا اسے جو ابراہیم سے جھگڑا اس کے رب کے بارے میں اس پر (ف۵۳۵) کہ اللہ نے اسے بادشاہی دی (ف۵۳٦) جبکہ ابراہیم نے کہا کہ میرا رب وہ ہے جو جِلاتا اور مارتا ہے (ف۵۳۷) بولا میں جِلاتا اور مارتا ہوں (ف۵۳۸) ابراہیم نے فرمایا تو اللہ سورج کو لاتا ہے پورب (مشرق) سے تو اس کو پچھم (مغرب) سے لے آ (ف۵۳۹) تو ہوش اڑ گئے کافروں کے، اور اللہ راہ نہیں دکھاتا ظالموں کو،
Did you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) not see him who argued with Ibrahim (Abraham) concerning his Lord, as Allah had given him the kingdom? When Ibrahim said, “My Lord is He Who gives life and causes death”, he answered, “I give life and cause death”; Ibrahim said, “So indeed it is Allah Who brings the sun from the East – you bring it from the West!” – the disbeliever was therefore baffled; and Allah does not guide the unjust.
ऐ महबूब! क्या तुमने न देखा था उसे जो इब्राहीम से झगड़ा उसके रब के बारे में, उस पर कि अल्लाह ने उसे बादशाही दी, जबकि इब्राहीम ने कहा कि मेरा रब वह है जो जिलाता और मारता है, बोला मैं जिलाता और मारता हूँ, इब्राहीम ने फ़रमाया तो अल्लाह सूरज को लाता है पूरब से, तो उसको पश्चिम से ले आ, तो होश उड़ गये काफ़िरों के, और अल्लाह राह नहीं दिखाता ज़ालिमों को,
Ae Mehboob! Kya tumne na dekha tha use jo Ibrahim se jhagda uske Rab ke bare mein is par ke Allah ne use badshahi di. Jabke Ibrahim ne kaha mera Rab woh hai jo jilata aur maarta hai. Bola main jilata aur maarta hoon. Ibrahim ne farmaya to Allah sooraj ko lata hai poorab (mashriq) se, to usko pacham (maghrib) se le aa. To hosh ud gaye kafiron ke, aur Allah raah nahi dikhata zalimon ko.
(ف535)غرور و تکبر پر (ف536)اور تمام زمین کی سلطنت عطا فرمائی اس پر اس نے بجائے شکرو طاعت کے تکبر و تجبر کیا اور ربوبیت کا دعوٰی کرنے لگااس کا نام نمرود بن کنعان تھا سب سے پہلے سر پر تاج رکھنے والا یہی ہے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کو خدا پرستی کی دعوت دی خواہ آگ میں ڈالے جانے سے قبل یااس کے بعد تو وہ کہنے لگاکہ تمہارا رب کون ہے جس کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو۔(ف537)یعنی اجسام میں موت و حیات پیدا کرتاہے ایک خداناشناس کے لئے یہ بہترین ہدایت تھی اور اس میں بتایا گیا تھا کہ خود تیری زندگی اس کے وجودکی شاہد ہے کہ تو ایک بے جان نطفہ تھاجس نے اس کو انسانی صورت دی اور حیات عطا فرمائی وہ رب ہے اور زندگی کے بعد پھر زندہ اجسام کو جو موت دیتاہے وہ پروردگار ہے اس کی قدرت کی شہادت خود تیری اپنی موت و حیات میں موجود ہے اس کے وجود سے بے خبر رہنا کمال جہالت و سفاہت اور انتہائی بدنصیبی ہے یہ دلیل ایسی زبردست تھی کہ اس کا جواب نمرود سے بن نہ پڑااور اس خیال سے کہ مجمع کے سامنے اس کو لاجواب اور شرمندہ ہونا پڑتا ہے اس نے کج بحثی اختیار کی۔(ف538)نمرود نے دو شخصوں کو بلایا ان میں سے ایک کو قتل کیا ایک کو چھوڑ دیا اور کہنے لگا کہ میں بھی جلاتا مارتا ہوں یعنی کسی کو گرفتار کرکے چھوڑ دینا اس کو جلانا ہے یہ اس کی نہایت احمقانہ بات تھی کہاں قتل کرنااور چھوڑنا اور کہاں موت و حیات پیدا کرنا قتل کئے ہوئے شخص کو زندہ کرنے سے عاجز رہنااور بجائے اس کے زندہ کے چھوڑنے کو جلانا کہناہی اس کی ذلت کے لئے کافی تھا عقلاء پر اسی سے ظاہر ہوگیا کہ جو حجت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قائم فرمائی وہ قاطع ہے اور اس کا جواب ممکن نہیں لیکن چونکہ نمرود کے جواب میں شان دعوٰی پیدا ہوگئی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس پر مناظرانہ گرفت فرمائی کہ موت و حیات کاپیدا کرنا تو تیرے مقدور میں نہیں اے ربوبیت کے جھوٹے مدعی تو اس سے سہل کام ہی کردکھا جو ایک متحرک جسم کی حرکت کابدلنا ہے۔(ف539)یہ بھی نہ کرسکے تو ربوبیت کا دعوٰی کس منہ سے کرتا ہے مسئلہ : اس آیت سے علم کلام میں مناظرہ کرنے کا ثبوت ہوتا ہے۔
یا اس کی طرح جو گزرا ایک بستی پر (ف۵٤۰) اور وہ ڈھئی (مسمار ہوئی) پڑی تھی اپنی چھتوں پر (ف۵٤۱) بولا اسے کیونکر جِلائے گا اللہ اس کی موت کے بعد تو اللہ نے اسے مردہ رکھا سو برس پھر زندہ کردیا، فرمایا تو یہاں کتنا ٹھہرا، عرض کی دن بھر ٹھہرا ہوں گا یا کچھ کم، فرمایا نہیں تجھے سو برس گزر گئے اور اپنے کھانے اور پانی کو دیکھ کہ اب تک بو نہ لایا اور اپنے گدھے کو دیکھ کہ جس کی ہڈیاں تک سلامت نہ رہیں اور یہ اس لئے کہ تجھے ہم لوگوں کے واسطے نشانی کریں اور ان ہڈیوں کو دیکھ کیونکر ہم انہیں اٹھان دیتے پھر انہیں گوشت پہناتے ہیں جب یہ معاملہ اس پر ظاہر ہوگیا بولا میں خوب جانتا ہوں کہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
Or like him* who passed by a dwelling and it had fallen flat on its roofs; he said, “How will Allah bring it to life, after its death?”; so Allah kept him dead for a hundred years, then brought him back to life; He said, “How long have you stayed here?”; he replied, “I may have stayed for a day or little less”; He said, “In fact, you have spent a hundred years – so look at your food and drink which do not even smell stale; and look at your donkey whose bones even are not intact – in order that We may make you a sign for mankind – and look at the bones how We assemble them and then cover them with flesh”; so when the matter became clear to him, he said, “I know well that Allah is Able to do all things.” (Prophet Uzair – peace be upon him.)
या उसकी तरह जो गुज़रा एक बस्ती पर और वह ढही पड़ी थी अपनी छतों पर, बोला इसे क्योंकर जिलायेगा अल्लाह इसकी मौत के बाद, तो अल्लाह ने उसे मरा रखा सौ बरस फिर ज़िन्दा कर दिया, फ़रमाया तू यहाँ कितना ठहरा, अर्ज़ की दिन भर ठहरा हूँगा या कुछ कम, फ़रमाया नहीं तुझे सौ बरस गुज़र गये और अपने खाने और पानी को देख कि अब तक बू न लाया और अपने गधे को देख कि जिसकी हड्डियाँ तक सलामत न रहीं और यह इस लिये कि तुझे हम लोगों के वास्ते निशानी करें और उन हड्डियों को देख क्योंकर हम उन्हें उठान देते फिर उन्हें गोश्त पहनाते हैं, जब यह मामला उस पर ज़ाहिर हो गया बोला मैं खूब जानता हूँ कि अल्लाह सब कुछ कर सकता है,
Ya uski tarah jo guzra ek basti par aur woh dheyi (masmar hui) pari thi apni chhaton par. Bola isse kaise jilayega Allah iski maut ke baad. To Allah ne use murda rakha sau baras, phir zinda kar diya. Farmaya tu yahan kitna thehra. Arz ki din bhar thehra honga ya kuch kam. Farmaya nahi tujhe sau baras guzr gaye. Aur apne khane aur pani ko dekh ke ab tak boo na laya. Aur apne gadhe ko dekh jiski hadiyan tak salamat na rahin. Aur ye isliye ke tujhe hum logon ke waste nishani karein. Aur in hadiyon ko dekh kaise hum unhe uthaan dete phir unhe gosht pehnate hain. Jab ye maamla us par zahir ho gaya bola main khoob jaanta hoon ke Allah sab kuch kar sakta hai.
(ف540)بقول اکثر یہ واقعہ عُزیرعلیہ السلام کاہے اور بستی سے بیت المقدس مراد ہے جب بُختِ نصر بادشاہ نے بیت المقدس کو ویران کیا اور بنی اسرائیل کو قتل کیاگرفتار کیا تباہ کر ڈالا پھر حضرت عُزیر علیہ السلام وہاں گزرے آ پ کے ساتھ ایک برتن کھجور اور ایک پیالہ انگور کارس تھا اور آپ ایک دراز گوش پر سوار تھے تمام بستی میں پھرے کسی شخص کو وہاں نہ پایا بستی کی عمارتوں کو منہدم دیکھا تو آپ نے براہ تعجب کہا اَنّٰی یُحْیِیْ ھٰذِہِ اللّٰہُ بَعْدَ مُوْتِھَا اور آپ نے اپنی سواری کے حمار کو وہاں باندھ دیا اورآپ نے آرام فرمایا اسی حالت میں آپ کی روح قبض کر لی گئی اور گدھا بھی مرگیا یہ صبح کے وقت کا واقعہ ہے اس سے ستر برس بعد اللہ تعالٰی نے شاہان فارس میں سے ایک بادشاہ کو مسلط کیا اور وہ اپنی فوجیں لے کر بیت المقدس پہنچا اور اس کو پہلے سے بھی بہتر طریقہ پر آباد کیا اور بنی اسرائیل میں سے جو لوگ باقی رہے تھے اللہ تعالٰی انہیں پھر یہاں لایا اور وہ بیت المقدس اور اس کے نواح میں آباد ہوئے اور ان کی تعداد بڑھتی رہی اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عُزیر علیہ السلام کو دنیا کی آنکھوں سے پوشیدہ رکھا اور کوئی آپ کو نہ دیکھ سکا جب آپ کی وفات کو سو برس گزر گئے تو اللہ تعالٰی نے آپ کو زندہ کیا پہلے آنکھوں میں جان آئی ابھی تک تمام جسم مردہ تھا وہ آپ کے دیکھتے دیکھتے زندہ کیا گیا یہ واقعہ شام کے وقت غروب آفتاب کے قریب ہوا اللہ تعالٰی نے فرمایا تم یہاں کتنے دن ٹھہرے آپ نے اندازہ سے عرض کیا کہ ایک دن یا کچھ کم آپ کا خیال یہ ہوا کہ یہ اسی دن کی شام ہے جس کی صبح کو سوئے تھے فرمایا بلکہ تم سو برس ٹھہرے اپنے کھانے اور پانی یعنی کھجور اور انگور کے رس کو دیکھئے کہ ویسا ہی ہے اس میں بو تک نہ آئی اور اپنے گدھے کو دیکھئے دیکھا تو وہ مر گیا تھا گل گیا اعضاء بکھر گئے تھے ہڈیاں سفید چمک رہی تھیں آپ کی نگاہ کے سامنے اس کے اعضاء جمع ہوئے اعضاء اپنے اپنے مواقع پر آئے ہڈیوں پر گوشت چڑھا گوشت پر کھال آئی بال نکلے پھر اس میں روح پھونکی وہ اٹھ کھڑا ہوا اور آواز کرنے لگا۔آپ نے اللہ تعالٰی کی قدرت کا مشاہدہ کیا اور فرمایا میں خوب جانتا ہوں کہ اللہ تعالٰی ہر شئے پر قادر ہے پھر آ پ اپنی اس سواری پر سوار ہو کر اپنے محلہ میں تشریف لائے سر اقدس اور ریش مبارک کے بال سفید تھے عمر وہی چالیس سال کی تھی کوئی آپ کو نہ پہچانتا تھا۔ اندازے سے اپنے مکان پر پہنچے ایک ضعیف بڑھیا ملی جس کے پاؤں رہ گئے تھے۔ وہ نابینا ہوگئی تھی وہ آپ کے گھر کی باندی تھی اور اس نے آپ کو دیکھا تھا آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ یہ عُزیر کامکان ہے اس نے کہا ہاں، اور عُزیرکہاں،انہیں مفقود ہوئے سو برس گزر گئے یہ کہہ کر خوب روئی آپ نے فرمایامیں عُزیر ہوں اس نے کہا سبحان اللہ یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ آپ نے فرمایا، اللہ تعالٰی نے مجھے سو برس مردہ رکھا پھر زندہ کیا اس نے کہا حضرت عُزیر مستجاب الدعوات تھے جو دعا کرتے قبول ہوتی آپ دعا کیجئے میں بینا ہوجاؤں تاکہ میں اپنی آنکھوں سے آپ کو دیکھوں آپ نے دعا فرمائی وہ بینا ہوئی آپ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اٹھ خدا کے حکم سے یہ فرماتے ہی اس کے مارے ہوئے پاؤں درست ہوگئے۔ اس نے آپ کو دیکھ کر پہچانا اور کہا میں گواہی دیتی ہوں کہ آپ بے شک حضرت عُزیرہیں وہ آپ کوبنی اسرائیل کے محلہ میں لے گئی وہاں ایک مجلس میں آپ کے فرزند تھے جن کی عمر ایک سو اٹھارہ سال کی ہوچکی تھی اور آپ کے پوتے بھی تھے جو بوڑھے ہوچکے تھے بوڑھیا نے مجلس میں پکارا کہ یہ حضرت عُزیرتشریف لے آئے اہلِ مجلس نے اس کو جھٹلایااس نے کہا مجھے دیکھو آپ کی دعا سے میری یہ حالت ہوگئی لوگ اٹھے اورآپ کے پاس آئے آپ کے فرزند نے کہا کہ میرے والد صاحب کے شانوں کے درمیان سیاہ بالوں کا ایک ہلال تھا جسم مبارک کھول کر دکھایا گیا تو وہ موجود تھا اس زما نہ میں توریت کا کوئی نسخہ نہ رہا تھا کوئی اس کا جاننے والا موجود نہ تھا ۔ آپ نے تمام توریت حفظ پڑھ دی ایک شخص نے کہا کہ مجھے اپنے والد سے معلوم ہوا کہ بُختِ نصر کی ستم انگیزیوں کے بعد گرفتاری کے زمانہ میں میرے دادا نے توریت ایک جگہ دفن کردی تھی اس کا پتہ مجھے معلوم ہے اس پتہ پر جستجو کرکے توریت کا وہ مدفون نسخہ نکالا گیا اور حضرت عُزیرعلیہ السلام نے اپنی یاد سے جو توریت لکھائی تھی اس سے مقابلہ کیا گیا تو ایک حرف کا فرق نہ تھا۔ (جمل )(ف541)کہ پہلے چھتیں گریں پھر ان پر دیواریں آپڑیں۔
اور جب عرض کی ابراہیم نے (ف۵٤۲) اے رب میرے مجھے دکھا دے تو کیونکر مردے جِلائے گا فرمایا کیا تجھے یقین نہیں (ف۵٤۳) عرض کی یقین کیوں نہیں مگر یہ چاہتا ہوں کہ میرے دل کو قرار آجائے (ف۵٤٤) فرمایا تو اچھا، چار پرندے لے کر اپنے ساتھ ہلالے (ف۵٤۵) پھر ان کا ایک ایک ٹکڑا ہر پہاڑ پر رکھ دے پھر انہیں بلا وہ تیرے پاس چلے آئیں گے پاؤں سے دوڑتے (ف۵٤٦) اور جان رکھ کہ اللہ غالب حکمت والا ہے
And when Ibrahim said, “My Lord! Show me how You will give life to the dead”; He said, “Are you not certain (of it)?” Ibrahim said, “Surely yes, why not? But because I wish to put my heart at ease”; He said, “Therefore take four birds (as pets) and cause them to become familiar to you, then place a part of each of them on separate hills, then call them – they will come running towards you; and know well that Allah is Almighty, Wise.” (Prophet Ibrahim called the dead birds and they did come running towards him.)
और जब अर्ज़ की इब्राहीम ने ऐ रब मेरे, मुझे दिखा दे तू क्योंकर मुर्दे जिलायेगा, फ़रमाया क्या तुझे यक़ीन नहीं, अर्ज़ की यक़ीन क्यों नहीं, मगर यह चाहता हूँ कि मेरे दिल को क़रार आ जाये, फ़रमाया तो अच्छा, चार परिन्दे ले कर अपने साथ मिला ले फिर उनका एक-एक टुकड़ा हर पहाड़ पर रख दे, फिर उन्हें बुला, वह तेरे पास चले आयेंगे पाँव से दौड़ते और जान रख कि अल्लाह ग़ालिब हिकमत वाला है,
Aur jab arz ki Ibrahim ne, ae Rab mere mujhe dikha de tu kaise murde jilayega. Farmaya kya tujhe yaqeen nahi. Arz ki yaqeen kyon nahi, magar ye chahta hoon ke mere dil ko qarar aa jaye. Farmaya to acha, chaar parinde le kar apne saath hila le, phir unka ek ek tukda har pahad par rakh de, phir unhe bula, woh tere paas chale aayenge paon se daurte hue. Aur jaan rakh ke Allah ghalib hikmat wala hai.
(ف542)مفسرین نے لکھا ہے کہ سمندر کے کنارے ایک آدمی مرا پڑا تھا جوار بھاٹے میں سمندر کا پانی چڑھتا اترتا رہتا ہے جب پانی چڑھتا تو مچھلیاں اس لاش کو کھاتیں جب اتر جاتا تو جنگل کے درندے کھاتے جب درندے جاتے تو پرند کھاتے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ ملاحظہ فرمایا تو آپ کو شوق ہوا کہ آپ ملاحظہ فرمائیں کہ مردے کس طرح زندہ کئے جائیں گے آپ نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کیایارب مجھے یقین ہے کہ تو مردوں کو زندہ فرمائے گااور انکے اجزاء دریائی جانوروں اور درندوں کے پیٹ اور پرندوں کے پوٹوں سے جمع فرمائے گا لیکن میں یہ عجیب منظر دیکھنے کی آرزو رکھتا ہوں مفسرین کا ایک قول یہ بھی ہے کہ جب اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل کیا ملک الموت حضرت رب العزت سے اذن لے کر آپ کو یہ بشارت سنانے آئے آپ نے بشارت سن کر اللہ کی حمد کی اور ملک الموت سے فرمایا کہ اس خُلّت کی علامت کیا ہے انہوں نے عرض کیا یہ کہ اللہ تعالیٰ آپ کی دعا قبول فرمائے اور آ پ کے سوال پر مردے زندہ کرے تب آپ نے یہ دعا کی۔(خازن)(ف543)اللہ تعالٰی عالم غیب و شہادت ہے اس کو حضر ت ابراہیم علیہ السلام کے کمال ایمان و یقین کا علم ہے باوجود اس کے یہ سوال فرمانا کہ کیا تجھے یقین نہیں ا س لئے ہے کہ سامعین کو سوال کامقصد معلوم ہوجائے اور وہ جان لیں کہ یہ سوال کسی شک و شبہ کی بناء پر نہ تھا۔(بیضاوی و جمل وغیرہ)(ف544)اور انتظار کی بے چینی رفع ہو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا معنی یہ ہیں کہ اس علامت سے میرے دل کو تسکین ہوجائے کہ تو نے مجھے اپنا خلیل بنایا۔(ف545)تاکہ اچھی طرح شناخت ہو جائے۔(ف546)حضرت ابراہیم علیہ السلام نے چار پرند لئے مور۔ مرغ۔ کبوتر۔ کوّا۔انہیں بحکم الٰہی ذبح کیا ان کے پَر اکھاڑے اور قیمہ کرکے ان کے اجزاء باہم خلط کردیئے اور اس مجموعہ کے کئی حصہ کئے ایک ایک حصہ ایک ایک پہاڑ پر رکھا اور سر سب کے اپنے پاس محفوظ رکھے پھر فرمایا چلے آؤ حکم الٰہی سے یہ فرماتے ہی وہ اجزاء اڑے اور ہر ہر جانور کے اجزاء علٰیحدہ علٰیحدہ ہو کر اپنی ترتیب سے جمع ہوئے اور پرندوں کی شکلیں بن کر اپنے پاؤں سے دوڑتے حاضر ہوئے اور اپنے اپنے سروں سے مل کر بعینہٖ پہلے کیطرح مکمل ہو کر اڑ گئے سبحان اللہ۔
ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں (ف۵٤۷) اس دانہ کی طرح جس نے اگائیاں سات بالیں (ف۵٤۸) ہر بال میں سو دانے (ف۵٤۹) اور اللہ اس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لئے چاہے اور اللہ وسعت والا علم والا ہے،
The example of those who spend their wealth in Allah’s way is similar to that of a grain which has sprouted seven stalks and in each stalk are a hundred grains; and Allah may increase it still more than this, for whomever He wills; and Allah is Most Capable, All Knowing.
उनकी क़हावत जो अपने माल अल्लाह की राह में ख़र्च करते हैं उस दाने की तरह जिसने उगाईं सात बालें, हर बाल में सौ दाने और अल्लाह उससे भी ज़्यादा बढ़ाये जिसके लिये चाहे और अल्लाह वुसअत वाला इल्म वाला है,
Unki kahawat jo apne maal Allah ki raah mein kharch karte hain us daane ki tarah jisne ugayein saat balain, har baal mein sau dane. Aur Allah usse bhi zyada barhaye jiske liye chahe. Aur Allah wus’at wala ilm wala hai.
(ف547)خواہ خرچ کرنا واجب ہو یا نفل تمام ابواب خیر کو عام ہے خواہ کسی طالب علم کو کتاب خرید کر دی جائے یا کوئی شِفا خانہ بنادیا جائے یا اموات کے ایصال ثواب کے لئے تیجہ دسویں بیسویں چالیسویں کے طریقہ پر مساکین کو کھانا کھلایا جائے۔ (ف548)اگانے والاحقیقت میں اللہ ہی ہےدانہ کی طرف اس کی نسبت مجازی ہے مسئلہ:اس سے معلوم ہوا کہ اسناد مجازی جائز ہے جب کہ اسناد کرنے والا غیر خدا کو مستقل فی التصرف اعتقاد نہ کرتا ہو اسی لئے یہ کہنا جائز ہے کہ یہ دوانافع ہے ،یہ مضر ہے ،یہ در دکی دافع ہے ،ماں باپ نے پالا عالم نے گمراہی سے بچایا بزرگوں نے حاجت روائی کی وغیرہ سب میں اسناد مجازی اور مسلمان کے اعتقاد میں فاعل حقیقی صرف اللہ تعالٰی ہے باقی سب وسائل۔(ف549)تو ایک دانہ کے سات سو دانے ہوگئے اسی طرح راہِ خدا میں خرچ کرنے سے سات سو گناہ اجر ہوجاتا ہے۔
وہ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں (ف۵۵۰) پھر دیئے پیچھے نہ احسان رکھیں نہ تکلیف دیں (ف۵۵۱) ان کا نیگ (انعام) ان کے رب کے پاس ہے اور انہیں نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم ،
Those who spend their wealth in Allah’s way and thereafter do not express favour nor cause injury (hurt the recipient’s feelings), their reward is with their Lord; there shall be no fear upon them nor shall they grieve.
वह जो अपने माल अल्लाह की राह में ख़र्च करते हैं फिर दिये पीछे न एहसान रखें न तकलीफ़ दें, उनका नेग (इनाम) उनके रब के पास है और उन्हें न कुछ अन्देशा हो न कुछ ग़म,
Woh jo apne maal Allah ki raah mein kharch karte hain phir diye peeche na ehsaan rakhein na takleef dein, unka neeg (inaam) unke Rab ke paas hai aur unhe na kuch andesha ho na kuch gham.
(ف550)شانِ نزول :یہ آیت حضر ت عثمان غنی و حضرت عبدالرحمٰن بن عو ف رضی اللہ عنہما کے حق میں نازل ہوئی حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ نے غزوۂ تبوک کے موقع پر لشکر اسلام کے لئے ایک ہزار اونٹ مع سامان پیش کئے اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے چار ہزار درہم صدقہ کے بارگاہ رسالت میں حاضر کئے اور عرض کیا کہ میرے پاس کل آٹھ ہزار درہم تھے نصف میں نے اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لئے ر کھ لئے اور نصف راہِ خدا میں حاضر ہیں سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو تم نے دیئے اور جو تم نے رکھے اللہ تعالٰی دونوں میں برکت فرمائے۔(ف551)احسان رکھنا تو یہ کہ دینے کے بعد دوسروں کے سامنے اظہار کریں کہ ہم نے تیرے ساتھ ایسے ایسے سلوک کئے اور اس کو مکدّر کریں اور تکلیف دینا یہ کہ اس کو عار دلائیں کہ تونادار تھا مفلِس تھا مجبور تھا نکمّا تھا ہم نے تیری خبر گیری کی یا اور طرح دباؤ دیں یہ ممنوع فرمایا گیا۔
اچھی بات کہنا اور درگزر کرنا (ف۵۵۲) اس خیرات سے بہتر ہے جس کے بعد ستانا ہو (ف۵۵۳) اور اللہ بے پرواہ حلم والا ہے،
Speaking kind words and pardoning are better than charity followed by injury; and Allah is the Independent, Most Forbearing.
अच्छी बात कहना और दरगुज़र करना उस ख़ैरात से बेहतर है जिसके बाद सताना हो और अल्लाह बेपरवाह हलीम वाला है,
Achi baat kehna aur darguzar karna us khairat se behtar hai jiske baad satana ho. Aur Allah beparwah haleem wala hai.
(ف552)یعنی اگر سائل کو کچھ نہ دیا جائے تو اس سے اچھی بات کہنا اور خوش خلقی کے ساتھ جواب دینا جو اس کو ناگوار نہ گزرے اور اگر وہ سوال میں اصرار کرے یا زبان درازی کرے تو اس سے در گزر کرنا۔(ف553)عار دلا کر یا احسان جتا کر یا اور کوئی تکلیف پہنچا کر ۔
اے ایمان والوں اپنے صدقے باطل نہ کردو احسان رکھ کر اور ایذا دے کر (ف۵۵٤) اس کی طرح جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرے اور اللہ اور قیامت پر ایمان نہ لائے، تو اس کی کہاوت ایسی ہے جیسے ایک چٹان کہ اس پر مٹی ہے اب اس پر زور کا پانی پڑا جس نے اسے نرا پتھر کر چھوڑا (ف۵۵۵) اپنی کمائی سے کسی چیز پر قابو نہ پائیں گے، اور اللہ کافروں کو راہ نہیں دیتا،
O People who Believe! Do not invalidate your charity by expressing favour and causing injury – like one who spends his wealth for people to see, and does not believe in Allah and the Last Day; his example is similar to that of a rock covered with dust and hard rain fell on it, leaving it as a bare rock; they shall get no control over (or benefit from) anything they have earned; and Allah does not guide the disbelievers.
ऐ ईमान वालों! अपने सदक़े बाटिल न कर दो एहसान रख कर और अज़ीयत दे कर, उसकी तरह जो अपना माल लोगों के दिखावे के लिये ख़र्च करे और अल्लाह और क़यामत पर ईमान न लाये, तो उसकी क़हावत ऐसी है जैसे एक चट्टान कि उस पर मिट्टी है अब उस पर ज़ोर का पानी पड़ा जिसने उसे नरा पत्थर कर छोड़ा, अपनी कमाई से किसी चीज़ पर क़ाबू न पायेंगे, और अल्लाह काफ़िरों को राह नहीं देता,
Ae iman walo apne sadqe baatil na kar do ehsaan rakh kar aur eza de kar. Uski tarah jo apna maal logon ke dikhave ke liye kharch kare aur Allah aur qiyamat par iman na laye. To uski kahawat aisi hai jaise ek chattan jis par mitti hai, ab us par zor ka paani pada jisne use nira pathar kar chhoda. Apni kamai se kisi cheez par qaboo na payenge, aur Allah kafiron ko raah nahi deta.
(ف554)یعنی جس طرح منافق کو رضائے الٰہی مقصود نہیں ہوتی وہ اپنا مال ریا کاری کے لئے خرچ کرکے ضائع کردیتا ہے اس طرح تم احسان جتا کر اور ایذا دے کر اپنے صدقات کا اجر ضائع نہ کرو۔(ف555)یہ منافق ریا کار کے عمل کی مثال ہے کہ جس طرح پتھر پر مٹی نظر آتی ہے لیکن بارش سے وہ سب دور ہو جاتی ہے خالی پتھر رہ جاتا ہے یہی حال منافق کے عمل کا ہے کہ دیکھنے والوں کو معلوم ہوتا ہے کہ عمل ہے اور روز قیامت وہ تمام عمل باطل ہوں گے کیونکہ رضائے الٰہی کے لئے نہ تھے۔
اور ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی رضا چاہنے میں خرچ کرتے ہیں اور اپنے دل جمانے کو (ف۵۵٦) اس باغ کی سی ہے جو بھوڑ (رتیلی زمین) پر ہو اس پر زور کا پانی پڑا تو دُونے میوے لایا پھر اگر زور کا مینھ اسے نہ پہنچے تو اوس کافی ہے (ف۵۵۷) اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے (ف۵۵۸)
And the example of those who spend their wealth in order to seek Allah’s pleasure and to make their hearts steadfast, is similar to that of a garden on a height – hard rain fell on it, so bringing forth its fruit twofold; so if hard rain does not reach it, the dew is enough; and Allah is seeing your deeds.
और उनकी क़हावत जो अपने माल अल्लाह की रज़ा चाहने में ख़र्च करते हैं और अपने दिल जमाने को उस बाग़ की सी है जो भूर (रेतीली ज़मीन) पर हो, उस पर ज़ोर का पानी पड़ा तो दुगुने मेवे लाया फिर अगर ज़ोर का मेह उसे न पहुँचे तो ओस काफ़ी है और अल्लाह तुम्हारे काम देख रहा है,
Aur unki kahawat jo apne maal Allah ki raza chahne mein kharch karte hain aur apne dil jamaney ko, us bagh ki si hai jo bhoor (rateeli zameen) par ho. Us par zor ka paani pada to doone mewe laya, phir agar zor ka mainh use na pahunche to os kafi hai. Aur Allah tumhare kaam dekh raha hai.
(ف556)راہ خدا میں خرچ کرنے پر۔(ف557)یہ مومن مخلص کے اعمال کی ایک مثال ہے کہ جس طرح بلند خطہ کی بہتر زمین کا باغ ہر حا ل میں خوب پھلتا ہے خواہ بارش کم ہو یا زیادہ ایسے ہی بااخلاص مؤمن کا صدقہ اور انفاق خواہ کم ہو یا زیادہ اللہ تعالٰی اس کو بڑھاتا ہے۔(ف558)اور تمہاری نیت و اخلا ص کو جانتا ہے ۔
کیا تم میں کوئی اسے پسند رکھے گا (ف۵۵۹) کہ اس کے پاس ایک باغ ہو کھجوروں اور انگوروں کا (ف۵٦۰) جس کے نیچے ندیاں بہتیں اس کے لئے اس میں ہر قسم کے پھلوں سے ہے (ف۵٦۱) اور اسے بڑھاپا آیا (ف۵٦۲) اور اس کے ناتواں بچے ہیں (ف۵٦۳) تو آیا اس پر ایک بگولا جس میں آگ تھی تو جل گیا (ف۵٦٤) ایسا ہی بیان کرتا ہے اللہ تم سے اپنی آیتیں کہ کہیں تم دھیان لگاؤ (ف۵٦۵)
Would any of you like that he may own a garden of dates and grapes, with rivers flowing beneath it – in it are all kinds of fruits for him – and he reaches old age and has young children; therefore a windstorm containing fire came to the garden, burning it? This is how Allah explains His verses to you, so that you may give thought.
क्या तुम में कोई इसे पसन्द रखेगा कि उसके पास एक बाग़ हो खजूरों और अंगूरों का, जिसके नीचे नदियाँ बहतीं, उसके लिये उसमें हर क़िस्म के फल हैं और उसे बुढ़ापा आया और उसके नातवान बच्चे हैं तो आया उस पर एक बवंडर जिसमें आग थी तो जल गया, ऐसा ही बयान करता है अल्लाह तुमसे अपनी आयतें कि कहीं तुम ध्यान लगाओ,
Kya tum mein koi use pasand rakhega ke uske paas ek bagh ho khajooron aur anguron ka jiske neeche nadiyan beh rahi ho, uske liye usmein har qism ke phalon se hai aur use burhapa aaya aur uske natwan bachche hain, to aaya us par ek bagola jisme aag thi to jal gaya. Aisa hi bayan karta hai Allah tum se apni ayatein taake kahin tum dhyaan lagao.
(ف559)یعنی کوئی پسند نہ کرے گا کیونکہ یہ بات کسی عاقل کے گوارا کرنے کے قابل نہیں ہے۔(ف560)اگرچہ اس باغ میں بھی قسم قسم کے درخت ہوں مگر کھجور اور انگور کا ذکر اس لئے کیا کہ یہ نفیس میوے ہیں۔(ف561)یعنی وہ باغ فرحت انگیز و دلکشا بھی ہے اور نافع اور عمدہ جائیداد بھی ۔(ف562)جو حاجت کا وقت ہوتا ہے اور آدمی کسب ومعاش کے قابل نہیں رہتا۔(ف563)جو کمانے کے قابل نہیں اور ان کی پرورش کی حاجت ہے غرض وقت نہایت شدت حاجت کا ہے اور دارومدار صرف باغ پر اور باغ بھی نہایت عمدہ ہے۔(ف564)وہ باغ تو اس وقت اس کے رنج و غم اور حسرت ویاس کی کیا انتہا ہے یہی حال اس کا ہے جس نے اعمال حسنہ تو کئے ہوں مگر رضائے الٰہی کے لئے نہیں بلکہ ریا کی غرض سے اور وہ اس گمان میں ہو کہ میرے پاس نیکیوں کا ذخیرہ ہے مگر جب شدتِ حاجت کا وقت یعنی قیامت کا دن آئے تو اللہ تعالٰی ان اعمال کو نامقبول کردے اور اس وقت اس کو کتنا رنج اور کتنی حسرت ہوگی ایک رو ز حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے صحابۂ کرام سے فرمایا کہ آپ کے علم میں یہ آیت کس باب میں نازل ہوئی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کہ یہ مثال ہے ایک دولت مند شخص کے لئے جو نیک عمل کرتا ہو پھر شیطان کے اغواء سے گمراہ ہو کر اپنی تمام نیکیوں کو ضائع کردے۔(مدارک و خازن)(ف565)اور سمجھو کہ دنیا فانی اور عاقبت آنی ہے ۔
اے ایمان والو! اپنی پاک کمائیوں میں سے کچھ دو (ف۵٦٦) اور اس میں سے جو ہم نے تمہارے لئے زمین سے نکالا (ف۵٦۷) اور خاص ناقص کا ارادہ نہ کرو کہ دو تو اس میں سے (ف۵٦۸) اور تمہیں ملے تو نہ لو گے جب تک اس میں چشم پوشی نہ کرو اور جان رکھو کہ اللہ بےپروانہ سراہا گیا ہے۔
O People who Believe! Spend a part of your lawful earnings, and part of what We have produced from the earth for you – and do not (purposely) choose upon the flawed to give from it (in charity) whereas you would not accept it yourselves except with your eyes closed towards it; and know well that Allah is Independent, Most Praised.
ऐ ईमान वालो! अपनी पाक कमाइयों में से कुछ दो और उसमें से जो हमने तुम्हारे लिये ज़मीन से निकाला और ख़ास ناقिस का इरादा न करो कि दो तो उसमें से और तुम्हें मिले तो न लोगे जब तक उसमें चश्मपोषी न करो और जान रखो कि अल्लाह बेपरवाह सराहा गया है,
Ae iman walo! Apni paak kamaiyon mein se kuch do aur usmein se jo hum ne tumhare liye zameen se nikala. Aur khaas naqis ka iraada na karo ke do to usmein se aur tumhein mile to na loge jab tak usmein chashm poshi na karo. Aur jaan rakho ke Allah beparwah saraha gaya hai.
(ف566)مسئلہ : اس سے کسب کی اباحت اور اموال تجارت میں زکوٰۃ ثابت ہوتی ہے۔ (خازن و مدارک) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت صدقہ نافلہ و فرضیہ دونوں کو عام ہو (تفسیر احمدی)(ف567)خواہ وہ غلے ہوں یا پھل یا معادن وغیرہ۔(ف568)شانِ نزول بعض لوگ خراب مال صدقہ میں دیتے تھے ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی مسئلہ: مصدِّق یعنی صدقہ وصول کرنے والے کو چاہیئے کہ وہ متوسط مال لے نہ بالکل خراب نہ سب سے اعلٰی۔
شیطان تمہیں اندیشہ دلاتا ہے (ف۵٦۹) محتاجی کا اور حکم دیتا ہے بےحیائی کا (ف۵۷۰) اور اللہ تم سے وعدہ فرماتا ہے بخشش اور فضل کا (ف۵۷۱) اور اللہ وسعت و الا علم والا ہے،
The devil scares you of poverty and bids you to the shameful; and Allah promises you forgiveness from Him, and munificence; and Allah is Most Capable, All Knowing.
शैतान तुम्हें अन्देशा दिलाता है मोहताजी का और हुक्म देता है बेहयाई का और अल्लाह तुमसे वादा फ़रमाता है बख़्शिश और फ़ज़ल का और अल्लाह वुसअत वाला इल्म वाला है,
Shaitan tumhe andesha dilata hai mohtaji ka aur hukm deta hai be-hiyai ka. Aur Allah tumse wada farmata hai bakhshish aur fazl ka. Aur Allah wus’at wala ilm wala hai.
(ف569)کہ اگر خرچ کرو گے صدقہ دو گے تو نادا رہوجاؤ گے۔(ف570)یعنی بخل کا اور زکوۃ و صدقہ نہ دینے کا اس آیت میں یہ لطیفہ ہے کہ شیطان کسی طرح بخل کی خوبی ذہن نشین نہیں کرسکتا اسلئے وہ یہی کرتا ہے کہ خرچ کرنے سے ناداری کا اندیشہ دلا کر روکے آج کل جو لوگ خیرات کو روکنے پر مصر ہیں وہ بھی اسی حیلہ سے کام لیتے ہیں۔(ف571)صدقہ دینے پر اور خرچ کرنے پر۔
اللہ حکمت دیتا ہے (ف۵۷۲) جسے چاہے اور جسے حکمت ملی اسے بہت بھلائی ملی، اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے،
Allah bestows wisdom on whomever He wills; and whoever receives wisdom has received abundant goodness; but none heed advice except men of understanding.
अल्लाह हिकमत देता है जिसे चाहे और जिसे हिकमत मिली उसे बहुत भलाई मिली, और नसीहत नहीं मानते मगर अक़्ल वाले,
Allah hikmat deta hai jise chahe aur jise hikmat mili use bohot bhalai mili. Aur naseehat nahi maante magar aqal wale.
(ف572)حکمت سے یا قرآن و حدیث و فقہ کا علم مراد ہے یا تقویٰ یا نبوّت (مدارک و خازن)
اور تم جو خرچ کرو (ف۵۷۳) یا منت مانو (ف۵۷٤) اللہ کو اس کی خبر ہے (ف۵۷۵) اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں،
And whatever you spend or pledge to do, Allah is aware of it; and the unjust do not have supporters.
और तुम जो ख़र्च करो या मन्नत मानो अल्लाह को उसकी ख़बर है और ज़ालिमों का कोई मददगार नहीं,
Aur tum jo kharch karo ya manat maano Allah ko uski khabar hai aur zalimon ka koi madadgar nahi.
(ف573)نیکی میں خواہ بدی میں۔(ف574)طاعت کی یا گناہ کی نذر عرف میں ہدیہ اور پیش کش کو کہتے ہیں اور شرع میں نذر عبادت اور قربتِ مقصودہ ہے اسی لئے اگر کسی نے گناہ کرنے کی نذر کی تو وہ صحیح نہیں ہوئی نذر خاص اللہ تعالٰی کے لئے ہوتی ہے اور یہ جائز ہے کہ اللہ کے لئے نذر کرے اور کسی ولی کے آستانہ کے فقراء کو نذر کے صرف کا محل مقرر کرے مثلاً کسی نے یہ کہا یارب میں نے نذر مانی کہ اگر تو میرا فلاں مقصد پورا کردے کہ فلاں بیمار کو تندرست کردے تو میں فلاں ولی کے آستانہ کے فقراء کو کھانا کھلاؤں یا وہاں کے خدام کو روپیہ پیسہ دوں یا ان کی مسجد کے لئے تیل یا بوریا حاضر کروں تو یہ نذر جائز ہے۔(ردالمحتار)(ف575)وہ تمہیں اس کا بدلہ دے گا۔
اگر خیرات اعلانیہ دو تو وہ کیا ہی اچھی بات ہے اور اگر چھپا کر فقیروں کو دو یہ تمہارے لئے سب سے بہتر ہے (ف۵۷٦) اور اسمیں تمہارے کچھ گناہ گھٹیں گے، اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے،
If you give charity openly, what an excellent deed it is! And if you secretly give it to the poor, it is the best for you; and it will redeem some of your sins; and Allah is Aware of your deeds.
अगर ख़ैरात ऐलानिया दो तो वह क्या ही अच्छी बात है और अगर छुपाकर फ़क़ीरों को दो यह तुम्हारे लिये सबसे बेहतर है और इसमें तुम्हारे कुछ गुनाह घटेंगे, और अल्लाह को तुम्हारे कामों की ख़बर है,
Agar khairat a’lania do to woh kya hi achhi baat hai, aur agar chhupa kar faqiron ko do ye tumhare liye sab se behtar hai, aur ismein tumhare kuch gunah ghatenge. Aur Allah ko tumhare kaamon ki khabar hai.
(ف576)صدقہ خواہ فرض ہو یا نفل جب اخلاص سے اللہ کے لئے دیا جائے اور ریا سے پاک ہو تو خواہ ظاہر کرکے دیں یا چھپا کر دونوں بہتر ہیں ۔ مسئلہ: لیکن صدقہ فرض کا ظاہر کرکے دینا افضل ہے اور نفل کا چھپا کر مسئلہ : اور اگر نفل صدقہ دینے والا دوسروں کو خیرات کی ترغیب دینے کے لئے ظاہر کرکے دے تو یہ اظہار بھی افضل ہے(مدارک)
انہیں راہ دینا تمہارے ذمہ لازم نہیں، (ف۵۷۷) ہاں اللہ راہ دیتا ہے جسے چاہتا ہے ، اور تم جو اچھی چیز دو تو تمہارا ہی بھلا ہے (ف۵۷۸) اور تمہیں خرچ کرنا مناسب نہیں مگر اللہ کی مرضی چاہنے کے لئے، اور جو مال دو تمہیں پورا ملے گا اور نقصان نہ دیئے جاؤ گے،
It is not your duty (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) to make them accept guidance – but Allah guides whomever He wills; and whatever good thing you spend is beneficial for yourselves; and it is not right for you to spend except to seek Allah’s pleasure; and whatever you spend will be repaid to you in full, and you will not be wronged. –
उन्हें राह देना तुम्हारे ज़िम्मे लाज़िम नहीं, हाँ अल्लाह राह देता है जिसे चाहता है, और तुम जो अच्छी चीज़ दो तो तुम्हारा ही भला है और तुम्हें ख़र्च करना मुनासिब नहीं मगर अल्लाह की मर्ज़ी चाहने के लिये, और जो माल दो तुम्हें पूरा मिलेगा और नुक़्सान न दिये जाओगे,
Unhein raah dena tumhare zimma laazim nahi, haan Allah raah deta hai jise chahta hai. Aur tum jo achhi cheez do to tumhara hi bhala hai, aur tumhein kharch karna munasib nahi magar Allah ki marzi chahne ke liye. Aur jo maal do tumhein poora milega aur nuqsan na diye jaoge.
(ف577)آپ بشیر و نذیر و داعی بنا کر بھیجے گئے ہیں آپ کا فرض دعوت پر تمام ہوجاتا ہے اس سے زیادہ جہد آپ پر لازم نہیں۔شانِ نزول: قبل اسلام مسلمانوں کی یہود سے رشتہ داریاں تھیں اس وجہ سے وہ ان کے ساتھ سلوک کیا کرتے تھے مسلمان ہونے کے بعد انہیں یہود کے ساتھ سلوک کرنا ناگوار ہونے لگا۔ اور انہوں نے اس لئے ہاتھ روکنا چاہا کہ ان کے اس طرز عمل سے یہود اسلام کی طرف مائل ہوں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(ف578)تو دوسروں پر اس کا احسان نہ جتاؤ۔
ان فقیروں کے لئے جو راہ خدا میں روکے گئے (ف۵۷۹) زمین میں چل نہیں سکتے (ف۵۸۰) نادان انہیں تونگر سمجھے بچنے کے سبب (ف۵۸۱) تو انہیں ان کی صورت سے پہچان لے گا (ف۵۸۲) لوگوں سے سوال نہیں کرتے کہ گڑ گڑانا پڑے اور تم جو خیرات کرو اللہ اسے جانتا ہے،
(Spend) For the poor who are restricted while in Allah's cause, who cannot travel in the land (for earning) – the unwise think they are wealthy because of their restraint; you will recognise them by their faces; they do not seek from people in order to avoid grovelling; and Allah knows whatever you spend in charity.
उन फ़क़ीरों के लिये जो राह-ए-ख़ुदा में रोके गये, ज़मीन में चल नहीं सकते, नादान उन्हें तुनगर समझे बचने के सबब, तो उन्हें उनकी सूरत से पहचान लेगा, लोगों से सवाल नहीं करते कि गिड़गिड़ाना पड़े, और तुम जो ख़ैरात करो अल्लाह उसे जानता है,
Un faqiron ke liye jo raah Khuda mein roke gaye, zameen mein chal nahi sakte. Nadaan unhein tongar samjhe bachne ke sabab. To unhein unki soorat se pehchaan lega. Logon se sawal nahi karte ke gadgadana pare. Aur tum jo khairat karo Allah use jaanta hai.
(ف579)یعنی صدقات مذکورہ جو آیۂ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ میں ذکر ہوئے ان کا بہترین مصرف وہ فقراء ہیں جنہوں نے اپنے نفوس کو جہاد و طاعت الٰہی پر رو کاشانِ نزول: یہ آیت اہل صفّہ کے حق میں نازل ہوئی ان حضرات کی تعداد چار سو کے قریب تھی یہ ہجرت کرکے مدینہ طیّبہ حاضر ہوئے تھے نہ یہاں ان کا مکان تھا نہ قبیلہ کنبہ نہ ان حضرات نے شادی کی تھی ان کے تمام اوقات عبادت میں صرف ہوتے تھے رات میں قرآن کریم سیکھنا دن میں جہاد کے کام میں رہنا آیت میں ان کے بعض اوصاف کا بیان ہے۔(ف580)کیونکہ انہیں دینی کاموں سے اتنی فرصت نہیں کہ وہ چل پھر کر کسب معاش کرسکیں(ف581)یعنی چونکہ وہ کسی سے سوال نہیں کرتے اس لئے ناواقف لوگ انہیں مالدار خیال کرتے ہیں۔(ف582)کہ مزاج میں تواضع و انکسا رہے ،چہروں پر ضعف کے آثار ہیں، بھوک سے رنگ زرد پڑ گئے ہیں۔
وہ جو اپنے مال خیرات کرتے ہیں رات میں اور دن میں چھپے اور ظاہر (ف۵۸۳) ان کے لئے ان کا نیگ (انعام، حصہ) ہے ان کے رب کے پاس ان کو نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم،
Those who spend their wealth by night and day, secretly and openly – their reward is with their Lord; and there shall be no fear upon them nor shall they grieve.
वह जो अपने माल ख़ैरात करते हैं रात में और दिन में छुपे और ज़ाहिर, उनके लिये उनका नेग (इनाम, हिस्सा) है उनके रब के पास, उनको न कुछ अन्देशा हो न कुछ ग़म,
Woh jo apne maal khairat karte hain raat mein aur din mein chhupe aur zahir, unke liye unka neeg (inaam, hissa) hai unke Rab ke paas. Unko na kuch andesha ho na kuch gham.
(ف583)یعنی راہِ خدا میں خرچ کرنے کا نہایت شوق رکھتے ہیں اور ہر حال میں خرچ کرتے رہتے ہیں شانِ نزول:یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حق میں نازل ہوئی جب کہ آپ نے ر اہِ خدا میں چالیس ہزار دینار خرچ کئے تھےدس ہزار رات میں اور دس ہزار دن میں اور دس ہزار پوشیدہ اوردس ہزار ظاہر، ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت حضرت علی مرتضٰی کرّم اللہ تعالٰی وجہہ کے حق میں نازل ہوئی جب کہ آپ کے پاس فقط چار درہم تھے اور کچھ نہ تھا آپ نے ان چاروں کو خیرا ت کردیا ۔ ایک رات میں ایک دن میں ایک کو پوشیدہ ایک کو ظاہر فائدہ :آیت کریمہ میں نفقۂ لیل کو نفقۂ نہارپر اور نفقۂ سر کو نفقۂ علانیہ پر مقدم فرمایا گیا اس میں اشارہ ہے کہ چھپا کر دینا ظاہر کرکے دینے سے افضل ہے۔
وہ جو سود کھاتے ہیں (ف۵۸٤) قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر، جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط بنادیا ہو (ف۵۸۵) اس لئے کہ انہوں نے کہا بیع بھی تو سود ہی کے مانند ہے، اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیا سود، تو جسے اس کے رب کے پاس سے نصیحت آئی اور وہ باز رہا تو اسے حلال ہے جو پہلے لے چکا، (ف۵۸٦) اور اس کا کام خدا کے سپرد ہے (ف۵۸۷) اور جو اب ایسی حرکت کرے گا تو وہ دوزخی ہے وہ اس میں مدتوں رہیں گے (ف۵۸۸)
Those who devour usury will not stand up on the Day of Judgement, except like the one whom an evil jinn has deranged by his touch; that is because they said, “Trade is also like usury!”; whereas Allah has made trading lawful and forbidden usury; for one to whom the guidance has come from his Lord, and he refrained therefrom, is lawful what he has taken in the past; and his affair is with Allah; and whoever continues earning it henceforth, is of the people of fire; they will remain in it for ages.
वह जो सूद खाते हैं, क़यामत के दिन न खड़े होंगे मगर जैसे खड़ा होता है वह जिसे आसिब ने छू कर मख़बूत बना दिया हो, इस लिये कि उन्होंने कहा बैअ भी तो सूद ही के मानिन्द है, और अल्लाह ने हलाल किया बैअ को और हराम किया सूद, तो जिसे उसके रब के पास से नसीहत आयी और वह बाज़ रहा तो उसे हलाल है जो पहले ले चुका, और उसका काम ख़ुदा के सुपुर्द है, और जो अब ऐसी हरकत करेगा तो वह दोज़खी है, वह उसमें मुद्दतों रहेंगे।
Woh jo sood khate hain qiyamat ke din na khade honge magar jaise khada hota hai woh jise aasib ne choo kar makhboot bana diya ho. Isliye ke unhon ne kaha bai’ bhi to sood hi ke manind hai. Aur Allah ne halal kiya bai’ ko aur haraam kiya sood. To jise uske Rab ke paas se naseehat aayi aur woh baaz raha to use halal hai jo pehle le chuka. Aur uska kaam Khuda ke supurd hai. Aur jo ab aisi harakat karega to woh dozakhi hai, woh usmein muddaton rahenge.
(ف584)اس آیت میں سود کی حرمت اور سود خواروں کی شامت کا بیان ہے سود کو حرام فرمانے میں بہت حکمتیں ہیں بعض ان میں سے یہ ہیں کہ سود میں جو زیادتی لی جاتی ہے وہ معاوضہ مالیہ میں ایک مقدار مال کا بغیر بدل و عوض کے لینا ہے یہ صریح ناانصافی ہے دوم سود کا رواج تجارتوں کو خراب کرتا ہے کہ سود خوار کو بے محنت مال کا حاصل ہونا تجارت کی مشقتوں اور خطروں سے کہیں زیادہ آسان معلوم ہوتا ہے اور تجارتوں کی کمی انسانی معاشرت کو ضرر پہنچاتی ہے۔ سوم سود کے رواج سے باہمی مودت کے سلوک کو نقصان پہنچاتا ہے کہ جب آدمی سود کا عادی ہوا تو وہ کسی کو قرض حسن سے امداد پہنچانا گوارا نہیں کرتا چہار م سود سے انسان کی طبیعت میں درندوں سے زیادہ بے رحمی پیدا ہوتی ہے اور سود خوار اپنے مدیون کی تباہی و بربادی کا خواہش مند رہتا ہے اس کے علاوہ بھی سود میں اور بڑے بڑے نقصان ہیں اور شریعت کی ممانعت عین حکمت ہے مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سود خوار اور اس کے کار پرداز اور سودی دستاویز کے کاتب اور اس کے گواہوں پر لعنت کی اور فرمایا وہ سب گناہ میں برابر ہیں۔(ف585)معنٰی یہ ہیں کہ جس طرح آسیب زدہ سیدھا کھڑا نہیں ہوسکتا گرتا پڑتا چلتا ہے، قیامت کے روز سود خوار کا ایسا ہی حال ہوگا کہ سود سے اس کا پیٹ بہت بھاری اور بوجھل ہوجائے گا اور وہ اس کے بوجھ سے گرگر پڑے گا۔ سعید بن جبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا: کہ یہ علامت اس سود خور کی ہے جو سود کو حلال جانے۔(ف586)یعنی حرمت نازل ہونے سے قبل جو لیا اس پر مواخذہ نہیں ۔(ف587)جو چاہے امر فرمائے جو چاہے ممنوع و حرام کرے بندے پر اس کی اطاعت لازم ہے۔(ف588)مسئلہ :جو سود کو حلال جانے وہ کافر ہے ہمیشہ جہنم میں رہے گا کیونکہ ہر ایک حرام قطعی کا حلال جاننے والا کافر ہے۔
اللہ ہلاک کرتا ہے سود کو (ف۵۸۹) اور بڑھاتا ہے خیرات کو (ف۵۹۰) اور اللہ کو پسند نہیں آتا کوئی ناشکرا بڑا گنہگار،
Allah destroys usury and increases charity; and Allah does not like any ungrateful, excessive sinner.
अल्लाह हलाक करता है सूद को और बढ़ाता है खैरात को और अल्लाह को पसन्द नहीं आता कोई नाशुक़रा बड़ा गुनहगार,
Allah halak karta hai sood ko aur barhata hai khairat ko. Aur Allah ko pasand nahi aata koi nashukra bada gunahgaar.
(ف589)اور اس کو برکت سے محروم کرتا ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا :کہ اللہ تعالٰی اس سے نہ صدقہ قبول کرے نہ حج نہ جہاد نہ صِلہ۔(ف590) اس کو زیادہ کرتا ہے اور اس میں برکت فرماتا ہے دنیا میں اور آخرت میں اس کا اجرو ثواب بڑھاتا ہے۔
بیشک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور نماز قائم کی اور زکوٰة دی ان کا نیگ (انعام) ان کے رب کے پاس ہے، اور نہ انہیں کچھ اندیشہ ہو، نہ کچھ غم،
Indeed those who believed and did good deeds and kept the prayer established and paid the charity – their reward is with their Lord; and there shall be no fear upon them nor shall they grieve.
बेशक वह जो ईमान लाए और अच्छे काम किए और नमाज़ कायम की और ज़कात दी उनका नेग (इनआम) उनके रब के पास है, और न उन्हें कुछ अन्देशा हो, न कुछ ग़म,
Beshak woh jo iman laaye aur achhe kaam kiye aur namaz qayam ki aur zakat di, unka neeg (inaam) unke Rab ke paas hai. Aur na unhein kuch andesha ho, na kuch gham.
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود اگر مسلمان ہو (ف۵۹۱)
O People who Believe! Fear Allah and forego the remaining usury, if you are Muslims.
ऐ ईमान वालो! अल्लाह से डरो और छोड़ दो जो बाक़ी रह गया है सूद अगर मुसलमान हो
Ae iman walo! Allah se daro aur chhod do jo baaqi reh gaya hai sood agar musalman ho.
(ف591)شانِ نزول: یہ آیت اُن اصحاب کے حق میں نازل ہوئی جو سود کی حُرمت نازل ہونے سے قبل سودی لین دین کرتے تھے اور اُن کی گراں قدر سودی رقمیں دُوسروں کے ذمہ باقی تھیں اس میں حکم دیا گیا کہ سود کی حرمت نازل ہونے کے بعد سابق کے مطالبہ بھی واجب الترک ہیں اور پہلا مقرر کیا ہوا سود بھی اب لینا جائز نہیں ۔
پھر اگر ایسا نہ کرو تو یقین کرلو اللہ اور اللہ کے رسول سے لڑائی کا (ف۵۹۲) اور اگر تم توبہ کرو تو اپنا اصل مال لے لو نہ تم کسی کو نقصان پہچاؤ (ف۵۹۳) نہ تمہیں نقصان ہو (ف۵۹٤)
And if you do not, then be certain of a war with Allah and His Noble Messenger; and if you repent, take back your principal amount; neither you cause harm to someone, nor you be harmed.
फिर अगर ऐसा न करो तो यक़ीन कर लो अल्लाह और अल्लाह के रसूल से लड़ाई का और अगर तुम तौबा करो तो अपना असल माल ले लो न तुम किसी को नुक़सान पहुँचाओ न तुम्हें नुक़सान हो
Phir agar aisa na karo to yaqeen kar lo Allah aur Allah ke Rasool se laraai ka, aur agar tum tauba karo to apna asal maal le lo, na tum kisi ko nuqsan pohnchao, na tumhein nuqsan ho.
(ف592)یہ وعید و تہدید میں مبالغہ و تشدید ہے کس کی مجال کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی کا تصور بھی کرے چنانچہ اُن اصحاب نے اپنے سودی مطالبہ چھوڑے اور یہ عرض کیا کہ اللہ اور اس کے ر سول سے لڑائی کی ہمیں کیا تاب اور تائب ہوئے۔(ف593)زیادہ لے کر۔ (ف594)راس المال گھٹا کر۔
اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک، اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لئے اور بھلا ہے اگر جانو (ف۵۹۵)
And if the debtor is in difficulty, give him respite till the time of ease; and your foregoing the entire debt from him is still better for you, if only you realise.
और अगर क़र्ज़दार तंगी वाला है तो उसे मोहलत दो आसानी तक, और क़र्ज़ उस पर बिलकुल छोड़ देना तुम्हारे लिये और भला है अगर जानो
Aur agar qarzdaar tangi wala hai to use mohlat do aasani tak, aur qarz us par bilkul chhod dena tumhare liye aur bhala hai agar jano.
(ف595)قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا جزو یا کل معاف کردینا سبب اجرِ عظیم ہے مسلم شریف کی حدیث ہے سیّدعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرضہ معاف کیا اللہ تعالیٰ اس کو اپنا سایۂ رحمت عطا فرمائے گا جس روز اس کے سایہ کے سواکوئی سایہ نہ ہوگا۔
اور ڈرو اس دن سے جس میں اللہ کی طرف پھرو گے، اور ہر جان کو اس کی کمائی پوری بھردی جائے گی اور ان پر ظلم نہ ہوگا (ف۵۹٦)
And fear the day in which you will be returned to Allah; and every soul will be paid back in full what it had earned, and they will not be wronged.
और डरो उस दिन से जिस में अल्लाह की तरफ़ फिरोगे, और हर जान को उसकी कमाई पूरी भर दी जाएगी और उन पर ज़ुल्म न होगा
Aur daro us din se jis mein Allah ki taraf phiro ge, aur har jaan ko us ki kamai poori bhar di jaayegi aur unpar zulm na hoga.
(ف596)یعنی نہ ان کی نیکیاں گھٹائی جائیں نہ بدیاں بڑھائی جائیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہ سب سے آخر آیت ہے جو حضور پر نازل ہوئی اس کے بعد حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکیس روز دنیا میں تشریف فرما رہے۔اور ایک قول میں نو شب اور ایک میں سات لیکن شعبی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ روایت کی ہے کہ سب سے آخر آیت رِبٰوا نازل ہوئی۔
اے ایمان والو! جب تم ایک مقرر مدت تک کسی دین کا لین دین کرو (ف۵۹۷) تو اسے لکھ لو (ف۵۹۸) اور چاہئے کہ تمہارے درمیان کوئی لکھنے والا ٹھیک ٹھیک لکھے (ف۵۹۹) اور لکھنے والا لکھنے سے انکار نہ کرے جیسا کہ اسے اللہ نے سکھایا ہے (ف٦۰۰) تو اسے لکھ دینا چاہئے اور جس بات پر حق آتا ہے وہ لکھاتا جائے اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور حق میں سے کچھ رکھ نہ چھوڑے پھر جس پر حق آتا ہے اگر بےعقل یا ناتواں ہو یا لکھا نہ سکے (ف٦۰۱) تو اس کا ولی انصاف سے لکھائے، اور دو گواہ کرلو اپنے مردوں میں سے (ف٦۰۲) پھر اگر دو مرد نہ ہوں (ف٦۰۳) تو ایک مرد اور دو عورتیں ایسے گواہ جن کو پسند کرو (ف٦۰٤) کہ کہیں ان میں ایک عورت بھولے تو اس کو دوسری یاد دلادے، اور گواہ جب بلائے جائیں تو آنے سے انکار نہ کریں (ف٦۰۵) اور اسے بھاری نہ جانو کہ دین چھوٹا ہو یا بڑا اس کی میعاد تک لکھت کرلو یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے اس میں گواہی خوب ٹھیک رہے گی اور یہ اس سے قریب ہے کہ تمہیں شبہ نہ پڑے مگر یہ کہ کوئی سردست کا سودا دست بدست ہو تو اس کے نہ لکھنے کا تم پر گناہ نہیں (ف٦۰٦) اور جب خرید و فروخت کرو تو گواہ کرلو (ف٦۰۷) اور نہ کسی لکھنے والے کو ضَرر دیا جائے، نہ گواہ کو (یا ، نہ لکھنے والا ضَرر دے نہ گواہ) (ف٦۰۸) اور جو تم ایسا کرو تو یہ تمہارا فسق ہوگا، اور اللہ سے ڈرو اور اللہ تمہیں سکھاتا ہے، اور اللہ سب کچھ جانتا ہے،
O People who Believe! If you make an agreement for debt for a specified time, write it down; and appoint a scribe to write it for you with accuracy; and the scribe must not refuse to write in the manner Allah has taught him, so he must write; and the liable person (debtor) should dictate it to him and fear Allah, Who is his Lord, and not hide anything of the truth; but if the debtor is of poor reasoning, or weak, or unable to dictate, then his guardian must dictate with justice; and appoint two witnesses from your men; then if two men are not available, one man and two women from those you would prefer to be witnesses, so that if one of them forgets, the other can remind her; and the witnesses must not refuse when called upon to testify; do not feel burdened to write it, whether the transaction is small or big – write it for up to its term’s end; this is closer to justice before Allah and will be a strong evidence and more convenient to dispel doubts amongst yourselves – except when it is an instant trade in which exchange is carried out immediately, there is no sin on you if it is not written down; and take witnesses whenever you perform trade; and neither the scribe nor the witnesses be caused any harm (or they cause any harm); and if you do, it would be an offence on your part; and fear Allah; and Allah teaches you; and Allah knows everything.
ऐ ईमान वालो! जब तुम एक मुक़र्रर मुद्दत तक किसी दैन का लेन-देन करो तो उसे लिख लो और चाहिये कि तुम्हारे दरमियान कोई लिखने वाला ठीक-ठीक लिखे और लिखने वाला लिखने से इन्कार न करे जैसा कि उसे अल्लाह ने सिखाया है तो उसे लिख देना चाहिये और जिस बात पर हक़ आता है वह लिखा जाए और अल्लाह से डरे जो उसका रब है और हक़ में से कुछ रख न छोड़े फिर जिस पर हक़ आता है अगर बेअक़्ल या नातवाँ हो या लिख न सके तो उसका वली इंसाफ़ से लिखवाए, और दो गवाह कर लो अपने मर्दों में से फिर अगर दो मर्द न हों तो एक मर्द और दो औरतें ऐसे गवाह जिनको पसन्द करो कि कहीं उनमें एक औरत भूले तो उसको दूसरी याद दिला दे, और गवाह जब बुलाए जाएं तो आने से इन्कार न करें और उसे भारी न जानो कि दैन छोटा हो या बड़ा उसकी मीयाद तक लिखत कर लो यह अल्लाह के नज़दीक ज़्यादा इंसाफ़ की बात है इसमें गवाही खूब ठीक रहेगी और यह उससे क़रीब है कि तुम्हें शुबहा न पड़े मगर यह कि कोई सर-दस्त का सौदा दस्त-ब-दस्त हो तो उसके न लिखने का तुम पर गुनाह नहीं और जब ख़रीद-फ़रोख़्त करो तो गवाह कर लो और न किसी लिखने वाले को ज़रर दिया जाए, न गवाह को (या, न लिखने वाला ज़रर दे न गवाह) और जो तुम ऐसा करो तो यह तुम्हारा फ़िस्क होगा, और अल्लाह से डरो और अल्लाह तुम्हें सिखाता है, और अल्लाह सब कुछ जानता है,
Ae imaan walo! Jab tum ek muqarrar muddat tak kisi deen ka leen-den karo to use likh lo, aur chahiye ke tumhare darmiyan koi likhne wala theek-theek likhe, aur likhne wala likhne se inkaar na kare jaisa ke use Allah ne sikhaya hai, to use likh dena chahiye, aur jis baat par haq aata hai woh likhwata jaaye aur Allah se dare jo uska Rab hai, aur haq mein se kuch rakh na chhode. Phir jis par haq aata hai agar be-aqal ya natwaan ho ya likha na sake to uska wali insaaf se likhwaye. Aur do gawah kar lo apne mardon mein se, phir agar do mard na hon to ek mard aur do auratein aise gawah jin ko pasand karo, taake kahin in mein ek aurat bhool jaaye to usko doosri yaad dila de. Aur gawah jab bulaye jaayen to aane se inkaar na karein. Aur ise bhaari na jano ke deen chhota ho ya bara, uski miyaad tak likhat kar lo. Ye Allah ke nazdeek zyada insaaf ki baat hai, ismein gawahi khoob theek rahegi, aur ye us se qareeb hai ke tumhein shakk na pade. Magar ye ke koi sar-dast ka sauda dast ba dast ho to uske na likhne ka tum par gunaah nahi. Aur jab kharid o farokht karo to gawah kar lo. Aur na kisi likhne wale ko zarar diya jaaye, na gawah ko. Aur jo tum aisa karo to ye tumhara fisq hoga. Aur Allah se daro, aur Allah tumhein sikhata hai, aur Allah sab kuch jaanta hai.
(ف597)خواہ وہ دین مبیع ہو یا ثمن حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کہ اس سے بیع سَلَم مراد ہے بَیۡعِ سَلَمۡ یہ ہے کہ کسی چیز کو پیشگی قیمت لے کر فروخت کیا جائے اورمبیع مشتری کو سپرد کرنے کے لئے ایک مدت معین کرلی جائے اس بیع کے جواز کے لئے جنس ، نوع، صفت، مقدار مدت اور مکان ادا اور مقدار راس المال ان چیزوں کا معلوم ہونا شرط ہے۔(ف598)لکھنا مستحب ہے، فائدہ اس کا یہ ہے کہ بھول چوک اور مدیون کے انکار کااندیشہ نہیں رہتا۔(ف599)اپنی طرف سے کوئی کمی بیشی نہ کرے نہ فریقین میں سے کسی کی رور عایت ۔(ف600)حاصل معنٰی یہ کہ کوئی کاتب لکھنے سے منع نہ کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو وثیقہ نویسی کا علم دیا بے تغییر و تبدیل دیانت و امانت کے ساتھ لکھے یہ کتابت ایک قول پر فرض کفایہ ہے اور ایک قول پر فرض عین بشرطِ فراغ کاتب جس صورت میں اس کے سوا اور نہ پایا جائے اور ایک قول پر مستحب کیونکہ اس میں مسلمانوں کی حاجت بر آری اور نعمت علم کا شکر ہے اور ایک قول یہ ہے کہ پہلے یہ کتابت فرض تھی پھر لَایُضَآرَّکَاتِبٌ سے منسوخ ہوئی۔(ف601)یعنی اگر مدیون مجنون و ناقص العقل یا بچہ یا شیخِ فانی ہو یا گونگا ہونے یا زبان نہ جاننے کی وجہ سے اپنے مدعا کا بیان نہ کرسکتا ہو۔(ف602)گواہ کے لئے حریت و بلوغ مع اسلام شرط ہے کفار کی گواہی صرف کفار پر مقبول ہے۔(ف603)مسئلہ : تنہا عورتوں کی شہادت جائز نہیں خواہ وہ چار کیوں نہ ہوں مگر جن امور پر مرد مطلع نہیں ہوسکتے جیسے کہ بچہ جننا باکرہ ہونا اور نسائی عیوب اس میں ایک عورت کی شہادت بھی مقبول ہے مسئلہ: حدودو قصاص میں عورتوں کی شہادت بالکل معتبر نہیں صرف مردوں کی شہادت ضروری ہے اس کے سوااور معاملات میں ایک مرد اور دو عورتوں کی شہادت بھی مقبول ہے۔ ( مدارک و احمدی)(ف604)جن کا عادل ہونا تمہیں معلوم ہو اور جن کے صالح ہونے پر تم اعتماد رکھتے ہو۔(ف605)مسئلہ: اس آیت سے معلوم ہوا کہ ادائے شہادت فرض ہے جب مدعی گواہوں کو طلب کرے تو انہیں گواہی کا چھپانا جائز نہیں یہ حکم حدود کے سوا اور امور میں ہے لیکن حدود میں گواہ کو اظہار و اخفاء کا اختیار ہے بلکہ اخفاء افضل ہے حدیث شریف میں ہے سیِّد عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :جو مسلمان کی پردہ پوشی کرے اللہ تبارک و تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی ستّاری کرے گا لیکن چوری میں مال لینے کی شہادت دینا واجب ہے تاکہ جس کا مال چوری کیا گیا ہے اس کا حق تلف نہ ہو گواہ اتنی احتیاط کرسکتا ہے کہ چوری کا لفظ نہ کہے گواہی میں یہ کہنے پر اکتفا کرے کہ یہ مال فلاں شخص نے لیا۔(ف606)چونکہ اس صور ت میں لین دین ہو کر معاملہ ختم ہوگیا اور کوئی اندیشہ باقی نہ رہا نیز ایسی تجارت اور خرید و فروخت بکثرت جاری رہتی ہے اس میں کتابت و اشہاد کی پابندی شاق و گراں ہوگی۔(ف607)یہ مستحب ہے کیونکہ اس میں احتیاط ہے۔(ف608) یُضَآرَّ میں دو احتمال ہیں مجہول و معروف ہونے کے قراء ۃ ابن عباس رضی اللہ عنہما اوّل کی اور قراء ۃ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ثانی کی مؤیدّ ہے پہلی تقدیر پر معنی یہ ہیں کہ اہل معاملہ کاتبوں اور گواہوں کو ضرر نہ پہنچائیں اس طرح کہ وہ اگر اپنی ضرورتوں میں مشغول ہوں تو انہیں مجبور کریں اور ان کے کام چھڑائیں یا حق کتابت نہ دیں یا گواہ کو سفر خرچ نہ دیں اگر وہ دوسرے شہر سے آیا ہو دوسری تقدیر پر معنی یہ ہیں کہ کاتب و شاہد اہل معاملہ کو ضرر نہ پہنچائیں اس طرح کہ باوجود فرصت وفراغت کے نہ آئیں یا کتابت میں تحریف و تبدیل زیادتی و کمی کریں۔
اور اگر تم سفر میں ہو (ف٦۰۹) اور لکھنے والا نہ پاؤ (ف٦۱۰) تو گِرو (رہن) ہو قبضہ میں دیا ہوا (ف٦۱۱) اور اگر تم ایک کو دوسرے پر اطمینان ہو تو وہ جسے اس نے امین سمجھا تھا (ف٦۱۲) اپنی امانت ادا کردے (ف٦۱۳) اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور گواہی نہ چھپاؤ (ف٦۱٤) اور جو گواہی چھپائے گا تو اندر سے اسکا دل گنہگار ہے (ف٦۱۵) اور اللہ تمہارے کاموں کو جانتا ہے،
And if you are on a journey and cannot find a scribe, then a mortgage (deposit) must be handed over; and if one of you trusts the other, the one who is trusted may return the mortgage entrusted to him and fear Allah, his Lord; and do not hide testimony; and if one hides it, his heart is sinful from within; and Allah knows what you do.
और अगर तुम सफ़र में हो और लिखने वाला न पाओ तो गिरो (रहन) हो क़ब्ज़ा में दिया हुआ और अगर तुम एक को दूसरे पर इत्मिनान हो तो वह जिसे उसने अमीन समझा था अपनी अमानत अदा कर दे और अल्लाह से डरे जो उसका रब है और गवाही न छुपाओ और जो गवाही छुपाएगा तो अन्दर से उसका दिल गुनहगार है और अल्लाह तुम्हारे कामों को जानता है,
Aur agar tum safar mein ho aur likhne wala na pao to giro (rahn) ho qabza mein diya hua. Aur agar tum ek ko doosre par aitmaad ho to woh jise usne ameen samjha tha apni amanat ada kar de, aur Allah se dare jo uska Rab hai. Aur gawahi na chhupao, aur jo gawahi chhupayega to andar se uska dil gunahgaar hai, aur Allah tumhare kaamon ko jaanta hai.
(ف609)اور قرض کی ضرورت پیش آئے۔(ف610)اور وثیقہ و دستاویز کی تحریر کا موقعہ نہ ملے تو اطمینان کے لئے ۔(ف611)یعنی کوئی چیز دائن کے قبضہ میں گروِی کے طور پر دے دو مسئلہ : یہ مستحب ہے اور حالتِ سفر میں رہن آیت سے ثابت ہوا اور غیر سفر کی حالت میں حدیث سے ثابت ہے چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ طیبہ میں اپنی زرہ مبارک یہودی کے پاس گروی رکھ کر بیس صاع جَ لئے مسئلہ اس آیت سے رہن کا جواز اور قبضہ کا شرط ہونا ثابت ہوتا ہے۔(ف612)یعنی مدیون جس کو دائن نے امین سمجھا تھا۔(ف613)اس امانت سے دین مراد ہے۔(ف614)کیونکہ اس میں صاحبِ حق کے حق کا ابطال ہے یہ خطاب گواہوں کو ہے کہ وہ جب شہادت کی اقامت وادا کے لئے طلب کئے جائیں تو حق کو نہ چھپائیں اور ایک قول یہ ہے کہ یہ خطاب مدیونوں کو ہے کہ وہ اپنے نفس پر شہادت دینے میں تامل نہ کریں۔(ف615)حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک حدیث مروی ہے کہ کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ شریک کرنا اور جھوٹی گواہی دینا اور گواہی کو چھپانا ہے۔
اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اگر تم ظاہر کرو جو کچھ (ف٦۱٦) تمہارے جی میں ہے یا چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا (ف٦۱۷) تو جسے چاہے گا بخشے گا (ف٦۱۸) اور جسے چاہے گا سزادے گا (ف٦۱۹) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے،
To Allah only belongs all whatever is in the heavens and all whatever is in the earth; and whether you disclose what is in your hearts or hide it, Allah will take account of it from you; so He will forgive whomever He wills and punish whomever He wills; and Allah is Able to do all things.
अल्लाह ही का है जो कुछ आसमानों में है और जो कुछ ज़मीन में है, और अगर तुम ज़ाहिर करो जो कुछ तुम्हारे जी में है या छुपाओ अल्लाह तुमसे उसका हिसाब लेगा तो जिसे चाहेगा बख़्शेगा और जिसे चाहेगा सज़ा देगा और अल्लाह हर चीज़ पर क़ादिर है,
Allah hi ka hai jo kuch aasmanon mein hai aur jo kuch zameen mein hai, aur agar tum zaahir karo jo kuch tumhare jee mein hai ya chhupao, Allah tumse uska hisaab lega, to jise chahega bakhshega aur jise chahega saza dega, aur Allah har cheez par qadir hai.
(ف616)بدی۔(ف617)انسان کے دل میں دو طرح کے خیالات آتے ہیں ایک بطور وسوسہ کے ان سے دِل کا خالی کرنا انسان کی مقدرت میں نہیں لیکن وہ ان کو برا جانتا ہے اور عمل میں لانے کا ارادہ نہیں کرتا ان کو حدیث نفس اور وسوسہ کہتے ہیں اس پر مؤاخذہ نہیں بخاری و مسلم کی حدیث ہے سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہ میری امت کے دلوں میں جو وسوسہ گزرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سے تجاوز فرماتا ہے جب تک کہ وہ انہیں عمل میں نہ لائیں یا ان کے ساتھ کلام نہ کریں یہ وسوسے اس آیت میں داخل نہیں،دوسرے وہ خیالات جن کو انسان اپنے دل میں جگہ دیتا ہے اور ان کو عمل میں لانے کا قصد و ارادہ کرتا ہے ان پر مؤاخذہ ہو گا اور انہیں کا بیان اس آیت میں ہے مسئلہ : کُفرکا عزم کرنا کُفر ہے اور گناہ کا عزم کرکے اگر آدمی اس پر ثابت رہے اور اس کا قصد وارادہ رکھے لیکن اس گناہ کو عمل میں لانے کے اسباب اس کو بہم نہ پہنچیں اور مجبوراً وہ اس کو کر نہ سکے تو جمہور کے نزدیک اس سے مؤاخذہ کیا جائے گا شیخ ابو منصور ماتریدی اور شمس الائمہ حلوائی اسی طرف گئے ہیں اور ان کی دلیل آیہ اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَۃُ اور حدیث حضرت عائشہ ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ بندہ جس گناہ کا قصد کرتا ہے اگر وہ عمل میں نہ آئے جب بھی اس پر عقاب کیا جاتا ہے۔ مسئلہ : اگر بندے نے کسی گناہ کا ارادہ کیا پھر اس پر نادم ہوا اور استغفار کیا تو اللہ اس کو معاف فرمائےگا۔(ف618)اپنے فضل سے اہلِ ایمان کو ۔(ف619)اپنے عدل سے۔
سب نے مانا (ف٦۲۰) اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو (ف٦۲۱) یہ کہتے ہوئے کہ ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے (ف٦۲۲) اور عرض کی کہ ہم نے سنا اور مانا (ف٦۲۳) تیری معافی ہو اے رب ہمارے! اور تیری ہی طرف پھرنا ہے،
The Noble Messenger believes in what has been sent down to him by his Lord, and so do the believers; all have accepted faith in Allah and His angels and His Books and His Noble Messengers; saying, “We do not make any distinction, in believing, between any of His Noble Messengers”; and they said, “We hear, and we obey; Your forgiveness be granted, O our Lord, and towards You is our return.”
सब ने माना अल्लाह और उसके फ़रिश्तों और उसकी किताबों और उसके रसूलों को यह कहते हुए कि हम उसके किसी रसूल पर ईमान लाने में फ़र्क़ नहीं करते और अर्ज़ की कि हमने सुना और माना तेरी माफ़ी हो ऐ रब हमारे! और तेरी ही तरफ़ फिरना है,
Sab ne maana Allah aur uske farishton aur uski kitabon aur uske Rasoolon ko, ye kehte hue ke hum uske kisi Rasool par imaan laane mein farq nahi karte. Aur arz ki ke humne suna aur maana, teri maafi ho ae Rab hamare! Aur teri hi taraf phirna hai.
(ف620)زجاج نے کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں نماز۔ زکوۃ۔ روزے حج کی فرضیت اور طلاق ۔ ایلا ء حیض و جہاد کے احکام اور انبیاء کے واقعات بیان فرمائے تو سورت کے آخر میں یہ ذکر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مؤمنین نے اس تمام کی تصدیق فرمائی اور قرآن اور اس کے جملہ شرائع و احکام کے منزَّل مِنَ اللہ ہونے کی تصدیق کی ۔(ف621)یہ اصول و ضروریاتِ ایمان کے چار مرتبے ہیں۔ (۱) اللہ تعالٰی پر ایمان لانا یہ اسطرح کہ اعتقاد و تصدیق کرے کہ اللہ واحد اَحَدْ ہے اسکا کوئی شریک و نظیر نہیں اس کے تمام اسمائے حسنہ وصفاتِ عُلیاپر ایمان لائے اور یقین کرے اور مانے کہ وہ علیم اور ہر شئے پر قدیر ہے اور اس کے علم و قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں۔(۲) ملائکہ پر ایمان لانا یہ اس طرح پر ہے کہ یقین کرے اور مانے کہ وہ موجود ہیں معصوم ہیں پاک ہیں اللہ تعالٰی کے اور اس کے رسولوں کے درمیان احکام و پیام کے وسائط ہیں۔(۳) اللہ کی کتابوں پر ایمان لانا اس طرح کہ جو کتابیں اللہ تعالٰی نے نازل فرمائیں اور اپنے رسولوں کے پاس بطریق وحی بھیجیں بے شک و شبہہ سب حق و صدق اور اللہ کی طرف سے ہیں اور قرآن کریم تغییر تبدیل تحریف سے محفوظ ہے اور محکم ومتشابہ پر مشتمل ہے۔(۴) رسولوں پر ایمان لانا اسطرح پر کہ ایمان لائے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں جنہیں اُسنے اپنے بندوں کی طرف بھیجا اسکی وحی کے امین ہیں گناہوں سے پاک معصوم ہیں ساری خلق سے افضل ہیں ان میں بعض حضرات بعض سے افضل ہیں۔(ف622)جیسا کہ یہود و نصاریٰ نے کیا کہ بعض پر ایمان لائے بعض کا انکار کیا۔(ف623)تیرے حکم و ارشاد کو
اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر، اس کا فائدہ ہے جو اچھا کمایا اور اس کا نقصان ہے جو برائی کمائی (ف٦۲٤) اے رب ہمارے! ہمیں نہ پکڑ اگر ہم بھولیں (ف٦۲۵) یا چوُکیں اے رب ہمارے! اور ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ جیسا تو نے ہم سے اگلوں پر رکھا تھا، اے رب ہمارے! اور ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں سہار (برداشت) نہ ہو اور ہمیں معاف فرمادے اور بخش دے اور ہم پر مہر کر تو ہمارا مولیٰ ہے۔ تو کافروں پر ہمیں مدد دے۔
Allah does not burden anyone, except with something within its capacity; beneficial for it is the virtue it earned, and harmful for it is the evil it earned; “Our Lord! Do not seize us if we forget or are mistaken; our Lord! And do not place on us a heavy burden (responsibility) as You did on those before us; our Lord! And do not impose on us a burden, for which we do not have the strength; and pardon us – and forgive us – and have mercy on us – You are our Master, therefore help us against the disbelievers.”
अल्लाह किसी जान पर बोझ नहीं डालता मगर उसकी ताक़त भर, उसका फ़ायदा है जो अच्छा कमाया और उसका नुक़सान है जो बुराई कमाई ऐ रब हमारे! हमें न पकड़ अगर हम भूलें या चूकें ऐ रब हमारे! और हम पर भारी बोझ न रख जैसा तूने हमसे अगलों पर रखा था, ऐ रब हमारे! और हम पर वह बोझ न डाल जिसकी हमें सहार (बर्दाश्त) न हो और हमें माफ़ फ़रमा दे और बख़्श दे और हम पर मेहर कर तू हमारा मौला है। तो काफ़िरों पर हमें मदद दे।
Allah kisi jaan par bojh nahi daalta magar uski taaqat bhar. Uska faida hai jo acha kamaya, aur uska nuqsan hai jo burai kamai. Ae Rab hamare! Humein na pakad agar hum bhoolein ya chooke. Ae Rab hamare! Aur hum par bhaari bojh na rakh jaisa tune humse aglon par rakha tha. Ae Rab hamare! Aur hum par woh bojh na daal jis ki humein sahar (bardaasht) na ho. Aur humein maaf farma de aur bakhsh de aur hum par mehr kar. Tu hamara Maula hai, to kaafiron par humein madad de.
(ف624)یعنی ہر جان کو عمل نیک کا اجرو ثواب اور عمل بد کا عذاب و عقاب ہوگا اس کے بعد اللہ تعالٰی نے اپنے مؤمن بندوں کو طریقِ دُعا کی تلقین فرمائی کہ وہ اس طرح اپنے پروردگار سے عرض کریں۔(ف625)اور سہو سے تیرے کسی حکم کی تعمیل میں قاصر رہیں ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page