(ف2)مراد اس سے یا یکم محرم کی صبح ہے جس سے سال شروع ہوتا ہے ، یا یکم ذی الحجّہ کی جس سے دس راتیں ملی ہوئی ہیں ، یا عیدالاضحٰی کی صبح ۔ اور بعض مفسّرین نے فرمایا کہ مراد اس سے ہر دن کی صبح ہے کیونکہ وہ رات کے گذرنے اور روشنی کے ظاہر ہونے اور تمام جانداروں کے طلبِ رزق کے لئے منتشر ہونے کا وقت ہے اور یہ مُردوں کے قبروں سے اٹھنے کے وقت کے ساتھ مشابہت و مناسبت رکھتا ہے ۔
وَلَيَالٍ عَشۡرٍۙ ﴿2﴾
(۲) اور دس راتوں کی (ف۳)
(ف3)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماسے مروی ہے کہ مراد ان سے ذی الحجّہ کی پہلی دس راتیں ہیں کیونکہ یہ زمانہ اعمالِ حج میں مشغول ہونے کا زمانہ ہے اور حدیث شریف میں اس عشرہ کی بہت فضیلتیں وارد ہوئی ہیں ۔ اور یہ بھی مروی ہے کہ رمضان کے عشرۂِ اخیرہ کی راتیں مراد ہیں یا محرّم کے پہلے عشرہ کی ۔
وَّالشَّفۡعِ وَالۡوَتۡرِۙ ﴿3﴾
(۳) اور جفت اور طاق کی (ف٤)
(ف4)ہر چیز کے یا ان راتوں کے یا نمازوں کے ، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جفت سے مراد خَلق اور طاق سے مراد اللہ تعالٰی ہے ۔
وَالَّيۡلِ اِذَا يَسۡرِۚ ﴿4﴾
(٤) اور رات کی جب چل دے (ف۵)
(ف5)یعنی گذرے ۔ یہ پانچویں قَسم ہے عام رات کی ، اس سے پہلے دس خاص راتوں کی قَسم ذکر فرمائی گئی ۔ بعض مفسّرین فرماتے ہیں کہ اس سے خاص شبِ مزدلفہ مراد ہے جس میں بندگانِ خدا طاعتِ الٰہی کے لئے جمع ہوتے ہیں ، ایک قول یہ ہے کہ اس سے شبِ قدر مراد ہے جس میں رحمت کا نزول ہوتا ہے اور جو کثرتِ ثواب کے لئے مخصوص ہے ۔
هَلۡ فِىۡ ذٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِىۡ حِجۡرٍؕ ﴿5﴾
(۵) کیوں اس میں عقلمند کے لیے قسم ہوئی (ف٦)
(ف6)یعنی یہ امور اربابِ عقل کے نزدیک ایسی عظمت رکھتے ہیں کہ خبروں کوان کے ساتھ موکّد کرنا شایاں ہے کیونکہ یہ ایسے عجائب و دلائل پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالٰی کی توحید اور اس کی ربوبیّت پر دلالت کرتے ہیں اور جوابِ قَسم یہ ہے کہ کافر ضرور عذاب کئے جائیں گے ، اس جواب پر اگلی آیتیں دلالت کرتی ہیں ۔
اَلَمۡ تَرَ كَيۡفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍۙ ﴿6﴾
(٦) کیا تم نے نہ دیکھا (ف۷) تمہارے رب نے عاد کے ساتھ کیسا کیا،
(ف7)اے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔
اِرَمَ ذَاتِ الۡعِمَادِۙ ﴿7﴾
(۷) وہ اِرم حد سے زیادہ طول والے (ف۸)
(ف8)جن کے قد بہت دراز تھے انہیں عادِ ارم اور عادِ اولٰی کہتے ہیں ، مقصود اس سے اہلِ مکّہ کو خوف دلانا ہے کہ عادِ اولٰی جن کی عمریں بہت زیادہ اور قد بہت طویل اور نہایت قوی و توانا تھے انہیں اللہ تعالٰی نے ہلاک کردیا تو یہ کافر اپنے آ پ کو کیا سمجھتے ہیں اور عذابِ الٰہی سے کیوں بے خوف ہیں ۔
(ف9)زور و قوّت اور طولِ قامت میں ۔ عاد کے بیٹوں میں سے شدّاد بھی ہے جس نے دنیا پر بادشاہت کی اور تمام بادشاہ اس کے مطیع ہوگئے اور اس نے جنّت کا ذکر سن کر براہِ سرکشی دنیا میں جنّت بنانی چاہی اور اس ارادہ سے ایک شہرِ عظیم بنایا ، جس کے محل سونے ، چاندی کی اینٹوں سے تعمیر کئے گئے اور زبر جداور یاقوت کے ستون اس کی عمارتوں میں نصب ہوئے اور ایسے ہی فرش مکانوں اور رستوں میں بنائے گئے ، سنگریزوں کی جگہ آبدار موتی بچھائے گئے ، ہر محل کے گرد جواہرات پر نہریں جاری کی گئیں ، قِسم قِسم کے درخت حسنِ تزئین کے ساتھ لگائے گئے ، جب یہ شہر مکمل ہوا تو شدّاد بادشاہ اپنے اعیانِ سلطنت کے ساتھ اس کی طرف روانہ ہوا ، جب ایک منزل فاصلہ باقی رہا تو آسمان سے ایک ہولناک آواز آئی ، جس سے اللہ تعالٰی نے ان سب کو ہلاک کردیا ، حضرت امیرِ معاویہ کے عہد میں حضرت عبداللہ بن قلابہ صحرائے عدن میں اپنے گمے ہوئے اونٹ کو تلاش کرتے ہوئے اس شہر میں پہنچے اور اس کی تمام زیب و زینت دیکھی اور کوئی رہنے بسنے والا نہ پایا ، تھوڑے سے جواہرات وہاں سے لے کر چلے آئے ، یہ خبر امیرِ معاویہ کو معلوم ہوئی ، انہوں نے انہیں بلا کر حال دریافت کیا ، انہوں نے تمام قصّہ سنایا تو امیرِ معاویہ نے کعب احبار کو بلاکر دریافت کیا کہ کیا دنیا میں کوئی ایسا شہر ہے ، انہوں نے فرمایا ہاں جس کا ذکر قرآنِ پاک میں بھی آیا ہے ، یہ شہر شدّاد بن عاد نے بنایا تھا ، وہ سب عذابِ الٰہی سے ہلاک ہوگئے ان میں سے کوئی باقی نہ رہا اور آپ کے زمانہ میں ایک مسلمان سرخ رنگ ، کبود چشم ، قصیر القامت جس کی ابرو ، پر ایک تل ہوگا ، اپنے اونٹ کی تلاش میں داخل ہوگا ، پھر عبداللہ بن قلابہ کو دیکھ کر فرمایا بخدا وہ شخص یہی ہے ۔
(۱٦) اور اگر آزمائے اور اس کا رزق اس پر تنگ کرے، تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے خوار کیا،
كَلَّا بَلۡ لَّا تُكۡرِمُوۡنَ الۡيَتِيۡمَۙ ﴿17﴾
(۱۷) یوں نہیں (ف۱۵) بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے (ف۱٦)
(ف15)یعنی عزّت و ذلّت دولت و فقر پر نہیں ، یہ اس کی حکمت ہے کبھی دشمن کو دولت دیتا ہے ، کبھی بندۂِ مخلص کو فقر میں مبتلا کرتا ہے ، عزّت و ذلّت طاعت و معصیّت پر ہے ، کفّار اس حقیقت کو نہیں سمجھتے ۔(ف16)اور باوجود دولت مند ہونے کے ان کے ساتھ اچھے سلوک نہیں کرتے اور انہیں ان کے حقوق نہیں دیتے جن کے وہ وارث ہیں ۔ مقاتل نے کہا کہ اُمیّہ بن خلف کے پاس قدامہ بن مظعون یتیم تھے ، وہ انہیں انکا حق نہیں دیتا تھا ۔
(۲۳) اور اس دن جہنم لائے جائے (ف۲۰) اس دن آدمی سوچے گا (ف۲۱) اور اب اسے سوچنے کا وقت کہاں (ف۲۲)
(ف20)جہنّم کی ستّر ہزار باگیں ہوں گی ، ہر باگ پر ستّر ہزار فرشتے جمع ہو کر اس کو کھینچیں گے اور وہ جوش و غضب میں ہوگی ، یہاں تک کہ فرشتے اس کو عرش کے بائیں جانب لائیں گے ، اس روز سب نفسی نفسی کہتے ہوں گے ، سوائے حضورِ پُرنور حبیبِ خدا سیّدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ، کہ حضور یارب امّتی امّتی فرماتے ہوں گے ، جہنّم حضور سے عرض کرے گی کہ اے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آپ کا میرا کیا واسطہ اللہ تعالٰی نے آپ کو مجھ پر حرام کیا ہے ۔ (جمل)(ف21)اور اپنی تقصیر کو سمجھے گا ۔(ف22)اس وقت کا سوچنا ، سمجھنا کچھ بھی مفید نہیں ۔
(ف24)جو ایمان وایقان پر ثابت رہی اور اللہ تعالٰی کے حکم کے حضور سرِطاعت خم کرتی رہی ، یہ مومن سے وقتِ موت کہا جائے گا جب دنیا سے اس کے سفر کرنے کا وقت آئے گا ۔