(ف2)شانِ نزول :' اِنَّا فَتَحْنَا 'حدیبیہ سے واپس ہوتے ہوئے حضور پر نازل ہوئی ، حضور کو اس کے نازل ہونے سے بہت خوشی حاصل ہوئی اور صحابہ نے حضور کو مبارکباد یں دیں ۔ (بخاری و مسلم و ترمذی) حدیبیہ ایک کنواں ہے مکّہ مکرّمہ کے نزدیک ۔ مختصر واقعہ یہ ہے کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے خواب دیکھا کہ حضور مع اپنے اصحاب کے امن کے ساتھ مکّہ مکرّمہ میں داخل ہوئے ، کوئی حلق کئے ہوئے ، کوئی قصر کئے ہوئے اور کعبہ معظمہ میں داخل ہوئے ، کعبہ کی کنجی لی ، طواف فرمایا ، عمرہ کیا ، اصحاب کو اس خواب کی خبر دی ، سب خوش ہوئے ، پھر حضور نے عمرہ کا قصد فرمایا اور ایک ہزار چار سو اصحاب کے ساتھ یکم ذی القعدہ ۶ ھ ہجری کو روانہ ہوگئے ، ذوالحلیفہ میں پہنچ کر وہاں مسجد میں دو رکعتیں پڑھ کر عمرہ کا احرام باندھا اور حضور کے ساتھ اکثر اصحاب نے بھی ، بعض اصحاب نے جحفہ سے احرام باندھا ، راہ میں پانی ختم ہوگیا ، اصحاب نے عرض کیا کہ پانی لشکر میں بالکل باقی نہیں ہے سوائے حضور کے آفتابہ کے کہ اس میں تھوڑا سا ہے ، حضور نے آفتابہ میں دستِ مبارک ڈالا تو انگشت ہائے مبارک سے چشمے جوش مارنے لگے تمام لشکر نے پیا ، وضو کئے ، جب مقامِ عُسفان میں پہنچے تو خبر آئی کہ کفّارِ قریش بڑے سرو سامان کے ساتھ جنگ کے لئے تیار ہیں ، جب حدیبیہ پر پہنچے تو اس کا پانی ختم ہوگیا ، ایک قطرہ نہ رہا ، گرمی بہت شدید تھی ، حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کنوئیں میں کلی فرمائی ، اس کی برکت سے کنواں پانی سے بھر گیا ، سب نے پیا ، اونٹوں کو پلایا ۔ یہاں کفّارِ قریش کی طرف سے حال معلوم کرنے کے لئے کئی شخص بھیجے گئے ، سب نے جا کر یہی بیان کیا کہ حضور عمرہ کے لئے تشریف لائے ہیں ، جنگ کا ارادہ نہیں ہے ۔ لیکن انہیں یقین نہ آیا ، آخر کار انہوں نے عروہ بن مسعود ثقفی کو جو طائف کے بڑے سردار اور عرب کے نہایت متموّل شخص تھے تحقیقِ حال کے لئے بھیجا ، انہوں نے آکر دیکھا کہ حضور دستِ مبارک دھوتے ہیں تو صحابہ تبرک کے لئے غسالہ شریف حاصل کرنے کے لئے ٹوٹے پڑتے ہیں ، اگر کبھی تھوکتے ہیں تو لوگ اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جس کو وہ حاصل ہوجاتا ہے وہ اپنے چہروں اور بدن پر برکت کے لئے ملتا ہے ، کوئی بال جسمِ اقدس کا گرنے نہیں پاتا اگر احیاناً جدا ہوا تو صحابہ اس کو بہت ادب کے ساتھ لیتے اور جان سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں ، جب حضور کلام فرماتے ہیں تو سب ساکت ہوجاتے ہیں ۔ حضور کے ادب و تعظیم سے کوئی شخص نظر اوپر کو نہیں اٹھا سکتا ۔ عروہ نے قریش سے جا کر یہ سب حال بیان کیا اور کہا کہ میں بادشا ہانِ فارس و روم و مصر کے درباروں میں گیا ہوں ، میں نے کسی بادشاہ کی یہ عظمت نہیں دیکھی جو محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ان کے اصحاب میں ہے ، مجھے اندیشہ ہے کہ تم ان کے مقابل کامیاب نہ ہوسکو گے ، قریش نے کہا ایسی بات مت کہو ، ہم اس سال انہیں واپس کردیں گے ، وہ اگلے سال آئیں ، عروہ نے کہا کہ مجھے اندیشہ ہے کہ تمہیں کوئی مصیبت پہنچے ۔ یہ کہہ کر وہ معہ اپنے ہمراہیوں کے طائف واپس چلے گئے اور اس واقعہ کے بعد اللہ تعالٰی نے انہیں مشرّف بہ اسلام کیا ، یہیں حضور نے اپنے اصحاب سے بیعت لی ، اس کو بیعتِ رضوان کہتے ہیں ، بیعت کی خبر سے کفّار خوف زدہ ہوئے اور ان کے اہلُ الرائے نے یہی مناسب سمجھا کہ صلح کرلیں ، چنانچہ صلح نامہ لکھا گیا اور سالِ آئندہ حضور کا تشریف لانا قرار پایا اور یہ صلح مسلمانوں کے حق میں بہت نافع ہوئی بلکہ نتائج کے اعتبار سے فتح ثابت ہوئی ، اسی لئے اکثر مفسّرین فتح سے صلحِ حدیبیہ مراد لیتے ہیں اور بعض تمام فتوحاتِ اسلام جو آئیندہ ہونے والی تھیں ۔ اور ماضی کے صیغہ سے تعبیر ان کے یقینی ہونے کی وجہ سے ہے ۔ (خازن و روح البیان)
وہی ہے جس نے ایمان والوں کے دلوں میں اطمینان اتارا تاکہ انہیں یقین پر یقین بڑھے (ف۷) اور اللہ ہی کی ملک ہیں تمام لشکر آسمانوں اور زمین کے (ف۸) اور اللہ علم و حکمت والا ہے (ف۹)
(ف7)اور باوجود عقیدۂِ راسخہ کے اطمینانِ نفس حاصل ہو ۔(ف8)وہ قادر ہے ، جس سے چاہے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مدد فرمائے ۔ آسمان وز مین کے لشکروں سے یا تو آسمان اور زمین کے فرشتے مراد ہیں یا آسمانوں کے فرشتے اور زمین کے حیوانات ۔(ف9)اس نے مومنین کے دلوں کی تسکین اور وعدۂِ فتح و نصرت اس لئے فرمایا ۔
تاکہ ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو باغوں میں لے جائے جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں اور انکی برائیاں ان سے اتار دے، اور یہ اللہ کے یہاں بڑی کامیابی ہے،
اور عذاب دے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو جو اللہ پر گمان رکھتے ہیں (ف۱۰) انہیں پر ہے بری گردش (ف۱۱) اور اللہ نے ان پر غضب فرمایا اور انہیں لعنت کی اور ان کے لیے جہنم تیار فرمایا، اور وہ کیا ہی برا انجام ہے،
(ف10)کہ وہ اپنے رسول سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور ان پر ایمان لانے والوں کی مدد نہ فرمائے گا ۔(ف11)عذاب و ہلاک کی ۔
وہ جو تمہاری بیعت کرتے ہیں (ف۱۵) وہ تو اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں (ف۱٦) ان کے ہاتھوں پر (ف۱۷) اللہ کا ہاتھ ہے، تو جس نے عہد توڑا اس نے اپنے بڑے عہد کو توڑا (ف۱۸) اور جس نے پورا کیا وہ عہد جو اس نے اللہ سے کیا تھا تو بہت جلد اللہ اسے بڑا ثواب دے گا (ف۱۹)
(ف15)مراد اس بیعت سے بیعتِ رضوان ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حدیبیہ میں لی تھی ۔(ف16)کیونکہ رسول سے بیعت کرنا اللہ تعالٰی ہی سے بیعت کرنا ہے جیسے کہ رسول کی اطاعت اللہ تعالٰی کی اطاعت ہے ۔(ف17)جن سے انہوں نے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بیعت کا شرف حاصل کیا ۔(ف18)اس عہد توڑنے کا وبال اسی پر پڑے گا ۔(ف19)یعنی حدیبیہ سے تمہاری واپسی کے وقت ۔
اب تم سے کہیں گے جو گنوار (اعرابی) پیچھے رہ گئے تھے (ف۲۰) کہ ہمیں ہمارے مال اور ہمارے گھر والوں نے مشغول رکھا (ف۲۱) اب حضور ہماری مغفرت چاہیں (ف۲۲) اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں (ف۲۳) تم فرماؤ تو اللہ کے سامنے کسے تمہارا کچھ اختیار ہے اگر وہ تمہارا برا چاہے یا تمہاری بھلائی کا ارادہ فرمائے، بلکہ اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے،
(ف20)قبیلۂِ غِفَار و مُزَ نِیَّہ وجُہَنِیَّہ واشجع و اسلم کے جب کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے سالِ حدیبیہ بہ نیّتِ عمرہ مکّہ مکرّمہ کا ارادہ فرمایا تو حوالیِ مدینہ کے گانؤں والے اور اہلِ بادیہ بخوفِ قریش آپ کے ساتھ جانے سے رکے باوجود یہ کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے عمرہ کا احرام باندھا تھا اور قربانیاں ساتھ تھیں اور اس سے صاف ظاہر تھا کہ جنگ کا ارادہ نہیں ہے پھر بھی بہت سے اعراب پر جانا بار ہوا اور وہ کام کا حیلہ کرکے رہ گئے اور ان کا گمان یہ تھا کہ قریش بہت طاقتور ہیں ، مسلمان ان سے بچ کر نہ آئیں گے ، سب وہیں ہلاک ہوجائیں گے ، اب جب کہ مددِ الٰہی سے معاملہ ان کے خیال کے بالکل خلاف ہوا تو انہیں اپنے نہ جانے پر افسوس ہوگا اور معذرت کریں گے ۔(ف21)کیونکہ عورتیں اور بچّے اکیلے تھے اور ان کا کوئی خبر گیراں نہ تھا ، اس لئے ہم قاصر رہے ۔(ف22)اللہ تعالٰی ان کی تکذیب فرماتا ہے ۔(ف23)یعنی وہ اعتذار و طلبِ استغفار میں جھوٹے ہیں ۔
بلکہ تم تو یہ سمجھے ہوئے تھے کہ رسول اور مسلمان ہرگز گھروں کو واپس نہ آئیں گے (ف۲٤) اور اسی کو اپنے دلوں میں بھلا سمجھیں ہوئے تھے اور تم نے برا گمان کیا (ف۲۵) اور تم ہلاک ہونے والے لوگ تھے (ف۲٦)
(ف24)دشمن ان سب کا وہیں خاتمہ کردیں گے ۔(ف25)کفر و فساد کے غلبہ کا اور وعدۂِ الٰہی کے پورا نہ ہونے کا ۔(ف26)عذابِ الٰہی کے مستحق ۔
اب کہیں گے پیچھے بیٹھ رہنے والے (ف۲۹) جب تم غنیمتیں لینے چلو (ف۳۰) تو ہمیں بھی اپنے پیچھے آنے دو (ف۳۱) وہ چاہتے ہیں اللہ کا کلام بدل دیں (ف۳۲) تم فرماؤ ہرگز ہمارے ساتھ نہ آؤ اللہ نے پہلے سے یونہی فرمادیا (ف۳۳) تو اب کہیں گے بلکہ تم ہم سے جلتے ہو (ف۳٤) بلکہ وہ بات نہ سمجھتے تھے (ف۳۵) مگر تھوڑی (ف۳٦)
(ف29)جو حدیبیہ کی حاضری سے قاصر رہے اے ایمان والو ۔(ف30)خیبر کی ۔ اس کاواقعہ یہ تھا کہ جب مسلمان صلحِ حدیبیہ سے فارغ ہو کر واپس ہوئے تو اللہ تعالٰی نے ان سے فتحِ خیبر کا وعدہ فرمایا اور وہاں کی غنیمتیں حدیبیہ میں حاضر ہونے والوں کے لئے مخصوص کردی گئیں ، جب مسلمانوں کو خیبر کی طرف روانہ ہونے کا وقت آیا تو ان لوگوں کو لالچ آیا اور انہوں نے بطمعِ غنیمت کہا ۔(ف31)یعنی ہم بھی خیبر کو تمہارے ساتھ چلیں اور جنگ میں شریک ہوں اللہ تعالٰی فرماتا ہے ۔(ف32)یعنی اللہ کا وعدہ جو اہلِ حدیبیہ کے لئے فرمایا تھا کہ خیبر کی غنیمت خاص ان کے لئے ہے ۔(ف33)یعنی ہمارے مدینہ آنے سے پہلے ۔(ف34)اور یہ گوارا نہیں کرتے کہ ہم تمہارے ساتھ غنیمتیں پائیں اور اللہ تعالٰی فرماتا ہے ۔(ف35)دِین کی ۔(ف36)یعنی محض دنیا کی ، حتّٰی کہ ان کا زبانی اقرار بھی دنیا ہی کی غرض سے تھا اور امورِ آخرت کو بالکل نہیں سمجھتے تھے ۔ (جمل)
ان پیچھے رہ گئے ہوئے گنواروں سے فرماؤ (ف۳۷) عنقریب تم ایک سخت لڑائی والی قوم کی طرف بلائے جاؤ گے (ف۳۸) کہ ان سے لڑو یا وہ مسلمان ہوجائیں، پھر اگر تم فرمان مانو گے اللہ تمہیں اچھا ثواب دے گا، اور اگر پھر گے جیسے پہلے پھر گئے تو تمھیں درد ناک عذاب دے گا،
(ف37)جو مختلف قبائل کے لوگ ہیں اور ان میں بعض ایسے بھی ہیں جن کے تائب ہونے کی امید کی جاتی ہے ، بعض ایسے بھی ہیں جو نفاق میں بہت پختہ اور سخت ہیں ، انہیں آزمائش میں ڈالنا منظور ہے تاکہ تائب وغیرِ تائب میں فرق ہوجائے اس لئے حکم ہوا کہ ان سے فرمادیجئے ۔(ف38)اس قوم سے بنی حنیفہ یمامہ کے رہنے والے جو مسیلمہ کذّاب کی قوم کے لوگ ہیں وہ مراد ہیں جن سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جنگ فرمائی ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان سے مراد اہلِ فارس و روم ہیں جن سے جنگ کے لئے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے دعوت دی ۔(ف39)مسئلہ : یہ آیت شیخینِ جلیلین حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہما کے صحتِ خلافت کی دلیل ہے کہ ان حضرات کی اطاعت پر جنّت کا اور انکی مخالفت پر جہنّم کا وعدہ دیا گیا ۔(ف40)حدیبیہ کے موقع پر ۔
اندھے پر تنگی نہیں (ف٤۱) اور نہ لنگڑے پر مضائقہ اور نہ بیمار پر مواخذہ (ف٤۲) اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے اللہ اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں اور جو پھر جائے گا (ف٤۳) اسے دردناک عذاب فرمائے گا،
(ف41)جہاد کے رہ جانے میں ۔ شانِ نزول : جب اوپر کی آیت نازل ہوئی تو جو لوگ اپاہج و صاحبِ عذر تھے انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہمارا کیا حال ہوگا ، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(ف42)کہ یہ عذر ظاہر ہے اور جہاد میں حاضر نہ ہونا ان کے لئے جائز ہے ، کیونکہ نہ یہ لوگ دشمن پر حملہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں ، نہ اس کے حملہ سے بچنے اور بھاگنے کی ۔ انہیں کے حکم میں داخل ہیں وہ بڈھے ، ضعیف جنہیں نشست و برخاست کی طاقت نہیں یا جنہیں د مہ کھانسی ہے یا جن کی تلّی بہت بڑھ گئی ہے اورانہیں چلنا ، پھرنا دشوار ہے ، ظاہر ہے کہ یہ عذر جہاد سے روکنے والے ہیں ۔ ان کے علاوہ اور بھی اعذار ہیں مثلاً غایت درجہ کی محتاجی اور سفر کے ضروری حوائج پر قدرت نہ رکھنا یا ایسے اشغالِ ضروریہ جو سفر سے مانع ہوں جیسے کسی ایسے مریض کی خدمت جس کی خدمت اس پر لازم ہے اور اس کے سوائے کوئی اس کا انجام دینے والا نہیں ۔(ف43)طاعت سے اعراض کرے گا اور کفر و نفاق پر رہے گا ۔
بیشک اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے (ف٤٤) تو اللہ نے جانا جو ان کے دلوں میں ہے (ف٤۵) تو ان پر اطمینان اتارا اور انہیں جلد آنے والی فتح کا انعام دیا (ف٤٦)
(ف44)حدیبیہ میں چونکہ ان بیعت کرنے والوں کو رضائے الٰہی کی بشارت دی گئی اس لئے اس بیعت کو بیعتِ رضوان کہتے ہیں ، اس بیعت کے سبب باسبابِ ظاہر یہ پیش آیا کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حدیبیہ سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اشرافِ قریش کے پاس مکّہ مکرّمہ بھیجا کہ انہیں خبر دیں کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بیت اللہ کی زیارت کے لئے بقصدِعمرہ تشریف لائے ہیں ، آپ کا ارادہ جنگ کا نہیں ہے اور یہ بھی فرمادیا تھا کہ جو کمزور مسلمان وہاں ہیں انہیں اطمینان دلادیں کہ مکّہ مکرّمہ عنقریب فتح ہوگا اور اللہ تعالٰی اپنے دِین کو غالب فرمائے گا ، قریش اس بات پر متفق رہے کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس سال تو تشریف نہ لائیں اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے کہا کہ اگر آپ کعبہ معظّمہ کا طواف کرنا چاہیں تو کریں حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ میں بغیر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے طواف کروں یہاں مسلمانوں نے کہا کہ عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ بڑے خوش نصیب ہیں جو کعبہ معظّمہ پہنچے اور طواف سے مشرف ہوئے ، حضور نے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا میں جانتا ہوں کہ وہ ہمارے بغیر طواف نہ کریں گے ، حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مکّہ مکرّ مہ کے ضعیف مسلمانوں کو حسبِ حکم فتح کی بشارت بھی پہنچائی ، پھر قریش نے حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو روک لیا ، یہاں یہ خبر مشہور ہوگئی کہ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ شہید کردیئے گئے ، اس پر مسلمانوں کو بہت جوش آیا اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صحابہ سے کفّار کے مقابل جہاد میں ثابت رہنے پر بیعت لی ، یہ بیعت ایک بڑے خار دار درخت کے نیچے ہوئی ، جس کو عرب میں سَمُرَہ کہتے ہیں ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنا بایاں دستِ مبارک داہنے دستِ اقدس میں لیا اور فرمایا کہ یہ عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کی بیعت ہے اور فرمایا یا رب عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ تیرے اور تیرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے کام میں ہیں ۔ ا س واقعہ سے معلوم ہوتا کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو نورِ نبوّت سے معلوم تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ شہید نہیں ہوئے جبھی تو ان کی بیعت لی ، مشرکین اس بیعت کا حال سن کر خائف ہوئے اور انہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو بھیج دیا ۔ حدیث شریف میں ہے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ جن لوگوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی ان میں سے کوئی بھی دوزخ میں داخل نہ ہوگا ۔ ( مسلم شریف) اور جس درخت کے نیچے بیعت کی گئی تھی اللہ تعالٰی نے اس کو ناپدید کردیا ، سالِ آئندہ صحابہ نے ہر چند تلاش کیا کسی کو اس کا پتہ بھی نہ چلا ۔(ف45)صدق و اخلاص و وفا ۔(ف46)یعنی فتحِ خیبر کا جو حدیبیہ سے واپس ہوکر چھ ماہ بعد حاصل ہوئی ۔
اور اللہ نے تم سے وعدہ کیا ہے بہت سی غنیمتوں کا کہ تم لو گے (ف٤۸) تو تمہیں یہ جلد عطا فرمادی اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیے (ف٤۹) اور اس لیے کہ ایمان والوں کے لیے نشانی ہو (ف۵۰) اور تمہیں سیدھی راہ دکھائے (ف۵۱)
(ف48)اور تمہاری فتوحات ہوتی رہیں گی ۔(ف49)کہ وہ خائف ہو کر تمہارے اہل و عیال کو ضرر نہ پہنچاسکے ۔ اس کا واقعہ یہ ہے کہ جب مسلمان جنگِ خیبر کے لئے روانہ ہوئے تو اہلِ خیبر کے حلیف بنی اسد و غطفان نے چاہا کہ مدینہ طیّبہ پر حملہ کرکے مسلمانوں کے اہل و عیال کو لوٹ لیں ، اللہ تعالٰی نے ان کے دلوں میں رعب ڈالا اور ان کے ہاتھ روک دیئے ۔(ف50)یہ غنیمت دینا اور دشمنوں کے ہاتھ روک دینا ۔(ف51)اللہ تعالٰی پر توکل کرنے اور کام اس پر مفوَّض کرنے کی جس سے بصیرت و یقین زیادہ ہو ۔
اور ایک اور (ف۵۲) جو تمہارے بل (بس) کی نہ تھی (ف۵۳) وہ اللہ کے قبضہ میں ہے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے،
(ف52)فتح ۔(ف53)مراد اس سے یا مغانمِ فارس و روم ہیں یا خیبر جس کا اللہ تعالٰی نے پہلے سے وعدہ فرمایا تھا اور مسلمانوں کو امیدِ کامیابی تھی ، اللہ تعالٰی نے انہیں فتح دی ۔ اور ایک قول یہ ہے کہ وہ فتحِ مکّہ ہے ۔ اور ایک قول یہ ہے کہ وہ ہر فتح ہے جو اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کو عطا فرمائی ۔
اور وہی ہے جس نے ان کے ہاتھ (ف۵۷) تم سے روک دیے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیے وادی مکہ میں (ف۵۸) بعد اس کے کہ تمہیں ان پر قابو دے دیا تھا، اور اللہ تمہارے کام دیکھتا ہے،
(ف57)یعنی کفّار کے ۔(ف58)روزِ فتحِ مکّہ ، اور ایک قول یہ ہے کہ بطنِ مکّہ سے حدیبیہ مراد ہے ۔ اوراس کے شانِ نزول میں حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ اہلِ مکّہ میں سے اسّی۸۰ ہتھیار بند جوان جبلِ تنعیم سے مسلمانوں پر حملہ کرنے کے ارادہ سے اترے ، مسلمانوں نے انہیں گرفتار کرکے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر کیا ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے معاف فرمایا اور چھوڑ دیا ۔
وہ (ف۵۹) وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں مسجد حرام سے (ف٦۰) روکا اور قربانی کے جانور رُکے پڑے اپنی جگہ پہنچنے سے (ف٦۱) اور اگر یہ نہ ہوتا کچھ مسلمان مرد اور کچھ مسلمان عورتیں (ف٦۲) جن کی تمہیں خبر نہیں (ف٦۳) کہیں تم انہیں روند ڈالو (ف٦٤) تو تمہیں ان کی طرف سے انجانی میں کوئی مکروہ پہنچے تو ہم تمہیں ان کی قتال کی اجازت دیتے ان کا یہ بچاؤ اس لیے ہے کہ اللہ اپنی رحمت میں داخل کرے جسے چاہے، اگر وہ جدا ہوجاتے (ف٦۵) تو ہم ضرور ان میں کے کافروں کو دردناک عذاب دیتے (ف٦٦)
(ف59)کفّارِ مکّہ ۔(ف60)وہاں پہنچنے سے اور اس کا طواف کرنے سے ۔(ف61)یعنی مقامِ ذبح سے جو حرم میں ہے ۔(ف62)مکّہ مکرّمہ میں ہیں ۔(ف63)تم انہیں پہچانتے نہیں ۔(ف64)کفّار سے قتال کرنے میں ۔(ف65)یعنی مسلمان کافروں سے ممتاز ہوجاتے ۔(ف66)تمہارے ہاتھ سے قتل کراکے اور تمہاری قید میں لا کر ۔
جبکہ کافروں نے اپنے دلوں میں اَڑ رکھی وہی زمانہٴ جاہلیت کی اَڑ (ضد) (ف٦۷) تو اللہ نے اپنا اطمینان اپنے رسول اور ایمان والوں پر اتارا (ف٦۸) اور پرہیزگاری کا کلمہ ان پر لازم فرمایا (ف٦۹) اور وہ اس کے زیادہ سزاوار اور اس کے اہل تھے (ف۷۰) اور اللہ سب کچھ جانتا ہے (ف۷۱)
(ف67)کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور حضور کے اصحاب کو کعبہ معظّمہ سے روکا ۔(ف68)کہ انہوں نے سالِ آئندہ آنے پر صلح کی ، اگر وہ بھی کفّارِ قریش کی طرح ضد کرتے تو ضرور جنگ ہوجاتی ۔(ف69)کلمۂِ تقوٰی سے مراد ' لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدُ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ' ہے ۔(ف70)کیونکہ اللہ تعالٰی نے انہیں اپنے دِین اور اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صحبت سے مشرّف فرمایا ۔(ف71)کافروں کا حال بھی جانتا ہے ، مسلمانوں کا بھی ، کوئی چیز اس سے مخفی نہیں ۔
بیشک اللہ نے سچ کردیا اپنے رسول کا سچا خواب (ف۷۲) بیشک تم ضرور مسجد حرام میں داخل ہوگے اگر اللہ چاہے امن و امان سے اپنے سروں کے (ف۷۳) بال منڈاتے یا (ف۷٤) ترشواتے بےخوف، تو اس نے جانا جو تمہیں معلوم نہیں (ف۷۵) تو اس سے پہلے (ف۷٦) ایک نزدیک آنے والی فتح رکھی (ف۷۷)
(ف72)شانِ نزول : رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حدیبیہ کا قصد فرمانے سے قبل مدینہ طیّبہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ مع اصحاب کے مکّہ معظّمہ میں بامن داخل ہوئے اور اصحاب نے سر کے بال منڈائے ، بعض نے ترشوائے ، یہ خواب آپ نے اپنے اصحاب سے بیان فرمایا تو انہیں خوشی ہوئی اور انہوں نے خیال کیا کہ اسی سال وہ مکّہ مکرّمہ میں داخل ہوں گے ، جب مسلمان حدیبیہ سے بعد صلح کے واپس ہوئے اور اس سال مکّہ مکرّمہ میں داخلہ نہ ہوا تو منافقین نے تمسخر کیا ، طعن کئے اور کہا کہ وہ خواب کیا ہوا ۔ اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی اور اس خواب کے مضمون کی تصدیق فرمائی کہ ضرور ایسا ہوگا چنانچہ اگلے سال ایسا ہی ہوا اور مسلمان اگلے سال بڑے شان و شکوہ کے ساتھ مکّہ مکرّمہ میں فاتحانہ داخل ہوئے ۔(ف73)تمام ۔(ف74)تھوڑے سے ۔(ف75)یعنی یہ کہ تمہارا داخل ہونا اگلے سال ہے اور تم اسی سال سمجھے تھے اور تمہارے لئے یہ تاخیر بہتر تھی کہ اس کے باعث وہاں کے ضعیف مسلمان پامال ہونے سے بچ گئے ۔ (ف76)یعنی دخولِ حرم سے قبل ۔(ف77)فتحِ خیبر کہ فتحِ موعود کے حاصل ہونے تک مسلمانوں کے دل اس سے راحت پائیں ، اس کے بعد جب اگلا سال آیا تو اللہ تعالٰی نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خواب کا جلوہ دکھلایا اور واقعات اس کے مطابق رونما ہوئے ، چنانچہ ارشاد فرماتا ہے ۔
وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کرے (ف۷۸) اور اللہ کافی ہے گواہ (ف۷۹)
(ف78)خواہ وہ مشرکین کے دِین ہوں یا اہلِ کتاب کے چنانچہ اللہ تعالٰی نے یہ نعمت عطا فرمائی اور اسلام کو تمام ادیان پر غالب فرمادیا ۔(ف79)اپنے حبیب محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رسالت پر جیسا کہ فرماتا ہے ۔
محمد اللہ کے رسول ہیں، اور ان کے ساتھ والے (ف۸۰) کافروں پر سخت ہیں (ف۸۱) اور آپس میں نرم دل (ف۸۲) تو انہیں دیکھے گا رکوع کرتے سجدے میں گرتے (ف۸۳) اللہ کا فضل و رضا چاہتے ، ان کی علامت ان کے چہروں میں ہے سجدوں کے نشان سے (ف۸٤) یہ ان کی صفت توریت میں ہے، اور ان کی صفت انجیل میں (ف۸۵) جیسے ایک کھیتی اس نے اپنا پٹھا نکالا پھر اسے طاقت دی پھر دبیز ہوئی پھر اپنی ساق پر سیدھی کھڑی ہوئی کسانوں کو بھلی لگتی ہے (ف۸٦) تاکہ ان سے کافروں کے دل جلیں، اللہ نے وعدہ کیا ان سے جو ان میں ایمان اور اچھے کاموں والے ہیں (ف۸۷) بخشش اور بڑے ثواب کا،
(ف80)یعنی ان کے اصحاب ۔(ف81)جیسا کہ شیر شکار پر ۔ اور صحابہ کا تشدّد کفّار کے ساتھ اس حد پر تھا کہ وہ لحاظ رکھتے تھے کہ ان کا بدن کسی کافر کے بدن سے نہ چھو جائے اور ان کے کپڑے سے کسی کافر کا کپڑا نہ لگنے پائے ۔ (مدارک )(ف82)ایک دوسر ے پر محبّت و مہربانی کرنے والے ایسے کہ جیسے باپ بیٹے میں ہو اور یہ محبّت اس حد تک پہنچ گئی کہ جب ایک مومن دوسرے کو دیکھے تو فرطِ محبّت سے مصافحہ و معانقہ کرے ۔(ف83)کثرت سے نمازیں پڑھتے ، نمازوں پر مداومت کرتے ۔(ف84)اور یہ علامت وہ نور ہے جو روزِ قیامت ان کے چہروں سے تاباں ہوگا ، اس سے پہچانے جائیں گے کہ انہوں نے دنیا میں اللہ تعالٰی کے لئے بہت سجدے کئے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے چہروں میں سجدہ کا مقام ماہِ شب چہار دہم کی طرح چمکتا دمکتا ہوگا ۔ عطاء کا قول ہے کہ شب کی دراز نمازوں سے انکے چہروں پر نور نمایاں ہوتا ہے ، جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ جو رات کو نماز کی کثرت کرتا ہے صبح کو اس کا چہرہ خوب صورت ہوجاتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ گرد کا نشان بھی سجدہ کی علامت ہے ۔(ف85)یہ مذکور ہے کہ ۔(ف86)یہ مثال ابتدائے اسلام اور اس کی ترقی کی بیان فرمائی گئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تنہا اٹھے ، پھر اللہ تعالٰی نے آپ کو آپ کے مخلصین اصحاب سے تقویّت دی ۔ قتادہ نے کہا کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اصحاب کی مثال انجیل میں یہ لکھی ہے کہ ایک قوم کھیتی کی طرح پیدا ہوگی ، وہ نیکیوں کا حکم کریں گے ، بدیوں سے منع کریں گے ، کہا گیا ہے کہ کھیتی حضور ہیں اور اس کی شاخیں اصحاب اور مومنین ۔(ف87)صحابہ سب کے سب صاحبِ ایمان و عملِ صالح ہیں ، اس لئے یہ وعدہ سب ہی سے ہے ۔