بڑی برکت والا ہے وہ کہ جس نے اتارا قرآن اپنے بندہ پر (ف۲) جو سارے جہان کو ڈر سنانے والا ہو (ف۳)
(ف2)یعنی سیدِ انبیاء محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ۔(ف3)اس میں حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمومِ رسالت کا بیان ہے کہ آپ تمام خَلق کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے جِن ہوں یا بشر یا فرشتے یا دیگر مخلوقات سب آپ کے اُمّتی ہیں کیونکہ عالَم ماسوی اللہ کو کہتے ہیں اس میں یہ سب داخل ہیں ملائکہ کو اس سے خارج کرنا جیسا کہ جلالین میں شیخ محلی سے اور کبیر میں امام رازی سے اور شعب الایمان میں بہیقی سے صادر ہوا بے دلیل ہے اور دعوٰیٔ اجماع غیر ثابت چنانچہ امام سبکی و بازری و ابنِ حزم و سیوطی نے اس کا تعاقب کیا اور خود امام رازی کو تسلیم ہے کہ عالَم ماسوی اللہ کو کہتے ہیں پس وہ تمام خَلق کو شامل ہے ملائکہ کو اس سے خارج کرنے پر کوئی دلیل نہیں علاوہ بریں مسلم شریف کی حدیث ہے اُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کَآفَّۃً یعنی میں تمام خَلق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ۔ علامہ علی قاری نے مرقات میں اس کی شرح میں فرمایا یعنی تمام موجودات کی طرف جِن ہوں یا انسان یا فرشتے یا حیوانات یا جمادات ۔ اس مسئلہ کی کامل تنقیح و تحقیق شرح وبسط کے ساتھ امام قسطلانی کی مواہبِ لدنیہ میں ہے ۔
وہ جس کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اور اس نے نہ اختیار فرمایا بچہ (ف٤) اور اس کی سلطنت میں کوئی ساجھی نہیں (ف۵) اس نے ہر چیز پیدا کرکے ٹھیک اندازہ پر رکھی،
(ف4)اس میں یہود و نصارٰی کا رد ہے جو حضرت عزیز و مسیح علیہما السلام کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں معاذ اللہ ۔(ف5)اس میں بُت پرستوں کا رد ہے جو بُتوں کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں ۔
اور لوگوں نے اس کے سوا اور خدا ٹھہرالیے (ف٦) کہ وہ کچھ نہیں بناتے اور خود پیدا کیے گئے ہیں اور خود اپنی جانوں کے برے بھلے کے مالک نہیں اور نہ مرنے کا اختیار نہ جینے کا نہ اٹھنے کا،
(ف6)یعنی بُت پرستوں نے بُتوں کو خدا ٹھہرایا جو ایسے عاجز و بے قدرت ہیں ۔
اور کافر بولے (ف۷) یہ تو نہیں مگر ایک بہتان جو انہوں نے بنالیا ہے (ف۸) اور اس پر اور لوگوں نے (ف۹) انھیں مدد دی ہے بیشک وہ (ف۱۰) ظلم اور جھوٹ پر آئے،
(ف7)یعنی نضر بن حارث اور اس کے ساتھی قرآنِ کریم کی نسبت کہ ۔(ف8)یعنی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ۔(ف9)اور لوگوں سے نضر بن حارث کی مراد یہودی تھے اور عداس و یسار وغیرہ اہلِ کتاب ۔(ف10)نضر بن حارث وغیرہ مشرکین جو یہ بے ہودہ بات کہنے والے تھے ۔(ف11)وہی مشرکین قرآنِ کریم کی نسبت کہ یہ رستم و اسفند یار وغیرہ کے قِصّوں کی طرح ۔
تم فرماؤ اسے تو اس نے اتارا ہے جو آسمانوں اور زمین کی ہر بات جانتا ہے (ف۱۳) بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۱٤)
(ف13)یعنی قرآنِ کریم علومِ غیبی پر مشتمل ہے یہ دلیل صریح ہے اس کی کہ وہ حضرت علَّام الغیوب کی طرف سے ہے ۔(ف14)اسی لئے کُفّار کو مہلت دیتا ہے اور عذاب میں جلدی نہیں فرماتا ۔
اور بولے (ف۱۵) اور رسول کو کیا ہوا کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا ہے (ف۹۱٦ کیوں نہ اتارا گیا ان کے ساتھ کوئی فرشتہ کہ ان کے ساتھ ڈر سناتا (ف۱۷)
(ف15)کُفّارِ قریش ۔(ف16)اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ آپ نبی ہوتے تو نہ کھاتے نہ بازاروں میں چلتے اور یہ بھی نہ ہوتا تو ۔(ف17)اور ان کی تصدیق کرتا اور ان کی نبوّت کی شہادت دیتا ۔
یا غیب سے انھیں کوئی خزانہ مل جاتا یا ان کا کوئی باغ ہوتا جس میں سے کھاتے (ف۱۸) اور ظالم بولے (ف۱۹) تم تو پیروی نہیں کرتے مگر ایک ایسے مرد کی جس پر جادو ہوا (ف۲۰)
(ف18)مالداروں کی طرح ۔(ف19)مسلمانوں سے ۔(ف20)اور معاذ اللہ اس کی عقل بجا نہ رہی ، ایسی طرح طرح کی بے ہودہ باتیں انہوں نے بکیں ۔
جب وہ انھیں دور جگہ سے دیکھے گی (ف۲۲) تو سنیں گے اس کا جوش مارنا اور چنگھاڑنا،
(ف22)ایک بر س کی راہ سے یا سو برس کی راہ سے دونوں قول ہیں اور آ گ کا دیکھنا کچھ بعید نہیں اللہ تعالٰی چاہے تو اس کو حیات و عقل اور رویت عطا فرمائے اور بعض مفسِّرین نے کہا کہ مراد ملائکۂ جہنّم کا دیکھنا ہے ۔
اور جب اس کی کسی تنگ جگہ میں ڈالے جائیں گے (ف۲۳) زنجیروں میں جکڑے ہوئے (ف۲٤) تو وہاں موت مانگیں گے (ف۲۵)
(ف23)جو نہایت کرب و بے چینی پیدا کرنے والی ہو ۔(ف24)اس طرح کہ ان کے ہاتھ گردنوں سے ملا کر باندھ دیئے گئے ہوں یا اس طرح کہ ہر ہر کافِر اپنے اپنے شیطان کے ساتھ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہو ۔(ف25)اور واثبوراہ واثبوراہ کا شور مچائیں گے بایں معنٰی کہ ہائے اے موت آ جا ۔ حدیث شریف میں ہے کہ پہلے جس شخص کو آتشی لباس پہنایا جائے گا وہ ابلیس ہے اور اس کی ذُرِّیَّت اس کے پیچھے ہوگی اور یہ سب موت موت پکارتے ہوں گے ان سے ۔
ان کے لیے وہاں من مانی مرادیں ہیں جن میں ہمیشہ رہیں گے، تمہارے رب کے ذمہ وعدہ ہے مانگا ہوا، (ف۲۸)
(ف28)یعنی مانگنے کے لائق یا وہ جو مؤمنین نے دنیا میں یہ عرض کر کے مانگا ۔ رَبَّنَا اٰتِنَا فِیْ الدُّنْیاحَسَنَۃً وَّ فِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً یا یہ عرض کر کے رَبَّنَا وَ اٰتِنَامَا وَ عَدْتَّنَا عَلٰی رُسُلِکَ
اور جس دن اکٹھا کرے گا انھیں (ف۲۹) اور جن کو الله کے سوا پوجتے ہیں (ف۳۰) پھر ان معبودوں سے فرمائے گا کیا تم نے گمراہ کردیے یہ میرے بندے یا یہ خود ہی راہ بھولے (ف۳۱)
(ف29)یعنی مشرکین کو ۔(ف30)یعنی ان کے باطل معبودوں کو خواہ ذوی العقول ہوں یا غیر ذوی العقول ۔ کلبی نے کہا کہ ان معبودوں سے بُت مراد ہیں انہیں اللہ تعالٰی گویائی دے گا ۔(ف31)اللہ تعالٰی حقیقتِ حال کا جاننے والا ہے اس سے کچھ بھی مخفی نہیں ، یہ سوال مشرکین کو ذلیل کرنے کے لئے ہے کہ ان کے معبود انھیں جھٹلائیں تو ان کی حسرت و ذلّت اور زیادہ ہو ۔
وہ عرض کریں گے پاکی ہے تجھ کو (ف۳۲) ہمیں سزاوار (حق) نہ تھا کہ تیرے سوا کسی اور کو مولیٰ بنائیں (ف۳۳) لیکن تو نے انھیں اور ان کے باپ داداؤں کو برتنے دیا (ف۳٤) یہاں تک کہ وہ تیری یاد بھول گئے اور یہ لوگ تھے ہی ہلاک ہونے والے (ف۳۵)
(ف32)اس سے کہ کوئی تیرا شریک ہو ۔ (ف33)تو ہم دوسرے کو کیا تیرے غیر کے معبود بنانے کا حکم دے سکتے تھے ، ہم تیرے بندے ہیں ۔(ف34)اور انہیں اموال و اولاد و طولِ عمر و صحت و سلامت عنایت کی ۔(ف35)شقی ، بعد ازیں کُفّار سے فرمایا جائے گا ۔
اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب ایسے ہی تھے کھانا کھاتے اور بازاروں میں چلتے (ف۳٦) اور ہم نے تم میں ایک کو دوسرے کی جانچ کیا ہے (ف۳۷) اور اے لوگو! کیا تم صبر کرو گے (ف۳۸) اور اے محبوب! تمہارا رب دیکھتا ہے (ف۳۹)
(ف36)یہ کُفّار کے اس طعن کا جواب ہے جو انہوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پرکیا تھا کہ وہ بازاروں میں چلتے ہیں کھانا کھاتے ہیں یہاں بتایا گیا کہ یہ امور منافیٔ نبوّت نہیں بلکہ یہ تمام انبیاء کی عادتِ مستمِرّہ تھی لہٰذا یہ طعن مَحض جہل و عناد ہے ۔(ف37)شانِ نُزول : شُرَفا جب اسلام لانے کا قصد کرتے تھے تو غُرَبا کو دیکھ کر یہ خیال کرتے کہ یہ ہم سے پہلے اسلام لا چکے ان کو ہم پر ایک فضیلت رہے گی بایں خیال وہ اسلام سے باز رہتے اور شُرَفا کے لئے غُرَبا آزمائش بن جاتے اور ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت ابوجہل و ولید بن عقبہ اور عاص بن وائل سہمی اور نضر بن حارث کے حق میں نازِل ہوئی ان لوگوں نے حضرت ابو ذر و ابنِ مسعود و عمّار ابنِ یاسر و بلال وصہیب و عامر بن فہیرہ کو دیکھا کہ پہلے سے اسلام لائے ہیں تو غرور سے کہا کہ ہم بھی اسلام لے آئیں تو انہیں جیسے ہو جائیں گے تو ہم میں اور ان میں فرق کیا رہ جائے گا اور ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت فُقَراء مسلمین کی آزمائش میں نازِل ہوئی جن کا کُفّارِ قریش استہزاء کرتے تھے اور کہتے تھے کہ سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اِتّباع کرنے والے یہ لوگ ہیں جو ہمارے غلام اور ارذل ہیں ۔ اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازِل کی اور ان مؤمنین سے فرمایا ۔ (خازن)(ف38)اس فقر و شدت پر اور کُفّار کی اس بدگوئی پر ۔(ف39)اس کو جو صبر کرے اور اس کو جو بےصبری کرے ۔
اور بولے وہ جو (ف٤۰) ہمارے ملنے کی امید نہیں رکھتے ہم پر فرشتے کیوں نہ اتارے (ف٤۱) یا ہم اپنے رب کو دیکھتے (ف٤۲) بیشک اپنے جی میں بہت ہی اونچی کھینچی (سرکشی کی) اور بڑی سرکشی پر آئے (ف٤۳)
(ف40)کافِر ہیں حشر و بعث کے معتقد نہیں اسی لئے ۔(ف41)ہمارے لئے رسول بنا کر یا سیدِ عالم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوّت و رسالت کے گواہ بنا کر ۔(ف42)وہ خود ہمیں خبر دے دیتا کہ سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے رسول ہیں ۔(ف43)اور ان کا تکبُّر انتہا کو پہنچ گیا اور سرکشی حد سے گزر گئی کہ معجزات کا مشاہدہ کرنے کے بعد ملائکہ کے اپنے اوپر اترنے اور اللہ تعالٰی کو دیکھنے کا سوال کیا ۔
جس دن فرشتوں کو دیکھیں گے (ف٤٤) وہ دن مجرموں کی کوئی خوشی کا نہ ہوگا (ف٤۵) اور کہیں گے الٰہی ہم میں ان میں کوئی آڑ کردے رکی ہوئی (ف٤٦)
(ف44)یعنی موت کے دن یا قیامت کے دن ۔(ف45)روزِ قیامت فرشتے مؤمنین کو بشارت سنائیں گے اور کُفّار سے کہیں گے تمہارے لئے کوئی خوشخبری نہیں ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ فرشتے کہیں گے کہ مؤمن کے سوا کسی کے لئے جنّت میں داخل ہونا حلال نہیں اس لئے وہ دن کُفّار کے واسطے نہایت حسرت و اندوہ اور رنج وغم کا دن ہو گا ۔(ف46)اس کلمے سے وہ ملائکہ سے پناہ چاہیں گے ۔
اور جو کچھ انہوں نے کام کیے تھے (ف٤۷) ہم نے قصد فرما کر انھیں باریک باریک غبار، کے بکھرے ہوئے ذرے کردیا کہ روزن کی دھوپ میں نظر آتے ہیں (ف٤۸)
(ف47)حالتِ کُفر میں مثل صلہ رحمی و مہمان داری و یتیم نوازی وغیرہ کے ۔(ف48)نہ ہاتھ سے چھوئے جائیں نہ ان کا سایہ ہو ۔ مراد یہ ہے کہ وہ اعمال باطل کر دیئے گئے ان کا کچھ ثمرہ اور کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اعمال کی مقبولیت کے لئے ایمان شرط ہے اور وہ انہیں میسّر نہ تھا اس کے بعد اہلِ جنّت کی فضیلت ارشاد ہوتی ہے ۔
اور جس دن پھٹ جائے گا آسمان بادلوں سے اور فرشتے اتارے جائیں گے پوری طرح (ف۵۰)
(ف50)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا آسمانِ دنیا پھٹے گا اور وہاں کے رہنے والے (فرشتے) اتریں گے اور وہ تمام اہلِ زمین سے زیادہ ہیں جن و انس سب سے پھر دوسرا آسمان پھٹے گا وہا ں کے رہنے والے اتریں گے وہ آسمانِ دنیا کے رہنے والوں سے اور جن و انس سب سے زیادہ ہیں اسی طرح آسمان پھٹتے جائیں گے اور ہر آسمان والوں کی تعداد اپنے ماتحتوں سے زیادہ ہے یہاں تک کہ ساتواں آسمان پھٹے گا پھر کرّوبی اتریں گے پھر حاملینِ عرش اور یہ روزِ قیامت ہو گا ۔
اس دن سچی بادشاہی رحمن کی ہے، اور وہ دن کافروں پر سخت ہے (ف۵۱)
(ف51)اور اللہ کے فضل سے مسلمانو ں پر سہل ۔ حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کا دن مسلمانوں پر آسان کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ ان کے لئے ایک فرض نماز سے ہلکا ہوگا جو دنیا میں پڑھی تھی ۔
اور جس دن ظالم اپنے ہاتھ چبا چبا لے گا (ف۵۲) کہ ہائے کسی طرح سے میں نے رسول کے ساتھ راہ لی ہوتی، (ف۵۳)
(ف52)حسرت و ندامت سے ۔ یہ حال اگرچہ کُفّار کے لئے عام ہے مگر عقبہ بن ابی معیط سے اس کا خاص تعلق ہے ۔شانِ نُزول : عقبہ بن ابی معیط اُبَیْ بن خلف کا گہرا دوست تھا حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمانے سے اس نے لَآاِلٰہَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ کی شہادت دی اور اس کے بعد ابی بن خلف کے زور ڈالنے سے پھر مرتَد ہو گیا اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو مقتول ہونے کی خبر دی چنانچہ بدر میں مارا گیا ۔ یہ آیت اس کے حق میں نازِل ہوئی کہ روزِ قیامت اس کو انتہا درجہ کی حسرت و ندامت ہوگی اس حسرت میں وہ اپنے ہاتھ چاب چاب لے گا ۔(ف53)جنّت و نجات کی اور ان کا اِتّباع کیا ہوتا اور ان کی ہدایت قبول کی ہوتی ۔
بیشک اس نے مجھے بہکا دیا میرے پاس آئی ہوئی نصیحت سے (ف۵٤) اور شیطان آدمی کو بےمدد چھوڑ دیتا ہے (ف۵۵)
(ف54)یعنی قرآن و ایمان سے ۔(ف55)اور بلا و عذاب نازِل ہونے کے وقت اس سے علیٰحدگی کرتا ہے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ابوداؤد و ترمذی میں ایک حدیث مروی ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے تو دیکھنا چاہئیے کس کو دوست بناتا ہے اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہم نشینی نہ کرو مگر ایمان دار کے ساتھ اور کھانا نہ کھلاؤ مگر پرہیزگار کو ۔مسئلہ : بے دین اور بدمذہب کی دوستی اور اس کے ساتھ صحبت و اختلاط اور اُلفت و احترام ممنوع ہے ۔
اور رسول نے عرض کی کہ اے میرے رب! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑنے کے قابل ٹھہرایا (ف۵٦)
(ف56)کسی نے اس کو سحر کہا کسی نے شعر اور وہ لوگ ایمان لانے سے محروم رہے اس پر اللہ تعالٰی نے حضور کو تسلی دی اور آپ سے مدد کا وعدہ فرمایا جیسا کہ آگے ارشاد ہوتا ہے ۔
اور کافر بولے قرآن ان پر ایک ساتھ کیوں نہ اتار دیا (ف۵۸) ہم نے یونہی بتدریج سے اتارا ہے کہ اس سے تمہارا دل مضبوط کریں (ف۵۹) اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا (ف٦۰)
(ف58)جیسے کہ توریت و انجیل و زبور میں سے ہر ایک کتاب ایک ساتھ اتری تھی ۔ کُفّار کا یہ اعتراض بالکل فضول اور مہمل ہے کیونکہ قرآنِ کریم کا معجِزہ و محتج بہٖ ہونا ہر حال میں یکساں ہے چاہے یکبارگی نازِل ہو یا بتدریج بلکہ بتدریج نازِل فرمانے میں اس کے اعجاز کا اور بھی کامل اظہار ہے کہ جب ایک آیت نازِل ہوئی اور تحدّی کی گئی اور خَلق کا اس کے مثل بنانے سے عاجز ہونا ظاہر ہوا پھر دوسری اتری اسی طرح اس کا اعجازظاہر ہوا اس طرح برابر آیت آیت ہو کر قرآنِ پاک نازِل ہوتا رہا اور ہر ہر دم اس کی بے مثالی اور خَلق کی عاجزی ظاہر ہوتی رہی غرض کُفّار کا اعتراض مَحض لغو و بے معنٰی ہے ، آیت میں اللہ تعالٰی بتدریج نازِل فرمانے کی حکمت ظاہر فرماتا ہے ۔(ف59)اور پیام کا سلسلہ جاری رہنے سے آپ کے قلبِ مبارک کو تسکین ہوتی رہے اور کُفّار کو ہر ہر موقع پر جواب ملتے رہیں علاوہ بریں یہ بھی فائدہ ہے کہ اس کا حفظ سہل اور آسان ہو ۔(ف60)بہ زبانِ جبریل تھوڑا تھوڑا بیس یا تئیس برس کی مدّت میں یا یہ معنٰی ہیں کہ ہم نے آیت کے بعد آیت بتدریج نازِل فرمائی اور بعض نے کہا کہ اللہ تعالٰی نے ہمیں قراءت میں ترتیل کرنے یعنی ٹھہر ٹھہر کر بہ اطمینان پڑھنے اور قرآن شریف کو اچھی طرح ادا کرنے کا حکم فرمایا جیسا کہ دوسری آیت میں ارشاد ہوا وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیْلاً ۔
وہ جو جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے اپنے منہ کے بل ان کا ٹھکانا سب سے برا (ف٦۲) اور وہ سب سے گمراہ،
(ف62)حدیث شریف میں ہے کہ آدمی روزِ قیامت تین طریقے پر اٹھائے جائیں گے ایک گروہ سواریوں پر ، ایک گروہ پیادہ پا اور ایک جماعت منہ کے بل گھسٹتی ، عرض کیا گیا یارسولَ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ منہ کے بل کیسے چلیں گے ؟ فرمایا جس نے پاؤں پر چلایا ہے وہی منہ کے بل چلائے گا ۔
تو ہم نے فرمایا تم دونوں جاؤ اس قوم کی طرف جس نے ہماری آیتیں جھٹلائیں (ف٦۳) پھر ہم نے انھیں تباہ کرکے ہلاک کردیا،
(ف63)یعنی قومِ فرعون کی طرف چنانچہ وہ دونوں حضرات ان کی طرف گئے اور انہیں خدا کا خوف دلایا اور اپنی رسالت کی تبلیغ کی لیکن ان بدبختوں نے ان حضرات کو جھٹلایا ۔
اور نوح کی قوم کو (ف٦٤) جب انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا (ف٦۵) ہم نے ان کو ڈبو دیا اور انھیں لوگوں کے لیے نشانی کردیا (ف٦٦) اور ہم نے ظالموں کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے،
(ف64)بھی ہلاک کر دیا ۔(ف65)یعنی حضرت نوح اور حضرت ادریس کو اور حضرت شیث کو یا یہ بات ہے کہ ایک رسول کی تکذیب تمام رسولوں کی تکذیب ہے تو جب انہوں نے حضرت نوح کو جھٹلایا تو سب رسولوں کو جھٹلایا ۔(ف66)کہ بعد والوں کے لئے عبرت ہوں ۔
اور عاد اور ثمود (ف٦۷) اور کنوئیں والوں کو (ف٦۸) اور ان کے بیچ میں بہت سی سنگتیں (قومیں) (ف٦۹)
(ف67)اور عاد حضرت ہود علیہ السلام کی قوم اور ثمود حضرت صالح علیہ السلام کی قوم ان دونوں قوموں کو بھی ہلاک کیا ۔(ف68)یہ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم تھی جو بُت پرستی کرتے تھے اللہ تعالٰی نے ان کی طرف حضرت شعیب علیہ السلام کو بھیجا آپ نے انہیں اسلام کی دعوت دی انہوں نے سرکشی کی حضرت شعیب علیہ السلام کی تکذیب کی اور آپ کو ایذا دی ، ان لوگوں کے مکان کنوئیں کے گرد تھے اللہ تعالٰی نے انہیں ہلاک کیا اور یہ تمام قوم مع اپنے مکانوں کے اس کنوئیں کے ساتھ زمین میں دھنس گئی ۔ اس کے علاوہ اور اقوال بھی ہیں ۔(ف69)یعنی قومِ عاد و ثمود اور کنوئیں والوں کے درمیان میں بہت سی اُمّتیں ہیں جن کو انبیاء کی تکذیب کرنے کے سبب سے اللہ تعالٰی نے ہلاک کیا ۔
اور ضرور یہ (ف۷۱) ہو آئے ہیں اس بستی پر جس پر برا برساؤ برسا تھا (ف۷۲) تو کیا یہ اسے دیکھتے نہ تھے (ف۷۳) بلکہ انھیں جی اٹھنے کی امید تھی ہی نہیں (ف۷٤)
(ف71)یعنی کُفّارِ مکّہ اپنی تجارتوں میں شام کے سفر کرتے ہوئے بار بار ۔(ف72)اس بستی سے مراد سدوم ہے جو قومِ لوط کی پانچ بستیوں میں سب سے بڑی بستی تھی ان بستیوں میں ایک سب سے چھوٹی بستی کے لوگ تو اس خبیث بدکاری کے عامل نہ تھے ، جس میں باقی چار بستیوں کے لوگ مبتلا تھے اسی لئے انہوں نے نجات پائی اور وہ چار بستیاں اپنی بدعملی کے باعث آسمان سے پتّھر برسا کر ہلاک کر دی گئیں ۔(ف73)کہ عبرت پکڑ تے اور ایمان لاتے ۔(ف74)یعنی مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کے قائل نہ تھی کہ انہیں آخرت کے ثواب و عذاب کی پرواہ ہوتی ۔
قریب تھا کہ یہ ہمیں ہمارے خداؤں سے بہکا دیں اگر ہم ان پر صبر نہ کرتے (ف۷٦) اور اب جانا چاہتے ہیں جس دن عذاب دیکھیں گے (ف۷۷) کہ کون گمراہ تھا (ف۷۸)
(ف76)اس سے معلوم ہوا کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت اور آپ کے اظہارِ معجزات نے کُفّار پر اتنا اثر کیا تھا اور دینِ حق کو اس قدر واضح کر دیا تھا کہ خود کُفّار کو اقرار ہے کہ اگر وہ اپنی ہٹ پر جمے نہ رہتے تو قریب تھا کہ بُت پرستی چھوڑ دیں اور دینِ اسلام اختیار کریں یعنی دینِ اسلام کی حقانیت ان پر خوب واضح ہو چکی تھی اور شکوک و شبہات مٹا ڈالے گئے تھے لیکن وہ اپنی ہٹ اور ضد کی وجہ سے محروم رہے ۔(ف77)آخرت میں ۔(ف78)یہ اس کا جواب ہے کہ کُفّار نے یہ کہا تھا کہ قریب ہے کہ یہ ہمیں ہمارے خداؤں سے بہکا دیں ، یہاں بتایا گیا کہ بہکے ہوئے تم خود ہو اور آخرت میں یہ تم کو خود معلوم ہو جائے گا اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بہکانے کی نسبت مَحض بےجا ہے ۔
کیا تم نے اسے دیکھا جس نے اپنی جی کی خواہش کو اپنا خدا بنالیا (ف۷۹) تو کیا تم اس کی نگہبانی کا ذمہ لو گے (ف۸۰)
(ف79)اور اپنی خواہشِ نفس کو پُوجنے لگا اسی کا مطیع ہو گیا وہ ہدایت کس طرح قبول کرے گا ۔ مروی ہے کہ زمانۂ جاہلیت کے لوگ ایک پتّھر کو پُوجتے تھے اور جب کہیں انہیں کوئی دوسرا پتھر اس سے اچھا نظر آتا تو پہلے کو پھینک دیتے اور دوسرے کو پوجنے لگتے ۔(ف80)کہ خواہش پرستی سے روک دو ۔
یا یہ سمجھتے ہو کہ ان میں بہت کچھ سنتے یا سمجھتے ہیں (ف۸۱) وہ تو نہیں مگر جیسے چوپائے بلکہ ان سے بھی بدتر گمراہ (ف۸۲)
(ف81)یعنی وہ اپنے شدتِ عناد سے نہ آپ کی بات سنتے ہیں نہ دلائل و براہین کو سمجھتے ہیں بہرے اور ناسمجھ بنے ہوئے ہیں ۔(ف82)کیونکہ چوپائے بھی اپنے ربّ کی تسبیح کرتے ہیں اور جو انہیں کھانے کو دے اس کے مطیع رہتے ہیں اور احسان کرنے والے کو پہچانتے ہیں اور تکلیف دینے والے سے گھبراتے ہیں ، نافع کی طلب کرتے ہیں ، مُضِر سے بچتے ہیں ، چراگاہوں کی راہیں جانتے ہیں ، یہ کُفّار ان سے بھی بدتر ہیں کہ نہ ربّ کی اطاعت کرتے ہیں نہ اس کے احسان کو پہچانتے ہیں ، نہ شیطان جیسے دشمن کی ضرر رسانی کو سمجھتے ہیں ، نہ ثواب جیسی عظیم المنفعت چیز کے طالب ہیں ، نہ عذاب جیسے سخت مُضِر مہلکہ سے بچتے ہیں ۔
اے محبوب! کیا تم نے اپنے رب کو نہ دیکھا (ف۸۳) کہ کیسا پھیلا سایہ (ف۸٤) اور اگر چاہتا تو اسے ٹھہرایا ہوا کردیتا (ف۸۵) پھر ہم نے سورج کو اس پر دلیل کیا،
(ف83)کہ اس کی صنعت و قدرت کیسی عجیب ہے ۔(ف84)صبحِ صادق کے طلوع کے بعد سے آفتاب کے طلوع تک کہ اس وقت تمام زمین میں سایہ ہی سایہ ہوتا ہے نہ دھوپ ہے نہ اندھیرا ہے ۔(ف85)کہ آفتاب کے طلوع سے بھی زائیل نہ ہوتا ۔
اور وہی ہے جس نے رات کو تمہارے لیے پردہ کیا اور نیند کو آرام اور دن بنایا اٹھنے کے لیے (ف۸۷)
(ف87)کہ اس میں روزی تلاش کرو اور کاموں میں مشغول ہو ۔ حضرت لقمان نے اپنے فرزند سے فرمایا جیسے سوتے ہو پھر اٹھتے ہو ایسے ہی مرو گے اور موت کے بعد پھر اٹھو گے ۔
اور بیشک ہم نے ان میں پانی کے پھیرے رکھے (ف۹۰) کہ وہ دھیان کریں (ف۹۱) تو بہت لوگوں نے نہ مانا مگر ناشکری کرنا،
(ف90)کہ کبھی کسی شہر میں بارش ہو کبھی کسی میں ، کبھی کہیں زیادہ ہو کبھی کہیں ، مختلف طور پر حسبِ اقتضائے حکمت ۔ ایک حدیث میں ہے کہ آسمان سے روز و شب کی تمام ساعتوں میں بارش ہوتی رہتی ہے اللہ تعالٰی اسے جس خطہ کی جانب چاہتا ہے پھیرتا ہے اور جس زمین کو چاہتا ہے سیراب کرتا ہے ۔(ف91)اور اللہ تعالٰی کی قدرت و نعمت میں غور کریں ۔
اور ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک ڈر سنانے والا بھیجتے (ف۹۲)
(ف92)اور آپ پر سے اِنذار کا بار کم کر دیتے لیکن ہم نے تمام بستیوں کے اِنذار کا بار آپ ہی پر رکھا تاکہ آپ تمام جہان کے رسول ہو کر کُل رسولوں کی فضیلتوں کے جامع ہوں اور نبوّت آپ پر ختم ہو کہ آپ کے بعد پھر کوئی نبی نہ ہو ۔
اور وہی ہے جس نے ملے ہوئے رواں کیے دو سمندر یہ میٹھا ہے نہایت شیریں اور یہ کھاری ہے نہایت تلخ اور ان کے بیچ میں پردہ رکھا اور روکی ہوئی آڑ (ف۹۳)
(ف93)کہ نہ میٹھا کھاری ہو نہ کھاری میٹھا ، نہ کوئی کسی کے ذائقہ کو بدل سکے جیسے کہ دجلہ دریائے شور میں میلوں تک چلا جاتا ہے اور اس کے ذائقہ میں کوئی تغیر نہیں آتا عجب شانِ الٰہی ہے ۔
اور وہی ہے جس نے پانی سے (ف۹٤) بنایا آدمی پھر اس کے رشتے اور سسرال مقرر کی (ف۹۵) اور تمہارا رب قدرت والا ہے (ف۹٦)
(ف94)یعنی نطفہ سے ۔(ف95)کہ نسل چلے ۔(ف96)کہ اس نے ایک نطفہ سے دو قسم کے انسان پیدا کئے مذکر اور مؤنث پھر بھی کافِروں کا یہ حال ہے کہ اس پر ایمان نہیں لاتے ۔
تم فرماؤ میں اس (ف۱۰۱) پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا مگر جو چاہے کہ اپنے رب کی طرف راہ لے، (ف۱۰۲)
(ف101)تبلیغ و ارشاد ۔(ف102)اور اس کا قُرب اور اس کی رضا حاصل کرے مراد یہ ہے کہ ایمانداروں کا ایمان لانا اور ان کاطاعتِ الٰہی میں مشغول ہونا ہی میرا اجر ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالٰی مجھے اس پر جزا عطا فرمائے گا اس لئے کہ صُلَحاءِ اُمّت کے ایمان اور ان کی نیکیوں کے ثواب انہیں بھی ملتے ہیں اور ان کے انبیاء کو جن کی ہدایت سے وہ اس رتبہ پر پہنچے ۔
اور بھروسہ کرو اس زندہ پر جو کبھی نہ مرے گا (ف۱۰۳) اور اسے سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو (ف۱۰٤) اور وہی کافی ہے اپنے بندوں کے گناہوں پر خبردار (ف۱۰۵)
(ف103)اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے کیونکہ مرنے والے پر بھروسہ کرنا عاقل کی شان نہیں ۔(ف104)اس کی تسبیح و تمحید کرو اس کی طاعت اور شکر بجا لاؤ ۔(ف105)نہ اس سے کسی کا گناہ چھپے نہ کوئی اس کی گرفت سے اپنے کو بچا سکے ۔
جس نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں بنائے (ف۱۰٦) پھر عرش پر استواء فرمایا جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے (ف۱۰۷) وہ بڑی مہر والا تو کسی جاننے والے سے اس کی تعریف پوچھ (ف۱۰۸)
(ف106)یعنی اتنی مقدار میں کیونکہ لیل و نہار اور آفتاب تو تھے ہی نہیں اور اتنی مقدار میں پیدا کرنا اپنی مخلوق کو آہستگی اور اطمینان کی تعلیم کے لئے ہے ورنہ وہ ایک لمحہ میں سب کچھ پیدا کر دینے پر قادر ہے ۔(ف107)سلف کا مذہب یہ ہے کہ استواء اور اس کے امثال جو وارد ہوئے ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کی کیفیت کے درپے نہیں ہوتے اس کو اللہ جانے ۔ بعض مفسِّرین استواء کو بلندی اور برتری کے معنٰی میں لیتے ہیں اور بعض استیلا کے معنٰی میں لیکن قولِ اول ہی اسلم و اقوٰی ہے ۔(ف108)اس میں انسان کو خِطاب ہے کہ حضرت رحمٰن کے صفات مردِ عارف سے دریافت کرے ۔
اور جب ان سے کہا جائے (ف۱۰۹) رحمن کو سجدہ کرو کہتے ہیں رحمن کیا ہے، کیا ہم سجدہ کرلیں جسے تم کہو (ف۱۱۰) اور اس حکم نے انھیں اور بدکنا بڑھایا (ف۱۱۱) السجدة ۔۷
(ف109)یعنی جب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مشرکین سے فرمائیں کہ ۔(ف110)اس سے ان کا مقصد یہ ہے کہ رحمٰن کو جانتے نہیں اور یہ باطل ہے جو انہوں نے براہِ عناد کہا کیونکہ لغتِ عرب کا جاننے والا خوب جانتا ہے کہ رحمٰن کے معنٰی نہایت رحمت والا ہیں اور یہ اللہ تعالٰی ہی کی صفت ہے ۔(ف111)یعنی سجدہ کا حکم ان کے لئے اور زیادہ ایمان سے دوری کا باعث ہوا ۔
بڑی برکت والا ہے وہ جس نے آسمان میں برج بنائے (ف۱۱۲) اور ان میں چراغ رکھا (ف۱۱۳) اور چمکتا چاند،
(ف112)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ بروج سے کواکبِ سبعہ سیّارہ کے منازل مراد ہیں جن کی تعداد بارہ۱۲ ہے (۱) حمل (۲) ثور (۳) جوزہ (۴) سرطان (۵) اسد (۶) سنبلہ (۷) میزان (۸) عقرب (۹) قوس (۱۰) جدی (۱۱) دلو (۱۲) حوت ۔(ف113)چراغ سے یہاں آفتاب مراد ہے ۔
اور وہی ہے جس نے رات اور دن کی بدلی رکھی (ف۱۱٤) اس کے لیے جو دھیان کرنا چاہے یا شکر کا ارادہ کرے،
(ف114)کہ ان میں ایک کے بعد دوسرا آتا ہے اور اس کا قائم مقام ہوتا ہے کہ جس کا عمل رات یا دن میں سے کسی ایک میں قضا ہو جائے تو دوسرے میں ادا کرے ایسا ہی فرمایا حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے اور رات اور دن کا ایک دوسرے کے بعد آنا اور قائم مقام ہونا اللہ تعالٰی کی قدرت و حکمت کی دلیل ہے ۔
اور رحمن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں (ف۱۱۵) اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں (ف۱۱٦) تو کہتے ہیں بس سلام (ف۱۱۷)
(ف115)اطمینان و وقار کے ساتھ متواضعانہ شان سے نہ کہ متکبِّرانہ طریقہ پر ، جُوتے کھٹکھٹاتے ، پاؤں زور سے مارتے ، اتراتے کہ یہ متکبِّرین کی شان ہے اور شرع نے اس کو منع فرمایا ۔(ف116)اور کوئی ناگوار کلمہ یا بےہودہ یا خلافِ ادب و تہذیب بات کہتے ہیں ۔(ف117)یہ سلامِ متارکت ہے یعنی جاہلوں کے ساتھ مجادلہ کرنے سے اِعراض کرتے ہیں یا یہ معنٰی ہیں کہ ایسی بات کہتے ہیں جو درست ہو اور اس میں ایذا اور گناہ سے سالم رہیں ۔ حسن بصری نے فرمایا کہ یہ تو ان بندوں کے دن کا حال ہے اور ان کی رات کا بیان آگے آتا ہے ، مراد یہ ہے کہ ان کی مجلسی زندگی اور خَلق کے ساتھ معاملہ ایسا پاکیزہ ہے اور ان کی خلوت کی زندگانی اور حق کے ساتھ رابطہ یہ ہے جو آگے بیان فرمایا جاتا ہے ۔
اور وہ جو رات کاٹتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام میں (ف۱۱۸)
(ف118)یعنی نماز اور عبادت میں شب بیداری کرتے ہیں اور رات اپنے ربّ کی عبادت میں گزارتے ہیں اور اللہ تبارک و تعالٰی اپنے کرم سے تھوڑی عبادت والوں کو بھی شب بیداری کا ثواب عطا فرماتا ہے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ جس کسی نے بعدِ عشاء دو رکعت یا زیادہ نفل پڑھے وہ شب بیداری کرنے والوں میں داخل ہے ۔ مسلم شریف میں حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے جس نے عشا ء کی نماز بجماعت ادا کی اس نے نصف شب کے قیام کا ثواب پایا اور جس نے فجر بھی باجماعت ادا کی وہ تمام شب کے عبادت کرنے والے کی مثل ہے ۔
اور وہ جو عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب! ہم سے پھیر دے جہنم کا عذاب، بیشک اس کا عذاب گلے کا غل (پھندا) ہے (ف۱۱۹)
(ف119)یعنی لازم جُدا نہ ہونے والا ۔ اس آیت میں ان بندوں کی شب بیداری اور عبادت کا ذکر فرمانے کے بعد ان کی اس دعا کا بیان کیا اس سے یہ اظہار مقصود ہے کہ وہ باوجود کثرتِ عبادت کے اللہ تعالٰی کا خوف رکھتے ہیں اور اس کے حضور تضرُّع کرتے ہیں ۔
اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں (ف۱۲۰) اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں (ف۱۲۱)
(ف120)اسراف معصیت میں خرچ کرنے کو کہتے ہیں ۔ ایک بزرگ نے کہا کہ اسراف میں بھلائی نہیں ، دوسرے بزرگ نے کہا نیکی میں اسراف ہی نہیں اور تنگی کرنا یہ ہے کہ اللہ تعالٰی کے مقرر کئے ہوئے حقوق کے ادا کرنے میں کمی کرے یہی حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا ۔ حدیث شریف میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی حق کو منع کیا اس نے اِقتار کیا یعنی تنگی کی اور جس نے ناحق میں خرچ کیا اس نے اسراف کیا یہاں ان بندوں کے خرچ کرنے کا حال ذکر فرمایا جاتا ہے کہ وہ اسراف و اِقتار کے دونوں مذموم طریقوں سے بچتے ہیں ۔(ف121)عبدالملک بن مروان نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اپنی بیٹی بیاہتے وقت خرچ کا حال دریافت کیا تو حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ نیکی دو بدیوں کے درمیان ہے اس سے مراد یہ تھی کہ خرچ میں اعتدال نیکی ہے اور وہ اسراف و اقتار کے درمیان ہے جو دونوں بدیاں ہیں اس سے عبدالملک نے پہچان لیا کہ وہ اس آیت کے مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔ مفسِّرین کا قول ہے کہ اس آیت میں جن حضرات کا ذکر ہے وہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحابِ کبار ہیں جو نہ لذت و تنعُّم کے لئے کھاتے ، نہ خوبصورتی اور زینت کے لئے پہنتے ، بھوک روکنا ، ستر چھپانا ، سردی گرمی کی تکلیف سے بچنا اتنا ان کا مقصد تھا ۔
اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے (ف۱۲۲) اور اس جان کو جس کی اللہ نے حرمت رکھی (ف۱۲۳) ناحق نہیں مارتے اور بدکاری نہیں کرتے (ف۱۲٤) اور جو یہ کام کرے وہ سزا پائے گا ،
(ف122)شرک سے بری اور بیزار ہیں ۔(ف123)اور اس کا خون مباح نہ کیا جیسے کہ مؤمن و معاہد اس کو ۔(ف124)صالحین سے ان کبائر کی نفی فرمانے میں کُفّار پر تعریض ہے جو ان بدیوں میں گرفتار تھے ۔
مگر جو توبہ کرے (ف۱۲٦) اور ایمان لائے (ف۱۲۷) اور اچھا کام کرے (ف۱۲۷) اور اچھا کام کرے (ف۱۲۸) تو ایسوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا (ف۱۲۹) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
(ف126)شرک و کبائر سے ۔(ف127)سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ۔(ف128)یعنی بعدِ توبہ نیکی اختیار کرے ۔(ف129)یعنی بدی کرنے کے بعد نیکی کی توفیق دے کر یا یہ معنٰی کہ بدیوں کو توبہ سے مٹا دے گا اور ان کی جگہ ایمان و طاعت وغیرہ نیکیاں ثبت فرمائے گا ۔ (مدارک) مسلم کی حدیث میں ہے کہ روزِ قیامت ایک شخص حاضر کیا جائے گا ملائکہ بحکمِ الٰہی اس کے صغیرہ گناہ ایک ایک کر کے اس کو یاد دلاتے جائیں گے وہ اقرار کرتا جائے گا اور اپنے بڑے گناہوں کے پیش ہونے سے ڈرتا ہوگا اس کے بعد کہا جائے گا کہ ہر ایک بدی کے عوض تجھ کو نیکی دی گئی ، یہ بیان فرماتے ہوئے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالٰی کی بندہ نوازی اور اس کی شانِ کرم پر خوشی ہوئی اور چہرۂ اقدس پر سرور سے تبسّم کے آثار نمایاں ہوئے ۔
اور جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے (ف۱۳۰) اور جب بیہودہ پر گذرتے ہیں اپنی عزت سنبھالے گزر جاتے ہیں، (ف۱۳۱)
(ف130)اور جھوٹوں کی مجلس سے علیٰحدہ رہتے ہیں اور ان کے ساتھ مخالطت نہیں کرتے ۔(ف131)اور اپنے کو لہو و باطل سے ملوث نہیں ہونے دیتے ایسی مجالس سے اعراض کرتے ہیں ۔
اور وہ کہ جب کہ انھیں ان کے رب کی آیتیں یاد دلائی جائیں تو ان پر (ف۱۳۲) بہرے اندھے ہو کر نہیں گرتے (ف۱۳۳)
(ف132)بہ طریقِ تغافُل ۔(ف133)کہ نہ سوچیں نہ سمجھیں بلکہ بگوشِ ہوش سنتے ہیں اور بچشمِ بصیرت دیکھتے ہیں اور اس نصیحت سے پند پذیر ہوتے ہیں نفع اٹھاتے ہیں اور ان آیتوں پر فرمانبردارانہ گرتے ہیں ۔
اور وہ جو عرض کرتے ہیں، اے ہمارے رب! ہمیں دے ہماری بیبیوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک (ف۱۳٤) اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا (ف۱۳۵)
(ف134)یعنی فرحت و سرور ۔ مراد یہ ہے کہ ہمیں بی بیاں اور اولاد نیک صالح متقی عطا فرما کہ ان کے حُسنِ عمل اور ان کی اطاعتِ خدا و رسول دیکھ کر ہماری آنکھیں ٹھنڈی اور دل خوش ہوں ۔(ف135)یعنی ہمیں ایسا پرہیزگار اور ایسا عابد و خدا پرست بنا کہ ہم پرہیزگاروں کی پیشوائی کے قابل ہوں اور وہ دینی امور میں ہماری اقتدا کریں ۔مسئلہ : بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ اس میں دلیل ہے کہ آدمی کو دینی پیشوائی اور سرداری کی رغبت و طلب چاہیئے ان آیات میں اللہ تعالٰی نے اپنے صالحین بندوں کے اوصاف ذکر فرمائے اس کے بعد ان کی جزا ذکر فرمائی جاتی ہے ۔