(۱) بیشک تمہارے پاس (ف۲) اس مصیبت کی خبر آئی جو چھا جائے گی (ف۳)
(ف2)اے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔ (ف3)خَلق پر مراد اس سے قیامت ہے ، جس کے شدائد وا ہوال ہر چیز پر چھا جائیں گے ۔
وُجُوۡهٌ يَّوۡمَٮِٕذٍ خَاشِعَةٌ ۙ ﴿2﴾
(۲) کتنے ہی منہ اس دن ذلیل ہوں گے،
عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ ۙ ﴿3﴾
(۳) کام کریں مشقت جھیلیں،
تَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً ۙ ﴿4﴾
(٤) جائیں بھڑکتی آگ میں (ف٤)
(ف4)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو دِینِ اسلام پر نہ تھے ، بت پرست تھے ، یا کتابی کافر ، مثل راہبوں اور پجاریوں کے ، انہوں نے محنتیں بھی اٹھائیں ، مشقّتیں بھی جھیلیں اور نتیجہ یہ ہوا کہ جہنّم میں گئے ۔
تُسۡقٰى مِنۡ عَيۡنٍ اٰنِيَةٍؕ ﴿5﴾
(۵) نہایت جلتے چشمہ کا پانی پلائے جائیں،
لَـيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِيۡعٍۙ ﴿6﴾
(٦) ان کے لیے کچھ کھانا نہیں مگر آگ کے کانٹے (ف۵)
(ف5)عذاب طرح طرح کا ہوگا اور جو لوگ عذاب دیئے جائیں گے ، ان کے بہت طبقے ہوں گے ، بعض کو زقوم کھانے کو دیا جائے گا ، بعض کوغِسْلِیْن (دوزخیوں کی پیپ) بعض آ گ کے کانٹے ۔
لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِىۡ مِنۡ جُوۡعٍؕ ﴿7﴾
(۷) کہ نہ فربہی لائیں اور نہ بھوک میں کام دیں (ف٦)
(ف6)یعنی ان سے غذا کا نفع حاصل نہ ہوگا کیونکہ غذا کے دوہی فائدے ہیں ، ایک یہ کہ بھوک کی تکلیف رفع کرے ، دوسرے یہ کہ بدن کو فربہ کرے ، یہ دونوں وصف جہنّمیوں کے کھانے میں نہیں بلکہ وہ شدید عذاب ہے ۔
وُجُوۡهٌ يَّوۡمَٮِٕذٍ نَّاعِمَةٌ ۙ ﴿8﴾
(۸) کتنے ہی منہ اس دن چین میں ہیں (ف۷)
(ف7)عیش و خوشی میں اور نعمت و کرامت میں ۔
لِّسَعۡيِهَا رَاضِيَةٌ ۙ ﴿9﴾
(۹) اپنی کوشش پر راضی (ف۸)
(ف8)یعنی اس عمل و طاعت پر جو دنیا میں بجالائے تھے ۔
فِىۡ جَنَّةٍ عَالِيَةٍۙ ﴿10﴾
(۱۰) بلند باغ میں،
لَّا تَسۡمَعُ فِيۡهَا لَاغِيَةً ؕ ﴿11﴾
(۱۱) کہ اس میں کوئی بیہودہ بات نہ سنیں گے ،
فِيۡهَا عَيۡنٌ جَارِيَةٌ ۘ ﴿12﴾
(۱۲) اس میں رواں چشمہ ہے،
فِيۡهَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَةٌ ۙ ﴿13﴾
(۱۳) اس میں بلند تخت ہیں،
وَّاَكۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَةٌ ۙ ﴿14﴾
(۱٤) اور چنے ہوئے کوزے (ف۹)
(ف9)چشمے کے کناروں پر جن کے دیکھنے سے بھی لذّت حاصل ہو اور جب پینا چاہیں تو وہ بھرے ملیں ۔
وَّنَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَةٌ ۙ ﴿15﴾
(۱۵) اور برابر برابر بچھے ہوئے قالین
وَّزَرَابِىُّ مَبۡثُوۡثَةٌ ؕ ﴿16﴾
(۱٦) اور پھیلی ہوئی چاندنیاں (ف۱۰)
(ف10)اس سورت میں جنّت کی نعمتوں کا ذکر سن کر کفّار نے تعجّب کیا اور جھٹلایا تو اللہ تعالٰی انہیں اپنے عجائبِ صنعت میں نظر کرنے کی ہدایت فرماتا ہے تاکہ وہ سمجھیں کہ جس قادرِ حکیم نے دنیا میں ایسی عجیب و غریب چیزیں پیدا کی ہیں ، اس کی قدرت سے جنّتی نعمتوں کا پیدا فرمانا کسی طرح قابلِ تعجّب و لائقِ انکار ہوسکتا ہے ۔ چنانچہ ارشاد فرماتا ہے ۔