وہی اول (ف۵) وہی آخر (ف٦) وہی ظاہر (ف۷) وہی باطن (ف۸) اور وہی سب کچھ جانتا ہے،
(ف5)قدیم ہر شے سے قبل ، اوّل بے ابتداء کہ وہ تھا اور کچھ نہ تھا ۔(ف6)ہر شے کے ہلاک و فنا ہونے کے بعد رہنے والا، سب فنا ہوجائیں گے اور وہ ہمیشہ رہے گا اس کے لئے انتہا نہیں ۔(ف7)دلائل وبراہین سے یا یہ معنٰی کہ غالب ہر شے پر ۔(ف8)حواس اس کے ادراک سے عاجز ، یا یہ معنٰی کہ ہر شے کا جاننے والا ۔
وہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں پیدا کیے (ف۹) پھر عرش پر استوا فرمایا جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے، جانتا ہے جو زمین کے اندر جاتا ہے (ف۱۰) اور جو اس سے باہر نکلتا ہے (ف۱۱) اور جو آسمان سے اترتا ہے (ف۱۲) اور جو اس میں چڑھتا ہے (ف۱۳) اور وہ تمہارے ساتھ ہے (ف۱٤) تم کہیں ہو، اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے (ف۱۵)
(ف9)ایّامِ دنیا سے ، کہ پہلا ا ن کایک شنبہ اور پچھلا جمعہ ہے ۔ حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ وہ اگر چاہتا توطرفۃ العین میں پیدا کردیتا لیکن اس کی حکمت اسی کو مقتضی ہوئی کہ چھ کو اصل بنائے اور ان پر مدار رکھے ۔(ف10)خواہ وہ دانہ ہو یا قطرہ یا خزانہ ہو یا مردہ ۔ (ف11)خواہ وہ نبات ہو یا دھات یا اور کوئی چیز ۔(ف12)رحمت و عذاب اور فرشتے اور بارش ۔(ف13)اعمال اور دعائیں ۔(ف14)اپنے علم وقدرت کے ساتھ عموماً اور فضل و رحمت کے ساتھ خصوصاً ۔(ف15)تو تمہیں تمہارے حسبِ اعمال جزا دے گا۔
اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی راہ میں کچھ وہ خرچ کرو جس میں تمہیں اَوروں کا جانشین کیا (ف۱۹) تو جو تم میں ایمان لائے اور اس کی راہ میں خرچ کیا ان کے لیے بڑا ثواب ہے،
(ف19)جو تم سے پہلے تھے اور تمہارا جانشین کرے گا تمہارے بعد والوں کو ۔ معنٰی یہ ہیں کہ جو مال تمہارے قبضہ میں ہیں سب اللہ تعالٰی کے ہیں اس نے تمہیں نفع اٹھانے کے لئے دے دیئے ہیں تم حقیقتہً ان کے مالک نہیں ہو بمنزلۂِ نائب و وکیل کے ہو انہیں راہِ خدا میں خرچ کرو اور جس طرح نائب اور وکیل کو مالک کے حکم سے خرچ کرنے میں کوئی تأمّل نہیں ہوتا توتمہیں بھی کوئی تأمّل و تردّد نہ ہو ۔
اور تمہیں کیا ہے کہ اللہ پر ایمان نہ لاؤ، حالانکہ یہ رسول تمہیں بلا رہے ہیں کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ (ف۲۰) اور بیشک وہ (ف۲۱) تم سے پہلے سے عہد لے چکا ہے (ف۲۲) اگر تمہیں یقین ہو،
(ف20)اور برہانیں اور حجّتیں پیش کرتے ہیں اور کتابِ الٰہی سناتے ہیں اب تمہیں کیا عذر ہوسکتا ہے ۔(ف21)یعنی اللہ تعالٰی ۔(ف22)جب اس نے تمہیں پشتِ آدم علیہ السلام سے نکالا تھا کہ اللہ تعالٰی تمہارا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔
اور تمہیں کیا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو حالانکہ آسمانوں اور زمین میں سب کا وارث اللہ ہی ہے (ف۲٦) تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتحِ مکہ سے قبل خرچ اور جہاد کیا (ف۲۷) وہ مرتبہ میں ان سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد فتح کے خرچ اور جہاد کیا، اور ان سب سے (ف۲۸) اللہ جنت کا وعدہ فرماچکا (ف۲۹) اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے،
(ف26)تم ہلاک ہوجاؤ گے اور مال اسی کی مِلک میں رہ جائیں گے اور تمہیں خرچ کرنے کا ثواب بھی نہ ملے گا اور اگر تم خدا کی راہ میں خرچ کرو تو ثواب بھی پاؤ ۔(ف27)جب کہ مسلمان کم اور کمزور تھے اس وقت جنہوں نے خرچ کیا اور جہاد کیا وہ مہاجرین و انصار میں سے سابقین اوّلین ہیں ان کے حق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کردے تو بھی ان کے ایک مُد کے برابر نہ ہو ، نہ نصف مُد کے ۔ مُد ایک پیمانہ ہے جس سے جَوناپے جاتے ہیں ۔ شانِ نزول : کلبی نے کہا کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حق میں نازل ہوئی کیونکہ آپ پہلے شخص ہیں جو اسلام لائے اور پہلے وہ شخص جس نے راہِ خدا میں مال خرچ کیا اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حمایت کی ۔(ف28)یعنی پہلے خرچ کرنے والوں سے بھی اور فتح کے بعد خرچ کرنے والوں سے بھی ۔(ف29)البتہ درجات میں تفاوت ہے قبلِ فتح خرچ کرنے والوں کا درجہ اعلٰی ہے ۔
جس دن تم ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو (ف۳۱) دیکھو گے کہ ان کا نور ہے (ف۳۲) ان کے آگے اور ان کے دہنے دوڑتا ہے (ف۳۳) ان سے فرمایا جارہا ہے کہ آج تمہاری سب سے زیادہ خوشی کی بات وہ جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہیں تم ان میں ہمیشہ رہو، یہی بڑی کامیابی ہے،
(ف31)پلِ صراط پر ۔(ف32)یعنی ان کے ایمان و طاعت کا نور ۔(ف33)اور جنّت کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے ۔
جس دن منافق مرد اور منافق عورتیں مسلمانوں سے کہیں گے کہ ہمیں یک نگاہ دیکھو کہ ہم تمہارے نور سے کچھ حصہ لیں، کہا جائے گا اپنے پیچھے لوٹو (ُ۳٤) وہاں نور ڈھونڈو وہ لوٹیں گے، جبھی ان کے (ف۳۵) درمیان ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی (ف۳٦) جس میں ایک دروازہ ہے (ف۳۷) اس کے اندر کی طرف رحمت (ف۳۸) اور اس کے باہر کی طرف عذاب،
(ف34)جہاں سے آئے تھے یعنی موقف کی طرف جہاں ہمیں نور دیا گیا ہے وہاں نور طلب کر و یا یہ معنٰی ہیں کہ تم ہمارا نور نہیں پاسکتے نور کی طلب کے لئے پیچھے لوٹ جاؤ پھر وہ نور کی تلاش میں واپس ہوں گے اور کچھ نہ پائیں گے دوبارہ مومنین کی طرف پھریں گے ۔(ف35)یعنی مومنین اور منافقین کے ۔(ف36)بعض مفسّرین نے کہا کہ وہی اعراف ہے ۔(ف37)اس سے جنّتی جنّت میں داخل ہوں گے ۔(ف38)یعنی اس دیوار کے اندرونی جانب جنّت ۔
منافق (ف۳۹) مسلمانوں کو پکاریں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے (ف٤۰) وہ کہیں گے کیوں نہیں مگر تم نے تو اپنی جانیں فتنہ میں ڈالیں (ف٤۱) اور مسلمانوں کی برائی تکتے اور شک رکھتے (ف٤۲) اور جھوٹی طمع نے تمھیں فریب دیا (ف٤۳) یہاں تک کہ اللہ کا حکم آگیا (ف٤٤) اور تمہیں اللہ کے حکم پر اس بڑے فریبی نے مغرور رکھا (ف٤۵)
(ف39)اس دیوار کے پیچھے سے ۔(ف40)دنیا میں نماز یں پڑھتے روزہ رکھتے ۔(ف41)نفاق و کفر اختیار کرکے ۔(ف42)دِینِ اسلام میں ۔(ف43)اور تم باطل امیدوں میں رہے کہ مسلمانوں پر حوادث آئیں گے وہ تباہ ہوجائیں گے ۔(ف44)یعنی موت ۔(ف45)یعنی شیطان نے دھوکا دیا کہ اللہ تعالٰی بڑا حلیم ہے تم پر عذاب نہ کرے گا اور نہ مرنے کے بعد اٹھنا ، نہ حساب تم اس کے اس فریب میں آ گئے ۔
کیا ایمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کی یاد اور اس حق کے لیے جو اترا (ف٤۷) اور ان جیسے نہ ہوں جن کو پہلے کتاب دی گئی (ف٤۸) پھر ان پر مدت دراز ہوئی (ف٤۹) تو ان کے دل سخت ہوگئے (ف۵۰) اور ان میں بہت فاسق ہیں (ف۵۱)
(ف47)شانِ نزول : حضرت اُمُّ المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنھا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دولت سرائے اقدس سے باہر تشریف لائے تو مسلمانوں کو دیکھا کہ آپس میں ہنس رہے ہیں فرمایا تم ہنستے ہو ابھی تک تمہارے رب کی طرف سے امان نہیں آئی اور تمہارے ہنسنے پر یہ آیت نازل ہوئی ، انہو ں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس ہنسی کا کَفّارہ کیا ہے ؟ فرمایا اتنا ہی رونا ۔ اور اترنے والے حق سے مراد قرآنِ مجید ہے ۔(ف48)یعنی یہود و نصارٰی کے طریقے اختیار نہ کریں ۔(ف49)یعنی وہ زمانہ جو ان کے اور ان کے انبیاء کے درمیان تھا ۔(ف50)اور یادِ الٰہی کے لئے نرم نہ ہوئے دنیا کی طرف مائل ہوگئے اور مواعظ سے انہوں نے اعراض کیا ۔(ف51)دِین سے خارج ہونے والے ۔
جان لو کہ اللہ زمین کو زندہ کرتا ہے اس کے مرے پیچھے (ف۵۲) بیشک ہم نے تمہارے لیے نشانیاں بیان فرمادیں کہ تمہیں سمجھ ہو،
(ف52)مینھ برسا کر سبز ہ اُگا کر بعد اس کے کہ خشک ہوگئی تھی ایسے ہی دلوں کو سخت ہوجانے کے بعد نرم کرتا ہے اور انہیں علم و حکمت سے زندگی عطا فرماتا ہے ۔ بعض مفسّرین نے فرمایا کہ یہ تمثیل ہے ذکر کے دلوں میں اثر کرنے کی جس طرح بارش سے زمین کو زندگی حاصل ہوتی ہے ایسے ہی ذکرِ الٰہی سے دل زندہ ہوتے ہیں ۔
اور وہ جو اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائیں وہی ہیں کامل سچے، اور اَوروں پر (ف۵۵) گواہ اپنے رب کے یہاں، ان کے لیے ان کا ثواب (ف۵٦) اور ان کا نور ہے (ف۵۷) اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتیں جھٹلائیں وہ دوزخی ہیں،
(ف55)گزری ہوئی امّتوں میں سے ۔(ف56)جس کا وعدہ کیا گیا ۔(ف57)جو حشر میں ان کے ساتھ ہوگا ۔
جان لو کہ دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل کود (ف۵۸) اور آرائش اور تمہارا آپس میں بڑائی مارنا اور مال اور اولاد میں ایک دوسرے پر زیادتی چاہنا (ف۵۹) اس مینھ کی طرح جس کا اُگایاسبزہ کسانوں کو بھایا پھر سوکھا (ف٦۰) کہ تو اسے زرد دیکھے پھر روندن (پامال کیا ہوا) ہوگیا (ف٦۱) اور آخرت میں سخت عذاب ہے (ف٦۲) اور اللہ کی طرف سے بخشش اور اس کی رضا (ف٦۳) اور دنیا کا جینا تو نہیں مگر دھوکے کا مال (ف٦٤)
(ف58)جس میں وقت ضائع کرنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ۔(ف59)اور ان چیزوں میں مشغول رہنا اور ان سے دل لگانا دنیا ہے لیکن طاعتیں اور عبادتیں اور جو چیزیں کہ طاعت پر مُعِین ہوں اور وہ امورِ آخرت سے ہیں ۔ اب اس زندگانی دنیا کی ایک مثال ارشاد فرمائی جاتی ہے ۔(ف60)اس کی سبزی جاتی رہی ، پیلا پڑ گیا کسی آفتِ سماوی یا ارضی سے ۔(ف61)ریزہ ریزہ ، یہی حال دنیا کی زندگی کا ہے جس پر طالبِ دنیا بہت خوش ہوتا ہے اور اس کے ساتھ بہت سی امیدیں رکھتا ہے وہ نہایت جلد گزر جاتی ہے ۔(ف62)اس کے لئے جو دنیا کا طالب ہو اور زندگی لہو و لعب میں گزارے اور وہ آخرت کی پرواہ نہ کرے ایسا حال کافر کا ہوتا ہے ۔(ف63)جس نے دنیا کو آخرت پر ترجیح نہ دی ۔(ف64)یہ اس کے لئے ہے جو دنیا ہی کا ہوجائے اور اس پر بھروسہ کرلے اور آخرت کی فکر نہ کرے اور جو شخص دنیا میں آخرت کا طالب ہو اور اسبابِ دنیوی سے بھی آخرت ہی کے لئے علاقہ رکھے تو اس کے لئے دنیا کی کامیابی آخرت کا ذریعہ ہے ۔ حضرت ذوالنّون رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ اے گروہِ مرید ین دنیا طلب نہ کرو اور اگر طلب کرو تو اس سے محبّت نہ کرو توشہ یہاں سے لو آرام گاہ اور ہے ۔
بڑھ کر چلو اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف (ف٦۵) جس کی چوڑائی جیسے آسمان اور زمین کا پھیلاؤ (ف٦٦) تیار ہوئی ہے ان کے لیے جو اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائے، یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے، اور اللہ بڑا فضل والا ہے،
(ف65)رضائے الٰہی کے طالب بنو اس کی طاعت اختیار کرو اور اس کی فرمانبرداری بجالا کر جنّت کی طرف بڑھو ۔(ف66)یعنی جنّت کا عرض ایسا ہے کہ ساتوں آسمان اور ساتوں زمینوں کے ورق ملا کر باہم ملا دیئے جائیں تو جتنے وہ ہوں اتنا جنّت کا عرض پھر طول کی کیا انتہا ۔
نہیں پہنچتی کوئی مصیبت زمین میں (ف٦۷) اور نہ تمہاری جانوں میں (ف٦۸) مگر وہ ایک کتاب میں ہے (ف٦۹) قبل اس کے کہ ہم اسے پیدا کریں (ف۷۰) بیشک یہ (ف۷۱) اللہ کو آسان ہے،
(ف67)قحط کی ، امساکِ باراں کی ، عدم پیدوار کی ، پھلوں کی کمی کی ، کھیتیوں کے تباہ ہونے کی ۔(ف68)امراض کی اور اولاد کے غموں کی ۔(ف69)لوحِ محفوظ میں ۔(ف70)یعنی زمین کو یا جانوں کو یا مصیبت کو ۔(ف71)یعنی ان امور کا باوجود کثرت کے لوح میں ثبت فرمانا ۔
اس لیے کہ غم نہ کھاؤ اس (ف۷۲) پر جو ہاتھ سے جائے اور خوش نہ ہو (ف۷۳) اس پر جو تم کو دیا (ف۷٤) اور اللہ کو نہیں کوئی اترونا (شیخی بگھارنے والا) بڑائی مارنے والا،
(ف72)متاعِ دنیا ۔(ف73)یعنی نہ اتراؤ ۔(ف74)دنیا کا مال و و متاع ۔ اور یہ سمجھ لو کہ جو اللہ تعالٰی نے مقدر فرمایا ہے ضرور ہونا ہے نہ غم کرنے سے کوئی ضائع شدہ چیز واپس مل سکتی ہیں ، نہ فنا ہونے والی چیز اترانے کے لائق ہے تو چاہئے کہ خوشی کی جگہ شکر اورغم کی جگہ صبر اختیا ر کرو ۔ غم سے مراد یہاں انسان کی وہ حالت ہے جس میں صبر اور رضا بقضائے الٰہی اور امیدِ ثواب باقی نہ رہے ۔ اور خوشی سے وہ اترانا مراد ہے جس میں مست ہو کر آدمی شکر سے غافل ہوجائے ۔ اور وہ غم و رنج جس میں بندہ اللہ تعالٰی کی طرف متوجّہ ہو اور اس کی رضا پر راضی ہو ایسے ہی وہ خوشی جس پر حق تعالٰی کا شکر گزار ہو ممنوع نہیں ۔ حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا اے فرزندِ آدم کسی چیز کے فقدان پر کیوں غم کرتا ہے یہ اس کو تیرے پاس واپس نہ لائے گا اور کسی موجود چیز پر کیوں اتراتا ہے موت اس کو تیرے ہاتھ میں نہ چھوڑ ے گی ۔
وہ جو آپ بخل کریں (ف۷۵) اور اوروں سے بخل کو کہیں (ف۷٦) اور جو منہ پھیرے (ف۷۷) تو بیشک اللہ ہی بےنیاز ہے سب خوبیوں سراہا،
(ف75)اور راہِ خدا اور امورِ خیر میں خرچ نہ کریں اور حقوقِ مالیہ کی ادا سے قاصر رہیں ۔ (ف76)اسکی تفسیر میں مفسّرین کا ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ یہود کے حال کا بیان ہے ، اور بُخل سے مراد ان کا سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ان اوصاف کو چُھپانا ہے جو کُتُبِ سابقہ میں مذکور تھے ۔ (ف77)ایمان سے یا مال خرچ کرنے سے یا خدا اور رسول کی فرمانبرداری سے ۔
بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب (ف۷۸) اور عدل کی ترازو اتاری (ف۷۹) کہ لوگ انصاف پر قائم ہوں (ف۸۰) اور ہم نے لوہا اتارا (ف۸۱) اس میں سخت آنچ (نقصان) (ف۸۲) اور لوگوں کے فائدے (ف۸۳) اور اس لیے کہ اللہ دیکھے اس کو جو بےدیکھے اس کی (ف۸٤) اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے، بیشک اللہ قورت والا غالب ہے (ف۸۵)
(ف78)احکام و شرائع کی بیان کرنے والی ۔(ف79)ترازو سے مراد عدل ہے معنٰی یہ ہیں کہ ہم نے عدل کا حکم دیا ۔ اور ایک قول یہ ہے کہ ترازو سے وزن کا آلہ ہی مراد ہے ۔ مروی ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام حضرت نوح علیہ السلام کے پاس ترازولائے اور فرمایا کہ اپنی قوم کو حکم دیجئے کہ اس سے وزن کریں ۔(ف80)اور کوئی کسی کی حق تلفی نہ کرے ۔(ف81)بعض مفسّرین نے فرمایا کہ اتارنا یہاں پیدا کرنے کے معنٰی میں ہے مراد یہ ہے کہ ہم نے لوہا پیدا کیا اور لوگوں کے لئے معادن سے نکالا اور انہیں اس کی صنعت کا علم دیا اور یہ بھی مروی ہے کہ اللہ تعالٰی نے چار بابرکت چیزیں آسمان سے زمین کی طرف اتاریں(۱) لوہا(۲) آ گ(۳) پانی(۴) نمک ۔(ف82)اور نہایت قوّت کہ اس سے اسلحہ اور آلاتِ جنگ بنائے جاتے ہیں ۔(ف83)کہ صنعتوں اور حرفتوں میں وہ بہت کام آتا ہے ، خلاصہ یہ کہ ہم نے رسولوں کو بھیجا اور ان کے ساتھ ان چیزوں کو نازل فرمایا کہ لوگ حق و عدل کا معاملہ کریں ۔(ف84)یعنی اس کے دِین کی ۔(ف85)اس کو کسی کی مدد درکار نہیں دِین کی مدد کرنے کا جو حکم دیا گیا یہ انہیں لوگوں کے نفع کے لئے ہے ۔
پھر ہم نے ان کے پیچھے (ف۸۸) اسی راہ پر اپنے اور رسول بھیجے اور ان کے پیچھے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا اور اسے انجیل عطا فرمائی اور اس کے پیروں کے دل میں نرمی اور رحمت رکھی (ف۸۹) اور راہب بننا (ف۹۰) تو یہ بات انہوں نے دین میں اپنی طرف سے نکالی ہم نے ان پر مقرر نہ کی تھی ہاں یہ بدعت انہوں نے اللہ کی رضا چاہنے کو پیدا کی پھر اسے نہ نباہا جیسا اس کے نباہنے کا حق تھا (ف۹۱) تو ان کے ایمان والوں کو (ف۹۲) ہم نے ان کا ثواب عطا کیا، اور ان میں سے بہتیرے (ف۹۳) فاسق ہیں،
(ف88)یعنی نوح و ابراہیم علیہما السلام کے بعد تا زمانۂِ حضرت عیسٰی علیہ السلام یکے بعد دیگرے ۔(ف89)کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبّت و شفقت رکھتے ۔(ف90)پہاڑوں اور غاروں اور تنہا مکانوں میں خلوت نشین ہونا اور صومعہ بنانا اور اہلِ دنیا سے مخالطت ترک کرنا اور عبادتوں میں اپنے اوپر زائد مشقّتیں بڑھا لینا ، تارک ہوجانا ، نکاح نہ کرنا ، نہایت موٹے کپڑے پہننا ، ادنٰی غذا نہایت کم مقدار میں کھانا ۔(ف91)بلکہ اس کو ضائع کردیا اور تثلیث و اتحاد میں مبتلا ہوئے اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کے دِین سے کفر کرکے اپنے بادشاہوں کے دِین میں داخل ہوئے اور کچھ لوگ ان میں سے دِینِ مسیحی پر قائم اور ثابت بھی رہے اور جب زمانۂِ پاک حضور سیّدِعالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پایا تو حضور پر بھی ایمان لائے ۔ مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ بدعت یعنی دِین میں کسی بات کا نکالنا اگر وہ بات نیک ہو اور اس سے رضائے الٰہی مقصود ہو تو بہتر ہے ، اس پر ثواب ملتا ہے ، اور اس کو جاری رکھنا چاہئے ایسی بدعت کو بدعتِ حسنہ کہتے ہیں البتہ دِین میں بُری بات نکالنا بدعتِ سیّئہ کہلاتا ہے ، وہ ممنوع اور ناجائز ہے اور بدعتِ سیّئہ حدیث شریف میں وہ بتائی گئی ہے جو خلافِ سنّت ہو اس کے نکالنے سے کوئی سنّت اٹھ جائے اس سے ہزار ہا مسائل کا فیصلہ ہوجاتا ہے جن میں آج کل لوگ اختلاف کرتے ہیں اور اپنی ہوائے نفسانی سے ایسے امورِ خیر کو بدعت بتا کر منع کرتے ہیں جن سے دِین کی تقویّت و تائید ہوتی ہے اور مسلمانوں کو اخروی فوائد پہنچتے ہیں اور وہ طاعات و عبادات میں ذوق و شوق کے ساتھ مشغول رہتے ہیں ایسے امور کو بدعت بتانا قرآنِ مجید کی اس آیت کے صریح خلاف ہے ۔(ف92)جو دِین پر قائم رہے تھے ۔(ف93)جنہوں نے رہبانیّت کو ترک کیا اور دِینِ حضرت عیسٰی علیہ السلام سے منحرف ہوگئے ۔
اے ایمان والو! (ف۹٤) اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول (ف۹۵) پر ایمان لاؤ وہ اپنی رحمت کے دو حصے تمہیں عطا فرمائے گا (ف۹٦) اور تمہارے لیے نور کردے گا (ف۹۷) جس میں چلو اور تمہیں بخش دے گا، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
(ف94)حضرت موسٰی و حضرت عیسٰی پر علیہما السلام ۔ یہ خطاب اہلِ کتاب کو ہی ان سے فرمایا جاتا ہے ۔(ف95)سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔(ف96)یعنی تمہیں دونا اجر دے گا کیونکہ تم پہلی کتاب اور پہلے نبی پر بھی ایمان لائے او ر سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور قرآنِ پاک پر بھی ۔(ف97)صراط پر ۔
یہ اس لیے کہ کتاب والے کافر جان جائیں کہ اللہ کے فضل پر ان کا کچھ قابو نہیں (ف۹۸) اور یہ کہ فضل اللہ کے ہاتھ ہے دیتا ہے جسے چاہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے،
(ف98) وہ اس میں سے کچھ نہیں پاسکتے نہ دونا اجر ، نہ نور ، نہ مغفرت کیونکہ وہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان نہ لائے تو ان کا پہلے انبیاء پر ایمان لانا بھی مفید نہ ہوگا ۔شانِ نزول : جب اوپر کی آیت نازل ہوئی اور اس میں مومنینِ اہلِ کتاب کو سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اوپر ایمان لانے پر دونے اجر کا وعدہ دیا گیا تو کفّارِ اہلِ کتاب نے کہا اگر ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لائیں تو دونا اجر ملے اور اگر نہ لائیں تو ایک اجر جب بھی رہے گا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ان کے اس خیال کا ابطال کردیا گیا ۔