جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی (ف٤) اپنے دودھ پیتے کو بھول جائے گی اور ہر گابھ (ف۵) اپنا گابھ ڈال دے گی (ف٦) اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشہ میں ہیں اور نشہ میں نہ ہوں گے (ف۷) مگر ہے یہ کہ اللہ کی مار کڑی ہے،
(ف4)اس کی ہیبت سے ۔(ف5)یعنی حمل والی اس دن کے ہول سے ۔(ف6)حمل ساقط ہو جائیں گے ۔(ف7)بلکہ عذابِ الٰہی کے خوف سے لوگوں کے ہوش جاتے رہیں گے ۔
اور کچھ لوگ وہ ہیں کہ اللہ کے معاملہ میں جھگڑتے ہیں بےجانے بوجھے، اور ہر سرکش شیطان کے پیچھے ہو لیتے ہیں (ف۸)
(ف8)شانِ نُزول : یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی جو بڑا ہی جھگڑالو تھا اور فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں اور قرآن کو پہلوں کے قصّے بتاتا تھا اور موت کے بعد اٹھائے جانے کا منکِر تھا ۔
اے لوگو! اگر تمہیں قیامت کے دن جینے میں کچھ شک ہو تو یہ غور کرو کہ ہم نے تمہیں پیدا کیا مٹی سے (ف۱۰) پھر پانی کی بوند سے (ف۱۱) پھر خون کی پھٹک سے (ف۹۱۲ پھر گوشت کی بوٹی سے نقشہ بنی اور بےبنی (ف۱۳) تاکہ ہم تمہارے لیے اپنی نشانیاں ظاہر فرمائیں (ف۱٤) اور ہم ٹھہرائے رکھتے ہیں ماؤں کے پیٹ میں جسے چاہیں ایک مقرر میعاد تک (ف۱۵) پھر تمہیں نکالتے ہیں بچہ پھر (ف۱٦) اس لیے کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو (ف ۱۷) اور تم میں کوئی پہلے ہی مرجاتا ہے اور کوئی سب میں نکمی عمر تک ڈالا جاتا ہے (ف۱۸) کہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے (ف۱۹) اور تو زمین کو دیکھے مرجھائی ہوئی (ف۲۰) پھر جب ہم نے اس پر پانی اتارا ترو تازہ ہوئی اور ابھر آئی اور ہر رونق دار جوڑا (ف۲۱) اُگا لائی (ف۲۲)
(ف10)تمہاری نسل کی اصل یعنی تمہارے جدِّ اعلٰی حضرت آدم علیہ السلام کو اس سے پیدا کر کے ۔(ف11)یعنی قطرۂ مَنی سے ان کی تمام ذُرِّیَّت کو ۔(ف12)کہ نطفۂ خونِ غلیظ ہو جاتا ہے ۔(ف13)یعنی مُصوَّر اور غیرِ مُصوَّر ۔ بخاری اور مسلم کی حدیث میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا تم لوگوں کا مادۂ پیدائش ماں کے شکم میں چالیس روز تک نطفہ رہتا ہے پھر اتنی ہی مدّت خونِ بستہ ہو جاتا ہے پھر اتنی ہی مدّت گوشت کی بوٹی کی طرح رہتا ہے پھر اللہ تعالٌٰی فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کا رزق ، اس کی عمر ، اس کے عمل ، اس کا شقی یا سعید ہونا لکھتا ہے پھر اس میں روح پھونکتا ہے ۔ (الحدیث) اللہ تعالٰی انسان کی پیدائش اس طرح فرماتا ہے اور اس کو ایک حال سے دوسرے حال کی طرف منتقل کرتا ہے یہ اس لئے بیان فرمایا گیا ۔(ف14)اور تم اللہ تعالٰی کے کمالِ قدرت و حکمت کو جانو اور اپنی ابتدائے پیدائش کے حالات پر نظر کر کے سمجھ لو کہ جو قادرِ برحق بے جان مٹی میں اتنے انقلاب کر کے جاندار آدمی بنا دیتا ہے وہ مرے ہوئے انسان کو زندہ کرے تو اس کی قدرت سے کیا بعید ۔(ف15)یعنی وقتِ ولادت تک ۔(ف16)تمہیں عمر دیتے ہیں ۔(ف17)اور تمہاری عقل و قوّت کامل ہو ۔(ف18)اور اس کو اتنا بڑھاپا آ جاتا ہے کہ عقل و حوّاس بجا نہیں رہتے اور ایسا ہو جاتا ہے ۔(ف19)اور جو جانتا ہو وہ بھول جائے ۔ عِکرمہ نے کہا جو قرآن کی مداومت رکھے گا اس حالت کو نہ پہنچے گا ، اس کے بعد اللہ تعالٰی بَعث یعنی مرنے کے بعد اٹھنے پر دوسری دلیل بیان فرماتا ہے ۔(ف20)خشک بے گیاہ ۔(ف21)یعنی ہر قِسم کا خوش نما سبزہ ۔(ف22)یہ دلیلیں بیان فرمانے کے بعد نتیجہ مرتّب فرمایا جاتا ہے ۔
یہ اس لیے ہے کہ اللہ ہی حق ہے (ف۲۳) اور یہ کہ وہ مردے جِلائے گا اور یہ کہ وہ سب کچھ کرسکتا ہے،
(ف23)اور یہ جو کچھ ذکر کیا گیا آدمی کی پیدائش اور خشک بے گیاہ زمین کو سرسبز و شاداب کر دینا اس کے وجود و حکمت کی دلیلیں ہیں ان سے اس کا وجود بھی ثابت ہوتا ہے ۔
اور کوئی آدمی وہ ہے کہ اللہ کے بارے میں یوں جھگڑتا ہے کہ نہ تو علم نہ کوئی دلیل اور نہ کوئی روشن نوشتہ (تحریر) (ف۲٤)
(ف24)شانِ نُزول : یہ آیت ابوجہل وغیرہ ایک جماعتِ کُفّار کے حق میں نازل ہوئی جو اللہ تعالٰی کی صفات میں جھگڑا کرتے تھے اور اس کی طرف ایسے اوصاف کی نسبت کرتے تھے جو اس کی شان کے لائق نہیں ۔ اس آیت میں بتایا گیا کہ آدمی کو کوئی بات بغیر علم اور بے سند و دلیل کے کہنی نہ چاہیئے ، خاص کر شانِ الٰہی میں اور جو بات علم والے کے خلاف بے علمی سے کہی جائے گی وہ باطل ہو گی پھر اس پر یہ انداز کہ اصرار کرے اور براہِ تکبُّر ۔
اور کچھ آدمی اللہ کی بندگی ایک کنارہ پر کرتے ہیں (ف۳۰) پھر اگر انھیں کوئی بھلائی پہنچ گئی جب تو چین سے ہیں اور جب کوئی جانچ آکر پڑی (ف۳۱) منہ کے بل پلٹ گئے ، (ف۳۲) دنیا اور آخرت دونوں کا گھاٹا (ف۳۳) یہی ہے صریح نقصان (ف۳٤)
(ف30)اس میں اطمینان سے داخل نہیں ہوتے اور انہیں ثبات و قرار حاصل نہیں ہوتا ، شک و تردّد میں رہتے ہیں جس طرح پہاڑ کے کنارے کھڑا ہوا شخص تَزَلزُل کی حالت میں ہوتا ہے ۔شانِ نُزول : یہ آیت اعرابیوں کی ایک جماعت کے حق میں نازل ہوئی جو اطراف سے آ کر مدینہ میں داخل ہوتے اور اسلام لاتے تھے ، ان کی حالت یہ تھی کہ اگر وہ خوب تندرست رہے اور ان کی دولت بڑھی اور ان کے بیٹا ہوا تب تو کہتے تھےاسلام اچھا دین ہے اس میں آ کر ہمیں فائدہ ہوا اور اگر کوئی بات اپنی امید کے خلاف پیش آئی مثلاً بیمار ہو گئے یا لڑکی ہو گئی یا مال کی کمی ہوئی تو کہتے تھے جب سے ہم اس دین میں داخل ہوئے ہیں ہمیں نقصان ہی ہوا اور دین سے پھر جاتے تھے ۔ یہ آیت ان کی حق میں نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ انہیں ابھی دین میں ثبات ہی حاصل نہیں ہوا ان کا حال یہ ہے ۔(ف31)کسی قِسم کی سختی پیش آئی ۔(ف32)مرتد ہو گئے اور کُفر کی طرف لوٹ گئے ۔(ف33)دنیا کا گھاٹا تو یہ کہ جو ان کی امّیدیں تھیں وہ پوری نہ ہوئیں اور اِرتِداد کی وجہ سے ان کا خون مباح ہوا اور آخرت کا گھاٹا ہمیشہ کا عذاب ۔(ف34)وہ لوگ مرتد ہونے کے بعد بُت پرستی کرتے ہیں اور ۔
جو یہ خیال کرتا ہو کہ اللہ اپنے نبی (ف٤۰) کی مدد نہ فرمائے گا دنیا (ف٤۱) اور آخرت میں (ف٤۲) تو اسے چاہیے کہ اوپر کو ایک رسی تانے پھر اپنے آپ کو پھانسی دے لے پھر دیکھے کہ اس کا یہ داؤں کچھ لے گیا اس بات کو جس کی اسے جلن ہے (ف٤۳)
(ف40)حضرت محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔(ف41)میں ان کے دین کو غلبہ عطا فرما کر ۔(ف42)ان کے درجے بلند کر کے ۔(ف43)یعنی اللہ تعالٰی اپنے نبی کی مدد ضرور فرمائے گا جسے اس سے جلن ہو وہ اپنی انتہائی سعی ختم کر دے اور جلن میں مر بھی جائے تو بھی کچھ نہیں کر سکتا ۔
بیشک مسلمان اور یہودی اور ستارہ پرست اور نصرانی اور آتش پرست اور مشرک، بیشک اللہ ان سب میں قیامت کے دن فیصلہ کردے گا (ف٤٤) بیشک ہر چیز اللہ کے سامنے ہے،
(ف44)مؤمنین کو جنّت عطا فرمائے گا اور کُفّار کو کسی قِسم کے بھی ہوں جہنّم میں داخل کرے گا ۔
کیا تم نے نہ دیکھا (ف٤۵) کہ اللہ کے لیے سجدہ کرتے ہیں وہ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے (ف٤٦) اور بہت آدمی (ف٤۷) اور بہت وہ ہیں جن پر عذاب مقرر ہوچکا (ف٤۸) اور جسے اللہ ذلیل کرے (ف٤۹) اسے کوئی عزت دینے والا نہیں، بیشک اللہ جو چاہے کرے، (السجدة) ٦
(ف45)اے حبیبِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔(ف46)سجدۂ خضوع جیسا اللہ چاہے ۔(ف47)یعنی مومنین مزید براں سجدۂ طاعت و عبادت بھی ۔(ف48)یعنی کُفّار ۔(ف49)اس کی شقاوت کے سبب ۔
یہ دو فریق ہیں (ف۵۰) کہ اپنے رب میں جھگڑے (ف۵۱) تو جو کافر ہوئے ان کے لیے آگ کے کپڑے بیونتے (کاٹے) گئے ہیں (ف۵۲) اور ان کے سروں پر کھولتا پانی ڈالا جائے گا (ف۵۳)
(ف50)یعنی مؤمنین اور پانچوں قِسم کے کُفّار جن کا اوپر ذکر کیا گیا ۔(ف51)یعنی اس کے دین کے بارے میں اور اس کی صفات میں ۔(ف52)یعنی آ گ انہیں ہر طرف سے گھیر لے گی ۔(ف53)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا ایسا تیز گرم کہ اگر اس کا ایک قطرہ دنیا کے پہاڑوں پر ڈال دیا جائے تو ان کو گلا ڈالے ۔
بیشک اللہ داخل کرے گا انھیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہیں اس میں پہنائے جائیں گے سونے کے کنگن اور موتی (ف۵۷) اور وہاں ان کی پوشاک ریشم ہے (ف۵۸)
(ف57)ایسے جن کی چمک مشرق سے مغرب تک روشن کر ڈالے ۔ (ترمذی)(ف58)جس کا پہننا دنیا میں مَردوں کو حرام ہے ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے دنیا میں ریشم پہنا آخرت میں نہ پہنے گا ۔
بیشک وہ جنہوں نے کفر کیا اور روکتے ہیں اللہ کی راہ (ف٦۱) اور اس ادب والی مسجد سے (ف٦۲) جسے ہم نے سب لوگوں کے لیے مقرر کیا کہ اس میں ایک سا حق ہے وہاں کے رہنے والے اور پردیسی کا، اور جو اس میں کسی زیادتی کا ناحق ارادہ کرے ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے (ف٦۳)
(ف61)یعنی اس کے دین اور اس کی اطاعت سے ۔(ف62)یعنی اس میں داخل ہونے سے ۔شانِ نُزول : یہ آیت سفیان بن حرب وغیرہ کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مکّہ مکرّمہ میں داخل ہونے سے روکا تھا ۔ مسجدِ حرام سے یا خاص کعبۂ معظّمہ مراد ہے جیسا کہ امام شافعی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں ، اس تقدیر پر معنی یہ ہوں گے کہ وہ تمام لوگوں کا قبلہ ہے ، وہاں کے رہنے والے اور پردیسی سب برابر ہیں ، سب کے لئے اس کی تعظیم و حرمت اور اس میں ادائے مناسکِ حج یکساں ہے اور طواف و نماز کی فضیلت میں شہری اور پردیسی کے درمیان کوئی فرق نہیں اور امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک یہاں مسجدِ حرام سے مکّہ مکرّمہ یعنی جمیع حرم مراد ہے ، اس تقدیر پر معنٰی یہ ہوں گے کہ حرم شریف شہری اور پردیسی سب کے لئے یکساں ہے ، اس میں رہنے اور ٹھہرنے کا سب کسی کو حق ہے بَجُز اس کے کہ کوئی کسی کو نکالے نہیں اسی لئے امام صاحب مکّہ مکرّمہ کی اراضی کی بیع اور اس کے کرایہ کو منع فرماتے ہیں جیسا کہ حدیث شریف میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مکّہ مکرّمہ حرام ہے اس کی اراضی فروخت نہ کی جائیں ۔ (تفسیرِ احمدی)(ف63) اِلْحَادٍ بِظُلْم ناحق زیادتی سے یا شرک و بُت پرستی مراد ہے ۔ بعض مفسِّرین نے کہا کہ ہر ممنوع قول و فعل مراد ہے حتی کہ خادم کو گالی دینا بھی ۔ بعض نے کہا اس سے مراد ہے حرم میں بغیر احرام کے داخل ہونا یا ممنوعاتِ حرم کا ارتکاب کرنا مثل شکار مارنے اور درخت کاٹنے کے اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا مراد یہ ہے کہ جو تجھے نہ قتل کرے تو اسے قتل کرے یا جو تجھ پر ظلم نہ کرے تو اس پر ظلم کرے ۔شانِ نُزول : حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبداللہ بن انیس کو دو آدمیوں کے ساتھ بھیجا تھا جن میں ایک مہاجر تھا دوسرا انصاری ، ان لوگوں نے اپنے اپنے مفاخرِ نسب بیان کئے تو عبداللہ بن انیس کو غصّہ آیا اور اس نے انصاری کو قتل کر دیا اور خود مرتد ہو کر مکّہ مکرّمہ کی طرف بھاگ گیا ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔
اور جب کہ ہم نے ابراہیم کو اس گھر کا ٹھکانا ٹھیک بتادیا (ف٦٤) اور حکم دیا کہ میرا کوئی شریک نہ کر اور میرا گھر ستھرا رکھ (ف٦۵) طواف والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع سجدے والوں کے لیے (ف٦٦)
(ف64)تعمیرِکعبہ شریف کے وقت پہلے عمارتِ کعبہ حضرت آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام نے بنائی تھی اور طوفانِ نوح کے وقت وہ آسمان پر اٹھا لی گئی ، اللہ تعالٰی نے ایک ہوا مقرر کی جس نے اس کی جگہ کو صاف کر دیا اور ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے ایک اَبر بھیجا جو خاص اس بُقعَہ کے مقابل تھا جہاں کعبہ معظّمہ کی عمارت تھی اس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کعبہ شریف کی جگہ بتائی گئی اور آپ نے اس کی قدیم بنیاد پر عمارتِ کعبہ تعمیر کی اور اللہ تعالٰی نے آ پ کو وحی فرمائی ۔(ف65)شرک سے اور بُتوں سے اور ہر قسم کی نجاستوں سے ۔(ف66)یعنی نمازیوں کے ۔
اور لوگوں میں حج کی عام ندا کردے (ف٦۷) وہ تیرے پاس حاضر ہوں گے پیادہ اور ہر دبلی اونٹنی پر کہ ہر دور کی راہ سے آتی ہیں (ف٦۸)
(ف67)چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ابوقبیس پہاڑ پر چڑھ کر جہان کے لوگوں کو ندا کر دی کہ بیت اللہ کا حج کرو ، جن کے مقدور میں حج ہے انہوں نے باپوں کی پشتوں اور ماؤں کے پیٹوں سے جواب دیا لَبَّیْکَ اَللّہُمَّ لَبَّیْکَ ۔ حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول ہے کہ اس آیت میں اَذِّنْ کا خِطاب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہے چنانچہ حَجَّۃُ الوداع میں اعلان فرما دیا اور ارشاد کیا کہ اے لوگو اللہ نے تم پر حج فرض کیا تو حج کرو ۔(ف68)اور کثرتِ سیر و سفر سے دبلی ہو جاتی ہیں ۔
تاکہ وہ اپنا فائدہ پائیں (ف٦۹) اور اللہ کا نام لیں (ف۷۰) جانے ہوئے دنوں میں (ف۷۱) اس پر کہ انھیں روزی دی بےزبان چوپائے (ف۷۲) تو ان میں سے خود کھاؤ اور مصیبت زدہ محتاج کو کھلاؤ (ف۷۳)
(ف69)دینی بھی دنیوی بھی جو اس عباد ت کے ساتھ خاص ہیں ، دوسری عبادت میں نہیں پائے جاتے ۔(ف70)وقتِ ذَبح ۔(ف71)جانے ہوئے دنوں سے ذِی الحِجّہ کا عشرہ مراد ہے جیسا کہ حضرت علی اور ابنِ عباس و حسن و قتادہ رضی اللہ عنہم کا قول ہے اور یہی مذہب ہے ہمارے امامِ اعظم حضرت ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا اور صاحبین کے نزدیک جانے ہوئے دنوں سے ایّامِ نحر مراد ہیں ، یہ قول ہے حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کا اور ہر تقدیر پر یہاں ان دنوں سے خاص روزِ عید مراد ہے ۔ (تفسیرِ احمدی)(ف72)اونٹ ، گائے ، بکری ، بھیڑ ۔(ف73)تطّوُع اور متعہ و قِرانْ و ہر ایک ہدی سے جن کا اس آیت میں بیان ہے کھانا جائز ہے ، باقی ہدایا سے جائز نہیں ۔ (تفسیرِ احمد ی و مدارک)
پھر اپنا میل کچیل اتاریں (ف۷٤) اور اپنی منتیں پوری کریں (ف۷۵) اور اس آزاد گھر کا طواف کریں (ف۷٦)
(ف74)مونچھیں کتروائیں ، ناخن تراشیں ، بغلوں اور زیرِ ناف کے بال دور کریں ۔(ف75)جو انہوں نے مانی ہوں ۔(ف76)اس سے طوافِ زیارت مراد ہے ، مسائلِ حج بالتفصیل سورۂ بقر پارہ دو میں ذکر ہو چکے ۔
بات یہ ہے اور جو اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے (ف۷۷) تو وہ اس کے لیے اس کے رب کے یہاں بھلا ہے، اور تمہارے لیے حلال کیے گئے بےزبان چوپائے (ف۷۸) سوا ان کے جن کی ممانعت تم پر پڑھی جاتی ہے (ف۷۹) تو دور ہو بتوں کی گندگی سے (ف۸۰) اور بچو جھوٹی بات سے،
(ف77)یعنی اس کے احکام کی خواہ وہ مناسکِ حج ہوں یا ان کے سوا اور احکام ۔ بعض مفسِّرین نے اس سے مناسکِ حج مراد لئے ہیں اور بعض نے بیتِ حرام و مشعرِ حرام و شہرِ حرام و بلدِ حرام و مسجدِ حرام مراد لئے ہیں ۔(ف78)کہ انہیں ذبح کر کے کھاؤ ۔(ف79)قرآنِ پاک میں جیسے کہ سورۂ مائدہ کی آیت حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ میں بیان فرمائی گئی ۔(ف80)جن کی پرستِش کرنا بدترین گندگی سے آلودہ ہونا ہے ۔
ایک اللہ کے ہو کر کہ اس کا ساجھی کسی کو نہ کرو، اور جو اللہ کا شریک کرے وہ گویا گرا آسمان سے کہ پرندے اسے اچک لے جاتے ہیں (ف۸۱) یا ہوا اسے کسی دور جگہ پھینکتی ہے (ف۸۲)
(ف81)اور بوٹی بوٹی کر کے کھا جاتے ہیں ۔(ف82)مراد یہ ہے کہ شرک کرنے والا اپنی جان کو بدترین ہلاکت میں ڈالتا ہے ۔ ایمان کو بلندی میں آسمان سے تشبیہ دی گئی اور ایمان ترک کرنے والے کو آسمان سے گرنے والے کے ساتھ اور اس کی خواہشاتِ نفسانیہ کو جو اس کی فکروں کو منتشر کرتی ہیں بوٹی بوٹی لے جانے والے پرندے کے ساتھ اور شیاطین کو جو اس کو وادیٔ ضلالت میں پھینکتے ہیں ہَوا کے ساتھ تشبیہ دی گئی اور اس نفیس تشبیہ سے شرک کا انجامِ بد سمجھایا گیا ۔
بات یہ ہے، اور جو اللہ کے نشانوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے (ف۸۳)
(ف83)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ شعائر اللہ سے مراد بُدنے اور ہدایا ہیں اور ان کی تعظیم یہ ہے کہ فربہ ، خوبصورت ، قیمتی لئے جائیں ۔
اور ہر امت کے لیے (ف۸۷) ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی کہ اللہ کا نام لیں اس کے دیے ہوئے بےزبان چوپایوں پر (ف۸۸) تو تمہارا معبود ایک معبود ہے (ف۸۹) تو اسی کے حضور گردن رکھو (ف۹۰) اور اے محبوب خوشی سنادو ان تواضع والوں کو،
(ف87)پچھلی ایماندار اُمّتوں میں سے ۔(ف88)ان کے ذبح کے وقت ۔(ف89)تو ذبح کے وقت صرف اسی کا نام لو ۔ اس آیت میں دلیل ہے اس پر کہ نامِ خدا کا ذکر کر نا ذبح کے لئے شرط ہے ، اللہ تعالٰی نے ہر ایک اُمّت کے لئے مقرر فرما دیا تھا کہ اس کے لئے بہ طریقِ تَقَرُّب قربانی کریں اور تمام قربانیوں پر اسی کا نام لیا جائے ۔(ف90)اور اخلاص کے ساتھ اس کی اطاعت کرو ۔
اور قربانی کے ڈیل دار جانور اور اونٹ اور گائے ہم نے تمہارے لیے اللہ کی نشانیوں سے کیے (ف۹۳) تمہارے لیے ان میں بھلائی ہے (ف۹٤) تو ان پر اللہ کا نام لو (ف۹۵) ایک پاؤں بندھے تین پاؤں سے کھڑے (ف۹٦) پھر جب ان کی کروٹیں گرجائیں (ف۹۷) تو ان میں سے خود کھاؤ (ف۹۸) اور صبر سے بیٹھنے والے اور بھیک مانگنے والے کو کھلاؤ، ہم نے یونہی ان کو تمہارے بس میں دے دیا کہ تم احسان مانو،
(ف93)یعنی اس کے اَعلامِ دین سے ۔(ف94)دنیا میں نفع اور آخرت میں اجر و ثواب ۔(ف95)ان کے ذبح کے وقت جس حال میں کہ وہ ہوں ۔(ف96)اُونٹ کے ذبح کا یہی منسون طریقہ ہے ۔(ف97)یعنی بعدِ ذبح ان کے پہلو زمین پر گریں اور ان کی حرکت ساکن ہو جائے ۔(ف98)اگر تم چاہو ۔
اللہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ ان کے خون ہاں تمہاری پرہیزگاری اس تک باریاب ہوتی ہے (ف۹۹) یونہی ان کو تمہارے پس میں کردیا کہ تم اللہ کی بڑائی بولو اس پر کہ تم کو ہدایت فرمائی، اور اے محبوب! خوشخبری سناؤ نیکی والوں کو (ف۱۰۰)
(ف99)یعنی قربانی کرنے والے صرف نیت کے اخلاص اور شروطِ تقوٰی کی رعایت سے اللہ تعالٰی کو راضی کر سکتے ہیں ۔شانِ نُزو ل : زمانۂ جاہلیت کے کُفّار اپنی قربانیوں کے خون سے کعبۂ معظّمہ کی دیواروں کو آلودہ کرتے تھے اور اس کو سببِ تقرُّب جانتے تھے ۔ اس پر آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(ف100)ثواب کی ۔
پروانگی (اجازت) عطا ہوئی انھیں جن سے کافر لڑتے ہیں (ف۱۰۳) اس بناء پر کہ ان پر ظلم ہوا (ف۱۰٤) اور بیشک اللہ ان کی مدد کرنے پر ضرور قادر ہے ،
(ف103)جہاد کی ۔(ف104)شانِ نُزول : کُفّارِ مکّہ اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روزمرہ ہاتھ اور زبان سے شدید ایذائیں دیتے اور آزار پہنچاتے رہتے تھے اور صحابہ حضور کے پاس اس حال میں پہنچتے تھے کہ کسی کا سر پھٹا ہے کسی کا ہاتھ ٹوٹا ہے کسی کا پاؤں بندھا ہوا ہے روزمرہ اس قسم کی شکایتیں بارگاہِ اقدس میں پہنچتی تھیں اور اصحابِ کرام کفُاّر کے مظالم کی حضور کے دربار میں فریادیں کرتے حضور یہ فرما دیا کرتے کہ صبر کرو مجھے ابھی جہاد کا حکم نہیں دیا گیا ہے جب حضور نے مدینہ طیّبہ کو ہجرت فرمائی تب یہ آیت نازل ہوئی اور یہ وہ پہلی آیت ہے جس میں کُفّار کے ساتھ جنگ کرنے کی اجازت دی گئی ہے ۔
وہ جو اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے (ف۱۰۵) صرف اتنی بات پر کہ انہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے (ف۱۰٦) اور اللہ اگر آدمیوں میں ایک کو دوسرے سے دفع نہ فرماتا (ف۱۰۷) تو ضرور ڈھا دی جاتیں خانقاہیں (ف۱۰۸) اور گرجا (ف۱۰۹) اور کلیسے (ف۱۱۰) اور مسجدیں (ف۱۱۱) جن میں اللہ کا بکثرت نام لیا جاتا ہے، اور بیشک اللہ ضرور مدد فرمائے گا اس کی جو اس کے دین کی مدد کرے گا بیشک ضرور اللہ قدرت والا غالب ہے، (۱۰۹)
(ف105)اور بے وطن کئے گئے ۔(ف106)اور یہ کلام حق ہے اور حق پر گھروں سے نکالنا اور بے وطن کرنا قطعاً ناحق ۔(ف107)جہاد کی اجازت دے کر اور حدود قائم فرما کر تو نتیجہ یہ ہوتا کہ مشرکین کا استیلا ہو جاتا اور کوئی دین و ملّت والا ان کے دستِ تعدّی سے نہ بچتا ۔(ف108)راہبوں کی ۔(ف109)نصرانیوں کے ۔(ف110)یہودیوں کے ۔(ف111)مسلمانوں کی ۔
وہ لوگ کہ اگر ہم انھیں زمین میں قابو دیں (ف۱۱۲) تو نماز برپا رکھیں اور زکوٰة اور بھلائی کا حکم کریں اور برائی سے روکیں (ف۱۱۳) اور اللہ ہی کے لیے سب کاموں کا انجام،
(ف112)اور ان کے دشمنوں کے مقابل ان کی مدد فرمائیں ۔(ف113)اس میں خبر دی گئی ہے کہ آئندہ مہاجرین کو زمین میں تصرف عطا فرمانے کے بعد ان کی سیرتیں ایسی پاکیزہ رہیں گی اور وہ دین کے کاموں میں اخلاص کے ساتھ مشغول رہیں گے اس میں خلفاءِ راشدین مہدیّین کے عدل اور ان کے تقوٰی و پرہیزگاری کی دلیل ہے جنہیں اللہ تعالٰی نے تمکین و حکومت عطا فرمائی اور سیرتِ عادلہ عطا کی ۔
اور مدین والے (ف۱۱۷) اور موسیٰ کی تکذیب ہوئی (ف۱۱۸) تو میں نے کافروں کو ڈھیل دی (ف۱۱۹) پھر انھیں پکڑا (ف۱۲۰) تو کیسا ہوا میرا عذاب (ف۱۲۱)
(ف117)یعنی حضرت شعیب کی قوم ۔(ف118)یہاں موسٰی کی قوم نہ فرمایا کیونکہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی قوم بنی اسرائیل نے آپ کی تکذیب نہ کی تھی بلکہ فرعون کی قوم قبطیوں نے حضرت موسٰی علیہ السلام کی تکذیب کی تھی ، ان قوموں کا تذکرہ اور ہر ایک کے اپنے رسول کی تکذیب کرنے کا بیان سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تسکینِ خاطر کے لئے ہے کہ کُفّار کا یہ قدیمی طریقہ ہے پچھلے انبیاء کے ساتھ بھی یہی دستور رہا ہے ۔(ف119)اور ان کے عذاب میں تاخیر کی اور انہیں مہلت دی ۔(ف120)اور ان کے کفر و سرکشی کی سزا دی ۔(ف121)آپ کی تکذیب کرنے والوں کو چاہیئے کہ اپنے انجام کو سوچیں اور عبرت حاصل کریں ۔
اور کتنی ہی بستیاں ہم نے کھپادیں (ہلاک کردیں) (ف۱۲۲) کہ وہ ستمگار تھیں (ف۱۲۳) تو اب وہ اپنی چھتوں پر ڈہی (گری) پڑی ہیں اور کتنے کنویں بیکار پڑے (ف۱۲٤) اور کتنے محل گچ کیے ہوئے (ف۱۲۵)
(ف122)اور وہاں کے رہنے والوں کو ہلاک کر دیا ۔(ف123)یعنی وہاں کے رہنے والے کافِر تھے ۔(ف124)کہ ان سے کوئی پانی بھرنے والا نہیں ۔
تو کیا زمین میں نہ چلے (ف۱۲٦) کہ ان کے دل ہوں جن سے سمجھیں (ف۱۲۷) یا کان ہوں جن سے سنیں (ف۱۲۸) تو یہ کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں (ف۱۲۹) بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں، (ف۱۳۰)
(ف125)ویران پڑے ہیں ۔(ف126)کُفّار کہ ان حالات کا مشاہدہ کریں ۔(ف127)کہ انبیاء کی تکذیب کا کیا انجام ہوا اور عبرت حاصل کریں ۔(ف128)پچھلی اُمّتوں کے حالات اور ان کا ہلاک ہونا اور ان کی بستیوں کی ویرانی کہ اس سے عبرت حاصل ہو ۔(ف129)یعنی کُفّار کی ظاہری حِس باطل نہیں ہوئی ہے وہ ان آنکھوں سے دیکھنے کی چیزیں دیکھتے ہیں ۔(ف130)اور دلوں ہی کا اندھا ہونا غضب ہے اسی لئے آدمی دین کی راہ پانے سے محروم رہتا ہے ۔
اور یہ تم سے عذاب مانگنے میں جلدی کرتے ہیں (ف۱۳۱) اور اللہ ہرگز اپنا وعدہ جھوٹا نہ کرے گا (ف۱۳۲) اور بیشک تمہارے رب کے یہاں (ف۱۳۳) ایک دن ایسا ہے جیسے تم لوگوں کی گنتی میں ہزار برس (ف۱۳٤)
(ف131)یعنی کُفّارِ مکّہ مثل نضر بن حارث وغیرہ کے اور یہ جلدی کرنا ان کا استہزاء کے طریقہ پر تھا ۔(ف132)اور ضرور حسبِ وعدہ عذاب نازل فرمائے گا چنانچہ یہ وعدہ بدر میں پورا ہوا ۔(ف133)آخرت میں عذاب کا ۔(ف134)تو یہ کُفّار کیا سمجھ کر عذاب کی جلدی کرتے ہیں ۔
اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول یا نبی بھیجے (ف۱۳۹) سب پر کبھی یہ واقعہ گزرا ہے کہ جب انہوں نے پڑھا تو شیطان نے ان کے پڑھنے میں لوگوں پر کچھ اپنی طرف سے ملادیا تو مٹا دیتا ہے اللہ اس شیطان کے ڈالے ہوئے کو پھر اللہ اپنی آیتیں پکی کردیتا ہے (ف۱٤۰) اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
(ف139)نبی اور رسول میں فرق ہے نبی عام ہے اور رسول خاص ۔ بعض مفسّرین نے فرمایا کہ رسول شرع کے واضع ہوتے ہیں اور نبی اس کے حافظ اور نگہبان ۔شانِ نُزول : جب سورۂ والنجم نازل ہوئی تو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجدِ حرام میں اس کی تلاوت فرمائی اور بہت آہستہ آہستہ آیتوں کے درمیان وقفہ فرماتے ہوئے جس سے سننے والے غور بھی کر سکیں اور یاد کرنے والوں کو یاد کرنے میں مدد بھی ملے جب آپ نے آیت وَمَنٰوۃَ الثَّالِثَۃَ الْاُخْرٰی پڑھ کر حسبِ دستور وقفہ فرمایا تو شیطان نے مشرکین کے کان میں اس سے ملا کر دو کلمے ایسے کہہ دیئے جن سے بُتوں کی تعریف نکلتی تھی ، جبریلِ امین نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ حال عرض کیا اس سے حضور کو رنج ہوا ، اللہ تعالٰی نے آپ کی تسلّی کے لئے یہ آیت نازل فرمائی ۔(ف140)جو پیغمبر پڑھتے ہیں اور انہیں شیطانی کلمات کے خلط سے محفوظ فرماتا ہے ۔
تاکہ شیطان کے ڈالے ہوئے کو فتنہ کردے (ف۱٤۱) ان کے لیے جن کے دلوں میں بیماری ہے (ف۱٤۲) اور جن کے دل سخت ہیں (ف۱٤۳) اور بیشک ستمگار (ف۱٤٤) دُھرکے (پرلے درجے کے) جھگڑالو ہیں،
(ف141)اور ابتلا و آزمائش بنا دے ۔(ف142)شک اور نفاق کی ۔(ف143)حق کو قبول نہیں کرتے اور یہ مشرکین ہیں ۔(ف144)یعنی مشرکین و منافقین ۔
اور اس لیے کہ جان لیں وہ جن کو علم ملا ہے (ف۱٤۵) کہ وہ (ف۱٤٦) تمہارے رب کے پاس سے حق ہے تو اس پر ایمان لائیں تو جھک جائیں اس کے لیے ان کے دل، اور بیشک اللہ ایمان والوں کو سیدھی راہ چلانے والا ہے،
(ف145)اللہ کے دین کا اور اس کی آیات کا ۔(ف146)یعنی قرآن شریف ۔
اور کافر اس سے (ف۱٤۷) ہمیشہ شک میں رہیں گے یہاں تک کہ ان پر قیامت آجائے اچانک (ف۱٤۸) یا ان پر ایسے دن کا عذاب آئے جس کا پھل ان کے لیے کچھ اچھا نہ ہو (ف۱٤۹)
(ف147)یعنی قرآن سے یا دینِ اسلام سے ۔(ف148)یا موت کہ وہ بھی قیامتِ صغرٰی ہے ۔(ف149)اس سے بدر کا دن مراد ہے جس میں کافِروں کے لئے کچھ کشائش و راحت نہ تھی اور بعض مفسّرین نے کہا کہ اس سے روزِ قیامت مراد ہے ۔
اور وہ جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنے گھر بار چھوڑے (ف۱۵۲) پھر مارے گئے یا مرگئے تو اللہ ضرور انھیں اچھی روزی دے گا (ف۱۵۳) اور بیشک اللہ کی روزی سب سے بہتر ہے،
(ف152)اور اس کی رضا کے لئے عزیز و اقارب کو چھوڑ کر وطن سے نکلے اور مکّہ مکرّمہ سے مدینہ طیّبہ کی طرف ہجرت کی ۔(ف153)یعنی رزقِ جنت جو کبھی منقطع نہ ہو ۔
ضرور انھیں ایسی جگہ لے جائے گا جسے وہ پسند کریں گے (ف۱۵٤) اور بیشک اللہ علم اور حلم والا ہے،
(ف154)وہاں ان کی ہر مراد پوری ہو گی اور کوئی ناگوار بات پیش نہ آئے گی ۔شانِ نُزول : نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ کے بعض اصحاب نے عرض کیا یارسولَ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے جو اصحاب شہید ہو گئے ہم جانتے ہیں کہ بارگاہِ الٰہی میں ان کے بڑے درجے ہیں اور ہم جہادوں میں حضور کے ساتھ رہیں گے لیکن اگر ہم آپ کے ساتھ رہے اور بے شہادت کے موت آئی تو آخرت میں ہمارے لئے کیا ہے ، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں وَالَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اﷲِ ۔
بات یہ ہے اور جو بدلہ لے (ف۱۵۵) جیسی تکلیف پہنچائی گئی تھی پھر اس پر زیادتی کی جائے (ف۱۵٦) تو بیشک اللہ اس کی مدد فرمائے گا (ف۱۵۷) بیشک اللہ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے،
(ف155)کوئی مؤمن ظلم کا مشرک سے ۔(ف156)ظالم کی طرف سے اس کو بے وطن کر کے ۔(ف157)شانِ نُزول : یہ آیت مشرکین کے حق میں نازل ہوئی جو ماہِ محرّم کی اخیر تاریخوں میں مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے اور مسلمانوں نے ماہِ مبارک کی حرمت کے خیال سے لڑنا نہ چاہا مگر مشرک نہ مانے اور انہوں نے قتال شروع کر دیا مسلمان ان کے مقابل ثابت رہے اللہ تعالٰی نے ان کی مدد فرمائی ۔
یہ (ف۱۵۸) اس لیے کہ اللہ تعالیٰ رات کو ڈالتا ہے دن کے حصہ میں اور دن کو لاتا ہے رات کے حصہ میں (ف۱۵۹) اور اس لیے کہ اللہ سنتا دیکھتا ہے،
(ف158)یعنی مظلوم کی مدد فرمانا اس لئے ہے کہ اللہ جو چاہے اس پر قادر ہے اور اس کی قدرت کی نشانیاں ظاہر ہیں ۔(ف159)یعنی کبھی دن کو بڑھاتا رات کو گھٹاتا ہے اور کبھی رات کو بڑھاتا دن کو گھٹاتا ہے اس کے سوا کوئی اس پر قدرت نہیں رکھتا جو ایسا قدرت والا ہے وہ جس کی چاہے مدد فرمائے اور جسے چاہے غالب کرے ۔
کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے تمہارے بس میں کردیا جو کچھ زمین میں ہے (ف۱٦۳) اور کشتی کہ دریا میں اس کے حکم سے چلتی ہے (ف۱٦٤) اور وہ روکے ہوئے ہے آسمان کو کہ زمین پر نہ گر پڑے مگر اس کے حکم سے، بیشک اللہ آدمیوں پر بڑی مہر والا مہربان ہے (ف۱٦۵)
(ف163)جانور وغیرہ جن پر تم سوار ہوتے ہو اور جن سے تم کام لیتے ہو ۔(ف164)تمہارے لئے اس کے چلانے کے واسطے ہوا اور پانی کو مسخر کیا ۔(ف165)کہ اس نے ان کے لئے منفعتوں کے دروازے کھولے اور طرح طرح کی مضرتوں سے ان کو محفوظ کیا ۔
اور وہی ہے جس نے تمہیں زندہ کیا (ف۱٦٦) اور پھر تمہیں مارے گا (ف۱٦۷) پھر تمہیں جِلائے گا (ف۱٦۸) بیشک آدمی بڑا ناشکرا ہے (ف۱٦۹)
(ف166)بے جان نطفہ سے پیدا فرما کر ۔(ف167)تمہاری عمریں پوری ہونے پر ۔(ف168)روزِ بَعث ثواب و عذاب کے لئے ۔(ف169)کہ باوجود اتنی نعمتوں کے اس کی عبادت سے منہ پھیرتا ہے اور بے جان مخلوق کی پرستش کرتا ہے ۔
ہر امت کے لیے (ف۱۷۰) ہم نے عبادت کے قاعدے بنادیے کہ وہ ان پر چلے (ف۱۷۱) تو ہرگز وہ تم سے اس معاملہ میں جھگڑا نہ کریں (ف۱۷۲) اور اپنے رب کی طرف بلاؤ (ف۱۷۳) بیشک تم سیدھی راہ پر ہو،
(ف170)اہلِ دین و ملل میں سے ۔(ف171)اور عامل ہو ۔(ف172)یعنی امرِ دین میں یا ذبیحہ کے امر میں ۔شانِ نُزول : یہ آیت بدیل ابن ور قاء اور بشر بن سفیان اور یزید ابنِ خنیس کے حق میں نازل ہوئی ان لوگوں نے اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا تھا کیا سبب ہے جس جانور کو تم خود قتل کرتے ہو اسے تو کھاتے ہو اور جس کو اللہ مارتا ہے اس کو نہیں کھاتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف173)اور لوگوں کو اس پر ایمان لانے اور اس کا دین قبول کرنے اور اس کی عبادت میں مشغول ہونے کی دعوت دو ۔
کیا تو نے نہ جانا کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، بیشک یہ سب ایک کتاب میں ہے (ف۱۷٦) بیشک یہ (ف۱۷۷) اللہ پر آسان ہے (ف۱۷۸)
(ف176)یعنی لوحِ محفوظ میں ۔(ف177)یعنی ان سب کا علم یا تمام حوادث کا لوحِ محفوظ میں ثبت فرمانا ۔(ف178)اس کے بعد کُفّار کی جہالتوں کا بیان فرمایا جاتا ہے کہ وہ ایسوں کی عبادت کرتے ہیں جو عبادت کے مستحق نہیں ۔
اور اللہ کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں (ف۱۷۹) جن کی کوئی سند اس نے نہ اتاری اور ایسوں کو جن کا خود انھیں کچھ علم نہیں (ف۱۸۰) اور ستمگاروں کا (ف۱۸۱) کوئی مددگار نہیں (ف۱۸۲)
(ف179)یعنی بُتوں کو ۔(ف180)یعنی ان کے پاس اپنے اس فعل کی نہ کوئی دلیلِ عقلی ہے نہ نقلی ، مَحض جہل و نادانی سے گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں اور جو کسی طرح پُوجے جانے کے مستحق نہیں ان کوپُوجتے ہیں یہ شدید ظلم ہے ۔(ف181)یعنی مشرکین کا ۔(ف182)جو انہیں عذابِ الٰہی سے بچا سکے ۔
اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں پڑھی جائیں (۱۸۳) تو تم ان کے چہروں پر بگڑنے کے آثار دیکھو گے جنہوں نے کفر کیا، قریب ہے کہ لپٹ پڑیں ان کو جو ہماری آیتیں ان پر پڑھتے ہیں، تم فرمادو کیا میں تمہیں بتادوں جو تمہارے اس حال سے بھی (ف۱۸٤) بدتر ہے وہ آگ ہے، اللہ نے اس کا وعدہ دیا ہے کافروں کو، اور کیا ہی بری پلٹنے کی جگہ،
(ف183)اور قرآنِ کریم انہیں سُنایا جائے جس میں بیانِ احکام اور تفصیلِ حلال و حرام ہے ۔(ف184)یعنی تمہارے اس غیظ و ناگواری سے بھی جو قرآنِ پاک سُن کر تم میں پیدا ہوتی ہے ۔
اے لوگو! ایک کہاوت فرمائی جاتی ہے اسے کان لگا کر سنو (ف۱۸۵) وہ جنہیں اللہ کے سوا تم پوجتے ہو (ف۱۸٦) ایک مکھی نہ بناسکیں گے اگرچہ سب اس پر اکٹھے ہوجائیں (ف۱۸۷) اور اگر مکھی ان سے کچھ چھین کرلے جائے (ف۱۸۸) تو اس سے چھڑا نہ سکیں (ف۱۸۹) کتنا کمزور چاہنے والا اور وہ جس کو چاہا (ف۱۹۰)
(ف185)اور اس میں خوب غور کرو وہ کہاوت یہ ہے کہ تمہارے بُت ۔(ف186)ان کی عاجزی اور بے قدرتی کا یہ حال ہے کہ وہ نہایت چھوٹی سی چیز ۔(ف187)تو عاقل کو کب شایاں ہے کہ ایسے کو معبود ٹھہرائے ایسے کو پُوجنا اور اِلٰہ قرار دینا کتنا انتہا درجہ کا جہل ہے ۔(ف188)وہ شہد و زعفران وغیرہ جو مشرکین بُتوں کے منہ اور سروں پر ملتے ہیں جس پر مکھیاں بھنکتی ہیں ۔(ف189)ایسے کو خدا بنانا اور معبود ٹھہرانا کتنا عجیب اور عقل سے دور ہے ۔(ف190)چاہنے والے سے بُت پرست اور چاہے ہوئے سے بُت مراد ہے یا چاہنے والے سے مکھی مراد ہے جو بُت پر سے شہد و زعفران کی طالب ہے اور مطلوب سے بُت اور بعض نے کہا کہ طالب سے بُت مراد ہے اور مطلوب سے مکھی ۔
اللہ چن لیتا ہے فرشتوں میں سے رسول (ف۱۹۲) اور آدمیوں میں سے (ف۱۹۳) بیشک اللہ سنتا دیکھتا ہے،
(ف192)مثل جبریل و میکائیل وغیرہ کے ۔(ف193)مثل حضرت ابراہیم و حضرت موسٰی و حضرت عیسٰی وحضرت سیدِ عالَم صلوٰۃ اللہ تعالٰی علیہم و سلامہ کے ۔شانِ نُزول : یہ آیت ان کُفّار کے رد میں نازل ہوئی جنہوں نے بشر کے رسول ہونے کا انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ بشر کیسے رسول ہو سکتا ہے اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ اللہ مالک ہے جسے چاہے اپنا رسول بنائے وہ انسانوں میں سے بھی رسول بناتا ہے اور ملائکہ میں سے بھی جنہیں چاہے ۔
اے ایمان والو! رکوع اور سجدہ کرو (ف۱۹۵) اور اپنے رب کی بندگی کرو (ف۱۹٦) اور بھلے کام کرو (ف۱۹۷) اس امید پر کہ تمہیں چھٹکارا ہو، (السجدة) عندالشافعی
(ف195)اپنی نمازوں میں اسلام کے اوّل عہد میں نماز بغیر رکوع و سجود کے تھی پھر نماز میں رکوع و سجود کا حکم فرمایا گیا ۔(ف196)یعنی رکوع و سجود خاص اللہ کے لئے ہوں اور عبادت میں اخلاص اختیار کرو ۔(ف197)صلہ رحمی و مکارمِ اخلاق وغیرہ نیکیاں ۔
اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا حق ہے جہاد کرنے کا (ف۱۹۸) اس نے تمہیں پسند کیا (ف۱۹۹) اور تم پر دین میں کچھ تنگی نہ رکھی (ف۲۰۰) تمہارے باپ ابراہیم کا دین (ف۲۰۱) اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے اگلی کتابوں میں اور اس قرآن میں تاکہ رسول تمہارا نگہبان و گواہ ہو (ف۲۰۲) اور تم اور لوگوں پر گواہی دو (ف۲۰۳) تو نماز برپا رکھو (ف۲۰٤) اور زکوٰة دو اور اللہ کی رسی مضبوط تھام لو (ف۲۰۵) وہ تمہارا مولیٰ ہے تو کیا ہی اچھا مولیٰ اور کیا ہی اچھا مددگار،
(ف198)یعنی نیتِ صادقہ خالصہ کے ساتھ اعلاءِ دین کے لئے ۔(ف199)اپنے دین و عبادت کے لئے ۔(ف200)بلکہ ضرورت کے موقعوں پر تمہارے لئے سہولت کر دی جیسے کہ سفر میں نماز کا قصر اور روزے کے افطار کی اجازت اور پانی نہ پانے یا پانی کے ضرر کرنے کی حالت میں غسل اور وضو کی جگہ تیمم تو تم دین کی پیروی کرو ۔(ف201)جو دینِ محمّدی میں داخل ہے ۔(ف202)روزِ قیامت کہ تمہارے پاس خدا کا پیام پہنچا دیا ۔(ف203)کہ انہیں ان رسولوں نے احکامِ خداوندی پہنچا دیئے اللہ تعالٰی نے تمہیں یہ عزت و کرامت عطا فرمائی ۔(ف204)اس پر مداومت کرو ۔(ف205)اور اس کے دین پر قائم رہو ۔