Al-Haqqah الحآقۃ

پارہ: 29
سورہ: 69
آیات: 52
اَلۡحَـآقَّةُ ۙ‏ ﴿1﴾

وہ حق ہونے والی (ف۲)

The true event!

مَا الۡحَـآقَّةُ​ ۚ‏ ﴿2﴾

کیسی وہ حق ہونے والی (ف۳)

How tremendous is the true event!

وَمَاۤ اَدۡرٰٮكَ مَا الۡحَــآقَّةُ ؕ‏ ﴿3﴾

اور تم نے کیا جانا کیسی وہ حق ہونے والی (ف٤)

And what have you understood, how tremendous the true event is!

كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ وَعَادٌۢ بِالۡقَارِعَةِ‏ ﴿4﴾

ثمود اور عاد نے اس سخت صدمہ دینے والی کو جھٹلایا،

The tribes of Thamud and A’ad denied the event of great dismay. (The Day of Resurrection)

فَاَمَّا ثَمُوۡدُ فَاُهۡلِكُوۡا بِالطَّاغِيَةِ‏ ﴿5﴾

تو ثمود تو ہلاک کیے گئے حد سے گزری ہوئی چنگھاڑ سے (ف۵)

So regarding the Thamud, they were destroyed by a terrible scream.

وَاَمَّا عَادٌ فَاُهۡلِكُوۡا بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍۙ‏ ﴿6﴾

اور رہے عاد وہ ہلاک کیے گئے نہایت سخت گرجتی آندھی سے،

And as for A’ad, they were destroyed by a severe thundering windstorm.

سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍۙ حُسُوۡمًا ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰىۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ​ ۚ‏ ﴿7﴾

وہ ان پر قوت سے لگادی سات راتیں اور آٹھ دن (ف٦) لگاتار تو ان لوگوں کو ان میں (ف۷) دیکھو بچھڑے ہوئے (ف۸) گویا وہ کھجور کے ڈھنڈ (سوکھے تنے) ہیں گرے ہوئے،

He forced it upon them with strength, consecutively for seven nights and eight days – so you would see those people overthrown in it, like trunks of date palms fallen down.

فَهَلۡ تَرٰى لَهُمۡ مِّنۡۢ بَاقِيَةٍ‏ ﴿8﴾

تو تم ان میں کسی کو بچا ہوا دیکھتے ہو (ف۹)

So do you see any survivor among them?

وَجَآءَ فِرۡعَوۡنُ وَمَنۡ قَبۡلَهٗ وَالۡمُؤۡتَفِكٰتُ بِالۡخَـاطِئَةِ​ۚ‏ ﴿9﴾

اور فرعون اور اس سے اگلے (ف۱۰) اور الٹنے والی بستیاں (ف۱۱) خطا لائے (ف۱۲)

And Firaun, and those before him, and the dwellings that were inverted and thrown, had brought error.

فَعَصَوۡا رَسُوۡلَ رَبِّهِمۡ فَاَخَذَهُمۡ اَخۡذَةً رَّابِيَةً‏ ﴿10﴾

تو انہوں نے اپنے رب کے رسولوں کا حکم نہ مانا (ف۱۳) تو اس نے انہیں بڑھی چڑھی گرفت سے پکڑا،

They therefore disobeyed the Noble Messengers of their Lord – so He seized them with an intense seizure.

اِنَّا لَمَّا طَغَا الۡمَآءُ حَمَلۡنٰكُمۡ فِى الۡجَارِيَةِ ۙ‏ ﴿11﴾

بیشک جب پانی نے سر اٹھایا تھا (ف۱٤) ہم نے تمہیں (ف۱۵) کشتی میں سوار کیا (ف۱٦)

Indeed when the water swelled up, We boarded you onto the ship.

لِنَجۡعَلَهَا لَـكُمۡ تَذۡكِرَةً وَّتَعِيَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِيَةٌ‏ ﴿12﴾

کہ اسے (ف۱۷) تمہارے لیے یادگار کریں (ف۱۸) اور اسے محفوظ رکھے وہ کان کہ سن کر محفوظ رکھتا ہو (ف۱۹)

In order to make it a remembrance for you, and in order that the ears that store may remember.

فَاِذَا نُفِخَ فِى الصُّوۡرِ نَفۡخَةٌ وَّاحِدَةٌ ۙ‏ ﴿13﴾

پھر جب صور پھونک دیا جائے ایک دم،

So when the Trumpet will be blown, with a sudden single blow.

وَحُمِلَتِ الۡاَرۡضُ وَ الۡجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةً ۙ‏ ﴿14﴾

اور زمین اور پہاڑ اٹھا کر دفعتا ً چورا کردیے جائیں،

And the earth and the mountains will be lifted up and crushed with a single crush.

فَيَوۡمَٮِٕذٍ وَّقَعَتِ الۡوَاقِعَةُ ۙ‏ ﴿15﴾

وہ دن ہے کہ ہو پڑے گی وہ ہونے والی (ف۲۰)

So that is the day when the forthcoming event will occur.

وَانْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِىَ يَوۡمَٮِٕذٍ وَّاهِيَةٌ ۙ‏ ﴿16﴾

اور آسمان پھٹ جائے گا تو اس دن اس کا پتلا حال ہوگا (ف۲۱)

And the heaven will split asunder – so on that day it will be unstable.

وَّالۡمَلَكُ عَلٰٓى اَرۡجَآٮِٕهَا ​ؕ وَيَحۡمِلُ عَرۡشَ رَبِّكَ فَوۡقَهُمۡ يَوۡمَٮِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ ؕ‏ ﴿17﴾

اور فرشتے اس کے کناروں پر کھڑے ہوں گے (ف۲۲) اور اس دن تمہارے رب کا عرش اپنے اوپر آٹھ فرشتے اٹھائیں گے (ف۲۳)

And the angels will be on its sides; and on that day, eight angels will carry the Throne of your Lord above them.

يَوۡمَٮِٕذٍ تُعۡرَضُوۡنَ لَا تَخۡفٰى مِنۡكُمۡ خَافِيَةٌ‏ ﴿18﴾

اس دن تم سب پیش ہو گے (ف۲٤) کہ تم میں کوئی چھپنے والی جان چھپ نہ سکے گی،

On that day all of you will be brought forth, so none among you wishing to hide will be able to hide.

فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِىَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖۙ فَيَقُوۡلُ هَآؤُمُ اقۡرَءُوۡا كِتٰبِيَهۡ​ۚ‏ ﴿19﴾

تو وہ جو اپنا نامہٴ اعمال دہنے ہاتھ میں دیا جائے گا (ف۲۵) کہے گا لو میرے نامہٴ اعمال پڑھو،

So whoever is given his book in his right hand – he will say, “Take, read my account!”

اِنِّىۡ ظَنَنۡتُ اَنِّىۡ مُلٰقٍ حِسَابِيَهۡ​ۚ‏ ﴿20﴾

مجھے یقین تھا کہ میں اپنے حساب کو پہنچوں گا (ف۲٦)

“I was certain that I will confront my account.”

فَهُوَ فِىۡ عِيۡشَةٍ رَّاضِيَةٍۙ‏ ﴿21﴾

تو وہ من مانتے چین میں ہے،

He is therefore in the desired serenity.

فِىۡ جَنَّةٍ عَالِيَةٍۙ‏ ﴿22﴾

بلند باغ میں،

In a lofty Garden –

قُطُوۡفُهَا دَانِيَةٌ‏ ﴿23﴾

جس کے خوشے جھکے ہوئے (ف۲۷)

The fruit clusters of which are hanging down.

كُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا هَنِيۡٓـــًٔا ۢ بِمَاۤ اَسۡلَفۡتُمۡ فِى الۡاَيَّامِ الۡخَـالِيَةِ‏  ﴿24﴾

کھاؤ اور پیو رچتا ہوا صلہ اس کا جو تم نے گزرے دنوں میں آگے بھیجا (ف۲۸)

“Eat and drink with pleasure – the reward of what you sent ahead, in the past days.”

وَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِىَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ  ۙ فَيَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِىۡ لَمۡ اُوۡتَ كِتٰبِيَهۡ​ۚ‏ ﴿25﴾

اور وہ جو اپنا نامہٴ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا (ف۲۹) کہے گا ہائے کسی طرح مجھے اپنا نوشتہ نہ دیا جاتا،

And whoever is given his book in his left hand – he will say, “Alas, if only my account were not given to me!”

وَلَمۡ اَدۡرِ مَا حِسَابِيَهۡ​ۚ‏ ﴿26﴾

اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے،

“And had never come to know my account!”

يٰلَيۡتَهَا كَانَتِ الۡقَاضِيَةَ​ ۚ‏ ﴿27﴾

ہائے کسی طرح موت ہی قصہ چکا جاتی (ف۳۰)

“Alas, if only it had been just death.”

مَاۤ اَغۡنٰى عَنِّىۡ مَالِيَهۡۚ‏ ﴿28﴾

میرے کچھ کام نہ آیا میرا مال (ف۳۱)

“My wealth did not in the least benefit me.”

هَلَكَ عَنِّىۡ سُلۡطٰنِيَهۡ​ۚ‏ ﴿29﴾

میرا سب زور جاتا رہا (ف۳۲)

“All my power has vanished.”

خُذُوۡهُ فَغُلُّوۡهُ ۙ‏ ﴿30﴾

اسے پکڑو پھر اسے طوق ڈالو (ف۳۳)

It will be said, “Seize him, and shackle him.”

ثُمَّ الۡجَحِيۡمَ صَلُّوۡهُ ۙ‏ ﴿31﴾

پھر اسے بھڑکتی آگ میں دھنساؤ،

“Then hurl him into the blazing fire.”

ثُمَّ فِىۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا فَاسۡلُكُوۡهُ ؕ‏ ﴿32﴾

پھر ایسی زنجیر میں جس کا ناپ ستر ہاتھ ہے (ف۳٤) اسے پُرو دو (ف۳۵)

“Then bind him inside a chain which is seventy arm-lengths.”

اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ الۡعَظِيۡمِۙ‏ ﴿33﴾

بیشک وہ عظمت والے اللہ پر ایمان نہ لاتا تھا (ف۳٦)

“Indeed he refused to accept faith in Allah, the Greatest.”

وَلَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِؕ‏ ﴿34﴾

اور مسکین کو کھانے دینے کی رغبت نہ دیتا (ف۳۷)

“And did not urge to feed the needy.”

فَلَيۡسَ لَـهُ الۡيَوۡمَ هٰهُنَا حَمِيۡمٌۙ‏ ﴿35﴾

تو آج یہاں (ف۳۸) اس کا کوئی دوست نہیں (ف۳۹)

“So he does not have any friend here this day.”

وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ غِسۡلِيۡنٍۙ‏ ﴿36﴾

اور نہ کچھ کھانے کو مگر دوزخیوں کا پیپ،

“Nor any food except the pus discharged from the people of hell.”

لَّا يَاۡكُلُهٗۤ اِلَّا الۡخٰطِئُوْنَ‏ ﴿37﴾

اسے نہ کھائیں گے مگر خطاکار (ف٤۰)

“Which none except the guilty shall eat.”

فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِمَا تُبۡصِرُوۡنَۙ‏ ﴿38﴾

تو مجھے قسم ان چیزوں کی جنہیں تم دیکھتے ہو،

So by oath of the things you see.

وَمَا لَا تُبۡصِرُوۡنَۙ‏ ﴿39﴾

اور جنہیں تم نہیں دیکھتے (ف٤۱)

And by oath of those you do not see.

اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍۚ ۙ‏ ﴿40﴾

بیشک یہ قرآن ایک کرم والے رسول (ف٤۲) سے باتیں ہیں (ف٤۳)

This Qur’an is the speech of Allah with a gracious Noble Messenger.

وَّمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَاعِرٍ​ؕ قَلِيۡلًا مَّا تُؤۡمِنُوۡنَۙ‏ ﴿41﴾

اور وہ کسی شاعر کی بات نہیں (ف٤٤) کتنا کم یقین رکھتے ہو (ف٤۵)

And it is not the speech of a poet; how little do you believe!

وَلَا بِقَوۡلِ كَاهِنٍ​ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَذَكَّرُوۡنَؕ‏ ﴿42﴾

اور نہ کسی کاہن کی بات (ف٤٦) کتنا کم دھیان کرتے ہو (ف٤۷)

Nor is it the speech of a soothsayer; how little do you ponder!

تَنۡزِيۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ‏ ﴿43﴾

اس نے اتارا ہے جو سارے جہان کا رب ہے،

Sent down by the Lord Of The Creation.

وَلَوۡ تَقَوَّلَ عَلَيۡنَا بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِۙ‏ ﴿44﴾

اور اگر وہ ہم پر ایک بات بھی بنا کر کہتے (ف٤۸)

And had he fabricated just one matter upon Us –

لَاَخَذۡنَا مِنۡهُ بِالۡيَمِيۡنِۙ‏ ﴿45﴾

ضرور ہم ان سے بقوت بدلہ لیتے،

We would have definitely taken revenge from him.

ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ  ۖ‏ ﴿46﴾

پھر ان کی رگِ دل کاٹ دیتے (ف٤۹)

Then would have cut off his heart’s artery.

فَمَا مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡهُ حَاجِزِيۡنَ‏ ﴿47﴾

پھر تم میں کوئی ان کا بچانے والا نہ ہوتا،

Then none among you would be his saviour.

وَاِنَّهٗ لَتَذۡكِرَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ‏ ﴿48﴾

اور بیشک یہ قرآن ڈر والوں کو نصیحت ہے،

And indeed this Qur’an is an advice for the pious.

وَاِنَّا لَنَعۡلَمُ اَنَّ مِنۡكُمۡ مُّكَذِّبِيۡنَ‏ ﴿49﴾

اور ضرور ہم جانتے ہیں کہ تم کچھ جھٹلانے والے ہیں،

And indeed We know that some among you are deniers.

وَاِنَّهٗ لَحَسۡرَةٌ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ‏ ﴿50﴾

اور بیشک وہ کافروں پر حسرت ہے (ف۵۰)

And indeed it is a despair for the disbelievers.

 وَاِنَّهٗ لَحَـقُّ الۡيَقِيۡنِ‏ ﴿51﴾

اور بیشک وہ یقین حق ہے (ف۵۱)

And indeed it is a certain Truth.

فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ‏ ﴿52﴾

تو اے محبوب تم اپنے عظمت والے رب کی پاکی بولو (ف۵۲)

Therefore (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), proclaim the purity of your Lord, the Greatest.

Scroll to Top