اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں، اور وہ وہی عزت و حکمت والا ہے (ف۲)
(ف2)شانِ نزول : یہ سورت بنی نضِیر کے حق میں نازل ہوئی ، یہ لوگ یہودی تھے ، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مدینہ طیّبہ میں رونق افروز ہوئے تو انہوں نے حضور سے اس شرط پر صلح کی کہ نہ آپ کے ساتھ ہو کر کسی سے لڑیں ، نہ آپ سے جنگ کریں ، جب جنگِ بدر میں اسلام کی فتح ہوئی تو بنی نضِیر نے کہا یہ وہی نبی ہیں جن کی صفت توریت میں ہے ، پھر جب اُحد میں مسلمانوں کو ہزیمت کی صورت پیش آئی تو یہ شک میں پڑے اور انہوں نے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور حضور کے نیاز مندوں کے ساتھ عداوت کا اظہار کیا اورجو معاہدہ کیا تھا وہ توڑ دیا اور ان کا ایک سردار کعب بن اشرف یہودی چالیس یہودی سواروں کو ساتھ لے کر مکّہ مکرّمہ پہنچا اور کعبۂِ معظّمہ کے پردے تھام کر قریش کے سرداروں سے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے خلاف معاہدہ کیا ۔ اللہ تعالٰی کے علم دینے سے حضور اس حال پر مطّلع تھے اور بنی نضِیر سے ایک خیانت اور بھی واقع ہوچکی تھی کہ انہوں نے قلعہ کے اوپر سے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر بارادۂِ فاسد ایک پتّھر گرایا تھا ، اللہ تعالٰی نے حضور کو خبردار کردیا اور بفضلہٖ تعالٰی حضور محفوظ رہے ۔ غرض جب یہود بنی نضِیرنے خیانت کی اور عہد شکنی کی اور کفّارِ قریش سے حضور کے خلاف عہد کیا تو سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے محمّد بن مسلمہ انصاری کو حکم دیا اور انہوں نے کعب بن اشرف کو قتل کردیا ، پھر حضور مع لشکر کے بنی نضِیر کی طرف روانہ ہوئے اور ان کا محاصرہ کرلیا ، یہ محاصرہ اکّیس روز رہا ، اس درمیان میں منافقین نے یہود سے ہمدردی و موافقت کے بہت معاہدے کئے لیکن اللہ تعالٰی نے ان سب کو ناکام کیا ، یہود کے دلوں میں رعب ڈالا ، آخر کار انہیں حضور کے حکم سے جِلا وطن ہونا پڑا اور وہ شام و اریحا و خیبر کی طرف چلے گئے ۔
وہی ہے جس نے ان کافر کتابیوں کو (ف۳) ان کے گھروں سے نکالا (ف٤) ان کے پہلے حشر کے لیے (ف۵) تمہیں گمان نہ تھا کہ وہ نکلیں گے (ف٦) اور وہ سمجھتے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچالیں گے تو اللہ کا حکم ان کے پاس آیا جہاں سے ان کا گمان بھی نہ تھا (ف۷) اور اس نے ان کے دلوں میں رعب ڈالا (ف۸) کہ اپنے گھر ویران کرتے ہیں اپنے ہاتھوں (ف۹) اور مسلمانوں کے ہاتھوں (ف۱۰) تو عبرت لو اے نگاہ والو،
(ف3)یعنی یہودِ بنی نضِیر کو ۔(ف4)جو مدینہ طیّبہ میں تھے ۔(ف5)یہ جِلاوطنی ان کا پہلا حشر ہے اور دوسرا حشر ان کا یہ ہے کہ امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے انہیں اپنے زمانۂِ خلافت میں خیبر سے شام کی طرف نکالا یا آخرِ حشر روزِقیامت کا حشر ہے کہ آ گ سب لوگوں کو سرزمینِ شام کی طرف لے جائے گی اور وہیں ان پر قیامت قائم ہوگی ، اس کے بعد اہلِ اسلام سے خطاب فرمایا جاتا ہے ۔(ف6)مدینہ سے ، کیونکہ وہ صاحبِ قوّت ، صاحبِ لشکر تھے ، مضبوط قلعے رکھتے تھے ، ان کی تعداد کثیر تھی ، جاگیردار ، صاحبِ مال ۔ (ف7)یعنی خطرہ بھی نہ تھا کہ مسلمان ان پر حملہ آور ہوسکتے ہیں ۔(ف8)ان کے سردار کعب بن اشرف کے قتل سے ۔(ف9)اور ان کو ڈھاتے ہیں تاکہ جو لکڑی وغیرہ انہیں اچھی معلوم ہو وہ جِلاوطن ہوتے وقت اپنے ساتھ لے جائیں ۔(ف10)کہ ان کے مکانوں کے جوحصّے باقی رہ جاتے تھے ۔ انہیں مسلمان گرادیتے تھے تاکہ جنگ کےلئے میدان صاف ہوجائے ۔
جو درخت تم نے کاٹے یا ان کی جڑوں پر قائم چھوڑ دیے یہ سب اللہ کی اجازت سے تھا (ف۱٤) اور اس لیے کہ فاسقوں کو رسوا کرے (ف۱۵)
(ف14)شانِ نزول : جب بنی نضِیراپنے قلعوں میں پناہ گزیں ہوئے تو سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان کے درخت کاٹ ڈالنے اور انہیں جَلادینے کا حکم دیا ، اس پر وہ دشمنانِ خدا بہت گھبرائے اور رنجیدہ ہوئے اور کہنے لگے کہ کیا تمہاری کتاب میں اس کا حکم ہے ؟ مسلمان اس باب میں مختلف ہوگئے ، بعض نے کہا درخت نہ کاٹو ، یہ غنیمت ہے جو اللہ تعالٰی نے ہمیں عطا فرمائی ۔ بعض نے کہا اس سے کفّار کو رسوا کرنا اور انہیں غیظ میں ڈالنا منظور ہے ، اس پر یہ یت نازل ہوئی اور اس میں بتایاگیا کہ مسلمانوں میں جو درخت کاٹنے والے ہیں ان کا عمل بھی درست ہے اور جو کاٹنا نہیں چاہتے وہ بھی ٹھیک کہتے ہیں کیونکہ درختوں کا کاٹنا اور چھوڑ دینا یہ دونوں اللہ تعالٰی کے اذن و اجازت سے ہیں ۔(ف15)یعنی یہود کو ذلیل کرے درخت کاٹنے کی اجازت دے کر ۔
اور جو غنیمت دلائی اللہ نے اپنے رسول کو ان سے (ف۱٦) تو تم نے ان پر نہ اپنے گھوڑے دوڑائے تھے اور نہ اونٹ (ف۱۷) ہاں اللہ اپنے رسولوں کے قابو میں دے دیتا ہے جسے چاہے (ف۱۸) اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
(ف16)یعنی یہودِ بنی نضِیرسے ۔(ف17)یعنی اس کےلئے تمہیں کوئی مشقّت اور کوفت اٹھانا نہیں پڑی ، صرف دو میل کا فاصلہ تھا ، سب لوگ پیادہ پا چلے گئے ، صرف رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سوار ہوئے ۔(ف18)اپنے دشمنوں میں سے ۔ مرا دیہ ہے کہ بنی نضِیر سے جو مال غنیمتیں حاصل ہوئیں ان کےلئے مسلمانوں کو جنگ کرنا نہیں پڑی ، اللہ تعالٰی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ان پر مسلّط کردیا تو یہ مال حضور کی مرضی پر ہے ، جہاں چاہیں خرچ کریں ، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے یہ مال مہاجرین پر تقسیم کردیا اور انصار میں سے صرف تین صاحبِ حاجت لوگوں کو دیا اور وہ ابودجانہ سماک بن خرشہ اور سہل بن حنیف اور حارث بن صمّہ ہیں ۔
جو غنیمت دلائی اللہ نے اپنے رسول کو شہر والوں سے (ف۱۹) وہ اللہ اور رسول کی ہے اور رشتہ داروں (ف۲۰) اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے کہ تمہارے اغنیا کا مال نہ جائے (ف۹۲۱ اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو (ف۲۲) اور جس سے منع فرمائیں باز رہو، اور اللہ سے ڈرو (ف۲۳) بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے (ف۲٤)
(ف19)پہلی آیت میں غنیمت کا جو حکم مذکور ہوا اس آیت میں اسی کی تفصیل ہے اور بعض مفسّرین نے اس قول کی مخالفت کی اور فرمایا کہ پہلی آیت اموالِ بنی نضِیر کے باب میں نازل ہوئی ، ان کو اللہ تعالٰی نے اپنے رسول کےلئے خاص کیا اور یہ آیت ہر اس شہر کی غنیمتوں کے باب میں ہے جس کو مسلمان اپنی قوّت سے حاصل کریں ۔ (مدارک)(ف20)رشتہ داروں سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اہلِ قرابت ہیں یعنی بنی ہاشم وبنی مطّلب ۔(ف21)اور غرباء اور فقراء نقصان میں رہیں جیسا کہ زمانۂِ جاہلیّت میں دستور تھا کہ غنیمت میں سے ایک چہارم تو سردار لے لیتا تھا ، باقی قوم کےلئے چھوڑ دیتا تھا ، اس میں سے مال دار لوگ بہت زیادہ لے لیتے تھے اور غریبوں کےلئے بہت ہی تھوڑا بچتا تھا ، اسی معمول کے مطابق لوگوں نے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عرض کیا کہ حضور غنیمت میں سے چہارم لیں ، باقی ہم باہم تقسیم کرلیں گے ، اللہ تعالٰی نے اس کا رد فرمادیا اور تقسیم کا اختیار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو دیا اور اس کا طریقہ ارشاد فرمایا ۔(ف22)غنیمت میں سے ، کیونکہ وہ تمہارے لئے حلال ہے یا یہ معنٰی ہیں کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تمہیں جو حکم دیں اس کا اتباع کرو کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اطاعت ہر امر میں واجب ہے ۔(ف23)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مخالفت نہ کرواور ان کے تعمیلِ ارشاد میں سستی نہ کرو ۔(ف24)ان پر جو رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نافرمانی کریں اور مالِ غنیمت میں جیسا کہ اوپر ذکر کئے ہوئے لوگوں کا حق ہے ایسا ہی ۔
ان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے (ف۲۵) اللہ کا فضل (ف۲٦) اور اس کی رضا چاہتے اور اللہ و رسول کی مدد کرتے (ف۲۷) وہی سچے ہیں (ف۲۸)
(ف25)اور ان کے گھروں اور مالوں پر کفّارِ مکّہ نے قبضہ کرلیا ۔ مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ کفّار استیلاء سے اموالِ مسلمین کے مالک ہوجاتے ہیں ۔(ف26)یعنی ثوابِ آخرت ۔(ف27)اپنے جان و مال سے دِین کی حمایت میں ۔(ف28)ایمان و اخلاص میں ۔ قتادہ نے فرمایا کہ ان مہاجرین نے گھر اور مال اور کنبے اللہ تعالٰی اور رسول کی محبّت میں چھوڑے اور اسلام کو قبول کیا اور ان تمام شدّتوں اور سختیوں کو گوارا کیا جو اسلام قبول کرنے کی وجہ سے انہیں پیش آئیں ، ان کی حالتیں یہاں تک پہنچیں کہ بھوک کی شدّت سے پیٹ پر پتّھر باندھتے تھے اور جاڑوں میں کپڑا نہ ہونے کے باعث گڑھوں اور غاروں میں گذارا کرتے تھے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ فقراءِ مہاجرین اغنیاسے چالیس سال قبل جنّت میں جائیں گے ۔
اور جنہوں نے پہلے سے (ف۲۹) اس شہر (ف۳۰) اور ایمان میں گھر بنالیا (ف۳۱) دوست رکھتے ہیں انہیں جو ان کی طرف ہجرت کرکے گئے (ف۳۲) اور اپنے دلوں میں کوئی حاجت نہیں پاتے (ف۳۳) اس چیز کو جو دیے گئے (ف۳٤) اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں (ف۳۵) اگرچہ انہیں شدید محتاجی ہو (ف۳٦) اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچایا گیا (ف۳۷) تو وہی کامیاب ہیں،
(ف29)یعنی مہاجرین سے پہلے یا ان کی ہجرت سے پہلے بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے ۔(ف30)مدینۂِ پاک ۔(ف31)یعنی مدینۂِ پاک کو وطن اور ایمان کو اپنا مستقر بنایا اور اسلام لائے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تشریف آوری سے دوسال پہلے مسجد یں بنائیں ، ان کا یہ حال ہے کہ ۔(ف32)چنانچہ اپنے گھروں میں انہیں اتارتے ہیں ، اپنے مالوں میں انہیں نصف کا شریک کرتے ہیں ۔(ف33)یعنی ان کے دلوں میں کوئی خواہش و طلب نہیں پیدا ہوتی ۔(ف34)مہاجرین ۔ یعنی مہاجرین کو جو اموالِ غنیمت دیئے گئے انصار کے دل میں ان کی کوئی خواہش نہیں پیدا ہوتی رشک تو کیا ہوتا سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی برکت نے قلوب ایسے پاک کردیئے کہ انصار مہاجرین کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہیں ۔(ف35)یعنی مہاجرین کو ۔(ف36)شانِ نزول : حدیث شریف میں ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں ایک بھوکا شخص آیا ، حضور نے ازواجِ مطہرات کے حجروں پر معلوم کرایا کیا کھانے کی کوئی چیز ہے ؟ معلوم ہوا کسی بی بی صاحبہ کے یہاں کچھ بھی نہیں ہے ، تب حضور نے اصحاب سے فرمایا جو اس شخص کو مہمان بنائے ، اللہ تعالٰی اس پر رحمت فرمائے ، حضرت ابوطلحہ انصاری کھڑے ہوگئے اور حضور سے اجازت لے کر مہمان کو اپنے گھر لے گئے ، گھر جا کر بی بی سے دریافت کیا ، کچھ ہے ؟ انہوں نے کہا کچھ نہیں ، صرف بچّوں کےلئے تھوڑا سا کھانا رکھا ہے ، حضرت ابوطلحہ نے فرمایا بچّوں کو بَہلا کر سُلادو اور جب مہمان کھانے بیٹھے تو چراغ درست کرنے اٹھو اور چراغ کو بجھادو تاکہ وہ اچھی طرح کھا لے ، یہ اسلئے تجویز کی کہ مہمان یہ نہ جان سکے کہ اہلِ خانہ اس کے ساتھ نہیں کھارہے ہیں کیونکہ اس کو یہ معلوم ہوگا تو وہ اصرار کرے گا اور کھانا کم ہے بھوکا رہ جائے گا ، اس طرح مہمان کو کھلایا اور آپ ان صاحبوں نے بھوکے رات گذاری ، جب صبح ہوئی اور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضورِ اقدس علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا رات فلاں فلاں لوگوں میں عجیب معاملہ پیش آیا ، اللہ تعالٰی ان سے بہت راضی ہے اور یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف37)یعنی جس کے نفس کو لالچ سے پاک کیا گیا ۔
اور وہ جو ان کے بعد آئے (ف۳۸) عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دل میں ایمان والوں کی طرف سے کینہ نہ رکھ (ف۳۹) اے ہمارے رب بیشک تو ہی نہایت مہربان رحم والا ہے،
(ف38)یعنی مہاجرین و انصار کے ۔ اس میں قیامت تک پیدا ہونے والے مسلمان داخل ہیں ۔(ف39)یعنی اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف سے ۔ مسئلہ : جس کے دل میں کسی صحابی کی طرف سے بغض یا کدورت ہو اور وہ ان کے لئے دعائے رحمت و استغفار نہ کرے وہ مومنین کے اقسام سے خارج ہے کیونکہ یہاں مومنین کی تین قِسمیں فرمائی گئیں ۔ مہاجرین ، انصاراور ان کے بعد والے جوان کے تابع ہوں اور ان کی طرف سے دل میں کوئی کدورت نہ رکھیں اور ان کے لئے دعائے مغفرت کریں تو جو صحابہ سے کدورت رکھے رافضی ہو یا خارجی وہ مسلمانوں کی ان تینوں قِسموں سے خارج ہے ، حضرت اُمُّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے فرمایا کہ لوگوں کو حکم تو یہ دیا گیا کہ صحابہ کےلئے استغفار کریں ، اور کرتے ہیں یہ کہ گالیاں دیتے ہیں ۔
کیا تم نے منافقوں کو نہ دیکھا (ف٤۰) کہ اپنے بھائیوں کافر کتابیوں (ف٤۱) سے کہتے ہیں کہ اگر تم نکالے گئے (ف٤۲) تو ضرور ہم تمہارے ساتھ جائیں گے اور ہرگز تمہارے بارے میں کسی کی نہ مانیں گے (ف٤۳) اور اگر تم سے لڑائی ہوئی تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں گے، اور اللہ گواہ ہے کہ وہ جھوٹے ہیں (ف٤٤)
(ف40)عبداللہ بن اُ بَی بن سلول منافق اور اس کے رفیقوں کو ۔(ف41)یعنی بنی قُرَیْظَہ وبنی نضِیر ۔(ف42)مدینہ شریف سے ۔(ف43)یعنی تمہارے خلاف کسی کا کہا نہ مانیں گے ، نہ مسلمانوں کا ، نہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ۔(ف44)یعنی یہود سے ، منافقین کے یہ سب وعدے جھوٹے ہیں ، اس کے بعد اللہ تعالٰی منافقین کے حال کی خبر دیتا ہے ۔
اگر وہ نکالے گئے (ف٤۵) تو یہ ان کے ساتھ نہ نکلیں گے، اور ان سے لڑائی ہوئی تو یہ ان کی مدد نہ کریں گے (ف٤٦) اگر ان کی مدد کی بھی تو ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے، پھر (ف٤۷) مدد نہ پائیں گے،
(ف45)یعنی یہود ۔(ف46)چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ یہود نکالے گئے اور منافقین ان کے ساتھ نہ نکلے اور یہود سے مقاتلہ ہوا اور منافقین نے یہود کی مدد نہ کی ۔(ف47)جب یہ مدد گار بھاگ نکلیں گے تو منافق ۔
بیشک (ف٤۸) ان کے دلوں میں اللہ سے زیادہ تمہارا ڈر ہے (ف٤۹) یہ اس لیے کہ وہ ناسمجھ لوگ ہیں (ف۵۰)
(ف48)اے مسلمانوں ۔(ف49)کہ تمہارے سامنے تو اظہارِ کفر سے ڈرتے ہیں اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ اللہ تعالٰی دلوں کی چُھپی باتیں جانتا ہے دل میں کفر رکھتے ہیں ۔(ف50)اللہ تعالٰی کی عظمت کو نہیں جانتے ورنہ جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے ڈرتے ۔
یہ سب مل کر بھی تم سے نہ لڑیں گے مگر قلعہ بند شہروں میں یا دُھسّوں (شہر پناہ) کے پیچھے، آپس میں ان کی آنچ (جنگ) سخت ہے (ف۵۱) تم انہیں ایک جتھا سمجھو گے اور ان کے دل الگ الگ ہیں، یہ اس لیے کہ وہ بےعقل لوگ ہیں (ف۵۲)
(ف51)یعنی جب وہ آپس میں لڑیں تو بہت شدّت اور قوّت والے ہیں لیکن مسلمانوں کے مقابل بزدل اور نامرد ثابت ہوں گے ۔(ف52)اس کے بعد یہود کی ایک مثل ارشاد فرمائی ۔
ان کی سی کہاوت جو ابھی قریب زمانہ میں ان سے پہلے تھے (ف۵۳) انہوں نے اپنے کام کا وبال چکھا (ف۵٤) اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے (ف۵۵)
(ف53)یعنی ان کا حال مشرکینِ مکّہ کا سا ہے کہ بدر میں ۔(ف54)یعنی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ عداوت رکھنے اور کفر کرنے کا کہ ذلّت و رسوائی کے ساتھ ہلاک کئے گئے ۔(ف55)اور منافقین کا یہودِ بنی نضِیر کے ساتھ سلوک ایسا ہے جیسے ۔
شیطان کی کہاوت جب اس نے آدمی سے کہا کفر کر پھر جب اس نے کفر کرلیا بولا میں تجھ سے الگ ہوں میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو سارے جہان کا رب (ف۵٦)
(ف56)ایسے ہی منافقین نے یہودِ بنی نضِیر کو مسلمانوں کے خلاف ابھارا ، جنگ پر آمادہ کیا ، ان سے مدد کے وعدے کئے اور جب ان کے کہے سے وہ اہلِ اسلام سے برسرِ جنگ ہوئے تو منافق بیٹھ رہے ، ان کا ساتھ نہ دیا ۔
اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتارتے (ف٦۵) تو ضرور تو اسے دیکھتا جھکا ہوا پاش پاش ہوتا اللہ کے خوف سے (ف٦٦) اور یہ مثالیں لوگوں کے لیے ہم بیان فرماتے ہیں کہ وہ سوچیں،
(ف65)اور اس کو انسان کی سی تمیز عطا کرتے ۔(ف66)یعنی قرآن کی عظمت و شان ایسی ہے کہ پہاڑ کو اگر ادراک ہوتا تو وہ باوجود اتنا سخت اور مضبوط ہونے کے پاش پاش ہوجاتا ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفّار کے دل کتنے سخت ہیں کہ ایسے باعظمت کلام سے اثر پذیر نہیں ہوتے ۔
وہی ہے اللہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں بادشاہ (ف٦۸) نہایت پاک (ف٦۹) سلامتی دینے والا (ف۷۰) امان بخشنے والا (ف۷۱) حفاظت فرمانے والا عزت والا عظمت والا تکبر والا (ف۷۲) اللہ کو پاکی ہے ان کے شرک سے،
(ف68)مُلک و حکومت کا حقیقی مالک کہ تمام موجودات اس کے تحتِ مُلک و حکومت ہے اور اس کی مالکیّت و سلطنت دائمی ہے جسے زوال نہیں ۔(ف69)ہر عیب سے اور تمام برائیوں سے ۔(ف70)اپنی مخلوق کو ۔(ف71)اپنے عذاب سے اپنے فرمانبردار بندوں کو ۔(ف72)یعنی عظمت اور بڑائی والا اپنی ذات اور تمام صفات میں اور اپنی بڑائی کا اظہار اسی کے شایاں اور لائق ہے کہ اس کا ہر کمال عظیم ہے اور ہر صفت عالی ، مخلوق میں کسی کو نہیں پہنچتا کہ تکبر یعنی اپنی بڑائی کا اظہارکرے ، بندے کےلئے عجزو انکسار شایاں ہے ۔
وہی ہے اللہ بنانے والا پیدا کرنے والا (ف۷۳) ہر ایک کو صورت دینے والا (ف۷٤) اسی کے ہیں سب اچھے نام (ف۷۵) اس کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
(ف73)نیست سے ہست کرنے والا۔(ف74)جیسی چاہے ۔(ف75)ننانوے ۹۹جو حدیث میں وارد ہیں ۔