اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں، اور وہ وہی عزت و حکمت والا ہے (ف۲)
All whatever is in the heavens and all whatever is in the earth proclaims the Purity of Allah; and He only is the Most Honourable, the Wise.
अल्लाह की पाकी बोलता है जो कुछ आसमानों में है और जो कुछ ज़मीन में, और वह वही इज़्ज़त व हिकमत वाला है
Allah ki paaki bolta hai jo kuch aasmanon mein hai aur jo kuch zameen mein, aur woh wahi izzat o hikmat wala hai
(ف2)شانِ نزول : یہ سورت بنی نضِیر کے حق میں نازل ہوئی ، یہ لوگ یہودی تھے ، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مدینہ طیّبہ میں رونق افروز ہوئے تو انہوں نے حضور سے اس شرط پر صلح کی کہ نہ آپ کے ساتھ ہو کر کسی سے لڑیں ، نہ آپ سے جنگ کریں ، جب جنگِ بدر میں اسلام کی فتح ہوئی تو بنی نضِیر نے کہا یہ وہی نبی ہیں جن کی صفت توریت میں ہے ، پھر جب اُحد میں مسلمانوں کو ہزیمت کی صورت پیش آئی تو یہ شک میں پڑے اور انہوں نے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور حضور کے نیاز مندوں کے ساتھ عداوت کا اظہار کیا اورجو معاہدہ کیا تھا وہ توڑ دیا اور ان کا ایک سردار کعب بن اشرف یہودی چالیس یہودی سواروں کو ساتھ لے کر مکّہ مکرّمہ پہنچا اور کعبۂِ معظّمہ کے پردے تھام کر قریش کے سرداروں سے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے خلاف معاہدہ کیا ۔ اللہ تعالٰی کے علم دینے سے حضور اس حال پر مطّلع تھے اور بنی نضِیر سے ایک خیانت اور بھی واقع ہوچکی تھی کہ انہوں نے قلعہ کے اوپر سے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر بارادۂِ فاسد ایک پتّھر گرایا تھا ، اللہ تعالٰی نے حضور کو خبردار کردیا اور بفضلہٖ تعالٰی حضور محفوظ رہے ۔ غرض جب یہود بنی نضِیرنے خیانت کی اور عہد شکنی کی اور کفّارِ قریش سے حضور کے خلاف عہد کیا تو سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے محمّد بن مسلمہ انصاری کو حکم دیا اور انہوں نے کعب بن اشرف کو قتل کردیا ، پھر حضور مع لشکر کے بنی نضِیر کی طرف روانہ ہوئے اور ان کا محاصرہ کرلیا ، یہ محاصرہ اکّیس روز رہا ، اس درمیان میں منافقین نے یہود سے ہمدردی و موافقت کے بہت معاہدے کئے لیکن اللہ تعالٰی نے ان سب کو ناکام کیا ، یہود کے دلوں میں رعب ڈالا ، آخر کار انہیں حضور کے حکم سے جِلا وطن ہونا پڑا اور وہ شام و اریحا و خیبر کی طرف چلے گئے ۔
وہی ہے جس نے ان کافر کتابیوں کو (ف۳) ان کے گھروں سے نکالا (ف٤) ان کے پہلے حشر کے لیے (ف۵) تمہیں گمان نہ تھا کہ وہ نکلیں گے (ف٦) اور وہ سمجھتے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچالیں گے تو اللہ کا حکم ان کے پاس آیا جہاں سے ان کا گمان بھی نہ تھا (ف۷) اور اس نے ان کے دلوں میں رعب ڈالا (ف۸) کہ اپنے گھر ویران کرتے ہیں اپنے ہاتھوں (ف۹) اور مسلمانوں کے ہاتھوں (ف۱۰) تو عبرت لو اے نگاہ والو،
It is He Who expelled the disbelievers among the People given the Book(s) from their homes, for their first gathering; you did not expect them to leave, whereas they assumed that their fortresses would save them from Allah, so Allah’s command came to them from a place they had not imagined; and He instilled awe in their hearts, so they ruin their own houses by their own hands and at the hands of the Muslims; therefore learn a lesson, O those who can perceive!
वही है जिसने उन काफ़िर किताबियों को उनके घरों से निकाला उनके पहले हश्र के लिए तुम्हें गुमान न था कि वह निकलेंगे और वह समझते थे कि उनके क़िले उन्हें अल्लाह से बचा लेंगे तो अल्लाह का हुक्म उनके पास आया जहाँ से उनका गुमान भी न था और उसने उनके दिलों में रुʽब डाला कि अपने घर वीरान करते हैं अपने हाथों और मुसलमानों के हाथों तो इबरत लो ऐ निगाह वालो,
Wohi hai jisne un kaafir kitabon walon ko unke gharon se nikala unke pehle hashr ke liye. Tumhein gumaan na tha ke woh niklenge aur woh samajhte the ke unke qile unhein Allah se bacha lenge. To Allah ka hukum unke paas aaya jahan se unka gumaan bhi na tha aur usne unke dilon mein roʽb dala ke apne ghar veeran karte hain apne hathon aur musalmanon ke hathon. To ibraat lo ae nigaah waalo,
(ف3)یعنی یہودِ بنی نضِیر کو ۔(ف4)جو مدینہ طیّبہ میں تھے ۔(ف5)یہ جِلاوطنی ان کا پہلا حشر ہے اور دوسرا حشر ان کا یہ ہے کہ امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے انہیں اپنے زمانۂِ خلافت میں خیبر سے شام کی طرف نکالا یا آخرِ حشر روزِقیامت کا حشر ہے کہ آ گ سب لوگوں کو سرزمینِ شام کی طرف لے جائے گی اور وہیں ان پر قیامت قائم ہوگی ، اس کے بعد اہلِ اسلام سے خطاب فرمایا جاتا ہے ۔(ف6)مدینہ سے ، کیونکہ وہ صاحبِ قوّت ، صاحبِ لشکر تھے ، مضبوط قلعے رکھتے تھے ، ان کی تعداد کثیر تھی ، جاگیردار ، صاحبِ مال ۔ (ف7)یعنی خطرہ بھی نہ تھا کہ مسلمان ان پر حملہ آور ہوسکتے ہیں ۔(ف8)ان کے سردار کعب بن اشرف کے قتل سے ۔(ف9)اور ان کو ڈھاتے ہیں تاکہ جو لکڑی وغیرہ انہیں اچھی معلوم ہو وہ جِلاوطن ہوتے وقت اپنے ساتھ لے جائیں ۔(ف10)کہ ان کے مکانوں کے جوحصّے باقی رہ جاتے تھے ۔ انہیں مسلمان گرادیتے تھے تاکہ جنگ کےلئے میدان صاف ہوجائے ۔
اور اگر نہ ہوتا کہ اللہ نے ان پر گھر سے اجڑنا لکھ دیا تھا تو دنیا ہی میں ان پر عذاب فرماتا (ف۱۱) اور ان کے لیے (ف۱۲) آخرت میں آگ کا عذاب ہے،
And had Allah not decreed exile for them, He would have surely punished them in this world; and for them in the Hereafter is the punishment of the fire.
और अगर न होता कि अल्लाह ने उन पर घर से उजड़ना लिख दिया था तो दुनिया ही में उन पर अज़ाब फरमाता और उनके लिए आख़िरत में आग का अज़ाब है,
Aur agar na hota ke Allah ne unpar ghar se ujarrna likh diya tha to duniya hi mein unpar azaab farmaata aur unke liye aakhirat mein aag ka azaab hai,
(ف11)اور انہیں قتل و قید میں مبتلا کرتا جیسا کہ یہودِ بنی قریضہ کے ساتھ کیا ۔(ف12)ہر حال میں خواہ جِلاوطن کئے جائیں یا قتل کئے جائیں ۔
یہ اس لیے کہ وہ اللہ سے اور اس کے رسول سے پھٹے (جدا) رہے (ف۱۳) اور جو اللہ اور اس کے رسول سے پھٹا رہے تو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے،
This is because they remained opposed to Allah and His Noble Messenger; and whoever remains opposed to Allah, (and His Noble Messenger) – then indeed Allah’s punishment is severe.
यह इस लिए कि वह अल्लाह से और उसके रसूल से फटे (जुदा) रहे और जो अल्लाह और उसके रसूल से फटा रहे तो बेशक अल्लाह का अज़ाब सख़्त है,
Ye is liye ke woh Allah se aur uske Rasool se phatte (juda) rahe aur jo Allah aur uske Rasool se phatta rahe to beshak Allah ka azaab sakht hai,
جو درخت تم نے کاٹے یا ان کی جڑوں پر قائم چھوڑ دیے یہ سب اللہ کی اجازت سے تھا (ف۱٤) اور اس لیے کہ فاسقوں کو رسوا کرے (ف۱۵)
The trees you had cut down or left standing on their roots was all by Allah’s permission, and in order to disgrace the sinners.
जो दरख़्त तुम ने काटे या उनकी जड़ों पर क़ायम छोड़ दिए यह सब अल्लाह की इजाज़त से था और इस लिए कि फासिक़ों को रुस्वा करे
Jo darakht tumne kaate ya unki jarron par qaaim chhod diye ye sab Allah ki ijaazat se tha aur is liye ke faasiqon ko ruswa kare,
(ف14)شانِ نزول : جب بنی نضِیراپنے قلعوں میں پناہ گزیں ہوئے تو سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان کے درخت کاٹ ڈالنے اور انہیں جَلادینے کا حکم دیا ، اس پر وہ دشمنانِ خدا بہت گھبرائے اور رنجیدہ ہوئے اور کہنے لگے کہ کیا تمہاری کتاب میں اس کا حکم ہے ؟ مسلمان اس باب میں مختلف ہوگئے ، بعض نے کہا درخت نہ کاٹو ، یہ غنیمت ہے جو اللہ تعالٰی نے ہمیں عطا فرمائی ۔ بعض نے کہا اس سے کفّار کو رسوا کرنا اور انہیں غیظ میں ڈالنا منظور ہے ، اس پر یہ یت نازل ہوئی اور اس میں بتایاگیا کہ مسلمانوں میں جو درخت کاٹنے والے ہیں ان کا عمل بھی درست ہے اور جو کاٹنا نہیں چاہتے وہ بھی ٹھیک کہتے ہیں کیونکہ درختوں کا کاٹنا اور چھوڑ دینا یہ دونوں اللہ تعالٰی کے اذن و اجازت سے ہیں ۔(ف15)یعنی یہود کو ذلیل کرے درخت کاٹنے کی اجازت دے کر ۔
اور جو غنیمت دلائی اللہ نے اپنے رسول کو ان سے (ف۱٦) تو تم نے ان پر نہ اپنے گھوڑے دوڑائے تھے اور نہ اونٹ (ف۱۷) ہاں اللہ اپنے رسولوں کے قابو میں دے دیتا ہے جسے چاہے (ف۱۸) اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
And from them, the booty which Allah gave to His Noble Messenger – so you had not raced your horses or camels against them, but it is Allah Who gives whomever He wills within the control of His Noble Messengers; and Allah is Able to do all things.
और जो ग़नीमत दिलाई अल्लाह ने अपने रसूल को उनसे तो तुम ने उन पर न अपने घोड़े दौड़ाए थे और न ऊँट हाँ अल्लाह अपने रसूलों के क़ाबू में दे देता है जिसे चाहे और अल्लाह सब कुछ कर सकता है,
Aur jo ghanimat dilayi Allah ne apne Rasool ko unse to tumne unpar na apne ghoray dauraye the aur na oont. Haan Allah apne Rasoolon ke qaboo mein de deta hai jise chahe, aur Allah sab kuch kar sakta hai,
(ف16)یعنی یہودِ بنی نضِیرسے ۔(ف17)یعنی اس کےلئے تمہیں کوئی مشقّت اور کوفت اٹھانا نہیں پڑی ، صرف دو میل کا فاصلہ تھا ، سب لوگ پیادہ پا چلے گئے ، صرف رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سوار ہوئے ۔(ف18)اپنے دشمنوں میں سے ۔ مرا دیہ ہے کہ بنی نضِیر سے جو مال غنیمتیں حاصل ہوئیں ان کےلئے مسلمانوں کو جنگ کرنا نہیں پڑی ، اللہ تعالٰی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ان پر مسلّط کردیا تو یہ مال حضور کی مرضی پر ہے ، جہاں چاہیں خرچ کریں ، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے یہ مال مہاجرین پر تقسیم کردیا اور انصار میں سے صرف تین صاحبِ حاجت لوگوں کو دیا اور وہ ابودجانہ سماک بن خرشہ اور سہل بن حنیف اور حارث بن صمّہ ہیں ۔
جو غنیمت دلائی اللہ نے اپنے رسول کو شہر والوں سے (ف۱۹) وہ اللہ اور رسول کی ہے اور رشتہ داروں (ف۲۰) اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے کہ تمہارے اغنیا کا مال نہ جائے (ف۹۲۱ اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو (ف۲۲) اور جس سے منع فرمائیں باز رہو، اور اللہ سے ڈرو (ف۲۳) بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے (ف۲٤)
The booty which Allah gave to His Noble Messenger from the people of the townships, is for Allah and His Noble Messenger, and for the relatives, and the orphans, and the needy and the travellers – so that it does not become the wealth of the rich among you; and accept whatever the Noble Messenger gives you; and refrain from whatever he forbids you; and fear Allah; indeed Allah’s punishment is severe.
जो ग़नीमत दिलाई अल्लाह ने अपने रसूल को शहर वालों से वह अल्लाह और रसूल की है और रिश्तेदारों और यतीमों और मिस्कीनों और मुसाफ़िरों के लिए कि तुम्हारे अग़निया का माल न जाए और जो कुछ तुम्हें रसूल अता फरमाएँ वह लो और जिससे मना फरमाएँ बाज़ रहो, और अल्लाह से डरो बेशक अल्लाह का अज़ाब सख़्त है
Jo ghanimat dilayi Allah ne apne Rasool ko shehr walon se woh Allah aur Rasool ki hai aur rishtedaron aur yateemon aur miskeenon aur musafiron ke liye, taa ke tumhare aghniya ka maal na jaaye. Aur jo kuch tumhein Rasool ata farmaen woh lo aur jisse mana farmaen baaz raho. Aur Allah se daro, beshak Allah ka azaab sakht hai,
(ف19)پہلی آیت میں غنیمت کا جو حکم مذکور ہوا اس آیت میں اسی کی تفصیل ہے اور بعض مفسّرین نے اس قول کی مخالفت کی اور فرمایا کہ پہلی آیت اموالِ بنی نضِیر کے باب میں نازل ہوئی ، ان کو اللہ تعالٰی نے اپنے رسول کےلئے خاص کیا اور یہ آیت ہر اس شہر کی غنیمتوں کے باب میں ہے جس کو مسلمان اپنی قوّت سے حاصل کریں ۔ (مدارک)(ف20)رشتہ داروں سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اہلِ قرابت ہیں یعنی بنی ہاشم وبنی مطّلب ۔(ف21)اور غرباء اور فقراء نقصان میں رہیں جیسا کہ زمانۂِ جاہلیّت میں دستور تھا کہ غنیمت میں سے ایک چہارم تو سردار لے لیتا تھا ، باقی قوم کےلئے چھوڑ دیتا تھا ، اس میں سے مال دار لوگ بہت زیادہ لے لیتے تھے اور غریبوں کےلئے بہت ہی تھوڑا بچتا تھا ، اسی معمول کے مطابق لوگوں نے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عرض کیا کہ حضور غنیمت میں سے چہارم لیں ، باقی ہم باہم تقسیم کرلیں گے ، اللہ تعالٰی نے اس کا رد فرمادیا اور تقسیم کا اختیار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو دیا اور اس کا طریقہ ارشاد فرمایا ۔(ف22)غنیمت میں سے ، کیونکہ وہ تمہارے لئے حلال ہے یا یہ معنٰی ہیں کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تمہیں جو حکم دیں اس کا اتباع کرو کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اطاعت ہر امر میں واجب ہے ۔(ف23)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مخالفت نہ کرواور ان کے تعمیلِ ارشاد میں سستی نہ کرو ۔(ف24)ان پر جو رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نافرمانی کریں اور مالِ غنیمت میں جیسا کہ اوپر ذکر کئے ہوئے لوگوں کا حق ہے ایسا ہی ۔
ان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے (ف۲۵) اللہ کا فضل (ف۲٦) اور اس کی رضا چاہتے اور اللہ و رسول کی مدد کرتے (ف۲۷) وہی سچے ہیں (ف۲۸)
And (the booty is) also for the poor migrants who were expelled from their homes and their wealth, seeking Allah’s munificence and His pleasure, and aiding Allah and His Noble Messenger; it is they who are the truthful.
उन फ़क़ीर हिजरत करने वालों के लिए जो अपने घरों और मालों से निकाले गए अल्लाह का फ़ज़्ल और उसकी रज़ा चाहते और अल्लाह व रसूल की मदद करते वही सच्चे हैं
Un faqeer hijrat karne walon ke liye jo apne gharon aur maalon se nikale gaye, Allah ka fazl aur uski raza chahte aur Allah o Rasool ki madad karte, wohi sachche hain,
(ف25)اور ان کے گھروں اور مالوں پر کفّارِ مکّہ نے قبضہ کرلیا ۔ مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ کفّار استیلاء سے اموالِ مسلمین کے مالک ہوجاتے ہیں ۔(ف26)یعنی ثوابِ آخرت ۔(ف27)اپنے جان و مال سے دِین کی حمایت میں ۔(ف28)ایمان و اخلاص میں ۔ قتادہ نے فرمایا کہ ان مہاجرین نے گھر اور مال اور کنبے اللہ تعالٰی اور رسول کی محبّت میں چھوڑے اور اسلام کو قبول کیا اور ان تمام شدّتوں اور سختیوں کو گوارا کیا جو اسلام قبول کرنے کی وجہ سے انہیں پیش آئیں ، ان کی حالتیں یہاں تک پہنچیں کہ بھوک کی شدّت سے پیٹ پر پتّھر باندھتے تھے اور جاڑوں میں کپڑا نہ ہونے کے باعث گڑھوں اور غاروں میں گذارا کرتے تھے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ فقراءِ مہاجرین اغنیاسے چالیس سال قبل جنّت میں جائیں گے ۔
اور جنہوں نے پہلے سے (ف۲۹) اس شہر (ف۳۰) اور ایمان میں گھر بنالیا (ف۳۱) دوست رکھتے ہیں انہیں جو ان کی طرف ہجرت کرکے گئے (ف۳۲) اور اپنے دلوں میں کوئی حاجت نہیں پاتے (ف۳۳) اس چیز کو جو دیے گئے (ف۳٤) اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں (ف۳۵) اگرچہ انہیں شدید محتاجی ہو (ف۳٦) اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچایا گیا (ف۳۷) تو وہی کامیاب ہیں،
And those who accepted this city as their home and accepted faith before them, befriend those who migrated towards them, and in their breasts do not find any need for what they have been given, and prefer the migrants above themselves even if they themselves are in dire need; and whoever is saved from the greed of his soul – it is they who are the successful.
और जिन्होंने पहले से इस शहर और ईमान में घर बना लिया दोस्त रखते हैं उन्हें जो उनकी तरफ़ हिजरत कर के गए और अपने दिलों में कोई हाजत नहीं पाते इस चीज़ को जो दिए गए और अपनी जानों पर उनको तरजीह देते हैं अगरचे उन्हें सख़्त मुहताजी हो और जो अपने नफ़्स के लालच से बचाया गया तो वही कामयाब हैं,
Aur jinhon ne pehle se is shehar aur imaan mein ghar bana liya, dost rakhte hain unhein jo unki taraf hijrat karke gaye, aur apne dilon mein koi haajat nahi paate us cheez ko jo diye gaye, aur apni jaanon par unko tarjeeh dete hain agarche unhein shadid mohtaaji ho. Aur jo apne nafs ke laalach se bachaya gaya to wohi kaamyab hain,
(ف29)یعنی مہاجرین سے پہلے یا ان کی ہجرت سے پہلے بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے ۔(ف30)مدینۂِ پاک ۔(ف31)یعنی مدینۂِ پاک کو وطن اور ایمان کو اپنا مستقر بنایا اور اسلام لائے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تشریف آوری سے دوسال پہلے مسجد یں بنائیں ، ان کا یہ حال ہے کہ ۔(ف32)چنانچہ اپنے گھروں میں انہیں اتارتے ہیں ، اپنے مالوں میں انہیں نصف کا شریک کرتے ہیں ۔(ف33)یعنی ان کے دلوں میں کوئی خواہش و طلب نہیں پیدا ہوتی ۔(ف34)مہاجرین ۔ یعنی مہاجرین کو جو اموالِ غنیمت دیئے گئے انصار کے دل میں ان کی کوئی خواہش نہیں پیدا ہوتی رشک تو کیا ہوتا سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی برکت نے قلوب ایسے پاک کردیئے کہ انصار مہاجرین کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہیں ۔(ف35)یعنی مہاجرین کو ۔(ف36)شانِ نزول : حدیث شریف میں ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں ایک بھوکا شخص آیا ، حضور نے ازواجِ مطہرات کے حجروں پر معلوم کرایا کیا کھانے کی کوئی چیز ہے ؟ معلوم ہوا کسی بی بی صاحبہ کے یہاں کچھ بھی نہیں ہے ، تب حضور نے اصحاب سے فرمایا جو اس شخص کو مہمان بنائے ، اللہ تعالٰی اس پر رحمت فرمائے ، حضرت ابوطلحہ انصاری کھڑے ہوگئے اور حضور سے اجازت لے کر مہمان کو اپنے گھر لے گئے ، گھر جا کر بی بی سے دریافت کیا ، کچھ ہے ؟ انہوں نے کہا کچھ نہیں ، صرف بچّوں کےلئے تھوڑا سا کھانا رکھا ہے ، حضرت ابوطلحہ نے فرمایا بچّوں کو بَہلا کر سُلادو اور جب مہمان کھانے بیٹھے تو چراغ درست کرنے اٹھو اور چراغ کو بجھادو تاکہ وہ اچھی طرح کھا لے ، یہ اسلئے تجویز کی کہ مہمان یہ نہ جان سکے کہ اہلِ خانہ اس کے ساتھ نہیں کھارہے ہیں کیونکہ اس کو یہ معلوم ہوگا تو وہ اصرار کرے گا اور کھانا کم ہے بھوکا رہ جائے گا ، اس طرح مہمان کو کھلایا اور آپ ان صاحبوں نے بھوکے رات گذاری ، جب صبح ہوئی اور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضورِ اقدس علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا رات فلاں فلاں لوگوں میں عجیب معاملہ پیش آیا ، اللہ تعالٰی ان سے بہت راضی ہے اور یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف37)یعنی جس کے نفس کو لالچ سے پاک کیا گیا ۔
اور وہ جو ان کے بعد آئے (ف۳۸) عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دل میں ایمان والوں کی طرف سے کینہ نہ رکھ (ف۳۹) اے ہمارے رب بیشک تو ہی نہایت مہربان رحم والا ہے،
And those who came after them say, “O our Lord! Forgive us, and our brothers who accepted faith before us, and do not keep any malice in our hearts towards the believers – O our Lord! Indeed You only are the Most Compassionate, Most Merciful.”.
और वह जो उनके बाद आए अर्ज़ करते हैं ऐ हमारे रब हमें बख़्श दे और हमारे भाइयों को जो हम से पहले ईमान लाए और हमारे दिल में ईमान वालों की तरफ़ से कीना न रख ऐ हमारे रब बेशक तू ही नहायत मेहरबान रहम वाला है,
Aur woh jo unke baad aaye arz karte hain: ae hamare Rab humein bakhsh de aur hamare bhaiyon ko jo humse pehle imaan laaye aur hamare dil mein imaan walon ki taraf se keena na rakh, ae hamare Rab beshak tu hi nahayat mehrbaan rahm wala hai,
(ف38)یعنی مہاجرین و انصار کے ۔ اس میں قیامت تک پیدا ہونے والے مسلمان داخل ہیں ۔(ف39)یعنی اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف سے ۔ مسئلہ : جس کے دل میں کسی صحابی کی طرف سے بغض یا کدورت ہو اور وہ ان کے لئے دعائے رحمت و استغفار نہ کرے وہ مومنین کے اقسام سے خارج ہے کیونکہ یہاں مومنین کی تین قِسمیں فرمائی گئیں ۔ مہاجرین ، انصاراور ان کے بعد والے جوان کے تابع ہوں اور ان کی طرف سے دل میں کوئی کدورت نہ رکھیں اور ان کے لئے دعائے مغفرت کریں تو جو صحابہ سے کدورت رکھے رافضی ہو یا خارجی وہ مسلمانوں کی ان تینوں قِسموں سے خارج ہے ، حضرت اُمُّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے فرمایا کہ لوگوں کو حکم تو یہ دیا گیا کہ صحابہ کےلئے استغفار کریں ، اور کرتے ہیں یہ کہ گالیاں دیتے ہیں ۔
کیا تم نے منافقوں کو نہ دیکھا (ف٤۰) کہ اپنے بھائیوں کافر کتابیوں (ف٤۱) سے کہتے ہیں کہ اگر تم نکالے گئے (ف٤۲) تو ضرور ہم تمہارے ساتھ جائیں گے اور ہرگز تمہارے بارے میں کسی کی نہ مانیں گے (ف٤۳) اور اگر تم سے لڑائی ہوئی تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں گے، اور اللہ گواہ ہے کہ وہ جھوٹے ہیں (ف٤٤)
Did you not see the hypocrites, that they say to their disbelieving brothers among the People given the Book(s), “If you are expelled, then we will definitely go out with you, and we will not listen to anyone in your matters, and if you are fought against we will surely help you”; and Allah testifies that they are indeed liars.
क्या तुम ने मुनाफ़िक़ों को न देखा कि अपने भाइयों काफ़िर किताबियों से कहते हैं कि अगर तुम निकाले गए तो ज़रूर हम तुम्हारे साथ जाएँगे और हरगिज़ तुम्हारे बारे में किसी की न मानेंगे और अगर तुम से लड़ाई हुई तो हम ज़रूर तुम्हारी मदद करेंगे, और अल्लाह गवाह है कि वह झूठे हैं
Kya tumne munaafiqon ko na dekha ke apne bhaiyon kaafir kitabon walon se kehte hain: agar tum nikale gaye to zaroor hum tumhare saath jaayenge aur hargiz tumhare baare mein kisi ki na maanenge, aur agar tumse ladaai hui to hum zaroor tumhari madad karenge. Aur Allah gawah hai ke woh jhoote hain,
(ف40)عبداللہ بن اُ بَی بن سلول منافق اور اس کے رفیقوں کو ۔(ف41)یعنی بنی قُرَیْظَہ وبنی نضِیر ۔(ف42)مدینہ شریف سے ۔(ف43)یعنی تمہارے خلاف کسی کا کہا نہ مانیں گے ، نہ مسلمانوں کا ، نہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ۔(ف44)یعنی یہود سے ، منافقین کے یہ سب وعدے جھوٹے ہیں ، اس کے بعد اللہ تعالٰی منافقین کے حال کی خبر دیتا ہے ۔
اگر وہ نکالے گئے (ف٤۵) تو یہ ان کے ساتھ نہ نکلیں گے، اور ان سے لڑائی ہوئی تو یہ ان کی مدد نہ کریں گے (ف٤٦) اگر ان کی مدد کی بھی تو ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے، پھر (ف٤۷) مدد نہ پائیں گے،
If they are expelled, the hypocrites will not go out with them; and if they are fought against they will not help them; and even if they were to help them, they would turn their backs and flee; and then they will not be helped.
अगर वह निकाले गए तो यह उनके साथ न निकलेंगे, और उनसे लड़ाई हुई तो यह उनकी मदद न करेंगे अगर उनकी मदद की भी तो ज़रूर पीठ फेर कर भागेंगे, फिर मदद न पाएँगे,
Agar woh nikale gaye to yeh unke saath na niklenge, aur unse ladaai hui to yeh unki madad na karenge. Agar unki madad ki bhi to zaroor peeth pher kar bhaagenge, phir madad na paayenge,
(ف45)یعنی یہود ۔(ف46)چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ یہود نکالے گئے اور منافقین ان کے ساتھ نہ نکلے اور یہود سے مقاتلہ ہوا اور منافقین نے یہود کی مدد نہ کی ۔(ف47)جب یہ مدد گار بھاگ نکلیں گے تو منافق ۔
بیشک (ف٤۸) ان کے دلوں میں اللہ سے زیادہ تمہارا ڈر ہے (ف٤۹) یہ اس لیے کہ وہ ناسمجھ لوگ ہیں (ف۵۰)
Indeed in their hearts is a greater fear of you than that of Allah; this is because they are a people who do not understand.
बेशक उनके दिलों में अल्लाह से ज़्यादा तुम्हारा डर है यह इस लिए कि वह नासमझ लोग हैं
Beshak unke dilon mein Allah se zyada tumhara darr hai, ye is liye ke woh naasamajh log hain,
(ف48)اے مسلمانوں ۔(ف49)کہ تمہارے سامنے تو اظہارِ کفر سے ڈرتے ہیں اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ اللہ تعالٰی دلوں کی چُھپی باتیں جانتا ہے دل میں کفر رکھتے ہیں ۔(ف50)اللہ تعالٰی کی عظمت کو نہیں جانتے ورنہ جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے ڈرتے ۔
یہ سب مل کر بھی تم سے نہ لڑیں گے مگر قلعہ بند شہروں میں یا دُھسّوں (شہر پناہ) کے پیچھے، آپس میں ان کی آنچ (جنگ) سخت ہے (ف۵۱) تم انہیں ایک جتھا سمجھو گے اور ان کے دل الگ الگ ہیں، یہ اس لیے کہ وہ بےعقل لوگ ہیں (ف۵۲)
They will not fight you even if they all come together, except in barricaded cities or from behind walls; they are severe fighters among themselves; you will assume them to be one, whereas their hearts are divided; this is because they are a people who do not have any sense.
यह सब मिल कर भी तुम से न लड़ेंगे मगर क़िला बंद शहरों में या धुस्सों (शहर पनाह) के पीछे, आपस में उनकी आँच (जंग) सख़्त है तुम उन्हें एक जत्था समझोगे और उनके दिल अलग अलग हैं, यह इस लिए कि वह बे अकल लोग हैं
Yeh sab milkar bhi tumse na ladenge magar qilaa band shehron mein ya dhusson (shehr panah) ke peeche. Aapas mein unki aanch (jang) sakht hai. Tum unhein ek jatha samjhoge aur unke dil alag alag hain, ye is liye ke woh be-aqal log hain,
(ف51)یعنی جب وہ آپس میں لڑیں تو بہت شدّت اور قوّت والے ہیں لیکن مسلمانوں کے مقابل بزدل اور نامرد ثابت ہوں گے ۔(ف52)اس کے بعد یہود کی ایک مثل ارشاد فرمائی ۔
ان کی سی کہاوت جو ابھی قریب زمانہ میں ان سے پہلے تھے (ف۵۳) انہوں نے اپنے کام کا وبال چکھا (ف۵٤) اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے (ف۵۵)
Like the example of those who were before them not long ago – they tasted the evil result of their deeds; and for them is a painful punishment.
उनकी सी कहावत जो अभी क़रीब ज़माना में उन से पहले थे उन्होंने अपने काम का वबाल चखा और उनके लिए दर्दनाक अज़ाब है
Unki si kahawat jo abhi qareeb zamaana mein unse pehle the, unhon ne apne kaam ka wabaal chhakka aur unke liye dardnaak azaab hai,
(ف53)یعنی ان کا حال مشرکینِ مکّہ کا سا ہے کہ بدر میں ۔(ف54)یعنی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ عداوت رکھنے اور کفر کرنے کا کہ ذلّت و رسوائی کے ساتھ ہلاک کئے گئے ۔(ف55)اور منافقین کا یہودِ بنی نضِیر کے ساتھ سلوک ایسا ہے جیسے ۔
شیطان کی کہاوت جب اس نے آدمی سے کہا کفر کر پھر جب اس نے کفر کرلیا بولا میں تجھ سے الگ ہوں میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو سارے جہان کا رب (ف۵٦)
The example of the devil – when he said to man “Disbelieve”; so when he has rejected faith, he says, “I am unconcerned with you – indeed I fear Allah, the Lord of The Creation.”
शैतान की कहावत जब उसने आदमी से कहा कुफ़्र कर फिर जब उसने कुफ़्र कर लिया बोला मैं तुझ से अलग हूँ मैं अल्लाह से डरता हूँ जो सारे जहान का रब
Shaitaan ki kahawat jab usne aadmi se kaha: kufr kar. Phir jab usne kufr kar liya bola: main tujh se alag hoon, main Allah se darta hoon jo saare jahaan ka Rab hai,
(ف56)ایسے ہی منافقین نے یہودِ بنی نضِیر کو مسلمانوں کے خلاف ابھارا ، جنگ پر آمادہ کیا ، ان سے مدد کے وعدے کئے اور جب ان کے کہے سے وہ اہلِ اسلام سے برسرِ جنگ ہوئے تو منافق بیٹھ رہے ، ان کا ساتھ نہ دیا ۔
اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتارتے (ف٦۵) تو ضرور تو اسے دیکھتا جھکا ہوا پاش پاش ہوتا اللہ کے خوف سے (ف٦٦) اور یہ مثالیں لوگوں کے لیے ہم بیان فرماتے ہیں کہ وہ سوچیں،
Had We sent down this Qur’an upon a mountain, you would have then surely seen it bowed down, blown to bits by the fear of Allah; and We illustrate such examples for people, for them to ponder.
अगर हम यह क़ुरआन किसी पहाड़ पर उतारते तो ज़रूर तू उसे देखता झुका हुआ पाश पाश होता अल्लाह के ख़ौफ़ से और यह मिसालें लोगों के लिए हम बयान फरमाते हैं कि वह सोचें,
Agar hum yeh Qur’an kisi pahaad par utaarte to zaroor tu use dekhta jhuka hua paash paash hota Allah ke khauf se. Aur yeh misaalen logon ke liye hum bayaan farmaate hain taa ke woh sochein,
(ف65)اور اس کو انسان کی سی تمیز عطا کرتے ۔(ف66)یعنی قرآن کی عظمت و شان ایسی ہے کہ پہاڑ کو اگر ادراک ہوتا تو وہ باوجود اتنا سخت اور مضبوط ہونے کے پاش پاش ہوجاتا ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفّار کے دل کتنے سخت ہیں کہ ایسے باعظمت کلام سے اثر پذیر نہیں ہوتے ۔
وہی ہے اللہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں بادشاہ (ف٦۸) نہایت پاک (ف٦۹) سلامتی دینے والا (ف۷۰) امان بخشنے والا (ف۷۱) حفاظت فرمانے والا عزت والا عظمت والا تکبر والا (ف۷۲) اللہ کو پاکی ہے ان کے شرک سے،
It is Allah, except Whom there is no God; the King, the Pure, the Giver of Peace, the Bestower of Safety, the Protector, the Most Honourable, the Compeller, the Proud; Purity is to Allah from all what they ascribe as partners (to Him)!
वही है अल्लाह जिसके सिवा कोई माबूद नहीं बादशाह नहायत पाक सलामती देने वाला अमान बख़्शने वाला हिफ़ाज़त फरमाने वाला इज़्ज़त वाला अज़मत वाला तकब्बुर वाला अल्लाह को पाकी है उनके शिर्क से,
Wohi hai Allah jiske siwa koi ma’bood nahi, baadshah, nahayat paak, salaamati dene wala, amaan bakhshne wala, hifazat farmaane wala, izzat wala, azmat wala, takabbur wala. Allah ko paaki hai unke shirk se,
(ف68)مُلک و حکومت کا حقیقی مالک کہ تمام موجودات اس کے تحتِ مُلک و حکومت ہے اور اس کی مالکیّت و سلطنت دائمی ہے جسے زوال نہیں ۔(ف69)ہر عیب سے اور تمام برائیوں سے ۔(ف70)اپنی مخلوق کو ۔(ف71)اپنے عذاب سے اپنے فرمانبردار بندوں کو ۔(ف72)یعنی عظمت اور بڑائی والا اپنی ذات اور تمام صفات میں اور اپنی بڑائی کا اظہار اسی کے شایاں اور لائق ہے کہ اس کا ہر کمال عظیم ہے اور ہر صفت عالی ، مخلوق میں کسی کو نہیں پہنچتا کہ تکبر یعنی اپنی بڑائی کا اظہارکرے ، بندے کےلئے عجزو انکسار شایاں ہے ۔
وہی ہے اللہ بنانے والا پیدا کرنے والا (ف۷۳) ہر ایک کو صورت دینے والا (ف۷٤) اسی کے ہیں سب اچھے نام (ف۷۵) اس کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
It is Allah only, Who is the Creator, the Initiator, the Designer of all – His only are all the good names; all whatever is in the heavens and in the earth proclaims His Purity; and He only is the Most Honourable, the Wise.
वही है अल्लाह बनाने वाला पैदा करने वाला हर एक को सूरत देने वाला उसी के हैं सब अच्छे नाम उसकी पाकी बोलता है जो कुछ आसमानों और ज़मीन में है और वही इज़्ज़त व हिकमत वाला है,
Wohi hai Allah banane wala, paida karne wala, har ek ko soorat dene wala. Usi ke hain sab achhe naam. Usi ki paaki bolta hai jo kuch aasmanon aur zameen mein hai, aur wahi izzat o hikmat wala hai.",
(ف73)نیست سے ہست کرنے والا۔(ف74)جیسی چاہے ۔(ف75)ننانوے ۹۹جو حدیث میں وارد ہیں ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page