اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو (ف۲) اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ سنتا جانتا ہے،
(ف2)یعنی تمہیں لازم ہے کہ اصلا تم سے تقدیم واقع نہ ہو ، نہ قول میں ، نہ فعل میں کہ تقدیم کرنا رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ادب و احترام کے خلاف ہے بارگاہِ رسالت میں نیاز مندی و آداب لازم ہیں ۔شانِ نزول : چند شخصوں نے عیدِاضحٰی کے دن سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پہلے قربانی کرلی تو ان کو حکم دیا گیا کہ دوبارہ قربانی کریں اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مروی ہے کہ بعضے لوگ رمضان سے ایک روز پہلے ہی روزہ رکھنا شروع کردیتے تھے ، ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور حکم دیا گیا کہ روزہ رکھنے میں اپنے نبی سے تقدم نہ کرو ۔ ( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)
اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے (ف۳) اور ان کے حضور بات چلا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اَکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو (ف٤)
(ف3)یعنی جب حضور میں کچھ عرض کر و تو آہستہ پست آواز سے عرض کرو ، یہی دربارِ رسالت کا ادب و احترام ہے ۔(ف4)اس آیت میں حضور کا اجلال و اکرام و ادب واحترام تعلیم فرمایا گیا اور حکم دیا گیا کہ ندا کرنے میں ادب کا پورا لحاظ رکھیں جیسے آپس میں ایک دوسرے کو نام لے کر پکارتے ہیں اس طرح نہ پکاریں بلکہ کلماتِ ادب و تعظیم و توصیف وتکریم والقابِ عظمت کے ساتھ عرض کرو جو عرض کرنا ہو کہ ترکِ ادب سے نیکیوں کے برباد ہونے کا اندیشہ ہے ۔ شانِ نزول : حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ یہ آیت ثابت بن قیس بن شماس کے حق میں نازل ہوئی انہیں ثقلِ سماعت تھا اور آواز ان کی اونچی تھی ، بات کرنے میں آواز بلند ہوجایا کرتی تھی ، جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ثابت اپنے گھر میں بیٹھ رہے اور کہنے لگے کہ میں اہلِ نار سے ہوں ، حضور نے حضرت سعد سے ان کا حال دریافت فرمایا ، انھوں نے عرض کیا کہ وہ میرے پڑوسی ہیں اور میرے علم میں انہیں کوئی بیماری تو نہیں ہوئی ، پھر آ کر حضرت ثابت سے اس کا ذکر کیا ، ثابت نے کہا، یہ آیت نازل ہوئی اور تم جانتے ہو کہ میں تم سب سے زیادہ بلند آواز ہوں تو میں جہنّمی ہوگیا ، حضرت سعد نے یہ حال خدمتِ اقدس میں عرض کیا تو حضورنے فرمایا کہ وہ اہلِ جنّت سے ہیں ۔
بیشک وہ جو اپنی آوازیں پست کرتے ہیں رسول اللہ کے پاس (ف۵) وہ ہیں جن کا دل اللہ نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ لیا ہے، ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے،
(ف5)براہِ ادب و تعظیم ۔شان نزول : آیۂِ یٰۤاَ یُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا اَصْوَاتَکُمْ کے نازل ہونے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق و عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہما اور بعض اور صحابہ نے بہت احتیاط لازم کرلی اور خدمتِ اقدس میں بہت ہی پست آواز سے عرض معروض کرتے ۔ ان حضرات کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی ۔
بیشک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بےعقل ہیں (ف٦)
(ف6)شانِ نزول : یہ آیت وفدِ بنی تمیم کے حق میں نازل ہوئی کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں دوپہر کے وقت پہنچے جب کہ حضور آرام فرما رہے تھے ان لوگوں نے حجروں کے باہر سے حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو پکارنا شروع کیا ، حضور تشریف لے آئے ، ان لوگوں کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور اجلالِ شانِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا بیان فرمایا گیا کہ بارگاہِ اقدس میں اس طرح پکارنا جہل و بے عقلی ہے اور ان لوگوں کو ادب کی تلقین کی گئی ۔
اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو (ف۹) کہ کہیں کسی قوم کو بےجانے ایذا نہ دے بیٹھو پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہ جاؤ،
(ف9)کہ صحیح ہے یا غلط ۔شانِ نزول : یہ آیت ولید بن عقبہ کے حق میں نازل ہوئی کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان کو بنی مصطلق سے صدقات وصول کرنے بھیجا تھا اور زمانۂِ جاہلیّت میں انکے اور انکے درمیان عداوت تھی ، جب ولید ان کے دیار کے قریب پہنچے اور انہیں خبر ہوئی تو اس خیال سے کہ وہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بھیجے ہوئے ہیں بہت سے لو گ تعظیماً ان کے استقبال کے واسطے آئے ، ولید نے گمان کیا کہ یہ پرانی عداوت سے مجھے قتل کرنے آرہے ہیں ، یہ خیال کرکے ولید واپس ہوگئے اور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عرض کردیا کہ حضور ان لوگوں نے صدقہ کو منع کردیا اور میرے قتل کے درپے ہوگئے ۔ حضور نے خالد بن ولید کو تحقیقِ حال کے لئے بھیجا ۔ حضرت خالد رضی اللہ تعالٰی عنہ نے دیکھا کہ وہ لوگ اذانیں کہتے ہیں ، نماز پڑھتے ہیں اور ان لوگوں نے صدقات پیش کردیئے ، حضرت خالد یہ صدقات لے کر خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور واقعہ عرض کیا ، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔ بعض مفسّرین نے کہا کہ یہ آیت عام ہے اس بیان میں نازل ہوئی ہے کہ فاسق کے قول پر اعتماد نہ کیا جائے ۔مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ ایک شخص اگر عادل ہو تو اس کی خبر معتبر ہے ۔
اور جان لو کہ تم میں اللہ کے رسول ہیں (ف۱۰) بہت معاملوں میں اگر یہ تمہاری خوشی کریں (ف۱۱) تو تم ضرور مشقت میں پڑو لیکن اللہ نے تمہیں ایمان پیارا کردیا ہے اور اسے تمہارے دلوں میں آراستہ کردیا اور کفر اور حکم عدولی اور نافرمانی تمہیں ناگوار کر دی، ایسے ہی لوگ راہ پر ہیں (ف۱۲)
(ف10)اگر تم جھوٹ بولو گے تو اللہ تعالٰی کے خبردار کرنے سے وہ تمہارا افشاءِ حال کرکے تمہیں رسوا کردیں گے ۔(ف11)اور تمہاری رائے کے مطابق حکم دے دیں ۔(ف12)کہ طریقِ حق پر قائم رہے ۔
اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو ان میں صلح کراؤ (ف۱۳) پھر اگر ایک دوسرے پر زیادتی کرے (ف۱٤) تو اس زیادتی والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے، پھر اگر پلٹ آئے تو انصاف کے ساتھ ان میں اصلاح کردو اور عدل کرو، بیشک عدل والے اللہ کو پیارے ہیں،
(ف13)شانِ نزول : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دراز گوش پر سوار تشریف لے جاتے تھے ، انصار کی مجلس پر گزرہوا ، وہاں تھوڑا سا توقف فرمایا ، اس جگہ دراز گوش نے پیشاب کیا تو ابنِ اُ بَیْ نے ناک بند کرلی ۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ حضور کے دراز گوش کا پیشاب تیرے مشک سے بہتر خوشبو رکھتا ہے ، حضور تو تشریف لے گئے ، ان دونوں میں بات بڑھ گئی اور ان دونوں کی قومیں آپس میں لڑ گئیں اور ہاتھا پائی تک نوبت پہنچی تو سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم واپس تشریف لائے اور ان میں صلح کرادی اس معاملہ میں یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف14)ظلم کرے اور صلح سے منکِر ہوجائے ۔ مسئلہ : باغی گروہ کا یہی حکم ہے کہ اس سے قتال کیا جائے یہاں تک کہ وہ جنگ سے باز آئے ۔
مسلمان مسلمان بھائی ہیں (ف۱۵) تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرو (ف۱٦) اور اللہ سے ڈرو کہ تم پر رحمت ہو (ف۱۷)
(ف15)کہ آپس میں دینی رابطہ اورا سلامی محبّت کے ساتھ مربوط ہیں ، یہ رشتہ تمام دنیوی رشتوں سے قوی تر ہے ۔(ف16)جب کبھی ان میں نزاع واقع ہو ۔(ف17)کیونکہ اللہ تعالٰی سے ڈرنا اور پرہیزگاری اختیار کرنا مومنین کی باہمی محبّت و مودّت کا سبب ہے اور جو اللہ تعالٰی سے ڈرتا ہے اللہ تعالٰی کی رحمت اس پر ہوتی ہے ۔
اے ایمان والو نہ مرد مردوں سے ہنسیں (ف۱۸) عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں (ف۱۹) اور نہ عورتیں عورتوں سے، دور نہیں کہ وہ ان ہنسے والیوں سے بہتر ہوں (ف۲۰) اور آپس میں طعنہ نہ کرو (ف۲۱) اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو (ف۲۲) کیا ہی برا نام ہے مسلمان ہو کر فاسق کہلانا (ف۲۳) اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں،
(ف18)شانِ نزول : اس آیت کا نزول کئی واقعوں میں ہوا پہلا واقعہ یہ ہے کہ ثابت ا بنِ قیس بن شمّاس کو ثقلِ سماعت تھا جب وہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مجلس شریف میں حاضر ہوتے تو صحابہ انہیں آگے بٹھاتے اور ان کے لئے جگہ خالی کردیتے تاکہ وہ حضور کے قریب حاضر رہ کر کلامِ مبارک سن سکیں ، ایک روز انہیں حاضری میں دیر ہوگئی اور مجلس شریف خوب بھر گئی ، اس وقت ثابت آئے اور قاعدہ یہ تھا کہ جو شخص ایسے وقت آتا اور مجلس میں جگہ نہ پاتا تو جہاں ہوتا کھڑا رہتا ، ثابت آئے تو وہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قریب بیٹھنے کے لئے لوگوں کو ہٹاتے ہوئے یہ کہتے چلے کہ جگہ دو جگہ یہاں تک کہ حضور کے قریب پہنچ گئے اور انکے اور حضور کے درمیان میں صرف ایک شخص رہ گیا ، انہوں نے اس سے بھی کہا کہ جگہ دو ، اس نے کہا تمہیں جگہ مل گئی ، بیٹھ جاؤ ، ثابت غصّہ میں آکر اس کے پیچھے بیٹھ گئے اور جب دن خوب روشن ہوا تو ثابت نے اس کا جسم دبا کر کہا کہ ،کون ؟ اس نے کہا میں فلاں شخص ہوں ، ثابت نے اس کی ماں کا نام لے کر کہا فلانی کا لڑکا اس پر اس شخص نے شرم سے سرجھکالیا اور اس زمانہ میں ایسا کلمہ عار دلانے کے لئے کہا جاتا تھا ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ دوسرا واقعہ ضحاک نے بیان کیا کہ یہ آیت بنی تمیم کے حق میں نازل ہوئی جو حضرت عمّار و خبّاب وبلا ل و صہیب و سلمان و سالم وغیرہ غریب صحابہ کی غربت دیکھ کر ان کے ساتھ تمسخرکرتے تھے ، ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ مرد مَردوں سے نہ ہنسیں یعنی مال دار غریبوں کی ہنسی نہ بنائیں ، نہ عالی نسب غیرِ ذی نسب کی ، اور نہ تندرست اپاہج کی ، نہ بینا اس کی جس کی آنکھ میں عیب ہو ۔(ف19)صدق و اخلاص میں ۔(ف20)شانِ نزول : یہ آیت اُمُّ المومنین حضرت صفیہ بنت حُیَیّ رضی اللہ تعالٰی عنھا کے حق میں نازل ہوئی ، انہیں معلوم ہوا تھا کہ اُمُّ المومنین حضرت حفصہ نے انہیں یہودی کی لڑکی کہا ، اس پر انہیں رنج ہوا اور ر وئیں اور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے شکایت کی تو حضورنے فرمایا کہ تم نبی زادی اور نبی کی بی بی ہو تم پر وہ کیا فخر کرتی ہیں اور حضرت حفصہ سے فرمایا اے حفصہ خدا سے ڈرو ۔ (الترمذی وقال حسن صحیح غریب)(ف21)ایک دوسرے پر عیب نہ لگاؤ ، اگر ایک مومن نے دوسرے مومن پر عیب لگایا تو گویا اپنے ہی آپ کو عیب لگایا ۔(ف22)جو انہیں ناگوار معلوم ہوں ۔مسائل : حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اگر کسی آدمی نے کسی برائی سے توبہ کرلی ہو اس کو بعدِ توبہ اس برائی سے عار دلانا بھی اس نہی میں داخل اور ممنوع ہے ۔ بعض علماء نے فرمایا کہ کسی مسلمان کو کُتّا یا گدھا یا سور کہنا بھی اسی میں داخل ہے ۔ بعض علماء نے فرمایا کہ اس سے وہ القاب مراد ہیں جن سے مسلمان کی برائی نکلتی ہو اور اس کو ناگوار ہو لیکن تعریف کے القاب جو سچّے ہوں ممنوع نہیں جیسے کہ حضرت ابوبکر کا لقب عتیق اور حضرت عمرکا فاروق اور حضرت عثمانِ غنی کا ذوالنورین اور حضرت علی کا ابوتراب اور حضرت خالد کا سیف اللہ رضی اللہ تعالٰی عنہم اور جو القاب بمنزلۂِ عَلم ہوگئے اور صاحبِ القاب کو ناگوار نہیں وہ القاب بھی ممنوع نہیں جیسے کہ اعمش ، اعرج ۔(ف23)تو اے مسلمانو کسی مسلمان کی ہنسی بنا کر یا اس کو عیب لگا کر یا اس کا نام بگاڑ کر اپنے آپ کو فاسق نہ کہلاؤ ۔
اے ایمان والو بہت گمانوں سے بچو (۲٤) بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے (ف۲۵) اور عیب نہ ڈھونڈھو (ف۲٦) اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو (ف۲۷) کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں گوارا نہ ہوگا (ف۲۸) اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے،
(ف24)کیونکہ ہر گمان صحیح نہیں ہوتا ۔(ف25)مسئلہ : مومنِ صالح کے ساتھ بُرا گمان ممنوع ہے ، اسی طرح اس کا کوئی کلام سن کر فاسد معنٰی مراد لینا باوجود یہ کہ اس کے دوسرے صحیح معنٰی موجود ہوں اور مسلمان کا حال ان کے موافق ہو ، یہ بھی گمانِ بد میں داخل ہے ۔ سفیان ثوری رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا گمان دو طرح کا ہے ، ایک وہ کہ دل میں آئے اور زبان سے بھی کہہ دیا جائے ، یہ اگر مسلمان پر بدی کے ساتھ ہے گناہ ہے ، دوسرا یہ کہ دل میں آئے اور زبان سے نہ کہا جائے ، یہ اگرچہ گناہ نہیں مگر اس سے بھی دل خالی کرنا ضرور ہے ۔ مسئلہ : گمان کی کئی قسمیں ہیں ، ایک واجب ہے وہ اللہ کے ساتھ اچھا گمان رکھنا ایک مستحب وہ مومنِ صالح کے ساتھ نیک گمان ایک ممنوع حرام وہ اللہ کے ساتھ بُرا گمان کرنا اور مومن کے ساتھ بُرا گمان کرنا ایک جائز وہ فاسقِ معلن کے ساتھ ایسا گمان کرنا جیسے افعال اس سے ظہور میں آتے ہوں ۔(ف26)یعنی مسلمانوں کی عیب جوئی نہ کرو اور ان کے چُھپے حال کی جستجو میں نہ رہوجسے اللہ تعالٰی نے اپنی ستّاری سے چُھپایا ۔ حدیث شریف میں ہے گمان سے بچو گمان بڑی جھوٹی بات ہے اور مسلمانوں کی عیب جوئی نہ کرو ، ان کے ساتھ حرص و حسد ، بغض ، بے مروتی نہ کرو ، اے اللہ تعالٰی کے بندو بھائی بنے رہو جیسا تمہیں حکم دیا گیا ، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ، اس پر ظلم نہ کرے ، اس کو رسوا نہ کرے ، اس کی تحقیر نہ کرے ، تقوٰی یہاں ہے ، تقوٰی یہاں ہے ، تقوٰی یہاں ہے ، ( اور یہاں کے لفظ سے اپنے سینے کی طرف اشارہ فرمایا) آدمی کے لئے یہ برائی بہت ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر دیکھے ، ہر مسلمان مسلمان پرحرام ہےاس کا خون بھی ، اس کی آبرو بھی ، اس کا مال بھی ، اللہ تعالٰی تمہارے جسموں اور صورتوں اور عملوں پر نظر نہیں فرماتا لیکن تمہارے دلوں پر نظر فرماتا ہے ۔ (بخاری و مسلم) حدیث جو بندہ دنیا میں دوسرے کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالٰی روزِ قیامت اس کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔(ف27)حدیث شریف : میں ہے کہ غیبت یہ ہے کہ مسلمان بھائی کے پیٹھ پیچھے ایسی بات کہی جائے جو اسے ناگوار گذرے اگر وہ بات سچّی ہے تو غیبت ہے ورنہ بہتان ۔(ف28)تو مسلمان بھائی کی غیبت بھی گوارا نہ ہونی چاہئے کیونکہ اس کو پیٹھ پیچھے بُرا کہنا اس کے مرنے کے بعد اس کا گوشت کھانے کے مثل ہے کیونکہ جس طرح کسی کا گوشت کاٹنے سے اس کو ایذا ہوتی ہے اسی طرح اس کو بدگوئی سے قلبی تکلیف ہوتی ہے اور درحقیقت آبرو گوشت سے زیادہ پیاری ہے ۔ شانِ نزول : سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جب جہاد کے لئے روانہ ہوتے اور سفر فرماتے تو ہر دو مال داروں کے ساتھ ایک غریب مسلمان کو کردیتے کہ وہ غریب ان کی خدمت کرے وہ اسے کھلائیں پلائیں ہر ایک کاکا م چلے اسی طرح حضرت سلمان رضی اللہ تعالٰی عنہ دو آدمیوں کے ساتھ کئے گئے تھے ، ایک روز وہ سوگئے اور کھانا تیار نہ کرسکے تو ان دونوں نے انہیں کھانا طلب کرنے کے لئے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں بھیجا ، حضور کے خادمِ مطبخ حضرت اُسامہ تھے رضی اللہ تعالٰی عنہ ، ان کے پاس کچھ رہا نہ تھا ، انہوں نے فرمایا کہ میرے پاس کچھ نہیں ، حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے یہی آکر کہہ دیا تو ان دونوں رفیقوں نے کہا کہ اُسامہ (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے بُخل کیا ، جب وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، فرمایا میں تمہارے منہ میں گوشت کی رنگت دیکھتا ہوں ، انہوں نے عرض کیا ہم نے گوشت کھایا ہی نہیں ، فرمایا تم نے غیبت کی اور جو مسلمان کی غیبت کرے اس نے مسلمان کا گوشت کھایا ۔مسئلہ : غیبت بالاتفاق کبائر میں سے ہے ، غیبت کرنے والے کو توبہ لازم ہے ، ایک حدیث میں یہ ہے کہ غیبت کا کَفّارہ یہ ہے کہ جس کی غیبت کی ہے اس کے لئے دعائے مغفرت کرے ۔مسئلہ : فاسقِ معلِن کے عیب کا بیان غیبت نہیں ، حدیث شریف میں ہے کہ فاجر کے عیب بیان کرو کہ لوگ اس سے بچیں ۔ مسئلہ : حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ تین شخصوں کی حرمت نہیں ایک صاحبِ ہوا (بدمذہب) ، دوسرا فاسقِ معلِن ، تیسرا بادشاہ ظالم ، یعنی ان کے عیوب بیان کرنا غیبت نہیں ۔
اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد (ف۲۹) اور ایک عورت (ف۳۰) سے پیدا کیا (ف۳۱) اور تمہیں شاخیں اور قبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھو (ف۳۲) بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے (ف۳۳) بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے،
(ف29)حضرت آدم علیہ السلام ۔(ف30)حضرت حوا ۔(ف31)نسب کے اس انتہائی درجہ پر جا کر تم سب کے سب مل جاتے ہو تو نسب میں تفاخر اور تفاضل کی کوئی وجہ نہیں ، سب برابر ہو ، ایک جدِّ اعلی کی اولاد ۔(ف32)اور ایک دوسرے کا نسب جانے اور کوئی اپنے باپ دادا کے سوا دوسرے کی طرف اپنی نسبت نہ کرے ، نہ یہ کہ نسب پر فخر کرے اور دوسروں کی تحقیر کرے ۔ اس کے بعد اس چیز کا بیان فرمایا جاتا ہے جو انسان کے لئے شرافت وفضیلت کا سبب اور جس سے اس کو بارگاہِ الٰہی میں عزّت حاصل ہوتی ہے ۔(ف33)اس سے معلوم ہوا کہ مدار عزّت و فضیلت کا پرہیزگاری ہے ، نہ کہ نسب ۔شانِ نزول : رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بازارِ مدینہ میں ایک حبشی غلام ملاحظہ فرمایا جو یہ کہہ رہا تھا کہ جو مجھے خریدے اس سے میری یہ شرط ہے کہ مجھے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اقتداء میں پانچوں نمازیں ادا کرنے سے منع نہ کرے ، اس غلام کو ایک شخص نے خرید لیا ، پھر وہ غلام بیمار ہوگیا تو سیّدِ عالَمین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس کی عیادت کے لئے تشریف لائے ، پھر اس کی وفات ہوگئی اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس کے دفن میں تشریف لائے ، اس پر لوگوں نے کچھ کہا ، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔
گنوار بولے ہم ایمان لائے (ف۳٤) تم فرماؤ تم ایمان تو نہ لائے (ف۳۵) ہاں یوں کہوں کہ ہم مطیع ہوئے (ف۳٦) اور ابھی ایمان تمہارے دلوں میں کہاں داخل ہوا (ف۳۷) اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو گے (ف۳۸) تو تمہارے کسی عمل کا تمہیں نقصان نہ دے گا (ف۳۹) بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
(ف34)شانِ نزول : یہ آیت بنی اسد بن خزیمہ کی ایک جماعت کے حق میں نازل ہوئی جو خشک سالی کے زمانہ میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے اسلام کا اظہار کیا اور حقیقت میں وہ ایمان نہ رکھتے تھے ، ان لوگوں نے مدینہ کے رستہ میں گندگیاں کیں اور وہاں کے بھاؤگراں کردیئے ، صبح و شام رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں آکر اپنے اسلام لانے کا احسان جتاتے اور کہتے ہمیں کچھ دیجئے ، ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف35)صدقِ دل سے ۔(ف36)ظاہر میں ۔(ف37)مسئلہ : محض زبانی اقرار جس کے ساتھ قلبی تصدیق نہ ہو معتبر نہیں ، اس سے آدمی مومن نہیں ہوتا ، اطاعت و فرمانبرداری اسلام کے لغوی معنٰی ہیں اور شرعی معنٰی میں اسلام اور ایمان ایک ہیں کوئی فرق نہیں ۔(ف38)ظاہراً و باطناً صدق و اخلاص کے ساتھ نفاق کو چھوڑ کر ۔(ف39)تمہاری نیکیوں کا ثواب کم نہ کرے گا ۔
ایمان والے تو وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر شک نہ کیا (ف٤۰) اور اپنی جان اور مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا وہی سچے ہیں (ف٤۱)
(ف40)اپنے دِین و ایمان میں ۔(ف41)ایمان کے دعوٰی میں ۔شانِ نزول : جب یہ دونوں آیتیں نازل ہوئیں تو اعراب سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے قَسمیں کھائیں کہ ہم مومنِ مخلص ہیں ۔ اس پر اگلی آیت نازل ہوئی اور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو خطاب فرمایا گیا ۔
اے محبوب وہ تم پر احسان جتاتے ہیں کہ مسلمان ہوگئے، تم فرماؤ اپنے اسلام کا احسان مجھ پر نہ رکھو بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں اسلام کی ہدایت کی اگر تم سچے ہو (ف٤٤)