(۷) تو وہ وہ اپنا نامہٴ اعمال دہنے ہاتھ میں دیا جائے (ف۱۰)
So whoever is given his record of deeds in his right hand –
तो वह अपना नामे-अअमाल दहने हाथ में दिया जाए
To woh apna naamah-e-aamaal dahne haath mein diya jaaye
(ف10)اور وہ مومن ہے ۔
فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا ۙ ﴿8﴾
(۸) اس سے عنقریب سہل حساب لیا جائے گا (ف۱۱)
Soon an easy account will be taken from him.
उससे अनक़रीब सहज हिसाब लिया जाएगा
Usse anqareeb sahal hisaab liya jaayega
(ف11)سہل حساب یہ ہے کہ اس پر اس کے اعمال پیش کئے جائیں ، وہ اپنی طاعت و معصیّت کو پہنچانے پھر طاعت پر ثواب دیا جائے اور معصیّت سے تجاوز فرمایا جائے ، یہ سہل حساب ہے ، نہ اس میں شدّتِ مناقشہ ، نہ یہ کہا جائے کہ ایسا کیوں کیا ، نہ عذر کی طلب ہو ، نہ اس پر حجّت قائم کی جائے کیونکہ جس سے مطالبہ کیا گیا اسے کوئی عذر ہاتھ نہ آئے گا اور وہ کوئی حجّت نہ پائے گا ، رسوا ہوگا ۔ (اللہ تعالٰی مناقشۂِ حساب سے پناہ دے)
وَّيَنۡقَلِبُ اِلٰٓى اَهۡلِهٖ مَسۡرُوۡرًا ؕ ﴿9﴾
(۹) اور اپنے گھر والوں کی طرف (ف۱۲) شاد شاد پلٹے گا (ف۱۳)
And he will return to his family rejoicing.
और अपने घर वालों की तरफ शाद शाद पलटेगा
Aur apne ghar walon ki taraf shaad shaad palatega
(ف12)گھر والوں سے جنّتی گھر والے مراد ہیں خواہ وہ حوروں میں سے ہوں یا انسانوں میں سے ۔(ف13)اپنی اس کامیابی پر ۔
(۱۰) اور وہ جس کا نامہٴ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے (ف۱٤)
And whoever is given his record of deeds behind his back –
और वह जिसका नामे-अअमाल उसकी पीठ के पीछे दिया जाए
Aur woh jiska naamah-e-aamaal uski peeth ke peeche diya jaaye
(ف14)اور وہ کافرہے جس کا داہنا ہاتھ تو اس کی گردن کے ساتھ ملا کر طوق میں باندھ دیا جائے گا اور بایاں ہاتھ پسِ پشت کردیا جائے گا ، اس میں اس کا نامۂِ اعمال دیا جائے گا ، اس حال کو دیکھ کر وہ جان لے گا کہ وہ اہلِ نار میں سے ہے تو ۔
فَسَوۡفَ يَدۡعُوۡا ثُبُوۡرًا ۙ ﴿11﴾
(۱۱) وہ عنقریب موت مانگے گا (ف۱۵)
Soon he will pray for death.
वह अनक़रीब मौत मांगेगा
Woh anqareeb maut maangega
(ف15)اور یاثبوراہ کہے گا ۔ ثبور کے معنٰی ہلاکت کے ہیں ۔
وَّيَصۡلٰى سَعِيۡرًا ؕ ﴿12﴾
(۱۲) اور بھڑکتی آگ میں جائے گا،
And will go into the blazing fire.
और भड़कती आग में जाएगा,
Aur bhadakti aag mein jaayega,
اِنَّهٗ كَانَ فِىۡۤ اَهۡلِهٖ مَسۡرُوۡرًا ؕ ﴿13﴾
(۱۳) بیشک وہ اپنے گھر میں (ف۱٦) خوش تھا (ف۱۷)
Indeed he used to rejoice in his home.
बेशक वह अपने घर में खुश था
Baishak woh apne ghar mein khush tha
(ف16)دنیا کے اندر ۔(ف17)اپنی خواہشوں اور شہوتوں میں اور متکبّر ومغرور ۔
اِنَّهٗ ظَنَّ اَنۡ لَّنۡ يَّحُوۡرَ ۛۚ ﴿14﴾
(۱٤) وہ سمجھا کہ اسے پھرنا نہیں (ف۱۸)
He assumed that he does not have to return.
वह समझा कि उसे फिरना नहीं
Woh samjha ke use phirna nahi
(ف18)اپنے رب کی طرف اور وہ مرنے کے بعد اٹھایا نہ جائے گا ۔
(۱۵) ہاں کیوں نہیں (ف۱۹) بیشک اس کا رب اسے دیکھ رہا ہے،
Surely yes, why not? Indeed his Lord is seeing him.
हाँ क्यों नहीं बेशक उसका रब उसे देख रहा है,
Haan kyun nahi baishak uska Rab use dekh raha hai,
(ف19)ضرور اپنے رب کی طرف رجوع کرے گا، اور مرنے کے بعد اٹھایاجائے گا اور حساب کیا جائے گا ۔
فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِالشَّفَقِۙ ﴿16﴾
(۱٦) تو مجھے قسم ہے شام کے اجالے کی (ف۲۰)
So by oath of the late evening’s light.
तो मुझे क़सम है शाम के उजाले की
To mujhe qasam hai shaam ke ujale ki
(ف20)جو سرخی کے بعد نمودار ہوتا ہے اور جس کے غائب ہونے پر امام صاحب کے نزدیک وقتِ عشاء شروع ہوتا ہے ۔ یہی قول ہے کثیر صحابہ کا اور بعض علماء شفق سے سرخی مراد لیتے ہیں ۔
وَالَّيۡلِ وَمَا وَسَقَۙ ﴿17﴾
(۱۷) اور رات کی اور جو چیزیں اس میں جمع ہوتی ہیں (ف۲۱)
And by oath of the night and all that gathers in it.
और रात की और जो चीज़ें उसमें जमा होती हैं
Aur raat ki aur jo cheezen usmein jama hoti hain
(ف21)مثل جانوروں کے جو دن میں منتشر ہوتے ہیں اور شب میں اپنے آشیانوں اور ٹھکانوں کی طرف چلے آتے ہیں اور مثل تاریکی کے اور ستاروں اور ان اعمال کے جو شب میں کئے جاتے ہیں مثل تہجّد کے ۔
وَالۡقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَۙ ﴿18﴾
(۱۸) اور چاند کی جب پورا ہو (ف۲۲)
And by oath of the moon when it is full.
और चाँद की जब पूरा हो
Aur chaand ki jab poora ho
(ف22)اور اس کا نور کامل ہوجائے اور یہ ایّامِ بیض یعنی تیرھویں ، چودھویں ، پندرھویں تاریخوں میں ہوتا ہے ۔
لَتَرۡكَبُنَّ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍؕ ﴿19﴾
(۱۹) ضرور تم منزل بہ منزل چڑھو گے (ف۲۳)
You will surely go up level by level.
जरूर तुम मंज़िल बह मंज़िल चढ़ोगे
Zaroor tum manzil ba manzil chadhoge
(ف23)یہ خطاب یا تو انسانوں کو ہے اس تقدیر پر معنٰی یہ ہیں کہ تمہیں حال کے بعد حال پیش آئے گا ، حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ موت کے شدائد و اہوال ، پھر مرنے کے بعد اٹھنا ، پھر موقفِ حساب میں پیش ہونا ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انسان کے حالات میں تدریج ہے ، ایک وقت دودھ پیتا بچّہ ہوتا ہے ، پھر دودھ چھوٹتا ہے ، پھر لڑکپن کا زمانہ آتا ہے ، پھر جوان ہوتا ہے ، پھر جوانی ڈھلتی ہے ، پھر بوڑھا ہوتا ہے ۔ اور ایک قول یہ ہے کہ یہ خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ہے کہ آپ شبِ معراج ایک آسمان پر تشریف لے گئے ، پھر دوسرے پر ، اسی طرح درجہ بدرجہ ، مرتبہ بمرتبہ ، منازلِ قرب میں واصل ہوئے ۔ بخاری شریف میں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کاحا ل بیان فرمایا گیا ہے معنٰی یہ ہیں آپ کو مشرکین پر فتح و ظفر حاصل ہوگی اور انجام بہت بہتر ہوگا ، آپ کفّار کی سرکشی اور ان کی تکذیب سے غمگین نہ ہوں ۔
فَمَا لَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَۙ ﴿20﴾
(۲۰) تو کیا ہوا انہیں ایمان نہیں لاتے (ف۲٤)
What is the matter with them that they do not accept faith?
तो क्या हुआ उन्हें ईमान नहीं लाते
To kya hua unhein imaan nahi late
(ف24)یعنی اب ایمان لانے میں کیا عذر ہے باوجود دلائل ظاہر ہونے کے کیوں ایمان نہیں لاتے ۔
(۲۱) اور جب قرآن پڑھا جائے سجدہ نہیں کرتے (ف۲۵) السجدة ۔۱۳
And when the Qur’an is recited to them, they do not fall prostrate? (Command of Prostration # 13)
और जब कुरआन पढ़ा जाए सिज़्दा नहीं करते अलसिज़्दाह 13
Aur jab Quran padha jaaye sajda nahi karte Al-Sajdah 13
(ف25)مراد اس سے سجدۂِ تلاوت ہے ۔شانِ نزول : جب سورۂِ اقراء میں وَاسْجُدْوَاقْتَرِبْ نازل ہوا تو سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر سجدہ کیا مومنین نے آپ کے ساتھ سجدہ کیا اور کفّارِ قریش نے سجدہ نہ کیا ، ان کے اس فعل کی برائی میں یہ آیت نازل ہوئی کہ کفّار پر جب قرآن پڑھا جاتا ہے تو وہ سجدۂِ تلاوت نہیں کرتے ۔مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہواکہ سجدۂِ تلاوت واجب ہے سننے والے پر اور حدیث سے ثابت ہے کہ پڑھنے والے سننے والے دونوں پر سجدہ واجب ہوجاتا ہے ۔ قرآنِ کریم میں سجدہ کی چودہ آیتیں ہیں جن کو پڑھنے یا سننے سے سجدہ واجب ہوجاتا ہے ، خواہ سننے والے نے سننے کا ارادہ کیا ہو یا نہ کیاہو ۔مسئلہ : سجدۂِ تلاوت کے لئے بھی وہی شرطیں ہیں جو نماز کے لئے مثلِ طہارت اور قبلہ رو ہونے اور سترِ عورت وغیرہ کے ۔مسئلہ : سجدہ کے اوّل و آخر اللہ اکبر کہنا چاہئے ۔مسئلہ : امام نے آیتِ سجدہ پڑھی تو اس پر اور مقتدیوں پر اور جو شخص نماز میں نہ ہو اور سن لے اس پر سجدہ واجب ہے ۔مسئلہ : سجدہ کی جتنی آیتیں پڑھی جائیں گی ، اتنے ہی سجدے واجب ہوں گے ، اگر ایک ہی آیت ایک مجلس میں بار بار پڑھی گئی تو ایک ہی سجدہ واجب ہوا ۔ والتفصیل فی کتب الفقہ ۔ (تفسیر احمدی)
بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُكَذِّبُوۡنَ ۖ ﴿22﴾
(۲۲) بلکہ کافر جھٹلا رہے ہیں (ف۲٦)
In fact the disbelievers keep denying.
बल्कि काफ़िर झटला रहे हैं
Balkay kaafir jhatla rahe hain
(ف26)قرآن کو اور مرنے کے بعد اٹھنے کو ۔
وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا يُوۡعُوۡنَ ۖ ﴿23﴾
(۲۳) اور اللہ خوب جانتا ہے جو اپنے جی میں رکھتے ہیں (ف۲۷)
And Allah well knows what they conceal in their hearts.
और अल्लाह खूब जानता है जो अपने जी में रखते हैं
Aur Allah khoob jaanta hai jo apne jee mein rakhte hain
(ف27)کفر اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تکذیب ۔
فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍۙ ﴿24﴾
(۲٤) تو تم انہیں دردناک عذاب کی بشارت دو (ف۲۸)
Therefore give them the glad tidings of a painful punishment.
(۲۵) مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے وہ ثواب ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا،
Except those who believed and did good deeds – for them is a reward that will never end.
मगर जो ईमान लाए और अच्छे काम किए उनके लिए वह सवाब है जो कभी ख़त्म न होगा,
Magar jo imaan laaye aur achche kaam kiye unke liye woh sawab hai jo kabhi khatm na hoga,
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page