تم فرماؤ (ف۲) مجھے وحی ہوئی کہ کچھ جنوں نے (ف۳) میرا پڑھنا کان لگا کر سنا (ف٤) تو بولے (ف۵) ہم نے ایک عجیب قرآن سنا (ف٦)
(ف2)اے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔(ف3)نصیبین کے ۔ جن کی تعداد مفسّرین نے نو۹ بیان کی ۔(ف4)نمازِ فجر میں بمقامِ نخلہ مکّہ مکرّمہ و طائف کے درمیان ۔ (ف5)وہ جنّ اپنی قوم میں جا کر ۔(ف6)جو اپنی فصاحت و بلاغت و خوبیِ مضامین و علوِّ معنٰی میں ایسا نادر ہے کہ مخلوق کا کوئی کلام اس سے کوئی نسبت نہیں رکھتا اور اس کی یہ شان ہے ۔
اور یہ کہ ہمیں خیال تھا کہ ہرگز آدمی اور جن اللہ پر جھوٹ نہ باندھیں گے (ف۱۰)
(ف10)اور اس پر افتراء نہ کریں گے اس لئے ہم ان کی باتوں کی تصدیق کرتے تھے جو کچھ وہ شانِ الٰہی میں کہتے تھے اور خداوندِ عالَم کی طرف بی بی اور بچّے کی نسبت کرتے تھے یہاں تک کہ قرآنِ کریم کی ہدایت سے ہمیں ان کا کذب و بہتان ظاہر ہوگیا ۔
اور یہ کہ ہم نے آسمان کو چھوا (ف۱٤) تو اسے پایا کہ (ف۱۵) سخت پہرے اور آگ کی چنگاریوں سے بھردیا گیا ہے (ف۱٦)
(ف14)یعنی اہلِ آسمان کا کلام سننے کےلئے آسمانِ دنیا پر جانا چاہا ۔(ف15)فرشتوں کے ۔(ف16)تاکہ جنّات کو اہلِ آسمان کی باتیں سننے کےلئے آسمان تک پہنچنے سے روکا جائے ۔
اور فرماؤ کہ مجھے یہ وحی ہوئی ہے کہ اگر وہ (ف۳۱) راہ پر سیدھے رہتے (ف۳۲) تو ضرور ہم انہیں وافر پانی دیتے (ف۳۳)
(ف31)یعنی انسان ۔(ف32)یعنی دِینِ حق و طریقۂِ اسلام پر ۔(ف33)کثیر ۔ مراد وسعتِ رزق ہے اور یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب کہ سات برس تک وہ بارش سے محروم کردیئے گئے تھے ، معنٰی یہ ہیں کہ اگر وہ لوگ ایمان لاتے تو ہم دنیا میں ان پر رزق وسیع کرتے اور انہیں کثیر پانی اور فراخیِ عیش عنایت فرماتے ۔
اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ (ف۳۹) اس کی بندگی کرنے کھڑا ہوا (ف٤۰) تو قریب تھا کہ وہ جن اس پر ٹھٹھ کے ٹھٹھ ہوجائیں (ف٤۱)
(ف39)یعنی سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بطنِ نخلہ میں وقتِ فجر ۔(ف40)یعنی نماز پڑھنے ۔(ف41)کیونکہ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عبادت و تلاوت اور آپ کے اصحاب کی اقتداء نہایت عجیب اورپسندیدہ معلو م ہوئی ، اس سے پہلے انہوں نے کبھی ایسا منظر نہ دیکھا تھا اور ایسا بے مثل کلام نہ سنا تھا ۔
مگر اللہ کے پیام پہنچاتا اور اس کی رسالتیں (ف٤۳) اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم نہ مانے (ف٤٤) تو بیشک ان کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں،
(ف43)یہ میرا فرض ہے جس کو انجام دیتا ہوں ۔(ف44)اور ان پر ایمان نہ لائے ۔
یہاں تک کہ جب دیکھیں گے (ف٤۵) جو وعدہ دیا جاتا ہے تو اب جان جائیں گے کہ کس کے مددگار کمزور اور کس کی گنتی کم (ف٤٦)
(ف45)وہ عذاب ۔(ف46)کافر کی یا مومن کی ، یعنی اس روز کافر کا کوئی مددگار نہ ہوگا اور مومن کی مدد اللہ تعالٰی اور اس کے انبیاء اور ملائکہ سب فرمائیں گے ۔شانِ نزول : نضر بن حارث نے کہا تھا کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اس کے جواب میں اگلی آیت نازل ہوئی ۔
غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر (ف٤۸) کسی کو مسلط نہیں کرتا (ف٤۹)
(ف48)یعنی اپنے غیبِ خاص پر جس کے ساتھ وہ منفرد ہے ۔ (خازن و بیضاوی وغیرہ)(ف49)یعنی اطلاعِ کامل نہیں دیتا جس سے حقائق کا کشفِ تام اعلٰی درجۂِ یقین کے ساتھ حاصل ہو ۔
سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے (ف۵۰) کہ ان کے آگے پیچھے پہرا مقرر کر دیتا ہے (ف۵۱)
(ف50)تو انہیں غیوب پر مسلط کرتا ہے اور اطلاعِ کامل اور کشفِ تام عطا فرماتا ہے اور یہ علمِ غیب ان کےلئے معجزہ ہوتا ہے ، اولیاء کو بھی اگرچہ غیوب پر اطلاع دی جاتی ہے مگر انبیاء کا علم باعتبارِ کشف و انجلاء اولیاء کے علم سے بہت بلند وبالا وارفع و اعلٰی ہے اور اولیاء کے علوم انبیاء ہی کے وساطت اور انہیں کے فیض سے ہوتے ہیں ۔ معتزلہ ایک گمراہ فرقہ ہے وہ اولیاء کےلئے علمِ غیب کا قائل نہیں اس کا خیال باطل اور احادیثِ کثیرہ کے خلاف ہے اور اس آیت سے ان کا تمسّک صحیح نہیں ۔ بیانِ مذکورہ بالا میں اس کا اشارہ کردیا گیا ہے سیّد الرُّسُل خاتمُ الانبیاء محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مرتضٰی رسولوں میں سب سے اعلٰی ہیں اللہ تعالٰی نے آپ کو تمام اشیاء کے علوم عطا فرمائے جیسا کہ صحاح کی معتبر احادیث سے ثابت ہے اور یہ آیت حضور کے اور تمام مرتضٰی رسولوں کےلئے غیب کا علم ثابت کرتی ہے ۔(ف51)فرشتوں کو جو ان کی حفاظت کرتے ہیں ۔