Al-Kahf الکھف

پارہ: 15
سورہ: 18
آیات: 110
اَ لۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِىۡۤ اَنۡزَلَ عَلٰى عَبۡدِهِ الۡكِتٰبَ وَلَمۡ يَجۡعَلْ لَّهٗ عِوَجًا  ؕ‏ ﴿1﴾

سب خوبیاں اللہ کو جس نے اپنے بندے (ف۲) پر کتاب اتاری (ف۳) اور اس میں اصلاً (بالکل، ذرا بھی) کجی نہ رکھی، (ف٤)

All praise is to Allah Who sent down the Book upon His bondman, and has not kept any deviation in it.

قَيِّمًا لِّيُنۡذِرَ بَاۡسًا شَدِيۡدًا مِّنۡ لَّدُنۡهُ وَيُبَشِّرَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الَّذِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمۡ اَجۡرًا حَسَنًا ۙ‏ ﴿2﴾

عدل والی کتاب کہ (ف۵) اللہ کے سخت عذاب سے ڈرائے اور ایمان والوں کو جو نیک کام کریں بشارت دے کہ ان کے لیے اچھا ثواب ہے،

A just Book, to warn of Allah’s severe punishment, and to give glad tidings to the believers who do good deeds, that for them is an excellent reward.

مّٰكِثِيۡنَ فِيۡهِ اَبَدًا ۙ‏ ﴿3﴾

جس میں ہمیشہ رہیں گے،

In which they will abide forever.

وَّيُنۡذِرَ الَّذِيۡنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا‏ ﴿4﴾

اور ان (ف٦) کو ڈرائے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے اپنا کوئی بچہ بنایا،

And to warn those who say “Allah has chosen a child.”

مَا لَهُمۡ بِهٖ مِنۡ عِلۡمٍ وَّلَا لِاٰبَآٮِٕهِمۡ​ؕ كَبُرَتۡ كَلِمَةً تَخۡرُجُ مِنۡ اَفۡوَاهِهِمۡ​ؕ اِنۡ يَّقُوۡلُوۡنَ اِلَّا كَذِبًا‏ ﴿5﴾

اس بارے میں نہ وہ کچھ علم رکھتے ہیں نہ ان کے باپ دادا (ف۷) کتنا بڑا بول ہے کہ ان کے منہ سے نکلتا ہے، نِرا جھوٹ کہہ رہے ہیں،

They do not have any knowledge of it – nor did their forefathers; profound is the word that comes out of their mouths; they only speak a lie.

فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّـفۡسَكَ عَلٰٓى اٰثَارِهِمۡ اِنۡ لَّمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٰذَا الۡحَـدِيۡثِ اَسَفًا‏ ﴿6﴾

تو کہیں تم اپنی جان پر کھیل جاؤ گے ان کے پیچھے اگر وہ اس بات پر (ف۸) ایمان نہ لائیں غم سے (ف۹)

Possibly you may risk your life by grieving (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) for them if they do not believe in this narration.

اِنَّا جَعَلۡنَا مَا عَلَى الۡاَرۡضِ زِيۡنَةً لَّهَا لِنَبۡلُوَهُمۡ اَ يُّهُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا‏ ﴿7﴾

بیشک ہم نے زمین کا سنگھار کیا جو کچھ اس پر ہے (ف۱۰) کہ انھیں آزمائیں ان میں کس کے کام بہتر ہیں (ف۱۱)

We have indeed placed all that is on the earth as its adornment in order that We may test them, who among them has the best deeds.

وَاِنَّا لَجٰعِلُوۡنَ مَا عَلَيۡهَا صَعِيۡدًا جُرُزًا ؕ‏ ﴿8﴾

اور بیشک جو کچھ اس پر ہے ایک دن ہم اسے پٹ پر میدان (سفید زمین) کو چھوڑیں گے (ف۱۲)

And indeed We shall one day make all that is on it a barren plain.

اَمۡ حَسِبۡتَ اَنَّ اَصۡحٰبَ الۡـكَهۡفِ وَالرَّقِيۡمِۙ كَانُوۡا مِنۡ اٰيٰتِنَا عَجَبًا‏ ﴿9﴾

کیا تمہیں معلوم ہوا کہ پہاڑ کی کھوہ اور جنگل کے کنارے والے (ف۱۳) ہماری ایک عجیب نشانی تھے،

Did you know that the People of the Cave and People close to the Woods, were Our exceptional signs?

اِذۡ اَوَى الۡفِتۡيَةُ اِلَى الۡـكَهۡفِ فَقَالُوۡا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ رَحۡمَةً وَّهَيِّئۡ لَـنَا مِنۡ اَمۡرِنَا رَشَدًا‏ ﴿10﴾

جب ان نوجوانوں نے (ف۱٤) غار میں پناہ لی پھر بولے اے ہمارے رب ہمیں اپنے پاس سے رحمت دے (ف۱۵) اور ہمارے کام میں ہمارے لیے راہ یابی کے سامان کر،

When the young men took refuge in the Cave – then said, “Our Lord! Give us mercy from Yourself, and arrange guidance for us in our affair.”

فَضَرَبۡنَا عَلٰٓى اٰذَانِهِمۡ فِى الۡـكَهۡفِ سِنِيۡنَ عَدَدًا ۙ‏ ﴿11﴾

تو ہم نے اس غار میں ان کے کے کانوں پر گنتی کے کئی برس تھپکا (ف۱٦)

We then thumped upon their ears in the Cave for a number of years. (* Put them to sleep.)

ثُمَّ بَعَثۡنٰهُمۡ لِنَعۡلَمَ اَىُّ الۡحِزۡبَيۡنِ اَحۡصٰى لِمَا لَبِثُوۡۤا اَمَدًا‏ ﴿12﴾

پھر ہم نے انھیں جگایا کہ دیکھیں (ف۱۷) دو گروہوں میں کون ان کے ٹھہرنے کی مدت زیادہ ٹھیک بتاتا ہے،

We then awakened them to see which of the two groups more accurately tells the period they had stayed.

نَحۡنُ نَقُصُّ عَلَيۡكَ نَبَاَهُمۡ بِالۡحَـقِّ​ؕ اِنَّهُمۡ فِتۡيَةٌ اٰمَنُوۡا بِرَبِّهِمۡ وَزِدۡنٰهُمۡ هُدًى​ۖ‏ ﴿13﴾

ہم ان کا ٹھیک ٹھیک حال تمہیں سنائیں، وہ کچھ جوان تھے کہ اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان کو ہدایت بڑھائی،

We shall narrate their account to you accurately; they were young men who believed in their Lord, and We increased the guidance for them.

وَّرَبَطۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ اِذۡ قَامُوۡا فَقَالُوۡا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ لَنۡ نَّدۡعُوَا۫ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اِلٰهًـا​ لَّـقَدۡ قُلۡنَاۤ اِذًا شَطَطًا‏  ﴿14﴾

اور ہم نے ان کی ڈھارس بندھائی جب (ف۱۸) کھڑے ہو کر بولے کہ ہمارا رب وہ ہے جو آسمان اور زمین کا رب ہے ہم اس کے سوا کسی معبود کو نہ پوجیں گے ایسا ہو تو ہم نے ضرور حد سے گزری ہوئی بات کہی

And We made their hearts steadfast when they stood up and said, “Our Lord is the Lord of the heavens and the earth – we shall not worship any other deity except Him – if it were, we have then said something excessive.”

هٰٓؤُلَاۤءِ قَوۡمُنَا اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً​ ؕ لَوۡ لَا يَاۡتُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ بِسُلۡطٰنٍۢ بَيِّنٍ​ ؕ فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَـرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا ؕ‏ ﴿15﴾

یہ جو ہماری قوم ہے اس نے اللہ کے سوا خدا بنا رکھے ہیں، کیوں نہیں لاتے ان پر کوئی روشن سند، تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۱۹)

“These – the people of ours – have set up Gods besides Allah; why do they not bring a clear proof regarding them? And who is more unjust than one who fabricates a lie against Allah?”

وَاِذِ اعۡتَزَلۡـتُمُوۡهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُوۡنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاۡوٗۤا اِلَى الۡـكَهۡفِ يَنۡشُرۡ لَـكُمۡ رَبُّكُمۡ مِّنۡ رَّحۡمَتِهٖ وَيُهَيِّئۡ لَـكُمۡ مِّنۡ اَمۡرِكُمۡ مِّرۡفَقًا‏ ﴿16﴾

اور جب تم ان سے اور جو کچھ وہ اللہ سوا پوجتے ہیں سب سے الگ ہوجاؤ تو غار میں پناہ لو تمہارا رب تمہارے لیے اپنی رحمت پھیلادے گا اور تمہارے کام میں آسانی کے سامان بنادے گا،

“And when you have disassociated yourself from them and all what they worship besides Allah – so take refuge in the Cave – your Lord will spread His mercy for you and arrange ease for you in your affairs.”

وَتَرَى الشَّمۡسَ اِذَا طَلَعَتۡ تَّزٰوَرُ عَنۡ كَهۡفِهِمۡ ذَاتَ الۡيَمِيۡنِ وَاِذَا غَرَبَتۡ تَّقۡرِضُهُمۡ ذَاتَ الشِّمَالِ وَهُمۡ فِىۡ فَجۡوَةٍ مِّنۡهُ​ ؕ ذٰ لِكَ مِنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ​ ؕ مَنۡ يَّهۡدِ اللّٰهُ فَهُوَ الۡمُهۡتَدِ ​ۚ وَمَنۡ يُّضۡلِلۡ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ وَلِيًّا مُّرۡشِدًا‏ ﴿17﴾

اور اے محبوب! تم سورج کو دیکھو گے کہ جب نکلتا ہے تو ان کے غار سے داہنی طرف بچ جاتا ہے اور جب ڈوبتا ہے تو ان سے بائیں طرف کترا جاتا ہے (ف۲۰) حالانکہ وہ اس غار کے کھلے میدان میں میں ہیں (ف۲۱) یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے جسے اللہ راہ دے تو وہی راہ پر ہے، اور جسے گمراہ کرے تو ہرگز اس کا کوئی حمایتی راہ دکھانے والا نہ پاؤ گے،

And O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) you will see the sun that when it rises it shifts away to the right of their cave, and when it sets it shifts away to their left, and they are in the open ground of that cave; this is from among the signs of Allah; whomever Allah guides – only he is therefore guided; and whomever He sends astray – you will never find for him a friend who guides.

وَ تَحۡسَبُهُمۡ اَيۡقَاظًا وَّهُمۡ رُقُوۡدٌ ​​ۖ وَنُـقَلِّبُهُمۡ ذَاتَ الۡيَمِيۡنِ وَ ذَاتَ الشِّمَالِ​​ ۖ وَكَلۡبُهُمۡ بَاسِطٌ ذِرَاعَيۡهِ بِالۡوَصِيۡدِ​ ؕ لَوِ اطَّلَعۡتَ عَلَيۡهِمۡ لَوَلَّيۡتَ مِنۡهُمۡ فِرَارًا وَّلَمُلِئۡتَ مِنۡهُمۡ رُعۡبًا‏  ﴿18﴾

اور تم انھیں جاگتا سمجھو (ف۲۲) اور وہ سوتے ہیں اور ہم ان کی داہنی بائیں کروٹیں بدلتے ہیں (ف۲۳) اور ان کا کتا اپنی کلائیاں پھیلائے ہوئے ہے غار کی چوکھٹ پر (ف۲٤) اے سننے! والے اگر تو انھیں جھانک کر دیکھے تو ان سے پیٹھ پھیر کر بھاگے اور ان سے ہیبت میں بھر جائے (ف۲۵)

And you may think they are awake, whereas they are asleep; and We turn them over to the right and the left – and their dog is on the threshold of the cave, with its paws outstretched; O listener, were you to look at them closely, you would turn back running away from them, and be filled with their dread.

وَكَذٰلِكَ بَعَثۡنٰهُمۡ لِيَتَسَآءَلُوۡا بَيۡنَهُمۡ​ ؕ قَالَ قَآٮِٕلٌ مِّنۡهُمۡ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ ؕ قَالُوۡا لَبِثۡنَا يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ​ ؕ قَالُوۡا رَبُّكُمۡ اَعۡلَمُ بِمَا لَبِثۡتُمۡ ؕ فَابۡعَثُوۡۤا اَحَدَكُمۡ بِوَرِقِكُمۡ هٰذِهٖۤ اِلَى الۡمَدِيۡنَةِ فَلۡيَنۡظُرۡ اَيُّهَاۤ اَزۡكٰى طَعَامًا فَلۡيَاۡتِكُمۡ بِرِزۡقٍ مِّنۡهُ وَلۡيَتَلَطَّفۡ وَلَا يُشۡعِرَنَّ بِكُمۡ اَحَدًا‏ ﴿19﴾

اور یوں ہی ہم نے ان کو جگایا (ف۲٦) کہ آپس میں ایک دوسرے سے احوال پوچھیں (ف۲۷) ان میں ایک کہنے والا بولا (ف۲۸) تم یہاں کتنی دیر رہے، کچھ بولے کہ ایک دن رہے یا دن سے کم (ف۲۹) دوسرے بولے تمہارا رب خوب جانتا ہے جتنا تم ٹھہرے (ف۳۰) تو اپنے میں ایک کو یہ چاندی لے کر (ف۳۱) شہر میں بھیجو پھر وہ غور کرے کہ وہاں کونسا کھانا زیادہ ستھرا ہے (ف۳۲) کہ تمہارے لیے اس میں سے کھانے کو لائے اور چاہیے کہ نرمی کرے اور ہرگز کسی کو تمہاری اطلاع نہ دے،

And similarly We awakened them so that they may enquire about each other; a speaker among them said, “How long have you stayed here?” Some among them said, “We have stayed a day or part of a day”; the others said, “Your Lord well knows how long you have stayed; therefore send one of you to the city with this silver coin – he may then check which food available there is purer, in order to bring some of it for you to eat – and he must be courteous and not inform anyone about you.”

اِنَّهُمۡ اِنۡ يَّظۡهَرُوۡا عَلَيۡكُمۡ يَرۡجُمُوۡكُمۡ اَوۡ يُعِيۡدُوۡكُمۡ فِىۡ مِلَّتِهِمۡ وَلَنۡ تُفۡلِحُوۡۤا اِذًا اَبَدًا‏ ﴿20﴾

بیشک اگر وہ تمہیں جان لیں گے تو تمہیں پتھراؤ کریں گے (ف۳۳) یا اپنے دین (ف۳٤) میں پھیر لیں گے اور ایسا ہوا تو تمہارا کبھی بھلا نہ ہوگا،

“Indeed if they come to know about you, they will stone you or turn you back to their religion – and if so, you will never prosper.”

وَكَذٰلِكَ اَعۡثَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ لِيَـعۡلَمُوۡۤا اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّاَنَّ السَّاعَةَ لَا رَيۡبَ فِيۡهَا ​ۚ اِذۡ يَتَـنَازَعُوۡنَ بَيۡنَهُمۡ اَمۡرَهُمۡ​ فَقَالُوۡا ابۡنُوۡا عَلَيۡهِمۡ بُنۡيَانًـا ​ ؕ رَبُّهُمۡ اَعۡلَمُ بِهِمۡ​ؕ قَالَ الَّذِيۡنَ غَلَبُوۡا عَلٰٓى اَمۡرِهِمۡ لَـنَـتَّخِذَنَّ عَلَيۡهِمۡ مَّسۡجِدًا‏ ﴿21﴾

اور اسی طرح ہم نے ان کی اطلاع کردی (ف۳۵) کہ لوگ جان لیں (ف۳٦) کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کچھ شبہ نہیں، جب وہ لوگ ان کے معاملہ میں باہم جھگڑنے لگے (ف۳۷) تو بولے ان کے غار پر کوئی عمارت بناؤ، ان کا رب انھیں خوب جانتا ہے، وہ بولے جو اس کام میں غالب رہے تھے (ف۳۸) قسم ہے کہ ہم تو ان پر مسجد بنائیں گے (ف۳۹)

And this is how We made them known for people to know that the promise of Allah is true and that there is no doubt concerning the Last Day; when the people began disputing among themselves regarding them, they said, “Construct a building over their cave”; their Lord well knows them; those who dominated in this matter said, “We promise we will build a mosque over them.”

سَيَـقُوۡلُوۡنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمۡ كَلۡبُهُمۡ​ۚ وَيَقُوۡلُوۡنَ خَمۡسَةٌ سَادِسُهُمۡ كَلۡبُهُمۡ رَجۡمًۢا بِالۡغَيۡبِ​ۚ وَيَقُوۡلُوۡنَ سَبۡعَةٌ وَّثَامِنُهُمۡ كَلۡبُهُمۡ​ؕ قُلْ رَّبِّىۡۤ اَعۡلَمُ بِعِدَّتِهِمۡ مَّا يَعۡلَمُهُمۡ اِلَّا قَلِيۡلٌ  فَلَا تُمَارِ فِيۡهِمۡ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا وَّلَا تَسۡتَفۡتِ فِيۡهِمۡ مِّنۡهُمۡ اَحَدًا‏ ﴿22﴾

اب کہیں گے (ف٤۰) کہ وہ تین ہیں چوتھا ان کا کتا اور کچھ کہیں گے پانچ ہیں، چھٹا ان کا کتا بےدیکھے الاؤ تکا (تیر تکا) بات (ف٤۱) اور کچھ کہیں گے سات ہیں (ف٤۲) اور آٹھواں ان کا کتا تم فرماؤ میرا رب ان کی گنتی خوب جانتا ہے (ف٤۳) انھیں نہیں جانتے مگر تھوڑے (ف٤٤) تو ان کے بارے میں (ف٤۵) بحث نہ کرو مگر اتنی ہی بحث جو ظاہر ہوچکی (ف٤٦)

So the people will now say, “They are three, their dog is the fourth”; and some will say, “They are five, their dog is the sixth” – just blind guesses; and some will say, “They are seven, and their dog is the eighth”; proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “My Lord well knows their number – no one knows them except a few”; therefore do not debate concerning them except what has occurred, and do not ask any of the People of the Book(s) anything concerning them.

وَلَا تَقُوۡلَنَّ لِشَاىۡءٍ اِنِّىۡ فَاعِلٌ ذٰ لِكَ غَدًا ۙ‏ ﴿23﴾

اور ان کے (ف ٤۷) بارے میں کسی کتابی سے کچھ نہ پوچھو،

And never say about anything that, “I will do this tomorrow.”

اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ​ وَاذۡكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِيۡتَ وَقُلۡ عَسٰٓى اَنۡ يَّهۡدِيَنِ رَبِّىۡ لِاَقۡرَبَ مِنۡ هٰذَا رَشَدًا‏ ﴿24﴾

مگر یہ کہ اللہ چاہے (ف٤۸) اور اپنے رب کی یاد کر جب تو بھول جائے (ف٤۹) اور یوں کہو کہ قریب ہے میرا رب مجھے اس (ف۵۰) سے نزدیک تو راستی کی راہ دکھائے، (ف۵۱)

Except “If Allah wills”; and remember your Lord when you forget, and say, “It is likely that my Lord will guide me to a more accurate way of virtue than this.”

وَلَبِثُوۡا فِىۡ كَهۡفِهِمۡ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِيۡنَ وَازۡدَادُوۡا تِسۡعًا‏  ﴿25﴾

اور وہ اپنے غار میں تین سو برس ٹھہرے نو اوپر ، (ف۵۲)

And they stayed in their Cave for three hundred years* and nine more*. (* 300 according to the Solar calendar and 309 according to the Lunar calendar.)

قُلِ اللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا لَبِثُوۡا​ ۚ لَهٗ غَيۡبُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ​ ؕ اَبۡصِرۡ بِهٖ وَاَسۡمِعۡ​ ؕ مَا لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ مِنۡ وَّلِىٍّ  وَّلَا يُشۡرِكُ فِىۡ حُكۡمِهٖۤ اَحَدًا‏ ﴿26﴾

تم فرماؤ اللہ خوب جانتا ہے وہ جتنا ٹھہرے (ف۵۳) اسی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمینوں کے سب غیب، وہ کیا ہی دیکھتا اور کیا ہی سنتا ہے (ف۵٤) اس کے سوا ان کا (ف۵۵) کوئی والی نہیں، اور وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا،

Say, “Allah well knows how long they stayed; for Him only are the hidden of the heavens and the earth; how well He sees and hears! They do not have any supporter besides Him; and He does not associate anyone in His command.”

وَاتۡلُ مَاۤ اُوۡحِىَ اِلَيۡكَ مِنۡ كِتَابِ رَبِّكَ ​ؕ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ​ ۚ وَلَنۡ تَجِدَ مِنۡ دُوۡنِهٖ مُلۡتَحَدًا‏ ﴿27﴾

اور تلاوت کرو جو تمہارے رب کی کتاب (ف۵٦) تمہیں وحی ہوئی اس کی باتوں کا کوئی بدلنے والا نہیں (ف۵۷) اور ہرگز تم اس کے سوا پناہ نہ پاؤ گے،

And recite the Book of your Lord which has been divinely revealed to you; there is none who can change His Words; and you will never find a refuge besides Him.

وَاصۡبِرۡ نَـفۡسَكَ مَعَ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ بِالۡغَدٰوةِ وَالۡعَشِىِّ يُرِيۡدُوۡنَ وَجۡهَهٗ​ وَلَا تَعۡدُ عَيۡنٰكَ عَنۡهُمۡ​ ۚ تُرِيۡدُ زِيۡنَةَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا​ ۚ وَ لَا تُطِعۡ مَنۡ اَغۡفَلۡنَا قَلۡبَهٗ عَنۡ ذِكۡرِنَا وَاتَّبَعَ هَوٰٮهُ وَكَانَ اَمۡرُهٗ فُرُطًا‏ ﴿28﴾

اور اپنی جان ان سے مانوس رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے ہیں (ف۵۸) اور تمہاری آنکھیں انھیں چھوڑ کر اور پر نہ پڑیں کیا تم دنیا کی زندگانی کا سنگھار چاہو گے، اور اس کا کہا نہ مانو جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا کام حد سے گزر گیا ،

And restrain yourself along with those who pray to their Lord morning and evening, seeking His pleasure; and may not your sight fall on anything besides them; would you desire the adornment of the life of this world? And do not follow him whose heart We have made neglectful of Our remembrance – the one who has followed his own desires and his matter has crossed the limits.

وَقُلِ الۡحَـقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ​ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ​ۙاِنَّاۤ اَعۡتَدۡنَا لِلظّٰلِمِيۡنَ نَارًا ۙ اَحَاطَ بِهِمۡ سُرَادِقُهَا​ ؕ وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِى الۡوُجُوۡهَ​ؕ بِئۡسَ الشَّرَابُ وَسَآءَتۡ مُرۡتَفَقًا‏ ﴿29﴾

اور فرما دو کہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے (ف۵۹) تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے (ف٦۰) بیشک ہم نے ظالموں (ف٦۱) کے لیے وہ آگ تیار کر رکھی ہے جس کی دیواریں انھیں گھیر لیں گی، اور اگر (ف٦۲) پانی کے لیے فریاد کریں تو ان کی فریاد رسی ہوگی اس پانی سے کہ چرخ دے (کھولتے ہوئے) دھات کی طرح ہے کہ ان کے منہ بھون دے گا کیا ہی برا پینا ہے (ف٦۳) اور دوزخ کیا ہی بری ٹھہرنے کی جگہ،

And proclaim, “The Truth is from your Lord”; so whoever wills may accept faith, and whoever wills may disbelieve – We have indeed prepared for the disbelievers a fire the walls of which will surround them; if they plead for water, their plea will be answered with water like molten metal which shall scald their faces; what an evil drink it is; and what an evil destination is hell!

اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ مَنۡ اَحۡسَنَ عَمَلًا​ ۚ‏ ﴿30﴾

بیشک جو ایمان لائے اور نیک کام کیے ہم ان کے نیگ (اجر) ضائع نہیں کرتے جن کے کام اچھے ہوں، (ف٦٤)

Indeed those who believed and did good deeds – We do not waste the reward of those whose deeds are good.

اُولٰۤٮِٕكَ لَهُمۡ جَنّٰتُ عَدۡنٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهِمُ الۡاَنۡهٰرُ يُحَلَّوۡنَ فِيۡهَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَهَبٍ وَّ يَلۡبَسُوۡنَ ثِيَابًا خُضۡرًا مِّنۡ سُنۡدُسٍ وَّاِسۡتَبۡرَقٍ مُّتَّكِــِٕيۡنَ فِيۡهَا عَلَى الۡاَرَآٮِٕكِ​ؕ نِعۡمَ الثَّوَابُ ؕ وَحَسُنَتۡ مُرۡتَفَقًا‏ ﴿31﴾

ان کے لیے بسنے کے باغ ہیں ان کے نیچے ندیاں بہیں وہ اس میں سونے کے کنگن بہنائے جایں گے (ف٦۵) اور سبز کپڑے کریب اور قناویز کے پہنیں گے وہاں تختوں پر تکیہ لگائے (ف٦٦) کیا ہی اچھا ثواب اور جنت کی کیا ہی اچھی آرام کی جگہ،

For them are everlasting Gardens of Eden, beneath which rivers flow – in it they will be given bracelets of gold to adorn, and shall wear green clothes made of fine silk and gold embroidery, reclining upon thrones in it; what an excellent reward; and what an excellent abode is Paradise!

وَاضۡرِبۡ لَهُمۡ مَّثَلًا رَّجُلَيۡنِ جَعَلۡنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَيۡنِ مِنۡ اَعۡنَابٍ وَّحَفَفۡنٰهُمَا بِنَخۡلٍ وَّجَعَلۡنَا بَيۡنَهُمَا زَرۡعًا ؕ‏ ﴿32﴾

اور ان کے سامنے دو مردوں کا حال بیان کرو (ف٦۷) کہ ان میں ایک کو (ف٦۸) ہم نے انگوروں کے دو باغ دیے اور ان کو کھجوروں سے ڈھانپ لیا اور ان کے بیچ میں کھیتی رکھی (ف٦۹)

And relate to them the account of the two men – to one We gave two gardens of grapes, and covered them with date-palms and kept farms between them.

كِلۡتَا الۡجَـنَّتَيۡنِ اٰتَتۡ اُكُلَهَا وَلَمۡ تَظۡلِمۡ مِّنۡهُ شَيۡــًٔـا​ ۙ وَّفَجَّرۡنَا خِلٰـلَهُمَا نَهَرًا ۙ‏ ﴿33﴾

دونوں باغ اپنے پھل لائے اور اس میں کچھ کمی نہ دی (ف۷۰) اور دونوں کے بیچ میں ہم نے نہر بہائی

Both the gardens gave yields and gave no shortfall in it – and We made a river to flow between the two.

وَكَانَ لَهٗ ثَمَرٌ​ ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَهُوَ يُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكۡثَرُ مِنۡكَ مَالًا وَّاَعَزُّ نَفَرًا‏ ﴿34﴾

اور وہ (ف۷۱) پھل رکھتا تھا (ف۷۲) تو اپنے ساتھی (ف۷۳) سے بولا اور وہ اس سے رد و بدل کرتا تھا (ف۷٤) میں تجھ سے مال میں زیادہ ہوں اور آدمیوں کا زیادہ زور رکھتا ہوں (ف۷۵)

And he had fruit; he therefore said to his companion – and he used to debate with him – “I exceed you in wealth, and am more powerful in respect of men.”

وَدَخَلَ جَنَّتَهٗ وَهُوَ ظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ​ ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنۡ تَبِيۡدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًا ۙ‏ ﴿35﴾

اپنے باغ میں گیا (ف۷٦) اور اپنی جان پر ظلم کرتا ہوا (ف۷۷) بولا مجھے گمان نہیں کہ یہ کبھی فنا ہو،

He went into his garden and wronging himself said, “I do not think that this will ever perish.”

وَّمَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآٮِٕمَةً  ۙ وَّلَٮِٕنۡ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّىۡ لَاَجِدَنَّ خَيۡرًا مِّنۡهَا مُنۡقَلَبًا‏ ﴿36﴾

اور میں گمان نہیں کرتا کہ قیامت قائم ہو اور اگر میں (ف۷۸) اپنے رب کی طرف پھر گیا بھی تو ضرور اس باغ سے بہتر پلٹنے کی جگہ پاؤں گا (ف۷۹)

“I do not think that the Last Day will ever be established – and even if I return to my Lord I will surely find a haven better than this garden.”

قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَهُوَ يُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرۡتَ بِالَّذِىۡ خَلَقَكَ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّـطۡفَةٍ ثُمَّ سَوّٰٮكَ رَجُلًاؕ‏ ﴿37﴾

اس کے ساتھی (ف۸۰) نے اس سے الٹ پھیر کرتے ہوئے جواب دیا کیا تو اس کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے بنایا پھر نطفہ سے پھر تجھے ٹھیک مرد کیا (ف۸۱)

His companion debating with him answered, “What! You disbelieve in Him Who has created you from dust, then from a drop of liquid, and then created you as a complete man?”

لّٰـكِنَّا۟ هُوَ اللّٰهُ رَبِّىۡ وَلَاۤ اُشۡرِكُ بِرَبِّىۡۤ اَحَدًا‏ ﴿38﴾

لیکن میں تو یہی کہتا ہوں کہ وہ اللہ ہی میرا رب ہے اور میں کسی کو اپنے رب کا شریک نہیں کرتا ہوں،

“But I just say that only Allah is my Lord, and I do not ascribe anyone as a partner to my Lord.”

وَلَوۡلَاۤ اِذۡ دَخَلۡتَ جَنَّتَكَ قُلۡتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ​ ۚ اِنۡ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنۡكَ مَالًا وَّوَلَدًا​ ۚ‏ ﴿39﴾

اور کیوں نہ ہوا کہ جب تو اپنے باغ میں گیا تو کہا ہوتا جو چاہے اللہ ، ہمیں کچھ زور نہیں مگر اللہ کی مدد کا (ف۸۲) اگر تو مجھے اپنے سے مال و اولاد میں کم دیکھتا تھا (ف۸۳)

“And why was it not that you would have said when you entered your garden, ‘Whatever Allah wills – we do not have any strength except with the help of Allah’ – if you had observed me lesser than you in wealth and children.”?

فَعَسٰى رَبِّىۡۤ اَنۡ يُّؤۡتِيَنِ خَيۡرًا مِّنۡ جَنَّتِكَ وَيُرۡسِلَ عَلَيۡهَا حُسۡبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصۡبِحَ صَعِيۡدًا زَلَـقًا ۙ‏ ﴿40﴾

تو قریب ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے اچھا دے (ف۸٤) اور تیرے باغ پر آسمان سے بجلیاں اتارے تو وہ پٹ پر میدان (سفید زمین) ہو کر رہ جائے (ف۸۵)

“So it is likely that my Lord will give me a garden better than yours, and send bolts of lightning from the skies on your garden – it therefore turns into a barren plain.”

اَوۡ يُصۡبِحَ مَآؤُهَا غَوۡرًا فَلَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ لَهٗ طَلَبًا‏ ﴿41﴾

یا اس کا پانی زمین میں دھنس جائے (ف۸٦) پھر تو اسے ہرگز تلاش نہ کرسکے (ف۸۷)

“Or its water may sink into the earth, so you may never be able to find it.”

وَاُحِيۡطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصۡبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيۡهِ عَلَىٰ مَاۤ اَنۡفَقَ فِيۡهَا وَهِىَ خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوۡشِهَا وَيَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِىۡ لَمۡ اُشۡرِكۡ بِرَبِّىۡۤ اَحَدًا‏ ﴿42﴾

اور اس کے پھل گھیر لیے گئے (ف۸۸) تو اپنے ہاتھ ملتا رہ گیا (ف۸۹) اس لاگت پر جو اس باغ میں خرچ کی تھی اور وہ اپنی ٹیٹوں پر (اوندھے منہ) گرا ہوا تھا (ف۹۰) اور کہہ رہا ہے، اے کاش! میں نے اپنے رب کا کسی کو شریک نہ کیا ہوتا،

And his fruits were surrounded – he therefore remained helplessly wringing his hands upon all that he had spent on it – and it lay fallen on its canopy – and he says, “If only I had not ascribed any partner to my Lord!”

وَلَمۡ تَكُنۡ لَّهٗ فِئَةٌ يَّـنۡصُرُوۡنَهٗ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَمَا كَانَ مُنۡتَصِرًا ؕ‏ ﴿43﴾

اور اس کے پاس کوئی جماعت نہ تھی کہ اللہ کے سامنے اس کی مدد کرتی نہ وہ بدلہ لینے کے قابل تھا (ف۹۱)

And he had no group to help him against Allah, nor was he capable of taking revenge.

هُنَالِكَ الۡوَلَايَةُ لِلّٰهِ الۡحَـقِّ​ؕ هُوَ خَيۡرٌ ثَوَابًا وَّخَيۡرٌ عُقۡبًا‏ ﴿44﴾

یہاں کھلتا ہے (ف۹۲) کہ اختیار سچے اللہ کا ہے، اس کا ثواب سب سے بہتر اور اسے ماننے کا انجام سب سے بھلا،

Here brought to light is that the authority is only for Allah, the True; the reward He bestows is the best, and believing in Him has the best outcome.

وَاضۡرِبۡ لَهُمۡ مَّثَلَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا كَمَآءٍ اَنۡزَلۡنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخۡتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الۡاَرۡضِ فَاَصۡبَحَ هَشِيۡمًا تَذۡرُوۡهُ الرِّيٰحُ​ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ مُّقۡتَدِرًا‏ ﴿45﴾

اور ان کے سامنے (ف۹۳) زندگانی دنیا کی کہاوت بیان کرو (ف۹٤) جیسے ایک پانی ہم نے آسمان اتارا تو اس کے سبب زمین کا سبزہ گھنا ہو کر نکلا (ف۹۵) کہ سوکھی گھاس ہوگیا جسے ہوائیں اڑائیں (ف۹٦) اور اللہ ہر چیز پر قابو والا ہے (ف۹۷)

And relate to them the example of the life of this world – like water which We sent down from the sky, therefore vegetation of the earth grew forth in abundance with it to become dry hay which the winds scatter; and Allah is the Controller of all things.

اَلۡمَالُ وَ الۡبَـنُوۡنَ زِيۡنَةُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا​ ۚ وَالۡبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَيۡرٌ عِنۡدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّخَيۡرٌ اَمَلًا‏ ﴿46﴾

مال اور بیٹے یہ جیتی دنیا کا سنگھار ہے (ف۹۸) اور باقی رہنے والی اچھی باتیں (ف۹۹) ان کا ثواب تمہارے رب کے یہاں بہتر اور وہ امید میں سب سے بھلی،

Wealth and sons are ornaments of the life of this world; and good deeds that last – their reward is better before your Lord, and are better in respect of hope.

وَيَوۡمَ نُسَيِّرُ الۡجِبَالَ و تَرَى الۡاَرۡضَ بَارِزَةً  ۙ وَّحَشَرۡنٰهُمۡ فَلَمۡ نُغَادِرۡ مِنۡهُمۡ اَحَدًا​ ۚ‏ ﴿47﴾

اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے (ف۱۰۰) اور تم زمین کو صاف کھلی ہوئی دیکھو گے (ف۱۰۱) اور ہم انھیں اٹھائیں گے (ف۱۰۲) تو ان میں سے کسی کو نہ چھوڑیں گے،

And the Day when We move the hills and you see the earth flattened plain, and We shall raise all of them together – so not leaving out any one of them.

وَعُرِضُوۡا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّا ؕ لَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا كَمَا خَلَقۡنٰكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ ۢ  بَلۡ زَعَمۡتُمۡ اَ لَّنۡ نَّجۡعَلَ لَـكُمۡ مَّوۡعِدًا‏ ﴿48﴾

اور سب تمہارے رب کے حضور پرا باندھے پیش ہوں گے (ف۱۰۳) بیشک تم ہمارے پاس ویسے ہی آئے جیسا ہم نے تمہیں پہلی بار بنایا تھا (ف۱۰٤) بلکہ تمہارا گمان تھا کہ ہم ہرگز تمہارے لیے کوئی وعدہ کا وقت نہ رکھیں گے، (ف۱۰۵)

And everyone shall be presented before your Lord in rows; “Indeed you have come to Us exactly as We had created you for the first time – in fact you thought that We shall never appoint a promised time for you!”

وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَ يَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَـتَـنَا مَالِ هٰذَا الۡـكِتٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰٮهَا​ ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا​ ؕ وَ لَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا‏ ﴿49﴾

اور نامہٴ اعمال رکھا جائے گا (ف۱۰٦) تو تم مجرموں کو دیکھو گے کہ اس کے لکھے سے ڈرتے ہوں گے اور (ف۱۰۷) کہیں گے ہائے خرابی ہماری اس نوشتہ کو کیا ہوا نہ اس نے کوئی چھوٹا گناہ چھوڑا نہ بڑا جسے گھیر لیا ہو اور اپنا سب کیا انہوں نے سامنے پایا، اور تمہارا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا (ف۱۰۸)

And the Book shall be placed – and you will see the guilty dreading what is written in it and saying, “Woe to us – what sort of a Book is this that it has not left out any small sin nor a great one, which it has not included!” And they found all that they did confronting them; and your Lord does not wrong any one.

وَاِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰۤٮِٕكَةِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَؕ كَانَ مِنَ الۡجِنِّ فَفَسَقَ عَنۡ اَمۡرِ رَبِّهٖؕ اَفَتَـتَّخِذُوۡنَهٗ وَذُرِّيَّتَهٗۤ اَوۡلِيَآءَ مِنۡ دُوۡنِىۡ وَهُمۡ لَـكُمۡ عَدُوٌّ ؕ بِئۡسَ لِلظّٰلِمِيۡنَ بَدَلًا‏  ﴿50﴾

اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو (ف۱۰۹) تو سب نے سجدہ کیا سوا ابلیس کے، قوم جن سے تھا تو اپنے رب کے حکم سے نکل گیا (ف۱۱۰) بھلا کیا اسے اور اس کی اولاد و میرے سوا دوست بناتے ہو (ف۱۱۱) اور وہ ہمارے دشمن ہیں ظالموں کو کیا ہی برا بدل (بدلہ) ملا ، (ف۱۱۲)

And recall when We commanded the angels that, “Prostrate before Adam” – so they all prostrated, except Iblis; he was of the jinn, he therefore rebelled against his Lord’s command; “What! You choose him and his offspring as your friends instead of Me, whereas they are your enemies?” And what an evil alternative did the unjust get.

مَّاۤ اَشۡهَدْتُّهُمۡ خَلۡقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلَا خَلۡقَ اَنۡفُسِهِمۡ وَمَا كُنۡتُ مُتَّخِذَ الۡمُضِلِّيۡنَ عَضُدًا‏ ﴿51﴾

نہ میں نے آسمانوں اور زمین کو بناتے وقت انھیں سامنے بٹھالیا تھا ، نہ خود ان کے بناتے وقت اور نہ میری شان، کہ گمراہ کرنے والوں کو بازوں بناؤں (ف۱۱۳)

Neither did I make them witness the creations of the heavens and the earth, nor witness their own creation; nor does it befit My Majesty to choose misleaders as aides.

وَيَوۡمَ يَقُوۡلُ نَادُوۡا شُرَكَآءِىَ الَّذِيۡنَ زَعَمۡتُمۡ فَدَعَوۡهُمۡ فَلَمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَهُمۡ وَجَعَلۡنَا بَيۡنَهُمۡ مَّوۡبِقًا‏ ﴿52﴾

اور جس دن فرمائے گا (ف۱۱٤) کہ پکارو میرے شریکوں کو جو تم گمان کرتے تھے تو انھیں پکاریں گے وہ انھیں جواب نہ دیں گے اور ہم ان کے (ف۱۱۵) درمیان ایک ہلاکت کا میدان کردیں گے (ف۱۱٦)

And the Day when He will proclaim, “Call those partners of Mine whom you had assumed” – so they will call out to them – they will not answer them, and We shall create a field of destruction between them.

وَرَاَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ النَّارَ فَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ مُّوَاقِعُوۡهَا وَ لَمۡ يَجِدُوۡا عَنۡهَا مَصۡرِفًا‏ ﴿53﴾

اور مجرم دوزخ کو دیکھیں گے تو یقین کریں گا کہ انھیں اس میں گرنا ہے اور اس سے پھرنے کی کوئی جگہ نہ پائیں گے،

And when the guilty see hell, they will be certain of falling into it, and will find no place to escape from it.

وَلَقَدۡ صَرَّفۡنَا فِىۡ هٰذَا الۡقُرۡاٰنِ لِلنَّاسِ مِنۡ كُلِّ مَثَلٍ​ ؕ وَكَانَ الۡاِنۡسَانُ اَكۡثَرَ شَىۡءٍ جَدَلًا‏ ﴿54﴾

اور بیشک ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثل طرح طرح بیان فرمائی (ف۱۱۷) اور آدمی ہر چیز سے بڑھ کر جھگڑالو ہے (ف۱۱۸)

And We have indeed illustrated all kinds of examples for mankind in this Qur’an; and man is the most quarrelsome of all.

وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنۡ يُّؤۡمِنُوۡۤا اِذۡ جَآءَهُمُ الۡهُدٰى وَيَسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّهُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِيَهُمۡ سُنَّةُ الۡاَوَّلِيۡنَ اَوۡ يَاۡتِيَهُمُ الۡعَذَابُ قُبُلًا‏ ﴿55﴾

اور آدمیوں کو کسی چیز نے اس سے روکا کہ ایمان لاتے جب ہدایت (ف۱۱۹) ان کے پاس آئی اور اپنے رب سے معافی مانگتے (ف۱۱۳) مگر یہ کہ ان پر اگلوں کا دستور آئے (ف۱۲۱) یا ان پر قسم قسم کا عذاب آئے

And what prevented men from accepting faith when guidance came to them, and from asking forgiveness from their Lord except that the tradition of the former nations come upon them or that they confront various kinds of punishments?

وَمَا نُرۡسِلُ الۡمُرۡسَلِيۡنَ اِلَّا مُبَشِّرِيۡنَ وَمُنۡذِرِيۡنَ​ ۚ وَيُجَادِلُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِالۡبَاطِلِ لِـيُدۡحِضُوۡا بِهِ الۡحَـقَّ​ وَاتَّخَذُوۡۤا اٰيٰتِىۡ وَمَاۤ اُنۡذِرُوۡا هُزُوًا‏ ﴿56﴾

اور ہم رسولوں کو نہیں بھیجتے مگر (ف۱۲۲) خوشی (ف۱۲۳) ڈر سنانے والے اور جو کافر ہیں وہ باطل کے ساتھ جھگڑتے ہیں (ف۱۲٤) کہ اس سے حق کو ہٹادیں اور انہوں نے میری آیتوں کی اور جو ڈر انھیں سناتے گئے تھے، (ف۱۲۵)

And We do not send the Noble Messengers except as Heralds of glad tidings and warnings; and the disbelievers debate by means of falsehood to drive away the Truth with it, and they took My signs and warnings they were given, as a mockery!

وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ ذُكِّرَ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ فَاَعۡرَضَ عَنۡهَا وَنَسِىَ مَا قَدَّمَتۡ يَدٰهُ​ ؕ اِنَّا جَعَلۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ اَكِنَّةً اَنۡ يَّفۡقَهُوۡهُ وَفِىۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَقۡرًا​ ؕ وَاِنۡ تَدۡعُهُمۡ اِلَى الۡهُدٰى فَلَنۡ يَّهۡتَدُوۡۤا اِذًا اَبَدًا‏ ﴿57﴾

ان کی ہنسی بنالی اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جسے اس کے رب کی آیتیں یاد دلائی جائیں تو وہ ان سے منہ پھیرلے (ف۱۲٦) اور اس کے ہاتھ جو آگے بھیج چکے (ف۱۲۷) اسے بھول جائے ہم نے ان کے دلوں پر غلاف کردیے ہیں کہ قرآن نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی (ف۱۲۸) اور اگر تم انھیں ہدایت کی طرف بلاؤ تو جب بھی ہرگز کبھی راہ نہ پائیں گے (ف۱۲۹)

And who is more unjust than one who, when reminded of the signs of his Lord, turns away from them and forgets what his hands have sent forward? We have put covers on their hearts so as not to understand the Qur’an, and deafness in their ears; and even if you call them to guidance, they will never attain the right path.

وَرَبُّكَ الۡغَفُوۡرُ ذُوۡ الرَّحۡمَةِ​ ؕ لَوۡ يُؤَاخِذُهُمۡ بِمَا كَسَبُوۡا لَعَجَّلَ لَهُمُ الۡعَذَابَ​ ؕ بَلْ لَّهُمۡ مَّوۡعِدٌ لَّنۡ يَّجِدُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖ مَوۡٮِٕلًا‏ ﴿58﴾

اور تمہارا رب بخشنے والا مہربانی والا ہے، اگر وہ انھیں (ف۱۳۰) ان کے کیے پر پکڑتا تو جلد ان پر عذاب بھیجتا (ف۱۳۱) بلکہ ان کے لیے ایک وعدہ کا وقت ہے (ف۱۳۲) جس کے سامنے کوئی پناہ نہ پائیں گے،

And your Lord is the Oft Forgiver, the Merciful; if He seized them for their deeds, He would soon send the punishment upon them; but for them is an appointed time from which they will not find any refuge.

وَتِلۡكَ الۡقُرٰٓى اَهۡلَكۡنٰهُمۡ لَمَّا ظَلَمُوۡا وَجَعَلۡنَا لِمَهۡلِكِهِمۡ مَّوۡعِدًا‏ ﴿59﴾

اور یہ بستیاں ہم نے تباہ کردیں (ف۱۳۳) جب انہوں نے ظلم کیا (ف۱۳٤) اور ہم نے ان کی بربادی کا ایک وعدہ رکھا تھا،

And these towns – We destroyed them when they committed injustice, and We had set an appointed time for their destruction.

وَاِذۡ قَالَ مُوۡسٰى لِفَتٰٮهُ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ اَوۡ اَمۡضِىَ حُقُبًا‏ ﴿60﴾

اور یاد کرو جب موسیٰ (ف۱۳۵) نے اپنے خادم سے کہا (ف۱۳٦) میں باز نہ رہوں گا جب تک وہاں نہ پہنچوں جہاں دو سمندر ملے ہیں (ف۱۳۷) یا قرنوں (مدتوں تک) چلا جاؤں (ف۱۳۸)

And recall when Moosa said to his assistant, “I will not give up until I reach the place where the two seas meet or until I have progressed for ages.”

فَلَمَّا بَلَغَا مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوۡتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِيۡلَهٗ فِى الۡبَحۡرِ سَرَبًا‏ ﴿61﴾

پھر جب وہ دونوں ان دریاؤں کے ملنے کی جگہ پہنچے (ف۱۳۹) اپنی مچھلی بھول گئے اور اس نے سمندر میں اپنی راہ لی سرنگ بناتی،

And when they reached the place where the two seas meet, they forgot about their fish, and it took its way into the sea, making a tunnel. (The dead fish came alive and went into the water.)

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰٮهُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا‏ ﴿62﴾

پھر جبب وہاں سے گزر گئے (ف۱٤۰) موسیٰ نے خادم سے کہا ہمارا صبح کا کھانا لاؤ بیشک ہمیں اپنے اس سفر میں بڑی مشقت کا سامنا ہوا، (ف۱٤۱)

So when they had gone beyond that place, Moosa said to his assistant, “Bring our breakfast – we have indeed faced great exertion in this journey of ours.”

قَالَ اَرَءَيۡتَ اِذۡ اَوَيۡنَاۤ اِلَى الصَّخۡرَةِ فَاِنِّىۡ نَسِيۡتُ الۡحُوۡتَ وَ مَاۤ اَنۡسٰٮنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ​ ​ۚ وَاتَّخَذَ سَبِيۡلَهٗ فِىۡ الۡبَحۡر​ِ ​ۖ عَجَبًا‏ ﴿63﴾

بولا بھلا دیکھئے تو جب ہم نے اس چٹان کے پاس جگہ لی تھی تو بیشک میں مچھلی کو بھول گیا، اور مجھے شیطان ہی نے بھلا دیا کہ میں اس کا مذکور کروں اور اس نے (ف۱٤۲) تو سمندر میں اپنی راہ لی، اچنبھا ہے،

He said, “Just imagine – when we had taken shelter near the rock, so indeed I forgot the fish; and none but Satan caused me to forget to mention it; and the fish took its way into the sea – its amazing!”

قَالَ ذٰ لِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِ ​​ۖ  فَارۡتَدَّا عَلٰٓى اٰثَارِهِمَا قَصَصًا ۙ‏ ﴿64﴾

موسیٰ نے کہا یہی تو ہم چاہتے تھے (ف۱٤۳) تو پیچھے پلٹے اپنے قدموں کے نشان دیکھتے،

Said Moosa, “This is exactly what we wanted”; so they came back retracing their steps.

فَوَجَدَا عَبۡدًا مِّنۡ عِبَادِنَاۤ اٰتَيۡنٰهُ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا‏ ﴿65﴾

تو ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا (ف۱٤٤) جسے ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی (ف۱٤۵) اور اسے اپنا علم لدنی عطا کیا (ف۱٤٦)

So they found a bondman* from amongst Our (chosen) bondmen, to whom We had given mercy from Us, and had bestowed the inspired knowledge from Ourselves. (* Hazrat Khidr – peace be upon him.)

قَالَ لَهٗ مُوۡسٰى هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰٓى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا‏ ﴿66﴾

اس سے موسیٰ نے کہا کیا میں تمہارے ساتھ رہوں اس شرط پر کہ تم مجھے سکھا دو گے نیک بات جو تمہیں تعلیم ہوئی (ف۱٤۷)

Moosa said to him, “May I stay with you upon the condition that you will teach me the righteousness that you have been taught?”

قَالَ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِىَ صَبۡرًا‏ ﴿67﴾

کہا آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے (ف۱٤۸)

He said, “You will never be able to patiently stay with me.”

وَكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا‏ ﴿68﴾

اور اس بات پر کیونکر صبر کریں گے جسے آپ کا علم محیط نہیں (ف۱٤۹)

“And how will you bear something which your knowledge does not encompass?”

قَالَ سَتَجِدُنِىۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّلَاۤ اَعۡصِىۡ لَكَ اَمۡرًا‏  ﴿69﴾

کہا عنقریب اللہ چاہے تو تم مجھے صابر پاؤ گے اور میں تمہارے کسی حکم کے خلاف نہ کروں گا،

Said Moosa, “Allah willing, you will soon find me patient and I will not do anything against your instructions.”

قَالَ فَاِنِ اتَّبَعۡتَنِىۡ فَلَا تَسۡـَٔـلۡنِىۡ عَنۡ شَىۡءٍ حَتّٰٓى اُحۡدِثَ لَـكَ مِنۡهُ ذِكۡرًا‏ ﴿70﴾

کہا تو اگر آپ میرے ساتھ رہنے ہیں تو مجھ سے کسی بات کو نہ پوچھنا جب تک میں خود اس کا ذکر نہ کروں (ف۱۵۰)

He said, “Therefore if you stay with me, do not ask me about anything until I myself mention it to you.”

فَانْطَلَقَا حَتّٰۤى اِذَا رَكِبَا فِى السَّفِيۡنَةِ خَرَقَهَا​ ؕ قَالَ اَخَرَقۡتَهَا لِتُغۡرِقَ اَهۡلَهَا​ ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡــًٔـا اِمۡرًا‏ ﴿71﴾

اب دونوں چلے یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوئے (۱۵۱) اس بندہ نے اسے چیر ڈالا (ف۱۵۲) موسیٰ نے کہا کیا تم نے اسے اس لیے چیرا کہ اس کے سواروں کو ڈبا دو بیشک یہ تم نے بری بات کی، (ف۱۵۳)

So they both set out; until when they had boarded the boat, the chosen bondman ruptured the boat; said Moosa, “Did you make a hole in the boat in order to drown its passengers? You have indeed done an evil thing.”

قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِىَ صَبۡرًا‏ ﴿72﴾

کہا میں نہ کہتا تھا کہ آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے (ف۱۵٤)

He said, “Did I not say that you will never be able to patiently stay with me?”

قَالَ لَا تُؤَاخِذۡنِىۡ بِمَا نَسِيۡتُ وَلَا تُرۡهِقۡنِىۡ مِنۡ اَمۡرِىۡ عُسۡرًا‏  ﴿73﴾

کہا مجھ سے میری بھول پر گرفت نہ کرو (ف۱۵۵) اور مجھ پر میرے کام میں مشکل نہ ڈالو،

Said Moosa, “Do not apprehend me upon my forgetting, and do not impose difficulty on me in my task.”

فَانْطَلَقَاحَتّٰۤى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ ۙ قَالَ اَقَتَلۡتَ نَـفۡسًا زَكِيَّةً ۢ بِغَيۡرِ نَـفۡسٍ ؕ لَـقَدۡ جِئۡتَ شَيۡــًٔـا نُّـكۡرًا‏ ﴿74﴾

پھر دونوں چلے (ف۱۵٦) یہاں تک کہ جب ایک لڑکا ملا (ف۱۵۷) اس بندہ نے اسے قتل کردیا، موسیٰ نے کہا کیا تم نے ایک ستھری جان (ف۱۵۸) بیکسی جان کے بدلے قتل کردی، بیشک تم نے بہت بری بات کی،

So they set out again; until when they met a boy, the chosen bondman slew him – Moosa said, “Did you slay an innocent soul not in retribution for another? You have indeed done an extremely evil thing.”

قَالَ اَ لَمۡ اَ قُلْ لَّكَ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِىَ صَبۡرًا‏ ﴿75﴾

کہا (ف۱۵۹) میں نے آپ سے نہ کہا تھا کہ آپ ہرگز میرے ساتھ نہ ٹھہرسکیں گے (ف۱٦۰)

He said, “Did I not tell you that you will never be able to patiently stay with me?”

قَالَ اِنۡ سَاَ لۡـتُكَ عَنۡ شَىۡءٍۢ بَعۡدَهَا فَلَا تُصٰحِبۡنِىۡ​ ۚ قَدۡ بَلَـغۡتَ مِنۡ لَّدُنِّىۡ عُذۡرًا‏ ﴿76﴾

کہا اس کے بعد میں تم سے کچھ پوچھوں تو پھر میرے ساتھ نہ رہنا، بیشک میری طرف سے تمہارا عذر پورا ہوچکا،

Said Moosa, “If I ask you anything after this, do not stay with me; indeed your condition from me is fulfilled.”

فَانْطَلَقَا حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَيَاۤ اَهۡلَ قَرۡيَةِ  ۨاسۡتَطۡعَمَاۤ اَهۡلَهَا فَاَبَوۡا اَنۡ يُّضَيِّفُوۡهُمَا فَوَجَدَا فِيۡهَا جِدَارًا يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّـنۡقَضَّ فَاَقَامَهٗ​ ؕ قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَـتَّخَذۡتَ عَلَيۡهِ اَجۡرًا‏ ﴿77﴾

پھر دونوں چلے یہاں تک کہ جب ایک گاؤں والوں کے پاس آئے (ف۱٦۱) ان دہقانوں سے کھانا مانگا انہوں نے انھیں دعوت دینی قبول نہ کی (ف۱٦۲) پھر دونوں نے اس گاؤں میں ایک دیوار پائی کہ گرا چاہتی ہے اس بندہ نے (ف۱٦۳) اسے سیدھا کردیا، موسیٰ نے کہا تم چاہتے تو اس پر کچھ مزدوری لے لیتے (ف۱٦٤)

So they both set out again; until they came to the people of a dwelling – they asked its people for food – they refused to invite them – then in the village they both found a wall about to collapse, and the chosen bondman straightened it; said Moosa, “If you wished, you could have taken some wages for it!”

قَالَ هٰذَا فِرَاقُ بَيۡنِىۡ وَبَيۡنِكَ​​ ۚ سَاُنَـبِّئُكَ بِتَاۡوِيۡلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِعْ عَّلَيۡهِ صَبۡرًا‏ ﴿78﴾

کہا یہ (ف۱٦۵) میری اور آپ کی جدائی ہے اب میں آپ کو ان باتوں کا پھیر (بھید) بتاؤں گا جن پر آپ سے صبر نہ ہوسکا (ف۱٦٦)

He said, “This is the parting between you and me; I shall now tell you the interpretation of the matters you could not patiently bear.”

اَمَّا السَّفِيۡنَةُ فَكَانَتۡ لِمَسٰكِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ فِى الۡبَحۡرِ فَاَرَدْتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا وَكَانَ وَرَآءَهُمۡ مَّلِكٌ يَّاۡخُذُ كُلَّ سَفِيۡنَةٍ غَصۡبًا‏  ﴿79﴾

وہ جو کشتی تھی وہ کچھ محتاجوں کی تھی (ف۱٦۷) کہ دریا میں کام کرتے تھے، تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں اور ان کے پیچھے ایک بادشاہ تھا (ف۱٦۸) کہ ہر ثابت کشتی زبردستی چھین لیتا (ف۱٦۹)

“In respect of the boat – it belonged to the poor people who worked on the river, so I wished to flaw it – and behind them was a king who would capture every sound ship.”

وَاَمَّا الۡغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِيۡنَاۤ اَنۡ يُّرۡهِقَهُمَا طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا​ۚ‏ ﴿80﴾

اور وہ جو لڑکا تھا اس کے ماں باپ مسلمان تھے تو ہمیں ڈر ہوا کہ وہ ان کو سرکشی اور کفر پر چڑھاوے (ف۱۷۰)

“And in respect of the boy – his parents were Muslims and we feared that he may incite them to rebellion and disbelief.”

فَاَرَدۡنَاۤ اَنۡ يُّبۡدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيۡرًا مِّنۡهُ زَكٰوةً وَّاَقۡرَبَ رُحۡمًا‏ ﴿81﴾

تو ہم نے چاہا کہ ان دونوں کا رب اس سے بہتر (ف۱۷۱) ستھرا اور اس سے زیادہ مہربانی میں قریب عطا کرے (ف۱۷۲)

“So we wished that their Lord may bestow them a child – better, purer and nearer to mercy.”

وَاَمَّا الۡجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَيۡنِ يَتِيۡمَيۡنِ فِى الۡمَدِيۡنَةِ وَكَانَ تَحۡتَهٗ كَنۡزٌ لَّهُمَا وَكَانَ اَبُوۡهُمَا صَالِحًـا ۚ فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا ۖ  رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ​​ ۚ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِىۡ​ ؕ ذٰ لِكَ تَاۡوِيۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعْ عَّلَيۡهِ صَبۡرًا ؕ‏ ﴿82﴾

رہی وہ دیوار وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی (ف۱۷۳) اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا (ف۱۷٤) اور ان کا باپ نیک آدمی تھا (ف۱۷۵) تو آپ کے رب نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچیں (ف۱۷٦) اور اپنا خزانہ نکالیں، آپ کے رب کی رحمت سے اور یہ کچھ میں نے اپنے حکم سے نہ کیا (ف۱۷۷) یہ پھیر ہے ان باتوں کا جس پر آپ سے صبر نہ ہوسکا (ف۱۷۸)

“And in respect of the wall – it belonged to two orphan boys of the city, and beneath it was their treasure, and their father was a virtuous man; therefore your Lord willed that they should reach their maturity and remove their treasure; by the mercy of your Lord; and I have not done this at my own command; this is the interpretation of the matters you could not patiently bear.” (* Hazrat Khidr was given the knowledge of the hidden – as in all three explanations he gave).

وَيَسۡـــَٔلُوۡنَكَ عَنۡ ذِى الۡقَرۡنَيۡنِ​ ؕ قُلۡ سَاَ تۡلُوۡا عَلَيۡكُمۡ مِّنۡهُ ذِكۡرًا ؕ‏ ﴿83﴾

اور تم سے (ف۱۷۹) ذوالقرنین کو پوچھتے ہیں (ف۱۸۰) تم فرماؤ میں تمہیں اس کا مذکور پڑھ کر سناتا ہوں،

And they ask you regarding Zul-Qarnain; say, “I shall recite his story to you.”

اِنَّا مَكَّنَّا لَهٗ فِى الۡاَرۡضِ وَاٰتَيۡنٰهُ مِنۡ كُلِّ شَىۡءٍ سَبَبًا ۙ‏ ﴿84﴾

بیشک ہم نے اسے زمین میں قابو دیا اور ہر چیز کا ایک سامان عطا فرمایا (ف۱۸۱)

Indeed We gave him authority in the land and bestowed him the means of everything.

فَاَ تۡبَعَ سَبَبًا‏ ﴿85﴾

تو وہ ایک سامان کے پیچھے چلا (ف۱۸۲)

He therefore pursued a purpose.

حَتّٰٓى اِذَا بَلَغَ مَغۡرِبَ الشَّمۡسِ وَجَدَهَا تَغۡرُبُ فِىۡ عَيۡنٍ حَمِئَةٍ وَّوَجَدَ عِنۡدَهَا قَوۡمًا ؕ ​قُلۡنَا يٰذَا الۡقَرۡنَيۡنِ اِمَّاۤ اَنۡ تُعَذِّبَ وَاِمَّاۤ اَنۡ تَتَّخِذَ فِيۡهِمۡ حُسۡنًا‏ ﴿86﴾

یہاں تک کہ جب سورج ڈوبنے کی جگہ پہنچا اسے ایک سیاہ کیچڑ کے چشمے میں ڈوبتا پایا (ف۱۸۳) اور وہاں (ف۱۸٤) ایک قوم ملی (ف۱۸۵) ہم نے فرمایا اے ذوالقرنین یا تو تو انھیں عذاب دے (ف۱۸٦) یا ان کے ساتھ بھلائی اختیار کرے (ف۱۸۷)

To the extent that when he reached the setting-place of the sun, he found it setting in a muddy spring, and found a nation there; We said, “O Zul-Qarnain – either punish them or choose kindness for them.”

قَالَ اَمَّا مَنۡ ظَلَمَ فَسَوۡفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ يُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَيُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكۡرًا‏ ﴿87﴾

عرض کی کہ وہ جس نے ظلم کیا (ف۱۸۸) اسے تو ہم عنقریب سزادیں گے (ف۱۸۹) پھر اپنے رب کی طرف پھیرا جائے گا (ف۱۹۰) وہ اسے بری مار دے گا،

He submitted, “Regarding one who has done injustice, we shall soon punish him – he will then be brought back to his Lord, Who will punish him severely.”

وَاَمَّا مَنۡ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًـا فَلَهٗ جَزَآءَ  ۨالۡحُسۡنٰى​ ۚ وَسَنَقُوۡلُ لَهٗ مِنۡ اَمۡرِنَا يُسۡرًا ؕ‏ ﴿88﴾

اور جو ایمان لایا اور نیک کام کیا تو اس کا بدلہ بھلائی ہے (ف۱۹۱) اور عنقریب ہم اسے آسان کام کہیں گے (ف۱۹۲)

“And regarding one who believed and did good deeds – so his reward is goodness; and we shall soon give him an easy command.”

ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا‏ ﴿89﴾

پھر ایک سامان کے پیچھے چلا (ف۱۹۳)

He again pursued a purpose.

حَتّٰٓى اِذَابَلَغَ مَطۡلِعَ الشَّمۡسِ وَجَدَهَا تَطۡلُعُ عَلٰى قَوۡمٍ لَّمۡ نَجۡعَلْ لَّهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهَا سِتۡرًا ۙ‏ ﴿90﴾

یہاں تک کہ جب سورج نکلنے کی جگہ پہنچا، اسے ایسی قوم پر نکلتا پایا جن کے لیے ہم نے سورج سے کوئی آڑ نہیں رکھی (ف۱۹٤)

To the extent that when he reached the rising-place of the sun, he found it rising upon a nation for which We had not kept any shelter from it.

كَذٰلِكَؕ وَقَدۡ اَحَطۡنَا بِمَا لَدَيۡهِ خُبۡرًا‏ ﴿91﴾

بات یہی ہے، اور جو کچھ اس کے پاس تھا (ف۱۹۵) سب کو ہمارا علم محیط ہے (ف۱۹٦)

So it is; and Our knowledge encompasses all that he possessed.

ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا‏ ﴿92﴾

پھر ایک سامان کے پیچھے چلا (ف۱۹۷)

He again pursued a purpose.

حَتّٰٓى اِذَا بَلَغَ بَيۡنَ السَّدَّيۡنِ وَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمَا قَوۡمًا ۙ لَّا يَكَادُوۡنَ يَفۡقَهُوۡنَ قَوۡلًا‏ ﴿93﴾

یہاں تک کہ جب دو پہاڑوں کے بیچ پہنچا ان سے ادھر کچھ ایسے لوگ پائے کہ کوئی بات سمجھتے معلوم نہ ہوتے تھے (ف۱۹۸)

Until, when he came between two mountains, he found before them a nation that did not appear to understand any speech.

قَالُوۡا يٰذَا الۡقَرۡنَيۡنِ اِنَّ يَاۡجُوۡجَ وَمَاۡجُوۡجَ مُفۡسِدُوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ فَهَلۡ نَجۡعَلُ لَكَ خَرۡجًا عَلٰٓى اَنۡ تَجۡعَلَ بَيۡنَـنَا وَبَيۡنَهُمۡ سَدًّا‏ ﴿94﴾

انھوں نے کہا، اے ذوالقرنین! بیشک یاجوج ماجوج (ف۱۹۹) زمین میں فساد مچاتے ہیں تو کیا ہم آپ کے لیے کچھ مال مقرر کردیں اس پر کہ آپ ہم میں اور ان میں ایک دیوار بنادیں (ف۲۰۰)

They said, “O Zul-Qarnain – indeed Yajuj and Majuj* are spreading chaos in the land – so shall we assign for you a consideration upon the condition that you set up a wall between us and them?” (* Gog and Magog.)

قَالَ مَا مَكَّنِّىۡ فِيۡهِ رَبِّىۡ خَيۡرٌ فَاَعِيۡنُوۡنِىۡ بِقُوَّةٍ اَجۡعَلۡ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُمۡ رَدۡمًا ۙ‏ ﴿95﴾

کہا وہ جس پر مجھے میرے رب نے قابو دیا ہے بہتر ہے (ف۲۰۱) تو میری مدد طاقت سے کرو (ف۲۰۲) میں تم میں اور ان میں ایک مضبوط آڑ بنادوں (ف۲۰۳)

He said, “That which my Lord has given me control over is better, therefore help me with strength – I shall set up a barrier between you and them.”

اٰتُوۡنِىۡ زُبَرَ الۡحَدِيۡدِ​ ؕ حَتّٰٓى اِذَا سَاوٰى بَيۡنَ الصَّدَفَيۡنِ قَالَ انْـفُخُوۡا​ ؕ حَتّٰٓى اِذَا جَعَلَهٗ نَارًا ۙ قَالَ اٰتُوۡنِىۡۤ اُفۡرِغۡ عَلَيۡهِ قِطۡرًا ؕ‏ ﴿96﴾

میرے پاس لوہے کے تختے لاؤ (ف۲۰٤) یہاں تک کہ وہ جب دیوار دونوں پہاڑوں کے کناروں سے برابر کردی، کہا دھونکو، یہاں تک کہ جب اسے آگ کردیا کہا لاؤ، میں اس پر گلا ہوا تانبہ انڈیل دوں،

“Give me sheets of iron”; until when he had raised the wall equal to the edge of the two mountains, he said, “Blow”; to the extent that he made it ablaze – he said, “Bring me molten copper to pour upon it.”

فَمَا اسۡطَاعُوۡۤا اَنۡ يَّظۡهَرُوۡهُ وَمَا اسۡتَطَاعُوۡا لَهٗ نَـقۡبًا‏ ﴿97﴾

تو یاجوج و ماجوج اس پر نہ چڑھ سکے اور نہ اس میں سوراخ کرسکے،

Therefore Yajuj and Majuj were neither able to surmount it, nor could they pierce it.

قَالَ هٰذَا رَحۡمَةٌ مِّنۡ رَّبِّىۡ​ ۚ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ رَبِّىۡ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ​ ۚ وَكَانَ وَعۡدُ رَبِّىۡ حَقًّا ؕ‏ ﴿98﴾

کہا (ف۲۰۵) یہ میرے رب کی رحمت ہے، پھر جب میرے رب کا وعدہ آئے گا (ف۲۰٦) اسے پاش پاش کردے گا اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے (ف۲۰۷)

He said, “This is the mercy of my Lord; then when the promise of my Lord arrives, He will blow it to bits; and my Lord’s promise is true.”

وَتَرَكۡنَا بَعۡضَهُمۡ يَوۡمَٮِٕذٍ يَّمُوۡجُ فِىۡ بَعۡضٍ​ وَّنُفِخَ فِى الصُّوۡرِ فَجَمَعۡنٰهُمۡ جَمۡعًا ۙ‏ ﴿99﴾

اور اس دن ہم انھیں چھوڑ دیں گے کہ ان کا ایک گروہ دوسرے پر ریلا (سیلاب کی طرح) آوے گا اور صور پھونکا جائے گا (ف۲۰۸) تو ہم سب کو (ف۲۰۹) اکٹھا کر لائیں گے

And on that day We shall release them in groups surging like waves one after another, and the Trumpet will be blown – so We shall gather them all together. (* Gog and Magog will come out during the time of Eisa (Jesus – when he comes back to earth) and cause great destruction in the land.)

وَّعَرَضۡنَا جَهَـنَّمَ يَوۡمَٮِٕذٍ لِّـلۡكٰفِرِيۡنَ عَرۡضَا ۙ‏ ﴿100﴾

اور ہم اس دن جہنم کافروں کے سامنے لائیں گے (ف۲۱۰)

And We shall bring hell in front of the disbelievers.

اۨلَّذِيۡنَ كَانَتۡ اَعۡيُنُهُمۡ فِىۡ غِطَآءٍ عَنۡ ذِكۡرِىۡ وَكَانُوۡا لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ سَمۡعًا‏ ﴿101﴾

وہ جن کی آنکھوں پر میری یاد سے پردہ پڑا تھا (ف۲۱۱) اور حق بات سن نہ سکتے تھے (ف۲۱۲)

The ones whose eyes were covered from My remembrance, and who could not bear to hear Truth.

اَفَحَسِبَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنۡ يَّتَّخِذُوۡا عِبَادِىۡ مِنۡ دُوۡنِىۡۤ اَوۡلِيَآءَ​ ؕ اِنَّاۤ اَعۡتَدۡنَا جَهَـنَّمَ لِلۡكٰفِرِيۡنَ نُزُلًا‏ ﴿102﴾

تو کیا کافر یہ سمجھتے ہیں کہ میرے بندوں کو (ف۲۱۳) میرے سوا حمایتی بنالیں گے (ف۲۱٤) بیشک ہم نے کافروں کی مہمانی کو جہنم تیار کر رکھی ہے،

Do the disbelievers assume that they will be able to choose My bondmen as supporters other than Me? Indeed We have prepared hell to welcome the disbelievers.

قُلۡ هَلۡ نُـنَبِّئُكُمۡ بِالۡاَخۡسَرِيۡنَ اَعۡمَالًا ؕ‏ ﴿103﴾

تم فرماؤ کیا ہم تمہیں بتادیں کہ سب سے بڑھ کر ناقص عمل کن کے ہیں (ف۲۱۵)

Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Shall we inform you whose are the most failed works?”

اَ لَّذِيۡنَ ضَلَّ سَعۡيُهُمۡ فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَهُمۡ يَحۡسَبُوۡنَ اَنَّهُمۡ يُحۡسِنُوۡنَ صُنۡعًا‏ ﴿104﴾

ان کے جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں گم گئی (ف۲۱٦) اور وہ اس خیال میں ہیں کہ اچھا کام کررہے ہیں،

“Of those whose efforts are lost in (pursuit of) the life of this world, and they think that they are doing good deeds.”

اُولٰۤٮِٕكَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ وَلِقَآٮِٕهٖ فَحَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ فَلَا نُقِيۡمُ لَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَزۡنًـا‏ ﴿105﴾

یہ لوگ جنہوں نے اپنے رب کی آیتیں اور اس کا ملنا نہ مانا (ف۲۱۷) تو ان کا کیا دھرا سب اکارت ہے تو ہم ان کے لیے قیامت کے دن کوئی تول نہ قائم کریں گے (ف۲۱۸)

The people who disbelieved in the signs of their Lord and in the meeting with Him, therefore all their deeds are in vain –We shall therefore not establish any weighing for them on the Day of Resurrection.

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمۡ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوۡا وَاتَّخَذُوۡۤا اٰيٰتِىۡ وَرُسُلِىۡ هُزُوًا‏ ﴿106﴾

یہ ان کا بدلہ ہے جہنم، اس پر کہ انہوں نے کفر کیا اور میری آیتوں اور میرے رسولوں کی ہنسی بنائی،

This is their reward – hell – because they disbelieved, and made a mockery of My verses and My Noble Messengers.

اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتۡ لَهُمۡ جَنّٰتُ الۡفِرۡدَوۡسِ نُزُلًا ۙ‏ ﴿107﴾

بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے فردوس کے باغ ان کی مہمانی ہے (ف۲۱۹)

Indeed those who believed and did good deeds – their welcome are the Gardens of Paradise.

خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا لَا يَـبۡغُوۡنَ عَنۡهَا حِوَلًا‏ ﴿108﴾

وہ ہمیشہ ان ہی میں رہیں گے ان سے جگہ بدلنا نہ چاہیں گے (ف۲۲۰)

They will abide in it for ever, never wanting to shift from it.

قُلْ لَّوۡ كَانَ الۡبَحۡرُ مِدَادًا لِّـكَلِمٰتِ رَبِّىۡ لَـنَفِدَ الۡبَحۡرُ قَبۡلَ اَنۡ تَـنۡفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّىۡ وَلَوۡ جِئۡنَا بِمِثۡلِهٖ مَدَدًا‏ ﴿109﴾

تم فرمادو اگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لیے، سیاہی ہو تو ضرور سمندر ختم ہوجائے گا اور میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوں گی اگرچہ ہم ویسا ہی اور اس کی مدد کو لے آئیں (ف۲۲۱)

Proclaim, “If the sea became ink for the Words of my Lord, the sea would indeed be used up and the Words of my Lord would never – even if we bring another like it for help.”

قُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثۡلُكُمۡ يُوۡحٰٓى اِلَىَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمۡ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ​  ۚ فَمَنۡ كَانَ يَرۡجُوۡالِقَآءَ رَبِّهٖ فَلۡيَـعۡمَلۡ عَمَلًا صَالِحًـاوَّلَايُشۡرِكۡ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا‏ ﴿110﴾

تو فرماؤ ظاہر صورت بشری میں تو میں تم جیسا ہوں (ف۲۲۲) مجھے وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے (ف۲۲۳) تو جسے اپنے رب سے ملنے کی امید ہو اسے چاہیے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرے (ف۲۲٤)

Proclaim, “Physically I am a human* like you – my Lord sends divine revelations to me – that your God is only One God; so whoever expects to the meet his Lord must perform good deeds and not ascribe anyone as a partner in the worship of his Lord.” (* Human but not equal to you, in fact the greatest in spiritual status.)

Scroll to Top