O the Cloaked One! (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him)
ऐ आला पोश ओढ़ने वाले!
Ae bala posh oṛhne wale!
(ف2)یہ خطاب حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کوہے ۔شانِ نزول : حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا میں کوہِ حرا پر تھا کہ مجھے ندا کی گئی یَامُحَمَّدْ اِنِّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ میں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا کچھ نہ پایا ، اوپر دیکھا ، ایک شخص آسمان زمین کے درمیان بیٹھا ہے (یعنی وہی فرشتہ جس نے ندا کی تھی ) یہ دیکھ کر مجھ پر رعب ہوا اور میں خدیجہ کے پاس آیا اور میں نے کہا کہ مجھے بالا پوش اڑھاؤ انھوں نے اڑھا دیا تو جبریل آئے ، انھوں نے کہا یٰاَ یُّھَاالْمُدَّثِّرُ ۔
قُمۡ فَاَنۡذِرۡۙ ﴿2﴾
کھڑے ہوجاؤ (ف۳) پھر ڈر سناؤ (ف٤)
Rise up and warn!
खड़े हो जाओ फिर डर सुनाओ
Khade ho jao phir dar sunao
(ف3)اپنی خواب گاہ سے ۔ (ف4)قوم کو عذابِ الٰہی کا ایمان نہ لانے پر ۔
وَرَبَّكَ فَكَبِّرۡۙ ﴿3﴾
اور اپنے رب ہی کی بڑائی بولو (ف۵)
And proclaim the Purity of your Lord.
और अपने रब ही की बढ़ाई बोलो
Aur apne Rab hi ki barhai bolo
(ف5)جب یہ آیت نازل ہوئی تو سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اللہ اکبر فرمایا ، حضرت خدیجہ نے بھی حضور کی تکبیرسن کر تکبیر کہی اور خوش ہوئیں اور انہیں یقین ہوا کہ وحی آئی ۔
وَثِيَابَكَ فَطَهِّرۡۙ ﴿4﴾
اور اپنے کپڑے پاک رکھو (ف٦)
And keep your clothes clean.
और अपने कपड़े पाक रखो
Aur apne kapde paak rakho
(ف6)ہر طرح کی نجاست سے کیونکہ نماز کےلئے طہارت ضروری ہے اور نماز کے سوا اور حالتوں میں بھی کپڑے پاک رکھنا بہتر ہے یا یہ معنٰی ہیں کہ اپنے کپڑے کو تاہ کیجئے ، ایسے دراز نہ ہوں جیسی کہ عربوں کی عادت ہے کیونکہ بہت زیادہ دراز ہونے سے چلنے پھرنے میں نجس ہونے کا احتمال رہتا ہے ۔
وَالرُّجۡزَ فَاهۡجُرۡۙ ﴿5﴾
اور بتوں سے دور رہو،
And stay away from idols.
और बुतों से दूर रहो,
Aur buton se door rho,
وَلَا تَمۡنُنۡ تَسۡتَكۡثِرُۙ ﴿6﴾
اور زیادہ لینے کی نیت سے کسی پر احسان نہ کرو (ف۷)
And do not favour others in order to receive more.
और ज्यादा लेने की नीयत से किसी पर एहसान न करो
Aur zyada lene ki niyat se kisi par ehsaan na karo
(ف7)یعنی جیسے کہ دنیا میں ہدیئے اور نیوتے دینے کا دستور ہے کہ دینے والا یہ خیال کرتا ہے کہ جس کو میں نے دیا ہے وہ اس سے زیادہ مجھے دے دے گا ، اس قِسم کے نیوتے اور ہدیئے شرعاً جائز ہیں مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اس سے منع فرمایا گیا کیونکہ شانِ نبوّت بہت ارفع واعلٰی ہے اور اس منصبِ عالی کے لائق یہی ہے کہ جس کو جو دیں وہ محض کرم ہو اس سے لینے یا نفع حاصل کرنے کی نیت نہ ہو ۔
وَ لِرَبِّكَ فَاصۡبِرۡؕ ﴿7﴾
اور اپنے رب کے لیے صبر کیے رہو (ف۸)
And for the sake of your Lord, patiently endure.
और अपने रब के लिए सब्र किए रहो
Aur apne Rab ke liye sabr kiye rho
(ف8)اوامر و نواہی اور ان ایذاؤں پر جو دِین کی خاطر آپ کو برداشت کرنی پڑیں ۔
فَاِذَا نُقِرَ فِى النَّاقُوۡرِۙ ﴿8﴾
پھر جب صور پھونکا جائے گا (ف۹)
So when the Trumpet will be blown.
फिर जब सूर फूँका जाएगा
Phir jab soor phoonka jaega
(ف9)مراد اس سے بقولِ صحیح نفخۂِ ثانیہ ہے ۔
فَذٰلِكَ يَوۡمَٮِٕذٍ يَّوۡمٌ عَسِيۡرٌۙ ﴿9﴾
تو وہ دن کڑا (سخت) دن ہے،
So that is a tough day.
तो वह दिन कड़ा (सख्त) दिन है,
To woh din kaṛa (sakht) din hai,
عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ غَيۡرُ يَسِيۡرٍ ﴿10﴾
کافروں پر آسان نہیں (ف۱۰)
Not easy upon the disbelievers.
काफ़िरों पर आसान नहीं
Kafiron par aasan nahi
(ف10)اس میں اشارہ ہے کہ وہ دن بفضلِ الٰہی مومنین پر آسان ہوگا ۔
ذَرۡنِىۡ وَمَنۡ خَلَقۡتُ وَحِيۡدًا ۙ ﴿11﴾
اسے مجھ پر چھوڑ جسے میں نے اکیلا پیدا کیا (ف۱۱)
Leave him to Me, the one whom I created single.
उसे मुझ पर छोड़ जिसे मैंने अकेला पैदा किया
Use mujh par chhod jise maine akela paida kiya
(ف11)اس کی ماں کے پیٹ میں بغیر مال و اولاد کے ۔ شانِ نزول : یہ آیت ولید بن مغیرہ مخزومی کے حق میں نازل ہوئی وہ اپنی قوم میں وحیدکے لقب سے ملقّب تھا ۔
وَّجَعَلۡتُ لَهٗ مَالًا مَّمۡدُوۡدًا ۙ ﴿12﴾
اور اسے وسیع مال دیا (ف۱۲)
And gave him vast wealth.
और उसे وسیع माल दिया
Aur use wasee maal diya
(ف12)کھیتیاں اور کثیر مویشی اور تجارتیں ۔ مجاہدسے منقول ہے کہ وہ ایک لاکھ دینار نقد کی حیثیّت رکھتا تھا اور طائف میں اس کا ایسا بڑا باغ تھا جو سال کے کسی وقت پھلوں سے خالی نہ ہوتا تھا ۔
وَّبَنِيۡنَ شُهُوۡدًا ۙ ﴿13﴾
اور بیٹے دیے سامنے حاضر رہتے (ف۱۳)
And gave him sons present before him.
और बेटे दिए सामने حاضر रहते
Aur betay diye samne haazir rhte
(ف13)جن کی تعداد دس تھی اور چونکہ مالدار تھے انہیں کسبِ معاش کےلئے سفر کی حاجت نہ تھی اس لئے سب باپ کے سامنے رہتے ، ان میں تین مشرّف بہ اسلام ہوئے ، خالد اور ہشام اور ولید ابنِ ولید ۔
وَّمَهَّدتُّ لَهٗ تَمۡهِيۡدًا ۙ ﴿14﴾
اور میں نے اس کے لیے طرح طرح کی تیاریاں کیں (ف۱٤)
And made several preparations for him.
और मैंने उसके लिए तरह तरह की तैयारियाँ कीं
Aur maine us ke liye tarah tarah ki tayariyan ki
(ف14)جاہ بھی دیا اور ر یاست بھی عطا فرمائی ، عیش بھی دیا اور طولِ عمر بھی ۔
And said, “This is nothing but magic learnt from earlier men.”
फिर बोला यह तो वही जादू है उगलो से सीखा,
Phir bola yeh to wahi jaadu hai uglo se seekha,
اِنۡ هٰذَاۤ اِلَّا قَوۡلُ الۡبَشَرِؕ ﴿25﴾
یہ نہیں مگر آدمی کا کلام (ف۱۷)
“This is nothing but the speech of a man.”
यह नहीं मगर आदमी का कलाम
Yeh nahi magar aadmi ka kalaam
(ف17)شانِ نزول : جب حٰمۤ تَنْزِیْلُ الْکِتَابِ مِنَ اللہِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ نازل ہوئی اور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مسجد میں تلاوت فرمائی ، ولید نے سنا اور اس قوم کی مجلس میں آکر اس نے کہا کہ خدا کی قَسم میں نے محمّدصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ابھی ایک کلام سنا ، نہ وہ آدمی کا ، نہ جن کا ، بخدا اس میں عجیب شیرینی اور تازگی اور فوائد و دلکشی ہے ، وہ کلام سب پر غالب رہے گا ، قریش کو اس کی ان باتوں سے بہت غم ہوا اور ان میں مشہور ہوگیا کہ ولید آبائی دِین سے برگشتہ ہوگیا ، ابوجہل نے ولید کو ہموار کرنے کا ذمّہ لیا اور اس کے پاس آکر بہت غمزدہ صورت بنا کر بیٹھ گیا ، ولید نے کہا کیا غم ہے ؟ ابوجہل نے کہا ، غم کیسے نہ ہو تو بوڑھا ہوگیاہے ، قریش تیرے خرچ کےلئے روپیہ جمع کردیں گے ، انہیں خیال ہے کہ تو نے محمّد (مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کے کلام کی تعریف اس لئے کی ہے کہ تجھے ان کے دستر خوان کا بچا کھانا مل جائے ، اس پر اسے بہت طیش آیا اور کہنے لگا کہ کیا قریش کو میرے مال و دولت کا حال معلوم نہیں ہے اور کیا محمّد ( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) اور ان کے اصحاب نے کبھی سیر ہو کر کھانا بھی کھایا ہے ، ان کے دستر خوان پر کیا بچے گا ، پھر ابوجہل کے ساتھ اٹھا اور قوم میں آکر کہنے لگا تمہیں خیال ہے کہ محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) مجنون ہیں ، کیا تم نے ان میں کبھی دیوانگی کی کوئی بات دیکھی ؟ سب نے کہا ہر گز نہیں ،کہنے لگا تم انہیں کاہن سمجھتے ہو ، کیا تم نے انہیں کبھی کہانت کرتے دیکھاہے ؟ سب نے کہا نہیں ، کہا تم انہیں شاعر گمان کرتے ہو ،کیا تم نے کبھی انہیں شعر کہتے پایا ؟ سب نے کہا نہیں ،کہنے لگا تم انہیں کذّاب کہتے ہو ،کیا تمہارے تجربہ میں کبھی انہوں نے جھوٹ بولا ؟ سب نے کہا نہیں ، اور قریش میں آپ کا صدق و دیانت ایسا مشہور تھا کہ قریش آپ کو امین کہا کرتے تھے ، یہ سن کر قریش نے کہا ، پھر بات کیا ہے تو ولید سوچ کر بولا کہ بات یہ ہے کہ وہ جادو گر ہیں ، تم نے دیکھا ہوگا کہ انکی بدولت رشتہ دار رشتہ دار سے ، باپ بیٹے سے جدا ہوجاتے ہیں ، بس یہی جادو گر کا کام ہے اور جو قرآن وہ پڑھتے ہیں وہ دل میں اثر کر جاتا ہے ، اس کا باعث یہ ہے کہ وہ جادو ہے ۔ اس آیتِ کریمہ میں اس کا ذکر فرمایا گیا ۔
سَاُصۡلِيۡهِ سَقَرَ ﴿26﴾
کوئی دم جاتا ہے کہ میں اسے دوزخ میں دھنساتا ہوں،
I will soon fling him into hell.
कोई दम जाता है कि मैं उसे दोज़ख में धंसाता हूँ,
Koi dam jata hai ke mai use dozakh mein dhansata hoon,
وَمَاۤ اَدۡرٰٮكَ مَا سَقَرُؕ ﴿27﴾
اور تم نے کیا جانا دوزخ کیا ہے،
And what have you understood, what hell is!
और तुम ने क्या जाना दोज़ख क्या है,
Aur tum ne kya jana dozakh kya hai,
لَا تُبۡقِىۡ وَ لَا تَذَرُۚ ﴿28﴾
نہ چھوڑے نہ لگی رکھے (ف۱۸)
It neither leaves, nor spares.
न छोड़े न लगी रखे
Na chhode na lagi rakhe
(ف18)یعنی نہ کسی مستحقِ عذاب کو چھوڑے ، نہ کسی کے جسم پر گوشت پوست کھال لگی رہنے دے ، بلکہ مستحقِ عذاب کو گرفتار کرے اور گرفتار کو جَلائے اور جب جل جائیں پھر ویسے ہی کردیئے جائیں ۔
اور ہم نے دوزخ کے داروغہ نہ کیے مگر فرشتے، اور ہم نے ان کی یہ گنتی نہ رکھی مگر کافروں کی جانچ کو (ف۲۱) اس لیے کہ کتاب والوں کو یقین آئے (ف۲۲) اور ایمان والوں کا ایمان بڑھے (ف۲۳) اور کتاب والوں اور مسلمانوں کو کوئی شک نہ رہے اور دل کے روگی (مریض) (ف۲٤) اور کافر کہیں اس اچنبھے کی بات میں اللہ کا کیا مطلب ہے، یونہی اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور ہدایت فرماتا ہے جسے چاہے، اور تمہارے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور وہ (ف۲۵) تو نہیں مگر آدمی کے لیے نصیحت،
We have not appointed the guards of hell, except angels; and did not keep this number except to test the disbelievers – in order that the People given the Book(s) may be convinced, and to increase the faith of the believers – and so that the People given the Book(s) and the Muslims may not have any doubt – and so that those in whose hearts is a disease and the disbelievers, may say, “What does Allah mean by this amazing example?” This is how Allah sends astray whomever He wills, and guides whomever He wills; and no one knows the armies of Allah except Him; and this is not but an advice to man.
और हमने दोज़ख के दारोग़ा न किए मगर फ़रिश्ते, और हमने उनकी यह गिनती न रखी मगर काफ़िरों की जाँच को इस लिए कि किताब वालों को यकीन आए और ईमान वालों का ईमान बढ़े और किताब वालों और मुसलमानों को कोई शक न रहे और दिल के रोगी (मरीज़) और काफ़िर कहीं इस अचम्भे की बात में अल्लाह का क्या मतलब है, यूंही अल्लाह गुमराह करता है जिसे चाहे और हिदायत फ़रमाता है जिसे चाहे, और तुम्हारे रब के लश्करों को इसके सिवा कोई नहीं जानता, और वह तो नहीं मगर आदमी के लिए नसीहत,
Aur humne dozakh ke darogha na kiye magar farishte, aur humne un ki yeh ginti na rakhi magar kafiron ki jaanch ko is liye ke kitaab walon ko yaqeen aaye aur iman walon ka iman badhe aur kitaab walon aur musalmanon ko koi shak na rahe aur dil ke rogi (mareez) aur kafir kahin is achambhe ki baat mein Allah ka kya matlab hai, yunhi Allah gumraah karta hai jise chahe aur hidaayat farmata hai jise chahe, aur tumhare Rab ke lashkaron ko is ke siwa koi nahi jaanta, aur woh to nahi magar aadmi ke liye naseehat,
(ف21)کہ حکمتِ الٰہی پر اعتماد نہ کرکے اس تعداد میں کلام کریں اور کہیں انیس کیوں ہوئے ۔(ف22)یعنی یہود کو یہ تعداد اپنی کتابوں کے موافق دیکھ کر سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صدق کا یقین حاصل ہو ۔(ف23)یعنی اہلِ کتاب میں سے جو ایمان لائے ان کا اعتقاد سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ اور زیادہ ہو اور جان لیں کہ حضور جو کچھ فرماتے ہیں وہ وحیِ الٰہی ہے اس لئے کُتُبِ سابقہ سے مطابق ہوتی ہے ۔(ف24)جن کے دلوں میں نفاق ہے ۔(ف25) یعنی جہنّم اور اس کی صفت یا آیاتِ قرآن ۔
كَلَّا وَالۡقَمَرِۙ ﴿32﴾
ہاں ہاں چاند کی قسم،
Yes, never!* By oath of the moon. (Hell will never spare the disbelievers).
हाँ हाँ चाँद की कसम,
Haan haan chaand ki qasam,
وَالَّيۡلِ اِذۡ اَدۡبَرَۙ ﴿33﴾
اور رات کی جب پیٹھ پھیرے،
And by oath of the night when it turns back.
और रात की जब पीठ फेरें,
Aur raat ki jab peeth phere,
وَالصُّبۡحِ اِذَاۤ اَسۡفَرَۙ ﴿34﴾
اور صبح کی جب اجا لا ڈالے (ف۲٦)
And by oath of the morning, when it spreads light.
اسے جو تم میں چاہے، کہ آگے آئے (ف۲۷) یا پیچھے رہے (ف۲۸)
For the one among you who wishes to come forward or stay back.
उसे जो तुम में चाहे, कि आगे आए या पीछे रहे
Use jo tum mein chahe, ke aage aaye ya peeche rahe
(ف27)خیر یا جنّت کی طرف ایمان لا کر ۔(ف28) کفر اختیار کرکے اور برائی و عذاب میں گرفتار ہو ۔
كُلُّ نَفۡسٍ ۢ بِمَا كَسَبَتۡ رَهِيۡنَةٌ ۙ ﴿38﴾
ہر جان اپنی کرنی (اعمال) میں گروی ہے،
Every soul is mortgaged for its own deeds.
हर जान अपनी करनी (अमाल) में गिरवी है,
Har jaan apni karni (amaal) mein girovi hai,
اِلَّاۤ اَصۡحٰبَ الۡيَمِيۡنِۛ ؕ ﴿39﴾
مگر دہنی طرف والے (ف۲۹)
Except those on the right side.
मगर दहनी तरफ वाले
Magar dahni taraf wale
(ف29)یعنی مومنین وہ گروی نہیں ، وہ نجات پانے والے ہیں اور انہوں نے نیکیاں کرکے اپنے آپ کو آزاد کرالیا ہے وہ اپنے رب کی رحمت سے منتفع ہیں ۔
فِىۡ جَنّٰتٍ ۛ يَتَسَآءَلُوۡنَۙ ﴿40﴾
باغوں میں پوچھتے ہیں،
In Gardens, they seek answers,
बागों में पूछते हैं,
Baagon mein poochte hain,
عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَۙ ﴿41﴾
مجرموں سے ،
- From the guilty.
मुजरिमों से,
Mujrimon se,
مَا سَلَـكَكُمۡ فِىۡ سَقَرَ ﴿42﴾
تمہیں کیا بات دوزخ میں لے گئی،
“What took you into the hell?”
तुम्हें क्या बात दोज़ख में ले गई,
Tumhein kya baat dozakh mein le gayi,
قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ ﴿43﴾
وہ بولے ہم (ف۳۰) نماز نہ پڑھتے تھے،
They said, “We never used to offer the prayer.”
वह बोले हम नमाज़ न पढ़ते थे,
Woh bole hum namaz na parhte the,
(ف30)دنیا میں ۔
وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَۙ ﴿44﴾
اور مسکین کو کھانا نہ دیتے تھے (ف۳۱)
“Nor used to feed the needy.”
और मसीन को खाना न देते थे
Aur maseen ko khana na dete the
(ف31)یعنی مساکین پر صدقہ نہ کرتے تھے ۔
وَكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَـآٮِٕضِيۡنَۙ ﴿45﴾
اور بیہودہ فکر والوں کے ساتھ بیہودہ فکریں کرتے تھے،
“And used to dwell on evil matters with those who think evilly.”
और बेहूदा फिक्र वालों के साथ बेहूदा फिकरें करते थे,
Aur behuda fikr walon ke sath behuda fikren karte the,
وَ كُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِۙ ﴿46﴾
اور ہم انصاف کے دن کو (ف۳۲) جھٹلاتے رہے،
“And used to deny the Day of Justice.”
और हम इंसाफ़ के दिन को झुठलाते रहे,
Aur hum insaaf ke din ko jhutlate rahe,
(ف32)جس میں اعمال کا حساب ہوگا اور جزا دی جائے گی ۔ مراد اس سے روزِ قیامت ہے ۔
حَتّٰٓى اَتٰٮنَا الۡيَقِيۡنُؕ ﴿47﴾
یہاں تک کہ ہمیں موت آئی،
“Till death overcame us.”
यहाँ तक कि हमें मौत आई,
Yahan tak ke hume maut aayi,
فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَؕ ﴿48﴾
تو انہیں سفارشیوں کی سفارش کام نہ دے گی (ف۳۳)
So the intercession of the intercessors will not benefit them. (The disbelievers will not have any intercessor.)
तो उन्हें सिफ़ारिशियों की सिफ़ारिश काम न देगी
To unhein sifaarishiyon ki sifaarish kaam na degi
(ف33)یعنی انبیاء ، ملائکہ ، شہداء ، صالحین جنہیں اللہ تعالٰی نے شافع کیا ہے ، وہ ایمانداروں کی شفاعت کریں گے ، کافروں کی شفاعت نہ کریں گے ، تو جو ایمان نہیں رکھتے انہیں شفاعت بھی میسّرنہ آئے گی ۔
So what is the matter with them that they turn away from the advice?
तो उन्हें क्या हुआ नसीहत से मुँह फेरते हैं
To unhein kya hua naseehat se munh pherte hain
(ف34)یعنی مواعظِ قرآن سے اعراض کرتے ہیں ۔
كَاَنَّهُمۡ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ ۙ ﴿50﴾
گویا وہ بھڑکے ہوئے گدھے ہوں،
As if they were startled donkeys –
गोया वह भड़क़े हुए गधे हों,
Goya woh bhadke hue gadhe hon,
فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ ؕ ﴿51﴾
کہ شیر سے بھاگے ہوں (ف۳۵)
Fleeing away from a lion.
कि शेर से भागे हों
Ke sher se bhage hon
(ف35)یعنی مشرکین نادانی و بے وقوفی میں گدھے کی مثل ہیں ، جس طرح شیر کو دیکھ کر وہ بھاگتاہے اسی طرح یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تلاوتِ قرآن سن کر بھاگتے ہیں ۔
بلکہ ان میں کا ہر شخص چاہتا ہے کہ کھلے صحیفے اس کے ہاتھ میں دے دیے جائیں (ف۳٦)
Rather each one of them desires that he should be given open Books.
बल्कि उनमें का हर शख़्स चाहता है कि खुले सहीफ़े उसके हाथ में दे दिए जाएँ
Balki unmein ka har shakhs chahta hai ke khule sahife us ke haath mein de diye jaayein
(ف36) کفّارِ قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کہا تھا کہ ہم ہر گز آپ کا اتباع نہ کریں گے جب تک کہ ہم میں ہر ایک کے پاس اللہ تعالٰی کی طرف سے ایک ایک کتاب نہ آئے جس میں لکھا ہو کہ یہ اللہ تعالٰی کی کتاب ہے ، فلاں بن فلاں کے نام ، ہم اس میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اتباع کا حکم دیتے ہیں ۔
اور وہ کیا نصیحت مانیں مگر جب اللہ چاہے، وہی ہے ڈرنے کے لائق اور اسی کی شان ہے مغفرت فرمانا،
And what advice will they heed, except if Allah wills? Only He deserves to be feared, and His only is the greatness of forgiving.
और वह क्या नसीहत मानें मगर जब अल्लाह चाहे, वही है डरने के लायक और उसी की शान है माफ़ी फ़रमाना,
Aur woh kya naseehat maane magar jab Allah chahe, wahi hai darne ke laayak aur usi ki shaan hai maghfirat farmaana,",
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page