بیشک اللہ نے سنی اس کی بات جو تم سے اپنے شوہر کے معاملہ میں بحث کرتی ہے (ف۲) اور اللہ سے شکایت کرتی ہے، اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے، بیشک اللہ سنتا دیکھتا ہے،
(ف2)وہ خولہ بنتِ ثعلبہ تھیں ، اَوس بن صامت کی بی بی ۔شانِ نزول : کسی بات پر اَوس نے ان سے کہا کہ تو مجھ پر میری ماں کی پشت کی مثل ہے ، یہ کہنے کے بعد اَوس کو ندامت ہوئی ، یہ کلمہ زمانۂِ جاہلیّت میں طلاق تھا ، اَوس نے کہا میرے خیال میں تو مجھ پر حرام ہوگئی ، خولہ نے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر تمام واقعات عرض کئے اور عرض کیا کہ میرا مال ختم ہوچکا ، ماں باپ گذر گئے ، عمر زیادہ ہوگئی ، بچے چھوٹے چھوٹے ہیں ، ان کے باپ کے پاس چھوڑ وں تو ہلاک ہوجائیں ، اپنے ساتھ رکھوں تو بھوکے مرجائیں ، کیا صورت ہے کہ میرے اور میرے شوہر کے درمیان جدائی نہ ہو ؟ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ تیرے باب میں میرے پاس کوئی حکم نہیں یعنی ابھی تک ظِہار کے متعلق کوئی حکمِ جدید نازل نہیں ہوا ، دستورِ قدیم یہی ہے کہ ظِہار سے عورت حرام ہوجاتی ہے ، عورت نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَوس نے طلاق کا لفظ نہ کہا ، وہ میرے بچّوں کا باپ ہے اور مجھے بہت ہی پیارا ہے ، اسی طرح وہ بار بار عرض کرتی رہی اور جواب حسبِ خواہش نہ پایا تو آسمان کی طرف سر اٹھا کر کہنے لگی یا اللہ تعالٰی میں تجھ سے اپنی محتاجی و بے کسی اورپریشان حالی کی شکایت کرتی ہوں ، اپنے نبی پر میرے حق میں ایسا حکم نازل فرماجس سے میری مصیبت رفع ہو ، حضرت امّ المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنھا نے فرمایا خاموش ہو دیکھ چہرۂِ مبارکِ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر آثارِ وحی ظاہر ہیں ، جب وحی پوری ہوگئی ، فرمایا اپنے شوہر کو بلا ، اوس حاضر ہوئے تو حضور نے یہ آیتیں پڑھ کر سنائیں ۔
وہ جو تم میں اپنی بیبیوں کو اپنی ماں کی جگہ کہہ بیٹھتے ہیں (ف۳) وہ ان کی مائیں نہیں (ف٤) ان کی مائیں تو وہی ہیں جن سے وہ پیدا ہیں (ف۵) اور وہ بیشک بری اور نری جھوٹ بات کہتے ہیں (ف٦) اور بیشک اللہ ضرور معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے،
(ف3)یعنی ظِہار کرتے ہیں ، ظِہار اس کو کہتے ہیں کہ اپنی بی بی کو محرماتِ نسبی یا رضائی کے کسی ایسے عضو سے تشبیہ دی جائے جس کو دیکھنا حرام ہے مثلاً بی بی سے کہے کہ تو مجھ پر میری ماں کی پشت کی مثل ہے یا بی بی کے ایسے عضو کو جس سے وہ تعبیر کی جاتی ہو یا اس کے جزوِ شائع کو محرمات کے ایسے عضو سے تشبیہہ دے جس کا دیکھنا حرام ہے مثلاً یہ کہے کہ تیرا سریا تیرا نصفِ بدن میری ماں کی پیٹھ یا اس کے پیٹ یا اس کی ران یا میری بہن یا پھوپھی یادودھ پلانے والی کی پیٹھ یا پیٹ کے مثل ہے تو ایسا کہنا ظِہار کہلاتا ہے ۔(ف4)یہ کہنے سے وہ مائیں نہیں ہوگئیں ۔(ف5)مسئلہ : اور دودھ پلانے والیاں بسبب دودھ پلانے کے ماؤں کے حکم میں ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ازواجِ مطہّرات بسببِ کمالِ حرمت مائیں بلکہ ماؤں سے اعلٰی ہیں ۔(ف6)جو بی بی کو ماں کہتے ہیں ، اس کو کسی طرح ماں کے ساتھ تشبیہ دینا ٹھیک نہیں ۔
اور وہ جو اپنی بیبیوں کو اپنی ماں کی جگہ کہیں (ف۷) پھر وہی کرنا چاہیں جس پر اتنی بری بات کہہ چکے (ف۸) تو ان پر لازم ہے (ف۹) ایک بردہ آزاد کرنا (ف۱۰) قبل اس کے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں (ف۱۱) یہ ہے جو نصیحت تمہیں کی جاتی ہے، اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے،
(ف7)یعنی ان سے ظِہار کریں ۔مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ باندی سے ظِہار نہیں ہوتااگر اس کو محرمات سے تشبیہ دے تو مظاہر نہ ہوگا ۔(ف8)یعنی اس ظِہار کو توڑ دینا اور حرمت کو اٹھا دینا ۔(ف9)کفار ۂِ ظِہار کا ، لہٰذا ان پر ضروری ہے ۔(ف10)خواہ وہ مومن ہو یا کافر ، صغیرہو یا کبیر ، مرد ہو یا عورت ، البتہ مُدَبَّر اور اُمِّ ولد اور ایسا مکاتَب جائز نہیں جس نے بدلِ کتابت میں سے کچھ ادا کیاہو ۔(ف11)مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ اس کَفّارہ کے دینے سے پہلے وطی اور اس کے دواعی حرام ہیں ۔
پھر جسے بردہ نہ ملے تو (ف۱۲) لگاتار دو مہینے کے روزے (ف۱۳) قبل اس کے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں (ف۱٤) پھر جس سے روزے بھی نہ ہوسکیں (ف۱۵) تو ساٹھ مسکینوں کا پیٹ بھرنا (ف۱٦) یہ اس لیے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھو (ف۱۷) اور یہ اللہ کی حدیں ہیں (ف۱۸) اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے،
(ف12)اس کا کَفّارہ ۔(ف13)متصل اس طرح کہ نہ ان دو مہینوں کے درمیان رمضان آئے اور نہ ان پانچ دنوں میں سے کوئی دن آئے جن کا روزہ ممنوع ہے اور نہ کسی عذر سے یا بغیر عذر کے درمیان سے کوئی روزہ چھوڑا جائے اگر ایسا ہوا تو از سر نو روزے رکھنے پڑیں گے ۔(ف14)مسائل یعنی روزوں سے جو کَفّارہ دیا جائے اس کا بھی جِماع اور دواعیِ جماع سے مقدّم ہونا ضروری ہے اور جب تک وہ روزے پورے ہوں خاوند بیوی میں سے کوئی کسی کو ہاتھ نہ لگائے ۔(ف15)یعنی اسے روزے رکھنے کی قوّت ہی نہ ہو ، بوڑھاپے یا مرض وغیرہ کے باعث یا روزے تو رکھ سکتا ہو مگر متواترو متصل نہ رکھ سکتا ہو ۔ (ف16)یعنی ساٹھ مسکینوں کو کھانا دینا اور یہ اس طرح کہ ہر مسکین کو نصف صاع گیہوں یا ایک صاع کھجور یا جَو دے اور اگر مسکینوں کو اس کی قیمت دی یا صبح و شام دونوں وقت انہیں پیٹ بھر کر کھلادیا جب بھی جائز ہے ۔مسئلہ : اس کَفّارہ میں یہ شرط نہیں کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے قبل ہو حتّٰی کہ اگر کھانا کھلانے کے درمیان میں شوہر اور بی بی میں قربت واقع ہوئی تو نیا کَفّارہ لازم نہ ہوگا ۔(ف17)اور خدا اور رسول کی فرمانبرداری کرو اور جاہلیّت کے طریقے چھوڑو ۔(ف18)ان کو توڑنا اور ان سے تجاوز کرنا جائز نہیں ۔
بیشک وہ جو مخالفت کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی ذلیل کیے گئے جیسے ان سے اگلوں کو ذلت دی گئی (ف۱۹) اور بیشک ہم نے روشن آیتیں اتاریں (ف۲۰) اور کافروں کے لیے خواری کا عذاب ہے،
(ف19)رسولوں کی مخالفت کرنے کے سبب ۔(ف20)رسولوں کی صدق پر دلالت کرنے والی ۔
اے سننے والے کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں (ف۲٤) جہاں کہیں تین شخصوں کی سرگوشی ہو (ف۲۵) تو چوتھا وہ موجود ہے (ف۲٦) اور پانچ کی (ف۲۷) تو چھٹا وہ (ف۲۸) اور نہ اس سے کم (ف۲۹) اور نہ اس سے زیادہ کی مگر یہ کہ وہ ان کے ساتھ ہے (ف۳۰) جہاں کہیں ہوں پھر انہیں قیامت کے دن بتادے گا جو کچھ انہوں نے کیا، بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے،
(ف24)اس سے کچھ پوشیدہ نہیں ۔(ف25)اور اپنے راز آپس میں گوش در گوش کہیں اور اپنی مشاورت پر کسی کو مطّلع نہ کریں ۔(ف26)یعنی اللہ تعالٰی انہیں مشاہدہ کرتا ہے ، ان کے رازوں کو جانتا ہے ۔(ف27)سرگوشی ہو ۔(ف28)یعنی اللہ تعالٰی ۔(ف29)یعنی پانچ اور تین سے ۔ (ف30)اپنے علم وقدرت سے ۔
کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جنہیں بری مشورت سے منع فرمایا گیا تھا پھر وہی کرتے ہیں (ف۳۱) جس کی ممانعت ہوئی تھی اور آپس میں گناہ اور حد سے بڑھنے (ف۳۲) اور رسول کی نافرمانی کے مشورے کرتے ہیں (ف۳۳) اور جب تمہارے حضور حاضر ہوتے ہیں تو ان لفظوں سے تمہیں مجرا کرتے ہیں جو لفظ اللہ نے تمہارے اعزاز میں نہ کہے (ف۳٤) اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں ہمیں اللہ عذاب کیوں نہیں کرتا ہمارے اس کہنے پر (ف۳۵) انہیں جہنم بس ہے، اس میں دھنسیں گے، تو کیا ہی برا انجام،
(ف31)شانِ نزول : یہ آیت یہود اور منافقین کے حق میں نازل ہوئی جوآپس میں سرگوشیاں کرتے اور مسلمانوں کی طرف دیکھتے جاتے اور آنکھوں سے ان کی طرف اشارے کرتے جاتے تاکہ مسلمان سمجھیں کہ ان کے خلاف کوئی پوشیدہ بات ہے اور اس سے انہیں رنج ہو ، ان کی اس حرکت سے مسلمانوں کو غم ہوتا تھا اور وہ کہتے تھے کہ شاید ا ن لوگوں کو ہمارے ان بھائیوں کی نسبت قتل یاہزیمت کی کوئی خبر پہنچی جو جہاد میں گئے ہیں اور یہ اسی کے متعلق باتیں بناتے اور اشارے کرتے ہیں ، جب یہ حرکات منافقین کے بہت زیادہ ہوئے اور مسلمانوں نے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حضور میں اس کی شکایتیں کیں تو سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے سرگوشی کرنے والوں کو منع فرمادیا لیکن وہ باز نہ آئے اور یہ حرکت کرتے ہی رہے اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(ف32)گناہ اور حد سے بڑھنا ، یہ کہ مکاری کے ساتھ سرگوشیاں کرکے مسلمانوں کو رنج و غم میں ڈالتے ہیں ۔(ف33)اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نافرمانی یہ کہ باوجود ممانعت کے باز نہیں آتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان میں ایک دوسرے کو رائے دیتے تھے کہ رسول کی نافرمانی کرو ۔(ف34)یہود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس آتے تواَلسَّامُ عَلَیْکَ کہتے ، سام موت کو کہتے ہیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ان کے جواب میں عَلَیْکُمْ فرمادیتے ۔(ف35)اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ اگر حضرت نبی ہوتے تو ہماری اس گستاخی پر اللہ تعالٰی ہمیں عذاب کرتا ۔ اللہ تعالٰی فرماتا ہے ۔
اے ایمان والو تم جب آپس میں مشورت کرو تو گناہ اور حد سے بڑھنے اور رسول کی نافرمانی کی مشورت نہ کرو (ف۳٦) اور نیکی اور پرہیزگاری کی مشورت کرو، اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف اٹھائے جاؤ گے،
(ف36)اورجو طریقہ یہود اور منافقین کا ہے اس سے پرہیز کرو ۔
وہ مشورت تو شیطان ہی کی طرف سے ہے (ف۳۷) اس لیے کہ ایمان والوں کو رنج دے اور وہ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا بےحکم خدا کے، اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے (ف۳۸)
(ف37)جس میں گناہ اور حد سے بڑھنا اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نافرمانی ہو اور شیطان اپنے دوستوں کو اس پر ابھارتا ہے ۔(ف38)کہ اللہ پر بھروسہ کرنے والا ٹوٹے میں نہیں رہتا ۔
اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا (ف۳۹) اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو (ف٤۰) تو اٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا (ف٤۱) درجے بلند فرمائے گا، اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے،
(ف39)شانِ نزول : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بدر میں حاضر ہونے والے اصحاب کی عزّت کرتے تھے ، ایک روز چند بدری اصحاب ایسے وقت پہنچے جب کہ مجلس شریف بھر چکی تھی ، انہوں نے حضور کے سامنے کھڑا ہو کر سلام عرض کیا ، حضور نے جواب دیا ، پھر انہوں نے حاضرین کو سلام کیا ، انہوں نے جواب دیا ، پھروہ اس انتظار میں کھڑے رہے کہ ان کےلئے مجلس شریف میں جگہ کی جائے مگر کسی نے جگہ نہ دی ، یہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گراں گذرا تو حضور نے اپنے قریب والوں کو اٹھا کر ان کےلئے جگہ کی ، اٹھنے والوں کو اٹھنا شاق ہوا ، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(ف40)نماز کے یا جہاد کے یا اور کسی نیک کام کےلئے اور اسی میں داخل ہےتعظیمِ ذکرِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کےلئے کھڑا ہونا ۔(ف41)اللہ تعالٰی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اطاعت کے باعث ۔
اے ایمان والو جب تم رسول سے کوئی بات آہستہ عرض کرنا چاہو تو اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقہ دے لو (ف٤۲) یہ تمہارے لیے بہت بہتر اور بہت ستھرا ہے، پھر اگر تمہیں مقدور نہ ہو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
(ف42)کہ اس میں باریابی بارگاہِ رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تعظیم اور فقراء کا نفع ہے ۔شانِ نزول : سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں جب اغنیاء نے عرض و معروض کا سلسلہ دراز کیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ فقراء کو اپنی عرض پیش کرنے کا موقع کم ملنے لگا تو عرض پیش کرنے والوں کو عرض پیش کرنے سے پہلے صدقہ دینے کا حکم دیا گیا اور اس حکم پر حضرت علیِ مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عمل کیا ، ایک دینار صدقہ کرکے دس مسائل دریافت کئے ، عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم وفا کیا ہے ؟ فرمایا توحید اور توحید کی شہادت دینا ۔ عرض کیا ، فساد کیا ہے ؟ فرمایا کفر و شرک ۔ عرض کیا حق کیا ہے ؟ فرمایا اسلام و قرآن اور ولایت جب تجھے ملے ۔ عرض کیا حیلہ کیا ہے یعنی تدبیر ؟ فرمایا ترکِ حیلہ ۔ عرض کیا مجھ پر کیا لازم ہے ؟ فرمایا اللہ تعالٰی اور اس کے رسول کی طاعت ۔ عرض کیا اللہ تعالٰی سے کیسے دعا مانگوں ؟ فرمایا صدق ویقین کے ساتھ ۔ عرض کیا ،کیا مانگوں ؟ فرمایا عاقبت ۔ عرض کیا اپنی نجات کےلئے کیا کروں ؟ فرمایا حلال کھا اور سچ بول ۔ عرض کیا سرورکیا ہے ؟ فرمایا جنّت ۔ عرض کیا راحت کیا ہے ؟ فرمایا اللہ کا دیدار ۔ جب حضرت علیِ مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ ان سوالوں سے فارغ ہوگئے تو یہ حکم منسوخ ہوگیا اور رخصت نازل ہوئی سوائے حضرت علیِ مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے اور کسی کو اس پر عمل کرنے کا وقت نہیں ملا ۔ (مدارک و خازن) حضرت مترجِم قدّس سرّہ نے فرمایا یہ اس کی اصل ہے جو مزاراتِ اولیاء پر تصدیق کےلئے شیرینی وغیرہ لے جاتے ہیں ۔
کیا تم اس سے ڈرے کہ تم اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقے دو (ف٤۳) پھر جب تم نے یہ نہ کیا، اور اللہ نے اپنی مہر سے تم پر رجوع فرمائی (ف٤٤) تو نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو اور اللہ اور اس کے رسول کے فرمانبردار رہو، اور اللہ تمہارے کاموں کو جانتا ہے،
(ف43)بسبب اپنی غریبی و ناداری کے ۔(ف44)اور ترکِ تقدیمِ صدقہ کا مواخذہ تم پر سے اٹھالیا اور تم کو اختیار دے دیا ۔
کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جو ایسوں کے دوست ہوئے جن پر اللہ کا غضب ہے (ف٤۵) وہ نہ تم میں سے نہ ان میں سے (ف٤٦) وہ دانستہ جھوٹی قسم کھاتے ہیں (ف٤۷)
(ف45)جن لوگوں پر اللہ تعالٰی کا غضب ہے ان سے مراد یہود ہیں اور ان سے دوستی کرنے والے منافقین ۔ شانِ نزول : یہ آیت منافقین کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے یہود سے دوستی کی اور ان کی خیر خواہی میں لگے رہتے اور مسلمانوں کے راز ان سے کہتے ۔(ف46)یعنی نہ مسلمان ، نہ یہودی بلکہ منافق ہیں مذبذب ۔(ف47)شانِ نزول : یہ آیت عبداللہ بن بنتل منافق کے حق میں نازل ہوئی جو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مجلس میں حاضر رہتا اور یہاں کی بات یہودکے پاس پہنچاتا ، ایک روز حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دولت سرائے اقدس میں تشریف فرماتھے ، حضور نے فرمایا اس وقت ایک آدمی آئے گا جس کا دل نہایت سخت اور شیطان کی آنکھوں سے دیکھتا ہے ، تھوڑی ہی دیر بعد عبداللہ بن بنتل آیا ، اس کی آنکھیں نیلی تھیں ، حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس سے فرمایا تو اور تیرے ساتھی کیوں ہمیں گالیاں دیتے ہیں ، وہ قسم کھا گیا کہ ایسا نہیں کرتا اور اپنے یاروں کو لے آیا ، انہوں نے بھی قسم کھائی کہ ہم نے آپ کو گالی نہیں دی ، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔
انہوں نے اپنی قسموں کو (ف٤۸) ڈھال بنالیا ہے (ف٤۹) تو اللہ کی راہ سے روکا (ف۵۰) تو ان کے لیے خواری کا عذاب ہے (ف۵۱)
(ف48)جو جھوٹی ہیں ۔(ف49)کہ اپنا جان و مال محفوظ رہے ۔(ف50) یعنی منافقین نے اپنی اس حیلہ سازی سے لوگوں کو جہاد سے روکا اور بعض مفسّرین نے کہا کہ معنٰی یہ ہیں کہ لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے سے روکا ۔(ف51) آخرت میں ۔
جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو اس کے حضور بھی ایسے ہی قسمیں کھائیں گے جیسی تمہارے سامنے کھا رہے ہیں (ف۵۳) اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کچھ کیا (ف۵٤) سنتے ہو بیشک وہی جھوٹے ہیں (ف۵۵)
(ف53)کہ دنیا میں مؤمن مخلص تھے ۔(ف54)یعنی وہ اپنی ان جھوٹی قسموں کو کار آمد سمجھتے ہیں ۔(ف55)اپنی قسموں میں اور ایسے جھوٹے کہ دنیا میں بھی جھوٹ بولتے رہے اور آخرت میں بھی ، رسول کے سامنے بھی اور خدا کے سامنے بھی ۔
تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی (ف۵۹) اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں (ف٦۰) یہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرمادیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد کی (ف٦۱) اور انہیں باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہیں ان میں ہمیشہ رہیں، اللہ ان سے راضی (ف٦۲) اور وہ اللہ سے راضی (ف٦۳) یہ اللہ کی جماعت ہے، سنتا ہے اللہ ہی کی جماعت کامیاب ہے،
(ف59)یعنی مومنین سے یہ ہوہی نہیں سکتا اور ان کی یہ شان ہی نہیں اور ایمان اس کو گوارا ہی نہیں کرتا کہ خدا اور رسول کے دشمن سے دوستی کرے ۔مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ بددینوں اور بدمذہبوں اور خداو رسول کی شان میں گستاخی اور بے ادبی کرنے والوں سے مودّت و اختلاط جائز نہیں ۔(ف60)چنانچہ حضرت ابوعبیدہ بن جراح نے جنگِ اُحد میں اپنے باپ جراح کو قتل کیا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے روزِ بدر اپنے بیٹے عبدالرحمن کو مبارزت کےلئے طلب کیا لیکن رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انہیں اس جنگ کی اجازت نہ دی اور معصب بن عمیر نے اپنے بھائی عبداللہ بن عمیر کو قتل کیا اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنے ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ کو روزِ بدر قتل کیا اور حضرت علی بن ابی طالب و حمزہ و ابوعبیدہ نے ربیعہ کے بیٹوں عتبہ اور شیبہ کو اور ولید بن عتبہ کو بدر میں قتل کیا جوان کے رشتہ دار تھے ، خدا اور رسول پر ایمان لانے والوں کو قرابت اور رشتہ داری کا کیا پاس ۔(ف61)اس روح سے یا اللہ کی مدد مراد ہے یا ایمان یا قرآن یا جبریل یا رحمتِ الٰہی یا نور ۔(ف62)بسبب ان کے ایمان و اخلاص وطاعت کے ۔(ف63)اس کے رحمت و کرم سے ۔