(ف2)ان کے دلوں میں خدا کا خوف ہوتا ہے اور ان کے اعضا ساکِن ہوتے ہیں ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ نماز میں خشوع یہ ہے کہ اس میں دل لگا ہوا اور دنیا سے توجہ ہٹی ہوئی ہو اور نظر جائے نماز سے باہر نہ جائے اور گوشۂ چشم سے کسی طرف نہ دیکھے اور کوئی عبث کام نہ کرے اور کوئی کپڑا شانوں پر نہ لٹکائے اس طرح کہ اس کے دونوں کنارے لٹکتے ہوں اور آپس میں ملے نہ ہوں اور انگلیاں نہ چٹخائے اور اس قسم کے حرکات سے باز رہے ۔ بعض نے فرمایا کہ خشوع یہ ہے کہ آسمان کی طرف نظر نہ اٹھائے ۔
تو جو ان دو کے سوا کچھ اور چاہے وہی حد سے بڑھنے والے ہیں (ف٦)
(ف6)کہ حلال سے حرام کی طرف تجاوز کرتے ہیں ۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ ہاتھ سے قضائے شہوت کرنا حرام ہے ۔ سعید بن جبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا اللہ تعالٰی نے ایک اُمّت کو عذاب کیا جو اپنی شرمگاہوں سے کھیل کرتے تھے ۔
پھر ہم نے اس پانی کی بوند کو خون کی پھٹک کیا پھر خون کی پھٹک کو گوشت کی بوٹی پھر گوشت کی بوٹی کو ہڈیاں پھر ان ہڈیوں پر گوشت پہنایا، پھر اسے اور صورت میں اٹھان دی (ف۱۲) تو بڑی برکت والا ہے اللہ سب سے بہتر بتانے والا،
(ف12)یعنی اس میں روح ڈالی ، اس بے جان کو جان دار کیا ، نُطق اور سمع اور بصر عنایت کی ۔
اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا (ف۱۷) ایک اندازہ پر (ف۱۸) پھر اسے زمین میں ٹھہرایا اور بیشک ہم اس کے لے جانے پر قادر ہیں (ف۱۹)
(ف17)یعنی مِینہ برسایا ۔(ف18)جتنا ہمارے علم و حکمت میں خَلق کی حاجتوں کے لئے چاہیٔے ۔(ف19)جیسا اپنی قدرت سے نازِل فرمایا ایسا ہی اس پر بھی قادر ہیں کہ اس کو زائل کر دیں تو بندوں کو چاہیے کہ اس نعمت کی شکر گزاری سے حفاظت کریں ۔
اور وہ پیڑ پیدا کیا کہ طور سینا سے نکلتا ہے (ف۲۲) لے کر اگتا ہے تیل اور کھانے والوں کے لیے سالن (ف۲۳)
(ف22)اس درخت سے مراد زیتون ہے ۔(ف23)یہ اس میں عجیب صفت ہے کہ وہ تیل بھی ہے کہ منافع اور فوائد تیل کے اس سے حاصل کئے جاتے ہیں ، جلایا بھی جاتا ہے ، دوا کے طریقہ پر بھی کام میں لایا جاتا ہے اور سالن کا بھی کام دیتا ہے کہ تنہا اس سے روٹی کھائی جا سکتی ہے ۔
اور بیشک تمہارے لیے چوپایوں میں سمجھنے کا مقام ہے، ہم تمہیں پلاتے ہیں اس میں سے جو ان کے پیٹ میں ہے (ف۲٤) اور تمہارے لیے ان میں بہت فائدے ہیں (ف۲۵) اور ان سے تمہاری خوراک ہے (ف۲٦)
(ف24)یعنی دودھ خوشگوار موافقِ طبع جو لطیف غذا ہوتا ہے ۔(ف25)کہ ان کے بال ، کھال ، اُون وغیرہ سے کام لیتے ہو ۔(ف26)کہ انہیں ذبح کر کے کھا لیتے ہو ۔
تو اس کی قوم کے جن سرداروں نے کفر کیا بولے (ف۳۰) یہ تو نہیں مگر تم جیسا آدمی چاہتا ہے کہ تمہارا بڑا بنے (ف۳۱) اور اللہ چاہتا (ف۳۲) تو فرشتے اتارتا ہم نے تو یہ اگلے باپ داداؤں میں نہ سنا (ف۳۳)
(ف30)اپنی قوم کے لوگوں سے کہ ۔(ف31)اور تمہیں اپنا تابع بنائے ۔(ف32)کہ رسول بھیجے اور مخلوق پرستی کی مُمانعت فرمائے ۔(ف33)کہ بشر بھی رسول ہوتا ہے ۔ یہ ان کی کمال حماقت تھی کہ بشر کا رسول ہونا تو تسلیم نہ کیا پتھروں کو خدا مان لیا اور انہوں نے حضرت نوح علیہ السلام کی نسبت یہ بھی کہا ۔
وہ تو نہیں مگر ایک دیوانہ مرد تو کچھ زمانہ تک اس کا انتظار کیے رہو (ف۳٤)
(ف34)تا آنکہ اس کا جُنون دور ہو ، ایسا ہوا تو خیر ورنہ اس کو قتل کر ڈالنا ۔ جب حضرت نوح علیہ السلام ان لوگوں کے ایمان لانے سے مایوس ہوئے اور ان کے ہدایت پانے کی امید نہ رہی تو حضرت ۔
قَالَ رَبِّ انْصُرۡنِىۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴿26﴾
نوح نے عرض کی اے میرے رب! میری مدد فرما (ف۳۵) اس پر کہ انہوں نے مجھے جھٹلایا،
تو ہم نے اسے وحی بھیجی کہ ہماری نگاہ کے سامنے (ف۳٦) اور ہمارے حکم سے کشتی بنا پھر جب ہمارا حکم آئے (ف۳۷) اور تنور ابلے (ف۳۸) تو اس میں بٹھالے (ف۳۹) ہر جوڑے میں سے دو (ف٤۰) اور اپنے گھر والے (ف٤۱) مگر ان میں سے وہ جن پر بات پہلے پڑچکی (ف٤۲) اور ان ظالموں کے معاملہ میں مجھ سے بات نہ کرنا (ف٤۳) یہ ضرور ڈبوئے جائیں گے،
(ف36)یعنی ہماری حمایت و حفاظت میں ۔(ف37)ان کی ہلاکت کا اور آثارِ عذاب نمودار ہوں ۔(ف38)اور اس میں سے پانی برآمد ہو تو یہ علامت ہے عذاب کے شروع ہونے کی ۔(ف39)یعنی کشتی میں حیوانات کے ۔(ف40)نر اور مادہ ۔(ف41)یعنی اپنی مؤمنہ بی بی اور ایماندار اولاد یا تمام مؤ منین ۔(ف42)اور کلامِ ازلی میں ان کا عذاب و ہلاک معیّن ہو چکا ۔ وہ آپ کا ایک بیٹا تھا کنعان نام اور ایک عورت کہ یہ دونوں کافِر تھے ۔ آپ نے اپنے تین فرزندوں سام ، حام ، یافث اور ان کی بی بیوں کو اور دوسرے مؤمنین کو سوار کیا ، کل لوگ جو کشتی میں تھی ان کی تعداد اٹھتر ۷۸ تھی نصف مرد اور نصف عورتیں ۔(ف43)اور ان کے لئےنجات نہ طلب کرنا ، دعا نہ فرمانا ۔
بیشک اس میں (ف٤۵) ضرور نشانیاں (ف٤٦) اور بیشک ضرور ہم جانچنے والے تھے (ف٤۷)
(ف45)یعنی حضرت نوح علیہ السلام کے واقعے میں اور اس میں جو دشمنانِ حق کے ساتھ کیا گیا ۔(ف46)اور عبرتیں اور نصیحتیں اور قدرتِ الٰہی کے دلائل ہیں ۔(ف47)اس قوم کے حضرت نوح علیہ السلام کو اس میں بھیج کر اور ان کو وعظ و نصیحت پر مامور فرما کر تاکہ ظاہر ہوجائے کہ نُزولِ عذاب سے پہلے کون نصیحت قبول کرتا اور تصدیق و اطاعت کرتا ہے اور کون نافرمان تکذیب و مخالفت پر مُصِر رہتا ہے ۔
اور بولے اس قوم کے سردار جنہوں نے کفر کیا اور آخرت کی حاضری (ف۵۲) کو جھٹلایا اور ہم نے انھیں دنیا کی زندگی میں چین دیا (ف۵۳) کہ یہ تو نہیں مگر جیسا آدمی جو تم کھاتے ہو اسی میں سے کھاتا ہے اور جو تم پیتے ہو اسی میں سے پیتا ہے (ف۵٤)
(ف52)اور وہاں کے ثواب و عذاب وغیرہ ۔(ف53) یعنی بعض کُفّار جنہیں اللہ تعالٰی نے فراخیٔ عیش اور نعمتِ دنیا عطا فرمائی تھی اپنے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کے نسبت اپنی قوم کے لوگوں سے کہنے لگے ۔(ف54)یعنی یہ اگر نبی ہوتے تو ملائکہ کی طرح کھانے پینے سے پاک ہوتے ۔ ان باطن کے اندھوں نے کمالاتِ نبوّت کو نہ دیکھا اور کھانے پینے کے اوصاف دیکھ کر نبی کو اپنی طرح بشر کہنے لگے ، یہ بنیاد ان کی گمراہی کی ہوئی چنانچہ اسی سے انہوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ آپس میں کہنے لگے ۔
وہ تو نہیں مگر ہماری دنیا کی زندگی (ف۵۷) کہ ہم مرتے جیتے ہیں (ف۵۸) اور ہمیں اٹھنا نہیں (ف۵۹)
(ف57)اس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ اس دنیوی زندگی کے سوا اور کوئی زندگی نہیں صرف اتنا ہی ہے ۔(ف58)کہ ہم میں کوئی مرتا ہے ، کوئی پیدا ہوتا ہے ۔(ف59)مرنے کے بعد اور اپنے رسولِ کریم علیہ الصلٰوۃ والسلام کی نسبت انہوں نے یہ کہا ۔
وہ تو نہیں مگر ایک مرد جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا (ف٦۰) اور ہم اسے ماننے کے نہیں (ف٦۱)
(ف60)کہ اپنے آپ کو اس کا نبی بتایا اور مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کی خبر دی ۔(ف61)پیغمبر علیہ السلام جب ان کے ایمان سے مایوس ہوئے اور انہوں نے دیکھا کہ قوم انتہائی سرکشی پر ہے تو ان کے حق میں بددعا کی اور بارگاہِ الٰہی میں ۔
قَالَ رَبِّ انْصُرۡنِىۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴿39﴾
عرض کی کہ اے میرے رب میری مدد فرما اس پر کہ انہوں نے مجھے جھٹلایا،
تو انھیں آلیا سچی چنگھاڑ نے (ف٦۳) تو ہم نے انھیں گھاس کوڑا کردیا (ف٦٤) تو دور ہوں (ف٦۵) ظالم لوگ ،
(ف63)یعنی وہ عذاب و ہلاک میں گرفتار کئے گئے ۔(ف64)یعنی وہ ہلاک ہو کر گھاس کوڑے کی طرح ہوگئے ۔(ف65)یعنی خدا کی رحمت سے دور ہوں انبیاء کی تکذیب کرنے والے ۔
پھر ہم نے اپنے رسول بھیجے ایک پیچے دوسرا جب کسی امت کے پاس اس کا رسول آیا انہوں نے اسے جھٹلایا (ف٦۸) تو ہم نے اگلوں سے پچھلے ملادیے (ف٦۹) اور انھیں کہانیاں کر ڈالا (ف۷۰) تو دور ہوں وہ لوگ کہ ایمان نہیں لاتے،
(ف68)اور اس کی ہدایت کو نہ مانا اور اس پر ایمان نہ لائے ۔(ف69)اور بعد والوں کو پہلوں کی طرح ہلاک کر دیا ۔(ف70)کہ بعد والے افسانہ کی طرح انکا حال بیان کیا کریں اور ان کے عذاب و ہلاک کا بیان سببِ عبرت ہو ۔
تو بولے کیا ہم ایمان لے آئیں اپنے جیسے دو آدمیوں پر (ف۷٤) اور ان کی قوم ہماری بندگی کر رہی ہے، (ف۷۵)
(ف74)یعنی حضرت موسٰی اور حضرت ہارون پر ۔(ف75)یعنی بنی اسرائیل ہمارے زیرِ فرمان ہیں تو یہ کیسے گوارا ہوکہ اسی قوم کے دو۲ آدمیوں پر ایمان لا کر ان کے مطیع بن جائیں ۔
اور ہم نے مریم اور اس کے بیٹے کو (ف۷۹) نشانی کیا اور انھیں ٹھکانا دیا ایک بلند زمین (ف۸۰) جہاں بسنے کا مقام (ف۸۱) اور نگاہ کے سامنے بہتا پانی،
(ف79)یعنی حضرت عیسٰی علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا فرما کر اپنی قدرت کی ۔(ف80)اس سے مراد یا بیت المقدس ہے یا دمشق یا فلسطین ، کئی قول ہیں ۔(ف81)یعنی زمین ہموار ، فراخ ، پھلوں والی جس میں رہنے والے بآسائش بسر کرتے ہیں ۔
اے پیغمبرو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ (ف۸۲) اور اچھا کام کرو، میں تمہارے کاموں کو جانتا ہوں (ف۸۳)
(ف82)یہاں پیغمبروں سے مراد یا تمام رسول ہیں اور ہر ایک رسول کو ان کے زمانہ میں یہ ندا فرمائی گئی یا رسولوں سے مراد خاص سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں یا حضرت عیسٰی علیہ السلام ، کئی قول ہیں ۔(ف83)ان کی جزاء عطا فرماؤں گا ۔
تو ان کی امتوں نے اپنا کام آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرلیا (ف۸۵) ہر گروہ جو اس کے پاس ہے اس پر خوش ہے، (ف۸٦)
(ف85)اور فرقے فرقے ہو گئے یہودی ، نصرانی ، مجوسی وغیرہ ۔(ف86)اور اپنے ہی آپ کو حق پر جانتا ہے اور دوسروں کو باطل پر سمجھتا ہے اس طرح ان کے درمیان دینی اختلافات ہیں ، اب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطاب ہوتا ہے ۔
فَذَرۡهُمۡ فِىۡ غَمۡرَتِهِمۡ حَتّٰى حِيۡنٍ ﴿54﴾
تو تم ان کو چھوڑ دو ان کے نشہ میں (ف۸۷) ایک وقت تک (ف۸۸)
(ف87)یعنی ان کے کُفر و ضلال اور ان کی جہالت و غفلت میں ۔(ف88)یعنی ان کی موت کے وقت تک ۔
یہ جلد جلد ان کو بھلائیاں دیتے ہیں (ف۹۰) بلکہ انھیں خبر نہیں (ف۹۱)
(ف90)اور ہماری یہ نعمتیں ان کے اعمال کی جزاء ہیں یا ہمارے راضی ہونے کی دلیل ہیں ، ایسا خیال کرنا غلط ہے واقعہ یہ نہیں ہے ۔(ف91)کہ ہم انہیں ڈھیل دے رہے ہیں ۔
(ف92)انہیں اس کے عذاب کا خوف ہے ۔ حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ مؤمن نیکی کرتا ہے اور خدا سے ڈرتا ہے اور کافِر بدی کرتا ہے اور نڈر رہتا ہے ۔
اور وہ جو دیتے ہیں جو کچھ دیں (ف۹٤) اور ان کے دل ڈر رہے ہیں یوں کہ ان کو اپنے رب کی طرف پھرنا ہے، (ف۹۵)
(ف94)زکوٰۃ و صدقات یا یہ معنٰی ہیں کہ اعمالِ صالحہ بجا لاتے ہیں ۔(ف95)ترمذی کی حدیث میں ہے کہ حضرت اُم المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا اس آیت میں ان لوگوں کا بیان ہے جو شرابیں پیتے ہیں اور چوری کرتے ہیں ؟ فرمایا اے صدیق کی نور دیدہ ایسا نہیں یہ ان لوگوں کا بیان ہے جو روزے رکھتے ہیں ، صدقے دیتے ہیں اور ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں یہ اعمال نامقبول نہ ہو جائیں ۔
اور ہم کسی جان پر بوجھ نہیں رکھتے مگر اس کی طاقت بھر اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے کہ حق بولتی ہے (ف۹۷) اور ان پر ظلم نہ ہوگا ، (ف۹۸)
(ف97)اس میں ہر شخص کا عمل مکتوب ہے اور وہ لوحِ محفوظ ہے ۔(ف98)نہ کسی کی نیکی گھٹائی جائے گی نہ بدی بڑھائی جائے گی ، اس کے بعد کُفّار کا ذکر فرمایا جاتا ہے ۔
یہاں تک کہ جب ہم نے ان کے امیروں کو عذاب میں پکڑا (ف۱۰۱) تو جبھی وہ فریاد کرنے لگے، (ف۱۰۲)
(ف101)اور وہ روز بروز تہ تیغ کئے گئے اور ایک قول یہ ہے کہ اس عذاب سے مراد فاقوں اور بھوک کی وہ مصیبت ہے جو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا سے ان پر مسلّط کی گئی تھی اور اس قحط سے ان کی حالت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ وہ کتّے اور مردار تک کھا گئے تھے ۔(ف102)اب ان کا جواب یہ ہے کہ ۔
خدمت حرم پر بڑائی مارتے ہو (ف۱۰۵) رات کو وہاں بیہودہ کہانیاں بکتے (ف۱۰٦)
(ف105)اوریہ کہتے ہوئے کہ ہم اہلِ حرم ہیں اور بیت اللہ کے ہمسایہ ہیں ، ہم پر کوئی غالب نہ ہوگا ہمیں کسی کا خوف نہیں ۔(ف106)کعبۂ معظّمہ کے گرد جمع ہو کر اور ان کہانیوں میں اکثر قرآن پاک پر طعن اور اس کو سحر اور شعر کہنا اور سید عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں بے جا باتیں کہنا ہوتا تھا ۔(ف107)یعنی نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اور آپ پر ایمان لانے کو اور قرآنِ کریم کو ۔
حق کو چھوڑے ہوئے (ف۱۰۷) کیا انہوں نے بات کو سوچا نہیں (ف۱۰۸) یا ان کے پاس وہ آیا جو ان کے باپ دادا کے پاس نہ آیا تھا (ف۱۰۹)
(ف108)یعنی قرآنِ پاک میں غور نہیں کیا اور اس کے اعجاز پر نظر نہیں ڈالی جس سے انہیں معلوم ہوتا کہ یہ کلام حق ہے اس کی تصدیق لازم ہے اور جو کچھ اس میں ارشاد فرمایا گیا وہ سب حق اور واجب التسلیم ہے اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدق و حقانیت پر اس میں دلالاتِ واضحہ موجود ہیں ۔(ف109)یعنی رسول کا تشریف لانا ایسی نرالی بات نہیں ہے جو کبھی پہلے عہد میں ہوئی ہی نہ ہو اور وہ یہ کہہ سکیں کہ ہمیں خبر ہی نہ تھی کہ خدا کی طرف سے رسول آیا بھی کرتے ہیں ، کبھی پہلے کوئی رسول آیا ہوتا اور ہم نے اس کا تذکرہ سنا ہوتا تو ہم کیوں اس رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہ مانتے ، یہ عذر کرنے کا موقع بھی نہیں ہے کیونکہ پہلی اُمّتوں میں رسول آچکے ہیں اور خدا کی کتابیں نازِل ہو چکی ہیں ۔
یا انہوں نے اپنے رسول کو نہ پہچانا (ف۱۱۰) تو وہ اسے بیگانہ سمجھ رہے ہیں (ف۱۱۱)
(ف110)اور حضور کی عمر شریف کے جملہ احوال کو نہ دیکھا اور آپ کے نسبِ عالی اور صدق و امانت اور وفورِ عقل و حسنِ اخلاق اور کمالِ حلم اور وفا و کرم و مُروّت وغیرہ پاکیزہ اخلاق و محاسنِ صفات اور بغیر کسی سے سیکھے آپ کے علم میں کامل اور تمام جہان سے اعلم اور فائق ہونے کو نہ جانا کیا ایسا ہے ؟ (ف111)حقیقت میں یہ بات تو نہیں بلکہ وہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اور آپ کے اوصاف و کمالات کو خوب جانتے ہیں اور آپ کے برگزیدہ صفات شہرۂ آفاق ہیں ۔
یا کہتے ہیں اسے سودا ہے (ف۱۱۲) بلکہ وہ تو ان کے پاس حق لائے (ف۱۱۳) اور ان میں اکثر حق برا لگتا ہے (ف۱۱٤)
(ف112)یہ بھی سرا سر غلط اور باطل ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ آپ جیسا دانا اور کامل العقل شخص ان کے دیکھنے میں نہیں آیا ۔(ف113)یعنی قرآنِ کریم جو توحیدِ الٰہی و احکامِ دین پر مشتمل ہے ۔(ف114)کیونکہ اس میں ان کے خواہشاتِ نفسانیہ کی مخالفت ہے اس لئے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے صفات و کمالات کو جاننے کے باوجود حق کی مخالفت کرتے ہیں ۔ اکثر کی قید سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ حال ان میں بیشتر لوگوں کا ہے چنانچہ بعض ان میں ایسے بھی تھے جو آپ کو حق پر جانتے تھے اور حق انہیں بُرا بھی نہیں لگتا تھا لیکن وہ اپنی قوم کی موافقت یا اُن کے طعن و تشنیع کے خوف سے ایمان نہ لائے جیسے کہ ابو طالب ۔
اور اگر حق (ف۱۱۵) ان کی خواہشوں کی پیروی کرتا (ف۱۱٦) تو ضرور آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہیں سب تباہ ہوجاتے (ف۱۱۷) بلکہ ہم تو ان کے پاس وہ چیز لائے (ف۱۱۸) جس میں ان کی ناموری تھی تو وہ اپنی عزت سے ہی منہ پھیرے ہوئے ہیں،
(ف115)یعنی قرآن شریف ۔(ف116)اس طرح کہ اس میں وہ مضامین مذکور ہوتے جن کی کُفّار خواہش کرتے ہیں جیسے کہ چند خدا ہونا اور خدا کے بیٹا اور بیٹیاں ہونا وغیرہ کُفریات ۔(ف117)اور تمام عالم کا نظام درہم برہم ہو جاتا ۔(ف118)یعنی قرآنِ پاک ۔
کیا تم ان سے کچھ اجرت مانگتے ہو (ف۱۱۹) تو تمہارے رب کا اجر سب سے بھلا اور وہ سب سے بہتر روزی دینے والا (ف۱۲۰)
(ف119)انہیں ہدایت کرنے اور راہِ حق بتانے پر ۔ ایسا تو نہیں اور وہ کیا ہیں اور آپ کو کیا دے سکتے ہیں تم اگر اجر چاہو ۔(ف120)اور اس کا فضل آپ پر عظیم اور جو جو نعمتیں اس نے آپ کو عطا فرمائی وہ بہت کثیر اور اعلٰی تو آپ کو ان کی کیا پرواہ پھر جب وہ آپ کے اوصاف و کمالات سے واقف بھی ہیں ، قرآنِ پاک کا اعجاز بھی ان کی نگاہوں کے سامنے ہے اور آپ ان سے ہدایت و ارشاد کا کوئی اجر و عوض بھی طلب نہیں فرماتے تو اب انہیں ایمان لانے میں کیا عذر رہا ۔
اور اگر ہم ان پر رحم کریں اور جو مصیبت (ف۱۲۳) ان پر پڑی ہے ٹال دیں تو ضرور بھٹ پنا (احسان فراموشی) کریں گے اپنی سرکشی میں بہکتے ہوئے (ف۱۲٤)
(ف123)ہفت سالہ قحط سالی کی ۔(ف124)یعنی اپنے کُفر و عناد اور سرکشی کی طرف لوٹ جائیں گے اور یہ تملُّق و چاپلوسی جاتی رہے گی اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مؤمنین کی عداوت اور تکبُّر جو ان کا پہلا طریقہ تھا وہی اختیار کریں گے ۔ شانِ نُزول : جب قریش سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا سے سات برس کے قحط میں مبتلا ہوئے اور حالت بہت ابتر ہوگئی تو ابوسفیان ان کی طرف سے نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ کیا آپ اپنے خیال میں رحمۃ للعالمین بنا کر نہیں بھیجے گئے ؟ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بے شک ، ابوسفیان نے کہا کہ بڑو ں کو تو آپ نے بدر میں تہِ تیغ کر دیا اولاد جو رہی وہ آپ کی بددعا سے اس حالت کو پہنچی کہ مصیبت قحط میں مبتلا ہوئی ، فاقوں سے تنگ آگئی ، لوگ بھوک کی بے تابی سے ہڈیاں چاپ گئے ، مُردار تک کھا گئے میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں اور قرابت کی ، آپ اللہ سے دعا کیجئے کہ ہم سے اس قحط کو دور فرمائے ۔ حضور نے دعا کی اور انہوں نے اس بلا سے رہائی پائی ۔ اس واقعہ کے متعلق یہ آیتیں نازِل ہوئیں ۔
یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر کھولا کسی سخت عذاب کا دروازہ (ف۱۲۷) تو وہ اب اس میں ناامید پڑے ہیں،
(ف127)اس عذاب سے یا قحط سالی مراد ہے جیسا کہ روایتِ مذکور ہ شانِ نُزول کا مقتضٰی ہے یا روزِ بدر کا قتل ، یہ اس قول کی بنا پر ہے کہ واقعۂ قحط واقعۂ بدر سے پہلے ہوا اور بعض مفسِّرین نے کہا کہ اس سخت عذاب سے موت مراد ہے ، بعض نے کہا کہ قیامت ۔
اور وہی ہے جس نے بنائے تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل (ف۱۲۸) تم بہت ہی کم حق مانتے ہو (ف۱۲۹)
(ف128)تاکہ سنو اور دیکھو اور سمجھو اور دینی اور دنیوی منافع حاصل کرو ۔(ف129)کہ تم نے ان نعمتوں کی قدر نہ جانی اور ان سے فائدہ نہ اٹھایا اور کانوں ، آنکھوں اور دلوں سے آیاتِ الٰہیہ کے سننے ، دیکھنے ، سمجھنے اور معرفتِ الٰہی حاصل کرنے اور مُنعمِ حقیقی کا حق پہچان کر شکر گزار بننے کا نفع نہ اٹھایا ۔
اور وہی جٕلائے اور مارے اور اسی کے لیے ہیں رات اور دن کی تبدیلیاں (ف۱۳۱) تو کیا تمہیں سمجھ نہیں (ف۱۳۲)
(ف131)ان میں سے ہر ایک کا دوسرے کے بعد آنا اور تاریکی و روشنی اور زیادتی و کمی میں ہر ایک کا دوسرے سے مختلف ہونا یہ سب اس کی قدرت کے نشان ہیں ۔(ف132)کہ ان سے عبرت حاصل کرو اور ان میں خدا کی قدرت کا مشاہدہ کرکے مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کو تسلیم کرو اور ایمان لاؤ ۔
بیشک یہ وعدہ ہم کو اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا کو دیا گیا یہ تو نہیں مگر وہی اگلی داستانیں (ف۱۳٤)
(ف134)جن کی کچھ بھی حقیقت نہیں ۔ کُفّار کے اس مقولہ کا رد فرمانے اور ان پر حُجُّت قائم فرمانے کے لئے اللہ تبارک و تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ارشاد فرمایا ۔
اب کہیں گے کہ اللہ کا (ف۱۳٦) تم فرماؤ پھر کیوں نہیں سوچتے (ف۱۳۷)
(ف136)کیونکہ بجُز اس کے کوئی جواب ہی نہیں اور مشرکین اللہ تعالٰی کی خالقیت کے مُقِر بھی ہیں جب وہ یہ جواب دیں ۔(ف137)کہ جس نے زمین کو اور اس کی کائنات کو ابتداءً پیدا کیا وہ ضرور مُردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہے ۔
اب کہیں گے یہ اللہ ہی کی شان ہے، تم فرماؤ پھر کس جادو کے فریب میں پڑے ہو (ف۱٤۱)
(ف141)یعنی کس شیطانی دھوکے میں ہو کہ توحید و طاعتِ الٰہی کو چھوڑ کر حق کو باطل سمجھ رہے ہو جب تم اقرار کرتے ہو کہ قدرتِ حقیقی اسی کی ہے اور اس کے خلاف کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا تو دوسرے کی عبادت قطعاً باطل ہے ۔
اللہ نے کوئی بچہ اختیار نہ کیا (ف۱٤٤) اور نہ اس کے ساتھ کوئی دوسرا خدا (ف۱٤۵) یوں ہوتا تو ہر خدا اپنی مخلوق لے جاتا (ف۱٤٦) اور ضرور ایک دوسرے پر اپنی تعلی چاہتا (ف۱٤۷) پاکی ہے اللہ کو ان باتوں سے جو یہ بناتے ہیں (ف۱٤۸)
(ف144)وہ اس سے منزّہ ہے کیونکہ نوع اور جنس سے پاک ہے اور اولاد وہی ہو سکتی ہے جو ہم جنس ہو ۔(ف145)جو اُلُوہیت میں شریک ہو ۔(ف146)اور اس کو دوسرے کے تحتِ تصرُّف نہ چھوڑتا ۔(ف147)اور دوسرے پر اپنی برتری اور اپنا غلبہ پسند کرتا کیونکہ متقابل حکومتیں اسی کی مقتضی ہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ دو خدا ہونا باطل ہے خدا ایک ہی ہے اور ہر چیز اسی کے تحتِ تصرُّف ہے ۔(ف148)کہ اس کے لئے شریک اور اولاد ٹھہراتے ہیں ۔
تو اے میرے رب! مجھے ان ظالموں کے ساتھ نہ کرنا (ف۱۵۰)
(ف150)اور ان کا قرین اور ساتھی نہ بنانا یہ دعا بہ طریقِ تواضع و اظہارِ عبدیت ہے باوجودیکہ معلوم ہے کہ اللہ تعالٰی آپ کو ان کا قرین اور ساتھی نہ کریگا اسی طرح انبیا ءِ معصومین استغفار کیا کرتے ہیں باوجود یکہ انہیں اپنی مغفرت اور اکرامِ خداوندی کا علم یقینی ہوتا ہے ، یہ سب بہ طریقِ تواضع و اظہارِ بندگی ہے ۔
اور بیشک ہم قادر ہیں کہ تمہیں دکھا دیں جو انھیں وعدہ دے رہے ہیں (ف۱۵۱)
(ف151)یہ جواب ہے ان کُفّار کا جو عذابِ موعود کا انکار کرتے اور اس کی ہنسی اڑاتی تھے انہیں بتایا گیا کہ اگر تم غور کرو تو سمجھ لو گے کہ اللہ تعالٰی اس وعدہ کے پورا کرنے پر قادر ہے پھر وجہِ انکار اور سببِ استہزاء کیا اور عذاب میں جو تاخیر ہو رہی ہے اس میں اللہ کی حکمتیں ہیں کہ ان میں سے جو ایمان لانے والے ہیں وہ ایمان لے آئیں اور جن کی نسلیں ایمان لانے والی ہیں ان سے وہ نسلیں پیدا ہو لیں ۔
سب سے اچھی بھلائی سے برائی کو دفع کرو (ف۱۵۲) ہم خوب جانتے ہیں جو باتیں یہ بناتے ہیں (ف۱۵۳)
(ف152)اس جملۂ جمیلہ کے معنٰی بہت وسیع ہیں ، اس کے یہ معنٰی بھی ہیں کہ توحید جو اعلٰی بہتری ہے اس سے شرک کی برائی کو دفع فرمائے اور یہ بھی کہ طاعت و تقوٰی کو رواج دے کر معصیت اور گناہ کی برائی دفع کیجئے اور یہ بھی کہ اپنے مکارمِ اخلاق سے خطا کاروں پر اس طرح عفو و رحمت فرمائے جس سے دین میں کوئی سُستی نہ ہو ۔(ف153) اللہ اور اس کے رسول کی شان میں، تو ہم اس کا بدلہ دیں گے ۔
یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آئے (ف۱۵۵) تو کہتا ہے کہ اے میرے رب مجھے واپس پھر دیجئے، (ف۱۵٦)
(ف155)یعنی کافِر وقتِ موت تک تو اپنے کُفر و سرکشی اور خدا اور رسول کی تکذیب اور مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کے انکار پر مُصِر رہتا ہے اور جب موت کا وقت آتا ہے اور اس کو جہنّم میں اس کا جو مقام ہے دکھایا جاتا ہے اور جنّت کا وہ مقام بھی دکھایا جاتا ہے کہ اگر وہ ایمان لاتا تو یہ مقام اسے دیا جاتا ۔(ف156)دنیا کی طرف ۔
شاید اب میں کچھ بھلائی کماؤں اس میں جو چھوڑ آیا ہوں (ف۱۵۷) ہشت یہ تو ایک بات ہے جو وہ اپنے منہ سے کہتا ہے (ف۱۵۸) اور ان کے آگے ایک آڑ ہے (ف۱۵۹) اس دن تک جس دن اٹھائے جائیں گے،
(ف157)اور اعمالِ نیک بجا لا کر اپنی تقصیرات کا تدارُک کروں اس پر اس کو فرمایا جائے گا ۔(ف158)حسرت و ندامت سے یہ ہونے والی نہیں اور اس کا کچھ فائدہ نہیں ۔(ف159)جو انہیں دنیا کی طرف واپس ہونے سے مانع ہے اور وہ موت ہے ۔ (خازن) بعض مفسِّرین نے کہا کہ برزخ وقتِ موت سے وقتِ بعث تک کی مدت کو کہتے ہیں ۔
تو جب صور پھونکا جائے گا (ف۱٦۰) تو نہ ان میں رشتے رہیں گے (ف۱٦۱) اور نہ ایک دوسرے کی بات پوچھے (ف۱٦۲)
(ف160)پہلی مرتبہ جس کو نفخۂ اُولٰی کہتےہیں جیسا کہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے ۔(ف161)جن پر دنیا میں فخر کیا کرتے تھے اور آپس کے نسبی تعلقات منقطع ہو جائیں گے اور قرابت کی مَحبتیں باقی نہ رہیں گی اور یہ حال ہوگا کہ آدمی اپنے بھائی اور ماں اور باپ اور بی بی اور بیٹوں سے بھاگے گا ۔(ف162)جیسے کہ دنیا میں پوچھتے تھے کیونکہ ہر ایک اپنے ہی حال میں مبتلا ہوگا پھر دوسری بار صُور پُھونکا جائے گا اور بعدِ حساب لوگ ایک دوسرے کا حال دریافت کریں گے ۔
ان کے منہ پر آگ لپیٹ مارے گی اور وہ اس میں منہ چڑائے ہوں گے (ف۱٦۵)
(ف165)ترمذی کی حدیث میں ہے کہ آ گ ان کو بھون ڈالے گی اور اوپر کا ہونٹ سُکڑ کر نصف سر تک پہنچے گا اور نیچے کا ناف تک لٹک جائے گا ، دانت کھلے رہ جائیں گے (خدا کی پناہ) اور ان سے فرمایا جائے گا ۔
اے رب ہمارے ہم کو دوزخ سے نکال دے پھر اگر ہم ویسے ہی کریں تو ہم ظالم ہیں (ف۱٦۷)
(ف167)ترمذی کی حدیث میں ہے کہ دوزخی لوگ جہنّم کے داروغہ مالک کو چالیس برس تک پکارتے رہیں گے اس کے بعد وہ کہے گا کہ تم جہنّم ہی میں پڑے رہو گے پھر وہ پروردگار کو پکاریں گے اور کہیں گے اے ربّ ہمارے ہمیں دوزخ سے ا ور یہ پکار ان کی دنیا سے دونی عمر کی مدّت تک جاری رہے گی ، اس کے بعد انہیں یہ جواب دیا جائے گا جو اگلی آیت میں ہے (خازن) اور دنیا کی عمر کتنی ہے ، اس میں کئی قول ہیں بعض نے کہا کہ دنیا کی عمر سات ہزار برس ہے ، بعض نے کہا بارہ ہزار برس ، بعض نے کہا تین لاکھ ساٹھ برس واللہ تعالٰی اعلم (تذکرہ قرطبی)
رب فرمائے گا دھتکارے (خائب و خاسر) پڑے رہو اس میں اور مجھ سے بات نہ کرو (ف۱٦۸)
(ف168)اب ان کی امیدیں منقطع ہو جائیں گی اور یہ اہلِ جہنّم کا آخر کلام ہوگا پھر اس کے بعد انہیں کلام کرنا نصیب نہ ہوگا ، روتے ، چیختے ، ڈکراتے ، بھونکتے رہیں گے ۔
تو تم نے انھیں ٹھٹھا بنالیا (ف۱٦۹) یہاں تک کہ انھیں بنانے کے شغل میں (ف۱۷۰) میری یاد بھول گئے اور تم ان سے ہنسا کرتے،
(ف169)شانِ نُزول : یہ آیتیں کُفّارِ قریش کے حق میں نازِل ہوئیں جو حضرت بلال و حضرت عمار و حضرت صہیب و حضرت خبّاب وغیرہ رضی اللہ تعالٰی عنہم فقراء اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تمسخُر کرتے تھے ۔(ف170)یعنی ان کے ساتھ تمسخُر کرنے میں اتنے مشغول ہوئے کہ ۔
، بولے ہم ایک دن رہے یا دن کا حصہ (ف۱۷۳) تو گننے والوں سے دریافت فرما (ف۱۷٤)
(ف173)یہ جواب اس وجہ سے دیں گے کہ اس دن کی دہشت اور عذاب کی ہیبت سے انہیں اپنے دنیا میں رہنے کی مدّت یاد نہ رہے گی اور انہیں شک ہو جائے گا اسی لئے کہیں گے ۔(ف174)یعنی ان ملائکہ سے جن کو تو نے بندوں کی عمریں اور ان کے اعمال لکھنے پر مامور کیا ، اس پر اللہ تعالٰی نے ۔
تو کیا یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار بنایا اور تمہیں ہماری طرف پھرنا نہیں (ف۱۷٦)
(ف176)اور آخرت میں جزا کے لئے اٹھنا نہیں بلکہ تمہیں عبادت کے لئے پیدا کیا کہ تم پر عبادت لازم کریں اور آخرت میں تم ہماری طرف لوٹ کر آؤ تو تمہیں تمہارے اعمال کی جزا دیں ۔