(۱٤) کوئی نہیں (ف۱۲) بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے ان کی کمائیوں نے (ف۱۳)
(ف12)اس کا کہناغلط ہے ۔(ف13)ان معاصی اور گناہوں نے جو وہ کرتے ہیں یعنی اپنے اعمالِ بد کی شامت سے ان کے دل زنگ خوردہ اور سیاہ ہوگئے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے اس کے دل میں ایک نقطۂِ سیاہ پیدا ہوتا ہے ، جب اس گناہ سے باز آتا ہے اور توبہ واستغفار کرتا ہے تو دل صاف ہوجاتا ہے اور اگر پھر گناہ کرتا ہے تو وہ نقطہ بڑھتا ہے یہاں تک کہ تمام قلب سیاہ ہوجاتا ہے اور یہی رَین یعنی وہ زنگ ہے جس کا آیت میں ذکر ہوا ۔ (ترمذی)
(۱۵) ہاں ہاں بیشک وہ اس دن (ف۱٤) اپنے رب کے دیدار سے محروم ہیں (ف۱۵)
(ف14)یعنی روزِ قیامت ۔(ف15)جیسا کہ دنیا میں اس کی توحید سے محروم رہے ۔مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ مومنین کو آخرت میں دیدارِ الٰہی کی نعمت میسّر آئے گی کیونکہ محرومی دیدار سے کفّار کی وعید میں ذکر کی گئی اور جو چیز کفّار کے لئے وعید و تہدید ہو وہ مسلمان کے حق میں ثابت ہو نہیں سکتی تو لازم آیا کہ مومنین کے حق میں یہ محرومی ثابت نہ ہو ، حضرت امام مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ جب اس نے اپنے دشمنوں کو اپنے دیدار سے محروم کیا تو دوستوں کو اپنی تجلّی سے نوازے گا اور اپنے دیدار سے سرفراز فرمائے گا ۔
(۳۱) اور جب (ف۹۳۳ اپنے گھر پلٹتے خوشیاں کرتے پلٹتے (ف۳٤)
(ف32)بطریقِ طعن و عیب کے ۔شانِ نزول : منقول ہے کہ حضرت علیِ مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ مسلمانوں کی ایک جماعت میں تشریف لے جارہے تھے ، منافقین نے انہیں دیکھ کر آنکھوں سے اشارے کئے اور مسخرگی سے ہنسے اور آپس میں ان حضرات کے حق میں بے ہودہ کلمات کہے تو اس سے پہلے کہ علیِ مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں پہنچیں یہ آیتیں نازل ہوئیں ۔(ف33)کفّار ۔(ف34)یعنی مسلمانوں کو بُرا کہہ کر آپس میں ان کی ہنسی بناتے اور خوش ہوتے ہوئے ۔
(۳۲) اور جب مسلمانوں کو دیکھتے کہتے بیشک یہ لوگ بہکے ہوئے ہیں (ف۳۵)
(ف35)کہ سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لائے اور دنیا کی لذّتوں کو آخرت کی امیدوں پر چھوڑ دیا ، اللہ تعالٰی فرماتا ہے ۔
وَمَاۤ اُرۡسِلُوۡا عَلَيۡهِمۡ حٰفِظِيۡنَۙ ﴿33﴾
(۳۳) اور یہ (ف۳٦) کچھ ان پر نگہبان بناکر نہ بھیجے گئے (ف۳۷)
(ف36)کفّار ۔(ف37)کہ ان کے احوال و اعمال پر گرفت کریں بلکہ انہیں اپنی اصلاح کا حکم دیا گیا ہے وہ اپنا حال درست کریں ، دوسروں کو بے وقوف بتانے اور انکی ہنسی اڑانے سے کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔
(۳٤) تو آج (ف۳۸) ایمان والے کافروں سے ہنستے ہیں (ف۳۹)
(ف38)یعنی روزِ قیامت ۔(ف39)جیسا کافر دنیا میں مسلمانوں کی غربت و محنت پر ہنستے تھے ، یہاں معاملہ برعکس ہے مومن دائمی عیش و راحت میں ہیں اور کافر ذلّت و خواری کے دائمی عذاب میں ، جہنّم کا دروازہ کھولا جاتا ہے ، کافر اس سے نکلنے کے لئے دروازے کی طرف دوڑتے ہیں ، جب دروازہ کے قریب پہنچتے ہیں دروازہ بند ہوجاتا ہے ، بار بار ایسا ہی ہوتا ہے ، کافروں کی یہ حالت دیکھ کر مسلمان ان سے ہنسی کرتے ہیں اور مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ جنّت میں جواہرات کے ۔
عَلَى الۡاَرَآٮِٕكِۙ يَنۡظُرُوۡنَؕ ﴿35﴾
(۳۵) تختوں پر بیٹھے دیکھتے ہیں (ف٤۰)
(ف40)کفّار کی ذلّت و رسوائی اور شدّتِ عذاب کو اور اس پر ہنستے ہیں ۔