Al-Mutaffifin المطففین

پارہ: 30
سورہ: 83
آیات: 36
وَيۡلٌ لِّلۡمُطَفِّفِيۡنَۙ‏ ﴿1﴾

(۱) کم تولنے والوں کی خرابی ہے،

Ruin is for the defrauders. (Those who measure less.)

الَّذِيۡنَ اِذَا اكۡتَالُوۡا عَلَى النَّاسِ يَسۡتَوۡفُوۡنَۖ‏ ﴿2﴾

(۲) وہ کہ جب اوروں سے ناپ لیں پورا لیں،

Those who when they take the measure from others, take it in full!

وَاِذَا كَالُوۡهُمۡ اَوْ وَّزَنُوۡهُمۡ يُخۡسِرُوۡنَؕ‏ ﴿3﴾

(۳) اور جب انہیں ناپ تول کردی کم کردیں،

Whereas when they give others after measuring or weighing, they give them less!

اَلَا يَظُنُّ اُولٰٓٮِٕكَ اَنَّهُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَۙ‏ ﴿4﴾

(٤) کیا ان لوگوں کو گمان نہیں کہ انہیں اٹھنا ہے،

What! Do they not expect that they will be raised?

لِيَوۡمٍ عَظِيۡمٍۙ‏ ﴿5﴾

(۵) ایک عظمت والے دن کے لیے (ف۲)

(To be raised) for a Great Day?

يَّوۡمَ يَقُوۡمُ النَّاسُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ‏ ﴿6﴾

(٦) جس دن سب لوگ (ف۳) رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے،

The day when everyone will stand before the Lord Of The Creation.

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الۡفُجَّارِ لَفِىۡ سِجِّيۡنٍؕ‏ ﴿7﴾

(۷) بیشک کافروں کی لکھت (ف٤) سب سے نیچی جگہ سجین میں ہے (ف۵)

Indeed, the record of the disbelievers is in the lowest place, the Sijjeen.

وَمَاۤ اَدۡرٰٮكَ مَا سِجِّيۡنٌؕ‏ ﴿8﴾

(۸) اور تو کیا جانے سجین کیسی ہے (ف٦)

And what do you know, how (wretched) the Sijjeen is!

كِتٰبٌ مَّرۡقُوۡمٌؕ‏ ﴿9﴾

(۹) وہ لکھت ایک مہر کیا نوشتہ ہے (ف۷)

The record is a sealed text.

وَيۡلٌ يَّوۡمَٮِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَۙ‏ ﴿10﴾

(۱۰) اس دن (ف۸) جھٹلانے والوں کی خرابی ہے،

Ruin is for the deniers on that day!

الَّذِيۡنَ يُكَذِّبُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِؕ‏ ﴿11﴾

(۱۱) جو انصاف کے دن کو جھٹلاتے ہیں (ف۹)

Those who deny the Day of Justice.

وَمَا يُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعۡتَدٍ اَثِيۡمٍۙ‏ ﴿12﴾

(۱۲) اور اسے نہ جھٹلائے گا مگر ہر سرکش (ف۱۰)

And none will deny it, except every transgressor, rebel.

اِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا قَالَ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَؕ‏ ﴿13﴾

(۱۳) جب اس پر ہماری آیتیں پڑھی جائیں کہے (ف۱۱) اگلوں کی کہانیاں ہیں،

When you recite Our verses to him, he says, “Stories of earlier men!”

كَلَّا​ بَلۡ رَانَ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ مَّا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ‏ ﴿14﴾

(۱٤) کوئی نہیں (ف۱۲) بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے ان کی کمائیوں نے (ف۱۳)

Not at all – but rather their earnings have heaped rust upon their hearts.

كَلَّاۤ اِنَّهُمۡ عَنۡ رَّبِّهِمۡ يَوۡمَٮِٕذٍ لَّمَحۡجُوۡبُوۡنَ​ؕ‏ ﴿15﴾

(۱۵) ہاں ہاں بیشک وہ اس دن (ف۱٤) اپنے رب کے دیدار سے محروم ہیں (ف۱۵)

Yes indeed – they will be deprived of seeing their Lord on that day.

ثُمَّ اِنَّهُمۡ لَصَالُوا الۡجَحِيۡمِؕ‏ ﴿16﴾

(۱٦) پھر بیشک انہیں جہنم میں داخل ہونا،

Then indeed they have to enter hell.

ثُمَّ يُقَالُ هٰذَا الَّذِىۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَؕ‏ ﴿17﴾

(۱۷) پھر کہا جائے گا، یہ ہے وہ (ف۱٦) جسے تم جھٹلاتے تھے (ف۱۷)

It will then be said, “This is what you used to deny.”

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الۡاَبۡرَارِ لَفِىۡ عِلِّيِّيۡنَؕ‏ ﴿18﴾

(۱۸) ہاں ہاں بیشک نیکوں کی لکھت (ف۱۸) سب سے اونچا محل علیین میں ہے (ف۱۹)

Indeed the record of the virtuous is in the highest place, the Illiyin.

وَمَاۤ اَدۡرٰٮكَ مَا عِلِّيُّوۡنَؕ‏ ﴿19﴾

(۱۹) اور تو کیا جانے علیین کیسی ہے (ف۲۰)

And what do you know what the Illiyoon are!

كِتٰبٌ مَّرۡقُوۡمٌۙ‏ ﴿20﴾

(۲۰) وہ لکھت ایک مہر کیا نوشتہ ہے (ف۲۱)

The record is a sealed text.

يَّشۡهَدُهُ الۡمُقَرَّبُوۡنَؕ‏ ﴿21﴾

(۲۱) کہ مقرب (ف۲۲) جس کی زیارت کرتے ہیں،

Which is witnessed by the close ones.

اِنَّ الۡاَبۡرَارَ لَفِىۡ نَعِيۡمٍۙ‏ ﴿22﴾

(۲۲) بیشک نیکوکار ضرور چین میں ہیں،

Indeed the virtuous are in serenity.

عَلَى الۡاَرَآٮِٕكِ يَنۡظُرُوۡنَۙ‏ ﴿23﴾

(۲۳) تختوں پر دیکھتے ہیں (ف۲۳)

On thrones, watching.

تَعۡرِفُ فِىۡ وُجُوۡهِهِمۡ نَضۡرَةَ النَّعِيۡمِ​ۚ‏ ﴿24﴾

(۲٤) تو ان کے چہروں میں چین کی تازگی پہنچانے (ف۲٤)

You will recognise the freshness of serenity on their faces.

يُسۡقَوۡنَ مِنۡ رَّحِيۡقٍ مَّخۡتُوۡمٍۙ‏ ﴿25﴾

(۲۵) نتھری شراب پلائے جائیں گے جو مہُر کی ہوئی رکھی ہے (ف۲۵)

They will be given pure wine to drink, which is kept preserved, sealed.

خِتٰمُهٗ مِسۡكٌ ​ؕ وَفِىۡ ذٰلِكَ فَلۡيَتَنَافَسِ الۡمُتَنــَافِسُوۡنَؕ‏ ﴿26﴾

(۲٦) اس کی مہُر مشک پر ہے، اور اسی پر چاہیے کہ للچائیں للچانے والے (ف۲٦)

Its seal is upon musk; and for this should those who crave be eager.

وَ مِزَاجُهٗ مِنۡ تَسۡنِيۡمٍۙ‏ ﴿27﴾

(۲۷) اور اس کی ملونی تسنیم سے ہے (ف۲۷)

And it is mixed with Tasneem.

عَيۡنًا يَّشۡرَبُ بِهَا الۡمُقَرَّبُوۡنَؕ‏ ﴿28﴾

(۲۸) وہ چشمہ جس سے مقربان بارگاہ پیتے ہیں (ف۲۸)

The spring from which drink the ones close to Allah.

اِنَّ الَّذِيۡنَ اَجۡرَمُوۡا كَانُوۡا مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا يَضۡحَكُوۡنَ  ۖ‏ ﴿29﴾

(۲۹) بیشک مجرم لوگ (ف۲۹) ایمان والوں سے (ف۳۰) ہنسا کرتے تھے،

Indeed the guilty used to laugh at the believers.

وَاِذَا مَرُّوۡا بِهِمۡ يَتَغَامَزُوۡنَ  ۖ‏ ﴿30﴾

(۳۰) اور جب وہ (ف۳۱) ان پر گزرتے تو یہ آپس میں ان پر آنکھوں سے اشارے کرتے (ف۳۲)

And when the believers used to pass by, they used to gesture at each other with their eyes.

وَاِذَا انۡقَلَبُوۡۤا اِلٰٓى اَهۡلِهِمُ انْقَلَبُوۡا فَكِهِيۡنَ  ۖ‏ ﴿31﴾

(۳۱) اور جب (ف۹۳۳ اپنے گھر پلٹتے خوشیاں کرتے پلٹتے (ف۳٤)

And whilst returning to their homes, they used to return rejoicing.

وَاِذَا رَاَوۡهُمۡ قَالُوۡۤا اِنَّ هٰٓؤُلَاۤءِ لَـضَآلُّوۡنَۙ‏ ﴿32﴾

(۳۲) اور جب مسلمانوں کو دیکھتے کہتے بیشک یہ لوگ بہکے ہوئے ہیں (ف۳۵)

And upon seeing the Muslims, they used to say, “Indeed they have gone astray.”

وَمَاۤ اُرۡسِلُوۡا عَلَيۡهِمۡ حٰفِظِيۡنَۙ‏ ﴿33﴾

(۳۳) اور یہ (ف۳٦) کچھ ان پر نگہبان بناکر نہ بھیجے گئے (ف۳۷)

Whereas they have not at all been sent as guardians over them.

فَالۡيَوۡمَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَۙ‏ ﴿34﴾

(۳٤) تو آج (ف۳۸) ایمان والے کافروں سے ہنستے ہیں (ف۳۹)

So this day it is the believers who laugh at the disbelievers.

عَلَى الۡاَرَآٮِٕكِۙ يَنۡظُرُوۡنَؕ‏ ﴿35﴾

(۳۵) تختوں پر بیٹھے دیکھتے ہیں (ف٤۰)

On high thrones, watching.

هَلۡ ثُوِّبَ الۡكُفَّارُ مَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ‏ ﴿36﴾

(۳٦) کیوں کچھ بدلا ملا کافروں کو اپنے کیے کا (ف٤۱)

Did not the disbelievers get repaid for what they used to do?

Scroll to Top