Al-Qamar القمر

پارہ: 27
سورہ: 54
آیات: 55
اِقۡتَـرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الۡقَمَرُ‏ ﴿1﴾

پاس آئی قيامت اور (ف۲) شق ہوگیا چاند (ف۳)

The Last Day came near, and the moon split apart.

وَاِنۡ يَّرَوۡا اٰيَةً يُّعۡرِضُوۡا وَيَقُوۡلُوۡا سِحۡرٌ مُّسۡتَمِرٌّ‏ ﴿2﴾

اور اگر دیکھیں (ف٤) کوئی نشانی تو منہ پھیرتے (ف۵) اور کہتے ہیں یہ تو جادو ہے چلا آتا،

And when they see a sign, they turn away and say, “Just a customary magic!”

وَكَذَّبُوۡا وَاتَّبَعُوۡۤا اَهۡوَآءَهُمۡ​ وَكُلُّ اَمۡرٍ مُّسۡتَقِرٌّ‏ ﴿3﴾

اور انہوں نے جھٹلایا (ف٦) اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے (ف۷) اور ہر کام قرار پاچکا ہے (ف۸)

And they denied and followed their own desires, whereas each matter has been decided!

وَلَقَدۡ جَآءَهُمۡ مِّنَ الۡاَنۡۢبَآءِ مَا فِيۡهِ مُزۡدَجَرٌۙ‏ ﴿4﴾

اور بیشک ان کے پاس وہ خبریں آئیں (ف۹) جن میں کافی روک تھی (ف۱۰)

And indeed the news which had a lot of deterrence, came to them.

حِكۡمَةٌ ۢ بَالِغَةٌ​ فَمَا تُغۡنِ النُّذُرُۙ‏ ﴿5﴾

انتہاء کو پہنچی ہوئی حکمت پھر کیا کام دیں ڈر سنانے والے،

The pinnacle of wisdom – so how will the Heralds of warning provide any benefit?

فَتَوَلَّ عَنۡهُمۡ​ۘ يَوۡمَ يَدۡعُ الدَّاعِ اِلٰى شَىۡءٍ نُّكُرٍۙ‏ ﴿6﴾

تو تم ان سے منہ پھیرلو (ف۱۱) جس دن بلانے والا (ف۱۲) ایک سخت بےپہچانی بات کی طرف بلائے گا (ف۱۳)

Therefore turn away from them; on the day when the announcer will call towards a severe unknown matter –

خُشَّعًا اَبۡصَارُهُمۡ يَخۡرُجُوۡنَ مِنَ الۡاَجۡدَاثِ كَاَنَّهُمۡ جَرَادٌ مُّنۡتَشِرٌۙ‏ ﴿7﴾

نیچی آنکھیں کیے ہوئے قبروں سے نکلیں گے گویا وہ ٹڈی ہیں پھیلی ہوئی (ف۱٤)

They will come out from the graves with eyes lowered, as if they were spread locusts.

مُّهۡطِعِيۡنَ اِلَى الدَّاعِ​ؕ يَقُوۡلُ الۡكٰفِرُوۡنَ هٰذَا يَوۡمٌ عَسِرٌ‏  ﴿8﴾

بلانے والے کی طرف لپکتے ہوئے (ف۱۵) کافر کہیں گے یہ دن سخت ہے

Rushing towards the caller; the disbelievers will say, “This is a tough day.”

كَذَّبَتۡ قَبۡلَهُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ فَكَذَّبُوۡا عَبۡدَنَا وَقَالُوۡا مَجۡنُوۡنٌ وَّازۡدُجِرَ‏ ﴿9﴾

ان سے (ف۱٦) پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا تو ہمارے بندہ (ف۱۷) کو جھوٹا بتایا اور بولے وہ مجنون ہے اور اسے جھڑکا (ف۱۸)

Before these, the people of Nooh denied and they belied Our bondman and said, “He is a madman” and rebuffed him.

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّىۡ مَغۡلُوۡبٌ فَانْـتَصِرۡ‏ ﴿10﴾

تو اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں مغلوب ہوں تو میرا بدلہ لے،

He therefore prayed to his Lord, “I am overpowered, therefore avenge me.”

فَفَتَحۡنَاۤ اَبۡوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنۡهَمِرٍ ۖ‏ ﴿11﴾

تو ہم نے آسمان کے دروازے کھول دیے زور کے بہتے پانی سے (ف۱۹)

We therefore opened the gates of heaven, with water flowing furiously.

وَّفَجَّرۡنَا الۡاَرۡضَ عُيُوۡنًا فَالۡتَقَى الۡمَآءُ عَلٰٓى اَمۡرٍ قَدۡ قُدِرَ​ۚ‏ ﴿12﴾

اور زمین چشمے کرکے بہا دی (ف۲۰) تو دونوں پانی (ف۲۱) مل گئے اس مقدار پر جو مقدر تھی (ف۲۲)

And caused springs to gush out from the earth, so that the two waters met totalling a quantity that had been destined.

وَحَمَلۡنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلۡوَاحٍ وَّدُسُرٍۙ‏ ﴿13﴾

اور ہم نے نوح کو سوار کیا (ف۲۳) تختوں اور کیلوں والی پر کہ

And We carried Nooh upon a ship of wooden planks and nails.

تَجۡرِىۡ بِاَعۡيُنِنَا​ۚ جَزَآءً لِّمَنۡ كَانَ كُفِرَ‏ ﴿14﴾

ہماری نگاہ کے روبرو بہتی (ف۲٤) اس کے صلہ میں (ف۲۵) جس کے ساتھ کفر کیا گیا تھا،

Sailing in front of Our sight; as a reward for the sake of one who was rejected.

وَلَقَدْ تَّرَكۡنٰهَاۤ اٰيَةً فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ‏ ﴿15﴾

اور ہم نے اس (ف۲٦) نشانی چھوڑا تو ہے کوئی دھیان کرنے والا (ف۲۷)

And We left it as a sign – so is there one who would ponder?

فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِىۡ وَنُذُرِ‏ ﴿16﴾

تو کیسا ہوا میرا عذاب اور میری دھمکیاں،

So how did My punishment turn out, and My threats?

وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ‏ ﴿17﴾

اور بیشک ہم نے قرآن یاد کرنے کے لیے آسان فرمادیا تو ہے کوئی یاد کرنے والا (ف۲۸)

And We have indeed made the Qur’an easy to memorise, so is there one who would remember?

كَذَّبَتۡ عَادٌ فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِىۡ وَنُذُرِ‏ ﴿18﴾

عاد نے جھٹلایا (ف۲۹) تو کیسا ہوا میرا عذاب اور میرے ڈر دلانے کے فرمان (ف۳۰)

The tribe of A’ad denied – so how did My punishment turn out, and My warnings?

اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ رِيۡحًا صَرۡصَرًا فِىۡ يَوۡمِ نَحۡسٍ مُّسۡتَمِرٍّۙ‏  ﴿19﴾

بیشک ہم نے ان پر ایک سخت آندھی بھیجی (ف۳۱) ایسے دن میں جس کی نحوست ان پر ہمیشہ کے لیے رہی (ف۳۲)

We indeed sent towards them a severe windstorm, on a day the ill luck of which lasted upon them forever.

تَنۡزِعُ النَّاسَۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ مُّنۡقَعِرٍ‏ ﴿20﴾

لوگوں کو یوں دے مارتی تھی کہ گویا اکھڑی ہوئی کھجوروں کے ڈنڈ (سوکھے تنے) ہیں

Smashing down men as if they were uprooted trunks of date palms.

فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِىۡ وَنُذُرِ‏ ﴿21﴾

تو کیا کیسا ہوا میرا عذاب اور ڈر کے فرمان،

So how did My punishment turn out, and My warnings?

وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ‏ ﴿22﴾

اور بیشک ہم نے آسان کیا قرآن یاد کرنے کے لیے تو ہے کوئی یاد کرنے والا،

And We have indeed made the Qur’an easy to memorise, so is there one who would remember?

كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ بِالنُّذُرِ‏ ﴿23﴾

ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا (ف۳۳)

The tribe of Thamud denied the Noble Messengers.

فَقَالُـوۡۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّفِىۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ‏ ﴿24﴾

تو بولے کیا ہم اپنے میں کے ایک آدمی کی تابعداری کریں (ف۳٤) جب تو ہم ضرور گمراہ اور دیوانے ہیں (ف۳۵)

So they said, “What! Shall we follow a man from among us? If we do, we are indeed astray, and insane!”

ءَاُلۡقِىَ الذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۡۢ بَيۡنِنَا بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ‏ ﴿25﴾

کیا ہم سب میں سے اس پر (ف۳٦) بلکہ یہ سخت جھوٹا اترونا (شیخی باز) ہے (ف۳۸)

“What! Of all the men among us, the remembrance has come down upon him? In fact, he is a mischievous, great liar.”

سَيَعۡلَمُوۡنَ غَدًا مَّنِ الۡكَذَّابُ الۡاَشِرُ‏ ﴿26﴾

بہت جلد کل جان جائیں گے (ف۳۹) کون تھا بڑا جھوٹا اترونا (شیخی باز)

It was said to Saleh, “They will soon realise tomorrow who is the mischievous great liar.”

اِنَّا مُرۡسِلُوا النَّاقَةِ فِتۡنَةً لَّهُمۡ فَارۡتَقِبۡهُمۡ وَاصۡطَبِرۡ‏  ﴿27﴾

ہم ناقہ بھیجنے والے ہیں انکی جانچ کو (ف٤۰) تو اے صالح! تو راہ دیکھ (ف٤۱) اور صبر کر (ف٤۲)

“We shall send a she-camel to test them, therefore O Saleh, wait and have patience.”

وَنَبِّئۡهُمۡ اَنَّ الۡمَآءَ قِسۡمَةٌ ۢ بَيۡنَهُمۡ​ۚ كُلُّ شِرۡبٍ مُّحۡتَضَرٌ‏  ﴿28﴾

اور انہیں خبر دے دے کہ پانی ان میں حصوں سے ہے (ف٤۳) ہر حصہ پر وہ حاضر ہو جس کی باری ہے (ف٤٤)

“And inform them that the water is to be shared between them; only those may come whose turn it is.”

فَنَادَوۡا صَاحِبَهُمۡ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ‏ ﴿29﴾

تو انہوں نے اپنے ساتھی کو (ف٤۵) پکارا تو اس نے (ف٤٦) لے کر اس کی کونچیں کاٹ دیں (ف٤۷)

In response they called their companion – he therefore caught and hamstrung the she-camel.

فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِىۡ وَنُذُرِ‏ ﴿30﴾

پھر کیسا ہوا میرا عذاب اور ڈر کے فرمان (ف٤۸)

So how did My punishment turn out, and My warnings?

اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ صَيۡحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوۡا كَهَشِيۡمِ الۡمُحۡتَظِرِ‏  ﴿31﴾

بیشک ہم نے ان پر ایک چنگھاڑ بھیجی (ف٤۹) جبھی وہ ہوگئے جیسے گھیرا بنانے والے کی بچی ہوئی گھاس سوکھی روندی ہوئی (ف۵۰)

Indeed We sent upon them a single Scream – thereupon they became like the barrier builder’s residual dry trampled hay.

وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ‏ ﴿32﴾

اور بیشک ہم نے آسان کیا قرآن یاد کرنے کے لیے تو ہے کوئی یاد کرنے والا،

And We have indeed made the Qur’an easy to memorise, so is there one who would remember?

كَذَّبَتۡ قَوۡمُ لُوۡطٍ ۢ بِالنُّذُرِ‏ ﴿33﴾

لوط کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا،

The people of Lut denied the Noble Messengers.

اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوۡطٍ​ؕ نَّجَّيۡنٰهُمۡ بِسَحَرٍۙ‏ ﴿34﴾

بیشک ہم نے ان پر (ف۵۱) پتھراؤ بھیجا (ف۵۲) سوائے لوط کے گھر والوں کے (ف۵۳) ہم نے انہیں پچھلے پہر (ف۵٤) بچالیا،

Indeed We sent a shower of stones upon them, except the family of Lut; We rescued them before dawn.

نِّعۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا​ؕ كَذٰلِكَ نَجۡزِىۡ مَنۡ شَكَرَ‏ ﴿35﴾

اپنے پاس کی نعمت فرما کر، ہم یونہی صلہ دیتے ہیں اسے جو شکر کرے (ف۵۵)

As a reward from Us; this is how We reward one who gives thanks.

وَلَقَدۡ اَنۡذَرَهُمۡ بَطۡشَتَـنَا فَتَمَارَوۡا بِالنُّذُرِ‏ ﴿36﴾

اور بیشک اس نے (ف۵٦) انہیں ہماری گرفت سے (ف۵۷) ڈرایا تو انہوں نے ڈر کے فرمانوں میں شک کیا (ف۵۸)

And indeed he had warned them of Our seizure – in response they doubted the warnings.

وَلَقَدۡ رَاوَدُوۡهُ عَنۡ ضَيۡفِهٖ فَطَمَسۡنَاۤ اَعۡيُنَهُمۡ فَذُوۡقُوۡا عَذَابِىۡ وَنُذُرِ‏ ﴿37﴾

انہوں نے اسے اس کے مہمانوں سے پھسلانا چاہا (ف۵۹) تو ہم نے ان کی آنکھیں میٹ دی (چوپٹ کردیں) (ف٦۰) فرمایا چکھو میرا عذاب اور ڈر کے فرمان (ف٦۱)

And they tried to persuade him regarding his guests – We therefore blinded their eyes, “So taste My punishment, and My warnings.”

وَلَقَدۡ صَبَّحَهُمۡ بُكۡرَةً عَذَابٌ مُّسۡتَقِرٌّ​ ۚ‏ ﴿38﴾

اور بیشک صبح تڑکے ان پر ٹھہرنے والا عذاب آیا (ف٦۲)

And indeed, the everlasting punishment overcame them early in the morning.

فَذُوۡقُوۡا عَذَابِىۡ وَنُذُرِ‏ ﴿39﴾

تو چکھو میرا عذاب اور ڈر کے فرمان،

“So taste My punishment, and My warnings!”

وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ‏ ﴿40﴾

اور بیشک ہم نے آسان کیا قرآن یاد کرنے کے لیے تو ہے کوئی یاد کرنے والا

And We have indeed made the Qur’an easy to memorise, so is there one who would remember?

وَلَقَدۡ جَآءَ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ النُّذُرُ​ۚ‏ ﴿41﴾

اور بیشک فرعون والوں کے پاس رسول آئے (ف٦۳)

And indeed the Noble Messengers came to the people of Firaun.

كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا كُلِّهَا فَاَخَذۡنٰهُمۡ اَخۡذَ عَزِيۡزٍ مُّقۡتَدِرٍ‏  ﴿42﴾

انہوں نے ہماری سب نشانیاں جھٹلائیں (ف٦٤) تو ہم نے ان پر (ف٦۵) گرفت کی جو ایک عزت والے اور عظیم قدرت والے کی شان تھی،

They denied all Our signs, We therefore seized them – the seizure of the Most Honourable, the All Powerful.

اَكُفَّارُكُمۡ خَيۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓٮِٕكُمۡ اَمۡ لَكُمۡ بَرَآءَةٌ فِى الزُّبُرِ​ۚ‏  ﴿43﴾

کیا (ف۲۲) تمہارے کافر ان سے بہتر ہیں (ف٦۷) یا کتابوں میں تمہاری چھٹی لکھی ہوئی ہے (ف٦۸)

Are your disbelievers better than they were, or have you been given exemption in the Books?

اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ نَحۡنُ جَمِيۡعٌ مُّنۡتَصِرٌ‏ ﴿44﴾

یا یہ کہتے ہیں (ف٦۹) کہ ہم سب مل کر بدلہ لے لیں گے (ف۷۰)

Or they say, “We shall all take revenge as a group.”

سَيُهۡزَمُ الۡجَمۡعُ وَيُوَلُّوۡنَ الدُّبُرَ‏ ﴿45﴾

اب بھگائی جاتی ہے یہ جماعت (ف۷۱) اور پیٹھیں پھیردیں گے (ف۷۲)

The group will soon be routed, and will turn their backs to flee.

بَلِ السَّاعَةُ مَوۡعِدُهُمۡ وَالسَّاعَةُ اَدۡهٰى وَاَمَرُّ‏ ﴿46﴾

بلکہ ان کا وعدہ قیامت پر ہے (ف۷۳) اور قیامت نہایت کڑوی اور سخت کڑوی (ف۷٤)

In fact their promise is upon the Last Day – and the Last Day is very severe and very bitter!

اِنَّ الۡمُجۡرِمِيۡنَ فِىۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ​ۘ‏ ﴿47﴾

بیشک مجرم گمراہ اور دیوانے ہیں (ف۷۵)

Indeed the criminals are astray and insane.

يَوۡمَ يُسۡحَبُوۡنَ فِى النَّارِ عَلٰى وُجُوۡهِهِمۡؕ ذُوۡقُوۡا مَسَّ سَقَرَ‏  ﴿48﴾

جس دن آگ میں اپنے مونہوں پر گھسیٹے جائیں گے اور فرمایا جائے گا، چکھو دوزخ کی آنچ،

On the day when they are dragged upon their faces in the fire – “Taste the heat of hell.”

اِنَّا كُلَّ شَىۡءٍ خَلَقۡنٰهُ بِقَدَرٍ‏ ﴿49﴾

بیشک ہم نے ہر چیز ایک اندازہ سے پیدا فرمائی (ف۷٦)

We have indeed created all things by a proper measure.

وَمَاۤ اَمۡرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمۡحٍۢ بِالۡبَصَرِ‏ ﴿50﴾

اور ہمارا کام تو ایک بات کی بات ہے جیسے پلک مارنا (ف۷۷)

And Our command is only a fleeting one – like the batting of an eyelid.

وَلَقَدۡ اَهۡلَـكۡنَاۤ اَشۡيَاعَكُمۡ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ‏ ﴿51﴾

اور بیشک ہم نے تمہاری وضع کے (ف۷۸) ہلاک کردیے تو ہے کوئی دھیان کرنے والا (ف۷۹)

And We have indeed destroyed your kind, so is there one who would ponder?

وَكُلُّ شَىۡءٍ فَعَلُوۡهُ فِى الزُّبُرِ‏ ﴿52﴾

اور انہوں نے جو کچھ کیا سب کتابوں میں ہے (ف۸۰)

And all what they did is in the Books.

وَ كُلُّ صَغِيۡرٍ وَّكَبِيۡرٍ مُّسۡتَطَرٌ‏ ﴿53﴾

اور ہر چھوٹی بڑی چیز لکھی ہوئی ہے (ف۸۱)

And every small and great thing is recorded.

اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ فِىۡ جَنّٰتٍ وَّنَهَرٍۙ‏ ﴿54﴾

بیشک پرہیزگار باغوں اور نہر میں ہیں،

Indeed the pious are amidst Gardens and springs.

  فِىۡ مَقۡعَدِ صِدۡقٍ عِنۡدَ مَلِيۡكٍ مُّقۡتَدِرٍ‏ ﴿55﴾

سچ کی مجلس میں عظیم قدرت والے بادشاہ کے حضور (ف۸۲)

Seated in an assembly of the Truth, in the presence of Allah, the Omnipotent King.

Scroll to Top