Al Qasas القصص

پارہ:
سورہ: 28
آیات: 88
طٰسٓمٓ‏ ﴿1﴾

طٰسم

Ta-Seen-Meem. (Alphabets of the Arabic language – Allah and to whomever he reveals, know their precise meanings.)

تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡـكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ‏ ﴿2﴾

یہ آیتیں ہیں روشن کتاب (ف۲)

These are verses of the clear Book.

نَـتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَـقِّ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿3﴾

ہم تم پر پڑھیں موسیٰ اور فرعون کی سچی خبر ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں،

We shall narrate to you the true tidings of Moosa and Firaun, for the people who have faith.

اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِى الۡاَرۡضِ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَـعًا يَّسۡتَضۡعِفُ طَآٮِٕفَةً مِّنۡهُمۡ يُذَبِّحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡىٖ نِسَآءَهُمۡ​ ؕ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ‏ ﴿4﴾

بیشک فرعون نے زمین میں غلبہ پایا تھا (ف۳) اور اس کے لوگوں کو اپنا تابع بنایا ان میں ایک گروہ کو (ف٤) کمزور دیکھتا ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھتا (ف۵) بیشک وہ فسادی تھا،

Indeed Firaun had achieved dominance in the earth and made its people subservient to him – seeing a group among them weak, he used to kill their sons and spare their women; he was indeed very mischievous.

وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِى الۡاَرۡضِ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَٮِٕمَّةً وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَۙ‏ ﴿5﴾

اور ہم چاہتے تھے کہ ان کمزوریوں پر احسان فرمائیں اور ان کو پیشوا بنائیں (ف٦) اور ان کے ملک و مال کا انھیں کو وارث بنائیں (ف۷)

And We willed to favour those who were weak in the earth, and to make them leaders and to make them the inheritors (of the land and wealth of Firaun’s people).

وَنُمَكِّنَ لَهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ وَنُرِىَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا مِنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ‏ ﴿6﴾

اور انھیں (ف۸) زمین میں قبضہ دیں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہی دکھا دیں جس کا انھیں ان کی طرف سے خطرہ ہے (ف۹)

And to give them control in the land, and to show Firaun and Haman and their armies what they fear from them.

وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰٓى اُمِّ مُوۡسٰٓى اَنۡ اَرۡضِعِيۡهِ​ۚ فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ فَاَ لۡقِيۡهِ فِى الۡيَمِّ وَلَا تَخَافِىۡ وَلَا تَحۡزَنِىۡۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجٰعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ‏ ﴿7﴾

اور ہم نے موسیٰ کی ماں کو الہام فرمایا (ف۱۰) کہ اسے دودھ پلا (ف۱۱) پھر جب تجھے اس سے اندیشہ ہو (ف۱۲) تو اسے دریا میں ڈال دے اور نہ ڈر (ف۱۳) اور نہ غم کر (ف۱٤) بیشک ہم اسے تیری طرف پھیر لائیں اور اسے رسول بنائیں گے (ف۱۵)

And We inspired the mother of Moosa that, “Suckle him; then when you fear for him, cast him into the river and do not fear nor grieve; We shall indeed return him back to you and make him one of the Noble Messengers.”

فَالۡتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرۡعَوۡنَ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا ​ ؕ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِـــِٕيۡنَ‏ ﴿8﴾

تو اسے اٹھالیا فرعون کے گھر والوں نے (ف۱٦) کہ وہ ان کا دشمن اور ان پر غم ہو (ف۱۷) بیشک فرعون اور ہامان (ف۱۸) اور ان کے لشکر خطا کار تھے (ف۱۹)

So the family of Firaun picked him up, in order that he become their enemy and a sorrow upon them; indeed Firaun and Haman and their armies were guilty.

وَقَالَتِ امۡرَاَتُ فِرۡعَوۡنَ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّىۡ وَلَكَ​ ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ ​ۖ  عَسٰٓى اَنۡ يَّـنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَـتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ‏  ﴿9﴾

اور فرعون کی بی بی نے کہا (ف۲۰) یہ بچہ میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، شاید یہ ہمیں نفع دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں (ف۲۱) اور وہ بےخبر تھے (ف۲۲)

And Firaun’s wife said, “This child is the comfort of my eyes and yours*; do not kill him; perhaps he may benefit us, or we may adopt him as our son” – and they were unaware. (Had Firaun also said the same, Allah would have granted him faith.)

وَاَصۡبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوۡسٰى فٰرِغًا​ ؕ اِنۡ كَادَتۡ لَـتُبۡدِىۡ بِهٖ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‏ ﴿10﴾

اور صبح کو موسیٰ کی ماں کا دل بےصبر ہوگیا (ف۲۳) ضرور قریب تھا کہ وہ اس کا حال کھول دیتی (ف۲٤) اگر ہم نہ ڈھارس بندھاتے اس کے دل پر کہ اسے ہمارے وعدہ پر یقین رہے (ف۲۵)

And in the morning, the heart of Moosa’s mother became impatient; and she would have almost certainly given away his secret had We not strengthened her heart, so that she may have faith in Our promise.

وَقَالَتۡ لِاُخۡتِهٖ قُصِّيۡهِ​ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَۙ‏  ﴿11﴾

اور اس کی ماں نے اس کی بہن سے کہا (ف۲٦) اس کے پیچھے چلی جا تو وہ اسے دور سے دیکھتی رہی اور ان کو خبر نہ تھی (ف۲۷)

And she said to his sister, “Go after him” – she therefore observed him from far, and they were not aware.

وَحَرَّمۡنَا عَلَيۡهِ الۡمَرَاضِعَ مِنۡ قَبۡلُ فَقَالَتۡ هَلۡ اَدُلُّـكُمۡ عَلٰٓى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَـكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ‏ ﴿12﴾

اور ہم نے پہلے ہی سب دائیاں اس پر حرام کردی تھیں (ف۲۸) تو بولی کیا میں تمہیں بتادوں ایسے گھر والے کہ تمہارے اس بچہ کو پال دیں اور وہ اس کے خیر خواہ ہیں (ف۲۹)

And We had already forbidden suckle-nurses for him, so she said, “Shall I show you a household that will nurse this child of yours, and they are his well-wishers?”

فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰٓى اُمِّهٖ كَىۡ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلٰـكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿13﴾

تو ہم نے اسے اس کی ماں کی طرف پھیرا کہ ماں کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور غم نہ کھائے اور جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (ف۳۰)

So We returned him to his mother in order to soothe her eyes and not grieve, and to know that Allah’s promise is true – but most people do not know.

وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَاسۡتَوٰٓى اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا​ ؕ وَكَذٰلِكَ نَجۡزِى الۡمُحۡسِنِيۡنَ‏ ﴿14﴾

اور جب اپنی جوانی کو پہنچا اور پورے زور پر آیا (ف۳۱) ہم نے اسے حکم اور علم عطا فرمایا (ف۳۲) اور ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،

And when he reached his maturity and full strength, We gave him wisdom and knowledge; and this is how We reward the virtuous.

وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ  هٰذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ وَهٰذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ​ۚ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِىۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِىۡ مِنۡ عَدُوِّهٖۙ فَوَكَزَهٗ مُوۡسٰى فَقَضٰى عَلَيۡهِ​  قَالَ هٰذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ​ ؕ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ‏  ﴿15﴾

اور اس شہر میں داخل ہوا (ف۳۳) جس وقت شہر والے دوپہر کے خواب میں بےخبر تھے (ف۳٤) تو اس میں دو مرد لڑتے پائے، ایک موسیٰ، کے گروہ سے تھا (ف۳۵) اور دوسرا اس کے دشمنوں سے (ف۳٦) تو وہ جو اس کے گروہ سے تھا (ف۳۸) اس نے موسیٰ سے مدد مانگی، اس پر جو اس کے دشمنوں سے تھا، تو موسیٰ نے اس کے گھونسا مارا (ف۳۸) تو اس کا کام تمام کردیا (ف۳۹) کہا یہ کام شیطان کی طرف سے ہوا (ف٤۰) بیشک وہ دشمن ہے کھلا گمراہ کرنے والا،

And he entered the city when its inhabitants were sleeping unaware in the afternoon – he therefore found two men fighting; one was from Moosa’s group, and the other from among his enemies; so the one who was of Moosa’s group pleaded to Moosa for help against him who was of his enemies – therefore Moosa punched him thereby finishing him; he said, “This act was from the devil*; indeed he is an open enemy, a misleader.” (* The act of oppressing the man from Bani Israel).

قَالَ رَبِّ اِنِّىۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِىۡ فَاغۡفِرۡ لِىۡ فَغَفَرَ لَهٗ​ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ‏ ﴿16﴾

عرض کی، اے میرے رب! میں نے اپنی جان پر زیادتی کی (ف٤۱) تو مجھے بخش دے تو رب نے اسے بخش دیا، بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے،

He said, “My Lord! I have indeed wronged my soul* therefore forgive me” – He therefore forgave him; indeed only He is the Oft Forgiving, the Most Merciful. (* By getting angry.)

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَىَّ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ‏  ﴿17﴾

عرض کی اے میرے رب جیسا تو نے مجھ پر احسان کیا تو اب (ف٤۲) ہرگز میں مجرموں کا مددگار نہ ہوں گا،

He said, “My Lord! The way You have bestowed favour upon me, so never will I be a supporter of the guilty.”

فَاَصۡبَحَ فِى الۡمَدِيۡنَةِ خَآٮِٕفًا يَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِى اسۡتَـنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ​ ؕ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰٓى اِنَّكَ لَـغَوِىٌّ مُّبِيۡنٌ‏  ﴿18﴾

تو صبح کی، اس شہر میں ڈرتے ہوئے اس انتظار میں کہ کیا ہوتا ہے (ف٤۳) جبھی دیکھا کہ وہ جس نے کل ان سے مدد چاہی تھی فریاد کر رہا ہے (ف٤٤) موسیٰ نے اس سے فرمایا بیشک تو کھلا گمراہ ہے (ف٤۵)

So he was in the city at morning fearing, waiting to see what happens – thereupon he sighted the one who had appealed to him the day before, crying out to him for help; Moosa said to him, “Indeed you are clearly astray.”

فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ بِالَّذِىۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا ۙ قَالَ يٰمُوۡسٰٓى اَ تُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِىۡ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ ​ۖ  اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًا فِى الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ‏ ﴿19﴾

تو جب موسیٰ نے چاہا کہ اس پر گرفت کرے جو ان دونوں کا دشمن ہے (ف٤٦) وہ بولا اے موسیٰ کیا تم مجھے ویسا ہی قتل کرنا چاہتے ہو جیسا تم نے کل ایک شخص کو قتل کردیا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ زمین میں سخت گیر بنو اور اصلاح کرنا نہیں چاہتے (ف٤۷)

So when Moosa wished to apprehend the man who was an enemy to them both, he said, “O Moosa! Do you wish to kill me the way you killed a man yesterday? You only wish to become a strict ruler in the land, and not to make reform.”

وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى قَالَ يٰمُوۡسٰٓى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ لِيَـقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ اِنِّىۡ لَـكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ‏  ﴿20﴾

اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص (ف٤۸) دوڑتا آیا، کہا اے موسیٰ! بیشک دربار والے (ف٤۹) آپ کے قتل کا مشورہ کررہے ہیں تو نکل جایے (ف۵۰) میں آپ کا خیر خواہ ہوں (ف۵۱)

And a man came running from the outer part of the city; he said, “O Moosa! Indeed the court members are considering killing you, therefore go away – I surely am your well-wisher.”

فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآٮِٕفًا يَّتَرَقَّبُ​ قَالَ رَبِّ نَجِّنِىۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ‏ ﴿21﴾

تو اس شہر سے نکلا ڈرتا ہوا اس انتظار میں کہ اب کیا ہوتا ہے عرض کی، اے میرے رب! مجھے ستمگاروں سے بچالے (ف۵۲)

So he left the city in fear, waiting to see what happens; he said, “My Lord! Rescue me from the unjust people.”

وَلَـمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ قَالَ عَسٰى رَبِّىۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِىۡ سَوَآءَ السَّبِيۡلِ‏ ﴿22﴾

اور جب مدین کی طرف متوجہ ہوا (ف۵۳) کہا قریب ہے کہ میرا رب مجھے سیدھی راہ بتائے (ف۵٤)

And when he turned his attention towards Madyan he said, “It is likely that my Lord will show me the right path.”

وَلَـمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ  وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ​ ۚ قَالَ مَا خَطۡبُكُمَا​ ؕ قَالَـتَا لَا نَسۡقِىۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ​ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ‏  ﴿23﴾

اور جب مدین کے پانی پر آیا (ف۵۵) وہاں لوگوں کے ایک گروہ کو دیکھا کہ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں، اور ان سے اس طرف (ف۵٦) دو عورتیں دیکھیں کہ اپنے جانوروں کو روک رہی ہیں (ف۵۷) موسیٰ نے فرمایا تم دونوں کا کیا حال ہے (ف۵۸) وہ بولیں ہم پانی نہیں پلاتے جب تک سب چرواہے پلاکر پھیر نہ لے جائیں (ف۵۹) اور ہمارے باپ بہت بوڑھے ہیں (ف٦۰)

And when he came to the water of Madyan he found a group of men, watering their animals; and away from them he found two women restraining their animals; he said, “What is the matter with you?” They said, “We do not water our animals till all the shepherds water and take away their animals; and our father is very old.”

فَسَقٰى لَهُمَا ثُمَّ تَوَلّٰٓى اِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّىۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَىَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ‏ ﴿24﴾

تو موسیٰ نے ان دونوں کے جانوروں کو پانی پلا دیا پھر سایہ کی طرف پھرا (ف٦۱) عرض کی اے میرے رب! میں اس کھانے کا جو تو میرے لیے اتارے محتاج ہوں (ف٦۲)

Therefore Moosa watered their animals for them, and then turned towards the shade and said, “My Lord! I am in need of the sustenance you may send down for me.”

فَجَآءَتۡهُ اِحۡدٰٮہُمَا تَمۡشِىۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ  قَالَتۡ اِنَّ اَبِىۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَـنَا​ ؕ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ ۙ قَالَ لَا تَخَفۡ​ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ‏  ﴿25﴾

تو ان دونوں میں سے ایک اس کے پاس آئی شرم سے چلتی ہوئی (ف٦۳) بولی میرا باپ تمہیں بلاتا ہے کہ تمہیں مزدوری دے اس کی جو تم نے ہمارے جانوروں کو پانی پلایا ہے (ف٦٤) جب موسیٰ اس کے پاس آیا اور اسے باتیں کہہ سنائیں (ف٦۵) اس نے کہا ڈریے نہیں، آپ بچ گئے ظالموں سے (ف٦٦)

So one of the two women approached him, walking shyly; she said, “My father is calling you, in order to give you wages because you watered our animals for us”; when Moosa came to him and had told him the story, he said, “Do not fear, you are safe from the unjust people.”

قَالَتۡ اِحۡدٰٮہُمَا يٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرۡهُ​ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَـاْجَرۡتَ الۡقَوِىُّ الۡاَمِيۡنُ‏ ﴿26﴾

ان میں کی ایک بولی (ف٦۷) اے میرے باپ! ان کو نوکر رکھ لو (ف٦۸) بیشک بہتر نوکر وہ جو طاقتور اور امانتدار ہو (ف٦۹)

One of the two women said, “O my father! Employ him – indeed a strong and trustworthy employee is better.”

قَالَ اِنِّىۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَىَّ هٰتَيۡنِ عَلٰٓى اَنۡ تَاۡجُرَنِىۡ ثَمٰنِىَ حِجَجٍ​ۚ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ​ۚ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ​ؕ سَتَجِدُنِىۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰلِحِيۡنَ‏  ﴿27﴾

کہا میں چاہتا ہوں کہ اپنی دونوں بیٹیوں میں سے ایک تمہیں بیاہ دوں (ف۷۰) اس مہر پر کہ تم آٹھ برس میری ملازمت کرو (ف۷۱) پھر اگر پورے دس برس کرلو تو تمہاری طرف سے ہے (ف۷۲) اور میں تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا (ف۷۳) قریب ہے انشاء اللہ تم مجھے نیکوں میں پاؤ گے (ف۷٤)

He said, “I wish to give you one of these two daughters of mine in marriage, the bridal money being that you work for me for eight years; then if you complete ten years, it will be from you; and I do not wish to put you in hardship; Allah willing, you will probably find me of the righteous.”

قَالَ ذٰ لِكَ بَيۡنِىۡ وَبَيۡنَكَ​ ؕ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَـىَّ​ ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَكِيۡلٌ‏ ﴿28﴾

موسیٰ نے کہا یہ میرے اور آپ کے درمیان اقرار ہوچکا، میں ان دونوں میں جو میعاد پوری کردوں (ف۷۵) تو مجھ پر کوئی مطالبہ نہیں، اور ہمارے اس کہے پر اللہ کا ذمہ ہے (ف۷٦)

Said Moosa, “This is agreed between me and you; there shall be no claim upon me if I fulfil any of these two terms; and Allah is the Trustee upon this word of ours.”

فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَلَ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ اٰنَسَ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا​ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّىۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا​ لَّعَلِّىۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ‏ ﴿29﴾

پھر جب موسیٰ نے اپنی میعاد پوری کردی (ف۷۷) اور اپنی بی بی کو لے کر چلا (ف۷۸) طور کی طرف سے ایک آگ دیکھی (ف۷۹) اپنی گھر والی سے کہا تم ٹھہرو مجھے طور کی طرف سے ایک آگ نظر پڑی ہے شاید میں وہاں سے کچھ خبر لاؤں (ف۸۰) یا تمہارے لیے کوئی آگ کی چنگاری لاؤں کہ تم تاپو،

So when Moosa completed his term and was travelling with his wife, he saw a fire in the direction of the Mount (Sinai); he said to his wife “Stay here – I have sighted a fire in the direction of the mount – perhaps I may bring you some news from it, or an ember so that you may warm yourselves.”

فَلَمَّاۤ اَتٰٮهَا نُوۡدِىَ مِنۡ شَاطِیٴِ الۡوَادِ الۡاَيۡمَنِ فِى الۡبُقۡعَةِ الۡمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنۡ يّٰمُوۡسٰٓى اِنِّىۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ ۙ‏ ﴿30﴾

پھر جب آگ کے پاس حاضر ہوا ندا کی گئی میدان کے دہنے کنارے سے (ف۸۱) برکت والے مقام میں پیڑ سے (ف۸۲) کہ اے موسیٰ! بیشک میں ہی ہوں اللہ رب سارے جہان کا (ف۵۳)

And when he reached the fire, he was called out to from the right side of the valley in the blessed field, from the tree, “O Moosa! Indeed I am truly Allah, the Lord Of The Creation.”

وَاَنۡ اَ لۡقِ عَصَاكَ​ ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ​ ؕ يٰمُوۡسٰٓى اَ قۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ​ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ‏ ﴿31﴾

اور یہ کہ ڈال دے اپنا عصا (ف۸٤) پھر جب موسیٰ نے اسے دیکھا لہراتا ہوا گویا سانپ ہے پیٹھ پھیر کر چلا اور مڑ کر نہ دیکھا (ف۸۵) اے موسیٰ سامنے آ اور ڈر نہیں، بیشک تجھے امان ہے (ف۸٦)

“Put down your staff”; so when Moosa saw it writhing like a serpent, he turned moving away without looking back; “O Moosa! Come forth and do not fear; indeed you are in peace.”

اُسۡلُكۡ يَدَكَ فِىۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ​ فَذٰنِكَ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَا۟ٮِٕهٖؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ‏‏‏ ﴿32﴾

اپنا ہاتھ (ف۸۷) گریبان میں ڈال نکلے گا سفید چمکتا بےعیب (ف۸۸) اور اپنا ہاتھ سینے پر رکھ لے خوف دور کرنے کو (ف۸۹) تو یہ دو حُجتیں ہیں تیرے رب کی (ف۹۰) فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف ، بیشک وہ بےحکم لوگ ہیں،

“Put your hand inside your armpit – it will come out shining white, not due to any illness; and put your hand on your chest to remove the fear – so these are two proofs from your Lord to Firaun and his court members; indeed they are a lawless people.”

قَالَ رَبِّ اِنِّىۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ‏  ﴿33﴾

عرض کی اے میرے رب! میں نے ان میں ایک جان مار ڈالی ہے (ف۹۱) تو ڈرتا ہوں کہ مجھے قتل کردیں،

He submitted, “My Lord! I killed a soul among them and I fear they will kill me.”

وَاَخِىۡ هٰرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّىۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِىَ رِدۡاً يُّصَدِّقُنِىۡٓ​ اِنِّىۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ‏ ﴿34﴾

اور میرا بھائی ہارون اس کی زبان مجھ سے زیادہ صاف ہے تو اسے میری مدد کے لیے رسول بنا، کہ میری تصدیق کرے مجھے ڈر ہے کہ وہ (ف۹۲) مجھے جھٹلائیں گے،

“And my brother Haroon – he is more eloquent than I am in speech, therefore in order to help me, appoint him as a Noble Messenger so that he confirms me; I fear that they will deny me.”

قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ وَنَجۡعَلُ لَـكُمَا سُلۡطٰنًا فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا​​ ۛ ​ۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ​ ۛ​ ۚ اَنۡـتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ‏  ﴿35﴾

فرمایا، قریب ہے کہ ہم تیرے بازو کو تیرے بھائی سے قوت دیں گے اور تم دونوں کو غلبہ عطا فرمائیں گے تو وہ تم دونوں کا کچھ نقصان نہ کرسکیں گے، ہماری نشانیوں کے سبب تم دونوں اور جو تمہاری پیروی کریں گے غالب آؤ گے (ف۹۳)

He said, “We will soon strengthen your arm with your brother, and give you both dominance, so they will not be able to harm you; due to Our signs; you both, and those who will follow you, will be victorious.”

فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ قَالُوۡا مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَـرًى وَمَا سَمِعۡنَا بِهٰذَا فِىۡۤ اٰبَآٮِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ‏ ﴿36﴾

پھر جب موسیٰ ان کے پاس ہماری روشن نشانیاں لایا بولے یہ تو نہیں مگر بناوٹ کا جادو (ف۹٤) اور ہم نے اپنے اگلے باپ داداؤں میں ایسا نہ سنا (ف۹۵)

Therefore when Moosa came to them with Our clear signs they said, “This is nothing but invented magic, and we never heard anything like this among our forefathers.”

وَقَالَ مُوۡسٰى رَبِّىۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ​ؕ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ‏ ﴿37﴾

اور موسیٰ نے فرمایا میرا رب خوب جانتا ہے جو اس کے پاس سے ہدایت لایا (ف۹٦) اور جس کے لیے آخرت کا گھر ہوگا (ف۹۷) بیشک ظالم مراد کو نہیں پہنچتے (ف۹۸)

And said Moosa, “My Lord well knows him who has brought guidance from Him, and for whom will be the abode the Hereafter; indeed the unjust never attain success.”

وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ يٰۤـاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَـكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِىۡ​ ۚ فَاَوۡقِدۡ لِىۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ فَاجۡعَلْ لِّىۡ صَرۡحًا لَّعَلِّىۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰٓى اِلٰهِ مُوۡسٰى ۙ وَاِنِّىۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡـكٰذِبِيۡنَ‏ ﴿38﴾

اور فرعون بولا، اے درباریو! میں تمہارے لیے اپنے سوا کوئی خدا نہیں جانتا تو اے ہامان! میرے لیے گارا پکا کر (ف۹۹) ایک محل بنا (ف۱۰۰) کہ شاید میں موسیٰ کے خدا کو جھانک آؤں (ف۱۰۱) اور بیشک میرے گمان میں تو وہ (ف۱۰۲) جھوٹا ہے (ف۱۰۳)

And Firaun said, “O court members! I do not know of any other God for you, except myself; therefore, O Haman, build a lofty palace for me by baking concrete in order that I may sneak a look at the God of Moosa – and according to me, he is indeed a liar.”

وَاسۡتَكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِى الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَـقِّ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَـيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ‏ ﴿39﴾

اور اس نے اور اس کے لشکریوں نے زمین میں بےجا بڑائی چاہی (ف۱۰٤) اور سمجھے کہ انھیں ہماری طرف پھرنا نہیں،

And he and his soldiers wrongfully sought greatness in the land, and assumed they would never be brought back to Us.

فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِى الۡيَمِّ​ۚ فَانْظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ‏ ﴿40﴾

تو ہم نے اسے اور اس کے لشکر کو پکڑ کر دریا میں پھینک دیا (ف۱۰۵) تو دیکھو کیسا انجام ہوا ستمگاروں کا،

We therefore seized him and his armies, and hurled them into the sea; therefore see what sort of fate befell the unjust!

وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَٮِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ​ۚ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ‏ ﴿41﴾

اور انھیں ہم نے (ف۱۰٦) دوزخیوں کا پیشوا بنایا کہ آگ کی طرف بلاتے ہیں (ف۱۰۷) اور قیامت کے دن ان کی مدد نہ ہوگی،

And We made them leaders of the people of hell, inviting towards the fire; and they will not be helped on the Day of Resurrection.

وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِىۡ هٰذِهِ الدُّنۡيَا لَـعۡنَةً​  ۚ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ‏ ﴿42﴾

اور اس دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگائی (ف۱۰۸) اور قیامت کے دن ان کا برا ہے،

And We set a curse after them in this world; and evil is for them on the Day of Resurrection.

وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى بَصَآٮِٕرَ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُوۡنَ‏  ﴿43﴾

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی (ف۱۰۹) بعد اس کے کہ اگلی سنگتیں (قومیں) (ف۱۱۰) ہلاک فرمادیں جس میں لوگوں کے دل کی آنکھیں کھولنے والی باتیں اور ہدایت اور رحمت تاکہ وہ نصیحت مانیں،

And We indeed gave Moosa the Book after We had destroyed the former generations, having enlightenment for mankind, and a guidance and a mercy, for them to accept advice.

وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِىِّ اِذۡ قَضَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسَى الۡاَمۡرَ وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَۙ‏ ﴿44﴾

اور تم (ف۱۱۱) طور کی جانت مغرب میں نہ تھے (ف۱۱۲) جبکہ ہم نے موسیٰ کو رسالت کا حکم بھیجا (ف۱۱۳) اور اس وقت تم حاضر نہ تھے،

And you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) were not on the western side of the Mount when We sent the command of Prophethood to Moosa, and you were not present. (Yet you narrate the account very clearly to the Jews and Christians.)

وَلٰـكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ​ۚ وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا فِىۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَـتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَاۙ وَلٰـكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ‏ ﴿45﴾

مگر ہوا یہ کہ ہم نے سنگتیں پیدا کیں (ف۱۱٤) کہ ان پر زمانہ دراز گزرا (ف۱۱۵) اور نہ تم اہل مدین میں مقیم تھے ان پر ہماری آیتیں پڑھتے ہوئے ، ہاں ہم رسول بنانے والے ہوئے (ف۱۱٦)

However, We created generations and ages passed by upon them; and nor were you dwelling with the people of Madyan reciting Our verses to them – however it is We Who made the Noble Messengers.

وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا وَلٰـكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰٮهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُوۡنَ‏ ﴿46﴾

اور نہ تم طور کے کنارے تھے جب ہم نے ندا فرمائی (ف۱۱۷) ہاں تمہارے رب کی مہر ہے (کہ تمہیں غیب کے علم دیے) (ف۱۱۸) کہ تم ایسی قوم کو ڈر سناؤ جس کے پاس تم سے پہلے کوئی ڈر سنانے والا نہ آیا (ف۱۱۹) یہ امید کرتے ہوئے کہ ان کو نصیحت ہو،

And nor were you beside the Mount when We proclaimed – however it is a mercy from your Lord* so that you may warn a nation towards whom no Herald of Warning came before you, in the hope of their heeding advice. (*That He has bestowed knowledge of the hidden to you)

وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَـهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَـيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَـتَّبِعَ اٰيٰتِكَ وَنَـكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‏ ﴿47﴾

اور اگر نہ ہوتا کہ کبھی پہنچتی انھیں کوئی مصیبت (ف۱۲۰) اس کے سبب جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا (ف۱۲۱) تو کہتے، اے ہمارے رب! تو نے کیوں نہ بھیجا ہماری طرف کوئی رسول کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرتے اور ایمان لاتے (ف۱۲۲)

Otherwise, if some disaster befell them because of what their own hands have sent forward they would say, “Our Lord! Why did you not send a Noble Messenger towards us, so we may have followed Your signs and accepted faith?”

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَـقُّ مِنۡ عِنۡدِنَا قَالُوۡا لَوۡلَاۤ اُوۡتِىَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِىَ مُوۡسٰى​ ؕ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِىَ مُوۡسٰى مِنۡ قَبۡلُ ​ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰنِ تَظَاهَرَا وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ‏ ﴿48﴾

پھر جب ان کے پاس حق آیا (ف۱۲۳) ہماری طرف سے بولے (ف۱۲٤) انھیں کیوں نہ دیا گیا جو موسیٰ کو دیا گیا (ف۱۲۵) کیا اس کے منکر نہ ہوئے تھے جو پہلے موسیٰ کو دیا گیا (ف۱۲٦) بولے دو جادو ہیں ایک دوسرے کی پشتی (امداد) پر، اور بولے ہم ان دونوں کے منکر ہیں (ف۱۲۷)

So when the Truth* from Us came to them, they said, “Why has he not been given what was given to Moosa?” Had they not disbelieved in what was earlier given to Moosa? They said, “They are two magicians, who support each other”; and said, “We disbelieve in both of them.” (* Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him).

قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰى مِنۡهُمَاۤ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ‏ ﴿49﴾

تم فرماؤ تو اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت کی ہو (ف۱۲۸) میں اس کی پیروی کروں گا اگر تم سچے ہو (ف۱۲۹)

Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Therefore bring a Book from Allah which is better guiding than these two – I will follow it – if you are truthful.”

فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَـتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ​ ؕ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰٮهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ​ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ‏ ﴿50﴾

پھر اگر وہ یہ تمہارا فرمانا قبول نہ کریں (ف۱۳۰) تو جان لو کہ (ف۱۳۱) بس وہ اپنی خواہشوں ہی کے پیچھے ہیں، اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو اپنی خواہش کی پیروی کرے اللہ کی ہدایت سے جدا، بیشک اللہ ہدایت ہیں فرماتا ظالم لوگوں کو،

So if they do not accept your challenge, then know that they only follow their desires; and who is more astray than one who follows his desires away from the guidance of Allah? Indeed Allah does not guide the unjust.

وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُوۡنَؕ‏ ﴿51﴾

اور بیشک ہم نے ان کے لیے بات مسلسل اتاری (ف۱۳۲) کہ وہ دھیان کریں،

And We indeed sent down the Word continuously for them, so that they may ponder.

اَلَّذِيۡنَ اٰتَيۡنٰهُمُ الۡـكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِهٖ هُمۡ بِهٖ يُؤۡمِنُوۡنَ‏  ﴿52﴾

جن کو ہم نے اس سے پہلے (ف۱۳۳) کتاب دی وہ اس پر ایمان لاتے ہیں،

Those to whom We gave the Book before it, accept faith in it. (Some scholars among Jews / Christians).

وَاِذَا يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الۡحَـقُّ مِنۡ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنۡ قَبۡلِهٖ مُسۡلِمِيۡنَ‏ ﴿53﴾

اور جب ان پر یہ آیتیں پڑھی جاتی ہیں کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، بیشک یہی حق ہے ہمارے رب کے پاس سے ہم اس سے پہلے ہی گردن رکھ چکے تھے (ف۱۳٤)

And when these verses are recited to them, they say, “We accept faith in it – indeed it is the Truth from our Lord – and indeed we had surrendered even before this.”

اُولٰٓٮِٕكَ يُؤۡتَوۡنَ اَجۡرَهُمۡ مَّرَّتَيۡنِ بِمَا صَبَرُوۡا وَيَدۡرَءُوۡنَ بِالۡحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ‏ ﴿54﴾

ان کو ان کا اجر دوبالا دیا جائے گا (ف۱۳۵) بدلہ ان کے صبر کا (ف۱۳٦) اور وہ بھلائی سے برائی کو ٹالتے ہیں (ف۱۳۷) اور ہمارے دیے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں (ف۱۳۸)

They will be given double the reward, the recompense of their patience – and they repel evil with good, and spend part of what We have provided them.

وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغۡوَ اَعۡرَضُوۡا عَنۡهُ وَقَالُوۡا لَنَاۤ اَعۡمَالُنَا وَلَـكُمۡ اَعۡمَالُـكُمۡ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ لَا نَبۡتَغِى الۡجٰهِلِيۡنَ‏ ﴿55﴾

اور جب بیہودہ بات سنتے ہیں اس سے تغافل کرتے ہیں (ف۱۳۹) اور کہتے ہیں ہمارے لیے ہمارے عمل اور تمہارے لیے تمہارے عمل، بس تم پر سلام (ف۱٤۰) ہم جاہلوں کے غرضی (چاہنے والے) نہیں (ف۱٤۱)

And when they hear indecent speech, they ignore it and say, “For us are our deeds and for you are your deeds; peace be to you (good bye); we are not interested in the ignorant.”

اِنَّكَ لَا تَهۡدِىۡ مَنۡ اَحۡبَبۡتَ وَلٰـكِنَّ اللّٰهَ يَهۡدِىۡ مَنۡ يَّشَآءُ​ؕ وَهُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُهۡتَدِيۡنَ‏ ﴿56﴾

بیشک یہ نہیں کہ تم جسے اپنی طرف سے چاہو ہدایت کردو ہاں اللہ ہدایت فرماتا ہے جسے چاہے، اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت والوں کو (ف۱٤۲)

Indeed it is not such that you can guide whomever you love, but Allah guides whomever He wills; and He well knows the people upon guidance.

وَقَالُوۡۤا اِنۡ نَّـتَّبِعِ الۡهُدٰى مَعَكَ نُـتَخَطَّفۡ مِنۡ اَرۡضِنَا ؕ اَوَلَمۡ نُمَكِّنۡ لَّهُمۡ حَرَمًا اٰمِنًا يُّجۡبٰٓى اِلَيۡهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَىۡءٍ رِّزۡقًا مِّنۡ لَّدُنَّا وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿57﴾

اور کہتے ہیں اگر ہم تمہارے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو لوگ ہمارے ملک سے ہمیں اچک لے جائیں گے (ف۱٤۳) کیا ہم نے انھیں جگہ نہ دی امان والی حرم میں (ف۱٤٤) جس کی طرف ہر چیز کے پھل لائے جاتے ہیں ہمارے پاس کی روزی لیکن ان میں اکثر کو علم نہیں (ف۱٤۵)

And they say, “If we follow the guidance along with you, people would snatch us away from our land”; did We not establish them in a safe Sacred Land, towards which are brought fruits of all kinds – the sustenance from Us? But most of them do not know.

وَكَمۡ اَهۡلَـكۡنَا مِنۡ قَرۡيَةٍۢ بَطِرَتۡ مَعِيۡشَتَهَا ​ۚ فَتِلۡكَ مَسٰكِنُهُمۡ لَمۡ تُسۡكَنۡ مِّنۡۢ بَعۡدِهِمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا ؕ وَكُنَّا نَحۡنُ الۡوٰرِثِيۡنَ‏  ﴿58﴾

اور کتنے شہر ہم نے ہلاک کردیے جو اپنے عیش پر اترا گئے تھے (ف۱٤٦) تو یہ ہیں ان کے مکان (ف۱٤۷) کہ ان کے بعد ان میں سکونت نہ ہوئی مگر کم (ف۱٤۸) اور ہمیں وارث ہیں (ف۱٤۹)

And how many towns did We destroy which had stooped to self indulgence! So here lie their dwellings, uninhabited after them except a little; and only We are the Inheritors.

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهۡلِكَ الۡقُرٰى حَتّٰى يَبۡعَثَ فِىۡۤ اُمِّهَا رَسُوۡلًا يَّتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا​ ۚ وَمَا كُنَّا مُهۡلِكِى الۡقُرٰٓى اِلَّا وَاَهۡلُهَا ظٰلِمُوۡنَ‏ ﴿59﴾

اور تمہارا رب شہروں کو ہلاک نہیں کرتا جب تک ان کے اصل مرجع میں رسول نہ بھیجے (ف۱۵۰) جو ان پر ہماری آیتیں پڑھے (ف۱۵۱) اور ہم شہروں کو ہلاک نہیں کرتے مگر جبکہ ان کے ساکن ستمگار ہوں (ف۱۵۲)

And never does your Lord destroy towns until He sends a Noble Messenger to their principal town, reciting Our verses to them; and We never destroy towns unless its people are unjust.

وَمَاۤ اُوۡتِيۡتُمۡ مِّنۡ شَىۡءٍ فَمَتَاعُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَزِيۡنَـتُهَا​ ۚ وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى​ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ‏ ﴿60﴾

اور جو کچھ چیز تمہیں دی گئی ہے اور دنیوی زندگی کا برتاوا اور اس کا سنگھار ہے (ف۱۵۳) اور جو اللہ کے پاس ہے (ف۱۵٤) اور وہ بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا (ف۱۵۵) تو کیا تمہیں عقل نہیں (ف۱۵٦)

And whatever you have been given, is a usage in the life of this world and its adornment; and that which is with Allah is better and more lasting; so do you not have sense?

اَفَمَنۡ وَّعَدۡنٰهُ وَعۡدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِيۡهِ كَمَنۡ مَّتَّعۡنٰهُ مَتَاعَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ثُمَّ هُوَ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ مِنَ الۡمُحۡضَرِيۡنَ‏  ﴿61﴾

تو کیا وہ جسے ہم نے اچھا وعدہ دیا (ف۱۵۷) تو وہ اس سے ملے گا اس جیسا ہے جسے ہم نے دنیوی زندگی کا برتاؤ برتنے دیا پھر وہ قیامت کے دن گرفتار کرکے حاضر لایا جائے گا (ف۱۵۸)

So is he whom We have given a good promise – he will therefore get it – equal to him whom We gave the usage of the life of this world to enjoy, and who will then be brought captive on the Day of Resurrection?

وَيَوۡمَ يُنَادِيۡهِمۡ فَيَـقُوۡلُ اَيۡنَ شُرَكَآءِىَ الَّذِيۡنَ كُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ‏ ﴿62﴾

اور جس دن انھیں ندا کرے گا (ف۱۵۹) تو فرمائے گا کہاں ہیں میرے وہ شریک جنہیں تم (ف۱٦۰) گمان کرتے تھے،

On the day when He will call to them – He will therefore proclaim, “Where are those partners of Mine, whom you had assumed?”

قَالَ الَّذِيۡنَ حَقَّ عَلَيۡهِمُ الۡقَوۡلُ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۤءِ الَّذِيۡنَ اَغۡوَيۡنَا ۚ اَغۡوَيۡنٰهُمۡ كَمَا غَوَيۡنَا​ ۚ تَبَـرَّاۡنَاۤ اِلَيۡكَ​ مَا كَانُوۡۤا اِيَّانَا يَعۡبُدُوۡنَ‏ ﴿63﴾

کہیں گے وہ جن پر بات ثابت ہوچکی (ف۱٦۱) اے ہمارے رب یہ ہیں وہ جنہیں ہم نے گمراہ کیا، ہم نے انھیں گمراہ کیا جیسے خود گمراہ ہوئے تھے (ف۱٦۲) ہم ان سے بیزار ہو کر تیری طرف رجوع لاتے ہیں وہ ہم کو نہ پوجتے تھے (ف۱٦۳)

Those against whom the Word will have proved true will say, “Our Lord! These are they whom we led astray; we led them astray the way we ourselves went astray; we are unconcerned with them and we incline towards You – they never worshipped us!”

وَقِيۡلَ ادۡعُوۡا شُرَكَآءَكُمۡ فَدَعَوۡهُمۡ فَلَمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَهُمۡ وَرَاَوُا الۡعَذَابَ​ۚ لَوۡ اَنَّهُمۡ كَانُوۡا يَهۡتَدُوۡنَ‏ ﴿64﴾

اور ان سے فرمایا جائے گا اپنے شریکوں کو پکارو (ف۱٦٤) تو وہ پکاریں گے تو وہ ان کی نہ سنیں گے اور دیکھیں گے عذاب، کیا اچھا ہوتا اگر وہ راہ پاتے (ف۱٦۵)

And it will be said to them, “Call unto your ascribed partners” – so they will call unto them and they will not listen to them, and they will behold the punishment; if only they had obtained guidance!

وَيَوۡمَ يُنَادِيۡهِمۡ فَيَـقُوۡلُ مَاذَاۤ اَجَبۡتُمُ الۡمُرۡسَلِيۡنَ‏ ﴿65﴾

اور جس دن انھیں ندا کرتے گا تو فرمائے گا (ف۱٦٦) تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا (ف۱٦۷)

And on the Day when He will call to them and proclaim, “What answer did you give to the Noble Messengers?”

فَعَمِيَتۡ عَلَيۡهِمُ الۡاَنۡۢبَآءُ يَوۡمَٮِٕذٍ فَهُمۡ لَا يَتَسَآءَلُوۡنَ‏  ﴿66﴾

تو اس دن ان پر خبریں اندھی ہوجائیں گی (ف۱٦۸) تو وہ کچھ پوجھ گچھ نہ کریں گے (ف۱٦۹)

So on that Day the tidings will be blinded* for them, therefore they will not ask one another. (* They will forget at that moment).

فَاَمَّا مَنۡ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًـا فَعَسٰٓى اَنۡ يَّكُوۡنَ مِنَ الۡمُفۡلِحِيۡنَ‏ ﴿67﴾

تو وہ جس نے توبہ کی (ف۱۷۰) اور ایمان لایا (ف۱۷۱) اور اچھا کام کیا قریب ہے کہ وہ راہ یاب ہو،

So whoever repented and accepted faith and did good deeds, so it is likely that he will be among the successful.

وَرَبُّكَ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ وَيَخۡتَارُ​ؕ مَا كَانَ لَهُمُ الۡخِيَرَةُ​ ؕ سُبۡحٰنَ اللّٰهِ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ‏ ﴿68﴾

اور تمہارا رب پیدا کرتا ہے جو چاہے اور پسند فرماتا ہے (ف۱۷۲) ان کا (ف۱۷۳) کچھ اختیار نہیں، پاکی اور برتری ہے اللہ کو ان کے شرک سے،

And your Lord creates whatever He wills, and chooses; they do not have any power to choose; Purity and Supremacy are to Allah above their ascribing partners (to Him).

وَرَبُّكَ يَعۡلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوۡرُهُمۡ وَمَا يُعۡلِنُوۡنَ‏ ﴿69﴾

اور تمہارا رب جانتا ہے جو ان کے سینوں میں چھپا ہے (ف۱۷٤) اور جو ظاہر کرتے ہیں (ف۱۷۵)

And your Lord knows what is hidden in their breasts, and what they disclose.

وَهُوَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ​ؕ لَـهُ الۡحَمۡدُ فِى الۡاُوۡلٰى وَالۡاٰخِرَةِ وَلَـهُ الۡحُكۡمُ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ‏ ﴿70﴾

اور وہی ہے اللہ کہ کوئی خدا نہیں اس کے سوا اسی کی تعریف ہے دنیا (ف۱۷٦) اور آخرت میں اور اسی کا حکم ہے (ف۱۷۷) اور اسی کی طرف پھر جاؤ گے،

And He is Allah – there is no God except Him; only His is the praise in this world and in the Hereafter; and only His is the command, and it is towards Him that you will be returned.

قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَيۡكُمُ الَّيۡلَ سَرۡمَدًا اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ اِلٰـهٌ غَيۡرُ اللّٰهِ يَاۡتِيۡكُمۡ بِضِيَآءٍ​ؕاَفَلَا تَسۡمَعُوۡنَ‏ ﴿71﴾

تم فرماؤ (ف۱۷۸) بھلا دیکھو تو اگر اللہ ہمیشہ تم پر قیامت تک رات رکھے (ف۱۷۹) تو اللہ کے سوا کون خدا ہے جو تمہیں روشنی لادے (ف۱۸۰) تو کیا تم سنتے نہیں (ف۱۸۱)

Proclaim, “What is your opinion – if Allah makes it night continuously for you till the Day of Resurrection then, other than Allah, who is the God who could bring you light? So do you not heed?”

قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَيۡكُمُ النَّهَارَ سَرۡمَدًا اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ اِلٰـهٌ غَيۡرُ اللّٰهِ يَاۡتِيۡكُمۡ بِلَيۡلٍ تَسۡكُنُوۡنَ فِيۡهِ​ؕ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ‏ ﴿72﴾

تم فرماؤ بھلا دیکھو تو اگر اللہ قیامت تک ہمیشہ دن رکھے (ف۱۸۲) تو اللہ کے سوا کون خدا ہے جو تمہیں رات لادے جس میں آرام کرو (ف۱۸۳) تو کیا تمہیں سوجھتا نہیں (ف۱۸٤)

Say, “What is your opinion – if Allah makes it day continuously for you till the Day of Resurrection then, other than Allah, who is the God who could bring you night for you to rest during it? So do you not perceive?”

وَمِنۡ رَّحۡمَتِهٖ جَعَلَ لَـكُمُ الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ لِتَسۡكُنُوۡا فِيۡهِ وَلِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِهٖ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ‏ ﴿73﴾

اور اس نے اپنی مہر سے تمہارے لیے رات اور دن بنائے کہ رات میں آرام کرو اور دن میں اس کا فضل ڈھونڈو (ف۱۸۵) اور اس لیے کہ تم حق مانو (ف۱۸٦)

And with His mercy He made the night and day for you, so that you may rest during the night and seek His munificence during the day, and for you to be thankful.

وَيَوۡمَ يُنَادِيۡهِمۡ فَيَـقُوۡلُ اَيۡنَ شُرَكَآءِىَ الَّذِيۡنَ كُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ‏ ﴿74﴾

اور جس دن انھیں ندا کرتے گا تو فرمائے گا، کہاں ہیں؟ میرے وہ شریک جو تم بکتے تھے،

On the day when He will call to them – He will therefore proclaim, “Where are those partners of Mine, whom you had assumed?”

وَنَزَعۡنَا مِنۡ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيۡدًا فَقُلۡنَا هَاتُوۡا بُرۡهَانَكُمۡ فَعَلِمُوۡۤا اَنَّ الۡحَـقَّ لِلّٰهِ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ‏  ﴿75﴾

اور ہر گروہ میں سے ایک گواہ نکال کر (ف۱۸۷) فرمائیں گے اپنی دلیل لاؤ (ف۱۸۸) تو جان لیں گے کہ (ف۱۸۹) حق اللہ کا ہے اور ان سے کھوئی جائیں گی جو بناوٹیں کرتے تھے (ف۱۹۰)

And We shall proclaim taking out a witness from each group, “Bring your proof” – so they will realise that the Truth (Right) is for Allah, and they will lose all that they had fabricated.

اِنَّ قَارُوۡنَ كَانَ مِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰى فَبَغٰى عَلَيۡهِمۡ​ وَاٰتَيۡنٰهُ مِنَ الۡكُنُوۡزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَـتَـنُوۡٓاُ بِالۡعُصۡبَةِ اُولِى الۡقُوَّةِ اِذۡ قَالَ لَهٗ قَوۡمُهٗ لَا تَفۡرَحۡ​ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡفَرِحِيۡنَ‏  ﴿76﴾

بیشک قارون موسیٰ کی قوم سے تھا (ف۱۹۱) پھر اس نے ان پر زیادتی کی اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیے جن کی کنجیاں ایک زور آور جماعت پر بھاری تھیں، جب اس سے اس کی قوم (ف۱۹۲) نے کہا اِترا نہیں (ف۱۹۳) بیشک اللہ اِترانے والوں کو دوست نہیں رکھتا،

Indeed Qaroon was from the people of Moosa – he then oppressed them; and We gave him so many treasures that their keys were a heavy burden for a strong group; when his people said to him, “Do not show off – indeed Allah does not like the boastful.”

وَابۡتَغِ فِيۡمَاۤ اٰتٰٮكَ اللّٰهُ الدَّارَ الۡاٰخِرَةَ​ وَلَا تَنۡسَ نَصِيۡبَكَ مِنَ الدُّنۡيَا​ وَاَحۡسِنۡ كَمَاۤ اَحۡسَنَ اللّٰهُ اِلَيۡكَ​ وَلَا تَبۡغِ الۡـفَسَادَ فِى الۡاَرۡضِ​ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡمُفۡسِدِيۡنَ‏ ﴿77﴾

اور جو مال تجھے اللہ نے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر طلب کر (ف۱۹٤) اور دنیا میں اپنا حصہ نہ بھول (ف۱۹۵) اور احسان کر (ف۱۹٦) جیسا اللہ نے تجھ پر احسان کیا اور (ف۱۹۷) زمین میں فساد نہ چاه بیشک اللہ فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا ،

“And seek the abode of the Hereafter with the wealth that Allah has given you, and do not forget your part in this world, and do favours (to others) the way Allah has favoured you, and do not seek to cause turmoil in the earth; indeed Allah does not like the mischievous.”

قَالَ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ عِنۡدِىۡ​ؕ اَوَلَمۡ يَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ قَدۡ اَهۡلَكَ مِنۡ قَبۡلِهٖ مِنَ الۡقُرُوۡنِ مَنۡ هُوَ اَشَدُّ مِنۡهُ قُوَّةً وَّاَكۡثَرُ جَمۡعًا​ؕ وَلَا يُسۡــَٔلُ عَنۡ ذُنُوۡبِهِمُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ‏ ﴿78﴾

بو لا یہ (ف۱۹۸) تو مجھے ایک علم سے ملا ہے جو میرے پاس ہے (ف۱۹۹) اور کیا اسے یہ نہیں معلوم کہ اللہ نے اس سے پہلے وہ سنگتیں (قومیں) ہلاک فرمادیں جن کی قوتیں اس سے سخت تھیں اور جمع اس سے زیادہ (ف۲۰۰) اور مجرموں سے ان کے گناہوں کی پوچھ نہیں (ف۲۰۱)

He said, “I got this only due to a knowledge I have”; and does he not know that before him Allah destroyed the generations who were stronger than him and more in number? And there is no questioning of the guilty regarding their sins.

فَخَرَجَ عَلٰى قَوۡمِهٖ فِىۡ زِيۡنَتِهٖ​ؕ قَالَ الَّذِيۡنَ يُرِيۡدُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا يٰلَيۡتَ لَـنَا مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِىَ قَارُوۡنُۙ اِنَّهٗ لَذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ‏ ﴿79﴾

تو اپنی قومی پر نکلا اپنی آرائش میں (ف۲۰۲) بولے وہ جو دنیا کی زندگی چاہتے ہیں کسی طرح ہم کو بھی ایسا ملتا جیسا قارون کو ملا بیشک اس کا بڑا نصیب ہے ،

He therefore came before his people in his pomp; said those who desired the worldly life, “If only we were to get what Qaroon has been given – he is indeed very fortunate.”

وَقَالَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ وَيۡلَـكُمۡ ثَوَابُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لِّمَنۡ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًـا ۚ وَلَا يُلَقّٰٮهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوۡنَ‏ ﴿80﴾

اور بولے وہ جنہیں علم دیا گیا (ف۲۰۳) خرابی ہو تمہاری، اللہ کا ثواب بہتر ہے اس کے لیے جو ایمان لائے اور اچھے کام کرے (ف۲۰٤) اور یہ انھیں کو ملتا ہے جو صبر والے ہیں (ف۲۰۵)

And said those who were given the knowledge, “Woe to you – the reward of Allah is better for one who accepts faith and does good deeds; and only those who are patient will receive it.”

فَخَسَفۡنَا بِهٖ وَبِدَارِهِ الۡاَرۡضَ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنۡ فِئَةٍ يَّـنۡصُرُوۡنَهٗ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَمَا كَانَ مِنَ الۡمُنۡتَصِرِيۡنَ‏ ﴿81﴾

تو ہم نے اسے (ف۲۰٦) اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسایا تو اس کے پاس کوئی جماعت نہ تھی کہ اللہ سے بچانے میں اس کی مدد کرتی (ف۲۰۷) اور نہ وہ بدلہ لے سکا (ف۲۰۸)

We therefore buried him and his house into the earth; so he had no group to help save him from Allah; nor could he take revenge.

وَاَصۡبَحَ الَّذِيۡنَ تَمَـنَّوۡا مَكَانَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَقُوۡلُوۡنَ وَيۡكَاَنَّ اللّٰهَ يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ وَيَقۡدِرُ​ۚ لَوۡلَاۤ اَنۡ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَيۡنَا لَخَسَفَ بِنَا​ ؕ وَيۡكَاَنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الۡكٰفِرُوۡنَ‏  ﴿82﴾

اور کل جس نے اس کے مرتبہ کی آرزو کی تھی صبح (ف۲۰۹) کہنے لگے عجب بات ہے اللہ رزق وسیع کرتا ہے اپنے بندوں میں جس کے لیے چاہے اور تنگی فرماتا ہے (ف۲۱۰) اگر اللہ ہم پر احسان فرماتا تو ہمیں بھی دھنسادیتا، اے عجب، کافروں کا بھلا نہیں،

And those who had the day before desired his status, said in the morning, “It is strange – Allah expands the sustenance for whomever He wills among His bondmen, and restricts it; if Allah had not been gracious to us He would have buried us too; strangely, the disbelievers do not prosper.”

تِلۡكَ الدَّارُ الۡاٰخِرَةُ نَجۡعَلُهَا لِلَّذِيۡنَ لَا يُرِيۡدُوۡنَ عُلُوًّا فِى الۡاَرۡضِ وَلَا فَسَادًا​ ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ‏ ﴿83﴾

یہ آخرت کا گھر (ف۲۱۱) ہم ان کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد، اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی (ف۲۱۲) ہے،

This abode of the Hereafter – We make it for those who do not wish greatness in the land nor turmoil; and the Hereafter is only for the pious.

مَنۡ جَآءَ بِالۡحَسَنَةِ فَلَهٗ خَيۡرٌ مِّنۡهَا​ ۚ وَمَنۡ جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجۡزَى الَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ‏  ﴿84﴾

جو نیکی لائے اس کے لیے اس سے بہتر ہے (ف۲۱۳) اور جو بدی لائے بدکام والوں کو بدلہ نہ ملے گا مگر جتنا کیا تھا،

Whoever brings virtue, for him is better than it; and whoever brings evil – so those who commit evil will not be repaid except to the extent of their deeds.

اِنَّ الَّذِىۡ فَرَضَ عَلَيۡكَ الۡقُرۡاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ​ ؕ قُلْ رَّبِّىۡۤ اَعۡلَمُ مَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰى وَمَنۡ هُوَ فِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ‏ ﴿85﴾

بیشک جس نے تم پر قرآن فرض کیا (ف۲۱٤) وہ تمہیں پھیر لے جائے گا جہاں پھرنا چاہتے ہو (ف۲۱۵) تم فرماؤ، میرا رب خوب جانتا ہے اسے جو ہدایت لایا اور جو کھلی گمراہی میں ہے (ف۲۱٦)

Indeed He Who has ordained the Qur’an upon you, will surely bring you back to where you wish; proclaim, “My Lord well knows him who came with guidance, and him who is in open error.”

وَمَا كُنۡتَ تَرۡجُوۡۤا اَنۡ يُّلۡقٰٓى اِلَيۡكَ الۡكِتٰبُ اِلَّا رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ​ فَلَا تَكُوۡنَنَّ ظَهِيۡرًا لِّـلۡكٰفِرِيۡنَ‏ ﴿86﴾

اور تم امید نہ رکھتے تھے کہ کتاب تم پر بھیجی جائے گی (ف۲۱۷) ہاں تمہارے رب نے رحمت فرمائی تو تم ہرگز کافروں کی پشتی (مدد) نہ کرنا (ف۲۱۸)

And you held no expectations of the Book being sent down upon you, except that it is a mercy from your Lord – therefore never support the disbelievers. (You did not crave for it but trusted in the mercy of your Lord).

وَلَا يَصُدُّنَّكَ عَنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ بَعۡدَ اِذۡ اُنۡزِلَتۡ اِلَيۡكَ​ وَادۡعُ اِلٰى رَبِّكَ​ وَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ​ۚ‏ ﴿87﴾

اور ہرگز وہ تمہیں اللہ کی آیتوں سے نہ روکیں بعد اس کے کہ وہ تمہاری طرف اتاری گئیں (ف۲۱۹) اور اپنے رب کی طرف بلاؤ (ف۲۲۰) اور ہرگز شرک والوں میں سے نہ ہونا (ف۲۲۱)

And never may they prevent you from the verses of Allah after they have been sent down upon you, and call towards your Lord, and never be among those who ascribe partners (to Him).

وَلَا تَدۡعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ​ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ​ كُلُّ شَىۡءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجۡهَهٗ​ؕ لَـهُ الۡحُكۡمُ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ‏ ﴿88﴾

اور اللہ کے ساتھ دوسرے خدا کو نہ پوج اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہر چیز فانی ہے، سوا اس کی ذات کے، اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف پھر جاؤ گے،

And do not worship any other God along with Allah; there is no God except Him; all things are destructible except His Entity; only His is the command, and it is towards Him that you will be returned.

Scroll to Top