کیا آدمی (ف۳) یہ سمجھتا ہے کہ ہم ہرگز اس کی ہڈیاں جمع نہ فرمائیں گے،
Does man assume that We will never assemble his bones?
क्या आदमी यह समझता है कि हम हरग़ज़ उसकी हड्डियाँ जमा न फ़रमाएँगे,
Kya aadmi ye samajhta hai ke hum hargiz uski haddiyan jama na farmaenge,
(ف3)یہاں آدمی سے مراد کافر منکِرِ بعث ہے ۔شانِ نزول : یہ آیت عدی بن ربیعہ کے حق میں نازل ہوئی جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کہا تھا کہ اگر میں قیامت کا دن دیکھ بھی لوں جب بھی نہ مانوں اور آپ پر ایمان نہ لاؤں کیا اللہ تعالٰی بکھری ہوئی ہڈیاں جمع کردے گا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس کے معنٰی یہ ہیں کہ کیا اس کافر کا یہ گمان ہے کہ ہڈیاں بکھرنے اور گلنے اور ریزہ ریزہ ہو کر مٹی میں ملنے اور ہواؤں کے ساتھ اڑ کر دور دراز مقامات میں منتشر ہوجانے سے ایسی ہوجاتی ہیں کہ ان کا جمع کرنا کافر ہماری قدرت سے باہر سمجھتا ہے؟ یہ خیالِ فاسد اس کے دل میں کیوں آیا اوراس نے کیوں نہیں جانا کہ جو پہلی بار پیدا کرنے پر قادر ہے وہ مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرنے پر ضرور قادر ہے ؟۔
کیوں نہیں ہم قادر ہیں کہ اس کے پور ٹھیک بنادیں (ف٤)
Surely yes, why not? We can properly make all his phalanxes.
क्यों नहीं हम क़ादिर हैं कि उसके पूर ठिक बना दें
Kyun nahin hum qadir hain ke uske poore theek bana dein
(ف4)یعنی اس کی انگلیاں جیسی تھیں بغیرفرق کے ویسی ہی کردیں اور ان کی ہڈیاں ان کے موقع پر پہنچا دیں ، جب چھوٹی چھوٹی ہڈیاں اس طرح ترتیب دے دی جائیں تو بڑی کا کیا کہنا ۔
بلکہ آدمی چاہتا ہے کہ اس کی نگاہ کے سامنے بدی کرے (ف۵)
In fact man wishes to commit evil in front of Him!
बल्कि आदमी चाहता है कि उसकी निगाह के सामने बदी करे
Balki aadmi chahta hai ke uski nigaah ke samne badi kare
(ف5)انسان کا انکارِ بعث اشتباہ اور عدمِ دلیل کے باعث نہیں ہے بلکہ حال یہ ہے کہ وہ بحالِ سوال بھی اپنے فجور پر قائم رہنا چاہتا ہے کہ بطریقِ استہزاء پوچھتا ہے ، قیامت کا دن کب ہوگا (جمل) حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے اس آیت کے معنٰی میں فرمایا کہ آدمی بعث و حساب کو جھٹلاتا ہے جو اس کے سامنے ہے ۔ سعید بن جبیر نے کہا کہ آدمی گناہ کو مقدّم کرتا ہے اور توبہ کو مؤخر ، یہی کہتا رہتا ہے اب توبہ کروں گا ، اب عمل کروں گا ، یہاں تک کہ موت آجاتی ہے اور وہ اپنی بدیوں میں مبتلا ہوتا ہے ۔
يَسۡـَٔـلُ اَيَّانَ يَوۡمُ الۡقِيٰمَةِؕ ﴿6﴾
پوچھتا ہے قیامت کا دن کب ہوگا،
He asks, “When will be the Day of Resurrection?”
पूछता है क़यामत का दिन कब होगा,
Pooshta hai Qayamat ka din kab hoga,
فَاِذَا بَرِقَ الۡبَصَرُۙ ﴿7﴾
پھر جس دن آنکھ چوندھیائے گی (ف٦)
So when the eyes will be blinded by light.
फिर जिस दिन आँख चोंधीाएगी
Phir jis din aankh chondhiyaayegi
(ف6)اور حیرت دامن گیر ہوگی ۔
وَخَسَفَ الۡقَمَرُۙ ﴿8﴾
اور چاند کہے گا (ف۷)
And the moon will be eclipsed.
और चाँद कहेगा
Aur chaand kahega
(ف7)تاریک ہوجائے گا اور روشنی زایل ہوجائے گی ۔
وَجُمِعَ الشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُۙ ﴿9﴾
اور سورج اور چاند ملادیے جائیں گے (ف۸)
And the sun and the moon will be united.
और सूरज और चाँद मिला दिए जाएँगे
Aur sooraj aur chaand mila diye jaayenge
(ف8)یہ ملا دینا یا طلوع میں ہوگا دونوں مغرب سے طلوع کریں گے یا بے نور ہونے میں ۔
On that day man will cry out, “Where shall I flee?”
उस दिन आदमी कहेगा किधर भाग कर जाऊँ
Us din aadmi kahega kidhar bhaag kar jaun
(ف9)جو اس حال و دہشت سے رہائی ملے ۔
كَلَّا لَا وَزَرَؕ ﴿11﴾
ہرگز نہیں کوئی پناہ نہیں،
Never! There is no refuge!
हरग़ज़ नहीं कोई पनाह नहीं,
Hargiz nahin koi panah nahin,
اِلٰى رَبِّكَ يَوۡمَٮِٕذِ اۨلۡمُسۡتَقَرُّ ؕ ﴿12﴾
اس دن تیرے رب ہی کی طرف جاکر ٹھہرنا ہے (ف۱۰)
On that day, the station is only towards your Lord.
उस दिन तेरे रब ही की तरफ़ जा कर ठहरना है
Us din tere Rab hi ki taraf ja kar thehrna hai
(ف10)تمام خَلق اس کے حضور حاضر ہوگی ، حساب کیا جائے گا ، جزا دی جائے گی ، جسے چاہے گا اپنی رحمت سے جنّت میں داخل کرے گا ، جسے چاہے گا اپنے عدل سے جہنّم میں ڈالے گا ۔
جب بھی نہ سنا جائے گا تم یاد کرنے کی جلدی میں قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دو (ف۱۲)
O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him), do not cause your tongue to move along with the Qur’an in order to learn it faster.
जब भी न सुना जाएगा तुम याद करने की जल्दी में कुरआन के साथ अपनी ज़बान को हड़क़त न दो
Jab bhi na suna jaayega tum yaad karne ki jaldi mein Quran ke saath apni zubaan ko harkat na do
(ف12)شانِ نزول : سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جبریلِ امین کے وحی پہنچا کر فارغ ہونے سے قبل یاد فرمانے کی سعی فرماتے تھے اور جلد جلد پڑھتے اور زبانِ اقدس کو حرکت دیتے اللہ تعالٰی نے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مشقّت گوارا نہ فرمائی اور قرآنِ کریم کا سینہ پاک میں محفوظ کرنا اور زبانِ اقدس پر جاری فرمانا اپنے ذمّۂِ کرم پر لیا اور یہ آیتِ کریمہ نازل فرما کر حضور کومطمئن فرمادیا ۔
اِنَّ عَلَيۡنَا جَمۡعَهٗ وَقُرۡاٰنَهٗۚ ۖ ﴿17﴾
بیشک اس کا محفوظ کرنا (ف۱۳) اور پڑھنا (ف۱٤) ہمارے ذمہ ہے ،
Indeed assembling the Qur’an and reading it are upon Us.
تو جب ہم اسے پڑھ چکیں (ف۱۵) اس وقت اس پڑھے ہوئے کی اتباع کرو (ف۱٦)
So when We have read it, you should thereupon follow what is read.
तो जब हम इसे पढ़ चुके उस वक़्त उस पढ़े हुए की इताबा करो
To jab hum ise parh chuke us waqt us padhe hue ki itba karo
(ف15)یعنی آپ کے پاس وحی آچکے ۔(ف16)اس آیت کے نازل ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم وحی کو باطمینان سنتے اور جب وحی تمام ہوجاتی تب پڑھتے تھے ۔
ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا بَيَانَهٗؕ ﴿19﴾
پھر بیشک اس کی باریکیوں کا تم پر ظاہر فرمانا ہمارے ذمہ ہے ،
Then indeed, to explain its details to you is upon Us.
फिर बेशक इसकी बारिकियों का तुम पर ज़ाहिर फ़रमाना हमारे ज़िम्मे है,
Phir beshak iski bareekiyon ka tum par zahir farmaana humare zimme hai,
كَلَّا بَلۡ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَ ۙ ﴿20﴾
کوئی نہیں بلکہ اے کافرو! تم پاؤں تلے کی (دنیاوی فائدے کو) عزیز دوست رکھتے ہو (ف۱۷)
None except you, O disbelievers – you love what you have, the fleeting one.
कोई नहीं बल्कि ऐ काफ़र! तुम पाँव तले की (दुनियावी फ़ायदे को) अज़ीज़ दोस्त रखते हो
Koi nahin balki aye kaafir! Tum paon tale ki (duniyavi faide ko) azeez dost rakhte ho
(ف17)یعنی تمہیں دنیا کی چاہت ہے ۔
وَتَذَرُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ ؕ ﴿21﴾
اور آخرت کو چھوڑ بیٹھے ہو،
And you have forsaken the Hereafter.
और आख़िरत को छोड़ बैठे हो,
Aur aakhirat ko chhod baithe ho,
وُجُوۡهٌ يَّوۡمَٮِٕذٍ نَّاضِرَةٌ ۙ ﴿22﴾
کچھ منہ اس دن (ف۱۸) تر و تازہ ہوں گے (ف۱۹)
On that day, some faces will shine with freshness.
कुछ मुँह उस दिन तर व ताज़ा होंगे
Kuch munh us din tar o taza honge
(ف18)یعنی روزِ قیامت ۔(ف19)اللہ تعالٰی کے نعمت و کرم پر مسرور چہروں سے انوارِ تاباں یہ مومنین کا حال ہے ۔
اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ ۚ ﴿23﴾
اپنے رب کا دیکھتے (ف۲۰)
Looking toward their Lord.
अपने रब का देखते
Apne Rab ka dekhte
(ف20)انہیں دیدارِ الٰہی کی نعمت سے سرفراز فرمایا جائے گا ۔مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ آخرت میں مومنین کو دیدارِ الٰہی میسّر آئے گا ، یہی اہلِ سنت کا عقیدہ و قرآن و حدیث و اجماع کے دلائلِ کثیرہ اس پر قائم ہیں اور یہ دیدار بے کیف اور بے جہت ہوگا ۔
وَوُجُوۡهٌ يَّوۡمَٮِٕذٍۢ بَاسِرَةٌ ۙ ﴿24﴾
اور کچھ منہ اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے (ف۲۱)
And on that day some faces will be ghastly.
और कुछ मुँह उस दिन बिगड़े हुए होंगे
Aur kuch munh us din bigre hue honge
(ف21)سیاہ تاریک غمزدہ مایوس ۔ یہ کفّار کا حال ہے ۔
تَظُنُّ اَنۡ يُّفۡعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ ؕ ﴿25﴾
سمجھتے ہوں گے کہ ان کے ساتھ وہ کی جائے گی جو کمر کو توڑ دے (ف۲۲)
Knowing that they will be subjected to a torment that breaks the backs.
समझते होंगे कि उनके साथ वही की जाएगी जो कमर को तोड़ दे
Samajhte honge ke unke saath wahi ki jaayegi jo kamar ko tod de
(ف22)یعنی وہ شدّتِ عذاب اور ہولناک مصائب میں گرفتار کئے جائیں گے ۔
كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِىَۙ ﴿26﴾
ہاں ہاں جب جان گلے کو پہنچ جائے گی (ف۲۳)
Yes indeed, when the soul will reach up to the throat.
हाँ हाँ जब जान गले को पहुँच जाएगी
Haan haan jab jaan gale ko pohanch jaayegi
(ف23)وقتِ موت ۔
وَقِيۡلَ مَنۡ رَاقٍۙ ﴿27﴾
اور کہیں گے (ف۲٤) کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرے (ف۲۵)
And they will say, “Is there any one – any magician?”
और कहेंगे कि है कोई झाड़ फ़ूंक करे
Aur kahenge ke hai koi jhaad phoonk kare
(ف24)جو اس کے قریب ہوں گے ۔(ف25)تاکہ اس کو شفا حاصل ہو ۔
وَّظَنَّ اَنَّهُ الۡفِرَاقُۙ ﴿28﴾
سمجھ لے گا کہ یہ جدائی کی گھڑی ہے (ف۲۷)
And he will realise that this is the parting.
समझ लेगा कि यह जुदाई की घड़ी है
Samajh lega ke ye judaai ki ghadi hai
(ف26)یعنی مرنے والا ۔(ف27)کہ اہلِ مکّہ اور دنیا سب سے جدا ئی ہوتی ہے ۔
وَالۡتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِۙ ﴿29﴾
اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے گی (ف۲۸)
And one shin will curl up with the other shin.
और पिंडली से पिंडली लपेट जाएगी
Aur pindli se pindli lapet jaayegi
(ف28)یعنی موت کی کرب و سختی سے پاؤں باہم لپٹ جائیں گے ، یا یہ معنٰی ہیں کہ دونوں پاؤں کفن میں لپیٹے جائیں گے ، یایہ معنٰی ہیں کہ شدّت پر شدّت ہوگی ایک دنیا کی جدائی کی سختی اس کے ساتھ موت کی کرب یا ایک موت کی سختی اور اس کے ساتھ آخرت کی سختیاں ۔
اِلٰى رَبِّكَ يَوۡمَٮِٕذِ اۨلۡمَسَاقُؕ ﴿30﴾
اس دن تیرے رب ہی کی طرف ہانکنا ہے (ف۱۹)
On that day, the herding will be only towards your Lord.
उस दिन तेरे रब ही की तरफ़ हांकना है
Us din tere Rab hi ki taraf haankna hai
(ف29)یعنی بندوں کا رجوع اسی کی طرف ہے ، وہی ان میں فیصلہ فرمائے گا ۔
فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلّٰىۙ ﴿31﴾
اس نے (ف۳۰) نہ تو سچ مانا (ف۳۱) اور نہ نماز پڑھی ،
Neither did he believe it to be true, nor did he offer the prayer.
उसने न तो सच माना और न नमाज़ पढ़ी,
Usne na to sach maana aur na namaz padhi,
(ف30)یعنی انسان نے ۔ مراد اس سے ابوجہل ہے ۔(ف31)رسالت اور قرآن کو ۔
وَلٰڪِنۡ كَذَّبَ وَتَوَلّٰىۙ ﴿32﴾
ہاں جھٹلایا اور منہ پھیرا (ف۳۲)
But he denied and turned away.
हाँ झुठलाया और मुँह फ़ेरा
Haan jhuthlaya aur munh pheraa
(ف32)ایمان لانے سے ۔
ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰٓى اَهۡلِهٖ يَتَمَطّٰىؕ ﴿33﴾
پھر اپنے گھر کو اکڑتا چلا (ف۳۳)
Then he went back to his home in pride.
फिर अपने घर को अकड़ता चला
Phir apne ghar ko akarta chala
(ف33)متکبّرانہ شان سے ۔ اب اس سے خطاب فرمایا جاتا ہے ۔
اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰىۙ ﴿34﴾
تیری خرابی آ لگی اب آ لگی ،
Your ruin has come close, still closer.
तेरी ख़राबी आ लगी अब आ लगी,
Teri kharabi aa lagi ab aa lagi,
ثُمَّ اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰىؕ ﴿35﴾
پھر تیری خرابی آ لگی اب آ لگی ، (ف۳٤)
Again your ruin has come close, still closer.
फिर तेरी ख़राबी आ लगी अब आ लगी,
Phir teri kharabi aa lagi ab aa lagi,
(ف34)جب یہ آیت نازل ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بطحا میں ابوجہل کے کپڑے پکڑ کر اس سے فرمایا اَوْلٰی لَکَ فَاَوْلٰی ثُمَّ اَوْلٰی لَکَ فَاَوْلٰی یعنی تیری خرابی آلگی ، اب آلگی ، پھر تیری خرابی آلگی ، اب آلگی تو ابوجہل نے کہا اے محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کیا تم مجھے دھمکاتے ہو تم اور تمہارا رب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ، مکّہ کے پہاڑوں کے درمیان میں سب سے زیادہ قوی ، زور آور ، صاحبِ شوکت و قوّت ہوں مگر قرآنی خبر ضرور پوری ہونی تھی اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان ضرور پورا ہونے والا تھا چنانچہ ایسا ہی ہوا اور جنگِ بدر میں ابوجہل ذلّت و خواری کے ساتھ بُری طرح مارا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا : ہر امّت میں ایک فرعون ہوتا ہے ، میری امّت کا فرعون ابوجہل ہے ، اس آیت میں اس کی خرابی کا ذکر چار مرتبہ فرمایا گیا ہے ، پہلی خرابی بے ایمانی کی حالت میں ذلّت کی موت ، دوسری خرابی قبر کی سختیاں اور وہاں کی شدّتیں ، تیسری خرابی مرنے کے بعد اٹھنے کے وقت گرفتارِ مصائب ہونا ، چوتھی خرابی عذابِ جہنّم ۔
کیا آدمی اس گھمنڈ میں ہے کہ آزاد چھوڑ دیا جائے گا (ف۳۵)
Does man assume that he will be let loose?
क्या आदमी इस घमंड में है कि आज़ाद छोड़ दिया जाएगा
Kya aadmi is ghamand mein hai ke aazad chhod diya jaayega
(ف35)کہ نہ اس پر امرونہی وغیرہ کے احکام ہوں ، نہ وہ مرنے کے بعد اٹھایا جائے ، نہ اس سے اعمال کا حساب لیا جائے ، نہ اسے آخرت میں جزا دی جائے ایسا نہیں ۔
So will He, Who has done all this, not be able to revive the dead?
क्या जिसने यह कुछ किया वह मर्दे न जिला सकेगा,
Kya jisne ye kuch kiya woh marday na jila sakega,
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page