اس وقت اس کے ہونے میں کسی کو انکار کی گنجائش نہ ہوگی،
خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ ۙ ﴿3﴾
کسی کو پست کرنے والی (ف۳) کسی کو بلندی دینے والی (ف٤)
(ف3)جہنّم میں گرا کر ۔(ف4)دخولِ جنّت کے ساتھ ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ جو لوگ دنیا میں اونچے تھے قیامت انہیں پست کرے گی اور جو دنیا میں پستی میں تھے ان کے مرتبے بلند کرے گی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اہلِ معصیّت کو پست کرے گی اور اہلِ طاعت کو بلند ۔
اِذَا رُجَّتِ الۡاَرۡضُ رَجًّا ۙ ﴿4﴾
جب زمین کانپے گی تھرتھرا کر (ف۵)
(ف5)حتی کہ اس کی تمام عمارتیں گر جائیں گی ۔
وَّبُسَّتِ الۡجِبَالُ بَسًّا ۙ ﴿5﴾
اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے چورا ہوکر
فَكَانَتۡ هَبَآءً مُّنۡۢبَـثًّا ۙ ﴿6﴾
تو ہوجائیں گے جیسے روزن کی دھوپ میں غبار کے باریک ذرے پھیلے ہوئے
(ف6)یعنی جن کے نامۂِ اعمال ان کے داہنے ہاتھوں میں دیئے جائیں گے ۔(ف7)یہ ان کی تعظیمِ شان کے لئے فرمایا وہ بڑی شان رکھتے ہیں ، سعید ہیں ، جنّت میں داخل ہوں گے ۔
(ف8)جن کے نامۂِ اعمال بائیں ہاتھوں میں دیئے جائیں گے ۔ (ف9)یہ ان کی تحقیرِ شان کے لئے فرمایا کہ وہ شقی ہیں ، جہنّم میں داخل ہوں گے ۔
وَالسّٰبِقُوۡنَ السّٰبِقُوۡنَۚ ۙ ﴿10﴾
اور جو سبقت لے گئے (ف۱۰) وہ تو سبقت ہی لے گئے (ف۱۱)
(ف10)نیکیوں میں ۔(ف11)دخول جنّت میں ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ وہ ہجرت میں سبقت کرنے والے ہیں کہ آخرت میں جنّت کی طرف سبقت کریں گے ۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ اسلام کی طرف سبقت کرنے والے ہیں ۔ اور ایک قول یہ ہے کہ وہ مہاجرین و انصار ہیں جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نمازیں پڑھیں ۔
اُولٰٓٮِٕكَ الۡمُقَرَّبُوۡنَۚ ﴿11﴾
وہی مقربِ بارگاہ ہیں،
فِىۡ جَنّٰتِ النَّعِيۡمِ ﴿12﴾
چین کے باغوں میں،
ثُلَّةٌ مِّنَ الۡاَوَّلِيۡنَۙ ﴿13﴾
اگلوں میں سے ایک گروہ
وَقَلِيۡلٌ مِّنَ الۡاٰخِرِيۡنَؕ ﴿14﴾
اور پچھلوں میں سے تھوڑے (ف۱۲)
(ف12)یعنی سابقین اگلوں میں سے بہت ہیں اور پچھلوں میں سے تھوڑے اور اگلوں میں سے مراد یا پہلی امّتیں ہیں زمانۂِ حضرت آدم علیہ السلام سے ہمارے سرکار سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے عہد مبارک تک جیسا کہ اکثر مفسّرین کا قول ہے لیکن یہ قول نہایت ضعیف ہے اگرچہ مفسّرین نے اس کے وجوہِ ضعف کے جواب میں بہت سی توجیہات بھی کی ہیں ، قولِ صحیح تفسیر میں یہ ہے کہ اگلوں سے امّتِ محمّدیہ ہی کے پہلے لوگ مہاجرین و انصار میں سے جو سابقین اوّلین ہیں وہ مراد ہیں اور پچھلوں سے ان کے بعد والے احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے حدیثِ مرفوع میں ہے کہ اوّلین و آخرین یہاں اسی امّت کے پہلے اور پچھلے ہیں اور یہ بھی مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ دونوں گروہ میری ہی امّت کے ہیں ۔ (تفسیر کبیرو بحر العلوم وغیرہ)
کہ اس سے نہ انہیں درد سر ہو اور نہ ہوش میں فرق آئے (ف۱۷)
(ف17)بخلاف شرابِ دنیا کے کہ اس کے پینے سے حواس مختل ہوجاتے ہیں ۔
وَفَاكِهَةٍ مِّمَّا يَتَخَيَّرُوۡنَۙ ﴿20﴾
اور میوے جو پسند کریں
وَلَحۡمِ طَيۡرٍ مِّمَّا يَشۡتَهُوۡنَؕ ﴿21﴾
اور پرندوں کا گوشت جو چاہیں (ف۱۸)
(ف18)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اگر جنّتی کو پرندوں کے گوشت کی خواہش ہوگی تو اس کے حسبِ مرضی پرند اڑتا ہوا سامنے آئے گا اور رکابی میں آکر سامنے پیش ہوگااس میں سے جتنا چاہے گا جنّتی کھائے گا پھر وہ اُڑ جائے گا ۔ (خازن)
وَحُوۡرٌ عِيۡنٌۙ ﴿22﴾
اور بڑی آنکھ والیاں حوریں (ف۱۹)
(ف19)ان کے لئے ہوں گی ۔
كَاَمۡثَالِ اللُّـؤۡلُـوٴِالۡمَكۡنُوۡنِۚ ﴿23﴾
جیسے چھپے رکھے ہوئے موتی (ف۲۰)
(ف20)یعنی جیسا موتی صدف میں چُھپا ہوتا ہے کہ نہ تو اسے کسی کے ہاتھ نے چھوا ، نہ دھوپ اور ہوا لگی اس کی صفائی اپنی نہایت پر ہے اس طرح حوریں اچھوتی ہوں گی ۔ یہ بھی مروی ہے کہ حوروں کے تبسّم سے جنّت میں نورچمکے گا اور جب وہ چلیں گی تو ان کے ہاتھوں اور پاؤں کے زیوروں سے تقدیس و تمجید کی آوازیں آئیں گی اور یاقوتی ہار ان کے گردنوں کے حسن و خوبی سے ہنسیں گے ۔
اس میں نہ سنیں گے نہ کوئی بیکار بات نہ گنہگاری (ف۲۲)
(ف22)یعنی جنّت میں کوئی ناگوارا اور باطل بات سننے میں نہ آئے گی ۔
اِلَّا قِيۡلًا سَلٰمًا سَلٰمًا ﴿26﴾
ہاں یہ کہنا ہوگا سلام سلام (ف۲۳)
(ف23)جنّتی آپس میں ایک دوسرے کو سلام کریں گے ، ملائکہ اہلِ جنّت کو سلام کریں گے ، اللہ ربُّ العزّت کی طرف سے ان کی طرف سلام آئے گا ۔ یہ حال تو سابقین مقرّبین کا تھا اس کے بعد جنّتیوں کے دوسرے گروہ اصحابِ یمین کا ذکر فرمایا جاتا ہے ۔
(ف24)ان کی عجیب شان ہے کہ اللہ کے حضور میں معزّز و مکرّم ہیں ۔
فِىۡ سِدۡرٍ مَّخۡضُوۡدٍۙ ﴿28﴾
بےکانٹوں کی بیریوں میں
وَّطَلۡحٍ مَّنۡضُوۡدٍۙ ﴿29﴾
اور کیلے کے گچھوں میں (ف۲۵)
(ف25)جن کے درخت جڑ سے چوٹی تک پھلوں سے بھرے ہوں گے ۔
وَّظِلٍّ مَّمۡدُوۡدٍۙ ﴿30﴾
اور ہمیشہ کے سائے میں
وَّ مَآءٍ مَّسۡكُوۡبٍۙ ﴿31﴾
اور ہمیشہ جاری پانی میں
وَّفَاكِهَةٍ كَثِيۡرَةٍۙ ﴿32﴾
اور بہت سے میووں میں
لَّا مَقۡطُوۡعَةٍ وَّلَا مَمۡنُوۡعَةٍۙ ﴿33﴾
جو نہ ختم ہوں (ف۲٦) اور نہ روکے جائیں (ف۲۷)
(ف26)جب کوئی پھل توڑ اجائے فوراً اس کی جگہ ویسے ہی دو موجود ہیں ۔(ف27)اہلِ جنّت پھلوں کے لینے سے ۔
وَّ فُرُشٍ مَّرۡفُوۡعَةٍؕ ﴿34﴾
اور بلند بچھونوں میں (ف۲۸)
(ف28)جو مرصّع اونچے اونچے تختوں پر ہوں گے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ بچھونوں سے مراد عورتیں ہیں اس تقدیر پر معنٰی یہ ہوں گے کہ عورتیں فضل و جمال میں بلند درجہ رکھتی ہوں گی ۔
اِنَّاۤ اَنۡشَاۡنٰهُنَّ اِنۡشَآءًۙ ﴿35﴾
بیشک ہم نے ان عورتوں کو اچھی اٹھان اٹھایا،
فَجَعَلۡنٰهُنَّ اَبۡكَارًاۙ ﴿36﴾
تو انہیں بنایا کنواریاں اپنے شوہر پر پیاریاں،
عُرُبًا اَتۡرَابًاۙ ﴿37﴾
انہیں پیار دلائیاں ایک عمر والیاں (ف۲۹)
(ف29)جوان اور ان کے شوہر بھی جوان اور یہ جوانی ہمیشہ قائم رہنے والی ۔
لِّاَصۡحٰبِ الۡيَمِيۡنِؕ ﴿38﴾
دہنی طرف والوں کے لیے،
ثُلَّةٌ مِّنَ الۡاَوَّلِيۡنَۙ ﴿39﴾
اگلوں میں سے ایک گروہ،
وَثُلَّةٌ مِّنَ الۡاٰخِرِيۡنَؕ ﴿40﴾
اور پچھلوں میں سے ایک گروہ (ف۳۰)
(ف30)یہ اصحابِ یمین کے دو گروں کا بیان ہے کہ وہ اس امّت کے پہلوں ، پچھلوں دونوں گروہوں میں سے ہوں گے پہلے گروہ اصحابِ رسول اللہ ہیں (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) اور پچھلے ان کے بعد والے اس سے پہلے رکوع میں سابقین مقرّبین کی دو جماعتوں کا ذکر تھا اور اس آیت میں اصحابِ یمین کے دو گروہوں کا بیان ہے ۔
(ف38)ان پر ایسی بھوک مسلّط کی جائے گی کہ وہ مضطرہو کرجہنّم کا جلتا تھوہڑ کھائیں گے ، پھر جب اس سے پیٹ بھرلیں گے ان پر پیاس مسلّط کی جائے گی جس سے مضطر ہو کر ایسا کھولتا پانی پئیں گے جو آنتیں کاٹ ڈالے گا ۔
هٰذَا نُزُلُهُمۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِؕ ﴿56﴾
یہ ان کی مہمانی ہے انصاف کے دن،
نَحۡنُ خَلَقۡنٰكُمۡ فَلَوۡلَا تُصَدِّقُوۡنَ ﴿57﴾
ہم نے تمہیں پیدا کیا (ف۳۹) تو تم کیوں نہیں سچ مانتے (ف٤۰)
(ف39)نیست سے ہست کیا ۔(ف40)مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کو ۔
ہم نے تم میں مرنا ٹھہرایا (ف٤۳) اور ہم اس سے ہارے نہیں،
(ف43)حسبِ اقتصائے حکمت و مشیّت اور عمریں مختلف رکھیں کوئی بچپن میں ہی مرجاتا ہے ، کوئی جوان ہو کر ، کوئی ادھیڑ عمر میں کوئی بڑھاپے تک پہنچتا ہے جو ہم مقدر کرتے ہیں وہی ہوتا ہے ۔
ہم نے اسے (ف۵۷) جہنم کا یادگار بنایا (ف۵۸) اور جنگل میں مسافروں کا فائدہ (ف۵۹)
(ف57)یعنی آ گ کو ۔(ف58)کہ دیکھنے والا اس کو دیکھ کرجہنّم کی بڑی آ گ کو یاد کرے اور اللہ تعالٰی سے اور اس کے عذاب سے ڈرے ۔(ف59)کہ اپنے سفروں میں اس سے نفع اٹھاتے ہیں ۔
فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ ﴿74﴾
تو اے محبوب تم پاکی بولو اپنے عظمت والے رب کے نام کی،
فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوۡمِۙ ﴿75﴾
تو مجھے قسم ہے ان جگہوں کی جہاں تارے ڈوبتے ہیں (ف٦۰)
(ف61)وہ سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر نازل فرمایا گیا کیونکہ یہ کلامِ الٰہی اور وحیِ ربّانی ہے ۔
فِىۡ كِتٰبٍ مَّكۡنُوۡنٍۙ ﴿78﴾
محفوظ نوشتہ میں (ف٦۲)
(ف62)جس میں تبدیل و تحریف ممکن نہیں ۔
لَّا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الۡمُطَهَّرُوۡنَؕ ﴿79﴾
اسے نہ چھوئیں مگر باوضو (ف٦۳)
(ف63)مسائل : جس کو غسل کی حاجت ہو یا جس کا وضو نہ ہو یا حائضہ عورت یا نفاس والی ان میں سے کسی کو قرآنِ مجید کا بغیر غلاف وغیرہ کسی کپڑے کے چھونا جائز نہیں ہے بے وضو کو یاد پر قرآن شریف پڑھنا جائز ہے لیکن بے غسل اور حیض والی کو یہ بھی جائز نہیں ۔
(ف70)کفّار سے فرمایا گیا کہ اگر بخیال تمہارے مرنے کے بعد اٹھنا اور اعمال کا حساب کیا جانا اور جزا دینے والا معبود یہ کچھ بھی نہ ہو تو پھر کیا سبب ہے کہ جب تمہارے پیاروں کی روح حلق میں پہنچتی ہے تو تم اسے لوٹا کیوں نہیں لاتے اور جب یہ تمہارے اختیار میں نہیں تو سمجھو کہ کام اللہ تعالٰی کے اختیار میں ہے اس پر ایمان لاؤ ۔ اس کے بعد مخلوقات کے طبقات کے احوال وقتِ موت اور ان کے درجات کا بیان فرمایا ۔
فَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَۙ ﴿88﴾
پھر وہ مرنے والا اگر مقربوں سے ہے (ف۷۱)
(ف71)سابقین میں سے جن کا ذکر اوپر ہوچکا تو اس کے لئے ۔
(ف72)ابوالعالیہ نے کہا کہ مقرّبین سے جو کوئی دنیا سے مفارقت کرتا ہے اس کے پاس جنّت کے پھولو ں کی ڈالی لائی جاتی ہے اس کی خوشبو لیتا ہے تب روح قبض ہوتی ہے ۔(ف73)آخرت میں ۔
(ف75)معنٰی یہ ہیں کہ اے سیّدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آپ ان کا سلام قبول فرمائیں اور انکے لئے غمگین نہ ہوں وہ اللہ تعالٰی کے عذاب سے سلامت و محفوظ رہیں گے اور آپ ان کو اسی حال میں دیکھیں گے جو آپ کو پسند ہو ۔
اور اگر (ف۷٦) جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہو (ف۷۷)
(ف76)مرنے والا ۔(ف77)یعنی اصحابِ شمال میں سے ۔
فَنُزُلٌ مِّنۡ حَمِيۡمٍۙ ﴿93﴾
تو اس کی مہمانی کھولتا پانی،
وَّتَصۡلِيَةُ جَحِيۡمٍ ﴿94﴾
اور بھڑکتی آگ میں دھنسانا (ف۷۸)
(ف78)جہنّم کی اور مرنے والوں کے احوال اور جو مضامین اس سورت میں بیان کئے گئے ۔
اِنَّ هٰذَا لَهُوَ حَقُّ الۡيَـقِيۡنِۚ ﴿95﴾
یہ بیشک اعلیٰ درجہ کی یقینی بات ہے،
فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ ﴿96﴾
تو اے محبوب تم اپنے عظمت والے رب کے نام کی پاکی بولو (ف۷۹)
(ف79)حدیث : جب یہ آیت نازل ہوئی فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْم تو سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا اس کو اپنے رکوع میں داخل کرو اور جب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی نازل ہوئی تو فرمایا اسے اپنے سجدوں میں داخل کرو ۔ (ابوداؤد)مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ رکوع و سجود کی تسبیحات قرآنِ کریم سے ماخوذ ہیں ۔