اب آتا ہے اللہ کا حکم تو اس کی جلدی نہ کرو (ف۲) پاکی اور برتری ہے اسے ان شریکوں سے، (ف۳)
(ف2)شانِ نُزول : جب کُفّار نے عذابِ موعود کے نُزول اور قیامت کے قائم ہونے کی بطریقِ تکذیب و استہزاء جلدی کی اس پر یہ آیت نازِل ہوئی اور بتا دیا گیا کہ جس کی تم جلدی کرتے ہو وہ کچھ دور نہیں بہت ہی قریب ہے اور اپنے وقت پر بالیقین واقع ہوگا اور جب واقع ہوگا تو تمہیں اس سے خلاص کی کوئی راہ نہ ملے گی اور وہ بُت جنہیں تم پوجتے ہو تمہارے کچھ کام نہ آئیں گے ۔(ف3)وہ واحد لاشریک لہ ہے اس کا کوئی شریک نہیں ۔
۔ (اس نے) آدمی کو ایک نِتھری بوند سے بنایا (ف۷) تو جبھی کھلا جھگڑالو ہے،
(ف7)یعنی مَنی سے جس میں نہ حِس ہے نہ حرکت پھر اس کو اپنی قدرتِ کاملہ سے انسان بنایا ، قوت و طاقت عطا کی ۔ شانِ نُزول : یہ آیت اُبی بن خلف کے حق میں نازِل ہوئی جو مرنے کے بعد زندہ ہونے کا انکار کرتا تھا ۔ ایک مرتبہ وہ کسی مردے کی گلی ہوئی ہڈی اٹھا لایا اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہنے لگا کہ آپ کا یہ خیال ہے کہ اللہ تعالٰی اس ہڈی کو زندگی دے گا ؟ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور نہایت نفیس جواب دیا گیا کہ ہڈی تو کچھ نہ کچھ عضوی شکل رکھتی بھی ہے اللہ تعالٰی تو مَنی کے ایک چھوٹے سے بے حِس و حرکت قطرے سے تجھ جیسا جھگڑالو انسان پیدا کر دیتا ہے ، یہ دیکھ کر بھی تو اس کی قدرت پر ایمان نہیں لاتا ۔
اور گھوڑے اور خچر اور گدھے کہ ان پر سوار ہو اور زینت کے لیے، اور وہ پیدا کرے گا (ف۱۰) جس کی تمہیں خبر نہیں، (ف۱۱)
(ف10) ایسی عجیب و غریب چیزیں ۔(ف11)اس میں وہ تمام چیزیں آ گئیں جو آدمی کے نفع و راحت و آرام و آسائش کے کام آتی ہیں اور اس وقت تک موجود نہیں ہوئی تھیں ، اللہ تعالٰی کو ان کا آئندہ پیدا کرنا منظور تھا جیسے کہ دخانی جہاز ، ریلیں ، موٹر ، ہوائی جہاز ، برقی قوتوں سے کام کرنے والے آلات ، دخانی اور برقی مشینیں ، خبر رسانی و نشرِ صوت کے سامان اور خدا جانے اس کے علاوہ اس کو کیا کیا پیدا کرنا منظور ہے ۔
اور بیچ کی راہ (ف۱۲) ٹھیک اللہ تک ہے اور کوئی راہ ٹیڑھی ہے (ف۱۳) اور چاہتا تو تم سب کو راہ پر لاتا، (ف۱٤)
(ف12)یعنی صراطِ مستقیم اور دینِ اسلام کیونکہ دو مقاموں کے درمیان جتنی راہیں نکالی جائیں ان میں سے جو بیچ کی راہ ہوگی وہی سیدھی ہوگی ۔(ف13)جس پر چلنے والا منزلِ مقصود کو نہیں پہنچ سکتا کُفرکی تمام راہیں ایسی ہی ہیں ۔(ف14)راہِ راست پر ۔
اس پانی سے تمہارے لیے کھیتی اگاتا ہے اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل (ف۱٦) بیشک اس میں نشانی ہے (ف۱۷) دھیان کرنے والوں کو،
(ف16)مختلف صورت و رنگ ، مزے ، بو ، خاصیت والے کہ سب ایک ہی پانی سے پیدا ہوتے ہیں اور ہر ایک کے اوصاف دوسرے سے جدا ہیں یہ سب اللہ کی نعمتیں ہیں ۔(ف17)اس کی قدرت و حکمت اور وحدانیت کی ۔
اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے دریا مسخر کیا (ف۲۰) کہ اس میں سے تازہ گوشت کھاتے ہو (ف۲۱) اور اس میں سے گہنا (زیور) نکالتے ہو جسے پہنتے ہو (ف۲۲) اور تو اس میں کشتیاں دیکھے کہ پانی چیر کر چلتی ہیں اور اس لیے کہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور کہیں احسان مانو،
(ف20)کہ اس میں کشتیوں پر سوار ہو کر سفر کرو یا غوطے لگا کر اس کی تہ تک پہنچو یا اس سے شکار کرو ۔(ف21)یعنی مچھلی ۔(ف22)یعنی گوہر و مرجان ۔
تو کیا جو بنائے (ف۲۷) وہ ایسا ہوجائے گا جو نہ بنائے (ف۲۸) تو کیا تم نصیحت نہیں مانتے،
(ف27)ان تمام چیزوں کو اپنی قدرت و حکمت سے یعنی اللہ تعالٰی ۔(ف28)کسی چیز کو اور عاجز و بے قدرت ہو جیسے کہ بُت تو عاقل کو کب سزاوار ہے کہ ایسے خالِق و مالک کی عبادت چھوڑ کر عاجز و بے اختیار بتوں کی پرستش کرے یا انہیں عبادت میں اس کا شریک ٹھہرائے ۔
اور جب ان سے کہا جائے (ف٤۰) تمہارے رب نے کیا اتارا (ف٤۱) کہیں اگلوں کی کہانیاں ہیں (ف٤۲)
(ف40)یعنی لوگ ان سے دریافت کریں کہ ۔(ف41) محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تو ۔(ف42)یعنی جھوٹے افسانے کوئی ماننے کی بات نہیں ۔ شانِ نُزول : یہ آیت نضر بن حارث کی شان میں نازِل ہوئی اس نے بہت سی کہانیاں یاد کر لی تھیں اس سے جب کوئی قرآنِ کریم کی نسبت دریافت کرتا تو وہ یہ جاننے کے باوجود کہ قرآن شریف کتابِ مُعجِز اور حق و ہدایت سے مملو ہے ، لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے یہ کہہ دیتا کہ یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں ، ایسی کہانیاں مجھے بھی بہت یاد ہیں ۔ اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ لوگوں کو اس طرح گمراہ کرنے کا انجام یہ ہے ۔
بیشک ان سے اگلوں نے (ف٤٤) فریب کیا تھا تو اللہ نے ان کی چنائی کو نیو سے (تعمیر کو بنیاد) سے لیا تو اوپر سے ان پر چھت گر پڑی اور عذاب ان پر وہاں سے آیا جہاں کی انھیں خبر نہ تھی (ف٤۵)
(ف44)یعنی پہلی اُمّتوں نے اپنے انبیاء کے ساتھ ۔(ف45)یہ ایک تمثیل ہے کہ پچھلی اُمّتوں نے اپنے رسولوں کے ساتھ مکر کرنے کے لئے کچھ منصوبے بنائے تھے اللہ تعالٰی نے انہیں خود انہیں کے منصوبوں میں ہلاک کیا اور ان کا حال ایسا ہوا جیسے کسی قوم نے کوئی بلند عمارت بنائی پھر وہ عمارت ان پر گر پڑی اور وہ ہلاک ہو گئے ، اسی طرح کُفّار اپنی مکاریوں سے خود برباد ہوئے ۔ مفسِّرین نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ اس آیت میں اگلے مکر کرنے والوں سے نمرود بن کنعان مراد ہے جو زمانۂ ابراہیم علیہ السلام میں روئے زمین کا سب سے بڑا بادشاہ تھا ، اس نے بابل میں بہت اونچی ایک عمارت بنائی تھی جس کی بلندی پانچ ہزار گز تھی اور اس کا مکریہ تھا کہ اس نے یہ بلند عمارت اپنے خیال میں آسما ن پر پہنچنے اور آسمان والوں سے لڑنے کے لئے بنائی تھی ، اللہ تعالٰی نے ہوا چلائی اور وہ عمارت ان پر گر پڑی اور وہ لوگ ہلاک ہو گئے ۔
پھر قیامت کے دن انھیں رسوا کرے گا اور فرمائے گا کہاں ہیں میرے وہ شریک (ف٤٦) جن میں تم جھگڑتے تھے (ف٤۷) علم والے (ف٤۸) کہیں گے آج ساری رسوائی اور برائی (ف٤۹) کافروں پر ہے
(ف46)جو تم نے گھڑ لئے تھے اور ۔(ف47)مسلمانوں سے ۔(ف48) یعنی ان اُمّتوں کے انبیاء و عُلَماء جو انہیں دنیا میں ایمان کی دعوت دیتے اور نصیحت کرتے تھے اور یہ لوگ ان کی بات نہ مانتے تھے ۔(ف49)یعنی عذاب ۔
وہ کہ فرشتے ان کی جان نکالتے ہیں اس حال پر کیا وہ اپنا برا کررہے تھے (ف۵۰) اب صلح ڈالیں گے (ف۵۱) کہ ہم تو کچھ برائی نہ کرتے تھے (ف۵۲) ہاں کیوں نہیں، بیشک اللہ خوب جانتا ہے جو تمہارے کوتک (برے اعمال) تھے (ف۵۳)
(ف50) یعنی کُفر میں مبتلا تھے ۔(ف51)اور وقتِ موت اپنے کُفر سے مُکر جائیں گے اور کہیں گے ۔(ف52)اس پر فرشتے کہیں گے ۔(ف53)لہذا یہ انکار تمہیں مفید نہیں ۔
اور ڈر والوں (ف۵٤) سے کہا گیا تمہارے رب رب نے کیا اتارا، بولے خوبی (ف۵۵) جنہوں نے اس دنیا میں بھلائی کی (ف۵٦) ان کے لیے بھلائی ہے (ف۵۷) اور بیشک پچھلا گھر سب سے بہتر، اور ضرور (ف۵۸) کیا ہی اچھا گھر پرہیزگاروں کا
(ف54)یعنی ایمانداروں ۔(ف55)یعنی قرآن شریف جو تمام خوبیوں کا جامع اور حسنات و برکات کا منبع اور دینی و دنیوی اور ظاہری وباطنی کمالات کا سر چشمہ ہے ۔شانِ نُزول : قبائلِ عرب ایّامِ حج میں حضرت نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تحقیقِ حال کے لئے مکّۂ مکرّمہ کو قاصد بھیجتے تھے یہ قاصد جب مکّۂ مکرّمہ پہنچتے اور شہر کے کنارے راستوں پر انہیں کُفّار کے کارندے ملتے (جیسا کہ سابق میں ذکر ہو چکا ہے) ان سے یہ قاصد نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حال دریافت کرتے تو وہ بہکانے پر مامور ہی ہوتے تھے ، ان میں سے کوئی حضرت کو ساحر کہتا ، کوئی کاہن ، کوئی شاعر ، کوئی کذّاب ، کوئی مجنون اور اس کے ساتھ یہ بھی کہہ دیتے کہ تم ان سے نہ ملنا یہی تمہارے حق میں بہتر ہے ، اس پر قاصد کہتے کہ اگر ہم مکّۂ مکرّمہ پہنچ کر بغیر ان سے ملے اپنی قوم کی طرف واپس ہوں تو ہم برے قاصد ہوں گے اور ایسا کرنا قاصد کے منصبی فرائض کا ترک اور قوم کی خیانت ہوگی ، ہمیں تحقیق کے لئے بھیجا گیا ہے ، ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے اپنے اور بیگانوں سب سے ان کے حال کی تحقیق کریں اور جو کچھ معلوم ہو اس سے بے کم و کاست قوم کو مطّلع کریں ۔ اس خیال سے وہ لوگ مکّۂ مکرّمہ میں داخل ہو کر اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی ملتے تھے اور ان سے آپ کے حال کی تحقیق کرتے تھے ، اصحابِ کرام انہیں تمام حال بتاتے تھے اور نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حالات و کمالات اور قرآنِ کریم کے مضامین سے مطّلع کرتے تھے ، ان کا ذکر اس آیت میں فرمایا گیا ۔(ف56)یعنی ایمان لائے اور نیک عمل کئے ۔(ف57)یعنی حیات طیبہ ہے اور فتح و ظَفر و رزقِ وسیع وغیرہ نعمتیں ۔(ف58)دارِ آخرت ۔
وہ جن کی جان نکالتے ہیں فرشتے ستھرے پن میں (ف٦۰) یہ کہتے ہوئے کہ سلامتی ہو تم پر (ف٦۱) جنت میں جاؤ بدلہ اپنے کیے کا،
(ف60)کہ وہ شرک و کُفر سے پاک ہوتے ہیں اور ان کے اقوال و افعال اور اخلاق و خصال پاکیزہ ہوتے ہیں ، طاعتیں ساتھ ہوتی ہیں ، محرمات و ممنوعات کے داغوں سے ان کادامنِ عمل میلا نہیں ہوتا ، قبضِ روح کے وقت ان کو جنّت و رضوان و رحمت و کرامت کی بشارتیں دی جاتی ہیں ، اس حالت میں موت انہیں خوشگوار معلوم ہوتی ہے اور جان فرحت و سرور کے ساتھ جسم سے نکلتی ہے اور ملائکہ عزت کے ساتھ اس کو قبض کرتے ہیں ۔ (خازن)(ف61)مروی ہے کہ قریبِ موت بندۂ مومن کے پاس فرشتہ آ کر کہتا ہے اے اللہ کے دوست تجھ پر سلام اور اللہ تعالٰی تجھے سلام فرماتا ہے اور آخرت میں ان سے کہا جائے گا ۔
کاہے کے انتظار میں ہیں (ف٦۲) مگر اس کے کہ فرشتے ان پر آئیں (ف٦۳) یا تمہارے رب کا عذاب آئے (ف٦٤) ان سے اگلوں نے ایسا ہی کیا (ف٦۵) اور اللہ نے ان پر کچھ ظلم نہ کیا ، ہاں وہ خود ہی (ف٦٦) اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے،
(ف62) کُفّار کیوں ایمان نہیں لاتے کس چیز کے انتظار میں ہیں ۔(ف63) ان کی ارواح قبض کرنے ۔(ف64)دنیا میں یا روزِ قیامت ۔(ف65)یعنی پہلی اُمّتوں کے کُفّار نے بھی کہ کُفر و تکذیب پر قائم رہے ۔(ف66)کُفر اختیار کر کے ۔
اور مشرک بولے اللہ چاہتا تو اس کے سوا کچھ نہ پوجنے نہ ہم اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ اس سے جدا ہو کر ہم کوئی چیز حرام ٹھہراتے (ف٦۹) جیسا ہی ان سے اگلوں نے کیا (ف۷۰) تو رسولوں پر کیا ہے مگر صاف پہنچا دینا، (ف۷۱)
(ف69)مثل بحیرہ و سائبہ وغیرہ کے ۔ اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ ان کا شرک کرنا اور ان چیزوں کو حرام قرار دے لینا اللہ کی مشیت و مرضی سے ہے اس پر اللہ تعالٰی نے فرمایا ۔(ف70)کہ رسولوں کی تکذیب کی اور حلال کو حرام کیا اور ایسے ہی تمسخُر کی باتیں کہیں ۔(ف71)حق کا ظاہر کر دینا اور شرک کے باطل و قبیح ہونے پر مطّلع کر دینا ۔
اور بیشک ہر امت میں ہم نے ایک رسول بھیجا (ف۷۲) کہ اللہ کو پوجو اور شیطان سے بچو تو ان (ف۷۳) میں کسی کو اللہ نے راہ دکھائی (ف۷٤) اور کسی پر گمراہی ٹھیک اتری (ف۷۵) تو زمین میں چل پھر کر دیکھو کیسا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا (ف۷٦)
(ف72)اور ہر رسول کو حکم دیا کہ وہ اپنی قوم سے فرمائیں ۔(ف73)اُمّتوں ۔(ف74)وہ ایمان سے مشرف ہوئے ۔(ف75)وہ اپنی ازلی شقاوت سے کُفر پر مرے اور ایمان سے محروم رہے ۔(ف76)جنہیں اللہ تعالٰی نے ہلاک کیا اور ان کے شہر ویران کئے ، اجڑی ہوئی بستیاں ان کے ہلاک کی خبر دیتی ہیں ۔ اس کو دیکھ کر سمجھو کہ اگر تم بھی ان کی طرح کُفر و تکذیب پر مُصِر رہے تو تمہارا بھی ایسا ہی انجام ہونا ہے ۔
اور انہوں نے اللہ کی قسم کھائی اپنے حلف میں حد کی کوشش سے کہ اللہ مردے نہ اٹھائے گا (ف۷۸) ہاں کیوں نہیں (۷۹) سچا وعدہ اس کے ذمہ پر لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (ف۸۰)
(ف78)شانِ نُزول : ایک مشرک ایک مسلمان کا مقروض تھا ، مسلمان نے مشرک پر تقاضا کیا دورانِ گفتگو میں اس نے اس طرح اللہ کی قسم کھائی کہ اس کی قسم جس سے میں مرنے کے بعد ملنے کی تمنّا رکھتا ہوں ، اس پر مشرک نے کہا کہ کیا تیرا یہ خیال ہے کہ تو مرنے کے بعد اٹھے گا اور مشرک نے قسم کھا کر کہا کہ اللہ مردے نہ اٹھائے گا ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی اور فرمایا گیا ۔(ف79)یعنی ضرور اٹھائے گا ۔(ف80)اس اٹھانے کی حکمت اور اس کی قدرت بے شک وہ مُردوں کو اٹھائے گا ۔
اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں (ف۸٤) اپنے گھر بار چھوڑے مظلوم ہو کر ضرور ہم انھیں دنیا میں اچھی جگہ دیں گے (ف۸۵) اور بیشک آخرت کا ثواب بہت بڑا ہے کسی طرح لوگ جانتے ، (ف۸٦)
(ف84)اس کے دین کی خاطر ہجرت کی ۔ شانِ نُزول : قتادہ نے کہا کہ یہ آیت اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں نازِل ہوئی ، جن پر اہلِ مکّہ نے بہت ظلم کئے اور انہیں دین کی خاطر وطن چھوڑنا ہی پڑا ، بعض ان میں سے حبشہ چلے گئے پھر وہاں سے مدینۂ طیبہ آئے اور بعض مدینہ شریف ہی کو ہجرت کر گئے ۔ انہوں نے ۔(ف85)وہ مدینۂ طیّبہ ہے جس کو اللہ تعالٰی نے ان کے لئے دار الہجرت بنایا ۔ (ف86)یعنی کُفّار یا وہ لوگ جو ہجرت کرنے سے رہ گئے کہ اس کا اجر کتنا عظیم ہے ۔
وہ جنہوں نے صبر کیا (ف۸۷) اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں (ف۸۸)
(ف87) وطن کی مفارقت اور کُفّار کی ایذا اور جان و مال کے خرچ کرنے پر ۔(ف88)اور اس کے دین کی وجہ سے جو پیش آئے اس پر راضی ہیں اور خَلق سے انقطاع کر کے بالکل حق کی طرف متوجہ ہیں اور سالک کے لئے یہ انتہائے سلوک کا مقام ہے ۔
اور ہم نے تم سے پہلے نہ بھیجے مگر مرد (ف۸۹) جن کی طرف ہم وحی کرتے، تو اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہیں ، (ف۹۰)
(ف89)شانِ نُزول : یہ آیت مشرکینِ مکّہ کے جواب میں نازِل ہوئی جنہوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوّت کا اس طرح انکار کیا تھا کہ اللہ تعالٰی کی شان اس سے برتر ہے کہ وہ کسی بشر کو رسول بنائے ۔ انہیں بتایا گیا کہ سنّتِ الٰہی اسی طرح جاری ہے ہمیشہ اس نے انسانوں میں سے مَردوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا ۔(ف90)حدیث شریف میں ہے بیماریٔ جہل کی شفاء عُلَماء سے دریافت کرنا ہے لہذا عُلَماء سے دریافت کرو وہ تمہیں بتا دیں گے کہ سنّتِ الٰہیہ یونہی جاری رہی کہ اس نے مَردوں کو رسول بنا کر بھیجا ۔
روشن دلیلیں اور کتابیں لے کر (ف۹۱) اور اے محبوب ہم نے تمہاری ہی طرف یہ یادگار اتاری (ف۹۲) کہ تم لوگوں سے بیان کردو جو (ف۹۳) ان کی طرف اترا اور کہیں وہ دھیان کریں،
(ف91)مفسِّرین کا ایک قول یہ ہے کہ معنی یہ ہیں کہ روشن دلیلوں اور کتابوں کے جاننے والوں سے پوچھو اگر تم کو دلیل و کتاب کا علم نہ ہو ۔مسئلہ : اس آیت سے تقلیدِ آئمہ کا وجوب ثابت ہوتا ہے ۔ (ف92)یعنی قرآن شریف ۔(ف93)حکم ۔
تو کیا جو لوگ بڑے مکر کرتے ہیں (ف۹٤) اس سے نہیں ڈرتے کہ اللہ انھیں زمین میں دھنسادے (ف۹۵) یا انھیں وہاں سے عذاب آئے جہاں سے انھیں خبر نہ ہو، (ف۹٦)
(ف94)رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے ساتھ اور ان کی ایذا کے درپے رہتے ہیں اور چُھپ چُھپ کر فساد انگیزی کی تدبیریں کیا کرتے ہیں جیسے کہ کُفّارِ مکّہ ۔(ف95)جیسے قارون کو دھنسا دیا تھا ۔(ف96)چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ بدر میں ہلاک کئے گئے باوجود یکہ وہ یہ نہیں سمجھتے تھے ۔
اور کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ جو (ف۱۰۰) چیز اللہ نے بنائی ہے اس کی پرچھائیاں دائیں اور بائیں جھکتی ہیں (ف۱۰۱) اللہ کو سجدہ کرتی اور وہ اس کے حضور ذلیل ہیں (ف۱۰۲)
(ف100)سایہ دار ۔(ف101)صبح اور شام ۔(ف102)خوار و عاجز و مطیع و مُسخّر ۔
اور اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں جو کچھ آسمانوں میں ہیں اور جو کچھ زمین میں چلنے والا ہے (ف۱۰۳) اور فرشتے اور وہ غرور نہیں کرتے،
(ف103)سجدہ دو طرح پر ہے ، ایک سجدۂ طاعت و عبادت جیسا کہ مسلمانوں کا سجدہ اللہ کے لئے ، دوسرا سجدہ انقیاد و خضوع جیسا کہ سایہ وغیرہ کا سجدہ ۔ ہر چیز کا سجدہ اس کے حسبِ حیثیت ہے مسلمانوں اور فرشتوں کا سجدہ سجدۂ طاعت و عبادت ہے اور ان کے ماسوا کا سجدہ سجدۂ انقیاد و خضوع ۔
اپنے اوپر اپنے رب کا خوف کرتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جو انھیں حکم ہو، (ف۱۰٤)
(ف104)اس آیت سے ثابت ہوا کہ فرشتے مکلَّف ہیں اور جب ثابت کر دیا گیا کہ تمام آسمان و زمین کی کائنات اللہ کے حضور خاضع و متواضع اور عابد و مطیع ہے اور سب اس کے مملوک اور اسی کے تحتِ قدرت وتصرُّف ہیں تو شرک سے ممانعت فرمائی ۔
اور انجانی چیزوں کے لیے (ف۱۱۳) ہماری دی ہوئی روزی میں سے (ف۱۱٤) حصہ مقرر کرتے ہیں خدا کی قسم تم سے ضرور سوال ہونا ہے جو کچھ جھوٹ باندھتے تھے (ف۱۱۵)
(ف113)یعنی بُتوں کے لئے جن کا اِلٰہ اور مستحق اور نافع و ضار ہونا انہیں معلوم نہیں ۔(ف114)یعنی کھیتیوں اور چوپایوں وغیرہ میں سے ۔(ف115)بُتوں کو معبود اور اہلِ تقرب اوربُت پرستی کو خدا کا حکم بتا کر ۔
اور اللہ کے لیے بیٹیاں ٹھہراتے ہیں (ف۱۱٦) پاکی ہے اس کو (ف۱۱۷) اور اپنے لیے جو اپنا جی چاہتا ہے، (ف۱۱۸)
(ف116)جیسے کہ خزاعہ و کنانہ کہتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔ (معاذ اللہ)(ف117)وہ برتر ہے اولاد سے اور اس کی شان میں ایسا کہنا نہایت بے ادبی و کُفر ہے ۔(ف118)یعنی کُفر کے ساتھ ۔ یہ کمال بد تمیزی بھی ہے کہ اپنے لئے بیٹے پسند کرتے ہیں بیٹیاں ناپسند کرتے ہیں اور اللہ تعالٰی کے لئے جو مطلقاً اولاد سے منزّہ اور پاک ہے اور اس کے لئے اولاد ہی کا ثابت کرنا عیب لگانا ہے ، اس کے لئے اولاد میں بھی وہ ثابت کرتے ہیں جس کو اپنے لئے حقیر اور سببِ عار جانتے ہیں ۔
لوگوں سے (ف۱۲۰) چھپا پھرتا ہے اس بشارت کی برائی کے سبب، کیا اسے ذلت کے ساتھ رکھے گا یا اسے مٹی میں دبادے گا (ف۱۲۱) ارے بہت ہی برا حکم لگاتے ہیں، (ف۱۲۲)
(ف120)شرم کے مارے ۔(ف121) جیسا کہ کُفّارِ مُضَر و خزاعہ وتمیم لڑکیوں کو زندہ گاڑ دیتے تھے ۔(ف122)کہ اللہ تعالٰی کے لئے بیٹیاں ثابت کرتے ہیں جو اپنے لئے انہیں اس قدر ناگوار ہیں ۔
اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے ظلم پر گرفت کرتا (ف۱۲٤) تو زمین پر کوئی چلنے والا نہیں چھوڑتا (ف۱۲۵) لیکن انھیں ایک ٹھہرائے وعدے تک مہلت دیتا ہے (ف۱۲٦) پھر جب ان کا وعدہ آئے گا نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹیں نہ آگے بڑھیں،
(ف124)یعنی معاصی پر پکڑتا اور عذاب میں جلدی فرماتا ۔(ف125)سب کو ہلاک کر دیتا ۔ زمین پر چلنے والے سے یا کافر مراد ہیں جیسا کہ دوسری آیت میں وارد ہے اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اﷲِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یا یہ معنی ہیں کہ روئے زمین پر کسی چلنے والے کو باقی نہیں چھوڑتا جیسا کہ نوح علیہ السلام کے زمانہ میں جو کوئی زمین پر تھا ان سب کو ہلاک کر دیا صرف وہی باقی رہے جو زمین پر نہ تھے حضرت نوح علیہ الصلوٰۃ و السلام کے ساتھ کشتی میں تھے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ معنی یہ ہیں کہ ظالموں کو ہلاک کر دیتا اور ان کی نسلیں منقطع ہو جاتیں پھر زمین میں کوئی باقی نہ رہتا ۔(ف126)اپنے فضل و کرم اور حلم سے ٹھہرائے وعدے سے یا اختتامِ عمر مراد ہے یا قیامت ۔
اور اللہ کے لیے وہ ٹھہراتے ہیں جو اپنے لیے ناگوار ہے (ف۱۲۷) اور ان کی زبانیں جھوٹ کہتی ہیں کہ ان کے لیے بھلائی ہے (ف۱۲۸) تو آپ ہی ہوا کہ ان کے لیے آگ ہے اور وہ حد سے گزارے ہوئے ہیں، (ف۱۲۹)
(ف127)یعنی بیٹیاں اور شریک ۔(ف128)یعنی جنّت ۔ کُفّار باوجود اپنے کُفر و بہتان کے اور خدا کے لئے بیٹیاں بتانے کے بھی اپنے آپ کو حق پر گمان کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سچے ہوں اور خَلقت مرنے کے بعد پھر اٹھائی جائے تو جنّت ہمیں کو ملے گی کیونکہ ہم حق پر ہیں ۔ ان کے حق میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے ۔(ف129)جہنّم ہی میں چھوڑ دیئے جائیں گے ۔
خدا کی قسم ہم نے تم سے پہلے کتنی امتوں کی طرف رسول بھیجے تو شیطان نے ان کے کوتک (برُے اعمال) ان کی آنکھوں میں بھلے کر دکھائے (ف۱۳۰) تو آج وہی ان کا رفیق ہے (ف۱۳۱) اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے، (ف۱۳۲)
(ف130)اور انہوں نے اپنی بدیوں کو نیکیاں سمجھا ۔(ف131)دنیا میں اسی کے کہے پر چلتے ہیں اور جو شیطان کو اپنا رفیق اور مختار کار بنائے وہ ضرور ذلیل و خوار ہو یا یہ معنی ہیں کہ روزِ آخرت شیطان کے سوا انہیں کوئی رفیق نہ ملے گا اور شیطان خود ہی گرفتارِ عذاب ہوگا ، ان کی کیا مدد کر سکے گا ۔(ف132)آخرت میں ۔
اور اللہ نے آسمان سے پانی اتارا تو اس سے زمین کو (ف۱۳۵) زندہ کردیا اس کے مرے پیچھے (ف۱۳٦) بیشک اس میں نشانی ہے ان کو جو کان رکھتے ہیں، (ف۱۳۷)
(ف135)روئیدگی سے سرسبزی و شادابی بخش کر ۔(ف136)یعنی خشک اور بے سبزہ و بے گیاہ ہونے کے بعد ۔(ف137)اور سن کر سمجھتے اور غور کرتے ہیں ، وہ اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں جو قادرِ برحق زمین کو اس کی موت یعنی قوتِ نامیہ فنا ہو جانے کے بعد پھر زندگی دیتا ہے ، وہ انسان کو اس کے مرنے کے بعد بے شک زندہ کرنے پر قادر ہے ۔
اور بیشک تمہارے لیے چوپایوں میں نگاہ حاصل ہونے کی جگہ ہے (ف۱۳۸) ہم تمہیں پلاتے ہیں اس چیز میں سے جو ان کے پیٹ میں ہے، گوبر اور خون کے بیچ میں سے خالص دودھ گلے سے سہل اترتا پینے والوں کے لیے، (ف۱۳۹)
(ف138)اگر تم اس میں غور کرو تو بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہو اور حکمتِ الٰہیہ کے عجائب پر تمہیں آگاہی حاصل ہو سکتی ہے ۔(ف139)جس میں کوئی شائبہ کسی چیز کی آمیزش کا نہیں باوجود یکہ حیوان کے جسم میں غذا کا ایک ہی مقام ہے جہاں چارا ، گھاس ، بھوسہ وغیرہ پہنچتا ہے اور دودھ ، خون ، گوبر سب اسی غذا سے پیدا ہوتے ہیں ، ان میں سے ایک دوسرے سے ملنے نہیں پاتا ، دودھ میں نہ خون کی رنگت کا شائبہ ہوتا ہے نہ گوبر کی بو کا ، نہایت صاف لطیف برآمد ہوتا ہے ۔ اس سے حکمتِ الٰہیہ کی عجیب کاری ظاہر ہے اوپر مسئلۂ بعث کا بیان ہو چکا ہے یعنی مُردوں کو زندہ کئے جانے کا ، کُفّار اس کے منکِر تھے اور انہیں اس میں دو شبہے درپیش تھے ایک تویہ کہ جو چیز فاسد ہو گئی اور اس کی حیات جاتی رہی اس میں دوبارہ پھر زندگی کس طرح لوٹے گی ، اس شبہ کا ازالہ تو اس سے پہلی آیت میں فرما دیا گیا کہ تم دیکھتے رہتے ہو کہ ہم مردہ زمین کو خشک ہونے کے بعد آسمان سے پانی برسا کر حیات عطا فرما دیا کرتے ہیں تو قدرت کا یہ فیض دیکھنے کے بعدکسی مخلوق کا مرنے کے بعد زندہ ہونا ایسے قادرِ مطلق کی قدرت سے بعید نہیں ، دوسرا شبہ کُفّار کا یہ تھا کہ جب آدمی مرگیا اور اس کے جسم کے اجزا منتشر ہوگئے اور خاک میں مِل گئے وہ اجزاء کس طرح جمع کئے جائیں گے اور خاک کے ذروں سے ان کو کس طرح ممتاز کیا جائے گا ، اس آیتِ کریمہ میں جو صاف دودھ کا بیان فرمایا اس میں غورکرنے سے وہ شبہ بالکل نیست و نابود ہو جاتا ہے کہ قدرتِ الٰہی کی یہ شان تو روزانہ دیکھنے میں آتی ہے کہ وہ غذا کے مخلوط اجزاء میں سے خالص دودھ نکالتا ہے اور اس کی قرب و جوار کی چیزوں کی آمیزش کا شائبہ بھی اس میں نہیں آتا ، اس حکیمِ برحق کی قدرت سے کیا بعید کہ انسانی جسم کے اجزاء کو منتشر ہونے کے بعد پھر مجتمع فرما دے ۔ شقیق بلخی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ نعمت کا اتمام یہی ہے کہ دودھ صاف خالص آئے اور اس میں خون اور گوبر کے رنگ و بُو کا نام و نشان نہ ہو ورنہ نعمت تام نہ ہوگی اور طبعِ سلیم اس کو قبول نہ کرے گی جیسی صاف نعمت پروردگار کی طرف سے پہنچتی ہے ۔ بندے کو لازم ہے کہ وہ بھی پروردگار کے ساتھ اخلاص سے معاملہ کرے اور اس کے عمل ریا اور ہوائے نفس کی آمیزشوں سے پاک و صاف ہوں تاکہ شرف قبول سے مشرف ہوں ۔
اور کھجور اور انگور کے پھلوں میں سے (ف۱٤۰) کہ اس سے نبیذ بناتے ہو اور اچھا رزق (ف۱٤۱) بیشک اس میں نشانی ہے عقل والوں کو،
(ف140)ہم تمہیں رس پلاتے ہیں ۔(ف141) یعنی سرکہ اور رُب اور خرمہ اور مویز ۔مسئلہ : مویز اور انگور وغیرہ کا رس جب اس قدر پکا لیا جائے کہ دو تہائی جل جائے اور ایک تہائی باقی رہے اور تیز ہو جائے اس کو نبیذ کہتے ہیں یہ حدِ سُکر تک نہ پہنچے اور نشہ نہ لائے تو شیخین کے نزدیک حلال ہے اور یہی آیت اور بہت سی احادیث ان کی دلیل ہے ۔
پھر ہر قسم کے پھل میں سے کھا اور (ف۱٤۲) اپنے رب کی راہیں چل کر تیرے لیے نرم و آسان ہیں، (ف۱٤۳) اس کے پیٹ سے ایک پینے کی چیز رنگ برنگ نکلتی ہے ، جس میں لوگوں کی تندرستی ہے، بیشک اس میں نشانی ہے (ف۱٤۷) دھیان کرنے والوں کو، (ف۱٤۸)
(ف142)پھلوں کی تلاش میں ۔(ف143)فضلِ الٰہی سے جس کا تجھے الہام کیا گیا ہے حتی کہ تجھے چلنا پھرنا دشوار نہیں اور تو کتنی ہی دور نکل جائے راہ نہیں بہکتی اور اپنے مقام پر واپس آ جاتی ہے ۔(ف144)یعنی شہد ۔(ف145) سفید اور زَرد اور سُرخ ۔(ف146) اور نافع ترین دواؤں میں سے ہے اور بکثرت معاجین میں شامل کیا جاتا ہے ۔(ف147)اللہ تعالٰی کی قدرت و حکمت پر ۔(ف148)کہ اس نے ایک کمزور ناتُوان مکھی کو ایسی زِیرکی و دانائی عطا فرمائی اور ایسی دقیق صنعتیں مرحمت کیں ۔ پاک ہے وہ اور اپنی ذات و صفات میں شریک سے منزّہ ۔ اس سے فکر کرنے والوں کو اس پر بھی تنبیہ ہو جاتی ہے کہ وہ اپنی قدرتِ کاملہ سے ایک ادنٰی ضعیف سی مکھی کو یہ صفت عطا فرماتا ہے کہ وہ مختلف قسم کے پھولوں اور پھلوں سے ایسے لطیف اجزاء حاصل کرے جن سے نفیس شہد بنے ، جو نہایت خوشگوار ہو ، طاہر و پاکیزہ ہو ، فاسد ہونے اور سڑنے کی اس میں قابلیت نہ ہو تو جو قادر حکیم ایک مکھی کو اس مادے کے جمع کرنے کی قدرت دیتا ہے وہ اگر مرے ہوئے انسان کے منتشر اجزاء کو جمع کر دے تو اس کی قدرت سے کیا بعید ہے ، مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کو محال سمجھنے والے کس قدر احمق ہیں ۔ اس کے بعد اللہ تعالٰی اپنے بندوں پر اپنی قدرت کے وہ آثار ظاہر فرماتا ہے جو خود ان میں اور ان کے احوال میں نمایاں ہیں ۔
اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا (ف۱٤۹) پھر تمہاری جان قبض کرے گا (ف۱۵۰) اور تم میں کوئی سب سے ناقض عمر کی طرف پھیرا جاتا ہے (ف۱۵۱) کہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے (ف۱۵۲) بیشک اللہ کچھ جانتا ہے سب کچھ کرسکتا ہے،
(ف149)عدم سے اور نیستی کے بعد ہستی عطا فرمائی کیسی عجیب قدرت ہے ۔(ف150)اور تمہیں زندگی کے بعد موت دے گا جب تمہاری اجل پوری ہو جو اس نے مقرر فرمائی ہے خواہ بچپن میں یا جوانی میں یا بڑھاپے میں ۔(ف151) جس کا زمانہ عمرِ انسانی کے مراتب میں ساٹھ سال کے بعد آتا ہے کہ قُوٰی اور حواس سب ناکارہ ہو جاتے ہیں اور انسان کی یہ حالت ہو جاتی ہے ۔(ف152)اور نادانی میں بچوں سے زیادہ بدتر ہو جائے ۔ ان تغیُّرات میں قدرتِ الٰہی کے کیسے عجائب مشاہدے میں آتے ہیں ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ مسلمان بفضلِ الٰہی اس سے محفوظ ہیں ، طولِ عمر و بقا سے انہیں اللہ کے حضور میں کرامت اور عقل و معرفت کی زیادتی حاصل ہوتی ہے اور ہو سکتا ہے کہ توجہ الی اللہ کا ایسا غلبہ ہو کہ اس عالَم سے انقطاع ہو جائے ، بندۂ مقبول دنیا کی طرف التفات سے مجتنب ہو ۔ عِکرمہ کا قول ہے کہ جس نے قرآنِ پاک پڑھا وہ اس ارذل عمر کی حالت کو نہ پہنچے گا کہ علم کے بعد مَحض بے علم ہو جائے ۔
اور اللہ نے تم میں ایک دوسرے پر رزق میں بڑائی دی (ف۱۵۳) تو جنہیں بڑائی دی ہے وہ اپنا رزق اپنے باندی غلاموں کو نہ پھیر دیں گے کہ وہ سب اس میں برابر ہوجائیں (ف۱۵٤) تو کیا اللہ کی نعمت سے مکرتے ہیں، (ف۱۵۵)
(ف153)تو کسی کو غنی کیا، کسی کو فقیر ، کسی کو مالدار ، کسی کو نادار ، کسی کو مالک ، کسی کو مملوک ۔(ف154)اور باندی غلام آقاؤں کے شریک ہو جائیں ، جب تم اپنے غلاموں کو اپنا شریک بنانا گوارا نہیں کرتے تو اللہ کے بندوں اور اس کے مملوکوں کو اس کا شریک ٹھہرانا کس طرح گوارا کرتے ہو ، سبحان اللہ یہ بُت پرستی کا کیسا نفیس دل نشین اور خاطر گُزین رد ہے ۔(ف155)کہ اس کو چھوڑ کر مخلوق کو پوجتے ہیں ۔
اور اللہ نے تمہارے لیے تمہاری جنس سے عورتیں بنائیں اور تمہارے لیے تمہاری عورتوں سے بیٹے اور پوتے نواسے پیدا کیے اور تمہیں ستھری چیزوں سے روزی دی (ف۱۵٦) تو کیا جھوٹی بات (ف۱۵۷) پر یقین لاتے ہیں اور اللہ کے فضل (ف۱۵۸) سے منکر ہوتے ہیں،
(ف156) قسم قسم کے غلوں ، پھلوں ، میووں ، کھانے پینے کی چیزوں سے ۔(ف157)یعنی شرک و بُت پرستی ۔(ف158) اللہ کے فضل و نعمت سے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ گرامی یا اسلام مراد ہے ۔ ( مدارک)
اللہ نے ایک کہاوت بیان فرمائی (ف۱٦۱) ایک بندہ ہے دوسرے کی ملک آپ کچھ مقدور نہیں رکھتا اور ایک جسے ہم نے اپنی طرف سے اچھی روزی عطا فرمائی تو وہ اس میں سے خرچ کرتا ہے چھپے اور ظاہر (ف۱٦۲) کیا وہ برابر ہوجائیں گے (ف۱٦۳) سب خوبیاں اللہ کو ہیں بلکہ ان میں اکثر کو خبر نہیں (ف۱٦٤)
(ف161)یہ کہ ۔(ف162) جیسے چاہتا ہے تصرّف کرتا ہے تو وہ عاجز مملوک غلام اور یہ آزاد ، مالک صاحبِ مال جو بفضلِ الٰہی قدرت و اختیار رکھتا ہے ۔(ف163)ہر گز نہیں تو جب غلام و آزاد برابر نہیں ہو سکتے باوجود یکہ دونوں اللہ کے بندے ہیں تو اللہ خالِق مالک قادر کے ساتھ بے قدرت و اختیار بُت کیسے شریک ہو سکتے ہیں اور ان کو اس کے مثل قرار دینا کیسا بڑا ظلم و جہل ہے ۔(ف164)کہ ایسے براہینِ بیّنہ اور حجّتِ واضحہ کے ہوتے ہوئے شرک کرنا کتنے بڑے وبال و عذاب کا سبب ہے ۔
اور اللہ نے کہاوت بیان فرمائی دو مرد ایک گونگا جو کچھ کام نہیں کرسکتا (ف۱٦۵) اور وہ اپنے آقا پر بوجھ ہے جدھر بھیجے کچھ بھلائی نہ لائے (ف۱٦٦) کیا برابر ہوجائے گا وہ اور وہ جو انصاف کا حکم کرتا ہے اور وہ سیدھی راہ پر ہے ، (ف۱٦۷)
(ف165)نہ اپنی کسی سے کہہ سکے نہ دوسرے کی سمجھ سکے ۔(ف166)اور کسی کام نہ آئے ۔ یہ مثال کافِر کی ہے ۔(ف167)یہ مثال مومن کی ہے ۔ معنی یہ ہیں کہ کافِر ناکارہ گونگے غلام کی طرح ہے وہ کسی طرح مسلمان کی مثل نہیں ہو سکتا جو عدل کا حکم کرتا ہے اور صراطِ مستقیم پر قائم ہے ۔ بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ گونگے ناکارہ غلام سے بُتوں کو تمثیل دی گئی اور انصاف کا حکم دینا شانِ الٰہی کا بیان ہوا ، اس صورت میں معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالٰی کے ساتھ بُتوں کو شریک کرنا باطل ہے کیونکہ انصاف قائم کرنے والے بادشاہ کے ساتھ گونگے اور ناکارہ غلام کو کیا نسبت ۔
اور اللہ ہی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزیں (ف۱٦۸) اور قیامت کا معاملہ نہیں مگر جیسے ایک پلک کا مارنا بلکہ اس سے بھی قریب (ف۱٦۹) بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے
(ف168)اس میں اللہ تعالٰی کے کمال علم کا بیان ہے کہ وہ جمیع غیوب کا جاننے والا ہے اس پر کوئی چھپنے والی چیزپوشیدہ نہیں رہ سکتی ۔ بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ اس سے مراد علمِ قیامت ہے ۔(ف169)کیونکہ پلک مارنا بھی زمانہ چاہتا ہے جس میں پلک کی حرکت حاصل ہو اور اللہ تعالٰی جس چیز کا ہونا چاہے وہ کُنْ فرماتے ہی ہو جاتی ہے ۔
اور اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤوں کے پیٹ سے پیدا کیا کہ کچھ نہ جانتے تھے (ف۱۷۰) اور تمہیں کان اور آنکھ اور دل دیئے (ف۱۷۱) کہ تم احسان مانو ، (ف۱۷۲)
(ف170)اور اپنی پیدایش کی ابتداء اور اول فطرت میں علم و معرفت سے خالی تھے ۔(ف171)کہ ان سے اپنا پیدائشی جہل دور کرو ۔(ف172)اور علم و عمل سے فیض یاب ہو کر مُنعِم کا شکر بجا لاؤ اور اس کی عبادت میں مشغول ہو اور اس کے حقوقِ نعمت ادا کرو ۔
کیا انہوں نے پرندے نے پرندے نہ دیکھے حکم کے باندھے آسمان کی فضا میں، انھیں کوئی نہیں روکتا (ف۱۷۳) سوا اللہ کے بیشک اس میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کو ، (ف۱۷٤)
(ف173)گرنے سے ، باوجود یکہ جسم ثقیل بالطبع گرنا چاہتا ہے ۔(ف174)کہ اس نے انہیں ایسا پیدا کیا کہ وہ ہوا میں پرواز کر سکتے ہیں اور اپنے جسمِ ثقیل کی طبیعت کے خلاف ہوا میں ٹھہرے رہتے ہیں ، گرتے نہیں اور ہوا کو ایسا پیدا کیا کہ اس میں ان کی پرواز ممکن ہے ۔ ایماندار اس میں غور کرکے قدرتِ الٰہی کا اعتراف کرتے ہیں ۔
اور اللہ نے تمہیں گھر دیئے بسنے کو (ف۱۷۵) اور تمہارے لیے چوپایوں کی کھالوں سے کچھ گھر بناےٴ جو تمھیں ہلکے پڑتے ہیں تمھارے سفر کے دن اور منزلوں پرٹھہر نے کے دن، اور ان کی اون اور ببری (رونگٹوں) اور بالوں سے کچھ گرہستی (خانگی ضروریات) کا سامان (ف۱۷۷) اور برتنے کی چیزیں ایک وقت تک،
(ف175)جن میں تم آرام کرتے ہو ۔(ف176)مثل خیمہ وغیرہ کے ۔(ف177)بچھانے اوڑھنے کی چیزیں ۔ مسئلہ : یہ آیت اللہ کی نعمتوں کے بیان میں ہے مگر اس سے اشارۃً اُون اور پشمینے اور بالوں کی طہارت اور ان سے نفع اٹھانے کی حِلّت ثابت ہوتی ہے ۔
اور اللہ نے تمہیں اپنی بنائی ہوئی چیزوں (ف۱۷۸) سے سائے دیئے (ف۱۷۹) اور تمہارے لیے پہاڑوں میں چھپنے کی جگہ بنائی (ف۱۸۰) اور تمہارے لیے کچھ پہنادے بنائے کہ تمہیں گرمی سے بچائیں اور کچھ پہناوے (ف۱۸۱) کہ لڑائیں میں تمہاری حفاظت کریں (ف۱۸۲) یونہی اپنی نعمت تم پر پوری کرتا ہے (ف۱۸۳) کہ تم فرمان مانو (ف۱۸٤)
(ف178)مکانوں ، دیواروں ، چھتوں ، درختوں اور ابر وغیرہ ۔(ف179)جس میں تم آرام کرتے ہو ۔(ف180)غار وغیرہ کہ امیر و غریب سب آرام کر سکیں ۔(ف181)زرہ و جوشن وغیرہ ۔(ف182)کہ تیر تلوار نیزے وغیرہ سے بچاؤ کا سامان ہو ۔(ف183) دنیا میں تمہارے حوائج و ضروریات کا سامان پیدا فرما کر ۔(ف184) اور اس کی نعمتوں کا اعتراف کر کے اسلام لاؤ اور دینِ برحق قبول کرو ۔
پھر اگر وہ منہ پھیریں (ف۱۸۵) تو اے محبوب! تم پر نہیں مگر صاف پہنچا دینا، (ف۱۸٦)
(ف185)اور اے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ آپ پر ایمان لانے اور آپ کی تصدیق کرنے سے اعراض کریں اور اپنے کُفر پر جمے رہیں ۔(ف186)اور جب آپ نے پیامِ الٰہی پہنچا دیا تو آپ کا کام پورا ہو چکا اور نہ ماننے کا وبال ان کی گردن پر رہا ۔
اللہ کی نعمت پہنچانتے ہیں (ف۱۸۷) پھر اس سے منکر ہوتے ہیں (ف۱۸۸) اور ان میں اکثر کافر ہیں، (ف۱۸۹)
(ف187) یعنی جو نعمتیں کہ ذکر کی گئیں ان سب کو پہچانتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ سب اللہ کی طرف سے ہیں پھر بھی اس کا شکر بجا نہیں لاتے ۔ سدی کا قول ہے کہ اللہ کی نعمت سے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مراد ہیں ، اس تقدیر پر معنٰی یہ ہیں کہ وہ حضور کو پہچانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ آپ کا وجود اللہ تعالٰی کی بڑی نعمت ہے اور باوجود اس کے ۔(ف188)اور دینِ اسلام قبول نہیں کرتے ۔(ف189)معانِد کو حسد وعناد سے کُفر پر قائم رہتے ہیں ۔
اور جس دن (ف۱۹۰) ہم اٹھائیں گے ہر امت میں سے ایک گواہ (ف۱۹۱) پھر کافروں کو نہ اجازت ہو (ف۱۹۲) نہ وہ منائے جائیں ، (ف۱۹۳)
(ف190)یعنی روزِ قیامت ۔(ف191)جو ان کی تصدیق و تکذیب اور ایمان و کُفر کی گواہی دے اور یہ گواہ انبیاء ہیں علیہم السلام ۔(ف192) معذرت کی یا کسی کلام کی یا دنیا کی طرف لوٹنے کی ۔(ف193)یعنی نہ ان سے عتاب و ملامت دور کی جائے ۔
اور شرک کرنے والے جب اپنے شریکوں کو دیکھیں گے (ف۱۹۵) کہیں گے اے ہمارے رب! یہ ہیں ہمارے شریک کہ ہم تیرے سوا پوجتے تھے، تو وہ ان پر بات پھینکیں گے کہ تم بیشک جھوٹے ہو، (ف۱۹٦)
(ف195)بُتوں وغیرہ کو جنہیں پوجتے تھے ۔(ف196)جو ہمیں معبود بتاتے ہو ہم نے تمہیں اپنی عبادت کی دعوت نہیں دی ۔
اور جس دن ہم ہر گروہ میں ایک گواہ انھیں میں سے اٹھائیں گے کہ ان پر گواہی دے (ف۲۰۱) اور اے محبوب! تمہیں ان سب پر (ف۲۰۲) شاہد بناکر لائیں گے، اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے (ف۲۰۳) اور ہدایت اور رحمت اور بشارت مسلمانوں کو،
(ف201) یہ گواہ انبیاء ہوں گے جو اپنی اپنی اُمّتوں پر گواہی دیں گے ۔(ف202)اُمّتوں اور ان کے شاہدوں پر جو انبیاء ہوں گے جیسا کہ دوسری آیت میں وارد ہوا فَکَیْفَ اِذَاجِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَھِیدٍ وَّ جِئْنَا بِکَ عَلیٰ ھٰؤُلَۤا ءِ شَھِیْداً ۔ (ابوالسعو د و غیرہ)(ف203)جیسا کہ دوسری آیت میں ارشاد فرمایا مَا فَرَّطْنَا فِی الْکِتَابِ مِنْ شَیْئٍ اور ترمذی کی حدیث میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیش آنے والے فتنوں کی خبر دی ، صحابہ نے ان سے خلاص کا طریقہ دریافت کیا ، فرمایا کتاب اللہ میں تم سے پہلے واقعات کی بھی خبر ہے ، تم سے بعد کے واقعات کی بھی اور تمہارے مابین کاعلم بھی ۔ حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے فرمایا جو علم چاہے وہ قرآن کو لازم کر لے ، اس میں اولین و آخرین کی خبریں ہیں ۔ امام شافعی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ اُمّت کے سارے علوم حدیث کی شرح ہیں اور حدیث قرآن کی اور یہ بھی فرمایا کہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کوئی حکم بھی فرمایا وہ وہی تھا جو آپ کو قرآنِ پاک سے مفہوم ہوا ۔ ابوبکر بن مجاہد سے منقول ہے انہوں نے ایک روز فرمایا کہ عالَم میں کوئی چیز ایسی نہیں جو کتاب اللہ یعنی قرآن شریف میں مذکور نہ ہو اس پر کسی نے ان سے کہا سراؤں کا ذکر کہاں ہے ؟ فرمایا اس آیت لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتاً غَیْرَ مَسْکُوْنَۃٍ فِیْھَا مَتَاعٌ لَّکُمْ الخ ابنِ ابو الفضل مرسی نے کہا کہ اولین و آخرین کے تمام علوم قرآنِ پاک میں ہیں ۔ غرض یہ کتاب جامع ہے جمیع علوم کی جس کسی کو اس کا جتنا علم ملا ہے اتنا ہی جانتا ہے ۔
بیشک اللہ حکم فرماتا ہے انصاف اور نیکی (ف۲۰٤) اور رشتہ داروں کے دینے کا (ف۲۰۵) اور منع فرماتا بےحیائی (ف۲۰٦) اور برُی بات (ف۲۰۷) اور سرکشی سے (ف۲۰۸) تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ تم دھیان کرو،
(ف204)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ انصاف تو یہ ہے کہ آدمی لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی گواہی دے اور نیکی اور فرائض کا ادا کرنا اور آپ ہی سے ایک اور روایت ہے کہ انصاف شرک کا ترک کرنا اور نیکی اللہ کی اس طرح عبادت کرنا گویا وہ تمہیں دیکھ رہا ہے اور دوسروں کے لئے وہی پسند کرنا جو اپنے لئے پسند کرتے ہو ، اگر وہ مومن ہو تو اس کے برکاتِ ایمان کی ترقی تمہیں پسند ہو اور اگر کافِر ہو تو تمہیں یہ پسند آئے کہ وہ تمہارا اسلامی بھائی ہو جائے ۔ انہیں سے ایک اور روایت ہے اس میں ہے کہ انصاف توحید ہے اور نیکی اخلاص اور ان تمام روایتوں کا طرزِ بیان اگرچہ جُداجُدا ہے لیکن مآل و مدعا ایک ہی ہے ۔(ف205)اور ان کے ساتھ صلہ رحمی اور نیک سلوک کرنے کا ۔(ف206)یعنی ہر شرمناک مذموم قول و فعل ۔(ف207)یعنی شرک و کُفر و معاصی تمام ممنوعاتِ شرعیہ ۔(ف208)یعنی ظلم و تکبر سے ۔ ابنِ عینیہ نے اس آیت کی تفسیر میں کہا کہ عدل ظاہر و باطن دونوں میں برابر حق و طاعت بجا لانے کو کہتے ہیں اور احسان یہ ہے کہ باطن کا حال ظاہر سے بہتر ہو اور فَحشاء و منکَر و بغی یہ ہے کہ ظاہر اچھا ہو اور باطن ایسا نہ ہو ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا اس آیت میں اللہ تعالٰی نے تین چیزوں کا حکم دیا اور تین سے منع فرمایا عدل کا حکم دیا اور وہ انصاف و مساوات ہے ، اقوال و افعال میں اس کے مقابل فَحشا یعنی بے حیائی ہے ، وہ قبیح اقوال و افعال ہیں اور احسان کا حکم فرمایا وہ یہ ہے کہ جس نے ظلم کیا اس کو معاف کرو اور جس نے برائی کی اس کے ساتھ بھلائی کرو ، اس کے مقابل منکَر ہے یعنی محسن کے احسان کا انکار کرنا اور تیسرا حکم اس آیت میں رشتہ داروں کو دینے اور ان کے ساتھ صلہ رحمی اور شفقت و مَحبت کا فرمایا ، اس کے مقابل بغی ہے اور وہ اپنے آپ کو اونچا کھینچنا اور اپنے علاقہ داروں کے حقوق تلف کرنا ہے ۔ ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ یہ آیت تمام خیر و شر کے بیان کو جامع ہے ، یہی آیت حضرت عثمان بن مظعون کے اسلام کا سبب ہوئی جو فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نُزول سے ایمان میرے دل میں جگہ پکڑ گیا ، اس آیت کا اثر اتنا زبردست ہوا کہ ولید بن مغیرہ اور ابو جہل جیسے سخت دل کُفّار کی زبانوں پر بھی اس کی تعریف آ ہی گئی ۔ اس لئے یہ آیت ہر خطبہ کے آخر میں پڑھی جاتی ہے ۔
اور اللہ کا عہد پورا کرو (ف۲۰۹) جب قول باندھو اور قسمیں مضبوط کرکے نہ توڑو اور تم اللہ کو (ف۲۱۰) اپنے اوپر ضامن کرچکے ہو، بیشک تمہارے کام جانتا ہے،
(ف209)یہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازِل ہوئی جنہوں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی تھی ، انہیں اپنے عہد کے وفا کرنے کا حکم دیا گیا اور یہ حکم انسان کے ہر عہدِ نیک اور وعدہ کو شامل ہے ۔(ف210)اس کے نام کی قسم کھا کر ۔
اور (ف۲۱۱) اس عورت کی طرح نہ ہو جس نے اپنا سُوت مضبوطی کے بعد ریزہ ریزہ کرکے توڑ دیا
(ف211)تم عہد اور قسمیں توڑ کر ۔(ف212)مکّۂ مکرّمہ میں ریطہ بنت عمرو ایک عورت تھی جس کی طبیعت میں بہت وہم تھا اور عقل میں فتور ، وہ دوپہر تک محنت کر کے سُوت کاتا کرتی اور اپنی باندیوں سے بھی کتواتی اور دوپہر کے وقت اس کاتے ہوئے کو توڑ کر ریزہ ریزہ کر ڈالتی اور باندیوں سے بھی توڑواتی ، یہی اس کا معمول تھا ۔ معنی یہ ہیں کہ اپنے عہد کو توڑ کر اس عورت کی طرح بے وقوف نہ بنو ۔(ف213)مجاہد کا قول ہے کہ لوگوں کا طریقہ یہ تھا کہ ایک قوم سے حلف کرتے اور جب دوسری قوم اس سے زیادہ تعداد یا مال یا قوت میں پاتے تو پہلوں سے جو حلف کئے تھے توڑ دیتے اور اب دوسرے سے حلف کرتے ۔ اللہ تعالٰی نے اس کو منع فرمایا اور عہد کے وفا کرنے کا حکم دیا ۔(ف214)کہ مطیع اور عاصی ظاہر ہو جائے ۔(ف215)اعمال کی جزا دے کر ۔(ف216)دنیا کے اندر ۔
اور اللہ چاہتا تو تم کو ایک ہی امت کرتا (ف۲۱۷) لیکن اللہ گمراہ کرتا ہے (ف۲۱۸) جسے چاہے، اور راہ دیتا ہے (ف۲۱۹) جسے چاہے، اور ضرور تم سے (ف۲۲۰) تمہارے کام پوچھے جائیں گے، (ف۲۲۱)
(ف217)کہ تم سب ایک دین پر ہوتے ۔(ف218)اپنے عدل سے ۔(ف219)اپنے فضل سے ۔(ف220)روزِ قیامت ۔(ف221)جو تم نے دنیا میں کئے ۔
اور اپنی قسمیں آپس میں بے اصل بہانہ نہ بنالو کہ کہیں کوئی پاؤں (ف۲۲۲) جمنے کے بعد لغزش نہ کرے اور تمہیں برائی چکھنی ہو (ف۲۲۳) بدلہ اس کا کہ اللہ کی راہ سے روکتے تھے اور تمہیں بڑا عذاب ہو (ف۲۲٤)
(ف222)راہِ حق و طریقۂ اسلام سے ۔(ف223)یعنی عذاب ۔(ف224)آخرت میں ۔
جو تمہارے پاس ہے (ف۲۲۷) ہوچکے گا اور جو اللہ کے پاس ہے (ف۲۲۸) ہمیشہ رہنے والا، اور ضرور ہم صبر کرنے والوں کو ان کا وہ صلہ دیں گے جو ان کے سب سے اچھے کام کے قابل ہو، (ف۲۲۹)
(ف227)سامانِ دنیا یہ سب فنا ہو جائے گا اور ختم ۔(ف228)اس کا خزانۂ رحمت و ثوابِ آخرت ۔(ف229)یعنی ان کی ادنٰی سی ادنٰی نیکی پر بھی وہ اجر و ثواب دیا جائے گا جو وہ اپنی اعلٰی نیکی پر پاتے ۔ (ابوالسعود)
جو اچھا کام کرے مرد ہو یا عورت اور ہو مسلمان (ف۲۳۰) تو ضرور ہم اسے اچھی زندگی جِلائیں گے (ف۲۳۱) اور ضرور انھیں ان کا نیگ (اجر) دیں گے جو ان کے سب سے بہتر کام کے لائق ہوں،
(ف230)یہ ضرور شرط ہے کیونکہ کُفّار کے اعمال بیکار ہیں ۔ عملِ صالح کے موجبِ ثواب ہونے کے لئے ایمان شرط ہے ۔(ف231)دنیا میں رزقِ حلال اور قناعت عطا فرما کر اور آخرت میں جنّت کی نعمتیں دے کر ۔ بعض عُلَماء نے فرمایا کہ اچھی زندگی سے لذّتِ عبادت مراد ہے ۔حکمت : مومن اگرچہ فقیر بھی ہو اس کی زندگانی دولتمند کافِر کے عیش سے بہتر اور پاکیزہ ہے کیونکہ مومن جانتا ہے کہ اس کی روزی اللہ کی طرف سے ہے جو اس نے مقدر کیا اس پر راضی ہوتا ہے اور مومن کا دل حرص کی پریشانیوں سے محفوظ اور آرام میں رہتا ہے اور کافِر جو اللہ پر نظر نہیں رکھتا وہ حریص رہتا ہے اور ہمیشہ رنج و تعب اور تحصیلِ مال کی فکر میں پریشان رہتا ہے ۔
تو جب تم قرآن پڑھو تو اللہ کی پناہ مانگو شیطان مردود سے، (ف۲۳۲)،
(ف232)یعنی قرآنِ کریم کی تلاوت شروع کرتے وقت اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ پڑھو یہ مستحب ہے ۔ اعوذ الخ کے مسائل سورۂ فاتحہ کی تفسیرمیں مذکور ہو چکے ۔
اور جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت بدلیں (ف۲۳٤) اور اللہ خوب جانتا ہے جو اتارتا ہے (ف۲۳۵) کافر کہیں تم تو دل سے بنا لاتے ہو (ف۲۳٦) بلکہ ان میں اکثر کو علم نہیں، (ف۲۳۷)
(ف234)اور اپنی حکمت سے ایک حکم کو منسوخ کر کے دوسرا حکم دیں ۔ شانِ نُزول : مشرکینِ مکّہ اپنی جہالت سے نسخ پر اعتراض کرتے تھے اور اس کی حکمتوں سے نا واقف ہونے کے باعث اس کو تمسخُر بناتے تھے اور کہتے تھے کہ محمّد (مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک روز ایک حکم دیتے ہیں دوسرے روز اور دوسرا ہی حکم دیتے ہیں ، وہ اپنے دل سے باتیں بناتے ہیں ، اس پر یہ آیت نازِل ہوئی ۔(ف235)کہ اس میں کیا حکمت اور اس کے بندوں کے لئے اس میں کیا مصلحت ہے ۔(ف236)اللہ تعالٰی نے اس پر کُفّار کی تجہیل فرمائی اور ارشاد کیا ۔(ف237)اور وہ نسخ و تبدیل کی حکمت و فوائد سے خبردار نہیں اور یہ بھی نہیں جانتے کہ قرآنِ کریم کی طرف افتراء کی نسبت ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ جس کلام کے مثل بنانا قدرتِ بشری سے باہر ہے وہ کسی انسان کا بنایا ہوا کیسے ہو سکتا ہے لہذا سیدِعالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خِطاب ہوا ۔
اور بیشک ہم جانتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں، یہ تو کوئی آدمی سکھاتا ہے، جس کی طرف ڈھالتے ہیں اس کی زبان عجمی ہے اور یہ روشن عربی زبان (ف۲۳۹)
(ف239)قرآنِ کریم کی حلاوت اور اس کے علوم کی نورانیت جب قلوب کی تسخیرکرنے لگی اور کُفّار نے دیکھا کہ دنیا اس کی گرویدہ ہوتی چلی جاتی ہے اور کوئی تدبیر اسلام کی مخالفت میں کامیاب نہیں ہوتی تو انہوں نے طرح طرح کے افتراء اٹھانے شروع کئے ، کبھی اس کو سحر بتایا ، کبھی پہلوں کے قصّے اور کہانیاں کہا ، کبھی یہ کہا کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ خود بنا لیا ہے اور ہر طرح کوشش کی کہ کسی طرح لوگ اس کتابِ مقدس کی طرف سے بدگمان ہوں ، انہیں مکاریوں میں سے ایک مکر یہ بھی تھا کہ انہوں نے ایک عجمی غلام کی نسبت یہ کہا کہ وہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سکھاتا ہے ۔ اس کے رد میں یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیا کہ ایسی باطل باتیں دنیا میں کون قبول کر سکتا ہے جس غلام کی طرف کُفّار نسبت کرتے ہیں وہ تو عجمی ہے ، ایسا کلام بنانا اس کے تو کیا امکان میں ہوتا تمہارے فُصَحاء و بُلَغاء جن کی زبان دانی پر اہلِ عرب کو فخر و ناز ہے وہ سب کے سب حیران ہیں اور چند جملے قرآن کی مثل بنانا انہیں محال اور ان کی قدرت سے باہر ہے تو ایک عجمی کی طرف ایسی نسبت کس قدر باطل اور بے شرمی کا فعل ہے ۔ خدا کی شان جس غلام کی طرف کُفّار یہ نسبت کرتے تھے اس کو بھی اس کلام کے اعجاز نے تسخیر کیا اور وہ بھی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حلقہ بگوشِ طاعت ہوا اور صدق و اخلاص کے ساتھ اسلام لایا ۔
جو ایمان لا کر اللہ کا منکر ہو سوا اس کے مجبور کیا جاےٴ اور اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو ، ہاں وہ جو دل کھول کر کافر ہو ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کو بڑاعذاب ہے،
(ف243)اس پر اللہ کا غضب ۔(ف244)وہ مغضوب نہیں ۔شانِ نُزول : یہ آیت عمار بن یاسر کے حق میں نازِل ہوئی انہیں اور ان کے والد یاسر اور ان کی والدہ سمیہ اور صہیب او ربلال اور خبّاب اور سالم رضی اللہ تعالٰی عنہم کو پکڑ کر کُفّار نے سخت سخت ایذائیں دیں تاکہ وہ اسلام سے پِھر جائیں لیکن یہ حضرات نہ پھرے تو کُفّار نے حضرت عمار کے والدین کو بہت بے رحمیوں سے قتل کیا اور عمار ضعیف تھے ، بھاگ نہیں سکتے تھے ، انہوں نے مجبور ہو کر جب دیکھا کہ جان پر بن گئی تو بادل نخواستہ کلمۂ کُفر کا تلفُّظ کر دیا ، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر دی گئی کہ عمار کافِر ہو گئے ، فرمایا ہر گز نہیں عمار سر سے پاؤں تک ایمان سے پر ہیں اور اس کے گوشت اور خون میں ذوقِ ایمانی سرایت کر گیا ہے پھر حضرت عمار روتے ہوئے خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے ، حضور نے فرمایا کیا ہوا ؟ عمار نے عرض کیا اے خدا کے رسول بہت ہی برا ہوا اور بہت ہی برے کلمے میری زبان پر جاری ہوئے ، ارشاد فرمایا اس وقت تیرے دل کا کیا حال تھا ؟ عرض کیا دل ایمان پر خوب جما ہوا تھا ، نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شفقت و رحمت فرمائی اور فرمایا کہ اگر پھر ایسا اتفاق ہو تو یہی کرنا چاہیئے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی ۔ ( خازن) مسئلہ : آیت سے معلوم ہوا کہ حالاتِ اکراہ میں اگر دل ایمان پر جما ہوا ہو تو کلمۂ کُفر کا اجرا جائز ہے جب کہ آدمی کو اپنے جان یا کسی عضو کے تلف ہونے کا خوف ہو ۔مسئلہ : اگر اس حالت میں بھی صبر کرے اور قتل کر ڈالا جائے تو وہ ماجور اور شہید ہوگا جیسا کہ حضرت خبیب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے صبر کیا اور وہ سولی پر چڑھا کر شہید کر ڈالے گئے ، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں سید الشُہداء فرمایا ۔مسئلہ : جس شخص کو مجبور کیا جائے اگر اس کا دل ایمان پر جما ہوا نہ ہو وہ کلمۂ کُفر زبان پر لانے سے کافِر ہو جائے گا ۔مسئلہ : اگر کوئی شخص بغیر مجبوری کے تمسخُر یا جہل سے کلمۂ کُفر زبان پر جاری کرے کافِر ہو جائے گا ۔ (تفسیری احمدی)(ف245)رضا مندی اور اعتقاد کے ساتھ ۔
پھر بیشک تمہارا رب ان کے لیے جنہوں نے اپنے گھر چھوڑے (ف۲۵۰) بعد اس کے کہ ستائے گئے (ف۲۵۱) پھر انہوں نے (ف۲۵۲) جہاد کیا اور صابر رہے بیشک تمہارا رب اس (ف۲۵۳) کے بعد ضرور بخشنے والا ہے مہربان،
(ف250)اور مکّۂ مکرّمہ سے مدینۂ طیّبہ کو ہجرت کی ۔(ف251)کُفّار نے ان پر سختیاں کیں اور انہیں کُفر پر مجبور کیا ۔(ف252)ہجرت کے بعد ۔(ف253)ہجرت و جہاد و صبر ۔
جس دن ہر جان اپنی ہی طرف جھگڑتی آئے گی (ف۲۵٤) اور ہر جان کو اس کا کیا پورا بھردیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ ہوگا (ف۲۵۵)
(ف254)وہ روزِ قیامت ہے جب ہر ایک نَفْسِی نَفْسِیْ کہتا ہوگا اور سب کو اپنی اپنی پڑی ہوگی ۔(ف255)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ روزِ قیامت لوگوں میں خصومت یہاں تک بڑھے گی کہ روح و جسم میں جھگڑا ہوگا ، روح کہے گی یاربّ نہ میرے ہاتھ تھا کہ میں کسی کو پکڑتی ، نہ پاؤں تھاکہ چلتی ، نہ آنکھ کہ دیکھتی ، جسم کہے گا یاربّ میں تو لکڑی کی طرح تھا نہ میرا ہاتھ پکڑ سکتا تھا ، نہ پاؤں چل سکتا تھا ، نہ آنکھ دیکھ سکتی تھی ، جب یہ روح نوری شعاع کی طرح آئی تو اس سے میری زبان بولنے لگی ، آنکھ بینا ہوگئی ، پاؤں چلنے لگے جو کچھ کیا اس نے کیا ۔ اللہ تعالٰی ایک مثال بیان فرمائے گا کہ ایک اندھا اور ایک لُولا دونوں ایک باغ میں گئے ، اندھے کو توپھل نظر نہیں آتے تھے اور لُولے کا ہاتھ ان تک نہیں پہنچتا تھا تو اندھے نے لُولے کو اپنے اوپر سوار کر لیا اس طرح انہوں نے پھل توڑے تو سزا کے وہ دونوں مستحِق ہوئے ۔ اس لئے روح اور جسم دونوں ملز م ہیں ۔
اور اللہ نے کہاوت بیان فرمائی (ف۲۵٦) ایک بستی (ف۲۵۷) کہ امان و اطمینان سے تھی (ف۲۵۸) ہر طرف سے اس کی روزی کثرت سے آتی تو وہ اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے لگی (ف۲۵۹) تو اللہ نے اسے یہ سزا چکھائی کہ اسے بھوک اور ڈر کا پہناوا پہنایا (ف۲٦۰) بدلہ ان کے کیے کا ،
(ف256)ایسے لوگوں کے لئے جن پر اللہ تعالٰی نے انعام کیا اور وہ اس نعمت پر مغرور ہو کر ناشکری کرنے لگے کافِر ہوگئے ۔ یہ سبب اللہ تعالٰی کی ناراضی کا ہوا ، ان کی مثال ایسی سمجھو جیسے کہ ۔(ف257)مثل مکّہ کے ۔(ف258)نہ اس پر غنیم چڑھتا نہ وہاں کے لوگ قتل و قید کی مصیبت میں گرفتار کئے جاتے ۔(ف259)اور اس نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکذیب کی ۔(ف260)کہ سات برس نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بددعا سے قحط اور خشک سالی کی مصیبت میں گرفتار رہے یہاں تک کہ مردار کھاتے تھے پھر امن و اطمینان کے بجائے خوف و ہراس ان پر مسلّط ہوا اور ہر وقت مسلمانوں کے حملے اور لشکر کشی کا اندیشہ رہنے لگا ۔
تو اللہ کی دی ہوئی روزی (ف۲٦۳) حلال پاکیزہ کھاؤ (ف۲٦٤) اور اللہ کی نعمت کا شکر کرو اگر تم اسے پوجتے ہو،
(ف263)جو اس نے سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستِ مبارک سے عطا فرمائی ۔(ف264)بجائے ان حرام اور خبیث اموال کے جو کھایا کرتے تھے لوٹ غصب اور خبیث مکاسب سے حاصل کئے ہوئے ۔ جمہور مفسِّرین کے نزدیک اس آیت میں مخاطَب مسلمان ہیں اور ایک قول مفسِّرین کا یہ بھی ہے کہ مخاطَب مشرکینِ مکّہ ہیں ۔ کلبی نے کہا کہ جب اہلِ مکّہ قحط کے سبب بھوک سے پریشان ہوئے اور تکلیف کی برداشت نہ رہی تو ان کے سرداروں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ سے دشمنی تو مرد کرتے ہیں ، عورتوں اور بچوں کو جو تکلیف پہنچ رہی ہے اس کا خیال فرمایئے ، اس پر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت دی کہ ان کے لئے طعام لے جایا جائے ۔ اس آیت میں اس کا بیان ہوا ، ان دونوں قولوں میں اوّل صحیح تر ہے ۔ (خازن)
تم پر تو یہی حرام کیا ہے مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جس کے ذبح کرتے وقت غیر خدا کا نام پکارا گیا (ف۲٦۵) پھر جو لاچار ہو (ف۲٦٦) نہ خواہش کرتا اور نہ حد سے بڑھتا (ف۲٦۷) تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
(ف265)یعنی اس کو بُتوں کے نام پر ذبح کیا گیا ہو ۔(ف266)اور ان حرام چیزوں میں سے کچھ کھانے پر مجبور ہو ۔(ف267)یعنی قدرِ ضرورت پر صبر کر کے ۔
اور نہ کہو اسے جو تمہاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھو (ف۲٦۸) بیشک جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا،
(ف268)زمانۂ جاہلیت کے لوگ اپنی طرف سے بعض چیزوں کو حلال ، بعض چیزوں کو حرام کر لیا کرتے تھے اور اس کی نسبت اللہ تعالٰی کی طرف کر دیا کرتے تھے ، اس کی ممانعت فرمائی گئی اور اس کو اللہ پر افتراء فرمایا گیا ۔ آج کل بھی جو لوگ اپنی طرف سے حلال چیزوں کو حرام بتا دیتے ہیں جیسے میلاد شریف کی شیرینی ، فاتحہ ، گیارہویں ، عرس وغیرہ ایصالِ ثواب کی چیزیں جن کی حرمت شریعت میں وارد نہیں ہوئی ۔ انہیں اس آیت کے حکم سے ڈرنا چاہیئے کہ ایسی چیزوں کی نسبت یہ کہہ دینا کہ یہ شرعاً حرام ہیں اللہ تعالٰی پر افتراء کرنا ہے ۔
اور خاص یہودیوں پر ہم نے حرام فرمائیں وہ چیزیں جو پہلے تمہیں ہم نے سنائیں (ف۲۷۱) اور ہم نے ان پر ظلم نہ کیا ہاں وہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے، (ف۲۷۲)
(ف271)سورۂ انعام میں آیت وَعَلیَ الَّذِیْنَ ھَادُوْا حَرَّمْنَا کُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ الآیہ میں ۔(ف272)بغاوت و معصیت کا ارتکاب کر کے جس کی سزا میں وہ چیزیں ان پر حرام ہوئیں جیسا کہ آیت فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْ ھَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْھِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَھُمْ میں ارشاد فرمایا گیا ۔
پھر بیشک تمہارا رب ان کے لیے جو نادانی سے (ف۲۷۳) برائی کر بیٹھیں پھر اس کے بعد توبہ کریں اور سنور جائیں بیشک تمہارا رب اس کے بعد (ف۲۷٤) ضرور بخشنے والا مہربان ہے،
یشک ابراہیم ایک امام تھا (ف۳۷۵) اللہ کا فرمانبردار اور سب سے جدا (ف۲۷٦) اور مشرک نہ تھا، (ف۲۷۷)
(ف275)نیک خصائل اور پسندیدہ اخلاق اور حمیدہ صفات کا جامع ۔(ف276)دینِ اسلام پر قائم ۔(ف277)اس میں کُفّارِ قریش کی تکذیب ہے جو اپنے آپ کو دینِ ابراہیمی پر خیال کرتے تھے ۔
اور ہم نے اسے دنیا میں بھلائی دی (ف۲۷۹) اور بیشک وہ آخرت میں شایان قرب ہے،
(ف279)رسالت و اموال و اولاد و ثناءِ حسن و قبولِ عام کے تمام ادیان والے مسلمان اور یہود اور نصارٰی اور عرب کے مشرکین سب ان کی عظمت کرتے اور ان سے مَحبت رکھتے ہیں ۔
پھر ہم نے تمہیں وحی بھیجی کہ دین ابراہیم کی پیروی کرو جو ہر باطل سے الگ تھا اور مشرک نہ تھا، (ف۲۸۰)
(ف280)اِتّباع سے مراد یہاں عقائد و اصولِ دین میں موافقت کرنا ہے ۔ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس اِتّباع کا حکم کیا گیا ، اس میں آپ کی عظمت و منزلت اور رفعتِ درجت کا اظہار ہے کہ آپ کا دینِ ابراہیمی کی موافقت فرمانا حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و السلام کے لئے ان کے تمام فضائل و کمالات میں سب سے اعلٰی فضل و شرف ہے کیونکہ آپ اکرم الاولین و الٰآخرین ہیں جیسا کہ صحیح حدیث میں وارد ہوا اور تمام انبیاء اور کل خَلق سے آپ کا مرتبہ افضل و اعلٰی ہے ۔ شعر تو اصلی و باقی طوفیل تو اند ۔ تو شاہی و مجموع خیل تواند ۔
ہفتہ تو انھیں پر رکھا گیا تھا جو اس میں مختلف ہوگئے (ف۲۸۱) اور بیشک تمہارا رب قیامت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا جس بات میں اختلاف کرتے تھے، (ف۲۸۲)
(ف281)یعنی شنبہ کی تعظیم اور اس روز شکار ترک کرنا اور وقت کو عبادت کے لئے فارغ کرنا یہود پر فرض کیا گیا تھا اور اس کا واقعہ اس طرح ہوا تھا کہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ و السلام نے انہیں روزِ جمعہ کی تعظیم کا حکم فرمایا تھا اور ارشاد کیا تھا کہ ہفتہ میں ایک دن اللہ تعالٰی کی عبادت کے لئے خاص کرو ، اس دن میں کچھ کام نہ کرو ، اس میں انہوں نے اختلاف کیا اور کہا وہ دن جمعہ نہیں بلکہ سنیچر ہونا چاہیے بجز ایک چھوٹی سی جماعت کے جو حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ و السلام کے حکم کی تعمیل میں جمعہ پر ہی راضی ہوگئی تھی ، اللہ تعالٰی نے یہود کو سنیچر کی اجازت دے دی اور شکار حرام فرما کر ابتلا میں ڈال دیا تو جو لوگ جمعہ پر راضی ہو گئے تھے وہ تو مطیع رہے اور انہوں نے اس حکم کی فرمانبرداری کی ، باقی لوگ صبر نہ کر سکے ، انہوں نے شکار کئے اور نتیجہ یہ ہوا کہ مسخ کئے گئے ۔ یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ سورۂ اعراف میں بیان ہو چکا ہے ۔(ف282)اس طرح کہ مطیع کو ثواب دے گا اور عاصی کو عقاب فرمائے گا ۔ اس کے بعد سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطاب فرمایا جاتا ہے ۔
اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ (ف۲۸۳) پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے (ف۲۸٤) اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو (ف۲۸۵) بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہ خوب جانتا ہے راہ والوں کو،
(ف283)یعنی خَلق کو دینِ اسلام کی دعوت دو ۔(ف284)پکی تدبیر سے وہ دلیلِ محکَم مراد ہے جو حق کو واضح اور شبہات کو زائل کر دے اور اچھی نصیحت سے ترغیبات و ترہیبات مراد ہیں ۔(ف285)بہتر طریق سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالٰی کی طرف اس کی آیات اور دلائل سے بلائیں ۔مسئلہ : اس سے ہوا کہ دعوتِ حق اور اظہارِ حقانیتِ دین کے لئے مناظرہ جائز ہے ۔
اور اگر تم سزا دو تو ایسی ہی سزا دو جیسی تمہیں تکلیف پہونچائی تھی (ف۲۸٦) اور اگر تم صبر کرو (ف۲۸۷) تو بیشک صبر والوں کو صبر سب سے اچھا
(ف286)یعنی سزا بقدرِ جنایت ہو اس سے زائد نہ ہو ۔ شانِ نُزول : جنگِ اُحد میں کُفّار نے مسلمانوں کے شُہداء کے چہروں کو زخمی کر کے ان کی شکلوں کو تبدیل کیا تھا اور ان کے پیٹ چاک کئے تھے ، ان کے اعضاء کاٹے تھے ان شُہداء میں حضرت حمزہ بھی تھے ، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب انہیں دیکھا تو حضور کو بہت صدمہ ہوا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قسم کھائی کہ ایک حضرت حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا بدلہ ستّر کافِروں سے لیا جائے گا اور ستّر کا یہی حال کیا جائے گا ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ ارادہ ترک فرمایا اور اپنی قسم کا کَفّارہ دیا ۔مسئلہ : مُثلہ یعنی ناک کان وغیرہ کاٹ کر کسی کی ہیئت کو تبدیل کرنا شرع میں حرام ہے ۔ (مدارک) (ف287)اور انتقام نہ لو ۔