اس پیارے چمکتے تارے محمد کی قسم! جب یہ معراج سے اترے (ف۲)
(ف2)نجم کی تفسیر میں مفسّرین کے بہت سے قول ہیں بعض نے ثریّا مراد لیا ہے اگرچہ ثریّا کئی تارے ہیں لیکن نجم کا اطلاق ان پر عرب کی عادت ہے ۔ بعض نے نجم سے جنسِ نجوم مراد لی ہے ۔ بعض نے وہ نباتا ت جو ساق نہیں رکھتے ، زمین پر پھیلتے ہیں ۔ بعض نے نجم سے قرآن مراد لیا ہے لیکن سب سے لذیذ تفسیر وہ ہے جو حضرت مترجِم قدّس سرّہ نے اختیار فرمائی کہ نجم سے مراد ہے ذاتِ گرامی ہادیِ برحق سیّدِ انبیاء محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ۔ (خازن)
مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمۡ وَمَا غَوٰىۚ ﴿2﴾
تمہارے صاحب نہ بہکے نہ بےراہ چلے (ف۳)
(ف3)'صَاحِبُکُمْ'سے مراد سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں ۔ معنٰی یہ ہیں کہ حضورِ انور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کبھی طریقِ حق و ہدایت سے عدول نہ کیا ، ہمیشہ اپنے رب کی توحید و عبادت میں رہے ، آپ کے دامنِ عصمت پر کبھی کسی امرِ مکروہ کی گرد نہ آئی ۔ اور بے راہ نہ چلنے سے یہ مراد ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہمیشہ رشد و ہدایت کی اعلٰی منزل پر متمکن رہے ۔ اعتقادِ فاسد کا شائبہ بھی کبھی آپ کے حاشیۂِ بساط تک نہ پہنچ سکا ۔
وَمَا يَنۡطِقُ عَنِ الۡهَوٰىؕ ﴿3﴾
اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے،
اِنۡ هُوَ اِلَّا وَحۡىٌ يُّوۡحٰىۙ ﴿4﴾
وہ تو نہیں مگر وحی جو انہیں کی جاتی ہے (ف٤)
(ف4)یہ جملہ اولٰی کی دلیل ہے کہ حضور کا بہکنا اور بے راہ چلنا ممکن و متصور ہی نہیں کیونکہ آپ اپنی خواہش سے کوئی بات فرماتے ہی نہیں جو فرماتے ہیں وحیِ الٰہی ہوتی ہے اور اس میں حضور کے خُلقِ عظیم اور آپ کی اعلٰی منزلت کا بیان ہے ۔ نفس کا سب سے اعلٰی مرتبہ یہ ہے کہ وہ اپنی خواہش ترک کردے ۔(کبیر) اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ نبی علیہ الصلٰوۃ والسلام اللہ تعالٰی کے ذات و صفات و افعال میں فنا کے اس اعلٰی مقام پر پہنچے کہ اپنا کچھ باقی نہ رہا تجلّیِ ربّانی کا یہ استیلائے تام ہوا کہ جو کچھ فرماتے ہیں وہ وحیِ الٰہی ہوتی ہے ۔ ( روح البیان)
عَلَّمَهٗ شَدِيۡدُ الۡقُوٰىۙ ﴿5﴾
انہیں (ف۵) سکھایا (ف٦) سخت قوتوں والے طاقتور نے (ف۷)
(ف5)یعنی سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ۔(ف6)جو کچھ اللہ تعالٰی نے ان کی طرف وحی فرمایا ۔ اور اس تعلیم سے مراد قلبِ مبارک تک پہنچادینا ہے ۔(ف7)بعض مفسّرین اس طرف گئے ہیں کہ سخت قوّتوں والے طاقتور سے مراد حضرت جبریل ہیں اور سکھا نے سے مراد بتعلیمِ الٰہی سکھانا یعنی وحیِ الٰہی کا پہنچانا ہے ۔ حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ شَدِیْدُ الْقُوٰی ذُوْمِرَّۃٍ سے مراد اللہ تعالٰی ہے اس نے اپنی ذات کو اس وصف کے ساتھ ذکر فرمایا معنٰی یہ ہیں کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اللہ تعالٰی نے بے واسطہ تعلیم فرمائی ۔ (تفسیر روح البیان)
ذُوۡ مِرَّةٍؕ فَاسۡتَوٰىۙ ﴿6﴾
پھر اس جلوہ نے قصد فرمایا (ف۸)
(ف8)عام مفسّرین نےفَاسْتَوٰی کا فاعل بھی حضرت جبریل کو قرار دیا ہے اور یہ معنٰی لئے ہیں کہ حضرت جبریلِ امین اپنی اصلی صورت پر قائم ہوئے اور اس کا سبب یہ ہے کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انہیں ان کی اصلی صورت میں ملاحظہ فرمانے کی خواہش ظاہر فرمائی تھی تو حضرت جبریل جنابِ مشرق میں حضور کے سامنے نمودار ہوئے اور ان کے وجود سے مشرق سے مغرب تک بھر گیا یہ بھی کہا گیا ہےکہ حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سوا کسی انسان نے حضرت جبریل کو ان کی اصلی صورت میں نہیں دیکھا ۔ امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت جبریل کو دیکھنا تو صحیح ہے اور حدیث سے ثابت ہے لیکن یہ حدیث میں نہیں ہے کہ اس آیت میں حضرت جبریل کو دیکھنا مراد ہے بلکہ ظاہرِ تفسیر میں یہ ہے کہ مرادفَاسْتَوٰی سے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا مکانِ عالی اور منزلتِ رفیعہ میں استوٰی فرمانا ہے ۔ (تفسیر کبیر) تفسیرِ روح البیان میں ہے کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے افقِ اعلٰی یعنی آسمانوں کے اوپر استوٰی فرمایا اور حضرت جبریل سدرۃ المنتہی پر رک گئے آگے نہ بڑھ سکے انہوں نے کہا اگر میں ذرا بھی آگے بڑھوں تو تجلّیاتِ جلال مجھے جَلا ڈالیں اور حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آگے بڑھ گئے اور مستوائے عرش سے بھی گزر گئے ۔ اور حضرت مترجِم قدّس سرّہ کا ترجمہ اس طرف مشیر ہے کہ استوٰی کی اسناد حضرت ربُّ العزّت عزَّ واعلٰی کی طرف ہے ، اور یہی قول حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ہے ۔
وَهُوَ بِالۡاُفُقِ الۡاَعۡلٰى ؕ ﴿7﴾
اور وہ آسمان بریں کے سب سے بلند کنارہ پر تھا (ف۹)
(ف9)یہاں بھی عام مفسّرین اسی طرف گئے ہیں کہ یہ حال جبریلِ امین کا ہے لیکن امام رازی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ ظاہر یہ ہے کہ یہ حال سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ہے کہ آپ افقِ اعلٰی یعنی فوقِ سمٰوات تھے جس طرح کہنے والا کہتا ہے کہ میں نے چھت پر چاند دیکھا پہاڑ پر چاند دیکھا اس کے یہ معنٰی نہیں ہوتے کہ چاند چھت پر یا پہاڑ پر تھا بلکہ یہی معنٰی ہوتے ہیں کہ دیکھنے والا چھت یا پہاڑ پر تھا اسی طرح یہاں معنٰی ہیں کہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام فوقِ سمٰوات پر پہنچے تو تجلّیِ ربّانی آپ کی طرف متوجّہ ہوئی ۔
ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ ﴿8﴾
پھر وہ جلوہ نزدیک ہوا (ف۱۰) پھر خوب اتر آیا (ف۱۱)
(ف10)اس کے معنٰی میں بھی مفسّرین کے کئی قول ہیں ۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرت جبریل کا سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے قریب ہونا مراد ہے کہ وہ اپنی صورت اصلی دکھادینے کے بعد حضورِ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قرب میں حاضر ہوئے دوسرے معنٰی یہ ہیں کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حضرتِ حق کے قرب سے مشرف ہوئے تیسرے یہ کہ اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اپنے قرب کی نعمت سے نوازا اور یہ ہی صحیح تر ہے ۔
فَكَانَ قَابَ قَوۡسَيۡنِ اَوۡ اَدۡنٰىۚ ﴿9﴾
تو اس جلوے اور اس محبوب میں دو ہاتھ کا فاصلہ رہا بلکہ اس سے بھی کم (ف۱۲)
(ف11)اس میں چند قول ہیں ایک تویہ کہ نزدیک ہونے سے حضور کا عروج و وصول مراد ہے اور اتر آنے سے نزول ورجوع تو حاصلِ معنٰی یہ ہے کہ حق تعالٰی کے قرب میں باریاب ہوئے پھر وصال کی نعمتوں سے فیض یاب ہو کر خَلق کی طرف متوجّہ ہوئے ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ حضرت ربُّ العزّت اپنے لطف و رحمت کے ساتھ اپنے حبیب سے قریب ہو اور اس قرب میں زیادتی فرمائی تیسرا قول یہ ہے کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مقربِ درگاہِ ربوبیّت ہو کر سجدۂِ طاعت ادا کیا ۔ (روح البیان) بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کہ قریب ہوا جبّار ربُّ العزّت الخ ۔ (خازن)(ف12)یہ اشارہ ہے تاکیدِ قرب کی طرف کہ قرب اپنے کمال کو پہنچا اور با ادب احبّاء میں جو نزدیکی متصور ہو سکتی ہے وہ اپنی غایت کو پہنچی ۔
فَاَوۡحٰۤى الٰى عَبۡدِهٖ مَاۤ اَوۡحٰىؕ ﴿10﴾
اب وحی فرمائی اپنے بندے کو جو وحی فرمائی (ف۱۳)
(ف13)اکثر علماءِ مفسّرین کے نزدیک اس کے معنٰی یہ ہیں کہ اللہ تعالٰی نے اپنے بندۂِ خاص حضرت محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو وحی فرمائی ۔ (جمل) حضرت جعفر صادق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے اپنے بندے کو وحی فرمائی جو وحی فرمائی یہ وحی بے واسطہ تھی کہ اللہ تعالٰی اوراس کے حبیب کے درمیا ن کو ئی واسطہ نہ تھا اور یہ خدا اور رسول کے درمیان کے اسرار ہیں جن پر ان کے سوا کسی کو اطلاع نہیں ۔ بقلی نے کہا کہ اللہ تعالٰی نے اس راز کو تمام خَلق سے مخفی رکھا اور نہ بیان فرمایا کہ اپنے حبیب کو کیا وحی فرمائی اور محبّ و محبوب کے درمیان ایسے راز ہوتے ہیں جن کو ان کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ (روح البیان) علماء نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ اس شب میں جو آپ کو وحی فرمائی گئی وہ کئی قِسم کے علوم تھے ۔ ایک تو علمِ شرائع و احکام جن کی سب کو تبلیغ کی جاتی ہے دوسرے معارفِ الٰہیہ جو خواص کو بتائے جاتے ہیں تیسرے حقائق و نتائجِ علومِ ذوقیہ جو صرف اخصّ الخواص کو تلقین کئے جاتے ہیں اور ایک قِسم وہ اسرار جو اللہ تعالٰی اور اس کے رسول کے ساتھ خاص ہیں کوئی ان کا تحمّل نہیں کرسکتا ۔ (روح البیان)
مَا كَذَبَ الۡفُؤَادُ مَا رَاٰى ﴿11﴾
دل نے جھوٹ نہ کہا جو دیکھا (ف۱٤)
(ف14)آنکھ نے یعنی سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قلبِ مبارک نے اس کی تصدیق کی جو چشمِ مبارک نے دیکھا ۔ معنٰی یہ ہیں کہ آنکھ سے دیکھا دل سے پہچانا اور اس رویت و معرفت میں شک وتردّد نے راہ نہ پائی اب یہ بات کہ کیا دیکھا بعض مفسّرین کا قول یہ ہے کہ حضرت جبریل کو دیکھا لیکن مذہبِ صحیح یہ ہے کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے رب تبارک و تعالٰی کو دیکھا اور یہ دیکھنا کس طرح تھا چشمِ سرسے یا چشمِ دل سے اس میں مفسّرین کے دونوں قول پائے جاتے ہیں ، حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کا قول ہے کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رب عزَّوجلّ کو اپنے قلبِ مبارک سے دوبار دیکھا (رواہ مسلم) ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ آپ نے رب عزَّوجلّ کو حقیقتہً چشمِ مبارک سے دیکھا ۔ یہ قول حضرت انس بن مالک اور حسن و عکرمہ کا ہے اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم کو خُلّت اور حضرت موسٰی علیہ السلام کو کلام اور سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰی کو اپنے دیدار سے امتیاز بخشا ۔ (صلوات اللہ تعالٌٰی علیہم) کعب نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے دوبار کلام فرمایا اور حضرت محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اللہ تعالٰی کو دو مرتبہ دیکھا ۔ (ترمذی) لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا نے دیدار کا انکار کیا اور آیت کو حضرت جبریل کے دیدار پر محمول کیا اور فرمایا کہ جو کوئی کہے کہ محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) نے اپنے رب کو دیکھا اس نے جھوٹ کہا اور سند میں لَاتُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُتلاوت فرمائی ۔ یہاں چند باتیں قابلِ لحاظ ہیں ایک یہ کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا قول نفی میں ہے اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنھما کا اثبات میں اور مثبت ہی مقدم ہوتا ہے کیونکہ نافی کسی چیز کی نفی اس لئے کرتا ہے کہ اس نے سنا نہیں اور مثبت اثبات اس لئے کرتا ہے کہ اس نے سنا اور جانا تو علم مثبت کے پاس ہے علاوہ بریں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا نے یہ کلام حضور سے نقل نہیں کیا بلکہ آیت سے اپنے استنباط پر اعتماد فرمایا یہ حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنھاکی رائے ہے اور آیت میں ادراک یعنی احاطہ کی نفی ہے نہ رویت کی ۔ مسئلہ : صحیح یہ ہی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دیدارِ الٰہی سے مشرّف فرمائے گئے ۔ مسلم شریف کی حدیثِ مرفوع سے بھی یہی ثابت ہے ، حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما جو بحرالامّۃ ہیں ، وہ بھی اسی پر ہیں ۔ مسلم کی حدیث ہے رَاَیْتُ رَبِّیْ بِعَیْنِیْ وَبِقَلْبِیْ میں نے اپنے رب کو اپنی آنکھ اوراپنے دل سے دیکھا ۔ حضرت حسن بصری علیہ الرحمۃ قَسم کھاتے تھے کہ محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے شبِ معراج اپنے رب کو دیکھا ۔ حضرت امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ میں حدیثِ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنھما کا قائل ہوں حضو ر نے اپنے رب کو دیکھا اس کو دیکھا اس کو دیکھا ۔ امام صاحب یہ فرماتے ہی رہے یہاں تک کہ سانس ختم ہوگیا ۔
اَفَتُمٰرُوۡنَهٗ عَلٰى مَا يَرٰى ﴿12﴾
تو کیا تم ان سے ان کے دیکھے ہوئے پر جھگڑ تے ہو (ف۱۵)
(ف15)یہ مشرکین کو خطاب ہے جو شبِ معراج کے واقعات کا انکار کرتے اور اس میں جھگڑتے تھے ۔
وَلَقَدۡ رَاٰهُ نَزۡلَةً اُخۡرٰىۙ ﴿13﴾
اور انہوں نے تو وہ جلوہ دوبار دیکھا (ف۱٦)
(ف16)کیونکہ تخفیف کی درخواستوں کے لئے چند بار عروج و نزول ہوا ، حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے رب عزَّوجلّ کو اپنے قلبِ مبارک سے دو مرتبہ دیکھا اور انہیں سے یہ بھی مروی ہے کہ حضور نے رب عزَّوجلّ کو آنکھ سے دیکھا ۔
عِنۡدَ سِدۡرَةِ الۡمُنۡتَهٰى ﴿14﴾
سدرة المنتہیٰ کے پاس (ف۱۷)
(ف17)سدرۃ المنتہٰی ایک درخت ہے جس کی اصل (جڑ) چھٹے آسمان میں ہے اور اس کی شاخیں ساتویں آسمان میں پھیلی ہیں اور بلند ی میں وہ ساتویں آسمان سے بھی گزر گیا ملائکہ اور ارواحِ شہداء و اتقیاء اس سے آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں ۔
عِنۡدَهَا جَنَّةُ الۡمَاۡوٰىؕ ﴿15﴾
اس کے پاس جنت الماویٰ ہے،
اِذۡ يَغۡشَى السِّدۡرَةَ مَا يَغۡشٰىۙ ﴿16﴾
جب سدرہ پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا (ف۱۸)
(ف18)یعنی ملائکہ اور انوار ۔
مَا زَاغَ الۡبَصَرُ وَمَا طَغٰى ﴿17﴾
آنکھ نہ کسی طرف پھر نہ حد سے بڑھی (ف۱۹)
(ف19)اس میں سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے کمالِ قوّت کا اظہار ہے کہ اس مقام میں جہاں عقلیں حیرت زدہ ہیں آپ ثابت رہے اور جس نور کا دیدار مقصود تھا اس سے بہر ہ اندوز ہوئے ، داہنے بائیں کسی طرف ملتفت نہ ہوئے ، نہ مقصودکی دید سے آنکھ پھیری ، نہ حضرت موسٰی علیہ السلام کی طرح بے ہوش ہوئے بلکہ اس مقام عظیم میں ثابت رہے ۔
لَقَدۡ رَاٰى مِنۡ اٰيٰتِ رَبِّهِ الۡكُبۡرٰى ﴿18﴾
بیشک اپنے رب کی بہت بڑی نشانیاں دیکھیں (ف۲۰)
(ف20)یعنی حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے شبِ معراج عجائبِ مُلک وملکوت کا ملاحظہ فرمایا اور آپ کا علم تمام معلوماتِ غیبیہ ملکوتیہ پر محیط ہوگیا جیسا کہ حدیثِ اختصامِ ملائکہ میں وارد ہوا ہے اور دوسری اور احادیث میں آیا ہے ۔ (روح البیان)
اَفَرَءَيۡتُمُ اللّٰتَ وَالۡعُزّٰىۙ ﴿19﴾
تو کیا تم نے دیکھا لات اور عزیٰ
وَمَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الۡاُخۡرٰى ﴿20﴾
اور اس تیسری منات کو (ف۲۱)
(ف21)لات وعزّٰی اور منات بتوں کے نام ہیں جنہیں مشرکین پوجتے تھے ۔ اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ کیا تم نے ان بتوں کو دیکھا یعنی بنظرِ تحقیق و انصاف اگر اس طرح دیکھا ہو تو تمہیں معلوم ہوگیا ہوگا کہ یہ محض بے قدرت ہیں اور اللہ تعالٰی قادرِ برحق کو چھوڑ کر ان بے قدرت بتوں کو پوجنا اور اس کا شریک ٹھہرانا کس قدر ظلمِ عظیم اور خلافِ عقل و دانش ہے اور مشرکینِ مکّہ یہ کہا کرتے تھے کہ یہ بت اور فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں ۔ اس پر اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے ۔
اَلَـكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الۡاُنۡثٰى ﴿21﴾
کیا تم کو بیٹا اور اس کو بیٹی (ف۲۲)
(ف22)جو تمہارے نزدیک ایسی بُری چیز ہے کہ جب تم میں سے کسی کو بیٹی پیدا ہونے کی خبر دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ بگڑ جاتا ہے اور رنگ تاریک ہوجاتا ہے اور لوگوں سے چُھپتا پھرتا ہے حتٰی کہ تم بیٹیوں کو زندہ درگور کر ڈالتے ہو پھر بھی اللہ تعالٰی کی بیٹیاں بتاتے ہو ۔
تِلۡكَ اِذًا قِسۡمَةٌ ضِيۡزٰى ﴿22﴾
جب تو یہ سخت بھونڈی تقسیم ہے (ف۲۳)
(ف23)کہ جو چیز بُری سمجھتے ہو وہ خدا کے لئے تجویز کرتے ہو ۔
وہ تو نہیں مگر کچھ نام کہ تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں (ف۲٤) اللہ نے ان کی کوئی سند نہیں اتاری، وہ تو نرے گمان اور نفس کی خواہشوں کے پیچھے ہیں (ف۲۵) حالانکہ بیشک ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے ہدایت آئی (ف۲٦)
(ف24)یعنی ان بتوں کا نام الٰہ اور معبود تم نے اور تمہارے باپ دادا نے بالکل بیجا اور غلط طور پر رکھ لیا ہے ، نہ یہ حقیقت میں الٰہ ہیں ، نہ معبود ۔(ف25)یعنی ان کابتوں کو پوجنا عقل و علم و تعلیمِ الٰہی کے خلاف اتباعِ نفس وہو ا اور وہم پرستی کی بنا پر ہے ۔ (ف26)یعنی کتابِ الٰہی اور خدا کے رسول جنہوں نے صراحت کے ساتھ بار بار بتایا کہ بت معبود نہیں اور اللہ تعالٰی کے سوائے کوئی بھی عبادت کا مستحق نہیں ۔
اَمۡ لِلۡاِنۡسَانِ مَا تَمَنّٰى ۖ ﴿24﴾
کیا آدمی کو مل جائے گا جو کچھ وہ خیال باندھے (ف۲۷)
(ف27)یعنی کافر جو بتوں کے ساتھ جھوٹی امیدیں رکھتے ہیں کہ وہ ان کے کام آ ئیں گے ، یہ امیدیں باطل ہیں ۔
فَلِلّٰهِ الۡاٰخِرَةُ وَالۡاُوۡلٰى ﴿25﴾
تو آخرت اور دنیا سب کا مالک اللہ ہی ہے (ف۲۸)
(ف28)جسے جو چاہے دے اس کی عبادت کرنا اور اسی کو راضی رکھنا کام آئے گا ۔
اور کتنے ہی فرشتے ہیں آسمانوں میں کہ ان کی سفارش کچھ کام نہیں آتی مگر جبکہ اللہ اجازت دے دے جس کے لیے چاہے اور پسند فرمائے (ف۲۹)
(ف29)یعنی ملائکہ باوجود یہ کہ بارگاہِ الٰہی میں قرب و منزلت رکھتے ہیں ، بعد ازاں صرف اس کے لئے شفاعت کریں گے جس کے لئے اللہ تعالٰی کی مرضی ہو یعنی مومن موحِّد کے لئے ، تو بتوں سے شفاعت کی امید رکھنا نہایت باطل ہے کہ نہ انہیں بارگاہِ حق میں قرب حاصل ، نہ کفّار شفاعت کے اہل ۔
یہاں تک ان کے علم کی پہنچ ہے (ف۳۵) بیشک تمہارا خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہ خوب جانتا ہے جس نے راہ پائی،
(ف35)یعنی وہ اس قدر کم عقل و کم علم ہیں کہ انہوں نے آخرت پر دنیا کو ترجیح دی ہے یا یہ معنٰی ہیں کہ ان کے علم کی انتہا و ہم وگمان ہیں جو انہوں نے باند ھ رکھے ہیں کہ ( معاذ اللہ) فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں ان کی شفاعت کریں گے اور اس وہمِ باطل پر بھروسہ کرکے انہوں نے ایمان اور قرآن کی پرواہ نہ کی ۔
اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں تاکہ برائی کرنے والوں کو ان کے کیے کا بدلہ دے اور نیکی کرنے والوں کو نہایت اچھا صلہ عطا فرمائے،
وہ جو بڑے گناہوں اور بےحیائیوں سے بچتے ہیں (ف۳٦) مگر اتنا کہ گناہ کے پاس گئے اور رک گئے (ف۳۷) بیشک تمہارے رب کی مغفرت وسیع ہے، وہ تمہیں خوب جانتا ہے (ف۳۸) تمہیں مٹی سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں حمل تھے، تو آپ اپنی جانوں کو ستھرا نہ بتاؤ (ف۳۹) وہ خوب جانتا ہے جو پرہیزگار ہیں (ف٤۰)
(ف36)گناہ وہ عمل ہے جس کا کرنے والا عذاب کا مستحق ہو اور بعض اہلِ علم نے فرمایا کہ گناہ وہ ہے جس کا کرنے والا ثواب سے محروم ہو بعض کا قول ہے ناجائز کام کرنے کو گناہ کہتے ہیں ۔ بہرحال گناہ کی دو قسمیں ہیں صغیرہ اور کبیرہ ۔ کبیرہ وہ جس کا عذاب سخت ہو اور بعض علماء نے فرمایا کہ صغیرہ وہ جس پر وعید نہ ہو ۔ کبیرہ وہ جس پر وعید ہو اور فواحش وہ جن پر حد ہو ۔(ف37)کہ اتنا تو کبائر سے بچنے کی برکت سے معاف ہوجاتا ہے ۔(ف38)شانِ نزول : یہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جو نیکیاں کرتے تھے اور اپنے عملوں کی تعریف کرتے تھے اور کہتے تھے ہماری نمازیں ، ہمارے روزے ، ہمارے حج ۔(ف39)یعنی تفاخراً اپنی نیکیوں کی تعریف نہ کروکیونکہ اللہ تعالٰی اپنے بندوں کے حالات کا خود جاننے والا ہے وہ ان کی ابتداءِ ہستی سے آخرِ ایام کے جملہ احوال جانتا ہے ۔ مسئلہ : اس آیت میں ریا اور خود نمائی اور خود سرائی کی ممانعت فرمائی گئی لیکن اگر نعمتِ الٰہی کے اعتراف اور اطاعت و عبادتِ پُر مسرّت اور اس کے ادائے شکر کے لئے نیکیوں کا ذکر کیا جائے تو جائز ہے ۔(ف40)اور اسی کا جاننا کافی وہی جزا دینے والا ہے دوسروں پر اظہار اور نام و نمود سے کیا فائدہ ۔
اَفَرَءَيۡتَ الَّذِىۡ تَوَلّٰىۙ ﴿33﴾
تو کیا تم نے دیکھا جو پھر گیا (ف٤۱)
(ف41)اسلام سے ۔ شانِ نزول : یہ آیت ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئی جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا دِین میں اتباع کیا تھا ، مشرکین نے اس کو عار دلائی اور کہا کہ تو نے بزرگوں کا دِین چھوڑ دیا اور تو گمراہ ہوگیا اس نے کہا میں نے عذابِ الٰہی کے خوف سے ایسا کیا تو عار دلانے والے کافر نے اس سے کہا کہ اگر تو شرک کی طرف لوٹ آئے اور اس قدر مال مجھ کو دے تو تیرا عذاب میں اپنے ذمّے لیتا ہوں اس پر ولید اسلام سے منحرف و مرتد ہو کر پھر شرک میں مبتلا ہوگیا اور جس شخص سے مال دینا ٹھہرا تھا اس نے تھوڑا سا دیا اور باقی سے منع کردیا ۔
وَاَعۡطٰى قَلِيۡلًا وَّاَكۡدٰى ﴿34﴾
اور کچھ تھوڑا سا دیا اور روک رکھا (ف٤۲)
(ف42)باقی ۔ شانِ نزول : یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت عاص بن وائل سہمی کے حق میں نازل ہوئی وہ اکثر امور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تائید و موافقت کیا کرتا تھا ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت ابوجہل کے حق میں نازل ہوئی کہ اس نے کہا تھا اللہ تعالٰی کی قَسم محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) ہمیں بہترین اخلاق کا حکم فرماتے ہیں ۔ اس تقدیر پر معنٰی یہ ہیں کہ تھوڑا سا اقرار کیا اور حقِ لازم میں سے قدرے قلیل ادا کیا اور باقی سے باز رہا یعنی ایمان نہ لایا ۔
اَعِنۡدَهٗ عِلۡمُ الۡغَيۡبِ فَهُوَ يَرٰى ﴿35﴾
کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے تو وہ دیکھ رہا ہے (ف٤۳)
(ف43)کہ دوسرا شخص اس کا بارِ گناہ اٹھالے گا اور اس کے عذاب کو اپنے ذمّہ لے گا ۔
کیا اسے اس کی خبر نہ آئی جو صحیفوں میں ہے موسیٰ کے (ف٤٤)
(ف44)یعنی اسفارِ توریت میں ۔
وَاِبۡرٰهِيۡمَ الَّذِىۡ وَفّٰىٓ ۙ ﴿37﴾
اور ابراہیم کے جو پورے احکام بجالایا (ف٤۵)
(ف45)یہ حضرت ابراہیم کی صفت ہے کہ انہیں جو کچھ حکم دیا گیا تھا وہ انہوں نے پورے طورپر ادا کیا اس میں بیٹے کا ذبح بھی ہے اور اپنا آ گ میں ڈالا جانا بھی اور اس کے علاوہ اور مامورات بھی ۔ اس کے بعد اللہ تعالٰی اس مضمون کا ذکر فرماتا ہے جو حضرت موسٰی علیہ السلام کی کتاب اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحیفوں میں مذکور فرمایا گیا تھا ۔
اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰىۙ ﴿38﴾
کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہیں اٹھاتی (ف٤٦)
(ف46)اور کوئی دوسرے کے گناہ پر نہیں پکڑا جاتا اس میں اس شخص کے قول کا ابطال ہے جو ولید بن مغیرہ کے عذاب کا ذمّہ دار بنا تھا اور اس کے گناہ اپنے ذمّہ لینے کو کہتا تھا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ زمانۂِ حضرت ابراہیم سے پہلے لوگ آدمی کو دوسرے کے گناہ پر بھی پکڑ لیتے تھے اگر کسی نے کسی کو قتل کیا ہوتا تو بجائے اس قاتل کے اس کے بیٹے یا بھائی یا بی بی یا غلام کو قتل کردیتے تھے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا زمانہ آیا تو آپ نے اس کی ممانعت فرمائی اور اللہ تعالٰی کا یہ حکم پہنچایا کہ کوئی کسی کے بار گناہ میں ماخوذ نہیں ۔
(ف47)یعنی عمل ۔ مراد یہ ہے کہ آدمی اپنی ہی نیکیوں سے فائدہ پاتا ہے یہ مضمون بھی صُحُفِ ابراہیم و موسٰی کا ہے ۔ علیہما السلام اور کہا گیا ہے کہ ان ہی امّتوں کے لئے خاص تھا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ یہ حکم ہماری شریعت میں آیت اَ لْحَقْنَا بِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ سے منسوخ ہوگیا ۔ حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص نے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عرض کیا کہ میری ماں کی وفات ہوگئی اگر میں اس کی طرف سے صدقہ دوں کیا نافع ہوگا ؟ فرمایا : ہاں ۔ مسائل اور بکثرت احادیث سے ثابت ہے کہ میّت کو صدقات و طاعات سے جو ثواب پہنچایا جاتاہے پہنچتا ہے اور اس پر علماءِ امّت کا اجماع ہے اور اسی لئے مسلمانوں میں معمول ہے کہ وہ اپنے اموات کو فاتحہ ، سوم ، چہلم ، برسی ، عرس وغیرہ میں طاعات و صدقات سے ثواب پہنچاتے رہتے ہیں یہ عمل احادیث کے بالکل مطابق ہے ۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ یہاں انسان سے کافر مراد ہے اور معنٰی یہ ہیں کہ کافر کو کوئی بھلائی نہ ملے گی بجز اس کے جو اس نے کی ہو کہ دنیا ہی میں وسعتِ رزق یا تندرستی وغیرہ سے اس کا بدلہ دے دیا جائے گا تاکہ آخرت میں اس کا کچھ حصّہ باقی نہ رہے ۔ اور ایک معنٰی آیت کے مفسّرین نے یہ بھی بیان کئے ہیں کہ آدمی بمقتضائے عدل وہی پائے گا جو اس نے کیا ہو اور اللہ تعالٰی اپنے فضل سے جو چاہے عطا فرمائے ۔ اور ایک قول مفسّرین کا یہ بھی ہے کہ مومن کے لئے دوسرا مومن جو نیکی کرتا ہے وہ نیکی خود اسی مومن کی شمار کی جاتی ہے جس کے لئے کی گئی ہو کیونکہ اس کا کرنے والا مثل نائب و وکیل کے اس کا قائم مقام ہوتا ہے ۔
وَاَنَّ سَعۡيَهٗ سَوۡفَ يُرٰى ﴿40﴾
اور یہ کہ اس کی کوشش عنقریب دیکھی جاے گی (ف٤۸)
(ف48)آخرت میں ۔
ثُمَّ يُجۡزٰٮهُ الۡجَزَآءَ الۡاَوۡفٰىۙ ﴿41﴾
پھر اس کا بھرپور بدلا دیا جائے گا
وَاَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الۡمُنۡتَهٰىۙ ﴿42﴾
اور یہ کہ بیشک تمہارے رب ہی کی طرف انتہا ہے (ف٤۹)
(ف49)آخرت میں اسی کی طرف رجوع ہے وہی اعمال کی جزا دے گا ۔
وَاَنَّهٗ هُوَ اَضۡحَكَ وَاَبۡكٰىۙ ﴿43﴾
اور یہ کہ وہی ہے جس نے ہنسایا اور رلایا (ف۵۰)
(ف50)جسے چاہا خوش کیا ، جسے چاہاغمگین کیا ۔
وَاَنَّهٗ هُوَ اَمَاتَ وَ اَحۡيَا ۙ ﴿44﴾
اور یہ کہ وہی ہے جس نے مارا اور جِلایا (ف۵۱)
(ف51)یعنی دنیا میں موت دی اور آخرت میں زندگی عطا فرمائی ۔ یا یہ معنٰی کہ باپ دادا کو موت دی اوران کی اولاد کو زندگی بخشی ، یا یہ مراد کہ کافروں کو موتِ کفر سے ہلاک کیا اور ایمانداروں کو ایمانی زندگی بخشی ۔
اور یہ کہ اسی کے ذمہ ہے پچھلا اٹھانا (دوبارہ زندہ کرنا) (ف۵۳)
(ف53)یعنی موت کے بعد زندہ فرمانا ۔
وَاَنَّهٗ هُوَ اَغۡنٰى وَ اَقۡنٰىۙ ﴿48﴾
اور یہ کہ اسی نے غنیٰ دی اور قناعت دی
وَاَنَّهٗ هُوَ رَبُّ الشِّعۡرٰىۙ ﴿49﴾
اور یہ کہ وہی ستارہ شِعریٰ کا رب ہے (ف۵٤)
(ف54)جو کہ شدّتِ گرما میں جو زاء کے بعد طالع ہوتاہے ۔ اہلِ جاہلیّت اس کی عبادت کرتے تھے اس آیت میں بتایا گیا کہ سب کا رب اللہ ہے اس ستارہ کا رب بھی اللہ ہی ہے لہٰذا اسی کی عبادت کرو ۔
(ف64)یعنی وہی اس کو ظاہر فرمائے گا ۔ یا یہ معنٰی ہیں کہ اس کے اہوال اور شدائد کو اللہ تعالٰی کے سوائے کوئی نہیں دفع کرسکتا اور اللہ تعالٰی دفع نہ فرمائے گا ۔
اَفَمِنۡ هٰذَا الۡحَدِيۡثِ تَعۡجَبُوۡنَۙ ﴿59﴾
تو کیا اس بات سے تم تعجب کرتے ہو (ف٦۵)
(ف65)یعنی قرانِ مجید سے منکِر ہوتے ہو ۔
وَتَضۡحَكُوۡنَ وَلَا تَبۡكُوۡنَۙ ﴿60﴾
اور ہنستے ہو اور روتے نہیں (ف٦٦)
(ف66)اس کے وعدہ ، وعید سن کر ۔
وَاَنۡتُمۡ سٰمِدُوۡنَ ﴿61﴾
اور تم کھیل میں پڑے ہو،
فَاسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ وَاعۡبُدُوۡا ۩ ﴿62﴾
تو اللہ کے لیے سجدہ اور اس کی بندگی کرو (ف٦۷) السجدة۔۱۲