وَالنّٰزِعٰتِ غَرۡقًا ۙ ﴿1﴾
قسم ان کی (ف۲) کہ سختی سے جان کھینچیں (ف۳)
تفسیر دیکھیں
(ف2)یعنی ان فرشتوں کی ۔(ف3)کافروں کی ۔
وَّالنّٰشِطٰتِ نَشۡطًا ۙ ﴿2﴾
۔ (۲) اور نرمی سے بند کھولیں ) (ف٤)
تفسیر دیکھیں
(ف4)یعنی مومنین کی جانیں نرمی کے ساتھ قبض کریں ۔
وَّالسّٰبِحٰتِ سَبۡحًا ۙ ﴿3﴾
۔ (۳) اور آسانی سے پیریں (ف۵)
تفسیر دیکھیں
(ف5)جسم کے اندر یا آسمان و زمین کے درمیان مومنین کی روحیں لے کر ۔ (کماروی عن علی رضی اللہ تعالٰی عنہ)
فَالسّٰبِقٰتِ سَبۡقًا ۙ ﴿4﴾
۔ (٤) پھر آگے بڑھ کر جلد پہنچیں (ف٦)
تفسیر دیکھیں
(ف6)اپنی خدمت پر جس کے مامور ہیں ۔ (روح البیان)
فَالۡمُدَبِّرٰتِ اَمۡرًا ۘ ﴿5﴾
۔ (۵) پھر کام کی تدبیر کریں (ف۷)
تفسیر دیکھیں
(ف7)یعنی امورِ دنیویہ کے انتظام جو ان سے متعلق ہیں ان کے سر انجام کریں ۔ یہ قَسم اس پر ہے ۔
يَوۡمَ تَرۡجُفُ الرَّاجِفَةُ ۙ ﴿6﴾
۔ (٦) کہ کافروں پر ضرور عذاب ہوگا جس دن تھر تھرائے گی تھرتھرانے والی (ف۸)
تفسیر دیکھیں
(ف8)زمین اور پہاڑ اور ہر چیز نفخۂِ اولٰی سے اضطراب میں آجائے گی اور تمام خَلق مرجائے گی ۔
تَتۡبَعُهَا الرَّادِفَةُ ؕ ﴿7﴾
۔ (۷) اس کے پیچھے آئے گی پیچھے آنے والی (ف۹)
تفسیر دیکھیں
(ف9)یعنی نفخۂِ ثانیہ ہوگا ، جس سے ہر شے باذنِ الٰہی زندہ کردی جائے گی ، ان دونوں نفخوں کے درمیان چالیس سال کا فاصلہ ہوگا ۔
قُلُوۡبٌ يَّوۡمَٮِٕذٍ وَّاجِفَةٌ ۙ ﴿8﴾
۔ (۸) کتنے دل اس دن دھڑکتے ہوں گے،
اَبۡصَارُهَا خَاشِعَةٌ ۘ ﴿9﴾
۔ (۹) آنکھ اوپر نہ اٹھا سکیں گے (ف۱۰)
تفسیر دیکھیں
(ف10)اس دن کی ہول اور دہشت سے ۔ یہ حال کفّار کا ہوگا ۔
يَقُوۡلُوۡنَ ءَاِنَّا لَمَرۡدُوۡدُوۡنَ فِى الۡحَـافِرَةِ ؕ ﴿10﴾
۔ (۱۰) کافر (ف۱۱) کہتے ہیں کیا ہم پھر الٹے پاؤں پلٹیں گے (ف۱۲)
تفسیر دیکھیں
(ف11)جو مرنے کے بعد اٹھنے کے منکِر ہیں جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم مرنے کے بعد اٹھائے جاؤ گے تو ۔(ف12)یعنی موت کے بعد پھر زندگی کی طرف واپس کئے جائیں گے ۔
ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً ؕ ﴿11﴾
۔ (۱۱) کیا ہم جب گلی ہڈیاں ہوجائیں گے (ف۱۳)
تفسیر دیکھیں
(ف13)ریزہ ریزہ بکھری ہوئی ، پھر بھی زندہ کئے جائیں گے ۔
قَالُوۡا تِلۡكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ ۘ ﴿12﴾
۔ (۱۲) بولے یوں تو یہ پلٹنا تو نرا نقصان ہے (ف۱٤)
تفسیر دیکھیں
(ف14)یعنی اگر موت کے بعد زندہ کیا جانا صحیح ہے اور ہم مرنے کے بعد اٹھائے گئے تواس میں ہمارا بڑا نقصان ہے کیونکہ ہم دنیا میں اس کی تکذیب کرتے رہے ، یہ مقولہ ان کا بطریقِ استہزاء تھا ، اس پر انہیں بتایا گیا کہ تم مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کو یہ نہ سمجھو کہ اللہ تعالٰی کے لئے کچھ دشوار ہے کیونکہ قادرِ برحق پر کچھ بھی دشوار نہیں ۔
فَاِنَّمَا هِىَ زَجۡرَةٌ وَّاحِدَةٌ ۙ ﴿13﴾
۔ (۱۳) تو وہ (ف۱۵) نہیں مگر ایک جھڑکی (ف۱٦)
تفسیر دیکھیں
(ف15)نفخۂِ اخیرہ ۔(ف16)جس سے سب جمع کرلئے جائیں گے اور جب نفخۂِ اخیرہ ہوگا ۔
فَاِذَا هُمۡ بِالسَّاهِرَةِ ؕ ﴿14﴾
۔ (۱٤) جبھی وہ کھلے میدان میں آپڑے ہوں گے (ف۱۷)
تفسیر دیکھیں
هَلۡ اَتٰٮكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰىۘ ﴿15﴾
۔ (۱۵) کیا تمہیں موسیٰ کی خبر آئی (ف۱۸)
تفسیر دیکھیں
(ف18)یہ خطاب ہے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو جب قوم کا تکذیب کرنا آپ کو شاق اور ناگوار گذرا تو اللہ تعالٰی نے آپ کی تسکین کے لئے حضرت موسٰی علیہ السلام کا ذکر فرمایا جنہوں نے اپنی قوم سے بہت تکلیفیں پائی تھیں مراد یہ ہے کہ انبیاء کو یہ باتیں پیش آتی رہتی ہیں ۔ آپ اس پر غمگین نہ ہوں ۔
اِذۡ نَادٰٮهُ رَبُّهٗ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًىۚ ﴿16﴾
۔ (۱٦) جب اسے اس کے رب نے پاک جنگل طویٰ میں (ف۱۹) ندا فرمائی،
تفسیر دیکھیں
(ف19)جو مُلکِ شام میں طور کے قریب ہے ۔
اِذۡهَبۡ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى ۖ ﴿17﴾
۔ (۱۷) کہ فرعون کے پاس جا اس نے سر اٹھایا (ف۲۰)
تفسیر دیکھیں
(ف20)اور وہ کفر وفساد میں حد سے گذر گیا ۔
فَقُلۡ هَلۡ لَّكَ اِلٰٓى اَنۡ تَزَكّٰى ۙ ﴿18﴾
۔ (۱۸) اس سے کہہ کیا تجھے رغبت اس طرف ہے کہ ستھرا ہو (ف۲۱)
تفسیر دیکھیں
(ف21)کفرو شرک اور معصیّت و نافرمانی سے ۔
وَاَهۡدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخۡشٰىۚ ﴿19﴾
۔ (۱۹) اور تجھے تیرے رب کی طرف (ف۲۲) راہ بتاؤں کہ تو ڈرے (ف۲۳)
تفسیر دیکھیں
(ف22)یعنی اس کی ذات و صفات کی معرفت کی طرف ۔(ف23)اس کے عذاب سے ۔
فَاَرٰٮهُ الۡاٰيَةَ الۡكُبۡرٰى ۖ ﴿20﴾
۔ (۲۰) پھر موسیٰ نے اسے بہت بڑی نشانی دکھائی (ف۲٤)
تفسیر دیکھیں
فَكَذَّبَ وَعَصٰى ۖ ﴿21﴾
۔ (۲۱) اس پر اس نے جھٹلایا (ف۲۵) اور نافرمانی کی،
تفسیر دیکھیں
(ف25)حضرت موسٰی علیہ السلام کو ۔
ثُمَّ اَدۡبَرَ يَسۡعٰىۖ ﴿22﴾
۔ (۲۲) پھر پیٹھ دی (ف۲٦) اپنی کوشش میں لگا (ف۲۷)
تفسیر دیکھیں
(ف26)یعنی ایمان سے اعراض کیا ۔(ف27)فساد انگیزی کی ۔
فَحَشَرَ فَنَادٰىۖ ﴿23﴾
۔ (۲۳) تو لوگوں کو جمع کیا (ف۲۸) پھر پکارا،
تفسیر دیکھیں
(ف28)یعنی جادو گروں کو اور اپنے لشکر وں کو ۔
فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الۡاَعۡلٰى ۖ ﴿24﴾
۔ (۲٤) پھر بولا میں تمہارا سب سے اونچا رب ہوں (ف۲۹)
تفسیر دیکھیں
(ف29)یعنی میرے اوپر اور کوئی رب نہیں ۔
فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَڪَالَ الۡاٰخِرَةِ وَالۡاُوۡلٰى ؕ ﴿25﴾
۔ (۲۵) تو اللہ نے اسے دنیا و آخرت دونوں کے عذاب میں پکڑا (ف۳۰)
تفسیر دیکھیں
(ف30)دنیا میں غرق کیا اور آخرت میں دوزخ میں داخل فرمائے گا ۔
اِنَّ فِىۡ ذٰلِكَ لَعِبۡرَةً لِّمَنۡ يَّخۡشٰىؕ ﴿26﴾
۔ (۲٦) بیشک اس میں سیکھ ملتا ہے اسے جو ڈرے (ف۳۱)
تفسیر دیکھیں
(ف31)اللہ عزَّوجلَّ سے ۔ اس کے بعد منکِرینِ بعث کو عتاب فرمایا جاتا ہے ۔
ءَاَنۡتُمۡ اَشَدُّ خَلۡقًا اَمِ السَّمَآءُ ؕ بَنٰٮهَا ﴿27﴾
۔ (۲۷) کیا تمہاری سمجھ کے مطابق تمہارا بنانا (ف۳۲) مشکل یا آسمان کا اللہ نے اسے بنایا،
تفسیر دیکھیں
(ف32)تمہارے مرنے کے بعد ۔
رَفَعَ سَمۡكَهَا فَسَوَّٮهَا ۙ ﴿28﴾
۔ (۲۸) اس کی چھت اونچی کی (ف۳۳) پھر اسے ٹھیک کیا (ف۳٤)
تفسیر دیکھیں
(ف33)بغیر ستون کے ۔(ف34)ایسا کہ اس میں کہیں کوئی خلل نہیں ۔
وَ اَغۡطَشَ لَيۡلَهَا وَاَخۡرَجَ ضُحٰٮهَا ﴿29﴾
۔ (۲۹) اس کی رات اندھیری کی اور اس کی روشنی چمکائی (ف۳۵)
تفسیر دیکھیں
(ف35)نورِ آفتاب کو ظاہر فرما کر ۔
وَالۡاَرۡضَ بَعۡدَ ذٰلِكَ دَحٰٮهَا ؕ ﴿30﴾
۔ (۳۰) اور اس کے بعد زمین پھیلائی (ف۳٦)
تفسیر دیکھیں
(ف36)جو پیدا تو آسمان سے پہلے فرمائی گئی تھی مگر پھیلائی نہ گئی تھی ۔
اَخۡرَجَ مِنۡهَا مَآءَهَا وَمَرۡعٰٮهَا ﴿31﴾
۔ (۳۱) اس میں سے (ف۳۷) اس کا پانی اور چارہ نکا لا (ف۳۸)
تفسیر دیکھیں
(ف37)چشمے جاری فرما کر ۔(ف38)جسے جاندار کھاتے ہیں ۔
وَالۡجِبَالَ اَرۡسٰٮهَا ۙ ﴿32﴾
۔ (۳۲) اور پہاڑوں کو جمایا (ف۳۹)
تفسیر دیکھیں
(ف39)روئے زمین پر تاکہ اس کو سکون ہو ۔
مَتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡؕ ﴿33﴾
۔ (۳۳) تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے فائدہ کو،
فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّةُ الۡكُبۡرٰى ۖ ﴿34﴾
۔ (۳٤) پھر جب آئے گی وہ عام مصیبت سب سے بڑی (ف٤۰)
تفسیر دیکھیں
(ف40)یعنی نفخۂِ ثانیہ ہوگا جس میں مردے اٹھائے جائیں گے ۔
يَوۡمَ يَتَذَكَّرُ الۡاِنۡسَانُ مَا سَعٰىۙ ﴿35﴾
۔ (۳۵) اس دن آدمی یاد کرے گا جو کوشش کی تھی (ف٤۱)
تفسیر دیکھیں
(ف41)دنیا میں نیک یا بد ۔
وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ لِمَنۡ يَّرٰى ﴿36﴾
۔ (۳٦) اور جہنم ہر دیکھنے والے پر ظاہر کی جائے گی (ف٤۲)
تفسیر دیکھیں
(ف42)اور تمام خَلق اس کو دیکھے ۔
فَاَمَّا مَنۡ طَغٰىۙ ﴿37﴾
۔(۳۷) تو وہ جس نے سرکشی کی (ف٤۳)
تفسیر دیکھیں
(ف43)حد سے گذرا اور کفر اختیار کیا ۔
وَاٰثَرَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا ۙ ﴿38﴾
۔ (۳۸) اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی (ف٤٤)
تفسیر دیکھیں
(ف44)آخرت پر اور شہوات کا تابع ہوا ۔
فَاِنَّ الۡجَحِيۡمَ هِىَ الۡمَاۡوٰىؕ ﴿39﴾
۔ (۳۹) تو بیشک جہنم ہی اس کا ٹھکانا ہے ،
وَاَمَّا مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفۡسَ عَنِ الۡهَوٰىۙ ﴿40﴾
۔(٤۰) اور وہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا (ف٤۵) اور نفس کو خواہش سے روکا (ف٤٦)
تفسیر دیکھیں
(ف45)اور اس نے جانا کہ اسے روزِ قیامت اپنے رب کے حضور حساب کے لئے حاضر ہونا ہے ۔(ف46)حرام چیزوں کی ۔
فَاِنَّ الۡجَـنَّةَ هِىَ الۡمَاۡوٰىؕ ﴿41﴾
۔(٤۱) تو بیشک جنت ہی ٹھکانا ہے (ف٤۷)
تفسیر دیکھیں
(ف47)اے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مکّہ کے کافر ۔
يَسۡـــَٔلُوۡنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرۡسٰٮهَا ؕ ﴿42﴾
۔(٤۲) تم سے قیامت کو پوچھتے ہیں کہ وہ کب کے لیے ٹھہری ہوئی ہے،
فِيۡمَ اَنۡتَ مِنۡ ذِكۡرٰٮهَاؕ ﴿43﴾
۔(٤۳) تمہیں اس کے بیان سے کیا تعلق (ف٤۸)
تفسیر دیکھیں
(ف48)اور اس کا وقت بتانے سے کیا غرض ۔
اِلٰى رَبِّكَ مُنۡتَهٰٮهَاؕ ﴿44﴾
۔(٤٤) تمہارے رب ہی تک اس کی انتہا ہے،
اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُنۡذِرُ مَنۡ يَّخۡشٰٮهَاؕ ﴿45﴾
۔(٤۵) تم تو فقط اسے ڈرا نے والے ہو جو اس سے ڈرے،
كَاَنَّهُمۡ يَوۡمَ يَرَوۡنَهَا لَمۡ يَلۡبَثُوۡۤا اِلَّا عَشِيَّةً اَوۡ ضُحٰٮهَا ﴿46﴾
۔(٤٦) گویا جس دن وہ اسے دیکھیں گے (ف٤۹) دنیا میں نہ رہے تھے مگر ایک شام یا اس کے دن چڑھے،
تفسیر دیکھیں
(ف49)یعنی کافر قیامت کو جس کا انکار کرتے ہیں تو اس کے ہول و دہشت سے اپنی زندگانی کی مدّت بھول جائیں گے اور خیال کریں گے کہ ۔