An-Naziat النازعات

پارہ: 30
سورہ: 79
آیات: 46
وَالنّٰزِعٰتِ غَرۡقًا ۙ‏ ﴿1﴾

قسم ان کی (ف۲) کہ سختی سے جان کھینچیں (ف۳)

By oath of those who harshly pull out the soul. (Of the disbeliever)

وَّالنّٰشِطٰتِ نَشۡطًا ۙ‏ ﴿2﴾

۔ (۲) اور نرمی سے بند کھولیں ) (ف٤)

And who softly release the soul. (Of the believer)

وَّالسّٰبِحٰتِ سَبۡحًا ۙ‏ ﴿3﴾

۔ (۳) اور آسانی سے پیریں (ف۵)

And who glide with ease.

فَالسّٰبِقٰتِ سَبۡقًا ۙ‏ ﴿4﴾

۔ (٤) پھر آگے بڑھ کر جلد پہنچیں (ف٦)

And who quickly present themselves.

فَالۡمُدَبِّرٰتِ اَمۡرًا​ ۘ‏ ﴿5﴾

۔ (۵) پھر کام کی تدبیر کریں (ف۷)

And who plan the implementation.

يَوۡمَ تَرۡجُفُ الرَّاجِفَةُ ۙ‏ ﴿6﴾

۔ (٦) کہ کافروں پر ضرور عذاب ہوگا جس دن تھر تھرائے گی تھرتھرانے والی (ف۸)

On the day when the trembling one will tremble. (The disbelievers will certainly taste the punishment.)

تَتۡبَعُهَا الرَّادِفَةُ ؕ‏ ﴿7﴾

۔ (۷) اس کے پیچھے آئے گی پیچھے آنے والی (ف۹)

And the following event will come after it.

قُلُوۡبٌ يَّوۡمَٮِٕذٍ وَّاجِفَةٌ ۙ‏ ﴿8﴾

۔ (۸) کتنے دل اس دن دھڑکتے ہوں گے،

Many a heart will flutter on that day!

اَبۡصَارُهَا خَاشِعَةٌ​ ۘ‏ ﴿9﴾

۔ (۹) آنکھ اوپر نہ اٹھا سکیں گے (ف۱۰)

Unable to lift their gaze.

يَقُوۡلُوۡنَ ءَاِنَّا لَمَرۡدُوۡدُوۡنَ فِى الۡحَـافِرَةِ ؕ‏ ﴿10﴾

۔ (۱۰) کافر (ف۱۱) کہتے ہیں کیا ہم پھر الٹے پاؤں پلٹیں گے (ف۱۲)

The disbelievers say, “Will we really return to our former state?”

ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً ؕ‏ ﴿11﴾

۔ (۱۱) کیا ہم جب گلی ہڈیاں ہوجائیں گے (ف۱۳)

“When we have become decayed bones?”

قَالُوۡا تِلۡكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ​ ۘ‏ ﴿12﴾

۔ (۱۲) بولے یوں تو یہ پلٹنا تو نرا نقصان ہے (ف۱٤)

They said, “So this return is an obvious loss!”

فَاِنَّمَا هِىَ زَجۡرَةٌ وَّاحِدَةٌ ۙ‏ ﴿13﴾

۔ (۱۳) تو وہ (ف۱۵) نہیں مگر ایک جھڑکی (ف۱٦)

So that is not but a single shout.

فَاِذَا هُمۡ بِالسَّاهِرَةِ ؕ‏ ﴿14﴾

۔ (۱٤) جبھی وہ کھلے میدان میں آپڑے ہوں گے (ف۱۷)

So they will immediately be in an open plain.

هَلۡ اَتٰٮكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰى​ۘ‏ ﴿15﴾

۔ (۱۵) کیا تمہیں موسیٰ کی خبر آئی (ف۱۸)

Did the news of Moosa reach you?

اِذۡ نَادٰٮهُ رَبُّهٗ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًى​ۚ‏ ﴿16﴾

۔ (۱٦) جب اسے اس کے رب نے پاک جنگل طویٰ میں (ف۱۹) ندا فرمائی،

When his Lord called him in the holy valley of Tuwa.

اِذۡهَبۡ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى ۖ‏ ﴿17﴾

۔ (۱۷) کہ فرعون کے پاس جا اس نے سر اٹھایا (ف۲۰)

That “Go to Firaun – he has rebelled.”

فَقُلۡ هَلۡ لَّكَ اِلٰٓى اَنۡ تَزَكّٰى ۙ‏ ﴿18﴾

۔ (۱۸) اس سے کہہ کیا تجھے رغبت اس طرف ہے کہ ستھرا ہو (ف۲۱)

“Tell him ‘Do you have the inclination to become pure?’

وَاَهۡدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخۡشٰى​ۚ‏ ﴿19﴾

۔ (۱۹) اور تجھے تیرے رب کی طرف (ف۲۲) راہ بتاؤں کہ تو ڈرے (ف۲۳)

‘And I may guide you to your Lord, so that you may fear.’”

فَاَرٰٮهُ الۡاٰيَةَ الۡكُبۡرٰى ۖ‏ ﴿20﴾

۔ (۲۰) پھر موسیٰ نے اسے بہت بڑی نشانی دکھائی (ف۲٤)

So Moosa showed him a magnificent sign.

فَكَذَّبَ وَعَصٰى ۖ‏ ﴿21﴾

۔ (۲۱) اس پر اس نے جھٹلایا (ف۲۵) اور نافرمانی کی،

In response, he denied and disobeyed.

ثُمَّ اَدۡبَرَ يَسۡعٰىۖ‏ ﴿22﴾

۔ (۲۲) پھر پیٹھ دی (ف۲٦) اپنی کوشش میں لگا (ف۲۷)

He then turned away, striving in his effort.

فَحَشَرَ فَنَادٰىۖ‏ ﴿23﴾

۔ (۲۳) تو لوگوں کو جمع کیا (ف۲۸) پھر پکارا،

So he gathered the people, and proclaimed.

فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الۡاَعۡلٰى ۖ‏ ﴿24﴾

۔ (۲٤) پھر بولا میں تمہارا سب سے اونچا رب ہوں (ف۲۹)

And then said, “I am your most supreme lord.”

فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَڪَالَ الۡاٰخِرَةِ وَالۡاُوۡلٰى ؕ‏ ﴿25﴾

۔ (۲۵) تو اللہ نے اسے دنیا و آخرت دونوں کے عذاب میں پکڑا (ف۳۰)

Allah therefore seized him, in the punishment of this world and the Hereafter.

اِنَّ فِىۡ ذٰلِكَ لَعِبۡرَةً لِّمَنۡ يَّخۡشٰىؕ‏ ﴿26﴾

۔ (۲٦) بیشک اس میں سیکھ ملتا ہے اسے جو ڈرے (ف۳۱)

Indeed in this is a lesson for one who fears.

ءَاَنۡتُمۡ اَشَدُّ خَلۡقًا اَمِ السَّمَآءُ​ ؕ بَنٰٮهَا‏ ﴿27﴾

۔ (۲۷) کیا تمہاری سمجھ کے مطابق تمہارا بنانا (ف۳۲) مشکل یا آسمان کا اللہ نے اسے بنایا،

Do you think that it is harder to create you or the heavens? Allah has created it.

رَفَعَ سَمۡكَهَا فَسَوَّٮهَا ۙ‏ ﴿28﴾

۔ (۲۸) اس کی چھت اونچی کی (ف۳۳) پھر اسے ٹھیک کیا (ف۳٤)

He raised its roof and made it proper.

وَ اَغۡطَشَ لَيۡلَهَا وَاَخۡرَجَ ضُحٰٮهَا‏ ﴿29﴾

۔ (۲۹) اس کی رات اندھیری کی اور اس کی روشنی چمکائی (ف۳۵)

And He made its night dark, and started its light.

وَالۡاَرۡضَ بَعۡدَ ذٰلِكَ دَحٰٮهَا ؕ‏ ﴿30﴾

۔ (۳۰) اور اس کے بعد زمین پھیلائی (ف۳٦)

And after it spread out the earth.

اَخۡرَجَ مِنۡهَا مَآءَهَا وَمَرۡعٰٮهَا‏ ﴿31﴾

۔ (۳۱) اس میں سے (ف۳۷) اس کا پانی اور چارہ نکا لا (ف۳۸)

And from it produced its water and its pasture.

وَالۡجِبَالَ اَرۡسٰٮهَا ۙ‏ ﴿32﴾

۔ (۳۲) اور پہاڑوں کو جمایا (ف۳۹)

And solidified the mountains.

مَتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡؕ‏ ﴿33﴾

۔ (۳۳) تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے فائدہ کو،

In order to benefit you and your cattle.

فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّةُ الۡكُبۡرٰى ۖ‏ ﴿34﴾

۔ (۳٤) پھر جب آئے گی وہ عام مصیبت سب سے بڑی (ف٤۰)

So when the greatest universal disaster arrives,

يَوۡمَ يَتَذَكَّرُ الۡاِنۡسَانُ مَا سَعٰىۙ‏ ﴿35﴾

۔ (۳۵) اس دن آدمی یاد کرے گا جو کوشش کی تھی (ف٤۱)

On that day man will recall all what he strove for.

وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ لِمَنۡ يَّرٰى‏ ﴿36﴾

۔ (۳٦) اور جہنم ہر دیکھنے والے پر ظاہر کی جائے گی (ف٤۲)

And hell will be made visible to all those who can see.

فَاَمَّا مَنۡ طَغٰىۙ‏ ﴿37﴾

۔(۳۷) تو وہ جس نے سرکشی کی (ف٤۳)

So for one who rebelled,

وَاٰثَرَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا ۙ‏ ﴿38﴾

۔ (۳۸) اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی (ف٤٤)

And preferred the worldly life,

فَاِنَّ الۡجَحِيۡمَ هِىَ الۡمَاۡوٰىؕ‏ ﴿39﴾

۔ (۳۹) تو بیشک جہنم ہی اس کا ٹھکانا ہے ،

Then indeed hell only is his destination.

وَاَمَّا مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفۡسَ عَنِ الۡهَوٰىۙ‏ ﴿40﴾

۔(٤۰) اور وہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا (ف٤۵) اور نفس کو خواہش سے روکا (ف٤٦)

And for one who feared to stand before his Lord and restrained his soul from desire,

فَاِنَّ الۡجَـنَّةَ هِىَ الۡمَاۡوٰىؕ‏ ﴿41﴾

۔(٤۱) تو بیشک جنت ہی ٹھکانا ہے (ف٤۷)

Then indeed Paradise only is his destination.

يَسۡـــَٔلُوۡنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرۡسٰٮهَا ؕ‏ ﴿42﴾

۔(٤۲) تم سے قیامت کو پوچھتے ہیں کہ وہ کب کے لیے ٹھہری ہوئی ہے،

They (the disbelievers) ask you regarding the Last Day, as to when is its appointed time.

فِيۡمَ اَنۡتَ مِنۡ ذِكۡرٰٮهَاؕ‏ ﴿43﴾

۔(٤۳) تمہیں اس کے بیان سے کیا تعلق (ف٤۸)

What concern do you have regarding its explanation? (You are not bound to tell them)

اِلٰى رَبِّكَ مُنۡتَهٰٮهَاؕ‏ ﴿44﴾

۔(٤٤) تمہارے رب ہی تک اس کی انتہا ہے،

Towards your Lord only is its conclusion.

اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُنۡذِرُ مَنۡ يَّخۡشٰٮهَاؕ‏ ﴿45﴾

۔(٤۵) تم تو فقط اسے ڈرا نے والے ہو جو اس سے ڈرے،

You are but a Herald of Warning, for one who fears it.

كَاَنَّهُمۡ يَوۡمَ يَرَوۡنَهَا لَمۡ يَلۡبَثُوۡۤا اِلَّا عَشِيَّةً اَوۡ ضُحٰٮهَا‏  ﴿46﴾

۔(٤٦) گویا جس دن وہ اسے دیکھیں گے (ف٤۹) دنیا میں نہ رہے تھے مگر ایک شام یا اس کے دن چڑھے،

The day when they will see it, it will seem as if they had not stayed on earth except for an evening or its morning.

Scroll to Top