اے لوگو ! (ف۲) اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا (ف۳) اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیئے اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو (ف٤) بیشک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے،
O mankind! Fear your Lord Who created you from a single soul and from it created its spouse and from them both has spread the multitude of men and women; fear Allah in Whose name you claim (your rights from one another) and be mindful of your blood relations; indeed Allah is always seeing you.
ऐ लोगो ! अपने रब से डरो जिस ने तुम्हें एक जान से पैदा किया और उसी में से उसका जोड़ा बनाया और उन दोनों से बहुत से मर्द और औरत फैला दिये और अल्लाह से डरो जिस के नाम पर मांगते हो और रिश्तों का लिहाज़ रखो बेशक अल्लाह हर वक्त तुम्हें देख रहा है,
Ae logo! Apne Rab se daro jis ne tumhein ek jaan se paida kiya aur usi mein se us ka jora banaya aur un dono se bohat se mard aur aurat phaila diye. Aur Allah se daro jis ke naam par maangte ho aur rishton ka lihaaz rakho. Beshak Allah har waqt tumhein dekh raha hai,
(ف2)یہ خطاب عام ہے تمام بنی آدم کو ۔(ف3)ابوالبشر حضرتِ آدم سے جن کو بغیر ماں باپ کے مٹی سے پیدا کیا تھا انسان کی ابتدائے پیدائش کا بیان کرکے قدرتِ الٰہیہ کی عظمت کا بیان فرمایا گیااگرچہ دنیا کے بے دین بدعقلی و نافہمی سے اس کا مضحکہ اُڑاتے ہیں لیکن اصحابِ فہم و خِرد جانتے ہیں کہ یہ مضمون ایسی زبردست برہان سے ثابت ہے جس کا انکار محال ہے مردم شماری کا حساب پتہ دیتا ہے کہ آج سے سو برس قبل دنیا میں انسانوں کی تعداد آج سے بہت کم تھی اور اس سے سو برس پہلے اور بھی کم تو اس طرح جانب ماضی میں چلتے چلتے اس کمی کی حد ایک ذات قرار پائے گی یا یوں کہئے کہ قبائل کی کثیر تعداد یں ایک شخص کی طرف منتہی ہوجاتی ہیں مثلاً سید دنیا میں کروڑوں پائے جائیں گے مگر جانب ماضی میں اُن کی نہایت سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک ذات پر ہوگی اور بنی اسرائیل کتنے بھی کثیر ہوں مگر اس تمام کثرت کا مرجع حضرت یعقوب علیہ السلام کی ایک ذات ہوگی اسی طرح اور اوپر کو چلنا شروع کریں تو انسان کے تمام شُعوب و قبائل کی انتہا ایک ذات پر ہوگی اس کا نام کتبِ الٰہیہ میں آدم علیہ السلام ہے اور ممکن نہیں ہے کہ وہ ایک شخص تَوالُد وتَناسُل کے معمولی طریقہ سے پیدا ہوسکے اگر اس کے لئے باپ فرض بھی کیا جائے تو ماں کہاں سے آئے لہٰذا ضروری ہے کہ اس کی پیدائش بغیر ماں باپ کے ہواور جب بغیر ماں باپ کے پیدا ہوا تو بالیقین اُنہیں عناصر سے پیدا ہوگا جو اُس کے وجود میں پائے جاتے ہیں پھر عناصر میں سے جو عنصر اس کا مسکن ہو اور جس کے سوا دوسرے میں وہ نہ رہ سکے لازم ہے کہ وہی اس کے وجود میں غالب ہو اس لئے پیدائش کی نسبت اُسی عنصر کی طرف کی جائے گی یہ بھی ظاہر ہے کہ توالد و تناسل کا معمولی طریقہ ایک شخص سے جاری نہیں ہوسکتا۔ اس لئے اس کے ساتھ ایک اور بھی ہو کہ جوڑا ہوجائے اور وہ دوسرا شخص انسانی جو اس کے بعد پیداہو مُقتضائے حکمت یہی ہے کہ اُسی کے جسم سے پیدا کیا جائے کیونکہ ایک شخص کے پیدا ہونے سے نوع موجود ہوچکی مگر یہ بھی لازم ہے کہ اس کی خلقت پہلے انسان سے توالد معمولی کے سوا کسی اور طریقہ سے ہو کیونکہ توالدِ معمولی بغیر دو کے ممکن ہی نہیں اور یہاں ایک ہی ہے لہذا حکمت الٰہیہ نے حضرت آدم کی ایک بائیں پسلی ان کے خواب کے وقت نکالی اور اُن سے اُن کی بی بی حضرت حوّا کو پیدا کیا چونکہ حضرت حوّا بطریق توالد معمولی پیدا نہیں ہوئیں اس لئے وہ اولاد نہیں ہوسکتیں جس طرح کہ اس طریقہ کے خلاف جسم انسانی سے بہت سے کیڑے پیدا ہوا کرتے ہیں وہ اس کی اولاد نہیں ہوسکتے ہیں خواب سے بیدار ہو کر حضرت آدم نے اپنے پاس حضرت حوّا کو دیکھا تو محبتِ جنسیّت دِل میں موجزَن ہوئی اُن سے فرمایا تم کون ہوا نہوں نے عرض کیا عورت فرمایا کس لئے پیدا کی گئی ہو۔ عرض کیا آپ کی تسکینِ خاطر کے لئے تو آپ اُن سے مانوس ہوئے۔(ف4)اِنہیں قطع نہ کرو حدیث شریف میں ہے جو رزق کی کشائش چاہے اس کو چاہئے کہ صلۂ رحمی کرے اور رشتہ داروں کے حقوق کی رعایت رکھے۔
اور یتیموں کو ان کے مال دو (ف۵) اور ستھرے (ف٦) کے بدلے گندا نہ لو (ف۷) اور ان کے مال اپنے مالوں میں ملاکر نہ کھا جاؤ، بیشک یہ بڑا گناہ ہے
And give the orphans their wealth and do not exchange the pure for the foul; and do not devour (or use up) their wealth, mixing it with your own; this is indeed a great sin.
और यतीमों को उनके माल दो और सुथरे के बदले गन्दा न लो और उनके माल अपने मालों में मिलाकर न खा जाओ, बेशक ये बड़ा गुनाह है
Aur yateemon ko un ke maal do aur suthre ke badle ganda na lo aur un ke maal apne maaloon mein mila kar na kha jao, beshak yeh bara gunah hai.
(ف5)شان نزول: ایک شخص کی نگرانی میں اُس کے یتیم بھتیجے کا کثیر مال تھا جب وہ یتیم بالغ ہو ا اور اس نے اپنا مال طلب کیا تو چچا نے دینے سے انکار کردیا اِس پر یہ آیت نازل ہوئی اِس کو سن کر اُس شخص نے یتیم کا مال اُس کے حوالہ کیا اور کہا کہ ہم اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔(ف6)یعنی اپنے حلال مال ۔(ف7)یتیم کا مال جو تمہارے لئے حرام ہے اس کو اچھا سمجھ کر اپنے ردّی مال سے نہ بدلو کیونکہ وہ ردّی تمہارے لئے حلال و طیّب ہے اور یہ حرام و خبیث ۔
اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں میں انصاف نہ کرو گے (ف۸) تو نکاح میں لاؤ جو عورتیں تمہیں خوش آئیں دو دو اور تین تین اور چار چار (ف۹) پھر اگر ڈرو کہ دو بیبیوں کو برابر نہ رکھ سکو گے تو ایک ہی کرو یا کنیزیں جن کے تم مالک ہو یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو (ف۱۰)
And if you fear that you will not be just towards orphan girls, marry the women whom you like – two at a time, or three or four; then if you fear that you cannot keep two women equally then marry only one or the bondwomen you own; this is closer to your not doing injustice.
और अगर तुम्हें अन्देशा हो कि यतीम लड़कियों में इन्साफ़ न करोगे तो निकाह में लाओ जो औरतें तुम्हें खुश आयें दो दो और तीन तीन और चार चार फिर अगर डरो कि दो बीबियों को बराबर न रख सकोगे तो एक ही करो या कनिजें जिन के तुम मालिक हो ये इस से ज़्यादा क़रीब है कि तुम से ज़ुल्म न हो
Aur agar tumhein andesha ho ke yateem larkiyon mein insaaf na karoge to nikah mein lao jo auratein tumhein khush aayen – do do, aur teen teen, aur chaar chaar. Phir agar daro ke do bibioun ko barabar na rakh sako ge to ek hi karo ya kanizain jin ke tum malik ho. Yeh us se zyada qareeb hai ke tum se zulm na ho.
(ف8)اور ان کے حقوق کی رعایت نہ رکھ سکو گے(ف9)آیت کے معنی میں چند قول ہیں حسن کا قول ہے کہ پہلے زمانہ میں مدینہ کے لوگ اپنی زیرِ ولایت یتیم لڑکی سے اُس کے مال کی وجہ سے نکاح کرلیتے باوجود یکہ اُس کی طرف رغبت نہ ہوتی پھر اُس کے ساتھ صحبت و معاشرت میں اچھا سلوک نہ کرتے اور اُس کے مال کے وارث بننے کے لئے اُس کی موت کے منتظر رہتے اِس آیت میں اُنہیں اِس سے روکا گیا ایک قول یہ ہے کہ لوگ یتیموں کی ولایت سے توبے انصافی ہوجانے کے اندیشہ سے گھبراتے تھے اور زنا کی پرواہ نہ کرتے تھے اُنہیں بتایا گیا کہ اگر تم ناانصافی کے اندیشہ سے یتیموں کی ولایت سے گریز کرتے ہو تو زنا سے بھی خوف کرو اور اُس سے بچنے کے لئے جو عورتیں تمہارے لئے حلال ہیں اُن سے نکاح کرو اور حرام کے قریب مت جاؤ ۔ ایک قول یہ ہے کہ لوگ یتیموں کی ولایت و سرپرستی میں تو ناانصافی کا اندیشہ کرتے تھے اور بہت سے نکاح کرنے میں کچھ باک نہیں رکھتے تھے اُنہیں بتایا گیا کہ جب زیادہ عورتیں نکاح میں ہوں تو اُن کے حق میں ناانصافی سے بھی ڈرو ۔ اُتنی ہی عورتوں سے نکاح کرو جن کے حقوق ادا کرسکو عِکْرَمَہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی کہ قریش دس دس بلکہ اس سے زیادہ عورتیں کرتے تھے اور جب اُن کا بار نہ اٹھ سکتا تو جو یتیم لڑکیاں اُن کی سرپرستی میں ہوتیں اُن کے مال خرچ کر ڈالتے اس آیت میں فرمایا گیا کہ اپنی استطاعت دیکھ لو اور چار سے زیادہ نہ کرو تاکہ تمہیں یتیموں کا مال خرچ کرنے کی حاجت پیش نہ آئے مسئلہ: اِس آیت سے معلُوم ہوا کہ آزاد مرد کے لئے ایک وقت میں چار عورتوں تک سے نکاح جائز ہے خواہ وہ حُرَّہ ہوں یا اَمَہ یعنی باندی مسئلہ: تمام امّت کا اجماع ہے کہ ایک وقت میں چار عورتوں سے زیادہ نکاح میں رکھنا کسی کے لئے جائز نہیں سوائے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یہ آپ کے خصائص میں سے ہے۔ ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ ایک شخص اسلام لائے اُن کی آٹھ بی بیاں تھیں حضور نے فرمایا اِن میں سے چار رکھنا ، ترمذی کی حدیث میں ہے کہ غیلان بن سلمہ ثَقَفِی اسلام لائے اُن کے دس بی بیاں تھیں وہ ساتھ مسلمان ہوئیں حضورنے حکم دیا اِن میں سے چار رکھو ۔(ف10)مسئلہ : اِس سے معلوم ہوا کہ بی بیوں کے درمیان عدل فرض ہے نئی پرانی باکرہ ثَیِّبَہ سب اِس اِستحقاق میں برابر ہیں یہ عدل لباس میں کھانے پینے میں سُکنٰی یعنی رہنے کی جگہ میں اور رات کو رہنے میں لازم ہے ان امور میں سب کے ساتھ یکساں سلوک ہو ۔
اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دو (ف۱۱) پھر اگر وہ اپنے دل کی خوشی سے مہر میں سے تمہیں کچھ دے دیں تو اسے کھاؤ رچتا پچتا (ف۱۲)
And give the women their bridal money willingly; then if they willingly give you a part of it, eat (use) it with joy and fruition.
और औरतों को उनके मेहर खुशी से दो फिर अगर वे अपने दिल की खुशी से मेहर में से तुम्हें कुछ दे दें तो उसे खाओ रचता पचता
Aur auraton ko un ke mehr khushi se do, phir agar woh apne dil ki khushi se mehr mein se tumhein kuch de dein to use khao rachta pachta.
(ف11)اس سے معلوم ہوا کہ مَہر کی مستحق عورتیں ہیں نہ کہ ان کے اولیاء اگر اولیاء نے مَہر وصول کرلیا ہو تو انہیں لازم ہے کہ وہ مہر اس کی مستحق عورت کو پہنچادیں ۔(ف12)مسئلہ : عورتوں کو اختیار ہے کہ وہ اپنے شوہروں کو مَہر کا کوئی جزو ہبہ کریں یا کل مہر مگر مہر بخشوانے کے لئے انہیں مجبور کرنا اُن کے ساتھ بدخَلقِی کرنا نہ چاہئے کیونکہ اللہ تعالٰی نے طِبْنَ لَکُمْ فرمایا جس کے معنٰی ہیں دل کی خوشی سے معاف کرنا
اور بےعقلوں کو (ف۱۳) ان کے مال نہ دو جو تمہارے پاس ہیں جن کو اللہ نے تمہاری بسر اوقات کیا ہے اور انہیں اس میں سے کھلاؤ اور پہناؤ اور ان سے اچھی بات کہو (ف۱٤)
And do not give the foolish their wealth which is in your custody – those for whom Allah has put you in charge to maintain (look after) – and feed and clothe them from it, and speak kindly to them.
और बे अक़्लों को उनके माल न दो जो तुम्हारे पास हैं जिन को अल्लाह ने तुम्हारी बस्र-ओ-क़ात किया है और उन्हें इस में से खिलाओ और पहनाओ और उनसे अच्छी बात कहो
Aur be-aqaloon ko un ke maal na do jo tumhare paas hain jin ko Allah ne tumhari basar-o-qaat kiya hai. Aur unhein is mein se khilao aur pehnawo aur un se achhi baat kaho.
(ف13)جو اتنی سمجھ نہیں رکھتے کہ مال کا مَصرَف پہچانیں اُس کو بے محل خرچ کرتے ہیں اور اگر اُن پر چھوڑ دیا جائے تو وہ جلد ضائع کردیں گے(ف14)جس سے اُن کے دل کو تسلّی ہو اور وہ پریشان نہ ہوں مثلاً یہ کہ مال تمہارا ہے اور تم ہوشیار ہوجاؤ گے تو تمہیں سپرد کیا جائے گا
اور یتیموں کو آزماتے رہو (ف۱۵) یہاں تک کہ جب وہ نکاح کے قابل ہوں تو اگر تم ان کی سمجھ ٹھیک دیکھو تو ان کے مال انہیں سپرد کردو اور انہیں نہ کھاؤ حد سے بڑھ کر اور اس جلدی میں کہ کہیں بڑے نہ ہوجائیں اور جسے حاجت نہ ہو وہ بچتا رہے (ف۱٦) اور جو حاجت مند ہو وہ بقدر مناسب کھائے، پھر جب تم ان کے مال انہیں سپرد کرو تو ان پر گواہ کرلو، اور اللہ کافی ہے حساب لینے کو،
And test the orphans till they are fit to get married (reach full age); then if you find them of proper judgement, hand over their wealth to them; and do not devour it by spending excessively and hastily, fearing that they will grow up; and whoever is not in need must abstain; and whoever is needy may use from it in a reasonable measure; and when you hand over their wealth to them, get witnesses over them; and Allah is Sufficient to take account.
और यतीमों को आज़माते रहो यहां तक कि जब वे निकाह के क़ाबिल हों तो अगर तुम उनकी समझ ठीक देखो तो उनके माल उन्हें सुपुर्द कर दो और उन्हें न खाओ हद से बढ़कर और इस जल्दी में कि कहीं बड़े न हो जायें और जिसे हाजत न हो वह बचता रहे और जो हाजतमन्द हो वह बक़दर मुनासिब खाये, फिर जब तुम उनके माल उन्हें सुपुर्द करो तो उन पर गवाह कर लो, और अल्लाह काफ़ी है हिसाब लेने को,
Aur yateemon ko aazmate raho yahan tak ke jab woh nikah ke qabil hon to agar tum un ki samajh theek dekho to un ke maal unhein supurd kar do. Aur unhein na khao had se barh kar aur us jaldi mein ke kahin bade na ho jayein. Aur jise haajat na ho woh bachhta rahe aur jo haajat mand ho woh ba-qadr munasib khaye. Phir jab tum un ke maal unhein supurd karo to unpar gawah kar lo, aur Allah kafi hai hisaab lene ko.
(ف15)کہ اِن میں ہوشیاری اور معاملہ فہمی پیدا ہوئی یا نہیں(ف16)یتیم کا مال کھانے سے۔
مردوں کے لئے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے اور عورتوں کے لئے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے ترکہ تھوڑا ہو یا بہت، حصہ ہے اندازہ باندھا ہوا (ف۱۷)
For men is a share from what the parents and near relatives leave behind, and for women is a share from what the parents and near relatives leave behind, whether the wealth (inheritance) is small or large; the share is a fixed one.
मर्दों के लिये हिस्सा है उस में से जो छोड़ गये माँ-बाप और क़राबत वाले और औरतों के लिये हिस्सा है उस में से जो छोड़ गये माँ-बाप और क़राबत वाले तरिका थोड़ा हो या बहुत, हिस्सा है अन्दाज़ा बाँधा हुआ
Mardon ke liye hissa hai us mein se jo chhod gaye maa baap aur qarabat wale, aur auraton ke liye hissa hai us mein se jo chhod gaye maa baap aur qarabat wale. Tarika thoda ho ya zyada, hissa hai andaaza bandha hua.
(ف17)زمانۂِ جاہلیّت میں عورتوں اور بچوں کو وِرثہ نہ دیتے تھے اِس آیت میں اُس رسم کو باطل کیا گیا
پھر بانٹتے وقت اگر رشتہ دار اور یتیم اور مسکین (ف۱۸) آجائیں تو اس میں سے انہیں بھی کچھ دو (ف۱۹) اور ان سے اچھی بات کہو (ف۲۰)
And if relatives and orphans and the needy are present at the time of disbursement, give them something from it and speak to them with kindness.
फिर बाँटते वक्त अगर रिश्तेदार और यतीम और मिस्कीन आ जायें तो उस में से उन्हें भी कुछ दो और उनसे अच्छी बात कहो
Phir baantte waqt agar rishtedaar aur yateem aur miskeen aa jayein to is mein se unhein bhi kuch do aur un se achhi baat kaho.
(ف18)اجنبی جن میں سے کوئی میِّت کا وارث نہ ہو(ف19)قبل تقسیم اور یہ دینا مستحب ہے(ف20)اس میں عذرِ جمیل وعدہ حسنہ اور دعائے خیر سب داخل ہیں اِس آیت میں میت کے ترکہ سے غیر وارث رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں کو کچھ بطورِ صدقہ دینے اور قول معروف کہنے کا حکم دیا زمانۂِ صحابہ میں اِس پر عمل تھا محمد بن سیرین سے مروی ہے کہ اُن کے والد نے تقسیمِ میراث کے وقت ایک بکری ذبح کراکے کھانا پکایا اور رشتہ داروں یتیموں اور مسکینوں کو کھلایا اور یہ آیت پڑھی ابن سِیرین نے اسی مضمون کی عبیدہ سلمانی سے بھی روایت کی ہے اُس میں یہ بھی ہے کہ کہا کہ اگر یہ آیت نہ آئی ہوتی تو یہ صدقہ میں اپنے مال سے کرتا۔ تیجہ جس کو سویٔم کہتے ہیں اور مسلمانوں میں معمول ہے وہ بھی اسی آیت کا اتباع ہے کہ اس میں رشتہ داروں اور یتیموں و مسکینوں پر تصدق ہوتا ہے اور کلمہ کا ختم اور قرآن پاک کی تلاوت اور دعا قول معروف ہے اس میں بعض لوگوں کو بے جا اصرار ہوگیا ہے جو بزرگوں کے اِس عمل کا ماخذ تو تلاش نہ کرسکے باوجود یہ کہ اتنا صاف قرآن پاک میں موجود تھا لیکن انہوں نے اپنی رائے کو دین میں دخل دیا اور عمل خیر کو روکنے پر مُصِر ہوگئے ۔ اللہ ہدایت کرے ۔
اور ڈریں (ف۲۱) وہ لوگ اگر اپنے بعد ناتواں اولاد چھوڑتے تو ان کا کیسا انہیں خطرہ ہوتا تو چاہئے کہ اللہ سے ڈریں (ف۲۲) اور سیدھی بات کریں (ف۲۳)
And those people must fear, who if they die leaving behind them young children would be afraid for them; so they must fear Allah and speak with fairness.
और डरें वे लोग अगर अपने बाद नातवाँ औलाद छोड़ते तो उनका कैसा उन्हें ख़तरा होता तो चाहिये कि अल्लाह से डरें और सीधी बात करें
Aur darain woh log agar apne baad natawan aulaad chhodte to un ka kaisa unhein khatra hota. To chahiye ke Allah se darain aur seedhi baat karein.
(ف21)وصی اور یتیموں کے ولی اور وہ لوگ جو قریبِ موت مرنے والے کے پاس موجود ہوں ۔(ف22)اور مرنے والے کی ذُرِّیَّت کے ساتھ خلاف شفقت کوئی کارروائی نہ کریں جس سے اُس کی اولاد پریشان ہو ۔(ف23)مریض کے پاس اُس کی موت کے قریب موجود ہونے والوں کی سیدھی بات تو یہ ہے کہ اُسے صدقہ و وصیت میں یہ رائے دیں کہ وہ اتنے مال سے کرے جس سے اس کی اولاد تنگ دست نادار نہ رہ جائے اور وصی و ولی کی سیدھی بات یہ ہے کہ وہ مرنے والے کی ذرّیّت سے حُسن خُلق کے ساتھ کلام کریں جیسا اپنی اولاد کے ساتھ کرتے ہیں
وہ جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں نری آگ بھرتے ہیں (ف۲٤) اور کوئی دم جاتا ہے کہ بھڑتے دھڑے (آتش کدے) میں جائیں گے،
Indeed those who unjustly devour the wealth of orphans only fill their bellies with fire; and soon they will go into a blazing pit.
वे जो यतीमों का माल नाहक़ खाते हैं वे तो अपने पेट में नरी आग भरते हैं और कोई दम जाता है कि भड़ते धड़े (आतिशक़दे) में जायेंगे,
Woh jo yateemon ka maal na-haq khate hain woh to apne pait mein nari aag bharte hain aur koi dum jata hai ke bhadakte dharay (aatish kade) mein jayein ge.
(ف24)یعنی یتیموں کا مال ناحق کھانا گویا آگ کھانا ہے کیونکہ وہ سبب ہے عذاب کا۔ حدیث شریف میں ہے روزِ قیامت یتیموں کا مال کھانے والے اِس طرح اُٹھائے جائیں گے کہ اُن کی قبروں سے اور اُن کے منہ سے اور اُنکے کانوں سے دھواں نکلتا ہوگا تو لوگ پہچانیں گے کہ یہ یتیم کا مال کھانے والا ہے ۔
اللہ تمہیں حکم دیتا ہے (ف۲۵) تمہاری اولاد کے بارے میں (ف۲٦) بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے (ف۲۷) پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر (ف۲۸) تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی ہو تو اس کا آدھا (ف۲۹) اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا اگر میت کے اولاد ہو (ف۳۰) پھر اگر اس کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے (ف۳۱) تو ماں کا تہائی پھر اگر اس کے کئی بہن بھائی ہوں (ف۳۲) تو ماں کا چھٹا (ف۳۳) بعد اس و صیت کے جو کر گیا اور دین کے (ف۳٤) تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تم کیا جانو کہ ان میں کون تمہارے زیادہ کام آئے گا (ف۳۵) یہ حصہ باندھا ہوا ہے اللہ کی طرف سے بیشک اللہ علم والا حکمت والا ہے،
Allah commands you concerning your children; the son’s share is equal to that of two daughters; and if there are only daughters, for them is two-thirds of the inheritance, even if they are more than two; and if there is only one daughter, for her is half; and to each of the deceased’s parents a sixth of the inheritance, if he has children; and if the deceased has no children but leaves behind parents, then one third for the mother; and if he has several brothers and sisters, a sixth for the mother, after any will he may have made and payment of debt; your fathers and your sons – you do not know which of them will be more useful to you; this is the share fixed by Allah; indeed Allah is All Knowing, Wise.
अल्लाह तुम्हें हुक्म देता है तुम्हारी औलाद के बारे में बेटे का हिस्सा दो बेटियों बराबर है फिर अगर नरी लड़कियाँ हों अगरचे दो से ऊपर तो उनको तरिका की दो तिहाई और अगर एक लड़की हो तो उसका आधा और मय्यित के माँ-बाप को हर एक को उसके तरिका से छठा अगर मय्यित की औलाद हो फिर अगर उसकी औलाद न हो और माँ-बाप छोड़े तो माँ का तिहाई फिर अगर उसके कई बहन भाई हों तो माँ का छठा बाद उस वसियत के जो कर गया और दीन के तुम्हारे बाप और तुम्हारे बेटे तुम क्या जानो कि उनमें कौन तुम्हारे ज़्यादा काम आयेगा ये हिस्सा बाँधा हुआ है अल्लाह की तरफ़ से बेशक अल्लाह इल्म वाला हिकमत वाला है,
Allah tumhein hukm deta hai tumhari aulaad ke bare mein: bete ka hissa do betiyon ke barabar hai. Phir agar nari larkiyan hon, agarche do se upar, to unko tarika ka do tihai. Aur agar ek larki ho to us ka aadha. Aur mayyit ke maa baap ko har ek ko us ke tarika se chhata agar mayyit ki aulaad ho. Phir agar us ki aulaad na ho aur maa baap chhoday to maa ka tihai. Phir agar us ke kai behan bhai hon to maa ka chhata, baad us wasiyat ke jo kar gaya aur deen ke. Tumhare baap aur tumhare betay, tum kya jano ke un mein kaun tumhare zyada kaam aaye ga. Yeh hissa bandha hua hai Allah ki taraf se. Beshak Allah ilm wala hikmat wala hai.
(ف25)وَرَثہ کے متعلق ۔(ف26)اگر میت نے بیٹے بیٹیاں دونوں چھوڑی ہوں تو ۔(ف27)یعنی دختر کا حصہ پِسر سے آدھا ہے اور اگر مرنے والے نے صرف لڑکے چھوڑے ہوں تو کل مال اُنکا ۔(ف28)یادو(۲ )(ف29)اِس سے معلوم ہوا کہ اگر اکیلا لڑکا وارث رہا ہو تو کُل مال اُس کا ہوگا کیونکہ اوپربیٹے کا حصّہ بیٹیوں سے دُونا بتایا گیا ہے تو جب اکیلی لڑکی کا نصف ہوا تو اکیلے لڑکے کا اُس سے دُونا ہوا اور وہ کُل ہے(ف30)خواہ لڑکا ہو یا لڑکی کہ ان میں سے ہر ایک کو اولاد کہاجاتا ہے(ف31)یعنی صرف ماں باپ چھوڑے اور اگر ماں با پ کے ساتھ زوج یا زوجہ میں سے کسی کو چھوڑا تو ماں کا حصہ زوج کا حصہ نکالنے کے بعد جو باقی بچے اس کا تہائی ہوگا نہ کہ کُل کا تہائی(ف32)سگے خواہ سوتیلے ۔(ف33)اور ایک ہی بھائی ہو تو وہ ماں کا حصّہ نہیں گھٹا سکتا ۔(ف34)کیونکہ وصیت اور دَین یعنی قرض ورثہ کی تقسیم سے مقدم ہے اور دَین وصیت پر بھی مقدم ہے۔ حدیث شریف میں ہے اِنَّ الدَّیْنَ قَبْلَ الْوَصِیَّۃِ (ف35)اِس لئے حصوں کی تعیین تمہاری رائے پر نہیں چھوڑی ۔
اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو، پھر اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے جو وصیت وہ کر گئیں اور دَین نکال کر اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے (ف۳٦) اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں (ف۳۷) جو وصیت تم کر جاؤ اور دین نکال کر، اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کا ترکہ بٹنا ہو جس نے ماں باپ اولاد کچھ نہ چھوڑے اور ماں کی طرف سے اس کا بھائی یا بہن ہے تو ان میں سے ہر ایک کو چھٹا پھر اگر وہ بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں تو سب تہائی میں شریک ہیں (ف۳۸) میت کی وصیت اور دین نکال کر جس میں اس نے نقصان نہ پہنچایا ہو (ف۳۹) یہ اللہ کا ارشاد ہے اور اللہ علم والا حلم والا ہے،
And from what your wives leave, half is for you if they do not have any child; or if they have a child for you is a fourth of what they leave, after any will they may have made or debt to be paid; and to the women is a fourth of what you leave behind, if you do not have any child; or if you have a child then an eighth of what you leave behind, after any will you may have made, or debt to be paid; and if a deceased does not leave behind a mother, father or children but has a brother or a sister through a common mother, then to each of them a sixth; and if they (brothers and sisters) are more than two, then they shall all share in a third, after any will that may have been made or debt to be paid, in which the deceased has not caused a loss (to the heirs); this is the decree of Allah; and Allah is All Knowing, Most Forbearing.
और तुम्हारी बीबियाँ जो छोड़ जायें उस में से तुम्हें आधा है अगर उनकी औलाद न हो, फिर अगर उनकी औलाद हो तो उनके तरिका में से तुम्हें चौथाई है जो वसियत वे कर गयीं और दैन निकाल कर और तुम्हारे तरिका में औरतों का चौथाई है अगर तुम्हारी औलाद न हो फिर अगर तुम्हारी औलाद हो तो उनका तुम्हारे तरिका में से आठवाँ जो वसियत तुम कर जाओ और दैन निकाल कर, और अगर किसी ऐसे मर्द या औरत का तरिका बँटना हो जिस ने माँ-बाप औलाद कुछ न छोड़े और माँ की तरफ़ से उसका भाई या बहन है तो उनमें से हर एक को छठा फिर अगर वे बहन भाई एक से ज़्यादा हों तो सब तिहाई में शरीक हैं मय्यित की वसियत और दैन निकाल कर जिस में उस ने नुक़्सान न पहुँचाया हो ये अल्लाह का इर्शाद है और अल्लाह इल्म वाला हिलम वाला है,
Aur tumhari biwiyaan jo chhod jayein us mein se tumhein aadha hai agar un ki aulaad na ho. Phir agar un ki aulaad ho to un ke tarika mein se tumhein chouthai hai, jo wasiyat woh kar gayin aur dayn nikal kar. Aur tumhare tarika mein auraton ka chouthai hai agar tumhari aulaad na ho. Phir agar tumhari aulaad ho to un ka tumhare tarika mein se aathwaan, jo wasiyat tum kar jao aur deen nikal kar. Aur agar kisi aise mard ya aurat ka tarika batna ho jis ne maa baap aulaad kuch na chhoda aur maa ki taraf se us ka bhai ya behan hai to un mein se har ek ko chhata. Phir agar woh behan bhai ek se zyada hon to sab tihai mein shareek hain. Mayyit ki wasiyat aur deen nikal kar, jis mein us ne nuqsaan na pahunchaya ho. Yeh Allah ka irshaad hai aur Allah ilm wala halim wala hai.
(ف36)خواہ ایک بی بی ہو یا کئی ایک ہوگی تو وہ اکیلی چوتھائی پائے گی کئی ہونگی تو سب اس چوتھائی میں برابر شریک ہوں گی خواہ بی بی ایک ہو یا کئی ہوں حصہ یہی رہے گا ۔(ف37)خواہ بی بی ایک ہو یا زیادہ(ف38)کیونکہ وہ ماں کے رشتہ کی بدولت مستحق ہوئے اور ماں تہائی سے زیادہ نہیں پاتی اور اِسی لئے اُن میں مرد کا حصہ عورت سے زیادہ نہیں ہے۔(ف39)اپنے وارثوں کو تہائی سے زیادہ وصیت کرکے یا کسی وارث کے حق میں وصیت کرکے مسائل۔ فرائضِ وارث کئی قِسم ہیں اصحابِ فَرائض یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے حصے مقرر ہیں مثلاً بیٹی ایک ہو تو آدھے مال کی مالک زیادہ ہوں تو سب کے لئے دو تہائی ۔ پوتی اور پرپوتی اور اس سے نیچے کی ہر پوتی اگر میت کے اولاد نہ ہو تو بیٹی کے حکم میں ہے اور اگر میت نے ایک بیٹی چھوڑی ہو تو یہ اُس کے ساتھ چھٹا پائے گی اور اگر میت نے بیٹا چھوڑا تو ساقط ہوجائے گی کچھ نہ پائے گی اور اگر میت نے دو بیٹیاں چھوڑیں تو بھی پوتی ساقط ہوگی لیکن اگر اُس کے ساتھ یا اُس کے نیچے درجہ میں کوئی لڑکا ہوگا تو وہ اُس کو عَصبہ بنادے گا۔ سگی بہن میّت کے بیٹا یا پوتا نہ چھوڑنے کی صورت میں بیٹیوں کے حکم میں ہے۔ علاتی بہنیں جو باپ میں شریک ہوں اور اُن کی مائیں علٰیحدہ علٰیحدہ ہوں وہ حقیقی بہنوں کے نہ ہونے کی صورت میں ان کی مثل ہیں اوردونوں قسم کی بہنیں یعنی علاتی و حقیقی میت کی بیٹی یا پوتی کے ساتھ عصبہ ہوجاتی ہیں اور بیٹے اور پوتے اور اس کے ماتحت کے پوتے اور باپ کے ساتھ ساقط اور امام صاحب کے نزدیک دادا کے ساتھ بھی محروم ہیں ۔ سوتیلے بھائی بہن جو فقط ماں میں شریک ہوں اِن میں سے ایک ہو تو چھٹا اور زیادہ ہوں تو تہائی اور ان میں مرد عورت برابر حصہ پائیں گے اور بیٹے پوتے اور اس کے ماتحت کے پوتے اور باپ دادا کے ہوتے ساقِط ہوجائیں گے باپ چھٹا حصہ پائے گا اگر میت نے بیٹا یا پوتا یا اُس سے نیچے کے پوتے چھوڑے ہوں اور اگر میت نے بیٹی یا پوتی یا اور نیچے کی کوئی پوتی چھوڑی ہو توباپ چھٹا اور وہ باقی بھی پائے گا جو اصحاب فرض کو دے کر بچے دادا یعنی باپ کا باپ۔ باپ کے نہ ہونے کی صورت میں مثل باپ کے ہے سوائے اس کے کہ ماں کو ثُلثِ مَابَقِیَ کی طرف رد نہ کرسکے گا۔ ماں کا چھٹا حصہ ہے اگر میت نے اپنی اولاد یا اپنے بیٹے یا پوتے یا پرپوتےکی اولاد یا بہن بھائی میں سے دو چھوڑے ہوں خواہ وہ بھائی سگے ہوں یا سوتیلے اور اگر اُن میں سے کوئی نہ چھوڑا ہو تو ماں کل مال کا تہائی پائے گی اور اگر میت نے زوج یا زوجہ اور ماں باپ چھوڑے ہوں تو ماں کو زوج یا زوجہ کا حصہ دینے کے بعد جو باقی رہے اُس کا تہائی ملے گا اور جَدّہ کا چھٹا حصہ ہے خواہ وہ ماں کی طرف سے ہو یعنی نانی یا باپ کی طرف سے ہو یعنی دادی ایک ہو یا زیادہ ہوں اور قریب والی دور والی کے لئے حاجب ہوجاتی ہے اور ماں ہر ایک جدہ کو محجوب کرتی ہے اور باپ کی طرف کی جدات باپ کے ہونے سے محجوب ہوتی ہیں اِس صورت میں کچھ نہ ملے گا زوج چہارم پائے گا اگر میت نے اپنی یا اپنے بیٹے پوتے پر پوتے وغیرہ کی اولاد چھوڑی ہو اور اگر اس قسم کی اولاد نہ چھوڑی ہو تو شوہر نصف پائے گا زوجہ میت کی اور اس کے بیٹے پوتے وغیرہ کی اولاد ہونے کی صورت میں آٹھواں حصہ پائے گی اور نہ ہونے کی صورت میں چوتھائی عصبات وہ وارث ہیں جن کے لئے کوئی حصہ معیّن نہیں اصحابِ فرض سے جو باقی بچتا ہے وہ پاتے ہیں اِن میں سب سے اولٰی بیٹا ہے پھر اُس کا بیٹا پھر اور نیچے کے پوتے پھر باپ پھر دادا پھر آبائی سلسلہ میں جہاں تک کوئی پایا جائے پھر حقیقی بھائی پھر سوتیلا یعنی باپ شریک بھائی پھر سگے بھائی کا بیٹا پھر باپ شریک بھائی کا بیٹا۔ پھر چچا پھر باپ کے چچا پھر دادا کے چچا پھر آزاد کرنے والا پھر اُس کے عصبات ترتیب وار اور جن عورتوں کا حصّہ نصف یا دو تہائی ہے وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ عصبہ ہو جاتی ہیں اور جو ایسی نہ ہو ں وہ نہیں ذوی الارحام اصحابِ فرض اور عصبات کے سوا جو اقارب ہیں وہ ذوی الارحام میں داخل ہیں اور ان کی ترتیب عصبات کی مثل ہے۔
یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو حکم مانے اللہ اور اللہ کے رسول کا اللہ اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے ، اور یہی ہے بڑی کامیابی،
These are the limits of Allah; and whoever obeys Allah and His Noble Messenger – Allah will admit him into Gardens beneath which rivers flow – abiding in it forever; and this is the great success.
ये अल्लाह की हदें हैं और जो हुक्म माने अल्लाह और अल्लाह के रसूल का अल्लाह उसे बाग़ों में ले जायेगा जिनके नीचे नहरें रवाँ हमेशा उनमें रहेंगे, और यही है बड़ी कामयाबी,
Yeh Allah ki hadain hain aur jo hukm maane Allah aur Allah ke Rasool ka, Allah use baghon mein le jaye ga jinke neeche nahrain rawan. Hamesha un mein rahenge, aur yahi hai badi kamyabi.
اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی کل حدوں سے بڑھ جائے اللہ اسے آگ میں داخل کرے گا جس میں ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے خواری کا عذاب ہے (ف٤۰)
And whoever disobeys Allah and His Noble Messenger and crosses all His limits – Allah will put him in the fire (of hell), in which he will remain forever; and for him is a disgraceful punishment.
और जो अल्लाह और उसके रसूल की नाफ़रमानी करे और उसकी कुल हदों से बढ़ जाये अल्लाह उसे आग में दाख़िल करेगा जिस में हमेशा रहेगा और उसके लिये ख़्वारी का अज़ाब है
Aur jo Allah aur us ke Rasool ki nafarmaani kare aur us ki kul hadon se barh jaye, Allah use aag mein daakhil kare ga jismein hamesha rahega aur us ke liye khwari ka azaab hai.
(ف40)کیونکہ کُل حَدوں سے تجاوز کرنے والا کافر ہے اس لئے کہ مؤمن کیسا بھی گنہگار ہو ایمان کی حد سے تو نہ گزرے گا ۔
اور تمہاری عورتوں میں جو بدکاری کریں ان پر خاص اپنے میں کے (ف٤۱) چار مردوں کی گواہی لو پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو ان عورتوں کو گھر میں بند رکھو (ف٤۲) یہاں تک کہ انہیں موت اٹھالے یا اللہ ان کی کچھ راہ نکالے (ف٤۳)
And take testimony from four chosen men amongst you, against the women among you who commit adultery; and if they testify, confine those women in the houses until death takes them away or Allah creates a solution for them.
और तुम्हारी औरतों में जो बदकारी करें उन पर ख़ास अपने में के चार मर्दों की गवाही लो फिर अगर वे गवाही दे दें तो उन औरतों को घर में बन्द रखो यहां तक कि उन्हें मौत उठा ले या अल्लाह उनकी कुछ राह निकाले
Aur tumhari auraton mein jo badkaari karein unpar khaas apne mein ke chaar mardon ki gawahi lo. Phir agar woh gawahi de dein to un auraton ko ghar mein band rakho yahan tak ke unhein maut utha le ya Allah un ki kuch raah nikal de.
(ف41)یعنی مسلمانوں میں کے ۔(ف42)کہ وہ بدکاری نہ کرنے پائیں ۔(ف43)یعنی حد مقرر فرمائے یا توبہ اور نکاح کی توفیق دے جو مفسرین اس آیت میں اَلْفَاحِشَۃَ (بدکاری) سے زنا مراد لیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ حبس کا حکم حدود نازل ہونے سے قبل تھا حدود کے ساتھ منسوخ کیا گیا (خازن و جلالین و احمدی)
اور تم میں جو مرد عورت ایسا کریں ان کو ایذا دو (ف٤٤) پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نیک ہوجائیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو، بیشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے (ف٤۵)
And punish them both, the man and the woman, whoever are guilty of it (adultery); then if they repent and become pious, leave them; indeed Allah is the Most Acceptor Of Repentance, Most Merciful.
और तुम में जो मर्द औरत ऐसा करें उनको अज़ा दो फिर अगर वे तौबा कर लें और नेक हो जायें तो उनका पीछा छोड़ दो, बेशक अल्लाह बड़ा तौबा क़बूल करने वाला मेहरबान है
Aur tum mein jo mard aurat aisa karein un ko ezaa do, phir agar woh tauba kar lein aur nek ho jayein to un ka peechha chhod do, beshak Allah bara tauba qubool karne wala meherban hai.
(ف44)جِھڑ کو گُھڑ کو برا کہو شرم دلاؤ جوتیاں مارو(جلالین و مدارک و خازن وغیرہ)(ف45)حسن کا قول ہے کہ زنا کی سز ا پہلے ایذا مقرر کی گئی پھر حَبۡس پھر کوڑے مارنا یا سنگسار کرنا ابن بحر کا قول ہے کہ پہلی آیت وَالّٰتِیْ یَاْتِیْنَ ان عورتوں کے باب میں ہے جو عورتوں کے ساتھ(بطریقِ مُساحقت) بدکاری کرتی ہیں اور دوسری آیت وَالَّذَانِ لواطت کرنے والوں کے حق میں ہے اور زانی اور زانیہ کا حکم سورہ نور میں بیان فرمایا گیا اس تقدیر پر یہ آیتیں غیر منسوخ ہیں اور ان میں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے لئے دلیل ظاہر ہے اس پر جو وہ فرماتے ہیں کہ لواطت میں تعزیر ہے حد نہیں ۔
وہ توبہ جس کا قبول کرنا اللہ نے اپنے فضل سے لازم کرلیا ہے وہ انہیں کی ہے جو نادانی سے برائی کر بیٹھیں پھر تھوڑی دیر میں توبہ کرلیں (ف٤٦) ایسوں پر اللہ اپنی رحمت سے رجوع کرتا ہے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
Undoubtedly the repentance which Allah has by His grace made obligatory upon Himself to accept, is only the repentance of those who commit sin in folly and then soon repent – towards them does Allah incline in mercy; and Allah is the All Knowing, the Wise.
वह तौबा जिस का क़बूल करना अल्लाह ने अपने फ़ज़्ल से लाज़िम कर लिया है वह उन्हीं की है जो नादानी से बुराई कर बैठें फिर थोड़ी देर में तौबा कर लें ऐसों पर अल्लाह अपनी रहमत से रुजू करता है, और अल्लाह इल्म व हिकमत वाला है,
Woh tauba jis ka qubool karna Allah ne apne fazl se laazim kar liya hai woh unhi ki hai jo nadani se burai kar baithain, phir thodi dair mein tauba kar lein. Aison par Allah apni rehmat se rujoo karta hai, aur Allah ilm o hikmat wala hai.
(ف46)ضَحّاک کا قول ہے کہ جو توبہ موت سے پہلے ہو وہ قریب ہے۔
اور وہ توبہ ان کی نہیں جو گناہوں میں لگے رہتے ہیں، (ف٤۷) یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آئے تو کہے اب میں نے توبہ کی (ف٤۸) اور نہ ان کی جو کافر مریں ان کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار رکھا ہے (ف٤۹)
And that repentance is not of those who constantly commit sins, and when death approaches one of them, he says, “I repent now”, nor of those who die as disbelievers; for them, We have kept prepared a painful punishment.
और वह तौबा उनकी नहीं जो गुनाहों में लगे रहते हैं, यहां तक कि जब उनमें किसी को मौत आये तो कहे अब मैंने तौबा की और न उनकी जो काफ़िर मरें उनके लिये हमने दर्दनाक अज़ाब तैयार रखा है
Aur woh tauba un ki nahi jo gunaahon mein lage rehte hain, yahan tak ke jab un mein kisi ko maut aaye to kahe: ab main ne tauba ki, aur na un ki jo kafir marein – un ke liye hum ne dardnaak azaab tayyar rakha hai.
(ف47)اور توبہ میں تاخیر کرتے جاتے ہیں ۔(ف48)قبول توبہ کا وعدہ جو اوپر کی آیت میں گزرا وہ ایسے لوگوں کے لئے نہیں ہے اللہ مالک ہے جو چاہے کرے اُن کی توبہ قبول کرے یا نہ کرے بخشے یا عذاب فرمائے اس کی مرضی (احمدی)(ف49)اس سے معلوم ہوا کہ وقتِ موت کافر کی توبہ اور اس کا ایمان مقبول نہیں ۔
اے ایمان والو! تمہیں حلال نہیں کہ عورتوں کے وارث بن جاؤ زبردستی (ف۵۰) اور عورتوں کو روکو نہیں اس نیت سے کہ جو مہر ان کو دیا تھا اس میں سے کچھ لے لو (ف۵۱) مگر اس صورت میں کہ صریح بےحیائی کا کام کریں (ف۵۲) اور ان سے اچھا برتاؤ کرو (ف۵۳) پھر اگر وہ تمہیں پسند نہ آئیں (ف۵٤) تو قریب ہے کہ کوئی چیز تمہیں ناپسند ہو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھے (ف۵۵)
O People who Believe! It is not lawful for you to forcibly become the women’s heirs; and do not restrain women with the intention of taking away a part of bridal money you gave them, unless they openly commit the shameful; and deal kindly with them; and if you do not like them, so it is possible that you dislike a thing in which Allah has placed abundant good.
ऐ ईमान वालो! तुम्हें हलाल नहीं कि औरतों के वारिस बन जाओ ज़बरदस्ती और औरतों को रोको नहीं इस नीयत से कि जो मेहर उनको दिया था उस में से कुछ ले लो मगर उस सूरत में कि सरीह बेहयायी का काम करें और उनसे अच्छा बरताव करो फिर अगर वे तुम्हें पसन्द न आयें तो क़रीब है कि कोई चीज़ तुम्हें नापसन्द हो और अल्लाह उस में बहुत भलाई रखे
Ae imaan walo! Tumhein halal nahi ke auraton ke waaris ban jao zabardasti, aur auraton ko roko nahi is niyat se ke jo mehr un ko diya tha us mein se kuch le lo, magar is surat mein ke sareeh be-hayai ka kaam karein. Aur un se acha bartao karo, phir agar woh tumhein pasand na aayein to qareeb hai ke koi cheez tumhein napasand ho aur Allah us mein bohat bhalai rakhe.
(ف50)شان نزول: زمانہ جاہلیت کے لوگ مال کی طرح اپنے اقارب کی بی بیوں کے بھی وارث بن جاتے تھے پھر اگر چاہتے تو بے مہر انہیں اپنی زوجیت میں رکھتے یا کسی اور کے ساتھ شادی کردیتے اور خود مہر لے لیتے یا انہیں قید کر رکھتے کہ جو ورثہ انہوں نے پایا ہے وہ دے کر رہائی حاصل کریں یا مر جائیں تو یہ اُن کے وارث ہوجائیں غرض وہ عورتیں بالکل ان کے ہاتھ میں مجبور ہوتی تھیں اور اپنے اختیار سے کچھ بھی نہ کرسکتی تھیں اس رسم کو مٹانے کے لئے یہ آیت نازل فرمائی گئی ۔(ف51)حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ اس کے متعلق ہے جو اپنی بی بی سے نفرت رکھتا ہو اور اِس لئے بدسلوکی کرتا ہو کہ عورت پریشان ہو کر مہر واپس کردے یا چھوڑ دے اس کی اللہ تعالٰی نے مُمانعت فرمائی۔ ایک قول یہ ہے کہ لوگ عورت کو طلاق دیتے پھر رجعت کرتے پھر طلاق دیتے اس طرح اس کو مُعَلَّق رکھتے تھے کہ نہ وہ ان کے پاس آرام پاسکتی نہ دوسری جگہ ٹھکانہ کرسکتی، اس کو منع فرمایا گیا۔ ایک قول یہ ہے کہ مَیّت کے اولیاء کو خطاب ہے کہ وہ اپنے مورث کی بی بی کو نہ روکیں۔(ف52)شوہر کی نافرمانی یا اس کی یا اس کے گھر والوں کی ایذاؤ بدزبانی یا حرام کاری ایسی کوئی حالت ہو تو خُلع چاہنے میں مُضائِقہ نہیں ۔(ف53)کھلانے پہنانے میں بات چیت میں اور زوجیت کے امور میں ۔(ف54)بدخُلقی یا صورت ناپسند ہونے کی وجہ سے تو صبر کرو اور جدائی مت چاہو ۔(ف55)ولد صالح وغیرہ ۔
اور اگر تم ایک بی بی کے بدلے دوسری بدلنا چاہو (ف۵٦) اور اسے ڈھیروں مال دے چکے ہو (ف۵۷) تو اس میں سے کچھ واپس نہ لو (ف۵۸) کیا اسے واپس لو گے جھوٹ باندھ کر اور کھلے گناہ سے (ف۵۹) اور کیونکر اسے واپس لوگے حالانکہ تم میں ایک دوسرے کے سامنے بےپردہ ہولیا اور وہ تم سے گاڑھا عہد لے چکیں (ف٦۰)
And if you wish to change one wife for another and you have given her heaps of treasure, do not take back anything from it; will you take it back by slander and open sin?
और अगर तुम एक बीबी के बदले दूसरी बदलना चाहो और उसे ढेरों माल दे चुके हो तो उस में से कुछ वापस न लो क्या उसे वापस लोगे झूठ बाँध कर और खुले गुनाह से
Aur agar tum ek biwi ke badle doosri badalna chaho aur use dhero maal de chuke ho to us mein se kuch wapas na lo. Kya use wapas loge jhoot baandh kar aur khule gunah se?
(ف56)یعنی ایک کو طلاق دے کر دوسری سے نکاح کرنا۔(ف57)اس آیت سے گراں مہر مقرر کرنے کے جواز پر دلیل لائی گئی ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے برسرِ منبر فرمایاکہ عورت کے مہر گراں نہ کرو ایک عورت نے یہ آیت پڑھ کر کہا کہ اے ابن خطاب اللہ ہمیں دیتا ہے اور تم منع کرتے ہو اس پر امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے عمر تجھ سے ہر شخص زیادہ سمجھ دار ہے جو چاہو مقرر کرو سبحان اللہ خلیفۂ رسول کے شانِ انصاف اور نفس شریف کی پاکی رَزَقَنَا اللّٰہُ تَعَالٰی اِتَّبَاعَہٗ آمین(ف58)کیونکہ جدائی تمہاری طرف سے ہے(ف59)یہ اہلِ جاہلیّت کے اس فعل کا رد ہے کہ جب اُنہیں کوئی دوسری عورت پسند آتی تو وہ اپنی بی بی پر تہمت لگاتے تاکہ وہ اس سے پریشان ہو کر جو کچھ لے چکی ہے واپس دے دے اس طریقہ کو اس آیت میں منع فرمایا اور جھوٹ اور گناہ بتایا ۔
اور کیونکر اسے واپس لوگے حالانکہ تم میں ایک دوسرے کے سامنے بےپردہ ہولیا اور وہ تم سے گاڑھا عہد لے چکیں (ف٦۰)
And how will you take it back whereas you have become unveiled before each other, and they have taken a strong pledge from you?
और क्योंकर उसे वापस लोगे हालाँकि तुम में एक दूसरे के सामने बे पर्दा हो लिया और वे तुम से गाढ़ा अहद ले चुकीं
Aur kyun kar use wapas loge, halaanke tum mein ek doosre ke samne be-pardah ho liya aur woh tum se gaadha ahd le chuki hain.
(ف60)وہ عہد اللہ تعالی کا یہ ارشا دہے فَاِمْسَاک ٌ م بِمَعرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْح ٌ مْ بِاِحْسَانٍ مسئلہ: یہ آیت دلیل ہے اس پر کہ خلوتِ صحیحہ سے مہر مؤکَّد ہوجاتا ہے
اور باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح نہ کرو (ف٦۱) مگر جو ہو گزرا وہ بیشک بےحیائی (ف٦۲) اور غضب کا کام ہے، اور بہت بری راہ (ف٦۳)
And do not marry the women who were wedded to your fathers (and grand fathers), except what has already passed; that is indeed an act of shame and great wrong; and an evil way.
और बाप दादा की मनकूहा से निकाह न करो मगर जो हो गुज़रा वह बेशक बेहयायी और ग़ज़ब का काम है, और बहुत बुरी राह
Aur baap dada ki mankoohah se nikah na karo magar jo ho guzra. Woh beshak be-hayai aur ghazab ka kaam hai, aur bohat buri raah.
(ف61)جیسا کہ زما نۂ جاہلیت میں رواج تھا کہ اپنی ماں کے سوا باپ کے بعد اس کی دوسری عورت کو بیٹا بیاہ لیتا تھا۔(ف62)کیونکہ باپ کی بی بی بمنزلہ ماں کے ہے کہا گیا ہے نکاح سے وطی مراد ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ باپ کی موطوء ہ یعنی جس سے اس نے صحبت کی ہو خواہ نکاح کرکے یا بطریق زنا یا وہ باندی ہو اس کا وہ مالک ہو کر ان میں سے ہر صورت میں بیٹے کا اس سے نکاح حرام ہے۔(ف63)ا ب اس کے بعد جس قدر عورتیں حرام ہیں ان کا بیان فرمایا جاتا ہے ان میں سات تو نسب سے حرام ہیں ۔
حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں (ف٦٤) اور بیٹیاں (ف٦۵) اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں (ف٦٦) اور تمہاری مائیں جنہوں نے دودھ پلایا (ف٦۷) اور دودھ کی بہنیں اور عورتوں کی مائیں (ف٦۸) اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں (ف٦۹) ان بیبیوں سے جن سے تم صحبت کرچکے ہو تو پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو ان کی بیٹیوں سے حرج نہیں (ف۷۰) اور تمہاری نسلی بیٹوں کی بیبیں (ف۷۱) اور دو بہنیں اکٹھی کرنا (ف۷۲) مگر جو ہو گزرا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
Forbidden for you are your mothers, and your daughters, and your sisters, and your father’s sisters, and your mother’s sisters, and your brothers’ daughters and your sisters’ daughters, and your foster-mothers (who breast-fed you), and their daughters (your foster-sisters), and your wives’ mothers (mothers-in-law), and your wives’ daughters who are under your protection – born of the women with whom you have cohabited; and if you have not cohabited with them, then it is no sin for you to marry their daughters; and (forbidden are) the wives of your own sons (and foster-sons and grandsons) and the keeping of two sisters together in marriage, except what has already passed; indeed Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
हराम हुईं तुम पर तुम्हारी माँएँ और बेटियाँ और बहनें और फूफियाँ और खालाएँ और भतीजियाँ और भांजियाँ और तुम्हारी माँएँ जिन्होंने दूध पिलाया और दूध की बहनें और औरतों की माँएँ और उनकी बेटियाँ जो तुम्हारी गोद में हैं उन बीबियों से जिन से तुम सोहबत कर चुके हो तो फिर अगर तुम ने उनसे सोहबत न की हो तो उनकी बेटियों से हरज नहीं और तुम्हारी नस्ली बेटों की बीबियाँ और दो बहनें इकठ्ठा करना मगर जो हो गुज़रा बेशक अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है,
Haraam ho gayin tum par tumhari maaen aur betiyan aur behnein aur phoophiyaan aur khaalain aur bhatijiyan aur bhanjian aur tumhari maaen jin hon ne doodh pilaya, aur doodh ki behnein, aur auraton ki maaen, aur un ki betiyan jo tumhari god mein hain un biwiyon se jin se tum sohbat kar chuke ho. Phir agar tum ne un se sohbat na ki ho to un ki betiyon se haraj nahi. Aur tumhari nasli beton ki biwiyan, aur do behnein ikatthi karna – magar jo ho guzra. Beshak Allah bakhshne wala meherban hai.
(ف64)اور ہر عورت جس کی طرف باپ یا ماں کے ذریعہ سے نسب رجوع کرتا ہو یعنی دادیاں و نانیاں خواہ قریب کی ہوں یا دور کی سب مائیں ہیں اور اپنی والدہ کے حکم میں داخل ہیں ۔(ف65)پوتیاں اور نواسیاں کسی درجہ کی ہوں بیٹیوں میں داخل ہیں ۔(ف66)یہ سب سگی ہوں یا سوتیلی ان کے بعد ان عورتوں کا بیان کیا جاتا ہے جو سبب سے حرام ہیں ۔(ف67)دودھ کے رشتے شِیر خواری کی مدت میں قلیل دودھ پیا جائے یا کثیر اس کے ساتھ حرمت متعلق ہوتی ہے شِیر خواری کی مدت حضرت امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک تیس ماہ اور صاحبین کے نزدیک دو سال ہیں شِیر خواری کی مدّت کے بعد دودھ پیا جائے اس سے حرمت متعلق نہیں ہوتی اللہ نے رضاعت (شیر خواری ) کو نسب کے قائم مقام کیا ہے اور دودھ پلانے والی کو شیر خوار کی ماں اور اس کی لڑکی کو شیر خوار کی بہن فرمایا اسی طرح دودھ پلائی کا شوہر شیر خوار کا باپ اور اس کا باپ شیر خوار کا دادا اور اس کی بہن اس کی پھوپھی اور اس کا ہر بچہ جو دودھ پلائی کے سوا اور کسی عورت سے بھی ہو خواہ وہ قبل شیر خواری کے پیدا ہوا یا اس کے بعد وہ سب اس کے سوتیلے بھائی بہن ہیں اور دودھ پلائی کی ماں شیر خوار کی نانی اور اُس کی بہن اُس کی خالہ اور اُس شوہرسے اُس کے جو بچے پیدا ہو ں وہ شیر خوار کے رضاعی بھائی بہن اور اُس شوہر کے علاوہ دوسرے شوہر سے جو ہوں وہ اس کی سوتیلے بھائی بہن اس میں اصل یہ حدیث ہے کہ رضاع سے وہ رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب سے حرام ہیں اس لئے شیر خوار پر اس کے رضاعی ماں باپ اور ان کے نسبی و رضاعی اصول و فروع سب حرام ہیں ۔(ف68)یہاں سے محرمات بالصَّہریۃ کا بیان ہے وہ تین ذکر فرمائی گئیں۔(۱) بیبیوں کی مائیں، بیبیوں کی بیٹیاں اور بیٹوں کی بیبیاں بیبیوں کی مائیں صرف عقد نکاح سے حرام ہوجاتی ہیں خواہ وہ بیبیاں مدخولہ ہوں یا غیر مدخولہ (یعنی ان سے صحبت ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو) (ف69)گود میں ہونا غالب حال کا بیان ہے حرمت کے لئے شرط نہیں ۔(ف70) ان کی ماؤں سے طلاق یا موت وغیرہ کے ذریعہ سے قبل صُحبت جُدائی ہونے کی صورت میں اُن کے ساتھ نکاح جائز ہے۔(ف71)اس سے مُتبنّٰی نکل گئے ان کی عورتوں کے ساتھ نکاح جائز ہے اور رَضاعی بیٹے کی بی بی بھی حرام ہے کیونکہ وہ نسبی کے حکم میں ہے اور پوتے پر پوتے بیٹوں میں داخل ہیں ۔(ف72)یہ بھی حرام ہے خواہ دونوں بہنوں کو نکا ح میں جمع کیا جائے یاملک یمین کے ذریعے سے وطی میں اور حدیث شریف میں پھوپھی ،بھتیجی اور خالہ بھانجی کا نکاح میں جمع کرنا بھی حرام فرمایا گیا اور ضابطہ یہ کہ نکاح میں ہر ایسی دو عورتو ں کا جمع کرنا حرام ہے جن میں سے ہر ایک کو مرد فرض کرنے سے دوسری اس کے لئے حلال نہ ہو جیسے کہ پھو پھی بھتیجی اگر پھوپھی کو مرد فرض کیا جائے تو چچا ہوا بھتیجی اس پر حرام ہے اور اگر بھتیجی کو مرد فرض کیا جائے تو بھتیجا ہوا پھوپھی اس پر حرام ہے حرمت دونوں طرف ہے اگر ایک طرف سے ہو تو جمع حرام نہ ہوگی جیسے کہ عورت اور اس کے شوہر کی لڑکی ان دونوں کو جمع کرنا حلال ہے کیونکہ شوہر کی لڑکی کو مرد فرض کیا جائے تو اس کے لئے باپ کی بیوی تو حرام رہتی ہے ۔ مگر دوسری طرف سے یہ با ت نہیں ھے یعنی شوہر کی بی بی کو اگر مرد فرض کیا جائے تو یہ اجنبی ھوگااور کوئی رشتہ ہی نہ رہے گا۔
اور حرام ہیں شوہر دار عورتیں مگر کافروں کی عورتیں جو تمہاری ملک میں آجائیں (ف۷۳) یہ اللہ کا نوشتہ ہے تم پر اور ان (ف۷٤) کے سوا جو رہیں وہ تمہیں حلال ہیں کہ اپنے مالوں کے عوض تلاش کرو قید لاتے (ف۷۵) نہ پانی گراتے (ف۷٦) تو جن عورتوں کو نکاح میں لانا چاہو ان کے بندھے ہوئے مہر انہیں دو، اور قرار داد کے بعد اگر تمہارے آپس میں کچھ رضامندی ہوجاوے تو اس میں گناہ نہیں (ف۷۷) بیشک اللہ علم و حکمت والا ہے،
And all married women are forbidden for you except the wives of disbelievers who come into your possession as bondwomen; this is Allah’s decree for you; and other than these, all women are lawful for you so that you seek them in exchange of your wealth in proper wedlock, not adultery; therefore give the women you wish to marry, their appointed bridal money; and after the appointment (of bridal money) there is no sin on you if you come to a mutual agreement; indeed Allah is All Knowing, Wise.
और हराम हैं शोहरदार औरतें मगर काफ़िरों की औरतें जो तुम्हारी मिल्क में आ जायें ये अल्लाह का नविश्ता है तुम पर और उनके सिवा जो रहें वे तुम्हें हलाल हैं कि अपने मालों के औज़ तलाश करो क़ैद लाते न पानी गिराते तो जिन औरतों को निकाह में लाना चाहो उनके बंधे हुए मेहर उन्हें दो, और क़रारदाद के बाद अगर तुम्हारे आपस में कुछ रज़ामन्दी हो जाये तो उस में गुनाह नहीं बेशक अल्लाह इल्म व हिकमत वाला है,
Aur haraam hain shohar daar auratein, magar kaafiron ki auratein jo tumhari milk mein aa jayein. Yeh Allah ka noshta hai tum par. Aur un ke siwa jo rahin woh tumhein halal hain ke apne maalon ke ewaz talaash karo, qaid laate na paani giraate. To jin auraton ko nikah mein lana chaho un ke bandhe hue mehr unhein do. Aur qarardad ke baad agar tumhare aapas mein kuch raza mandi ho jaye to us mein gunaah nahi. Beshak Allah ilm o hikmat wala hai.
(ف73)گرفتار ہو کر بغیر اپنے شوہروں کے وہ تمہارے لئے بعد استبراء حلال ہیں اگرچہ دارالحرب میں اُن کے شوہر موجود ہوں کیونکہ تباین دارین کی وجہ سے اُن کی شوہروں سے فُرقت ہوچکی ۔ شانِ نزول: حضرت ابوسعید خُدْرِی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نے ایک روز بہت سی قیدی عورتیں پائیں جن کے شوہر دارالحرب میں موجود تھے تو ہم نے اُن سے قربت میں تامّل کیا،اور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف74)محرمات مذکورہ (ف75)نکاح سے یا مِلک یمین سے اِس آیت سے کئی مسئلے ثابت ہوئے مسئلہ نکاح میں مہر ضروری ہے مسئلہ: اگر مہر معین نہ کیا ہو جب بھی واجب ہوتا ہے مسئلہ: مہر مال ہی ہوتا ہے نہ کہ خدمت و تعلیم وغیرہ جو چیزیں مال نہیں ہیں مسئلہ اتنا قلیل جس کو مال نہ کہا جائے مہر ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا حضرت جابر اور حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مہر کی ادنٰی مقدار دس درم ہیں اس سے کم نہیں ہوسکتا۔(ف76)اس سے حرام کاری مراد ہے اور اِس تعبیر میں تنبیہ ہے کہ زانی محض شہوت رانی کرتا اور مستی نکالتا ہے اور اس کا فعل غرضِ صحیح اور مقصدِ حَسن سے خالی ہوتا ہے نہ اولاد حاصل کرنا نہ نسل و نسب محفوظ رکھنا نہ اپنے نفس کو حرام سے بچانا اِن میں سے کوئی بات اس کو مدّنظر نہیں ہوتی وہ اپنے نطفۂ و مال کو ضائع کرکے دین و دنیا کے خسارہ میں گرفتار ہوتا ہے۔(ف77)خواہ عورت مہر مقرّر شدہ سے کم کردے یا بالکل بخش دے یا مرد مقدارِ مہر کی اور زیادہ کردے ۔
اور تم میں بےمقدوری کے باعث جن کے نکاح میں آزاد عورتیں ایمان والیاں نہ ہوں تو ان سے نکاح کرے جو تمہارے ہاتھ کی مِلک ہیں ایمان والی کنیزیں (ف۷۸) اور اللہ تمہارے ایمان کو خوب جانتا ہے، تم میں ایک دوسرے سے ہے تو ان سے نکاح کرو ان کے مالکوں کی اجازت سے (ف۸۰) اور حسب دستور ان کے مہر انہیں دو (ف۸۱) قید میں آتیاں نہ مستی نکالتی اور نہ یار بناتی (ف۸۲) جب وہ قید میں آجائیں (ف۸۳) پھر برا کام کریں تو ان پر اس سزا کی آدھی ہے جو آزاد عورتوں پر ہے (ف۸٤) یہ (ف۸۵) اس کے لئے جسے تم میں سے زنا کا اندیشہ ہے، اور صبر کرنا تمہارے لئے بہتر ہے (ف۸٦) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
And whoever among you does not have in marriage free, believing women due to poverty, should marry from the believing bondwomen you own; and Allah knows well your faith; you are from one another; therefore marry them with the permission of their masters, and give them their bridal money according to custom, they becoming (faithful) wives, not committing mischief or secretly making friends; so when they are married and commit the shameful, for them is half the punishment prescribed for free women; this is for one among you who fears falling into adultery; and to practice patience is better for you; and Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
और तुम में बे-मक़दूरी के बाइस जिनके निकाह में आज़ाद औरतें ईमान वालियाँ न हों तो उनसे निकाह करे जो तुम्हारे हाथ की मिल्क हैं ईमान वाली कनिजें और अल्लाह तुम्हारे ईमान को खूब जानता है, तुम में एक दूसरे से है तो उनसे निकाह करो उनके मालिकों की इजाज़त से और हसब दस्तूर उनके मेहर उन्हें दो क़ैद में आतीं न मस्ती निकालतीं और न यार बनातीं जब वे क़ैद में आ जायें फिर बुरा काम करें तो उन पर उस सज़ा की आधी है जो आज़ाद औरतों पर है ये उस के लिये जिस से तुम में से ज़िना का अन्देशा है, और सब्र करना तुम्हारे लिये बेहतर है और अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है,
Aur tum mein be-maqduri ke baais jin ke nikah mein azaad auratein imaan wali na hon to un se nikah karein jo tumhare haath ki milk hain – imaan wali kanizain. Aur Allah tumhare imaan ko khoob jaanta hai. Tum mein ek doosre se ho. To un se nikah karo un ke maalikon ki ijaazat se, aur hasb-e-dastoor un ke mehr unhein do. Qaid mein aati, na masti nikalti aur na yaar banati. Jab woh qaid mein aa jayein phir bura kaam karein to unpar us saza ki aadhi hai jo azaad auraton par hai. Yeh us ke liye jisey tum mein se zina ka andesha ho. Aur sabr karna tumhare liye behtar hai, aur Allah bakhshne wala meherban hai.
(ف78)یعنی مسلمانوں کی ایماندار کنیز یں کیونکہ نکاح اپنی کنیز سے نہیں ہوتا وہ بغیر نکاح ہی مولٰی کے لئے حلال ہے معنٰی یہ ہیں کہ جو شخص حُرَّہْ مؤمنہ سے نکاح کی مَقدِرت ووُسعت نہ رکھتا ہو وہ ایماندار کنیز سے نکاح کرے یہ بات عار کی نہیں ہے۔ مسئلہ : جو شخص حُرّہْ سے نکاح کی وسعت رکھتا ہو اُس کو بھی مسلمان باندی سے نکاح کرنا جائز ہے یہ مسئلہ اس آیت میں تو نہیں ہے مگر اُوپر کی آیت وَاُحِلَّ لَکُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمْ سے ثابت ہے مسئلہ: ایسے ہی کتابیہ باندی سے بھی نکاح جائز ہے اور مؤمنہ کے ساتھ افضل و مستحَب ہے جیسا کہ اس آیت سے ثابت ہوا۔(ف79)یہ کوئی عار کی بات نہیں فضیلت ایمان سے ہے اِسی کو کافی سمجھو ۔(ف80)مسئلہ: اس سے معلوم ہوا کہ باندی کو اپنے مولٰی کی اجازت بغیر نکاح کا حق نہیں اسی طرح غلام کو ۔(ف81)اگرچہ مالک اُن کے مہر کے مولٰی ہیں لیکن باندیوں کو دینا مولٰی ہی کو دینا ہے کیونکہ خود وہ اور جو کچھ اُن کے قبضہ میں ہو سب مولٰی کی مِلک ہے یا یہ معنٰی ہیں کہ اُن کے مالکوں کی اجازت سے مہرانہیں دو۔(ف82)یعنی علانیہ و خفیہ کِسی طرح بدکاری نہیں کرتیں۔(ف83)اور شوہر دار ہوجائیں ۔(ف84)جو شوہر دار نہ ہوں یعنی پچاس تازیانے کیونکہ حُرہ کے لئے سو تازیانے ہیں اور باندیوں کو رَجم نہیں کیا جاتا کیونکہ رجم قابلِ تَنصِیف نہیں ہے۔(ف85)باندی سے نکاح کرنا۔(ف86)باندی کے ساتھ نکاح کرنے سے کیونکہ اِس سے اولاد مملوک پیدا ہوگی۔
اللہ چاہتا ہے کہ اپنے احکام تمہارے لئے بیان کردے اور تمہیں اگلوں کی روشیں بتادے (ف۸۷) اور تم پر اپنی رحمت سے رجوع فرمائے اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
Allah wills to explain His commands to you and show you the ways of those before you, and to incline towards you with His mercy; and Allah is All Knowing, Wise.
अल्लाह चाहता है कि अपने अहकाम तुम्हारे लिये बयान कर दे और तुम्हें अगलों की रौशें बता दे और तुम पर अपनी रहमत से रुजू फ़रमाये और अल्लाह इल्म व हिकमत वाला है,
Allah chahta hai ke apne ahkaam tumhare liye bayan kar de aur tumhein aglon ki roshein bata de aur tum par apni rehmat se rujoo farmaaye. Aur Allah ilm o hikmat wala hai.
اور اللہ تم پر اپنی رحمت سے رجوع فرمانا چاہتا ہے، اور جو اپنے مزوں کے پیچھے پڑے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم سیدھی راہ سے بہت الگ ہوجاؤ (ف۸۸)
And Allah wills to incline towards you with His mercy; and those who pursue their own pleasures wish that you be far separated from the Straight Path.
और अल्लाह तुम पर अपनी रहमत से रुजू फ़रमाना चाहता है, और जो अपने मज़ों के पीछे पड़े हैं वे चाहते हैं कि तुम सीधी राह से बहुत अलग हो जाओ
Aur Allah tum par apni rehmat se rujoo farmaana chahta hai, aur jo apne mazon ke peeche paday hain woh chahte hain ke tum seedhi raah se bohat alag ho jao.
(ف88)اور حرام میں مبتلا ہو کر اِنہیں کی طرح ہوجاؤ۔
اللہ چاہتا ہے کہ تم پر تخفیف کرے (ف۸۹) اور آدمی کمزور بنایا گیا (ف۹۰)
Allah wills to lessen your burden; and man was created weak.
अल्लाह चाहता है कि तुम पर तख़्फ़ीफ़ करे और आदमी कमज़ोर बनाया गया
Allah chahta hai ke tum par takhfeef kare, aur aadmi kamzor banaya gaya.
(ف89)اور اپنے فضل سے احکام سَہل کرے ۔(ف90)اس کو عورتوں سے اور شَہوات سے صبر دُشوار ہے حدیث میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عورتوں میں بھلائی نہیں اور اُن کی طرف سے صبر بھی نہیں ہوسکتا نیکوں پر وہ غالب آتی ہیں بداُن پر غالب آجاتے ہیں۔
اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ (ف۹۱) مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضامندی کا ہو (ف۹۲) اور اپنی جانیں قتل نہ کرو (ف۹۳) بیشک اللہ تم پر مہربان ہے
O People who Believe! Do not unjustly devour the property of each other, except through trade by mutual agreement; and do not kill one another; indeed Allah is Most Merciful upon you.
ऐ ईमान वालो! आपस में एक दूसरे के माल नाहक़ न खाओ मगर ये कि कोई सौदा तुम्हारी आपसी रज़ामन्दी का हो और अपनी जानें क़त्ल न करो बेशक अल्लाह तुम पर मेहरबान है
Ae imaan walo! Aapas mein ek doosre ke maal na-haq na khao, magar yeh ke koi soda tumhari baahmi raza mandi ka ho. Aur apni jaanen qatal na karo, beshak Allah tum par meherban hai.
(ف91)چوری خیانت غصب۔ جوا، سُود جتنے حرام طریقے ہیں سب ناحق ہیں سب کی مُمانعت ہے۔(ف92)وہ تمہارے لئے حلال ہے۔(ف93)ایسے اَفعال اختیار کرکے جو دنیا یا آخرت میں ہلاکت کا باعث ہوں اس میں مسلمانوں کو قتل کرنا بھی آگیا اور مؤمن کا قتل خود اپنا ہی قتل ہے کیونکہ تمام مومن نفس واحد کی طرح ہیں مسئلہ : اِس آیت سے خودکُشی کی حُرمت بھی ثابت ہوئی اور نفس کا اِتبّاع کرکے حرام میں مبتلا ہونا بھی اپنے آپ کو ہلاک کرنا ہے۔
اگر بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن کی تمہیں ممانعت ہے (ف۹٤) تو تمہارے اور گناہ (ف۹۵) ہم بخش دیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کریں گے،
If you keep avoiding the cardinal sins that are forbidden to you, We will forgive you your other (lesser) sins and admit you into a noble place.
अगर बचते रहो क़बीरा गुनाहों से जिन की तुम्हें ममनूअत है तो तुम्हारे और गुनाह हम बख़्श देंगे और तुम्हें इज़्ज़त की जगह दाख़िल करेंगे,
Agar bachte raho kabira gunaahon se jin ki tumhein mamnaat hai to tumhare aur gunaah hum bakhsh denge aur tumhein izzat ki jagah daakhil karenge.
(ف94)اور جن پر وعید آئی یعنی وعدۂ عذاب دیا گیا مثلِ قتل زنا چوری وغیرہ کے۔(ف95)صغائر مسئلہ کفر و شرک تونہ بخشا جائے گا اگر آدمی اِسی پر مرا(اللہ کی پناہ) باقی تمام گناہ صغیرہ ہوں یا کَبیرہ اللہ کی مشیت میں ہیں چاہے اُن پر عذاب کرے چاہے معاف فرمائے۔
اور اس کی آرزو نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پر بڑائی دی (ف۹٦) مردوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ ہے، اور عورتوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ (ف۹۷) اور اللہ سے اس کا فضل مانگو، بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے،
And do not long for things by which Allah has given superiority to some of you over others; for men is the share of what they earn; and for women the share from what they earn; and seek from Allah His munificence; indeed Allah knows everything.
और उसकी आरज़ू न करो जिस से अल्लाह ने तुम में एक को दूसरे पर बढ़ाई दी मर्दों के लिये उनकी कमाई से हिस्सा है, और औरतों के लिये उनकी कमाई से हिस्सा और अल्लाह से उसका फ़ज़्ल माँगो, बेशक अल्लाह सब कुछ जानता है,
Aur is ki aarzu na karo jis se Allah ne tum mein ek ko doosre par baraai di. Mardon ke liye un ki kamai se hissa hai, aur auraton ke liye un ki kamai se hissa. Aur Allah se us ka fazl maango. Beshak Allah sab kuch jaanta hai.
(ف96)خواہ دُنیا کی جہت سے یا دین کی کہ آپس میں حسد و بغض نہ پَیدا ہو حسد نہایت بری صفت ہے حسد والا دوسرے کو اچھے حال میں دیکھتا ہے تو اپنے لئے اس کی خواہش کرتا ہے اور ساتھ میں یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کا بھائی اس نعمت سے محروم ہوجائے۔ یہ ممنوع ہے بندے کو چاہئے کہ اللہ کی تقدیر پر راضی رہے اُس نے جس بندے کو جو فضیلت دی خواہ دولت و غنا کی یا دینی مَناصب و مدارج کی یہ اُس کی حکمت ہے شانِ نزول: جب آیتِ میراث میں لِلذَّکَرِمِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ ط نازل ہوا اور میت کے تَرکہ میں مرد کا حصّہ عورت سے دُو نامقرر کیا گیا تو مَردُوں نے کہا کہ ہمیں اُمید ہے کہ آخرت میں نیکیوں کا ثواب بھی ہمیں عورتوں سے دونا ملے گا اور عورتوں نے کہا کہ ہمیں اُمید ہے کہ گناہ کا عذاب ہمیں مردوں سے آدھا ہوگا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اِس میں بتایا گیا کہ اللہ تعالٰی نے جس کو جو فضل دیا وہ عین حکمت ہے بندے کو چاہئے کہ وہ اُس کی قضا پر راضی رہے ۔(ف97)ہر ایک کو اُس کے اعمال کی جزا ء ۔ شان نزول : اُمّ المؤمنین حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنہانے فرمایا کہ ہم بھی اگر مرد ہوتے تو جہاد کرتے اور مَردوں کی طرح جان فدا کرنے کا ثواب عظیم پاتے اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور اِنہیں تسکین دی گئی کہ مَرد جہاد سے ثواب حاصل کرسکتے ہیں تو عورتیں شوہروں کی اطاعت اورپاکدامنی سے ثواب حاصِل کرسکتی ہیں۔
اور ہم نے سب کے لئے مال کے مستحق بنادیے ہیں جو کچھ چھوڑ جائیں ماں باپ اور قرابت والے اور وہ جن سے تمہارا حلف بندھ چکا (ف۹۸) انہیں ان کا حصہ دو، بیشک ہر چیز اللہ کے سامنے ہے،
And for all, We have appointed heirs – from whatever the parents and near relatives leave behind; and to those with whom you have made an agreement, give them their dues; indeed all things are present before Allah.
और हमने सब के लिये माल के मुस्तहिक़ बना दिये हैं जो कुछ छोड़ जायें माँ-बाप और क़राबत वाले और वे जिन से तुम्हारा ह़ल्फ़ बँध चुका उन्हें उनका हिस्सा दो, बेशक हर चीज़ अल्लाह के सामने है,
Aur hum ne sab ke liye maal ke mustahiq bana diye hain jo kuch chhod jayein maa baap aur qarabat wale, aur woh jin se tumhara half bandh chuka – unhein un ka hissa do. Beshak har cheez Allah ke samne hai.
(ف98)اس سے عقدِ موالات مراد ہے اس کی صورت یہ ہے کہ کوئی مجہولُ النّسب شخص دُوسرے سے یہ کہے کہ تو میرا مولٰی ہے میں مرجاؤں تو تو میرا وارث ہو گا اور میں کوئی جِنَایَتۡ ن کروں تو تجھے دِیَت دینی ہوگی دُوسرا کہے میں نے قبول کیا اِس صورت میں یہ عقد صحیح ہوجاتا ہے اور قبول کرنے والا وارث بن جاتا ہے اور دِیّت بھی اُس پر آجاتی ہے اور دوسرا بھی اِسی کی طرح سے مجہولُ النَسب ہو اور ایسا ہی کہے اور یہ بھی قبول کرلے تو اُن میں سے ہر ایک دوسرے کا وارث اور اُس کی دِیّت کا ذِمہ دار ہوگا یہ عقد ثابت ہے صحابہ رضی اللہ عنہم اِس کے قائل ہیں۔
مرد افسر ہیں عورتوں پر (ف۹۹) اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی (ف۱۰۰) اور اس لئے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے (ف۱۰۱) تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں (ف۱۰۲) جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو (ف۱۰۳) تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤ اور انہیں مارو پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو ان پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو بیشک اللہ بلند بڑا ہے (ف۱۰۵)
Men are in charge of women, as Allah has made one of them superior to the other, and because men spend their wealth for the women; so virtuous women are the reverent ones, guarding behind their husbands the way Allah has decreed guarding; and the women from whom you fear disobedience, (at first) advise them and (then) do not cohabit with them, and (lastly) beat them; then if they obey you, do not seek to do injustice to them; indeed Allah is Supreme, Great.
मर्द अफ़सर हैं औरतों पर इस लिये कि अल्लाह ने उनमें एक को दूसरे पर फ़ज़ीलत दी और इस लिये कि मर्दों ने उन पर अपने माल ख़र्च किये तो नेक बख़्त औरतें अदब वालियाँ हैं ख़ाविन्द के पीछे हिफ़ाज़त रखती हैं जिस तरह अल्लाह ने हिफ़ाज़त का हुक्म दिया और जिन औरतों की नाफ़रमानी का तुम्हें अन्देशा हो तो उन्हें समझाओ और उनसे अलग सोओ और उन्हें मारो फिर अगर वे तुम्हारे हुक्म में आ जायें तो उन पर ज़ियादती की कोई राह न चाहो बेशक अल्लाह बुलन्द बड़ा है
Mard afsar hain auraton par, is liye ke Allah ne un mein ek ko doosre par fazilat di, aur is liye ke mardon ne unpar apne maal kharch kiye. To nek bakht auratein adab waliyan hain, khawand ke peeche hifazat rakhti hain jis tarah Allah ne hifazat ka hukm diya. Aur jin auraton ki naframaani ka tumhein andesha ho to unhein samjhao, aur un se alag so’o, aur unhein maaro. Phir agar woh tumhare hukm mein aa jayein to unpar ziyadati ki koi raah na chaho. Beshak Allah buland bara hai.
(ف99)تو عورتوں کو اُن کی اطاعت لازم ہے اور مردوں کو حق ہے کہ وہ عورتوں پر رِعایا کی طرح حکمرانی کریں اور اُن کے مصالح اور تدابیر اور تادیب وحفاظت کا سرانجام کریں شان ِنزول: حضرت سعد بن ربیع نے اپنی بی بی حبیبہ کو کسی خطا پر ایک طمانچہ مار ااُن کے والِد انہیں سیدِ عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے اور انکے شوہر کی شکایت کی اِس باب میں یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف100)یعنی مردوں کو عورتوں پر عقل و دانائی اور جہاد اور نبوّت و خلافت وامامت و اذان و خطبہ و جماعت و جمعہ و تکبیر و تشریق اور حدو قصاص کی شہادت کے اور ورثہ میں دونے حصّے اور تعصیب اور نکاح و طلاق کے مالک ہونے اور نسبوں کے ان کی طرف نسبت کئے جانے اور نماز و روزہ کے کامل طور پر قابل ہونے کے ساتھ کہ اُن کے لئے کوئی زمانہ ایسا نہیں ہے کہ نماز و روزہ کے قابل نہ ہوں اور داڑھیوں اور عِماموں کے ساتھ فضیلت دی ۔(ف101)مسئلہ: اس آیت سے معلوم ہوا کہ عورتوں کے نفقے مردوں پر واجب ہیں۔(ف102)اپنی عفت اور شوہروں کے گھر مال اور اُن کے راز کی ۔(ف103)انہیں شوہرکی نافرمانی اور اُس کے اطاعت نہ کرنے اور اُس کے حقوق کا لحاظ نہ رکھنے کے نتائج سمجھاؤ جو دُنیا و آخرت میں پیش آتے ہیں اور اللہ کے عذاب کا خوف دِلاؤ اور بتاؤ کہ ہمارا تم پر شرعاً حق ہے اور ہماری اطاعت تم پر فرض ہے اگر اِس پر بھی نہ مانیں ۔(ف104)ضرب غیر شدید ۔(ف105) اور تم گناہ کرتے ہو پھر بھی وہ تمہاری توبہ قبول فرماتا ہے تو تمہاری زیردست عورتیں اگر قصور کرنے کے بعد معافی چاہیں تو تمہیں بطریق اولٰی معاف کرنا چاہئے اور اللہ کی قدرت و برتری کا لحاظ رکھ کر ظلم سے مجتنب رہنا چاہئے۔
اور اگر تم کو میاں بی بی کے جھگڑے کا خوف ہو (ف۱۰٦) تو ایک پنچ مرد والوں کی طرف سے بھیجو اور ایک پنچ عورت والوں کی طرف سے (ف۱۰۷) یہ دونوں اگر صلح کرانا چاہیں گے تو اللہ ان میں میل کردے گا، بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے (ف۱۰۸)
And if you fear a dispute between husband and wife, send an arbitrator from the man’s family and an arbitrator from the woman’s family; if these two wish conciliation, Allah will unite them; indeed Allah is All Knowing, Well Aware.
और अगर तुम को मियाँ बीबी के झगड़े का ख़ौफ़ हो तो एक पंच मर्द वालों की तरफ़ से भेजो और एक पंच औरत वालों की तरफ़ से ये दोनों अगर सुलह कराना चाहेंगे तो अल्लाह उनमें मेल कर देगा, बेशक अल्लाह जानने वाला ख़बरदार है
Aur agar tum ko miyan biwi ke jhagde ka khauf ho to ek panch mard walon ki taraf se bhejo aur ek panch aurat walon ki taraf se. Yeh dono agar sulah karana chahenge to Allah un mein mail kar dega. Beshak Allah jaan-ne wala khabardaar hai.
(ف106)اور تم دیکھو کہ سمجھانا ،علٰیحدہ سونا، مارنا کچھ بھی کار آمد نہ ہوا اور دونوں کی نااتفاقی رفع نہ ہوئی ۔(ف107)کیونکہ اقارب اپنے رشتہ داروں کے خانگی حالات سے واقف ہوتے ہیں اور زوجین کے درمیان موافقت کی خواہش بھی رکھتے ہیں اور فریقین کو ان پر اطمینان بھی ہوتا ہے اور اُن سے اپنے دل کی بات کہنے میں تَامل بھی نہیں ہوتا ہے۔(ف108)جانتا ہے کہ زوجین میں ظالم کون ہے ۔مسئلہ: پنچوں کو زوجین میں تفریق کردینے کا اختیار نہیں۔
اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہراؤ (ف۱۰۹) اور ماں باپ سے بھلائی کرو (ف۱۱۰) اور رشتہ داروں (ف۱۱۱) اور یتیموں اور محتاجوں (ف۱۱۲) اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے (ف۱۱۳) اور کروٹ کے ساتھی (ف۱۱٤) اور راہ گیر (ف۱۱۵) اور اپنی باندی غلام سے (ف۱۱٦) بیشک اللہ کو خوش نہیں آتا کوئی اترانے والے بڑائی مارنے والا (ف۱۱۷)
And worship Allah and do not ascribe any partner to Him, and be good to parents, and to relatives, and orphans, and the needy, and the related neighbour and the unrelated neighbour, and the close companion and the traveller; and your bondwomen; indeed Allah does not like any boastful, proud person. –
और अल्लाह की बन्दगी करो और उसका शरीक किसी को न ठहराओ और माँ-बाप से भलाई करो और रिश्तेदारों और यतीमों और मुहताजों और पास के हमसाये और दूर के हमसाये और करवट के साथी और राहगीर और अपनी बांदी ग़ुलाम से बेशक अल्लाह को खुश नहीं आता कोई इतराने वाला बड़ाई मारने वाला
Aur Allah ki bandagi karo aur us ka shareek kisi ko na thehrao aur maa baap se bhalayi karo aur rishtedaron aur yateemon aur mohtaajon aur paas ke hamsaye aur door ke hamsaye aur karwat ke saathi aur raah geer aur apni bandi ghulaam se be-shak Allah ko khush nahi aata koi itranay wale barayi maarne wala
(ف109)نہ جاندار کو نہ بے جان کو نہ اُس کی ربوبیت میں نہ اُس کی عبادت میں ۔(ف110)ادب و تعظیم کے ساتھ اور اُنکی خدمت میں مستعِد رہنا اور اُن پر خرچ کرنے میں کمی نہ کرو۔ مُسلِم شریف کی حدیث ہے سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا اُس کی ناک خاک آلود ہو حضرت ابوہریرہ نے عرض کیا کِس کی یارسول اللہ فرمایا جس نے بوڑھے ماں باپ پائے یا اُن میں سے ایک کو پایا اور جنّتی نہ ہوگیا(ف111)حدیث شریف میں ہے رشتہ داروں کے ساتھ اچھے سلوک کرنے والوں کی عمر دراز اور رزق وسیع ہوتا ہے۔(بخاری و مسلم)(ف112)حدیث : سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں اور یتیم کی سرپرستی کرنے والا ایسے قریب ہوں گے جیسے اَنگشت شہادت اور بیچ کی انگلی (بخاری شریف)حدیث: سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بیوہ اور مسکین کی امداد و خبر گیری کرنے والا مجاہد فی سبیل اللہ کے مثل ہے۔(ف113)سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جبریل مجھے ہمیشہ ہمسایوں کے ساتھ احسان کرنے کی تاکید کرتے رہے اِس حد تک کہ گمان ہوتا تھا کہ ُان کو وارث قرار دیں ( بخاری و مسلم)(ف114)یعنی بی بی یا جو صحبت میں رہے یا رفیق ِسفر ہو یا ساتھ پڑھے یا مجلس و مسجد میں برابر بیٹھے۔(ف115)اور مسافر و مہمان حدیث: جو اللہ اور روزِ قیامت پر ایمان رکھے اُسے چاہئے کہ مہمان کا اکرام کرے۔(بخاری ومسلم)(ف116)کہ انہیں اُن کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہ دواور سخت کلامی نہ کرو اور کھانا کپڑا بقدر ضرورت دو ۔حدیث: رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جنت میں بدخُلق داخل نہ ہوگا۔(ترمذی)(ف117)مُتکبِّر خودبیں جو رشتہ داروں اور ہمسایوں کو ذلیل سمجھے ۔
جو آپ بخل کریں اور اوروں سے بخل کے لئے کہیں (ف۱۱۸) اور اللہ نے جو انہیں اپنے فضل سے دیا ہے اسے چھپائیں (ف۱۱۹) اور کافروں کے لئے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے،
Those who are misers and preach miserliness to others, and hide what Allah has bestowed upon them from His munificence; and We have kept ready a disgraceful punishment for the disbelievers.
जो आप बख़्ल करें और औरों से बख़्ल के लिये कहें और अल्लाह ने जो उन्हें अपने फ़ज़्ल से दिया है उसे छुपायें और काफ़िरों के लिये हमने ज़िल्लत का अज़ाब तैयार कर रखा है,
Jo aap bukhl karein aur auron se bukhl ke liye kahein aur Allah ne jo unhein apne fazal se diya hai usay chupayen aur kaafiron ke liye hum ne zillat ka azaab tayyar kar rakha hai,
(ف118)بخل یہ ہے کہ خود کھائے دُوسرے کو نہ دے شُحْ یہ ہے کہ نہ کھائے نہ کھلائے سخایہ ہے کہ خود بھی کھائے اور دُوسروں کو بھی کھلائے ، جو د یہ ہے کہ آ پ نہ کھائے دوسرے کو کھلائے ۔ شانِ نزول: یہ آیت یہود کے حق میں نازل ہوئی جو سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفت بیان کرنے میں بخل کرتے اور چھپاتے تھے مسئلہ : اس سے معلُوم ہوا کہ علم کو چھپانا مذموم ہے ۔(ف119)حدیث شریف میں ہے کہ اللہ کو پسند ہے کہ بندے پر اُس کی نعمت ظاہر ہو ۔ مسئلہ: اللہ کی نعمت کا اظہار اخلاص کے ساتھ ہو تو یہ بھی شکر ہے اور اس لئے آدمی کو اپنی حیثیت کے لائق جائز لباسوں میں بہتر پہننا مستحب ہے۔
اور وہ جو اپنے مال لوگوں کے دکھاوے کو خرچ کرتے ہیں (ف۱۲۰) اور ایمان نہیں لاتے اللہ اور نہ قیامت پر ، اور جس کا مصاحب شیطان ہوا، (ف۱۲۱) تو کتنا برا مصاحب ہے،
And those who spend their wealth in order for people to see, and do not accept faith in Allah nor the Last Day; and whoever has Satan (the devil) as a companion – so what an evil companion is he!
और वे जो अपने माल लोगों के दिखावे को ख़र्च करते हैं और ईमान नहीं लाते अल्लाह और न क़यामत पर, और जिस का मुसाहिब शैतान हुआ, तो कितना बुरा मुसाहिब है,
Aur woh jo apne maal logon ke dikhawe ko kharch karte hain aur imaan nahi laate Allah aur na qayaamat par, aur jis ka musaahib shaitaan hua, to kitna bura musaahib hai,
(ف120)بخل کے بعد صرفِ بیجا کی برائی بیان فرمائی کہ جو لوگ محض نمود و نمائش اور نام آوری کے لئے خرچ کرتے ہیں اور رضائے الہٰی اِنہیں مقصُود نہیں ہوتی جیسے کہ مشرکین و منافقین یہ بھی اِنہیں کے حکم میں ہیں جن کا حکم اُوپر گزر گیا۔(ف121)دنیاو آخرت میں دنیا میں تو اس طرح کہ وہ شیطانی کام کرکے اُس کو خوش کرتا رہا اور آخرت میں اس طرح کہ ہر کافر ایک شیطان کے ساتھ آتشی زنجیر میں جکڑا ہوا ہوگا۔(خازن)
اور ان کا کیا نقصان تھا اگر ایمان لاتے اللہ اور قیامت پر اور اللہ کے دیے میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے (ف۱۲۲) اور اللہ ان کو جانتا ہے،
And what would they lose, if they had believed in Allah and the Last Day and spent from what Allah has bestowed upon them? And Allah knows them very well.
और उनका क्या नुक़्सान था अगर ईमान लाते अल्लाह और क़यामत पर और अल्लाह के दिये में से उसकी राह में ख़र्च करते और अल्लाह उनको जानता है,
Aur un ka kya nuqsaan tha agar imaan laate Allah aur qayaamat par aur Allah ke diye mein se us ki raah mein kharch karte aur Allah unko jaanta hai,
تو کیسی ہوگی جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں (ف۱۲۳) اور اے محبوب! تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بناکر لائیں (ف۱۲٤)
So how will it be when We bring a witness from each nation (religion), and We bring you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) as a witness and a watcher over them? (The Holy Prophet is a witness from Allah.)
तो कैसी होगी जब हम हर उम्मत से एक गवाह लायें और ऐ महबूब! तुम्हें उन सब पर गवाह और निगहबान बनाकर लायें
To kaisi ho gi jab hum har ummat se ek gawah laayen aur ae mehboob! Tumhein un sab par gawah aur nigahban bana kar laayen
(ف123)اُس نبی کو اور وہ اپنی امت کے ایمان و کفر و نفاق اور تمام افعال پر گواہی دیں کیونکہ انبیاء اپنی اُمتوں کے اَفعال سے باخبر ہوتے ہیں۔(ف124)کہ تم نبیُ الانبیاء اور سارا عالَم تمہاری اُمّت ۔
اس دن تمنا کریں گے وہ جنہوں نے کفر کیا اور رسول کی نافرمانی کی کاش انہیں مٹی میں دبا کر زمین برابر کردی جائے ، اور کوئی بات اللہ سے نہ چھپاسکیں گے (ف۱۲۵)
On that day, those who disbelieved and disobeyed the Noble Messenger will wish that they be buried and the ground levelled above them; and they will not be able to hide anything from Allah.
उस दिन तमन्ना करेंगे वे जिन्होंने क़ुफ़्र किया और रसूल की नाफ़रमानी की काश उन्हें मिट्टी में दबाकर ज़मीन बराबर कर दी जाये, और कोई बात अल्लाह से न छुपा सकेंगे
Us din tamanna karenge woh jinhon ne kufr kiya aur Rasool ki nafarmaani ki kaash unhein mitti mein daba kar zameen barabar kar di jaaye, aur koi baat Allah se na chhupa sakenge
(ف125)کیونکہ جب وہ اپنی خطاء سے مُکْریں گے اور قَسم کھا کر کہیں گے کہ ہم مُشرِک نہ تھے اور ہم نے خَطا نہ کی تھی تو اُنکے مونہوں پر مُہر لگادی جائے گی اور اُن کے اعضاء وجَوارح کو گویائی دی جائے گی وہ اُن کے خلاف شہادت دیں گے۔
اے ایمان والو! نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤ (ف۱۲٦) جب تک اتنا ہوش نہ ہو کہ جو کہو اسے سمجھو اور نہ ناپاکی کی حالت میں بےنہائے مگر مسافری میں (ف۱۲۷) اور اگر تم بیمار ہو (ف۱۲۸) یا سفر میں یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو (ف۱۲۹) یا تم نے عورتوں کو چھوا (ف۱۳۰) اور پانی نہ پایا (ف۱۳۱) تو پاک مٹی سے تیمم کرو (ف۱۳۲) تو اپنے منہ اور ہاتھوں کا مسح کرو (ف۱۳۳) بیشک اللہ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے،
O People who Believe! Do not approach the prayer when you are intoxicated until you have the sense to understand what you say, nor in the state of impurity until you have bathed except while travelling; and if you are ill or on a journey or one of you returns from answering the call of nature or you have cohabited with women, and you do not find water, then cleanse (yourself) with clean soil – therefore stroke your faces and your hands with it; indeed Allah is Most Pardoning, Oft Forgiving.
ऐ ईमान वालो! नशे की हालत में नमाज़ के पास न जाओ जब तक इतना होश न हो कि जो कहो उसे समझो और न नापाक़ी की हालत में बे नहाये मगर मुसाफ़िरी में और अगर तुम बीमार हो या सफ़र में या तुम में से कोई क़ज़ाये हाजत से आया हो या तुम ने औरतों को छुआ और पानी न पाया तो पाक मिट्टी से तयम्मुम करो तो अपने मुँह और हाथों का मसह करो बेशक अल्लाह माफ़ करने वाला बख़्शने वाला है,
Ae imaan walo! nasha ki haalat mein namaaz ke paas na jao jab tak itna hosh na ho ke jo kaho usay samjho aur na napaaki ki haalat mein be nahaaye magar musaafari mein aur agar tum beemaar ho ya safar mein ya tum mein se koi qazaaye haajat se aaya ho ya tum ne auraton ko chhua aur paani na paaya to paak mitti se tayammum karo to apne munh aur haathon ka masah karo be-shak Allah maaf karne wala bakhshne wala hai,
(ف126)شانِ نزول: حضرت عبدالرحمن بن عوف نے ایک جماعتِ صحابہ کی دعوت کی اِس میں کھانے کے بعد شراب پیش کی گئی بعضوں نے پی کیونکہ اس وقت تک شراب حرام نہ ہوئی تھی پھر مغرب کی نماز پڑھی امام نشہ میں قَلْ یَٰایُّھَاالْکَافِرُوْنَ اَعْبُدُ مَاتَعْبُدوْنَ وَانْتُمْ عَابِدُوْنَ مَا اَعْبُدُ پڑھ گئے اور دونوں جگہ لَا ترک کردیا اور نشہ میں خبر نہ ہوئی اور معنی فاسد ہوگئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں نشہ کی حالت میں نماز پڑھنے سے منع فرمادیا گیا تو مسلمانوں نے نماز کے اوقات میں شراب ترک کردی اس کے بعد شراب بالکل حرام کردی گئی مسئلہ: اس سے ثابت ہوا کہ آدمی نشہ کی حالت میں کلمہء کفر زبان پر لانے سے کافر نہیں ہوتا اس لئے کہ قُلْ یٰاَۤ یُّھَا الْکَافِرُوْنَ میں دونوں جگہ لاَ کا ترک کُفر ہے لیکن اس حالت میں حضور نے اس پر کفر کا حکم نہ فرمایا بلکہ قرآن پاک میں اُن کو یٰاَۤیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْسے خطاب فرمایا گیا۔(ف127)جبکہ پانی نہ پاؤ تیمم کرلو ۔ (ف128)اور پانی کا استعمال ضرر کرتا ہو ۔(ف129)یہ کنایہ ہے بے وضو ہونے سے(ف130)یعنی جماع کیا۔(ف131)اس کے استعمال پر قادر نہ ہونے خواہ پانی موجود نہ ہونے کے باعث یا دور ہونے کے سبب یا اس کے حاصل کرنے کا آلہ نہ ہو نے کے سبب یا سانپ،درندہ،دُشمن وغیرہ کوئی ہونے کے باعث۔(ف132)یہ حکم مریضوں، مسافروں ، جنابت اور حَدث والوں کو شامل ہے جو پانی نہ پائیں یا اس کے استعمال سے عاجز ہوں( مدارک) مسئلہ : حیض و نفاس سے طہارت کے لئے بھی پانی سے عاجز ہونے کی صورت میں تیمّم جائز ہے جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے۔(ف133)طریقہء تیمّم تیمّم کرنے والا دل سے پاکی حاصل کرنے کی نیت کرے تیمم میں نیت بالا جماع شرط ہے کیونکہ وہ نصّ سے ثابت ہے جو چیز مٹی کی جنس سے ہو جیسے گَرد رِیتا پتّھر ان سب پر تیمم جائز ہے خواہ پتّھر پر غبار بھی نہ ہو لیکن پاک ہونا ان چیزوں کا شرط ہے تیمم میں دو ضربیں ہیں ،ایک مرتبہ ہاتھ مار کر چہرہ پر پھیرلیں دوسری مرتبہ ہاتھوں پر۔ مسئلہ: پانی کے ساتھ طہارت اصل ہے اور تیمم پانی سے عاجز ہونے کی حالت میں اُس کا پُورا پُورا قائم مقام ہے جس طرح حدث پانی سے زائل ہوتا ہے اسی طرح تیمم سے حتّٰی کہ ایک تیمم سے بہت سے فرائض و نوافل پڑھے جاسکتے ہیں۔ مسئلہ: تیمم کرنے والے کے پیچھے غُسل اور وضو کرنے والے کی اقتدا صحیح ہے۔شانِ نزول : غزوۂ بنی المُصْطَلَق میں جب لشکرِ اسلام شب کو ایک بیاباں میں اُترا جہاں پانی نہ تھا اور صبح وہاں سے کوچ کرنے کا ارادہ تھا وہاں اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہار گم ہوگیا اس کی تلاش کے لئے سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں اقامت فرمائی صبح ہوئی تو پانی نہ تھا ۔ اللہ تعالٰی نے آیتِ تیمم نازل فرمائی۔ اُسَیْدْ بن حُضَیْر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہاکہ اے آلِ ابوبکر یہ تمہاری پہلی ہی برکت نہیں ہے یعنی تمہاری برکت سے مسلمانوں کو بہت آسانیاں ہوئیں اور بہت فوائد پہنچے پھر اونٹ اٹھایا گیا تو اس کے نیچے ہار ملا۔ ہار گم ہونے اور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نہ بتانے میں بہت حکمتیں ہیں ۔ حضرت صدیقہ کے ہار کی وجہ سے قیام اُنکی فضیلت و منزلت کا مُشْعِر ہے۔ صحابہ کا جُستجُو فرمانا اس میں ہدایت ہے کہ حضور کے ازواج کی خدمت مؤمنین کی سعادت ہے اور پھر حکمِ تیمم ہونا معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج کی خدمت کا ایسا صلہ ہے جس سے قیامت تک مسلمان منتفع ہوتے رہیں گے سبحان اللہ ۔
کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن کو کتاب سے ایک حصہ ملا (ف۱۳٤) گمراہی مول لیتے ہیں (ف۱۳۵) اور چاہتے ہیں (ف۱۳٦) کہ تم بھی راہ سے بہک جاؤ،
Did you not see those who received a portion of the Book, that they purchase error and wish that you too go astray from the right path?
क्या तुम ने उन्हें न देखा जिन्हें किताब से एक हिस्सा मिला गुमराही मोल लेते हैं और चाहते हैं कि तुम भी राह से बहक जाओ,
Kya tum ne unhein na dekha jin ko kitaab se ek hissa mila gumraahi mol lete hain aur chaahte hain ke tum bhi raah se bhatak jao,
(ف134)وہ یہ کہ توریت سے اُنہوں نے صرف حضرت موسٰی علیہ السلام کی نبوت کو پہچانا اور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جو اس میں بیان تھا اس حصّہ سے وہ محروم رہے اور آپ کی نبوت کے مُنکِر ہوگئے ۔ شانِ نزول یہ آیت رِفاعہ بن زید اور مالک بن دَخشم یہودیوں کے حق میں نازل ہوئی یہ دونوں جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بات کرتے تو زبان ٹیڑھی کرکے بولتے۔(ف135)حضور کی نبوت کا انکار کرکے (ف136)اے مسلمانو ۔
کچھ یہودی کلاموں کو ان کی جگہ سے پھیرتے ہیں (ف۱۳۹) اور (ف۱٤۰) کہتے ہیں ہم نے سنا اور نہ مانا اور (ف۱٤۱) سنیئے آپ سنائے نہ جائیں (ف۱٤۲) اور راعنا کہتے ہیں (ف۱٤۳) زبانیں پھیر کر (ف۱٤٤) اور دین میں طعنہ کے لئے (ف۱٤۵) اور اگر وہ (ف۱٤٦) کہتے کہ ہم نے سنا اور مانا اور حضور ہماری بات سنیں اور حضور ہم پر نظر فرمائیں تو ان کے لئے بھلائی اور راستی میں زیادہ ہوتا لیکن ان پر تو اللہ نے لعنت کی ان کے کفر کے سبب تو یقین نہیں رکھتے مگر تھوڑا (ف۱٤۷)
Some of the Jews interchange the words from their places and say, “We hear and disobey” – and they say “Hear- may you not be able to hear” – and they say “Raena (Be considerate towards us)” distorting it with their tongues and in order to slander religion; had they said, “We hear and we obey” and “Kindly listen to us, O dear Prophet,” and “Look mercifully upon us, O dear Prophet”, it would have been much better for them and more just – but Allah has cursed them for their disbelief; so they do not believe except a little.
कुछ यहूदी कलामों को उनकी जगह से फेरते हैं और कहते हैं हमने सुना और न माना और सुनिये आप सुनाये न जायें और रा'इना कहते हैं ज़बानें फेरकर और दीन में ताना के लिये और अगर वे कहते कि हमने सुना और माना और हज़ूर हमारी बात सुनें और हज़ूर हम पर नज़र फ़रमायें तो उनके लिये भलाई और रास्ती में ज़्यादा होता लेकिन उन पर तो अल्लाह ने लानत की उनके क़ुफ़्र के सबब तो यक़ीन नहीं रखते मगर थोड़ा
Kuch Yahoodi kalamon ko un ki jagah se phirte hain aur kehte hain hum ne suna aur na maana aur suniye aap sunaye na jaayen aur ra’ina kehte hain zubaanen phir kar aur deen mein ta’na ke liye aur agar woh kehte ke hum ne suna aur maana aur huzoor hamari baat sunein aur huzoor hum par nazar farmaayein to un ke liye bhalayi aur raasti mein zyada hota lekin un par to Allah ne la’nat ki un ke kufr ke sabab to yaqeen nahi rakhte magar thoda
(ف139)جوتوریت شریف میں اللہ تعالٰی نے سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت میں فرمائے۔(ف140)جب سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں کچھ حکم فرماتے ہیں تو۔(ف141)کہتے ہیں۔(ف142)یہ کلمہ ذو جہتین ہے مدح و ذم کے دونوں پہلو رکھتا ہے مَدۡح کا پہلو تو یہ ہے کہ کوئی ناگوار بات آپ کے سننے میں نہ آئے اور ذَم کا پہلو یہ کہ آپ کو سننا نصیب نہ ہو ۔(ف143)باوجود یہ کہ اس کلمہ کے ساتھ خطاب کی ممانعت کی گئی ہے کیونکہ یہ ان کی زبان میں خراب معنٰی رکھتا ہے۔(ف144)حق سے باطل کی طرف ۔(ف145)کہ وہ اپنے رفیقوں سے کہتے تھے کہ ہم حضور کی بدگوئی کرتے ہیں اگر آپ نبی ہوتے تو آپ اِس کو جان لیتے اللہ تعالٰی نے اُن کے خبث ضمائر کو ظاہر فرما دیا(ف146)بجائے اُن کلمات کے اہلِ اَدب کے طریقہ پر(ف147)اتنا کہ اللہ نے اُنہیں پیدا کیا اور روزی دی اور اس قدر کافی نہیں جب تک کہ تمام ایمانیات کو نہ مانیں اور سب کی تصدیق نہ کریں
اے کتاب والو! ایمان لاؤ اس پر جو ہم نے اتارا تمہارے ساتھ والی کتاب (ف۱٤۸) کی تصدیق فرماتا قبل اس کے کہ ہم بگاڑ دیں کچھ مونہوں کو (ف۱٤۹) تو انہیں پھیر دیں ان کی پیٹھ کی طرف یا انہیں لعنت کریں جیسی لعنت کی ہفتہ والوں پر (ف۱۵۰) اور خدا کا حکم ہو کر رہے،
O People given the Book(s)! Believe in what We have sent down confirming the Book which you possess, before We transform some faces so turning them towards their backs, or curse them like We had cursed the people of Sabth; and (know that) the Allah’s command is always carried out!
ऐ किताब वालो! ईमान लाओ उस पर जो हमने उतारा तुम्हारे साथ वाली किताब की तसदीक़ फ़रमाता क़बल उस के कि हम बिगाड़ दें कुछ मुँहों को तो उन्हें फेर दें उनकी पीठ की तरफ़ या उन्हें लानत करें जैसी लानत की हफ़्ता वालों पर और खुदा का हुक्म होकर रहे,
Ae kitaab walo! Imaan laao us par jo hum ne utaara tumhare saath wali kitaab ki tasdeeq farmata qabl is ke ke hum bigaad dein kuch moonhon ko to unhein phir dein un ki peeth ki taraf ya unhein la’nat karein jaisi la’nat ki hafta walon par aur Khuda ka hukm ho kar rahe,
(ف148)توریت ۔(ف149)آنکھ، ناک ، ابرو وغیرہ نقشہ مٹا کر ۔(ف150)ان دونوں باتوں میں سے ایک ضرور لازم ہے اور لعنت تو اُن پر ایسی پڑی کہ دنیا انہیں ملعون کہتی ہے یہاں مفسّرین کے چند اقوال ہیں بعض اس وعید کا وقوع دنیا میں بتاتے ہیں بعض آخرت میں بعض کہتے ہیں کہ لعنت ہوچکی اور وعید واقع ہوگئی بعض کہتے ہیں ابھی انتظار ہے بعض کا قول ہے کہ یہ وعید اس صورت میں تھی جب کہ یہود میں سے کوئی ایمان نہ لاتا اور چونکہ بہت سے یہود ایمان لے آئے اِس لئے شرط نہیں پائی گئی اور وعید اُٹھ گئی ۔ حضرت عبداللہ بن سلام جو اعظم علمائے یہود سے ہیں انہوں نے ملک شام سے واپس آتے ہوئے راہ میں یہ آیت سُنی اور اپنے گھر پہنچنے سے پہلے اسلام لا کرسیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ میں نہیں خیال کرتا تھا کہ میں اپنا منہ پیٹھ کی طرف پھر جانے سے پہلے اور چہرہ کا نقشہ مٹ جانے سے قبل آپ کی خدمت میں حاضر ہوسکوں گا یعنی اس خوف سے اُنہوں نے ایمان لانے میں جلدی کی کیونکہ توریت شریف سے اُنہیں آپ کے رسولِ بَرحق ہونے کا یقینی عِلم تھا اسی خوف سے حضرت کعب احبار جو علماءِ یہود میں بڑی منزلت رکھتے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یہ آیت سن کر مسلمان ہوگئے۔
بیشک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے (ف۱۵۱) اور جس نے خدا کا شریک ٹھہرایا اس نے بڑا گناہ کا طوفان باندھا،
Undoubtedly Allah does not forgive (the sin of) disbelieving in Him and forgives anything lower than it to whomever He wills; and whoever ascribes partners to Allah has invented a tremendous sin.
बेशक अल्लाह उसे नहीं बख़्शता कि उसके साथ क़ुफ़्र किया जाये और क़ुफ़्र से नीचे जो कुछ है जिसे चाहे माफ़ फ़रमा देता है और जिसने खुदा का शरीक ठहराया उस ने बड़ा गुनाह का तूफ़ान बाँधा,
Be-shak Allah usay nahi bakhshta ke us ke saath kufr kiya jaaye aur kufr se neeche jo kuch hai jise chahe maaf farma deta hai aur jis ne Khuda ka shareek thehraya us ne bara gunaah ka toofan baandha,
(ف151)معنی یہ ہیں کہ جو کفر پر مَرے اس کی بخشش نہیں اس کے لئے ہمیشگی کا عذاب ہے اور جس نے کفر نہ کیا ہو وہ خواہ کتنا ہی گنہگار مرتکبِ کبائر ہو اور بے توبہ بھی مر جائے تو اُس کے لئے خلود نہیں اِس کی مغفرت اللہ کی مشیّت میں ہے چاہے معاف فرمائے یا اُس کے گناہوں پر عذاب کرے پھر اپنی رحمت سے جنّت میں داخل فرمائے اس آیت میں یہود کو ایمان کی ترغیب ہے ،اور اس پر بھی دلالت ہے کہ یہود پر عُرفِ شرع میں مُشرِک کا اطلاق درست ہے۔
کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جو خود اپنی ستھرائی بیان کرتے ہیں (ف۱۵۲) بلکہ اللہ جسے چاہے ستھرا کرے اور ان پر ظلم نہ ہوگا دانہ خرما کے ڈورے برابر (ف۱۵۳)
Did you not see those who proclaim their piety (cleanliness of deeds)? In fact Allah purifies whomever He wills, and no injustice, even equal to the hair upon a date seed will be done to them.
क्या तुम ने उन्हें न देखा जो खुद अपनी सुथराई बयान करते हैं बल्कि अल्लाह जिसे चाहे सुथरा करे और उन पर ज़ुल्म न होगा दाना खजूर के डोरे बराबर
Kya tum ne unhein na dekha jo khud apni sathrai bayaan karte hain balki Allah jise chahe sathra kare aur un par zulm na hoga daana khurma ke dore barabar
(ف152)یہ آیت یہود و نصارٰی کے حق میں نازل ہوئی جو اپنے آپ کو اللہ کا بیٹا اور اُس کا پیارا بتاتے تھے اور کہتے تھے کہ یہود و نصارٰی کے سوا کوئی جنّت میں نہ داخل ہوگا اس آیت میں بتایا گیا کہ انسان کا دِین داری اور صلاح و تقوٰی اور قرب و مقبولیت کا مدعِی ہونا اور اپنے منہ سے اپنی تعریف کرنا کام نہیں آتا۔(ف153)یعنی بالکل ظلم نہ ہوگا وہی سزا دی جائے گی جس کے وہ مستحق ہیں ۔
کیا تم نے، وہ نہ دیکھے جنہیں کتاب کا ایک حصہ ملا ایمان لاتے ہیں بت اور شیطان پر اور کافروں کو کہتے ہیں کہ یہ مسلمانوں سے زیادہ راہ پر ہیں،
Did you not see those who received a portion of the Book, that they believe in idols and the devil, and say regarding the disbelievers that they are more rightly guided than the Muslims?
क्या तुम ने, वो न देखे जिन्हे किताब का एक हिस्सा मिला ईमान लाते हैं बत और शैतान पर और काफ़िरों को कहते हैं कि ये मुसलमानों से ज़्यादा राह पर हैं,
Kya tum ne woh na dekhe jinhin kitaab ka ek hissa mila imaan laate hain but aur shaitaan par aur kaafiron ko kehte hain ke yeh musalmanon se zyada raah par hain,
یہ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور جسے خدا لعنت کرے تو ہرگز اسکا کوئی یار نہ پائے گا (ف۱۵۵)
It is they whom Allah has cursed; and for those whom Allah has cursed, you (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) will never find any supporter.
ये हैं जिन पर अल्लाह ने लानत की और जिसे ख़ुदा लानत करे तो हरगिज़ उस का कोई यार न पाएगा
Yeh hain jin par Allah ne la’nat ki aur jise Khuda la’nat kare to har-giz us ka koi yaar na paayega
(ف155)شانِ نزول: یہ آیت کعب بن اشرف وغیرہ علماء یہود کے حق میں نازل ہوئی جو ستّر سواروں کی جمعیّت لے کر قریش سےسیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جنگ کرنے پر حَلف لینے پہنچے،قریش نے اُن سے کہا چونکہ تم کتابی ہو اس لئے تم سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ زیادہ قرب رکھتے ہو ہم کیسے اطمینان کریں کہ تم ہم سے فریب کے ساتھ نہیں مل رہے ہو اگر اطمینان دلانا ہو تو ہمارے بتوں کو سجدہ کرو تو انہوں نے شیطان کی اطاعت کرکے بتوں کوسجدہ کیا پھر ابوسفیان نے کہا کہ ہم ٹھیک راہ پر ہیں یا محمد مصطفٰےصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعب بن اشرف نے کہاتمہیں ٹھیک راہ پر ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اللہ تعالٰی نے ان پر لعنت فرمائی کہ انہوں نے حضور کی عداوت میں مشرکین کے بتوں تک کو پُوجا
کیا ملک میں ان کا کچھ حصہ ہے (ف۱۵٦) ایسا ہو تو لوگوں کو تِل بھر نہ دیں،
Do they have some share in the kingship?- if it were, they would not give to mankind even a single sesame.
क्या मुल्क में उन का कुछ हिस्सा है ऐसा हो तो लोगों को तिल भर न दें,
Kya mulk mein un ka kuch hissa hai aisa ho to logon ko til bhar na dein,
(ف156)یہود کہتے تھے کہ ہم مُلک و نُبوّت کے زیادہ حق دار ہیں تو ہم کیسے عربوں کا اتباع کریں اللہ تعالٰی نے اُن کے اِس دعوے کو جھٹلادیا کہ اُن کا مُلک میں حِصّہ ہی کیا ہے اور اگر بالفرض کچھ ہوتا تو اُن کا بخل اس درجہ کا ہے کہ۔
یا لوگوں سے حسد کرتے ہیں (ف۱۵۷) اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا (ف۱۵۸) تو ہم نے تو ابراہیم کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور انہیں بڑا ملک دیا (ف۱۵۹)
Or do they envy people due to what Allah has given them from His grace? In that case, We bestowed the Book and the wisdom upon the family of Ibrahim (Abraham), and We gave them a great kingdom.
या लोगों से हसद करते हैं उस पर जो अल्लाह ने उन्हें अपने फ़ज़्ल से दिया तो हम ने तो इब्राहीम की औलाद को किताब और हिकमत अता फ़रमाई और उन्हें बड़ा मुल्क दिया
Ya logon se hasad karte hain is par jo Allah ne unhein apne fazal se diya to hum ne to Ibrahim ki aulaad ko kitaab aur hikmat ata farmaayi aur unhein bara mulk diya
(ف157)نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلِ ایمان سے۔(ف158)نبوّت و نصرت و غلبہ و عزت وغیرہ نعمتیں ۔(ف159)جیسا کہ حضرت یوسف اور حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہم السلام کو تو پھرا گر اپنے حبیب سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کرم کیا تو اس سے کیوں جلتے اور حسد کرتے ہو ۔
تو ان میں کوئی اس پر ایمان لایا (ف۱٦۰) اور کسی نے اس سے منہ پھیرا (ف۱٦۱) اور دوزخ کافی ہے بھڑکتی آگ(ف۱٦۲)
So some of them believed in it and some of them turned away from it; and sufficient is hell, a blazing fire!
तो उन में कोई उस पर ईमान लाया और किसी ने उस से मुँह फेरा और दोज़ख़ काफ़ी है भड़कती आग
To un mein koi is par imaan laaya aur kisi ne is se munh phaira aur dozakh kaafi hai bhadakti aag
(ف160)جیسے کہ حضرت عبداللہ بن سلام اور اُن کے ساتھ والےسیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائے۔(ف161)اور ایمان سے محروم رہا۔(ف162)اس کے لئے جوسیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان نہ لائے۔
جنہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا عنقریب ہم ان کو آگ میں داخل کریں گے، جب کبھی ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھالیں انہیں بدل دیں گے کہ عذاب کا مزہ لیں، بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے،
We shall soon put those who disbelieve in Our signs into the fire; whenever their skins are cooked (fully burnt) We shall change them for new skins so they may taste the punishment (again and again); indeed Allah is Almighty, Wise.
जिन्हों ने हमारी आयतों का इन्कार किया अन्क़रीब हम उन को आग में दाख़िल करेंगे, जब कभी उन की खालें पक जाएँगी हम उन के सिवा और खालें उन्हें बदल देंगे कि अज़ाब का मज़ा लें, बेशक अल्लाह ग़ालिब हिकमत वाला है,
Jinhon ne hamari aayaton ka inkaar kiya anqareeb hum unko aag mein daakhil karenge, jab kabhi un ki khaalien pak jaayengi hum un ke siwa aur khaalien unhein badal denge ke azaab ka maza lein, be-shak Allah ghaalib hikmat wala hai,
اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے عنقریب ہم انہیں باغوں میں لے جائیں گے جن کے نیچے نہریں رواں ان میں ہمیشہ رہیں گے، ان کے لیے وہاں ستھری بیبیاں ہیں (ف۱٦۳) اور ہم انہیں وہاں داخل کریں گے جہاں سایہ ہی سایہ ہوگا (ف۱٦٤)
And those who believed and did good deeds, We shall soon admit them into Gardens beneath which rivers flow – abiding in it forever; in it for them are pure wives – and We shall admit them into places of plentiful shade.
और जो लोग ईमान लाए और अच्छे काम किए अन्क़रीब हम उन्हें बाग़ों में ले जाएँगे जिन के नीचे नहरें रवाँ उन में हमेशा रहेंगे, उन के लिए वहाँ सुथरी बीबियाँ हैं और हम उन्हें वहाँ दाख़िल करेंगे जहाँ साया ही साया होगा
Aur jo log imaan laaye aur achhe kaam kiye anqareeb hum unhein baaghon mein le jaayenge jinke neeche nehrein rawaan un mein hamesha rahenge, un ke liye wahan sathri beebiyan hain aur hum unhein wahan daakhil karenge jahan saaya hi saaya hoga
(ف163)جو ہر نجاست و گندگی اور قابل نفرت چیزسے پاک ہیں۔(ف164)یعنی سا یۂ جنّت جس کی راحت و آسائیش رسائی فہم و احاطۂ بیان سے بالا تر ہے ۔
بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو (ف۱٦۵) اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو (ف۱٦٦) بیشک اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ سنتا دیکھتا ہے،
Indeed Allah commands you to hand over whatever you hold in trust, to their owners – and that whenever you judge between people, judge with fairness; undoubtedly Allah gives you an excellent advice; indeed Allah is All Hearing, All Seeing.
बेशक अल्लाह तुम्हें हुक्म देता है कि अमानतें जिन की हैं उन्हें सुपुर्द करो और ये कि जब तुम लोगों में फ़ैसला करो तो इन्साफ़ के साथ फ़ैसला करो बेशक अल्लाह तुम्हें क्या ही खूब नसीहत फ़रमाता है, बेशक अल्लाह सुनता देखता है,
Be-shak Allah tumhein hukm deta hai ke amaanatain jinhin hain unhein supurd karo aur yeh ke jab tum logon mein faisla karo to insaaf ke sath faisla karo be-shak Allah tumhein kya hi khoob naseehat farmaata hai, be-shak Allah sunta dekhta hai,
(ف165)اصحاب امانات اور حُکام کو امانتیں دیانت داری کے ساتھ حق دار کو ادا کرنے اور فیصلوں میں انصاف کرنے کا حکم دیا بعض مفسّرین کا قول ہے کہ فرائض بھی اللہ تعالٰی کی امانتیں ہیں اُن کی ادا بھی اس حکم میں داخل ہے۔(ف166)فریقین میں سے اصلاً کِسی کی رعایت نہ ہو علماء نے فرمایا کہ حاکم کو چاہئے کہ پانچ باتوں میں فریقَیۡن کے ساتھ برابر سلوک کرے۔(۱) اپنے پاس آنے میں جیسے ایک کو موقع دے دوسرے کو بھی دے(۲) نشست دونوں کو ایک سی دے(۳) دونوں کی طرف برابر متوجہ رہے(۴) کلام سننے میں ہر ایک کے ساتھ ایک ہی طریقہ رکھے(۵) فیصلہ دینے میں حق کی رعایت کرے جس کا دوسرے پر حق ہو پُورا پُورا دِلائے،حدیث شریف میں ہے انصاف کرنے والوں کو قرب الہی میں نوری منبر عطا ہوں گے شانِ نزول: بعض مفسّرین نے اِس کی شانِ نزول میں اِس واقعہ کا ذکر کیا ہے کہ فتح مکّہ کے وقت سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عثمان بن طلحہ خادم کعبہ سے کعبہ معظّمہ کی کلید لے لی۔ پھر جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ نے وہ کلید انہیں واپس دی اور فرمایا کہ اب یہ کلید ہمیشہ تمہاری نسل میں رہے گی اس پر عثمان بن طلحہ حجبی اسلام لائے اگرچہ یہ واقعہ تھوڑے تھوڑے تغیرات کے ساتھ بہت سے محدّثین نے ذکر کیاہے مگر احادیث پر نظر کرنے سے یہ قابلِ وُثوق نہیں معلُوم ہوتا کیونکہ ابن عبداللہ اور ابن مندہ اور ابن اثیر کی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عثمان بن طلحہ ۸ ھ میں مدینہ طیبہ حاضر ہو کر مشرف با اسلام ہوچکے تھے اور اُنہوں نے فتحِ مکّہ کے روز کنجی خود اپنی خوشی سے پیش کی تھی بخاری اور مُسلِم کی حدیثوں سے یہی مستفاد ہوتا ہے۔
اے ایمان والو! حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا (ف۱٦۷) اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں (ف۱٦۸) پھر اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا اٹھے تو اسے اللہ اور رسول کے حضور رجوع کرو اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہو (ف۱٦۹) یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا،
O People who Believe! Obey Allah and the Noble Messenger and those amongst you who are in authority; so if there is a dispute amongst you concerning any matter, refer it to Allah and the Noble Messenger (for judgement) if you believe in Allah and the Last Day; this is better and has the best outcome.
ऐ ईमान वालो! हुक्म मानो अल्लाह का और हुक्म मानो रसूल का और उन का जो तुम में हुकूमत वाले हैं फिर अगर तुम में किसी बात का झगड़ा उठे तो उसे अल्लाह और रसूल के हुज़ूर रुजू करो अगर अल्लाह और क़यामत पर ईमान रखते हो ये बेहतर है और उस का अन्जाम सब से अच्छा,
Ae imaan walo! Hukm maano Allah ka aur hukm maano Rasool ka aur un ka jo tum mein hukoomat wale hain phir agar tum mein kisi baat ka jhagra uthay to use Allah aur Rasool ke huzoor ruju karo agar Allah aur qayaamat par imaan rakhte ho yeh behtar hai aur is ka anjaam sab se achha,
(ف167)کہ رسول کی اِطاعت اللہ ہی کی اطاعت ہے بخاری و مسلم کی حدیث ہےسیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی اُس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اُس نے اللہ کی نافرمانی کی ۔(ف168)اسی حدیث میں حضورفرماتے ہیں جس نے امیر کی اطاعت کی اُس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اُس نے میری نافرمانی کی اِس آیت سے ثابت ہوا کہ مُسلِم اُمراء و حکام کی اطاعت واجب ہے جب تک وہ حق کے موافق رہیں اور اگر حق کے خلاف حکم کریں تو ان کی اطاعت نہیں۔(ف169)اس آیت سے معلوم ہوا کہ احکام تین قسم کے ہیں ایک وہ جو ظاہر کتاب یعنی قرآن سے ثابت ہوں ایک وہ جو ظاہر حدیث سے ایک وہ جو قرآن و حدیث کی طرف بطریق قیاس رجوع کرنے سے اولی الامر میں اما م امیر بادشاہ حاکم قاضی سب داخل ہیں خلافتِ کا ملہ تو زمانۂ رسالت کے بعد تیس سال رہی مگر خلافتِ ناقصہ خلفاءِ عباسیہ میں بھی تھی اور اب تو امامت بھی نہیں پائی جاتی ۔ کیونکہ امام کے لئے قریش میں سے ہونا شرط ہے اور یہ بات اکثر مقامات میں معدوم ہے لیکن سلطنت و امارت باقی ہے اور چونکہ سلطان و امیر بھی اولوالامر میں داخل ہیں اِس لئے ہم پر اُن کی اطاعت بھی لازم ہے۔
کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن کا دعویٰ ہے کہ وہ ایمان لائے اس پر جو تمہاری طرف اترا اور اس پر جو تم سے پہلے اترا پھر چاہتے ہیں کہ شیطان کو اپنا پنچ بنائیں اور ان کو تو حکم یہ تھا کہ اسے اصلاً نہ مانیں اور ابلیس یہ چاہتا ہے کہ انہیں دور بہکاوے (ف۱۷۰)
Did you not see those whose claim is that they believe in what has been sent down on you and what was sent down before you, and they then wish to make the devil their judge, whereas they were ordered to completely reject him? And the devil wishes to mislead them far astray.
क्या तुम ने उन्हें न देखा जिन का दावा है कि वो ईमान लाए उस पर जो तुम्हारी तरफ़ उतरा और उस पर जो तुम से पहले उतरा फिर चाहते हैं कि शैतान को अपना पंच बनाएँ और उन को तो हुक्म ये था कि उसे असलन न मानें और इब्लीस ये चाहता है कि उन्हें दूर बहकावे
Kya tum ne unhein na dekha jinka da’wa hai ke woh imaan laaye is par jo tumhari taraf utaara aur is par jo tum se pehle utaara phir chaahte hain ke shaitaan ko apna panch banaayen aur unko to hukm yeh tha ke usay aslan na maanein aur Iblees yeh chahta hai ke unhein door bhatkave
(ف170)شانِ نزول: بِشر نامی ایک منافق کا ایک یہودی سے جھگڑا تھا یہودی نے کہا چلوسیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے طے کرالیں منافق نے خیال کیا کہ حضورتو بے رعایت محض حق فیصلہ دیں گے اس کا مطلب حاصل نہ ہوگا اس لئے اُس نے باوجود مدعیء ایمان ہونے کے یہ کہا کہ کعب بن اشرف یہودی کو پنچ بناؤ(قرآن کریم میں طاغوت سے اس کعب بن اشرف کے پاس فیصلہ لے جانا مراد ہے) یہودی جانتا تھا کہ کعب رشوت خوار ہے اِس لئے اُس نے باوجو د ہم مذہب ہونے کے اُس کو پنچ تسلیم نہ کیا ناچار منافق کو فیصلہ کے لئےسیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور آنا پڑا۔ حضورنے جو فیصلہ دیا وہ یہودی کے موافق ہوا یہاں سے فیصلہ سننے کے بعد پھر منافق یہودی کے درپے ہوا اور اسے مجبور کرکے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا یہودی نے آپ سے عرض کیا کہ میرا اس کا معاملہ سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طے فرماچکے لیکن یہ حضورکے فیصلہ سے راضی نہیں آپ سے فیصلہ چاہتا ہے فرمایا کہ ہاں میں ابھی آکر اس کا فیصلہ کرتا ہوں یہ فرما کر مکان میں تشریف لے گئے اور تلوار لا کر اُس کو قتل کردیا اور فرمایا جو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ سے راضی نہ ہو اُس کا میرے پاس یہ فیصلہ ہے ۔
اور جب ان سے کہا جائے کہ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب اور رسول کی طرف آؤ تو تم دیکھو گے کہ منافق تم سے منہ موڑ کر پھر جاتے ہیں،
And when they are told, “Come towards the Book sent down by Allah and to the Noble Messenger,” you will see that the hypocrites turn their faces away from you.
और जब उन से कहा जाए कि अल्लाह की उतारी हुई किताब और रसूल की तरफ़ आओ तो तुम देखोगे कि मुनाफ़िक तुम से मुँह मोड़ कर फिर जाते हैं,
Aur jab unse kaha jaaye ke Allah ki utaari hui kitaab aur Rasool ki taraf aao to tum dekho ge ke munaafiq tumse munh mod kar phir jaate hain,
کیسی ہوگی جب ان پر کوئی افتاد پڑے (ف۱۷۱) بدلہ اسکا جو انکے ہاتھوں نے آگے بھیجا (ف۱۷۲) پھر اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں، اللہ کی قسم کھاتے کہ ہمارا مقصود تو بھلائی اور میل ہی تھا (ف۱۷۳)
What will be their state, if some calamity befalls them as a result of what their own hands have sent before them – and then they come to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), swearing by Allah that, “Our goal was only to do good and create harmony"?
कैसी होगी जब उन पर कोई आफ़त पड़े बदला उस का जो उन के हाथों ने आगे भेजा फिर ऐ महबूब! तुम्हारे हुज़ूर हाज़िर हों, अल्लाह की क़सम खाते कि हमारा मक़सूद तो भलाई और मेल ही था
Kaisi ho gi jab un par koi iftaad paday badla us ka jo un ke haathon ne aage bheja phir ae mehboob! Tumhare huzoor haazir hon, Allah ki qasam khate ke hamara maqsad to bhalayi aur meil hi tha
(ف171)جس سے بھاگنے بچنے کی کوئی راہ نہ ہو جیسی کہ بِشر منافق پر پڑی کہ اس کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قتل کردیا۔(ف172)کفر و نفاق اور معاصی جیسا کہ بِشر منافق نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلہ سے اعراض کرکے کیا۔(ف173)اور وہ عذر و ندامت کچھ کام نہ دے جیسا کہ بِشر منافق کے مارے جانے کے بعد اُس کے اولیاء اُس کے خُون کا بدلہ طلب کرنے آئے اور بے جا معذرتیں کرنے اورباتیں بنانے لگے اللہ تعالٰی نے اس کے خون کا کوئی بدلہ نہیں دلایا کیونکہ وہ کشتنی ہی تھا۔
اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے (ف۱۷۵) اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں (ف۱۷٦) تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں (ف۱۷۷)
And We did not send any Noble Messenger except that he be obeyed by Allah’s command; and if they, when they have wronged their own souls, come humbly to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) and seek forgiveness from Allah, and the Noble Messenger intercedes for them, they will certainly find Allah as the Most Acceptor Of Repentance, the Most Merciful.
और हम ने कोई रसूल न भेजा मगर इस लिये कि अल्लाह के हुक्म से उस की इताअत की जाए और अगर जब वो अपनी जानों पर ज़ुल्म करें तो ऐ महबूब! तुम्हारे हुज़ूर हाज़िर हों और फिर अल्लाह से माफ़ी चाहें और रसूल उन की शफ़ाअत फ़रमाए तो ज़रूर अल्लाह को बहुत तौबा क़बूल करने वाला मेहरबान पाएँ
Aur hum ne koi Rasool na bheja magar is liye ke Allah ke hukm se us ki ita’at ki jaaye aur agar jab woh apni jaanon par zulm karein to ae mehboob! Tumhare huzoor haazir hon aur phir Allah se maafi chaahein aur Rasool un ki shafaa’at farmaaye to zaroor Allah ko bohat tawbah qubool karne wala meherbaan paayen
(ف175)جب کہ رسُول کا بھیجنا ہی اس لئے ہے کہ وہ مُطَاع بنائے جائیں اور اُن کی اطاعت فرض ہو تو جواُن کے حکم سے راضی نہ ہو اُس نے رسالت کو تسلیم نہ کیا وہ کافر واجب القتل ہے۔(ف176)معصیت و نافرمانی کرکے۔(ف177)اس سے معلوم ہوا کہ بارگاہِ الہٰی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وسیلہ اور آپ کی شفاعت کار بر آری کا ذریعہ ہے سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات شریف کے بعد ایک اعرابی روضہء اقدس پر حاضر ہوا اور روضۂ شریفہ کی خاک پاک اپنے سر پر ڈالی اور عرض کرنے لگا یارسول اللہ جو آپ نے فرمایا ہم نے سُنا اور جو آپ پر نازل ہوا اس میں یہ آیت بھی ہے وَلَوْاَنَّھُمْ اِذْ ظَّلَمُوْا میں نے بے شک اپنی جان پر ظلم کیا اور میں آپ کے حضور میں اللہ سے اپنے گناہ کی بخشش چاہنے حاضر ہوا تو میرے رب سے میرے گناہ کی بخشش کرائیے اس پر قبر شریف سے ندا آئی کہ تیری بخشش کی گئی اس سے چند مسائل معلوم ہوئے مسئلہ: اللہ تعالی کی بارگاہ میں عرضِ حاجت کے لئے اُس کے مقبولوں کو وسیلہ بنانا ذریعہ کامیابی ہےمسئلہ قبر پر حاجت کے لئے جانا بھی جَآءُ وْکَ میں داخل اور خیرُ القرون کا معمول ہے مسئلہ: بعد وفات مقبُولان ِحق کو( یا )کے ساتھ ندا کرنا جائز ہے مسئلہ:مقبُولانِ حق مدد فرماتے ہیں اور ان کی دعا سے حاجت روائی ہوتی ہے۔
تو اے محبوب! تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائئیں پھر جو کچھ تم حکم فرما دو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں (ف۱۷۸
So O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him), by oath of your Lord, they will not be Muslims until they appoint you a judge for the disputes between them – and then whatever you have decided, they should not find opposition to it within their hearts, and they must accept it wholeheartedly.
तो ऐ महबूब! तुम्हारे रब की क़सम वो मुसलमान न होंगे जब तक अपने आपस के झगड़े में तुम्हें हाकिम न बनाएँ फिर जो कुछ तुम हुक्म फ़रमा दो अपने दिलों में उस से रुकावट न पाएँ और जी से मान लें
To ae mehboob! Tumhare Rab ki qasam woh musalmaan na honge jab tak apne aapas ke jhagray mein tumhein haakim na banaayen phir jo kuch tum hukm farma do apne dilon mein us se rukawat na paayen aur jee se maan lein
(ف178)معنٰی یہ ہیں کہ جب تک آپ کے فیصلے اور حکم کو صدقِ دِل سے نہ مان لیں مسلمان نہیں ہوسکتے سبحان اللہ اس سے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان معلُوم ہوتی ہے شانِ نزول: پہاڑ سے آنے والا پانی جس سے باغوں میں آبِ رسانی کرتے ہیں اس میں ایک انصاری کا حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے جھگڑا ہوا معاملہ سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور پیش کیا گیا حضور نے فرمایا اے زبیر تم اپنے باغ کو پانی دے کر اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑ دو یہ انصاری کو گراں گزرا اور اس کی زبان سے یہ کلمہ نکلا کہ زبیر آپ کے پھوپھی زاد بھائی ہیں۔ باوجودیکہ فیصلہ میں حضرت زبیر کو انصاری کے ساتھ احسان کی ہدایت فرمائی گئی تھی لیکن انصاری نے اس کی قدر نہ کی تو حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زبیر کو حکم دیا کہ اپنے باغ کو سیراب کرکے پانی روک لو انصافاً قریب والاہی پانی کا مستحق ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی
اور اگر ہم ان پر فرض کرتے کہ اپنے آپ کو قتل کردو یا اپنے گھر بار چھوڑ کر نکل جاؤ (ف۱۷۹) تو ان میں تھوڑے ہی ایسا کرتے، اور اگر وہ کرتے جس بات کی انہیں نصیحت دی جاتی ہے (ف۱۸۰) تو اس میں ان کا بھلا تھا اور ایمان پر خوب جمنا
And had We decreed for them to slay themselves or to leave their homes and families, only a few of them would have done it; and if they did what they are advised to, it would be good for them, and would have strengthened faith.
और अगर हम उन पर फ़र्ज़ करते कि अपने आप को क़त्ल कर दो या अपने घर बार छोड़ कर निकल जाओ तो उन में थोड़े ही ऐसा करते, और अगर वो करते जिस बात की उन्हें नसीहत दी जाती है तो उस में उन का भला था और ईमान पर खूब जमना
Aur agar hum un par farz karte ke apne aap ko qatal kar do ya apne ghar baar chhod kar nikal jao to un mein thode hi aisa karte, aur agar woh karte jis baat ki unhein naseehat di jaati hai to is mein unka bhala tha aur imaan par khoob jamna
(ف179)جیسا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے نکل جانے اور توبہ کے لئے اپنے آپ کو قتل کا حکم دیا تھا شانِ نزول: ثابت بن قیس بن شَمَّاس سے ایک یہودی نے کہا کہ اللہ نے ہم پر اپنا قتل اور گھر بار چھوڑ نا فرض کیا تھا ہم اس کو بجالائے ثابت نے فرمایا کہ اگر اللہ ہم پر فرض کرتا تو ہم بھی ضرور بجالاتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(ف180)یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت اور آپ کی فرماں برداری کی ۔
اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے تو اسے ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللہ نے فضل کیا یعنی انبیاء (ف۱۸۱) اور صدیق (ف۱۸۲) اور شہید (ف۱۸۳) اور نیک لوگ (ف۱۸٤) یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں ،
And whoever obeys Allah and His Noble Messenger, will be with those upon whom Allah has bestowed grace – that is, the Prophets and the truthful and the martyrs and the virtuous; and what excellent companions they are!
और जो अल्लाह और उस के रसूल का हुक्म माने तो उसे उन का साथ मिलेगा जिन पर अल्लाह ने फ़ज़्ल किया यानी अन्बिया और सिद्दीक और शहीद और नेक लोग ये क्या ही अच्छे साथी हैं,
Aur jo Allah aur us ke Rasool ka hukm maane to usay unka saath milega jin par Allah ne fazal kiya ya’ni anbiya aur siddeeq aur shaheed aur nek log yeh kya hi achhe saathi hain,
(ف181)تو انبیاء کے مخلص فرمانبردار جنت میں اُن کی صحبت ودیدار سے محروم نہ ہوں گے۔(ف182)صدیق انبیاء کے سچے متبعین کو کہتے ہیں جو اخلاص کے ساتھ اُن کی راہ پر قائم رہیں مگر اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے افاضل اصحاب مُراد ہیں جیسے کہ حضرت ابوبکر صدیق ۔(ف183)جنہوں نے راہِ خدا میں جانیں دیں ۔ (ف184)وہ دیندار جو حق العباد اور حق اللہ دونوں ادا کریں اور اُن کے احوال و اعمال اور ظاہر و باطن اچھے اور پاک ہوں شانِ نزول: حضرت ثوبان سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کمال محبّت رکھتے تھے جُدائی کی تاب نہ تھی ایک روز اس قدر غمگین اور رنجیدہ حاضر ہوئے کہ چہرہ کا رنگ بدل گیاتھا تو حضور نے فرمایا آج رنگ کیوں بدلاہوا ہے عرض کیا نہ مجھے کوئی بیماری ہے نہ درد بَجُز اس کے کہ جب حضور سامنے نہیں ہوتے تو انتہا درجہ کی وحشت و پریشانی ہوجاتی ہے جب آخر ت کو یاد کرتا ہوں تو یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ وہاں میں کس طرح دیدار پاسکوں گا آپ اعلی ترین مقام میں ہوں گے مجھے اللہ تعالی نے اپنے کرم سے جنت بھی دی تو اس مقام عالی تک رسائی کہاں اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور انہیں تسکین دی گئی کہ باوجود فرق منازل کے فرمانبرداروں کو باریابی اور معیت کی نعمت سے سرفراز فرمایا جائے گا ۔
اے ایمان والو! ہوشیاری سے کام لو (ف۱۸۵) پھر دشمن کی طرف تھوڑے تھوڑے ہو کر نکلو یا اکٹھے چلو
O People who Believe! Be cautious, then advance towards the enemy in small numbers or all together.
ऐ ईमान वालो! होशियारी से काम लो फिर दुश्मन की तरफ़ थोड़े थोड़े हो कर निकलो या अकठ्ठे चलो
Ae imaan walo! Hoshiyaari se kaam lo phir dushman ki taraf thode thode ho kar niklo ya akhatte chalo
(ف185)دُشمن کے گھات سے بچو اور اُسے اپنے اُوپر موقع نہ دو ایک قول یہ بھی ہے کہ ہتھیار ساتھ رکھو مسئلہ: اِس سے معلوم ہوا کہ دشمن کے مقابلہ میں اپنی حفاظت کی تدبیر یں جائز ہیں ۔
اور تم میں کوئی وہ ہے کہ ضرور دیر لگائے گا (ف۱۸٦) پھر اگر تم پر کوئی افتاد پڑے تو کہے خدا کا مجھ پر احسان تھا کہ میں ان کے ساتھ حاضر نہ تھا،
Indeed among you is one who will certainly loiter behind; then if some disaster were to befall you, he would say, “It was Allah’s grace upon me that I was not present with them!”
और तुम में कोई वो है कि ज़रूर देर लगाएगा फिर अगर तुम पर कोई आफ़त पड़े तो कहे ख़ुदा का मुझ पर एहसान था कि मैं उन के साथ हाज़िर न था,
Aur tum mein koi woh hai ke zaroor der lagaye ga phir agar tum par koi uftaad paray to kahe Khuda ka mujh par ehsaan tha ke main un ke saath haazir na tha,
اور اگر تمہیں اللہ کا فضل ملے (ف۱۸۷) تو ضرور کہے گویا تم اس میں کوئی دوستی نہ تھی اے کاش میں ان کے ساتھ ہوتا تو بڑی مراد پاتا،
And were you to receive Allah’s munificence (a bounty), he would surely say – as if there had been no friendship between you and him – “Alas – if only I had been with them, I would have achieved a great success!”
और अगर तुम्हें अल्लाह का फ़ज़्ल मिले तो ज़रूर कहे गोया तुम उस में कोई दोस्ती न थी ऐ काश मैं उन के साथ होता तो बड़ी मुराद पाता,
Aur agar tumhein Allah ka fazl milay to zaroor kahe goya tum is mein koi dosti na thi ae kaash main un ke saath hota to badi muraad paata,
(ف187)تمہاری فتح ہو اور غنیمت ہاتھ آئے ۔(ف188)وہی جس کے مقولہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ،
تو انہیں اللہ کی راہ میں لڑنا چاہئے جو دنیا کی زندگی بیچ کر آخرت لیتے ہیں اور جو اللہ کی راہ میں لڑے پھر مارا جائے یا غالب آئے تو عنقریب ہم اسے بڑا ثواب دیں گے،
So those who sell the life of this world for the Hereafter, must fight in Allah's cause; and We shall bestow a great reward upon whoever fights in Allah's cause, whether he is martyred or is victorious.
तो उन्हें अल्लाह की राह में लड़ना चाहिये जो दुनिया की ज़िन्दगी बेच कर आख़िरत लेते हैं और जो अल्लाह की राह में लड़े फिर मारा जाए या ग़ालिब आए तो अन्क़रीब हम उसे बड़ा सवाब देंगे,
To unhein Allah ki raah mein ladna chahiye jo duniya ki zindagi bech kar aakhrat letay hain aur jo Allah ki raah mein lara phir maara jaye ya ghalib aaye to qareeb hai hum use bara sawaab dein ge,
اور تمہیں کیا ہوا کہ نہ لڑو اللہ کی راہ میں (ف۱۸۹) اور کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کے واسطے یہ دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اس بستی سے نکال جس کے لوگ ظالم ہیں اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی حمایتی دے دے اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی مددگار دے دے،
And what is the matter with you, that you should not fight in Allah’s cause and for the feeble men, and women, and children, who invoke, “Our Lord! Liberate us from this town, the people of which are unjust; and give us a protector from Yourself; and give us a supporter from Yourself.” (Allah has created many supporters for the believers.)
और तुम्हें क्या हुआ कि न लड़ो अल्लाह की राह में और कमज़ोर मर्दों और औरतों और बच्चों के वास्ते ये दुआ कर रहे हैं कि ऐ हमारे रब हमें उस बस्ती से निकाल जिस के लोग ज़ालिम हैं और हमें अपने पास से कोई हिमायती दे दे और हमें अपने पास से कोई मददगार दे दे,
Aur tumhein kya hua ke na lado Allah ki raah mein aur kamzor mardon aur auraton aur bachon ke waste ye dua kar rahe hain ke ae hamare Rab humein is basti se nikal jis ke log zaalim hain aur humein apne paas se koi himayati de de aur humein apne paas se koi madadgar de de,
(ف189)یعنی جہاد فرض ہے اور اس کے ترک کا تمہارے پاس کوئی عذر نہیں ۔
ایمان والے اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں (ف۱۹۰) اور کفار شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں تو شیطان کے دوستوں سے (ف۱۹۱) لڑو بیشک شیطان کا داؤ کمزور ہے (ف۱۹۲)
The believers fight for Allah’s cause; and the disbelievers fight for the devil’s cause – so fight against the friends of the devil; undoubtedly the devil’s conspiracy is weak.
ईमान वाले अल्लाह की राह में लड़ते हैं और कुफ़्फ़ार शैतान की राह में लड़ते हैं तो शैतान के दोस्तों से लड़ो बेशक शैतान का दाऊ कमज़ोर है
Imaan walay Allah ki raah mein larte hain aur kuffar shaitan ki raah mein larte hain to shaitan ke doston se lado beshak shaitan ka dao kamzor hai,
(ف190)اس آیت میں مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دی گئی تاکہ وہ ان کمزور مسلمانوں کو کفار کے پنجہء ظلم سے چھڑائیں جنہیں مکّہ مکرّمہ میں مشرکین نے قید کرلیا تھا اور طرح طرح کی ایذائیں دے رہے تھے اور اُن کی عورتوں اور بچوں تک پربے رحمانہ مظالم کرتے تھے اور وہ لوگ اُن کے ہاتھوں میں مجبور تھے اس حالت میں وہ اللہ تعالی سے اپنی خلاصی اور مددِ الہٰی کی دعا ئیں کرتے تھے ۔ یہ دعا قبول ہوئی اور اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اُن کا ولی و ناصر کیا اور انہیں مشرکین کے ہاتھوں سے چھڑایا اور مکّہء مکرّمہ فتح کرکے اُن کی زبردست مدد فرمائی ۔(ف191)اعلاء ِدین اور رضائے الٰہی کے لئے۔(ف192)یعنی کافروں کا اور وہ اللہ کی مدد کے مقابلہ میں کیا چیز ہے۔
کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن سے کہا گیا اپنے ہاتھ روک لو (ف۱۹۳) اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا (ف۱۹٤) تو ان میں بعضے لوگوں سے ایسا ڈرنے لگے جیسے اللہ سے ڈرے یا اس سے بھی زائد (ف۱۹۵) اور بولے اے رب ہمارے! تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا (ف۱۹٦) تھوڑی مدت تک ہمیں اور جینے دیا ہوتا، تم فرما دو کہ دنیا کا برتنا تھوڑا ہے (ف۱۹۷) اور ڈر والوں کے لئے آخرت اچھی اور تم پر تاگے برابر ظلم نہ ہوگا (ف۱۹۸)
Did you not see those to whom it was said, “Restrain your hands, keep the prayer established and pay the charity”; but when fighting was ordained for them, some of them started fearing people, the way they feared Allah – or even greater! And they said, “Our Lord! Why have You ordained fighting for us? If only You would have let us live some more!” Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “The usage of this world is meagre; and the Hereafter is better for the pious; and you will not be wronged even (the weight of) a single thread.”
क्या तुम ने उन्हें न देखा जिन से कहा गया अपने हाथ रोक लो और नमाज़ क़ायम रखो और ज़कात दो फिर जब उन पर जिहाद फ़र्ज़ किया गया तो उन में बाज़े लोगों से ऐसा डरने लगे जैसे अल्लाह से डरें या उस से भी ज़्यादा और बोले ऐ रब हमारे! तू ने हम पर जिहाद क्यों फ़र्ज़ कर दिया थोड़ी मुदत तक हमें और जीने दिया होता, तुम फ़रमा दो कि दुनिया का बरतना थोड़ा है और डर वालों के लिये आख़िरत अच्छी और तुम पर ताग़े बराबर ज़ुल्म न होगा
Kya tumne unhein na dekha jin se kaha gaya apne haath rok lo aur namaz qaim rakho aur zakat do phir jab unpar jihad farz kiya gaya to un mein baaz logon se aisa darne lage jaise Allah se dare ya us se bhi zyada aur bole ae Rab hamare! tu ne hum par jihad kyon farz kar diya thodi muddat tak humein aur jeene diya hota, tum farma do ke duniya ka bartna thoda hai aur dar walon ke liye aakhrat achhi aur tum par taagay barabar zulm na hoga,
(ف193)قتال سے، شانِ نزول: مشرکینِ مکّہ مکرّمہ میں مسلمانوں کو بہت ایذائیں دیتے تھے ہجرت سے قبل اصحابِ رسُول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک جماعت نے حضورکی خدمت میں عرض کیا کہ آپ ہمیں کافروں سے لڑنے کی اجازت دیجئے انہوں نے ہمیں بہت ستایا ہے اور بہت ایذائیں دیتے ہیں ۔ حضورنے فرمایا کہ اُن کے ساتھ جنگ کرنے سے ہاتھ روکو، نماز اور زکوٰۃ جو تم پر فرض ہے وہ ادا کرتے رہو۔ فائدہ ۔ اس سے ثابت ہوا کہ نماز وزکوٰۃ جہاد سے پہلے فرض ہوئیں۔(ف194)مدینہ طیبہ میں اور بدر کی حاضر ی کا حکم دیا گیا۔(ف195)یہ خوف طبعی تھا کہ انسان کی جِبِلَّت ہے کہ موت و ہلاکت سے گھبراتا اور ڈرتا ہے۔(ف196)اس کی حکمت کیا ہے یہ سوال وجہِ حکمت دریافت کرنے کے لئے تھانہ بطریق ِاعتراض اسی لئے اُن کو اس سوال پر توبیخ وز جرنہ فرمایا گیا بلکہ جواب تسکین بخش عطا فرمادیا گیا ۔(ف197)زائل وفانی ہے ۔(ف198)اور تمہارے اجر کم نہ کئے جائیں گے تو جہاد میں اندیشہ و تامل نہ کرو۔
تم جہاں کہیں ہو موت تمہیں آلے گی (ف۱۹۹) اگرچہ مضبوط قلعوں میں ہو اور انہیں کوئی بھلائی پہنچے (ف۲۰۰) تو کہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور انہیں کوئی برائی پہنچے (ف۲۰۱) تو کہیں یہ حضور کی طرف آئی (ف۲۰۲) تم فرمادو سب اللہ کی طرف سے ہے (ف۲۰۳) تو ان لوگوں کو کیا ہوا کوئی بات سمجھتے معلوم ہی نہیں ہوتے،
Death will come to you wherever you may be, even if you were in strong fortresses; if some good reaches them they say, “This is from Allah”; and if any misfortune reaches them, they say, “This is from you”; say, “Everything is from Allah”; what is wrong with these people, that they do not seem to understand anything?
तुम जहाँ कहीं हो मौत तुम्हें आ लेगी अगरचे मज़बूत क़िलाओं में हो और उन को कोई भलाई पहुँचे तो कहें ये अल्लाह की तरफ़ से है और उन्हें कोई बुराई पहुँचे तो कहें ये हुज़ूर की तरफ़ आई तुम फ़रमा दो सब अल्लाह की तरफ़ से है तो इन लोगों को क्या हुआ कोई बात समझते मालूम ही नहीं होते,
Tum jahan kahin ho maut tumhein aale gi agarche mazboot qiloon mein ho aur unhein koi bhalayi pohanche to kahein ye Allah ki taraf se hai aur unhein koi burayi pohanche to kahein ye huzoor ki taraf aayi, tum farma do sab Allah ki taraf se hai to in logon ko kya hua koi baat samajhtay maloom hi nahin hotay,
(ف199)اور اس سے رہائی پانے کی کوئی صورت نہیں اور جب موت ناگزیر ہے تو بسترپر مرجانے سے راہ خدا میں جان دینا بہتر ہے کہ یہ سعادتِ آخرت کا سبب ہے۔(ف200)ارزانی وکثرت پیدوار وغیرہ کی۔(ف201)گرانی قحط سالی وغیرہ (ف202)یہ حال منافقین کا ہے کہ جب انہیں کوئی سختی پیش آتی تو اس کوسیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف نسبت کرتے اور کہتے جب سے یہ آئے ہیں ایسی ہی سختیاں پیش آیا کرتی ہیں ۔(ف203)گرانی ہو یا ارزانی قحط ہو یا فراخ حالی رنج ہو یا راحت آرام ہو یا تکلیف فتح ہو یا شکست حقیقت میں سب اللہ کی طرف سے ہے۔
اے سننے والے تجھے جو بھلائی پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے (ف۲۰٤) اور جو برائی پہنچے وہ تیری اپنی طرف سے ہے (ف۲۰۵) اور اے محبوب ہم نے تمہیں سب لوگوں کے لئے رسول بھیجا (ف۲۰٦) اور اللہ کافی ہے گواہ (ف۲۰۷)
Whatever good reaches you, O listeners, is from Allah, and whatever ill reaches you is from yourselves; and We have sent you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) as a Noble Messenger towards all mankind; and Allah is Sufficient, as a Witness.
ऐ सुनने वाले तुझे जो भलाई पहुँचे वो अल्लाह की तरफ़ से है और जो बुराई पहुँचे वो तेरी अपनी तरफ़ से है और ऐ महबूब हम ने तुम्हें सब लोगों के लिये रसूल भेजा और अल्लाह काफ़ी है गवाह
ْ
Ae sun’nay walay tujhe jo bhalayi pohanche woh Allah ki taraf se hai aur jo burayi pohanche woh teri apni taraf se hai aur ae mehboob hum ne tumhein sab logon ke liye Rasool bheja aur Allah kafi hai gawah,
(ف204)اُس کا فضل و رحمت ہے(ف205)کہ تو نے ایسے گناہوں کا ارتکاب کیا کہ تو اس کا مستحق ہوا مسئلہ: یہاں بُرائی کی نسبت بندے کی طرف مجاز ہے اور اُوپر جو مذکور ہوا وہ حقیقت تھی بعض مفسّرین نے فرمایا کہ بدی کی نسبت بندے کی طرف برسبیلِ ادب ہے خلاصہ یہ کہ بندہ جب فاعلِ حقیقی کی طرف نظر کرے تو ہر چیز کو اُسی کی طرف سے جانے اور جب اسباب پر نظر کرے تو بُرائیوں کو اپنی شامت ِنفس کے سبب سے سمجھے۔(ف206)عرب ہوں یا عجم آپ تمام خلق کے لئے رسُول بنائے گئے اور کل جہان آپ کا اُمّتی کیا گیا یہ سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جلالتِ منصب اور رفعتِ منزلت کا بیان ہے۔(ف207)آپ کی رسالتِ عامہ پر تو سب پر آپ کی اطاعت اور آپ کا اتباع فرض ہے ۔
جس نے رسول کا حکم مانا بیشک اس نے اللہ کا حکم مانا (ف۲۰۸) اور جس نے منہ پھیرا (ف۲۰۹) تو ہم نے تمہیں ان کے بچانے کو نہ بھیجا
Whoever obeys the Noble Messenger has indeed obeyed Allah; and for those who turn away – We have not sent you as their saviour.
जिस ने रसूल का हुक्म माना बेशक उस ने अल्लाह का हुक्म माना और जिस ने मुँह फेरा तो हम ने तुम्हें उन के बचाने को न भेजा
Jis ne Rasool ka hukum maana beshak us ne Allah ka hukum maana aur jis ne munh pherra to hum ne tumhein un ke bachane ko na bheja,
(ف208)شانِ نزول: رسُولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی اُس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اُس نے اللہ سے محبّت کی اِس پر آج کل کے گستاخ بددینوں کی طرح اُس زمانہ کے بعض منافقوں نے کہا کہ محمد مصطفٰےصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ چاہتے ہیں کہ ہم انہیں رب مان لیں جیسا نصارٰی نے عیسٰی بن مریم کو رب مانا اس پر اللہ تعالی نے اِن کے رَدّ میں یہ آیت نازل فرما کر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام کی تصدیق فرمادی کہ کہ بے شک رسُول کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے،(ف209)اور آپ کی اطاعت سے اعراض کیا۔
اور کہتے ہیں ہم نے حکم مانا (ف۲۱۰) پھر جب تمہارے پاس سے نکل کر جاتے ہیں تو ان میں ایک گروہ جو کہہ گیا تھا اس کے خلاف رات کو منصوبے گانٹھتا ہے اور اللہ لکھ رکھتا ہے ان کے رات کے منصوبے (ف۲۱۱) تو اے محبوب تم ان سے چشم پوشی کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو اور اللہ کافی ہے کام بنانے کو،
And they say, “We have obeyed”; and when they go away from you, a group of them spend the night conspiring against what they had said; and Allah records what they conspired by night; therefore O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) avoid them and rely upon Allah; and Allah is Sufficient as a Trustee (of affairs).
और कहते हैं हम ने हुक्म माना फिर जब तुम्हारे पास से निकल कर जाते हैं तो उन में एक गिरोह जो कह गया था उस के ख़िलाफ़ रात को मन्सूबे गांठता है और अल्लाह लिख रखता है उन के रात के मन्सूबे तो ऐ महबूब तुम उन से चश्मपोषी करो और अल्लाह पर भरोसा रखो और अल्लाह काफ़ी है काम बनाने को,
Aur kehte hain hum ne hukum maana phir jab tumhare paas se nikal kar jatay hain to un mein aik giroh jo keh gaya tha us ke khilaf raat ko mansubay ganth’ta hai aur Allah likh rakhta hai un ke raat ke mansubay to ae mehboob tum un se chashm poshi karo aur Allah par bharosa rakho aur Allah kafi hai kaam bananay ko,
(ف210)شانِ نزول: یہ آیت منافقین کے حق میں نازل ہوئی جو سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور میں ایمان و اطاعت شعاری کا اظہار کرتے تھے اور کہتے تھے ہم حضور پر ایمان لائے ہیں ہم نے حضورکی تصدیق کی ہے حضور جو ہمیں حکم فرمائیں اُس کی اطاعت ہم پر لازم ہے۔(ف211)ان کے اعمال ناموں میں اور اُس کا اِنہیں بدلہ دے گا
تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں (ف۲۱۲) اور اگر وہ غیر خدا کے پاس سے ہوتا تو ضرور اس میں بہت اختلاف پاتے (ف۲۱۳)
So do they not ponder about the Qur’an? And had it been from anyone besides Allah, they would certainly find much contradiction in it.
तो क्या ग़ौर नहीं करते क़ुरआन में और अगर वो ग़ैर ख़ुदा के पास से होता तो ज़रूर उस में बहुत इख़्तिलाफ़ पाते
To kya ghour nahin karte Quran mein aur agar woh ghair Khuda ke paas se hota to zaroor us mein bohot ikhtilaf patay,
(ف212)اوراس کے عُلوم و حِکَم کو نہیں دیکھتے کہ اُس نے اپنی فصاحت سے تمام خَلق کو عاجز کردیا ہے اور غیبی خبروں سے منافقین کے احوال اور ان کے مکرو کید کا اِفشاءِ راز کردیا ہے اور اوّلین و آخرین کی خبریں دی ہیں۔(ف213)اور زمانہء آئندہ کے متعلق غیبی خبریں مطابق نہ ہوتیں اور جب ایسا نہ ہوا اور قرآن پاک کی غیبی خبروں سے آئندہ پیش آنے والے واقعات مطابقت کرتے چلے گئے تو ثابت ہوا کہ یقیناً وہ کتاب اللہ کی طرف سے ہے نیز اس کے مضامین میں بھی باہم اختلاف نہیں اسی طرح فصاحت و بلاغت میں بھی کیونکہ مخلوق کا کلام فصیح بھی ہو تو سب یکساں نہیں ہوتا کچھ بلیغ ہوتا ہے تو کچھ رکیک ہوتا ہے جیسا کہ شعراء اور زباندانوں کے کلام میں دیکھا جاتا ہے کہ کوئی بہت ملیح اور کوئی نہایت پھیکا۔ یہ اللہ تعالی ہی کے کلام کی شان ہے کہ اس کا تمام کلام فصاحت و بلاغت کی اعلی مرتبت پر ہے۔
اور جب ان کے پاس کوئی بات اطمینان (ف۲۱٤) یا ڈر (ف۲۱۵) کی آتی ہے اس کا چرچا کر بیٹھتے ہیں (ف۲۱٦) اور اگر اس میں رسول اور اپنے ذی اختیار لوگوں (ف۲۱۷) کی طرف رجوع لاتے (ف۲۱۸) تو ضرور ان سے اس کی حقیقت جان لیتے یہ جو بعد میں کاوش کرتے ہیں (ف۲۱۹) اور اگر تم پر اللہ کا فضل (۲۲۰) اور اس کی رحمت (ف۲۲۱) نہ ہوتی تو ضرور تم شیطان کے پیچھے لگ جاتے (ف۲۲۲) مگر تھوڑے (۲۲۳)
And when any news of safety or fear comes to them, they speak of it publicly; and had they referred it to the Noble Messenger and to those among them having authority, those among them who are able to infer would certainly learn the truth of the matter from them; and were it not for Allah’s munificence upon you, and His mercy, all of you would have certainly followed Satan – except a few.
और जब उन के पास कोई बात इत्मिनान या डर की आती है उस का चरचा कर बैठते हैं और अगर उस में रसूल और अपने ज़ी इख़्तियार लोगों की तरफ़ रुजू लाते तो ज़रूर उन से उस की हक़ीक़त जान लेते ये जो बाद में कोशिश करते हैं और अगर तुम पर अल्लाह का फ़ज़्ल
Aur jab un ke paas koi baat itminaan ya dar ki aati hai us ka charcha kar baith’tay hain aur agar us mein Rasool aur apne zi ikhtiyar logon ki taraf rujoo laate to zaroor un se us ki haqeeqat jaan letay ye jo baad mein kaawish karte hain aur agar tum par Allah ka fazl aur us ki rehmat na hoti to zaroor tum shaitan ke peechay lag jatay magar thore,
(ف214)یعنی فتحِ اسلام۔(ف215)یعنی مسلمانوں کی ہَزِیمت کی خبر(ف216)جو مفسدے کا موجب ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی فتح کی شہرت سے تو کفا رمیں جوش پیدا ہوتا ہے اور شکست کی خبر سے مسلمانوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔(ف217)اکابر صحابہ جو صاحب رائے اور صاحبِ بصیر ت ہیں ۔(ف218)اور خود کچھ دخل نہ دیتے۔(ف219)مسئلہ: مفسرین نے فرمایا اس آیت میں دلیل ہے جو از قیاس پر اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک علم تو وہ ہے جو بہ نصِ قرآن و حدیث حاصل ہواور ایک علم وہ ہے جوقرآن و حدیث سے استنباط و قیاس کے ذریعے حاصل ہوتا ہے مسئلہ:یہ بھی معلوم ہواکہ امور دینیہ میں ہر شخص کو دخل دینا جائز نہیں جو اہل ہواس کو تفویض کرنا چاہئے۔(ف220)رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت ۔(ف221)نزول قرآن ۔(ف222)اور کفرو ضلال میں گرفتار رہتے۔
تو اے محبوب اللہ کی راہ میں لڑو (۲۲٤) تم تکلیف نہ دیئے جاؤ گے مگر اپنے دم کی (ف۲۲۵) اور مسلمانوں کو آمادہ کرو (ف۲۲٦) قریب ہے کہ اللہ کافروں کی سختی روک دے (ف۲۲۷) اور اللہ کی آنچ (جنگی طاقت) سب سے سخت تر ہے اور اس کا عذاب سب سے کڑا (زبردست)
Therefore O dear Prophet, fight in Allah's cause; you will not be burdened except for yourself, and urge the believers (to fight); it is likely that Allah will curb the strength of the disbelievers; and Allah's strike is most stinging and His punishment the most severe.
और उस की रहमत न होती तो ज़रूर तुम शैतान के पीछे लग जाते मगर थोड़े
To ae mehboob Allah ki raah mein lado tum takleef na diye jao ge magar apne dum ki aur musalmanon ko aamada karo qareeb hai ke Allah kafiron ki sakhti rok de aur Allah ki aanch sab se sakht tar hai aur us ka azaab sab se kada,
(ف223)وہ لوگ جو سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت اور قرآن پاک کے نزول سے پہلے آ پ پر ایمان لائے جیسے زید بن عَمرو بن نُفِیل اور ورقہ بن نَوفَل اور قیس بن ساعِدہ ۔(ف224)خواہ کوئی تمہارا ساتھ دے یا نہ دے اور تم اکیلے رہ جاؤ۔(ف225)شانِ نزول: بدرصغرٰی کی جنگ جو ابوسفیان سے ٹھہر چکی تھی جب اس کا وقت آپہنچا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں جانے کے لئے لوگوں کو دعوت دی بعضوں پر یہ گراں ہوا تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی اور اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ جہاد نہ چھوڑیں اگرچہ تنہاہوں اللہ آپ کا ناصر ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے یہ حکم پا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدرصغرٰی کی جنگ کے لئے روانہ ہوئے صرف ستّر سوار ہمراہ تھے۔(ف226)انہیں جہاد کی ترغیب دو اور بس ۔(ف227)چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ مسلمانوں کا یہ چھوٹا سا لشکر کامیاب آیا اور کفار ایسے مرعوب ہوئے کہ وہ مسلمانوں کے مقابل میدان میں نہ آسکے فائدہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شجاعت میں سب سے اعلی ہیں کہ آپ کو تنہا کفار کے مقابل تشریف لے جانے کا حکم ہوا اور آپ آمادہ ہوگئے۔
جو اچھی سفارش کرے (ف۲۲۸) اس کے لئے اس میں سے حصہ ہے (ف۲۲۹) اور جو بری سفارش کرے اس کے لئے اس میں سے حصہ ہے (ف۲۳۰) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے،
Whoever makes a noble intercession will have a share of it, and whoever makes an evil intercession will have a share of it; and Allah is Able to do all things.
तो ऐ महबूब अल्लाह की राह में लड़ो
Jo achhi sifaarish kare us ke liye us mein se hissa hai aur jo buri sifaarish kare us ke liye us mein se hissa hai aur Allah har cheez par qadir hai,
(ف228)کسی سے کسی کی کہ اس کو نفع پہنچائے یا کسی مصیبت و بلا سے خَلاص کرائے اور ہو وہ موافقِ شرع تو ۔(ف229)اجرو جزا ۔(ف230)عذاب و سز ا۔
اور جب تمہیں کوئی کسی لفظ سے سلام کرے تو اس سے بہتر لفظ جواب میں کہو یا یا وہی کہہ دو، بیشک اللہ ہر چیز پر حساب لینے والا ہے (ف۲۳۱)
And when you are greeted with some words, greet back with words better than it or with the same; indeed Allah will take account of everything.
तुम तकलीफ़ न दिये जाओगे मगर अपने दम की और मुसलमानों को आमादा करो क़रीब है कि अल्लाह काफ़िरों की सख़्ती रोक दे और अल्लाह की आँच (जंगी ताक़त) सब से सख़्ततर है और उस का अज़ाब सब से कड़ा (ज़बरदस्त)
Aur jab tumhein koi kisi lafz se salam kare to us se behtar lafz jawab mein kaho ya wohi keh do, beshak Allah har cheez par hisaab lenay wala hai,
(ف231)مسائل: ِسلا م ،سلام کرنا سنّت ہے اور جواب دینا فرض اور جواب میں افضل ہے کہ سلام کرنے والے کے سلام پر کچھ بڑھائے مثلاً پہلا شخص السلام علیکم کہے تو دوسرا شخص وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کہے اور اگر پہلے نے ورحمۃ اللہ بھی کہا تھا تو یہ وبرکاتہ اور بڑھائے پس اس سے زیادہ سلام و جواب میں اور کوئی اضافہ نہیں ہے کافر ،گمراہ، فاسق اور استنجا کرتے مسلمانوں کو سلام نہ کریں۔ جو شخص خطبہ یا تلاوت قرآن یا حدیث یا مذاکرہ علم یا اذان یا تکبیر میں مشغول ہو اس حال میں ان کو سلام نہ کیا جائے اور اگر کوئی سلام کرے تو اُن پر جواب دینا لازم نہیں اورجو شخص شَطرنج ،چوسر ،تاش،گنجفہ وغیرہ کوئی ناجائز کھیل کھیل رہا ہویا گانے بجانے میں مشغول ہو یا پاخانہ یا غسل خانہ میں ہو یابے عذر برہنہ ہو اس کو سلام نہ کیا جائے مسئلہ : آدمی جب اپنے گھر میں داخل ہو تو بی بی کو سلام کرے ہندوستان میں یہ بڑی غلط رسم ہے کہ زن و شو کے اتنے گہرے تعلقات ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کو سلام سے محروم کرتے ہیں باوجود یہ کہ سلام جس کو کیا جاتا ہے اس کے لئے سلامتی کی دعا ہے۔ مسئلہ: بہتر سواری والا کمتر سواری والے کو اور کمتر سواری والا پیدل چلنے والے کو اور پیدل بیٹھے ہوئے کو اور چھوٹے بڑے کو اور تھوڑے زیادہ کو سلام کریں ۔
اللہ کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں اور وہ ضرور تمہیں اکٹھا کرے گا قیامت کے دن جس میں کچھ شک نہیں اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی (ف۲۳۲)
Allah! There is none worthy of worship except Him; He will surely gather you all on the Day of Resurrection in which there is no doubt; and whose Words are more true than those of Allah? (Allah does not lie.)
जो अच्छी सिफ़ारिश करे उस के लिये उस में से हिस्सा है और जो बुरी सिफ़ारिश करे उस के लिये उस में से हिस्सा है और अल्लाह हर चीज़ पर क़ादिर है,
Allah ke us ke siwa kisi ki bandagi nahin aur woh zaroor tumhein akhatta kare ga qayamat ke din jismein kuch shakk nahin aur Allah se zyada kis ki baat sachi,
(ف232)یعنی اس سے زیادہ سچا کوئی نہیں اس لئے کہ اس کا کِذب ناممکن و محال ہے کیونکہ کذب عیب ہے اور ہر عیب اللہ پر محال ہے وہ جملہ عیوب سے پاک ہے۔
تو تمہیں کیا ہوا کہ منافقوں کے بارے میں دو فریق ہوگئے (ف۲۳۳) اور اللہ نے انہیں اوندھا کردیا (ف۲۳٤) ان کے کوتکوں (کرتوتوں) کے سبب (ف۲۳۵) کیا یہ چاہتے ہیں کہ اسے راہ دکھاؤ جسے اللہ نے گمراہ کیا اور جسے اللہ گمراہ کرے تو ہرگز اس کے لئے راہ نہ پائے گا،
So what is the matter with you that you got divided into two groups concerning the hypocrites, whereas Allah has inverted them because of their misdeeds? Do you wish to guide one whom Allah has sent astray? And for one whom Allah sends astray, you will not find a way.
और जब तुम्हें कोई किसी लफ़्ज़ से सलाम करे तो उस से बेहतर लफ़्ज़ जवाब में कहो या वही कह दो, बेशक अल्लाह हर चीज़ पर हिसाब लेने वाला है
To tumhein kya hua ke munafiqon ke bare mein do fareeq ho gaye aur Allah ne unhein oondha kar diya un ke kotkon ke sabab, kya ye chahtay hain ke ise raah dikhayo jise Allah ne gumraah kiya aur jise Allah gumraah kare to har-giz us ke liye raah na paye ga,
(ف233)شانِ نزول: منافقین کی ایک جماعت سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد میں جانے سے رک گئی تھی ان کے باب میں اصحاب کرام کے دو فرقے ہوگئے ایک فرقہ قتل پر مُصر تھا اور ایک اُن کے قتل سے انکار کرتا تھا اس معاملہ میں یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف234)کہ وہ حضور کے ساتھ جہاد میں جانے سے محروم رہے۔(ف235)ان کے کفر وارتداد اور مشرکین کے ساتھ ملنے کے باعث تو چاہئے کہ مسلمان بھی ان کے کفر میں اختلاف نہ کریں۔
وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ کہیں تم بھی کافر ہوجاؤ جیسے وہ کافر ہوئے تو تم سب ایک سے ہو جاؤ ان میں کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ (ف۲۳٦) جب تک اللہ کی راہ میں گھر بار نہ چھوڑیں (ف۲۳۷) پھر اگر وہ منہ پھیریں (ف۲۳۸) تو انہیں پکڑو اور جہاں پاؤ قتل کرو، اور ان میں کسی کو نہ دوست ٹھہراؤ نہ مددگار (ف۲۳۹)
They wish that you too should turn disbelievers the way they did, so that you all may become equal – so do not befriend any of them until they forsake their homes and families in Allah’s cause; then if they turn back, seize them and kill them wherever you find them; and do not take any of them as a friend nor as a supporter.
अल्लाह कि उस के सिवा किसी की बन्दगी नहीं और वो ज़रूर तुम्हें अकठ्ठा करेगा क़यामत के दिन जिस में कुछ शक नहीं और अल्लाह से ज़्यादा किस की बात सच्ची
Woh to ye chahtay hain ke kahin tum bhi kafir ho jao jaise woh kafir huwe to tum sab aik se ho jao, un mein kisi ko apna dost na banao jab tak Allah ki raah mein ghar baar na chorain phir agar woh munh pherain to unhein pakro aur jahan pao qatl karo aur un mein kisi ko na dost thehrao na madadgar,
(ف236)اس آیت میں کفار کے ساتھ موالات ممنوع کی گئی خواہ وہ ایمان کا اظہار ہی کرتے ہوں ۔(ف237)اور اس سے ان کے ایمان کی تحقیق نہ ہولے۔(ف238)ایمان و ہجرت سے اور اپنی حالت پر قائم رہیں۔(ف239)اور اگر تمہاری دوستی کا دعوٰی کریں اور مدد کے لئے تیار ہوں تو ان کی مدد نہ قبول کرو۔
مگر جو ایسی قوم سے علاقے رکھتے ہیں کہ تم میں ان میں معاہدہ ہے (ف۲٤۰) یا تمہارے پاس یوں آئے کہ ان کے دلوں میں سکت نہ رہی کہ تم سے لڑیں (ف۲٤۱) یا اپنی قوم سے لڑیں (ف۲٤۲) اور اللہ چاہتا تو ضرور انہیں تم پر قابو دیتا تو وہ بیشک تم سے لڑتے (ف۲٤۳) پھر اگر وہ تم سے کنارہ کریں اور نہ لڑیں اور صلح کا پیام ڈالیں تو اللہ نے تمہیں ان پر کوئی راہ نہ رکھی (ف۲٤٤)
Except those who are related to the people between whom and you is a treaty, or who come to you with their hearts no longer having the will to fight you or to fight their own people; had Allah willed, He would certainly have given them power over you so that they would have surely fought you; then if they avoid you and do not wage war against you and make an offer of peace – then Allah has not kept for you a way against them.
तो तुम्हें क्या हुआ कि मुनाफ़िकों के बारे में दो फ़रीक़ हो गये और अल्लाह ने उन्हें औंधा कर दिया उन के कोतक़ों (क़रतूतों) के सबब क्या ये चाहते हैं कि उसे राह दिखाओ जिसे अल्लाह ने गुमराह किया और जिसे अल्लाह गुमराह करे तो हरगिज़ उस के लिये राह न पाएगा,
Magar jo aisi qoum se ilaqay rakhte hain ke tum mein un mein muaahida hai ya tumhare paas yun aaye ke un ke dilon mein sakat na rahi ke tum se laren ya apni qoum se laren aur Allah chahta to zaroor unhein tum par qaboo deta to woh beshak tum se lartay phir agar woh tum se kinara karein aur na laren aur sulah ka payaam dalain to Allah ne tumhein unpar koi raah na rakhi,
(ف240)یہ استثناء قتل کی طرف راجع ہے کیونکہ کفار و منافقین کے ساتھ موالات کسی حال میں جائز نہیں اور عہد سے یہ عہد مراد ہے کہ اس قوم کو اور جو اس قوم سے جا ملے اس کو امن ہے جیسا کہ سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکّہ مکرّمہ تشریف لے جاتے وقت ہلال بن عویمر اسلمی سے معاملہ کیا تھا ۔(ف241)اپنی قوم کے ساتھ ہو کر ۔(ف242)تمہارے ساتھ ہو کر۔(ف243)لیکن اللہ تعالی نے ان کے دلوں میں رُعب ڈال دیا اور مسلمانوں کو ان کے شر سے محفوظ رکھا۔(ف244)کہ تم ان سے جنگ کرو بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہ حکم آیت اُقْتُلُوالْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْ تُّمُوْھُمْ سے منسوخ ہوگیا ۔
اب کچھ اور تم ایسے پاؤ گے جو یہ چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امان میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امان میں رہیں (ف۲٤۵) جب کبھی انکی قوم انہیں فساد (ف۲٤٦) کی طرف پھیرے تو اس پر اوندھے گرتے ہیں پھر اگر وہ تم سے کنارہ نہ کریں اور (ف۲٤۷) صلح کی گردن نہ ڈالیں اور اپنے ہاتھ سے نہ روکیں تو انہیں پکڑو اور جہاں پاؤ قتل کرو، اور یہ ہیں جن پر ہم نے تمہیں صریح اختیار دیا (ف۲٤۸)
You will now find others who desire that they should be safe from you and also safe from their own people; whenever their people turn them towards war, they fall headlong into it; so if they do not avoid (confronting) you nor submit an offer of peace nor restrain their hands, seize them and kill them wherever you find them; and they are the ones against whom We have given you clear authority.
वो तो ये चाहते हैं कि कहीं तुम भी काफ़िर हो जाओ जैसे वो काफ़िर हुए तो तुम सब एक से हो जाओ उन में किसी को अपना दोस्त न बनाओ जब तक अल्लाह की राह में घर बार न छोड़ें फिर अगर वो मुँह फेरेँ तो उन्हें पकड़ो और जहाँ पाओ क़त्ल करो, और उन में किसी को न दोस्त ठहराओ न मददगार
Ab kuch aur tum aise pao ge jo ye chahtay hain ke tum se bhi amaan mein rahen aur apni qoum se bhi amaan mein rahen jab kabhi un ki qoum unhein fasaad ki taraf phere to us par oondhe girte hain phir agar woh tum se kinara na karein aur sulah ki gardan na dalain aur apne haath se na rokein to unhein pakro aur jahan pao qatl karo aur ye hain jin par hum ne tumhein sareeh ikhtiyar diya,
(ف245)شانِ نزول: مدینہ طیبہ میں قبیلہء اسد و غَطفان کے لوگ ریاءً کلمہء اسلام پڑھتے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے اور جب ان میں سے کوئی اپنی قوم سے ملتا اور وہ لوگ ان سے کہتے کہ تم کس چیز پر ایمان لائے تو وہ لوگ کہتے کہ بندروں بچھوؤں وغیرہ پر اس انداز سے ان کا مطلب یہ تھا کہ دونوں طرف سے رسم و راہ رکھیں اور کسی جانب سے انہیں نقصان نہ پہنچے یہ لوگ منافقین تھے انکے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔(ف246)شرک یا مسلمان سے جنگ۔(ف247)جنگ سے باز آکر (ف248)ان کے کفر، غدر اور مسلمانوں کی ضرر رسانی کے سبب ۔
اور مسلمانوں کو نہیں پہنچتا کہ مسلمان کا خون کرے مگر ہاتھ بہک کر (ف۲٤۹) اور جو کسی مسلمان کو نادانستہ قتل کرے تو اس پر ایک مملوک مسلمان کا آزاد کرنا ہے اور خون بہا کر مقتول کے لوگوں کو سپرد کی جائے (ف۲۵۰) مگر یہ کہ وہ معاف کردیں پھر اگر وہ (ف۲۵۱) اس قوم سے ہو جو تمہاری دشمن ہے (ف۲۵۲) اور خود مسلمان ہے تو صرف ایک مملوک مسلمان کا آزاد کرنا (ف۲۵۳) اور اگر وہ اس قوم میں ہو کہ تم میں ان میں معاہدہ ہے تو اس کے لوگوں کو خوں بہا سپرد کیا جائے اور ایک مسلمان مملوک آزاد کرنا (ف۲۵٤) تو جس کا ہاتھ نہ پہنچے (۲۵۵) وہ لگاتار دو مہینے کے روزے (ف۲۵٦) یہ اللہ کے یہاں اس کی توبہ ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے ،
It is not rightful for a Muslim to kill another Muslim, unless it occurs by mistake; and the one who mistakenly kills a Muslim must set free a Muslim slave and pay blood-money to the family of the slain, except if they forego it; and if the victim is of a people who are hostile to you, and the killer is a Muslim, then only the setting free of a Muslim slave (is obligatory); and if the victim is from a people between whom and you there is a treaty, then blood-money must be paid to his family and the setting free of a Muslim slave; therefore one who has no means must fast for two consecutive months; this is his penance before Allah; and Allah is All Knowing, Wise.
मगर जो ऐसी क़ौम से इलाके रखते हैं कि तुम में उन में मुआहिदा है या तुम्हारे पास यूँ आए कि उन के दिलों में सक़्त न रही कि तुम से लड़ें या अपनी क़ौम से लड़ें और अल्लाह चाहता तो ज़रूर उन्हें तुम पर क़ाबू देता तो वो बेशक तुम से लड़ते फिर अगर वो तुम से किनारा करें और न लड़ें और सुल्ह का पैग़ाम डालें तो अल्लाह ने तुम्हें उन पर कोई राह न रखी
Aur musalmanon ko nahin pohanchta ke musalman ka khoon kare magar haath behak kar aur jo kisi musalman ko nadanista qatl kare to us par ek mamluk musalman ka aazaad karna hai aur khoon baha kar maqtul ke logon ko supurd kiya jaye magar ye ke woh maaf kar dein phir agar woh us qoum se ho jo tumhari dushman hai aur khud musalman hai to sirf ek mamluk musalman ka aazaad karna aur agar woh us qoum mein ho ke tum mein un mein muaahida hai to us ke logon ko khoon baha supurd kiya jaye aur ek musalman mamluk aazaad karna to jis ka haath na pohanche woh lagataar do maheene ke rozae ye Allah ke yahan is ki tauba hai aur Allah jan’ne wala hikmat wala hai,
(ف249)یعنی مومن کافر کی مثل مباح الدم نہیں ہے جس کا حکم اوپر کی آیت میں مذکور ہوچکا تو مسلمان کا قتل کرنا بغیر حق کے روا نہیں اور مسلمان کی شان نہیں کہ اس سے کسی مسلمان کا قتل سرزد ہو بجز اس کے کہ خطاءً ہو اس طرح کہ مارتا تھا شکار کو یا کافر حربی کو اور ہاتھ بہک کر زد پڑی مسلمان پر یا یہ کہ کسی شخص کو کافر حربی جان کر مارا اور تھا وہ مسلمان ۔(ف250)یعنی اس کے وارثوں کو دی جائے وہ اسے مثل میراث کے تقسیم کرلیں دِیّت مقتول کے ترکہ کے حکم میں ہے اس سے مقتول کا دَین بھی ادا کیا جائے گا وصیت بھی جاری کی جائے گی۔(ف251)جو خطاءً قتل کیا گیا۔(ف252)یعنی کافر (ف253)لازم ہے اور دیت نہیں (ف254)یعنی اگر مقتول ذمی ہو تو اس کا وہی حکم ہے جو مسلمان کا۔(ف255)یعنی وہ کسی غلام کا مالک نہ ہو۔(ف256)لگاتار روزہ رکھنا یہ ہے کہ ان روزوں کے درمیان رمضان اور ایام تشریق نہ ہوں اور درمیان میں روزوں کا سلسلہ بعذر یا بلاعذر کسی طرح توڑا نہ جائے۔ شان نزول : یہ آیت عیاش بن ربیعہ مخزومی کے حق میں نازل ہوئی وہ قبل ہجرت مکہ مکرمہ میں اسلام لائے اور گھر والوں کے خوف سے مدینہ طیبہ جا کر پناہ گزیں ہوئے ان کی ماں کو اس سے بہت بے قراری ہوئی اور اس نے حارث اور ابوجہل اپنے دونوں بیٹوں سے جو عیاش کے سوتیلے بھائی تھے یہ کہا کہ خدا کی قسم نہ میں سایہ میں بیٹھوں نہ کھانا چکھوں نہ پانی پیوں جب تک تم عیاش کو میرے پاس نہ لے کر آؤ وہ دونوں حارث بن زید بن ابی اُنیسہ کو ساتھ لے کر تلاش کے لئے نکلے اور مدینہ طیبہ پہنچ کر عیاش کو پالیا اور ان کوماں کے جزع فزع بے قراری اور کھانا پینا چھوڑنے کی خبر سنائی اور اللہ کو درمیان دے کر یہ عہد کیا کہ ہم دین کے باب میں تجھ سے کچھ نہ کہیں گے اس طرح وہ عیاش کو مدینہ سے نکال لائے اور مدینہ سے باہر آکر اس کو باندھا اور ہر ایک نے سو سو کوڑے مارے پھر ماں کے پاس لائے تو ماں نے کہا میں تیری مشکیں نہ کھولوں گی جب تک تو اپنا دین ترک نہ کرے پھر عیاش کو دھوپ میں بندھا ہوا ڈال دیا اور ان مصیبتوں میں مبتلا ہو کر عیاش نے ان کا کہا مان لیا اور اپنا دین ترک کردیا تو حارث بن زید نے عیاش کو ملامت کی اور کہا تو اسی دین پر تھا اگر یہ حق تھا تو تونے حق کو چھوڑ دیااور اگر باطل تھا توتو باطل دین پر رہا یہ بات عیاش کو بڑی ناگوار گزری اور عیاش نے کہا میں تجھ کو اکیلا پاؤں گا تو خدا کی قسم ضرور قتل کردوں گا اس کے بعد عیاش اسلام لائے اور انہوں نے مدینہ طیبہ ہجرت کی اور ان کے بعد حارث بھی اسلام لائے اور ہجرت کرکے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچے لیکن اس روز عیاش موجود نہ تھے نہ انہیں حارث کے اسلام کی اطلاع ہوئی قباء کے قریب عیاش نے حارث کو دیکھ پایا اور قتل کردیا تو لوگوں نے کہا اے عیاش تم نے بہت برا کیا حارث اسلام لاچکے تھے اس پر عیاش کو بہت افسوس ہوا اور انہوں نے سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہو کر واقعہ عرض کیا اور کہا کہ مجھے تا وقت قتل ان کے اسلام کی خبر ہی نہ ہوئی اس پر یہ آیہ کریمہ نازل ہوئی ۔
اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے (ف۲۵۷) اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب،
And whoever slays a Muslim on purpose, his reward will be hell – to remain in it for ages – and Allah has wreaked wrath upon him and has cursed him and kept prepared a terrible punishment for him.
अब कुछ और तुम ऐसे पाओगे जो ये चाहते हैं कि तुम से भी अमान में रहें और अपनी क़ौम से भी अमान में रहें जब कभी उन की क़ौम उन्हें फ़साद की तरफ़ फेरे तो उस पर औंधे गिरते हैं फिर अगर वो तुम से किनारा न करें और सुल्ह की गर्दन न डालें और अपने हाथ से न रोकें तो उन्हें पकड़ो और जहाँ पाओ क़त्ल करो, और ये हैं जिन पर हम ने तुम्हें सरीह इख़्तियार दिया
Aur jo koi musalman ko jaan boojh kar qatl kare to us ka badla jahannam hai ke muddaton us mein rahay aur Allah ne us par ghazab kiya aur us par laanat ki aur us ke liye tayyar rakha bara azaab,
(ف257)مسلمان کو عمداً قتل کرنا سخت گناہ اور اشد کبیرہ ہے حدیث شریف میں ہے کہ دنیا کا ہلاک ہونا اللہ کے نزدیک ایک مسلمان کے قتل ہونے سے ہلکا ہے پھر یہ قتل اگر ایمان کی عداوت سے ہو یا قاتل اس قتل کو حلال جانتا ہو تو یہ کفر بھی ہے فائدہ: خلود مدتِ دراز کے معنی میں بھی مستعمل ہے اور قاتل اگر صرف دنیوی عداوت سے مسلمان کو قتل کرے اور اس کے قتل کو مباح نہ جانے جب بھی اس کی جزا مدت دراز کے لئے جہنم ہے فائدہ : خلود کالفظ مدت طویلہ کے معنی میں ہوتاہے تو قرآن کریم میں اس کے ساتھ لفظ ابد مذکور نہیں ہوتا اور کفار کے حق میں خلود بمعنی دوام آیا ہے تو اس کے ساتھ ابد بھی ذکر فرمایا گیا ہے شان نزول: یہ آیت مُقیّس بن خبابہ کے حق میں نازل ہوئی اس کے بھائی قبیلہ بنی نجار میں مقتول پائے گئے تھے اور قاتل معلوم نہ تھا بنی نجار نے بحکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیت ادا کردی اس کے بعد مقیس نے باغوائے شیطان ایک مسلمان کو بے خبری میں قتل کردیا اور دیت کے اونٹ لے کر مکہ کو چلتا ہوگیا اور مرتد ہوگیا یہ اسلام میں پہلا شخص ہے جو مرتد ہوا۔
اے ایمان والو! جب تم جہاد کو چلو تو تحقیق کرلو اور جو تمہیں سلام کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں (ف۲۵۷) تم جیتی دنیا کا اسباب چاہتے ہو تو اللہ کے پاس بہتری غنیمتیں ہیں پہلے تم بھی ایسے ہی تھے (ف۲۵۹) پھر اللہ نے تم پر احسان کیا (ف۲٦۰) تو تم پر تحقیق کرنا لازم ہے (ف۲٦۱) بیشک اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے،
O People who Believe! When you go forth to fight in holy war, make a proper study, and do not say to the one who greets you, “You are not a Muslim,” – you seek the means of this worldly life; so with Allah are the bounties in plenty; you too were like this before, then Allah bestowed His favour on you, therefore you must make a proper study; indeed Allah knows whatever you do.
और मुसलमानों को नहीं पहुँचता कि मुसलमान का ख़ून करे मगर हाथ बहक कर और जो किसी मुसलमान को नादानिस्ता क़त्ल करे तो उस पर एक ममलूक मुसलमान का आज़ाद करना है और ख़ून बहा कर मक़तूल के लोगों को सुपुर्द की जाए मगर ये कि वो माफ़ कर दें फिर अगर वो उस क़ौम से हो जो तुम्हारी दुश्मन है और ख़ुद मुसलमान है तो सिर्फ़ एक ममलूक मुसलमान का आज़ाद करना और अगर वो उस क़ौम में हो कि तुम में उन में मुआहिदा है तो उस के लोगों को ख़ून बहा सुपुर्द किया जाए और एक मुसलमान ममलूक आज़ाद करना तो जिस का हाथ न पहुँचे
Ae imaan walo! jab tum jihad ko chalo to tahqeeq kar lo aur jo tumhein salam kare us se ye na kaho ke tu musalman nahin tum jeeti duniya ka asbaab chahtay ho to Allah ke paas behtari ghanimatain hain pehle tum bhi aise hi thay phir Allah ne tum par ehsaan kiya to tum par tahqeeq karna laazim hai beshak Allah ko tumhare kaamon ki khabar hai,
(ف258)یا جس میں اسلام کی علامت و نشانی پاؤ اس سے ہاتھ روکو اور جب تک اس کا کفر ثابت نہ ہو جائے اس پر ہاتھ نہ ڈالو ابوداؤد وتر مذی کی حدیث میں ہے سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کوئی لشکر روانہ فرماتے حکم دیتے کہ اگرتم مسجد دیکھو یا اذان سنو تو قتل نہ کرنا مسئلہ: اکثر فقہاء نے فرمایا کہ اگر یہودی یا نصرانی یہ کہے کہ میں مومن ہوں تو اس کو مومن نہ مانا جائے گا کیونکہ وہ اپنے عقیدہ ہی کو ایمان کہتا ہے اور اگر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہے جب بھی اس کے مسلمان ہونے کا حکم نہ کیا جائے گا جب تک کہ وہ اپنے دین سے بیزاری کا اظہار اور اس کے باطل ہونے کا اعتراف نہ کرے اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص کسی کفر میں مبتلا ہو اس کے لئے اس کفر سے بیزاری اور اس کو کفر جاننا ضرور ہے۔(ف259)یعنی جب تم اسلام میں داخل ہوئے تھے تو تمہاری زبان سے کلمہ شہادت سن کر تمہارے جان و مال محفوظ کر دیئے گئے تھے اور تمہارا اظہار بے اعتبار نہ قرار دیا گیا تھا ایسا ہی اسلام میں داخل ہونے والوں کے ساتھ تمہیں بھی سلوک کرنا چاہئے شان نزول: یہ آیت مَرْدَ اس بن َنہِیْک کے حق میں نازل ہوئی جو اہل فدک میں سے تھے اور اُن کے سوااُن کی قوم کاکوئی شخص اسلام نہ لایا تھا اس قوم کو خبر ملی کہ لشکر اسلام ان کی طرف آرہا ہے تو قوم کے سب لوگ بھاگ گئے مگر مَرْدَ اس ٹھہرے رہے جب انہوں نے دور سے لشکر کو دیکھا تو بایں خیال کہ مبادا کوئی غیر مسلم جماعت ہو یہ پہاڑ کی چوٹی پر اپنی بکریاں لے کر چڑھ گئے جب لشکر آیا اور انہوں نے اللہ اکبر کے نعروں کی آوازیں سنیں تو خود بھی تکبیر پڑھتے ہوئے اتر آئے اور کہنے لگے لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ السلام علیکم مسلمانوں نے خیال کیا کہ اہل فدک تو سب کافر ہیں یہ شخص مغالطہ دینے کے لئے اظہارِ ایمان کرتا ہے بایں خیال اُسامہ بن زید نے ان کو قتل کردیا اور بکریاں لے آئے جب سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور میں حاضر ہوئے تو تمام ماجرا عرض کیا حضور کو نہایت رنج ہوا اور فرمایا تم نے اس کے سامان کے سبب اس کو قتل کردیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسامہ کو حکم دیا کہ مقتول کی بکریاں اس کے اہل کو واپس کریں۔(ف260)کہ تم کو اسلام پر استقامت بخشی اور تمہارا مؤمن ہونا مشہور کیا۔(ف261)تاکہ تمہارے ہاتھ سے کوئی ایمان دار قتل نہ ہو۔
برابر نہیں وہ مسلمان کہ بےعذر جہاد سے بیٹھ رہیں اور وہ کہ راہ خدا میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں (ف۲٦۲) اللہ نے اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کرنے والوں کا درجہ بیٹھنے والوں سے بڑا کیا (ف۲٦۳) اور اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرمایا (ف۲٦٤) اور اللہ نے جہاد والوں کو (۲٦۵) بیٹھنے والوں پر بڑے ثواب سے فضیلت دی ہے،
The Muslims who stay back from holy war without proper excuse, are not equal to the Muslims who fight in Allah's cause with their wealth and lives; Allah has bestowed higher ranks to the warriors who strive with their wealth and lives, than those who stay back; and Allah has promised good to all; and Allah has favoured the warriors upon those who stay back, with a great reward.
वो लगातार दो महीने के रोज़े ये अल्लाह के यहाँ उस की तौबा है और अल्लाह जानने वाला हिकमत वाला है,
Barabar nahin woh musalman ke be uzr jihad se baith rahen aur woh ke raah Khuda mein apne malon aur janoon se jihad karte hain, Allah ne apne malon aur janoon ke saath jihad karne walon ka darja baithnay walon se bara kiya aur Allah ne sab se bhalayi ka wada farmaya aur Allah ne jihad walon ko baithnay walon par bare sawaab se fazilat di hai,
(ف262)اس آیت میں جہاد کی ترغیب ہے کہ بیٹھ رہنے والے اور جہاد کرنے والے برابر نہیں ہیں مجاہدین کے لئے بڑے درجات و ثواب ہیں اور یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جو لوگ بیماری یا پیری و ناطاقتی یا نابینائی یا ہاتھ پاؤں کے ناکارہ ہونے اور عذر کی وجہ سے جہاد میں حاضر نہ ہوں وہ فضیلت سے محروم نہ کئے جائیں گے اگر نیت صالح رکھتے ہوں حدیث بخاری میں ہےسیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ تبوک سے واپسی کے وقت فرمایا کچھ لوگ مدینہ میں رہ گئے ہیں ہم کسی گھاٹی یا آبادی میں نہیں چلتے مگر وہ ہمارے ساتھ ہوتے ہیں انہیں عذر نے روک لیا ہے۔(ف263)جو عذر کی وجہ سے جہاد میں حاضر نہ ہوسکے اگر چہ وہ نیت کا ثواب پائیں گے لیکن جہاد کرنے والوں کو عمل کی فضیلت اس سے زیادہ حاصل ہے۔(ف264)جہاد کرنے والے ہوں یا عذر سے رہ جانے والے۔ (ف265)بغیر عذر کے۔
اس کی طرف سے درجے اور بخشش اور رحمت (ف۲٦٦) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
Ranks (of honour) from Him, and forgiveness, and mercy; and Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
और जो कोई मुसलमान को जानबूझ कर क़त्ल करे तो उस का बदला जहन्नम है कि मुद्दतों उस में रहे और अल्लाह ने उस पर ग़ज़ब किया और उस पर लानत की और उस के लिये तैयार रखा बड़ा अज़ाब,
Us ki taraf se darje aur bakhshish aur rehmat aur Allah bakhshne wala meharbaan hai,
(ف266)حدیث شریف میں ہے اللہ تعالی نے مجاہدین کے لئے جنت میں سو درجے مہیا فرمائے ہر دو درجوں میں اتنا فاصلہ ہے جیسے آسمان اور زمین ۔
وہ لوگ جنکی جان فرشتے نکالتے ہیں اس حال میں کہ وہ اپنے اوپر ظلم کرتے تھے انسے فرشتے کہتے ہیں تم کاہے میں تھے کہتے ہیں کہ ہم زمین میں کمزور تھے (ف۲٦۷) کہتے ہیں کیا اللہ کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اسمیں ہجرت کرتے، تو ایسوں کا ٹھکانا جہنم ہے، اور بہت بری جگہ پلٹنے کی (ف۲٦۸)
The angels ask the people whose souls they remove while they were wronging themselves, “What were you engaged in?” They reply, “We were powerless in the land”; the angels say, “Was Allah’s earth not spacious enough for you to have migrated in it?” The destination for such is hell; and a very wretched place to return.
ऐ ईमान वालो! जब तुम जिहाद को चलो तो तहक़ीक़ कर लो और जो तुम्हें सलाम करे उस से ये न कहो कि तू मुसलमान नहीं तुम जीती दुनिया का असबाब चाहते हो तो अल्लाह के पास बहुतरी ग़नीमतें हैं पहले तुम भी ऐसे ही थे फिर अल्लाह ने तुम पर एहसान किया तो तुम पर तहक़ीक़ करना लाज़िम है बेशक अल्लाह को तुम्हारे कामों की ख़बर है,
Woh log jin ki jaan farishte nikalte hain is haal mein ke woh apne upar zulm karte thay un se farishte kehte hain tum kaahay mein thay kehte hain ke hum zameen mein kamzor thay, kehte hain kya Allah ki zameen kushada na thi ke tum us mein hijrat karte to aisoon ka thikana jahannam hai aur bohot buri jagah palatnay ki,
(ف267)شان نزول : یہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے کلمہِ اسلام تو زبان سے ادا کیا مگر جس زمانہ میں ہجرت فرض تھی اس وقت ہجرت نہ کی اور جب مشرکین جنگ بدر میں مسلمانوں کے مقابلہ کے لئے گئے تو یہ لوگ ان کے ساتھ ہوئے اور کفار کے ساتھ ہی مارے بھی گئے ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ کفار کے ساتھ ہونا اور فرض ہجرت ترک کرنا اپنی جا ن پر ظلم کرنا ہے۔(ف268)مسئلہ : یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ جو شخص کسی شہر میں اپنے دین پر قائم نہ رہ سکتا ہو اور یہ جانے کہ دوسری جگہ جانے سے اپنے فرائضِ دینی ادا کرسکے گا اس پر ہجرت واجب ہوجاتی ہےحدیث میں ہے جو شخص اپنے دین کی حفاظت کے لئے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوا اگرچہ ایک بالشت ہی کیوں نہ ہو اس کے لئے جنت واجب ہوئی اور اس کو حضرت ابراہیم اورسیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رفاقت میسر ہوگی
مگر وہ جو دبالیے گئے مرد اور عورتیں اور بچے جنہیں نہ کوئی تدبیر بن پڑے (ف۲٦۹) نہ راستہ جانیں،
Except those who were forcibly subdued among men, and the women and children, unable to devise a plan and unaware of the way.
बराबर नहीं वो मुसलमान कि बेअज़्र जिहाद से बैठे रहें और वो कि राह ख़ुदा में अपने मालों और जानों से जिहाद करते हैं अल्लाह ने अपने मालों और जानों के साथ जिहाद करने वालों का दर्जा बैठने वालों से बड़ा किया और अल्लाह ने सब से भलाई का वादा फ़रमाया और अल्लाह ने जिहाद वालों को
Magar woh jo daba liye gaye mard aur auratein aur bachay jinhein na koi tadbeer ban paray na rasta janein,
اور جو اللہ کی راہ میں گھر بار چھوڑ کر نکلے گا وہ زمین میں بہت جگہ اور گنجائش پائے گا، اور جو اپنے گھر سے نکلا (ف۲۷۱) اللہ و رسول کی طرف ہجرت کرتا پھر اسے موت نے آلیا تو اس کا ثواب اللہ کے ذمہ پر ہوگیا (ف۲۷۲) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے
Whoever migrates for Allah's cause will find much shelter and abundant capacity in the earth; and whoever leaves his home, migrating towards Allah and His Noble Messenger, and death seizes him, his reward then lies entrusted with Allah; and Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
उस की तरफ़ से दर्जे और बख़्शिश और रहमत और अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है,
Aur jo Allah ki raah mein ghar baar chor kar nikle ga woh zameen mein bohot jagah aur gunjaish paaye ga aur jo apne ghar se nikla Allah o Rasool ki taraf hijrat karta phir use maut ne aa liya to us ka sawaab Allah ke zimma par ho gaya aur Allah bakhshne wala meharbaan hai,
(ف271)شان نزول : اس سے پہلی آیت جب نازل ہوئی تو جُندع بن ضَمرۃُ اللَّیْثِیْ نے اس کو سنا یہ بہت بوڑھے شخص تھے کہنے لگے کہ میں مستثنٰی لوگوں میں تو ہوں نہیں کیونکہ میرے پاس اتنا مال ہے کہ جس سے میں مدینہ طیبہ ہجرت کرکے پہنچ سکتا ہوں ۔ خدا کی قسم مکہ مکرمہ میں اب ایک رات نہ ٹھروں گا مجھے لے چلو چنانچہ ان کو چار پائی پر لے کے چلے مقام تنعیم میں آکر ان کا انتقال ہوگیا۔ آخر وقت انہوں نے اپنا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا اور کہا یارب یہ تیرا اور یہ تیرے رسول کا میں اس پر بیعت کرتا ہوں جس پر تیرے رسول نے بیعت کی یہ خبر پا کر صحابہ کرام نے فرمایا کاش وہ مدینہ پہنچتے توان کا اجر کتنا بڑا ہوتا اور مشرک ہنسے اور کہنے لگے کہ جس مطلب کے لئے نکلے تھے وہ نہ ملااس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔(ف272)اس کے وعدے اور اس کے فضل و کرم سے کیونکہ بطریق استحقاق کوئی چیز اس پر واجب نہیں اس کی شان اس سے عالی ہے مسئلہ: جو کوئی نیکی کا ارادہ کرے اور اس کو پورا کرنے سے عاجز ہوجائے وہ اس طاعت کا ثواب پائے گا مسئلہ: طلبِ علم ، جہاد ، حج ، زیارت،طاعت ، زہد و قناعت اور رزقِ حلال کی طلب کے لئے ترک وطن کرنا خدا اور رسول کی طرف ہجرت ہے اس راہ میں مرجانے والا اجر پائے گا۔
اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر گناہ نہیں کہ بعض نمازیں قصر سے پڑھو (ف۲۷۳) اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں ایذا دیں گے (ف۲۷٤) بیشک کفار تمہارے کھلے دشمن ہیں،
And when you travel in the land, it is no sin for you to curtail some of your obligatory prayers; if you fear that disbelievers may cause you harm; undoubtedly the disbelievers are open enemies to you.
वह लोग जिनकी जान फरिश्ते निकालते हैं इस हाल में कि वह अपने ऊपर ज़ुल्म करते थे उनसे फरिश्ते कहते हैं तुम काहे में थे कहते हैं कि हम ज़मीन में कमज़ोर थे कहते हैं क्या अल्लाह की ज़मीन कुशादा न थी कि तुम इस में हिजरत करते, तो एसों का ठिकाना जहन्नम है, और बहुत बुरी जगह पलटने की
Aur jab tum zameen mein safar karo to tum par gunah nahin ke baaz namazen qasr se parho agar tumhein andesha ho ke kafir tumhein aiza dein ge beshak kuffar tumhare khule dushman hain,
(ف273)یعنی چار رکعت والی دو رکعت (ف274)مسئلہ : خوفِ کفار قصر کے لئے شرط نہیں حدیث: یعلی بن امیہ نے حصرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہم تو امن میں ہیں پھر ہم کیوں قصر کرتے ہیں فرمایا اس کا مجھے بھی تعجب ہوا تھا تو میں نےسیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے لئے یہ اللہ کی طرف سے صدقہ ہے تم اس کا صدقہ قبول کرو اس سے یہ مسئلہ معلوم ہوتا ہے کہ سفر میں چار رکعت والی نماز کو پورا پڑھنا جائز نہیں ہے کیونکہ جو چیزیں قابل تملیک نہیں ہیں ان کا صدقہ اسقاطِ محض ہے رَد کا احتمال نہیں رکھتا۔ آیت کے نزول کے وقت سفر اندیشہ سے خالی نہ ہوتے تھے اس لئے آیت میں اس کا ذکر بیانِ حال ہے شرطِ قصر نہیں حضرت عبداللہ بن عُمَر کی قراء ت بھی دلیل ہے جس میں اَنْ یَّفْتِنَکُمْ بغیر اِنْ خِفْتُمْ کے ہے صحابہ کا بھی یہی عمل تھا کہ امن کے سفروں میں بھی قصر فرماتے جیسا کہ اوپر کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے اور احادیث سے بھی یہ ثابت ہے اور پوری چار پڑھنے میں اللہ تعالی کے صدقہ کا رَد کرنا لازم آتا ہے لہذاقصر ضروری ہے۔ مدت سفر مسئلہ :جس سفر میں قصر کیا جاتا ہے اس کی ادنٰی مدت تین رات دن کی مسافت ہے جو اونٹ یا پیدل کی متوسط رفتار سے طے کی جاتی ہو اور اس کی مقداریں خشکی اور دریا اور پہاڑوں میں مختلف ہوجاتی ہیں جو مسافت متوسط رفتار سے چلنے والے تین روز میں طے کرتے ہوں اور اس کے سفر میں قصر ہوگا مسئلہ: مسافر کی جلدی اور دیر کا اعتبار نہیں خواہ وہ تین روز کی مسافت تین گھنٹہ میں طے کرے جب بھی قصر ہوگا اور اگر ایک روز کی مسافت تین روز سے زیادہ میں طے کرے تو قصر نہ ہوگا غرض اعتبار مسافت کا ہے۔
اور اے محبوب! جب تم ان میں تشریف فرما ہو (ف۲۷۵) پھر نماز میں ان کی امامت کرو (ف۲۷٦) تو چاہئے کہ ان میں ایک جماعت تمہارے ساتھ ہو (ف۲۷۷) اور وہ اپنے ہتھیار لیے رہیں (ف۲۷۸) پھر جب وہ سجدہ کرلیں (ف۲۷۹) تو ہٹ کر تم سے پیچھے ہوجائیں (ف۲۸۰) اور اب دوسری جماعت آئے جو اس وقت تک نماز میں شریک نہ تھی (ف۲۸۱) اب وہ تمہارے مقتدی ہوں اور چاہئے کہ اپنی پناہ اور اپنے ہتھیار لیے رہیں (ف۲۸۲) کافروں کی تمنا ہے کہ کہیں تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے اسباب سے غافل ہو جاؤ تو ایک دفعہ تم پر جھک پڑیں (ف۲۸۳) اور تم پر مضائقہ نہیں اگر تمہیں مینھ کے سبب تکلیف ہو یا بیمار ہو کہ اپنے ہتھیار کھول رکھو اور اپنی پناہ لیے رہو (ف۲۸٤) بیشک اللہ نے کافروں کے لئے خواری کا عذاب تیار کر رکھا ہے،
And when you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) are among them and lead them in prayer, only a group of them should be with you, and they must keep their weapons with them; so when they have performed their prostrations they should move away behind you; and the other group that had not prayed, must come and offer prayers in your leadership, keeping their guard and weapons with them; the disbelievers wish that you neglect your arms and your means so they may overpower you with a single attack; it is no sin for you to lay aside your arms due to rain or if you are sick; and keep your guard; undoubtedly Allah has kept prepared a disgraceful punishment for the disbelievers.
मगर वह जो दबा लिए गए मर्द और औरतें और बच्चे जिन्हे न कोई تدबीर बन पड़े न रास्ता जानें,
Aur ae mehboob! jab tum un mein tashreef farma ho phir namaz mein un ki imaamat karo to chahiye ke un mein ek jamaat tumhare saath ho aur woh apne hathyaar liye rahen phir jab woh sajda kar lain to hat kar tum se peechay ho jaayen aur ab doosri jamaat aaye jo us waqt tak namaz mein shareek na thi ab woh tumhare muqtadi hon aur chahiye ke apni panah aur apne hathyaar liye rahen, kafiron ki tamanna hai ke kahin tum apne hathyaaron aur apne asbaab se ghafil ho jao to ek dafa tum par jhuk paren aur tum par muzaiqa nahin agar tumhein mehn ke sabab takleef ho ya beemar ho ke apne hathyaar khol rakho aur apni panah liye rahو beshak Allah ne kafiron ke liye khwari ka azaab tayyar kar rakha hai,
(ف275)یعنی اپنے اصحاب میں ۔(ف276)اس میں جماعتِ نمازِ خوف کا بیان ہے شان نزول: جہاد میں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مشرکین نے دیکھا کہ آپ نے مع تمام اصحاب کے نماز ظہر بجماعت ادا فرمائی تو انہیں افسوس ہوا کہ انہوں نے اس وقت میں کیوں نہ حملہ کیا اور آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ کیا ہی اچھا موقع تھابعضوں نے ان میں سے کہا اس کے بعد ایک اور نماز ہے جو مسلمانوں کو اپنے ماں باپ سے زیادہ پیاری ہے یعنی نماز عصر جب مسلمان اس نماز کے لئے کھڑے ہوں تو پوری قوت سے حملہ کرکے انہیں قتل کردو اس وقت حضرت جبریل نازل ہوئے اور انہوں نے سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا یارسول اللہ یہ نماز خوف ہے اور اللہ عزوجل فرماتا ہے وَاِذَاکُنْتَ فِیْھِمْ اَلْاٰیَہْ (ف277)یعنی حاضرین کو دو جماعتوں میں تقسیم کردیا جائے ایک ان میں سے آپ کے ساتھ رہے آپ انہیں نماز پڑھائیں اور ایک جماعت دشمن کے مقابلہ میں قائم رہے۔(ف278)یعنی جو لوگ دشمن کے مقابل ہوں اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اگر جماعت کے نمازی مراد ہوں تو وہ لوگ ایسے ہتھیار لگائے رہیں جن سے نماز میں کوئی خلل نہ ہو جیسے تلوار خنجر وغیرہ بعض مفسرین کا قول ہے کہ ہتھیار ساتھ رکھنے کا حکم دونوں فریقوں کے لئے ہے اور یہ احتیاط کے قریب ہے۔(ف279)یعنی دونوں سجدے کرکے رکعت پوری کرلیں۔(ف280)تاکہ دشمن کے مقابلہ میں کھڑے ہوسکیں۔(ف281)اور اب تک دشمن کے مقابل تھی۔(ف282)پناہ سے زِرہ وغیرہ ایسی چیزیں مراد ہیں جن سے دشمن کے حملے سے بچا جاسکے ان کا ساتھ رکھنا بہرحال واجب ہے جیسا کہ قریب ہی ارشاد ہوگا وَخُذُوْا حِذْرَکُمْ اور ہتھیار ساتھ رکھنا مستحب ہے نمازِ خوف کا مختصر طریقہ یہ ہے کہ پہلی جماعت امام کے ساتھ ایک رکعت پوری کرکے دشمن کے مقابل جائے اور دوسری جماعت جو دشمن کے مقابل کھڑی تھی وہ آکر امام کے ساتھ دوسری رکعت پڑھے پھر فقط امام سلام پھیرے اور پہلی جماعت آکر دوسری رکعت بغیر قراء ت کے پڑھے اور سلام پھیر دے اور دشمن کے مقابل چلی جائے پھر دوسری جماعت اپنی جگہ آکر ایک رکعت جوباقی رہی تھی اس کو قراء ت کےساتھ پورا کرکے سلام پھیر ے کیونکہ یہ لوگ مسبوق ہیں اور پہلی لاحق حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسی طرح نماز خوف ادا فرمانا مروی ہے ۔ حضور کے بعد بھی نماز خوف صحابہ پڑھتے رہے ہیں حالت خوف میں دشمن کے مقابل اس اہتمام کے ساتھ نماز ادا کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت کس قدر ضروری ہے مسائل: حالت سفر میں اگرصورتِ خوف پیش آئے تو اس کا یہ بیان ہوا لیکن اگر مقیم کو ایسی حالت پیش آئے تو وہ چار رکعت والی نمازوں میں ہر ہر جماعت کو دو دو رکعت پڑھائے اور تین رکعت والی نماز میں پہلی جماعت کو دو رکعت اور دوسری کو ایک ۔(ف283)شان نزول: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ ذات الرِقاع سے جب فارغ ہوئے اور دشمن کے بہت آدمیوں کو گرفتار کیا اور اموال غنیمت ہاتھ آئے اور کوئی دشمن مقابل باقی نہ رہا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قضائے حاجت کے لئے جنگل میں تنہا تشریف لے گئے تو دشمن کی جماعت میں سے حُوَیرَثۡ بن حارث مُحاربی یہ خبر پا کر تلوار لئے ہوئے چُھپا چُھپا پہاڑ سے اترا اور اچانک حضرت کے پاس پہنچا اور تلوار کھینچ کر کہنے لگا یامحمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اب تمہیں مجھ سے کون بچائے گا حضور نے فرمایا اللہ تعالی اور دعا فرمائی جب ہی اس نے حضور پر تلوار چلانے کا ارادہ کیا اوندھے منھ گر پڑا اور تلوار ہاتھ سے چھوٹ گئی حضور نے وہ تلوار لے کر فرمایا کہ تجھ کو مجھ سے کون بچائے گا کہنے لگا میرا بچانے والا کوئی نہیں ہے۔ فرمایا اَشْھَدُاَنْ لَّآاِلٰہَ اِلَّا اَللّٰہُ وَاَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ پڑھ تو تیری تلوار تجھے دے دوں گا اس نے اس سے انکار کیا اور کہا کہ اس کی شہادت دیتا ہوں کہ میں کبھی آپ سے نہ لڑوں گا اور زندگی بھر آپ کے کسی دشمن کی مدد نہ کروں گا آپ نے اس کی تلوار اس کو دے دی کہنے لگا یا محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ مجھ سے بہت بہتر ہیں فرمایا ہاں ہمارے لئے یہی سزاوار ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ہتھیار اور بچاؤ ساتھ رکھنے کا حکم دیا گیا۔(احمدی)(ف284)کہ اس کا ساتھ رکھنا ہمیشہ ضروری ہے شان نزول: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ عبدالرحمن بن عوف زخمی تھے اور اس وقت ہتھیار رکھنا ان کے لئے بہت تکلیف اور بار تھا ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور حالت عذر میں ہتھیار کھول رکھنے کی اجازت دی گئی۔
پھر جب تم نماز پڑھ چکو تو اللہ کی یاد کرو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹوں پر لیٹے (ف۲۸۵) پھر جب مطمئن ہو جاؤ تو حسب دستور نماز قائم کرو بیشک نماز مسلمانوں پر وقت باندھا ہوا فرض ہے (ف۲۸٦)
So when you have offered your prayers remember Allah while standing, sitting and reclining; and when you feel secure, offer prayers in the usual manner; indeed prayers are a time bound obligatory duty upon the Muslims.
तो क़रीब है अल्लाह एसों को माफ़ फरमाए और अल्लाह माफ़ फ़रमाने वाला बख़्शने वाला है,
Phir jab tum namaz parh chuko to Allah ki yaad karo kharay aur bethay aur karwaton par letay phir jab mutmain ho jao to hasb dastoor namaz qaim karo beshak namaz musalmanon par waqt bandha hua farz hai,
(ف285)یعنی ذکر الہٰی کی ہر حال میں مداومت کرو اور کسی حال میں اللہ کے ذکر سے غافل نہ رہو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا اللہ تعالی نے ہر فرض کی ایک حد مُعَیّن فرمائی سوائے ذِکر کے اس کی کوئی حد نہ رکھی فرمایا ذکر کرو کھڑے بیٹھے کروٹوں پر لیٹے رات میں ہو یا دن میں خشکی میں ہو یا تری میں سفر میں اور حضر میں غناء میں اور فقر میں تندرستی اور بیماری میں پوشیدہ اور ظاہر مسئلہ: اس سے نمازوں کے بعد بغیر فصل کے کلمہ توحید پڑھنے پر استدلال کیا جاسکتا ہے جیسا کہ مشائخ کی عادت ہے اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے مسئلہ: ذکر میں تسبیح، تحمید، تہلیل، تکبیر، ثناء، دعا سب داخل ہیں ۔(ف286)تو لازم ہے کہ اس کے اوقات کی رعایت کی جائے۔
اور کافروں کی تلاش میں سستی نہ کرو اگر تمہیں دکھ پہنچتا ہے تو انہیں بھی دکھ پہنچتا ہے جیسا تمہیں پہنچتا ہے، اور تم اللہ سے وہ امید رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے، اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے (ف۲۸۷)
Do not relax in pursuit of the disbelievers; if you are suffering, they also suffer as you do; and you expect from Allah what they do not; and Allah is All Knowing, Wise.
और जो अल्लाह की राह में घर बार छोड़ कर निकलेगा वह ज़मीन में बहुत जगह और गु़ंजाइश पाएगा, और जो अपने घर से निकला अल्लाह व रसूल की तरफ हिजरत करता फिर उसे मौत ने आ लिया तो उसका सवाब अल्लाह के जिम्मे पर हो गया और अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है
Aur kafiron ki talash mein susti na karo agar tumhein dukh pohanchta hai to unhein bhi dukh pohanchta hai jaisa tumhein pohanchta hai aur tum Allah se woh umeed rakhte ho jo woh nahin rakhte aur Allah jan’ne wala hikmat wala hai,
(ف287)شان نزول احد کی جنگ سے جب ابو سفیان اور ان کے ساتھی واپس ہوئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو صحابۂ اُحد میں حاضر ہوئے تھے اُنہیں مشرکین کے تعاقب میں جانے کا حکم دیا اصحاب زخمی تھے انہوں نے اپنے زخموں کی شکایت کی اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔
اے محبوب! بیشک ہم نے تمہاری طرف سچی کتاب اتاری کہ تم لوگوں میں فیصلہ کرو (ف۲۸۸) جس طرح تمہیں اللہ دکھائے (ف۲۸۹) اور دغا والوں کی طرف سے نہ جھگڑو
We have indeed sent down the true Book towards you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), so that you may judge between men, in the way Allah may show you; and do not plead on behalf of the treacherous.
और जब तुम ज़मीन में सफ़र करो तो तुम पर गुनाह नहीं कि बा'ज़ नमाज़ें क़सर से पढ़ो अगर तुम्हें अंदेशा हो कि काफ़िर तुम्हें एज़ा देंगे बेशक काफ़िर तुम्हारे खुले दुश्मन हैं,
Ae mehboob! beshak hum ne tumhari taraf sachi kitaab utari ke tum logon mein faisla karo jis tarah tumhein Allah dikhaye aur dagha walon ki taraf se na jhagdho,
(ف288)شان نزول: انصار کے قبیلہ بنی ظفر کے ایک شخص طُعۡمَہ بن اُبِیۡرِق نے اپنے ہمسایہ قتادہ بن نعمان کی زِرہ چُرا کر آٹے کی بوری میں زید بن سمین یہودی کے یہاں چھپائی جب زرہ کی تلاش ہوئی اور طمعہ پر شُبہ کیا گیا تو وہ انکار کرگیا اور قسم کھا گیا بوری پھٹی ہوئی تھی اور آٹا اس میں سے گرتا جاتا تھا اس کے نشان سے لوگ یہودی کے مکان تک پہنچے اور بوری وہاں پائی گئی یہودی نے کہا کہ طعمہ اس کے پاس رکھ گیا ہے اور یہود کی ایک جماعت نے اس کی گواہی دی اور طعمہ کی قوم بنی ظفر نے یہ عزم کرلیا کہ یہودی کو چور بتائیں گے اور اس پر قسم کھالیں گے تاکہ قوم رسوانہ ہو اور ان کی خواہش تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طعمہ کو بری کردیں اور یہودی کو سزا دیں اسی لئے انہوں نے حضور کے سامنے طعمہ کے موافق اور یہودی کے خلاف جھوٹی گواہی دی اور اس گواہی پر کوئی جَرح وقدح نہ ہوئی( اس واقعہ کے متعلق یہ نازل ہوئی اس واقعہ کے متعلق متعدد روایات آئی ہیں اور ان میں باہم اختلافات بھی ہیں)(ف289)اور علم عطا فرمائے علمِ یقینی کو قوتِ ظہور کی وجہ سے رویت سے تعبیر فرمایا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہر گز کوئی نہ کہے کہ جو اللہ نے مجھے دکھایا اس پر میں نے فیصلہ کیا کیونکہ اللہ تعالی نے یہ منصب خاص اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا فرمایا آپ کی رائے ہمیشہ صَواب ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالی نے حقائق و حوادث آپ کے پیش نظر کردیئے ہیں اور دوسرے لوگوں کی رائے ظن کا مرتبہ رکھتی ہے
اور اللہ سے معافی چاہو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
And seek forgiveness from Allah; indeed Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
और ऐ महबूब! जब तुम उनमें तशरीफ़ फ़रमा हो फिर नमाज़ में उनकी इमामत करो तो चाहिए कि उनमें एक जमाअत तुम्हारे साथ हो और वह अपने हथियार लिए रहें फिर जब वह सज्दा कर लें तो हट कर तुमसे पीछे हो जाएँ और अब दूसरी जमाअत आए जो उस वक़्त तक नमाज़ में शरीक न थी अब वह तुम्हारे मुक़्तदी हों और चाहिए कि अपनी पनाह और अपने हथियार लिए रहें काफ़िरों की तमन्ना है कि कहीं तुम अपने हथियारों और अपने अस्बाब से ग़ाफ़िल हो जाओ तो एक दफ़ा तुम पर झुक पड़ें और तुम पर मुअज़ाइका नहीं अगर तुम्हें मेंह के सबब तकलीफ़ हो या बीमार हो कि अपने हथियार खोल रखो और अपनी पनाह लिए रहो बेशक अल्लाह ने काफ़िरों के लिए ख़्वारी का अज़ाब तैयार कर रखा है,
Aur Allah se maafi chaho beshak Allah bakhshne wala meharbaan hai,
اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں (ف۲۹۰) بیشک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو
And do not plead on behalf of those who deceive themselves; indeed Allah does not like any treacherous, excessive sinner.
फिर जब तुम नमाज़ पढ़ चुकों तो अल्लाह की याद करो खड़े और बैठे और करवटों पर लेटे फिर जब मुतमइन्न हो जाओ तो हसब दस्तूर नमाज़ क़ायम करो बेशक नमाज़ मुसलमानों पर वक़्त बाँधा हुआ फ़र्ज़ है
Aur un ki طرف se na jhagdho jo apni janoon ko khayanat mein dalte hain beshak Allah nahin chahta kisi bare daghabaz gunahgar ko,
آدمیوں سے چھپتے ہیں اور اللہ نہیں چھپتے (ف۲۹۱) اور اللہ ان کے پاس ہے (ف۲۹۲) جب دل میں وہ بات تجویز کرتے ہیں جو اللہ کو ناپسند ہے (ف۲۹۳) اور اللہ ان کے کاموں کو گھیرے ہوئے ہے،
They hide from men and do not hide from Allah, whereas Allah is with them when they plan in their hearts that which displeases Him; and Allah has their deeds encompassed.
और काफ़िरों की तलाश में सुस्ती न करो अगर तुम्हें दुख पहुँचता है तो उन्हें भी दुख पहुँचता है जैसा तुम्हें पहुँचता है, और तुम अल्लाह से वह उम्मीद रखते हो जो वह नहीं रखते, और अल्लाह जानने वाला हिकमत वाला है
Aadmi se chupte hain aur Allah se nahin chhupte aur Allah un ke paas hai jab dil mein woh baat tajweez karte hain jo Allah ko na-pasand hai aur Allah un ke kaamon ko ghere hue hai,
(ف291)حیا نہیں کرتے۔(ف292)ان کا حال جانتا ہے اس پر ان کا کوئی راز چھپ نہیں سکتا۔(ف293) جیسے طُعْمَہ کی طرف داری میں جھوٹی قسم اور جھوٹی شہادت۔
سنتے ہو یہ جو تم ہو (ف۲۹٤) دنیا کی زندگی میں تو ان کی طرف سے جھگڑے تو ان کی طرف سے کون جھگڑے گا اللہ سے قیامت کے دن یا کون ان کا وکیل ہوگا،
Pay heed! It is you people who argued on their behalf in the life of this world; so who will fight on their behalf with Allah on the Day of Resurrection, or who will be their pleader?
ऐ महबूब! बेशक हमने तुम्हारी तरफ़ सच्ची किताब उतारी कि तुम लोगों में फ़ैसला करो जिस तरह तुम्हें अल्लाह दिखाए और दग़ा वालों की तरफ़ से न झगड़ो
Sun’te ho ye jo tum ho duniya ki zindagi mein to un ki طرف se jhagde to un ki طرف se kaun jhagde ga Allah se qayamat ke din ya kaun un ka wakeel hoga,
اور جو کوئی خطا یا گناہ کمائے (ف۲۹٦) پھر اسے کسی بےگناہ پر تھوپ دے اس نے ضرور بہتان اور کھلا گناہ اٹھایا
And whoever commits a mistake or a sin, then blames it on someone innocent has indeed burdened himself with infamy and a manifest crime.
आदमियों से छुपते हैं और अल्लाह से नहीं छुपते और अल्लाह उनके पास है जब दिल में वह बात तजवीज़ करते हैं जो अल्लाह को नापसंद है और अल्लाह उनके कामों को घेरे हुए है,
Aur jo koi khata ya gunah kamay phir use kisi begunah par thop de us ne zaroor bohtan aur khula gunah uthaya,
اور اے محبوب! اگر اللہ کا فضل و رحمت تم پر نہ ہوتا (ف۲۹۷) تو ان میں کے کچھ لوگ یہ چاہتے کہ تمہیں دھوکا دے دیں اور وہ اپنے ہی آپ کو بہکا رہے ہیں (ف۲۹۸) اور تمہارا کچھ نہ بگاڑیں گے (ف۲۹۹) اور اللہ نے تم پر کتاب (ف۳۰۰) اور حکمت اتاری اور تمہیں سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے (ف۳۰۱) اور اللہ کا تم پر بڑا فضل ہے (ف۳۰۲)
And O dear Prophet, were it not for Allah’s munificence and His mercy upon you, a group among them would have wished to deceive you; and they only mislead themselves and will not harm you at all; and Allah has sent down upon you the Book and wisdom, and taught you all what you did not know*; and upon you is Allah’s great munificence. (Allah gave the knowledge of the hidden to the Holy Prophet – peace and blessings be upon him.)
सुनते हो यह जो तुम हो दुनिया की ज़िन्दगी में तो उनकी तरफ़ से झगड़े तो उनकी तरफ़ से कौन झगड़ेगा अल्लाह से क़यामत के दिन या कौन उनका वकील होगा,
Aur ae mehboob! agar Allah ka fazl o rehmat tum par na hota to un mein ke kuch log ye chahtay ke tumhein dhoka de dein aur woh apne hi aap ko behka rahe hain aur tumhara kuch na bigaarain ge aur Allah ne tum par kitaab aur hikmat utari aur tumhein sikha diya jo kuch tum na jaante thay aur Allah ka tum par bara fazl hai,
(ف297)تمہیں نبی و معصوم کرکے اور رازوں پر مُطلع فرما کے۔(ف298)کیوں کہ اس کا وبال انہیں پر ہے۔(ف299)کیونکہ اللہ نے آپ کو ہمیشہ کے لئے معصوم کیا ہے۔(ف300)یعنی قرآن کریم ۔(ف301)امورِ دین و احکامِ شرع و علومِ غیب مسئلہ: اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام کائنات کے علوم عطا فرمائے اور کتاب و حکمت کے اَسرارو حقائق پر مطلع کیا یہ مسئلہ قرآن کریم کی بہت آیات اور احادیث کثیرہ سے ثابت ہے۔(ف302)کہ تمہیں ان نعمتوں کے ساتھ ممتاز کیا۔
ان کے اکثر مشوروں میں کچھ بھلائی نہیں (ف۳۰۳) مگر جو حکم دے خیرات یا اچھی بات یا لوگوں میں صلح کرنے کا اور جو اللہ کی رضا چاہنے کو ایسا کرے اسے عنقریب ہم بڑا ثواب دیں گے،
Most of their discussions do not contain any good, except of the one who enjoins charity or goodness or peace-making among people; whoever does that to seek the pleasure of Allah – We shall soon give him a great reward.
और जो कोई बुराई या अपनी जान पर ज़ुल्म करे फिर अल्लाह से बख़्शिश चाहे तो अल्लाह को बख़्शने वाला मेहरबान पाएगा,
Un ke aksar mashwaron mein kuch bhalayi nahin magar jo hukum de khairat ya achhi baat ya logon mein sulah karne ka aur jo Allah ki raza chaahnay ko aisa kare use qareeb hai hum bara sawaab dein ge,
اور جو رسول کا خلاف کرے بعد اس کے کہ حق راستہ اس پر کھل چکا اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ چلے ہم اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی (ف۳۰٤)
And whoever opposes the Noble Messenger after the right path has been made clear to him, and follows a way other than that of the Muslims, We shall leave him as he is, and put him in hell; and what a wretched place to return!
और जो गुनाह कमाए तो उसकी कमाई उसी की जान पर पड़े और अल्लाह इल्म व हिकमत वाला है
Aur jo Rasool ka khilaf kare baad is ke ke haq rasta us par khul chuka aur musalmanon ki raah se juda raah chale hum use us ke haal par chor dein ge aur use dozakh mein daakhil karen ge aur kya hi buri jagah palatne ki.
(ف304)یہ آیت دلیل ہے اس کی کہ اِجماع حُجت ہے اس کی مخالفت جائز نہیں جیسے کہ کتاب و سنت کی مخالفت جائز نہیں ( مدارک) اور اس سے ثابت ہوا کہ طریقِ مسلمین ہی صراطِ مستقیم ہے حدیث شریف میں وارد ہوا کہ جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ سواد اعظم یعنی بڑی جماعت کا اتباع کرو جو جماعتِ مسلمین سے جدا ہوا وہ دوزخی ہے اس سے واضح ہے کہ حق مذہب اہل سنت و جماعت ہے ۔
اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کا کوئی شریک ٹھہرایا جائے اور اس سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے (ف۳۰۵) اور جو اللہ کا شریک ٹھہرائے وہ دور کی گمراہی میں پڑا،
Allah does not forgive (the greatest sin) that partners be ascribed with Him – and He forgives all that is below (lesser sins) it, to whomever He wills; and whoever ascribes partners with Allah has indeed wandered far astray.
और जो कोई ख़ता या गुनाह कमाए फिर उसे किसी बेगुनाह पर थोپ दे उसने ज़रूर बहुतान और खुला गुनाह उठाया,
Allah use nahi bakhshta ke us ka koi shareek thehraya jaye aur us se neeche jo kuch hai jise chahe maaf farma deta hai aur jo Allah ka shareek thehraye woh door ki gumraahi mein pada,
(ف305)شان نزول :حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ یہ آیت ایک کہن سال اعرابی کے حق میں نازل ہوئی جس نے سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا نبیَ اللہ میں بوڑھا ہوں گناہوں میں غرق ہوں بجز اس کے کہ جب سے میں نے اللہ کو پہچانا اور اس پر ایمان لایا اس وقت سے کبھی میں نے اس کے ساتھ شرک نہ کیا اور اس کے سوا کسی اور کو ولی نہ بنایا اور جرأ ت کے ساتھ گناہوں میں مبتلانہ ہوا اور ایک پَل بھی میں نے یہ گمان نہ کیا کہ میں اللہ سے بھاگ سکتا ہوں شرمند ہوں ، تائب ہوں، مغفرت چاہتا ہوں اللہ کے یہاں میرا کیا حال ہوگا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ یہ آیت نصِ صَریح ہے اس پر کہ شرک بخشا نہ جائے گا اگر مشرک اپنے شرک پر مرے کیونکہ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ مشرک جو اپنے شرک سے توبہ کرے اور ایمان لائے تو اس کی توبہ و ایمان مقبول ہے۔
یہ شرک والے اللہ سوا نہیں پوجتے مگر کچھ عورتوں کو (ف۳۰٦) اور نہیں پوجتے مگر سرکش شیطان کو (ف۳۰۷)
The polytheists do not worship Allah, except some females; and they do not worship anyone except the rebellious Satan.
और ऐ महबूब! अगर अल्लाह का फ़ज़्ल व रहमत तुम पर न होता तो उनमें के कुछ लोग यह चाहते कि तुम्हें धोखा दे दें और वह अपने ही आप को बहका रहे हैं और तुम्हारा कुछ न बिगाड़ेंगे और अल्लाह ने तुम पर किताब और हिकमत उतारी और तुम्हें सिखा दिया जो कुछ तुम न जानते थे और अल्लाह का तुम पर बड़ा फ़ज़्ल है
Ye shirk walay Allah siwa nahi poojte magar kuch aurton ko aur nahi poojte magar sarkash shaitaan ko
(ف306)یعنی مؤنث بتوں کو جیسے لات، عُزّٰی، مَنات وغیرہ یہ سب مؤنث اور عرب کے ہر قبیلے کا بت تھا جس کی وہ عبادت کرتے تھے اور اس کو اس قبیلہ کی اُنثٰی (عورت) کہتے تھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی قراءت اِلَّا اَوْثَاناً اور حضرت ابن عباس کی قراء ت میں اِلَّآ اُثناً آیا ہے اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اِناث سے مراد بُت ہیں ایک قول یہ بھی ہے کہ مشرکین عرب اپنے باطل معبودوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ مشرکین بتوں کو زیور وغیرہ پہنا کر عورتوں کی طرح سجاتے تھے۔(ف307)کیونکہ اسی کے اِغواء سے بت پرستی کرتے ہیں۔
جس پر اللہ نے لعنت کی اور بولا (ف۳۰۸) قسم ہے میں ضرور تیرے بندوں میں سے کچھ ٹھہرایا ہوا حصہ لوں گا (ف۳۰۹)
The one whom Allah has cursed; and the devil said, “I swear, I will certainly take an appointed portion of Your bondmen,” –
उनके अक़्सर मश्वरों में कुछ भलाई नहीं मगर जो हुक्म दे ख़ैरात या अछ्छी बात या लोगों में सुलह करने का और जो अल्लाह की रज़ा चाहने को ऐसा करे उसे अनक़रीब हम बड़ा सवाब देंगे,
Jis par Allah ne laanat ki aur bola qasam hai main zaroor tere bando’n mein se kuch thehraya hua hissa loonga
قسم ہے میں ضرور بہکادوں گا اور ضرور انہیں آرزوئیں دلاؤں گا (ف۳۱۰) اور ضرور انہیں کہوں گا کہ وہ چوپایوں کے کان چیریں گے (ف۳۱۱) اور ضرور انہیں کہوں گا کہ وہ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزیں بدل دیں گے، اور جو اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنائے وہ صریح ٹوٹے میں پڑا
“And I will surely lead them astray, and I will certainly arouse desires in them, and I will definitely order them so they will pierce animals’ ears, and I will definitely order them so they will alter Allah’s creation”; and whoever chooses the devil for a friend instead of Allah, has indeed suffered a manifest loss.
और जो रसूल का ख़िलाफ़ करे बाद इसके कि हक़ रास्ता उस पर खुल चुका और मुसलमानों की राह से जुदा राह चले हम उसे उसके हाल पर छोड़ देंगे और उसे दोज़ख़ में दाख़िल करेंगे और क्या ही बुरी जगह पलटने की
Qasam hai main zaroor behka doonga aur zaroor unhein aarzooin dilaaoonga aur zaroor unhein kahoonga ke woh chopaayon ke kaan cheerain ge aur zaroor unhein kahoonga ke woh Allah ki paida ki hui cheezein badal dein ge, aur jo Allah ko chhod kar shaitaan ko dost banaye woh sareeh toote mein pada
(ف310)طرح طرح کی کبھی عمرِ طویل کی کبھی لذّاتِ دنیا کی کبھی خواہشاتِ باطلہ کی کبھی اور کبھی اور ۔(ف311)چنانچہ انہوں نے ایسا کیا کہ اونٹنی جب پانچ مرتبہ بیاہ لیتی تو وہ اس کو چھوڑ دیتے اور اس سے نفع اٹھانا اپنے اوپر حرام کرلیتے اور اس کا دودھ بتوں کے لئے کرلیتے اور اس کو بَحِیۡرہ کہتے تھے شیطان نے اُن کے دِل میں یہ ڈال دیا تھا کہ ایسا کرنا عبادت ہے۔(ف312)مَردوں کا عورتوں کی شکل میں زنانہ لباس پہننا عورتوں کی طرح بات چیت اور حَرَ کات کرنا جسم کو گُود کر سرمہ یا سَیندور وغیرہ جلد میں پیوست کرکے نقش و نگار بنانا بالوں میں بال جوڑ کر بڑی بڑی جٹیں بنانا بھی اس میں داخل ہے۔
شیطان انہیں وعدے دیتا ہے اور آرزوئیں دلاتا ہے (ف۳۱۳) اور شیطان انہیں وعدے نہیں دیتا مگر فریب کے (ف۳۱٤)
The devil promises them and arouses desires in them; and the devil does not give them promises except of deceit.
अल्लाह उसे नहीं बख़्शता कि उसका कोई शरीक ठहराया जाए और उस से नीचे जो कुछ है जिसे चाहे माफ़ फ़रमा देता है और जो अल्लाह का शरीक ठहराए वह दूर की गुमराही में पड़ा,
Shaitaan unhein waday deta hai aur aarzooin dilaata hai aur shaitaan unhein waday nahi deta magar fareb ke
(ف313)اور دل میں طرح طرح کی اُمیدیں اور وسوسے ڈالتا ہے تاکہ انسان گمراہی میں پڑے۔(ف314)کہ جس چیز کے نفع اور فائدہ کی توقع دلاتا ہے درحقیقت اس میں سخت ضرر اور نقصان ہوتا ہے۔
اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے کچھ دیر جاتی ہے کہ ہم انہیں باغوں میں لے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں اللہ کا سچا وعدہ اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی،
And those who believed and did good deeds – We shall soon admit them into Gardens beneath which rivers flow, abiding in them for ever and ever; a true promise from Allah; and whose Words are more true than those of Allah? (Allah does not lie.)
जिस पर अल्लाह ने लानत की और बोला क़सम है मैं ज़रूर तेरे बंदों में से कुछ ठहराया हुआ हिस्सा लूँगा
Aur jo imaan laaye aur achay kaam kiye kuch der jaati hai ke hum unhein baaghon mein le jaayenge jin ke neeche nahrein behen hamesha hamesha un mein rahen Allah ka sacha wada aur Allah se zyada kis ki baat sachi,
کام نہ کچھ تمہارے خیالوں پر ہے (ف۳۱۵) اور نہ کتاب والوں کی ہوس پر (ف۳۱٦) جو برائی کرے گا (ف۳۱۷) اس کا بدلہ پائے گا اور اللہ کے سوا نہ کوئی اپنا حمایتی پائے گا نہ مددگار (ف۳۱۸)
The affair does not rest on your thoughts, nor the cravings of the People given the Book(s); whoever does wrong will get the recompense of it – and will not find, other than Allah, any friend or any supporter.
क़सम है मैं ज़रूर बहका दूँगा और ज़रूर उन्हें आरज़ूएँ दिलाऊँगा और ज़रूर उन्हें कहूँगा कि वह चौपायों के कान चीरेंगे और ज़रूर उन्हें कहूँगा कि वह अल्लाह की पैदा की हुई चीज़ें बदल देंगे, और जो अल्लाह को छोड़कर शैतान को दोस्त बनाए वह सरीह टूटे में पड़ा
Kaam na kuch tumhare khayaalo’n par hai aur na kitaab walon ki hawas par jo burai karega us ka badla paayega aur Allah ke siwa na koi apna himayati paayega na madadgar
(ف315)جو تم نے سوچ رکھا ہے کہ بت تمہیں نفع پہنچائیں گے۔(ف316)جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں ہمیں آگ چند روز سے زیادہ نہ جلائے گی یہود و نصارٰی کا یہ خیال بھی مشرکین کی طرح باطل ہے۔(ف317)خواہ مشرکین میں سے ہو یا یہود نصاری میں سے ۔(ف318)یہ وعید کفار کے لئے ہے ۔
اور جو کچھ بھلے کام کرے گا مرد ہو یا عورت اور ہو مسلمان (ف۳۱۹) تو وہ جنت میں داخل کیے جائیں گے اور انہیں تِل بھر نقصان نہ دیا جائے گا
And whoever does some good deeds, be it a man or woman, and is a Muslim, will be admitted to Paradise and they will not be wronged even to the extent of one sesame.
शैतान उन्हें वादे देता है और आरज़ूएँ दिलाता है और शैतान उन्हें वादे नहीं देता मगर फ़रेब के
Aur jo kuch bhale kaam karega mard ho ya aurat aur ho musalmaan to woh jannat mein daakhil kiye jaayenge aur unhein til bhar nuqsaan na diya jaayega
(ف319)مسئلہ: اس میں اشارہ ہے کہ اعمال داخلِ ایمان نہیں۔
اور اس سے بہتر کس کا دین جس نے اپنا منہ اللہ کے لئے جھکا دیا (ف۳۲۰) اور وہ نیکی والا ہے اور ابراہیم کے دین پر (ف۳۲۱) جو ہر باطل سے جدا تھا اور اللہ نے ابراہیم کو اپنا گہرا دوست بنایا (ف۳۲۲)
And whose religion is better than one who submits his self to Allah and is virtuous and follows the religion of Ibrahim, who was far removed from all falsehood? And Allah made Ibrahim His close friend.
उनका ठिकाना दोज़ख़ है उस से बचने की जगह न पाएँगे,
Aur us se behtar kis ka deen jis ne apna munh Allah ke liye jhuka diya aur woh neki wala hai aur Ibraheem ke deen par jo har baatil se juda tha aur Allah ne Ibraheem ko apna gehra dost banaya
(ف320)یعنی اطاعت و اخلاص اختیار کیا۔(ف321)جو ملت اسلام کے موافق ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت و ملت سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملت میں داخل ہے اور خصوصیات دین محمدی کے اس کے علاوہ ہیں دین محمدی کا اتباع کرنے سے شرع و ملت ابراہیم علیہ السلام کا اتباع حاصل ہوتا ہے چونکہ عرب اور یہود و نصارٰی سب حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ السلام سے اِنتساب پر فخر کرتے تھے اور آپ کی شریعت ان سب کو مقبول تھی اور شرع محمدی اس پر حاوی ہے تو ان سب کو دین محمدی میں داخل ہونا اور اس کو قبول کرنا لازم ہے۔(ف322)خُلَّت صفائے مَوَدّت اور غیر سے اِنقطاع کو کہتے ہیں حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃوالتسلیمات یہ اوصاف رکھتے تھے اس لئے آپ کو خلیل کہا گیا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ خلیل اس مُحِبّ کو کہتے ہیں جس کی محبت کاملہ ہو اور اس میں کسی قسم کا خَلل اور نقصان نہ ہو یہ معنٰی بھی حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیمات میں پائے جاتے ہیں تمام انبیاء کے جو کمالات ہیں سب سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہیں حضور اللہ کے خلیل بھی ہیں جیسا کہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے اور حبیب بھی جیسا کہ ترمذی شریف کی حدیث میں ہے کہ میں اللہ کا حبیب ہوں اور یہ فخراً نہیں کہتا ۔
اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں، اور ہر چیز پر اللہ کا قابو ہے (ف۳۲۳)
And to Allah only belongs all whatever is in the heavens and all whatever is in the earth; and Allah has control over all things.
और जो ईमान लाए और अच्छे काम किए कुछ देर जाती है कि हम उन्हें बाग़ों में ले जाएँगे जिन के नीचे नहरें बहें हमेशा हमेशा उन में रहें अल्लाह का सच्चा वादा और अल्लाह से ज़्यादा किस की बात सच्ची,
Aur Allah hi ka hai jo kuch aasmaano’n mein hai aur jo kuch zameen mein, aur har cheez par Allah ka qaboo hai
(ف323) اور وہ اس کے احاطہِ علم وقدرت میں ہے احاطہ بالعلم یہ ہے کہ کسی شے کے لئے جتنے وجوہ ہوسکتے ہیں ان میں سے کوئی وجہ علم سے خارج نہ ہو ۔
اور تم سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں (ف۳۲٤) تم فرمادو کہ اللہ تمہیں ان کا فتویٰ دیتا ہے اور وہ جو تم پر قرآن میں پڑھا جاتا ہے ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں تم انہیں نہیں دیتے جو ان کا مقرر ہے (ف۳۲۵) اور انہیں نکاح میں بھی لانے سے منہ پھیرتے ہو اور کمزور (ف۳۲٦) بچوں کے بارے میں اور یہ کہ یتیموں کے حق میں انصاف پر قائم رہو (ف۳۲۷) اور تم جو بھلائی کرو تو اللہ کو اس کی خبر ہے،
And they ask you the decree concerning women; say, “Allah gives you a decree concerning them – and what is recited to you from the Qur’an concerning orphan girls, that you are not giving them which is ordained for them, and you are avoiding marrying them – and concerning the weak children, and that you must firmly establish justice in dealing with the orphans’ rights; and whatever good deeds you do, then Allah is Well Aware of it.”
काम न कुछ तुम्हारे ख़यालों पर है और न किताब वालों की हवस पर जो बुराई करेगा उसका बदला पाएगा और अल्लाह के सिवा न कोई अपना हिमायती पाएगा न मददगार
Aur tum se aurton ke baare mein fatwa poochte hain tum farma do ke Allah tumhein un ka fatwa deta hai aur woh jo tum par Qur’an mein parha jaata hai un yateem ladkiyon ke baare mein tum unhein nahi dete jo un ka muqarrar hai aur unhein nikah mein bhi laane se munh pherte ho aur kamzor bachon ke baare mein aur yeh ke yateemo’n ke haq mein insaaf par qaim raho aur tum jo bhalai karo to Allah ko us ki khabar hai,
(ف324)شان نزول: زمانہء جاہلیت میں عرب کے لوگ عورت اور چھوٹے بچوں کو میت کے مال کا وارث نہیں قرار دیتے تھے۔ جب آیت میراث نازل ہوئی تو انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ کیا عورت اور چھوٹے بچے وارث ہوں گے ، آپ نے ان کو اس آیت سے جواب دیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ یتیموں کے اولیاء کا دستور یہ تھا کہ اگر یتیم لڑکی صاحب مال و جمال ہوتی تو اس سے تھوڑے مہر پر نکاح کرلیتے اور اگر حسن و مال نہ رکھتی تو اسے چھوڑ دیتے اور اگرحسنِ صورت نہ رکھتی اور ہوتی مالدار تو اس سے نکاح نہ کرتے اور اس اندیشہ سے دوسرے کے نکاح میں بھی نہ دیتے کہ وہ مال میں حصہ دار ہوجائے گا اللہ تعالی نے یہ آیتیں نازل فرما کر انہیں ان عادتوں سے منع فرمایا ۔(ف325)میراث سے۔(ف326)یتیم ۔(ف327)ان کے پورے حقوق ان کو دو ۔
اور اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی زیادتی یا بےرغبتی کا اندیشہ کرے (ف۳۲۸) تو ان پر گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کرلیں (ف۳۲۹) اور صلح خوب ہے (ف۳۳۰) اور دل لالچ کے پھندے میں ہیں (ف۳۳۱) اور اگر تم نیکی اور پرہیزگاری کرو (ف۳۳۲) تو اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے (ف۳۳۳)
And if a woman fears ill treatment from her husband or disinterest, so it is no sin for them if they reach an agreement of peace between themselves; and peace is better; and the heart is trapped in greed; and if you do good and practice piety, then Allah is Well Aware of it.
और जो कुछ भले काम करेगा मर्द हो या औरत और हो मुसलमान तो वह जन्नत में दाख़िल किए जाएँगे और उन्हें तिल भर नुक़सान न दिया जाएगा
Aur agar koi aurat apne shohar ki ziadti ya be-raghbati ka andesha kare to un par gunah nahi ke aapas mein sulah kar lein aur sulah khoob hai aur dil laalach ke phande mein hain aur agar tum neki aur parhezgaari karo to Allah ko tumhare kaamon ki khabar hai
(ف328)زیادتی تو اس طرح کہ اس سے علیٰحدہ رہے کھانے پہننے کو نہ دے یا کمی کرے یا مارے یا بدزبانی کرے اور اعراض یہ کہ محبت نہ رکھے بول چال ترک کردے یا کم کردے ۔(ف329)اور اس صلح کے لئے اپنے حقوق کا بار کم کرنے پر راضی ہوجائیں ۔(ف330)اور زیادتی اور جدائی دونوں سے بہتر ہے ۔(ف331)ہر ایک کو اپنی راحت و آسائش چاہتا اور اپنے اوپر کچھ مشقت گوارا کرکے دوسرے کی آسائش کو ترجیح نہیں دیتا۔(ف332)اور باوجود نامرغوب ہونے کے اپنی موجودہ عورتوں پر صبر کرو اور برعایت حق صحبت ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو اور انہیں ایذا و رنج دینے سے اور جھگڑا پیدا کرنے والی باتوں سے بچتے رہو اور صحبت و مُعاشرت میں نیک سلوک کرو اور یہ جانتے رہو کہ وہ تمہارے پاس امانتیں ہیں ۔(ف333)وہ تمہیں تمہارے اعمال کی جزا دے گا ۔
اور تم سے ہرگز نہ ہوسکے گا کہ عورتوں کو برابر رکھو اور چاہے کتنی ہی حرص کرو (ف۳۳٤) تو یہ تو نہ ہو کہ ایک طرف پورا جھک جاؤ کہ دوسری کو ادھر میں لٹکتی چھوڑ دو (ف۳۳۵) اور اگر تم نیکی اور پرہیزگاری کرو تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
And you will never be able to deal equally between women however much you may desire – therefore do not be totally inclined towards one leaving the other in uncertainty; and if you do good and practice piety, then (know that) Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
और उस से बेहतर किस का दीन जिस ने अपना मुँह अल्लाह के लिए झुका दिया और वह नेक़ी वाला है और इब्राहीम के दीन पर जो हर बातिल से जुदा था और अल्लाह ने इब्राहीम को अपना गहरा दोस्त बनाया
Aur tum se hargiz na ho sakega ke aurton ko barabar rakho aur chahe kitni hi hirs karo to yeh to na ho ke ek taraf poora jhuk jao ke doosri ko idhar mein latakti chhod do aur agar tum neki aur parhezgaari karo to beshak Allah bakshne wala meherbaan hai,
(ف334)یعنی اگر کئی بیبیاں ہوں تویہ تمہاری مقدرت میں نہیں کہ ہر امر میں تم انہیں برابر رکھو اور کسی امر میں کسی کو کسی پر ترجیح نہ ہونے دو نہ میل و محبت میں نہ خواہش ور غبت میں نہ عشرت واختلاط میں نہ نظر وتوجہ میں تم کوشش کرکے یہ تو کر نہیں سکتے لیکن اگر اتنا تمہارے مقدور میں نہیں ہے اور اس وجہ سے ان تمام پابندیوں کا بار تم پر نہیں رکھا گیا اور محبت قلبی اور میل طبعی جو تمہارا اختیار ی نہیں ہے اس میں برابری کرنے کا تمہیں حکم نہیں دیا گیا ۔(ف335)بلکہ یہ ضرور ہے کہ جہاں تک تمہیں قدرت و اختیار ہے وہاں تک یکساں برتاؤ کرو محبت اختیار ی شے نہیں تو بات چیت حسن و اخلاق کھانے پہننے پاس رکھنے اور ایسے امور میں برابری کرنا اختیار ی ہے ان امور میں دونوں کے ساتھ یکسا ں سلوک کرنا لازم و ضروری ہے ۔
اور اگر وہ دونوں (ف۳۳٦) جدا ہوجائیں تو اللہ اپنی کشائش سے تم میں ہر ایک کو دوسرے سے بےنیاز کردے گا (ف۳۳۷) اور اللہ کشائش والا حکمت والا ہے،
And if the two separate, Allah will make each one independent of the other, with His Capability; and Allah is Most Capable, Wise.
और अल्लाह ही का है जो कुछ आसमानों में है और जो कुछ ज़मीन में, और हर चीज़ पर अल्लाह का क़ाबू है
Aur agar woh dono’n juda ho jaayen to Allah apni kashish se tum mein har ek ko doosre se be-niyaaz kar dega aur Allah kashish wala hikmat wala hai,
(ف336)زن و شو با ہم صلح نہ کریں اور وہ جدائی ہی بہتر سمجھیں اور خلع کے ساتھ تفریق ہوجائے یا مرد عورت کو طلاق دے کر اس کا مہر اورعدت کا نفقہ ادا کردے اور اس طرح وہ (ف337)اور ہر ایک کو بہتر بدل عطا فرمائے گا ۔
اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں، اور بیشک تاکید فرمادی ہے ہم نے ان سے جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے اور تم کو کہ اللہ سے ڈرتے رہو (ف۳۳۸) اور اگر کفر کرو تو بیشک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں (ف۳۳۹) اور اللہ بےنیاز ہے (ف۳٤۰) سب خوبیوں سراہا،
And to Allah only belongs all whatever is in the heavens and all whatever is in the earth; and indeed We have commanded those who received the Books before you, and commanded you, that keep fearing Allah; and if you disbelieve, undoubtedly to Allah only belongs all whatever is in the heavens and all whatever is in the earth; and Allah is Independent, Worthy Of All Praise.
और तुम से औरतों के बारे में फ़तवा पूछते हैं तुम फ़रमा दो कि अल्लाह तुम्हें उन का फ़तवा देता है और वह जो तुम पर क़ुरआन में पढ़ा जाता है उन यतीम लड़कियों के बारे में तुम उन्हें नहीं देते जो उन का मुक़र्रर है और उन्हें निकाह में भी लाने से मुँह फेरते हो और कमज़ोर बच्चों के बारे में और यह कि यतीमों के हक़ में इंसाफ़ पर क़ायम रहो और तुम जो भलाई करो तो अल्लाह को उस की ख़बर है,
Aur Allah hi ka hai jo kuch aasmanon mein hai aur jo kuch zameen mein, aur beshak takeed farma di hai humne unse jo tumse pehle kitaab diye gaye aur tum ko ke Allah se darte raho aur agar kufr karo to beshak Allah hi ka hai jo kuch aasmanon mein hai aur jo kuch zameen mein aur Allah be-niyaaz hai sab khoobiyon ka saraha,
(ف338)اس کی فرمانبرداری کرو اور اس کے حُکم کے خلاف نہ کرو تو حید و شریعت پر قائم رہو اس آیت سے معلوم ہوا کہ تقوٰی اور پرہیزگاری کا حکم قدیم ہے تمام امتوں کو اس کی تاکید ہوتی رہی ہے ۔(ف339)تمام جہان اس کے فرماں برداروں سے بھرا ہے تمہارے کفر سے اس کا کیا ضرر ۔(ف340)تمام خَلق سے اور ان کی عبادت سے۔
اور اللہ کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں، اور اللہ کافی ہے کارساز،
And to Allah only belongs all whatever is in the heavens and all whatever is in the earth; and Allah is Sufficient as a Trustee (of affairs).
और अगर कोई औरत अपने शौहर की ज़्यादती या बेरग़बती का अंदेशा करे तो उन पर गुनाह नहीं कि आपस में सुलह कर लें और सुलह खूब है और दिल लालच के फंदे में हैं और अगर तुम नेक़ी और परहेज़गारी करो तो अल्लाह को तुम्हारे कामों की ख़बर है
Aur Allah ka hai jo kuch aasmanon mein hai aur jo kuch zameen mein, aur Allah kaafi hai kaar-saz,
اے لوگوں وہ چاہے تو تمہیں لے جائے (ف۳٤۱) اور اوروں کو لے آئے اور اللہ کو اس کی قدرت ہے،
O people! He can remove you and bring others, if He wills; and Allah is Able to do that.
और तुम से हरगिज़ न हो सकेगा कि औरतों को बराबर रखो और चाहे कितनी ही हर्स करो तो यह तो न हो कि एक तरफ़ पूरा झुक जाओ कि दूसरी को इधर में लटकती छोड़ दो और अगर तुम नेक़ी और परहेज़गारी करो तो बेशक अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है,
Ae logon! woh chahe to tumhein le jaye aur auron ko le aaye aur Allah ko uski qudrat hai,
جو دنیا کا انعام چاہے تو اللہ ہی کے پاس دنیا و آخرت دونوں کا انعام ہے (ف۳٤۲) اور اللہ ہی سنتا دیکھتا ہے،
Whoever desires the reward of this world, then with Allah only lie both – the rewards of this world and of the Hereafter; and Allah is All Hearing, All Seeing.
और अगर वह दोनों जुदा हो जाएँ तो अल्लाह अपनी कुशाइश से तुम में हर एक को दूसरे से बेनियाज़ कर देगा और अल्लाह कुशाइश वाला हिकमत वाला है,
Jo duniya ka inaam chahe to Allah hi ke paas duniya o aakhrat dono ka inaam hai aur Allah hi sunta dekhta hai,
(ف342)معنٰی یہ ہیں کہ جس کو اپنے عمل سے دنیا مقصود ہو اور اس کی مرا د اتنی ہی جو اللہ اس کو دے دیتا ہے اور ثواب آخرت سے وہ محروم رہتا ہے اور جس نے عمل رضائے الٰہی اور ثواب آخرت کے لئے کیا تو اللہ دنیا و آخرت دونوں میں ثواب دینے والا ہے تو جو شخص اللہ سے فقط دنیا کا طالب ہو وہ نادان ،خسیس اور کم ہمت ہے ۔
اے ایمان والو! انصاف پر خوب قائم ہوجاؤ اللہ کے لئے گواہی دیتے چاہے اس میں تمہارا اپنا نقصان ہو یا ماں باپ کا یا رشتہ داروں کا جس پر گواہی دو وہ غنی ہو یا فقیر ہو (ف۳٤۳) بہرحال اللہ کو اس کا سب سے زیادہ اختیار ہے تو خواہش کے پیچھے نہ جاؤ کہ حق سے الگ پڑو اگر تم ہیر پھیر کرو (ف۳٤٤) یا منہ پھیرو (ف۳٤۵) تو اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے (ف۳٤٦)
O People who Believe! Be firm in establishing justice, giving witness for Allah, even if it is harmful to yourselves or parents or relatives; whether the one you testify against is wealthy or poor, for in any case Allah has the greater right over it; then do not follow your wishes for you may stray from the truth; and if you distort testimony or turn away, then Allah is Well Aware of your deeds.
और अल्लाह ही का है जो कुछ आसमानों में है और जो कुछ ज़मीन में, और बेशक ताकीद फ़रमा दी है हमने उन से जो तुम से पहले किताब दिए गए और तुम को कि अल्लाह से डरते रहो और अगर कुफ़्र करो तो बेशक अल्लाह ही का है जो कुछ आसमानों में है और जो कुछ ज़मीन में और अल्लाह बेनियाज़ है सब खूबी सहराया,
Ae imaan walon! insaaf par khoob qaim ho jao Allah ke liye gawahi dete chahe is mein tumhara apna nuqsan ho ya maa baap ka ya rishtedaron ka jis par gawahi do woh ghani ho ya faqeer ho barhal Allah ko uska sabse zyada ikhtiyaar hai to khwahish ke peeche na jao ke haq se alag pado agar tum heer pheer karo ya munh phero to Allah ko tumhare kaamon ki khabar hai,
(ف343)کسی کی رعایت و طرفداری میں انصاف سے نہ ہٹو اور کوئی قَرابت و رشتہ حق کہنے میں مخل نہ ہونے پائے۔(ف344)حق بیان میں اور جیسا چاہئے نہ کہو ۔(ف345)ادائے شہادت سے ۔(ف346)جیسے عمل ہوں گے ویسا بدلہ دےگا ۔
اے ایمان والو ایمان رکھو اللہ اور اللہ کے رسول پر (ف۳٤۷) اور اس کتاب پر جو اپنے ان رسول پر اتاری اور اس کتاب پر جو پہلے اتاردی (ف۳٤۸) اور جو نہ مانے اللہ اور اس کے فرشتوں اور کتابوں اور رسولوں اور قیامت کو (ف۳٤۹) تو وہ ضرور دور کی گمراہی میں پڑا،
O People who Believe! Have faith in Allah and His Noble Messenger and the Book He has sent down upon this Noble Messenger of His, and the Book He sent down before; and whoever does not accept faith in Allah and His angels and His Books and His Noble Messengers and the Last Day, has undoubtedly wandered far astray.
और अल्लाह का है जो कुछ आसमानों में है और जो कुछ ज़मीन में, और अल्लाह काफ़ी है कारसाज़,
Ae imaan walon! imaan rakho Allah aur Allah ke Rasool par aur us kitaab par jo apne Rasool par utaari aur us kitaab par jo pehle utaar di aur jo na maane Allah aur uske farishton aur kitaabon aur Rasoolon aur qayamat ko to woh zaroor door ki gumraahi mein pada,
(ف347)یعنی ایمان پر ثابت رہو یہ معنٰی اس صورت میں ہیں کہ :۔ یٰٓاَ یُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کا خطاب مسلمانوں سے ہو اور اگر خطاب یہود و نصارٰی سے ہو تو معنٰی یہ ہیں کہ اے بعض کتابوں بعض رسولوں پر ایمان لانے والو تمہیں یہ حکم ہے اور اگر خطاب منافقین سے ہو تو معنی یہ ہیں کہ اے ایمان کا ظاہری دعوٰی کرنے والو اخلاص کے ساتھ ایمان لے آؤ یہاں رسول سے سیِّد انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور کتاب سے قرآن پاک مراد ہے شان نزول : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ آیت عبداللہ بن سلام اور اسد واُسید و ثَعلبہ بن قَیۡس اور سلام و سلمہ و یامین کے حق میں نازل ہوئی یہ لوگ مومنین اہل کتاب میں سے تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ہم آپ پر اور آپ کی کتاب پر اور حضرت موسٰی پر اور توریت پر اور عُزَیۡر پر ایمان لاتے ہیں اور اس کے سوا باقی کتابوں اور رسولوں پر ایمان نہ لائیں گے حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم اللہ پر اور اس کے رسول محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور قرآن پر اور اس سے پہلی ہر کتاب پر ایمان لاؤ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف348)یعنی قرآن پاک پر اور ان تمام کتابوں پر ایمان لاؤ جو اللہ تعالٰی نے قرآن سے پہلے اپنے انبیاء پر نازل فرمائیں ۔(ف349)یعنی ان میں سے کسی ایک کا بھی انکار کرے کہ ایک رسول اور ایک کتاب کا انکار بھی سب کا انکار ہے ۔
بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے پھر کافر ہوئے پھر ایمان لائے پھر کافر ہوئے پھر اور کفر میں بڑھے (ف۳۵۰) اللہ ہرگز نہ انہیں بخشے (ف۳۵۱) نہ انہیں راہ دکھائے،
Indeed those who believe, then disbelieve and then again believe, then again disbelieve, and go further in their disbelief – Allah will never forgive them, nor ever guide them to the path.
ऐ लोगों वह चाहे तो तुम्हें ले जाए और औरों को ले आए और अल्लाह को उस की क़ुदरत है,
Beshak woh log jo imaan laaye phir kafir hue phir imaan laaye phir kafir hue phir aur kufr mein badhe Allah hargiz na unhein bakhshe na unhein raah dikhaye,
(ف350)شان نزول :حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ آیت یہود کے حق میں نازل ہوئی جو حضرت موسٰی علیہ السلام پر ایمان لائے پھر بَچھڑا پوج کر کافر ہوئے پھر اس کے بعد ایمان لائے پھر حضرت عیسٰی علیہ السلام اور اِنجیل کا انکار کرکے کافر ہوگئے پھر سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن کا انکار کرکے اور کفر میں بڑھے ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت منافقین کے حق میں نازل ہوئی کہ وہ ایمان لائے پھر کافر ہوگئے ایمان کے بعد پھر ایمان لائے یعنی انہوں نے اپنے ایمان کا اظہار کیاتاکہ ان پر مؤمنین کے احکام جاری ہوں ۔ پھر کفر میں بڑھے یعنی کفر پر ان کی موت ہوئی ۔(ف351)جب تک کفر پر رہیں اور کفر پر مریں کیونکہ کُفر بخشا نہیں جاتا مگر جب کہ کافر توبہ کرے اور ایمان لائے جیسا کہ فرمایا۔ قُلْ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْآ اِنْ یَّنْتَھُوْا یُغْفَرْ لَھُمْ مَّا قَدْسَلَفَ ۔
وہ جو مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں (ف۳۵۲) کیا ان کے پاس عزت ڈھونڈتے ہیں تو عزت تو ساری اللہ کے لیے ہے (ف۳۵۳)
Those who leave the Muslims to befriend the disbelievers; do they seek honour from them? Then (know that) undoubtedly all honour is for Allah.
ऐ ईमान वालो! इंसाफ़ पर खूब क़ायम हो जाओ अल्लाह के लिए गवाही देते चाहे उस में तुम्हारा अपना नुक़सान हो या माँ बाप का या रिश्ता-दारों का जिस पर गवाही दो वह ग़नी हो या फ़क़ीर हो बहरहाल अल्लाह को उस का सबसे ज़्यादा इख़्तियार है तो ख़्वाहिश के पीछे न जाओ कि हक़ से अलग पड़ो अगर तुम हीर फेर करो या मुँह फेरो तो अल्लाह को तुम्हारे कामों की ख़बर है
Woh jo Musalmano’n ko chhod kar kafiron ko dost banate hain kya unke paas izzat dhoondte hain to izzat to saari Allah ke liye hai,
(ف352)یہ منافقین کا حال ہے جن کا خیال تھا کہ اسلام غالب نہ ہوگا اور اس لئے وہ کفار کو صاحبِ قوت اور شوکت سمجھ کر ان سے دوستی کرتے تھے اور ان سے ملنے میں عزت جانتے تھے باوجود یہ کہ کفار کے ساتھ دوستی مَمنوع اور ان کے ملنے سے طلبِ عزت باطل ۔(ف353)اور اس کے لئے جس کو وہ عزت دے جیسے کہ انبیاء و مؤمنین ۔
اور بیشک اللہ تم پر کتاب (ف۳۵٤) میں اتار چکا کہ جب تم اللہ کی آیتوں کو سنو کہ ان کا انکار کیا جاتا اور ان کی ہنسی بنائی جاتی ہے تو ان لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو جب تک وہ اور بات میں مشغول نہ ہوں (ف۳۵۵) ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہو (ف۳۵٦) بیشک اللہ منافقوں اور کافروں سب کو جہنم میں اکٹھا کرے گا
And indeed Allah has sent down to you in the Book that whenever you hear the signs of Allah being rejected or being made fun of, do not sit with those people, until they engage in some other conversation; or else you too are like them; undoubtedly Allah will gather the hypocrites and the disbelievers, all together, into hell.
ऐ ईमान वालो ईमान रखो अल्लाह और अल्लाह के रसूल पर और उस किताब पर जो अपने इन रसूल पर उतारी और उस किताब पर जो पहले उतार दी और जो न माने अल्लाह और उस के फ़रिश्तों और किताबों और रसूलों और क़ियामत को तो वह ज़रूर दूर की गुमराही में पड़ा,
Aur beshak Allah tum par kitaab mein utaar chuka ke jab tum Allah ki aayaton ko suno ke unka inkaar kiya jaata aur unki hansi banayi jaati hai to un logon ke saath na baitho jab tak woh aur baat mein mashghool na hon warna tum bhi unhi jaise ho, beshak Allah munafiqon aur kafiron sab ko jahannam mein ikattha karega,
(ف354)یعنی قرآن ۔(ف355)کفار کی ہم نشینی اور ان کی مجلسوں میں شرکت کرنا ایسے ہی اور بے دینوں اور گمراہوں کی مجلسوں کی شرکت اور ان کے ساتھ یارانہ و مُصاحبت ممنوع فرمائی گئی ۔(ف356)اس سے ثابت ہوا کہ کفر کے ساتھ راضی ہونے والا بھی کافر ہے۔
وہ جو تمہاری حالت تکا کرتے ہیں تو اگر اللہ کی طرف سے تم کو فتح ملے کہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے (ف۳۵۷) اور اگر کافروں کا حصہ ہو تو ان سے کہیں کیا ہمیں تم پر قابو نہ تھا (ف۳۵۸) اور ہم نے تمہیں مسلمانوں سے بچایا (ف۳۵۹) تو اللہ تم سب میں (ف۳٦۰) قیامت کے دن فیصلہ کردے گا (ف۳٦۱) اور اللہ کافروں کو مسلمان پر کوئی راہ نہ دے گا (ف۳٦۲)
Those who keep watching your circumstances; so if a victory comes to you from Allah, they say, “Were we not with you?”; and if victory is for disbelievers, they say, “Did we not have control over you, and protect you from the Muslims?” Allah will judge between you all on the Day of Resurrection; and Allah will not provide the disbelievers any way over the Muslims.
बेशक वह लोग जो ईमान लाए फिर काफ़िर हुए फिर ईमान लाए फिर काफ़िर हुए फिर और कुफ़्र में बढ़े अल्लाह हरगिज़ न उन्हें बख़्शे न उन्हें राह दिखाए,
Woh jo tumhari haalat taka karte hain to agar Allah ki taraf se tumko fatah mile to kahen kya hum tumhare saath na the aur agar kafiron ka hissa ho to unse kahen kya humne tum par qaboo na tha aur humne tumhein Musalmano’n se bachaya to Allah tum sab mein qayamat ke din faisla kar dega aur Allah kafiron ko Musalmano’n par koi raah na dega,
(ف357)اس سے ان کی مراد غَنیمت میں شرکت کرنا اور حصہ چاہنا ہے۔(ف358)کہ ہم تمہیں قتل کرتے گرفتار کرتے مگر ہم نے یہ کچھ نہیں کیا۔(ف359)اور انہیں طرح طرح کے حیلوں سے روکا اور ان کے رازوں پر تمہیں مُطلع کیا تو اب ہمارے اس سلوک کی قدر کرو اور حصہ دو ( یہ منافقوں کا حال ہے)(ف360)اے ایماندارو اور منافقو ۔(ف361)کہ مؤمنین کو جنت عطا کرے گا اور منافقوں کو داخل جہنم کرے گا ۔(ف362)یعنی کافر نہ مسلمانوں کو مٹا سکیں گے نہ حجت میں غالب آسکیں گے علماء نے اس آیت سے چند مسائل مستنبط کئے ہیں(۱) کافر مسلمان کا وارث نہیں(۲) کافر مسلمان کے مال پر اِسۡتِیلاء پا کر مالک نہیں ہوسکتا ۔(۳) کافر کو مسلمان غلام کے خریدنے کا مجاز نہیں(۴) ذمی کے عوض مسلمان قتل نہ کیا جائے گا۔(جمل)
بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دیا چاہتے ہیں (ف۳٦۳) اور وہی انہیں غافل کرکے مارے گا اور جب نماز کو کھڑے ہوں (ف۳٦٤) تو ہارے جی سے (ف۳٦۵) لوگوں کو دکھاوا کرتے ہیں اور اللہ کو یاد نہیں کرتے مگر تھوڑا (ف۳٦٦)
Undoubtedly the hypocrites, in their fancy, seek to deceive Allah whereas He will extinguish them while making them oblivious; and when they stand up for prayer, they do it unwillingly and for others to see, and they do not remember Allah except a little.
खुशख़बरी दो मुनाफ़िक़ों को कि उन के लिए दर्दनाक अज़ाब है
Beshak munafiq log apne gumaan mein Allah ko fareb dena chahte hain aur wohi unhein ghaafil karke maarega aur jab namaaz ko khade hon to haare jee se logon ko dikhawa karte hain aur Allah ko yaad nahi karte magar thoda,
(ف363)کیونکہ حقیقت میں تو اللہ کو فریب دینا ممکن نہیں ۔(ف364)مؤمنین کے ساتھ۔(ف365)کیونکہ ایمان تو ہے نہیں جس سے ذوقِ طاعت اور لطفِ عبادت حاصل ہو محض ریا کاری ہے اس لئے منافق کو نماز بار معلوم ہوتی ہے۔ (ف366)اس طرح کہ مسلمانوں کے پاس ہوئے تو نماز پڑھ لی اور علیٰحدہ ہوئے تو ندارد
اے ایمان والو! کافروں کو دوست نہ بناؤ مسلمانوں کے سوا (ف۳٦۹) کیا یہ چاہتے ہو کہ اپنے اوپر اللہ کے لئے صریح حجت کرلو (ف۳۷۰)
O People who Believe! Do not befriend disbelievers in place of Muslims; do you wish to give Allah a clear proof against you?
और बेशक अल्लाह तुम पर किताब में उतार चुका कि जब तुम अल्लाह की आयतों को सुनो कि उनका इन्कार किया जाता और उनकी हँसी बनाई जाती है तो उन लोगों के साथ न बैठो जब तक वह और बात में मशगूल न हों वरना तुम भी उन्हें जैसे हो बेशक अल्लाह मुनाफ़िक़ों और काफ़िरों सब को जहन्नम में अकठ्ठा करेगा
Ae imaan walon! kafiron ko dost na banao Musalmano’n ke siwa, kya yeh chahte ho ke apne upar Allah ke liye sareeh hujjat kar lo,
(ف369)اس آیت میں مسلمانوں کو بتایا گیا کہ کفار کو دوست بنانا منافقین کی خَصلَت ہے تم اس سے بچو ۔(ف370)اپنے نفاق کی اور مستحقِ جہنم ہوجاؤ۔
بیشک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں (ف۳۷۱) اور تو ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ پائے گا
Undoubtedly the hypocrites are in the deepest segment of hell; and you will never find any supporter for them.
वह जो तुम्हारी हालत तका करते हैं तो अगर अल्लाह की तरफ़ से तुम को फ़तह मिले कहें क्या हम तुम्हारे साथ न थे और अगर काफ़िरों का हिस्सा हो तो उनसे कहें क्या हमें तुम पर क़ाबू न था और हम ने तुम्हें मुसलमानों से बचाया तो अल्लाह तुम सब में क़यामत के दिन फ़ैसला कर देगा और अल्लाह काफ़िरों को मुसलमान पर कोई राह न देगा
Beshak munafiq dozakh ke sabse neeche tabqe mein hain aur tu hargiz unka koi madadgaar na payega,
(ف371)منافق کا عذاب کافر سے بھی زیادہ ہے کیونکہ وہ دنیا میں اظہار اسلام کرکے مجاہدین کے ہاتھوں سے بچا رہاہے اور کفر کے باوجود مسلمانوں کو مُغالطہ دینا اور اسلام کے ساتھ اِستہزاء کرنا اس کا شیوہ رہا ہے۔
مگر وہ جنہوں نے توبہ کی (ف۳۷۲) اور سنورے اور اللہ کی رسی مضبوط تھامی اور اپنا دین خالص اللہ کے لئے کرلیا تو یہ مسلمانوں کے ساتھ ہیں (ف۳۷۳) اور عنقریب اللہ مسلمانوں کو بڑا ثواب دے گا،
Except those who repented and reformed themselves and held fast to Allah’s rope and made their religion sincerely only for Allah – so they are with the Muslims; and Allah will soon bestow upon the believers a great reward.
बेशक मुनाफ़िक लोग अपने गुमान में अल्लाह को फ़रेब दिया चाहते हैं और वही उन्हें ग़ाफ़िल करके मारेगा और जब नमाज़ को खड़े हों तो हारे जी से लोगों को दिखावा करते हैं और अल्लाह को याद नहीं करते मगर थोड़ा
Magar woh jinhon ne tauba ki aur sanware aur Allah ki rassi mazboot thaami aur apna deen khalis Allah ke liye kar liya to yeh Musalmano’n ke saath hain aur anqareeb Allah Musalmano’n ko bada sawab dega,
اللہ پسند نہیں کرتا بری بات کا اعلان کرنا (ف۳۷٤) مگر مظلوم سے (ف۳۷۵) اور اللہ سنتا جانتا ہے،
Allah does not like disclosure of evil matters except by the oppressed; and Allah is All Hearing, All Knowing.
ऐ ईमान वालो! काफ़िरों को दोस्त न बनाओ मुसलमानों के सिवा क्या यह चाहते हो कि अपने ऊपर अल्लाह के लिये सरीह हुज्जत कर लो
Allah pasand nahi karta buri baat ka ailan karna magar mazloom se aur Allah sunta jaanta hai,
(ف374)یعنی کسی کے پوشیدہ حال کا ظاہر کرنا ۔ اس میں غیبت بھی آگئی ، چغل خوری بھی ۔عاقل وہ ہے جو اپنے عیبوں کو دیکھے ایک قول یہ بھی ہے کہ برُی بات سے گالی مرا دہے۔(ف375)کہ اس کو جائز ہے کہ ظالم کے ظلم کا بیان کرے وہ چور یا غاصب کی نسبت کہہ سکتا ہے کہ اس نے میرا مال چرایا غصب کیا شانِ نزول: ایک شخص ایک قوم کا مہمان ہوا تھا انہوں نے اچھی طرح اس کی میزبانی نہ کی جب وہ وہاں سے نکلا تو اُن کی شکایت کرتا نکلا اس واقعہ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ، بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے باب میں نازل ہوئی ایک شخص سیّدِعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آپ کی شان میں زباں درازی کرتا رہا آپ نے کئی بار سُکوت کیا مگر وہ باز نہ آیا تو ایک مرتبہ آپ نے اس کو جواب دیا اس پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے حضرت صدیق اکبر نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ شخص مجھ کو بُرا کہتا رہا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ نہ فرمایا میں نے ایک مرتبہ جواب دیا تو حضور اٹھ گئے، فرمایا ایک فرشتہ تمہاری طرف سے جواب دے رہا تھا جب تم نے جواب دیا تو فرشتہ چلا گیا اور شیطان آگیا اس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ۔
وہ جو اللہ اور اس کے رسولوں کو نہیں مانتے اور چاہتے ہیں کہ اللہ سے اس کے رسولوں کو جدا کردیں (ف۳۷۷) اور کہتے ہیں ہم کسی پر ایمان لائے اور کسی کے منکر ہوئے (ف۳۷۸) اور چاہتے ہیں کہ ایمان و کفر کے بیچ میں کوئی راہ نکال لیں
Those who disbelieve in Allah and His Noble Messengers, and seek to cause division between Allah and His Noble Messengers, and say, “We believe in some and disbelieve in others,” and wish to choose a way between faith and disbelief; –
मगर वह जिन्होंने तौबा की और सवरें और अल्लाह की रस्सी मज़बूत थामी और अपना दीन ख़ालिस अल्लाह के लिये कर लिया तो यह मुसलमानों के साथ हैं और अनक़रीब अल्लाह मुसलमानों को बड़ा सवाब देगा,
Woh jo Allah aur uske Rasoolon ko nahi maante aur chahte hain ke Allah se uske Rasoolon ko juda kar dein aur kahte hain hum kisi par imaan laaye aur kisi ke munkir hue aur chahte hain ke imaan o kufr ke beech mein koi raah nikal lein,
(ف377)اس طرح کہ اللہ پر ایمان لائیں اور اس کے رسولوں پر نہ لائیں ۔(ف378)شان نزول : یہ آیت یہود و نصارٰی کے حق میں نازل ہوئی کہ یہود حضرت موسٰی علیہ السلام پر ایمان لائے اور حضرت عیسٰی اور سیدعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ انہوں نے کفر کیا ۔ اور نصارٰی حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام پر ایمان لائے اور انہوں نے سیدِعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کفر کیا۔
اور وہ جو اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی پر ایمان میں فرق نہ کیا انہیں عنقریب اللہ ان کے ثواب دے گا (ف۳۸۰) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۳۸۱)
And those who believe in Allah and all His Noble Messengers and do not make any distinction in belief between any of them – to them Allah will soon give them their reward; and Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
अल्लाह पसंद नहीं करता बुरी बात का एलान करना मगर मज़लूम से और अल्लाह सुनता जानता है,
Aur woh jo Allah aur uske sab Rasoolon par imaan laaye aur unmein se kisi par imaan mein farq na kiya unhein anqareeb Allah unke sawaab dega aur Allah bakhshne wala meherbaan hai,
(ف380)مرتکبِ کبیرہ بھی اس میں داخل ہے کیونکہ وہ اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان رکھتا ہے معتزلہ صاحبِ کبیرہ کے خُلود عذاب کا عقیدہ رکھتے ہیں اس آیت سے ان کے اس عقیدہ کا بطلان ثابت ہوا۔(ف381)مسئلہ: یہ آیت صفاتِ فعلیہ (جیسے کہ مغفرت و رحمت ) کے قدیم ہونے پر دلالت کرتی ہے کیونکہ حدوث کے قائل کو کہنا پڑتا ہے کہ اللہ تعالٰی ( معاذ اللہ ) ازل میں غفورو رحیم نہیں تھا پھر ہوگیا اس کے اس قول کو یہ آیت باطل کرتی ہے۔
اے محبوب! اہل کتاب (ف۳۸۲) تم سے سوال کرتے ہیں کہ ان پر آسمان سے ایک کتاب اتاردو (ف۳۸۳) تو وہ تو موسیٰ سے اس سے بھی بڑا سوال کرچکے (ف۳۸٤) کہ بولے ہمیں اللہ کو اعلانیہ دکھا دو تو انہیں کڑک نے آ لیا ان کے گناہوں پر پھر بچھڑا لے بیٹھے (ف۳۸۵) بعد اس کے لئے روشن آیتیں (۳۸٦) ان کے پاس آچکیں تو ہم نے یہ معاف فرمادیا (ف۳۸۷) اور ہم نے موسیٰ کو روشن غلبہ دیا (ف۳۸۸)
O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) the People given the Book(s) ask you, to cause a Book to be sent down on them from heaven – so they had asked something even greater from Moosa, for they said, “Show Allah to us, clearly” – so the thunder seized them on account of their sins; then they chose the calf (for worship) after clear signs had come to them, then We forgave this; and We bestowed Moosa with a clear dominance.
अगर तुम कोई भलाई एलानिया करो या छुपकर या किसी की बुराई से दरगुज़र करो तो बेशक अल्लाह माफ़ करने वाला क़ुदरत वाला है
Ae Mehboob! Ahl-e-Kitaab tumse sawal karte hain ke un par aasman se ek kitaab utaar do to woh to Musa se isse bhi bada sawal kar chuke ke bole humein Ilaah ko aelaniya dikha do to unhein kadak ne aa liya unke gunahon par phir bachhra le baithe baad iske ke unke liye roshan aayatein unke paas aa chukin to humne yeh maaf farma diya aur humne Musa ko roshan ghalba diya,
(ف382)براہِ سرکشی۔(ف383)یکبارگی شان نزول : یہود میں سے کَعب بن اشرف وفَخَّاص بن عازوراء نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ اگر آپ نبی ہیں تو ہمارے پاس آسمان سے یکبارگی کتاب لائیے جیسا حضرت موسٰی علیہ السلام توریت لائے تھے یہ سوال ان کا طلبِ ہدایت و اتباع کے لئے نہ تھا بلکہ سرکشی و بغاوت سے تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف384) یعنی یہ سوال ان کا کمالِ جہل سے ہے اور اس قسم کی جہالتوں میں ان کے باپ دادا بھی گرفتار تھے اگر سوال طلبِ رُشد کے لئے ہوتا تو پورا کردیا جاتا مگر وہ تو کسی حال میں ایمان لانے والے نہ تھے۔(ف385)اس کو پوجنے لگے ۔(ف386)توریت اور حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے مُعجزات جو اللہ تعالٰی کی وحدانیت اور حضرت موسٰی علیہ الصلوٰۃوالسلام کے صدق پر واضحُ الدلالۃ تھے اور باوجود یکہ توریت ہم نے یکبارگی نازل کی تھی لیکن خوئے بدرابہانہء بسیار بجائے اطاعت کرنے کے ُانہوں نے خدا کے دیکھنے کا سوال کیا۔(ف387) جب انہوں نے توبہ کی اس میں حضور کے زمانہ کے یہودیوں کے لئے توقع ہے کہ وہ بھی توبہ کریں تو اللہ انہیں بھی اپنے فضل سے معاف فرمائے۔(ف388)ایسا تسلط عطا فرمایا کہ جب آپ نے بنی اسرائیل کو توبہ کے لئے خود ان کے اپنے قتل کا حکم دیا اور انکار نہ کرسکے اور انہوں نے اطاعت کی ۔
پھر ہم نے ان پر طور کو اونچا کیا ان سے عہد لینے کو اور ان سے فرمایا کہ دروازے میں سجدہ کرتے داخل ہو اور ان سے فرمایا کہ ہفتہ میں حد سے نہ بڑھو (ف۳۸۹) اور ہم نے ان سے گاڑھا عہد لیا (ف۳۹۰)
We then raised the mount (Sinai) above them to take a covenant from them and decreed them that, “Enter the gate while prostrating” and decreed them that, “Do not cross the limits of the Sabbath,” and We took from them a firm covenant.
वह जो अल्लाह और उसके रसूलों को नहीं मानते और चाहते हैं कि अल्लाह से उसके रसूलों को जुदा कर दें और कहते हैं हम किसी पर ईमान लाए और किसी के मुंकर हुए और चाहते हैं कि ईमान व कुफ़्र के बीच में कोई राह निकाल लें
Phir humne un par Toor ko ooncha kiya unse ahad lene ko aur unse farmaya ke darwaze mein sajda karte daakhil ho aur unse farmaya ke haftay mein had se na badho aur humne unse gaadha ahad liya,
(ف389)یعنی مچھلی کا شکار وغیرہ جو عمل اس روز تمہارے لئے حلال نہیں نہ کرو سورۂ بقر میں ان تمام احکام کی تفصیلیں گزر چکیں ۔(ف390)کہ جو انہیں حکم دیا گیا ہے وہ کریں اور جس کی ممانعت کی گئی ہے اس سے باز رہیں پھر انہوں نے اس عہد کو توڑا۔
تو ان کی کیسی بدعہدیوں کے سبب ہم نے ان پر لعنت کی اور اس لئے کہ وہ آیات الٰہی کے منکر ہوئے (ف۳۹۱) اور انبیاء کو ناحق شہید کرتے (ف۳۹۲) اور ان کے اس کہنے پر کہ ہمارے دلوں پر غلاف ہیں (ف۳۹۳) بلکہ اللہ نے ان کے کفر کے سبب ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے تو ایمان نہیں لاتے مگر تھوڑے،
So Allah cursed them because of their constantly breaking their covenant – and they disbelieved in the signs of Allah, and they used to wrongfully martyr the Prophets, and because they said, “Our hearts are covered”; in fact Allah has set a seal upon their hearts due to their disbelief, so that they do not accept faith, except a few.
यही हैं ठीक ठीक काफ़िर और हम ने काफ़िरों के लिये ज़िल्लत का अज़ाब तैयार कर रखा है,
To unki kesi bad ahdiyon ke sabab humne unpar laanat ki aur isliye ke woh aayaat-e-Ilahi ke munkir hue aur Anbiya ko na-haq shaheed karte aur unke is kehne par ke hamare dilon par ghilaaf hain, balki Allah ne unke kufr ke sabab unke dilon par mohar laga di hai to imaan nahi laate magar thode,
(ف391)جو انبیاء کے صدق پر دلالت کرتے تھے جیسے کہ حضرت موسٰی علیہ السلام کے معجزات ۔(ف392)انبیاء کا قتل کرنا تو ناحق ہے ہی کسی طرح حق ہوہی نہیں سکتا لیکن یہاں مقصود یہ ہے کہ ان کے زعم میں بھی انہیں اس کا کوئی استحقاق نہ تھا۔(ف393)لہذا کوئی پندو وعظ کارگر نہیں ہوسکتا۔
اور اس لئے کہ انہوں نے کفر کیا (ف۳۹٤) اور مریم پر بڑا بہتان اٹھایا،
And because they disbelieved and slandered Maryam with a tremendous accusation.
और वह जो अल्लाह और उसके सब रसूलों पर ईमान लाए और उनमें से किसी पर ईमान में फ़र्क़ न किया उन्हें अनक़रीब अल्लाह उनके सवाब देगा और अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है
Aur isliye ke unhone kufr kiya aur Maryam par bada bohtan uthaya,
اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم اللہ کے رسول کو شہید کیا (ف۳۹۵) اور ہے یہ کہ انہوں نے نہ اسے قتل (۱۵۷) کیا اور نہ اسے سولی دی بلکہ ان کے لئے ان کی شبیہ کا ایک بنادیا گیا (ف۳۹٦) اور وہ جو اس کے بارہ میں اختلاف کر رہے ہیں ضرور اس کی طرف سے شبہ میں پڑے ہوئے ہیں (ف۳۹۷) انہیں اس کی کچھ بھی خبر نہیں (ف۳۹۸) مگر یہی گمان کی پیروی (ف۳۹۹) اور بیشک انہوں نے اس کو قتل نہیں کیا (ف٤۰۰)
And because they said, “We have killed the Messiah, Eisa the son of Maryam, the Messenger of Allah”; they did not slay him nor did they crucify him, but a look-alike was created for them; and those who disagree concerning it are in doubt about it; they know nothing of it, except the following of assumptions; and without doubt, they did not kill him.
ऐ महबूब! अहले किताब तुम से सवाल करते हैं कि उन पर आसमान से एक किताब उतार दो तो वह तो मूसा से इस से भी बड़ा सवाल कर चुके कि बोले हमें इलाह को एलानिया दिखा दो तो उन्हें कड़क ने आ लिया उनके गुनाहों पर फिर बछड़ा ले बैठे बाद इसके लिये रोशन आयतें उनके पास आ चुकीं तो हम ने यह माफ़ फ़रमा दिया और हम ने मूसा को रोशन ग़लबा दिया
Aur unke is kehne par ke humne Masiih Isa bin Maryam Allah ke Rasool ko shaheed kiya aur hai yeh ke unhone na use qatal kiya aur na use sooli di balki unke liye unki shabih ka ek bana diya gaya aur woh jo uske bare mein ikhtilaaf kar rahe hain zaroor uski taraf se shakk mein pade hue hain unhein uski kuch bhi khabar nahi magar yahi gumaan ki pairwi aur beshak unhone usko qatal nahi kiya,
(ف395)یہود نے دعوٰی کیا کہ انہوں نے حضرت عیسٰی علیہ الصلوۃ والسلام کو قتل کردیا اور نصارٰی نے اس کی تصدیق کی تھی اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی تکذیب فرمادی(ف396)جس کو انہوں نے قتل کیا اور خیال کرتے رہے کہ یہ حضرت عیسٰی ہیں باوجود یکہ ان کا یہ خیال غلط تھا۔(ف397)اور یقینی نہیں کہہ سکتے کہ وہ مقتول کون ہے بعض کہتے ہیں کہ یہ مقتول عیسٰی ہیں بعض کہتے ہیں کہ یہ چہرہ تو عیسٰی کا ہے اور جسم عیسٰی کا نہیں لہذا یہ وہ نہیں اسی تردّد میں ہیں ۔(ف398)جو حقیقت حال ہے۔(ف399)اور اٹکلیں دَوڑانا۔(ف400)ان کا دعوٰئے قتل جُھوٹا ہے ۔
بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھالیا (ف٤۰۱) اور اللہ غالب حکمت والا ہے،
In fact Allah raised him towards Himself; and Allah is Almighty, Wise.
फिर हम ने उन पर तूर को ऊँचा किया उनसे अहद लेने को और उनसे फ़रमाया कि दरवाज़े में सज्दा करते दाख़िल हो और उनसे फ़रमाया कि हफ़्ता में हद से न बढ़ो और हम ने उनसे गाढ़ा अहद लिया
Balki Allah ne use apni taraf utha liya aur Allah ghalib hikmat wala hai,
(ف401)صحیح و سالم بسوئے آسمان احادیث میں اس کی تفصیلیں وارد ہیں سورۂ آل عمران میں اس واقعہ کا ذکر گزر چکا ہے۔
کوئی کتابی ایسا نہیں جو اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لائے (ف٤۰۲) اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہوگا (ف٤۰۳)
There is not one of the People given the Book(s), who will not believe in him (Eisa) before his death; and on the Day of Resurrection he will be a witness against them.
तो उनकी कैसी बद अहदीयों के सबब हम ने उन पर लानत की और इसलिये कि वह आयाते इलाही के मुंकर हुए और अन्बिया को नाहक़ शहीद करते और उनके इस कहने पर कि हमारे दिलों पर ग़िलाफ़ हैं बल्कि अल्लाह ने उनके कुफ़्र के सबब उनके दिलों पर मोहर लगा दी है तो ईमान नहीं लाते मगर थोड़े,
Koi kitaabi aisa nahi jo uski maut se pehle us par imaan na laaye aur qayamat ke din woh unpar gawah hoga,
(ف402)اس آیت کی تفسیر میں چند قول ہیں ایک قول یہ ہے کہ یہود ونصارٰی کو اپنی موت کے وقت جب عذاب کے فرشتے نظر آتے ہیں تو وہ حضرت عیسی علیہ السلام پر ایمان لے آتے ہیں جن کے ساتھ انہوں نے کفر کیا تھا اور اس وقت کا ایمان مقبول و معتبرنہیں دوسرا قول یہ ہے کہ قریب قیامت جب حضرت عیسٰی علیہ السلام آسمان سے نزول فرمائیں گے اس وقت کے تمام اہل کتاب اُن پر ایمان لے آئیں گے اس وقت حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃو التسلیمات شریعتِ محمدیہ کے مطابق حکم کریں گے اور اُسی دین کے آئمہ میں سے ایک امام کی حیثیت میں ہوں گے اور نصارٰی نے ان کی نسبت جو گمان باندھ رکھے ہیں ان کا اِبطال فرمائیں گے دینِ محمدی کی اشاعت کریں گے اس وقت یہود و نصارٰی کو یا تو اسلام قبول کرنا ہو گا یا قتل کر ڈالے جائیں گے جزیہ قبول کرنے کا حکم حضرت عیسٰی علیہ السلام کے نزول کرنے کے وقت تک ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ آیت کے معنٰی یہ ہیں کہ ہر کتابی اپنی موت سے پہلے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لے آئے گا۔ چوتھا قول یہ ہے کہ اللہ تعالٰی پر ایمان لے آئے گا لیکن وقتِ موت کا ایمان مقبول نہیں نافع نہ ہوگا۔(ف403)یعنی حضرت عیسٰی علیہ السلام یہود پر تو یہ گواہی دیں گے کہ انہوں نے آپ کی تکذیب کی اور آپ کے حق میں زبانِ طعن دراز کی اور نصارٰی پر یہ کہ اُنہوں نے آپ کو رب ٹھرایا۔ اور خدا کا شریک گَردانا اور اہلِ کتاب میں سے جو لوگ ایمان لے آئیں ان کے ایمان کی بھی آپ شہادت دیں گے۔
تو یہودیوں کے بڑے ظلم کے (ف٤۰٤) سبب ہم نے وہ بعض ستھری چیزیں کہ ان کے لئے حلال تھیں (ف٤۰۵) ان پر حرام فرمادیں اور اس لئے کہ انہوں نے بہتوں کو اللہ کی راہ سے روکا،
So due to the great injustices committed by the Jews, We forbade them some of the good things which were earlier lawful for them, and because they prevented many people from Allah’s way.
और इसलिये कि उन्होंने कुफ़्र किया और मरयम पर बड़ा बहुतान उठाया,
To Yahoodiyon ke bade zulm ke sabab humne woh baaz suthri cheezein ke unke liye halal thin unpar haraam farma di aur isliye ke unhone bahuton ko Allah ki raah se roka,
(ف404)نقضِ عہد و غیرہ جن کا اُوپر آیات میں ذکر ہوچکا۔ (ف405)جن کا سورۂ اَنعام کی یہ آیہ وَعَلَی الَّذِیْنَ ھَادُوْا حَرَّمْنَا میں بیان ہے۔
اور اس لئے کہ وہ سود لیتے حالانکہ وہ اس سے منع کیے گئے تھے اور لوگوں کا مال ناحق کھا جاتے (ف٤۰٦) اور ان میں جو کافر ہوئے ہم نے ان کے لئے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے،
And because they used to take usury whereas they were forbidden from it, and they used to wrongfully devour people’s wealth; and for the disbelievers among them, We have kept prepared a painful punishment.
और उनके इस कहने पर कि हम ने मसीह ईसा बिन मरयम अल्लाह के रसूल को शहीद किया और है यह कि उन्होंने न उसे क़त्ल किया और न उसे सूली दी बल्कि उनके लिये उनकी शबीह का एक बना दिया गया और वह जो उसके बारे में इख़्तिलाफ़ कर रहे हैं ज़रूर उसकी तरफ़ से शुबह में पड़े हुए हैं उन्हें उसकी कुछ भी ख़बर नहीं मगर यही गुमान की पैरवी और बेशक उन्होंने उसको क़त्ल नहीं किया
Aur isliye ke woh sood lete halanke woh usse mana kiye gaye the aur logon ka maal na-haq kha jaate aur unmein jo kafir hue humne unke liye dardnaak azaab tayyar kar rakha hai,
ہاں جو ان میں علم کے پکے (ف٤۰۷) اور ایمان والے ہیں وہ ایمان لاتے ہیں اس پر جو اے محبوب تمہاری طرف اترا اور جو تم سے پہلے اترا (ف٤۰۸) اور نماز قائم رکھنے والے اور زکوٰة دینے والے اور اللہ اور قیامت پر ایمان لانے والے ایسوں کو عنقریب ہم بڑا ثواب دیں گے،
But those among them who are firm in knowledge and who have faith, believe in what is sent down upon you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), and what was sent down before you, and those who keep the prayer established and those who pay the charity, and those who believe in Allah and the Last Day; to such, We shall soon bestow a great reward.
बल्कि अल्लाह ने उसे अपनी तरफ़ उठा लिया और अल्लाह ग़ालिब हिकमत वाला है,
Haan jo unmein ilm ke pakke aur imaan wale hain woh imaan laate hain is par jo Ae Mehboob tumhari taraf utara aur jo tumse pehle utara aur namaaz qaim karne wale aur zakat dene wale aur Allah aur qayamat par imaan laane wale aison ko anqareeb hum bada sawab denge,
(ف407)مثل حضرت عبداللہ بن سلام اور اُن کے اصحاب کہ جو علمِ راسخ اور عقلِ صافی اور بصیرتِ کاملہ رکھتے تھے انہوں نے اپنے علم سے دینِ اسلام کی حقیقت کو جانا اور سید انبیاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر ایمان لائے۔(ف408)پہلے انبیاء پر ۔
بیشک اے محبوب! ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے دحی نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کو بھیجی (ف٤۰۹) اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی
Indeed We sent a divine revelation to you (Prophet Mohammed – peace and blessing be upon him) as We did send divine revelations to Nooh (Noah) and the Prophets after him; and We sent divine revelations to Ibrahim (Abraham) and Ismael (Ishmael) and Ishaq (Isaac) and Yaqub (Jacob) and their offspring, and Eisa (Jesus) and Ayyub (Job) and Yunus (Jonah) and Haroon (Aaron) and Sulaiman (Solomon), and We bestowed the Zaboor (the Holy Book) upon Dawud (David).
कोई किताबि ऐसा नहीं जो उसकी मौत से पहले उस पर ईमान न लाए और क़यामत के दिन वह उन पर गवाह होगा
Beshak Ae Mehboob! humne tumhari taraf wahi bheji jaise wahi Nuh aur uske baad Paighambaron ko bheji aur humne Ibraheem aur Ismail aur Ishaq aur Yaqub aur unke beton aur Isa aur Ayub aur Yunus aur Haroon aur Sulaiman ko wahi ki aur humne Dawood ko Zaboor ata farmai,
(ف409)شانِ نزول: یہود و نصارٰی نے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو یہ سوال کیا تھا کہ اُن کے لئے آسمان سے یکبارگی کتاب نازل کی جائے تو وہ آپ کی نبوّت پر ایمان لائیں اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور ان پر حجت قائم کی گئی کہ حضرت موسٰی علیہ الصلوۃ والسلام کے سوا بکثرت انبیاء ہیں جن میں سے گیارہ کے اسماء شریفہ یہاں آیت میں بیان فرمائے گئے ہیں اہلِ کتاب اُن سب کی نبوّت کو مانتے ہیں ان سب حضرات میں سے کسی پر یکبارگی کتاب نازل نہ ہوئی توجب اس وجہ سے ان کی نبوّت تسلیم کرنے میں اہلِ کتاب کو کچھ پس و پیش نہ ہوا تو سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت تسلیم کرنے میں کیا عذر ہے اور مقصود رسولوں کے بھیجنے سے خَلق کی ہدایت اور ان کو اللہ تعالٰی کی توحید و معرفت کا درس دینا اور ایمان کی تکمیل اور طریقِ عبادت کی تعلیم ہے کتاب کے متفرق طور پر نازل ہونے سے یہ مقصد بروجہِ اَتم حاصل ہوتا ہے کہ تھوڑا تھوڑا بہ آسانی دل نشین ہوتا چلا جاتا ہے اس حکمت کو نہ سمجھنا اور اعتراض کرنا کمال حماقت ہے ۔
اور رسولوں کو جن کا ذکر آگے ہم تم سے (ف٤۱۰) فرماچکے اور ان رسولوں کو جن کا ذکر تم سے نہ فرمایا (ف٤۱۱) اور اللہ نے موسیٰ سے حقیقتاً کلام فرمایا (ف٤۱۲)
And to the Noble Messengers whom We have mentioned to you before, and to the Noble Messengers We have not mentioned to you; and Allah really did speak to Moosa.
तो यहूदियों के बड़े ज़ुल्म के सबब हम ने वह कुछ सुथरी चीज़ें कि उनके लिये हलाल थीं उन पर हराम फ़रमा दीं और इसलिये कि उन्होंने बहुतों को अल्लाह की राह से रोका,
Aur Rasoolon ko jin ka zikr aage hum tumse farma chuke aur un Rasoolon ko jin ka zikr tumse na farmaaya aur Allah ne Musa se haqiqatan kalaam farmaaya,
(ف410)قرآن شریف میں نام بنام فرماچکے ہیں ۔(ف411)اور اب تک ان کے اسماء کی تفصیل قرآن پاک میں ذکر نہیں فرمائی گئی ۔(ف412)تو جس طرح حضرت موسٰی علیہ السلام سے بے واسطہ کلام فرمانا دوسرے انبیاء علیہم السلام کی نبوت میں قادح نہیں جن سے اس طرح کلام نہیں فرمایا گیا ایسے ہی حضرت موسٰی علیہ السلام پر کتاب کا یکبارگی نازل ہونا دوسرے انبیاء کی نبوت میں کچھ بھی قادح نہیں ہوسکتا۔
رسول خوشخبری دیتے (ف٤۱۳) اور ڈر سناتے (ف٤۱٤) کہ رسولوں کے بعد اللہ کے یہاں لوگوں کو کوئی عذر نہ رہے (ف٤۱۵) اور اللہ غالب حکمت والا ہے،
Noble Messengers giving glad tidings and declaring warnings, in order that people may not have any argument against Allah, after the (advent of) Noble Messengers; and Allah is Almighty, Wise.
और इसलिये कि वह सूद लेते हालाँकि वह उस से मना किये गए थे और लोगों का माल नाहक़ खा जाते और उनमें जो काफ़िर हुए हम ने उनके लिये दर्दनाक अज़ाब तैयार कर रखा है,
Rasool khushkhabri dete aur darr sunate ke Rasoolon ke baad Allah ke yahan logon ko koi uzr na rahe aur Allah ghalib hikmat wala hai,
(ف413)ثواب کی ایمان لانے والوں کو۔ (ف414)عذاب کا کفر کرنے والوں کو۔(ف415)اور یہ کہنے کا موقع نہ ہو کہ اگر ہمارے پاس رسول آتے تو ہم ضرور ان کا حکم مانتے اور اللہ کے مطیع و فرماں بردار ہوتے اس آیت سے یہ مسئلہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالٰی رسولوں کی بعثت سے قبل خَلق پر عذاب نہیں فرماتا جیسا دوسری جگہ ارشاد فرمایا وَمَاکُنَّامُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا اور یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ معرفت الٰہی بیانِ شرع و زبانِ اَنبیاء ہی سے حاصل ہوتی ہے عقلِ محض سے اس منزل تک پہنچنا میسّر نہیں ہوتا۔
لیکن اے محبوب! اللہ اس کا گواہ ہے جو اس نے تمہاری طرف اتارا وہ اس نے اپنے علم سے اتارا ہے اور فرشتے گواہ ہیں اور اللہ کی گواہی کافی،
But Allah is the Witness of what He has sent down upon you – He has sent it down by His knowledge; and the angels are witnesses; and sufficient is Allah’s testimony.
हाँ जो उनमें इल्म के पक्के और ईमान वाले हैं वह ईमान लाते हैं उस पर जो ऐ महबूब तुम्हारी तरफ़ उतरा और जो तुम से पहले उतरा और नमाज़ क़ायम रखने वाले और ज़कात देने वाले और अल्लाह और क़यामत पर ईमान लाने वाले ऐसों को अनक़रीब हम बड़ा सवाब देंगे,
Lekin Ae Mehboob! Allah iska gawah hai jo usne tumhari taraf utaara woh usne apne ilm se utaara hai aur farishte gawah hain aur Allah ki gawahi kaafi,
وہ جنہوں نے کفر کیا (ف٤۱٦) اور اللہ کی راہ سے روکا (ف٤۱۷) بیشک وہ دور کی گمراہی میں پڑے،
Indeed those who disbelieved and prevented (others) from the way of Allah, have undoubtedly wandered far astray.
बेशक ऐ महबूब! हम ने तुम्हारी तरफ़ वही भेजी जैसे वही नूह और उसके बाद पैग़म्बरों को भेजी और हम ने इब्राहीम और इस्माईल और इस्हाक़ और याक़ूब और उनके बेटों और ईसा और अय्यूब और यूनुस और हारून और सुलेमान को वही की और हम ने दाऊद को ज़बूर अता फ़रमाई
Woh jinhon ne kufr kiya aur Allah ki raah se roka beshak woh door ki gumraahi mein pade,
(ف416)سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا انکار کرتے۔(ف417)حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت وصفت چُھپاکر اور لوگوں کے دلوں میں شبہ ڈال کر ( یہ حال یہود کا ہے)
اے لوگو! تمہارے پاس یہ رسول (ف٤۲۱) حق کے ساتھ تمہارے رب کی طرف سے تشریف لائے تو ایمان لاؤ اپنے بھلے کو اور اگر تم کفر کرو (ف٤۲۲) تو بیشک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
O mankind! This Noble Messenger (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) has come to you with the truth from your Lord, so accept faith for your own good; and if you disbelieve, then undoubtedly to Allah only belongs all whatever is in the heavens and in the earth; and Allah is All Knowing, Wise.
लेकिन ऐ महबूब! अल्लाह उसका गवाह है जो उस ने तुम्हारी तरफ़ उतारा वह उस ने अपने इल्म से उतारा है और फ़रिश्ते गवाह हैं और अल्लाह की गवाही काफ़ी,
Ae logon! tumhare paas yeh Rasool haq ke saath tumhare Rab ki taraf se tashreef laaye to imaan lao apne bhale ko aur agar tum kufr karo to beshak Allah hi ka hai jo kuch aasmanon aur zameen mein hai, aur Allah ilm o hikmat wala hai,
(ف421)سید انبیاء محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔(ف422)اور سید انبیاء محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کا انکار کرو تو اس میں ان کا کچھ ضرر نہیں اور اللہ تمہارے ایمان سے بے نیاز ہے۔
اے کتاب والو! اپنے دین میں زیادتی نہ کرو (ف٤۲۳) اور اللہ پر نہ کہو مگر سچ (ف٤۲٤) مسیح عیسیٰ مریم کا بیٹا (ف٤۲۵) اللہ کا رسول ہی ہے اور اس کا ایک کلمہ (ف٤۲٦) کہ مریم کی طرف بھیجا اور اس کے یہاں کی ایک روح تو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ (ف٤۲۷) اور تین نہ کہو (ف٤۲۸) باز رہو اپنے بھلے کو اللہ تو ایک ہی خدا ہے (ف٤۲۹) پاکی اسے اس سے کہ اس کے کوئی بچہ ہو اسی کا مال ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے (ف٤۳۰) اور اللہ کافی کارساز،
O People given the Book(s)! Do not exaggerate in your religion nor say anything concerning Allah, but the truth; the Messiah, Eisa the son of Maryam, is purely a Noble Messenger of Allah, and His Word; which He sent towards Maryam, and a Spirit from Him; so believe in Allah and His Noble Messengers; and do not say “Three”; desist, for your own good; undoubtedly Allah is the only One God; Purity is to Him from begetting a child; to Him only belongs all whatever is in the heavens and all whatever is in the earth; and Allah is a Sufficient Trustee (of affairs).
वह जिन्होंने कुफ़्र किया और अल्लाह की राह से रोका बेशक वह दूर की गुमराही में पड़े,
Ae Kitaab walo! apne deen mein ziyadati na karo aur Allah par na kaho magar sach, Masiih Isa Maryam ka beta Allah ka Rasool hi hai aur uska ek kalma ke Maryam ki taraf bheja aur uske yahan ki ek rooh to Allah aur uske Rasoolon par imaan lao aur teen na kaho baaz raho apne bhale ko Allah to ek hi Khuda hai paaki usse is se ke uska koi bachcha ho, usi ka maal hai jo kuch aasmanon mein hai aur jo kuch zameen mein hai aur Allah kaafi kaar-saz,
(ف423)شانِ نزول: یہ آیت نصارٰی کے حق میں نازل ہوئی جن کے کئی فرقے ہوگئے تھی اور ہر ایک حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی نسبت جُداگانہ کُفری عقیدہ رکھتا تھا۔ نسطوری آپ کو خدا کا بیٹا کہتے تھے مرقوسی کہتے کہ وہ تین میں کے تیسرے ہیں اور اس کلمہ کی توجیہات میں بھی اختلاف تھا، بعض تین اقنوم مانتے تھے اور کہتے تھے کہ باپ بیٹا روح القدس باپ سے ذات بیٹے سے عیسٰی روح القدس سے ان میں حُلول کرنے والی حیات مراد لیتے تھے تواُن کے نزدیک الٰہ تین تھے اور اس تین کو ایک بتاتے تھے توحید فی التثلیث اور تثلیث فی التوحید کے چکر میں گرفتار تھے بعض کہتے تھے کہ عیسٰی ناسوتیت اور الوہیت کے جامع ہیں ماں کی طرف سے اُن میں ناسوتیت آئی اور باپ کی طرف سے الوہیت آئی تَعَالٰی اللّٰہُ عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا کَبِیْرًا یہ فرقہ بندی نصارٰی میں ایک یہودی نے پیدا کی جس کا نام بولص تھا اور اُس نے اُنہیں گمراہ کرنے کے لئے اس قسم کے عقیدوں کی تعلیم کی اس آیت میں اہلِ کتاب کو ہدایت کی گئی کہ وہ حضرت عیسٰی علیہ الصلوۃ والسلام کے باب میں افراط و تفریط سے باز رہیں خدا اور خدا کا بیٹا بھی نہ کہیں اور ان کی تنقیص بھی نہ کریں ۔(ف424)اللہ کا شریک اور بیٹا بھی کسی کو نہ بناؤ اور حلول و اتحاد کے عیب بھی مت لگاؤ اور اس اعتقادِ حق پر رہو کہ۔(ف425)ہے اور اس محترم کے لئے اس کے سوا کوئی نسب نہیں۔(ف426)کہ کُن فرمایا اور وہ بغیر باپ اور بغیر نطفہ کے محض امرِ الہٰی سے پیدا ہوگئے(ف427)اور تصدیق کرو کہ اللہ واحدہے بیٹے اور اولاد سے پاک ہے اور اس کے رسولوں کی تصدیق کرو اور اس کی کہ حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃوالسلام اللہ کے رسولوں میں سے ہیں۔(ف428)جیسا کہ نصارٰی کا عقیدہ ہے کہ وہ کفرِ محض ہے۔(ف429)کوئی اس کا شریک نہیں۔(ف430)اور وہ سب کا مالک ہے اور جو مالک ہو وہ باپ نہیں ہوسکتا۔
مسیح اللہ کا بندہ بننے سے کچھ نفرت نہیں کرتا (ف٤۳۱) اور نہ مقرب فرشتے اور جو اللہ کی بندگی سے نفرت اور تکبر کرے تو کوئی دم جاتا ہے کہ وہ ان سب کو اپنی طرف ہانکے گا (ف٤۳۲)
The Messiah does not at all hate being a bondman of Allah, and nor do the close angels; and whoever hates worshipping Him and is conceited – so very soon He will gather them all towards Him.
बेशक जिन्होंने कुफ़्र किया और हद से बढ़े अल्लाह हरगिज़ उन्हें न बख़्शेगा और न उन्हें कोई राह दिखाए,
Masiih Allah ka banda banne se kuch nafrat nahi karta aur na muqarrab farishte aur jo Allah ki bandagi se nafrat aur takabbur kare to koi dam jaata hai ke woh un sab ko apni taraf haanke ga,
(ف431)شانِ نزول: نصارٰی نجران کا ایک وفد سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اُس نے حضور سے کہا کہ آپ حضرت عیسٰی کو عیب لگاتے ہیں کہ وہ اللہ کے بندے ہیں حضور نے فرمایا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے لئے یہ عار کی بات نہیں ، اس پر یہ آیتِ شریفہ نازل ہوئی۔(ف432)یعنی آخرت میں اس تکبر کی سزا دے گا۔
تو وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کی مزدوری انہیں بھرپور دے کر اپنے فضل سے انہیں اور زیادہ دے گا اور وہ جنہوں نے (ف٤۳۳) نفرت اور تکبر کیا تھا انہیں دردناک سزا دے گا اور اللہ کے سوا نہ اپنا کوئی حمایتی پائیں گے نہ مددگار،
Then to those who believed and did good deeds, He will pay their wages in full and by His munificence, give them more; and to those who hated (worshipping Him) and were proud, He will inflict a painful punishment; and they will not find for themselves, other than Allah, any supporter nor any aide.
मगर जहन्नम का रास्ता कि उसमें हमेशा हमेशा रहेंगे और यह अल्लाह को आसान है,
To woh jo imaan laaye aur acche kaam kiye unki mazdoori unhein bharpoor de kar apne fazl se unhein aur zyada dega aur woh jinhon ne nafrat aur takabbur kiya tha unhein dardnaak saza dega aur Allah ke siwa na apna koi himayati paayenge na madadgaar,
اے لوگو! بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے واضح دلیل آئی (ف٤۳٤) اور ہم نے تمہاری طرف روشن نور اتارا (ف٤۳۵)
O mankind! Indeed the clear proof from your Lord has come to you, and We have sent down to you a bright light. (The Holy Prophet is a Clear Proof from Allah.)
ऐ लोगो! तुम्हारे पास यह रसूल हक़ के साथ तुम्हारे रब की तरफ़ से तशरीफ़ लाए तो ईमान लाओ अपने भले को और अगर तुम कुफ़्र करो तो बेशक अल्लाह ही का है जो कुछ आसमानों और ज़मीन में है, और अल्लाह इल्म व हिकमत वाला है,
Ae logon! beshak tumhare paas Allah ki taraf se wazeh daleel aayi aur humne tumhari taraf roshan noor utaara,
(ف434)دلیل واضح سے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ گرامی مراد ہے جن کے صدق پر اُن کے معجزے شاہد ہیں اور منکرین کی عقلوں کو حیران کر دیتے ہیں۔(ف435)یعنی قرآن پاک ۔
تو وہ جو اللہ پر ایمان لائے اور اس کی رسی مضبوط تھامی تو عنقریب اللہ انہیں اپنی رحمت اور اپنے فضل میں داخل کرے گا (ف٤۳٦) اور انہیں اپنی طرف سیدھی راہ دکھائے گا،
So those who believed in Allah and held fast to His rope – He will admit them into His mercy and munificence, and will guide them on the Straight Path towards Himself.
ऐ किताब वालो! अपने दीन में ज़्यादती न करो और अल्लाह पर न कहो मगर सच मसीह ईसा मरयम का बेटा अल्लाह का रसूल ही है और उसका एक कलिमा कि मरयम की तरफ़ भेजा और उसके यहाँ की एक रूह तो अल्लाह और उसके रसूलों पर ईमान लाओ और तीन न कहो बाज़ रहो अपने भले को अल्लाह तो एक ही ख़ुदा है पाकी उसे इस से कि उसके कोई बच्चा हो इसी का माल है जो कुछ आसमानों में है और जो कुछ ज़मीन में है और अल्लाह काफ़ी कारसाज़,
To woh jo Allah par imaan laaye aur uski rassi mazboot thaami to anqareeb Allah unhein apni rehmat aur apne fazl mein daakhil karega aur unhein apni taraf seedhi raah dikhayega,
اے محبوب! تم سے فتویٰ پوچھتے ہیں تم فرمادو کہ اللہ تمہیں کلالہ (ف٤۳۷) میں فتویٰ دیتا ہے، اگر کسی مرد کا انتقال ہو جو بے اولاد ہے (ف٤۳۸) اور اس کی ایک بہن ہو تو ترکہ میں اس کی بہن کا آدھا ہے (ف٤۳۹) اور مرد اپنی بہن کا وارث ہوگا اگر بہن کی اولاد نہ ہو (ف٤٤۰) پھر اگر دو بہنیں ہوں ترکہ میں ان کا دو تہائی اور اگر بھائی بہن ہوں مرد بھی اور عورتیں بھی تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر، اللہ تمہارے لئے صاف بیان فرماتا ہے کہ کہیں بہک نہ جاؤ، اور اللہ ہر چیز جانتا ہے،
O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him), they ask you for a decree; say, “Allah decrees you concerning the solitary person (without parents or children); if a man dies childless and has a sister, for her is half the inheritance; and the man is his sister’s heir if the sister dies childless; and if there are two sisters, for them is two-thirds of the inheritance; so if there are brothers and sisters, both men and women, the male’s share is equal to that of two females; and Allah explains clearly to you, so that you do not go astray; and Allah knows all things.”
मसीह अल्लाह का बन्दा बनने से कुछ नफ़रत नहीं करता और न मुक़र्रब फ़रिश्ते और जो अल्लाह की बन्दगी से नफ़रत और तकब्बुर करे तो कोई दम जाता है कि वह उन सब को अपनी तरफ़ हाँकेगा
Ae Mehboob! tumse fatwa poochhte hain tum farma do ke Allah tumhein kalalah mein fatwa deta hai, agar kisi mard ka inteqaal ho jo be-olaad hai aur uski ek behen ho to tarkah mein uski behen ka aadha hai aur mard apni behen ka waaris hoga agar behen ki aulaad na ho phir agar do behnein hon to tarkah mein unka do-tihai aur agar bhai behen hon mard bhi aur auratein bhi to mard ka hissa do auraton ke barabar, Allah tumhare liye saaf bayan farmaata hai ke kahin behak na jao, aur Allah har cheez jaanta hai.",
(ف437)کَلَالَہ اس کو کہتے ہیں جو اپنے بعد نہ باپ چھوڑے نہ اولاد (ف438)شانِ نزول: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ بیمار تھے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مع حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے عیاد ت کے لئے تشریف لائے ۔ حضرت جابر بے ہوش تھے حضرت نے وضو فرما کر آبِ و ضواُن پر ڈالا انہیں افاقہ ہوا آنکھ کھول کر دیکھا تو حضور تشریف فرما ہیں عرض کیا یارسول اللہ میں اپنے مال کا کیا انتظام کروں اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی، ( بخاری ومسلم) ابوداؤد کی روایت میں یہ بھی ہے کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا اے جابر میرے علم میں تمہاری موت اس بیماری سے نہیں ہے۔ اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے۔ مسئلہ : بزرگوں کا آبِ وضو تَبُرک ہے اور اس کو حصولِ شِفا کے لئے استعمال کرنا سنت ہے۔ مسئلہ : مریضوں کی عیادت سنت ہے ۔مسئلہ : سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالٰی نے علوم غیب عطا فرمائے ہیں، اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معلوم تھا کہ حضرت جابر کی موت اس مرض میں نہیں ہے۔(ف439)اگر وہ بہن سگی یا باپ شریک ہو ۔(ف440)یعنی اگر بہن بے اولاد مری اور بھائی رہا تو وہ بھائی اُس کے کل مال کا وارث ہوگا۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page