جو عورت بدکار ہو اور جو مرد تو ان میں ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ (ف۳) اور تمہیں ان پر ترس نہ آئے اللہ کے دین میں (ف٤) اگر تم ایمان لاتے ہو اللہ اور پچھلے دن پر اور چاہیے کہ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کا ایک گروہ حاضر ہو (ف۵)
(ف3)یہ خِطاب حُکام کو ہے کہ جس مرد یا عورت سے زنا سرزد ہو اس کی حد یہ ہے کہ اس کے سو کوڑے لگاؤ ، یہ حد حُر غیر محصِن کی ہے کیونکہ حُر محصِن کا حکم یہ ہے کہ اس کو رَجم کیا جائے جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہے کہ ماعِز رضی اللہ تعالٰی عنہ کو بحکمِ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رَجم کیا گیا اور محصِن وہ آزاد مسلمان ہے جو مکلَّف ہو اور نکاحِ صحیح کے ساتھ صحبت کر چکا ہو خواہ ایک ہی مرتبہ ایسے شخص سے زنا ثابت ہو تو رجم کیا جائے گا اور اگر ان میں سے ایک بات بھی نہ ہو مثلاً حُر نہ ہو یا مسلمان نہ ہو یا عاقل بالغ نہ ہو یا اس نے کبھی اپنی بی بی کے ساتھ صحبت نہ کی ہو یا جس کے ساتھ کی ہو اس کے ساتھ نکاحِ فاسد ہوا ہو تو یہ سب غیر محصِن میں داخل ہیں اور ان سب کا حکم کوڑے مارنا ہے ۔مسائل : مرد کو کوڑے لگانے کے وقت کھڑا کیا جائے اور اس کے تمام کپڑے اتار دیئے جائیں سوا تہبند کے اور اس کے تمام بدن پر کوڑے لگائے جائیں سوائے سر چہرے اور شرم گاہ کے ، کوڑے اس طرح لگائے جائیں کہ اَلم گوشت تک نہ پہنچے اور کوڑا متوسط درجہ کا ہو اور عورت کو کوڑے لگانے کے وقت کھڑا نہ کیا جائے نہ اس کے کپڑے اتارے جائیں البتہ اگر پوستین یا روئی دار کپڑے پہنے ہوئے ہو تو اتار دیئے جائیں ، یہ حکم حُر اور حُرہ کا ہے یعنی آزاد مرد اور عورت کا اور باندی غلام کی حد اس سے نصف یعنی پچاس کوڑے ہیں جیسا کہ سورۂ نساء میں مذکور ہو چکا ۔ ثبوتِ زنا یا تو چار مردوں کی گواہیوں سے ہوتا ہے یا زنا کرنے والے کے چار مرتبہ اقرار کر لینے سے پھر بھی امام بار بار سوال کرے گا اور دریافت کرے گا کہ زنا سے کیا مراد ہے کہاں کیا ، کس سے کیا ، کب کیا ؟ اگر ان سب کو بیان کر دیا تو زنا ثابت ہو گا ورنہ نہیں اور گواہوں کو صراحتہً اپنا معائنہ بیان کرنا ہوگا بغیر اس کے ثبوت نہ ہوگا ۔ لواطت زنا میں داخل نہیں لہذا اس فعل سے حد واجب نہیں ہوتی لیکن تعزیر واجب ہوتی ہے اور اس تعزیر میں صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کے چند قول مروی ہیں (۱) آ گ میں جلا دینا (۲) غرق کر دینا (۳) بلندی سے گرانا اور اوپر سے پتھر برسانا، فاعل و مفعول دونوں کا ایک ہی حکم ہے ۔ (تفسیرِ احمدی)(ف4)یعنی حدود کے پورا کرنے میں کمی نہ کرو اور دین میں مضبوط اور متصلب رہو ۔(ف5)تاکہ عبرت حاصل ہو ۔
بدکار مرد نکاح نہ کرے مگر بدکار عورت یا شرک والی سے، اور بدکار عورت سے نکاح نہ کرے مگر بدکار مرد یا مشرک (ف٦) اور یہ کام (ف۷) ایمان والوں پر حرام ہے (ف۸)
(ف6)کیونکہ خبیث کا میلان خبیث ہی کی طرف ہوتا ہے ، نیکوں کو خبیثوں کی طرف رغبت نہیں ہوتی ۔شانِ نُزول : مہاجرین میں بعضے بالکل نادار تھے نہ ان کے پاس کچھ مال تھا نہ ان کا کوئی عزیز قریب تھا اور بدکار مشرکہ عورتیں دولت مند اور مالدار تھیں یہ دیکھ کر کسی مہاجر کو خیال آیا کہ اگر ان سے نکاح کر لیا جائے تو ان کی دولت کام میں آئے گی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انہوں نے اس کی اجازت چاہی ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور انہیں اس سے روک دیا گیا ۔(ف7)یعنی بدکاروں سے نکاح کرنا ۔(ف8)ابتدائے اسلام میں زانیہ سے نکاح کرنا حرام تھا بعد میں آیت وَانْکِحُواالّاَ یَامٰی مِنْکُمْ سے منسوخ ہو گیا ۔
اور جو پارسا عورتوں کو عیب لگائیں پھر چار گواہ معائنہ کے نہ لائیں تو انھیں اسی کوڑے لگاؤ اور ان کی گواہی کبھی نہ مانو (ف۹) اور وہی فاسق ہیں،
(ف9)اس آیت سے چند مسائل ثابت ہوئے ۔ مسئلہ ۱ : جو شخص کسی پارسا مرد یا عورت کو زنا کی تہمت لگائے اور اس پر چار معائنہ کے گواہ پیش نہ کر سکے تو اس پر حد واجب ہو جاتی ہے اسی۸۰ کوڑے ۔ آیت میں محصَنات کا لفظ خصوصِ واقعہ کے سبب سے وارد ہوا یا اس لئے کہ عورتوں کو تہمت لگانا کثیر الوقوع ہے ۔ مسئلہ ۲ : اور ایسے لوگ جو زنا کی تہمت میں سزا یاب ہوں اور ان پر حد جاری ہو چکی ہو مردود الشہادۃ ہو جاتے ہیں کبھی ان کی گواہی مقبول نہیں ہوتی ۔ پارسا سے مراد وہ ہیں جو مسلمان مکلَّف آزاد اور زنا سے پاک ہوں ۔مسئلہ۳ : زنا کی شہادت کا نصاب چار گواہ ہیں ۔ مسئلہ۴ : حدِ قذف مطالبہ پر مشروط ہے جس پر تہمت لگائی گئی ہے اگر وہ مطالبہ نہ کرے تو قاضی پر حد قائم کرنا لازم نہیں ۔مسئلہ ۵ : مطالبہ کا حق اسی کو ہے جس پر تہمت لگائی گئی ہے اگر وہ زندہ ہو اور اگر مر گیا ہو تو اس کے بیٹے پوتے کو بھی ہے ۔مسئلہ ۶ : غلام اپنے مولٰی پر اور بیٹا باپ پر قذف یعنی اپنی ماں پر زنا کی تہمت لگانے کا دعوٰی نہیں کر سکتا ۔مسئلہ ۷ : قذف کے الفاظ یہ ہیں کہ وہ صراحتہً کسی کو یا زانی کہے یا یہ کہے کہ تو اپنے باپ سے نہیں ہے یا اس کے باپ کا نام لے کر کہے کہ تو فلاں کا بیٹا نہیں ہے یا اس کو زانیہ کا بیٹا کہہ کر پکارے اور ہو اس کی ماں پارسا تو ایسا شخص قاذِف ہو جائے گا اور اس پر تہمت کی حد آئے گی ۔مسئلہ ۸ : اگر غیر محصن کو زنا کی تہمت لگائی مثلاً کسی غلام کو یا کافِر کو یا ایسے شخص کو جس کا کبھی زنا کرنا ثابت ہو تو اس پر حدِ قذف قائم نہ ہوگی بلکہ اس پر تعزیر واجب ہو گی اور یہ تعزیر تین سے انتالیس تک حسبِ تجویزِ حاکمِ شرع کوڑے لگانا ہے اسی طرح اگر کسی شخص نے زنا کے سوا اور کسی فجور کی تہمت لگائی اور پارسا مسلمان کو اے فاسق ، اے کافِر ، اے خبیث ، اے چور ، اے بدکار ، اے مخنّث ، اے بددیانت ، اے لوطی ، اے زندیق ، اے دیّوث ، اے شرابی ، اے سود خوار ، اے بدکار عورت کے بچے ، اے حرام زادے ، اس قسم کے الفاظ کہے تو بھی اس پر تعزیر واجب ہو گی ۔مسئلہ ۹ : امام یعنی حاکمِ شرع کو اور اس شخص کو جسے تہمت لگائی گئی ہو ثبوت سے قبل معاف کرنے کا حق ہے ۔مسئلہ ۱۰ : اگر تہمت لگانے والا آزاد نہ ہو بلکہ غلام ہو تو اس کے چالیس کوڑے لگائے جائیں گے ۔ مسئلہ ۱۱ : تہمت لگانے کے جرم میں جس کو حد لگائی گئی ہو اس کی گواہی کسی معاملہ میں معتبر نہیں چاہے وہ توبہ کرے لیکن رمضان کا چاند دیکھنے کے باب میں توبہ کرنے اور عادل ہونے کی صورت میں اس کا قول قبول کر لیا جائے گا کیونکہ یہ درحقیقت شہادت نہیں ہے اسی لئے اس میں لفظِ شہادت اور نصابِ شہادت بھی شرط نہیں ۔
اور وہ جو اپنی عورتوں کو عیب لگائیں (ف۱۱) اور ان کے پاس اپنے بیان کے سوا گواہ نہ ہوں تو ایسے کسی کی گواہی یہ ہے کہ چار بار گواہی دے اللہ کے نام سے کہ وہ سچا ہے (ف۱۲)
(ف11)زنا کا ۔(ف12)عورت پر زنا کا الزام لگانے میں ۔
اور پانچویں یوں کہ عورت پر غضب اللہ کا اگر مرد جھوٹا ہے (ف۱۳) اور پانچویں یوں کہ عورت پر غضب اللہ کا اگر مرد سچا ہو (ف۱٤)
(ف14)اس کو لِعان کہتے ہیں ۔مسئلہ : جب مرد اپنی بی بی پر زنا کی تہمت لگائے تو اگر مرد و عورت دونوں شہادت کے اہل ہوں اور عورت اس پر مطالبہ کرے تو مرد پر لعان واجب ہو جاتا ہے اگر وہ لِعان سے انکار کرے تو اس کو اس وقت تک قید رکھا جائے گا جب تک وہ لعان کرے یا اپنے جھوٹ کا مُقِر ہو اگر جھوٹ کا اقرار کرے تو اس کو حدِ قذف لگائی جائے گی جس کا بیان اوپر گزر چکا ہے اور اگر لِعان کرنا چاہے تو اس کو چار مرتبہ اللہ کی قسم کے ساتھ کہنا ہو گا کہ وہ اس عورت پر زنا کا الزام لگانے میں سچا ہے اور پانچویں مرتبہ کہنا ہوگا کہ اللہ کی لعنت مجھ پر اگر میں یہ الزام لگانے میں جھوٹا ہوں اتنا کرنے کے بعد مرد پر سے حدِ قذف ساقط ہو جائے گی اور عورت پر لِعان واجب ہو گا انکار کرے گی تو قید کی جائے گی یہاں تک کہ لِعان منظور کرے یا شوہر کے الزام لگانے کی تصدیق کرے اگر تصدیق کی تو عورت پر زنا کی حد لگائی جائے گی اور اگر لِعان کرنا چاہے تو اس کو چار مرتبہ اللہ کی قسم کے ساتھ کہنا ہو گا کہ مرد اس پر زنا کی تہمت لگانے میں جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہنا ہو گا کہ اگر مرد اس الزام لگانے میں سچا ہو تو مجھ پر خدا کا غضب ہو اتنا کہنے کے بعد عورت سے زنا کی حد ساقط ہو جائے گی اور لعان کے بعد قاضی کے تفریق کرنے سے فرقت واقع ہو گی بغیر اس کے نہیں اور یہ تفریق طلاقِ بائنہ ہو گی اور اگر مرد اہلِ شہادت میں سے نہ ہو مثلاً غلام ہو یا کافِر ہو یا اس پر قذف کی حد لگ چکی ہو تو لِعان نہ ہوگا اور تہمت لگانے سے مرد پر حدِ قذف لگائی جائے گی اور اگر مرد اہلِ شہادت میں سے ہو اور عورت میں یہ اہلیت نہ ہو اس طرح کہ وہ باندی ہو یا کافِرہ ہو یا اس پر قذف کی حد لگ چکی ہو یا بچی ہو یا مجنونہ ہو یا زانیہ ہو اس صورت میں نہ مرد پر حد ہوگی اور نہ لِعان ۔شانِ نُزول : یہ آیت ایک صحابی کے حق میں نازِل ہوئی جنہوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تھا کہ اگر آدمی اپنی عورت کو زنا میں مبتلا دیکھے تو کیا کرے نہ اس وقت گواہوں کے تلاش کرنے کی فرصت ہے اور نہ بغیر گواہی کے وہ یہ بات کہہ سکتا ہے کیونکہ اسے حدِ قذف کا اندیشہ ہے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور لِعان کا حکم دیا گیا ۔
تو تمہارا پردہ کھول دیتا بیشک وہ کہ یہ بڑا بہتان لائے ہیں تمہیں میں کی ایک جماعت ہے (ف۱۵) اسے اپنے لیے برا نہ سمجھو، بلکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہے (ف۱٦) ان میں ہر شخص کے لیے وہ گناہ ہے جو اس نے کمایا (ف۱۷) اور ان میں وہ جس نے سب سے بڑا حصہ لیا (ف۱۸) اس کے لیے بڑا عذاب ہے (ف۱۹)
(ف15)بڑے بہتان سے مراد حضرت اُم المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا پر تہمت لگانا ہے ۔ ۵ ہجری میں غزوۂ بنی المصطلق سے واپسی کے وقت قافلہ قریبِ مدینہ ایک پڑاؤ پر ٹھہرا تو اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا ضرورت کے لئے کسی گوشہ میں تشریف لے گئیں وہاں ہار آپ کا ٹوٹ گیا اس کی تلاش میں مصروف ہو گئیں ، اُدھر قافلہ نے کوچ کیا اور آپ کا محمل شریف اُونٹ پر کَس دیا اور انہیں یہی خیال رہا کہ اُم المؤمنین اس میں ہیں ، قافلہ چل دیا آپ آ ۤکر قافلہ کی جگہ بیٹھ گئیں اور آپ نے خیال کیا کہ میری تلاش میں قافلہ ضرور واپس ہو گا، قافلہ کے پیچھے پڑی گر ی چیز اٹھانے کے لئے ایک صاحب رہا کرتے تھے اس موقع پر حضرت صفوان اس کام پر تھے جب وہ آئے اور انہوں نے آپ کو دیکھا تو بلند آواز سے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پکارا آپ نے کپڑے سے پردہ کر لیا ، انہوں نے اپنی اُونٹنی بٹھائی آپ اس پر سوار ہو کر لشکر میں پہنچیں ۔ منافقینِ سیاہ باطن نے اوہامِ فاسدہ پھیلائے اور آپ کی شان میں بدگوئی شروع کی بعض مسلمان بھی ان کے فریب میں آ گئے اور ان کی زبان سے بھی کوئی کلمۂ بیجا سرزد ہوا ، اُم المومنین بیمار ہو گئیں اور ایک ماہ تک بیمار رہیں اس زمانہ میں انہیں اطلاع نہ ہوئی کہ ان کی نسبت منافقین کیا بَک رہے ہیں ایک روز اُمِ مسطح سے انہیں یہ خبر معلوم ہوئی اور اس سے آپ کا مرض اور بڑھ گیا اور اس صدمہ میں اس طرح روئیں کہ آپ کا آنسو نہ تھمتا تھا اور نہ ایک لمحہ کے لئے نیند آتی تھی اس حال میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازِل ہوئی اور حضرت اُم المؤمنین کی طہارت میں یہ آیتیں اتریں اور آپ کا شرف و مرتبہ اللہ تعالٰی نے اتنا بڑھایا کہ قرآنِ کریم کی بہت سی آیات میں آپ کی طہارت و فضیلت بیان فرمائی گئی اس دوران میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے برسرِ منبر بقسم فرما دیا تھا مجھے اپنے اہل کی پاکی و خوبی بالیقین معلوم ہے تو جس شخص نے ان کے حق میں بدگوئی کی ہے اس کی طرف سے میرے پاس کون معذرت پیش کر سکتا ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ منافقین بالیقین جھوٹے ہیں اُم المؤمنین بالیقین پاک ہیں ، اللہ تعالٰی نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسمِ پاک کو مکھی کے بیٹھنے سے محفوظ رکھا کہ وہ نجاستوں پر بیٹھتی ہے کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ آپ کو بدعورت کی صحبت سے محفوظ نہ رکھے ۔ حضرتِ عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بھی اس طرح آپ کی طہارت بیان کی اور فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے آپ کا سایہ زمین پر نہ پڑنے دیا تاکہ اس سایہ پر کسی کا قدم نہ پڑے تو جو پروردگار آپ کے سایہ کو محفوظ رکھتا ہے کس طرح ممکن ہے کہ وہ آپ کے اہل کو محفوظ نہ فرمائے ۔ حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ ایک جوں کا خون لگنے سے پروردگارِ عالم نے آپ کو نعلین اتار دینے کا حکم دیا جو پروردگار آپ کی نعلین شریف کی اتنی سی آلودگی کوگوارا نہ فرمائے ممکن نہیں کہ وہ آپ کے اہل کی آلودگی گوارا کرے ۔ اس طرح بہت سے صحابہ اور بہت سے صحابیات نے قسمیں کھائیں ، آیت نازِل ہونے سے قبل ہی حضرت اُم المومنین کی طرف سے قلوب مطمئن تھے آیت کے نُزول نے ان کا عز و شرف اور زیادہ کر دیا تو بدگویوں کی بدگوئی اللہ اور اس کے رسول اور صحابۂ کِبار کے نزدیک باطل ہے اور بدگوئی کرنے والوں کے لئے سخت ترین مصیبت ہے ۔(ف16)کہ اللہ تبارک و تعالٰی تمہیں اس پر جزا دے گا اور حضرت اُم المؤمنین کی شان اور ان کی براءت ظاہر فرمائے گا چنانچہ اس براءت میں اس نے اٹھارہ آیتیں نازِل فرمائیں ۔(ف17)یعنی بقدر اس کے عمل کے کہ کسی نے طوفان اٹھایا ، کسی نے بہتان اٹھانے والے کی زبانی موافقت کی ، کوئی ہنس دیا ، کسی نے خاموشی کے ساتھ سن ہی لیا جس نے جو کیا اس کا بدلہ پائے گا ۔(ف18)کہ اپنے دل سے یہ طوفان گڑھا اور اس کو مشہور کرتا پھرا اور وہ عبداللہ بن اُبی بن سلول منافق ہے ۔(ف19)آخرت میں ۔ مروی ہے کہ ان بہتان لگانے والوں پر بحکمِ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حد قائم کی گئی اور اسی۸۰ اسی۸۰ کوڑے لگائے گئے ۔
کیوں نہ ہوا ہوا جب تم نے اسے سنا تھا کہ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں نے اپنوں پر نیک گمان کیا ہوتا (ف۲۰) اور کہتے یہ کھلا بہتان ہے (ف۲۱)
(ف20)کیونکہ مسلمان کو یہی حکم ہے کہ مسلمان کے ساتھ نیک گمان کرے اور بدگمانی ممنوع ہے ۔ بعضے گمراہ بے باک یہ کہہ کر گزرتے ہیں کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معاذ اللہ اس معاملہ میں بدگمانی ہو گئی تھی ، وہ مفتری کذّاب ہیں اور شانِ رسالت میں ایسا کلمہ کہتے ہیں جو مؤمنین کے حق میں بھی لائق نہیں ہے ۔ اللہ تعالٰی مؤمنین سے فرماتا ہے کہ تم نے نیک گمان کیوں نہ کیا تو کیسے ممکن تھا کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدگمانی کرتے اور حضور کی نسبت بدگمانی کا لفظ کہنا بڑی سیاہ باطنی ہے خاص کر ایسی حالت میں جب کہ بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بقسم فرمایا کہ میں جانتا ہوں کہ میرے اہل پاک ہیں جیسا کہ اوپر مذکور ہو چکا ۔مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان پر بدگمانی کرنا ناجائز ہے اور جب کسی نیک شخص پر تہمت لگائی جائے تو بغیر ثبوت مسلمان کو اس کی موافقت اور تصدیق کرنا روا نہیں ۔(ف21)بالکل جھوٹ ہے بے حقیقت ہے ۔
جب تم ایسی بات اپنی زبانوں پر ایک دوسرے سے سن کر لاتے تھے اور اپنے منہ سے وہ نکالتے تھے جس کا تمہیں علم نہیں اور اسے سہل سمجھتے تھے (ف۲۳) اور وہ اللہ کے نزدیک بڑی بات ہے (ف۲٤)
(ف23)اور خیال کرتے تھے کہ اس میں بڑا گناہ نہیں ۔(ف24)جرمِ عظیم ہے ۔
اور کیوں نہ ہوا جب تم نے سنا تھا کہا ہوتا کہ ہمیں نہیں پہنچتا کہ ایسی بات کہیں (ف۲۵) الہٰی پاکی ہے تجھے (ف۲٦) یہ بڑا بہتان ہے،
(ف25)یہ ہمارے لئے روا نہیں کیونکہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا ۔(ف26)اس سے کہ تیرے نبی کی حرم کو فُجور کی آلودگی پہنچے ۔مسئلہ : یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی نبی کی بی بی بدکار ہو سکے اگرچہ اس کا مبتلائے کُفر ہونا ممکن ہے کیونکہ انبیاء کُفّار کی طرف مبعوث ہوتے ہیں تو ضروری ہے کہ جو چیز کُفّار کے نزدیک بھی قابلِ نفرت ہو اس سے وہ پاک ہوں اور ظاہر ہے کہ عورت کی بدکاری ان کے نزدیک قابلِ نفرت ہے ۔ (کبیر وغیرہ)
وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں برا چرچا پھیلے ان کے لیے دردناک عذاب ہے دنیا (ف۲۷) اور آخرت میں (ف۲۸) اور اللہ جانتا ہے (ف۲۹) اور تم نہیں جانتے،
(ف27)یعنی اس جہان میں اور وہ حد قائم کرنا ہے چنانچہ ابنِ اُبی اور حَسّان اور مِسْطَحْ کے حد لگائی گئی ۔ (مدارک)(ف28)دوزخ اگر بے توبہ مر جائیں ۔(ف29)دلوں کے راز اور باطن کے احوال ۔
تو تم اس کا مزہ چکھتے (ف۳۰) اے ایمان والو! شیطان کے قدموں پر نہ چلو، اور جو شیطان کے قدموں پر چلے تو وہ تو بےحیائی اور بری ہی بات بتائے گا (ف۳۱) اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم میں کوئی بھی کبھی ستھرا نہ ہوسکتا (ف۳۲) ہاں اللہ ستھرا کردیتا ہے جسے چاہے (ف۳۳) اور اللہ سنتا جانتا ہے،
(ف31)اس کے وسوسوں میں نہ پڑو اور بہتان اٹھانے والوں کی باتوں پر کان نہ لگاؤ ۔(ف32)اور اللہ تعالٰی اس کو توبہ و حُسنِ عمل کی توفیق نہ دیتا اور عفو و مغفرت نہ فرماتا ۔(ف33)توبہ قبول فرما کر ۔
اور قسم نہ کھائیں وہ جو تم میں فضیلت والے (ف۳٤) اور گنجائش والے ہیں (ف۳۵) قرابت والوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے کی، اور چاہیے کہ معاف کریں اور درگزریں، کیا تم اسے دوست نہیں رکھتے کہ اللہ تمہاری بخشش کرے، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۳٦)
(ف34)اور منزلت والے ہیں دین میں ۔(ف35)ثروت و مال میں ۔شانِ نُزول : یہ آیت حضرت ابوبکر صِدّیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حق میں نازِل ہوئی ، آپ نے قسم کھائی تھی کہ مِسۡطح کے ساتھ سلوک نہ کریں گے اور وہ آپ کی خالہ کے بیٹے تھے نادار تھے ، مہاجر تھے ، بدری تھے ، آپ ہی ان کا خرچ اٹھاتے تھے مگر چونکہ اُم المؤمنین پر تہمت لگانے والوں کے ساتھ انہوں نے موافقت کی تھی اس لئے آپ نے یہ قسم کھائی ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی ۔(ف36)جب یہ آیت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پڑھی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا بے شک میری آرزو ہے کہ اللہ میری مغفرت کرے اور میں مِسطَح کے ساتھ جو سلوک کرتا تھا اس کو کبھی موقوف نہ کروں گا چنانچہ آپ نے اس کو جاری فرما دیا ۔مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو شخص کسی کام پر قَسم کھائے پھر معلوم ہو کہ اس کا کرنا ہی بہتر ہے تو چاہیئے کہ اس کام کو کرے اور قسم کا کَفّارہ دے ، حدیثِ صحیح میں یہی وارد ہے ۔مسئلہ : اس آیت سے حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی فضیلت ثابت ہوئی اس سے آپ کی علوئے شان و مرتبت ظاہر ہوتی ہے کہ اللہ تعالٰی نے آپ کو اُولوالفضل فرمایا اور ۔
بیشک وہ جو عیب لگاتے ہیں انجان (ف۳۷) پارسا ایمان والیوں کو (ف۳۸) ان پر لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے (ف۳۹)
(ف37)عورتوں کو جو بدکاری اور فجور کو جانتی بھی نہیں اوربرا خیال ان کے دل میں بھی نہیں گزرتا اور ۔(ف38)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ازواجِ مطہرات کے اوصاف ہیں ۔ ایک قول یہ ہے کہ ا س سے تمام ایماندار پارسا عورتیں مراد ہیں ، ان کے عیب لگانے والوں پر اللہ تعالٰی لعنت فرماتا ہے ۔(ف39)یہ عبداللہ بن اُبی بن سلول منافق کے حق میں ہے ۔ (خازن)
جس دن (ف٤۰) ان پر گواہی دیں گے ان کی زبانیں (ف٤۱) اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں جو کچھ کرتے تھے،
(ف40)یعنی روزِ قیامت ۔(ف41)زبانوں کا گواہی دینا تو ان کے مونہوں پر مُہریں لگائے جانے سے قبل ہوگا اور اس کے بعد مونہوں پرمُہریں لگا دی جائیں گی جس سے زبانیں بند ہو جائیں گے اور اعضاء بولنے لگیں گی اور دنیا میں جو عمل کئے تھے ان کی خبر دیں گے جیسے کہ آگے ارشاد ہے ۔
اس دن اللہ انھیں ان کی سچی سزا پوری دے گا (ف٤۲) اور جان لیں گے کہ اللہ ہی صریح حق ہے،
(ف42)جس کے وہ مستحق ہیں ۔(ف43)یعنی موجود ظاہر ہے اسی کی قدرت سے ہر چیز کا وجود ہے ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ معنٰی یہ ہیں کہ کُفّار دنیا میں اللہ تعالٰی کے وعدوں میں شک کرتے تھے ، اللہ تعالٰی آخرت میں انہیں ان کے اعمال کی جزا دے کر ان وعدوں کا حق ہونا ظاہر فرما دے گا ۔ فائدہ : قرآنِ کریم میں کسی گناہ پر ایسی تغلیظ و تشدید اور تکرار و تاکید نہیں فرمائی گئی جیسی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا کے اوپر بہتان باندھنے پر فرمائی گئی ، اس سے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رِفعتِ منزلت ظاہر ہوتی ہے ۔
(ف٤۳) گندیاں گندوں کے لیے اور گندے گندیوں کے لیے (ف٤٤) اور ستھریاں ستھروں کے لیے اور ستھرے ستھریوں کے لیے وہ (ف٤۵) پاک ہیں ان باتوں سے جو یہ (ف٤٦) کہہ رہے ہیں، ان کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے (ف٤۷)
(ف44)یعنی خبیث کے لئے خبیث لائق ہے ، خبیثہ عورت خبیث مرد کے لئے اور خبیث مرد خبیثہ عورت کے لئے اور خبیث آدمی خبیث باتوں کے درپے ہوتا ہے اور خبیث باتیں خبیث آدمی کا وطیرہ ہوتی ہیں ۔(ف45)یعنی پاک مرد اور عورتیں جن میں سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا اور صفوان ہیں ۔(ف46)تہمت لگانے والے خبیث ۔(ف47)یعنی ستھروں اور ستھریوں کے لئے جنّت میں ۔ اس آیت سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا کمال فضل و شرف ثابت ہوا کہ وہ طیِّبہ اور پاک پیدا کی گئیں اور قرآنِ کریم میں ان کی پاکی کا بیان فرمایا گیا اور انہیں مغفرت اور رزقِ کریم کا وعدہ دیا گیا ۔ حضرت اُم المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو اللہ تعالٰی نے بہت خصائص عطا فرمائے جو آپ کے لئے قابلِ فخر ہیں ، ان میں سے بعض یہ ہیں کہ جبریلِ امین سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور میں ایک حریرپر آپ کی تصویر لائے اور عرض کیا کہ یہ آپ کی زوجہ ہیں اور یہ کہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کے سوا کسی کنواری (باکرہ) سے نکاح نہ فرمایا اور یہ کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات آپ کی گود میں اور آپ کی نوبت کے دن ہوئی اور آپ ہی کا حجرہ شریفہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آرام گاہ اور آپ کا روضۂ طاہرہ ہوا اور یہ کہ بعض اوقات ایسی حالت میں حضور پر وحی نازِل ہوئی کہ حضرت صدیقہ آپ کے ساتھ آپ کے لحاف میں ہوتیں اور یہ کہ آپ حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ خلیفۂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دختر ہیں اور یہ کہ آپ پاک پیدا کی گئیں اور آپ سے مغفرت و رزقِ کریم کا وعدہ فرمایا گیا ۔
اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک اجازت نہ لے لو (ف٤۸) اور ان کے ساکنوں پر سلام نہ کرلو (ف٤۹) یہ تمہارے لیے بہتر ہے کہ تم دھیان کرو،
(ف48)مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ غیر کے گھر میں بے اجازت داخل نہ ہو اور اجازت لینے کا طریقہ یہ بھی ہے کہ بلند آواز سے سبحان اللہ یا الحمد لِلّٰہ یا اللہ اکبر کہے یا کھکارے جس سے مکان والوں کو معلوم ہو کہ کوئی آنا چاہتا ہے یا یہ کہے کہ کیا مجھے اندر آنے کی اجازت ہے ؟ غیر کے گھر سے وہ گھر مراد ہے جس میں غیر سکونت رکھتا ہو خواہ اس کا مالک ہو یا نہ ہو ۔(ف49)مسئلہ : غیر کے گھر جانے والے کی اگر صاحبِ مکان سے پہلے ہی ملاقات ہو جائے تو اوّل سلام کرے پھر اجازت چاہے اور اگر وہ مکان کے اندر ہو تو سلام کے ساتھ اجازت چاہے اس طرح کہ کہے السلام علیکم کیا مجھے اندر آنے کی اجازت ہے ؟ حدیث شریف میں ہے کہ سلام کو کلام پر مقدم کرو ۔ حضرت عبداللہ کی قراءت بھی اسی پر دلالت کرتی ہے ان کی قراء ت یوں ہے حَتّٰی تُسَلِّمُوْا عَلٰی اَھْلِہَا وَتَسْتَاذِنُوْا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ پہلے اجازت چاہے پھر سلام کرے ۔ (مدارک ، کشاف ، احمدی)مسئلہ : اگر دروازے کے سامنے کھڑے ہونے میں بے پردگی کا اندیشہ ہو تو دائیں یا بائیں جانب کھڑے ہو کر اجازت طلب کرے ۔مسئلہ :حدیث شریف میں ہے اگرگھرمیں ماں ہو جب بھی اجازت طلب کرے ۔ (مؤطا امام مالک)
پھر اگر ان میں کسی کو نہ پاؤ (ف۵۰) جب بھی بےما لکوں کی اجازت کے ان میں نہ جاؤ (ف۵۱) اور اگر تم سے کہا جائے واپس جاؤ تو واپس ہو (ف۵۲) یہ تمہارے لیے بہت ستھرا ہے، اللہ تمہارے کاموں کو جانتا ہے،
(ف50)یعنی مکان میں اجازت دینے والا موجود نہ ہو ۔(ف51)کیونکہ مِلکِ غیر میں تصرُّف کرنے کے لئے اس کی رضا ضروری ہے ۔(ف52)اور اجازت طلب کرنے میں اصرار و الحاح نہ کرو ۔مسئلہ : کسی کا دروازہ بہت زور سے کھٹ کھٹان ا اور شدید آواز سے چیخنا خاص کر عُلَماء اور بزرگوں کے دروازوں پر ایسا کرنا ، ان کو زور سے پکارنا مکرو ہ و خلافِ ادب ہے ۔
اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ان گھروں میں جاؤ جو خاص کسی کی سکونت کے نہیں (ف۵۳) اور ان کے برتنے کا تمہیں اختیار ہے، اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو، اور جو تم چھپاتے ہو،
(ف53)مثل سرائے اور مسافر خانے وغیرہ کے کہ اس میں جانے کے لئے اجازت حاصل کرنے کی حاجت نہیں ۔شانِ نُزول : یہ آیت ان اصحاب کے جواب میں نازِل ہوئی جنہوں نے آیتِ استیذان یعنی اوپر والی آیت نازِل ہونے کے بعد دریافت کیا تھا کہ مکّۂ مکرّمہ اور مدینۂ طیّبہ کے درمیان اور شام کی راہ میں جو مسافر خانے بنے ہوئے ہیں کیا ان میں داخل ہونے کے لئے بھی اجازت لینا ضروری ہے ؟
مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں (ف۵٤) اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں (ف۵۵) یہ ان کے لیے بہت ستھرا ہے، بیشک اللہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے،
(ف54)اور جس چیز کا دیکھنا جائز نہیں اس پر نظر نہ ڈالیں ۔مسائل : مرد کا بدن زیرِ ناف سے گھٹنے کے نیچے تک عورت ہے ، اس کا دیکھنا جائز نہیں اور عورتوں میں سے اپنے محارم اور غیر کی باندی کا بھی یہی حکم ہے مگر اتنا اور ہے کہ ان کے پیٹ اور پیٹھ کا دیکھنا بھی جائز نہیں اور حُرۂ اجنبیہ کے تمام بدن کا دیکھنا ممنوع ہے ۔اِنْ لَّمْ یَاْمَنْ مِّنَ الشَّھۡوَہ وَ اِنْ اَمِنَ مِنھَا فَالْمَمْنُوعُ النَّظرُ اِلیٰ مَاسِوٰی الْوَجْہِ وَالْکَفِّ وَ القَدَمِ وَ مَنْ یَّامَنُ فَاِنَّ الزَّمَانَ زَمَانُ الْفَسَادِ فَلَا یَحِلُّ النَّظَرُ اِلیَ الحُرَّۃِ الاَجنَبِیَّۃِ مُطْلَقًا مِّن غَیرضُرُورۃٍ مگر بحالتِ ضرورت قاضی و گواہ کو اور اس عورت سے نکاح کی خواہش رکھنے والے کو چہرہ دیکھنا جائز ہے اور اگر کسی عورت کے ذریعہ سے حال معلوم کر سکتا ہو تو نہ دیکھے اور طبیب کو موضعِ مرض کا بقدرِ ضرورت دیکھنا جائز ہے ۔مسئلہ : اَمْرد لڑکے کی طرف بھی شہوت سے دیکھنا حرام ہے ۔ (مدارک و احمدی)(ف55)اور زنا و حرام سے بچیں یا یہ معنٰی ہیں کہ اپنی شرم گاہوں اور ان کے لواحق یعنی تمام بدنِ عورت کو چھپائیں اور پردہ کا اہتمام رکھیں ۔
اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں (ف۵٦) اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں (ف۵۷) مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور وہ دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں، اور اپنا سنگھار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ (ف۵۸) یا شوہروں کے باپ (ف۵۹) یا اپنے بیٹوں (ف٦۰) یا شوہروں کے بیٹے (ف٦۱) یا اپنے بھائی یا اپنے بھتیجے یا اپنے بھانجے (ف٦۲) یا اپنے دین کی عورتیں یا اپنی کنیزیں جو اپنے ہاتھ کی ملک ہوں (ف٦۳) یا نوکر بشرطیکہ شہوت والے مرد نہ ہوں (ف٦٤) یا وہ بچے جنہیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں (ف٦۵) اور زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگھار (ف٦٦) اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو! سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ،
(ف56)اور غیر مردوں کو نہ دیکھیں ۔ حدیث شریف میں ہے کہ ازواجِ مطہرات میں سے بعض اُمہات المؤمنین سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں تھیں ، اسی وقت ابنِ اُم مکتوم آئے حضور نے ازواج کو پردہ کا حکم فرمایا انہوں نے عرض کیا کہ وہ تو نابینا ہیں فرمایا تو تم تو نابینا نہیں ہو ۔ (ترمذی و ابوداؤد) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورتوں کو بھی نامَحرم کا دیکھنا اور اس کے سامنے ہونا جائز نہیں ۔(ف57)اظہر یہ ہے کہ یہ حکم نماز کا ہے نہ نظر کا کیونکہ حُرّہ کا تمام بدن عورت ہے ، شوہر اور مَحرم کے سوا اور کسی کے لئے اس کے کسی حصّہ کا دیکھنا بے ضرورت جائز نہیں اور معالجہ وغیرہ کی ضرورت سے قدرِ ضرورت جائز ہے ۔ (تفسیرِ احمدی)(ف58)اور انہیں کے حکم میں دادا پردادا وغیرہ تمام اصول ۔(ف59)کہ وہ بھی مَحرم ہو جاتے ہیں ۔(ف60)اور انہیں کے حکم میں ہے ان کی اولاد ۔(ف61)کہ وہ بھی مَحرم ہو گئے ۔(ف62)اور انہیں کے حکم میں ہیں چچا ماموں وغیرہ تمام محارم ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ابو عبیدہ بن جراح کو لکھا تھا کہ کُفّار اہلِ کتاب کی عورتوں کو مسلمان عورتوں کے ساتھ حمّام میں داخل ہونے سے منع کریں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمہ عورت کو کافِرہ عورت کے سامنے اپنا بدن کھولنا جائز نہیں ۔مسئلہ : عورت اپنے غلام سے بھی مِثل اجنبی کے پردہ کرے ۔ (مدارک و غیرہ)(ف63)ان پر اپنا سنگار ظاہر کرنا ممنوع نہیں اور غلام ان کے حکم میں نہیں ، اس کو اپنی مالکہ کے مواضعِ زینت کو دیکھنا جائز نہیں ۔(ف64)مثلاً ایسے بوڑھے ہوں جنہیں اصلا شہوت باقی نہیں رہی ہو اور ہوں صالح ۔مسئلہ : ائمۂ حنفیہ کے نزدیک خصی اور عِنِّین حرمتِ نظر میں اجنبی کا حکم رکھتے ہیں ۔مسئلہ : اس طرح قبیح الافعال مُخنّث سے بھی پردہ کیا جائے جیسا کہ حدیثِ مسلم سے ثابت ہے ۔(ف65)وہ ابھی نادان نابالغ ہیں ۔(ف66)یعنی عورتیں گھر کے اندر چلنے پھرنے میں بھی پاؤں اس قدر آہستہ رکھیں کہ ان کے زیور کی جھنکار نہ سُنی جائے ۔مسئلہ : اسی لئے چاہیئے کہ عورتیں باجے دار جھانجھن نہ پہنیں حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالٰی اس قوم کی دعا نہیں قبول فرماتا جن کی عورتیں جھانجھن پہنتی ہوں ۔ اس سے سمجھنا چاہیئے کہ جب زیور کی آواز عدمِ قبولِ دعا کا سبب ہے تو خاص عورت کی آواز اور اس کی بے پردگی کیسی موجبِ غضبِ الٰہی ہو گی ، پردے کیطرف سے بے پروائی تباہی کا سبب ہے ۔ (اللہ کی پناہ) ( تفسیرِ احمدی وغیرہ )
اور نکاح کردو اپنوں میں ان کا جو بےنکاح ہوں (ف٦۷) اور اپنے لائق بندوں اور کنیزوں کا اگر وہ فقیر ہوں تو اللہ انھیں غنی کردے گا اپنے فضل کے سبب (ف٦۸) اور اللہ وسعت والا علم والا ہے،
(ف67)خواہ مرد یا عورت کنوارے یا غیر کنوارے ۔(ف68)اس غناء سے مراد یا قناعت ہے کہ وہ بہترین غنا ہے جو قانع کو تردُّد سے بے نیاز کر دیتا ہے یا کفایت کہ ایک کا کھانا دو کے لئے کافی ہو جائے جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہوا ہے یا زوج و زوجہ کے دو رزقوں کا جمع ہو جانا یا فراخی بہ برکتِ نکاح جیسا کہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے ۔
اور چاہیے کہ بچے رہیں (ف٦۹) وہ جو نکاح کا مقدور نہیں رکھتے (ف۷۰) یہاں تک کہ اللہ مقدور والا کردے اپنے فضل سے (ف۷۱) اور تمہارے ہاتھ کی مِلک باندی غلاموں میں سے جو یہ چاہیں کہ کچھ مال کمانے کی شرط پر انھیں آزادی لکھ دو تو لکھ دو (ف۷۲) اگر ان میں کچھ بھلائی جانو (ف۷۳) اور اس پر ان کی مدد کرو اللہ کے مال سے جو تم کو دیا (ف۷٤) اور مجبور نہ کرو اپنی کنیزوں کو بدکاری پر جب کہ وہ بچنا چاہیں تاکہ تم دنیوی زندگی کا کچھ مال چاہو (ف۷۵) اور جو انھیں مجبور کرے گا تو بیشک اللہ بعد اس کے کہ وہ مجبوری ہی کی حالت پر رہیں بخشنے والا مہربان ہے (ف۷٦)
(ف69)حرام کاری سے ۔(ف70)جنہیں مَہر و نفقہ میسّر نہیں ۔(ف71)اور مَہر و نفقہ ادا کرنے کے قابل ہو جائیں ۔ حدیث شریف میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو نکاح کی قدرت رکھے وہ نکاح کرے کہ نکاح پارسائی و پاک بازی کا مُعِین ہے اور جسے نکاح کی قدرت نہ ہو وہ روزے رکھے کہ یہ شہوتوں کو توڑنے والے ہیں ۔(ف72)کہ وہ اس قدر مال ادا کر کے آزاد ہو جائیں اور اس طرح کی آزادی کو کتابت کہتے ہیں اور آیت میں اس کا امر استحباب کے لئے ہے اور یہ استحباب اس شرط کے ساتھ مشروط ہے جو اس کے بعد ہی آیت میں مذکور ہے ۔شانِ نُزول : حویطب بن عبدالعزٰی کے غلام صبیح نے اپنے مولٰی سے کتابت کی درخواست کی ، مولٰی نے انکار کیا ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی تو حویطب نے اس کو سو دینار پر مکاتَب کر دیا اور ان میں سے بیس اس کو بخش دئے باقی اس نے ادا کر دیئے ۔(ف73)بھلائی سے مراد امانت و دیانت اور کمائی پر قدرت رکھنا ہے کہ وہ حلال روزی سے مال حاصل کر کے آزاد ہو سکے اور مولٰی کو مال دے کر آزادی حاصل کرنے کے لئے بھیک نہ مانگتا پھرے اسی لئے حضرتِ سلمان فارسی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنے غلام کو مکاتَب کرنے سے انکار فرما دیا جو سوائے بھیک کے کوئی ذریعہ کسب کا نہ رکھتا تھا ۔(ف74)مسلمانوں کو ارشاد ہے کہ وہ مکاتَب غلاموں کو زکوٰۃ وغیرہ دے کر مدد کریں جس سے وہ بدلِ کتابت دے کر اپنی گردن چھڑا سکیں اور آزاد ہو سکیں ۔(ف75)یعنی طمعِ مال میں اندھے ہو کر کنیزوں کو بدکاری پر مجبور نہ کریں ۔شانِ نُزول : یہ آیت عبداللہ بن اُبی بن سلول منافق کے حق میں نازِل ہوئی جو مال حاصل کرنے کے لئے اپنی کنیزوں کو بدکاری پر مجبور کرتا تھا ، ان کنیزوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کی شکایت کی ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی ۔(ف76)اور وبالِ گناہ مجبور کرنے والے پر ۔
اللہ نور ہے (ف۷۸) آسمانوں اور زمینوں کا، اس کے نور کی (ف۷۹) مثال ایسی جیسے ایک طاق کہ اس میں چراغ ہے وہ چراغ ایک فانوس میں ہے وہ فانوس گویا ایک ستارہ ہے موتی سا چمکتا روشن ہوتا ہے برکت والے پیڑ زیتون سے (ف۸۰) جو نہ پورب کا نہ پچھم کا (ف۸۱) قریب ہے کہ اس کا تیل (ف۸۲) بھڑک اٹھے اگرچہ اسے آگ نہ چھوئے نور پر نور ہے (ف۸۳) اللہ اپنے نور کی راہ بتاتا ہے جسے چاہتا ہے، اور اللہ مثالیں بیان فرماتا ہے لوگوں کے لیے، اور اللہ سب کچھ جانتا ہے،
(ف78)نور اللہ تعالٰی کے ناموں میں سے ایک نام ہے ۔ حضرت ا بنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا معنٰی یہ ہیں کہ اللہ آسمان و زمین کا ہادی ہے تو اہلِ سمٰوٰت و ارض اس کے نور سے حق کی راہ پاتے ہیں اور اس کی ہدایت سے گمراہی کی حیرت سے نجات حاصل کرتے ہیں ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا معنٰی یہ ہیں کہ اللہ تعالٰی آسمان و زمین کا منوّر فرمانے والا ہے ، اس نے آسمانوں کو ملائکہ سے اور زمین کو انبیاء سے منوّر کیا ۔(ف79)اللہ کے نور سے یا تو قلبِ مؤمن کی وہ نورانیت مراد ہے جس سے وہ ہدایت پاتا اور راہ یاب ہوتا ہے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اللہ کے اس نور کی مثال جو اس نے مؤمن کو عطا فرمایا ۔ بعض مفسِّرین نے اس نور سے قرآن مراد لیا اور ایک تفسیر یہ ہے کہ اس نور سے مراد سیدِ کائنات افضلِ موجودات حضرت رحمتِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ۔(ف80)یہ درخت نہایت کثیر البرکت ہے کیونکہ اس کا روغن جس کو زیت کہتے ہیں نہایت صاف و پاکیزہ روشنی دیتا ہے سر میں بھی لگایا جاتا ہے ، سالن اور نانخورش کی جگہ روٹی سے بھی کھایا جاتا ہے ، دنیا کے اور کسی تیل میں یہ وصف نہیں اور درختِ زیتون کے پتے نہیں گرتے ۔ (خازن)(ف81)بلکہ وسط کا ہے کہ نہ اسے گرمی سے ضَرر پہنچے نہ سردی سے اور وہ نہایت اجود و اعلٰی ہے اور اس کے پھل غایتِ اعتدال میں ۔(ف82)اپنی صفا و لطافت کے باعث خود ۔(ف83)اس تمثیل کے معنٰی میں اہلِ علم کے کئی قول ہیں ایک یہ کہ نور سے مراد ہدایت ہے اور معنٰی یہ ہیں کہ اللہ تعالٰی کی ہدایت غایتِ ظہور میں ہے کہ عالَمِ محسوسات میں اس کی تشبیہ ایسے روشن دان سے ہو سکتی ہے جس میں صاف شفاف فانوس ہو ، اس فانوس میں ایسا چراغ ہو جو نہایت ہی بہتر اور مصفّٰی زیتون سے روشن ہو کہ اس کی روشنی نہایت اعلٰی اور صاف ہو اور ایک قول یہ ہے کہ یہ تمثیل نورِ سیدِ انبیاء محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کعب احبار سے فرمایا کہ اس آیت کے معنٰی بیان کرو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے اپنے نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مثال بیان فرمائی روشندان ( طاق) تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سینہ شریف ہے اور فانوس قلبِ مبارک اور چراغِ نبوّت کے شجرِ نبوّت سے روشن ہے اور اس نورِ مُحمّدی کی روشنی و اضائت اس مرتبۂ کمالِ ظہور پر ہے کہ اگر آپ اپنے نبی ہونے کا بیان بھی نہ فرمائیں جب بھی خَلق پر ظاہر ہو جائے اور حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ روشندان تو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سینہ مبارک ہے اور فانوس قلبِ اطہر اور چراغ وہ نور جو اللہ تعالٰی نے اس میں رکھا کہ شرقی ہے نہ غربی ، نہ یہودی و نصرانی ، ایک شجرۂ مبارکہ سے روشن ہے وہ شجر حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں ۔ نورِ قلبِ ابراہیم پر نورِ مُحمّدی نور پر نور ہے اور محمد بن کعب قرظی نے کہا کہ روشن دان و فانوس تو حضرت اسمٰعیل علیہ السلام ہیں اور چراغ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور شجرۂ مبارکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کہ اکثر انبیاء آپ کی نسل سے ہیں اور شرقی و غربی نہ ہونے کے یہ معنٰی ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نہ یہودی تھے نہ نصرانی کیونکہ یہود مغرب کی طرف نماز پڑھتے ہیں اور نصارٰی مشرق کی طرف ، قریب ہے کہ محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محاسن و کمالات نُزولِ وحی سے قبل ہی خَلق پر ظاہر ہو جائیں ۔ نور پر نور یہ کہ نبی ہیں نسلِ نبی سے ، نورِ محمّدی ہے نور ابراہیمی پر ، اس کے علاوہ اور بھی بہت اقوال ہیں ۔ (خازن)
ان گھروں میں جنہیں بلند کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے (ف۸٤) اور ان میں اس کا نام لیا جاتا ہے، اللہ کی تسبیح کرتے ہیں ان میں صبح اور شام (ف۸۵)
(ف84)اور ان کی تعظیم و تطہیر لازم کی ، مراد ان گھروں سے مسجدیں ہیں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا مسجدیں بیت اللہ ہیں زمین میں ۔(ف85)تسبیح سے مراد نمازیں ہیں صبح کی تسبیح سے فجر اور شام سے ظہر و عصر و مغرب و عشاء مراد ہیں ۔
وہ مرد جنہیں غافل نہیں کرتا کوئی سودا اور نہ خرید و فروخت اللہ کی یاد (ف۸٦) اور نماز برپا رکھنے (ف۸۷) اور زکوٰة دینے سے (ف۸۸) ڈرتے ہیں اس دن سے جس میں الٹ جائیں گے دل اور آنکھیں (ف۸۹)
(ف86)اور اس کے ذکرِ قلبی و لسانی اور اوقاتِ نماز پر مسجدوں کی حاضر ی سے ۔(ف87)اور انہیں وقت پر ادا کرنے سے ۔ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بازار میں تھے مسجد میں نماز کے لئے اقامت کہی گئی آپ نے دیکھا کہ بازار والے اٹھے اور دوکانیں بند کر کے مسجد میں داخل ہو گئے تو فرمایا کہ آیت رِجَالٌ لَّا تُلْھِیْھِمْ ایسے ہی لوگوں کے حق میں ہے ۔(ف88)اس کے وقت پر ۔(ف89)دلوں کا اُلٹ جانا یہ ہے کہ شدتِ خوف و اضطراب سے اُلٹ کر گلے تک چڑھ جائیں گے نہ باہر نکلیں نہ نیچے اتریں اور آنکھیں اوپر چڑھ جائیں گی یا یہ معنٰی ہیں کُفّار کے دل کُفر و شک سے ایمان و یقین کی طرف پلٹ جائیں گے اور آنکھوں سے پردے اُٹھ جائیں گے یہ تو اس دن کا بیان ہے ، آیت میں یہ ارشاد فرمایا گیا کہ وہ فرمانبردار بندے جو ذکر و طاعت میں نہایت مستعِد رہتے ہیں اور عبادت کی ادا میں سرگرم رہتے ہیں باوجود اس حُسنِ عمل کے اس روز سے خائف رہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالٰی کی عبادت کا حق ادا نہ ہو سکا ۔
اور جو کافر ہوئے ان کے کام ایسے ہیں جیسے دھوپ میں چمکتا ریتا کسی جنگل میں کہ پیاسا اسے پانی سمجھے، یہاں تک جب اس کے پاس آیا تو اسے کچھ نہ پایا (ف۹۰) اور اللہ کو اپنے قریب پایا تو اس نے اس کا حساب پورا بھردیا، اور اللہ جلد حساب کرلیتا ہے (ف۹۱)
(ف90)یعنی پانی سمجھ کر اس کی تلاش میں چلا جب وہاں پہنچا تو پانی کا نام و نشان نہ تھا ایسے ہی کافِر اپنے خیال میں نیکیاں کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اللہ تعالٰی سے اس کا ثواب پائے گا جب عرصاتِ قیامت میں پہنچے گا تو ثواب نہ پائے گا بلکہ عذابِ عظیم میں گرفتار ہو گا اور اس وقت اس کی حسرت اور اس کا اندوہ و غم اس پیاس سے بدرجہا زیادہ ہو گا ۔(ف91)اعمالِ کُفّار کی مثال ایسی ہے ۔
یا جیسے اندھیریاں کسی کنڈے کے (گہرائی والے) دریا میں (ف۹۲) اس کے اوپر موج موج کے اوپر اور موج اس کے اوپر بادل، اندھیرے ہیں ایک پر ایک (ف۹۳) جب اپنا ہاتھ نکالے تو سوجھائی دیتا معلوم نہ ہو (ف۹٤) اور جسے اللہ نور نہ دے اس کے لیے کہیں نور نہیں (ف۹۵)
(ف92)سمندروں کی گہرائی میں ۔(ف93)ایک اندھیرا دریا کی گہرائی کا ، اس پر ایک اور اندھیرا موجوں کے تراکم کا ، اس پر اور اندھیرا بادلوں کی گھری ہوئی گھٹا کا ، ان اندھیریوں میں شدت کا یہ عالم کہ جو اس میں ہو وہ ۔(ف94)باوجود یکہ اپنا ہاتھ نہایت ہی قریب اور اپنے جسم کا جزو ہے جب وہ بھی نظر نہ آئے تو اور دوسری چیز کیا نظر آئے گی ، ایسا ہی حال ہے کافِر کا کہ وہ اعتقادِ باطل اور قولِ ناحق اور عملِ قبیح کی تاریکیوں میں گرفتار ہے ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ دریا کے کنڈے اور اس کی گہرائی سے کافِر کے دل کو اور موجوں سے جہل و شک و حیرت کو جو کافِر کے دل پر چھائے ہوئے ہیں اور بادلوں سے مُہر کو جو ان کے دلوں پر ہے تشبیہ دی گئی ۔(ف95)راہ یاب وہی ہوتا ہے جس کو وہ راہ دے ۔
کیا تم نے نہ دیکھا کہ اللہ کی تسبیح کرتے ہیں جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں اور پرندے (ف۹٦) پر پھیلائے سب نے جان رکھی ہے اپنی نماز اور اپنی تسبیح، اور اللہ ان کے کاموں کو جانتا ہے،
کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نرم نرم چلاتا ہے بادل کو (ف۹۷) پھر انھیں آپس میں مِلاتا ہے (ف۹۸) پھر انھیں تہہ پر تہہ کردیتا ہے تو تو دیکھے کہ اس کے بیچ میں سے مینہ نکلتا ہے اور اتارتا ہے آسمان سے اس میں جو برف کے پہاڑ ہیں ان میں سے کچھ اولے (ف۹۹) پھر ڈالنا ہے انھیں جس پر چاہے (ف۱۰۰) اور پھیردیتا ہے انھیں جس سے چاہے (ف۱۰۱) قریب ہے کہ اس کی بجلی کی چمک آنکھ لے جائے (ف۱۰۲)
(ف97)جس سر زمین اور جن بلاد کی طرف چاہے۔ (ف98)اور ان کے متفرق ٹکڑوں کو یک جا کر دیتا ہے ۔(ف99)اس کے معنٰی یا تویہ ہیں کہ جس طرح زمین میں پتھر کے پہاڑ ہیں ایسے ہی آسمان میں برف کے پہاڑ اللہ تعالٰی نے پیدا کئے ہیں اور یہ اس کی قدرت سے کچھ بعید نہیں ان پہاڑوں سے اولے برساتا ہے یا یہ معنٰی ہیں کہ آسمان سے اولوں کے پہاڑ برساتا ہے یعنی بکثرت اولے برساتا ہے ۔ (مدارک وغیرہ)(ف100)اور جس کے جان و مال کو چاہتا ہے ان سے ہلاک و تباہ کرتا ہے ۔(ف101)اس کے جان و مال کو محفوظ رکھتا ہے ۔(ف102)اور روشنی کی تیزی سے آنکھوں کو بے کار کر دے ۔
اور اللہ نے زمین پر ہر چلنے والا پانی سے بنایا (ف۱۰٤) تو ان میں کوئی اپنے پیٹ پر چلتا ہے (ف۱۰۵) اور ان میں کوئی دو پاؤں پر چلتا ہے (ف۱۰٦) اور ان میں کوئی چار پاؤں پر چلتا ہے (ف۱۰۷) اللہ بناتا ہے جو چاہے، بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
(ف104)یعنی تمام اجناسِ حیوان کو پانی کی جنس سے پیدا کیا اور پانی ان سب کی اصل ہے اور یہ سب باوجود متحد الاصل ہونے کے باہم کس قدر مختلف الحال ہیں ، یہ خالِقِ عالَم کے علم و حکمت اور اس کے کمالِ قدرت کی دلیلِ روشن ہے ۔(ف105)جیسے کہ سانپ اور مچھلی اور بہت سے کیڑے ۔(ف106)جیسے کہ آدمی اور پرند ۔(ف107)مثل بہائم اور درندوں کے ۔
بیشک ہم نے اتاریں صاف بیان کرنے والی آیتیں (ف۱۰۸) اور اللہ جسے چاہے سیدھی راہ دکھائے (ف۱۰۹)
(ف108)یعنی قرآنِ کریم جس میں ہدایت و احکام اور حلال و حرام کا واضح بیان ہے ۔(ف109)اور سیدھی راہ جس پر چلنے سے رضائے الٰہی و نعمتِ آخرت میسّر ہوویں اسلام ہے ۔ آیات کا ذکر فرمانے کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ انسان تین فرقوں میں منقسم ہوگئے ایک وہ جنہوں نے ظاہر میں تصدیقِ حق کی اور باطن میں تکذیب کرتے رہے وہ منافق ہیں ، دوسری وہ جنہوں نے ظاہر میں بھی تصدیق کی اور باطن میں بھی معتقد رہے یہ مخلصین ہیں ، تیسرے وہ جنہوں نے ظاہر میں بھی تکذیب کی اور باطن میں بھی وہ کُفّار ہیں ان کا ذکر بالترتیب فرمایا جاتا ہے ۔
اور اگر ان میں ڈگری ہو ( ان کے حق میں فیصلہ ہو) تو اس کی طرف آئیں مانتے ہوئے (ف۱۱۲)
(ف112)کُفّار و منافقین بارہا تجرِبہ کر چکے تھے اور انہیں کامل یقین تھا کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فیصلہ سرا سر حق و عدل ہوتا ہے اس لئے ان میں جو سچا ہوتا وہ تو خواہش کرتا تھا کہ حضور اس کا فیصلہ فرمائیں اور جو ناحق پر ہوتا وہ جانتا تھا کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سچی عدالت سے وہ اپنی ناجائز مراد نہیں پا سکتا اس لئے وہ حضور کے فیصلہ سے ڈرتا اور گھبراتا تھا ۔شانِ نُزول : بِشر نامی ایک منافق تھا ایک زمین کے معاملہ میں اس کا ایک یہودی سے جھگڑا تھا یہودی جانتا تھا کہ اس معاملہ میں وہ سچا ہے اور اس کو یقین تھا کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حق و عدل کا فیصلہ فرماتے ہیں اس لئے اس نے خواہش کی کہ یہ مقدمہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سے فیصل کرایا جائے لیکن منافق بھی جانتا تھا کہ وہ باطل پر ہے اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عدل و انصاف میں کسی کی رو رعایت نہیں فرماتے اس لئے وہ حضور کے فیصلہ پر تو راضی نہ ہوا اور کعب بن اشرف یہودی سے فیصلہ کرانے پر مُصِر ہوا اور حضور کی نسبت کہنے لگا کہ وہ ہم پر ظلم کریں گے ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی ۔
کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے (ف۱۱۳) یا شک رکھتے ہیں (ف۱۱٤) کیا یہ ڈرتے ہیں کہ اللہ و رسول ان پر ظلم کریں گے (ف۱۱۵) بلکہ خود ہی ظالم ہیں،
(ف113)کُفریا نفاق کی ۔(ف114)سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوّت میں ۔(ف115)ایسا تو ہے نہیں کیونکہ یہ وہ خوب جانتے ہیں کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فیصلہ حق سے متجاوز ہو ہی نہیں سکتا اور کوئی بددیانت آپ کی عدالت سے پرایا حق مارنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا اسی وجہ سے وہ آپ کے فیصلہ سے اعراض کرتے ہیں ۔
مسلمانوں کی بات تو یہی ہے (ف۱۱٦) جب اللہ اور رسول کی طرف بلائے جائیں کہ رسول ان میں فیصلہ فرمائے کہ عرض کریں ہم نے سنا اور حکم مانا اور یہی لوگ مراد کو پہنچے،
اور انہوں نے (ف۱۱۷) اللہ کی قسم کھائی اپنے حلف میں حد کی کوشش سے کہ اگر تم انھیں حکم دو گے تو وہ ضرور جہاد کو نکلیں گے تم فرماؤ قسمیں نہ کھاؤ (ف۱۱۸) موافق شرع حکم برداری چاہیے، اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو (ف۱۱۹)
(ف117)یعنی منافقین نے ۔ ( مدارک)(ف118)کہ جھوٹی قَسم گناہ ہے ۔(ف119)زبانی اطاعت اور عملی مخالفت اس سے کچھ چھپا نہیں ۔
تم فرماؤ حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا (ف۱۲۰) پھر اگر تم منہ پھیرو (ف۱۲۱) تو رسول کے ذمہ وہی ہے جس اس پر لازم کیا گیا (ف۱۲۲) اور تم پر وہ ہے جس کا بوجھ تم پر رکھا گیا (ف۱۲۳) اور اگر رسول کی فرمانبرداری کرو گے راہ پاؤ گے، اور رسول کے ذمہ نہیں مگر صاف پہنچا دینا (ف۱۲٤)
(ف120)سچے دل اور سچی نیت سے ۔(ف121)رسول علیہ الصلٰوۃ والسلام کی فرمانبرداری سے تو اس میں ان کا کچھ ضَرر نہیں ۔(ف122)یعنی دین کی تبلیغ اور احکامِ الہی کا پہنچا دینا اس کو رسول علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اچھی طرح ادا کر دیا اور وہ اپنے فرض سے عہد ہ برآ ہو چکے ۔(ف123)یعنی رسول علیہ الصلٰوۃ والسلام کی اطاعت و فرمانبرداری ۔(ف124)چنانچہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت واضح طور پر پہنچا دیا ۔
اللہ نے وعدہ دیا ان کو جو تم میں سے ایمان لائے اور اچھے کام کیے (ف۱۲۵) کہ ضرور انھیں زمین میں خلافت دے گا (ف۱۲٦) جیسی ان سے پہلوں کو دی (ف۱۲۷) اور ضرور ان کے لیے جمادے گا ان کا وہ دین جو ان کے لیے پسند فرمایا ہے (ف۱۲۸) اور ضرور ان کے اگلے خوف کو امن سے بدل دے گا (ف۱۲۹) میری عبادت کریں میرا شریک کسی کو نہ ٹھہرائیں، اور جو اس کے بعد ناشکری کرے تو وہی لوگ بےحکم ہیں،
(ف125)شانِ نُزول : سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وحی نازِل ہونے سے دس سال تک مکّہ مکرّمہ میں مع اصحاب کے قیام فرمایا اور کُفّار کی ایذاؤں پر جو شب و روز ہوتی رہتی تھیں صبر کیا پھر بحکمِ الٰہی مدینہ طیّبہ کو ہجرت فرمائی اور انصار کے منازل کو اپنی سکونت سے سرفراز کیا مگر قریش اس پر بھی باز نہ آئے روز مرّہ ان کی طرف سے جنگ کے اعلان ہوتے اور طرح طرح کی دھمکیاں دی جاتیں اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر وقت خطرہ میں رہتے اور ہتھیار ساتھ رکھتے ایک روز ایک صحابی نے فرمایا کبھی ایسا بھی زمانہ آئے گا کہ ہمیں امن میسّر ہو اور ہتھیاروں کے بار سے ہم سبکدوش ہوں ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی ۔(ف126)اور بجائے کُفّار کے تمہاری فرمانروائی ہوگی ۔ حدیث شریف میں ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس جس چیز پر شب و روز گزرے ہیں ان سب پر دینِ اسلام داخل ہوگا ۔(ف127)حضرت داؤد و سلیمان وغیرہ انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کو اور جیسی کہ جبابرۂ مِصر و شام کو ہلاک کر کے بنی اسرائیل کو خلافت دی اور ان ممالک پر ان کو مسلّط کیا ۔(ف128)یعنی دینِ اسلام کو تمام ادیان پر غالب فرمائے گا ۔(ف129)چنانچہ یہ وعدہ پورا ہوا اور سرزمینِ عرب سے کُفّار مٹا دیئے گئے ، مسلمانوں کا تسلُّط ہوا ، مشرق و مغرب کے ممالک اللہ تعالٰی نے ان کے لئے فتح فرمائے ، اکاسرہ کے ممالک و خزائن ان کے قبضہ میں آئے ، دنیا پر ان کا رعب چھا گیا ۔فائدہ : اس آیت میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ اور آپ کے بعد ہونے والے خلفاءِ راشدین کی خلافت کی دلیل ہے کیونکہ ان کے زمانہ میں فتوحاتِ عظیمہ ہوئے اور کسرٰی وغیرہ مُلوک کے خزائن مسلمانوں کے قبضہ میں آئے اور امن و تمکین اور دین کا غلبہ حاصل ہوا ۔ ترمذی و ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا خلافت میرے بعد تیس سال ہے پھر ملک ہوگا اس کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خلافت دو برس تین ماہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خلافت دس سال چھ ماہ اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خلافت بارہ سال اور حصرت علی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خلافت چار سال نو ماہ اور حضرت امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خلافت چھ ماہ ہوئی ۔ (خازن)
اے ایمان والو! چاہیے کہ تم سے اذن لیں تمہارے ہاتھ کے مال غلام (ف۱۳۰) اور جو تم میں ابھی جوانی کو نہ پہنچے (ف۱۳۱) تین وقت (ف۱۳۲) نمازِ صبح سے پہلے (ف۱۳۳) اور جب تم اپنے کپڑے اتار رکھتے ہو دوپہر کو (ف۱۳٤) اور نماز عشاء کے بعد (ف۱۳۵) یہ تین وقت تمہاری شرم کے ہیں (ف۱۳٦) ان تین کے بعد کچھ گناہ نہیں تم پر نہ ان پر (ف۱۳۷) آمدورفت رکھتے ہیں تمہارے یہاں ایک دوسرے کے پاس (ف۱۳۸) اللہ یونہی بیان کرتا ہے تمہارے لیے آیتیں، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
(ف130)اور باندیاں ۔شانِ نُزول : حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک انصاری غلام مدلج بن عمرو کو دوپہر کے وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بلانے کے لئے بھیجا وہ غلام ویسے ہی حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مکان میں چلا گیا جب کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بے تکلّف اپنے دولت سرائے میں تشریف رکھتے تھے غلام کے اچانک چلے آنے سے آپ کے دل میں خیال ہوا کہ کاش غلاموں کو اجازت لے کر مکانوں میں داخل ہونے کا حکم ہوتا ۔ اس پر یہ آیۂ کریمہ نازِل ہوئی ۔(ف131)بلکہ ابھی قریبِ بلوغ ہیں ۔ سنِ بلوغ حضرت امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک لڑکے کے لئے اٹھارہ سال اور لڑکی کے لئے سَترہ سال ، عامہ عُلَماء کے نزدیک لڑکے اور لڑکی دونوں کے لئے پندرہ سال ہے ۔ (تفسیرِ احمدی)(ف132)یعنی ان تین وقتوں میں اجازت حاصل کریں جن کا بیان اسی آیت میں فرمایا جاتا ہے ۔(ف133)کہ وہ وقت ہے خواب گاہوں سے اٹھنے اور شب خوابی کا لباس اتار کر بیداری کے کپڑے پہننے کا ۔(ف134)قیلولہ کرنے کے لئے اور تہ بند باندھ لیتے ہو ۔(ف135)کہ وہ وقت ہے بیداری کا لباس اتارنے اور خواب کا لباس پہننے کا ۔(ف136)کہ ان اوقات میں خلوت و تنہائی ہوتی ہے ، بدن چھپانے کا بہت اہتمام نہیں ہوتا ممکن ہے کہ بدن کا کوئی حصّہ کھل جائے جس کے ظاہر ہونے سے شرم آتی ہے لہذا ان اوقات میں غلام اور بچے بھی بے اجازت داخل نہ ہوں اور ان کے علاوہ جوان لوگ تمام اوقات میں اجازت حاصل کریں کسی وقت بھی بے اجازت داخل نہ ہوں ۔ (خازن وغیرہ)(ف137)مسئلہ : یعنی ان تین وقتوں کے سوا باقی اوقات میں غلام اور بچے بے اجازت داخل ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ ۔(ف138)کام و خدمت کے لئے تو ان پر ہر وقت استیذان کا لازم ہونا سببِ حرج ہوگا اور شرع میں حرج مدفوع ہے ۔ (مدارک)
اور جب تم میں لڑکے (ف۱۳۹) جوانی کو پہنچ جائیں تو وہ بھی اذن مانگیں (ف۱٤۰) جیسے ان کے اگلوں (ف۱٤۱) نے اذن مانگا، اللہ یونہی بیان فرماتا ہے تم سے اپنی آیتیں، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
(ف139)یعنی آزاد ۔(ف140)تمام اوقات میں ۔ (ف141)ان سے بڑے مَردوں ۔
اور بوڑھی خانہ نشین عورتیں (ف۱٤۲) جنہیں نکاح کی آرزو نہیں ان پر کچھ گناہ نہیں کہ اپنے بالائی کپڑے اتار رکھیں جب کہ سنگھار نہ چمکائیں (ف۱٤۳) اور ان سے بھی بچنا (ف۱٤٤) ان کے لیے اور بہتر ہے، اور اللہ سنتا جانتا ہے ،
(ف142)جن کا سن زیادہ ہو چکا اور اولاد ہونے کی عمر نہ رہی اور پیرانہ سالی کے باعث ۔(ف143)اور بال ، سینہ ، پنڈلی وغیرہ نہ کھولیں ۔(ف144)بالائی کپڑوں کو پہنے رہنا ۔
نہ اندھے پر تنگی اور نہ لنگڑے پر مضائقہ اور نہ بیمار پر روک اور نہ تم میں کسی پر کہ کھاؤ اپنی اولاد کے گھر (ف۱٤٦) یا اپنے باپ کے گھر یا اپنی ماں کے گھر یا اپنے بھائیوں کے یہاں یا اپنی بہنوں کے گھر یا اپنے چچاؤں کے یہاں یا اپنی پھپیوں کے گھر یا اپنے ماموؤں کے یہاں یا اپنی خالاؤں کے گھر یا جہاں کی کنجیاں تمہارے قبضہ میں ہیں (ف۱٤۷) یا اپنے دوست کے یہاں تم پر کوئی الزام نہیں کہ مل کر کھاؤ یا الگ الگ (ف۱٤۰) پھر جب کسی گھر میں جاؤ تو اپنوں کو سلام کرو (ف۱۵۰) ملتے وقت کی اچھی دعا اللہ کے پاس سے مبارک پاکیزہ، اللہ یونہی بیان فرماتا ہے تم سے آیتیں کہ تمہیں سمجھ ہو،
(ف145)شانِ نُزول : سعید بن مسیّب رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ صحابۂ کرام نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد کو جاتے تو اپنے مکانوں کی چابیاں نابینا اور بیماروں اور اپاہیجوں کو دے جاتے جو ان اعذار کے باعث جہاد میں نہ جا سکتے اور انھیں اجازت دیتے کہ ان کے مکانوں سے کھانے کی چیزیں لے کر کھائیں مگر وہ لوگ اس کو گوارا نہ کرتے بایں خیال کہ شاید یہ ان کو دل سے پسند نہ ہو اس پر یہ آیت نازِل ہوئی اور انہیں اس کی اجازت د ی گئی اور ایک قول یہ ہے کہ اندھے اپاہج اور بیمار لوگ تندرستوں کے ساتھ کھانے سے بچتے کہ کہیں کسی کو نفرت نہ ہو اس آیت میں انہیں اجازت دی گئی اور ایک قول یہ ہے کہ جب جب اندھے ، نابینا ، اپاہج کسی مسلمان کے پاس جاتے اور اس کے پاس ان کے کھلانے کے لئے کچھ نہ ہوتا تو وہ انہیں کسی رشتہ دار کے یہاں کھلانے کے لئے لے جاتا یہ بات ان لوگوں کو گوارا نہ ہوتی ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی اور انہیں بتایا گیا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔(ف146)کہ اولاد کا گھر اپنا ہی گھر ہے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے ، اسی طرح شوہر کے لئے بیوی کا اور بیوی کے لئے شوہر کا گھر بھی اپنا ہی گھر ہے ۔(ف147)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اس سے مراد آدمی کا وکیل اور اس کا کار پرداز ہے ۔(ف148)معنٰی یہ ہیں کہ ان سب لوگوں کے گھر کھانا جائز ہے خواہ وہ موجود ہوں یا نہ ہوں جب کہ معلوم ہو کہ وہ اس سے راضی ہیں ، سلف کا تو یہ حال تھا کہ آدمی اپنے دوست کے گھر اس کی غَیبت میں پہنچتا تو اس کی باندی سے اس کا کیسہ طلب کرتا اور جو چاہتا اس میں سے لے لیتا جب وہ دوست گھر آتا اور باندی اس کو خبر دیتی تو اس خوشی میں وہ باندی کو آزاد کر دیتا مگر اس زمانہ میں یہ فیاضی کہاں لہذا بے اجازت کھانا نہ چاہئیے ۔ (مدارک و جلالین)(ف149)شانِ نُزول : قبیلۂ بنی لیث بن عمرو کے لوگ تنہا بغیر مہمان کے کھانا نہ کھاتے تھے کبھی کبھی مہمان نہ ملتا تو صبح سے شام تک کھانا لئے بیٹھے رہتے ۔ ان کے حق میں یہ آیت نازِل ہوئی ۔(ف150)مسئلہ : جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہو تو اپنے اہل کو سلام کرے اور ان لوگوں کو جو مکان میں ہوں بشرطیکہ ان کے دین میں خلل نہ ہو ۔ (خازن)مسئلہ : اگر خالی مکان میں داخل ہو جہاں کوئی نہیں ہے تو کہے اَلسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ وَ رَحْمَۃُ اﷲِ تَعَالٰـی وَبَرَکَاتُہ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اﷲِ الصَّالِحِیْنَ اَلسَّلَامُ عَلٰی اَہْلِ الْبَیْتِ وَرَحْمَۃُ اﷲِ تَعالٰی وَبَرَکَاتُہ، حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ مکان سے یہاں مسجدیں مراد ہیں ۔ نخعی نے کہا کہ جب مسجد میں کوئی نہ ہو تو کہے اَلسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اﷲِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ سَلَّمْ (شفاشریف) ملَّا علی قاری نے شرح شفا میں لکھا کہ خالی مکان میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام عرض کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اہلِ اسلام کے گھروں میں روحِ اقدس جلوہ فرما ہوتی ہے ۔
ایمان والے تو وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر یقین لائے اور جب رسول کے پاس کسی ایسے کام میں حاضر ہوئے ہوں جس کے لیے جمع کیے گئے ہوں (ف۱۵۱) تو نہ جائیں جب تک ان سے اجازت نہ لے لیں وہ جو تم سے اجازت مانگتے ہیں وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں (ف۱۵۲) پھر جب وہ تم سے اجازت مانگیں اپنے کسی کام کے لیے تو ان میں جسے تم چاہو اجازت دے دو اور ان کے لیے اللہ سے معافی مانگو (ف۱۵۳) بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
(ف151)جیسے کہ جہاد اور تدبیرِ جنگ اور جمعہ و عیدین اور مشورہ اور ہر اجتماع جو اللہ کے لئے ہو ۔(ف152)ان کا اجازت چاہنا نشانِ فرمانبرداری اور دلیلِ صحتِ ایمان ہے ۔(ف153)اس سے معلوم ہوا کہ افضل یہی ہے کہ حاضر رہیں اور اجازت طلب نہ کریں ۔مسئلہ : اماموں اور دینی پیشواؤں کی مجلس سے بھی بے اجازت نہ جانا چاہیئے ۔ (مدارک)
رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرالو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے (ف۱۵٤) بیشک اللہ جانتا ہے جو تم میں چپکے نکل جاتے ہیں کسی چیز کی آڑ لے کر (ف۱۵۵) تو ڈریں وہ جو رسول کے حکم کے خلاف کرتے ہیں کہ انھیں کوئی فتنہ پہنچے (ف۱۵٦) یا ان پر دردناک عذاب پڑے (ف۱۵۷)
(ف154)کیونکہ جس کو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پکاریں اس پر اجابت و تعمیل واجب ہو جاتی ہے اور ادب سے حاضر ہونا لازم ہوتا ہے اور قریب حاضر ہونے کے لئے اجازت طلب کر ے اور اجازت سے ہی واپس ہو اور ایک معنٰی مفسِّرین نے یہ بھی بیان فرمائے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ندا کرے تو ادب و تکریم اور توقیر و تعظیم کے ساتھ آپ کے معظّم القاب سے نرم آواز کے ساتھ متواضعانہ و منکسرانہ لہجہ میں یَانَبِیَّ اﷲِ یَارَسُوْلَ اﷲِ یَاحَبِیْبَ اﷲِ کہہ کر ۔ (ف155)شانِ نُزول : منافقین پر روزِ جمعہ مسجد میں ٹھہر کر نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطبے کا سننا گراں ہوتا تھا تو وہ چپکے چپکے آہستہ آہستہ صحابہ کی آڑ لے کر سرکتے سرکتے مسجد سے نکل جاتے تھے ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی ۔(ف156)دنیا میں تکلیف یا قتل یا زلزلے یا اور ہولناک حوادث یا ظالم بادشاہ کا مسلّط ہونا یا دل کا سخت ہو کر معرفتِ الٰہی سے محروم رہنا ۔(ف157)آخرت میں ۔
سن لو ! بیشک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، بیشک وہ جانتا ہے جس حال پر تم ہو (ف۱۵۸) اور اس دن کو جس میں اس کی طرف پھیرے جائیں گے (ف۱۵۹) تو وہ انھیں بتادے گا جو کچھ انہوں نے کیا، اور اللہ سب کچھ جانتا ہے، (ف۱٦۰)
(ف158)ایمان پر یا نفاق پر ۔(ف159)جزا کے لئے اور وہ دن روزِ قیامت ہے ۔(ف160)اس سے کچھ چھپا نہیں ۔