جو عورت بدکار ہو اور جو مرد تو ان میں ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ (ف۳) اور تمہیں ان پر ترس نہ آئے اللہ کے دین میں (ف٤) اگر تم ایمان لاتے ہو اللہ اور پچھلے دن پر اور چاہیے کہ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کا ایک گروہ حاضر ہو (ف۵)
The adulteress and the adulterer – punish each one of them with a hundred lashes; and may you not have pity on them in the religion to Allah, if you believe in Allah and the Last Day; and a group of believers must witness their punishment.
जो औरत बदकार हो और जो मर्द तो इन में हर एक को सौ कोड़े लगाओ और तुम्हें इन पर तरस न आए अल्लाह के दीन में अगर तुम ईमान लाते हो अल्लाह और पिछ्ले दिन पर और चाहिए कि इन की सजा के वक्त मुसलमानों का एक ग्रुप हाज़िर हो,
Jo aurat badkaar ho aur jo mard to un mein har ek ko sau koday lagao aur tumhein un par trass na aaye Allah ke deen mein agar tum iman late ho Allah aur pichlay din par aur chahiye ke un ki saza ke waqt musalmanon ka ek grooh hazir ho,
(ف3)یہ خِطاب حُکام کو ہے کہ جس مرد یا عورت سے زنا سرزد ہو اس کی حد یہ ہے کہ اس کے سو کوڑے لگاؤ ، یہ حد حُر غیر محصِن کی ہے کیونکہ حُر محصِن کا حکم یہ ہے کہ اس کو رَجم کیا جائے جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہے کہ ماعِز رضی اللہ تعالٰی عنہ کو بحکمِ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رَجم کیا گیا اور محصِن وہ آزاد مسلمان ہے جو مکلَّف ہو اور نکاحِ صحیح کے ساتھ صحبت کر چکا ہو خواہ ایک ہی مرتبہ ایسے شخص سے زنا ثابت ہو تو رجم کیا جائے گا اور اگر ان میں سے ایک بات بھی نہ ہو مثلاً حُر نہ ہو یا مسلمان نہ ہو یا عاقل بالغ نہ ہو یا اس نے کبھی اپنی بی بی کے ساتھ صحبت نہ کی ہو یا جس کے ساتھ کی ہو اس کے ساتھ نکاحِ فاسد ہوا ہو تو یہ سب غیر محصِن میں داخل ہیں اور ان سب کا حکم کوڑے مارنا ہے ۔مسائل : مرد کو کوڑے لگانے کے وقت کھڑا کیا جائے اور اس کے تمام کپڑے اتار دیئے جائیں سوا تہبند کے اور اس کے تمام بدن پر کوڑے لگائے جائیں سوائے سر چہرے اور شرم گاہ کے ، کوڑے اس طرح لگائے جائیں کہ اَلم گوشت تک نہ پہنچے اور کوڑا متوسط درجہ کا ہو اور عورت کو کوڑے لگانے کے وقت کھڑا نہ کیا جائے نہ اس کے کپڑے اتارے جائیں البتہ اگر پوستین یا روئی دار کپڑے پہنے ہوئے ہو تو اتار دیئے جائیں ، یہ حکم حُر اور حُرہ کا ہے یعنی آزاد مرد اور عورت کا اور باندی غلام کی حد اس سے نصف یعنی پچاس کوڑے ہیں جیسا کہ سورۂ نساء میں مذکور ہو چکا ۔ ثبوتِ زنا یا تو چار مردوں کی گواہیوں سے ہوتا ہے یا زنا کرنے والے کے چار مرتبہ اقرار کر لینے سے پھر بھی امام بار بار سوال کرے گا اور دریافت کرے گا کہ زنا سے کیا مراد ہے کہاں کیا ، کس سے کیا ، کب کیا ؟ اگر ان سب کو بیان کر دیا تو زنا ثابت ہو گا ورنہ نہیں اور گواہوں کو صراحتہً اپنا معائنہ بیان کرنا ہوگا بغیر اس کے ثبوت نہ ہوگا ۔ لواطت زنا میں داخل نہیں لہذا اس فعل سے حد واجب نہیں ہوتی لیکن تعزیر واجب ہوتی ہے اور اس تعزیر میں صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کے چند قول مروی ہیں (۱) آ گ میں جلا دینا (۲) غرق کر دینا (۳) بلندی سے گرانا اور اوپر سے پتھر برسانا، فاعل و مفعول دونوں کا ایک ہی حکم ہے ۔ (تفسیرِ احمدی)(ف4)یعنی حدود کے پورا کرنے میں کمی نہ کرو اور دین میں مضبوط اور متصلب رہو ۔(ف5)تاکہ عبرت حاصل ہو ۔
بدکار مرد نکاح نہ کرے مگر بدکار عورت یا شرک والی سے، اور بدکار عورت سے نکاح نہ کرے مگر بدکار مرد یا مشرک (ف٦) اور یہ کام (ف۷) ایمان والوں پر حرام ہے (ف۸)
The adulterer shall not marry except an adulteress or a polytheist woman, and none shall marry an adulteress except an adulterer or a polytheist; and this is forbidden for the believers.
बदकार मर्द निकाह न करे मगर बदकार औरत या शिर्क वाली से, और बदकार औरत से निकाह न करे मगर बदकार मर्द या मुश्रिक और यह काम ईमान वालों पर हराम है,
Badkaar mard nikah na kare magar badkaar aurat ya shirk wali se, aur badkaar aurat se nikah na kare magar badkaar mard ya mushrik aur yeh kaam iman walon par haram hai,
(ف6)کیونکہ خبیث کا میلان خبیث ہی کی طرف ہوتا ہے ، نیکوں کو خبیثوں کی طرف رغبت نہیں ہوتی ۔شانِ نُزول : مہاجرین میں بعضے بالکل نادار تھے نہ ان کے پاس کچھ مال تھا نہ ان کا کوئی عزیز قریب تھا اور بدکار مشرکہ عورتیں دولت مند اور مالدار تھیں یہ دیکھ کر کسی مہاجر کو خیال آیا کہ اگر ان سے نکاح کر لیا جائے تو ان کی دولت کام میں آئے گی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انہوں نے اس کی اجازت چاہی ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور انہیں اس سے روک دیا گیا ۔(ف7)یعنی بدکاروں سے نکاح کرنا ۔(ف8)ابتدائے اسلام میں زانیہ سے نکاح کرنا حرام تھا بعد میں آیت وَانْکِحُواالّاَ یَامٰی مِنْکُمْ سے منسوخ ہو گیا ۔
اور جو پارسا عورتوں کو عیب لگائیں پھر چار گواہ معائنہ کے نہ لائیں تو انھیں اسی کوڑے لگاؤ اور ان کی گواہی کبھی نہ مانو (ف۹) اور وہی فاسق ہیں،
And those who accuse chaste women and do not bring four witnesses to testify – punish them with eighty lashes and do not ever accept their testimony; and it is they who are the wicked.
और जो पारसा औरतों को अ़यब लगाएँ फिर चार गवाह मुआइनह के न लाएँ तो उन्हें उसी कोड़े लगाओ और इन की गवाही कभी न मानो और वही फासिक हैं,
Aur jo parsa auraton ko ayb lagayen phir chaar gawah muaina ke na laaye to unhein isi koday lagao aur un ki gawahi kabhi na mano aur wahi fasiq hain,
(ف9)اس آیت سے چند مسائل ثابت ہوئے ۔ مسئلہ ۱ : جو شخص کسی پارسا مرد یا عورت کو زنا کی تہمت لگائے اور اس پر چار معائنہ کے گواہ پیش نہ کر سکے تو اس پر حد واجب ہو جاتی ہے اسی۸۰ کوڑے ۔ آیت میں محصَنات کا لفظ خصوصِ واقعہ کے سبب سے وارد ہوا یا اس لئے کہ عورتوں کو تہمت لگانا کثیر الوقوع ہے ۔ مسئلہ ۲ : اور ایسے لوگ جو زنا کی تہمت میں سزا یاب ہوں اور ان پر حد جاری ہو چکی ہو مردود الشہادۃ ہو جاتے ہیں کبھی ان کی گواہی مقبول نہیں ہوتی ۔ پارسا سے مراد وہ ہیں جو مسلمان مکلَّف آزاد اور زنا سے پاک ہوں ۔مسئلہ۳ : زنا کی شہادت کا نصاب چار گواہ ہیں ۔ مسئلہ۴ : حدِ قذف مطالبہ پر مشروط ہے جس پر تہمت لگائی گئی ہے اگر وہ مطالبہ نہ کرے تو قاضی پر حد قائم کرنا لازم نہیں ۔مسئلہ ۵ : مطالبہ کا حق اسی کو ہے جس پر تہمت لگائی گئی ہے اگر وہ زندہ ہو اور اگر مر گیا ہو تو اس کے بیٹے پوتے کو بھی ہے ۔مسئلہ ۶ : غلام اپنے مولٰی پر اور بیٹا باپ پر قذف یعنی اپنی ماں پر زنا کی تہمت لگانے کا دعوٰی نہیں کر سکتا ۔مسئلہ ۷ : قذف کے الفاظ یہ ہیں کہ وہ صراحتہً کسی کو یا زانی کہے یا یہ کہے کہ تو اپنے باپ سے نہیں ہے یا اس کے باپ کا نام لے کر کہے کہ تو فلاں کا بیٹا نہیں ہے یا اس کو زانیہ کا بیٹا کہہ کر پکارے اور ہو اس کی ماں پارسا تو ایسا شخص قاذِف ہو جائے گا اور اس پر تہمت کی حد آئے گی ۔مسئلہ ۸ : اگر غیر محصن کو زنا کی تہمت لگائی مثلاً کسی غلام کو یا کافِر کو یا ایسے شخص کو جس کا کبھی زنا کرنا ثابت ہو تو اس پر حدِ قذف قائم نہ ہوگی بلکہ اس پر تعزیر واجب ہو گی اور یہ تعزیر تین سے انتالیس تک حسبِ تجویزِ حاکمِ شرع کوڑے لگانا ہے اسی طرح اگر کسی شخص نے زنا کے سوا اور کسی فجور کی تہمت لگائی اور پارسا مسلمان کو اے فاسق ، اے کافِر ، اے خبیث ، اے چور ، اے بدکار ، اے مخنّث ، اے بددیانت ، اے لوطی ، اے زندیق ، اے دیّوث ، اے شرابی ، اے سود خوار ، اے بدکار عورت کے بچے ، اے حرام زادے ، اس قسم کے الفاظ کہے تو بھی اس پر تعزیر واجب ہو گی ۔مسئلہ ۹ : امام یعنی حاکمِ شرع کو اور اس شخص کو جسے تہمت لگائی گئی ہو ثبوت سے قبل معاف کرنے کا حق ہے ۔مسئلہ ۱۰ : اگر تہمت لگانے والا آزاد نہ ہو بلکہ غلام ہو تو اس کے چالیس کوڑے لگائے جائیں گے ۔ مسئلہ ۱۱ : تہمت لگانے کے جرم میں جس کو حد لگائی گئی ہو اس کی گواہی کسی معاملہ میں معتبر نہیں چاہے وہ توبہ کرے لیکن رمضان کا چاند دیکھنے کے باب میں توبہ کرنے اور عادل ہونے کی صورت میں اس کا قول قبول کر لیا جائے گا کیونکہ یہ درحقیقت شہادت نہیں ہے اسی لئے اس میں لفظِ شہادت اور نصابِ شہادت بھی شرط نہیں ۔
اور وہ جو اپنی عورتوں کو عیب لگائیں (ف۱۱) اور ان کے پاس اپنے بیان کے سوا گواہ نہ ہوں تو ایسے کسی کی گواہی یہ ہے کہ چار بار گواہی دے اللہ کے نام سے کہ وہ سچا ہے (ف۱۲)
And those who accuse their wives and do not have witnesses except their own statements – for such the testimony is that he bear the testimony four times by the name of Allah that he is truthful.
और वह जो अपनी औरतों को अ़यब लगाएँ और उनके पास अपने बयान के सिवा गवाह न हों तो ऐसे किसी की गवाही यह है कि चार बार गवाही दे अल्लाह के नाम से कि वह सच्चा है,
Aur woh jo apni auraton ko ayb lagayen aur un ke paas apne bayan ke siwa gawah na hon to aise kisi ki gawahi yeh hai ke chaar baar gawahi de Allah ke naam se ke woh sachha hai,
(ف11)زنا کا ۔(ف12)عورت پر زنا کا الزام لگانے میں ۔
اور پانچویں یوں کہ عورت پر غضب اللہ کا اگر مرد جھوٹا ہے (ف۱۳) اور پانچویں یوں کہ عورت پر غضب اللہ کا اگر مرد سچا ہو (ف۱٤)
And the fifth time, that the wrath of Allah be upon her if the man is truthful.
और पांचवीं यूँ कि औरत पर ग़ज़ब अल्लाह का अगर मर्द झूठा है और पांचवीं यूँ कि औरत पर ग़ज़ब अल्लाह का अगर मर्द सच्चा हो,
Aur paanchwein yun ke aurat par ghazab Allah ka agar mard jhoota hai aur paanchwein yun ke aurat par ghazab Allah ka agar mard sachha ho,
(ف14)اس کو لِعان کہتے ہیں ۔مسئلہ : جب مرد اپنی بی بی پر زنا کی تہمت لگائے تو اگر مرد و عورت دونوں شہادت کے اہل ہوں اور عورت اس پر مطالبہ کرے تو مرد پر لعان واجب ہو جاتا ہے اگر وہ لِعان سے انکار کرے تو اس کو اس وقت تک قید رکھا جائے گا جب تک وہ لعان کرے یا اپنے جھوٹ کا مُقِر ہو اگر جھوٹ کا اقرار کرے تو اس کو حدِ قذف لگائی جائے گی جس کا بیان اوپر گزر چکا ہے اور اگر لِعان کرنا چاہے تو اس کو چار مرتبہ اللہ کی قسم کے ساتھ کہنا ہو گا کہ وہ اس عورت پر زنا کا الزام لگانے میں سچا ہے اور پانچویں مرتبہ کہنا ہوگا کہ اللہ کی لعنت مجھ پر اگر میں یہ الزام لگانے میں جھوٹا ہوں اتنا کرنے کے بعد مرد پر سے حدِ قذف ساقط ہو جائے گی اور عورت پر لِعان واجب ہو گا انکار کرے گی تو قید کی جائے گی یہاں تک کہ لِعان منظور کرے یا شوہر کے الزام لگانے کی تصدیق کرے اگر تصدیق کی تو عورت پر زنا کی حد لگائی جائے گی اور اگر لِعان کرنا چاہے تو اس کو چار مرتبہ اللہ کی قسم کے ساتھ کہنا ہو گا کہ مرد اس پر زنا کی تہمت لگانے میں جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہنا ہو گا کہ اگر مرد اس الزام لگانے میں سچا ہو تو مجھ پر خدا کا غضب ہو اتنا کہنے کے بعد عورت سے زنا کی حد ساقط ہو جائے گی اور لعان کے بعد قاضی کے تفریق کرنے سے فرقت واقع ہو گی بغیر اس کے نہیں اور یہ تفریق طلاقِ بائنہ ہو گی اور اگر مرد اہلِ شہادت میں سے نہ ہو مثلاً غلام ہو یا کافِر ہو یا اس پر قذف کی حد لگ چکی ہو تو لِعان نہ ہوگا اور تہمت لگانے سے مرد پر حدِ قذف لگائی جائے گی اور اگر مرد اہلِ شہادت میں سے ہو اور عورت میں یہ اہلیت نہ ہو اس طرح کہ وہ باندی ہو یا کافِرہ ہو یا اس پر قذف کی حد لگ چکی ہو یا بچی ہو یا مجنونہ ہو یا زانیہ ہو اس صورت میں نہ مرد پر حد ہوگی اور نہ لِعان ۔شانِ نُزول : یہ آیت ایک صحابی کے حق میں نازِل ہوئی جنہوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تھا کہ اگر آدمی اپنی عورت کو زنا میں مبتلا دیکھے تو کیا کرے نہ اس وقت گواہوں کے تلاش کرنے کی فرصت ہے اور نہ بغیر گواہی کے وہ یہ بات کہہ سکتا ہے کیونکہ اسے حدِ قذف کا اندیشہ ہے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور لِعان کا حکم دیا گیا ۔
اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی اور یہ کہ اللہ توبہ قبول فرماتا حکمت والا ہے،
And were it not for Allah’s munificence and His mercy upon you and that Allah is the Acceptor of Repentance, the Wise – He would then have unveiled you.
और अगर अल्लाह का फ़ज़ल और उसकी रहमत तुम पर न होती और यह कि अल्लाह तौबा क़बूल फ़रमाता हिकमत वाला है,
Aur agar Allah ka fazl aur us ki rehmat tum par na hoti aur yeh ke Allah tauba qubool farmaata hikmat wala hai,
تو تمہارا پردہ کھول دیتا بیشک وہ کہ یہ بڑا بہتان لائے ہیں تمہیں میں کی ایک جماعت ہے (ف۱۵) اسے اپنے لیے برا نہ سمجھو، بلکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہے (ف۱٦) ان میں ہر شخص کے لیے وہ گناہ ہے جو اس نے کمایا (ف۱۷) اور ان میں وہ جس نے سب سے بڑا حصہ لیا (ف۱۸) اس کے لیے بڑا عذاب ہے (ف۱۹)
Indeed those who have brought this great accusation are a group from among you; do not consider it bad for you; on the contrary, it is good for you; for each man among them is the sin that he has earned; and for the one among them who played the greatest part in it – for him is a terrible punishment.
तो तुम्हारा पर्दा खोल देता निश्चय वह कि यह बड़ा बहुतान लाए हैं तुम्हें मैं की एक जमात है इसे अपने लिए बुरा न समझो, बल्की वह तुम्हारे लिए बेहतर है इन में हर शख़्स के लिए वह गुनाह है जो उसने कमाया और इन में वह जिस ने सबसे बड़ा हिस्सा लिया उसके लिए बड़ा अज़ाब है,
To tumhara parda khol deta beshak woh ke yeh bada buhtan laaye hain tumhein mein ki ek jamaat hai ise apne liye bura na samjho, balki woh tumhare liye behtar hai, un mein har shakhs ke liye woh gunaah hai jo us ne kamaya aur un mein woh jis ne sab se bada hissa liya us ke liye bada azaab hai,
(ف15)بڑے بہتان سے مراد حضرت اُم المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا پر تہمت لگانا ہے ۔ ۵ ہجری میں غزوۂ بنی المصطلق سے واپسی کے وقت قافلہ قریبِ مدینہ ایک پڑاؤ پر ٹھہرا تو اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا ضرورت کے لئے کسی گوشہ میں تشریف لے گئیں وہاں ہار آپ کا ٹوٹ گیا اس کی تلاش میں مصروف ہو گئیں ، اُدھر قافلہ نے کوچ کیا اور آپ کا محمل شریف اُونٹ پر کَس دیا اور انہیں یہی خیال رہا کہ اُم المؤمنین اس میں ہیں ، قافلہ چل دیا آپ آ ۤکر قافلہ کی جگہ بیٹھ گئیں اور آپ نے خیال کیا کہ میری تلاش میں قافلہ ضرور واپس ہو گا، قافلہ کے پیچھے پڑی گر ی چیز اٹھانے کے لئے ایک صاحب رہا کرتے تھے اس موقع پر حضرت صفوان اس کام پر تھے جب وہ آئے اور انہوں نے آپ کو دیکھا تو بلند آواز سے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پکارا آپ نے کپڑے سے پردہ کر لیا ، انہوں نے اپنی اُونٹنی بٹھائی آپ اس پر سوار ہو کر لشکر میں پہنچیں ۔ منافقینِ سیاہ باطن نے اوہامِ فاسدہ پھیلائے اور آپ کی شان میں بدگوئی شروع کی بعض مسلمان بھی ان کے فریب میں آ گئے اور ان کی زبان سے بھی کوئی کلمۂ بیجا سرزد ہوا ، اُم المومنین بیمار ہو گئیں اور ایک ماہ تک بیمار رہیں اس زمانہ میں انہیں اطلاع نہ ہوئی کہ ان کی نسبت منافقین کیا بَک رہے ہیں ایک روز اُمِ مسطح سے انہیں یہ خبر معلوم ہوئی اور اس سے آپ کا مرض اور بڑھ گیا اور اس صدمہ میں اس طرح روئیں کہ آپ کا آنسو نہ تھمتا تھا اور نہ ایک لمحہ کے لئے نیند آتی تھی اس حال میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازِل ہوئی اور حضرت اُم المؤمنین کی طہارت میں یہ آیتیں اتریں اور آپ کا شرف و مرتبہ اللہ تعالٰی نے اتنا بڑھایا کہ قرآنِ کریم کی بہت سی آیات میں آپ کی طہارت و فضیلت بیان فرمائی گئی اس دوران میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے برسرِ منبر بقسم فرما دیا تھا مجھے اپنے اہل کی پاکی و خوبی بالیقین معلوم ہے تو جس شخص نے ان کے حق میں بدگوئی کی ہے اس کی طرف سے میرے پاس کون معذرت پیش کر سکتا ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ منافقین بالیقین جھوٹے ہیں اُم المؤمنین بالیقین پاک ہیں ، اللہ تعالٰی نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسمِ پاک کو مکھی کے بیٹھنے سے محفوظ رکھا کہ وہ نجاستوں پر بیٹھتی ہے کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ آپ کو بدعورت کی صحبت سے محفوظ نہ رکھے ۔ حضرتِ عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بھی اس طرح آپ کی طہارت بیان کی اور فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے آپ کا سایہ زمین پر نہ پڑنے دیا تاکہ اس سایہ پر کسی کا قدم نہ پڑے تو جو پروردگار آپ کے سایہ کو محفوظ رکھتا ہے کس طرح ممکن ہے کہ وہ آپ کے اہل کو محفوظ نہ فرمائے ۔ حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ ایک جوں کا خون لگنے سے پروردگارِ عالم نے آپ کو نعلین اتار دینے کا حکم دیا جو پروردگار آپ کی نعلین شریف کی اتنی سی آلودگی کوگوارا نہ فرمائے ممکن نہیں کہ وہ آپ کے اہل کی آلودگی گوارا کرے ۔ اس طرح بہت سے صحابہ اور بہت سے صحابیات نے قسمیں کھائیں ، آیت نازِل ہونے سے قبل ہی حضرت اُم المومنین کی طرف سے قلوب مطمئن تھے آیت کے نُزول نے ان کا عز و شرف اور زیادہ کر دیا تو بدگویوں کی بدگوئی اللہ اور اس کے رسول اور صحابۂ کِبار کے نزدیک باطل ہے اور بدگوئی کرنے والوں کے لئے سخت ترین مصیبت ہے ۔(ف16)کہ اللہ تبارک و تعالٰی تمہیں اس پر جزا دے گا اور حضرت اُم المؤمنین کی شان اور ان کی براءت ظاہر فرمائے گا چنانچہ اس براءت میں اس نے اٹھارہ آیتیں نازِل فرمائیں ۔(ف17)یعنی بقدر اس کے عمل کے کہ کسی نے طوفان اٹھایا ، کسی نے بہتان اٹھانے والے کی زبانی موافقت کی ، کوئی ہنس دیا ، کسی نے خاموشی کے ساتھ سن ہی لیا جس نے جو کیا اس کا بدلہ پائے گا ۔(ف18)کہ اپنے دل سے یہ طوفان گڑھا اور اس کو مشہور کرتا پھرا اور وہ عبداللہ بن اُبی بن سلول منافق ہے ۔(ف19)آخرت میں ۔ مروی ہے کہ ان بہتان لگانے والوں پر بحکمِ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حد قائم کی گئی اور اسی۸۰ اسی۸۰ کوڑے لگائے گئے ۔
کیوں نہ ہوا ہوا جب تم نے اسے سنا تھا کہ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں نے اپنوں پر نیک گمان کیا ہوتا (ف۲۰) اور کہتے یہ کھلا بہتان ہے (ف۲۱)
Why was it not that the believing men and women, when you heard it, thought good of their own people, and had said, “This is a clear accusation”?
क्यों न हुआ हुआ जब तुम ने इसे सुना था कि मुसलमान मर्दों और मुसलमान औरतों ने अपनों पर नेक गुमान किया होता और कहते यह खुला बहुतान है,
Kyun na hua jab tum ne isay suna tha ke musalman mardon aur musalman auraton ne apno par nek gumaan kiya hota aur kehte yeh khula buhtan hai,
(ف20)کیونکہ مسلمان کو یہی حکم ہے کہ مسلمان کے ساتھ نیک گمان کرے اور بدگمانی ممنوع ہے ۔ بعضے گمراہ بے باک یہ کہہ کر گزرتے ہیں کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معاذ اللہ اس معاملہ میں بدگمانی ہو گئی تھی ، وہ مفتری کذّاب ہیں اور شانِ رسالت میں ایسا کلمہ کہتے ہیں جو مؤمنین کے حق میں بھی لائق نہیں ہے ۔ اللہ تعالٰی مؤمنین سے فرماتا ہے کہ تم نے نیک گمان کیوں نہ کیا تو کیسے ممکن تھا کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدگمانی کرتے اور حضور کی نسبت بدگمانی کا لفظ کہنا بڑی سیاہ باطنی ہے خاص کر ایسی حالت میں جب کہ بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بقسم فرمایا کہ میں جانتا ہوں کہ میرے اہل پاک ہیں جیسا کہ اوپر مذکور ہو چکا ۔مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان پر بدگمانی کرنا ناجائز ہے اور جب کسی نیک شخص پر تہمت لگائی جائے تو بغیر ثبوت مسلمان کو اس کی موافقت اور تصدیق کرنا روا نہیں ۔(ف21)بالکل جھوٹ ہے بے حقیقت ہے ۔
اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر دنیا اور آخرت میں نہ ہوتی (ف۲۲) تو جس چرچے میں تم پڑے اس پر تمہیں بڑا عذاب پہنچتا،
And were it not for Allah’s munificence and His mercy upon you in the world and in the Hereafter, a terrible punishment would have reached you for the discussions you fell into.
और अगर अल्लाह का फ़ज़ल और उसकी रहमत तुम पर दुनिया और आख़िरत में न होति तो जिस चर्चे में तुम पड़े उस पर तुम्हें बड़ा अज़ाब पहुँचता,
Aur agar Allah ka fazl aur us ki rehmat tum par duniya aur aakhirat mein na hoti to jis charchay mein tum paday us par tumhein bada azaab pohanchta,
(ف22)اور تم پر فضل و کرم منظور نہ ہوتا جس میں سے توبہ کے لئے مہلت دینا بھی ہے اور آخرت میں عفو و مغفرت فرمانا بھی ۔
جب تم ایسی بات اپنی زبانوں پر ایک دوسرے سے سن کر لاتے تھے اور اپنے منہ سے وہ نکالتے تھے جس کا تمہیں علم نہیں اور اسے سہل سمجھتے تھے (ف۲۳) اور وہ اللہ کے نزدیک بڑی بات ہے (ف۲٤)
When you rumoured with your tongues after hearing such matters, and uttered with your mouths about which you had no knowledge, and you considered it light; and that, in the sight of Allah, is very great.
जब तुम ऐसी बात अपनी ज़ुबानों पर एक दूसरे से सुन कर लाते थे और अपने मुँह से वह निकालते थे जिस का तुम्हें इल्म नहीं और उसे सहल समझते थे और वह अल्लाह के नज़दीक बड़ी बात है,
Jab tum aisi baat apni zubano par ek doosre se sun kar late thay aur apne munh se woh nikalte thay jis ka tumhein ilm nahi aur use sahal samajhte thay aur woh Allah ke nazdeek badi baat hai,
(ف23)اور خیال کرتے تھے کہ اس میں بڑا گناہ نہیں ۔(ف24)جرمِ عظیم ہے ۔
اور کیوں نہ ہوا جب تم نے سنا تھا کہا ہوتا کہ ہمیں نہیں پہنچتا کہ ایسی بات کہیں (ف۲۵) الہٰی پاکی ہے تجھے (ف۲٦) یہ بڑا بہتان ہے،
And why was it not that, when you heard it, you would have said, “It does not befit us to speak regarding this; Purity is to You, O Allah – this is a great accusation.”
और क्यों न हुआ जब तुम ने सुना था कहा होता कि हमें नहीं पहुँचता कि ऐसी बात कहें अल्लाही पाक़ी है तुझे यह बड़ा बहुतान है,
Aur kyun na hua jab tum ne suna tha kaha hota ke humein nahi pohanchta ke aisi baat kahen, Elahi paaki hai tujhe yeh bada buhtan hai,
(ف25)یہ ہمارے لئے روا نہیں کیونکہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا ۔(ف26)اس سے کہ تیرے نبی کی حرم کو فُجور کی آلودگی پہنچے ۔مسئلہ : یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی نبی کی بی بی بدکار ہو سکے اگرچہ اس کا مبتلائے کُفر ہونا ممکن ہے کیونکہ انبیاء کُفّار کی طرف مبعوث ہوتے ہیں تو ضروری ہے کہ جو چیز کُفّار کے نزدیک بھی قابلِ نفرت ہو اس سے وہ پاک ہوں اور ظاہر ہے کہ عورت کی بدکاری ان کے نزدیک قابلِ نفرت ہے ۔ (کبیر وغیرہ)
وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں برا چرچا پھیلے ان کے لیے دردناک عذاب ہے دنیا (ف۲۷) اور آخرت میں (ف۲۸) اور اللہ جانتا ہے (ف۲۹) اور تم نہیں جانتے،
Indeed those who wish that slander should spread among the Muslims – for them is a painful punishment in this world and in the Hereafter; and Allah knows, and you do not know.
वह लोग जो चाहते हैं कि मुसलमानों में बुरा चर्चा फैले उनके लिए दर्दनाक अज़ाब है दुनिया और आख़िरत में और अल्लाह जानता है और तुम नहीं जानते,
Woh log jo chahte hain ke musalmanon mein bura charcha phailay un ke liye dardnak azaab hai duniya aur aakhirat mein aur Allah jaanta hai aur tum nahi jaante,
(ف27)یعنی اس جہان میں اور وہ حد قائم کرنا ہے چنانچہ ابنِ اُبی اور حَسّان اور مِسْطَحْ کے حد لگائی گئی ۔ (مدارک)(ف28)دوزخ اگر بے توبہ مر جائیں ۔(ف29)دلوں کے راز اور باطن کے احوال ۔
تو تم اس کا مزہ چکھتے (ف۳۰) اے ایمان والو! شیطان کے قدموں پر نہ چلو، اور جو شیطان کے قدموں پر چلے تو وہ تو بےحیائی اور بری ہی بات بتائے گا (ف۳۱) اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم میں کوئی بھی کبھی ستھرا نہ ہوسکتا (ف۳۲) ہاں اللہ ستھرا کردیتا ہے جسے چاہے (ف۳۳) اور اللہ سنتا جانتا ہے،
O People who Believe! Do not follow the footsteps of the devil; and whoever follows the footsteps of the devil – so he will only bid the indecent and the evil; and were it not for Allah’s munificence and His mercy upon you, none of you would ever become pure – but Allah purifies whomever He wills; and Allah is All Hearing, All Knowing.
तो तुम उसका मज़ा चखते ऐ ईमान वालो! शैतान के कदमों पर न चलो, और जो शैतान के कदमों पर चले तो वह तो बेहयाई और बरी ही बात बताएगा और अगर अल्लाह का फ़ज़ल और उसकी रहमत तुम पर न होती तो तुम में कोई भी कभी सथरा न हो सकता हाँ अल्लाह सथरा कर देता है जिसे चाहे और अल्लाह सुनता जानता है,
To tum iska maza chakhte, Ae iman walon! Shaitaan ke qadamoon par na chalo, aur jo shaitaan ke qadamoon par chale to woh to be-hayaai aur buri hi baat bataega aur agar Allah ka fazl aur us ki rehmat tum par na hoti to tum mein koi bhi kabhi suthra na ho sakta, haan Allah suthra kar deta hai jise chahe aur Allah sunta jaanta hai,
(ف31)اس کے وسوسوں میں نہ پڑو اور بہتان اٹھانے والوں کی باتوں پر کان نہ لگاؤ ۔(ف32)اور اللہ تعالٰی اس کو توبہ و حُسنِ عمل کی توفیق نہ دیتا اور عفو و مغفرت نہ فرماتا ۔(ف33)توبہ قبول فرما کر ۔
اور قسم نہ کھائیں وہ جو تم میں فضیلت والے (ف۳٤) اور گنجائش والے ہیں (ف۳۵) قرابت والوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے کی، اور چاہیے کہ معاف کریں اور درگزریں، کیا تم اسے دوست نہیں رکھتے کہ اللہ تمہاری بخشش کرے، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۳٦)
And may not those who possess superiority (in wealth) among you and possess capacity, swear not to give to the relatives and to the needy, and to immigrants in Allah's cause; and they should forgive and forbear; do you not like that Allah may forgive you? And Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
और क़स्म न खाएँ वह जो तुम में फ़ज़ीलत वाले और गंजाइश वाले हैं क़रबत वालों और मस्कीनों और अल्लाह की राह में हिजरत करने वालों को देने की, और चाहिए कि माफ़ करें और दरगज़री करें, क्या तुम इसे दोस्त नहीं रखते कि अल्लाह तुम्हारी बख्शिश करे, और अल्लाह बख्शने वाला मेहरबान है,
Aur qasam na khayein woh jo tum mein fazilat wale aur ganjaish wale hain qarabat walon aur maskeenon aur Allah ki raah mein hijrat karne walon ko dene ki, aur chahiye ke maaf karein aur darguzar karein, kya tum ise dost nahi rakhte ke Allah tumhari bakhshish kare, aur Allah bakshne wala mehrban hai,
(ف34)اور منزلت والے ہیں دین میں ۔(ف35)ثروت و مال میں ۔شانِ نُزول : یہ آیت حضرت ابوبکر صِدّیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حق میں نازِل ہوئی ، آپ نے قسم کھائی تھی کہ مِسۡطح کے ساتھ سلوک نہ کریں گے اور وہ آپ کی خالہ کے بیٹے تھے نادار تھے ، مہاجر تھے ، بدری تھے ، آپ ہی ان کا خرچ اٹھاتے تھے مگر چونکہ اُم المؤمنین پر تہمت لگانے والوں کے ساتھ انہوں نے موافقت کی تھی اس لئے آپ نے یہ قسم کھائی ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی ۔(ف36)جب یہ آیت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پڑھی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا بے شک میری آرزو ہے کہ اللہ میری مغفرت کرے اور میں مِسطَح کے ساتھ جو سلوک کرتا تھا اس کو کبھی موقوف نہ کروں گا چنانچہ آپ نے اس کو جاری فرما دیا ۔مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو شخص کسی کام پر قَسم کھائے پھر معلوم ہو کہ اس کا کرنا ہی بہتر ہے تو چاہیئے کہ اس کام کو کرے اور قسم کا کَفّارہ دے ، حدیثِ صحیح میں یہی وارد ہے ۔مسئلہ : اس آیت سے حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی فضیلت ثابت ہوئی اس سے آپ کی علوئے شان و مرتبت ظاہر ہوتی ہے کہ اللہ تعالٰی نے آپ کو اُولوالفضل فرمایا اور ۔
بیشک وہ جو عیب لگاتے ہیں انجان (ف۳۷) پارسا ایمان والیوں کو (ف۳۸) ان پر لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے (ف۳۹)
Indeed those who accuse the innocent virtuous, believing women – upon them is a curse in this world and in the Hereafter; and for them is a terrible punishment.
निश्चय वह जो अ़यब लगाते हैं अन्जान पारसा ईमान वालों को इन पर लानत है दुनिया और आख़िरत में और उनके लिए बड़ा अज़ाब है,
Beshak woh jo ayb lagate hain anjaan parsa iman walon ko un par lanat hai duniya aur aakhirat mein aur un ke liye bada azaab hai,
(ف37)عورتوں کو جو بدکاری اور فجور کو جانتی بھی نہیں اوربرا خیال ان کے دل میں بھی نہیں گزرتا اور ۔(ف38)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ازواجِ مطہرات کے اوصاف ہیں ۔ ایک قول یہ ہے کہ ا س سے تمام ایماندار پارسا عورتیں مراد ہیں ، ان کے عیب لگانے والوں پر اللہ تعالٰی لعنت فرماتا ہے ۔(ف39)یہ عبداللہ بن اُبی بن سلول منافق کے حق میں ہے ۔ (خازن)
جس دن (ف٤۰) ان پر گواہی دیں گے ان کی زبانیں (ف٤۱) اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں جو کچھ کرتے تھے،
On the day when their tongues and their hands and their feet will testify against them, regarding what they used to do.
जिस दिन इन पर गवाही देंगें उनकी ज़ुबानें और उनके हाथ और उनके पाँव जो कुछ करते थे,
Jis din un par gawahi denge un ki zubanein aur un ke haath aur un ke paon jo kuch karte thay,
(ف40)یعنی روزِ قیامت ۔(ف41)زبانوں کا گواہی دینا تو ان کے مونہوں پر مُہریں لگائے جانے سے قبل ہوگا اور اس کے بعد مونہوں پرمُہریں لگا دی جائیں گی جس سے زبانیں بند ہو جائیں گے اور اعضاء بولنے لگیں گی اور دنیا میں جو عمل کئے تھے ان کی خبر دیں گے جیسے کہ آگے ارشاد ہے ۔
اس دن اللہ انھیں ان کی سچی سزا پوری دے گا (ف٤۲) اور جان لیں گے کہ اللہ ہی صریح حق ہے،
On that day Allah will give them their true punishment, and they will know that Allah only is the Clear Truth.
उस दिन अल्लाह उन्हें उनकी सची सज़ा पूरी देगा और जान लेंगें कि अल्लाह ही सरि़ख़ हक़ है,
Us din Allah unhein un ki sacchi saza poori dega aur jaan lenge ke Allah hi sareeh haq hai,
(ف42)جس کے وہ مستحق ہیں ۔(ف43)یعنی موجود ظاہر ہے اسی کی قدرت سے ہر چیز کا وجود ہے ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ معنٰی یہ ہیں کہ کُفّار دنیا میں اللہ تعالٰی کے وعدوں میں شک کرتے تھے ، اللہ تعالٰی آخرت میں انہیں ان کے اعمال کی جزا دے کر ان وعدوں کا حق ہونا ظاہر فرما دے گا ۔ فائدہ : قرآنِ کریم میں کسی گناہ پر ایسی تغلیظ و تشدید اور تکرار و تاکید نہیں فرمائی گئی جیسی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا کے اوپر بہتان باندھنے پر فرمائی گئی ، اس سے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رِفعتِ منزلت ظاہر ہوتی ہے ۔
(ف٤۳) گندیاں گندوں کے لیے اور گندے گندیوں کے لیے (ف٤٤) اور ستھریاں ستھروں کے لیے اور ستھرے ستھریوں کے لیے وہ (ف٤۵) پاک ہیں ان باتوں سے جو یہ (ف٤٦) کہہ رہے ہیں، ان کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے (ف٤۷)
Vile women for vile men, and vile men for vile women; and virtuous women for virtuous men, and virtuous men for virtuous women; such are innocent of what these people say; for them are forgiveness, and an honourable sustenance.
गंदियाँ गंदों के लिए और गंदे गंदियों के लिए और सथरीयाँ सथरों के लिए और सथरे सथरीयों के लिए वह पाक हैं इन बातों से जो यह कह रहे हैं, इन के लिए बख़्शिश और इज़्ज़त की रज़ी है,
Gandiyon gandon ke liye aur gande gandiyon ke liye aur suthriyan suthron ke liye aur suthre suthriyon ke liye woh paak hain un baton se jo yeh kehte hain, un ke liye bakhshish aur izzat ki rozi hai,
(ف44)یعنی خبیث کے لئے خبیث لائق ہے ، خبیثہ عورت خبیث مرد کے لئے اور خبیث مرد خبیثہ عورت کے لئے اور خبیث آدمی خبیث باتوں کے درپے ہوتا ہے اور خبیث باتیں خبیث آدمی کا وطیرہ ہوتی ہیں ۔(ف45)یعنی پاک مرد اور عورتیں جن میں سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا اور صفوان ہیں ۔(ف46)تہمت لگانے والے خبیث ۔(ف47)یعنی ستھروں اور ستھریوں کے لئے جنّت میں ۔ اس آیت سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا کمال فضل و شرف ثابت ہوا کہ وہ طیِّبہ اور پاک پیدا کی گئیں اور قرآنِ کریم میں ان کی پاکی کا بیان فرمایا گیا اور انہیں مغفرت اور رزقِ کریم کا وعدہ دیا گیا ۔ حضرت اُم المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو اللہ تعالٰی نے بہت خصائص عطا فرمائے جو آپ کے لئے قابلِ فخر ہیں ، ان میں سے بعض یہ ہیں کہ جبریلِ امین سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور میں ایک حریرپر آپ کی تصویر لائے اور عرض کیا کہ یہ آپ کی زوجہ ہیں اور یہ کہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کے سوا کسی کنواری (باکرہ) سے نکاح نہ فرمایا اور یہ کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات آپ کی گود میں اور آپ کی نوبت کے دن ہوئی اور آپ ہی کا حجرہ شریفہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آرام گاہ اور آپ کا روضۂ طاہرہ ہوا اور یہ کہ بعض اوقات ایسی حالت میں حضور پر وحی نازِل ہوئی کہ حضرت صدیقہ آپ کے ساتھ آپ کے لحاف میں ہوتیں اور یہ کہ آپ حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ خلیفۂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دختر ہیں اور یہ کہ آپ پاک پیدا کی گئیں اور آپ سے مغفرت و رزقِ کریم کا وعدہ فرمایا گیا ۔
اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک اجازت نہ لے لو (ف٤۸) اور ان کے ساکنوں پر سلام نہ کرلو (ف٤۹) یہ تمہارے لیے بہتر ہے کہ تم دھیان کرو،
O People who Believe! Do not enter the houses except your own until you obtain permission and have conveyed peace upon its inhabitants; this is better for you, in order that you may ponder.
ऐ ईमान वालो! अपने घरों के सिवा और घरों में न जाओ जब तक इजाज़त न ले लो और उनके साक़िनों पर सलाम न कर लो यह तुम्हारे लिए बेहतर है कि तुम ध्यांन करो,
Ae iman walon! Apne gharon ke siwa aur gharon mein na jao jab tak ijazat na le lo aur un ke saaknon par salaam na karo, yeh tumhare liye behtar hai ke tum dhyan karo,
(ف48)مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ غیر کے گھر میں بے اجازت داخل نہ ہو اور اجازت لینے کا طریقہ یہ بھی ہے کہ بلند آواز سے سبحان اللہ یا الحمد لِلّٰہ یا اللہ اکبر کہے یا کھکارے جس سے مکان والوں کو معلوم ہو کہ کوئی آنا چاہتا ہے یا یہ کہے کہ کیا مجھے اندر آنے کی اجازت ہے ؟ غیر کے گھر سے وہ گھر مراد ہے جس میں غیر سکونت رکھتا ہو خواہ اس کا مالک ہو یا نہ ہو ۔(ف49)مسئلہ : غیر کے گھر جانے والے کی اگر صاحبِ مکان سے پہلے ہی ملاقات ہو جائے تو اوّل سلام کرے پھر اجازت چاہے اور اگر وہ مکان کے اندر ہو تو سلام کے ساتھ اجازت چاہے اس طرح کہ کہے السلام علیکم کیا مجھے اندر آنے کی اجازت ہے ؟ حدیث شریف میں ہے کہ سلام کو کلام پر مقدم کرو ۔ حضرت عبداللہ کی قراءت بھی اسی پر دلالت کرتی ہے ان کی قراء ت یوں ہے حَتّٰی تُسَلِّمُوْا عَلٰی اَھْلِہَا وَتَسْتَاذِنُوْا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ پہلے اجازت چاہے پھر سلام کرے ۔ (مدارک ، کشاف ، احمدی)مسئلہ : اگر دروازے کے سامنے کھڑے ہونے میں بے پردگی کا اندیشہ ہو تو دائیں یا بائیں جانب کھڑے ہو کر اجازت طلب کرے ۔مسئلہ :حدیث شریف میں ہے اگرگھرمیں ماں ہو جب بھی اجازت طلب کرے ۔ (مؤطا امام مالک)
پھر اگر ان میں کسی کو نہ پاؤ (ف۵۰) جب بھی بےما لکوں کی اجازت کے ان میں نہ جاؤ (ف۵۱) اور اگر تم سے کہا جائے واپس جاؤ تو واپس ہو (ف۵۲) یہ تمہارے لیے بہت ستھرا ہے، اللہ تمہارے کاموں کو جانتا ہے،
And if you do not find anyone in them, even then do not enter without the permission of their owners; and if it is said to you, “Go away” then go away – this is much purer for you; and Allah knows your deeds.
फिर अगर इन में किसी को न पाओ जब भी बे मालकों की इजाज़त के इन में न जाओ और अगर तुम से कहा जाए वापस जाओ तो वापस हो यह तुम्हारे लिए बहुत सथरा है, अल्लाह तुम्हारे कामों को जानता है,
Phir agar un mein kisi ko na pao, jab bhi be-malikoon ki ijazat ke un mein na jao aur agar tum se kaha jaaye wapas jao to wapas ho, yeh tumhare liye bohot suthra hai, Allah tumhare kaamon ko jaanta hai,
(ف50)یعنی مکان میں اجازت دینے والا موجود نہ ہو ۔(ف51)کیونکہ مِلکِ غیر میں تصرُّف کرنے کے لئے اس کی رضا ضروری ہے ۔(ف52)اور اجازت طلب کرنے میں اصرار و الحاح نہ کرو ۔مسئلہ : کسی کا دروازہ بہت زور سے کھٹ کھٹان ا اور شدید آواز سے چیخنا خاص کر عُلَماء اور بزرگوں کے دروازوں پر ایسا کرنا ، ان کو زور سے پکارنا مکرو ہ و خلافِ ادب ہے ۔
اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ان گھروں میں جاؤ جو خاص کسی کی سکونت کے نہیں (ف۵۳) اور ان کے برتنے کا تمہیں اختیار ہے، اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو، اور جو تم چھپاتے ہو،
There is no sin upon you to enter houses not made especially for someone’s habitation, and you have permission for its use; and Allah knows what you disclose and what you hide.
इसमें तुम पर कुछ गुनाह नहीं कि इन घरों में जाओ जो खास किसी की सुकूनत के नहीं और उनके बरतने का तुम्हें इख़्तियार है, और अल्लाह जानता है जो तुम ज़ाहिर करते हो, और जो तुम छुपाते हो,
Is mein tum par kuch gunaah nahi ke un gharon mein jao jo khaas kisi ki sukoonat ke nahi aur un ke bartne ka tumhein ikhtiyar hai, aur Allah jaanta hai jo tum zahir karte ho, aur jo tum chhupate ho,
(ف53)مثل سرائے اور مسافر خانے وغیرہ کے کہ اس میں جانے کے لئے اجازت حاصل کرنے کی حاجت نہیں ۔شانِ نُزول : یہ آیت ان اصحاب کے جواب میں نازِل ہوئی جنہوں نے آیتِ استیذان یعنی اوپر والی آیت نازِل ہونے کے بعد دریافت کیا تھا کہ مکّۂ مکرّمہ اور مدینۂ طیّبہ کے درمیان اور شام کی راہ میں جو مسافر خانے بنے ہوئے ہیں کیا ان میں داخل ہونے کے لئے بھی اجازت لینا ضروری ہے ؟
مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں (ف۵٤) اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں (ف۵۵) یہ ان کے لیے بہت ستھرا ہے، بیشک اللہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے،
Command the Muslim men to keep their gaze low and to protect their private organs; that is much purer for them; indeed Allah is Aware of their deeds.
मुसलमान मर्दों को हुक्म दो अपनी निगाहें कुछ नीची रखें और अपनी शर्मगाहों की हिफाज़त करें यह उनके लिए बहुत सथरा है, निश्चय अल्लाह को उनके कामों की खबर है,
Musalman mardon ko hukum do apni nigahen kuch neechi rakhen aur apni sharmgahon ki hifazat karein, yeh un ke liye bohot suthra hai, beshak Allah ko un ke kaamon ki khabar hai,
(ف54)اور جس چیز کا دیکھنا جائز نہیں اس پر نظر نہ ڈالیں ۔مسائل : مرد کا بدن زیرِ ناف سے گھٹنے کے نیچے تک عورت ہے ، اس کا دیکھنا جائز نہیں اور عورتوں میں سے اپنے محارم اور غیر کی باندی کا بھی یہی حکم ہے مگر اتنا اور ہے کہ ان کے پیٹ اور پیٹھ کا دیکھنا بھی جائز نہیں اور حُرۂ اجنبیہ کے تمام بدن کا دیکھنا ممنوع ہے ۔اِنْ لَّمْ یَاْمَنْ مِّنَ الشَّھۡوَہ وَ اِنْ اَمِنَ مِنھَا فَالْمَمْنُوعُ النَّظرُ اِلیٰ مَاسِوٰی الْوَجْہِ وَالْکَفِّ وَ القَدَمِ وَ مَنْ یَّامَنُ فَاِنَّ الزَّمَانَ زَمَانُ الْفَسَادِ فَلَا یَحِلُّ النَّظَرُ اِلیَ الحُرَّۃِ الاَجنَبِیَّۃِ مُطْلَقًا مِّن غَیرضُرُورۃٍ مگر بحالتِ ضرورت قاضی و گواہ کو اور اس عورت سے نکاح کی خواہش رکھنے والے کو چہرہ دیکھنا جائز ہے اور اگر کسی عورت کے ذریعہ سے حال معلوم کر سکتا ہو تو نہ دیکھے اور طبیب کو موضعِ مرض کا بقدرِ ضرورت دیکھنا جائز ہے ۔مسئلہ : اَمْرد لڑکے کی طرف بھی شہوت سے دیکھنا حرام ہے ۔ (مدارک و احمدی)(ف55)اور زنا و حرام سے بچیں یا یہ معنٰی ہیں کہ اپنی شرم گاہوں اور ان کے لواحق یعنی تمام بدنِ عورت کو چھپائیں اور پردہ کا اہتمام رکھیں ۔
اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں (ف۵٦) اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں (ف۵۷) مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور وہ دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں، اور اپنا سنگھار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ (ف۵۸) یا شوہروں کے باپ (ف۵۹) یا اپنے بیٹوں (ف٦۰) یا شوہروں کے بیٹے (ف٦۱) یا اپنے بھائی یا اپنے بھتیجے یا اپنے بھانجے (ف٦۲) یا اپنے دین کی عورتیں یا اپنی کنیزیں جو اپنے ہاتھ کی ملک ہوں (ف٦۳) یا نوکر بشرطیکہ شہوت والے مرد نہ ہوں (ف٦٤) یا وہ بچے جنہیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں (ف٦۵) اور زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگھار (ف٦٦) اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو! سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ،
And command the Muslim women to keep their gaze low and to protect their chastity, and not to reveal their adornment except what is apparent, and to keep the cover wrapped over their bosoms; and not to reveal their adornment except to their own husbands or fathers or husbands’ fathers, or their sons or their husbands’ sons, or their brothers or their brothers’ sons or sisters’ sons, or women of their religion, or the bondwomen they possess, or male servants provided they do not have manliness, or such children who do not know of women’s nakedness, and not to stamp their feet on the ground in order that their hidden adornment be known; and O Muslims, all of you turn in repentance together towards Allah, in the hope of attaining success. (It is incumbent upon women to cover themselves properly.)
और मुसलमान औरतों को हुक्म दो अपनी निगाहें कुछ नीची रखें और अपनी पारसाई की हिफाज़त करें और अपना बनाउ न दिखाएँ मगर जितना खुद ही ज़ाहिर है और वह दुपट्टे अपने ग्रीबानों पर डालें रहें, और अपना सिंगार ज़ाहिर न करें मगर अपने शोहरों पर या अपने पापा या शोहरों के पापा या अपने बेटों या शोहरों के बेटे या अपने भाई या अपने भतीजे या अपने भांजे या अपने दीन की औरतें या अपनी कनिज़ें जो अपने हाथ की मलिक हों या नौकर बशर्तिके शहवत वाले मर्द न हों या वह बच्चे जिनहे औरतों की शर्म की चीज़ों की खबर नहीं और ज़मीन पर पाँव ज़ोर से न रखें कि जाना जाए इन का छुपा हुआ सिंगार और अल्लाह की तरफ़ तौबा करो ऐ मुसलमानो! सब के सब इस उम्मीद पर कि तुम फलाह पाओ,
Aur musalman auraton ko hukum do apni nigahen kuch neechi rakhen aur apni parsaai ki hifazat karein aur apna banaao na dikhayein magar jitna khud hi zahir hai aur woh dupatte apne garibanon par daale rahen, aur apna singhaar zahir na karein magar apne shoharon par ya apne baap ya shoharon ke baap ya apne beton ya shoharon ke betay ya apne bhai ya apne bhatije ya apne bhanje ya apne deen ki auratein ya apni kenezein jo apne haath ki malik hon ya nokar, bashart ke shahwat wale mard na hon, ya woh bachay jinhein auraton ki sharam ki cheezon ki khabar nahi aur zameen par paon zor se na rakhen ke jana jaaye un ka chhupa hua singhaar aur Allah ki taraf tauba karo, Ae Musalmano! Sab ke sab is umeed par ke tum falaah pao,
(ف56)اور غیر مردوں کو نہ دیکھیں ۔ حدیث شریف میں ہے کہ ازواجِ مطہرات میں سے بعض اُمہات المؤمنین سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں تھیں ، اسی وقت ابنِ اُم مکتوم آئے حضور نے ازواج کو پردہ کا حکم فرمایا انہوں نے عرض کیا کہ وہ تو نابینا ہیں فرمایا تو تم تو نابینا نہیں ہو ۔ (ترمذی و ابوداؤد) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورتوں کو بھی نامَحرم کا دیکھنا اور اس کے سامنے ہونا جائز نہیں ۔(ف57)اظہر یہ ہے کہ یہ حکم نماز کا ہے نہ نظر کا کیونکہ حُرّہ کا تمام بدن عورت ہے ، شوہر اور مَحرم کے سوا اور کسی کے لئے اس کے کسی حصّہ کا دیکھنا بے ضرورت جائز نہیں اور معالجہ وغیرہ کی ضرورت سے قدرِ ضرورت جائز ہے ۔ (تفسیرِ احمدی)(ف58)اور انہیں کے حکم میں دادا پردادا وغیرہ تمام اصول ۔(ف59)کہ وہ بھی مَحرم ہو جاتے ہیں ۔(ف60)اور انہیں کے حکم میں ہے ان کی اولاد ۔(ف61)کہ وہ بھی مَحرم ہو گئے ۔(ف62)اور انہیں کے حکم میں ہیں چچا ماموں وغیرہ تمام محارم ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ابو عبیدہ بن جراح کو لکھا تھا کہ کُفّار اہلِ کتاب کی عورتوں کو مسلمان عورتوں کے ساتھ حمّام میں داخل ہونے سے منع کریں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمہ عورت کو کافِرہ عورت کے سامنے اپنا بدن کھولنا جائز نہیں ۔مسئلہ : عورت اپنے غلام سے بھی مِثل اجنبی کے پردہ کرے ۔ (مدارک و غیرہ)(ف63)ان پر اپنا سنگار ظاہر کرنا ممنوع نہیں اور غلام ان کے حکم میں نہیں ، اس کو اپنی مالکہ کے مواضعِ زینت کو دیکھنا جائز نہیں ۔(ف64)مثلاً ایسے بوڑھے ہوں جنہیں اصلا شہوت باقی نہیں رہی ہو اور ہوں صالح ۔مسئلہ : ائمۂ حنفیہ کے نزدیک خصی اور عِنِّین حرمتِ نظر میں اجنبی کا حکم رکھتے ہیں ۔مسئلہ : اس طرح قبیح الافعال مُخنّث سے بھی پردہ کیا جائے جیسا کہ حدیثِ مسلم سے ثابت ہے ۔(ف65)وہ ابھی نادان نابالغ ہیں ۔(ف66)یعنی عورتیں گھر کے اندر چلنے پھرنے میں بھی پاؤں اس قدر آہستہ رکھیں کہ ان کے زیور کی جھنکار نہ سُنی جائے ۔مسئلہ : اسی لئے چاہیئے کہ عورتیں باجے دار جھانجھن نہ پہنیں حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالٰی اس قوم کی دعا نہیں قبول فرماتا جن کی عورتیں جھانجھن پہنتی ہوں ۔ اس سے سمجھنا چاہیئے کہ جب زیور کی آواز عدمِ قبولِ دعا کا سبب ہے تو خاص عورت کی آواز اور اس کی بے پردگی کیسی موجبِ غضبِ الٰہی ہو گی ، پردے کیطرف سے بے پروائی تباہی کا سبب ہے ۔ (اللہ کی پناہ) ( تفسیرِ احمدی وغیرہ )
اور نکاح کردو اپنوں میں ان کا جو بےنکاح ہوں (ف٦۷) اور اپنے لائق بندوں اور کنیزوں کا اگر وہ فقیر ہوں تو اللہ انھیں غنی کردے گا اپنے فضل کے سبب (ف٦۸) اور اللہ وسعت والا علم والا ہے،
And enjoin in marriage those among you who are not married, and your deserving slaves and bondwomen; if they are poor, Allah will make them wealthy by His munificence; and Allah is Most Capable, All Knowing.
और निकाह कर दो अपनों में इन का जो बे निकाह हों और अपने लायक बंदों और कनिज़ों का अगर वह फकीर हों तो अल्लाह उन्हें ग़नी कर देगा अपने फ़ज़ल के सिबब और अल्लाह वुसअत वाला इल्म वाला है,
Aur nikah kar do apno mein un ka jo be-nikah hon aur apne laayiq bandon aur kenezein ka agar woh faqeer hon to Allah unhein ghani kar dega apne fazl ke sabab aur Allah wusat wala ilm wala hai,
(ف67)خواہ مرد یا عورت کنوارے یا غیر کنوارے ۔(ف68)اس غناء سے مراد یا قناعت ہے کہ وہ بہترین غنا ہے جو قانع کو تردُّد سے بے نیاز کر دیتا ہے یا کفایت کہ ایک کا کھانا دو کے لئے کافی ہو جائے جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہوا ہے یا زوج و زوجہ کے دو رزقوں کا جمع ہو جانا یا فراخی بہ برکتِ نکاح جیسا کہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے ۔
اور چاہیے کہ بچے رہیں (ف٦۹) وہ جو نکاح کا مقدور نہیں رکھتے (ف۷۰) یہاں تک کہ اللہ مقدور والا کردے اپنے فضل سے (ف۷۱) اور تمہارے ہاتھ کی مِلک باندی غلاموں میں سے جو یہ چاہیں کہ کچھ مال کمانے کی شرط پر انھیں آزادی لکھ دو تو لکھ دو (ف۷۲) اگر ان میں کچھ بھلائی جانو (ف۷۳) اور اس پر ان کی مدد کرو اللہ کے مال سے جو تم کو دیا (ف۷٤) اور مجبور نہ کرو اپنی کنیزوں کو بدکاری پر جب کہ وہ بچنا چاہیں تاکہ تم دنیوی زندگی کا کچھ مال چاہو (ف۷۵) اور جو انھیں مجبور کرے گا تو بیشک اللہ بعد اس کے کہ وہ مجبوری ہی کی حالت پر رہیں بخشنے والا مہربان ہے (ف۷٦)
And those who do not have the means to get married must keep chaste till Allah provides them the resources by His munificence; and the bondwomen in your possession who, in order to earn something, seek a letter of freedom from you – then write it for them if you consider some goodness in them; and help them in their cause with Allah’s wealth which He has bestowed upon you; and do not force your bondwomen into the dirty profession, while they wish to save themselves, in order to earn some riches of the worldly life; and if one forces them then indeed Allah, upon their remaining compelled, is Oft Forgiving, Most Merciful.
और चाहिए कि बच्चे रहें वह जो निकाह का मिक़्दोर नहीं रखते यहाँ तक कि अल्लाह मिक़्दोर वाला कर दे अपने फ़ज़ल से और तुम्हारे हाथ की मिल्क बाँदी गुलामों में से जो यह चाहें कि कुछ माल कमाने की शर्त पर उन्हें आज़ादी लिख दो तो लिख दो अगर इन में कुछ भलाई जानो और उस पर इन की मदद करो अल्लाह के माल से जो तुम को दिया और मजबूर न करो अपनी कनिज़ों को बदकारी पर जब कि वह बचना चाहें ताकि तुम दुनियावी ज़िंदगी का कुछ माल चाहो और जो इन्हें मजबूर करेगा तो निश्चय अल्लाह बाद इस के कि वह मजबूरी ही की हालत पर रहें बख़्शने वाला मेहरबान है,
Aur chahiye ke bachay rahein woh jo nikah ka maqdoor nahi rakhte, yahan tak ke Allah maqdoor wala kar de apne fazl se, aur tumhare haath ki milk bandi gholamon mein se jo yeh chahein ke kuch maal kamane ki shart par unhein azaadi likh do to likh do, agar un mein kuch bhalai jaano aur is par un ki madad karo, Allah ke maal se jo tum ko diya aur majboor na karo apni kenezein ko badkaari par jab ke woh bachna chahein, taake tum duniyaavi zindagi ka kuch maal chaho, aur jo unhein majboor karega to beshak Allah baad is ke ke woh majboori hi ki haalat par rahein, bakshne wala mehrban hai,
(ف69)حرام کاری سے ۔(ف70)جنہیں مَہر و نفقہ میسّر نہیں ۔(ف71)اور مَہر و نفقہ ادا کرنے کے قابل ہو جائیں ۔ حدیث شریف میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو نکاح کی قدرت رکھے وہ نکاح کرے کہ نکاح پارسائی و پاک بازی کا مُعِین ہے اور جسے نکاح کی قدرت نہ ہو وہ روزے رکھے کہ یہ شہوتوں کو توڑنے والے ہیں ۔(ف72)کہ وہ اس قدر مال ادا کر کے آزاد ہو جائیں اور اس طرح کی آزادی کو کتابت کہتے ہیں اور آیت میں اس کا امر استحباب کے لئے ہے اور یہ استحباب اس شرط کے ساتھ مشروط ہے جو اس کے بعد ہی آیت میں مذکور ہے ۔شانِ نُزول : حویطب بن عبدالعزٰی کے غلام صبیح نے اپنے مولٰی سے کتابت کی درخواست کی ، مولٰی نے انکار کیا ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی تو حویطب نے اس کو سو دینار پر مکاتَب کر دیا اور ان میں سے بیس اس کو بخش دئے باقی اس نے ادا کر دیئے ۔(ف73)بھلائی سے مراد امانت و دیانت اور کمائی پر قدرت رکھنا ہے کہ وہ حلال روزی سے مال حاصل کر کے آزاد ہو سکے اور مولٰی کو مال دے کر آزادی حاصل کرنے کے لئے بھیک نہ مانگتا پھرے اسی لئے حضرتِ سلمان فارسی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنے غلام کو مکاتَب کرنے سے انکار فرما دیا جو سوائے بھیک کے کوئی ذریعہ کسب کا نہ رکھتا تھا ۔(ف74)مسلمانوں کو ارشاد ہے کہ وہ مکاتَب غلاموں کو زکوٰۃ وغیرہ دے کر مدد کریں جس سے وہ بدلِ کتابت دے کر اپنی گردن چھڑا سکیں اور آزاد ہو سکیں ۔(ف75)یعنی طمعِ مال میں اندھے ہو کر کنیزوں کو بدکاری پر مجبور نہ کریں ۔شانِ نُزول : یہ آیت عبداللہ بن اُبی بن سلول منافق کے حق میں نازِل ہوئی جو مال حاصل کرنے کے لئے اپنی کنیزوں کو بدکاری پر مجبور کرتا تھا ، ان کنیزوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کی شکایت کی ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی ۔(ف76)اور وبالِ گناہ مجبور کرنے والے پر ۔
اللہ نور ہے (ف۷۸) آسمانوں اور زمینوں کا، اس کے نور کی (ف۷۹) مثال ایسی جیسے ایک طاق کہ اس میں چراغ ہے وہ چراغ ایک فانوس میں ہے وہ فانوس گویا ایک ستارہ ہے موتی سا چمکتا روشن ہوتا ہے برکت والے پیڑ زیتون سے (ف۸۰) جو نہ پورب کا نہ پچھم کا (ف۸۱) قریب ہے کہ اس کا تیل (ف۸۲) بھڑک اٹھے اگرچہ اسے آگ نہ چھوئے نور پر نور ہے (ف۸۳) اللہ اپنے نور کی راہ بتاتا ہے جسے چاہتا ہے، اور اللہ مثالیں بیان فرماتا ہے لوگوں کے لیے، اور اللہ سب کچھ جانتا ہے،
Allah is the Light of the heavens and the earth; the example of His light is like a niche in which is a lamp; the lamp is in a glass; the glass is as if it were a star shining like a pearl, kindled by the blessed olive tree, neither of the east nor of the west – it is close that the oil itself get ablaze although the fire does not touch it; light upon light; Allah guides towards His light whomever He wills; and Allah illustrates examples for mankind; and Allah knows everything. (The Holy Prophet is a light from Allah)
अल्लाह नूर है आसमानों और ज़मीनों का, इसके नूर की मिसाल ऐसी जैसे एक ताख़ कि इसमें चिराग़ है वह चिराग़ एक फ़ानूस में है वह फ़ानूस ग़ोया एक सितारा है मोती सा चमकता रोशन होता है बरकत वाले पेड़ ज़ैतून से जो न पोर्ब का न पिछम का क़रीब है कि इसका तेल भड़क उठे अगरचाहे इसे आग न छोए नूर पर नूर है अल्लाह अपने नूर की राह बताता है जिसे चाहे, और अल्लाह मिसालें बयान फ़र्माता है लोगों के लिए, और अल्लाह सब कुछ जानता है,
Allah noor hai asmanon aur zameenon ka, is ke noor ki misaal aisi jaise ek taaq ke is mein charagh hai, woh charagh ek fanoos mein hai, woh fanoos goya ek sitara hai, moti sa chamakta roshan hota hai, barkat wale ped zaitoon se jo na poorab ka na pashchim ka qareeb hai, ke is ka tail bhadak uthay agarche ise aag na chooey, noor par noor hai, Allah apne noor ki raah bataata hai jise chahta hai, aur Allah misaalein bayan farmaata hai logon ke liye, aur Allah sab kuch jaanta hai,
(ف78)نور اللہ تعالٰی کے ناموں میں سے ایک نام ہے ۔ حضرت ا بنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا معنٰی یہ ہیں کہ اللہ آسمان و زمین کا ہادی ہے تو اہلِ سمٰوٰت و ارض اس کے نور سے حق کی راہ پاتے ہیں اور اس کی ہدایت سے گمراہی کی حیرت سے نجات حاصل کرتے ہیں ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا معنٰی یہ ہیں کہ اللہ تعالٰی آسمان و زمین کا منوّر فرمانے والا ہے ، اس نے آسمانوں کو ملائکہ سے اور زمین کو انبیاء سے منوّر کیا ۔(ف79)اللہ کے نور سے یا تو قلبِ مؤمن کی وہ نورانیت مراد ہے جس سے وہ ہدایت پاتا اور راہ یاب ہوتا ہے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اللہ کے اس نور کی مثال جو اس نے مؤمن کو عطا فرمایا ۔ بعض مفسِّرین نے اس نور سے قرآن مراد لیا اور ایک تفسیر یہ ہے کہ اس نور سے مراد سیدِ کائنات افضلِ موجودات حضرت رحمتِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ۔(ف80)یہ درخت نہایت کثیر البرکت ہے کیونکہ اس کا روغن جس کو زیت کہتے ہیں نہایت صاف و پاکیزہ روشنی دیتا ہے سر میں بھی لگایا جاتا ہے ، سالن اور نانخورش کی جگہ روٹی سے بھی کھایا جاتا ہے ، دنیا کے اور کسی تیل میں یہ وصف نہیں اور درختِ زیتون کے پتے نہیں گرتے ۔ (خازن)(ف81)بلکہ وسط کا ہے کہ نہ اسے گرمی سے ضَرر پہنچے نہ سردی سے اور وہ نہایت اجود و اعلٰی ہے اور اس کے پھل غایتِ اعتدال میں ۔(ف82)اپنی صفا و لطافت کے باعث خود ۔(ف83)اس تمثیل کے معنٰی میں اہلِ علم کے کئی قول ہیں ایک یہ کہ نور سے مراد ہدایت ہے اور معنٰی یہ ہیں کہ اللہ تعالٰی کی ہدایت غایتِ ظہور میں ہے کہ عالَمِ محسوسات میں اس کی تشبیہ ایسے روشن دان سے ہو سکتی ہے جس میں صاف شفاف فانوس ہو ، اس فانوس میں ایسا چراغ ہو جو نہایت ہی بہتر اور مصفّٰی زیتون سے روشن ہو کہ اس کی روشنی نہایت اعلٰی اور صاف ہو اور ایک قول یہ ہے کہ یہ تمثیل نورِ سیدِ انبیاء محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کعب احبار سے فرمایا کہ اس آیت کے معنٰی بیان کرو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے اپنے نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مثال بیان فرمائی روشندان ( طاق) تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سینہ شریف ہے اور فانوس قلبِ مبارک اور چراغِ نبوّت کے شجرِ نبوّت سے روشن ہے اور اس نورِ مُحمّدی کی روشنی و اضائت اس مرتبۂ کمالِ ظہور پر ہے کہ اگر آپ اپنے نبی ہونے کا بیان بھی نہ فرمائیں جب بھی خَلق پر ظاہر ہو جائے اور حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ روشندان تو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سینہ مبارک ہے اور فانوس قلبِ اطہر اور چراغ وہ نور جو اللہ تعالٰی نے اس میں رکھا کہ شرقی ہے نہ غربی ، نہ یہودی و نصرانی ، ایک شجرۂ مبارکہ سے روشن ہے وہ شجر حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں ۔ نورِ قلبِ ابراہیم پر نورِ مُحمّدی نور پر نور ہے اور محمد بن کعب قرظی نے کہا کہ روشن دان و فانوس تو حضرت اسمٰعیل علیہ السلام ہیں اور چراغ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور شجرۂ مبارکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کہ اکثر انبیاء آپ کی نسل سے ہیں اور شرقی و غربی نہ ہونے کے یہ معنٰی ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نہ یہودی تھے نہ نصرانی کیونکہ یہود مغرب کی طرف نماز پڑھتے ہیں اور نصارٰی مشرق کی طرف ، قریب ہے کہ محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محاسن و کمالات نُزولِ وحی سے قبل ہی خَلق پر ظاہر ہو جائیں ۔ نور پر نور یہ کہ نبی ہیں نسلِ نبی سے ، نورِ محمّدی ہے نور ابراہیمی پر ، اس کے علاوہ اور بھی بہت اقوال ہیں ۔ (خازن)
ان گھروں میں جنہیں بلند کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے (ف۸٤) اور ان میں اس کا نام لیا جاتا ہے، اللہ کی تسبیح کرتے ہیں ان میں صبح اور شام (ف۸۵)
In the houses (mosques) which Allah has commanded to erect and in which His name is taken – praising Allah in them at morn and evening,
इन घरों में जिन्हें बुलंद करने का अल्लाह ने हुक्म दिया है और इन में इसका नाम लिया जाता है, अल्लाह की तसबीह करते हैं इन में सुबह और शाम,
Un gharon mein jinhein buland karne ka Allah ne hukum diya hai aur un mein is ka naam liya jaata hai, Allah ki tasbeeh karte hain un mein subah aur shaam,
(ف84)اور ان کی تعظیم و تطہیر لازم کی ، مراد ان گھروں سے مسجدیں ہیں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا مسجدیں بیت اللہ ہیں زمین میں ۔(ف85)تسبیح سے مراد نمازیں ہیں صبح کی تسبیح سے فجر اور شام سے ظہر و عصر و مغرب و عشاء مراد ہیں ۔
وہ مرد جنہیں غافل نہیں کرتا کوئی سودا اور نہ خرید و فروخت اللہ کی یاد (ف۸٦) اور نماز برپا رکھنے (ف۸۷) اور زکوٰة دینے سے (ف۸۸) ڈرتے ہیں اس دن سے جس میں الٹ جائیں گے دل اور آنکھیں (ف۸۹)
(Are) Those men, whom neither any bargain nor any trade distracts from the Remembrance of Allah and from establishing the prayer and from paying the charity – they fear the day when the hearts and the eyes will be overturned.
वह मर्द जिन्हें गाफ़िल नहीं करता कोई सौदा और न ख़रीद व फ़रोख़्त अल्लाह की याद और नमाज़ बरपा रखने और ज़कात देने से डरते हैं उस दिन से जिस में उलट जाएँ दिल और आँखें,
Woh mard jinhein ghafil nahi karta koi sauda aur na kharid o farokht, Allah ki yaad aur namaz barpa rakhne aur zakat dene se darte hain us din se jis mein ulat jaayenge dil aur aankhein,
(ف86)اور اس کے ذکرِ قلبی و لسانی اور اوقاتِ نماز پر مسجدوں کی حاضر ی سے ۔(ف87)اور انہیں وقت پر ادا کرنے سے ۔ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بازار میں تھے مسجد میں نماز کے لئے اقامت کہی گئی آپ نے دیکھا کہ بازار والے اٹھے اور دوکانیں بند کر کے مسجد میں داخل ہو گئے تو فرمایا کہ آیت رِجَالٌ لَّا تُلْھِیْھِمْ ایسے ہی لوگوں کے حق میں ہے ۔(ف88)اس کے وقت پر ۔(ف89)دلوں کا اُلٹ جانا یہ ہے کہ شدتِ خوف و اضطراب سے اُلٹ کر گلے تک چڑھ جائیں گے نہ باہر نکلیں نہ نیچے اتریں اور آنکھیں اوپر چڑھ جائیں گی یا یہ معنٰی ہیں کُفّار کے دل کُفر و شک سے ایمان و یقین کی طرف پلٹ جائیں گے اور آنکھوں سے پردے اُٹھ جائیں گے یہ تو اس دن کا بیان ہے ، آیت میں یہ ارشاد فرمایا گیا کہ وہ فرمانبردار بندے جو ذکر و طاعت میں نہایت مستعِد رہتے ہیں اور عبادت کی ادا میں سرگرم رہتے ہیں باوجود اس حُسنِ عمل کے اس روز سے خائف رہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالٰی کی عبادت کا حق ادا نہ ہو سکا ۔
تاکہ اللہ انھیں بدلہ دے ان کے سب سے بہتر کام کام اور اپنے فضل سے انھیں انعام زیادہ دے، اور اللہ روزی دیتا ہے جسے چاہے بےگنتی،
In order that Allah may reward them for their best deeds and by His munificence, bestow upon them an increased reward; and Allah gives sustenance to whomever He wills, without account.
ताकि अल्लाह उन्हें बदला दे उनके सब से बेहतर काम काम और अपने फ़ज़ल से उन्हें इनाम ज़्यादा दे, और अल्लाह रोज़ी देता है जिसे चाहे बे गिनती,
Taake Allah unhein badla de un ke sab se behtar kaam kaam aur apne fazl se unhein inaam zyada de, aur Allah rozi deta hai jise chahe be-ginti,
اور جو کافر ہوئے ان کے کام ایسے ہیں جیسے دھوپ میں چمکتا ریتا کسی جنگل میں کہ پیاسا اسے پانی سمجھے، یہاں تک جب اس کے پاس آیا تو اسے کچھ نہ پایا (ف۹۰) اور اللہ کو اپنے قریب پایا تو اس نے اس کا حساب پورا بھردیا، اور اللہ جلد حساب کرلیتا ہے (ف۹۱)
And those who disbelieved – their deeds are like a mirage in the wasteland, so the thirsty may believe it to be water; to the extent that when he came close to it, he found it is nothing and found Allah close to him, so He filled his account; and Allah is Swift At Taking Account.
और जो काफ़र हुए उनके काम ऐसे हैं जैसे धूप में चमकता रेत किसी जंगल में कि प्यासा उसे पानी समझे, यहाँ तक जब इसके पास आया तो उसे कुछ न पाया और अल्लाह को अपने क़रीब पाया तो उसने इसका हिसाब पूरा भर दिया, और अल्लाह जल्द हिसाब कर लेता है,
Aur jo kafir hue un ke kaam aise hain jaise dhoop mein chamakta rait kisi jungle mein ke pyaasa use paani samjhe, yahan tak jab is ke paas aaya to use kuch na paaya aur Allah ko apne qareeb paaya to is ne is ka hisaab poora bhar diya, aur Allah jald hisaab kar leta hai,
(ف90)یعنی پانی سمجھ کر اس کی تلاش میں چلا جب وہاں پہنچا تو پانی کا نام و نشان نہ تھا ایسے ہی کافِر اپنے خیال میں نیکیاں کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اللہ تعالٰی سے اس کا ثواب پائے گا جب عرصاتِ قیامت میں پہنچے گا تو ثواب نہ پائے گا بلکہ عذابِ عظیم میں گرفتار ہو گا اور اس وقت اس کی حسرت اور اس کا اندوہ و غم اس پیاس سے بدرجہا زیادہ ہو گا ۔(ف91)اعمالِ کُفّار کی مثال ایسی ہے ۔
یا جیسے اندھیریاں کسی کنڈے کے (گہرائی والے) دریا میں (ف۹۲) اس کے اوپر موج موج کے اوپر اور موج اس کے اوپر بادل، اندھیرے ہیں ایک پر ایک (ف۹۳) جب اپنا ہاتھ نکالے تو سوجھائی دیتا معلوم نہ ہو (ف۹٤) اور جسے اللہ نور نہ دے اس کے لیے کہیں نور نہیں (ف۹۵)
Or like realms of darkness on a deep sea, which is covered by a wave, the wave covered by another wave, and above it is a cloud; layers of darkness upon darkness; if he removes his hand it does not seem visible; and the one to whom Allah does not provide light – there is no light for him anywhere.
या जैसे अंधेरियां किसी कुंडे के (गहराई वाले) दरिया में इसके ऊपर मौज मो ज के ऊपर और मौज इसके ऊपर बादल, अंधेरे हैं एक पर एक जब अपना हाथ निकालें तो सुझाई देता मालूम न हो और जिसे अल्लाह नूर न दे इसके लिए कहीं नूर नहीं,
Ya jaise andheriyan kisi kunday ke (gehraai wale) darya mein is ke upar mauj mauj ke upar aur mauj is ke upar badal, andhere hain ek par ek, jab apna haath nikaale to soojhai deta maloom na ho, aur jise Allah noor na de us ke liye kahin noor nahi,
(ف92)سمندروں کی گہرائی میں ۔(ف93)ایک اندھیرا دریا کی گہرائی کا ، اس پر ایک اور اندھیرا موجوں کے تراکم کا ، اس پر اور اندھیرا بادلوں کی گھری ہوئی گھٹا کا ، ان اندھیریوں میں شدت کا یہ عالم کہ جو اس میں ہو وہ ۔(ف94)باوجود یکہ اپنا ہاتھ نہایت ہی قریب اور اپنے جسم کا جزو ہے جب وہ بھی نظر نہ آئے تو اور دوسری چیز کیا نظر آئے گی ، ایسا ہی حال ہے کافِر کا کہ وہ اعتقادِ باطل اور قولِ ناحق اور عملِ قبیح کی تاریکیوں میں گرفتار ہے ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ دریا کے کنڈے اور اس کی گہرائی سے کافِر کے دل کو اور موجوں سے جہل و شک و حیرت کو جو کافِر کے دل پر چھائے ہوئے ہیں اور بادلوں سے مُہر کو جو ان کے دلوں پر ہے تشبیہ دی گئی ۔(ف95)راہ یاب وہی ہوتا ہے جس کو وہ راہ دے ۔
کیا تم نے نہ دیکھا کہ اللہ کی تسبیح کرتے ہیں جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں اور پرندے (ف۹٦) پر پھیلائے سب نے جان رکھی ہے اپنی نماز اور اپنی تسبیح، اور اللہ ان کے کاموں کو جانتا ہے،
Have you not seen that all those who are in the heavens and the earth praise Allah, and the birds with their wings spread (also praise Him)? Each one has learnt its prayers and its words of praise; and Allah knows their deeds.
क्या तुम ने न देखा कि अल्लाह की तसबीह करते हैं जो कोई आसमानों और ज़मीन में हैं और परिंदे पर फैलाए सब ने जान रखी है अपनी नमाज़ और अपनी तसबीह, और अल्लाह उनके कामों को जानता है,
Kya tum ne na dekha ke Allah ki tasbeeh karte hain jo koi asmanon aur zameen mein hain aur parinday par phailaye sab ne jaan rakhi hai apni namaz aur apni tasbeeh, aur Allah un ke kaamon ko jaanta hai,
کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نرم نرم چلاتا ہے بادل کو (ف۹۷) پھر انھیں آپس میں مِلاتا ہے (ف۹۸) پھر انھیں تہہ پر تہہ کردیتا ہے تو تو دیکھے کہ اس کے بیچ میں سے مینہ نکلتا ہے اور اتارتا ہے آسمان سے اس میں جو برف کے پہاڑ ہیں ان میں سے کچھ اولے (ف۹۹) پھر ڈالنا ہے انھیں جس پر چاہے (ف۱۰۰) اور پھیردیتا ہے انھیں جس سے چاہے (ف۱۰۱) قریب ہے کہ اس کی بجلی کی چمک آنکھ لے جائے (ف۱۰۲)
Have you not seen that Allah slowly transports the clouds, then gathers them together, then heaps them together, so you see the rain coming forth from between them? And from the sky He sends down hail from the mountains of ice, then sends them upon whomever He wills, and averts them from whomever He wills; it is close that the flash of its lightning take away the eyesight.
क्या तुम ने न देखा कि अल्लाह नरम नरम चलाता है बादल को फिर उन्हें आपस में मिलाता है फिर उन्हें तह पर तह कर देता है तो तू देखे कि इसके बीच में से मीनह निकलता है और उतारता है आसमान से इसमें जो बरफ़ के पहाड़ हैं इनमें से कुछ औले फिर डालना है इन्हें जिस पर चाहे और फेर देता है इन्हें जिस से चाहे क़रीब है कि इसकी बिजली की चमक आँख ले जाए,
Kya tu ne na dekha ke Allah narm narm chalaata hai badal ko phir unhein aapas mein milaata hai phir unhein teh par teh kar deta hai to tu dekhe ke is ke beech mein se maina nikalta hai aur utarta hai asman se is mein jo barf ke pahaad hain un mein se kuch oley phir daalna hai unhein jis par chahe aur phair deta hai unhein jis se chahe, qareeb hai ke is ki bijli ki chamak aankh le jaaye,
(ف97)جس سر زمین اور جن بلاد کی طرف چاہے۔ (ف98)اور ان کے متفرق ٹکڑوں کو یک جا کر دیتا ہے ۔(ف99)اس کے معنٰی یا تویہ ہیں کہ جس طرح زمین میں پتھر کے پہاڑ ہیں ایسے ہی آسمان میں برف کے پہاڑ اللہ تعالٰی نے پیدا کئے ہیں اور یہ اس کی قدرت سے کچھ بعید نہیں ان پہاڑوں سے اولے برساتا ہے یا یہ معنٰی ہیں کہ آسمان سے اولوں کے پہاڑ برساتا ہے یعنی بکثرت اولے برساتا ہے ۔ (مدارک وغیرہ)(ف100)اور جس کے جان و مال کو چاہتا ہے ان سے ہلاک و تباہ کرتا ہے ۔(ف101)اس کے جان و مال کو محفوظ رکھتا ہے ۔(ف102)اور روشنی کی تیزی سے آنکھوں کو بے کار کر دے ۔
اور اللہ نے زمین پر ہر چلنے والا پانی سے بنایا (ف۱۰٤) تو ان میں کوئی اپنے پیٹ پر چلتا ہے (ف۱۰۵) اور ان میں کوئی دو پاؤں پر چلتا ہے (ف۱۰٦) اور ان میں کوئی چار پاؤں پر چلتا ہے (ف۱۰۷) اللہ بناتا ہے جو چاہے، بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
And Allah created every animal on earth, from water; so among them is a kind that moves upon its belly; and among them is a kind that moves upon two legs; and among them a kind that moves upon four legs; Allah creates whatever He wills; indeed Allah is Able to do all things.
और अल्लाह ने ज़मीन पर हर चलने वाला पानी से बनाया तो इन में कोई अपने पेट पर चलता है और इन में कोई दो पाँव पर चलता है और इन में कोई चार पाँव पर चलता है अल्लाह बनाता है जो चाहे, निश्चय अल्लाह सब कुछ कर सकता है।
Aur Allah ne zameen par har chalne wala paani se banaya, to un mein koi apne pait par chalta hai aur un mein koi do paon par chalta hai aur un mein koi chaar paon par chalta hai, Allah banata hai jo chahe, beshak Allah sab kuch kar sakta hai.
(ف104)یعنی تمام اجناسِ حیوان کو پانی کی جنس سے پیدا کیا اور پانی ان سب کی اصل ہے اور یہ سب باوجود متحد الاصل ہونے کے باہم کس قدر مختلف الحال ہیں ، یہ خالِقِ عالَم کے علم و حکمت اور اس کے کمالِ قدرت کی دلیلِ روشن ہے ۔(ف105)جیسے کہ سانپ اور مچھلی اور بہت سے کیڑے ۔(ف106)جیسے کہ آدمی اور پرند ۔(ف107)مثل بہائم اور درندوں کے ۔
بیشک ہم نے اتاریں صاف بیان کرنے والی آیتیں (ف۱۰۸) اور اللہ جسے چاہے سیدھی راہ دکھائے (ف۱۰۹)
And We indeed sent down clear verses; and Allah may guide whomever He wills to the Straight Path.
निश्चय हम ने उतारीं साफ़ बयान करने वाली आयतें और अल्लाह जिसे चाहे सीधी राह दिखाए।
Beshak hum ne utariin saaf bayan karne wali ayatein aur Allah jise chahe seedhi raah dikhaye.
(ف108)یعنی قرآنِ کریم جس میں ہدایت و احکام اور حلال و حرام کا واضح بیان ہے ۔(ف109)اور سیدھی راہ جس پر چلنے سے رضائے الٰہی و نعمتِ آخرت میسّر ہوویں اسلام ہے ۔ آیات کا ذکر فرمانے کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ انسان تین فرقوں میں منقسم ہوگئے ایک وہ جنہوں نے ظاہر میں تصدیقِ حق کی اور باطن میں تکذیب کرتے رہے وہ منافق ہیں ، دوسری وہ جنہوں نے ظاہر میں بھی تصدیق کی اور باطن میں بھی معتقد رہے یہ مخلصین ہیں ، تیسرے وہ جنہوں نے ظاہر میں بھی تکذیب کی اور باطن میں بھی وہ کُفّار ہیں ان کا ذکر بالترتیب فرمایا جاتا ہے ۔
اور کہتے ہیں ہم ایمان لائے اللہ اور رسول پر اور حکم مانا پھر کچھ ان میں کے اس کے بعد پھر جاتے ہیں (ف۱۱۰) اور وہ مسلمان نہیں (ف۱۱۱)
And they say, “We have accepted faith in Allah and His Noble Messenger, and we obey”; then after that a group among them turns away; and they are not Muslims.
और कहते हैं हम ईमान लाए अल्लाह और रसूल पर और हुक्म माना फिर कुछ इन में के इसके बाद फिर जाते हैं और वह मुसलमान नहीं।
Aur kehte hain hum iman laye Allah aur Rasool par aur hukum maana, phir kuch un mein ke is ke baad phir jaate hain aur woh musalman nahin.
(ف110)اور اپنے قول کی پابندی نہیں کرتے ۔(ف111)منافق ہیں کیونکہ ان کے دل ان کی زبانوں کے موافق نہیں ۔
اور جب بلائے جائیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف کہ رسول ان میں فیصلہ فرمائے تو جبھی ان کا ایک فریق منہ پھیر جاتا ہے،
And when called towards Allah and His Noble Messenger in order that the Noble Messenger may judge between them, thereupon a group among them turns away.
और जब बुलाए जाएँ अल्लाह और उसके रसूल की तरफ़ कि रसूल इन में फ़ैसला फ़र्माएँ तो तभी इन का एक फ़रीक मुँह फेर जाता है।
Aur jab bulaye jaayein Allah aur us ke Rasool ki taraf ke Rasool un mein faisla farmaaye to jabhi un ka ek fareeq munh pher jaata hai.
اور اگر ان میں ڈگری ہو ( ان کے حق میں فیصلہ ہو) تو اس کی طرف آئیں مانتے ہوئے (ف۱۱۲)
And if the judgement is in their favour, they come towards it willingly.
और अगर इन में डिग्री हो (इन के हक़ में फ़ैसला हो) तो उसकी तरफ़ आएँ मानते हुए।
Aur agar un mein degree ho (un ke haq mein faisla ho) to us ki taraf aayein maante hue.
(ف112)کُفّار و منافقین بارہا تجرِبہ کر چکے تھے اور انہیں کامل یقین تھا کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فیصلہ سرا سر حق و عدل ہوتا ہے اس لئے ان میں جو سچا ہوتا وہ تو خواہش کرتا تھا کہ حضور اس کا فیصلہ فرمائیں اور جو ناحق پر ہوتا وہ جانتا تھا کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سچی عدالت سے وہ اپنی ناجائز مراد نہیں پا سکتا اس لئے وہ حضور کے فیصلہ سے ڈرتا اور گھبراتا تھا ۔شانِ نُزول : بِشر نامی ایک منافق تھا ایک زمین کے معاملہ میں اس کا ایک یہودی سے جھگڑا تھا یہودی جانتا تھا کہ اس معاملہ میں وہ سچا ہے اور اس کو یقین تھا کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حق و عدل کا فیصلہ فرماتے ہیں اس لئے اس نے خواہش کی کہ یہ مقدمہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سے فیصل کرایا جائے لیکن منافق بھی جانتا تھا کہ وہ باطل پر ہے اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عدل و انصاف میں کسی کی رو رعایت نہیں فرماتے اس لئے وہ حضور کے فیصلہ پر تو راضی نہ ہوا اور کعب بن اشرف یہودی سے فیصلہ کرانے پر مُصِر ہوا اور حضور کی نسبت کہنے لگا کہ وہ ہم پر ظلم کریں گے ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی ۔
کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے (ف۱۱۳) یا شک رکھتے ہیں (ف۱۱٤) کیا یہ ڈرتے ہیں کہ اللہ و رسول ان پر ظلم کریں گے (ف۱۱۵) بلکہ خود ہی ظالم ہیں،
Are their hearts diseased, or do they have doubts, or do they fear that Allah and His Noble Messenger will oppress them? In fact they themselves are the unjust.
क्या इनके दिलों में बीमारी है या शक रखते हैं क्या यह डरते हैं कि अल्लाह व रसूल इन पर ज़ुल्म करेंगे बल्कि खुद ही ज़ालिम हैं।
Kya un ke dilon mein bimari hai ya shak rakhte hain? Kya ye darte hain ke Allah wa Rasool un par zulm kareinge? Balki khud hi zaalim hain.
(ف113)کُفریا نفاق کی ۔(ف114)سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوّت میں ۔(ف115)ایسا تو ہے نہیں کیونکہ یہ وہ خوب جانتے ہیں کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فیصلہ حق سے متجاوز ہو ہی نہیں سکتا اور کوئی بددیانت آپ کی عدالت سے پرایا حق مارنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا اسی وجہ سے وہ آپ کے فیصلہ سے اعراض کرتے ہیں ۔
مسلمانوں کی بات تو یہی ہے (ف۱۱٦) جب اللہ اور رسول کی طرف بلائے جائیں کہ رسول ان میں فیصلہ فرمائے کہ عرض کریں ہم نے سنا اور حکم مانا اور یہی لوگ مراد کو پہنچے،
The saying of the Muslims when they are called towards Allah and His Noble Messenger in order that the Noble Messenger judge between them is that they submit, “We hear and we obey”; and it is they who have attained the goal.
मुसलमानों की बात तो यही है जब अल्लाह और रसूल की तरफ़ बुलाए जाएँ कि रसूल इन में फ़ैसला फ़र्माएँ कि عرض करें हमने सुना और हुक्म माना और यही लोग मुराद को पहुँचे।
Musalmanon ki baat to yehi hai ke jab Allah aur Rasool ki taraf bulaye jaayein ke Rasool un mein faisla farmaaye, ke arz karein hum ne suna aur hukum maana, aur yehi log muraad ko pohanche.
اور انہوں نے (ف۱۱۷) اللہ کی قسم کھائی اپنے حلف میں حد کی کوشش سے کہ اگر تم انھیں حکم دو گے تو وہ ضرور جہاد کو نکلیں گے تم فرماؤ قسمیں نہ کھاؤ (ف۱۱۸) موافق شرع حکم برداری چاہیے، اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو (ف۱۱۹)
And they swore by Allah most vehemently in their oaths that if you order them, they will go forth to holy war; say, “Do not swear; obedience according to the law is required; indeed Allah knows what you do.”
और उन्होंने अल्लाह की क़सम खाई अपने हफ़ में हद की कोशिश से कि अगर तुम उन्हें हुक्म दोगे तो वह जरूर जिहाद को निकलेंगे तुम फ़रमाओ क़समें न खाओ, मौफ़िक शरअ हुक्म़बर्दारी चाहिए, अल्लाह जानता है जो तुम करते हो।
Aur unhone Allah ki qasam khai apne halaf mein hadd ki koshish se ke agar tum unhein hukum doge to woh zaroor jihad ko niklenge. Tum farmaao qasmein na khao, muafiq shari’ah hukm bardaari chahiye, Allah jaanta hai jo tum karte ho.
(ف117)یعنی منافقین نے ۔ ( مدارک)(ف118)کہ جھوٹی قَسم گناہ ہے ۔(ف119)زبانی اطاعت اور عملی مخالفت اس سے کچھ چھپا نہیں ۔
تم فرماؤ حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا (ف۱۲۰) پھر اگر تم منہ پھیرو (ف۱۲۱) تو رسول کے ذمہ وہی ہے جس اس پر لازم کیا گیا (ف۱۲۲) اور تم پر وہ ہے جس کا بوجھ تم پر رکھا گیا (ف۱۲۳) اور اگر رسول کی فرمانبرداری کرو گے راہ پاؤ گے، اور رسول کے ذمہ نہیں مگر صاف پہنچا دینا (ف۱۲٤)
Proclaim, “Obey Allah and obey the Noble Messenger; so if you turn away, then the Noble Messenger is bound only for what is obligatory upon him, and upon you is the duty placed upon you”; and if you obey the Noble Messenger, you will attain guidance; and the Noble Messenger is not liable except to plainly convey.
तुम फ़रमाओ हुक्म मानो अल्लाह का और हुक्म मानो रसूल का फिर अगर तुम मुँह फेरो तो रसूल के ज़िम्मे वही है जिस पर लाज़िम किया गया और तुम पर वह है जिसका बोझ तुम पर रखा गया और अगर रसूल की फ़रमाबर्दारी करोगे राह पाओगे, और रसूल के ज़िम्मे नहीं मगर साफ़ पहुँचाना।
Tum farmaao hukum maano Allah ka aur hukum maano Rasool ka. Phir agar tum munh pheron to Rasool ke zimmed wahi hai jis par laazim kiya gaya aur tum par woh hai jis ka bojh tum par rakha gaya. Aur agar Rasool ki farmaanbardaari karoge, raah paoge, aur Rasool ke zimmed nahi magar saaf pohcha dena.
(ف120)سچے دل اور سچی نیت سے ۔(ف121)رسول علیہ الصلٰوۃ والسلام کی فرمانبرداری سے تو اس میں ان کا کچھ ضَرر نہیں ۔(ف122)یعنی دین کی تبلیغ اور احکامِ الہی کا پہنچا دینا اس کو رسول علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اچھی طرح ادا کر دیا اور وہ اپنے فرض سے عہد ہ برآ ہو چکے ۔(ف123)یعنی رسول علیہ الصلٰوۃ والسلام کی اطاعت و فرمانبرداری ۔(ف124)چنانچہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت واضح طور پر پہنچا دیا ۔
اللہ نے وعدہ دیا ان کو جو تم میں سے ایمان لائے اور اچھے کام کیے (ف۱۲۵) کہ ضرور انھیں زمین میں خلافت دے گا (ف۱۲٦) جیسی ان سے پہلوں کو دی (ف۱۲۷) اور ضرور ان کے لیے جمادے گا ان کا وہ دین جو ان کے لیے پسند فرمایا ہے (ف۱۲۸) اور ضرور ان کے اگلے خوف کو امن سے بدل دے گا (ف۱۲۹) میری عبادت کریں میرا شریک کسی کو نہ ٹھہرائیں، اور جو اس کے بعد ناشکری کرے تو وہی لوگ بےحکم ہیں،
Allah has promised those among you who believe and do good deeds, that He will certainly give them the Caliphate in the earth the way He gave to those before them; and that He will certainly establish for them their religion which He has chosen for them, and will turn their prior fear into peace; they must worship Me and not ascribe anything as a partner to Me; and whoever is ungrateful after this – it is they who are the disobedient.
अल्लाह ने वादा दिया उन को जो तुम में से ईमान लाए और अच्छे काम किए कि जरूर उन्हें ज़मीन में ख़िलाफ़त देगा जैसी इन से पहलों को दी और जरूर उनके लिए जमा देगा उनका वह दीन जो उनके लिए पसंद फ़रमाया है और जरूर उनके अगले ख़ौफ़ को अमन से बदल देगा मेरी इबादत करें मेरा शरीक किसी को न ठहराएँ, और जो इसके बाद नाशकरी करे तो वही लोग बे हुक्म हैं।
Allah ne wada diya un ko jo tum mein se iman laye aur achhe kaam kiye ke zaroor unhein zameen mein khilafat dega, jaisi un se pehlon ko di, aur zaroor un ke liye jama dega un ka woh deen jo un ke liye pasand farmaaya hai aur zaroor un ke agle khauf ko aman se badal dega. Meri ibadat karein, mera shareek kisi ko na thaharaein, aur jo is ke baad nashukri kare to wahi log be-hukum hain.
(ف125)شانِ نُزول : سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وحی نازِل ہونے سے دس سال تک مکّہ مکرّمہ میں مع اصحاب کے قیام فرمایا اور کُفّار کی ایذاؤں پر جو شب و روز ہوتی رہتی تھیں صبر کیا پھر بحکمِ الٰہی مدینہ طیّبہ کو ہجرت فرمائی اور انصار کے منازل کو اپنی سکونت سے سرفراز کیا مگر قریش اس پر بھی باز نہ آئے روز مرّہ ان کی طرف سے جنگ کے اعلان ہوتے اور طرح طرح کی دھمکیاں دی جاتیں اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر وقت خطرہ میں رہتے اور ہتھیار ساتھ رکھتے ایک روز ایک صحابی نے فرمایا کبھی ایسا بھی زمانہ آئے گا کہ ہمیں امن میسّر ہو اور ہتھیاروں کے بار سے ہم سبکدوش ہوں ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی ۔(ف126)اور بجائے کُفّار کے تمہاری فرمانروائی ہوگی ۔ حدیث شریف میں ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس جس چیز پر شب و روز گزرے ہیں ان سب پر دینِ اسلام داخل ہوگا ۔(ف127)حضرت داؤد و سلیمان وغیرہ انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کو اور جیسی کہ جبابرۂ مِصر و شام کو ہلاک کر کے بنی اسرائیل کو خلافت دی اور ان ممالک پر ان کو مسلّط کیا ۔(ف128)یعنی دینِ اسلام کو تمام ادیان پر غالب فرمائے گا ۔(ف129)چنانچہ یہ وعدہ پورا ہوا اور سرزمینِ عرب سے کُفّار مٹا دیئے گئے ، مسلمانوں کا تسلُّط ہوا ، مشرق و مغرب کے ممالک اللہ تعالٰی نے ان کے لئے فتح فرمائے ، اکاسرہ کے ممالک و خزائن ان کے قبضہ میں آئے ، دنیا پر ان کا رعب چھا گیا ۔فائدہ : اس آیت میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ اور آپ کے بعد ہونے والے خلفاءِ راشدین کی خلافت کی دلیل ہے کیونکہ ان کے زمانہ میں فتوحاتِ عظیمہ ہوئے اور کسرٰی وغیرہ مُلوک کے خزائن مسلمانوں کے قبضہ میں آئے اور امن و تمکین اور دین کا غلبہ حاصل ہوا ۔ ترمذی و ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا خلافت میرے بعد تیس سال ہے پھر ملک ہوگا اس کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خلافت دو برس تین ماہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خلافت دس سال چھ ماہ اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خلافت بارہ سال اور حصرت علی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خلافت چار سال نو ماہ اور حضرت امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خلافت چھ ماہ ہوئی ۔ (خازن)
ہرگز کافروں کو خیال نہ کرنا کہ وہ کہیں ہمارے قابو سے نکل جائیں زمین میں اور ان کا ٹھکانا آگ ہے، اور ضرور کیا ہی برا انجام،
Do not ever think that the disbelievers can escape from Our control in the land; and their destination is the fire; and indeed what a wretched outcome!
हरगज़ काफ़रों को ख़याल न करना कि वे कहीं हमारे क़ाबू से निकल जाएँ ज़मीन में और उनका ठिकाना आग है, और जरूर किया ही बुरा अंजाम।
Hargiz kafiron ko khayal na karna ke woh kahin humare qaboo se nikal jaayein zameen mein, aur un ka thikaana aag hai, aur zaroor kya hi bura anjaam.
اے ایمان والو! چاہیے کہ تم سے اذن لیں تمہارے ہاتھ کے مال غلام (ف۱۳۰) اور جو تم میں ابھی جوانی کو نہ پہنچے (ف۱۳۱) تین وقت (ف۱۳۲) نمازِ صبح سے پہلے (ف۱۳۳) اور جب تم اپنے کپڑے اتار رکھتے ہو دوپہر کو (ف۱۳٤) اور نماز عشاء کے بعد (ف۱۳۵) یہ تین وقت تمہاری شرم کے ہیں (ف۱۳٦) ان تین کے بعد کچھ گناہ نہیں تم پر نہ ان پر (ف۱۳۷) آمدورفت رکھتے ہیں تمہارے یہاں ایک دوسرے کے پاس (ف۱۳۸) اللہ یونہی بیان کرتا ہے تمہارے لیے آیتیں، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
O People who Believe! The slaves you possess and those among you who have not attained adulthood, must seek your permission on three occasions; before the dawn prayer, and when you remove your garments in the afternoon, and after the night prayer; these three times are of privacy for you; other than these three times, it is no sin for you or for them; moving about around you and among each other; and this is how Allah explains the verses for you; and Allah is All Knowing, Wise.
ऐ ईमान वालो! चाहिए कि तुम से इज़न लें तुम्हारे हाथ के माल गुलाम और जो तुम में अभी जवानी को न पहुँचे तीन वक़्त नमाज़-ए-सुब्ह से पहले और जब तुम अपने कपड़े उतार रखें दोपहर को और नमाज़ इशा के बाद यह तीन वक़्त तुम्हारी शर्म के हैं इन तीन के बाद कुछ गुनाह नहीं तुम पर न इन पर آمد-ओ-رفت रखते हैं तुम्हारे यहाँ एक दूसरे के पास अल्लाह यूँही बयान करता है तुम्हारे लिए आयतें, और अल्लाह इल्म व हिकमत वाला है।
Ae iman walon! Chahiye ke tum se ijaazat lein tumhare haath ke maal, ghulam aur jo tum mein abhi jawani ko na pohanche, teen waqt: namaz-e-subah se pehle, aur jab tum apne kapde utaar rakhe ho dopehar ko, aur namaz-e-isha ke baad. Ye teen waqt tumhari sharam ke hain. In teen ke baad kuch gunaah nahi tum par, na un par, aamd-o-raft rakhte hain. Tumhare yahan ek doosre ke paas Allah yoonhi bayan karta hai tumhare liye ayatein, aur Allah ilm o hikmat wala hai.
(ف130)اور باندیاں ۔شانِ نُزول : حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک انصاری غلام مدلج بن عمرو کو دوپہر کے وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بلانے کے لئے بھیجا وہ غلام ویسے ہی حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مکان میں چلا گیا جب کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بے تکلّف اپنے دولت سرائے میں تشریف رکھتے تھے غلام کے اچانک چلے آنے سے آپ کے دل میں خیال ہوا کہ کاش غلاموں کو اجازت لے کر مکانوں میں داخل ہونے کا حکم ہوتا ۔ اس پر یہ آیۂ کریمہ نازِل ہوئی ۔(ف131)بلکہ ابھی قریبِ بلوغ ہیں ۔ سنِ بلوغ حضرت امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک لڑکے کے لئے اٹھارہ سال اور لڑکی کے لئے سَترہ سال ، عامہ عُلَماء کے نزدیک لڑکے اور لڑکی دونوں کے لئے پندرہ سال ہے ۔ (تفسیرِ احمدی)(ف132)یعنی ان تین وقتوں میں اجازت حاصل کریں جن کا بیان اسی آیت میں فرمایا جاتا ہے ۔(ف133)کہ وہ وقت ہے خواب گاہوں سے اٹھنے اور شب خوابی کا لباس اتار کر بیداری کے کپڑے پہننے کا ۔(ف134)قیلولہ کرنے کے لئے اور تہ بند باندھ لیتے ہو ۔(ف135)کہ وہ وقت ہے بیداری کا لباس اتارنے اور خواب کا لباس پہننے کا ۔(ف136)کہ ان اوقات میں خلوت و تنہائی ہوتی ہے ، بدن چھپانے کا بہت اہتمام نہیں ہوتا ممکن ہے کہ بدن کا کوئی حصّہ کھل جائے جس کے ظاہر ہونے سے شرم آتی ہے لہذا ان اوقات میں غلام اور بچے بھی بے اجازت داخل نہ ہوں اور ان کے علاوہ جوان لوگ تمام اوقات میں اجازت حاصل کریں کسی وقت بھی بے اجازت داخل نہ ہوں ۔ (خازن وغیرہ)(ف137)مسئلہ : یعنی ان تین وقتوں کے سوا باقی اوقات میں غلام اور بچے بے اجازت داخل ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ ۔(ف138)کام و خدمت کے لئے تو ان پر ہر وقت استیذان کا لازم ہونا سببِ حرج ہوگا اور شرع میں حرج مدفوع ہے ۔ (مدارک)
اور جب تم میں لڑکے (ف۱۳۹) جوانی کو پہنچ جائیں تو وہ بھی اذن مانگیں (ف۱٤۰) جیسے ان کے اگلوں (ف۱٤۱) نے اذن مانگا، اللہ یونہی بیان فرماتا ہے تم سے اپنی آیتیں، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
And when the boys among you reach adulthood, then they too must seek permission like those before them had sought; this is how Allah explains His verses for you; and Allah is All Knowing, Wise.
और जब तुम में लड़के जवानी को पहुँच जाएँ तो वह भी इज़न माँगें जैसे उनके अगलों ने इज़न माँगा, अल्लाह यूँही बयान फ़रमाता है तुम से अपनी आयतें, और अल्लाह इल्म व हिकमत वाला है।
Aur jab tum mein ladke jawani ko pohanch jaayein to woh bhi ijaazat maangein jaise un ke agloon ne ijaazat manga, Allah yoonhi bayan farmaata hai tum se apni ayatein, aur Allah ilm o hikmat wala hai.
(ف139)یعنی آزاد ۔(ف140)تمام اوقات میں ۔ (ف141)ان سے بڑے مَردوں ۔
اور بوڑھی خانہ نشین عورتیں (ف۱٤۲) جنہیں نکاح کی آرزو نہیں ان پر کچھ گناہ نہیں کہ اپنے بالائی کپڑے اتار رکھیں جب کہ سنگھار نہ چمکائیں (ف۱٤۳) اور ان سے بھی بچنا (ف۱٤٤) ان کے لیے اور بہتر ہے، اور اللہ سنتا جانتا ہے ،
And the old women residing in houses who do not have the desire of marriage – it is no sin upon them if they discard their upper coverings provided they do not display their adornment; and avoiding even this is better for them; and Allah is All Hearing, All Knowing.
और बूढ़ी ख़ाना नशीन औरतें जिन्हें निकाह की आरज़ू नहीं, उन पर कुछ गुनाह नहीं कि अपने बाले कपड़े उतार रखें जब कि सिंगार न चमकाएँ और उनसे भी बचना उनके लिए और बेहतर है, और अल्लाह सुनता जानता है।
Aur boorhi khana nashiin auratein jinhein nikah ki aarzu nahi, un par kuch gunaah nahi ke apne balaai kapde utaar rakhein, jab ke singhaar na chamkayein, aur un se bhi bachna un ke liye aur behtar hai. Aur Allah sunta jaanta hai.
(ف142)جن کا سن زیادہ ہو چکا اور اولاد ہونے کی عمر نہ رہی اور پیرانہ سالی کے باعث ۔(ف143)اور بال ، سینہ ، پنڈلی وغیرہ نہ کھولیں ۔(ف144)بالائی کپڑوں کو پہنے رہنا ۔
نہ اندھے پر تنگی اور نہ لنگڑے پر مضائقہ اور نہ بیمار پر روک اور نہ تم میں کسی پر کہ کھاؤ اپنی اولاد کے گھر (ف۱٤٦) یا اپنے باپ کے گھر یا اپنی ماں کے گھر یا اپنے بھائیوں کے یہاں یا اپنی بہنوں کے گھر یا اپنے چچاؤں کے یہاں یا اپنی پھپیوں کے گھر یا اپنے ماموؤں کے یہاں یا اپنی خالاؤں کے گھر یا جہاں کی کنجیاں تمہارے قبضہ میں ہیں (ف۱٤۷) یا اپنے دوست کے یہاں تم پر کوئی الزام نہیں کہ مل کر کھاؤ یا الگ الگ (ف۱٤۰) پھر جب کسی گھر میں جاؤ تو اپنوں کو سلام کرو (ف۱۵۰) ملتے وقت کی اچھی دعا اللہ کے پاس سے مبارک پاکیزہ، اللہ یونہی بیان فرماتا ہے تم سے آیتیں کہ تمہیں سمجھ ہو،
There is no restriction upon the blind nor any restraint upon the lame nor any constraint upon the sick nor on any among you if you eat from your houses, or the houses of your fathers, or the houses of your mothers, or the houses of your brothers, or the houses of your sisters, or the houses of your fathers’ brothers, or the houses of your fathers’ sisters, or the houses of your mothers’ brothers, or the houses of your mothers’ sisters, or from the houses you are entrusted the keys of, or from the house of a friend – there is no blame upon you if you eat together or apart; therefore when you enter the houses, say greetings to your people – the excellent prayer at the time of meeting, from Allah, blessed and pure; this is how Allah explains the verses to you in order that you may understand.
न अंधे पर तंगी और न लंगड़े पर मुझाइक़ और न बीमार पर रोक और न तुम में किसी पर कि खाओ अपनी औलाद के घर या अपने बाप के घर या अपनी माँ के घर या अपने भाईयों के यहाँ या अपनी बहनों के घर या अपने चचाओं के यहाँ या अपनी फुपियों के घर या अपने मामाओं के यहाँ या अपनी खालाओं के घर या जहाँ की कंज़ियाँ तुम्हारे क़ब्ज़े में हैं या अपने दोस्त के यहाँ, तुम पर कोई इल्ज़ाम नहीं कि मिल कर खाओ या अलग-अलग फिर जब किसी घर में जाओ तो अपनों को सलाम करो मिलने का अच्छा दुआ अल्लाह के पास से मुबारक पाकीज़ा, अल्लाह यूँही बयान फ़रमाता है तुम से आयतें कि तुम्हें समझ हो।
Na andhe par tangi, aur na langde par mazaa’iq, aur na bimaar par rok, aur na tum mein kisi par ke khao apni aulaad ke ghar, ya apne baap ke ghar, ya apni maa ke ghar, ya apne bhaiyon ke yahan, ya apni behnon ke ghar, ya apne chachaon ke yahan, ya apni phupiyon ke ghar, ya apne maamuon ke yahan, ya apni khaalon ke ghar, ya jahan ki kunjiyaan tumhare qabza mein hain, ya apne dost ke yahan. Tum par koi ilzaam nahi ke mil kar khao ya alag alag. Phir jab kisi ghar mein jao to apnon ko salaam karo, milte waqt ki achhi dua Allah ke paas se mubarak paakeeza, Allah yoonhi bayan farmaata hai tum se ayatein ke tumhein samajh ho.
(ف145)شانِ نُزول : سعید بن مسیّب رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ صحابۂ کرام نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد کو جاتے تو اپنے مکانوں کی چابیاں نابینا اور بیماروں اور اپاہیجوں کو دے جاتے جو ان اعذار کے باعث جہاد میں نہ جا سکتے اور انھیں اجازت دیتے کہ ان کے مکانوں سے کھانے کی چیزیں لے کر کھائیں مگر وہ لوگ اس کو گوارا نہ کرتے بایں خیال کہ شاید یہ ان کو دل سے پسند نہ ہو اس پر یہ آیت نازِل ہوئی اور انہیں اس کی اجازت د ی گئی اور ایک قول یہ ہے کہ اندھے اپاہج اور بیمار لوگ تندرستوں کے ساتھ کھانے سے بچتے کہ کہیں کسی کو نفرت نہ ہو اس آیت میں انہیں اجازت دی گئی اور ایک قول یہ ہے کہ جب جب اندھے ، نابینا ، اپاہج کسی مسلمان کے پاس جاتے اور اس کے پاس ان کے کھلانے کے لئے کچھ نہ ہوتا تو وہ انہیں کسی رشتہ دار کے یہاں کھلانے کے لئے لے جاتا یہ بات ان لوگوں کو گوارا نہ ہوتی ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی اور انہیں بتایا گیا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔(ف146)کہ اولاد کا گھر اپنا ہی گھر ہے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے ، اسی طرح شوہر کے لئے بیوی کا اور بیوی کے لئے شوہر کا گھر بھی اپنا ہی گھر ہے ۔(ف147)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اس سے مراد آدمی کا وکیل اور اس کا کار پرداز ہے ۔(ف148)معنٰی یہ ہیں کہ ان سب لوگوں کے گھر کھانا جائز ہے خواہ وہ موجود ہوں یا نہ ہوں جب کہ معلوم ہو کہ وہ اس سے راضی ہیں ، سلف کا تو یہ حال تھا کہ آدمی اپنے دوست کے گھر اس کی غَیبت میں پہنچتا تو اس کی باندی سے اس کا کیسہ طلب کرتا اور جو چاہتا اس میں سے لے لیتا جب وہ دوست گھر آتا اور باندی اس کو خبر دیتی تو اس خوشی میں وہ باندی کو آزاد کر دیتا مگر اس زمانہ میں یہ فیاضی کہاں لہذا بے اجازت کھانا نہ چاہئیے ۔ (مدارک و جلالین)(ف149)شانِ نُزول : قبیلۂ بنی لیث بن عمرو کے لوگ تنہا بغیر مہمان کے کھانا نہ کھاتے تھے کبھی کبھی مہمان نہ ملتا تو صبح سے شام تک کھانا لئے بیٹھے رہتے ۔ ان کے حق میں یہ آیت نازِل ہوئی ۔(ف150)مسئلہ : جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہو تو اپنے اہل کو سلام کرے اور ان لوگوں کو جو مکان میں ہوں بشرطیکہ ان کے دین میں خلل نہ ہو ۔ (خازن)مسئلہ : اگر خالی مکان میں داخل ہو جہاں کوئی نہیں ہے تو کہے اَلسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ وَ رَحْمَۃُ اﷲِ تَعَالٰـی وَبَرَکَاتُہ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اﷲِ الصَّالِحِیْنَ اَلسَّلَامُ عَلٰی اَہْلِ الْبَیْتِ وَرَحْمَۃُ اﷲِ تَعالٰی وَبَرَکَاتُہ، حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ مکان سے یہاں مسجدیں مراد ہیں ۔ نخعی نے کہا کہ جب مسجد میں کوئی نہ ہو تو کہے اَلسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اﷲِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ سَلَّمْ (شفاشریف) ملَّا علی قاری نے شرح شفا میں لکھا کہ خالی مکان میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام عرض کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اہلِ اسلام کے گھروں میں روحِ اقدس جلوہ فرما ہوتی ہے ۔
ایمان والے تو وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر یقین لائے اور جب رسول کے پاس کسی ایسے کام میں حاضر ہوئے ہوں جس کے لیے جمع کیے گئے ہوں (ف۱۵۱) تو نہ جائیں جب تک ان سے اجازت نہ لے لیں وہ جو تم سے اجازت مانگتے ہیں وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں (ف۱۵۲) پھر جب وہ تم سے اجازت مانگیں اپنے کسی کام کے لیے تو ان میں جسے تم چاہو اجازت دے دو اور ان کے لیے اللہ سے معافی مانگو (ف۱۵۳) بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
The believers are only those who accept faith in Allah and His Noble Messenger and when they are present with the Noble Messenger upon being gathered for some task, do not go away until they have taken his permission; indeed those who seek your permission, are those who believe in Allah and His Noble Messenger; so if they seek your permission for some affair of theirs, give the permission to whomever you wish among them, and seek Allah’s forgiveness for them; indeed Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
ईमान वाले तो वही हैं जो अल्लाह और उसके रसूल पर यक़ीन लाए और जब रसूल के पास किसी ऐसे काम में हाज़िर हुए हों जिस के लिए जमा किए गए हों तो न जाएँ जब तक उनसे इज़न न ले लें, वह जो तुम से इज़न माँगते हैं वही हैं जो अल्लाह और उसके रसूल पर ईमान लाते हैं, फिर जब वह तुम से इज़न माँगें अपने किसी काम के लिए तो उनमें जिसे तुम चाहो इज़न दे दो और उनके लिए अल्लाह से माफी माँगो, निश्चय अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है।
Imaan wale to wahi hain jo Allah aur us ke Rasool par yaqeen laaye aur jab Rasool ke paas kisi aise kaam mein hazir hue hon jis ke liye jama kiye gaye hon to na jaayein jab tak un se ijaazat na lein. Woh jo tum se ijaazat maangte hain wahi hain jo Allah aur us ke Rasool par iman late hain. Phir jab woh tum se ijaazat maanghein apne kisi kaam ke liye, to un mein jise tum chaho ijaazat de do, aur un ke liye Allah se maafi maango. Beshak Allah bakshne wala mehrban hai.
(ف151)جیسے کہ جہاد اور تدبیرِ جنگ اور جمعہ و عیدین اور مشورہ اور ہر اجتماع جو اللہ کے لئے ہو ۔(ف152)ان کا اجازت چاہنا نشانِ فرمانبرداری اور دلیلِ صحتِ ایمان ہے ۔(ف153)اس سے معلوم ہوا کہ افضل یہی ہے کہ حاضر رہیں اور اجازت طلب نہ کریں ۔مسئلہ : اماموں اور دینی پیشواؤں کی مجلس سے بھی بے اجازت نہ جانا چاہیئے ۔ (مدارک)
رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرالو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے (ف۱۵٤) بیشک اللہ جانتا ہے جو تم میں چپکے نکل جاتے ہیں کسی چیز کی آڑ لے کر (ف۱۵۵) تو ڈریں وہ جو رسول کے حکم کے خلاف کرتے ہیں کہ انھیں کوئی فتنہ پہنچے (ف۱۵٦) یا ان پر دردناک عذاب پڑے (ف۱۵۷)
Do not presume among yourselves the calling of the Noble Messenger equal to your calling one another; Allah knows those among you who sneak away by some pretext; so those who go against the orders of the Noble Messenger must fear that a calamity may strike them or a painful punishment befall them. (To honour the Holy Prophet – peace and blessings be upon him – is part of faith. To disrespect him is blasphemy.)
रसूल के पुकारने को आपस में ऐसा न ठहरा लो जैसा तुम में एक दूसरे को पुकारता है, निश्चय अल्लाह जानता है जो तुम में चुपके निकल जाते हैं किसी चीज़ की आड़ लेकर, तो डरे वे जो रसूल के हुक्म के खिलाफ़ करते हैं कि उन्हें कोई फित्ना पहुँचे या इन पर दर्दनाक अज़ाब पड़े।
Rasool ke pukarne ko aapas mein aisa na thehra lo jaise tum mein ek doosre ko pukarta hai. Beshak Allah jaanta hai jo tum mein chhupke nikal jaate hain kisi cheez ki aar le kar. To darein woh jo Rasool ke hukum ke khilaaf karte hain ke unhein koi fitna pohche ya un par dardnak azaab pade.
(ف154)کیونکہ جس کو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پکاریں اس پر اجابت و تعمیل واجب ہو جاتی ہے اور ادب سے حاضر ہونا لازم ہوتا ہے اور قریب حاضر ہونے کے لئے اجازت طلب کر ے اور اجازت سے ہی واپس ہو اور ایک معنٰی مفسِّرین نے یہ بھی بیان فرمائے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ندا کرے تو ادب و تکریم اور توقیر و تعظیم کے ساتھ آپ کے معظّم القاب سے نرم آواز کے ساتھ متواضعانہ و منکسرانہ لہجہ میں یَانَبِیَّ اﷲِ یَارَسُوْلَ اﷲِ یَاحَبِیْبَ اﷲِ کہہ کر ۔ (ف155)شانِ نُزول : منافقین پر روزِ جمعہ مسجد میں ٹھہر کر نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطبے کا سننا گراں ہوتا تھا تو وہ چپکے چپکے آہستہ آہستہ صحابہ کی آڑ لے کر سرکتے سرکتے مسجد سے نکل جاتے تھے ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی ۔(ف156)دنیا میں تکلیف یا قتل یا زلزلے یا اور ہولناک حوادث یا ظالم بادشاہ کا مسلّط ہونا یا دل کا سخت ہو کر معرفتِ الٰہی سے محروم رہنا ۔(ف157)آخرت میں ۔
سن لو ! بیشک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، بیشک وہ جانتا ہے جس حال پر تم ہو (ف۱۵۸) اور اس دن کو جس میں اس کی طرف پھیرے جائیں گے (ف۱۵۹) تو وہ انھیں بتادے گا جو کچھ انہوں نے کیا، اور اللہ سب کچھ جانتا ہے، (ف۱٦۰)
Pay heed! Indeed to Allah only belong whatsoever is in the heavens and in the earth; He knows the condition you are in; and on the Day when they are returned to Him, He will then inform them of whatever they did; and Allah knows all things.
सुन लो! निश्चय अल्लाह ही का है जो कुछ आसमानों और ज़मीन में है, निश्चय वह जानता है जिस हाल पर तुम हो और उस दिन को जिस में उसकी तरफ़ फ़ेरे जाएँगे, तो वह उन्हें बता देगा जो कुछ उन्होंने किया, और अल्लाह सब कुछ जानता है।
Sun lo! Beshak Allah hi ka hai jo kuch asmanon aur zameen mein hai. Beshak woh jaanta hai jis haal par tum ho, aur us din ko jis mein is ki taraf pheray jaayeinge, to woh unhein bata dega jo kuch unhone kiya, aur Allah sab kuch jaanta hai.",
"
(ف158)ایمان پر یا نفاق پر ۔(ف159)جزا کے لئے اور وہ دن روزِ قیامت ہے ۔(ف160)اس سے کچھ چھپا نہیں ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page