(ف2)اس آیت میں اللہ تبارک و تعالٰی نے قَسم یاد فرمائی چند گروہوں کی یا تو مراد اس سے ملائکہ کے گروہ ہیں جو نمازیوں کی طرح صف بستہ ہو کر اس کے حکم کے منتظر رہتے ہیں یا عُلَماءِ دین کے گروہ جو تہجّد اور تمام نمازوں میں صفیں باندھ کر مصروفِ عبادت رہتے ہیں یا غازیوں کے گروہ جو راہِ خدا میں صفیں باندھ کر دشمنانِ حق کے مقابل ہوتے ہیں ۔ (مدارک)
فَالزّٰجِرٰتِ زَجۡرًا ۙ ﴿2﴾
پھر ان کی کہ جھڑک کر چلائیں (ف۳)
(ف3)پہلی تقدیر پر جھڑک کر چَلانے والوں سے مراد ملائکہ ہیں جو ابر پر مقرر ہیں اور اس کو حکم دے کر چَلاتے ہیں اور دوسری تقدیر پر وہ عُلَماء جو وعظ و پند سے لوگوں کو جھڑک کر دین کی راہ چَلاتے ہیں تیسری صورت میں وہ غازی جو گھوڑوں کو ڈپٹ کر جہاد میں چَلاتے ہیں ۔
مالک آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور مالک مشرقوں کا (ف٤)
(ف4)یعنی آسمان اور زمین اور ان کی درمیانی کائنات اور تمام حدود و جہات سب کا مالک وہی ہے تو کوئی دوسرا کس طرح مستحقِ عبادت ہو سکتا ہے لہذا وہ شریک سے منزّہ ہے ۔
اور بیشک ہم نے نیچے کے آسمان کو (ف۵) تاروں کے سنگھار سے آراستہ کیا ،
(ف5)جو زمین کے بہ نسبت اور آسمانوں سے قریب تر ہے ۔
وَحِفۡظًا مِّنۡ كُلِّ شَيۡطٰنٍ مَّارِدٍۚ ﴿7﴾
اور نگاہ رکھنے کو ہر شیطان سرکش سے (ف٦)
(ف6)یعنی ہم نے آسمان کو ہر ایک نافرمان شیطان سے محفوظ رکھا کہ جب شیاطین آسمان پر جانے کا ارادہ کریں تو فرشتے شہاب مار کر ان کو دفع کر دیں لہذا شیاطین آسمان پر نہیں جا سکتے اور ۔
تو ان سے پوچھو (ف۱۲) کیا ان کی پیدائش زیادہ مضبوط ہے یا ہماری اور مخلوق آسمانوں اور فرشتوں وغیرہ کی (ف۱۳) بیشک ہم نے ان کو چپکتی مٹی سے بنایا (ف۱٤)
(ف12)یعنی کُفّارِ مکّہ سے ۔(ف13)تو جس قادرِ برحق کو آسمان و زمین جیسی عظیم مخلو ق کا پیدا کر دینا کچھ بھی مشکل اور دشوار نہیں تو انسانوں کا پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہو سکتا ہے ۔(ف14)یہ ان کے ضعف کی ایک اور شہادت ہے کہ ان کی پیدائش کا اصل مادّہ مٹی ہے جو کوئی شدّت و قوّت نہیں رکھتی اور اس میں ان پر ایک اور برہان قائم فرمائی گئی ہے کہ چپکتی مٹی ان کا مادّۂ پیدائش ہے تو اب پھر جسم کے گل جانے اور غایت یہ ہے کہ مٹی ہو جانے کہ بعد اس مٹی سے پھر دوبارہ پیدائش کو وہ کیوں ناممکن جانتے ہیں مادّہ موجود اور صانع موجود پھر دوبارہ پیدائش کیسے محال ہو سکتی ۔
بَلۡ عَجِبۡتَ وَيَسۡخَرُوۡنَ ﴿12﴾
بلکہ تمہیں اچنبھا آیا (ف۱۵) اور وہ ہنسی کرتے ہیں (ف۱٦)
(ف15)ان کے تکذیب کرنے سے کہ ایسے واضح الدلالۃ آیات وبیّنات کے باوجود وہ کس طرح تکذیب کرتے ہیں ۔(ف16)آپ سے اور آپ کے تعجّب سے یا مرنے کے بعد اٹھنے سے ۔
وَاِذَا ذُكِّرُوۡا لَا يَذۡكُرُوۡنَ ﴿13﴾
اور سمجھائے نہیں سمجھتے،
وَاِذَا رَاَوۡا اٰيَةً يَّسۡتَسۡخِرُوۡنَ ﴿14﴾
اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں (ف۱۷) ٹھٹھا کرتے ہیں،
کیا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے کیا ہم ضرور اٹھائے جائیں گے،
اَوَاٰبَآؤُنَا الۡاَوَّلُوۡنَؕ ﴿17﴾
اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی (ف۱۸)
(ف18)جو ہم سے زمانہ میں مقدم ہیں ۔ کُفّار کے نزدیک ان کے باپ دادا کا زندہ کیا جانا خود ان کے زندہ کئے جانے سے زیادہ بعید تھا اس لئے انہوں نے یہ کہا ۔ اللہ تعالٰی اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے فرماتاہے ۔
ہانکو ظالموں اور ان کے جوڑوں کو (ف۲٤) اور جو کچھ وہ پوجتے تھے ،
(ف24)ظالموں سے مراد کافِر ہیں اور ان کے جوڑوں سے مراد ان کے شیاطین جو دنیا میں ان کے جلیس و قرین رہتے تھے ہر ایک کافِر اپنے شیطان کے ساتھ ایک ہی زنجیر میں جکڑ دیا جائے گا اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ جوڑوں سے مراد اشباہ و امثال ہیں یعنی ہر کافِر اپنے ہی قِسم کے کُفّار کے ساتھ ہانکا جائے گا ، بُت پرست بُت پرستوں کے ساتھ اور آتش پرست آتش پرستوں کے ساتھ وعلٰی ہذا القیا س ۔
(ف25)صراط کے پاس ۔(ف26)حدیث شریف میں ہے کہ روزِ قیامت بندہ جگہ سے ہل نہ سکے گا جب تک چار باتیں اس سے نہ پوچھ لی جائیں (۱) ایک اس کی عمر کہ کس کام میں گزری (۲) دوسرے اس کا علم کہ اس پر کیا عمل کیا (۳)تیسرے اس کا مال کہ کہاں سے کمایا کہاں خرچ کیا (۴) چوتھے اس کا جسم کہ اس کو کس کام میں لایا ۔
مَا لَـكُمۡ لَا تَنَاصَرُوۡنَ ﴿25﴾
تمہیں کیا ہوا ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے (ف۲۷)(
(ف27)یہ ان سے جہنّم کے خازن بطریقِ توبیخ کہیں گے کہ دنیا میں تو ایک دوسرے کی امداد پر بہت غرّہ رکھتے تھے آج دیکھو کیسے عاجز ہو تم میں سے کوئی کسی کی مدد نہیں کر سکتا ۔
نہ اس میں خمار ہے (ف٤۷) اور نہ اس سے ان کا سَر پِھرے (ف٤۸)
(ف47)جس سے عقل میں خلل آئے ۔(ف48)بخلاف دنیا کی شراب کے جس میں بہت سے فسادات اور عیب ہیں اس سے پیٹ میں بھی درد ہوتا ہے ، سر میں بھی ، پیشاب میں بھی تکلیف ہو جاتی ہے ، طبیعت مالش کرتی ہے ، قے آتی ہے ، سر چکراتا ہے ، عقل ٹھکانے نہیں رہتی ۔
وَعِنۡدَهُمۡ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ عِيۡنٌۙ ﴿48﴾
اور ان کے پاس ہیں جو شوہروں کے سوا دوسری طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھیں گی (ف٤۹)
(ف49)کہ اس کے نزدیک اس کاشوہر ہی صاحبِ حُسن اور پیارا ہے ۔
كَاَنَّهُنَّ بَيۡضٌ مَّكۡنُوۡنٌ ﴿49﴾
بڑی آنکھوں والیاں گویا وہ انڈے ہیں پوشیدہ رکھے ہوئے (ف۵۰)
اور میرا رب فضل نہ کرے (ف۵۹) تو ضرور میں بھی پکڑ کر حاضر کیا جاتا (ف٦۰)
(ف59)اور اپنے رحمت و کرم سے مجھے تیرے اغوا سے محفوظ نہ رکھتا اور اسلام پر قائم رہنے کی توفیق نہ دیتا ۔(ف60)تیرے ساتھ جہنّم میں اور جب موت ذبح کر دی جائے گی تو اہلِ جنّت فرشتوں سے کہیں گے ۔
مگر ہماری پہلی موت (ف٦۱) اور ہم پر عذاب نہ ہوگا (ف٦۳)
(ف61)وہی جو دنیا میں ہو چکی ۔(ف62)فرتشے کہیں گے نہیں اور اہلِ جنّت کا یہ دریافت کرنا اللہ تعالٰی کی رحمت کے ساتھ تلذُّذ اور دائمی حیات کی نعمت اور عذاب سے مامون ہونے کے احسان پر اس کی نعمت کا ذکر کرنے کے لئے ہے اور اس ذکر سے انہیں سرور حاصل ہو گا ۔
(ف63)یعنی جنّتی نعمتیں اور لذّتیں اور وہاں کے نفیس و لطیف مآ کل و مشارب اور دائمی عیش اور بے نہایت راحت و سرور ۔(ف64)نہایت تلخ ، انتہا کا بدبودار ، حد درجہ کا بدمزہ ، سخت ناگوار جس سے دوزخیوں کی میزبانی کی جائے گی اور ان کو اس کے کھانے پر مجبور کیا جائے گا ۔
اِنَّا جَعَلۡنٰهَا فِتۡنَةً لِّلظّٰلِمِيۡنَ ﴿63﴾
بیشک ہم نے اسے ظالموں کی جانچ کیا ہے (ف٦۵)
(ف65)کہ دنیا میں کافِر اس کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آ گ درختوں کو جَلا ڈالتی تو آ گ میں درخت کیسے ہو گا ۔
پھر بیشک ان کے لیے اس پر کھولتے پانی کی ملونی (ملاوٹ) ہے (ف٦۹)
(ف69)یعنی جہنّمی تھوہڑ سے ان کے پیٹ بھریں گے وہ جلتا ہو گا پیٹوں کو جَلائے گا ، اس کی سوزش سے پیاس کا غلبہ ہو گا اور مدّت تک تو پیاس کی تکلیف میں رکھے جائیں گے پھر جب پینے کو دیا جائے گا تو گرم کھولتا پانی اس کی گرمی اور سوزش اس تھوہڑ کی گرمی اور جلن سے مل کر اور تکلیف و بے چینی بڑھائے گی ۔
(ف70)کیونکہ زقوم کِھلانے اور گرم پانی پلانے کے لئے ، ان کو اپنے درکات سے دوسرے درکات میں لے جایا جائے گا ، اس کے بعد پھر اپنے درکات کی طرف لوٹائے جائیں گے ، اس کے بعد ان کے مستحقِ عذاب ہونے کی علّت ارشاد فرمائی جاتی ہے ۔
اور بیشک ہمیں نوح نے پکارا (ف۷٦) تو ہم کیا ہی اچھے قبول فرمانے والے (ف۷۷)
(ف76)اور ہم سے اپنی قوم کے عذاب و ہلاک کی درخواست کی ۔(ف77)کہ ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ان کے دشمنوں کے مقابلہ میں مدد کی اور ان سے پورا انتقام لیا کہ انہیں غرق کر کے ہلاک کر دیا ۔
(ف78)تو اب دنیا میں جتنے انسان ہیں سب حضرت نوح علیہ السلام کی نسل سے ہیں ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ حضرت نوح علیہ الصلٰوۃ والسلام کے کَشتی سے اُترنے کے بعد ان کے ہمراہیوں میں جس قدر مرد و عورت تھے سبھی مر گئے سوا آپ کی اولاد اور ان کی عورتوں کے ، انہیں سے دنیا کی نسلیں چلیں ، عرب اور فارس اور روم آپ کے فرزند سام کی اولاد سے ہیں اور سوڈان کے لوگ آپ کے بیٹے حام کی نسل سے اور ترک اور یاجوج ماجوج وغیرہ آپ کے صاحب زادے یافث کی اولاد سے ۔
وَتَرَكۡنَا عَلَيۡهِ فِى الۡاٰخِرِيۡنَ ۖ ﴿78﴾
اور ہم نے پچھلوں میں اس کی تعریف باقی رکھی (ف۷۹)
(ف79)یعنی ان کے بعد والے انبیاء علیہم السلام اور ان کی اُمّتوں میں حضرت نوح علیہ السلام کا ذکرِ جمیل باقی رکھا ۔
سَلٰمٌ عَلٰى نُوۡحٍ فِى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴿79﴾
نوح پر سلام ہو جہاں والوں میں (ف۸۰)
(ف80)یعنی ملائکہ اور جنّ و انس سب ان پر قیامت تک سلام بھیجا کریں ۔
اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِى الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴿80﴾
بیشک ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،
اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴿81﴾
بیشک وہ ہمارے اعلیٰ درجہ کے کامل الایمان بندوں میں ہے،
ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴿82﴾
پھر ہم نے دوسروں کو ڈبو دیا (ف۸۱)
(ف81)یعنی حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے کافِروں کو ۔
وَاِنَّ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ لَاِبۡرٰهِيۡمَۘ ﴿83﴾
اور بیشک اسی کے گروہ سے ابراہیم ہے (ف۸۲)
(ف82)یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت نوح علیہ السلام کے دین و ملت اور انہیں کے طریق و سنّت پر ہیں ، حضرت نوح علیہ السلام و حضرت ابراہیم علیہ السلام کے درمیان دو ہزار چھ سو چالیس برس کا زمانی فرق ہے اور دونوں حضرات کے درمیان جو عہد گذرا اس میں صرف دو نبی ہوئے حضرت ہود و حضرت صالح علیہما السلام ۔
اِذۡ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ ﴿84﴾
اور بیشک اسی کے گروہ سے ابراہیم ہے (ف۸۲)
(ف83)یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے قلب کو اللہ تعالٰی کے لئے خالص کیا اور ہر چیز سے فارغ کر لیا ۔
(ف85)کہ جب تم اس کے سوا دوسرے کو پُوجو گے تو کیا وہ تمہیں بے عذاب چھوڑ دے گا باوجود یہ کہ تم جانتے ہو کہ وہی منعِمِ حقیقی ، مستحقِ عبادت ہے ۔ قوم نے کہا کہ کل کو ہماری عید ہے ، جنگل میں میلہ لگے گا ، ہم نفیس کھانے پکا کر بُتوں کے پاس رکھ جائیں گے اور میلہ سے واپس ہو کر تبرُّ ک کے طور پر ان کو کھائیں گے ، آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں اور مجمع اور میلہ کی رونق دیکھیں ، وہاں سے واپس ہو کر بُتوں کی زینت اور سجاوٹ اور ا ن کا بناؤ سنگار دیکھیں ، یہ تماشا دیکھنے کے بعد ہم سمجھتے ہیں کہ آپ بُت پرستی پر ہمیں ملامت نہ کریں گے ۔
فَنَظَرَ نَظۡرَةً فِى النُّجُوۡمِۙ ﴿88﴾
پھر اس نے ایک نگاہ ستاروں کو دیکھا (ف۸٦)
(ف86)جیسے کہ ستارہ شناس نجوم کے ماہر ستاروں کے مواقعِ اتصالات و انصرافات کو دیکھا کرتے ہیں ۔
فَقَالَ اِنِّىۡ سَقِيۡمٌ ﴿89﴾
پھر کہا میں بیمار ہونے والا ہوں (ف۸۷)
(ف87)قوم نجوم کی بہت معتقد تھی وہ سمجھی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ستاروں سے اپنے بیمار ہونے کا حال معلوم کر لیا ، اب یہ کسی متعدّی مرض میں مبتلا ہونے والے ہیں اور متعدّی مرض سے وہ لوگ بہت ڈرتے تھے ۔مسئلہ : علمِ نجوم حق ہے اور سیکھنے میں مشغول ہونا منسوخ ہو چکا ۔مسئلہ : شرعاً کوئی مرض متعدّی نہیں ہوتا یعنی ایک شخص کا مرض بعینہٖ دوسرے میں نہیں پہنچ جاتا ، مادّوں کے فساد اور ہوا وغیرہ کی سَمِیّتوں کے اثر سے ایک وقت میں بہت سے لوگوں کو ایک طرح کے مرض ہو سکتے ہیں لیکن حدوث مرض کا ہر ایک میں جداگانہ ہے ، کسی کا مرض کسی دوسرے میں نہیں پہنچتا ۔
فَتَوَلَّوۡا عَنۡهُ مُدۡبِرِيۡنَ ﴿90﴾
تو وہ اس پر پیٹھ دے کر پھر گئے (ف۸۸)
(ف88)اپنی عید کی طرف اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو چھوڑ گئے آپ بُت خانہ میں آئے ۔
اور کہا میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں (ف۹٦) اب وہ مجھے راہ دے گا (ف۹۷)
(ف96)اس دارالکفر سے ہجرت کر کے جہاں جانے کا میرا ربّ حکم دے ۔(ف97)چنانچہ بحکمِ الٰہی آپ سرزمینِ شام میں ارضِ مقدَّسہ کے مقام پر پہنچے تو آپ نے اپنے ربّ سے دعا کی ۔
پھر جب وہ اس کے ساتھ کام کے قابل ہوگیا کہا اے میرے بیٹے میں نے خواب دیکھا میں تجھے ذبح کرتا ہوں (ف۹۸) اب تو دیکھ تیری کیا رائے ہے (ف۹۹) کہا اے میرے باپ کی جیئے جس بات کا آپ کو حکم ہوتا ہے، خدا نے چاہتا تو قریب ہے کہ آپ مجھے صابر پائیں گے،
(ف98)یعنی تیرے ذبح کا انتظام کر رہا ہوں اور انبیاء علیہم السلام کی خواب حق ہوتی ہے اور ان کے افعال بحکمِ الٰہی ہوا کرتے ہیں ۔(ف99)یہ آپ نے اس لئے کہا تھا کہ فرزند کو ذبح سے وحشت نہ ہو اور اطاعتِ امرِ الٰہی کے لئے وہ برغبت تیار ہوں چنانچہ اس فرزندِ ارجمند نے رضا ئے الٰہی پر فدا ہونے کا کمالِ شوق سے اظہار کیا ۔
بیشک تو نے خواب سچ کردکھایا (ف۱۰۱) ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،
(ف101)اطاعت و فرمانبرداری کمال کو پہنچا دی ، فرزند کو ذبح کے لئے بے دریغ پیش کر دیا بس اب اتنا کافی ہے ۔
اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ ﴿106﴾
بیشک یہ روشن جانچ تھی،
وَفَدَيۡنٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيۡمٍ ﴿107﴾
اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے کر اسے بچالیا (ف۱۰۲)
(ف102)اس میں اختلاف ہے کہ یہ فرزند حضرت اسمٰعیل ہیں یا حضرت اسحٰق علیہما السلام لیکن دلائل کی قوّت یہی بتاتی ہے کہ ذبیح حضرت اسمٰعیل علیہ السلام ہی ہیں اور فدیہ میں جنّت سے بکری بھیجی گئی تھی جس کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ذبح فرمایا ۔
وَتَرَكۡنَا عَلَيۡهِ فِى الۡاٰخِرِيۡنَۖ ﴿108﴾
اور ہم نے پچھلوں میں اس کی تعریف باقی رکھی،
سَلٰمٌ عَلٰٓى اِبۡرٰهِيۡمَ ﴿109﴾
سلام ہو ابراہیم پر (ف۱۰۳)
(ف103)ہماری طرف سے ۔
كَذٰلِكَ نَجۡزِى الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴿110﴾
ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،
اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴿111﴾
بیشک وہ ہمارے اعلیٰ درجہ کے کامل الایمان بندوں میں ہیں،
اور ہم نے برکت اتاری اس پر اور اسحاق پر (ف۱۰۵) اور ان کی اولاد میں کوئی اچھا کام کرنے والا (ف۱۰٦) اور کوئی اپنی جان پر صریح ظلم کرنے والا (ف۱۰۷)
(ف104)واقعۂ ذبح کے بعد حضرت اسحٰق کی خوشخبری اس کی دلیل ہے کہ ذبیح حضرت اسمٰعیل علیہما السلام ہیں ۔(ف105)ہر طرح کی برکت دینی بھی اور دنیوی بھی اور ظاہری برکت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کی اولاد میں کثرت کی اور حضرت اسحٰق علیہ السلام کی نسل سے بہت سے انبیاء کئے حضرت یعقوب سے لے کر حضرت عیسٰی علیہ السلام تک ۔(ف106)یعنی مومن ۔(ف107)یعنی کافِر ۔فائدہ : اس سے معلوم ہوا کہ کسی باپ کے صاحبِ فضائلِ کثیرہ ہونے سے اولاد کا بھی ویسا ہی ہونا لازم نہیں ، یہ اللہ تعالٰی کی شانیں ہیں ، کبھی نیک سے نیک پیدا کرتا ہے ، کبھی بد سے بد ، کبھی بد سے نیک ، نہ اولاد کا بد ہونا آباء کے لئے عیب ہو ، نہ آباء کی بدی اولاد کے لئے ۔
کیا بعل کو پوجتے ہو (ف۱۱٦) اور چھوڑتے ہو سب سے اچھا پیدا کرنے والے اللہ کو،
(ف116)بعل ان کے بت کا نام تھاجو سونے کا تھا اس کی لمبائی بیس گز تھی چار منھ تھے ، اس کی بہت تعظیم کرتے تھے جس مقام میں وہ تھا اس جگہ کا نام بک تھا اسی سے بَعلَبَکَّ مرکب ہوا یہ بلادِ شام میں ہے ۔
(ف123)یعنی اپنے سفروں میں روز و شب تم ان کے آثار و منازل پر گزرتے ہو ۔(ف124)کہ ان سے عبرت حاصل کرو ۔
وَاِنَّ يُوۡنُسَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَؕ ﴿139﴾
اور بیشک یونس پیغمبروں سے ہے،
اِذۡ اَبَقَ اِلَى الۡفُلۡكِ الۡمَشۡحُوۡنِۙ ﴿140﴾
جبکہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا (ف۱۲۵)
(ف125)حضرت ابنِ عباس اور وہب کا قول ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا اس میں تاخیر ہوئی تو آپ ان سے چُھپ کر نکل گئے اور آپ نے دریائی سفر کا قصد کیا کَشتی پر سوار ہوئے دریا کے درمیان میں کَشتی ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی سببِ ظاہر موجود نہ تھا ۔ ملّاحوں نے کہا اس کَشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے قرعہ ڈالنے سے ظاہر ہوجائے گا قرعہ ڈالا گیا تو آپ ہی کے نام نکلا ، تو آپ نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں اور آپ پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ دستور یہی تھا کہ جب تک بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کردیاجائے اس وقت تک کَشتی چلتی نہ تھی ۔
فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الۡمُدۡحَضِيۡنَۚ ﴿141﴾
تو قرعہ ڈالا تو ڈھکیلے ہوؤں میں ہوا،
فَالۡتَقَمَهُ الۡحُوۡتُ وَهُوَ مُلِيۡمٌ ﴿142﴾
پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا (ف۱۲٦)
(ف126)کہ کیوں نکلنے میں جلدی کی اور قوم سے جدا ہونے میں امرِ الٰہی کا انتظار نہ کیا۔
پھر ہم نے اسے (ف۱۲۹) میدان میں ڈال دیا اور وہ بیمار تھا (ف۱۳۰)
(ف129)مچھلی کے پیٹ سے نکال کر اسی روز یا تین روز یا سات روز یا چالیس روز کے بعد ۔(ف130)یعنی مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے باعث آپ ایسے ضعیف ونحیف اور نازک ہوگئے تھےجیسا بچّہ پیدائش کے وقت ہوتا ہے جسم کی کھال نرم ہوگئی اور بدن پر کوئی بال باقی نہ رہا تھا۔
(ف131)سایہ کرنے اور مکھیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے ۔(ف132)کدّو کی بیل ہوتی ہے جو زمین پر پھیلتی ہے ۔ مگر یہ آپ کا معجزہ تھا کہ یہ کدّو کا درخت قد والے درختوں کی طرح شاخ رکھتا تھا اور اس کے بڑے بڑے پتّوں کے سایہ میں آپ آرام کرتے تھے ۔ اور بحکمِ الٰہی روزانہ ایک بکری آتی اور اپنا تھن حضرت کے دہانِ مبارک میں دے کر آپ کو صبح و شام دودھ پلا جاتی یہاں تک کہ جسمِ مبارک کی جِلد شریف یعنی کھال مضبوط ہوئی اور اپنے موقع سے بال جمے اور جسم میں توانائی آئی ۔
اور ہم نے اسے (ف۱۳۳) لاکھ آدمیوں کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ،
(ف133)پہلے کی طرح سرزمینِ موصل میں قومِ نینوٰی کے ۔
فَاٰمَنُوۡا فَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍؕ ﴿148﴾
تو وہ ایمان لے آئے (ف۱۳٤) تو ہم نے انہیں ایک وقت تک برتنے دیا (ف۱۳۵)
(ف134)آثارِ عذاب دیکھ کر ۔ (اس کا بیان سورۂِ یونس کے دسویں رکوع میں گذر چکا ہے اور اس واقعہ کا بیان سورۂِ انبیاء کے چھٹے رکوع میں بھی آچکا ہے)(ف135)یعنی ان کی آخرِ عمر تک انہیں آسائش کے ساتھ رکھا ۔ اس واقعہ کے بیان فرمانے کے بعد اللہ تعالٰی اپنے حبیبِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے فرماتا ہے کہ آپ کفّارِ مکّہ سے انکارِ بعث کی وجہ دریافت کیجئے چنانچہ ارشاد فرماتا ہے ۔
تو ان سے پوچھو کیا تمہارے رب کے لیے بیٹیاں ہیں (ف۱۳٦) اور ان کے بیٹے (ف۱۳۷)
(ف136)جیسا کہ جہینہ اور بنی سلمہ وغیرہ کفّار کا اعتقاد ہے کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں ۔(ف137)یعنی اپنے لئے تو بیٹیاں گوارا نہیں کرتے ، بُری جانتے ہیں اور پھر ایسی چیز کو خدا کی طرف نسبت کرتے ہیں ۔
اور اس میں اور جنوں میں رشتہ ٹھہرایا (ف۱٤۲) اور بیشک جنوں کو معلوم ہے کہ وہ (ف۱٤۳) ضرور حاضر لائے جائیں گے (ف۱٤٤)
(ف142)جیساکہ بعض مشرکین نےکہا تھا کہ اللہ تعالٰی نے جنّوں میں شادی کی اس سے فرشتے پیدا ہوئے(معاذ اللہ) کیسے عظیم کفر کے مرتکب ہوئے ۔(ف143)یعنی اس بے ہودہ بات کے کہنے والے ۔(ف144)جہنّم میں عذاب کے لئے ۔
سُبۡحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوۡنَۙ ﴿159﴾
پاکی ہے اللہ کو ان باتوں سے کہ یہ بتاتے ہیں،
اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴿160﴾
مگر اللہ کے چنے ہوئے بندے (ف۱٤۵)
(ف145)ایماندار اللہ تعالٰی کی پاکی بیان کرتے ہیں ان تمام باتوں سے جو کفّارِ نابکار کہتے ہیں ۔
فَاِنَّكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَۙ ﴿161﴾
تو تم اور جو کچھ تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (ف۱٤٦)
(ف146)یعنی تمہارے بت سب کے سب وہ اور ۔
مَاۤ اَنۡـتُمۡ عَلَيۡهِ بِفٰتِنِيۡنَۙ ﴿162﴾
تم اس کے خلاف کسی کو بہکانے والے نہیں (ف۱٤۷)
(ف147)گمراہ نہیں کرسکتے ۔
اِلَّا مَنۡ هُوَ صَالِ الۡجَحِيۡمِ ﴿163﴾
مگر اسے جو بھڑکتی آگ میں جانے والا ہے (ف۱٤۸)
(ف148)جس کی قسمت ہی میں یہ ہے کہ وہ اپنے کردارِ بد سے مستحقِ جہنّم ہو ۔
اور فرشتے کہتے ہیں ہم میں ہر ایک کا ایک مقام معلوم ہے (ف۱٤۹)
(ف149)جس میں اپنے رب کی عبادت کرتا ہے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ آسمانوں میں بالشت بھر بھی جگہ ایسی نہیں ہے جس میں کوئی فرشتہ نماز نہ پڑھتا ہو یا تسبیح نہ کرتا ہو ۔
وَّاِنَّا لَـنَحۡنُ الصَّآفُّوۡنَۚ ﴿165﴾
اور بیشک ہم پر پھیلائے حکم کے منتظر ہیں،
وَاِنَّا لَـنَحۡنُ الۡمُسَبِّحُوۡنَ ﴿166﴾
اور بیشک ہم اس کی تسبیح کرنے والے ہیں،
وَاِنۡ كَانُوۡا لَيَقُوۡلُوۡنَۙ ﴿167﴾
اور بیشک وہ کہتے تھے (ف۱۵۰)
(ف150)یعنی مکّہ مکرّمہ کے کفّار و مشرکین سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے کہا کرتے تھے کہ ۔
اور بیشک ہمارا کلام گزر چکا ہے ہمارے بھیجے ہوئے بندوں کے لیے،
اِنَّهُمۡ لَهُمُ الۡمَنۡصُوۡرُوۡنَ ﴿172﴾
کہ بیشک انہیں کی مدد ہوگی،
وَاِنَّ جُنۡدَنَا لَهُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴿173﴾
اور بیشک ہمارا ہی لشکر (ف۱۵٤) غالب آئے گا،
(ف154)یعنی اہلِ ایمان ۔
فَتَوَلَّ عَنۡهُمۡ حَتّٰى حِيۡنٍۙ ﴿174﴾
تو ایک وقت تم ان سے منہ پھیر لو (ف۱۵۵)
(ف155)جب تک کہ تمہیں ان کے ساتھ قتال کرنے کا حکم دیا جائے ۔
وَاَبۡصِرۡهُمۡ فَسَوۡفَ يُبۡصِرُوۡنَ ﴿175﴾
اور انہیں دیکھتے رہو کہ عنقریب وہ دیکھیں گے (ف۱۵٦)
(ف156)طرح طرح کے عذاب دنیا و آخرت میں ۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو کفّار نے براہِ تمسخر و استہزاء کہا کہ یہ عذاب کب نازل ہوگا اس کے جواب میں اگلی آیت نازل ہوئی ۔
پاکی ہے تمہارے رب کو عزت والے رب کو ان کی باتوں سے (ف۱۵۷)
(ف157)جو کافر اس کی شان میں کہتے ہیں اور اس کے لئے شریک اور اولاد ٹھہراتے ہیں ۔
وَسَلٰمٌ عَلَى الۡمُرۡسَلِيۡنَۚ ﴿181﴾
اور سلام ہے پیغمبروں پر (ف۱۵۸)
(ف158)جنہوں نے اللہ عزَّوجلَّ کی طرف سے توحید اور احکامِ شرع پہنچائے انسانی مراتب میں سب سے اعلٰی مرتبہ یہ ہے کہ خود کامل ہواور دوسروں کی تکمیل کرے یہ شان انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کی ہے تو ہر ایک پر ان حضرات کا اتباع اور ان کی اقتدا لازم ہے ۔