(ف2)اس آیت میں اللہ تبارک و تعالٰی نے قَسم یاد فرمائی چند گروہوں کی یا تو مراد اس سے ملائکہ کے گروہ ہیں جو نمازیوں کی طرح صف بستہ ہو کر اس کے حکم کے منتظر رہتے ہیں یا عُلَماءِ دین کے گروہ جو تہجّد اور تمام نمازوں میں صفیں باندھ کر مصروفِ عبادت رہتے ہیں یا غازیوں کے گروہ جو راہِ خدا میں صفیں باندھ کر دشمنانِ حق کے مقابل ہوتے ہیں ۔ (مدارک)
فَالزّٰجِرٰتِ زَجۡرًا ۙ ﴿2﴾
پھر ان کی کہ جھڑک کر چلائیں (ف۳)
And by oath of those who herd with a stern warning.
फिर उनकी कि झड़क कर चलाएँ
Phir unki ke jharak kar chalain
(ف3)پہلی تقدیر پر جھڑک کر چَلانے والوں سے مراد ملائکہ ہیں جو ابر پر مقرر ہیں اور اس کو حکم دے کر چَلاتے ہیں اور دوسری تقدیر پر وہ عُلَماء جو وعظ و پند سے لوگوں کو جھڑک کر دین کی راہ چَلاتے ہیں تیسری صورت میں وہ غازی جو گھوڑوں کو ڈپٹ کر جہاد میں چَلاتے ہیں ۔
مالک آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور مالک مشرقوں کا (ف٤)
Lord of the heavens and the earth and all that is between them – and the Lord of the sun’s rising points.
मालिक आसमानों और जमीन का और जो कुछ उनके बीच में है और मालिक मशरिकों का
Maalik asmanon aur zameen ka aur jo kuch unke darmiyan hai aur maalik mashriqon ka
(ف4)یعنی آسمان اور زمین اور ان کی درمیانی کائنات اور تمام حدود و جہات سب کا مالک وہی ہے تو کوئی دوسرا کس طرح مستحقِ عبادت ہو سکتا ہے لہذا وہ شریک سے منزّہ ہے ۔
اور بیشک ہم نے نیچے کے آسمان کو (ف۵) تاروں کے سنگھار سے آراستہ کیا ،
We have indeed adorned the lowest heaven with stars as ornaments.
और बेशक हमने नीचे के आसमान को तारों के संगार से आराख़्ता किया,
Aur baishak hum ne neeche ke asman ko taaron ke singhaar se aaraasta kiya,
(ف5)جو زمین کے بہ نسبت اور آسمانوں سے قریب تر ہے ۔
وَحِفۡظًا مِّنۡ كُلِّ شَيۡطٰنٍ مَّارِدٍۚ ﴿7﴾
اور نگاہ رکھنے کو ہر شیطان سرکش سے (ف٦)
And to protect it from every rebellious devil.
और निगाह रखने को हर शैतान सरकश से
Aur nigaah rakhne ko har shaytaan sarkash se
(ف6)یعنی ہم نے آسمان کو ہر ایک نافرمان شیطان سے محفوظ رکھا کہ جب شیاطین آسمان پر جانے کا ارادہ کریں تو فرشتے شہاب مار کر ان کو دفع کر دیں لہذا شیاطین آسمان پر نہیں جا سکتے اور ۔
تو ان سے پوچھو (ف۱۲) کیا ان کی پیدائش زیادہ مضبوط ہے یا ہماری اور مخلوق آسمانوں اور فرشتوں وغیرہ کی (ف۱۳) بیشک ہم نے ان کو چپکتی مٹی سے بنایا (ف۱٤)
Therefore ask them (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Are they a stronger creation, or are other things of our creation, (the angels, the heavens etc.)?” We have indeed created them from sticky clay.
तो उनसे पूछो क्या उनकी पैदाइश ज़्यादा मजबूत है या हमारी और मख़्लूक आसमानों और फ़रिश्तों आदि की बेशक हमने उन्हें चिपकती मिट्टी से बनाया
To un se poochho kya un ki paidash zyada mazboot hai ya humari aur makhlooq asmanon aur farishton waghera ki baishak hum ne unko chipakti mitti se banaya
(ف12)یعنی کُفّارِ مکّہ سے ۔(ف13)تو جس قادرِ برحق کو آسمان و زمین جیسی عظیم مخلو ق کا پیدا کر دینا کچھ بھی مشکل اور دشوار نہیں تو انسانوں کا پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہو سکتا ہے ۔(ف14)یہ ان کے ضعف کی ایک اور شہادت ہے کہ ان کی پیدائش کا اصل مادّہ مٹی ہے جو کوئی شدّت و قوّت نہیں رکھتی اور اس میں ان پر ایک اور برہان قائم فرمائی گئی ہے کہ چپکتی مٹی ان کا مادّۂ پیدائش ہے تو اب پھر جسم کے گل جانے اور غایت یہ ہے کہ مٹی ہو جانے کہ بعد اس مٹی سے پھر دوبارہ پیدائش کو وہ کیوں ناممکن جانتے ہیں مادّہ موجود اور صانع موجود پھر دوبارہ پیدائش کیسے محال ہو سکتی ۔
بَلۡ عَجِبۡتَ وَيَسۡخَرُوۡنَ ﴿12﴾
بلکہ تمہیں اچنبھا آیا (ف۱۵) اور وہ ہنسی کرتے ہیں (ف۱٦)
Rather you are surprised, whereas they keep mocking.
बल्कि तुम्हें अचम्भा आया और वे हँसी करते हैं
Balki tumhein achambha aaya aur woh hansi karte hain
(ف15)ان کے تکذیب کرنے سے کہ ایسے واضح الدلالۃ آیات وبیّنات کے باوجود وہ کس طرح تکذیب کرتے ہیں ۔(ف16)آپ سے اور آپ کے تعجّب سے یا مرنے کے بعد اٹھنے سے ۔
وَاِذَا ذُكِّرُوۡا لَا يَذۡكُرُوۡنَ ﴿13﴾
اور سمجھائے نہیں سمجھتے،
And they do not understand, when explained to.
और समझाए नहीं समझते,
Aur samjhaaye nahi samajhte,
وَاِذَا رَاَوۡا اٰيَةً يَّسۡتَسۡخِرُوۡنَ ﴿14﴾
اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں (ف۱۷) ٹھٹھا کرتے ہیں،
And whenever they see a sign, they mock at it.
और जब कोई निशानी देखते हैं ठठा करते हैं,
Aur jab koi nishani dekhte hain thattha karte hain,
کیا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے کیا ہم ضرور اٹھائے جائیں گے،
“When we are dead and have turned into dust and bones, will we certainly be raised again?”
क्या जब हम मर कर मिट्टी और हड्डियां हो जाएँगे क्या हम जरूर उठाए जाएँगे,
Kya jab hum mar kar mitti aur haddiyan ho jaayenge kya hum zaroor uthaye jaayenge,
اَوَاٰبَآؤُنَا الۡاَوَّلُوۡنَؕ ﴿17﴾
اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی (ف۱۸)
“And also our forefathers?”
और क्या हमारे अगले बाप दादा भी
Aur kya humare agle baap dada bhi
(ف18)جو ہم سے زمانہ میں مقدم ہیں ۔ کُفّار کے نزدیک ان کے باپ دادا کا زندہ کیا جانا خود ان کے زندہ کئے جانے سے زیادہ بعید تھا اس لئے انہوں نے یہ کہا ۔ اللہ تعالٰی اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے فرماتاہے ۔
ہانکو ظالموں اور ان کے جوڑوں کو (ف۲٤) اور جو کچھ وہ پوجتے تھے ،
“Gather all the unjust persons and their spouses, and all that they used to worship!” –
हाँको ज़ालिमों और उनके जोड़ों को और जो कुछ वे पूजते थे,
Haan ko zaalimoon aur unke joron ko aur jo kuch woh poojhte the,
(ف24)ظالموں سے مراد کافِر ہیں اور ان کے جوڑوں سے مراد ان کے شیاطین جو دنیا میں ان کے جلیس و قرین رہتے تھے ہر ایک کافِر اپنے شیطان کے ساتھ ایک ہی زنجیر میں جکڑ دیا جائے گا اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ جوڑوں سے مراد اشباہ و امثال ہیں یعنی ہر کافِر اپنے ہی قِسم کے کُفّار کے ساتھ ہانکا جائے گا ، بُت پرست بُت پرستوں کے ساتھ اور آتش پرست آتش پرستوں کے ساتھ وعلٰی ہذا القیا س ۔
“Instead of Allah – and herd them to the path leading to hell.”
अल्लाह के सिवा, उन सब को हाँको राह-ए-دوزख की तरफ,
Allah ke siwa, un sab ko haan ko raah-e-dozakh ki taraf,
وَقِفُوۡهُمۡ اِنَّهُمۡ مَّسْـُٔـوۡلُوۡنَۙ ﴿24﴾
اور انہیں ٹھہراؤ (ف۲۵) ان سے پوچھنا ہے (ف۲٦)
“And stop them – they are to be questioned.”
और उन्हें ठहराओ उनसे पूछना है
Aur unhein thehrao un se poochhna hai
(ف25)صراط کے پاس ۔(ف26)حدیث شریف میں ہے کہ روزِ قیامت بندہ جگہ سے ہل نہ سکے گا جب تک چار باتیں اس سے نہ پوچھ لی جائیں (۱) ایک اس کی عمر کہ کس کام میں گزری (۲) دوسرے اس کا علم کہ اس پر کیا عمل کیا (۳)تیسرے اس کا مال کہ کہاں سے کمایا کہاں خرچ کیا (۴) چوتھے اس کا جسم کہ اس کو کس کام میں لایا ۔
مَا لَـكُمۡ لَا تَنَاصَرُوۡنَ ﴿25﴾
تمہیں کیا ہوا ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے (ف۲۷)(
“What is the matter with you, that you do not help one another?”
तुम्हें क्या हुआ एक दूसरे की मदद क्यों नहीं करते
Tumhein kya hua aik doosre ki madad kyun nahi karte
(ف27)یہ ان سے جہنّم کے خازن بطریقِ توبیخ کہیں گے کہ دنیا میں تو ایک دوسرے کی امداد پر بہت غرّہ رکھتے تھے آج دیکھو کیسے عاجز ہو تم میں سے کوئی کسی کی مدد نہیں کر سکتا ۔
نہ اس میں خمار ہے (ف٤۷) اور نہ اس سے ان کا سَر پِھرے (ف٤۸)
Neither does it intoxicate, nor give a headache.
न इस में ख़ुमार है और न इस से उनका सर फ़िरे
Na is mein khumaar hai aur na is se un ka sar phire
(ف47)جس سے عقل میں خلل آئے ۔(ف48)بخلاف دنیا کی شراب کے جس میں بہت سے فسادات اور عیب ہیں اس سے پیٹ میں بھی درد ہوتا ہے ، سر میں بھی ، پیشاب میں بھی تکلیف ہو جاتی ہے ، طبیعت مالش کرتی ہے ، قے آتی ہے ، سر چکراتا ہے ، عقل ٹھکانے نہیں رہتی ۔
وَعِنۡدَهُمۡ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ عِيۡنٌۙ ﴿48﴾
اور ان کے پاس ہیں جو شوہروں کے سوا دوسری طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھیں گی (ف٤۹)
And with them are those who do not set gaze upon men except their husbands, the maidens with gorgeous eyes.
और उनके पास हैं जो शोहरों के सिवा दूसरी तरफ़ आँख उठा कर न देखेंगी
Aur unke paas hain jo shohron ke siwa doosri taraf aankh utha kar na dekhein gi
(ف49)کہ اس کے نزدیک اس کاشوہر ہی صاحبِ حُسن اور پیارا ہے ۔
كَاَنَّهُنَّ بَيۡضٌ مَّكۡنُوۡنٌ ﴿49﴾
بڑی آنکھوں والیاں گویا وہ انڈے ہیں پوشیدہ رکھے ہوئے (ف۵۰)
As if they were eggs, safely hidden.
बड़ी आँखों वालियाँ फ ग़ोया वे अंडे हैं पोशिदा रखे हुए
Badi aankhon waliyan f goya woh ande hain posheeda rakhe hue
اور میرا رب فضل نہ کرے (ف۵۹) تو ضرور میں بھی پکڑ کر حاضر کیا جاتا (ف٦۰)
“And were it not for the munificence of my Lord, I too would have been seized and brought forth (captive)!”
और मेरा रब फ़ज़ल न करे तो जरूर मैं भी पकड़ कर हाज़िर किया जाता
Aur mera Rab fazl na kare to zaroor main bhi pakad kar haazir kiya jaata
(ف59)اور اپنے رحمت و کرم سے مجھے تیرے اغوا سے محفوظ نہ رکھتا اور اسلام پر قائم رہنے کی توفیق نہ دیتا ۔(ف60)تیرے ساتھ جہنّم میں اور جب موت ذبح کر دی جائے گی تو اہلِ جنّت فرشتوں سے کہیں گے ۔
اَفَمَا نَحۡنُ بِمَيِّتِيۡنَۙ ﴿58﴾
تو کیا ہمیں مرنا نہیں،
“So are we never to die?” (The people of Paradise will ask the angels, with delight, after the announcement of everlasting life.)
مگر ہماری پہلی موت (ف٦۱) اور ہم پر عذاب نہ ہوگا (ف٦۳)
“Except our earlier death, and nor will we be punished?”
मगर हमारी पहली मौत और हम पर अज़ाब न होगा
Magar humari pehli maut aur hum par azaab na hoga
(ف61)وہی جو دنیا میں ہو چکی ۔(ف62)فرتشے کہیں گے نہیں اور اہلِ جنّت کا یہ دریافت کرنا اللہ تعالٰی کی رحمت کے ساتھ تلذُّذ اور دائمی حیات کی نعمت اور عذاب سے مامون ہونے کے احسان پر اس کی نعمت کا ذکر کرنے کے لئے ہے اور اس ذکر سے انہیں سرور حاصل ہو گا ۔
اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴿60﴾
بیشک یہی بڑی کامیابی ہے،
“This is, most certainly, the supreme success.”
बेशक यही बड़ी कामयाबी है,
Baishak yehi badi kaamyabi hai,
لِمِثۡلِ هٰذَا فَلۡيَعۡمَلِ الۡعٰمِلُوۡنَ ﴿61﴾
ایسی ہی بات کے لیے کامیوں کو کام کرنا چاہیے،
For such a reward should the workers perform.
ऐसी ही बात के लिए कामियों को काम करना चाहिए,
Aisi hi baat ke liye kaamiyon ko kaam karna chahiye,
(ف63)یعنی جنّتی نعمتیں اور لذّتیں اور وہاں کے نفیس و لطیف مآ کل و مشارب اور دائمی عیش اور بے نہایت راحت و سرور ۔(ف64)نہایت تلخ ، انتہا کا بدبودار ، حد درجہ کا بدمزہ ، سخت ناگوار جس سے دوزخیوں کی میزبانی کی جائے گی اور ان کو اس کے کھانے پر مجبور کیا جائے گا ۔
اِنَّا جَعَلۡنٰهَا فِتۡنَةً لِّلظّٰلِمِيۡنَ ﴿63﴾
بیشک ہم نے اسے ظالموں کی جانچ کیا ہے (ف٦۵)
We have indeed made that a punishment for the unjust.
बेशक हमने इसे ज़ालिमों की जान्च किया है
Baishak hum ne use zaalimoon ki jaanch kiya hai
(ف65)کہ دنیا میں کافِر اس کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آ گ درختوں کو جَلا ڈالتی تو آ گ میں درخت کیسے ہو گا ۔
پھر بیشک ان کے لیے اس پر کھولتے پانی کی ملونی (ملاوٹ) ہے (ف٦۹)
Then after it, indeed for them is the drink of boiling hot water.
फिर बेशक उनके लिए उस पर खोलते पानी की मिलोनी (मिलावट) है
Phir baishak un ke liye is par kholte paani ki maloni (milaawat) hai
(ف69)یعنی جہنّمی تھوہڑ سے ان کے پیٹ بھریں گے وہ جلتا ہو گا پیٹوں کو جَلائے گا ، اس کی سوزش سے پیاس کا غلبہ ہو گا اور مدّت تک تو پیاس کی تکلیف میں رکھے جائیں گے پھر جب پینے کو دیا جائے گا تو گرم کھولتا پانی اس کی گرمی اور سوزش اس تھوہڑ کی گرمی اور جلن سے مل کر اور تکلیف و بے چینی بڑھائے گی ۔
Phir un ki baazgasht zaroor bhadakti aag ki taraf hai
(ف70)کیونکہ زقوم کِھلانے اور گرم پانی پلانے کے لئے ، ان کو اپنے درکات سے دوسرے درکات میں لے جایا جائے گا ، اس کے بعد پھر اپنے درکات کی طرف لوٹائے جائیں گے ، اس کے بعد ان کے مستحقِ عذاب ہونے کی علّت ارشاد فرمائی جاتی ہے ۔
اور بیشک ہمیں نوح نے پکارا (ف۷٦) تو ہم کیا ہی اچھے قبول فرمانے والے (ف۷۷)
And indeed Nooh prayed to Us – so what an excellent Acceptor of Prayer We are!
और बेशक हमें नूह ने पुकारा तो हम क्या ही अच्छे स्वीकार फ़रमाने वाले
Aur baishak humein Nuh ne pukara to hum kya hi achhe qubool farmaane wale
(ف76)اور ہم سے اپنی قوم کے عذاب و ہلاک کی درخواست کی ۔(ف77)کہ ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ان کے دشمنوں کے مقابلہ میں مدد کی اور ان سے پورا انتقام لیا کہ انہیں غرق کر کے ہلاک کر دیا ۔
(ف78)تو اب دنیا میں جتنے انسان ہیں سب حضرت نوح علیہ السلام کی نسل سے ہیں ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ حضرت نوح علیہ الصلٰوۃ والسلام کے کَشتی سے اُترنے کے بعد ان کے ہمراہیوں میں جس قدر مرد و عورت تھے سبھی مر گئے سوا آپ کی اولاد اور ان کی عورتوں کے ، انہیں سے دنیا کی نسلیں چلیں ، عرب اور فارس اور روم آپ کے فرزند سام کی اولاد سے ہیں اور سوڈان کے لوگ آپ کے بیٹے حام کی نسل سے اور ترک اور یاجوج ماجوج وغیرہ آپ کے صاحب زادے یافث کی اولاد سے ۔
وَتَرَكۡنَا عَلَيۡهِ فِى الۡاٰخِرِيۡنَ ۖ ﴿78﴾
اور ہم نے پچھلوں میں اس کی تعریف باقی رکھی (ف۷۹)
And We kept his praise among the latter generations.
और हमने पिछलों में उसकी तारीफ़ बाकी रखी
Aur hum ne pichhlon mein us ki tareef baaqi rakhi
(ف79)یعنی ان کے بعد والے انبیاء علیہم السلام اور ان کی اُمّتوں میں حضرت نوح علیہ السلام کا ذکرِ جمیل باقی رکھا ۔
سَلٰمٌ عَلٰى نُوۡحٍ فِى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴿79﴾
نوح پر سلام ہو جہاں والوں میں (ف۸۰)
Peace be upon Nooh, among the entire people.
नूह पर सलाम हो जहाँ वालों में
Nuh par salaam ho jahan walon mein
(ف80)یعنی ملائکہ اور جنّ و انس سب ان پر قیامت تک سلام بھیجا کریں ۔
اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِى الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴿80﴾
بیشک ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،
This is how We reward the virtuous.
बेशक हम ऐसा ही सला देते हैं नेक़ों को,
Baishak hum aisa hi sula dete hain nekon ko,
اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴿81﴾
بیشک وہ ہمارے اعلیٰ درجہ کے کامل الایمان بندوں میں ہے،
He is indeed one of Our high ranking, firmly believing bondmen.
बेशक वह हमारे आला दरजा के क़ामिल एमान बंदों में है,
(ف81)یعنی حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے کافِروں کو ۔
وَاِنَّ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ لَاِبۡرٰهِيۡمَۘ ﴿83﴾
اور بیشک اسی کے گروہ سے ابراہیم ہے (ف۸۲)
And indeed Ibrahim is from his (Nooh’s) group.
और बेशक उसी के ग्रुप से इब्राहीम है
Aur baishak isi ke group se Ibraheem hai
(ف82)یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت نوح علیہ السلام کے دین و ملت اور انہیں کے طریق و سنّت پر ہیں ، حضرت نوح علیہ السلام و حضرت ابراہیم علیہ السلام کے درمیان دو ہزار چھ سو چالیس برس کا زمانی فرق ہے اور دونوں حضرات کے درمیان جو عہد گذرا اس میں صرف دو نبی ہوئے حضرت ہود و حضرت صالح علیہما السلام ۔
اِذۡ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ ﴿84﴾
اور بیشک اسی کے گروہ سے ابراہیم ہے (ف۸۲)
When he came to his Lord, with a sound heart. (Free from falsehood).
जबकि अपने रब के पास हाज़िर हुआ गैर से सलामत दिल ले कर
Jabke apne Rab ke paas haazir hua ghair se salaamat dil le kar
(ف83)یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے قلب کو اللہ تعالٰی کے لئے خالص کیا اور ہر چیز سے فارغ کر لیا ۔
“What! You desire, through fabrication, Gods other than Allah?”
क्या बहुतान से अल्लाह के सिवा और खुदा चाहते हो,
Kya bohtan se Allah ke siwa aur khuda chahte ho,
فَمَا ظَنُّكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴿87﴾
تو تمہارا کیا گمان سے رب العالمین پر (ف۸۵)
“So what do you assume regarding the Lord Of The Creation?” (That He will not punish you?)
तो तुम्हारा क्या गुमान से रब-उल-आलमीन पर
To tumhara kya guman se Rab-ul-Alameen par
(ف85)کہ جب تم اس کے سوا دوسرے کو پُوجو گے تو کیا وہ تمہیں بے عذاب چھوڑ دے گا باوجود یہ کہ تم جانتے ہو کہ وہی منعِمِ حقیقی ، مستحقِ عبادت ہے ۔ قوم نے کہا کہ کل کو ہماری عید ہے ، جنگل میں میلہ لگے گا ، ہم نفیس کھانے پکا کر بُتوں کے پاس رکھ جائیں گے اور میلہ سے واپس ہو کر تبرُّ ک کے طور پر ان کو کھائیں گے ، آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں اور مجمع اور میلہ کی رونق دیکھیں ، وہاں سے واپس ہو کر بُتوں کی زینت اور سجاوٹ اور ا ن کا بناؤ سنگار دیکھیں ، یہ تماشا دیکھنے کے بعد ہم سمجھتے ہیں کہ آپ بُت پرستی پر ہمیں ملامت نہ کریں گے ۔
فَنَظَرَ نَظۡرَةً فِى النُّجُوۡمِۙ ﴿88﴾
پھر اس نے ایک نگاہ ستاروں کو دیکھا (ف۸٦)
He then shot a glance at the stars.
फिर उसने एक निगाह सितारों को देखा
Phir us ne aik nigaah sitaaron ko dekha
(ف86)جیسے کہ ستارہ شناس نجوم کے ماہر ستاروں کے مواقعِ اتصالات و انصرافات کو دیکھا کرتے ہیں ۔
فَقَالَ اِنِّىۡ سَقِيۡمٌ ﴿89﴾
پھر کہا میں بیمار ہونے والا ہوں (ف۸۷)
He then said, “I feel sick (of you)!”
फिर कहा मैं बीमार होने वाला हूँ
Phir kaha main bimaar hone wala hoon
(ف87)قوم نجوم کی بہت معتقد تھی وہ سمجھی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ستاروں سے اپنے بیمار ہونے کا حال معلوم کر لیا ، اب یہ کسی متعدّی مرض میں مبتلا ہونے والے ہیں اور متعدّی مرض سے وہ لوگ بہت ڈرتے تھے ۔مسئلہ : علمِ نجوم حق ہے اور سیکھنے میں مشغول ہونا منسوخ ہو چکا ۔مسئلہ : شرعاً کوئی مرض متعدّی نہیں ہوتا یعنی ایک شخص کا مرض بعینہٖ دوسرے میں نہیں پہنچ جاتا ، مادّوں کے فساد اور ہوا وغیرہ کی سَمِیّتوں کے اثر سے ایک وقت میں بہت سے لوگوں کو ایک طرح کے مرض ہو سکتے ہیں لیکن حدوث مرض کا ہر ایک میں جداگانہ ہے ، کسی کا مرض کسی دوسرے میں نہیں پہنچتا ۔
فَتَوَلَّوۡا عَنۡهُ مُدۡبِرِيۡنَ ﴿90﴾
تو وہ اس پر پیٹھ دے کر پھر گئے (ف۸۸)
And they turned their backs on him and went away. (The pagans thought he would transmit the disease).
तो वे उस पर पीठ दे कर फिर गए
To woh us par peeth de kar phir gaye
(ف88)اپنی عید کی طرف اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو چھوڑ گئے آپ بُت خانہ میں آئے ۔
اور کہا میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں (ف۹٦) اب وہ مجھے راہ دے گا (ف۹۷)
And he said, “Indeed I shall go to my Lord Who will guide me.”
और कहा मैं अपने रब की तरफ़ जाने वाला हूँ अब वह मुझे राह देगा
Aur kaha main apne Rab ki taraf jaane wala hoon ab woh mujhe raah dega
(ف96)اس دارالکفر سے ہجرت کر کے جہاں جانے کا میرا ربّ حکم دے ۔(ف97)چنانچہ بحکمِ الٰہی آپ سرزمینِ شام میں ارضِ مقدَّسہ کے مقام پر پہنچے تو آپ نے اپنے ربّ سے دعا کی ۔
رَبِّ هَبۡ لِىۡ مِنَ الصّٰلِحِيۡنَ ﴿100﴾
الٰہی مجھے لائق اولاد دے،
“My Lord! Give me a meritorious child.”
इलाही मुझे लायक औलाद दे
Ilahi mujhe laaiq aulaad de,
فَبَشَّرۡنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيۡمٍ ﴿101﴾
تو ہم نے اسے خوشخبری سنائی ایک عقل مند لڑکے کی،(
We therefore gave him the glad tidings of an intelligent son.
तो हमने उसे खुशख़बरी सुनाई एक अकलमंद लड़के की,
To hum ne use khushkhabri sunai aik aqalmand larke ki,
پھر جب وہ اس کے ساتھ کام کے قابل ہوگیا کہا اے میرے بیٹے میں نے خواب دیکھا میں تجھے ذبح کرتا ہوں (ف۹۸) اب تو دیکھ تیری کیا رائے ہے (ف۹۹) کہا اے میرے باپ کی جیئے جس بات کا آپ کو حکم ہوتا ہے، خدا نے چاہتا تو قریب ہے کہ آپ مجھے صابر پائیں گے،
And when he became capable of working with him, Ibrahim said, “O my son, I dreamt that I am sacrificing you – therefore now consider what is your opinion”; he said, “O my father! Do what you are commanded! Allah willing, you will soon find me patiently enduring!”
फिर जब वह उसके साथ काम के क़ाबिल हो गया कहा ए मेरे बेटे मैंने ख़्वाब देखा मैं तुझे ज़बाह करता हूँ अब तो देख तेरी क्या राय है कहा ए मेरे बाप की जिए जिस बात का आप को हुक्म होता है, ख़ुदा ने चाहा तो करीब है कि आप मुझे साबिर पाएँगे,
Phir jab woh us ke saath kaam ke qabil ho gaya kaha, "Ai mere betay, main ne khwab dekha main tujhe zabh karta hoon, ab to dekh teri kya raye hai." Kaha, "Ai mere baap ki jeeye, jis baat ka aap ko hukum hota hai, Khuda ne chaaha to qareeb hai ke aap mujhe sabr payenge,"
(ف98)یعنی تیرے ذبح کا انتظام کر رہا ہوں اور انبیاء علیہم السلام کی خواب حق ہوتی ہے اور ان کے افعال بحکمِ الٰہی ہوا کرتے ہیں ۔(ف99)یہ آپ نے اس لئے کہا تھا کہ فرزند کو ذبح سے وحشت نہ ہو اور اطاعتِ امرِ الٰہی کے لئے وہ برغبت تیار ہوں چنانچہ اس فرزندِ ارجمند نے رضا ئے الٰہی پر فدا ہونے کا کمالِ شوق سے اظہار کیا ۔
بیشک تو نے خواب سچ کردکھایا (ف۱۰۱) ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،
“You have indeed made the dream come true”; and this is how We reward the virtuous.
बेशक तू ने ख़्वाब सच कर दिखाया हम ऐसा ही सला देते हैं नेक़ों को,
Baishak tu ne khwab sach kar dikhaya, hum aisa hi sila dete hain nekon ko,
(ف101)اطاعت و فرمانبرداری کمال کو پہنچا دی ، فرزند کو ذبح کے لئے بے دریغ پیش کر دیا بس اب اتنا کافی ہے ۔
اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ ﴿106﴾
بیشک یہ روشن جانچ تھی،
Indeed this was a clear test.
बेशक यह रोशन जांच थी,
Baishak ye roshan jaanch thi,
وَفَدَيۡنٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيۡمٍ ﴿107﴾
اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے کر اسے بچالیا (ف۱۰۲)
And We rescued him in exchange of a great sacrifice. (The sacrifice of Ibrahim and Ismail – peace be upon them – is commemorated every year on 10, 11 and 12 Zil Haj).
और हमने एक बड़ा ज़बिहा उसके फदीय में दे कर उसे बचा लिया
Aur hum ne aik bada zabeeha us ke fidya mein de kar use bacha liya
(ف102)اس میں اختلاف ہے کہ یہ فرزند حضرت اسمٰعیل ہیں یا حضرت اسحٰق علیہما السلام لیکن دلائل کی قوّت یہی بتاتی ہے کہ ذبیح حضرت اسمٰعیل علیہ السلام ہی ہیں اور فدیہ میں جنّت سے بکری بھیجی گئی تھی جس کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ذبح فرمایا ۔
وَتَرَكۡنَا عَلَيۡهِ فِى الۡاٰخِرِيۡنَۖ ﴿108﴾
اور ہم نے پچھلوں میں اس کی تعریف باقی رکھی،
And We kept his praise among the latter generations.
और हमने पिछलों में उसकी तारीफ़ बाकी रखी,
Aur hum ne pichhlon mein us ki tareef baaqi rakhi,
سَلٰمٌ عَلٰٓى اِبۡرٰهِيۡمَ ﴿109﴾
سلام ہو ابراہیم پر (ف۱۰۳)
Peace be upon Ibrahim!
सलाम हो इब्राहीम पर
Salaam ho Ibraheem par
(ف103)ہماری طرف سے ۔
كَذٰلِكَ نَجۡزِى الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴿110﴾
ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،
This is how We reward the virtuous.
हम ऐसा ही सला देते हैं नेक़ों को,
Hum aisa hi sila dete hain nekon ko,
اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴿111﴾
بیشک وہ ہمارے اعلیٰ درجہ کے کامل الایمان بندوں میں ہیں،
He is indeed one of Our high ranking, firmly believing bondmen.
बेशक वह हमारे आला दर्जा के क़ामिल एमान बंदों में हैं,
اور ہم نے برکت اتاری اس پر اور اسحاق پر (ف۱۰۵) اور ان کی اولاد میں کوئی اچھا کام کرنے والا (ف۱۰٦) اور کوئی اپنی جان پر صریح ظلم کرنے والا (ف۱۰۷)
And We sent blessings upon him and Ishaq; and among their descendants – some who do good deeds, and some who clearly wrong themselves.
और हमने बरकत उतारी उस पर और इशाक़ पर और उनकी औलाद में कोई अच्छा काम करने वाला और कोई अपनी जान पर सरीह ज़ुल्म करने वाला
Aur hum ne barkat utaari us par aur Ishaq par aur un ki aulaad mein koi achha kaam karne wala aur koi apni jaan par sareeh zulm karne wala
(ف104)واقعۂ ذبح کے بعد حضرت اسحٰق کی خوشخبری اس کی دلیل ہے کہ ذبیح حضرت اسمٰعیل علیہما السلام ہیں ۔(ف105)ہر طرح کی برکت دینی بھی اور دنیوی بھی اور ظاہری برکت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کی اولاد میں کثرت کی اور حضرت اسحٰق علیہ السلام کی نسل سے بہت سے انبیاء کئے حضرت یعقوب سے لے کر حضرت عیسٰی علیہ السلام تک ۔(ف106)یعنی مومن ۔(ف107)یعنی کافِر ۔فائدہ : اس سے معلوم ہوا کہ کسی باپ کے صاحبِ فضائلِ کثیرہ ہونے سے اولاد کا بھی ویسا ہی ہونا لازم نہیں ، یہ اللہ تعالٰی کی شانیں ہیں ، کبھی نیک سے نیک پیدا کرتا ہے ، کبھی بد سے بد ، کبھی بد سے نیک ، نہ اولاد کا بد ہونا آباء کے لئے عیب ہو ، نہ آباء کی بدی اولاد کے لئے ۔
کیا بعل کو پوجتے ہو (ف۱۱٦) اور چھوڑتے ہو سب سے اچھا پیدا کرنے والے اللہ کو،
“What! You worship Baal (an idol) and leave the Best Creator?” –
क्या बाअल को पूजते हो और छोड़ते हो सबसे अच्छा पैदा करने वाले अल्लाह को,
"Kya Baal ko poojhte ho aur chhodte ho sab se achha paida karne wale Allah ko,"
(ف116)بعل ان کے بت کا نام تھاجو سونے کا تھا اس کی لمبائی بیس گز تھی چار منھ تھے ، اس کی بہت تعظیم کرتے تھے جس مقام میں وہ تھا اس جگہ کا نام بک تھا اسی سے بَعلَبَکَّ مرکب ہوا یہ بلادِ شام میں ہے ۔
(ف123)یعنی اپنے سفروں میں روز و شب تم ان کے آثار و منازل پر گزرتے ہو ۔(ف124)کہ ان سے عبرت حاصل کرو ۔
وَاِنَّ يُوۡنُسَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَؕ ﴿139﴾
اور بیشک یونس پیغمبروں سے ہے،
And indeed Yunus is one of the Noble Messengers.
और बेशक युनुस पैग़म्बरों से है,
Aur baishak Yunus paighambaron se hai,
اِذۡ اَبَقَ اِلَى الۡفُلۡكِ الۡمَشۡحُوۡنِۙ ﴿140﴾
جبکہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا (ف۱۲۵)
When he left towards the laden ship.
जबकि भरी कश्ती की तरफ़ निकल गया
Jabke bhari kashti ki taraf nikal gaya
(ف125)حضرت ابنِ عباس اور وہب کا قول ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا اس میں تاخیر ہوئی تو آپ ان سے چُھپ کر نکل گئے اور آپ نے دریائی سفر کا قصد کیا کَشتی پر سوار ہوئے دریا کے درمیان میں کَشتی ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی سببِ ظاہر موجود نہ تھا ۔ ملّاحوں نے کہا اس کَشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے قرعہ ڈالنے سے ظاہر ہوجائے گا قرعہ ڈالا گیا تو آپ ہی کے نام نکلا ، تو آپ نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں اور آپ پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ دستور یہی تھا کہ جب تک بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کردیاجائے اس وقت تک کَشتی چلتی نہ تھی ۔
فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الۡمُدۡحَضِيۡنَۚ ﴿141﴾
تو قرعہ ڈالا تو ڈھکیلے ہوؤں میں ہوا،
Then lots were drawn and he became of those who were pushed into the sea.
तो क़रअ डाला तो ढक़ीले होउँ में हुआ,
To qara’a daala to dhakele huon mein hua,
فَالۡتَقَمَهُ الۡحُوۡتُ وَهُوَ مُلِيۡمٌ ﴿142﴾
پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا (ف۱۲٦)
The fish then swallowed him and he blamed himself. (For not waiting for Allah’s command.)
फिर उसे मछली ने निगल लिया और वह अपने आप को मलामत करता था
Phir use machhli ne nigal liya aur woh apne aap ko mulaamat karta tha
(ف126)کہ کیوں نکلنے میں جلدی کی اور قوم سے جدا ہونے میں امرِ الٰہی کا انتظار نہ کیا۔
پھر ہم نے اسے (ف۱۲۹) میدان میں ڈال دیا اور وہ بیمار تھا (ف۱۳۰)
We then put him ashore on a plain, and he was sick.
फिर हमने उसे मैदान में डाल दिया और वह बीमार था
Phir hum ne use maidan mein daal diya aur woh beemar tha
(ف129)مچھلی کے پیٹ سے نکال کر اسی روز یا تین روز یا سات روز یا چالیس روز کے بعد ۔(ف130)یعنی مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے باعث آپ ایسے ضعیف ونحیف اور نازک ہوگئے تھےجیسا بچّہ پیدائش کے وقت ہوتا ہے جسم کی کھال نرم ہوگئی اور بدن پر کوئی بال باقی نہ رہا تھا۔
And We grew a tree of gourd (as a shelter) above him.
और हमने उस पर कद्दू का पेड़ उगाया
Aur hum ne us par kaddu ka ped ugaya
(ف131)سایہ کرنے اور مکھیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے ۔(ف132)کدّو کی بیل ہوتی ہے جو زمین پر پھیلتی ہے ۔ مگر یہ آپ کا معجزہ تھا کہ یہ کدّو کا درخت قد والے درختوں کی طرح شاخ رکھتا تھا اور اس کے بڑے بڑے پتّوں کے سایہ میں آپ آرام کرتے تھے ۔ اور بحکمِ الٰہی روزانہ ایک بکری آتی اور اپنا تھن حضرت کے دہانِ مبارک میں دے کر آپ کو صبح و شام دودھ پلا جاتی یہاں تک کہ جسمِ مبارک کی جِلد شریف یعنی کھال مضبوط ہوئی اور اپنے موقع سے بال جمے اور جسم میں توانائی آئی ۔
اور ہم نے اسے (ف۱۳۳) لاکھ آدمیوں کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ،
And We sent him towards a hundred thousand people, in fact more.
और हमने उसे लाख आदमियों की तरफ़ भेजा बल्कि ज्यादा,
Aur hum ne use lakh aadmiyon ki taraf bheja, balke zyada,
(ف133)پہلے کی طرح سرزمینِ موصل میں قومِ نینوٰی کے ۔
فَاٰمَنُوۡا فَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍؕ ﴿148﴾
تو وہ ایمان لے آئے (ف۱۳٤) تو ہم نے انہیں ایک وقت تک برتنے دیا (ف۱۳۵)
So they accepted faith – We therefore gave them usage for a while.
तो वह ईमान ले आए तो हमने उन्हें एक वक्त तक बरतने दिया
To woh iman le aaye to hum ne unhein aik waqt tak bartne diya
(ف134)آثارِ عذاب دیکھ کر ۔ (اس کا بیان سورۂِ یونس کے دسویں رکوع میں گذر چکا ہے اور اس واقعہ کا بیان سورۂِ انبیاء کے چھٹے رکوع میں بھی آچکا ہے)(ف135)یعنی ان کی آخرِ عمر تک انہیں آسائش کے ساتھ رکھا ۔ اس واقعہ کے بیان فرمانے کے بعد اللہ تعالٰی اپنے حبیبِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے فرماتا ہے کہ آپ کفّارِ مکّہ سے انکارِ بعث کی وجہ دریافت کیجئے چنانچہ ارشاد فرماتا ہے ۔
تو ان سے پوچھو کیا تمہارے رب کے لیے بیٹیاں ہیں (ف۱۳٦) اور ان کے بیٹے (ف۱۳۷)
Therefore ask them (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), whether the daughters are for your Lord and the sons for them!
तो उनसे पूछो क्या तुम्हारे रब के लिए बेटियाँ हैं और उनके बेटे
To un se poochho, "Kya tumhare Rab ke liye betiyan hain aur un ke bete,
(ف136)جیسا کہ جہینہ اور بنی سلمہ وغیرہ کفّار کا اعتقاد ہے کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں ۔(ف137)یعنی اپنے لئے تو بیٹیاں گوارا نہیں کرتے ، بُری جانتے ہیں اور پھر ایسی چیز کو خدا کی طرف نسبت کرتے ہیں ۔
اور اس میں اور جنوں میں رشتہ ٹھہرایا (ف۱٤۲) اور بیشک جنوں کو معلوم ہے کہ وہ (ف۱٤۳) ضرور حاضر لائے جائیں گے (ف۱٤٤)
And they have appointed a relationship between Him and the jinns; and indeed the jinns surely know that they will be brought forth.
और इसमें और जिन्नों में रिश्ता ठहराया और बेशक जिन्नों को मालूम है कि वे जरूर हाज़िर लाए जाएँगे
Aur us mein aur jinnon mein rishta thehraaya aur baishak jinnon ko maaloom hai ke woh zaroor haazir laaye jaayenge
(ف142)جیساکہ بعض مشرکین نےکہا تھا کہ اللہ تعالٰی نے جنّوں میں شادی کی اس سے فرشتے پیدا ہوئے(معاذ اللہ) کیسے عظیم کفر کے مرتکب ہوئے ۔(ف143)یعنی اس بے ہودہ بات کے کہنے والے ۔(ف144)جہنّم میں عذاب کے لئے ۔
سُبۡحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوۡنَۙ ﴿159﴾
پاکی ہے اللہ کو ان باتوں سے کہ یہ بتاتے ہیں،
Purity is to Allah from the matters they fabricate.
पाक़ी है अल्लाह को इन बातों से कि ये बताते हैं,
Paaki hai Allah ko in baaton se ke ye batate hain,
اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴿160﴾
مگر اللہ کے چنے ہوئے بندے (ف۱٤۵)
Except the chosen bondmen of Allah.
मगर अल्लाह के चुने हुए बंदे
Magar Allah ke chune hue bande
(ف145)ایماندار اللہ تعالٰی کی پاکی بیان کرتے ہیں ان تمام باتوں سے جو کفّارِ نابکار کہتے ہیں ۔
فَاِنَّكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَۙ ﴿161﴾
تو تم اور جو کچھ تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (ف۱٤٦)
Therefore you and all what you worship. (The disbelievers and their deities.)
तो तुम और जो कुछ तुम अल्लाह के सिवा पूजते हो
To tum aur jo kuch tum Allah ke siwa poojhte ho
(ف146)یعنی تمہارے بت سب کے سب وہ اور ۔
مَاۤ اَنۡـتُمۡ عَلَيۡهِ بِفٰتِنِيۡنَۙ ﴿162﴾
تم اس کے خلاف کسی کو بہکانے والے نہیں (ف۱٤۷)
You cannot make anyone rebel against Him.
तुम इसके ख़िलाफ़ किसी को बहकाने वाले नहीं
Tum us ke khilaf kisi ko behkane wale nahi
(ف147)گمراہ نہیں کرسکتے ۔
اِلَّا مَنۡ هُوَ صَالِ الۡجَحِيۡمِ ﴿163﴾
مگر اسے جو بھڑکتی آگ میں جانے والا ہے (ف۱٤۸)
Except the one who will go into the blazing fire.
मगर उसे जो भड़कती आग में जाने वाला है
Magar use jo bhadakti aag mein jaane wala hai
(ف148)جس کی قسمت ہی میں یہ ہے کہ وہ اپنے کردارِ بد سے مستحقِ جہنّم ہو ۔
اور فرشتے کہتے ہیں ہم میں ہر ایک کا ایک مقام معلوم ہے (ف۱٤۹)
And the angels say, “Each one of us has an appointed known position.”
और फ़रिश्ते कहते हैं हम में हर एक का एक मक़ाम मालूम है
Aur farishte kehte hain, "Hum mein har aik ka aik maqam maaloom hai"
(ف149)جس میں اپنے رب کی عبادت کرتا ہے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ آسمانوں میں بالشت بھر بھی جگہ ایسی نہیں ہے جس میں کوئی فرشتہ نماز نہ پڑھتا ہو یا تسبیح نہ کرتا ہو ۔
وَّاِنَّا لَـنَحۡنُ الصَّآفُّوۡنَۚ ﴿165﴾
اور بیشک ہم پر پھیلائے حکم کے منتظر ہیں،
“And indeed we, with our wings spread, await the command.”
और बेशक हम पर फैलाए हुक्म के मंतेज़र हैं,
Aur baishak hum par phailaye hukum ke muntazir hain,
وَاِنَّا لَـنَحۡنُ الۡمُسَبِّحُوۡنَ ﴿166﴾
اور بیشک ہم اس کی تسبیح کرنے والے ہیں،
“And indeed we are those who say His purity.”
और बेशक हम उसकी तसबिह करने वाले हैं,
Aur baishak hum us ki tasbeeh karne wale hain,
وَاِنۡ كَانُوۡا لَيَقُوۡلُوۡنَۙ ﴿167﴾
اور بیشک وہ کہتے تھے (ف۱۵۰)
And indeed the disbelievers used to say, –
और बेशक वे कहते थे
Aur baishak woh kehte the
(ف150)یعنی مکّہ مکرّمہ کے کفّار و مشرکین سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے کہا کرتے تھے کہ ۔
اور بیشک ہمارا کلام گزر چکا ہے ہمارے بھیجے ہوئے بندوں کے لیے،
And indeed Our Word has already gone forth for Our bondmen who were sent.
और बेशक हमारा कलाम गुजर चुका है हमारे भेजे हुए बंदों के लिए,
Aur baishak humara kalaam guzar chuka hai humare bheje hue bandon ke liye,
اِنَّهُمۡ لَهُمُ الۡمَنۡصُوۡرُوۡنَ ﴿172﴾
کہ بیشک انہیں کی مدد ہوگی،
That undoubtedly, only they will be helped.
कि बेशक उन्हें की मदद होगी,
Ke baishak unhein ki madad hogi,
وَاِنَّ جُنۡدَنَا لَهُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴿173﴾
اور بیشک ہمارا ہی لشکر (ف۱۵٤) غالب آئے گا،
And surely, only Our army will be victorious.
और बेशक हमारा ही लश्क़र ग़ालिब आएगा,
Aur baishak humara hi lashkar ghaalib aayega,
(ف154)یعنی اہلِ ایمان ۔
فَتَوَلَّ عَنۡهُمۡ حَتّٰى حِيۡنٍۙ ﴿174﴾
تو ایک وقت تم ان سے منہ پھیر لو (ف۱۵۵)
Therefore turn away from them for some time.
तो एक वक्त तुम उनसे मुँह फेर लो
To aik waqt tum un se munh pher lo
(ف155)جب تک کہ تمہیں ان کے ساتھ قتال کرنے کا حکم دیا جائے ۔
وَاَبۡصِرۡهُمۡ فَسَوۡفَ يُبۡصِرُوۡنَ ﴿175﴾
اور انہیں دیکھتے رہو کہ عنقریب وہ دیکھیں گے (ف۱۵٦)
And watch them, for they will soon see.
और उन्हें देखते रहो कि अनक़रीब वे देखेंगे
Aur unhein dekhte raho ke anqareeb woh dekhenge
(ف156)طرح طرح کے عذاب دنیا و آخرت میں ۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو کفّار نے براہِ تمسخر و استہزاء کہا کہ یہ عذاب کب نازل ہوگا اس کے جواب میں اگلی آیت نازل ہوئی ۔
پاکی ہے تمہارے رب کو عزت والے رب کو ان کی باتوں سے (ف۱۵۷)
Purity is to your Lord, the Lord of Honour, from all what they say.
पाक़ी है तुम्हारे रब को इज़्ज़त वाले रब को उनकी बातों से
Paaki hai tumhare Rab ko izzat wale Rab ko in ki baaton se
(ف157)جو کافر اس کی شان میں کہتے ہیں اور اس کے لئے شریک اور اولاد ٹھہراتے ہیں ۔
وَسَلٰمٌ عَلَى الۡمُرۡسَلِيۡنَۚ ﴿181﴾
اور سلام ہے پیغمبروں پر (ف۱۵۸)
And peace is upon the Noble Messengers.
और सलाम है पैग़म्बरों पर
Aur salaam hai paighambaron par
(ف158)جنہوں نے اللہ عزَّوجلَّ کی طرف سے توحید اور احکامِ شرع پہنچائے انسانی مراتب میں سب سے اعلٰی مرتبہ یہ ہے کہ خود کامل ہواور دوسروں کی تکمیل کرے یہ شان انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کی ہے تو ہر ایک پر ان حضرات کا اتباع اور ان کی اقتدا لازم ہے ۔
وَالۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴿182﴾
اور سب خوبیاں اللہ کو سارے جہاں کا رب ہے،
And all praise is to Allah, the Lord Of The Creation.
और सब खूबियाँ अल्लाह को सारे जहाँ का रब है,
Aur sab khubiyan Allah ko, saare jahan ka Rab hai"
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page