کیا کہتے ہیں (ف۳) ان کی بنائی ہوئی ہے (ف٤) بلکہ وہی حق ہے تمہارے رب کی طرف سے کہ تم ڈراؤ ایسے لوگوں کو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ڈر سنانے والا نہ آیا (ف۵) اس امید پر کہ وہ راہ پائیں،
(ف3)مشرکین کہ یہ کتابِ مقدَّس ۔(ف4)یعنی سیدِ انبیاء محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ۔(ف5)ایسے لوگوں سے مراد زمانۂ فطرت کے لوگ ہیں ، وہ زمانہ کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بعد سے سیدِ انبیاء محمدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت تک تھا کہ اس زمانہ میں اللہ تعالٰی کی طرف سے کوئی رسول نہیں آیا ۔
اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے چھ دن میں بنائے پھر عرش پر استوا فرمایا (ف٦) اس سے چھوٹ کر (لا تعلق ہو کر) تمہارا کوئی حمایتی اور نہ سفارشی (ف۷) تو کیا تم دھیان نہیں کرتے،
(ف6)جیسا استوا کہ اس کی شان کے لائق ہے ۔(ف7)یعنی اے گروہِ کُفّار جب تم اللہ تعالٰی کی راہِ رضا اختیار نہ کرو اور ایمان نہ لاؤ تو نہ تمہیں کوئی مدد گار ملے گا جو تمہاری مدد کر سکے نہ کوئی شفیع جو تمہاری شفاعت کرے ۔
کام کی تدبیر فرماتا ہے آسمان سے زمین تک (ف۸) پھر اسی کی طرف رجوع کرے گا (ف۹) اس دن کہ جس کی مقدار ہزار برس ہے تمہاری گنتی میں (ف۱۰)
(ف8)یعنی دنیا کہ قیامت تک ہونے والے کاموں کی اپنے حکم و امر اور اپنے قضا و قدر سے ۔(ف9)امر و تدبیر فَنائے دنیا کے بعد ۔(ف10)یعنی ایامِ دنیا کے حساب سے اور وہ دن روزِ قیامت ہے ، روزِ قیامت کی درازی بعض کافِروں کے لئے ہزار برس کے برابر ہو گی اور بعض کے لئے پچاس ہزار برس کے برابر جیسے کہ سورۂ معارج میں ہے' تَعْرُجُ الْمَلٰۤئِکَۃُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْہِ فِیْ یَوْ مٍ کَانَ مِقْدَارُہ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ ' اور مومن پر یہ دن ایک نمازِ فرض کے وقت سے بھی ہلکا ہو گا جو دنیا میں پڑھتا تھا جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہوا ۔
وہ جس نے جو چیز بتائی خوب بنائی (ف۲۱) اور پیدائش انسان کی ابتدا مٹی سے فرمائی (ف۱۳)
(ف12)حسبِ اقتضائے حکمت بنائی ، ہر جاندار کو وہ صورت دی جو اس کے لئے بہتر ہے اور اس کو ایسے اعضاء عطا فرمائے جو اس کے معاش کے لئے مناسب ہیں ۔(ف13)حضرت آدم علیہ السلام کو اس سے بنا کر ۔
اور بولے (ف۱۷) کیا جب ہم مٹی میں مل جائیں گے (ف۱۸) کیا پھر نئے بنیں گے، بلکہ وہ اپنے رب کے حضور حاضری سے منکر ہیں (ف۱۹)
(ف17)منکِرینِ بَعث ۔(ف18)اور مٹی ہو جائیں گے اور ہمارے اجزا مٹی سے ممتاز نہ رہیں گے ۔(ف19)یعنی موت کے بعد اٹھنے اور زندہ کئے جانے کا انکار کر کے وہ اس انتہا تک پہنچے ہیں کہ عاقبت کے تمام امور کے منکِر ہیں حتّٰی کہ ربّ کے حضور حاضر ہونے کے بھی ۔
تم فرماؤ تمہیں وفات دیتا ہے موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر ہے (ف۲۰) پھر اپنے رب کی طرف واپس جاؤ گے (ف۲۱)
(ف20)اس فرشتہ کا نام عزرائیل ہے علیہ السلام اور وہ اللہ تعالٰی کی طرف سے روحیں قبض کرنے پر مقرر ہیں ، اپنے کام میں کچھ غفلت نہیں کرتے جس کا وقت آ جاتا ہے بے درنگ اس کی روح قبض کر لیتے ہیں ۔ مروی ہے کہ مَلَک الموت کے لئے دنیا مثلِ کفِ دست کر دی گئی ہے تو وہ مشارق و مغارب کی مخلوق کی روحیں بے مشقّت اٹھا لیتے ہیں اور رحمت و عذاب کے بہت فرشتے ان کے ماتحت ہیں ۔(ف21)اور حساب و جزا کے لئے زندہ کر کے اٹھائے جاؤ گے ۔
اور کہیں تم دیکھو جب مجرم (ف۲۲) اپنے رب کے پاس سر نیچے ڈالے ہوں گے (ف۲۳) اے ہمارے رب اب ہم نے دیکھا (ف۲٤) اور سنا (ف۲۵) ہمیں پھر بھیج کہ نیک کام کریں ہم کو یقین آگیا (ف۲٦)
(ف22)یعنی کُفّار و مشرکین ۔(ف23)اپنے افعال و کردار سے شرمندہ و نادم ہو کر اور عرض کرتے ہوں گے ۔(ف24)مرنے کے بعد اٹھنے کو اور تیرے وعدہ وعید کے صدق کو جن کے ہم دنیا میں منکِر تھے ۔(ف25)تجھ سے تیرے رسولوں کی سچّائی کو تو اب دنیا میں ۔(ف26)اور اب ہم ایمان لے آئے لیکن اس وقت کا ایمان لانا انہیں کچھ کام نہ دے گا ۔
اور اگر ہم چاہتے ہر جان کو اس کی ہدایت فرماتے (ف۲۷) مگر میری بات قرار پاچکی کہ ضرور جہنم کو بھردوں گا ان جِنوں اور آدمیوں سب سے (ف۲۸)
(ف27)اور اس پر ایسا لطف کرتے کہ اگر وہ اس کو اختیارکرتا تو راہ یاب ہوتا لیکن ہم نے ایسا نہ کیا کیونکہ ہم کافِروں کو جانتے تھے کہ وہ کُفر ہی اختیار کریں گے ۔(ف28)جنہوں نے کُفر اختیار کیا اور جب وہ جہنّم میں داخل ہوں گے تو جہنّم کے خازن ان سے کہیں گے ۔
ہماری آیتوں پر وہی ایمان لاتے ہیں کہ جب وہ انھیں یاد دلائی جاتی ہیں سجدہ میں گر جاتے ہیں (ف۳۱) اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بولتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے ، السجدة۔۹
(ف31)تواضُع اور خشوع سے اور نعمتِ اسلام پر شکر گزاری کے لئے ۔
ان کی کروٹیں جدا ہوتی ہیں خوابگاہوں سے (ف۳۲) اور اپنے رب کو پکارتے ہیں ڈرتے اور امید کرتے (ف۳۳) اور ہمارے دیے ہوئے سے کچھ خیرات کرتے ہیں،
(ف32)یعنی خوابِ استراحت کے بستروں سے اٹھتے ہیں اور اپنے راحت و آرام کو چھوڑتے ہیں ۔(ف33)یعنی اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں اور اس کی رحمت کی امید کرتے ہیں یہ تہجُّد ادا کرنے والوں کی حالت کا بیان ہے ۔ شانِ نُزول : حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ یہ آیت ہم انصاریوں کے حق میں نازل ہوئی کہ ہم مغرب پڑھ کر اپنی قیام گاہوں کو واپس نہ آتے تھے جب تک کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ عشاء نہ پڑھ لیتے ۔
تو کیا جو ایمان والا ہے وہ اس جیسا ہوجائے گا جو بےحکم ہے (ف۳٦) یہ برابر نہیں،
(ف36)یعنی کافِر ہے ۔شانِ نُزول : حضرت علی مرتضٰی کرّم اللہ تعا لٰی وجہہَ الکریم سے ولید بن عقبہ بن ابی معیط کسی بات میں جھگڑ رہا تھا ، دورانِ گفتگو میں کہنے لگا خاموش ہو جاؤ تم لڑکے ہو میں بوڑھا ہوں ، میں بہت زبان دراز ہوں ، میری نوکِ سنان تم سے زیادہ تیز ہے ، میں تم سے زیادہ بہادر ہوں ، میں بڑا جھتے دار ہوں ، حضرت علی مرتضٰی کرّم اللہ تعالٰی وجہہَ الکریم نے فرمایا چپ تو فاسق ہے ، مراد یہ تھی کہ جن باتوں پر تو ناز کرتا ہے انسان کے لئے ان میں سے کوئی قابلِ مدح نہیں ، انسان کا فضل و شرف ایمان و تقوٰی میں ہے جسے یہ دولت نصیب نہیں وہ انتہا کا رذیل ہے ، کافِر مومن کے برابر نہیں ہو سکتا ، اللہ تبارک و تعالٰی نے حضرت علی مرتضٰی کرّم اللہ تعا لٰی وجہہَ الکریم کی تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی ۔
رہے وہ جو بےحکم ہیں (ف۳۸) ان کا ٹھکانا آگ ہے، جب کبھی اس میں سے نکلنا چاہیں گے پھر اسی میں پھیر دیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا چکھو اس آگ کا عذاب جسے تم جھٹلاتے تھے،
اور ضرور ہم انھیں چکھائیں گے کچھ نزدیک کا عذاب (ف۱۳۹) اس بڑے عذاب سے پہلے (ف٤۰) جسے دیکھنے والا امید کرے کہ ابھی باز آئیں گے،
(ف39)دنیا ہی میں قتل اور گرفتاری اور قحط و امراض وغیرہ میں مبتلا کر کے چنانچہ ایسا ہی پیش آیا کہ حضور کی ہجرت سے قبل قریش امراض و مصائب میں گرفتار ہوئے اور بعدِ ہجرت بدر میں مقتول ہوئے ، گرفتار ہوئے اور سات برس قحط کی ایسی سخت مصیبت میں مبتلا رہے کہ ہڈیاں اور مردار اور کتّے تک کھا گئے ۔(ف40)یعنی عذابِ آخرت سے ۔
اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب (ف٤۲) عطا فرمائی تو تم اس کے ملنے میں شک نہ کرو (ف٤۳) اور ہم نے اسے (ف٤٤) بنی اسرائیل کے لیے ہدایت کیا،
(ف42)یعنی توریت ۔(ف43)یعنی حضرت موسٰی علیہ السلام کو کتاب کے ملنے میں یا یہ معنٰی ہیں کہ حضرت موسٰی علیہ السلام کے ملنے اور ان سے ملاقات ہونے میں شک نہ کرو چنانچہ شبِ معراج حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضرت موسٰی علیہ السلام سے ملاقات ہوئی جیسا کہ احادیث میں وارد ہے ۔(ف44)یعنی حضرت موسٰی علیہ السلام کو یا توریت کو ۔
اور ہم نے ان میں سے (ف٤۵) کچھ امام بنائے کہ ہمارے حکم سے بناتے (٤٦) جبکہ انہوں نے صبر کیا (ف٤۷) اور وہ ہماری آیتوں پر یقین لاتے تھے،
(ف45)یعنی بنی اسرائیل میں سے ۔(ف46)لوگوں کو خدا کی طاعت اور اس کی فرمانبرداری اور اللہ تعالٰی کے دین اور اس کی شریعت کا اِتّباع ، توریت کے احکام کی تعمیل اور یہ امامِ انبیاءِ بنی اسرائیل تھے یا انبیاء کے متّبِعین ۔(ف47)اپنے دین پر اور دشمنوں کی طرف سے پہنچنے والی مصیبتوں پر ۔ فائدہ : اس سے معلوم ہوا کہ صبر کا ثمرہ امامت اور پیشوائی ہے ۔
اور کیا انھیں (ف۵۰) اس پر ہدایت نہ ہوئی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں (قومیں) (ف۵۱) ہلاک کردیں کہ آج یہ ان کے گھروں میں چل پھر رہے ہیں (ف۵۲) بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں تو کیا سنتے نہیں (ف۵۳)
(ف50)یعنی اہلِ مکّہ کو ۔(ف51)کتنی اُمّتیں مثلِ عاد و ثمود و قومِ لوط کے ۔(ف52)یعنی اہلِ مکّہ جب بسلسلۂ تجارت شام کے سفر کرتے ہیں تو ان لوگوں کے منازل و بلاد میں گزرتے ہیں اور ان کی ہلاکت کے آثار دیکھتے ہیں ۔(ف53)جو عبرت حاصل کریں اور پندپذیر ہوں ۔
اور کیا نہیں دیکھتے کہ ہم پانی بھیجتے ہیں خشک زمین کی طرف (ف۵٤) پھر اس سے کھیتی نکالتے ہیں کہ اس میں سے ان کے چوپائے اور وہ خود کھاتے ہیں (ف۵۵) تو کیا انھیں سوجھتانہیں (ف۵٦)
(ف54)جس میں سبزہ کا نام و نشان نہیں ۔(ف55)چوپائے بھوسہ اور وہ خود غلّہ ۔(ف56)کہ وہ یہ دیکھ کر اللہ تعالٰی کے کمالِ قدرت پر استدلال کریں اور سمجھیں کہ جو قادرِ برحق خشک زمین سے کھیتی نکالنے پر قادر ہے مُردوں کا زندہ کرنا اس کی قدرت سے کیا بعید ۔
(ف57)مسلمان کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالٰی ہمارے اور مشرکین کے درمیان فیصلہ فرمائے گا اور فرمانبردار اور نافرمان کو ان کے حسبِ عمل جزا دے گا ، اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ ہم پر رحمت و کرم کرے گا اور کُفّار و مشرکین کو عذاب میں مبتلا کرے گا ، اس پر کافِر بطورِ تمسخُر و اِستِہزاء کہتے تھے کہ یہ فیصلہ کب ہو گا ، اس کا وقت کب آئے گا ۔ اللہ تعالٰی اپنے حبیب سے ارشاد فرماتا ہے ۔
تم فرماؤ فیصلہ کے دن (ف۵۸) کافروں کو ان کا ایمان لانا نفع نہ دے گا اور نہ انھیں مہلت ملے (ف۵۹)
(ف58)جب عذابِ الٰہی نازل ہو گا ۔(ف59)توبہ و معذرت کی فیصلہ کے دن سے یا روزِ قیامت مراد ہے یا روزِ فتحِ مکّہ یاروزِ بدر برتقدیرِ اوّل اگر روزِ قیامت مراد ہو تو ایمان کا نافع نہ ہونا ظاہر ہے کیونکہ ایمان وہی مقبول ہے جو دنیا میں ہو اور دنیا سے نکلنے کے بعد نہ ایمان مقبول ہو گا نہ ایمان لانے کے لئے دنیا میں واپس آنا میسّر آئے گا اور اگر فیصلہ کے دن سے روزِ بدریا روزِ فتحِ مکّہ مراد ہو تو معنٰی یہ ہیں کہ جبکہ عذاب آ جائے اور وہ لوگ قتل ہونے لگیں تو حالتِ قتل میں ان کا ایمان لانا قبول نہ کیا جائے گا اور نہ عذاب مؤخّر کر کے انہیں مہلت دی جائے چنانچہ جب مکّہ مکرّمہ فتح ہوا تو قوم بنی کنانہ بھاگی حضرت خالد بن ولید نے جب انہیں گھیرا اور انہوں نے دیکھا کہ اب قتل سر پر آ گیا کوئی امید جاں بَری کی نہیں تو انہوں نے اسلام کا اظہار کیا ، حضرت خالد نے قبول نہ فرمایا اور انہیں قتل کر دیا ۔ (جمل وغیرہ)
تو ان سے منہ پھیرلو اور انتظار کرو (ف٦۰) بیشک انھیں بھی انتظار کرنا ہے (ف٦۱)
(ف60)ان پر عذاب نازل ہونے کا ۔(ف61)بخاری و مسلم شریف کی حدیث شریف میں ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم روزِ جمعہ نمازِ فجر میں یہ سورت یعنی سورۂ سجدہ اور سورۂ دہر پڑھتے تھے ۔ ترمذی کی حدیث میں ہے کہ جب تک حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یہ سورت اور سورۂ ' تَبٰرَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ' پڑھ نہ لیتے خواب نہ فرماتے ۔ حضرت ابنِ مسعودرضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ سورۂ سجدہ عذابِ قبر سے محفوظ رکھتی ہے ۔ (خازن و مدارک)