قریب ہوتا ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے شق ہوجائیں (ف٤) اور فرشتے اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بولتے اور زمین والوں کے لیے معافی مانگتے ہیں (ف۵) سن لو بیشک اللہ ہی بخشنے والا مہربان ہے،
(ف4)اللہ تعالٰی کی عظمت اور اس کے علوئے شان سے ۔(ف5)یعنی ایمان داروں کے لئے کیونکہ کافر اس لائق نہیں ہیں کہ ملائکہ ان کے لئے استغفار کریں ، یہ ہوسکتا ہے کہ کافروں کے لئے یہ دعا کریں کہ انہیں ایمان دے کر ان کی مغفرت فرما ۔
اور جنہوں نے اللہ کے سوا اور والی بنارکھے ہیں (ف٦) وہ اللہ کی نگاہ میں ہیں (ف۷) اور تم ان کے ذمہ دار نہیں، (ف۸)
(ف6)یعنی بت جن کو وہ پوجتے اور معبود سمجھتے ہیں ۔(ف7)ان کے اعمال ، افعال اس کے سامنے ہیں ، وہ انہیں بدلہ دے گا ۔(ف8)تم سے ان کے افعال کا مؤاخذہ نہ ہوگا ۔
اور یونہی ہم نے تمہاری طرف عربی قرآن وحی بھیجا کہ تم ڈراؤ سب شہروں کی اصل مکہ والوں کو اور جتنے اس کے گرد ہیں (ف۹) اور تم ڈراؤ اکٹھے ہونے کے دن سے جس میں کچھ شک نہیں (ف۱۰) ایک گروہ جنت میں ہے اور ایک گروہ دوزخ میں،
(ف9)یعنی تمام عالَم کے لوگ ان سب کو ۔(ف10)یعنی روزِ قیامت سے ڈراؤ جس میں اللہ تعالٰی اوّلین و آخرین او ر اہلِ آسمان و زمین سب کو جمع فرمائے گا اور اس جمع کے بعد پھر سب متفرّق ہوں گے ۔
آسمانوں اور زمین کا بنانے والا، تمہارے لیے تمہیں میں سے (ف۱۸) جوڑے بنائے اور نر و مادہ چوپائے، اس سے (ف۱۹) تمہاری نسل پھیلاتا ہے، اس جیسا کوئی نہیں، اور وہی سنتا دیکھتا ہے،
(ف18)یعنی تمہاری جنس میں سے ۔(ف19)یعنی اس تزویج سے ۔ (خازن)
اسی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کی کنجیاں (ف۲۰) روزی وسیع کرتا ہے جس کے لیے چاہے اور تنگ فرماتا ہے (ف۲۱) بیشک وہ سب کچھ جانتا ہے،
(ف20)مراد یہ ہے کہ آسمان وزمین کے تمام خزانوں کی کنجیاں خواہ مینہ کے خزانے ہوں یا رزق کے ۔(ف21)جس کے لئے چاہے وہ مالک ہے ، رزق کی کنجیاں اس کے دستِ قدرت میں ہیں ۔
تمہارے لیے دین کی وہ راہ ڈالی جس کا حکم اس نے نوح کو دیا (ف۲۲) اور جو ہم نے تمہاری طرف وحی کی (ف۲۳) اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا (ف۲٤) کہ دین ٹھیک رکھو (ف۲۵) اور اس میں پھوٹ نہ ڈالو (ف۲٦) مشرکوں پر بہت ہی گراں ہے وہ (ف۲۷) جس کی طرف تم انہیں بلاتے ہو، اور اللہ اپنے قریب کے لیے چن لیتا ہے جسے چاہے (ف۲۸) اور اپنی طرف راہ دیتا ہے اسے جو رجوع لائے (ف۲۹)
(ف22)نوح علیہ السلام صاحبِ شرع انبیاء میں سب سے پہلے نبی ہیں ۔(ف23)اے سیدِ انبیاء محمّد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔(ف24)معنٰی یہ ہیں کہ حضرت نوح علیہ الصلٰوۃ والسلام سے آپ تک اے سیدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جتنے انبیاء ہوئے سب کے لئے ہم نے دِین کی ایک ہی راہ مقرر کی جس میں وہ سب متفق ہیں وہ راہ یہ ہے ۔(ف25)مراد دِین سے اسلام ہے ، معنٰی یہ ہیں کہ اللہ تعالٰی کی توحید اور اس کی طاعت اور اس پر اور اس کے رسولوں پر اور اس کی کتابوں پر اور روزِ جزا پر اور باقی تمام ضروریاتِ دِین پر ایمان لانا لازم کرو کہ یہ امور تمام انبیاء کی امّتوں کے لئے یکساں لازم ہیں ۔(ف26)حضرت علیِ مرتضٰی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم نے فرمایا کہ جماعت رحمت اور فرقت عذاب ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ اصولِ دِین میں تمام مسلمان خواہ وہ کسی عہد یا کسی امّت کے ہوں یکساں ہیں ، ان میں کوئی اختلاف نہیں ، البتہ احکام میں امّتیں باعتبار اپنے احوال و خصوصیات کے جداگانہ ہیں ، چنانچہ اللہ تعالٰی نے فرمایا لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْھَاجاً ۔(ف27)یعنی بتوں کو چھوڑنا اور توحید اختیار کرنا ۔(ف28)اپنے بندوں میں سے اسی کو توفیق دیتا ہے ۔ (ف29)اور اس کی طاعت قبول کرے ۔
اور انہوں نے پھوٹ نہ ڈالی مگر بعد اس کے کہ انہیں علم آچکا تھا (ف۳۰) آپس کے حسد سے (ف۳۱) اور اگر تمہارے رب کی ایک بات گزر نہ چکی ہوتی (ف۳۲) ایک مقرر میعاد تک (ف۳۳) تو کب کا ان میں فیصلہ کردیا ہوتا (ف۳٤) اور بیشک وہ جو ان کے بعد کتاب کے وارث ہوئے (ف۳۵) وہ اس سے ایک دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں (ف۳٦)
(ف30)یعنی اہلِ کتاب نے اپنے انبیاء علیہم السلام کے بعد جو دِین میں اختلاف ڈالا کہ کسی نے توحید اختیار کی ، کوئی کافر ہوگیا ، وہ اس سے پہلے جان چکے تھے کہ اس طرح اختلاف کرنا اور فرقہ فرقہ ہوجانا گمراہی ہے لیکن باوجود اس کے انہوں نے یہ سب کچھ کیا ۔(ف31)اور ریاست وناحق کی حکومت کے شوق میں ۔(ف32)عذاب کے مؤخر فرمانے کی ۔(ف33)یعنی روزِ قیامت تک ۔(ف34)کافروں پر دنیا میں عذاب نازل فرما کر ۔(ف35)یعنی یہود و نصارٰی ۔(ف36)یعنی اپنی کتاب پر مضبوط ایمان نہیں رکھتے یا یہ معنٰی ہیں کہ وہ قرآن کی طرف سے یا سیدِ عالَم محمّد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف سے شک میں پڑے ہیں ۔
تو اسی لیے بلاؤ (ف۳۷) اور ثابت قدم رہو (ف۳۸) جیسا تمہیں حکم ہوا ہے اور ان کی خواہشوں پر نہ چلو اور کہو کہ میں ایمان لایا اس پر جو کوئی کتاب اللہ نے اتاری (ف۳۹) اور مجھے حکم ہے کہ میں تم میں انصاف کروں (ف٤۰) اللہ ہمارا اور تمہارا سب کا رب ہے (ف٤۱) ہمارے لیے ہمارا عمل اور تمہارے لیے تمہارا کیا (ف٤۲) کوئی حجت نہیں ہم میں اور تم میں (ف٤۳) اللہ ہم سب کو جمع کرے گا (ف٤٤) اور اسی کی طرف پھرنا ہے،
(ف37)یعنی ان کفّار کے اس اختلاف و پراگندگی کی وجہ سے انہیں توحید اور ملّتِ حنیفیہ پر متفق ہونے کی دعوت دو ۔(ف38)دِین پر اور دِین کی دعوت دینے پر ۔(ف39)یعنی اللہ تعالٰی کی تمام کتابوں پر کیونکہ متفرقین بعض پر ایمان لاتے تھے اور بعض سے کفر کرتے تھے ۔(ف40)تمام چیزوں میں اور جمیع احوال میں اور ہر فیصلہ میں ۔(ف41)اور ہم سب اس کے بندے ۔(ف42)ہر ایک اپنے عمل کی جزا پائے گا ۔(ف43)کیونکہ حق ظاہر ہوچکا وَھٰذِہِ الْآ یَۃُ مَنْسُوْخَۃبِآ یَۃِ الْقِتَالِ ۔(ف44)روزِ قیامت ۔
اور وہ جو اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں بعد اس کے کہ مسلمان اس کی دعوت قبول کرچکے ہیں (ف٤۵) ان کی دلیل محض بےثبات ہے ان کے رب کے پاس اور ان پر غضب ہے (ف٤٦) اور ان کے لیے سخت عذاب ہے (ف٤۷)
(ف45)مراد ان جھگڑنے والوں سے یہود ہیں ، وہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں کو پھر کفر کی طرف لوٹائیں اس لئے جھگڑاکرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہمارا دِین پرانا ، ہماری کتاب پرانی ، ہمارے نبی پہلے ، ہم تم سے بہتر ہیں ۔(ف46)بسبب ان کے کفر کے ۔(ف47)آخرت میں ۔
اللہ ہے جس نے حق کے ساتھ کتاب اتاری (ف٤۸) اور انصاف کی ترازو (ف٤۹) اور تم کیا جانو شاید قیامت قریب ہی ہو (ف۵۰)
(ف48)یعنی قرآنِ پاک جو قِسم قِسم کے دلائل و احکام پر مشتمل ہے ۔(ف49)یعنی اس نے اپنی کتبِ منزّلہ میں عدل کا حکم دیا ۔ بعض مفسّرین نے کہا ہے کہ مراد میزان سے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ گرامی ہے ۔(ف50)شانِ نزول : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے قیامت کا ذکر فرمایا تو مشرکین نے بطریقِ تکذیب کہا کہ قیامت کب ہوگی ؟ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی ۔
اس کی جلدی مچا رہے ہیں وہ جو اس پر ایمان نہیں رکھتے (ف۵۱) اور جنہیں اس پر ایمان ہے وہ اس سے ڈر رہے ہیں اور جانتے ہیں کہ بیشک وہ حق ہے، سنتے ہو بیشک جو قیامت میں شک کرتے ہیں ضرور دور کی گمراہی میں ہیں،
(ف51)اور یہ گمان کرتے ہیں کہ قیامت آنے والی ہی نہیں ، اسی لئے بطریقِ تمسخر جلدی مچاتے ہیں ۔
اللہ اپنے بندوں پر لطف فرماتا ہے (ف۵۲) جسے چاہے روزی دیتا ہے (ف۵۳) اور وہی قوت و عزت والا ہے،
(ف52)بے شماراحسان کرتا ہے نیکوں پر بھی اور بدوں پر بھی حتّٰی کہ بندے گناہوں میں مشغول رہتے ہیں اور وہ انہیں بھوک سے ہلاک نہیں کرتا۔(ف53)اور فراخیِٔ عیش عطا فرماتا ہے مومن کو بھی اور کافر کو بھی حسبِ اقتضاءِ حکمت ۔ حدیث شریف میں ہے اللہ تعالٰی فرماتا ہے میرے بعضے مومن بندے ایسے ہیں کہ تونگری ان کے قوّت و ایمان کا باعث ہے ، اگر میں انہیں فقیر محتاج کردوں تو ان کے عقیدے فاسد ہوجائیں اور بعضے بندے ایسے ہیں کہ تنگی اور محتاجی ان کے قوّتِ ایمان کا باعث ہے ، اگر میں انہیں غنی ، مالدار کردوں تو ان کے عقیدے خراب ہوجائیں ۔
جو آخرت کی کھیتی چاہے (ف۵٤) ہم اس کے لیے اس کی کھیتی بڑھائیں (ف۵۵) اور جو دنیا کی کھیتی چاہے (ف۵٦) ہم اسے اس میں سے کچھ دیں گے (ف۵۷) اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں (ف۵۸)
(ف54)یعنی جس کو اپنے اعمال سے نفعِ آخرت مقصود ہو ۔(ف55)اس کو نیکیوں کی توفیق دے کر اور اس کے لئے خیرات و طاعات کی راہیں سہل کرکے اور اس کی نیکیوں کا ثواب بڑھا کر ۔(ف56)یعنی جس کا عمل محض دنیا حاصل کرنے کے لئے ہو اور وہ آخرت پر ایمان نہ رکھتا ہو ۔ (مدارک)(ف57)یعنی دنیا میں جتنا اس کے لئے مقدّر کیا ہے ۔(ف58)کیونکہ اس نے آخرت کے لئے عمل کیا ہی نہیں ۔
یا ان کے لیے کچھ شریک ہیں (ف۵۹) جنہوں نے ان کے لیے (ف٦۰) وہ دین نکال دیا ہے (ف٦۱) کہ اللہ نے اس کی اجازت نہ دی (ف٦۲) اور اگر ایک فیصلہ کا وعدہ نہ ہوتا (ف٦۳) تو یہیں ان میں فیصلہ کردیا جاتا (ف٦٤) اور بیشک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے (ف٦۵)
(ف59)معنٰی یہ ہیں کہ کیا کفّارِ مکّہ اس دِین کو قبول کرتے ہیں جو اللہ تعالٰی نے ان کے لئے مقرّر فرمایا یا ان کے کچھ ایسے شرکاء ہیں شیاطین وغیرہ ۔(ف60)کفری دینوں میں سے ۔ (ف61)جو شرک و انکارِ بعث پر مشتمل ہے ۔(ف62)یعنی وہ دِینِ الٰہی کے خلاف ہے ۔(ف63)اور جزاء کے لئے روزِ قیامت معیّن نہ فرمادیا گیا ہوتا ۔(ف64)اور دنیا ہی میں تکذیب کرنے والوں کو گرفتارِ عذاب کردیا جاتا ۔(ف65)آخرت میں ۔ اور ظالموں سے مراد یہاں کافر ہیں ۔
تم ظالموں کو دیکھو گے کہ اپنی کمائیوں سے سہمے ہوئے ہوں گے (ف٦٦) اور وہ ان پر پڑ کر رہیں گی (ف٦۷) اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے وہ جنت کی پھلواریوں میں ہیں، ان کے لیے ان کے رب کے پاس ہے جو چاہیں، یہی بڑا فضل ہے،
(ف66)یعنی کفرواعمالِ خبیثہ سے جو انہوں نے دنیامیں کماۓ تھے ۔ اس اندیشہ سے کہ اب انکی سزا ملنے والی ہے ۔(ف67)ضرور ان سے کسی طرح بچ نہیں سکتے ڈریں یا نہ ڈریں ۔
یہ ہے وہ جس کی خوشخبری دیتا ہے اللہ اپنے بندوں کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے، تم فرماؤ میں اس (ف٦۸) پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا (ف٦۹) مگر قرابت کی محبت (ف۷۰) اور جو نیک کام کرے (ف۷۱) ہم اس کے لیے اس میں اور خوبی بڑھائیں، بیشک اللہ بخشنے والا قدر فرمانے والا ہے،
(ف68)تبلیغِ رسالت اور ارشاد و ہدایت ۔ (ف69)اور تمام انبیاء کا یہی طریقہ ہے ۔ شانِ نزول: حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مدینہ طیّبہ میں رونق افروز ہوئے اور انصار نے دیکھا کہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ذمّہ مصارف بہت ہیں اور مال کچھ بھی نہیں ہے تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور حضور کے حقوق و احسانات یاد کرکے حضور کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے بہت سا مال جمع کیا اور اس کو لے کر خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ حضور کی بدولت ہمیں ہدایت ہوئی ، ہم نے گمراہی سے نجات پائی ، ہم دیکھتے ہیں ، کہ حضور کے مصارف بہت زیادہ ، اس لئے ہم یہ مال خدّامِ آستانہ کی خدمت میں نذر کے لئے لائے ہیں ، قبول فرما کر ہماری عزّت افزائی کی جائے ، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے وہ اموال واپس فرمادیئے ۔(ف70)تم پر لازم ہے کیونکہ مسلمانوں کے درمیان مودّت ، محبّت واجب ہے جیسا کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا اَ لْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآ ءُ بَعْضٍ ۔ اور حدیث شریف میں ہے کہ مسلمان مثل ایک عمارت کے ہیں جس کا ہر ایک حِصّہ دوسرے حصّہ کو قوّت اور مدد پہنچاتا ہے ، جب مسلمانوں میں باہم ایک دوسرے کے ساتھ محبّت واجب ہوئی تو سیدِ عالَمین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ کس قدر محبّت فرض ہوگی ، معنٰی یہ ہیں کہ میں ہدایت و ارشاد پر کچھ اجرت نہیں چاہتا لیکن قرابت کے حقوق تو تم پر واجب ہیں ، ان کا لحاظ کرو اور میرے قرابت والے تمہارے بھی قرابتی ہیں ، انہیں ایذا نہ دو ۔ حضرت سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ قرابت والوں سے مراد حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آلِ پاک ہے ۔ (بخاری) مسئلہ: اہلِ قرابت سے کون کون مراد ہیں اس میں کئی قول ہیں، ایک تو یہ کہ مراد اس سے حضرت علی و حضرت فاطمہ و حسنین کریمین ہیں رضی اللہ تعالٰی عنہم ، ایک قول یہ ہے کہ آلِ علی و آلِ عقیل و آلِ جعفر و آلِ عباس مراد ہیں ، اور ایک قول یہ ہے کہ حضور کے وہ اقارب مراد ہیں جن پر صدقہ حرام ہے اور وہ مخلصینِ بنی ہاشم و بنی مطّلب ہیں ، حضور کی ازواجِ مطہّرات حضور کے اہلِ بیت میں داخل ہیں ۔ مسئلہ : حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبّت اور حضور کے اقارب کی محبّت دِین کے فرائض میں سے ہے ۔ (جمل وخازن وغیرہ)(ف71)یہاں نیک کام سے مراد یارسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے آلِ پاک کی محبّت ہے یا تمام امورِ خیر ۔
یا (ف۷۲) یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھ لیا (ف۷۳) اور اللہ چاہے تو تمہارے اوپر اپنی رحمت و حفاظت کی مہر فرمادے (ف۷٤) اور مٹاتا ہے باطل کو (ف۷۵) اور حق کو ثابت فرماتا ہے اپنی باتوں سے (ف۷٦) بیشک وہ دلوں کی باتیں جانتا ہے،
(ف72)سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نسبت کفّارِ مکّہ ۔(ف73)نبوّت کا دعوٰی کرکے یا قرآنِ کریم کو کتابِ الٰہی بتا کر ۔(ف74)کہ آپ کو ان کی بدگوئیوں سے ایذا نہ ہو ۔(ف75)جو کفّار کہتے ہیں ۔(ف76)جو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر نازل فرمائیں چنانچہ ایسا ہی کیا کہ ان کے باطل کو مٹایا اور کلمۂِ اسلام کو غالب کیا ۔
اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا اور گناہوں سے درگزر فرماتا ہے (ف۷۷) اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو،
(ف77)مسئلہ : توبہ ہر ایک گناہ سے واجب ہے اور توبہ کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی بدی و معصیّت سے باز آئے اور جو گناہ اس سے صادر ہوا اس پر نادم ہو اور ہمیشہ گناہ سے مجتنب رہنے کا پختہ ارادہ کرے ، اور اگر گناہ میں کسی بندے کی حق تلفی بھی تھی تو اس حق سے بطریقِ شرعی عہدہ برآہو ۔
اور اگر اللہ اپنے سب بندوں کا رزق وسیع کردیتا تو ضرور زمین میں فساد پھیلاتے (ف۷۹) لیکن وہ اندازہ سے اتارتا ہے جتنا چاہے، بیشک وہ بندوں سے خبردار ہے (ف۸۰) انہیں دیکھتا ہے،
(ف79)تکبّر وغرور میں مبتلا ہو کر ۔(ف80)جس کے لئے جتنا مقتضائے حکمت ہے اس کو اتنا عطافرماتا ہے ۔
اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا (ف۸۳) اور بہت کچھ تو معاف فرمادیتا ہے،
(ف83)یہ خطاب مومنینِ مکلَّفین سے ہے جن سے گناہ سرزد ہوتے ہیں ، مراد یہ ہے کہ دنیا میں جو تکلیفیں اور مصیبتیں مومنین کو پہنچتی ہیں اکثران کا سبب ان کے گناہ ہوتے ہیں ، ان تکلیفوں کو اللہ تعالٰی ان کے گناہوں کا کَفّارہ کردیتا ہے اور کبھی مومن کی تکلیف اس کے رفعِ درجات کے لئے ہوتی ہے جیسا کہ بخاری و مسلم کی حدیث میں وارد ہے انبیاء علیہم السلام جو گناہوں سے پاک ہیں اور چھوٹے بچّے جو مکلَّف نہیں ہیں اس آیت کے مخاطب نہیں ۔فائدہ : بعضے گمراہ فرقے جو تناسخ کے قائل ہیں اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ چھوٹے بچّوں کو جو تکلیف پہنچتی ہے ، اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ ان کے گناہوں کا نتیجہ ہو اور ابھی تک ان سے کوئی گناہ ہوا نہیں تو لازم آیا کہ اس زندگی سے پہلے کوئی اور زندگی ہو جس میں گناہ ہوئے ہوں ، یہ بات باطل ہے کیونکہ بچّے اس کلام کے مخاطب ہی نہیں جیسا کہ بالعموم تمام خطاب عاقلین ، بالغین کو ہوتے ہیں ، پس تناسخ والوں کا استدلال باطل ہوا ۔
وہ چاہے تو ہوا تھما دے (ف۸۷) اس کی پیٹھ پر (ف۸۸) ٹھہری رہ جائیں (ف۸٦) بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں ہر بڑے صابر شاکر کو (ف۹۰)
(ف87)جوکَشتیوں کو چلاتی ہے ۔(ف88)یعنی دریا کے اوپر ۔(ف89)چلنے نہ پائیں ۔(ف90)صابر ، شاکر سے مومنِ مخلص مراد ہے جو سختی و تکلیف میں صبر کرتا ہے اور راحت و عیش میں شکر ۔
تمہیں جو کچھ ملا ہے (ف۹۵) وہ جیتی دنیا میں برتنے کا ہے اور وہ جو اللہ کے پاس ہے (ف۹۷) بہتر ہے اور زیادہ باقی رہنے والا ان کے لیے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں (ف۹۸)
(ف95)دنیوی مال و اسباب ۔(ف96)صرف چند روز اس کو بقا نہیں ۔(ف97)یعنی ثواب وہ ۔(ف98)شانِ نزول : یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حق میں نازل ہوئی جب آپ نے اپنا کل مال صدقہ کردیا اور اس پر عرب کے لوگوں نے آپ کو ملامت کی ۔
اور وہ جنہوں نے اپنے رب کا حکم مانا (ف۹۹) اور نماز قائم رکھی (ف۱۰۰) اور ان کا کام ان کے آپس کے مشورے سے ہے (ف۱۰۱) اور ہمارے دیے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں،
(ف99)شانِ نزول : یہ آیت انصار کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے اپنے رب کی دعوت قبول کرکے ایمان و طاعت کو اختیار کیا ۔(ف100)اس پر مداومت کی ۔(ف101)وہ جلدی اور خود رائی نہیں کرتے ۔ حضرت حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا جو قوم مشورہ کرتی ہے وہ صحیح راہ پر پہنچتی ہے ۔
اور وہ کہ جب انہیں بغاوت پہنچے بدلہ لیتے ہیں (ف۱۰۲)
(ف102)یعنی جب ان پر کوئی ظلم کرے تو انصاف سے بدلہ لیتے ہیں اور بدلے میں حد سے تجاوز نہیں کرتے ۔ ابنِ زید کا قول ہے کہ مومن دو طرح کے ہیں ایک وہ جو ظلم کو معاف کرتے ہیں ، پہلی آیت میں ان کا ذکر فرمایا گیا ، دوسرے وہ جو ظالم سے بدلہ لیتے ہیں ، ان کا اس آیت میں ذکر ہے ۔ عطا نے کہا کہ یہ وہ مومنین ہیں جنہیں کفّار نے مکّہ مکرّمہ سے نکالا اوران پر ظلم کیا پھر اللہ تعالٰی نے انہیں اس سرزمین میں تسلّط دیا اور انہوں نے ظالموں سے بدلہ لیا ۔
اور برائی کا بدلہ اسی کی برابر برائی ہے (ف۱۰۳) تو جس نے معاف کیا اور کام سنوارا تو اس کا اجر اللہ پر ہے، بیشک وہ دوست نہیں رکھتا ظالموں کو (ف۱۰٤)
(ف103)معنٰی یہ ہیں کہ بدلہ قدرِ جنایت ہونا چاہئے ، اس میں زیادتی نہ ہو اور بدلے کو برائی کہنا مجاز ہے کہ صورۃً مشابہ ہونے کے سبب سے کہا جاتا ہے اور جس کو وہ بدلہ دیاجائے اسے بُرا معلوم ہوتا ہے اور برائی کے ساتھ تعبیر کرنے میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اگرچہ بدلہ لینا جائز ہے لیکن عفو اس سے بہتر ہے ۔(ف104)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ ظالموں سے وہ مراد ہیں جو ظلم کی ابتدا کریں ۔
اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کا کوئی رفیق نہیں اللہ کے مقابل (ف۱۰۸) اور تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب عذاب دیکھیں گے (ف۱۰۹) کہیں گے کیا واپس جانے کا کوئی راستہ ہے (ف۱۱۰)
(ف108)کہ اسے عذاب سے بچاسکے ۔(ف109)روزِ قیامت ۔(ف110)یعنی دنیامیں تاکہ وہاں جا کر ایمان لے آئیں ۔
اور تم انہیں دیکھو گے کہ آگ پر پیش کیے جاتے ہیں ذلت سے دبے لچے چھپی نگاہوں دیکھتے ہیں (ف۱۱۱) اور ایمان والے کہیں گے بیشک ہار (نقصان) میں وہ ہیں جو اپنی جانیں اور اپنے گھر والے ہار بیٹھے قیامت کے دن (ف۱۱۲) سنتے ہو بیشک ظالم (ف۱۱۳) ہمیشہ کے عذاب میں ہیں،
(ف111)یعنی ذلّت و خوف کے باعث آ گ کو دزدیدہ نگاہوں سے دیکھیں گے جیسے کوئی گردن زدنی اپنے قتل کے وقت تیغ زن کی تلوار کو دزدیدہ نگاہ سے دیکھتا ہے ۔(ف112)جانوں کا ہارنا تو یہ ہے کہ وہ کفر اختیار کرکے جہنّم کے دائمی عذاب میں گرفتار ہوئے اور گھر والوں کا ہارنا یہ ہے کہ ایمان لانے کی صورت میں جنّت کی جو حوریں ان کے لئے نامزد تھیں ان سے محروم ہوگئے ۔(ف113)یعنی کافر ۔
اپنے رب کا حکم مانو (ف۱۱٦) اس دن کے آنے سے پہلے جو اللہ کی طرف سے ٹلنے والا نہیں (ف۱۱۷) اس دن تمہیں کوئی پناہ نہ ہوگی اور نہ تمہیں انکار کرتے بنے (ف۱۱۸)
(ف116)اور سیدِ عالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی فرماں برداری کرکے توحید و عبادتِ الٰہی اختیار کرو ۔(ف117)اس سے مراد یا موت کا دن ہے یا قیامت کا ۔(ف118)اپنے گناہوں کا یعنی اس دن کوئی رہائی کی صورت نہیں ، نہ عذاب سے بچ سکتے ہو ، نہ اپنے اعمالِ قبیحہ کا انکار کرسکتے ہو جو تمہارے اعمال ناموں میں درج ہیں ۔
تو اگر وہ منہ پھیریں (ف۱۱۹) تو ہم نے تمہیں ان پر نگہبان بناکر نہیں بھیجا (ف۱۲۰) تم پر تو نہیں مگر پہنچا دینا (ف۱۲۱) اور جب ہم آدمی کو اپنی طرف سے کسی رحمت کا مزہ دیتے ہیں (ف۱۲۲) اور اس پر خوش ہوجاتا ہے اور اگر انہیں کوئی برائی پہنچے (ف۱۲۳) بدلہ اس کا جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا (ف۱۲٤) تو انسان بڑا ناشکرا ہے (ف۱۲۵)
(ف119)ایمان لانے اور اطاعت کرنے سے ۔ (ف120)کہ تم پر ان کے اعمال کی حفاظت لازم ہو ۔(ف121)اور وہ تم نے ادا کردیا ۔ (وکان ہٰذا قبل الامربالجہاد)(ف122)خواہ وہ دولت و ثروت ہو یا صحت و عافیّت یا امن و سلامت یا جاہ و مرتبت ۔(ف123)یااور کوئی مصیبت و بَلا مثل قحط و بیماری و تنگ دستی وغیرہ کے رونما ہو ۔(ف124)یعنی ان کی نافرمانیوں اور معصیّتوں کے سبب سے ۔(ف125)نعمتوں کو بھول جاتا ہے ۔
یا دونوں ملا دے بیٹے اور بیٹیاں اور جسے چاہے بانجھ کردے (ف۱۲۹) بیشک وہ علم و قدرت والا ہے،
(ف129)کہ اس کے اولاد ہی نہ ہو ، وہ مالک ہے ، اپنی نعمت کو جس طرح چاہے تقسیم کرے ، جسے جو چاہے دے ، انبیاء علیہم السلام میں بھی یہ سب صورتیں پائی جاتی ہیں ، حضرت لوط و حضرت شعیب علیہما السلام کے صرف بیٹیاں تھیں ،کوئی بیٹا نہ تھا اور حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کے صرف فرزند تھے ، کوئی دُختر ہوئی ہی نہیں اور سیدِ انبیاء حبیبِ خدامحمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اللہ تعالٰی نے چار فرزند عطا فرمائے اور چار صاحب زادیاں اور حضرت یحیٰی اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کے کوئی اولاد ہی نہیں ۔ٍ
اور کسی آدمی کو نہیں پہنچتا کہ اللہ اس سے کلام فرمائے مگر وحی کے طور پر (ف۱۳۰) یا یوں کہ وہ بشر پر وہ عظمت کے ادھر ہو (ف۱۳۱) یا کوئی فرشتہ بھیجے کہ وہ اس کے حکم سے وحی کرے جو وہ چاہے (ف۱۳۲) بیشک وہ بلندی و حکمت والا ہے،(۲
(ف130)یعنی بے واسطہ اس کے دل میں القا فرما کر اور الہام کرکے بیداری میں یا خواب میں ، اس میں وحی کا وصول بے واسطہ سمع کے ہے اور آیت میں اِلاَّوَحْیًا سے یہی مراد ہے ، اس میں یہ قید نہیں کہ اس حال میں سامع متکلم کو دیکھتا ہو یا نہ دیکھتا ہو ۔ مجاہد سے منقول ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضرت داؤد علیہ السلام کے سینۂِ مبارک میں زبور کی وحی فرمائی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ذبحِ فرزند کی خواب میں وحی فرمائی اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے معراج میں اسی طرح کی وحی فرمائی جس کا فَاَوۡحٰی اِلٰی عَبْدِہٖ مَآ اَوْحٰی میں بیا ن ہے ، یہ سب اسی قِسم میں داخل ہیں ، انبیاء کے خواب حق ہوتے ہیں جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہے کہ انبیاء کے خواب وحی ہیں ۔ (تفسیرابی السعودو کبیر و مدارک وزرقانی علی المواہب وغیرہ)(ف131)یعنی رسول پسِ پردہ اس کا کلام سنے ، اس طریقِ وحی میں بھی کوئی واسطہ نہیں ، مگر سامع کو اس حال میں متکلم کا دیدار نہیں ہوتا ۔ حضرت موسٰی علیہ السلام اسی طرح کے کلام سے مشرف فرمائے گئے ۔ شانِ نزول : یہود نے حضورِ پرنورسیدِعالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کہا تھا کہ اگر آپ نبی ہیں تو اللہ تعالٰی سے کلام کرتے وقت اس کو کیوں نہیں دیکھتے جیسا کہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام دیکھتے تھے حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جواب دیا کہ حضرت موسٰی علیہ السلام نہیں دیکھتے تھے اور اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ مسئلہ: اللہ تعالٰی اس سے پاک ہے کہ اس کے لئے کوئی ایسا پردہ ہو جیسا جسمانیات کے لئے ہوتا ہے ، اس پردہ سے مراد سامع کا دنیا میں دیدار سے محجوب ہونا ہے ۔(ف132)اس طریقِ وحی میں رسول کی طرف فرشتہ کی وساطت ہے ۔
اور یونہی ہم نے تمہیں وحی بھیجی (ف۱۳۳) ایک جان فزا چیز (ف۱۳٤) اپنے حکم سے، اس سے پہلے نہ تم کتاب جانتے تھے نہ احکام شرع کی تفصیل ہاں ہم نے اسے (ف۱۳۵) نور کیا جس سے ہم راہ دکھاتے ہیں اپنے بندوں سے جسے چاہتے ہیں، اور بیشک تم ضرور سیدھی راہ بتاتے ہو (ف۱۳٦)
(ف133)اے سیدِ عالَم خاتَمُ المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔ (ف134)یعنی قرآنِ پاک جو دلوں میں زندگی پیدا کرتا ہے ۔(ف135)یعنی قرآن شریف کو ۔(ف136)یعنی دِینِ اسلام ۔