(ف2)یعنی قرآنِ پاک کی جس کا اعجاز ظاہر ہے اور جو حق کو باطل سے ممتاز کرنے والا ہے اس کے بعد سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے براہِ رحمت و کرم خطاب ہوتا ہے ۔
کہیں تم اپنی جان پر کھیل جاؤ گے ان کے غم میں کہ وہ ایمان نہیں لائے (ف۳)
(ف3)جب اہلِ مکہ ایمان نہ لائے اور انہوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکذیب کی تو حضور پر ان کی محرومی بہت شاق ہوئی اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیتِ کریمہ نازِل فرمائی کہ آپ اس قدر غم نہ کریں ۔
کیا انہوں نے زمین کو نہ دیکھا ہم نے اس میں کتنے عزت والے جوڑے اگائے (ف۷)
(ف7)یعنی قِسم قِسم کے بہترین اور نافع نباتات پیدا کئے اور شعبی نے کہا کہ آدمی زمین کی پیداوار ہیں جو جنّتی ہے وہ عزّت والا اور کریم اور جو جہنّمی ہے وہ بدبخت لئیم ہے ۔
اور یاد کرو جب تمہارے رب نے موسیٰ کو ندا فرمائی کہ ظالم لوگوں کے پاس جا،
قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴿11﴾
جو فرعون کی قوم ہے (ف۱۰) کیا وہ نہ ڈریں گے (ف۱۱)
(ف10)جنہوں نے کُفر و معاصی سے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر اور انہیں طرح طرح کی ایذائیں پہنچا کر ان پر ظلم کیا اس قوم کا نام قبط ہے حضرت موسٰی علیہ السلام کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا کہ انہیں ان کی بدکرداری پر زجر فرمائیں ۔(ف11)اللہ سے اور اپنی جانوں کو اللہ تعالٰی پر ایمان لا کر اور اس کی فرمانبرداری کر کے اس کے عذاب سے نہ بچائیں گے اس پر حضرت موسٰی علیہ السلام نے بارگاہِ الٰہی میں ۔
اور میرا سینہ تنگی کرتا ہے (ف۱۲) اور میری زبان نہیں چلتی (ف۱۳) تو توُ ہارون کو بھی رسول کر، (ف۱٤)
(ف12)ان کے جھٹلانے سے ۔(ف13)یعنی گفتگو کرنے میں کسی قدر تکلّف ہوتا ہے اس عقدہ کی وجہ سے جو زبان میں بَایّامِ صِغر سنی مُنہ میں آ گ کا انگارہ رکھ لینے سے ہو گیا ہے ۔(ف14)تاکہ وہ تبلیغِ رسالت میں میری مدد کریں ۔ جس وقت حضرت موسٰی علیہ السلام کو شام میں نُبوّت عطا کی گئی اس وقت حضرت ہارون علیہ السلام مِصر میں تھے ۔
فرما یا یوں نہیں (ف ۱۷) تم دونوں میری آئتیں لے کر جاؤ ہم تمھارے ساتھ سنتے ہیں (ف۱۸)
(ف17)تمہیں قتل نہیں کر سکتے اور اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی درخواست منظور فرما کر حضرت ہارون علیہ السلام کو بھی نبی کر دیا اور دونوں کو حکم دیا ۔(ف18)جو تم کہو اور جو تمہیں جواب دیا جائے ۔
(ف19)تاکہ ہم انہیں سرزمینِ شام میں لے جائیں ۔ فرعون نے چار سو برس تک بنی اسرائیل کو غلام بنائے رکھا تھا اور اس وقت بنی اسرائیل کی تعداد چھ لاکھ تیس ہزار ۶۳۰۰۰۰ تھی اللہ تعالٰی کا یہ حکم پا کر حضرت موسٰی علیہ السلام مِصر کی طرف روانہ ہوئے ، آپ پشمینہ کا جبہ پہنے ہوئے تھے ، دستِ مبارک میں عصا تھا ، عصا کے سرے میں زنبیل لٹکی تھی جس میں سفرکا توشہ تھا ، اس شان سے آپ مِصر میں پہنچ کر اپنے مکان میں داخل ہوئے ، حضرت ہارون علیہ السلام وہیں تھے آپ نے انہیں خبر دی کہ اللہ تعالٰی نے مجھے رسول بنا کر فرعون کی طرف بھیجا ہے اور آپ کو بھی رسول بنایا ہے کہ فرعون کو خدا کی طرف دعوت دو یہ سن کر آپ کی والدہ صاحبہ گھبرائیں اور حضرت موسٰی علیہ السلام سے کہنے لگیں کہ فرعون تمہیں قتل کرنے کے لئے تمہاری تلاش میں ہے جب تم اس کے پاس جاؤ گے تو تمہیں قتل کرے گا لیکن حضرت موسٰی علیہ السلام ان کے یہ فرمانے سے نہ رُکے اور حضرت ہارون کو ساتھ لے کر شب کے وقت فرعون کے دروازے پر پہنچے ، دروازہ کھٹکھٹایا پوچھا آپ کون ہیں ؟ حضرت نے فرمایا میں ہوں موسٰی رب العالمین کا رسول فرعون کو خبر دی گئی اور صبح کے وقت آپ بُلائے گئے آپ نے پہنچ کر اللہ تعالٰی کی رسالت ادا کی اور فرعون کے پاس جو حکم پہنچانے پر آپ مامور کئے گئے تھے وہ پہنچایا فرعون نے آپ کو پہچانا ۔
بو لا کیا ہم نے تمھیں اپنے یہاں بچپن میں نہ پالا اور تم نے ہمارے یہاں اپنی عمر کے کئی برس گزارے، (ف۲۰)
(ف20)مفسِّرین نے کہا تیس برس اس زمانہ میں حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام فرعون کے لباس پہنتے تھے اور اس کی سواریوں میں سوار ہوتے تھے اور اس کے فرزند مشہور تھے ۔
اور یہ کوئی نعمت ہے جس کا تو مجھ پر احسان جتاتا ہے کہ تو نے غَلام بناکر رکھے بنی اسرائیل (ف۲٦)
(ف26)یعنی اس میں تیرا کیا احسان ہے کہ تم نے میری تربیت کی اور بچپن میں مجھے رکھا ، کھلایا پہنایا کیونکہ میرے تجھ تک پہنچنے کا سبب تو یہی ہوا کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنایا ، ان کی اولادوں کو قتل کیا ، یہ تیرا ظلمِ عظیم اس کا باعث ہوا کہ میرے والدین مجھے پرورش نہ کر سکے اور میرے دریا میں ڈالنے پر مجبور ہوئے تو ایسا نہ کرتا تو میں اپنے والدین کے پاس رہتا اس لئے یہ بات کیا اس قابل ہے کہ اس کا احسان جتایا جائے ، فرعون موسٰی علیہ السلام کی اس تقریر سے لاجواب ہوا اور اس نے اسلوبِ کلام بدلا اور یہ گفتگو چھوڑ کر دوسری بات شروع کی ۔
موسیٰ نے فرمایا رب آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے، اگر تمہیں یقین ہو (ف۲۸)
(ف28)یعنی اگر تم اشیاء کو دلیل سے جاننے کی صلاحیت رکھتے ہو تو ان چیزوں کی پیدائش اس کے وجود کی کافی دلیل ہے ۔ ایقان اس علم کو کہتے ہیں جو استدلال سے حاصل ہو اسی لئے اللہ تعالٰی کی شان میں موقِن نہیں کہا جاتا ۔
قَالَ لِمَنۡ حَوۡلَهٗۤ اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴿25﴾
اپنے آس پاس والوں سے بولا کیا تم غور سے سنتے نہیں (ف۲۹)
(ف29)اس وقت اس کے گرد اس کی قوم کے اشراف میں سے پانچ سو شخص زیوروں سے آراستہ زریں کرسیوں پر بیٹھے تھے ان سے فرعون کا یہ کہنا کیا تم غور سے نہیں سنتے بایں معنٰی تھا کہ وہ آسمان اور زمین کو قدیم سمجھتے تھے اور ان کے حدوث کے منکِر تھے مطلب یہ تھا کہ جب یہ چیزیں قدیم ہیں تو ان کے لئے ربّ کی کیا حاجت اب حضرت موسٰی عَلٰی نَبیِّنا وعلیہ الصلٰوۃ والسّلام نے ان چیزوں سے استدلال پیش کر نا چاہا جن کا حدوث اور جن کی فنا مشاہدہ میں آ چکی ہے ۔
موسیٰ نے فرمایا رب تمہارا اور تمہارے اگلے باپ داداؤں کا (ف۳۰)
(ف30)یعنی اگر تم دوسری چیزوں سے استدلال نہیں کر سکتے تو خود تمہارے نفوس سے استدلال پیش کیا جاتا ہے ، اپنے آپ کو جانتے ہو ، پیدا ہوئے ہو ، اپنے باپ دادا کو جانتے ہو کہ وہ فنا ہو گئے تو اپنی پیدائش سے اور ان کی فنا سے پیدا کرنے اور فنا کر دینے والے کے وجود کا ثبوت ملتا ہے ۔
بولا تمہارے یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں ضرور عقل نہیں رکھتے (ف۳۱)
(ف31)فرعون نے یہ اس لئے کہا کہ وہ اپنے سوا کسی معبود کے وجود کا قائل نہ تھا اور جو اس کے معبود ہونے کا اعتقاد نہ رکھے اس کو خارج از عقل کہتا تھا اور حقیقتہً اس طرح کی گفتگو عجز کے وقت آدمی کی زبان پر آتی ہے لیکن حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرضِ ہدایت و ارشاد کو علٰی وجہِ الکمال ادا کیا اور اس کی اس تمام لایعنی گفتگو کے باوجود پھر مزید بیان کی طرف متوجہ ہوئے ۔
موسیٰ نے فرمایا رب پورب (مشرق) اور پچھ پھر ہمغرب) کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے (ف۳۲) اگر تمہیں عقل ہو (ف۳۳)
(ف32)کیونکہ پورب سے آفتاب کا طلوع کرنا اور پچھم میں غرب ہو جانا اور سال کی فصلوں میں ایک حسابِ معیّن پر چلنا اور ہواؤں اور بارشوں وغیرہ کے نظام یہ سب اس کے وجود و قدرت پر دلالت کرتے ہیں ۔(ف33)اب فرعون متحیر ہو گیا اور آثارِ قدرتِ الٰہی کے انکار کی راہ باقی نہ رہی اور کوئی جواب اس سے بن نہ آیا ۔
بولا اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو خدا ٹھہرایا تو میں ضرور تمہیں قید کردوں گا (ف۳٤)
(ف34)فرعون کی قید قتل سے بدتر تھی ، اس کا جیل خانہ تنگ و تاریک عمیق گڑھا تھا ، اس میں اکیلا ڈال دیتا تھا نہ وہاں کوئی آؤاز سنائی آتی تھی نہ کچھ نظر آتا تھا ۔
تو موسیٰ نے اپنا عصا ڈال دیا جبھی وہ صریح اژدہا ہوگیا (ف۳٦)
(ف36)عصا اژدھا بن کر آسمان کی طرف بقدر ایک میل کے اُڑا پھر اُتر کر فرعون کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا اے مُوسٰی مجھے جو چاہیئے حکم دیجئے فرعون نے گھبرا کر کہا اس کی قسم جس نے تمہیں رسول بنایا اس کو پکڑو حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اس کو دستِ مبارک میں لیا تو مثلِ سابق عصا ہو گیا فرعون کہنے لگا اس کے سوا اور بھی کوئی معجِزہ ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں اور اس کو یدِ بیضا دکھایا ۔
چاہتے ہیں، کہ تمہیں تمہارے ملک سے نکال دیں اپنے جادو کے زور سے، تب تمہارا کیا مشورہ ہے (ف۳۹)
(ف39)کیونکہ اس زمانہ میں جادو کا بہت رواج تھا اس لئے فرعون نے خیال کیا کہ یہ بات چل جائے گی اور اس کی قوم کے لوگ اس دھوکے میں آکر حضرت موسٰی علیہ السلام سے متنفر ہو جائیں گے اور ان کی بات قبول نہ کریں گے ۔
وہ بولے انھیں ان کے بھائی کو ٹھہرائے رہو اور شہروں میں جمع کرنے والے بھیجو،
يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴿37﴾
کہ وہ تیرے پاس لے آئیں ہر بڑے جادوگر دانا کو (ف٤۰)
(ف40)جو علمِ سحر میں بقول ان کے حضرت موسٰی علیہ السلام سے بڑھ کر ہو اور وہ لوگ اپنے جادو سے حضرت موسٰی علیہ السلام کے معجزات کا مقابلہ کریں تاکہ حضرت موسٰی علیہ السلام کے لئے حُجّت باقی نہ رہے اور فرعونیوں کو یہ کہنے کا موقع مل جائے کہ یہ کام جادو سے ہو جاتے ہیں لہٰذا نُبوّت کی دلیل نہیں ۔
شاید ہم ان جادوگروں ہی کی پیروی کریں اگر یہ غالب آئیں (ف٤۳)
(ف43)حضرت موسٰی علیہ السلام پر ۔ اس سے مقصود ان کا جادو گروں کا اِتّباع کرنا نہ تھا بلکہ غرض یہ تھی کہ اس حیلہ سے لوگوں کو حضرت موسٰی علیہ السلام کے اِتّباع سے روکیں ۔
(ف44)تمہیں درباری بنایا جائے گا ، تمہیں خاص اعزاز دیئے جائیں گے ، سب سے پہلے داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی ، سب سے بعد تک دربار میں رہو گے ۔ اس کے بعد جادو گروں نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے عرض کیا کہ کیا حضرت پہلے اپنا عصا ڈالیں گے یا ہمیں اجازت ہے کہ ہم اپنا سامانِ سحر ڈالیں ۔
تو انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں اور بولے فرعون کی عزت کی قسم بیشک ہماری ہی جیت ہے، (ف٤٦)
(ف46)انہیں اپنے غلبہ کا اطمینان تھا کیونکہ سحر کے اعمال میں جو انتہا کے عمل تھے یہ ان کو کام میں لائے تھے اور یقینِ کامل رکھتے تھے کہ اب کوئی سحر اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔
تو موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا جبھی وہ ان کی بناوٹوں کو نگلنے لگا (ف٤۷)
(ف47)جو انہوں نے جادو کے ذریعہ سے بنائیں تھیں یعنی ان کی رسیاں اور لاٹھیاں جو جادو سے اژدھے بن کر دوڑتے نظر آ رہے تھے حضرت موسٰی علیہ السلام کا عصا اژدھا بن کر ان سب کو نگل گیا پھر اس کو حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنے دستِ مبارک میں لیا تو وہ مثلِ سابق عصا تھا جب جادوگروں نے یہ دیکھا تو انہیں یقین ہوگیا کہ یہ جادو نہیں ہے ۔
فَاُلۡقِىَ السَّحَرَةُ سٰجِدِيۡنَۙ ﴿46﴾
اب سجدہ میں گرے ،
قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ﴿47﴾
جادوگر، بولے ہم ایمان لائے اس پر جو سارے جہان کا رب ہے ،
فرعون بولا کیا تم اس پر ایمان لائے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں، بیشک وہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا (ف٤۸) تو اب جاننا چاہتے ہو (ف٤۹) مجھے قسم ہے! بیشک میں تمہارے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹوں گا اور تم سب کو سولی دوں گا (ف۵۰)
(ف48)یعنی حضرت موسٰی علیہ السلام تمہارے استاد ہیں اسی لئے وہ تم سے بڑھ گئے ۔(ف49)کہ تمہارے ساتھ کیا کیا جائے ۔(ف50)اس سے مقصود یہ تھا کہ عام خَلق ڈر جائے اور جادو گروں کو دیکھ کر لوگ حضرت موسٰی علیہ السلام پر ایمان نہ لے آئیں ۔
ہمیں طمع ہے کہ ہمارا رب ہماری خطائیں بخش دے اس پر کہ سب سے پہلے ایمان لائے (ف۵۳)
(ف53)رعیّتِ فرعون میں سے یا اس مجمع کے حاضرین میں سے ۔ اس واقعہ کے بعد حضرت موسٰی علیہ السلام نے کئی سال وہاں اقامت فرمائی اور ان لوگوں کو حق کی دعوت دیتے رہے لیکن ان کی سرکشی بڑھتی گئی ۔
اور ہم نے موسیٰ کو وحی بھیجی کہ راتوں رات میرے بندوں کو (ف ۵٤) لے نکل بیشک تمھارا پیچھا ہو نا ہے ، (ف۵۵)
(ف54)یعنی بنی اسرائیل کو مِصر سے ۔(ف55)فرعون اور اس کے لشکر پیچھا کریں گے اور تمہارے پیچھے پیچھے دریا میں داخل ہوں گے ہم تمہیں نَجات دیں گے اور انہیں غرق کریں گے ۔
(ف56)لشکروں کو جمع کرنے کے لئے جب لشکر جمع ہو گئے تو ان کی کثرت کے مقابل بنی اسرائیل کی تعداد تھوڑی معلوم ہونے لگی چنانچہ فرعون نے بنی اسرائیل کی نسبت کہا ۔
پھر جب آمنا سامنا ہوا دونوں گروہوں کا (ف٦۱) موسیٰ والوں نے کہا ہم کو انہوں نے آلیا (ف٦۲)
(ف61)اور ان میں سے ہر ایک نے دوسرے کو دیکھا ۔(ف62)اب وہ ہم پر قابو پا لیں گے نہ ہم ان کے مقابلہ کی طاقت رکھتے ہیں نہ بھاگنے کی جگہ ہے کیونکہ آگے دریا ہے ۔
اور ہم نے بچالیا موسیٰ اور اس کے سب ساتھ والوں کو (ف٦۸)
(ف68)دریا سے سلامت نکال کر ۔
ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَؕ ﴿66﴾
پھر دوسروں کو ڈبو دیا (ف٦۹)
(ف69)یعنی فرعون اور اس کی قوم کو اس طرح کہ جب بنی اسرائیل کل کے کل دریا سے باہر ہو گئے اور تمام فرعونی دریا کے اندر آ گئے تو دریا بحکمِ الٰہی مل گیا اور مثلِ سابق ہو گیا اور فرعون مع اپنی قوم کے ڈوب گیا ۔
بیشک اس میں ضرور نشانی ہے (ف۷۰) اور ان میں اکثر مسلمان نہ تھے (ف۷۱)
(ف70)اللہ تعالی کی قدرت پر اور حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کا معجِزہ ہے ۔(ف71)یعنی اہلِ مِصر میں صرف آسیہ فرعون کی بی بی اور حِزْ قِیْل جن کو مؤمنِ آلِ فرعون کہتے ہیں وہ اپنا ایمان چھپائے رہتے تھے اور فرعون کے چچا زاد تھے اور مریم جس نے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام کی قبر کا نشان بتایا تھا جب کہ حضرت موسٰی علیہ السلام نے ان کے تابوت کو دریا سے نکالا ۔
جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا تم کیا پوجتے ہو (ف۷۵)
(ف75)حضرت ابراہیم علیہ السلام جانتے تھے کہ وہ لوگ بُت پرست ہیں باوجود اس کے آپ کا سوال فرمانا اس لئے تھا تاکہ انہیں دکھا دیں کہ جن چیزوں کو وہ لوگ پوجتے ہیں وہ کسی طرح اس کے مستحق نہیں ۔
اور وہ جس کی مجھے آس لگی ہے کہ میری خطائیں قیامت کے دن بخشے گا (ف۸۵)
(ف85)انبیاء معصوم ہیں ، گناہ ان سے صادر نہیں ہوتے ، ان کا استغفار اپنے ربّ کے حضور تواضع ہے اور اُمّت کے لئے طلبِ مغفرت کی تعلیم ہے ۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کا ان صفاتِ الٰہیہ کو بیان کرنا اپنی قوم پر اقامتِ حجّت ہے کہ معبود وہی ہو سکتا ہے جس کے یہ صفات ہوں ۔
اے میرے رب مجھے حکم عطا کر (ف۸٦) اور مجھے ان سے ملادے جو تیرے قرب خاص کے سزاوار ہیں (ف۸۷)
(ف86)حکم سے یا علم مراد ہے یا حکمت یا نُبوّت ۔(ف87)یعنی انبیاء علیہم السلام اور آپ کی یہ دعا مستجاب ہوئی چنانچہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے وَاِنَّہ، فِی الْاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ ۔
(ف90)توبہ و ایمان عطا فرما کر اور یہ دعا آپ نے اس لئے فرمائی کہ وقتِ مفارقت آپ کے والد نے آپ سے ایمان لانے کا وعدہ کیا تھا جب ظاہر ہو گیا کہ وہ خدا کا دشمن ہے اس کا وعدہ جھوٹا تھا تو آپ اس سے بیزار ہو گئے جیسا کہ سور ۂ براءت میں ہے مَاکَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰھِیْمَ لِاَبِیْہِ اِلاَّ عَنْ مَّوْعِدَۃٍ وَّعَدَھَا اِیَّاہُ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہ، اَنَّہ، عَدُوٌّ لِّلّٰہِ تَبَرَّاَ مِنْہُ ۔
وَلَا تُخۡزِنِىۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَۙ ﴿87﴾
اور مجھے رسوا نہ کرنا جس دن سب اٹھائے جائیں گے (ف۹۱)
مگر وہ جو اللہ کے حضور حاضر ہوا سلامت دل لے کر (ف۹۲)
(ف92)جو شرک کُفر و نفاق سے پاک ہو اس کو اس کا مال بھی نفع دے گا جو راہِ خدا میں خرچ کیا ہو اور اولاد بھی جو صالح ہو جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ جب آدمی مرتا ہے اس کے عمل منقطع ہو جاتے ہیں سوا تین کے ایک صدقۂ جاریہ دوسرا وہ مال جس سے وہ لوگ نفع اٹھائیں تیسری نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرے ۔
(ف98)جنہوں نے بُت پرستی کی دعوت دی یا وہ پہلے لوگ جن کا ہم نے اِتّباع کیا یا ابلیس اور اس کی ذُرِّیَّت نے ۔
فَمَا لَـنَا مِنۡ شٰفِعِيۡنَۙ ﴿100﴾
تو اب ہمارا کوئی سفارشی نہیں (ف۹۹)
(ف99)جیسے کہ مؤمنین کے لئے انبیاء اور اولیاء اور ملائکہ اور مؤمنین شفاعت کرنے والے ہیں ۔
وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴿101﴾
اور نہ کوئی غم خوار دوست (ف۱۰۰)
(ف100)جو کام آئے ۔ یہ بات کُفّار اس وقت کہیں گے جب دیکھیں گے کہ انبیاء اور اولیاء اور ملائکہ اور صالحین ایمان داروں کی شفاعت کر رہے ہیں اور ان کی دوستیاں کام آرہی ہیں ۔ حدیث شریف میں ہے کہ جنّتی کہے گا میرے فلاں دوست کا کیا حال ہے اور وہ دوست گناہوں کی وجہ سے جہنّم میں ہو گا اللہ تعالٰی فرمائے گا کہ اس کے دوست کو نکالو اور جنّت میں داخل کرو تو جو لوگ جہنّم میں باقی رہ جائیں گے وہ یہ کہیں گے کہ ہمارا کوئی سفارشی نہیں ہے اور نہ کوئی غم خوار دوست ۔ حسن رحمۃ اللہ تعالٰی نے فرمایا ایماندار دوست بڑھاؤ کیونکہ وہ روزِ قیامت شفاعت کریں گے ۔
(ف102)یعنی نوح علیہ السلام کی تکذیب تمام پیغمبروں کی تکذیب ہے کیونکہ دین تمام رسولوں کا ایک ہے اور ہر ایک نبی لوگوں کو تمام انبیاء پر ایمان لانے کی دعوت دیتے ہیں ۔
بولے کیا ہم تم پر ایمان لے آئیں اور تمہارے ساتھ کمینے ہو ےٴ ہیں (ف۱۰٦)
(ف106)یہ بات انہوں نے غرور سے کہی غُرَباء کے پاس بیٹھنا انہیں گوارا نہ تھا اس میں وہ اپنی کسرِ شان سمجھتے تھے اس لئے ایمان جیسی نعمت سے محروم رہے ۔ کمینے سے مراد ان کی غُرَباء اور پیشہ ور لوگ تھے اور ان کو رذیل اور کمین کہنا یہ کُفّار کا متکبِّرانہ فعل تھا ورنہ درحقیقت صنعت اور پیشہ حیثیت دین سے آدمی کو ذلیل نہیں کرتا ۔ غنا اصل میں دینی غنا ہے اور نسب تقوٰی کا نسب ۔ مسئلہ : مؤمن کو رذیل کہنا جائز نہیں خواہ وہ کتنا ہی محتاج و نادار ہو یا وہ کسی نسب کا ہو ۔ (مدارک)
ان کا حساب تو میرے رب ہی پر ہے (ف۱۰۸) اگر تمہیں حِس ہو (ف۱۰۹)
(ف108)وہی انہیں جزا دے گا ۔(ف109)تو نہ تم انہیں عیب لگاؤ نہ پیشوں کے باعث ان سے عار کرو پھر قوم نے کہا کہ آپ کمینوں کو اپنی مجلس سے نکال دیجئے تاکہ ہم آپ کے پاس آئیں آپ کی بات مانیں اس کے جواب میں فرمایا ۔
وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَۚ ﴿114﴾
اور میں مسلمانوں کو دور کرنے والا نہیں (ف۱۱۰)
(ف110)یہ میری شان نہیں کہ میں تمہاری ایسی خواہشوں کو پورا کروں اور تمہارے ایمان کے لالچ میں مسلمانوں کو اپنے پاس سے نکال دوں ۔
اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌؕ ﴿115﴾
میں تو نہیں مگر صاف ڈر سنانے والا (ف۱۱۱)
(ف111)برہانِ صحیح کے ساتھ جس سے حق و باطل میں امتیاز ہو جائے تو جو ایمان لائے وہی میرا مقرَّب ہے اور جو ایمان نہ لائے وہی دور ۔
(ف114)تیری وحی و رسالت میں ۔ مراد آپ کی یہ تھی کہ میں جو ان کے حق میں بددعا کرتا ہوں اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ انہوں نے مجھے سنگسار کرنے کی دھمکی دی نہ یہ کہ انہوں نے میرے متّبِعین کو رذیل کہا بلکہ میری دعا کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے تیرے کلام کو جھٹلایا اور تیری رسالت کے قبول کرنے سے ا نکارکیا ۔
کیا ہر بلندی پر ایک نشان بناتے ہو راہ گیروں سے ہنسنے کو (ف۱۲۰)
(ف120)کہ اس پر چڑھ کر گزرنے والوں سے تمسخُر کرو اور یہ اس قوم کا معمول تھا انہوں نے سرِ راہ بلند بِنائیں بنا لی تھیں وہاں بیٹھ کر راہ چلنے والوں کو پریشان کرتے اور کھیل کرتے ۔
بولے ہمیں برابر ہے چاہے تم نصیحت کرو یا ناصحوں میں نہ ہو (ف۱۲۵)
(ف125)ہم کسی طرح تمہاری بات نہ مانیں گے اور تمہاری دعوت قبول نہ کریں گے ۔
اِنۡ هٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِيۡنَۙ ﴿137﴾
یہ تو نہیں مگر وہی اگلوں کی ریت (ف۱۲٦)
(ف126)یعنی جن چیزوں کا آپ نے خوف دلایا یہ پہلوں کا دستور ہے وہ بھی ایسی ہی باتیں کہا کرتے تھے اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ ہم ان باتوں کا اعتبار نہیں کرتے انہیں جھوٹ جانتے ہیں یا آیت کے معنٰی یہ ہیں کہ یہ موت و حیات اور عمارتیں بنانا پہلوں کا طریقہ ہے ۔
وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَۚ ﴿138﴾
اور ہمیں عذاب ہونا نہیں (ف۱۲۷)
(ف127)دنیا میں نہ مرنے کے بعد اٹھنا نہ آخرت میں حساب ۔
(ف132)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ فرہ بمعنٰی فخر و غرور ہے معنٰی یہ ہوئے کہ اپنی صنعت پر غرور کرتے اتراتے ۔
فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ۚ ﴿150﴾
تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو،
وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَۙ ﴿151﴾
اور حد سے بڑھنے والوں کے کہنے پر نہ چلو (ف۱۳۳)
(ف133)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ مُسرفین سے مراد مشرکین ۔ بعض مفسِّرین نے کہا کہ مُسرفین سے مراد وہ نو شخص ہیں جنہوں نے ناقہ کو قتل کیا تھا ۔
وہ جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں (ف۱۳٤) اور بناؤ نہیں کرتے (ف۱۳۵)
(ف134)کُفر و ظلم اور معاصی کے ساتھ ۔(ف135)ایمان لا کر اور عدل قائم کر کے اور اللہ کے مطیع ہو کر ۔ معنٰی یہ ہیں کہ ان کا فساد ٹھوس ہے جس میں کسی طرح نیکی کا شائبہ بھی نہیں اور بعض مُفسدین ایسے بھی ہوتے ہیں کہ کچھ فساد بھی کرتے ہیں کچھ نیکی بھی ان میں ہوتی ہے مگر یہ ایسے نہیں ۔
فرمایا یہ ناقہ ہے ایک دن اس کے پینے کی باری (ف۱۳۹) اور ایک معین دن تمہاری باری،
(ف139)اس میں اس سے مزاحمت نہ کرو ۔ یہ ایک اونٹنی تھی جو ان کے معجِزہ طلب کرنے پر ان کے حسب خواہش بدعائے حضرت صالح علیہ السلام پتھر سے نکلی تھی اس کا سینہ ساٹھ گز کا تھا جب اس کے پینے کا دن ہوتا تو وہ وہاں کا تمام پانی پی جاتی اور جب لوگوں کے پینے کا دن ہوتا تو اس دن نہ پیتی ۔ (مدارک)
اور اسے برائی کے ساتھ نہ چھوؤ (ف۱٤۰) کہ تمہیں بڑے دن کا عذاب آلے گا (ف۱٤۱)
(ف140)نہ اس کو مارو نہ اس کی کونچیں کاٹو ۔(ف141)نُزولِ عذاب کی وجہ سے اس دن کو بڑا فرمایا گیا تاکہ معلوم ہو کہ وہ عذاب اس قدر عظیم اور سخت تھا کہ جس دن میں وہ واقع ہوا اس کو اس کی وجہ سے بڑا فرمایا گیا ۔
فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ﴿157﴾
اس پر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں (ف۱٤۲) پھر صبح کو پچھتاتے رہ گئے (ف۱٤۳)
(ف142)کونچیں کاٹنے والے شخص کا نام قِدار تھا اور وہ لوگ اس کے اس فعل سے راضی تھے اس لئے کونچیں کاٹنے کی نسبت ا ن سب کی طرف کی گئی ۔(ف143)کونچیں کاٹنے پر نُزولِ عذاب کے خوف سے نہ کہ معصیت پر تائبانہ نادم ہوئے ہوں یا یہ بات کہ آثارِ عذاب دیکھ کر نادم ہوئے ایسے وقت کی ندامت نافع نہیں ۔
(ف145)اس کے یہ معنٰی بھی ہو سکتے ہیں کہ کیا مخلوق میں ایسے قبیح اور ذلیل فعل کے لئے تمہیں رہ گئے ہو جہاں کے اور لوگ بھی تو ہیں انہیں دیکھ کر تمہیں شرمانا چاہئے اور یہ معنٰی بھی ہو سکتے ہیں کہ بکثرت عورتیں ہوتے ہوئے اس فعلِ قبیح کا مرتکب ہونا انتہا درجہ کی خباثت ہے ۔
اے میرے رب! مجھے اور میرے گھر والوں کو ان کے کام سے بچا (ف۱۵۰)
(ف150)اس کی شامتِ اعمال سے محفوظ رکھ ۔
فَنَجَّيۡنٰهُ وَ اَهۡلَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۙ ﴿170﴾
تو ہم نے اسے اور اس کے سب گھر والوں کو نجات بخشی (ف۱۵۱)
(ف151)یعنی آپ کی بیٹیوں کو اور ان تمام لوگوں کو جو آپ پر ایمان لائے ۔
اِلَّا عَجُوۡزًا فِى الۡغٰبِرِيۡنَۚ ﴿171﴾
مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی (ف۱۵۲)
(ف152)جو آپ کی بی بی تھی اور وہ اپنی قوم کے فعل پر راضی تھی اور جو معصیت پر راضی ہو وہ عاصی کے حکم میں ہوتا ہے اسی لئے وہ بڑھیا گرفتارِ عذاب ہوئی اور اس نے نجات نہ پائی ۔
(ف154)یہ بن مدیَن کے قریب تھا اس میں بہت درخت اور جھاڑیاں تھیں اللہ تعالٰی نے حضرت شعیب علیہ السلام کو ان کی طرف مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ اہلِ مدیَن کی طرف مبعو ث کیا تھا اور یہ لوگ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے نہ تھے ۔
اور میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا میرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جہان کا رب ہے (ف۱۵۵)
(ف155)ان تمام انبیاء علیہم السلام کی دعوت کا یہی عنوان رہا کیونکہ وہ سب حضرات اللہ تعالٰی کے خوف اور اس کی اطاعت اور اخلاص فی العباد ۃ کا حکم دیتے اور تبلیغِ رسالت پر کوئی اجر نہیں لیتے تھے لہذا سب نے یہی فرمایا ۔
تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو انھیں شامیانے والے دن کے عذاب نے آلیا، بیشک وہ بڑے دن کا عذاب تھا (ف۱٦۱)
(ف161)جو کہ اس طرح ہوا کہ انہیں شدید گرمی پہنچی ہوا بند ہوئی اور سات روز گرمی کے عذاب میں گرفتار رہے ، تہ خانوں میں جاتے وہاں اور زیادہ گرمی پاتے اس کے بعد ایک ابر آیا سب اس کے نیچے آ کے جمع ہو گئے اس سے آ گ برسی اور سب جل گئے ۔ (اس واقعہ کا بیان سورۂ اعراف اور سورۂ ہود میں گزر چکا ہے ۔
(ف163)تاکہ آپ اسے محفوظ رکھیں اور سمجھیں اور نہ بھولیں ۔ دل کی تخصیص اس لئے ہے کہ درحقیقت وہی مخاطب ہے اور تمیز و عقل و اختیار کا مقام بھی وہی ہے ، تمام اعضاء اس کے مسخّر و مطیع ہیں ۔ حدیث شریف میں ہے کہ دل کے درست ہونے سے تمام بدن درست ہو جاتا ہے اور اس کے خراب ہونے سے سب جسم خراب اور فرح و سرور و رنج و غم کا مقام دل ہی ہے جب دل کو خوشی ہوتی ہے تمام اعضاء پر اس کا اثر پڑتا ہے تو وہ مثل رئیس کے ہے وہی موضع ہے عقل کا تو امیرِ مطلق ہوا اور تکلیف جو عقل و فہم کے ساتھ مشروط ہے اسی کی طرف راجع ہوئی ۔
بِلِسَانٍ عَرَبِىٍّ مُّبِيۡنٍؕ ﴿195﴾
روشن عربی زبان میں،
وَاِنَّهٗ لَفِىۡ زُبُرِ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴿196﴾
اور بیشک اس کا چرچا اگلی کتابوں میں ہے (ف۱٦٤)
(ف164)اِنَّہ، کی ضمیر کا مرجع اگر قرآن ہو تو اس کے معنٰی یہ ہوں گے کہ اس کا ذکر تمام کتبِ سماویہ میں ہے اور اگر سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ضمیر راجع ہو تو معنٰی یہ ہوں گے کہ اگلی کتابوں میں آپ کی نعمت و صفت مذکور ہے ۔
اور کیا یہ ان کے لیے نشانی نہ تھی (ف۱٦۵) کہ اس نبی کو جانتے ہیں بنی اسرائیل کے عالم (ف۱٦٦)
(ف165)سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقِ نُبوّت و رسالت پر ۔(ف166)اپنی کتابوں سے اور لوگوں کو خبریں دیتے ہیں ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اہلِ مکہ نے یہودِ مدینہ کے پاس اپنے معتمدین کو یہ دریافت کرنے بھیجا کہ کیا نبیٔ آخر الزمان سیدِ کائنات محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت ان کی کتابوں میں کوئی خبر ہے ؟ اس کا جواب عُلَماءِ یہود نے یہ دیا کہ یہی ان کا زمانہ ہے اور ان کی نعت و صفت توریت میں موجود ہے ۔ عُلَماءِ یہود میں سے حضرت عبداللہ ابن سلام اور ابنِ یامین اور ثعلبہ اور اسد اور اُسید یہ حضرات جنہوں نے توریت میں حضور کے اوصاف پڑھے تھے حضور پر ایمان لائے ۔
کہ وہ انھیں پڑھ کر سناتا جب بھی اس پر ایمان نہ لاتے (ف۱٦۷)
(ف167)معنٰی یہ ہیں کہ ہم نے یہ قرآنِ کریم ایک فصیح بلیغ عربی نبی پر اُتارا جس کی فصاحت اہلِ عرب کو مسلّم ہے اور وہ جانتے ہیں کہ قرآنِ کریم مُعجِز ہے اور اس کی مثل ایک سورت بنانے سے بھی تمام دنیا عاجز ہے علاوہ بریں عُلَماءِ اہلِ کتاب کا اتفاق ہے کہ اس کے نُزول سے قبل اس کے نازِل ہونے کی بشارت اور اس نبی کی صفت ان کی کتابوں میں انہیں مل چکی ہے ، اس سے قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ یہ نبی اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں اور یہ کتاب اس کی نازِل فرمائی ہوئی ہے اور کُفّار جو طرح طرح کی بیہودہ باتیں اس کتاب کے متعلق کہتے ہیں سب باطل ہیں اور خود کُفار بھی متحیّر ہیں کہ اس کے خلاف کیا بات کہیں ، اس لئے کبھی اس کو پہلوں کی داستانیں کہتے ہیں ، کبھی شعر ، کبھی سحر اور کبھی یہ کہ معاذ اللہ اس کو خود سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنا لیا ہے اور اللہ تعالٰی کی طرف اس کی غلط نسبت کر دی ہے اس طرح کے بیہودہ اعتراض معانِد ہر حال میں کر سکتا ہے حتٰی کہ اگر بالفرض یہ قرآن کسی غیر عربی شخص پر نازِل کیا جاتا جو عربی کی مہارت نہ رکھتا اور باوجود اس کے وہ ایسا مُعجِز قرآن پڑھ کر سُناتا جب بھی لوگ اسی طرح کُفر کرتے جس طرح انہوں نے اب کُفر و انکار کیا کیونکہ ان کے کُفر و انکار کا باعث عناد ہے ۔
ہم نے یونہی جھٹلانا پیرا دیا ہے مجرموں کے دلوں میں (ف۱٦۸)
(ف168)یعنی ان کافِروں کے جن کا کُفر اختیار کرنا اور اس پر مُصِر رہنا ہمارے علم میں ہے تو ان کے لئے ہدایت کا کوئی بھی طریقہ اختیار کیا جائے کسی حال میں وہ کُفر سے پلٹنے والے نہیں ۔
(ف169)تاکہ ہم ایمان لائیں اور تصدیق کریں لیکن اس وقت مہلت نہ ملے گی جب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کُفّار کو اس عذاب کی خبر دی تو براہِ تمسخُر و استہزاء کہنے لگے کہ یہ عذاب کب آئے گا ؟ اس پر اللہ تبارک وتعالٰی ارشاد فرماتا ہے ۔
اَفَبِعَذَابِنَا يَسۡتَعۡجِلُوۡنَ ﴿204﴾
تو کیا ہمارے عذاب کی جلدی کرتے ہیں،
اَفَرَءَيۡتَ اِنۡ مَّتَّعۡنٰهُمۡ سِنِيۡنَۙ ﴿205﴾
بھلا دیکھو تو اگر کچھ برس ہم انھیں برتنے دیں (ف۱۷۰)
اور ہم نے کوئی بستی ہلاک نہ کی جسے ڈر سنانے والے نہ ہوں،
ذِكۡرٰىۛ وَمَا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ ﴿209﴾
نصیحت کے لیے، اور ہم ظلم نہیں کرتے (ف۱۷۳)
(ف173)پہلے حُجّت قائم کر دیتے ہیں ڈر سنانے والوں کو بھیج دیتے ہیں اس کے بعد بھی جو لوگ راہ پر نہیں آتے اور حق کو قبول نہیں کرتے ان پر عذاب کرتے ہیں ۔
وَمَا تَنَزَّلَتۡ بِهِ الشَّيٰطِيۡنُ ﴿210﴾
اور اس قرآن کو لے کر شیطان نہ اترے (ف۱۷٤)
(ف174)اس میں کُفّار کا رد ہے جو کہتے تھے کہ جس طرح شیاطین کاہنوں کے پاس آسمانی خبریں لاتے ہیں اسی طرح معاذ اللہ حضرت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس قرآن لاتے ہیں ۔ اس آیت میں ان کے اس خیال کو باطل کر دیا کہ یہ غلط ہے ۔
اور وہ اس قابل نہیں (ف۱۷۵) اور نہ وہ ایسا کرسکتے ہیں (ف۱۷٦)
(ف175)کہ قرآن لائیں ۔(ف176)کیونکہ یہ ان کے مقدور سے باہر ہے ۔
اِنَّهُمۡ عَنِ السَّمۡعِ لَمَعۡزُوۡلُوۡنَؕ ﴿212﴾
وہ تو سننے کی جگہ سے دور کردیے گئے ہیں (ف۱۷۷)
(ف177)یعنی انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کی طرف جو وحی ہوتی ہے اس کو اللہ تعالٰی نے محفوظ کر دیا جب تک کہ فرشتہ اس کو بارگاہِ رسالت میں پہنچائے اس سے پہلے شیاطین اس کو نہیں سن سکتے اس کے بعد اللہ تعالٰی اپنے بندوں سے فرماتا ہے ۔
تو اللہ کے سوا دوسرا خدا نہ پوج کہ تجھ پر عذاب ہوگا،
وَاَنۡذِرۡ عَشِيۡرَتَكَ الۡاَقۡرَبِيۡنَۙ ﴿214﴾
اور اے محبوب! اپنے قریب تر رشتہ داروں کو ڈراؤ (ف۱۷۸)
(ف178)حضور کے قریب کے رشتہ دار نبی ہاشم اور بنی مطلب ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اعلان کے ساتھ انذار فرمایا اور خدا کا خوف دلایا جیسا کہ احادیثِ صحیحہ میں وارد ہے ۔
تو اگر وہ تمہارا حکم نہ مانیں تو فرمادو میں تمہارے کاموں سے بےعلاقہ ہوں،
وَتَوَكَّلۡ عَلَى الۡعَزِيۡزِ الرَّحِيۡمِۙ ﴿217﴾
اور اس پر بھروسہ کرو جو عزت والا مہر والا ہے (ف۱۸۱)
(ف181)یعنی اللہ تعالٰی ، تم اپنے تمام کام اس کو تفویض کرو ۔
الَّذِىۡ يَرٰٮكَ حِيۡنَ تَقُوۡمُۙ ﴿218﴾
جو تمہیں دیکھتا ہے جب تم کھڑے ہوتے ہو (ف۱۸۲)
(ف182)نماز کے لئے یا دعا کے لئے یا ہر اس مقام پر جہاں تم ہو ۔
وَتَقَلُّبَكَ فِى السّٰجِدِيۡنَ ﴿219﴾
اور نمازیوں میں تمہارے دورے کو (ف۱۸۳)
(ف183)جب تم اپنے تہجُّد پڑھنے والے اصحاب کے احوال ملاحظہ فرمانے کے لئے شب کو دورہ کرتے ہو ۔ بعض مفسِّرین نے کہا معنٰی یہ ہیں کہ جب تم امام ہو کر نماز پڑھاتے ہو اور قیام و رکوع و سجود و قعود میں گزرتے ہو ۔ بعض مفسِّرین نے کہا معنٰی یہ ہیں کہ وہ آپ کی گردشِ چشم کو دیکھتا ہے نمازوں میں کیونکہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پس و پیش یکساں ملاحظہ فرماتے تھے اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے بخدا مجھ پر تمہارا خشوع و رکوع مخفی نہیں میں تمہیں اپنے پسِ پشت دیکھتا ہوں ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ اس آیت میں ساجدین سے مؤمنین مراد ہیں اور معنٰی یہ ہیں کہ زمانۂ حضرت آدم و حوا علیہما السلام سے لے کر حضرت عبداللہ و آمنہ خاتون تک مؤمنین کی اصلاب و ارحام میں آپ کے دورے کو ملاحظہ فرماتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ آپ کے تمام اصول آباء و اجداد حضرت آدم علیہ السلام تک سب کے سب مؤمن ہیں ۔ ( مدارک و جمل وغیرہ)
اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ ﴿220﴾
بیشک وہی سنتا جانتا ہے (ف۱۸٤)
(ف184)تمہارے قول و عمل اور تمہاری نیت کو اس کے بعد اللہ تعالٰی ان مشرکوں کے جواب میں جو کہتے تھے کہ محمّد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر شیطان اترتے ہیں یہ ارشاد فرماتا ہے ۔
شیطان اپنی سنی ہوئی (ف۱۸٦) ان پر ڈالتے ہیں اور ان میں اکثر جھوٹے ہیں (ف۱۸۷)
(ف186)جو انہوں نے ملائکہ سے سُنی ہوتی ہے ۔(ف187)کیونکہ وہ فرشتوں سے سُنی ہوئی باتوں میں اپنی طرف سے بہت جھوٹ ملا دیتے ہیں ۔ حدیث شریف میں ہے کہ ایک بات سنتے ہیں تو سو جھوٹ اس کے ساتھ ملاتے ہیں اور یہ بھی اس وقت تک تھا جب تک کہ وہ آسمان پر پہنچنے سے روکے نہ گئے تھے ۔
وَالشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الۡغَاوٗنَؕ ﴿224﴾
اور شاعروں کی پیروی گمراہ کرتے ہیں (ف۱۸۸)
(ف188)ان کے اشعار میں کہ ان کو پڑھتے ہیں رواج دیتے ہیں باوجود یکہ وہ اشعار کذب و باطل ہوتے ہیں ۔شانِ نُزول : یہ آیت شعراءِ کُفّار کے حق میں نازِل ہوئی جو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجو میں شعر کہتے تھے اور کہتے تھے کہ جیسا محمّد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہتے ہیں ایسا ہم بھی کہہ لیتے ہیں اور ان کی قوم کے گمراہ لوگ ان سے ان اشعار کو نقل کرتے تھے ۔ ان لوگوں کی آیت میں مذمت فرمائی گئی ۔
(ف190)بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اگر کسی کا جسم پیپ سے بھر جائے تو یہ اس کے لئے اس سے بہتر ہے کہ شعر سے پر ہو مسلمان شعراء جو اس طریقہ سے اجتناب کرتے ہیں اس حکم سے مستثنٰی کئے گئے ۔
مگر وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے (ف۱۹۱) اور بکثرت اللہ کی یاد کی (ف۱۹۲) اور بدلہ لیا (ف۱۹۳) بعد اس کے کہ ان پر ظلم ہوا (ف۱۹٤) اور اب جاننا چاہتے ہیں ظالم (ف۱۹۵) کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے (ف۱۹٦)
(ف191)اس میں شعراءِ اسلام کا استثناء فرمایا گیا وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت لکھتے ہیں ، اللہ تعالٰی کی حمد لکھتے ہیں ، اسلام کی مدح لکھتے ہیں ، پند و نصائح لکھتے ہیں ، اس پر اجر و ثواب پاتے ہیں ۔ بخاری شریف میں ہے کہ مسجدِ نبوی میں حضرت حسّان کے لئے منبر بچھایا جاتا تھا وہ اس پر کھڑے ہو کر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مفاخر پڑھتے تھے اور کُفّار کی بدگوئیوں کا جواب دیتے تھے اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے حق میں دعا فرماتے جاتے تھے ۔ بخاری کی حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بعض شعر حکمت ہوتے ہیں ۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس مبارک میں اکثر شعر پڑھے جاتے تھے جیسا کہ ترمذی میں جابر بن سمرہ سے مروی ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے فرمایا کہ شعرکلام ہے بعض اچھا ہوتا ہے بعض بُرا ، اچھے کو لو بُرے کو چھوڑ دو ۔ شعبی نے کہا کہ حضرت ابوبکر صدیق شعر کہتے تھے ، حضرت علی ان سب سے زیادہ شعر فرمانے والے تھے رضی اللہ تعالٰی عنہم ۔(ف192)اور شعر ان کے لئے ذکرِ الٰہی سے غفلت کا سبب نہ ہو سکا بلکہ ان لوگوں نے جب شعر کہا بھی تو اللہ تعالٰی کی حمد و ثناء اور اس کی توحید اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت اور اصحابِ کرام و صُلحاءِ اُمّت کی مدح اور حکمت و موعظت اور زہد و ادب میں ۔(ف193)کُفّار سے ان کی ہجو کا ۔(ف194)کُفّار کی طرف سے کہ انہوں نے مسلمانوں کی اور ان کے پیشواؤں کی ہجو کی ان حضرات نے اس کو دفع کیا اور اس کے جواب دیئے یہ مذموم نہیں ہیں بلکہ مستحقِ اجر و ثواب ہیں ۔ حدیث شریف میں ہے کہ مؤمن اپنی تلوار سے بھی جہاد کرتا ہے اور اپنی زبان سے بھی یہ ان حضرات کا جہاد ہے ۔(ف195)یعنی مشرکین جنہوں نے سیدُ الطاہرین افضلُ الخَلق رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجو کی ۔(ف196)موت کے بعد ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا جہنّم کی طرف اور وہ برا ہی ٹھکانا ہے ۔